مجھے بتایئے یہ کیا ماجرا ہے کہ رمضان بھر میں تقریباً ۳۶۰ گھنٹے خدا کی عبادت کرنے کے بعد جب آپ فارغ ہوتے ہیں تو اس پوری عبادت کے تمام اثرات شوال کی پہلی تاریخ ہی کو کافور ہوجاتے ہیں؟ہندو اپنے تہواروں میں جو کچھ کرتے ہیں وہی سب آپ عید کے زمانے میں کرتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ شہروں میں تو عید کے روز بدکاری اور شراب نوشی اور قماربازی تک ہوتی ہے۔ اور بعض ظالم تو مَیں نے ایسے دیکھے ہیں جو رمضان کے زمانے میں دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو شراب پیتے اور زنا کرتے ہیں۔ عام مسلمان خدا کے فضل سے اس قدر بگڑے ہوئے تو نہیں ہیں، مگر رمضان ختم ہونے کے بعد آپ میں سے کتنے ایسے ہیں جن کے اندر عید کے دوسرے دن بھی تقویٰ اور پرہیزگاری کا کوئی اثر باقی رہ جاتا ہو؟ خدا کے قوانین کی خلاف ورزی میں کون سی کسر اُٹھا رکھی جاتی ہے؟ نیک کاموں میں کتنا حصہ لیا جاتا ہے، اور نفسانیت میں کیا کمی آجاتی ہے؟
سوچیے اور غور کیجیے کہ اس کی وجہ آخر کیا ہے؟ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں عبادت کا مفہوم اور مطلب ہی غلط ہوگیا ہے۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سحر سے لے کر مغرب تک کچھ نہ کھانے اور نہ پینے کا نام روزہ ہے اور بس یہی عبادت ہے۔ اس لیے روزے کی تو آپ پوری حفاظت کرتے ہیں۔ خدا کا خوف آپ کے دل میں اس قدر ہوتا ہے کہ جس چیز میں روزہ ٹوٹنے کا ذرا سا اندیشہ بھی ہو اس سے بھی آپ بچتے ہیں۔ اگر جان پر بھی بن جائے تب بھی آپ کو روزہ توڑنے میں تامّل ہوتا ہے۔ لیکن آپ یہ نہیں جانتے کہ یہ بھوکا پیاسا رہنا اصل عبادت نہیں بلکہ عبادت کی صورت ہے، اور یہ صورت مقرر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ آپ کے اندر خدا کا خوف اور خدا کی محبت پیدا ہو، اور آپ کے اندر اتنی طاقت پیدا ہوجائے کہ جس چیز میں دنیا بھر کے فائدے ہوں مگر خدا ناراض ہوتا ہو اُس سے اپنے نفس پر جبر کرکے بچ سکیں، اور جس چیز میں ہرطرح کے خطرات اور نقصانات ہوں مگر خدا اس سے خوش ہوتا ہو، اس پر آپ اپنے نفس کو مجبور کرکے آمادہ کرسکیں۔
یہ طاقت اسی طرح پیدا ہوسکتی تھی کہ آپ روزے کے مقصد کو سمجھتے اور مہینہ بھر تک آپ نے خدا کے خوف اور خدا کی محبت میں اپنے نفس کو خواہشات سے روکنے اور خدا کی رضا کے مطابق چلانے کی جو مشق کی ہے اس سے کام لیتے۔ مگر آپ تو رمضان کے بعد ہی اس مشق کو اور اُن صفات کو جو اس مشق سے پیدا ہوتی ہیں اس طرح نکال پھینکتے ہیں جیسے کھانے کے بعد کوئی شخص حلق میں اُنگلی ڈال کر قے کردے، بلکہ آپ میں سے بعض لوگ توروزہ رکھنے کے بعد ہی دن بھر کی پرہیزگاری کو اُگل دیتے ہیں۔ پھر آپ ہی بتایئے کہ رمضان اور اُس کے روزے کوئی طلسم تو نہیں ہیں کہ بس اُن کی ظاہری شکل پوری کردینے سے آپ کو وہ طاقت حاصل ہوجائے جو حقیقت میں روزے سے ہونی چاہیے۔ جس طرح روٹی سے جسمانی طاقت اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ معدے میں جاکر ہضم نہ ہو اور خون بن کر جسم کی رگ رگ میں نہ پہنچ جائے، اُسی طرح روزے سے بھی روحانی طاقت اُس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ آدمی روزے کے مقصد کو پوری طرح سمجھے نہیں اور اپنے دل و دماغ کے اندر اس کو اُترنے اور خیال، نیت ، ارادے اور عمل سب پر چھا جانے کا موقع نہ دے۔
یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزے کا حکم دینے کے بعد فرمایا: لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ، یعنی تم پر روزہ فرض کیا جاتاہے، شاید کہ تم متقی وپرہیزگار بن جائو۔ یہ نہیں فرمایا کہ اس سے ضرور متقی و پرہیزگار بن جائو گے۔ اس لیے کہ روزے کا یہ نتیجہ تو آدمی کی سمجھ بوجھ اور اس کے ارادے پر موقوف ہے۔ جو اس کے مقصد کو سمجھے گا اور اس کے ذریعے سے اصل مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا وہ تو تھوڑا یا بہت متقی بن جائے گا، مگر جو مقصد ہی کو نہ سمجھے گا اور اُسے حاصل کرنے کی کوشش ہی نہ کرے گا اُسے کوئی فائدہ حاصل ہونے کی اُمید نہیں۔ (خطبات، ص ۱۹۶-۱۹۸)
اجتماعِ عام ۲۰۰۸ء کی مناسبت سے سید مودودی رحمہ اللہ علیہ کی ایک اہم تحریر پیش کی جارہی ہے جو روایت کا تسلسل بھی ہے اور جامع رہنمائی بھی۔ (ادارہ)
اس سے پہلے جتنے اجتماعات ہوتے رہے ہیں ان میں مَیں نے آغاز ہی میں اپنے رفقا کو اور شرکاے اجتماع کو کچھ نہ کچھ ضروری ہدایات دی ہیں، لیکن چونکہ کافی مدت گزر چکی ہے اس لیے اس بات کا امکان ہے کہ بہت سے لوگوں کو وہ ہدایات یاد نہ ہوں اور بہت سے نئے لوگ ان سے واقف نہ ہوں۔ اس لیے میں چند ضروری باتیں عرض کر دینا چاہتا ہوں:
اس بات کا بھی خیال رکھیے کہ اجتماع کی کارروائیوں کے دوران میں لوگ اپنی اپنی قیام گاہوں میں پڑے نہ رہ جائیں۔ باہر ٹہلتے ہوئے نظر نہ آئیں۔ غیرمتعلق گفتگوؤں میں جاکر مشغول نہ ہوجائیں بلکہ یہاں آکر پوری دل چسپی کے ساتھ سنیں۔ دل چسپی نہ بھی لے رہے ہوں تو بھی خاموشی کے ساتھ بیٹھ جائیں۔ اجتماع کی کارروائیوں کے درمیان میں کسی شخص کو اجتماع گاہ سے باہر نہ پایا جانا چاہیے، الا یہ کہ اسے کوئی شدید ضرورت ہو۔ (روداد جماعت اسلامی،ہفتم، ص ۳۵-۴۰)
آدمی قرآن کی رُوح سے پوری طرح آشنا نہیں ہونے پاتا جب تک کہ عملاً وہ کام نہ کرے جس کے لیے قرآن آیا ہے۔ یہ محض نظریات اور خیالات کی کتاب نہیں ہے کہ آپ آرام کرسی پر بیٹھ کر اسے پڑھیں اور اس کی ساری باتیں سمجھ جائیں۔ یہ دنیا کے عام تصورِّ مذہب کے مطابق ایک نری مذہبی کتاب بھی نہیں ہے کہ مدرسے اور خانقاہ میں اس کے سارے رموز حل کرلیے جائیں… یہ ایک دعوت اور تحریک کی کتاب ہے۔ اس نے آتے ہی ایک خاموش طبع اور نیک نہاد انسان کو گوشۂ عزلت سے نکال کر خدا سے پھری ہوئی دنیا کے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ باطل کے خلاف اس سے آواز اُٹھوائی اور وقت کے علَم بردارانِ کفروفسق و ضلالت سے اس کو لڑا دیا۔ گھرگھر سے ایک ایک سعید رُوح اور پاکیزہ نفس کو کھینچ کھینچ کر لائی اور داعیِ حق کے جھنڈے تلے ان سب کو اکٹھا کیا۔ گوشے گوشے سے ایک ایک فتنہ جو .ُ اور فساد پرور کو بھڑکا کر اُٹھایا اور حامیانِ حق سے ان کی جنگ کرائی۔ ایک فردِ واحد کی پکار سے اپنا کام شروع کر کے خلافتِ الٰہیہ کے قیام تک پورے ۲۳سال یہی کتاب ایک عظیم الشان تحریک کی راہ نمائی کرتی رہی، اور حق و باطل کی اس طویل و جاں گسل کش مکش کے دوران میں ایک ایک منزل اور ایک ایک مرحلے پر اسی نے تخریب کے ڈھنگ اور تعمیر کے نقشے بتائے۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ سرے سے نزاعِ کفر ودین اور معرکۂ اسلام و جاہلیت کے میدان میں قدم ہی نہ رکھیں اور اس کش مکش کی کسی منزل سے گزرنے کا آپ کو اتفاق ہی نہ ہواہو اور پھر محض قرآن کے الفاظ پڑھ پڑھ کر اس کی ساری حقیقتیں آپ کے سامنے بے نقاب ہوجائیں۔
اسے تو پوری طرح آپ اُسی وقت سمجھ سکتے ہیں جب اسے لے کر اُٹھیں اور دعوت الی اللہ کا کام شروع کریں اور جس جس طرح یہ کتاب ہدایت دیتی جائے اُس طرح قدم اُٹھاتے چلے جائیں۔ تب وہ سارے تجربات آپ کو پیش آئیں گے جو نزولِ قرآن کے وقت پیش آئے تھے۔ مکہ اور حبش اور طائف کی منزلیں بھی آپ دیکھیں گے اور بدر و اُحد سے لے کر حُنین اور تبوک تک کے مراحل بھی آپ کے سامنے آئیں گے۔ ابوجہل اور ابولہب سے بھی آپ کو واسطہ پڑے گا، منافقین اور یہود بھی آپ کو ملیں گے، اور سابقین اوّلین سے لے کر مؤلفۃ القلوب تک سبھی طرح کے انسانی نمونے آپ دیکھ بھی لیں گے اور برت بھی لیں گے۔ یہ ایک اور ہی قسم کا ’سلوک‘ ہے، جس کو میں ’سلوکِ قرآنی‘ کہتا ہوں۔ اِس سلوک کی شان یہ ہے کہ اس کی جس جس منزل سے آپ گزرتے جائیں گے، قرآن کی کچھ آیتیں اور سورتیں خود سامنے آکر آپ کو بتاتی چلی جائیں گی کہ وہ اسی منزل میں اُتری تھیں اور یہ ہدایت لے کر آئی تھیں۔ اس وقت یہ تو ممکن ہے کہ لُغت اور نحو اور معانی اور بیان کے کچھ نکات سالک کی نگاہ سے چھپے رہ جائیں، لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ قرآن اپنی روح کو اس کے سامنے بے نقاب کرنے سے بُخل برت جائے۔
پھر اسی کُلیہ کے مطابق قرآن کے احکام، اس کی اخلاقی تعلیمات، اس کی معاشی اور تمدّنی ہدایات اور زندگی کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے اُصول وقوانین آدمی کی سمجھ میں اُس وقت تک آ ہی نہیں سکتے جب تک کہ وہ عملاً ان کو برت کر نہ دیکھے۔ نہ وہ فرد اس کتاب کو سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی انفرادی زندگی کو اس کی پیروی سے آزاد کر رکھا ہو اور نہ وہ قوم اس سے آشنا ہوسکتی ہے جس کے سارے ہی اجتماعی ادارے اس کی بنائی ہوئی روش کے خلاف چل رہے ہوں۔(تفہیم القرآن، ج ۱، ص ۳۳-۳۴)
… عموماً سب مسائل کو لپیٹ کر صرف ایک بڑا مسئلہ ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے جس کا عنوان ہے: ’پاکستان کا دفاع اور استحکام‘۔ اور اس کا حل یہ پیش کیا جاتا ہے کہ سب پاکستانی مل کر ایک ہوجائیں اور فوجی حیثیت سے مضبوط ہوں۔ لیکن تھوڑا سا تجزیہ کرنے ہی پر یہ بات کُھل جاتی ہے کہ پاکستان کا دفاع و استحکام کوئی ایک سادہ سا مسئلہ نہیں ہے بلکہ بہت سے مسائل کا مجموعہ ہے، اور اس کا حل بھی اُتنا سادہ نہیں ہے جتنا اسے سمجھ لیا گیا ہے۔ کیا ایک ملک جس کے اخلاق کو گھن لگا ہوا ہو، محض اسلحے اور فوجی تربیت کے بل پر کھڑا ہوسکتا ہے؟
کیا ایک ملک جس کے عناصرِ ترکیبی کو ایک دوسرے سے پھاڑنے اور باہم متصادم کرنے کے لیے بہت سے طاقت ور اسباب موجود ہوں بس ’ایک ہوجائو‘ کی تسبیحیں پڑھنے سے واقعی ایک ہوسکتا ہے؟ پس بجائے اس کے کہ ہم سادگی اور سادہ لوحی سے خود کام لیں یا دوسروں کو سادہ لوح فرض کر کے ان کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے اور فرضی مسائل کی طرف پھیرنے کی کوشش کریں، ہمیں واضح طور پر یہ دیکھنا چاہیے کہ فی الواقع پاکستان کی بقا و تحفظ اور اس کا استحکام کن مسائل سے وابستہ ہے اور ہم کس طرح انھیں حاصل کرسکتے ہیں۔
l اخلاقی انحطاط: اولین مسئلہ ملک کے اخلاق کا ہے جو تشویش ناک حد تک گر چکے ہیں۔ ہماری تمام مشکلات میں سب سے زیادہ اخلاق ہی کی خرابیاں کارفرما ہیں۔ اس بگاڑ کا زہر اتنے وسیع پیمانے پر ہماری سوسائٹی میں پھیل گیا ہے اور اتنا گہرا اُترچکا ہے کہ اگر ہم اسے اپنا قومی دشمن نمبر ایک قرار دیں تو ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔ کوئی بیرونی خطرہ ہمارے لیے اتنا خوف ناک نہیں ہے جتنا یہ اندرونی خطرہ ہے۔ یہ ہماری قوتِ حیات کو کھا گیا ہے اور کھائے چلا جا رہا ہے...
یہ حقیقت اب کھل چکی ہے کہ ہمارے اخلاق کے جوڑبند بُری طرح ڈھیلے ہوگئے ہیں۔ ہم میں ہزارہا آدمی ایسے موجود ہیں جو قتل و خون کے مشّاق ہوچکے ہیں، ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو موقع ملنے پر بد سے بد تر جرائم کا ارتکاب کرسکتے ہیں، اور نیچے سے لے کر اُونچے طبقوں تک کم از کم ۹۵ فی صد تعداد ان لوگوں کی ہے جنھیں حرام کا مال سمیٹنے میں قطعاً کوئی تامل نہیں ہے بشرطیکہ انھیں قانون کی گرفت سے محفوظ رہنے کا اطمینان ہو۔
ان حالات میں ہمارے لیے یہ کوئی وجہِ تسلی نہیں ہے کہ اس سے بدرجہا زیادہ بدتر اخلاقی صفات کا ظہور [گذشتہ برس] ہندستان میں ہندوئوں اور سکھوں سے ہوا ہے۔ جو زہر انھوں نے کھایا اس کی فکر انھیں ہو یا نہ ہو، ہمیں تو اُس زہر کی فکر ہے جو ہماری رگوں میں اُتر گیا ہے۔ کیا مشّاق مجرموں اور بے باک خائنوں کی اتنی کثیر تعداد اپنے اندر لیے ہوئے ہم اپنی قومی زندگی کو مستحکم بنا سکتے ہیں؟ کیا وہ بداخلاقیاں جو کل غیروں کی جان، مال اور عصمت کے معاملے میں برتی گئی تھیں، ان کے ساتھ ہی ختم ہوگئیں اور اپنا کوئی پایدار اثر ہماری سیرت و کردار پر نہیں چھوڑ گئیں؟ کیا یہ بگڑے ہوئے اخلاق اب خود اپنوں پر ہاتھ صاف کرنے سے رُک جائیں گے؟
ایک سال کا تجربہ ہمیں بتا رہا ہے کہ جس اخلاقی زوال کی خبر گذشتہ فسادات نے دی تھی وہ وقتی اور محدود نہ تھا۔ دراصل وہ ایک نہایت خوفناک مرض کی حیثیت سے ہمارے اندر اب بھی موجود ہے اور ہماری قومی زندگی کے ہر شعبے کو خراب کر رہا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد جو دشواریاں فطرتاً ایک نئی مملکت کو پیش آیا کرتی ہیں وہ تو ہمیں پیش آنی ہی تھیں، اور جو مصائب انگریز، ہندو اور سکھ کی باہمی سازش سے ہم پر نازل ہوئے وہ بھی اپنی جگہ تھے، لیکن یہ سب کچھ بڑی آسانی سے انگیز کیا جاسکتا تھا۔ اگر ہمارے عوام و خواص اور ہمارے سربراہ کاروں کے اخلاق اتنے بگڑے ہوئے نہ ہوتے۔ یہ واقعہ ہے، اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، کہ اخلاق کی خرابیوں نے ہماری مشکلات اور مصیبتوں کو، جتنی کہ وہ تھیں، اصل سے کئی گنا زیادہ بڑھا دیا۔
مثال کے طور پر ’مہاجرین‘ کے مسئلے کو لیجیے جو پاکستان بنتے ہی ایک پہاڑ کی طرح ہم پر نازل ہوا۔ بلاشبہہ ایک ملک کے لیے اس سے بڑی کوئی مصیبت نہیں کہ اس پر ۶۰، ۷۰ لاکھ بے سروسامان آدمی یک لخت لا کر ڈال دیے جائیں۔ لیکن غور سے دیکھیے کہ اس طرح جو مشکلات حقیقتاً رونما ہوئی تھیں ان پر کتنا اضافہ ہماری اپنی اخلاقی خرابیوں نے کردیا۔۱؎ ہندوئوں اور سکھوں نے جو عمارات، سامان، اموال، دکانیں، کارخانے، زمینیں اور دوسری چیزیں پاکستان میں چھوڑی تھیں، اگر ان پر خود پاکستان کے باشندے، حکومت کے عُمّال اور قومی کارکن قبضے کر کے نہ بیٹھ جاتے تو کیا مہاجرین کو بسانے میں ہم کو وہی دقتیں پیش آسکتی تھیں جن سے اب ہم دوچار ہیں؟ مغربی پنجاب اور سرحد اور سندھ کی حکومتوں سے پوچھیے کہ جانے والوں نے کیا کچھ چھوڑا تھا، اور اس کا کتنا حصہ آنے والوں کو دیا گیا اور کتنا حصہ کن کن غیرمستحقین کو پہنچا؟ اگر یہ اعداد وشمار روشنی میں آجائیں تو دنیا یہ دیکھ کر دنگ رہ جائے کہ مہاجرین کے مسئلے کا جو زخم غیروں نے ہم کو لگایا تھا اسے سرطان کا پھوڑا بنا دینے والے دراصل کون لوگ ہیں۔ نہیں کہا جاسکتا کہ اس حمام میں آپ کس کس کو برہنہ دیکھیں گے۔
پھر جو لوگ کل تک ’پاکستان زندہ باد‘کے نعرے لگا رہے تھے، جن سے بڑھ کر قوم کے درد میں تڑپنے والا کوئی نظر نہ آتا تھا… ان میں عظیم الشان اکثریت آپ کو ایسے افراد کی نظر آئے گی جو پاکستان بننے کے بعد ہر زاویے سے اس کی کشتی میں سوراخ کیے جارہے ہیں۔ یہ رشوت خوریاں، یہ خیانتیں، یہ غبن، یہ قومی خرچ پر اقربا پروریاں اور دوست نوازیاں، یہ فرائض سے غفلت، یہ ڈسپلن سے گریز، یہ غریب قوم کی دولت پر عیاشیاں، جن کا ایک طوفان سا ہمارے نظامِ حکومت کے لیے ہر شعبے میں برپا ہے اور جس میں بکثرت چھوٹے اہل کاروں سے لے کر بہت سے عالی مقام حکام اور وزرا تک آلودہ ہیں___کیا یہ سب پاکستان کو مضبوط کرنے والی چیزیں ہیں؟ یہ دکانوں اور کارخانوں کی ناجائز تقسیم، جس کی بدولت ملک کی صنعت و تجارت کا بڑا حصہ نااہل اور ناتجربہ کار ہاتھوں میں چلا گیا ہے، کیا یہ پاکستان کی طاقت کو مستحکم کرنے والی چیز ہے؟ یہ پبلک کا بالعموم حکومت کے ٹیکس ادا کرنے سے گریز کرنا اور ان سے بچنے کے لیے، نیز دوسرے ناجائز فوائد حاصل کرنے کے لیے سرکاری ملازموں کو رشوتیں دینا، اور جہاں بھی قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کی اُمید ہو پبلک فنڈ کا بڑے سے بڑا نقصان کرنے میں بھی تامّل نہ کرنا، کیا یہی وہ چیزیں ہیں جن سے پاکستان مضبوط ہوسکتا ہے؟
ملک کے باشندوں کی اخلاقی حالت اس قدر گر چکی ہے کہ ہندستان سے آنے والے مہاجرین کی لاشیں جب واہگہ اور لاہور کے درمیان پڑی سڑ رہی تھیں اور کیمپوں میں بھی موت کا بازار گرم تھا اس وقت ۱۲، ۱۳ لاکھ مسلمانوں کے شہر میں سے چند ہزار نہیں، چند سو آدمی بھی ایسے نہ نکلے جو اپنے بھائیوں کو دفن کرنے کی زحمت اٹھاتے۔ متعدد مثالیں ہمارے علم میں ایسی ہیں کہ کوئی مہاجر مرگیا ہے اور اس کے عزیزوں کو نمازِ جنازہ پڑھنے کے لیے اُجرت پر آدمی فراہم کرنے پڑے ہیں۔ یہاں تک بھی نوبت پہنچی ہے کہ سرحد کے قریب کسی گائوں میں مہاجرین کو زمینیں دی گئیں اور مقامی مسلمانوں نے سرحد پار سے سکھوں کو بلا کر ان پر حملہ کرا دیا تاکہ یہ بھاگ جائیں اور زمین ہمارے قبضہ میں رہ جائے۔ حد یہ ہے کہ قوم کی جو بیٹیاں ہندستان کے ظالموں سے بچ کر آگئی تھیں ان کی عصمتیں یہاں خود اپنے بھائیوں کے ہاتھوں محفوظ نہ رہ سکیں___ اس قسم کے واقعات شاذ نہیں ہیں بلکہ بکثرت ہمارے علم میں آئے ہیں، اور ان شرم ناک جرائم کے مرتکب صرف عام شُہدے ہی نہیں تھے___ کیا اِتنے شدید اخلاقی تنزل کے ہوتے ہوئے ہم یہ اُمید کرسکتے ہیں کہ کسی بڑی اندرونی یا بیرونی مصیبت کے مقابلے میں ہم مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہوسکیں گے؟ اور کیا یہ اخلاقی تنزل اپنے ملک کی تعمیر کے لیے ہماری کسی اسکیم کو کامیابی کے ساتھ چلنے دے گا؟
تھوڑی دیر کے لیے ہم اس سوال کو جانے دیتے ہیں کہ ہماری قیادت نے سیاسی تحریک کے ساتھ قوم کی اخلاقی طاقت کو سنبھالنے کی فکر کیوں نہ کی؟ ہم پوچھتے ہیں کہ اب وہ اس کے لیے کیا کر رہی ہے؟ اخلاق بنانے اور سنوارنے کا کیا سروسامان اس کے پاس ہے؟ کیا تدابیر اس کے پیشِ نظر ہیں؟ کیا لائحۂ عمل اس نے بنایا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا واضح جواب ہمیں ملنا چاہیے۔ اگر اس کے جواب میں اُن نصائح کی طرف اشارہ کیا جائے جو کبھی کبھی ریڈیو اور سرکاری پریس اور تقریروں کے ذریعے سے پبلک کو اور حکومت کے چھوٹے اہل کاروں کو کی جاتی رہتی ہیں، تو ہم پہلے ہی کہے دیتے ہیں کہ اس طرح کی طفل تسلیوں سے ہمیں معاف رکھا جائے۔ اس لیے کہ بداخلاقی کے اصل سرچشمے تو خود قصرِقیادت کے ستونوں میں شامل ہیں۔ کارفرمائی اور کارپردازی کی باگیں تو اِس وقت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جن کی بڑی اکثریت ہی کے دم قدم سے بداخلاقی کا بازار گرم ہے۔ پھر بھلا خیانت کی زبان سے امانت کا سبق، خودغرضی کی زبان سے ایثار کا وعظ اور گناہ کی زبان سے نیکی کا درس انسانی فطرت نے کب قبول کیا ہے کہ یہاں اس کے کارگر ہونے کی توقع کی جائے!
l ملکی وحدت و سلامتی : دوسرا مسئلہ جو پاکستان کی زندگی، اس کی بقا اور اس کے استحکام کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان جن عناصر پر مشتمل ہے، انھیں کس طرح جوڑ کر ایک بنیانِ مرصوص بنایا جائے؟ یہ عناصر اِس وقت شدت کے ساتھ مائلِ انتشار نظر آرہے ہیں، اور ظاہر ہے کہ کسی چیز کے عناصرِ ترکیبی ہی اگر مُجتمع اور باہم پیوستہ نہ ہوں تو اِس کے وجود کا برقرار رہنا سخت دشوار ہوتا ہے___لہٰذا اگر یہ واقعہ ہے، اور کون ہے جو اس کا انکار کرسکتا ہو، کہ پاکستان کے ترکیبی عناصر میں جمع و تالیف کے بجاے کچھ انتشار و پراگندگی کے رُجحانات پائے جاتے ہیں اور کچھ قوتیں اُن کو بڑھانے میں لگی ہوئی ہیں، تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہمارے بندِ استحکام، بلکہ عین ہماری بندشِ وجود ہی میں ایک خطرناک رخنہ موجود ہے، جسے دُور کیے بغیر ہم اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔
پاکستان جن عناصر پر مشتمل ہے ان میں تین تفریقیں اس وقت بالکل نمایاں ہیں:
m پہلی تفریق مہاجرین اور غیرمہاجرین کے درمیان ہے۔ ہماری آبادی میں مہاجرین کی تعداد اس وقت ۷۰ لاکھ سے متجاوز ہوچکی ہے اور یہ تعداد روزافزوں ہے، کیونکہ ہندستان کے ہرحصے سے مسلمان اُکھڑ اُکھڑ کر برابر پاکستان کی طرف چلے آرہے ہیں۔ مشرقی ہند کے لوگوں کا رُخ مشرقی پاکستان کی طرف ہے اور باقی ہندستان کے لوگ مغربی پاکستان کی راہ لے رہے ہیں۔۲؎ یہ نیا عنصر اب ہماری آبادی کا ایک مستقل عنصر ہے اور تعداد کے لحاظ سے کوئی معمولی عنصر نہیں ہے۔ لیکن متعدد اسباب ایسے ہیں جو نئے اور پرانے عناصر کو مل کر ایک قوم بننے سے روک رہے ہیں۔ کچھ تو زبان، تہذیب، معاشرت اور عادات و خصائل کے قدرتی اختلافات ہیں جوبہرحال ایک مدت تک یگانگت میں مانع ہوا ہی کرتے ہیں۔ مگر ان پر غیرمعمولی اضافہ جس چیز نے کردیا ہے وہ یہ ہے کہ مہاجرین اور غیرمہاجرین دونوں میںجاہلیت کے تعصبات اور نفسانی خود غرضیاں کارفرما ہیں۔ یہ چیز ہر جگہ ان دونوں عناصر کو پھاڑ رہی ہے، ان کو مخالف جتھوں کی شکل میں منظم کر رہی ہے، ان کے درمیان آویزش کی صورتیں پیدا کر رہی ہے اور دونوں طرف کے تنگ نظر اور خود غرض مفسدین ان کو باہم لڑا رہے ہیں۔۳؎
m دوسری تفریق جغرافی، نسلی اور لسانی ہے۔ پاکستان اول تو دو ایسے خطوں پر مشتمل ہے جن کے درمیان ایک ہزار میل سے زیادہ کا فاصلہ ہے۔ پھر یہ خطے بھی اپنی اپنی جگہ اندرونی وحدت نہیں رکھتے بلکہ مختلف اجزا سے مرکب ہیں اور ہر جز دوسرے جز کے خلاف تعصب رکھتا ہے۔ اس وقت درحقیقت ہم ایک قوم نہیں ہیں، پانچ مختلف قومیں ہیں جو مصنوعی طور پر ایک سیاسی وحدت میں منسلک ہوگئی ہیں، یعنی سندھی، بلوچی، پٹھان، پنجابی اور بنگالی۔ ان میں سے ہر ایک قوم کے اندر علیحدگی کا رُجحان شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے اور بعض نادان گروہ اس کو شدید تر کرنے کی پیہم جدوجہد کررہے ہیں۔۴؎
m تیسری تفریق معاشی ہے۔ امیر اور غریب، زمین دار اور کاشت کار، مزدور اور سرمایہ دار، بڑی تنخواہیں پانے والے افسر اور چھوٹے اہل کار، یہ مختلف گروہ ہیں جن کو معاشی بے انصافیوں نے ایک دوسرے سے پھاڑ دیا ہے۔ ان کے درمیان اخوت اور ہمدردی کا تعلق نہیں ہے بلکہ حسد اور بُغض کا تعلق ہے۔ یہ ایک دوسرے کے رفیق اور حامی و ناصر نہیں ہیں بلکہ حریف اور مدِّمقابل ہیں۔ ان کی کش مکش بھی روز بروز بڑھ رہی ہے اور ہمارے اندر ایک گروہ ایسا موجود ہے جس کا مستقل فلسفہ ہی یہ ہے کہ انھیں ملا کر ایک کر دینے کا خیال باطل ہے اور حق صرف یہ ہے کہ ان کو باہم لڑا دیا جائے۔۵؎
سوال یہ ہے کہ یہ مختلف تفریقیں، جو ہماری قوم اور ریاست کو پارہ پارہ کردینے پر تلی ہوئی ہیں، جن کو نشوونما دینے کے لیے گہرے داخلی اسباب بھی موجود ہیں، اور جنھیں بھڑکانے کے لیے خارجی محرکات کی بھی کمی نہیں ہے، آخر کس طریقے سے مٹائی جاسکتی ہیں؟ طاقت کے ذریعے سے ان کو دبا کر ریاست کی سیاسی وحدت اور اس کے امن کو برقرار رکھنا ایک حد تک ممکن ہے، مگر یہ چیز دلوں کو جوڑ کر وہ قلبی وحدت تو ہرگز پیدا نہیں کرسکتی جو ریاست کی اندرونی ترقی اور بیرونی خطرات کے مقابلے میں اس کی متحدہ مدافعت کے لیے ضروری ہے۔ پھٹے ہوئے دل اور کھنچے ہوئے ہاتھ نہ تعمیر میں تعاون کرسکتے ہیں اور نہ مدافعت ہی میں بنیانِ مرصوص بن کر کھڑے ہوسکتے ہیں۔ قومیت کا پرچار بھی اس معاملے میں بے بس ہے۔ ہندستان میں ہم اس کا نتیجہ دیکھ چکے ہیں۔ مغربی تصورات کے مطابق قومیت کی تبلیغ و تلقین وہاں جتنی بڑھتی گئی، اس نے ملک کی آبادی میں وحدت پیدا کرنے کے بجاے ان تمام گروہوں میں اپنے امتیازی وجود کا احساس جگا دیا جو اپنے اندر قومیت کے عناصر رکھتے تھے۔ پھر معاشی اغراض کا تصادم تو وہ چیز ہے جس کے زہر کا تریاق فراہم کرنے میں قومیت جگہ جگہ ناکام ہوئی ہے اور ہورہی ہے۔ اب ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری موجودہ قیادت کے پاس اس مسئلے کا کیا حل ہے اور وہ کہاں تک اس سے عہدہ برآ ہونے کی اہلیت رکھتی ہے؟
کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ ہم اُن دوسرے مسائل کی اہمیت سے غافل ہیں جو اس وقت پاکستان کی نوزائیدہ مملکت کو درپیش ہیں۔ بلاشبہہ وہ مالی، صنعتی، انتظامی، دفاعی اور خارجی مسائل بھی اپنی جگہ کافی اہم ہیں جن سے ہم اس مملکت کی پیدایش کے بعد دوچار ہوئے۔ کوئی نہیں کہتا کہ ان کی طرف توجہ نہ کی جائے، نہ ان واقعی خدمات کا انکار کرنا قرین انصاف ہے جو اس سلسلے میں موجودہ قیادت نے انجام دیں۔ لیکن جہاں تک ہم سمجھتے ہیں مسلمانوں کی حیات قومی کے لیے اِس وقت سب سے بڑے مسئلے یہی ہیں جن کا ذکر ہم نے کیا ہے، اور قیادت کا اصل مِحکِّ امتحان [کسوٹی] یہ ہے کہ وہ انھیں صحیح طور پر حل کرنے کی اہلیت، فکری اور اخلاقی حیثیت سے کہاں تک اپنے اندر رکھتی ہے۔ (ترجمان القرآن، اگست ۱۹۴۸ئ، تحریک آزادی ہند اور مسلمان، دوم، ص ۳۱۷-۳۲۵)
رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَـآ اِنَّکَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ o (الحشر: ۵۹:۱۰) اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ‘ اَے ہمارے رب! تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔
[اس آیت سے قبل فَے کی تقسیم کا مسئلہ زیربحث ہے۔ فَے وہ مال ہے جو دشمن سے بغیر لڑائی کے مسلمانوں کو حاصل ہو۔] اس آیت میں اگرچہ اصل مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ فَے کی تقسیم میں حاضر و موجود لوگوں کا ہی نہیں‘ بعد میںآنے والے مسلمانوں اور ان کی آیندہ نسلوں کا حصہ بھی ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ اس میں ایک اہم اخلاقی درس بھی مسلمانوں کو دیا گیا ہے‘ اور وہ یہ ہے کہ کسی مسلمان کے دل میں کسی دوسرے مسلمان کے لیے بغض نہ ہونا چاہیے‘ اور مسلمانوں کے لیے صحیح روش یہ ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے حق میں دعاے مغفرت کرتے رہیں‘ نہ یہ کہ وہ اُن پر لعنت بھیجیں اور تبرّا کریں۔ مسلمانوں کو جس رشتے نے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا ہے‘ وہ دراصل ایمان کا رشتہ ہے۔ اگر کسی شخص کے دل میں ایمان کی اہمیت دوسری تمام چیزوں سے بڑھ کر ہو تو لامحالہ وہ ان سب لوگوں کا خیرخواہ ہوگا جو ایمان کے رشتے سے اس کے بھائی ہیں۔ ان کے لیے بدخواہی اور بغض اور نفرت اس کے دل میں اسی وقت جگہ پا سکتی ہے، جب کہ ایمان کی قدر اس کی نگاہ میں گھٹ جائے اور کسی دوسری چیز کو وہ اس سے زیادہ اہمیت دینے لگے۔ لہٰذا یہ عین ایمان کا تقاضا ہے کہ ایک مومن کا دل کسی دوسرے مومن کے خلاف نفرت و بغض سے خالی ہو۔ اس معاملے میں بہترین سبق ایک حدیث سے ملتا ہے جو نسائی نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے۔ ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ تین دن مسلسل یہ ہوتا رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم اپنی مجلس میں یہ فرماتے کہ اب تمھارے سامنے ایک ایسا شخص آنے والا ہے جو اہل جنت میں سے ہے‘ اور ہر بار وہ آنے والے شخص انصار میں سے ایک صاحب ہی ہوتے۔ یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کو جستجو پیدا ہوئی کہ آخر یہ کیا عمل ایسا کرتے ہیں جس کی بنا پر حضورؐ نے ان کے بارے میں بار بار یہ بشارت سنائی ہے۔ چنانچہ وہ ایک بہانہ کر کے تین روز مسلسل ان کے ہاں جا کر رات گزارتے رہے تاکہ ان کی عبادت کا حال دیکھیں۔ مگر ان کی شب گزاری میں کوئی غیرمعمولی چیز اُنھیں نظر نہ آئی۔ ناچار انھوں نے خود ہی ان سے پوچھ لیا کہ بھائی‘ آپ کیا عمل ایسا کرتے ہیں جس کی بنا پر ہم نے حضوؐر سے آپ کے بارے میں یہ عظیم بشارت سُنی ہے؟ انھوں نے کہا: میری عبادت کا حال تو آپ دیکھ ہی چکے ہیں۔ البتہ ایک بات ہے جو شاید اس کی موجب بنی ہو‘ اور وہ یہ ہے کہ: ’’میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کپٹ نہیں رکھتا اور نہ کسی ایسی بھلائی پر جو اللہ نے اسے عطا کی ہو‘ اس سے حسد کرتا ہوں‘‘۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی مسلمان اگر کسی دوسرے مسلمان کے قول یا عمل میں کوئی غلطی پاتا ہو تو وہ اسے غلط نہ کہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہرگز نہیں ہے کہ مومن غلطی بھی کرے تو اس کو صحیح کہا جائے‘ یا اس کی غلط بات کو غلط نہ کہا جائے۔ لیکن کسی چیز کو دلیل کے ساتھ غلط کہنا اور شائستگی کے ساتھ اُسے بیان کر دینا اور چیز ہے ‘ اور بغض و نفرت‘ مذمت و بدگوئی اور سبّ و شتم بالکل ہی ایک دوسری چیز۔ یہ حرکت زندہ معاصرین کے حق میں کی جائے تب بھی ایک بڑی بُرائی ہے‘ لیکن مرے ہوئے اسلاف کے حق میں اس کا ارتکاب تو اور زیادہ بڑی بُرائی ہے‘ کیونکہ وہ نفس ایک بہت ہی گندا نفس ہوگا جو مرنے والوں کو بھی معاف کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ اور ان سب سے بڑھ کر شدید بُرائی یہ ہے کہ کوئی شخص اُن لوگوں کے حق میں بدگوئی کرے جنھوں نے انتہائی سخت آزمایشوں کے دَور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی رفاقت کا حق ادا کیا تھا اور اپنی جانیں لڑا کر دنیا میں اسلام کا وہ نور پھیلایا تھا جس کی بدولت آج ہمیں نعمت ایمان میسّر ہوئی ہے۔ اُن کے درمیان جو اختلافات رونما ہوئے اُن میں اگر ایک شخص کسی فریق کو حق پر سمجھتا ہو اور دوسرے فریق کا موقف اس کی راے میں صحیح نہ ہو، تو وہ یہ راے رکھ سکتا ہے اور اسے معقولیت کے حدود میں بیان بھی کرسکتا ہے۔ مگر ایک فریق کی حمایت میں ایسا غلو کہ دوسرے فریق کے خلاف دل بغض و نفرت سے بھر جائے اور زبان و قلم سے بدگوئی کی تراوش ہونے لگے‘ ایک ایسی حرکت ہے جو کسی خدا ترس انسان سے سرزد نہیں ہوسکتی۔ قرآن کی صریح تعلیم کے خلاف یہ حرکت جو لوگ کرتے ہیں وہ بالعموم اپنے اس فعل کے لیے یہ عذر بیان کرتے ہیں کہ قرآن مومنین کے خلاف بغض رکھنے سے منع کرتا ہے‘ اور ہم جن کے خلاف بغض رکھتے ہیں، وہ مومن نہیں بلکہ منافق تھے۔ لیکن یہ الزام اُس گناہ سے بھی بدتر ہے جس کی صفائی میں یہ بطور عذر پیش کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی یہی آیات‘ جن کے سلسلۂ بیان میں اللہ تعالیٰ نے بعد کے آنے والے مسلمانوں کو اپنے سے پہلے گزرے ہوئے اہلِ ایمان سے بغض نہ رکھنے اور ان کے حق میں دعاے مغفرت کرنے کی تعلیم دی ہے‘ اُن کے اس اِلزام کی تردید کے لیے کافی ہیں۔ اِن آیات میں یکے بعد دیگرے تین گروہوں کو فَے کا حق دار قرار دیا گیا ہے: اوّل مہاجرین‘ دوسرے انصار‘ تیسرے اُن کے بعد آنے والے مسلمان۔ اور اِن بعد کے آنے والے مسلمانوں سے فرمایا گیا ہے کہ تم سے پہلے جن لوگوں نے ایمان لانے میں سبقت کی ہے، ان کے حق میں دعاے مغفرت کرو۔ ظاہر ہے کہ اس سیاق و سباق میں سابقین بالایمان سے مراد مہاجرین و انصار کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اِسی سورئہ حشر کی آیات ۱۱ تا ۱۷ میں یہ بھی بتا دیا ہے کہ منافق کون لوگ تھے۔ اِس سے یہ بات بالکل ہی کُھل جاتی ہے کہ منافق وہ تھے جنھوں نے غزوئہ بنی نضیر کے موقع پر یہودیوں کی پیٹھ ٹھونکی تھی‘ اور ان کے مقابلے میں مومن وہ تھے جو اس غزوئہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے ساتھ شامل تھے۔ اِس کے بعد کیا ایک مسلمان ‘ جو خدا کا کچھ بھی خوف دل میں رکھتا ہو‘ یہ جسارت کر سکتا ہے کہ اُن لوگوں کے ایمان کا انکار کرے جن کے ایمان کی شہادت اللہ تعالیٰ نے خود دی ہے؟
امام مالکؒ اور امام احمد ؒنے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے یہ راے ظاہر کی ہے کہ فَے میں اُن لوگوں کا کوئی حصہ نہیں ہے جو صحابۂ کرام کو بُرا کہتے ہیں (احکام القرآن لابن العربی‘ غایۃ المنتھٰی)۔ لیکن حنفیہ اور شافعیہ نے اس راے سے اتفاق نہیں کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین گروہوں کو فَے میں حصہ دار قرار دیتے ہوئے ہر ایک کے ایک نمایاں وصف کی تعریف فرمائی ہے‘ مگر ان میں سے کوئی تعریف بھی بطور شرط نہیں ہے کہ وہ شرط اس گروہ میں پائی جاتی ہو تو اسے حصہ دیا جائے ورنہ نہیں۔ مہاجرین کے متعلق فرمایا کہ ’’وہ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی حمایت کے لیے کمربستہ رہتے ہیں‘‘۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جس مہاجر میں یہ صفت نہ پائی جائے وہ فَے میں سے حصہ پانے کا حق دار نہیں ہے۔ انصار کے متعلق فرمایا کہ ’’وہ مہاجرین سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ بھی اُن کو دے دیا جائے اس کے لیے اپنے دلوں میں کوئی طلب نہیں پاتے‘ خواہ وہ خود تنگ دست ہوں‘‘۔ اس کا بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ فَے میں کسی ایسے انصاری کا کوئی حق نہیں جو مہاجرین سے محبت نہ رکھتا ہو اور جو کچھ اُن کو دیا جا رہا ہو اسے خود حاصل کرنے کا خواہش مند ہو۔ لہٰذا تیسرے گروہ کا یہ وصف کہ ’’اپنے سے پہلے ایمان لانے والوں کے حق میں وہ دعاے مغفرت کرتا ہے اور اللہ سے دعا مانگتا ہے کہ کسی مومن کے لیے اس کے دل میں بغض نہ ہو‘‘، یہ بھی فَے میں حق دار ہونے کی شرط نہیں ہے بلکہ ایک اچھے وصف کی تعریف اور اس امر کی تلقین ہے کہ اہلِ ایمان کا رویّہ دوسرے اہلِ ایمان کے ساتھ اور اپنے سے پہلے گزرے ہوئے مومنین کے معاملے میں کیا ہونا چاہیے۔ (تفہیم القرآن، ج۵، ص ۴۰۳- ۴۰۵)
[سورئہ اعراف میں ہے]: ’’وہ اہلِ جنت ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے‘‘ (۷:۴۳)، یعنی دنیا کی زندگی میں ان نیک لوگوں کے درمیان اگر کچھ رنجشیں، بدمزگیاں اور آپس کی غلط فہمیاں رہی ہوں تو آخرت میں وہ سب دُور کردی جائیں گی۔ ان کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوجائیں گے۔ وہ مخلص دوستوں کی حیثیت سے جنت میں داخل ہوں گے۔ اُن میں سے کسی کو یہ دیکھ کر تکلیف نہ ہوگی کہ فلاں جو میرا مخالف تھا اور فلاں جو مجھ سے لڑا تھا اور فلاں جس نے مجھ پر تنقید کی تھی، آج وہ بھی اس ضیافت میں میرے ساتھ شریک ہے۔ اسی آیت کو پڑھ کر حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ میرے اور عثمانؓ اور طلحہؓ اور زبیرؓ کے درمیان بھی صفائی کرا دے گا۔
اس آیت کو اگر ہم زیادہ وسیع نظر سے دیکھیں تو یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ صالح انسانوں کے دامن پر اس دنیا کی زندگی میں جو داغ لگ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان داغوں سمیت انھیں جنت میں نہ لے جائے گا بلکہ وہاں داخل کرنے سے پہلے اپنے فضل سے انھیں بالکل پاک صاف کردے گا اور وہ بے داغ زندگی لیے ہوئے وہاں جائیں گے۔ (تفہیم القرآن، ج۲، ص ۳۰-۳۱)
’طاغوت‘ لغت کے اعتبار سے ہر اُس شخص کو کہا جائے گا، جو اپنی جائز حد سے تجاوز کرگیا ہو۔ قرآن کی اِصطلاح میں طاغوت سے مراد وہ بندہ ہے، جو بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خود آقائی و خداوندی کا دم بھرے اور خدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائے۔ خدا کے مقابلے میں ایک بندے کی سرکشی کے تین مرتبے ہیں۔ پہلا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ اُصولاً اس کی فرماں برداری ہی کو حق مانے، مگر عملاً اس کے احکام کی خلاف ورزی کرے۔ اِس کا نام فِسق ہے۔ دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ اس کی فرماں برداری سے اُصولاً منحرف ہوکر یا تو خودمختار بن جائے یا اس کے سوا کسی اَور کی بندگی کرنے لگے۔ یہ کفر ہے۔ تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ مالک سے باغی ہوکر اس کے ملک اور اس کی رعیت میں خود اپنا حکم چلانے لگے۔ اس آخری مرتبے پر جو بندہ پہنچ جائے، اسی کا نام طاغوت ہے اور کوئی شخص صحیح معنوں میں اللہ کا مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ وہ اس طاغوت کا منکر نہ ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، ص۱۹۶-۱۹۷)
طاغوت طغیان سے ہے جس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ کسی کو طاغی (سرکش) کہنے کے بجاے اگر طاغوت (سرکشی) کہا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ انتہا درجے کا سرکش ہے۔ مثال کے طور پر کسی کو حسین کے بجاے اگر یہ کہا جائے کہ وہ حُسن ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ خوب صورتی میں درجۂ کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ معبودانِ غیراللہ کو طاغوت اس لیے کہا گیا ہے کہ اللہ کے سوا دوسرے کی بندگی کرنا تو صرف سرکشی ہے مگر جو دوسروں سے اپنی بندگی کرائے، وہ کمال درجے کا سرکش ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، ص ۳۶۶)
’طاغوت‘ سے مراد وہ حاکم ہے جو قانونِ الٰہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو، اور وہ نظامِ عدالت ہے جو نہ تو اللہ کے اقتدارِ اعلیٰ کا مطیع ہو اور نہ اللہ کی کتاب کو آخری سند مانتا ہو۔ لہٰذا... جو عدالت ’طاغوت‘ کی حیثیت رکھتی ہو، اس کے پاس اپنے معاملات فیصلے کے لیے لے جانا ایمان کے منافی ہے اور خدا اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کا لازمی اقتضا یہ ہے کہ آدمی ایسی عدالت کو جائز عدالت تسلیم کرنے سے انکار کردے۔ قرآن کی رُو سے اللہ پر ایمان اور طاغوت سے کفر، دونوں لازم و ملزوم ہیں، اور خدا اور طاغوت دونوں کے آگے بیک وقت جھکنا عین منافقت ہے۔ (ایضاً، ص ۳۶۶-۳۶۷)
کسی کے طاغوت ہونے کے لیے اس کا خود طاغی (سرکش) ہونا تو شرطِ اوّل ہے۔ رہی دوسری شرط تووہ محض پوجا جانا نہیں ہے، بلکہ اس پوجے جانے میں اس کی اپنی خواہش اور کوشش کا دخل بھی ہونا چاہیے۔ بالفاظِ دیگر طاغوت وہ ہے جس نے نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی کی ہو، بلکہ اِس سرکشی میں یہاں تک بڑھ گیا ہو کہ خدا کے بجاے اس نے اپنے آپ کو لوگوں کا رب اور اِلٰہ بنانے کی کوشش کی ہو۔ اس معنی کے لحاظ سے بتوں پر یا ان بزرگوں پر جن کو مرنے کے بعد بت بنایا گیا، طاغوت کا اطلاق نہ ہوگا۔ (مکاتیب سید ابوالاعلٰی مودودی، حصہ اوّل، ص ۱۲۲)
خدا سے منہ موڑ کر انسان ایک ہی طاغوت کے چنگل میں نہیں پھنستا، بلکہ بہت سے طواغیت اس پر مسلط ہوجاتے ہیں۔ ایک طاغوت شیطان ہے، جو اس کے سامنے نت نئی جھوٹی ترغیبات کا سدابہار سبزباغ پیش کرتا ہے۔ دوسرا طاغوت آدمی کا اپنا نفس ہے، جو اسے جذبات و خواہشات کا غلام بنا کر زندگی کے ٹیڑھے سیدھے راستوں میں کھینچے کھینچے لیے پھرتا ہے اور بے شمار طاغوت باہر کی دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بیوی اور بچے، اعزہ اور اقربا، برادری اور خاندان، دوست اور آشنا، سوسائٹی اور قوم، پیشوا اور راہنما، حکومت اور حکام، یہ سب اس کے لیے طاغوت ہی طاغوت ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک اُس سے اپنی اغراض کی بندگی کراتا ہے اور بے شمار آقائوں کا یہ غلام ساری عمر اسی چکّر میں پھنسا رہتا ہے کہ کس آقا کو خوش کرے اور کس کی ناراضی سے بچے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، ص ۱۹۷)
طاغوت کا مصدر ’طغیان‘ ہے جس کے معنی حد سے گزر جانے کے ہیں۔ دریا جب اپنی حد سے گزر جاتا ہے توآپ کہتے ہیں: طغیانی آگئی ہے۔ اسی طرح جب آدمی اپنی جائز حد سے گزر کر اس غرض کے لیے اپنی طاقت استعمال کرتا ہے کہ انسانوں کا خدا بن جائے یااپنے مناسب حصے سے زائد فوائد حاصل کرے تو یہ طاغوت کی راہ میں لڑنا ہے اور اس کے مقابلے میں راہِ خدا کی جنگ وہ ہے جس کا مقصد صرف یہ ہو کہ خدا کا قانونِ عدل دنیا میں قائم ہو۔ لڑنے والا خود بھی اس کی پابندی کرے اور دوسروں سے بھی اس کی پابندی کرائے، چنانچہ قرآن کہتا ہے:
تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ط وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ o (القصص ۲۸:۸۳) آخرت میں عزت کا مقام تو ہم نے صرف ان لوگوں کے لیے رکھا ہے جو زمین میں اپنی بڑائی قائم کرنا اور فساد کرنا نہیں چاہتے۔ عاقبت کی کامیابی صرف خدا ترس لوگوں کے لیے ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ ’’راہِ خدا کی جنگ سے کیا مراد ہے؟ ایک شخص مال کے لیے جنگ کرتا ہے، دوسرا شخص بہادری کی شہرت حاصل کرنے کے لیے جنگ کرتا ہے، تیسرے شخص کو کسی سے عداوت ہوتی ہے یا قومی حمیّت کا جوش ہوتا ہے، اس لیے جنگ کرتا ہے۔ ان میں سے کس کی جنگ فی سبیل اللہ ہے؟‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ’’کسی کی بھی نہیں، فی سبیل اللہ تو صرف اس شخص کی جنگ ہے جو خدا کا بول بالا کرنے کے سوا کوئی مقصد نہیں رکھتا‘‘۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ’’اگر کسی شخص نے جنگ کی اور اس کے دل میں اُونٹ باندھنے کی ایک رسی حاصل کرنے کی بھی نیت ہوئی تو اس کا اجر ضائع ہوگیا‘‘۔
اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو محض اس کی خوشنودی کے لیے ہو اور کوئی شخصی یا جماعتی غرض پیشِ نظر نہ ہو۔ پس جہاد کے لیے فی سبیل اللہ کی قید اسلامی نقطۂ نظر سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مجرد جہاد تو دنیا میں سب ہی جان دار کرتے ہیں۔ ہر ایک اپنے مقصد کی تحصیل کے لیے پورا زور صرف کر رہا ہے، لیکن ’مسلمان‘ جس انقلابی جماعت کا نام ہے، اس کے انقلابی نظریات میں سے ایک اہم ترین نظریہ بلکہ بنیادی نظریہ یہ ہے کہ اپنی جان و مال کھپائو، دنیا کی ساری سرکش طاقتوں سے لڑو، اپنے جسم و روح کی ساری طاقتیں خرچ کرو، نہ اس لیے کہ دوسرے سرکشوں کو ہٹا کر تم ان کی جگہ لے لو، بلکہ صرف اس لیے کہ دنیا سے سرکشی و طغیان مٹ جائے اور خدا کا قانون دنیا میں نافذہو۔ (اسلامی نظامِ زندگی اور اس کے بنیادی تصورات، ص ۲۴۵-۲۴۶)
ہم مسلمان یہ ایمان رکھتے ہیں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کے رہنما ہیں اور ہمیشہ کے لیے ہیں۔ بظاہر یہ بہت بڑی بات ہے جوکسی انسان کے متعلق کہی جاسکتی ہے مگر جس بلندپایۂ ہستی کے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا ہے، اس کا کارنامہ واقعی ایسا ہے کہ اس کے لیے یہ قول مُبالغہ نہیں بلکہ عین حقیقت ہے۔
دنیا کے رہنما میں اولین صفت یہ ہونی چاہیے کہ اس نے کسی خاص قوم یا نسل یا طبقے کی بھلائی کے لیے نہیں، بلکہ تمام دنیا کے انسانوں کی بھلائی کے لیے کام کیا ہو۔ ساری قوموں کے انسان کسی ایک شخص کو اپنا لیڈر صرف اسی صورت میں مان سکتے ہیں، جب کہ اس کی نگاہ میں سب قومیں اور سب انسان یکساں ہوں۔ وہ سب کا خیرخواہ ہو اور اپنی رہنمائی میں کسی طرح ایک کو دوسرے پر ترجیح نہ دے۔ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں یہ صفت بدرجۂ اتم پائی جاتی ہے۔ آپؐ کی زندگی کسی قوم پرست یا وطن پرست کی زندگی نہ تھی بلکہ ایک محبِّ انسانیت کی زندگی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ کے عہد میں حبشی، ایرانی، رومی، مصری اور اسرائیلی اُسی طرح آپؐ کے رفیق کار بلکہ جاں نثار بنے جس طرح عرب۔ آپؐ کے بعد بھی دنیا کے ہر ملک اور ہرنسل کے لوگ آپؐ کے متبعین میں شامل ہوتے چلے گئے اور مل کر ایک ملّت بن گئے۔
دوسری اہم صفت رہنماے عالم میں یہ ہونی چاہیے کہ اس کے پیش کردہ اُصول عالم گیر اور ہمہ گیر ہوں، تمام دنیا کے انسانوں کی یکساں رہنمائی کرتے ہوں، اور ان میں انسانی زندگی کے تمام اہم مسائل کا حل موجود ہو۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اس معاملے میں بھی کامل ہے۔ آپؐ نے کسی مخصوص قوم یا ملک کے مسائل سے بحث کرنے کے بجاے پوری انسانیت کے مسائل کو لیا ہے، اور ان میں ایسی رہنمائی دی ہے جس پر بنی نوع انسان بحیثیت مجموعی تمام دنیا میں عمل کرکے دنیا اورآخرت کی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
تیسری بنیادی صفت جس کے بغیر کوئی شخص سارے جہاںکا رہنما نہیں ہوسکتا یہ ہے کہ اس کی رہنمائی کسی خاص زمانے کے لیے نہ ہو بلکہ وہ ہرزمانے میں صحیح اور قابلِ عمل ہو۔ عالم گیر رہنما وقتی وزمانی نہیں ہوسکتا۔ یہ لقب تو اسی کو زیب دیتا ہے جس کی رہنمائی رہتی دنیا تک کارآمد رہے۔ اس کسوٹی پر بھی اگر کسی کی تعلیم و ہدایت پوری اُترتی ہے تو وہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے۔ وہ ایک روشنی کا مینار تھے جوصدیوں سے دنیا کو راہِ راست دکھا رہا ہے اور زمانہ جیسے جیسے گزرتا جا رہا ہے اس کی روشنی اور زیادہ نکھرتی چلی جارہی ہے۔
دنیا بھر کا لیڈر ہونے کے لیے چوتھی اہم ترین شرط یہ ہے کہ اس نے صرف اُصول پیش کرنے ہی پر اکتفا نہ کیا ہو بلکہ اپنے پیش کردہ اصولوں کو زندگی میں عملاً جاری کرکے دکھا دیا ہو اور ان کی بنیاد پر ایک جیتی جاگتی سوسائٹی پیدا کردی ہو۔ محض اُصول پیش کرنے والا زیادہ سے زیادہ ایک مفکّر ہوسکتا ہے، لیڈر نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے صرف خیالی نقشہ پیش نہیں کیا بلکہ اس نقشے پر ایک زندہ سوسائٹی پیدا کر کے دکھا دی، اور۲۳ سال کی مختصر مدت میں لاکھوں انسانوں کو خدا کی حکومت کے سامنے سراطاعت جھکا دینے پر آمادہ کردیا۔ ایک نیانظامِ اخلاق، نیا نظامِ تمدن، نیا نظامِ معیشت اور نیا نظامِ سلطنت پیدا کر کے تمام دنیا کے سامنے یہ عملی مظاہرہ کردیا کہ ان کے بتائے ہوئے اصولوں پر کتنی اچھی، کتنی پاکیزہ اور کتنی صالح زندگی وجود میں آتی ہے۔
یہ ہے وہ کارنامہ جس کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم درحقیقت پوری دنیا کے رہنما ہیں، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہیں۔ آپؐ کی تعلیم کسی خاص قوم کی جایداد نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کی مشترک میراث ہے جس پر کسی کا حق کسی دوسرے سے کم یا زیادہ نہیں ہے۔ جو چاہے اس میراث سے فائدہ اٹھائے اور جو چاہے فائدہ نہ اُٹھا کر ابدی محرومی میں مبتلا رہے۔ (بنام ایڈیٹر اتحاد، جولائی ۱۹۶۲ئ)۔ (مکاتیب سیدابوالاعلٰی مودودی، حصہ اوّل، مرتبہ: عاصم نعمانی، ص۳۳-۳۵)
موجودہ تہذیب جس پر آج دنیا کا پورا فکری، اخلاقی، تمدنی،سیاسی اور معاشی نظام چل رہا ہے دراصل [جن] تین بنیادی اصولوں پر قائم ہے، ان میں سے پہلا اصول سیکولرزم یعنی لادینی یا دنیاویت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’خدا اور اس کی ہدایت اور اس کی عبادت کے معاملے کو ایک ایک شخص کی ذاتی حیثیت تک محدود کردیا جائے اور انفرادی زندگی کے اس چھوٹے سے دائرے کے سوا دنیا کے باقی تمام معاملات کو ہم خالص دنیوی نقطۂ نظر سے اپنی صواب دید کے مطابق خود جس طرح چاہیں طے کریں۔ ان معاملات میں یہ سوال خارج از بحث ہونا چاہیے کہ خدا کیا کہتا ہے اور اس کی ہدایت کیا ہے اور اس کی کتابوں میں کیا لکھا ہے‘‘۔ ابتداء ً یہ طرزِعمل اہلِ مغرب نے عیسائی پادریوں کی اس خودساختہ دینیات (Theology) سے بے زار ہوکر اختیار کیا تھا جو ان کے لیے زنجیرِپا بن کر رہ گئی تھی لیکن رفتہ رفتہ یہی طرزِعمل ایک مستقل نظریۂ حیات بن گیا اور تہذیب.ِ جدید کا پہلا سنگِ بنیاد قرار پایا۔ آپ نے اکثر یہ فقرہ سنا ہوگا کہ ’’مذہب ایک پرائیویٹ معاہدہ ہے خدا اور بندے کے درمیان‘‘۔ یہ مختصر سا فقرہ دراصل تہذیب.ِ حاضر کا ’کلمہ‘ ہے۔ اس کی شرح یہ ہے کہ اگر کسی کا ضمیر گواہی دیتا ہے کہ خدا ہے اور اس کی پرستش کرنی چاہیے تووہ اپنی انفرادی زندگی میں بخوشی اپنے خدا کو پوجے، مگر دنیا اور اس کے معاملات سے خدا اور مذہب کا کوئی تعلق نہیں۔ اس ’کلمہ‘ کی بنیاد پر جس نظامِ زندگی کی عمارت اُٹھی ہے اس میں انسان اور انسان کے تعلق اور انسان اور دنیا کے تعلق کی تمام صورتیں خدا اور مذہب سے آزاد ہیں۔ معاشرت ہے تو اس سے آزاد، تعلیم ہے تو اس سے آزاد، معاشی کاروبار ہے تو اس سے آزاد، قانون ہے تو اس سے آزاد پارلیمنٹ ہے تو اس سے آزاد، سیاست اور انتظامِ ملکی ہے تو اس سے آزاد، بین الاقوامی ربط و ضبط ہے تو اس سے آزاد، زندگی کے ان بے شمار مختلف پہلوئوں میں جو کچھ بھی طے کیا جاتا ہے اپنی خواہش اور دانست کے مطابق طے کیا جاتا ہے اور اس سوال کو نہ صرف ناقابلِ لحاظ، بلکہ اصولاً غلط اور انتہائی تاریک خیال سمجھا جاتا ہے کہ ان امور کے متعلق خدا نے بھی کچھ اصول اور احکام ہمارے لیے مقرر کیے ہیں یا نہیں۔ رہی انفرادی زندگی، تو وہ بھی غیر دینی تعلیم اور بے دین اجتماعیت کی بدولت اکثروبیش تر افراد کے معاملے میں نری دنیاوی (سیکولر) ہی ہوکر رہ گئی ہے اور ہوتی چلی جارہی ہے کیونکہ اب بہت ہی کم افراد کا ضمیر واقعی یہ گواہی دیتا ہے کہ خدا ہے اور اس کی بندگی کرنی چاہیے۔ خصوصاً جو لوگ اس وقت تمدن کے اصلی کارفرما اور کارکن ہیں ان کے لیے تو مذہب اب ایک پرائیویٹ معاملہ بھی باقی نہیں رہا ہے، ان کا ذاتی تعلق بھی خدا سے ٹوٹ چکا ہے...
یہ نظریہ کہ خدا اور مذہب کا تعلق صرف آدمی کی انفرادی زندگی سے ہے، سراسر ایک مہمل نظریہ ہے جسے عقل و خرد سے کوئی سروکار نہیں۔ ظاہر بات ہے کہ خدا اور انسان کا معاملہ دوحال سے خالی نہیں ہوسکتا۔ یا تو خدا انسان کا اور اس ساری کائنات کا جس میں انسان رہتا ہے، خالق اور مالک اور حاکم ہے، یا نہیں ہے۔ اگر وہ نہ خالق ہے نہ مالک اور نہ حاکم، تب تو اس کے ساتھ پرائیویٹ تعلق کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نہایت لغو بات ہے کہ ایک ایسی غیر متعلق ہستی کی خواہ مخواہ پرستش کی جائے جس کا ہم سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔ اور اگر وہ فی الواقع ہمارا اور اس تمام جہانِ ہست و بود کا خالق، مالک اور حاکم ہے تو اس کے کوئی معنی نہیں ہیں کہ اس کی عمل داری (jurisdiction) محض ایک شخص کی پرائیویٹ زندگی تک محدود ہو اور جہاں سے ایک اور ایک___ دو آدمیوں کا اجتماعی تعلق شروع ہوتا ہے وہیں سے اس کے اختیارات ختم ہوجائیں۔ یہ حدبندی اگر خدا نے خود کی ہے تو اس کی کوئی سند ہونی چاہیے۔ اور اگر اپنی اجتماعی زندگی میں انسان نے خدا سے بے نیاز ہوکر خود ہی خودمختاری اختیار کی ہے تو یہ اپنے خالق اور مالک اور حاکم سے اس کی کھلی بغاوت ہے۔ اس بغاوت کے ساتھ یہ دعویٰ کہ ہم اپنی انفرادی زندگی میں خدا کو اور اس کے دین کو مانتے ہیں صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس کی عقل ماری گئی ہو۔ اس سے زیادہ لغو بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک ایک شخص فرداً فرداً تو خدا کا بندہ ہو مگر یہ الگ الگ بندے جب مل کر معاشرہ بنائیں تو بندے نہ رہیں۔ اجزا میں سے ہر ایک بندہ اور اجزا کا مجموعہ غیربندہ، یہ ایک ایسی بات ہے جس کا تصورصرف ایک پاگل ہی کرسکتا ہے۔ پھر یہ بات کسی طرح ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر ہمیں خدا کی اور اس کی راہ نمائی کی ضرورت نہ اپنی خانگی معاشرت میں ہے، نہ محلے اور شہر میں، نہ مدرسے اور کالج میں، نہ منڈی اور بازار میں، نہ پارلیمنٹ اور گورنمنٹ ہائوس میں، نہ ہائی کورٹ اور نہ سول سیکرٹریٹ میں، نہ چھائونی اور پولیس لائن میں اور نہ میدانِ جنگ اور صلح کانفرنس میں، تو آخر اس کی ضرورت ہے کہاں؟ کیوں ایسے خدا کو مانا جائے اور اس کی خواہ مخواہ پوجا پاٹ کی جائے جو یا تو اتنا بے کار ہے کہ زندگی کے کسی معاملے میں بھی ہماری راہ نمائی نہیں کرتا، یا معاذ اللہ ایسا نادان ہے کہ کسی معاملے میں بھی اس کی کوئی ہدایت ہمیں معقول اور قابلِ عمل نظر نہیں آتی؟
یہ تو اس معاملے کا محض عقلی پہلو ہے۔ عملی پہلو سے دیکھیے تو اس کے نتائج بڑے ہی خوف ناک ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی کے جس معاملے کا تعلق بھی خدا سے ٹوٹتا ہے اس کا تعلق شیطان سے جڑ جاتا ہے۔ انسان کی پرائیویٹ زندگی درحقیقت کسی چیز کا نام نہیں ہے۔ انسان ایک متمدن ہستی ہے اور اس کی پوری زندگی اصل میں اجتماعی زندگی ہے۔ وہ پیدا ہی ایک ماں اور ایک باپ کے معاشرتی تعلق سے ہوتا ہے۔دنیا میں آتے ہی وہ ایک خاندان میں آنکھیں کھولتا ہے، ہوش سنبھالتے ہی اس کو ایک سوسائٹی سے، ایک برادری سے، ایک بستی سے، ایک قوم سے، ایک نظامِ تمدن اور نظامِ معیشت و سیاست سے واسطہ پیش آتا ہے۔ یہ بے شمار روابط جو اس کو دوسرے انسانوں سے اور دوسرے انسانوں کو اس سے جوڑے ہوئے ہیں، انھی کی درستی پر ایک ایک انسان کی اور مجموعی طور پر تمام انسانوں کی فلاح و بہبود کا انحصار ہے۔ اور وہ صرف خدا ہی ہے جو انسانوں کو ان روابط کے لیے صحیح اور منصفانہ اور پایدار اصول و حدود بتاتا ہے۔ جہاں انسان اس کی ہدایت سے بے نیاز ہوکر خودمختار بنا، پھر نہ تو کوئی مستقل اصول باقی رہتا ہے اور نہ انصاف اور راستی۔ اس لیے کہ خدا کی راہ نمائی سے محروم ہوجانے کے بعد خواہش اور ناقص علم و تجربہ کے سوا کوئی چیز ایسی باقی نہیں رہتی جس کی طرف انسان راہ نمائی کے لیے رجوع کرسکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جس سوسائٹی کا نظام لادینی یا دنیاویت کے اصول پرچلتا ہے، اس میں خواہشات کی بنا پر روز اصول بنتے اور ٹوٹتے ہیں۔ آپ خود دیکھ رہے ہیں کہ انسانی تعلقات کے ایک ایک گوشے میں ظلم، بے انصافی ، بے ایمانی اور آپس کی بے اعتمادی گھس گئی ہے۔ تمام انسانی معاملات پر انفرادی، طبقاتی، قومی اور نسلی خود غرضیاں مسلط ہوگئی ہیں۔ دو انسانوں کے تعلق سے لے کر قوموں کے تعلق تک کوئی رابطہ ایسا نہیں رہا جس میں ٹیڑھ نہ آگئی ہو۔ ہر ایک شخص نے، ہر ایک گروہ نے، ہر ایک طبقے نے، ہر ایک قوم اور ملک نے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں، جہاں تک بھی اس کا بس چلا ہے، پوری خودغرضی کے ساتھ اپنے مطلب کے اصول اور قاعدے اور قانون بنا لیے ہیں اور کوئی بھی اس کی پروا نہیں کرتا کہ دوسرے اشخاص، گروہوں، طبقوں اور قوموں پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ پروا کرنے والی صرف ایک ہی طاقت رہ گئی ہے، اور وہ ہے جوتا۔ جہاں مقابلے میں جوتا یا جوتے کا اندیشہ ہوتا ہے، صرف وہیں اپنی حد سے زیادہ پھیلے ہوئے ہاتھ اور پائوں کچھ سکڑ جاتے ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ جوتا کسی عالم اور منصف ہستی کا نام نہیں ہے۔ وہ تو ایک اندھی طاقت کا نام ہے اس لیے اس کے زور سے کبھی توازن قائم نہیں ہوتا۔ جس کا جوتا زبردست ہوتا ہے، وہ دوسروں کو صرف اتنا ہی نہیں سکیڑتا جتنا سکیڑنا چاہیے،بلکہ وہ خود اپنی حد سے زیادہ پھیلنے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ پس لادینی اور دنیاویت کا ماحصل صرف یہ ہے کہ جو بھی اس طرزِ عمل کو اختیار کرے گا، بے لگام، غیرذمہ دار اور بندۂ نفس ہوکر رہے گا، خواہ وہ ایک شخص ہو یا ایک گروہ یا ایک ملک اور قوم یا مجموعۂ اقوام۔ (اسلامی نظام اور مغربی لادینی جمہوریت، ص ۱۱-۱۲، ۱۵-۱۸)
فی الواقع بکثرت لوگ اِس اُلجھن میں پڑ گئے ہیں، کہ آیا جمہوری طریقوں سے یہاں کوئی تبدیلی لائی جاسکتی ہے یا نہیں، اور ایک اچھی خاصی تعداد یہ سمجھنے لگی ہے کہ ایسے حالات میں غیرجمہوری طریقے اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ بجاے خود ہمارے حکمرانوں کی بہت بڑی نادانی ہے کہ انھوں نے لوگوں کو اِس طرح سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ لیکن ہم اس پوری صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اور اُس کی پیداکردہ تمام صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے بھی اپنی اس راے پر قائم ہیں کہ اسلامی نظام، جسے برپا کرنے کے لیے ہم اُٹھے ہیں، جمہوری طریقوں کے سوا کسی دوسری صورت سے برپا نہیں ہو سکتا، اور اگر کسی دوسرے طریقے سے برپا کیا بھی جاسکے تو وہ دیرپا نہیں ہوسکتا۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے آپ جمہوری طریقوں کا مطلب واضح طور پر جان لیں۔ غیرجمہوری طریقوں کے مقابلے میں جب جمہوری طریقوں کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ نظامِ زندگی میں جو تبدیلی بھی لانا، اور ایک نظام کی جگہ جو نظام بھی قائم کرنا مطلوب ہو، اسے زور زبردستی سے لوگوں پر مسلط نہ کیا جائے، بلکہ عامۃ الناس کو سمجھا کر اور اچھی طرح مطمئن کر کے اُنھیں ہم خیال بنایا جائے اور اُن کی تائید سے اپنا مطلوبہ نظام قائم کیا جائے۔ اس کے لیے یہ لازم نہیں ہے کہ عوام کو اپنا ہم خیال بنا لینے کے بعد غلط نظام کو صحیح نظام سے بدلنے کے لیے ہر حال میں صرف انتخابات ہی پر اِنحصار کرلیا جائے۔ انتخابات اگر ملک میں آزادانہ و منصفانہ ہوں اور ان کے ذریعے سے عام لوگوں کی راے نظام کی تبدیلی کے لیے کافی ہو، تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں۔ لیکن جہاں انتخابات کے راستے سے تبدیلی کا آنا غیرممکن بنا دیا گیا ہو، وہاں جبّاروں کو ہٹانے کے لیے راے عامہ کا دبائو دوسرے طریقوں سے ڈالا جاسکتا ہے، اور ایسی حالت میں وہ طریقے پوری طرح کارگر بھی ہوسکتے ہیں، جب کہ ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بھاری اکثریت اس بات پر تُل جائے کہ جبّاروں کا من مانا نظام ہرگز نہ چلنے دیا جائے گا اور اُس کی جگہ وہ نظام قائم کرکے چھوڑا جائے گا جس کے صحیح و برحق ہونے پر لوگ مطمئن ہوچکے ہیں۔ نظامِ مطلوب کی مقبولیت جب اِس مرحلے تک پہنچ جائے تو اس کے بعد غیر مقبول نظام کو عوامی دبائو سے بدلنا قطعاً غیر جمہوری نہیں ہے، بلکہ ایسی حالت میں اُس نظام کا قائم رہنا سراسر غیر جمہوری ہے۔
اس تشریح کے بعد یہ سمجھنا کچھ مشکل نہ رہے گا کہ ہم اسلامی نظام برپا کرنے کے لیے جمہوری طریقوں پر اس قدر زور کیوں دیتے ہیں۔ کوئی دوسرا نظام مثلاً کمیونزم لوگوں پر زبردستی ٹھونسا جاسکتا ہے، بلکہ اس کے قیام کا ذریعہ ہی جبر اور جبّاریت ہے، اور خود اس کے اَئمہ علانیہ یہ کہتے ہیں کہ انقلاب بندوق کی گولی ہی سے آتا ہے۔ اِستعماری نظام اور سرمایہ داری نظام اور فسطائی نظام بھی راے عام کی تائید کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ راے عام کو طاقت سے کچل دینا اور اس کا گلا گھونٹ دینا ہی ان کے قیام کا ذریعہ ہے۔
لیکن اسلام اس قسم کا نظام نہیں ہے۔ وہ پہلے لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کرنا ضروری سمجھتا ہے، کیونکہ ایمان کے بغیر لوگ خلوص کے ساتھ اُس کے بتائے ہوئے راستوں پر نہیں چل سکتے۔ پھر وہ اپنے اُصولوں کا فہم اور اُن کے برحق ہونے پر اطمینان بھی عوام کے اندر ضروری حد تک، اور خواص (خصوصاً کارفرمائوں) میں کافی حد تک پیدا کرنا لازم سمجھتا ہے، کیونکہ اس کے بغیر اُس کے اصول و احکام کی صحیح تنفیذ ممکن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ وہ عوام وخواص کی ذہنیت، اندازِفکر اور سیرت و کردار میں بھی اپنے مزاج کے مطابق تبدیلی لانے کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ یہ نہ ہو تو اس کے پاکیزہ اور بلندپایہ اصول و احکام اپنی صحیح روح کے ساتھ نافذنہیں ہوسکتے۔ یہ جتنی چیزیں میں نے بیان کی ہیں، اسلامی نظام کو برپا کرنے کے لیے سب کی سب ضروری ہیں، اور اِن میں سے کوئی چیز بھی جبراً لوگوں کے دل و دماغ میں نہیں ٹھونسی جاسکتی، بلکہ اِن میں سے ہر ایک کے لیے ناگزیر ہے کہ تبلیغ، تلقین اور تفہیم کے ذرائع اختیار کر کے لوگوں کے عقائد و افکار بدلے جائیں، ان کے سوچنے کے انداز بدلے جائیں، ان کی اَقدار (values) بدلی جائیں، ان کے اخلاق بدلے جائیں، اور ان کو اس حد تک اُبھار دیا جائے کہ وہ اپنے اُوپر جاہلیت کے کسی نظام کا تسلط برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ جمہوری طریقوں کے سوا اُس کے حصول کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے اور آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ اسلامی نظام کو عملاً برپا کردینے کے لیے کوئی اقدام اُس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک اس مقصد کے لیے کام کرنے والوں کو اِس نوعیت کی عوامی تائید حاصل نہ ہوجائے۔
شاید آپ میری یہ باتیں سن کر سوچنے لگیں گے کہ اس لحاظ سے تو گویا ابھی ہم اپنی منزل کے قریب ہونا درکنار، اس کی راہ کے صرف ابتدائی مرحلوں میں ہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ آپ اَفراط و تفریط سے بچتے ہوئے اپنے آج تک کے کام کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں۔ جمہوری طریقوں سے کام کرتے ہوئے آپ پچھلے [برسوں] میں تعلیم یافتہ طبقے کی بڑی اکثریت کو اپنا ہم خیال بنا چکے ہیں، اور یہ لوگ ہر شعبۂ زندگی میں موجود ہیں۔ نئی نسل، جو اَب تعلیم پاکر اُٹھ رہی ہے، اور جسے آگے چل کر ہر شعبۂ زندگی کو چلانا ہے، وہ بھی جاہلیت کے علَم برداروں کی ساری کوششوں کے باوجود زیادہ تر آپ کی ہم خیال ہے۔
اب آپ کے سامنے ایک کام تو یہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقے میں اپنے ہم خیالوںکی تعداد اِسی طرح بڑھاتے چلے جائیں، اور دوسراکام یہ ہے کہ عوام کے اندر بھی نفوذ کر کے ان کو اسلامی نظام برپا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تیار کرنے کی کوشش کریں۔ پہلے کام کے لیے لٹریچر کا پھیلانا آج تک جتنا مفید ثابت ہوا ہے اس سے بدرجہا زیادہ آیندہ مفید ثابت ہوسکتا ہے، اگر آپ اپنے ہم خیال اہلِ علم کے حلقے منظم کرکے مختلف علوم کے ماہرین سے مسائلِ حیات پر تازہ ترین اور محققانہ لٹریچر تیار کرانے کا انتظام کریں۔ اور دوسرے کام کے لیے تبلیغ و تلقین کے دائرے وسیع کرنے کے ساتھ اصلاحِ خلق اور خدمتِ خلق کی ہرممکن کوشش کیجیے۔ آپ صبر کے ساتھ لگاتار اس راہ میں جتنی محنت کرتے چلے جائیں گے اتنی ہی آپ کی منزل قریب آتی چلی جائے گی۔
رہا یہ سوال کہ جب تمام جمہوری اداروں کی مٹی پلید کر دی گئی ہے، شہری آزادیاں سلب کرلی گئی ہیں اور بنیادی حقوق کچل کر رکھ دیے گئے ہیں، تو جمہوری طریقوں سے کام کیسے کیا جاسکتاہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کا کام کرنے کے لیے کھلی ہموار شاہراہ تو کبھی نہیں ملی ہے۔ یہ کام تو جب بھی ہوا جبروظلم کے مقابلے میں ہر طرح کی کڑیاں [سختیاں] جھیل کر ہی ہوا، اور وہ لوگ کبھی یہ کام نہ کرسکے جو یہ سوچتے رہے کہ جاہلیت کے علَم برداروں کی اجازت، یا ان کی عطا کردہ سہولت ملے تو وہ راہِ خدا میں پیش قدمی کریں۔ آپ جن برگزیدہ ہستیوں کے نقشِ پا کی پیروی کر رہے ہیں، اُنھوں نے اُس ماحول میں یہ کام کیا تھا جہاں جنگل کا قانون نافذ تھا اور کسی شہری آزادی یا بنیادی حق کا تصور تک موجود نہ تھا۔ اس وقت ایک طرف دل موہ لینے والے پاکیزہ اخلاق، دماغوں کو مسخر کرلینے والے معقول دلائل، اور انسانی فطرت کو اپیل کرنے والے اصول اپنا کام کر رہے تھے اور دوسری طرف جاہلیت کے پاس اُن کے جواب میں پتھر تھے، گالیاں تھیں، جھوٹے بہتان تھے اور کلمۂ حق کہتے ہی انسانوں کی شکل میں درندے خدا کے بندے پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ یہی چیز درحقیقت اسلام کی فتح اور جاہلیت کی شکست کا ذریعہ بنی۔
ظلم و جور کا ماحول جہاں بھی ہو اس کے مقابلے میں حق پرستی کا علَم بلند کرنے اور بلند رکھنے سے یہ تینوں نتائج لازماً رونما ہوں گے۔ اس لیے یہ تو حق کی کامیابی کا فطری راستہ ہے، آپ اسلامی نظام برپا کرنے کے لیے جمہوری اداروں کی مٹی پلید ہونے اور شہری آزادیاں سلب ہوجانے اور بنیادی حقوق کچل دیے جانے کا رونا خواہ مخواہ روتے ہیں۔ (تصریحات، ص ۳۲۰-۳۲۴)
اس لائحہ عمل [تطہیر افکار و تعمیر افکار‘ صالح افراد کی تلاش‘ تنظیم اور تربیت‘ اجتماعی اصلاح کی سعی‘ اور نظامِ حکومت کی اصلاح] کو اگر آپ اس نصب العین [اقامت دین‘ حکومتِ الٰہیہ یا اسلامی نظامِ زندگی کا قیام] کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو آپ بیک نظر محسوس کرلیں گے کہ یہ لائحہ عمل اس نصب العین کا فطری تقاضا ہے اور اس کا ایک ایک جز اس کے ایک ایک گوشے پر ٹھیک ٹھیک منطبق ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس جماعت کا وہ نصب العین ہو‘ اس کا یہی لائحہ عمل ہونا چاہیے اور یہی ہوسکتا ہے۔ اس کے سوا اس کا کوئی اور لائحہ عمل ہو ہی نہیں سکتا۔
اس کے چاروں اجزا آپس میں ایسا منطقی ربط رکھتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا تقاضا کرتا ہے‘ ہر ایک دوسرے سے تقویت پاتا ہے‘ اور جس کو بھی ساقط کردیا جائے‘ اس کے سقوط سے ساری اسکیم خراب ہوجاتی ہے۔ جماعت کے نصب العین کا حصول اگر ممکن ہے تو ان چاروں اجزا پر بیک وقت متوازی کام اورمتوازن طریقے پر کام کرنے ہی سے ممکن ہے۔ آپ اس کے جس جز کو بھی الگ کردیںگے‘ باقی اجزا کا کام نہ صرف کمزور اور بے اثر ہوجائے گا‘ بلکہ اپنے نصب العین کے لیے آپ کی جدوجہد ہی لاحاصل ہوکر رہ جائے گی۔
اب خود سوچیے کہ یہ سارے کام کرنے کا فائدہ کیا ہے اگر آپ ان کاموں سے حاصل ہونے والے نتائج کو اصل مقصد کی طرف پیش قدمی کرنے کے لیے ساتھ ساتھ استعمال نہ کرتے چلے جائیں۔ آپ کا اصل مقصد آخرکار جس کام کے ذریعے سے حاصل ہونا ہے‘ وہ یہی چوتھا کام ہی تو ہے۔ یہ آپ کے پروگرام میں شامل نہ ہو تو پہلے تین کام ایک سعی بے حاصل کے سوا کچھ نہ ہوں گے‘ اور انھیں کر کے آپ زیادہ سے زیادہ بس مبلغوں کی ایک جماعت بن کر رہ جائیں گے جن کی پہلے بھی اس ملک میں کوئی کمی نہ تھی۔ اس طرح کی تبلیغ و تلقین اور اصلاح اخلاق کی کوششوں سے جاہلیت کا سیلاب نہ پہلے رُکا تھا‘ نہ اب رُک سکتا ہے۔
اس تجزیہ وتشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس نتیجۂ مطلوب کے لیے جماعت اسلامی کی یہ ساری اسکیم بنائی گئی تھی‘ وہ لائحہ عمل کے ان چاروں اجزا پر بیک وقت کام کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر وہ نتیجہ فی الواقع آپ کو مطلوب ہے تو پھر اس پورے مرکب ہی پر آپ کو ایک ساتھ کام کرنا ہوگا۔ اس کے اجزا کا باہمی ربط توڑ کر‘ یا اس میں کمی و بیشی کر کے‘ یا ان میں سے بعض کو مقدم اور بعض کو مؤخر کرکے آپ اپنی تحریک کی ناکامی کے سوا اور کچھ حاصل نہ کریں گے۔ (تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل‘ ص ۴۴-۴۶)
سنت کے متعلق لوگ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ اپنی زندگی میں کیا ہے وہ سب سنت ہے۔ لیکن یہ بات بڑی حد تک درست ہونے کے باوجود ایک حد تک غلط بھی ہے۔ دراصل سنت اس طریق عمل کو کہتے ہیں جس کے سکھانے اور جاری کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کو مبعوث کیا تھا۔ اس سے شخصی زندگی کے وہ طریقے خارج ہیں جو نبیؐ نے بہ حیثیت ایک انسان ہونے کے یا بہ حیثیت ایک ایسا شخص ہونے کے جو انسانی تاریخ کے خاص دور میں پیدا ہوا تھا‘ اختیار کیے۔ یہ دونوں چیزیں کبھی ایک ہی عمل میں مخلوط ہوتی ہیں اور ایسی صورت میں یہ فرق و امتیاز کرنا کہ اس عمل کا کون سا جز‘ سنت ہے اور کون سا جز عادت‘ بغیر اس کے ممکن نہیں ہوتا کہ آدمی اچھی طرح دین کے مزاج کو سمجھ چکا ہو۔
اصولی طور پر یوں سمجھیے کہ انبیا علیہم السلام انسان کو اخلاقِ صالحہ کی تعلیم دینے اور زندگی کے ایسے طریقے سکھانے کے لیے آتے رہے ہیںجو فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا [الروم ۳۰:۳۰] کے ٹھیک ٹھیک منشا کے مطابق ہوں۔ ان اخلاقِ صالحہ اور فطری طریقوں میں ایک چیز تو اصل و روح کی حیثیت رکھتی ہے اور دوسری چیز قالب و مظہر کی حیثیت۔بعض امور میں روح اور قالب دونوں اسی شکل میں مطلوب ہوتے ہیں جس شکل میں نبی اپنے قول و عمل سے ان کو واضح کرتا ہے اور بعض امور میں روح اخلاق و فطرت کے لیے نبی اپنے مخصوص تمدنی حالات اور اپنی مخصوص افتاد مزاج کے لحاظ سے ایک خاص عملی قالب اختیار کرتا ہے اور شریعت کا مطالبہ ہم سے صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم اس روحِ اخلاق و فطرت کو اختیار کرلیں‘ رہا وہ عملی قالب جو پیغمبر نے اختیار کیا تھا تو اسے اختیار کرنے یا نہ کرنے کی شرعاً ہم کو آزادی ہوتی ہے۔ پہلی قسم کے معاملات میں سنت روح اور قالب دونوں کے مجموعے کا نام ہے‘ اور دوسری قسم کے معاملات میں سنت صرف وہ روحِ اخلاق و فطرت ہے جو شریعت میں مطلوب ہے نہ کہ وہ عملی قالب جو صاحبِ شریعت نے اس کے اظہار کے لیے اختیار کیا۔
مثال کے طور پر دین کا منشا یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کا ذکر کریں۔ اس کے لیے نبی نے بعض اعمال تو ایسے اختیار کیے جن کی روح اور عملی قالب دونوں سنت ہیں اور دونوں کی پیروی ہم پر لازم ہے‘ مثلاً نماز‘ روزہ‘ حج‘زکوٰۃ وغیرہ اور بعض طریقے آپ نے ایسے اختیار کیے جن کی روح تو ہمارے اعمال میں ضرور پائی جانی چاہیے لیکن قالب کی ہوبہو پیروی کرنا لازم نہیں ہے‘ بلکہ ہم کو آزادی دی گئی ہے کہ ہم اس روح کے ظہور کے لیے جو عملی قالب مناسب سمجھیں اختیار کریں‘ مثلاً دعائیں اور وہ عام اذکار جو حضوؐر وقتاً فوقتاً کرتے تھے۔ ہم پر یہ لازم نہیں ہے کہ ہم بعینہٖ انھی الفاظ میں دعائیں مانگیں جن الفاظ میں حضوؐر مانگتے تھے‘ البتہ سنت کی پیروی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان دعائوں کے طرز اور ان کی معنوی خصوصیات کو ملحوظ رکھیں اور جن الفاظ میں بھی دعائیں مانگیں‘ ان کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائوں کی روح موجود ہو۔
اسی طرح اذکار میں سنت صرف یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے مختلف حالات واعمال میں خدا کو یاد کرتارہے‘ اس سے استعاذہ کرے‘ اس سے مدد مانگے‘ اس کا شکر ادا کرے اور اس سے طلبِ خیر کرے۔ اس سنت کو حضوؐر نے اپنی عملی زندگی میں اُن مختلف اذکار کے ذریعے سے ظاہر اور جاری کیا جو حدیث میں مذکور ہیں۔ اگرکوئی شخص ان اذکار کو لفظ بلفظ یاد کر کے اسی طرح ان کا التزام کرے جس طرح حدیث میں بیان ہوا ہے تو یہ مستحسن یا مستحب تو ہوسکتا ہے لیکن اسے اتباع سنت کا لازمی تقاضا نہیں کہا جاسکتا۔ اگر کوئی شخص اس سنت کواچھی طرح ذہن نشین کرکے کسی دوسرے طریقے سے اس پر عمل درآمد کرے اور اس کے لیے دوسرے الفاظ اختیار کرلے تب بھی وہ بدستور متبع سنت رہے گا اور اس پر خلاف ورزیِ سنت کا الزام عائد نہ ہوگا۔
یہی فرق تمدنی اور معاشرتی حالات میں بھی ہے‘ مثلاً لباس میں جن اخلاقی و فطری حدود کو قائم کرنا نبیؐ کے مقاصدبعثت میں تھا وہ یہ ہیں کہ لباس ساتر ہو‘ اس میں اسراف نہ ہو‘ اس میں تکبر کی شان نہ ہو‘ اس میں تشّبہ بالکفار نہ ہو‘ وغیرہ۔ اس روحِ اخلاق و فطرت کا مظاہرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس لباس میں کیااُس میں بعض چیزیں توایسی ہیں جن کی پیروی جوں کی توں کرنی چاہیے‘ جیسے ستر کے حدود اور اسبالِ ازار سے اجتناب اور ریشم وغیرہ کے استعمال سے پرہیز‘ اور بعض چیزیں ایسی ہیں جو حضوؐر کے اپنے شخصی مزاج اور قومی طرزِ معاشرت اور آپ کے عہد کے تمدن سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کو سنت بنانا نہ تو مقصود تھا‘ نہ ان کی پیروی پر اس دلیل سے اصرار کیا جاسکتاہے کہ حدیث کی رُو سے اس طرزِ خاص کا لباس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہنتے تھے‘ اور نہ شرائع الٰہیہ اس غرض کے لیے آیا کرتی ہیں کہ کسی شخصِ خاص کے ذاتی مذاق یا کسی قوم کے مخصوص تمدن‘ یا کسی خاص زمانے کے رسم و رواج کو دنیا بھر کے لیے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سنت بنا دیں۔
سنت کی اس تشریح کو اگر ملحوظ رکھا جائے تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے کہ جو چیزیں اصطلاحِ شرعی میں سنت نہیں ہیں ان کو خواہ مخواہ سنت قرار دے دینا مِن جملہ ان بدعات کے ہے جن سے نظامِ دینی میں تحریف واقع ہوتی ہے۔ (رسائل و مسائل‘ حصہ اوّل‘ ص ۱۹۶-۱۹۷)
اسلام کی دعوت جب عرب میں پیش کی گئی تھی‘ اس وقت اس کی مخاطب آبادی تقریباً ۱۰۰فی صد اَن پڑھ تھی۔ قریش جیسے ترقی یافتہ قبیلے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس میں صرف ۱۷ افراد پڑھے لکھے تھے۔ مدینے میں اس سے بھی کم لوگ تعلیم یافتہ تھے اور باقی عرب کی حالت کا اندازہ آپ ان دو بڑے شہروں کی حالت سے کرسکتے ہیں۔ قرآن مجید اس ملک میں لکھ کر نہیں پھیلایا گیا تھا بلکہ وہ لوگوں کو زبانی سنایا جاتا تھا۔ صحابہ کرامؓ اس کو سن کر ہی یاد کرتے تھے اور پھر زبانی ہی اسے دوسروں کو سناتے تھے۔ اسی ذریعے سے پورا عرب اسلام سے روشناس ہوا۔ پس درحقیقت لوگوں کا اَن پڑھ ہونا کوئی ایسی دشواری نہیں ہے جس کی وجہ سے اسلام کی تبلیغ نہ ہوسکتی ہو۔
آغازِ اسلام میں اس دین کی تبلیغ اَن پڑھ لوگوں ہی میں کی گئی تھی اور یہ محض تبلیغ و تلقین ہی تھی جس سے ان کو اس قدر بدل دیا گیا۔ ایسا زبردست انقلاب ان کے اندر برپا کردیا گیا کہ وہ دنیا کے مصلح بن کر کھڑے ہوگئے۔ اب آپ کیوں یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ۸۰ فی صد اَن پڑھ آبادی میں اسلام کی دعوت نہیں پھیلائی جاسکتی؟ آپ کے اندر ۲۰فی صد تو پڑھے لکھے لوگ موجود ہیں۔ وہ پڑھ کر اسلام کو سمجھیں ‘ اور پھر باقی ۸۰ فی صد لوگوں کو زبانی تبلیغ و تلقین سے دین سمجھائیں۔ پہلے کی بہ نسبت اب یہ کام زیادہ آسان ہوگیا ہے۔ البتہ فرق جو کچھ ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس وقت جو شخص بھی اسلام کی تعلیمات کو سن کر ایمان لاتا تھا وہ ایمان لاکر بیٹھ نہیں جاتا تھا بلکہ آگے دوسرے بندگانِ خدا تک ان تعلیمات کو پہنچانا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ اس کی تمام حیثیتوں پر مبلغ ہونے کی حیثیت غالب آجاتی تھی۔ وہ ہمہ تن ایک تبلیغ بن جاتا تھا۔ جہاں جس حالت میں بھی اسے دوسرے لوگوں سے سابقہ پیش آتا تھا‘ وہ ان کے سامنے اللہ اور اس کے رسولؐ کی ہدایات بیان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا۔ وہ ہر وقت اس تلاش میں لگا رہتا تھا کہ کس طرح اللہ کے بندوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی میں لائے۔ جتنا قرآن بھی اسے یاد ہوتا وہ اسے لوگوں کو سناتا‘ اور اسلام کی تعلیمات جتنی کچھ بھی اسے معلوم ہوتیں ان سے وہ لوگوں کو آگاہ کرتا تھا۔ وہ انھیں بتاتا تھا کہ صحیح عقائد کیا ہیں جو اسلام سکھاتا ہے اور باطل عقیدے اور خیالات کون سے ہیں جن کی اسلام تردید کرتا ہے۔ اچھے اعمال اور اخلاق کیا ہیں جن کی اسلام دعوت دیتا ہے‘ اور برائیاں کیا ہیں جن کو وہ مٹانا چاہتا ہے۔ یہ سب باتیں جس طرح پہلے سنائی اور سمجھائی جاتی تھیں اسی طرح آج بھی سنائی اور سمجھائی جاسکتی ہیں۔ ان کے لیے نہ سنانے والے کا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے نہ سننے والے کا۔ یہ ہروقت بیان کی جاسکتی ہیں اور ہرشخص کی سمجھ میں آسکتی ہیں۔
اسلام نے کوئی ایسی نرالی چیز پیش ہی نہیں کی ہے جس سے انسانی طبائع مانوس نہ ہوں اور جن کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے بڑے فلسفے بگھارنے کی ضرورت ہو۔ یہ تو دین فطرت ہے۔ انسان اس سے بالطبع مانوس ہے۔ اسے پڑھے لکھے لوگوں کی بہ نسبت اَن پڑھ لوگ زیادہ آسانی سے قبول کرسکتے ہیں‘ کیونکہ وہ فطرت سے قریب تر ہوتے ہیں‘ اور ان کے دماغ میں وہ پیچ نہیں ہوتے جو جاہلیت کی تعلیم نے ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کے دماغوں میں ڈال دیے ہیں۔
لہٰذا آپ اَن پڑھ آبادی کی کثرت سے ہرگز نہ گھبرائیں۔ ان کی ناخواندگی اصل رکاوٹ نہیں ہے‘ بلکہ آپ کے اندر جذبہ تبلیغ کی کمی اصل رکاوٹ ہے۔ ابتداے اسلام کے مسلمانوں کی طرح ہمہ تن مبلغ بن جایئے اور تبلیغ کی وہ لگن اپنے اندر پیدا کرلیجیے جو ان کے اندر تھی۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ اسلام کی دعوت پھیلانے کے بے شمار مواقع آپ کے منتظر ہیں جن سے آپ نے آج تک اس لیے فائدہ نہیں اٹھایا کہ آپ اپنے ملک کی آبادی میں ۱۰۰ فی صد خواندگی پھیل جانے کے منتظر رہے۔ (ترجمان القرآن‘ جلد ۸۳‘ عدد ۳‘ مئی ۱۹۷۵ء‘ ص۱۳۶-۱۳۷)