مضامین کی فہرست


اپریل ۲۰۲۳

قرآن کریم نے انتہائی مختصر اور جامع انداز میں رمضان کے روزوں کا بنیادی مقصد صرف ایک ترکیب میں بیان کر دیا ہے یعنی ’حصولِ تقویٰ‘۔ اس کے ساتھ ہی جو ترکیب استعمال کئی گئی ہے، وہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ روزوں کےاہتمام کے بعد بھی تقویٰ کا حصول متوقع تو ہے لازمی نہیں ہے۔یعنی جب تک تقویٰ کے حاصل کرنے میں خلوصِ نیت، رضائے الٰہی اور ہر اس کام سے شعوری طور پر بچنے کی کوشش نہیں ہوگی جو رب کریم کو ناپسند ہے، روزوں اور تمام رات کی نماز کے باوجود روزہ کا مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا۔ اسی لیے فرمایا گیا:

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَـمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝۱۸۳ۙ (البقرہ۲:۱۸۳)اےلوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کردیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا ؑکے پیروکاروں(اُمتوں ) پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی ۔

تقویٰ کا مادہ’وقایہ ‘ہے جس کا مفہوم لغت میں اپنے آپ کو روکے رکھنے، بچانے اور بعض چیزوں سے احتیاط کرنے کا ہے ۔ ہم عام طور پر تقویٰ کو اس طرح لیتے ہیں کہ محض چند کاموں سے بچنا چاہیے۔ یہ اگرچہ اپنی جگہ درست ہے لیکن اگر تقویٰ کے مفہوم کو خود قرآن کریم میں تلاش کیا جائے تو سورۂ بقرہ ہی میں اس کی تعریف مل جاتی ہے جو تقویٰ اور صدق کو کم از کم ۱۴ متعین اعمال سے وابستہ کرتی ہے اور ان میں محدود نہیں کردیتی:

 لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ۝۰ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّہٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ۝۰ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَى الزَّكٰوۃَ۝۰ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰھَدُوْا۝۰ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا۝۰ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ۝۱۷۷ (البقرہ ۲:۱۷۷)

نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یومِ آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں اور مسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اُسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راست باز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔

یہ آیت البر تقویٰ کی جامع تعریف یہ بیان کرتی ہے کہ جب ایک صاحب ِایمان مرد ہو یا عورت ، جوان ہو یا بزرگ، ان چودہ اعمال کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ایمانِ صادق اور تقویٰ پر عامل ہونے کو ظاہر کرتا ہے ۔ آیت میں ترتیب سے حسب ذیل چودہ اعمالِ تقویٰ بیان کیے گئے ہیں: 

۱- توحید یعنی ایمان باللہ ۲-آخرت پر ایمان۳- ملائکہ پر ایمان۴-نازل کردہ کتابوں پر ایمان۵-انبیا ؑپر ایمان ۶-اپنا پسندیدہ مال اقربا پر خرچ کرنا ۷-یتامٰی پر خرچ کرنا۸-مساکین کی خبر گیری ۹-مسافروںکی امداد ۱۰- ہاتھ پھیلانے والوں کی ضرورت پوری کرنا ۱۱-غلاموں کی رہائی پر خرچ کرنا۱۲-زکوٰۃ ادا کرنے پر خرچ ۱۳-اپنے وعدوں کو پورا کرنا ۱۴-تنگی اور مصیبت میں اور حق و باطل کے معرکہ میں استقامت اورتحمل اختیار کرنا ۔

گویا رمضان کے روزے جس تقویٰ کو پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ محض بعض اعمال و افعال یعنی چیزوں سے بچنا اور احتیاط کرنا نہیں ہے بلکہ یہ چودہ اعمال و افعال وہ ہیں جن کو یہ آیتِ مبارکہ تقویٰ اور صدق قرار دیتی ہے ۔ اس میں غور طلب پہلو یہ ہے کہ ان چودہ مثبت کاموں میں صرف دو وہ ہیں جن کا ہم پوری توجہ سے رمضان میں اہتمام کرتے ہیں، یعنی نماز اور زکوٰۃ۔

جن چیزوں سے بچنے کا تصور رمضان اور تقویٰ کے الفاظ سنتے ہی ہمارے ذہن میں آتا   ہے، یہ ممنوع اعمال بہت معروف ہیں۔ قرآن نے انھیں جگہ جگہ بیان کر دیا ہے، یعنی قتل ناحق، چوری ، زنا ، جھوٹ ، شرک اور دیگر منکرات و فواحش، جب کہ تقویٰ محض ان سے بچنے سے زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے ۔

جس طرح آیت البر تقویٰ کے مثبت پہلو کو واضح کرتی ہے ،ایسے ہی سورۃ الحجرات ان اجتماعی برائیوں کی وضاحت کر دیتی ہے، جن سے عموماً رمضان کے دوران بھی شعوری طور پر بچنے کی کوشش نہیں کی جاتی :

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اُس کے رسولؐ کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اورجاننے والا ہے۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو،اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو،اور نہ نبیؐ کے ساتھ اُونچی آواز سے بات کرو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔ جو لوگ رسولِؐ خدا کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں، وہ درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے، اور اُن کے لیے مغفرت ہے اور اجر ِعظیم۔

اے نبیؐ، جو لوگ تمھیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں، ان میں سے اکثر بے عقل ہیں۔ وہ تمھارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انھی کے لیے بہتر تھا، اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔ خوب جان رکھو کہ تمھارے درمیان اللہ کا رسولؐ موجود ہے۔ اگر وہ بہت سے معاملات میں تمھاری بات مان لیا کرے تو تم خود ہی مشکلات میں مبتلا ہوجائو۔ مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمھارے لیے دل پسند بنادیا، اور کفروفسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کردیا۔ ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل و احسان سے راست رَو ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے۔

اوراگر اہلِ ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کرائو۔ پھر اگر اِن میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو۔ اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کےدرمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو، اُمید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اُڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اُڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بُری بات ہے۔ جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ تجسس نہ کرو۔ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تمھارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟دیکھو، تم خود اس سے گھِن کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔

لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمھاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزّت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبرہے۔(الحجرات ۴۹:۱-۱۳)

 سورۃ الحجرات کی درج بالا آیات میں ایسے کام گنوائے گئے ہیں، جو حیاتِ اجتماعی کی صحت کے لیے اہمیت رکھتے ہیں:

۱-اللہ اور رسولؐ کے واضح احکام کی روشنی میں اپنی رائے اور فکر کے مطابق فیصلہ نہ کرنا  ۲- اپنی آواز کو رسولؐ اللہ کی آواز سے بلند نہ کرنا۳- غیر مصدقہ اطلاعات اور خبروں کو بلا تحقیق نہ پھیلانا ۴- اہل ایمان کے درمیان اختلاف اور ٹکراؤ کو دُور کرنے کی کوشش کرنا ۵-اگر دو گروہ جنگ پر آمادہ ہو جائیں تو صلح کی کوشش کرنا اور بھائیوں کے درمیان تعلقات کی اصلاح کرنا ۶-لوگوں کا مذاق نہ اڑانا  ۷-ایک دوسرے پر طعن نہ کرنا ۸- ایک دوسرے کو بُرے القاب سے یاد نہ کرنا ۹- ظن اور گمان کی بنیاد پر بدگمانی میں مبتلا نہ ہونا ۱۰-تجسس نہ کرنا ۱۱-غیبت نہ کرنا ۱۲-اپنے قبیلے ، برادری ، ذات پر فخرنہ کرنا ۱۳- تقویٰ کی روش اختیار کرنا ۔

یہاں جو اہم پہلو غور طلب ہے وہ یہ کہ رمضان کے دوران سورۃ الحجرات کے احکامات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا ان اجتماعی برائیوں اور خرابیوں سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے؟ کیا ہم اس ماہ میں ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑنے، دلوں سے نفرتیں دُور کرنے ، غیر مصدقہ سوشل میڈیا کے استعمال اور منفی فکر کی جگہ معاشرے کے مظلوم طبقات کی عملی امداد ، نوجوانوں میں تیزی سے پھیلنے والی خرابیوں اور نشہ آور ادویات کے استعمال کے خلاف شعور بیدار کرنے کی منظم کوششیں کرتے ہیں؟

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْۚ (الحجرات۴۹:۱۰)بے شک سب مومن آپس میں بھائی ہیں۔ تم اپنے بھائیوں میں صلح کرائو۔

تقویٰ کے مثبت تصور کو سمجھنا اور اسے اپنے طرز ِعمل کے ذریعے معاشرے میں متعارف کروانے کا نام ہی دعوت و اصلاح ہے ۔ انبیائے کرامؑ نے زبانی جمع خرچ کی جگہ اپنے دور میں مظلوم طبقات کے حقوق کے حصول کے لیے کوشش کی اور وہ جو کل تک غلام تھے، اُمت کے قائد بن گئے۔

تحریک اسلامی کے کارکنوں کا طرزِ عمل کیا ہو؟ اس پر قرآن بہت واضح ہدایات دیتا ہے:

يٰٓاَ يُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاۗءَ لِلہِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ

اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ۝۰ۚ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللہُ اَوْلٰى بِہِمَا۝۰ۣ فَلَا تَتَّبِعُوا الْہَوٰٓى اَنْ تَعْدِلُوْا۝۰ۚ وَاِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللہَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا۝۱۳۵  (النساء ۴:۱۳۵) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، انصاف کے علم بردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو، اگرچہ تمھارے انصاف اور تمھاری گواہی کی زد خود تمھاری اپنی ذات پر یا تمھارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریقِ معاملہ خواہ مال دار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہشِ نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا توجان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے ۔

گویا اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہو تو اختلاف کو ایک طرف رکھ کر اس کے حق کا تحفظ کرنا تقویٰ اور حق کا مطالبہ ہے ۔دین ہمیں ہر صورت حال میں چاہے وہ سیاسی ہو ، معاشی ہو ، دفاعی ہو یا معاشرتی اور ثقافتی ہو، مقاصد شریعہ کی روشنی میں واضح راہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ شریعت کا اصول ہے کہ کسی کو ضرر نہ پہنچایا جائے ، کسی کی شہرت کو خراب نہ کیا جائے ، اختلافات کو حکمت کے ساتھ دُور کیا جائے کیوں کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا:

وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ۝۱۹۰ (البقرہ ۲:۱۹۰)اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔

آج ہمارے معاشرے میں ظلم و ناانصافی کی بے شمار شکلیں رائج ہیں۔ اگر معاشرے میں کسی طبقے کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہو تو اس طبقے کی مدد کرنا اور اسے ظلم و زیادتی سے نجات دلانے کے لیے آئینی ، قانونی مدد فراہم کرنا امت کا اجتماعی فریضہ ہے ۔ سورۃ النساء میں مجبور اور کمزور عورتوں، بچوں اور افراد کے بارے میں ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اللہ سے فریاد کرتے ہیں کہ کون ان کو ظلم و استحصال سے نجات دلائے گا –؟ یہ اجتماعی فریضہ امت مسلمہ کا ہے کہ وہ ہرمظلوم پر کیے گئے ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اور مظلوم کی مدد کرے ۔ کیا رمضان کے روزے ہمارے اندر اس رویے کو پیدا کرتے ہیں یا ہم نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد بری الذمہ ہو جاتے ہیں؟

دین میں بنیاد ایمانی، معاشرتی ، سیاسی اور ثقافتی رویے ہیں ۔ ایک کام اللہ کی رضا کے لیے کرنا اورحق کی حمایت کرنا، اللہ کے بندوں کے حقوق کا پورا کرنا ہے ۔ یہ وہ حق ہے جسے اللہ ربّ العزت جو سراپا عفو و درگزر اور مغفرت ہے، وہ بھی قیامت کے دن اُس وقت تک معاف نہیں فرمائے گا ، جب تک وہ جس پر ظلم ہوتا دیکھ کر ہم خا موش رہے خود معاف نہ کر دے ۔

اس عظیم امتحان سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ حقوق العباد کے معاملے میں غیر معمولی احتیاط اور دل کو ہر قسم کے تعصب ، رنجش اور تکلیف سے پاک کر کے صرف اللہ کی رضا کے لیے مظلوم کی حمایت کی جائے اور اسے ظلم سے نجات دلائی جائے ۔ تقویٰ کے مثبت پہلوؤں کے پیش نظر جن کاموں کو پورے اہتمام کے ساتھ رمضان میں کرنے کی ضرورت ہے ، ان میں قرآن پر غور و تدبر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ، توحید اور زندگی کے تمام معاملات میں توحیدی رویہ اختیار کرنا سب سے زیادہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

 توحید کا تقاضا ہے کہ ہم صرف اللہ کو رب ماننے کے ساتھ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ اور سیرت پاک کو اپنے رویوں اور معاملات میں اختیار کرنے کی شعوری کوشش کریں اور اس دنیا کی زندگی کو انتہائی عارضی اور مختصر سمجھتے ہوئے اپنے تمام اعمال کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ  ہم نے آخرت کے لیے کیا سامان کیا ہے؟ خصوصاً رمضان کے آخری عشرے میں تنہائی میں اپنا احتساب کرنے کے ساتھ آئندہ کے لیے اپنے طرزِ عمل کو بہتر بنانے کا عہد اور عزم کیا جائے ۔ اس مبارک مہینے میں کسی ایک ایسے رشتے دار کو جس سے رابطے میں کمی آگئی ہو ، خصوصاً تحفے کے ذریعے ، ملاقات کے ذریعے اور (درحقیقت) اللہ کے لیے اپنے قریب لایا جائے ۔

رمضان میں جو لوگ مانگنے کے لیے آئیں، انھیں دھتکارا نہ جائے بلکہ جس حد تک ممکن ہو ان کی مدد کر دی جائے ۔ اپنے گھر والوں پر کھلے دل کے ساتھ خرچ کیا جائے۔ جو لوگ ملک میں یا ملک سے باہر قیدی بنالیے گئے ہوں،ان کی رہائی کے لیے ان کی مالی مدد کی جائے، یا کم از کم ان کے لیے دعا کی جائے۔ الخدمت فائونڈیشن جن یتیموں اور بیواؤں اور مستحقین کی امداد کر رہی ہے، اس کام میں تعاون کیا جائے، کیوں کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نہایت کشادہ ہاتھ سے دوسروں کی مدد فرماتے تھے جیسے خیرو برکت کی بارش ہو رہی ہو ۔

رمضان کا بابرکت مہینہ ہم پر سایۂ فگن ہے۔ یہ مسلمانوں اور انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، صحابۂ کرامؓ اور صلحائے امت ؒ بڑی بے چینی سے رمضان کا انتظار کرتے تھے اور پھر اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے۔

صوم کا معانی ہے ’رُک جانا‘، ’اپنے آپ کو روک لینا‘، ’کچھ کر ڈالنے سے روکنا‘۔ ظاہری طور پر اس کا مطلب ہے کھانے، پینے اور اور جنسی داعیہ پورا کرنے سے پرہیز کرنا۔

قرآن کریم میں آٹھ آیات ہیں جو ’صوم‘(روزہ) کی مختلف جہات کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ روزہ تمام انبیاؑ کی شریعتوں کا جزو رہا ہے۔ یہ بات بھی بڑی معنی خیز ہے کہ ہر نبی پر جب وحی نازل ہوئی تو وہ روزہ رکھے ہوئے تھا! جب سیّدنا موسٰی پر تورات اتری، آپ ؑ روزے سے تھے۔ جب نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو آپؐ روزے سے تھے۔روزے کا اللہ کی عطا کردہ ہدایت سے بڑا قریبی تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَـمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝۱۸۳ۙ (البقرہ۲:۱۸۳) اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے، جیسے تم سے پہلوں پر فرض تھے، تاکہ تمھیں پرہیز گاری ملے۔

شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰى وَالْفُرْقَانِ۝۰ۚ (البقرہ۲:۱۸۵)رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی ہے اور فیصلے کی روشن (باتوں پر مشتمل ) ہے۔

روزے کا مقصد دو چیزوں کا حصول ہے جن کی طرف قرآن متوجہ کرتا ہے: ہدایت اور تقویٰ۔ قرآن اسی مہینے میں نازل ہوا، ہدایت لے کر، جو انسانیت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پھر ہے، تقویٰ۔ تقویٰ ایک بنیادی اور اور عقدہ کشا اصطلاح ہے۔ عمومی طور پر تو اس کا معنی ’خوف‘ لیا جاتاہے۔ لیکن کس کا خوف؟ اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ خوف ہے اللہ کی خوشی کھو دینے کا ، اللہ کی ناراضی مول لینے کا اور قربٍ الٰہی سے محرومی کا۔ تقویٰ کے اس معنی و اثر کی وجہ سے ہم ایسی زندگی گزارنا چاہتے ہیں جس میں اللہ کی موجودگی کا احساس ہو۔ چنانچہ ہم ہروہ کام کر گزریں جسے کرنے کا اللہ کہے اور ہر اس کام سے رُک جائیں جس سے اللہ روکے، تاکہ ہم اس کی خوشنودی پالیں۔

تقویٰ ضبطِ نفس ہے، یعنی خود پر قابو۔ رمضان میں آپ خود پر قابو پانا اور خود کو منظم کرنا سیکھتے ہیں۔ انسان کی دو قسم کی مادی یا جسمانی ضرورتیں ہیں: کھانا پینا اور جنسی داعیہ___ رمضان میں دونوں کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کی تربیت دی جاتی ہے، اور اس بات کا سبق ملتا ہے کہساری زندگی ہی نظم و ضبط سے گزارنی ہے۔یہ مہینہ درحقیقت ’زمانۂ تربیت‘ ہے جس کا مقصد تقویٰ کی  زندگی بسر کرنے کے قابل بنانا ہے۔ رمضان کے بعد بھی ،باقی گیارہ مہینے تقویٰ کے حصول پر صرف کیے جائیں رمضان کا سبق تازہ کرنے کے لیے اور تازہ دم ہونے کے لیے ۔

روزہ سب سے پہلے آپ کو نظم و ضبط سکھاتا ہے، کہ آپ اپنی عادتوں کو درست کریں۔ جو کام آپ معمول کے مطابق کرتے رہتے ہیں، ایک معمول اور ایک عموم کے طور پر ۔ رمضان میں آپ پر ان کے سلسلے میں کچھ پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ آپ وہ کام نہیں کرتے یا کرنے سے رُک جاتے ہیں۔ تاہم جوں ہی افطار کا وقت ہوتا ہے، آپ کے لیے جو چیز لمحہ بھر پہلے ممنوع تھی، اب جائز ہو جاتی ہے۔ اصل نکتہ زندگی میں نظم و ضبط (Discipline) لانا ہے۔ ایسی زندگی گزارنا ہے جو اللہ تعالیٰ کی فرماںبرداری سے عبارت ہو اور قرآنی ہدایت پر استوار ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو شخص روزہ رکھتا ہے مگر جھوٹ بولنے ، لڑنے جھگڑنے، اور بُرے کام کرنے سے نہیں رُکتا تو اللہ کو اس کے بھوکے رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغابازی کرنا ( روزے رکھ کر بھی ) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے ۔ (صحیح بخاری، کتاب الصوم، حدیث ۱۹۰۳)

 جو چیز اللہ کو مطلوب ہے وہ تو فرمانبرداری اور نظم و ضبط ہے۔ یہی بات تو افطار و سحر سے واضح ہوتی ہے۔ سحری سے پہلے آپ کھاتے پیتے رہتے ہیں، مگر فجر کی اذان سنتے ہی رُک جاتے ہیں اور افطار کے وقت تک رُکے رہتے ہیں۔ اس سب سے آپ کی زندگی میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔ دلچسپ اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ سب تنہائی میں نہیں ہوتا،بلکہ دنیا بھر میں پھیلے مسلمان ایک ہی مہینے میں روزہ رکھتے اور اس کی پابندیوں پر عمل کرتے ہیں۔ اس سے معاشرے اور خاندان تک ایک بھرپورماحول بن جاتا ہے جس سے ہر عام و خاص، روزہ کی برکتوں سے فیض یاب ہوتا ہے۔

رمضان کی اہمیت کے حوالے سے ایک قابل توجہ پہلو اس مہینے میں تین چیزوں کا جمع ہونا ہے: ۳۰ روزے، شبِ قدر اور آخری عشرے کی طاق راتیں۔ ایک ماہ کے مسلسل روزے ایک بھرپور تربیتی ورزش کا موقع دیتے ہیں۔ شبِ قدر رمضان کی ایک رات ہے جس میں قرآن نازل ہوا:

اِنَّآ  اَنْزَلْنٰہُ فِيْ لَيْلَۃِ الْقَدْرِ۝۱ۚۖ (القدر۹۷: ۱) بے شک ہم نے اس (قرآن ) کو شبِ قدر میں نازل کیا۔

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور عمل کے مطابق یہ رات نماز، تلاوتِ قرآن اور دُعا میں بسر ہونی چاہیے۔ یہ اللہ کے حضور دُعا کرنے اور اس کی قبولیت کا بہترین موقع ہے، بلکہ اسی وجہ سے تو اسے ’قدر‘ کی رات کہا جا سکتا ہے، جب قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں اور تقدیر لکھی جاتی ہے۔

آخری عشرہ، یعنی آخری دس روزے اور ان میں پانچ طاق راتیں(۲۱، ۲۳، ۲۵، ۲۷ اور ۲۹ویں)، شبِ قدر ان راتوں میں سے ایک رات ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ شبِ قدر کی عبادت محض ایک رات کی نہیں بلکہ ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی بہتر ہے: لَيْلَۃُ الْقَدْرِ۝۰ۥۙ  خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ۝۳ۭؔ (القدر۹۷: ۳) شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

 اس رات کو ہم جو عبادت اور دعا کریں گے وہ ایک ہزار ماہ یا ۸۳ سال ، بالفاظ دیگر پوری زندگی، کی عبادت سے بھی زیادہ بہتر ہوگی۔ یہ اللہ کی ہم پر خاص عنایت ہے۔

فرماںبرداری، تقویٰ ، صبر اور استقامت ہم کو اللہ کے قریب کرنے والی خوبیاں ہیں۔ پھر تلاوت قرآن، انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی، جو اگرچہ فرض تو نہیں تاہم تہجد اور تراویح قرآن سے تعلق کا اہم ذریعہ ہیں۔ مسلم تاریخ میں تراویح رمضان کے پورے دن کے پروگرام کا حصہ رہا ہے، ایک ادارہ ایک مستحکم روایت ۔ دن بھر کے روزہ کے بعد ، رات کو آپ تراویح کے لیے اللہ کے حضور کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آٹھ رکعات ہو یا ۲۰، قرآ ن کی تلاوت اور سماعت پورے مہینے جاری رہتی ہے اور قرآن کے پیغام کو سننے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

روزہ سے متعلق ایک بات بڑی منفر د ہے۔ ہر عبادت کا کوئی نہ کوئی ظاہری انداز ہوتا ہے۔ مثلاً نماز کی حرکات و سکنات ہیں، جو سب کو نظر آتی ہیں۔ مسجد میں نماز تو سب کے ساتھ اور سب کے سامنے ہوتی ہے ۔ زکوٰۃ میں دو افراد، دینے اور لینے والے ہوتے ہیں۔ کچھ یہی معاملہ  حج کا ہے۔ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ کون حج پر جارہا ہے یا جا چکا ہے۔ مگر روزہ کا صرف اللہ ہی کو پتہ ہوتا ہے۔ دوسروں کے سامنے آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا روزہ ہے مگر اکیلے میں آپ چاہیں تو کچھ کھا سکتے ہیں۔ گو کوئی آپ کو نہیں دیکھ رہا ہوگا، مگر یہ خیال اور احساس کہ اللہ تو دیکھ رہا ہے، آپ کو کچھ کھانے یا پینے نہیں دیتا۔ یہ ہے اللہ سے براہٍ راست تعلق ، اس کی ہدایت کی تعمیل!

اس لیے اللہ نے فرمایا ہے کہ ہر نیکی کا بدلہ ہے۔ دس گنا، ستر گنا، سات سو گنا، یا اس سے بھی زیادہ ۔ مگر روزہ کا بدلہ اور اجر دینا میری خاص عنایت ہے۔ اس کا اجر لا محدود ہوگا!

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے سوائے روزہ کے، کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ۔ (صحیح بخاری، کتاب الصوم،۱۹۰۴)

 روزہ ایمان کے شعور اور احتساب کے احساس کے ساتھ رکھا جائے ۔ ایمان سے مراد ہے خالص اللہ کے لیے، نہ کہ لوگوں کے لیے یا کسی اور غرض سے ۔ اور احتساب کا مطلب ہے کہ پابندی، اجازت، جائز و ناجائز سب کو اللہ کی رضا کی خاطر قبول کیا جائے۔ روزمرہ زندگی میں ہم سے غلطیاں اور بھول چُوک ہوتی رہتی ہے، ہم کبھی کچھ ایسا کہہ جاتے ہیں جو نہیں کہنا چاہیے تھا، مگر رمضان میں ہمیں غلط کاموں اور باتوں سے بچنے کا کچھ زیادہ ہی خیال رکھنا چاہیے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ : اگر کوئی تمھیں بُرا بھلا کہے، یا گالم گلوچ کرے، یا لڑے جھگڑے، تو اس کی بات یا حرکت کا جواب نہ دو بلکہ کہو کہ ’’ میں تو روزے سے ہوں‘‘۔ روزہ تو تزکیۂ نفس ہے، اخلاقی تربیت ہے: فَاِنْ سَا بَّهُ أَحَدٌ، أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ اِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ  (صحیح بخاری، کتاب الصوم، ۱۹۰۴) ’’اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں‘‘۔

روزے کا ظاہری پہلو یہ ہے کہ بھوک لگنے پر آپ کو ان لوگوں کا اور ان کی حالت کا خیال آتا ہے جو معاشرے میں ہمارے درمیان موجود تو ہیں مگر بھوکے پیاسے اور سہولتوں سے محروم۔ ہم میں ان کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ہم زندگی میں جو کچھ کرتے ہیں، یا نہیں کرتے، اس کے اثرات کا ہمیں ہمیشہ احساس رہنا چاہیے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے، اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔(صحیح بخاری، کتاب الصوم، ۱۹۰۱)

اتنی بڑی نعمت مل جائے تو اور کیا چاہیے!

خلاصہ یہی ہے کہ روزہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان بہت ہی خاص، ذاتی اور بلاواسطہ تعلق قائم کرتا ہے۔ اس کو کوئی نہیں دیکھتا، مگر اللہ اس کا گواہ ہوتا ہے ۔ اس سے تزکیہ، اپنے آپ کو پاک و صاف کرنے اور رکھنے، کا کام ہوتا ہے۔ نتیجہ میں پاک و صاف اور نظم و ضبط والے معاشرے کا ماحول بنتا ہے۔

اس مہینے کا اپنا ہی ماحول ہوتا ہے، اپنی ہی الگ فضا۔ اسی لیے وہ لوگ بھی جو عام طور پر نماز نہیں پڑھتے یا ہر کام شعور کے ساتھ اسلام کے مطابق نہیں کرتے ، وہ بھی اس مہینے میں ملنے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور حتی الوسع رمضان کے احترام میں عبادات میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ رمضان کی آمد پر ہمیں اس ماحول اور فضا کو دیکھنے اور محسوس کرنے کا ایک بار پھر موقع مل رہا ہے۔ رمضان تو ایک آئینہ کی طرح ہے جس میں مسلمان افراد اور قوم سب ہی اپنی تصویر دیکھ سکتے ہیں!

انسانی طبیعتیں نرم بھی ہوتی ہیں اور سخت بھی۔ قانونِ قدرت ہے کہ چیزیں نرمی سے ہی باہم جڑتی ہیں، خواہ اشیا ہوں یا انسانی قلوب۔ انسانوں کو انسانوں سے جوڑنا ہو یا ان کے ربّ سے جوڑنا ہو، یہ کام دلوں میں رحمت، رقت اور نرمی پیدا کیے بغیر ممکن نہیں۔ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نرم دلی کو اپنی رحمت قرار دیا اور سخت دلی اور ترش رُوئی کو انسانی تعلقات کا دشمن قرار دیا ہے:

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ۝۰ۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۝۰۠ (اٰل عمرٰن۳:۱۵۹ ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ آپؐ ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج ہیں۔ اگر کہیں آپؐ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب آپؐ کے گردوپیش سے چھٹ جاتے۔

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا: ’’نرمی جس چیز میں ہوتی ہے، اسے آراستہ کر دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی الگ کر لی جاتی ہے، اسے بدنما بنا دیتی ہے‘‘۔ ( مسلم، رقم ۲۵۹۴، مجمع الزواید ،۸/۱۸)۔ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اللہ نرمی کرتا ہے اور نرمی کرنے کو پسند کرتا ہے اور نرم خوئی پر جتنا دیتا ہے، اتنا سختی کرنے پر نہیں دیتا‘۔ (مسلم، رقم:۳۵۹۳، بخاری، رقم:۶۹۲۷) ۔حضرت عائشہؓ ہی سے مروی ایک اور حدیث کے مطابق جو نرمی سے محروم رہا، وہ بھلائی سے محروم رہا (معجم طبرانی، رقم:۲۴۴۹)۔ ایک حدیث کے مطابق رسولؐ اللہ نے تین خصلتوں پر رحمت کے سائے اور جنت میں داخلے کی خوش خبری سنائی: (۱) کمزور پر آسانی و نرمی کرنا (۲) والدین کے ساتھ مہربانی کرنا (۳) غلام پر احسان کرنا (ترمذی، رقم:۲۴۹۴)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھیں وہ شخص نہ بتائوں جس پر آگ حرام ہے اور وہ آگ پر حرام ہے: وہ شخص جو لوگوں سے قریب ہو، سکون وو قار والا، نرم خو اور آسانی کرنے والا ہے (ترمذی، رقم:۲۴۴۸)۔ حضرت عائشہؓ کے مطابق حضورؐ اکثر آسانی کرنے اور سختی نہ کرنے کی تلقین فرماتے تھے (بخاری)۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت کے مطابق حضورؐ نے فرمایا: نرمی خیروبرکت، جب کہ عادت و معمول کے خلاف بولنا بدبختی ہے (بیہقی، رقم:۷۷۲۲)۔

ہمارے اہل دین کے ہاں کسی جرم کی سزا دینے کے لیے جتنی بےتابی نظر آتی ہے، وہ حضورؐ کے ہاں نہیں پائی جاتی۔ نفاذ حدودمیں جس حد تک گنجائش ہوتی، حضورؐ نرمی کا رویہ اختیار کرتے۔ اگر کسی سے ایسا کوئی فعل سرزد ہو جاتا تو اسے استغفار کی اور دیکھنے والوں کو پردہ پوشی کی نصیحت فرماتے اور حتی المقدور سزا کو ٹالتے۔

ابن ماجہ کی حدیث ہے کہ ’’سزائوں کو دفع کرو جہاں تک بھی ان کو دفع کرنے کی گنجائش پائو‘‘۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اگر کسی ملزم کے لیے سزا سے بچنے کا کوئی راستہ نکلتا ہے تو اسے چھوڑ دو کیونکہ حاکم کا معاف کر دینے میں غلطی کر جانا، اس سے بہتر ہے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کرجائے۔

احکام شریعت کے نفاذ میں بھی حضورؐ نرمی و شفقت کا معاملہ فرماتے۔ کمزور طبقات کو برابری کا احساس دلا کر ان کی تالیف قلب کرنا نبیؐ کا شیوہ تھا۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی نے آپؐ سے بات کرنا چاہی۔ لیکن جلال نبوت سے گھبرا گئی۔ یہ دیکھ آپؐ نے فرمایا: ’’گھبرائو نہیں! میں اس ماں کا بیٹا ہوں جو سُکھایا ہوا گوشت کھایا کرتی تھی (ابن ماجہ، رقم: ۳۳۰۲)۔  گویا میں بھی ایک انسان ہوں۔ پہلے زمانے میں گوشت کو اُبال کر دھوپ میں سُکھاتے تھے۔

اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا طرز عمل بھی لوگوں میں پایا جاتا ہے، جب کہ قرآن کے مطابق برائی کا دفاع برائی کے بجائے بہترین نیکی کے ساتھ کیا جائے تو دشمن کے دل میں بھی نرمی پیدا ہو جاتی ہے: اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَہٗ عَدَاوَۃٌ كَاَنَّہٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ۝۳۴  (حم السجدہ۴۱:۳۴) ’’تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی، وہ جگری دوست بن گیا ہے‘‘۔

ثمامہ بن اثال یمامہ کے علاقے کا بڑا سردار تھا۔ ایک مہم میں صحابہ کرامؓ اسے گرفتار کرکے مدینہ لے آئے۔ مسجد نبویؐ کے صحن میں اسے باندھ دیا گیا۔ حضورؐ جب نماز کے لیے آئے تو ثمامہ سے اس کا حال پوچھا۔ اس نے کہا:’’قیدی ہوں اگر آپ سزا دیں تو آپ کو حق حاصل ہے، چھوڑ دیں گے تو ایک احسان شناس پر احسان کریں گے‘‘۔ دوسری نماز میں آپؐ آئے، اس سے بات کی تو پھر وہی جواب دیا۔ تیسرے وقت بھی یہی جواب دیا۔ آپؐ نے اس کی رہائی کا حکم دے دیا۔ اس مہربانی کا یہ اثر ہوا کہ وہ ایک باغ کے کنویں پر گیا۔ غسل کیااور آکر اس نے توحید و رسالت کی شہادت دی اور عرض کیا:’’یارسولؐ اللہ! آج سے پہلے آپؐ کا دین اور آپؐ کا شہر میرے نزدیک ناپسندیدہ ترین تھے، لیکن اس گھڑی آپؐ کی ذات، آپؐ کے دین اور آپؐ کے اس شہر سے زیادہ مجھے کوئی محبوب نہیں‘‘۔ بعدازاں وہ عمرہ کے لیے مکہ گئے۔ وہاں قریش نے انھیں صابی (بے دین) ہونے کے طعنے دیے تو ثمامہ ؓنے انھیں دھمکی دی کہ یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی اہلِ مکہ کو نہ ملے گا۔ جب اہل مکہ کے لیے گندم کی ترسیل بند ہو گئی تو انھوں نے حضورؐ سے گندم کی ترسیل کی بحالی کے لیے درخواست کی۔ حضورؐ نے ثمامہؓ کو ترسیل کی بحالی کے لیے کہا تو انھوںنے آپؐ کے حکم سے انھیں گندم دینا شروع کر دی۔ یہ اس نرم رویّے کا نتیجہ تھا، جو حضورؐ نے صاحب ِاختیار ہوتے ہوئے ایک مجبور آدمی کے ساتھ برتا۔ (بخاری کتاب المغازی، سیرت ابن ہشام، ۲/۴۲۰)

دلوں میں نرمی جہاں حُسنِ سلوک سے پیدا ہوتی ہے، وہاں یہ نرمی لوگوں پر مالی نوازشات کرنے سے بھی پیدا ہوتی ہے۔ دشمن اسلام اُمیہ بن خلف کا بیٹا صفوان ہر جنگ میں مسلمانوں کے خلاف پیش پیش رہا، حتیٰ کہ فتح مکہ کے موقعے پر جب ابو سفیان سمیت اکثر قریش نے آپؐ کی امان کو قبول کر لیا، تو اس وقت بھی صفوان بن اُمیہ دیگر چند افراد کے ہمراہ مقابلے پر آیا۔ چند لاشیں گرنے کے بعد صفوان اور دیگر بھاگ کھڑے ہوئے۔ فتح کے بعد اس کے چچا زاد صحابی حضرت عمیرؓ بن وہب نے اس کے لیے بارگاہِ رسالت سے امان طلب کی۔ آپؐ نے اسے امان دے دی تو اس نے کہا کہ میں اسلام قبول نہیں کروں گا، مجھے غوروفکر کے لیے دو ماہ دیے جائیں۔ حضوؐر نے فرمایا:’’تجھے چار ماہ کی مہلت ہے‘‘۔ چند دن بعد ہی غزوۂ حنین ہوا۔ وہ مسلمان نہیں تھا لیکن بنوہوازن کے خلاف قریشی عصبیت کے باعث اس نے جنگ میں آپؐ کا ساتھ دیا۔ مال غنیمت میں سے آپؐ نے اسے سو اونٹ دیے۔ یہ لطف و کرم دیکھ کر وہ پکارا اُٹھا:’’ایسی فیاضی کوئی نبی ہی کر سکتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں‘‘۔ (موطا امام مالک، سیرالصحابہ، ۲/۹۳۲)

ایک بدو نے ایک وادی میں چرنے والی بکریوں کا ریوڑ آپؐ سے مانگا۔ آپؐ نے اسے اس کی حسب خواہش یہ عطا کر دیں۔ اپنے قبیلے میں پہنچ کر اس نے لوگوں سے کہا: ’’بھائیو! اسلام قبول کر لو۔ خدا کی قسم! محمدؐ اتنا دیتے ہیں کہ گویا ان کو فقر وفاقے کا ڈر ہی نہیںہے۔ (مسلم، رقم۲۳۱۲)

ایک بدو سردار اقرع بن حابس نے حضورؐ کو دیکھا کہ آپ حسن و حسین کو چوم رہے ہیں ۔ اس نے حیرانی سے پوچھا: ’’آپؐ بچوں کو چومتے بھی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں نے اپنے بچوں کو کبھی نہیں چوما‘‘۔آپؐ نے فرمایا ’’اگر تمھارے دل سے اللہ نے رحمت چھین لی ہے، تو میں کیا کر سکتا ہوں‘‘۔

صاحب ِاختیار سرکاری حکام و افسران حکومتی معاملات چلانے کے لیے سختی کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس حضورؐ اپنے عمّال کو نرمی کا حکم دیتے تھے۔ عاملین زکوٰۃ کو فرمایا کہ جب کسی سے زکوٰۃ وصول کرو تو اس کے بہترین مال میں سے نہ لو بلکہ کمتر میں سے قبول کرلو۔

سرکاری حکام عوام الناس کی جاسوسی کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں، جب کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا:’’امیر جب عوام الناس کے اندر شکوک و شبہات کا کھوج لگانے لگے تو ان کو بگاڑ کر رکھ دیتا ہے (ابوداؤد)۔حضرت معاویہؓ راوی ہیں کہ میں نے نبیؐ کو فرماتے سنا کہ تم اگر لوگوں کے مخفی حالات معلوم کرنے کے درپے ہو گے تو ان کوبگاڑ دو گے یا کم از کم بگاڑ کے قریب پہنچادو گے (ابوداؤد)۔

امام مسجد کو نرمی کی نصیحت فرماتے کہ وہ نماز پڑھاتے ہوئے یہ پیش نظر رکھے کہ اس کے پیچھے ضعیف و ناتواں بھی ہیں اور عورتیں اور بچے بھی۔ آپؐ نے فرمایا:’’ میرا جی چاہتا ہے کہ لمبی نماز پڑھائوں لیکن اس خیال سے نماز مختصر کر دیتا ہوں کہ میرے پیچھے بوڑھے بھی ہیں اور عورتیں بھی جن کی ہانڈیاں جل رہی ہوں گی، بچے رو رہے ہوں گے‘‘(بخاری)۔

ہدایت فرمائی کہ مقروض سے تقاضا کرنے میں نرمی اختیار کی جائے۔ حدیث کے مطابق ایک شخص محض اس وجہ سے جنت میں چلا گیا کہ وہ لوگوں کو قرض دیتا تھا اور جب تقاضے کی تاریخ آجاتی تو اپنے کارندوں کو کہتا کہ اگر وہ دینے سے معذرت کرے تو اسے مہلت دے دینا(بخاری)۔

مسافروں کا قافلہ ہو یا کوئی اصلاحی و رفاہی تنظیم و تحریک، ہر مزاج، صلاحیت اور ذوق کے افراد اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ اہل کارواں کا ہم منزل اور ہم مقصد ہونا ضروری ہے لیکن سب کا ہم مزاج ہونا ضروری نہیں۔ امیر کارواں کے لیے تمام صلاحیتوں کا حامل ہونا ضروری نہیں اور نہ یہ ہرجگہ ممکن ہے۔ البتہ اس کے لیے ایسا ہونا ضروری ہے کہ وہ مختلف مزاج اور صلاحیتوں کے حاملین کو  مطمئن رکھ سکے، دل جوڑ سکے اور ساتھ لے کر چل سکے۔ اصول پرستی کے نام پر بے مروتی کرنے اور اپنے ماتحتوں اور کارکنوں کو ہر وقت کٹہرے میں کھڑا رکھنے کے شوقین حضرات جلد ہی نشانِ عبرت بن جاتے ہیں۔ اختیارات کے استعمال پر کمر بستہ لوگ جلد ہی تنظیم اور ادارے سے وابستہ اپنے ماتحتوں کو خود سے بدظن کر بیٹھتے ہیں۔

آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم کیسے امیر کارواں تھے، اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو:فتح مکہ کے موقعے پر مسلمان ہونے والے ابو سفیانؓ، صفوانؓ بن امیہ، حکیمؓ بن حزام، سہیلؓ بن عمرو، حویطبؓ بن عبدالعزیٰ، ابوجہل کے بھائی حارثؓ بن ہشام کو سو سو اور تین تین سو اونٹ غزوۂ حنین کے مالِ غنیمت میں سے دیے۔ اسلام دشمنی میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے والوں پر حضورؐ کی مالی نوازشات دیکھ کر انصار کی زبانوں پر یہ شکوہ آگیاکہ رسولؐ اللہ نے قریش کے نومسلموں کو کثیر مال دیا اور ہمیں محروم رکھا، حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک قریش کا خون ٹپک رہا ہے۔ کسی نے کہا کہ جب مشکل وقت آتا ہے تو ہمیں پکارا جاتا ہے اور مال غنیمت اوروں کو دیا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے انصار مدینہ کے یہ خیالات حضورؐ کو بتلائے تو آپؐ کو یہ سن کر دُکھ ہوا اور فرمایا:’’اللہ کی رحمت ہو حضرت موسٰی پر، بلاشبہہ ان کو ان کی قوم کی طرف سے زیادہ اذیت دی گئی اور انھوں نے صبر کیا‘‘۔

آپؐ کی ہدایت پر جب تمام انصار ایک خیمہ میں جمع ہو گئے تو آپؐ نے انصار کا موقف سنا اور پھر فرمایا:’’اے انصار! کیا ایسا نہیں کہ جب میں تمھارے پاس آیا تو تم گمراہ تھے، اللہ نے میرے ذریعے تمھیں ہدایت عطا فرمائی۔ تم محتاج تھے، اللہ نے تمھیں غنی کر دیا۔ تم باہمی دشمنیوں کی آگ میں جھلس رہے تھے، میرے ذریعے اللہ نے تمھارے دل جوڑ دیے‘‘۔ سب انصار نے ان احسانات کا اعتراف کیا۔

آپؐ باتیں کرنے والوں کو گستاخ قرار دے کر ان کی ڈانٹ ڈپٹ بھی کرسکتے تھے لیکن آپؐ جانتے تھے کہ انصار کا یہ اضطراب مال کی حرص کی وجہ سے نہیں ۔ انھیں تو یہ دکھ تھا کہ وہ قریش جنھوں نے مکے اور مدینے میں حضورؐ کا جینا دوبھر کر دیا تھا، وہ آج آپؐ کی نظر کرم کے مستحق بن گئے ہیں۔ انصار نے حضورؐ اور صحابہ کے لیے قربانیاں ہی بہت دی تھیں چنانچہ حضورؐ نے انھیں ڈانٹنے کے بجائے اپنی ذات پر انصار کے احسانات خود بتانے کا دل نواز اسلوب اختیار کیا:

’’خداکی قسم، اے انصار! اگر تم چاہو تو کہہ سکتے ہو کہ اے محمدؐ! جب تمھاری قوم نے تمھیں  جھٹلادیا تھا تو ہم نے تمھاری تصدیق کی تھی۔ تم قوم میں بے یارومددگار تھے تو ہم نے تمھاری مدد کی۔ تمھاری قوم نے تمھیں مسترد کر دیا تھا، ہم نے تمھیں ٹھکانہ دیا ۔ تم محتاج تھے، ہم نے تمھاری غمگساری کی۔ اگر تم یہ کہتے تو تمھارا یہ جواب سچا ہوتا اور سب اس کی تصدیق کرتے‘‘۔ انصار کے احسانات کا اعتراف کرکے آپؐ نے ان کے دل اپنی مٹھی میں لے لیے اور پھر فرمایا: ’’اے انصار!  تم دنیا کی عارضی دولت کے لیے محمدؐ سے ناراض ہو گئے، جو میں نے نومسلموں کی تالیف ِقلب کے لیے ان کو دی ہے۔ اے انصار، کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر اپنے گھروں کو جائیں،جب کہ تم اللہ کے رسولؐ کو اپنے ساتھ لے کر گھروں کو پلٹو۔ خدا کی قسم! جس چیز کو لےکر تم جائو گے وہ اس چیز سے بہتر ہے جو وہ لے کر جائیں گے‘‘۔ ہر طرف سے ہچکیوں بھری آوازیں بلند ہوئیں:’’یارسولؐ اللہ! ہم راضی ہیں اس بات سے کہ ہمارے حصے میں اللہ کے رسولؐ ہیں‘‘۔

مزید فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمدؐ کی جان ہے! اگر ساری دنیا ایک راہ چلے اور انصار دوسری راہ چلیں تو میں انصار ہی کی راہ چلوں گا۔ تم انصار میری چادر کا اندرونی حصہ ہو، جب کہ دوسرے لوگ بیرونی۔ اے اللہ! انصار پر رحم فرما۔ ان کے بیٹوں اور پوتوں پر رحم فرما‘‘۔

رسولؐ اللہ کے اس دل پذیر اور دل نواز خطاب کے دوران انصار اس قدر روئے کے داڑھیاں آنسوئوں سے تر ہو گئیں اور وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ ہم راضی ہیں کہ ہمارے حصے میں اللہ کے رسولؐ ہیں۔ (بخاری، ابن ہشام بحوالہ الرحیق المختوم ، ص:۵۷۰-۵۷۲)

نومسلموں کی تالیف قلب کے لیے حضورؐ نے جو احسانات اور مالی نوازشات فرمائیں، ان لوگوں کی زندگی پر ان کے دیرپا اثرات مرتب ہوئے۔ سب سے بڑے دشمنِ اسلام ابوجہل کے بیٹے کو آپؐ نے امان دی تو وہ مسلمان ہو گئے اور عرض کیا: ’’یارسول اللہ! جتنا مال و دولت خدا کی راہ سے روکنے کے لیے میں خرچ کیا کرتا تھا، اب اس کا دوگنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کروں گا۔ اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے جتنی لڑائیاں میں نے لڑی ہیں، اب اس کی راہ میں اُس سے دُوگنا جہاد کروں گا‘‘۔ (موطا امام مالک، مستدرک حاکم، ۳/۲۴۱)

عمان میں فتنۂ ارتداد کے سردار لقیط بن مالک کو عکرمہ نے قتل کرکے لوگوں کو اسلام پر قائم کیا۔ عمان کے دیگر قبائل اور خصوصاً بنی مہرہ کی سرکشی کو ختم کیا۔ یمن کے مرتدوں کے سردار کا زور توڑا۔ شام کے ایک معرکے میں دشمنوں کی صفوں میں بے دھڑک گھس گئے۔ جب خاندان کے لوگوں نے انھیں محتاط رہنے کے لیے کہا تو انھوں نے کہا:لات و عزیٰ کے لیے تو مَیں جان پر کھیلا کرتا تھا، آج خدا کے لیے جان بچائوں؟ خدا کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا۔ (اسد الغابہ، ۴/۶)

جنگ یرموک میں جب مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے تو مسلمانوں کو موت پر بیعت کی دعوت دی۔ چار سو مسلمان ان کے ساتھ مرنے مارنے پر آمادہ ہو گئے جن میں سے اکثر شہید ہوئے۔ عکرمہ کے دو بیٹے شدید زخمی ہوئے اور وہ خود شہید ہو گئے۔ عکرمہ نے تمام جنگوں میں بیت المال سے کچھ نہ لیا۔ وہ قرآن پر چہرہ رکھ کر کہا کرتے تھے: کتابُ ربّی، کتابُ ربّی، یہ کہتے ہوئے وہ زار و قطار روتے رہتے۔ (دارمی، ص:۲۰۷، مستدرک حاکم، ۳/۳۴۱، طبری، ص:۲۱۵)

قریش کے خطیب اور حدیبیہ میں قریش کے سفیر سہیلؓ بن عمر و فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے۔ ان کے بیٹے ابوجندل کی سفارش پر حضور نے انھیں امان دی۔ رحلت ِنبویؐ کے بعد مکہ میں بھی ارتداد کی لہر اٹھی۔ یہ سہیلؓ بن عمرو تھے جن کی خطابت نے مرتدین اور مذبذبین کو اسلام پر راسخ کیا۔ جنگ یرموک میں ایک دستے کے سالار تھے۔ اپنے پورے گھرانے کو اس جنگ میں فدا کردیا اور خود بھی شہید ہوئے۔ (اسد الغابہ، ۲/۳۷۲، الاستیعاب، ۲/۵۹۳)

حضرت ابوسفیان ؓ عہد فاروقی میںپورے خاندان کے ساتھ جنگ یرموک میں شریک ہوئے۔ ان کی ایک آنکھ غزوہ طائف اور دوسری آنکھ یرموک میں زایل ہو گئی۔ (استیعاب۲/۷۱۰)

ان چند مثالوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ حضورؐ کی رحمت و رافت تھی جس کے باعث کفر کے بڑے بڑے ائمہ پاسبان اسلام بن گئے___ حقیقی قائد اپنے حکم کے سامنے گردنیں خم کرانے کے بجائے دلوں کو جھکانے والا ہوتا ہے۔ذاتی و خاندانی معاملات ہوں یا عوام الناس پر حکمرانی کرنا، احکام شریعت کا نفاذ ہو یا حدود کا اجراء، باہمی لین دین کا معاملہ ہو یا اداروں اور تحریکوں کی قیادت کرنا، ان سب امور کی انجام دہی میں نرمی و شفقت اور دل نوازی کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپؐ نے فرمایا کہ تین آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ تو گفتگو فرمائے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی سامان کے متعلق قسم کھائی کہ اس کی قیمت اس سے زیادہ مل رہی تھی، حالانکہ وہ اپنی قسم میں جھوٹا ہے۔ دوسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد جھوٹی قسم کھائی تاکہ کسی مسلمان آدمی کا مال ہضم کر جائے، تیسرا وہ شخص جس نے ضرورت سے زائد پانی روک لیا (یعنی نہیں دیا)، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آج میں تجھ سے اپنا فضل روک لوں گا، جس طرح تو نے اپنی ضرورت سے زائد پانی روک لیا تھا، جس کو تو نے پیدا نہیں کیا تھا۔؎۳۳

بعض لوگ زائد پانی اس لیے دوسرے لوگوں کو نہیں دیتے تھے یا روکتے تھےکہ ان کے جانور اور مویشی ساتھ آئیں گے اور وہ آتے جاتے ہوئے گھاس کھاجائیں گے، تو اس بات کی بھی نفی کر دی گئی کہ زائد پانی کا اس وجہ سے روکنا کہ جانور گھاس کھا جائیں گے، یہ بھی ناجائز امور میں سے ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرورت سے زائد پانی نہ روکا جائے اور جو پانی کنوئیں میں بچ رہے اس سے نہ روکا جائے۔؎۳۴  حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد پانی کے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔؎۳۵ یعنی اگر کسی شخص کی ملکیت میں اتنا پانی ہو جو اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد بچ جائے اور دوسرے لوگ اس کے حاجت مند ہوں، تو اس فاضل پانی کو روکنا اور ضرورت مند لوگوں کے ہاتھ بیچنا جائز نہیں ہے بلکہ وہ پانی انھیں مفت ہی دے دینا چاہیے، لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے، جب کہ ان لوگوں کی ضرورت کا تعلق اس پانی کو خود پینے یا جانوروں کو پلانے سے ہو۔ اگر کوئی شخص اپنے کھیتوں یا درختوں کو سیراب کرنے کے لیے وہ پانی چاہے تو پھر مالک کے لیے جائز ہے کہ وہ اس پانی کو بغیر معاوضے کے نہ دے۔

حضرت بہیسہ کہتی ہیں کہ میرے والد نے عرض کیا کہ’’یا رسولؐ اللہ ! وہ کون سی چیز ہے جس سے منع کرنا اور اس کے دینے سے انکار کرنا حلال نہیں ہے ؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’پانی‘‘۔ انھوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ ! اور کون سی چیز ہے جس کو دینے سے انکارکرنا حلال نہیں ہے ؟ آپؐ نے فرمایا: ’’نمک‘‘۔ انھوں نے پھر عرض کیا کہ یارسولؐ اللہ! وہ کون سی چیز ہے جس سے منع کرنا حلال ہے؟ آپؐ نے فرمایا:’’بھلائی کرنا جو تمھارے لیے بہتر ہے‘‘۔؎۳۶

پانی روکنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمھاری زمین میں کنواں و تالاب ہے یا تمھارے گھر میں نل وغیرہ ہے اور اس سے کوئی شخص پانی لیتا ہے، تو اسے پانی لینے سے روکنا مناسب نہیں ہے۔ اسی طرح اگر تم میں سے کوئی شخص پانی مانگتا ہے اور تمھارے پاس تمھاری ضرورت سے زائد پانی موجود ہے، تو اسے دینے سے انکار نہ کرو۔ اسی طرح نمک دینے سے انکار نہ کرو، کیونکہ لوگوں کو نمک کی بہت زیادہ احتیاج و ضرورت رہتی ہے۔ حدیث کا آخری جملہ تمام بھلائیوں اور نیکیوں پر حاوی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تم سے جو کچھ بھی ہو سکے دیتے رہو اور جو نیکی و بھلائی کرسکو کرو۔ نیکی و بھلائی کے کاموں سے نہ تو اپنے آپ کو باز رکھنا درست ہے اور نہ دوسروں کو نیکی و بھلائی سے روکنا حلال ہے۔ حدیث کا مفہوم یہ ہوگا کہ ان چیزوں سے منع کرنا اور ان کے دینے سے انکار کرنا مناسب نہیں ہے۔؎۳۷

 یعنی کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی زمین میں واقع تالاب، چشمے، کنويں یا گزرتے ندی نالے سے جانور، انسان اور راہ چلتے مسافروں کے لیے ان سے پانی پینے کا معاوضہ وصول کرے یا اس پر پابندی عائد کرے۔

آبی ضیاع کی ممانعت

سرزمین عرب پر پانی کواگرچہ ایک بہت قیمتی شے سمجھا جاتا تھا اور پانی خال خال دستیاب تھا، لیکن اس کے باوجود لوگوں کو پانی کی قدر و قیمت کا درست احساس نہ تھا۔ اس لیے جب پانی انھیں میسر آتا تو وہ اسے بے دریغ ضائع کردیا کرتے تھے ، مثلاً دریا یا نہر کے کنارے اور چشموں یا حوضوں وغیرہ پر بیٹھ کر بے دریغ پانی استعمال کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کی ممانعت فرما دی بلکہ آپؐ نے وضو جیسی عظیم عبادت میں بھی پانی کے ضائع کرنے کو اسراف و ناجائز   قرار دیا۔؎۳۸  آپ کی ان تعلیمات کی وجہ سے صحابہ کرامؓ میں پانی کی اہمیت کا جذبہ پیدا ہوا اور پانی کی کفایت شعاری و بہترین استعمال کا احساس اُجاگر ہوا ۔ یوں آبی ضیاع کو روکنے کی عملی تربیت فراہم کی گئی۔

آبی آلودگی کو روکنے کے اقدامات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس وقت مدینہ اور اس کے قرب و جوار کے بہت سے علاقوں میں آبی آلودگی پائی جاتی تھی اور اس کی طرف ان لوگوں کی توجہ نہ ہونے کے برابر تھی، جس کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی تھیں اور صحابۂ کرامؓ بیمار ہو رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آبی آلودگی کو ختم کرنے کے لیے بھی اقدامات فرمائے۔

حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ جب رسول کریمؐ مدینہ تشریف لائے تو ابوبکرؓ اور بلالؓ کو بخار آگیا اور حضرت ابوبکرؓ کو جب بخار آتا تو یہ شعر پڑھتے: ہر شخص اپنے گھر میں صبح کرتا ہے۔ حالانکہ موت اس کے جوتوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے، اور بلالؓ کا جب بخار اُترتا تو بلند آواز سے یہ شعر پڑھتے: کاش! میں وادیٔ مکہ میں ایک رات پھر رہتا اس حال میں کہ میرے اردگرد اذخر اور جلیل گھاس ہوتی، کاش! میں ایک دن مجنہ کا پانی پی لیتا اور کاش! میں شامہ اور طفیل کو پھر دیکھ لیتا۔ کہا یا اللہ! شیبہ بن ربیعہ اور عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر لعنت کر، جس طرح    ان لوگوں نے ہم کو ہمارے وطن سے وبا کی زمین کی طرف دھکیل دیا۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: یااللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت پیدا کر۔ جس طرح ہمیں مکہ سے محبت ہے یا اس سے زیادہ (محبت پیدا کر)۔ یااللہ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا کر اور یہاں کی آب و ہوا ہمارے مناسب کر اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف منتقل کر۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو وہ اللہ کی زمین میں سب سے زیادہ وبا والی زمین تھی اور وہاں بطحان ایک نالہ تھا جس سے بدبُو دار پانی تھوڑا تھوڑا بہتا رہتا۔؎۳۹   وادیٔ بطحا ن مدینہ کے نشیب میں واقع تھی۔

 غور کیجیے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ہے کہ یہ جگہ اس سر زمین پر سب سے زیادہ آلودہ جگہ تھی پھر آپؐ کے انتظامات کی بدولت یہ وادی نہایت پاک و صاف اور خوشگوار ہو گئی کہ بعدمیں آپؐ نے یہاں متعدد مرتبہ قیام فرمایا۔؎۴۰ مراد یہ ہے کہ یہاں آلودگی کو روکنے کے لیے ظاہری اقدامات کے علاوہ روحانی اقدامات کے اختیار کرنے کا درس بھی ہے۔

آلودگی کو روکنے کے ان انتظامات کی بدولت یہ وادی اتنی صاف ستھری ہو گئی کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ثابت بن قیسؓ کے پاس تشریف لے گئے۔وہ بیمار تھے تو فرمایا کہ اے پروردگار ! تکلیف کو دور فرما ، ثابت بن قیس سے۔ پھر آپؐ نے وادیٔ بطحان کی مٹی اٹھائی اور اسے ایک پیالے میں ڈال دیا۔ پھر اس پانی پر پڑھ کر پھونکا اور اسے ان پر بہا دیا۔ ؎۴۱   ایک صحابی ہجرت کرکے آئے تو بیمار ہوگئے، حالتِ مرض میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حال پوچھا، بولے بیمار ہوں۔ اگر بطحان کا پانی پی لیتا تو اچھا ہوجاتا ،فرمایا تو کون روکتا ہے؟ بولے ہجرت۔ ارشاد ہوا: جائو، تم ہر جگہ مہاجر ہی رہو گے۔ ؎۴۲ وادیٔ بطحان کی مٹی میں آپؐ کی دعا سے ہر مرض کے لیے شفا ہے۔

وادیٔ بطحان مدینہ منورہ کی مشہور وادی ہے۔غالباًاس حدیث کی وجہ سے اس جگہ کی مٹی کو ’خاکِ شفا‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ اگر چہ اس روایت میںبطحان کا ذکر ہےکہ یہاں کی مٹی برکت اور شفا والی ہے۔جہاں تک بعض لوگوں نے شفا کو خاص کیا بطحان کی مٹی کے ساتھ ،تواس میں کوئی تخصیص کی وجہ نہیں، جب کہ دوسری احادیث کے عموم سے پورے مدینہ منورہ کی مٹی مراد ہے۔ لیکن اس میں غلو اور حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ ؎۴۳ آبی آلودگی کو روکنے کے لیے اللہ کے رسول ؐ نے آبی ذخائر کو آلودہ کرنے، ان میں تھوکنے، پیشاب یاپاخانہ وغیرہ کرنے کی بھی ممانعت فرمادی۔

انتظامی اقدامات

ڈاکٹر محمد حمید اللہ لکھتےہیں :مدینہ منورہ کی ریاست کے ابتدائی ایام میں ضروریات کے تحت ہر قسم کے انتظامی شعبہ کا قیام عمل میں لایا گیا اور پھر تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر اسے بہتر بنایا گیا۔ مدینہ منورہ، شہر کی انتظامیہ اس وسیع و عریض سلطنت کا دارالخلافہ اور وفاقی حکومت کا مرکز تھا، جب کہ ہر قبیلہ دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کے ساتھ اپنے علاقہ میں ہی اس سلطنت کا صوبہ بن جاتا تھا اور قبیلے کا سردار یا مقامی فرد صوبائی حکومت کا حکمران مقرر کر دیا جاتا تھا۔؎۴۴

آبی انتظامات کے ضمن میں آپؐ نے مشہور صحابی اور قبیلہ مزینہ کے سردار حضرت بلال بن حارثؓ مزنی کو نقیع کے کنویں کا جسے آپؐ نے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خود کھدوایا تھا، نگران مقرر کیا تھا۔ ؎۴۵

ہجرتِ نبویؐ کے وقت مدینہ منورہ میں صرف ایک ہی میٹھے پانی کا کنواں موجود تھا، البتہ وادیٔ عقیق میں میٹھے پانی کے بہت سے کنویں تھے۔ بیرعثمان، ابیار علی اور بیر عروہ بھی اسی وادی میں واقع ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وادی کا میٹھا پانی بہت پسند تھا۔؎۴۶ شاید میٹھے پانی کے ان کنوؤں کی کثرت کی وجہ سے آپؐ نے اس وادی کا نگران مقرر کیا تھا جس کا نام ہیصم المزنی تھا۔ جو دیگر امور کے علاوہ انتظامِ آب کی ذمہ داری بھی سر انجام دیتا تھا۔

اسی وادی میں بنو امیہ ان لوگوں کو تنخواہ دیتے تھے جو مروان بن الحکم کے حوض کی دیکھ بھال کرتے تھے۔اسی وادی میں ایک کنواں تھا، جس کا نام بئر المغیرہ تھا جس کے ڈول اور رسیوں کی دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ انتظامِ آب کا یہ نظام عہد نبویؐ کے بعد دیگر حکمرانوں نے بھی برقرار رکھا۔

بہتر انتظامِ آب پر حوصلہ افزائی

حوصلہ افزائی اور تعریف و توصیف یا انعام و اکرام کی بدولت لوگوں کی کارکردگی نہ صرف بہتر ہو جاتی ہے بلکہ استعداد کار اور قوت و صلاحیت کو بھی نمو ملتی ہے۔ یہ عصرحاضر کا تسلیم شدہ اصول ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا بخوبی ادراک و احساس تھا۔ اس لیے آپؐ لوگوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے تاکہ وہ پہلے سے بھی بہتر کام کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دوران سفر پانی کم ہونے کی وجہ سے مختلف صحابہؓ کو پانی ڈھونڈنے کے لیے بھیجا، جن میں سے ایک گروہ نے زیر زمین پانی تلاش کر لیا۔جس صحابیؓ نے پانی ڈھونڈا، اسے سقیا کا خطاب عطا فرمایا۔؎۴۷ آج دور جدید میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص کو بہتر کارکردگی کی وجہ سے کوئی ایوارڈ دے دیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حوصلہ افزائی کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ صحابیؓ دوسرے صحابہؓ کی بہ نسبت جلد پانی ڈھونڈ لیا کرتے تھے۔ حضرت عثمانؓ کا بئررومہ کو صدقہ کرنا بھی اس کی ایک مثال ہے۔

آب پاشی کے عملی اقدامات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرامؓ کو عملی تربیت و نمونہ فراہم کرنے کے لیے خود بھی آب پاشی فرمائی، جس کی وجہ سے صحابۂ کرامؓ کو بھی یہ ترغیب ملی کہ وہ بھی آب پاشی کریں۔  انصار تو پہلے سے ہی آب پاشی میں ماہر تھے، لیکن مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین آب پاشی میں مہارت نہیں رکھتے تھے کیونکہ مکہ کے اکثر لوگوں کا پیشہ گلہ بانی و تجارت تھا اور مہاجرین کو آب پاشی سے اتنی واقفیت نہیں تھی۔

امام سرخسی لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے کھیتی باڑی کا کام کیا ۔ مروی ہے کہ آپ جب زمین پر اتارے گئے تو حضرت جبریلؑ آپ کی خدمت میں گندم لائے اور اسے زمین میں بو نے کا امر کیا ۔ آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام جرف میں بنفس نفیس کاشت کاری فرمائی اور فرمایا:الزَّارِعُ يُتَاجِرُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ [کاشت کار خدا سے تجارت کرتا ہے]۔؎۴۸

مشہور مؤرخ یعقوبی، عہد نبویؐ کے مدینہ میں نظامِ آب پاشی پر لکھتے ہیں: مدینہ منورہ میں چار وادیاں تھیں، جن میں صرف بارش کے وقت ہی پہاڑوں سے بہہ کر پانی آیا کرتا تھا تو سیلاب کی شکل اختیار کر لیتا تھا۔ یہ تمام پانی حرہ بنی سلیم جو مدینہ منورہ سے ۱۰ فرسخ کے فاصلے پر واقع تھی کے پہاڑوں سے بہہ کر مدینہ کی وادیوں بطحان، العقيق الکبیر، العقيق الصغيراور وادیٔ قناۃ میں آتا تھا۔ ان تمام وادیوں میں پانی سیلاب کے وقت ہی آیا کرتا تھا اور پھر یہ سارا پانی ایک جگہ غابہ کے مقام پر جمع ہو جاتا، پھر یہ پانی العقیق الکبیر اور العقیق الصغیر میں آتا تھا ۔ جہاں سے یہ پانی بئر رومہ میں جوبنو مازن میں کھودا گیا تھا اور بئر عروہ اور مدینہ کے دیگر غیر معروف کنوؤں میں آتا تھا، جن سے مدینہ کے باسی پانی پیتے تھے۔ کھجوروں کے درختوں اورکھیتوں کی آب پاشی بھی انھی کنوؤں سے کی جاتی ہے اور پانی کھینچنے کا کام اونٹوں کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ ؎۴۹

غرض یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک سے نظامِ آب پاشی میں بڑی اصلاح اور گراں قدر ترقی ہوئی۔ چراگاہیں، تالاب ، چشمے اور نہریں مفادِ عامہ کے پیش نظر کھلی رکھی گئیں۔ باہمی تعاون اور ہمدردی کی فضا کو بحال کیا گیا۔ پانی کے لیے حکومت وقت کے ذمہ یہ فرض لگا دیا گیا کہ خلق خدا کے لیے مختلف چراگاہوں، تالابوں، نہروں، چشموں اور کنوؤں کا انتظام کرے اور اس پر حکومت کو کسی قسم کا ٹیکس یا لگان لینے کا حق نہ دیا گیا۔ ان ذرائع آب پاشی کی صفائی اور بہتر نگرانی کی جملہ ذمہ داری بھی حکومت کے سر ڈالی گئی۔ وہ ذرائع آب پاشی جو کسی نے انفرادی سطح پر یا عوام نے خود اجتماعی سطح پر بنائے، ان کی بہتر صفائی اور نگرانی کے لیے ان کے ذمہ دار افراد کو پابند رکھنے کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھیرایا گیا، تاکہ مفاد عامہ اور عام ضرورت کی یہ چیزیں بعض افراد کی سستی اور کمزوری کی وجہ سے کہیں بندیا خراب نہ ہو جائیں۔

مفتی غلام سرور قادری لکھتے ہیں: انصار نے بڑی خوش دلی کے ساتھ وہ زمینیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیں جہاں پانی نہیں پہنچتا تھا، تو آپؐ نے بعض صحابہؓ کو ان زمینوں کی جاگیر بخشش فرما دیں تاکہ وہ آباد کر کے ان سے خود بھی فائدہ اٹھائیں اور ان کے ذریعے سے دیگر مخلوق بھی مستفید ہو۔؎۵۰ آب پاشی کے فروغ کے سلسلے میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ زمین کے اندر پھوٹنے والے قدرتی چشمے اور ان کی حریم عامۃ الناس کے لیے ممنوعہ قرار نہیں دی جا سکتی۔ لوگوں کو مالک زمین کی اجازت سے اس کی ضرورت سے زائد پانی اپنی فصلوں تک لے جانے اور خالی زمینوں سے گزار کر وہاں کے چشمے تالاب یا کنویں سے پانی پلانے کا حق ہے۔

خلاصۂ بحث

عہد نبویؐ کے مطالعے سے آبی وسائل کے انتظام کے حوالے سے کئی اہم پہلو اُجاگر ہوتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف لاتے ہی جہاں دیگر امور کی طرف توجہ مبذول فرمائی، وہیں آبی وسائل کے انتظام و انصرام کی طرف بھی خصوصی التفات فرمایا اور آبی وسائل و ذرائع کے تحفظ کے لیے بہت سے اقدامات اختیار فرمائے۔

 lآپؐ نے نئے آبی و سائل وذخائر کو دریافت کیا اورپہلے سے موجود آبی وسائل و ذرائع کے بہترین انتظام کی کوششیں کیں،اس ضمن میں آپؐ نے مختلف منتظمین بھی مقرر فرمائے۔ lپانی کی فضول خرچی سے منع فرمایا۔ lمختلف ضروریات کے لیے پانی کی مقدار مقرر کی اور ان ضروریات کے لیے آبی مصرف کی شرائط و آداب اور اصول و ضوابط مقرر فرمائے۔  lپانی کو آلودہ کرنے سے منع فرمایا۔ lپانی پر اجارہ داری سے روکا lپانی پلانے کوبہترین صدقہ قرار دیا___ اگر سیرت النبیؐ کے اس گوشے پر عمل کیا جائے تو اس کی مدد سے دُور حاضر کے آبی مسائل میں نہ صرف کمی لائی جاسکتی ہے بلکہ بہت سے آبی مسائل کو بخوبی حل کیا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

۳۳-بخاری ، الجامع الصحیح، حدیث ۲۳۶۹  و حدیث ۷۴۴۶

 ۳۴- ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، حدیث ۲۴۷۹

 ۳۵- ابوداؤد، سنن ابو داؤد، حدیث ۳۴۷۸؛ النسائی، سنن نسائی، حدیث ۴۶۶۲، ۴۶۶۳؛ ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، حدیث ۲۴۷۷

۳۶-ابوداؤد، سنن ابوداؤد، حدیث ۱۶۶۹ اور حدیث ۳۴۷۶    

۳۷-  قطب الدین خان دہلوی، مظاہر حق (اُردو شرح مشکوٰۃ)، ج۲، ص ۲۹۲

 ۳۸- ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، حدیث۴۲۵

۳۹-  الجامع الصحیح، حدیث ۱۸۸۹؛ کنزالعمال، حدیث ۳۴۸۱۵  و ۳۴۹۷۹

۴۰- نسائی، سنن نسائی، بَابُ إِذَا قِيلَ لِلرَّجُلِ صَلَّيْتَ هَلْ يَقُولُ لَا؟ حدیث۱۳۶۶

۴۱- ابوداؤد، سنن ابوداؤد، بَابُ    مَا جَاءَ      فِي الرُّقَى ، حدیث ۳۸۸۵

۴۲-  ابن الاثیر،اسد الغابہ ،بیروت، ج۲،ص ۶۱۲

۴۳-  مفتی رضا الحق، فتاویٰ دارالعلوم زکریا،کراچی، ج ۱،ص ۲۱۶

۴۴-  ڈاکٹر محمد حمید اللہ ،محمد رسول  ؐ اللہ، مترجم خالد پرویز ، لاہور ،ص ۲۰۵، ۲۰۶

۴۵-  یٰسین مظہر، صدیقی، ’عہد نبویؐ میں تنظیم ریاست و حکومت‘ ،مشمولہ نقوش رسولؐ نمبر،ج۵،ص ۶۹۲

۴۶- محب الدین ابن النجار ، الدرة الثمينة في أخبار المدينة،ص۵۵-۵۶

 ۴۷- السيوطی،الخصائص الکبریٰ ،ج۲، ص ۷۱

۴۸-  السرخسی، المبسوط، ج ۲۳، ص ۲

۴۹- احمد بن اسحاق یعقوبی، البلدان،بیروت ،ص ۱۵۱

۵۰- غلام سرور قادری، معاشیات نظام مصطفٰی ؐ، لاہور، ص ۱۸۴

یہ سوال کہ ’’کیا اللہ تعالیٰ کے لیے ’عاشق‘ یا ’معشوق‘ یا ’مشوق‘ کے کلمات استعمال کرناجائز ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہارِ محبت کے لیے عشقِ رسول کا لفظ استعمال کرنا یایہ کہنا کہ ’’فلاں عاشقِ رسول ہے یا میں عاشقِ رسول ہوں‘‘،شرعاً جائز ہے ،نیزکیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معشوق کہنا جائز ہے؟ ہم عشق حقیقی اور عشق مَجازی کے الفاظ سنتے رہے ہیں، کیا ان میں کوئی معنوی فرق ہے ،نیزنعت یا سلام میں یہ شعر پڑھناکیسا ہے:’’امتی کیا،خود خدا شیدا ہے تمھارا؟‘‘

سب سے پہلے عشق کے معنی بیان کیے جاتے ہیں، اَلْمُعْجَمُ الْوَسِیْط کے مطابق: ’عشق‘ کے لغوی معنٰی ہیں:’’ بہت شدت سے محبت کرنا،کسی شئے کے ساتھ دل کا وابستہ ہو جانا ،چمٹ جانا‘‘۔  مِصْبَاحُ الْمُنِیْر میں ہے:’’ محبت میں اِفراط (یعنی حد سے تجاوز یا انتہائی درجے کی محبت) کو ’عشق‘ کہتے ہیں، اَلْمُنْجِد میں ہے : ’’بہت زیادہ محبت کرنا ،محبت میں حد سے بڑھ جانا،عَشِقَ بِالشَیٔ ِ : چمٹنا،العِشْقُ : محبت کی زیادتی،اس کا اطلاق پارسائی اور غیرپارسائی دونوں اعتبار سے ہوتاہے‘‘۔

ہندی میں ’عشق پیچاں‘ ایک بیل کو کہتے ہیں، اردو زبان میں اسے’آکاس بیل‘ کہتے ہیں، یہ درخت سے لپٹ جاتی ہے اور اس کو برگ و بار یعنی شاخوں، پتوں اور پھولوں سے محروم کردیتی ہے، پھر وہ زرد ہوجاتا ہے اور کچھ دنوں کے بعد خشک ہو جاتا ہے۔

پس جب ’عشق‘ قلبِ عاشق پہ چھا جاتا ہے تو اس کو زرد رُو اور لاغَر بدن بنادیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے عاشق ، معشوق اور مشوق کے کلمات استعمال کرنا شریعت کی رُو سے درست نہیں۔ شاقَ یَشُوْقُ شَوْقًا کے معنی ہیں:’’شوق دلانا‘‘، اس کی صفتِ مفعولی مشوق ہے۔ شَوقْ کے معنی ہیں:’’سخت خواہش، بڑی آرزو‘‘۔بعض فقہا وعلما نے اسے ’بدعت‘ کہاہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے ایسے کلمات استعمال کرنے والے کو بدعتی قرار دیا گیا ہے ،البتہ اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی، بعض علماء نے کہا ہے: ’ایسے شخص کو سزا دی جائے گی ‘۔

       اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آداب میںسے ایک یہ ہے :’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صریح اہانت کا کلمہ تو درکنار ، ایسا ذومعنی کلمہ بھی استعمال کرنا جائز نہیں ، جس کا ایک معنی تعظیم کا ہو اوربولنے والے کی نیت بھی تعظیم کی ہو ،لیکن اس کے ایک دور کے معنی اہانت کے بھی نکل سکتے ہوں ،کیونکہ کوئی بدنیت اور بدعقیدہ شخص ایسے کلمات بول کر اہانت کا معانی مراد لے سکتا ہے‘‘۔

       جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابۂ کرامؓ کے ساتھ مجلس منعقد ہوتی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاداتِ مبارکہ کا سلسلہ جاری ہوتا اور کوئی بات کسی صحابی کی سمجھ میں نہ آتی ،تو وہ عرض کرتے:  راعِنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ‘‘،’’یعنی اے اللہ کے رسولؐ! ہماری رعایت فرمایئے ، ہماری طرف توجہ فرمایئے ، اپنی بات مکرر ارشاد فرمایئے‘‘۔صحابۂ کرام رضوان اللہ اجمعین کی نیت درست ہوتی تھی ، لیکن بعض منافقین اوریہود بدنیتی سے اس لفظ کو اِمالہ(Tilt) کرکے رَاعِیْنَا  کہتے اورباہر آکر اپنی مجلسوں میں اس کا مذاق لیتے کہ ہم نے انھیں بنادیا،کیونکہ رَاعِیْنَا کے معنی ہیں: ’ہمارا چرواہا‘ اور بعض اسے ’رَعْن‘ سے لیتے اوررعونت کے معنی ہیں:’’بے وقوف ہونا‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے نبی مکرّم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ذومعنی لفظ کے استعمال سے منع فرمادیا اور تنبیہہ فرمائی کہ پہلی مرتبہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات غورسے سن لیاکرو، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ زحمت دینے کی نوبت ہی نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُولُوْا انظُرْنَا وَاسْمَعُوْا (البقرہ ۲:۱۴۰)’’اے ایمان والو!راعِنَا ‘‘نہ کہا کرو،بلکہ انظُرْنَا   (ہماری طرف توجہ فرمایئے!) کہاکرو اور (بہتریہ ہے کہ پہلے ہی ) توجہ سے سن لیا کرو‘‘۔ ذومعنی لفظ کو ہم انگریزی میں Ambigous سے تعبیر کرسکتے ہیں،لغت میں اس کے معنی ہیں:’’ایسا لفظ جس کے ممکنہ طور پر ایک سے زائد معانی ہوں، اس سے بعض صورتوں میں ابہام بھی پیدا ہوتا ہے‘‘۔

       نیز فرمایا: مِنَ الَّذِيْنَ ھَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ وَيَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَّرَاعِنَا لَيًّۢا بِاَلْسِنَتِہِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّيْنِ۝۰ۭ وَلَوْ اَنَّھُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ وَاَقْوَمَ۝۰ۙ وَلٰكِنْ لَّعَنَھُمُ اللہُ بِكُفْرِہِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا۝۴۶ (النسآء۴:۴۶) ’’یہودیوں میں سے کچھ لوگ اللہ کے کلمات کو ان کی جگہوں سے پھیردیتے ہیں اورکہتے ہیں : ہم نے سنا اورنافرمانی کی (اور آپ سے کہتے ہیں:) سنیے آپ نہ سنائے گئے ہوں اوراپنی زبانیں مروڑ کر دین میں طعن کرتے ہوئے ’رَاعِنَا‘ کہتے ہیں اور اگر وہ کہتے : ہم نے سنا اورہم نے اطاعت کی اورآپ ہماری بات سنیں اورہم پر نظرِ کرم فرمائیں تویہ   اُن کے لیے بہتر اور درست ہوتا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب اُن پر لعنت فرمائی ہے، سوان میں سے کم لوگ ہی ایمان لائیں گے‘‘۔

قرآن کریم اور اَحادیثِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولؐ کے لیے ’حُبّ‘ کا کلمہ آیا ہے، اُس کی انتہا کو ’اَشَدَّ‘ سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللہِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَہُمْ كَحُبِّ اللہِ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا  لِّلہِ۝۰ۭ(البقرہ۲:۱۶۵)،’’بعض لوگ اللہ کے غیرکو اللہ کا شریک قرار دیتے ہیں اوراُن سے اللہ جیسی محبت کرتے ہیںاور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے ہیں‘‘۔

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی لکھتے ہیں: ’’بعض اولیائے کرام اور بعض متقدمین نے اللہ تعالیٰ سے اظہارِ محبت کے لیے لفظ معشوق اور مَشُوق استعمال کیا ہے، مگر اہل علم نے دو وجہ سے اسے ناپسند کیا ہے: ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ توقیفی ہیں (یعنی نقل وسماع پر موقوف ہیں، عقل پر موقوف نہیں ہیں) اور دوم یہ کہ اس کا اطلاق جسمانی لذتوں میں (زیادہ) متعارف ہے، (تفسیر امام راغب اصفہانی،ج۱، ص ۴۹)‘‘۔علامہ ابن قیم لکھتے ہیں:’’ اہل علم نے اس میں اختلاف کیاہے کہ آیا یہ کلمہ (عاشق یا معشوق) اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے بولاجاسکتا ہے ،صوفیا کی ایک جماعت نے کہاہے: اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور انھوں نے اس بابت اثر نقل کیاہے، لیکن ایسا اثر کہیں ثابت نہیں ہے اور اُسی میں ہے :عشق کرنے والا کہے گا:’’ اس نے مجھ سے عشق کیایا میں نے اس سے عشق کیا‘‘اور جمہور علماء نے کہا : یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں نہیں بولا جائے گا ،پس یہ نہیں کہاجائے گا : ’’وہ (فلاں ) سے عشق فرماتا ہے ‘‘ اوریہ بھی نہیں کہاجائے گا : ’’اُس کے بندے نے اُس سے عشق کیا‘‘،محدثین کی اصطلاح میں ’’اثر‘‘قولِ صحابی کو کہتے ہیں۔

قرآن کریم میںاللہ تعالیٰ سے محبت کے حوالے سے البقرہ: ۱۶۵، ۱۹۵، ۲۲۲، آل عمران: ۳۱، ۷۶، ۱۳۴، ۱۴۶، ۱۵۹، توبہ: ۲۴ اور دیگر مقامات پر  أَحَبّ ، یُحِبُّ ، یُحِبُّونَ ، حُبّا  کے الفاظ آئے ہیں، نیز حدیثِ پاک میں ہے :’’ جومیری رضا کے لیے آپس میں محبت کریں، باہم مل بیٹھیں، ایک دوسرے سے ملاقات کریں اور ایک دوسرے پر مال خرچ کریں ،ان کی محبت میرے  ذمۂ کرم پر ہے ،(مسند احمد :۲۲۰۳۰)‘‘، بندوں پر اللہ تعالیٰ کے جو حقوق واجب ہیں، بندہ اُن کا حق ادا نہیں کرسکتا،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللہِ لَا تُحْصُوْہَا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۱۸ (النحل۱۶:۱۸) ’’اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گننے لگو تو تم اُن کاشمار نہ کر پائو گے، بے شک اللہ بہت بخشنے والا،نہایت مہربان ہے ‘‘۔ حدیث پاک میں ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! میں تیری ثناکا احاطہ نہیں کرسکتا ، تیری کمالِ ثنا وہی ہے جو تونے خود اپنی ذات کی فرمائی ،( صحیح مسلم:۴۸۶)‘‘۔

علامہ ابن حجر ہیتمی شافعی لکھتے ہیں:’’اگر اس نے کہا : میں ایسے مقام پر پہنچ گیا کہ میں غمِ جان سے آزادہوگیا‘‘،یہ کہنے سے اس کی تکفیر تونہیں کی جائے گی ،لیکن وہ مُبْتَدِع ہے(اور) فریب نفس میں مبتلا ہے،اسی طرح اگر کہا: ’’میں اللہ کا عاشق ہوں یاوہ مجھ سے عشق فرماتا ہے‘‘ تومبتدع ہے۔ علامہ سلیمان بن منصورشافعی لکھتے ہیں:’’ اللہ تعالیٰ کی ذات کوعاشق اورمعشوق کہنا جائز نہیں ہے ،بلکہ ایساکہنے والے کو سزا دی جائے گی [یعنی یہ ذات باری تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں ہے]،(حَاشِیَۃُ الْجُمَلْ عَلٰی شَرحِ الْمَنْہَجْ،جلد۲، ص ۱۹۴)‘‘۔

       امام احمد رضاقادری سے سوال ہوا:’’ اللہ تعالیٰ کو عاشق اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواس کامعشوق کہنا جائزہے یانہیں؟‘‘،آپ نے جواب میں لکھا:’’ناجائز ہے ،کیونکہ عشق کامعنی اللہ عزوجل کے حق میں مُحالِ قطعی ہے اور ایسا لفظ بے ورُودثبوتِ شرعی حضرتِ عزّت کی شان میں بولنا ممنوعِ قطعی ہے، ردالمحتارمیں ہے:’’اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے کسی لفظ سے صرف مُحال معنی کا وہم بھی ممانعت کے لیے کافی ہے‘‘۔

        علامہ یوسف اردبیلی شافعی اَلْاَنْوَار لاَِعْمَالِ الاَبْرَار میں شافعی اور حنفی علماء سے نقل فرماتے ہیں :’’اگر کوئی شخص کہے : میں اللہ تعالیٰ سے عشق رکھتاہوں اور وہ مجھ سے عشق رکھتاہے‘‘ ،تو وہ بدعتی ہے، لہٰذا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ یوں کہے:’’ میں اللہ تعالیٰ سے محبت کرتاہوں اور وہ مجھ سے محبت فرماتاہے۔ جس طرح قرآنِ کریم میں ہے:’’اللہ تعالیٰ اُن سے محبت فرمائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کریں گے،(المائدہ۵:۵۴)‘‘،اسی طرح امام ابن حجر مکی نے’اِعلام‘ میں نقل فرما کراسے مقرّر رکھا،(فتاویٰ رضویہ ،جلد۲۱، ص۱۱۴ تا ۱۱۶)۔

مفتی محمد شریف الحق امجدی سے سوال ہوا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا دل بر، دل رُبا اور معشوق کہہ سکتے ہیں‘‘، آپ نے جواب میں لکھا:’’ اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرتے ہوئے ان تینوں الفاظ:دل بر، دل رُبا اور معشوق میں سے کسی کا اطلاق صحیح نہیں ہے۔ یعنی یہ کہنا جائز نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے دل بر یا دل رُبا یا معشوق ہیں، اس لیے کہ دل بر،  دل رُبا کہنے میں باری تعالیٰ کے لیے ایہامِ تجسّم (جسمانیت کا وہم پیداہوتا)ہے اور معشوق کہنے میں اثباتِ نَقص ،کیونکہ عشق کا حقیقی معنی محبت کی وہ منزل ہے جس میں جنون پیدا ہو جائے،(فتاویٰ شارح بخاری ،جلد۱، ص ۲۸۱)‘‘۔

مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے عاشق ومعشوق کے الفاظ اور اللہ تعالیٰ کی نسبت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ’معشوق‘، ’دلبر‘ اور ’دل رُبا‘ کے الفاظ استعمال کرنا ذاتِ باری تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں ہے اورعلمائے کرام نے اس سے منع فرمایا ہے۔تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبین کے لیے ’عاشق‘ کالفظ بکثرت استعمال ہورہاہے ، اس کی جمع عُشّاق ہے اور ع کے فتحہ   کے ساتھ عَشّاق کے معنیٰ ہیں : ’’بہت زیادہ عشق کرنے والا ‘‘ ،یعنی یہ مبالغہ کا صیغہ ہے ۔البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ’معشوق‘ کا لفظ کبھی نہیں سنا اوریہ لفظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے   شایانِ شان معلوم نہیں ہوتا ، اس سے اجتناب بہتر ہے ،حالانکہ معنوی اعتبار سے اس میں خرابی نہیں ہے، لیکن چونکہ یہ کلمہ مُبتذل ہے،سفلی جذبات کے لیے بھی استعمال ہوتاہے، اس لیے ہماری رائے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے معشوق کا کلمہ استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حبیب اورمحبوب کے کلمات استعمال کیے جائیں ، ان میں حرمت ہے، وقار ہے، تقدیس ہے اور قرآن وحدیث میں اس کی ترغیب دی گئی ہے، بلکہ اسے ایمان کا تقاضا قرار دیا گیا ہے کہ مومن کی نظر میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرّم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذواتِ مقدسہ صرف محبوب نہیں، بلکہ اَحَبّ(محبوب ترین) ہونی چاہییں۔

 احادیث مبارکہ میں ہے:

(۱)’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص مومن (کامل) نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ وہ مجھے اپنے والد ،اپنی اولاد اور تمام لوگوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ محبوب (اَحَبّ)نہ جانے، (صحیح البخاری:۱۵)‘‘۔

(۲)’’عبداللہ بن ہشام بیان کرتے ہیں: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، دراں حالیکہ وہ عمرؓ بن خطاب کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، حضرت عمرؓ نے عرض کی: یارسول اللہ! آپ مجھے اپنی جان کے سوا ہرچیز سے زیادہ محبوب ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں ! اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ،تم اُس وقت تک مومنِ کامل نہیں ہوسکتے جب تک کہ میں تمھارے لیے تمھاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجائوں، اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کی: یارسولؐ اللہ! بخدا!اب آپ میرے لیے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عمر! اب تم نے کمالِ ایمان کو پالیا ،(بخاری:۶۶۳۲)‘‘۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے اللہ تعالیٰ کے لیے لفظِ ’’شیدا‘‘کے اطلاق کے بارے میں مفتی شریف الحق امجدی لکھتے ہیں:’’(اللہ تعالیٰ)کو شیدائے محمد کہنا بھی جائز نہیں کہ اس میں معنیٔ سوء کا احتمال ہے،کیونکہ شیدا کے معنی ہیں:’’ آشفتہ ، فریفتہ ، مجنون،عشق میں ڈوبا ہوا، عاشق‘‘، اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے مُنَزَّہ (پاک)ہے،(فتاویٰ شارح بخاری، ج۱، ص۱۴۱)‘‘۔

بیسویں صدی کے آغازسے ۱۹۲۴ء تک پھیلے ہوئے ہنگامہ خیز دور کو ہم حرکت اور تجدید کا دور (Era of reassertion)کہہ سکتے ہیں۔ اس دور کی نمایاں خصوصیت مسلمانوں کا دوبارہ اپنے آپ کو اُمت مسلمہ کی حیثیت سے دریافت اور ظاہر (assert) کرنا اور اپنے آپ کو منوانا تھا۔ یہ احیائے نو کی طرف پہلا قدم تھا۔

  • حالی، شبلی اور اکبر کی خدمات

یہ دور الطاف حسین حالی[م: ۳۱دسمبر۱۹۱۴ء] اور شبلی نعمانی [م:۱۸نومبر ۱۹۱۴ء]کی علمی و ادبی کاوشوں کی بنا پر رُونما ہوا۔ حالی کی مسدس   ہر گھر پہنچی اور مسلمانوں کے دل و دماغ میں ایک حیات پرور گرمی اور ایک احساسِ زیاں پیداکرتی گئی۔

شبلی نعمانی کی کوششوں کی بنا پرماضی پر مسلمانوں کا اعتماد بحال نظر آیا۔ شبلی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کو دوبارہ ان کی تاریخ سے روشناس کرایا اور مسلمانوں میں بے اعتمادی اور مایوسی کی جو کیفیت پیدا ہوگئی تھی کہ ماضی ہے تو انگریز کا، اور مستقبل ہے تو انگریز کا، اس احساس کو اُنھوں نے تاریخ کی رومانویت سے دُور کیا ۔ پھر اپنے آخری زمانے میں انھوں نے جدید تعلیمی پالیسی اور اس کے اثرات پر شدید تنقیدو جرح کی اور سیاسی تحریکات میں بھی شرکت کی۔ مسلمانوں کا رابطہ سیرت النبیؐ کے اطلاقی پہلوئوں سے جوڑا، جو شبلی نعمانی کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔

اسی طرح نواب وقار الملک [م:۲۷جنوری ۱۹۱۷ء]نے اپنے آپ کو سرسیّد احمد خاں کی تحریک سے کاٹ کر تعلیم کو صحیح راہ پر لگانے کی کوشش کی۔اکبر الٰہ آبادی [م:۱۵فروری ۱۹۲۱ء] نے اپنے اشعار کے نشتروں سے مغربی تہذیب کے اثرات کو زائل کیا اور اسلامی تہذیب کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ مسلمانوں کی معاشرت اور تہذیب و تمدن کا نقشہ اُن کے سامنے رکھا اور اُن کو بتایا کہ کتنے خطرناک راستے پر وہ بھاگے چلے جارہے ہیں۔ اس دورِ احیا کو پروان چڑھانے میں اکبر کا کئی صورتوں میں کلیدی حصہ ہے۔

  • ندوۃ العلما

اس کے بعد ندوہ آتا ہے۔ دارالعلوم ندوۃ العلما ۲۶ستمبر ۱۸۹۸ء کو لکھنؤ میں قائم ہوا، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ قدیم و جدید کو ملایا جائے۔ باوجود بڑی قیمتی خدمات کے، جو دینی لٹریچر کی فراہمی اور دینی تعلیم کی ترویج کے سلسلے میں ندوہ نے سرانجام دیں، ندوہ وہ انقلابی شخصیتیں تیار نہ کرسکا، جو جدید و قدیم کی صحیح معنوں میں جامع ہوں۔ ’ندوہ نے سارے عرصے میں عملی سیاسیات میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنے والا ایک بھی نمایاں فرد پیدا نہیں کیا۔ اس لیے دارالعلوم دیوبند [تاسیس: ۳۰مئی ۱۸۶۶ء]نے جب اپنا تعلق انڈین نیشنل کانگرس [تاسیس: ۲۸دسمبر ۱۸۸۵ء]کی یک وطنی قوم پرست تحریک کے ساتھ جوڑا تو ندوہ، مسلم قیادت کے خلا کو پُر کرنے سے قاصر رہا۔ اس طرح مسلمانوں کی قیادت بڑی آسانی سے ان جدید تعلیم یافتہ مسلم زادوں کے ہاتھ میں آگئی، جن کی اکثریت، فکروعمل کے اعتبار سے ملت کے لیے اجنبی تھی اور نواب زادوں اور بڑے زمین داروں کے اس طبقے سے تعلق رکھتی تھی، جسے ۱۸۵۷ء میں اپنی قوم سے بے وفائی کے بدلے میں انگریزی سامراج نے زمینوں، مناصب اور وسائل سے نوازا تھا۔(آباد شاہ پوری، تاریخ جماعت اسلامی، اوّل، ص ۱۷۱)

واقعہ یہ ہےکہ اس کمی کے باوجود ندوہ اس دورِ احیا کی ایک اہم اور مؤثر تحریک ہے۔  اس کی خدمات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس تحریک نے نئے دور کے تقاضوں کی نشان دہی کی۔ ندوی ذہن تحریک ِ اسلامی کے تقاضوں کو نسبتاً زیادہ سمجھتا اور اس سے زیادہ قریب ہے۔ دارالمصنّفین اعظم گڑھ [تاسیس:۲۱ نومبر ۱۹۱۴ء]نے بلندپایہ اہلِ قلم اور محققین کی ایک قابلِ قدر اجتماعیت تیار کی، جنھوں نے علمی و تحقیقی میدان میں اتنا عظیم علمی اثاثہ مسلمانوں کے لیے تیار کیا کہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج، علی گڑھ [تاسیس: ۲۴مئی ۱۸۷۵ء]اور دارالعلوم دیوبند ویسی خدمت انجام نہ دے سکے۔ اس خاموش کام کے ذریعے سے مسلمانوں میں اپنے دین کے اُوپر اعتماد بحال کیا، اور مسلم اُمت کی آیندہ نسلوں کا رشتہ اپنی تاریخ، تہذیب اور ثقافت سے جوڑا۔

پھر مولانا رحمت اللہ کیرانوی [م:یکم مئی ۱۸۹۱ء مکّہ]، مولانا سیّد ناصرالدین ابومنصور ، مولانا محمد قاسم نانوتوی [م:۱۵؍اپریل ۱۸۸۰ء] اور مولانا ثناء اللہ امرتسری [م:۱۵مارچ ۱۹۴۸ء] نے ردِ عیسائیت کے سلسلے میں بڑی قیمتی خدمات انجام دیں۔ عیسائیوں اور آریہ سماجی ہندوئوں سے بڑے اہم اور کامیاب مناظرے کیے ۔ مولانا رحمت اللہ ایک بین الاقوامی شہرت کے مناظر تھے، جنھوں نے یورپ کے چوٹی کے پادریوں کو جگہ جگہ مدلل اور مسکت جواب دیئے۔

ان تمام قابلِ قدر حضرات گرامی کی مساعی سے احیا کا یہ دور شروع ہوا۔ بلاشبہہ اس دور کے چار ہیرو ہیں:

  • مولانا ابوالکلام آزاد
  • مولانا محمد علی جوہر
  • علّامہ محمد اقبال
  • سیّدابوالاعلیٰ مودودی
  • مولانا ابوالکلام آزاد

مولانا ابوالکلام آزاد [م: ۲۲فروری ۱۹۵۸ء] نے جواں عمری ہی میں علم و ادب کے میدان میں اپنا لوہا منوا لیا۔ ۱۹۱۲ء میں کلکتے سے اپنے ہفت روزہ اخبار الہلال کے ذریعے ایک طوفان کی طرح مسلمانانِ ہند کی سیاسی اور اجتماعی زندگی پر چھا گئے۔ اخبار الہلال کے اجرا [۱۳جولائی ۱۹۱۲ء] سے تنظیم حزب اللہ  کی تشکیل [۱۹۱۳ء]تک غیرمعمولی کردار ادا کرتے رہے۔ اس کے بعد بدقسمتی سے ایک ارتقائے معکوس کا شکار ہوگئے۔

معاصر احیائے اسلامی کی تاریخ میں مولانا ابوالکلام کا غیرمعمولی حصہ ہے اور اس حوالے سے ان کے اثرات کو یہاں مختصراً بیان کرتے ہیں:

۱- مغربی تہذیب پر تنقید :مولانا ابوالکلام آزاد نے علی گڑھ تحریک کے فکری، تہذیبی اور عملی پہلوئوں پر شدید تنقید کی۔ مغربی تہذیب کی جارحیت اور تعلیم کے فکری و ثقافتی مظاہر کا سختی سے محاسبہ کیا۔ تقلید ِ فرنگ کے جو رجحانات مسلمانوں میں رُونما ہوئے تھے، ان پر نقد واحتساب کیا۔ من پسند اور معذرت خواہانہ تعبیر کے فتنے کی وجہ سے جو تحریکات، دینی اساس و اقدار کے معنی بدل رہی تھیں ، اُن کا پردہ چاک کیا۔ نیز مسلمانوں کو ان کے دین سے کاٹ دینے کی جو بھی کوششیں ہورہی تھیں، اُن کا مقابلہ کیا۔ اس طرح مولانا ابوالکلام نے چُومکھی لڑائی لڑ کر، اسلامی قوتوں کو مقابلے کا نیا جذبہ عطا کیا۔

۲- تحریکِ آزادیِ ہند میں شمولیت :برطانوی سامراجی حکومت سے غیرمشروط تعاون کرنے، اس کے آگے سپر ڈالنے اور اس سے حقوق کی بھیک مانگنے کی پالیسی پر سخت تنقید کی، اور مسلمانوں کو برطانوی سامراجی حکومت سے عدمِ تعاون اور عدمِ اشتراک کا سبق دیا۔ ابوالکلام نے قوم سے کہا کہ آزادی اور حقوق بھیک مانگنے اور ہاتھ پھیلانے سے نہیں ملا کرتے، ان کے لیے جدوجہد کی جاتی ہے، قربانیاں دی جاتی ہیں۔ سامراجی حکومت کے ٹکڑوں پر تمھیں نہیں جینا بلکہ حکومت کی باگیں غیرملکی غاصبوں سے چھین لینی ہیں۔ مسلمانوں میں جہاد، جدوجہد اور قربانی کے جذبے کو بیدار کرنے میں مولانا ابوالکلام کی آگ لگادینے والی تحریروں اور تقریروں کا غیرمعمولی حصہ ہے۔

۳- جدید علم الکلام کی اصلاح : سرسیّد احمد خاں، مولوی چراغ علی خان [م: ۱۵جون ۱۸۹۵ء] اور سیّد امیرعلی [م: ۳؍اگست۱۹۲۸ء]کے ہاتھوں ایک نیا علم الکلام پروان چڑھ رہا تھا، جو ایک شکست خوردہ ذہنیت پر مبنی تھا۔ ایسی ذہنیت کہ جس میں اسلام کو ایک بے بس، کمزور اور مدافعانہ پوزیشن میں لاڈالا گیا تھا۔ ابوالکلام نے اس مرعوبانہ اور معذرت خواہانہ انداز کو ترک کرنے کی طرف متوجہ کیا، اور اس کی جگہ قرآن و حدیث سے روشنی حاصل کرتے ہوئے اسلام کی تعلیمات کو اعتماد اور جرأت کے ساتھ پیش کیا۔ اگرچہ تعبیر کے معاملات میں کہیں کہیں مولانا آزاد سے بھی چوک ہوئی ہے اور خصوصیت سے واحد ہندی قومیت اور وحدتِ ادیان کے مسئلے پر انھوں نے زبردست ٹھوکر کھائی، لیکن بحیثیت ِ مجموعی انھوں نے انھی خطوط پر بیان و کلام کی روایت کو قائم کیا، جن کی بنیاد شاہ ولی اللہ نے رکھی تھی۔ اسی چراغ سے روشنی حاصل کرتے ہوئے اور اسی پیغام کو خطیبانہ اور جھنجھوڑنے والے انداز میں پیش کرتے ہوئے ابوالکلام نے مسلمانوں کو سوچنے، سمجھنے اور چلنے کا ایک نیا انداز دیا۔ خصوصیت سے قرآنِ پاک سے مسلمانوں کا تعلق جوڑنے میں بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں۔

نہ صرف قرآنِ پاک کے ترجمے اور تفسیر کے ذریعے بلکہ ان سے بڑھ کر اخبار الہلال کے مضامین کے ذریعے انھوں نے مسلمانوں میں حرکت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ہندستان کی جدید تاریخ میں الہلال  کے مضامین میں پہلی مرتبہ یہ نظر آتا ہے کہ قرآن پاک میں سابق اُمتوں کے   محض قصے ہی نہیں بلکہ زندگی کے معاملات کے بارے میں بھی ہدایات ملتی ہیں۔ زندگی کا ہرشعبہ،ہرپہلو اور فیصلہ خواہ وہ معیشت سے متعلق ہو یا معاشرت سے، ملکی سیاست کا مسئلہ ہو یا بین الاقوامی سیاست کا معاملہ، ان میں سے ہر ایک کے حل کے لیے ابوالکلام قرآنِ پاک کی آیات سے استدلال کرتے ہیں، حتیٰ کہ ان کے مخالفین بھی کہنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ:

دُنیا کا کوئی بھی مسئلہ ہو، نہ معلوم ابوالکلام کے پاس کیا جادو ہے، قرآنِ پاک کی کوئی نہ کوئی آیت لے ہی آتے ہیں۔

 اسی طرزِ استدلال کا یہ اثر ہوا کہ لوگوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ: ’قرآن ہماری زندگی کے تمام معاملات و مسائل سے بحث کرتا ہے اور زندگی کے تمام مسائل اور شعبوں میں ہمیں رہنمائی دیتا ہے‘۔

۴- علمی مرتبہ : مولانا ابوالکلام نے معیارِ تصنیف کو بہت اُونچے مقام پر پہنچا دیا۔ پچھلے ڈیڑھ سوسال کے اہلِ علم کی تصانیف اور خصوصیت سے معرکہ ۱۸۵۷ء کے بعد جو کتابیں شائع ہوئیں، ان کو پڑھیے تو عمومی طور پر ان کا ادبی معیار بہت ہی پست نظر آتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے باقی دُنیا کا لٹریچر دیکھا ہی نہیں اور نہ خود اپنے لٹریچر پر کوئی گہری مجتہدانہ نظر ڈالی ہے۔ بس روایتی طور پر علما جو باتیں کہہ گئے تھے، انھی کو نئے سرے سے ترتیب دے کر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔لیکن مولانا ابوالکلام آزاد نے اس دھارے کو روک کر ایک نیا رُخ دیا۔

۵- اور پھر ارتقائے معکوس :اس کے بعد ابوالکلام نے اجتماعی جدوجہد برپا کی، ان کے خطبات نے مسلمانوں میں ایک ہلچل پیدا کر دی تھی۔ اللہ نے ان کی زبان میں بلا کی اثرانگیزی رکھ دی تھی۔ اس بنا پر ابوالکلام اس دور کے ہیرو قرار پاتے ہیں۔ لیکن یہ ہماری تاریخ کا بہت بڑا المیہ ہے کہ اتنا بڑا آدمی اتنا بڑا کام انجام دے کر ارتقائے معکوس (repercussion)کی نذر ہوگیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ۱۹۰۶ء سے ۱۹۲۴ء تک والے ابوالکلام رحلت کرجاتے ہیں اور  ان کے جسد ِ خاکی سے ایک نئے ابوالکلام جنم لیتے ہیں۔ وہ ابوالکلام جو ایک زمانے میں جہاد کے لیے پکارتے تھے، وہ اب ہندوئوں سے سمجھوتے کی دعوت دینے لگے۔ وہ ابوالکلام جو مسلمانوں کی عالمی حکومت قائم کرنے کے لیے اُٹھے تھے، وہ محض ’سوراجی خوداختیاری‘ (Self Governing) کےعلَم بردار بن کر رہ گئے۔ تاریخ کے اس سانحے پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔

  • ابوالکلام کا اسلوب :یہاں ایک اور بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ خود مولانا ابوالکلام کا اسلوبِ بیان ، ان کے دعوتی اثرات کے استقلال (continuity)کی راہ میں حائل تھا۔ ابوالکلام کی تحریروں میں جوش ، حرارت اور گرمی کا دریا تو موج زن ہے، لیکن وہ ٹھنڈی اور مستقل روشنی نہیں ہے، جس کی بنا پر زندگیاں بدلتی ہیں۔ ان کی تحریریں ایک مرتبہ قلب میں گرمی ضرور پیدا کرتی ہیں، لیکن ٹھیرائو کے ساتھ جو مستقل تبدیلی مطلوب ہے، وہ ان کے ذریعے سے نہیں آسکتی۔ اس کے اندر حرکت، تیزی اور آگ کی سی گرمی ہے، لیکن خاموش اور پختہ انقلاب لانے والی قوت نہیں ملتی۔ پھر عملی اور اخلاقی پہلوئوں پر بھی ابوالکلام نے بہت کم متوجہ کیا ہے۔ ان کے یہاں  فکری اور سیاسی موضوعات پر تفصیلی مباحث موجود ہیں، لیکن اسلام، زندگی میں جو عملی انقلاب تعمیرِ سیرت اور تزکیۂ نفس کی بنیادوں پر برپا کرتا ہے ، اس پر بہت کم تحریریں ملتی ہیں۔ امرواقعہ یہ ہے کہ اندازِ نگارش کی حد تک ابوالکلام کے ہاں ایک حد سے بڑھی مذہبی رومانویت ملتی ہے۔
  • مولانا محمد علی جوہـر

پھر مولانا محمدعلی جوہر [م: ۴جنوری ۱۹۳۱ء] آتے ہیں۔ مولانا محمد علی بڑے مخلص اور سچے مسلمان تھے۔ وہ کوئی بڑے مفکر نہ تھے، لیکن ایک بندئہ مومن کا سا دل رکھتے تھے، مسلمان کا سا سوچنے کا انداز رکھتے تھے، مسلمانوں سے محبت رکھتے تھے اور مسلمانوں کی سربلندی چاہتے تھے۔آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عشق تھا۔ اللہ کی ذات پر کامل یقین اور توکّل کی مثال اس زمانے میں اس سے اعلیٰ نہیں مل سکتی کہ ایک شخص جو جیل میں پڑا ہوا ہے۔ اس کی سب سے بڑی بیٹی آمنہ بیمار ہے اور بیمار بھی ایسی کہ زندگی اور موت کی کش مکش میں گرفتار، اُس وقت آپ ایک غزل کہتے ہیں،جس میں ایک شعر باپ کی زبان سے یہ بھی نکلتا ہے :

تیری صحت ہمیں منظور ہے، لیکن اُس کو
نہیں منظور تو پھر ہم کو بھی منظور نہیں

یہ بات اس شخص کے سوا اور کوئی کہہ ہی نہیں سکتا کہ جسے اللہ کی ذات پر کامل یقین ہو۔ اسی طرح یہ بات بھی محمدعلی جوہر جیسا بندۂ مومن ہی کہہ سکتا ہے:

کیا ڈر ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دوعالم سے خفا میرے لیے ہے

مولانا محمدعلی نےاپنے انگریزی ہفت روزہ Comrade  [۱۹۱۱ء، کلکتہ] اور روزنامہ ہمدرد [۱۹۱۳ء، دہلی]کی تحریروں اور اپنی تقریروں کے ذریعے قوم میں ایک نئی روح پھونک دی۔ ان کی تحریر میں بلا کا تیکھا پن تھا، دل میں کھب جانے والے تیرونشتر سے وہ آراستہ ہوتی تھی۔ مولانا محمدعلی جوہر کا اصل جوہر ’تحریک ِ خلافت‘ میں کھلا،جس کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں بیداری کی نئی تحریک رُونما ہوئی اور مسلمانوں پر مسلط مایوسی ختم ہوئی۔ مولانا محمد علی اور ’تحریک ِ خلافت‘ کے اثرات میں یہ چیزیں نمایاں محسوس ہوتی ہیں:

       ۱-    مسلمانوں میں خوداعتمادی پیدا ہوئی اور پھر کچھ کر گزرنے کا عزم ان میں فروزاں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم [۲۸جولائی ۱۹۱۴ء-۱۱ نومبر ۱۹۱۸ء] اور اس کے بعد کے زمانے میں مسلمان،غیرمنقسم برطانوی ہند کی سیاسی زندگی پر چھائے ہوئے تھے۔ برپا ہونے والی ہرقومی، ملّی اور رفاہی تحریک میں رضاکار مسلمان ہوتے تھے۔ ان میں  وہ اعتماد تھا کہ جس کی بنا پر وہ اپنی عددی کمی کے باوجود یہ یقین رکھتے تھے: ’ہندستان کے اصل حکمران ہم ہی ہوں گے‘۔ اس خطرے کو ہندو لیڈروں نے بھی محسوس کیا۔ ’تحریک ِ عدم تعاون‘ [ستمبر۱۹۲۰ء-فروری ۱۹۲۲ء] کو گاندھی جی [م: ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ء] نے اسی لیے ختم کیا تھا کہ مسلمان، ہندستان کی سیاسی فضا پر چھائے جارہے تھے۔

       ۲-    مولانا محمد علی اور ’تحریک ِ خلافت‘ کے زیر ِ اثر ’تحریک اتحاد عالمِ اسلام‘ کا احیا ہوا، اور مسلمانوں میں عالم گیر برادری ہونے کا احساس زیادہ سے زیادہ مستحکم ہونا شروع ہوا۔ اس تحریک کو غذا پورے عالمِ اسلام سے مل رہی تھی، لیکن ہندستان کی سرزمین پر اس تحریک کے سب سے بڑے علَم بردار محمدعلی جوہر ہی تھے، جن کا عالم یہ تھا کہ مراکش میں ایک مسلمان کے کانٹا چبھتا تھا تو وہ بے قرار ہوجاتے تھے۔ یہی جذبہ تھا، جس نے ان سے ۱۹۱۴ء میں The Choice of the Turks جیسا مقالہ لکھوایا، جس کی مثال انگریزی صحافت میں نہیں ملتی۔[یہی مقالہ ۲۶ ستمبر ۱۹۱۴ء کو کامریڈ پر پابندی کا سبب بنا]۔

       ۳-    تحریک ِ خلافت کی وجہ سے مسلمانوں میں ایک کُل ہند تنظیم رُونما ہوئی۔ جن حضرات نے حالات کا مطالعہ گہرائی میں جاکر کیا ہے، وہ واقف ہیں کہ مولانا محمدعلی جوہر کے بڑے بھائی مولانا شوکت علی [م: ۲۶نومبر ۱۹۳۸ء] نے غیرمعمولی ذہانت اور قابلیت کے ساتھ اس تحریک کا اندرونی نظم سنبھالا اور پورے ملک میں تحریک کا ایک جال پھیلا دیا۔

       ۴-    ’ہندو مسلم اتحاد‘ کا جو ڈھونگ گاندھی جی اور ان کے حواریوں نے رچایا تھا، اس کا پول اس زمانے میں کھل گیا اور ہندو مسلم فسادات نے سارے پردے چاک کر دیے۔  مولانا محمدعلی جوہر نے آخری زمانے میں اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کر دیا تھا کہ مسلمانوں کا مستقبل ہندوئوں کے ساتھ نہیں، ان سے الگ ہے۔

       ۵-    عام مسلمانوں کو تحریک سے وابستہ کیا گیا اور پوری قوم کو میدان میں لاکھڑا کیا گیا۔ اس سے پہلے کی تحریکات میں قوم کا ایک حصہ ہی سرگرم نظر آتا ہے، لیکن یہ تحریک ایسی تحریک ہے جس میں پوری قوم شریک ہے۔

  • علّامہ محمد اقبال

اس دور کے تیسرے معمار کا نام علامہ محمد اقبال [م:۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء] ہے۔ قومی زندگی میں اقبال کا اثر ۱۹۱۰ء کے بعد سے شروع ہوا۔ انجمن حمایت ِ اسلام کے جلسوں میں شرکت (۱۹۰۴ء) اور اسرار و رُموز (۱۹۱۵ء) کے ذریعے اقبال نے اپنے اصلاحی کام کا آغاز کیا اور نظم و نثر اور عملی سیاست ہر طرح سے قوم کی رہنمائی کی۔ اقبال کا رویّہ بڑا متوازن نظر آتا ہے۔ علی گڑھ تحریک کے نتائج سے غیرمطمئن رہنے کے باوجود وہ سرسیّد احمد خاں کا احترام کرتے رہے۔ علما سے ان کو شکایت رہی، لیکن ہرقدم پر ان سے رجوع کرتے نظر آتے ہیں اور ان کا پورا پورا ادب و لحاظ کرتے ہیں۔

  • ایک ہمہ جہت شخصیت :علّامہ اقبال ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں، کہ ان کا ہرپہلو نظر کو خیرہ اور فکر کو مسحور کرنے والا ہے۔ وہ تاریخ کی اُن چند برگزیدہ ہستیوں میں سے ہیں جن کی زندگیاں خوبیوں کی جامع تھیں ۔ بلاشبہہ وہ ایک عظیم شاعر، بالغ نظر مفکّر، بلندپایہ فلسفی، صاحب ِ طرز ادیب، ماہر قانون، مدبر اور ایک اچھے انسان تھے۔ لیکن ان کی شخصیت کا جو پہلو تمام حیثیتوں سے زیادہ نمایاں ہے اورجو اُن کو فلسفی اور شاعر کے مقام سے بلند کر کے ایک تاریخ ساز کے رُتبۂ عالیہ پر لے آتا ہے، وہ ہے بیسویں صدی میں اسلامی نشاتِ ثانیہ کے معمار کی حیثیت سے ان کا مقام۔ علّامہ اقبال ایک شاعر ہی نہ تھے، وہ ایک نئے دور کے پیامبر بھی تھے اور ان کی شخصیت کا یہی پہلو انھیں اسلامی تاریخ کی زندۂ جاوید شخصیتوں میں شامل کرتا ہے۔
  • فکری انقلاب کی بنیادیں : تحریک ِ خلافت سے مسلمانوں میں ایک ہمہ گیر سیاسی بیداری تو ضرور پیدا ہوئی، لیکن فکری احیا کے لیے جو کچھ ٹھوس نظریاتی اور فلسفیانہ بنیادیں درکار ہوتی ہیں، یہاں کے مسلمانوں میں یہ سیاسی بیداری ابھی تک ایسی فکری قوت سے محروم تھی، جو سیاسی بیداری کو تہذیبی انقلاب کا پیش خیمہ بنا دیتی ہے___ علّامہ محمد اقبال نے اس خلا کو پُر کیا اور عصرِحاضر میں احیائے اسلام کی بنیادیں رکھیں۔

اقبال ایک حقیقت بین نگاہ رکھتے تھے۔ انھوں نے مسلم تہذیب و تمدن کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا تھا۔ وہ اسبابِ زوالِ اُمت سے بخوبی واقف تھے۔ انھیں اس بات کا پورا احساس تھا کہ مغربی تہذیب کا زہر جسد ِ ملّت میں آہستہ آہستہ سرایت کرگیا ہے اور اگر اس کے علاج کی طرف بروقت توجہ نہ کی گئی، تو بعد میں افسوس کرنا بے کار ہوگا۔ چنانچہ انھوں نے مسلمانوں میں فکری انقلاب لانے، ان کو وقت کے تقاضوں سے آگاہ کرنے اور اسلام کو ایک مکمل دین اور تحریک کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کی۔

علّامہ اقبال کے خیال میں مسلم ثقافت کے رُوبہ زوال ہونے اور مغربی افکار کے تسلط کی وجہ صرف یہ تھی کہ مسلمانوں نے اسلام کی زندہ تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر بے عملی کی زندگی اختیار کرلی تھی۔ مغرب سے متاثر ہونے کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ مسلمان خود اپنے اُوپر اعتماد اور اپنی اقدار پر یقین کھو بیٹھے تھے۔ چنانچہ انھوں نے مغرب کی اندھی تقلید شروع کر دی۔ مزیدبرآں اُن میں ایک قسم کا احساسِ کمتری نشوونما پاتا چلا گیا، جس نے مذہب اور سیاست کی تفریق، غیراسلامی تصوف اور تباہ کن معاشرتی رُسومات کو جنم دیا۔

  • تہذیبِ نو پر تنقید :علّامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کو دعوتِ فکر دی کہ وہ اپنے اس رویے پر اَزسرِنو غور کریں کیوں کہ مغرب میں جہاں چند خوبیاں اور اچھائیاں ہیں، وہاں بہت بُرائیاں اور خامیاں بھی ہیں۔ اقبال نے خود مغربی تہذیب کا نہ صرف گہرا مطالعہ کیا تھا بلکہ بڑے قریب سے مشاہدہ بھی کیا تھا۔ اس طرح وہ اس کے مزاج، روح اور ہیئت سے بخوبی واقف تھے۔ انھوں نے مسلمانوں کو خبردار کیا:

یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہُنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلمات

دوسرے مقام پر آپ نے کہا:

نظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صنّاعی مگر جُھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

وہ حکمت ناز تھا جس پر خردمندانِ مغرب کو
ہوس کے پنجۂ خُونیں میں تیغِ کارزاری ہے

ایک اور انداز میں اس بات کو یوں کہتے ہیں:

پیرِ مے خانہ یہ کہتا ہے کہ ایوانِ فرنگ
سُست بنیاد بھی ہے ، آئینہ دیوار بھی ہے

علّامہ محمد اقبال مسلمانوں کی ذہنی غلامی کو ختم کرنے کے لیے اپنے فکری مطالعے کا نچوڑ اس طرح ملّت کے سامنے پیش کرتے ہیں:

شَفق نہیں مغربی اُفق پر، یہ جُوئے خوں ہے ، یہ جُوئے خوں ہے
طلوعِ فردا کا منتظر رہ کہ دوش و امروز ہے فسانہ

وہ فکرِ گُستاخ جس نے عُریاں کیا ہے فطرت کی طاقتوں کو
اُسی کی بے تاب بجلیوں سے خطر میں ہے اُس کا آشیانہ

جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پیر مر رہا ہے
جسے فرنگی مُقامِروں نے بنا دیا ہے قمارخانہ

اقبال نے مسلمانوں کے ذہنوں سے مغرب کی علمی اور فکری برتری کو ختم کر کے ان میں خوداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ مغربی افکار کامطالعہ کریں، مگر فکری آزادی کے ساتھ سائنس اور فلسفہ پر عبورِ کامل حاصل کریں۔ اور اس پورے عمل کے دوران میں اپنی تنقیدی حس کو ہرگز کمزور نہ پڑنے دیں۔ مغرب کی ترقی سے فائدہ اُٹھائیں، مگر مغرب کے   غلام بن کر نہیں بلکہ اسلام کی نشاتِ ثانیہ کے علَم بردار کی حیثیت سے:’’ہمارا فرض ہے کہ بہرحال فکرِ جدید کے نشوونما پر بااحتیاط نظر رکھیں اور اس باب میں آزادی کے ساتھ نقدوتنقید سے کام لیتے رہیں‘‘ (اقبال ، تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ)۔ یعنی علّامہ اقبال نے اس خطرے کو شدت سے محسوس کیا کہ یورپ کابڑھتا ہوا تمدن کہیں عالمِ اسلام پر چھا نہ جائے۔ چنانچہ انھوں نے مغربی تہذیب کے کمزور پہلوئوںکو اُجاگر کیا اور لادینیت اور فکری تشکیک کے خطرے سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ چنانچہ وہ مثنوی ’پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق‘ میں بڑی خوب صورتی سے کہتے ہیں:

آدمیت زار نالید از فرنگ
زندگی ہنگامہ برچید از فرنگ

پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق؟
باز روشن می شود ایّامِ شرق

در ضمیرش انقلاب آمد پدید
شب گذشت و آفتاب آمد پدید

یورپ از شمشیر خود بسمل فتاد
زیر گردوں رسم لادینی نہاد

گرگے اندر پوستینِ برۂ
ہر زماں اندر کمینِ برۂ

مشکلاتِ حضرتِ انساں ازوست
آدمیت را غمِ پنہاں ازوست

درنگاہش آدمی آب و گل است
کاروانِ زندگی بے منزل است

باخساں اندر جہانِ خیروشر
در نسازد مستیٔ علم و ہنر

آہ از افرنگ و از آئینِ اُو
آہ! از اندیشۂ لادینِ اُو

[ترجمہ:] lنوع انساں، فرنگیوں کے ہاتھوں سخت فریاد کر رہی ہے۔ زندگی نے اہلِ فرنگ سے کئی ہنگامے پائے ہیںl اے اقوام مشرق اب کیا ہونا چاہیے؟ تاکہ مشرق کے ایّام (یعنی زندگی اور تاریخ) پھر سے روشن ہوجائیں lمشرق کے ضمیر میں انقلاب ظاہر ہورہا ہے۔ رات گزر گئی ہے اور آفتاب طلوع ہوا lیورپ اپنی تلوار سے خود ہی زخمی ہوچکا ہے۔ اس نے دُنیا میں رسم لادینی کی بنیاد رکھ دی ہے lاس کی حالت اس بھیڑیے جیسی ہے، جس نےبکری کے بچّے کی کھال اوڑھ رکھی ہے۔ وہ ہرلمحہ ایک نئے برہ (بکری یا ہرن کا بچہ) کی گھات میں ہے lنوعِ انسان کی ساری مشکلات اس کی وجہ سے ہیں، اور اسی کی وجہ سے انسانیت گہرے غموں میں مبتلا ہے lاس کی نگاہ میں انسان محض پانی اور مٹی کا مجموعہ ہے اور زندگی ایک بے مقصد شے ہے lیہ جہاں جو خیروشر کا میدانِ جنگ ہے،اس کے اندر علم و حکمت کی مستی رذیلوں کے لیے سازگار نہیں lافسوس ہے افرنگ پر اور اس طریق کار پر بھی افسوس ہے کہ اس نے لادین فکر اختیار کرلی ہے۔

اقبال نے پوری قوت کے ساتھ اسلام کے پیش کردہ نظامِ حیات کو پیش کیا اور حکمت و دانائی پر تجزیے سے ثابت کیا کہ موجودہ فکری اور نظریاتی انتشار و پراگندگی کا واحد حل مذہب ہے۔ وہ کہتے ہیں:

عالمِ انسانی کو آج تین چیزوں کی ضرورت ہے: کائنات کی اخلاقی اورروحانی تعمیر، فرد کی روحانی اصلاح و نجات، اور وہ بنیادی اصول جن کی نوعیت عالم گیر ہو اور جن سے انسانی معاشرے کا ارتقا روحانی اساس پر ہوتا ہو۔ اس میں شک نہیں کہ جدید یورپ نے اس نہج پر متعدد نظامات قائم کیے۔ لیکن تجربہ شاہد ہے کہ جس حق و صداقت کا انکشاف عقلِ محض کی وساطت سے ہوا، اس سے ایمان اور یقین میں وہ حرارت پیدا  نہیں ہوتی جو وحی و تنزیل کی بدولت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عقلِ محض نے انسان کو بہت کم متاثر کیا ہے۔ اس کے برعکس مذہب کو دیکھیے کہ اس نے افراد کو اضافہ مراتب اور اصلاحِ نفس کے ساتھ ساتھ معاشروں اور سماج و تمدن تک کو بدل ڈالا۔ یقین کیجیے کہ جدید یورپ سے بڑھ کر آج انسان کے اخلاقی ارتقا میں بڑی رکاوٹ اور کوئی نہیں ہے۔(تشکیلِ  جدید الٰہیات اسلامیہ، ص ۲۷۶، ترجمہ:نذیر نیازی)

علامہ محمد اقبال نے اپنے خطبہ الٰہ آباد (۱۹۳۰ء) میں جو کہ تصورِ پاکستان کی بنیاد ہے، اُس میں اُمت مسلمہ کے مقصد وجود اور اس تناظر میں مسلمانوں کے لیے جداگانہ سیاسی ڈھانچے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے:

ظاہرہے کہ اگر مذہب کا تصور یہی ہے کہ اس کا تعلق صرف آخرت سے ہے، انسان کی دنیوی زندگی سے اسے کوئی سروکار نہیں، تو جو انقلاب مسیحی دنیا میں رُونما ہوا ہے وہ ایک طبعی امر تھا۔ مسیح علیہ السلام کا عالم گیر نظامِ اخلاق نیست و نابودہو چکا ہے اور اس کی جگہ اخلاقیات اور سیاسیات کے قومی و وطنی نظاموں نے لے لی ہے۔ اس سے یورپ بجاطور پرا س نتیجے پر پہنچا ہے کہ مذہب کا معاملہ ہر فرد کی اپنی ذات تک محدود ہے۔ اسے دُنیوی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔لیکن اسلام کے نزدیک انسان کی شخصیت بجائے خود ایک وحدت ہے۔ وہ مادّے اور رُوح کی کسی ناقابل اتحاد ثنویت کا قائل نہیں۔ مذہب اسلام کی رُو سے خدا اور کائنات، کلیسااور ریاست اور رُوح اور مادّہ ایک ہی کُل کے مختلف اجزا ہیں۔ انسان کسی ناپاک دنیا کا باشندہ نہیں کہ جس کو اسے ایک روحانی دنیا کی خاطر جو کسی دوسری جگہ واقع ہے‘ ترک کر دینا چاہیے۔ اسلام کے نزدیک مادہ روح کی ایک شکل کا نام ہے، جس کا اظہار قید مکان وزمان میں ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مغرب نے مادّے اور رُوح کی ثنویت کا عقیدہ بلا کسی غور و فکر کے مانویت کے زیر اثر قبول کر لیا تھا۔ اگرچہ آج اس کے بہترین اربابِ دانش اپنی    اس ابتدائی غلطی کو محسوس کر رہے ہیں، مگرسیاست دانوں کا طبقہ ایک طرح سے اب بھی مُصر ہے کہ دنیا اس اصول کو ایک ناقابل انکار حقیقت کے طور پرتسلیم کرلے۔

اسی طرح ایک اور موقعے پر اقبال نے متوجہ کیا ہے:

مذہب اور صرف مذہب ہی آج کے انسان کو اُن ذمہ داریوں کا اہل بنا سکتا ہے جو سائنس کی ترقی نے اس کے شانوں پر ڈال دی ہیں۔ مذہب ہی کے ذریعے انسان میں وہ یقین اور ایمان پیدا ہوسکتا ہے جو اس کی شخصیت کو دُنیا میں جلابخشتا ہے او ر آخرت میں اسے دوام عطا کرتا ہے۔ انسان کی حقیقت اور اس کے مستقبل کا حقیقی شعور وہ شعور ہے جو مذہب کی دی ہوئی روشنی عطا کرتی ہے۔ یہی دورِ جدید کے انسان کو ایک ایسی سوسائٹی میں جو مذہب اور سیاست کی کش مکش کی وجہ سے اپنی اصل روح کھو چکی ہے، کامیابی سے ہم کنار کرسکتی ہے۔

اقبال نے جہاں مغرب کی کمزوریوں اور خامیوں پر بھرپور تنقید کی ہے، وہاں اس کی خوبیوں کو خصوصیت سے سائنس اور جذبۂ عمل و حرکت کو سراہا بھی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ صفات یورپ نے خود مسلمانوں ہی سے مستعار لی تھیں، لیکن افسوس کہ آج مسلمان خود ان صفات سے محروم ہیں، جو ان کی اپنی کھوئی متاع ہے۔

  • اسلامی فکر کی تشکیل جدید :اقبال کی عظمت و فراست کا ایک اور نمونہ ان کے اس احساس میں مضمر ہے کہ اسلامی فکر کی تشکیل جدید کی جائے۔ وہ جانتے تھے کہ مغربی تہذیب کے بڑھتے ہوئے غلبے (hegemony)کو عام ہتھیاروں سے روکا نہیں جاسکتا بلکہ اس کے لیے کچھ نئے وسائل و آلات اور نئے ذرائع درکار ہوں گے۔ انھیں اس بات کا بھی شدت سے احساس تھا کہ اسلام فطرتاً ایک انقلابی تحریک ہے، لیکن صدیوں کے جمود نے اس جوہرِ خالص پر ایک زنگ کی تہہ جمادی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ زنگ کو کھرچ دیا جائے۔ اسلام کی حقیقی تصویر پھر سامنے آجائے اور یہ شمع سارے عالم کو ایک بار پھر منور کردے۔ ان کی وہ تقاریر جو Reconstruction of Religious Thought in Islam(تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ) کے نام سے موسوم ہیں، اس مقصدکے حصول کی ایک کامیاب کوشش ہے، جس نے برصغیر کے مسلمان کے ذہن پر اقبال کے ان انقلابی خیالات کے بہت گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔
  • ایک انقلابی، ایک مصلح :اقبال کو صرف ایک شاعر یا فلسفی کہنا تاریخ پر ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ وہ ایک ایسے انقلابی اور مصلح تھے، جنھوں نے جدید اسلامی احیا کو صرف نظریاتی اساس ہی نہیں دی بلکہ پورے ملک کو خوابِ غفلت سے جگایا اور ملت کو اس کے اصل مشن پر گامزن کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ چنانچہ انھوں نے اپنی دونوں شہرئہ آفاق مثنویوں: ’مثنوی اسرارِ خودی‘ اور ’رُموزِ بے خودی‘ میں فرد اور معاشرے کے ارتقا، اُمت کے زوال اور اس کے اسباب سے بحث کی ہے۔ پھر یہ پیغام دیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اصل راہِ نجات اپنے پروردگار کے احکام اور اس کے رسولؐ کے اسوئہ حسنہ کی پیروی میں ہے۔ اُن کے خیال میں اسلام کی بنیادیں: توحید، رسالت، آخرت اور جہاد ہیں۔ توحید کے ذریعے معاشرے میں یک رنگیٔ خیال اور عملی یکسانیت پیدا ہوتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس سے زیادہ انقلابی قوت اور کسی چیز میں نہیں۔ چنانچہ انھوں نے اسلام کے بنیادی عقائد پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ ان کے الفاظ کے معجزانہ اثر نے ایک سوئی ہوئی قوم کو اس کا بھولا ہوا سبق یاد دلا دیا۔
  • اقبال کا اصل کارنامہ  :اقبال کے اس کارنامے کو مختصراً ہم یوں پیش کرسکتے ہیں:

۱- اقبال نے مذہب کی بنیاد عقل یا سائنس پر نہیں رکھی بلکہ آں حضور ؐ کے تجربے اور مشاہدے کو اس کی اساس قرار دیا۔ فلسفۂ مذہب کے نقطۂ نظر سے یہ ایک غیرمعمولی اقدام تھا اور یہ اپروچ اس نومعتز لائی نقطۂ نظر سے بہت مختلف تھی، جو سرسیّد احمد اور ان کے رفقا نے اختیار کیا تھا۔ اقبال کے ’خطبات‘ تشکیلِ جدید الٰہیات اسلامیہ کا سب سے نمایاں پہلو یہی ہے۔

۲- اقبال نے انسانِ مطلوب کا ایک مکمل تصور پیش کیا۔ اس کی ذاتی اور انفرادی صفات کو بیان کیا اور اس اجتماعی اور ملّی نظام کے خدوخال واضح کیے، جس کے ذریعے فرد اعلیٰ ترین مدارج تک پہنچ سکتا ہے۔ اقبال نے خصوصیت سے، ایمان، ضبط نفس، نیابت و خلافت ِ الٰہی کے تصورات کو پیش کیا۔ خودی کی تشکیل و ترقی کا اصل مقصد، دین کی حفاظت اور ملّت کی ترقی کے لیے استعمال کو قرار دیا۔ یہی وہ کام ہے جسے نیابت ِ الٰہی کہا جاتا ہے اور یہ کام مذہب کے ذریعے انجام پاسکتا ہے۔

۳- پھر اقبال نے مغربی تہذیب ، فکر اور سیاسی درندگی پر بھرپور تنقید کی ۔ ایک طرف یہ دکھایا کہ مغرب کی بنیاد بڑی کمزور ہے اور مغربی تہذیب فی نفسہٖ آج خود انتشار کا شکار ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں میں نقالی اور تقلید کے نقصانات کو اُجاگر کیا اور انھیں ایک آزاد اور تخلیقی نقطۂ نظر اختیار کرنے کا مشورہ دیا:

یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تُو
مجھ کو تو گِلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے

۴- اقبال نے محض نقدوتنقید کے کام پر اکتفا نہ کیا بلکہ مثبت طور پر ملّت کے سامنے ترقی کا راستہ بھی پیش کیا___ اور وہ راستہ اسلام کا راستہ ہے۔ اقبال نے توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان کو تازہ کیا اور قرآن اوررسولؐ کی اتباع کی دعوت دی۔ اقبال نے انفرادی اخلاق اور اجتماعی نظم کی پابندی کی اہمیت کو اُجاگر کیا اور کہا:

روشن اس ضَو سے اگر ظُلمتِ کردار نہ ہو
خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام

۵- اقبال نے جذبۂ عمل کو بیدار کیا،قوم میں رجائیت اور اُمید کا چراغ روشن کیا ۔ اس کو جہاد اور تسخیر کائنات کا درس دیا اور راہِ عمل سے ہٹانے والے ہر رجحان پر تنقید کی۔ کس طنز سے اقبال  نے کہا ہے:

اسی قُرآں میں ہے اب ترکِ جہاں کی تعلیم
جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر

اقبال نے مسلمانوں میں جذبۂ عمل بیدار کرنے کے ساتھ یہ یقین دلایا ہے کہ مستقبل تمھارا ہے:

اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دَور کا آغاز ہے

اور:

جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

اس کا پیغام تو بس یہ تھا:

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

۶- اقبال کے یہاں دینی اُمور میں حددرجے کی احتیاط ملتی ہے۔ انھوں نے تقریباً تمام اہم اُمور میں علما متقدمین اورسلف کی اتباع کی ہے اور دین میں کسی قسم کی بھی قطع و برید کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ رائے قائم کرنے میں سہو ہرانسان سے ہوسکتا ہے لیکن اقبال کا نقطۂ نظر اصلاً خالص اسلامی تھا اور وہ اسلام کو زمانے کی خراد پر تراشنے کو کفر و ضلالت سمجھتے تھے۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ زمانۂ حاضرہ کے پیدا کردہ مسائل کا حل اسلام کی تعلیمات سے تلاش کیا جائے اور زمانے کو اسلام کے مطابق بدل ڈالا جائے۔

۷- اقبال کا ایک منفرد پہلو یہ ہے کہ اس نے روحانی اور مادی طاقت دونوں کے امتزاج کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا کہ اگر مسلمان دُنیا میں اپنا صحیح مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انھیں روحانی و اخلاقی اور مادی و دُنیوی شعبوں میں ترقی کرنی ہوگی۔ سرسیّد احمد خاں کے یہاں دُنیاوی اور مادی پہلو کا غلبہ ہے۔ اور دوسری طرف علما کے یہاں صرف روحانی اور اخلاقی پہلو نمایاں ہے۔ لیکن اقبال نے اخلاقی اور روحانی اور مادی و دُنیوی پہلوئوں کو مساوی اہمیت دی ہے اور ہرایک کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔

۸- اقبال نے ملّت اسلامیہ کی عملی سیاست میں بھی حصہ لیا اور یہاں ان کی سب سے بڑی خدمت (contribution) نظریاتی بنیادوں پر تخلیق وطن، تقسیم ملک اور اسلامی مرکزیت کو قائم رکھنے کے لیے ایک باقاعدہ الگ ریاست کا قیام ہے۔

  • اس عہد پر ایک نظر

اس پورے دور پر جب ہم ایک نظر ڈالتے ہیں تو چند چیزیں نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہیں:

۱- عام مذہبی احیاء :انفرادی زندگی میں اسلام کے تقاضوں کا شعور پیدا ہوا اور اجتماعی اور ملکی زندگی میں مذہبی تحریکوں کو فروغ حاصل ہوا۔ علما کی قیادت میں پوری قومی زندگی کی تنظیم بہتر ہوئی، دینی لٹریچر تیار ہوا اور مذہبی جذبات کو عام فروغ حاصل ہوا۔

۲- تہذیب مغرب کی یلغار پر ردِعمل کا  آغاز :اس زمانے میں مغربی تہذیب اور اس کی نقالی پر تنبیہ (warning)کا رجحان مضبوط ہوا۔ وہ مرعوبیت جو اَب تک ذہنوں پر مسلط تھی، کچھ کم ہوئی۔ مغرب کے خلاف سیاسی اور تہذیبی ردعمل رُونما ہوا۔ نام نہاد ’نئی روشنی‘ پر بھی تنقیدی نگاہ ڈالی جانے لگی اور اندھی تقلید کی رو کو ایک دھچکا لگا۔

۳- قومی نقطہ ٔ نظر کی ابتدا  : ساتھ ہی ساتھ قومی نقطۂ نظر پیدا ہونا شروع ہوا۔ دوسروں سے موازنہ اور اپنی تاریخ، اپنے قائدین اور مفکرین ، اپنے شعرا کی عظمت کا احساس پیدا ہوا۔

ہمارا یہ جائزہ نامکمل رہے گا، اگر ہم بے لاگ طور پر نہ بتائیں کہ احیائے اسلامی کے نقطۂ نظر سے اس دور میں اہم کمزوریاں کیا پائی جاتی تھیں، مثلاً:

۱- ساری قوت اس بات پر صرف ہورہی تھی کہ بس، اسلام کو اعلیٰ اور شان دار ثابت کیا جائے۔ وقت کے مسائل اور ان حقیقی تہذیبی مشکلات کو حل کرنے کی طرف ضروری توجہ نہیں دی گئی بلکہ ’پدرم سلطان بود‘ کی خوراک پر خوراک قوم کو دی جاتی رہی۔

۲- بڑی حد تک سارا انداز رومانی اور جذباتی تھا۔ اس زمانے کے ادب، صحافت، حتیٰ کہ فلسفہ اور تفسیری ادب پر بھی ایک قسم کی افسانوی اور شاعرانہ رومانیت چھائی ہوئی تھی۔ یہاں پر ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اس کا ایک سبب یہ تو نہیں تھا، کہ بیداری کی اس تحریک کے زمانے اور دور کے تقریباً تمام معمار شاعر بھی تھے؟

۳- قومی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں ذہنی انتشار نظر آتا ہے۔ اسلام کا معیارِ اقتدار نکھر کر قوم کے سامنے نہیں آرہا تھا۔ ایک ہی قلم سے دوسرے خلیفۂ راشد عمرؓ بن الخطاب [م: ۷نومبر ۶۴۴ء] اور عباسی حکمران ہارون الرشید [م:۲۴مارچ ۸۰۹ء]کی عظمت کے نقوش صفحات پر ثبت کیے جارہے تھے۔پھر گمراہ کن عقائد و انتظام کے علَم بردار مغل بادشاہ اکبر [م: ۲۷؍اکتوبر ۱۶۰۵ء] اور الٰہیاتِ اسلامی کے عظیم پیش کار شاہ ولی اللہ [م:۲۰؍اگست ۱۷۶۲ء] دونوں کو ایک ہی سانس میں خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا۔ جامع مسجد دہلی اور آگرہ میں تاج محل مقبرے کو ساتھ ساتھ رکھا جاتا۔ افسوس کہ اس عظیم تضاد کو محسوس نہ کیا جاسکا۔

۴- اسلام کی دعوت کو فکری اور فلسفیانہ بنیادوں پر استوار نہ کیا جاسکا۔ خاصی حد تک ٹھوس دلیل کی جگہ شعر اور حقائق و شواہد کی جگہ نعروں سے کام چلایا جاتا رہا۔مغربی تہذیبی افکار پر کوئی مستقل تصنیف اُس زمانے میں نہیں آئی، اور اہم مسائل پر کوئی تفصیلی بحث نہیں ملتی۔ سائنس اور فلسفہ نے جو حقیقی سوالات پیدا کیے تھے، ان سے کوئی پنجہ آزمائی کرتا نظر نہیں آتا۔

صرف ایک علّامہ محمد اقبال نے اس سلسلے میں کوشش کی اور ایک نئے انداز کی داغ بیل ڈالی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تشکیلی کام کا دائرہ محدود تھا اور دائرۂ اثر اس سے بھی زیادہ محدود۔

۵- اس زمانے میں ہمہ گیر حرکت تو بہت نظر آتی ہے۔اجتماعی تنظیم بندی بھی ملتی ہے لیکن مستقل بنیادوں پر مسلمانوں کو اسلامی اصولِ تنظیم کے مطابق جمع نہیں کیا گیا۔ ان کی ایسی تنظیم بندی نہیں نظر آتی کہ جس کے ذریعے ان کی صلاحیتیں ایک مثبت دعوت پر جمع ہوجاتیں اور ان کی ترقی اور تربیت کا مناسب انتظام ہوپاتا۔

۶- مسلمانوں کے مختلف گروہوں کی باہم کش مکش اور ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش سبھی کو بدنام کرتی دکھائی دیتی ہے، جس سے آہستہ آہستہ عام بے اعتمادی کی کیفیت پیدا ہونے لگی۔ اندرونی کمزوریوں اور بیرونی اثرات کی بنا پر یہ دور ختم ہوگیا اور اس کے بعد بیسویں صدی کا ایک سخت تاریک دور آیا، جو ۱۹۲۵ء سے تقریباً ۱۹۴۰ء تک رہا۔

  • ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

’تحریک ِ خلافت‘ کی ناکامی کے بعد مسلمان ایک بار پھر مایوسی کا شدید شکار ہوئے۔ دوسری طرف تقریباً تمام مسلمان لیڈرناکام ہوچکے تھے، کوئی دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہ تھا۔ مسلمان ایک ایسے ریوڑ کی مانند تھے جس کا کوئی نگہبان نہ ہو اور ایک ایسے قافلے کا رُوپ پیش کررہے تھے کہ جس کا کوئی سالار نہ ہو۔ مغربیت اور اشتراکیت (۱۹۱۷ء میں روس میں اشتراکیت کی کامیابی کے بعد بعض مایوس مسلمانوں کو اس میں ایک نیا میدان نظر آرہا تھا) کا پلڑا بھاری ہوا تو ذہنوں کو منتشر خیالی کا شکار کرنے کے لیے بہت سے فتنوں نے سر اُٹھایا۔ جن میں تجدّد، تشکیک اور انکارِ سنت کے علَم برداروں کے ساتھ ساتھ ’ترقی پسند ادب‘ کی تحریک ذہن سازی کے لیے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ پنڈت جواہر لعل نہرو [م: ۲۷ مئی ۱۹۶۴ء] اس دور کے برطانوی ہند کے نوجوانوں کا نیا ہیرو تھا، جو زبانی اور کلامی سطح پر، اُبھرتی اشتراکیت کا علَم بردار سمجھا جاتا تھا۔

اس زمانے میں تاریکی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ مشیت الٰہی کے تحت اسی تاریکی کا سینہ چاک کر کے احیائے اسلام کی نئی کوششیں رُونما ہوئیں۔ تحریک ِ پاکستان اور تحریک ِ اسلامی ایک نئے دور کی نقیب ثابت ہوئیں اور مسلمانانِ ہند کی تاریخ نے ایک نئی کروٹ لی۔ یوںقائداعظم محمدعلی جناح [م:۱۱ستمبر ۱۹۴۸ء] کی قیادت میں مسلمانانِ ہند نے ایک منزل متعین کی، اور اُن کی رہنمائی میں ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کے بعد برصغیر جنوب مشرقی ایشیا میں ایک ایسے سفر کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں جغرافیائی، سیاسی اور فکری سطح پر نئی مملکت کی تشکیل ہوئی۔ اقبال اور جناح نے عالمِ اسلام میں جس عملی تصور کی صورت گری کی، اس کا متحرک عنوان ’اسلامی احیا‘ ہے اور جس کے داعی ہیں مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی۔

قیامِ پاکستان نے جہاں اسلام کی بنیاد پر دورِحاضر میں ایک ریاست کے قیام سے اسلام کے اجتماعی زندگی کے عملی پروگرام کا دروازہ کھول دیا، وہیں مولانا مودودی نے دین کا صحیح اور    جامع تصور اور اس کے انفرادی، اجتماعی اور ریاستی پہلوئوں کو بہ یک وقت دلیل کی قوت سے واضح کیا ہے۔ انھوں نے برملا یہ بتایا ہے کہ انسان کا سب سے پہلا رشتہ اپنے خالق اللہ تعالیٰ سے ہے،، اور یہ رشتہ اس کی اپنی ذات، اس کی تربیت ، سیرت سازی اور تزکیہ سے ہے۔ یہ رشتہ اس کی پوری زندگی کی صورت گری کرتا ہے۔ دوسرا حصہ انسان کا دوسرے انسانوں سے، خاندان اور معاشرے سے، معیشت، سیاست اور ریاست سے تعلق پر مشتمل ہے۔اس طرح اسلام کا منشا یہ ہے کہ وہ ایک سوشل سسٹم کے طور پر قائم ہو۔ جس کے بنیادی، عملی اور اخلاقی اصول مدینہ کی اسلامی ریاست کے ماڈل پر ہر دور میں اسلامی نظریاتی ریاست قائم کرنے کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ نے اسےقائم کرنے کی رہنمائی اور تعلیم دی ہے۔

جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہرسنت روشنی کا چراغ ہے، وہاں نزولِ وحی کے آغاز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دُنیا سے رخصت ہونے تک رہنمائی کا ایک سدابہار تسلسل ہے۔ الحمدللہ، دین کے اس مکمل اور جامع تصور کو پیش کرنے کا فی زمانہ اعزاز مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی اور اُن کی برپا کردہ تحریک اسلامی کو حاصل ہے۔(جاری)

علامہ کی زندگی، ان کے فلسفے، ان کی شاعری پر اور ان کے ملت اسلامیہ کے ایک عظیم محسن ہونے کے ناطے بے شمار تصانیف موجود ہیں۔ اگر صرف برصغیر ہندستان (اب پاک و ہند) کے مسلمانوں پر ان کے احسانات کی تفصیل لکھی جائے تو اس کے لیے کئی دفتر درکار ہوں گے۔ تاہم، اس مختصر مضمون میں ان کے ارشاداتِ عالیہ کے بعض اہم ترین گوشوں پر تاثرات بیان کروںگا۔

علامہ ایک نابغہ روزگار اور عبقری دانش ور، فلسفی اور شاعر تھے۔سب سے بڑھ کر وہ قافلۂ ملّی کے حدی خوان تھے۔ انھیں عملی سیاست سے بھی دلچسپی رہی۔ وہ ۱۹۲۰ء سے ۱۹۳۰ء تک پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی (ان دنوں یہی نام تھا صوبائی اسمبلی کا) کے رکن رہے۔ ۱۹۳۰ء میں کُل ہند مسلم لیگ کے صدر رہے۔ اسی سال دسمبر کے مہینے میں شہر ’الٰہ آباد‘ کے مقام پر، ہندستان کے سیاسی مسئلے کے حل کے طور پر انھوں نے پہلی بار مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ خودمختار ملک کی تجویز پیش کی اور اس کے حق میں ناقابلِ تردید دلائل دیئے۔ واضح رہے کہ بابائے قوم قائداعظم کی طرح ، علامہ اقبال بھی کئی برس تک ’نیشنلسٹ مسلمان‘ رہے اور انگریزوں سے ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے انھوں نے اپنی تمام توانائیاں صرف کیں۔ ہندستان کے شمال مشرقی اور شمال مغربی منطقے (مسلم آبادی والے صوبوں) میں قائم ہونے والی ریاست (مملکت/سٹیٹ) کو چودھری رحمت علی [م:۳ فروری ۱۹۵۱ء] نے ’پاکستان‘ کا نام دیا تھا۔

علامہ اقبال Reconstruction of Islamic Thought   (تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ) کے علاوہ بہت سے ’نثری‘ مجموعوں کے مصنف تھے۔ اُردو میں آپ نے شعری زبان کی تین شہرئہ آفاق کتابیں تصنیف کیں: بانگِ درا، بال جبریل اور ضربِ کلیم۔ارمغانِ حجاز ان کا شہکار ہے اور جو ان کی وفات کے بعد نومبر ۱۹۳۸ء میں طبع ہوئی۔ اس کتاب کا نصف اوّل فارسی رباعیات پر مشتمل اور نصف ثانی (یا اس سے کم) اُردو میں ہے۔ فارسی زبان میں پیام مشرق،  زبورِ عجم ، جاوید نامہ ، اسرارِ رموز، اسرارخودی اور رموزِ بے خودی تصنیف کیں۔ فارسی زبان میں ان کی اوّلین تصنیف پیامِ مشرق  ۱۹۲۳ء میں اور اوّلین اُردو تصنیف بانگِ درا ۱۹۲۴ء میں شائع ہوئیں۔

علامہ اقبال۱۹۲۲ء میں ’آل پارٹیز مسلم کانفرنس‘ کے بھی صدر رہے تھے۔ لندن میں جو ’گول میز کانفرنس‘ (۱۹۳۰-۱۹۳۲ء) ہوئی تھی اور جس میں ہندستان کے چوٹی کے زعما (ہندو، مسلم، سکھ وغیرہ) شریک ہوئے تھے، اس میں علامہ نے بھی شرکت کی۔ قائداعظم نے صرف ایک بار، شروع میں شرکت کی اور وہاں وہ معرکہ آرائی کی کہ حکومت برطانیہ نے بعد کی دو کانفرنسوں میں جناح صاحب کو مدعو نہیں کیا۔ اس سفر سے واپسی پر علامہ اقبال اسپین گئے اور انھوں نے مسجد قرطبہ میں نماز ادا کی۔ وہیں، مسجد قرطبہ میں ’مسجد قرطبہ‘ کے عنوان کے تحت وہ نظم لکھی جو ان کے کلام میں’چوٹی کی نظموں‘ میں شمار ہوتی ہے (دیکھیے بالِ جبریل ، ص ۱۲۶ تا ۱۳۷)۔ علامہ نے جو اُردو میں معرکہ آرا نظمیں لکھی ہیں، ان میں ’مسجد قرطبہ‘ کے علاوہ ’طلوعِ اسلام‘، ’شمع اور شاعر‘، ’شکوہ اور جوابِ شکوہ‘ اور ’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘ وغیرہ شامل ہیں۔ وہ ان کی شاعری کے شہکار ہیں۔

علامہ اقبال نے ہی مسٹرمحمدعلی جناح (بعدازاں قائداعظم) کو انگلینڈ سے واپس آکر مسلمانانِ ہند کی سیاسی قیادت کرنے کی دعوت دی تھی اور انھیں لکھا تھا کہ سارے ہندستان میں مجھے آپ جیسا ایک شخص بھی نظر نہیں آتا جو مسلمانوں کی ڈگمگاتی کشتی کو ساحلِ مراد تک پہنچانے کے لیے ان کا ’مقدمہ‘ لڑسکے۔ قائداعظم ’آزردہ خاطر‘ اور ایک لحاظ سے ’نااُمید‘ ہوکر سیاست ترک کرکے انگلستان میں جابسے تھے۔ ’از دل خیزد بر دل ریزد‘ کے مصداق علامہ کے خط کا خاطرخواہ اثر ہوا اور مسٹر جناح آمادہ ہوگئے کہ وہ ہندستان واپس آکر مسلمانوں کی قیادت کریں۔

قائداعظم ، علامہ اقبال کی کس قدر تعظیم و تکریم کرتے تھے، اس کا اندازہ قائداعظم کے صرف اس قول سے کیا جاسکتا ہے کہ ’’اگر ایک طرف مجھے دُنیا بھر کی حکومت کی پیش کش ہو اور دوسری طرف علامہ اقبال کے ’کلام‘ کی تو میں علامہ کے’کلام‘ کو ترجیح دوں گا‘‘۔

علامہ اقبال اور قائداعظم عبقری دانش ور تھے۔ دونوں ’دیدہ وَر‘ تھے، دونوں ملت اسلامیہ کے بہی خواہ، دونوں مسلمانوں کی عظمت ِ رفتہ کی واپسی کے متمنی اور دونوں بے غرض رہنما تھے۔ علامہ کا ’خطبہ الٰہ آباد‘ اور قائداعظم کے ’چودہ نکات‘ پڑھیں تو آپ لازماً اس بیان کی تصدیق کریں گے۔

علامہ نے سب سے زیادہ زور’خود شناسی‘ اور ’خودی‘ پر دیا ہے۔ وہ رومی ثانی تھے۔ انھوں نے اپنے بلیغ کلام کے ذریعے بالخصوص ضربِ کلیم لکھ کر مسلمانانِ ہند کو ان کی عظمت ِ رفتہ یاد دلائی، انھیں خوابِ غفلت بلکہ خوابِ خرگوش سے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگایا اور انگریزوں کے خلاف بغاوت پر اُکسایا۔

علامہ کوجوانوں سے بڑی محبت تھی کیونکہ کسی بھی قوم کے جوان ہی اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اپنے ملک کی قسمت بدل سکتے ہیں۔ وہ ’آہ سحرگاہی‘ کے لیے اُٹھتے تو اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے:

جوانوں کو مری آہِ سَحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پَر دے

خدایا! آرزو میری یہی ہے
مرا نُورِ بصیرت عام کردے

_____

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

جیسے اشعار سے واضح ہوتا ہے کہ وہ جوانوں سے اُمیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے۔

علامہ اقبال، علماء حق کا بڑا ادب و احترام کرتے تھے، مگر اُن میں کج فہموں کے قول وفعل کے تضاد اور ان کی ’بے بصری‘ اور ’کم سوادی‘ کا زندگی بھر شکوہ کرتے رہے۔ ان کی آنکھ اسلام اور مسلمانوں کے غم میں نمناک رہتی تھی۔ جناب رسالت مآبؐ کا نام نامی اوراسمِ گرامی سن کر ان پر گریہ طاری ہوجاتا تھا۔رسولؐ اللہ سے اُن کی محبت کی گہرائی کا اندازہ کرنے کے لیے ارمغان حجاز (بحضور رسالت مآبؐ) دیکھیے یا اسرار و رموز کی آخری نظم ’عرض حال مصنف بحضور رحمۃ للعالمینؐ ، کا مطالعہ کیجیے۔

علامہ نے ’عزّت نفس‘ (خودی=خودداری وغیرہ وغیرہ) کی حفاظت کے لیےمسلمانوں کو جھنجوڑا ہے۔ انھیں اپنی تصنیف زبورِ عجم (بزبان فارسی) بہت پسند تھی۔ اس میں موتیوں میں تلنے والی غزلیں ہیں۔ خود فرماتے ہیں کہ وقت ملے تو فراغت میں زبورِ عجم کا مطالعہ کر! یہ غزلیں نغمگی سے پُر ہیں۔

علامہ’ حکومتِ الٰہیہ‘ کے قیام کے داعی اور نقیب تھے (دیکھیے ان کی نظم ’حکومت الٰہیہ‘)۔ یہ نظم سیکولرازم کے قائلین کو آئینہ دکھاتی ہے۔

علامہ ہر طرح کے استحصال کے دشمن تھے، ان کا تمام کلام اس پر شاہد ہے۔ انھیں سب سے زیادہ دُکھ اس بات کا تھا کہ ’’ہمارے امیر ’مال مست‘ اور ہمارے غریب ’حال مست‘ ہیں۔ وہ ’انقلاب‘ کے عظیم داعی تھے:

خواجہ از خونِ رگِ مزدور سازد لعلِ ناب
از جفائے دہ خدایاں کشتِ دہقاناں خراب

انقلاب! انقلاب! اے انقلاب!

سرمایہ دار مزدور کے خون سے سرخ موتی بناتا ہے، اُدھر زمین داروں کے ظلم سے دہقانوں کی کھیتیاں اُجڑ چکی ہیں۔ انقلاب! انقلاب!اے انقلاب!

وہ جاگیرداری نظام اور فیوڈل ازم کے سخت مخالف تھے۔ ذرا ان کی درج ذیل رُباعی پر غور فرمائیں:

خدا آں ملتے را سروری داد
کہ تقدیرش بدست خویش بنوشت

بہ آں ملّت سروکارے ندارد
کہ دہقانش براے دیگراں کشت

اللہ تعالیٰ صرف اسی قوم کو سرداری عطا فرماتے ہیں، جو خود اپنے ہاتھ سے اپنی تقدیر لکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی قوم سے کوئی سروکار نہیں رکھتے، جس کا دہقان دوسروں کے لیے کھیتی بُوتا ہے۔

مسلمانوں کے قرآن حکیم سے دُور ہونے کا انھیں بڑا غم اور دُکھ تھا۔ سود کو ختم کرنے پر بڑا زور دیا ہے۔ ذرا درج ذیل اشعار میں تدبر کیجیے:

گر تومی خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بقرآں زیستن

اگر تو مسلمان بن کر زندہ رہنا چاہتا ہے تو ایسی زندگی قرآنِ پاک کے بغیر ممکن نہیں۔

برہمن از بتاں طاق خود آراست
تو قرآں را سر طاقے نہادی

برہمن نے تو اپنے طاق کو بتوں سے آراستہ کرلیا، (مگر) تُو نے قرآن کو طاق (نسیاں) پر رکھ دیا۔

بآیاش ترا کار جز ایں نیست
کہ از یاسین آو آساں پیمبری

اس کی آیات سے تجھے صرف اتنا سروکار ہے کہ مرتے وقت یٰسین پڑھ لے تاکہ جان آسانی سے نکل جائے۔

صاحب قرآن و بے ذوق طلب
العجب ثم العجب ثم العجب!

قرآن پاس ہے اور ذوقِ طلب سے خالی ہیں۔ العجب ثم العجب ثم العجب!

خوار از مہجوریٔ قرآں شدی
شکوہ سنجِ گردشِ دوراں شدی

تو قرآن (پر عمل) چھوڑنے کی وجہ سے ذلیل و خوار ہوچکا ہے اور شکوہ گردشِ دوراں کا کرتا ہے۔

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر

_____

جز بقرآں صیغمی روباہی است
فقرِ قرآں اصلِ شاہنشاہی است

قرآن پاک کے بغیرشیری روباہی ہے۔ قرآن پاک کا فقر ہی اصل شہنشاہی ہے۔

چیست قرآں؟ خواجہ را پیغام مرگ
دستگیر بندہ بے ساز و برگ

قرآن پاک آقا کے لیے موت کا پیغام ہے اور بے سروسامان بندے کا دستگیر۔

ہیچ خیر از مروک زرکش مجو!
لن تنالو البر حتٰی تنفقوا!

دولت کے پجاری سے کسی بھلائی کی اُمید نہ رکھ۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ ’’تم نیکی نہیں پاسکتے جب تک اپنی محبوب ترین چیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو‘‘۔

از ربا آخرچہ می زاید؟ فتن
کس نداند لذت قرض حسن!

سود سے سوائےفتنے کے اور کیا بڑھتا ہے۔ قرضِ حسنہ کی لذت کوئی نہیں جانتا۔

از ربا جاں تیرہ ، دل چوں خشت و سنگ
آدمی درندہ بے دندان و چنگ

سود سے جان سیاہ ہوجاتی ہے اور دل پتھر کی طرح ۔ سود خور ایسا درندہ ہے جس کے دانت اور پنجے نہ ہوں۔

رزق خود را از زمں ردن رواست
ایں متاع بندہ و ملک خداست

رزق کو زمین سے حاصل کرنا جائز ہے۔ زمین بندے کے لیے فائدہ اُٹھانے کی چیز ہے لیکن ملکیت اللہ تعالیٰ کی ہے۔

بندہ مومن امیں ، حق مالک است
غیر حق ہر شے کہ بینی ہالک است!

بندئہ مومن امانت دار ہے۔ مالک حق تعالیٰ ہے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ کے سوا ہرشے ہلاک ہوجانے والی ہے۔

آب و نان ماست ازیک مائدہ
دودہ آدم کَنَفْسٍ وَّاحِدَہ

ہماری روٹی اور پانی ایک دسترخوان ہے۔ آدم کا خاندان نفسِ واحد کی مانند ہے۔

علامہ نے کمیونزم کے خلاف بہت کچھ لکھا ہے۔ یہاں صرف ایک شعر نقل کرتا ہوں:

دل کی آزادی شہنشاہی ، شکم سامانِ موت
فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے ، دل یا شکم

سبب کچھ اور ہے ، تو جس کو خود سمجھتا ہے
زوال بندۂ مومن کا بے زری سے نہیں

علامہ نے اسلامی ، فلاحی ، جمہوری مملکت کے قیام پر بڑا زور دیا ہے۔ ’مغربی جمہوریت‘ سے متعلق فرماتے ہیں:

تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن ، اندروں چنگیز سے تاریک تر

دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری

گریز از طرز جمہوری ، غلامِ پختہ کارے شو
کہ از مغزِ دو صدخر فکرِ انسانے نمی آید

جمہوریت اِک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے

آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں:

ہست شانِ رحمتت گیتی نواز
آرزو دارم کہ میرم در حجاز

آپؐ کی شانِ رحمت ایک زمانے کو نوازتی ہے، میری یہ آرزو ہے کہ میرا آخری وقت حجاز میں آئے۔

کوکبم را دیدئہ بیدار بخش
مرقدے در سایۂ دیوار بخش

میری قسمت کے ستارے کو بھی دیدئہ بیدار عطا فرمایئے (میری قسمت بھی چمک اُٹھے) اپنی دیوار کے سایے میں مجھے مرقد نصیب فرمایئے۔

ملت اسلامیہ کے جملہ افراد سے کہتے ہیں:

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا! لوح و قلم تیرے ہیں!

اپنی کتاب Engaging Secularism - limits of a Promise میں مَیں نے سیکولرزم کے اجزائے ترکیبی بیان کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی کہ یہ فکری فتنہ، اُمورِ دُنیا سے متعلق نہیں ہے بلکہ اپنے جوہر اور روح میں الحاد ہے، جو جمہوری نظامِ معاشرت میں اپنے کرخت خدوخال کے ساتھ مصنوعی مسکراہٹیں بکھیرتا دبے پائوں چلا آتا ہے، تاکہ انسانی جبلت میں خداپرستی کی رگِ مدافعت  مشتعل نہ ہوپائے اور اس طرح معاشرے کو اپنے ڈھب پر آہستہ آہستہ لے آئے۔

بعض اہل علم نے اس موقف پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’سیکولرزم ، خدا کی حقیقت مطلق کو چیلنج نہیں کرتا اور نہ اس کی نفی کرتا ہے، بلکہ یہ تو محض دُنیاوی اُمور کے انتظام و انصرام سے متعلق ایک فکروعمل کا نام ہے‘‘۔ ایسے افراد سیکولرزم کے اجزائے ترکیبی کی نوعیت اور مقتضیات سے لاعلم تھے۔

تووہ عناصر ترکیب کیا تھے جن کی طرف میں اشارہ کر رہا تھا؟

وہ تھے: انسانیت پرستی، ارتقائیت، عقلیت ، ایجابیت اور سائنسیت۔ یہاں پر ان چاروں فکری اجزا کا مختصر الفاظ میں ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ ان کی نوعیت کا تعین ہوسکے۔

  • انسانیت پرستی (Humanism): انسان ہی زندگی کے ہرمعاملے میں فکروعمل کا محور ہے، اور وہ اپنے فیصلوں میں کسی مذہبی یا الہامی توجیہ کا محتاج اور پابند نہیں۔
  • ارتقائیت  (Evolutionism): کائنات ہو یا اس کا مکین انسان، وہ کسی مافوق الفطرت ہستی کی تخلیق نہیں ہے۔ اس کا ماخذ محض ایک چھوٹا سا خلیہ ہے، جو سادگی سے پیچیدہ شکل اختیار کرتا چلا گیا، اور یہ اب بھی خود بخود ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے جس کے نتیجے میں مذہبی بھول بھلیوں سے نکل کر مابعد الطبیعیاتی تصورات سے جان چھڑا کر سائنس کے سائے میں آگیا ہے۔
  • عقلیت (Rationalism): اگرچہ علم کے ماخذ مختلف ہوسکتے ہیں لیکن آخرکار یہ انسانی عقل ہے، جو منطق اور دلیل کے ذریعے صحیح علم تک رسائی حاصل کرتی ہے، جب کہ عقیدہ اور ایمان اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔
  • ایجابیت (Positivism):جو چیز مشاہدے اور تجربے سے ثابت نہیں، وہ قابلِ بھروسا نہیں۔ مذہبی عقائد انسانیت کا بچپن ہیں، جب کہ اس کی بلوغت انسانی فکر کو مافوق الفطرت تصورات اور توہمات سے آزاد کرنا ہے تاکہ مشاہدے اور تجربے سے اخذ شدہ نتائج اس کی رہنمائی کرسکیں۔
  • سائنسیت (Scienticism): سائنسی سوچ ہی علم اور سچائی کا مستند ذریعہ ہے۔ الہامی و مذہبی علوم پر مبنی دعوے سچائی سے مطابقت نہیں رکھتے۔

ان سارے نظریات اور فلسفہ ہائے حیات میں سے کوئی بھی، خدا کے مطلق وجود کو تسلیم کرنے کی طرف نہیں جاتا۔ یہ سب اپنی فطرت اور اپنی روح میں الحادی ہیں۔

اسی لیے جن ممالک میں بھی سیکولرلزم یا لبرل ازم موجود ہے، وہاں الحاد روز افزوں پھل پھول رہا ہے، مثلاً بعض ماہرین سماجیات کے مطابق فرانس میں ۴۰ فی صد ملحدین ہیں۔ جاپان میں ۸۷ فی صد، برطانیہ ویلز وغیرہ میں ۷۳ فی صد ، جرمنی میں ۶۴ فی صد اور امریکا میں ۴۳ فی صد ملحدین ہیں (یہ حتمی اعداد و شمار نہیں ہیں)۔ خود پاکستان میں ملحدین کی تعداد ۷فی صد کہی جارہی ہے۔ ادب بالخصوص شاعری، الحادی اشاعت کا ایک مؤثر وسیلہ ہے جس کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، جیسے:

یہ جو تکتا ہے آسماں کی طرف
کوئی رہتا ہے آسماں میں کیا؟

جون ایلیا

غرض الحادی فکر میں بنیادی اہمیت اس برتر و اعلیٰ ہستی کی نفی ہے، جو وجہ تخلیق عالم ہے۔ اس فکر کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کائنات کا مکین انسان خود بخود کسی ارتقائی عمل سے وجود میں آیا ہے۔ ملحدین کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اگر خدا موجود ہے تو اس سے پہلے کیا تھا، یعنی خدا کا بھی کوئی موجد ہے یا نہیں؟الحاد پرستوں کی یہ سوچ بھی ہے کہ خدا اپنی جگہ کوئی وجود نہیں رکھتا اور نہ وہ اپنے آپ میں موجود ہے۔ یہاں پر اس فکر اور اس کے مقابل موحدین، خدا پرستوںکے موقف کو ایک مختصر مکالمے کی شکل میں پیش کر رہا ہوں تاکہ بات واضح ہوسکے۔

 موّحدین (خدا پرست): اگر آپ کے موقف کو تسلیم کر لیا جائے کہ خدا نہیں ہے اور نہ یہ عالم کائنات اس نے بنایا ہے، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کیسے ہوا ؟

ملحدین (منکرینِ خدا): یہ سب مادے کی کرشمہ سازی ہے، وہی ابتداءہے، وہی حال ہے اور وہی انتہا ہے۔ مطلب یہ کہ مادہ موجود ہے اور موجد ہے، وہی عالم کائنات کا باعث ہے اور وہی تغیر پذیر ارتقائی عمل کا محرک ہے۔

 موّحدین :آپ اندھے بہرے مادے کو شعور کا اعلیٰ مقام دے رہے ہیں۔ شعور تو اپنی جگہ روحانی خصوصیات کا حامل امر ہے۔ آپ دو متضاد چیزوں کو ملا رہے ہیں۔ چلیے ،تھوڑی دیر کے لیے مان لیتے ہیں کہ مادہ سب چیزوں پر حاوی ہے اور یہ بھی مان لیتے ہیں کہ مادے کے وجود سے بالاتر کوئی تخلیقی قوت نہیں، تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ مادے کو شعور کا درجہ دے رہے ہیں، حالانکہ شعور اور مادیت دونوں فی نفسہٖ متضاد وجود ہیں۔

ملحدین : نہیں، اس بات میں خدا کا وجود کہاں سے آ گیا؟ ہمارا موقف یہ ہے کہ مادہ ہی آخری ’سبب‘ (cause) ہے اور قطعی طور پر خود ہی موجود ہے ۔

 موّحدین  :یہ سوچ تو کئی گتھیوں میں اُلجھی ہوئی ہے ۔ اگر آپ سبب ( cause) اور علل (effect) کی بات کر رہے ہیں،تو یہ کبھی ختم نہ ہونے والی مراجعت (Hegelian regress) ہے، جس کی کوئی حد نہیں اور نہ اپنی جگہ یہ معقول سوال ہوگا کہ ’’اس سے پہلے کچھ نہیں تھا‘‘۔

ملحدین  : یہ سوال تو ا ُٹھے گا۔

 موّحدین : اسی سوال کا آپ جواب دیں کہ مادے سے پہلے کیا تھا ؟ مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ ’سبب‘ اور’ علل‘ کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ’سبب‘ حرکت میں آ کر نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ لیکن یہ بات نامکمل ہے ۔ کیا ’سبب‘ ،’ساکن‘(static) حالت سے خود بخود متحرک ہوگیا،یا اس کے پیچھے کوئی قوت محرکہ تھی جس نے اس میں جان پیدا کی اور یہ چل پڑا؟

ملحدین : بالکل،’ سبب‘ خود بخود حرکت میں آیا اور اس سے جو نتیجہ ( effect) پیدا ہوا، وہی ’سبب ‘سب کچھ بن گیا۔

 موّحدین :یعنی ’سبب‘ ، ’مادے‘ سے جدا کوئی شے نہیں بلکہ یہ سب کچھ مادہ ہی ہے۔

ملحدین : جی ہاں! ایسا ہی ہے، در اصل مادے کے پیچھے قوا نین فطرت (Natural Laws) ہیں، جو عالم کائنات کو چلا رہے ہیں۔

 موّحدین : چلیے صاحب، کم از کم پتہ چلا کہ یہ کھیل طبعی قوانین کا ہے ۔ اگر ایسا ہے تو آپ کی منطق کے مطابق طبعی قوانین، وجودِ کائنات کا باعث بنے، اس لیے لازماً پہلے سے موجود تھے۔

ملحدین : ایسا ہی ہے۔

 موّحدین : یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ طبعی قوانین، طبعی مادے کی غیر موجودگی میں بھی حرکت پذیر تھے۔ کیا طبعی قوانین کے بغیر کائنات وجود میں آسکتی ہے؟ یعنی مادہ تو عالم میں موجود ہو، مگر وہ طبعی قوانین سے ناآشنا ہو۔ حالانکہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم اور ملزوم ہیں۔ دوسرے لفظوں میں طبعی مادہ ہوگا تو طبعی قوانین ہوں گے۔ اسی طرح بتایئے کہ طبعی قوانین کی نوعیت کیا ہے؟ کیا یہ بھی حادثاتی وجود رکھتے ہیں؟ کیا یہ ساکن ہیں ،بے ترتیب اور نظم سے عاری وجود رکھتے ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو کیا پھر ان کے پیچھے کوئی مربوط، منضبط اور تخلیقی ذہن کار فرما ہے؟

ملحدین  :اس کے بارے زیادہ نہیں کہا جا سکتا۔

 موّحدین : کمال ہے، خدا سے متعلق تصورات کو تو آپ سائنسی عقل سے ماورا بے بنیاد مفروضہ قرار دیتے ہیں ، لیکن خود آپ کی ساری گفتگو مفروضوں پر مبنی ہے۔ جو اعتراض آ پ کو خدا کے وجود پر ہیں، وہی اعتراضات آپ کے تصورات پر لگائے جا سکتے ہیں ۔مثلاً: آپ کے نزدیک حتمی سبب (cause ) مادہ ہے، تو بتائیے وہ مادہ کیسے وجود میں آیا ؟ مادے سے پہلے کیا تھا؟ اس کا کیا کوئی جوا ز اور استدلال ہے؟ پھر طبعی قوانین کیسے مادی موجودات سے پہلے موجود تھے؟ یہ بھی مفروضہ سے زیادہ حقیقت نہیں۔بلاشبہہ، خدا کی ہستی کا اقرار کر نا، ہمارے ایمان وعقیدے کا معاملہ ہے، لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خدا کے وجود کے بارے میں بے شمار شواہد موجود ہیں ۔

اس مکالمے میں الحادی دلائل پر نظر ڈالیں تو سوائے ہٹ دھرمی میں اس انکار کے کہ خدا ایک مفروضہ ہے، نہ کوئی شواہد ہیں نہ کوئی مؤثر دلائل ۔اگرچہ ملحدین میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنے آپ کو انسان دوست (Humanist) اور Agnostic (لاادری) کہہ کر اپنا الحاد چھپاتے ہیں،مگر انھی میں پروفیسر آئزک اسیموو (م:۱۹۹۲ء - Isaac Asimov) کی سطح کے بعض دانش ور تسلیم کرتے ہیں کہ اُن کا الحاد ایک جذباتی رویہ ہے، جس کا عقل سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ وہ خدا کی عدم موجودگی کو ثابت نہیں کرسکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا جیسی ہستی موجود نہیں ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق پارلیمنٹ کا ممبر بننے کے لیے سخت شرائط کا مقصد یہ ہے کہ ہم میں سے بہترین لوگ ہی پارلیمنٹ کے رکن بن کر ملک و قوم کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ چوں کہ انھی ممبران پارلیمنٹ سے وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزیر منتخب ہوتے ہیں، اس لیے آئین کے آرٹیکل ۶۲،۶۳ کے ذریعے یقینی بنانے کا اہتمام کیا گیا ہے کہ ہمارا حکمراں طبقہ، ہمارے پالیسی میکرز ایمان دار ہوں، بہترین کردار کے مالک ہوں، باعمل مسلمان ہوں، اسلام کے بارے میں کافی علم رکھتے ہوں اور بڑے گناہوں کی وجہ سے نہ جانے جاتے ہوں، وغیرہ وغیرہ۔

تاہم، یہ افسوس کا مقام ہے کہ آئین کی ان دفعات پر عمل نہیں ہوتا۔ جس کے نتیجے میں ہرقسم کے لوگ پارلیمنٹ میں آکر ہم پر حکمران بن کے مسلط ہو جاتے ہیں۔ پھر ان آئینی شقوں کی خلاف ورزی پر کبھی کسی نے یہ سوال نہیں اُٹھایا کہ اُن تمام افراد اور اداروں کے خلاف آرٹیکل ۶ لگایا جائے،جو آئین کے اس حصے پر عمل درآمد میں دلچسپی نہیں لیتے۔اس سلسلے میں سب سے اہم ذمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان اور ہماری اعلیٰ عدلیہ کی ہے، جن کو آئین کی ان شقوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔ اگر ان شقوں پر عمل ہو تو چاہے کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار میں آجائے، ہمارے ممبران پارلیمنٹ اور حکمران صرف اور صرف اچھے کردار کے مالک، سچے ، ایمان دار اور باعمل مسلمان ہی ہوسکتے ہیں۔ افسوس کہ ایسا ہوتا نہیں۔ اور اسی وجہ سے آج ہم اس حال کوپہنچے ہیں۔

فروری۲۰۲۳ء کے اواخر میں، ’’۹۰دن کے اندر الیکشن‘‘ منعقد کرنے کے سوال پر ’سوموٹوکیس‘ کو سنتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے فرمایا: ’’آئین پاکستان آج عدالت کے دروازہ پر دستک دے رہا ہے‘‘۔ یہ بیان پڑھ کر میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر ۹۰دن کے اندر الیکشن کرانے کی آئینی شق کی خلاف ورزی کے خطرے کو محسوس کرکے عزّت مآب چیف جسٹس صاحب کو عدالت کے دروازے پر آئین کی دستک سنائی دی ہے، تو اسی آئین کی اسلامی شقوں بشمول آرٹیکل ۶۲،۶۳کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر یہ دستک کیوں سنائی نہیں دیتی؟

آئین کے آرٹیکل ۳۱ کے مطابق، ریاست اور اس کے تمام اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ماحول فراہم کریں، لیکن ہمارا ماحول اور ہمارے فیصلے مغرب کی تقلید میں زیادہ نظر آرہے ہیں اور اُن پر کوئی بولتا بھی نہیں۔ آئین میں کتنی ہی شقیں ایسی ہیں جن پر کوئی عمل نہیں ہورہا بلکہ اُن کی خلاف ورزی ہورہی ہے، لیکن صرف چند شقوں سے متعلق ہمارے حکمراں اور سیاست دان، آئین کی پاسداری کی بات کرتے ہیں، اور عدالتوں کے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔

چند روز قبل ایک سینئر صحافی نے لکھا  تھا کہ ’’آرٹیکل ۶۲،۶۳ کا اطلاق پارلیمنٹ کے اراکین سے کہیں زیادہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں پر ہونا چاہیے‘‘۔ یقیناً یہ تجویز بہت اہم ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تعیناتی کے لیے اس نوعیت کی کوئی شرائط موجود نہیں۔ان معزز ججوں کی تعیناتی صوابدیدی انتخاب کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ علمِ قانون میں کمال کے ساتھ ایمان داری، سچائی، بہترین کردار کی شرائط  واقعی ہر جج کے لیے لازم ہونی چاہیے۔ ججوں کا کردار، اُن کی ایمان داری، اُن کی سچائی اور انصاف پسندی ایسی ہونی چاہیے کہ کوئی اُن پر انگلی نہ اٹھا سکے۔لیکن ہمارے ججوں پر طرح طرح کے الزامات لگتے ہیں۔ اُن کے فیصلوں سے انصاف کے بجائے ناانصافی اور طاقت ور کی حمایت کی بُو آتی ہے اور  اس میں کیا شک اُنھوں نے بار بارآئین کو کچلنے والوں کا ساتھ دیا۔ آرٹیکل ۶۲،۶۳کو اُن کی روح کے مطابق اور ہرشک و شبہے سے بالا ہوکر لاگو کرنے کے بجائے انھیں اپنی پسند کی بنیاد پر چند ایک سیاست دانوں کے حق یا اُن کے خلاف استعمال کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں اگر مجموعی طور پر ہمارے جج واقعی عدل و انصاف کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھیں تو دوسرے تمام ادارےبھی صحیح کام کریں گے، اور سب کو انصاف ملے گا۔ اس مقصد کے لیے خود عدلیہ کو ایک اعلیٰ ترین معیار قائم کرنا چاہیے اور ججوں کی تعیناتی کے نظام کی بنیاد ایسے میرٹ پر رکھی جائے کہ جج کی ایمان داری، سچائی اور انصاف پسندی پر کوئی انگلی نہ اُٹھا سکے۔

پاکستان کو اس وقت تاریخ کی بلند ترین مہنگائی کا سامنا ہے اور دوسری جانب خبروں میں روز جاری ہونے والے تازہ اعداد وشمار اس ہیجانی کیفیت کو ہوا دے رہے ہیں۔

اس صورتِ حال میں سب سے اہم نکتہ جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس بار بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مثلاً پیاز جیسی روزمرہ استعمال کی شے ۴۰۰ گنا مہنگی ہو چکی ہے۔

چونکہ ایک آدمی اپنی آمدن کا  ۸ء۵۰ فی صد حصہ انھی بنیادی اشیا کی فراہمی میں صرف کرتا ہے، اس لیے یہ سمجھنا بالکل مشکل نہیں کہ ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست نتیجہ جرائم کی شرح بڑھانے اور معاشرتی بے چینی میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔ (آثار واضح نظر آرہے ہیں۔ کوئی بھی اخبار دیکھ لیجیے)  

ماہرین معیشت، تجزیہ کاروں اور مفکرین نے ایسے کئی ممکنہ حل پیش کیے ہیں، جن کے ذریعے ملک کو معاشی تباہی اور اس کے بعد ہونے والی سماجی شکست و ریخت سے بچایا جا سکتا ہے۔ لیکن ایک ایسے معاشرے میں جہاں غیر ذمہ داری کا احساس جڑوں تک اتر چکا ہو، ایسے لوگوں کی آوازیں اکثر وقت کے شور میں دب جایا کرتی ہیں۔ اس لیے اگر ترتیب کو درست کیا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ ہمارا مسئلہ معاشی نہیں، اخلاقی ہے۔

یہاں اعداد وشمار کی بات نہیں دُہرائوں گا کہ وہ انٹرنیٹ پر بہ آسانی دستیاب ہیں۔ اعداد و شمار کو دیکھ کر زیادہ سے زیادہ یہی پتا چل سکتا ہے کہ حالات کتنے خراب ہیں؟ لیکن کیوں خراب ہیں؟ اس کا جواب ہمیں کہیں اور ڈھونڈنا ہوگا۔

ایک طرف لوگ اس قدر مشکل میں ہیں کہ بنیادی ضرورت کی اشیا بھی ان کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، لیکن دوسری طرف سڑکوں پر جرمن ساختہ کاروں خصوصاً آڈی (Audi) اور مرسیڈیز (Mercedes) کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جن کے ہاں مالی وسائل کا سیلاب ہے، ان کے ہاں کراس اوور (Crossover) یا سپورٹس گاڑیاں لوگوں کی ترجیح بنتی جارہی ہیں۔ اب دولت کی نمایش کے لیے پہلے سے زیادہ دولت خرچ کرنا پڑتی ہے کیونکہ ان گاڑیوں کی قیمت میں ۱۴۹فی صد اضافے کے باوجود ہم ہر سال اربوں روپیہ(۳۴  بلین) ’اُون‘ (ON)کی مد میں خرچ کرڈالتے ہیں۔ ’اون‘ اس زائد قیمت کو کہا جاتا ہے، جو گاڑی بکنگ کے بعد انتظار سے بچنے اور گاڑی کی فی الفور دست یابی کے لیے ادا کی جاتی ہے۔

جائیداد کی خریدو فروخت کے کاروبار پر اس وقت بڑے مگرمچھوں کا قبضہ ہے۔ اس سے مراد وہ افراد ہیں جن کے پاس مارکیٹ کے زیادہ تر وسائل موجود ہیں۔ جس طرح بہار میں پتّے نکلتے ہیں، اس طرح قریہ قریہ نئی رہایشی کالونیاں بن رہی ہیں۔ آپ اپنے کسی بھی امیر کبیر دوست سے پوچھ لیجیے کہ ان کا ذریعۂ روزگار کیا ہے؟ قوی امید ہے کہ آپ کو ایک مبہم سا جواب ملے گا: ’کاروبار‘ اور ذرا تفصیل سے پوچھیں تو: ’پراپرٹی کا‘۔

ہمارا مشاہدہ ہے کہ ملک میں ’کاروبار‘ تو پھیل رہے ہیں، لیکن ہماری کُل قومی پیداوار اسی جمود کا شکار ہے، بلکہ تنخواہیں اُلٹا کم ہو رہی ہیں۔ پیداواری اشاریے تنزلی کی جانب گامزن ہیں اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ اگر ملک میں نئے کاروبار شروع ہو رہے ہیں تو صورتِ حال ایسی کیوں ہے؟

بیوروکریسی، افسران اور دیگر صاحبانِ اختیار کی تربیت پر سالانہ کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، تاکہ وہ پالیسی سازی کے عمل میں شامل ہو کر ملک کو مستقبل کے لیے کوئی سود مند حکمت عملی مہیا کر سکیں۔ لیکن یہ ’بابو‘ جیسے ہی اپنی بھوری کرسیوں پر براجمان ہوتے ہیں، ان کا ویژن اپنی میز کے طول و عرض تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ انھیں ہرلمحہ اپنے وقت کی قلت کا خدشہ دامن گیر رہتا ہے اور عوامی خدمت کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

اقربا پروری اور فائلوں کا گورکھ دھندا وہ کھونٹیاں ہیں، جنھیں سرکاری دفاتر میں ٹھونک کر ان کے ساتھ قابلیت کے تمام معیار اُلٹے لٹکا دیے جاتے ہیں۔ اس طرح ہمارا وہ سفر جس کے سامنے پہلے ہی کئی طرح کی سرکاری رکاوٹیں موجود ہیں، مزید سُست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔ 

ہمارے پالیسی ساز اپنی ہی بنائی ہوئی پالیسیوں کے اثرات سے بے خبر ہیں۔ سچ پوچھیے تو ان سرکاری اقدامات کو ’پالیسی ‘کہنا بھی مشکل ہے، کیونکہ یہ اکثر کسی نئے حادثے یا واقعے کے ردعمل میں اٹھائے جاتے ہیں۔ خود سے کسی مسئلے کی پیش بینی کر کے اس کے تدارک کی حکمت عملی تیار کرنا ہمارے ہاں مفقود ہے۔

ریلوے کا منتظم ہم ایسا آدمی ڈھونڈتے ہیں جس کے پاس ڈاکٹری کی سند ہو، جب کہ  ضلعی انتظام چلانے کے لیے ہمیں اکثر انجینئر میسر آتے ہیں۔ وطن عزیز کے معاشی و انتظامی ڈھانچے میں وسائل کی ایسی بے جا، غلط اور نقصان دہ تقسیم ہمیں جابجا نظر آتی ہے۔ دوسری طرف پیداواری ذرائع یعنی زمین، محنت اور سرمایہ، معاشرے کو مجموعی طور پر کوئی فائدہ پہنچانے کے بجائے انفرادی دولت کو بڑھانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

راقم اس صورتِ حال کو اخلاقی بحران کیوں سمجھتا ہے؟ کیونکہ سرکاری اداروں میں موجود زیادہ تر لوگ وہ کام نہیں کر رہے ہیں، جس کے لیے انھیں منتخب کیا گیا ہے۔ وہ چیزوں کو وسیع تر تناظر میں نہیں دیکھتے، بلکہ امرواقعہ ہے کہ دیکھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔

ان کی ترجیحات اپنی ذات تک محدود ہیں۔ اس میں یقیناً کوئی خرابی نہیں، اپنا شخصی فائدہ دیکھنا بھی ہم سب کا حق ہے لیکن اس فائدے کو اسی قدر دیکھنا چاہیے کہ ملکی معاملات نظر انداز نہ ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ عام پاکستانی کا معیارِ زندگی بلند کرنے کے لیے بھی سعی کی جانی چاہیے۔

مقابلے کا امتحان اور اس کی تیاری خاصے محنت طلب کام ہیں۔ کامیاب امیدوار تعلیمی میدان سے لے کر اپنی شخصی صلاحیتوں تک ہر چیز میں خاصی محنت کرتے ہیں۔ چنانچہ اگر انسانی دماغ کو ایک مشین فرض کر لیا جائے جس سے کوئی ’آؤٹ پٹ‘ حاصل کرنے کے لیے پہلے ’اِن پٹ‘ ضروری ہوتی ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر اچھی اِن پٹ اور تربیت کے باوجود آؤٹ پٹ اس قدر خراب کیوں ہے؟ یقیناً کام کے لیے سازگار ماحول ہونا بھی بہت ضروری ہے، لیکن یہ سازگار ماحول مہیا کرنا کس کا کام ہے؟

بدقسمتی سے ہمارا قومی مزاج کچھ ایسا بن چکا ہے کہ اگر کوئی تخلیقی خیال سامنے آ بھی جائے تو لوگ فوراً اس کی ناکامی کے لیے ایک سو ایک ممکنات اور خدشات پیش کر دیں گے،یا اس کو سرے سے شروع ہی نہ کرنے کے لیے درجنوں وجوہ ڈھونڈ لائیں گے۔ برائی کو ابتدا ہی میں کچل دینا بالکل ضروری ہے، لیکن اگر کہیں سے کوئی ایک آدھ اچھا خیال نکل آئے تو اسے پنپنے کا موقع ملنا چاہیے۔ افسوس ناک بات ہے کہ اب تک ہمارا طرز عمل اس کے الٹ رہا ہے۔

سیاست دان، امیر اور طاقت ور خاندان و افراد، صحافتی شخصیات، ماہرین تعلیم، نوجوان، دکان دار، غرض یہ کہ سب ہماری موجودہ صورتِ حال کے لیے جزوی طور پر ذمہ دار ہیں۔ تاہم، یہ بھی بجا ہے کہ اس میں زیادہ حصہ انھی کا ہے، جن کے کندھوں پر براہ راست اس ملک کی ذمہ داری ہے۔

اگر آپ کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ ہو اور تین دن سے آپ بھوکے ہوں تو آپ سے مہذب یا تعمیری رویے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اس وقت ہمارے نچلے طبقے کی صورتِ حال یہی ہے۔ ایک طرف امیر مزید امیر اور طاقت ور ہوتا جا رہا ہے اور خیالی دنیا میں رہنے والے فیصلہ ساز اپنے کنویں سے باہر آنے کو تیار نہیں، جب کہ دوسری طرف غریب، انسانیت کش حالات کی چکّی میں کچھ اس طرح پس رہا ہے کہ اندازہ بھی ممکن نہیں۔

ان حالات میں یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم کسی فیصلہ کن موڑ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔پاکستان اس وقت اندھیرے اور اُجالے کے درمیان کھڑا ہے۔

اللہ کرے کہ حالات بہتری کی طرف جائیں اور ہم ایک ایسا نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائیں جس میں سب کے لیے حصہ ہو۔ ہمارا اگلا سفر اندھیروں کے بجائے روشنی کی جانب ہو۔