حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے، میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! مجھے ایسا عمل بتلا دیجیے جو مجھے جنت میں داخل کردے، اور دوزخ سے دُور کردے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ایک عظیم چیز کے بارے میں سوال کیا ہے، لیکن یہ اس آدمی کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ آسان کردے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ شریف کا حج کرو۔
اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: کیا میں تمھیں خیر کے دروازے نہ بتلا دوں؟ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطا کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو۔ اور آدمی کی نماز آدھی رات کو بھلائیاں سمیٹنے کا ذریعہ ہے۔ پھر آپؐ نے تہجدگزاروں کی شان میں، قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرمائی: تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَo فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ o (السجدہ ۳۲:۱۶-۱۷) ’’اُن کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں،اور جو کچھ رزق ہم نے اُنھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان اُن کے اعمال کی جزا میں اُن کے لیے چھپا رکھا گیا ہے‘‘۔
پھر آپؐ نے فرمایا: کیا میں تمھیں اس دین کی بنیاد، ستون اور بلندترین چوٹی نہ بتلائوں؟ اس دین کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے، اور ستون نماز ہے اور بلند ترین چوٹی جہاد ہے۔
پھر فرمایا: کیا میں تمھیں ان تمام چیزوں کا محور نہ بتلا دوں؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیؐ! کیوں نہیں؟ آپؐ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسے روک کر رکھو۔ میں نے عرض کیا: کیا ہم سے ان باتوں پر مواخذہ ہوگا جنھیں ہم زبان سے نکالتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: معاذ! تجھے تیری ماں گم کردے، لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ اور کون سی چیز داخل کرتی ہے سواے زبان کی کاٹی ہوئی فصل کے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ، مشکوٰۃ، کتاب الایمان)
صحابہ کرامؓ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے وہ علمی حقائق آشکارا ہوئے جو کسی بڑی سے بڑی یونی ورسٹی میں پہنچ کر کسی کو حاصل نہیں ہوسکے۔ وہ حقائق جو انسان کو اس کے مقصد حیات سے روشناس کردیں، جو اسے آسانی کے ساتھ منزل سے ہمکنار کردیں، جنت میں پہنچا دیں اور دوزخ سے دُور کردیں۔ صحابہ کرامؓ نبی اکرمؐ کی بابرکت مجالس میں بیٹھتے اور اپنے دامن کو اسی قسم کے علمی جواہر اور فیوض سے بھرتے۔ حضرت معاذ بن جبلؓ کو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی صحبت میں رہ کر بڑے علم سے نوازا تھا لیکن صحابہ کرامؓ کو آپؐ کی مجالس سے جو علمی جذبہ اور شوق ملا تھا اس کی کوئی انتہا نہ تھی۔ ان کی علمی پیاس بڑھتی رہتی تھی اور وہ آپؐ کے چشمۂ علم سے سیراب ہوتے رہتے تھے۔ اسی جذبے سے حضرت معاذ بن جبلؓ نے عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتلا دیجیے جو مجھے جنت سے قریب اور دوزخ سے دُور کردے۔ تب نبی اکرمؐ نے فرمایا: آپ نے بہت عظیم اور مشکل کام کے بارے میں سوال کیا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ یہ مشکل کام اللہ تعالیٰ کی بندگی اور حکمرانی قائم کرنے کا کام ہے۔ شیطان اور شیطانی قوتوں کو شکست دے کر اللہ تعالیٰ کی غلامی اور بندگی اختیار کرنا، اس کی پوجا اور پرستش کرنا، اسی سے اپنی حاجات اور مشکلات کا سوال کرنا، اس کے ساتھ ان کاموں میں کسی کو شریک نہ کرنا، پھر ارکانِ خمسہ کے ذریعے اپنے ایمان کو بڑھانا اور قوی کردینا، کیونکہ ایمانی قوت کے بغیر آدمی کا جنت کے راستے پر چلنا اور دوزخ کے کاموں سے دُور رہنا بڑا مشکل ہے۔ اس کے بعد آپؐ نے ابوابِ خیر، دین کی اساس، اس کا ستون، اس کی بلند ترین چوٹی اور زبان کے شر سے حفاظت کے نکات بیان فرما کر گویا سمندر کو کوزے میں بند کردیا۔ اور حضرت معاذ بن جبلؓ اور ان کی وساطت سے اُمت کے سامنے نیکی کی شاہراہ کو پوری طرح روشن کردیا۔ آج بھی ہم اپنے مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے اسی جامع نسخۂ کیمیا کو استعمال کرکے کامیابی سے ہم کنار ہوسکتے ہیں۔
o
حضرت عبادۃ بن صامتؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں۔ جس نے ان کا وضو اچھی طرح کیا اور انھیں اپنے وقت پر ادا کیا اور ان کے رکوع اور سجود کو اچھی طرح ادا کیا، اللہ تعالیٰ کا اس کے ساتھ عہد ہے کہ اسے بخش دے اور جس نے ایسا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اسے بخش دے گا اور چاہے گا تو اسے عذاب دے گا۔ (احمد، ابوداؤد)
ایسی نماز آدمی کو تمام نیک کاموں کے کرنے اور تمام برائیوں سے بچنے کے قابل بنادیتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نیکی کی راہ پر آسانی کے ساتھ چلنے کے لیے اس طرح کی نمازوں کا اہتمام کریں۔ مساجد کو آباد کریں ، وقت پر پہنچنے کے لیے دنیاوی مشاغل کو چھوڑ دیں۔ ایک اسلامی معاشرے کی خصوصیت ہے کہ اس میں مساجد آباد اور فحاشی اور عریانی کے مراکز غیرآباد ہوتے ہیں۔ اس قسم کی نماز کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِط (العنکبوت۲۹:۴۵)’’یقینا نماز بے حیائی اور بُرے کاموں سے روکتی ہے‘‘۔ اگر آج معاشرے میں برائیاں زور و شور سے پروان چڑھ رہی ہیں اور نیکیاں مرجھا رہی ہیں، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہماری نمازوں میں خشوع و خضوع اور توجہ الی اللہ اور پابندی اور اہتمام میں کمی ہے۔
o
حضرت عمرؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مؤذن اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر کہے تم بھی اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبرکہو اور جب اشھد ان لا لٰہ الا اللّٰہ کہے تو تم بھی اشھد ان لا لٰہ الا اللّٰہ کہو اور جب اشھد ان محمداً رسول اللّٰہ کہے تو تم بھی اشھد ان محمداً رسول اللّٰہ کہو اور جب حی علی الصلٰوۃ کہے اور تم لاحول ولاقوۃ الا باللّٰہ کہو اور جب وہ حی علی الفلاح کہے تو تم بھی لاحول ولاقوۃ الا باللّٰہ کہو اور جب وہ اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر کہے اور تم بھی اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر کہو، اور جب لا الٰہ اِلَّا اللّٰہ کہے اور تم بھی لا الٰہ اِلَّا اللّٰہ صدقِ دل سے کہو تو تم سیدھے جنت میں داخل ہوجائو گے۔ (مسلم)
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے، کہ جب مؤذن اذن دے دے اور تم اسے سننے کے بعد اشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ واشھد ان محمداً عبدہٗ ورسولہ رضیت باللّٰہ ربًا وبالاسلام دینا و بمحمد نبیا ورسولًا کہو تو تمھارے سارے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ (مسلم)
اذان کے ذریعے ایک طرف مسلمانوں کو بلندآواز سے نماز کے لیے بلایا جاتا ہے۔ یہ بلاوا اس شان کے ساتھ ہوتا ہے کہ اس میں دین کی پوری دعوت بھی پیش کردی جاتی ہے۔ آغاز میں چار مرتبہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کر کے تمام طاغوتوں کی کبریائی کا انکار کردیا جاتا ہے۔ پھر شہادتین کے ذریعے دو دو مرتبہ عقیدۂ توحید اور عقیدۂ رسالت کا اعلان کردیا جاتا ہے۔ پھر دو مرتبہ نماز کے لیے بلایا جاتا ہے اور پھر دومرتبہ ’فلاح‘ کامیابی کی طرف بلاوے کے عنوان کے ذریعے پورے دین کی طرف اور اس کی اقامت اور اس پر عمل کے لیے بلایا جاتا ہے۔ اس کے بعد پھر دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے اعلان کا اعادہ کیا جاتا ہے اور ایک مرتبہ عقیدۂ توحید کا اعادہ کیا جاتا ہے۔ اذان کے ذریعے یہ بلاوا ایسا بلاوا ہے کہ اس سے بڑا بلاوا کوئی نہیں ہوسکتا، ایک مسلمان کو اس کا عقیدہ، نماز اور دین یاد دلایا جاتا ہے اور اس کے ذریعے اسے بلایا جاتا ہے۔ اس کے بعد کسی مسلمان کے لیے کوئی گنجایش نہیں رہ جاتی کہ وہ اذان کے بعد اپنے کاموں میں مشغول ہو اور مسجد میں نماز کے لیے نہ پہنچے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے معنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ اسے اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی کوئی پروا نہیں اور وہ اس وسیلے سے پکار کی بھی کوئی قدر و منزلت کرنے والا نہیں ہے۔
آج کے دور میں اس اذان کے ہوتے ہوئے مسلمان اگر اپنے دین اور اس کے تقاضوں کو بھولے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہونے کے بجاے غیراللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین اور نظام کو قائم کرنے کے بجاے غیروں کے نظام کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان اذان کو سنتے ہیں لیکن اسے سمجھتے نہیں، اسے سنتے ہیں لیکن اَن سنی کردیتے ہیں۔ یہ تو وہی روش ہے جسے یہودیوں نے اختیار کیا تھا۔ وہ کہتے تھے: سمعنا وعصینا، ہم نے سن تو لیا ہے لیکن ہم نافرمانی کریں گے۔ آج مسلمانوں کو اس اذان پر اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونا چاہیے اور اپنے دین کی عظمت کے سامنے سرجھکا دینا چاہیے کہ اس اذان نے ان کے دین کے خلاصے کو محفوظ کردیا ہے، اوردنیا کی کسی قوم کے پاس اس اذان کے مقابلے کی کوئی چیز نہیں ہے جس طرح کہ دین اسلام اور قرآنِ پاک کے مقابلے کی کوئی چیز ان کے پاس نہیں ہے۔ کاش! مسلمان خوابِ غفلت سے بیدار ہوں۔
o
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص میری اس مسجد میں آئے، خیر کو سننے، جاننے اور تعلیم دینے کے لیے وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے، اور جو کسی دوسری غرض سے آیا تو اس کی مثال ایسے شخص کی ہے جو دوسرے کے سامان کو دیکھنے کے لیے آئے۔ (بیہقی، ابن ماجہ)
مسجد نبویؐ اور دیگر مساجد میں حاضری کی غرض و غایت اس حدیث سے اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ مساجد میں نماز، اللہ تعالیٰ کے ذکر ، حصولِ علم اور تعلیم و تدریس کے لیے حاضری دیا کریں۔
حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ بنی تمیم قبیلہ کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: اے بنی تمیم! بشارت قبول کرو۔ انھوں نے کہا: یارسولؐ اللہ! آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو پھر ہمیں مال عنایت فرما دیں۔ اس پر آپؐ کے چہرئہ انور کا رنگ متغیر ہوگیا۔ اس کے بعد یمن کے کچھ لوگ آئے تو آپؐ نے فرمایا: یمن والو! تم بشارت قبول کرو، جب کہ بنوتمیم نے قبول نہ کی۔ انھوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ہم نے قبول کی۔ تب آپؐ نے کائنات کے حالات، اس کی پیدایش سے لے کر اہلِ جنت کے جنت میں داخل ہونے اور اہلِ دوزخ کے دوزخ میں داخل ہونے تک بیان کرنا شروع کردیے۔ اس دوران میں آواز دینے والے نے آواز دی :اے عمران! تیری اُونٹنی رسی کھول کر نکل گئی ہے۔ میں اُونٹنی کو پکڑنے کے لیے آپؐ کی مجلس سے اُٹھ گیا، لیکن اُونٹنی تو دُور دُور تک نظر نہ آئی۔ جو لوگ مجلس میں بیٹھے رہے انھوں نے آپؐ کا سارا بیان سن لیا۔ کسی نے سارا بیان یاد رکھا اور کسی نے کچھ بھلا دیا اور کچھ یاد رکھا۔ مجھے اپنے اُٹھ جانے کا افسوس ہوا۔ کاش! میں آپؐ کی مجلس سے نہ اُٹھتا اور آپؐ کا سارا بیان سن لیتا۔ (بخاری، باب بدء الخلق)
حضرت عمران بن حصین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور صحابی ہیں۔ آپؐ کی مجالس میں شرکت کی سعادت سے سرفراز ہوئے۔ کائنات کے حالات کا اوّل سے لے کر آخر تک کا بیان، حضورؐ کے بیانات میں سے ایک اہم بیان ہے۔ عمران بن حصینؓ اُونٹنی کو پکڑنے کی خاطر اُٹھ کر چلے گئے، اُونٹنی بھی نہ مل سکی اور آپؐ کے پورے بیان کے سننے سے بھی محروم ہوگئے۔ بعد میں اُونٹنی کے نہ ملنے کا افسوس تو نہ ہوا لیکن آپؐ کی علمی مبارک مجلس سے اُٹھ کر چلے جانے کا نہایت افسوس ہوا۔
صحابہ کرامؓ کو اصل شوق آپؐ کی مجلس میں حاضری اور تحصیلِ علم کا تھا۔ مال و مویشی ،سواریاں اور دنیاوی کام ان کے نزدیک ثانوی حیثیت رکھتے تھے۔ انھیں کبھی بھی اس بات کا افسوس نہیں ہوا کہ وہ آپؐ کی مجلس میں شرکت کے سبب کسی دنیاوی منافع سے محروم ہوگئے۔ آپؐ کی مجلس سے محروم ہوجاتے تو اس کا انھیں بڑا افسوس ہوتا تھا۔ آج کے دور میں ہمیں دنیا کمانے کا بڑا شوق ہے اور یہی ہمارا اصل کام بن گیا ہے۔ علم اور تحریکی کام ہمارے ہاں ثانوی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ وہ کردار جو جماعت صحابہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں سرانجام دیا وہ کام اسی طرح کے لوگ ادا کرسکتے ہیں جن کے ہاں علمِ دین اور تحریکی کام مقدم ہو اور دنیوی کام ثانوی حیثیت رکھتے ہوں۔ آیئے ہم اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم اس معیار پر پورا اُترتے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر اس کا مداوا کرنا چاہیے اور ایسے کارکن تیار کرنا چاہییں جو اس معیار پر پورا اُترتے ہوں۔ جب ایسے کارکنوں پر مشتمل معیاری لوگ تیار ہوکر جدوجہد میں سرگرمِ عمل ہوں گے، تو پھر اسلامی انقلاب برپا ہونے کے راستے میں تمام رکاوٹیں دُور ہوجائیں گی۔
o
حضرت حفصہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار کاموں کو نہیں چھوڑتے تھے: سفر اور حضر ہرحال میں انھیں ادا فرماتے تھے۔ عاشورے کا روزہ، ذوالحجہ کے نو روزے، یکم سے لے کر ۹ذوالحجہ تک، اور ایامِ بیض ۱۳،۱۴،۱۵ تاریخوں کے روزے اور فجر کی دو سنتیں۔ (نسائی)
رمضان المبارک کے فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزوں کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کا اہتمام فرماتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی آپؐ نفلی روزے رکھتے تھے ، مثلاً سوموار اور جمعرات کا روزہ۔ رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھے روزے رکھنے والا صائم الدھر (ہمیشہ روزہ رکھنے والا) شمار ہوتا ہے۔نفلی روزوں کی سیرت و کردار کی تعمیر اور اللہ سے تعلق قائم رکھنے میں بڑی اہمیت ہے۔ ہمارے گھروں میں بعض خواتین ان کا اہتمام کرتی ہیں۔ کچھ گھرانوں میں روایتاً رکھے جاتے ہیں۔ اخوان المسلمون کی طرح ہمارے ہاں اس کا کلچر ہونا چاہیے۔ بیش تر لوگ رکھتے ہوں، عام طور پر رکھتے ہوں۔ عموماً شاذ ہی ذکر ہوتا ہے۔ تربیتی پروگراموں کا یہ حصہ ہونا چاہیے۔
o
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس حال میں فوت ہوگیا کہ اللہ کی راہ میں پہرہ دے رہا تھا تو وہ جو عملِ صالح دنیا میں کرتا تھا، ان سب کے اعمال کا ثواب برابر جاری رہے گا۔ اس کا رزق بھی جاری رہے گا، وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا، اور قیامت کے روز اس حال میں اُٹھے گا کہ قیامت کی ہولناکیوں سے خوف زدہ نہ ہوگا۔ (ابن ماجہ، مسند صحیح)
جو شخص اللہ کی راہ میںپہرہ دے رہا ہے، اسلام اور اُمت مسلمہ کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے، اسے دشمن کے شر سے اور مسلمان ملک پر کفار کے قبضے سے بچانے میں مشغول ہے، اسلامی نظام برپا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، وہ اس دنیا سے چلا جائے تو بھی اس کے نیک اعمال کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ عالمِ برزخ میں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق بھی ملے گا اور وہ جب تک دنیا میں ہے اس وقت تک شیطان کے شر سے بھی محفوظ ہے اور قیامت کے روز جو انتہائی سخت دن ہے اس میں لوگوں کے لیے بڑی بڑی مشکلات اور مصیبتیں ہوں گی، لوگ اپنے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، کوئی گھٹنوں تک، کوئی پیٹ تک اور کوئی گلے تک، لیکن یہ شخص ہرقسم کی تکلیف اور مصیبت سے محفوظ ہوگا۔ اس حدیث میں اقامت ِ دین کے لیے جدوجہد کرنے والوں، مسلمان ممالک کو کفار کے قبضے سے آزاد کرانے والوں کے لیے بڑی بشارت ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ جو اس دور میں بھی یہ خدمت سرانجام دے رہے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے نفاذ اور اُمت مسلمہ کی حفاظت میں سرگرمِ عمل ہیں۔ دنیا کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر یہ نعمت ہے۔ ایسے لوگوں کو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کام میں ہرقسم کی تکلیف اور قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جتنا بڑا اجر ہے، اتنی ہی بڑی قربانی دینے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ جن کو اس خدمت کے لیے منتخب کرتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں۔ وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان سے محبت کرتا ہے اور اپنے دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد کی سعادت سے نوازتا ہے۔
o
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں پہنچا کہ آپؐ کعبہ کی دیوار کے سایے میں تشریف فرما تھے۔ جب آپؐ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ربِ کعبہ کی قسم! یہ لوگ بہت بڑے خسارے میں ہیں، یہ لوگ سب سے زیادہ خسارے میں ہیں۔
آپؐ نے فرمایا: یہ وہ ہیں جن کے پاس دوسروں سے زیادہ مال ہے، مگر وہ اس خسارے سے محفوظ ہیں جو بے تحاشا خرچ کریں، آگے ، پیچھے، دائیں، بائیں، لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ (متفق علیہ)
جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے حلال مال دیا ہے، ان کے لیے وقت ہے کہ وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔ آج دین کی تعلیم و اشاعت ، دعوت وتبلیغ اور اس کے نظام کی تنفیذ کے لیے سب سے زیادہ مال کی ضرورت ہے۔ قرآن پاک کی آسان تفاسیر لوگوں تک پہنچانا، آسان لٹریچر فراہم کرنا، اُردو انگریزی اور دوسری زبانوں میں لے کر لوگوں کے گھروں پر دستک دینا اور اپنے مکتبوں میں سستے داموں اور اچھے کاغذ پر فراہم کرنا وقت کی آواز ہے۔ اس طرح اچھی اخلاقی اور دینی کیسٹ، سی ڈی اور فلمیں تیار کرنے کے لیے بھی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ لادینیت اور فحاشی اور عریانی کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہورہی ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اس کی اشاعت پر اپنا مال خرچ کر رہے ہیں، تو دین دار لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ہرسطح پر ان کا مقابلہ کریں اور ان کو اس میدان میں بھی شکست سے دوچار کردیں۔
o
حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مچھلی والے کی دعا، جب کہ انھوں نے مچھلی کے پیٹ میں دعا کی، اللہ تعالیٰ کو ان کلمات سے پکارا: لَا اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ،جو آدمی بھی ان کلمات سے دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرمائیں گے۔ (ترمذی)
کتنی آسان دعا ہے۔ اسے ہرمسلمان یاد کرسکتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے ہرعیب سے پاک ہونے کا اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف و اقرار ہے۔ دریا میں ڈوب جانا، مچھلی کے پیٹ میں چلے جانا کتنی بڑی تکلیف ہے۔ ایسی تکلیف کہ اس سے رہائی کا تصور تک نہیں ہے لیکن حضرت یونس ؑکو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کی بدولت رہائی عطا فرمائی۔ معلوم ہوا کہ بڑی سے بڑی تکلیف اور سخت سے سخت قید سے بھی اس دعا کی بدولت رہائی مل سکتی ہے۔ آج، جب کہ مسلمان کفار کے مظالم کا شکار ہیں، تنگ و تاریک کوٹھڑیوں کے اندر قید اور گرفتار ہیں اور طرح طرح کی اذیتیں برداشت کر رہے ہیں، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا سہارا ہی رہائی کا سامان ہے۔ جو مسلمان قید اور گرفتار ہیں، وہ بھی اس دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو پکاریں اور مسلمان بھائی جو اپنے اپنے ملکوں میں آزادی کی نعمت سے سرفراز ہیں وہ بھی ان کے لیے یہ دعا پڑھیں۔ جتنی تعداد میں پڑھ سکیں، بہتر ہے۔ ایک لاکھ کی تعداد میں پڑھی جائے تو اکثر اوقات اس کی تاثیر ظاہرہوجاتی ہے لیکن اگر لاکھ مرتبہ پڑھنے سے بھی تاثیر ظاہر نہ ہو تو چھوڑ نہ دیا جائے اسے مسلسل پڑھا جائے۔ ان شاء اللہ کسی وقت اثر ظاہر ہوگا۔
حضرت ابوقتادہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور رات کو پڑائو فرماتے تو اپنے دائیں بازو پر لیٹ جاتے اور جب صبح کے قریب پڑائو فرماتے تو اپنا بازو کھڑا کر کے اپنا سرمبارک اس پر رکھ دیتے۔ (مسلم)
نماز کی فکر میں آپؐ لیٹنے کے بجاے بازو کھڑا کر کے اس پر سرمبارک رکھتے تھے تاکہ گہری نیند کے سبب نماز قضا نہ ہوجائے۔ نبی کریمؐ کے سفر دن رات جاری رہتے تھے اور آپؐ کے یہ سفر جہادی سفر تھے۔ جہادی سفر کے دوران میں بھی ذکرالٰہی اور نمازوں کی اسی طرح پابندی ہوتی تھی جس طرح مدینہ طیبہ میں قیام کے دوران میں ہوتی۔ آج کے دور میں دعوتی مہمات جلسوں، جلوسوں اور سیاسی اجتماعات میں نمازوں کی پوری پابندی کرنا چاہیے اور نماز باجماعت کا ٹھیک طرح سے اہتمام کرنا چاہیے۔ نمازوں کے سلسلے میں نبی کریمؐ کے اسوئہ حسنہ کو پوری طرح پیش نظر رکھ کر اس کے مطابق اپنے معمولات کو ترتیب دینا چاہیے۔
o
حضرت ابوذرؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ایک آدمی اچھا عمل کرتا ہے تو لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ تعریف مومن کے لیے نقد بشارت ہے۔ (مسند احمد)
نیک لوگوں کی تعریف اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت کی علامت ہے۔ جب ایک آدمی اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں میں شامل ہوجاتا ہے، نیک کام کرتا ہے، اس کی نیت رضاے الٰہی کا حصول ہوتی ہے، ریاکاری کی نیت سے نیکی نہیں کرتا، تو اللہ تعالیٰ لوگوں کے دل میں اس کی محبت ڈال دیتے ہیں اور لوگ اس کی قدر کرتے ہیں۔ ایمان کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ نیک لوگوں کی قدر کی جائے اور ان کی صحبت اختیار کی جائے، ان کا ساتھ دیا جائے، ان کی جماعت کو مضبوط کیا جائے۔ ایمان کے اس تقاضے کے سبب نیک لوگوں کی تنظیمیں وجود میں آتی ہیں اور وہ مل جل کر اللہ تعالیٰ کی بندگی اور دین کی سربلندی کے لیے کام کرتے ہیں۔ نیک لوگوں کی زندگی میں بھی ان کی تعریف ہوتی ہے اور ان کے فوت ہوجانے کے بعد بھی ان کا ذکر خیر جاری رہتا ہے۔ ان کے تذکروں سے لوگ اپنے ایمان کو تازگی اور قوت دیتے ہیں۔ یہ نیک لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نقد بشارت کا انتظام ہے۔
o
حضرت مغیرہ بن سعد اپنے باپ یا چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات میں تھے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے آپؐ کی اُونٹنی کی باگ پکڑنا چاہی تو مجھے ہٹا دیا گیا۔ یہ دیکھ کر آپؐ نے فرمایا: اسے آنے دو، کوئی بڑی حاجت ہے جو اسے لائی ہے۔تب میں آپؐ کے قریب آیا اور عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتلا دیجیے جو مجھے جنت سے قریب اور دوزخ سے دُور کردے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات سن کر اپنا سرمبارک آسمان کی طرف اُٹھایا، پھر فرمایا: تو نے بات تو بہت مختصر پوچھی ہے لیکن درحقیقت یہ بہت طویل اور عظیم بات ہے۔ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، بیت اللہ کا حج کرو، رمضان المبارک کے روزے رکھو اور لوگوں کے ساتھ وہ سلوک کرو جیسا سلوک لوگوں سے چاہتے ہو اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہو وہ لوگوں کے لیے بھی ناپسند کرو۔ (مسند احمد)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کا جامع نسخہ عنایت فرما دیا۔ قدم قدم پر جس رہنمائی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ آپؐ نے اس کا ضابطہ بیان فرما دیا ہے۔ آدمی کوئی قدم اُٹھانے سے پہلے سوچ لے کہ وہ جو کام کرنے لگا ہے، اس سے کسی کو تکلیف تو نہ ہوگی، اس سے کسی کا حق تو نہیں مارا جائے گا۔ اگر ایسا کام ہو تو اسے چھوڑ دے۔ جنت میں جانے اوردوزخ سے بچنے کا راستہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کے احکام کی پیروی ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ آدمی کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور احکام کی اطاعت کے لیے تیار کرتے ہیں۔ نبی کریمؐ کے اس ارشاد پر عمل کرنے والا اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ حرام کے ارتکاب اور لوگوں کو تکلیف دینے سے بچے گا، تو وہ سیدھا جنت میں جانے کا سامان کرے گا، اور کامیابی و کامرانی سے ہم کنار ہوگا۔ خالق بھی اس سے راضی ہوگا اور خلقِ خدا بھی خوش ہوگی۔
o
حضرت ابوالدردائؓ پودے لگا رہے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس سے گزرا۔ اس نے آپ کو پودے لگاتے دیکھ کر کہا کہ آپ پودے لگا رہے ہیں حالانکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ انھوں نے جواب دیا: ٹھیرجائو، جلدی نہ کرو، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے ایسے پودے لگائے جن سے انسان اور اللہ تعالیٰ کی کوئی مخلوق کھائے تو اس کے لیے صدقہ ہوگا۔(مسند احمد)
دیکھنے والے کی نظر میں صحابی ٔ رسولؐ کو کوئی اعلیٰ کام کرنا چاہیے تھا۔ نماز، تلاوت، ذکرواذکار، وعظ و نصیحت، دعوت و جہاد کے کاموں کو اس نے اعلیٰ سمجھا۔ پودے لگانے کو اس نے حقیر کام جانا۔ حضرت ابوالدردائؓ نے اس کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا کہ پودے لگانا بھی اعلیٰ کام ہے۔ یہ پودے لگانے والے کے لیے صدقۂ جاریہ ہے اور خلقِ خدا کی خدمت ہے۔ عبادت صرف ذکرواذکار، تلاوت ، نماز، روزہ، دعوت و تبلیغ اور جہاد کا نام نہیں بلکہ خلقِ خدا کی خدمت بھی عبادت ہے۔ خلقِ خدا کی خدمت کی جو بھی شکل ہو، اس میں اجر ہے۔ آج بھی لوگوں کو غلط فہمی ہے، وہ خلقِ خدا کی خدمت کو، زراعت، دکان داری اور ملازمت کو عبادت نہیں سمجھتے حالانکہ یہ تمام چیزیں عبادت ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان کاموں کو کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور رزقِ حلال ساتھ خلقِ خدا کی خدمت کی نیت ہو، اور ایسی صورت سے اجتناب کیا جائے جس میں شریعت کی خلاف ورزی ہو۔
o
حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک غزوے پر بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو میں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: آپؐ نے لوگوں کو غزوے پر بھیجنے کا ارادہ فرمایا ہے۔ میں بھی اس غزوے میں جارہا ہوں۔ میرے لیے شہادت کی دُعا فرمایئے۔ آپؐ نے دُعا فرمائی: اے اللہ! انھیں سلامتی عطا فرما اور غنیمت سے نواز۔ ہم غزوہ میں گئے اور صحیح سالم، مالِ غنیمت لے کر واپس لوٹے۔ اس کے بعد پھر آپؐ نے ایک غزوے پر لوگوں کو بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو میں پھر حاضر ہوا ،اور عرض کیا کہ میرے لیے شہادت کی دُعا کیجیے۔ آپؐ نے پھر وہی دُعا دی جو پہلی مرتبہ دی تھی۔ ہم غزوے میں گئے اور بسلامت مالِ غنیمت لے کر واپس آئے۔ تیسری مرتبہ آپؐ نے ایک غزوے کا ارادہ فرمایا تو میں پھر حاضر ہوا اور شہادت کے لیے دُعا کی درخواست کی۔ آپؐ نے پھر وہی دُعا دی۔ ہم غزوے میں چلے گئے اور مالِ غنیمت لے کر بسلامت لوٹے۔
میں ایک بار پھر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں مسلسل تین مرتبہ حاضر ہوا، شہادت کے لیے دُعا کی درخواست کی تو آپؐ نے سلامتی اور مالِ غنیمت لے کر لوٹنے کی دُعا فرمائی۔ اب مجھے کوئی ایسا حکم دیجیے جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے۔ آپؐ نے فرمایا: روزے رکھو، اس کی کوئی مثل نہیں ہے (یعنی تزکیۂ نفس کا بہترین نسخہ ہے)۔ چنانچہ ابوامامہؓ کے گھر میں دن کے وقت دھواں نہیں دیکھا جاتا تھا۔ اگر کبھی ان کے گھر میں دھواں نظر آتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ آج ان کے ہاں مہمان ہیں۔ ابوامامہؓ اور ان کے اہلِ خانہ روزے سے رہتے تھے۔ اس لیے دن کو کھانا نہیں پکتا تھا۔ ابوامامہؓ کہتے ہیں: اس کے بعد میں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپؐ نے مجھے ایسا حکم دیا ہے مجھے امید ہے کہ میں اس پر عمل کروں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے اس سے نفع دے گا۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی اور حکم بھی عنایت فرمائیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: نوافل پڑھا کرو۔ اس حقیقت کو جان لو کہ جتنے سجدے کرو گے ہرسجدہ ایک خطا کو مٹا دے گا اور ایک درجہ بڑھا دے گا۔(مسند احمد)
صحابہ کرامؓ کو جامِ شہادت نوش کرنے کا شوق تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک صحابی کے لیے شہادت کی دُعا نہیںکی۔ بعض کے لیے شہادت کی دُعا بھی کی ہے اور انھوں نے جامِ شہادت نوش کرکے شہادت کا درجہ پایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر سارے پہلوئوں پر تھی۔ ہر ایک مجاہد کے لیے شہادت مطلوب نہیں ہے بلکہ اکثر کے لیے سلامتی اور کامیابی کے ساتھ واپسی مطلوب ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا دین غالب ہو اور دین کی سربلندی کے لیے جہاد کرنے والے کامیابی کے بعد علاقے کا نظم ونسق اپنے ہاتھ میں لے کر خلقِ خدا کو قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کریں۔ عدل و انصاف کا دور دورہ ہو اور خلقِ خدا کی ضروریات اور مسائل حل ہوں۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوامامہؓ کو شہادت کے بجاے غازی ہونے کی دُعا دی۔ حضرت ابوامامہؓ نے سمجھا کہ ابھی مہلت عمل اچھی خاصی باقی ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا نسخہ دریافت کیا جائے جس کے نتیجے میں زندگی بارآور اور بابرکت اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہو۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے روزہ اور اس کے بعد نوافل کی تلقین فرمائی کہ روزہ اور نماز سے ایمان کو قوت اور جِلا ملتی ہے اور نیکیاں آسان اور برائیاں مشکل ہوجاتی ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن یا ایک رات گھر سے نکلے تو دیکھا کہ ابوبکرؓ و عمرؓ بھی اپنے گھروں سے باہرنکلے ہوئے ہیں۔آپؐ نے دونوں سے پوچھا: اس وقت اپنے گھروں سے باہر کیسے نکلے ہیں؟ انھوں نے عرض کیا: یارسولؐاللہ! بھوک کی وجہ سے باہر نکلے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں بھی بھوک کے سبب نکلا ہوں۔ اچھا، تو آئو چلتے ہیں۔ وہ آپؐ کے ساتھ چل پڑے۔ آپؐ ایک انصاری صحابیؓ کے گھر تشریف لے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ گھر میں نہیں ہے۔ جب ان کی بیوی نے آپؐ کو دیکھا تو آپؐ کا اھلًا مرحبا کے کلمات سے استقبال کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: فلاں آدمی (آپ کا شوہر) کہاں ہے؟ تو اس نے جواب دیا: وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گیا ہے۔ اتنے میں وہ انصاری بھی آگئے۔ انھوں نے رسولؐ اللہ اور آپؐ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھ کر الحمدللہ کہا، اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا: آج کے دن کوئی بھی ایسا میزبان نہیں ہے جو مجھ سے زیادہ مکرم و معزز ہو۔
ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ یہ کہہ کر وہ باغ میں چلے گئے۔ کھجوروں کا ایک بڑا خوشہ لے کر آگئے جس میں مختلف قسم کی کھجوریں تھیں۔ خوشہ آپؐ کے سامنے رکھا اور عرض کیا: اس سے کھجوریں تناول فرمائیں۔ پھر چھری پکڑی تاکہ بکری ذبح کرکے گوشت تیار کریں اور وہ بھی آپؐ کی خدمت میں پیش کریں۔ آپؐ نے ان کے ارادے کو بھانپ کر فرمایا: دودھ دینے والی بکری نہ ذبح کرنا۔ وہ گوشت بھی تیار کر کے لے آئے۔ آپؐ نے کھجوریں اور گوشت کھایا اور ٹھنڈا میٹھا پانی پیا۔ جب کھانے اور پانی سے سیر ہوگئے تو ابوبکرؓ اور عمرؓ سے فرمایا: قیامت کے روز تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ تم بھوکے نکلے تھے، پھر اس حال میں اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہو کہ ان نعمتوں سے سیر ہوگئے۔ (مسلم، مشکوٰۃ، باب الضیافۃ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسی زندگی بسر کی، اس کا ایک نمونہ اس حدیث سے سامنے آتا ہے۔ ۷ہجری میں حضرت ابوہریرہؓ مسلمان ہوئے ہیں، یہ واقعہ اس کے بعد کا ہے۔ فتوحات بھی ملیں، خیبر بھی فتح ہوا، یہودیوں کی زمینیں بھی قبضے میں آئیں، کھجوروں کے باغات بھی آپ کو مل گئے لیکن اس کے باوجود گھروں کی یہ حالت ہوتی تھی کہ بعض اوقات کھانے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ کا عموماً یہی حال تھا، اس لیے کہ قبضے میں آنے والے خزانے اپنے گھروں میں جمع کرنے کے بجاے فقرا و مساکین اور مسافروں میں تقسیم کردیے جاتے تھے۔ یہ ہے وہ حکومت جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی۔ کاش! آج کے مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ کو اپنے پیش نظر رکھ کر ایسی حکومت قائم کریں جو حکومت کے خزانوں سے حاجت مند مسلمانوں اور شہریوں کی ضروریات پوری کریں۔
o
حضرت اُمیمہ بنت رقیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے اور چند عورتوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی، تو آپؐ نے فرمایا: یوں کہو کہ ہم اپنی استطاعت اور طاقت کے مطابق اطاعت کریں گی۔ اس پر میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسولؐ ہم پر ہمارے نفسوں سے بڑھ کر مہربان ہیں۔ ہم نے درخواست کی کہ یارسولؐ اللہ! ہم سے مبارک ہاتھ سے مصافحہ کر کے بیعت لیں تو آپؐ نے فرمایا: میں عورتوں کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا، بلکہ زبانی بیعت لیتا ہوں اور ایک سو عورتوں سے بھی اسی طرح بیک وقت چند زبانی کلمات سے بیعت لیتا ہوں جس طرح ایک عورت سے۔(ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، مشکوٰۃ باب الصلح)
دین اسلام آسان دین ہے اور انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا جس کی استطاعت ہمارے اندر نہ ہو۔ خواتین کو بھی وہی احکام دیے ہیں جن پر وہ آسانی سے عمل کرسکتی ہیں اور جہاں انھیں مشکلات پیش آسکتی ہوں وہاں انھیں استثنا دیا گیا ہے، مثلاً حدود و قصاص کے معاملات میں عورتوںپر گواہی کا بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ عورتوں کے ساتھ مردوں کا مصافحہ کرنا مغربی کلچر ہے۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی طیب و طاہر معصوم ذات اگر عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتی تو دوسرا کوئی کیسے مصافحہ کرسکتا ہے؟
o
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے ایک آدمی کھانا کھا لے تو یوں دعا کرے: اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَاطْعَمْنَا خَیْرًا مِّنْہُ، ’’اے اللہ! ہمارے اس کھانے میں ہمیں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے بہتر کھانا عنایت فرما‘‘۔ اور جب دودھ پیے تو یوں دعا کرے: اے اللہ! ہمیں اس دودھ میں برکت عطا فرما اور ہمیں زیادہ دودھ عنایت فرما۔ کوئی چیز بھی کھانے اور دودھ دونوں کی جگہ نہیں لیتی مگر دودھ۔ اس لیے جب دودھ پیے تو کسی اور چیز کے بجاے دودھ کی کثرت کی دعا کرے۔ (ترمذی، ابوداؤد)
کھانا ہو یا دودھ اس وقت تک کارآمد نہیں ہے جب تک اللہ تعالیٰ اسے برکت نہ دے دے۔ کھانا اور دودھ آدمی کے لیے اس وقت بابرکت ہیںجب وہ جزوِ بدن بن جائیں اس کی وجہ سے جسم میں مفید صحت خون دوڑے، بلڈپریشر اور شوگر وغیرہ جیسی کسی بھی بیماری کا سبب نہ بنے، اس کے بجاے جسم میں قوت پیدا کرے اور انسان مستعد اور فعال ہو، اپنے فرائض دنیوی و دینی اچھی طرح سے ادا کرے۔ اس لیے کھانے میں برکت کی دعا ضروری ہے۔ پھر دودھ کی اہمیت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذہن نشین کرا دی کہ دودھ کھانا اور پانی دونوں کا مجموعہ ہے۔ دودھ کی افادیت قدیم اور جدید طب اور عوامی تجربات سے اچھی طرح واضح ہے۔ حکومت اور دودھ فروشوں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو خالص دودھ فراہم کریں۔ اسی طرح باقی چیزوں میںبھی ملاوٹ سے پرہیز کریں۔ آج زیادہ بیماریاں اس وجہ سے پھیل گئی ہیں کہ خالص اور قدرتی غذائیں میسر نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ سے تعلق بھی کمزور ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعائوں کا سلسلہ بھی ختم ہے، اور اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری اور عملِ صالح کی برکتوں سے بھی ہم محروم ہیں۔
o
حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: گھر کے کام کاج کیا کرتے تھے، جب اذان سنتے تو مسجد کے لیے نکل جاتے۔ (بخاری، کتاب النفقات)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مصروفیات بے پناہ تھیں۔ آپؐ پر قرآن پاک اُترتا تو آپؐ اسے اپنے سینے میں محفوظ کرتے، اپنے صحابہ کرامؓ کو یاد کراتے، اس کی تعلیم دیتے، اس پر عمل کرتے اور عمل کراتے، اس کی تبلیغ کرتے، اس کی تنفیذ کے لیے جہاد کرتے لیکن اس کے باوجود گھر کے کاموں میں اہلِ خانہ کے ساتھ ہاتھ بٹاتے اور گھر میں عبادت کے ساتھ مسجد میں حاضری کی بھی پوری طرح پابندی فرماتے، خود جماعت کراتے اور نماز کے بعد لوگوں سے عمومی ملاقاتیں بھی کرتے اور لوگوں کے مسائل بھی حل کرتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمارے لیے بڑا نمونہ ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ تمام فرائض کو مستعدی سے ادا کریں اور اہلِ خانہ کی بھی رعایت کریں اور ان کے کاموں میں انھیں بھی مدد دیں۔
o
حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں حضرت حسن بصری نے بیان کیا کہ معقل بن یسار کی بہن ایک آدمی کے نکاح میں تھی۔ اس نے اسے طلاق دے دی۔ عدت میں اس سے رجوع نہ کیا۔ مدت گزرنے کے بعد دوبارہ معقل بن یسار کو اس سے نکاح کا پیغام بھیجا تو معقل بن یسار نے اس کے طرزِعمل پر غیرت کھائی اور کہا کہ پہلے طلاق دی، پھر عدت میں بھی اس سے رجوع نہ کیا۔ میری بہن کی اس قدر تذلیل کی اب پھر نکاح کرنا چاہتا ہے۔ میں اپنی بہن کو اس کے ساتھ کبھی بھی نکاح نہ کرنے دوں گا جب کہ بہن بھی دوبارہ نکاح پر راضی تھی۔ اس پر اللہ عزوجل نے قرآن پاک کی یہ آیت اُتاری: وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ(جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدّت پوری کرلیں،تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کرلیں،جب کہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں البقرہ۲:۲۳۲) ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے آیت پڑھ کر سنائی تو انھوں نے غیرت و حمیت چھوڑ دی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے جھک گئے۔ (بخاری، کتاب الطلاق)
صحابہ کرامؓ کی یہ شان تھی کہ انھوں نے اپنی انانیت کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے آگے قربان کر دیا۔ اللہ کے حکم کے سامنے انھوں نے سر جھکا دیے۔ آج کے مسلمان اپنی جاہلی رسوم و روایات کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں، انھیں اللہ تعالیٰ کے احکام کے مقابلے میں اُونچا کیے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ ملکی نظام میں بھی اپنی پسند و ناپسند کو اللہ تعالیٰ کی پسند و ناپسند کے مقابلے میں ترجیح دی ہوئی ہے، نتیجتاً اسلامی نظام معطل ہے اور لادینی نظام قائم و نافذ ہے۔ کاش آج مسلمان معقل بن یسار اور صحابہ کرامؓ کو نمونۂ عمل بنا کر جاہلیت کے بتوں کو توڑ دیں اور اللہ تعالیٰ کے دین کو عملی جامہ پہناکر اپنی عظمت رفتہ کو بحال کردیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ کے پاس کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ دوسری طرف قریش کی ایک جماعت مجلس جمائے بیٹھی تھی کہ اس دوران میں ایک کہنے والے نے کہا کہ دیکھتے نہیں ہو اس کو جو ہمیںکھا کر نماز پڑھ رہا ہے۔ تم میں سے کون اُٹھے گا اور فلاں آدمی کی اُونٹنی کا اوجھ لے آئے جس میں گوبر، خون اور دیگر چیزیں بھری ہوئی ہیں، اور انتظار کرے کہ یہ سجدہ میں جائے اور پھر اس اوجھ کو اس کے دونوں شانوں کے بیچ میں رکھ دے تاکہ یہ اُٹھ نہ سکے۔ چنانچہ ان کا سب سے بڑا بدبخت شخص (عقبہ بن ابی معیط) اُٹھا اور اُونٹ کا اوجھ لے کر آگیا اور جب آپؐ سجدے میں گئے تو آپؐ کے دونوں شانوں کے بیچ میں رکھ دیا جس کے نتیجے میں آپؐ سجدے سے نہ اُٹھ سکے۔ اس حالت کو دیکھ کر کفارِ قریش ہنسنے لگے اور ایک دوسرے پر گرنے لگے، اور آپؐ کے ساتھ تمسخر کرکے مزے لیتے رہے۔ تب ایک شخص حضرت فاطمہؓ کی طرف دوڑا جو اس وقت نابالغ بچی تھیں (وہ شخص عبداللہ بن مسعود ہی تھے) انھیں جاکر صورت حال بیان کی۔ وہ دوڑتی ہوئی آئیں اور اس اوجھ کو آپؐ کے کندھوں سے گرا یا۔ پھر کفارِ قریش کی طرف متوجہ ہوئیں اور انھیں سخت سُست کہا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے کفارِ قریش کے خلاف بددُعا فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا: اَللّٰھُمَّ عَلَیْک بِقُریشٍ، ’’اے اللہ! قریش کو پکڑ، اے اللہ! قریش کو اپنی گرفت میں لے، اے اللہ! قریش کو پکڑ‘‘۔ اس کے بعد ایک ایک کا نام لے کر ان کے خلاف بددُعا فرمائی۔ فرمایا: اے اللہ! عمرو بن ہشام (ابوجہل) ،عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید کو پکڑ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیںکہ میں نے ان سب کو بدر میں ہلاک ہوتے دیکھا۔ انھیں کھینچ کر ایک کنوئیں کی طرف لے جایا گیا اور ان سب کو اس میں ڈال دیا گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خطاب کر کے فرمایا: اس کنوئیں والوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت مسلط ہوگئی۔ (بخاری، کتاب الصلوٰۃ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں جو آزمایشیں آئیں، اس کا ایک نمونہ اس حدیث میں پیش کیا گیا ہے۔ دونوں منظر آپ کے سامنے ہیں۔ ایک یہ منظر کہ کفارِ قریش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچاکر خوشی منارہے ہیں اور آپ کا مذاق اُڑا رہے ہیں، اور دوسرا منظر یہ کہ ان کی لاشیں بدر کے کنوئیں میں پڑی ہیں اور ان پر لعنت مسلط ہے۔یہ دونوں مناظر اہلِ ایمان کو درس دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمایشیں آتی ہیں لیکن انجامِ کار اہلِ حق کی کامیابی ہوتا ہے۔ دنیا میں کامیابی اور خوشی ایک طرف اور آخرت کا ثواب جنت کی شکل میں دوسری طرف، تب جدوجہد اور بندگیِ رب میں سُستی کا کیا جواز ہے؟
o
حضرت عبداللہ بن ابی قتادہؓ اپنے والد حضرت ابی قتادہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات جنگ سے واپس ہوئے۔ رات کے آخری حصے میں پہنچے تو بعض صحابہ کرامؓنے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! اگر آپ رات کے اس آخری حصے میں پڑائو کردیں تو بہت اچھا ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا: ایسی صورت میں مجھے ڈر ہے کہ تم نماز کے وقت سو جائو گے۔ اس پر حضرت بلالؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں آپ لوگوں کو بیدار کردوں گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑائو کرنے کا حکم دے دیا، چنانچہ لوگوں نے پڑائو کرلیا اور حضرت بلالؓ مشرقی اُفق کی طرف رُخ کر کے اپنی اُونٹنی کے کجاوے کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھ گئے۔ تمام لوگ سو گئے اور حضرت بلالؓ پر بھی نیند کا غلبہ ہوگیا اور وہ بھی سو گئے۔ لوگ سوئے رہے حتیٰ کہ سورج نکل آیا تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے۔ آپؐ کے بعد حضرت بلالؓ اور دوسرے صحابہؓ بھی بیدار ہوگئے۔ آپؐ نے حضرت بلالؓسے پوچھا: بلالؓ! کہاں گئی تمھاری بات؟ حضرت بلالؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آج جس قدر نیند کا غلبہ ہوا، اتنا غلبہ مجھ پر کبھی نہ ہوا تھا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو تسلی دی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمھاری روحوں کو جب چاہا قبض کرلیا اور جب چاہا تمھاری طرف لوٹا دیا (یعنی جب چاہا سلا دیا اور جب چاہا بیدار کر دیا)، یعنی ایسی صورت میں جب نیند کا غلبہ ہوجائے تو پھر نماز کے قضا ہوجانے کا گناہ نہیں ہوتا۔ اس کے بعد آپ ؐ نے فرمایا: بلالؓ! کھڑے ہوجائو اور اذان دو۔ پھر آپؐ نے اور صحابہ کرامؓ نے وضو کیا اور سورج بلند ہوگیا اور چمکنے لگا تو آپؐ نے نماز باجماعت ادا فرمائی۔ (بخاری)
غلبۂ نیند کی وجہ سے نماز کا قضا ہو جانا تقویٰ اور نیکی کے خلاف نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے جلیل القدر صحابہ کرام ؓسے بھی غلبۂ نیند کی وجہ سے نماز فوت ہوگئی، اور رات کو پڑائو کی وجہ سے دو تین مرتبہ ایسے واقعات رونما ہوئے جن کا تذکرہ احادیث میں آتا ہے۔ تقویٰ اور طہارت و تزکیہ کے انتہائی بلندمقام پر فائز ہو نے کے باوجود نبی بھی انسانی عوارض سے متصف ہوتا ہے۔ وہ سوتا ہے، اسے بھوک پیاس بھی لگتی ہے اور بیماری بھی لاحق ہوتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اور دیگر مواقع پر سونے سے منع فرمایا کہ کہیں سونے کی وجہ سے نماز قضا نہ ہوجائے لیکن آپ کو حضرت بلالؓ نے اطمینان دلا دیا کہ میں جگانے کا انتظام کردوں گا۔ تب آپؐ نے سونے کی اجازت دے دی۔ اس سے فقہا نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر نماز کا وقت قریب ہو تو پھر نیند سے احتراز کرنا چاہیے مگر ایسی صورت میں نیند کی جاسکتی ہے جب نماز کے وقت اُٹھانے کا انتظام کیا جائے۔ اس سے نماز کے بروقت اور باجماعت پڑھنے کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ صبح کی نماز قضا ہوجائے تو اس وقت ادا کی جائے جب سورج بلند ہوجائے اور چمکنے لگے۔ اس کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے جو حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج کا کنارہ طلوع ہوجائے تو نماز کو مؤخر کرو یہاں تک کہ سورج بلند ہوجائے، اور سورج کا کنارہ غائب ہوجائے تو نماز کو مؤخر کرو یہاں تک کہ وہ غروب ہوجائے۔
o
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دنیا و آخرت، دونوں جہانوں میں، ہرمومن کے ساتھ زیادہ شفقت رکھتا ہوں۔ پھر آپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَ اَزْوَاجُہٗٓ اُمَّھٰتُھُمْط (احزاب ۳۳:۶) ’’بلاشبہہ نبیؐ تو ایمان والوں کے لیے ان کی اپنی ذات پر مقدم ہے، اور نبیؐ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں‘‘۔ پھر آپؐ نے فرمایا: جو فوت ہوگیا اور اس نے مال چھوڑا تو اس کے وارث اس کے قرابت دار ہوں گے جو بھی ہوں۔ اور جو شخص قرض اور چھوٹے بچے چھوڑ کر فوت ہوجائے تو وہ میرے پاس آئے، مَیں اس کا ذمہ دار ہوں۔ (بخاری)
یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کی ایک مثال ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جس کا کوئی وارث اور کفیل نہیں ہے، اس کا مَیں کفیل ہوں۔ اسی بنا پر اسلامی حکومت ایسے تمام ضعیف لوگوں کی کفیل ہوتی ہے جن کا کوئی کفیل نہ ہو۔ ایک فلاحی اور رفاہی ریاست کا تصور اسلام نے دیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسوئہ حسنہ کا عکس ہے۔
o
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے، اس حال میں کہ گُوز مارتا ہے۔ جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو واپس آجاتا ہے۔ جب اقامت کہی جاتی ہے تو پھر پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے۔ جب اقامت ختم ہوجاتی ہے تو واپس آجاتا ہے اور آدمی اور اس کے نفس کے درمیان حائل ہوجاتا ہے (وسوسہ اندازی شروع کر دیتا ہے)، اور انسان کو وہ چیزیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں ہوتیں۔ یہاں تک کہ انسان بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ (بخاری، باب فضل التاذین)
اذان میں چار مرتبہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی ، دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی توحید ، دو مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعلان ہوتا ہے، نیز نماز کے لیے بلاوا اور پھر پورے دین کی طرف بلاوا ہوتا ہے۔ اس کے بعد دو مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اور توحید باری تعالیٰ کا اعلان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور توحید و رسالت کا اعلان اور نماز اور پوری دنیا کی طرف بلاوا شیطان کو خوف زدہ کردیتا ہے، وہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور اس وقت واپس آتا ہے جب اذان ختم ہوجاتی ہے۔ اس سے اذان کی فضیلت واضح ہوتی ہے۔ محدثین نے اس حدیث کو باب فضل التاذین میں ذکر کیا ہے۔ اس حدیث سے اہلِ ایمان کو حوصلہ ملتا ہے کہ ان کے پاس وہ کلمات اور دعوت ہے جو شیطان کو خوف زدہ کردینے والی ہے، شیطان کو بھگا دینے والی ہے، اس لیے انھیں مطمئن ہونا چاہیے کہ شیطان ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا بلکہ خود خوف زدہ ہوکر بھاگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بھی ارشاد فرمایا ہے: اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ (الحجر۱۵:۴۲) ’’یقینا میرے بندوں پر تیرا تسلط نہیں ہوگا‘‘۔ البتہ وہ وسوسہ اندازی کا کام کرے گا اور نماز کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا۔ لہٰذا اہلِ ایمان کو چاہیے کہ اپنی عبادات اور نماز میں اللہ تعالیٰ کی طرف پوری طرح رجوع کریں اور وسوسوں کا شکار نہ ہوں۔
اس ذکر کی مسلسل عبارت یوں ہے: لَا اِلٰہ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ، نہیں کوئی معبود مگر اللہ اور اللہ سب سے بڑا ہے، نہیں کوئی معبود مگر اللہ تنہا اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ نہیں کوئی معبود مگر اللہ، اسی کے لیے ہے بادشاہت، اوراسی کے لیے ہے حمد۔ نہیں کوئی معبود مگر اللہ اور نہیں کوئی قوت اور نہیں کوئی تدبیر مگر اس کی توفیق اور مدد سے۔
اللہ تعالیٰ کی جو صفات اور شانیں قرآن و حدیث میں آئی ہیں ان پر مشتمل ذکر ایمان وعمل میں قوت کا ذریعہ ہے۔ اس لیے ایسے ذکر کو معمول بنانا چاہیے۔ سب سے بڑی صفت اور شان لا الٰہ الا اللہ ہے اور یہ افضل الذکر ہے۔ پھر یہ احساس کتنا لطف انگیز اور ایمان افروز ہے کہ ادھر ہم ذکر کرتے ہیں، اور ادھر اللہ تعالیٰ اسے دُہراتا ہے۔ پھر موت کے لیے بیماری کی شرط نہیں ہے، اس لیے اس ذکر کے ساتھ جو بشارت ہے اس کی خاطر، اسے معمول بنا لینا چاہیے۔
صحابہ کرامؓ، شہری ہوں یا دیہاتی، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیے پیش کیاکرتے تھے اور آپؐ بھی انھیں بدلے میں ہدیہ پیش کیا کرتے تھے۔ زاہر دیہاتی صحابی تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے تھے۔ شہر میں سودافروخت کرنے کے لیے لے کر آتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیہات سے پیدا ہونے والی چیزیں پیش کرتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہری چیزیں انھیں ہدیہ کرتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زاہر سے محبت رکھتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا منظر حضرت انسؓ نے یہاں بیان کیا___ ذرا آنکھیں بند کر کے یہ منظر سامنے لایئے۔ کسی معاشرت میں قائدین کا بلکہ سب سے بڑے قائد کا اپنے عام رفقا کے ساتھ یہ برادرانہ سلوک، یہ بے تکلفی (کہ آکے پیچھے سے سر پکڑ لیا!)۔ جب نیلام کے لیے آپؐ نے پیش کیا تو زاہر نے اپنے خوش شکل نہ ہونے کی وجہ سے اچھی قیمت نہ ملنے کا کہاتو آپؐ نے کیا اچھی بات کہی کہ اصل قدروقیمت تو اللہ کے ہاں کی ہے جہاں تم کھوٹے نہ ہوں گے، بلکہ تم جیسوں کا ہی سکّہ چلے گا۔ دل چاہتاہے کہ ہمارے آس پاس بھی یہی خوش گوار ماحول ہو اور قدر ظاہری حُسن کی نہ ہو، بلکہ اللہ کے ہاں مقام کی ہو۔
حضرت حارثہ بن نعمانؓ جلیل القدر صحابی ہیں۔ غزوئہ بدر، اُحد اور تمام غزوات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے، لیکن اس کے ساتھ اپنی ماں کے بھی فرماں بردار اور اطاعت شعار تھے۔ ماں کی خدمت اور فرماں برداری کے نتیجے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جنت میں قرآن پاک پڑھتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو ان کی نیکی کی طرف بڑے جذبے سے متوجہ فرمایا کہ نیکی ہو تو ایسی جیسے حارثہ بن نعمانؓ کی نیکی تھی کہ جہاد میں بھی آگے آگے اور ماں کی خدمت میں بھی پیش پیش۔ بڑا خوش قسمت ہے وہ جسے یہ دونوں نعمتیں نصیب ہوں۔ زندگی میں یہ اعتدال مطلوب ہے۔ فرائض بھی ادا کیے جائیں اور حقوق بھی!
صلۂ رحمی کی بڑی تاکید آئی ہے اور اس کے بڑے اجراور برکت بتائی گئی ہے۔ قطع رحمی، یعنی عزیز واقارب کے حقوق ادا نہ کرنا، عام سا گناہ نہیں، دنیا میں بھی سزا ملتی ہے اور آخرت میں بھی۔ ظلم سے مراد حقوق کا ادا نہ کرنا ہے۔ عزیز واقارب کے بھی، دوسرے احباب اور معاشرے کے بھی۔
جنت کی زندگی اصل زندگی ہے۔ اس کی قیمت اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی ایسی دائمی زندگی کے لیے سب سے اُونچا سودا ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ جو اللہ کی بندگی کے ذریعے جنت کی بے نظیر اور بے مثال نعمتوں سے سرفراز ہوں۔ جنت کا یہ تصور اور اس کی وہ نعمتیں جن کے ذکر سے قرآن بھرا ہوا ہے، ہمہ وقت آنکھوں کے سامنے رہیں، تو آدمی دنیا کی عارضی لذتوں کی خاطر جنت کی زندگی کا موقع ضائع ہرگز نہ کرے گا۔
آیت کی تلاوت کرنے کے بعد، دوزخ کی سزا کے بیان کے ذریعے بتایاگیا کہ تقویٰ کی روش اور وہ بھی تاحیات اختیار نہ کرنے والے آخرت میں کس انجام سے دوچار ہوں گے، یعنی زقوم کا کھانا ہوگا۔ آج وہ لوگ جو اسلام کے خلاف صف آرا ہیں، اس دنیا میں کتنی ہی عیش وعشرت کرلیں، ان کے سب مزوں کی سزا دوزخ کی آگ اور زقوم کا کھانا ہوگا جو سب مزوں کو بھلا دے گا۔ آج وقت ہے کہ وہ کفر سے باز آجائیں، اور دنیاوی مزوں اور بڑائیوں کی خاطر اسلام اور ملت اسلامیہ پر حملہ آور ہونے سے باز آجائیں ورنہ کل قیامت کے روز افسوس کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سب کچھ بیان کرکے اتمامِ حجت فرمادیا ہے۔ راہِ راست واضح ہے جو آنا چاہے، اس کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ اسلام کی دعوت پر مشتمل آیت کے بعد جہنم اور اس کے عذاب کی ہولناکی کا بیان اسی غرض کے لیے ہے کہ اسلام اس عذاب سے بچائو کا سامان ہے، اسے غنیمت جانو۔
عربوں میں گابھن اونٹنی بڑی دولت شمار ہوتی تھی، جس گھر میں یہ اونٹنی ہو اسے زیادہ مال دارسمجھا جاتا تھا، اگرچہ اونٹ بھی بڑی دولت تھی لیکن اونٹنی کے مقابلے میں وہ کم قیمت ہوتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پاک اور اس کے سیکھنے کی اہمیت کو ایسی مثال سے واضح فرمایا کہ ذہن میں راسخ ہو جائے۔ آپؐ نے فرمایا کہ جس چیز کو تم بڑی دولت سمجھتے ہو، قرآن پاک کی چند آیات اس سے زیادہ بڑی دولت ہیں۔ ہم روزانہ پانچ اوقات کی نماز میں سورۂ فاتحہ ہر رکعت میں بار بار پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سورتوں کی تلاوت کرتے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ ہم روزانہ کتنی بڑی کمائی کرتے ہیں۔ اتنی بڑی کمائی کسی بازار میں نہیں، بلکہ مسجد میں نماز پڑھنے سے حاصل ہوتی ہے۔ پھر کاروبار میں سستی نہیں تو نماز میں سستی کیوں کی جائے؟قرآن پاک کی آیات ایمان کی تجدید کرتی ہیں، عمل صالح پر آمادہ کرتی ہیں، امربالمعروف اور نہی عن المنکر پر ابھارتی ہیں اور اطمینان قلب کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ۔(الرعد۱۴:۲۸) ’’سنو! اللہ کے ذکر سے دلوں میں اطمینان پیدا ہوتا ہے۔‘‘ قرآن پاک سب سے اونچے درجے کا ذکر ہے۔ اسے سمجھ کر پڑھا جائے تو نورٌ علیٰ نورہے۔ آج کے زمانے میں تو قرآن پاک کا سمجھنا بھی آسان ہو گیا ہے۔ تفسیر تفہیم القرآن کو پڑھ کر یا سن کر ہر خاص و عام سمجھ سکتا ہے۔ نیزاونٹ یا اونٹنیاں اور دنیا کی دولت تو فانی ہے لیکن قرآن پاک کی دولت باقی ہے۔ یہ قیامت میں اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا، راستے کو روشن کرے گا۔ آج ہمارے معاشرے میں جوپریشانیاں ہیں ان کا ازالہ قرآن پاک کی طرف رجوع میں ہے۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر قرآن پاک سے وابستہ ہو جائیںتو وہ تمام مصائب، ظلم و زیادتیاں جن سے ہم دو چار ہیں ختم ہو جائیں۔
بات کو قرآن تک کیوں محدود کیا جائے۔ اللہ کے رسول نے دنیا اور آخرت کے لیے دو ایسی علامتیں بیان کیں کہ ہمارے سامنے جیسے دونوں متشکل ہو کر آ گئیں۔ آپ اونٹنی کے بجاے نئے ماڈل کی گاڑیاں سمجھ لیں، اور آیت کے بجاے اخروی نفع کے لیے کیا جانے والا کوئی کام۔ دنیا اور آخرت کا کوئی مقابلہ نہیں۔ دنیا کو ترجیح دینا مولانا مودودی کے الفاظ میں ’’عظیم الشان حماقت‘‘ ہے مگر انسان کو، ہم کو کیا ہو گیا ہے کہ ہماری ساری بھاگ دوڑ اور ریجھنا دنیا کے لیے ہے اور آخرت کے لیے سارے عذر اور معذرتیں اور بے نیازی! اللہ ہم پر رحم کرے۔
خواتین کو تحصیل علم کا کتنا شوق تھا اس کا انداز اس حدیث سے ہو جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی تعلیم کا بھی اہتمام فرمایا۔ انھیں علیحدہ وقت بھی دیا، اورازواج مطہرات کے ذریعے ان کی تعلیم کا انتظام فرمایا۔ خواتین الگ سے بھی آپؐ سے سوال کے لیے حاضر ہوتیں اور کبھی اجتماعی شکل میں آجاتیں۔ اس طرح صحابہ کرامؓ کی طرح صحابیاتؓ نے بھی علمی میدان میں بڑا مقام پیدا کیا۔ خواتین نے قرآن پاک بھی حفظ کیا اور احادیث نبویہ بھی یاد کیں اور علمی میدان میں اس قدر آگے بڑھیں کہ ان سے خواتین کی طرح بعض اوقات مرد بھی علمی فیض حاصل کرتے اور ان کے فتاویٰ پر عمل کرتے۔
مومن کی یہ عجیب شان ہے کہ اس دنیا میں اسے جو تکلیف بھی پہنچے، اگر وہ اسے من جانب اللہ سمجھے اور صبر سے کام لے تو وہ اس کی آخرت کے لیے سرمایہ بن جاتی ہے۔ اولاد کا رخصت ہوجانا کتنا بڑا صدمہ ہے، اور کسی ماں کے لیے اپنے بچے سے جدائی! صدمے کا کوئی اندازہ کیا جا سکتا ہے!! ایک نہیں، دو، دو نہیں، تین بچّے۔ آپ اندازہ تو کریں اس ماں کی رنج و غم کی کیفیت کا۔ مگر وہ صبر کرے، جزع و فزع نہ کرے، اللہ کی مرضی پر راضی رہے۔ کتنا بڑا مقام ہے! بندی کی یہی بندگی دوزخ سے رکاوٹ بن جاتی ہے۔ پھر دیکھیے، شاید کسی نے دو بچے بھیجے تھے، وہ اپنے لیے بھی خوش خبری چاہتی ہے۔ آپؐ توقف کرتے ہیں، دوبارہ پوچھتی ہے۔پھر آپ اسے بھی آگ سے رکاوٹ کی خوش خبری دیتے ہیں۔ یقینا کوئی ایک کے لیے بھی پوچھتا تو محروم نہ رکھا جاتا۔
یہ تین چیزیں جنت میں داخلے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ تکبر تو اللہ تعالیٰ کی شان کبریائی میں شریک ہونے کی صفت ہے، اور خیانت پوری ملت کے مال کا بوجھ اپنے اوپر اٹھانا ہے، اور دَیْن (اور قرض) کسی خاص شخص کے مال کو تلف کرنا ہے۔ آخرت میں ملت اور کوئی فرد اپنا حق چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہوگا۔ اس لیے اولاً: خیانت سے اجتناب کرے اور اگر مرتکب ہو جائے تو بیت المال میں اسے واپس لوٹا دے۔ اسی طرح دَین (اور قرض) کے بوجھ سے بھی بچنے کی کوشش کرے اور یہ بوجھ لینا پڑ جائے تو اس سے جلد از جلد جان چھڑانے کی تدبیر کرے۔
جو چیز بار بار فی سبیل اللہ شہید ہونے کے باوجود ادایگی کے بغیر معاف نہ ہو،شہادت بھی اس کا کفارہ نہ بن سکے، اس سے زیادہ سخت و عید دوسری کون سی ہو سکتی ہے! دَین کا کفارہ دَین کی ادایگی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
آج کل قرضوں اور دیون کی ادایگی کے سلسلے میں بہت زیادہ تساہل سے کام لیا جاتا ہے۔ جو انتہائی خطر ناک رویہ ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے معاشرے کو اس برائی سے پاک و صاف کرنے کی طرف توجہ کریں اور اسے معمولی جرم سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔
جب آپ اپنا قرض ادا کریں، تو اچھی طرح سے کریں، اس میںشامل ہے کہ قرض خواہ کا شکریہ اداکریں۔ اور ہم مسلمان محض شکر یہ ادا نہیں کرتے، شکریے کے آداب میں دعا دینا شامل ہے۔ رسول اللہ نے عبداللہ بن ابی ربیعہ کے ۴۰ہزار ادا کیے تو اہل وعیال اور مال میں برکت کی دعا دی۔ اس کا ایک ضمنی پہلو یہ ہے کہ اولاد ہو اور اس کی تعلیم و تربیت کے لیے رقم بھی ہو۔
اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمتی ہونے کے سبب یہ فضائل عطا فرمائے ہیں۔ ہمیں ان فضائل کے حصول کے لیے خوب کوشش کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی اُمتی ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔ رمضان کی ان برکتوں سے اپنے آپ کو محروم نہیں رکھنا چاہیے۔
ہر بھلائی صدقہ ہے، یعنی صدقہ کے لیے مال دینا شرط نہیں ہے۔ مال کے علاوہ بھی صدقہ ہوتا ہے جو بھلائی بھی کسی کے ساتھ کی جائے وہ ثواب کے اعتبار سے صدقہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آدمی کے اندر ۳۶۰ جوڑ ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہرجوڑ کی طرف سے روزانہ ایک صدقہ کرے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! اس کی طاقت کس کو ہے کہ ۳۶۰ صدقہ روزانہ کرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوک پڑا ہوا ہو، اس کو ہٹا دو، یہ بھی صدقہ ہے۔ راستے میں کوئی تکلیف دینے والی چیز پڑی ہو، اس کو ہٹا دو، یہ بھی صدقہ ہے، اور کچھ نہ ہوسکے تو چاشت کی دورکعت اس کے قائم مقائم ہوجاتی ہیں۔ اس لیے کہ نماز میں ہرجوڑ کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں حرکت کرنا پڑتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ روزانہ جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو آدمی کے ہرہرجوڑ کے بدلے میں ایک صدقہ ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان انصاف کردو، یہ بھی صدقہ ہے۔ کسی شخص کی سواری پر سوار ہونے میں مدددینا بھی صدقہ ہے، اور اس کا سامان اُٹھا کر دینا بھی صدقہ ہے۔ کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ پڑھنا بھی صدقہ ہے۔ ہر وہ قدم جو نماز کے لیے چلے وہ بھی صدقہ ہے۔ ہرنماز صدقہ ہے، روزہ صدقہ ہے، حج صدقہ ہے۔ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے،الحمدللہ کہنا صدقہ ہے، اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے جو کوئی راستے میں مل جائے اس کو سلام کرنا بھی صدقہ ہے، نیکی کاحکم کرنا صدقہ ہے۔ برائی سے منع کرنا صدقہ ہے۔
دوسری چیز جو اس حدیث میں ذکر کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص کسی کارخیر پر کسی کو ترغیب دے گا، اس کو بھی ایسا ہی ثواب ہے جیسے کہ کرنے والے کو۔ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ ترغیب دینے والے کو بھی وہی ثواب ملتا ہے جو کرنے والے کو۔ اس طرح زیادہ ثواب حاصل کرنے کے امکانات کا وسیع میدان سامنے ہے۔ آپ کے کسی عمل سے، آپ کا نمونہ اور مثال دیکھ کر، آپ کے کہنے سے، آپ کی تقریر یا گفتگو سن کر، یا آپ کا مضمون پڑھ کر جو شخص دنیا میں جہاں کہیں بھی نیک عمل کرے گا اُس کا اجر اللہ تعالیٰ آپ کو دے گا۔ اسی طرح مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کی طرف خاص طور پر ترغیب دی گئی ہے۔یہ ہے اللہ تعالیٰ کے دینے کا بے حساب نظام، کاش! ہم لینے والے بن جائیں۔ رمضان میں خصوصی اہتمام کریں، خصوصی اجر کی خاطر۔
جب آدمی نادار ہو اور حاجت مند ہو اور اس کے اہل و عیال بھی حاجت مند ہوں تو ایسی صورت میں محنت و مشقت اور مزدوری کے ذریعے کمائی کر کے صدقہ کرنا تمام صدقوں سے اس لیے افضل ہے کہ اس میں مال دار آدمی کے مقابلے میں زیادہ مشقت اور تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ صحابہ کرامؓ جو نادار ہوتے تھے وہ مزدوری کر کے اور بوجھ اُٹھا کر کمائی کرتے اور فی سبیل اللہ صدقہ کر کے اپنی آخرت سنوارتے، دنیا میں اپنے کھانے کو مؤخر کردیتے اور آخرت کے کھانے کی فکر کرتے تھے۔ آج بھی صحابہ کرامؓ کی یاد تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس جذبے اور شوق میں اپنے اہل و عیال کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان کی ضروریات پورا کرنا کنبے کے سربراہ کی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کو کسی بھی صورت میں نظرانداز کرنا صحیح نہیں ہے۔
کوئی شخص مومن ہو اور بخیل اور بداخلاق بھی ہو، یہ مومن کے شایانِ شان نہیں ہے۔ ایسے شخص کو اپنے ایمان کی فکر کرنا چاہیے۔ خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ ایمان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔ جیسے ہرخوبی دوسری خوبی کو کھینچتی ہے، ایسے ہی ہرعیب دوسرے عیب کو کھینچتا ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شح،بخل ایمان کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتا، جیسے آگ اور پانی جمع نہیں ہوسکتے اسی طرح بخل اور ایمان بھی جمع نہیں ہوسکتے۔ کنزالعمال میں ایک روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہرولی میں دو خصلتیں جمع ہوتی ہیں: ایک سخاوت اور دوسری خوش خلقی۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق ہو تو اس کی مخلوق پر خرچ کرنے کو بے اختیار دل چاہے گا۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں نہ تو چال باز، دھوکے باز داخل ہوگا اور نہ بخیل، نہ صدقہ کر کے احسان جتانے والا۔(ترمذی، مشکوٰۃ)
ایک اور حدیث میں ہے، حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں: یمن رخصت ہوتے وقت میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آخری سوال یہ کیا کہ سب اعمال میں محبوب ترین عمل اللہ کے نزدیک کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس حال میں تیری موت آئے کہ اللہ کے ذکر میں تیری زبان تر ہو۔ (ابن ابی شیبہ، احمد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان)
حضرت عبداللہ بن بسرؓکی روایت میں سائل کا مقصد اہم ترین چیز کو معلوم کرنا ہے تاکہ اسے اپنا معمول بنا لے۔ اسی طرح حضرت معاذ بن جبلؓ نے بھی اہم ترین عمل معلوم کرنا چاہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے جواب میں ذکراللہ کی تلقین کی۔ ذکراللہ ایسی چیز ہے جو تمام عقائد و احکام کی اساس ہے۔ یہ اساس جب آدمی کا معمول بن جائے تو ہرحکم آسان ہوجاتا ہے اور اس پر عمل شروع ہوجاتا ہے اور آدمی قربِ الٰہی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی یاد نصیب فرمائے، آمین!
عملِ صالح کی توفیق زندگی کے کسی مرحلے پر بھی مل سکتی ہے، موت سے پہلے بھی۔ دعوت کا کام کرتے ہوئے کسی سے بھی، کبھی مایوس نہ ہونا چاہیے۔ ہدایت کا دروازہ موت سے پہلے کسی بھی وقت کھل سکتا ہے۔ توفیق الٰہی کے لیے دعا بھی کرنا چاہیے، اپنے لیے بھی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سمیت سخت جاڑے اور بھوک کی حالت میں غزوئہ احزاب کے موقعے پر جہاد میں حصہ لیا۔ اس وقت آپؐ نے اس بے چارگی کی حالت میں دعا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی، تیز آندھی چلا دی جس نے کفارِ قریش کے خیمے اُلٹ دیے اور وہ شکست سے دوچار ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ آج بھی کفار کے مقابلے میں سینہ سپر ہوکر مقابلہ کرنے والوں کا بڑا ہتھیار دعا ہے۔ دعا کرنے والے کو مایوسی نہیں ہوتی بشرطیکہ دعا کے ساتھ عمل بھی ہو۔ اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ (الفاطر۳۵:۱۰)۔ ’’اسی کی طرف پاکیزہ کلمے چڑھتے ہیں اور نیک عمل ان کو اٹھاتا ہے‘‘۔
قیامت کے روز وضو کے آثار سے اعضاے وضو میں چمک دمک ہوگی اور اعضاے وضو کی چمک دمک کو دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازیوں کو اپنے حوض پر بلائیں گے لیکن وہ لوگ جو دین میں تبدیلی کے مرتکب ہوں گے وہ حوضِ کوثر کے ٹھنڈے اور میٹھے جاموں سے محروم ہوں گے۔ نماز اور وضو کی برکت اپنی جگہ برحق ہے لیکن دین میں تبدیلیوں کا جرم ان برکتوں کے اثرات میں رکاوٹ بن کر کھڑا ہوجائے گا۔ دین میں تبدیلیوں کے اس جرم کی راہ کو روکنا ضروری ہے، چاہے انفرادی سطح پر ہو یا حکومتی سطح پر۔ حکومتی سطح پر دین کی شکل کو بگاڑنے کی جو مذموم کوشش ہو رہی ہے اسے روکنے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔
یہ حدیث اُمت مسلمہ کے لیے اُمید کی ایک کرن ہے۔ کفار ساری دنیا سے آج اُمت مسلمہ پر حملہ آور ہیں لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکیں گے۔ عالمِ اسلام پر مستقل طور پر ان کا تسلط نہ ہوسکے گا، البتہ وقتی طور پر وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکیں گے لیکن آخری فتح اسلام اور اہلِ اسلام کو حاصل ہوگی۔ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ کفار کے مقابلے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ فکری اور عسکری دونوں محاذوں پر صف بندی کی جائے۔ ان شاء اللہ کفار اپنے عبرت ناک انجام سے دوچار ہوں گے۔
جو عمل مسلسل ہو وہ خصوصی اثر رکھتا ہے۔ وہ تسلسل کی وجہ سے زیادہ بھی ہوجاتا ہے اور مداومت کی وجہ سے اس میں پختگی بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کی دنیاوی برکات و منافع بھی زیادہ ہوتے ہیں اور اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ تہجد کی طرح باقی امور خیر کا بھی یہی حکم ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر عمل وہ ہے جس پر مداومت کی جائے (یعنی مستقل کیا جائے) اگرچہ وہ تھوڑا ہو‘‘۔
نماز اور تمام عبادات کے سلسلے میں اس اصول کی پابندی کی جائے تو اس کے نتیجے میں آدمی زیادہ عبادت گزار ہوجاتا ہے۔
حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص فرائض ادا کرے اورمنکرات اور کبائر سے بچے، اس کے لیے جنت ہے۔ چند کبائر کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ نمونہ فرمایا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد حجۃ الوداع کے موقعے پر تھا۔ اس حکم کی اہمیت کی خاطر اسے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا گیا۔ آج اس حکم کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ حجۃ الوداع کی اس وصیت کو اپنا نصب العین بنا کر اس کی تعمیل کرنا چاہیے اور اس کی خاطر اجتماعی کوشش کرنا چاہیے۔
مسلمان کے خلاف اسلحہ لے کر نکلنا ایمان اور اسلام کے منافی ہے۔ جو مسلمان ہوگا وہ مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کرے گا۔ اس کا خون گرانے کے درپے نہ ہوگا۔
یہ فضیلت قتال فی سبیل اللہ اور دعوت الی اللہ دونوں کو شامل ہے۔ اقامت دین کی جو جدوجہد کی جائے وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگی۔ اس لیے کہ اس کے عوض میں جنت ملے گی جو دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو اللہ تعالیٰ نے پورا کر دیا۔ آپؐ نے نور کے دائرے میں زندگی بسر کی اور آپؐ نور ہی نور بن گئے۔ اپنے صحابہ کرامؓ کو بھی ’نور‘ میں چھوڑ گئے، جو سارے عالم میں پھیلا اور پھیلتا ہی جارہا ہے۔ایک وقت آئے گا کہ تاریکی ساری دنیا سے چھٹ جائے گی، نور کا دور دورہ ہوگا اور اسلام کا جھنڈا ساری دنیا میں بلند ہوجائے گا۔ورفعنا لک ذکرک!
اللہ کا ذکر کرنے والوں کا اتنا اُونچا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے ان کے فضائل کو بیان فرماتے ہیں، اور ان کا درجہ اس قدر بلند ہے کہ ان کے ساتھ ان کے ہم نشین کی بھی بخشش ہوجاتی ہے۔ پس جو اللہ کے ہاں اپنا ذکر کرانا چاہیں انھیں چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں، اس کی اطاعت و بندگی میں لگ جائیں۔ اس مقصد اور مشن میں لگ جائیں جس کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، جس طرح رسولؐ اللہ نے ذکر کیا اس طرح سے ذکر کریں۔ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا، اسے غالب کیا، اسے ریاست کا دین بنایا۔ یہ ذکر کامل ذکر ہے، جو اس کامل ذکر کو اپنی راہ بنائیں۔ اللہ کے ہاں ان کا ذکر شروع ہوجائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں میں شامل ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے ذکر اور اطاعت کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
آدمی کو چاہیے کہ کسی بھی ایسے کام سے پرہیز کرے جو اس کی نماز کی قبولیت کی راہ میں رکاوٹ بن جائے۔ ان تین برائیوں کو بطور مثال کے ذکر کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ بہت سی برائیوں کا بھی ذکر آیا ہے کہ ان کے مرتکب کی نماز قبول نہیں ہوتی، مثلاً شراب، جوابازی وغیرہ۔ اس لیے تمام برائیوں سے بچنا چاہیے تاکہ نماز کی قبولیت کی راہ میں کوئی بھی رکاوٹ نہ رہے، کیونکہ نماز تمام بے حیائیوں اور منکرات سے روکتی ہے (القرآن)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی نماز اسے بے حیائی اور برائی سے نہ روکے، اس کی نماز کوئی نماز نہیں ہے۔
کیسی جامع دعا ہے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اُمت کے ساتھ کیسا پیار ہے، اور آپؐ نے اُمت کے لیے کس قدر آسانیاں فراہم کر دی ہیں۔ یہ حدیث اس کا بہترین نمونہ ہے۔
جو لوگ نیکی اور بدی اور نیک و بد میں تمیز کا مادہ رکھتے ہیں وہ نیک لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ تعلق قائم کرتے اور ان کے ساتھ ہمدردی و غم گساری کرتے ہیں۔ ان کی مدد کرتے اور ان سے مدد لیتے ہیں۔ ان کو دوسروں سے آگے کرتے ہیں، بدکاروں کو پیچھے کرتے ہیں۔ اس طرح پورے معاشرے کو اسلامی بنانے کی راہ پر چلتے ہیں۔ جن اہلِ ایمان سے لوگ محبت، اعزاز و اکرام کا سلوک کریں انھیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور انھیں اللہ تعالیٰ کی بندگی پر اپنی کمرہمت باندھ کر رکھنی چاہیے کہ یہی اصل شکرگزاری ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہے کہ وہ بندے کو محض کام کے ارادے پر اس کام سے سرفراز فرما دیتے ہیں چاہے وہ عملاً اس کام کو سرانجام دے سکا ہو یا نہ دے سکا ہو۔ شہادت کے سچے طلب گار کو شہیدوں کی صفوں میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ شہادت کے مرتبے پر فائز ہونا کسی مومن کے لیے کتنا مشکل ہے۔ کیا وہ کام جو محض ارادے سے حاصل ہوجائے مشکل شمار ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے بلند درجات کو کس قدر آسان بنا دیا ہے۔ بس خلوص، ہمت اور جذبے کی ضرورت ہے۔ بے شمار خوش نصیب اپنے گھر اور ماحول میں چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے شہادت کا مقام حاصل کرلیتے ہیں۔