یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے یہودیوں اور عیسائیوں کی مقدس شخصیتوں اور ان کی الہامی تعلیمات پر کبھی دل آزار تنقید نہیں کی گئی۔ مسلمان حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام اور تمام انبیاے بنی اسرائیل اور حضرت عیسٰی اور یحییٰ علیہم السلام کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں، اور ان پر ایمان لانا ویسا ہی ضروری سمجھتے ہیں جیسا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔ وہ تورات اور زبور و انجیل کو بھی خدا کی کتاب مانتے ہیں اور قرآن کے ساتھ تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانا ان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ وہ حضرت مریم علیہا السلام کو اتنا ہی مقدس و محترم مانتے ہیں، جتنا اپنی اُمہات المومنینؓ کو۔ ان کی طرف سے یہودیوں اور عیسائیوں کے بزرگوں کی توہین کا سرے سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن یہودیوں اور عیسائیوں کے معاملے میں صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔ وہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب اور ازواج کو نہ صرف یہ کہ بزرگ نہیں مانتے، بلکہ وہ ان کی صداقت پر، ان کی سیرت و کردار پر، اور ان کے اخلاق پر حملے کرنے سے باز نہیں رہتے۔ ان کی طرف سے مسلمانوں کے جذبات پر مسلسل دست درازیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس لیے درحقیقت یہ ایک طرفہ لڑائی ہے جسے حملہ آور فریق ہی ختم کرسکتا ہے۔ اور یہ جاننے کے لیے نفسیات کے کسی بڑے علم کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کے جاری رہتے ہوئے کسی خیرسگالی کے نشوونما پانے کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا۔
مسلمانوں کے لیے صرف یہی ایک وجۂ شکایت نہیں ہے، بلکہ وہ بڑے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ دیکھتے ہیں کہ بالعموم اہلِ مغرب کا رویّہ ان کے مذہب، تہذیب اور تاریخ کے متعلق غیرہمدردانہ ہی نہیں،بلکہ ایجاباً مخاصمانہ ہے۔ وہ علمی تنقید کی حدود سے اکثر تجاوز کرجاتے ہیں اور ہمیں black paint کرنے کی کوشش میں ایسی باتیں کرتے ہیں جنھیں ناروا داری کہنا معاملے کو بہت ہلکا بنانے کا ہم معنی ہوگا۔ ایسی مثالیں بہ کثرت پیش کی جاسکتی ہیں.... کہ انھوں نے ہم کو دانستہ misrepresent کیا ہے اور بالکل جھوٹ اور بے اصل باتیں تک ہماری طرف منسوب کرنے میں تامل نہیں کیا ہے۔ ان کا مستقل رویّہ یہ رہا ہے کہ ہمارے دین یا ہمارے ہیروز کی زندگی یا ہماری تاریخ میں جس بات کو بھی دو معنی پہنانے کی گنجایش ہو، اسے وہ بُرے ہی معنی پہنانے اور اس کا تاریک رُخ ہی اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ مسلسل عناد کا رویّہ ظاہر ہے کہ اپنا بُرا ردعمل پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
اسی عناد کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ ....اسلام کے تجدید و احیا کی ہرکوشش کا استقبال مغرب میں ایک شدید احساسِ خطر کے ساتھ کیا جاتا ہے، اور مسلمان ملکوں میں اسلام سے انحراف، بلکہ اس کے خلاف بغاوت کی ہراطلاع ان کے لیے خوش خبری کا حکم رکھتی ہے۔ ان کے نزدیک مسلمانوں میں سے وہ سب لوگ انتہائی تعریف اور حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں جو مسلمان ملکوں میں اسلام کی اصلی بنیادوں پر زندگی کی ’تعمیرجدید‘ اور ’ترقی‘ کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ بھی اسلام سے عناد ہی کا ایک شاخسانہ ہے اور اس معاملے میں اہلِ مغرب خود اپنی اقدار (values) اور اپنے ہی اصولوں کا لحاظ بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ ایک مسلمان ملک میں کوئی ’ایثارپسند‘ حکمران گروہ اگر کسی اسلامی تحریک کو کچلنے کے لیے رواداری، جمہوریت اور عدل و انصاف کے سارے تقاضوں کو بھی پامال کرگزرے تو صرف یہ ایک بات کہ یہ سب کچھ اسلام کے revival کو روکنے کے لیے کیا جارہا ہے، اس بات کے لیے کافی ہوتی ہے کہ مغرب سے اس پر تحسین و آفریں کی صدائیں بلند ہوں۔
ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ مغربی دوست ایک مرتبہ پھر سوچ لیں کہ یہ طرزِعمل بجاے خود کہاں تک حق بجانب ہے، اور اس سے وہ کس اچھے نتیجے کی توقع رکھتے ہیں۔ (مغرب اور اسلام از پروفیسر خورشیداحمد کا دیباچہ، بحوالہ تذکرہ سید مودودیؒ-۲، ص ۷۱۵-۷۱۶)
اس معاملے میں سب سے پہلی بات جو سمجھ لینی چاہیے وہ یہ ہے کہ جس چیز کا نام اسلامی نظام ہے وہ کسی بے ایمان اور بدکردار حکومت کے ہاتھوں سے نہیں چل سکتا۔ کوئی خدا سے بے خوف بیوروکریسی اسے نہیں چلا سکتی۔ کسی ایسی آبادی میں وہ ٹھیک طور پر نہیں چل سکتا جس کی اخلاقی حالت بالعموم خراب ہو اور خراب کی جاتی رہی ہو....
عام مسلمانوں کے دلوں میں اگر خدا پر ایمان، رسولؐ پر ایمان، قرآن پر ایمان اور آخرت پر ایمان مضبوطی کے ساتھ نہ بٹھایا گیا تو محض قوانین کو بدلنے سے کام نہ چلے گا.... اسلامی قانون صحیح طور پر کیسے نافذ ہوگا، جب کہ اس کو نافذ کرنے والی مشینری ہی بگڑی ہوئی ہے۔ قوانین اسلامی کے نفاذ کی تدبیریں کرنے کے ساتھ موجودہ حکومت کے لیے بھی اور آیندہ آنے والے حکمرانوں کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ ملک کی انتظامیہ کو بھی درست کریں۔ تعلیم کے نظام کی بھی اصلاح کریں اور ملک کے تمام ذرائع و وسائل کو اس بات پر صَرف کردیں کہ مسلمانوں کے دلوں میں ایمان بٹھایا جائے۔ ان کے اخلاق درست کیے جائیں اور ان کے اندر خدا کا خوف پیدا کیا جائے۔
اس کے ساتھ اسلام یہ بھی چاہتا ہے کہ معاشرہ ایسا ہو جس کے لوگ ایک دوسرے کے ہمدرد اور غم گسار ہوں، ایک دوسرے کی مصیبت میں کام آنے والے ہوں۔ ہرشخص انصاف کا حامی اور بے انصافی کا مخالف ہو۔ ہرشخص اپنے اُوپر پیٹ بھرنا حرام سمجھے اگر اس کو معلوم ہو کہ اس کا ہمسایہ بھوکا سو رہا ہے۔ پھر اسلام ایک ایسا معاشی نظام بھی قائم کرتا ہے جس میں سو د حرام ہو، زکوٰۃ فرض ہو، حرام خوری کے دروازے بند کردیے جائیں۔ رزقِ حلال کمانے کے لیے تمام مواقع لوگوں کے لیے کھول دیے جائیں اور کوئی آدمی اپنی ضروریاتِ زندگی سے محروم نہ رہنے پائے۔ ان تدابیر کے بعد ڈنڈے کا مقام آتا ہے۔ ایمان، اخلاق، تعلیم، انصاف، اصلاح معیشت، اور ایک پاکیزہ راے عام کے دبائو سے بھی جو آدمی درست نہ ہو تو وہ ڈنڈے ہی کا مستحق ہے۔ اور ڈنڈا پھر اس پر ایسی بے رحمی کے ساتھ علی الاعلان چلایا جائے کہ ان تمام لوگوں کے دماغ کا آپریشن ہوجائے جو جرائم کے رجحانات رکھتے ہوں۔
اب ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہمارے ہاں انتخابات میں دھونس، دھوکے، دھاندلی، علاقائی، مذہبی یا برادری کے تعصبات، جھوٹے پروپیگنڈے، گندگی اُچھالنے، ضمیر خریدنے، جعلی ووٹ بھگتانے اور بے ایمانی سے انتخابی نتائج بدلنے کے غلط طریقے استعمال نہ ہوسکیں۔ انتخابات دیانت دارانہ ہوں، لوگوں کو اپنی آزاد مرضی سے اپنے نمایندے منتخب کرنے کا موقع دیا جائے۔ پارٹیاں اور اشخاص جو بھی انتخابات میں کھڑے ہوں، وہ معقول طریقے سے لوگوں کے سامنے اپنے اصول، مقاصد اور پروگرام پیش کریں، اور یہ بات ان کی اپنی راے پر چھوڑ دیں کہ وہ کسے پسند کرتے ہیں اور کسے پسند نہیں کرتے۔ ہوسکتا ہے کہ پہلے انتخاب میں ہم عوام کے طرزِفکر اور معیارِ انتخابات کو بدلنے میں پوری طرح کامیاب نہ ہوسکیں۔ لیکن اگر انتخابی نظام درست رکھا جائے تو ایک وقت ایسا آئے گا جب نظامِ حکومت پورے کا پورا ایمان دار لوگوں کے ہاتھ میں آجائے گا۔ اس کے بعد پھر ہم نظامِ انتخاب پر نظرثانی کرسکتے ہیں اور اس مثالی نظامِ انتخابات کو ازسرِنو قائم کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں جو اسلامی طریقے کے عین مطابق ہو۔ بہرحال آپ یک لخت جست لگاکر اپنی انتہائی منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔ (نبی اکرمؐ کا نظامِ حکومت اور پاکستان میں اس کا نفاذ، ص ۱۹-۲۷)
نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کو دعوت و تبلیغ اور ہدایت و اصلاح کی حکمت کے چند اہم نکات [سورئہ اعراف، آیات ۱۹۹-۲۰۲ میں] بتائے گئے ہیں اور مقصود صرف حضورؐ ہی کو تعلیم دینا نہیں ہے بلکہ حضوؐر کے ذریعے سے اُن سب لوگوں کو یہی حکمت سکھانا ہے جو حضوؐر کے قائم مقام بن کر دنیا کو سیدھی راہ دکھانے کے لیے اُٹھیں۔ ان نکات کو سلسلہ وار دیکھنا چاہیے:
داعیِ حق کے لیے جو صفات سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے نرم خو‘ متحمل اور عالی ظرف ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے ساتھیوں کے لیے شفیق‘ عامۃ الناس کے لیے رحیم اور اپنے مخالفوں کے لیے حلیم ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے رفقا کی کمزوریوں کو بھی برداشت کرنا چاہیے اور اپنے مخالفین کی سختیوں کو بھی۔ اسے شدید سے شدید اشتعال انگیز مواقع پر بھی اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھنا چاہیے‘ نہایت ناگوار باتوں کو بھی عالی ظرفی کے ساتھ ٹال دینا چاہیے‘مخالفوں کی طرف سے کیسی ہی سخت کلامی‘ بہتان تراشی‘ ایذا رسانی اور شریرانہ مزاحمت کا اظہار ہو‘ اُس کو درگزر ہی سے کام لینا چاہیے۔ سخت گیری‘ درشت خوئی‘ تلخ گفتاری اور منتقمانہ اشتعالِ طبع اِس کام کے لیے زہر کا حکم رکھتا ہے اور اس سے کام بگڑتا ہے بنتا نہیں ہے۔ اسی چیز کو نبی صلی اللہ علیہ وسلّم نے یوں بیان فرمایاہے کہ میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ ’غضب اور رضا‘ دونوں حالتوں میں انصاف کی بات کہوں‘ جو مجھ سے کٹے‘ میں اس سے جڑوں‘ جو مجھے میرے حق سے محروم کرے‘ میں اسے اس کا حق دوں‘ جو میرے ساتھ ظلم کرے میںاس کو معاف کردوں‘‘۔ اور اسی چیز کی ہدایت آپؐ ان لوگوں کو کرتے تھے جنھیں آپؐ دین کے کام پر اپنی طرف سے بھیجتے تھے کہ بشروا ولا تنفروا ویسروا ولا تعسروا، یعنی جہاں تم جائو وہاں تمھاری آمد لوگوں کے لیے مژدۂ جانفزا ہو نہ کہ باعث ِ نفرت‘ اور لوگوں کے لیے تم سہولت کے موجب بنو نہ کہ تنگی و سختی کے۔اور اسی چیز کی تعریف اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کے حق میں فرمائی ہے کہ فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ (اٰل عمرٰن۳:۱۵۹)یعنی ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے نرم ہو ورنہ اگر تم درشت خو اور سنگدل ہوتے تو یہ سب لوگ تمھارے گردوپیش سے چھٹ جاتے‘‘۔
دعوتِ حق کی کامیابی کا گُر یہ ہے کہ آدمی فلسفہ طرازی اور دقیقہ سنجی کے بجائے لوگوں کو معروف یعنی اُن سیدھی اور صاف بھلائیوں کی تلقین کرے جنھیں بالعموم سارے ہی انسان بھلا جانتے ہیں یا جن کی بھلائی کو سمجھنے کے لیے وہ عقلِ عام (common sense) کافی ہوتی ہے جو ہر انسان کو حاصل ہے۔ اس طرح داعیِ حق کا اپیل عوام و خواص سب کو متاثر کرتاہے اور ہرسامع کے کان سے دل تک پہنچنے کی راہ نکال لیتا ہے۔ ایسی معروف دعوت کے خلاف جو لوگ شورش برپا کرتے ہیں وہ خود اپنی ناکامی اور اس دعوت کی کامیابی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ کیونکہ عام انسان ‘ خواہ وہ کتنے ہی تعصبات میں مبتلا ہوں‘ جب یہ دیکھتے ہیں کہ ایک طرف ایک شریف النفس اور بلنداخلاق انسان ہے جو سیدھی سیدھی بھلائیوں کی دعوت دے رہا ہے اور دوسری طرف بہت سے لوگ اس کی مخالفت میں ہر قسم کی اخلاق و انسانیت سے گری ہوئی تدبیریں استعمال کر رہے ہیں‘ تو رفتہ رفتہ ان کے دل خود بخود مخالفینِ حق سے پھرتے اور داعیِ حق کی طرف متوجہ ہوتے چلے جاتے ہیں‘ یہاں تک کہ آخرکار میدانِ مقابلہ میں صرف وہ لوگ رہ جاتے ہیں جن کے ذاتی مفاد نظامِ باطل کے قیام ہی سے وابستہ ہیں‘ یا پھر جن کے دلوں میں تقلیدِ اسلاف اور جاہلانہ تعصبات نے کسی روشنی کے قبول کرنے کی صلاحیت باقی ہی نہ چھوڑی ہو۔ یہی وہ حکمت تھی جس کی بدولت نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کو عرب میں کامیابی حاصل ہوئی اور پھر آپؐ کے بعد تھوڑی ہی مدّت میں اسلام کا سیلاب قریب کے ملکوں پر اس طرح پھیل گیا کہ کہیں سو فی صدی اور کہیں ۸۰ اور ۹۰ فی صدی باشندے مسلمان ہوگئے۔
اس دعوت کے کام میں جہاں یہ بات ضروری ہے کہ طالبینِ خیر کو معروف کی تلقین کی جائے وہاں یہ بات بھی اتنی ہی ضروری ہے کہ جاہلوں سے نہ اُلجھا جائے خواہ وہ اُلجھنے اور اُلجھانے کی کتنی ہی کوشش کریں۔ داعی کو اس معاملے میں سخت محتاط ہونا چاہیے کہ اس کا خطاب صرف ان لوگوں سے رہے جو معقولیت کے ساتھ بات کو سمجھنے کے لیے تیار ہوں اور جب کوئی شخص جہالت پر اُتر آئے اور حجت بازی‘ جھگڑالوپن اور طعن و تشنیع شروع کر دے تو داعی کو اس کا حریف بننے سے انکار کر دینا چاہیے۔ اس لیے کہ اس جھگڑے میں اُلجھنے کا حاصل کچھ نہیں ہے اور نقصان یہ ہے کہ داعی کی جس قوت کو اشاعت ِ دعوت اور اصلاحِ نفوس میں خرچ ہونا چاہیے وہ اس فضول کام میں ضائع ہو جاتی ہے۔
[گذشتہ] ہدایت… کے سلسلے میں مزید ہدایت یہ ہے کہ جب کبھی داعیِ حق مخالفین کے ظلم اور ان کی شرارتوں اور ان کے جاہلانہ اعتراضات و الزامات پر اپنی طبیعت میں اشتعال محسوس کرے تو اسے فوراً سمجھ لینا چاہیے کہ یہ نزعِ شیطانی (یعنی شیطان کی اُکساہٹ) ہے اور اسی وقت خدا سے پناہ مانگنی چاہیے کہ اپنے بندے کو اس جوش میں بہ نکلنے سے بچائے اور ایسا بے قابو نہ ہونے دے کہ اُس سے دعوتِ حق کو نقصان پہنچانے والی کوئی حرکت سرزد ہو جائے۔ دعوتِ حق کا کام بہرحال ٹھنڈے دل سے ہی ہو سکتا ہے اور وہی قدم صحیح اُٹھ سکتا ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر نہیں بلکہ موقع و محل کو دیکھ کر‘ خوب سوچ سمجھ کر اُٹھایا جائے۔ لیکن شیطان‘ جو اس کام کو فروغ پاتے ہوئے کبھی نہیں دیکھ سکتا‘ ہمیشہ اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ اپنے بھائی بندوں سے داعیِ حق پر طرح طرح کے حملے کرائے اور پھر ہر حملے پر داعیِ حق کو اُکسائے کہ اس حملے کا جواب تو ضرور ہونا چاہیے۔ یہ اپیل جو شیطان داعی کے نفس سے کرتا ہے‘ اکثر بڑی بڑی پُرفریب تاویلوں اور مذہبی اصطلاحوں کے غلاف میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن اس کی تہہ میں بجز نفسانیت کے اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اسی لیے آخری دو آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ متقی (یعنی خدا ترس اور بدی سے بچنے کے خواہش مند) ہیں تو وہ اپنے نفس میں کسی شیطانی تحریک کا اثر اور کسی بُرے خیال کی کھٹک محسوس کرتے ہی فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں اور پھر انھیں صاف نظر آجاتا ہے کہ اس موقع پر دعوتِ حق کا مفاد کس طرزِعمل کے اختیار کرنے میں ہے اور حق پرستی کا تقاضا کیا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے کام میں نفسانیت کی لاگ لگی ہوئی ہے اور اس وجہ سے جن کا شیاطین کے ساتھ بھائی چارے کا تعلق ہے ‘ تو وہ شیطانی تحریک کے مقابلے میں نہیں ٹھیرسکتے اور اس سے مغلوب ہو کر غلط راہ پر چل نکلتے ہیں۔ پھر جس جس وادی میں شیطان چاہتا ہے انھیں لیے پھرتا ہے اور کہیں جا کر ان کے قدم نہیں رُکتے۔ مخالف کی ہر گالی کے جواب میں ان کے پاس گالی اور ہر چال کے جواب میں اس سے بڑھ کر چال موجود ہوتی ہے۔
اس ارشاد کا ایک عمومی محل بھی ہے اور وہ یہ کہ اہلِ تقویٰ کا طریقہ بالعموم اپنی زندگی میں غیرمتقی لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔ جو لوگ حقیقت میں خدا سے ڈرنے والے ہیں اور دل سے چاہتے ہیں کہ بُرائی سے بچیں اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ بُرے خیال کا ایک ذرا سا غبار بھی اگر ان کے دل کو چھو جاتا ہے تو انھیں ویسی ہی کھٹک محسوس ہونے لگتی ہے جیسی کھٹک اُنگلی میں پھانس چبھ جانے یا آنکھ میں کسی ذرے کے گر جانے سے محسوس ہوتی ہے۔ چونکہ وہ بُرے خیالات‘ بُری خواہشات اور بُری نیتوں کے خوگر نہیں ہوتے اس وجہ سے یہ چیزیں ان کے لیے اُسی طرح خلافِ مزاج ہوتی ہیں جس طرح اُنگلی کے لیے پھانس یا آنکھ کے لیے ذرہ یا ایک نفیس طبع اور صفائی پسند آدمی کے لیے کپڑوں پر سیاہی کا ایک داغ یا گندگی کی ایک چھینٹ۔ پھر جب یہ کھٹک انھیں محسوس ہو جاتی ہے تو اُن کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کا ضمیر بیدار ہو کر اس غبارِشر کو اپنے اُوپر سے جھاڑ دینے میں لگ جاتا ہے۔ بخلاف اس کے جو لوگ نہ خدا سے ڈرتے ہیں‘ نہ بدی سے بچنا چاہتے ہیں‘ اور جن کی شیطان سے لاگ لگی ہوئی ہے‘ ان کے نفس میں بُرے خیالات‘ بُرے ارادے‘ بُرے مقاصد پکتے رہتے ہیں اور وہ ان گندی چیزوں سے کوئی اُپراہٹ اپنے اندر محسوس نہیں کرتے‘ بالکل اسی طرح جیسے کسی دیگچی میں سور کا گوشت پک رہا ہو اوروہ بے خبر ہو کہ اس کے اندر کیا پک رہا ہے‘ یا جیسے کسی بھنگی کا جسم اور اس کے کپڑے غلاظت میں لتھڑے ہوئے ہوں اور اسے کچھ احساس نہ ہو کہ وہ کن چیزوں میں آلودہ ہے‘‘۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، ص ۱۱۱-۱۱۳)
دعوت میں دو چیزیں ملحوظ رہنی چاہییں: ایک حکمت، دوسرے عمدہ نصیحت۔
حکمت کا مطلب یہ ہے کہ بے وقوفوں کی طرح اندھا دھند تبلیغ نہ کی جائے، بلکہ دانائی کے ساتھ مخاطب کی ذہنیت، استعداد اور حالات کو سمجھ کر، نیز موقع و محل کو دیکھ کر بات کی جائے۔ ہر طرح کے لوگوں کو ایک ہی لکڑی سے نہ ہانکا جائے۔ جس شخص یا گروہ سے سابقہ پیش آئے، پہلے اس کے مرض کی تشخیص کی جائے، پھر ایسے دلائل سے اس کا علاج کیا جائے جو اس کے دل و دماغ کی گہرائیوں سے اس کے مرض کی جڑ نکال سکتے ہوں۔
عمدہ نصیحت کے دو مطلب ہیں:
ایک یہ کہ مخاطب کو صرف دلائل ہی سے مطمئن کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اس کے جذبات کو بھی اپیل کیا جائے۔ برائیوں اور گمراہیوں کا محض عقلی حیثیت سے ہی ابطال نہ کیا جائے بلکہ انسان کی فطرت میں اُن کے لیے جو پیدایشی نفرت پائی جاتی ہے اسے بھی اُبھارا جائے اور ان کے بُرے نتائج کا خوف دلایا جائے۔ ہدایت اور عملِ صالح کی محض صحت اور خوبی ہی عقلاً ثابت نہ کی جائے بلکہ ان کی طرف رغبت اور شوق بھی پیدا کیا جائے۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ نصیحت ایسے طریقے سے کی جائے جس سے دل سوزی اور خیرخواہی ٹپکتی ہو۔ مخاطب یہ نہ سمجھے کہ ناصح اسے حقیر سمجھ رہا ہے اور اپنی بلندی کے احساس سے لذت لے رہا ہے، بلکہ اسے یہ محسوس ہو کہ ناصح کے دل میں اس کی اصلاح کے لیے ایک تڑپ موجود ہے اور وہ حقیقت میں اس کی بھلائی چاہتا ہے۔
[دعوت میں اگر مباحثے کی نوبت آجائے تو] اس کی نوعیت محض مناظرہ بازی اور عقلی کُشتی اور ذہنی دنگل کی نہ ہو۔ اس میں کج بحثیاں اور الزام تراشیاں اور چوٹیں اور پھبتیاں نہ ہوں۔ اس کا مقصود حریفِ مقابل کو چپ کرا دینا اور اپنی زبان آوری کے ڈنکے بجا دینا نہ ہو بلکہ اس میں شیریں کلامی ہو، اعلیٰ درجے کا شریفانہ اخلاق ہو، معقول اور دل لگتے دلائل ہوں۔ مخاطب کے اندر ضد اور بات کی پچ.َ [ضد] اور ہٹ دھرمی پیدا نہ ہونے دی جائے۔ سیدھے سیدھے طریقے سے اس کو بات سمجھانے کی کوشش کی جائے اور جب محسوس ہو کہ وہ کج بحثی پر اتر آیا ہے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ گمراہی میں اور زیادہ دُور نہ نکل جائے۔ (ایضاً، ص ۵۸۱-۵۸۲)
مباحثہ معقول دلائل کے ساتھ‘ مہذب و شایستہ زباں میں‘ اور افہام و تفہیم کی اسپرٹ میں ہونا چاہیے تاکہ جس شخص سے بحث کی جا رہی ہو اس کے خیالات کی اصلاح ہو سکے۔ مبلّغ کو فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ وہ مخاطب کے دل کا دروازہ کھول کر حق بات اس میں اُتار دے اور اسے راہِ راست پر لائے۔ اس کو ایک پہلوان کی طرح نہیں لڑنا چاہیے جس کا مقصد اپنے مدمقابل کو نیچا دکھانا ہوتا ہے۔ بلکہ اس کو ایک حکیم کی طرح چارہ گری کرنی چاہیے جو مریض کا علاج کرتے ہوئے ہر وقت یہ بات ملحوظ رکھتاہے کہ اس کی اپنی کسی غلطی سے مریض کا مرض اور زیادہ بڑھ نہ جائے‘ اور اس امر کی پوری کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم تکلیف کے ساتھ مریض شفایاب ہو جائے۔ یہ ہدایت اس مقام پر تو موقع کی مناسبت سے اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ کرنے کے معاملے میں دی گئی ہے‘ مگریہ اہل کتاب کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ تبلیغ دین کے باب میں ایک عام ہدایت ہے جوقرآن میں جگہ جگہ دی گئی ہے ۔مثلاً:
اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (النحل ۱۶:۱۲۵) دعوت دو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ پندو نصیحت کے ساتھ۔ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔
وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ o (حم السجدہ ۴۱:۳۴) بھلائی اور برائی یکساں نہیں ہیں(مخالفین کے حملوں کی) مدافعت ایسے طریقہ سے کرو جو بہترین ہو‘ تم دیکھو گے کہ وہی شخص جس کے اور تمھارے درمیان عداوت تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے گرم جوش دوست ہے۔
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَۃَ ط نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ o (المومنون ۲۳:۹۶) تم بدی کو اچھے ہی طریقہ سے دفع کرو، ہمیں معلوم ہے جو باتیں وہ (تمھارے خلاف ) بناتے ہیں۔
خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاھِلِیْنَ o وَاِمَّا یَنْزَ غَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ (الاعراف۷:۱۹۹-۲۰۰) درگزر کی روش اختیار کرو، بھلائی کی تلقین کرو، اور جاہلوں کے منہ نہ لگو، اور اگر (ترکی بہ ترکی جواب دینے کے لیے) شیطان تمھیں اُکسائے تواللہ کی پناہ مانگو۔
یعنی جو لوگ ظلم کا رویّہ اختیار کریں ان کے ساتھ ان کے ظلم کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف رویّہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ہر وقت، ہر حال میں اور ہر طرح کے لوگوں کے مقابلے میں نرم و شیریں ہی نہ بنے رہنا چاہیے کہ دنیا داعیِ حق کی شرافت کو کمزوری اور مسکنت سمجھ بیٹھے۔ اسلام اپنے پیرووں کو شائستگی ‘ شرافت اور معقولیت تو ضرور سکھاتا ہے مگر عاجزی و مسکینی نہیں سکھاتا کہ وہ ہر ظالم کے لیے نرم چارہ بن کر رہیں‘‘۔ (تفہیم القرآن ج۳:۷۰۸-۷۰۹)۔ (انتخاب و ترتیب: ڈاکٹر خالد محمود ترمذی)
تمام مسلمان ملکوں کا مستقبل منحصر ہے اس بات پر کہ آخرکار یہاں اسلام کے بارے میں کیا رویہ اختیار کیا جائے گا۔ اگر اسلام کے بارے میں منافقانہ طرزِعمل کی صورت مسلمان ملکوں میں جاری رہی اور یہ معاندانہ رویہ اسی طرح روا رکھا جاتا رہا تو مجھے ڈر ہے کہ مسلمان قوم زیادہ دیر تک اپنی آزادی کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔ پھر دوبارہ غلام ہوگی اور پہلے سے بدتر پوزیشن میں ڈالی جائے گی۔البتہ اب بھی اگر ان لوگوں کو عقل آجائے جو مسلمان قوموں کے معاملات چلا رہے ہیں اور مسلمان ملکوں میں صحیح قسم کی جمہوریت قائم ہوجائے، مسلمان قوموں کو یہ اختیار مل جائے کہ وہ اپنی مرضی سے لوگوں کو منتخب کرکے ان کو اقتدار سونپیں اور یہاں اسلام کے منشا، اس کی تہذیب اور اصولوں کے مطابق نظامِ حکومت، نظامِ معیشت اور نظامِ تعلیم رائج کیا جائے، تو میرا خیال ہے کہ بہت جلدی مسلمان قومیں بہت بڑی طاقت بن جائیں گی۔ نہ صرف یہ کہ طاقت حاصل کرلیں گی بلکہ دنیا میں ان کی ایک فیصلہ کن طاقت ہوگی۔ مسلمان ملکوں کا بلاک کوئی معمولی بلاک نہیں ہے۔ انڈونیشیا سے مراکو تک مسلسل مسلمان قوموں کا اتنا بڑا بلاک جس کے پاس اس قدر وسیع ذرائع و وسائل اور جس کی اتنی آبادی (man power) ہے، اگر سارے کا سارا اسلام کے اصولوں پر کام کرے اور اسلام کے اُوپر متحد ہو، تو دنیا کی کون سی طاقت ہے جو اس کے سامنے ٹھیرسکتی ہے۔
اب دوسرا سوال جو میں نے آپ کے سامنے چھیڑا ہے، اس کا جواب میں چند الفاظ میں دوں گا۔ سوال یہ تھا کہ اسلام اس زمانے میں دنیا میں غالب آسکتا ہے یا نہیں؟ دنیا کی قومیں اس کو قبول کرسکتی ہیں یا نہیں؟ کرسکتی ہیں تو کیسے؟ اور اسلام اس زمانے میں قابلِ عمل ہے یا نہیں؟ یہ سوال آج کل بڑی کثرت سے چھیڑا جاتا ہے۔
میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ کسی زمانے میں بھی زمانے نے خود آگے بڑھ کر نہیں کہا تھا کہ میں اسلام کو قبول کرنے کو تیار ہوں۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عرب کی جاہلی سوسائٹی میں اسلام کی دعوت دی تھی تو کب زمانے نے اُٹھ کر، پکار کے یہ کہا تھا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم تمھاری اس دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اصل انحصار تو اس طاقت ور اور مضبوط داعی پر ہوتا ہے جو یہ کہے کہ ’’اے زمانے! اگر تو مجھ سے موافقت نہیں کرتا تو میں تجھے موافق بنا کر چھوڑوں گا‘‘....
اسی طرح یہ سوال بھی بالکل لغو ہے کہ اسلام آج قابلِ عمل ہے یا نہیں؟ اسلام ہر زمانے میں قابلِ عمل تھا، آج بھی ہے اور قیامت تک قابلِ عمل رہے گا۔ اصل سوال جس پر انحصار ہے وہ یہ ہے کہ کیا کوئی قوم دنیا میں ایسی موجود ہے کہ جو پورے کے پورے اسلام کو اپنانے کے لیے تیار ہو؟ جیساکہ میں نے آغاز میں بتایا تھا کہ ہماری تاریخ کا آغاز ہی اس چیز سے ہوا تھا کہ عرب کی پوری کی پوری قوم اس بات کے لیے تیار ہوگئی تھی کہ اپنے پورے معاشرتی، معاشی، سیاسی اور تمدنی نظام کو اسلام پر قائم کرے، اپنی انفرادی سیرتوں اور اجتماعی احوال کو اسلام کے مطابق ڈھالے۔ اس نے عہد کیا تھا کہ دنیا میں اسلام کی علَم بردار بن کر اُٹھے گی، اسی کے لیے جیے گی اور اسی کے لیے مرے گی۔
جب ایک ایسی قوم دنیا میں پیدا ہوگئی تو دیکھ لیجیے کہ کس طرح وہ دنیا پر بم کی طرح پھٹی! اور کس طرح دنیا پر اس کے اثرات آج تک موجود ہیں۔ اگر اس طرح سے کوئی قوم پوری طرح سے اسلام کو اپنائے اور اپنا پورا نظامِ زندگی اس کے مطابق چلائے اور اسی کے لیے جینے اور مرنے کو تیار ہو، تو میرا خیال ہے کہ آج دنیا اسلام قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔
لوگوں کے لیے ناممکن ہے کہ چلتے پھرتے اسلام کو دیکھیں اور اس کو قبول نہ کریں۔ البتہ اگر آپ زبانی تقریروں اور کتابوں کے ذریعے سے اسلام پھیلانے کی کوشش کرتے رہیں گے تو قیامت تک آپ یہ’شغل‘ جاری رکھیے، دنیا کو اس بات پر قائل کرنا مشکل ہوگا کہ اسلام قابلِ عمل بھی ہے۔
اب آخر میں دل کی بات بھی آپ سے عرض کیے دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ مجھے اس قوم میں پیدا کیا ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ وہ قوم، یہی قوم ہی ہو۔ میری سیاست ہے تو یہی ہے، میرا مذہب ہے تو یہی ہے، میری ساری کوششوں کا مدعا یہی ہے کہ یہ قوم جس کے اندر میں پیدا ہوا ہوں، پوری طرح سے اسلام کو اپنا لے اور اپنی زندگی میں چلتا پھرتا اسلام دکھا دے۔ (اسلام عصرِحاضر میں، ص ۵۰-۵۳)
اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس سے مراد لَیْلَۃُ الْقَدْر ہے، یعنی وہ رات جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ جیساکہ خود قرآن مجید میں ارشاد ہواہے:
اِنَّآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ o وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ o لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ o (القدر ۹۷:۱-۳) ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ مجید کا نزول انسانیت کے لیے عظیم الشان خیر کی حیثیت رکھتا ہے اور انسان کے لیے اس سے بڑی کوئی خیر نہیں ہوسکتی۔ اس لیے فرمایا گیا کہ وہ رات جس میں یہ قرآن مجید نازل ہوا ہے ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ دوسرے لفظوں میں پوری انسانی تاریخ میں کبھی ہزار مہینوں میں بھی انسانیت کی بھلائی کے لیے وہ کام نہیں ہوا ہے، جو اس ایک رات میں ہوا ہے۔ ہزار مہینوں کے لفظ کو گنے ہوئے ہزار نہ سمجھنا چاہیے بلکہ اس سے بہت بڑی کثرت مراد ہے۔ چنانچہ اس رات میں، جو اپنی بھلائی کے لحاظ سے ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے، جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس سے لو لگائی، اس نے بہت بڑی بھلائی حاصل کرلی۔ کیونکہ اس رات میں بندے کا اللہ کی طرف رجوع کرنا یہی معنی تو رکھتا ہے کہ اسے اس رات کی اہمیت کا پورا پورا احساس ہے، اور وہ یہ جانتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان پر یہ کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ اپنا کلام نازل فرمایا۔ اس لیے جس آدمی نے اس رات میں عبادت کا اہتمام کیا، گویا اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اس کے دل میں قرآن مجید کی صحیح قدروقیمت کا احساس موجود ہے۔ (کتاب الصوم، ص ۴۳-۴۴)
لیلۃ القدر کا قطعی طور پر تعین نہ کرنے میں یہ حکمت کارفرما نظر آتی ہے کہ آدمی ہرطاق رات میں اس اُمید پر اللہ کے حضور کھڑا ہوکر عبادت کرے کہ شاید یہی لیلۃ القدر ہو۔ لیلۃ القدر اگر اس نے پالی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ جس چیز کا طالب تھاوہ اسے مل گئی۔ اس کے بعد اس نے جو چند مزید راتیں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاریں تو وہ اس کی نیکی میں مزید اضافے کی موجب بنیں گی....
اس مقام پر ایک اور بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ چونکہ ساری دنیا میں رمضان کی تاریخیں ایک نہیں ہوتیں اور ان میں رد وبدل ہوتا رہتا ہے، اس لیے یہ بات یقین سے کہنا مشکل ہے کہ کس آدمی کو واقعی وہ اصل رات میسر آگئی ہے۔ اس کے لیے ایک طالبِ صادق کو ہر رمضان میں اسے تلاش کرنا چاہیے۔
رمضان کا جو آخری عشرہ اعتکاف کے لیے مقرر کیا گیا ہے، اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اعتکاف کا ثواب آدمی کو الگ ملے، اور چونکہ اعتکاف کی حالت میں اس کی تمام طاق راتیں عبادت میں گزریں گی، اس لیے اس بات کی توقع کی جاسکتی ہے کہ اسے ان میں کبھی نہ کبھی وہ رات بھی لازماً مل جائے گی۔
بعض لوگ اپنی جگہ لیلۃ القدر کی تلاش کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ رات کو باہر نکل کر یہ دیکھا جائے کہ فضا میں کوئی ایسی علامت پائی جاتی ہے جس سے یہ ظاہر ہوکہ یہ قدر کی رات ہے۔ فضا میں کوئی ایسا نور برس رہا ہے جس سے اس کا لیلۃ القدر ہونا ثابت ہوجائے۔ لیکن دراصل یہ طرزِ فکر مطابق حقیقت نہیں ہے۔ بے شک یہ نور برستا ہے، لیکن یہ نور تو پورے رمضان میں اور رمضان کی ہر رات میں برستا ہے، البتہ اس کے لیے وہ آنکھیں چاہییں جو اس کو دیکھ سکیں۔ یہ نور درحقیقت آپ کی عبادت کے اندر برستا ہے۔ یہ نور خدا کی رضاطلبی کے اندر آپ کے انہماک میں، بھلائیوں کے لیے آپ کے ذوق و شوق میں، اور عبادات کے لیے آپ کے خلوص و اہتمام میں اور فی الجملہ آپ کے ایک ایک فعل میں برستا ہے۔ (ایضاً، ص ۴۷-۴۹)
اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو انتخاب اور ارادے کی آزادی بخشی ہے، اور اسی آزادی کے استعمال میں اُس کا امتحان ہے۔ اِس حقیقت کو اگر آپ ذہن نشین کرلیں تو آپ کو یہ سمجھنے میں کوئی زحمت پیش نہ آئے گی کہ کسی ملک یا قوم یا زمانے کے انسانوں میں اگر کوئی دعوتِ باطل فروغ پاتی ہے، یا کوئی نظامِ باطل غالب رہتا ہے، تو یہ اُس دعوت اور اُس نظام کی کامیابی نہیں بلکہ اُن انسانوں کی ناکامی ہے جن کے اندر ایک باطل دعوت یا نظام نے عروج پایا۔ اِسی طرح دعوتِ حق اور اس کے لیے کام کرنے والے اگر اپنی حد تک صحیح طریقے سے اصلاح کی کوشش کرتے رہیں اور نظامِ حق قائم نہ ہوسکے تو یہ نظامِ حق اور اس کے لیے کام کرنے والوں کی ناکامی نہیں، بلکہ ان انسانوں ہی کی ناکامی ہے جن کے معاشرے میں صداقت پروان نہ چڑھ سکی اور بدی ہی پھلتی پھولتی رہی۔
دنیا میں حق اور باطل کی کش مکش بجاے خود ایک امتحان ہے، اور اس امتحان کا آخری نتیجہ اِس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں نکلنا ہے۔ اگر دنیا کے انسانوں کی عظیم اکثریت نے کسی قوم، یا ساری دنیا ہی نے حق کو نہ مانا اور باطل کو قبول کرلیا تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ حق ناکام اور باطل کامیاب ہوگیا، بلکہ اس کے معنی دراصل یہ ہیں کہ انسانوں کی عظیم اکثریت اپنے رب کے امتحان میں ناکام ہوگئی جس کا بدترین نتیجہ وہ آخرت میں دیکھے گی۔ بخلاف اس کے وہ اقلیت جو باطل کے مقابلے میں حق پر جمی رہی اور جس نے حق کو سربلند کرنے کے لیے جان و مال کی بازی لگا دی، اِس امتحان میں کامیاب ہوگئی اور آخرت میں وہ بھی اپنی اِس کامیابی کا بہترین نتیجہ دیکھ لے گی۔ یہی بات ہے جو نوعِ انسانی کو زمین پر اُتارتے وقت اللہ تعالیٰ نے صاف صاف بتادی تھی کہ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لاَ ھُم یَحْزَنُوْنَ o وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ o (البقرہ ۲:۳۸-۳۹) ’’پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمھارے پاس پہنچے، تو جو لوگ میری اُس ہدایت کی پیروی کریں گے، اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا، اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ آگ میں جانے والے ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔
اس حقیقت کو آپ جان لیں تو یہ بات بھی آپ کی سمجھ میں بخوبی آسکتی ہے کہ اہلِ حق کی اصل ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ وہ باطل کو مٹا دیں اور حق کو اس کی جگہ قائم کر دیں، بلکہ ان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی حد تک باطل کو مٹانے اور حق کو غالب و سربلند کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ صحیح اور مناسب و کارگر طریقوں سے کوشش کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔ یہی کوشش خدا کی نگاہ میں ان کی کامیابی و ناکامی کا اصل معیار ہے۔ اس میں اگر ان کی طرف سے دانستہ کوئی کوتاہی نہ ہو تو خدا کے ہاں وہ کامیاب ہیں، خواہ دنیا میں باطل کا غلبہ ان کے ہٹائے نہ ہٹے اور شیطان کی پارٹی کا زور اُن کے توڑے نہ ٹوٹ سکے۔
بسااوقات آدمی کے ذہن میں یہ اُلجھن بھی پیدا ہوتی ہے کہ جب یہ دین خدا کی طرف سے ہے، اور اس کے لیے کوشش کرنے والے خدا کا کام کرتے ہیں، اور اس دین کے خلاف کام کرنے والے دراصل خدا سے بغاوت کرتے ہیں، تو باغیوں کو غلبہ کیوں حاصل ہوجاتا ہے اور وفاداروں پر ظلم کیوں ہوتا ہے؟ لیکن اُوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس پر غور کرنے سے آپ اس سوال کا جواب بھی خود پاسکتے ہیں۔ درحقیقت یہ اُس آزادی کا لازمی نتیجہ ہے جو امتحان کی غرض سے انسانوں کو دی گئی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوتی کہ زمین میں صرف اس کی اطاعت فرماں برداری ہی ہو اور سرے سے کوئی اس کی رضا کے خلاف کام نہ کرسکے، تو وہ تمام انسانوں کو اُسی طرح مطیعِ فرمان پیدا کردیتا جس طرح جانور اور درخت اور دریا اور پہاڑ مطیعِ فرمان ہیں۔ مگر اس صورت میں نہ امتحان کا کوئی موقع تھا اور نہ اس میں کامیابی پر کسی کو جنت دینے اور ناکامی پر کسی کو دوزخ میں ڈالنے کا کوئی سوال پیدا ہوسکتا تھا۔
اس طریقے کو چھوڑ کے جب اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ نوعِ انسانی اور اس کے ایک ایک فرد کا امتحان لے، تو اس کے لیے ضروری تھا کہ ان کو انتخاب اور ارادے کی (بقدرِ ضرورتِ امتحان) آزادی عطا فرمائے، اور جب اُس نے ان کو یہ آزادی عطا فرما دی تو اب یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اُوپر سے مداخلت کرکے زبردستی باغیوں کو ناکام اور وفاداروں کو غالب کردے۔ اس آزادی کے ماحول میں حق اور باطل کے درمیان جو کش مکش برپا ہے اس میں حق کے پیرو، اور باطل کے علَم بردار اور عام انسان (جن میں عام مسلمان بھی شامل ہیں)، سب امتحان گاہ میں اپنا اپنا امتحان دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وفاداروں کی ہمت افزائی اور باغیوں کی حوصلہ شکنی ضرور کی جاتی ہے، لیکن ایسی مداخلت نہیں کی جاتی جو امتحان کے مقصد ہی کو فوت کردے۔ حق پرستوں کا امتحان اس میں ہے کہ وہ حق کو غالب کرنے کے لیے کہاںتک جان لڑاتے ہیں۔ عام انسانوں کا امتحان اس میں ہے کہ وہ حق کے علَم برداروں کا ساتھ دیتے ہیں یا باطل کے علَم برداروں کا۔ اور باطل پرستوں کا امتحان اس میں ہے کہ وہ حق سے منہ موڑ کر باطل کی حمایت میں کتنی ہٹ دھرمی دکھاتے ہیں اور حق کی مخالفت میں آخرکار خباثت کی کس حد تک پہنچتے ہیں۔ یہ ایک کھلا مقابلہ ہے جس میں اگر حق اور راستی کے لیے سعی کرنے والے پِٹ رہے ہوں تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ حق ناکام ہورہا ہے اور اللہ تعالیٰ خاموشی کے ساتھ اپنے دین کی مغلوبی کو دیکھ رہا ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ حق کے لیے کام کرنے والے اللہ کے امتحان میں زیادہ سے زیادہ نمبر پا رہے ہیں۔ اُن پر ظلم کرنے والے اپنی عاقبت زیادہ سے زیادہ خراب کرتے چلے جارہے ہیں، اور وہ سب لوگ اپنے آپ کو بڑے خطرے میں ڈال رہے ہیں جو اس مقابلے کے دوران میں محض تماشائی بن کر رہے ہوں، یا جنھوں نے حق کا ساتھ دینے سے پہلوتہی کی ہو، یا جنھوں نے باطل کو غالب دیکھ کر اس کا ساتھ دیا ہو۔
یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ جو لوگ مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں وہ اس امتحان سے مستثنیٰ ہیں، یا محض مسلمان کہلایا جانا ہی اس امتحان میں ان کی کامیابی کا ضامن ہے، یا مسلمان قوموں اور آبادیوں میں دین سے انحراف کا فروغ پانا اور کسی فاسقانہ نظام کا غالب رہنا کوئی عجیب معمّا ہے جو حل نہ ہوسکے اور ذہنی اُلجھن کا موجب ہو۔ خدا کی اس کھلی امتحان گاہ میں کافر، مومن، منافق، عاصی اور مطیع، سب ہی ہمیشہ اپنا امتحان دیتے رہے ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں۔ اس میں فیصلہ کُن چیز کوئی زبانی دعویٰ نہیں بلکہ عملی کردار ہے۔ اور اس کا نتیجہ بھی مردم شماری کے رجسٹر دیکھ کر نہیں بلکہ ہرشخص کا، ہر گروہ کا اور ہر قوم کا کارنامۂ حیات دیکھ کر ہی ہوگا۔ (رسائل و مسائل، پنجم، ص ۳۲۷-۳۳۱)
اسلام کی دعوت جب عرب میں پیش کی گئی تھی، اس وقت اس کی مخاطب آبادی تقریباً ۱۰۰فی صد اَن پڑھ تھی۔ قریش جیسے ترقی یافتہ قبیلے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس میں صرف ۱۷ افراد پڑھے لکھے تھے۔ مدینے میں اس سے بھی کم لوگ تعلیم یافتہ تھے اور باقی عرب کی حالت کا اندازہ آپ ان دو بڑے شہروں کی حالت سے کرسکتے ہیں۔ قرآن مجید اس ملک میں لکھ کر نہیں پھیلایا گیا تھا بلکہ وہ لوگوں کو زبانی سنایا جاتا تھا۔ صحابہ کرامؓ اس کو سن کر ہی یاد کرتے تھے اور پھر زبانی ہی اسے دوسروں کو سناتے تھے۔ اسی ذریعے سے پورا عرب اسلام سے روشناس ہوا۔ پس درحقیقت لوگوں کا اَن پڑھ ہونا کوئی ایسی دشواری نہیں ہے جس کی وجہ سے اسلام کی تبلیغ نہ ہوسکتی ہو۔
آغازِ اسلام میں اس دین کی تبلیغ اَن پڑھ لوگوں ہی میں کی گئی تھی اور یہ محض زبانی تبلیغ و تلقین ہی تھی جس سے ان کو اس قدر بدل دیا گیا۔ ایسا زبردست انقلاب ان کے اندر برپا کردیا گیا کہ وہ دنیا کے مصلح بن کر کھڑے ہوگئے۔ اب آپ کیوں یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ۸۰ فی صد اَن پڑھ آبادی میں اسلام کی دعوت نہیں پھیلائی جاسکتی؟ آپ کے اندر ۲۰فی صد تو پڑھے لکھے لوگ موجود ہیں۔ وہ پڑھ کر اسلام کو سمجھیں، اور پھر باقی ۸۰ فی صد لوگوں کو زبانی تبلیغ و تلقین سے دین سمجھائیں۔ پہلے کی بہ نسبت اب یہ کام زیادہ آسان ہوگیا ہے۔
البتہ فرق جو کچھ ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس وقت جو شخص بھی اسلام کی تعلیمات کو سن کر ایمان لاتا تھا وہ ایمان لاکر بیٹھ نہیں جاتا تھا، بلکہ آگے دوسرے بندگانِ خدا تک ان تعلیمات کو پہنچانا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ اس کی تمام حیثیتوں پر مبلغ ہونے کی حیثیت غالب آجاتی تھی۔ وہ ہمہ تن ایک تبلیغ بن جاتا تھا۔ جہاں جس حالت میں بھی اسے دوسرے لوگوں سے سابقہ پیش آتا تھا، وہ ان کے سامنے اللہ اور اس کے رسولؐ کی ہدایات بیان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا۔ وہ ہروقت اس تلاش میں لگا رہتا تھا کہ کس طرح اللہ کے بندوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی میں لائے۔ جتنا قرآن بھی اسے یاد ہوتا وہ اسے لوگوں کو سناتا، اور اسلام کی تعلیمات جتنی کچھ بھی اسے معلوم ہوتیں ان سے وہ لوگوں کو آگاہ کرتا تھا۔ وہ انھیں بتاتا تھا کہ صحیح عقائد کیا ہیں جو اسلام سکھاتا ہے اور باطل عقیدے اور خیالات کون سے ہیں جن کی اسلام تردید کرتا ہے۔ اچھے اعمال اور اخلاق کیا ہیں جن کی اسلام دعوت دیتا ہے، اور برائیاں کیا ہیں جن کو وہ مٹانا چاہتا ہے۔ یہ سب باتیں جس طرح پہلے سنائی اور سمجھائی جاتی تھیں، اسی طرح آج بھی سنائی اور سمجھائی جاسکتی ہیں۔ ان کے لیے نہ سنانے والے کا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے، نہ سننے والے کا۔ یہ ہروقت بیان کی جاسکتی ہیں اور ہرشخص کی سمجھ میں آسکتی ہیں۔
اسلام نے کوئی ایسی نرالی چیز پیش ہی نہیں کی ہے جس سے انسانی طبائع مانوس نہ ہوں اور جن کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے بڑے فلسفے بگھارنے کی ضرورت ہو۔ یہ تو دینِ فطرت ہے۔ انسان اس سے بالطبع مانوس ہے۔ اسے پڑھے لکھے لوگوں کی بہ نسبت اَن پڑھ لوگ زیادہ آسانی سے قبول کرسکتے ہیں، کیونکہ وہ فطرت سے قریب تر ہوتے ہیں، اور ان کے دماغ میں وہ پیچ نہیں ہوتے جو جاہلیت کی تعلیم نے ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کے دماغوں میں ڈال دیے ہیں۔
لہٰذا آپ اَن پڑھ آبادی کی کثرت سے ہرگز نہ گھبرائیں۔ ان کی ناخواندگی اصل رکاوٹ نہیں ہے، بلکہ آپ کے اندر جذبۂ تبلیغ کی کمی اصل رکاوٹ ہے۔ ابتداے اسلام کے مسلمانوں کی طرح ہمہ تن مبلغ بن جایئے اور تبلیغ کی وہ لگن اپنے اندر پیدا کرلیجیے جو ان کے اندر تھی۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ اسلام کی دعوت پھیلانے کے بے شمار مواقع آپ کے منتظر ہیں جن سے آپ نے آج تک اس لیے فائدہ نہیں اٹھایا کہ آپ اپنے ملک کی آبادی میں ۱۰۰ فی صد خواندگی پھیل جانے کے منتظر رہے۔ (تصریحات ، ص ۲۸۳-۲۸۵)
ذرا سی عقل یہ بات سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ انسان کسی ایک شخص یا ایک خاندان یا ایک قوم کا نام نہیں ہے۔ تمام دنیا کے انسان بہرحال انسان ہیں۔ تمام انسانوں کو جینے کا حق ہے۔ سب اس کے حق دار ہیں کہ ان کی ضرورتیں پوری ہوں۔ سب امن کے، انصاف کے، عزت اور شرافت کے مستحق ہیں۔ انسانی خوش حالی اگر کسی چیز کا نام ہے تو وہ کسی ایک شخص یا خاندان یا قوم کی خوش حالی نہیں، بلکہ تمام انسانوں کی خوش حالی ہے، ورنہ ایک خوش حال ہو اور دس بدحال ہوں تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انسان خوش حال ہے۔ فلاح اگر کسی چیز کو کہتے ہیں تو وہ تمام انسانوں کی فلاح ہے نہ کہ کسی ایک طبقے کی یا ایک قوم کی۔ ایک کی فلاح اور دس کی بربادی کو آپ انسانی فلاح نہیں کہہ سکتے۔
اس بات کو اگر آپ صحیح سمجھتے ہیں تو غور کیجیے کہ انسانی فلاح اور خوش حالی کس طرح حاصل ہوسکتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ انسانی زندگی کے لیے قانون وہ بنائے جس کی نظر میں تمام انسان یکساں ہوں۔ سب کے حقوق انصاف کے ساتھ وہ مقرر کرے جو نہ تو خود اپنی کوئی ذاتی غرض رکھتا ہو اور نہ کسی خاندان یا طبقے کی یا کسی ملک یا قوم کی اغراض سے اس کو خاص دل چسپی ہو۔ سب کے سب اس کا حکم مانیں۔ جو حکم دینے میں نہ اپنی جہالت کی وجہ سے غلطی کرے، نہ اپنی خواہش کی بنا پر حکمرانی کے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھائے، اور نہ ایک کا دشمن اور دوسرے کا دوست، ایک کا طرف دار اور دوسرے کا مخالف، ایک طرف مائل اوردوسرے سے منحرف ہو۔ صرف اسی صورت میں عدل قائم ہوسکتا ہے۔ اسی طرح تمام انسانوں ، تمام قوموں، تمام طبقوں اور تمام گروہوں کو اُن کے جائز حقوق پہنچ سکتے ہیں۔ یہی ایک صورت ہے جس سے ظلم مٹ سکتا ہے۔
اگر یہ بات بھی درست ہے تو پھر میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا دنیا میں کوئی انسان بھی ایسا بے لاگ، ایسا غیرجانب دار، ایسا بے غرض، اور اس قدر انسانی کمزوریوں سے بالاتر ہوسکتا ہے؟ شاید آپ میں سے کوئی شخص میرے اس سوال کا جواب اثبات میں دینے کی جرأت نہ کرے گا۔ یہ شان صرف خدا ہی کی ہے۔ کوئی دوسرا س شان کا نہیں ہے۔ انسان خواہ کتنے ہی بڑے دل گردے کا ہو، بہرحال وہ اپنی کچھ ذاتی اغراض رکھتا ہے، کچھ دل چسپیاں رکھتا ہے۔ کسی سے اس کا تعلق زیادہ ہے اور کسی سے کم ، کسی سے اس کو محبت ہے اور کسی سے نہیں ہے۔ ان کمزوریوں سے کوئی انسان پاک نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں خدا کے بجاے انسانوں کے حکم کی اطاعت کی جاتی ہے، وہاں کسی نہ کسی صورت میں ظلم اور بے انصافی ضرور موجود ہے۔
یہ چند مثالیں میں نے محض اشارے کے طور پر دی ہیں۔ تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔ میں صرف یہ بات آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں جہاں بھی انسان نے قانون بنایا ہے، وہاں بے انصافی ضرور ہوئی ہے۔ کچھ انسانوں کو ان کے جائز حقوق سے بہت زیادہ دیا گیا ہے اور کچھ انسانوں کے حقوق نہ صرف پامال کیے گئے ہیں، بلکہ انھیں انسانیت کے درجے سے گرا دینے میں بھی تامل نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ جب کسی معاملے کا فیصلہ کرنے بیٹھتا ہے تو اس کے دل و دماغ پر اپنی ذات، یا اپنے خاندان، یا اپنی نسل، یا اپنے طبقے یا اپنی قوم ہی کے مفاد کا خیال مسلط رہتا ہے۔ دوسروں کے حقوق اور مفاد کے لیے اس کے پاس وہ ہمدردی کی نظر نہیں ہوتی جو اپنوں کے لیے ہوتی ہے___ مجھے بتایئے، کیا اس بے انصافی کا کوئی علاج اس کے سوا ممکن ہے کہ تمام انسانی قوانین کو دریا بُرد کردیا جائے، اور اس خدا کے قانون کو ہم سب تسلیم کرلیں جس کی نگاہ میں ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ فرق اگر ہے تو صرف اس کے اخلاق، اس کے اعمال، اور اس کے اوصاف کے لحاظ سے ہے، نہ کہ نسل یا طبقے یا قومیت یا رنگ کے لحاظ سے۔ ( اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات، ص ۷۰-۷۳)
یاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلاَدِکُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ فَاحْذَرُوْھُمْ وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ o اِنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌ وَاللّٰہُ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ o (التغابن ۶۴:۱۴-۱۵) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمھاری بیویوں اور تمھاری اولاد میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہو۔ اور اگر تم عفو و درگزر سے کام لو اور معاف کردو تو اللہ غفور و رحیم ہے۔ تمھارے مال اور تمھاری اولاد تو ایک آزمایش ہیں، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔
عمومی ہدایات کے بعد اب مسلمانوں کو کچھ خصوصی ہدایات دی جارہی ہیں۔ ان دونوں آیتوں میں ایک بات تو اگرچہ خاص اس زمانے کے حالات کے لحاظ سے فرمائی گئی لیکن اگر دوسرے زمانوں میں بھی وہی حالات پیش آئیں تو ان کے لیے بھی وہ ہدایت ہے، اور ایک ہدایت ان آیات میں عام ہے۔
جو بات خاص حالات کے لیے فرمائی گئی ہے وہ یہ تھی کہ مدینہ طیبہ میں جو لوگ مسلمان ہوئے تھے ان کے اندر بہت سے لوگ ایسے تھے جو خود تو مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کے خاندان کے لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ اگر ایک صاحب نے اسلام قبول کرلیا تھا تو ان کی بیوی مسلمان نہیں ہوئی تھی، یا میاں بیوی دونوں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی جوان اولاد مسلمان نہیں ہوئی تھی۔ بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کی اولاد اور بیویاں بظاہر تو مسلمان ہوگئی تھیں لیکن انھوں نے سچے دل سے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ شوہر چونکہ مسلمان ہوگیا ہے اس لیے اس کے ساتھ بیوی بھی مسلمان ہوگئی۔ باپ چونکہ مسلمان ہوگیا ہے اس لیے بیٹے بھی مسلمان ہوگئے لیکن ان کی عام روش اور دل چسپیاں اسلام کے مطابق نہیں ڈھلی تھیں۔ ان کے لیے ان کے ذاتی مفادات زیادہ اہمیت رکھتے تھے بہ نسبت اس کے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے سرفروشی کرے اور قربانی کی راہ اختیار کرے۔ بیویوں کو یہ بات کھلتی.َ تھی کہ یہ نبی جو مکّہ سے یہاں آئے ہیں، ان کے ماننے والے ہمارے شوہر صاحب اب اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ان کی دعوت اور دین کی تبلیغ کے کاموں میں خرچ کر ڈالتے ہیں، جب کہ گھر کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔ اولاد کو یہ بات کھلتی.َ تھی کہ ہمارے اباجان نے ایک ایسے کام میں اپنے آپ کو ڈال دیا ہے کہ جس میں سواے سرفروشی اور قربانیوں کے اور کچھ نہیں۔ دوسرے نقصانات اور خطرات بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ ان کو اپنی آخرت کی بہت فکر ہے لیکن اپنی اولاد کے مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہے۔ یہ ایسے کام میں پڑ گئے ہیں کہ اگر کفار کو مدینے میں غلبہ حاصل ہوجائے تو نہ صرف یہ کہ خود مارے جائیں گے بلکہ زن بچہ کولھو میں پیل دیا جائے گا اور ہم بھی ساتھ ہی لپیٹ میں آجائیں گے۔
یہ تصورات ایک اچھی خاصی تعداد کے اندر موجود تھے۔ یہ منافقت اس زمانے میں اپنا رنگ دکھاتی رہتی تھی۔ آج ہم مدینے کے جن منافقین کا اور ان کے منافقانہ طرزِعمل کا ذکر سنتے ہیں یہ یونہی کچھ ہوائی چیز نہیں تھی، بلکہ اس کی کچھ جڑیں اور بنیادیں تھیں۔
حقیقت واقعی یہ ہے کہ جب تک ایک آدمی کے دل میں سچا اور پکا ایمان اُترا ہوا نہ ہو وہ ایمان کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا، بلکہ وہ شاید ان کا پورا شعور و ادراک بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ محض یہ تسلیم کرلینا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، کافی نہیں ہوتا۔ جب تک آدمی کے دل میں آپؐ کی رسالت اور دعوت پر سچا اور پکا ایمان نہ ہو، اس وقت تک آدمی اس کے لیے راضی نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے سارے مفادات سے بے پروا ہوکر اللہ کے دین کے لیے سب کچھ قربان کردینے پر تیار ہوجائے۔ ہرتکلیف سہ جانے اور ہرنقصان برداشت کرلینے کے لیے آمادہ ہوجائے۔ آدمی کو بے شمار فائدے علی الاعلان حاصل ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں لیکن وہ دین کی خاطر ان کو ٹھکرانے کا فیصلہ کرلے۔ یہ بغیر سچے اور پکے ایمان کے ممکن نہیں ہے۔ منافقین مدینہ کا معاملہ یہی تھا کہ ان کے اندر یہ سچا اور پکا ایمان نہیں اُترا تھا۔ وہ اس کو تو ماننے کو تیار تھے کہ ہاں، خدا ایک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسولؐ ہیں۔ وہ یہ بھی ماننے کو تیار تھے کہ اچھا بھئی نماز پڑھ لیں گے، روزہ بھی رکھ لیں گے، ہوسکے گا تو زکوٰۃ بھی دے دیں گے لیکن اس سے آگے بڑھ کر باقی سارے خطرات مول لینے کو ہم تیار نہیں۔ ہم سارے عرب کی دشمنی مول لینے کے لیے تیار نہیں۔ قریش جیسا عرب کا سب سے بڑا طاقت ور قبیلہ، جس کے ساتھ سارے عرب کے مشرکین ہیں، اس کے خلاف لڑائی مول لینے کا مطلب یہ ہے کہ کل ہمارے اُوپر کوئی بڑی آفت آجائے، تب ہمارا کیا حشر ہوگا، ایسا کرنا کوئی دانش مندی اور دُوراندیشی کا کام نہیں۔ اس طرح کے خیالات ان لوگوں کے دماغوں میں تھے۔
پھر چونکہ وہ اپنے ایمان میں راسخ اور جماعت مسلمین کے ساتھ مخلص نہیں تھے، اس لیے ان میں اس وجہ سے بہت سے لوگ ایسے تھے کہ جن کے بیش تر افرادِ خانہ کی دل چسپیاں فریق مخالف کے ساتھ تھیں۔ اس لیے بعض اوقات ان کے گھروں سے راز کی باتیں باہر پھیلتی تھیں۔ اسلام کے دفاع کے سلسلے میں مسلمانوں میں جو مشورے ہوتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلسوں میں جو باتیں طے ہوتی تھیں کہ اب دشمنوں کے مقابلے میں یہ تدابیر اختیار کرنی ہیں، تو اس طرح کی باتیں بعض اوقات سچے اہلِ ایمان اپنے گھروں میں آکر بیان کرتے تھے۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ اپنی ہی بیوی اور بال بچے ہیں، ان سے کیا چھپانا۔ لیکن ان کی زبانوں سے نکلی ہوئی بعض باتیں منافقین تک اور دوسرے دشمنوں تک پہنچ جاتی تھیں۔ اس طرح مسلمانوں کے بہت سے راز دشمنوں کو معلوم ہوجاتے تھے۔
اس لیے فرمایا کہ اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلاَدِکُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ فَاحْذَرُوْھُمْ ، ’’تمھاری بیویوں اور تمھاری اولاد میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں،ان سے ہوشیار رہو‘‘۔ یعنی یہ وہ کام کر رہے ہیں کہ چاہے ان کا ارادہ تمھیں نقصان پہنچانے کا نہ ہو لیکن عملاً وہ تمھارے دشمن ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات ایک آدمی کا ارادہ آپ سے دشمنی کا نہیں ہوتا لیکن کام وہ کرتا ہے جو بدترین دشمن کے کرنے کا ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک ملک کا اپنا سربراہ وہ کام کرجاتا ہے جو کسی غدار کے کرنے کا ہوتا ہے۔ آج کے حالات [۱۹۶۷ء] آپ کے سامنے ہیں کہ عربوں اور مسلمانوں کا دشمن اسرائیل بھی وہ کام نہیں کرسکتا تھا جو خود ملک [مصر] کے سربراہ کی حماقتوں سے ہوگیا۔ اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہاں بیویوں اور اولاد کے بارے میں عَدُوّ ان معنوں میں نہیں کہا گیا کہ ان کا ارادہ دشمنی کرنے کا ہے، بلکہ اس معنی میں ہے کہ عملاً ان کی طرف سے عداوت ہورہی ہے۔ چنانچہ فرمایا:فَاحْذَرُوْھُمْ، ان سے ہوشیار رہو۔
اس کے بعد فوراً ہی فرمایا کہ: وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ’’اور اگر تم عفو و درگزر سے کام لو اور معاف کردو تو اللہ غفور و رحیم ہے‘‘۔ یعنی یہ بات جو ہم بتارہے ہیں کہ تمھاری بیویاں اور تمھاری اولادیں تمھاری دشمن ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب تم جاکر اپنے ازدواجی تعلقات خراب کرلو، بیویوں سے ڈانٹ ڈپٹ کرو، یا ہر وقت اولاد کے پیچھے پڑے رہو اور سرزنش کرتے رہو۔ یہ مطلب اس کا نہیں ہے۔ یہاں حَذَرْ کا، یعنی ہوشیار رہنے کا حکم دیا جا رہا ہے، یہ حکم نہیں دیا جا رہا ہے کہ جاکر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ سختیاں شروع کر دو اور اولاد کے ساتھ تعلقات بگاڑ لو، یا بیوی اور شوہر کے تعلقات کو تلخ کرلو۔ اس کے بعد فرمایا: فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ’، تم اگر چشم پوشی سے کام لو گے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
اس میں یہ بات بھی مضمر ہے کہ ہوسکتا ہے کہ آج جس شخص کے اُوپر دنیوی مفاد کا غلبہ ہے اور وہ غلط روش پر چل رہا ہے، کل اللہ تعالیٰ اسے ہدایت کی توفیق دے دے اور وہ سچے دل سے ایمان لے آئے۔ سامنے کی بات ہے کہ اگر آدمی کسی کے ساتھ سختی برتے اور باہمی تعلقات کو تلخ کرلے تو اس شخص کا آپ کی کوشش سے ہدایت پانا مشکل ہوجائے گا۔ اگر آدمی چشم پوشی اور نرمی سے کام لے اور اپنی طرف سے جو احتیاط کرنا ضروری ہے وہ پوری طرح کرے تو اس طرح محبت و شفقت اور خوش گوار تعلقات کی فضا میں ان کی اصلاح کی زیادہ توقع کی جاسکتی ہے۔ اسی لیے فرمایا: اگر تم چشم پوشی اور درگزر سے کام لو گے تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ اس طرح معاملے کے دونوں پہلو پوری طرح سے واضح فرما دیے گئے۔
دوسری چیز جو عام مشاہدے میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو آدمی کے اصل دشمن اس کی اپنی اولاد اور بیویاں ہی ہیں۔ یہ کس معنی میں؟ اس معنی میں کہ آدمی کے بال بچوں کے مطالبات وہ چیز ہیں جن کو پورا کرنے کے لیے، ان کو راضی کرنے اور ان کو خوش حال دیکھنے، ان کا مستقبل روشن بنانے کے لیے آدمی ۹۹ فی صد حرام خوریاں کرتا ہے۔ ان میں سے بمشکل ایک فی صد وہ اپنی ذات کے لیے کرتا ہے، جب کہ باقی ۹۹ فی صد حرام خوریاں وہ بیوی بچوں کی خوش نودی کے لیے کرتا ہے۔ لہٰذا اس کے اصل دشمن کون ہیں جن کی وجہ سے آدمی کی عاقبت تباہ ہوتی ہے؟
حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت کے روز ایک آدمی کو لایا جائے گا، جو مبتلاے عذاب ہوگا۔ لوگ اس کو دیکھ کر کہیںگے اس کی عیال نے اس کے حسنات کھا لیے۔ جو نیکیاں اس نے کی تھیں وہ ان کی وجہ سے برباد ہوئیں، اور ایسے بے شمار گناہ اس کے اُوپر لازم آئے جنھوں نے اس کی عاقبت تباہ کردی___ اس لیے فرمایا کہ تمھارے بیوی بچوں میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں، ان سے تم ہوشیار رہو۔ تمھارا کام یہ ضرور ہے کہ ان کے حقوق ادا کرو مگر جائز ذرائع سے ایسا کرو۔ خدا کی بندگی کرتے ہوئے کرو۔ تمھارا کام ہے کہ ان کی حالت کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کی کوشش کرو لیکن اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے ہوئے یہ کام کرو، کیونکہ اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق دنیا میں سب سے بڑھ کر ہے۔
والدین، اولاد، بیوی بچوں کے حقوق سب بجا، لیکن اللہ تعالیٰ کا حق ان سب سے فائق تر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حق کو قربان کرکے ان کی خدمت نہ کرو۔ جس شخص نے اپنے اہل و عیال کو خوش کرنے کے لیے اللہ کے حقوق مارے، اس کی نافرمانیاں کیں، اللہ کے دین کے ساتھ غداریاں کیں، اس نے درحقیقت اپنی اولاد اور بال بچوں کے اُوپر اپنی عاقبت قربان کر دی، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نے وفا کرنے کے بجاے دغا کی۔ چنانچہ چاہے وہ عَدُوّ اس معنی میں ہوں کہ ان کی وجہ سے جماعت مسلمین کے راز دشمنانِ دین تک پہنچیں، اور چاہے وہ عدو اس معنی میں ہوں کہ ان کی محبت کا تقاضا آدمی یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ ان کے لیے ہر حق اور ناحق کام کرنے پر تیار ہوجائے۔ ان دونوں صورتوں میں وہ عدو ہیں۔ اس لیے فرمایا: یہ تمھارے لیے عدو ہیں، ان سے ہوشیار رہو۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا: وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ’’اور اگر تم عفو و درگزر سے کام لو اور معاف کر دو تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے‘‘۔ اس حکم کی وضاحت اُوپر بیان کی جاچکی ہے۔
اِنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌ وَاللّٰہُ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۱۵) تمھارے مال اور تمھاری اولاد تو ایک آزمایش ہیں، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔
فتنہ کہتے ہیں آزمایش کو۔ فتنہ یہ ہے کہ آدمی کے سامنے ایسے حالات پیش آجائیں جن کے اندر وہ اس امتحان سے دوچار ہوجائے کہ وہ حق کی طرف جائے یا باطل کی طرف۔ خدا کی اطاعت اختیار کرے یا اس سے بغاوت کی طرف چل نکلے۔ ایسے تمام مواقع فتنے کے مواقع ہیں۔ یہاں آکر آدمی کی اصل آزمایش ہوتی ہے۔ آدمی کی زندگی کا یہ فیصلہ کہ وہ واقعی اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بندہ ہے یا نہیں، پلنگ پر لیٹے لیٹے نہیں ہوجاتا۔ جب آپ دنیا کی زندگی میں قدم رکھتے ہیں اور دنیا کے معاملات سے آپ کو سابقہ پیش آتا ہے، اس وقت قدم قدم پر آدمی کی آزمایش ہوتی ہے کہ آیا یہ واقعی اللہ کا بندہ ہے یا اپنے نفس کا بندہ ہے، اللہ کا بندہ ہے یا دوسرے انسانوں کا بندہ ہے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ بڑی آزمایش آدمی کو اپنے اموال اور اپنی اولاد کے معاملے میں پیش آتی ہے۔ آدمی کا اپنا مالی مفاد اور اس کی اولاد کا مفاد اس کے سامنے یہ سوال رکھ دیتا ہے کہ آیا وہ حق کی پیروی کرے یا باطل کی پیروی کرے۔ حرام و حلال کے حدود کا لحاظ رکھے یا ان کو پسِ پشت ڈال دے۔ مالی مفاد یہ کہتا ہے کہ حرام ذرائع سے جو کچھ بھی کامیابی ہوسکتی ہے وہ ضرور حاصل کرنی چاہیے۔ کاروبار کو وسعت دینے کے لیے اگر سودی قرض لینا پڑتا ہے تو لے لو کیونکہ اس سے تمھارے لیے کامیابی کے دروازے کھل جائیں گے۔ تمھاری کھیتیاں پھلیں پھولیں گی اور تمھاری تجارت چمکے گی۔ دوسری طرف یہ ہے کہ اگر تم حلال اور حرام کے چکر میں پڑے رہے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ نہ تمھاری تجارت بڑھے گی، نہ زراعت کو ترقی ملے گی۔ اس طرح تمھارا معیار زندگی ان پابندیوں کے ساتھ تو بلند ہونے سے رہا۔
اسی طرح اولاد کے معاملے میں بھی آدمی کو سخت آزمایش پیش آتی ہے۔ ایک طرف اولاد کا دنیاوی مفاد یہ چاہتا ہے کہ آدمی حلال و حرام کے حدود و قیود کو توڑ دے، اور س بات سے بے پروا ہوجائے کہ جائز کیا ہے اور ناجائز کیا ہے۔ کیا چیز اللہ کے دین کے مطابق ہے اور کیا چیز اس کے دین کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کس چیز میں ہے اور اس کی بغاوت کس چیز میں ہے۔ بس وہ صرف یہ سوچے کہ اس کی اولاد کو عیش کس طرح نصیب ہوسکتا ہے، اور اس کا مستقبل کس طرح تاب ناک ہوسکتا ہے اور وہ آنکھیں بند کرکے سب کچھ کرتا چلا جائے۔ دوسری طرف آدمی اپنی آنکھوں سے یہ بھی دیکھتا ہے کہ جو لوگ حدود اللہ کو توڑنے والے ہیں، ان کی اولاد کے لیے ترقی کے کتنے مواقع کھلے ہوتے ہیں۔ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ جو شخص حدود اللہ کی پابندی کرنے والا ہے، اس کی اولاد کو آیندہ کیا مشکلات پیش آنے والی ہیں اور ان کا مستقبل کتنا تاریک ہوتا نظر آتا ہے۔ ایسے سخت ماحول کے اندر جب ایسی سخت آزمایشیں آدمی کو پیش آتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے طرزِعمل اور انتخاب کو اس وقت دیکھ کر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ آیا یہ آدمی واقعی میرا بندہ ہے یا خودسر اور خودمختار ہے اور اپنی ذات کا اور خواہشات کا بندہ ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد فتنہ ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ: وَاللّٰہُ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ ’’اور اللہ کے پاس بڑا اجر ہے‘‘۔
ان دونوں باتوں کے درمیان ایک پورا خلا ہے جس کو آپ خود بھر سکتے ہیں۔ اس فتنے سے بخیریت نکلو گے تو یہ نہیں ہے کہ تمھارے مفاد سچ مچ قربان ہوگئے اور تمھیں واقعی نقصانات اٹھانے پڑے___ نہیں، بلکہ اللہ کے پاس اجرعظیم ہے۔ وہ اجرعظیم جو نہ دنیا تمھیں دے سکتی اور نہ اولاد دے سکتی ہے۔ اللہ کے پاس جو اجرعظیم ہے وہ دنیا میں کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس لیے تمھارا خدا کی خوش نودی اور اس کی راہِ اطاعت اختیار کرنے کا انتخاب خسارے کا سودا نہیں ہوگا، بلکہ اس کے بدلے میں تم اللہ کے ہاں اجرعظیم پائو گے۔ ہاں، اگر تم اس آزمایش کے موقع پر ناکام ہوجاتے ہو تو پھر تم نہ صرف اللہ کے اجرعظیم سے محروم ہوجائو گے، بلکہ اُلٹے اللہ کے ہاں بغاوت اور سرکشی کے جرم میں پکڑے جانے کا سامان بھی کرلو گے۔
فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَیْرًا لِاَ۔ّ نْفُسِکُمْ وَمَنْ یُّوقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (۱۶) لہٰذا جہاں تک تمھارے بس میں ہو، اللہ سے ڈرتے رہو، اور سنو اور اطاعت کرو، اور اپنے مال خرچ کرو، یہ تمھارے ہی لیے بہتر ہے۔ جو اپنے دل کی تنگی سے محفوظ رہ گئے بس وہی فلاح پانے والے ہیں۔
یہاں پہلی بات یہ فرمائی گئی کہفَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ، ’’اللہ سے ڈرو جہاں تک تمھارے بس میں ہو‘‘۔ یہ نہیں فرمایا کہ اللہ سے تقویٰ کرنے کا جو بلند ترین معیار ہے، اس کے مطابق تقویٰ اختیار کرو، بلکہ فرمایا کہ جتنی تمھاری استطاعت ہے اس کی حد تک اللہ سے تقویٰ کرو اور اس میں کمی نہ کرو۔ دیکھیے یہ ایک بہت بڑی رعایت ہے جو انسان کو دی گئی ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ جو کمالِ تقویٰ کا حق ہے وہ ادا کرو کیونکہ اگر یہ مطالبہ عام انسانوں سے کردیا جاتا ہے تو انبیا ؑکے سوا کون اس مرتبے تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ اس لیے مطالبہ ہم سے یہ کیا گیا ہے کہ جہاں تک تمھارے بس میں ہے، اللہ سے تقویٰ کرو اور اس میں کوتاہی نہ کرو۔ لیکن یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ یہ فیصلہ کرنا کہ آپ کی استطاعت کیا ہے، یہ اللہ کا کام ہے، آپ کا نہیں۔ گویا ایک وہ استطاعت ہے جو آپ خود اپنی جگہ سمجھ لیں، اور ایک استطاعت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے فیصلے میں آپ کی استطاعت ہے۔ ان دونوں باتوں میں بے انتہا فرق ہے۔
میں آپ کو ایک مثال دے کر بتاتا ہوں کہ آدمی کے سامنے ایک مسئلہ یہ آتا ہے کہ اگر میں حرام طریقے سے یہ قرض حاصل کر کے اپنا سرمایہ بڑھا لوں تو میری صنعت اور تجارت اتنی ترقی کرسکتی ہے۔ لیکن اگر میں یہ کام نہ کروں تو یہ جو میرا چھوٹا سا کاروبار ہے بس اسی میں پڑا رہوں گا اور کبھی ترقی نہیں کرسکوں گا۔ یہ سوچ کر وہ یہ راے قائم کرتا ہے کہ اب میری استطاعت میں یہ نہیں ہے کہ میں اس حرام سے بچوں۔ اب کیا کروں؟ یہ ایک واقعی مجبوری اور اضطرار کی حالت ہے___ یہ محض خود فریبی ہے۔ شریعت کی رُو سے اضطرار اس چیز کا نام ہے کہ آپ پر فاقوں کی نوبت آجائے تب محض جان بچانے کی حد تک حرام کھانے کی اجازت ہوسکتی ہے۔ اگر ایک آدمی اپنی جگہ یہ قرار دے لیتا ہے کہ اسے کاروبار بڑھانے کا اضطرار لاحق ہے۔ دوسری طرف دو وقت کی روٹی چل رہی ہے، کپڑا پہننے کو مل رہا ہے، مکان بھی رہنے کے لیے موجود ہے، لیکن وہ یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اس کو کاروبار بڑھانے کا اضطرار لاحق ہے اور اس لیے اب اس کی استطاعت میں حرام سے بچنا ممکن نہیں ہے، محض مجبوری کی حالت میں لینا پڑ رہا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا یہ خوداختیار کردہ اضطرار تسلیم نہیں کیا جائے گا کہ ہاں، واقعی تمھاری استطاعت بس اتنی ہی تھی۔ نہیں، بلکہ آخرت کی میزان میں یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کرے گا کہ واقعی تمھاری استطاعت کیا تھی اور اس کے مطابق تم نے تقویٰ کا حق ادا کیا ہے یا نہیں۔
ایک وہ استطاعت ہے جس کے حدود آدمی اللہ سے ڈرتے ہوئے طے کرے، ایک استطاعت وہ ہے جو آدمی نفس کی بندگی کرتے ہوئے طے کرتا ہے۔ جب آدمی نفس کی بندگی کرتے ہوئے اپنی استطاعت طے کرتا ہے تو وہ ہمیشہ خود کو غلط طور پر حرام کھانے پر قائل کرتا ہے، اپنے نفس کو دھوکا دیتا ہے، اور چاہتا ہے کہ اس کا خدا بھی اس کی اس خودفریبی سے دھوکا کھا جائے۔ جب اپنے دل میں اپنے موقف کی کمزوری کو محسوس کرتا ہے تو پھر مولویوں کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے اس اضطرار کی بنا پر اس حرام کو میرے لیے حلال کر دیجیے کہ میں واقعی ایسا مضطر ہوں جس کی بنا پر یہ میرے لیے حلال ہے۔ لیکن وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ اگر کوئی مولوی صاحب بھی یہ فتویٰ دے دیں کہ ہاں، تم واقعی مضطر ہو اور یہ حرام تمھارے لیے حلال ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا حرام حلال نہیں ہوجائے گا، بلکہ جب وہ اس کے فتوے کی بنا پر حلال و حرام کے حدود توڑے گا تو خود وہ مولوی صاحب بھی ساتھ ساتھ پکڑے ہوئے آئیں گے کہ حرام کو حلال قرار دینے کا یہ فیصلہ کرنے والے آپ کون تھے۔ اس طرح اس حرام خور کی دنیا تو بنے گی اور تجارت چمکے گی لیکن وہ صاحب جنھوں نے یہ فتویٰ دیا ہوگا خواہ مخواہ جوتے کھائیں گے اور شاید کھال بھی کھنچوا بیٹھیں۔ یہ اس بنا پر کہ یہ فیصلہ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے کہ واقعی آپ کی استطاعت کیا ہے۔ ایک آدمی اگر خود اپنی جگہ اپنی خواہشِ نفس کے پیچھے لگ کر اپنی استطاعت کی حدود مقرر کرے تو وہ فیصلہ کن چیز نہیں ہے___ اسی لیے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو جہاں تک تمھارے بس میں ہے۔
وَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا’’اور سنو اور اطاعت کرو‘‘۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے ذریعے سے تمھیں احکام دیتا ہے ان کو سنو، سمجھو اور ان کے مطابق عمل کرو، اس کی اطاعت اختیار کرو۔ وَاَنْفِقُوْا خَیْرًا لِاَ۔ّ نْفُسِکُمْ ’’اور اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرو‘‘۔ یہ تمھارے لیے ہی بہتر ہے۔
وَمَنْ یُّوقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۶) اور جو اپنے دل کی تنگی سے محفوظ رہ گئے، بس وہی فلاح پانے والے ہیں۔
دل کی تنگی سے مراد یہ ہے کہ آدمی تنگ نظری کے ساتھ یہ فیصلہ کرنے لگے کہ مجھے کیا کام کرنا چاہیے اورکیا نہ کرنا چاہیے۔ جب آدمی تنگ نظری کے ساتھ اپنے راستے کا انتخاب کرتا ہے تو اس کا فیصلہ اس طرح کا ہوتا ہے کہ اگر تمھارے مفاد پر ذرا سی بھی چوٹ پڑتی ہے تو اس کو گوارا نہ کرو بلکہ تمھارے مفاد کی ترقی میں جو رکاوٹ بھی پیش آسکتی ہو، اس کا خطرہ کبھی مول نہ لو۔ یہ تنگ نظری کا فیصلہ ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی فراخ حوصلگی اور عالی ظرفی کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میرا مال تو سارے کا سارا اللہ کا دیا ہوا ہے۔ میں تو محض امین ہوں، اوراس کو بہرحال مجھے چھوڑ کر جانا ہے۔ آج اگر یہ میرے پاس ہے تو میرے مرنے کے بعد یہ دوسروں کے پاس چلاجائے گا۔ اس میں سے میرے کام صرف وہی کچھ آنا ہے جو میں نے اپنی زندگی میں اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا، باقی سب کچھ تو وارثوں کے لیے رہ جائے گا۔ اس طرح سوچ کر جو آدمی فیصلہ کرتا ہے وہ صحیح فیصلہ کرتا ہے لیکن جو آدمی دل کی تنگی میں مبتلا ہو وہ اپنے نہایت چھوٹے اور حقیر مفادات کی خاطر اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بخل کرتا ہے۔ اس کی راہ میں مال خرچ کرنے سے گریز کرتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ جو لوگ دل کی تنگی سے بچ گئے وہی فلاح پانے والے ہیں۔ اور لازمی بات ہے کہ جو تنگ نظری میں مبتلا ہیں ان کے لیے کوئی فلاح نہیں ہے۔
اِنْ تُقْرِضُوْا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ (۱۷) اگر تم اللہ کو قرضِ حسن دو تو وہ تمھیں کئی گنا بڑھا کر دے گا اور تمھارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا، اللہ بڑا قدر دان اور بُردبار ہے۔
اس چھوٹے سے فقرے میں دیکھیے ایک وسیع اور عظیم مضمون بیان کر دیا گیا ہے۔ پہلی بات یہ فرمائی گئی کہ اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دو، یعنی مال اللہ تعالیٰ کا ہے، تمھارے پاس تو بس بطور امانت ہے لیکن اس کے باوجود تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ذمے قرض قرار دیتا ہے۔ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے مال کو اس کی راہ میں خرچ کرنا تمھارا فرض تھا۔ ہاں، اس مال میں سے جو کچھ تم اپنے لیے، اپنی ضروریات کے لیے خرچ کرتے ہو، یہ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رعایت ہے جو اس نے تمھیں دے رکھی ہے کہ میرا یہ مال تیرے حوالے ہے اور تم اپنی ذات پر بھی اس میں سے خرچ کرسکتے ہو۔ اصل میں تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا آپ کا فرض تھا لیکن یہ اس کی انتہائی فیاضی اور مہربانی ہے کہ وہ اس کو اپنے ذمے قرض قرار دیتا ہے بشرطیکہ وہ قرضِ حسن ہو۔
قرضِ حسن سے مراد یہ ہے کہ وہ قرض کسی غلط نیت کے ساتھ نہ دیا جائے، بطور ریاکاری نہ دیا جائے، کسی پر احسان جتانے کے لیے نہ دیا جائے، بلکہ اس سے خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی مطلوب ہو۔ یہ سمجھتے ہوئے خرچ کیا جائے کہ یہ اللہ کا مال ہے اور اسے اسی کی راہ میں جانا چاہیے۔ پھر قرضِ حسن سے مراد یہ بھی ہے کہ آدمی اس پر صرف اللہ ہی سے اجر کی اُمید رکھتا ہے کسی اور سے اجر کی خواہش یا اُمید نہیں رکھتا۔ یہ ہے وہ قرضِ حسن جس کے متعلق فرمایاکہ یُّضٰعِفْہُ لَکُمْ ’’وہ اس کو تمھارے لیے کئی گنا بڑھائے گا‘‘۔ گویا وہ صرف اس قرض ہی کو واپس نہیں کرے گا بلکہ کئی گنا بڑھا چڑھا کر عطا کرے گا۔
اس کے بعد فرمایا: وَیَغْفِرْلَکُمْ’’اور وہ تم سے درگزر کرے گا‘‘۔ یعنی آدمی اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے کتنا ہی اخلاص اپنے اندر پیدا کرلے، اور کتنی ہی تن دہی کے ساتھ اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرے، تب بھی اس کے کام میں کوئی نہ کوئی کوتاہی رہ جاتی ہے۔ اور کچھ نہیں تو شیطان ہی ایک کانٹا مار جائے گا کہ میاں، تمھارے کیا کہنے! تم نے خدا کی راہ میں جو اتنا روپیہ خرچ کیا ہے، لوگ واقعی اس پر تمھاری تعریف کر رہے ہیں۔ اللہ تمھاری اس نیکی کی قدر نہیں کرے گا تو اور کس چیز کی کرے گا۔ اب اگر اللہ کے ہاں ان چیزوں کی پکڑ ہوجائے تو آدمی کا سب کیا دھرا خاک میں مل جائے۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی کوتاہیوں سے درگزر نہ فرمائے، اس کی کوئی نیکی قبول نہیں ہوسکتی۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ آپ کے دل میں آپ کے عمل کا اصل محرک کیا ہے، دنیا کی تعریف حاصل کرنا ہے یا اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی۔ اگر واقعتا اللہ کی رضا جوئی اصل محرک تھی تو بیچ بیچ میں شیطان کے یا کسی انسان کے یا نفس کے ڈالے ہوئے جو وسوسے آئے تھے وہ سب معاف ہوجائیں گے بشرطیکہ بنیادی محرک اللہ کی رضا حاصل کرنا ہی ہو۔
اسی طرح آدمی دنیا میں جتنے اعمال بھی اللہ کی خوش نودی کے لیے کرتا ہے، وہ اپنی حد تک پوری کوشش بھی کرڈالے کہ اللہ تعالیٰ کی صحیح بندگی کا حق ادا کردے، اس کے حدود سے ممکنہ حد تک تجاوز نہ کرے، اس کے باوجود آدمی کے عمل میں بہ تقاضاے بشریت بہت سی کوتاہیاں رہ جاتی ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ درگزر سے کام نہ لے، چشم پوشی نہ فرمائے اور معیارِ مطلوب کے مطابق محاسبہ کرنے پر اُتر آئے تو شاید ہی آدمی کے کسی عمل کے قبول ہونے کی نوبت آسکے۔ ہر عمل کے اندر کوئی نہ کوئی ایسی کھوٹ اور ایسی خامی نکل آئے گی جس کی بنا پر وہ عمل کھوٹے سکّے کی طرح اُٹھا کر پھینک دیا جائے۔ لیکن یہ محض اللہ کا فضل ہے کہ اس نے یہ اصول قائم کر دیا ہے کہ اگر بنیادی طور پر ایک آدمی کے اندر سچی وفاداری ہے، اس کی اطاعت کا حقیقی جذبہ ہے، اور اس کی رضاجوئی کی سچی خواہش ہے تو اس کے بعد اس کی سب کوتاہیاں معاف، اور سارے قصوروں سے درگزر!
وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ ’’اور اللہ تعالیٰ بڑا قدردان اور بُردبار ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی یہ دو صفتیں بیان فرمائیں۔ شکور شکر سے مبالغہ کا صیغہ ہے، یعنی بڑا شاکر۔ شکریہ کا لفظ اسی ’شکر‘ سے ہے جو ہم اپنی زبان میں بولتے ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ کا شکریہ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شکریہ اللہ کی قدردانی ہے۔ مثلاً آپ کا کوئی خادم ہے جس کو آپ پوری تنخواہ دیتے ہیں، اس کے اُوپر ہر طرح کی عنایات کرتے ہیں اور اس کے ساتھ بہتر سے بہتر حُسنِ سلوک کرتے ہیں۔ اگر اس کے مقابلے میں وہ خادم اپنی حد تک آپ کی پوری پوری اطاعت کرتا ہے اور کمالِ ذمہ داری کے ساتھ کرتا ہے، مزید یہ کہ اپنی استطاعت کی حد تک آپ کے مفاد کی زیادہ سے زیادہ حفاظت کرنے کی کوشش کرتا ہے، تب یہ ایک فطری بات ہے کہ آپ کے دل میں لامحالہ اس کے لیے قدر پیدا ہوگی۔ اسی قدر کا نام شُکر ہے۔ آپ اس کے دل ہی دل میں شکرگزار ہوں گے کہ آپ نے اس پر جو عنایات کی ہیں، اس کو تنخواہ پوری اور بروقت دی ہے اور اس پر ہرطرح سے مہربان رہے ہیں، تو اس نے بھی آپ کی ان عنایات کا جواب نمک حرامی سے نہیں دیا، کام چوری سے نہیں دیا بلکہ اس نے ان احسانات کا جواب واقعی سچے دل سے وفادارانہ خدمت کے ذریعے سے دیا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے مشکور ہونے کا ترجمہ دراصل قدردان ہونا چاہیے نہ کہ شکرگزار۔ اگر یہ لفظ بولا جائے تو یہ اصل مفہوم کو عجیب رنگ دے دیتا ہے اور غلط فہمی پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ چنانچہ عربی زبان میں اس کا صحیح مفہوم قدردانی ہی سے ادا ہوتا ہے۔ اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ ’قدردان‘ کیا ہے۔
دوسری چیز فرمائی کہ وہ حلیم ہے۔ اُوپر فرمایا کہ مَنْ یُّوقَ شُحَّ نَفْسِہٖ ’’جو شخص دل کی تنگی سے بچ گیا وہی فلاح پانے والا ہے‘‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا مطالبہ اپنے بندوں سے یہ ہے کہ وہ دل کی تنگی سے بچیں، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حِلم اور بُردباری ہے، سخت گیری اور خُروہ گیری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ بات بات پر اپنے بندوں کو پکڑے۔ وہ درگزر سے، بُردباری اور حلیمی سے کام لیتا ہے۔ تم بھی وسیع القلب بنو، تنگ دل مت بنو کیونکہ اللہ تعالیٰ حلیم ہے۔ وہ تمھارے ساتھ سخت گیری کا معاملہ نہیں کرتا، بلکہ نرمی اور شفقت برتتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ رویّہ ہوتا کہ آپ نے جو جو قصور کیے ہیں ان کی سزا دیتا چلا جائے اور جو جو نیک کام کیے ہیں ان کا اجر دیتا چلا جائے، تو کون آدمی ایسا ہے جو سزا سے بچ سکے گا۔ دراصل اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ اگر آپ سچے دل سے اللہ تعالیٰ کو اپنا مالک اور آقا اور فرماں روا مان کر اطاعت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تو اس کے بعد جتنی کوتاہیاں آپ سے اس کام میں رہ گئی ہوں وہ ان پر گرفت کرنے کے بجاے ان سے درگزر سے کام لیتا ہے اور آپ کو معاف کر دیتا ہے، بلکہ ہوسکتا ہے کہ قیامت میں وہ نامۂ اعمال ہی سے خارج کر دی جائیں اور وہاں آدمی کو رسوا ہی نہ کیا جائے کہ تم دنیا میں یہ یہ کچھ کر کے آئے ہو۔ خود قرآن مجید میں اور احادیث میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ ایک سچے اور مخلص و وفادار مومن کا حساب دنیا ہی میں صاف کر دیا جاتا ہے۔ ایک کانٹا بھی اس کو چبھا تو اس کی کوئی غلطی معاف کر دی گئی، بیمار ہوا تو کوئی اور خطا معاف کر دی گئی، کوئی نقصان ہو تو کوئی اور گناہ معاف کر دیا گیا۔ الغرض ایک ایک خطا، قصور اور گناہ کا حساب یہیں صاف کر دیا جاتا ہے۔ آخر میں اگر پھر بھی کچھ بچ گیا تو اس کی وفاداریوں اور اعلیٰ خدمات کو دیکھ کر معاف کر دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اللہ تعالیٰ کے سچے وفادار بندے بن کر زندگی گزاریں اور اس کے ساتھ جان بوجھ کر کوئی بے وفائی کا کام نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ حلیم ہے۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ تنگ دلی اور تنگ نظری کے ساتھ معاملہ کرنے والا نہیں ہے۔ جو کام انھوں نے اس کی خوش نودی کے لیے کیے ہیں ان کے لیے وہ شکور ہے، یعنی ان کی قدردانی کرتا ہے اور جو کوتاہیاں ان سے ہوگئیں وہ ان سے درگزر کرے گا، ان کے ساتھ حلم کا برتائو کرے گا۔
عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (۱۸) حاضر اور غائب ہر چیز کو جانتا ہے، زبردست اور دانا ہے۔
یعنی اس کے لیے کوئی چیز غیب نہیں ہے۔ جو چیز آپ کے لیے غیب ہے وہ بھی اس کے لیے شہادۃ، اور جو چیز آپ کے لیے شہادۃ ہے وہ بھی اس کے لیے شہادۃ ہے۔ یہ غیب کے الفاظ دراصل ہمارے علم کے لحاظ سے استعمال کیے گئے ہیں۔ مخلوق کے لیے جو کچھ غیب ہے وہ بھی اس پر عیاں ہے، اور جو کچھ مخلوق کے لیے عیاں ہے وہ بھی اس کے لیے عیاں ہے۔ تم جو کچھ کام بھی کرتے ہو ان کی حقیقت کو وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے اور اس کے ساتھ وہ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ہے، یعنی زبردست اور حکیم۔ اس کے ارادوں اور فیصلوں کی تکمیل میں کوئی طاقت حائل نہیں ہوسکتی، اور اس کے ساتھ وہ حکیم ہے، یعنی اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ وہ اپنی طاقت اور قدرت کو ہمیشہ حکمت اور دانائی کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ تمھارا معاملہ اس ہستی سے ہے اس لیے خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ تمھارے لیے سلامتی اور فلاح کی راہ کون سی ہے۔ (جمع و تدوین: حفیظ الرحمن احسن)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپؐ کا پہلا عظیم الشان کارنامہ انصار و مہاجرین کے درمیان نظامِ مواخات کا قیام تھا۔ اس کے ساتھ ہی مکّے کے اہلِ ایمان کو مدینے (دارالاسلام) کی طرف ہجرت کا حکم دیا گیا، کیوں کہ مدینۂ طیبہ ایک شہری ریاست بن چکا تھا، جس میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان چند واضح شرائط پر ایک معاہدہ میثاقِ مدینہ طے پاگیا کہ کوئی کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے گا، اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں دونوں فریق متحد ہوکر مدینے کا دفاع کریں گے۔ میثاقِ مدینہ مسلمانوں کے نزدیک اس لیے اہم تھا کہ اس معاہدے کے مطابق قوت و اقتدار کا مرکزی کردار آنحضوؐر کی ذات کو تسلیم کرلیا گیا تھا۔
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہود کی تاریخ اور یہود حجاز کے طرزِعمل پر ایک نگاہ ڈالی جائے تاکہ اندازہ ہوسکے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے ساتھ جو معاہدہ کیا، وہ کیوں ضروری تھا، اور اس کے حقیقی اسباب کیا تھے؟]
عرب کے یہودیوں کی کوئی مستند تاریخ دنیا میں موجود نہیں ہے۔ انھوں نے خود اپنی کوئی ایسی تحریر کسی کتاب یا کتبے کی شکل میں نہیں چھوڑی ہے جس سے ان کے ماضی پر کوئی روشنی پڑسکے۔ اور عرب سے باہر کے یہودی مؤرخین و مصنفین نے اُن کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے، جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جزیرۃ العرب میں آکر وہ اپنے بقیہ ابناے ملّت سے بچھڑگئے تھے ، اور دنیا کے یہودی سرے سے اُن کو اپنوں میں شمار ہی نہیں کرتے تھے، کیونکہ انھوں نے عبرانی تہذیب، زبان، حتیٰ کہ نام تک چھوڑ کر عربیت اختیار کر لی تھی۔ حجاز کے آثار قدیمہ میں جو کتبات ملے ہیں، اُن میں پہلی صدی عیسوی سے قبل یہودیوں کا کوئی نشان نہیں ملتا، اور ان میں بھی صرف چند یہودی نام ہی پائے جاتے ہیں۔ اس لیے یہودِ عرب کی تاریخ کا بیش تر انحصار اُن زبانی روایات پر ہے جو اہلِ عرب میں مشہور تھیں، اور ان میں اچھا خاصا حصہ خود یہودیوں کا اپنا پھیلایا ہوا تھا۔
حجاز کے یہودیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ سب سے پہلے وہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے آخر عہد میں یہاں آکرآباد ہوئے تھے۔ اس کا قصّہ وہ یہ بیان کرتے تھے کہ حضرت موسٰی ؑنے ایک لشکر یثرب کے علاقے سے عَمالِقَہ کو نکالنے کے لیے بھیجا تھا اور اسے حکم دیا تھا کہ اس قوم کے کسی شخص کو زندہ نہ چھوڑیں۔ بنی اسرائیل کے اس لشکر نے یہاں آکرفرمانِ نبی کی تعمیل کی، مگر عَمالقہ کے بادشاہ کا ایک لڑکا بڑا خوب صورت نوجوان تھا، اسے انھوں نے زندہ رہنے دیا اور اس کو ساتھ لیے ہوئے فلسطین واپس پہنچے۔ اُس وقت حضرت موسٰی ؑکا انتقال ہو چکا تھا۔ اُن کے جانشینوں نے اِس بات پر سخت اعتراض کیا کہ ایک عمالیقی کو زندہ چھوڑ دینا نبی کے فرمان اور شریعت ِ موسوی کے احکام کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس بنا پر انھوں نے اِس لشکر کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا، اور اسے مجبوراً یثرب واپس آکر یہیں بس جانا پڑا (کتاب الاغانی، ج ۱۹، ص ۹۴)۔ اس طرح یہودی گویا اس بات کے مدعی تھے کہ وہ ۱۲ سو برس قبل مسیح سے یہاں آباد ہیں۔ لیکن درحقیقت اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے،اور اغلب یہ ہے کہ یہودیوں نے یہ افسانہ اس لیے گھڑا تھا کہ اہلِ عرب پر اپنے قدیم الاصل اور عالی نسب ہونے کی دھونس جمائیں۔
دوسری یہودی مہاجرت، خود یہودیوں کی اپنی روایت کے مطابق ۵۸۷ قبلِ مسیح میں ہوئی، جب کہ بابِل کے بادشاہ بُختِ نَصَّر نے بیت المَقدِس کو تباہ کر کے یہودیوں کو دنیا بھر میں تتربتر کر دیا تھا۔ عرب کے یہودی کہتے تھے کہ اُس زمانے میں ہمارے متعدد قبائل آکر وادی القُریٰ، تَیماء اور یثرب میں آباد ہوگئے تھے (فُتوح البُلدان، البلاذُرِی)۔ لیکن اِس کا بھی کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔ بعید نہیں کہ اس سے بھی وہ اپنی قدامت ثابت کرنا چاہتے ہوں۔
درحقیقت جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جب سنہ ۷۰ء میں رومیوں نے فلسطین میں یہودیوں کا قتلِ عام کیا، اور پھر سنہ ۱۳۲ء میں انھیں اس سرزمین سے بالکل نکال باہر کیا، اُس دَور میں بہت سے یہودی قبائل بھاگ کر حجاز میں پناہ گزین ہوئے تھے، کیونکہ یہ علاقہ فلسطین کے جنوب میں متصل ہی واقع تھا۔ یہاں آکر انھوں نے جہاں جہاں چشمے اور سرسبز مقامات دیکھے، وہاں ٹھیر گئے اور پھر رفتہ رفتہ اپنے جوڑ توڑ اور سُودخواری کے ذریعے سے اُن پر قبضہ جما لیا۔ اَیلہ، مَقنا، تبوک، تَیماء، وادی القُریٰ، فَدَک اور خیبر پر اُن کا تسلّط اسی دَور میں قائم ہوا۔ اور بنی قُرَیَظہ، بنی نَضِیر، بنی بَہدَل اور بنی قَینُقَاع بھی اُسی دور میں آکر یثرب پر قابض ہوئے۔
یثرب میں آباد ہونے والے [تین] قبائل میں سے بنی نَضِیر اور بنی قُرَیَظہ زیادہ ممتاز تھے ، کیونکہ وہ کاہنوں (Cohens یا Priests) کے طبقے میں سے تھے، انھیں یہودیوں میں [بنوقَینُقاع کے مقابلے میں] عالی نسب مانا جاتا تھا اور ان کو اپنی ملّت میں مذہبی ریاست حاصل تھی۔ یہ لوگ جب مدینے میں آکر آباد ہوئے، اُس وقت کچھ دوسرے عرب قبائل یہاں رہتے تھے جن کو انھوں نے دبا لیا اور عملاً اِس سرسبز و شاداب مقام کے مالک بن بیٹھے۔ اس کے تقریباً تین صدی بعد سنہ ۴۵۰ء یا ۴۵۱ء میں یمن کے اُس سیلابِ عظیم کا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر سورئہ سبا کے دوسرے رکوع میں [آیا] ہے۔ اِس سیلاب کی وجہ سے قومِ سبا کے مختلف قبیلے یمن سے نکل کر عرب کے اطراف میں پھیل جانے پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے غَسّانی شام میں، لَخمی حِیرَہ (عراق) میں، بنی خُزاعہ جدّہ و مکّہ کے درمیان، اور اَوس و خَزرَج یثرب میں جاکر آباد ہوئے۔ یثرب پرچونکہ یہودی چھائے ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے اوّل اوّل اَوس و خَزرَج کی دال نہ گلنے دی اور یہ دونوں عرب قبیلے چارو ناچار بنجر زمینوں پر بس گئے، جہاں اُن کو قُوتِ لایمُوت بھی مشکل سے حاصل ہوتا تھا۔ آخرکار ان کے سرداروں میں سے ایک شخص اپنے غَسّانی بھائیوں سے مدد مانگنے کے لیے شام گیا اور وہاں سے ایک لشکر لا کر اس نے یہودیوں کا زور توڑ دیا۔ اس طرح اَوس و خَزرَج کو یثرب پر پورا غلبہ حاصل ہو گیا۔ یہودیوں کے دو بڑے قبیلے، بنی نَضِیر اور بنی قُرَیَظہ شہر کے باہر جاکر بسنے پر مجبور ہوگئے۔ تیسرے قبیلے بنی قَینُقاع کی چونکہ اِن دونوں یہودی قبیلوں سے اَن بن تھی، اس لیے وہ شہر کے اندر ہی مقیم رہا، مگر یہاں رہنے کے لیے اُسے قبیلۂ خَزرَج کی پناہ لینی پڑی۔ اور اُس کے مقابلے میں بنی نَضِیر و بنی قُرَیَظہ نے قبیلۂ اَوس کی پناہ لی، تاکہ اطرافِ یثرب میں امن کے ساتھ رہ سکیں…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی تشریف آوری سے پہلے، آغازِ ہجرت تک، حجاز میں عموماً اور یثرب میں خصوصاً یہودیوں کی پوزیشن کے نمایاں خدوخال یہ تھے:
اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے اندر اسرائیلیت کا شدید تعصب اور نسلی فخر و غرور پایا جاتا تھا۔ اہلِ عرب کو وہ اُمّی (gentiles) کہتے تھے، جس کے معنی صرف اَن پڑھ کے نہیں بلکہ وحشی اور جاہل کے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ان اُمّیوں کو وہ انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں جو اسرائیلیوں کے لیے ہیں اور ان کا مال ہر جائز و ناجائز طریقے سے مار کھانا اسرائیلیوں کے لیے حلال و طیب ہے۔ سردارانِ عرب کے ماسوا، عام عربوں کو وہ اس قابل نہ سمجھتے تھے کہ انھیں دین یہود میں داخل کرکے برابر کا درجہ دے دیں۔ تاریخی طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، نہ روایاتِ عرب میں ایسی کوئی شہادت ملتی ہے کہ کسی عرب قبیلے یا کسی بڑے خاندان نے یہودیت قبول کی ہو۔ البتہ بعض افراد کا ذکر ضرور ملتا ہے جو یہودی ہوگئے تھے۔ ویسے بھی یہودیوں کو تبلیغ دین کے بجاے صرف اپنے کاروبار سے دل چسپی تھی۔ اِسی لیے حجاز میں یہودیت ایک دین کی حیثیت سے نہیں پھیلی بلکہ محض چند اسرائیلی قبیلوں کا سرمایۂ فخروناز ہی بنی رہی۔ البتہ یہودی علما نے تعویذ گنڈوں اور فال گیری اور جادُوگری کا کاروبار خوب چمکا رکھا تھا، جس کی وجہ سے عربوں پر اُن کے ’علم‘ اور ’عمل ‘کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔
یہ حالات تھے جب مدینے میں اسلام پہنچا اور بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد وہاں ایک اسلامی ریاست وجود میں آئی۔ آپؐ نے اس ریاست کو قائم کرتے ہی جو اوّلین کام کیے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ اَوس اور خَزرَج اور مہاجرین کو ملاکر ایک برادری بنائی، اور دوسرا یہ تھا کہ اس مسلم معاشرے اور یہودیوں کے درمیان واضح شرائط پر ایک معاہدہ طے کیا، جس میں اس امر کی ضمانت دی گئی کہ کوئی کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے گا اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں یہ سب متحدہ دفاع کریں گے۔
اس معاہدے کے چند اہم فقرے یہ ہیں، جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ [نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سربراہی میں] یہود اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں کن اُمور کی پابندی قبول کی تھی:
اِنَّ عَلَی الْیَہُوْدِ نَفَقَتُہُمْ وَعَلَی الْمُسْلِمِیْنَ نَفَقَتُہُمْ ، وَ اِنَّ بِیْنَہُمُ النَّصْرُ عَلٰی مَنْ حَارَبَ اَہْلَ ہٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ ، وَ اِنَّ بَیْنَھُمْ النُّصْحُ وَالنَّصِیْحَۃُ وَالْبِرُّ دُوْنَ الْاِثْمِ ، وَاِنَّہُ لَمْ یَاثَمْ اِمْرَؤٌ بِحَلِیْفِہٖ ، وَ اِنَّ النَّصْرَ لِلْمَظْلُوْمِ، وَ اِنَّ الْیَہُوْدَ یُنْفِقُوْنَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ مَا دَامُوا مُحَارِبِیْنَ ، وَ اِنَّ یَثْرَبَ حَرَامٌ جَوْفُھَا لِاَہْلِ ہٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ …… وَ اِنَّہُ مَا کَانَ بَیْنَ اَہْلِ ہٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ مِنْ حَدَثٍ اَوْ اِشْتَجَارِ یُخَافُ فَسَادُہُ فَاِنَّ مَرَدَّہُ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاِلٰی مُحَمَّدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ …… وَ اِنَّہُ لَا تُجَارُ قُرَیْشٌ وَلَا مَنْ نَصَرَہَا، وَ اِنَّ بَیْنَہُمُ النَّصْرُ عَلٰی مَنْ دَہِمَ یَثْرِبَ - عَلٰی کُلِّ اُنَاسٍ حِصَّتَہُمْ مِنْ جَانِبِھِمْ الَّذِیْ قِبَلَہُمْ (ابن ہشام، ج ۲ ، ص ۱۴۷ تا ۱۵۰)
یہ کہ یہودی اپنا خرچ اٹھائیں گے اور مسلمان اپنا خرچ، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکا، حملہ آور کے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد کے پابند ہوں گے۔ اور یہ کہ وہ خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کی خیرخواہی کریں گے اور ان کے درمیان نیکی و حق رسانی کا تعلق ہوگا نہ کہ گناہ اور زیادتی کا۔ اور یہ کہ کوئی اپنے حلیف کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا، اور یہ کہ مظلوم کی حمایت کی جائے گی، اور یہ کہ جب تک جنگ رہے ، یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اُس کے مصارف اٹھائیں گے۔ اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکا پر یثرب میں کسی نوعیت کا فتنہ و فساد کرنا حرام ہے۔ اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکا کے درمیان اگر کوئی ایسا قضیہ یا اختلاف رونما ہو جس سے فساد کا خطرہ ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے قانون کے مطابق محمد رسول اللہ کریں گے… اور یہ کہ قریش اور اس کے حامیوں کو پناہ نہیں دی جائے گی، اور یہ کہ یثرب پر جو بھی حملہ آور ہو، اس کے مقابلے میں شرکاے معاہدہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے… ہر فریق اپنی جانب کے علاقے کی مدافعت کا ذمہ دار ہوگا۔
یہ ایک قطعی اور واضح معاہدہ تھا جس کی شرائط یہودیوں نے خود قبول کی تھیں۔ لیکن بہت جلدی انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معانِدانہ روش کا اظہار شروع کر دیا اور ان کا عناد روز بہ روز سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا۔ اس کے بڑے بڑے وجوہ تین تھے:
___ایک یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کو محض ایک رئیسِ قوم دیکھنا چاہتے تھے جو اُن کے ساتھ بس ایک سیاسی معاہدہ کرکے رہ جائے اور صرف اپنے گروہ کے دنیوی مفاد سے سروکار رکھے، مگر انھوں نے دیکھا کہ آپؐ تو اللہ اور آخرت اور رسالت اور کتاب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں (جس میں خود اُن کے اپنے رسولوں اور کتابوں پر ایمان لانا بھی شامل تھا)، اور معصیت چھوڑ کر اُن احکام الٰہی کی اطاعت کرنے اور اُن اخلاقی حُدود کی پابندی کرنے کی طرف بلا رہے ہیں جن کی طرف خود ان کے انبیا بھی دنیا کو بلاتے رہے ہیں۔ یہ چیز ان کو سخت ناگوار تھی۔ اُن کو خطرہ پیدا ہو گیا کہ یہ عالم گیر اصولی تحریک اگرچل پڑی تو اس کا سیلاب ان کی جامد مذہبیت اور ان کی نسلی قومیت کو بہا لے جائے گا۔
___دوسرے یہ کہ اَوس و خَزرَج اور مہاجرین کو بھائی بھائی بنتے دیکھ کر، اور یہ دیکھ کر کہ گردوپیش کے عرب قبائل میں سے بھی جو لوگ اسلام کی اِس دعوت کو قبول کر رہے ہیں وہ سب مدینے کی اِس اسلامی برادری میں شامل ہو کر ایک ملّت بنتے جا رہے ہیں، انھیں یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ صدیوں سے اپنی سلامتی اور اپنے مفادات کی ترقی کے لیے انھوں نے عرب قبیلوں میں پھوٹ ڈال کر اپنا اُلّو سیدھا کرنے کی جو پالیسی اختیار کر رکھی تھی، وہ اب اِس نئے نظام میں نہ چل سکے گی، بلکہ اب ان کو عربوں کی ایک متحدہ طاقت سے سابقہ پیش آئے گا، جس کے آگے ان کی چالیں کامیاب نہ ہو سکیں گی۔
___تیسرے یہ کہ معاشرے اور تمدّن کی جو اصلاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کر رہے تھے، اس میں کاروبار اور لین دین کے تمام ناجائز طریقوں کا سدّباب شامل تھا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سُود کو بھی آپؐ ناپاک کمائی اور حرام خوری قرار دے رہے تھے، جس سے انھیں خطرہ تھا کہ اگر عرب پر آپؐ کی فرماں روائی قائم ہوگئی تو آپؐ اسے قانوناً ممنوع کر دیں گے۔ اِس میں ان کو اپنی [معاشی اور سماجی] موت نظر آتی تھی۔
ان وجوہ سے انھوں نے حضوؐر کی مخالفت کو اپنا قومی نصب العین بنا لیا۔ آپؐ کو زک دینے کے لیے کوئی چال، کوئی تدبیر اور کوئی ہتھکنڈا استعمال کرنے میں ان کو ذرّہ برابر تأمُّل نہ تھا۔ وہ آپؐ کے خلاف طرح طرح کی جھوٹی باتیں پھیلاتے تھے، تاکہ لوگ آپؐ سے بدگمان ہو جائیں۔ اسلام قبول کرنے والوں کے دلوں میں ہر قسم کے شکوک و شبہات اور وسوسے ڈالتے تھے، تاکہ وہ اِس دین سے برگشتہ ہو جائیں۔ خود جھوٹ موٹ کا اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جاتے تھے، تاکہ لوگوں میں اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے خلاف زیادہ سے زیادہ غلط فہمیاں پھیلائی جا سکیں۔ فتنے برپا کرنے کے لیے منافقین سے سازباز کرتے تھے۔ ہر اُس شخص اور گروہ اور قبیلے سے رابطہ پیدا کرتے تھے جو اسلام کا دشمن ہوتا تھا۔ مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے اور ان کو آپس میں لڑا دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے تھے۔ اَوس اور خَزرَج کے لوگ خاص طور پر اُن کے ہدف تھے، جن سے اُن کے مدت ہاے دراز کے تعلقات چلے آ رہے تھے۔ جنگ بُعاث کے تذکرے چھیڑ چھیڑ کر وہ اُن کو پرانی دشمنیاں یاد دلانے کی کوشش کرتے تھے، تاکہ ان کے درمیان پھر ایک دفعہ تلوار چل جائے اور اُخوت کا وہ رشتہ تار تار ہو جائے جس میں اسلام نے ان کو باندھ دیاتھا۔ مسلمانوں کو مالی حیثیت سے تنگ کرنے کے لیے بھی وہ ہر قسم کی دھاندلیاں کرتے تھے۔ جن لوگوں سے ان کا پہلے سے لین دین تھا، ان میں سے جوں ہی کوئی شخص اسلام قبول کرتا، وہ اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو جاتے تھے۔ اگر اس سے کچھ لینا ہوتا تو تقاضے کر کر کے اس کا ناک میں دم کر دیتے، اور اگر اسے کچھ دینا ہوتا تو اس کی رقم مار کھاتے تھے اور عَلانیہ کہتے تھے کہ جب ہم نے تم سے معاملہ کیا تھا اس وقت تمھارا دین کچھ اور تھا، اب چونکہ تم نے اپنا دین بدل دیا ہے اس لیے ہم پر تمھارا کوئی حق باقی نہیں ہے۔(تفہیم القرآن ،جلد پنجم،ص ۳۷۰-۳۷۷)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور دعوتِ اسلامی سے یہود کے مُعانِدانہ طرزِعمل کا اظہار تو مکی زندگی میں بھی ہوتا رہتا تھا، اور قرآن مجید کی مکی سورتوں میں اس کے شواہد بھی موجود ہیں، لیکن حضوؐر کی مدینہ تشریف آوری پر ایک معاہدے کی پابندی قبول کرلینے کے باوجود، حضوؐر اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ کے خلاف ان کا عناد ایک تدریج کے ساتھ ظاہر ہونا شروع ہوا۔ آغاز اس معاہدے کے فوراً بعد ہوا، پھر اس کی شدت میں روز بہ روز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ غزوئہ بدر (سنہ ۲ ہجری) تک پہنچتے پہنچتے ان کا یہ طرزِعمل معاہدے کی کھلی کھلی خلاف ورزی اور دشمنی میں تبدیل ہوگیا۔ غزوئہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو قریش پر جو فتحِ مبین حاصل ہوئی، اس نے انھیں اور زیادہ مشتعل اور بے قابو کردیا اور ان کے بُغض کی آگ اور زیادہ بھڑک اُٹھی۔ یہود کی اس کھلی کھلی معاندانہ روش کی بنا پر آگے چل کر حضوؐر نے ان کے تینوں بڑے قبائل (بنوقَینقُاع، بنونَضیر اور بنوقُرَیَظہ) کے خلاف جو سخت اقدامات فرمائے ان کی تفصیل آیندہ صفحات میں اپنے اپنے مقام پر آئے گی۔]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کتابُ اللہ کے خلاف یہود کی دشمنی، ان کا بُغض، ان کی نفرت اور ان کی مُعانِدانہ روش کس درجے کی تھی؟ اس کا نقشہ مدنی زندگی کے آغاز میں نازل ہونے والی سورتوں میں بڑی وضاحت کے ساتھ کھینچا گیا ہے، قرآن حکیم، خاص طور سے سورۃ البقرہ کے حوالے سے، یہود کے مُعانِدانہ طرزِعمل کی ایک جھلک سطورِ ذیل میں پیش کی جا رہی ہے:
اَوس اور خَزرَج کے نومسلموں (یعنی گروہِ انصار) سے خطاب کرکے فرمایا گیا: اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ وَ قَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْ م بَعْدِ مَا عَقَلُوْہُ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ o (اے مسلمانو! اب کیا اِن لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمھاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بُوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی۔)
(الف)نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان [لانے سے پہلے قبائلِ مدینہ اَوس اور خَزرَج کے] لوگوں کے کان میں پہلے سے نبوت،کتاب، ملائکہ ،آخرت، شریعت وغیرہ کی جو باتیں پڑی ہوئی تھیں، وہ سب انھوں نے اپنے ہمسایہ یہودیوں ہی سے سنی تھیں۔ اور یہ بھی انھوں نے یہودیوں ہی سے سنا تھا کہ دُنیا میں ایک پیغمبر اور آنے والے ہیں، اور یہ کہ جو لوگ ان کا ساتھ دیں گے وہ ساری دُنیا پر چھاجائیں گے۔ یہی معلومات تھیںجن کی بنا پر اہلِ مدینہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا چرچا سن کر آپؐ کی طرف خود متوجہ ہوئے اور جُوق در جُوق ایمان لائے۔ اب وہ متوقع تھے کہ جو لوگ پہلے ہی سے انبیا اور کتب ِآسمانی کے پیرو ہیں اور جن کی دی ہوئی خبروں کی بدولت ہی ہم کو نعمت ِ ایمان میسّر ہوئی ہے، وہ ضرور ہمارا ساتھ دیں گے، بلکہ اس راہ میں پیش پیش ہوں گے۔ چنانچہ یہی توقعات لے کر یہ پُرجوش نومسلم اپنے یہودی دوستوں اور ہمسایوں کے پاس جاتے تھے اور ان کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ پھر جب وہ اس دعوت کا جواب انکار سے دیتے تو منافقین اور مخالفینِ اسلام اس سے یہ استدلال کرتے تھے کہ معاملہ کچھ مُشتَبہ ہی معلوم ہوتا ہے، ورنہ اگر یہ واقعی نبی ہوتے تو آخر کیسے ممکن تھا کہ اہلِ کتاب کے علما اور مشائخ اور مقدس بزرگ جانتے بُوجھتے ایمان لانے سے منہ موڑتے اور خواہ مخواہ اپنی عاقبت خراب کر لیتے۔ اس بنا پر [سورۂ بقرہ کی متعدد آیات میں] بنی اسرائیل کی تاریخی سرگذشت بیان کرنے کے بعد [یہاں] ان سادہ دل مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ جن لوگوں کی سابق روایات یہ کچھ رہی ہیں، ان سے تم کچھ بہت زیادہ لمبی چوڑی توقعات نہ رکھو، ورنہ جب ان کے پتھر دلوں سے تمھاری دعوتِ حق ٹکرا کر واپس آئے گی، تو دل شکستہ ہوجائو گے۔ یہ لوگ تو صدیوں کے بگڑے ہوئے ہیں۔ اللہ کی جن آیات کو سن کر تم پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے، انھی سے کھیلتے اور تمسخر کرتے ان کی نسلیں بیت گئی ہیں۔ دین ِ حق کو مسخ کر کے یہ اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال چکے ہیںاور اسی مسخ شدہ دین سے یہ نجات کی اُمیدیں باندھے بیٹھے ہیں۔ ان سے یہ توقع رکھنا فضول ہے کہ حق کی آواز بلند ہوتے ہی یہ ہر طرف سے دَوڑے چلے آئیں گے۔
(ب) [سورئہ بقرہ کی مذکورہ بالا آیت میں]’ایک گروہ‘ سے مراد [یہود] کے علما اور حاملینِ شریعت ہیں۔ ’کلام اللہ‘ سے مراد تورات، زَبور اور وہ دوسری کتابیں ہیں جو ان لوگوں کو ان کے انبیا کے ذریعے سے پہنچیں۔ ’تحریف‘ کا مطلب یہ ہے کہ بات کو اصل معنی و مفہوم سے پھیر کر اپنی خواہش کے مطابق کچھ دوسرے معنی پہنا دینا، جو قائل کے منشا کے خلاف ہوں۔ نیز الفاظ میں تغیر و تبدل کرنے کو بھی تحریف کہتے ہیں ___ علماے بنی اسرائیل نے یہ دونوں طرح کی تحریفیں کلامِ الٰہی میں کی ہیں۔( تفہیم القرآن ،جلد اوّل، ص ۸۷)
[نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری پر یہودی پیشوائوں کے اندر یہ مرض شدت اختیار کرگیا تھا۔ اسی سورئہ بقرہ کی آیت ۷۶ تا ۱۲۱ میں یہود اور ان کے مذہبی پیشوائوں کی حالت پر جو تبصرہ کیا گیا ہے، اس کے درج ذیل نِکات سے اندازہ ہوگا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے رسولؐ، اس کی کتاب اور اس کے دین کے ساتھ کس قسم کا برتائو کر رہے تھے اور اُن کی دینی اور اخلاقی پستی کس انتہا کو پہنچ چکی تھی۔]
۱- اللّٰہ کے متعلق ان کا فاسد عقیدہ: [اُن کے علما] وہ آپس میں ایک دُوسرے سے کہتے تھے کہ تورات اور دیگر کتبِ آسمانی میں جو پیشین گوئیاں اِس نبی کے متعلق موجود ہیں، یا جو آیات اورتعلیمات ہماری مقدّس کتابوں میں ایسی ملتی ہیں جن سے ہماری موجودہ روش پر گرفت ہو سکتی ہے، انھیں مسلمانوں کے سامنے بیان نہ کرو، ورنہ یہ تمھارے رب کے سامنے ان کو تمھارے خلاف حجت کے طور پر پیش کریں گے۔ یہ تھا اللہ کے متعلق ان ظالموں کے فسادِ عقیدہ کا حال۔ گویا وہ اپنے نزدیک یہ سمجھتے تھے کہ اگر دُنیا میں وہ اپنی تحریفات اور اپنی حق پوشی کو چھپا لے گئے، تو آخرت میں ان پر مقدّمہ نہ چل سکے گا۔ اِسی لیے بعد کے جملۂ معترضہ میں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ کیا تم اللہ کو بے خبر سمجھتے ہو۔
۲- کلام اللّٰہ میں تحریف اور آمیزش: اُن کے علما--- نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ کلامِ الٰہی کے معانی کو اپنی خواہشات کے مطابق بدلا ہو، بلکہ یہ بھی کیا کہ بائبل میں اپنی تفسیروں کو، اپنی قومی تاریخ کو، اپنے اوہام اور قیاسات کو، اپنے خیالی فلسفوں کو، اور اپنے اجتہاد سے وضع کیے ہوئے فقہی قوانین کو کلامِ الٰہی کے ساتھ خلط ملط کردیا اور یہ ساری چیزیں لوگوں کے سامنے اس حیثیت سے پیش کیں کہ گویا یہ سب اللہ ہی کی طرف سے آئی ہوئی ہیں۔ [مزید برآں ]ہر تاریخی افسانہ، ہر مُفسر کی تاویل، ہرمُتکلم کا الٰہیاتی عقیدہ، اور ہر فقیہ کا قانونی اجتہاد، جس نے مجموعۂ کتبِ مقدسہ (بائبل) میں جگہ پا لی، اللہ کا قول (Word of God) بن کر رہ گیا۔ اُس پر ایمان لانا فرض ہوگیا اور اس سے پھرنے کے معنی دین سے پھر جانے کے ہوگئے۔(ایضاً، ص ۸۸-۸۹)
[اس پر فرمایا گیا:] فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْدِیْھِمْ ق ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ لِیَشْتَرُوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلاً ط فَوَیلٌ لَّھُمْ مِّمَّا کَتَبَتْ اَیْدِیْھِمْ وَ وَیلٌ لَّھُمْ مِّمَّا یَکْسِبُوْنَ o (پس ہلاکت اور تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے شرع کا نَوِشتہ لکھتے ہیں، پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے، تاکہ اس کے معاوضے میں تھوڑا سا فائدہ حاصل کرلیں۔ ان کے ہاتھوں کا یہ لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا سامان ہے اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجبِ ہلاکت۔(ایضاً)
۳- یھودی عوام کی خوش خیالیاں: [رہے عوام تو ان کا یہ ] حال تھا، علمِ کتاب سے کورے تھے۔ کچھ نہ جانتے تھے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں دین کے کیا اُصول بتائے ہیں، اخلاق اور شرع کے کیا قواعد سکھائے ہیں، اور انسان کی فلاح و خُسران کا مدار کن چیزوں پر رکھا ہے۔ اس علم کے بغیر وہ اپنے مفروضات اور اپنی خواہشات کے مطابق گھڑی ہوئی باتوں کو دین سمجھے بیٹھے تھے اور جھوٹی توقعات پر جی رہے تھے(ایضاً)۔ [ان کے بارے میں فرمایا:] ان میں ایک دوسرا گروہ اُمّیوں کا ہے، جوکتاب کا تو علم رکھتے نہیں، بس اپنی بے بنیاد اُمیدوں اور آرزوئوں کو لیے بیٹھے ہیں اور محض وہم و گمان پر چلے جارہے ہیں۔
۴- خود فریبی کی انتھا: [کلامِ الٰہی کے ساتھ یہ معاملہ کرنے اور خوفِ خدا سے بے نیاز ہوجانے کے بعد اُن کی خود فریبی اور جسارت اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ بمطابق ارشاد الٰہی] وہ کہتے تھے: دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں، اِلاَّ یہ کہ چند روز کی سزا مل جائے تو مل جائے۔ [اس پر فرمایا گیا:] اِن سے پوچھو: کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا؟ یا بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ذمّے ڈال کر ایسی باتیں کہہ دیتے ہو جن کے متعلق تمھیں علم نہیں ہے کہ اُس نے ان کا ذمہ لیا ہے؟ آخر تمھیں دوزخ کی آگ کیوں نہ چھوئے گی؟ جو بھی بدی کمائے گا اور اپنی خطاکاری کے چکّر میں پڑا رہے گا،وہ دوزخی ہے اور دوزخ ہی میں وہ ہمیشہ رہے گا۔(ایضاً، ص ۸۸-۹۰)
یہ یہودیوں کی عام غلط فہمی کا بیان ہے، جس میں ان کے عامی اور عالم سب مبتلا تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم خواہ کچھ کریں، بہرحال چونکہ ہم یہودی ہیں، لہٰذا جہنم کی آگ ہم پر حرام ہے، اور بالفرض اگر ہم کو سزا دی بھی گئی، تو بس چند روز کے لیے وہاں بھیجے جائیں گے اور پھر سیدھے جنت کی طرف پلٹا دیے جائیں گے۔
۵- کتابُ اللّٰہ پر جزوی ایمان:نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کی آمد سے پہلے مدینے کے اطراف کے یہودی قبائل نے اپنے ہمسایہ عرب قبیلوں (اَوْس اور خزْرَج) سے حلیفانہ تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ جب ایک عرب قبیلہ دُوسرے قبیلے سے برسرِجنگ ہوتا، تو دونوں کے حلیف یہودی قبیلے بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے اور ایک دُوسرے کے مقابلے میں نبردآزما ہو جاتے تھے۔ یہ فعل صریح طور پر کتاب اللہ کے خلاف تھا اور وہ جانتے بوجھتے کتاب اللہ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ مگر لڑائی کے بعد جب ایک یہودی قبیلے کے اسیرانِ جنگ دُوسرے یہودی قبیلے کے ہاتھ آتے تھے، تو غالب قبیلہ فدیہ لے کر انھیں چھوڑتا اور مغلوب قبیلہ فدیہ دے کر انھیںچھڑاتا تھا، اور اس فدیے کے لین دین کو جائز ٹھیرانے کے لیے کتاب اللہ سے استدلال کیا جاتا تھا۔ گویا وہ کتاب اللہ کی اس اجازت کو تو سر آنکھوں پر رکھتے تھے کہ اسیرانِ جنگ کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے، مگر اس حکم کو ٹھکرا دیتے تھے کہ آپس میں جنگ ہی نہ کی جائے۔(ایضاً، ص ۹۱-۹۲)
[چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:] اَفَـتُؤْمِنُوْنَ بِـبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِـبَعْضٍ، تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کُفر کرتے ہو؟ (ایضاً، ص ۹۱)
۶- جبریل علیہ السلام سے یھود کی دشمنی: یہودی صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپؐ پر ایمان لانے والوں ہی کو بُرا نہ کہتے تھے، بلکہ خدا کے برگزیدہ فرشتے جبریل ؑکو بھی گالیاں دیتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ہمارا دشمن ہے۔ وہ رحمت کا نہیں عذاب کا فرشتہ ہے(ایضاً، ص ۹۶)۔ [فرمایا گیا:] اِن سے کہو کہ جو کوئی جبریل ؑ سے عداوت رکھتا ہو، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ جبریل ؑ نے اللہ ہی کے اِذن سے یہ قرآن تمھارے قلب پر نازل کیا ہے---اس بنا پر تمھاری گالیاں جبریل ؑ پر نہیں، بلکہ خداوندِ برتر کی ذات پر پڑتی ہیں۔ [پھر] یہ قرآن سراسر تورات کی تائید میں ہے، لہٰذا تمھاری گالیوں میں تورات بھی حصے دار ہوئی۔۱۰؎
۷- انبیا کے مقابلے میں سرکشی اور سنگ دلی: [سورۂ بقرہ کی آیت ۸۷ میں ان کے ایک سنگین جرم کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے:] پھر یہ تمھارا کیا ڈھنگ ہے کہ جب بھی کوئی رسول تمھاری خواہشاتِ نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمھارے پاس آیا، تو تم نے اس کے مقابلے میں سرکشی ہی کی، کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا۔ [اس کے بعد اگلی آیت ۸۸ میں ان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے:] وہ کہتے ہیں: ہمارے دل محفوظ ہیں۔ نہیں، اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پِھٹکار پڑی ہے، اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔(ایضاً، ص ۹۲-۹۳)
[گویا اُن کا کہنا یہ ہے کہ] ہم اپنے عقیدہ و خیال میں اتنے پختہ ہیں کہ تم خواہ کچھ کہو، ہمارے دلوں پر تمھاری بات کا اثر نہ ہوگا۔ یہ وہی بات ہے جو تمام ایسے ہٹ دھرم لوگ کہا کرتے ہیں جن کے دل و دماغ پر جاہلانہ تعصّب کا تسلط ہوتا ہے۔ وہ اسے عقیدے کی مضبوطی کا نام دے کر ایک خوبی شمار کرتے ہیں، حالانکہ اس سے بڑھ کر آدمی کے لیے کوئی عیب نہیں ہے کہ وہ اپنے موروثی عقائد و افکار پر جم جانے کا فیصلہ کر لے، خواہ ان کا غلط ہونا کیسے ہی قوی دلائل سے ثابت کردیا جائے۔
۸- کتابُ اللّٰہ اور رسولؐ اللّٰہ کی تکذیب:[آیت ۸۹ میں قرآن کے بارے میں ان کے طرزِعمل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا:] اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے، اس کے ساتھ ان کا کیا برتائو ہے؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی، باوجودیکہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دُعائیں مانگا کرتے تھے، مگر جب وہ چیز آگئی، جسے وہ پہچان بھی گئے، تو انھوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔
[پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ] نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کی آمد سے پہلے یہودی بے چینی کے ساتھ اُس نبی کے منتظر تھے جس کی بعثت کی پیشین گوئیاں ان کے انبیا نے کی تھیں۔ دُعائیں مانگا کرتے تھے کہ جلدی سے وہ آئے تو کفار کا غلبہ مٹے اور پھر ہمارے عروج کا دَورشروع ہو۔ خود اہلِ مدینہ اس بات کے شاہد تھے کہ ِبعثتِ محمدیؐ سے پہلے یہی ان کے ہمسایہ یہودی آنے والے نبی کی اُمیّد پر جِیا کرتے تھے اور ان کا آئے دن کا تکیۂ کلام یہی تھا کہ ’’اچھا، اب تو جس جس کا جی چاہے ہم پر ظلم کرلے، جب وہ نبی آئے گا تو ہم ان سب ظالموں کو دیکھ لیں گے‘‘۔ اہلِ مدینہ یہ باتیں سنے ہوئے تھے، اسی لیے جب انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کے حالات معلوم ہوئے تو انھوں نے آپس میں کہا کہ دیکھنا، کہیں یہ یہودی تم سے بازی نہ لے جائیں۔ چلو، پہلے ہم ہی اس نبی پر ایمان لے آئیں۔ مگر ان کے لیے یہ عجیب ماجرا تھا کہ وہی یہودی ، جو آنے والے نبی کے انتظار میں گھڑیاں گن رہے تھے، اس کے آنے پر سب سے بڑھ کر اس کے مخالف بن گئے۔
اور یہ جو فرمایا کہ ’وہ اس کو پہچان بھی گئے‘ تواس کے متعدد ثبوت اسی زمانے میں مل گئے تھے۔ سب سے زیادہ معتبر شہادت امّ المومنین حضرت صَفِیَّہ کی ہے، جو خود ایک بڑے یہودی عالم کی بیٹی اور ایک دُوسرے عالم کی بھتیجی تھیں۔وہ فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ، تو میرے باپ اور چچا دونوں آپؐ سے ملنے گئے۔ بڑی دیرتک آپ ؐسے گفتگو کی۔ پھر جب گھر واپس آئے، تو میں نے اپنے کانوں سے ان دونوں کو یہ گفتگو کرتے سنا:
چچا: کیا واقعی یہ وہی نبی ہے، جس کی خبریں ہماری کتابوں میں دی گئی ہیں؟ والد: خدا کی قسم، ہاں۔ چچا: کیا تم کو اس کا یقین ہے؟ والد: ہاں۔ چچا: پھر کیا ارادہ ہے؟ والد: جب تک جان میں جان ہے، اس کی مخالفت کروں گا اور اس کی بات چلنے نہ دوں گا۔ (ابن ہشام، جلد دوم، ص۱۶۵، طبع جدید)
[علماے یہود کی اس بے جا ضد اور انکارِ حق پر تبصرہ کرتے ہوئے آیت ۹۰ میں فرمایا گیا:] خدا کی لعنت اِن منکرین پر! کیسا بُرا ذریعہ ہے جس سے یہ اپنے نفس کی تسلّی حاصل کرتے ہیں کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے، اس کو قبول کرنے سے صرف اِس ضد کی بنا پر انکار کر رہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل (وحی و رسالت) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا، نواز دیا، لہٰذا اب یہ غضب بالاے غضب کے مستحق ہوگئے ہیں اور ایسے کافروں کے لیے سخت ذلّت آمیز سزا مقرر ہے۔
[اس ارشادِ الٰہی کے مطابق:] یہ لوگ چاہتے تھے کہ آنے والا نبی ان کی قوم میں پیدا ہو، مگر جب وہ ایک دُوسری قوم میں پیدا ہوا، جسے وہ اپنے مقابلے میں ہیچ سمجھتے تھے، تو وہ اس کے انکار پر آمادہ ہو گئے۔ گویا ان کا مطلب یہ تھا کہ اللہ ان سے پوچھ کر نبی بھیجتا، جب اس نے ان سے نہ پوچھا اور اپنے فضل سے خود جسے چاہا، نواز دیا، تو وہ بگڑ بیٹھے۔(ایضاً، ص ۹۳-۹۵)
[اس تفصیل سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری پر، گروہِ یہود، یثرب کے اندر معاشی، معاشرتی اور سیاسی اعتبار سے ایک قابلِ لحاظ حیثیت رکھتا تھا۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب خیال فرمایا کہ چند شرائط کے ساتھ اُن سے ایک معاہدہ کرلیا جائے۔ نیز درج بالا تفصیل سے یہودِ مدینہ کی مختصر تاریخ، اُن کی اخلاقی اور مذہبی حالت، ان کے قومی نصب العین (آنحضوؐر سے دشمنی)، اسلام سے ان کے تعصّب اور عناد اور بحیثیت مجموعی ’’ہمچو ما دیگرے نیست‘‘ پر مبنی ان کے منفی رویوں کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے۔] (انتخاب، ترتیب و تدوین: عبدالوکیل علوی، حفیظ الرحمٰن احسن، رفیع الدین ہاشمی)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا ط قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ط وَذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ o (التغابن ۶۴:۷) منکرین نے بڑے دعوے سے کہا کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اُٹھائے جائیں گے۔ ان سے کہو: ’’نہیں، میرے رب کی قسم! تم ضرور اُٹھائے جائو گے، پھر تمھیں ضرور بتایا جائے گا کہ تم نے (دنیا میں) کیا کچھ کیا ہے، اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے‘‘۔
یہ بات پہلے تفصیل کے ساتھ بیان کی جاچکی ہے کہ جو لوگ بھی آخرت کا انکار کرتے ہیں وہ اس بنا پر کرتے ہیں کہ ان کی خواہشاتِ نفس یہ چاہتی ہیں کہ ان کو دنیا میں برائیاں کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل رہے۔ ان کے لیے کوئی مستقل اخلاقی قانون نہ ہو، نہ کوئی ایسی مستقل قدریں ہوں جن سے انحراف نہ کیا جاسکتا ہو، کیونکہ جو نیکی ہے وہ تو ہرحال میں نیکی ہی رہے گی، اسی طرح جو بدی ہے وہ بھی لازماً اور ہرحال میں بدی ہی رہے گی۔ انسان اس طرح کی قدریں ماننے سے اس لیے انکار کرنا چاہتا ہے کہ وہ اس کی خواہشاتِ نفس پر پابندیاں لگاتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ آخرت کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ زندہ نہیں ہونا ہے۔ یہ بات وہ کسی عقلی دلیل کے ساتھ نہیں کہتا، کیونکہ اگر وہ عقل کی بنیاد پر یہ بات کہتا ہے تو اس سے سوال کیا جائے گا کہ آپ جب پہلے نہیں تھے تو وجود میں کیسے آگئے؟ جب نہ ہونے کے بعد آپ پیدا ہوگئے تو پھر دوبارہ نہ ہونے کے بعد نہ ہونے کی آخر کیا وجہ ہے؟ اگر ناممکن ہوتا تو آپ کا پہلی مرتبہ پیدا ہونا ناممکن ہوتا۔ جب پہلی مرتبہ پیدا ہونا ممکن ہوگیا تو پھر دوبارہ پیدا ہونا کیسے ناممکن ہے۔ چنانچہ اگر آدمی محض عقل پر بھی مدار رکھے تو وہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ مرنے کے بعد دوبارہ پیدا ہونا ناممکن ہے۔ لیکن چونکہ خواہش نفس یہ کہہ رہی ہے کہ اس بات کو ہرگز نہ مانو، کیونکہ اس کے ماننے سے یہ اور یہ پابندیاں تمھارے اُوپر عائد ہوجائیں گی، اس وجہ سے اپنے طور پر وہ جان چھڑانے کے لیے یہ کہتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ پیدا ہونا ناممکن ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ان کافروں نے اپنی جگہ یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ دوبارہ نہیں اُٹھائے جائیں گے تو ان کا یہ گمان سراسر باطل ہے۔
زعم کا مطلب ہے اپنی جگہ کسی بات کو سچ سمجھ لینا، جب کہ واقعہ نہ ہو۔ اُردو زبان میں بھی آپ کہتے ہیں تم اپنے زعم میں یہ سمجھتے ہو تو سمجھتے رہو لیکن اس سے حقیقت تو نہیں بدل جائے گی۔ چنانچہ فرمایا: قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ، ان سے کہو کہ تم کیوں نہیں اُٹھائے جائو گے۔ ان سے کہو میرے رب کی قسم! تم ضرور اُٹھائے جائو گے۔ پھر فرمایا: ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ط وَذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ ، پھر ضرور تمھیں بتایا جائے گاکہ تم نے (دنیا میں) کیا کچھ کیا ہے اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
گویا جس چیز سے بچنے کے لیے تم اس کا انکار کر رہے ہو، وہی چیز پیش آکر رہنی ہے۔ تم اس بات سے بچنا چاہتے ہو کہ کوئی تم سے یہ پوچھے کہ تم دنیا میں کیا کرکے آئے ہو، جو مال تم کو دیا گیا تھا اس کو کس طرح استعمال کیا، جو جسم تم کو دیا گیا تھا اس کی طاقتوں کو تم نے کس طرح استعمال کیا، جو قابلیتیں تم کو دی گئی تھیں ان کو کہاں استعمال کیا۔ غرض، ایک ایک چیز کے متعلق تم سے سوال ہونا ہے۔ تم کو یہ بتایا جائے گا کہ تم یہ یہ کچھ کر کے آئے ہو۔ تمھارا پورا نامۂ اعمال تمھارے سامنے رکھ دیا جائے گا کہ یہ تمھاری زندگی کا کارنامہ ہے___ اور ایسا کرنا خدا کے لیے بالکل آسان ہے۔
تم اپنی جگہ سمجھتے ہو کہ تمھارا دوبارہ زندہ کر کے اُٹھا دینا بڑا مشکل کام ہے، حالانکہ اللہ کے لیے ایسا کرنا کچھ مشکل نہیں۔ اگر مشکل ہوتا تو تمھیں پہلی بار پیدا کرنا مشکل ہوتا۔ جب ایک دفعہ وہ پیدا کرچکا تو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیسے مشکل ہوگا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے لیے تمام انسانوں کو اپنے سامنے بیک وقت جمع کرلینا بھی کچھ مشکل نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ تمھارے سب کے نامہ ہاے اعمال کو لاکر سامنے رکھ دینا، جن میں تمھاری پوری زندگی کا کارنامہ بلاکم و کاست درج ہو، اور جو چیزیں تم بھول بھی گئے ہو گے وہ بھی اس کے اندر موجود ہوں گی۔ یہ سب کچھ تمھارے نزدیک مشکل ہوسکتا ہے مگر اللہ کے لیے نہیں۔ تم اپنی جگہ یہ سمجھ سکتے ہو کہ قیامت تک نہ جانے کتنے ارب کتنے کھرب انسان پیدا ہوچکے ہوں گے، ان سب کے کارنامے کو کون مرتب کرے گا اور کون اسے سامنے لاکر رکھے گا لیکن اللہ کے لیے یہ بالکل آسان ہوگا۔ جو خدا بیک وقت ساری کائنات کو دیکھ رہا ہے اور اس کی تدبیر کر رہا ہے، جو خدا ساری مخلوق کی باتیں ہروقت سُن رہا ہے اور ان کا جواب دے رہا ہے اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرکے ان کے کارنامے کو بیک وقت ان کے سامنے لاکر رکھ دے۔
فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالنُّوْرِ الَّذِیْٓ اَنزَلْنَاط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌo (۸) پس ایمان لائو اللہ پر، اور اس کے رسولؐ پر، اور اُس روشنی پر جو ہم نے نازل کی ہے۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔
اُوپر کے تمام دلائل پیش کرنے کے بعد یہ کہنا کہ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ، اللہ پر ایمان لائو، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب حقائق یہ ہیں تو اس کے بعد تمھارے لیے سیدھا راستہ یہ ہے کہ اللہ کو اور اس کے رسولؐ کو مان لو اور اس نور پر ایمان لے آئو جو ہم نے نازل کیا ہے۔ یہاں نور سے مراد وہ روشنی ہے جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے انسان کو دی ہے۔ سمجھانا یہ مقصود ہے کہ صرف قرآنِ مجید ہی نور نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک اور آپؐ کی سنت بھی نور ہے۔ اس طرح زندگی کے تمام معاملات میں آپؐ کی چھوڑی ہوئی ہدایات بھی نور ہیں۔ ان سب چیزوں کے مجموعے کو لفظ نور سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ ہدایت کی وہ روشنی ہے جو کھول کھول کر بتا رہی ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے، صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ اس نور کی پیروی کرو___ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔
اس مقام پر یہ مضمون اس جملے پر ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمام دلائل فراہم کردیے ہیں۔ اپنا رسول بھیج کر اپنی تعلیمات پہنچا دی ہیں اور اس کے ساتھ تمھیں دعوت دے دی ہے کہ ہمارے رسولؐ کو مانو اور اس کی تعلیمات کو مانو۔ اب اس کے بعد اگر کوئی نہیں مانتا تو اللہ ماننے والوں اور نہ ماننے والوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ اگر کوئی نہیں مانتا تو وہ صرف یہ کہنے پر نہیں چھوٹ جائے گا کہ صاحب یہ دلائل تو میری عقل میں اُترے ہی نہیں تھے، اس لیے میں نے دین کو نہیں مانا تھا لیکن یہ باتیں وہ صرف انسانوں سے کہہ سکتا ہے، اللہ سے نہیں کہہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ اس کو کھول کر بتا دے گا کہ تو نے کیوں نہیں مانا تھا۔ آپ لوگوں کے سامنے تو یہ باتیں بنا سکتے ہیں کہ دین حق کی باتیں میرے دماغ میں نہیں اُترتی تھیں لیکن اللہ کو معلوم ہے کہ آپ کے قبولِ حق سے فرار کے اسباب کیا تھے۔ آپ کی خواہشاتِ نفس اصل رکاوٹ تھیں اور آپ کے تعصبات دراصل اس کو قبول کرنے میں مانع تھے۔ آپ نے یہ سوچا کہ اگر میں نے اس حقیقت کو مان لیا تو کنبہ اور برادری چھوٹ جائے گی، جایداد چھوٹ جائے گی، وراثت سے محروم ہوجائوں گا، اس دین کو قبول کرکے بہت سی تکلیفیں اور مصائب مجھے پیش آسکتے ہیں، تو اس طرح کی بیسیوں رکاوٹیں آدمی کے سامنے آکھڑی ہوتی ہیں۔ تب آدمی حق کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی شخص انکار کرتا ہے تو یہ کہہ کر کرتا ہے کہ یہ دین تو میری سمجھ ہی میں نہیں آتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس کے قبولِ حق سے انکار کے اصل وجوہ سے اچھی طرح باخبر ہے۔ وہ اس روز ان سب باتوں کی حقیقت اس پر کھول کر رکھ دے گا، ایسے دلائل اور شواہد کے ساتھ کہ آدمی ان کی تردید میں زبان نہیں کھول سکے گا۔ دنیا میں تو اس کی سخن سازی چل سکتی ہے لیکن قیامت کے روز خود اس کا اپنا نفس اس کو بتادے گا کہ تو جھوٹا ہے، اور اللہ جس بات کی تجھے خبر دے رہا ہے، وہ برحق ہے۔
یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ ط وَمَنْ یُّؤْمِنْم بِاللّٰہِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا یُّکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰتِہٖ وَیُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا ط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ o وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ o (۹-۱۰) (اس کا پتا تمھیں اُس روز چل جائے گا) جب اجتماع کے دن وہ تم سب کو اکٹھا کرے گا۔ وہ دن ہوگا ایک دوسرے کے مقابلے میں لوگوں کی ہار جیت کا۔ اور جو اللہ پر ایمان لایا ہے اور نیک عمل کرتا ہے، اللہ اُس کے گناہ جھاڑ دے گا اور اُسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ اُن میں رہیں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخ کے باشندے ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور وہ بدترین ٹھکانہ ہے۔
یہ فرمایا کہ ہم نے اپنی آیات پر ایمان لانے کی جو دعوت تم لوگوں کو دی ہے اس کے جواب میں جو رویہ تم اختیار کرو گے ہم اس سے پوری طرح باخبر ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ظاہری طور پر باخبر ہیں بلکہ اس بات سے بھی باخبر ہیں کہ کس نیت سے تم نے کیا رویہ اختیار کیا۔
اب اس کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ: یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ، یعنی جب اللہ تعالیٰ تمھیں اکٹھا کیے جانے کے دن میں اکٹھا کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ وہ دن ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے طے کر رکھا ہے کہ آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک جتنے انسان پیدا ہوں گے ان کے تمام اوّلین و آخرین کو بیک وقت اکٹھا کر کے اپنے سامنے حاضر کرے گا۔ اسے یوم التغابن کہا گیا ہے۔ ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ ، وہ تغابن کا دن ہوگا۔
تغابُن عربی قاعدے کے مطابق تَفَاعُل کا صیغہ ہے غَبَن سے، اور غبن کہتے ہیں چُھپی ہوئی خیانت کو، وہ خیانت جو آدمی نے چھپا کر کی ہو۔ آپ اُردو زبان میں بھی غبن کا لفظ قریب قرب اسی معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ تَغَابُن کا مطلب ہے غبن کا کُھل جانا۔ مراد یہ ہے کہ آدمی نے جو کچھ بھی غبن کیا ہے، جو جو کچھ خفیہ خیانت کی ہے وہ کُھل کر ساری سامنے آجائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو جو قوتیں عطا کی تھیں کہ وہ ان کو اس کی بندگی میں استعمال کرے مگر اس نے ان کے ساتھ غبن کیا۔ اس طرح کہ ان کو اپنی خواہشاتِ نفس کی بندگی میں استعمال کیا۔ شیطان کی خوش نودی کے لیے استعمال کیا، اپنے جیسے انسانوں، حکومتوں، برادریوں اور خاندانوں کی بندگی میں اور ان سے مفادات حاصل کرنے میں استعمال کیا، غرض ایک خدا کی بندگی کو چھوڑ کر ہرایک کی بندگی کرڈالی۔ یہ سارا غبن اس روز کھل جانے والا ہے، اس پر کوئی پردہ پڑا نہیں رہ جائے گا۔ ایک شخص نے اپنے سرمایۂ حیات کو اپنی قوتوں اور قابلیتوں کو اور اپنے مال کو جن جن چیزوں میں invest کیا، اس کی غلطی اس روز کھل جائے گی۔ سب کچھ معلوم ہوجائے گا کہ اس نے یہ ساری سرمایہ کاری کس کام میں کی ہے اور اس کے اندر اس نے کہاں کہاں غلطی کی ہے، کہاں کہاں دھوکا کھایا ہے اور کہاں دھوکا دیا ہے۔
اس کے بعد آیت کے اگلے حصے میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہرغبن کھل جانے کے بعد انسان دو حصوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ جو شخص اللہ پر ایمان لایا اور اس کے مطابق نیک عمل کیے تو اللہ اس کے ساتھ یہ معاملہ کرے گا کہ:
یُّکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰتِہٖ وَ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ، اس کی برائیاں اس سے دُور کر دے گا۔ اس کے حساب سے ساقط کر دے گا، اور اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
’’برائیاں دُور کر دے گا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک آدمی سچے دل سے اللہ پر ایمان لایا اور اس ایمان کے ساتھ اپنی پوری کوشش عملِ صالح بجا لانے میں انجام دی، لیکن اس کے بعد بشریت کی کمزوری کی بنا پر اس سے کچھ قصور بھی سرزد ہوگئے تو اللہ تعالیٰ ان سب کو اس سے دُور کردے گا، یعنی ان کی بازپُرس اس سے نہیں کی جائے گی۔ یہ معاملہ اللہ، مومن اور وفادار بندے کے ساتھ کرے گا۔
احادیث میں اس بات کی تفصیل آتی ہے اور قرآنِ مجید میں بھی اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ بڑی حد تک ایک مومن صالح کی غلطیوں اور خطائوں کا کفارہ اسی دنیا میں وہ تکلیفیں بن جاتی ہیں جو اس کو پیش آتی ہیں۔ ایک کانٹا بھی اس کو چبھا تو اس کے بدلے میں اس کا ایک گناہ معاف کر دیا گیا۔ کوئی صدمہ یا رنج اس کو پہنچا، کسی نے اس کو تکلیف دی، اس کو گالی دی، لیکن اس نے اس پر صبر کیا اور اس کا بدلہ نہیں لیا، تو اس طرح قسم قسم کی جو تکلیفیں اس دنیا میں آدمی کو پہنچتی ہیں، یہ ساری چیزیں اس کے کسی نہ کسی گناہ کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ آدمی کے وہ گناہ یا قصور اس دنیا میں بھی اس کے نامۂ اعمال سے خارج کردیے جاتے ہیں تاکہ آخرت کی عدالت میں بندے کو لوگوں کے سامنے رسوا بھی نہ کیا جائے اور سزا بھی معاف کر دی جائے۔ اس کے بعد بھی اگر اس کے حساب میں کچھ بچا رہ گیا تو اللہ تعالیٰ اسے ویسے ہی معاف فرما دے گا۔ لیکن اللہ جل شانہٗ کا یہ سارا معاملہ اس بندے کے حق میں ہے جو خلوص کے ساتھ ایمان لایا اور اس نے اپنی حد تک کوشش کی کہ اس سے کوئی دانستہ کوتاہی سرزد نہ ہو کیونکہ دانستہ کوتاہی معاف نہیں ہوگی۔ اور جو خطائیں بشری کمزوری کی بنا پر اس سے سرزد ہوئیں اور وہ ان کی معافی مانگنے اور توبہ کرنے سے رہ گیا تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو معاف کر دے گا اور اپنی جنت میں داخل کرے گا، وہ جنت جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا ’’جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ جنت کی زندگی کبھی ختم ہوجائے گی۔ نہیں، بلکہ وہ ابدی زندگی ہوگی۔ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ’’یہی اصل بڑی کامیابی ہے‘‘۔ یعنی دنیا میں کسی کا جایدادیں بنا لینا، ساری دنیا کا حکمران ہو جانا، یہ کوئی کامیابی نہیں ہے۔ کامیابی یہ ہے کہ آدمی خدا تعالیٰ کی جنت میں داخل ہو، اور ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی اس کو حاصل ہوجائے۔
اس کے برعکس جن لوگوں نے کفر کیا، اس کی ہدایت کو ماننے سے انکار کیا، اللہ تعالیٰ کے ساتھ بغاوت اور سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور وفادار بندہ بننے سے انکار کیا، ان کے بارے میں فرمایا: وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَـآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ (۱۰) ’’اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہ دوزخ میں جانے والے لوگ ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے‘‘۔
یہ سب کچھ یوم التغابن کو ہوگا۔ اس روز لوگوں کی ہارجیت کا فیصلہ ہوگا۔ اس روز یہ فیصلہ ہوگا کہ جو لوگ کھرے اور خالص مومن ہیں اور جنھوں نے اپنی حد تک عملِ صالح کرنے کی پوری پوری کوشش کی ہے ان کا ایک انجام ہوگا___ اور جن لوگوں نے کفر اور تکذیب کا راستہ اختیار کیا اُن کا دوسرا انجام ہوگا۔ پہلے لوگ اللہ کی نعمت بھری جنتوں میں داخل ہوں گے اور کامیابی ان کے حصے میں آئے گی، جب کہ دوسری قسم کے لوگ دوزخ میں ڈالے جائیںگے اور ناکامی ان کا مقدر ہوگی۔ العیاذ باللّٰہ!
مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ اِِلَّا بِاِِذْنِ اللّٰہِ ط وَمَنْ یُّؤْمِنْم بِاللّٰہِ یَھْدِ قَلْبَہُ ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ o (۱۱) کوئی مصیبت کبھی نہیں آتی مگر اللہ کے اذن ہی سے آتی ہے۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو، اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے، اور اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔
یہاں سے سورئہ تغابن کا دوسرا رکوع شروع ہوتا ہے۔ اس میں اس صورتِ حال کے بارے میں کلام کیاگیا ہے جس سے اس دور میں مسلمان گزر رہے تھے اور اسی کے مطابق اہلِ ایمان کو اہم ہدایات دی گئی ہیں۔
فرمایا گیا کہ دنیا میں جو تکلیف اورمصیبت کسی پر آتی ہے خواہ وہ بیماری کی شکل میں ہو یا دوسرے نقصانات کی صورت میں ہو، وہ اللہ کے اذن کے بغیر نہیں آتی۔ اسی طرح اگر کسی قوم پر کوئی آفت آتی ہے یا بحیثیت ِ مجموعی سارے انسانوں پر کوئی آفت ہوتی ہے تو اس میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر ظہور میں آئے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا مالک و خالق ہے اور سارا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے، اس لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کائنات میں کوئی واقعہ بغیر اس کے ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہونے دے، اور نہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایک واقعہ جب پیش آجائے تب اللہ تعالیٰ کو معلوم ہو کہ میری سلطنت میں فلاں واقعہ پیش آیا ہے۔ نہیں، بلکہ یہاں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے اور اس کی منظوری سے ہوتا ہے۔
وَمَنْ یُّؤْمِنْم بِاللّٰہِ یَھْدِ قَلْبَہُ ط ،ا ور جو شخص بھی اللہ پر ایمان لائے اللہ تعالیٰ اس کے دل کی رہنمائی کرتا ہے۔
معلوم ہوا کہ اصل رہنمائی انسان کے دل کی رہنمائی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ ایمان لانے والے کو صبر کی ہدایت دیتا ہے، اس کی توفیق بخشتا ہے۔ اس کو عدل اور حق پر قائم رہنے کی ہدایت دیتا ہے اور اس کے مطابق اس کو عزم اور ہمت کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ وہ اس کو سیدھا راستہ بتاتا ہے کہ تیرے لیے دنیا میں کام کرنے کا صحیح راستہ یہ ہے اور پھر اس کو یہ ہدایت بھی دیتا ہے کہ سیدھے راستے کو اختیار کرنے میں اسے خواہ کسی قسم کی مشکلات پیش آئیں اس کو اسی راستے پر قائم رہنا ہے۔ یہ ساری ہدایات اللہ تعالیٰ اس شخص کو دیتا ہے جو اس کے اُوپر ایمان لاتا ہے۔ وہ اس کے قلب میں وہ روشنی پیدا کردیتا ہے جس سے وہ اپنا راستہ ٹھیک ٹھیک دیکھ سکے۔ اس کے بعد اس کو توفیق دیتا ہے کہ اس کے سامنے جو حقیقت واضح ہوکر سامنے آچکی ہے، وہ اس کو اختیار کرے اور مضبوطی کے ساتھ اس پر قائم رہے۔ یہ سب ہدایتِ قلب کے معنی ہیں۔
اس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ اگر ایک شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی نہ لائے تو اس کے قلب کو کوئی روشنی نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ اس کا نفس اس کو جدھر لے جاتا ہے اُدھر اُدھر وہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی رہنمائی اسی وقت کرے گا، جب کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرے، اس پر ایمان لائے، اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دے اور اس کی رہنمائی قبول کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ تب اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دیتا ہے۔
پھر فرمایا: وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ ، ’’اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے‘‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ کون اس پر سچے دل سے ایمان لایا ہے، کس نے اس پر اعتماد کرکے اس کی طرف رجوع کیا ہے، اور کون اس کی رہنمائی حاصل کرنے کا طالب ہوتا ہے۔ یہاں بحث اس سے نہیں ہے کہ کون زبان سے کہہ رہا ہے کہ وہ اس پر ایمان لایا، اور اس سے بھی بحث نہیں ہے کہ کس کا نام مومنین کے رجسٹر میں لکھا ہوا ہے کہ وہ مردم شماری میں مسلمان ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ براہِ راست اس بات کا علم رکھتا ہے کہ کون واقعی اس پر ایمان لایا ہے، واقعی اس پر اعتماد رکھتا ہے، واقعی اس کی رہنمائی کا طالب ہے۔ کوئی دوسرے تصورات، خیالات اور خواہشات تو اس کے اُوپر غالب نہیں ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ محض ایمان کے دعوے سے دھوکا کھانے والا نہیں ہے، وہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے۔
پھر یہ ارشاد کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، اس معنی میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی صحیح معنوں میں انسان کی رہنمائی کرسکتا ہے کیونکہ وہ علم اسی کے پاس ہے جو رہنمائی کرنے کے لیے درکار ہے۔ دوسرا جو کوئی بھی ہو، اس کا علم جزوی ہے اور ناقص ہے۔ وہ ان تمام حقائق سے واقف ہی نہیں ہے جن کا علم آدمی کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ علم صرف اللہ ہی کو حاصل ہے۔ وہی جانتا ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے، حق کیا ہے اور باطل کیا ہے، انصاف کیا ہے اور بے انصافی کیا ہے۔ اس لیے انسان کی صحیح رہنمائی صرف وہی کرسکتا ہے۔ دوسرا کوئی یہ کام کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔
وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ o اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ o (۱۲-۱۳) اللہ کی اطاعت کرو اور رسولؐ کی اطاعت کرو لیکن اگر تم اطاعت سے منہ موڑتے ہو تو ہمارے رسولؐ پر صاف صاف حق پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں، لہٰذا ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیے۔
گذشتہ آیت میں فرمایا گیا تھا کہ جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے اللہ اسی کے دل کی رہنمائی فرماتا ہے۔ اب اس کے بعد یہ فرمانا کہ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَتو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ایمان لانے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے۔ کیونکہ ایمان لانے سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ آپ نے مان لیا کہ اللہ ہے لیکن یہ کافی نہیں۔ محض زبان سے مان لینے کے اعتبار سے تو آج کفار بھی مانتے ہیں کہ اللہ ہے اور مشرکین بھی اس بات کو مانتے ہیں۔ اللہ کی ہستی کا انکار تو بہت کم ملحدین اور دہریوں نے کیا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کو دنیا کی آبادی کی عظیم ترین اکثریت مانتی ہے۔ کروڑوں میں سے صرف چند آدمی ایسے ہوں گے جو اللہ کی ہستی کا انکار کرتے ہیں۔ لہٰذا محض اللہ کے ہونے کو مان لینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ یہ بات انسان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہے۔ محض یہ مان لینے سے کسی کے قلب کو ہدایت نہیں ملتی۔ ہدایت اُسی شخص کو ملے گی جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کا راستہ اختیار کرے۔
اس سلسلے میں یہ بھی سمجھ لیجیے کہ صرف یہ نہیں فرمایا کہ اَطِیْعُوا اللّٰہَ جیساکہ اُوپر فرمایا تھا: مَنْ یُّؤْمِنْم بِاللّٰہِ یَھْدِ قَلْبَہُ کہ جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کی رہنمائی کرتا ہے، مگر یہاں اللہ کی اطاعت کے ساتھ اس کے رسولؐ کی اطاعت کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اللہ پر ایمان لانے کا تقاضا صرف یہی نہیں ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے بلکہ اس کے ساتھ اللہ کے رسولؐ کی اطاعت بھی لازم ہے۔ کیونکہ اللہ کی طرف سے جو رہنمائی ملے گی وہ رسولؐ کے واسطے سے ملے گی، براہِ راست نہیں ملے گی۔ اس لیے محض اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ اللہ کے رسولؐ کی اطاعت کا بھی مطالبہ ہے، کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جس سے آپ کو معلوم ہوسکتا ہے کہ اللہ کیا چاہتا ہے، اور کیا نہیں چاہتا۔ وہ کس چیز کو پسند کرتا ہے اور کس کو پسند نہیں کرتا۔ یہ چیزیں آپ کو براہِ راست نہیں بتائی جائیں گی بلکہ اللہ کے رسولؐ کے واسطے سے معلوم ہوں گی، اس لیے واضح طور پر حکم دیا گیا اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو۔
فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ (۱۲) لیکن اگر تم منہ موڑتے ہو تو ہمارے رسولؐ پر صرف صاف صاف بات پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔
گویا اس کے بعد ساری ذمہ داری تمھاری ہے۔ اگر اللہ کا رسولؐ کسی بات کو پہنچانے میں نعوذباللہ کوتاہی کرے تو رسولؐ کی ذمہ داری ہے لیکن اگر رسولؐ نے بات پہنچانے میں کوتاہی نہیں کی ہے تو اس کے بعد رسولؐ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ تم ہدایت قبول کرتے ہو یا نہیں۔ خدا کی ہدایت کا انکار کر کے اگر اس دنیا میں تم ٹھوکریں کھائو تو اس کے ذمہ دار تم ہو۔ کیوں کہ رسولؐ نے تو تمھیں ٹھیک ٹھیک بتا دیا تھا کہ صحیح راستہ کون سا ہے اور غلط راستہ کون سا ہے، حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔ اسی طرح آخرت میں خداوند عالم کے حضور پیشی کے وقت بھی ذمہ داری تمھاری ہوگی کیونکہ آخرت میں رسولؐ بتا دے گا کہ میں نے ان کو ٹھیک ٹھیک تعلیمات پہنچا دی تھیں۔ نہ صرف یہ کہ زبان سے پہنچائی تھیں بلکہ اپنی پوری عملی زندگی کے ذریعے سے بھی پہنچا دی تھیں اور اپنے ایک ایک فعل کے ذریعے سے پہنچا دی تھیں۔ اس کے بعد اپنے اعمال کے ذمہ دار تم خود ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اگر تم منہ موڑتے ہو تو کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے، نہ خدا کا کچھ بگاڑو گے، نہ رسولؐ کا کچھ بگاڑو گے بلکہ اپنا ہی کچھ بگاڑو گے۔ اس وقت تمھارا سمجھنا کسی کام نہیں آئے گا۔
اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ ط (۱۳) اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی دوسرا الٰہ نہیں ہے۔
الٰہ کا ترجمہ عام طور پر معبود کر دیا جاتا ہے لیکن الٰہ سے مراد دراصل وہ ہستی ہے جو تمام کائنات کی مالک اور حکمران ہے اور اس بنا پر وہی عبادت کی مستحق ہے۔ گویا ایک تو ہے کس شخص کو معبود بنا لیا جانا، اس معنی میں بھی الٰہ کا لفظ بولا جاتا ہے لیکن حقیقت میں وہ الٰہ نہیں بن جاتا۔ حقیقت میں الٰہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے کیونکہ ساری کائنات کا کلّی اقتدار اور سارے اختیارات بالکل اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ آپ کسی آدمی کے سامنے اس وقت تک نہیں جھکیں گے جب تک آپ کو یہ یقین نہ ہو کہ میرا مفاد اسی کے ہاتھ میں ہے۔ میرا جینا اور مرنا اس کے ہاتھ میں ہے۔ یہ میری تقدیر بنانے والا ہے۔ اگر آپ کو کسی کے متعلق یہ معلوم ہو کہ اُس کے ہاتھ میں کوئی طاقت اور اختیار نہیں ہے تو پھر آپ اس کے سامنے سر کیسے جھکا سکتے ہیں؟
اس لیے قرآن بار بار یہ بات لوگوں کے ذہن نشین کرتا ہے کہ جن چیزوں کے آگے تم جھکتے ہو، ان کو اپنا معبود بناتے ہو، جن سے دعائیں مانگتے ہو، ان کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہو، جن کی اطاعت اور بندگی بجا لاتے ہو، ان کے ہاتھ میں سرے سے کچھ ہے ہی نہیں۔ وہ تمھاری تقدیر پر ذرّہ برابر اثرانداز نہیں ہوسکتے۔ اُوپر بیان ہوا ہے کہ تم پر کوئی مصیبت ایسی نہیں آتی جو اللہ کے اذن کے بغیر آجائے۔ تم بیمار پڑتے ہو تو اس کے اذن سے پڑتے ہو، کوئی دوسرا تمھیں بیمار ڈالنے والا نہیں ہے۔ تم تندرست ہوتے ہو تو اس کے تندرست کرنے سے ہوتے ہو، کوئی دوسرا تمھیں تندرست کرنے والا نہیں ہے۔ تمھیں روزگار ملتا ہے تو اس کے دینے سے ملتا ہے، کوئی دوسرا رزق دینے والا نہیں ہے۔ اسی طرح ان تمام پہلوئوں کو دیکھتے ہوئے جب آدمی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی دوسرا واقعتا میرا نفع اور نقصان کرنے کا اختیار رکھتا ہے، تب وہ اس کو الٰہ اور معبود اور آقا اور مالک تسلیم کرتا ہے اور اس کے سامنے سر جھکاتا ہے۔ اب بعض لوگ اس تصور کے اندر انتشار پیدا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بیماری دینے والا ہے اور کوئی رزق دینے والا اور کوئی اولاد دینے والا ہے۔ کسی علاقے کے فرماں روا کوئی بزرگ ہیں اور کسی دوسرے علاقے کی فرماں روائی کسی اور بزرگ کے سپرد ہے۔ اس وجہ سے وہ ایک ایک آستانے پر جھکتے چلے جاتے ہیں۔ ایک ایک در پر بھیک مانگنے کے لیے پہنچتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ، اس کے علاوہ کوئی دوسرا الٰہ سرے سے ہے ہی نہیں، یعنی صرف کسی ایک علاقے کے نہیں، ساری کائنات کے پورے اختیارات میرے ہاتھ میں ہیں۔ کسی دوسرے کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے کہ کوئی اس کا مستحق ہو کہ اس کو معبود بنایا جائے۔ پھر اسی بنا پر آگے فرمایا کہ اللہ ہی کے اُوپر مومنوں کو بھروسا کرنا چاہیے۔
اللّٰہ پر توکلّ
وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (۱۳) اور اللہ ہی کے اُوپر مومنوں کو بھروسا کرنا چاہیے۔
’’بھروسا کرنا چاہیے‘‘ کے الفاظ بہت وسیع معنی رکھتے ہیں۔ اس معنی میں بھی بھروسا کرنا چاہیے کہ ہدایت دے گا تو وہ دے گا، کہیں اور سے رہنمائی نہیں ملے گی۔ اس معنی میں بھی بھروسا کرنا چاہیے کہ اگر کہیں سے مصائب و مشکلات میں مدد ملے گی تو اسی سے ملے گی، کوئی دوسرا مدد دینے والا نہیں ہے۔ تمھیں حفاظت کی ضرورت ہوگی تو وہی حفاظت کرے گا، کوئی دوسرا حفاظت کرنے والا نہیں ہے۔ اگر آپ دنیا میں کامیاب ہوں گے تو اسی کے کرنے سے ہوں گے۔ دنیا میں کوئی طاقت ایسی نہیں جو اس کی مرضی کے خلاف تمھیں کامیاب کرسکے۔ اسی طرح مومنوں کو ہرلحاظ سے صرف اللہ کے اُوپر اعتماد کرنا چاہیے۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس پر اعتماد کر کے آدمی ہاتھ پائوں ہلانا اور کوشش کرنا چھوڑ دے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی تمام کوششیں جو اس کے کرنے کی ہیں اور جو قانونِ قدرت کے تحت اس پر لازم آتی ہیں، وہ ان کو ضرور بروے کار لائے مگر نتائج کے لیے صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرے۔ مثال کے طور پر آپ بیمار پڑتے ہیں اور ڈاکٹر کے پاس علاج کے لیے جاتے ہیں لیکن آپ کا اعتماد ڈاکٹر پر نہیں اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے۔ اگر اللہ تعالیٰ ڈاکٹر کی دی ہوئی دوا کو آپ کے لیے مفید بنائے گا تو وہ مفید ہوگی۔ ڈاکٹر انسان کے جسم کی اندھیری کوٹھڑی کے اندر بغیر دیکھے بھالے علاج و دوا کے جو تیر چلاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ٹھیک نشانے پر بٹھا دے تو آدمی تندرست ہوجاتا ہے، ورنہ سارے تیر ہدف سے پرے جاکر گرتے ہیں۔ خود ڈاکٹر بیمار ہوتے ہیں اور علاج کی ہر سہولت ہونے کے باوجود نہیں بچتے۔ بڑے بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج ہوتے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہوتے۔ جب اللہ تعالیٰ علاج کو کارگر اور کامیاب کرے تب کامیابی ہوتی ہے اس لیے صحت و شفا اللہ کے سوا کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ یہی صورت دوسرے سارے معاملات کی ہے۔
انسان کا کام یہ ہے کہ قانونِ فطرت کی رُو سے جو کام اس کے سپرد کیا گیا ہے اس کو وہ کرے اور نتیجے کو اللہ پر چھوڑ دے۔ ایک اور مثال دیکھیے۔ فطرت کے قانون کے مطابق ایک کاشت کار کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ وہ زمین میں ہل چلائے، بیج بوئے، اس کو پانی دے، اور کھیتی کی دیکھ بھال کرے۔ یہ سارے کام قانونِ فطرت نے اس کے حوالے کیے ہیں۔ وہ یہ کام انجام دے لیکن اس کے بعد اس کا یہ اعتماد اللہ پر ہونا چاہیے کہ اس کھیت سے فصل وہ پیدا کرے گا۔ کوئی دوسری طاقت یہ کام نہیں کرسکتی۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اشارہ ہوجائے تو وہ ساری کھیتی برباد ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ پانی نہ برسائے تو کھیتی پھل پھول نہیں سکتی۔ بیسیوں طاقتیں ایسی ہیں کہ جب تک وہ موافقت نہ کریں اس وقت تک آپ کی کھیتی سرسبز نہیں ہوسکتی اور پیداوار نہیں دے سکتی۔ تو اللہ تعالیٰ پر اعتماد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھ جائے اور کہے کہ میں نے اللہ پر بھروسا کرلیا ہے۔ نہیں، بلکہ اللہ پر اعتماد کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو خدمت آپ کے سپرد کی ہے اس کو پوری طرح بجا لائیں۔
اب ایک اور رُخ سے دیکھیے۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے سپرد یہ خدمت کی ہے کہ وہ اللہ کے دین کو کامیاب کرنے کے لیے اپنی جان لڑانے کے لیے تیار ہوں اوراس کے لیے جو کچھ تدبیریں ممکن ہیں وہ پوری بروے کار لائیں۔ خدا کی راہ میں لڑنے والی فوج کی پوری تنظیم کریں، اس کو پوری طرح ہتھیار فراہم کریں اور اس کے علاوہ جو جو کام آپ کے کرنے کے ہیں وہ سارے انجام دیں تب فتح دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ وہ آپ کو فتح یاب کرے گا تو آپ فتح مند ہوں گے ورنہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح نہ آئے تو آدمی خود اپنی کسی تدبیر سے کامیاب نہیں ہوسکتا خواہ وہ اپنا کتنا ہی زور لگا لے۔ اس لیے زندگی کے ہر معاملے میں اہلِ ایمان کا توکل اللہ تعالیٰ ہی پر ہونا چاہیے(جاری)۔(جمع وتدوین: حفیظ الرحمٰن احسن)
یُسَبِّـحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ o (التغابن ۶۴:۱) اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے، اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے، اُسی کی بادشاہی ہے اور اُسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔
یہ سورئہ تغابن کی ابتدائی آیت ہے۔ سورئہ تغابن کے بارے میں اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا یہ مکّی ہے یا مدنی، لیکن مفسرین کی اکثریت اسی بات کی قائل ہے کہ یہ سورت مدنی ہے اور اس کے مضمون پر غور کرنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مدنی زندگی کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی ہوگی۔ آگے چل کر آپ خود محسوس کریں گے کہ یہ مدینے کے ابتدائی دَور ہی سے تعلق رکھتی ہے۔
یُسَبِّـحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ،اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے۔
کسی جگہ قرآنِ مجید میں سَبَّحَ لِلّٰہِ (اس نے اللہ کی تسبیح کی) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور کسی جگہ فرمایا گیا ہے کہ یُسَبِّـحُ لِلّٰہِ (وہ تسبیح کرتا ہے اللہ کی)۔ عربی زبان میں مُضارع کا صیغہ حال اور مستقبل دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان دونوں صیغوں کو ملایا جائے تویہ معنی سمجھ میں آتے ہیں کہ سَبَّحَ لِلّٰہِ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی رہی ہے ہر چیز جب سے وہ دنیا میں پائی جاتی ہے، اور یُسَبِّـحُ لِلّٰہِ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور کرتی رہے گی ہر چیز جب تک کہ وہ دنیا موجود ہے۔ گویا جب تک یہ کائنات باقی ہے اس کی ہرچیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی رہے گی۔
تسبیح کے معنی یہ نہیں ہیں کہ کوئی شخص تسبیح ہاتھ میں لے کر اس کے دانے پھرا رہا ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہرچیز زبانِ حال سے بھی اور زبانِ قال سے بھی اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ اُس چیز کا بنانے والا اور پیدا کرنے والا،اس کو رزق دینے والا اور اس کی پرورش کرنے والا، تمام عیوب اور نقائص اورکمزوریوں سے بالکل پاک ہے۔ وہ بے خطا ہے، بے عیب ہے اور کوئی کمزوری اس کے اندر نہیں ہے۔ کائنات کی ایک ایک چیز اس پر گواہی دے رہی ہے۔
لَہُ الْمُلْکٌ’’بادشاہی اس کی ہے‘‘، یعنی اس کائنات میں کوئی دوسرا صاحب ِ اقتدار اور صاحب ِ اختیار موجود نہیں ہے۔ کسی کے پاس اقتدار ہے تو وہ اس کا اپنا حاصل کیا ہوا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے۔ وہ اس وقت تک مقتدر ہے جب تک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اقتدار اس کے پاس رہے۔ اسی طرح اگر کسی کے پاس کوئی طاقت ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہے، اس کی اپنی ذاتی طاقت نہیں ہے۔ ذاتی اقتدار اور ذاتی قوت و اختیار اللہ کے سوا پوری کائنات میں کسی اور کے پاس نہیں ہے، اکیلا وہی اس کا بادشاہ ہے۔
وَلَہُ الْحَمْدُ ’’اور اسی کے لیے حمد ہے‘‘۔ حمد کے معنی تعریف کے بھی ہیں اور شکر کے بھی۔ دوسرے الفاظ میں وہی تعریف کا مستحق ہے اور وہی شکر کا بھی مستحق ہے اور کسی دوسرے کے پاس ایسا کوئی کمال نہیں ہے جس کی بنا پر اس کی تعریف کی جائے۔ کسی کے پاس جو کچھ بھی کمال موجود ہے وہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔ جو کچھ بھی خوبی کسی کے اندر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہے۔ تمام خوبیوں کا تنہا مالک وہی ہے۔ اسی وجہ سے وہی تعریف کا مستحق ہے اور کسی کے پاس کچھ نہیں ہے کہ کوئی نعمت وہ کسی کو دے سکے۔ اگر کوئی نعمت کسی کو دے رہا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے عطیے سے دے رہا ہے۔ اس وجہ سے شکریے کا مستحق بھی دراصل اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے۔
وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ’’اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے‘‘، یعنی کائنات میں اُس کی قدرت غیرمحدود ہے۔ جو چیز وہ چاہے وہی ہوگی، اور جو چیز وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوگی۔
ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَّمِنْکُمْ مُؤْمِنٌ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (۲) وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تم میںسے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن، اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔
یہ دو فقرے ہیں، ایک یہ ہے کہ اس نے تم کو پیدا کیا ہے اور دوسرا فقرہ یہ ہے کہ کوئی تم میں سے کافر ہے اور کوئی مومن ہے۔ ان دونوں فقروں کے درمیان ایک بڑا وسیع مضمون ہے جو آدمی غور کرے تو اس کو سمجھ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا خالق نہیں ہے، وہی ہے جس نے انسان کی تخلیق کی۔ انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اسی کا دیا ہوا ہے۔ یہ جسم اور اس کی قوتیں، اس کی قابلیت اور عقل و فکر اور دوسری تمام صلاحیتیں اور ساری خوبیاں اور قوتیں پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ انسان کو جو ذرائع بھی دنیا میں حاصل ہیں جن سے وہ کام کرتا ہے، وہ تمام چیزیں، یعنی ہوا اور پانی، گرمی اور سردی اور دوسری بے شمار چیزیں جو انسان کی زندگی کے لیے ضروری ہیں، اور وہ سارا سازوسامان جس کی بدولت آدمی دنیا میں زندگی بسر کرتا ہے، وہ سارے کا سارا اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اگر کوئی شخص ان چیزوں پر غور کرے تو اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور دنیا میں اس کا مطیع و فرمان بردار بن کر رہے۔ باوجود اس کے کہ یہ حقیقت انسان کے سامنے واشگاف موجود ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن یہ بھی واقعہ ہے کہ انسانوں کا ایک بڑا گروہ اس پر ایمان لاتا ہے اور ایک بڑا گروہ کفر کا رویّہ اختیار کرتا ہے۔
دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے: وَّاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ’’ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس پر نگاہ رکھتا ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ ایک ایک شخص کے متعلق یہ دیکھ رہا ہے کہ اپنے خالق کے ساتھ اس کا رویّہ کیا ہے۔ وہ ایک ایک شخص کو دیکھ رہا ہے کہ وہ اپنے خالق کی اطاعت کر رہا ہے یا اس سے منہ موڑ رہاہے۔ اپنے خالق ہی کو اپنا خالق اور اپنا فرماں روا اور حاکم مانتا ہے یا اس کو چھوڑ کر دوسروں کے آگے جھکتا ہے، دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے اور دوسروں کی اطاعت کررہا ہے، جب کہ اپنے خالق ہی کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ اس طرح لوگوں کا یہ طرزِعمل اس کی نگاہ میں ہے کہ ایک گروہ وہ ہے جو اطاعت اور ایمان کی راہ اختیار کرتا ہے، جب کہ دوسرا گروہ اس سے منہ موڑ کر کفر کی راہ اختیار کرتا ہے۔
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ وَاِِلَیْہِ الْمَصِیْرُ (۳) اسی نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے، تمھاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی، اور اسی کی طرف آخرکار تمھیں پلٹنا ہے۔
اس نے آسمانوں اور زمین کو بالحق پیدا کیا ہے۔ اُوپر کے فقرے کے بعد یہ بات فرمانے سے اللہ تعالیٰ کا مقصود یہ بات لوگوں کے ذہن نشین کرنا ہے کہ یہ کائنات باطل پر پیدا نہیں کی گئی بلکہ سراسر حق پر پیدا کی گئی ہے۔ نہ یہ کائنات کھیل کے طور پر پیدا کردی گئی ہے کہ کوئی بچہ ہے جس نے گھروندا بنایا، اس سے کھیلا اور کھیل کر اس کو ختم کر دیا۔ اس کائنات کی یہ حیثیت نہیں ہے۔
اس کائنات کو ایک حکیم نے بنایا ہے اور ایک مقصد کے لیے بنایا ہے۔ اس کا نظام سراسر حق پر قائم کیا گیا۔ اس کو باطل پر قائم نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس کائنات میں رہتے ہوئے اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ایک آدمی غلط روش پر چلے اور پھر اس کے بُرے نتائج سے بچ جائے۔ اس میں اس بات کا بھی کوئی امکان نہیں ہے کہ ایک آدمی صحیح رویّے پر چلے اور وہ اچھے نتائج سے محروم رہ جائے۔اس بنا پر اگر کوئی شخص اس کائنات میں رہتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی بخششوں اور انعامات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کفر کی روش اختیار کرے تو اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ وہ اس کے بُرے نتائج سے دوچار نہ ہو۔
یہ کائنات باطل پر نہیں بلکہ حق پر پیدا کی گئی ہے اور اگر کوئی شخص حق کے خلاف یہاں چلے تو لازماً ٹھوکر کھائے گا۔ آج نہیں تو کل کھائے گا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ حق کے خلاف چلنے والا آخرکار ٹھوکر نہ کھائے اور اس گڑھے میں نہ جا گرے جس سے پھر نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اسی طرح جو شخص حق کے مطابق چلے، اس کے مطابق کام کرے وہ اگر کبھی ٹھوکر کھابھی جائے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ ہمیشہ ٹھوکر ہی کھاتارہے گا۔ اس لیے یہ طے ہے کہ اگر کوئی حق کے مطابق چلے گا تو لازماً اس کا انجام بہترین ہوگا۔ اس طرح اس فقرے کے اندر گویا کائنات کی پوری حقیقت آدمی کو سمجھا دی گئی ہے کہ یہ کائنات باطل پر نہیں بلکہ حق پر استوار کی گئی ہے۔
وَصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ، اور تمھاری صورتیں بنائیں اور بہترین صورتیں بنائیں۔
صورت کا لفظ محض آدمی کے چہرے مُہرے کے لیے نہیں بولا گیا ہے بلکہ آدمی کی جو پوری بناوٹ ہے اس کا جو پورا جسم ہے، اس کے متعلق فرمایاگیا ہے۔ پھر محض اس کی ظاہری شکل اور بناوٹ ہی نہیں مراد بلکہ اس کے جسم میں جو صلاحیتیں اور قوتیں اور قابلیتیں رکھی گئی ہیں وہ سب اس تصویر کے مفہوم میں شامل ہیں۔ اس طرح ان الفاظ کے ذریعے یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری صورت گری کی ہے اور بہترین صورت گری کی ہے، یعنی تم کو ایک موزوں ترین جسم دیا گیا جس کے ساتھ تم اس دنیا میں کام کرنے کے قابل ہوئے ہو۔ ہر وہ کام جو انسان کے کرنے کا ہے! اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا کہ تمھیں، مثلاً چھپکلی کا جسم دے دیا جاتا اور اس کے اندر دماغ انسان کا رکھ دیا جاتا اور اس میں وہ صلاحیتیں پیدا کردی جاتیں جو انسان کے دماغ کی ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ چھپکلی کے جسم کے اندر رہ کر انسانی دماغ کام نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اگر کسی اور جانور یا حیوان کے جسم میں انسانی دماغ رکھ دیا جاتا تو اس دماغ کی قوتیں اور صلاحیتیں بروے کار نہ آسکتیں۔ چنانچہ دماغ کی صلاحیتوں کے لیے اس کے مطابق موزوں ترین جسم عطا کیا گیا۔ اس کو سروقد کھڑا کیا، اس کو چارٹانگوں پر نہیں بلکہ دو ٹانگوں اور دو پائوں پر چلنے کے قابل بنایا۔ اس کو دو ہاتھ دیے جو بہترین طریقے پر کام کرسکتے ہیں۔ دو پائوں دیے جن پر سیدھے کھڑے ہوکر وہ دو ٹانگوں سے چل سکتا ہے۔ پھر اس کے اندر عقل اور فکر کی، تجربہ کرنے کی اور ان سے سیکھنے اور ترقی کرنے اور نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے کی وہ مختلف صلاحیتیں عطا فرمائیں جو انسان ہونے کی حیثیت سے اس کو درکار تھیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ نظام جس کے اندر تم رہ رہے ہو یہ الل ٹپ نہیں بن گیا ہے۔ یہ تمھارے جسم اور ان کی قابلیتیں آپ سے آپ نہیں بن گئی ہیں بلکہ کوئی خدا ہے جس نے تم کو اس طرح سے ڈیزائن کیا، اس طرح کی قابلیتیں اور صلاحیتیں عطا کیں اور اس کائنات کے اندر تم کو پیدا کیا جو سراسر حق پر بنی ہوئی ہے۔
اس کے بعد جو مزید بات تم کو یاد رکھنا چاہیے وہ یہ ہے: وَاِِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ’’اور آخرکار تمھیں لوٹ کر جانا اسی کے پاس ہے‘‘۔ ایسا نہیں ہے کہ تم اس دنیا میں آزاد چھوڑ دیے گئے ہو کہ شُتر بے مہار کی طرح پھرو، جہاں چاہو پھرو اور جس کھیت میں چاہو منہ مار دو اور جس طرح سے چاہو دنیا میں زندگی گزار کر ، مر کر مٹی ہوجائو اور کبھی کسی خدا کے سامنے جاکر تمھیں جواب دہی نہ کرنی ہو۔ جو قابلیتیں تم کو دی گئی تھیں اور جو اختیارات اور جو ذرائع و وسائل تم کو دیے گئے تھے ان کو تم نے کیسے استعمال کیا، ان کے بارے میں تم سے کوئی بازپُرس نہ ہو، ایسا نہیں ہوگا۔
ایک فقیر سے فقیر آدمی کو بھی اللہ تعالیٰ نے وہ ذرائع دیے ہیں جن کی قیمت کا آدمی اندازہ نہیں کرسکتا۔ ایک ایک چیز جو اس کو عطا کی گئی ہے، ساری کائنات اس کی قیمت نہیں بن سکتی۔ ایک آنکھ کی قیمت یہ پوری کائنات نہیں بن سکتی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے اندر ایک ایک آدمی کو جو اتنے ذرائع اور وسائل عطا کیے ہیں تو ایسا نہیں ہے کہ وہ ان سب کو مار کر مٹی میں ملا کر بس خاک و غبار بنا دے اور ان سے کبھی نہ پوچھے کہ یہ سب کچھ تمھیں دیا گیا تھا تم نے ان کا کیا استعمال کیا۔ اس لیے فرمایا کہ آخرکار تمھیں جانا اسی کے حضور ہے۔ گویا اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ہوگی جس میں انسانوں کے بارے میں ان کے اعمال کی بنیاد پر فیصلہ ہوناہے کہ کون جزا کا مستحق ٹھیرتا ہے اور کون سزا کا۔
یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (۴) زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اسے علم ہے جو کہ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، سب اس کو معلوم ہے، اوروہ دلوں کا حال تک جانتا ہے۔
یعنی تم کسی بے خبر خدا کی خدائی میں نہیں رہتے ہو۔ وہ شہِ بے خبر نہیں ہے اور نہ وہ کوئی اندھا راجا ہے کہ جس کی نگری چوپٹ نگری ہو، جس میں تم جس طرح چاہو رہو۔ تم اس خدا کی سلطنت میں رہتے ہو جو تمھاری ایک ایک چیز سے باخبر ہے۔ ایک ایک شخص کے متعلق وہ جانتا ہے کہ وہ دل میں کیا سوچ رہا ہے۔ ایک ایک شخص کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اندھیرے میں کیا کر رہا ہے اور اُجالے میں کیا کر رہا ہے۔ وہ اپنی خلوت میں کیا کر رہاہے اور اپنی جلوت میں کیا کرتا ہے۔ اس کے بعد اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ جو ذرائع اور وسائل آدمی کو دیے گئے تھے ان سے اس نے کس طرح سے کام لیا اور کس نیت سے لیا۔ چنانچہ وہ محض اس کے ظاہری عمل ہی کو نہیں دیکھ رہا ہے بلکہ جو محرکات (motives) اس کے افعال کے پیچھے کارفرما ہیں وہ ان سب کو بھی جانتا ہے۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ، وہ دلوں میں چھپے ہوئے رازوں تک کو جانتا ہے۔ گویا آدمی اس سے اپنی کوئی چیز چھپا نہیں سکتا۔
اس پورے پیراگراف میں جو تصویر پیش کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کا مالک اور فرماں روا اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ تمام چیزوں پر قادر ہے۔ انسان کو اس نے پیدا کیا۔ اس نے اس کی صورت گری کی۔ اس کوتمام صلاحیتیں اور قوتیں اور دوسرے ذرائع و وسائل اُسی نے دیے۔ اس کی کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے اور اس دنیا کے بعد آنے والی ایک دوسری زندگی میں آدمی کو جانا اسی کے پاس ہے۔ یہ پورا نقشۂ کائنات، اور اس کائنات کے اندر آدمی کی جو ٹھیک پوزیشن ہے وہ واضح کردی گئی۔ اس طرح آدمی کا اپنے خدا سے جو تعلق، اور اس کی جو صحیح نوعیت ہے وہ ساری کی ساری ان چند فقروں کے اندر واضح طور پر بیان کردی گئی ہے۔
اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَبَئُوا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (۵) کیا تمھیں اُن لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنھوں نے اِس سے پہلے کفر کیا اور پھر اپنی شامتِ اعمال کا مزہ چکھ لیا؟ اور آگے اُن کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔
اُوپر کی آیات میں پہلی چیز یہ بیان کی گئی تھی کہ جس کائنات میں تم رہتے ہو اس کی حقیقت کیا ہے، اس میں تمھاری حیثیت کیا ہے۔ یہ بتایا گیا کہ یہ کائنات اُس خدا کی سلطنت میں ہے جو تمھارا خالق ہے۔ یہ جان لینے کے بعد کہ تمھارا خالق وہی ہے اور اس کے بعد کوئی کفر کی راہ اختیار کرتا ہے اور کوئی ایمان لاتا ہے، اب یہاں یہ فرمایا گیا کہ کیا تم نے کبھی نہیں سنا ہے کہ تم سے پہلے جن لوگوں نے کفر کیا ہے اُن کا انجام اِسی دنیا میں کیا ہوچکا ہے؟ گویا ایک طرف پہلے کائنات کی حقیقت اور اس کے اندر انسان کی حیثیت واضح کی گئی اور اب دوسری طرف انسانی تاریخ کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آج جو تم یہاں موجود ہو، تم پہلی دفعہ خودبخود اس زمین پر آگئے ہو اور اس سے پہلے جو انسان اسی زمین پر گزر چکے ہیں ان کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی نہیں ہے کہ پہلے گزرے ہوئے انسانوں کے اعمال کے نتائج تمھارے سامنے نہ ہوں۔ تم تاریخ کے ایک خاص دَور میں پیدا ہوئے ہو، اس سے پہلے بہت سے انسان گزر چکے ہیں۔ تاریخ کے اندر کفر کرنے والوں اور ایمان لانے والوں، دونوں ہی کے حالات موجود ہیں۔ اس کے بعد کیا تم کہہ سکتے ہو کہ تمھیں اپنی گذشتہ تاریخ کا علم نہیں ہے۔ کفر کرنے والے دنیا میں جس غلط روش پر چلتے رہے اس کا انجام کیا ہوا۔ کیونکہ جس آدمی کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ ایسے کسی خدا کی سلطنت میں ہے جو اس کے ہرفعل اور ارادے تک سے واقف ہے، جس کے سامنے وہ ذمہ دار اور جواب دہ ہے، جس کی گرفت سے بچ کر وہ کہیں بھاگ نہیں سکتا، ایسا شخص کبھی سیدھے راستے پر نہیں چل سکتا، اس پر قائم نہیں رہ سکتا۔ ان حقائق کا انکار کرنے کے بعد ممکن ہی نہیں ہے کہ آدمی کے اخلاق نہ بگڑیں، اس کے معاملات نہ بگڑیں اور وہ دنیا میں ظالم اور غلط کار بن کر نہ رہے۔ اس بات کا قطعی کوئی امکان نہیں ہے۔
بعض اوقات لوگ ایسا ضرور کرتے ہیں کہ خدا کے دین میں جو اخلاقی تعلیمات دی گئی تھیں ان میں سے کچھ انھوں نے وہاں سے لے لیں اور لا کر مادہ پرستانہ فلسفوں کے ساتھ جوڑ لگا کر اپنا ایک الگ نظامِ زندگی بنا لیا۔ ورنہ واقعہ یہ ہے کہ مادہ پرستانہ فلسفوں میں اخلاق کے لیے کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اگر مادہ پرستی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے کہ ایک شخص آپ کا مال چُرا کر اس سے اس طرح فائدہ اُٹھا سکتا ہو کہ آپ کو پتا نہ چل سکے، اور کسی پولیس کو بھی پتا نہ چل سکے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ شخص آپ کا مال چرا کر اپنے قبضے میں نہ کرلے۔ مادہ پرستی کے فلسفے میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ آدمی ایسی حالت میںچوری کیوں نہ کرے، جب کہ اس کو چوری کا فائدہ ہی پہنچتا ہو اور نقصان کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ اب اگر آدمی کو چوری سے کوئی چیز فی الواقع بچاسکتی ہے اور ایک مضبوط اخلاقی بنیاد پر قائم رکھ سکتی ہے تو وہ اس کا صرف یہ احساس ہے کہ اُوپر ایک خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور اس خدا کی گرفت سے وہ نہیں بچ سکتا۔ صرف یہ وہ چیز ہے جو آدمی کو مستقل طور پر دیانت داری پر قائم رکھ سکتی ہے۔ ورنہ مادّہ پرستانہ فلسفے کے ساتھ آدمی کے اندر کسی دیانت کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ دیانت، آدمی اسی جگہ برتے گا جہاں اس کو اس دیانت کا کوئی فائدہ ہوتا نظر آئے، اور بددیانتی سے اس جگہ بچے گا جہاں اس کو اس دنیا میں بددیانتی کا کوئی نقصان ہوتا ہوا معلوم ہو۔ اسی طرح اور آگے بڑھ کر دیکھیے اگر ایک قوم اتنی طاقت ور ہے کہ دوسری قوم پر حملہ آور ہوکر اس کا مال لوٹ سکتی ہے، اس پر تباہی نازل کرسکتی ہے، اس کے آدمیوں کو قتل کرسکتی ہے اور کہیں کوئی طاقت ایسی موجود نہیں ہے جو آکر اس کا ہاتھ پکڑنے والی یااس سے بدلہ لینے والی ہو، تو ایسی ظالم قوم کبھی دوسری قوم پر ظلم کرنے سے باز نہیں رہے گی۔
اس ظالم قوم کو بس اتنا اطمینان چاہیے کہ دوسری قوم کے پاس کوئی بڑا اسلحی سازوسامان نہیں ہے، کوئی بڑا ہوائی بیڑہ نہیں ہے جس سے وہ جوابی حملہ کر کے مجھے کوئی سزا دے سکے، اور کوئی دوسری ایسی بڑی طاقت بھی نہیں ہے جو اس مظلوم قوم کی حمایت کو اُٹھ سکے تو اس کے بعد کوئی چیز اس طاقت کے نشے میں بدمست قوم کو ظالم بننے سے روکنے والی نہیں ہے۔ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ آج دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ کس طرح اسلحی طاقتوں سے لیس قومیں دوسری قوموں کو تباہ و برباد کرر ہی ہیں___ اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرما رہا ہے کہ جن لوگوں نے اس سے پہلے کفر کی روش اختیار کرکے دنیا کو ظلم و فساد کی آماج گاہ بنایاہے، کیا ان کا انجام تمھیں معلوم نہیں ہے۔ کبھی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا ہے کہ کسی قوم نے یہ ظالمانہ اخلاق اختیار کیے ہوں اور اس کے بعد آخرکار وہ تباہ نہ ہوئی ہو۔ قوموں کی قومیں اس طرح تباہ ہوئی ہیں کہ آج ان کا کوئی نام لیوا بھی نہیں ہے۔ آج کوئی یہ بات کہنے والا نہیں ہے کہ ہم قومِ ثمود کی اولاد ہیں، حالانکہ ان کی کچھ نہ کچھ نسل تو دنیا میں موجود ہوگی۔ اسی طرح آج کوئی اُٹھ کر یہ کہنے والا نہیں ہے کہ ہم قومِ عاد یا قومِ لوطؑ کی اولاد ہیں۔ اور اگر کوئی یہاں یہ کہنے والا ہے کہ ’’ہم فرعون کی اولاد ہیں‘‘ تو پھر وہ اس کا نتیجہ بھی دیکھتا ہے کہ فرعون کی اولاد بننے کا کیا انجام ہوتا ہے___ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیاتمھیں خبر نہیں ہے کہ جن قوموں نے پہلے کفر اختیار کیا ہے ان کا انجام کیا ہوچکا ہے۔ پھر فرمایا: فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ، ’’یعنی انھوں نے اپنے کیے کا مزہ چکھا اور آگے ان کے لیے عذابِ الیم ہے‘‘۔ گویا وہ اس دنیا میں بھی تباہ ہوئے اور آخرت میں بھی ان کے لیے دردناک سزا موجود ہے۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہٗ کَانَتْ تَّاْتِیْھِمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌ یَّہْدُوْنَنَا فَکَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَی اللّٰہُ ط وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ (۶) اِس انجام کے وہ مستحق اس لیے ہوئے کہ اُن کے پاس اُن کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے، مگر اُنھوں نے کہا: ’’کیا انسان ہمیں ہدایت دیںگے؟‘‘ اس طرح اُنھوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور منہ پھیر لیا، تب اللہ بھی ان سے بے نیاز ہوگیا، اور اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود۔
ان منکرینِ حق کا یہ انجام کیوں ہوا؟ اس بات کو اس طرح سمجھیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس زمین پر پیدا کرکے یہ بات انسان پر نہیں چھوڑ دی ہے کہ وہ خود غور کر کے یہ سمجھے کہ مجھے کسی نے پیدا کیا ہے اور میری حیثیت یہاں اس کے بندے کی ہے۔ درآں حالیکہ آدمی کو اللہ نے اتنی عقل و فکر ضرور دی ہے کہ وہ غور کر کے کم از کم اس نتیجے پر تو پہنچ سکتا ہے کہ اس کائنات کا لازماً کوئی نہ کوئی خالق ہے، اور وہ ایک ہی خالق ہونا چاہیے، دس خالق نہیں ہوسکتے ہیں، اور وہ ایسا ہی خالق ہونا چاہیے جو تمام کائنات پر فرماں روائی کر رہا ہو۔ وہ ایسا خالق ہونا چاہیے جو ہرچیز سے واقف ہو اور اس کا علم رکھتا ہو۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو انسان کو عقل دی ہے کہ وہ اس کی مدد سے اپنے رب کو پہچانے لیکن دوسری طرف اس نے انسان کو اس آزمایش میں نہیں ڈالا کہ وہ خود اپنی عقل استعمال کر کے اصل حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرے، بلکہ اس کی ہدایت کے لیے اس نے خود مکمل انتظام کر دیا ہے۔ اس نے انسانوں کے اندر انھی میں سے ایسے انسان مبعوث کیے جو آکر اس کو بتائیں کہ یہاں تمھاری حیثیت کیا ہے اور اس کائنات کی حقیقت کیا ہے۔ یہ انتظام کر کے اس نے انسان کے لیے اس بات کی گنجایش نہیں چھوڑی ہے کہ وہ کسی غلط فہمی میں پڑ جائے، ٹھوکر کھا جائے۔
اللہ کے یہ نیک بندے انسان کو اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں کہ کائنات میں تمھاری یہ پوزیشن ہے، اور آخرکار اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی میں جاکر خدا کے سامنے اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔ اس نے اس زندگی میں تمھارے لیے کچھ اصول طے کیے ہیں کہ اگر ان پر تم چلو گے توتمھاری یہ زندگی بھی درست ہوگی اور عاقبت بھی درست ہوگی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی کے لیے اپنے رسول بھیجے اور بیّنات کے ساتھ بھیجے۔
بَـیّن اس چیز کو کہتے ہیں جو واضح ہو۔ یہ لفظ آپ اُردو زبان میں بھی بولتے ہیں کہ یہ بات بین ہے، یعنی بالکل واضح ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بینات کے ساتھ بھیجا۔ بیّنات کیا ہیں؟
پہلی چیز بیّنات میں یہ ہے کہ رسولوں کی اپنی زندگی اور جس اخلاق کی تعلیم لے کر وہ آتے ہیں، ان پر ان کی اپنی عملی زندگی کی گواہی واضح طور پر یہ بتا رہی ہوتی تھی کہ یہ خدا کے رسول ہیں، کوئی بناوٹی لوگ نہیں ہیں۔ بنا ہوا آدمی کبھی نہیں چھپتا۔ وہ درجہ بہ درجہ اس خاص مقام تک پہنچتا ہے جس پر وہ پہنچنا چاہتا ہے۔ آپ خود اس سرزمین پر یہ منظر دیکھ چکے ہیں کہ ایک آدمی آپ کی آنکھوں کے سامنے رسول بنتا ہے۔ آج ایک دعویٰ کر رہا ہے، کل دوسرا دعویٰ کر رہا ہے اور پرسوں تیسرا دعویٰ کر رہا ہے۔ ایک قدم رکھ کر اس نے دیکھا کہ یہاں قدم ٹکتا ہے تو پھر اس نے ایک اور دعویٰ کر دیا۔ اس طرح بنائوٹی آدمی جو کچھ ہوتا ہے وہ آپ کی آنکھوں کے سامنے بنتا ہے۔ جیساکہ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک صاحب نے ایک شخص کے بارے میں کہاکہ دوسروں کے متعلق تو نہیں معلوم کہ یہ سیّد ہیں یا نہیں ہیں، لیکن یہ تو کل ہمارے سامنے سیّد بنے ہیں___ تو اس طرح بناوٹی آدمی کبھی چھپتا نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے جن پاکیزہ انسانوں کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ، ان کی پوری زندگی اس بات کی شہادت دے رہی ہوتی تھی کہ وہ واقعی اللہ کے رسولؐ ہیں، کوئی بناوٹ ان کے اندر نہیں پائی جاتی تھی۔ جب تک وہ اللہ کی طرف سے رسول مقرر نہیں ہوئے تھے کسی نے کوئی دعویٰ کبھی ان کی زبان سے نہیں سنا تھا۔ کسی نے ان کی زبان سے وہ مضامین نہیں سنے تھے جو اللہ کے رسولؐ بننے کے بعد انھوں نے سنانے شروع کیے۔ ان کے متعلق کبھی کسی کو یہ گمان نہیں ہوا تھا کہ یہ صاحب کل کچھ بننے والے ہیں۔ البتہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنائے گئے، تب انھوں نے کھڑے ہوکر کہا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں___ اور جو دعویٰ انھوں نے پہلے روز کیا تھا اسی دعوے پر وہ آخر دم تک قائم رہے۔ اس میں کسی قسم کے تغیر و تبدل کا کوئی امکان نہیں تھا۔ اسی طرح جو تعلیم انھوں نے اوّل روز پیش کی، اس کے اندر کسی قسم کا ردّ و بدل تک نہیں کیا، البتہ اس تعلیم کے اندر ارتقا اور تکمیل (development) تو لازمی طور پر ہونا ہوتا ہے۔ اوّل قدم پر جو باتیں آپ کو بتائی جائیں گی ان کے اندر مزید تفصیلات اور توضیحات حالات کے تغیر و تبدل اور ارتقا کے مطابق آپ کو دی جاتی رہیں گی۔ لیکن جس بنیاد پر، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید، رسالت اور آخرت کے یقین و ایمان پر جس تعلیم کا آغاز انبیا علیہم السلام نے کیا تھا اس میں کبھی کوئی تغیر نہیں ہوا۔ اس طرح اُن کی پوری زندگی اس بات کی شہادت دیتی تھی کہ یہ اللہ کے رسول ہیں، اور جو تعلیم وہ لے کر آئے، وہ واضح ہدایات پر مبنی تھی، اس میں کوئی اُلجھائو نہیں تھا۔ صاف صاف یہ بتایا گیا تھا کہ تمھارے لیے حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔انھوں نے اپنی تعلیم میں کسی قسم کا اشتباہ نہیں چھوڑا۔ انھیں بینّات اور روشن دلیل کہا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پچھلی قوموںکے پاس رسول پر رسول آئے اور بینات لے کر آئے لیکن لوگوں نے ان روشن تعلیمات کو دیکھنے، سمجھنے اور پرکھنے کے بجاے رسولوں کو جواب یہ دیا کہ: اَبَشَرٌ یَّہْدُوْنَنَا ’’کیا اب انسان ہمیں ہدایت دیںگے؟‘‘ یعنی انھوں نے نفسِ ہدایت پر بات کرنے کے بجاے انکار کے لیے بیچ کا راستہ اختیار کیا۔ گویا جو چیز لوگوں کو ان پر ایمان لانے سے روکتی رہی وہ یہ تھی کہ وہ انسان کو خدا کا رسول ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، نیز یہ کہ کیا ہم جیسے انسان اُٹھ کر اب ہمیں ہدایت دیں گے؟___ گویا ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر ہمیں ہدایت دینی ہے تو اس کے لیے خدا خود آئے یا اپنے فرشتوں کو بھیجے۔ ہم یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ کوئی انسان خدا کا رسول ہو۔
انسان کی گمراہی کی یہ عجیب صورت رہی ہے۔ جب رسول مانا تو کہا کہ یہ بشر نہیں ہے، اور جب بشر سمجھا تو کہا یہ رسولؐ نہیں ہے یعنی یہ پھیر تھا جس میں انسان ہمیشہ مبتلا رہے۔چنانچہ یہ کہنے کے بعد کہ کیا بشر ہماری رہنمائی کریں گے، رسولوں کی تعلیم کو ماننے سے انکار کر دیا۔
اس بات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: فَکَفَرُوْا وَتَوَلَّوْاوَّاسْتَغْنَی اللّٰہُ ط(۶) ’’آخرکار اُنھوں نے انکار کیا، اور نیکیوں کی تعلیم کو ماننے سے منہ موڑا، پھر اللہ بھی ان سے مستغنی ہوگیا‘‘۔ گویا اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی روشن تعلیمات کو نہ مانے، جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب اُس کو سمجھانے آئیں تو ان سے منہ موڑے، تو اللہ کی کوئی غرض نہیں پڑی ہے کہ اس کے سامنے ہدایت کو لیے لیے پھرے اور خوشامد کرے کہ میرے رسول کی بات مان لو۔ نہیں، بلکہ جب ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ٹھکراتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اس سے مستغنی ہوجاتا ہے۔ وَّاسْتَغْنَی اللّٰہُ کے معنی یہ ہیںکہ اللہ ان سے بے نیاز اور مستغنی ہوگیا۔ اس نے اُن کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا، کہ جائو جس گڑھے میں گرنا چاہتے ہو، جا کر گرجائو۔
مزید فرمایا: وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ ’’اور اللہ غنی ہے اور حمید ہے‘‘۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی یہ دو صفتیں بیان کی گئیں:پہلی صفت یہ ہے کہ وہ غنی ہے، یعنی وہ تمھارا محتاج نہیں ہے۔ اس کی خدائی کچھ تمھارے بل پر نہیں چل رہی ہے کہ اگر تم نے خدا مانا تو وہ خداہوا، اور نہ مانا تو اس کی خدائی کو کوئی نقصان پہنچ جائے گا۔ نہیں، بلکہ وہ تمھیں جو کچھ سمجھاتا ہے، تمھارے اپنے بھلے کے لیے سمجھاتا ہے، اس کا اپنا کوئی مفاد اس سے وابستہ نہیں ہے۔ اگر تم اس کی پروا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ بھی غنی ہے، اس کو تمھاری بندگی کی کوئی حاجت نہیں ہے۔
اس کے ساتھ دوسری بات یہ فرمائی کہ وہ حمید ہے، یعنی وہ بہترین صفات کا مالک ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جو خدا خود حمید ہے وہ بُری صفات والے انسانوں کو کبھی پسند نہیں کرتا۔ اسی دنیا میں آپ دیکھتے ہیں کہ کوئی نیک سیرت آدمی کسی بدسیرت آدمی کے ساتھ میل جول رکھنا پسند نہیں کرتا۔ بدسیرت آدمیوں کے ساتھ بدسیرت آدمی ہی بیٹھا کرتے ہیں۔ اگر نیک سیرت آدمی کبھی اتفاق سے کسی بدسیرت کو نہ سمجھ کر اس کے ساتھ تعلقات استوار بھی کرلے تو جس وقت اس کو معلوم ہوجائے کہ وہ بدسیرت آدمی ہے، وہ اس کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کرلے گا، یا کم از کم سمیٹ لے گا۔ پھر جب انسانوں کا حال یہ ہے تو اللہ تعالیٰ سے آپ کیسے توقع رکھتے ہیں کہ اگر آپ اپنے اندر بُری صفات کی پرورش کریں تو پھر اللہ کا تقرب بھی آپ کو حاصل ہوجائے۔ اللہ کو پسند وہی شخص ہوسکتا ہے جو اپنے اندر قابلِ تعریف صفات پیدا کرے کیونکہ وہ خود قابلِ تعریف صفات کا مالک ہے۔ اور پھر آپ اپنی ذات میں محمود ہے۔ کوئی اس کی حمدوثنا نہ بھی کرے تو اس کی شان میںکوئی کمی واقع نہیں ہوجاتی۔ (جاری) (جمع وتدوین: حفیظ الرحمٰن احسن)