مولانا عبد المالک


حضرت عثمانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وفد یمن کی طرف بھیجنا طے فرمایا اور اس پر انھی لوگوں میں ایک شخص کو امیر مقرر فرمایا، جو ان میں سب سے چھوٹا تھا۔ وہ وفد چند دن تک ٹھیرگیا، اپنی منزل یمن کی طرف روانہ نہ ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفد کے ایک آدمی سے ملاقات ہوگئی تو آپؐ نے اس کا نام لے کر فرمایا: اے فلاں! تمھیں کیا ہوا تم گئے نہیں؟  تو اس نے جواب میں عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ہمارے امیر کے پائوں میں تکلیف ہوگئی ہے۔ تب نبی کریمؐ امیر کے پاس آئے اور اس پر بسم اللّٰہ، باللّٰہ وبقدرتہ من شر ما اَجِدُ فِیْھَا  (اللہ کے نام اللہ کی مدد سے اور اس کی قدرت کے وسیلے سے مَیں دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ !اس کے پائوں میں جو تکلیف ہے اسے دُور فرما دے) پڑھ کر دم کیا۔ سات مرتبہ پڑھ کر دم کیا تو وہ ٹھیک ہوگیا۔

ایک بزرگ شخص نے کہا: یارسولؐ اللہ! آپؐ نے اس نوجوان کو ہمارے لیے امیر بنادیا ہے حالانکہ یہ ہم سب سے چھوٹا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کے پاس قرآن پاک ہے۔ (یعنی قرآن پاک کے علم نے اسے امارت کے قابل بنا دیا ہے)۔ اس شخص نے کہا: یارسولؐ اللہ! اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ میں رات کے وقت سویا رہ جائوں گا اور اُٹھ نہ سکوں گا تو میں بھی قرآن پاک زیادہ سیکھ لیتا اور یاد کرلیتا(اس نے سوچا کہ حافظ قرآن کے لیے ضروری ہے کہ رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھے اور اسے رات کو اُٹھنے کی عادت نہ تھی۔ اس لیے اس نے بقدرِ ضرورت قرآن پاک کی سورتیں یاد کی تھیں۔ اس سے زیادہ اس لیے یاد نہ کیا کہ رات کو اُٹھنا پڑے گا جو اس کے لیے مشکل تھا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن پاک سیکھو۔ قرآن پاک اس مشکیزے کی طرح ہے جس میں خوشبو بھری ہوئی ہو تو اس کی خوشبو پھیل جاتی ہے، جب کہ وہ کھلا ہو۔ اسی طرح قرآن پاک جب تم پڑھو گے اور وہ تمھارے سینے میں محفوظ ہوگا تو اس کی خوشبو پھیل جائے گی۔ (طبرانی)

آپؐ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک جب بھی پڑھو گے دن کو یا رات کو ، اس کی خوشبو پھیلے گی، لوگوں پر اس کا اچھا اثر ہوگا، اردگرد کے علاقے کو اس کی برکت اور فیض ملے گا۔ رات کو اُٹھ کر پڑھ سکو تو فبہا ورنہ دن کو پڑھ لیا کرو، دن میں تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ قرآنِ پاک کی برکت سے  آدمی کو جو عظمت اور دینی فہم وفراست ملتی ہے وہ اسے قیادت کے منصب تک پہنچا دیتی ہے۔اسلامی قیادت میں تو اس بات کو لازمی دیکھا جائے گا کہ کون ہے جس کے پاس قرآن پاک کا علم زیادہ ہے اور اس پر عمل میں وہ آگے ہے۔ علمِ قرآن و سنت اور اس پر عمل آدمی کو اسلامی قیادت کے قابل بنادیتا ہے۔ آج قیادت کے اس معیار کو نظرانداز کردیاگیا ہے جس کے نتیجے میں ایسے حکمران مسلمانوں کی قیادت کر رہے ہیں جو قرآن وسنت کے علم اور عمل سے محروم ہیں اور یہی چیز ان مصائب اور مشکلات کا سبب ہے جس سے اُمت مسلمہ دوچار ہے۔ اُمت کو اپنے مقام پر کھڑا کرنے اور اسے مصائب و مشکلات سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ اس اصول کو قیادت کے انتخاب میں معیار بنادیا جائے۔ عوام کو اس اصول کے مطابق قیادت منتخب کرنے کی تعلیم و تربیت دی جائے۔

٭

حضرت خولہ بنت قیسؓ جو حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ کی بیوی ہیں، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے بنی ساعدہ کے آدمی کی ایک وسق (۵ من تقریباً) کھجوریں تھیں۔ وہ وصولی کے لیے آگیا، تو رسولؐ اللہ نے ایک انصاری کو حکم دیا کہ اسے اتنی کھجوریں دے دیں جتنی اس سے لی گئی تھیں۔ اس انصاری نے اسے اسی طرح کی عمدہ کھجوریں دینے کے بجاے اسے گھٹیا قسم کی کھجوریں پیش کیں تو اس نے ان کو رد کردیا۔ انصاری نے کہا: تم رسولؐ اللہ کی کھجوریں واپس کرتے ہو! اس نے جواب دیا: رسولؐ اللہ زیادہ حق دار ہیں کہ عدل فرمائیں۔ رسولؐ اللہ نے سنا تو آپؐ کی آنکھوں میں آنسوآگئے اور فرمایا: اس شخص نے سچ کہا ہے، مجھ سے زیادہ عدل کرنے کا کون حق دار ہے۔ اللہ تعالیٰ اس اُمت کو پاکیزگی کے مرتبے پر فائز نہیں فرماتا جس میں کمزور آدمی طاقت ور سے اپنا حق وصول نہ کرسکے اور طاقت ور کے دبائو میں بھی نہ آئے۔ پھر حضرت خولہؓ سے فرمایا: اس شخص کو گن کر اس کی عمدہ کھجوریں ادا کردو ۔ جو قرض خواہ اپنے مقروض سے اس حال میں واپس جائے کہ اس سے راضی ہو تو اس کے لیے زمین کے جانور اور سمندر کی مچھلیاں دعائیں کرتی ہیں، اور جو آدمی قرض کی ادایگی کرسکتا ہو لیکن ٹال مٹول سے کام لے تو اللہ تعالیٰ ہردن اور رات کو    اس کے کھاتے میں گناہ لکھ دیتا ہے ۔ (طبرانی)

قرض جتنا لیا جائے اور جس نوعیت کا لیا جائے اتنا ہی اور اسی نوعیت کا واپس کرنا ہوتا ہے۔ قرض پر اضافہ سود ہے اور سود لینے اور دینے والے اور اس کے لین دین میں تعاون کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت برستی ہے۔ اس کے مقابلے میں قرضِ حسن کو صدقہ قرار دیا گیا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ  کو بھی قرضِ حسن قرار دیا گیا اور اس پر ۷۰۰ گنا اور اس سے بھی زیادہ ثواب رکھا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عدل و انصاف میں جو نمونے پیش کیے ہیں آج اُمت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ انھیں عملی جامہ پہنائے۔ بنکاری میں سودی نظام کو ختم کردے ۔ بنک جو قرضے جاری کرے جتنے دے اتنے ہی واپس لے اور اگرمنافع لینا چاہے تو شرکت اور مضاربت کے اصول پر تجارت کرے۔ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ بیع کے ذریعے کاروبار کرکے اپنے لیے رزقِ حلال کا انتظام کرے اور رزق حرام سے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو بچائے۔

٭

حضرت انس ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ حسین، سب سے زیادہ سخی اور سب سے بڑھ کر بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ کے لوگوں نے ایک طرف سے کوئی آواز سنی اور خوف زدہ ہوگئے کہ کہیں دشمن نے حملہ تو نہیں کر دیا۔ چنانچہ لوگ باہر نکلے جس طرف سے آواز آئی، اس طرف کا رُخ کیا تو سامنے سے رسولؐ اللہ کو حضرت ابوطلحہؓ کے گھوڑے پر سوار آتے ہوئے دیکھا۔ فرمایا: کوئی خطرے کی بات نہیں ہے اور گھوڑے کے متعلق فرمایا: میں نے اسے سمندر کی رفتار والا پایا۔(بخاری، مسلم)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ میں آپؐ کی بہادری کی بے شمار مثالیں ہیں۔ یہ بھی ان مثالوں میں سے ایک مثال ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عام آدمی کی سی زندگی بسر کی اور کسی بھی وقت رعیت کی خبرگیری سے غافل نہ رہے۔آج جسے اقتدار مل جاتا ہے رعیت کے حالات سے لاتعلق ہو جاتا ہے۔ نہ عام آدمی کی اس تک رسائی ہوتی ہے۔ خلافت ِ راشدہ کا دورِ حکومت خلافت علیٰ منہاج النبوۃ (نبوت کے طریقے پر حکومت) کہلاتا ہے۔ آج خلافت راشدہ کے دور کو واپس لانے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا اسلام کو عملاً قائم دیکھ کر اسلام سے متاثر ہو اور دائرۂ اسلام میں داخل ہوجائے۔

٭

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ میں بیمار ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لے آئے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ بھی ساتھ تھے۔ دونوں پیدل چل کر پہنچے تو مجھے بے ہوش پایا۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جو پانی آپؐ کے اعضاے مبارکہ سے گرا وہ مجھ پر ڈالا تو مجھے ہوش آگیا۔ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں اپنے مال کے معاملے میں کیا رویہ اختیار کروں؟ میں اپنے مال کا کیا فیصلہ کروں؟ آپؐ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ میراث کے بارے میں آیت نازل ہوگئی۔(بخاری)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مصروفیات بے شمار تھیں۔ راتوں کو اُٹھ کر عبادت کرنا، دن کو تعلیم و تربیت اور گھر میں ہوں تو گھروالوں کے ساتھ تعاون کرنا۔ اس کے باوجود اپنے ساتھیوں کے حالات اور ان کی دیکھ بھال سے بھی لاتعلق نہیں رہتے تھے۔ بیماروں کی بیمارپُرسی فرماتے۔ فوت ہونے والوں کے جنازے ادا فرماتے، تنگ دستوں کی ضروریات کا انتظام فرماتے۔ حضرت جابرؓ کی بیمارپُرسی بھی کی اور ان پر اپنے وضو کا مبارک پانی ڈال کر علاج بھی کردیا۔ حضرت جابرؓ نے سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے آیت ِ میراث کے ذریعے حکم نازل فرما دیا۔ کیسا مبارک دور تھا! صحابہ کرامؓ سوال فرماتے تو آسمان سے ان کے سوالوں کے جواب اُترتے اور پھر وہ اُن کو ٹھیک طرح سے عملی جامہ پہناتے۔ آج بھی ہم  رب تعالیٰ سے اپنا تعلق استوار کرسکتے ہیں۔ قرآن و سنت پر عمل کریں اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تو دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ قرآن و سنت کے جس حکم پر بھی عمل ہو وہ قربِ الٰہی کا ذریعہ اور دعا کی قبولیت کا وسیلہ ہے۔ اس وسیلے کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

٭

حضرت عمرو بن میمون اودیؓ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اپنے بیٹوں کو یہ دعا ایسے اہتمام سے سکھاتے تھے جیسے استاد بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے، اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ وہ دعا یہ ہے:  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ’’اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘۔(بخاری، کتاب الجہاد)

اس دعا کو ہم خود بھی یاد کرکے پڑھیں، اور اپنی اولاد کو بھی سکھائیں، اس طرح کی حدیثوں کے ساتھ ہمارا رویہ یہ نہ ہونا چاہیے کہ سن کر رہ جائیں بلکہ اس پر اِسی وقت سے عمل شروع کردیں۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو زیادہ پریشانیاں اور غم پیش آئیں وہ یوں دعا کرے: اے اللہ! میں تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا، تیری بندی کا بیٹا ہوں، میں تیرے قبضے میں ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، میرے بارے میں تیرا حکم نافذ ہے، میرے معاملے میں تیرا فیصلہ سراسر عدل ہے، میں تجھ سے تیرے ہراس نام کے وسیلے سے جو تو نے اپنی ذات کے لیے مقرر کیا ہے یا اسے اپنی کتاب میں اُتارا ہے یا اپنی مخلوق میں کسی کو سکھلایا ہے، مثلاً فرشتوں کو یا اپنے بندوں کو وہ نام الہام کیا ہے، یا اسے اپنے علمِ غیب میں اپنے پاس مستور رکھا ہے، سوال کرتا ہوں کہ قرآنِ پاک کو میرے دل کی بہار اور میری فکرمندی، پریشانی اور غموں کا مداوا بنادے۔ جب بھی کوئی بندہ یہ دعا کرے اللہ تعالیٰ اس کے غم کو دُور کردے گا اور غم کے بدلے میں اسے خوشی عطا فرمائے گا۔ (مشکوٰۃ بحوالہ ابن ماجہ)

انسان آفات اور حوادث سے دوچار ہوتا رہتا ہے، غم اور پریشانیوں سے اسے واسطہ رہتا ہے۔ ایسی صورت میں اسے ایک طرف تو ان اسباب کو اختیار کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے ان تکالیف کے لیے مقرر کیے ہیں۔ فقروفاقہ کی پریشانی میں رزقِ حلال کے لیے دوڑدھوپ، بیماری میں دوا اور طبیب کی طرف رجوع لیکن مسبب الاسباب اللہ رب العالمین کی طرف رجوع زیادہ ضروری ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے حکم سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع دُعا کی شکل میں ہوتا ہے، اور دُعا سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کی جاتی ہے، کائنات پر اس کی حکمرانی اور اپنی ذات کے بارے میں اس کی تقدیر کے عقیدے کو تازہ کرکے اس کے ہرفیصلے خصوصاً اپنے بارے میں اس کے فیصلے کے عادلانہ ہونے کا حوالہ دے کر اس کے ناموں کا واسطہ دے کر اس سے سوال کیا جاتا ہے۔ تب ایسی دُعا جو  اللہ تعالیٰ اور اس کے اسما کے واسطے سے اپنی بندگی کا وسیلہ پیش کرکے کی جائے تو رد نہیں ہوتی۔    یہاں جو دُعا سکھلائی گئی ہے وہ بہت مختصر ہے، اسے آدمی یاد بھی کرسکتا ہے۔ وہ دعا یہ ہے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلِ القُرٰان رَبِیْع قَلْبِیْ وَجَلَائَ ھَمِّیْ وَحُزْنِی، ’’اے اللہ! قرآنِ پاک کو میرے دل کی بہار اور میری پریشانی، فکرمندی اور غموں کا مداوا بنادے‘‘۔ دُعا سے پہلے اپنی عبدیت اور اللہ تعالیٰ کی معبودیت اور اس کے اسما و صفات اور اس کی حکمرانی کا واسطہ آدمی اپنی زبان میں بھی پیش کرسکتا ہے۔


حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ہم نے جنگ ِ خندق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! دل گلے تک پہنچ گئے ہیں یعنی خوف اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے تو کوئی خاص دُعا ہے جسے ہم وردِ زبان بنائیں، تاکہ بے چینی اور خوف کا خاتمہ ہو تو آپؐ نے فرمایا: یہ دعا پڑھو:  اَللّٰھُمَّ اسْتُرْعَوْرَاتِنَا وَاٰمِنْ رَوْعَاتِنَا، ’’اے اللہ! ہمارے عیبوں کی پردہ پوشی فرما اور ہمیں خوف سے امن عطا فرما‘‘۔ ہم نے یہ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے چہروں پر آندھی کے تھپیڑے مارے اور آندھی کے ذریعے انھیں شکست دے دی۔(مشکوٰۃ بحوالہ مسنداحمد)

آج کل پوری دنیا میں بدامنی اور دہشت گردی کا دور دورہ ہے۔ یہ دعا موجودہ حالات میں نسخۂ کیمیا ہے۔ جب بھی کفار اور شرپسند اہلِ ایمان پر حملہ آور ہوئے اس دعا کو بچائو کا ذریعہ بنایا گیا۔ اللہ تعالیٰ کس طرح اس دعا کے نتیجے میں امداد فرماتے ہیں، غزوئہ خندق اس کی نمایاں مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہوا کے ذریعے دشمن کو مدینہ سے بھگادیا اور اہلِ ایمان کو عظیم اور حیرت انگیز فتح نصیب ہوئی۔  آج بھی اسی طرح کے کرشموں کا ظہور ہوسکتا ہے۔ ضرورت ایمان کو تازہ کرکے دل کے اخلاص سے ظاہری اسباب کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے۔ آج بھی دشمن کو بھگانے کا بہترین وسیلہ یہی ہے۔


حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد حصین سے کہا (جب کہ حصین مسلمان نہیں ہوئے تھے) آج کل کتنے معبودوں کی عبادت کرتے ہو؟ میرے والد حصین نے کہا: سات کی ، چھے زمین میں ہیں اور ایک آسمان پر ہے۔ آپؐ نے پوچھا: سخت پریشانی اور خوف میں کس کو پکارتے ہو؟ کہا کہ اسے جو آسمان میں ہے۔ آپؐ  نے فرمایا: حصین! اگر تم اسلام لے آئو تو میں تمھیں دو کلمے بتلائوں گا جو تجھے نفع دیں گے۔ عمران کہتے ہیں کہ: جب حصین اسلام لے آئے تو عرض کیا: یارسولؐ اللہ! مجھے وہ دو کلمے بتلا دیجیے جن کا آپؐ  نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ آپؐ  نے فرمایا: کہو! اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَاعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ، ’’اے اللہ! میرے دل میں میرے لیے ہدایت ڈال دے اور مجھے میرے نفس کے شر سے بچادے‘‘۔ (مشکوٰۃ بحوالہ ترمذی)

مشرک کئی دروازوں کا سوالی ہوتا ہے لیکن ایک وقت آتا ہے کہ وہ صرف اللہ کے دَر پر آجاتا ہے اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ اس مصیبت میں جس سے وہ دوچار ہے وہ طوفان بادوباران جس سے وہ سمندر کی طوفانی موجوں میں دوچار ہوچکا ہے، صرف اللہ کی ذات بچاسکتی ہے۔ حصین مشرک تھے تو چھے معبودوں کو اللہ کے ساتھ شریک کیا تھا۔ اسلام لے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں  اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرنے اور تمام بھلائیاں سمیٹنے کا طریقہ بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کرو اور اپنے نفس کے شر سے اس کی پناہ میں آجائو۔ جب اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آدمی کے دل میں بھلائی القا کرتے ہیں اور تمام بھلائیوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے دیتے ہیں، اور نفس کے شر سے جو شیطان کا آلۂ کار ہوتا ہے، بھی حفاطت فرماتے ہیں۔ تب آدمی اطمینان کے ساتھ صراطِ مستقیم پر گامزن رہتا ہے اور منزلِ مقصود تک پہنچ جاتا ہے۔


حضر ت جابرؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس زمین ہو تو وہ اس میں خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پر کاشت کے لیے دے دے۔اگر   یہ دو کام نہ کرسکے تو اُجرت پر دینے کے بجاے اپنے پاس رکھے۔(متفق علیہ)

اسلام ہمدردی اور غم گساری کادین ہے، وہ تعلیم دیتا ہے کہ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرو اوراس پر آخرت میں اجر کی طلب رکھو۔ اسلام نے زکوٰۃ و صدقات اور عطیات کو رواج دیا ۔ اسی سلسلے میں عطیے کے طور پر زمین دینا بھی ہے۔ جائز ملکیت ہو اور بہت بڑی مقدار میں ہو تو ضرورت سے زائد زمین دوسرے بھائی کو مکمل طور پر عطیہ دے دے اور اسے اس کا مالک بنا دے۔ یہ سب سے اُونچادرجہ ہے دوسری صورت یہ ہے کہ ملکیت تو اپنے پاس رکھے لیکن بلااُجرت کاشت کے لیے دے دے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اُجرت کے لیے کاشت پر دے دے اور اُجرت منصفانہ ہو تو یہ بھی جائز ہے لیکن اولیٰ پہلی صورت ہے کہ بلااُجرت کاشت کے لیے دے دے۔ اس کا اس حدیث میں ذکر ہے۔

پاکستان میں جو ظالمانہ جاگیردارانہ نظام ہے جس سے مزارعین اور ہاری دوچار ہیں، اس کی اسلام میں قطعاً اجازت نہیں ہے۔ اتنی بڑی بڑی جاگیریں جو انگریز نے اپنے دورِ حکمرانی میں اپنے آلۂ کاروں اور کارندوں کو دوسرے مسلمانوں سے غصب کر کے ان کی چاکری کے عوض میں دی ہیں، وہ ان کے جائز مالک نہیں ہیں۔ اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ ان جاگیروں کو ضبط کرے اور جاگیرداروں کے پاس اتنی زمین چھوڑ دے جو ان کے گزارے کے لیے ضروری ہے۔ باقی تمام زمین ان ہاریوں کی ملکیت میں دے جو ان زمینوں پر کاشت کاری کر رہے ہیں۔ آزادی کے بعد ہندستان میں جاگیرداری نظام ختم کردیا گیا لیکن افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں ابھی تک جاگیرداری نظام قائم ہے۔ حالانکہ اسلام نے جاگیرداری نظام پیدا ہی نہیں ہونے دیا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے دور میں فیصلہ فرما دیا کہ مفتوحہ زمینیں مقامی مالکوں کے پاس رہیں اور ان سے خراج لیا جائے۔


حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عاریتاً لی ہوئی چیز کا واپس کرنا ضروری ہے اور عطیے کے طور پر جو گائے، بھینس، اُونٹنی، بکری، دودھ کے لیے لی ہو اسے بھی لوٹایا جائے گا۔ اور قرض ادا کیا جائے گا اور ضامن تاوان دے گا۔ (مشکوۃ، ترمذی)

یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم اخلاقی ہدایات ہیں جہاں آپؐ  نے یہ ہدایت کی ہے کہ اپنی چیزیں اپنے بھائیوں کو مالکانہ نہ دے سکو تو عاریتاًدے دو، وہیں یہ بھی تاکید کی ہے کہ ضرورت پورا کرنے کے بعد جس وقت مالک طلب کرے چیز اسے واپس لوٹائو۔ حفاظت پوری طرح نہ کی جائے اور چیز ضائع کی جائے تو تاوان دینا پڑے گا، قرض بھی لوٹانا پڑے گا اور جس کی ضمانت پر قرض دیا ہے یا چیز دی ہے اگر مقروض تاوان نہ دے سکتا ہو تو پھر ضامن کو تاوان دینا ہوگا، جب کہ اس نے تاوان دینے کا ذمہ لیا ہو۔ اگر صرف مقروض کو حاضر کرنے کا ذمہ لیا ہو کہ کہیں بھاگ نہیں جائے گا، میں حاضر کروں گا، تو ایسی صورت میں مقروض کو حاضر کرنا ہوگا۔

آج کل لوگ قرض لے کر واپس نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ قرضِ حسن کا سلسلہ کمزور پڑگیا ہے۔ ایسی صورت میں اس بات کی مہم چلائی جائے کہ لوگ قرضِ حسن لے کر اسے واپس کریں اور اگر واپس کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو قرض نہ لیں۔ عسرت کی زندگی بسر کرنا اس سے بہتر ہے کہ آدمی لوگوں سے قرض مانگے اور پھر واپس نہ کرسکے۔ اس طرح ذلت اُٹھائے اور احسان کرنے والے کو بھی مشکل سے دوچار کرے۔ قرضِ حسن کو رواج دینے میں سودی بنکاری بھی مانع ہے۔ اس سودی بنکاری کو ختم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت نے سودی قرض کی وصولی اور اس پر سودی منافع دینے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جس کے نتیجے میں ملک ۱۰۰؍ارب روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔

 

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ قریش اور وہ لوگ جو ان کے طریقے پر چلتے تھے، حج کے موقع پر مکہ اور منیٰ سے مزدلفہ تک جاتے، پھر وہاں ٹھیرنے کے بعد منیٰ واپس آجاتے تھے۔ وہ  اپنے آپ کو ’حمس‘ کہتے تھے، یعنی کعبہ کے متولی ہونے کے سبب اپنے آپ کو بڑی حیثیت کے مالک سمجھتے تھے۔ عربوں کے ہاں بھی ان کی بڑی حیثیت اور مقام تھا۔ اور باقی عرب میدانِ عرفات تک جاتے اور وہاں ٹھیرتے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے۔ جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ عرفات تک جائیں ، وہاں وقوف کریں، پھر وہاں سے واپس لوٹیں۔   اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول نازل ہوا: ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ (البقرہ۲:۱۹۹) ’’پھر وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے سارے لوگ واپس لوٹتے ہیں‘‘۔(متفق علیہ)

حج قدیم اسلامی عبادت ہے۔ حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت ابراہیم ؑ و اسماعیل اور دیگر تمام انبیا ؑنے حج کیے ہیں۔ عربوں میں اسلام سے پہلے یہ عبادت جاری تھی اور کافی حد تک اسلام کے مطابق تھی۔  اس میں چند تبدیلیاں کردی گئی تھیں، ایک یہ کہ حج کے مہینے کو آگے پیچھے کرلیتے تھے۔ دوسری یہ کہ صفا اور مروہ پر اساف اور نائلہ کے بت رکھ دیے تھے۔ کعبہ کا طواف تو اللہ تعالیٰ کے لیے کرتے لیکن صفا اور مروہ کا طواف بتوں کے لیے کرتے تھے۔ ایک رسم یہ تھی کہ عام عرب بے لباس ہوکر طواف کرتے تھے، سواے ان لوگوں کے جن کا تعلق قریش سے ہوتا یا جن کو قریش کپڑے دے دیتے۔ ان کے علاوہ باقی لوگ بے لباس طواف کرتے تھے۔ ایک تبدیلی یہ تھی کہ قریش اپنی بڑائی کے سبب میدانِ عرفات تک نہیں جاتے تھے۔ ان ساری تبدیلیوں کا اسلام نے خاتمہ کردیا۔ ۹ہجری میں جب حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حج کرایا، اس سال ان تبدیلیوں کے خاتمے کا اعلان کیا گیا، اور ۱۰ہجری کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج فرمایا، اس وقت ان تمام تبدیلیوں کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حج کرایا جو خالص اسلامی تھا۔ اس کے بعد سے آج تک اسلام کے مطابق حج ہو رہا ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک یہ دنیا قائم ہے۔ کعبۃ اللہ انسانوں کی زندگی اور اسلامی زندگی کا ذریعہ ہے۔ عبادات میں مسلمان کا رُخ کعبۃ اللہ کی طرف ہوتا ہے اور مسلمان ہرسال ایک ہی لباس میں کعبۃ اللہ کے  گرد طواف اور میدانِ عرفات میں وقوف کرتے ہیں۔ منیٰ میں شیطان کو کنکرمارتے اور حج کے شکرانے کے طور پر قربانیاں دیتے ہیں اور اس طرح شیطان اور شیطانی نظام کو مٹانے کا جذبہ لے کر لوٹتے ہیں۔ مناسک ِ حج کا اگر حجاج کرام کو شعور ہوجائے تو دنیا میں اسلامی نظام اور اسلامی حکومت قائم ہونے میں طاغوتی قوتیں رکاوٹ نہ ڈال سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مناسک ِ حج کی حقیقت اور مقصد کا شعور عطا فرمائے، آمین!


عباس بن مرداس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام میں اپنی اُمت کے لیے دعاے مغفرت کی (حاجیوں کے لیے جو میدانِ عرفات میں وقوف کی حالت میں اپنے لیے دعائیں کر رہے تھے)۔ آپؐ نے بھی ان کے لیے دعائیں فرمائیں تو آپؐ کو جواب ملا کہ ان حاجیوں کے علاوہ جن کے ذمے حقوق العباد ہیں، تمام حاجیوں کے بارے میں آپؐکی دعا قبول کرلی گئی ہے۔ آپؐنے دوبارہ دعا فرمائی: اے اللہ! اگر آپ چاہیں تو مظلوم کو جنت عطا فرماکر ظالم کی مغفرت فرما دیں (یعنی وہ ظالم جس کے پاس مظلوم کا حق ادا کردینے کی استطاعت نہیں ہے، اگرچہ وہ دل سے توبہ کر رہا ہے اور مظلوم کا حق لوٹانا چاہتا ہے) تو عرفہ کی شام تک آپؐکو جواب نہ ملا۔ پھر مزدلفہ میں صبح کے بعد آپؐنے وقوف کیا اور اپنی اُمت کے ان ناداروں کے لیے جن سے ظلم ہوگیا، دوبارہ دعا کی تو آپؐکی دعا قبول کرلی گئی۔ دعا کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، یا مسکرائے۔ اس پر ابوبکرؓ اور عمرؓ نے فرمایا: یارسولؐ اللہ! اس وقت تو آپؐ  نہیں ہنستے تھے، اللہ آپؐ  کو ہنساتا رہے ،کس وجہ سے آپؐہنس پڑے؟ آپؐنے فرمایا: جب اللہ کے دشمن ابلیس کو پتا چلا کہ  اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کرلی ہے اور میری اُمت کی مغفرت فرما دی ہے تو اس نے اپنے سر پر مٹی ڈالنا شروع کردی اور واویلا کیا اور ہلاک ہوگیا، کہنا شروع کر دیا، تو میں نے جو اس کی پریشانی اور بے چینی اور رنج و غم کو دیکھا، اس پر مجھے ہنسی آگئی۔ (ابن ماجہ، بیہقی، کتاب البیعت والنشور)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اُمت کے حجاج سے کتنی محبت ہے، اس کا اندازہ آپؐ کی اس دعا سے جو میدانِ عرفات اور مزدلفہ میں آہ و زاری کے ساتھ کی گئی ہے، واضح ہوجاتی ہے۔ اس حدیث سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی بندگی میں اخلاص کا ثبوت دیتا ہے ، توبہ کرتا ہے، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کردینے کا عہد کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کا سامان فرما دیتے ہیں۔ اگر وہ حق داروں کے حقوق ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے    حق داروں کے حقوق ادا کردیتے ہیں اور اپنے مخلص بندوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔

حجاج کس قدر خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی محبت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعائیں فرمائیں اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی دعائیں قبول فرمائیں۔ آج دنیا بھر سے حجاج سرزمین حرم میں جمع ہوتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں حج اور مدینہ طیبہ میں مسجد نبویؐ اور روضۂ رسولؐ پر  حاضری دیتے ہیں ، اور ریاض الجنۃ میں نماز پڑھتے اور دعائیں کرتے ہیں۔ کاش! حجاج کرام اپنے حجاج بھائیوں اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مسلمانوں سے اسی طرح سے محبت کریں، اسی طرح سے نیک تمنائیں اور ہمدردی و غم گساری کریں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ کی تو اُمت مسلمہ دنیا کی مضبوط اور طاقت و ر اُمت کی حیثیت سے تسلیم کی جائے، اور طاغوتی طاقتیں انھیں گاجرمولی کی طرح کاٹنے ، ان کا خون بہانے اور ذلیل و خوار کرنے سے باز آجائیں۔


حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کے لیے اس طرح حج کیا کہ بیوی سے نفسانی خواہش کی کوئی بات نہ کی، کسی فسق کا ارتکاب نہ کیا، وہ اس دن کی طرح گناہوں سے پاک ہوکر واپس آئے گا جیسے اس دن پاک تھا جب اسے اس کی ماں نے جنا تھا۔(متفق علیہ)

اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہوگئی کہ حج صرف اس صورت میں گناہوں سے پاک کرنے کا موجب ہے جب آدمی حج کے تمام آداب کی پابندی کرے اور گناہوں سے حج کے دوران بھی اجتناب کرے اور بعد میں بھی باز رہنے کا عزم کرے۔ قرآنِ پاک میں اس بات کا بھی بطور خاص ذکر کیا گیا ہے کہ حج کے دوران ساتھیوں سے جھگڑا نہ کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حج میں مسلسل سفر اور ہجوم اور طبیعت پر دبائو کی وجہ سے جھگڑے کا ماحول بن جاتا ہے ، اس لیے بطور خاص جھگڑے سے روکا گیا۔ حج سیروسیاحت کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے گھر کی زیارت کے لیے سفر کرنے کا نام ہے۔ یہ سفر عظیم عبادت ہے، اس میں ایک انسان احرام کی حالت میں لبیک اللھم لبیک کہتے ہوئے عشق و محبت کے جذبے کے ساتھ رواں دواں ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں اخلاص شرط ہے۔ اخلاص ہوگا تو یہ سفر عبادت بن جائے گا ورنہ محض آنا جانا ہوگا۔ اس لیے ہرحاجی کو اپنے اخلاص پر خصوصی توجہ دینا چاہیے۔


حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کی اجازت مانگی تو آپؐ نے فرمایا: تمھارا جہاد حج ہے۔ (متفق علیہ)

اسلام نے خواتین کو مردوں سے لڑنے، ان سے ٹکرانے اور جسمانی تکلیف اور عصمت و عفت کو   داغ دارہونے سے بچانے کی خاطر انھیں جہاد کے بجاے حج کی نعمت سے نوازا جس میں ثواب تو جہاد کا ہے لیکن وہ تکالیف اور مصائب جو جہاد میں پیش آسکتے ہیں ان سے محفوظ رکھا۔ مردوں کا کام قتال ہے اور خواتین کا کام گھروں کی حفاظت اور بچوں کی تربیت اور حجِ مبرور ہے۔ کیسا عمدہ نظام ہے! مردوعورت ثواب میں تو برابر ہوگئے لیکن دائرۂ کار میں مختلف۔ آج کی دنیا میں عورت کو جس مشقت میں ڈال دیا گیا، خواتین پولیس اور فوج میں بھرتی ہوکر دُور دراز علاقوں اور ملکوں کا سفر کرتی ہیں، اپنے شوہروں سے دُور رہتی اور بچوں کو پیار دینے سے محروم رہتی ہیں۔ کیا یہ عورتوں کے ساتھ ظلم نہیں ؟ اسلام نے دنیا فتح کی ، مردوں نے سفر کیے۔ اگر کہیں خواتین گئیں بھی تو لڑنے کے لیے نہیں بلکہ شوہروں کی مدد اور مجاہدین کی مرہم پٹی کے لیے لیکن تنہا نہیں بلکہ اپنے شوہروں کے ساتھ ہوتی تھیں۔ ازواجِ مطہراتؓ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریکِ جہاد رہیں اور مناسب خدمات سرانجام دیں۔ بعض خواتین نے ہنگامی حالات میں قتال میں بھی حصہ لیا لیکن عام حالات میں وہ قتال سے الگ رہیں۔


حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرے والد پر اللہ تعالیٰ کا فریضہ حج عائد ہوا ہے، اس حال میں کہ بہت بوڑھے ہیں۔ وہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ یہ سوال و جواب حجۃ الوداع کے موقع پر پیش آئے۔ (متفق علیہ)

ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میری بہن نے حج کی نذر مانی تھی اور وہ فوت ہوگئی ہیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتا ہوں؟ آپؐ نے فرمایا:    اگر اس پر کسی کا قرض دینا ہوتا تو تم وہ ادا کرتے؟ اس نے کہا: ہاں، ادا کرتا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا قرض زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔ (متفق علیہ)

حج فرض ہو یا اس کی نذر مانی ہو، دونوں صورتوں میں فرض ہوجاتا ہے۔ فرض حج آدمی خود نہ کرسکتا ہو تو دوسرا اس کی طرف سے حج کرسکتا ہے۔ اسے حج بدل کہا جاتا ہے۔ اس کی شرط یہ ہے کہ جس پر حج فرض ہے وہ کسی دوسرے کو اپنی جگہ حج کرنے کے لیے کہے۔ ایسی صورت میں دوسرا شخص اس کی طرف سے احرام باندھے گا۔ حج کے سارے اخراجات اس کے ذمہ ہوں گے جو حج کرائے۔ قربانی کی رقم بھی وہی دے گا جس کی طرف سے حج ہوگا، چاہے والد ہو یا کوئی اور۔ جس نے حج کی نذر مانی ہے اور فوت ہوگیا ہے تو وہ دوسرے کو وصیت کرے۔ دوسرا اس کی طرف سے حج کرے گا تو اس کی نذر پوری ہوجائے گی۔ ایسی صورت میں اخراجات اس کے ترکے میں سے ہوں گے اور وصیت نہ کی ہو تو مستحب ہے کہ ورثا میں سے کوئی اس کی طرف سے حج کرے۔ ایسی صورت میں اخراجات وارث کے    اپنے ہوں گے، البتہ ثواب حج کرنے والے اور کرانے والے، دونوں کو پہنچے گا۔


حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم حاجی سے ملو تو اس کے ساتھ سلام کرو، مصافحہ کرو اور اس سے درخواست کرو کہ وہ تیرے لیے اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے دعاے مغفرت کرے۔ وہ جس کے لیے دعا کرے گا اس کی بخشش ہوجائے گی۔(مسند احمد)

اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اگر آدمی خود حج پر نہ جاسکے وہاں جاکر اپنے لیے دعائیں نہ کرسکے تو حاجی جو حجِ مبرور کر کے واپس آیا ہے، اس سے دعائیں کرائے۔ اس طرح سے اس کمی کو پورا کرے جو حج پر نہ جانے سے ہوگئی ہے۔


حضرت عبداللہ بن سائب سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجراسود اور رکنِ یمانی کے درمیان یہ دعا پڑھتے سنا: رَبَّنَـآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ (ابوداؤد)

یہ جامع دعا ہے، یعنی دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی بھلائی اور دوزخ کی آگ سے نجات۔ جسے مراد مل گئی وہ کامیاب ہوگیا۔ حج کا مقصد بھی پورا ہوگیا۔ ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ ۷۰فرشتوں کی ڈیوٹی ہے کہ طواف کرنے والے اور طواف میں مذکورہ دعا پڑھنے پر آمین کہتے رہیں۔ جس دعا پر  اتنے فرشتے آمین کہیں، وہ کیوں کر قبول نہ ہوگی، جب کہ فرشتے بھی اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے مقرر کیے ہوں کہ آمین کہیں تاکہ میں دعا کو قبول کروں۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت سے روزے دار ایسے ہیں جنھیں روزے سے سواے پیاسا رہنے کے کچھ نہیں ملتا اور بہت سے قیام کرنے والے    وہ ہیں جنھیں اپنے قیام سے سواے بیدار رہنے کے کچھ نہیں ملتا۔ (دارمی)

رمضان المبارک اور اس کے روزوں اور اس میں قیام کا مقصد تقویٰ ہے۔ روزہ تو ایک ذریعہ ہے، مقصد تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا، فرائض ادا کرنا اور منکرات سے پرہیز کرنا ہے۔ روزے دار صحیح معنی میں اسی وقت روزے دار شمار ہوتا ہے جب رمضان المبارک کے مہینے میں بھی متقی ہو اور بعد میں بھی متقی رہے۔ کچھ لوگ تو ایسے ہیں کہ رمضان المبارک کے مہینے میں روزے نہیں رکھتے اور نمازیں بھی نہیں پڑھتے۔ ایسے وہ لوگ تو رمضان المبارک کی رحمتوں سے مکمل طور پر محروم رہتے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو صرف رسمی روزہ رکھتے اور رسمی نمازیں پڑھتے ہیں، مقصد کو پیش نظر نہیں رکھتے اور دوسرے حرام کام بھی بلادھڑک کرتے ہیں۔ فرائض کی بھی قطعاً پرواہ نہیں کرتے۔ ایسے لوگ بھی روزہ رکھنے کے باوجود روزے کے فوائد سے محروم رہتے ہیں۔ ان کا روزہ سواے بھوک اور پیاس کے کچھ نہیں اور راتوں کو ان کی تراویح اور نفلی نمازیں بھی بے کار اور بے اثر ہیں۔ رمضان کے روزے تقاضا کرتے ہیں کہ آدمی رمضان المبارک اور رمضان المبارک کے بعد اسلام کے تمام احکام پر عمل کرے، زندگی کو کھیل کود نہ سمجھے بلکہ آخرت کے لیے کمائی کا ذریعہ سمجھے اور آخرت کی کمائی میں دن رات مصروفِ عمل رہے اور سستی کو قریب نہ آنے دے۔ اپنی کمر کو شیطان سے مقابلے کے لیے کَس لے۔ رمضان المبارک اپنی رحمتیں نچھاور کرتا ہوا آیا اور رخصت ہوگیا۔ نفل کا ثواب فرض اور فرض کا ثواب ۷۰فرض کے برابر، اور لیلۃ القدر جو ہزار راتوں سے افضل ہے۔ جس نے دامن بھرنا ہو بھرلے۔ خوش قسمت ہیں جنھوں نے اپنی جھولیاں رحمتوں سے بھرلیںاور بدنصیب ہیں وہ جنھیں رحمتوں کی موسلادھار بارش میں بھی صرف پانی کی چند بوندیں ملیں اور ان سے بھی بڑھ کر بدنصیب وہ ہیں جنھیں اس بارانِ رحمت سے ایک بوند بھی نہ مل سکی۔ آیئے اپنا جائزہ لیں کہ ہم کن لوگوں میں شامل ہیں؟ ہم تقویٰ کی راہ اختیار کرکے متقی لوگوں کی معیت اختیارکرکے اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنے والوں اور مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دینے والوں میں شامل ہوکر سعادت مندوں میں اپنا نام لکھوا سکتے ہیں۔


حضرت عمربن الخطابؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس کتاب کے ذریعے کچھ لوگوں کو اُونچا کرتا ہے اور کچھ کو اِس کتاب کے ذریعے پست کرتا ہے۔ (مسلم)

قرآنِ پاک اعلیٰ درجے کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ کے افضل نبی ؐ پر نازل ہوئی۔ اس کتاب پر ایمان، اس پر عمل، اس کی طرف دعوت، اس کے نظام کو قائم اور نافذ کرنے کے لیے جدوجہد بہت عظیم اور  اعلیٰ درجے کا کام ہے۔ اس لیے جو لوگ یہ کام کریںگے، اللہ تعالیٰ ان کو رفعت اور عظمت عطا فرمائیں گے، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور جو اس کتاب اور اس کے نظام کی مخالفت کریںگے اللہ انھیں نیچا کرے گا، انھیں ذلت اور پستی سے دوچار کرے گا۔ آج مسلمان اس کتاب اور اس کے نظام سے محرومی کے سبب ذلت و پستی سے دوچار ہیں۔ وہ قرآن کے راستے پر چل کر دنیا میں عزت اور آخرت میں اجر پاسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں اس کتاب سے وابستگی اور اس کی سربلندی کے لیے جہاد کی سعادت بخشے۔


حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنائو۔ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورئہ بقرہ پڑھی جائے۔ (مسلم)

قرآنِ پاک کی تلاوت سے گھر آباد ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوتا ہے، ایمان تازہ اور عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ گھر برائیوں سے پاک و صاف ہوجاتا ہے۔ ایسے گھر والوں کے خلاف شیطان میں چالیں چلنے کی سکت نہیں رہتی۔ وہ اس گھر کی طرف رُخ کرنے کی ہمت نہیں پاتا بلکہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ اس لیے ہدایت ہے کہ مسجد میں نمازیں پڑھو تو کچھ حصہ گھر کے لیے بھی رکھ لیا کرو تاکہ گھرآباد رہیں۔ گھروں کا آباد رہنا اور شیطان کے شر سے حفاظت کتنا بڑا فائدہ ہے۔


حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو۔ اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ اس سے سوال کیا جائے اور سب سے افضل عبادت مصیبت سے چھٹکارے کا انتظار ہے۔ (ترمذی)

مصیبت انسانوں پر آتی رہتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، وہ راحت دے کر بھی آزماتا ہے اور تکلیف سے دوچار کرکے بھی آزماتا ہے۔ مصیبت آجائے تو انسان اللہ سے لو لگائے، اس کے در کا سوالی بن جائے، اس کی یاد میں لگ جائے، اس سے دعائیں کرے، صبروشکر کا پیکر بن جائے، شکووں اور شکایتوں سے پرہیز کرے۔ اللہ کے فیصلے پر راضی رہے اور دعائوں کی قبولیت کا انتظار کرے۔ انبیاے علیہم السلام پر آزمایشیں سب سے زیادہ آئیں اور انھوں نے سب لوگوں سے بڑھ کر صبر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ نے صبر کا عظیم نمونہ پیش کیا۔ آج اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے کام کرنے والے دنیا کے مختلف خطوں میں ہولناک مظالم سے دوچار ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ایسے لوگوں کو حوصلہ اور درس دیتا ہے، اُمید دلاتا ہے کہ مصیبت اور آزمایش کی گھڑیاں سدا نہیں رہتیں، ختم ہوجایا کرتی ہیں۔ جب مصیبتیں انتہا کو پہنچ جاتی ہیں اور اہلِ ایمان مسلسل اذیتوں سے بے قرار ہوکر تڑپ اُٹھتے ہیں تو پھر اللہ کی مدد آجاتی ہے، تکلیفیں دُور ہوجاتی ہیں اور اہلِ ایمان ہشاش بشاش اور سرخرو ہوجاتے ہیں۔ آزمایشوں اور ابتلا کا یہ دور بھی ختم ہوجائے گا۔ اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ اس حدیث کو پیش نظر رکھیں اور اس میں دی گئی ہدایت کو اپنی آنکھوں کا سرمہ اور دل کا سرور بنائیں۔ استقامت سے دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرتے رہیں، اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرتے رہیں کہ یہ اسے پسند ہے۔ ان شاء اللہ کامیاب ہوجائیں گے۔


حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جس دن آپؐ کے صاحبزادے ابراہیم فوت ہوئے اس دن سورج گرہن ہوا تو آپؐ  نے صلوٰۃ الکسوف پڑھی۔ دورکعت میں آپؐ  نے ہر رکعت میں اتنا طویل قیام کیا کہ ہر رکعت میں تین رکوع کیے (دو مرتبہ رکوع کی شکل میں قیام تھا اور ایک رکوع تھا جیسے ہرنماز میں ایک رکعت میں ایک رکوع ہوتا ہے۔ خشوع اور خضوع کا ایسا غلبہ ہواکہ آپ قرأت کرتے کرتے جھک گئے اور ایسا دو مرتبہ ہوا)۔ دورکعتوں میں ہررکعت میں دو سجدے کیے۔ اسی طرح دونوں رکعتوں میں چارسجدے ہوگئے۔

آپؐ  نے اس وقت فرمایا: آخرت کی جن چیزوں سے تمھیں ڈرایا گیا ہے میں نے انھیں اس نماز میں دیکھا۔ آگ بھی اُس وقت سامنے لائی گئی جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹ گیا، اس وجہ سے کہ کہیں آگ کی لپٹ مجھ تک نہ پہنچ جائے۔ میں نے دوزخ میں کنڈے والے کو بھی دیکھا، وہ اپنی آنتیں دوزخ میں کھینچتے ہوئے جارہا تھا۔ یہ اپنے کنڈے سے حاجیوں کا سامان چوری کرتا تھا۔ اگر حاجی کو پتا لگ جاتا کہ میرا سامان چوری کر رہا ہے تو کہہ دیتا کہ میرے کنڈے کے ساتھ اتفاقاً اٹک گیا تھا۔ میرا مقصد یہ نہیں تھا کہ اسے لے جائوں۔ اور اگر حاجی کو پتا نہ چلتا تو اسے لے جاتا۔ میں نے بلی والی عورت کو بھی دیکھا جس نے اسے باندھ رکھا تھا۔ نہ اسے کھلاتی تھی اور نہ اسے چھوڑتی تھی کہ کیڑے مکوڑے کھا کر زندہ رہے، یہاں تک کہ بلی مرگئی۔پھر جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھا ہوں تو یہ اس وقت ہوا جب میرے سامنے جنت کو لایا گیا۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھانے کا ارادہ کیا کہ اس کا پھل توڑوں تاکہ تم بھی اسے دیکھ سکو۔ پھر میرا ارادہ بدل گیا اور فیصلہ کیا کہ ایسا نہ کروں۔(مسلم)

سورج گرہن آج کل بھی ہوتا ہے لیکن صلوٰۃ الکسوف کی سنت معطل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی نشان دیکھتے تھے تو نماز کی پناہ لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے سامنے نماز کے ذریعے سربسجود ہوتے اوراللہ تعالیٰ کی ہر شان سے متاثر ہوکر خشوع و خضوع کرتے۔ صلوٰۃ الکسوف تو آپؐ نے سورج گرہن کی وجہ سے شروع کی تھی لیکن نماز میں مزید آیات (نشانیاں) پردئہ غیب سے ظاہر ہوئیں۔ ان کو آپؐ نے تو دیکھا لیکن آپؐ  کی اقتدا میں نماز پڑھنے والوں نے نہ دیکھا۔ اس وجہ سے آپؐ پر خشوع و خضوع کی مزید کیفیات بھی طاری ہوئیں اور آپؐ سے قیام میں جھکائو اور نماز میں پیچھے ہٹنے اور آگے بڑھنے کی کیفیات کا بھی ظہور ہوا ۔ ہماری نمازوں میں خشوع و خضوع کی بہت زیادہ کمی آگئی ہے اور شب و روز میں اور خاص مواقع کی سنتوں میں بھی کمی واقع ہوگئی ہے۔ دعوت و تبلیغ کے کارکنوں کو چاہیے کہ ان سنتوں کو خود بھی ان کے حق کے ساتھ ادا کریں اور مسلمانوں میں بھی ان کو رواج دیں۔ لہوولعب اور گانے بجانے اور لغو کاموں کو نئی شکلوں میں رواج دیا جا رہا ہے۔ عید کے دنوں میں لوگ رمضان المبارک اور اس کی عبادات کو یک سر بھول جاتے ہیں اور بیہودہ پروگراموں اور مجالس میں وقت گزارتے ہیں۔ بدعات کو رواج دینے والے بیدار اور فعال ہیں لیکن سنتوں کو قائم کرنے والے غفلت کی نیند سورہے ہیں۔


حضرت عبداللہ بن ابی ربیعۃؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ۴۰ہزار کا قرض لیا ۔ اس کے بعد جب آپؐ کے پاس مال آیا تو آپؐ نے مجھے قرض کی ادایگی فرما دی اور ساتھ ہی دعا دیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمھیں تمھارے مال اور اہل و عیال میں برکت دے۔ قرض کا بدلہ شکرگزاری اور ادایگی ہے۔(النسائی)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قرض اپنے ذاتی اخراجات کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کی ضروریات کے لیے لیا، اس کی ادایگی مسلمانوں کے مال سے کی۔ اسلامی حکومت عوام کی ضروریات کے لیے قرض لے سکتی ہے لیکن یہ قرض بلاسود ہونا چاہیے۔ جتنا قرض لے اتنا ہی واپس کرے۔ حکومتی اخراجات اتنے نہ ہوں کہ ان کے لیے قرض لیے جائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سرکاری خدمت گاروں کے لیے قرض لے کر ادایگیاں نہیں کیں۔ آج مسلمان حکومتوں کے اخراجات مسرفانہ ہیں اور وہ ان کو پورا کرنے کے لیے سودی قرضے لیتی ہیں جو ملکی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ جب بجٹ بنائیں تو وہ غیرسودی ہو اور بجٹ کو پورا کرنے کے لیے بین الاقوامی اداروں، آئی ایم ایف اور ورلڈبنک سے سودی قرضے نہ لیں۔ اپنے آپ کو خود ہی ظلم کے حوالے نہ کریں۔ آج کل کی حکومتیں ان اداروں سے سودی قرض بھی لیتی ہیں۔ پھر ان کی ہدایات پر بجٹ بناتی ہیں۔ یہ ادارے سودی قرضوں کے سود کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے عوام پر ظالمانہ ٹیکس لگواتے ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان آتا ہے اور پبلک ظلم کی چکی تلے پستی ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک شکرگزاری کے مستحق نہیں۔ شکرگزاری کے مستحق تو وہ ادارے ہوسکتے ہیں جو غیرسودی قرضے دیں۔ آج کی حکومتوں کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں بہترین نمونہ ہے۔ وہ اس نمونے کی پیروی کر کے اپنی معیشت کو بہتر اور عوام کو مہنگائی کے عذاب سے بچاسکتی ہیں۔


 

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی زبان کو روکا اللہ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور جس نے اپنے غصے کو روکا اللہ اس سے اپنے عذاب کو روکے گا اور جس نے اللہ سے معافی مانگی اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائیں گے۔ (بیہقی شعب الایمان)

دنیا میں عزت ہر انسان کو مطلوب ہے، زبان کو روکنا، اس کا بلاضرورت استعمال نہ کرنا عزت کا سامان ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلی بات کہو یا خاموش رہو۔ بے جا غصے کو روکنا دنیوی اور اُخروی فوائد حاصل کرنے کا وسیلہ ہے۔ خلقِ خدا کو اپنے شر سے بچانے اور اس کے شر سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہنے کی ضمانت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے عفو اور مغفرت کا سوال دن رات کا وظیفہ ہونا چاہیے۔


 

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے اسلام کے حسن میں یہ بات شامل ہے کہ وہ بے فائدہ کام چھوڑ دے۔ (ابن ماجہ، ترمذی)

لایعنی اور بے مقصد، بے فائدہ کام اور سرگرمیاں ہماری قومی زندگی اور مشغولیت کا کتنا بڑاحصہ بن چکی ہیں، نئی نسل کی ترجیحات کیا ہیں؟ ہرشخص جائزہ لے کر دیکھ سکتا ہے۔ وقت ضائع کرنے میں تکلف کرنے والے بہت کم لوگ ملتے ہیں۔ اس حدیث میں اللہ کے رسولؐ نے بڑے پیارے انداز سے بتایا ہے کہ جتنا انسان لایعنی مشاغل سے پرہیز کرے، اس کا اسلام اتنا ہی خوب صورت یعنی بہتر ہوتا ہے، زیادہ اجر دلاتا ہے اور یہاں کی زندگی بھی عزت اور سکون سے گزرتی ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں بطور خاص کوشش کرنا چاہیے کہ زندگی کو ___ اپنے وقت کو___ مثبت مقاصد کے لیے منظم کر کے گزاریں اور اپنے اسلام کے حسن کو خوب سے خوب تر کریں۔ رمضان المبارک کا مہینہ اسی حسن کو بڑھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ اس مہینے میں ذکرواذکار، تلاوتِ قرآن پاک، خدمت ِ خلق، دین کی اشاعت، دروس قرآن و حدیث اور اشاعت لٹریچر کے ذریعے اپنے حسن کو بڑھانے کی کوشش کی جائے۔ ٹی وی ڈراموں، فحش فلموں اور لغو قسم کے ناولوں سے اپنے ایمان و عمل کو برباد نہ کیا جائے۔

اچھا کیا ہے اور بُرا کیا ہے؟ جانتے سب ہیں۔ مسئلہ تو بُرے کو چھوڑنا اور اچھے کو اختیار کرنا ہے۔     اس رمضان میں اس ارادے کو مضبوط اور توانا کیجیے کہ نیکی اختیار کریں گے، بُرائی سے بچیں گے،  وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا پر عمل کریں گے۔


حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کے  آٹھ دروازے ہیں: ان میں سے ایک دروازہ ’ریان‘ ہے۔ سیر کرنے والا دروازہ، اس سے نہیں داخل ہوں گے مگر روزے دار۔ (متفق علیہ)

روزہ دراصل اپنی خواہشات اور دوسرے لوگوں کی خواہشات اور شیطان کے احکام کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کی تربیت حاصل کرنا ہے۔ اس بات کو یاد کرنا اور یاد رکھنا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند ہوں۔ حلال کھانا، حلال پینا اور حلال طریقے سے شہوت پورا کرنا، سب    اس وقت ممنوع ہوجاتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ممانعت آجائے۔ ساری حلال چیزیں   صبحِ صادق سے لے کر غروبِ شمس تک حرام ہوجاتی ہیں۔ اس لیے کہ احکم الحاکمین نے حرام کردی ہیں، اور یہی حلال چیزیں رات کے وقت حلال ہوجاتی ہیں، اس لیے کہ رب تعالیٰ نے انھیں رات کو حلال قرار دے دیا ہے۔ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں مسلمان اس بات کو تازہ کرتے ہیں۔ رمضان المبارک جب ختم ہوجاتا ہے، عیدالفطر آتی ہے تو اس دن روزہ رکھنا حرام ہے۔ اس دن روزہ رکھنے والا شیطان کا پیروکار ہوتا ہے اور کوئی مسلمان اس بات کی جرأت نہیں کرسکتا کہ اس دن روزہ رکھے۔ روزے میں زیادہ تکلیف پیاس کی ہوتی ہے۔ اس لیے روزے دار کے لیے اللہ تعالیٰ نے خصوصی دروازہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ ریان کا دروازہ ہے، یعنی وہ دروازہ جس سے گزرنے والے کو ٹھنڈے اور میٹھے جاموں سے سیراب کیا جائے گا۔

روزے کی یہ حقیقت تقاضا کرتی ہے کہ مسلمان معاشرے میں قرآن و سنت کی حکمرانی ہو اور وہ تمام قوانین جو خلافِ شرع ہوں بلاتاخیر ختم کردیے جائیں اور احکم الحاکمین کے نازل کردہ نظام کو نافذ کردیا جائے۔ جب تک روزے کے اس تقاضے کو پورا نہیں کیا جاتا اس وقت تک روزہ بے اثر رہے گا اور اس سے وہ اثرات مرتب نہ ہوں گے جو روزے سے مرتب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی روزہ دار بننے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!


حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان شریف کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان جکڑ دیے جاتے ہیں اور سرکش جن بھی بند کردیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھلتا۔ اور جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا۔ بلانے والا بلاتا ہے، اے خیر کے طلب گار! آگے بڑھ اور اے شر کے طلب گار! رُک جا، اور اللہ تعالیٰ ہر رات لوگوں کو دوزخ کی آگ سے آزاد کرتے ہیں۔ (ترمذی،ابن ماجہ)

ماہِ رمضان چونکہ حکومت الٰہیہ کے قیام کی تربیت کا مہینہ ہے، اس لیے اس میں شیطان جو تمام لادینی نظاموں کا سربراہ ہے، کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور مسلمان اپنے نفس کو اپنی خواہشات سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں روک دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہماری تذکیر کے لیے پورا مہینہ رکھ دیا اور اس مہینے میں عبادت ہمارے لیے آسان بنا دی کہ شیطان کو بیڑیاں پہنا دیں تاکہ وہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ ڈال سکے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک میں مسجدیں آباد ہوتی ہیں، خواتین مسجدوں میں تراویح پڑھنے آتی ہیں تاکہ قرآن پاک مردوں سے آکر سن لیں۔ خواتین اپنے گھروں میں نماز، تلاوتِ قرآنِ پاک اور ذکر کا زیادہ اہتمام کرتی ہیں۔ یوں بندگیِ رب کا ایک موسم بہار آجاتا ہے جو پورے معاشرے کو دین کی خوشبو سے معطر کردیتا ہے۔ یہ مہینہ اس حال میں گزرنا چاہیے کہ   ہم اپنے گناہوں کو معاف کروا لیں اور آیندہ کے لیے بندگیِ رب کے فریضے کے لیے تازہ دم ہوجائیں کہ یہی اس مہینے کا مقصود ہے۔


حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے ایمان کی بنیاد پر ثواب حاصل کرنے کے لیے رکھے تو اس کے تمام گزرے ہوئے گناہ معاف کردیے جائیں گے، اور جس نے رمضان کی راتوں میں ایمان کے جذبے اور ثواب کی خاطر قیام کیا اس کے تمام گذشتہ گناہ معاف کردیے جائیں گے، اور جس نے لیلۃ القدر میں جذبۂ ایمانی اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے تمام گذشتہ زمانے کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ (مشکوٰۃ، کتاب الصوم)

ایک مسلمان اگر پاک صاف ہونا چاہے تو اس کے لیے رمضان المبارک کے مہینے میں دوہرا نہیں بلکہ کئی گنا کا انتظام موجود ہے۔ اللہ رب العالمین کی ذات کتنی زیادہ مہربان ہے۔ اس نے بندوں کے تزکیے کا کس قدر وسیع انتظام فرما دیا ہے۔ دن کو روزہ رکھ کر، رات کو تراویح پڑھ کر اور لیلۃ القدر میں بیدار رہ کر انسان گناہوں کے میل کچیل کو پوری طرح صاف کرسکتا ہے بشرطیکہ ایمانی جذبہ موجود ہو اور اسے ثواب حاصل کرنے اور تزکیے کی فکرمندی نے بے قرار کیا ہوا ہو۔

بلاشبہہ رمضان المبارک تزکیے اور تطہیر کا مہینہ ہے اور اس میں تزکیے کا پورا پورا سامان کیا گیا ہے۔ انسان چاہے تو اپنے آپ کو گناہوں کے بوجھ سے آزاد کرے، روحانی قوت کو اوجِ کمال پر پہنچا کر بندگیِ رب میں مصروف ہوجائے اور قربِ الٰہی کی منازل برق رفتاری سے طے کرنا شروع کردے۔


حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے ہرعمل کی نیکی دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک پہنچتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مگر روزہ، وہ میرے لیے ہے اور میں براہِ راست اس کی جزا دوں گا، وہ اپنے کھانے اور شہوتوں کو میرے لیے چھوڑتا ہے۔ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ روزے دار کے منہ کی مہک اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار ہے اور روزہ ایک ڈھال ہے۔ پس جب تم میں سے ایک آدمی کا روزہ ہو تو وہ فحش بات نہ کرے اور شوروغوغا نہ کرے۔ اگر اس سے کوئی آدمی گالی گلوچ سے پیش آئے یا لڑائی لڑے تو وہ جواب میں یہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ (مشکوٰۃ، متفق علیہ)

شہوت سب سے بڑا بت ہے۔ روزے کے ذریعے اسے توڑا جاتا ہے۔ اس لیے روزہ دار کی جزا بے حساب ہے۔ اسے اللہ رب العالمین براہِ راست جزا عنایت فرمائیں گے کہ اس نے سب سے بڑھ کر عبادت کی ہے اور اس بت کو توڑا ہے جو براہِ راست اللہ تعالیٰ کے مدمقابل ہے۔ اس شہوت کو شیطان ذریعہ بناتا ہے، اسی کو طاغوتی قوتیں آلۂ کار بناتی ہیں۔ جب یہ ٹوٹ جائے تو پھر شیطان بھی مایوس ہوجاتا ہے اور طاغوتی قوتیں بھی ناکام ہوجاتی ہیں لیکن یہ اس وقت ہوگا جب ایک انسان  حقیقی معنی میں روزہ دار ہو۔ اس نے اس عزم کے ساتھ روزہ رکھا ہو کہ مجھے اپنی خواہشات کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے نظام کی حکمرانی قائم کرنی ہے اور تمام حکمرانیوں اور نظاموں کو مٹا کر اللہ کے نظام کو قائم اور نافذ کرنا ہے۔ ایسا شخص اللہ کا پیارا ہے۔اس کے منہ کی مہک بھی اللہ تعالیٰ کو پیاری ہے۔ پھر اس کے لیے روزہ ڈھال بھی ہے۔ گناہوں سے بچانے والا ہے اور روزہ افطار کرتے وقت بھی اسے خوشی حاصل ہوتی ہے۔ پانی اور کھانے سے سیراب ہوتا ہے، یہ جسمانی خوشی ہے۔ حکم الٰہی کو سرانجام دینے کی خوشی نصیب ہوتی ہے، یہ ایمانی خوشی ہے۔ پھر آخرت میں رب سے ملاقات کے وقت اس کی رضا سے سرفراز ہونے کی خوشی جو سیدھا جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔ روزہ دار اپنی تمام منازل سے شاداں و فرحاں ہوکر آخری منزل پر پہنچ کر خوشیوں اور راحتوں میں مگن ہوگا۔ آیئے! اپنے روزے کو حقیقی روزہ بناکر دنیا و آخرت کی نعمتوں سے مالا مال ہوجائیں۔

 

حضرت معاویہ بن حکمؓ سے روایت ہے ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میری ایک لونڈی میری بکریاں چرا رہی تھی، میں اس کے پاس آیا تو میں نے اپنی ایک بکری کو گم پایا۔ میں نے اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا: اسے بھیڑیے نے کھا لیا ہے۔ یہ سن کرمجھے لونڈی پر غصہ آیا اور میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ ماردیا۔ میں انسان تھامجھ سے یہ بشری کمزوری صادر ہوگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  سن کر فرمایا: تم نے لونڈی کو اس کے کسی قصور کے بغیر تھپڑ مار کر بہت بڑی زیادتی کی۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں اسے اس زیادتی کے عوض آزاد کرنا چاہتا ہوں۔ ویسے بھی مجھ پر بطور کفارۂ ظہار یا کفارۂ قسم، ایک غلام آزاد کرنا واجب ہے، تو کیا اس کو اس کفارے کے عوض میں آزاد کردوں تو کفارہ ادا ہوجائے گا؟ رسول ؐ اللہ نے فرمایا: اسے بلائو۔ اسے بلایا گیا تو آپؐ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: آسمان میں۔ پھر پوچھا: میں کون ہوں، اس نے جواب دیا: آپؐ اللہ کے رسولؐ ہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: اسے آزاد کردو، یہ مومنہ ہے۔ (موطا امام مالک، مسلم)

صحابہ کرامؓ کی جو ایمانی تربیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی اس کے نتیجے میں اگر کبھی ان سے کسی کے ساتھ کوئی زیادتی یا گناہ ہوجاتا تھا تو جلد ہی انھیں اپنی غلطی اور زیادتی کا احساس ہوجاتا تھا اور وہ اس پر نادم ہوجاتے تھے۔ حضرت معاویہ بن حکمؓ سے اپنی لونڈی کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ انھوں نے اسے جو تھپڑ مارا وہ بلاوجہ تھا، بکری کو بھیڑیا کھا گیا، اس میں لونڈی کی غفلت کو دخل نہ تھا۔ وہ بکریوں کی نگرانی اور رکھوالی کر رہی تھی کہ اس دوران میں بھیڑیئے نے اچانک حملہ کیا اور ایک بکری کو لے گیا۔ لونڈی نے چھڑوانے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکی۔ حضرت معاویہ بن حکمؓ کو احساس ہوگیا کہ انھوں نے بشری کمزوری کی بناپر بلاوجہ لونڈی پر غصہ نکالا اور بلاوجہ تھپڑ مارا۔ لہٰذا لونڈی کو آزاد کردینے کاارادہ کرلیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضری کا مقصد یہ تھا کہ ان پر اس سے پہلے ایک کفارہ بھی واجب ہوگیا تھا، قسم توڑنے کا یا بیوی کے ساتھ ظہار کرنے کا۔ انھوں نے پوچھا کہ اس لونڈی کو اگر مَیں اس کفارے کے عوض آزاد کردوں، تو کفارہ ادا ہوجائے گا؟ اور جو مجھ سے زیادتی ہوئی ہے اس کا مداوا بھی ہوجائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کو بلاکر دو سوال کیے۔ ان سوالات کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ وہ مومنہ ہے یا نہیں، کہیں زمینی معبودوں کی بندگی کی قائل تونہیں۔ جب اس کے جواب سے آپؐ کو اطمینان ہوگیا کہ وہ مومنہ ہے تو آپؐ نے اسے آزاد کر دینے کا حکم فرما دیا۔ اس لیے کہ کفارۂ قسم اور کفارۂ ظہار میں اس غلام کو آزاد کرنا کفارہ بنتا ہے جو مسلمان ہو، غیرمسلم غلام اور لونڈی کو آزاد کردینے سے کفارئہ قسم اور کفارئہ ظہار ادا نہیں ہوتا۔آپؐ کے فرمانے کا مطلب یہ تھا کہ اس لونڈی کو آزاد کردینے سے کفارئہ قسم یا کفارئہ ظہار بھی ادا ہوسکتا ہے اور جو زیادتی تجھ سے ہوگئی ہے اس کا ازالہ بھی ہوجائے گا اور آخرت میں تم سے اس کا مواخذہ نہ ہوگا۔ صحابہ کرامؓ آخرت میں سزا بھگتنے کے بجاے دنیا میں اپنے آپ کو سزا کے لیے پیش کرکے اُخروی سزا سے بچنے کی تدبیر کیا کرتے تھے۔ آج ہم غفلت کا شکار رہتے ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو تلف کردینے کے باوجود پروا نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرامؓ کی طرح کا احساس اور فکرمندی عطا فرما دے، آمین!


حضرت عمران بن حطان سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوذرؓ کے پاس آیا تو انھیں مسجد میں سیاہ چادر اُوڑھے تنہا بیٹھا ہوا پایا۔ میں نے عرض کیا: ابوذرؓ! یہ تنہائی کیسی ہے؟ انھوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تنہائی بُرے ہم نشین کے مقابلے میں بہتر ہے اور صالح ہم نشین تنہائی کے مقابلے میں بہتر ہے، اور خیر کی بات کرنا خاموشی سے بہتر ہے اور خاموشی بُری بات پھیلانے سے بہتر ہے۔ (بیہقی فی شعب الایمان)

کیسی عمدہ اور جامع نصیحتیں ہیں۔ ان پر عمل پیرا ہونے والا اپنی جھولیاں نیکی سے بھرے گا اور بُرائیوں سے محفوظ رہے گا۔ تنہائی میں اللہ کا ذکر ہو یا پھر صالح ہم نشین ہو تو اس کی صحبت سے فیض یاب ہوکر ایمان اور عمل میں اضافہ کرے گا ۔ اگر صالحین کی جماعت میسر ہوجائے جو اقامت ِ دین کی جدوجہد  میں مصروفِ عمل ہو تو پھر انسان اس مقصد کو حاصل کرنے میں مصروف ہوجائے گا جس کے لیے انبیاے علیہم السلام مبعوث ہوئے ہیں، یعنی غلبۂ دین اور حکومت الٰہیہ یا دوسرے الفاظ میں خلافت ِ راشدہ کا قیام۔ پھر خیر کی اشاعت امربالمعروف اور نہی عن المنکر میں مصروف رہنا وہ سعادت ہے جو  انبیاے علیہم السلام کے بعد اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کو نصیب ہوتی ہے۔ اس حدیث پر ہرمسلمان عمل کرے تو اُمت میں عظیم انقلاب برپا ہوجائے گا۔


حضرت انسؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیبت کا ایک کفارہ  یہ ہے کہ آدمی اس شخص کے لیے استغفار کرے جس کی غیبت کی ہے۔ کہے: اے اللہ! ہماری اور   اس کی مغفرت فرما۔ (رواہ البیہقی فی الدعوات)

جس کی غیبت کی جائے اس کا اصل کفارہ تو یہ ہے کہ آدمی اس سے معافی طلب کرے۔ اگر یہ نہ کہہ سکتا ہو کہ میں نے جو آپ کی غیبت کی ہے وہ معاف کردیں تو یوں کہہ دے کہ مجھ سے آپ کا جو حق تلف ہوا ہو، جو زیادتی ہوئی ہو وہ معاف کردیجیے، اور اگر متعلقہ شخص فوت ہوگیا ہو تو پھر غیبت کا کفارہ اس شخص کے لیے دعاے مغفرت ہے جس کی غیبت کی گئی۔ غیبت گناہِ کبیرہ ہے۔ قرآن پاک میں اسے اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس لیے غیبت کے گناہ کے ازالے کے لیے آدمی کو فکرمند ہونا چاہیے۔ دنیا میں اس کا ازالہ نہ کیا جاسکا تو آخرت میں اس کا عوض دینا بہت مشکل ہوگا۔  اللہ تعالیٰ ہمیں بندوں کے حقوق ادا کرنے اور ان کو دنیا میں راضی رکھنے کی توفیق سے نوازے، آمین!


ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھی۔ وہ دونوں روزے سے تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کرلی تو ان دونوں سے فرمایا: تم دوبارہ وضو کرو، دوبارہ نماز پڑھو، اور جو روزہ رکھا ہے، اسے مکمل کرو لیکن اس کی قضا بھی کرو۔ انھوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! کس وجہ سے؟ آپؐ نے فرمایا: تم نے فلاں آدمی کی غیبت کی ہے۔ (بیہقی فی شعب الایمان)

غیبت کرنے والے کا وضو، نماز اور روزہ سب ناقص ہوتے ہیں۔ ان سے وہ اثرات مرتب نہیں ہوتے جو ان عبادات سے مرتب ہونے چاہییں۔ تزکیۂ نفس اور ایمان میں اضافہ او رتعلق باللہ حاصل نہیں ہوتے۔ اس لیے کہ غیبت گناہِ کبیرہ ہے، اور گناہِ کبیرہ کے مرتکب شخص کی نیکیاں اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول نہیں ہیں۔ لوگ اس حقیقت سے بے خبری کی وجہ سے ایک طرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور دوسری طرف کبیرہ گناہوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں اور مطمئن رہتے ہیں کہ عبادات تو ادا کر رہے ہیں۔ تاجر ہو تو مال میں ملاوٹ کرتے ہیں۔ دودھ میں پانی، ناقص گوشت اور کم تولنا، دیگر اشیاے خوردونوش میں ایسی چیزوں کی ملاوٹ جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کسی محکمے کا افسر ہے تو خیانت اور کرپشن اور رشوت کے ذریعے مال بنا رہا ہے۔ ہاتھ میں تسبیح پکڑی ہے، لیکن دل دنیا پرستی، زرپرستی اور شاہ پرستی کے مرض میں مبتلا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ روزے کو مکمل کرو اور اس کی جگہ ایک روزہ قضا بھی کرو، کا معنی یہ ہے کہ روزہ غیبت کے باوجود ٹوٹتا نہیں ہے لیکن ناقص ہوتا ہے۔ اس لیے ایک ایسا روزہ رکھو جو غیبت اور دوسرے کبیرہ گناہوں سے پاک ہو۔ دوبارہ وضو کرنے، دوبارہ نماز پڑھنے اور روزہ قضا کرنے سے غیبت کا گناہ ختم نہیں ہوتا۔ غیبت کا گناہ اس وقت ختم ہوگا جب اس شخص سے جس کی غیبت کی گئی ہے معافی طلب کی جائے اور اگر وہ فوت ہوگیا ہو تو اس کے لیے دعاے مغفرت کی جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دوسرے ارشادات میں اس کی وضاحت فرما دی ہے۔ اس کو اس حدیث کے ساتھ شامل سمجھا جائے۔


حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں ان پر رات کے وقت بارشیں برسائوں اور دن کے وقت سورج طلوع کروں اور انھیں گرج کی آواز نہ سنائوں۔ (مسند احمد)

جب بندے اللہ تعالیٰ کے مطیع فرمان ہوجائیں، اور اس کے کام کرنے لگیں تو اللہ بندوں کے کام خود کرنے لگتا ہے۔ ہوائیں ان پر بارشیں برساتی ہیں، سرسبز ی و شادابی ملتی ہے، خوش حالی حاصل ہوتی ہے، معاشی حالت مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔ دنیا میں کسی قسم کی پریشانی لاحق نہیں ہوتی، رات کو بارشیں اور دن کو سورج نمایاں نظر آتا ہے اور گرج و چمک کی تکلیف سے بھی محفوظ ہوتے ہیں۔ دنیا میں انسانوں کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی خوش حالی اور معاشی استحکام کا حصول اور تکالیف اور پریشانیوں سے نجات ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے ہوجاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی دنیا بھی بناتے ہیں اور آخرت بھی سنوار دیتے ہیں۔ ان کی دنیا کی ہر طرح کی پریشانیاں دُور ہوجاتی ہیں۔ وہ کسی معمولی تکلیف سے بھی دوچار نہیں ہوتے، سورج کو بادل نہیں چھپاتے اور بارش پھر گرج اور چمک کے ساتھ برستی ہے۔ وہ اپنے گھروں میں آرام اور سکون کی نیند سوتے ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ کی بندگی میں کیوں سستی کی جائے، اس کے کاموں کے ذوق و شوق اور جذبے میں کیوں کمی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مقبول بندوں میں شامل فرمائے، آمین!

 

حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساحلِ سمندر کی جانب ایک لشکر بھیجا جس میں ۳۰۰ مسلمان شامل تھے۔ آپؐ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓکو ان کا امیر بنایا۔ میں بھی ان ۳۰۰ میں شامل تھا۔ ہم نکل کھڑے ہوئے، ہم راستے میں تھے کہ زادِراہ ختم ہونے کے قریب ہوگیا۔ تب ابوعبیدہ بن جراحؓ نے فوج کو حکم دیا کہ ہرآدمی وہ سب کچھ ایک جگہ لے آئے جو اس کے پاس ہے۔ چنانچہ سب نے اس پر عمل کیا، جس کے نتیجے میں کھجوروں کے دو بورے بھر گئے۔ حضرت ابوعبیدہ ان بوروں میں سے ہر دن ہر فوجی کو ایک کھجور کھانے کے لیے دیتے تھے یہاں تک کہ وہ دونوں بورے بھی ختم ہوگئے۔ حضرت وھب بن کیسانؓ جو حضرت جابر ؓ سے اس روایت کو بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں: میں نے کہا کہ ایک کھجور کیا کام دیتی ہوگی۔ اس پر حضرت جابرؓ نے کہا: ہمیں تو اس کی قدر اس وقت ہوئی جب وہ ایک ملنا بھی بند ہوگئی۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد بھی ہم چلتے رہے یہاں تک کہ سمندر کے ساحل (جو منزل تھی) پر پہنچ گئے تو دیکھا کہ ٹیلے کی طرح ایک مچھلی کنارے پر پڑی ہے۔ اس کو ہم نے ۱۸دن خوب سیر ہوکر کھایا۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ نے اس مچھلی کے دو کانٹوںکو کھڑا کیا (ان میں نیچے سے فاصلہ رکھا، اور اُوپر سے ملا دیا، پھر اُونٹنی پر کجاوے ڈال کر ان دونوں کانٹوں کے بیچ سے گزار ا گیا تو وہ گزر گئی اور کانٹوں کے سروں کے ساتھ نہ ٹکرائی۔ (بخاری، کتاب الشرکۃ)

صحابہ کرامؓ نے جس تنگ حالی میں جہاد کیا، اس کا ایک نمونہ یہ جہادی مہم ہے، کہ ایک کھجور کھا کر دن رات گزارا کرنا اور اس کے ساتھ ہی جہادی مہم کو سر کرنا، آگے بڑھتے چلے جانا اور پیچھے نہ ہٹنا، اور کوئی واویلا نہ کرنا اور کسی قسم کی بے صبری اور افراتفری کا شکار نہ ہونا۔ ایسی حالت میں آپس میں ہمدردی اور غمگساری کا یہ عالم ہے کہ سب کے پاس جو کچھ ہے وہ اکٹھا کرلیا جاتا ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کوئی تو کھائے اور کوئی بھوکا رہے۔

آج اگر یہ ہمدردی اور غمگساری ہمارے معاشرے میں آجائے تو بھوک کا مسئلہ آناً فاناً حل ہوجائے۔ معاشرے کے کھاتے پیتے لوگ ہمدردی، غمگساری اور معاشرے کے غم میں ڈوب جانے اور آنسو بہانے کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن خزانوں پر سانپ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر سب لوگ اپنی دولت کو ایک جگہ جمع کرکے اسے ملک و ملّت کے حوالے کر دیں تو بیرونی قرضے بھی یک دم ختم ہوجائیں اور اندرونی معیشت بھی مضبوط و مستحکم ہوجائے اور کوئی بھوکا ننگا نہ رہے۔ بے شک اس کے لیے اپنی ساری دولت سے دست بردار نہ ہوں بلکہ قرضوں کی ادایگی اور عوام کے بھوک اور ننگ دُور کرنے کے لیے جس قدر دولت کی ضرورت ہے اتنی مقدار سے دست بردار ہوجائیں، تب بھی صورت حال تبدیل ہوسکتی ہے اور بدامنی کی جگہ امن، تنگی کی جگہ آسانی اور پریشانی کی جگہ اطمینان اور سکون کی زندگی میسر آسکتی ہے۔ ایسا کرلیں تو اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد نازل ہوسکتی ہے اور ہمیں غیب سے رزق مل سکتا ہے۔ آج کے دور میں قوت کا راز ہی مستحکم معیشت ہے۔ یہ ہمیں قوموں کی برادری میں معزز مقام دلواتی، اور ۲۱ویں صدی امریکا یا چین کے بجاے ہمارے نام ہوجاتی۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَ لَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِم(المائدہ۵:۶۶) ’’اگر یہ لوگ تورات، انجیل اور اسے قائم کرتے جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے (یعنی قرآن پاک ) تو ان پر اُوپر سے بھی رزق برستا اور نیچے سے بھی رزق برستا‘‘۔گویا اہلِ کتاب تورات کے دور میں تورات اور انجیل کے دور میں انجیل اور قرآن پاک کے دور میں قرآن پاک کو قائم کرلیتے تو ان پر  اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق کے تمام دروازے کھل جاتے۔ اس نسخے پر ۵۷ممالک عمل کریں تو    کون سی سوپرپاور ہمارے سامنے ٹھیرتی۔ہم محض اپنی نادانی میں ان پاورز کی ٹھوکروں میں پڑے ہیں، العیاذ باللہ۔ کاش کہ ہم تقویٰ کی روش اختیار کریں اور زمین و آسمان کی برکتوں اور نعمتوں کا مشاہدہ کریں۔ قرآن و سنت پر عمل کرنے سے آخرت تو بنتی ہے، دنیا بھی سنور جاتی ہے اور معاشی حالت بہتر ہوجاتی ہے۔ رزق میں فراخی، ذہنوں کو سکون اور دلوں کو اطمینان نصیب ہوجاتا ہے۔ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی طرف رجوع کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف اپنی رحمت کے ساتھ رجوع کرتا ہے۔ ایسا پہلے بھی ہوا ہے، آج بھی ہوسکتا ہے اور آیندہ بھی حقیقی آسودہ حالی حاصل کرنے کا یہی راستہ ہے۔


حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! راستوں میں بیٹھنا ہماری مجبوری ہے، ہمارا رواج ہے۔ ہم راستوں میں (یعنی راستوں کے کناروں پر) مل بیٹھتے ہیں، مشورے ہوتے ہیں، لہٰذا آپؐ اس کی اجازت مرحمت فرما دیں تو اچھا ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم نے راستوں کے کناروں پر بیٹھنا ہی ہے تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! راستے کا حق کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: راستے کاپہلا حق: نظریں نیچے رکھنا ہے، دوسرا حق: تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا ہے، تیسرا حق: سلام کا جواب دینا، اور چوتھا حق بھلائی کی تلقین کرنا اور بُرائی سے روکنا ہے۔ (بخاری، ابواب المظالم والقصاص)

شارع عام کے کنارے پر بیٹھنے کی اجازت ہے بشرطیکہ آنے جانے والوں کو اس سے تکلیف نہ ہو۔ سڑک کے ذریعے آمدورفت بلاروک ٹوک ہونا چاہیے۔ اس لیے راستے کو کم کرنا، تجاوزات کرنا، سڑک کے کنارے ریڑھیاں لگانا، دکانیں اور مکان بنانا اسی صورت میں جائز ہے جب اس سے راستہ گزرنے والوں کے لیے تنگی اور تکلیف پیدا نہ ہوتی ہو۔ اسی طرح معاشرے میں آمدورفت، نشست، بسوں، ٹرینوں اور جہازوں میں سفر کے دوران اور جلسوں، جلوسوں اور اجتماعات کے دوران نظریں نیچی رکھنا اسلامی تہذیب کا امتیاز ہے۔ اسمبلیوں تجارتی مراکز اور ہالوں میں بے پردگی نہیں ہونی چاہیے۔ مردوں کی نشستیں الگ اور خواتین کی الگ ہونی چاہییں۔ کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں بھی اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ دفاتر، ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں کے لیے بھی اس کے مطابق نظام بنانا چاہیے۔ مغربی تہذیب نے ہمارے معاشروں کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ آج ہمارا معاشرہ بھی مغرب کی طرح مخلوط ہوگیا اور اختلاط مردوزن کی وجہ سے مسلمانوں کی بے راہ روی کے نتیجے میں زندگی سے سکون ختم ہوگیا ہے، اور بندے اللہ تعالیٰ کی بندگی سے غافل ہوگئے ہیں۔ سلام پھیلانے کی جگہ ہم نے ہاتھ سے سلیوٹ کرلینے کو سلام کا بدل بنا دیا ۔ نیکی کا حکم کرنا اور برائی کو روکنا ایک فریضہ ہے جو حکومت، عوام اور علما اور زعما سب کی ذمہ داری ہے، لیکن آج صرف اسے منبر کے ساتھ خاص   کردیا گیا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو ہم اپنا لیں جیسے کہ اس کو اپنا لینے کا حق ہے، تو دنیا جنت نظیر بن سکتی ہے۔


حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ادھار کی ادایگی کا مطالبہ کیا اور سخت رویہ اختیار کیا۔ صحابہؓ نے ارادہ کیا کہ اسے اس کے نازیبا رویے کی سزا  دیں۔ آپؐ ان کے اس ارادے کو بھانپ گئے تو آپؐ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو۔ حق دار کو مطالبہ کرنے اور بات کرنے کا حق ہے۔ جس مالیت کا اس نے اُونٹ دیا تھا اتنی ہی مالیت کا اُونٹ تلاش کرکے اسے دے دو۔ صحابہؓ نے اس طرح کا اُونٹ تلاش کیا لیکن نہ ملا۔ چنانچہ انھوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! اس مالیت کا اُونٹ تو نہیں مل رہا، اس سے زائد مالیت کا اُونٹ مل رہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: وہی خرید لو اور اسے ادایگی کرو۔ تم میں سے بہتر وہ ہے جو ادایگی میں بہتر ہو (بخاری کتاب االاستقراض )

یہ شخص یہودی تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سخت روش اور نازیبا انداز کو برداشت کیا۔ اسے اس کا حق نہ صرف ادا کیا بلکہ اس سے زائد دیا۔ آپؐ نبی، رسول اور حکمران تھے۔ آپؐ ایک عام آدمی کی زندگی بسر کرتے تھے، خریدوفروخت کرتے، اُدھار لین دین کرتے۔ کوئی بھی شخص ایسا نہ تھا کہ وہ آپؐ سے مل نہ سکتا تھا، کوئی سیکورٹی اور کوئی دربان آپؐ کے دروازے پر نہ تھا۔ مسجد میں، راستے میں چلتے ہوئے آپؐ سے ملاقات ہوسکتی تھی۔ کیا آج کی مہذب حکومتیں اس کی مثال پیش کرسکتی ہیں؟ کیا رواداری، خوش اخلاقی کا اس سے بہتر نمونہ کہیں تلاش کیا جاسکتا ہے، اور آج کے معاشرے میں اس نمونے کی کوئی حکمران شخصیت سامنے لائی جاسکتی ہے۔ کوئی مذہبی پیشوا بھی ایسا ہے کہ دوسرے مذہب یا مسلک کا شخص اس کے ساتھ سختی سے پیش آئے تو پیروکار اسے برداشت کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار تو صحابہؓ تھے۔ کیا انھوں نے آپ ؐ کی صحبت میں کسی کے ساتھ زیادتی کی؟ تب یہ کیسے  ممکن ہے کہ صحابہؓ سے محبت کرنے والا، اہلِ بیتؓ کا پیروکار، ان کی محبت میں لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے بجاے انھیں پامال کرے۔ مسلمانوں میں یہ بات کہاں سے آگئی ہے؟ یہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ لادین معاشروں سے ان میں در آئی ہے، لہٰذا مسلمانوں کو اپنے دین کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی سیرت کو اپنانا چاہیے اور دنیا کے لیے، اس نمونے کو تازہ کرنا چاہیے جو نمونہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ نے پیش کیا ہے۔ آج دنیا کو نبیؐ اور اصحابِ نبیؐ کی سیرت کی ضرورت ہے۔ یہی امن و امان اور شرافت کے دوردورہ کی ضامن ہیں۔

 

بشیر بن یسار حضرت انسؓ کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ وہ مدینہ تشریف لائے (شام گئے تھے، وہاں سے واپس آئے تھے)۔ ان سے کہا گیا: آپ نے ہمارے ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے مقابلے میں کیا تبدیلی دیکھی ہے ؟ انھوں نے جواب میں کہا: میں نے کوئی تبدیلی نہیں دیکھی سواے اس کے کہ تم صفیں پوری طرح سیدھی نہیں رکھتے۔ (بخاری، کتاب الاذان،ص ۱۰۰)

صحابہ کرامؓ اور تابعین عظام ہمیشہ اس فکر میں رہتے تھے کہ ہماری دینی حالت ٹھیک اسی طرح ہو    جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھی۔ اسی واسطے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اور اپنے زمانے کے حالات کا موازنہ کرتے رہتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے حالات کے علم کو تازہ رکھتے تھے تاکہ اسی طرح خطوطِ مستقیم پر گام زن رہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے۔ اسی فکرمندی کی نشان دہی وہ سوال کرتا ہے جو اہلِ مدینہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمِ خاص حضرت انسؓ سے اس وقت کیا جب وہ شام سے واپس آئے تھے۔ آپ نے بظاہر ایک معمولی بات کی طرف توجہ دلائی لیکن اس میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دم ضرور بھریں، سیرت کے جلسے بھی کریں اور جلوس بھی نکالیں لیکن یہ بھی سوچیں کہ نبی اکرمؐ کے زمانے میں آپؐ نے جو معاشرہ قائم کیا تھا اس میں نمازوں کی پوری پابندی ہوتی تھی، روزے بھی  تمام مسلمان رکھتے تھے، اسلامی نظام پوری طرح قائم تھا، عدل و انصاف کا دور دورہ تھا، اس سے ہم کتنا قریب ہیں۔ ہماری کوشش ہونا چاہیے کہ وہی معاشرہ قائم کیا جائے ، اور اس دور کو واپس لایا جائے۔


حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت ایک بنُی ہوئی چادر جس کے کنارے اس کے ساتھ بُنے ہوئے تھے (اسے کسی کپڑے سے کاٹا نہ گیا تھا بلکہ مکمل چادر بنی ہوئی تھی)   پیش کرتے ہوئے عرض کیا: میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بُنا ہے تاکہ آپؐ اسے پہنیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر لے لی۔ اس بات کے اظہار کے ساتھ کہ آپؐ کو اس کی حاجت تھی (گویا خاتون کے ہدیے کا شکریہ ادا کیا کہ بروقت اس نے ہدیہ پیش کیا ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے گھر سے پہن کر واپس تشریف لائے تو ایک آدمی نے اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا: کس قدر خوب صورت چادر ہے یارسولؐ اللہ! مجھے عطا فرما دیجیے۔ اس پر لوگوں نے اس شخص سے کہا: آپ نے اچھا نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کو لیتے ہوئے اظہار فرمایا کہ آپؐ  کو    اس کی حاجت تھی اور تمھیں معلوم ہے کہ آپؐ سوال کو رد نہیں فرماتے۔ اس نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں نے اسے پہننے کے لیے نہیں مانگا بلکہ اس لیے مانگا ہے کہ یہ میرا کفن بنے۔ حضرت سہلؓ کہتے ہیں وہ چادر ان کا کفن بنی تھی۔ (بخاری، کتاب الجنائز)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ  سے منسوب ہر چیز سے محبت ایمان کا تقاضا ہے۔ آپؐ  کی ذات، آپؐ  کا لباس، آپؐ  کا غُسالہ (وضو کا پانی)، آپؐ  کے صحابہ ؓ، آپؐ کے اہلِ بیتؓ، سب کی محبت مومن کی صفت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اپنے والدین، اپنی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائوں‘‘ (بخاری)۔ اسی طرح فرمایا: ’’تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کی خواہش اس دین کے تابع نہ ہوجائے جسے مَیں لے کر آیا ہوں (مشکوٰۃ المصابیح)۔صحابہ کرامؓ کی زندگیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ  کے لباس، آپؐ  کی نشست و برخاست، آپؐ  کے چال چلن، آپؐ  کی سیرت اور آپؐ  کے دین کے ساتھ عشق و محبت پوری طرح دکھائی دیتی محسوس ہوتی اور مشاہدے میں آتی ہے جیسے برف کے قریب بیٹھ کر ٹھنڈک اور آگ کے قریب بیٹھ کر حرارت محسوس ہوتی ہے۔   اسی طرح صحابہ کرامؓ کی زندگیوں کے مطالعے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت برستی نظر آتی ہے۔

مذکورہ حدیث میں جس صحابیؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چادر مانگ لی یہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ یا عبدالرحمن بن عوفؓ ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر کو تھوڑی دیر پہنا تو انھیں اس چادر سے محبت ہوگئی، اس لیے کہ وہ چادر آپؐ  کے جسمِ اطہر کو چھو گئی اور متبرک ہوگئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی عام صحابی کے سوال بلکہ کسی بھی شخص کے سوال کو رد نہ کرتے تھے تو اپنے قریبی ساتھی کی دلی خواہش اور طلب کو کیسے رد فرما دیتے۔ آپؐ  نے وہ چادر اُتار کر انھیں پیش کردی۔ انھوں نے اسے دنیا میں اپنا لباس بنانے کے بجاے اُخروی زندگی کا لباس بنایا کہ آپؐ  کی یہ متبرک چادر قبر میں ان کی شناخت ہو کہ یہ ہے وہ شخص جس نے نبیؐ کے لباس کو اپنا لباس بنا لیا اور اس وجہ سے وہ محترم ہے۔ اس حدیث سے نبیؐ کی سخاوت کی نرالی شان ظاہر ہوتی ہے۔ ابن عباسؓ فرماتے ہیں: رسو لؐ اللہ تمام لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے۔ کیوں نہ ہوں کہ اللہ کے رسولؐ تھے اور اللہ نے انھیں انسانیت کو نوازنے اور ان پر سخاوت کرنے ہی کے لیے بھیجا تھا۔ آپؐ  رحمت للعالمین تھے، آپؐ  کی سب سے بڑی سخاوت قرآن و سنت کا نظام ہے۔ کاش! ہم اس کا شعور پیدا کریں اور قرآن و سنت کے نظام کو تمام نظاموں کے مقابلے میں محبوب جان کر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور رحمت للعالمینؐ کا عظیم، بے نظیر و بے مثال تحفہ جان کر اسے محبوب بنالیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و تعلق کا حق ادا کردیں۔


حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قبر کے پاس سے گزر ہوا جس کے پاس ایک عورت بیٹھی رو رہی تھی۔ آپؐ  نے اسے دیکھا تو فرمایا: اللہ کی بندی، اللہ سے تقویٰ اختیار کر اور صبر کر۔ اس نے کہا: اے آدمی! اپنا کام کر، میری مصیبت تجھ پر نہیں آئی۔ وہ آپؐ  کو پہچان نہ سکی تھی۔ اس لیے یہ جملہ اس کی زبان سے نکل گیا۔ کوئی شخص اس منظر کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے اس عورت سے کہا: تجھے پتا بھی ہے یہ شخصیت کون تھی؟ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ وہ پریشان ہوکر آپؐ  کے گھر کی طرف دوڑی کہ معذرت کرے۔ دروازے پر پہنچی تو دیکھا کہ یہاں کوئی محافظ نہیں ہے، اندر چلی گئی۔ عرض کیا: یارسولؐ اللہ! غلطی ہوگئی آپؐ  کو پہچان نہ سکی۔ اس پر آپؐ  نے فرمایا: صبر تو اس وقت معتبر ہوتا ہے جب صدمہ تازہ ہو (بعد میں تو خود بخود صبر آجاتا ہے)۔ (بخاری، کتاب الجنائز)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اصلاح، تزکیہ و تربیت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ خاتون کو قبر کے پاس روتے ہوئے دیکھا تو موقعے پر نصیحت کا کلمہ کہہ دیا۔ اس نے ناگوار بات کی تو آپؐ  نے اس کا کوئی جواب نہ دیا، اپنا تعارف بھی نہ کرایا، نہ اسے ڈانٹ ڈپٹ ہی کی۔ اس میں دعوت و تربیت اور وعظ و نصیحت کے لیے بڑا عمدہ نمونہ ہے۔ آج واعظین لوگوں سے ناراض ہوجاتے ہیں اور انھیں طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں، خصوصاً مخالفین کو۔ نبی کریمؐ کی سیرت کا یہ روشن پہلو دعوتی خطوط کو نمایاں کر رہا ہے کہ ناگوار بات سن کر اسے پی جانا چاہیے۔ ایسا کیا جائے تو زیادہ وقت نہیں گزرے گا کہ بھٹکنے والا سیدھی راہ پر چلتا دکھائی دے گا۔ واعظ کے لیے ضروری ہے کہ وہ  صبر سے کام لے۔ صبر سے اللہ تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے اور معاشرے میں خوش گوار اور اُلفت و محبت کی فضا پیدا ہوتی ہے۔


حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئی (جب کہ وہ مرض الموت میں تھے)، تو انھوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا؟ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا: تین سحولی (یمن کے بنے ہوئے) سفید کپڑوں میں جس میں قمیص اور پگڑی نہ تھی۔ پھر پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس دن فوت ہوئے تھے؟ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا: سوموار کے دن۔ پھر پوچھا: آج کون سا دن ہے؟ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا: سوموار کا دن۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے کہا: مجھے اُمید ہے کہ شام تک میری روح قبض ہوجائے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ سوموار کا دن ختم ہوا، منگل کی رات شروع ہوئی تو حضرت ابوبکرؓ کی روح قبض ہوگئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے ایک کپڑا جو انھوں نے بیماری کے دوران پہنا ہوا تھا اور اس پر زعفران کا داغ تھا، کو دیکھا تو فرمایا: اسے دھو ڈالنا، دو اور کپڑے ملا کر مجھے ان میں کفن دے دینا۔ حضر ت عائشہؓ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یہ کپڑا تو پرانا ہے۔ آپؓ نے فرمایا: زندہ لوگ نئے کپڑے کے زیادہ حق دار ہیں۔ پرانا کپڑا قبر میں جسم سے نکلنے والی پیپ کے لیے ہے۔ چنانچہ ایک پرانے کپڑے اور دو نئے کپڑوں میں حضرت ابوبکرؓ کو کفنایا گیا اور منگل کی رات کو ان کا جنازہ ہوا اور رات ہی کو تدفین بھی ہوئی۔ (بخاری، کتاب الجنائز)

 حضرت ابوبکرصدیقؓ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی۔ انھوں نے اپنی بیماری میں اگر کچھ پوچھا تو یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفنایا گیا اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس دن فوت ہوئے۔ انھیں طلب اور تڑپ تھی کہ انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کفن دیا جائے اور یہ شوق اور ولولہ تھا کہ اسی دن آپؓ کی وفات ہو جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔ ان کی یہ طلب اور تڑپ اللہ تعالیٰ نے پوری کردی بلکہ اس سے بھی زیادہ آپؓ کو دنیوی زندگی اور موت دونوں حالتوں میں آپؐ کے ’صاحب‘ ہونے کے مقام پر فائز کردیا، اور حضرت عائشہؓ کے حجرۂ مبارکہ میں  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں قبر عطا فرمائی۔کتنی اُونچی شان ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکرؓ کو عطافرمائی  ع  یہ رُتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا!

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا۔ اس میں فرمایا کہ جھنڈا زید نے لیا پھر جامِ شہادت نوش کرلیا، پھر جھنڈا جعفر نے پکڑا اور وہ بھی شہید ہوگئے۔ اس کے بعد عبداللہ بن رواحہ نے پکڑا توو ہ بھی شہید ہوگئے۔ پھر خالد بن ولید نے جھنڈا لے لیا بغیر اس کے کہ اسے مقرر کیا گیا ہو۔ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں مذکورہ صحابہ کرامؓ ، زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ کو امیر مقرر کیا تھا، تینوں شہید ہوگئے تو خالد بن ولیدؓ نے ہنگامی بنیادوں پر جھنڈا پکڑ لیا (جھنڈا فوج کی کمان کرنے والے کے پاس ہوتا تھا اور اسی کو سربراہ اور امیر سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ صحابہؓ نے ان کو اپنا امیر سمجھ کر ان کی قیادت میں جنگ کی اور جنگ جیت لی) اور فتح پائی۔ (بخاری، کتاب الجہاد)

یہ غزوئہ موتہ کا واقعہ ہے۔۳ہزار کی تعداد میں صحابہ کرامؓ تھے اور قیصرروم کی ایک لاکھ فوج تھی۔۳ہزار کی فوج نے ایک لاکھ کا مقابلہ کیا۔ ایک اور ۳۳ کی نسبت تھی۔ مسلمانوں نے اپنی قلت تعداد کے باوجود دُوردراز علاقے میں کفار کی فوجوں کا مقابلہ کیا اور انھیں شکست سے دوچار کیا۔ اس جنگ کا پس منظر یہ ہے کہ رومی سلطنت کے ساتھ کش مکش کی ابتدا فتح مکہ سے پہلے ہوچکی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  صلح حدیبیہ کے بعد اسلام کی دعوت پھیلانے کے لیے جو وفود عرب کے مختلف خطوں میں بھیجے تھے،  ان میں سے ایک وفد شمال کی طرف سرحد شام سے متصل قبائل میں بھی گیا تھا۔ یہ لوگ زیادہ تر عیسائی تھے اور رومی سلطنت کے زیراثر تھے۔ ان لوگوں نے ذات الطلع یا ذات اطلاع کے مقام پر اس وفد کے ۱۵آدمیوں کو قتل کردیا، اور صرف امیروفد کعب بن عمیر غفاری بچ کر واپس آئے۔ اسی زمانے میں   نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بصرہ کے رئیس شرحبیل بن عمرو کے نام بھی دعوت اسلام کا پیغام بھیجا تھا مگر  اس نے آپؐ کے ایلچی حارث بن عمیر کو قتل کردیا۔ یہ رئیس بھی عیسائی تھا اور براہِ راست قیصرروم کے احکام کاتابع تھا۔ ان وجوہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمادی الاولیٰ ۸ہجری میں۳ہزار مجاہدین کی ایک فوج سرحدشام کی طرف بھیجی تاکہ آیندہ کے لیے یہ علاقہ مسلمانوں کے لیے پُرامن ہوجائے اور یہاں کے لوگ مسلمانوں کو بے زور سمجھ کر ان پر زیادتی کرنے کی جرأت نہ کریں۔ یہ فوج جب ھان کے قریب پہنچی تو معلوم ہوا کہ شرحبیل بن عمرو ایک لاکھ کا لشکر لے کر مقابلے پر آرہا ہے۔ خود قیصرروم مقامِ حمص پر موجود ہے اور اس نے اپنے بھائی تھیوڈور کی قیادت میں ایک لاکھ کی مزید فوج روانہ کی ہے۔ لیکن ان خوف ناک اطلاعات کے باوجود ۳ہزار سرفروشوں کا یہ مختصر دستہ آگے بڑھتا چلا گیا اور موتہ کے مقام پر شرحبیل کی ایک لاکھ فوج سے جاٹکرایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ مجاہدین اسلام بالکل پس جاتے لیکن سارا عرب اور تمام شرق اوسط یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ ایک اور ۳۳ کے    اس مقابلے میں بھی کفار مسلمانوں پر غالب نہ آسکے۔ یہی چیز تھی جس نے شام اور اس سے متصل رہنے والے نیم آزاد عربی قبائل کو بلکہ عراق کے قریب رہنے والے نجدی قبائل کو بھی جو کسریٰ کے زیراثر تھے ، اسلام کی طرف متوجہ کردیا اور وہ ہزاروں کی تعداد میں مسلمان ہوگئے(بحوالہ تفہیم القرآن، سورئہ توبہ)۔ آج بھی اس تاریخ کو دہرایا جاسکتا ہے ، مسلمان اپنی قلت تعداد اور فوج اور اسلحہ اور ٹکنالوجی میں کفار سے کم تر ہونے کے باوجود ان کو پسپا کرسکتے ہیں بشرطیکہ ان میں اسی طرح کی جاں سپاری، سرفروشی ، جرأت اور بہادری ہو اور وہ کفار سے مرعوب ہونے کے بجاے مرعوب کرنے والے ہوں۔ لیکن آج تو صورت حال یہ ہے کہ مسلمان حکمران کفار کے لیے نرم چارہ بن چکے ہیں اور    ان کے سامنے جھک کر، تابع فرمان بن کر زندگی گزارنے کو اپنی زندگی کا سامان سمجھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی قیادت آگے آئے جو صحابہ کرامؓ کے جذبۂ ایمان اور شوقِ شہادت کو زندہ کرنے والی ہو اور زمین پر اللہ تعالیٰ کی حکمرانی قائم کردینے کا مشن رکھتی ہو۔

o

حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص   اللہ تعالیٰ کے لیے ایک درجہ تواضع کرے اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ اُونچا کرتے ہیں اور اس کو اتنا اُونچا کرتے ہیں کہ وہ علیین تک پہنچ جاتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تکبر کرے اللہ تعالیٰ اسے اسفل السافلین تک پہنچا رہے ہیں۔ (مسند احمد)

اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنا اس کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرلینا عزت و رفعت کا سامان ہے۔  حضرت عمرؓ نے فرمایا: ہم وہ قوم ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی بدولت عزت دی ہے، جب ہم اسلام کے علاوہ کسی اور چیز سے عزت طلب کریں گے تو اللہ ہمیں ذلیل کردے گا۔ آج مسلمان اللہ تعالیٰ کے دین کو چھوڑ کر پستی میں گر چکے ہیں۔ علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا    ؎

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر

دین کو چھوڑنا اور لادینی نظاموں کو قبول کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بڑا بننا ہے، جو اللہ تعالیٰ کو انتہائی ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: العظمۃ ازاری والکبریائی روائی فمن ناز عنی فیھما اھینۃ، ’’عظمت پر آزاری ہے اور بڑائی میری چادر ہے جس نے میرے ساتھ ان کے معاملے میں کش مکش کی میں اسے ذلیل کروں گا‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کے تابع کردے تاکہ ہماری ساری ذلتیں اور پستیاں ختم ہوجائیں اور ہم اس دنیا میں بھی سربلند اور آخرت میں بھی سرخرو اور کامیاب ہوجائیں۔

o

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ احسان کیا جائے تو وہ اس کا بدلہ دے۔ اگر بدلہ نہ دے سکے تو اس کا تذکرہ کرے، جس نے اس کا تذکرہ فرمایا تو اس نے اس کی شکرگزاری کردی اور جو آدمی اپنے آپ کو سیر ظاہر کرے درآنحالیکہ وہ بھوکا ہو، اس کے پاس وہ چیز نہ ہو جسے وہ اپنے پاس ظاہر کر رہا ہے تو وہ جھوٹا لباس پہننے والے کی طرح ہے۔(مسند احمد)

بہت سے لوگ بھوکے ہوتے ہیںاور وہ اپنے آپ کو سیر ظاہر کرتے ہیں، جاہل ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو عالم ظاہر کرتے ہیں۔ سیرت و کردار کے خام ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو متقی و پرہیزگار ظاہر کرتے ہیں۔ یہ دراصل نفاق میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ان کے ظاہر و باطن میں اختلاف ہے اور جس کے ظاہروباطن میں اختلاف ہو وہ منافق ہوتا ہے، یہ جھوٹا لباس ہے۔اپنے آپ کو متقی اور پرہیزگار ظاہر کرنا درآنحالیکہ اس میں تقویٰ نہ ہو ایسی بیماری ہے کہ اس کا جلداز جلد علاج کیا جائے ورنہ نفاق کی بیماری بڑھ گئی تو وہ کینسر بھی بن سکتی ہے، جو لاعلاج بیماری ہے۔

o

حضرت عمرؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مریض کی عیادت کرنے جائو تو اس سے اپنے لیے دعا کرائو۔ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے۔ (ابن ماجہ)

بیماری مسلمان کو گناہوں سے پاک وصاف کردیتی ہے۔ اگر ایک مسلمان شعوری طور پر مسلمان ہو اور دین پر عمل پیرا ہو تو بیماری اس کے لیے تزکیہ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور وہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجاتا ہے جس طرح فرشتے گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔   نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبولیت ِدعا کا ایک دروازہ بیمار مسلمان سے دعا کرانے کا بتلا دیا ہے۔ بیمار کی عیادت کرنا، اس کے لیے دعا کرنا بھی سنت ہے اور ا س سے دعا کرانا بھی سنت ہے۔ بیمارسے دعا کرانے کی سنت کو بھی عام کرنا چاہیے جن سے لوگوں کی مشکلات اور مصائب حل ہوں۔

o

حضرت عیاض بن حمار مجاشعیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تواضع سے پیش آئو! کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور کوئی کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرے۔ (مسلم، مشکوٰۃ، باب المفاخرہ والعصبیت)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کو پیش نظر رکھا جائے تو معاشرے میں انس و محبت کا دور دورہ ہوجائے۔ جب ہر کوئی دوسرے سے اپنے آپ کو چھوٹا سمجھے اور کسی پر فخر نہ کرے اور کسی کے ساتھ زیادتی سے بھی پیش نہ آئے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ لوگ آپس میں متصادم اور برسرِپیکار ہوں۔ اس کے برعکس ہر ایک دوسرے کا ہمدرد و غم گسار ہوگا اور دوسرے کی مصیبت میں اس کے کام آنے والا ہوگا جس کے نتیجے میں باہمی محبت میں اضافہ ہوگا۔ آج معاشرے کو اس ہدایت کی سخت ضرورت ہے۔

o

حضرت ابودردائؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیزکے لیے ایک حقیقت ہے، ایمان کے لیے بھی ایک حقیقت ہے۔ اور کوئی شخص ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک یہ عقیدہ نہ رکھے کہ جو آرام اور تکلیف اسے پہنچی ہے، وہ پہنچ کر رہنی تھی اور جو آرام اور تکلیف اسے نہیں پہنچی وہ اسے پہنچنے والی نہ تھی۔ (مسند احمد)

انسان زندگی کے جن مراحل سے گزرتا ہے وہ اس کی تقدیر میں لکھ دیے گئے ہیں۔ وہ ان مراحل سے گزر کر ہی آگے بڑھتاہے۔ اس لیے وہ جس حال میں بھی ہو اسے صبروشکر کو اپنا وظیفہ بنا کر حوصلے کے ساتھ زندگی گزارنا چاہے اور کبھی بھی بے حوصلہ ہوکر مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ مومن جرأت مند  اور حوصلہ مند شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ  کے صحابہؓ نے ہمارے سامنے  یہی نمونہ پیش کیا ہے۔ اس کو اپنانا کامیابی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انقلاب اور صحابہ کرامؓ کی    خلافت راشدہ اسی کی تصویر ہے۔ آج بھی اسے دہرایا جاسکتا ہے۔

 قرآن پاک کی تفسیر کا سلسلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے شروع ہوا اور کسی انقطاع کے بغیر تسلسل کے ساتھ پندرہ صدیوں سے جاری ہے ۔ اب تک مختلف زبانوں ، مختلف ملکوں اور مختلف النوع اتنی تفسیر یں وجود میں آچکی ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں ہے۔ یہ قرآن پاک کی شان لاینقضی عجائبہ(ترمذی)(اس کے عجائب ختم نہ ہوں گے) کا تقاضا ہے ۔ چنانچہ ہر تفسیر میں نئے نئے نکات سامنے آتے رہتے ہیں اور کوئی تفسیر دوسری تفسیر سے مستغنی کر دینے والی نہیں ہے ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ سے لے کر شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ، شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ، مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیعؒ اور دیگر جلیل القدر علما و مفسرین عظام نے گراںقدر علمی ، فقہی اور روحانی نکات پر مشتمل تفاسیر پیش کیں جو اہل علم کے ہاں مقبول ہوئیں اور ان سے استفادہ سے تفسیری سلسلے کو بڑھنے اورپھیلنے میں مدد ملی۔ دورِ حاضر میں مفکر اسلام سید ابوالاعلیٰ مودودیؓ کی تفسیر تفہیم القرآن اور شہید اسلام سیدقطب کی تفسیر فی ظلال القرآن کے ذریعہ قرآن پاک کا فہم و شعور علما و مشایخ کے دائرے سے نکل کر عوام تک پہنچ گیا ۔ ان تفاسیر کے ذریعے بڑی تعداد میں عوام اور جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں نے قرآن پاک سے فیض حاصل کیا۔ لیکن لاینقضی عجائبہ کے فرمانِ رسولؐکی صداقت کے ظہور کا سلسلہ جاری و ساری ہے ۔

ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی صاحب بھی ان خوش قسمت ہستیوں میں شامل ہیں جنھیں تفسیر قرآن کی فضلیت حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ ان کی زندگی قرآن پاک میں غورو فکر ، تفسیر ی ذخیرے کے مطالعے اور دروس قرآن دینے میں گزری جواب کتابی شکل میں مرتب ہو کر سامنے آگئے ہیں۔ یہ دروس ڈاکٹر صاحب نے طلبا، اساتذہ، مختلف طبقات سے وابستہ افراد کے سامنے دیے اورپھر بذریعہ املا ان کی کتابت کروائی اور کتابی شکل میں مرتب کروایا ۔ اس تفسیر کے مقام و مرتبے کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ تفسیر کی شرائط کو جانا جائے اور ان شرائط کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا جائے ۔

 ذیل میں ہم تفسیر قرآن کی شرائط کا اجمالا تذکرہ کرتے ہیں:

۱-قرآن و سنت عربی زبان میں نازل ہوئے ہیں۔ اس لیے مفسر کے لیے ضروری ہے کہ وہ عربی زبان ، اس کی باریکیوں ، اس کے اصناف و انواع ، اس کے محاسن سے پوری طرح واقف ہو۔ وہ عربی زبان کی باریکیوں ، خوبیوں ،اشاروں ، کنایوں اور استعاروں سے جس قدر زیادہ واقف ہو گا، اسی قدر تفسیر کا حق ادا کر سکے گا۔

۲- قرآن پاک کی ایک دعوت اور اس کا ایک مشن ہے۔ اس کے لیے نبیؐ نے ایک تحریک برپاکی۔ اس تحریک کے مختلف ادوار تھے ۔ ہر دور میں قرآن پاک کا ایک حصہ نازل ہوا۔ ۸۵مکّی سورتیں ہیں اور ۲۹ مدنی سورتیں ۔ ان سورتوں کے نزول کے وقت نبیؐ اور آپؐ کی جماعت جس مرحلے میں تھی، اس مرحلے کو سمجھنا ضروری ہے ۔ ان مراحل کو شان نزول سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس طرح بعض آیات کی خصوصی شان نزول بھی ہوتی ہیں ۔ تفسیر کو سمجھنے کے لیے ان کا سمجھنا ضروری ہے۔

۳-قرآن وسنت ایک نظام ہے جسے نبیؐ نے اپنے دور میں عملاً نافذ فرمایا اور اس کے بعد کے ادوار میں نافذ رہا۔ قرآن پاک کو سمجھنے کے لیے اس نظام اور اس پر تعامل کو سمجھنا ضروری ہے ۔ قرآن پاک پر عمل کو جو شکل اور صورت نبی کریمؐ ، صحابہ کرام ؓ ، تابعین ، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین اور سلف صالحین نے دی ، اسے نظر انداز کر کے محض لغت کی بنیاد پر تفسیر گمراہی کا سبب بن سکتی ہے ۔ جن لوگوں نے ایسا کیا ہے انھوں نے تفسیر کے بجاے تحریف کا ارتکاب کیا ہے ۔

۴-فصیح عربی زبان کی بنیاد پر ایسی تفسیر کی جاسکتی ہے جو قرآن و سنت ،اجماع صحابہ و سلف صالحین کے تعامل سے متصادم نہ ہو ۔

۵-عقل سلیم کے ذریعے بھی تفسیر کی جاسکتی ہے، جب کہ وہ قرآن وسنت ، اجماع صحابہ و تابعین و سلف صالحین سے ثابت شدہ امور سے متصادم نہ ہو۔

محترم ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی صاحب عربی زبان ، اردوا دب میں بھی مہارتِ تامہ رکھتے ہیں۔ تحریک اور دعوت کے مختلف مراحل اور تاریخ اسلام میں بھی بصیرت رکھتے ہیں۔ اسلام کو ایک نظام کی حیثیت سے انھوں نے اچھی طرح سمجھا ہے اور شریعت اسلامیہ میں گہرائی کے حامل ہیں ۔  تعامل اُمت ،تفسیری اور فقہی ذخیرے پر بھی عبور رکھتے ہیں اور ایک مفسر میں جو خوبیاں اور کمالات ہونے چاہییں، جن کا اجمالی ذکر درج بالا سطور میں ہوا ہے، وہ بھی ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں ۔

تفسیر روح القرآن کے امتیازات کے ضمن میں اس کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا اسلوب عام تفاسیر سے مختلف ہے ۔ عام تفاسیر مفسر کی تحریر کا نتیجہ ہوتی ہیں اور یہ دروس دراصل ڈاکٹرصاحب کی اِملا کا نتیجہ ہے ۔یہ ان کے دروس ہیں جو انھوں نے ہفتہ وار محافل میں پڑھے لکھے شائقین   علوم قرآنیہ کے سامنے پیش کیے ہیں ۔ ان میں علما، پروفیسر ، دانش ور ، صحافی ، تاجر ، وکلا، کالجوں،   یونی ورسٹیوں اور مدارس کے طلبا ، کارکنان تحریک اسلامی اور عامۃ المسلمین ان کے مخاطب ہیں اور بڑی تعداد میں ذو ق وشوق کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب انھیں اپنے علم اور ولولہ انگیز خطابت کے شہ پاروں سے فیض پہنچاتے ہیں ۔ ایک بلند پایہ خطیب کی خطابت ، جب کہ وہ قرآنی علوم سے دلوں اور دماغوں کو منور کر رہی ہو، کی اثر انگیزی کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں ۔ قرآن پاک کی زبان خطابت کی زبان ہے ۔ اس کی تفسیر بھی خطیبانہ انداز میں ہو تو ظاہر ہے کہ قرآن پاک کے اثر کو اس تفسیر سے زیادہ کر دے گی جو خطابت کے انداز کے بجاے تحریر کے انداز میں ہو گی ۔ ان دروس کا اثر پڑھنے والے پر اس طرح ہوتا ہے جس طرح ایک سامع پر خطیب کے خطبے سے ہوتا ہے۔

دوسرا امتیاز یہ ہے کہ قرآن پاک ایسی کتاب ہے جو معاشرے کے لیے ایک غذا اور دوا  کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اگر اس کتاب کے ذریعے مسلمان معاشرے کو روحانی غذا نہ دی جائے اور کفارو منافقین کا علاج نہ کیا جائے تو اس کتاب کو اس کا حقیقی اور واقعی مقام نہیں دیاجاسکتا ۔    ڈاکٹر صاحب اس کتاب کو معاشرے پر منطبق کرتے ہیں اور اس میں اہل ایمان کے لیے جو غذا اور کفار و منافقین کے لیے جو دوا ہے اسے پوری طرح واضح کرتے ہیں ۔ مغرب اوراہل مغرب کے لیے اس میں جو پیغام ہے اسے واضح کرتے ہیں ۔ اہل ایمان کو ان کے شرسے باخبر کر کے اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں ۔ تفسیری نوٹس ہر جگہ اس بات کے گواہ ہیں ۔

ا س تفسیر کے مطالعے سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو قرآن پاک اور اس کے علوم و فنون پر مکمل عبور حاصل ہے ۔ انھیں صرف ونحو ، معانی بلاغت ، اصول فقہ ، لغت عربیہ ، اصولِ تفسیر،  احادیث نبویہؐ، آثار صحابہ و تابعین ، اقوال ائمہ مجتہدین ، قدیم و جدید علم کلام ، قدیم وجدید مفسرین کے تفسیری ذخیرے ، تاریخ و قصص ، مستشرقین وملحدین کے لٹریچر ، منکرین سنت اور قادیانیت کے شکوک و شبہات اور ان کی تردید پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انھیں مضامین قرآن ، التذکیر باٰلاء اللہ ، التذکیر  بایام اللہ، التذکیر بالموت وبما بعد الموت ، علم المخاصمہ ، علم الاحکام پر مکمل دسترس حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور جلالی وجمالی شانوں کو جدید سائنسی معلومات کی روشنی میں اس قدر شرح و بسط سے اور ایسے انداز سے پیش کرتے ہیں کہ انسان اس کی لذت سے سرشار ہو کر ان کے مطالعے میں اس طرح مستغرق ہوجاتا ہے کہ مضمون دل و دماغ میں اُتر جاتا ہے ۔

ڈاکٹر صاحب عالم ہیں تو ایسے کہ تبحر علمی ان کی تقریر و تحریر سے نمایا ں ہوتا ہے ۔ ادیب ہیں تو ایسے کہ ادب ان کی لونڈی نظر آتا ہے۔ خطیب ہیں تو ایسے کہ ان کی شعلہ بیانی آدمی کو    مسحور کردیتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ذہانت و فطانت اور حافظے کی نعمتوں سے نہایت وافر مقدار میں مالامال کیا ہے ۔ حافظ العلوم مولانا معین الدین خٹک رحمۃ اللہ علیہ کا حافظہ ضرب المثل تھا ، انھیں چلتا پھرتا ٹیپ ریکارڈ کہاجاتا تھا ۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کی تفسیر سے اندازہ ہوا کہ ان کا حافظہ بھی مثالی ہے۔ انھیں عربی ادب کی طرح اردو ادب پر بھی عبور حاصل ہے ۔ اُردو زبان کے محاورے اور شعرا کے ہزاروں شعرازبر مستحضر ہیں ۔ موقع و محل کی مناسبت سے اشعار کے ذریعے کلام کو مدلل اور  مزین کرنا ان کا کمال ہے ۔ ہر مضمون کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ قاری اسے اچھی طرح ذہن نشین کرلے ۔ ایسے انداز سے دلیل پیش کرتے ہیں کہ بات دل میں اتر جائے ۔ عقلی دلائل کی تفہیم کے ساتھ نقلی دلائل کا انبار لگا دیتے ہیں ۔ قدیم و جدید تفاسیر سے نقول پیش کرتے ہیں ۔ منکرین سنت اور مستشرقین کو مسکت جواب دیتے ہیں۔بلاشبہہ ان کے دروس علم اور معلومات کا خزانہ ہیں جو دریا کی سی روانی کے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے ۔یہ تفسیر علما ، طلبہ ، طالبات ، مبلغین اور اسلامی تحریک کے کارکنان کے لیے بے مثال تحفہ ہے ۔ وہ اس سے بھر پوراستفادہ کر کے اپنے علم میں اضافہ کریں اور قرآن پاک کے علوم کی اشاعت کے ذریعے اسلامی انقلاب برپا کردیں۔

 

oتفسیر روح القرآن (۱۲جلدیں)،مؤلف: ڈاکٹر مولانا محمد اسلم صدیقی ۔ ناشر: ادارہ ھدًی للناس، ۳۴۳-مہران بلاک، علامہ اقبال ٹائون، لاہور۔ فون: ۳۵۴۲۶۸۰۰-۰۴۲۔ صفحات: ۷۷۶۷۔  قیمت: ۸۵۰۰ روپے۔