یہ سوال کہ عصر ِحاضر میں ایک جانب مسلم اکثریتی ملکوں میں اور دوسری طرف مسلم اقلیتی ممالک میں، اسلامی احیاء کے لیے کیا فکری اور عملی اقدامات کیے جانے چاہییں؟ایک بڑا وسیع موضوع ہے جس کے دوحصے ہیں :
مغربی ممالک میں رہنے والی مسلم اقلیت اپنی کیمونٹی کی حدتک توہاتھ پاؤں مارسکتی ہے، اُس سے آگے وہ کچھ نہیں کرسکتی۔ یعنی ان ممالک کے قوانین کے آگے وہ بے دست و پا ہے بلکہ اپنی اولاد تک کے بارے میں فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں ہے، ایسے میں اسلامی احیاء کی بات تو بہت دُور کی کوڑی ہے۔ اگر وہاں کوئی مسلمان بڑے سیاسی یا انتظامی عہدے پر پہنچ جائے تب بھی وہ کچھ نہیں کرسکتا کیو نکہ وہ سسٹم کے آگے بے بس ہے۔ ان کے آقا ان سے زیادہ بیدار مغز اور ہوشیار ہیں۔ مغرب میں کتنے ہی مسلمان ہیں جو بہت کام کررہے ہیں، لیکن کسی ایسی ’تبدیلی‘ کہ جس کے ڈانڈے ’مسلم احیاء‘ سے ملتے ہوں، وہ اُس کے نہ محرک ہیں اور نہ بن سکتے ہیں۔ ان کے آگے سب سے بڑی رکاوٹ وہ نظام (System) ہے، جو نہ صرف یہ کہ سوچ سمجھ کر بنا یا گیا ہے بلکہ سامراجی مفاداتی سوچ اس کی نگرانی اور رکھوالی بھی کرتی ہے۔
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
جن مسلم ممالک میں ’تھیوکریسی‘ ہے، مثال ایران، تو وہ بھی غلامی ہی کی ایک قسم ہے۔ جو معاشرے جمہوری روایات کے حامل ہیں، وہ ’عالمی غلامی‘ کے اسیر ہیں۔جن کے لیے ’اسلام‘سب سے بڑا خطرہ ہے اور عوامی ووٹ سے آئی ہوئی منتخب جمہوری حکومتوں کو بھی وہ چٹکی میں اڑا کررکھ دیتے ہیں، جس کی مثالیں مصر میں محمد مرسی کی حکومت کا تختہ اُلٹنا اور غزہ میں حماس کی حکومت کا خاتمہ کرنا ہے۔ایسی مثالوں کی کمی نہیں۔ گویاایک بات طے ہوئی کہ مسلم اقلیتی معاشرے ہوں یا مسلم اکثریتی ممالک، بنیادی مسئلہ’غلامی‘ ہے۔ کہیں مقامی سیاسی نظام کی جکڑبندی ہے، کہیں مذہبی طبقے کی گرفت ہے اورکہیں عالمی سامراجی نظام کی۔
آزادی ایک ایسی بنیاد ہے، جس پر قوموں کی عمارت کھڑی کی جاتی ہے۔ یہ بنیاد جتنی مستحکم ہوگی ،اتنی ہی مضبو ط اور عظیم عمارت تعمیر ہوگی ۔آزاد قوموں میں ہی مذہب کا پیغام پھیلتا ہے (جیسے جزیرہ نمائے عرب میں پھیلا تھا) ،نظریات وافکار کو فروغ حاصل ہوتا ہے، تہذیب وتمدن اور ادب وثقافت پروان چڑھتے ہیں۔ بصیرت ،صرف آزاد لوگوں کا حصہ ہے،صرف آزاد قومیں ہی بصیرت کا دعویٰ کرسکتی ہیں۔ گویا احیاء کے لیے پہلا قدم، طوقِ غلامی سے آزادی ہے۔
مختلف پہچان کے حامل مسلم معاشروں میں ایک ہی قدر مشترک ہے، ایک ہی بائنڈنگ فورس (binding force) ہے اور وہ اسلام ہے۔ اسلام بین الاقوامی سطح کی ایک قابلِ لحاظ قوت ہے، لیکن سوال یہ اُٹھایا جاتا ہے کہ ’کون سا اسلام؟‘مسلمانوںکے اندر کی فرقہ بندی اور مسلک گردی نے ’اسلام ‘ کو بھی تقسیم کردیا ہے۔ اسلام کے معاشرتی ،اقتصادی اورسیاسی تصورات کے سلسلے میں مسلم دانش وروںمیں نہ صرف اختلاف ہے بلکہ بعض اوقات متصادم اور متضاد افکار وآراء بھی سامنے آتی ہیں۔لہٰذا ،احیاء کی بات کرنے والوں کو اتحاد ِامت کی تلقین کرنی ہوگی اور اتحادِ امت کے لیے مسلک گردی سے اُوپر اٹھنا ہوگا۔
بدقسمتی سے پاکستان میں مذہب کے نام پر تشدد کی مثالیں دیکھ کر اب لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ کیا مذہبی اتھارٹی، بے دھڑک لوگوں کو مارنے اور جلانے کی اجازت دیتی ہے؟ ایسی مذہبی بدحواسی پر قابوپانے کی بہت ضرورت ہے۔ جن معاشروں کو اخلاقیات کی ابجد پڑھانے کی ضرورت ہو، ان بانجھ معاشروں سے احیائے اسلام کی تحریکیں نہیں اٹھتیں۔ایسے معاشروں کو ساتھ ہی ساتھ اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں توا نیسویں اور بیسویں صدی میں کئی نظریہ ساز شخصیات اور کئی احیائی تحریکیں نظر آتی ہیں، جنھوں نے ایک طرف اسلام کے احیاء کی کوشش کی، اور دوسری طرف یہ دعویٰ بھی پیش کیا کہ ’’اسلام جدید دور میں سامنے آنے والے مسائل کا دوسرے نظاموں کے مقابلے میں بہتر اور قابلِ عمل حل پیش کرتا ہے‘‘۔مطلب یہ کہ تجدید واحیائے دین کی کوششیں کبھی سرد نہیں پڑیں۔ شاید اس قرآنی حکم کی وجہ سے کہ تمھارے اندر ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے، جو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے ۔ (اٰل عمرٰن ۳: ۱۰۴)
لہٰذا، عصر جدید میں احیائے اسلام کے حوالے سے کئی نام ہمارے سامنے آتے ہیں: سید جمال الدین افغانی (م:۱۸۹۷ء)،شیخ محمد عبدہٗ(م:۱۹۰۵ء)،علامہ محمد اقبال (م:۱۹۳۸ء)، حسن البناء (م:۱۹۴۹ء)، علی شریعتی (م:۱۹۷۷ء)اور مولانا مودودی (م:۱۹۷۹ء) وغیرہ۔ ان سارے لوگوں کا تعلق اُ س دور سے ہے، جب ان کے ملکوں پر مغربی استعماریت کا غلبہ تھا اور وہ اپنے لوگوں میں اس غلامی سے آزادی کی جوت جگانے میں کامیاب رہے تھے۔ احیائے اسلام کا حقیقی مقصد یہی ہے کہ جبر واستبداد اور استعماریت پر مبنی نظام کی جڑوں پرضربِ کاری لگائی جائے اور فرسودہ رسوم وروایات (جن کااسلام سے کوئی واسطہ نہیں) ختم کردی جائیں۔ پھر صنعتی انقلاب کے دورِ مابعد (Post Industrial Revolution Era) کے اخلاقی، سماجی اور معاشی مسائل کا بہتر سے بہتر حل سامنے لایا جاسکے۔ حالات ساتھ دیں تو اسلامی ریاست کے قیام کی بھی جدوجہد کی جائے۔ بنیادی مقصد اسلام کی محض نظری خوبیاں اُجاگر کرنا نہیں ہے۔اصل مقصد لوگوں کو عمل اور حرکت پر آمادہ کرنا ہے۔ یہی اسلام کی خوبی ہے۔
کم وبیش ایک ڈیڑھ صدی سے ہمار امسئلہ جموداور تعطل ہے۔ یہ جمود اور تعطل فکری بھی ہے اور عملی بھی۔پوری امت، آپ سے آپ رُونما ہونے والے کسی غیرمعمولی کرشمے کے انتظار میں بیٹھی ہے۔ کسی ایسے مردِ حُر یا کسی مہدی کی منتظر ہے جو آئے اوران کے دلدّر دور کردے، لیکن خود انھیں کچھ نہ کرنا پڑے۔
تاریخ کے ہر دور میںمسلمانوں کو کوئی نہ کوئی ایسی شخصیت نظر آتی رہی ہے، جو اُمتِ مسلمہ کی عظمت ِرفتہ بحال کرسکتی تھی یا اُس کے بارے ایسا گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ امت کو قعرِمذلّت سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عالم اسلام اُس کے گرد توقعات کا پہاڑ کھڑا کرلیتا تھا۔ کبھی انھیں مہدی سوڈانی کی شکل میں اپنی یہ آرزو پوری ہوتی نظرآئی تو کبھی جمال الدین افغانی کی صورت میں۔
مسلم معاشروں کی زبوں حالی کے اسباب کا کھوج لگایا جائے تو دو طبقے سب سے زیادہ ذمہ دار نظر آتے ہیں:
۱-حکمران طبقہ:حکمران خواہ بادشاہ ،فوجی جرنیل یا منتخب خاندانی نمائندے ہوں، ان کا بنیادی مقصد اپنے مفادات اور اقتدار کا تحفظ رہا ہے ۔زوال پذیر اسلامی اقدار، سماجی ا ور اقتصادی اصلاحات کو فروغ دینے میں یہ سبھی مجرمانہ غفلت برتنے کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔ انھوں نے کرپشن سے ملک کا دیوالیہ نکالا۔سامراجی قوتوں پر انحصار کیا، تاکہ اپنے اقتدار کو دوام بخش سکیں۔
۲-طبقۂ علما:خصوصاً وہ علما جو اپنے فرائض چھوڑ کر حکومتوں کے آلہ کار بن گئے۔
امام غزالی (م: ۱۱۱۱ء) کے نزدیک عوام کی زبوں حالی کے ذمہ داریہی دو طبقے ہیں: ایک حکمران طبقہ اور دوسرا سرکاری علما ومشائخ کا گروہ۔ لیکن امام غزالی نے دُور اندیشی سے کام لے کر اپنے دور کے حکمران کے خلاف مسلح مزاحمت یا انقلاب کے پرچار سے اجتناب کیا، کہ کہیں اس کے نتیجے میں مزید بدامنی اور لاقانونیت کا لاوا نہ پھوٹ پڑے۔
امام غزالی نشاتِ ثانیہ کے لیے دو مرحلے تجویز کرتے ہیں: وہ پہلے مرحلے میں عوام میں دین کا شعور پید اکرنے پر زور دیتے ہیں، اور دوسرے مرحلے میں سیاسی اصلاحات نافذ کرنے کی تلقین کرتے ہیں___ ابتدائی مرحلے کی تکمیل کے بغیر دوسرے مرحلے میں قدم رکھنے کو وہ خطرناک قرار دیتے ہیں۔ امام غزالی سماجی اور سیاسی تبدیلیاں لانے کے لیے انقلابی راستہ اختیار کرنے کے مخالف ہیں۔تاہم، اختلاف کے برملا اظہار کو ضروری خیال کرتے ہیں۔اس کے برعکس دورِجدید کے مفکرینِ احیائے اسلام ،رائے عامہ کی بیداری کو انقلاب کی کامیابی کے لیے اوّلین شرط قرار دیتے ہیں اورجب ممکن ہو زورِ بازو سے سیاسی قوت کے حصول کو درست سمجھتے ہیں۔ وہ ہر حکمران کے لیے عوام کی جانب سے غیر مشروط اطاعت کے تصور کو اس بنا پر چیلنج کرتے ہیں کہ ماضی کے ظالم حکمران ’اولیٰ الامر کی اطاعت‘ کے اسلامی تصور سے ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔
اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملّی تشخص کو مضبوط کیا جائے، تاکہ طاغوتی طاقتیں ایک ایک ملک کو شکار نہ کرسکیں۔ غزہ کی مثال سامنے ہے۔۲۳ لاکھ محصور مسلمان کٹتے مرتے رہے ہیں اور امت مسلمہ سوتی رہی ہے۔ اتحادِ امت کے بغیر معاملہ حل نہیں ہوگا۔ اُمت کو مختلف فرقوں ،طبقوں اور مسلکوں میں تقسیم تو خود مسلمانوں نے کیا ہے۔ آگے چل کر یہ تقسیم عالمی استعماری طاقتوں کے لیے مفید ثابت ہوئی ہے۔ لہٰذا وہ تقسیم کی ان لکیروں کو اور گہرا کرتے ہیں۔
دوسرا مسئلہ قوم پرستی(Nationalism) کا ہے۔ جب تک وطنیت کا دامِ فریب کارگر اور مؤثر ہے، اُس وقت تک ملّی حفظ وبقا کااحساس پیدا نہیں ہوسکتا۔ ملّی تشخص کو مضبوط کرنے کے لیے مسلم ملکوں کی برادری قائم کی جائے۔ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC) کا تجربہ اس لیے ناکام رہا کہ بعض مسلم ممالک اپنی خاندانی بادشاہت بچانے کے لیے امریکی غلامی میںہیں، اور امریکا وہ استعماری قوت ہے جو امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کا ہنر جانتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ:’’قوت کے بغیر مذہب محض ایک فلسفہ ہے ،قوت کے بغیر اسلامی نظریات کی حفاظت نہیں کی جاسکتی‘‘۔ سوال یہ ہے کہ قوت کیسے حاصل کی جائے؟ اہلِ مغرب نے مشینی ایجادات، معاشی ترقی اور بحری تجارتی راستوں پر غلبے کے بل بوتے پر کمزور ممالک کواپنا محکوم بنایا تھا۔ احیائے امت کے لیے مسلمانوں کو بھی انھی میدانوں میں آگے آنے کی ضرورت ہے۔
یہ تو طے ہے کہ ’قوت‘میں زندگی ہے اور کمزوری کا دوسر انام موت ہے۔مسلمانوں کو زندہ رہنا ہے تو ’قوت‘حاصل کرنی ہوگی۔ فکری، اخلاقی، سیاسی، معاشی ، اقتصادی، اور عسکری،ہر نوع کی قوت۔ یہ قوت اسی وقت حاصل ہوگی جب مسلمانوں کو عملی بنایا جائے۔فی زمانہ اقبال کے شاہین کی ضرورت ہے۔
ان مسائل پر قابو پانے ہی میں’احیائے اسلام‘ پوشیدہ ہے۔
قرآن کریم امت مسلمہ میں ایک ایسے مستقل گروہ کے قیام کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جو ’معروف‘ کا حکم دیتا اور ’منکر‘ سے لوگوں کو روکتا ہو۔ اس گروہ کا دائرہ جب امت تک محدود ہوتو اس کام کی نوعیت ’اصلاحی‘ ہوگی۔ جب اور جہاں یہ دائرہ تمام انسانوں تک وسیع ہوجائے گا تو یہ ’دعوتی‘ عمل ہوگا۔ ’معروف‘ ہو یا ’منکر‘ ان کا دائرہ بہت وسیع ہے اور وقت کے ساتھ وسیع تر بھی ہوتا رہتا ہے۔
اسلامی لٹریچر میں ’معروف و منکر‘ کی جو تعریف ملتی ہے، وہ بظاہر تو ان روایتی شکلوں تک محدود ہے، جو رسولؐ اللہ کے عہد میں پائی جاتی تھیں۔ لیکن یہ روایتی شکلیں کچھ اصول متعین کرنے میں مددگار ہیں، جن کی بنیاد پر ہم فی زمانہ معروف اور منکر کی نشان دہی کرسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری فکری تاریخ میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کی ضرورت، وقت اور حالات میں تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ دو عوامل کی نشاندہی اس بحث کو آگے بڑھانے میں معاون ہوسکتی ہے:
اوّل یہ کہ جب غیر اقوام اور گروہوں سے تعامل (Interaction)ہوتا ہے تو روایتی شکلوں سے ماخوذ اصولوں کی تطبیق کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں معروفات کی فہرست میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور منکرات کی نئی شکلیں بھی سامنے آتی ہیں اور مسلم معاشروں کی حرکیات کو متاثر کرنے لگتی ہیں۔ اسلام نے مختلف تہذیبوں کو اسی عمل(process) کی روشنی میں ضم کیا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ اس تہذیبی تعامل یا انضمام کے نتیجے میں تہذیبی سطح پر اسلام متمول ہوتا رہا ہے۔
دوسرے عامل کا گہرا تعلق انسان اور کائنات کے باہمی تعلق کے تعین اور تسخیری قوتوں کے استعمال کے نتائج سے ہے۔ کیونکہ اس زمین پر انسانی زندگی کی بقا اور ارتقا کا انحصار کائنات کے ساتھ انسانی تعامل پر ہے، اس لیے اس تعلق کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ قرآن کریم نے کائنات اور اس کے مظاہر کو آیات الٰہی کہہ کر ایک طرف اس تعلق کو تقدس دیا ہے، تو دوسری طرف تسخیر کے تصور سے انسان اور کائنات کے باہمی تعامل کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ واضح رہنا چاہیے کہ اس تعلق اور تسخیر سے پیدا شدہ انسانی رویہ ہمیشہ سے انسانی شعور کا حصہ بن کر اس کے عمل کی تشکیل کرتے رہے ہیں۔ قرآن کریم کے نزول سے قبل کی تاریخ میں بھی یہی تعلق غیر شعوری طور پرکار فرمارہا اور بعد از نزولِ قرآن یہ شعور کا حصہ بن گیا ۔ لیکن سولھویں صدی کے بعد اس تعلق میں تبدیلی آئی، جس کابنیادی محرّک یہ تھا کہ انسان کو عطا ہوئی قوتِ تسخیر ’کیا ہورہا ہے؟‘ اور ’کیسے ہورہا ہے؟‘ کے جان لینے تک وسیع ہونے لگی۔ اس طرح کائناتی مظاہر میں کارفرما اصولوں اور ضابطوں کو جان لینے اور ان کے انطباق کے نتیجے میں آگہی اور ارتقا کے نئے نئے عظیم الشان دروازے کھل گئے، جو آج بھی وسعت پذیر ہیں۔
یہ کامیابیاں انسانی کاوشوں کا نتیجہ تھیں، جن پر نہ صرف نتائج کے استعمال بلکہ خود نتائج تک پہنچنے میں بھی انسان ہی متحرک تھا، اس لیے اس نئے علم پر مالکانہ حقوق بھی اسی کو حاصل رہے، جن کا استعمال وہ اپنے اقتدار کے حصول، اُسے باقی رکھنے اور مزید گہرا کرنے کے لیے استعمال کرنے لگا۔ یہ علم اور اس کی کامیابیاں معروفات کے پہلو بھی رکھتی ہیں اور منکرات کے بھی ۔مکمل طور پر ان سے اجتناب مسلمانوں کے عزّت اور وقار یا شدیدبے عزتی کا باعث ہے، جب کہ مکمل طور پر اس کی حمایت اس میں مضمر ظلم کا کارندہ بن جانے کے مترادف ہے۔
اس کا دوسرا انتہائی اہم پہلو یہ ہے، کیونکہ مسلمان بطور گروہ اس علم کے حصول اور ارتقاء میں برابر کے شریک نہیں رہے۔ اس لیے اس میں موجود معروف اور منکر کی پہچان کرنا بھی مشکل ہے، اس کے منکر کو پہچان پانا بھی آسان نہیں ہے اور اسے ظلم و استحصال سے روک پانا بھی ناممکن ہے۔ بے آگہی کے اس مقام پر ہونے کے نتیجے میں اپنے عہد کی اس بڑی حقیقت سے ہم ناواقف رہ کر کوئی ایساکام کرہی نہیں سکتے، جو تبدیلی لاسکے۔ اپنی خلقی صلاحیت کے اعتبار سے اسلام کی آفاقیت بجا لیکن ہم اسے جس طرح پیش کررہے ہیں، اس سے نہ صرف اسلام کی آفاقیت ثابت نہیں ہوتی بلکہ ہماری سرگرمیاں محض مسلمانوں کی اصلاح تک محدود ہوجاتی ہیں یا پھر عہد جدید کے انتہائی معذور اور اپاہج قسم کے تجزیے تک۔
ہم کو یہ سمجھنا چاہیے کہ موجودہ تحریکاتِ اسلامی جو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے قرآنی حکم کے پس منظر میں قائم ہوئیں، وہ بجا طور پر یہ سمجھتی ہیں کہ مسلم دُنیا کی اس صورتِ حال کو بحال کرنے کی کوشش کرنا، جس پر وہ چند صدیاں قبل فائز تھی، ان کی اساسی ذمہ داری کے ساتھ دینی غیرت کا تقاضا بھی ہے۔ ان کے لیے آج کی اس دنیا میں تبدیلی کی غالب حرکیات سے واقفیت اور اس کے لیے حکمت عملی، جس کی شکلیں آج بھی تیزی سے تبدیل ہورہی ہیں،وضع کرنا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ضرورت کی اہمیت کا اندازہ ایک سرسری مشاہدے اورمطالعے سے بھی ہوجاتا ہے۔
اس سلسلے میں دونکات کی طرف ابتدا ہی سے توجہ رہی ہے۔ ایک یہ کہ قرآن کریم اور سنت رسولؐ جو ہماری فکر کی اساس ہے، ان سے براہ راست رہنمائی کے رجحان کو عام کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ وہ ادارے جو انفرادی ذہنوں اور معاشروں کو کنٹرول کرنے کی حدتک مؤثرہیں مثلاً سیاسی مقتدرہ وغیرہ انھیں اپنے ہاتھ میں لینے کی ممکنہ کوشش کی جائے۔ گذشتہ ایک صدی سے مختلف مقامات پر تحریکات اسلامی ان دو نکات پر مشتمل حکمت عملی کے تحت کام کررہی ہیں۔ ان کی کامیابیوںو ناکامیوں کے ملے جلے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ یہی بڑھتا ہوا احساس توجہ دلاتا ہے کہ ہم عصرِ حاضر میں احیائے اسلام کی کوششوں اور درپیش چیلنجوں کا ادراک کریں اور جاری حکمت عملی کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے اس میں ضروری حذف و اضافہ کریں۔
موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اس میں شامل دو اصطلاحوں یعنی ’عصرِ حاضر‘ اور ’احیائے اسلام‘ کی ممکنہ سطحوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس ضمن میں ’عصرِ حاضر‘ سے مراد وہ وقت اور حالات ہیں، جن میں اسلام کو پیش کرنے اور معاشرے کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ذرابھی اختلافی مسئلہ نہیں ہے کہ خود اللہ نے دین کو انسانوں تک پہنچانے میں عصر کا خیال رکھا ہے۔ گو کہ اساسی تعلیمات ایک ہی رہی ہیں، لیکن شکلوں اور تطبیق میں فی زمانہ تبدیلی آتی رہی ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسلام کی طرف دعوت دی، تو وہ عصری اعتبار سے کوئی اجنبی دعوت نہ تھی بلکہ اُس عہد کے تقاضوں کے پیش نظر ایک دعوت تھی۔ اس دعوت میں عصری عزائم، محرکات اور وسائل کا استعمال آپؐ نے کیا۔ دعوت پہنچانے کے لیے جو طریقے رائج تھے، آپؐ نے انھی کو استعمال کیا۔ مدینے پہنچنے کے بعد بچوں کو خواندہ بنانے کی خواہش اور کوشش ہم عصر رہنے کی کوشش تھی۔ جب یہودیوں سے سابقہ پڑا تو تجارتی معاملات میں آگے رہنے کی کوشش کی، جس کا استعمال یہودی یا دوسرے گرو ہ کرتے تھے۔
اُبھرتے ہوئے مسلم معاشرے میں یہودیوں کی شریعت کے عالم خود مسلمانوں ہی میں موجود تھے۔ پھر جب دشمنوں سے مقابلہ ہوا تو عسکری صلاحیتوں، جنگی ہتھیاروں کے استعمال اور عسکری حکمتوں کی مہارت میں دشمنوں کے ہم پلّہ افراد آپ کے پاس موجود تھے۔ اور جب مقابلہ آرائی میں اللہ نے کم تعداد کو بڑی تعداد پر غالب آ جانے کا مژدہ سنایا، تو وہ یہ نہ تھا کہ صلاحیتوں اور وسائل کے بغیر بھی انھیں کامیابی ملے گی۔ بلکہ یہ تھا کہ ان سب کے ہوتے ہوئے محض افراد کی کمی کو اللہ اپنی مددِ خاص سے پورا کر دے گا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ اشارہ بھی نہیں ملتا کہ عصری صلاحیتوں کے نہ ہوتے ہوئے بھی جدوجہد میں اللہ اپنی مددِ خاص سے کامیابی عطا فرمائے گا۔ قرآنی حکم اور سنت رسول یہی ہے کہ ہم جس عصر میں دعوت ، اصلاح یا تعارف کا کام انجام دے رہے ہوں، اس عصر سے نہ صرف واقف ہوں بلکہ اسے استعمال کرنے اور ممکنہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیتوں سے بھی آراستہ ہوں۔ آج کے دور میں عسکری کے ساتھ، فکری، علمی اور ٹیکنالوجیکل صلاحیتوں کا اضافہ ہو گیا ہے اورہم ان میدانوں میں پچھڑے ہوئے ہیں۔ اس پچھڑے پن کی طرف اس تحریر کی ابتدا میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
مذکورہ بالا صلاحیتیں ماضی میں بالکل مفقود نہ تھیں، لیکن وہ محض نقطۂ نظر اور انفرادی روّیوں کی تشکیل کرتی تھیں۔ لیکن آج یہ’ کیا‘ کوجاننے کی صلاحیتیں آگے بڑھ کر’ کیسے‘ کے مرحلے میں داخل ہو کر ہر میدان میں پیداوار کا وسیلہ بن گئی ہیں۔ اس طرح دو گروہ: ایک وہ جو نالج پیدا کرتا ہے اور دوسرا وہ جو نالج جذب (consume) کرتا ہے، واضح نظر آتے ہیں ۔علم پیدا کرنے والے اور اس علم کو قابلِ صرف پیداوار میں تبدیل کرنے والے بالعموم مغربی معاشروں میں ہی پائے جاتے ہیں، جب کہ انھیں استعمال کرنے والوں کی کثیر تعداد ایشیا اور افریقا میں پائی جاتی ہے۔ اُمت مسلمہ بالعموم ’صارفین‘ کے دائرے میں آتی ہے اور اب قابلِ صرف پیداوار میں معلومات (ڈیٹا) اور اس سے ماخوذ نتائج اور ’مصنوعی ذہانت‘(AI) بھی شامل ہو گئی ہے، جس پر مغرب کے بعض گروہوں کی اجارہ داری ہونے کی بنا پر انفرادی آزادیاںبتدریج ختم ہوتی جارہی ہیں۔
اب نسلوں کی تربیت کا معاملہ ہو، غذائی ترجیحات ہوں یا ہمارا خانگی ماحول، ہم اپنی نجی ترجیحات طے کرنے میںبھی دوسروں پر منحصر ہوگئے ہیں۔ زراعت، ماحولیات، صحت، تغذیہ اور تفریحات جیسے تمام میدانوں میںآ ج کے انسانوں کی عظیم اکثریت مکمل طور پر آزاد نہیں ہے۔ دوسروں کی آواز یا پیغام ہم تک اور ہماری آواز دوسروں تک اس کرۂ ارضی کے کسی بھی مقام تک محض چند سیکنڈ میں پہنچ جاتی ہے اور حالات سے ہمیں باخبر کر دیتی ہے اور متاثر بھی کرتی ہے۔ معاشی سرگرمیوںمیں ہم بالکل بھی آزاد نہیں بلکہ ’سودی کاروبار‘ میں شامل ہوئے بغیر ہم معاشی ارتقا کی جدوجہد میں شامل ہی نہیں ہو سکتے۔ زمین اور فضاکی صحت آج شد ت سے زہریلی ہو چکی ہے۔
ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آج اکیسویں صدی کے نصف اوّل میں عام انسان جس ماحول میں رہ رہا ہے وہ اس ماحول سے بہت حد تک مختلف ہو چکا ہے جس میں اللہ کے رسولؐ نے دعوت دی تھی۔ یہ عظیم تبدیلی جن قوتوں کے بروئے کار ہونے سے پیدا ہوئی ہے، ان پر ہمارا بالکل بھی کنٹرول نہیں ہے۔ چنانچہ مسلمان محض اثر پذیر گروہ ہے، ان کے اثر انداز ہو پانے کا مستقل قریب میں دور دور تک امکان نظر نہیں آتا۔ چنانچہ وہ گروہ جو معاشرے میں انصاف کے قیام اور تبدیلی کا خواہاں ہے، وہ اس صورت حال کا باعث بنی ہوئی قوتوں سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا۔ یہ واضح ہے کہ ان تبدیلیوں کو پلٹا نہیں جاسکتا، البتہ ان کے اثرات کو سمجھا جا سکتا ہے اور پھر ان کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان قوتوں کو تخلیقی انداز میں سمجھنا اور پھر ان کو اعلیٰ تر مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا اس سے زیادہ ضروری ہے۔ اسی مقام پر ہم رسول ؐاللہ کی درپیش عصر سے مماثلت سمجھ اور بیان کر کے اس مقام پر فائز ہو سکیں گے، جس پر پہنچنے والوں کو اللہ نے کم تعداد میںہونے کے باوجودکامیابیوںکا یقین دلایا تھا۔
اسلام کے احیاء میں موجودہ عصر کی اہمیت کی بحث کو یہاں وقتی طور پر ختم کرتے ہوئے اسلام کے احیاء کی تشریح اور آج کے تقاضوں پر ایک مختصر اظہارِ خیال کرتے ہیں:
دراصل عصر کی تفہیم ہی سے اسلام کے احیاء کی شکلیں اور تقاضے ابھرتے ہیں۔ احیاء کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اسلام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر کئی صدیوں بعد تک زندگی کی انفرادی اور اجتماعی سطحوں پر فکر و عمل کی تمام سطحوں پر مؤثر اور رہنما تھا،اسی طرح آج پھر زندہ و متحرک ہوجائے۔ عصری تبدیلیوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجوں کا ایک تعلق اساسیات سے ہے اور دوسرا پہلو عصری تبدیلیوں کی تفہیم اور ان پر قابو حاصل کرنے سے متعلق ہے۔
اساسیات عملی اور فکری جہتوں پر مشتمل ہے۔ مثلاً ’عملی جہت‘ میں صلوٰۃ، روزہ، زکوٰۃ اورحج شامل ہیں۔ جن کے لیے معاشرہ، عوامی دلچسپی، اور اس میں کمال کے حصول کی کوششیں، اسلام کے احیاء کے ایک تقاضا کو پورا کریں گی۔ ایسی کوششیں بہت بڑے پیمانے پر خاصے مؤثر انداز میں جاری ہیں۔
البتہ ’اساسی احیاء‘ کا دوسرا پہلو عقائد یعنی ’فکریات‘ سے ہے۔ مثلاً توحید، آخرت اور رسالت یہ وہ عقائد ہیں، جو ہماری فکری اساس ہیں۔ احیائے اسلام کی عصری کوششوں میں پوری توجہ ان عقائد کو جدید انداز میں سمجھنے کی کوششیں ہیں تاکہ نہ صرف امت مسلمہ میں جدید عقلیات کے پروردہ ذہنوں کے لیے یہ قابلِ فہم ہو جائیں بلکہ غیر مسلم ذہنوں کو بھی عقلی طور پر ان عقائد کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ عقائد کی تفہیمِ نو کے باب میں یہ اپروچ بڑی اہم ہے، لیکن اس کے بعض پہلو بہت کمزور ہیں۔ مثلاً توحید کو قابلِ فہم ہونے کے لیے بہت سے خداؤں کے مقابلے میں خدائے واحد کا پس منظر اور اس کے انسانی ذات اور اس کے رویوں اور معاشرے پر پڑنے والے اثرات کی مدد سے بیان کیا جاتا ہے۔
فی زمانہ بتوں کی پوجا کا معاملہ کوئی بہت زیادہ قابلِ توجہ رویّہ نہیں رہا۔ اسی طرح الحاد بھی ایک دوسری شکل میں ڈھل چکا ہے۔ آج کا ’جدید‘ ذہن ایک خدا کو بطور ایک تصور کے تو تسلیم کرتا ہے، مگر ہمہ وقت کائنات سے مربوط خدا کو یہ ’جدید‘ انسان تسلیم نہیں کرتا۔ اسلام کے ابتدائی دور سے ہی توحید کے عقیدے نے ایک زندہ اور ہماری زندگی اور کائنات سے ہمہ وقت ربط میں خدا کا تصور دیا۔ قرآن کریم میں جب اللہ نے یہ فرمایا: میں تمھاری رگِ جاں سے زیادہ قریب ہوں اور میں تمھیں سنتا ہوں، تو اس میں یہی پیغام دیا گیا ہے۔ چنانچہ مخلوقات میں مماثلت ، ہم رشتگی، باہمی انحصار اور باہمی ارتباط، جب جدید ریسرچ و تحقیق کے نتیجے میں منکشف ہوئے، تو یہ در اصل ان جاری اور متحرک رشتوں کا اظہار ہے، جو عقیدۂ توحید کے مظاہر ہیں۔
ان رشتوں کا انکشاف اس وقت ہوا، جب سائنسی اصولوں اور ضابطوں کی دریافت کو پیداوار میں اضافے کے لیے منطبق کیا جانے لگا۔ جس کے نتیجے میں پیداوار میں اضافہ تو ہوا، لیکن فطرت میں موجود توازن اور عمل میں بحران پیدا ہو گیا۔ اضافہ سے آسانیاں پیدا ہوئیں، مگر توازن میں بحران نے زندگی کے لیے مختلف سطحوں پر سنجیدہ مسائل پیدا کردیے۔
آسانیوں میں مضمر معاشی مفادات نے ایک چھوٹے سے گروہ کو مستفید کیا، لیکن انسانوں کی ایک کثیر تعداد شدید مشکلات کا شکار ہوئی۔ عقیدۂ توحید کو اس پس منظر میں سمجھنا اور سمجھانا عصرِجدید کا تقاضا ہے اور اس صورت حال کی خاطر بہتر پالیسی سازی اسلام کے احیاء کے لیے ضروری ہے، کیوں کہ اس کے بغیر بنیادی انسانی حقوق، عدل و قسط کی حفاظت اور ظلم و استحصال جس کا شکار نہ صرف انسانی زندگی ہے، بلکہ زندگی کی شکلیں متاثر ہوتی ہیں اور کائناتی توازن بگڑ جاتا ہے، اس کا مداوا ممکن نہیں۔ اسی طرح کی بحث عقیدۂ رسالت اور عقیدۂ آخرت کے تعلق سے بھی کی جاسکتی ہے۔
پیش نظر رہے کہ اسلام امن و سلامتی کا پیامبر ہونے کی حیثیت میں دورِ جدید میں علم اور ٹکنالوجی کی بنیادوں پر قائم ترقی یافتہ لیکن ظلم، استحصال، عدمِ عدل اور کائناتی اور نفسیاتی توازن میں بحران سے عبارت زندگی کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے؟ اس سوال کا جواب دیے بغیر نہ تو اسلام کے ساتھ عدل ہوسکتا ہے اور نہ اُن کے ساتھ جنھیں اسلام کا تعارف کرا رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ ہمیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ اسلام اس صورت حال میں سے کس طرح زندگی کو اَز سرنو صحت مند بنیادوں پر قائم کرے گا؟
سطور بالا میں ہم نے موضوع میں شامل دو اصطلاحوں ’عصرِ حاضر‘ اور ’احیائے اسلام‘ کو سمجھنے اور اس کے تقاضوں کو جاننے کی کوشش کی ہے، جس کے نتیجے میں اسلامی سرگرمیوں کا ایک نقشۂ کار اُبھرتا نظر آتا ہے، جس کی وضاحت ضروری ہے۔ البتہ اس سے قبل اس بحث کے چند اور پہلو بھی ہیں۔
عقیدۂ توحید کی مذکورہ بالا تفہیم در اصل اسم الٰہی،مثلاً ’الخالق‘ کے پس منظر میں ہے، اور اس کے عملی و فکری مضمرات کی مختصر وضاحت ہے۔ اسی طرح عقیدۂ آخرت کے دینیاتی معنیٰ یعنی مرنے کے بعد کی زندگی کے ہیں۔ لیکن انسانی زندگی پر اس کے اثرات میں جواب دہی کا عنصر اہم ترین ہے، جو صرف اللہ کے سامنے ہی نہیں بلکہ اس کائنات سے تعامل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کے لیے خود اس دنیا کے سامنے جواب دہی بھی اس میں شامل ہے۔ یعنی کائناتی وسائل، ارتقا اور تحقیق کے نام پر بے لگام استعمال نہیں کیے جاسکتے۔ اسلامی فقہ کی اصطلاح ’ضیاع‘ اس بحث کو ایک رخ عطا کرتی اور ترقی و تحقیق کی حدود متعین کرتی ہے۔
اسی طرح عقیدۂ رسالت انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بنیادی طور پر علم کے کئی میدان ایسے ہیں، جن کے بارے میں یقینی علم کے مقام کو انسان محض اپنی صلاحیتوں کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا۔ یہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ یقینی علم کی ایک سطح وہ ہے جسے انسان اپنے حسّی ذرائع کی مدد سے حاصل کرتا ہے، جو بالعموم ’کیسے‘؟ کا جواب دیتی اور جسے ہم مادّی وجود سے ماخوذ علم سمجھتے ہیں۔
دوسری سطح وہ ہے جس کا تعلق ’کیوں؟‘ کے جواب پر مشتمل ہے، جس میں مقاصد، اخلاقیات، اقدار، اچھے اور برے کی تمیز اور حتمی سوالوں کے جواب مہیا کرتی اور بین الانسانی اور کائنات و انسانی رشتوں کو صحت مندانہ طور پر استوار کرتی ہے۔ بالفاظ دیگر عقیدۂ رسالت در اصل علمیات (Epistemology)سے متعلق ہے۔ عقیدۂ رسالت کی بدولت جو علم حاصل ہوتا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ وہ عقلِ خالص کی مدد سے منکشف نہیں ہوتا۔ اس علم کے خلا کو یقینا عقل پُر کرنا چاہتی ہے لیکن تن تنہا پُر نہیں کر سکتی۔ اس تک پہنچنے میں جذبات کا کردار بہت اہم ہے اور ایک بار جذبات کی مدد سے جب یہ دروازہ کھل جاتا ہے، تو منکشف ہونے والا ہر علم عقل کو مطمئن کرتا ہے اور اس کی مدد سے اس کی باریکیاں انسان پر منکشف ہوتی ہیں۔
علم پر مبنی آج کے معاشرے میں علمیاتی بحث بڑی اہمیت کی حامل ہے اور آج کی دنیا اس مقام سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے، جس میں صرف مشاہدہ اور تجربہ ہی معیارِ حق تسلیم کیا گیا تھا۔ اب نئی علمیات کی شکلیں وسعت پذیر ہیں۔ اسلام میں علم کی جو سیکڑوں قسمیں بہت سے اسکالروں نے متعین کی ہیں، وہ در اصل اس وسعت پذیر علمیات کی طرف اشارہ ہیں۔ اسمائے الٰہی جن کا تعلق علم سے ہے، وہ بھی اللہ کی اس کائنات اور انسان سے متعلق متحرک رشتوں اور روابط کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ نکتہ کہ ’اسلام چند ستونوں پر قائم ایک بلند و بالا عمارت ہے‘ بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ محض ستونوں کے استحکام یا محض عمارت چاہے، وہ کتنی ہی ہمہ گیر کیوں نہ ہو، اسلام کو قائم نہیں کر سکتی۔ چنانچہ، اسلام کو مستحکم کرنے یا اسے قائم کرنے کے لیے فی زمانہ ہر دوطرح کی سرگرمیوں پر اپنے عصر کے اعتبار سے توجہ دینی ہوگی۔ ستون جنھیں ’ارکان‘ کہا گیا ہے، ان کی اہمیت اور شکل، وقت اور مقام کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی اور ہر مکتب فکر میں اس کی اہمیت واضح ہے اور اس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا۔ البتہ اختلاف، عمارت کی تعمیر یعنی ’عصر ‘کے مطابق احیائے اسلام کی کوششوں میں ہو سکتا ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ ایک فطری امر ہے۔ چنانچہ ہم یہاں بحث میں ارکانِ اسلام کو مدِنظر نہیں رکھیں گے، صرف عمارت یعنی نظام کے قیام کی جدید حرکیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، بحث کے پس منظر میں ترجیحات کی وضاحت کریں گے۔
جدید حرکیات جن پر آج کی دنیا زندگی بسر کر رہی ہے، وہ دنیا میں ارتقاء کا باعث بھی ہے اور فساد و بربادی کا ذریعہ بھی۔ انسانی زندگی ’انفرادی ہویا اجتماعی‘ اس میں ایک طرف آسانیوں کی فراوانی ہے تو دوسری طرف شدید بحرانوں کا شکار بھی ہے۔ معلومات اور آگہی کے انتہائی اعلیٰ مقام پر فائز ہوجانے کے باوجود زندگی شدید نفسیاتی، سماجی اور معاشرتی بحرانوں کا شکار ہے۔ یہ در اصل اس ’ورلڈ ویو‘ (تصورِ جہاں) کی بدولت ہے، جو اس دنیا پر گذشتہ چند صدیوں سے حا وی رہا ہے۔ اس ’تصورِجہاں‘ کو سمجھنا اس پر تنقید اور قرآنی بنیادوں پر ایک ایسے ہی متحرک ’تصورِ جہاں‘ کی وضاحت اور تشکیل جو زندگی کے ہرہر پہلو کو محیط ہو، اور قرآنی اقدار کو قائم رکھتے ہوئے زندگی کے ارتقا کو جاری رکھ سکے، یہ دور جدید کی تحریکات ِاسلامی کی ترجیح ہونا چاہیے۔
موجودہ ’تصورِ جہاں‘ کی ناقدانہ تفہیم کے لیے اسلامی ’تصورِجہاں‘ کی وضاحت، انسانی زندگی کو شدت سے متاثر کرنے والی جدید فکر، سائنس کے رُخ اورپالیسیوں، ٹکنا لوجی کے اثرات اور انسان و کائنات کے باہمی رشتوں پر مشتمل اور انھیں متاثر کرنے والے تمام ڈسپلیز کا ناقدانہ جائزہ ضروری ہو گیا ہے۔ اسی کے لیے انفرادی شوق کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیق کا ایسا اجتماعی نظم قائم کرنا ہوگا، جہاں نقد، تفہیم اور تشکیل کا کام انجام دیا جاسکے۔
جدید حرکیات کو جاننے کے لیے اس میدان میں اُترنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر نہ تو ہم اس کے اثرات کی گہرائی سے واقف ہو سکیں گے اور نہ نئی اسلامی حرکیات کی تشکیل کر سکیںگے۔ چنانچہ نوجوانوں کو اس تعلیمی نظام سے واقف کرانے اور اس کی بنیادوں کو سمجھنے، اسے خلّاقانہ (Innovative) طور پر بدلنے کی صلاحیت سے بہرہ مند ہونے کے لیے ایسے جدید تعلیم کے ادارے خود قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے لٹریچر سے استفادے کا ماحول تیار کرنا ازحد ضروری ہے، جو آج کی علمی اور معاشرتی دنیا کا ناقدانہ تعارف کراتے ہوں۔
سیاسی مقتدرہ کا حصول اہم ضرورت ہے، لیکن سیاسی کوششوں کے ساتھ ان تمام متبادل راستوں کی تلاش بھی جاری رکھنی چاہیے، جن کے ذریعے ہم وہ مقاصد حاصل کر سکیں، جو سیاست کے ذریعے پیش نظر ہیں۔
ترجیحات کے اعتبار سے مذکورہ بالا سرگرمیاں اوّلین اہمیت کی حامل ہیں کیوں کہ یہ سرگرمیاں فکری، تحقیقی اور تخلیقی نوعیت کی ہیں۔ ان کی خصوصی ذمہ داری ان افراد ہی کو سونپی جائے، جن کے اندر خصوصی ذوق اور صلاحیتیں موجود ہوں۔ البتہ اس طرح کے مطالعے اور ایسے مطلوب طرزِ زندگی کی تعمیر عوامی نوعیت کی ہوگی اور کوشش کی جائے گی کہ عوامی سطح پر بھی اس ذوق کی پذیرائی ہو۔ دوسری طرح کی سرگرمیاں، اصلاحی، تعمیری اور عوامی بہتری کے لیے ہوں گی۔
اس سلسلے میں آخری بات یہ ہے کہ ایسا مزاج بنانے کی ضرورت ہے، جس میں اسلام کو محض مسلمانوں کے دین کی حیثیت سے نہیں بلکہ عوام الناس کے لیے اور ان کی بہتری کے لیے پیش کیا گیا ہو۔ اس مزاج کا اظہار ہمارے لٹریچر اورگفتگو ؤں وغیرہ سے بھی ہو اور عوامی بھلائی کے کاموں سے بھی۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ انسان بحیثیت مجموعی سچائی پر قائم رہنا چاہتا ہے اور اچھائی پسند کرتا ہے۔ اسی لیے ہونے والے ترقی کے تمام کاموں، اس کی اختراعات اور تحقیقات میں مثبت پہلو زیادہ نمایاں ہیں۔ چنانچہ، ہمیں جدید ترقیوں اور اس سلسلے میں انسانی کوششیں جو چاہے کسی بھی رنگ و نسل، مذہب اور قوم کے افراد کی ہوں کو تسلیم کرنا چاہیے اور ان کاموں کو اللہ کی نعمت سمجھ کر ان کے ممکنہ غلط استعمال اور اثرات کو سمجھانا چاہیے اور دعوت دینا چاہیے کہ ان کے اثراتِ بد سے انسان محفوظ رہیں۔
موضوع کا آخری نکتہ مسلمانوں کے اکثریت و اقلیت میں ہونے سے وابستہ ہے۔ اصولی طور پر یہ تمام کام ہماری ذمہ داری ہیں اور ایک سطح تک ان سے واقفیت ہر اس فرد کو ہونی چاہیے، جو ہمارے ساتھ اس عظیم جدوجہد میں شامل ہے، لیکن جہاں اکثریت میں ہیں وہاں یہ تمام کام یکساں اہمیت کے حامل ہیں اور جہاں اقلیت میں ہیں وہاں کے وابستگان کی فکری سطح یکساں رکھتے ہوئے مقامی حالات کی بناپر کچھ پہلوؤں پر زیادہ عملی توجہ دی جاسکتی ہے۔
اس بحث میں درج ذیل نکات پر آج کے دور میں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے:
۱- رسولؐ اللہ کے دور اور آج کے دور میں موازنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج کے حالات میں ایسی تبدیلیاں آچکی ہیں، جنھیں سمجھنے اور متعلقہ صلاحیت اور استطاعت پیدا کیے بغیر اسلام اور اسلام کے پیغام کو کامیابی کے ساتھ عصر جدید میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔
۲- اسلام کے تعارف میں عقائد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ روایتی فہم کے ساتھ جدید عملی ، علمیاتی اور ترقیاتی چیلنجوں کے پس منظر میں انھیں سمجھنا، تاکہ جدید دنیا کے مختلف پہلوؤں پر ناقدانہ تبصرہ کیا جاسکے، اور اس کے ذریعے فرد ، معاشرے اور کائنات کے ساتھ انسانی رشتوں پر ہونے والے ظلم کو سمجھا جاسکے اور عدل و قسط کے قیام کی شکلیں دریافت کی جاسکیں۔ یہ توحید، رسالت اور آخرت کے عقائد کا عملی اظہار ہوگا۔
۳- دور جدید جس علم، ٹکنالوجی، سائنس اور افکار سے عبارت ہے، اسے سمجھنے کی انفرادی اور اداراتی کوششوں کے بغیر ایسے افراد مہیا نہیں ہوسکتے، جو مذکورہ مقاصد کو حاصل کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔ ان علوم اور افکار کو سمجھنا اور مطلوبہ استطاعت کا حصول تربیتی نظام کا حصہ ہونا چاہیے۔ اس محاذ کو ثانوی نہیں، اساسی و بنیادی درجہ دینا چاہیے۔
جب ۱۵؍ اگست ۲۰۲۱ء کو تحریکِ طالبان افغانستان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل کا انتظام سنبھالا تو یہ ایک محیرالعقول واقعہ تھا۔ اس سے پہلے کم و بیش پورے افغانستان پر ان کا قبضہ ہوچکا تھا ۔تمام بڑے شہر ،ایئرپورٹوں اور اہم عسکری تنصیبات پر وہ ’امارت اسلامی‘ کے جھنڈے گاڑ چکے تھے۔ نیٹو افواج اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ افغانستان سے رخصت ہوچکی تھیں۔ ساڑھے تین لاکھ افغانوں پر مشتمل فوج، جس کو امریکا نے اربوں ڈالر خرچ کر کے تیار اور بہترین اسلحے سے لیس کیا تھا، طالبان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔امریکی کٹھ پتلی صدر اشرف غنی سمیت اُن کی پوری کابینہ ملک سے فرار ہو گئی اور بغیر جنگ لڑے طالبان کابل میں داخل ہو گئے۔ گذشتہ تین سال میں ایک طویل عرصے کےبعد افغانستان میں امن و امان بحال رہا۔ ’داعش‘ تنظیم نے متعدد مقامات پر کئی خودکش حملے کیے، جس سے سیکڑوں جانیں ضائع ہوئیں۔ لیکن اب وہ سلسلہ بھی تھم چکا ہے۔ داعش کی بیش تر قیادت ملک سے باہر نکل گئی ہے اور دیگر ممالک میں سرگرمِ عمل ہے ۔
۱-ملک میں مکمل امن و امان کی بحالی، جنگ کا خاتمہ، عوام کا تحفظ ،شاہراؤں کی حفاظت۔
۲- حکومتی رٹ کا قیام، کابل کی مرکزی حکومت کا پورے افغانستان پر مکمل کنٹرول ہے۔ ملک کے ۳۴ صوبوں اور ۴۰۰ اضلاع میں ایک ہی حکومت ہے۔ تمام صوبوں کے والی، اور بڑے چھوٹے اضلاع کے حکام اس کے سامنے جواب دہ ہیں، اور اس کا حکم پورے ملک میں نافذ ہوتا ہے۔
۳- قانون کی بالادستی اور لاقانو نیت کے خاتمے کے بعد پورے ملک میں شرعی قوانین نافذ ہیں۔ عدالتیں قائم ہیں اور وہ روزمرہ کے مسائل اور تنازعات کا بروقت فیصلہ کرتی ہیں۔ عالمی ادارے نے کابل کو اس خطے کا سب سے محفوظ شہر قرار دیا ہے جہاں جرائم کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
۴- بدعنوانی اورکرپشن کا ہر سطح پر سد باب کردیا گیا ہے۔ رشوت ستانی ،بھتہ خوری، کمیشن وغیرہ جیسے مسائل جو گذشتہ حکومتوں میں عام تھے، ناپید ہیں۔ تمام حکومتی محصولات کی وصولی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ بجلی کے بل اور دیگر خدمات پر ادائیگی پوری طرح لی جاتی ہے، جس سے حکومت کو مستحکم بنانے میں بہت مدد ملی ہے ۔
۵- ملک میں اقتصادی ترقی، تجارت کے فروغ اور معاشی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔ افغان کرنسی کو عالمی بینک نےاس خطے کی مضبوط ترین کرنسی قرار دیا ہے۔ افغان تاجر بغیر کسی روک ٹوک کے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر آزادانہ طور پر کاروبار کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی کمپنیاں اور کاروباری افراد بھی افغانستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
۶- ملک میں بلاامتیاز یکساں طور پر ترقیاتی کام زور و شور سے جاری ہیں ۔ پہلے سال چھوٹے پیمانے پر کاموں کا آغاز ہوا،لیکن اب پورے ملک میں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ شاہراؤں کی تعمیر ہو رہی ہے، ڈیم بن رہے ہیں اور سالانگ ٹنل کی تعمیرِ نو ہو چکی ہے۔ ۲۸۰کلومیٹر طویل قوش ٹپہ نہر بن رہی ہے، جو کہ شمالی صوبوں کی لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کرے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام ترقیاتی کام خود انحصاری کی بنا پر کیے جا رہے ہیں۔ کوئی غیر ملکی قرضہ نہیں لیا گیا۔ بیرونی ممالک مثلاً چین اگر کسی منصوبے میں شریک ہے، تو وہ امداد کے طور پر کام کر رہا ہے۔
۷- مرکزی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے ملک کی ترقی اور معاشی کنٹرول میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، خاص طور پر قیمتوں کے کنٹرول اور درآمدات و برآمدات پر نظر رکھتے ہیں اور جو اقدام ضروری ہے وہ کرتے ہیں۔ غیر ملکی کرنسی کی آمد اور خروج پر بھی دسترس ہے ۔ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ملک میں بینکاری کا نظام جاری ہے اور سودی نظام کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
۸- اقوام متحدہ کے اداروں اور دیگر ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ تعلقاتِ کار قائم ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام ،عالمی ادارہ صحت، ریڈ کراس وغیرہ تمام تر پابندیوں کے باوجود کام کر رہے ہیں اور ان کے کارکنان اور دفاتر کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، جب کہ ان کو براہِ راست عوامی مفادات کے کاموں اور امدادی اشیاء کی تقسیم کی دسترس فراہم کی گئی ہے۔ زلزلوں، سیلابی صورتِ حال اور وبائی امراض، انسداد پولیو مہمات میں دیگر ریلیف کے کاموں میں عالمی رفاہی اداروں کو کام کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ ان اداروں میں خواتین کارکنان بھی کام کر رہی ہیں ۔علاوہ ازیں شعبۂ صحت میں ایک لاکھ ۵۰ ہزار اور شعبہ تعلیم میں ۹۰ ہزار خواتین پر مشتمل عملہ کام کر رہا ہے۔
۹- پڑوسی ممالک کے ساتھ سماجی ومعاشی تعلقات کو فروغ دیا گیا ہے۔ چین، ایران، پاکستان ،روس، ازبکستان ،ترکمانستان، تاجکستان وغیرہ کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار اور سرحدیں کھلی ہیں، اور اس میں بہتری آرہی ہے۔ ان ممالک کو طالبنائزیشن کا جو خوف درپیش تھا وہ اب معروضی اور عملی معاشی تعلقات میں ڈھل چکا ہے۔ کمیونسٹ ملک چین کے ساتھ خاص طور پر معاشی تعلقات میں بہت اضافہ ہوا ہے اور اس وقت ملک کی ۷۰ فی صد بیرونی تجارت اس کے ساتھ ہے۔ کابل میں اکثر ممالک کے سفارت خانے فعال ہوچکے ہیں۔
۱۰- ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ طالبان قیادت نے برسرِ اقتدار آنے کے بعد جس عام معافی کا اعلان کیا تھا، اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔ انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ جو لوگ بیرونی ملک جانا چاہتے ہیں یابیرون ملک سے واپس آنا چاہتے ہیں وہ بلا خوف و خطر آسکتے ہیں۔ اندرون ملک اور بیرونی ملک فضائی پروازیں بحال ہو چکی ہیں۔
۱- جس عبوری کابینہ کا اعلان ۲۰۲۱ء میں کیا گیا تھا،وہی ابھی تک چل رہی ہے اور مستقل حکومت اور نظام ابھی تک معرض وجود میں نہیں آیا۔ ملک میں جمہوری ،شورائی نظام اور پارلیمنٹ کا وجود نہیں ہے۔ باقاعدہ ملکی دستور و آئین بھی منظور نہیں کیا جاسکا ہے۔ ملکی انتخابات یا اس کا متبادل کوئی نظام بھی ابھی تک قائم نہیں کیا جا سکا ہے۔
۲- کسی بھی ملک نے ابھی تک امارت اسلامی افغانستان کو باقاعدہ رسمی طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ کئی ملکوں نے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن پڑوسی ممالک سمیت کسی نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ میں بھی افغانستان کی نمائندہ نشست خالی ہے۔
۳- افغانستان پر عائد بین الاقوامی پابندیاں جاری ہیں ۔اقوام متحدہ ،سیکورٹی کونسل، مغربی ممالک و دیگر عالمی اداروں نے معاشی و سفارتی اور ذمہ دارانِ حکومت پر بین الاقوامی سفر کی جو پابندیاں عائد کی تھیں، برقرار ہیں۔ نیز بینکاری، ہوا بازی اور معاہدوں پر پابندیاں جوں کی توں ہیں۔ گذشتہ حج کے موقع پر طالبان کے اہم رہنما سراج الدین حقانی کو فریضۂ حج کے لیے خصوصی استثنا دیا گیا تھا۔
۴- گذشتہ دو برسوں سے افغانستان میں بچیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی ابھی تک برقرار ہے۔ امیر المومنین ملاہبت اللہ کے ایک فرمان کے مطابق کالجوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے دروازے طالبات پر بند کیے گئے تھے جس سے پوری دنیا میں طالبان قیادت کو ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ اس سال امارت اسلامی نے اعلان کیا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو اسلامی اصولوں کے مطابق بچیوں کا تعلیمی نصاب تیار کرے گی، لیکن ابھی تک اس معاملے پر کوئی اقدام سامنے نہیں آیا جس پر اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک امارت اسلامی کے حامیوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
۵- پاکستان کے ساتھ تعلقات میں جو بہتری کی توقع کی جا رہی تھی، ابھی تک وہ پوری نہیں ہوئی۔ طالبان کے پہلے دور (۱۹۹۶ء-۲۰۰۱ء) میں پاکستان نے امارت اسلامی کی حکومت کو نہ صرف تسلیم کیا تھا بلکہ سفارتی محاذ پر اس کی بھرپور حمایت بھی کی تھی۔ اس کے بعد حامد کرزئی اور ڈاکٹراشرف غنی کے دور میں تعلقات کشیدہ رہے۔ طالبان کی کابل آمد پر پاکستان میں بھی بالعموم خوشی کا اظہار کیا گیا، لیکن اس کے بعد باہمی تعلقات میں تناؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی جس کی بڑی وجہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے بڑے پیمانے پر دہشت گردی ہے۔ افغانستان سے متصل قبائلی اور جنوبی اضلاع میں ہزاروں کی تعداد میں ان کے وابستگان، فورسز کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں اور ان کی قیادت افغانستان میں موجود ہے۔
تیسری دوحہ کانفرنس منعقدہ ۳۰ جون تا یکم جولائی ۲۰۲۴ء میں ان کے یہ دونوں مطالبات منظور کر لیے گئے۔ کانفرنس میں افغانستان اور اقوام متحدہ کے نمائندگان کے علاوہ امریکا، روس، چین، پاکستان، ایران، تاجکستان، ازبکستان ،قازکستان،کرغزستان، ترکی ،جاپان ،انڈیا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، ناروے، سعودی عرب ،انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، اور قطر شامل رہے۔ یورپی یونین اور اسلامک کانفرنس کے نمائندے بھی موجود تھے جس سے آپ اس کانفرنس کی اہمیت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ کابل کے ایک مؤثرتھنک ٹینک سی ایس آر ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کانفرنس سے امارت اسلامی نے تین اہم فوائد حاصل کیے :
۱ -امارت اسلامی افغانستان کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک بین الاقوامی فورم میں پوری نمائندگی دی گئی ۔جس سے اب تک اس کو محروم رکھا گیا تھا۔
۲- ایجنڈا میں وہ نکات شامل کیے گئے،جوافغانستان کی ضرورت ہیں اور زمینی حقائق کے مطابق ہیں ۔جن میں افغانستان پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ختم کرنا، بینکاری کی سہولیات اور نجی سیکٹر پر پابندیاں ختم کرنا، افغانستان کے منجمد اثا ثے بحال کرنا ،افیون کی کاشت پر پابندی کے نتیجے میں متاثرہ کسانوں کو ریلیف مہیا کرنا جیسے نکات شامل تھے۔ جس پر کانفرنس کی دوسری نشست میں تفصیلی غور وخوض ہوا اور افغان نمائندوں کو سناگیا ۔
۳- بین الاقوامی برادری نے ایک طرح سے تسلیم کر لیا ہےکہ امارت اسلامی افغانستان کے ساتھ براہ راست رابطہ اور مل کر کام کرنا ناگزیر اور مفید ہے اور اس پر پابندیاں عائد کرنا اور دباؤ ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں، اس لیے اس کو اپنے ساتھ ملاکر چلانے کی ضرورت ہے ۔
اگر چہ اس کانفرنس سے فوری طور پر تو افغانستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، لیکن امارت اسلامی افغانستان نے عالمی فورم میں اپنی تین سالہ کارکرد گی بیان کی۔ جس میں امن و سلامتی، معاشی ترقی، پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات، ملک میں افیون کی کاشت پر مکمل پابندی اور افغانستان سے منشیات کی سمگلنگ جیسی بڑی سماجی لعنت کا خاتمہ شامل ہے۔ یہ کام طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں بھی کیا گیا تھا، لیکن ملک پر امریکی قبضے کے دوران یہ پھربڑے پیمانے پر شروع ہوا اور ۲۰۲۰ء کے اختتام پر ایک اندازے کے مطابق صرف افغانستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد ۴۰لاکھ سے زائد تھی۔ منشیات کا خاتمہ امارت اسلامی افغانستان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔
دوحہ کانفرنس کے دوران ایک اہم اجلاس قطر کی میزبانی میں منعقد ہوا ،جس میں پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں ان تین ممالک کے درمیان کارگو ریلوے سروس کے قیام کے منصوبے پر بات چیت کی گئی جس کی فنڈنگ قطر کرے گا۔ یہ پاکستان کے لیے ایک بہت اہم منصوبہ ہے، جس کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک اور روس کی مارکیٹوں تک براہ راست رسائی حاصل ہوسکے گی۔ازبکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے ریلوے لائن موجود ہے، جو مزار شریف تک ہے ،جب کہ پاکستان کی طرف سے ریلوے طورخم تک ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’وائس آف امریکا‘ (VOA )کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند گروپوں کا اتحاد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان میں ’سب سے بڑا دہشت گرد گروپ‘ ہے۔ اسے پاکستان میں سرحد پار سے حملے کرنے کے لیے طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم دیر گئی۔ اس کے مطابق ٹی ٹی پی کی زیرقیادت، پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں بڑا اضافہ ہوا، جن میں حالیہ ہفتوں میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے: ’’ٹی ٹی پی، افغانستان میں بڑے پیمانے پر کام جاری رکھے ہوئے ہے، اور وہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لیے، اکثر افغانوں کو (یا افغانستان کی سرزمین کو ) استعمال کرتی ہے‘‘۔ مزید یہ کہ ’’عالمی سطح پر نامزد دہشت گرد گروپ، جسے پاکستانی طالبان بھی کہا جاتا ہے، افغانستان میں تقریباً۶ہزار۵سوجنگجوؤں کے ساتھ کام کر رہا ہے‘‘۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ’ ’پاکستان، ٹی ٹی پی کے پاکستان میں بڑھتے ہوئے حملوں سے نمٹنے کے لیے مشکلات کا شکار ہے اور طالبان کی ٹی ٹی پی کی حمایت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ان پُرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے اسلام آباد اور کابل میں طالبان حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں،جب کہ افغان طالبان (امارت اسلامی افغانستان ) دہشت گرد گروہ کی موجودگی کے الزامات کو مسترد کرتی ہے یا یہ کہ پڑوسی ممالک کو دھمکی دینے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کرنےکی اجازت دیتی ہے‘‘۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ: ’’طالبان، ٹی ٹی پی کو ایک دہشت گرد گروپ کے طور پر تصور نہیں کرتے اور ان کے درمیان باہمی مضبوط تعلقات ہیں۔ ٹی ٹی پی ۲۰۰۷ء میں پاکستان کے غیر مستحکم (قبائلی علاقوں )سرحدی علاقوں میں اُبھری، جس نے افغان طالبان کو بھرتی اور پناہ فراہم کی کیونکہ اس کے بعد کے برسوں میں انھوں نے افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوجیوں کے خلاف گوریلا حملے تیز کر دیے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے: افغانستان میں القاعدہ کے علاقائی کارندے، جن کے طالبان سے طویل مدتی تعلقات ہیں، پاکستان کے اندر بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کی مدد کر رہے ہیں‘‘۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں رکن ممالک کے حوالے سے بتایا گیا ہے: ’’ٹی ٹی پی کے کارندوں کو مقامی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر القاعدہ کے اُن کیمپوں میں تربیت دی جا رہی ہے جو اس تنظیم نے متعدد سرحدی صوبوں جیسے ننگرہار، قندھار، کنڑ اور نورستان میں قائم کیے ہیں۔ اس طرح القاعدہ ٹی ٹی پی کی حمایت کر رہی ہے۔ اس طرح القاعدہ کے ساتھ ’زیادہ تعاون‘ ٹی ٹی پی کو ’پورے خطے کو خطرے‘ میں تبدیل کر سکتا ہے‘‘۔
لکھا گیا ہے: ’’نیٹو افواج کے ہتھیار، خاص طور پر رات میں دیکھنے کی صلاحیت (Night vision کے حامل حساس آلات) جو کہ طالبان کے قبضے کے بعد سے ٹی ٹی پی کو فراہم ہوچکے ہیں، پاکستانی فوجی سرحدی چوکیوں پر اس کے حملوں میں جان لیوا اضافہ کرتے ہیں‘‘۔
اسلام آباد میں حکام نے بھی بار بار سکیورٹی فورسز میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ جدید امریکی ہتھیاروں کو قرار دیا ہے جو بین الاقوامی افواج کے ہاتھوں پیچھے رہ گئے تھے اور ٹی ٹی پی کے ہاتھ لگ گئے تھے۔ امریکی محکمہ دفاع نے مئی [۲۰۲۴ء]کے آخر میں منظر عام پر آنے والی سہ ماہی رپورٹ میں ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’’پاکستانی انٹیلی جنس فورسز نے اس سال کے شروع میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران، M-16 اور M-4 رائفلز سمیت چند امریکی تیار کردہ چھوٹے ہتھیار برآمد کیے ہیں اور ٹی ٹی پی سمیت عسکریت پسند، پاکستان میں حملوں کے لیے ممکنہ طور پر محدود مقدار میں امریکی ساخت کے ہتھیاروں اور آلات بشمول چھوٹے ہتھیاروں اور نائٹ ویژن چشموں کا استعمال کر رہے ہیں‘‘۔ تاہم، اس میں آگے چل کر کہا گیا ہے: ’’امریکی ساختہ ہتھیاروں کی مقدار جس کا دعویٰ پاکستانی ذرائع نے کیا ہے کہ وہ پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کے ہاتھ میں ہے، یہ ممکنہ طور پر مبالغہ آرائی ہے‘‘۔
اسلام آباد نے بارہا کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’وہ ٹی ٹی پی کی زیر قیادت سرحد پار دہشت گردی کو لگام ڈالے اور محسود سمیت اس کے رہنماؤں کو پکڑ کر پاکستان کے حوالے کرے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق: ٹی ٹی پی نے بتدریج پاکستان کے خلاف حملوں کی تعداد کو ۲۰۲۱ء میں ۵۷۳ سے بڑھا کر ۲۰۲۳ء میں ۱۲۰۳ کر دیا ہے، اور یہ رجحان ۲۰۲۴ء میں بڑھتا جارہا ہے۔ پاکستانی حکام بھی تشدد میں اضافے کی وجہ ’زیادہ سے زیادہ آپریشنل آزادی‘ کو قرار دیتے ہیں جو تقریباً تین سال قبل طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دہشت گرد تنظیم کو افغانستان میں حاصل ہوئی ہے۔ طالبان کی جاسوسی ایجنسی، جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس نے، ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کے لیے کابل میں تین نئے گیسٹ ہاؤسز کی سہولت فراہم کی اور مبینہ طور پر ٹی ٹی پی کی سینئر شخصیات کو نقل و حرکت میں آسانی اور گرفتاری سے استثنا کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں کے اجازت نامے جاری کیے تھے۔ اس جائزے میں یہ بھی بتایا گیا کہ ’’طالبان کو خدشہ ہے کہ[امارت اسلامیہ کی جانب سے] ’زیادہ دباؤ‘ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں قائم داعش کے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور کر سکتا ہے‘‘۔
طالبان نے اقوام متحدہ کی ان تازہ رپورٹوں پر فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ تاہم، طالبان نے یہ ضرور ظاہر کیا ہے کہ ’’افغانستان پر الزام لگانے کے بجائے (ٹی ٹی پی) پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے‘‘۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس رپورٹ میں شائع شدہ حقائق یا تصورات زیادہ تر پہلے سے پاکستان اور افغانستان کی قیادت کے علم میں ہیں اور ان پر پاکستانی وزیر دفاع اور دیگر حکام اظہار خیال بھی کرتے رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں دہشت گردی کے واقعات کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ میں افغان ناظم الامور کو بلا کر سفارتی انداز میں متنبہ بھی کیا گیا اور کم از کم ایک مرتبہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے مبینہ ٹھکانہ پر بمباری بھی کی گئی ہے اور آئندہ بھی ایسا کرنے کی وارننگ دی گئی ہے، جس پر افغان قیادت کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس وقت پاک افغان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں اور اعلیٰ سطحی رابطوں کا فقدان ہے۔ پاکستان نے اب تک افغانستان کو سفارتی سطح پر تسلیم بھی نہیں کیا۔ تاہم، ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان افغانستان کو رسمی طور پر باقاعدہ تسلیم کرکے اس کے ساتھ اعلیٰ سطح پر مذاکرات کے عمل کا دروازہ کھولے، جس میں دونوں طرف کی سیاسی اور دینی قیادت شریک ہو۔ جنگی اقدامات کو خیرباد کہنا چاہیے اور دونوں ممالک کے درمیان روزمرہ بنیادوں پر مضبوط سیاسی، اقتصادی اور سماجی تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ اس کام میں پاکستان ہی کو سبقت لینی چاہیے۔ گذشتہ ماہ جولائی کو فرینکفرٹ میں پاکستانی کونسل خانے پر جو افسوس ناک واقعہ ہوا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارتی لابی افغانستان میں پاکستان مخالف رائے عامہ کو کسی بھی وقت استعمال کر سکتی ہے، حالانکہ اس مظاہرے میں پاکستانی طلبہ بھی بڑی تعداد میں شریک تھے، جو ممتاز پختون قوم پرست شاعر گیلامند وزیر کی اسلام آباد میں پُراسرار ہلاکت کے خلاف احتجاجی مراسلہ پاکستانی سفارتی عملے کو دینے گئے تھے۔ مگر اسی دوران جن دو افغان طلبہ نے پاکستانی پرچم اُتارا تھا، ان کو اسی وقت پاکستانی طلبہ نے پکڑ کر پولیس کے حوالے بھی کیا تھا۔
’’۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے بھارتی لوک سبھائی حملے کے نتیجے میں کیا مقبوضہ کشمیر پُرامن ہوگیا ہے؟‘‘ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔
گذشتہ پانچ برسوں کے دوران جہاں ایک طرف نئی دہلی سرکار کے ظلم و تشدد نے مختلف نئے حربے اپنائے ہیں، وہیں عوامی سطح پر محکوم کشمیریوں نے بعض حوالوں سے مایوسی اور ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے جدوجہد کے لیے نئے راستے اپنائے ہیں۔ یہ زمانہ ظلم کی مختلف داستانوں کومجسم پیش کرتا ہے اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کی مسلم نسل کش حکمت عملی کا جواب دینے کے لیے اپنی کوششوں میں تبدیلی لایا ہے۔
اس دوران تحریک آزادیٔ کشمیر اپنے عظیم رہنما سیّدعلی گیلانی کی رہنمائی سے ستمبر۲۰۲۱ءکو محروم ہوگئی۔ وہ مسلسل بھارتی حکومت کی قید میں تھے۔ انتقال سے قبل انھیں علاج معالجے کی سہولت سے محروم رکھا گیا۔پھر ان کی میّت بھی بھارتی فورسز نے قبضے میں لے لی اور خاندان کو تجہیزو تدفین کرنے کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اُن کی وصیت کے مطابق انھیں شہدا کے مرکزی قبرستان میں دفن کرتے۔ اہل کشمیر کے لیے گیلانی مرحوم ایک والد کی سی قدرومنزلت رکھتے تھے مگر لوگوں کو ان کے جنازے میں شریک نہیں ہونے دیا گیا۔
قابض حکومت کی جانب سے اخبارات سخت سنسرشپ اور پابندیوں میں جکڑے گئے۔ اسکولوں سے اُردو کی کمر توڑنے اور اسلامی تہذیب سے وابستہ اسباق کی بیخ کنی کے انتظامات کیے گئے، اور اسلامی اسکولوں کو قومیایا گیا۔ اچانک چھاپے مار کر لکھنے پڑھنے والے دانش وروں اور صحافیوں کی ایک تعداد کو مقدمات کے بغیر انڈیا کی دُور دراز جیلوں میں ٹھونسا یا غائب کردیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر سے اُن طلبہ کے راستے میں شدید ترین رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جانا چاہتے تھے اور ان کے داخلے بھی ہوچکے تھے۔ اس پالیسی کا شکار وہ طلبہ بھی ہوئے، جو بھارتی حکمرانوں کے کشمیر موقف کے حامی ہیں، لیکن ان کا مسلمان ہونا، ان کی راہ میں رکاوٹ بنادیا گیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر متنازعہ علاقے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کے شہری کشمیر کے ایک دوسرے علاقے میں جانے کا حق رکھتے ہیں۔
۲۰۰۲ء میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جموں و کشمیر میں یک طرفہ باڑ لگانے سے ایک تو یہاں کے لوگوں کا بنیادی شہری حق سلب ہوا، اور دوسری طرف جو طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کرنے آزاد کشمیر آئے تھے، بھارتی حکومت نے ان کی ڈگریاں تسلیم کرنے سے انکار پر مبنی قانون نافذ کردیا۔
اس مدت میں تمام تر بلندبانگ دعوئوں کے باوجود بھارتی حکومت نے یورپی ممالک کے صحافیوں کو آزادی سے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی، اور اگر ایک مرتبہ چند افراد کو جانے دیا بھی، تو ایک دو روز بعدہی انھیں کشمیر سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ پھر تجاوزات مٹانے کے نام پر خاص طور پر شہری علاقوں اور سری نگر شہر میں بڑے پیمانے پر بلڈوزر چلا کر سیکڑوں برسوں سے آباد کشمیریوں کے کاروبار تباہ اور گھربرباد کر دیئے گئے۔
۱۳جون کی شام نئی دہلی میں نریندرا مودی کی تیسری حلف برداری کی تقریب سے صرف ایک گھنٹہ پہلے ہندو یاتریوں سے بھری بس پر اچانک حملے کے نتیجے میں ۹؍افراد ہلاک ہوگئے۔ انھی دنوں انڈین سیکورٹی فورسز پر چار دن میں چار حملے ہوئے، جن میں کٹھوعہ کے مقام پر ہیرانگر میں دوحُریت پسندوں اور ایک بھارتی فوجی کی جان گئی۔جموں کا یہ علاقہ نسبتاً پُرامن تصور کیا جاتا رہا ہے۔ ذرا ماضی میں دیکھیں تو ۲۰۰۲ء میں جب جموں کے کالوچک علاقے میں فوجی کوارٹروں پر مسلح حملے میں درجنوں بھارتی فوجی اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہلاک ہوئے تھے، تو نتیجے میں پاک بھارت سرحدوں پر جنگ جیسی صورتِ حال پیدا ہوگئی تھی۔
اسی دوران کشمیر میں حُریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ ڈی ڈبلیو ٹی وی (جرمنی)کے نمائندے صلاح الدین زین کے مطابق ۹جولائی کو ضلع کٹھوعہ میں مجاہدین نے بھارتی فوجی قافلے کو نشانہ بنایا، جس میں پانچ فوجی مارے گئے، ان میں ایک کمیشنڈ افسر بھی شامل تھا۔ یہ واقعہ کٹھوعہ سے تقریباً ۱۵۰کلومیٹر کے فاصلے پر مچیڈی، کنڈلی، ملہار کے پاس پیش آیا۔ فوجی ذرائع کے مطابق حُریت پسندوں نے ٹرک پر دستی بم (گرنیڈ)پھینکا اور پھر فائرنگ شروع کردی۔ سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی، مگر اس دوران حُریت پسند جنگل کی جانب فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق فوجی قافلے پر دو سمتوں سے حملہ کیا گیا۔
ان مہینوں کے دوران جموں اور عام طور پر وادیٔ کشمیر کے علاقے میں حُریت پسندوں کا غلبہ رہا ہے۔ اس طرح خطۂ جموں میں بھارتی فوج پر حملوں میں خاصی تیزی آئی ہے، اور جولائی کے شروع تک یہ اپنی نوعیت کا پانچواں حملہ ہے، جس میں بھارتی فوج کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔
جون کے مہینے میں حُریت پسندوں نے انڈین سیکورٹی فورسز کی ایک بس پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں وہ کھائی میں جاگری، اور نو افراد کی ہلاکت ہوئی۔ اس واقعے کے کچھ دن بعد مجاہدین نے ایک گائوں میں سیکورٹی فورسز سے مقابلہ کیا، جس میں سی آر پی ایف کا ایک فوجی مارا گیا اور دو مجاہدین نے جامِ شہادت نوش کیا۔ جون ہی میں ضلع ڈوڈہ (جموں) کے علاقے گندوہ میں مجاہدین اور بھارتی فورسز کے درمیان مقابلہ ہوا، اور تین مجاہدین شہید ہوئے۔
۹جولائی کو ’وائس آف امریکا‘ میں یوسف جمیل نے رپورٹ کیا ہے کہ ضلع کولگام کے مُدھرگام اور فرسل چھنی گام دیہات میں حُریت پسندوں اور بھارتی فوجیوں کے درمیان دو روز تک جھڑپیں جاری رہیں۔ ان جھڑپوں میں حزب المجاہدین سے تعلق رکھنے والے چھ حُریت پسند شہید ہوئے، جن میں: یاور بشیرڈار، ظہیراحمد ڈار، توحید راتھر، شکیل احمد درانی، عادل احمد اور فیصل احمد شامل ہیں، جب کہ دو فوجی مارے گئے۔ یہ سب مقامی کشمیر ی شہری تھے۔ بھارتی حکام کے مطابق: ’’وہ بھاری اسلحے سے لیس تھے‘‘ [جو ظاہر ہے کہ بھارتی فوجیوں ہی سے چھینا گیا تھا]۔ مقامی لوگوں کے مطابق ان تمام شہدا کا تعلق مقامی آبادی سے تھا اور یہ نوجوان مارچ ۲۰۲۱ء سے تادمِ آخر مجاہدین کی صفوں میں شامل رہے۔
انڈین حکومت دُنیا کے سامنے مسلسل یہ کہتی آرہی ہے کہ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد اُس نے جموں و کشمیر میں حُریت پسندی کو کچل دیا ہے۔ مگر دوسری جانب کشمیری نوجوان تحریکِ جہاد کا حصہ بنتے اور اپنا ایک اَن مٹ نشان چھوڑ جاتے ہیں۔اسی دوران میں انڈین فوج نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسپیشل فورسز (پیراشوٹ رجمنٹ) کے کمانڈوز کو اس علاقے میں اُتارا اور تربیت یافتہ کھوجی کتوں کا بھی استعمال کیا ہے۔
’وائس آف امریکا‘ نے وادیٔ کشمیر کے جنوبی اضلاع میں جڑ پکڑنے والی تحریک جہاد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ ۸جولائی ۲۰۱۶ء کو یہاں پر بُرہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد انڈین فوجیوں نے سرچ آپریشن کے دوران مقامی مسلم آبادی کے ساتھ جس نوعیت کا بہیمانہ سلوک کیا، اس نے لوگوں کو نہایت گہرے زخم دیئے ہیں اور توہین و تذلیل کے واقعات نے ان کے دلوں سے خوف نکال دیا ہے اور حقارت بھر دی ہے۔
۲۴جولائی کو کپواڑہ کے علاقے میں مجاہدین اور بھارتی فوجیوں میں تصادم ہوا، جس میں ایک فوجی مارا گیا اور ایک مجاہد شہید ہوا۔ بھارتی فوجی حکام یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ حالیہ چند مہینوں میں فوج کے خلاف جنگجو سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے نئی فوجی پوسٹیں اور نئے فوجی کیمپ قائم کیے جارہے ہیں۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کو ہراساں کرنے کے لیے بھارتی حکومت کے جاری کردہ کالے قوانین کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے۔ فوج اور پولیس مل کر میڈیا پر پابندیاں عائد کیے ہوئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر گہری نگرانی (سرویلنس) ہروقت جاری ہے۔ سیاسی قیادت کو جیلوں میں بند یا اپنی نگرانی میں جکڑ رکھا گیا ہے۔
۱۹جولائی کو کُل جماعتی حُریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے ایک بیان میں یہ حقیقت آشکار کی ہے: بی جے پی کی حکومت جموں و کشمیر کے لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے اور اپنی بات کہنے کی اجازت نہیں دے رہی، بلکہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کو ہراساں کرنے کے لیے طاقت اور انسانیت کش قوانین کا اندھادھند استعمال کر رہی ہے۔ اسی طرح راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی چھتری تلے ’ہندوتوا‘ تنظیموں کے خفیہ ایجنڈے نے ۱۰لاکھ بھارتی فوج کی مدد سے کشمیر کی معیشت کو شدید بدحالی کا شکار کر دیا ہے، ان کے قدرتی وسائل چھین لیے گئے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور چھاپوں نے نفسیاتی دبائو زدہ درندہ صفت فوجیوں کے مظالم کا نشانہ بنارکھا ہے اور اندھا دھند گرفتاریوں نے خاندانوں کو تباہ کردیا ہے۔
دوسری طرف بھارتی شہریوں کو وادیٔ کشمیر میں زبردستی آباد کرنے اور مقامی لوگوں کی تجارت پر اجارہ داری مضبوط بنانے کے لیے مربوط پروگرام پر عمل کیا جارہا ہے۔ تیزرفتار مواصلاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے شاہرائوں، پُلوں اور ریل گاڑی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ کلچرل حملے کو تیز کرنے کے لیے متعدد پروگراموں کو وسعت دی جارہی ہے۔
یہ صورتِ حال، پاکستان اور دُنیا کے دیگر ممالک میں تحریک آزادیٔ کشمیر کو قوت فراہم کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ مگر افسوس کہ چند ماہ پہلے یہاں آزاد کشمیر میں معمولی واقعات کو بدامنی کی راہ پر دھکیل دیا گیا، جس نے پاکستان کی ساکھ کو صدمہ پہنچایا۔ بلاشبہہ اُس میں حقائق سے بے خبر نوجوانوں کا حصہ ہے اور ساتھ دشمن نے بھی اس صورتِ حال کو استعمال کیا ہے۔ کشمیر کے نوجوانوں کے جائز تحفظات کا سنجیدگی سے جواب دینا چاہیے۔ لیکن ردعمل پیدا کرکے اُن میں غصہ پیدا کرنے سے اجتناب بھی برتنا چاہیے۔ آزاد کشمیر کا مواصلاتی نظام بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر آزاد کشمیر میں اضطراب پیدا ہوگا تو اس کا منفی اثر مقبوضہ جموں وکشمیر کی تحریک پر پڑے گا۔ اس نزاکت کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے ذرائع ابلاغ میں سیاست دانوں اور انتظامیہ کو دُوراندیشی سے کام لینا چاہیے۔
بہت مشکل صورت حال ہے۔ حالیہ اسرائیل غزہ جنگ نے منطقی اندازِ فکر کو معطل کر رکھا ہے۔ درست طور پر کہا جاتا ہے کہ جنگ میں پہلی موت سچ کی ہوتی ہے۔
موجودہ تنازع کھڑا ہونا ہی تھا کیونکہ برق رفتار ’ابراہیمی معاہدوں‘ کے دوران فریق دوم یعنی فلسطینیوں کو مکمل نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ کم سے کم الفاظ میں بھی اسے انتہائی احمقانہ حکمت عملی کہا جاسکتا ہے۔ اس دھونس کا نتیجہ وہی ہوا جو ہونا تھا، نظرانداز فریق (اور اس کے حامیوں) نے اپنا ردعمل ظاہر کردیا۔ نتیجہ ایک مہلک نسل کشی کی صورت میں نکلا، جس نے فریقین کو ایک بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ اگر امریکا اپنا سارا وزن اسرائیل کے پلڑے میں ڈال دے تو مشرق وسطیٰ اور یورپ میں طاقت کا توازن مکمل طور پر بدل جائے گا۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو امریکا کبھی یہودی مسئلے کا غیر مشروط حامی نہیں رہا ہے۔ ۱۸۷۶ء میں وفاق کے حامیوں کی شکست کے ساتھ امریکی خانہ جنگی ختم ہوئی، تو یورپی سرمایہ دار اس طرف متوجہ ہوئے۔ ان کے پاس سرمائے کی فراوانی تھی اور وہ نئی منڈیوں کا رُخ کرنا چاہتے تھے، لیکن امریکی خانہ جنگی کے خاتمے کا انتظار کر رہے تھے۔
چنانچہ بہت جلد امریکا میں صنعت کاری کا عمل شروع ہو گیا۔ بڑے صنعت کار (جنھیں ڈاکو رئیس بھی کہا جاتا ہے) سرمائے کی تلاش میںتھے کیونکہ امریکا میں اس کی قلت تھی۔ صنعتوں، ریل گاڑیوں، نہروں، سڑکوں اور تیل کی صورت میں امریکی توسیع کسی حد تک یورپ سے حاصل ہونے والے یہودی سرمائے کے باعث ہی ممکن ہو پائی تھی۔
بیسویں صدی کے آغاز میں وال سٹریٹ کا سب سے بڑا بینکر پیئر پونٹ مورگن (Pierpont Morgan) بھی دراصل روتھ شیلڈ (Rothschild) اور دوسرے یہودی گروہوں کی نمایندگی کر رہا تھا۔ سرمائے کے ساتھ ساتھ یہودی بنکار، فنکار، عالم و دانش ور اور دوسرے ہنرمند بھی امریکا آکر بس گئے اور یہاں انھوں نے اپنے لیے ایک جگہ پیدا کر لی۔
دسمبر ۱۹۱۷ء میں برطانیہ نے فلسطین کے اندر یہودیوں کا قومی وطن قائم کرنے کے سلسلے میں اپنی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا۔ بہت کم یہودیوں کو اس وقت سمجھ آئی کہ دراصل یہ انھیں یورپ سے نکالنے کا بہانہ تھا۔
سابق برطانوی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے یہ قرارداد تیار کی جو صہیونی نمایندہ بیرن روتھ شیلڈ تک پہنچا دی گئی۔ اس قرارداد میں واضح طور پر لکھا گیا تھا: فلسطین میں آباد عرب شہریوں کو بالکل پریشان نہیں کیا جائے گا اورنہ وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی۔
اس وقت برطانوی جنگی کابینہ کا واحد مقصد، جنگ عظیم اول میں کامیابی حاصل کرنا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس اعلامیہ کے بعد صہیونی قوتیں اتحادیوں سے آ ملیں گی۔سیاسی بے رحمی کی ایسی مکمل ترین (یا بدترین) مثال ملنا مشکل ہے۔
۱۹۳۹ء تک جرمنی میں اقتدار ہٹلر اور نازی پارٹی کے پاس آ چکا تھا۔ ہٹلر کو جرمن عوام کےدرمیان جادوئی حیثیت حاصل تھی۔ اس کا بنیادی نظریہ آریائی نسل کی برتری، یہودی و جپسی نسلوں کی کمتری اور پہلی جنگ کے بعد جرمنی کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر استوار تھا۔
اس صورتِ حال میں ہٹلر اور اس کے ساتھی جس حل تک پہنچے، وہ یہ تھا کہ جرمنی سے یہودیوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ اس پر جب امریکا و یورپی طاقتوں نے اعتراض کیا تو ہٹلر نے دوبدو جواب دیا، ’’ اس میں نیا کیا ہے؟ یورپی نوآبادیاتی قوتیں کئی صدیوں سے قتل عام جیسے افعال سرانجام دیتی آئی ہیں۔ اسپین اور پرتگال نے یہ کام جنوبی امریکا میں کیا، برطانیہ نے ساری دنیا میں، ولندیزیوں نے انڈونیشیا میں، جب کہ بیلجیم یہی کام کانگو میں کر رہا ہے‘‘۔ ‘ امریکا کو ہٹلر کا جواب یہ تھا: ’’نسل کشی اور کشور کشائی کے معاملے میں ہم تو امریکی نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ جس طرح امریکیوں نے مقامی باشندوں کو ختم کر کے ان کی زمین اور وسائل پر قبضہ کیا اور جس طرح وہاں سیاہ فاموں کو غلام بنا کر ہر قسم کے ظلم و جور سے گزارا گیا‘‘۔
ہٹلر کا کہنا تھا کہ: ’’نازی پارٹی یہودیوں یا دیگر نسلوں کے ساتھ جو کچھ کر رہی ہے وہ معمول کی کارروائی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار اس کا نشانہ یورپی بن رہے تھے اور نسل کشی کا یہ کام جدید ٹکنالوجی کی مدد سے صنعتی پیمانے پر کیا جا رہا تھا‘‘۔ یہ دلیل ناقدین کو خاموش رکھنے کے لیے کافی تھی۔ اتحادیوں کو آخرکار جنگ میں فتح مل گئی، لیکن اس کا باعث ان کی قوت نہیں بلکہ جرمنی اور جاپان کی ایک بنیادی غلطی تھی۔
جنگ عظیم دوم کے بعد امریکا اور اتحادیوں کو یہ سوال درپیش تھا کہ یہودی مسئلے کا کیا کیا جائے؟ انھیں یہ فکر اس لیے تھی کہ وہ اپنے ملک میں یہودی پناہ گزینوں سے بچنا چاہتے تھے۔ پیشہ ور اور تکنیکی ماہرین کو پہلے ہی امریکا اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔
چنانچہ اسرائیل کا قیام اس مسئلے کا کامل ترین حل تھا، جس سے تمام قوتوں ، امریکا، یورپ اور اشتراکی روس کا منشاء بھی حاصل ہو جاتا اور انھیں یہودیوں کو اپنے علاقوں سے نکال باہر کرنے کا بہترین موقع بھی مل جاتا۔ ۱۹۵۶ء میں جب برطانوی، فرانسیسی اور اسرائیلی فوجیں مل کر نہر سویز پر حملہ آور ہوئیں، تو امریکا اور اقوام متحدہ نے اس پر اعتراض کیا۔ چنانچہ تھوڑے ہی عرصے بعد انھیں وہاں سے نکلنا پڑا۔
تاہم، ۱۹۷۳ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد امریکی منصوبہ ساز، اسرائیل کی دفاعی و جارحانہ صلاحیتوں سے متاثر نظر آئے، چنانچہ امریکا اسرائیل کا مربی بن گیا۔ اسے ایک دشمن اور ناقابل بھروسا خطے میں اپنی کاسہ لیس ریاست مل گئی تھی۔ اس خطے میں حکومتیں بدلنے یا ان کی تبدیلی کو روکنے کے لیے یہ ریاست ایک مضبوط عسکری قوت اور امریکا کے لیے ایک قابلِ اعتبار اتحادی ثابت ہوئی اور یوں دو طرفہ تعلقات مضبوط سے مضبوط ہوتے چلے گئے۔ لیکن پھر ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء آ گیا۔
آگے کیا ہوگا؟ کون جانتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جہاں فرشتوں کے بھی پَر جلتے ہوں وہاں بے وقوف بے دھڑک قدم رکھ دیتے ہیں۔
بنگلہ دیش کے قیام اور پاکستان کی تقسیم میں بنیادی کردار ادا کرنے والے گروہ کا نام ’عوامی لیگ‘ ہے۔ قیام پاکستان کے پونے دو سال بعد۲۳؍جونٍ۱۹۴۹ء کو مشرقی پاکستان میں، مسلم لیگ کے لیڈر عبدالحمید بھاشانی اور شیخ مجیب وغیرہ نے علیحدہ پارٹی بنائی، جس کا نام ’آل پاکستان عوامی مسلم لیگ‘ رکھا۔ مگر بہت جلد، مشرقی پاکستان کی سات فی صد ہندو آبادی کو اپنی جانب مائل کرنے، یا پھر ہندو مقتدرہ کے زیر اثر پارٹی چلانے کے لیے ۱۹۵۳ء میں ’آل پاکستان‘ اور ’مسلم‘ کا لفظ اڑا کر اسے '’عوامی لیگ‘ بنا دیاگیا۔ اس پس منظر سے عوامی لیگ کی تشکیل میں مضمر ایک بنیاد واضح ہوتی ہے۔
عوامی لیگ نے اپنے قیام کے ساتھ ہی مغربی پاکستان کے خلاف مبالغہ آمیز پراپیگنڈے اور مسلم قومیت جو پاکستان کی بنیاد تھی، اس کی نفی پر زور دینا شروع کیا۔ اس مقصد کے لیے جھوٹ، اتہام ’غیربنگالی سے نفرت‘ اور تشدد کو اپنی پالیسی کا بنیادی پتھر قرار دیا (فاطمہ جناح کی حمایت کا ایک مرحلہ اور آخری مرحلے میں ۱۹۵۶ءکے دستور کی حمایت عوامی لیگ کے دو مثبت حوالے ہیں)۔
مارچ ۱۹۶۹ء میں جنرل یحییٰ خان کے ہاتھوں مارشل لا لگنے سے پہلے عوامی لیگ کا فسطائی رنگ، مشرقی پاکستان میں پوری طرح اپنا نقش جما چکا تھا۔ اس دوران ’اگر تلہ سازش کیس‘ جو براہِ راست بھارتی مداخلت اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے تعاون سے پاکستان توڑنے، مختلف تنصیبات پر قبضہ جمانے اور اہم حکومتی شخصیتوں کو قتل کر کے علیحدگی کے منصو بے کو عملی جامہ پہنانے پر مشتمل تھا۔ اس مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت پر عوامی لیگ اور اس کی طلبہ تنظیم ’چھاترو لیگ‘ (اسٹوڈنٹس لیگ) نے حملہ کر کے عدالتی مقام کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور ججوں نے بڑی مشکل سے جان بچائی۔ ایک مدت تک عوامی لیگ اور پاکستانی لیفٹ کی طرف سے اس سازش کے وجود کا انکار کیا جاتا رہا، لیکن ۲۲فروری ۲۰۱۱ء کو سازش کے ایک اہم کردار کیپٹن شوکت علی (ڈپٹی اسپیکر بنگلہ دیش پارلیمنٹ) نے اسمبلی کے فلور پر برملا اعتراف کیا کہ یہ منصوبہ سچ تھا، بلکہ ہم نے تو ۱۹۶۳ء ہی سے ’اگرتلہ‘ میں بھارت سے ساز باز شروع کر رکھی تھی۔ اگست ۱۹۶۹ء میں ڈھاکا یونی ورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ ڈھاکہ کے ناظم محمد عبدالمالک کو لوہے کے سریے مار مار کر شہید کر دیا گیا۔ ۱۹۷۰ء کے پورے سال میں کسی بھی مدمقابل پارٹی کو انتخابی مہم تک نہیں چلا نے دی گئی۔ انتخابی عملہ اپنی مرضی سے تعینات کرایا اور نتائج اپنی مرضی کے مطابق مرتب کیے، جنھیں عوامی لیگ کی ’زبردست جیت‘ قرار دیا جاتا ہے۔
۱۹۷۱ء شروع ہوا تو بھٹو، مجیب اور جنرل یحییٰ کے درمیان تناؤ کی فضا پیدا ہوئی۔ انجام کار یکم مارچ سے لے کر۲۵؍مارچ۱۹۷۱ء تک عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کے طول و عرض میں غیربنگالیوں کا قتل عام کیا، لُوٹ مار کی، عورتوں کی عصمت دری کی اور محب وطن بنگالی پاکستانیوں کو چُن چن کر مارنا شروع کیا۔ جس پر مارچ، اپریل ۱۹۷۱ء میں دنیا بھر کے اخبارات نے رپورٹنگ کی اور حقائق کے شائع کیے۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ نہ بنگلہ دیش میں، نہ انڈیا میں اور حد تو یہ ہے کہ خود پاکستان میں اس نسل کشی (Genocide) کا تذکرہ تک نہیں کیا جاتا اور تواریخ کی درسی کتب کو اس وحشیانہ جنون اور قاتلانہ شیطنت سے خالی رکھا گیا ہے۔ معلوم نہیں کون سا دستِ شرانگیز ہے، جس نے نصابوں اور اخباری صفحات کو ان دردناک تفصیلات سے دُور رکھا ہے۔
۱۶دسمبر۱۹۷۱ء کو انڈین فوج کے تعاون سے مشرقی پاکستان الگ کر کے بنگلہ دیش بنا لیا گیا۔ جس میں پاکستانی حاکم طبقوں کی غلط پالیسیوں کا ایک اہم حصہ تھا۔ لیکن مرکزی کردار بہرحال دشمن سے ساز باز کر نے والی عوامی لیگ ہی تھی۔ مراد یہ ہے کہ اپنے جائز حقوق کےلیے جدو جہد ایک جائز جمہوری عمل ہے، لیکن جھوٹ، نفرت، نسل کشی، فسطائیت اور دشمن سے ساز باز کو سیاسی جدوجہد نہیں کہا جاسکتا۔
مجیب نے اقتدار سنبھال کر ’مکتی باہنی‘ کے لوگوں کے لیے ملازمتیں محفوظ کرنے کی خاطر مخصوص کوٹا رکھا۔ ایسے مستحقین کا فیصلہ عوامی لیگ پارٹی ہی کرتی، نہ کہ کوئی غیر جانب دار اتھارٹی۔ مجیب نے ۱۹۷۲ء میں ڈھا کہ پہنچتے ہی پارٹی کا مسلح مافيا ’جاتیا راکھی باہنی‘ (JRB) کے نام سے قائم کیا، جو مجیب کی زندگی تک سیاسی مخالفین کے لیے تشدد اور دہشت کی علامت بنا رہا۔ (اس کے بارے میں معروف صحافی انتھونی مسکرہینس نے اپنی کتاب Bangladesh: A Legacy of Blood میں اسے ’’ہٹلر کی خاکی وردی والے غنڈوں کی طرح کا ایک ریاستی گینگ قرار دیا‘‘۔ہوڈر اینڈ سٹوگٹس، لندن، ۱۹۸۶ء، ص ۳۷)
اس نوعیت کے اقدامات سے لوگوں میں ردعمل پیدا ہونا شروع ہوا۔ آگے چلیں تو شیخ مجیب کے خون میں رچے فسطائی جذبے نے، ۲۴جنوری ۱۹۷۵ء د کو بنگلہ دیش میں ’بکسل‘(BKSAL) یعنی ’بنگلہ دیش کرشک سرامک عوامی لیگ‘ (بنگلہ دیش مزدورکسان عوامی لیگ) کی بنیاد رکھی، اور اس کے مقابلے میں ملک سے باقی تمام سیاسی پارٹیوں کو کالعدم قراردے دیا۔ پھر اسی سال ۱۵؍اگست کو بغاوت ہوئی، جس میں فوج کے نوجوان افسروں نے مجیب کے گھر پر حملہ کرکے اسے قتل کر دیا۔
۲۲جنوری ۲۰۰۶ء کو وزیراعظم خالدہ ضیاء (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی: BNP )نے ملک میں عام الیکشن کرانے کا اعلان کیا، مگر شیخ مجیب کی بیٹی اور عوامی لیگی لیڈر حسینہ واجدنے ہنگامہ کھڑا کرکے ۱۱جنوری ۲۰۰۶ء کو انتخابی عمل پٹڑی سے اُتار دیا، یہی وہ موڑ ہے جہاں سے فساد کا آغاز ہوا۔ پھر اُس وقت بنگلہ دیش آرمی کے چیف جنرل معین الدین احمد کی سرپرستی میں ٹیکنوکریٹ کی ایسی حکومت بنی کہ اُس نے دسمبر ۲۰۰۸ء کے الیکشن میں عوامی لیگ کو کامیاب کرا دیا۔
جنوری ۲۰۰۹ء میں عوامی لیگ ایک خونیں رنگ و رُوپ کے ساتھ میدان میں اُتری، مگر جلد ہی ۲۵ اور ۲۶ فروری ۲۰۰۹ء کی رات ’بنگلہ دیش رائفلز‘ (BDR) کے جوانوں نے ہیڈکوارٹر پُل خانہ میں بغاوت کرکے بی ڈی آر کے ڈائریکٹر جنرل احمد سمیت ۵۷؍افسروں اور ۱۶ سویلین شہریوں کو قتل کردیا۔ یہاں پر ’مجیب اندرا گٹھ جوڑ‘ کی طرح ’حسینہ ، من موہن سنگھ گٹھ جوڑ‘ کا آغاز ہوا۔ پروفیسر ایویناش پلوال نے اپنی کتاب India`s Near East: A New History (۲۰۲۳ء) میں تفصیل بتائی ہے کہ حسینہ واجد نے پرنام مکھرجی کے ذریعے نئی دہلی حکومت کو پیغام بھیجا: ’جان بچائو‘ (SOS)۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی ہدایت پر انڈین آرمی پیراشوٹ رجمنٹ بٹالین کے میجر کمل دیپ سنگھ سندھو نے حکم ملنے پر ۲۶فروری کی شام تیاری شروع کی اور ڈھائی گھنٹے بعد ایک ہزار چھاتہ برداروں کے ساتھ ڈھاکہ اُترنے کے لیے تیار ہوگئے۔ بھارتی کمانڈوز نے ۲۷فروری کو بنگلہ دیش میں براہِ راست مداخلت شروع کی اور چار روز میں ناراض فوجیوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ وہ دن اور آج کا دن، بنگلہ دیش آرمی اور اس کی مسلح معاون رجمنٹیں، انڈین فوج کی براہِ راست اور تابع مہمل اکائیاں ہیں، بلکہ حسینہ واجد نے یہ طے کرایا ہے کہ بنگلہ دیشی فوج کا سربراہ، انڈین فوج کے مشورے سے مقرر کیا جائے گا۔
حسینہ واجد نے ۲۰۰۹ء سے ۲۰۲۴ء کے دوران میں جو حکمرانی کی ہے، اس میں اپنے اقتدار کی مضبوطی، مدمقابل قوتوں سے انتقام، اپنی پارٹی مافیا کے استحکام اور انڈیا کے تابع نظامِ حکومت کو وسعت دینا شامل رہا ہے۔ اس دوران نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (ICT) کے ذریعے جماعت اسلامی کے چوٹی کے رہنمائوں کو پھانسیاں دی گئی ہیں۔ جماعت اسلامی کو الیکشن لڑنے سے نااہل قرار دیا اور مولانا مودودی کی کتب کی اشاعت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
اگرچہ ۲۰۱۸ء میں بھی کوٹہ سسٹم ، جو کہ عوامی لیگی کارکنوں کو نوازنے کا ایک شرمناک بہانہ تھا، اس کے خلاف مظاہرے ہوئے، مگر ان کو دبا دیا گیا۔ پھر عوامی لیگ نے اپنے فعال کارکنوں پر مشتمل ہائی کورٹ ججوں کے ذریعے کوٹہ سسٹم میں ۳۰ فی صد استحقاق کو محفوظ بنایا، تو نئی نسل میں بے چینی پھیلنا شروع ہوئی۔
یہ تقسیم اس طرح ہے کہ ۳۰ فی صد مکتی باہنی کے لوگوں کے پوتوں دوہتوں کا حق، ۱۰فی صد عورتوں کا، ۱۰ فی صد غیرترقی یافتہ علاقوں کا، ۵ فی صد قبائل کا اور ایک فی صد معذوروں کا حق ہے۔ اس طرح عوامی لیگ کے من پسندوں کو چھوڑ کر، پورے بنگلہ دیش کے نوجوانوں کے لیے ۴۴ فی صد حصہ رہ جاتا ہے، جو اپنی جگہ انتظامیہ کے رحم و کرم پر ہے، کہ وہ جسے چاہے رکھیں۔
جولائی ۲۰۲۴ء میں مضطرب طلبہ و طالبات نے ڈھاکہ یونی ورسٹی میں احتجاج کیا تو ۱۳جولائی کی سہ پہر حسینہ واجد نے طنز کرتے ہوئے کہا: ’’کوٹے کی مخالفت کرنے والے غدار ہیں، یہ پاکستان کے ایجنٹ ہیں، اور رضاکار ہیں‘‘۔ یاد رہے ۵۴ سالہ تاریخ میں بنگلہ دیش نے اپنے ہاں لفظ ’رضاکار‘ کو: تعلیم، صحافت، تاریخ اور سیاست کے میدان میں گالی بنادیا ہے۔ جیسے ہی حسینہ واجد نے یہ جملہ کہا تو طلبہ و طالبات نے اس ’گالی‘ کو اپنے لیے اعزاز سمجھ کر اپنا لیا اور ڈھاکا یونی ورسٹی کے درودیوار گونجنے لگے: ’تو کون، میں کون___ رضاکار، رضاکار۔ اس پر حکومت نے جھنجلاہٹ میں کہا: ’’یہ نعرے لگانے والے غدار ہیں، جماعت اسلامی کے ایجنٹ ہیں، ان کو سبق سکھانے کے لیے عوامی لیگ کے کارکن اور ہماری طلبہ تنظیم چھاترو لیگ ہی کافی ہے‘‘۔ یہ بیان وزیرقانون، وزیرداخلہ اور وزیر اطلاعات نے تکرار کے ساتھ دُہرایا۔ ساتھ ہی عوامی لیگی مسلح کارکنوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ طلبہ و طالبات پر حملے کریں، ان کے سامان کو لوٹیں، کمروں کو آگ لگائیں، ہڈیاں توڑیں یا قتل کریں۔ یوں صرف دو دن میں پورا بنگلہ دیش ایک دہکتا ہوا الائو بن گیا۔
اسلامی جمعیت طلبہ جو اس تحریک میں حصہ لینے والا ایک حامی اور مددگار کردار ہے، اس کے تین ہزار سے زائد کارکنوں کو صرف پہلے دو روز میں گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس تماشائی بن کر عوامی لیگیوں کی سرپرستی کے لیے ساتھ ساتھ چلتی رہی، اور عوام میں غصہ بڑھتا گیا، طلبہ و طالبات کٹ کٹ کر سڑکوں پر گرتے رہے۔ پھر جب بہتے خون کا دریا بلند ہوا تو حسینہ واجد نے جمعہ ۱۹جولائی کی رات پورے بنگلہ دیش میں فوج طلب کرکے کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کردیا، اخبارات کی اشاعت پر پابندیاں عائد کردیں، انٹرنیٹ کی سروس معطل اور سڑک پر آتے ہی مظاہرین کو گولی مار دینے کا حکم دے دیا۔ اس سب کے باوجود ہنگامے تھمنے میں نہیں آرہے۔
۲۴ جولائی کو طلبہ تحریک کے لیڈروں نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جو وی پی این کے ذریعے دُنیا میں پھیل گیا: ’’حسینہ واجد نے چھاترو لیگ (اسٹوڈنٹس لیگ) کے نام سے دہشت گرد پیدا کیے ہیں۔ اس نے ووٹ کی عزّت پامال کی ہے۔ اس نے جمہوریت کو برباد کیا ہے۔اس نے عدالتی نظام کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ اس نے پولیس میں عوامی لیگی غنڈوں کو بھرتی کرکے عوامی لیگ پارٹی کو ذاتی مافیا کا درجہ دے رکھا ہے۔ اس نے بنگلہ دیش رجمنٹ کے ذہین ترین افسروں کو گولیوں سے اُڑا دیا ہے۔ اس نے میرٹ کے نام پر پارٹی بدمعاشوں کو بھرتی کرنے کا ایک مربوط نظام قائم کیا ہے، جس کے جال کو توڑنا عام آدمی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ اس نے ملک کا اقتداراعلیٰ، انڈین حکومت اور انڈین فوج کے ہاتھوں بیچ دیا ہے۔ ہم ایسی حکومت اور ایسی پارٹی کے اقتدار کو مسترد کرتے ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق ڈیڑھ ہزار سے زیادہ طلبہ و طالبات اور شہری شہید ہوچکے ہیں۔ ۲۵ہزار سے زیادہ مہلک زخموں سے چور موت و حیات کی کش مکش میں مبتلا ہیں۔ ۶۱ہزار سے زیادہ طلبہ و طالبات اور شہری گرفتار کرلیے گئے ہیں۔ ہم عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نہتے بنگلہ دیشی طلبہ و طالبات کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں‘‘۔
’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ (AI)نے اپنے بیان میں کہا ہے: ’’ہم نے فوٹوگرافی، ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے اور دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ یہ معلومات جمع کی ہیں کہ بنگلہ دیشی سیکورٹی فورسز نے طلبہ و طالبات مظاہرین کے خلاف غیرقانونی اور بدترین طاقت استعمال کی ہے۔ ان نہتوں پر براہِ راست گولیاں چلائی گئی ہیں۔ بند جگہوں میں مظاہرین کو دھکیل کر خطرناک اور جان لیوا آنسو گیس کا استعمال کیا گیا ہے، اس طرح دم گھٹنے سے بہت سے لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ ’اے کے پٹرن اسالٹ رائفلز‘ جیسے مہلک آتشیں اسلحے کا بے لگام اور اندھا دھند استعمال کیا گیا ہے۔ ہم فوری طور پر غیرجانب دار انہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں اور ہلاک شدگان کی درست معلومات فراہم کرنے پر زو ر دیتے ہیں‘‘۔ ۲۳جولائی کو ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW) نے الزام عائد کیا: ’’بنگلہ دیش کی جیلیں اور حوالات سیاسی قیدیوں سے بُری طرح ٹھونسی ہوئی ہیں‘‘۔
۲۵جولائی کو ایک اور بھیانک واقعہ یہ ہوا کہ طلبہ مظاہروں کو دبانے کے لیے حکومت نے بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کے نشان والی بکتربند گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کو استعمال کیا ۔ جس پر مختلف ممالک کے سفیروں نے عوامی لیگی حکومت پر سخت سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ معلوم ہونا چاہیے، اس وقت اقوام متحدہ کے ’امن مشن‘ پروگرام میں بنگلہ دیش آرمی، بنگلہ دیش پولیس، بنگلہ دیش بارڈر گارڈ (BBG) اور ’ریپڈ ایکشن بٹالین‘ (RAB) سستے کرائے کے فوجیوں کی مانند خدمات انجام دے رہے ہیں کہ ان کے پاس کرنے کا کوئی کام نہیں (کیونکہ ’دفاعی ذمہ داری‘ تو انڈین آرمی اپنے ہاتھوں میں لے چکی ہے، یا یہ ذمہ داری اسے دی جاچکی ہے)۔ اس لیے ان بنگلہ دیشی فورسز کا اقوام متحدہ کی گاڑیوں اور ہوائی مشینوں کے نشانات کے پردے میں طلبہ کے خلاف استعمال کرنا، دُنیا بھر میں زیربحث ہے۔
بظاہر امن کی فضا بحال ہوتی نظر نہیں آرہی۔ ان حالات میں انڈیا کی کوشش ہے کہ حسینہ واجد کی صورت میں بدنما حکومت سے جو کام لینا تھا وہ لے لیا اور اب اگر اس سے چھٹکارا پانا ضروری ہو تو اسے چلتا کیا جائے۔ جنرل معین الدین احمد کی طرح موجودہ بنگلہ دیش آرمی چیف جنرل وقارالزماں سے مدد لے کر عوام کی توجہ تقسیم کی جائے(یاد رہے جنرل وقار،حسینہ واجد کے قریبی عزیز اور بھروسے کے آدمی ہیں)۔ لیکن عوام نہ تو انڈیا کا نام سننا چاہتے ہیں اور نہ انڈیا سے منسلک کسی نسبت پہ اعتبار کرنے کو تیار ہیں۔ دوسری طرف انڈیا کے اخبارات اور آر ایس ایس کے سوشل میڈیا پر متحرک گروپ یہ کہہ رہے ہیں: ’’حسینہ واجد کی اقتدار سے بے دخلی، انڈین مفادات کی بربادی ہے۔ اگر یہ حکومت گئی تو جماعت اسلامی اسلامی نظام لانے کے لیے آگے بڑھے گی۔ پھر دوسری طرف خالدہ ضیاء کی بی این پی اور جماعت اسلامی نے پورے بنگلہ دیش میں مہم چلا رکھی ہے کہ مارکیٹ میں انڈیا کے ہرمال کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جماعت کے لوگوں کو دبایا،پکڑا یا مارا جائے‘‘___ دُنیا بھر کے امن پسند شہری ظلم کی اس یلغار پر نوحہ کناں ہیں۔
سوال : بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہم کسی کام میں جماعت اسلامی کے ساتھ تعاون کرتے ہیں تو اس کا سارا کریڈٹ جماعت اسلامی کو ملتا ہے۔ جماعت کو چاہیے کہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی مطمئن رکھے؟
جواب :اگرکوئی شخص دین کا کام کرتا ہے اور خدا کی رضا کے حصول کے لیے کرتا ہے، تو اس کا ایسے سوالات اُٹھانا غلط ہے۔ نیکی، اللہ سے اجر پانے کی اُمید پر کرنی چاہیے نہ کہ کسی کریڈٹ کے لیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی کوئی کام دُنیاوی اغراض کے لیے نہیں بلکہ اپنا دینی فریضہ سمجھ کے کرتی ہے۔جماعت کے ساتھ تعاون کے سلسلے میں اگر کوئی شخص کریڈٹ کا سوال اُٹھاتا ہے تو وہ گویا ہماری پوزیشن یہ بناتا ہے کہ ایک فریق تو کریڈٹ دینے والا ہے اور دوسرا کریڈٹ پانے والا۔ حالانکہ جماعت ہرگز اس بات کی مدعی نہیں ہے کہ اس کے کسی کو کریڈٹ دینے سے اسے کریڈٹ حاصل ہوگا اور نہ دینے سے نہیں ہوگا۔
مزیدبرآں اگر کوئی شخص کسی دینی فریضے کی ادائیگی میں ملک کی کسی دوسری تنظیم کے ساتھ تعاون کرتا ہے، تو اسے بجا طور پر یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کا اجر خدا کے ہاں محفوظ ہے۔ یہ خدا ہی ہے جو جانتا ہے کہ کون یہاں کس نیت سے کام کر رہا ہے اور وہی صحیح اجر دینے والا ہے۔ (آئین، ۲۹مئی ۱۹۷۰ء)
وہی ہے جو آسمان سے تمھارے لیے رزق نازل کرتا ہے۔
’رزق‘ سے مراد یہاں بارش ہے، کیونکہ انسان کو جتنی اقسام کے رزق بھی دُنیا میں ملتے ہیں، اُن سب کا مدار آخرکار بارش پر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی بے شمار نشانیوں میں سے تنہا اس ایک نشانی کو پیش کرکے لوگوں کو توجہ دلاتا ہے کہ صرف اسی ایک چیز کے انتظام پر تم غور کرو تو تمھاری سمجھ میں آجائے کہ نظامِ کائنات کے متعلق جو تصور تم کو قرآن میں دیا جارہا ہے، وہی حقیقت ہے۔
یہ انتظام صرف اسی صورت میں قائم ہوسکتا تھا، جب کہ زمین اور اس کی مخلوقات اور پانی اور ہوا اور سورج اور حرارت و بُرودت سب کا خالق ایک ہی خدا ہو۔ اور یہ انتظام صرف اسی صورت میں لاکھوں کروڑوں برس تک پیہم ایک باقاعدگی سے چل سکتا ہے، جب کہ وہی اَزلی و ابدی خدا اس کو جاری رکھے اور اس انتظام کو قائم کرنے والا لازماً ایک حکیم و رحیم پروردگار ہی ہوسکتا ہے، جس نے زمین میں انسان اور حیوانات اور نباتات کو جب پیدا کیا تو ٹھیک ٹھیک ان کی ضروریات کے مطابق پانی بھی بنایا، اور پھر اس پانی کو باقاعدگی کے ساتھ روئے زمین پر پہنچانے اور پھیلانے کے لیے یہ حیرت انگیز انتظامات کیے۔
اب اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے، جو یہ سب کچھ دیکھ کر بھی خدا کا انکار کرے، یا اُس کے ساتھ کچھ دوسری ہستیوں کو بھی خدائی کا شریک ٹھیرائے۔ (’تفہیم القرآن ‘، سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۱، عدد۶، اگست ۱۹۶۴ء، ص۲۱-۲۲)
اُمت مسلمہ تاریخ کے ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ اس ماحول میں استعماری قوتیں اور مسلم دُنیا کے غاصب طبقے، مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے مستقبل کی صورت گری کا اختیار اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے شعوری طور پر وہ سیاسی، فکری، معاشی، تعلیمی، عسکری، ابلاغی، ثقافتی اور سفارتی قوتیں بروئے کار لارہے ہیں۔ ان قوتوں کے نزدیک مسلمانوں کی عمومی، مذہبی اور رواجی زندگی کو تو کسی حد تک برداشت بھی کیا جاسکتاہے، لیکن کسی مسلمان کی جانب سے اسلامی تہذیب اور اسلامی نظامِ زندگی کی جانب ایک قدم بڑھانا بھی ناقابلِ برداشت ہے۔ اس فسطائی سوچ کی علَم بردار یہ قوتیں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور وحشیانہ جارحیت سے بھی گریز نہیں کرتیں۔ گذشتہ دو صدیاں خاص طور پر اس رویے کا قدم قدم پر ثبوت پیش کرتی ہیں۔ دوسری طرف مسلم اُمہ بہت سے انتظامی، اداراتی اور اخلاقی تضادات اور فکری انتشار کی شکار چلی آرہی ہے، پھر اخلاص، وفاداری اور احساسِ ذمہ داری کا بحران اس پر حاوی ہے۔ اس کش مکش میں سوال یہ اُبھرتا ہے:
اس سوال کے جواب میں اہل علم کی تحریریں آئندہ صفحات میں پیش کی جارہی ہیں،جب کہ ستمبر کے شمارے میں:l مفتی منیب الرحمانl مختار شنقیطی l ڈاکٹر اسعدزماں l سیّدامین الحسن lبازغہ تبسم lطارق جانlعبدالملک مجاہد l عبداللہ احسن lمبشرہ فردوس اور دیگر حضرات کے مضامین شائع ہوں گے۔ یہ جوابات اور تجزیے، مختلف پہلو اور مختلف نقطہ ہائے نظر پیش کرتے ہیں، جن میں بعض نکات سے ادارہ ترجمان کا اتفاق ضروری نہیں ہے۔ تاہم، اس طرح قارئین گوناگوں افکار و خیالات سے مستفید ہوکر بہتر نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں۔(ادارہ)