مضامین کی فہرست


ستمبر۲۰۰۵

سورت (انڈیا) کے ایک گائوں میں یکم جولائی ۱۹۱۸ء کو ایک بچہ نے آنکھ کھولی جس کا نام والدین نے احمد رکھا۔ خاندانی نام احمد حسین دیدات تھا۔ خاندان کاروباری پس منظر رکھتا تھا مگر جنگِ عظیم نے اکثر کاروبار ٹھپ کر دیے تھے۔ میمن برادری اور سورتی آبادی کا ایک حصہ جنوبی افریقہ میں مقیم تھا اور وہاں روزگار کے بہتر مواقع موجود تھے۔ اس خاندان کے سربراہ حسین دیدات اپنے بیٹے احمد کی پیدایش کے چند ماہ بعد جنوبی افریقہ چلے گئے تھے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے درزی تھے۔ احمد دیدات بھی ۹ سال کی عمر میں اپنے باپ کے پاس نیٹال (جنوبی افریقہ) پہنچ گئے۔ ان کی والدہ اور باقی افراد خانہ سورت ہی میں مقیم تھے۔ والدہ اپنے بیٹے کی روانگی کے چند ہی ماہ بعد فوت ہوگئیں۔ شیخ دیدات اپنی والدہ کا تذکرہ جب بھی کرتے آبدیدہ ہوجایا کرتے تھے۔

احمد دیدات کی تعلیم کچھ بھی نہ تھی مگر وہ بلا کے ذہین تھے۔ انھوں نے سٹینڈرڈ سکس (چھٹی کلاس) تک پڑھا مگر اپنے طور پر انگریزی زبان میں مہارت حاصل کرنے اور لکھنے‘ پڑھنے کا عمل جاری رکھا۔ چھوٹی عمر ہی سے ایک سٹور میں ملازمت کرلی۔ اس علاقے میں بہت سے عیسائی مشن اور گرجاگھر سرگرمِ عمل تھے۔ پادری اور راہبہ خواتین اسٹور پر خریداری کے لیے آتے تو ساتھ تبلیغ بھی کرتے۔ کم سن احمد دیدات بڑا پکا مسلمان تھا۔ وہ اُن مبلغین سے سوال کرتا مگر اسے کوئی اطمینان بخش جواب نہ ملتا۔ اس نے اسلام کا مطالعہ کیا مگر اس سے زیادہ عیسائیت پر تحقیق شروع کر دی۔ بائیبل کو لفظ بہ لفظ حفظ کرنا کسی عیسائی بشپ کے بھی بس میں نہیں مگر احمد دیدات نے یہ کارنامہ کردکھایا۔ مولانا رحمت اللہ کی کتاب اظہار الحق نے احمد دیدات کی بڑی رہنمائی کی۔

ملازمت اور کاروبار کے بجاے قدرت نے اس ذہین مسلمان نوجوان کو اسلام کا مبلغ بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ اپنے طور پر تحقیق کرتا رہا اور سفیدفام اقلیت کے نظامِ جبر اور نسلی امتیاز کی ظالمانہ پالیسیوں کے باوجود نہایت جرأت اور دھڑلے سے بڑے بڑے پادریوں کو چیلنج کرنے لگا۔ پادریوں کو اپنی قادر الکلامی کا بڑا پندار تھا۔ وہ اس ’’انڈین بوائے‘‘ کے مقابلے پر مناظرے کے میدان میں اترے تو دنیا حیران رہ گئی کہ بڑے بڑے بت یوں بے بس ہو کر دھڑام سے زمین بوس ہونے لگے کہ حضرت ابراہیم ؑکی تاریخ آنکھوں کے سامنے گھوم گئی۔ شیخ دیدات نے انگریزی زبان میںکمال حاصل کیا اور پیدایشی طور پر وہ تھے بھی شعلہ نوا خطیب۔ ان کا خطاب سماں باندھ دیتا تھا اور ہمیشہ وہ مشاعرہ لوٹ لیا کرتے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے مناظروں کی روداد بھی لکھنا شروع کر دی۔ اسلام پر عیسائی مشنریوں کے اعتراضات کا جواب دینے کے علاوہ خود جارحانہ انداز اپناکر عیسائی مشنریوں پر بائیبل ہی کے حوالوں سے ایسے اعتراضات کیے کہ ان کے پاس کوئی جواب تھا‘ نہ اب تک ہے۔ یہ بات اپنی جگہ بحث طلب ہے کہ یہ انداز دعوت کے لیے کتنا مفید ہے‘ مگر ایک مرتبہ شیخ احمد دیدات نے خود اس کے جواب میں کہا کہ جنوبی افریقہ کے جس استحصالی اور نہایت جبرورعونت کے نظام میں انھوں نے اسلام کا دفاع شروع کیا تھا اس کے معروضی حالات ایسے تھے کہ کوئی اور چارئہ کار نہ تھا۔

۱۹۴۰ء تک احمد دیدات جنوب افریقی ممالک میں معروف مبلغ کے طور پر مشہور ہوگئے تھے۔ جنوبی افریقہ میں ہندو اثرات بھی خاصے تھے اور مسٹرگاندھی نے تو اپنی سیاسی سوچ اور جدوجہد آزادی کا سارا منصوبہ بھی وہیں سے شروع کیا تھا۔ احمد دیدات جس طرح اسلام اور عیسائیت کا موازنہ کرنے میں محنت کررہے تھے اسی طرح تحریکِ پاکستان کی بھی اکھنڈ بھارت کے مقابلے میں کھل کر حمایت کرتے تھے۔ پاکستان بنا تو احمد دیدات پاکستان آگئے۔ تین سال یہاں مقیم رہے مگر محسوس کیا کہ ان کے لیے مفید کردارادا کرنے کے لیے جنوبی افریقہ ہی بہترین سرزمین ہے۔ چنانچہ وہ واپس چلے گئے۔

شیخ احمد دیدات نے ایک تحقیقی و تعلیمی ادارہ السلام انسٹی ٹیوٹ کے نام سے برائمار (جنوبی افریقہ) میں قائم کیا جہاں سے ہزاروں نوجوانوں نے اسلام اور عیسائیت کے موازنے اور عیسائی مشنریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مؤثر تعلیم حاصل کی۔ بلاشبہہ اس ادارے کی بڑی خدمات ہیں۔ ڈربن میں ایک جامع مسجد اور اسلامک پروپیگشن سنٹر کا قیام بھی مرحوم کا بڑا کارنامہ ہے۔ ان کی ہزاروں تقاریر کی وڈیو اور آڈیو کیسٹس دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ دو درجن کے قریب ان کی کتب   کئی زبانوں میں منتقل ہوچکی ہیں۔ انھوں نے دنیا بھر میں سفر کیا۔ کئی ممالک نے ان کو ویزا دینے سے بھی انکار کیا۔ انھوں نے ویٹی کن میں پوپ جان پال سے ملاقات کی اور امریکا میں کئی عیسائی مناظرین سے مباحثے کیے۔ امریکا میں جمی سواگرٹ کے ساتھ ان کا مناظرہ پوری دنیا میں مشہور ہوا۔

خدمت و تبلیغ اسلام کے اعتراف کے طور پر مرحوم کو ۱۹۸۶ء میں کنگ فیصل عالمی انعام ملا۔ انھوں نے اسلامی ممالک میں جاکر جو لیکچر دیے ان کو بے پناہ پذیرائی ملی۔ جنوبی افریقہ کی تحریک آزادی کا ہیرو اور باباے قوم نیلسن منڈیلا ان کا بڑا مداح تھا۔ اس کے الفاظ میں سفیدفام سر پر غرور جنگِ آزادی کے نتیجے ہی میں سرنگوں ہوا مگر اس پر اوّلین چرکے احمد دیدات ہی نے لگائے تھے۔ منڈیلااپنے دورِ صدارت میں شیخ دیدات سے قریبی رابطہ رکھتا تھا۔

شیخ دیدات پر ۱۹۹۶ء میں فالج کا شدید حملہ ہوا۔ ان کا نچلا دھڑ تقریباً مکمل طور پر     جامد ہوگیا تھا‘ زبان بھی بند ہوگئی مگر وہ ایک خاص مشین کے ذریعے اشاروں سے بات چیت  کرتے تھے۔ مئی ۱۹۹۷ء میں جب میں جنوبی افریقہ گیا تو ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔ ان کے بیٹے یوسف دیدات سے بھی پہلے سے تعارف تھا۔ انھوںنے استقبال کیا اور فوراً شیخ کے کمرے میں لے گئے۔ انھوں نے پہچان لیا۔ آنکھوں میں آنسو آگئے اور مجھ سے کئی سوالات کیے۔ ان کے ہاں عیادت کے لیے بہت سے لوگ آئے تھے۔ میں نے شیخ دیدات کے ساتھ کینیا‘ تنزانیہ ‘ پاکستان اور خلیجی ریاستوں اور پاکستان میں کچھ وقت گزارا تھا۔ وہ سارے واقعات انھیں یاد تھے۔ ۹سال تک اس تکلیف دہ مرض کے ساتھ وہ زندہ رہے اور ۸۷ سال کی عمر میں ۸ اگست ۲۰۰۵ء کو     خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں داخل کرے۔

عالمِ اسلام کی معروف عالمہ‘ مبلغہ اور دعوتِ اسلامی کی مجسم تصویر سیدہ زینب الغزالی (۱۹۱۷ئ-۲۰۰۵ئ) ۸۸سال کی عمر میں ایک پُرآشوب‘ ابتلا و آزمایش سے بھرپور‘ عزیمت و عظمت سے مالا مال اور ہر لحاظ سے سعید و کامیاب زندگی گزار کر ۸ اگست ۲۰۰۵ء کو خالقِ حقیقی سے جاملیں ___ اناللّٰہ وانا الیہ راجعون۔

زینب الغزالی مصر کے ایک گائوں میتِ عمر میں ایک کاشتکار گھرانے میں پیداہوئیں۔ ان کے والد بہت نیک نہاد مسلمان اور تاریخِ اسلام سے گہراشغف رکھتے تھے۔ بچپن ہی سے زینب کے سامنے تاریخِ اسلام اور سیرتِ صحابیاتؓ کے زریں واقعات کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا۔ انھوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجاہد صفت صحابیہ نُسیبہ بنتِ کعبؓ کو ان کے جہادی کارناموں کی وجہ سے اپنا آئیڈیل بنا لیا تھا۔ زینب الغزالیؒ کے عنفوانِ شباب میں مصر میں اخوان المسلمون کی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ نوجوان زینب نے امام حسن البنّا کی دعوت کو اپنے دل کی آواز جانا اور اس دعوت کا حصہ بن گئیں۔ امام حسن البنّا سے اپنے بھائی کی معیت میں ملاقات کی اور انھی کی ہدایت پر ۱۹۴۸ء میں خواتین کو منظم کرنے کا کام جاری رکھا جو امام البنّا سے ملاقات سے قبل بھی وہ کر رہی تھیں۔ مردوں میں امام البنّا نے تحریک کی بنیاد رکھی تو خواتین میں یہ کارنامہ زینب الغزالی کے حصے میں آیا۔

زینب الغزالی نے خود ایک تنظیم قائم کی تھی جس کا نام سیدات مسلمات تھا‘ جب کہ اخوان کا حلقہ خواتین اخوات مسلمات کے نام سے کام کر رہا تھا۔ کچھ حکمتوں اور مصالح کی وجہ سے انھوں نے اپنی تنظیم کو ختم کرنے یا اخوات میں ضم کرنے کے بجاے اسی نام سے کام جاری رکھا مگر اخوان سے بھرپور تعاون بھی کرتی رہیں۔ وہ بہت اچھی منتظم اور امام حسن البنّا ہی کی طرح نہایت مؤثر خطیبہ تھیں جو خواتین میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرنے میںکامیاب ہوئیں۔ یہ اخوان کی تحریک کا   دل چسپ تاریخی واقعہ ہے کہ جب امام حسن البنّا نے سیدہ زینب کو اخوات میں شامل ہونے کی دعوت دی تو انھوں نے دلائل کے ساتھ انھیں قائل کیا کہ الگ تنظیم کے بھی کچھ فوائد ہیں۔ جب ۱۹۴۸ء میں سیدہ زینب نے اخوان پر ابتلا کو دیکھا تو امام البنّا کو پیش کش کی کہ وہ اخوات میں شامل ہونے پر آمادہ ہیں۔ اس موقع پر امام نے ان کو ہدایت دی اور قائل کیا کہ وہ اس تنظیم کو قائم رکھیں۔ یہ دونوں فیصلے اپنے اپنے وقت پر حالات کے تقاضوں کے عین مطابق تھے۔سیدات مسلمات تحریکی سوچ اور مکمل یک سوئی کے ساتھ مظلوموں کی امداد اور حاجت مندوں کو بنیادی ضروریات فراہم کرنے کا اہم کام کرتی تھیں۔ دورِ ابتلا میں نہایت حکمت اور خاموشی کے ساتھ ان عظیم خواتین نے اخوانی گھرانوں کو بڑا سہارا دیے رکھا۔

زینب الغزالی نے اپنی رودادِ ابتلا میں ایسے ایسے واقعات بیان کیے ہیں کہ رونگٹے کھڑے اور آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہیں۔ امام حسن البنّا کی شہادت سے قبل ان کو کسی نے بتا دیا تھا کہ حکومت کے کیا عزائم ہیں۔ شاہ فاروق کے عہد میں امام کی شہادت اور بعد میں فوجی انقلاب کے ذریعے برسرِ اقتدار آنے والے طالع آزما کرنل جمال عبدالناصر کے اخوان کو بیخ و بُن سے اکھاڑ دینے کے حالات و واقعات انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں۔ اس دورِ ابتلا میں سیدہ زینب نے اخوان کے گھرانوں کی امداد اور دعوت کے میدان میں پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کی داعیانہ ذمہ داریوں کو بطریق احسن ادا کیا۔ وہ عورت تھیں مگر اللہ نے ان کو بے پناہ قوتِ ارادی اور عزمِ صمیم سے مالا مال کررکھا تھا۔ اخوان کے چھے قائدین ۱۹۵۴ء میں تختہ دار پر شہید کر دیے گئے۔ باقی ماندہ لوگ مرشدِعام دوم حسن الہضیبی کے ساتھ بدترین زنداں خانوں میں اذیت و کرب کی زندگی گزار رہے تھے۔ جیل سے باہر مردوں کے محاذ پر سید قطب اور خواتین کے حلقوں میں سیدہ زینب نے بے پناہ خدمات سرانجام دیں۔ سید قطب کو بھی ۱۹۵۶ء میں بغاوت کے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا۔ وہ ۲۹ اگست ۱۹۶۶ء کو تختۂ دار پہ لٹکائے گئے۔

زینب الغزالی کی بھی نگرانی کی جاتی رہی تھی۔ ان کی گرفتاری ۲۰ اگست ۱۹۶۵ء کو بغاوت ہی کی فردِ جرم کے تحت عمل میں آئی۔ ایام حُیاتی (اُردو ترجمہ رودادِ قفس از مولانا خلیل احمد حامدیؒ) میں مرحومہ نے اپنے اُوپر ڈھائے جانے والے مظالم بیان کیے ہیں۔ ان پر کتے چھوڑے گئے جو ان کو بھنبھوڑتے رہے‘ ان کو تازیانے مار مار کر لہولہان کر دیا گیا۔ ان کی ٹانگ توڑ دی گئی‘ ان کو بھوکا پیاسا رکھا گیا۔ وضو اور پینے کے لیے پانی تک نہ دیا گیا۔ رفعِ حاجت کے لیے بیت الخلا جانا بھی ممنوع تھا اور یہ کیفیت کئی روز تک رہی۔ آفرین ہے اس خاتون کی ہمت و عزیمت پر کہ ظالم ظلم توڑتے توڑتے تھک گئے مگراس نے باطل کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیا۔ ترغیب کا ہرجال بھی پھیلایا گیا اور ترہیب کا آخری حربہ تک بھی استعمال میں لایا گیا۔ ان کے فالج زدہ خاوند محمدسالم کی کنپٹی پہ پستول رکھ کر محبوس و مظلوم زینب کے طلاق نامے پر دستخط کرنے پر مجبورکیا گیا۔ ان سے زبردستی دستخط کرائے جا رہے تھے توان کی زبان پر یہ الفاظ تھے: ’’اے اللہ تو گواہ رہ‘ میں نے اپنی بیوی زینب الغزالی الجبیلی کو طلاق نہیں دی‘‘۔ (رودادِ قفس‘ ص ۲۷۵)

انھیں عمرقید کی سزا سنائی گئی مگر ناصر کی موت کے بعد سادات نے اخوانی زندانیوں کو رہا کرنا شروع کیا تو ۹ اگست ۱۹۷۱ء کو سیدہ زینب کی رہائی کا پروانہ جاری ہوگیا۔ اس وقت جیل میں ان کے ساتھ سید قطب کی عظیم بہن محترمہ حمیدہ قطب بھی مقید تھیں۔ زینب الغزالی نے حمیدہ قطب کو جیل میں چھوڑ کر رہا ہونے سے انکار کر دیا مگر کارندوں نے انھیں زبردستی جیل سے نکال باہر کیا اور عظیم سید قطب کی عظیم بہن نے بھی انھیں تسلی دی کہ وہ اطمینان سے جائیں‘ حمیدہ کے حوصلے اللہ کی توفیق سے پست نہ ہوں گے‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۳۰۲-۳۰۳)

محترمہ زینب الغزالی کو چار مرتبہ خواب میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ جیل میں آنحضوؐر نے ان کو ان کے پیدایشی نام سے تین مرتبہ پکارا۔ وہ کہتی ہیں کہ میرا نام زینب غزالی رکھا گیا تھا‘ الغزالی بعد میں معروف ہوگیا۔ آنحضوؐر نے زینب غزالی ہی کہہ کر پکارا اور تسلی دی کہ وہ آنحضوؐر کے نقشِ قدم پر چل رہی ہیں (ایضاً‘ ص ۷۸-۷۹)۔ یہ عظیم ترین اعزاز ہے۔

جیل سے رہائی کے بعد محترمہ زینب الغزالی اپنی وفات تک اخوان کی قیادت میں نمایاں شخصیت رہیں۔ امام حسن الہضیبیؒ‘ سید عمرتلمسانیؒ ،جناب محمد حامد ابوالنصرؒ، استاذ مصطفی مشہورؒ، جناب مامون الہضیبیؒ اور موجودہ مرشدعام الاخ محمد مہدی عاکف سبھی ان سے مشورے لیا کرتے تھے۔ وہ اخوان کی تحریک میں اس وقت مادرِ مشفق کا مقام رکھتی تھیں۔ ان کی زندگی قرونِ اولیٰ کی مسلمان خواتین کا نمونہ تھی۔ حق تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔

۴۵ کلومیٹر لمبی اور ۶ سے ۱۱ کلومیٹر تک چوڑی غزہ کی پٹی فلسطینی سرزمین کا صرف ۵ئ۱فی صد بنتی ہے۔ اس کا کل رقبہ ۳۶۵ مربع کلومیٹر ہے اور یہاں ۱۴ لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔ ۲ ہزار ۹ سو افراد فی مربع کلومیٹر آبادی کی کثافت دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ان کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارتی ہے اور ان کی روزانہ آمدنی تقریباً دوڈالر ہے۔ ۳۸ سال پہلے ۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے غزہ پر قبضہ کیا‘ یہاں بھی یہودی بستیاں تعمیر کرنا شروع کر دیں اور دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود ان میں اضافہ کرتا چلا گیا۔ ۲۱بستیوں کے علاوہ فوج کی کئی چھائونیاں اور حفاظتی پٹیاں قائم کی گئیں۔ یہاں تک کہ غزہ کا ۵۸ فی صد علاقہ اسرائیلیوں کے زیرتصرف آگیا۔

ان یہودی بستیوں میں اگست ۲۰۰۳ء کے اعداد و شمار کے مطابق ۷ ہزار ۳ سو یہودی آبادکار رہتے تھے۔ ۱۴ لاکھ فلسطینیوں کے سمندر میں صرف ۷ ہزار۳ سو یہودی آباد کار اور ان کی حفاظت کے لیے ہر طرح کے امریکی اور اسرائیلی اسلحے سے لیس ہزاروں یہودی فوجی۔

جنرل (ر) شارون جب اپوزیشن میں تھا تو اس نے بڑھتے ہوئے فلسطینی شہادتی حملوں کو روکنے میں ناکام اسرائیلی حکومت سے کہا: ’’انھیں روک نہیں سکتے تو اقتدار چھوڑ دو‘ میں برسرِاقتدار آکر ۱۰۰ دن کے اندر اندر تحریکِ انتفاضہ ختم کرکے دکھا ئوں گا‘‘۔ خوف زدہ صہیونی عوام نے جنرل شارون کو وزیراعظم بنا دیا‘ اس نے سفاکیت و خوں ریزی کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے لیکن فلسطینی عوام کی تحریکِ مزاحمت و آزادی کو نہیں کچل سکا۔

ہر قتل عام اور فوج کشی‘ فلسطینی عوام کے عزم و ہمت میں مزید اضافے کا سبب بنی اور بالآخر خون آشام شارون نے اعلان کیا: ’’میں امن کا پیغام لے کر آیا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ فلسطینی اور اسرائیلی ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں‘‘۔ اس نے ۱۸ دسمبر ۲۰۰۳ء کو اعلان کیا کہ وہ غزہ کی پٹی سے مکمل اور مغربی کنارے کے شمال میں چار یہودی بستیوں سے یک طرفہ انخلا کر دے گا۔ تب سے لے کر اب تک اس اعلان پر بہت لے دے ہوئی‘ دنیا بھر میں اس یہودی قربانی اور امن پسندی کا ڈھول پیٹا گیا۔ مختلف یہودی تنظیموں کی طرف سے اس کی شدید مخالفت کی گئی۔ انخلا سے ہفتہ بھر پہلے شارون کے وزیر اور سابق اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو احتجاجاً مستعفی ہوگئے۔ انخلا کے وقت یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان ہاتھا پائی اور تصادم کے مزاحیہ ڈرامے پیش کیے گئے‘ جن میں فلسطینی بچوں پر گولیوں اور راکٹوں کی اندھادھند بارش کرنے والے دسیوں سورما فوجی ایک ایک یہودی آبادکار پر بمشکل قابو پاتے دکھائے گئے اور غزہ سے انخلا کا عمل اسرائیلی ریڈیو سے نشر ہونے والے شارون کے ان الفاظ کی گونج میں تکمیل کی جانب بڑھا کہ ’’ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غزہ سے چمٹے نہیں رہ سکتے‘ وہاں ۱۰ لاکھ سے زیادہ فلسطینی‘ گنجان آباد مہاجر بستیوں میں رہتے ہیں… بھوک اور مایوسی کے عالم میں‘ ان کے دلوں میں پائی جانے والی نفرت دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور انھیں اُفق میں اُمید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی… یہودی بستیاں خالی ہوتے دیکھ کر کلیجہ منہ کوآتا ہے لیکن بلاشک و شبہہ قیامِ امن کی راہ پر یہ بہترین ممکنہ قدم ہے۔ اسرائیلی عوام مجھ پر اعتماد کریں‘ خطرات کے باوجود یہ ان کی سلامتی کے لیے بہترین اقدام ثابت ہوگا… اب دنیا فلسطینی جواب کی منتظر ہے۔ ہم دوستی کے لیے بڑھنے والے ہرہاتھ کو زیتون کی شاخ پیش کریں گے‘‘۔ یہی جنرل شارون اس سے پہلے غزہ کے بارے میں کہا کرتا تھا: ’’غزہ میں موجود یہودی بستیاں اسرائیلی سلامتی پلان کا ناگزیر حصہ ہیں۔ ان کا مستقبل ہمارے لیے‘ تل ابیب (القدس) کے مستقبل کی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔

اس سرتاسر تبدیلی کی حقیقت کیا ہے؟ ناجائز اسرائیلی ریاست کی تاریخ میں یہ اہم ترین واقعہ ہے جس کے انتہائی دُور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ حماس اور دیگر جہادی تنظیمیں ہی نہیں خود اسرائیلی اخبارات بھی اسے اسرائیل کی شکست فاش کا عنوان دے رہے ہیں۔ روزنامہ ہآرٹس (بڑا عبرانی اخبار) نے ۱۴ اگست ۲۰۰۵ء کے شمارے میں ’’تسافی برئل‘‘ کا ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان ہے: ’’اسرائیلی امپائر کا اختتام‘‘۔ اس میں وہ کہتا ہے: ’’کل سے غزہ کے یہودی آباد کار اپنا یہ لقب کھو دیں گے‘ کل کے بعد وہ آبادکار نہیں اجنبی حملہ آور اور نافرمان باغی کہلائیں گے‘ انھیں آبادکاری کا کوئی تمغہ یا انعام نہیں ملے گا بلکہ انھیں زبردستی ان جگہوں سے نکال دیا جائے گا‘ جہاں انھیں شروع ہی سے نہیں ہونا چاہیے تھا… وہ وہاں سے اس لیے نکالے جائیں گے کیونکہ اسرائیلی امپائر اب پہلے کی طرح ان کی حفاظت کے قابل نہیں رہی‘‘۔

ہآرٹس کے سیاسی مراسلہ نگار ’’الوف بن‘‘ نے لکھا کہ ’’فلسطینی عوام نے اسرائیلیوں کو کاری داغ لگایا ہے اور انھیں یہ باور کروا دیا ہے کہ آبادکاری کا منصوبہ بے فائدہ تھا۔ ان سے یہ اعتراف کروا لیا ہے کہ طاقت کا استعمال ادھورے اور محدود نتائج ہی دے سکتا ہے۔ اکثر اسرائیلیوں پر جن میں خود وزیراعظم ارائیل شارون بھی شامل ہے‘ یہ امر واضح ہے کہ ’’پہلے غزہ‘‘ کا مطلب ’’صرف غزہ‘‘ ہی نہیں بلکہ اب مغربی کنارے کی یہودی بستیوں سے بھی وسیع پیمانے پر انخلا کرنا ہوگا‘‘۔

حماس کے ایک اہم رہنما محمود الزھار نے غزہ سے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ: ’’اسرائیلی انخلا کا اکلوتا سبب کہ جس سے ہمیں یہ تاریخی فتح حاصل ہوئی ہمارا جہاد اور مزاحمت ہے۔ حماس نے شروع ہی میں کہا تھا کہ مزاحمت ہی راہِ نجات ہے اور وقت نے اس مؤقف کی صحت پر مہرتصدیق ثبت کر دی ہے۔ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ انخلا شارون کا کسی پر کوئی احسان ہے۔ یہ انخلا ناجائز عبرانی ریاست کا غرور خاک میں ملانے والی شکست فاش ہے۔ اس انخلا کی کوئی بھی اور تفسیر‘ حقائق کو مسخ کرنا ہوگا۔ عبرانی ریاست تحریکِ مزاحمت کے القسام راکٹوں‘ سرنگوں کے ذریعے بارودی حملوں اور شہادتی کارروائیوں کا کوئی توڑ نہیں نکال سکی‘‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا غزہ سے صہیونی انخلا کے بعد بھی حماس اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی؟ تو محمود الزھار نے کہا: ’’ہمارا ہدف صرف غزہ کی پٹی آزاد کروانا نہیں‘ نہ صرف مغربی کنارے کی آزادی ہی ہے اور نہ صرف القدس کی بلکہ پوری کی پوری مقبوضہ سرزمین کی آزادی ہے۔ اس کے پہلے مرحلے میں ہم ان علاقوں کی آزادی پر زور دے رہے ہیں جو ۱۹۶۷ء میں غصب کیے گئے۔ غزہ کے بعد ہم اپنی جدوجہد کا مرکز مغربی کنارے کو بنائیں گے اور غزہ میں کی جانے والی ہماری کارروائیاں مغربی کنارے میں اور بھی زیادہ اثر انگیز اور صہیونی استعمار کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہوں گی‘‘۔

الفتح کے مرکزی رہنما ہانی الحسن نے بھی بعینہ انھی خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’اسرائیلی انخلا ایک اہم ترین قومی کارنامہ اور فلسطینی شہدا‘ قیدیوں اور مجاہدوں کی قربانیوںکا ثمر ہے۔ یہ کسی کا ہم پر احسان نہیں‘ فلسطینی عوام کی بے مثال قربانیوں اور صبروثبات کا نتیجہ ہے‘‘۔ انھوں نے فلسطینی عوام میں اتحاد و تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’غزہ سے انخلا ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا نقطۂ آغاز ثابت ہوسکتا ہے‘ جس کا دارالحکومت القدس ہوگا‘‘۔ یہ اور اس طرح کے سیکڑوں بیانات اور تجزیے ہیں جو اس اہم حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ ’’یہودی انخلا  بھڑوں کے چھتے سے نجات پانے کی نمایاں ترین کوشش ہے‘‘۔ (تیونسی اخبار الشروق‘ ۱۶ اگست ۲۰۰۵ئ)

درپیش چیلنج

عبرانی ریاست کی تاریخ کے اس منفرد اور اکلوتے واقعے کے بعد ابھی مزید کئی چیلنج درپیش ہیں۔ اگرچہ مغربی کنارے کے جنین کیمپ کے گردونواح میں واقع چار بستیوں سے بھی انخلا کیا جا رہا ہے جس کا منطقی انجام پورے مغربی کنارے سے انخلا ہونا چاہیے لیکن فی الحال یہ خطرہ موجود ہے کہ مغربی کنارے سے نکلنے کے بجاے وہاں مزید یہودیوں کو لا بسایا جائے اور اس پر اپنا قبضہ مستحکم کیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو اس سے نہ صرف انخلا کا عمل ادھورا رہے گا بلکہ فلسطینیوں پر مظالم اور ان کی جوابی کارروائیوں میں بھی یقینی اضافہ ہوگا۔

غزہ کی پٹی سے انخلا کے باوجود اس کی تمام سرحدیں زمینی و آبی گزرگاہیں اور فضائیں اسرائیلی کنٹرول میں رہیں گی۔ فلسطین کے جنوب مغرب میں واقع اس پٹی کی ۱۱کلومیٹر لمبی سرحد مصر سے ملتی ہے‘ ۵۱ کلومیٹر سرحد مقبوضہ علاقوں سے ملتی ہے اور ۴۵ کلومیٹر بحرِمتوسط کا ساحلی علاقہ ہے۔ ان چہار اطراف میں اسرائیلی فوجیں ہوں گی جو غزہ سے آنے یا وہاں جانے والے ہر شخص اور سازوسامان کی آمدورفت کنٹرول کریں گی۔

پوری پٹی کے چار بڑے شہر ہیں۔ پرانا ساحلی شہر ’’غزہ‘‘ ہے جس کی بندرگاہ تباہ کر دی گئی ہے اور مصر کی یہ پیش کش مسترد کر دی گئی ہے کہ وہ اس بندرگاہ کی تعمیرنو میں مدد دے۔ دوسرا قدیم شہر ’’رفح‘‘ ہے جس کا انٹرنیشنل ایئرپورٹ بند کر دیا گیا ہے۔ فتح اسلامی کے بعد تعمیر ہونے والے دوبڑے شہر ’’دیرالبلح‘‘ اور ’’خان یونس‘‘ ہیں جن میں بڑی تعداد میں پائے جانے والے فلسطینی   بے روزگاروں کے لیے کوئی بڑا منصوبہ شروع کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یوں اس بات کی پوری کوشش کی جارہی ہے کہ غزہ سے انخلا کے بعد اس کا مکمل اقتصادی محاصرہ کر دیا جائے۔ غزہ کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں فلسطینی دیہاڑی دار دیگر مقبوضہ علاقوں میں مزدوری کے لیے جایا کرتے تھے‘ سیکورٹی کے نام پر انھیں بھی محصور کردیا جائے اور اس طرح ایک طرف تو غزہ سے نکل کر فلسطینیوں کے آئے دن کے حملوں سے خود کو محفوظ کرلیا جائے اور دوسری طرف پوری پٹی کو ایک بڑے جیل خانے میں بدل دیا جائے۔

جنرل شارون اور امریکی انتظامیہ دنیا کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ غزہ سے انخلا صہیونی ریاست کا بہت جرأت مندانہ اقدام اور بہت بڑی قربانی ہے‘ اب گیند فلسطینیوں کی کورٹ میں ہے اور شارون کے الفاظ میں: ’’اب دنیا فلسطینی جواب کی منتظر ہے‘‘، یعنی ہماری اس قربانی کے جواب میں فلسطینی اتھارٹی دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ کرے۔ محمود عباس کی بنیادی خوبی ہی یہ گردانی جاتی ہے کہ وہ انھاء عسکرۃ الانتفاضہ (انتفاضہ تحریک سے عسکریت کا خاتمہ) کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر اس حساس موڑ پر انھوں نے جنرل شارون اور صدربش کے دبائو میں آتے ہوئے اس کامیابی کے اصل ہیروئوں کے خلاف اقدامات کیے تو یہ سب کے لیے ایک بڑی بدقسمتی ہوگی۔

انخلا کے عین دوران شارون کا یہ بیان بہت اہم تھا کہ ’’اب ہم عرب دنیا سے تعلقات قائم کرنے کے بہت قریب ہیں‘‘۔ عرب دنیا سے تعلقات کا ایک اہم مرحلہ اوسلو معاہدے کے بعد دیکھنے کو آیا تھا۔ جب کہا گیا کہ ’’خود فلسطینیوں نے اسرائیل سے صلح کرلی ہے تو ہم کیوں نہ کریں‘‘۔ اب ایک بار پھر یہی فریب دیا جارہا ہے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ اب‘ جب کہ اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کا الگ وطن تسلیم کرلیا ہے تو ہم جواباً اسرائیل کا وجود تسلیم کیوں نہ کریں۔ حکومت پاکستان نے بھی بیان دیا ہے کہ ’’آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی ہے جس کا دارالحکومت القدس ہو اور جو امن کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ رہ سکے‘‘۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’’پاکستان نے ایسے مثبت اقدامات کی حمایت کی ہے جس کے نتیجے میں مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل برآمد ہوسکے‘‘۔ اس بیان میں ’’مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل‘‘ اور ’’فلسطینی ریاست کا اسرائیل کے ساتھ امن سے رہنا‘‘ قابلِ غور ہیں۔

ایک اور بڑا چیلنج خود فلسطینی اتھارٹی پر کرپشن کے سابقہ واضح الزامات کے تناظر میں غزہ کے خالی کیے جانے والے علاقوں کو مزید شخصی اور تنظیمی کرپشن سے محفوظ رکھنا ہے۔ ایک مفلوک الحال‘ بے روزگار و محروم معاشرے میں آزاد ہونے والے علاقوں کو کسی نزاع کا باعث بننے سے بچانا ہے۔ اگر مکمل ایمان داری اور احساس امانت و ذمہ داری سے ان علاقوں کو معاشرے کی فلاح اور قوم کی خدمت کے لیے وقف کر دیا گیا تو یہ نہ صرف ایک آزمایش میں سرخروئی ہوگی بلکہ تعمیرمستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوگی۔

ان چیلنجوں سے فلسطینی قوم اور اُمت مسلمہ کیونکر نمٹتی ہے‘ یہ آنے والا وقت بتائے گا  لیکن ایک حقیقت سب کو نوشتۂ دیوار دکھائی دیتی ہے کہ وسیع تر اسرائیل اور فرات سے نیل تک اسرائیل قائم کرنے کا خواب فلسطینی بچوں اور پتھربردار نسل نے بری طرح پریشان کر دیا ہے۔ پہلے جنوبی لبنان سے فرار ہوئے اور اب غزہ اور مغربی کنارے کی چار یہودی بستیوں سے‘ آیندہ پورے مغربی کنارے سے‘ بیت المقدس سے اور… یقینا یہ سب فلسطینی شہدا کے خون‘ لاکھوں افراد کی مسلسل قربانیوںاور جہاد ہی کا ثمرہے۔

اسلامی نظام معاشرت: بعض اہم بنیادی اصول

سائل نے اپنے طویل خط میں ان عملی مسائل کا ذکر کیا ہے جو ایک گھر میں نئی آنے والی بہو کے اپنے یا معروف تصور کے مطابق احکامِ دین پر سختی سے عمل کرنے سے پیدا ہو رہے ہیں‘ یعنی ساتھ بیٹھ کر کھانا نہ کھانا‘ بیش تر وقت اپنے کمرے میں گزارنا‘ والدہ کے ساتھ ملنے جلنے کے لیے نہ جانا وغیرہ۔ پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد نے تفصیل سے دین کے مزاج اور حکمت کے پہلوئوں کو مدنظر رکھ کر جامع جواب لکھا جو دیگر معاملات میں بھی اصولی رہنمائی دیتا ہے۔ (ادارہ)

اسلامی نظام حیات کے امتیازات میں سے ایک اہم اور بنیادی پہلو اس کا معاشرت کے تصور کو انقلابی انداز میں الہامی اخلاقی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ اسلام سے قبل ہی نہیں اسلام کے بعد بھی بہت سی اقوام کے خودساختہ تصور مذہب میں نیکی‘ روحانی ترقی اور نفس کو زیر کرنے کے لیے تجرد اور اہلِ خانہ سے دُوری کو بطور ایک نسخہ کیمیا سمجھا جاتا رہا ہے۔ بعض عیسائی راہبوں کے عبرت ناک واقعات سے پتا چلتا ہے کہ وہ اہلِ خانہ سے دُوری کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ کسی راہب کی بوڑھی ماں نے طویل مسافت کے بعد جب چاہا کہ اپنے بیٹے کی صرف   ایک جھلک دیکھ سکے تو روحانیت کی طلب سے معمور اس راہب نے اپنی محنت و مشقت کے  ضائع ہوجانے اور ماں کی محبت سے مغلوب ہوجانے کے خطرے کے پیش نظر ماں کی درخواست کو قابلِ اعتنا نہ سمجھا۔ بعض مذاہب نے زندگی کے ادوار کی تقسیم کی حد تک تو یہ بات مانی کہ طالب علمانہ دور کے بعد کچھ عرصے کے لیے ایک ہندو (گرہستیا) بن سکے اور جب اس کے بال بھورے ہونے لگیں تو پھر وہ جنگل کی راہ لے اور بقیہ تمام زندگی غوروفکر اور روح کی آواز کو سننے کی کوشش میں تنہائی و تجرد میں صرف کردے۔ حتیٰ کہ اس کی انفرادی روح کائناتی روح کے ساتھ یکجا ہوجائے جس طرح قطرہ دریا میں یا جزو کل میں فنا ہوکر بقاے دوام حاصل کرلیتا ہے۔

آج بھی عیسائیت اور مثالی ہندوازم سے متاثر ذہن کے لیے‘ وہ چاہے یورپ و امریکا میں ہو یا ایشیا و آسٹریلیا میں‘ خاندانی زندگی گزارتے ہوئے روحانیت کا حصول ایک ناقابلِ فہم معاملہ ہے۔ ایک مذہبی شخص کا تصور ہی یہ پایا جاتا ہے کہ خدا سے قرب حاصل کرنے کے لیے اسے اپنی جسمانی خواہشوں کو سسکا سسکا کر مارنا ہوگا۔ اسلام پر بنیادی اعتراضات میں سے ایک اعتراض یہی کیا جاتا ہے کہ جس دین کے داعی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مکہ مکرمہ میں مصلوب ہوکر حیاتِ جاودانی حاصل کرلینے کے مقابلے میں ہجرت کرنے اور تمام عمر مجرد رہنے کی جگہ ایک سے زائد نکاح کو جائز سمجھا وہ دین کہے جانے کا مستحق کیسے ہوسکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندانی زندگی کے قیام اور عقدِنکاح کو ایمان کی تکمیل قرار دیا جب کہ نام نہاد مذہبیت اورروحانیت کے علم بردار مذاہب اسے ایک خالص مادی اور کم تر درجے کا عمل سمجھتے ہوئے حصولِ روحانیت میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع ملی کہ بعض صحابہ نے آپ کی عبادت کے بارے میں معلومات کرنے کے بعد یہ سمجھا کہ آپؐ تو اللہ کے رسول ہیں‘ معصوم ہیں‘ معصیت کا ارتکاب نہیں کرسکتے‘ غالباً اس بنا پر عبادات میں اتنی کثرت نہیں کرتے جتنی ان اصحاب نے اپنے خیال میں ضروری سمجھی تھی‘ چنانچہ یہ سوچ کر ان میں سے کسی نے طے کیا کہ تمام رات سوئے بغیر نماز قائم کرے گا۔ کسی نے طے کیا کہ مستقلاً روزہ رکھے گا اور کسی نے طے کیا کہ وہ نکاح سے دُور رہے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اصحاب کو طلب فرمایا اور بجائے اپنے تصوراتی تقویٰ اور پاک بازی کے انھیں اپنی سنت پر عمل کرنے اور اس طرح اعتدال کی راہ اختیار کرنے کا حکم فرمایا۔

حضرت انسؓ سے مروی اس حدیث صحیح میں جسے مسلم نے اپنی صحیح میں درج کیا ہے‘ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک یوں درج ہے: واللّٰہ انی لاخشاکم للّٰہ واتقاکم لہ لکن اصوم وافطروا صلی وارقد واتنزوج النساء فمن رغب عن سنتی فلیس منی، ’’یعنی بلاشبہہ میں تم سے زیادہ اللہ کی خشیت اور تقویٰ کرنے والا ہوں لیکن دیکھو میں (نفلی) روزے کبھی رکھتا ہوں کبھی نہیں رکھتا اسی طرح (رات میں) نوافل بھی پڑھتا ہوں‘ سوتا بھی ہوں‘ دیکھو میں بیویاں بھی رکھتا ہوں جو میری سنت سے بے رخی برتے وہ میرے (گروہ) میں سے نہیں ہے‘‘۔

اس ارشاد مبارک نے قیامت تک کے لیے رشتۂ نکاح کے احترام و اعزاز کو ثبات بخش دیا اور عیسائی و ہندو تصوراتِ نفس کشی اور خشیت و تقویٰ کو بنیاد سے اُکھاڑ کر صحیح تقویٰ اور خشیت کا پیغمبرانہ تصور اور عملی نمونہ ہمارے لیے بطور روشن مثال کے پیش کر دیا ہے۔

گویا معاملہ عبادات کا ہو یا معاشرتی معاملات کا‘ ہمیں اپنی پسند یا ناپسند اور اپنے ذاتی اطمینان کی بنا پر کسی عمل کو‘ کسی خاندانی روایت کو‘ کسی رسم کو اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ہر وہ چیز جو قرآن وسنت کے اصولوں اور احکامات کے مطابق ہو‘ اختیار کی جائے گی اور ہر وہ عمل جو ان دو ناقابلِ تغیر اصولوں کے مطابق ہوگا‘ مطلوب و مقصود سمجھا جائے گا۔

اُوپر جس حدیث شریف کی طرف اشارہ کیا گیا وہ یہ بات بھی واضح کر دیتی ہے کہ روحانیت (spirituality) میں اضافے کے لیے اصل بنیاد نہ جسم کو بے آرام رکھنا ہے اور نہ معاشرتی زندگی کو چھوڑ کر تجرد کی زندگی گزارنا ہے بلکہ اصل روحانیت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس حد تک ایک کام کو کرنے کا حکم دیا ہے‘ اسی حد تک کرنے میں ہے۔ اسی لیے فرمایا: ’’نکاح میری سنت ہے جس نے میری سنت کو ناپسند کیا (نہ چاہا) وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘۔ اسی بناپرایک دوسری حدیث میں رشتۂ ازدواج قائم کرنے کو ایمان کی تکمیل قرار دیا گیا۔

اسلام کا بنیادی امتیاز یہی ہے کہ وہ دین کو وسیع تر مفہوم میں استعمال کرتا ہے اور معاشرتی معاملات کو محض مادی اور دنیاوی فوائد یا حصولِ لذت سے وابستہ نہیں کرتا۔ معاشرتی زندگی کی اس مرکزیت کی بنا پر سورہ النساء کے آغاز ہی میں یہ بات واضح کر دی گئی کہ اللہ تعالیٰ کے انسان پر احسانات میں سے ایک احسان یہ ہے کہ اس نے اسے ایک نفس سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا۔ اس لیے اللہ سے تقویٰ اور خشیت کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ اس رشتۂ رحم کو اُس مقام پر رکھے جو اس کا حق ہے۔ نہ اس میں کمی ہو نہ زیادتی۔ نہ اس کا غلام اور بندہ بن جائے نہ اس کا باغی اور مفرور بنے۔ سورۂ روم میں اس تعلق کو اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور آیت قرار دیا کہ وہ دو ایسے افراد کے درمیان جو کل تک اجنبی تھے‘ گہری مؤدت و رحمت پیدا کر دیتا ہے۔

خاندان کے بنیادی ادارے کا وجود میں لانا مقاصد شریعہ میں سے ایک اہم مقصد ہے۔ چنانچہ نسلِ انسانی کے تحفظ‘ انسان کی پہچان اور بقا کے لیے انسان کے خالق نے جو راستہ تجویز کیا وہ خاندان کے اخلاقی ادارے کا قیام ہے۔ سورہ النساء میں اس ادارے کے قیام کو تقویٰ یعنی اخلاقی رویے کے ساتھ منسلک کر دیا گیا اور اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے محبت و استفادہ کرنے‘ تعاون کرنے اور ایک دوسرے کو یاد دہانی کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

جہاں خاندان کا ادارہ بنیادی تحفظ فراہم کرتا ہے اور بالخصوص افراد خاندان کی جان‘ دین‘ عزت و ناموس‘ املاک اور عقلی و فکری معاملات میں تقویت اور پشت پناہی کرتا ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ ایک انسانی ادارہ ہونے کے سبب بعض فطری مسائل سے بھی دوچار رہتا ہے۔ یہ معاملات اس معنی میں فطری ہیں کہ نہ صرف انسانی معاشرے میں بلکہ کسی بھی معاشرتی نظم میں ان کا پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ جس طرح ایک بچہ ہر لمحہ خود کو ماحول اور ضروریات کے مطابق ڈھالتا ہے۔ جب وہ پہلی مرتبہ چلنا شروع کرتا ہے تو وہ سطح زمین پر بھی لڑکھڑاتے ہوئے چلتا ہے۔ پھر وہ زینہ پر چڑھنا سیکھتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے مطابق کر لیتا ہے۔ اب نہ لڑکھڑاتا ہے نہ ڈرتا ہے‘ بلکہ تیزی سے سیڑھی پر چڑھتا ہے حتیٰ کہ پلنگ پر اُچکنے کے باوجود اپنا توازن برقرار رکھتا ہے۔ ایسے ہی خاندان میں جب وسعت پیدا ہوتی ہے اور ایک گھرانے کے چار یا چھے بھائی بہنوں اور والدین کے جانے پہچانے ماحول میں ایک نئے فرد کا اضافہ ہوتا ہے تو وہ تمام مراحل جو مطابقت پیدا کرنے (adjustment) سے تعلق رکھتے ہیں فطری طور پر سامنے آتے ہیں۔

ان میں سے ایک بنیادی سوال گھر میں آنے والی دلہن یا بہو یا بھابی کے گھر کے مروجہ ماحول میں گھلنے ملنے کا ہے۔ اسلام کی تعلیمات ابدی ہیں‘ اصولی بھی ہیں اور بعض معاملات میں متعین بھی۔ لیکن چونکہ اکثر مسلمان گھرانوں میں وہ چاہے پاکستان میں ہوں‘ مراکش میں ہوں‘ انڈونیشیا اور ملایشیا میں ہوں یا ترکی اور وسط ایشیا یا افریقہ میں‘قرآن و سنت کی تعلیمات پر براہِ راست غور کم کیا جاتا ہے اور مقامی رواج‘ بزرگوں کے اقوال اورخاندانوں کی اپنی روایات ہی کو اسلامی ثقافت سمجھ لیا جاتا ہے‘ اس لیے بہت سے معاملات میں ہم قران وسنت سے انحراف اور بعض میں ان تعلیمات میں غلو اور شدت پسندی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

نئے آنے والے فرد کا پہلے سے موجود خاندان کے ساتھ تعلق اُس اخلاقی اور قانونی ضابطے کی وجہ سے عمل میں آتا ہے جسے ہم عقدِنکاح کہتے ہیں اور جو ایک معاشرتی عہد کے طور پر معاشرے کے افراد کے سامنے کیا جاتا ہے۔ عقدنکاح ان دو اجنبی افراد کو اخلاقی رشتے میں یکجا کردیتا ہے۔ ساتھ ہی ان دونوں سے وابستہ ان کے خونی رشتہ دار بھی ایک نئے اخلاقی اور قانونی رشتے میں منسلک ہوجاتے ہیں۔ شوہر کے والدین لڑکی کے ساس سسر ہونے کے ساتھ بمنزلہ باپ اورماں کے حرام رشتے میں شامل ہوجاتے ہیں۔ ایسے ہی بیوی کی بہن اور بھائی بھی اخلاقی اور قانونی طور پر اس نئے تعلق کے تناظر میں محترم رشتہ اختیار کرلیتے ہیں۔

اسلا م نے خونی رشتہ داروں کے حوالے سے اطاعت وفرماں برداری کی حدود‘ معاشرتی اختلاط کا دائرہ‘ مادی طور پر استفادے کا طریقہ اصولی اور قانونی طور پر وضاحت سے بیان کر دیا ہے۔ چنانچہ ایک فرد اپنے ماں باپ‘ بھائی بہن‘ خالہ‘ پھوپھی‘ ماموں‘ چچا کے گھر میں بلاتکلف (اسلامی آداب کے ساتھ) جاکر کھاپی سکتا ہے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو‘ بحث و نظر‘ حصولِ علم اور معاشرتی تقریبات میں شرکت کر سکتا ہے۔ ان رشتوں کے احترام کے پیش نظر سفروحضر میں ان پر کوئی پابندی نہیںلگائی گئی۔

ان رشتوں کے احترام کے پیش نظر بعض کی کفالت بھی فرض کر دی گئی اور بعض کے سلسلے میں عمومی حکم دے دیا گیا کہ انھیں دیا جائے (سورہ النحل ۱۶:۹۰)۔ اس کی مقدارکیا ہو‘ اسے موقع کی مناسبت سے متعین کرنے کا حق فرد کو دے دیا گیا۔ عمومی حکم یہی رہا کہ ’’عفو‘‘ یعنی جو بھی ضرورت سے زائد ہو۔

لیکن سسرالی رشتہ کے حوالے سے اصول تو متعین کردیے گئے لیکن تفصیلات میں سے بعض پہلوئوں کو دین میں آسانی پیدا کرنے کے اصول کے تحت مستقبل میں پیش آنے والے حالات کے پیش نظر اصولوں کی روشنی میں طے کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ ان میں پہلا اصول جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا دین کے آسان ہونے کا اصول ہے‘ یعنی الدین یسر۔البقرہ میں بیان کر دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے لیے دین میں دقّت‘ حرج اور مشکل کی جگہ آسانی چاہتا ہے۔ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ (البقرہ ۲:۱۸۵)۔ ایسے ہی ہر وہ عمل جو شریعت کے اصولوں سے نہ ٹکراتا ہو مباح کے دائرے میں رکھ دیا گیا اور بنی اسرائیل کی طرح سے کھوج لگالگا کر بار بار سوالات اُٹھاکر بلاوجہ اپنے لیے مشکلات پیدا کرنے سے منع کر دیا گیا۔ اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں لیا جاسکتا کہ جس کا جو دل چاہے مباح سمجھتے ہوئے کربیٹھے۔ دین اپنے معاملات میں انتہائی سنجیدگی‘ تحقیق اور دلیل کا مطالبہ کرتا ہے اور اہلِ علم پر یہ فرض عائد کرتا ہے کہ جو لوگ‘ دین کے گہرے فہم سے آگاہ نہ ہوں اان میں اس کو پہنچایا جائے۔کسی بھی دَور کی فضا اور صورت حال کو دیکھتے ہوئے اور لوگوں کی سستی اور تساہل کی بنا پر جہاں لچک کی گنجایش نہ پائی جاتی ہو وہاں بھی ’’یسر‘‘ کے اصول کے تحت ان کو اجازت دے دینا دین کے ساتھ مذاق ہے۔ لیکن جہاں پر قرآن و سنت سے دلیل تلاش کرنے کے بعد کوئی رخصت اور آسانی پائی جاتی ہو‘ اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔

مناسب ہوگا کہ اس تمہید کے بعد اب ایک دو ایسے معاملات پر غور کرلیا جائے جو آج ہمارے معاشرے میں روزمرہ کے معاملات بن گئے ہیں۔ ان میں پہلا معاملہ ایک گھر میں آنے والی بہو کا اس کے دیوروں اور ساس سسرکے سامنے آنا اور ساتھ بیٹھ کر کھانے کا ہے۔ بعض حضرات نے اُس اہم حدیث کو جس میں دیور کو موت سے تعبیر کیا گیا ہے لفظی معنی میں لیتے ہوئے یہ قیاس کرلیا ہے کہ اس سے بات چیت‘ اس کے سامنے عام ساتر لباس میں آنا یا ساتھ بیٹھ کر کھانا پینا سب ممنوع ہے۔ دیور کو موت سے تعبیر کرنے کا واضح مطلب یہ ہے کہ جس طرح موت بغیر اطلاع کے آجاتی ہے اسی طرح اگر مناسب اخلاقی حدود کا خیال نہ رکھا گیا تو ایک ایسا شخص جو دن رات گھر میں موجود ہے‘ غیرمحسوس طور پر بے احتیاطی اور غیرمحتاط رویے کی طرف لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کا مطلب اس کے ساتھ سوشل بائیکاٹ کرنا نہیں ہے۔ احتیاط‘ خشیت‘ تقویٰ اور غلو اور شدت پسندی دو الگ چیزیں ہیں یعنی دین نام ہی تقویٰ‘ احتیاط اور خشیت کا ہے لیکن وہ تقویٰ جو سنت وطیرہ سے ثابت ہو۔ وہ نہیں جو ہم بزعمِ خود اپنے ذہن میںتعمیرکرلیں اور ان رشتوں کو اُس تعلق سے بھی کم تر قرار دے دیں جو ایک اجنبی شخص کے ساتھ پایا جاتا ہے۔

قرآن و سنت نے حرام و حلال کو مبہم نہیں چھوڑا ہے‘ اس لیے کسی بھی عمل کو حرام و حلال کرنے کا حق اگر ہے تو صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کو ہے۔ متشابہات سے بچنا بھی ایمان کا تقاضا ہے لیکن مباح کو بلاوجہ حرام کے دائرہ میں لے جانا بھی دین کی حکمت کے منافی ہے۔

اسلام کی ستروحجاب کی حدود معروف ہیں۔ کوئی بھی غیرساتر لباس میں‘ خواتین کا سب کے سامنے آنا جائز قرار نہیں دے گا۔ اگر ایک لڑکی ساتر لباس میں اپنے چہرے اور ہاتھ کو چھوڑتے ہوئے تمام جسم کو ڈھانکے ہوئے ہے تو جس طرح وہ اس حالت میں گھر سے باہر جاسکتی ہے اسی طرح وہ گھر کے اندر ان کے سامنے جن سے اس کا رشتہ بازار میں پھرنے والے افراد کے مقابلے میں مختلف ہے بغیر کسی تکلف کے آسکتی ہے۔ جس عمل کو سنت نے جائز قرار دیا ہو اسے خاندانی روایات کی بنا پر ناجائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ چہرے کے بارے میں دو آرا کا پایا جانا اس میں وسعت پیدا کرتا ہے اور اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دین کے مجموعی مزاج کو دیکھتے ہوئے گھر میں مل جل کر رہنے پر ایسی ناروا پابندیاں نہ لازم کر لی جائیں‘جو لگائی نہیں گئی ہیں۔

اس کا ایک انتہائی اہم معاشرتی پہلو یہ ہے کہ نکاح محض شوہر اور بیوی کے درمیان ایک اخلاقی اور قانونی رشتہ نہیں پیدا کرتا بلکہ دو خاندانوں کے درمیان باہمی بھلائی اور معروف کے قائم کرنے میں تعاون کا رشتہ پیدا کرتا ہے جس کا مقصد انھیں قریب لانا ہے‘ فاصلے اور دُوری پیدا کرنا نہیں ہے۔ لیکن قریب لانے کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ ایک شادی شدہ خاتون چونکہ شادی شدہ ہے اس لیے وہ اپنے دیور کے ساتھ ہنسی مذاق کرے‘ اس کے ساتھ جسم ملا کر بیٹھے‘ اس سے مصافحہ کرے ‘ اس کے ساتھ تنہا کار میں ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرے یا اس کے ساتھ تنہائی میں ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھے۔ ان تمام باتوں کو چونکہ دین نے مبہم نہیں چھوڑا بلکہ متعین کر دیا ہے اس لیے ان کی ممانعت شریعت سے ثابت ہے۔

لیکن اُس سے بات کرنا‘ مناسب انداز میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنا‘جس طرح ایک لڑکی اپنے حقیقی بھائی کی بھلائی چاہتی ہے اس کی بھلائی چاہنا یہ تمام معاملات نہ صرف مباح بلکہ بعض اوقات فرائض کے دائرہ میں آئیں گے۔ انھیں ممنوع قرار دینے کا حق کسی کو نہیں دیا جاسکتا۔

بظاہر دین کا مدعا یہی نظر آتا ہے کہ شادی کے بعد ایک لڑکے اور لڑکی کو اتنی آزادی ہو کہ وہ اپنے شوہر کے سامنے جس طرح کا لباس شوہر کو پسند ہو پہن سکے یا وہ سنگھار کرسکے جو وہ دیور یا دیگر اعزہ کے سامنے نہیں کر سکتی اور یہ اسی وقت ہوگا جب اس کے پاس محض ایک سونے کا کمرہ نہ ہو بلکہ مکان میں اتنی وسعت ہو کہ وہ بغیر کسی اور کے دیکھے آزادی سے اپنا زینت کرنے کا حق استعمال کرسکے۔ گویا دین کا رجحان یہی نظر آتا ہے کہ شادی شدہ جوڑے کو اتنی آزادی حاصل ہو کہ وہ اپنی پسند کے مطابق شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسا لباس اور بنائوسنگھار کرسکے جو رشتے میں مزید قربت پیدا کرنے میں مددگار ہو۔ جب قرآن کریم نے شوہر اور بیوی کو بمنزلہ لباس قرار دیا تو اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ وہ بلاتکلف اور رکاوٹ ایک دوسرے کو اپنی زینت میں شریک کر سکیں جو وہ دیگر رشتوں کے سامنے حتیٰ کہ حقیقی رشتوں کے سامنے بھی نہیں کرسکتے۔ ظاہر ہے یہ اسی وقت ممکن ہے جب رہایش ایسی ہو جس میں ایک لڑکی اپنا یہ حق استعمال کر سکتی ہو۔

لیکن فرض کرلیا جائے کہ کسی گھر میں اتنی گنجایش نہیں ہے تو ایسی شکل میں بغیر سنگھار کے ساتر لباس میں اس کا گھر والوں کے ساتھ آکر بیٹھنا‘ ان کے ساتھ باہمی گفتگو میں شرکت کرنا‘ کھانا کھانا کسی بھی اسلامی اصول سے نہیں ٹکراتا۔

یہ خیال بھی بے بنیاد ہے کہ ایک شادی شدہ لڑکی بنائوسنگھار سرے سے نہ کرے کیونکہ یہ حرام ہے۔ زینت کی نمایش کی ممانعت خصوصاً ان رشتوں کے سامنے جو حرام ہیں قرآن وسنت سے ثابت ہے لیکن اس کے بھی تین دائرے ہیں۔ ایک وہ جو صرف شوہر کی حد تک ہے۔ دوسرا وہ جو حقیقی ماں باپ‘ بھائی بہن کے سامنے ہے اور تیسرا وہ جو ان کے علاوہ دوسروں کے سامنے ہے۔ ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ کی تقریبات میں کئی گھنٹے تک بنائو سنگھار کروانے کے بعد جس طرح نیم عریاں لباس میں ایک دلہن کو محفل میں پیش کیا جاتا ہے وہ نکاح کے بعد صرف شوہرکے سامنے کیا جاسکتا ہے۔ حقیقی ماں باپ کے سامنے بھی نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن سرجھاڑ منہ پہاڑ بنا کر رہنا بھی تقویٰ اور خشیت کی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسلام تو اس حد تک معاشرتی زندگی کی اہمیت کا قائل ہے کہ ایک حدیث کے مطابق جسے امام بخاری نے اپنی صحیح میں درج کیا ہے‘ حضرت ابوحجیفہ نے روایت کیا ہے دو انتہائی قابلِ احترام اصحابِ رسولؐ یعنی ابوالدردائؓ اور سلمان فارسیؓ کے حوالے سے جنھیں نبی کریمؐ نے ہجرت کے بعد بھائی بھائی بنا دیا تھا یہ روایت ملتی ہے کہ جب ایک مرتبہ سلمان ابوالدرداء سے ملاقات کوگئے تو دیکھا کہ ابوالدردائؓ کی بیوی معمولی لباس میں ہیں‘ کوئی بنائوسنگھار نہیں ہے‘ تو انھوں نے پوچھا تمھارا ایسا حال کیوں ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا: تمھارے بھائی ابوالدرداء کو دنیا سے کوئی مطلب نہیں رہا ۔پھر میں بنائوسنگھار کس کے لیے کروں؟ جب ابوالدردائؓ گھر آئے تو سلمانؓ نے ان کا روزہ تڑوا کر ان کے ساتھ کھانا کھایا۔ رات کو نوافل کی جگہ انھیں ان کی بیوی کے پاس جاکر سونے کے لیے کہا اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر پوری بات بیان کی جس پر آپؐ نے فرمایا: ’’سلمان نے صحیح بات کہی‘‘۔

گویا اپنے گھر میں ساتر لیکن ایسا لباس جو بدنما نہ ہو‘ ایسا سنگھار جو عریاں کرنے والا نہ ہو‘ اختیار کرنا سنت کا مدعا ہے۔ اسی کا نام توازن و اعتدال اور سنت کی روشنی میں عمل ہے۔

حدیث معاشرتی تعلقات کی نوعیت کو واضح کرتی ہے کہ بعض صورتوں میں انتہائی شخصی نوعیت کے معاملات میں بھی ایک دینی بھائی ’’دخل در معقولات‘‘ کرسکتا ہے اور اس کے ایسے معاملات میں بات چیت کرنے پر کوئی ممانعت دین نے عائد نہیں کی۔

بعض گھرانوں میں دیور یا سسر کے سامنے آتے وقت گھر میں پہننے کے عام لباس مثلاً شلوارقمیص‘ دوپٹہ کے اُوپر عبایا پہن لیا جاتا ہے۔ دین نے جو پابندی عائد کی ہے وہ زینت کے ظاہر نہ ہونے کی ہے۔ اگر شلوار قمیص اور دوپٹہ اس طرح سے استعمال کیا گیا ہے کہ سینہ اور تمام جسم ڈھک گیا ہے اور صرف چہرہ اور ہاتھ کھلا ہے تو اس کے اوپر سے مزید عبایا پہننا غیرضروری ہے۔ شلوارقمیص کے ساتھ جو جسم سے چپکا ہوا نہ ہو اور نہ ہی اتنا باریک ہوکہ جسم کی جلد اوراُبھار نظر آرہے ہوں اہلِ خاندان کے سامنے آنے میں کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔ اس کے برخلاف اپنے آپ کو اہلِ خانہ سے کاٹ کر اپنے کمرے میں بند ہو جانا دین کے مدعا سے ٹکراتا ہے۔

دین نے جن معاملات میں دو ٹوک ممانعت کی ہے مثلاً تنہائی میں کسی غیرمحرم کے ساتھ بیٹھنا اس میں کسی قسم کی لچک پیدا نہیں کی جاسکتی لیکن ایک خاندان کے افراد ہوتے ہوئے جب کہ رہایش اس نوعیت کی ہو کہ الگ باورچی خانہ نہ بنایا گیا ہو‘ الگ بیٹھ کر کھانا غلو ہی کہا جائے گا۔

اسلام کے معاشرتی نظام کی بنا پر اخلاقی روایات اور دین کی تعلیم آنے والی نسلوں میں تربیت کے ذریعے مستقل ہوتی چلی آئی ہے۔ اس میں نہ صرف بزرگوں کا بلکہ ایک بیوی کا بڑا اہم کردار ہے۔ وہ نہ صرف اپنے شوہر بلکہ اپنے ساس سسر اور دیوروں کو اپنے اخلاقی طرزعمل سے دین کی تعلیمات سے آگاہ اور متعارف کرا سکتی ہے۔ یہ اس کے فرائض میں سے ایک فریضہ ہے اور ابلاغ اور تبادلۂ خیالات کے بغیر یہ ممکن نہیں ہو سکتا‘ اس لیے ایسے مواقع کا صحیح استعمال کرنا اور نئے حالات میں اپنا مقام اس کے اپنے لیے اور پورے خاندان کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں جس تیزی کے ساتھ دو رجحانات فروغ پا رہے ہیں اس پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے۔ ایک طرف بعض حضرات ہر مغرب مستعار ’’ترقی پسند‘‘ عمل کو حلال کرنے کی فکر میں لگے ہیں۔ دوسری طرف بعض حضرات دین کو شدت پسند بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ دین وسط کے راستے کی تعلیم دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ حرام سے بچتے ہوئے منکرات و فواحش سے بچا جائے اور مباح کو اختیار کرتے ہوئے‘ معروف کی ترویج و تلقین کے لیے تمام وسائل کو استعمال کیا جائے۔

To God Belong the Names, Most Beautiful[اسماء الحسنٰی] نیراحسان رشید۔ ناشر: اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی‘ پوسٹ بکس ۱۰۳۵‘ اسلام آباد۔ صفحات: ۲۰۰ (بڑی تقطیع)۔ قیمت: ۹۹ ڈالر۔ ۱۵۰۰ پاکستانی روپے۔

محترمہ نیر احسان رشید ایک ممتاز پورٹریٹ مصور اورخطاط ہیں۔ انھوں نے اپنے مخصوص اور منفرد (مصوری+ خطاطی کے) امتزاجی اسلوب میں اللہ پاک کے ۹۹ ناموں کا ایک رنگین مرقع تیار کیا ہے۔ بڑی تقطیع میں اسماء الحسنیٰ کا یہ البم‘ اس کام سے ان کی لگن‘ دلی وابستگی اور مہارت کا عمدہ نمونہ ہے۔

نیراحسان کا آبائی تعلق گلبرگہ (حیدرآباد دکن) سے ہے اور انھوں نے خطاطی کی باقاعدہ تعلیم بچپن میں ایک ماہر خطاط مولوی شمشیر علی صاحب سے حاصل کی تھی۔ وہ بتاتی ہیں کہ مولوی صاحب ٹھیک چھے بجے صبح ہمارے گھر تشریف لاتے‘ آیا مجھے وضو کرا کے تیار کراتی اور قرآن پاک کے سبق کے بعد‘ میں تختی پر لکھنے کی مشق میں مشغول ہوجاتی۔ ہر حرف‘ بار بار‘ ہزار بار لکھنے کے  بعد ہی صحیح شکل میں لکھنے میں کامیاب ہوتی۔ اس پس منظر میں انھوں نے شبیہ مصوری (portrait painting) میں تخصّص حاصل کیا۔ ۲۰ برس قبل‘ جب وہ اُردن میں تھیں‘ ایک حادثے میں معذور ہوکر انھیں چھے ماہ کے لیے پابند بستر ہونا پڑا۔ اس معذوری نے ان کا اسلوبِ حیات بالکل تبدیل کر دیا۔ مطالعہ و تلاوتِ قرآن کرتے ہوئے اسماء الحسنیٰ کو برش اور رنگوں کے ذریعے صفحۂ قرطاس پر رقم کرنے کا خیال آیا۔ کام شروع کیا اور رفتہ رفتہ ان کے لیے یہ نیا تخلیقی تجربہ بنتا گیا۔ وہ رات دن اس کام میں منہمک رہتیں۔ اس دوران ان کا درد معجزانہ طور پر کم ہوتا گیا۔ ساتھ ساتھ وہ اپنے تاثرات بھی ریکارڈ کرتی رہیں۔ شاعرانہ زبان و اسلوب میں‘ ان کے وہی تاثرات‘ اس خوب صورت مرقّعے کے ہر صفحے پر اللہ کے نام کے بالمقابل درج ہیں اور ساتھ ہی عربی ترجمہ بھی دیا گیا۔ یوں انگریزی کے ساتھ عربی قارئین بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ اس کا ایک نمونہ یہ ہے___ الصّبور آخری صفحے پر ہے۔اس کے بالمقابل توضیح ان الفاظ میں ہے:

The final reward shall be mine, Ya Sabur

Your blessing, I patiently wait.

ان کی مصوری پر فنّی رائے تو کوئی ماہر ہی دے سکتا ہے تاہم مصوری کے یہ نمونے بالعموم ہلکے اور خوش گوار رنگوں میں ہیں اور سادگی‘ نرمی اور دھیمے پن کا تاثر دیتے ہیں۔ پس منظر یا گرائونڈ میں ایک جھلملاہٹ سی ہے‘ جیسے بارش کے باریک قطروں کے نشانات ہوں یا ہلکی ہلکی خم کھاتی اور کہیں کہیں دائرہ کرتیں۔

مرقّع بہت اہتمام سے‘ نہایت عمدہ دبیز کاغذ پر اور بہترین طباعت کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


مبشرصحابہؓ، مولانا محمود احمد غضنفر۔ ناشر: حدیبیہ پبلی کیشنز‘ رحمن مارکیٹ‘غزنی سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۴۴۶‘ اعلیٰ کاغذمجلد۔قیمت: ۱۸۰ روپے۔

اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کرامؓ کو اپنے راضی ہونے کی بشارت دی: رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ (التوبہ ۹:۱۰۰)۔ لیکن ان میں سے متعدد کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ ساقیِ کوثر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام لے کر ان کو جنت کی بشارت دی۔ مولانا محمود احمد غضنفر نے ایسے ہی ۲۴مبشر صحابۂ کرامؓ کی سیرت و سوانح کی جھلکیاں اس کتاب میں ایسے دلآویز پیرائے میں پیش کی ہیں کہ قاری کتاب کے اندر جذب ہوکر رہ جاتا ہے۔ عشرہ مبشرہ وہ صحابہ کرامؓ ہیں جن کو حضوؐر نے ایک ہی نشست میں جنت کی بشارت دی‘ جب کہ ۱۴ وہ ہیں جن کو وقتاً فوقتاً آپ نے یہ بشارت دی۔کتاب کی ابتدا میں قرآن وسنت کی روشنی میں جنت کی جھلک پیش کی گئی ہے۔ ایک  انفرادیت ہرصحابیؓ کے تذکرے سے قبل ان کی شان میں تمام فرمودات رسولؐ کو یکجا کرنا ہے‘ اور آخر میں فضائل و خصوصیات کا مختصراً تذکرہ بھی موجود ہے جس سے کتاب کی افادیت دوچند ہوجاتی ہے۔

بہت سی خوبیوں کے ساتھ ’’ہر گُلے را خارے‘‘ کے مصداق اس میں کچھ چیزیں نظرثانی کی محتاج ہیں۔ بالخصوص صحابہ کرامؓ کے ناموں کی صحت کا اہتمام لازم ہے۔ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں تھے (ص ۱۸۶)‘ یہ صحیح نہیں۔ حضوؐر کی والدہ ماجدہ کا کوئی  حقیقی بھائی نہ تھا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے گھر کا سارا سامان جہاد کے لیے پیش کر دیا (ص۱۹۷)‘ یہ شرف صرف صدیق اکبرؓ کو حاصل ہوا۔ کتاب کے بیشتر الفاظ اِعراب اور علاماتِ اضافت (ہمزہ یا زیر‘ پیش) کے بغیر ہیں۔ ایسی کتابوں میں اِعراب اور علاماتِ اضافت لگانے کا اہتمام کرنا بہت ضروری ہے (بالخصوص اسما پر)۔ امید ہے کہ آیندہ ایڈیشن میں اس کا خیال رکھا جائے گا۔ کتاب کی پیش کش شایانِ شان ہے۔ (طالب الہاشمی)


Lift Up Your Hearts‘ جلد دوم ‘ عبدالرشید صدیقی‘ ناشر: اسلامک فائونڈیشن‘ لسٹر۔ صفحات:۱۴۵۔ قیمت: ۵ پائونڈ۔

اسی عنوان سے ۳۰ خطبات کے ایک مجموعے کی اشاعت کے بعد‘ عبدالرشید صدیقی صاحب نے یہ ۲۵ خطبات کا مجموعہ پیش کیا ہے۔ کہاجا سکتا ہے کہ اگر پہلا حصہ نماز روزہ جیسے دینی موضوعات سے بحث کرتا تھا تو اس حصے میں دہشت گردی‘ ہم جنس پرستی‘ انفارمیشن ٹکنالوجی‘ انسانی حقوق‘ جانوروں کے حقوق‘ غیرمسلموں سے تعلق وغیرہ جیسے ’’جدید‘‘ موضوعات زیربحث آئے ہیں۔ دراصل یہ تحریریں چھے چھے‘ سات سات صفحات کے خطبات ہیں جو جہاں ضرورت ہو جمعہ کی نماز میں انگریزی زبان میںدیے جا سکتے ہیں۔ پہلے حصے میں ۳۰ موضوعات تھے اور مقدمے میں دعا کی گئی تھی کہ مصنف ۵۲ پورے کر دیں۔ دعا کچھ زیادہ قبول ہوگئی اور اب ہمارے پاس ایک سال کے لیے ۵۵ خطبات ہیں۔

دراصل یہ خطبے اپنے موضوع پر نہایت مختصر‘ جامع‘ مستند اور علمی حیثیت سے اعلیٰ معیار کے مضامین ہیں جن سے ایمان کو طاقت اور توانائی فراہم ہوتی ہے۔ انگریزی تو اب ہر ملک کی زبان ہے۔ خود ہم پاکستان میں اس کی قدر افزائی اور بیچاری اُردو کی ناقدری کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے اسلامک فائونڈیشن کا اصل کام اسے چھاپنے سے زیادہ ضرورت مندوں تک پہنچانا ہے۔ یہ کس طرح ہو‘ پانچ پائونڈ میں یہ معمہ بظاہر ناقابلِ حل ہی لگتا ہے۔ (مسلم سجاد)


ماہنامہ آئین، ماڈرن ازم کا چیلنج اور اسلام‘ اشاعت جون ۲۰۰۵ئ‘ مدیر: مرزا الیاس۔ ملنے کا پتا: فرسٹ فلور‘ اے-۱/۹‘ رائل پارک‘ لاہور۔ صفحات: ۲۲۵۔ قیمت: ۶۰ روپے۔

ماہنامہ آئین لاہور نے مغربی تہذیب کو سمجھنے‘ اس کے اثرات کا احاطہ کرنے اور اس کے عمق کا جائزہ لینے کے لیے اہلِ فکرودانش کی آرا اکٹھی کیں اور دنیا بھر کے اُردو داں طبقے کے لیے تین عظیم خاص نمبر ’’مغربی تہذیب‘‘ کے نام سے پیش کر دیے۔بیش تر مرزا الیاس کی ناقابلِ یقین محنت ہے‘ جس پر وہ بجاطور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔

گذشتہ خاص نمبروں کی طرح مغربی تہذیب ’اشاعت خاص سوم‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ایک تحریر اور مرزا محمد الیاس صاحب کے سات تجزیاتی مضامین پر مشتمل ہے۔ اِس خاص نمبر میں ماڈرن ازم کی تعریف متعین کرنے‘ اس کے تاریخی حوالوں سے متعارف کرانے اور اس کے دور رس اثرات کی وسعت کھنگالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ادب اور فنونِ لطیفہ سے اس کے حوالے‘ چرچ پر اس کے اثرات اور اس نظریے کے زوال پر پہلے مضمون میں بحث موجود ہے۔

لبرل ازم‘ جدیدیت کا ایک اور چہرہ ہے۔ اس کے خدوخال ’’جدید معاشروں میں مسائل‘ مشکلات اور بحران‘‘ میں واضح کیے گئے ہیں۔ انسانی حقوق‘ آج کے دور کا سب سے معروف چلتا ہوا سکّہ ہے‘ خدا کو پیچھے کر دینے اور انسان اور اُس کی خواہشات کو آگے کر دینے کا کام موجودہ دور میں جس طرح ہو رہا ہے اُس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان اور انسانی حقوق کو اتنا مقام دے دیا جائے کہ خد اور اُس کے حقوق ازکارِ رفتہ محسوس ہوں‘ کیتھولک عیسائیت نے پہلے ماڈرن ازم کو پروان چڑھایا اور بعدازاں اسی ماڈرن ازم نے اس کا تمسخر اُڑایا‘ مغرب میں نشاتِ ثانیہ کے عمل کی جو جہتیں رہی ہیں اُن پر بھی سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔

مابعد جدیدیت‘ تقسیم و تنسیخ اور جدید معاشرے کے عنوان سے سرمایہ داری نظام اور جدیدیت کے بارے میں مغربی معاشرے کی ٹوٹ پھوٹ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ خاندان کو ختم کرنے اور انفرادیت کے نام پر انسانیت کو سُولی چڑھانے کی جو کوشش ہو رہی ہے اُس پر بھی تفصیلی تجزیہ موجود ہے۔

’’گلوبل کلچر‘ امکانات‘ خطرات‘‘ میں مرزا صاحب نے سرمایہ داری نظام‘ کلب کلچر‘ اور انگریزی زبان کو اقتدار دلانے کی کوششوں کا جائزہ لیا ہے۔ اس میں خاصے کی چیز ’’تہذیبوں کا تصادم___ مقاصد اور محرکات‘‘ ہے۔ عراق پر جس طرح حملہ کیا گیا اور اس سے پہلے عرب دنیا میں جس طرح بادشاہتوں کی سرپرستی کی گئی اور اُس کے جو سنگین اثرات مرتب ہوئے وہ اس باب کا موضوع ہیں۔

یہ عظیم الشان ‘ وقیع اور جان دار تہذیبی محاکمے‘ ہر تعلیمی ادارے‘ ہر فکری مرکز اور دین اسلام سے محبت و تعلق رکھنے والے ہر شخص کی میز پر ہونا چاہییں۔ (محمد ایوب منیر)


فرینڈلی فائر‘ نگہت سیما۔ ناشر: المجاہد پبلشرز‘ ۴-دین پلازہ‘ جی ٹی روڈ‘ گوجرانوالہ۔ صفحات: ۲۶۸۔ قیمت: ۱۴۰ روپے۔

محترمہ نگہت سیما صاحبہ نے بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے سے آغاز کیا۔ اسکول کے زمانے میں اخبار میں ایک ویت نامی بچے کی تصویر دیکھی جو زمین پر اوندھے منہ گرا ہوا تھا اور ایک امریکن فوجی اسے ٹھوکریں مار رہا تھا۔ وہ بچہ مصنفہ کی عمر کا تھا۔ اسکول کی اس طالبہ نے اس بچے کا دکھ اپنا بنالیا اور کہانی لکھی ’’وانگ ھو کی کہانی‘‘۔ یہاںسے ان کے قلمی سفر کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوا۔ ’’مسجداقصیٰ کی کہانی‘‘ ان کی دوسری کہانی تھی۔ نوحہ گری کا یہ سفر فلسطین‘ مشرقی پاکستان‘ افغانستان‘ کشمیر اور بوسنیا سے ہوتا ہوا اب عراق تک آن پہنچا ہے۔

زیرنظر کتاب ان کے پانچ افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ’’دانہ و دام کی کہانی‘‘ اس کتاب کا پہلا طویل افسانہ ہے جو ناولٹ کہلانے کا زیادہ حق دار ہے۔ ایک کالم نویس کی کہانی جس کا قلم عراق کی حکایت خونچکاں کے سوا کچھ اور لکھنے سے انکاری ہے۔ اس کا ایڈیٹر شکوہ کرتا ہی رہ جاتاہے۔ ایک بیٹی کی کہانی‘ جس کی ماں کو ایک یہودی این جی او کی سربراہی سے فرصت نہیں‘ جو تنہائی اور سرطان کے مرض کا شکار لمحہ لمحہ موت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ جب ماں کی آنکھیں کھلتی ہیں تو کرنے کو کچھ نہیں رہا۔ یہ محب اللہ کی کہانی ہے جو سرتاپا محبِّ وطن تھا‘ جو وانا سے آتی تشویش ناک خبروں سے پریشان ہو کر اپنے اخبار سے چھٹی لے کر اپنے عزیزوں کا پتہ کرنے گیا اور گولی کا نشانہ بن گیا۔ اور یہ پاک فوج کے ایک بانکے افسر اسجد کی داستان بھی ہے جو وہاں غیروں کی بھڑکائی آگ کا ایندھن بن گیا۔ اس داستان میں نائن الیون کے بعد کے بہت سے تلخ حقائق ہمارے سامنے آتے ہیں۔

فرینڈلی فائر نائن الیون کے بعد ایک امریکی دوست کی طرف سے موصول ہونے والے گالیوں بھرے خط (فرینڈلی فائر) کا جواب ہے‘ جس میں ایک پاکستانی کے المیے کی جھلک ہے جو قلعہ جنگی اور ابوغریب کی تصاویر دیکھ کر روتا بھی ہے لیکن امریکا جاکر ڈالر کما کر لانے کا آرزو مند بھی۔ ’’لاینحل‘‘ ایک ایسے پاکستانی نژاد امریکی کی داستان ہے جو امریکی تہذیب کو اس کی تمام تر آزاد روی سمیت اپنا چکا ہے‘ لیکن جب اس کے بیوی بچے ایک سکھ خاندان سے دوستی کا رشتہ استوار کرتے ہیں تو ہجرت کا وہ سفر جو اس نے اپنی ماں کے ساتھ اس کی انگلی تھام کر ۱۹۴۷ء میں کیا تھا‘ اپنی تمام تر ہولناک یادوں کے ساتھ اس کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔

باقی دو افسانے ذرا مختلف پہلوئوں کو چھوتے ہیں۔ ’’روشن چراغ رکھنا‘‘ خاندانی چپقلشوں‘‘ کی ایک ایسی داستان ہے جو ہمارے معاشرے میں قدم قدم پر بکھری ہوئی ہے۔ اس مجموعے کی آخری کہانی ’’انتہا پسند‘‘ ایک اہم معاشرتی المیے کو ہمارے سامنے لاتی ہے جہاں ایک خاوند دین کی غلط تعبیر کرتے ہوئے اپنی نوبیاہتا کو اپنے لیے بھی بننے سنورنے سے روک دیتا ہے۔ بیوی جو اپنے آپ کو اس کے رنگ میں رنگنے کے لیے ہر طرح کی قربانی دیتی چلی جاتی ہے‘اس کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ اور جب خاوند کو اپنی غلط روش کا احساس ہوتا ہے تو وہ اللہ سے لو لگا کر دنیا کی تمام اُمنگوں اور آرزوئوں سے بے نیاز ہوچکی ہوتی ہے۔یہ تمام افسانے سبق آموز اور چشم کُشا ہیں۔ (خالد محمود)


ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ (حکایات آزادی نمبر) مدیر مسئول: الطاف حسن قریشی۔ ناشر: ۲۱- ایکڑ اسکیم‘ سمن آباد‘ لاہور۔ صفحات: ۳۸۴۔ قیمت: ۶۰ روپے۔

اس اشاعت خاص میں ۲۰۰ سالہ داستانِ آزادی کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے‘ یعنی: ۱۷۰۷ء تا ۱۸۵۷ئ، ۱۸۵۷ء تا ۱۹۰۶ء اور ۱۹۰۶ء تا ۱۹۴۷ئ۔ ’’آزادی مبارک‘‘ خصوصی کہانی سے اشاعت خاص کا باقاعدہ آغاز دل چسپ انداز میں ہوتا ہے جس کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قیامِ پاکستان کا عمل کس آگ اور خون کے سمندر سے گزر کر عمل میں آیا اور ہم کسی ذہنی غلامی کا شکار ہیں۔ قوموں کے عروج و زوال کے قانون کے تحت مغلیہ سلطنت کے زوال کا جائزہ اور پاکستان کی موجودہ صورت حال کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ جدوجہد آزادی کے تمام اہم مراحل‘ نمایاں شخصیات‘ قائداعظم اور ان کے رفقا کی خدمات کا تذکرہ دل چسپ پیراے میں پیش کیا گیا ہے۔

علماے کرام کی ناقابلِ فراموش خدمات‘ نوجوانوں کا جذبۂ آزادی‘ خواتین کا تاریخ ساز کردار‘ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی‘ خوابِ غفلت سے بیدار کر دینے والا کلامِ اقبال اور بہت کچھ‘ تاہم دیگر شعرا کرام کے کلام کی تشنگی محسوس ہوئی۔ اقتباسات کا عمدہ انتخاب بھی خاصے کی چیز ہے‘ البتہ حوالوں کی کمی کھٹکتی ہے۔ دیگر عمومی مستقل سلسلے بھی موجود ہیں بالخصوص ڈاکٹر صہیب حسن کا  بیت المقدس کا سفر لائقِ مطالعہ ہے۔

اُردو ڈائجسٹ مبارک باد کا مستحق ہے کہ اس نے نئی نسل کا قرض بڑی حد تک چکا دیا۔ خوب صورت سرورق‘ مناسب قیمت‘ عمدہ پیش کش متقاضی ہے کہ اس کاوش کی قدردانی ہو۔ (امجدعباسی)


تعارف کتب

  • ماہنامہ سیارہ‘ لاہور‘ اشاعت خاص ۵۲‘ سالنامہ ۲۰۰۵ئ۔ ادارت: حفیظ الرحمن احسن اور دوسرے۔ ناشر: ایوان ادب‘ چوک اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۳۰۰۔ قیمت: ۱۰۰ روپے۔ [پاکستان میں ادب اسلامی کی تحریک کے وجود کا احساس دلانے والے رسالے ماہنامہ سیارہ نے اشاعت خاص ۵۲ پیش کی ہے۔ غزلوں‘ نظموں‘ افسانوں‘ انشائیوں اور دیگر متنوع تحریروں کے ساتھ ایک گوشۂ خاص بنام الطاف گوہر گنجینہ گوہر (۵۰ صفحات) کے نام سے ہے۔]
  • مقالاتِ اسلامیہ، پروفیسر قاری محمداقبال۔ ناشر: انجمن نوجوانانِ اسلام (رجسٹرڈ)‘ حاجی آباد‘ فیصل آباد۔ صفحات: ۱۵۳۔ قیمت: ۸۰ روپے۔[ o قرآن اور تصوف o امام اعظم ابوحنیفہؒ امام ربانی کی نظر میں‘ o رسول اکرمؐ کی رفاہی منصوبہ بندی o اسلامی فلاحی مملکت اور اس کے قیام کے لیے عملی تجاویز اور دیگر چار مقالات پر مشتمل یہ کتاب مختلف مواقع پر پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہے۔ انجمن نوجوانانِ اسلام‘ فیصل آباد کی اشاعت اسلام کے لیے علمی کاوش۔ اہم نظری و عملی موضوعات پر غوروفکر کا سامان‘ عملی اقدام اور دعوتِ عمل۔]
  • تبلیغی جماعت کی علمی و عملی کمزوریاں، ڈاکٹر محمد سلیم۔ ناشر: مکتبہ دارالحکمت‘ لاہور۔ صفحات: ۲۲۴۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔[کتاب کا نام اگرچہ تبلیغی جماعت کی علمی و عملی کمزوریاں ہے لیکن کتاب کا بیش تر مواد فضائل اعمال میں درج بزرگانِ دین سے منسوب غیرمستند واقعات کے محاکمے تک محدود ہے۔ تبلیغی طریق کار کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔ ایک انفرادیت: مؤلف کی تبلیغی جماعت سے عملی وابستگی اور ایک مدت تک اندرون و بیرون ملک فعال و سرگرم رہنا اور تنقید قریبی مشاہدے کی بنیاد پر۔ طباعت اور جلدبندی کا عمدہ معیار۔]
  • Le Roman De Renart [لومڑ دی کہانی]‘ Pierre de Saint Clond ‘پنجابی ترجمہ: عامر ظہیر بھٹی۔ ناشر: عدنان بکس‘ دبئی پلازہ‘ 6th روڈ چوک‘ راولپنڈی۔ صفحات: ۷۲۔ قیمت: ۲۵ روپے۔ [فرانسیسی کلاسیکی ادب کی معروف کتاب جو دل چسپ کہانیوں پر مشتمل ہے۔ جانوروں سے متعلق ہر کہانی انسانی مزاج‘ اچھے اور برے کردار کی نشان دہی کرتی ہے۔ آخر میں مشکل پنجابی الفاظ کے معنی الگ سے دیے گئے ہیں۔ ناشر کے خیال میں عالمی گائوں میں ایک دوسرے کے قریب آنے کا تقاضا ہے کہ ایک دوسرے کے ادب سے بھی واقف ہوا جائے۔ علاقائی ادب میں ایک مفید اضافہ۔]

خالد ہمایوں ‘لاہور

’’مسلمانوں کا دل جیتنے کی امریکی کوششیں‘‘ (جولائی ۲۰۰۵ئ) آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ اخباراُمت والا گوشہ عالمی سیاست کی اونچ نیچ سے بہت آگاہی دیتا ہے۔ تعلیم کے حوالے سے جون کے شمارے میں شائع ہونے والے سلیم منصورخالد کے مضمون نے پاکستان کے تہذیبی مستقبل کے بارے میں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔ کتنا قیامت خیز منظر ہے کہ بیرونی یلغار کے سامنے ہماری ریاستی مشینری بالکل بے بس ہوچکی ہے۔ عسکری لحاظ سے بیرونی یلغار کو روکنے والی مشینری کا حال تو ہم ۱۹۶۵ء اور ۱۹۷۱ء کی جنگوں میں بہت اچھی طرح دیکھ چکے ہیں۔ باڑ اپنے ہی کھیت کو چرنے چگنے میں اب بہت دلیر ہوچکی ہے۔ خداوندتعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔


شفیق الرحمٰن انجم ‘قصور

’’پاکستان میں خواتین کا لائحہ عمل‘‘ (جولائی ۲۰۰۵ئ)‘ میں عورتوں کے مسائل اور ان کے حل پر جامع گفتگو کی گئی ہے۔ اس وقت مغرب‘ مشرق وسطیٰ‘ امریکا اور افریقہ میں خواتین کو جس کرب ناک صورت حال کا سامنا ہے‘ اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مغرب اس کے حق میں آواز تو اٹھاتا ہے لیکن عملی اقدام نہیں کرتا۔ پاکستان میں عورتوں پر جو مظالم ڈھائے جاتے ہیں‘ وہ عورتوں کے حقوق کی دعوے دار حکومت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔


عطاء اللّٰہ چودھری ‘خوشاب

میری تجویز ہے کہ گھر سے باہر عورتوں سے جو خدمات لی جائیں ان کے اوقات کار مردوں کے مقابلے میں نصف ہونے چاہییں اور انھیں ٹرانسپورٹ کی سہولت لازماً فراہم ہونی چاہیے۔


خلیق الرحمٰن فائق ‘دھیرکوٹ‘ آزاد کشمیر

ترجمان القرآن اُمت مسلمہ کے سلگتے مسائل پر رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ چند پہلو غورطلب ہیں: بعض اہم مضامین کا انگریزی ترجمہ ویب سائٹ پر دینے سے قلمی جہاد کو مزید تقویت مل سکتی ہے اور دعوتِ حق کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ فہم حدیث مفید سلسلہ ہے‘ ہر ماہ دیا جائے۔ کیسٹ سے تدوین کردہ مضامین میں ادبی چاشنی کی کمی‘ طوالت اور انداز بعض اوقات گراں محسوس ہوتا ہے۔


عزیز احمد ‘ملتان

اہلِ علم کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے آپ نے مصر کا مطالعہ شائع کیا (اگست ۲۰۰۵ئ)۔ ضرورت ہے کہ پاکستان کے حوالے سے بھی اسی نوعیت کا کوئی ہمہ پہلو مطالعہ کیا جائے۔ ہمارے ٹیکسوں سے تعلیم حاصل کر کے باصلاحیت اور قابل افراد‘ دوسرے ممالک میں محض کچھ زیادہ رقم اور آسایش کے لیے زندگی گزار دیتے ہیں اور اپنی اولاد بھی غیروں کی تہذیب کے حوالے کر دیتے ہیں۔ واپسی کے لیے ویسی ہی تنخواہوں کی شرط رکھ دیتے ہیں جیسی انھیں وہاں ریالوں‘ ڈالروں اور پونڈوں میں دی جا رہی ہے۔ معلوم تو ہو کس کس قابلیت کے کتنے کتنے لوگ کن کن ممالک کی خدمت کر رہے ہیں اور اپنے ملک کو اپنی صلاحیت اور خدمت سے محروم کر رکھا ہے‘ اور فرارِ ذہانت (brain drain) کا کیا عالم ہے؟


فضل الرحمٰن بخشی ‘برمنگھم‘ برطانیہ

ترجمان القرآن کی توسیع اشاعت کے لیے آپ کی اپیل کے جواب میں (مدیر ترجمان کی یہ اپیل ہفت روزہ ایشیا نے شائع کی تھی)‘ میں نے برطانیہ میں ۱۱‘ بھارت میں ۱۹ خریدار‘ جب کہ پاکستان میں چھے معاون خصوصی کے نام‘ پتے اور رقم ارسال کر دی ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ ۱۰‘ ۲۰ فی صد قارئین بھی میری طرح کے ہوں تو اشاعت کہاں سے کہاں پہنچ جائے۔ خدا جانے علم سے محبت جن کو رکھنا چاہیے وہ کیوں ایسے ہیں۔ بھارت میں غریب سے غریب ہندو اخبار روز خرید کر پڑھتا ہے۔ مسلمان پوری بستی میں ایک اخبار بھی نہیں خریدتے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ‘ میں نے جو کچھ کیا‘ اس کو خالص اپنی رضا کے لیے قبول فرمائے۔

ترجمان: اشاعت میں اضافے کے لیے ہم نے اپنے تمام قارئین کو پیش کش کی تھی کہ وہ چار پتے ارسال کریں‘ ہم انھیں نمونے کا پرچہ ارسال کر دیں گے۔ سب قارئین اس پیش کش سے فائدہ اٹھاتے تو ایک بہت بڑے حلقے میں ترجمان القرآن پہنچ جاتا۔ فضل الرحمن بخشی صاحب کی طرح بہت سے دیگر احباب بھی اپنے اپنے دائرے میں جذبے اور خلوص سے اشاعت کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب رفقا کی کوششوں کو قبول فرمائے اور ترجمان کا پیغام وسیع سے وسیع تر حلقے میں پھیلے۔

تقویٰ

یہ تقویٰ جس کا مرکز دل ہو‘ جو انسان کی زندگی کے تمام اطراف کو روشن کرے‘ جو ہر شعبۂ زندگی میں اس کو اللہ کے حدود کا پابند بنائے‘ جس میں کامل توافق ہو‘ کامل اعتدال ہو‘ پوری ہمہ گیری ہو‘ جو نہ ایک قدم اللہ کی حد سے آگے بڑھنے پائے‘ نہ ایک قدم اس سے پیچھے ہٹنے پر راضی ہو‘ جو دل کو مجبور کرے کہ وہی سوچے جو سوچنا چاہیے‘ آنکھوں کو مجبور کرے کہ وہی دیکھیں جو دیکھنا چاہیے‘ کانوں کی نگرانی کرے کہ وہی سنیں جو سننا چاہیے‘ زبان کی حفاظت کرے کہ وہی بولے جو حق ہے‘ اور ہاتھ پائوں کی دیکھ بھال کرے کہ اسی کام کے لیے اور اسی راہ میں اٹھیں جو اللہ نے انسان کے لیے کھولی ہے‘ بطن و فرج پر پہرہ بٹھا دے کہ یہ کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام نہ کرلیں۔ جو خدا کی صحیح معرفت‘ آخرت کے سچے خوف‘ احکام الٰہی کے سچے جذبۂ احترام کے ساتھ ہو‘ جو انسان کے ظاہر میں بھی ہو‘ اور اس کے باطن میں بھی ہو‘ خلوت میں بھی ہو اور جلوت میں بھی ہو۔

یہ تقویٰ ہے جس کی تعلیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ یہی تقویٰ ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے کو رونق و جمال بخشتا ہے (اوصیک بتقوی اللّٰہ فانہ ازین لامرک کلہ)۔ یہی تقویٰ ہے جس کو قرآن میں لباس سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ جس طرح لباس زندگی کو سردی و گرمی سے اور میدانِ جنگ میں خطرات سے بچاتا ہے اسی طرح یہ بھی انسان کو مادی و روحانی مہالک سے بچاتا ہے‘ جس طرح لباس انسان کی سترپوشی کرتا ہے اسی طرح یہ بھی انسان کو معاصی سے بچاکر اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اور پھر جس طرح لباس انسان کو زینت و جمال بخشتا ہے اسی طرح تقویٰ بھی انسان کی ساری زندگی کو سنوار دیتا ہے۔ یہی وہ تقویٰ ہے جس کی تعلیم دینے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوذرؓ کو برابر چھے روز تک متنبہ کرتے رہے کہ غور سے سننا کچھ باتیں کہنی ہیں اور چھے روز کے بعد زبان حق ترجمان جو گویا ہوئی تو پہلی بات یہ ارشاد ہوئی کہ اوصیک بتقوی اللّٰہ فی سرامرک وعلانیہ۔ (’’اشارات‘‘، مولانا امین احسن اصلاحی‘ترجمان القرآنجلد ۲۷‘ عدد۳-۴‘ رمضان و شوال ۱۳۶۴ھ‘ ستمبر و اکتوبر ۱۹۴۵ئ‘ ص ۱۰-۱۱)