جنوری ۲۰۰۲

فہرست مضامین

کلام نبویؐ کی کرنیں

مولانا عبد المالک | جنوری ۲۰۰۲ | فہم حدیث

Responsive image Responsive image

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں‘ میں نے رسولؐ اللہ کو ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! تجھ سے تیرے اس نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو طاہر‘ طیب‘ مبارک اور تجھے سب سے بڑھ کر محبوب ہے۔ اس نام سے کہ جب اسے لے کر تجھ سے دعا کی جائے تو تو جواب دیتا ہے۔ اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو عطا کرتا ہے۔ جب اس کا وسیلہ پیش کر کے رحم کی درخواست کی جائے تو رحم فرماتا ہے۔ جب مشکل کشائی کے لیے پکارا جائے تو تو مشکل دُور کر دیتا ہے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں‘ ایک دن آپؐ نے فرمایا: عائشہ !تجھے پتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وہ اسم مبارک جس کے ذریعے دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے مجھے بتا دیاہے‘ تو میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! وہ مجھے بھی بتلا دیجیے۔ آپؐ نے فرمایا: عائشہ! تمھارے لیے اس کا علم مناسب نہیں۔

حضرت عائشہ ؓکہتی ہیں: (مجھے یہ سن کر صدمہ ہوا) میں (آپ ؐکے پاس سے اٹھی اور) تھوڑی دیر ایک طرف جا کر بیٹھ گئی لیکن صبرنہ ہو سکا۔ پھر اٹھ کر آئی آپ ؐکے سر مبارک کو بوسہ دیا اور عرض کیا یارسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ  پر قربان! مجھے بھی وہ اسم بتلا دیجیے۔آپ ؐنے فرمایا:عائشہ! تمھارے لیے مناسب نہیں کہ میں اسے بتلا دوں۔ اس لیے مناسب نہیں کہ کہیں تم اس کے ساتھ کوئی ایسا سوال نہ کر لو جو دنیا کے لیے ہو۔ کہتی ہیں کہ پھر میں اٹھی اور وضو کیا۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر میں نے ان کلمات کے ساتھ دعا کی:  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَدْعُوْکَ اللّٰہَ وَاَدْعُوْکَ الرَّحْمٰنَ وَاَدْعُوْکَ الْبرَّ الرَّحِیْمَ وَاَدْعُوْکَ بِأسْمَائِکَ الْحُسْنٰی کُلِّھَا مَا عَلِمْتُ مِنْھَا وَمَا لَمْ اَعْلَمْ اَنْ تَغْفِرَلِیْ وَتَرْحَمَنِیْ ’’اے اللہ! میں تجھے اللہ کہہ کر پکارتی ہوں‘ رحمن کہہ کر پکارتی ہوں‘ میں تجھے برو رحیم (محسن‘ رحم والا) کہہ کر پکارتی ہوں اور تجھے تیرے سارے اچھے ناموں کے ساتھ پکارتی ہوں ‘ اُن سے بھی جن کو میں جانتی ہوں اور اُن سے بھی جن کو میں نہیں جانتی‘ تو میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما‘‘۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میری دعا سن کر آپؐ ہنس پڑے ۔ پھر آپؐ نے فرمایا: وہ نام انھی اسما کے اندر ہے جن کے ساتھ تم نے دعا کی ہے۔ (ابن ماجہ)

دعائوں کی قبولیت کا وسیلہ اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک‘اسم اعظم ہے۔ اللہ کے نبیؐ اس اسم کو اس کے اوصاف کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ کو سناتے ہیں کہ انھیں اس کا شوق پیدا ہو‘ پھر کچھ دن کے بعد بتلا رہے ہیں کہ مجھے اس کا علم دے دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کا شوق سوا ہو جاتا ہے۔ طلب اور تڑپ کے عجیب مناظر سامنے آتے ہیں لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب یہی ملتا ہے کہ اس کا علم آپ کے لیے مناسب نہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ کوئی ایسی چیز نہ مانگ لیں‘ جو صرف دنیا میں کام آئے۔ اللہ کے اسم اعظم سے سوال ہو اور محض دنیا کے کسی کام کے لیے‘ یہ مناسب نہیں۔ تب حضرت عائشہؓ کی تڑپ اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ وہ وضو کرتی ہیں‘ نماز پڑھتی ہیں‘ اللہ تعالیٰ کے تمام اسماے حسنیٰ کے وسیلے سے دعا کرتی ہیں۔ آپؐ کے سامنے یہ سارا منظر ہے۔ آپؐ حضرت عائشہ ؓ کو شاباش دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں: عائشہ! گوہر مراد کو تو تم نے پا لیا۔ اسم اعظم ان ہی اسماے حسنیٰ میں موجود ہے جن کے ذریعے تم نے دعا کر لی ہے۔ اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ تمھیں اس کا متعین طور پر علم نہیں ہے۔

شفقت ‘ تعلیم و تربیت ‘ ذوق و شوق اور تعظیم و محبت کے کیسے کیسے مناظر سامنے آتے ہیں۔ یہ محسوس تو کیے جا سکتے ہیں لیکن بیان نہیں۔

 


حضرت ابوطلحہ ؓانصاری اور حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اگر کوئی شخص کسی مسلمان کی حمایت ایسے موقع پر نہیں کرتا جہاںاس کی تذلیل کی جا رہی ہو اور اس کی عزت پر حملہ کیا جا رہا ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حمایت ایسے موقع پر نہیں کرتا جہاں وہ اللہ کی مدد کا خواہاں ہو۔ اور اگر کوئی شخص کسی مسلمان کی حمایت کسی ایسے موقع پر کرتا ہے جہاں اس کی عزت پر حملہ کیا جا رہا ہو اور اس کی تذلیل و توہین کی جا رہی ہو تو اللہ عزوجل اس کی مدد ایسے موقع پر کرتا ہے جہاں وہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کی مدد کرے۔(ابوداؤد)

حضرت سہلؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں کہ جس کی موجودگی میں کسی مسلمان کی تذلیل کی گئی اور اس نے اس کی کوئی مدد نہ کی درآنحالیکہ وہ اس کی مددکرنے پر قادر تھا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اسے تمام مخلوق کے سامنے ذلیل کرے گا۔ (مسند احمد)

حضرت عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: جو اپنے بھائی کی مدد کر سکتا تھا اور اس نے پس پشت اس کی مدد کی‘ اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد کرے گا۔ (مسند بزاز)

کتنے بھائی ہیں جو ظلماً قتل ہو گئے اور کتنے ہیں جو قتل ہو رہے ہیں۔ کتنے ہیں جو زخموں سے چور ہیں اور بے سہارا  ہیں۔ جیلوں میں سختیاں اٹھا رہے ہیں۔ لاکھوں بے گھر‘ ننگے اور بھوکے ہیں۔ ان کی حمایت‘ مدد اور تعاون میں ہر ایک اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لے سکتا ہے۔ بھائواچھے ہیں‘ مٹی سونے کے بھائو بک رہی ہے‘ کمائی ہی کمائی ہے۔ تب کوئی ہے جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرح ساری کمائی پیش کر دے‘ حضرت عمر فاروقؓ کی طرح نصف لے کر آجائے‘ حضرت عثمان غنیؓ کی طرح ۹۰۰ اونٹ پورے سازوسامان کے ساتھ پیش کر دے۔ بہت مل رہا ہے کوئی خریدار آئے تو سہی۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ جو یہ سعادت حاصل کر رہے ہیں!


حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن میرا ہاتھ پکڑا‘ پھر فرمایا: معاذ! اللہ کی قسم! میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں۔حضرت معاذؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں! اللہ کی قسم! میں بھی آپؐ سے محبت رکھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: معاذ !میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ کسی نماز کے بعد یہ کہنا ترک نہ کرنا: ا للّٰھُمَّ اَعِنِّی عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسنِ عِبَادَتِکَ‘ ’’اے اللہ! اپنے ذکر‘ اپنے شکر اور اپنی عبادت کی احسن ادایگی پر میری اعانت فرما‘‘۔ حضرت معاذؓ نے اپنے شاگرد صنابحی کو اس کی وصیت فرمائی۔ (ابوداؤد‘ نسائی)

محبت ہو تو ملاقاتیں ہوتی ہیں‘ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے جاتے ہیں‘ مصافحے اور معانقے ہوتے ہیں‘ زیارتیں ہوتی ہیں‘ تحفے پیش کیے جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کرامؓ سے اور صحابہ کرام کو آپؐ سے جو محبت تھی‘ اس کی نظیر روے زمین پر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ حضرت عروہؓ بن مسعود ثقفی کہتے ہیں: میں بڑے بڑے بادشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں لیکن میں نے کسی کو اپنے بادشاہ سے اس طرح محبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس طرح کی محبت صحابہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہیں۔ نبی کریم ؐ اپنے محبوب صحابی سے اظہار محبت کے بعد جو تحفہ پیش کر رہے ہیں وہ ذکر‘ شکر اور حسن عبادت میں اللہ تعالیٰ سے اعانت کی دعا ہے کہ اس کی اعانت سے ہی انسان اس کی بندگی کی راہ میں آگے بڑھتا ہے۔ اظہار محبت کے لیے اس طرح کے تحفے دینا بھی سیکھنا چاہیے کہ یہ سنت نبویؐ ہے۔


حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تمھیں ایسے لوگوں کا پتا نہ دوں‘ جو نبی ہیں نہ شہدا‘ لیکن قیامت کے روزان پر انبیا اور شہدا رشک کریں گے۔ اللہ کے ہاں ان کے مقام و مرتبے کی وجہ سے انھیں نور کے منبروں پر رفعت عطا کی جائے گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے بندوں کو اللہ کا محبوب بنانے میں لگے رہتے ہیں اور زمین میں نصیحت کرنے کے لیے چلتے پھرتے رہتے ہیں۔

کہا گیا کہ اللہ کے بندوں کو کیسے اللہ کا محبوب بناتے ہیں؟ جواب دیا گیا کہ انھیں ایسے کاموں کا حکم دیتے ہیں جنھیں اللہ محبوب رکھتا ہے ‘اور انھیں ان کاموں سے روکتے ہیں جنھیں اللہ ناپسند کرتا ہے۔ جب لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں‘ اللہ کے محبوب کاموں کو کرتے ہیں‘ تو اللہ انھیں اپنامحبوب بنا لیتا ہے۔ (کنزالعمال بحوالہ  بیہقی‘ ابوسعید ابن النجار‘۶۲:۵۵)

کتنے خوش نصیب ہیں وہ جو مخلوق اور خالق کے درمیان محبت کے رشتوں کو استوار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔  اللہ کے بندوں کو شیطان کے پنجوں اور شکنجوں سے نکال کر اللہ کی بندگی کی شاہراہ پر گامزن کرتے ہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں۔ دعوت دین کے کام کی عظمت و رفعت کا کیا عالم ہے!


حضرت عمیر لیثی ؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

سنو! اللہ کے دوست وہ نمازی ہیں جو پانچ نمازوں کو جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں‘قائم کرتے ہیں‘ رمضان کے روزے رکھتے ہیں‘ روزے میں اپنے لیے ثواب سمجھتے ہیں‘ اسے اپنے اوپر عائد حق سمجھتے ہیں‘ اپنی زکوٰۃ خوش دلی سے ثواب سمجھ کر ادا کرتے ہیں اور کبائر جن سے اللہ نے روکا ہے‘ اجتناب کرتے ہیں۔

کہا گیا: یارسولؐاللہ! کبائر کی تعداد کیا ہے(اہم کبائر) ؟

آپؐ نے فرمایا: ’’نو‘‘ ہیں: ۱-سب سے بڑا‘ شرک باللہ‘ ۲- مومن کو ناحق قتل کرنا ‘۳- میدان جنگ سے بھاگنا ‘۴- پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگانا ‘۵- جادو کرنا‘ ۶- یتیم کا مال کھانا ‘ ۷- سود کھانا‘ ۸- مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا ‘۹- بیت اللہ شریف کی بے حرمتی کرنا جو زندگی اور موت میں تمھارا قبلہ ہے۔

جواس حال میں فوت ہوگا کہ ان کبائر کا ارتکاب نہ کیا ہو‘ نماز قائم کی ہو‘ زکوٰۃ دی ہو‘ تو جنت کے وسط میںنبی کریم ؐ کا رفیق ہوگا‘ جس کے دروازے سونے کے ہیں۔ (طبرانی‘ بیہقی‘ مستدرک)

نماز روزے کی ادایگی اور کبائر سے اجتناب کی برابر اہمیت ہے۔ ایسی نمازیں جن کے ساتھ کبائر کا ارتکاب جاری ہے‘ بھلا کس کام آئیں گی۔ کبائر سے اجتناب سے انفرادی زندگی میں ہی سکون نہیں آئے گا‘ معاشرہ بھی فساد سے پاک ہوگا۔ معاشرہ ان کبائرسے پاک ہو جائے ‘نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ اور حج قائم کر دیے جائیںتو دنیا عدل و انصاف اور امن و امان کا گہوارہ بن جائے۔ آج قتل ناحق کا بازار گرم ہے ‘سود خوروں کا راج ہے اور کمزوروں کی حق تلفی کا دور دورہ ہے۔ یہ سب ختم ہو جائے تو یہی دنیا جنت کا نمونہ بن جائے۔ کتنا مختصر اور جامع نسخہ ہے!