مولانا عبد المالک
|
جون ۲۰۱۱
|
اُمت مسلمہ، عقائد اسلامی، تعلیمات اسلامی، عبادات اسلامی، رہنمائی نبوی
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سمیت سخت جاڑے اور بھوک کی حالت میں غزوئہ احزاب کے موقعے پر جہاد میں حصہ لیا۔ اس وقت آپؐ نے اس بے چارگی کی حالت میں دعا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی، تیز آندھی چلا دی جس نے کفارِ قریش کے خیمے اُلٹ دیے اور وہ شکست سے دوچار ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ آج بھی کفار کے مقابلے میں سینہ سپر ہوکر مقابلہ کرنے والوں کا بڑا ہتھیار دعا ہے۔ دعا کرنے والے کو مایوسی نہیں ہوتی بشرطیکہ دعا کے ساتھ عمل بھی ہو۔ اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ (الفاطر۳۵:۱۰)۔ ’’اسی کی طرف پاکیزہ کلمے چڑھتے ہیں اور نیک عمل ان کو اٹھاتا ہے‘‘۔
قیامت کے روز وضو کے آثار سے اعضاے وضو میں چمک دمک ہوگی اور اعضاے وضو کی چمک دمک کو دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازیوں کو اپنے حوض پر بلائیں گے لیکن وہ لوگ جو دین میں تبدیلی کے مرتکب ہوں گے وہ حوضِ کوثر کے ٹھنڈے اور میٹھے جاموں سے محروم ہوں گے۔ نماز اور وضو کی برکت اپنی جگہ برحق ہے لیکن دین میں تبدیلیوں کا جرم ان برکتوں کے اثرات میں رکاوٹ بن کر کھڑا ہوجائے گا۔ دین میں تبدیلیوں کے اس جرم کی راہ کو روکنا ضروری ہے، چاہے انفرادی سطح پر ہو یا حکومتی سطح پر۔ حکومتی سطح پر دین کی شکل کو بگاڑنے کی جو مذموم کوشش ہو رہی ہے اسے روکنے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔
یہ حدیث اُمت مسلمہ کے لیے اُمید کی ایک کرن ہے۔ کفار ساری دنیا سے آج اُمت مسلمہ پر حملہ آور ہیں لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکیں گے۔ عالمِ اسلام پر مستقل طور پر ان کا تسلط نہ ہوسکے گا، البتہ وقتی طور پر وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکیں گے لیکن آخری فتح اسلام اور اہلِ اسلام کو حاصل ہوگی۔ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ کفار کے مقابلے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ فکری اور عسکری دونوں محاذوں پر صف بندی کی جائے۔ ان شاء اللہ کفار اپنے عبرت ناک انجام سے دوچار ہوں گے۔
جو عمل مسلسل ہو وہ خصوصی اثر رکھتا ہے۔ وہ تسلسل کی وجہ سے زیادہ بھی ہوجاتا ہے اور مداومت کی وجہ سے اس میں پختگی بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کی دنیاوی برکات و منافع بھی زیادہ ہوتے ہیں اور اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ تہجد کی طرح باقی امور خیر کا بھی یہی حکم ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر عمل وہ ہے جس پر مداومت کی جائے (یعنی مستقل کیا جائے) اگرچہ وہ تھوڑا ہو‘‘۔
نماز اور تمام عبادات کے سلسلے میں اس اصول کی پابندی کی جائے تو اس کے نتیجے میں آدمی زیادہ عبادت گزار ہوجاتا ہے۔
حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص فرائض ادا کرے اورمنکرات اور کبائر سے بچے، اس کے لیے جنت ہے۔ چند کبائر کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ نمونہ فرمایا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد حجۃ الوداع کے موقعے پر تھا۔ اس حکم کی اہمیت کی خاطر اسے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا گیا۔ آج اس حکم کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ حجۃ الوداع کی اس وصیت کو اپنا نصب العین بنا کر اس کی تعمیل کرنا چاہیے اور اس کی خاطر اجتماعی کوشش کرنا چاہیے۔
مسلمان کے خلاف اسلحہ لے کر نکلنا ایمان اور اسلام کے منافی ہے۔ جو مسلمان ہوگا وہ مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کرے گا۔ اس کا خون گرانے کے درپے نہ ہوگا۔
یہ فضیلت قتال فی سبیل اللہ اور دعوت الی اللہ دونوں کو شامل ہے۔ اقامت دین کی جو جدوجہد کی جائے وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگی۔ اس لیے کہ اس کے عوض میں جنت ملے گی جو دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔