مولانا عبد المالک


حضرت ابوبکرہؓ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے اس حال میں کہ وہ غصے میں ہو۔ اس روایت کے بعض راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ حاکم کے لیے مناسب نہیں کہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ (ابن ماجہ)

غصے میں ایک فرد‘ ایک جج‘ ایک حاکم‘ ایک پارٹی جو فیصلہ کرے گی وہ عدل و انصاف اور اعتدال و توازن سے خالی ہوگا۔ غصے میں طلاق دے کرشوہر پچھتاتا ہے۔ غصے کے نتیجے میں آدمی کسی کو زد و کوب کرتا ہے تو بعض اوقات وہ قتل کا مرتکب ہوجاتاہے۔ پارٹیاں ایک دوسرے کے بارے میں غصے اور جذبات میںآکر جو فیصلہ کرتی ہیں‘ اس کے نتیجے میں حالات میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ غصے اور جذبات میں آکر جس طرح فیصلہ کرنا درست نہیں ہے‘ اسی طرح کسی کی محبت میں گرفتار ہوکر اور کسی سے خوش ہوکر فیصلہ کرنے میں بھی بے اعتدالی ہوجاتی ہے۔ اسی واسطے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان والوں کو نصیحت فرمائی کہ ’’رضا اور غضب دونوں حالتوں میں میانہ روی اختیار کرو‘‘۔

فیصلہ کرنے کے لیے قاضی کی کرسی پر بیٹھنا ضروری نہیں۔ روزمرہ زندگی میں مختلف مواقع فیصلہ کرنے کے لیے آتے ہیں۔ ایسے ہر موقع پر ہمیں رسولؐ اللہ کی یہ ہدایت یاد رہنی چاہیے۔

o

حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال مجھے عطیہ عنایت فرمایا۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! یہ میری بجاے مجھ سے زیادہ محتاج کو دے دیجیے۔ آپؐ نے فرمایا: عمرؓ، جب تمھیں لالچ اور سوال کے بغیر ملے تو لے لیا کرو‘ اور نہ ملے تو اپنے نفس کو اس کے پیچھے نہ لگایا کرو۔ (بخاری‘ کتاب الزکوٰۃ)

مال کے بارے میں راہ اعتدال مطلوب ہے۔ نہ اتنا استغنا کہ سوال اور لالچ کے بغیر ملے جب بھی نہ لیا جائے اور نہ اتنی طلب کہ اس کے پیچھے ہی لگا رہا جائے۔ مال کی ایسی طلب کہ جائز و ناجائز کی تمیز اٹھ جائے‘ فساد اور معاشرے کو سکون سے محروم کرنے کا اصل سبب ہے۔ضروریات کے لیے جائز ذرائع سے مال حاصل کرنے کی کوشش عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ ضروریات کو حد میں رکھنے سے ناجائز ذرائع کی طرف قدم نہیں اٹھتے۔ اسراف و تبذیر سے بچنا قومی کلچر ہونا چاہیے۔ سعی و جہد طریق زندگی ہو‘ سوال کرنے اور لالچ کرنے سے پرہیز لازم ہے۔ زندگی حصولِ مال و دولت سے اہم تر مقاصد کے لیے ہے۔

o

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے۔ تم میں سے جب کوئی آدمی کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے‘ اس کے بعد بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جائے۔ پھر جب جانے کے لیے اٹھے تو سلام کرے۔ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ ضروری نہیں ہے۔ اور جس نے جانے کے لیے اٹھتے وقت سلام کیا وہ اس کارخیر میں شریک شمار ہوگا جس میں لوگ اس کے جانے کے بعد مصروف رہے۔ (ابوداؤد‘ ترمذی‘ رزین)

سلام مجلس کا ادب ہے‘ جب کہ اس سے مجلس کے کام میں خلل نہ پیدا ہو۔ کوئی اجتماعی پروگرام ہو رہا ہو تو ایسی صورت میں بلند آواز سے سلام کر کے اس میں خلل ڈالنا درست نہیں ہے۔ ایسی صورت میں پروگرام کے اختتام کا انتظار کیا جائے۔ مجلس میں آتے وقت یا جاتے وقت سلام کا مقصد اہلِ مجلس کو سلامتی کی دعا دینا اور ان کے کام میں دعائوں کی صورت میں شرکت کرنا ہے کہ یہ بھی ایک طرح کا تعاون ہے۔ اس سے اہلِ مجلس کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے اور دعا کی قبولیت کی صورت میں کامیابی بھی ہوتی ہے۔ سلام کرنے والا حوصلہ افزائی اور کامیابی میں تعاون پر اجر کا مستحق ہوجاتا ہے۔ بعض لوگ کسی مجلس میں آکر بیٹھ جاتے ہیں‘ سلام نہیں کرتے اور بعض ایسی صورت میں بھی سلام کرتے ہیں جب کہ مجلس میں اجتماعی پروگرام جاری ہو۔ دونوں صورتیں نامناسب ہیں۔

جاتے وقت سلام کرنے کا یہ مزید فائدہ ہے کہ کسی کارِخیر کے اجر سے حصہ ملتا ہے۔

ابی امیہ مخزومی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا‘ جس نے چوری کا اعتراف کیا تھا لیکن اس کے پاس سے چوری کا سامان برآمد نہ ہوا۔رسولؐ اللہ نے اس سے فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہو۔ اس نے کہا: نہیں‘ میںنے چوری کی ہے۔ آپؐ نے دو یا تین مرتبہ اپنی بات دہرائی۔ اس نے ہر بار چوری کا اعتراف کیا۔ اس پر آپؐ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر اسے آپؐ کے پاس لایا گیا۔ آپؐ نے اس سے فرمایا: اللہ سے استغفار اور توبہ کرو۔ پھر آپؐ نے اس کے لیے دعا مانگی۔ ’’اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما(تین مرتبہ)‘‘۔ (ابوداؤد‘ نسائی‘ ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰۃ شریف)

یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت ہے۔ عدالت ملزم کے لیے رحیم و شفیق ہے۔ ملزم عدالت سے محبت کرتا ہے اور فیصلے سے راضی نظر آتا ہے۔ گناہ سے توبہ و استغفار کی تلقین ہوتی ہے‘ ملزم   توبہ و استغفار کرتا ہے۔ عدالت اس کی توبہ کی قبولیت کے لیے دعائیںکرتی ہے۔ ملزم کو ہتھکڑیاں نہیں پہنائی گئیں۔ وہ اپنے جرم کا خود ہی بار بار اعتراف کر رہا ہے۔ ایک ہی پیشی میں فیصلہ سنا کر نافذ کردیا جاتا ہے۔ مجرم کو سزا دے دی گئی لیکن اس کی توہین و تذلیل نہیں کی گئی بلکہ عزت اور دعائیں دی گئیں۔

ایک طرف اس منظر کو دیکھیے‘ دوسری طرف آج کی نام نہاد مہذب دنیا کے کربناک نظامِ جبروتشدد اور عرصہ دراز تک عدالتوں کی پیشیوں اور جیلوں کی اذیتیوں کے مناظر کو سامنے رکھیے۔ پھر فیصلہ کیجیے کہ کون سا نظام مہذب ہے اور اس میں رحمت و شفقت اور عدل و انصاف ہے۔ اور کون سا نظام عدالت کے نام پر ظلم و جور اور وحشت اور درندگی ہے۔

o

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا‘ جس نے شراب پی تھی۔ آپؐ نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ حاضرین سے کہا: اسے مارو۔ ہم مارنے لگے۔ کسی نے ہاتھ‘ کسی نے جوتے اور کسی نے کپڑے کے کوڑے سے مارا۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: اسے ڈانٹ ڈپٹ کرو۔ مسلمان اسے ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے۔ کسی نے کہا: تو نے اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کا خیال نہ کیا؟ کسی نے کہا: تجھے اللہ سے ڈر نہ آیا۔ ایک آدمی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا۔ فرمایا: اسے بددعائیں دے کر اس کے خلاف شیطان کی اعانت نہ کرو۔ اس کے بجاے دعائیں دو۔ یوں کہو: اے اللہ‘ اس کی بخشش فرما ‘ اے اللہ اس پر رحم فرما۔ (ابوداؤد بحوالہ مشکوٰۃ شریف)

مجرم کو اس کے جرم کی سزا ملنی چاہیے‘ جرم سے روکنے کے لیے سزا دینا ضروری ہے لیکن سزا دینے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عدلیہ‘ انتظامیہ اور عام لوگ اس کے ساتھ ہمدردی‘ حسنِ اخلاق اور عزت کا سلوک کریں۔ ایسی صورت میں مجرم اپنی اصلاح کرے گا‘ وہ حیا سے کام لے گا اور معاشرے کا باعزت فرد بننے کی کوشش کرے گا۔ لیکن اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جائے‘ اسے گالیاں دی جائیں‘ کوسا جائے اور حوالات میں ذلت آمیز طریقے سے رکھا جائے تو اس کے اندر مجرمانہ ذہنیت پرورش پائے گی۔ شیطان اس کے اندر انتظامیہ اور معاشرے کے خلاف دشمنی کے جذبات کو پرورش دے گا جس کے نتیجے میں وہ تائب ہونے کے بجاے جرم کو اپنا پیشہ بنا لے گا۔ آج کل کی انتظامیہ اور عدلیہ یہی کچھ کر رہی ہے۔ ایک مرتبہ جو آدمی پولیس کے ہتھے چڑھتا ہے وہ ہمیشہ کے لیے عادی مجرم بن جاتا ہے۔ انتظامیہ شیطان کی معاونت کر رہی ہے اور لوگوں کے ساتھ توہین آمیز رویے نے پبلک اور انتظامیہ کے مابین عداوت پیدا کر دی ہے۔

o

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بِسْمِ اللّٰہ کہہ کر رکاب میں پائوں رکھا‘ پھرسوار ہونے کے بعد فرمایا: اَلْحَمْدُلِلّٰہِ، سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا… پھر تین مرتبہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ اور تین دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا‘ پھر فرمایا: سُبْحٰنَکَ ، لَا اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ‘ قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ۔ اس کے بعد آپؐ ہنس دیے۔

میں نے پوچھا: یارسول ؐاللہ! آپؐ ہنسے کس بات پر؟ فرمایا: بندہ جب رَبِّ اغْفِرْلِیْ کہتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس کی یہ بات بہت پسند آتی ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ میرا یہ بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا مغفرت کرنے والا کوئی اور نہیں ہے۔ (احمد‘ ابوداؤد‘ ترمذی‘ نسائی )

جب بھی رَبِّ اغْفِرْلِیْ کہا جائے تو یہ (قلب و ذہن کو حاضر کرکے) کہا جائے کہ اللہ کے علاوہ مغفرت کرنے والا کوئی اور نہیں ہے۔

حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ لوگوں نے آپؐ  سے میرے متعلق عرض کیا‘ یہ عدی بن حاتم ہیں۔ میں کسی معاہدے اور امان کے بغیر حاضر ہوا تھا۔ جب مجھے آپؐ  کے قریب کیا گیا تو آپؐ  نے میرا ہاتھ پکڑلیا۔ اس سے پہلے آپؐ  فرما چکے تھے کہ مجھے اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس (عدی) کے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں دے دے گا۔ پھر آپؐ  مجھے لے کر چل پڑے۔ راستے میںآپؐ کو ایک عورت اور ایک بچہ ملے۔ انھوں نے عرض کیا: ہمیں آپؐ  سے کام ہے۔ ان کی بات سن کر آپؐ  ان کے ساتھ تشریف لے گئے اور ان کا کام پورا کر دیا۔ پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنے گھرلے آئے۔ لونڈی نے مسند بچھا دی‘ آپؐ  اس پر بیٹھ گئے اور میں آپؐ کے سامنے بیٹھ گیا۔

آپؐ  نے اللہ کی حمدوثنا کی۔ اس کے بعد فرمایا:عدی! تمھیں کون سی چیز لا الٰہ الا اللہ کہنے سے روکتی ہے؟ کیا تمھارے علم میں اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے؟ عدی ؓکہتے ہیں: میں نے عرض کیا‘ نہیں۔ پھر آپؐ  نے تھوڑی دیر مزید گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: کیا تم اللہ اکبر کہنے سے بھاگتے ہو؟ اللہ سے کوئی اور بڑی ذات تمھارے علم میں ہے؟ میں نے عرض کیا‘ نہیں۔ پھر آپؐ  نے فرمایا: یہود مَغْضُوْبٌ عَلَیْھِمْ ہیں اور نصاریٰ گمراہ۔ عدیؓ کہتے ہیں کہ جب میں نے عرض کیا: میں تو تمام ادیانِ باطلہ سے منہ موڑ کر مسلم ہوگیا ہوں۔ تو میں نے دیکھا کہ آپؐ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔ پھر مجھے ایک انصاری کے ہاں ٹھیرانے کا حکم دیا۔ میں وہاں ٹھیرگیا اور صبح شام حضوؐر کی خدمت میںحاضر ہوتا رہا۔

ایک دفعہ پچھلے پہر میں آپؐ کے پاس حاضر تھا کہ دھاری دار اونی چادریں باندھے کچھ لوگ آپؐ کے پاس آئے۔ آپؐ نے انھیں صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: جس کے پاس ایک صاع ہے تو وہ ایک صاع لائے‘ نصف صاع ہے تو وہ نصف لائے‘ ایک مٹھی یا مٹھی کاکچھ حصہ ہے تو وہ وہی لے آئے اور اپنے چہرے کو جہنم کی آگ سے بچائے‘ اگرچہ ایک کھجور یا کھجور کے ایک چھلکے سے سہی۔ تم میں سے ایک آدمی اللہ سے ملے گا اس حال میں کہ اللہ اس سے وہ بات فرمائیں جو میں تمھیں ابھی بتلا دیتا ہوں۔ اللہ فرمائے گا: کیا میں نے تجھے مال اور اولاد نہ دی تھی؟ جواب میں وہ شخص کہے گا: کیوں نہیں‘ اے رب! پھر اللہ فرمائیں گے: کیا ہے وہ جو تم نے اپنے لیے آگے بھیجا؟ وہ اپنے آگے پیچھے‘ دائیں بائیں دیکھے گا توکسی چیز کو نہ پائے گا جس کے ذریعے سے اپنے چہرے کو جہنم کی آگ سے بچائے۔(اس کے بعد آپؐ نے فرمایا:) تم میں سے ہر ایک اپنے چہرے کو آگ کی حرارت سے بچائے اگرچہ کھجور کے ایک چھلکے ہی سے۔ وہ بھی نہ ملے تو عمدہ بول سے۔ مجھے تمھارے بارے میں فقروفاقے کا ڈر نہیں ہے۔ اللہ تمھاری مدد کرنے والا ہے۔ وہ تمھیں مال دار کر دے گا یہاں تک کہ ایک ’’پردہ نشین‘‘ عورت اپنی اونٹنی پر یثرب ]مدینہ[ سے حِیرہ ]یمن[تک یا اس سے بھی زیادہ طویل سفر کرے گی اور اسے چوروں اور ڈاکوئوں کا کوئی ڈر نہ ہوگا۔ (عدیؓ کہتے ہیں کہ) میں اپنے دل میں کہتا تھا‘ طے قبیلے کے ڈاکو کہاں چلے جائیں گے؟ (لیکن نبیؐ کا فرمایا پورا ہوگیا‘ ڈاکو ختم ہوگئے) (ترمذی‘ کتاب التفسیر‘ تفسیر سورۂ فاتحہ)

رحمت للعالمینؐ کی رحمت و شفقت کے دل کش‘ ایمان افروز‘ رقت آمیز چار مناظر آپ کے سامنے ہیں۔

پہلا منظر: حضرت عدی بن حاتمؓ نصرانی ہیں‘ اسی حالت میں آپؐ کے پاس حاضر ہوتے ہیں‘ پھر کیسی شفقت اور کیسا پیار اور انس پاتے ہیں۔ آپؐ محبت سے ان کا ہاتھ پکڑ کر گھر لے جاتے ہیں‘ گھر تک ہاتھ میں ہاتھ ہے۔ کیسے پیارے انداز سے اسلام کی دعوت پیش کرتے ہیں‘ کس طرح قیام و طعام کا انتظام کرتے ہیں‘ سبحان اللہ! محبت ہی محبت اور رحمت ہی رحمت ہے۔ ہے کوئی جو اس کی مثال پیش کرے!

دوسرا منظر: خاتون اور اس کا بچہ اپنے کام کے لیے حاضر ہوتے ہیں تو آپؐ ان کی حاجت پوری کرنے میں لگ جاتے ہیں۔

تیسرا منظر: فقروفاقے سے دوچار اور بدن پر پورے لباس سے محروم مجاہدین آتے ہیں تو دل میں ان کے لیے تڑپ لے کر لوگوں کو صدقے کی ترغیبات دے رہے ہیں۔

چوتھا منظر: اسلام کی بدولت امن و امان کے منظر کی خوش خبری آپؐ نے دی۔ آپؐ فرماتے ہیں: ڈاکے ختم ہوجائیں گے‘ دنیا کو امن و امان ملے گا اور وہ سکھ کا سانس لے گی۔ آپؐ کی پیش گوئی کی صداقت دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

آج دنیا کی سب سے بڑی ضرورت اگر ظلم و جور‘ فتنہ و فساد اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے تو پھر انسان کی سب سے بڑی ضرورت اسلام ہے۔

حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں: تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ محبت کرتے ہیں‘ اور تین ایسے ہیں جن سے ناراض ہوتے ہیں۔ جن سے محبت کرتے ہیں‘ ان میں سے ایک شخص وہ ہے جو لوگوں کے پاس آتا ہے اور ان سے رشتے داری کی بنیاد پر نہیں‘ بلکہ اللہ کے نام پر سوال کرتا ہے۔ لوگ اسے کچھ نہیں دیتے‘ وہ واپس ہوجاتا ہے۔ پھر ایک آدمی اس کے پیچھے چلا جاتا ہے اور چپکے سے اس کی وہ حاجت اس طرح پوری کر دیتا ہے کہ اس کا علم اللہ اور اس شخص کے سوا کسی کو نہیں ہوتا جس کا سوال اس نے پورا کیا۔ دوسرا وہ شخص ہے کہ لوگ رات کے وقت سفر کرتے رہے۔ جب رات کا آخری پہر آیا جس میں نیند مسافر کو ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوتی ہے‘ لوگ سوگئے لیکن وہ کھڑا ہوگیا اور میری آیات کی تلاوت اور طرح طرح سے میری حمدوثنا کر کے مجھے راضی کرنے میں لگ گیا۔ تیسرا وہ شخص ہے جو ایک جہادی دستے میں شامل ہے۔ لوگ شکست کھاکر بھاگ گئے لیکن وہ آگے بڑھا‘ حملے کرتا رہا یہاں تک کہ فتح حاصل کی یا جامِ شہادت نوش کرلیا۔ اور تین شخص اللہ کو ناپسند ہیں: بوڑھا زانی‘ فقیرتکبر کرنے والا‘ دولت مند جو ظلم کرنے والا ہو۔ (ترمذی)

آج بھی اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کی راہ سب کے لیے کھلی ہے۔ اللہ کی رضا کی خاطر حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے والے‘ اللہ کو راضی کرنے کے لیے راتوں کو اٹھ کر تلاوتیں اور دعائیں اور اس کی ثنا اور اس سے آہ و زاری کرنے والے‘ اور جہاد سے رخ موڑ لینے کے بجاے استقامت کا مظاہرہ کرنے والے‘ اللہ کے محبوب بن سکتے ہیں۔

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حیض کی حالت میں یہود اپنی بیویوں سے میل جول ختم کردیتے۔ کھانا پینا‘ رہایش‘ ہر چیز الگ کرلیتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی یہ آیت نازل فرمائی: وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِط قُلْ ھُوَ اَذًی (البقرہ۲:۲۲۲) ’’آپؐ سے پوچھتے ہیں حیض کا کیا حکم ہے؟ آپؐ کہہ دیجیے: حیض ایک تکلیف دہ حالت ہے۔ اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جائو‘ جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں‘‘۔ یہود نے جب یہ آیات سنیں تو کہنے لگے کہ یہ شخص ہر معاملے میں ہماری مخالفت کرتا ہے۔ یہود کی یہ بات عباد بن بشرؓ اور اسید بن حضیرؓنے سنی تو حضوؐر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ کو ان کی اس بات کی اطلاع دی۔ ساتھ ہی یہود کی اس بات کا مزید سخت جواب دینے کی خاطر عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ہم یہود کی مزید مخالفت کرتے ہوئے بیویوں سے ہم بستری نہ کریں؟ یہ بات سن کر حضوؐر کے چہرئہ انور کا رنگ بدل گیا جس سے ہم سمجھے کہ رسولؐ اللہ ان پر غصہ ہوگئے۔ (آپؐ کے غصے کا سبب یہ تھا کہ یہود یا کسی بھی گروہ کی مخالفت میں آدمی اس قدر آگے نہ بڑھ جائے کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی بھی پرواہ نہ ہو۔ جیسا کہ قرآن پاک کی ایک آیت میں ہے: لَایَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلاَّ تَعْدِلُوْاط (المائدہ ۵:۸) ’’تمھیں کسی قوم کی دشمنی اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل سے کام نہ لو۔ اس کے بعد وہ دونوں صحابیؓ اٹھ کر چلے گئے۔ ان کے سامنے سے ایک آدمی نبیؐ کے لیے ہدیے کے طور پر دودھ لے کر آرہا تھا۔ آپؐ نے انھیں واپس بلایا تاکہ وہ دودھ پی لیں۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوگیا کہ آپؐ ان سے ناراض نہیں ہوگئے۔ (ترمذی)

مخالفین کی مخالفت میں حد سے نہ گزرنا چاہیے کہ آدمی کو اپنے اصول اور طریقے بھی یاد نہ رہیں۔ اور ضد میں دینی احکامات کی مخالفت بھی کر گزرے‘ یہ بات اللہ اور اس کے رسولؐ کو ناراض کرنے والی ہے۔ جوش میں بھی ہوش کا دامن نہ چھوٹے۔

اس واقعے سے ناراضی کے اظہار کے بعد شفقت اور حسنِ سلوک کا سبق بھی ملتا ہے۔

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ میں ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مصروف تھا۔ جب میں نے کام کر لیا اور سمجھا کہ اب فارغ ہوگیا ہوں تو یہ سوچ کر کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیلولہ فرمائیں گے‘ میں آپؐ کے پاس سے باہر نکل آیا۔ بچے کھیل رہے تھے‘ میں ان کا تماشا دیکھنے کے لیے کھڑا ہوگیا۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ بچوں کو سلام کیا‘ پھر مجھے بلایا اور کسی کام سے بھیجا۔ وہ راز دارانہ کام تھا۔ میں نے وہ کام کیا اور آپؐ کے پاس آگیا۔ اپنی والدہ صاحبہ کے پاس دیر سے پہنچا۔ والدہ نے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی۔ میں نے بتلایا کہ رسولؐ اللہ نے کام سے بھیجا تھا۔ والدہ نے پوچھا کس کام سے؟ میں نے عرض کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راز ہے۔ میں رسولؐ اللہ کے راز کی حفاظت کروں گا۔ حضرت انسؓ نے اپنے شاگرد حضرت ثابت سے کہا کہ میں نے وہ راز ابھی تک کسی کو نہیں بتلایا۔ اگر میں کسی کو بتلاسکتا تو تجھے بھی بتلا دیتا۔ (بخاری ‘ادب المفرد)

کسی کے راز کی حفاظت خوش گوار معاشرتی زندگی کا اہم اصول ہے۔ بڑے تو بڑے‘ ایک بچے کو بھی اس کی اہمیت کا اتنا احساس ہے کہ ساری عمر اس نے راز کو راز ہی رکھا‘ حتیٰ کہ والدہ اور دوست کو بھی نہ بتایا۔

حضرت عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے‘ جب ثقیف کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آیا تو میں بھی اس میں شامل تھا۔ نبی کریمؐ کے دروازے پر پہنچ کر ہم نے اپنے ’’حلّے‘‘ (لباس) زیب تن کیے۔ پھر سواریوں کی نگرانی زیربحث آئی کہ کون یہ کام کرے گا۔ سارے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے بے تاب تھے۔ پیچھے رہنے کے لیے کوئی تیار نہ تھا۔ حضرت عثمانؓ کہتے ہیں کہ میں ان سب میں چھوٹا تھا۔ میں نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں اونٹنیوں کی نگرانی اس شرط پر کرتا ہوں کہ جب آپ لوگ واپس آئیں گے تو میری اونٹنی کوپکڑیں گے تاکہ میں بھی آپؐ سے ملاقات کا شرف حاصل کر لوں۔ کہنے لگے ٹھیک ہے۔ تمام لوگ چلے گئے۔ واپس آئے تو کہنے لگے: چلو۔ میں نے کہا: کدھر؟ کہنے لگے: اپنے گھروں کی طرف واپس۔ میں نے کہا کہ میں اپنے گھر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے تک آپہنچا ہوں۔ اب ملاقات کے بغیر واپس ہوجائوں؟ تم لوگوں نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ یاد نہیں ہے؟ کہنے لگے تو پھر جلدی ملاقات کر کے آجائو‘ ملاقات سے زیادہ کسی سوال و جواب کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نے ساری باتیں پوچھ لی ہیں۔ اس لیے آپ کو کسی مسئلے اور بات چیت کی حاجت نہیںہے۔

میں حاضر خدمت ہوا۔ عرض کیا : یارسولؐاللہ! میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے دین کی گہری سمجھ عطا فرمائے اور دین کے علم سے نوازے۔ آپؐ نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ اپنی بات کو دہرائو۔ چنانچہ میں نے اپنی بات دہرائی۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: تم نے مجھ سے وہ چیز مانگی ہے جو تمھارے ساتھیوں میں سے کسی نے نہیں مانگی۔ جائو تم ان کے امیر ہو اور اپنی قوم کے ان تمام لوگوں کے امیر ہو جو تمھارے پاس آئیں۔ (مجمع الزوائد ‘ج۹‘ ص ۳۷۱)

اس حدیث سے قوموں کی قیادت کا بنیادی اصول بڑی خوب صورتی سے واضح ہوگیا ہے۔ جب مسلمان علم کے میدان میں پیچھے ہوگئے تو دنیا کی قیادت بھی ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔ آج بھی سربلندی کا راز یہی ہے کہ ملت کے قائدین اور نوجوان علم میں برتری کی منصوبہ بندی کریں اور وسائل اور صلاحیتیں اس پر لگائیں۔

دیکھیے کہ سب سے کم عمر کو ہی یہ سمجھ تھی کہ اس نے آپؐ سے دین کا فہم اور علم کی فرمایش کی اورکم عمری کے باوجود اس بنا پر آپؐ نے اسے اپنی قوم کا امیر بنا دیا۔

حضرت عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا کہ تیاری کرو‘ اپنے کپڑے اور ہتھیار لے لو اور میرے پاس پہنچو۔ میں تیاری کر کے آیا تو آپؐ نے فرمایا: میں ایک لشکر کا امیربناکر تمھیں بھیجنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ تمھیں سلامت رکھے‘ غنیمت عطا کرے۔ میری پسندیدہ خواہش ہے کہ تمھیں مال ملے۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں مال کی خاطر مسلمان نہیں ہوا بلکہ صرف اسلام کی طرف رغبت اور رسولؐ اللہ کی معیت کی سعادت حاصل کرنے کی خاطر مسلمان ہوا ہوں۔ اس پر آپؐنے فرمایا: بہترین مال بہترین مدد ہے‘ صالح آدمی کے لیے۔ (طبرانی‘ مجمع الزوائد‘ ج ۹‘ ص ۳۵۳)

جذبۂ خیر اور خلوصِ نیت کی اپنی اہمیت ہے لیکن وسائل کے بغیر کام نہیں ہوتے۔ مال کی وجہ سے آدمی خود بھی حرکت کرتا ہے اور دوسروں سے بھی کام لیتا ہے۔ ایمان والوں اور نیک لوگوں کے پاس مال ہو تو وہ ایمان و اسلام اور خیرکے کاموں کو فروغ دیتے ہیں اور برائیوں کو مٹانے کے لیے کامیاب جدوجہد کرتے ہیں۔ معاشی حالت اچھی ہو تو غلبۂ دین کی جدوجہد تیز ترکی جاسکتی ہے‘ اور مساجد ومدارس‘ ہسپتال اور رفاہی ادارے قائم کیے جا سکتے ہیں‘ اور اس کے ساتھ دوسری سہولتیں بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس لیے رزق حلال کی طلب‘ اسلام کے لیے مخلصانہ جذبات اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص نیت کے منافی نہیں ہے۔ دین دار لوگوں کو اپنی معاشی حالت کو بہتربنانے سے بے فکر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بات سمجھنا چاہیے کہ معاشی حالت کا مضبوط ہونا‘ دین داری کے منافی نہیں ہے۔

حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات اپنے پہلو کے نیچے کھجور کا ایک دانہ پایا تو اسے تناول فرما لیا۔ پھر آپؐ کو ساری رات بے چینی کی وجہ سے نیند نہ آئی۔ ایک زوجہ مطہرہ نے عرض کیا: آپؐ ساری رات بیدار رہے‘ اس کا کیا باعث بنا؟ آپؐ نے فرمایا: میں نے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور پائی تو اسے کھالیا۔ اس کے بعد مجھے خیال آیا کہ ہمارے ہاں صدقے کی کھجوریں بھی تھیں۔ مجھے ڈر لاحق ہوگیا کہ کہیں یہ کھجور صدقے کی نہ ہو۔ (احمد)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمارا ایمان ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماں باپ‘ اولاد اور جان سے زیادہ عزیز رکھنا ایمان کا تقاضا ہے اور آپؐ کی محبت کا تمام محبتوں پر غالب ہونا جزو ایمان ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم آپؐ کے اسوۂ حسنہ کے فیض سے اپنے آپ کو محروم رکھے ہوئے ہیں۔ آج اگر نبیؐ کے اس اسوۂ حسنہ کو پیشِ نظر رکھا جائے تو حرام سے بچنے کے لیے ہماری نیندیں حرام ہو جائیں۔ صدقہ کی ایک کھجور کے شک نے آپؐ کی نیند ختم کی لیکن یہاں دن رات اربوں کھربوں کی حرام خوری نہ صرف قائم ہے بلکہ اسے معاشی ترقی کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ تب نبیؐ سے ہم کس قدر دُور اور شیطان سے کس قدر قریب ہیں۔ اس کا اندازہ خود ہی کرلیجیے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا‘ جس نے شراب پی تھی۔ آپؐ نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم صادر فرمایا اور حاضرین سے کہا : اسے مارو۔ ہم مارنے لگے۔ کسی نے ہاتھ سے‘ کسی نے جوتے اور کسی نے کپڑے کے کوڑے سے مارا۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: اسے ڈانٹ ڈپٹ کرو۔ مسلمان اسے ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے۔ کسی نے کہا: تو نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کا خیال نہ کیا؟ کسی نے کہا: تجھے اللہ سے ڈر نہ آیا۔ جب ایک آدمی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا۔ فرمایا: اسے بددعائیں دے کر اس کے خلاف شیطان کی اعانت نہ کرو۔ اس کے بجاے دعائیں دو۔ یوں کہو: اے اللہ! اس کی بخشش فرما‘ اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ (ابوداؤد بحوالہ مشکوٰۃ)

مجرم کو اس کے جرم کی سزا ملنی چاہیے۔ جرم سے روکنے کے لیے سزا دینا ضروری ہے لیکن سزا دینے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عدلیہ‘ انتظامیہ اور عام لوگ اس کے ساتھ ہمدردی‘ حسن اخلاق اور عزت کا سلوک کریں۔ ایسی صورت میں مجرم اپنی اصلاح کرے گا‘ وہ حیا سے کام لے گا اور معاشرے کا باعزت فرد بننے کی کوشش کرے گا۔ لیکن اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جائے‘ اسے گالیاں دی جائیں‘ کوسا جائے اور حوالات میں ذلت آمیز طریقے سے رکھا جائے تو اس کے اندر مجرمانہ ذہنیت پرورش پائے گی۔ شیطان اس کے اندر انتظامیہ کے خلاف دشمنی کے جذبات کو پرورش دے گا جس کے نتیجے میں وہ تائب ہونے کے بجاے جرم کو اپنا پیشہ بنا لے گا۔ آج کل کی انتظامیہ اور عدلیہ یہی کچھ کر رہی ہے۔ ایک مرتبہ جو آدمی پولیس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے وہ ہمیشہ کے لیے عادی مجرم بن جاتا ہے۔ انتظامیہ شیطان کی معاونت کر رہی ہے اور لوگوں کے ساتھ توہین آمیز رویے نے عوام اور انتظامیہ کے مابین عداوت پیدا کر دی ہے۔

حضرت عثمانؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف ایک وفد بھیجنے کا ارادہ کیا۔ وفد کا امیرانھی میں سے ان کو نامزد فرمایا جو ان میں سب سے چھوٹے تھے۔ وفد کئی دن تک رکا رہا‘ روانہ نہ ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان میں سے ایک آدمی سے ملاقات ہو گئی۔ آپؐ نے فرمایا: اے فلاں! آپ کو کیا ہوا‘ آپ گئے نہیں؟ اس نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ہمارے امیر کے پائوں میں تکلیف ہوگئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور بسم اللّٰہ وباللّٰہ اعوذ باللّٰہ وقدرتہ من شر ما فیھا (اللہ کے نام سے‘ اللہ کی مدد سے میں اللہ اور اس کی قدرت کی پناہ میں دیتا ہوں‘ اس تکلیف سے جو اس پائوں میں ہے) پڑھ کر سات مرتبہ پھونکا۔ اس کے ساتھ ہی آدمی ٹھیک ہو گیا۔ ایک بوڑھے شخص نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپؐ اسے ہم پر امیر بنا رہے ہیں حالانکہ یہ سب سے چھوٹے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: یہ قرآن پاک کے عالم ہیں۔ بوڑھے شخص نے کہا: مجھے ڈر نہ ہوتا کہ میں راتوں کو سویا رہ جائوں اور نوافل میں قرآن پاک کی تلاوت نہ کرسکوں تو میں بھی قرآن پاک حفظ کرلیتا۔ اس پر نبیؐ نے فرمایا: قرآن کی مثال اس مشکیزے کی ہے جس میں کستوری بھر کر رکھ دی ہو (وہ کھلا ہو تواس میں کستوری مہکتی ہے)۔ اسی طرح قرآن پاک کا معاملہ ہے جب آپ اسے پڑھیں اور وہ آپ کے سینے میں محفوظ ہو۔ (طبرانی‘ مجمع الزوائد‘ ج ۷‘ ص ۱۶۶)

یعنی قرآن پاک کا حافظ تلاوت نہ کرے تو اس کی مثال اس کستوری کی ہے جو مشکیزے میں بند ہو۔

قرآن پاک اُمت کا نظام ہے۔ اس کے ہر سطح کے نظم کو قرآن کے مطابق چلنا ہے۔ اس لیے کسی بھی سطح کے عہدے اور منصب کے لیے موزوں ترین وہ شخص ہو سکتا ہے جو قرآن پاک کا عالم ہو تاکہ اس نظم کو قرآن پاک کے مطابق چلائے۔ جب قاری قرآن پاک پڑھتا ہے تو وہ اپنی خوشبو دیتا ہے جس طرح مشکیزے میں خوشبو ہو اور مشکیزہ کھلا ہو تو وہ گردونواح کو معطر کردیتی ہے۔ قرآن کاعلم رسولؐ اللہ اور آپؐ کی اُمت کا تشخص ہے۔ اُمت کو اُمت مسلمہ کی حیثیت سے قائم رکھنا مقصود ہو تو پھر نظام قرآنی قائم کرنا ہوگا اور منتظم بھی ایسے لوگوں کو بنانا ہوگا جن کا قرآنی نظام پر ایمان ہو‘ وہ اس کا علم رکھتے ہوں اور اسے عملی جامہ پہنانا چاہتے ہوں۔

اشکال کا دلیل سے ازالہ کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اشکال پیدا ہونا ممکن ہے۔ لیکن نبی کی بات کا انکار یا اس پر اعتراض جائز نہیں ہے۔ بوڑھے صحابی نے اعتراض نہیں کیا بلکہ اشکال پیش کیا‘ جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دلیل سے جواب دے دیا۔ امرا کے لیے اس میں نمونہ ہے۔ انھیں اپنے ماتحتوں کے اشکال بلکہ اعتراض کا جواب دے کر انھیں مطمئن کرنا چاہیے کیونکہ امیر پر اعتراض ہوسکتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضوؐر اور آپؐ کے صحابہ مدینہ طیبہ ہجرت کر کے آئے تو صحابہ کرامؓ بخار کے تکلیف دہ مرض میں مبتلا ہو کر اس قدر کمزور ہو گئے کہ نماز بھی بیٹھ کر ہی پڑھنے لگے لیکن اللہ تعالیٰ نے نبیؐ سے اس بیماری کو پھیر دیا۔ آپؐ تشریف لائے تو دیکھا کہ صحابہ کرامؓ بیٹھ کر نمازیں پڑھ رہے ہیں۔آپؐ نے فرمایا: تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے مقابلے میں آدھا ہے۔ تب مسلمان ثواب اور فضیلت حاصل کرنے کی خاطر ضعف اور بیماری کے باوجود کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی مشقت اٹھانے لگے۔ (احمد‘ طبرانی‘ البدایۃ والنہایہ)

کمزور اور بیمار شخص کو بھی جب اونچے گریڈ کی ملازمت‘ بڑا مقام یا کوئی بڑا منصب ملتا ہے تو وہ بیماری کے باوجود ڈیوٹی ادا کرتا ہے اور اس کی مشقت اور تکلیف کو سہتا ہے۔ نصف تنخواہ کون کٹواتا ہے! پوری تنخواہ کی خاطر تو بیمار بھی صحت مند اور بوڑھا بھی جوان ہو جاتا ہے۔ صحابہ کرامؓ پورے اجر کے لیے کمزوری اور بیماری کے باوجود کھڑے ہو کر نمازپڑھتے تھے۔ پورے اجر کے اس شوق کی وجہ سے انھوں نے بھوکے پیٹ اور کمزور جسم کے ساتھ راتوں کو قیام اور دن کو جہاد کیا اور اللہ کے دین کو غالب کر دکھلایا۔

حضرت عمرو بن تغلبؓ روایت کرتے ہیں کہ حضورؐ نے بعض لوگوں کو عطیات دیے اور بعض کو چھوڑ دیا‘ جن کو چھوڑ دیا ان کے بارے میں محسوس کیا گیا کہ وہ ناراض ہوئے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کچھ لوگوں کو ان کی بے صبری اور واویلے کو دیکھ کر دیتا ہوں اور کچھ لوگوں کو اُس بھلائی اور استغنا کے حوالے کردیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رکھ دی ہے۔ ان میں عمرو بن تغلب بھی ہیں۔

حضرت عمرو بن تغلب کہتے ہیں کہ رسولؐ اللہ کے ان کلمات کے مقابلے میں مجھے سرخ اُونٹ بھی پسند نہیں۔ (بخاری)

بیت المال کا ایک حصہ وہ ہوتا ہے جو کسی خاص طبقے اور گروہ کے لیے مخصوص نہیں ہوتا۔ اسلامی حکومت کے سربراہ کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کے جن افراد کو دینا چاہے دے دے‘ جن علاقوں کو مقدم رکھنا چاہے مقدم رکھے۔ ایسی صورت میں جو لوگ بے صبری اور اضطراب کا شکار ہوں‘ ان کو مطمئن کرنا چاہیے اور دولت کی گردش سے ان کو فیض یاب کرنا چاہیے۔ صابروشاکر اور اللہ پر بھروسا کرنے والے وہ لوگ جن کے دل میں استغنا اور بے نیازی کی دولت ہے اگر ان کے صبروشکر کی وجہ سے اس بنا پر نظرانداز کردیے جائیں‘ کہ سب کے لیے گنجایش نہیں تواس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

دنیا کی بڑی سے بڑی دولت اور بڑے سے بڑا عطیہ دل کے استغنا کے مقابلے میں ہیچ ہے۔ وہ لوگ بہت عظیم ہیں جن کے دل غنی ہوں۔ اس لیے حضرت عمرو بن تغلبؓ اور دوسرے صحابہ جنھیں آپ ؐنے ایک موقع پر عطیات سے محروم رکھا‘ آپؐ کی اس وضاحت کے بعد نہ صرف راضی بلکہ مطمئن ہوگئے کہ دوسروں کو مال کی دولت ملی اور ان کو دل کا استغنا نصیب ہوا۔ آج دولت کی کمی نہیں بلکہ دلوں کے غنا کی کمی ہے اسی لیے معاشرے میں معاشی بے اطمینانی اور اضطراب ہے۔

حضرت معاذ بن انس جہنیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جو کوئی مومن کو منافق کی بدزبانی سے بچائے گا‘ اللہ ایک فرشتہ اس کے لیے مقرر کر دے گا جو اس کے گوشت کو دوزخ کی آگ سے بچائے گا ‘اور جو مومن پر اس کی عزت کو داغ دار کرنے کی خاطر کوئی الزام لگائے ‘ قیامت کے روز جہنم کے پُلوں میں سے ایک پُل پر اسے روک دیا جائے گا۔ وہ اس پر محبوس رکھا جائے گا جب تک کہ وہ اس الزام کے گناہ کی سزا نہ پا لے۔ (ابوداؤد‘ کتاب الادب)

اگر ایمان والے اپنے بھائیوں پر جھوٹے الزامات‘ طعن و تشنیع اور ظلم و زیادتی ہوتے دیکھ کر خاموش تماشائی نہ بن جائیں بلکہ ان کا دفاع کریں‘ الزامات لگانے والوں کو روک دیں تو کسی کو ان کی عزت کو پامال کرنے کی جرأت نہ ہو۔ آج بھی منافقین اپنی زبانِ طعن‘ ایمان والوں پر دراز کرتے رہتے ہیں بلکہ طعنہ زنی کرنے والے منافقین عالمی سطح پر ایک جتھہ اور قوت بن کر میڈیا کے ذریعے دن رات انھیں نشانہ بناتے ہیں۔ انھیں دہشت گرد‘ انتہا پسند اور جنونی قرار دے کر گردن زدنی قرار دے رہے ہیں۔ ایسے میں مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے دفاع میں نکلیں‘ بڑی ریلیاں اور جلوس نکالیں‘ کالم اور فیچر لکھیں‘ ذرائع ابلاغ کے ذریعے طعن زنی کرنے والے منافقین کا تعاقب کریں اور ان کی زبانیں بند کردیں۔ ان کی کوششوں کو بے اثر کر دیں۔ ایسا کریں گے تو منافقین کو ناکام کریں گے اور روزِ آخرت حدیث کے مطابق جزا پائیں گے‘ ورنہ ان کا شمار بھی منافقین کے ساتھ ہونے کا اندیشہ ہے کہ اہل ایمان کے دفاع میں جو کچھ کر سکتے تھے وہ کیوں    نہیں کیا۔

حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قیامت کے روز تین چیزوں سے پاک ہو کر آیا سیدھا جنت میں داخل ہوگا: تکبر‘ سرکاری مال میں خیانت اور کسی شخص کے دین (قرض) سے۔ (ترمذی)

نبی کریمؐ نے جنت میں داخل ہونے کا راستہ بتا دیا ہے۔ ہے کوئی جو آگے بڑھ کر تکبر‘ خیانت اور قرض کی نادہندگی سے‘ اپنے آپ کو پاک کرے اورجنت میں داخل ہو جائے!

حضرت ربیعہ بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دن بھر خدمت کرتا یہاں تک کہ عشاء کی نماز ہوجاتی۔ آپؐ اپنے گھر میں چلے جاتے تو میں آپؐ کے دروازے پر بیٹھ جاتا کہ شاید حضوؐر کو کسی خدمت کی ضرورت پیش آجائے۔ میں رسولؐ اللہ کی تسبیحات سبحان اللّٰہ وبحمدہ کی آواز سنتا رہتا۔ تھک جاتا تو واپس آجاتا‘ یا نیند آجاتی تو سو جاتا۔ میری خدمت اور اپنے اوپر میرے حق کے پیش نظر‘ ایک دن آپؐ نے فرمایا: کعب! مجھ سے جو مانگنا چاہو مانگو‘ میں دوں گا۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! مجھے سوچنے کی مہلت دیجیے کہ میں سوچ لوں کہ کیا مانگوں‘ پھر آپؐ سے عرض کر دوں گا۔

کہتے ہیں اس کے بعد میں نے سوچ بچار کی۔ میں نے سوچا کہ دنیا تو ختم ہونے والی چیز ہے۔ دنیا میں مجھے اتنا رزق مل جائے گا جس سے میرا گزارا ہو۔ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی آخرت کے لیے سوال کرنا چاہیے۔ آپؐ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت اُونچا مقام ہے۔ میں یہ سوچنے کے بعد حاضر ہوا۔ آپؐ نے پوچھا: ربیعہ! فیصلہ کرلیا؟ میں نے عرض کیا: ہاں‘ یارسولؐ اللہ! میں آپؐ سے سوال کرتا ہوں کہ میری شفاعت کریں کہ دوزخ کی آگ سے آزاد ہوجائوں۔ آپؐ نے پوچھا: ربیعہ ! آپ کو اس سوال کا مشورہ کس نے دیا؟ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! کسی نے نہیں۔ جب آپؐ نے مجھ سے فرمایا کہ سوال کرو‘ میں دوں گا‘تومیں نے آپؐ کے مقام پر جو اللہ کے ہاں ہے نظر ڈالی اور اپنے بارے میں سوچا‘ تو میں نے سمجھا کہ دنیا زائل ہونے والی چیز ہے۔ دنیا میں بقدر گزارا مجھے رزق مل رہا ہے‘ مل جائے گا۔ میں رسولؐ اللہ سے اپنی آخرت کے لیے سوال کرتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے طویل خاموشی اختیار کی۔ پھر فرمایا: میں شفاعت کروں گا۔ آپ کثرت سے سجدے کر کے اس سلسلے میں میری اعانت کریں۔ (مسنداحمد‘البدایہ والنہایہ‘ ج ۵‘ ص ۳۳۵‘ طبرانی فی الکبیر)

اس حدیث میں غور کے دو پہلو ہیں:

۱-  کوئی بہت بڑی ہستی جو سب کچھ دے سکتی ہو آپ سے کہے: مانگو‘ کیا مانگتے ہو‘ دیا جائے گا--- تو آپ کا کیا جواب ہوگا‘ آپ خود ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن حضرت ربیعہؓ کا جواب‘ جو فوری ردعمل نہ تھا‘ سوچا سمجھا جواب تھا‘ آپ نے دیکھ لیا۔ دنیا کے بارے میں خوب سوچا‘ تولا‘ پھر آخرت میں آتشِ جہنم سے آزادی کو ترجیح دی۔

۲-  طویل خاموشی کے دوران حضرت ربیعہؓ کے دل پر کیا کیا نہ گزر گیا ہوگا۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ شفاعت ہوگئی تو کتنے ہی گناہ کیوں نہ کیے ہوں‘ بیڑا پار لگ گیا--- لیکن رسولؐ اللہ خود فرماتے ہیں کہ ربیعہؓ! طویل سجدوں سے میری اعانت کرو۔

اہل اللہ کی‘ والدین کی‘ اساتذہ کی خدمت کو اپنا طریقہ بنایئے کہ ان کی دعائوں سے آخرت سنورنے کا امکان ہے۔

مگر یہ کافی نہیں۔ اپنے اعمال ‘ اللہ سے تعلق‘ نوافل‘سجدے ضروری ہیں۔

حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں پر تمھارے رب کی طرف سے حق کے دلائل اس وقت تک آشکارا ہوتے رہیں گے‘ جب تک دو نشوں کی بیماری تم پر حاوی نہ ہوجائے۔ ایک جہالت کا نشہ‘ اور دوسرا زندگی سے محبت کا نشہ۔ تم معروف کا حکم کرو گے‘ منکر سے روکو گے‘ اللہ کی راہ میں جہاد کرو گے لیکن جب تم پر دنیا کی محبت غالب ہو جائے گی تو معروف کا حکم کرو گے‘ نہ منکر سے روکو گے اور اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہ کرو گے۔ ایسے وقت میں کتاب و سنت کی بات کرنے والے اُن مہاجرین اور انصار کی مانند ہوں گے جو السابقون الاولون کا مصداق بن گئے۔ (مسند بزاز‘ مجمع الزوائد ۷/۲۷۱)

اپنے آس پاس بلکہ اپنے اندر بھی دیکھیں تو یہ دونوں نشے نظر آئیں گے۔ جو لوگ اس میں مدہوش ہیں‘ وہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر تو کجا‘ معروف کو منکر اور منکر کو معروف سمجھ رہے ہیں۔ اقدار بدل گئی ہیں۔ برائی کو برائی نہیں سمجھا جاتا۔ خوش قسمت ہیں وہ جو ان حالات میں کتاب و سنت کی بات کرتے ہیں۔ اس سے بڑا رتبہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ السابقون الاولون مہاجرین و انصار کی مانند قرار پائیں۔ وفی ذٰلک فلیتنافس المتنافسون (یہی وہ چیز ہے جس کے لیے لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی حرص کریں)۔

حضرت عبداللہ بن حارثؓ سے روایت ہے: فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ‘ عبیداللہ اور کثیربن عباسؓ کو ایک صف میں کھڑا کرتے پھر (ان کی دوڑ لگواتے) فرماتے‘ جو میرے پاس پہلے پہنچے گا‘ اسے یہ اور یہ انعام ملے گا۔ وہ دوڑ کر آپؐ کی طرف پہنچتے۔ آپؐ کی پیٹھ اور سینے پر چڑھتے۔ آپؐ ان کے بوسے لیتے اور انھیں سینے سے لگاتے۔(مسنداحمد‘ مجمع الزوائد)

ہمارے گھروں میںیہ مناظر عام ہونا چاہییں۔ اس طرح جو معاشرت تشکیل پاتی ہے‘ وہی اسلامی معاشرت ہے۔ بچوں سے پیار اور محبت ان کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرتے ہیں۔ ان پر بے جا سختی کرنا اور انھیں ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہنا‘ ان کو ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور کرنے کا سبب ہے۔ محبت اور پیارکو تربیت کا ذریعہ بنایئے۔ یہی نبیؐ کا طریقہ ہے۔ آپؐ اپنے اہل و عیال کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرنے والے تھے۔ ڈانٹنے ڈپٹنے والے نہ تھے۔

بچوں پر تشدد‘ ان سے جبری مشقت لینے‘ یا ان کو تعلیم و تربیت سے محروم رکھنے کا تصور اسلام میں نہیں ہے۔

حضرت عروہ بن زبیرؓ سے روایت ہے کہ ارویٰ بنت اوس نے حضرت سعیدؓ بن زید پر دعویٰ کیا کہ انھوں نے ان کی زمین کا کچھ حصہ غصب کرلیا ہے۔ ان کو مروان بن حکم کی عدالت میں فیصلہ کے لیے بلایا گیا۔ حضرت سعیدؓ بن زید نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے اس کے بعد میں کیسے اس کی زمین کا کچھ حصہ دبا سکتا ہوں۔

مروان نے کہا:

آپ نے رسولؐ اللہ سے کیا سنا ہے؟

انھوں نے کہا کہ میں نے آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو زمین کی ایک بالشت ظلم سے لے گا‘ اسے اللہ تعالیٰ سات زمینوں تک کا طوق ڈالے گا۔ اس کے بعد سعیدؓ بن زید نے دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اس کی قبر اس کی زمین میں بنا دے۔

حضرت عروہؓ کہتے ہیں کہ اسے اس وقت تک موت نہ آئی جب تک وہ نابینا نہ ہوگئی۔ میں نے اسے دیکھا کہ وہ اندھی تھی‘ دیواروں کو ٹٹول ٹٹول کر چلتی تھی‘ اور کہتی پھرتی تھی کہ مجھے حضرت سعیدؓ بن زید کی بددعا لگ گئی۔ وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ اس کا گزر ایک گڑھے پر ہوا‘ اس میں گر کر مر گئی۔ وہ گڑھا اس کی قبر بن گیا۔ (بخاری و مسلم)

ہر رسالے میں‘ ہر اخبار میں بلکہ ریڈیو اور ٹی وی پر بھی قرآن کی آیات اور رسولؐ کی احادیث ہم تک پہنچائی جاتی ہیں‘ مسلسل‘ اور کتنے ہی درس و وعظ ہم سنتے ہیں: احکامات‘ تعلیمات‘ ترغیبات‘ منہیات--- لیکن حضرت سعیدؓ کی سادہ دو ٹوک بات: رسولؐ اللہ کی کوئی بات علم میں ہو تو اس کے خلاف کرنے کا کیا سوال ہے؟ یہ منزل مطلوب ہے۔ مسلمان کی یہی کیفیت ہونا چاہیے۔ حضرت سعیدؓ نے اپنے اوپر الزام کو اس قدر سنجیدگی سے لیا کہ بددعا بھی دے دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے قبول کر کے ظالموں کو ہمیشہ کے لیے تنبیہ کر دی۔

ظلم کے ان سب دائروں کو چھوڑیں جہاں ظلم خوب پھل پھول رہا ہے‘ صرف جایداد اور زمین کے معاملات میں ہی کیا کچھ‘ ہر کوئی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے‘ جب کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا ہے---

حضرت عروہؓ بن ابی الجعد بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کا ایک ریوڑ جو براے فروخت لایا گیا تھا‘ دیکھا۔ مجھے ایک دینار دیا کہ ایک بکری خرید لائو۔ میں گیا اور ایک دینار میں ایک کے بجاے دو بکریاں خرید لیں۔ لے کر آ رہا تھا کہ راستے میں ایک شخض ملا جس نے بکری خریدنی چاہی۔ میں نے ایک بکری ایک دینار میں ان کو فروخت کر ڈالی۔ اس طرح ایک دینار اور ایک بکری لے کر آپؐ کے پاس حاضر گیا۔ بکری اور دینار پیش کرتے ہوئے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! یہ ہے آپؐ کا دینار اسے وصول فرما لیجیے‘ اور یہ ہے آپؐ کی بکری۔ آپؐ نے (خوش ہو کر پوچھا) یہ کس طرح سے ہوگیا۔ میں نے واقعہ بیان کیا۔ سن کر آپؐ نے مجھے دعا دی‘ فرمایا: اے اللہ! اس کے سودے میں برکت عطا فرما۔ اس کے بعد میرا یہ حال ہوگیا کہ میں تھوڑی دیر کوفہ کے بازار میں کام کرتا ہوں اور گھر جانے سے پہلے ۴۰ ہزار کا نفع کما لیتا ہوں۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں اگر عروہ مٹی میں ہاتھ ڈالتے تو اس سے بھی نفع کما لیتے۔ (الفتح الربانی ۱۵‘۱۶)

روز مرہ دنیوی ‘ خصوصاً کاروباری معاملات میں دعا اور اس کی برکتوں کی کارفرمائی آج کل کے مادی ذہن عام طور پر قبول نہیں کرتے۔ نیک اور صالح افراد سے دعا کروانے کی روایت اگر محض رسم نہ ہو‘ اخلاص نیت اور توجہ الی اللہ کے ساتھ ہو تو یقین رکھنا چاہیے کہ نتیجہ خیز ہوگی۔ حضرت عروہؓ  تو خوش قسمت تھے کہ انھیں اللہ کے رسولؐ کی دعا ملی۔ دینے والی ذات تو اللہ تعالیٰ کی ہے جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں‘ وہ آج بھی اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے بلکہ پکار پکار کر بلاتا ہے کہ مجھ سے مانگو۔

احادیث میںایسے بہت سے اچھے کاموں کا ذکر ملتا ہے جن کے ساتھ اللہ کے رسولؐ کے متعین وعدے ہیں۔

حضرت جبیربن مطعمؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یارسولؐ اللہ! کون سی جگہ تمام جگہوں سے بری ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میں نہیں جانتا۔ جبریل علیہ السلام تشریف لائے تو آپؐ نے ان سے پوچھا: جبریل! کون سی جگہ تمام جگہوں سے زیادہ بری ہے؟ جبریل نے عرض کیا: میں نہیں جانتا اور اس وقت تک کچھ نہیں   کہہ سکتا جب تک اللہ تعالیٰ سے پوچھ نہ لوں۔ جبریل واپس گئے اور پھر لوٹ کر آئے۔ کہا کہ میں نے اللہ عزوجل سے پوچھا کہ کون سی جگہ تمام جگہوں سے زیادہ بری ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دنیا کے بازار۔ (الفتح الربانی‘ ۱۵‘۱۶)

بازاروں کو سب سے بری جگہ کیوں کہا گیا ہے؟ اور وہ بھی اس اہتمام سے کہ حضرت جبریل نے اللہ تعالیٰ سے پوچھ کے آکر بتایا۔ بازاروں میں دنیا اپنے تمام فتنوں کے ساتھ مجسم ہوتی ہے اور آنے والوں کو اپنی طرف کھینچتی اور لبھاتی ہے۔ (بڑے بازاروں‘ ڈیپارٹمنٹل اسٹوروں‘ میلوں اور مینا بازاروں کا تصور کریں)۔ ضروریات کے لیے بازار جانا ضروری ہے لیکن دکانیں آپ کی خواہشات کو جگا کر اسراف و تبذیر پر آمادہ کرتی ہیں۔ خریداروں کو مائل کرنے کے لیے کیا کیا طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں‘ بیان کی ضرورت نہیں۔ سادگی کی ساری مہم بازار آکر ختم ہو جاتی ہے۔ بازار بندہ مومن کے لیے ایک فتنہ اور آزمایش ہیں جن سے اپنی حفاظت کرتے ہوئے گزرنا چاہیے۔

حضرت عطاء بن فروخ  ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے ایک آدمی سے زمین خریدی۔ اس کے بعد اس شخص نے آپ سے ملنے میں دیر کر دی۔ آپ اس سے ملے اور پوچھا کہ کیا مانع پیش آیا کہ رقم لینے نہیں آئے۔ اس نے جواب میں کہا کہ آپ نے اس سودے میں مجھے نقصان پہنچایا ہے۔ میں جس آدمی سے بھی ملا ہوں وہ مجھے اس پر ملامت کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا یہ چیز رقم کی وصولی میں مانع بن گئی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: تو اس میں کون سی مشکل ہے۔ آپ چاہیں تو سودا ختم کر دیں۔ آپ اپنی زمین واپس لے لیں اور چاہیں تو رقم وصول کر لیں۔ پھر فرمایا کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کرے گا ایسے شخص کو جو نرم ہو‘ خریدار ہو تو نرم‘ بائع ہو تو نرم‘ ادایگی کرنے والا ہو تو نرم‘ وصول کرنے والا ہو تو نرم۔ (الفتح الربانی)

ہم نے اپنی زندگیوں میں کتنی تلخیاں محض نرم خوئی اور نرم روی کی اس سنہری ہدایت کو ترک کرنے سے گھول رکھی ہیں۔ میاں بیوی کے معاملات ہوں‘ والدین اور اولاد کے معاملات ہوں یا کاروباری معاملات‘ اگر ہم اپنے کو دوسرے کی جگہ رکھ کر سوچ لیں تو ہمارے رویوں میں انقلابی تبدیلی آجائے۔ وہ سلوک کریں جو ہم اپنے ساتھ کیے جانا پسند کریں۔ کیا ہم چاہیں گے کہ ہمیں کوئی گالی دے‘ ہمارے اوپر آستینیں چڑھا لے؟ پھر ہم ایسا کیوں کریں۔ غیر ضروری مقدمات نے‘ جو محض کسی ردعمل میں دائر کیے جاتے ہیں‘ کتنوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ نرمی سے بات کی جائے تو آدمی اپنا حق چھوڑنے پر بھی تیار ہو جاتا ہے۔ لیکن بہرحال‘ تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے۔ نرمی کی تعلیم و تلقین بھی ہو‘ اور معاشرے کے رہنما اور بزرگ اس کا نمونہ بھی پیش کریں۔ طالب علم استادوں سے اور اولاد والدین سے نرمی کا سبق لیں۔

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے ایک یا چند اُونٹ ’’ذخیرہ‘‘ نام کی کھجوروں کے عوض خریدے۔ یہ عجوہ کھجوروں کی ایک قسم ہے۔ سودا ہوگیا اور رسولؐ اللہ اسے اپنے گھرلے کر آئے اورکھجوریں تلاش کیں کہ قیمت ادا کی جائے لیکن نہ مل سکیں۔ رسولؐ اللہ باہر تشریف لائے اور فرمایا: اے اللہ کے بندے! ہم نے آپ سے اُونٹ کھجوروں کے عوض خریدے تھے لیکن کھجوریں دستیاب نہ ہو سکیں۔ دیہاتی نے یہ سن کر کہا: ہائے عہدشکنی! حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:لوگوں نے اسے ڈانٹ ڈپٹ شروع کی اور کہا کہ اللہ تجھے ہلاک کرے۔ کیا رسولؐ اللہ نے عہدشکنی کی؟ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ اسے کچھ نہ کہو‘ حق دار کو بات کرنے کا حق ہے۔ رسولؐ اللہ نے دیہاتی سے اپنی بات کو کئی بار دہرایا۔ جب آپؐ نے دیکھا کہ وہ اپنی نادانی کی وجہ سے آپؐ کی بات کو نہیں سمجھتا اور وہ یہی سمجھ رہا ہے کہ آپؐ اسے اس کا حق نہیں دے رہے تو آپؐ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: خویلہ بنت حکیم بن امیہ کے پاس ذخیرہ نام کی عجوہ کھجوریں ہیں تو ہمیں ادھار دے دیں۔ آدمی گیا پھر لوٹا اور عرض کیا کہ خویلہ کہتی ہیں کہ میرے پاس کھجوریں ہیں‘ میں دے دیتی ہوں۔ آپؐ وصولی کے لیے کسی کو بھیج دیجیے۔ رسولؐ اللہ نے اس آدمی کو کہا‘ جائو اس شخص کو اس کا حق پورے کا پورا دے دو۔ چنانچہ اس نے اس کا پورا حق دیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسولؐ اللہ صحابہ کرام کے حلقے میں تشریف فرما تھے کہ دیہاتی کا ادھر گزر ہوا۔ اس نے آپؐ کو دعا دیتے ہوئے کہا کہ اللہ آپؐ   کو جزاے خیر دے۔ آپ ؐنے میرا حق پورے کا پورا بلکہ بہت عمدہ شکل میں دے دیا۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو ان کا پورے کا پورا حق عمدہ شکل میں دینے والے اللہ کے ہاں قیامت کے روز بہترین بندوں میں شامل ہوں گے۔ (الفتح الربانی)

آج آپ کا حق کسی حساب اقتدا کے پاس پھنس جائے تو آپ سو دفعہ سوچیںگے کہ طلب بھی کریں یا نہ کرنے میں ہی خیریت ہے۔ قربان جایئے اس معاشرے پر جو اللہ کے رسولؐ اور ان کے ساتھیوں نے قائم کیا تھا۔ اس معاشرے میں سب سے بڑی ہستی‘ حق مانگنے والے کے درشت رویے پر ٹوکنے والوں کو خود روکتی ہے اور اس کا حق اس کی مرضی کے مطابق ادا کرنے کی تدبیر کرتی ہے (آج کل ایک عام آدمی بھی کتنی آسانی سے حق کی ادایگی کو ٹال دیتا ہے اور ساری پریشانی حق مانگنے والے کے حصے میں آتی ہے)۔ اس اسوہ کو زندگی کے لیے راہنما بنایا جائے تو حقیقی اسلامی معاشرہ وجود میں آئے۔ حق دار کو اس کا حق ادا کرنا اور عمدہ طریقے سے ادا کرنا‘پُرسکون معاشرتی زندگی کی بنیاد ہے۔ آپ حق ادا کریں‘ آپ کے حق بھی ادا کیے جائیں گے۔ کوئی مظلوم اور شاکی نہ رہے گا۔

حضرت ابوسعیدخدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص باغات کے پھلوں کی خریداری کیا کرتا تھا۔ پھل آفت سے دوچار ہوگئے۔ جس کے نتیجے میں اُس شخص کو مالکوں کی رقوم کا تاوان دینا پڑگیا۔ مالکوں نے ادایگی کا مطالبہ کیا۔ نبیؐ نے مسلمانوں سے اس کے لیے صدقے کی اپیل کی۔ لوگوں نے صدقہ کیا لیکن تاوان کی ادایگی نہ ہوسکی۔ رسولؐ اللہ نے حق داروں سے فرمایا: یہ رقم وصول کرلو‘ تمھارے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ (الفتح الربانی)

آج بھی اس طریقے کو اپنایا جاسکتا ہے۔ ایک یا چند افراد جو جائز کاروبار کی وجہ سے زیربار ہوجائیں‘ ان کے لیے زرتعاون جمع کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے کو اپنا کر افراد اور ملک کو سودی قرضوں کے بوجھ سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔ معاشرے میں اس روایت کو قائم کرنا چاہیے کہ مقروض ادایگی نہ کر سکتا ہو تو اس سے اسی قدر وصول کیا جائے جس قدر وہ دے سکتا ہے‘ باقی معاف کر دیا جائے۔ آپ کے اس فیصلے کے مطابق اگر ایسی اخلاقی روایت ڈال دی جائے تو انفرادی اور اجتماعی مشکلات بڑی حد تک ختم ہو جائیں۔

حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال تقسیم کر رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور آپؐ پر ٹوٹ پڑا۔ آپؐ نے کھجور کی ایک شاخ سے اسے کچوکا لگایا جس سے اس کا چہرہ زخمی ہوگیا۔ رسولؐ اللہ نے اسے بلایا اور فرمایا: ادھرآئو اور اپنا قصاص لے لو۔ اس نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ میں نے معاف کر دیا۔ (الفتح الربانی‘ ۱۵‘ ۱۶)

جواسوۂ رسول کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہیں ‘ اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھیں‘ ایسی صورت میں ہمارا ردعمل کیا ہوگا؟ شاید ہم اس شخص کو اس کا قصور بتائیں گے ‘ اپنی زیادتی تسلیم ہی نہ کریں گے۔ ہمارے ہاں تو غربا میں تقسیم کے موقع پر ہجوم ہو جائے تو لاٹھی چارج بھی کیا جاتا ہے۔

قصاص‘ اسلامی معاشرے کی بڑی حسین روایت ہے۔ قرآن کے مطابق اس میں ہمارے لیے زندگی ہے۔ یہ روایت زندہ اور نافذ ہو تو ظالم کا ہاتھ بڑھنے سے پہلے رک جائے۔ معاشرے سے ظلم و زیادتی کی بیخ کنی ہو جائے اور ہر شخص‘ مرد و عورت اپنے کو محفوظ و مامون سمجھے۔ تھانے میں ظلم کرنے والوں سے برسرِعام قصاص لیا جائے‘ تو کس کی مجال ہے کہ ظلم کرے۔ جب اللہ کا رسولؐ قصاص سے بلند نہیں‘ تو ان سے زیادہ معزز کون ہے جو اپنے کو قصاص سے بری سمجھے۔

حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے ‘نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تین کام ایسے ہیں کہ ہم ان پر عمل سے بے بس نہ ہو جائیں: امربالمعروف ‘ نہی عن المنکر اور اسلام کے طور طریقوں کی تعلیم۔ (مجمع الزوائد‘ ج ۵‘ ص ۲۱۶)

اس وقت دنیا مسلمانوں کی بے بسی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ کوئی ہے جو مسلمانوں اور انسانوں کی خوں ریزی کرنے والوں کو معروف کا حکم کرے اور منکر سے روک سکے۔ اُمت مسلمہ کے حکمران تو ظلم کے سامنے جھکے ہوئے ہیں۔ اس بے بسی کے عالم میں الحمدللہ ایسے نفوس اور تنظیمیں موجود ہیں جو نبیؐ کے ارشاد کی تعمیل کر رہی ہیں کہ یہی وہ نسخۂ کیمیا ہے جو دنیا کو عدل کی راہ پر قائم رکھ سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں نبیؐ کے اس ارشاد کی اہمیت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ کرنے کا کام یہی ہے۔ اس کی طرف سارے مسلمانوں کو پکارا جائے اور اسی کے لیے شب و روز انھیں تیار کیا جائے۔

o

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے     بنی کنانہ کی مہم پر بھیجا۔ رجب کا مہینہ تھا۔ ہم سوافراد تھے‘ بنی کنانہ کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ ان کے پڑوس میں جہینہ کے لوگ تھے۔ انھوں نے ہمیں پناہ دی۔ پھر ہمارا آپس میں اختلاف ہو گیا۔ کچھ نے کہا کہ قریش کے تجارتی قافلے پر حملہ کیا جائے‘ میں بھی ان میں شامل تھا۔ کچھ نے کہا کہ ہم نبیؐ کے پاس واپس جاتے ہیں اور آپؐ کو صورت حال کی خبر دے کر آپؐ سے ہدایت لیتے ہیں۔ کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم یہیں پر انتظار کرتے ہیں۔ اس طرح ہم تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک گروہ نبیؐ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے آپؐ سے صورت حال کا ذکر کیا۔ آپؐ نے ان سے تفرقے کی تفصیل سنی تو غصے سے آپؐ کا چہرئہ مبارک سرخ ہو گیا۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا تم میرے پاس سے گئے تھے تو مجتمع تھے اور اب واپس آئے ہو تو گروہوں میں بٹ گئے ہو (ہر ایک نے اپنی الگ راہ اپنا لی ہے)۔ تم سے پہلے لوگوں کو گروہ بندی نے ہلاک کیا۔ میں تم پر ایک ایسے شخص کو امیر بناتا ہوں جو تم سے بہتر تو نہیں ہے لیکن بھوک اور پیاس برداشت کرنے میں تم سے آگے ہے۔ پھر ہمارا امیر عبداللہ بن جحش اسدیؓ کو مقرر کیا۔ یہ وہ شخص تھے جنھیں دورِ اسلام میں پہلا امیر بنایا گیا۔ (کنزالعمال‘ احمد ابن ابی شیبہ)

تفرقوں کے نقصانات اور اتحاد کی برکتیں ساری دنیا نے دیکھ لیں۔ آج بھی اتحاد کی برکت سامنے آگئی ہے۔ تفرقے کی خبر سن کر نبی کریمؐ کا غصے میں آجانا تفرقہ کی ہولناکی کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ نبیؐ کا ایک ارشاد ہے:  الجماعۃ رحمۃ والفرقۃ عذاب (مسنداحمد‘ ج ۴‘   ص ۲۷۸‘ کنزالعمال‘ ج ۷‘ ص ۵۵۸)‘ اجتماعیت رحمت ہے اور تفرقہ عذاب۔

o

حضرت انس بن مالک انصاریؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ: ہم غار میں تھے۔ میں نے مشرکین کے قدموں کو دیکھا۔ وہ ہمارے سروں پر آپہنچے تھے۔ تب میں نے رسولؐ اللہ سے عرض کیا: یارسول اللہ! اگر ان میں سے کوئی اپنے پائوں پر نظر ڈالے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: ابوبکر! آپ کو ان دو کے بارے میں کیا خطرہ ہے جن کا تیسرا اللہ ہے۔ (بخاری‘ مسلم‘ ترمذی)

اللہ تعالیٰ جو چاہیں وہ پورا ہو کر رہتا ہے۔ ساری دنیا اپنا سارا زوراورتمام وسائل لگا دے تب بھی اللہ کے فیصلے اور اس کے نفاذ کو نہیں روک سکتی۔ کفر اور ظلم نے بارہا ایمان والوں کا گھیرائو کیا۔ ایمان والے اسباب سے تہی دست تھے لیکن (دوسری طرف) اللہ کی ذات ان کی حامی و ناصر تھی۔ اس نے اپنی طاقت سے کفروظلم کے گھیرے کو توڑ دیا اور وہ ایمان والوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے۔ پس اسی کی طرف رجوع‘ اسی پر توکل کامیابی کی راہ ہے۔

o

حضرت عمرؓ بن الخطاب سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

بیٹے کے جرم میں اس کے والد کو نہیں قتل کیا جائے گا۔ (ابن ماجہ)

جرم کی سزا مجرم کو دی جائے‘ یہی عدل کا تقاضا ہے۔ اسلام سے پہلے دنیا عدل سے محروم تھی۔ جرم کی سزا مجرم کے خاندان اور اس کے حلیفوں تک کو ملتی تھی۔ ایک آدمی کے بدلے ہزاروں انسان قتل ہوجاتے تھے۔ آج دنیا نورِ اسلام سے محروم ہے تو پھر وہی اندھیر نگری ہے۔ ایک یا چند انسانوں کی مخالفت کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے کہ نبیؐ اور خلفاے راشدین نے اسلام کے عادلانہ اصول کو اپنایا۔ امیرالمومنین حضرت عمرؓ کو ایک مجوسی نے شہید کیا اور اس نے خودکشی کرلی۔ لیکن خود حضرت عمرؓ نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ کے مجوسیوں کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ چنانچہ مدینہ میں کسی مجوسی کی نکسیر تک نہیں پھوٹی۔

o

حضرت ابوہریرہؓ  ’’ابین‘‘ جو ان کی برادری کا گائوں تھا‘ تشریف لے گئے۔ ان کے ہاں تنور کے پہلے تائو کی پکی ہوئی روٹیاں لائی گئیں (اس میں تائو اعتدال پر ہوتا ہے اور اس کی روٹی نرم ہوتی ہے)‘ تو حضرت ابوہریرہؓ رو پڑے اور کہا کہ رسولؐ اللہ نے یہ روٹی دیکھی بھی نہ تھی۔ (ابن ماجہ)

اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کا احساس آدمی کو خوشی کے آنسو رُلاتا ہے۔ یہ احساس بیدار ہو تو انسان اپنے ماضی کو بھی یاد رکھتا ہے۔ عسرت کی گھڑیاں بھی سامنے آجاتی ہیں۔ آسانیوں کے زمانے کی قدروقیمت یاد آجاتی ہے۔ صحابۂ کرامؓ کی یہی شان تھی‘ وہ اپنی عسرت کی گھڑیوں کو یاد رکھتے تھے اور اس سے زیادہ نبیؐ کی تکالیف کو یاد کرتے تھے۔ وہ آپؐ کی تکالیف کو یاد کر کے رو پڑتے تھے۔ نعمتوں کی فراوانی ان میں تکبر کے بجائے تواضع پیدا کرتی تھی۔ رونا اسی کی علامت ہے۔

o

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر سے نکلتے تھے تو دعا کرتے تھے:

اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میں بھٹک جائوں یا پھسل جائوں یا ظلم کروں یا ظلم کا نشانہ بنوں یا لڑائی جھگڑا کروں یا مجھ سے لڑائی جھگڑا کیا جائے۔ (ابن ماجہ)

انسان کو کس قسم کی فکرمندی لاحق ہونی چاہیے اس دعا سے اس کی رہنمائی ملتی ہے۔ گمراہی‘ ظلم‘ لڑائی جھگڑے ہی تو وہ برائیاں ہیں جن کی تباہی سے پوری دنیا دوچار ہے۔ انسان کو جہاں یہ فکر کرنی چاہیے کہ اسے امن ملے‘ اس کے ساتھ کوئی لڑائی جھگڑا نہ کرے اور کوئی اسے ظلم کا نشانہ نہ بنائے‘ وہیں اسے یہ بھی احساس کرنا چاہیے کہ وہ کسی کے امن و امان کو تباہ نہ کرے‘ کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کرے اور کسی کو ظلم کا نشانہ نہ بنائے۔ اپنی فکر تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن مومن دوسروں کی فکر بھی کرتا ہے۔ اپنے ساتھ معاشرے کو بھی امن و سکون دینا اس کی سیرت اور اس کا دین ہے۔

o

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک سائل آیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے اس سے پوچھا کہ تم کلمہ لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی گواہی دیتے ہو؟ اس نے جواب دیا: ہاں! پھر پوچھا: رمضان کا روزہ رکھتے ہو؟ (شاید رمضان کا سوال اس لیے کیا کہ مہینہ رمضان کا ہو)۔ اس نے جواب ہاںمیں دیا۔ اس کے بعد کہا کہ تم نے سوال کیا ہے اور سائل کا حق ہوتا ہے کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔ ہم پر تمھارا حق ہے کہ ہم صلۂ رحمی کریں۔ اس کے بعد اسے کپڑا دیا اور پھر کہا: میں نے رسولؐ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’جو مسلمان کسی مسلمان کو کپڑے پہناتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے جب تک اس کے جسم پر کپڑے کا کوئی ٹکڑا موجود ہو‘‘ ۔ (ترمذی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا جواثر حضرت ابن عباسؓ نے لیا‘ اگر وہی اثر ہر صاحب ثروت اور اہل خیر پر ہو تو معاشرے میں شاید ہی کوئی شخص بھوکا اور ننگا رہ جائے ۔ایسی صورت حال میں فقرا اور مساکین‘ مال داروں کے ساتھ حسد اور بغض کے بجائے ان سے محبت کریں گے۔ ان کے مال اور عزت کے لیے خطرہ بننے کی بجائے ان کی حفاظت کرنے لگیں گے۔ ایک ہم آہنگ معاشرہ تشکیل پائے گا۔

حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جس شخص کے پاس گواہی ہو اوروہ گواہی کے لیے بلاوے کے وقت گواہی کو چھپا دے (نہ دے) تو وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے جھوٹی گواہی دی۔ (طبرانی)

ووٹ دینا بھی گواہی ہے۔ اہل لوگوں کو ووٹ دینا سچی گواہی دینا ہے‘ نااہلوں کو ووٹ دیناجھوٹی گواہی ہے۔ ووٹ نہ دینا بھی جھوٹی گواہی کے حکم میں ہے۔ ایک ووٹر اپنی گواہی اور ووٹوں میں اضافہ بھی کرسکتا ہے۔ وہ جتنے لوگوںکو ووٹ کے صحیح استعمال کے لیے لائے گا اس کے کھاتے میں اتنے ہی لوگوں کے ووٹ کی نیکی لکھ دی جائے گی۔ ۱۰‘ ۲۰‘ ۱۰۰‘ ۱۰۰۰ جتنے لوگ اس کی آواز پر ووٹ دیں گے ان کے اجر میں وہ شریک ہوگا‘ بغیر اس کے کہ کسی ووٹر کے اجر میں کسی قسم کی کمی واقع ہو۔ ہے کوئی جواس ثواب کے لیے آگے بڑھے‘ جدوجہد کرے‘ اور اسلامی انقلاب کی راہ ہموار کرے۔ وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ o (المطففین ۸۳: ۲۶) ’’جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہیں وہ اس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں‘‘۔


حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کے لیے دعا کی تو حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ اور گھرانے کے دوسرے افراد کا ذکر کیا۔ حضرت ثوبانؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں بھی آپؐ کے گھرانے میں شامل ہوں (یعنی مجھے بھی اس سعادت سے نوازا جائے کہ آپؐ کے گھرانے میں شامل ہو جائوں)۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں‘ بشرطیکہ کسی بادشاہ کے دروازے پر کھڑے نہ ہوجائو اور کسی امیر کے پاس سائل بن کر نہ جائو۔ (طبرانی)

غور فرمایئے کہ آپؐ نے اہل بیت میں شامل کرنے کو کن باتوں سے مشروط کیا ہے۔ ہم کو اللہ کے رسولؐ سے محبت کے کتنے دعوے ہیں اور کون اہل بیت میں شامل ہونا اور اللہ کے رسولؐ کی دعا کا حق دار ہونا نہ چاہے گا لیکن اہل اقتدار کے دروازوں کے آگے کھڑے رہنے اور اہل مال کے پاس سائل بن کر جانے سے بچنے والے کتنے ہیں۔


حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ روزانہ جب لوگ صبح کرتے ہیں تو دو فرشتے بھی آسمان سے اترتے ہیں۔ وہ اللہ سے دعا کرتے ہیں۔ ایک دعا کرتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا فرما ۔اور دوسرا دعا کرتا ہے کہ اے اللہ! روک کر رکھنے والے کے مال کو تلف فرما۔ (متفق علیہ)

جسے فرشتے دعائیں دیں‘ اس کی خوش قسمتی کا کیا کہنا اور جس کے لیے فرشتے بددعائیں کریں اس کی بدبختی کا کیا ٹھکانا! خرچ کرنے والا صرف خرچ نہیں کرتا بلکہ کمائی کرتا ہے اور نعم البدل پاتا ہے‘ اور بخل کرنے والا اپنی بچت نہیں کرتا بلکہ اپنے مال کو تباہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:  وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ فَھُوَ یُخْلِفُہٗ ج (سبا ۳۴:۳۹) ’’جوکچھ تم خرچ کر دیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے‘‘۔


حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ جو شخص پہلی صف کو اس نیت سے چھوڑتا ہے کہ لوگوں کو ایذا نہ دے‘ اللہ تعالیٰ اس کے اجر کو بڑھا دیتے ہیں اور اسے پہلی صف کا اجر عطا کرتے ہیں۔ (طبرانی)

اللہ کی بندگی میں آگے ہونے‘ پہلی صف میں کھڑا ہونے کی بڑی فضیلت ہے‘ لیکن دوسروں کو تکلیف پہنچا کر نہیں۔ اگر کہیں تیزرفتاری سے آگے بڑھنا دوسرے کے لیے تکلیف کا باعث ہو‘ تو آدمی کو چاہیے کہ رفتار کم کر دے‘ آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے رک جائے‘ اللہ کے ہاں اس کا شمار اگلی صف میں ہو جائے گا‘اسے پہلی صف کا ثواب ملے گا۔ عبادت اور عبادت گزار دوسروں کی ایذا کا نہیں بلکہ ان کی راحت کا سبب بنتے ہیں۔


حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ نماز میں بندے کی طرف متوجہ رہتا ہے جب تک بندہ اس کی طرف متوجہ رہے۔ جب  بندہ اپنے چہرے کو اِدھر اُدھر پھیر دیتا ہے تووہ بھی اس سے رخ دوسری طرف پھیر لیتا ہے۔  (ابوداؤد‘ نسائی)

رب العالمین کے ہاں حاضری اور اس سے ملاقات کتنی آسان ہے۔ ملاقات کا خواہش مند جس وقت چاہے ملاقات کر سکتا ہے۔ بندے اور رب کے درمیان کوئی واسطہ بھی نہیں کہ اس کے ذریعے ملاقات کی جائے۔ بندے اور رب کے درمیان کوئی بھی حائل نہیں ہے۔ یہ بندے کی اپنی چاہت کی بات ہے‘ اس کے اپنے ذوق و شوق  اور جذبے پر منحصر ہے کہ وہ کس وقت کتنی دیر اور کیسی ملاقات چاہتا ہے۔ جیسی ملاقات چاہے گا ویسی ملاقات ہوجائے گی۔ توجہ ہٹائے گا تو رب بھی توجہ ہٹا لے گا۔

نماز رب تعالیٰ کی ملاقات اور اس سے مناجات ہے۔ نماز میں اللہ تعالیٰ بندے کے سامنے ہوتا ہے اور بندے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ بادشاہوں سے ملاقات کے لیے کتنے جتن کرنے پڑتے ہیں‘ پھر بھی وہ چند لوگ ہی ہوتے ہیں جنھیں شرف باریابی ملتا ہے۔ لیکن اللہ رب العالمین کی ملاقات کتنی آسان ہے۔ پانچ وقت اس کی طرف سے اس کے لیے بلاوا آتا ہے اور اس کے علاوہ بھی کسی بھی لمحے ملاقات کی جا سکتی ہے۔

آیئے‘ رب سے ملاقات کے جذبے اور شوق کو بیدار کریں اور نماز میں ایسا رویہ اختیارنہ کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے رخ پھیر لے۔ بلااستثنا ہر ایک کی ملاقات کے لیے راستہ کھلا ہے۔


حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جب آدمی گھر میں داخل ہو‘ داخل ہوتے وقت اور کھانے کے وقت اللہ کو یاد کرے تو شیطان اپنے آپ سے کہتا ہے کہ اس گھر میں میرے لیے کھانے اور رات گزارنے کی جگہ نہیں ہے۔ اور جب کوئی آدمی گھر میں داخل ہو اور داخل ہوتے وقت اور کھانے پر اللہ کو یاد نہ کرے تو شیطان کہتا ہے: تجھے کھانے اور رات گزارنے کی جگہ مل گئی۔ (مسلم)

گھروں کی حفاظت اور کھانے میں برکت کی فکر کسے نہیں؟ کتنا آسان نسخہ ہے۔ اللہ کی یاد ‘گھر کی حفاظت اور برکت ہے۔ اللہ فرماتے ہیں:  فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ (البقرہ ۲:۱۵۲) ’’تم مجھے یاد کرو میں تمھیں یاد کروں گا‘‘۔ اللہ جب بندے کو یاد کرتاہے تو پھر وہ شیطان کو اس کے قریب نہیں آنے دیتا۔ اسے اللہ کی طرف سے حفاظتی حصار میسر آجاتا ہے۔ شیطان‘ شیطانی کام‘ برائیاں اس گھرسے دُور‘ اس کا گھر ان سے دُور۔ اللہ کی یاد کا کتنا آسان نسخہ ہے کہ روز مرہ کی دعائوں کو اپنا معمول بنا لیا جائے۔


حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اس آدمی کا حال جو برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے پھر نیکیاں کرتا ہے‘ اس آدمی کی مانند ہے جس کے جسم پر تنگ زرہ نے اس کو دبا رکھا ہو۔ وہ ایک نیکی کرتا ہے تو اس سے اس کی زرہ کا ایک کڑا کھل جاتا ہے‘ پھر دوسری نیکی کرتا ہے تو اس سے دوسرا کڑاکھل جاتا ہے یہاںتک کہ وہ زمین پر گر جاتی ہے اور وہ آزاد ہو جاتاہے (مسند احمد بحوالہ جوامع العلوم والحکم)

گناہ انسان کے جسم و جان اور دل ودماغ کے لیے جکڑبندی‘ گھٹن اور پریشانی ہے۔اگر کوئی شخص ذہنی دبائو‘ جسمانی کھچائو اور پریشانی میں ہے‘ بے اطمینانی کا شکار ہے تو اس بیماری کا ایک سبب برائیوں کی زرہ کی جکڑبندی ہے۔ وہ اپناجائزہ خود لے کرمعلوم کر سکتا ہے کہ اس کی بیماری کاسبب کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ اس کے اعمال کیسے ہیں۔ اگر وہ برائیوں میں مبتلا ہے تو‘ توبہ کرے‘ نیکیوں کی طرف رخ کرے‘ صحت مند ہوناشروع ہو جائے گا۔وہ نیکیاں کرتا جائے گا اور گناہوں کی جکڑبندی ختم ہوتی جائے گی۔ بلاشبہہ نیکیاں برائی کو دُورکرتی ہیں‘  اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِط (ھود ۱۱:۱۱۴)‘اس حقیقت کو اس حدیث نے مثال کے ذریعے کھول کر بیان کر دیا ہے۔


حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جب آدمی اپنی گھر والی کو رات کے وقت بیدار کرے‘ پھر دونوں دو رکعت نماز پڑھ لیں تو وہ ذاکرین اور ذاکرات میں لکھ دیے جاتے ہیں۔ (جامع الاصول‘ حدیث نمبر ۴۱۷۷‘ بحوالہ ابوداؤد)

دو رکعت نماز پڑھنا کوئی بہت مشکل کام نہیں ہے۔ میاں بیوی دونوں رات کو اُٹھ کر دو رکعت پڑھنے کو معمول بنالیںتو اس کی برکت سے ان کا شمار ذاکرین میں ہو جائے گا۔ انھیں ذکر کی عادت پڑ جائے گی۔ تھوڑی نیکی‘ زیادہ نیکی کا سبب بنتی ہے۔ دو رکعتوں کو حقیرنہ سمجھیں۔ آدمی اسے اپنا معمول بنا لے تو وہ تھوڑی نہیں رہتی بلکہ زیادہ ہوجاتی ہے۔ پھر وہ نیکی آدمی کی گھٹی میں پڑ جاتی ہے‘ انسان ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے‘ یہاںتک کہ بلندترین منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ ذاکرین اور ذاکرات میں شامل ہونا بندگی کی معراج ہے۔

دو رکعت نماز‘ ایک یا دو رکوع تلاوت و مطالعہ‘ ایک دو احادیث‘ دو تین مسائل میں تھوڑا وقت صرف کر کے مہینے میں کتنی عبادات اور کتنا علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ محلے کے ایک دو آدمیوں سے ملاقاتیں‘ ان کواللہ کی بندگی کی طرف متوجہ کرنا معمولی کام ہے لیکن سال کے ۳۶۵ دن کام ہو تو مضبوط جماعت بن سکتی ہے۔ دو تین سال میں پورا محلہ اور ساری آبادی دین کے رنگ میں رنگی جا سکتی ہے۔ اسی واسطے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیرالعمل مادیم علیہ وان قل ’’بہترین عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہو‘‘۔


حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جب مردے کوچارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گردنوں پراُٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے آگے لے جائو ‘ اور اگر بدکار ہوتا ہے تو اپنے رشتہ داروں سے کہتا ہے کہ ہائے میری ہلاکت مجھے کدھر لے جارہے ہو۔ اس کی آواز کو ہر چیز سنتی ہے سوائے انسان کے۔ اگر انسان سن لیں تو بے ہوش ہوجائیں۔ (بخاری)

آج موقع ہے‘ انسان اپنے آپ کو جس گروہ میں شامل کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ کل جب اس کا جنازہ دوسروں کے کندھوں پر ہوگا اس وقت کی چیخ و پکار کام نہ دے گی۔ کل کی خوشی کا سامان آج کی نیکی اور نیک لوگوں کی صف میں شمولیت ہے۔ اس کے لیے مال و دولت‘ عہدہ و منصب‘ عیش و عشرت کی نہیں‘ اللہ کی فرماں برداری اور اس کی مرضیات کی تکمیل کی ضرورت ہے۔ آج جو اللہ کی مرضی پر چلے گا ‘ کل اللہ تعالیٰ اسے راضی کر دے گا۔  رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ط (البینہ ۹۸:۸) ’’اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے‘‘۔

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے اس حال میں تشریف لے گئے کہ خوش و خرم اور ہشاش بشاش تھے‘ واپس تشریف لائے تو غم زدہ تھے۔ میں نے پوچھا: یارسول اللہ! آپؐ میرے پاس سے گئے تھے تو خوش تھے‘ واپس تشریف لائے ہیں تو غمگین ہیں۔ کیا چیز اس کا سبب بن گئی؟ آپؐ نے فرمایا: میں کعبہ کے اندر داخل ہو گیا۔ بعد میں مجھے خیال آیا کاش میں داخل نہ ہوا ہوتا۔ مجھے ڈر ہے کہ میں نے داخل ہو کر اپنے بعد اُمت کو مشقت میں ڈال دیا۔ (ابن ماجہ‘ باب دخول الکعبہ‘ کتاب الحج‘ ص۲۲۶)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمل بھی کیااُمت کے لیے اس میں زبردست کشش ہے۔ اُمتی وہ کام کر کے رہتے ہیں۔ آپؐ کعبہ میں داخل ہوئے تو سب مسلمان کعبہ میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے جو ان کے لیے تکلیف کا موجب بن جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اُمت کو مشقت سے بچانے کی کتنی فکر تھی کہ ایک فعل کر لیا‘ پھر خیال آیا کہ اس سے اُمت مشقت میں پڑ جائے گی‘ لوگ ایک دوسرے پر ہجوم کریں گے۔ اتنی بات سے آپؐ غمگین ہو گئے۔ ابھی ہجوم ہوا نہیں تھا ‘کوئی کچلا نہیں گیا تھا محض اس کا خطرہ اور اس کا احساس آپؐ کو دامن گیر ہوگیا۔ وہ اُمت جس کے لیے اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فکرمندی‘ بے چینی اور بے قراری کا یہ حال ہے‘ وہ آج کس حال میں ہے اور اس کی خود اُمت کو کیا فکر ہے؟ اس کا جواب ہر کلمہ گو کو دینا ہے۔ کیا اس اُمت کے حصے بخرے کیے جا سکتے ہیں؟ اُمت کے کسی ایک حصے کے متعلق یہ امتیاز ہو سکتا ہے کہ پہلے اس کی فکر کرو پھر دوسروں کی‘ یا اپنے آپ کو دوسروںپر مقدم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور کشمیر کی فکر کرو‘ افغانستان اور فلسطین کو چھوڑ دو۔ کیا ایسا ہو سکتاہے؟ آج مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے۔ کسی کو اس کا دکھ درد اور غم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی سی بات پر اتنے غم زدہ ہو گئے‘ نبی کے اُمتی کس مقام پر کھڑے ہیں۔ ایمانی جذبات‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت‘ اُمت سے لگائو‘ بھائیوں کے لیے ایثار و قربانی‘ سب چیزیں کہاں چلی گئیں؟ ہم کب بیدار اور کب زندہ ہوں گے؟ کب مسلمانوں کی تکلیف بسترِ استراحت کو چھوڑ کر ان کے دکھ درد میں شرکت کرنے پر آمادہ کرے گی؟


حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پر گزر ہوا ‘جب کہ وہ زمین میں کچھ پودے لگا رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: ابوہریرہ! کیا لگا رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! کچھ پودے لگا رہا ہوں۔ اس پر رسولؐ اللہ نے فرمایا: میں تجھے ان پودوں سے بہتر پودے نہ بتلائوں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں یارسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا: سبحان اللہ‘ والحمدللہ‘ لا الٰہ الا اللہ ‘ واللہ اکبر کہو‘ ہر ایک کے بدلے میں اللہ تعالیٰ جنت میں تمھارے لیے ایک درخت لگا دیں گے۔ (ابن ماجہ‘ باب فضل التسبیح‘ ص ۲۷۸)

دنیا کو آباد کرنا اس کے لیے شجرکاری ‘ کاشت کاری ‘ خرید و فروخت ‘ صنعت و حرفت‘ زمین کے خزانے نکالنا اور ان سے استفادہ کرنا‘سائنس و ٹکنالوجی کے ذریعے ترقی کے سازوسامان تیار کرنا‘ سہولتیں اورآسایشیں فراہم کرنا سب اپنی جگہ بجا لیکن یہ سب کام اسی وقت ٹھیک ہیں‘ جب کہ اصل جگہ کے لیے بھی جہاں ہمیشہ رہنا ہے‘ فکر کی جائے۔ آخرت کے لیے شجرکاری‘ تجارت‘ صنعت و حرفت‘ راحت کا سازوسامان پیدا کرنا‘ تو اصل کام ہے۔ کوئی ترک دنیا کا درس دیتا ہے اور کوئی دارآخرت سے غفلت میں مبتلا کرتا ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو سنوارنے‘ بنانے ‘ راحت کا سامان کرنے اوریوں انسان کی ہر حال میں بھلائی کے لیے فکرمند ہیں۔ ادنیٰ کے لیے اعلیٰ‘ دنیا کی خاطر آخرت کو نظرانداز کرنے کو گوارا نہیں فرماتے۔ بہتر پودے‘ بہتر کاروبار‘ بہتر صنعت و حرفت اور بہتر سہولتیں آخرت کی ہیں۔ آج کتنے ہیں جو بہتر سے غافل اور ادنیٰ میں اندھادھند مگن ہیں۔ ذکر وتسبیح تو آخرت کے سامان ہیں۔ دنیا کے کام شریعت کو ملحوظ رکھ کر ‘ اطاعت رب کی نیت سے ہوں‘ تو یہ بھی آخرت کا سامان ہے۔ ۲۴گھنٹے جاگتے سوتے اللہ کی عبادت ہو سکتی ہے بشرطیکہ کوئی عبادت کرنا چاہے اور آخرت کے لیے فکرمند ہو۔


حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو بھی حرام کیا ہے اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم میں سے کوئی نہ کوئی اس کا مرتکب ہوگا۔ سنو! میں تمھیں تمھاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر آگ میں گرنے سے روکتا ہوں۔ تم اسی طرح آگ میں دوڑ دوڑ کر گرتے ہو جس طرح پروانے اور مکھیاں آگ میں گرا کرتی ہیں۔ (الفتح الربانی‘ باب ماجاء فی المفردات من المناہی‘ ج۱۹‘۲۰)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین اور ایمان والوںکے لیے رئوف و رحیم ہیں۔ ایمان والوں کے ساتھ ہمدردی‘ محبت اور تعلق کا تقاضا کیا ہے‘ انھیں دوزخ میں گرنے سے بچانا۔ اس کے لیے دوڑ دھوپ کرنا اور اپنا آرام ترک کرنا پڑتا ہے۔ لوگ تو آگ میں چھلانگیں لگا رہے ہیں۔ کوئی ہانک پکار پر کان نہیں دھرتا۔ شیطان کو راضی کرنے کے لیے دوزخ کی آگ اور کفار کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ بے قصورلوگوں کو تہ تیغ کرنے‘ گرفتار کرنے‘ بوڑھوں‘ بچوں‘عورتوں اور نوجوانوں کو ظلم و جور کا نشانہ بنانے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نبی کا اسوہ اور تعلیم زبانی نہیں بلکہ عملاً لوگوں کو دوزخ میں گرنے‘ ظلم و جور اور قتل و غارت گری سے روکنے کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ تو یہ ہے‘ تب کتنے ہیں جو اپنے گھروں سے باہر نکل کر ظالموں کو دوزخ کی آگ میں گرنے سے عملاً روک رہے ہوں۔ کون ہے لوگوں کو کمروں سے پکڑنے والا‘ ان کو ہاتھ سے روکنے والا‘ اپنے آرام و راحت کو قربان کرنے والا‘ اپنے آپ کو آزمایش اور تکلیف کے لیے پیش کرنے والا بنے۔ نبیؐ کے راستے پر چلے بغیر‘ معرکہ خیروشر میں کودے بغیر‘ لوگوں کو کمر سے پکڑ پکڑ کر بچائے بغیر کیسے اتباع کا حق ادا کیا جا سکتا ہے۔ آیئے‘ آخرت کی کمائی کا بازار کھلا ہے۔ جس نے کمائی کرنی ہو‘ نبیؐ کے اسوہ حسنہ کو اختیار کر لے اور نیکیاں کماتا چلا جائے۔


حضرت ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظلم اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ اس بات کا سزاوار نہیں کہ اس کا عذاب دنیا میں جلدی دے دیا جائے اور آخرت کا عذاب اس کے علاوہ ہو۔ (الفتح الربانی الترہیب‘ من قطع صلۃ الرحم‘ ج ۱۹‘۲۰‘ ص ۲۱۷)

تاریخ گواہ ہے کہ ظالموں کو اس دنیا میں عبرت ناک سزا ملتی ہے۔ ساری دنیا اپنی آنکھوں سے ان کے انجام کو دیکھتی ہے۔ بنی اسرائیل کی نسل کُشی کرنے والے فرعون کے دریاے نیل میں غرق ہونے سے لے کر آج تک ہر ظالم کی ہلاکت کے مناظر زمانے کے صفحات پر ثبت ہیں۔ لیکن ہر نئے دور کے ظالم ان سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے اپنے پیش روئوں کی تقلید کرتے ہوئے ظلم میں آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں تاآنکہ اپنے انجام بد سے دوچار ہوجاتے ہیں‘ اور ارشاد رسولؐ کی صداقت سامنے آجاتی ہے۔


حضرت یزید بن الھادؓ حضرت محمد بن عبداللہ بن عمرؓ بن خطاب سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی جو مروان سے مل کر آئے تھے۔ پوچھا: کہاں سے آئے؟ جواب دیا: امیرمروان سے مل کر آئے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے پوچھا: جو حق بات تم نے دیکھی اس کی تائید اور جو منکر نظر آیا اس کی تردید کی؟ جواب دیا: نہیں‘ اللہ تعالیٰ کی قسم‘ نہیں‘ بلکہ اس نے بعض منکر باتیں بھی کیں جن کے بارے میں ہم نے کہا اللہ آپ کو ٹھیک رکھے‘ آپ نے اچھا کیا۔ جب ہم اس کے پاس سے باہر نکلے تو ہم نے کہا اللہ اس کو ہلاک کرے‘ کتنا ظالم اور کتنا بدکار ہے۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا: ’’رسولؐ اللہ کے زمانے میں ہم اس طرح کے طرزعمل کو نفاق قرار دیتے تھے‘‘۔ (الفتح الربانی الترہیب‘ من النفاق‘ ج ۱۹‘ ۲۰‘ ص ۲۳۰)

اس وقت تو چند ایسے لوگ تھے جو حکمرانوں کے سامنے ان کی تائید اور باہر نکل کر تردید کرتے تھے‘ یہ نفاق ہے۔ آج یہ نفاق اس قدر بڑھ گیا ہے کہ جب حکمران برسراقتدار ہوتا ہے تو وہ محبوب اور قائد ہوتا ہے اور جب اقتدار سے رخصت ہو جاتا ہے تو مبغوض اور لعنتی شمار ہوتا ہے۔ انسانوں کے بڑے بڑے ریوڑ حکمران کے دوراقتدار میں ساری دنیا کے سامنے اس کے مداح‘ اور اقتدار سے اُترنے کے بعد ساری دنیا کے سامنے‘ اس دنیا کے سامنے جس کے سامنے مدح کرتے تھے‘ مذمت کرتے ہیں اور گردن زدنی قرار دیتے ہیں۔ ریوڑوں کے ریوڑ بڑی بڑی پارٹیاں اور لیڈر‘ راہنما اور راہبر اس بیماری کا شکار ہیں‘ نعوذ باللہ۔


حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت جمیلہؓ بنت سلول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں ثابت بن قیس سے اس کے دین اور اخلاق کی بنا پر ناراض نہیں لیکن میں مسلمان ہوتے ہوئے ناپسند کرتی ہوں کہ (شوہر کی) ناشکری اور ناقدری کروں۔ (میں اسے اس کی شکل و صورت کی وجہ سے) طبعاً ناپسند کرتی ہوں اور اس لیے اسے برداشت نہیں کرسکتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کا باغ واپس کرنے کے لیے تیار ہو؟ اس نے عرض کیا: ہاں۔ رسولؐ اللہ نے حضرت ثابت بن قیسؓ کو فرمایا: اس سے باغ لے لو اور (طلاق دے دو) اس سے مزید کچھ نہ لو۔ (ابن ماجہ‘ کتاب الطلاق‘ ص ۱۴۹)

نکاح کے بندھن میں آنے سے پہلے دیکھنا چاہیے کہ شوہر کیسا ہے‘ شکل و صورت کے لحاظ سے قابل قبول ہے کہ نہیں۔ اسی طرح سے بیوی کے بارے میں بھی پہلے سے فیصلہ کرنا چاہیے۔ نکاح کے بعد قانون میں اس کی گنجایش نہیں لیکن اگر کسی وجہ سے پہلے اس کا اہتمام نہ ہو سکا ہو تو پھر کیا ہو؟ کیا میاں بیوی کو اسی طرح قانون کی لاٹھی سے ہانکا جائے گا اور وہ ایک دوسرے کو نہ چاہتے ہوئے بھی نکاح کے بندھن میں بندھے رہیں گے؟ اگر ایسا کیا جائے تو گھرانے میں سکون و چین کیسے ہوگا؟ کیا میاں بیوی اسی طرح ایک دوسرے سے روٹھے‘ پیٹھ پھیرے‘ گھٹے گھٹے زندگی بسر کریں گے؟ کیا ایک دوسرے کے انسانی اور اسلامی حقوق کو پامال کرتے ہوئے ازدواجی زندگی بسر کریں گے؟ اس کا جواب اس حدیث میں ہے۔ ایسی صورت میں اخلاق اور مصالح کو پیش نظر رکھا جائے گا اور قانون کے بجائے مثالی اسلامی معاشرے کے آداب کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جائے گی۔بیوی شوہر کو ناپسند کرتی ہو تو شوہر کو سمجھایا جائے گا کہ اپنے گھر کو بے چینی اور بے اطمینانی کا گھر بنانے کی بجائے سکون اور راحت کا گھر بنائے۔ ایسی بیوی کو طلاق دے دو اور شادی پر جو ضروری اخراجات آئے ہیں‘ جو مہر دیا ہے وہ واپس لے لو اور اس سے دوسرا گھر بسائو۔

جبر و اکراہ کے ساتھ گھروں کو بسانے کی بجائے رضامندی سے معاملات طے کیے جائیں۔ شادی کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ شوہر بیوی پر شفقت کرے گا‘ خوش اخلاقی سے پیش آئے گا اور بیوی اس کی اطاعت اور شکرگزاری کرسکے گی۔ دونوں مل کر اپنے گھر کو مثالی اسلامی گھرانہ بنا سکیں گے۔ بعد میں اگر اختلاف پیدا ہو جائے تو اس کا حل بھی یہی ہے۔ مصالحت نہ ہو سکتی ہو تو زبردستی کی بجائے احسن طریقے سے جدائی کا راستہ اختیارکیا جائے۔ آج کتنے گھرانے ہیں جو اس طرح کی صورت حال سے دوچار ہیں۔ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ باہمی عداوت کو بڑھانے کے بجائے اسلامی بھائی چارے کی بنیاد پر باہمی مشاورت سے مسائل کو حل کیا جائے۔ عدالتوںکے چکر سے بھی بچا جائے جو اسلامی احکام سے ناواقفیت کی بنا پر جاہلانہ فیصلے صادر کرتی ہیں۔

 

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مومن کو اس کی موت کے بعداس کے جو اعمال اور نیکیاں پہنچتی رہتی ہیں وہ یہ ہیں: علم جو اس نے سکھایا اور پھیلایا‘ نیک اولاد جو اس نے چھوڑی‘ قرآن پاک جو اس نے وراثت میں دیا‘ مسجد‘ مسافرخانہ یا نہر جو اس نے تعمیر کی‘ صدقہ جو صحت کی حالت میں اس نے اپنے مال سے نکالا۔ (ابن ماجہ‘ ص ۲۲۔ البیہقی ج ۱‘ ص ۱۰۶)

کسی کو نیکی کے دو بول سکھاکر‘ کوئی کتابچہ پڑھا کر‘ مسجد‘ کنوئیں یا نہر کی تعمیر میں حسب استطاعت حصہ ڈال کر‘ کسی دعوتی و تبلیغی کام میں اعانت کر کے‘ قرآن‘ احادیث اور دینی لٹریچر کی اشاعت میں تعاون کر کے آسانی سے اپنے لیے صدقہ جاریہ کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ اپنے اپنے وسائل کے مطابق ’کم یا زیادہ‘ ہر شخص یہ اجر لے سکتا ہے


حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا:

جو حج کے لیے نکلا پھر فوت ہو گیا‘اس کے لیے قیامت کے دن تک حاجی کا اجر لکھا جائے گا اور جو عمرے کے لیے نکلا‘ پھر مرگیا‘اس کے لیے قیامت کے دن تک عمرے کا اجر ہے اور جو غازی بن کر نکلا‘ پھر مر گیا اس کے لیے قیامت کے دن تک غازی کا اجر لکھا جائے گا۔ (مشکوٰۃ ‘ ج ۲‘ ص ۹‘ حدیث ۲۵۳۹)

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جو دُنیا سے اس حال میں جدا ہوا کہ اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ مخلص تھا‘ نماز قائم کرتا اور زکوٰۃ دیتا تھا (باقی عبادات بھی کرتا تھا) وہ دُنیا سے اس حال میں جدا ہوگا کہ  اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو گا۔ (ابن ماجہ ‘ ص ۸‘ الحاکم)

ڈیوٹی کے دوران کوئی فوت ہو جاتا ہے تو اس کے ورثا کو ایک عرصے تک فوت ہونے والے کا مشاہرہ اور دوسری مراعات دی جاتی ہیں۔ مزید اعانت بھی کی جاتی ہے لیکن یہ سب کچھ محدود وقت کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مومن اللہ کی عبادت کے دوران فوت ہوجائے تو قیامت تک وہ آن ڈیوٹی شمار ہوتا ہے۔ حاجی‘ معتمر (عمرہ کرنے والا)‘ نمازی اور غازی قیامت کے دن تک اپنی عبادت کا اجر پاتے رہیں گے۔ قیامت تک اجر پانے کا بہت آسان نسخہ یہ ہے کہ ہر وقت اللہ کی عبادت کی نیت میں رہے کہ میں اللہ کا حکم مانوں گا‘ اس کے مقابلے میں کسی کے احکام نہیں مانوں گا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔ تب اس کا اٹھنا بیٹھنا‘ سونا جاگنا‘ چلنا پھرنا‘ سب عبادت شمار ہوگا۔ اس دوران میں اس کی وفات ہوگئی تو ان لوگوں میں شامل ہوگا جو عبادت کے دوران میں فوت ہو جاتے ہیں۔ یہی معنی ہیں اس آیت کے: وَلاَتَمُوْتُنَّ اِلاَّ وَاَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ ’’تمھیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو‘‘۔


حضرت خالد بن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عتبہؓ بن غزوان بصرہ کے گورنر تھے۔ انھوں نے ایک دن ہمیں خطاب کیا۔ حمدوثنا کی‘ پھر کہا دُنیا نے کوچ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس نے چلے جانے کے لیے پیٹھ پھیر لی ہے۔ اس کا تھوڑا سا حصہ جتنا برتن کی تہہ میں بچ جایا کرتا ہے‘ بچ گیا ہے۔ تم اس گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو جو لازوال ہے۔ پس تمھارے پاس جو بھلائیاں ہیں انھیں لے کر منتقل ہوجائو۔ ہم سے ذکر کیا گیا کہ وہ پتھر جو دوزخ کے کنارے سے جہنم میں پھینکا جائے گا وہ اس کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے ۷۰سال تک گرتا چلا جائے گا۔ اللہ کی قسم! اسے بھر دیا جائے گا۔ کیا تمھیں اس بات میں تعجب ہے؟ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جنت کے دو کواڑوں کے درمیان ۴۰ سال کی مسافت ہے۔ ایک دن آئے گا کہ وہ اژدہام کی وجہ سے تنگ ہو جائے گا۔

میں نے اپنے آپ کو اس حال میں بھی دیکھا ہے کہ میں رسولؐ اللہ کے ساتھ ساتواں آدمی تھا۔ ہمارے لیے درختوں کے پتوں کے سوا کھانے کے لیے کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔ ہماری باچھیں پتوں کی وجہ سے زخمی ہو گئیں تھیں۔ (یہ حال تھا) میں ایک چادر لایا اور اسے دو حصے کیا‘ ایک حصہ میں نے اور ایک حضرت سعدؓ بن ابی وقاص نے پہنا لیکن آج کے دن ہم میں کوئی آدمی ایسا نہیں جو کسی علاقے کا گورنر نہ ہو۔ میں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ اپنے آپ کو عظیم سمجھوں اور اللہ کے ہاں چھوٹوں میں شمار ہوں۔ کوئی نبوت نہیں تھی مگر اس میں تغیر پیدا ہوا یہاں تک کہ آخرکار وہ بادشاہت میں ڈھل گئی۔ تم ہمارے بعد آنے والے حکمرانوں کو دیکھو گے اور آزمائو گے۔ (مسلم‘  ۲۹۶۷)

دُنیا کی فنا‘ آخرت کی بقا‘ دوزخ کا خوف‘ جنت کا شوق اور دُنیا میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احساس ہو تو پھر انسان ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتا ہے۔ تکالیف میں مایوسی کا شکار نہیں ہوتا اور آسودہ حالی میں تکبر و غرور میں مبتلا نہیں ہوتا۔ خلافت میں امرا کی شان کیا ہوتی ہے۔ اس کی جھلک حضرت عتبہؓ بن غزوان کے اس خطبے سے سامنے آتی ہے کہ وہ متواضع اور ذاکر و شاکر ہوتے ہیں۔خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے بعد بادشاہت کا دور ہوتا ہے اور آخرت کے بجائے دُنیا پر نظریں جمنا شروع ہو جاتی ہیں۔


حضرت مالک بن انسؓ کو یہ بات پہنچی کہ عیسٰی بن مریم ؑ کہا کرتے تھے کہ اللہ کے ذکر کے سوا زیادہ باتیں نہ کرو‘ اس سے دل سخت ہو جاتے ہیں۔ سخت دل اللہ سے دُور ہوتا ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ لوگوں کے گناہوں پر اس طرح نظر نہ کرو گویا تم ان کے رب ہو بلکہ اپنے گناہوں پر یہ سمجھ کر نظر ڈالو کہ تم غلام ہو۔ لوگ دو طرح کے ہیں: ایک وہ جو آزمایش میں ہیں‘ دوسرے وہ جو عافیت میں ہیں۔ آزمایش والوں کے لیے رحمت کی دعا کرو‘ اور عافیت پر اللہ کا شکر ادا کرو (موطا)۔ اس حدیث کا پہلا حصہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے رسولؐ اللہ سے بھی بیان کیا ہے۔ (ترمذی)

گناہ انسان خود بھی کرتا ہے اور اس کے آس پاس دوسرے لوگ بھی کرتے ہیں۔ ان گناہوں کو کس نظر سے دیکھا جائے؟ اس حدیث کی یہ بڑی اہم تعلیم ہے کہ دوسروں کو اس طرح نہ دیکھو کہ گویا تم ان کے رب ہو۔ اکثر نیکوکار  دوسروں کی اصلاح کے شوق میں اس غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں---


حضرت جابر بن عتیکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن ثابتؓ کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ آپؐ نے انھیں غشی کی حالت میں پایا۔ آپؐ نے انھیں آواز دی تو جواب نہ دیا۔ اس پر آپؐ نے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور فرمایا: ابوالربیع (ان کی کنیت تھی) ہم آپؐ  کے معاملے میں بے بس ہو گئے ہیں۔ یہ سن کر عورتوں نے چیخ و پکار شروع کر دی۔ حضرت جابر بن عتیکؓ نے انھیں خاموش کرنا شروع کردیا۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا: اس وقت نہ روکو۔ جب واجب ہو جائے تو پھر کوئی بھی نہ روئے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! واجب ہو جائے گا کا کیا مطلب ہے؟ آپؐ نے فرمایا: جب فوت ہو جائے۔

بیٹی نے اپنے باپ کو مخاطب کر کے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو امید تھی کہ آپ شہید ہوں گے۔ آپ نے اپنا سامان جہاد تیار کیا تھا۔ رسولؐ اللہ نے سنا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان کی نیت کے مطابق ان کے لیے اجر رکھ دیا ہے۔   تم شہادت کس چیز کو سمجھتے ہو؟صحابہؓ نے عرض کیا: اللہ کی راہ میں قتل کیے جانے کو۔ آپؐ نے فرمایا: قتل فی سبیل اللہ کے علاوہ بھی سات آدمی شہید ہیں۔ طاعون کی بیماری والا‘ جل کر فوت ہونے والا‘ ڈوب کر مرنے والا‘ ذات الجنب(نمونیے) کی بیماری والا‘ اسہال کی بیماری والا‘ جو کسی چیز کے نیچے دب کر فوت ہو‘ عورت جو ولادت کے موقع پر فوت ہو جائے۔ یہ سب شہید ہیں۔ (موطا‘ ابوداؤد ‘ نسائی)

موت واقع ہونے سے پہلے رونے کی اجازت ہے‘ موت کے بعد اونچی آواز سے رونا نوحہ ہے جو ممنوع ہے۔ نبی کریمؐ کی شفقت دیکھیے کہ جہاں رونے کی گنجایش ہے وہاں روکنے سے منع کرتے ہیں۔ بیٹی کے غم کو کہ باپ جہاد میں شریک ہو کر شہید نہ ہو سکے‘ ہلکا کر رہے ہیں‘ کہ نیت کے مطابق وہ شہید ہے۔ پھر دوسری مختلف نوعیت کی اموات کے بارے میں شہادت کی اطلاع دے کر کس کس کو اطمینان و سکون فراہم کر دیا۔سبحان اللہ! ایسی رؤف و رحیم نبی کی اُمت کو رحیم ہونا چاہیے۔ شریعت نے جہاں گنجایش رکھی ہو وہاں سختی کے بجائے گنجایش دینا چاہیے اور جہاں سختی کی ہے وہاں سختی کرنا چاہیے لیکن اتنی‘ جتنی شریعت کے مزاج سے مطابقت رکھتی ہو۔


حضرت مصعبؓ بن سعد اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے بیان کرتے ہیں‘ میںنے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! کن لوگوں پر زیادہ آزمایش آتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: انبیا‘ پھر نیک لوگ‘ پھر درجہ بدرجہ۔ انسان کی اس کے دین کے مطابق آزمایش کی جاتی ہے۔ اگر اس کے دین میں مضبوطی ہو تو اس کی آزمایش زیادہ ہوتی ہے اور دین میں کمزوری ہو تو آزمایش میں بھی تخفیف ہوتی ہے۔بندے پر آزمایش رہتی ہے یہاں تک کہ وہ زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی خطا نہیں ہوتی۔  (الفتح الربانی)

آزمایش محبت کی ہے۔ جو محبت میں آگے ہوں گے ان کی آزمایش بھی زیادہ ہے اور جو محبت میں پیچھے ہیں ان کی آزمایش بھی آسان ہے۔ آزمایش درجات کی بلندی کے لیے ہے‘ سزا نہیں ہے۔ آج بھی اُمت مسلمہ ایک بڑی آزمایش سے دوچار ہے۔ نظر آ رہا ہے کہ جن کے مرتبے زیادہ ہیں ان کی آزمایش بھی زیادہ ہے۔

 


حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جس کے ساتھ اللہ بھلائی کاارادہ کرتے ہیں اسے مصیبت سے دوچار کرتے ہیں۔ (الفتح الربانی)

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مجھے اللہ کی خاطر اس وقت بھی ایذادی گئی جب کسی کو ایذا نہیں دی جاتی تھی اور مجھے اللہ کی خاطر خوف زدہ کیا گیا‘ جب کہ کسی کو خوف زدہ نہیں کیاجاتا تھا ۔ (الفتح الربانی)

ایک دور وہ تھا جب آزمایشوں اور ڈراووں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تھے۔ لیکن یہ آزمایشیں اور ڈراوے آپؐ کو راہ حق سے پیچھے نہ ہٹا سکے۔ آزمایشیں تنزلی نہیں بلکہ ترقی کا سامان ہیں۔ اسلام کی تاریخ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اس بات کی گواہ ہے۔