سوال : روایت ہے کہ حضرت ابوایوب انصاریؓ جب دنیا سے رخصت ہونے لگے تو فرمایا کہ میں نے ایک بات اب تک تم سے چھپا رکھی تھی۔ اب آخر وقت میں پیش کر رہا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ اگر تم سب لوگ ملائکہ کی طرح بے گناہ ہوجائو اور تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اور مخلوق پیدا کردے گا جو گناہ کر کے توبہ کریں گے۔(مسلم)
اس حدیث کی وضاحت کے سلسلے میں ایک کھٹک سی ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔ کیا اس سے مراد یہ ہے کہ گناہ کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ معاف کردے ورنہ وہ کوئی دوسری مخلوق پیدا کردے گا؟ نیز اس کی صحت کے بارے میں بھی واضح کردیجیے۔
جواب:آپ نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ مسلم، کتاب التوبہ باب سقوط الذنوب بالاستغفار والتوبہ میں دو سندوں کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ الفاظ یہ ہیں: لَوْلَا اَنَّکُمْ تُذْنِبُوْنَ لَخَلَقَ اللّٰہُ خَلْقًا یُذْنِبُوْنَ لِیَغْفِرَلَھُمْ۔ دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لَوْ اَنَّکُمْ لَمْ تَکُنْ لَکُمْ ذُنُوْبٌ یَغْفِرُاللّٰہُ لَکُمْ لَجَائَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ لَہُمْ ذُنُوْبٌ یَغْفِرُھَا لَھُمْ۔ حضرت ابوایوب انصاریؓ کی اس روایت کے بعد حضرت ابوہریرہؓ کی ایک روایت بھی مسلم میں نقل ہوئی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہٖ لَوْلَمْ تُذْنِبُوْا لَذَھَبَ اللّٰہُ بِکُمْ وَلَجَائَ بِقَوْمٍ یُذْنِبُوْنَ فَیَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰہَ فَیَغْفِرُلَہُمْ۔تینوں احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم گناہ نہ کرو یا تمھارے گناہ نہ ہوں تو اللہ دوسری ایسی قوم لے آئے گا یا ایسی مخلوق پیدا کردے گا جن کے گناہ ہوں گے اور وہ بخشش مانگیں گے تو اللہ ان کے گناہ معاف کردے گا۔
یہ حدیث سنداً تو بالکل صحیح حدیث ہے۔ اس لیے کہ مسلم ان کتابوں میں شامل ہے جو صحیح احادیث ہی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ لیکن اس کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے آپ پہلے تین باتوں کو اپنے ذہن میں رکھیں تاکہ اُلجھن اور کھٹک کا ازالہ ہوجائے۔
۱- پہلی بات یہ ہے کہ کسی حدیث و آیت کی تشریح و تفسیر کے لیے اسی موضوع سے متعلق دوسری آیات و احادیث کو سامنے رکھنا چاہیے۔
۲- دوسری بات یہ ہے کہ بعض آیات و احادیث کا اسلوبِ بیان قانونی ہوتا ہے جس میں محدود و مخصوص الفاظ میں شریعت کے قانون اور ضابطے کی وضاحت مقصود ہوتی ہے، اور بعض آیات و احادیث کا اسلوب خطیبانہ اور واعظانہ ہوتا ہے جس میں اصل حکم بیان کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ ترغیب و ترہیب اصل مقصد ہوتا ہے۔ اس نوع کے واعظانہ، خطیبانہ اور ترغیبی یا ترہیبی کلام میں الفاظ کا لغوی مفہوم مراد نہیں ہوتا بلکہ جذبات کو اُبھارنا اور عمل پر آمادہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس قسم کے الفاظ میں مبالغہ اور فرضی قسم کی مثالیں بھی بیان ہوتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معلمِ قانون بھی تھے اور واعظ بھی۔ اس لیے آپؐ کے کلام میں دونوں پہلو جلوہ گر ہوتے ہیں۔ سخن فہمی کا ذوقِ سلیم رکھنے والا شخص موقع و محل کی مناسبت سے اور دوسری احادیث کی روشنی میں رسولؐ اللہ کا منشا معلوم کرسکتا ہے۔
۳- تیسری بات یہ ہے کہ خلافت ِ ارضی کا منصب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نہیں دیا بلکہ انسان کو دیا ہے۔ فرشتوں کے اندر گناہ کی سرے سے قوت ہی نہیں ہے۔ اگر ان کو زمین کی خلافت دی جاتی تو اللہ کی قہاریت، جباریت، عفو، تواب اور غفار کی صفات کا ظہور نہیں ہوسکتا تھا۔ انسان کے اندر شر کی قوت بھی رکھی گئی ہے۔ اس کا نفس امارہ بالسوء بھی ہے اور لوامہ یامطمئنہ بھی ہے۔ انسان کبھی عالمِ بالا اور ملکیت کی جانب متوجہ ہوتا ہے اور کبھی عالم سفلی اور بہیمیت کی جانب متوجہ ہوجاتا ہے۔ انسان کامل، یعنی نبی ؑ سے چونکہ اصلاح اور دعوت و ارشاد کا کام لیا جاتا ہے، اس لیے بشر ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اس کو گناہوں اور بُرائیوں سے محفوظ و معصوم رکھتا ہے۔ لیکن باقی انسان اپنے اعمال کے اعتبار سے رحمت و مغفرت کا مظہر بھی ہوتے ہیں اور قہروغضب کا مظہر بھی ہوتے ہیں۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔
پہلے نمبر پر بیان کردہ قاعدے کی روشنی میں جب ہم اس حدیث پر غور کرتے ہیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اس حدیث کا مقصد گناہوں پر آمادہ کرنا نہیں ہے بلکہ توبہ و استغفار کی ترغیب دلانا ہی اصل مقصد ہے اور مایوسی کے احساس کا ازالہ کرنا پیش نظر ہے۔ اس لیے کہ متعدد آیات و احادیث میں اللہ و رسولؐ کی نافرمانی سے اور گناہوں کے ارتکاب سے روکا گیا ہے اور گناہ کا ارتکاب کرنے والوں کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ انسانی و بشری کمزوریوں کی بناپر گناہوں کا صدور تو ہوتا رہے گا، اور اگر ان کو توبہ و استغفار کی فضیلت و اہمیت نہ بتائی جائے تو وہ مایوسی کا شکار ہوکر مزید گناہ کریں گے۔ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ط اِِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ط (اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجائو، یقینا اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ الزمر ۳۹:۵۳) کا بھی یہی مفہوم ہے کہ اگرچہ اللہ کی رحمت و مغفرت کے بھروسے پر گناہوں کا ارتکاب کرنا حماقت و بغاوت ہے لیکن گناہ سرزد ہوجانے کے بعد اللہ کی اس رحمت و مغفرت سے مایوس ہو جانا بھی حماقت و جہالت ہی کی ایک قسم ہے۔
یہی بات زیربحث حدیث میں بیان ہوئی ہے کہ مغفرت و رحمت اللہ کی صفت ہے۔ اس کا ظہور ہوکر رہے گا۔ اگر بالفرض تمھارے گناہ سرے سے موجود ہی نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ کوئی دوسری مخلوق پیدا کرے گا جو گناہ کرنے کے بعد مایوس نہیں ہوگی بلکہ توبہ و استغفار کرے گی۔ لہٰذا تم سے بھی اگر کوئی گناہ صادر ہوجائے تو مایوس ہونے کے بجاے توبہ واستغفار کے حکم پر عمل کرو۔ نہ صرف یہ کہ توبہ واستغفار سے تمھارے گناہ معاف ہوجائیں گے بلکہ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِھِمْ حَسَنٰتٍ ط (ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ الفرقان ۲۵:۷۰) سے معلوم ہوتا ہے کہ مزید حسنات و درجات سے بھی نوازے جائو گے۔
دوسرے قاعدے کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ زیربحث حدیث میں اسلوبِ کلام خطیبانہ اور واعظانہ ہے۔ اور مقصد یہ نہیں ہے کہ تم گناہ کرو تاکہ اللہ تعالیٰ مغفرت کرے بلکہ مقصد یہ ہے کہ چونکہ تم سے گناہ صادر ہوتے ہیں اس لیے توبہ و استغفار کرو تاکہ اللہ تعالیٰ معاف کردے۔ گناہ کے صدور کی خبر دے کر توبہ کا حکم دیا گیا ہے۔ گناہ کا حکم دے کر توبہ کا حکم نہیں دیا گیا۔
تیسرے قاعدے کی رُو سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی خلافت انسانوں کے لیے ہے جو رحمت کا مظہر بھی ہیں اور غضب کا مظہر بھی۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ میں دوسری مخلوق پیدا کرتا ہوں بلکہ یوں کہا گیا ہے کہ اگر تم گناہ نہ کرتے تو میں دوسری مخلوق پیدا کردیتا لیکن چونکہ تم گناہ کرتے ہو تو صفت ِ غفاریت کے ظہور کے لیے دوسری مخلوق پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔
حاصل بحث یہ ہے کہ انسان گناہ کرتے رہیں گے لیکن اللہ بھی مغفرت فرماتے رہیں گے بشرطیکہ انسان توبہ و استغفار کرتا رہے۔ اس لیے مایوس نہیں ہونا چاہیے(مولانا گوہر رحمٰن)۔ (تفہیم المسائل، حصہ اوّل،ص ۳۹-۴۳)
س : میری خالہ کافی عرصے کے بعد امریکا سے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ آئی ہیں۔ ان کی بیٹیاں جینز پہنتی ہیں، لیکن جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہیں تو سارے کپڑے چادر سے چھپاکر نکلتی ہیں۔ میں نے بہت دفعہ اپنی کزن کو جینز پہننے سے منع کیا لیکن وہ کہتی ہیں کہ جینز پہننا کوئی گناہ نہیں ہے، نہ یہ مردوں کی مشابہت ہے اور نہ کافروں کی۔ وہ یہ جواز پیش کرتی ہیں کہ آج پوری دنیا میں عورتیں پینٹ پہن رہی ہیں۔ امریکا میں بھی مسلم عورتیں پہنتی ہیں۔ ایران، سعودی عرب، دبئی، ترکی اور خود پاکستان میں بھی عورتیں جینز پہنتی ہیں۔ اب یہ لباس مسلمانوں میں بھی رواج پاچکا ہے۔ کافروں کی مشابہت یہ جب ہوتا جب اسے صرف کافر ہی پہنتے۔ اگر پینٹ چست نہ ہو، ڈھیلی ڈھالی ہو، قمیص پینٹ کے اندر نہ ہو بلکہ باہر ہو، ڈھیلی ڈھالی ہو اور کم از کم رانوں تک ہو اور ستر نمایاں نہ ہو تو پینٹ جائز ہے۔ دوسرے، یہ بات کہ یہ مردوں کی نقل ہے، تو یہ بھی ٹھیک نہیں ہے کیونکہ ہمارے ہاں جس طرح عورتوں اور مردوں کی شلواریں ایک جیسی ہوتی ہیں، اسی طرح سب جگہ پر پینٹ بھی مردوں اور عورتوں کی ایک جیسی ہیں۔ اگر کوئی لڑکی پینٹ کوٹ پہنے یا مردانہ قمیص شلوار پہنے، یا کوئی خاص مردوں کا لباس پہنے تو وہ مردوں کی نقل ہوگا، اور اسی طرح کوئی عورت خاص کافر عورتوں کا لباس پہنے تو وہ کافروں سے مشابہت ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرما دیں۔
ج:لباس کے بارے میں اصولی ہدایات سورئہ اعراف، آیت ۲۶، ۲۷، ۲۸،۳۱، ۳۲ میں دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک اصولی ہدایت یہ ہے کہ لباس تقویٰ کا ہو۔ مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ لباس التقوٰی کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:’’انسان کے لیے لباس کا صرف ذریعۂ سترپوشی اور وسیلۂ زینت و حفاظت ہونا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ فی الحقیقت اس معاملے میں جس بھلائی تک انسان کو پہنچنا چاہیے، وہ یہ ہے کہ اس کا لباس تقویٰ کا لباس ہو۔ یعنی پوری طرح ساتر بھی ہو، زینت میں بھی حد سے بڑھا ہوا یا آدمی کی حیثیت سے گرا ہوا نہ ہو، فخروغرور اور تکبر و ریا کی شان لیے ہوئے بھی نہ ہو اور پھر ان ذہنی امراض کی نمایندگی بھی نہ کرتا ہو جن کی بناپر مرد زنانہ پن اختیار کرتے ہیں، عورتیں مردانہ پن کی نمایش کرنے لگتی ہیں اور ایک قوم دوسری قوم کے مشابہ بننے کی کوشش کرکے خود اپنی ذلت کا اشتہار بن جاتی ہے‘‘۔(تفہیم القرآن، ج۲،ص ۲۰)
ایک قوم کا دوسری قوم کے مشابہ بننے سے یہی مراد نہیں ہے کہ ان کے شعار کو اپنائے بلکہ ان کے طور طریقوں، وضع قطع، تراش خراش کو اپنانا بھی ان کے مشابہ بننا ہے۔ پھر دوسری قوموں کے ساتھ مشابہت کے علاوہ مسلمانوں میں ایسے لوگ اور ایسے طبقات جو دوسروں کی تہذیب و روایات کو اپنائے ہوئے ہوں، ان کے رہن سہن، ان کے لباس کو پہنتے ہوں، ان کے ساتھ بھی مشابہت نہ ہو، بلکہ صلحا اور متقین جو اسلامی تہذیب و اقتدار کو سینے سے لگائے ہوئے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور سلف صالحین، مردوں اور عورتوں کے لباس کی یاد تازہ کرتے ہوں، ان کی پیروی اور نقالی کرنے والے ہوں۔ ان کے ساتھ مشابہت کرنے والے اہلِ تقویٰ اور اسلامی اقدار و روایات کو اپنانے والوں کی شکل اختیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ظاہر کا اثر باطن پر بھی ڈال دے گا۔ تواضع اور انکساری کا لباس آدمی میں تواضع اور انکساری پیدا کرتا ہے اور تکبر و غرور کا لباس آدمی میں تکبر و غرور پیدا کرتا ہے۔
مولانا مفتی محمد شفیعؒ اس موضوع پر اس آیت کی تفسیر لکھتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ’’لباسِ تقویٰ کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ ظاہری لباس کے ذریعے سترپوشی اور زینت و تجمل سب کا اصل مقصد تقویٰ اور خوفِ خدا ہے جس کا ظہور اس کے لباس میں بھی اسی طرح ہونا چاہیے کہ اس میں پوری سترپوشی ہو، کہ قابلِ شرم اعضا کا پورا پردہ ہو، وہ ننگے بھی نہ رہیں، اور لباس بدن پر ایسا چست بھی نہ ہو جس میں یہ اعضا مثل ننگے کے نظر آئیں۔ نیز اس لباس میں فخروغرور کا انداز بھی نہ ہو بلکہ تواضع کے آثار ہوں، اسراف بے جا بھی نہ ہو، ضرورت کے موافق کپڑا استعمال کیا جائے۔ عورتوں کے لیے مردانہ اور مردوں کے لیے زنانہ لباس بھی نہ ہو، جو اللہ کے نزدیک مبغوض و مکروہ ہے۔ لباس میں کسی دوسری قوم کی نقالی بھی نہ ہو جو اپنی قوم و ملّت سے غداری اور اعراض کی علامت ہے۔ اس کے ساتھ اخلاق و اعمال کی درستی بھی ہو، جو لباس کا اصل مقصد ہے۔(معارف القرآن، ج۳،ص ۵۳۶)
آپ نے جیز کی جو صورت تحریر کی ہے، وہ بے شک وہی ہو جو آپ نے لکھی ہے کہ ساتر ہو، اس میں مردوں کے ساتھ مشابہت نہ ہو، لیکن یہ ہمارے معاشرے کی نہیں، بلکہ مغربی معاشرے کی ایجاد اور مغرب کا لباس ہے۔ آپ تو بے شک اسے اس طرح استعمال کریں گی جو ساتر ہوگی، لیکن اپنی اصل کے اعتبار سے تو یہ ساتر نہیں ہے بلکہ اصل میں یہ مغربی لباس کی نقالی ہے۔ اس کے بجاے آپ اسلامیت اور پاکستانیت کو پھیلائیں، پاک و ہند کے دینی گھرانوں کو پیش نظر رکھیں۔ آپ پاکستان اور عالمِ اسلام کی صالحات کی پیروی کریں۔ اس سے دینی اور اسلامی ذہنیت نشوونما پائے گی، آخرت کی فکر پیدا ہوگی اور نیک خواتین کی طرح آپ میں بھی نیکی کا جذبہ پیدا ہوگا۔
نیک لوگوں کا لباس نیکی اور بُرے لوگوں کا لباس بُرائی کی ذہنیت پیدا کرتا ہے۔ انسان کا لباس، انسان کی صحبت تو آدمی پر اثرانداز ہوتی ہی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بکریوں والوں میں مسکنت اور تواضع پائی جاتی ہے اور فخروغرور اُونٹوں کی دُموں کو پکڑ کر چلنے والوں میں پایا جاتا ہے۔ لباس دراصل ذہنی طور پر اہلِ لباس کی صحبت ہے اور اس پر وہی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو صحبت پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے خواتین کو جینز کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
آپ کی کزن نے ایران، سعودی عرب اور پاکستان کے جن اُونچے گھرانوں کی خواتین کا حوالہ دیا ہے کہ وہ بھی پینٹ پہنتی ہیں، تو اس بارے میں عرض ہے کہ یہ وہ خواتین ہیں جو مغربی تہذیب کی نقالی کرتی ہیں۔ اس لیے آپ ان سے کہہ دیجیے کہ ان کی نقالی کو چھوڑ دیجیے۔ ان کے بجاے دنیا کے اسلامی گھرانوں کی خواتین کو اپنے لیے نمونہ بنائیں جو مغربی تہذیب سے متاثر اور اس کی دل دادہ نہیں۔ وہ مغربی تہذیب کو باعث ِ عزت و فخر سمجھنے کے بجاے اسلامی تہذیب و روایات کی قدر کرتی ہیں اور اس میں شرف و وقار سمجھتی ہیں۔ (مولانا عبدالمالک)
حضرت ابوثعلبہ خشنیؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس تشریف لائے تو مسجدنبویؐ میں تشریف لے گئے اور دو رکعتیں پڑھیں۔آپؐ کو یہ طریقہ پسند تھا کہ سفر سے واپس آئیں تو مسجد جائیں اور اس میں دو رکعتیں پڑھیں۔ اس کے بعد حضرت فاطمہؓ سے ملنے جاتے، پھر اَزواجِ مطہراتؓ کے پاس چلے جاتے۔ چنانچہ ایک سفر سے واپس تشریف لائے تو مسجد کے بعد حضرت فاطمہؓ کے پاس تشریف لائے تو انھوں نے گھر کے دروازے پر آپؐ کا استقبال کیا، آپؐ کے چہرۂ انور کو بوسے دینے لگیں اور رونے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ انھوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! اس لیے رو رہی ہوں کہ مشقت اُٹھانے کے سبب آپؐ کی رنگت بدل گئی ہے اور آپؐ کے کپڑے بوسیدہ ہوچکے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہؓ! اللہ تعالیٰ نے تیرے والد کو ایسا دین دے کر بھیجا ہے کہ زمین پر کوئی مٹی کا گھر باقی رہے گا اور نہ خیمے مگر اللہ تعالیٰ اس میں عزت داخل کرے گا یا ذلت (ایمان والوں کے لیے عزت اور کافروں کے لیے ذلّت)۔ یہاں تک کہ یہ عزت اور ذلت وہاں وہاں پہنچ جائے جہاں دن اور رات پہنچتے ہیں (اس لیے کامیابی ہمارے لیے ہے۔ پوری دنیا میں اسلام کے لیے عزت ہے اور کفرکے لیے ذلّت ہے۔ جب نتیجہ بہتر ہے تو مشقت اور تکالیف کا احساس نہیں ہونا چاہیے)۔(کنزالعمال، طبرانی، حاکم)
اسلام کی دعوت دینے کے لیے پوری قوت صرف کرنا چاہیے۔ اس کام کے لیے دن رات ایک کردینا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دن رات ایک کیا۔ دعوت بھی دی اور قتال بھی کیا۔ اللہ تعالیٰ کے تمام انبیا نے دین کی سربلندی کے لیے جان کی بازی لگادی۔ حضرت نوحؑ نے ۱۴۰۰ سال عمرپائی اور دن رات ایک کیا۔ سورئہ نوح میں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے فریاد کررہے ہیں کہ اے میرے رب! میں نے دن اور رات ان کو دعوت دی لیکن میری دعوت کے نتیجے میں یہ لوگ راہِ راست پر آنے کے بجاے مزید دُور ہوتے چلے گئے۔ جب میں انھیں دعوت دیتا یہ اپنے چہروں کو کپڑوں سے ڈھانپ لیتے اور کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے اور کفر پر اصرار کرتے اور انتہائی تکبر اور غرور کا مظاہرہ کرتے۔ چنانچہ حضرت نوحؑ نے ان پر عذاب کے لیے دعا کی جس کے نتیجے میں روے زمین کو ان سے پاک و صاف کردیا گیا۔ اس طرح زمین اسلام کے لیے ہموار ہوگئی اور اسلام غالب ہوگیا۔ اس کے بعد پھر کفر وجود میں آیا تو پھر انبیاعلیہم السلام کو مبعوث کیا گیا اور اس وقت سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس کا آخری مرحلہ وہ ہے جس کی پیش گوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔ اب یہ کام ہمیں کرنا ہے تاآنکہ یہ دین غالب ہوجائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کا دنیا اپنی نگاہوں سے مشاہدہ کرلے۔
m
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف نکلے تو دیکھا کہ مہاجرین اور انصار صبح کے وقت سخت سردی میں خندق کی کھدائی کر رہے ہیں۔ انصار اور مہاجرین خود یہ کام کر رہے تھے، ان کے خادم نہ تھے جو ان کی جگہ یہ کام کرتے۔ جب آپؐ نے ان کی مشقت اور بھوک کی حالت کو دیکھا تو دُعا کی: اے اللہ! اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے، پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ انصار اور مہاجرین نے جواباً کہا: ہم وہ لوگ ہیں جنھوں نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی جہاد پر بیعت کی ہے۔ ہم اس بیعت اور عہد پر ہمیشہ قائم رہیں گے۔(بخاری)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ نے کیسی غربت اور فاقہ کشی کے ساتھ محنت و مشقت اُٹھاتے ہوئے دین کو غالب کیا، اس کا ایک منظر غزوئہ خندق ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین اور یہود کی متحدہ ۱۲ہزار فوج کا مقابلہ خندق کی کھدائی کے ذریعے کیا۔ مدینہ طیبہ کی جس جانب سے حملہ ہوسکتا تھا، اس طرف خندق کی کھدائی کرکے مدینہ میں داخلے کا راستہ روک دیا۔ چھے دن کے اندر ساڑھے تین میل لمبی خندق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ نے مل کر حصہ لیا۔
منافقین مختلف قسم کے بہانے کرکے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔ وہ اس انتظار میں تھے کہ اب ۱۲ہزار فوج مسلمانوں کو ختم کرکے رکھ دے گی۔ دوسری طرف یہود بنی قریظہ نے بھی عہدشکنی کر کے متحدہ محاذ کا ساتھ دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے بنوقریظہ کی سازش اور متحدہ محاذ کو ناکام و نامراد کر دیا۔ ۲۵دن متحدہ محاذ نے محاصرہ کیا تو اس کے بعد بے حوصلہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آندھی بھی چلا دی جس نے ان کے کیمپ اور چولھوں پر چڑھی دیگیں اُلٹ دیں۔ بنوقریظہ ان کی کچھ بھی مدد نہ کرسکے اور یوں یہ دونوں گروہ خائب و خاسر ہوگئے۔ مشرکین بھاگ گئے اور بنوقریظہ بدعہدی کے انجام سے دوچار ہوئے۔ بنوقریظہ کی گڑھیوں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصرہ کیا۔ انھوں نے کچھ دیر تو مزاحمت کی لیکن بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دیا کہ ہم ہتھیار ڈال دیتے ہیں اس شرط پر کہ ہمارا فیصلہ سعد بن معاذؓ کریں۔ چنانچہ سعد بن معاذؓ نے فیصلہ دیا کہ ان کے جنگی مردوںکو قتل کردیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے۔ یہ فیصلہ انھوں نے تورات کے مطابق کیا تھا۔ تورات میں آج بھی ’غدر عہد‘ کی یہی سزا لکھی ہوئی ہے۔ دوسرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فیصلے کو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق قرار دے کر اس پر عمل درآمد فرمایا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی کس مپرسی کی حالت کے موقعے پر انھیں یاد دلایا کہ اس مشقت کے عوض میں تمھیں جنت ملنے والی ہے اور وہی اصل زندگی ہے۔ رہی دنیاوی زندگی تو وہ فانی ہے اور اس دنیا میں جتنی بڑی نعمتیں مل جائیں وہ بالآخر زائل ہونے والی ہیں۔ اس لیے دنیوی عیش و عشرت کی طلب اور خواہش سے بے نیاز ہوکر اُخروی زندگی کو سنوارنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔
m
محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان سے روایت ہے کہ خالد بن سعید بن العاص قدیم الاسلام ہیں۔ اپنے بھائیوں میں سب سے پہلے مسلمان ہیں۔ ان کے اسلام کا سبب ایک خواب ہوا جو انھوں نے دیکھا تھا کہ وہ جہنم کے کنارے پر کھڑے ہیں اور انھیں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ان کے والد انھیں دوزخ میں دھکیل رہے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں کمر سے پکڑ کر روک رہے ہیں اور دوزخ میں گرنے سے بچارہے ہیں۔ وہ نیندسے گھبرا کر بیدار ہوئے تو کہا: میں اللہ کی قسم اُٹھاتا ہوں کہ یہ برحق خواب ہے۔ اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ سے ملے اور اپنا خواب سنایا تو انھوں نے کہا: دیکھو رسولؐ اللہ تو ہمارے پاس ہی ہیں، اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ بھلائی کا فیصلہ فرمایا۔ رسولؐ اللہ کی اتباع کرو، رسولؐ اللہ کی اتباع کروگے تو اسلام میں داخل ہوکر آپؐ کے ساتھ چلو گے اور دوزخ سے بچ جائو گے۔ اسلام تجھے دوزخ سے بچالے گا اور تیرا والد دوزخ میں ہوگا۔
خالدؓ بن سعید رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجیاد کے مقام پر ملے تو آپؐ سے پوچھا: آپؐ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میں تجھے اللہ وحدہٗ لاشریک کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اس بات کی طرف کہ محمدؐ اس کے بندے اور اس کے رسولؐ ہیں۔اور میں دعوت دیتا ہوں کہ ان معبودوں کو چھوڑ دو جن کی عبادت میں تم مشغول ہو۔ تم پتھروں کی عبادت کر رہے ہو جو نہ تو نفع کے مالک ہیں نہ نقصان کے، جو نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔ انھیں خبر ہی نہیں کہ ان کی عبادت کرنے والے کون ہیں۔ توخالد نے کہا: میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور آپ اللہ کے رسولؐ ہیں۔ ان سے یہ کلمۂ ایمان سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے۔ (بیہقی)
اسلام کا اصل فائدہ تو لوگوں کو دوزخ سے بچاناہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کی کمروں سے پکڑپکڑ کربچایا۔اس کے لیے دوڑ دھوپ کی۔ توحید ورسالت کی طرف دعوت دی۔ مشرکین کو ان کے باطل عقائد کے بے بنیاد ہونے سے آگاہ کیا۔ یہی کام آپؐ کے بعد صحابہ کرامؓ نے کیا۔ اب بھی یہ کام اسی جذبے اور جوش و خروش سے کرنے کی ضرورت ہے۔ بنیادی کام اور دعوت یہی ہے۔
m
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان اچانک حملے کی بیڑی ہے۔ مومن اچانک بے خبری میں حملہ نہیں کرتا (ابوداؤد)
ایمان کا تقاضا ہے کہ بے گناہوں پر حملہ نہ کیا جائے مومن جس سے برسرِپیکار نہیں ہوتا یا جن سے جنگ بندی کا معاہدہ ہوتا ہے، ان پر بھی حملہ نہیں کرتا۔ جن سے معاہدہ ہوتا ہے جب تک معاہدے کو توڑ دینے کا اعلان نہیں کرتا، ان پر حملہ نہیں کرتا۔ اس طرح مومن سے دنیا بے خوف ہوتی ہے ۔ دنیا کومومن سے یہ خطرہ نہیں ہوتا کہ وہ ان پر اچانک حملہ کر کے ان کی جان و مال کی حفاظت کو ختم کردے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: المومن من امنہ الناس علٰی دمائھم واموالھم، ’’مومن تو صرف وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان اور مال کے معاملے میں بے خوف ہوں‘‘۔ اس وقت دنیا میں جو دہشت گردی کی کارروائیاں ہورہی ہیں وہ ایمانی تقاضوں کے منافی ہیں۔
سوال : سیاسی لیڈروں کی پالیسی پر جب تنقید کی جاتی ہے تو ان کو بُرا بھلا بھی کہہ دیا جاتا ہے ۔کیا یہ تنقید غیبت شمار ہوتی ہے؟
جواب: سیاسی لیڈروں پر تنقید اسی حد تک رہنی چاہیے جس حد تک تنقید کی ضرورت ہے۔ ان کی بُرائیاں جو واقعی ہوں، ان سے عوام کو بچانے کے لیے، ان بُرائیوں کو پوری تفصیل سے بیان کرنا چاہیے اور کوشش کرنا چاہیے کہ ان بُرائیوں کو ایسے انداز سے بیان کیا جائے کہ عوام سمجھ جائیں اور ایسے لیڈروں کی پیروی اور ساتھ دینے سے اجتناب کریں۔ حقیقت کو واضح کردینا ضروری ہے تاکہ اتمامِ حجت ہوجائے، ورنہ جہاں ان کے لیڈر مجرم ہوں گے وہاں وہ بھی ان کے جرم میں شریک شمار ہوں گے۔ دنیا میں اس قسم کے لیڈروں کے پیروکار قیامت میں پچھتائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کاش! دنیا میں ایک مرتبہ واپسی کا موقع ملے تاکہ ہم ان سے اعلانِ براء ت کرسکیں۔ (ملاحظہ ہو البقرہ ۲: ۱۶۶، احزاب ۳۳:۶۷-۶۸، الصّٰفات ۳۷:۲۲ - ۴۰)
مفکرِ اسلام مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ سورئہ حجرات، آیت ۱۲ کی تفسیر کے ذیل میں فرماتے ہیں:’’ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ان نظیروں سے استفادہ کرکے فقہا اور محدثین نے یہ قاعدہ اخذ کیا ہے کہ ’’غیبت صرف اس صورت میں جائز ہے، جب کہ ایک صحیح (یعنی شرعاً صحیح) غرض کے لیے اس کی ضرورت ہو اور وہ ضرورت اس کے بغیر پوری نہ ہوسکتی ہو‘‘۔ پھر اسی قاعدے پر بنا رکھتے ہوئے علما نے غیبت کی حسب ذیل صورتیں جائز قرار دی ہیں:
۱- ظالم کے خلاف مظلوم کی شکایت ہراس شخص کے سامنے جس سے وہ یہ توقع رکھتا ہو کہ وہ ظلم کورفع کرنے کے لیے کچھ کرسکتا ہے۔
۲- اصلاح کی نیت سے کسی شخص یا گروہ کی بُرائیوں کا ذکر ایسے لوگوں کے سامنے جن سے یہ اُمید ہو کہ وہ ان بُرائیوں کو دُور کرنے کے لیے کچھ کرسکیں گے۔
۳- استفتا کی غرض سے کسی مفتی کے سامنے صورتِ واقعہ بیان کرنا جس میں کسی شخص کے کسی غلط فعل کا ذکر آجائے۔
۴- لوگوں کو کسی شخص یا اشخاص کے شر سے خبردار کرنا تاکہ وہ اس کے نقصان سے بچ سکیں، مثلاً راویوں، گواہوں اور مصنفین کی کمزوریاں بیان کرنا بالاتفاق جائز ہی نہیں واجب ہے کیونکہ اس کے بغیر شریعت کو غلط روایتوں کی اشاعت سے، عدالتوں کو بے انصافی سے اور عوام یا طالبانِ علم کو گمراہیوں سے بچانا ممکن نہیں ہے، یا مثلاً کوئی شخص کسی سے شادی بیاہ کا رشتہ کرنا چاہتا ہو یا کسی کے پڑوس میں مکان لینا چاہتا ہو یا کسی سے شرکت کا معاملہ کرنا چاہتا ہو یا کسی کو اپنی امانت سونپنا چاہتا ہو اور آپ سے مشورہ لے تو آپ کے لیے واجب ہے کہ اس کا عیب و صواب اسے بتا دیں تاکہ نا واقفیت میں وہ دھوکا نہ کھا جائے۔
۵- ایسے لوگوں کے خلاف علی الاعلان آوازبلندکرنا اور اُن کی بُرائیوں پر تنقید کرنا جو فسق و فجور پھیلا رہے ہوں، یا بدعات اور دیگر بُرائیوں کی اشاعت کر رہے ہوں، یا خلقِ خدا کو بے دینی اور ظلم و جَور کے فتنوں میں مبتلا کررہے ہوں۔
۶- جو لوگ کسی بُرے لقب سے اس قدر مشہور ہوچکے ہوں کہ وہ اس لقب کے سوا کسی اور لقب سے پہچانے نہ جاسکتے ہوں، ان کے وہ لقب استعمال کرنا بغرض تعریف نہ کہ بغرضِ تنقیص‘‘۔(تفہیم القرآن،ج ۵،ص ۹۲-۹۳)
اس تشریحی نوٹ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ لادین لوگوں اور پارٹیوں کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے ان کے نقائص کو واضح کرنا غیبت نہیں ہے۔ البتہ شریعت لادین لوگوں یا کسی بھی گروہ کے نقائص کو واضح کرنے اور ان پر تنقید کرنے کے لیے ایسی زبان استعمال کرنے کی تلقین کرتی ہے جو اخلاقی حدود کے اندر ہو، سب و شتم اور لعن طعن سے پاک ہو۔(مولانا عبدالمالک)
س : حقوق العباد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حقوق اللہ تو خدا چاہے بخش دے لیکن حقوق العباد اگر ادا نہیں کیے گئے تو ان کو متعلقہ شخص ہی سے بخشوانا ہوگا ورنہ بخشے نہیں جائیں گے۔ میری نند میرے پاس رہتی تھی۔ اس کے انتقال کے بعد احساس ہوتا ہے کہ میں نے اس کی مطلوبہ خدمت نہ کی۔ کھانا کپڑے کا خیال رکھا لیکن اب مجھے لگتا ہے کمی رہی اور پشیمانی ہوتی ہے۔ اس کی بخشش اور درجات کی بلندی کی دعا بھی کرتی ہوں۔ تلافی کے لیے کیا کروں؟
ج: حقوق العباد کے بارے میں اصولی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں معاف نہیں کریں گے جب تک کہ حق دار خود معاف نہ کردے یا حق دار کو اس کا حق ادا نہ کردیا جائے۔ بے شک نند کی خدمت، جب کہ وہ خدمت کی محتاج ہو ،ہر اس قرابت دار پر ہے جو اس کی خدمت کرسکے۔ آپ نے اپنی حد تک جو خدمت کی ہے، کھانا اور لباس کی حد تک خیال رکھا ہے اور باقی حاجات میں حق ادا نہ کرسکنے کا جو احساس ہے، وہ قابلِ قدر ہے۔ اس کی تلافی کی ایک صورت تو یہی ہے جو آپ کر رہی ہیں، یعنی مرحومہ کے لیے دعا۔ دوسری صورت یہ بھی ہے کہ آپ اس کی طرف سے کچھ مال صدقہ کریں۔ نند کے ایسے عزیز جو مدد کے محتاج ہوں ان کی مدد بھی اسی کی مدد شمار ہوگی۔ آپ ایسا کر کے اپنے دل کو مطمئن کرسکتی ہیں۔(مولانا عبدالمالک)
س : تصویر کے متعلق وضاحت درکار ہے۔ یہ تو معلوم ہے کہ جہاں کتا اور شوقیہ تصویر رکھی ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ آج کل موبائل فون سے تصویریں کھینچی جاتی ہیں۔ کمپیوٹر میں محفوظ کی جاتی ہیں۔ اس کی کوئی ضرورت تو نہیں ہوتی سواے یہ کہ انھیں دیکھ کر ان لمحات کو یاد کیا جاتا ہے۔ کیا یہ بھی تصویر کے زمرے میں آتا ہے؟ اس طرح ہم بے معنی کام کر کے رحمت کے فرشتوں کو بھگانے کے مرتکب ہورہے ہوں۔
ج: ’تصویر‘ موبائل اور کمپیوٹر میں اس وقت تک نظر نہیں آتی جب تک موبائل کو اس کے دیکھنے کے لیے آن نہ کیا جائے۔اسی طرح کمپیوٹر میں تصویر مستور ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں تصویر رحمت کے فرشتوں کے گھروں میں داخلے میں رکاوٹ نہیں ہے۔ البتہ موبائل اور کمپیوٹر سے کاغذ پر اُتار کر اسے گھروں کی زیب و زینت بنانا درست نہیں ہے۔کتا گھر کی چوکیداری، شکار اور کھیتوں اور مویشیوں کے لیے رکھنا جائز ہے۔ ان جائز صورتوں میں رحمت کے فرشتے گھر میں داخل ہوسکتے ہیں۔ شوقیہ اور بلاحاجت و ضرورت کتا رکھنا منع ہے اور ایسے کتے رحمت کے فرشتوں کے داخلے میں رکاوٹ ہیں۔(مولانا عبدالمالک)
حضرت ازرق بن قیسؒ بیان کرتے ہیں کہ ہم اہواز میں نہر کے کنارے پر تھے، نہر خشک ہوگئی تھی حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ گھوڑے پر سوار ہوکر پہنچے۔ گھوڑے سے اُترے، نماز پڑھنے لگے اور گھوڑے کو کھلا چھوڑ دیا۔ گھوڑا کھڑا رہنے کے بجاے چل پڑا۔ حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ نے نماز چھوڑ دی اور گھوڑے کے پیچھے چل پڑے۔ گھوڑے کو پکڑ لیا، پھر آئے اور اپنی نماز ادا کی۔ ہمارے اندر ایک آدمی تھا جو خوارج کی راے رکھتا تھا۔ کہنے لگا: اس بزرگ کو دیکھیں کہ اس نے گھوڑے کی خاطر نماز چھوڑ دی! حضرت ابوبرزہؓ نماز سے فارغ ہوکر آئے تو فرمانے لگے: جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں اب تک کسی نے مجھے نہیں جھڑکا۔پھر فرمایا: میرا گھر بہت دُور ہے۔ اگر میں نمازپڑھتا رہتا اور گھوڑے کو پکڑنے کے لیے نہ جاتا تو میں اپنے گھر رات تک نہ پہنچ سکتا۔ پھر فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں اور مَیں نے اُمت کے لیے آپ کی آسانیاں دیکھی ہیں۔(بخاری، کتاب الادب)
حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو عملی جامہ پہنایا ،آپؐ سے جو سبق سیکھا اس پر عمل کیا اور اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ خوارج ایک متشدد گروہ تھا۔ چند عبادات میں انتہاپسندی ان کا طرزِعمل تھا۔ لمبی لمبی نمازیں، مسلسل روزے، ظاہری وضع قطع اور لباس میں عبادت گزاری اور ریاکاری، لیکن اسلامی آداب سے عاری۔ بزرگوں کا ادب ان کے ہاں کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ صحابہ کرامؓ کی گستاخی بھی ان کا شیوہ تھا۔ بجاے اس کے کہ حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ جو جلیل القدر صحابی تھے ان سے سیکھتے اور انھی کی طرح زندگی گزارتے، اُلٹا ان پر طعن و تشنیع شروع کردی۔
گھوڑے کی خاطر نماز چھوڑ دینا اور گھوڑے کو پکڑ کر نماز ادا کرنا اپنے آپ کو ایک بڑی مصیبت سے بچانا تھا لیکن خارجی نے اس کی حکمت کو نہ سمجھا۔ جولوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی سیرت سے سیکھنے کے بجاے اپنی خواہشات کے مطابق عبادت اور زُہد اختیار کرتے ہیں وہ لاحاصل سعی کرتے ہیں۔انھیں ایسی عبادات اور زہد سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ وہ بلاوجہ اپنے آپ کو تنگی اور مشکل میں ڈالتے ہیں۔ موجودہ دور میں بھی خوارج کی طرح کے فتنے کھڑے ہوئے ہیں جن کے سبب اُمت مشکل میں گرفتار ہے۔ اللہ تعالیٰ ان فتنہ پردازوں کو ہدایت دے۔
m
حضرت سمرہ بن جندبؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج رات دو آدمیوں کو دیکھا جو میرے پاس آئے (اور مجھے مختلف گناہوں کے سبب عذاب میں گرفتار لوگ دکھلائے، ان میں وہ آدمی بھی تھا جس کی باچھیں چیری پھاڑی جارہی تھیں اور ان کو گدی تک چیرا اور پھاڑا جا رہا تھا)۔ ان دونوں آنے والوں (فرشتوں ) نے مجھے بتایا یہ جس کی باچھیں چیری جارہی تھیں، وہ آدمی ہے جو کذّاب ہے، بہت بڑا جھوٹا آدمی ہے۔ لوگ اس سے جھوٹ سنتے ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں پہنچاتے ہیں۔ اس آدمی کے ساتھ قیامت تک عذاب کا یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ (بخاری،کتاب الادب)
پہلے زمانے میں بھی کذّاب ہوتے تھے اور ان کے ذریعے بھی دنیا کے گوشے گوشے میں جھوٹ پہنچتا تھا لیکن اس وقت جھوٹ کے پہنچنے اور پھیلنے میں کافی وقت لگتا تھا۔ آج کا دور تو ذرائع ابلاغ کا ایسا دور ہے جس میں بیک وقت دنیا کے گوشے گوشے میں سچ بھی پہنچتا ہے اور جھوٹ بھی۔ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا، انٹرنیٹ اور فیس بُک کے ذریعے دنیا جھوٹ پر کھڑی ہے۔ دن رات جھوٹ کا راج ہے۔ جھوٹ سنایا بھی جاتا ہے اور اس پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔ جھوٹ گھڑ کر بے گناہوں کو اس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دنیا ظلم سے بھر گئی ہے۔ عدل و انصاف کا نام و نشان مٹ رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو فرشتوں نے کذّاب اور اس کی سزا کا جو مشاہدہ کروایا ہے اس کا بڑا مصداق آج کا دور ہے۔ یہ آپؐ کا مشاہدہ بھی ہے اور اس میں پیشنگوئی کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ سچے لوگوں، دین کے علَم برداروں کوچاہیے کہ وہ جھوٹ کا مقابلہ کریں ، دین اور سچ کو بھی دنیا کے کونے کونے تک پہنچائیں تاکہ ظلم کا قلع قمع ہو اور ظالموں کو پیچھے دھکیلا جاسکے۔
m
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں تھے (ایک قلعے کو محاصرہ کیے ہوئے تھے جو فتح نہیں ہورہاتھا)، آپؐ نے فرمایا: ان شاء اللہ ہم کل واپس چلے جائیں گے۔ صحابہؓ نے یہ سنا تو بعض نے کہا: ہم اس وقت کیسے جائیں گے جب تک قلعہ کو فتح نہ کرلیں ( جذبۂ جہاد کے غلبے کے سبب انھوں نے یہ الفاظ کہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منشا کی خلاف ورزی مقصود نہ تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں راحت پہنچانے کے لیے ایسا فرما رہے ہیں)۔ آپؐ نے صحابہ کرامؓ کا یہ ذوق و شوق دیکھا تو فرمایا: اچھا! صبح واپس جانے کے بجاے لڑائی کے لیے نکلو۔ صحابہؓ اگلے دن لڑائی کے لیے نکلے اور سخت ترین لڑائی لڑی اور انھیں بہت زیادہ زخم لگے۔ اس کے بعد پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل ہم لڑنے کے بجاے واپس جائیں گے ان شاء اللہ۔ اس وقت صحابہ کرامؓ خاموش رہے، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔(بخاری، کتاب الادب)
فتح مکہ اور غزوئہ حنین کے بعد کفار کی قوت ٹوٹ گئی تھی۔ اب مکمل فتح قریب تھی لیکن طائف میں جو لوگ قلعہ بند تھے، اسلام اور مسلمانوں کے مقابلے میں جان کی بازی لگانے پر تلے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قلعہ کا محاصرہ کیا لیکن فتح نہ ہوسکا۔ آپؐ نے اس خیال سے کہ یہ قلعہ بند لوگ بالآخر اپنے آپ کو لڑائی کے بغیر اسلام کے حوالے کردیں گے،اس لیے وقتی طور پر لڑائی بند کرانے کا فیصلہ فرمایا اور صحابہؓ سے فرمایا کہ کل ہم واپس چلے جائیں گے۔
صحابہ کرامؓ کی نظر میں اتنی دُوربینی نہ تھی جتنی دُوربینی اللہ تعالیٰ کے نبیؐ کو عطا ہوئی تھی۔ وہ لڑنا چاہتے تھے اور لڑ کر فتح کرکے جانا چاہتے تھے۔ اگلے دن جو نتیجہ سامنے آیا اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک راے ان کی سمجھ میں آگئی۔ چنانچہ لڑائی ملتوی کرنے پر راضی ہوگئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس موقعے پر ہنس پڑے کہ وہ جذبہ جو انتہا کو پہنچا ہوا تھا آج کے زخم اس کو اعتدال پر لے آئے ہیں۔ بعض اوقات انسان زخم کھانے کے بعد ہی سمجھتا ہے۔ لڑائی ملتوی ہوگئی لیکن بعد میں قلعے والے خود ہی مسلمان ہوکر آپؐ کے پاس آگئے اور یوں عرب کی سرزمین کلیتاً اسلام کے لیے مسخر ہوگئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فراست بھی صحابہ کرامؓ کے مشاہدے میں آگئی اور جووہ چاہتے تھے وہ سب اللہ تعالیٰ نے انھیں لڑائی کے بغیر عطافرمادیا۔
m
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض حلال چیزیں واضح ہیں اور بعض حرام چیزیں واضح ہیں اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں۔ پس جس نے اس گناہ کو چھوڑا جس کا گناہ ہونا مشتبہ ہے تو وہ اس گناہ کو زیادہ ترک کرنے والا ہوگا جس کا گناہ ہونا اس پر واضح ہے۔ اور جس نے مشتبہ گناہ کے ارتکاب پر جرأت کی، قریب ہے کہ وہ واضح گناہ کا ارتکاب کرے۔گناہ اللہ تعالیٰ کی ممنوع کردہ چراگاہیں ہیں اور جو شخص ممنوعہ چراگاہوں کے قریب چرے گا، قریب ہے کہ ان چراگاہوں کے اندر داخل ہوجائے۔(بخاری، کتاب البیوع)
گناہ سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ گناہ کے قریب بھی نہ جائے اور جو چیزیں ممنوع ہیں ان سے دُور رہے، مثلاً زنا ممنوع اور حرام ہے تو اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ غیرمحرم عورتوں کے قریب بھی نہ جائے، ان کو نہ دیکھے، ان کے گھر میں بلااذن اور پردہ کرائے بغیر داخل نہ ہو۔ عورتوں اور مردوں کا باہمی میل جول اور رُو در رُو گفتگو نہ ہو۔ بے تکلفی اور کسی رکاوٹ کے بغیر آمدورفت اور نشست و برخاست گناہ میں گرفتار کرنے کا ذریعہ ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مرد ایک عورت کے ساتھ تنہائی میں نہیں بیٹھے گا مگر ان کا تیسرا شیطان ہوگا۔ اسی وجہ سے قرآن و سنت میں پردے کے احکام آئے ہیں اور بغیر اجازت گھروں میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ عورت کو بن سنور کر بے پردہ کھلے عام پھرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ آج کل مغربی تہذیب کا دور دورہ ہے، فحاشی اور عریانی عام ہے۔ ریڈیو، ٹی وی، انٹرنیٹ اور فیس بُک پر عورت بے پردہ سامنے آتی ہے اور لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کرتی پھرتی ہے۔ یہ معاشرہ اسلام کی ضد ہے۔ اسلام شرم و حیا اور عفت و عصمت کا دین ہے۔ آج مسلمان ممالک مغرب کو متاثر کرنے اور ان میں اسلام کی عفت و عصمت اور شرم و حیا پر مبنی تہذیب کو فروغ دینے کے بجاے مغربی تہذیب کے دلدادہ ہوگئے ہیں اور اپنے ملکوں کو مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگنے پر فخر کرتے ہیں۔ اللہ ہدایت عطا فرمائے۔آمین!
سوال : سرکاری اہل کاروں کو جو نذرانے اور ہدیے اور تحفے ان کی طلب اور جبرواِکراہ کے بغیر کاروباری لوگ اپنی خوشی سے دیتے ہیں، انھیں ملازمت پیشہ حضرات بالعموم جائز سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ رشوت کی تعریف میں نہیں آتا۔ اس لیے یہ حلال ہونا چاہیے۔ اسی طرح سرکاری ملازموں کے تصرف میں جو سرکاری مال ہوتا ہے اسے بھی اپنی ذاتی ضرورتوں میں استعمال کرنا یہ لوگ جائز سمجھتے ہیں۔ میں اپنے حلقۂ ملاقات میں اس گروہ کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں مگر میری باتوں سے ان کا اطمینان نہیں ہوتا۔
جواب:ایک شخص یا اشخاص سے دوسرے شخص یا اشخاص کی طرف مال کی ملکیت منتقل ہونے کی جائز صورتیں صرف چار ہیں۔ ایک یہ کہ ہبہ یا عطیہ ہو برضا و رغبت۔دوسرے یہ کہ خریدوفروخت ہو، آپ کی رضامندی سے۔ تیسرے یہ کہ خدمت کا معاوضہ ہو، باہمی قرارداد سے۔ چوتھے یہ کہ میراث ہو، جو ازروے قانون ایک کو دوسرے سے پہنچے۔ ان کے ماسوا جتنی صورتیں انتقالِ ملکیت کی ہیں، سب حرام ہیں۔ اب دیکھنا چاہیے کہ جو روپیہ ایک افسر یا اہل کار کسی صاحب ِ غرض سے لیتا ہے، یا جو استفادہ وہ اس مال سے کرتا ہے جو دراصل پبلک کا مال ہے اور پبلک کاموں کے لیے اس کے تصرف میں دیا جاتا ہے، اس کی حیثیت کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ وہ خریدوفروخت اور میراث کی تعریف میں تو آتا نہیں۔ پھر کیا وہ ہبہ یا عطیہ ہے؟ اس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک سوال کا جواب کافی ہے۔ کیا یہ ہبہ یا عطیہ ایک اہل کار کو اس صورت میں بھی ملتا، جب کہ وہ اس منصب پر نہ ہوتا، یا پنشن پر الگ ہوچکا ہوتا۔ اگر نہیں تو یہ عطیہ یا ہبہ نہیں ہے کیونکہ یہ اس کے منصب کی وجہ سے اس کے پاس آرہا ہے نہ کہ کسی ذاتی تعلق یا محبت یا ہمدردی کی بناپر۔ اب کیا یہ ان خدمات کا معاوضہ ہے جو ایک اہل کار اپنے منصب کے سلسلے میں انجام دیتاہے؟ ظاہر ہے کہ یہ درحقیقت معاوضہ بھی نہیں ہے۔ معاوضہ تو صرف وہ تنخواہ اور الائونس ہیں جو ملازم ہونے کی حیثیت سے آدمی کو ملتے ہیں۔ ان کے ماسوا جو کچھ اہل کار اپنے فرائضِ منصبی ادا کرنے کے سلسلے میں حاصل کرتا ہے وہ یا تو خیانت ہے جو پبلک فنڈ میں سے کی جاتی ہے۔ یا ناجائز خدمات کا معاوضہ ہے جو شرائط ملازمت کے خلاف عمل کرنے کے بدلے میں آدمی کو ملتا ہے۔ یا جائز خدمات کا ناجائز معاوضہ ہے کیوںکہ شرائط ملازمت کے حدود میں رہتے ہوئے کام کرنے کا معاوضہ تو بشکل تنخواہ آدمی پہلے ہی لے چکا ہے، اس پر بھی مزید معاوضہ حاصل کرنا صریح طور پر حرام خوری ہے۔
یہ تو تھی اصولی بحث۔ اب دیکھیے کہ اس معاملے میں شرعی احکام کیا ہیں:
ابوحمید الساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرکاری ملازمین جو ہدیے وصول کرتے ہیں یہ خیانت ہے۔(مسند احمد)
ان ہی ابوحمید کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن اللتبیہ نامی ایک شخص کو قبیلہ ازد پر عامل بنا کر بھیجا۔ جب وہ وہاں سے سرکاری مال لے کر پلٹا تو بیت المال میں داخل کرتے وقت اس نے کہا کہ یہ تو ہے سرکاری مال، اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔ اس پر حضوؐر نے ایک خطبہ دیا اور اس میں حمدوثنا کے بعد فرمایا: ’’میں تم میں سے ایک شخص کو اس حکومت کے کام میں جو اللہ نے میرے سپرد کی ہے عامل بناکر بھیجتا ہوں تو وہ آکر مجھ سے کہتاہے کہ یہ تو ہے سرکاری مال اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ اگر یہ سچ ہے کہ لوگ خود ہدیے دیتے ہیں تو کیوں نہ وہ اپنے ابا اور اپنی اماں کے گھر بیٹھا رہا کہ اس کے ہدیے اسے وہیں پہنچتے رہتے؟(بخاری، مسلم ، ابوداؤد)
بُریدہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو ہم کسی سرکاری خدمت پر مقرر کریں اور اسے اس کام کی تنخواہ دیں، وہ اگر اس تنخواہ کے بعد اور کچھ وصول کرے تو یہ خیانت ہے۔(ابوداؤد)
ردیفع بن ثابت انصاری کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ یہ حرکت نہ کرے کہ مسلمان کے فَے (یعنی پبلک کے مال) میں سے ایک جانور کی سواری لیتا رہے اور جب وہ بیکار ہوجائے تو اسے پھر سرکاری اصطبل میں داخل کردے۔ اور جو شخص اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتا ہو اس کا یہ کام بھی نہیں ہے کہ مسلمانوں کے فَے میں سے ایک کپڑا برتے اور جب وہ پرانا ہوجائے تو اسے واپس کردے۔
عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی۔(ابوداؤد)
عدی بن عمیرۃ الکندی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جو شخص ہماری حکومت میں کسی خدمت پر مقرر کیا گیا اور اس نے ایک دھاگہ یا اس سے بھی حقیر تر کوئی چیز چھپاکر استعمال کی، تو یہ خیانت ہے جس کا بوجھ اُٹھائے ہوئے وہ قیامت کے روز حاضر ہوگا۔(ابوداؤد)
یہ ہیں اس مسئلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، اور یہ اپنے مدعا میں اتنے واضح ہیں کہ ان پر کسی تشریح و توضیح کے اضافے کی ضرورت نہیں۔ جو لوگ اپنی حرام خوری کے لیے طرح طرح کے حیلے اور بہانے پیش کرتے ہیں اور اسے اپنی زبانی چال بازیوں کے ذریعے سے حلال بنانے کی کوشش کرتے ہیں، آپ ان سے کہیے کہ اگر حرام کھاتے ہو تو کم از کم اسے حرام تو سمجھو، شاید کبھی اللہ اس سے بچنے کی توفیق دے دے۔ لیکن اگر حرام کو حلال بنا کر کھایا تو تمھارے ضمیر مُردہ ہوجائیںگے، پھر کبھی حرام سے بچنے کی خواہش دل میں پیدا ہی نہ ہوسکے گی۔ اور جب خدا کے ہاں حساب دینے کھڑے ہوگے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ حقیقت تمھارے بدلنے سے نہیں بدل سکتی۔ حرام حرام ہی ہے خواہ تم اسے حلال بنانے کی کتنی ہی کوشش کرو۔
پھر لوگوں سے کہیے کہ خدا اور آخرت اور حساب اور جزا و سزا، یہ سب تمھارے نزدیک محض افسانہ ہی افسانہ ہے، تب تو حلال و حرام کی بحث فضول ہے۔ جانوروں کی طرح جس کھیت میں ہریالی نظر آئے اس میں گھس جائو، اور جائز و ناجائز کی بحث کے بغیر کھائو جتنا کھایا جاسکے۔لیکن اگر تمھیں یقین ہے کہ اُوپر کوئی خدا بھی ہے، اور کبھی اس کے سامنے جاکر حساب بھی دینا ہے، تو ذرا اس بات پر بھی غور کرلو کہ آخر یہ حرام کی کمائی کس کے لیے کرتے ہو؟ کیا اپنے جسم و جان کی پرورش کے لیے؟ مگر یہ جسم و جان تو اس خدمت پر تمھارے احسان مند نہ ہوں گے بلکہ تمھارے خلاف خدا کے ہاں اُلٹا استغاثہ کریں گے کہ تو نے ہمیں اس ظالم کی امانت میں دیا تھا اور اس نے ہمیں حرام کھلاکھلا کر پرورش کیا۔ پھر کیا بیوی بچوں کے لیے کرتے ہو؟ مگر یہ بھی قیامت کے روز تمھارے دشمن ہوںگے، اور تم پر اُلٹا الزام رکھیں گے کہ یہ ظالم خود بھی بگڑا اور ہمیں بھی بگاڑ دیا۔ پھر آخر یہ عذابِ الٰہی کے خطرے میں اپنے آپ کو کس لیے ڈال رہے ہو؟ کون ہے جو اس ناجائز خدمت پر تمھارا احسان مند ہوگا؟ کس سے اس بے جا سعی پر صلے کی توقع رکھتے ہو؟ وہ غیرالٰہی نظامِ حکومت جس کے ایک جز کی حیثیت سے آپ لوگ کام کر رہے ہیں، بجاے خود ناپاک ہے۔ اس کی حیثیت بالکل خنزیر کے نظامِ جسمانی کی سی ہے جس کی بوٹی بوٹی اور رگ رگ میں حرام سرایت کیے ہوئے ہے۔ اس کے کل پرزے بن کر آپ لوگ پہلے ہی گناہِ عظیم میں مبتلا ہیں۔ اب اس پر خیانت اور رشوت اور باطل طریقوں کے ارتکاب کا اضافہ کر کے اپنے آپ کو کیوں مزید خطرے میں ڈالتے ہو؟ کیا کبھی موت آنی ہی نہیں ہے؟ یا مرنے کے بعد کوئی جاے پناہ تجویز کر رکھی ہے جہاں خدا کی پکڑ سے بچ جانے کی اُمید ہے؟ (سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، رسائل و مسائل، اوّل،ص ۷۸-۸۲)
س : کمپیوٹر میں جن پروگراموں پر کام کیا جاتا ہے وہ عموماً چوری شدہ ہوتے ہیں اور مفت میں دستیاب ہیں۔ یہ چوری شدہ پروگرام نیٹ پر بھی دستیاب ہیں اور کھلے عام سی ڈی میں بھی جن کی قیمت نہ ہونے کے برابر ہے، جب کہ جن افراد یا کمپنیوں نے یہ پروگرام بنائے ہوتے ہیں ان کا ان پر بہت وقت اور پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ مغربی ممالک میں ان کی اچھی خاصی قیمت وصول کی جاتی ہے اور وہاں کے لوگ چوری شدہ پروگراموں کو استعمال کرنے کو غیراخلاقی حرکت تصور کرتے ہیں۔ ان پروگراموں کے بغیر کسی کمپیوٹر پر کوئی کام نہیں ہوسکتا، لہٰذا ان کا استعمال ضروری ہے مگر ان کی قیمت بہت زیادہ ہے اور سب لوگ اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ ان کو خرید سکیں اور کمپنیوں اور بڑے اداروں کے لیے تو ان کے لائسنس بہت ہی مہنگے ہیں۔کیا یہ چوری میں شمار ہوگا؟
ج:چوری شرعاً اس چیز کی شمار ہوتی ہے جو کسی ایسی جگہ میں محفوظ ہو جس تک دوسرے آدمی کی رسائی نہ ہو۔ کمرے کا تالا یا بکس کا تالا توڑ کر اس میں سے چیز نکالی جائے۔ چونکہ چوری شدہ پروگرام بقول آپ کے نیٹ پر بھی دستیاب ہیں اور کھلے عام ان کی سی ڈیز بھی دستیاب ہیں اس لیے اس کے روکنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس لیے یہ چوری شمار نہ ہوگی۔ جن لوگوں نے یہ پروگرام تیار کیے ہیں اور وہ اس کی قیمت وصول کرنا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انھیں اپنے بس میں رکھیں کہ وہ جسے دینا چاہیں دیں اور جس سے روکنا چاہیں روکیں۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص ان پروگراموں کو کسی طرح سے بلاقیمت و بلااجازت لے گا تو وہ چور شمار ہوگا۔ اگر کمپیوٹر پروگرام تیار کرنے والے چاہتے ہوں کہ لوگ ان کی اجازت سے یہ پروگرام چلائیں اور اس کی قیمت بھی دیں تو اخلاقاً لوگوں کو ان سے اجازت بھی لینا چاہیے اور قیمت بھی ادا کرنا چاہیے، کیونکہ موجودہ دور میں کاپی رائٹ کے تحت ان کا یہ حق بنتا ہے۔(مولانا عبدالمالک)
س : ہمارے کچھ ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اعانت ِ جماعت، زکوٰۃ کی مَد سے ادا کی جاسکتی ہے، جب کہ کچھ کا موقف ہے کہ زکوٰۃ کے آٹھ مخصوص مصارف ہیں جنھیں سورئہ توبہ میں بیان کردیا گیا ہے اور اعانت ِ جماعت ان مصارف میں نہیں آتی۔ لہٰذا زکوٰۃ کی مَد سے اعانت ادا نہیں کی جاسکتی۔ براہِ مہربانی وضاحت فرما دیں۔
ج:جماعت اسلامی دین کی سربلندی کے لیے سرگرمِ عمل ہے اور دین کی سربلندی کے لیے کام کرنے والی جماعت مجاہد فی سبیل اللہ ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے جو آٹھ مصارف بیان کیے ہیں، ان میں ایک مصرف جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ لہٰذا جماعت کی اعانت میں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ اس میں کسی قسم کا تردّد نہیں کرنا چاہیے۔ واللّٰہ اعلم! (مولانا عبدالمالک)
حضرت انسؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین سے جہاد کرو اپنے مالوں، اپنی جانوں اور اپنی زبانوں سے۔ (ابوداؤد، نسائی، دارمی )
جہاد دین کی سربلندی اور کفروشرک کی پسپائی کے لیے پوری قوت صرف کر دینے اور تمام وسائل خرچ کردینے کا نام ہے۔ وسائل میں مال بھی ہے، جانیں اور زبان بھی ہے۔ زبان کے ذریعے کفروشرک کو علمی میدان میں شکست دینا ہے۔ علمی میدان میں شکست دیے بغیر حکومت، عدالت، تجارت، سیاست، معاشرت اور معیشت کسی بھی میدان میں شکست دینا ممکن نہیں ہے۔ زبان کے ذریعے جو علمی جہاد ہے، اس میں قلم و قرطاس اور لٹریچر بھی شامل ہے۔ ہفت روزہ، ماہوار اور روزانہ کی سطح پر رسائل و جرائد اور میڈیا میں کفروشرک کو شکست دینا لازم ہے اور یہ بڑا جہاد ہے کہ ہرقسم کے جہاد کی کامیابی اس جہاد میں کامیابی پر موقوف ہے۔ جو لوگ اس میدان میں جہاد کر رہے ہیں ان کے ساتھ ہرقسم کا تعاون کرنا جہاد فی سبیل اللہ میں تعاون کرنا ہے۔ آج کے زمانے میں ہم اس میدان میں پیچھے ہیں۔ کل گذشتہ میں ہم نے اپنے اسلاف کے ذریعے سوشلزم، کمیونزم اور سیکولرزم کو اس میدان میں شکست دی ہے۔ آج سرمایہ دارانہ نظام کی شکست باقی ہے۔ اس کی بھی بنیادیں کھوکھلی ہوچکی ہیں۔ دنیا نے سودی نظام کی ہلاکتیں اور تباہیاں دیکھ لی ہیں۔ اب وہ کسی اور نظام کی متلاشی ہے۔ اسلام کے علَم برداروں کے لیے سنہری موقع ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اسلامی نظام کی برکات دنیا پر واضح کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان ممالک میں انقلابِ اسلامی برپا ہو۔ مسلمانوں کو اس کی برکات ملیں۔ وہ عدل و انصاف اور خوش حالی کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں۔
٭
عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو آنکھیں ایسی ہیں کہ ان کو آگ نہیں چھوئے گی۔ ایک وہ آنکھ جس نے اللہ کی خشیت سے روتے ہوئے رات گزاری اور دوسری وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں رات کو پہرہ دیتی رہی۔(ترمذی)
یہ دونوں خوش قسمت اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے بیدار رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خشیت آدمی کو ہرقسم کے گناہوں سے بچاتی ہے اور اللہ کی راہ میں رات کو پہرہ دینا اسلام کو غالب کردینے کا ذریعہ ہے، اور اسلام کو غالب کر دینا اللہ تعالیٰ کو انتہائی محبوب ہے۔ اس لیے جو آدمی اللہ تعالیٰ کے محبوب نظام کو غالب کر دینے میں راتوں کو جاگے گا، تکالیف برداشت کرے گا تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوگا۔ جس طرح راتوں کو پہرہ دینا اور تکالیف برداشت کرنا اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کا ذریعہ ہے، اسی طرح کسی بھی شکل میں دن ہو یا رات، سردی ہو یا گرمی جو آدمی اللہ تعالیٰ کے دین کو سربلند کرنے میں مصروفِ عمل ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوگا۔ دعوت و تبلیغ، تعلیم و تربیت اور درس و تدریس ہر ایک کام کی بڑی فضیلت اور درجہ ہے اور احادیث میں اس کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ آدمی جس میدان میں بھی خدمات سرانجام دے سکے وہ اللہ کے ہاں مقام اور مرتبہ حاصل کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوجائے گا بشرطیکہ اخلاص و للہیت کے ساتھ اس کام کو کیا ہو، ریا، نمود ونمایش کی غرض نہ ہو۔
٭
حضرت عبداللہ بن حبشیؓ سے روایت ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: لمبا قیام، یعنی نماز میں زیادہ دیر کھڑے رہنا اور قراء ت کرتے رہنا۔ پھر کہا گیا کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: فقیر آدمی کا مشقت اُٹھا کر صدقہ کرنا۔ کہاگیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ان چیزوں سے ہجرت کرنا (یعنی ان چیزوں کو چھوڑ دینا) جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ پھر پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: جس نے مشرکوں سے اپنے مال اور جان سے جہاد کیا ۔ پھر پوچھا گیا: کون سا قتل سب سے افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: جس کا خون گرا دیا گیا اور اس کا عمدہ گھوڑا بھی مار دیا گیا۔ (ابوداؤد)
نماز، صدقہ، ہجرت، جہاد اور شہادت تمام عبادات اپنے اپنے دائرے میں افضل ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام کی فضیلت اور نوعیت بیان فرما دی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی راتوں کو اس قدر طویل قیام کیا کہ آپؐ کے قدموں پر وَرم آگیا اور صدقہ کا ایسا نمونہ پیش فرمایا کہ خود پیٹ پر پتھر باندھے اور اپنے صحابہ کرامؓ کو کھانا کھلایا۔ صحابہ کرامؓ نے بھی مہمانوں کو کھانا کھلایا اور خود بھوکے رات گزاری اور اپنے بچوں کو بھی بھوکا رکھا۔ ہجرت اور جہاد میں اپنی جانیں اتنی کھپا دیں کہ اللہ کے دین کو غالب کر دیا۔ ان کا جہاداور شہادتیں تمام جہادوں اور شہادتوں سے بلندتر درجہ پاگئے۔
٭
حضرت ابومالک اشعریؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا اور فوت ہوگیا، یا قتل کردیا گیا، یا اس کے گھوڑے اور اُونٹ نے اُسے گرا دیا اور اس کی گردن کو توڑ دیا، یا اسے سانپ نے کاٹ لیا اور وہ فوت ہوگیا، یا وہ اپنے بستر پر لیٹا ہوا اللہ کی مشیت سے فوت ہوگیا، جیسی موت اللہ تعالیٰ نے دینا چاہی د ے دی تو وہ شہید ہے اور اس کے لیے جنت ہے۔۔(ابوداؤد)
جو لوگ جہاد کے لیے نکلے، دین کی سربلندی کے کام میں لگ گئے، انھیں جس طرح سے بھی موت آئے ان کی موت شہادت کی موت ہے۔ دعوت و تبلیغ کے لیے، تحریک کے کام کے لیے، کسی پروگرام کی دعوت کے لیے نکلنے والے، جن کو بھی موت آجائے، کسی طرح سے وہ فوت ہوجائیں وہ تمام شہید ہیں کہ انھوں نے اپنی جان اللہ کی راہ میں دے دی۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ جو دین کی کسی بھی طرح کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں کہ ان کی موت شہادت کی موت شمار ہوگی!
٭
حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہادی مہم پر نکلے تو ایک آدمی ایک غار کے پاس سے گزرا جس میں کچھ پانی اور سبزہ تھا۔ اس نے سوچا کہ یہاں قیام کرلے اور دنیا سے الگ ہوجائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت طلب کی تو رسولؐ اللہ نے فرمایا: مجھے یہودیت اور نصرانیت کے ساتھ نہیں بھیجا گیا بلکہ آسان دینِ حنیف کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمدؐ کی جان ہے! صبح کے وقت تھوڑی دیر کے لیے اللہ کی راہ میں نکلنا اور شام کے وقت تھوڑی دیر کے لیے اللہ کی راہ میں نکلنا دنیاومافیہا سے بہتر ہے۔ اور تم میں سے ایک آدمی کا جہاد فی سبیل اللہ کی صف میں کھڑے ہونا ۶۰سال کی نماز سے افضل ہے۔(مسند احمد)
یہود و نصاریٰ نے دین میں تحریف کرکے یہودیت اور نصرانیت ایجاد کی اور نفس کُشی کو دین قرار دیا۔ غاروں میں بیٹھ جانا، اپنے نفس کو اذیت دینا اور کھانے پینے اور لباس، شادی جیسی راحتوں سے دُور رہنے کو دین بنا دیا، جس کے نتیجے میں تکلیفیں اُٹھانے کے ساتھ ساتھ گناہوں میں مبتلا ہوگئے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام گمراہیوں کا خاتمہ فرمایا اور انھیں آسان دین دے دیا، جس میں انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرلے اور اسے ایسی مشقت بھی نہ اُٹھانی پڑے جو بشری تقاضوں سے متصادم ہو۔ اس سے آسان نسخہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ صبح و شام تھوڑا سا وقت اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی میں صرف کیا جائے اور ایک رات جہادی صف میں گزاری جائے، لیکن ثواب۶۰سال کی نماز سے بھی بڑھ جائے۔ اسلامی تحریکات، دعوتِ دین کے اس عظیم کام کو پورے جوش اور ولولے سے لے کر آگے بڑھیں، اپنے درجات بڑھائیں۔ یہودیت اور نصرانیت شکست کھاچکی ہیں لیکن ان کے نام لیوا سیکولر حکمران دنیا میں مسلمانوں سے انتقام لے رہے ہیں۔ ان کے اقتدار کو ختم کرنے کے لیے، جہاد فی سبیل اللہ کی صفو ں کو مضبوط اور مستحکم کریں اور منظم جدوجہد کے ذریعے ان کے منصوبوں کو ناکام بنادیں۔
٭
حضرت صہیبؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ ہنس پڑے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: تم لوگ پوچھتے نہیں کہ میں کیوں ہنس پڑا؟ صحابہؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپؐ کیوں ہنس پڑے؟ آپؐ نے فرمایا: میں مومن کی خوش قسمتی کا تصور کر کے ہنس پڑا۔ مومن کو خوشی حاصل ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے تو اس پر اسے اجر ملتا ہے۔ مومن کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے تو اس پر اسے اجر ملتا ہے۔مومن کی ہر حالت اچھی ہے۔ مومن کے علاوہ کوئی دوسرا ایسا نہیں ہے کہ اس کی ہرحالت اچھی ہو۔ (مسند احمد)
ایمان اصل دولت ہے۔ ایمان جس قدر کامل ہوگا اسی قدر آدمی کی خوش قسمتی میں اضافہ ہوگا۔ لوگ اپنا بنک بیلنس بڑھانے میں لگے رہتے ہیں اور اس کو اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ جو جتنا زیادہ مال دار ہے اپنے آپ کو اتنا ہی خوش قسمت سمجھتا ہے لیکن اصل خوش قسمتی یہ ہے کہ آدمی ایمان کے تقاضوں کو پورا کرے، فرائض کو ادا کرے اور منکرات سے بچے۔ اس کے ساتھ اگر حلال دولت بھی کماتا ہے تو اس پر بھی اجر ہے اور اگر حلال دولت کمانے میں زیادہ کامیابی نہیں ہوتی تب بھی اس کے لیے کوشش پر اجر ہے۔ وہ نیکیاں کما رہا ہے اور اجر پا رہا ہے۔ دن کے ۲۴ گھنٹے اس کی کمائی جاری ہے۔ اس سے بڑھ کر خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ دنیا میں اطمینان ہو اور آخرت میں جنت الفردوس ٹھکانا ہو۔
حضرت ابوالدرداؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی رات کے وقت اپنے بستر پر لیٹے اس حال میں کہ نیت رکھتا ہو کہ رات کو اُٹھ کر نماز پڑھے گا لیکن اس پر نیند کا غلبہ ہوگیا اور وہ نماز کے لیے نہ اُٹھ سکا۔ اس نے نماز کی جو نیت کی وہ اس کے لیے لکھ دی جاتی ہے اور نیند اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صدقہ بن جاتی ہے۔ (نسائی، ابن ماجہ)
رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھنا بڑی فضیلت کا کام ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اسے اپنا معمول بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد کا حکم دیا،فرمایا: وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ق عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo(بنی اسرائیل ۱۷:۷۹) ’’اور اے نبیؐ، رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھیں یہ آپؐ کے لیے انعام ہے۔ اُمید ہے کہ آپؐ کا رب آپؐ کو مقامِ محمود پر فائز کرے گا‘‘۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ محمود پر اللہ تعالیٰ فائز فرمائیں گے۔ اگر ایک اُمتی آپؐ کی پیروی میں تہجد پڑھے گا تو اسے بھی بڑا مقام ملے گا۔ اس لیے تہجد کو معمول بنانا ہمیشہ سے نیک لوگوںکی عادت رہی ہے۔ ہمیں بھی نیک لوگوں کی صف میں شامل ہونا چاہیے۔ اگر کبھی تہجد رہ گئی نیند کے غلبے یا بیماری یا تھکاوٹ کے سبب نہ اُٹھ سکے تو بھی اللہ تعالیٰ تہجد کا اجر عنایت فرما دیں گے۔ اس حدیث میں تہجد کے لیے بڑی ترغیب ہے۔ تہجدکے بعد جو دعا کی جائے اس دعا کی قبولیت کی بھی زیادہ اُمید ہے۔ اپنی پریشانیوں اور حاجات کے حل کے لیے بھی اس گھڑی کی برکات سے فائدہ اُٹھایا جائے خصوصاً وہ لوگ جو دعوت الی اللہ کا کام کر رہے ہیں اور ماحول کی ناسازگاری سے انھیں طرح طرح کی مشکلات اور مصائب درپیش ہوتے ہیں۔ قیدوبند کی آزمایش سے بھی دوچار ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے تہجد کی گھڑی سنہری موقع ہے۔ وہ اپنے رب سے، جس کے ہاتھ میں کائنات کی باگ ڈور ہے اور وہ اپنی مخلوق کے بارے میں فیصلے فرماتا ہے، اس گھڑی میں رجوع کریں۔ اُس سے لَو لگائیں جس نے فیصلہ فرمانا ہے، اس سے اپنے حق میں فیصلہ کرانے کے لیے آہ و زاری کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رب تبارک و تعالیٰ رات کے آخری حصے میں آسمانِ دنیا پر اُترتے ہیں اور فرماتے ہیں: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے میں اس کی دعا کو قبول کروں گا۔ کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے کہ میں اس کی مغفرت کروں۔
٭
حضرت ابی کبشہ اعاریؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اُمت کا حال چار آدمیوں کے حال کی طرح ہے۔ ایک وہ آدمی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے علم بھی دیا ہے اور مال بھی دیا ہے۔ وہ اپنے مال میں اپنے علم کے مطابق تصرف کرتا ہے۔ دوسرا وہ آدمی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے علم تو دیا ہے لیکن مال نہیں دیا ۔ وہ یہ جذبہ رکھتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے مال دیا ہوتا تو وہ بھی اسی بھائی کی طرح اپنے مال میں تصرف کرتا۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا: یہ دونوں آدمی اجر میں برابر ہیں۔ تیسرا وہ شخص ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے علم نہیں دیا لیکن مال دیا ہے۔ وہ اپنے مال میں ناجائز تصرف کرتا ہے۔ اور چوتھا آدمی وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے علم بھی نہیں دیا اور مال بھی نہیں دیا۔ وہ یہ جذبہ رکھتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی اس آدمی کی طرح اس مال کو اڑاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں آدمی گناہ میں برابر ہیں۔ (ترمذی، احمد، ابن ماجہ )
مال اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، اسے جائز طریقے سے کمانا اور جائز کاموں میں صرف کرنا چاہیے۔ ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ مال دے دے تو وہ اسے صرف دنیا بنانے کے لیے استعمال نہ کرے بلکہ اس کے ذریعے اپنی آخرت بھی سنوارے۔ ایسا آدمی خوش قسمت ہے۔ اسی طرح وہ آدمی بھی خوش قسمت ہے جسے مال تو نہیں ملا لیکن اس کی نیت، عزم اور جذبہ یہ ہے کہ اسے مال ملتا تو وہ بھی اسے جائز کاموں میں صرف کر کے آخرت میں بلند مرتبہ حاصل کرتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق یہ شخص بھی اجرعظیم کا مستحق ہے۔ یہ بھی نیت اور جذبے سے اپنی آخرت بنارہا ہے۔ لیکن جو مال ناجائز کاموں میں خرچ کرتاہے وہ گنہ گار ہے، اور اسی کی طرح ناجائز کاموں میں مال صرف کرنے کا جذبہ رکھنے والا بھی گنہ گار ہے۔ فقرااور مساکین کے لیے اللہ تعالیٰ کا کتنا کرم ہے کہ وہ انھیں ان کے اچھے اور پاک جذبات کی بناپر نیک کاموں میں مال صرف کرنے والے امرا کے برابر ثواب عطا فرماتے ہیں۔ مال کمانے میں ناکامی کے باوجود آخرت کا اجر کمانے سے محروم نہیں ہیں۔ آج بے شمار لوگ ایسے ہیں جو فقیر اور مسکین ہونے کے باوجود اپنی آخرت بنا سکتے ہیں۔ انھیں چاہیے کہ نبی ؐ کے اس ارشاد کی روشنی میں اپنے دل و دماغ میں نیک جذبات کو پروان چڑھا کر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنا دامن بھر لیں۔
٭
حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رزقِ حلال کھایا اور سنت پر عمل کیا اور لوگ اس کی طرف سے آفتوں سے محفوظ رہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔(مستدرک حاکم)
تین باتوں پر مشتمل جامع نسخہ ہے۔ سارے دین کا خلاصہ بھی ہے۔ جب لوگ دوسرے کے مال پر حملہ آور ہوتے ہیں تو تصادم ہوتا ہے۔ آج افراد اور حکومتیں اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ اس بیماری کا علاج یہی ہے کہ ہر آدمی اپنے مال پر قناعت کرے اور دوسرے کے مال پر دست درازی نہ کرے۔ اس طرح جن چیزوں کے استعمال کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دے دیا ہے ان سے بچے، مثلاً شراب، جوا، رشوت اورسود وغیرہ۔ حرام ذرائع بھی انسانوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ پھر دوسری چیز یہ ہے کہ انسان کی عملی زندگی سیدھے راستے پر ہو اور اس کا کوئی عمل بھی راہِ راست سے ہٹا ہوا نہ ہو۔ اس کے لیے سنت ِ رسولؐ کا نسخۂ کیمیا موجود ہے، اور تیسرا یہ کہ لوگوں کو نقصان پہنچانے ، حقوق العبادکو تلف کرنے سے احتراز کیا جائے۔ انسانوں کا تمسخر اُڑانا، انھیںبُرے ناموں سے پکارنا، ان کی غیبت کرنا، ان پر بہتان لگانا، ان پر بے جا بدگمانی کرنا، فتنہ و فساد کا ذریعہ ہے۔ ان بُرائیوں کا انسداد ہو، آدمی ان میں ملوث نہ ہو تو پھر دخولِ جنت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں رہتی۔
٭
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھے آدمی ایسے ہیں کہ میں نے ان پر لعنت کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر لعنت کی ہے اور ہر نبی کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ پہلاآدمی وہ ہے جو اللہ کی کتاب میں اضافہ کرتا ہے۔ دوسرا وہ جو اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی تقدیر کو جھٹلاتا ہے۔ تیسرا وہ جومیری اُمت پر جبر سے مسلط ہوتا ہے، تاکہ ان کو ذلیل کرے جن کو اللہ تعالیٰ نے عزت دی ہے اور ان کو عزت دے جن کو اللہ تعالیٰ نے ذلیل کیا ہے۔چوتھا آدمی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرے، اور پانچواں وہ جو میری عترت (میری آل اور میرے پیروکاروں) کی عزت کو پامال کرے، اور چھٹا وہ جو سنت کا تارک ہو۔ (طبرانی)
اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اضافے اور کمی کی ناپاک کوششیں دشمنانِ اسلام نے ہر دور میں کی ہیں ، حتیٰ کہ آج کے دور میں قرآنِ پاک کا ایک نسخہ بھی شائع کیا، جس میں سے بہت سی سورتیں خارج کی گئیں لیکن یہ دشمنانِ اسلام اللہ اور اس کے رسولؐ کی لعنت کے مستحق ہوکر ناکام و نامراد ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے۔ فرمایا: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ o (الحجر ۱۵:۹)’’ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم خود ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں‘‘۔ چنانچہ اس میں آج تک زیروزَبر اور نقطے کا بھی فرق نہیں ہے۔ جہاں تک تقدیر کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے کائنات کو ایک نقشے کے مطابق بنایا ہے۔ اپنے آغاز سے لے کر انتہا تک ہر چیز طے شدہ ہے۔ اس نقشے میں یہ بھی طے شدہ ہے کہ انسان اپنے ارادے اور اختیار کا مالک ہے اور اپنی مرضی سے نیکی اوربدی کرے گا۔ چنانچہ انسان اپنی مرضی سے اسلام بھی لارہے ہیں اور کفر بھی کر رہے ہیں اور اپنے لیے جنت اور دوزخ خرید رہے ہیں۔ جابر حکمران ہر دور میں رہے ہیں اور آج بھی ہیں اور جبروظلم کرکے، نیک لوگوں کو ستاکر، اور بُرے لوگوں کو نواز کر اللہ تعالیٰ کی لعنت کو اپنے اُوپر مسلط کر رہے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنے والے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آل و اصحاب اور پیروکاروں کو ذلیل کرنے والے اور سنت رسولؐکے تارک بھی بڑے پیمانے پر سرگرمِ عمل ہیں۔ یہ سب لعنت کے مستحق ہیں اور اس وجہ سے اپنے تمام وسائل و ذرائع کے باوجود اُمت مسلمہ کو مٹانے اور اس کے مستقبل کو تاریک کرنے میں ناکام ہیں۔ اُمت مسلمہ میں اللہ تعالیٰ کے دین کے علَم بردار، مشکلات کے باوجود میدانِ عمل میں موجود ہیں اور کامیابی سے لادینیت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
٭
حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے بارے میں اللہ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں، اسے دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں۔(بخاری)
دین کی سمجھ کی علامت یہ ہے کہ آدمی نیک ہو اور نیک لوگوں کا ساتھی ہو۔ بُرائی سے اجتناب کرے اور بُروں کا ساتھ نہ دے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ نئی نسل کو یہ بات بچپن ہی سے سمجھا دی جائے اور ان کے ذہن میں اسے راسخ کردیا جائے تاکہ وہ دین کے قدردان بن کراپنی دنیا و آخرت کا بہترین سامان کرسکیں۔ نیز اچھی صحبت اپنائیں اور بُرے لوگوں اور بُری صحبت سے اجتناب کریں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے چار چیزیں دے دی گئیں تو اسے دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں دے دی گئیں: شکرگزار دل، ذکر کرنے والی زبان اور آزمایش پر صبر کرنے والا بدن، اور ایسی بیوی جو اپنے نفس اور شوہر کے مال میں خیانت نہ کرے۔(بیہقی، شعب الایمان)
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا شکر بہت اہم فریضہ ہے بلکہ پہلا فرض ہے جو انسان پر عائد ہوتا ہے۔ شکرگزاری کا جذبہ بیدار ہو تو پھر انسان اللہ تعالیٰ کی بندگی اور طاعت میں سستی نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت نہیں کرتا۔ ذکر کرنے والی زبان انسان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں اور احکام سے جوڑے رکھتی ہے کہ یہی ذکر ِ حقیقی ہے۔ جو آدمی زبان سے ذکر کرے لیکن اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے نہ بچے تو یہ ذکر اس کے منہ پر دے مارا جاتا ہے۔ پھر تیسری چیز صبر ہے۔ انسان ہرطرح کی تکالیف اور مصائب میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رہے، نافرمانی سے بچے اور واویلانہ کرے۔ صبر کی تصویر بن کر وقت گزارے۔ اس معاملے میں اس کی محسنہ اس کی بیوی ہوتی ہے جو عسرویسر کی ساتھی ہو اور اس کی پیٹھ پیچھے اپنے نفس کی حفاظت کرے اور اس کے مال کی بھی حفاظت کرے اور اسے بے فکر کردے۔ جب اسے گھر کی پریشانی نہ ہوگی تو سب تکلیفیں آسان ہوجائیں گی۔
٭
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے، نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: کون سا آدمی دوسروں سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: مَخْمُوْمُ الْقَلْبِ صَدُوْقُ اللِّسَانِ۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! صَدُوْقُ اللِّسَانِ (سچی زبان والا) کو ہم سمجھتے ہیں مَخْمُوْمُ الْقَلْبِ کا کیا مطلب ہے؟ آپؐ نے فرمایا: صاف دل جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو اور نہ ظلم و زیادتی، کینہ اور حسد کرتا ہو۔(مشکوٰۃ بحوالہ ابن ماجہ، بیہقی)
ایسا آدمی جس میں یہ صفات ہوں سب سے زیادہ فضیلت کیوں نہ رکھے جس نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی کوئی حق تلفی کی ہو نہ ہی مخلوق کی، اور مخلوق کو اس سے پوری طرح امن ہو۔ مسلمان کی صفت ہی یہ ہے کہ دوسرے مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ ہوں۔ یہ ظلم و زیادتی نہیں کرتا، کینہ نہیں رکھتا، حسد نہیں رکھتا۔ اس سے ہرمسلمان محفوظ و مامون ہے۔ اس پر اسلام کی تعریف بھی صادق آتی ہے اور ایمان کی تعریف بھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تزکیہ اور اسلام اور ایمان پر پورا اُترنے کے لیے جامع اور آسان نسخہ بتلا دیا۔ انسان اگر کوشش کرے کہ وہ پاک بازوں میں شامل ہوجائے، افضل لوگوں کے اندر اس کا شمار ہو، اور اسے اللہ تعالیٰ کا قرب اور ولایت حاصل ہوجائے، تو اسے چاہیے کہ ان اخلاقی امراض سے اپنے آپ کو بچائے۔ ہمیشہ سچ بولے، گناہ سے بچے اور لوگوں کے ساتھ حسد، بُغض اور کینہ نہ رکھے۔ خصوصاً نیک لوگوں کے لیے اپنے اخلاص اور محبت میں اضافہ کرے۔ نیک لوگوں کی محبت کی بھی احادیث میں بڑی فضیلت آتی ہے۔
٭
حضرت عبداللہ بن معاویہ عامریؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین کام ایسے ہیں جس نے کیے وہ ایمان کا مزہ چکھے گا۔ جس نے اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت اس عقیدے کی بنیاد پر کی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور خوش دلی سے ہرسال اپنے مال کی زکوٰۃ دی۔ یہ دو باتیں آپؐ نے ارشاد فرمائیں تو ہم نے پوچھا: یارسولؐ اللہ! وہ اپنے نفس کا تزکیہ کس طرح کرے؟ آپؐ نے فرمایا: یہ عقیدہ رکھے کہ جہاں آدمی ہے وہاں اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے۔ (مسند بزار)
حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کا سب سے افضل درجہ یہ ہے کہ تو یہ جانے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو۔ (طبرانی)
ایمان، عبادت خصوصاً زکوٰۃ کے ساتھ یہ سوچ کہ اللہ تعالیٰ آدمی کے ساتھ ہے،انسان کو ہرقسم کے گناہ سے بچاتا اور ہرنیکی پر آمادہ کرتا ہے۔ ایک مومن جو اللہ تعالیٰ کو واحد خالق و مالک اور معبود و حاکم مانے، اور اللہ تعالیٰ کو حاضروناظر بھی جانے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے وہ کیسے بدکاری اور خباثت کرے، رشوت اور سود لے، بے گناہ کو قتل کرے اور ظالم کی مدد کرے۔ یہ بُرائیاں ایک انسان اسی وقت کرسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ سے اور آخرت سے غافل ہو۔ نفس کے تزکیے کا یہ ایسا نسخہ ہے کہ صحابہ کرامؓ نے اسے استعمال کیا اور دنیا کے پاک باز ترین انسان قرار پائے۔ راتوں کو اللہ کی عبادت اور دن کو گھوڑوں کی پشت پر سوار ہونا ان کی امتیازی صفت ہے۔ انھوں نے اللہ کے دین کی خاطر جانیں اور مال یوں نچھاور کیے کہ گویا وہ جنت اور دوزخ کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہوں۔ انھیں میدانِ جنگ میں جنت کی خوشبو آتی تھی۔ اس لیے جان دینا ان کے لیے آسان ترین کام تھا۔ آج ہمیں اپنی جانوں کی فکر ہے اور دنیا کی ہوس، جو اللہ تعالیٰ کو حاضروناظر جاننے کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہے۔ اگر ہم اپنے تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے اس نسخۂ کیمیا کو اپنا لیں تو بے شک ساری مشکلات حل ہوجائیں گی اور آخرت بھی سنور جائے گی۔
٭
حضرت عیاض بن حمار مجاشعیؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تواضع سے پیش آئو! کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور کوئی کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرے۔ (مسلم، مشکوٰۃ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کو پیش نظر رکھا جائے تو معاشرے میںانس و محبت کا دور دورہ ہوجائے۔ جب ہر کوئی دوسرے سے اپنے آپ کو چھوٹا سمجھے اور کسی پر فخر نہ کرے اور کسی کے ساتھ زیادتی سے بھی پیش نہ آئے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ لوگ آپس میں متصادم اور برسرِپیکار ہوں۔ اس کے برعکس ہر ایک دوسرے کا ہمدرد و غم گسار ہوگا اور دوسرے کی مصیبت میں اس کے کام آنے والا ہوگا جس کے نتیجے میں باہمی محبت میں اضافہ ہوگا۔ آج معاشرے کو اس ہدایت کی سخت ضرورت ہے۔
٭
حضرت شداد بن الھادؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ایمان لایا اور پیروی کا عہد کیا اور کہا کہ میں آپؐ کے ساتھ ہجرت کرنا چاہتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اس چاہت کو منظور فرمایا اور اسے اپنے بعض صحابہؓ کے حوالے کیا اور انھیں اس کی خیرخواہی، دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت کی وصیت کی۔ جب غزوئہ خیبر پیش آیا تو وہ اس غزوے میں اپنے ساتھیوں سمیت شریک ہوا۔ خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مالِ غنیمت ملا۔ آپؐ نے مالِ غنیمت تقسیم کیا تو اس دیہاتی کو جو ایمان لاکر آپؐ کے پاس مدینہ طیبہ میں آگیا تھا اور پھر وہ غزوئہ خیبر میں بھی شریک ہوا تھا، غنیمت میں سے حصہ دیا۔ اس کا حصہ اس کے ساتھیوں نے جن کے ساتھ وہ رہتا تھاحاصل کیا تاکہ اس تک پہنچا دیں۔ وہ اس وقت ان کی سواریوں کو چراگاہ میں لے کر گیا ہوا تھا اور انھیں چرانے کی ذمہ داری ادا کر رہا تھا۔
جب اسے مالِ غنیمت دیا گیا تو اس نے پوچھا: یہ کیا چیز ہے؟ ساتھیوں نے کہا: یہ مالِ غنیمت میں سے تیرا حصہ ہے۔ وہ رسولؐ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں نے اس کی خاطر آپؐ کی اتباع نہیں کی تھی۔ میں نے تو آپؐ کی پیروی اس لیے کی ہے تاکہ میرے گلے میں تیر لگے (اپنے گلے کی طرف اشارہ کرکے کہا) اور میں شہید ہوکر جنت میں داخل ہوجائوں۔ آپؐ نے اس کی یہ بات سنی تو فرمایا: اگر تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچ کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی تیرے ساتھ سچ کرے گا۔ اس کے بعد پھر جنگ کا معرکہ برپا ہوا۔ مسلمان میدانِ قتال میں نکلے تو وہ بھی چل پڑا، لڑا اور گلے میں تیر کھاکر شہید ہوگیا۔ اسے آپؐ کے پاس اُٹھا کر لایا گیا ۔ اسے دیکھ کر آپؐ نے پوچھا: یہ وہی ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! یہ وہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچ کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس کے ساتھ سچا معاملہ فرمایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے جُبہ میں کفنایا، پھر اس کی میت کو اپنے سامنے رکھا اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ نماز میں اس کے حق میں آپؐ نے جو دُعائیہ کلمات کہے ان میں سے یہ کلمات بلند آواز میں فرمائے: اَللّٰھُمَّ ھَذٰا عَبْدُکَ خَرَجَ مُجَاہِدًا فِیْ سَبِیْلِکَ فَقُتِلَ شَہِیْدًا وَاَنَا عَلَیْہِ شَہِیْدٌ، ’’اے اللہ!یہ تیرا بندہ ہے، تیری راہ میں جہاد کے لیے نکلا تھا، شہید ہوگیا۔ مَیں اس کی گواہی دیتا ہوں‘‘۔(بیہقی)
جسے اللہ تعالیٰ، اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے دین کے ساتھ عشق و محبت ہوجائے تو پھر یہ عشق و محبت اسے اللہ تعالیٰ کی بندگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و پیروی اور جہاد کے لیے کھڑا کردیتے ہیں۔ دیہاتی ایمان لایا اور پھر آپؐ کے ساتھ رہنے اور جہاد میں حصہ لینے کا عزم کرلیا۔ مالِ غنیمت پر اس کی نظر نہیں بلکہ جامِ شہادت نوش کرنے کا ولولہ ہے۔ اس نے اپنی مراد حاصل کرلی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ اعزازبخشا کہ اپنے جُبہ میں کفنایا اور پھر اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اس کے صدق اور شہادت کی اللہ کے ہاں گواہی دی۔ صحابہ کرامؓ کے انھی جذبات نے دنیا کو اسلام کی طرف کھینچا اور اسے دنیا کے کونے کونے میں پہنچا دیا۔ آج بھی اسی قسم کے جذبے سے سرشار اہلِ ایمان جاں بازی اور جاں نثاری کے نمونے پیش کر رہے ہیں۔ تکالیف اور مصائب سے دوچار ہیں لیکن ان کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آتی۔ یہی لوگ اللہ والے ہیں اور یہی اللہ کو پیارے ہیں اور انھی جیسا بننے کی طلب اور تڑپ پیدا کرنی چاہیے۔
حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ ماہِ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا۔ اس میں آپؐ نے فرمایا:لوگو! تم پر ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے۔ مبارک مہینہ، وہ مہینہ جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے کو فرض اور رات کے قیام کو نفل قرار دیا ہے۔ جس نے اس میں بھلائی کا نفلی کام کیا گویا اس نے ایک فرض ادا کیا اور جس نے ایک فرض ادا کیا گویا اس نے دوسرے مہینے میں ۷۰فرض ادا کیے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ اور غم خواری کا مہینہ ہے اور وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جس نے اس میں روزے دار کو افطار کرایا، یہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ ہوگا اور اس کی گردن آگ سے آزاد ہوگی اور اسے روزے دار کے روزے کے مثل اجر بھی ملے گا بغیر اس کے کہ اس کے اجر میں کوئی کمی ہو۔ ہم نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ہم میں سے ہر آدمی کے پاس افطار کے لیے سامان نہیں ہوتا جس سے روزے دار کو روزہ افطار کرائے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: یہ ثواب اللہ تعالیٰ اس آدمی کو بھی دیتے ہیں جو دودھ کے گھونٹ پر اور پانی کے گھونٹ پر افطار کرائے، اور جس نے روزے دار کو سیر کیا اسے اللہ تعالیٰ میرے حوض سے پانی پلائے گا جس کے بعد اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کا پہلا عشرہ رحمت ہے، درمیانی عشرہ مغفرت ہے اور آخری عشرہ دوزخ کی آگ سے آزادی ہے۔ جس نے اس مہینے میں اپنے مملوک کے کام میں تخفیف کی اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور دوزخ کی آگ سے اسے آزاد کردے گا۔ (بیہقی فی شعب الایمان)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بطورِ خاص خطاب فرمانا، اپنی جگہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ صحابہ کرامؓ جیسے عبادت گزار گروہ کو رمضان میں عبادت پر اُکسانا اور انھیں ترغیب دینا اس بات کی دلیل ہے کہ دوسرے مسلمان تو بدرجہ اولیٰ اس بات کے مستحق ہیں کہ انھیں ترغیب دی جائے کہ وہ اس ماہِ مبارک کو اپنے لیے غنیمت جانیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فضیلت اور ہدایات کے جتنے پہلو تھے وہ اپنے اس خطاب میں ارشاد فرما دیے۔لیلۃ القدر کا تذکرہ، پھر نفل کا ثواب فرض اور فرض کا ۷۰ فرضوں کے برابر اجر، صبر کا مہینہ ، غم خواری کا مہینہ، وہ مہینہ جس میں مومن کا رزق زیادہ کیا جاتا ہے۔ خلقِ خدا کے ساتھ احسان اور ان سے بوجھ کی تخفیف کا اجر، افطار کا اجر، رحمت کا مہینہ، مغفرت کا مہینہ، آگ سے آزادی کا مہینہ، یہ سب فضائل آپؐ نے بیان فرما دیے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی آگے بڑھ کر عبادت میں منہمک نہ ہو اور اپنی مغفرت کا سامان نہ کرے تو وہ بہت بڑا بدنصیب ہوگا۔ اہلِ ایمان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عظیم الشان وعظ کو حرزِ جاں بنا لینا چاہیے اور قربِ الٰہی کے حصول پر کمرکَس لینی چاہیے۔
٭
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔ ایک روایت میں جنت کے دروازے کی جگہ رحمت کے دروازے کے الفاظ آئے ہیں۔ (بخاری، مسلم)
رمضان المبارک میں قرآن پاک نازل کیا گیا۔ اسی سبب سے رمضان المبارک کے مہینے کو رب تعالیٰ کی بندگی کے لیے تربیت کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ اس مہینے میں اہلِ ایمان قرآن پاک کے نظام کو اپنی زندگیوں کا جزو بنانے کے لیے تربیت حاصل کرتے ہیں۔ اس تربیت کا محور نفسانی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع کرنا ہے۔ نفس کھانے پینے اور جنسی خواہش کو پورا کرنے پر اُکساتا ہے تو ایک مومن اپنے نفس کی ان خواہشات کو پورا کرنے کے بجاے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔ وہ صبح کے طلوع ہونے کے بعد سے لے کر غروبِ شمس تک اپنی خواہشات کو روکتا ہے اور غروبِ آفتاب کے بعد سے سحری تک ان جائز خواہشات کو پورا کرتا ہے۔ پورا مہینہ ایسا کرکے وہ اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کے لیے تیار کرتا ہے۔ جو اہلِ ایمان اس نسخے کو اپناتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے ان کاموں کو آسان کردیتا ہے، جو شیطان کا مقابلہ کرتے ہیں اور اپنے نفس کو شیطان کے حوالے کرنے کے بجاے اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے حوالے کرتے ہیں اور دین کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں شیطان کے شر سے محفوظ فرماتے ہیں، شیطانوں کو ان کی طرف رُخ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ وہ ان کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے وہ نیکیاں کماتے اور بُرائیوں سے بچتے ہیں اور ان کے لیے شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور جنت کے دروازے ان کے لیے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔
یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ شیطان کو بیڑیاں ان کی طرف جاتے وقت پہنا دی جاتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بندگی میں مصروف ہیں اور شیطان کے دشمن ہیں۔ رہے وہ لوگ جنھوں نے اپنی باگ ڈور شیطان کے ہاتھ میں دی ہوئی ہے، وہ شیطان اور شیطانی نظاموں کے اسیر ہیں، ان کے لیے شیطان رمضان المبارک میں بھی اسی طرح آزاد ہوتے ہیں جس طرح ہرمہینے میں آزاد ہوتے ہیں۔ پھر جو لوگ رمضان المبارک میں دن کو روزے رکھتے ہیں اور رات کو تراویح میں قرآن پاک سنتے ہیں، یہ صرف رمضان المبارک میں نہیں بلکہ بعد میں بھی نیکی کو اپنا معمول بناتے ہیں اور بُرائی سے اجتناب کرتے ہیںاور اللہ تعالیٰ کے دین کو اپنے اور معاشرے پر نافذ کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کے نفس کا تزکیہ اور اصلاح ہوجاتی ہے جو رمضان المبارک کے بعد ۱۱ مہینے انھیں کام دیتی ہے۔ اس طرح وہ پورا سال اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو یاد کرتے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ تزکیۂ نفس کا یہ قرآنی نسخہ ہرخاص و عام کے لیے ہے۔ یہ نسخہ صحابہ کرامؓ اور تابعین، تبع تابعین ، ائمہ مجتہدین اور اولیاے کرام نے استعمال کیا اور اللہ تعالیٰ کے قرب اور تزکیۂ نفس کی اس بلندی پر فائز ہوئے جس پر بعد میں آنے والوں میں سے صرف وہی لوگ پہنچ سکتے ہیں جو تزکیۂ نفس اور قرب الٰہی کے اس نسخے کو استعمال کریں۔ آج لوگوں نے ولایت، تزکیۂ نفس اور قربِ الٰہی کے لیے جو نسخے اپنے پاس سے ایجاد کیے ہیں وہ بے کار اور غیرمؤثر بلکہ مضر ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے نسخے کے مقابلے میں وضع کیے گئے ہیں۔ اگر اس طرح کے لوگوں کی سیرتوں کو دیکھا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ وہ سیدھے راستے سے بھٹکے ہوئے اور شیطان کی زنجیروں میں جکڑ دیے گئے ہیں۔
٭
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے ہرعمل کا ثواب ۱۰گنا سے ۷۰۰ گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کی جزا دوں گا۔ وہ اپنی چاہت اور کھانے کو میری خاطر چھوڑتا ہے۔ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی روزے کے افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ روزے دار کے منہ کی ’بو‘ اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے اور روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو چاہیے کہ وہ بے ہودہ اور فحش باتیں نہ کرے اور شوروشغب سے بھی احتراز کرے، اور اگر کوئی دوسرا اس سے گالی گلوچ اور جھگڑا کرے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔ (بخاری، مسلم)
اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ وہ ایک نیکی کا کم از کم بدلہ ۱۰ گنا دیتے ہیں اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ عنایت فرماتے ہیں۔ بعض افراد کو ان کے اخلاص اور خشوع و خضوع کی بدولت ۷۰۰ گنا بلکہ اس سے زیادہ بھی عطا فرما دیتے ہیں۔ روزے دار اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوتا ہے اور اس کے منہ کی بو بھی اللہ تعالیٰ کو کستوری اور مشک سے زیادہ پسند ہے۔ روزہ دنیا میں گناہوں سے بچانے اور شیطان کے وار سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے اور آخرت میں دوزخ سے بچائو کا ذریعہ ہے۔ اس لیے روزے دار کو گناہوں اور لڑائی جھگڑوں سے بچنا چاہیے تاکہ روزے میں کوئی نقص نہ پیدا ہو۔ روزے میں بھوک اور پیاس کے سبب طبیعت میں خشکی بھی پیدا ہوجاتی ہے اور بعض اوقات آدمی کو لوگوں کی باتوں پر غصہ بھی آجاتا ہے۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ خاص لڑائی جھگڑے سے روکا ہے۔ روزہ داروں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت کو بطورِ خاص ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے اور اس معاملے میں اپنے نفس کو طیش میں آنے سے پوری طرح روکنے پر متوجہ رہنا اور اس سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ رمضان المبارک اس لحاظ سے امن و امان کا معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔ جو لوگ لڑائی جھگڑوں اور قتل و قتال میں مصروف ہیں اور روزے بھی رکھتے ہیں ان کا روزہ بے معنی ہے اور شیطان کا دھوکا ہے۔ وہ شیطان کی پیروی بھی کر رہے ہوتے ہیں اور روزہ بھی رکھتے ہیں۔ ان کا روزہ بھوک پیاس سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو جھوٹی بات کو نہیں چھوڑتا، جھوٹ پر عمل سے باز نہیں آتا تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں ہے کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
٭
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے ایمانی جذبے اور ثواب حاصل کرنے کی نیت سے رکھے اس کے پچھلے گناہوں کی بخشش کردی گئی، جس نے رمضان کی راتوں میں ایمانی جذبہ اور ثواب حاصل کرنے کی نیت سے قیام کیا اس کے پچھلے گناہوں کی بخشش کردی گئی اور جس نے لیلۃ القدر میں ایمانی جذبے اور ثواب حاصل کرنے کی نیت سے قیام کیا اس کے پچھلے تمام گناہوں کی بخشش کردی جائے گی۔ (بخاری، مسلم)
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! مجھے کسی ایسے عمل کی رہنمائی فرمایئے جس پر عمل کر کے ایک بندہ سیدھا جنت میں داخل ہوجائے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ پر ایمان لے آئے۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ایمان کے ساتھ کوئی عمل بھی بتلا دیجیے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسے جو رزق دیا ہے اس میں سے کچھ دوسروں کو بھی دیا کرے۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! اگر وہ فقیر ہو، اس کے پاس کچھ نہ ہو، تو آپؐ نے فرمایا: اپنی زبان سے بھلی بات کہے۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ!اگر وہ زبان کے ذریعے مافی الضمیر ادا کرنے سے عاجز ہو تو پھر کیا کرے؟ آپؐ نے فرمایا: وہ بے بس آدمی کی اعانت کرے۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! اگر وہ ضعیف ہو، قدرت نہ رکھتا ہو، تو آپؐ نے فرمایا: اس کے لیے کام کرے جو کام کو نہیں جانتا۔ میں نے عرض کیا: اگر وہ خود بھی کوئی کام نہ جانتا ہو، تو اس پر آپؐ نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ تم یہ چاہتے ہو کہ تمھارے دوست کے پاس کسی قسم کی بھلائی نہ ہو، اس کے پاس مذکورہ چیزیں نہ ہوں، تو کم از کم وہ لوگوں کو کوئی تکلیف نہ دے۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! یہ سارے کام تو آسان ہیں (یعنی جس آدمی کے پاس ان کاموں کو کرنے کی قدرت ہے اس کے لیے تو یہ کام معمولی ہیں، بالکل آسان ہیں)۔ پھر ان تھوڑے سے کاموں کی بنا پر وہ جنت میں چلاجائے گا؟ اس پر ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، جو آدمی بھی ان خصلتوں میں سے کسی ایک خصلت کو اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے کی نیت سے کرے گا، مَیں قیامت کے روز اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر سیدھا جنت میں داخل کروں گا۔ (ابن حبان)
ایک مومن کا پہلا کام تو اپنے ایمان کو زندہ اور قوی کرنا ہے۔ ایمان قوی ہوگا تو پھر اس کے لیے سارے کام آسان ہوجائیں گے۔ اگر جسمانی عوارض کی وجہ سے وہ ایسا کام نہ کرسکے جس کے لیے جسمانی قوت کی ضرورت ہے تو کوئی دوسرا کام کرے جس کی قوت رکھتا ہو۔ اگر کوئی مثبت کام اور خدمت کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو تو کم از کم اتنا تو کرسکتا ہے کہ لوگوں کو تکلیف نہ دے اور اس کام کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرنے کی نیت کرے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یہ چھوٹا کام بھی چھوٹا نہ رہے گا بڑا شمار ہوگا، جس نے ساری زندگی اس صفت کو اپنائے رکھا وہ نیکیوں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کرلے گا۔ اللہ تعالیٰ کے نبیؐ کا وہ محبوب ہوگا کہ اپنے ایمان کو بھی مضبوط کیا اور خلقِ خدا کو کوئی تکلیف بھی نہ دی۔ کمالِ ایمان کی بدولت وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کی نعمت سے بھی سرفراز ہوا اور خلقِ خدا کی خیرخواہی اور اس کو اذیت سے بچانے کے سبب بھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا۔ پھر جو آدمی خود خلقِ خدا کو اذیت سے بچاتا ہے وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ کوئی دوسرا بھی کسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔ اسے اس کی اس نیت کا ثواب بھی ملتا ہے۔ تب وہ جنت کا ہرپہلو سے مستحق ہوجاتا ہے۔ یہ حدیث ایک طرف اللہ تعالیٰ کے بے پناہ فضل و کرم کا نمونہ پیش کرتی ہے اور دوسری طرف بندوں کو بندگی کا حوصلہ اور ہمت بھی دیتی ہے کہ وہ جس حال میں بھی ہوں اللہ تعالیٰ کی بندگی کی کسی نہ کسی صورت کو عملی جامہ پہناکر جنت میں جاسکتے ہیں اور دنیا میں معاشرے کے لیے باعث خیروبرکت کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔
٭
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے کسی گناہ کا واویلا کرتا ہوا حاضر ہوا۔ وہ کہہ رہا تھا: ہاے میرا گناہ، ہاے میرا گناہ! دو مرتبہ یا تین مرتبہ یہ کلمات کہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اس طرح سے کہو: اَللّٰھُمَّ مَغْفِرْتُکَ اَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِی وَرَحْمَتُکَ اَرْجٰی عِنْدِیْ مِنْ عَمَلِی’’اے اللہ! تیری بخشش میرے گناہوں سے زیادہ کشادہ ہے اور تیری رحمت سے مجھے اپنے عمل کے مقابلے میں زیادہ اُمید ہے‘‘۔ اس نے ایک مرتبہ یہ کلمات کہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ کہو۔ اس نے دوبارہ کہے تو آپؐ نے فرمایا: پھر کہو تو اس نے تیسری بار بھی یہ کلمات کہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: کھڑے ہوجائو اور چلے جائو۔ اللہ تعالیٰ نے تجھے معاف کردیا ہے۔ (مستدرک حاکم)
بندہ صدقِ دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرما لیتے ہیں۔ ایک مومن گناہ کر کے اس پر قائم نہیں رہتا بلکہ فوراً توبہ کرتا ہے۔ توبہ کرنا مومن کی صفت ہے۔ اس لیے گناہ کے بعد مومن کو پریشانی لاحق ہونی چاہیے۔ وہ ذات جس کی نعمتوں میں انسان گھرا ہوا ہے، اس کی نافرمانی کوئی معمولی جرم نہیں ہے بلکہ ایمان کو ضعف پہنچانے والی بیماری ہے۔ بیماری کو آغاز میں روکنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اگر غفلت برتی جائے اور بیماری کا علاج نہ کیا گیا تو بڑھتے بڑھتے وہ کینسر کی شکل بھی اختیار کرسکتی ہے اور پھر لاعلاج ہوکر موت سے ہم کنار کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔ یہی حال گناہ کا بھی ہے۔ گناہ کا بھی تدارک نہ کیا جائے تو وہ بڑھتے بڑھتے آدمی کے لیے روحانی موت کا باعث بن جاتا ہے۔ دل پر مہر لگ جاتی ہے۔ آنکھ، کان پر پردے پڑ جاتے ہیں، دماغ صحیح اور غلط میں تمیز کرنے سے عاجز ہوجاتا ہے۔ اس وقت کے آنے سے پہلے گناہ کے وبال سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اپنے کیے پر نادم ہونا اور آیندہ کے لیے گناہ کے ارتکاب سے دامن کو بچانا اور سابقہ گناہوں سے مسلسل استغفار کرتے رہنا گناہ کے اثر کو مٹا دیتا ہے۔
٭
حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَیں اپنی مرضی سے نہ تمھیں دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں۔ میں تو تقسیم کرنے والا ہوں۔ مَیں وہاں دیتا ہوں جہاں مجھے دینے کا حکم دیا گیا ہو۔(بخاری)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ،اللہ کے نبی اور رسولؐ ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ صاحب ِ اختیار حاکم بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے خزانے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خزانوں کی تقسیم میں اپنی مرضی نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق انھیں تقسیم کیا۔ یوں مسلمان حکمرانوں کے لیے ایک عظیم الشان قابلِ تقلید نمونہ پیش فرمایا کہ جب میں اللہ تعالیٰ کا نبی اور رسول اورمعصوم عن الخطا ہوکر حق داروں کو ان کے حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہوں، توکسی دوسرے کے لیے اس بات کی کیا گنجایش رہ جاتی ہے کہ وہ اللہ کے مال میں خیانت کرے، حق داروں کی حق تلفی کرے اور اپنے خاندانوں کو نوازے۔
٭
حضرت سلمانؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا تمھارا رب شرمانے والی اور کرم کرنے والی ذات ہے۔ وہ اس بات سے شرماتا ہے کہ بندہ اس سے دونوں ہاتھ اُٹھاکر دعا مانگے اور وہ اس کے ہاتھوں کو خالی لوٹا دے۔(ترمذی)
اللہ تعالیٰ بے نیاز ذات ہے اسے بندوں سے کسی بھی قسم کی کوئی حاجت نہیں ہے بلکہ وہ بندوں کی حاجات پوری کرنے والا ہے۔اس نے بن مانگے بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ پھر وہ مانگنے پر خوش ہوتا ہے اور عطا بھی فرماتا ہے۔ بندہ جب اخلاص سے بیدار دل کے ساتھ اس سے ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگے تو وہ ضرور عنایت فرماتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ بے نیاز اور بے غرض ہونے کے باوجود بندوں سے شرم کرتا ہے تو بندوں کو بدرجۂ اولیٰ اللہ تعالیٰ سے شرم کرنی چاہیے اور اس کے کسی حکم کی خلاف ورزی سے بچنا چاہیے۔ حدیث میں حیا کو ایمان کے عظیم الشان شعبوں میں سے ایک بڑا شعبہ قرار دیا گیا ہے۔
آج ہم پر فرض ہے کہ اپنے معاشرے کو ’حیا‘ کی زینت سے مزین کر کے اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لیے تیار کریں۔ معاشرے سے بے حیائی کی تمام شکلوں کا خاتمہ کردیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ’حیا‘ کرنے کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کیا جائے، دعوت و تبلیغ کا بڑے پیمانے پر اہتمام کیا جائے۔
٭
حضرت ابی مالک اشعریؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے باہر سے اندر اور اندر سے باہر نظر آتا ہے (موتیوں کے بنے ہوئے شیش محل کے بالاخانے ہیں) ۔ یہ بالاخانے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے تیار کیے ہیں جو نرم گفتگو کریں۔ لوگوں کو کھانا کھلائیں اور مسلسل روزے رکھیں اور راتوں کو نمازیں پڑھیں، جب کہ دوسرے لوگ سوئے ہوئے ہوں۔ (بیہقی فی شعب الایمان)
نرم گفتگو آدمی کو اللہ تعالیٰ کے قریب اور خلقِ خدا کے لیے پُرکشش بناتی ہے۔ یہ حُسنِ اخلاق کی وہ صفت ہے جو اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس شان کا اپنے کلام پاک میں ان الفاظ میں تذکرہ فرمایا ہے: فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَ لَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ (آلِ عمرٰن۳:۱۵۹) ’’ (اے پیغمبرؐ!) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ اگر کہیں تم تندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گردوپیش سے چھٹ جاتے‘‘۔
اسی طرح مہمان نوازی اور روزے رکھنا اور راتوں کو اُٹھ کر تہجد پڑھنا، اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں کے اخلاقِ حسنہ کا حصہ ہیں، خصوصاً انبیاے علیہم السلام۔ چنانچہ انبیاے علیہم السلام کے پیروکار اہلِ ایمان جنھوں نے نیکی اور تقویٰ میں مقام پیدا کیا، انھوں نے ان تمام صفات کو اپنایا۔ بخل اور تقویٰ کا آپس میں تضاد ہے۔