حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں‘ میں نے رسولؐ اللہ کو ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! تجھ سے تیرے اس نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو طاہر‘ طیب‘ مبارک اور تجھے سب سے بڑھ کر محبوب ہے۔ اس نام سے کہ جب اسے لے کر تجھ سے دعا کی جائے تو تو جواب دیتا ہے۔ اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو عطا کرتا ہے۔ جب اس کا وسیلہ پیش کر کے رحم کی درخواست کی جائے تو رحم فرماتا ہے۔ جب مشکل کشائی کے لیے پکارا جائے تو تو مشکل دُور کر دیتا ہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں‘ ایک دن آپؐ نے فرمایا: عائشہ !تجھے پتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وہ اسم مبارک جس کے ذریعے دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے مجھے بتا دیاہے‘ تو میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! وہ مجھے بھی بتلا دیجیے۔ آپؐ نے فرمایا: عائشہ! تمھارے لیے اس کا علم مناسب نہیں۔
حضرت عائشہ ؓکہتی ہیں: (مجھے یہ سن کر صدمہ ہوا) میں (آپ ؐکے پاس سے اٹھی اور) تھوڑی دیر ایک طرف جا کر بیٹھ گئی لیکن صبرنہ ہو سکا۔ پھر اٹھ کر آئی آپ ؐکے سر مبارک کو بوسہ دیا اور عرض کیا یارسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! مجھے بھی وہ اسم بتلا دیجیے۔آپ ؐنے فرمایا:عائشہ! تمھارے لیے مناسب نہیں کہ میں اسے بتلا دوں۔ اس لیے مناسب نہیں کہ کہیں تم اس کے ساتھ کوئی ایسا سوال نہ کر لو جو دنیا کے لیے ہو۔ کہتی ہیں کہ پھر میں اٹھی اور وضو کیا۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر میں نے ان کلمات کے ساتھ دعا کی: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَدْعُوْکَ اللّٰہَ وَاَدْعُوْکَ الرَّحْمٰنَ وَاَدْعُوْکَ الْبرَّ الرَّحِیْمَ وَاَدْعُوْکَ بِأسْمَائِکَ الْحُسْنٰی کُلِّھَا مَا عَلِمْتُ مِنْھَا وَمَا لَمْ اَعْلَمْ اَنْ تَغْفِرَلِیْ وَتَرْحَمَنِیْ ’’اے اللہ! میں تجھے اللہ کہہ کر پکارتی ہوں‘ رحمن کہہ کر پکارتی ہوں‘ میں تجھے برو رحیم (محسن‘ رحم والا) کہہ کر پکارتی ہوں اور تجھے تیرے سارے اچھے ناموں کے ساتھ پکارتی ہوں ‘ اُن سے بھی جن کو میں جانتی ہوں اور اُن سے بھی جن کو میں نہیں جانتی‘ تو میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما‘‘۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میری دعا سن کر آپؐ ہنس پڑے ۔ پھر آپؐ نے فرمایا: وہ نام انھی اسما کے اندر ہے جن کے ساتھ تم نے دعا کی ہے۔ (ابن ماجہ)
دعائوں کی قبولیت کا وسیلہ اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک‘اسم اعظم ہے۔ اللہ کے نبیؐ اس اسم کو اس کے اوصاف کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ کو سناتے ہیں کہ انھیں اس کا شوق پیدا ہو‘ پھر کچھ دن کے بعد بتلا رہے ہیں کہ مجھے اس کا علم دے دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کا شوق سوا ہو جاتا ہے۔ طلب اور تڑپ کے عجیب مناظر سامنے آتے ہیں لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب یہی ملتا ہے کہ اس کا علم آپ کے لیے مناسب نہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ کوئی ایسی چیز نہ مانگ لیں‘ جو صرف دنیا میں کام آئے۔ اللہ کے اسم اعظم سے سوال ہو اور محض دنیا کے کسی کام کے لیے‘ یہ مناسب نہیں۔ تب حضرت عائشہؓ کی تڑپ اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ وہ وضو کرتی ہیں‘ نماز پڑھتی ہیں‘ اللہ تعالیٰ کے تمام اسماے حسنیٰ کے وسیلے سے دعا کرتی ہیں۔ آپؐ کے سامنے یہ سارا منظر ہے۔ آپؐ حضرت عائشہ ؓ کو شاباش دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں: عائشہ! گوہر مراد کو تو تم نے پا لیا۔ اسم اعظم ان ہی اسماے حسنیٰ میں موجود ہے جن کے ذریعے تم نے دعا کر لی ہے۔ اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ تمھیں اس کا متعین طور پر علم نہیں ہے۔
شفقت ‘ تعلیم و تربیت ‘ ذوق و شوق اور تعظیم و محبت کے کیسے کیسے مناظر سامنے آتے ہیں۔ یہ محسوس تو کیے جا سکتے ہیں لیکن بیان نہیں۔
حضرت ابوطلحہ ؓانصاری اور حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر کوئی شخص کسی مسلمان کی حمایت ایسے موقع پر نہیں کرتا جہاںاس کی تذلیل کی جا رہی ہو اور اس کی عزت پر حملہ کیا جا رہا ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حمایت ایسے موقع پر نہیں کرتا جہاں وہ اللہ کی مدد کا خواہاں ہو۔ اور اگر کوئی شخص کسی مسلمان کی حمایت کسی ایسے موقع پر کرتا ہے جہاں اس کی عزت پر حملہ کیا جا رہا ہو اور اس کی تذلیل و توہین کی جا رہی ہو تو اللہ عزوجل اس کی مدد ایسے موقع پر کرتا ہے جہاں وہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کی مدد کرے۔(ابوداؤد)
حضرت سہلؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں کہ جس کی موجودگی میں کسی مسلمان کی تذلیل کی گئی اور اس نے اس کی کوئی مدد نہ کی درآنحالیکہ وہ اس کی مددکرنے پر قادر تھا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اسے تمام مخلوق کے سامنے ذلیل کرے گا۔ (مسند احمد)
حضرت عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: جو اپنے بھائی کی مدد کر سکتا تھا اور اس نے پس پشت اس کی مدد کی‘ اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد کرے گا۔ (مسند بزاز)
کتنے بھائی ہیں جو ظلماً قتل ہو گئے اور کتنے ہیں جو قتل ہو رہے ہیں۔ کتنے ہیں جو زخموں سے چور ہیں اور بے سہارا ہیں۔ جیلوں میں سختیاں اٹھا رہے ہیں۔ لاکھوں بے گھر‘ ننگے اور بھوکے ہیں۔ ان کی حمایت‘ مدد اور تعاون میں ہر ایک اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لے سکتا ہے۔ بھائواچھے ہیں‘ مٹی سونے کے بھائو بک رہی ہے‘ کمائی ہی کمائی ہے۔ تب کوئی ہے جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرح ساری کمائی پیش کر دے‘ حضرت عمر فاروقؓ کی طرح نصف لے کر آجائے‘ حضرت عثمان غنیؓ کی طرح ۹۰۰ اونٹ پورے سازوسامان کے ساتھ پیش کر دے۔ بہت مل رہا ہے کوئی خریدار آئے تو سہی۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ جو یہ سعادت حاصل کر رہے ہیں!
حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن میرا ہاتھ پکڑا‘ پھر فرمایا: معاذ! اللہ کی قسم! میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں۔حضرت معاذؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں! اللہ کی قسم! میں بھی آپؐ سے محبت رکھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: معاذ !میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ کسی نماز کے بعد یہ کہنا ترک نہ کرنا: ا للّٰھُمَّ اَعِنِّی عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسنِ عِبَادَتِکَ‘ ’’اے اللہ! اپنے ذکر‘ اپنے شکر اور اپنی عبادت کی احسن ادایگی پر میری اعانت فرما‘‘۔ حضرت معاذؓ نے اپنے شاگرد صنابحی کو اس کی وصیت فرمائی۔ (ابوداؤد‘ نسائی)
محبت ہو تو ملاقاتیں ہوتی ہیں‘ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے جاتے ہیں‘ مصافحے اور معانقے ہوتے ہیں‘ زیارتیں ہوتی ہیں‘ تحفے پیش کیے جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کرامؓ سے اور صحابہ کرام کو آپؐ سے جو محبت تھی‘ اس کی نظیر روے زمین پر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ حضرت عروہؓ بن مسعود ثقفی کہتے ہیں: میں بڑے بڑے بادشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں لیکن میں نے کسی کو اپنے بادشاہ سے اس طرح محبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس طرح کی محبت صحابہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہیں۔ نبی کریم ؐ اپنے محبوب صحابی سے اظہار محبت کے بعد جو تحفہ پیش کر رہے ہیں وہ ذکر‘ شکر اور حسن عبادت میں اللہ تعالیٰ سے اعانت کی دعا ہے کہ اس کی اعانت سے ہی انسان اس کی بندگی کی راہ میں آگے بڑھتا ہے۔ اظہار محبت کے لیے اس طرح کے تحفے دینا بھی سیکھنا چاہیے کہ یہ سنت نبویؐ ہے۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تمھیں ایسے لوگوں کا پتا نہ دوں‘ جو نبی ہیں نہ شہدا‘ لیکن قیامت کے روزان پر انبیا اور شہدا رشک کریں گے۔ اللہ کے ہاں ان کے مقام و مرتبے کی وجہ سے انھیں نور کے منبروں پر رفعت عطا کی جائے گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے بندوں کو اللہ کا محبوب بنانے میں لگے رہتے ہیں اور زمین میں نصیحت کرنے کے لیے چلتے پھرتے رہتے ہیں۔
کہا گیا کہ اللہ کے بندوں کو کیسے اللہ کا محبوب بناتے ہیں؟ جواب دیا گیا کہ انھیں ایسے کاموں کا حکم دیتے ہیں جنھیں اللہ محبوب رکھتا ہے ‘اور انھیں ان کاموں سے روکتے ہیں جنھیں اللہ ناپسند کرتا ہے۔ جب لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں‘ اللہ کے محبوب کاموں کو کرتے ہیں‘ تو اللہ انھیں اپنامحبوب بنا لیتا ہے۔ (کنزالعمال بحوالہ بیہقی‘ ابوسعید ابن النجار‘۶۲:۵۵)
کتنے خوش نصیب ہیں وہ جو مخلوق اور خالق کے درمیان محبت کے رشتوں کو استوار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اللہ کے بندوں کو شیطان کے پنجوں اور شکنجوں سے نکال کر اللہ کی بندگی کی شاہراہ پر گامزن کرتے ہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں۔ دعوت دین کے کام کی عظمت و رفعت کا کیا عالم ہے!
حضرت عمیر لیثی ؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سنو! اللہ کے دوست وہ نمازی ہیں جو پانچ نمازوں کو جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں‘قائم کرتے ہیں‘ رمضان کے روزے رکھتے ہیں‘ روزے میں اپنے لیے ثواب سمجھتے ہیں‘ اسے اپنے اوپر عائد حق سمجھتے ہیں‘ اپنی زکوٰۃ خوش دلی سے ثواب سمجھ کر ادا کرتے ہیں اور کبائر جن سے اللہ نے روکا ہے‘ اجتناب کرتے ہیں۔
کہا گیا: یارسولؐاللہ! کبائر کی تعداد کیا ہے(اہم کبائر) ؟
آپؐ نے فرمایا: ’’نو‘‘ ہیں: ۱-سب سے بڑا‘ شرک باللہ‘ ۲- مومن کو ناحق قتل کرنا ‘۳- میدان جنگ سے بھاگنا ‘۴- پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگانا ‘۵- جادو کرنا‘ ۶- یتیم کا مال کھانا ‘ ۷- سود کھانا‘ ۸- مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا ‘۹- بیت اللہ شریف کی بے حرمتی کرنا جو زندگی اور موت میں تمھارا قبلہ ہے۔
جواس حال میں فوت ہوگا کہ ان کبائر کا ارتکاب نہ کیا ہو‘ نماز قائم کی ہو‘ زکوٰۃ دی ہو‘ تو جنت کے وسط میںنبی کریم ؐ کا رفیق ہوگا‘ جس کے دروازے سونے کے ہیں۔ (طبرانی‘ بیہقی‘ مستدرک)
نماز روزے کی ادایگی اور کبائر سے اجتناب کی برابر اہمیت ہے۔ ایسی نمازیں جن کے ساتھ کبائر کا ارتکاب جاری ہے‘ بھلا کس کام آئیں گی۔ کبائر سے اجتناب سے انفرادی زندگی میں ہی سکون نہیں آئے گا‘ معاشرہ بھی فساد سے پاک ہوگا۔ معاشرہ ان کبائرسے پاک ہو جائے ‘نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ اور حج قائم کر دیے جائیںتو دنیا عدل و انصاف اور امن و امان کا گہوارہ بن جائے۔ آج قتل ناحق کا بازار گرم ہے ‘سود خوروں کا راج ہے اور کمزوروں کی حق تلفی کا دور دورہ ہے۔ یہ سب ختم ہو جائے تو یہی دنیا جنت کا نمونہ بن جائے۔ کتنا مختصر اور جامع نسخہ ہے!
رمضان کا مہینہ‘ تلاوت قرآن کا مہینہ‘ قیام اللیل کا مہینہ اور رحمت و مغفرت اور آگ سے آزادی کا مہینہ ہونے کے ساتھ ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کا مہینہ بھی ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ایک اعلیٰ درجے کی نیکی ہے جس کی طرف قرآن و حدیث میں مختلف انداز سے توجہ دلائی گئی ہے۔ سیرت پاکؐ، واقعات صحابہ ‘ اسلامی تاریخ اور خود ہمارے آج کے دور میں بھی اس حوالے سے درخشندہ اور قابل تقلید مثالیں ملتی ہیں۔ بھلا جو آخرت پر ایمان رکھتا ہو‘ اللہ کے وعدوں کو سچا جانتا ہو‘و ہ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کیوں بچائے گا۔ قرآن کے مطابق‘ انفاق کی مثال ایسے بیج کی ہے جس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں ۱۰۰ دانے ہوں (البقرہ ۲:۲۶۱)۔ یوں ۷۰۰ گنا اجر کا محاورہ بن گیا۔ جو ۲۰‘ ۲۵ فی صد کی امید پر لاکھوں حاضر کر دیتے ہیں ‘ وہ اگر ۷۰۰ گنا کے یقینی وعدے پر ہزاروں پیش کرنے میں تکلف کریں‘ تو یہ ضرور کچھ غور کرنے کی بات ہے۔ اور پھر رمضان میں تو مزید ۱۰ گنا کا حساب لگایا جائے تو بات ۷ ہزار گنا تک پہنچتی ہے۔ لیکن مسئلہ تو اللہ کے وعدوں پر ایمان اور یقین کا ہے۔
روایات کے مطابق رمضان کا مبارک مہینہ آتا تھا تو اللہ کے رسولؐ کی سخاوت دوچندہو جاتی تھی‘ ایک تیز ہوا کی مانند‘ جس سے ہرکس و ناکس فیض یاب ہوتا تھا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ جن کو اللہ نے دیا ہے ‘ وہ اس مہینے کو دینے کا مہینہ بنا دیں‘ اللہ کی راہ میں انفاق کرنے کا مہینہ! اللہ کی ہستی ایک کریم اور فیاض ہستی ہے اور اس کے خزانوں میں کمی نہیں ہے۔ وہ ’’قرض‘‘ واپس کرنے کے لیے آخرت کا انتظار نہیں کرے گا۔ وہ اپنی راہ میں اخلاص سے دینے والوں کو اتنا نوازے گا ‘ اتنی برکت دے گا کہ وہ نہال ہو جائیں اور آنے والے ۱۱ ماہ سنبھال بھی نہ سکیں اور آخرت کا اجر بھی باقی رہے گا۔ اس حوالے سے کچھ احادیث پیش کی جا رہی ہیں:
حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: انسان کا اپنی زندگی میں ایک درہم صدقہ کرنا بہتر ہے‘ موت کے وقت ۱۰۰ درہم صدقہ کرنے کے مقابلے میں۔ (ابوداؤد)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا: یارسولؐ اللہ! کون سا صدقہ سب سے زیادہ اجر والا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’وہ جو اس حال میں کرو کہ تندرست ہو‘ حریص ہو‘ فقر کا خطرہ ہو اور دولت مندی کی آرزو ہو--- دیر نہ کرو! جب جان حلق میں آ جائے تو اس وقت تم کہنے لگو کہ فلاں کا اتنا ہے اور فلاں کا اتنا ہے حالانکہ وہ تو فلاں کا ہو گیا (متفق علیہ)
روز مرہ زندگی گزارتے ہوئے‘ معمول کی ضروریات پر اپنا مال خرچ کرتے ہوئے موت کے بعد کی تیاری کرنا ہی اصل بات ہے۔ جب موت سامنے نظر آجائے ‘ تو پھر وہ بات نہیں رہتی۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے دسیوں عنوان سامنے آتے ہیں۔ ان سے آدمی ایسے ہی نہ گزر جائے بلکہ ان مواقع کو اپنی آخرت کی تیاری کے لیے استعمال کرے۔
حضرت عثمانؓ کے ایک مولیٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اُم سلمہؓ کو گوشت کا ایک ٹکڑا ہدیہ کیا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت بہت پسند تھا۔ حضرت اُم سلمہؓ نے خادمہ سے کہا: اسے محفوظ کر کے رکھ دو‘ شاید رسولؐ اللہ تشریف لائیں تو اسے تناول فرمائیں۔ انھوں نے یہ ٹکڑا گھر کے طاق میں رکھ دیا۔ کچھ دیر بعد ایک سائل آیا اور دروازے میں کھڑے ہو کر اس نے آواز لگائی: صدقہ کرو‘ اللہ آپ لوگوں کو برکت دے--- گھر والوں نے جواب دیا: اللہ آپ کو برکت دے۔ سائل واپس چلا گیا۔ پھر نبی کریمؐ تشریف لائے اور فرمایا: اُم سلمہؓ ! تمھارے پاس میرے کھانے کے لیے کچھ ہے؟‘‘ انھوں نے عرض کیا: ہاں‘ یارسولؐ اللہ! اور خادمہ سے کہا: جائو‘ اور رسولؐ اللہ کے لیے وہ گوشت لے آئو۔ وہ گئیں تو طاق میں ایک پتھر کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہ پایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے سائل کو نہ دیا تو وہ گوشت پتھر بن گیا۔ (بیہقی)
اپنی ضرورت پر سائل کی ضرورت کو ترجیح دینا یقینا صدقے کا اعلیٰ درجہ ہے (اور جب رسولؐ اللہ کے گھر میں یہ نہ کیا گیا تو نتیجہ بھی سامنے آگیا)۔ لیکن اپنی ضروریات بلکہ ایک حد تک آسایش پوری کرنے کے بعد جو بچتا ہے اُسے تو کھلے دل سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی روش ہر کسی مسلمان کی ہونا چاہیے۔ یہ کیا ہے کہ ہم نہ صرف اپنی تاحیات ضروریات کا مکمل انتظام کرنا چاہتے ہیں بلکہ اپنی اولاد کو بھی دنیا کی سب فکروں سے آزاد کرنا چاہتے ہیں۔ اہل ضرورت فہرست میں آ ہی نہیں پاتے یا بہت دُور کہیں براے نام۔ جب آخرت حق ہے‘ اجر یقینی ہے‘ دنیا میں برکت کے وعدے ہیں‘ (اور اللہ کے وعدے ہیں!) تو پھر پس و پیش کیسا؟ اگر معاشرے میں‘ ضرورت سے زیادہ جو کچھ پاس ہے‘ اسے جمع کرنے کے بجائے دینے کا چلن ہو جائے تو معیشت کے کتنے ہی مسائل حل ہو جائیں اور اسلام کا مطلوب معاشرہ نظر آجائے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا:
جو پاکیزہ مال میں سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرتا ہے--- اور اللہ قبول نہیں کرتا مگر پاکیزہ مال--- تو اللہ تعالیٰ اُسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے‘ اور اس کی اس طرح پرورش کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کی پرورش کرتا ہے‘ یہاں تک کہ وہ ایک کھجور جتنا صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ (متفق علیہ)
ایک دوسری روایت میں‘ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:
صدقے نے کبھی بھی مال میں کمی نہیں کی۔ اور معافی دینے کے سبب اللہ تعالیٰ بندے کی عزت میں اضافہ ہی کرتے ہیں۔ کوئی بھی اللہ کے لیے تواضع نہیں کرتا‘ مگر اللہ تعالیٰ اُسے رفعت عطا کر دیتے ہیں۔ (مسلم)
اجر عطا کرنے کے کیا کیا انداز ہیں۔ بڑھانے کا وعدہ ہے اور اس کی کوئی حد نہیں۔ کھجور پہاڑ کے برابر ہو جائے ‘ بندہ اور کیا چاہتا ہے! عزت میںاضافہ ہو‘ رفعت عطا ہو‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور کیا چاہیے! اکثر اس لیے رقم نہیں نکالی جاتی کہ کمی ہو جائے گی۔ سچ بتانے والے رسولؐ نے بتایا کہ صدقے نے کبھی مال میں کمی نہیں کی۔ ہمیں اعتبار کیوں نہیں آتا۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ رب کے غضب کو بجھا دیتا ہے اور بری موت کو دُور کرتا ہے۔ (ترمذی)
یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے دو مزیدفوائد ہیں۔
حضرت ابوذر غفاریؓ کہتے ہیں کہ میں نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپؐ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب آپؐ کی نظر مجھ پر پڑی تو فرمایا: وہ لوگ تباہ و برباد ہو گئے۔
میں نے کہا: میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! کون لوگ تباہ و برباد ہو گئے؟
آپؐ نے فرمایا: وہ تباہ و برباد ہو گئے جو زیادہ دولت مند ہونے کے باوجود خرچ نہیں کرتے۔ کامیاب صرف وہی ہوگا جو اپنی دولت لٹائے‘ سامنے والوں کو دے‘ پیچھے والے کو دے‘ اور بائیں جانب والوں کودے اور ایسے مال دار خرچ کرنے والے تو بہت ہی کم ہیں۔ (بخاری و مسلم)
کیوں نہ مسلمانوں کے دولت مند ‘ ایسے خرچ کرنے والے بنیں اور تباہ و برباد ہونے سے بچ جائیں۔
حضرت ابومسعودؓ انصاری سے روایت ہے کہ ایک آدمی مہاربند اونٹنی لے کر آیا اور عرض کیا کہ یہ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے وقف ہے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا: قیامت کے روز اس کے بدلے تیرے لیے ۷۰۰ اونٹنیاںہوں گی جو سب مہاربند ہوں گی۔ (ابوداؤد)
لیجیے‘ ۷۰۰ گنا کی تصدیق--- اور رمضان بھی ہو تو--- آپ خود حساب لگا لیں۔
حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل صدقہ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے سایہ دار خیمہ ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے خادم کا عطیہ ہے‘ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے جوان سواری دینا ہے۔
یعنی‘ کوئی جایداد ‘ مکان‘ کمرہ یا کسی کل وقتی کارکن کا ماہانہ مشاہرہ یا (اچھی حالت کی موٹر گاڑی۔ اور یہ نہ بھی ہو توتھوڑی سی کھجوریں ہی زر و جواہر کے ڈھیر پر بھاری ہو جاتی ہیں کہ اصل وزن اخلاص اور حسن نیت کا ہے۔
اللہ نے جو مال دیا ہے اُسے خرچ کرنے کے بارے میں جو ہدایات و تعلیمات ہیں وہ سب ہی جانتے ہیں۔ مسئلہ دل سے مال کی محبت نکالنے کا ہے جو اصل مرض اور سبب فساد ہے۔ انفاق اسی مرض کا علاج ہے۔
اموال میں سائل و محروم کا حق ہے۔ کسی کو دیتے ہیں تو احسان نہیں کرتے‘ اس کا حق پہنچاتے ہیں۔ احسان جتانا تو اجر ضائع کرنے کا مجرب نسخہ ہے جس کے سایے سے بھی بچنا چاہیے۔
کہاں خرچ کیا جائے؟ اپنے اہل و عیال کی ضروریات پورا کرنا بھی صدقہ ہے۔ اعزہ و اقارب میں جو مفلوک الحال ہوں‘ حاجت مند ہوں‘ خاموشی سے اُن کی مدد کرنا چاہیے۔ محلے میں جو ضرورت مند ہوں‘ خصوصاً بیوہ یا یتیم اُن کا پہلا حق ہے۔ شادیوں کی جائز ضروریات ‘ علاج‘ تعلیم سب حقیقی مسائل ہیں۔ معاشرے میں اللہ کا دین غالب نہ ہو تو اُس کو غالب کرنے کی کوششوں میں وقت و صلاحیت کے ساتھ اپنے مال کا بھی انفاق کرنے کی اہمیت محتاج بیان نہیں۔ اور جب جہاد کی نفیرعام ہو جائے تو اپنی ذات اور اہل خانہ کی ضروریات تک روک کر جہاد میں حصہ لینا چاہیے۔
آنے والا مہینہ رمضان کا ہے جس میں نیکی کا اجر بہت زیادہ بڑھا کر دیا جاتا ہے۔ موقع ہی موقع ہے۔ فائدہ اٹھانا آپ پر ہے۔ اس سال زکوٰۃ کے علاوہ اپنی ایک ماہ کی کل آمدنی (اگر آپ کے پاس اس کے بقدر بچت ہے) اس ماہ مبارک کے دوران اللہ کی راہ میں خرچ کریںتاکہ نہ صرف آنے والے ۱۱ ماہ میں بلکہ آپ کی پوری زندگی اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی برکتوں سے خوب خوب نوازے۔
حضرت عبداللہ ؓہوزنی بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن حضرت بلالؓ سے حلب کے مقام پر ملا۔ میں نے عرض کیا: بلال! آپ مجھے رسولؐ اللہ کے نان و نفقہ کے بارے میں کچھ بتلایئے کہ وہ کیا تھا؟ انھوں نے جواب دیا: آپؐ کے پاس نفقہ کچھ نہیں ہوتا تھا۔ بعثت سے لے کر وفات تک یہی حال تھا۔ میں اس کا منتظم ہوتا تھا۔ آپؐ کے پاس جب کوئی مسلمان آتا تھا‘ آپؐ دیکھتے تھے کہ اس کا لباس نہیں ہے ‘تو آپؐ مجھے حکم دیتے تھے۔ میں جاتا اور قرض لے کر اس کے لیے چادر خرید کر دیتا‘ اسے کھانا کھلاتا۔ اس طرح سے یہ سلسلہ جاری تھا کہ ایک مشرک شخص میرے پاس آیا اور کہا‘ بلال! میرے پاس مالی وسعت ہے‘ میرے سوا کسی اور سے قرض نہ لیا کرو۔ چنانچہ میں نے اس سے قرض لینا شروع کر دیا۔ ایک دن میں وضو کر کے اذان دینے کھڑا ہونے لگا تھا کہ وہی مشرک تاجروں کی ایک جماعت لے کر آپہنچا۔ جب دیکھا‘ تو آواز دی‘ اے حبشی! میں نے کہا: حاضر جناب! اس نے منہ چڑھایا اور مجھے نہایت سخت سست کہا۔ کہنے لگا‘ جانتے ہو مہینے میں کتنے دن رہ گئے ہیں؟ میں نے کہا‘ قریب آپہنچا ہے۔ کہنے لگا‘تیرے وعدے کے صرف چار دن رہ گئے ہیں۔ پھر میں تجھے قرض کے بدلے میں گرفتار کر لوں گا اور تجھے پہلے کی طرح دوبارہ بکریاں چرانے پر لگا دوں گا۔
اس کی گفتگو سن کر اور رویہ دیکھ کرمیں پریشان ہو گیا۔ انسان کو ایسی صورت حال سے جو بے چینی لاحق ہوتی ہے مجھے بھی لاحق ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے گھر کی طرف واپس ہوئے تو میں نے بھی آنحضورؐ کے گھر مبارک کا رُخ کیا۔ اجازت مانگی‘ آنحضورؐ نے اجازت عنایت فرما دی۔ میں نے عرض کیا: یارسول ؐاللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! جس مشرک سے میں قرض لیا کرتا تھا‘ اس نے مجھے یہ اور یہ سخت سست باتیں کہی ہیں۔ آپؐ کے پاس اس وقت ادایگی کے لیے کچھ نہیں ہے اور میرے پاس بھی کچھ نہیں۔ اس شخص کے رویے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے مجھے رسوا کرنا ہے ۔اس لیے آپؐ مجھے اجازت دے دیجیے کہ میں (وقتی طور پر) مدینہ کے باہر ان قبائل کے پاس چلا جائوں جو مسلمان ہو گئے ہیں‘ اور اس وقت تک ادھر رہوں جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کے پاس اتنا مال نہ آجائے جس سے قرض کی ادایگی ہو سکے۔
آپؐ سے یہ باتیں عرض کر کے میں آپؐ کے پاس سے نکل آیا۔ اپنے گھر پہنچا تو اپنی تلوار ‘ تھیلا‘ جوتے اور ڈھال اپنے سرہانے رکھ لیں تاکہ صبح سویرے نکل جائوں۔ جب صبح طلوع ہونے لگی اور میں نے نکل جانے کا ارادہ کیا ہی تھا‘ دیکھا کہ ایک آدمی دوڑتا ہوا آ رہا ہے۔ زور زور سے بلال ؓبلالؓ کی آوازیں دے کر کہہ رہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلا رہے ہیں‘ فوراً آپہنچو۔ میں پہنچا تو دیکھتا ہوں کہ چار اُونٹنیاں بیٹھی ہوئی ہیں۔ ان پر سازوسامان لدا ہوا ہے۔ آپؐ نے مجھے فرمایا: بلال ؓ،خوش خبری قبول کرو! اللہ تعالیٰ نے تمھارے قرض کی ادایگی کے لیے سازوسامان بھیج دیا ہے۔ پھر فرمایا: دیکھتے نہیں ہو چار اونٹنیاں سامان سے لدی بیٹھی ہیں۔ میں نے عرض کیا: ہاں ‘یارسولؐ اللہ!آپؐ نے فرمایا: یہ اونٹنیاں اور ان پر جو سازوسامان لدا ہوا ہے تمھارے لیے ہے۔ ان پر جو کپڑا اور غلہ ہے‘ فدک کے ایک بڑے آدمی نے ہدیہ بھیجا ہے۔ اسے وصول کر لواور اپنا قرض ادا کرو۔ چنانچہ میں نے امر کی تعمیل کی اور قرض چکا دیا (راوی نے واقعے کی مزید تفصیل بھی بیان کی)۔
میں آپؐ کے ارشاد کی تعمیل کر کے مسجد کی طرف گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ رسولؐ اللہ مسجد میں تشریف فرما ہیں۔ میں نے سلام عرض کیا۔ آپؐ نے فرمایا: بلالؓ!مال کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے رسولؐ اللہ کے تمام قرضوں کی ادایگی کا انتظام کر دیا۔ ادایگی ہو چکی ہے اب آپؐ کے ذمے کوئی چیز باقی نہیں ہے۔ آپؐ نے سوال کیا: ادایگی کے بعد کچھ مال باقی بھی ہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں‘ یارسولؐ اللہ۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھو اسے بھی مستحقین میں تقسیم کر کے مجھے اس سے آرام پہنچائو۔ میں اپنے گھر کسی کے پاس نہیں جائوں گا یہاں تک کہ مجھے اس سے راحت نہ پہنچائو (یعنی کوئی فقیر مسکین آئے جو اسے لے جائے اور خرچ کرے)۔
میں نے عشاء تک انتظار کیا کہ کوئی مستحق آجائے لیکن کوئی نہ آیا۔ جب رسول ؐاللہ نے عشاء کی نماز پڑھ لی تو مجھے بلایا اور فرمایا: مال کا کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: میرے پاس ہے‘ کوئی لینے کے لیے نہیں آیا۔ تب رسولؐ اللہ نے وہ رات مسجد میں گزاری (اس کے بعد راوی نے مزید تفصیل ذکر کی)۔ پھر اگلے دن آپؐ نے عشاء کی نماز پڑھی اور مجھے بلایا۔ پوچھا: مال کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا: اللہ نے آپؐ کو اس مال کے فتنے سے راحت دے دی۔ آپؐ نے یہ سن کر اللہ اکبر کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ آپؐ نے اس کو خرچ کر دینے کا اہتمام فرمایا تاکہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ آپؐ اس دنیا سے اس حال میں رخصت ہو جائیں کہ یہ مال بچا رہے۔ اس کے بعد آپؐ گھر تشریف لے گئے۔ میں آپؐ کے پیچھے چل پڑا۔ آپؐ ازواج مطہرات میں سے ہر ایک کے پاس تشریف لے گئے۔ انھیں سلام کیا اور پھر وہاں تشریف لے گئے جہاں آج رات آرام فرمانا تھا۔ (ابوداؤد‘ حدیث نمبر ۳۰۵۵)
یہ مدینہ طیبہ کا حال ہے جہاں آپؐ حکمران بھی ہیں‘ مال و دولت کی آمد بھی ہے‘ اموال غنیمت‘ زکوٰۃ و صدقات اور ہدیے اور تحفے بھی آرہے ہیں لیکن انھیں اپنی ذات اور گھر پر نہیں بلکہ فقرا اور مساکین اور جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کر دیا جاتا ہے۔ اپنے اخراجات کے لیے قرض لے کر گزارا ہو رہا ہے۔ آنے والا مال دوسروں کو دیا جاتا ہے اور اپنے لیے توکل اور قرض پر گزارا ہے۔ آپؐ کا نمونہ بے نظیر اور بے مثال ہے‘ سب سے حسین اور سب سے اعلیٰ نمونہ!
حق داروں کو پورا اطمینان ہے کہ حکومت سے اپنے حق کا اسی طرح مطالبہ کرسکتے ہیں جس طرح ایک عام آدمی سے۔ مشرک قرض خواہ کو بھی اطمینان ہے کہ مجھے اپنے حق کی وصولی کے لیے سخت رویہ اختیار کرنے پر کچھ نہیں کہا جائے گا۔ مسلمان اپنی جگہ یہ تصور رکھتے تھے کہ حق دار اگر سخت رویہ اختیار کرتا ہے تواس کا جواب سختی سے نہیں بلکہ عدل و انصاف سے دینا ہے۔ اس بنا پر حضرت بلالؓ قرض کی ادایگی کے انتظام تک مدینہ سے باہر منتقل ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔ حق کی بالادستی کی ایسی مثال کوئی پیش کر سکتا ہے!
مال جمع کرنے اور سمیٹ سمیٹ کر رکھنے کی چیز نہیں بلکہ مستحقین تک پہنچانے کی چیز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک مال تقسیم نہیں کر دیا گھر میں داخل نہیں ہوئے۔ اگر سیرت رسولؐ کا یہ پہلو عام مسلمانوں کی زندگی میں آجائے تو معاشرے کے لیے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔
حضرت سہل ؓبن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ؓبن سہل اور حضرت محیصہؓ بن مسعود خیبرگئے (یہ ان دنوں کی بات ہے جب خیبرفتح ہو گیا تھا اور یہود سے صلح ہو گئی تھی)۔ ایک جگہ پہنچ کر وہ ایک دوسرے سے (قضاے حاجت کے لیے) الگ ہوگئے۔ (کچھ دیر بعد جب حضرت عبداللہؓ نہ آئے تو حضرت محیصہؓ ان کی تلاش میں گئے) دیکھا کہ وہ خون میں لت پت پڑے ہیں۔ حضرت محیصہؓ نے حضرت عبداللہؓ کے کفن دفن کا انتظام کیا‘ اور فارغ ہو کر مدینہ طیبہ آگئے۔
مدینہ پہنچے تو حضرت عبدالرحمن ؓبن سہل اور ابن مسعود ؓکے بیٹے حضرت محیصہؓ اور حضرت حویصہؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لے کر پہنچ گئے۔ حضرت عبدالرحمنؓ بات کرنے لگے تو نبیؐ نے فرمایا: بڑوں کو بات کرنے دو۔ حضرت عبدالرحمنؓ دونوں سے چھوٹے تھے۔ چنانچہ وہ خاموش ہو گئے۔ حضرت حویصہؓ سب سے بڑے تھے‘ اس لیے پہلے حضرت حویصہؓ اور پھرحضرت محیصہؓ نے بات کی۔ آپؐ نے فرمایا: تم قتل کے عینی گواہ پیش کر سکتے ہو؟ کہنے لگے: گواہ تو ہمارے پاس نہیں ہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: کسی معین آدمی کے بارے میں قسمیں اُٹھا کر کہہ سکتے ہو کہ وہ قاتل ہے‘ تاکہ قاتل تمھارے سپرد کر دیا جائے۔ انھوں نے جواب دیا: ہم نے دیکھا نہیں ہے‘ پھر کیسے قسمیں اُٹھا سکتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر یہود کو قسمیں دے کر ان کی قسموں پر فیصلہ کرنا ہوگا (کہ وہ مدعاعلیہ ہیں اور مدعا علیہ کوقسم دی جاتی ہے)۔ انھوں نے جواب دیا: ہم یہود کی۵ قسموں پر راضی نہیں ہیں وہ بڑے بڑے جھوٹ بولتے ہیں۔ اس معاملے میں بھی وہ جھوٹی قسمیں اُٹھا لیں گے۔ رسول ؐاللہ نے یہود سے اس سلسلے میں بات کی تو انھوں نے قسم اٹھا کر قتل سے صاف انکار کر دیا۔ تب رسولؐ اللہ نے حضرت عبداللہؓ کی دیت سو اُونٹ بیت المال سے ادا کی۔ (بخاری‘ مسلم‘ موطا‘ ابوداؤد‘ ترمذی‘ نسائی بحوالہ جامع الاصول احادیث‘ ۷۸۱۲ -۷۸۱۳)
مسلمانوں اور یہود میں دینی‘ مذہبی اور سیاسی اختلاف تھا اور ہے۔ یہود سے متعدد جنگیں بھی ہو چکی تھیں۔ ان کے علاقے میں ایک مسلمان قتل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کے قتل کے واقعات کئی اور بھی پیش آئے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا مقتولوں کے ورثا یا دوسرے مسلمانوں نے کسی نے بھی یہودی پر بلوے نہیں کیے۔ کسی یہودی کو قتل نہیں کیا‘ کسی کی دکان اور مال کو نقصان نہیں پہنچایا حتیٰ کہ دیت کا مطالبہ بھی نہیں کیا حالانکہ یہ بات یقینی تھی کہ یہود کا علاقہ ہے‘ وہاں یہود کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں ہے‘ غالب گمان یہی ہے کہ یہود قاتل ہیں۔ لیکن چونکہ کوئی گواہ نہیں‘ یہود اقراری بھی نہیں‘ اس لیے بلاثبوت کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ مقتول کے ورثا اور دیگر مسلمانوں نے جذبات سے مغلوب ہو کر کسی پر دھاوا نہیں بولا۔اسلام اور اُمت مسلمہ کا یہ امتیاز ہے۔ اہل کفر پہلے بھی مذہبی دیوانگی کا شکار ہوئے اور آج بھی وہ مذہبی جنون میں مبتلا ہیں۔ کہیں کوئی ہندو‘ عیسائی قتل ہو جائے اور شبہ پیدا ہو جائے کہ کسی مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوا ہے تو پھر مسلمانوں کی خیر نہیں رہتی‘ مسلمان آبادی پر دھاوا بول دیا جاتا ہے۔ بچوں‘ عورتوں‘ ضیعفوں اور بیماروں کو‘ مسجدوں اور مدارس کو قتل و غارت گری‘ وحشت اور درندگی کا شکار بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں بھی کبھی یہ بیماری آجاتی ہے لیکن یہ مذہبی دیوانگی ان میں دراصل دوسری قوموں سے آئی ہے۔ وہ بھی کبھی مسلکی اور لسانی بنیادوں پر ایک دوسرے کی جانوں اور مالوں کے درپے ہو جاتے ہیں۔ اسلام کیا ہے؟ وہ کیا سبق دیتا ہے؟ اس کا نمونہ مذکورہ واقعہ پیش کرتا ہے۔ یہود سے شدید دشمنی کے باوجود بلاثبوت ان پر کسی نے ہاتھ نہیں اٹھایا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن ظن حسن عبادت ہے۔ (ابوداؤد‘ حدیث نمبر ۴۹۹۳)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوتے تھے‘ جب آپ ؐکھڑے ہوتے تو ہم بھی ساتھ کھڑے ہو جاتے تھے۔ چنانچہ ایک دن آپؐ کھڑے ہوئے تو ہم بھی ساتھ کھڑے ہو گئے۔ جب آپؐ مسجد کے درمیان میں پہنچے تو ایک دیہاتی آپؐ کے پاس آپہنچا‘ اور آپؐ کی چادر پکڑ کر کھینچی۔ آپؐ کی چادر سخت تھی‘ اس سے آپ ؐکی گردن سرخ ہو گئی۔ وہ بولا: محمدؐ! یہ میرے دو اونٹ ہیں۔ میرے اخراجات کے لیے ان دونوں پر سازوسامان باندھ دیں۔ آپ نہ اپنے مال سے دیں گے نہ اپنے والد کے مال سے دیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ مجھے معاف کرے! نہیں! اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تو مجھے میری گردن کے کھینچنے کا قصاص نہ دے دے۔ دیہاتی نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ ؐ کو قصاص نہ دوں گا۔ ہم نے جب دیہاتی کی آواز سنی تو دوڑ کر آپؐ کے پاس آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم میں سے جو میری بات سن رہا ہے اس پر لازم ہے کہ اس وقت تک اپنی جگہ پر کھڑا رہے جب تک میں اسے آگے آنے کی اجازت نہ دوں۔اس پر ہم اپنی جگہ دم بخود کھڑے ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو فرمایا: اے فلاں آدمی! اِس کے ایک اونٹ پر جَو اور ایک پر کھجور کے بورے لاد دے۔ (نسائی‘ ۴۷۸۰)
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب ۳۳: ۱ ۲) ’’تمھارے لیے اللہ کے رسول کی سیرت میں بہترین نمونہ ہے‘‘۔ کائنات کی سب سے بڑی ہستی‘ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘ اور علامہ اقبالؒ کے الفاظ میں:
ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
لیکن کوئی پروٹوکول نہیں‘ سب کے ساتھ‘ سب کے درمیان‘ کوئی سیکورٹی گارڈ نہیں۔ ہر وقت‘ ہر ایک آسانی سے مل سکتا ہے۔ جان نثاروں‘ جان و مال‘ ماں باپ اور اولاد سے زیادہ محبت کرنے والوں کے درمیان ہیں۔ اتنا ادب کرنے والوں کے درمیان‘ جو چہرئہ انور کی طرف نظریں جما کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ ضرورت اور انتہائی مجبوری کے بغیر کوئی سوال کرنے کی جرأت نہیں کرتے۔ ایسے میں ایک دیہاتی جو آداب سے عاری ہے‘ آتا ہے۔ اسے صرف اپنے پیٹ کی فکر ہے اور اسی بات پر نظر ہے کہ آپؐ بیت المال کے منتظم اور نگران ہیں۔ وہ بے ادبی اور گستاخی سے بلکہ تکلیف پہنچا کر مانگتا ہے۔ روے زمین والوں نے ایسا منظر کسی اور کا نہیں دیکھا ہوگا۔ تب کیا ہوا؟ کیا بے ادب‘ گستاخ‘تکلیف دینے والے کی تکہ بوٹی کی گئی؟ اسے جیل میں ڈالا گیا؟ اسے ماراپیٹا گیا؟اسے دھتکارا گیا؟ نہیں! پیار سے بات کی گئی‘ درشت بات سنی گئی‘ پھر جاں نثاروں‘ فداکاروں کے جذبات کی متلاطم موجیں اپنی جگہ رہ گئیں۔ دیہاتی جَو اور کھجور سے لدے دونوں اونٹوں کو شاداں و فرحاں ہنکاتا ہوا‘ گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ تواضع‘ حلم‘ عفو و درگزر‘ جود و سخا اور رحمتہ للعالمینی کے کتنے نمونے ہیں جن کا نظارہ پوری کائنات نے کیا۔
اس سے بہتر اور بڑا نمونہ انسانیت کے لیے اور کیا ہو سکتا ہے!
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوجہم ؓبن حذیفہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ ایک صاحب اپنی زکوٰۃ کے معاملے میں ان سے جھگڑ پڑے۔ حضرت ابوجہمؓ نے ان کی پٹائی کر دی۔ وہ لوگوں کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے اور قصاص مانگا۔ آپؐ نے انھیں قصاص کے بدلے میں مال کی پیش کش کی کہ اتنا مال لے کر قصاص چھوڑ دو۔ وہ نہ مانے۔ آپؐ نے مزید مال پیش کیا تب وہ راضی ہو گئے۔
آپؐ نے فرمایا: میں لوگوں کو اس سے باخبر کرنے کے لیے ان کو جمع کر کے ان سے خطاب کرتا ہوں اور انھیں تمھاری رضامندی سے آگاہ کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا :ٹھیک ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب فرمایا کہ یہ لوگ میرے پاس قصاص کا مطالبہ لے کر آئے تھے۔ میں نے ان کے سامنے اتنے مالی معاوضے کی پیش کش کی جس پر یہ راضی ہو گئے (یہ سننے کے بعد وہ پھر منحرف ہو گئے)۔ کہنے لگے :نہیں‘ ہم راضی نہیں ہیں۔ اس پر مہاجرین نے انھیں مارنے کا ارادہ کیا لیکن آپ ؐنے انھیں حکم دیا کہ رک جائیں۔ تب وہ رک گئے۔ آپؐ نے انھیں پھر بلایا (علیحدگی میں) اور کہا :کیا تم راضی ہو؟ کہنے لگے: ہاں۔ آپ ؐنے فرمایا: میں لوگوں سے خطاب کرتا ہوں اور انھیں تمھاری رضامندی سے باخبر کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر آپ ؐنے خطاب فرمایا اورپوچھا: کیا تم راضی ہو؟ کہنے لگے: ہاں‘ ہم راضی ہیں۔ (نسائی‘ ۴۷۸۳)
حضرت ابوجہمؓ کو چاہیے تھا کہ جھگڑنے والے کو نہ مارتے لیکن ان کا بھی قصور تھا کہ جھگڑا کیا۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کے بجائے مالی معاوضے پر راضی کرنے کی کوشش فرمائی‘ جس پر وہ راضی ہو گئے۔ آپؐ نے ان کی رضامندی سے اس کا عوام میں اعلان کیا۔ آپؐ نے اعلان فرمایا تو انھوں نے گستاخی کا مظاہرہ کیا‘ کہنے لگے کہ ہم راضی نہیں ہیں‘ حالانکہ وہ راضی ہو گئے تھے۔ آپؐ مدعیوں سے دوبارہ بات کرتے ہیں اور انھیں راضی کرتے ہیں۔ کیسا بہترین فیصلہ ہے! عامل بے قصور نہ تھا اس لیے اس کی طرف سے مالی معاوضہ دیا گیا‘۔اور مدعی بے قصور نہ تھا کہ اس نے جھگڑا کیا اس لیے قصاص نہیں دلوایا۔
کیا حکومتی عہدے دار اپنی زیادتیوں کے جواب دہ نہیں ہیں؟ ان سے قصاص نہیں لیا جائے گا؟ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذات اقدس کی طرف سے قصاص دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ حضرت ابوجہمؓ کے خلاف استغاثہ کرنے والوں کو کتنی پیشیاں دینی پڑیں؟ آج کے حکمران کتنے لوگوں کو لاٹھیوں کا نشانہ بناتے ہیں‘ بلاجواز قیدوبند میں ڈالتے ہیں‘ انھیں کوئی پوچھتا ہے؟ پھر اگر کوئی مقدمہ کیا جاتا ہے تو اس کے فیصلے میں کتنا عرصہ لگتا ہے؟ پھر بھی انصاف کہاں ملتا ہے! لیکن یہاں کیا ہے؟ فوری سماعت‘ فوری انصاف‘ گستاخی سے صرف نظر! اور سب سے بڑی چیز یہ کہ پبلک کے سامنے یہ آئے کہ انصاف ہوا ہے تاکہ آیندہ کے لیے کوئی عہدے دار ظلم کی جرأت نہ کر سکے ۔ عوام کو بھی معلوم ہو گیا کہ کوئی عہدے دار بے جا زیادتی کا حق نہیں رکھتا۔ اگر وہ ایسا کرے تو اسے روکا جائے گا‘ نہ رکے تو سزا کا مستحق ہوگا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب بندہ کھلے عام اچھی طرح نماز پڑھے اور چھپ کر بھی اچھی طرح نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ میرا سچا بندہ ہے۔ ( ابن ماجہ‘ مشکوٰۃ‘ باب الریا)
انسان کا مقصد وجود ہی ’’اچھا عمل‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس نے موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ تمھارا امتحان لے کہ تم میں سے کون ہے جو اچھا عمل کرتا ہے‘‘۔ (الملک ۶۷:۲ )۔اچھا عمل وہ ہے جو اخلاص کے ساتھ ہو اور شریعت کے مطابق ہو۔ ہر شخص خود ہی اپنا بہترین منصف ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے نماز کے حوالے سے ایک بیرومیٹر ہاتھ میں تھما دیا ہے۔ انسان اپنی چھپی اور کھلی نمازوں کی کیفیت اور ظواہر کا جائزہ لے لے۔ جان لے گا کہ وہ اپنے اللہ کا کتنا سچا بندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ریا سے محفوظ رکھے۔
حضرت ابوالدرداء ؓسے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپؐ نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی۔ پھر فرمایا: یہ وہ وقت ہے (آنے والے وقت کی طرف اشارہ ہے) جس میں لوگوں سے علم چھین لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ کسی بھی چیز پر قادر نہ ہوں گے ۔(یہ سن کر) حضرت زیاد بن عبیدانصاریؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ہمارے پاس سے علم کیسے اٹھا لیا جائے گا؟ درآں حالیکہ ہم نے قرآن پڑھا ہے۔اللہ کی قسم! ہم اسے پڑھیں گے‘ اپنے بیٹوں اور بیویوں کو قرآن پڑھائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیاد‘ تیری ماں تجھے گم کر دے! میں تو تجھے مدینہ کے سمجھ دار لوگوں میں شمار کرتا تھا۔ یہ تورات اور انجیل یہود کے پاس ہیں۔ یہ ان کو کیا فائدہ دیتی ہیں؟
جبیر کہتے ہیں کہ میں حضرت عبادہ ؓبن صامت سے ملا تو ان سے کہا‘ آپ نے نہیں سنا کہ آپ کے بھائی ابوالدرداءؓ کیاکہتے ہیں؟ پھر میں نے انھیں وہ بات بتلا دی جو حضرت ابوالدرداء ؓنے کہی تھی۔ انھوں نے کہا :ابوالدرداء ؓنے سچ فرمایا۔ اگر آپ چاہیں تو میں بتلا سکتا ہوں کہ علم کاسب سے پہلا حصہ کون سا ہے جو اٹھایا جائے گا۔ پہلا علم جو لوگوں سے اٹھایا جائے گا وہ خشوع ہے ۔عنقریب تم جامع مسجد میں داخل ہو گے تو اس میں ایسے آدمی کو نہیں پائو گے جو خشوع کرنے والا ہوگا۔ (ترمذی شریف)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ علم کے اٹھائے جانے سے مراد ’عمل‘ کا اٹھایا جانا ہے۔ اس کی وضاحت حضرت عبادہؓ بن صامت نے اس بات سے کی کہ سب سے پہلے ’خشوع ‘ اٹھایا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ وہ علم جو محض کتابوں میں ہو‘ محض ذہن میں ہو‘ تقاریر اور تحریر کی شکل میں ہو‘ حقیقی علم نہیں ہے۔ حقیقی علم وہ ہے جو دل میں اترے اور عملی زندگی میں نظر آئے۔ اس وقت کتابی اور ذہنی علم کی کمی نہیں ہے۔ آج قرآن و سنت اپنی پوری تابانی سے موجود ہیں۔ فقہ اسلامی کے دفاتر بھی اَن گنت ہیں لیکن ان کا علم‘ عملی زندگی اور معاشرے سے اٹھا لیا گیا ہے۔ کتنا باقی ہے‘ اس کا اندازہ معاشرے کی دینی حالت کے تجزیے سے کیا جا سکتا ہے۔ علم کے اٹھائے جانے کا یہ پہلا مرحلہ ہے۔ دوسرا مرحلہ ذہنوں اور سینوں سے اٹھائے جانے کا ہے‘ تاآنکہ قیامت کے قریب علم وسیع پیمانے پر اٹھا لیا جائے گا۔ کتابوں کے صفحات اور انسانوں کے سینے ‘سب سے علم اٹھ جائے گا۔
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے مال دار مسلمانوں پر ان کے مالوں میں اتنا مال فرض کیا ہے جتنا فقرا کی ضروریات کے لیے کافی ہو۔ فقرا جب بھوک اور ننگ کی تکلیف اٹھاتے ہیں تو اس کا سبب دولت مندوں کا فقرا سے مال کو روکنا ہے۔ سنو! اللہ تعالیٰ ان سے سخت حساب لیں گے اور دردناک عذاب دیں گے۔ (طبرانی فی الاوسط)
اللہ تعالیٰ نے مال دار اور فقیر دونوں کے لیے رزق کی تقسیم میں اس طرح آزمایش رکھی ہے کہ فقیر کا حصہ بھی مال دار کو دے دیا ہے۔ معاشرے میں جتنے بھی فقرا ہوں ان کی ضروریات پوری کرنا مال داروں کے ذمے ہے۔ فقرا کی ضروریات زکوٰۃ سے پوری نہ ہوں تو اللہ نے فقرا کو دینے کے لیے مزید مال بھی دولت مندوں کو دیا ہے۔
اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین بیت المال سے صرف اس قدر خرچ کرتے تھے جس قدر ادنیٰ درجے کے فقیر مسلمان کا خرچ ہوتا تھا۔ آج اگر اسی اصول کو اپنا لیا جائے تو حکمرانوں‘ اونچے گریڈ کے افسران اور سرمایہ داروں‘ جاگیرداروں اور عام لوگوں کے درمیان جو بہت بڑا مادی تفاوت ہے‘ وہ ختم ہو جائے اور معاشی ناہمواریاں اور غریبوں کا ننگ و بھوک اور بنیادی ضروریات پوری ہو جائیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں:
میں منیٰ میں مسجد میں رسولؐ اللہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ آپؐ کے پاس ایک انصاری اور ایک ثقفی حاضر ہوئے۔ سلام کیا اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ہم آپؐ کی خدمت میں کچھ پوچھنے کے لیے آئے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تم چاہو تو میں تمھیں خود ہی بتلا دیتا ہوں کہ تم کیا پوچھنے آئے ہو اور چاہو تو سوال کرو‘ میں تمھارے سوال کا جواب دے دوں گا۔ اس پر انھوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپؐ خود ہی ہمیں بتلا دیجیے۔ پھر ثقفی نے انصاری سے کہا: آپ پوچھ لیں۔ انصاری نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! مجھے (میرا سوال و جواب) بتلا دیجیے۔ آپؐ نے فرمایا: تم میرے پاس آئے ہوتا کہ اپنے گھر سے بیت اللہ شریف کے ارادے سے نکلنے اور اس میں جو ثواب تمھیں ملے گا‘ اور طواف کے بعد دو رکعتوں اور اس میں تمھارے لیے جو ثواب ہے‘ اور صفا و مروہ کے درمیان دوڑنے اور چلنے اور اس میں تمھارے لیے جو ثواب ہے‘ اور عرفہ کے دن میں پچھلے پہر میدان عرفات میں وقوف کرنے اور اس میں جو ثواب ہے‘ جمروں (شیطان) پر کنکر پھینکنے اور اس میں جو ثواب ہے‘ اور قربانی کرنے اور طواف زیارت کے ساتھ اس کا جو ثواب ہے‘ اس کے بارے میں سوال کرو۔ انصاری نے یہ سن کر عرض کیا: یارسولؐ اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق دے کر بھیجا ہے‘ میں انھی باتوں کے بارے میں سوال کرنے آیا ہوں۔
اس کے بعد آپؐ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا:
جب تم اپنے گھر سے مسجد حرام کے ارادے سے نکلے تھے اس وقت سے تیری اونٹنی نے جوکُھرْرکھا اور جو کُھرْ اُٹھایا‘ ان میں سے ہر ایک قدم کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے ایک نیکی لکھ دی اور ایک غلطی مٹا دی‘ اور طواف کے بعد کی تیری دو رکعتیں بنی اسماعیل میں سے ایک گردن کے آزاد کرنے کے مثل ہے‘ اور صفا و مروہ کے درمیان چکر ۷۰ گردنوں کو آزاد کرنے کے برابر ہے‘ اور عرفہ میں دوپہر کے بعد وقوف پر تو اللہ تعالیٰ تم پر فرشتوں کے مقابلے میں فخر کرتے اور فرماتے ہیں کہ میرے بندے دُور دراز علاقوں سے میری جنت کی اُمید میں اس حال میں میرے پاس آئے ہیں کہ ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور جسم غبار آلود ہیں۔ پس اگر ان کے گناہ ریت کے ذرّوں یا بارش کے قطروں یا سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں تو میں پھر بھی انھیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! واپس جائو اس حال میں کہ تم اورجن کے لیے تم نے شفاعت کی وہ بخش دیے جائیں گے۔ تم نے جمروں (شیطانوں) کو جو کنکر مارے ہیں‘ ہر ایک کنکر جو تم نے پھینکا‘ اس کے عوض میں ایک ہلاک کر دینے والے گناہ کبیرہ کا کفارہ ہو گیا‘ اور تمھاری قربانی تمھارے لیے تمھارے رب کے ہاں ذخیرہ ہو گئی‘ اور سر کے حلق کرنے میں ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ہے اور ایک خطا مٹا دی گئی ہے‘ اور بیت اللہ شریف کا طواف اس حال میں کرو گے کہ تم پر کوئی گناہ باقی نہ ہوگا (طواف سے پہلے ہی تمام گناہ ختم ہو جائیں گے)۔ ایک فرشتہ آئے گا اور تیرے شانوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھ کر کہے گا کہ اب آیندہ کے لیے نیکیوں کی فکر کرو‘ ماضی میں جو گناہ تھے وہ تمام معاف کر دیے گئے ہیں۔ (طبرانی)
سبحان اللہ! رسولؐ اللہ کی کیا شان ہے! سائل آتے ہیں تو قبل اس کے کہ وہ اپنے سوال پیش کریں‘ اللہ تعالیٰ اپنے نبیؐ کو ان کے دل کی بات وحی کر دیتے ہیں۔ سائلین کی بھی کیا شان ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بجائے ان کے سوال اپنے نبی کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ آپؐ کی صداقت اور عظمت اس حدیث پاک میں جلوہ گر ہے۔ پھر آپؐ کی شفقت اور رحمت سائلین پر سایہ فگن ہے۔ انھیں اختیار مل گیا‘ چاہیں تو سوال کریں اور جواب لیں اور چاہیں تو بغیر سوال کے سوا ل اور جواب دونوں سے سرفراز ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بھی کیا عالم ہے کہ جو اس کی طرف چل کر آیا‘ اسے اس طرح سے نواز دیا گیا کہ پاک و صاف ہو کر نیکیوں کا انبار لیے قابل فخر و مباہات بن کر واپس ہوتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ حاجی جو یہ مقام پا لیں! ظاہر ہے یہ مقام انھی کے لیے ہے جو آیندہ کے لیے حقوق اللہ اور حقوق العبادادا کرنے کا فیصلہ کر چکے ہوں اور ماضی کے گناہوں سے تائب ہو گئے ہوں‘ جیسا کہ حدیث کے آخر میں تلقین کی گئی ہے کہ اب آیندہ کے لیے نیکیوں کی فکر کرو۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو لوگوں کے مال (بطور قرض یا اُدھار) اس نیت سے لے کہ ان کی ادایگی کرے گا‘ اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے اس مال کی ادایگی کرد ے گا۔ اور جو لوگوں کے مال اس نیت سے لے کہ ان کے مال کو ضائع کرے گا‘ تو اللہ اس مال کو ضائع کر دے گا۔ (بخاری‘ ابن ماجہ)
اپنی نیت صحیح کر لیجیے‘ کام ہو جائے گا۔ نیت کام کی اصل ہوتی ہے۔ نیت ہی سے کام ہوتے ہیں۔ نیت ہی پر اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی نیت کا لحاظ رکھتے ہیں۔ قرضوں کی واپسی میں تنگ دستی مانع نہیں ہے‘ بدنیتی مانع ہے۔ انسان حق دار کا حق ادا کرنا چاہتا ہو تو تنگ دستی کے باوجود اس قابل ہو جاتا ہے کہ ادا کر دے‘ لیکن نیت میں فتور ہو تو مال ہونے سے فرق نہیں پڑتا‘ بڑے سے بڑا مال دار بھی حق داروں کا حق ہڑپ کر لیتا ہے۔ اس مال سے اسے فائدہ نہیں پہنچتا اور اللہ تعالیٰ اسے اس قابل نہیں بناتا کہ وہ قرض کی ادایگی کر کے عزت پائے۔
حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
پہلاکام جسے ہم اس دن کرتے ہیں‘ نماز ہے۔ نماز کے بعد ہم واپس آتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں۔ جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے (نماز سے پہلے) ذبح کر لیا تو وہ گوشت ہے‘ جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے پہلے تیار کر لیا ہے‘ اس کا قربانی سے کوئی تعلّق نہیں ہے۔
حضرت ابوبردہ بن تیارؓ نے نماز سے پہلے ذبح کیا تھا۔ جب انھوں نے آپؐ کا یہ فرمان سنا تو عرض کیا: میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکرا ہے جو سال والے سے بہتر ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تم اسے ذبح کر لو‘ تیرے بعد کسی کی طرف سے اس کی قربانی نہ ہو سکے گی۔ (مسلم شریف)
قربانی کا مقصد گوشت کا حصول نہیں ہے۔ اگر گوشت مقصود ہوتا تو پھر قربانی میں اس بات سے کوئی فرق نہ پڑتا کہ نماز عید سے پہلے ہوئی ہے یا بعد میں۔ اصل مقصد اللہ کے نام پر ذبح کرنا ہے۔ جس کی نیت یہ ہوگی اس کی قربانی ہوگی‘ اور جس نے گوشت کھانے کی خاطر ذبح کیا اس کی قربانی نہ ہوگی۔ جو لوگ قربانی کی حقیقت کو نہیں سمجھتے وہ کہتے ہیں کہ قربانی اور گوشت کے بجائے رقم فقرا اور مساکین میں تقسیم کر دی جائے۔قربانی کے ذریعے فقرا اور مساکین کو گوشت کھلانا مقصد ہوتا تو پھر گوشت کی جگہ رقم دی جا سکتی تھی لیکن گوشت کھلانا مقصود نہیں بلکہ سنت ابراہیمی کو زندہ کرنا اور اللہ کے نام پر ذبح کرنا مقصود ہے جو قربانی کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو گنجایش پائے اور قربانی نہ کرے‘ تو وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔ (مسند احمد)
عیدگاہ میں آنا‘ نماز پڑھنا‘ خطبہ سننا‘ دعائوں میں شرکت کرنا اور اُمّت مسلمہ کی شان و شوکت کے مظاہرے میں حصہ لینا‘ اس شخص کو زیب دیتا ہے جو واجبات اور سنن کو ادا کرنے والا ہو۔ اہل ایمان کو ایسے شخص کی قدر کرنا چاہیے اور اسی سے دوستی کا تعلّق رکھنا چاہیے۔ ایسے شخص سے میل ملاپ رکھنا چاہیے۔ کسی شخص کا داخلہ بند کر دینا اس سے ناراضی کی انتہا ہے۔ قربانی کی استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں کا عیدگاہ میں داخلہ بند کر دیا گیا‘ گویا یہ کہا گیا کہ اس سے میل ملاپ ہی مناسب نہیں ہے۔
حضرت ابوالدرداءؓ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مجھے اپنے کمزور لوگوں میں تلاش کرو‘ اس لیے کہ تمھیں رزق دیا جاتا ہے اور مدد کی جاتی ہے تمھارے کمزوروں کی بدولت۔ (ترمذی)
ضعیفوں‘ بوڑھوں‘ بچوں‘ بیوائوں‘ یتیموں‘ مسکینوں‘ مریضوں اور محتاجوں کی تعظیم و تکریم کی تاکید کا اس سے زیادہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ضعفا کی ملاقات سے نبیؐ سے ملاقات ہو گی‘ رزق ملے گا اور اللہ کی نصرت آئے گی۔ کون ہے جس کے دل میں نبیؐ سے ملاقات اور آپؐ کی خوشنودی کی طلب اور تڑپ نہ ہو اور وہ رزق کی فراخی اور نصرت الٰہی کا طلب گار نہ ہو؟ کیا اس ارشاد کے بعد اسلامی معاشرے میں کمزور لوگ --- مستضعفین--- کس مپرسی اور بے قدری کا شکار ہو سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ہمیں اپنے معاشرے کے بارے میں غور کرنا ہوگا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مجھ پر وہ لوگ پیش کیے گئے جو سب سے پہلے دوزخ میں ہوں گے: وہ حکمران جو مسلّط کیا گیا ہو (شریعت کے مطابق عامتہ المسلمین کا منتخب کردہ نہ ہو)‘ مال دار آدمی جو اللہ کا حق نہ ادا کرتا ہو‘ اور فقیر جو
کبر و غرور میں مبتلا ہو۔ (ابن خزیمہ)
کیوں؟ یہ بندگانِ خدا پر ظلم کرنے والے ہیں‘ اس لیے دوزخیوں کے امام ہوں گے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا:
عادل حکمران کا ایک دن ۶۰ سال کی عبادت سے افضل ہے‘ اور ایک حد جو زمین میںقائم کی جائے زمین والوں کے لیے صبح میں ہونے والی ۴۰ دن کی بارانِ رحمت سے زیادہ نفع بخش ہے۔ (طبرانی)
حضرت ابوہریرہؓ کی روایت میں ہے ‘ایک دن کا عدل ۶۰ سال کی عبادت--- راتوں کے قیام اور دن کے روزوں ---سے بہتر ہے۔ (رواہ الاصبہانی) اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اے ابوہریرہؓ! کسی مقدمے میں ایک گھڑی کا ظلم‘ اللہ کے نزدیک ۶۰ سال کی معصیت کے مقابلے میںزیادہ سخت اور زیادہ بڑا ہے۔ (بحوالہ مختصر ترغیب و ترہیب)
انفرادی عبادت اور انفرادی زندگی میں معصیت سے بچنے کی فکر فرض ہے لیکن زیادہ اہمیّت کس کی ہے اور زیادہ توجہ کس چیز پر دینی چاہیے‘ اس کا جواب کسی مجتہد سے لینے کی ضرورت نہیں‘ یہ بحث و مباحثہ کی چیز بھی نہیں‘ اس کے جواب کے لیے یہ فرمان رسولؐ کافی ہے۔