مولانا عبد المالک
|
مارچ ۲۰۰۱
|
فقہ اسلامی، اسلامی اخلاقیات، علم حدیث، عدل اجتماعی، عبادات و مناسک
سبحان اللہ! رسولؐ اللہ کی کیا شان ہے! سائل آتے ہیں تو قبل اس کے کہ وہ اپنے سوال پیش کریں‘ اللہ تعالیٰ اپنے نبیؐ کو ان کے دل کی بات وحی کر دیتے ہیں۔ سائلین کی بھی کیا شان ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بجائے ان کے سوال اپنے نبی کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ آپؐ کی صداقت اور عظمت اس حدیث پاک میں جلوہ گر ہے۔ پھر آپؐ کی شفقت اور رحمت سائلین پر سایہ فگن ہے۔ انھیں اختیار مل گیا‘ چاہیں تو سوال کریں اور جواب لیں اور چاہیں تو بغیر سوال کے سوا ل اور جواب دونوں سے سرفراز ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بھی کیا عالم ہے کہ جو اس کی طرف چل کر آیا‘ اسے اس طرح سے نواز دیا گیا کہ پاک و صاف ہو کر نیکیوں کا انبار لیے قابل فخر و مباہات بن کر واپس ہوتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ حاجی جو یہ مقام پا لیں! ظاہر ہے یہ مقام انھی کے لیے ہے جو آیندہ کے لیے حقوق اللہ اور حقوق العبادادا کرنے کا فیصلہ کر چکے ہوں اور ماضی کے گناہوں سے تائب ہو گئے ہوں‘ جیسا کہ حدیث کے آخر میں تلقین کی گئی ہے کہ اب آیندہ کے لیے نیکیوں کی فکر کرو۔
اپنی نیت صحیح کر لیجیے‘ کام ہو جائے گا۔ نیت کام کی اصل ہوتی ہے۔ نیت ہی سے کام ہوتے ہیں۔ نیت ہی پر اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی نیت کا لحاظ رکھتے ہیں۔ قرضوں کی واپسی میں تنگ دستی مانع نہیں ہے‘ بدنیتی مانع ہے۔ انسان حق دار کا حق ادا کرنا چاہتا ہو تو تنگ دستی کے باوجود اس قابل ہو جاتا ہے کہ ادا کر دے‘ لیکن نیت میں فتور ہو تو مال ہونے سے فرق نہیں پڑتا‘ بڑے سے بڑا مال دار بھی حق داروں کا حق ہڑپ کر لیتا ہے۔ اس مال سے اسے فائدہ نہیں پہنچتا اور اللہ تعالیٰ اسے اس قابل نہیں بناتا کہ وہ قرض کی ادایگی کر کے عزت پائے۔
قربانی کا مقصد گوشت کا حصول نہیں ہے۔ اگر گوشت مقصود ہوتا تو پھر قربانی میں اس بات سے کوئی فرق نہ پڑتا کہ نماز عید سے پہلے ہوئی ہے یا بعد میں۔ اصل مقصد اللہ کے نام پر ذبح کرنا ہے۔ جس کی نیت یہ ہوگی اس کی قربانی ہوگی‘ اور جس نے گوشت کھانے کی خاطر ذبح کیا اس کی قربانی نہ ہوگی۔ جو لوگ قربانی کی حقیقت کو نہیں سمجھتے وہ کہتے ہیں کہ قربانی اور گوشت کے بجائے رقم فقرا اور مساکین میں تقسیم کر دی جائے۔قربانی کے ذریعے فقرا اور مساکین کو گوشت کھلانا مقصد ہوتا تو پھر گوشت کی جگہ رقم دی جا سکتی تھی لیکن گوشت کھلانا مقصود نہیں بلکہ سنت ابراہیمی کو زندہ کرنا اور اللہ کے نام پر ذبح کرنا مقصود ہے جو قربانی کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔
عیدگاہ میں آنا‘ نماز پڑھنا‘ خطبہ سننا‘ دعائوں میں شرکت کرنا اور اُمّت مسلمہ کی شان و شوکت کے مظاہرے میں حصہ لینا‘ اس شخص کو زیب دیتا ہے جو واجبات اور سنن کو ادا کرنے والا ہو۔ اہل ایمان کو ایسے شخص کی قدر کرنا چاہیے اور اسی سے دوستی کا تعلّق رکھنا چاہیے۔ ایسے شخص سے میل ملاپ رکھنا چاہیے۔ کسی شخص کا داخلہ بند کر دینا اس سے ناراضی کی انتہا ہے۔ قربانی کی استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں کا عیدگاہ میں داخلہ بند کر دیا گیا‘ گویا یہ کہا گیا کہ اس سے میل ملاپ ہی مناسب نہیں ہے۔
ضعیفوں‘ بوڑھوں‘ بچوں‘ بیوائوں‘ یتیموں‘ مسکینوں‘ مریضوں اور محتاجوں کی تعظیم و تکریم کی تاکید کا اس سے زیادہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ضعفا کی ملاقات سے نبیؐ سے ملاقات ہو گی‘ رزق ملے گا اور اللہ کی نصرت آئے گی۔ کون ہے جس کے دل میں نبیؐ سے ملاقات اور آپؐ کی خوشنودی کی طلب اور تڑپ نہ ہو اور وہ رزق کی فراخی اور نصرت الٰہی کا طلب گار نہ ہو؟ کیا اس ارشاد کے بعد اسلامی معاشرے میں کمزور لوگ --- مستضعفین--- کس مپرسی اور بے قدری کا شکار ہو سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ہمیں اپنے معاشرے کے بارے میں غور کرنا ہوگا۔
کیوں؟ یہ بندگانِ خدا پر ظلم کرنے والے ہیں‘ اس لیے دوزخیوں کے امام ہوں گے۔
حضرت ابوہریرہؓ کی روایت میں ہے ‘ایک دن کا عدل ۶۰ سال کی عبادت--- راتوں کے قیام اور دن کے روزوں ---سے بہتر ہے۔ (رواہ الاصبہانی) اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اے ابوہریرہؓ! کسی مقدمے میں ایک گھڑی کا ظلم‘ اللہ کے نزدیک ۶۰ سال کی معصیت کے مقابلے میںزیادہ سخت اور زیادہ بڑا ہے۔ (بحوالہ مختصر ترغیب و ترہیب)
انفرادی عبادت اور انفرادی زندگی میں معصیت سے بچنے کی فکر فرض ہے لیکن زیادہ اہمیّت کس کی ہے اور زیادہ توجہ کس چیز پر دینی چاہیے‘ اس کا جواب کسی مجتہد سے لینے کی ضرورت نہیں‘ یہ بحث و مباحثہ کی چیز بھی نہیں‘ اس کے جواب کے لیے یہ فرمان رسولؐ کافی ہے۔