مضامین کی فہرست


اکتوبر ۲۰۰۳

۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی کی تاسیس کے بعد‘ مولانا مودودیؒ نے معروف شخصیات کو جماعت کے پروگرام اور مقاصد سے آگاہ کرنے کے لیے اپنے رفقا کو بھیجا‘اور جماعت کے پہلے ناظم شعبہ تنظیم‘ قمرالدین صاحب کو قائداعظم ؒ سے ملاقات کی ذمہ داری سونپی گئی۔ وہ قائداعظمؒ سے ملے اور واپس آکر مولانا کو اس ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ قمرالدین چند ماہ بعد جماعت سے الگ ہوگئے تھے۔

ایک عرصے کے بعد پروفیسر قمرالدین (اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ‘اسلام آباد) نے قائداعظمؒ سے اپنی ملاقات کی یادداشتیں قلم بند کیں‘ اور انھیں ہفت روزہ Thinker میں شائع کیا۔ وہ لکھتے ہیں: ’’مولانا مودودی کے ایما پر ‘ میں گل رعنا (دہلی) میں قائداعظم سے ملا۔ قائداعظم ۴۵ منٹ تک بڑی توجہ سے میری بات سنتے رہے۔ پھر فرمایا: ’’مولانا ] مودودی[ کی خدمات کو میں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہوں ‘ لیکن برصغیر ] ہندستان[ کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد مسلم ریاست کا حصول‘ ان کی اصلاح کردار سے زیادہ فوری اہمیت کا حامل معاملہ ہے‘‘۔قائداعظم مرحوم نے مزید فرمایا:’’جماعت اسلامی اور مسلم لیگ میں کوئی اختلاف یا تصادم نہیں ہے۔ جماعت اعلیٰ مقاصد کے لیے کام کر رہی ہے تو لیگ اس فوری حل طلب مسئلے کی طرف متوجہ ہے‘ جسے اگر حل نہ کیا جا سکا تو خود جماعت کا کام دشوار ہو جائے گا۔ (ہفت روزہ  Thinker‘ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۳ئ)

اسی مضمون میں ایک جگہ قمرالدین صاحب نے یہ بھی لکھا: ’’میں نے قائداعظم کو دعوت دی کہ لیگ اور جماعت مدغم ہو جائیں‘‘۔ اس مضمون کی اشاعت کے بعد‘ پروفیسرخورشیداحمد نے ۳۰ ایک سوال لکھ کر مولانا مودودی کو روانہ کیا‘ کہ وہ قمرصاحب کی مذکورہ بات کی وضاحت کریں۔ یہ سوال اور اس کا جواب آیندہ صفحات میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (یہ تحریر پہلی بار شائع ہو رہی ہے)

مولانا مودودی مرحوم و مغفور (۱۹۰۳ئ-۱۹۷۹ئ) ہمارے عہد کے وہ ممتاز فرزند ِ اسلام ہیں‘ جنھوں نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے قابل قدر فریضہ انجام دیا۔ اس ضمن میں انھوں نے مسلمانوں کو ایمان و عمل کی شاہراہ پر گامزن کرنے کی کوشش کی اور غیرمسلموں کے ذہنوں سے ان غلط فہمیوں کو دُور کرنے کا اہتمام کیا‘ جن کے باعث وہ اسلام کے بارے میں مخالفانہ پروپیگنڈے سے متاثر ہوچکے تھے۔

مولانا مودودیؒ کی مجموعی خدمات پر نظرڈالیں تو میرے خیال میں ان کے بہت سے کارناموں میں حسب ذیل پہلو بنیادی اہمیت کے حامل ہیں:

  اسلام پر تشدد پسندی کے الزام کا مولانا مودودیؒ نے جس ایمانی جرأت اور تقابلی و تجزیاتی مطالعے کے ذریعے الجہاد فی الاسلام کی صورت میں جواب دیا ہے‘ ان کا یہ استدلال آج کی صورت حال میں بھی پوری طرح متعلق‘ موثر اور قولِ فیصل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کتاب میں مولانا مودودیؒ نے ایک جانب ہندو مہاسبھائیوں کی یلغار کے پس پردہ محرکات کا خاکہ پیش کیا‘ دوسری جانب مغربی استعمار کے ذہن میں موجود توسیع پسندانہ عزائم کی سیاسی و مذہبی بنیادوں کو بے نقاب کیا‘ تیسری جانب مسلمانوں میں موجود ذہنی شکست خوردگی کو دُور کرنے کے لیے انھیں غیرنسلی اور درحقیقت عقلی سطح پر دعوتِ غوروفکر دی۔ اس مقصد کے لیے مولانا نے کسی جذباتی اپیل کا سہارا نہیں لیا۔ اسی لیے مولانا مودودیؒ کا یہ اسلوب‘ اپنی انفرادیت اور افادیت کے اعتبار سے ہمیشہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

  مولانا مودودیؒ کی دعوت کے اولین مخاطب مسلمان تھے۔ وہ مسلمان‘ جنھیں آبائی سطح پر تو ایمانی دولت نصیب ہو چکی تھی‘ لیکن اس دولت کی قدر وقیمت اور نعمت کے تقاضوں کا احساس ان میں بڑی حد تک ناپید تھا۔ عموماً مسلم دنیا میں یہی سمجھا جاتا تھا کہ عبادات میں کچھ باقاعدگی پیدا کرنے کی کوشش سے اور دینی امور سے وابستہ چند تہواروں یا تقریبوں کا اہتمام کرلینے سے تقاضاے ایمان پورا ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس مولانا مودودیؒ نے دین اسلام کے آفاقی تصور کو پیش کرتے ہوئے بڑی وضاحت سے نشان دہی کی کہ دین اسلام اور اسلامی دین داری کو کسی خاص طبقے کی اجارہ داری (priesthood) سے منسوب کرنے کی اسلام میں کوئی گنجایش موجود نہیں ہے۔ یوں انھوں نے اسلام کے چشمہ ٔ صافی تک پہنچنے کی راہ میں حائل پیشوائیت اور پاپائیت کو مسترد کرتے ہوئے برملا کہا‘ کہ فہم دین اور دین داری کا تعلق کسی بھی خاص طبقے یا نسل سے نہیں ‘ بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا تعلق تقویٰ سے ہے۔ اس طرح انھوں نے تمام مسلمانوں کو اسلام کا علم حاصل کرنے‘ اس پرعمل کرنے اور دوسروں تک اسے پہنچانے کا عظیم الشان کام سمجھایا‘ اور ایمان‘ عمل‘ جستجو کے سیدھے راستے پر چلنے کا راستہ دکھایا۔

اس میدان میں مولانا مودودیؒ کے دو ٹوک لہجے اور منفرد پیغام نے انھیں زندگی بھر اپنوں اور دوسروں کے عتاب کا نشانہ بنائے رکھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس یلغار میں اسلام سے منسوب اور اسلام کے مخالف دونوں حلقوں کے موثر طبقوں نے مشترکہ طور پر مولانا مودودیؒ کی مزاحمت کی۔ مگر وہ اسلام کے اس پیغام کی وضاحت اور عمل کی دعوت کو پیش کرنے سے سرمو پیچھے نہ ہٹے۔ ان کی یہ جرأت گفتار اور دعوتِ پیہم انھیں بلند مرتبہ عطا کرتی ہے۔

  مولانا مودودیؒ کی جانب سے خدمت ِاسلام کا تیسرا دائرہ عمل یہ ہے کہ وہ روزِ اول سے مکالمے (dialogue) اور استدلال کے طرف دار اور جدوجہد میں آئین و ضابطے کی پابندی کے قائل اور تائید کنندہ رہے۔ جس زمانے میں مولانا مودودیؒ نے دعوت وتنظیم کا کام شروع کیا اور اس پیغام کو اسلامی انقلاب کے عنوان سے پیش کیا‘ یہ وہ زمانہ تھا جب انقلاب (revolution) کا مطلب کلّی تخریب تھا اور مخالف ِ انقلاب عناصر کے قتلِ عام کو بالکل جائز قرار دیا جاتا تھا۔ پھر لفظ انقلاب کو استعمال کرنے والوں کی جانب سے محکوم قوموں کے لیے نجات کا واحد راستہ یہی تجویز کیا جاتا تھا کہ استعمار کے مسلط کردہ ڈھانچے سے چھٹکارا پانے کا واحد راستہ تشدد ہے۔ تاہم‘ برعظیم جنوب مشرقی ایشیا میں مسلمانوں کے عظیم رہنما قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے آئینی جدوجہد ہی سے آزادی حاصل کی‘ اور علما میں مولانا مودودیؒ نے اسی راستے کو درست قرار دیا۔

ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی و قومی یا انقلابی جدوجہد میں کمیونسٹوں‘ اور قوم پرستوں کی طرح انسانی جان کو انقلاب کا ایندھن بنانے جیسے عمل کی مولانا مودودیؒ نے کھل کر مذمت کی اور اسلامی انقلاب کی پوری جدوجہد‘ سوچ اور عمل کو خداترسی‘ احترامِ آدمیت‘ تقویٰ‘ عدل اور افہام و تفہیم کے پیمانوں کا پابند بنا دیا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک موثر نظام تنظیم قائم کرکے فیصلے‘ نگرانی اور کاوش کو ایک ضابطہء کار کا پابند بنا دیا۔ مولانا مودودیؒ نے اسلامی انقلابی جدوجہد کے لیے کسی بھی قسم کی زیرزمین سرگرمیوں کو قطعی طور پر خارج از امکان قرار دیا‘ محلاتی سازشوںکا حصہ دار بننے سے اجتناب کرنے پر زور دیا‘ اور تشدد پسندی کے ہر رنگ اور ہر روپ کی کھل کر مخالفت کی۔ میرے نزدیک دینی طبقے میں سے جس فرد نے اس توازن اور دانش کے ساتھ  زندگی بھر جدوجہد کی اس کا نام مولانا مودودیؒ ہے۔

  مولانا مودودیؒ کی چوتھی خوبی یہ ہے کہ وہ زندگی بھر انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل رہے۔ مزید یہ کہ آئین‘ قانون اور ضابطوں کے احترام اور ان کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت مستعد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد پاکستان میں دستور ساز اسمبلی ہی سے رجوع کیا‘ اور قرارداد مقاصد کی منظوری کے لیے ایک پہلو سے بنیادی کردار ادا کیا۔

اس ضرورت کے پورا ہونے کے بعد انھوں نے تعمیری قوتوں اور مختلف مکاتب فکر کے جیّد علماے کرام کو دستور سازی کے بنیادی کام کے لیے مجتمع ہوکر اپنا حصہ ادا کرنے کی بھرپور   سعی کی۔ اس کٹھن ذمہ داری کی ادایگی کے لیے انھیں اپنے تحقیق و تصنیف کے قیمتی اوقات کی قربانی دینا پڑی اور قیدوبند کی آزمایشوں سے بھی دوچار ہونا پڑا۔ لیکن انھوں نے آئین‘ آئینی اداروں‘ عدلیہ اور قانون پسندی کے راستے سے انحراف نہیں کیا۔ یہی نہیں بلکہ مولانا مودودیؒ نے اپنے رفقاے کار اور قافلے میں شریک پُرجوش نوجوانوں کو بھی بہ تکرار اسی قانون پسندی کی تلقین کی۔

مولانا مودودیؒ کا یہ وژن (vision) ہر اعتبار سے قابلِ ذکر بھی ہے اور قابلِ احترام بھی۔ آج مسلم اُمہ پر چھائے ہوئے سیاہ بادلوں کو نگاہ میں رکھیں تو سمجھ میں آئے گا کہ یہی وہ راستہ ہے کہ جس میں آگے بڑھنے کا امکان پایا جاتا ہے۔ اسی راستے میں کم سے کم جانی قربانی دے کر زیادہ سے زیادہ افراد کو ہم قدم اور ہم نوا بنایا جا سکتا ہے۔

ان چار نکات کی روشنی میں‘ میرے نزدیک مولانا مودودیؒ درحقیقت عہدِحاضر میں مسلمانوں کو ایک چراغِ راہ دکھاتے نظر آتے ہیں۔ ایسا چراغ کہ جس کی روشنی میں ایمان‘ عمل‘ خودداری‘ بصیرت‘ جدوجہد‘ شعور اور عدل کی راہیں صاف طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

سیدابوالاعلیٰ مودودی بلاشبہہ ایک بہت بڑے انسان تھے‘ جنھوں نے اپنی زندگی میں لاکھوں لوگوں کو اپنے افکار و خیالات سے اس حد تک متاثر کیا کہ اُن کی سوچ ہی نہیں‘ اُن کی زندگیاں بدل ڈالیں۔ وہ اپنی وفات کے بعد بھی بہت سے زندہ لوگوں کی بہ نسبت کہیں زیادہ  موثر ہیں۔ اُن کے قلم سے نکلی ہوئی تحریروں سے آج بھی بے شمار لوگ اسلام کے بارے میں رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔ میں نے اپنی ۷۲ سالہ زندگی میں ابتدائی ۱۲ سال چھوڑ کر بقیہ ساٹھ سال میں مولانا مودودیؒ کو اپنے آس پاس اور ارد گرد موجود و متحرک محسوس کیا ہے اور تمام تر نظریاتی اور سیاسی اختلافات کے باوجود اُنھیں اعلیٰ پایے کا ادیب اور صاحب ِ بصیرت عالم پایا ہے۔

مجھے تقریباً ۳۰ سال کی عمر میں احساس ہوا کہ گو میں نے لائبریریاں پڑھ ڈالی ہوں لیکن خدا کی کتاب قرآن عظیم پڑھنے کا حق ادا نہیں کیا۔ ۱۹۵۲ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے اقتصادیات میں ایم اے کرنے کے بعد میں نے لارنس کالج گھوڑا گلی میں پڑھایا تھا اور پھر ایک مختصر وقفے سے دوبارہ گورنمنٹ کالج میں داخلہ لے کر دو سال فلسفے کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی تھی۔ میں ۱۹۶۱ء میں برعظیم کے ایک معروف اشاعتی ادارے‘ مکتبہ جدید کا سربراہ تھا اور ایک معتبر ادبی جریدے سویرا اور ایک مقبول عام ہفت روزہ نصرت کا مدیر تھا۔ میں نے لاہور کے دو مشہور اہل علم و فضل کی خدمت میں یکے بعد دیگرے حاضر ہوکر گزارش کی کہ مجھے قرآن پڑھا دیں۔ اُن کی خصوصی توجہ کے عوض میں نے ان صاحبوں کو پیشکش کی کہ میں ان کے گھر میں نوکر کی حیثیت سے کام کرنے کو بھی تیار ہوں۔ لیکن خدا کی مرضی کہ ان میں سے ایک بھی رضامند نہ ہوا اور یہ منزل بہرحال مجھے اکیلے ہی سر کرنی پڑی۔ میں نے لاہور سے کوچ کر کے ۱۹۶۱ء سے ۱۹۶۳ء کا عرصہ کوئٹہ کے ایک گھر میں دنیا کی نظروں سے چھپ کر قرآن پڑھا۔ بُری بھلی جتنی عربی کالج میں اور پھر مرحوم محی الدین سلفی سے سیکھی تھی اس موقع پر بہت کام آئی۔ انگریزی اور اردو کے بیشتر تراجم اور سرسید سے مولانا مودودی تک کی تمام تفسیروں کی مدد سے ہر روز ایک رکوع کے حساب سے میں نے دو مرتبہ قرآن کا دور مکمل کیا۔ قرآن کا جو مفہوم مجھ پر وارد ہوا وہ مختصراً یہ تھا کہ کائنات کے خالق و مالک خدا کو اپنے لیے کچھ نہیں چاہیے‘ وہ اپنے بندے سے صرف یہ چاہتا ہے کہ وہ اُس کے ضرورت مند بندوں کے کام آئے۔ اس اعتبار سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری سیاست کی بنیاد قرآن عظیم اور دین اسلام ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ قرآن اور اسلام کو سمجھنے میں مجھے مودودی صاحب سے بہت روشنی ملی۔

لڑکپن میں مجھے تاج کمپنی کی طرف سے شائع کردہ مولانا مودودی کی کوئی درجن بھر مختصر لیکن جامع کتابیں پڑھنے کا موقع ملا تھا۔۱؎ ان کتابوں نے میرے اندر دین سے محبت اور اس کی سرفرازی کے لیے جاں فشانی سے لے کر جان فروشی تک پر تیار رہنے کا جذبہ پیدا کردیا۔ بعد میں قیامِ پاکستان کے وقت میری تمام تر ہمدردیاں قائداعظم کی مسلم لیگ سے ہوگئیں اور روزنامہ نواے وقت میں حمید نظامی مرحوم کے اداریوں نے مجھے مولانا مودودی سے بدگمان کردیا۔ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ اسلام کے احیا کی شدید لگن رکھنے والے مولانا مودودی پاکستان کے قیام کی تحریک کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں۔ پاکستان کی تحریک کا اسلام سے تعلق تھا یا نہیں‘ مسلمانوں سے تو تعلق تھا۔ یہ ان کی قومی تحریک تھی۔ مسلمان قوم مستحکم ہوتی ہے تو اس سے اسلام بھی مستحکم ہوتا ہے۔ مجھے آج بھی افسوس ہے کہ مولانا مودودی کے موقف کے باعث تحریکِ پاکستان ان بے شمار نیک اور لائق کارکنوں سے محروم ہو گئی جو آپ سے متاثر تھے۔ اگر یہ لوگ قومی تحریک میں شامل ہوتے تو قائداعظم کوشاید یہ کہنے کی ضرورت پیش نہ آتی کہ ان کی جیب میں کھوٹے سکّے ہیں۔ اگر مولانا کے اسلامی افکار سے متاثر کارکن تحریکِ پاکستان کے اندر شامل ہوتے تو ابتدائی سالوں ہی میں پاکستان پایدار اخلاقی بنیادوں پر قائم ہوجاتا اور رشوت اور بدعنوانی کا وہ بازار جو مسلم لیگ کے کھوٹے سکّوں نے گرم کر دیا تھا اس کی جگہ دیانت داری اور ذمہ داری کا دور دورہ ہو جاتا۔

اس دوران میری واقفیت طلوع اسلام کے حوالے سے غلام احمد پرویز مرحوم کے افکار و خیالات سے ہوئی۔ پھر جوں جوں میں پرویز صاحب سے قریب ہوتا گیا۔ میں مودودی صاحب سے دُور ہوتا چلا گیا۔ لیکن جب میں نے قرآن پاک کے مطالعے پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر دی تو مولانا کی یہ خوبی واضح طور پر میری سمجھ میں آئی کہ وہ مشکل سے مشکل مضامین کو سلیس اور عام فہم انداز سے پیش کرتے ہیں اور جتنا صاف اور آسان وہ لکھتے ہیں اسلام کے بارے میں لکھنے والے ایسے بہت کم لوگ ہیں۔ میں نے پرویز صاحب کے علاوہ مولانا ابوالکلام آزاد کو بھی غور سے پڑھا ہے لیکن ان حضرات کی زبان اتنی معرب اور مفرس ہے کہ پڑھنے والا مرعوب زیادہ اور متاثر کم ہوتا ہے۔ ان کے برعکس میں نے مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کے بارے میں محسوس کیا کہ بلندیِ خیال کو قربان کیے بغیر یہ تفسیر مشکل ترین مقامات کو سلاست اور روانی کے ساتھ طے کر جاتی ہے۔ یہ کام وہی مفسرکرسکتا ہے جسے قرآن نے اپنے اندر اترنے کا شرف عطاکیا ہو۔ تفہیم القرآن پڑھتے ہوئے صاف پتا چلتا ہے کہ لکھنے والا جانتا ہے کہ وہ کیا لکھ رہا ہے۔ آپ اُس سے اختلاف تو کرسکتے ہیں لیکن یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ جناب آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ ہمارے یہاں ایسے ادیبوں اور سیاست دانوں کی کمی نہیں جو کچھ نہ کہنے کے لیے لکھتے اور تقریریں کرتے ہیں۔

میں نے تفہیم القرآن کے علاوہ مولانا مرحوم کی دیگر تصانیف کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ جس طرح وہ خود امام ابن تیمیہؒسے متاثر ہیں۔ میں طبعی اور ذوقی اعتبار سے حضرت ابوذر غفاریؓ اور امام ابن حزمؒ سے متاثر ہوں۔ چنانچہ میں سماجی انصاف (social justice) کے معاملے  میں کچھ زیادہ ہی مساوات پسند واقع ہوا ہوں۔ زمین کی ملکیت کے ضمن میں مولانا مرحوم سے میرا اختلاف رہا۔ میں قرآن کے اعلان کے مطابق زمین کو اللہ کی ملکیت (الارض للّٰہ) سمجھتا ہوں اور اس پر افراد کی لامحدود ملکیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اقبالؒ نے بھی تو کہا تھا    ؎

دہ خدایا یہ زمیں تیری نہیں‘ تیری نہیں

تیرے آبا کی نہیں‘ تیری نہیں‘ میری نہیں

مودودی صاحب سے میرا یہ اختلاف اس وقت کھل کر سامنے آیا جب پاکستان پیپلز پارٹی قائم ہوئی اور میرے زیرادارت شائع ہونے والے ہفت روزہ نصرت اور پھر روزنامہ مساوات میں جماعت اسلامی کے ساتھ چپقلش چلتی رہی۔

زمانہ کب ایک سا رہتا ہے۔ پاکستان دولخت ہوگیا۔ بچے کھچے پاکستان میں پیپلز پارٹی برسرِاقتدار آگئی۔ ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم بن گئے۔ میں پنجاب کا وزیراعلیٰ مقرر ہوا۔ میں تو ایک سوچ کے تحت سیاست میں شامل ہوا تھا ۔ابتداً بھٹو مرحوم نئی جماعت نہیں بنانا چاہتے تھے۔ میں نے اور میرے جیسے کچھ لوگوں ہی نے انھیں اس پر آمادہ کیا تھا۔ میں پنجاب میں پہلا شخص تھا جس نے ۱۹۶۶ء میں اُن سے اقتدار سے الگ کیے جانے کے بعد مل کر الاشتراکیۃ الاسلامیہ کے حوالے سے ایک نئی جماعت بنانے کے لیے کہا تھا۔ اس وقت مصر میں صدرناصر کا انقلاب آچکا تھا اور اسلامی سوشلزم کے فلسفے کا عالمِ عرب میں بڑا چرچا تھا۔ یہی فلسفہ اقبال‘ قائداعظم اور لیاقت علی خان کے افکار میں بھی نمایاں تھا۔ پھر میرے ہفت روزہ نصرت نے نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین مسٹراے-کے سومار اور میرے درمیان اسلامی سوشلزم کے موضوع پر ہونے والی ملک گیر بحث پر ایک خصوصی شمارہ بھی شائع کر رکھا تھا۔ اگرچہ پیپلز پارٹی نے ’’اسلام ہمارا دین ہے‘‘ اور ’’سوشلزم ہماری معیشت ہے‘‘ کے دو الگ الگ نعرے دیے تھے‘ لیکن میری سوچ اور عوامی دبائو کے تحت یہ دونوں نعرے ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کی ایک اصطلاح میں ڈھل گئے تھے۔ جب اقتدار آیا تو میری اور میرے جیسے دوسرے نظریاتی کارکنوں کی خواہش اور کوشش تھی کہ اب حسب وعدہ جاگیرداری اور اس کے تمام تر لوازمات کا خاتمہ کیا جائے۔ بھٹوصاحب نے ابتدا میں زرعی اصلاحات کے ذریعے سے اس سلسلے میں ایک اہم قدم ضرور اٹھایا‘ لیکن بعد میں خصوصاً ۱۹۷۷ء کے انتخابات کے آس پاس جاگیرداروں کو پارٹی میں نمایاں جگہ دینی شروع کر دی۔ اس پر میرے اور ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور انھوں نے مجھے جیل میں ڈال دیا۔

میں ۱۶ مہینے (مارچ ۱۹۷۴ء سے جولائی ۱۹۷۵ئ) وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھا اور پھر  ]بھٹو صاحب کی وزارت عظمیٰ کے زمانے میں[ ۱۶ مہینے ہی میں نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے کاٹے۔ یہ وہ دور ہے (مارچ ۱۹۷۶ئ-جولائی ۱۹۷۷ئ) جب مولانا مودودیؒ سے میرا ایک اور تعارف ہوا۔ شروع شروع میں جیل کے اندر مجھے سوائے قرآن پاک کے کوئی اور کتاب پڑھنے کو نہیں دی جاتی تھی۔ بعد میں بڑی مشکل سے مولانا محمد علی کا انگریزی ترجمہ و تفسیر اور مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کی اجازت ملی۔ تب ایک مرتبہ پھر میرے دل میں مولانا صاحب کے لیے قدرو منزلت پیدا ہوئی۔ گو اب بھی چند معاملات پر ان سے ذہنی اختلاف تھا‘ لیکن انھوں نے اسلام کے پیغام کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ ایک پوری نوجوان نسل کو اسلام کے خدمت گاروں کی شکل دینے میں جو مشقت اٹھائی تھی‘ مجھے اس کی اہمیت اور معنویت کا اندازہ ہوا۔ تفہیم القرآن کے دوبارہ مطالعے سے جو بات سب سے زیادہ میرے دل پر نقش ہوئی وہ یہ تھی کہ جب تک سیاست کی بنیاد دینی اخلاقیات پر قائم نہ ہوگی‘ اس سے خلق خدا کو کوئی فائدہ نہ پہنچ سکے گا۔

جب ۸ جولائی ۱۹۷۷ء کو لاہور ہائی کورٹ نے میری رہائی کا حکم دیا تو کچھ دنوں کے بعد میں مولانا مودودی سے ملنے اچھرہ‘ لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر گیا۔ یہ زندگی میں میری ان سے پہلی اور آخری ملاقات تھی۔ میں نے ان سے دو گزارشات کیں۔ ایک نظریاتی اور ایک ذاتی۔ نظریاتی سطح پر میں نے عرض کی کہ جماعت اسلامی خود اپنے منشور میں‘ اور جس حد تک اس کا پی این اے ]پاکستان نیشنل الاینس‘ پاکستان قومی اتحاد[ پر زور چلتا ہے اس کے مطابق اس کے منشور میں اسلام کے عطا کردہ حقوق العباد اور عدل و احسان کے قرآنی احکامات کو شامل کرے اور کرائے۔ ذاتی سطح پر میں نے ان سے مشورہ مانگا کہ مجھے ایک انسان اور مسلمان ہونے کے ناتے کیا کرنا چاہیے۔ اس وقت میں متحدہ مسلم لیگ کا چیف آرگنائزر اور اس کی منشور کمیٹی کا چیئرمین تھا۔ مولانا مودودی نے فرمایا: ’’آپ مسلم لیگ ہی میں کام کریں جو ایک بہت بڑی جماعت ہے۔ آپ اپنی سوچ کو وہاں رہ کر بہتر طور پر عمل میں لاسکتے ہیں‘‘۔ مولانا نے مجھے یہ نہیں کہا کہ آپ جماعت اسلامی میں شامل ہو جائیں ‘ بلکہ یہ کہا کہ آپ مسلم لیگ ہی میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

میں نے اس ملاقات کے دوران یہ بات خاص طور پر نوٹ کی کہ آپ کا طرزِ زندگی نہایت سادہ تھا۔ آپ ایک چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ بات میں نے اقبال کے بارے میں بھی سنی ہوئی تھی کہ وہ ایک چارپائی پر بیٹھتے تھے اور ان کی زندگی بہت سادہ تھی۔ تقریباً یہی نقشہ میں نے مولانا مودودی کے ہاں دیکھا۔

میں نے ۱۹۶۱ء میں  نصرت کے ایک اداریے میں لکھا تھا کہ ’’اردو کی جتنی خدمت ابوالاعلیٰ مودودی نے کی وہ بابائے اُردو مولوی عبدالحق نے بھی نہیں کی‘‘۔ مولانا مودودیؒ کو دنیاے علم و دین میں ایک ایسا مقام حاصل ہوا کہ ان کی تحریروں کا مطالعہ لازمی امر بن گیا۔ اس لحاظ سے مولانا نے اسلام کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی پوری دنیا میں پہنچایا۔

مولانا مرحوم کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کے حوالے سے ایک ایسی جماعت بنائی جو کبھی فرقہ واریت کا شکار نہیں ہوئی۔ اہل سنت اور اہل حدیث کی الگ الگ  سیاسی جماعتیں ہیں۔ یہی حال دیوبندیوں‘ بریلویوں اور شیعوں کا ہے۔ لیکن جماعت اسلامی میں فرقہ بندی نہیں۔ یہ مودودی صاحب کی معتدل سوچ کا نتیجہ ہے کہ انھوں نے ایک ہمہ گیر اسلامی جماعت بنائی‘ جس میں مختلف مذاہب اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں‘ جب کہ اسلام کے نام پر بننے والی دوسری تمام جماعتیں خالصتاًفرقہ وارانہ ہیں۔

مولانا مودودی مرحوم کی معتدل سوچ کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ ۱۹۷۳ء کے دستور کی تیاری اور منظوری کے اہم دور میں تمام تر اختلافات کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے ملاقات پر راضی ہوگئے اور جماعت اسلامی نے اس اسلامی جمہوری اور وفاقی دستور کو متفقہ طور پر منظور کرنے میں گراں قدر حصہ لیا۔

  • مولانا عبدالرحمن اشرفی

مولانا مودودیؒ کی تحریروں نے جدید تعلیمی اداروں میں ماحول کو پاکیزہ کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ ایک وقت تھا کہ تعلیمی اداروں میں لوگ چھپ چھپ کر نماز پڑھتے تھے‘ مگر مولانا مودودیؒ کی کتابیں پڑھ کر لوگوں میں یہ جرأت پیدا ہوئی کہ وہ کھل کر تعلیمی اداروں میں نماز پڑھنے  لگ گئے اور نماز نہ پڑھنے والے شرمندہ ہونا شروع ہو گئے۔

رموز تصوف کے حوالے سے مولانا مودودیؒ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ وہ آج کل کے صوفیا کے تو خلاف تھے۔ اس تصوف کے تو مولانا اشرف علی تھانویؒ بھی مخالف تھے‘ شاید مروجہ تصوف کے بریلوی بھی قائل نہیں ہیں۔ لیکن صحیح تصوف کے مولانا مودودیؒ قائل تھے۔ تصوف تو حدیث پر عمل کرنے کا  نام ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ کبر‘ کینہ‘ غرور‘ بغض اور حسد نہیں ہونا چاہے۔ یہ سب دل کے امراض ہیں‘ ان چیزوں سے دل کو پاک ہونا چاہیے۔ اور دل کو امراض سے پاک کرنا ہی اصل تصوف ہے۔  یہ تصوف تو حدیث میں بھی آتا ہے‘ اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔ قرآن میں آتا ہے:  قَد اَفلَحَ مَنْ زَکّٰھَا (یقینا فلاح پا گیا‘ وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا) نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و سلم کے بارے میں کہا کہ تمھیں کتاب اﷲ کی دعوت بھی دیتا اور تمھارے دل کا تزکیہ بھی کرتا ہے۔ لہٰذا کفر بھی نہ ہو‘ حسد بھی نہ ہو‘ کدورتیں بھی نہ ہوں‘ کینے اور عداوتیں بھی نہ ہوں تو اس قسم کے تصوف سے وہ انکار نہیں کرتے  تھے۔ البتہ جو جدید تصوف ہے اسے وہ صحیح نہیں سمجھتے تھے‘ آج کل کے صوفیا بڑے بڑے محلات میں رہتے ہیں اور وزیروں مشیروں سے بھی زیادہ پُر تعیش زندگی گزار رہے ہیں تو ان صوفیا کو کوئی بھی    عالمِ دین قبول نہیں کر سکتا اور ایسے تصوف کے مولانا مووددیؒ بھی خلاف تھے۔

مولانا مودودیؒ بہت بڑے عالم دین تھے‘ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو بڑا عالم دین نہیں کہتے تھے۔ ایک معاملے میں‘ میں نے مولانا سے کہا : ’’میرا خیال ہے کہ تفہیم القرآن میں فلاں جگہ پر الفاظ درست استعمال نہیں کیے گئے‘ اگر انھیں تبدیل کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے‘‘۔ انھوں نے بعد میں وہ الفاظ میرے کہنے پر تبدیل کر دیے۔ یہ ان کی اعلیٰ ظرفی کا ثبوت تھا۔

وہ اکثر جامعہ اشرفیہ میں آیا کرتے تھے‘ جمعۃ المبارک یہیں ادا کرتے‘ اس طرح میری ان سے بڑی ملاقاتیں ہوتیں‘ میں نے انھیں بہت حلیم‘ مدبّر اور مفکر پایا۔

  •  جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال

مولانا مودودی سے میری باقاعدہ ملاقات ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں ہوئی‘ جب میں‘ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے مقابلے میں لاہورسے قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے مسلم لیگ کا امیدوار تھا۔ انتخابات کے سلسلے میں‘ مولانا مودودی سے ملنے گیا‘ تاکہ ان سے جماعت اسلامی کے حلقے کے ووٹوں کے لیے گزارش کروں۔ میرے ساتھ آغا شورش کاشمیری مرحوم بھی تھے۔ مولانا نے شفقت کرتے ہوئے ہم سے بڑا تعاون فرمایا۔ اسی حلقے سے نواب زادہ نصراللہ خان صاحب کی پاکستان جمہوری پارٹی کے جنرل سرفراز خان بھی کھڑے تھے۔ ہم نے مولانا سے کہا کہ وہ انھیں بٹھانے کے لیے نواب زادہ صاحب کو کہیں‘ اور مولانا نے انھیں فون کیا۔ لیکن نواب زادہ صاحب نے کہا کہ میرا کوئی اختیار نہیں۔ تاہم میں انتخابات میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کے بعد مولانا جب بھی ملتے بڑی شفقت اور محبت سے ملتے۔

مولانا مودودی کے علامہ اقبال سے بہت اچھے تعلقات تھے‘ پاکستان کے وجود میں آنے سے پیشتر علامہ اقبال نے چند علما کو موجودہ پاکستان کے علاقے میں بلانے کی کوششیں کیں‘ اسی سلسلے میں انھوں نے مولانا مودودی سے بھی رابطہ کیا‘ جو ان دنوں حیدر آباد‘ دکن میں رہائش پذیر  تھے۔ علامہ نے مولانا کو خط لکھا کہ پنجاب میں ان کی ضرورت ہے اور اپنی خواہش کا اظہار بھی کیا کہ یہاں کوئی ایسا تعلیمی‘ تربیتی اور تحقیقی مدرسہ قائم کیا جائے‘ جہاں روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید علوم کی تعلیم دی جائے۔ اقبال اس خط و کتابت کے دوران مولانا کو اس طرف ترغیب بھی دیتے تھے۔ بہرحال دونوں اصحاب نے ملاقات کر کے ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھ لیا۔ چودھری نیاز علی خاں صاحب نے پٹھان کوٹ میں اس مقصد کے لیے زمین دے دی۔ پھر مولانا مودودی‘ اقبال سے ملنے کے لیے حیدر آباد سے لاہور آئے۔ اس سلسلے میں آخرکار یہ طے پایا کہ جامعۃالازہر (مصر) کے مصطفیٰ المراغی (ریکٹر) کو خط لکھا جائے‘ کہ ہمیں ایسے علما چاہییں‘ جو فقہ اور دیگر تمام اسلامی علوم جانتے ہوں‘ کم از کم ایک عربی کا ماہر استاد ضرور بھیجیں۔ لیکن المراغی نے کہا کہ اس قسم کی شخصیت نہیں ہے۔ یہ واقعات علامہ اقبال کی زندگی کے آخری ایام کے ہیں۔ بہرحال اقبال کی نظر مولانا مودودی پر جا پڑی۔ مولانا نے ۱۹۳۷ء کے آخری دنوں میں علامہ اقبال سے تین ملاقاتیں کیں اور ادارے کے بارے میں تفصیلات طے کیں۔ پھر مولانا حیدر آباد سے شفٹ ہو کر پٹھان کوٹ آ گئے۔ اس زمانے میں علامہ کے سیکرٹری سید نذیر نیازی نے مولانا کو خط لکھا کہ آپ علامہ اقبال سے جلد مل لیں‘ شاید ان کے جانے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔ مگر دوسرے روز علامہ کا انتقال ہو گیا ]یہ ساری تفصیل اقبال کی سوانح عمری زندہ رود از ڈاکٹر جاوید اقبال میں درج ہے[۔ تاہم مولانا نے تن تنہا اپنا کام شروع کر دیا۔ علامہ اقبال کے مجوزہ ادارے کا نام دارالاسلام رکھا گیا۔

میرا خیال ہے کہ مولانا مودودی اگر صرف علمی رہبری کرتے رہتے تو معاشرے میں ان کی علمی رہبری کی زیادہ اہمیت اور وزن ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بہت سی ایسی خصوصیات عطا کی تھیں کہ وہ ہمارے لیے ایک بلند پایہ علمی دبستان قائم کر سکتے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ علامہ اقبال اور مولانا مودودی دو ہی فکری شخصیات تھیں۔ مولانا مودودی نے بلاشبہہ فکری رہنمائی بھی کی ہے‘ مگر سیاست میں ان کا آنا میرے خیال میں کیچڑ میں ملوث ہونے کے مترادف تھا۔ علامہ اقبال نے بھی بڑی سیاست کی‘ جب قائداعظم یہاں نہیں تھے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مولانا مودودی نے جتنا قیمتی وقت سیاست میں دیا‘ اگر اتنا ہی وقت وہ علم کو پروان چڑھانے اور قوم کو فکری رہنمائی دینے میں صرف کرتے تو آج پاکستان کے قومی معاشرے کی درست نہج پر یہ عمارت تعمیر ہو چکی ہوتی۔

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں علمیت کی کمی ہے تو وہ صرف مولانا مودودی کے جماعت اسلامی کو سیاسی جماعت بنانے کی وجہ سے ہے۔ اس طرح متنازعہ فیہ بننے سے ان کا علمی و فکری کام بھی متاثر ہوا ہے۔ جبکہ نئی نسل کی رہنمائی کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس سے کہیں زیادہ اور کام کرتے۔

جمہوری جدوجہد‘ کالے قوانین کی منسوخی‘آئین کی پاسداری‘ فی الواقع اتحاد اُمت کے لیے کوششیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مولانا مودودی کا کردار ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اسی طرح ہمارے روایت پرست اور جمود زدہ معاشرے میں عورت کے حقوق اور کردار پر مولانا مودودی کا   نقطۂ نظر بھی درست اور اسلامی منشا کے مطابق تھا‘ مگر حد یہ ہے کہ یہاں کسی کو کوئی حق ہی نہیں دیا جاتا۔ تفہیم القرآن کی علمی ثقاہت اور شاہکار حیثیت کے باوجود تفہیم القرآن میں‘ میں اور بھی بہت کچھ دیکھنے کی توقع رکھتا تھا‘ کہ جس میں جدید اور قدیم نظریاتی مباحث ہوتے‘ اجماع کی اہمیت واضح کی جاتی‘ قرآنی احکام کی تجدید اور توسیع کی جاتی۔

مولانا نے بلاشبہہ اپنے زمانے کے مطابق ایک لحاظ سے درست تفسیر بیان کی تھی‘ لیکن اب حالات بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اگر وہ اپنی تفسیر میں اس بات کو بیان کرتے کہ کیا اجماع کسی قرآنی حکم کو منسوخ کر سکتا ہے؟ تو یہ ان کا بہت بڑا contribution ] کارنامہ[ ہوتا۔ لیکن مولانا اس سمت میں بہت زیادہ کام نہیں کر سکے۔ ہاں! اگر وہ آج زندہ ہوتے تو اپنے نقطہ نظر میں ضرور گنجایش پیدا کرتے۔ مثال کے طور پر آج عملاً لونڈیوں‘ کنیزوں اور غلاموں کے پورے انسٹی ٹیوشن کے خلاف اجماع ہے۔ حالانکہ قرآن کریم میں اُن سے معاملہ کرنے کی باقاعدہ تفصیلات موجود ہیں۔ لہٰذا‘ یا تو ہم سمجھیں کہ وقت جام ہو گیا ہے اور اگر وقت جام نہیں ہوا‘ بلکہ دریا کی طرح بہہ رہا ہے تو اس حوالے سے قرآن کی تعبیر کی جا سکتی ہے۔ ہمیں قرآن کو نہیں بلکہ قرآنی تعبیر کووقت کے لحاظ سے بدلنا    پڑے گا۔ ابتدائی عہد میں متن کی حفاظت کے باوجود تعبیر کرتے وقت ترجیحات میں تبدیلی ہوتی رہی ہے۔

میں مولانا مودودی کا بہت نیازمند تھا۔ اللہ تعالیٰ انھیں زندگی دیتا تو میں مولانا کو اپنا استاد مانتا۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔

  • ڈاکٹر مبشر حسن

مولانا مودودیؒ سے زندگی میں فقط ایک ہی ملاقات ہوئی تھی اور وہ بھی ایک تقریب میں۔ اس تقریب میں بھی ہمارے درمیان اختلاف ہو گیا تھا اور یہ اختلاف نظریاتی اختلاف تھا۔ بلکہ نظریاتی حوالے سے میں ان کا سب سے بڑا مخالف تھا‘ اس لیے میں ان کے بارے میں‘ آج جب کہ وہ دنیا میں موجود نہیں رہے‘ کچھ نہیں کہوں گا۔

البتہ یہ بتا دیتا ہوں کہ میرے والد صاحب ]منور حسن مرحوم[ کے مولانا مودودیؒ سے مشفقانہ تعلقات تھے۔ مولانا مودودی ]حیدر آباد‘ دکن میں[ والد صاحب کے ادارے میں قرآن پاک کے ترجمے کی خدمات انجام دیتے رہے تھے۔ مجھے یہ بات تو معلوم نہیں کہ ان دونوں کے درمیان کوئی نظریاتی اختلاف تھا یانہیں‘ البتہ مجھے یہ بات ضرور یاد ہے کہ میرے والد صاحب نے اُن کے بارے میں یہ کہا تھا: ’’ایک دن یہ لڑکا بہت بڑا آدمی بنے گا‘‘۔

ہمارے خاندان میں میری ایک بہن اُن سے متاثر تھیں‘ اُنھوں نے مولانا مودودیؒ کا لٹریچر بھی پڑھ رکھا تھا اور وہ ان کے بارے میں بہت اچھے خیالات رکھتی تھیں۔ وہ بھی اﷲ کو پیاری ہو چکی ہیں۔ میرے چونکہ ان سے نظریاتی اختلافات تھے اس لیے میں نے کبھی اُن کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں ہے۔

  • ڈاکٹر وحید قریشی

مولانا مودودیؒ کو زندگی میں ایک بار دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ لیکن کبھی ملاقات نہ ہو سکی۔ البتہ میں نے مولانا کو پڑھا ضرور ہے۔ وہ اس عہد کے بہت بڑے عالم تھے۔ کسی فرد کو ان کے سیاسی نظریات سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن بطور عالم دین ان کا مرتبہ بہت اونچا ہے۔

مولانا مودودی جہاں بہت بڑے عالم دین تھے‘ وہاں وہ بہت بڑے ادیب بھی تھے‘ صاحب طرز ادیب! انھوں نے دینی موضوعات کو ادبی زبان میں پیش کیا اور اپنا مخاطب جدید نسل کو بنایا۔ انھوں نے جدید نسل کے مسائل کو اپنے مقالات اور کتابوں میں نہایت احسن انداز میں بیان کیا ہے۔

مولانا مودودی کی نثر اپنا ایک خاص انفرادی رنگ رکھتی ہے۔ مشکل مسائل کو سیدھے سادے انداز میں پیش کرنے کا جو ڈھنگ انھیں آتا ہے‘ اس سے ان کی نثر ایک عام قاری کو بھی اپنی طرف اسی شدت سے کھینچتی ہے‘ جس شدت سے ایک عالم کو۔ انھوں نے ہماری اُردو نثر کی روایت میں یہ انقلابی تبدیلی پیدا کی ہے کہ اسے دینی نثر کے عام اسلوب سے الگ کر کے عام پڑھنے والوں کے لیے ایک گونہ سہولت پیدا کر دی ہے۔ اُردو ادب میں دینی سرمائے کو بیان کرنے کے لیے جو عربی آمیز ڈھنگ اختیار کیا گیا‘ اس میں ایک خاص طرح کا مولویانہ رنگ نمایاں رہا ہے‘ لیکن اس کے برعکس مولانا مودودی کی نثر میں ایک ادبی شان پائی جاتی ہے۔ وہ بلاشبہہ اُردو کے ایک صاحب ِ طرز نثرنگار تھے۔

مولانا مودودی کے لٹریچر کے مطالعے کی وجہ سے پنجاب یونی ورسٹی میں میرے اوپر یہ الزام لگا کہ میں جماعت اسلامی کا آدمی ہوں۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے‘ کہ کچھ لوگوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ میں کمیونسٹ ہوں شاید اس لیے کہ میں نے کمیونزم کا مطالعہ بھی کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ پھر میں نے کمیونزم کے خلاف بہت کچھ لکھا بھی۔

فارسی اور اُردو ادب میں میری دل چسپی زیادہ رہی۔ اردو ادب کا خاصا وسیع مطالعہ کیا‘ بہت کچھ پڑھا‘ لیکن مولانا مودودیؒ کو بہت منفرد پایا۔ ان کا اسلوب انفرادیت رکھتا ہے۔ وہ نئی نسل کے مسائل کو سمجھ کر اور جدید علوم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لکھتے رہے۔ باقی علما کا اکنامکس اور پولٹیکل سائنس وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں تھا‘ لیکن مولانا مودودی نے قدیم و جدید علوم کو ملا کر معاشرے کو سمجھا اور پھر اس کے مطابق لکھا۔ یہ مولانا کی انفرادیت تھی۔ تفہیم القرآن مولانا کی سب سے اہم کتاب ہے۔

مولانا مودودی کی تحریروں میں اقبال کی فکر کے بہت سے پہلو نظر آتے ہیں۔ وہ فکرِ اقبال سے قریب تھے۔ اقبال اور مولانا کی فکر میں اس مناسبت کی وجہ سے مجھے مولانا کی تحریروں میں دلچسپی پیدا ہوئی‘ اور میرے لیے یہ نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئیں‘ کیونکہ کالج کے زمانے میں میرا جھکائو دہریت اور الحاد کی طرف ہو گیا تھا۔ پھر مولانا کی تحریروں کے باعث ہی مجھے ان سے چھٹکارا حاصل ہوا۔

مولانا مودودی نے جماعت اسلامی میں کردار سازی پر زور دیا اور بلاشبہہ انھوں نے   اپنی جماعت میں بہت سے صاحب کردار لوگ پیدا کیے تھے۔ اسی طرح قرارداد مقاصد کی منظوری اور علما کے ۲۲ نکات کی ترتیب میں مولانا مودودی کا اہم اور بنیادی کردار تھا۔ ۲۲ نکات کی تدوین‘ پاکستانی تاریخ میں وہ پہلا مرحلہ تھا‘ جب مختلف مسلک کے علما پہلی دفعہ کسی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور یہ سب مولانا مودودی کی وسعت نظر‘ دُور اندیشی اور منطقی و عملی ذہن کے باعث ہی ممکن ہوا۔

۴۹ - ۱۹۴۸ء میں جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کی مخالفت میں‘ حکومتی سرپرستی میں لٹریچر تیار کیا گیا۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی  جماعت اسلامی پر ایک نظر شیخ محمد اقبال کے نام سے شائع ہوئی تھی‘ لیکن یہ کتاب دراصل شیخ محمد اکرام ]مصنف:  رودِ کوثر[ نے لکھی تھی۔ البتہ شیخ محمداقبال ان کے چھوٹے بھائی تھے‘ جن کا تحقیق و ادب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ریاستی انتظام میں یہ کتاب پاکستان ٹائمز پریس نے شائع کی اور مفت تقسیم کی گئی۔ اسی مخالفانہ مہم کے تسلسل میں بعدازاں سرکاری سطح پر مولانا پر مختلف الزام لگائے گئے‘ لیکن وہ سب غلط تھے۔ مولانا بہت ہی زیرک انسان تھے‘ بہت بڑے مفکر اور بلند پایہ ادیب تھے۔ ایسے انسان تو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔

  • عبدالقادر حسن

زمانہ طالب علمی ہی میں مجھے مولانا مودودیؒ سے وابستگی کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس وقت تو اندازہ نہیں تھا کہ کتنی بڑی شخصیت سے ہمارا تعلق ہے‘ کیونکہ ان کے اٹھنے بیٹھنے‘ گفتگو‘ انداز اور رویہ میں کوئی تعلّی‘ فخر اور ایسا تصنع نہیں تھا‘ جس سے اندازہ ہو کہ کسی عالم فاضل کے پاس بیٹھے ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ اس طرح بے تکلفانہ گفتگو فرماتے تھے کہ ہمارے اندر اُن کا احترام مزید بڑھ جاتا تھا عقیدت اور محبت میں فراوانی آتی تھی۔ مولانا اپنے ملنے والے کے دل میں خود بخود ایک طرح کی محبت پیدا کرتے تھے۔ کیونکہ اُن کے خیالات اور تصورات اتنے واضح اور صاف ہوتے تھے کہ اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔

مولانا مودودیؒ کی شخصیت سے غیر مرئی قسم کی شعاعیں نکلتی تھیں‘ جو انسان کو کھینچ لیتی تھیں اور دل پر اثر کرتی تھیں۔ آخر تک میری اُن کے ساتھ عقیدت اور نیاز مندی رہی اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ مولانا کے بغیر زندگی کا تصور ہی مشکل ہو گیا۔ میں چونکہ صحافت کی دنیا کا مسافر تھا‘ اس لیے مولانا سے اس کے اسرار و رموز پر بات ہوتی رہتی تھی۔ مولانا خود کو ایک اخبار نویس کہتے تھے۔ایک دفعہ مولانا ایک فارم پُر کر رہے تھے‘ جس میں دیگر معلومات کے ساتھ ساتھ پیشے کے خانے میں انھوں نے اپنا پیشہ صحافت لکھا تو فارم پُر کروانے والے نے کہا: ’’آپ مصنف یا ادیب لکھیں‘‘ تو مولانا نے کہا: ’’پیشہ وہ ہوتا ہے جس سے آدمی روزی کماتا ہے تو میرا پیشہ صحافت ہے۔ ترجمان القرآن سے میں اپنا پیٹ پالتا ہوں‘‘۔

ایک بار نیلا گنبد مسجد میں جماعت اسلامی کے ایک پروگرام میں مولانا مودودی کا خطاب تھا۔ میں بھی اس پروگرام میں شریک تھا‘ جب مولانا باہر تشریف لانے لگے تو میں ان کاجوتا اٹھا کر اُن کے سامنے رکھنے لگا‘ مگر انھوں نے فوراً میرے ہاتھ سے پکڑ کر نیچے رکھ دیا۔ وہ ایسی پیری مریدی کے قائل نہیں تھے جس میں تصنع اور بناوٹ کا ذرا بھی شائبہ ہو۔ میں اُن کے اہل خانہ کے حوالے سے تو کچھ نہیں کہہ سکتا۔ تاہم اپنے علم اور مشاہدے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں‘ کہ سخت سے سخت تکلیف کے باوجود مولانا مودودی نے اپنے کسی رفیق‘ کسی کارکن اور کسی نیاز مند کو اس امر کی اجازت نہیںدی کہ وہ اُن کے پاؤں‘ کندھے‘ یا سر دبا سکے۔ احترام اور ہمدردی میں جب بھی کسی نے ہاتھ بڑھایا تو‘ انھوں نے ہمیشہ خوشگوار لہجے میں کہا: ’’بھائی‘ میں کسی سے نہیں دبتا‘‘ اور اس طرح شکریہ ادا کر کے اجازت دینے سے ہمیشہ انکار کر دیا۔ اُن کی شخصیت ایک متوازن آدمی کی شخصیت تھی۔ اُن کا علم و فضل اُن کی تحریروں میں تھا‘ لیکن نشست و برخاست میں اپنے آپ کو عام آدمی کی طرح سمجھتے۔

مولانا مودودیؒ نے جماعت اسلامی کے ارکان کی اس نہج پر تربیت کی کہ ایک دفعہ عدالت میں کسی شہادت کا مسئلہ تھا‘ تو جج نے کہا کہ میں جماعت کے رکن کی شہادت (گواہی) پر فیصلہ سناتا ہوں‘ کیونکہ یہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔ یہ مولانا کی حیات کا دور تھا۔ جماعت کے افراد کی صداقت‘ دیانت اور امانت کی جو شہرت تھی‘ وہ اس ایک شخص ]مولانا مودودیؒ[ کے ایمان‘ اخلاص اور روحانیت کا پرتو تھی۔ میں گذشتہ ترجمان القرآن میں پڑھ رہا تھا‘ جس میں مولانا مودودیؒ نے نظم و ضبط کے متعلق کہا تھا: نظم و ضبط کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی فوجی طرز کا ڈسپلن پیدا کرنا ہے‘ بلکہ جو لوگ اس نظم میں موجود ہیں ان کی ذاتی اہمیت اس نظم سے زیادہ اہم ہے‘جیسے ہراینٹ کی دیوار میں۔

مولانا مودودیؒ نے پاکستانی سوسائٹی‘ جو حکمران طبقوں کی فطرت کے باعث سیکولرازم کی جانب چل رہی تھی‘ اس کا رخ موڑ دیا۔ آج جو اسلام پسند طبقہ دکھائی دیتا ہے وہ ان کی محنت کا ثمرہ ہے۔ حکمران پوری شد و مد سے سیکولرازم کا پرچار کرتے رہے‘ لیکن وہ اپنے تمام تر وسائل کے باوجود کامیاب نہ ہو سکے۔ انھیں ناکام بنانے میں مولانا مودودیؒ وہ واحد شخص تھے جنھوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔

قرارداد مقاصد پاس کروانا مولانا مودودی کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ اس دور میں جب جماعت آج کے مقابلے میں بہت چھوٹی تھی۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں اس کے ارکان کی تعداد تین سو سے بھی کم تھی۔ لیکن اراکین جماعت اور دیگر متفقین کی اس مختصر مگر پرعزم ٹیم کے ساتھ سیدمودودی نے حالات کا رخ موڑ دیا۔ ان کے ایک کٹر مخالف نے مجھ سے کہا: اگر مودودیؒ نہ ہوتا تو لوگوں کی داڑھیوں کو قینچیوں اور پیشاب سے مونڈھ دیا جاتا -- آج داڑھی باعزت فرد کی علامت بن گئی ہے اور مسلمان ہونا کوئی عیب نہیں رہا۔ میرے خیال میں ان کا یہ کارنامہ سب سے اونچا کارنامہ ہے کہ انھوں نے پاکستانی معاشرے کا رخ قبلے کی طرف موڑ دیا اور اس کام کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے پیچھے زندہ لٹریچر چھوڑ گئے۔ میں مولانا مودودی کو اُمت کا مجدد سمجھتا ہوں‘لیکن ایک بار جب اُن کے سامنے اس کا ذکر کر دیا تو انھوں نے فرمایا: ’’میں ایسا کوئی دعویٰ نہیں رکھتا۔ اگر میرے بعد کوئی کہے تو میں اُس کا ذمہ دار نہیں ہوں گا‘‘۔

مولانا بہت بڑے ادیب تھے۔ افسوس کہ اس موضوع پر کوئی کام ہی نہیں ہوا کہ وہ کتنے بڑے انشاپرداز تھے۔ ادب میں ان کا بہت اونچا مقام تھا اور ان کی زبان بہت ہی مستند زبان ہے۔ مولانا کی اردو ایک معیار کی علامت ہے۔ وہ بہت آسان اور خوب صورت زبان استعمال کرتے تھے۔

مولانا مودودی کی تحریروں میں سب سے بڑی تحریر تفہیم القرآن ہے۔ تفسیری ادب میں تفہیم القرآن کا بہت اعلیٰ مقام ہے۔ مولانا نے اپنے عہد کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کی عام فہم انداز میں تفسیر لکھی۔ تفہیم القرآن زبان اور فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے بھی اعلیٰ درجے کی تفسیر ہے اور آسان انداز کے لحاظ سے بھی انتہا درجے کی ہے کہ ان پڑھ کو بھی آپ پڑھ کر سنا سکتے ہیں اور وہ سمجھ سکتے ہیں۔ یہ مقام کسی اور تفسیر کو حاصل نہیں۔ انھوں نے قرآن کو عوام تک پہنچایا ہے۔ مولانا کا مقصد تفسیر میں اپنی علمیت کا رعب جمانا نہیں تھا‘ بلکہ عوام تک قرآن کا پیغام پہنچانا مقصود تھا۔

  • احمد سعید کرمانی

میں نے مولانا مودودیؒ کو ۱۹۳۹ء میں پہلی بار دیکھا‘ جب وہ اسلامیہ کالج ]ریلوے روڈ[ لاہور میں درس قرآن دیا کرتے تھے۔ تب میں کالج کا طالب علم تھا۔ ایک سال تک ان کا درس سنتا رہا۔ آپ چوبرجی سے تانگے پر کالج آیا کرتے تھے۔ پھر محترمہ فاطمہ جناحؒ کی الیکشن مہم کے سلسلے میں ان سے ملتا رہا (یہ الگ بات ہے کہ بعد میں‘ میں ایوب خان کے ساتھ مل گیا تھا) اسی طرح اچھرہ میں ان کی عصری نشستوں میں بھی بیٹھتا رہا اور حکمت کی باتیں سنتا رہا۔ آپ بہت بڑے عالم دین تھے۔

۱۹۷۴ء کے دوران میں مصر میں سفیر تھا۔ وہاں ابوالکلام آزادؒ اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے نام سے لوگ واقف تھے۔ مجھے سفارت کاری کے دوران خوش گوار حیرت ہوئی کہ مولانا مودودی کی فکر نے مصر کے علما کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی پذیرائی حاصل کی ہے۔

تحریک ختم نبوتؐ کے دوران میں مجھے چودہ سال قید ہوئی‘ جبکہ مولانا مودودیؒ اور مولانا عبدالستار خان نیازیؒ کو سزاے موت سنائی گئی۔ جیل ہی میں ان دونوں علما سے ملنے کے لیے گیا۔ مولانا نیازیؒ سے تو ملاقات ہو گئی‘ لیکن مولانا مودودیؒ کے بارے میں سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا: ’’انھیں پھانسی والے کپڑے پہنا دیے گئے ہیں‘ لہٰذا ان سے ملاقات نہیں ہوسکتی‘‘۔ اتفاق سے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل میرا دوست نکلا‘ اس نے مولانا مودودیؒ سے میری ملاقات کرا دی۔ اس ملاقات کا اہتمام رات کو کیا گیا تھا۔ میں مولانا سے ملنے جا رہا تھا تو میرا خیال تھا کہ مولانا بہت پریشان ہوں گے‘ جا کر انھیں حوصلہ دیتا ہوں۔ لیکن انھیں مل کر مجھے انتہا درجے کی حیرانی ہوئی کہ انھیں پھانسی کی سزا ہوئی ہے حتیٰ کہ پھانسی والے کپڑے بھی پہنا دیے گئے ہیں‘ لیکن ان کے چہرے پر کوئی پریشانی‘ کوئی شکوہ یا شکایت نہیں ہے۔ مولانا مودودی اس حال میں بھی اتنے مطمئن تھے کہ کوئی فرد عام حالات میں بھی اتنا مطمئن نہیں دکھائی دیتا۔ مولانا کو اﷲ پر توکل تھا‘ اس لیے ذرہ بھر بھی پریشانی ظاہر نہیں کی۔ مولانا کی سزاے موت کے خلاف حکومت پر دنیا بھر سے دبائو ڈالا گیا۔ اس لیے حکومت کو اسے عمر قید میں تبدیل کرنا پڑا‘ بعد ازاں ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں وہ رہا ہو گئے۔

ممتاز حسن (سابق گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان) ایک مرتبہ کراچی میں ایک تقریب میں میرے ساتھ تھے‘ اس تقریب کی صدارت میں کر رہا تھا۔ ممتاز حسن بہت بڑے ادیب بھی تھے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ: ’’مولانا ابوالکلام آزاد کا مقام اونچا ہے یا مولانا مودودیؒ کا؟‘‘ تو انھوں نے جواباً کہا :’’مولانا آزادؒ کی تحریروں میں ادبیت پر زیادہ زور دیا گیا ہے جبکہ مولانا مودودیؒ کو عقلیات پر دسترس حاصل ہے۔ اس پہلو سے انھوں نے عوام کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ جو انھیں پڑھ لیتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں لہٰذا مولانا مودودیؒ کا اونچا مقام ہے‘‘۔

میں ووٹ دینے میں پہلی ترجیح مسلم لیگ کو ‘لیکن دوسری ترجیح جماعت اسلامی کو دیتا ہوں‘ صرف مولانا کی وجہ سے۔ کیونکہ ایسے آدمی صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ وہ مسلم لیگ کی قیادت پر تنقید کرتے تھے‘ حتیٰ کہ انھوں نے پاکستان بنتے وقت بھی یہ کہا تھا کہ مسلم لیگ کی قیادت اس قابل نہیں کہ پاکستان کو چلا سکے۔ یہ تنقید شاید کسی حد تک درست بھی تھی‘ بہرحال وہ وقت اس تنقید کے لیے موزوں نہیں تھا۔ ہم جسٹس دین محمدسے گوجرانوالہ ملنے گئے تو دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہمیں یہ بھی کہا کہ آپ لوگ مولانا مودودیؒ سے ملاقات کریں اور ان سے درخواست کریں کہ وہ مسلم لیگ کا عملی ساتھ دیں‘ یا اس کی پالیسیوں پر تنقید نہ کریں۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا: ’’وہ لکھتا بڑا اچھا ہے‘ بہت بڑا مقام پائے گا۔ اس کی تحریروں میں جادو ہے‘‘۔

مولانا مودودی بہت دلیر آدمی تھے۔ ایک جلسے میں آپ پر حملہ ہوا تو لوگوں کے کہنے کے باوجود کھڑے رہے۔ اس حملے میں جماعت کا ایک آدمی مارا گیا تھا۔ یہ حملہ صدر ایوب خان کے دور میں ہوا تھا اور حبیب اﷲ خان اس وقت وزیر داخلہ تھے‘ اس قتل کی سازش کا الزام اس پر لگایا گیا تھا۔

مولانا مودودی میں صبر اور تحمل بھی بہت زیادہ تھا۔ ایک بار تحریک ختم نبوت صلی اﷲ علیہ و سلم کے سلسلے میں گورنمنٹ ہاؤس میں انھیں بڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن انھوں نے جہاں بہت زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا‘ وہاں جواب میں یہ بھی کہا: ’’یہ فہم کی بات ہے آپ کو حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و سلم کے احترام اور مقام کا صحیح اندازہ نہیں‘‘۔

مولانا کی آنکھیں مجھے بہت خوب صورت لگتی تھیں۔ بڑے باوقار دکھائی دیتے تھے۔ ان کا مقام بہت اعلیٰ ہے۔  "So, I respect him from the core of my heart"

اس مختصر مضمون کا مقصد‘ معروف عالمی شخصیت مولانا مودودی کی تحریروں سے یہ بات سامنے لانا ہے کہ عصرِ حاضر کی نشات جدید کی فکر اور ترقیات کے تمدنی پہلو پر آپ کی کتنی گہری نظر تھی۔

اس مضمون میں جدیدیت (Modernity) کے مسئلے میں ذاتی رائے سے قطع نظر میں مولانا مودودی کی سوچ و فکر کو یک جا پیش کر رہی ہوں تاکہ ایک قاری اپنی جگہ یہ فیصلہ کر سکے کہ آپ عصرِحاضر میں اسلام کی نشات جدید کو جدید کاری سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کس حد تک کوشاں تھے!

اس حقیقت کا مولانا مودودی کے انتہائی معتمد اور بین الاقوامی شہرت کے حامل ماہر اقتصادیات پروفیسر خورشید احمد نے ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے:

تحریکِ اسلامی کی بین الاقوامی محاذ پر تہذیب جدید کی توجہ، قرنِ اولیٰ کے صحیح اسلامی ذرائع کی طرف مبذول کرانا ہے کہ وہ اسلامی اقدار اور اصولوں پر کسی قسم کی سودے بازی اور پسپائی کے بغیر پیش آمدہ چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں، گویا کہ اس کے ہاں ’جدید کاری‘ کے لیے تو ’ہاں‘ ہے، مگر مغرب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے ’جدیدیت‘ کاشکار ہونے کے لیے’ہرگز نہیں‘ ہے۔ تحریکِ اسلامی ایک طرف پوری طرح سے ترقی اور جدید کاری کا بخوبی ادراک رکھتی ہے، دوسری طرف مغرب زدگی اور سیکولرازم کا بھی شعور رکھتی ہے۔ اس کش مکش میں دونوں نظریات کے حامل انتہاپسند ہیں، خواہ وہ مغرب زدہ ہیں خواہ عام روایتی عناصر، سوچنے سے عاری ہیں۔۱ ؎

آگے چلیے، میری رائے میں مغربیت اور جدیدیت کے درمیان کوئی حد امتیاز قائم کرنا عبث ہے کہ نتائج کے لحاظ سے دونوں قطعی یکسانیت کے حامل ہیں۔

اب آیئے! مولانا مودودی کے ایک اور رفیق کار جناب خرم مراد مرحوم (۹۶ - ۱۹۳۲ئ) کے ہاں، جو جدید اصطلاحات کے استعمال کے بارے میں کہتے ہیں:

مشکل یہ آن پڑی ہے کہ بعض مغربی الفاظ جو ہماری روزمرہ کی زبان کا حصہ بن چکے ہیں، وہ اب حقیقت کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اب معاملہ ہم پر ہے کہ ہم ان کو اپنے ہاں جگہ دیں یا نہ دیں، اور انھیں بس اغیار کے الفاظ سمجھ کر ان سے اجتناب کریں۔ لیکن جب تک ہم اس روش پر جمے رہیں گے، مغرب، اسلام کے بارے میں کچھ سننے کا روادار نہ ہو گا --- اب جہاں پر معاشرے پر حاوی کسی اجنبی کلچر کی اصطلاحات کا غیر ضروری استعمال اپنے اندر کئی خطرات رکھتا ہے، وہاں ضروری ہے کہ اپنی پیش رفت کے لیے اسے (بڑی حکمت سے) استعمال میں لایا جائے۔ چنانچہ بعض اصحاب جو بعض مغربی الفاظ کے شدت سے خلاف ہیں، وہ بھی ان کے بعض الفاظ کو استعمال کرنا کوئی عیب خیال نہیں کرتے۔ اب اگر ان کے نزدیک ’تحریک‘ (movement) ، ’نظام‘ (system) اور ’انقلاب‘ (revolution) کے الفاظ نا پسندیدہ ہیں، تو اسلامی جمہوریت، اسلامی ری پبلک اور اسلامی سٹیٹ وغیرہ کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ کیا بذات خود یہ الفاظ مغربیت اور اس کے مضمرات کے حامل نہیں؟ بات اس پر ختم ہوتی ہے کہ قرآنِ کریم اور سنتِ نبویؐ کا کامل اور صحیح شعور ہی حقیقی رہنما ہو سکتے ہیں --- اس مقصد کے لیے صرف وہ الفاظ ہی استعمال کیے جائیں جو دونوں ثقافتوں میں غیر جانب دار (نیوٹرل) اور انسانی فکروعمل کے حامل ہوں۔ موثر(dynamic) نظریہ (ideology) اور جمہوریت (democracy) اب کسی کلچر کے لیے غیر نہیں رہے۔۲ ؎

مولانا مودودی کی پرورش اور تربیت ایک ایسے اسلامی گھرانے میں ہوئی، جہاں آپ کے والدین دونوں بے داغ پاکیزہ سیرت کے مالک تھے۔ ابھی آپ کی عمر تقریباً سترہ برس تھی کہ آپ کے والد کا انتقال ہو گیا۔ لیکن جیسے ہی آپ عمر کے اس حصے میں داخل ہوئے، آپ کو بیرونی اثرات نے آلیا اور عارضی طور پر اسلام سے منسوب مروجہ ہیئت نے آپ کا اعتماد متزلزل کردیا‘ تا آنکہ  قرآن و حدیث کے والہانہ انداز میں مطالعے نے دوبارہ اسے پوری طرح بحال کر دیا، جس کا آپ نے ان الفاظ (جولائی ۱۹۳۹ئ) میں تذکرہ کیا ہے:

’’دوسرے رفقا کے متعلق تو میں نہیں کہہ سکتا کہ ان کا کیا حال ہے‘ مگر اپنی ذات کی حد تک میں کہہ سکتا ہوں کہ‘ اسلام کو جس صورت میں‘ میں نے اپنے گرد و پیش کی مسلم سوسائٹی میں پایا‘ میرے لیے اس میں کوئی کشش نہ تھی۔ تنقید و تحقیق کی صلاحیت پیدا ہونے کے بعد پہلا کام جو میں نے کیا‘ وہ یہی تھا کہ اس بے روح مذہبیت کا قلاوہ اپنی گردن سے اتار پھینکا جو مجھے میراث میں ملی تھی۔ اگر اسلام صرف اسی مذہب کا نام ہوتا جو اس وقت مسلمانوں میں پایا جاتا ہے تو شاید میں بھی آج ملحدوں اور لامذہبوں میں جا ملا ہوتا‘ کیونکہ میرے اندر نازی فلسفے کی طرف کوئی میلان نہیں ہے کہ محض حیات قومی کی خاطر اجداد پرستی کے چکر میں پڑا رہوں۔ لیکن جس چیز نے مجھے الحاد کی راہ پر جانے یا کسی دوسرے اجتماعی مسلک کو قبول کرنے سے روکا اور ازسرنو مسلمان بنایا وہ قرآن اور  سیرت محمدی صلی اللہ علیہ و سلم کا مطالعہ تھا۔ اس نے مجھے انسانیت کی اصل قدروقیمت سے آگاہ کیا۔ اس نے آزادی کے اس تصور سے مجھے روشناس کیا‘ جس کی بلندی تک دنیا کے کسی بڑے سے بڑے لبرل اور انقلابی کا تصور بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اس نے انفرادی حسنِ سیرت اور اجتماعی عدل کا ایک ایسا نقشہ میرے سامنے پیش کیا‘ جس سے بہتر کوئی نقشہ میں نے نہیں دیکھا --- پس درحقیقت  میں ایک نو مسلم ہوں۔ خوب جانچ کر اور پرکھ کر اس مسلک پر ایمان لایا ہوں جس کے متعلق میرے دل و دماغ نے گواہی دی ہے کہ انسان کے لیے فلاح و صلاح کا کوئی راستہ اس کے سوا نہیں ہے۔ میں صرف غیر مسلموں ہی کو نہیں‘ بلکہ خود مسلمانوں کو بھی اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں‘ اور اس دعوت سے میرا مقصد اس نام نہاد مسلم سوسائٹی کو باقی رکھنا اور بڑھانا نہیں ہے‘ جو خود ہی اسلام کی راہ سے بہت دور ہٹ گئی ہے۔ بلکہ یہ دعوت اس بات کی طرف ہے کہ‘ آئو اُس ظلم و طغیان کو ختم کر دیں جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے‘ انسان پر سے انسان کی خدائی کو مٹا دیں اور قرآن کے نقشے پرایک نئی دنیا بنائیں‘ جس میں انسان کے لیے بحیثیت انسان کے شرف و عزت ہو‘ حریت اور مساوات ہو‘ عدل اور احسان ہو۔۳؎

مولانا مودودی نے اپنے ادبی کیریر کا آغاز تیرہ سال کی کم عمری میں، ’آزادی نسواں‘ کے حامی ایک عرب ادیب قاسم امین (قاہرہ ۱۹۰۰ئ) کی عربی تصنیف المرۃ الجدیدہ ]جدید خاتون[ کے اُردو ترجمے ] ۱۹۱۶ئ[ سے کیا۔ اس کتاب میں مصنف نے مغربی فکر کو اپناتے ہوئے ’’پردہ‘‘ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اگرچہ سید مودودی کے والد اور آپ کے عرب استاد نے کتاب کے مضمون سے بیزاری کا اظہار کیا‘ لیکن اس اُردو ترجمے کی ]روانی‘ سلاست اور چٹخارے دار محاورے[ زبان پر عش عش کیے بغیر نہ رہ سکے۔ تاہم بعدازاں آپ جس انداز سے ’’پردہ‘‘ کی پُرزور تائید کے ساتھ عورت کے بارے میں کلاسیکل انداز فکر کے مظہر نظر آتے ہیں‘ اسے طبعی امر سمجھنا چاہیے --- اگرچہ وہ مسودہ محفوظ نہیں‘ ] اور نہ شائع ہوا ہے[ تاہم اپنی جگہ یہ امر ایک راز ہی رہے گا کہ آپ نے اتنی کم عمری میں المرۃ الجدیدہ جیسی کتاب کو کیوں ترجمے کے لیے منتخب کیا۔

محمدصلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت سے قبل کلاسیکل عربی ادب اور شاعری کے بارے میں مولانا مودودیؒ،بالخصوص قبل از اسلام شاعری کے بارے میں ایک سخت رائے رکھتے ہیں۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:

ذرا ایک ہزار چار سو برس پیچھے پلٹ کر دیکھو‘ --- عرب کا ملک سب سے الگ تھلگ پڑا ہوا تھا --- اس کے اردگرد ایران‘ روم اور مصر کے ملک تھے‘ جن میں کچھ علوم و فنون کا چرچا تھا مگر ریت کے بڑے بڑے سمندروں نے عرب کو ان سب سے جدا کر رکھا تھا۔ --- خود عرب میں کوئی اعلیٰ درجے کا تمدن نہ تھا‘ نہ کوئی مدرسہ تھا‘ نہ کوئی کتب خانہ تھا‘ نہ لوگوں میں تعلیم کا چرچا تھا تمام ملک میں گنتی کے چند لوگ تھے جن کو کچھ لکھنا پڑھنا آتا تھا‘ مگر وہ بھی اتنا نہیں کہ اس زمانے کے علوم و فنون سے آشنا ہوتے --- وہاں کوئی باقاعدہ حکومت بھی نہ تھی۔ کوئی قانون بھی نہ تھا --- آزادی کے ساتھ لوٹ مار ہوتی تھی --- اخلاق اور تہذیب کی اُن کو ہوا تک نہ لگتی تھی۔ (دینیات ۱۹۷۷ئ‘ ص ۶۰ - ۶۱)۴؎

مولانا مودودی نے پیغمبر اسلام حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و سلم کے بلند ترین مقام کی وضاحت کے لیے شان دار کام کیا ہے‘ اسے آپ رسالہ دینیات میں اس طرح بیان فرماتے ہیں:

پھر آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے اپنی تعلیم و تربیت سے انھی عربوں کو وحشت اور جہالت سے نکال کر اعلیٰ درجے کی مہذب قوم بنا دیا۔ جو عرب کسی قانون کی پابندی پر تیار نہ تھے‘ ان کو ایسا پابند قانون بنا دیا کہ دنیا کی تاریخ میں کوئی قوم ایسی پابند قانون نظر نہیں آتی --- یہ تو وہ اثرات ہیں جو عرب قوم پر ہوئے۔ اس سے زیادہ حیرت انگیز اثرات اس امی صلی اﷲ علیہ و سلم کی تعلیم سے تمام دنیا پر ہوئے --- حیرت یہ ہے کہ جنھوں نے اس کی پیروی سے انکار کیا‘ وہ بھی اس کے اثرات سے نہ بچ سکے --- اس نے قانون اور سیاست اور تہذیب و معاشرت کے جو اصول بتائے وہ اتنے پکے اور سچے اصول تھے کہ مخالفوں نے بھی چپکے چپکے ان کی خوشہ چینی شروع کر دی۔ (دینیات ‘ ص ۶۸ - ۶۹۔  ibid, p 52)

اسی پر مولانا مودودی بس نہیں کرتے‘ بلکہ جب آپ وہاں کے ماضی بعید کا مطالعہ کرتے ہیں‘ تو حاضر کے مقابلے میں آپ حیران کن انداز میں انسانیت کی سوچ کا رخ ایک صحیح طرف موڑ دیتے ہیں۔ چنانچہ آپ متعدد مقامات پر تحریر فرماتے ہیں: یہ رسول اللہؐ ہی ہیں‘ جنھوں نے انسانیت کو اوہام پرستی سے نکالا اور خردمندی کا راستہ دکھایا‘ حقیقت پسندی کے ادراک اورعقل و دانش کی قدر سکھائی۔ یہی وجہ ہے‘ جس نے انسانیت کو سائنسی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا۔

اسلام کا دورِ زریں‘ جو تاریخ میں سائنس اور آرٹ کی ترقی کے لحاظ سے مسلمانوں کا شان دار باب کہلاتا ہے‘ مولانا مودودی کو ذرا بھی متاثر نہیں کرتا۔ آپ کو ایک ایسی جامع خوبیوں کا معاشرہ ہی مطمئن کر سکتا ہے‘ جو فطرت انسانی کے عین مطابق ہو۔ حالانکہ ایسے معاشرے کا وجود میں آنا بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

اس مطلوب اور محمود دنیا کو حقائق کی دنیا میں لانے کے لیے مولانا مودودیؒ بڑے پر اعتماد رہے ہیں۔ آپ کو امید تھی کہ آپ کی تحریک ان تمام غلطیوں سے بچنے کی کوشش کرے گی جو ماضی میں ہوئی ہیں اور اس کے بجائے ماضی کے علمی اور دیگر اثاثے میں جو بھی خیر کا پہلو ہو گا‘ اسے بروئے کار لانے میں کوئی کوتاہی کرنے سے پہلو بچائے گی۔ ایسے میں جب مسلمانوں کے شان دار تاریخی ماضی کا جائزہ لیا جاتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا معیار مولانا مودودی کی سوچ اور فکر سے ہم آہنگ نہیں‘ کیونکہ مولانا اسے اسلام کا تاریک ترین دور قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

]خلافت راشدہؓ کے بعد[ جاہلیت خالصہ نے حکومت اور دولت پر تسلط جمایا۔ نام خلافت کا تھا اور اصل میں وہی بادشاہی تھی‘ جس کو مٹانے کے لیے اسلام آیا تھا --- اس بادشاہی کے زیر سایہ امرا‘ حکام‘ وُلاۃ‘ اہل لشکر اور مترفین کی زندگیوں میں کم و بیش خالص جاہلیت کا نقطہ نظر پھیل گیا‘ اور اس نے ان کے اخلاق اور معاشرت کو پوری طرح ماؤف کر دیا۔ پھر یہ بالکل ایک طبعی امر تھا کہ اس کے ساتھ ہی جاہلیت کا فلسفہ‘ ادب اور ہنر بھی پھیلنا شرع ہو‘ اور علوم و فنون بھی اسی طرح مرتب و مدوّن ہوں‘ کیونکہ یہ سب چیزیں دولت اورحکومت کی سرپرستی چاہتی ہیں‘ اور جہاں دولت اور حکومت‘ جاہلیت کے قبضے میں ہوں وہاں ان پر بھی جاہلیت کا تسلط ناگزیر ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ یونان اور عجم کے فلسفے اور علوم و آداب نے اس سوسائٹی میں راہ پائی جو اسلام کی طرف منسوب تھی (سید مودودی  تجدید و احیاے دین‘ ص ۳۸ - ۳۹)

اسی زرّیں دور کے بغداد کے دارالحکمت کو بھی مولانا مودودی تاریک دور کا دارالحکمت   قرار دیتے ہیں‘ جس میں عہد عتیق کے عظیم فنون کو عربی میں منتقل کیا گیا اور جنھیں انسانی تہذیب کی تاریخ کے تمدنی واقعات میں اہم ترین واقعات قرار دیا جا سکتا ہے۔

حتیٰ کہ امت ِ مسلمہ‘ اسلامی آرٹ کے جس بیش بہا قیمتی خزینے پر بڑا فخر کرتی ہے‘ مولانا اس کے سحر کا ذرا بھی اثر نہیں لیتے اور اس کے بارے میں بڑے محتاط ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ کا اصرار ہے کہ آلایشوں سے پاک اسلامی کلچر کو ’فائن آرٹ‘ نام کی شے سے دُور کی بھی نسبت نہیں۔ اس مخصوص پس منظر میں آپ لفظ ’حسن‘ کو عیاشی کے معنوں میں لیتے ہیں‘ جسے محلات میں عیاشانہ زندگی بسر کرنے والے رؤسا نے اپنایا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ جو افراد دنیا میں اسلامی نظام کو غالب کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں‘ وہ معروف معنوں میں فتونِ لطیفہ کا ادراک نہیں کر پاتے۔

مولانا مودودی نے کھلے دل سے مساجد میں لائوڈ سپیکر کے استعمال کی تائید کی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس اسلامی ماحول کے آپ متمنی ہیں‘ آپ ۱۹۳۸ء میں کہتے ہیں: ’’یہ ایجاد ان ارضی ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے‘ جس کا اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمایا ہے۔ یہ آلہ قدرتی آواز کو بلند کر دیتا ہے۔ چنانچہ شریعت کے اصولوں کے مطابق اس آلہ کا استعمال بلاشک و شبہہ جائز ہے --- کسی نوایجاد چیزکے استعمال کو مکروہ یا ناجائز ٹھیرانے کے لیے محض یہ کافی نہیں ہے کہ وہ عہدِرسالت میں‘ یا عہدصحابہ میں‘ یا عہدائمہ میں موجود نہ تھی… میرا مقصد یہ ہے کہ ساینٹی فک ایجادات اور تمدن جدید کے آلات و وسائل کے متعلق مسلمان اپنا رویہ بدلیں۔ یہ آلات بجائے خود ناپاک نہیں ہیں۔ اصل میں وہ طریق استعمال ناپاک ہے جو مغرب کی باغیانہ تہذیب نے اختیار کر رکھا ہے۔ خداوندعالم نے جن چیزوں کو انسان کے لیے مسخر کیا ہے‘ وہ بالیقین پاک اور مطہر ہیں۔ اور ان کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ ان سے خدائی قانون کے مطابق کام لیا جائے۔ مگر ان پر دہرا ظلم ہو رہا ہے‘ کہ جن کے پاس خدائی قانون موجود ہے‘ وہ ان سے کام نہیں لیتے اور جو ان سے کام لے رہے ہیں وہ شیطانی قانون کے متبع ہیں۔ (تفہیمات‘ دوم)

چنانچہ مولانا زندگی بھر سائنس اور ٹکنالوجی کی کامیابیوں میں گہری دل چسپی لیتے رہے۔ ۲۰جولائی ۱۹۶۹ء کو جب چاند پر پہلا انسان اترا تو مولانا مودودی نے کہا: ’’چاندپر آدمی کا اترنا بہرحال سائنس کی ترقی کا کمال ہے۔ اس کمال کا اعتراف نہ کرنا ایک علمی اور اخلاقی بخل ہے‘‘۔ (ہفت روزہ ایشیا‘ لاہور‘ جولائی ۲۵‘ ۱۹۶۹ئ‘ ص ۳)

مولانا مودودی کو پختہ یقین تھا کہ سائنس اور ٹکنالوجی اپنے اندر ایسی ایجادات کی حامل ہیں کہ خیر و شر میں سے جو چاہے‘ انھیں اپنے استعمال میں لے آئے کہ وہ دونوں کے لیے یکساں طور پر کارآمد ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ میکانکی ایجادات رفتہ رفتہ مجسم شر (inherently evil) میں ڈھلتی نظر آتی ہیں کہ جن میں نہ صرف ایک مسلم معاشرے‘ کلچر اور تہذیب کو ضرر پہنچے گا‘ بلکہ کسی احساس     ذمہ داری اور جواب دہی کے احساس سے عاری یہ عمل پوری نوع انسانی کے مستقبل کو سخت نقصان پہنچاتا نظر آرہا ہے۔ کیمیکل کا بے تحاشا استعمال‘ ہلاکت خیز فضلات سے اور زمینی‘ فضائی اور آبی حیات کی تباہی‘ اوزون کا شکست و ریخت سے دوچار ہونا اور دوسری بے شمار ہلاکت خیزیاں اسی بے خدا سائنس اور خالص مادہ پرستانہ ترقی کے چند مظاہر ہیں۔ بہرحال مولانا مودودی کے ہاں سائنسی ایجادات کو دیکھنے کا ایک منفرد انداز ہے۔ وہ دسمبر ۱۹۳۷ء میں لکھتے ہیں:

’’ریڈیو بجائے خود ناپاک نہیں ہے۔ ناپاک وہ تہذیب ہے جو ریڈیو کے ڈائرکٹر کو داروغۂ اربابِ نشاط یا ناشر کذب و افترا بناتی ہے۔ ہوائی جہاز ناپاک نہیں ہے‘ ناپاک وہ تہذیب ہے جو ہوا کے فرشتے سے خدائی قانون کے بجاے شیطانی اغوا کے تحت خدمت لیتی ہے۔ سینما ناپاک نہیں ہے‘ ناپاک دراصل وہ تہذیب ہے جو خدا کی پیدا کی ہوئی اس طاقت سے فحش اور بے حیائی کی اشاعت کا کام لیتی ہے۔ آج کل کی ناپاک تہذیب کو فروغ اسی لیے ہو رہا ہے کہ اس کو فروغ دینے کے لیے  خدا کی بخشی ہوئی تمام اِن طاقتوں سے کام لیا جا رہا ہے جو اس وقت تک انسان پر منکشف ہوئی ہیں۔ اگر ہم اس فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں جو الٰہی تہذیب کو فروغ دینے کے لیے ہم پر عائد ہوتا ہے تو ہمیں بھی انھی طاقتوں سے کام لینا چاہیے… اس تصریح سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ تحریک جسے میں پیش کر رہا ہوں‘ نہ توکوئی ارتجاعی (reactionary) تحریک ہے اور نہ اس قسم کی ارتقائی [evolutionary] تحریک ہے جس کے پیشِ نظر صرف مادی ارتقا ہو۔ میرے پیشِ نظر جو تربیت گاہ ہے ‘اس کے لیے گروکل کانگڑی‘ ستیہ گرہ آشرم‘ شانتی نکیتن اور دیال باغ میں کوئی نمونہ نہیں ہے‘ اور  اسی طرح جس انقلابی پارٹی کا تصور میرے ذہن میں ہے اس کے لیے اٹلی کی فاشست اور جرمنی کی نیشنل سوشلسٹ پارٹی میں بھی کوئی نمونہ نہیں ہے۔ اس کے لیے اگر کوئی نمونہ ہے تو وہ صرف مدینۃ الرسول اور اس حزب اللہ میں ہے جسے نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتب کیا تھا‘‘۔ (تنقیحات‘ ص۳۱۵- ۳۱۷)

چودہ صدی قبل پیغمبر اسلام ؐ نے مدینہ میں جو اسلامی معاشرہ تعمیر فرمایا تھا‘ اس کے بارے میںمولانا مودودی تحریر فرماتے ہیں:

’’مدینہ طیبہ سے مماثلت پیداکرنے کا مفہوم کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ہم ظاہری اشکال میں مماثلت پیدا کرنا چاہتے ہیں اور دنیا اس وقت تمدن کے جس مرتبے پر ہے اس سے رجعت کرکے اس تمدنی مرتبے پر واپس جانے کے خواہش مند ہیں جو عرب میں ساڑھے تیرہ سو برس پہلے تھا۔ اکثر دین دار لوگ غلطی سے اس کا یہی مفہوم لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سلف صالح کی پیروی اس کا نام ہے کہ جیسے تمدن و حضارت کی جو حالت ان کے عہد میں تھی اس کو ہم بالکل متحجّر(fossilised) صورت میںقیامت تک باقی رکھنے کی کوشش کریں‘ اور ہمارے اس ماحول سے باہر کی دنیا میں جو تغیرات واقع ہو رہے ہیں ان سب سے آنکھیں بند کر کے ہم اپنے دماغ اور اپنی زندگی کے اردگرد ایک حصار کھینچ لیں‘ جس کی سرحد میں وقت کی حرکت اور زمانے کے تغیر کو داخل ہونے کی اجازت نہ ہو۔ اتباع کا یہ تصور درحقیقت روحِ اسلام کے بالکل منافی ہے۔ اسلام کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ ہم جیتے جاگتے آثارِ قدیمہ بن کر رہیں اور اپنی زندگی کو تمدن کا ایک تاریخی ڈراما بنائے رکھیں۔ وہ ہمیں رہبانیت اور قدامت پرستی نہیں سکھاتا۔ اس کا مقصد دنیا میں ایک ایسی قوم پیدا کرنا نہیں ہے جو تغیر و ارتقا کو روکنے کی کوشش کرتی رہے۔ بلکہ اس کے بالکل برعکس وہ ایک ایسی قوم بنانا چاہتا ہے‘ جو تغیر و ارتقا کو غلط راستوں سے پھیر کر صحیح راستہ پر چلانے کی کوشش کرے۔ وہ ہم کو قالب نہیں دیتا بلکہ روح دیتا ہے‘ اور چاہتا ہے کہ زماں و مکاں کے تغیرات سے زندگی کے جتنے بھی مختلف قالب قیامت تک پیدا ہوں ان سب میں یہی روح بھرتے چلے جائیں۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے دنیا میں ہمارا مشن یہی ہے‘ ہم کو ’’خیر اُمت‘‘ جو بنایا گیا ہے تو اس لیے نہیں کہ ہم ارتقا کے راستے میں آگے بڑھنے والوں کے پیچھے عقب لشکر (rear guard)کی حیثیت سے لگے رہیں‘ بلکہ ہمارا کام امامت ورہنمائی ہے۔ ہم مقدمۃ الجیش بننے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور ہمارے خیر اُمت ہونے کا راز اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ میں پوشیدہ ہے۔

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے اصحاب کا اصلی اسوہ جس کی پیروی ہمیں کرنی چاہیے‘ یہ ہے کہ انھوں نے قوانین طبیعی کو قوانین شرعی کے تحت استعمال کر کے زمین میں خدا کی خلافت کا پورا پورا حق ادا کر دیا۔ ان کے عہد میں جو تمدن تھا انھوں نے اس کے قالب میں اسلامی تہذیب کی روح پھونکی۔ اس وقت جتنی طبیعی قوتوں پر انسان کو دسترس حاصل ہو چکی تھی۔ ان سب کو انھوں نے اس تہذیب کا خادم بنایا اور غلبہ و ترقی کے جس قدر وسائل تمدن نے فراہم کیے تھے ان سے کام لینے میں وہ کفار و مشرکین سے سبقت لے گئے… پس نبیؐ و اصحابِ نبیؐ کا صحیح اتباع یہ ہے کہ تمدن کے ارتقا اور قوانین طبیعی کے اکتشافات سے اب جو وسائل پیدا ہوئے ہیں‘ ان کو ہم اسی طرح تہذیب اسلامی کا خادم بنانے کی کوشش کریں جس طرح صدر اوّل میں کی گئی تھی‘‘۔ (تنقیحات‘ ص ۳۱۳-۳۱۵)

اس پس منظر میں‘ میں کہوں گی کہ مولانا مودودی ارتقایت (evolutionism) اور ترقی پسندی (progressivism) کے حق میں بڑے پرجوش تھے اور روایت پسندانہ ماضی کے سخت   ناقد تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں سمیت عام لوگ گم گشتہ روایات میں رہنے کے عادی ہوگئے ہیں‘ جب کہ جدید مغرب (Modern West)  اپنی ہلاکت خیزیوں اور سہولت آفرینیوں کے ساتھ‘  ایک طرف جبر اور دوسری جانب جمہوریت سمیت مستقبل کی طرف بڑھتا نظر آتا ہے۔ تاہم مولانا مودودی کا ایمان ہے کہ آج بھی اگر مسلمان اللہ تعالیٰ اور سنت رسولؐ اللہ کی طرف لوٹ آئیں‘ تو    نہ صرف ان کے لیے بلکہ خود نوعِ انسانی کے لیے خیروبرکت اور امن و سکون کا سامان ہوسکتا ہے۔

چنانچہ مولانا مودودی نہ صرف سائنس کی تازہ کامیابیوں کو قبول کرتے ہیں‘ بلکہ تمام صنعتی کمالات اور ٹیکنیکل آرڈر کو امرِربی کے تابع بناکر زیادہ سے زیادہ آگے بڑھانے پر زور دیتے ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں جن کے ہاں کوئی تبدیلی ممکن نہیں لیکن ہم کو اپنی نظریں کھلی رکھنی چاہییں اور جو کچھ  ہم کر رہے ہیں‘ ہم کو اس کے نتائج کے بارے میں پورا شعور و ادراک ہونا چاہیے۔

دنیا کے دیگر متعدد ممالک کی طرح جمہوریہ ترکیہ میں بھی، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے محبت اور چاہت کا تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اس رشتہ موانست کو پروان چڑھانے میں سب سے اہم کردار سید مودودی کی کتب نے ادا کیا ہے۔

ترکی میں سید مودودی مرحوم کی کتب، خطبات اور مقالات بڑے پیمانے پر شائع ہوئے ہیں۔ ان کی سوانح اور دینی خدمات سے واقفیت حاصل کرنے والوں کا ایک وسیع حلقہ ہے۔ اس لیے سید مودودی کی زندگی پر بھی متعدد بڑی چھوٹی کتب قبول عام حاصل کر چکی ہیں۔ متعدد یونی ورسٹیوں اور اعلیٰ درجے کے انسٹی ٹیوٹ مولانا کی فکر کے مختلف پہلوؤں پر پی ایچ ڈی اور ایم فل کے تحقیقی مقالات اور علمی پراجیکٹ پر کام کروا رہے ہیں۔ مولانا کے علمی رشحات اور افکار پر ترکی میں کام کے پھیلاؤ کو چند صفحات میں سمیٹنا ایک مشکل کام ہے، اس لیے میں یہاں پر صرف ان کتب کا ذکر کروں گا، جنھیں ترکی زبان میں ترجمہ کیا گیا اور ترجمے کے اس کام کا کچھ پس منظر بھی بیان کروں گا۔ اپنے مشاہدات کا تذکرہ ۱۹۶۵ء سے کروں گا، جب میں ڈھاکہ (مشرقی پاکستان، اب بنگلہ دیش) سے ترکی پہنچا۔

چونکہ اسکول کے زمانے ہی سے ڈھاکہ میں مجھے مولانا مودودی کی کتب پڑھنے اور ان مباحث سے گہرا تاثر لینے کی سعادت حاصل ہو چکی تھی، اس لیے میرے لیے ہر ایسی خبر میں بے پناہ جوش و خروش کا سامان ہوتا تھا کہ جس میں مولانا مودودی کی کسی کتاب کے ترکی ترجمے کی اطلاع ہوتی۔

یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ مولانا مودودی کی متعدد کتب ترکی زبان میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ یہ تراجم ان کی انگریزی اور عربی کتب سے ہوئے تھے۔ جن میں رسالہ دینیات بھی شامل تھا۔ ساٹھ اور ستر کے عشرے میں اسلامی کتب اور اسلام کے سیاسی پہلو سے متعلق کتب کی اشاعت پر کڑی نگاہ رکھی جاتی تھی اور سیاسی کتب پر پانبدی عائد کر دی گئی تھی۔ تاہم ۱۹۶۰ء میں انتقال کرنے والے مذہبی رہنما بدیع الزمان سعید نورسیؒ نے اپنی نوری تحریک کے ذریعے نوجوانوں میں کافی اسلامی شعور پیدا کر دیا تھا۔ ان کے تربیت یافتہ طلبہ کو مولانا مودودی کے علمی کارناموں کا کچھ علم ہو گیا تھا۔ وہ اگرچہ زندگی کے سیاسی و اجتماعی میدان میں اسلام سے رہنمائی حاصل کرنے کا کھلا پرچار نہیں کرتے تھے اور مسلمانوں کی اخلاقی اور سماجی تربیت پر ہی زیادہ زور دیتے تھے، لیکن برصغیر جنوب مشرقی ایشیا میں تحریک اسلامی کے خلاف بھی نہیں تھے۔ حتیٰ کہ ترکی میں مولانا مودودی اور ان کی رہنمائی میں کام کرنے والی تحریک کا ساتھ دینے والوں میں شروع شروع میں یہی طلبہ نور پیش پیش تھے۔ چنانچہ ۱۹۷۰ء کے آغاز میں استاد خلیل احمد حامدی مرحوم نے اپنے ترکی کے دورے سے متعلق ’’ترکی قدیم و جدید‘‘ کے نام سے جو سفر نامہ لکھا تھا، اس میں اس پہلو پر واضح اشارات ملتے ہیں۔

مولانا مودودی کے اردو لٹریچر کے ایک خاصے حصے کو براہ راست ترکی میں منتقل کرنے کا سہرا علی گنجے لی (Ali Genceli) کے سر ہے۔ وہ انقرہ میں ادارہ ٔ مذہبی امور کے مترجم تھے۔ ان سے میرے بڑے اچھے مراسم تھے۔ وہ اپنے دفتر میں بیٹھے ٹائپ رائٹر پر سید مودودیؒ کی کتب کا ترجمہ کیے جاتے تھے۔ انھوں نے پانچ سال ڈھاکہ یونی ورسٹی میں شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر کے طور پر بھی فرائض انجام دیے تھے۔ وہاں ان کا تعلق زیادہ تر اردو خواں طبقے اور جماعت اسلامی سے رہا، اس طرح وہ کچھ اردو بھی سیکھ گئے تھے۔ اگرچہ وہ پوری طرح اردو بول نہیں پاتے تھے، لیکن اردو متن (text) سمجھ لیا کرتے تھے۔ ترکی واپسی پر انھوں نے ۱۹۷۰ء کے عشرے کے آغاز میں پردہ، سود اور سلاجقہ کے علاوہ  خلافت و ملوکیت کا ترکی ترجمہ کیا۔ انھوں نے علامہ محمداقبالؒ کے بعض اُردو اشعار کا بھی ترکی میں منظوم ترجمہ کیا۔

مولانا مودودی کی جن کتب کا ترجمہ انہوں نے کیا، ان کی زبان ذرا زیادہ پرانی تھی۔ ترجمے میں تھوڑا نقص تھا اور بعض حصے نامکمل ترجمہ ہوئے تھے۔ مولانا کی قبولیت عام کے پیش نظر مختلف ناشروں نے مولانا مودودی کی بعض کتابوں کے ترجمے چھاپے۔ پھر کئی ناشروں نے مجھ سے ان کی کتابوں کو ترجمہ کرنے کو کہا۔ میں نے یکے بعد دیگرے ’’سیرت سرورِ عالمؐ‘‘ (دو جلدیں)، تفہیم القرآن (چھ جلدیں)، سود، سنت کی آئینی حیثیت، اسلام میں تعلیم اور مسئلہ جبر و قدر کو ترجمہ کیا۔ ان میں سے سود‘ علی گنجے لی صاحب کی کتاب پر مکمل نظرثانی کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن یہ ابھی تک شائع نہیں ہو سکی ہے۔  مسئلہ جبر و قدر کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ان میں سے سیرت سرور عالمؐ اور سنت کی آئینی حیثیت بہت مقبول ہوئیں اور ان کے پانچ چھ ایڈیشن چھپے۔ تفہیم القرآن کا ایک ترجمہ انسان پبلشرز کی جانب سے شائع ہوا ہے۔ اس کے گیارہ بارہ ایڈیشن نکل چکے ہیں۔ حال ہی میں میں نے ڈاکٹر سید اسعد گیلانی کی لکھی ہوئی سوانح حیات سید مودودیؒ کا ترجمہ کیا ہے اور یہ چھپ چکا ہے۔ ۱۹۸۰ء کے آغاز میں علی گنجے لی صاحب کا انتقال ہونے کی وجہ سے ان کے مزید تراجم شائع نہیں ہوئے۔

تفہیم القرآن کے ترجمے کے سلسلے میں ایک دلچسپ صورت حال کا سامناہوا۔ یہ ۱۹۸۴ء کا واقعہ ہے۔ ہلال پبلی کیشنز کے مالک صالح اوزجان صاحب نے جو عربی اچھی طرح جانتے ہیں، مولانا مودودی کے دوست ہیں اور رابطۂ عالم اسلامی کے اجلاسوں میں ان سے کئی بار مل چکے ہیں (آج کل فیصل فنانس کارپوریشن کے سربراہ ہیں)۔ انھوں نے مجھے کہا کہ تفہیم القرآن کا ترجمہ شروع کر دو۔ اس کی پہلی جلد انگریزی سے ترجمہ کیے جانے کے بعد شائع ہو چکی تھی۔ مجھے یہ کام کرتے ہوئے ایک دو سال گزرے تھے کہ اشاعتی ادارے، انسان پبلشرز نے پانچ چھ مترجمین پر مشتمل ایک بورڈ کے ذریعے تفہیم القرآن کی ترکی ترجمہ شدہ جلدیں ایک ایک کر کے شائع کرانی شروع کر دیں۔ یہ تراجم بھی اردو، انگریزی اور عربی کے نسخوں سے کیے گئے تھے۔ ان میں علمی اور ابلاغی سطح پر بعض خامیاں تھیں۔ مترجمین کے بورڈ میں ایک پاکستانی محمد خان کیانی بھی تھے، جنھوں نے انگریزی اور ترکی میں بعض کتابیں لکھی ہیں اور روزنامہ  زمان سے بھی کچھ عرصہ منسلک رہے ہیں۔ دوسرے یوسف کراجا تھے، جنھوں نے بھارت میں اردو سیکھی تھی اور ترکی میں مودودی صاحب کی بعض کتابوں کو ترجمہ کرنے کے علاوہ اسلامی ادب سے متعلق مضامین وغیرہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

صالح اوزجان صاحب نے مجھے کہا:’’ادارۂ ترجمان القرآن کو اس چیز کی اطلاع دو اور مولانا مودودی کے وارثوں سے حق ترجمہ اور حق تالیف حاصل کرنے کی کوشش کرو، تاکہ مذکورہ اشاعتی ادارے کے خلاف تادیبی کارروائی کروا کے تفہیم القرآن کی ترکی میں اشاعت رکوائی جا سکے‘‘۔ صالح اوزجان صاحب نے بتایا: ’’خود مولانا مودودی نے اپنی ساری تصانیف کے ترجمے اور اشاعت کا اجازت نامہ مجھے دیاتھا، لیکن وہ مل نہیں رہا‘‘۔ میں نے ان کے کہنے کے مطابق ادارہ ترجمان القرآن کو دو ایک خط لکھے۔ وہاں سے سید خالد فاروق مودودی صاحب کا جواب ملا، جس میں انھوں نے لکھا کہ: ’’ہلال پبلی کیشنز کے ساتھ ایک نیا سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اب تک جتنی کتابوں کے تراجم شائع کیے ہیں، اس کی ایک مکمل فہرست اور ان کی جتنی رائلٹی بنتی ہے وہ ادارہ ترجمان کو دینی ہو گی۔ اور تفہیم القرآن کے ترجمے کے لیے بھی الگ سے رائلٹی کی تفصیلات طے کی جائیں گی‘‘۔ صالح اوزجان صاحب پیسوں کے معاملے میں ذرا ہاتھ کھینچ کر چلنے والے آدمی ہیں۔ جب انھوں نے دیکھا کہ اب لینے کے دینے پڑ جائیں گے تو اجازت وغیرہ لینے کا ارادہ فوراً ترک کر دیا۔ اس لیے معاملہ طول کھینچ گیا اور کہیں ۱۹۹۲ء میں تفہیم القرآن کی ساری جلدیں ہلال کی جانب سے چھپ سکیں۔ اس دوران میں انسان پبلشرز نے اپنے تراجم کے گیارہ، بارہ ایڈیشن شائع کیے، یاد رہے کہ ہر ایڈیشن میں کم از کم پانچ ہزار کتب چھپتی ہیں۔ لیکن تفہیم القرآن کا اردو سے براہ راست اور مکمل ترجمہ کرنے کی سعادت مجھے حاصل ہوئی۔

اب انسان پبلی کیشنز نے  تفہیم القرآن سے مودودی صاحب کے صرف ترجمے کا حصہ شائع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کی ذمہ داری انھوں نے مجھ پر ڈالی ہے۔ ترجمے کا حصہ شائع ہونے کے بعد اُن کا ارادہ میری نگرانی میں تفہیم القرآن کے اپنے اور ہلال کے ایڈیشنوں کے تفسیر کے متن کی نظرثانی، تدوین اور ضروری اصلاح کروا کر ایک مکمل ایڈیشن شائع کرنا ہے۔

محمد خان کیانی صاحب نے بتایا کہ :’’وہ  تفہیم القرآن کے صرف ترجمے کا حصہ انقلاب پبلی کیشنر کے لیے کر رہے ہیں اور سید خالد فاروق مودودی صاحب اور اشاعتی ادارے کے درمیان سمجھوتہ بھی ہو گیا ہے۔ کیانی صاحب اپنے تمام تر اخلاص، علم اور وسیع معلومات کے باوجود اردو سے ترکی میں براہِ راست ترجمے کا ایسا درک نہیں رکھتے، جیسا کہ وہ انگریزی زبان کا فہم اور قدرتِ تحریر رکھتے ہیں۔ 

ترکی میں مولانا مودودی کی تمام تصانیف ترجمہ نہیں ہو سکی ہیں، اس کے باوجود ترجمہ ہونے والی کتب کی تعداد ۳۰ کے قریب ہے۔ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی نے ۱۹۶۰ء کے عشرے کے بعد ترکی کے پڑھے لکھے طبقے کو متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔ ۱۹۶۸ء میں مولانا مودودی لندن سے واپسی پر استنبول میں صالح اوزجان صاحب کے مہمان بنے اور انھوں نے انجمن قومی طلبہ کے ہال میں ایک جلسہ بھی منعقد کیا۔ سیاسی طور پر سعید نورسی کے بعد پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین اربکان کی سربراہی میں جو قومی اور اسلامی تحریک شروع ہوئی، اس کے بعض سربرآوردہ رہنما مولانا مودودی کی تحریک احیائے اسلام کو سراہتے ہیں۔ خود اربکان صاحب کے جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ گہرے نیازمندانہ مراسم ہیں۔ وہ کئی بار پاکستان آئے ہیں اور جماعت کے قائدین وغیرہ سے مل چکے ہیں۔

ترکی میں اسلامی تحریک نے ۱۹۹۵ء میں ایک بڑا ارتقائی قدم بڑھایا اور مسند اقتدار کو بھی سنبھالا۔ آج کل وزیراعظم رجب طیب ایر دوغان اور وزیرخارجہ عبداللہ گل کے علاوہ انصاف اور ترقی پارٹی کا تعلق اربکان صاحب ہی کی ماضی کی جماعتوں سے ہے۔ زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل یہ جماعت اگرچہ اپنے نظریات میں بعض تبدیلیاں لانے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن بنیادی طور پر اسلامی شعائر اور اسلامی نظریہ حکومت و ریاست سے منحرف نہیں ہے۔ یہ ۳۵ فی صد ووٹوں کے ذریعے اسمبلی میں ساٹھ فی صد سے زیادہ اکثریت حاصل کرتے ہوئے ۳۶۵ ممبران پارلیمنٹ کی مالک ہے اور آئین میں دوتہائی اکثریت سے آسانی سے تبدیلی کر سکتی ہے۔ ایسی پارلیمانی طاقت ۱۹۵۰ء کے بعد کسی بھی سیاسی اقتدار کو حاصل نہیں ہوئی۔ سیاسی سطح کے علاوہ سماجی اور ثقافتی میدان میں بھی پاکستان کی تحریک اسلامی کا اثر بہت واضح طور پر نظر آتا ہے۔

خصوصاً پچھلے بیس سال میں عورتوں میں پردہ اور اسلامی شعائر کی پابندی کا جو شعور پیدا ہوا ہے وہ درحقیقت مولانا مودودی کی تحریروں کا مرہون منت ہے۔ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ ان کی تصنیفات اور خدمات سے متاثر ہوا ہے۔ استنبول میں ’’اکیسویں صدی اور اسلامی ممالک کے مسائل‘‘ پر ایک بین الاقوامی سمپوزیم ترکی کے مذہبی امور کے وقف کی جانب سے استانبول میں منعقد ہوا تھا، جس میں پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد (وائس چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد) تشریف لائے تھے۔ انھوں نے اپنے مقالے میں مولانا مودودی اور ان کے اسلامی ریاست کے آئیڈیل کا بھی ذکر کیا تھا۔ انیس احمد صاحب نے بعد میں شہر بُرصہ میں ایک کانفرنس میں شرکت کی جو مولانا مودودی کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔ یہ جلسہ بہت ہی کامیاب رہا تھا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہواتھا۔ ڈاکٹر انیس احمد کے علاوہ اردو، ترکی اور انگریزی جاننے والے پانچ چھ حضرات نے تقریر کی تھی جن میں عبدالحلیم بیراشک اور محمدخان کیانی وغیرہ شامل تھے۔ انھوں نے مولانا اور ان کے مختلف کارناموں کے مختلف پہلوئوں پر اظہارِ خیال کیا۔ وہاں مولانا کی بعض نادر تصاویر کی نمائش بھی ہوئی۔ ترک دانشوران اور مصنفین میں سے علی بولاچ، یوسف کراجا، یوسف کپلان، تورحان کشلاک چی بھی مولانائے موصوف پر کام کرنے والوں میں نمایاں طور پر شامل ہیں۔

ذیل میں مولانا مودودی کی ترکی میں شائع شدہ کتب کے اردو اور ترکی میں نام درج کیے جارہے ہیں:

۱- تفہیم القرآن، ترجمہ ڈاکٹر نثار احمد اسرار۔ بنگی سو، ہلال یاین لاری، کئی ایڈیشن

1. Tefhim-ul-Kur'an, tr. Dr. N. Ahmed Asrar, Bengisu-Hilala Yayinlari

۲- تفہیم القرآن ترجمہ بورڈکا ترجمہ۔ انسان پبلی کیشنز

2. Tefhim-ul-Kur'an, tr. Heyet, Insan Yayinlari.

۳- سیرت سرور عالمؐ: ترجمہ ڈاکٹر نثار احمد اسرار۔ پنار یاین لاری (پبلشر)

3. Tarih Boyunca Tevhid Mucadelesi-ve-Hz. Peygamber,  tr. Dr. N. Ahmed Asrar, Pinar Yayinlari

۴- سنت کی آئینی حیثیت: ترجمہ، ڈاکٹر نثار احمد اسرار۔بنگی سو پبلشرز

4. Sunnetin Anayasal Niteligi, tr. Dr. N. Ahmed Asrar, Bengisu Yayinlari

۵- اسلام میں تعلیم: ترجمہ، ڈاکٹر نثار احمد اسرار۔ہلال پبلشرز

5. Islam ve Egitim, tr. Dr. N. Ahmed Asrar, Hilal Yayinlari

۶- خلافت و ملوکیت: ترجمہ، علی گنجے لی، ہلال پبلشرز

6. Hilafet ve Saltanat, tr. Ali Genceli, Hilala Yayinlari

۷- رسائل و مسائل، جلد اوّل۔ نہریاین لاری (پبلشرز)

7. Fetvalar-Nehir Yayinlari

۸- قرآن مجید: ترجمہ اور تفسیر (تفہیم القرآن) ۔ بیرلشیک پبلشرز

8. Yuce Kuran-I-Kerim, Meal ve Tefsiri-Birlesik Yayinlari

۹- قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: بیان پبلشرز

9. Kur'an gore Dort Terim, Beyan Yayinlari

۱۰- دعوت اسلامی: بیرلیشک پبلشرز

10. Islam'in Cagrisi - Birlesik Yayinlari

۱۱-اسلام کا سیاسی نظام: اوزگن پبلشرز

11. Islam'da Siyasi Sistem - Ozgun Yayinlari

۱۲- تحریک اسلامی کے بنیادی عناصر: نہیر پبلشرز

12. Islami Hereketin Dinamikleri - Nehir Yayinlari

۱۳- آئیے اس دنیا کو بدل ڈالیں: اوزگن پبلشرز

13. Gelin Bu  Dunya'yi Degistirelim - Ozgun Yayinlari, Cizgi Yayinlari

۱۴ -  اسلامی ثقافت۔ دنیا پبلشرز

14. Islam Medeniyeti - Dunya Yayinlari

۱۵- خطبات: ترجمہ، علی گنجے لی جلد اول، ہلال پبلشرز

15. Hitabeler, tr. Ali Genceli, Hilal Yayinlari

۱۶- پردہ : علی گنجے لی، ہلال پبلشرز

16. Hicab, tr. Ali Genceli, Hilal Yayinlari

۱۷-  قرآن میں فرعون ۔ چزگی پبلشرز

17. Kur'an'da Firavun Cizgi Yayinlari

۱۸- قرآن کو ہم کیسے سمجھیں: اشارت پبلشرز

18. Kur'ani nasil Anlayalim?, Isaret Yayinlari

۱۹- اسلام میں تحریک احیائے دین: نیار پبلی کیشنز

19. Islam'da  Ihya Hareketleri, Pinar Yayinlari

۲۰- اسلام کی جانب پہلا قدم (دینیات):  انقلاب پبلشرز

20. Islam'a Ilk Adim, Inkilap Yayinlari

۲۱- اسلامی ریاست: ترجمہ، علی گنجے لی (اسلامی حکومت)۔ ہلال یاین لاری

21. Islam'da Hukumet, tr. Ali Genceli, Hilal Yayinlari

۲۲- تفہیم القرآن سورۂ نور اور الفاتحہ : ہلال پبلی کیشنز

22. Tefhim-ul Kur'an (Nur ve El-Fatiha Sureleri), Hilal Yayinlari

۲۳- رسالہ دینیات: ہلال پبلشرز

23. Islam'in Anlasiilmasina Dogru, Hilal Yayinlari

۲۴- سلاجقہ : ترجمہ، علی گنجے لی۔ ہلال پبلشرز

24. Selcuklular, tr: Ali Genceli, Hilal Yayinlari

۲۵- سید مودودی۔ اسعد گیلانی: ترجمہ، ڈاکٹر نثار احمد اسرار،ہلال پبلشرز

25. Mevdudi' nin Hayati, Esad Gilani, Hilal Yayinlari

جاپان میں مولانا مودودیؒ کے نام اور کام کو مختلف شکلوں میں پہلی مرتبہ متعارف کروانے والوںمیں نمایاں طور پر دو افراد قابل ذکر ہیں: ایک ہیں عبدالرحمن صدیقی صاحب اور دوسرے ڈاکٹر صالح مہدی سامرای۔

عبدالرحمن صاحب جاپان آنے سے پہلے پاکستان میں مولانا مودودی کے لٹریچر کا مطالعہ کرچکے تھے‘ اور کراچی سے جماعت اسلامی کے ہمدردوں میں شامل تھے۔ یہ پاکستان سے ۳، ۴ سال کے ایک تعلیمی اسکالرشپ پر جاپان آئے تھے اور یہاں کی مشہور یونی ورسٹی ’ہی تونسوباشی‘ جو کامرس کی اختصاصی تعلیم کے لیے جاپان میں طرۂ امتیاز رکھتی ہے، اس سے بی کام کر کے پاکستان واپس چلے گئے تھے۔

دوسرے فرد عراق کے ڈاکٹر صالح مہدی سامرای تھے۔ صالح مہدی جاپان آنے سے پہلے پاکستان میں لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کے زرعی کالج (اب یونی ورسٹی) سے گریجویشن کرچکے تھے۔ عراق میں وہ اخوان المسلمون سے وابستہ رہے تھے۔ اسی لیے مولانا مودودی کے نام اور کام میں انھیں کوئی اجنبیت محسوس نہ ہوئی تھی۔ ملاقاتوں اور پروفیسر خورشیداحمد صاحب سے رابطے کا موقع بھی ملا تھا اور انھوں نے مولانا کی کتب کے تقریباً تمام انگریزی‘ عربی تراجم پڑھ لیے تھے۔ صالح اس زمانے میں یہاں ٹوکیو یونی ورسٹی سے زراعت کے شعبہ میں ڈاکٹریٹ کر رہے تھے۔

عبدالرحمن صدیقی صاحب نے اپنی تعلیمی زندگی کے دوران ڈاکٹر صالح سامرای کے ساتھ شمع فکر مودودی کو تابناک رکھا۔

ڈاکٹر صالح سامرای کی اعانت سے مولانا مودودی کی کتاب دینیات کا جاپانی ترجمہ ۱۹۶۵ء سے قبل اشاعت پذیر ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ اسلامک سنٹر جاپان کی طرف سے زندگی بعد موت کا عقلی ثبوت اور مولانا مودودی کے دوسرے بہت سارے مضامین بھی شائع کیے۔ ان کا ایک  سہ ماہی علمی نوعیت کا رسالہ کئی سالوں سے  اسلام کے نام سے جاپانی زبان میں چھپتا رہا۔ اس میں مولانا کے کئی مضامین کے ترجمے شائع ہوئے۔

۱۹۶۵ء میں میرے جاپان آنے سے پہلے تبلیغی جماعت کے ایک فرد مرحوم حاجی ارشد صاحب کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ انھوں نے دو افراد کو تیار کیا تھا، جنھوں نے بعدازاں جاپان میں دعوتِ اسلامی کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ارشد مرحوم، پاکستان ’’پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف‘‘ محکمہ کے چوٹی کے افسروں میں سے تھے۔وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے محکمہ کی فنی ٹریننگ کے لیے جاپان آئے تھے۔ ان کا ذہن چونکہ دعوتی نوعیت کا تھا، اس لیے انھوں نے انفرادی طور پر مختلف افراد کو اپنے دوران قیام متاثر کیا تھا۔ ان میں ایک تو حاجی عمر میتا جاپانی مسلمان تھے۔

حاجی ارشد مرحوم نے حاجی عمر میتا کو قرآن کریم کے جاپانی ترجمہ کے لیے آمادہ کیا اور     ڈاکٹر صالح مہدی سامرای کو جاپان میں مستقل دعوتِ اسلامی کے کام کے لیے تیار کیا۔ ڈاکٹر سامرای نے کہا: ’’میرے پاس تو وسائل کچھ نہیں  ہیں، میں اکیلا بھلا کیا کر سکتا ہوں؟‘‘ حاجی ارشد مرحوم نے تبلیغی جماعت والوں کا ایمان پرور جواب دیا: ’’ دو رکعت نفل پڑھ کر اللہ سے دعا مانگو، اللہ سب کچھ کر دے گا‘‘۔ چنانچہ یہی ہوا کہ بعد میں چل کر ڈاکٹر سامرای جاپان میں ایک بہت بڑے اسلامک سنٹر کے بانی بنے۔ انھی ڈاکٹر سامرای نے کویت کی وزارت اوقاف سے دینیات کے ترجمہ و اشاعت کے اخراجات کا انتظام کیا تھا۔ اسی انتظام کے تحت گذشتہ چالیس سال سے دینیات کے کئی ایڈیشن شائع ہوکر ہزاروں کی تعداد میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ یوں ہزاروں جاپانی، فکر مودودی سے متعارف ہوئے ہیں۔

حاجی عمر میتا کے جاپانی ترجمہ قرآن کے لیے بھی ڈاکٹر سامرای ہی نے رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے ماہوار ڈیڑھ یا دو ہزار ڈالر کا وظیفہ مقرر کرایا تھا‘تاکہ وہ اپنی بقیہ ساری زندگی ترجمہ قرآن کے لیے صرف کریں۔ اس ترجمہ قرآن میں مولانامودودی کی تحریر کے اثرات اس طرح پڑے کہ ترجمہ قرآن کے معیار کو برقرار رکھنے اور مفہوم کو ٹھیک ٹھیک جاپانی میں منتقل کرنے کے لیے     سعودی سفارت خانے نے ایک کمیٹی مقرر کی۔ جاپان مسلم ایسوسی ایشن کے صدر مرحوم عبدالکریم سائتو، ترک ایسوسی ایشن کے صدر جناب اپنائے صاحب اور مجھے اس میں شامل کیا گیا۔ حاجی عمر میتا صاحب اپنا جاپانی ترجمہ لے کر ہر اتوار کو ٹوکیو مسجد آتے تھے۔ ہم کمیٹی کے افراد اس دن جمع ہو کر ٹوکیو مسجد کی بازو والی عمارت (جو کبھی ترک اسکول کے لیے استعمال ہوتی تھی، اور بعد میں ٹوکیو مسجد کے موذن مرحوم مینان صفا کی رہایش اور ترک ایسوسی ایشن کی سرگرمیوں اور پارٹیوں کا مرکز تھی) میں عبدالکریم صاحب کے اس ترجمہ کا جائزہ لیتے تھے۔

میں مولانا مودودی کی تفہیم القرآن لے کر بیٹھتا تھا اور تفہیم القرآن کی تشریحات مرحوم حاجی عمرمیتا صاحب کو بتایا کرتا۔ اس طرح جاپانی زبان میں قرآن کے اس پہلے ترجمہ میں فکرمودودی کے اثرات پہنچے۔ حاجی عمر میتا نے بنیادی طور پر صرف ترجمے کا کام کیا‘ کیونکہ تشریحات پر توجہ کرنا ان کے کام میں شامل نہیں تھا۔ اس سے پیش تر قرآن کے پانچ چھ ترجمے یہاں کی مشہور پبلشنگ کمپنی اوانامی کی طرف سے شائع ہو چکے تھے، لیکن یہ سب غیر مسلم اسکالرز نے کیے تھے۔ ان تراجم میں انتہائی فاش غلطیاں تھیں۔ مسلمانوں کی طرف سے کوئی مستند ترجمہ موجود نہیں تھا۔ اس لیے پہلے مرحلے میں ضرورت اس بات کی تھی کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کی طرف سے کوئی مستند ترجمۂ قرآن جلد از جلد سامنے لایا جائے۔

تقریباً پانچ سال تک ہر ہفتہ اس کمیٹی کی میٹنگ میں مرحوم حاجی عمر میتا صاحب کے ترجمہ کا جائرہ لیا جاتا رہا اور ان پانچ سالوں میں تفہیم القرآن کے اثرات بھی اس ترجمے میں جا بجا شامل ہوئے۔ اس کے بعد اس کی جانچ پڑتال کے لیے سعودی سفارت خانہ نے مجھے اور حاجی عمر میتا کو دو، تین ماہ کے لیے سعودی عرب بھیجا۔ یہ غالباً ۱۹۷۰ء کے لگ بھگ کی بات تھی۔ میں، حاجی عمر میتا صاحب کی، پاکستان میں جماعت اسلامی کے مختلف افراد سے ملاقاتیں کرواتا ہوا انھیں اپنے ساتھ سعودی عرب لے گیا۔ چند ہفتے ہم لوگ مکہ مکرمہ کے ایک ہوٹل میں ٹھیرے۔ پھر گرمی کی وجہ سے حاجی عمر میتا کی خواہش پر ہمیں طائف کے ایک ہوٹل میں ٹھیرایا گیا۔ رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے مقرر کردہ علما ہمارے ہاں آتے تھے اور قرآن کریم کے مختلف چیدہ چیدہ مضامین کے جاپانی ترجمے کا انگریزی میں ترجمہ مجھ سے پوچھتے تھے، اور جو کچھ حاجی عمر میتا صاحب نے جاپانی میں ترجمہ کیا ہوا تھا، میں انھیں انگریزی میں بتاتا جاتا تھا۔ الحمدللہ کسی ایک مقام پر بھی انھیں کسی ترمیم یا اضافے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور انھوں نے اس ترجمہ کو سندِ قبولیت عطا کی۔ اس کے بعد میں تو واپس چلاگیا لیکن حاجی عمر میتا چند ماہ سعودی عرب میں مقیم رہے۔

اس دوران چند جاپانی طلبہ جو سعودی عرب کے مختلف مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرنے آئے تھے، انھوں نے بھی اس ترجمہ کو دوبارہ بنظرِغائر دیکھا۔ یہی ترجمہ‘ رابطہ نے شائع کیا۔ پہلے بغیر عربی والا ایڈیشن اور پھر دوسرا ایڈیشن، داہنی طرف عربی اور بائیں طرف ہر آیت کا جاپانی ترجمہ اور کہیں کہیں نیچے جاپانی زبان میں حاشیے۔ یہی مستند اسلامی ترجمہ قرآن سارے جاپانی مسلمانوں اور غیرمسلم جاپانی اسکالروں کے استعمال میں ہے۔ جاپان مسلم ایسوسی ایشن تقریباً ۲۹ ڈالر یا ۳۵۰۰ ین کے عوض اس کو فروخت کرتی ہے۔

پورے جاپان میں یہی ایک ترجمہ قرآن ہے۔ اس کے بعد اوا کمپنی نے بھی پرانے ترجموں کی اشاعت تقریباً بند کر دی ہے، جو پہلے غیر مسلم جاپانی اسکالرز نے کیے تھے۔ یہ ترجمہ اب اتنا معروف ہو چکا ہے کہ روزانہ کم از کم ۲۰۰ سے یعنی ماہوار چھ سے ۹ہزار اور سالانہ ۷۲ ہزار سے ایک لاکھ سے زائد جاپانی‘ انٹرنیٹ پر اس ویب سائٹ کو دیکھتے ہیں، جس پر یہ ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ ایک جاپانی مسلمان جو ملایشیا اور لیبیا سے دینی علوم میں فارغ التحصیل ہیں، انھوں نے اپنی ویب سائٹ پر اس ترجمے کو ڈالاہوا ہے، اور ساتھ ساتھ ہر آیت کی تلاوت کی آواز کی فائل بھی لگائی ہوئی ہے، تاکہ ہر جاپانی جو عربی نہیں پڑھ سکتا، وہ اس عربی تلاوت کو سن کر اسے یاد کر سکتا ہے۔ مرحوم حاجی عمر میتا کو اپنی قبر میں کتنا ثواب پہنچ رہا ہو گا کہ روزانہ دو تین سو افراد ان کا ترجمہ پڑھ کر انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کروانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

میری بدقسمتی ہے کہ آج تک تفہیم القرآن کی پوری چھ جلدوں کا جاپانی میں ترجمہ     نہیں کرسکا‘ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے‘ جب کہ جاپان سے لاہور آنے کے بعد اچھرہ میں     مولانا مودودی کے کمرہ میں بیٹھا تھا۔مولانا نے مجھے اس شرفِ ملاقات میں تفہیم القرآن کے جاپانی ترجمے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’میں جاپان میں اس کے کاپی رائٹ آپ کو دیتا ہوں‘‘۔ مولانا کے اس اعتماد اور توقع پر میں ابھی تک پورا نہیں اتر سکا۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے صرف سورۃ فاتحہ کے حواشی کا ترجمہ کر کے اپنے ویب سائٹ پر شائع کیا ہے۔ اس کو اسلامک سرکل آف جاپان نے اپنے سہ ماہی رسالہ نوید سحر میں دو قسطوں میں شائع کیا ہے۔ اس کو پڑھنے والے جاپانی مسلمان اور جاپانی مسلم خواتین اس طرح کی تشریحات کو بہت پسند کر رہے ہیں۔

چند سال پہلے جب میں نے یہ سلسلہ شروع کرنے کا ارادہ کیا تھا تو کوبے مسجد کے ازہر سے آئے ہوئے مرحوم مصری امام محمد نے مجھے اپنا سارا کاروبار چھوڑ کر اس کام پر ہمہ وقت لگ جانے کے لیے آمادہ کیا تھا اور کویت کے وزارتِ اوقاف کے نمائندے سے تعارف اور ملاقات بھی کروا دی تھی‘ لیکن قبل اس کے کہ اس کام کی منظوری وہاں سے آتی‘ امام محمد صاحب کا انتقال ہو گیا اور یہ پراجیکٹ ادھورا رہ گیا۔ امریکہ میں اسلامک سرکل کے نیویارک کے ساتھیوں نے بھی کچھ عزم کیا تھا لیکن وہ بھی خاموش ہو گئے اور میں غم روزگار میں الجھ کر اس کام کے لیے اپنے آپ کو فارغ نہیں کر سکا۔

اگر یہ پراجیکٹ آگے بڑھ سکے تو جاپان میں مولانا مودودی کے علمی کام کی جڑ انتہائی مضبوط ہوجائے گی۔ بہت سے ایسے لوگ جو تحریک اسلامی کے ساتھی نہیں ہیں‘ وہ اپنی جاپانی مسلمان بیویوں اور بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے کے لیے بے چین ہیں۔ وہ جاپانی زبان میں قرآن کی تشریح کے لیے کتنے مشتاق اور مضطرب ہیں؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مسلمان جو پاکستان میں کسی بزرگ پیر کے مرید بھی ہیں، ایک رات  نوید سحر کا ایک شمارہ لے کر میرے پاس آئے اور دکھاتے ہوئے کہا: ’’مولانا مودودی کی تفہیم القرآن سے سورۃ فاتحہ کا ترجمہ میری اہلیہ نے پڑھا اور بہت پسند کیا ہے‘‘۔ ان کی اطلاع سے پہلے مجھے اس کی خبر نہیں تھی کہ ہماری ویب سائٹ سے یہ ترجمہ لے کر نوید سحر نے شائع کیا ہے۔ اسی طرح ایک اور پاکستانی جو ٹوکیو میں ایک بڑی مسجد کے روحِ رواں ہیں، انھوں نے بتایا کہ ان کی جاپانی اہلیہ نے یہ ترجمہ پڑھا ہے اور وہ بہت دعائیں دے رہی ہیں کہ انھیں اس کے ترجمہ قرآن سے اسلام کی بعض بنیادی تعلیمات کو سمجھنے کا موقع ملا ہے۔

دراصل جاپان کی مقامی آبادی میں مردوں سے زیادہ خواتین مسلمان ہوئی ہیں۔ یہاں پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور عرب ملکوں کے مسلمانوں کا مستقل ویزا حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کسی جاپانی خاتون سے شادی کریں۔ صرف اسی صورت میں وہ جاپان میں مستقل طور پر روزگار کے لیے رہ سکتے ہیں۔ اس وجہ سے زیادہ تر مسلمان جو یہاں مستقل رہنا چاہتے ہیں وہ کسی نہ کسی جاپانی خاتون کو مسلمان کر کے اس سے شادی کرتے ہیں اور چونکہ یہ خاتون نو مسلمہ ہوتی ہے، اس لیے ہمارے ان بھائیوں کو اپنے سے زیادہ اپنی اہلیہ اور ان کے ذریعے اپنے بچوں کو اسلامی تعلیم و تربیت کی فکر رہتی ہے۔ غالباً اس طرح کی پانچ چھ ہزار جاپانی مسلمان خواتین ہوں گی اور میرے خیال میں انھی کی اکثریت وہ ۲۰۰/ ۳۰۰ افراد کی شکل میں روزانہ حاجی عمر میتا کے ترجمہ قرآن کے ویب سائٹ کو دیکھتی ہیں۔ دوسری اسلامی کتابیں بھی جاپانی زبان میں موجود ہیں، لیکن ہر نو مسلم جاپانی کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح قرآن کو پہلے سمجھے۔ اس تناظر میں تفہیم القرآن جیسی کتاب کی جاپانی میں جلد از جلد ترجمہ کی اہمیت شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔

مرحوم امام محمدمصری کے مشورے کے مطابق میں تفہیم القرآنکے آخری پارہ عم کی چھوٹی چھوٹی سورتوں کا ترجمہ کر رہا ہوں۔ تیسویں پارے کے سورۂ فلق اور سورۂ والناس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ مرحوم امام محمد بھی مولانا مودودی سے بہت متاثر تھے۔ یہ جامعہ ازہر کی طرف سے تین سال کے لیے کوبے مسجد کی امامت کے لیے بھیجے گئے تھے۔ اس کے بعد بھی یہ جاپان ہی میں رہے، کیونکہ جاپان میں دعوت اسلامی کی اہمیت ان کے پیش نظر تھی۔ ان کی لائبریری میں میں نے مولانا مودودی کی بہت ساری کتابوں کے عربی اور انگریزی ترجمے دیکھے۔ مدیر ترجمان القرآن پروفیسر خورشید احمد صاحب کے ترجمے اور کتب بھی ان کے زیر مطالعہ رہیں۔

شاہ فیصل نے جب جاپان کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کا ایک وفد ان سے ملنے گیا، جس میں میرے علاوہ مرحوم پروفیسر عبدالکریم سائتو اور کچھ دوسرے مسلمان رہنما شامل تھے۔ ہم لوگوں نے اس وقت ٹوکیو میں شاہ فیصل کے سامنے جاپان میں مسلمانوں کی تنظیم و یکجہتی اور دعوت اسلام کے فروغ کے لیے جو تجاویز رکھی تھیں، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ڈاکٹر صالح مہدی سامرای کو اسلام کے مبلغ کے طور پر سعودی حکومت کے خرچ پر جاپان واپس بھیجا جائے۔ کیونکہ اس وقت تک وہ ٹوکیو یونی ورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد جاپان سے واپس چلے گئے تھے، اور سعودی عرب کی جدہ یونی ورسٹی میں شعبہ زراعت کے پروفیسر کے طور پر ملازمت کر رہے تھے۔

 اس طرح جب ڈاکٹر سامرای دوبارہ جاپان واپس آئے تو انھوں نے عربوں سے چندہ جمع کر کے کئی لاکھ ڈالر کا ایک اسلامک سنٹر تعمیر کیا۔ پھر ڈاکٹر سامرای ہماری درخواست پر پاکستان گئے اور وہاں سے عبدالرحمن صدیقی کو جاپان لے کر آئے۔ عبدالرحمن صدیقی صاحب نے ۱۹۷۵ء سے ۱۹۹۹ء تک یہاں پر اسلامک سنٹر میں نہایت گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان دونوں افراد کی وجہ سے اسلامک سنٹر کی ساری سرگرمیوں میں فکر مودودی مختلف انداز میں اپنے اثرات دکھاتی رہی۔

مولانا کے کئی چیدہ چیدہ مضامین ان کے سہ ماہی رسالہ اسلام میں شائع ہوئے اور آج بھی جاپانی زبان میں ترجمہ کروا کے شائع کیے جاتے ہیں۔عبدالرحمن صدیقی صاحب نے مولانا مودودی کے ۱۴فکرانگیز کتابچے بھی شائع کر کے مفت تقسیم کرنے کا اہتمام کیا۔ رسالہ دینیات کو بھی چھپوا کر اہتمام کے ساتھ ہر سال دل چسپی رکھنے والے جاپانیوں میں مفت تقسیم کرنے کا سامرای صاحب اور صدیقی صاحب نے نظامِ کار بنایا۔ اب اسلامک سرکل آف جاپان نے جاپان مسجد فاؤنڈیشن کے تحت بھی اسے شائع کیا ہے ۔ مولانا مودودی کے خطبے سلامتی کا راستہ کا جاپانی ترجمہ مساجد میں مفت تقسیم ہوتا ہے۔

مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ختم ہو گئی تو اس کی جگہ جاپان مسلم ایسوسی ایشن بنی، جو اس وقت سے اب تک یعنی گذشتہ تقریباً چالیس سال سے دعوت اسلامی کے کام میں کسی نہ کسی شکل میں مشغول ہے۔ اس میں فکر مودودی کی سرایت کی ایک شکل تو یہ رہی ہے کہ اس فکر کے علم بردار غیر جاپانی مسلمان اس کی قیادت میں شامل رہے۔ کافی عرصے تک اس کے صدر ایک جاپانی بزرگ مسلمان پروفیسر عبدالکریم سائتو تھے اور میں ان کے ساتھ سیکرٹری جنرل رہا اور ڈاکٹر سامرای صاحب اس کے ڈائریکٹروں میں رہے۔ ابتدا میں یہ خیال تھا کہ جاپانی اور غیر جاپانی مسلمان سارے اکٹھے ہو کر جاپان میں دعوت اسلامی کا کام کریں۔ چنانچہ ہم سب لوگوں نے مل کر قرآن کے پہلے جاپانی ترجمے کی اشاعت اس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کروانے کی شروعات کیں۔

ابتدا میں مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے بعد جاپان مسلم ایسوسی ایشن ہی کافی عرصہ تک مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت رہی۔ مجھے جاپان آنے کی دعوت دینے والی جماعت بھی یہی تھی۔ جب عبدالرحمن صدیقی صاحب کی طالب علمی کا دور ختم ہوا، اور انھوں نے پاکستان واپسی کا ارادہ کر لیا تو ان کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ پاکستان سے کسی ایسے فرد کو تلاش کر کے جاپان بھیجیں جو اس ملک میں دعوت اسلامی کے کام کے لیے ہمہ وقت کارکن بن کر مستقل یہیں سکونت اختیار کر سکے۔ اتفاق سے یہ مشرقی پاکستان میں ایک کمپنی میں افسر بن کر چٹاگانگ آئے۔ اس وقت میں بھی چٹا گانگ میں اٹلی کی ایک کار کمپنی کا منیجر تھا۔ دونوں کے دفاتر قریب ہونے کی وجہ سے ان سے میری ملاقاتیں ہوتی رہیں اور انھوں نے مجھے جاپان جانے پر آمادہ کیا۔ اس وقت مجھ پر چٹاگانگ حلقہ کی جماعت کی طرف سے مزدوروں میں کام کرنے کی ذمہ داری تھی۔ الحمد للہ ہمارا اسلامی گروپ چٹاگانگ ریلوے یونین کی قیادت سے بیس سالہ دیرینہ کمیونسٹ لیڈروں کو انتخابات میں شکست دے کر اپنے ہاتھوں میں اس کی باگ ڈور لینے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ ان حالات میں توقع نہیں تھی کہ مجھے چٹاگانگ حلقہ کی جماعت اسلامی کی طرف سے جاپان جانے کی اجازت ملے گی۔ لیکن امیر حلقہ مرحوم عبدالخالق صاحب نے خلاف توقع اس کی اجازت دے دی اور میری جگہ پروفیسر عثمان رمز (مرحوم) کو ڈھاکہ سے چٹاگانگ بلا کر مزدوروں کی ذمہ داری سپرد کی۔ مولانا مودودی نے بھی اس اقدام کے حق میں مشورہ دیا۔      یہ بات بعد میں بنگلہ دیش کے امیر عباس علی خان صاحب نے اپنی ایک کتاب میں اس طرح لکھی: مولانا مودودی نے حسین خاں کو جاپان دعوت اسلامی کے کام کے لیے بھیجا تھا۔

اس وقت جاپان مسلم ایسوسی ایشن کے صدر مرحوم پروفیسر عبدالکریم سائتو تھے۔ انھی کے دعوت نامے اور گارنٹی کی بنا پر مجھے اور میری اہلیہ اور بچوں کو جاپانی سفارت خانہ سے ایک سال والا ویزا ملا تھا جس میں ہر سال توسیع ہو سکتی تھی۔ ٹوکیو ایرپورٹ پر میرا استقبال کرنے والوں میں پروفیسر سائتو کے علاوہ ڈاکٹر سامرای، ٹوکیو مسجد کے ترک امام و موذن وغیرہ سب مسلمانوں کے نمایندے شامل تھے۔

ان دنوں میں جاپان مسلم ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل کے طور پر میری سرگرمیوں میں ایک اور قابل ذکر بات مولانا مودودی کی رہنمائی تھی۔ وہ اس طرح کہ جاپان میں دعوت اسلامی کے کام کے سلسلے میں مولانا مودودی نے ایک خط میں مجھے کچھ ہدایات لکھ کر بھیجی تھیں۔جاپان آنے کے بعد میں پریشان تھا کہ یہاں پر دعوت کا کام کن خطوط پر کیا جائے۔ ایک ریٹائرڈ میجر‘ لندن سے ایک قادیانی مبلغ بن کر جاپان آئے تھے۔ یہ ٹوکیو کے ایک بڑے سٹیشن شی بویا پر حاچی کو میں پمفلٹ بانٹا کرتے تھے۔ یہاں ایک پارک کتے کے مجسمے کی وجہ سے مشہور ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے ملنے کے لیے اس جگہ پر وقت دیتے ہیں اور پھر یہاں سے قریب ہی کسی ریسٹورنٹ یا کافی شاپ جا کر باتیں کرتے ہیں۔ یہاں پر چونکہ ہمیشہ کچھ لوگ ایک دوسرے کے انتظار میں کافی دیر تک کھڑے رہتے ہیں خصوصاً نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، اس لیے یہاں پر کوئی پمفلٹ بانٹا جائے تو لوگوں کے پاس اپنے انتظار کی گھڑیاں کاٹنے کے لیے اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ پمفلٹ پڑھ لیں۔ چنانچہ قادیانی میجر صاحب اپنے ’’خود ساختہ اسلام‘‘ کے بارے میں کچھ لکھ کر لاتے تھے اور اسے پمفلٹ کے طور پر تقسیم کیا کرتے تھے۔ میرے ذہن میں بھی یہ سوال ابھرا کہ کیا مجھے بھی صحیح اسلام کے پمفلٹ لکھ کر بانٹنا چاہیے یا کوئی اور طریقہ استعمال کرنا چاہیے؟

اس کے علاوہ دعوت کے کام کے طریقہ کے بارے میں دوسرے لوگوں کو دیکھ کر کچھ اور سوالات بھی ذہن میں ابھر رہے تھے۔ نئے مذاہب کے علم بردار ‘دل چسپی رکھنے والوں سے ان کے گھروں پہ جا کر اپنے مذاہب کی تبلیغ کرتے تھے۔ اسی طرح کی بہت ساری تجویزیں ذہن میں آ رہی تھیں کہ جاپان میں دعوتِ اسلامی کے کام کو کس نہج پر اٹھایا جائے۔ اسی سلسلے میں میں نے مولانا کو ایک تفصیلی خط لکھ کر ان سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔

مولانا مودودی کے جواب کا خلاصہ یہ تھا: ’’جاپانیوں میں سے کچھ مسلمانوں پر خصوصی توجہ  دے کر انہیں کارکن بنایا جائے ا ور مسلم ملکو ں میں اسلام کی اعلیٰ تعلیم کے لیے انھیں بھیجا جائے‘‘۔

مولانا کی اس ہدایت کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے اور پروفیسر عبدالکریم سائتو صاحب نے مختلف مسلم سفارت خانوں اور مصر، لیبیا اور سعودی عرب کے دینی اداروں سے روابط قائم کرکے نئے نئے مسلمان بننے والے جاپانیوں کو اسکالرشپ دلانے اور انہیں جامعہ ازہر، مدینہ یونی ورسٹی اور علوم دین کے دوسرے مراکز اور مدرسوں میں بھیجنے کی کوشش کی۔ یہاں سے فارغ التحصیل ہو کر واپس جاپان آنے والوں کو اسلامک سنٹر میں ہمہ وقتی کارکن یا مشنری کے طور پر رکھنے کے لیے بھی تجویز دی تھی، لیکن اسلامک سنٹر کے سربراہ اس کوشش میں ناکام رہے یا تو انھوں نے اس کی اہمیت نہیں سمجھی یا ان دوچار جاپانیوں کو جنھوں نے ان مقاصد کے لیے اسلامک سنٹر کی ملازمت اختیار کی، وہ ان کو مطمئن نہیں رکھ سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس طرح کے فارغ التحصیل افراد کی صورت میں بیش تر افرادی سرمایہ ضائع ہو گیا۔ لیکن جو چند افراد لگے رہے انھوں نے جاپان مسلم ایسوسی ایشن کی طرف سے کچھ ترجمے یا اوریجنل کتابیں شائع کی ہیں، جن میں سب سے زیادہ قابل ذکر صحیح مسلم کی احادیث کا تین جلدوں میں مکمل ترجمہ ہے۔ خلافتِ راشدہ اور سیرۃ صحابہ ؓ پر بھی عربی مآخذ سے ان لوگوں نے کچھ کتابیں تصنیف کی ہیں۔ اس طرح فارغ التحصیل جاپانیوں کی طرف سے جاپان مسلم ایسوسی ایشن میں جو کچھ بھی کام ہو رہا ہے اس میںمولانا مودودی کی اس ہدایت کو کسی نہ کسی حد تک دخل حاصل ہے، جو انھوں نے اپنے ایک خط میں مجھے دی تھی کہ انہیں مسلم ممالک کے دینی اداروں میں بھیجا جائے۔

جاپان مسلم ایسوسی ایشن اور اسلامک سنٹر اس وقت جاپان میں بھی دعوتِ اسلامی کے فروغ کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تیس چالیس سال قبل ان کے قیام کے وقت جو کچھ بھی فکر مودودی کے اثرات ان پر پڑے تھے‘ اس کا جائزہ لینے کے بعد دو اسلامی تنظیموں کا ذکر ازبس ضروری ہے جو اٹھی ہی مولانا مودودی کی تحریروں سے دعوتی شعور لے کر ہیں۔ ان میں ایک کا نام ہے اسلامک سرکل آف جاپان اور دوسری کا اسلامک مشن جاپان۔

انھیں آپ پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں کی جاپان میں تحریک اسلامی کہہ سکتے ہیں۔ اول الذکر کے سب پروگرام اردو میں ہوتے ہیں اور موخر الذکر کے بنگالی میں۔ اسلامک سرکل آف جاپان اور اسلامک مشن جاپان، دونوں کے سرگرم کارکنوں کی تعداد سو سے ڈیڑھ سو کے درمیان رہتی ہے۔ کیونکہ ہر سال کارکنوںکی ایک بڑی تعداد اپنے ملک واپس چلی جاتی ہے۔ پاکستان یا بنگلہ دیش جا کر ان میں سے کچھ تو معاشرے میں تحلیل ہو جاتے ہیں اور صرف انتخابات کے زمانے میں ووٹر بن جاتے ہیں اور کچھ واپس جا کر اور زیادہ سرگرم کارکن بن جاتے ہیں۔ اس کی وہی صورت حال ہے کہ جو اسلامی جمعیت طلبہ کی ہے کہ کچھ لوگ اپنی تعلیمی زندگی کے بعد حصولِ معاش اور یا شادی کے مراحل میں ضائع ہو جاتے ہیں، لیکن بالعموم ووٹر کے مقام سے نیچے نہیں گرتے اور کبھی زندگی کی اونچ نیچ کے کسی موڑ پر یکایک سرگرم ہو جاتے ہیں۔ ان کی گھُٹی میں پڑا ہوا تحریک اسلامی کا مزاج کبھی یکایک رنگ لے   آتا ہے۔

جاپان میں آمد کے ابتدائی زمانے میں، میں نے یہاں کے مسلم سفیروں سے بھی کچھ ذاتی روابط پیدا کیے تھے۔ اس دوران نائجیریا اور دوسرے افریقی و عرب ممالک کے سفرا میں کچھ ایسے لوگ بھی ملے، جنھوں نے میرے ذریعے سے پاکستان سے انگریزی میں مولانا مودودی کا لٹریچر منگوایا، یا انھیں تحفہ کے طور پر بھی یہ کتابیں دیں۔

 طالب علمی کے زمانے میں اسلامی جمعیت طلبہ کی مرکزی ذمہ داریوں پر فائز رہنے کے دوران میں نے ایک مرتبہ مولانا مودودی سے گفتگو میں یہ سوال اٹھایا:’’مجھے طلبہ کے سامنے تقاریر کے جو مواقع ملتے ہیں ان میں کیا باتیں کہی جائیں؟ آیا توحید رسالت و آخرت یا قرآن کے مختلف اہم حصوں کی توضیحات یا اسلام کے سیاسی، معاشی و معاشرتی نظام کی تفصیلات یا سیرت رسولؐ، سیرت صحابہؓ کے واقعات کی تشریح کرنی چاہیے یا کچھ اور؟‘‘ مولانا مودودی نے ان سارے موضوعات کو چھوڑ کر فرمایا: ’’طلبہ کے سامنے طلبہ کے اجتماعی مسائل پر بات کریں اور جمعیت طلبہ اُنہیں کس طرح حل کرنا چاہتی ہے ان باتوں پر تقاریر میں زور دیں‘‘۔ خود مولانا مودودی کی تقریریں پاکستان کے شہر شہر میں ہمیشہ سیاسی موضوعات پر ہوا کرتی تھیں۔ جن میں اس طرح کے سوالات بھی ان سے پوچھے جاتے تھے: مولانا، عالم دین ہونے کے حوالے سے ہم تو آپ سے کچھ قرآن و حدیث کی باتیں سننا چاہتے ہیں لیکن آپ حکومت وقت کی خرابیاں گنوانے پر اپنی ساری تقریروں کو مرکوز رکھتے ہیں‘‘۔ درحقیقت پاکستان میں سیاسی تبدیلی کے ذریعہ اسلامی نظام کا نفاذ فکر مودودی کی اولیں ترجیحات میں سے تھا۔

طالب علمی کی زندگی کے بعد مجھے مولانا مودودی کے اس دعوتی و تنظیمی پہلو کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوا‘ جب مشرقی پاکستان کے حلقہ چٹاگانگ میں مزدوروں کے کام کا نگران بنایا گیا۔

جب جاپان آیا تو یہاں پر ایک برائے نام پاکستان ایسوسی ایشن بنی ہوئی دیکھی۔ اس کا کام سال میں ایک دفعہ کوئی ڈرامہ کرنا یا ناچ گانے کا کوئی پروگرام رکھنا تھا۔ جب ادھر توجہ کی تو       مولانا مودودی کی دانش کے اسی نسخہ کیمیا کو استعمال کیا‘ جو انسان کو فوراً قیادت کی منزل پر پہنچا دیتا ہے۔ یعنی پاکستانیوں کے مسائل میں دل چسپی لینا اور اس میں آگے بڑھ کر حصہ لینا اور ان مقاصد کے لیے  دوڑ دھوپ کرنا۔

بیسویں صدی عیسوی اپنی ہنگامہ خیزی کے اعتبار سے تاریخ انسانی میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ مغربی دنیا میں گذشتہ دو صدیوں کے دوران میں آنے والی پے در پے تبدیلیاں مجتمع ہو کر ایک نئے منظر کی تشکیل کر رہی تھیں‘ جس کے تخلیقی تلاطم سے پیدا ہونے والے ارتعاش نے دنیا کے دور دراز علاقوں تک اپنے اثرات پھیلا دیے تھے۔ اسی عرصے میں مسلمانوں کی قوت و عظمت کی آخری نشانی‘ یعنی سلطنت عثمانیہ جس کا سکّہ کسی زمانے میں مشرق وسطیٰ سے لے کر شمالی افریقہ اور بلقان تک    چلتا تھا‘ یہ تھکی ہاری سلطنت حالت اضطرار میں بے رحم اقوام مغرب سے زندگی کی مہلت مانگ رہی تھی‘ جو اسے دینے پر تیار نہیں تھیں۔

جنوبی ایشیا کی سرزمین اس سے پہلے ہی مسلم اقتدار کے عروج کا خاتمہ دیکھنے کے بعد برطانوی استعماری نظامِ حکومت میں کچھ عرصہ گزار چکی تھی۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جیسے حسّاس طبیعت کے شخص کے لیے یہ ایک نہایت دلخراش تجربہ تھا اور ہر گزرنے والا دن ان کے درد و کرب میں اضافہ کردیتا تھا۔ یہ تبدیلی اپنے جوہر میں محض اسلامی اقتدار سے برطانوی اقتدار میں تبدیلی نہ تھی‘ بلکہ ایک ایسی تبدیلی تھی جس کے نتیجے میں یہاں کا معاشرتی اور سیاسی بلکہ اخلاقی نظام تک درہم برہم ہو کر رہ گیا تھا۔ یہ غیرملکی افکار و خیالات کی ایک یلغار تھی جو مسلم معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کیے جا رہی تھی۔   یہ صورت حال اس حقیقت کے سبب اور بھی خراب ہو گئی تھی کہ انگریزوں نے ہندوؤں کو اپنا ایک  فطری دوست سمجھنا شروع کر دیا تھا‘ اور ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی ہند کے بعد جنوب مشرقی ایشیا کی صورت حال کو ان دونوں فریقوں نے مسلمانوں کو سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے مٹانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ مسلمانوں کی طاقت کے خاتمے‘ ان کی اخلاقی رہنمائی کرنے والی قیادت سے محرومی اور آخرکار ان کی تہذیب کی تباہی نے ان کو ایک عجب افسردگی سے دوچار کر دیا تھا۔۱؎

سید مودودیؒ سمجھتے تھے کہ مسلم ممالک پر مغربی استعمار کا فوجی قبضہ ایک عارضی چیز ہے اور یہ زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکے گا۔ ان کی نظروں میں اصل خطرہ مغربی فکر سے تھا جو عیسائیت کے رہے سہے اثر سے آزاد ہونے کے بعد اب مسلمانوں کو اپنے پنجے میں جکڑنے کی تیاری کر رہی تھی۔ مغرب کی استعماری دنیا کے لیے یہ بات نہایت اہم تھی کہ مسلمانوں کی طاقت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے بعد ان کے دل و دماغ کو بھی فتح کیا جائے۔ سید مودودیؒ نے اس صورت حال میں مضمر خطرے کو محسوس کیا اور اس پر تین مختلف صورتوں میں پیش بندی کی: ایک یہ کہ انھوں نے مغربی طرزِ فکر کا خود گہرا مطالعہ کیا۔ دوسرے‘ انھوں نے دلائل سے اسلام کی برتری اور فوقیت ثابت کی‘ اور تیسرے یہ کہ مسلمانوں کا حوصلہ‘ امنگ اور اعتماد بحال ہو۔

اگرچہ سید مودودیؒ کسی یونی ورسٹی وغیرہ میں رسمی تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہے تھے‘ لیکن انھوں نے اپنے طور انگریزی زبان سیکھنے کے لیے سخت جدوجہد کی اور پھر حملہ آور تہذیب و ثقافت کے قالب سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے جس قدر مطالعہ وہ کر سکتے تھے‘ انھوں نے کیا۔ ۱۹۳۰ء کے عشرے سے بہت پہلے‘ جب سید مودودی کے عروج کا آغاز تھا‘ مغرب نے مذہب کو خیر باد کہہ کر سائنس کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا تھا۔ اب دنیا (مغربیوں کے نزدیک): خدا کی قدرت کاملہ سے ’’آزاد‘‘ ہو چکی تھی‘ جسے الہامی علم کی ضرورت نہیں تھی‘ بلکہ انسانی حواس کے ذریعے حاصل ہونے والا علم ہی اس کا واحد ذریعہ تھا‘ جسے ’’میکانکی مادیت‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ آئن سٹائن اور پلانک کے غیر مادی نظریات کو اس مادہ پرستانہ سوچ میں اپنی جگہ بنانے میں ابھی کچھ وقت درکار تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا میں ہر طرف ڈارون‘ مارکس اور فرائیڈ کے نظریات اور ان کی تعبیرات چھائی ہوئی تھیں۔ ان تین مغربی مفکرین نے اس عقیدے کو پاش پاش کر دیا تھا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور یہ کہ دنیا میں اس کی موجودگی کا ایک مقصد ہے۔ نظریۂ ارتقا کے قائلین نے اس تصور کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ محض ایک دھوکا ہے جس کا سبب انسان کی کائنات میں اپنے آپ کو مرکزی حیثیت دینے کی خواہش ہے۔ قادر مطلق کے تشکیل کردہ ایک منظم منصوبے کی نفی کرتے ہوئے انھوں نے زندگی کے مفہوم میں سے روحانی عنصر کا خاتمہ کر دیا۔ فرائیڈ‘ جس نے انسانی شعور پر غور و فکر کیا تھا‘ اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ محض انسان کے لاشعور پر قابض وحشی قوتوں کے باہمی تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ایک نازک سا ضمنی مظہر ہے۔ چنانچہ انسان کے ’’ذی عقل‘‘ ہونے کا وہ تصور بھی ختم ہو گیا جس کا اٹھارھویں صدی میں برپا ہونے والی ’’روشن خیالی کی تحریک‘‘ میں بہت ڈھنڈورا پیٹا گیا تھا۔ ان سب پر مستزاد جدید علم افلاک کی یہ دریافت تھی کہ زمین کی حیثیت پوری کائنات میں ایک بہت ہی چھوٹے سے سیارے کی ہے‘ جس کے باعث اس کی حیثیت اور بھی کم ہو کر رہ گئی۔ پھر ان تینوں فلسفیوں نے نہ صرف انسان کو اس کے شرف سے محروم کیا بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا: ’’آخر ’انسانیت‘ ہے کس چیز کا نام‘‘؟ کیونکہ ان کی نظر میں‘ اس کرۂ ارضی پر زندگی گزارنے والے بہت سے دوسرے جانوروں کی طرح انسان بھی محض ایک جانور ہی تو ہے۔ مختصر یہ کہ مغرب میں دنیا اور انسان کے بارے میں جو تصور ابھر رہا تھا‘ وہ خوفناک حد تک اسلام کی سبھی بنیادی تعلیمات سے متصادم تھا۔ چنانچہ سید مودودیؒ نے اپنی توجہ عقلیت‘ ایجابیت‘ ڈاروینی ارتقا اور کارل مارکس کی بیان کردہ اشتراکیت پر مرکوز کر دی۔

  • عقلیت یا غلامانہ ذہنیت: اس سے پہلے کہ سید مودودیؒ، ڈارون اور دوسرے مغربی مفکرین کے نظریات کو چیلنج کرتے‘ انھوں نے خود مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقے کی سوچ کی سطحیت واضح کرنا ضروری سمجھا۔ وہ سوچ کہ جس نے مغرب کی برتری تسلیم کر لی تھی۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:

جہاں ان ]مسلمانوں[ کو سیاسی استقلال اور خود مختاری حاصل بھی ہے وہاں وہ ذہنی غلامی سے آزاد نہیں ہیں۔ ان کے مدرسے‘ ان کے دفتر‘ ان کے بازار‘ ان کی انجمنیں‘ ان کے گھر‘ حتیٰ کہ ان کے جسم تک زبانِ حال سے شہادت دے رہے ہیں کہ ان پر مغرب کی تہذیب‘ مغرب کے افکار‘ مغرب کے علوم و فنون حکمران ہیں۔ وہ مغرب کے دماغ سے سوچتے ہیں‘ مغرب کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں‘ مغرب کی بنائی ہوئی راہوں پر چلتے ہیں‘ خواہ ان کو اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔ بہرصورت یہ مفروضہ ان کے دماغوں پر مسلط ہے کہ  حق وہ ہے جس کو مغرب حق سمجھتا ہے ‘اور باطل وہ ہے جس کو مغرب نے باطل قرار دیا ہے۔ حق‘ صداقت‘ تہذیب‘ اخلاق‘ انسانیت اور شائستگی کا معیار ان کے نزدیک وہی ہے جو مغرب نے مقرر کر رکھا ہے‘ اپنے دین و ایمان‘ اپنے افکار و تخیلات‘ اپنی تہذیب و شائستگی‘ اپنے اخلاق و آداب ‘سب کو وہ اسی معیار پر جانچتے ہیں‘‘۔(سیدابوالاعلیٰ مودودی‘ تنقیحات‘ ص ۶)

بالیقین مسلمانوں کی غلامانہ ذہنیت پر یہ ایک زبردست گرفت تھی۔ تعلیم یافتہ مسلمان جس ’عقلیت‘ کا کثرت سے پرچار کرتے رہتے تھے‘ حقیقت میں مغرب کی نقالی تھی جس میں حقیقت کے عکس یا تجزیے کو بہت کم عمل دخل تھا۔ لیکن قبل اس کے کہ یہ لوگ دفاع پر مجبور ہوتے‘ سید مودودی ؒان پر واضح کر دینا چاہتے تھے کہ عام مغربی مفکرین بھی اتنے عقلیت پسند نہیں ہیں‘ جتنا وہ ظاہر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ نے لکھا: ’’جدید تحریک کے علم برداروں نے لازم سمجھا کہ خدا‘ یا کسی فوق الطبیعت (Super Natural) ہستی کو فرض کیے بغیر کائنات کے معمے کو حل کرنے کی کوشش کریں اور ہر اس طریقے کو خلافِ حکمت (unscientific) قرار دیں‘ جس میں خدا کا وجود فرض کر کے مسائلِ کائنات پر نظر کی گئی ہو۔ لہٰذا کوئی تعجب کی بات نہیں کہ نئے دور کے اہلِ حکمت فلاسفہ میں خدا اور روح یا روحانیت اور ما بعدالطبیعی امور کے خلاف ایک تعصب پیدا ہوا‘ جو عقل و استدلال کا نہیں بلکہ سراسر جذباتیت کا نتیجہ تھا۔ وہ خدا کا انکار اس لیے نہیں کرتے تھے کہ دلائل و براہین سے اس کا عدم وجود اور عدم وجوب ثابت ہو گیا تھا‘ بلکہ اس سے اس لیے بیزار تھے کہ وہ ان کی آزاد خیالی کے مخالفین کا معبود تھا۔ بعد کی پانچ صدیوں میں ان کی عقل و فکر اور ان کی علمی جدوجہد نے جتنا کام کیا‘ اس کی بنیاد میں یہی غیرعقلی جذبہ کار فرما رہا‘‘۔(ایضاً‘ ص ۹-۱۰)

اپنے مضمون ’’عقلیت کا فریب ‘‘میں سید مودودی ؒنے مزید گہرائی میں جا کر بات کی ہے:

عقلیت (Rationalism) اور فطریت (Naturalism) ‘یہ دو چیزیں ہیں جن کا اشتہار گذشتہ دو صدیوںسے مغربی تہذیب بڑے زور و شور سے دے رہی ہے۔ اشتہار کی طاقت سے کون انکار کر سکتا ہے؟ جس چیز کو پیہم اور مسلسل اور بکثرت نگاہوں کے سامنے لایا جائے اور کانوں پر مسلط کیا جائے‘ اس کے اثر سے انسان اپنے دل اور دماغ کو کہاں تک بچاتا رہے گا۔ بالآخر اشتہار کے زور سے دنیا نے یہ بھی تسلیم کر لیا کہ مغربی علوم اور مغربی تمدن کی بنیاد سراسرعقلیت اور فطریت پر ہے۔ حالانکہ مغربی تہذیب کے تنقیدی مطالعے سے یہ حقیقت بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ اس کی بنیاد نہ عقلیت پر ہے نہ اصول فطرت کی متابعت پر‘ اس کے برعکس اس کا پورا ڈھچر] ڈھانچہ[  حِس‘ خواہش اور ضرورت پر قائم ہے۔ اور مغربی نشات جدیدہ دراصل عقل اور فطرت کے خلاف ایک بغاوت تھی۔ اس نے معقولات کو توڑ کر محسوسات اور مادیت کی طرف رجوع کیا۔ عقل کے بجاے حِس پر اعتماد کیا‘ عقلی ہدایات اور منطقی استدلال اور فطری وجدان کو رد کر کے محسوس مادی نتائج کو اصلی اور حقیقی معیار قرار دیا۔ فطرت کی رہنمائی کو مردود ٹھیرا کر خواہش اور ضرورت کو اپنا رہنما بنایا۔ ہر اس چیز کو بے اصل سمجھا جو ناپ اور تول میں نہ آ سکتی ہو۔ ہر اس چیز کو ہیچ اور ناقابلِ اعتنا قرار دیا جس پر کوئی محسوس مادی منفعت مرتب نہ ہوتی ہو‘‘۔(ایضاً‘ ص ۱۰۳)

سید مودودیؒ کے نزدیک فکرِانسانی پر قائم افادیت کی کسوٹی‘ جو حقیقت کو محسوسیت‘ وزن اور حساب کتاب سے مشروط کرتی ہے سوائے ایجابیت کے اور کچھ نہ تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی تمام اشیا جو مشاہدے اور تجربے سے ماورا ہیں‘ افادیت کے پیمانے میں ان کے وجود یا عدم وجود کی کوئی اہمیت نہیں ہے‘ نہ وہ قابل یقین ہیں‘ کیونکہ ان کا شمار خلافِ عقل چیزوں میں ہوتا ہے۔ چونکہ  صورت حال یہ تھی‘ لہٰذا سید مودودیؒ نے مادی فوائد کے بنیادی تصور کو موضوع بحث بنایا‘کیونکہ مغربی تعلیم یافتہ مسلمانوں نے خود اسلامی احکام کو بھی افادیت کے پیمانے پر پرکھنا شروع کر دیا تھا:

’’اصطلاحاً عقلی اور مادی فوائد محض ایک اضافی نوعیت کی چیز ہیں‘ لہٰذا‘ ان کی اہمیت ٹھیک ٹھیک متعین نہیں کی جا سکتی۔ ایک شخص کسی چیز کو مفید قرار دے سکتا ہے‘ جب کہ دوسروں کے نزدیک ممکن ہے کہ وہی چیز نقصان دہ ہو۔ ممکن ہے کہ کوئی تیسرا شخص اسی چیز کو جزوی طور پر مفید مگر کم اہم بتائے‘ اور کسی اور چیز کو منافع بخش بتائے۔ کسی چیز کی مادی افادیت کا فیصلہ کرنے میں اختلافات کا امکان اور بھی زیادہ ہے‘ کیونکہ ہر شخص مادی فائدے کو اپنے نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ کوئی تو ایسا ہو گا جو فوری نفع حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہو اور نقصان سے بچنے کا متمنی ہو۔ لازمی بات ہے کہ اس شخص کی پسند‘ نا پسند ان لوگوں سے مختلف ہو گی جن کی نظر اس نفع کی حقیقی افادیت پر ہو گی۔ اسی طرح بعض چیزیں کبھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں اور کبھی نقصان دہ۔ کوئی آدمی ایسی چیز کو حاصل کرنے کی صورت میں ہونے والے عارضی نقصان کو برداشت کرنے پر اس لیے تیار ہو سکتا ہے کہ وہ اس کے طویل المدت فوائد حاصل کرنے کا خواہش مند ہے۔ اس کے برعکس ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اس کے نقصان کے سبب اس سے بچیں گے‘ جو انھیں اس کے فائدے کی نسبت کہیں بڑا نظر آتا ہے۔ مزیدبرآں‘ خود عقلی اور مادی فوائد میں بھی باہم اختلاف ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر تجربے کی رو سے کوئی چیز ضرر رساں معلوم ہوتی ہے‘ لیکن عقل ہمیں سمجھاتی ہے کہ مستقبل میں یہ چیز زیادہ بڑے فوائد کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی طرح تجربے سے جس چیز کا مفید ہونا ثابت ہوتا ہے‘ ممکن ہے ہمارا عقلیت پسند دماغ اسے مسترد کرنے پر تلا ہوا ہو۔ اشیا کی اسی درجے کی موضوعیت (subjectivity) کے  پیشِ نظر لوگوں کے نزدیک کسی چیز کی قدر میں کمی بیشی ہو سکتی ہے‘‘۔(ایضاً‘ ص ۸۱-۱۱۲)

سید مودودیؒ، اسلامی معاشرے میں عقلیت کی طرف نئے نئے راغب ہونے اور اسے ایک سائنسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے‘ یا حد سے زیادہ اہمیت دینے والوں کی سطحیت کو اس طرح طشت از بام کر دینا چاہتے تھے کہ اس میں تعصب اور جذبات کا عمل دخل نہ ہو:

ایک طرف عقل و فطرت سے یہ انحراف ہے‘ دوسری طرف عقلیت و فطریت کا دعویٰ ہے اور عقل کے دیوالیہ پن کا حال یہ ہے کہ وہ اس اجتماع ضدّین کو محسوس تک نہیں کرتی --- تعلیم اور تہذیب ِفکر کا کم سے کم اتنا فائدہ تو ہر انسان کو حاصل ہونا چاہیے کہ اس کے خیالات میں الجھاؤ باقی نہ رہے‘ افکار میں پراگندگی نہ ہو۔ وہ صاف اور سیدھا طریق فکر اختیار کر سکے‘ تناقض اور خلط مبحث جیسی صریح غلطیوں سے بچ سکے۔ لیکن مستثنیات کو چھوڑ کر ہم اپنے عام تعلیم یافتہ حضرات کو دماغی تربیت کے ان ابتدائی ثمرات سے بھی محروم پاتے ہیں۔ ان میں اتنی تمیز بھی تو نہیں ہوتی کہ کسی مسئلے پر بحث کرنے سے پہلے اپنی صحیح حیثیت متعین کر لیں۔ پھر اس حیثیت کے عقلی لوازم کو سمجھیں اور ان کو ملحوظ رکھ کر ایسا طریق استدلال اختیار کریں جو اس حیثیت سے مناسبت رکھتا ہو۔ ان سے گفتگو کیجیے یا ان کی تحریریں دیکھیے‘ پہلی ہی نظر میں آپ کو محسوس ہو جائے گا کہ ان کے خیالات میں سخت الجھاؤ ہے --- اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ موجودہ تہذیب اور اس کے اثر سے موجودہ تعلیم کا میلان زیادہ تر حسیات اور مادیات کی طرف ہے۔ وہ خواہشات کو بیدار کردیتی ہے‘ اور ضروریات کے احساس کو بھی ابھار دیتی ہے‘ محسوسات کی اہمیت بھی دلوں میں بٹھا دیتی ہے مگر عقل اور ذہن کی تربیت نہیں کرتی --- اور صحیح عقلی طریق پر کسی مسئلے کو سلجھانے یا کسی امر میں رائے قائم کرنے کی صلاحیت ان میں پیدا ہی نہیں ہوتی۔ اس  غیر ’معقول عقلیت‘ کا اظہار سب سے زیادہ ان مسائل میں ہوتا ہے   جو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں‘کیونکہ یہی وہ مسائل ہیں جن کے روحانی‘ اخلاقی اور اجتماعی و عمرانی مبادی مغرب کے نظریات سے ہر ہر نقطے پر متصادم ہوتے ہیں۔(ایضاً‘ ص ۱۰۵-۱۰۶)

سید مودودیؒ کا مؤقف حقیقت سے قریب تر تھا۔ استدلال سے کام لینا انسان کا امتیازی وصف ہے اگرچہ اس کے کچھ فطری مسائل بھی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ یہ عمل ایک مخصوص سماجی ماحول ہی میں ممکن ہے۔ یہ ایک ایسے انسانی ظرف میں پرورش پاتا ہے جس کی ساخت نفسیاتی و دنیاوی ((psycho-temporal ہے۔ چنانچہ انسان پر اثر انداز ہونے والے امور اس کے طرز استدلال کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں‘ ہر قضیے کا فیصلہ بھی محض استدلال کے ذریعے نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا نفوذ اور عمل‘ خط مستقیم میں نہیں ہوتا۔ بسااوقات یہ پیچیدہ بھول بھلیوں میں پھنس جاتا ہے‘ جن سے نکلنے کا امکان کم ہی ہوتا ہے۔

سید مودودی ؒ اس بات کو غیردانش مندانہ قرار دیتے ہیں کہ کوئی شخص کسی عقیدے کو قبول کرنے کے بعد اسی کے برحق ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس عقیدے کے مسلمہ اصولوں پر بحث نہیں کر سکتا‘ یا کسی کے سامنے اس کے جواز پر استدلال نہیں کر سکتا۔ بے شک اسے یہ سب کچھ کرنے کا حق حاصل ہے‘ لیکن جب وہ اس عقیدے کو قبول کر لیتا ہے تو اسے اس پر شرح صدر ہونا چاہیے۔ کسی حکم کے بارے میں وجۂ جواز مانگنے میں تو کوئی مضائقہ نہیں‘ تاہم یہ بات عقلی اور عملی لحاظ سے انتہائی معیوب ہو گی کہ اسلام کے ہر ہر حکم پر عمل درآمد کے لیے وضاحت طلب کی جائے۔ سید مودودیؒ اس نکتے کو تہذیبی سیاق و سباق میں رکھتے ہوئے اس پر بحث یوں کرتے ہیں:

انسان جس نظام میں داخل ہوتا ہے‘ اس ابتدائی اور بنیادی مفروضے کے ساتھ داخل ہوتا ہے کہ وہ اس نظام کے اقتدار اعلیٰ پر کلّی حیثیت سے اعتقاد رکھتا ہے اور اس کی حکمرانی کو تسلیم کرتا ہے۔ اب جس وقت تک وہ اس نظام کا جز ہے‘ اس کا فرض ہے کہ اقتدار اعلیٰ کی اطاعت کرے خواہ کسی جزئی حکم پر اس کو اطمینان ہو یا نہ ہو۔ مجرمانہ حیثیت سے کسی حکم کی خلاف ورزی کرنا امر دیگر ہے۔ ایک شخص جزئیات میں نافرمانی کر کے بھی ایک نظام میں شامل رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی چھوٹے سے چھوٹے جز میں بھی اپنے ذاتی اطمینان کو اطاعت کے لیے شرط قرار دیتا ہے تو در اصل وہ اقتدار اعلیٰ کی حکومت تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے اور یہ صریح بغاوت ہے۔ حکومت میں یہ طرز عمل اختیار کیا جائے گا تو اس پر بغاوت کا مقدمہ قائم کر دیا جائے گا۔ فوج میں اس کا کورٹ مارشل ہو گا۔ مدرسے اور کالج میں فوری اخراج کی کارروائی کی جائے گی۔ مذہب میں اس پرکفر کا حکم جاری ہو گا۔ اس لیے کہ اس نوع کی طلبِ حجت کا حق کسی نظام کے اندر رہ کر کسی شخص کو نہیں دیا جا سکتا۔ ایسے طالب حجت کا صحیح مقام اندر نہیں باہر ہے۔ پہلے وہ باہر نکل جائے‘ پھر جو چاہے اعتراض کرے‘‘۔(ایضاً‘ص ۱۰۷-۱۰۸)

عقلیت پرست مسلمانوں کا پول کھولنے کے لیے‘ جس کا ان کی جانب سے بہت ڈھنڈورا پیٹا جاتا تھا‘ سید مودودی ایک عقلی آزمایش تجویز کرتے ہیں: ’’آپ کسی مذہبی تعلیم یافتہ شخص سے کسی مذہبی مسئلے پر گفتگو کیجیے اور اس کی ذہنی کیفیت کا امتحان لینے کے لیے اس سے مسلمان ہونے کا اقرار کرالیجیے۔ پھر اس کے سامنے مجرد حکم شریعت بیان کر کے سند پیش کیجیے۔ وہ فوراً اپنے شانے ہلائے گا اور بڑے عقل پرستانہ انداز میں کہے گا کہ یہ ملائیت ہے‘ میرے سامنے عقلی دلیل لاؤ۔ اگر تمھارے پاس معقولات نہیں‘ صرف منقولات ہی منقولات ہیں تو میں تمھاری بات نہیں مان سکتا۔ بس انھی چند فقروں سے یہ راز فاش ہو جائے گا کہ اس شخص کو عقلیت کی ہوا بھی چھو کر نہیں گزری ہے۔ اس غریب کو برسوں کی تعلیم و تربیت علمی کے بعد اتنا بھی معلوم نہ ہو سکا کہ طالب حجت کے عقلی لوازم کیا ہیں اور طالب ِحجت کی صحیح پوزیشن کیا ہوتی ہے‘‘۔(ایضاً‘ ص ۱۰۶)

ایک دلیل بڑی کثرت سے دی جاتی رہی ہے کہ انسانی ذہن کے افق پر فکرِ جدید کے طلوع ہونے کے بعد اب مذہب ایک ازکار رفتہ (outdated) چیز بن گیا ہے۔ بہ طرز فیشن یہ بھی کہا گیا کہ علم تو بس وہی ہے جو آدمی اپنے حواس کے ذریعے سے حاصل کرے کیونکہ اس کی ناپ تول کی جاسکتی ہے۔ اس قسم کے تصورات پر انھوں نے تین اطراف سے ضرب لگائی۔ اول یہ کہ انھوں نے  علمِ جدید کے احتمالی یا تصوراتی ہونے کے امکان کی طرف اشارہ کر کے اس کی اصلی ہیئت آشکار کی۔ دوم یہ کہ انھوں نے اس دعوے کا لغوا اور مہمل ہونا ثابت کیا کہ اب عقیدے کی جگہ تجربی طریقوں نے لے لی ہے۔ تیسرے ‘انھوں نے ثابت کیا کہ آج کے زمانے میں بھی لوگ غیر مرئی وجود پر یقین رکھتے ہیں۔ لادین (سیکولر) عناصر کے دلائل کی حقیقت کو کھولتے ہوئے وہ فرماتے ہیں:

علوم جدیدہ اور اکتشافات حاضرہ سے مرعوب ہو کر مذہب کی طرف ایک ترمیم طلب نگاہ ڈالنا تو صرف ان لوگوں کا شیوہ ہے جن کے دل میں یہ تخیل گھر کر گیا ہے کہ نئی چیز علم و اکتشاف ہے‘ اور زمانے کا ساتھ دینے کے لیے اس کو قبول کر لینا یا اس پر ایمان لے آنا ضروری ہے‘ خواہ اس کی حیثیت محض قیاسی و نظری ہو اور خواہ اس کو انھوں نے گہری علمی بصیرت کے ساتھ نقد صحیح کی کسوٹی پر پرکھا بھی نہ ہو۔ ایسے ہی لوگوںمیں ’’عمل و خیال کی نئی طرحیں‘‘ ڈالنے کا شوق پیدا ہو گیا ہے۔ حالانکہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ عمل و خیال کی  نئی طرحیں کیوں کر پڑتی ہیں‘ اور کون سی طرحیں عاقلانہ ہوتی ہیں اور کون سی محض طفلانہ‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۱۲۰‘ ۱۲۱‘ ۱۲۳)

  • ڈاروینی ارتقا -- عقیدہ یا سائنس: ڈارون کا نظریہ منظر عام پر آنے سے پہلے مغرب نے کائنات کی وسعت کے بارے میں ایک نیا تصور وضع کر لیا تھا۔ مسیحیت اگرچہ اب بھی ایک قوت تھی مگر فطرت کے اسرار کو سمجھنے کے معاملے میں اسے پہلے جو فیصلہ کن برتری حاصل تھی‘ اب اس کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ ڈیکارٹ اور نیوٹن کے پیش کردہ نظریات نے اپنے لادین اثرات ظاہر کرنا شروع کر دیے تھے۔ ڈارون کے نزدیک اب وقت آ گیا تھا کہ مذہبی روایات سے مکمل علیحدگی کو مؤثر بنایا جائے اور کائنات کی تشریح‘ توافق اور فطری انتخاب کے اصولوں پر کی جائے۔ اس عمل کے نتیجے میں ایک نیا نمونہ ابھر کر سامنے آیا۔ اگلی صدی کے لیے سائنسی برادری نے ڈارون کو اپنا بُت بنا لیا۔

ڈارون کی زندگی میں‘ اور اس کے بعد بھی‘ بہت کم لوگ اس کے نظریے سے اختلاف کرنے کی جرأت کرپائے تھے۔ جو کرتے تھے‘ ان کی خوب مٹی پلید کی جاتی تھی۔ آخر ۱۹۵۸ء میں‘ جب فرانسیسی ماہرین حیاتیات نے ’فرانسیسی دائرۃالمعارف‘ (Encyclopedie Francaise) کی پانچویں جلد میں نظریہ ارتقا پر سخت تنقید کی‘ تو پہلی مرتبہ ڈارون پرستوں کو اپنا موقف خطرے میں محسوس ہوا۔ اب تک انھوں نے حیاتیات کا سہارا لے رکھا تھا‘ خصوصاً خوردبینی سطح پر‘ لیکن جب کلاڈ برنارڈ سے لے کر لیوسین کیونو (Lucein Cuenot) تک نے یہ کہا کہ ’’نظریہ ارتقا نا ممکن ہے‘‘ تو ڈارون کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ اس سے بھی بڑھ کر ان ماہرین حیاتیات نے اس نظریے کو محض ایک عقیدہ (dogma) قرار دے دیا۔ انھوں نے کہا: ’’نظریہ ارتقا ایک ایسا عقیدہ ہے‘ جس کے مبلغین اگرچہ اب خود اس پرایمان نہیں رکھتے‘ لیکن لوگوں کے سامنے اسے پیش کیے جا رہے ہیں۔ جس معاملے کی تشریح کرنے کی اس نظریے نے جسارت کی ہے‘ اب اس پر اتنی بات ہو چکی ہے کہ ممکن ہے آنے والی نسل کے سائنس دان اپنی تحقیق کسی اور زاویے سے کریں‘‘۔۲؎

۱۹۳۰ء کے عشرے میں ایک طالب علم کے سوال کا جواب دیتے ہوئے جو ڈاروینی ارتقا کی ہیبت سے مرعوب ہو کر اپنے ایمان کو متزلزل ہوتا محسوس کر رہا تھا‘ سید مودودیؒ نے ڈارون پر مختصر تنقیدی نوٹ لکھا۔ مسئلے کے قلب میں اترتے ہوئے نظریے اور قانون کے فرق کو اس طرح واضح کیا: ’’نظریے اور واقعے کا فرق کسی تعلیم یافتہ آدمی سے پوشیدہ نہیں ہوسکتا۔ اور یہ بھی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آدمی کے لیے اپنے ایمان پر نظرثانی کرنے کا سوال اگر کبھی پیدا ہو سکتا ہے تو صرف اس صورت میں‘ جب کہ وہ چیز جس پر وہ ایمان رکھتا ہے‘ کسی ایسی چیز سے ٹکرا جائے جو ثابت شدہ واقعہ ہو۔ ورنہ جو ایمان قیاسات و نظریات کی ٹکر بھی نہ سہہ سکے وہ ایمان  تو نہیں‘ محض ایک حسنِ ظن ہے جو نری افواہوں پر بدگمانی میں تبدیل ہو جاتا ہے‘‘۔(سید ابوالاعلیٰ مودودی‘تفہیمات‘ دوم‘ ص ۲۷۸)

ایک اﷲ کی ربوبیت پر کامل ایمان رکھنے والے فرد کی حیثیت سے سید مودودیؒ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ زندگی میں پائی جانی والی پیچیدگی اور تنوع جو یک خلوی جانداروں سے لے کر ایک کامل انسان تک میں پایا جاتا ہے‘ کسی حادثاتی یا الل ٹپ عمل کا نتیجہ نہیں‘ بلکہ اس کے اندر ایک غیر معمولی نظم پایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ: کائنات ایک اعلیٰ ترین دماغ کی تخلیق ہے‘ جس نے مختلف جانداروں میں سے ہر ایک کو اس کے لیے درکار سازگار ماحول میں نشوو نما دی اور پھر رفتہ رفتہ انھی جانداروں سے امتیازی خصوصیات رکھنے والی انواع (species) کو فروغ دیا۔ اگر اﷲ تعالیٰ کے منصوبے میں کچھ انواع کا وجود غیر ضروری ہو گیا تو اس نے انھیں بتدریج معدوم کر دیا۔ اس کے برعکس ڈارون کے پیروکار‘ فطرت کو ایک ایسی عینک سے دیکھتے تھے جو بے خدا ذہنیت کے رنگ میں رنگی ہوتی تھی۔ اس عینک سے دیکھتے ہوئے انھیں جو کچھ نظر آتا تھا وہ یہ تھا کہ زمین پر زندگی جوہری ذرات (atoms) کے خود بخود ترتیب پانے کی صلاحیت کی مرہون منت ہے۔ سید مودودیؒ کے نزدیک ڈارون ازم ایسے ذہن کے لیے بآسانی قابل قبول تھا: ’’یورپ نے جو اس وقت اپنے الحاد کو پاؤں کے بغیر چلا رہا تھا‘ لپک کر یہ لکڑی کے پاؤں ہاتھوں ہاتھ لیے اور نہ صرف اپنے سائنس کے تمام شعبوں میں‘ بلکہ اپنے فلسفہ و اخلاق اور اپنے علوم عمران تک میں ان کو نیچے سے نصب کر لیا۔ حالانکہ علمی اور عقلی حیثیت سے اس توجیہہ میں اتنے جھول تھے اور ہیں کہ مشکل ہی سے کوئی صاف دماغ کا آدمی اس کو‘          منظر (phenomena) کی ممکن توجیہات میں سے ایک قابل لحاظ توجیہہ قرار دے سکتا ہے‘‘۔(ایضاً‘ ص۲۸۰)

ڈارون خود یہ بات تسلیم کرتا تھا کہ اس کا نظریہ عمل ارتقا زندگی کی درمیانی کڑیوں کی    توجیہہ سے قاصر ہے۔ اس کے سب سے بڑے حامی جولین ہکسلے نے اس کی کتاب اصل الانواع    (The Origin Of the Species) کو ایک عظیم کتاب قرار دیا تھا۔ اس نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھاکہ درمیانی کڑیاں لازماً موجود ہوں گی۔ ہکسلے کے مندرجہ ذیل الفاظ مذہبی ایقان کی کیفیت سے سرشار دکھائی دیتے ہیں:

Hence we ought not to expect at the present time to meet with numerous transitional varieties in each region, though they must have existed there, and may be embedded there in a fossil condition. If my theory be true, linking closely   together all the species of the same group, must assuredly have existed.

اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ عمدہ طریقے سے منتخب کردہ شہادتوں کا ایک وسیع ذخیرہ فراہم کرتی ہے --- جس میں [مصنف] ثابت کرتا ہے کہ زمین پر پائے جانے والے حیوانات اور پودے اپنی موجودہ شکلوں میں فرداً فرداً پیدا نہیں کیے جا سکتے تھے‘ بلکہ لازمی طور پر اپنے سے پہلے پائی جانے والی شکلوں سے تبدیلی کے ایک سست رفتار عمل کے ذریعے لازماً ارتقا پذیر ہوئے ہوں گے۔

ڈارون اپنے نظریے کی خامیوں سے آگاہ تھا۔ اس کی کتاب کا چھٹا باب جس کا عنوان ’’نظریۂ ارتقا کی مشکلات‘‘ ہے‘ دوسری باتوں کے علاوہ زندگی کی درمیانی کڑیوں کی عدم موجودگی کا بھی ذکر کرتا ہے۔ اپنے ناقدین کے اعتراضات کو دہرانے کے بعد وہ یہ سوال کرتا ہے کہ اگر انواع ایک دقیق تدریجی عمل کے ذریعے دوسری انواع سے نکلی ہیں تو ہمیں جگہ جگہ زندگی کی درمیانی کڑیاں کیوں نظر نہیں آتیں؟ وہ ان مشکلات کو اپنے نظریے کے حق میں مہلک قرار دیتا ہے۔ بہرحال اس سلسلے میں اس کا موقف یہ ہے کہ تحجّراتی (fossil) ریکارڈ ابھی نامکمل ہے: ’’چنانچہ ہمیں فی الوقت  ہر علاقے میں زندگی کی بے شمار درمیانی کڑیاں (missing links) دیکھنے کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ اگرچہ یہ اقسام وہاں رہی ضرور ہوں گی اور فوسل کی شکل میں زمین میں دفن ہو چکی ہوں گی‘‘ (ص۱۵۸)۔ پھر صفحہ ۱۶۳ پر بھی وہ اسی قسم کا ایک اور بیان دیتا ہے: ’’اگر میرا نظریہ درست ہے اور ایک ہی گروپ کی تمام انواع میں قریبی تعلق پایا جاتا ہے تو یہ لازمی ہے کہ زندگی کی درمیانی کڑیاں رہی ہوںگی‘‘۔۳؎ سید مودودیؒ نے اس نظریے میں ’’لازماً ہوا ہو گا‘‘ (must have evolved) جیسے جملوں پر انحصار کرنے کو ایک غیر سائنسی رویہ قرار دیا۔

  • تاریخ کے بارے میں ہیگل اور مارکس کا نقطۂ نظر: سید مودودیؒ، تہذیب جدید پر اس وجہ سے تنقید کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک اس نے بنی نوع انسان کے مسائل میں     بے تحاشا اضافہ کر دیا ہے جن کی جڑیں ہیگل کی تاریخ نگاری میں پیوست ہیں۔ کارل مارکس نے ہیگل کے پیش کردہ ’’جدلی عمل‘‘ (Dialectical Process) کے تصور کی بنیاد پر تاریخ کی مادی تعبیر کی عمارت کھڑی کر کے انسانی مصائب میں مزید اضافہ کیا۔ ہیگل کی وہ تاریخ نگاری‘ جسے سید مرحوم اس قدر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں‘ اصل میں ہے کیا؟ اپنے مخصوص مجمل انداز میں‘ جو انھیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے‘ سید مودودی‘ ہیگل کے فلسفے کو حسب ذیل الفاظ میں سمیٹتے ہیں:

انسانی تہذیب و تمدن کا ارتقا دراصل اضداد کے ظہور‘ تصادم اور امتزاج سے واقع ہوتا ہے اور تاریخ کا ہر دور ایک وحدت‘ ایک کل‘ یا اگر استعارہ کی زبان میں کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ گویا ایک زندہ نظام جسمانی ہوتا ہے۔ اس دور میں انسان کے سیاسی‘ معاشی‘ تمدنی و اخلاقی‘ علمی و عقلی اور مذہبی تصورات ایک خاص مرتبے پر ہوتے ہیں۔ ان سب کے اندر ایک مناسبت‘ ایک ہم آہنگ کلیت ہوتی ہے۔ وہ گویا اس زندہ وجود ‘ یا اس عصری وحدت کے مختلف پہلو یا رخ ہوتے ہیں‘ اور ان سب میں اس پورے دور کی روح طاری و ساری ہوتی ہے۔جب ایک بڑا دور اپنی روح کو انتہائی مدارج تک ترقی دے چکتا ہے‘ اور اس دور کو چلانے والے اصول‘ نظریات اور افکار انسانی تہذیب و تمدن کو اپنی قوت و استعداد کی آخری حد تک پہنچا دیتے ہیں‘ تب خود اسی دور کی آغوش سے پرورش پا کر اس کا ایک دشمن ظاہر ہوتا ہے‘ یعنی کچھ نئے افکار‘ نئے رجحانات‘ نئے نظریات اور نئے اصول جو خود اسی روبہ زوال دور کے طبیعی تقاضے سے پیدا ہوتے ہیں اور پرانے افکار سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔

کچھ مدت تک قدیم اور جدید میں کش مکش جاری رہتی ہے۔ بالآخر کسرو انکسار کے بعد قدیم و جدید میں امتزاج ہو جاتا ہے۔ کچھ قدیم عناصر اور کچھ جدید عناصر کی آمیزش سے ایک نئی عصری تہذیب وجود میں آتی ہے۔ اور اسی طرح تاریخ کا ایک دوسرا دور شروع ہوجاتا ہے۔

اس عمل ارتقا کو ہیگل اپنی اصطلاح میں ’جدلی عمل‘ (Dialectic Process) کہتا ہے۔ اس کے نزدیک عرصۂ تاریخ یا میدانِ دہر میں گویا ایک مسلسل منطقی مناظرہ و مجادلہ ہورہا ہے۔ پہلے ایک دعویٰ (thesis) سامنے آتا ہے۔ پھر اس کے مقابلے میں جواب دعویٰ (antithesis) پیش ہوتا ہے۔ پھر ایک طویل جھگڑے کے بعد عقلِ کُل یا روح کُل ان کے درمیان صلح کراتی ہے‘ یعنی کچھ باتیں اِس کی اور کچھ اُس کی قبول کر کے ایک مرکب (synthesis) بنا دیتی ہے۔ آگے چل کر یہ مرکب خود ایک دعویٰ بن جاتا ہے۔ پھر اس کا جوابِ دعویٰ مقابلے میں آتا ہے اور پھر ان کے درمیان لڑائی کے بعد مصالحت ہوتی ہے اور ایک نیا مرکب بنتا ہے‘‘۔(تفہیمات‘ دوم‘ ص ۲۶۴)

’جدلی عمل‘ پر گرفت کرتے ہوئے سید مودودیؒ کہتے ہیں کہ ہیگل کے نزدیک ’جدلی عمل‘ اپنے جوہر میں اجتماعی اور اپنے اثرات میں ہمہ گیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تاریخ کا کوئی بھی دور گویا ایک مجسم اور زندہ اکائی ہے ‘ جب کہ افراد اور انسانی گروہ اس کے اعضا وجوارح ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اس دور کے اجتماعی مزاج کے اثر سے آزاد نہیں ہو سکتا‘ حتیٰ کہ عظیم تاریخی شخصیات کی حیثیت بھی شطرنج کے مہروں کی سی ہے۔ اس زور آور دریا کے طوفانی بہاؤ میں سے ’’خیالِ مطلق‘‘ (Absolute Idea) شاہانہ انداز میں بلند ہوتا ہے اور ’’دعویٰ‘‘ ، ’’جوابِ دعویٰ‘‘ اور بالآخر ان دونوں کے امتزاج یا ’’تالیف دعاوی‘‘ کا سبب بنتا ہے۔ ہیگل کے تصور کے مطابق اس سارے عمل میں ایک واضح ستم ظریفی موجود ہے۔ ’’خیالِ مطلق‘‘ یا ’’سببِ جہاں‘‘ (World Reason) افراد اور گروہوں کو اس مغالطے کا شکار کرتا ہے کہ وہ تبدیلی کے عمل میں حصہ لے رہے ہیں‘ جس سے وہ اس یقین میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہی دراصل اس تاریخی کھیل میں حرکت اور تبدیلی پیدا کرنے والے ہیں۔ لیکن درحقیقت ’’سببِ جہاں‘‘ ان کو اپنی ذات کی تکمیل کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کے لیے گویا یہ وجود پذیری کا عمل ہے۔

ہیگل کے فلسفہ تاریخ پر بحث کرنے کے بعد سید مودودیؒ اپنے مخصوص اور جامع اسلوب میں مارکس کے خیالات کا خلاصہ بیان کرتے ہیں: ’’کارل مارکس نے ہیگل کے اس فلسفیانہ نظریے میں سے ’جدلی عمل‘ کا خیال تو لے لیا مگر روح یا فکر کا تصور جو ہیگلی فلسفے کی جان تھا‘ اس سے الگ کر دیا۔ فکر کے بجاے اس نے مادی اسباب یا معاشی محرکات کو تاریخی ارتقا کی بنیاد قرار دیا‘‘۔(ایضاً‘ ص ۲۶۵)

سید مودودی ؒکہتے ہیں: مارکس کے اس نقطۂ نظر کے مطابق انسانی قسمتوں کا فیصلہ کرنے والی واحد چیز معیشت ہے۔ کسی بھی دور کی تہذیب‘ اس کے قوانین‘ اخلاقیات‘ مذہب‘ فنون اور فلسفے کی تشکیل اس دور کا معاشی نظام ہی کرتا ہے۔ مارکسی تصور کے مطابق ’جدلی عمل‘ تاریخ میں اپنے اثرات کو اس وقت ظاہر کرتا ہے‘ جب کسی نظام معیشت کے تحت افراد کا ایک طبقہ ذرائع پیداوار پر قبضہ کر لیتا ہے اور دوسرے طبقات کو ذلت آمیز انحصار پر مجبور کر دیتا ہے۔ جب ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو کچلے ہوئے طبقے کے لوگ رفتہ رفتہ اپنی حالت سے بے زار ہونا شروع ہو جاتے ہیں‘ اور آخر کار حق ملکیت اور مال و اسباب کی تقسیم کے بارے میں مختلف اصول و ضوابط رکھنے والے ایک ایسے نظام کا مطالبہ شروع کر دیتے ہیں‘ جو ان کے مفادات کو پورا کر سکے۔ کسی مروّجہ سیاسی نظام میں اس قسم کی گروہ بندی کا پھلنا پھولنا دراصل چلتے نظام کے خلاف ’’جوابِ دعوی‘‘ ہوتا ہے۔ جوں جوں اس کش مکش میں شدت آتی جاتی ہے‘ قانون‘ مذہب اور دیگر تصورات اپنے وجود کو خطرے میں پا کر استحصالی نظام کی بقاکے لیے سرگرم  ہوجاتے ہیں۔ نئے ابھرنے والے طبقات جو موجودہ معاشی نظام کی تبدیلی کے لیے کوشاں ہوتے ہیں‘ پہلے سے تسلیم شدہ ’سچائیوں‘ کو مسترد کر کے نئی اقدار کو رواج دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

کارل مارکس کے نزدیک تاریخ میں آنے والی تما م تبدیلیوں اور انسانی تمدن کے ارتقا کو ذرائع پیداوار اور ان کی تقسیم کے عمل سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل کو جو چیز حرکت میں لاتی ہے‘ وہ طبقاتی جنگ (class war) ہے۔ مارکس کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ انسانی تہذیب میں مذہب اور اخلاقیات کی کوئی طے شدہ اقدار نہیں ہیں جنھیں معروضی سچ قرار دیا جا سکے۔ اس کے برخلاف یہ انسانی فطرت ہے کہ پہلے اپنے مادی مفادات کے حصول کے لیے ایک نمونہ (model) منتخب کرے۔ اس کے بعد اس کے جواز و بقا کے لیے ایک نیا مذہب اور اخلاقیات کا ایک نیا فلسفہ ایجاد کرے۔ یہ خود غرضانہ کش مکش فطرت کے عین مطابق ہے۔ مصالحت کے لیے اگر کوئی بنیاد ہو سکتی ہے تو وہ معاشی مفادات کے اشتراک ہی کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ جو لوگ ان مشترکہ مفادات کے حق میں نہیں ہوتے وہ ایک نزاع اور تصادم کو دعوت دیتے ہیں۔

سید مودودی ؒنے اس امکان کو یکسر مسترد کر دیا کہ کوئی شخص بیک وقت مومن اور مارکس کا پیروکار بھی ہو سکتا ہے۔ یہ انتہا درجے کا تناقض اور بے حد افسوس ناک صورت حال ہو گی۔ سید مودودیؒ‘ ہیگل کے نظریات کو ۱۰۰ فی صد غلط قرار نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک تاریخ کے بارے میں ہیگل کا فلسفہ اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ ارتقاے انسانی متضاد نظریات کے تصادم اور اس کے نتیجے میں ہونے والے تصفیے کا مرہون منت ہے۔ لیکن تاریخ کے اس پہلو کی تشریح اس قدر خوب صورتی سے کرنے کے بعد ہیگل ایسے تصورات پیش کرنے لگتا ہے جو بالکل ہی بے بنیاد ہیں۔ مثال کے طور پر ہیگل‘ اﷲ تعالیٰ کو ’’روح عالم‘‘ (World Spirit) سے تعبیر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس پردے میں آپ اپنی نمایش کر رہا ہے۔ اپنی ذات کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔ تاریخ کی شاہراہ پر مارچ کر رہا ہے۔ رہا انسان‘ تو وہ بے چارہ محض خارجی مظہر یا آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔سید مودودیؒ ،ہیگل کے جدلی نظریے کے اس پہلو کو خالص فریب نظری قرار دیتے ہیں۔

سید مودودیؒ ہیگلی نظام میں پائے جانے والی ناہمواریوں کو ایک چیستان سے تشبیہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں: ’’باوجود یکہ یہ نظریہ اپنے اندر صداقت کی ایک جھلک رکھتا ہے‘ ہمیں اس کے اندر قیاس آرائی (speculation) کا عنصر بہت زیادہ اور تاریخ کے حقیقی واقعات سے استشہاد بہت کم نظر آتا ہے۔ --- اس نے واقعات کے اندر اتر کر یہ تحقیق کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی کہ جن اضداد کے درمیان نزاع ہوتی ہے‘ ان کی حقیقی نوعیت کیا ہے‘ پھر ان کے درمیان مصالحت کیوں ہوتی ہے‘ اور اس مصالحت سے جو مرکب بنتا ہے‘ وہ آگے چل کر پھر کیوں اپنے اندر سے اپنا ایک دشمن پیدا کر دیتا ہے۔ اس جدلی عمل کا تفصیلی اور تحلیلی مطالعہ کرنے کے بجائے ہیگل اس پر یوں نگاہ ڈالتا ہے جیسے کوئی پرندہ فضا میں اڑتے ہوئے کسی شہر کا ایک طائرانہ جائزہ لیتا ہو‘‘۔(ایضاً‘ ص ۲۷۰-۲۷۱)

سید مودودیؒ کے خیال میں جہاں ہیگل کے نظریے میں ٹھوس پن مفقود ہے وہاں مارکس کے خیالات سطحی نوعیت کے ہیں: ’’وہ انسان کی فطرت‘ اس کی ساخت اور اس کی ترکیب کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ باہر کے حیوان کو تو فوراً دیکھ لیتا ہے جسے معاشی ضروریات لاحق ہوتی ہیں مگر اس کے اندر کے انسان کو نہیں دیکھتا جو اس بیرونی رُوبہ کار خول میں رہتا ہے۔ مارکس انسانی فطرت کے مقتضیات سمجھ نہیں پاتا‘ جو بیرونی حیوان کی طبیعت سے بہت مختلف ہیں‘‘۔

سید مودودیؒ کہتے ہیں کہ مارکس کے کام کا یہ پہلو انتہائی کمزور ہے اور اس کے عمرانی تصور کے غیرمتوازن ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ مارکس کا خیال ہے کہ نفس انسانی‘ نفس حیوانی کا غلام ہے۔ اس کے قواے ذہنی‘ قوت مشاہدہ‘ قوت تخلیق اور وجدانی ساخت‘ سب کے سب اسی بیرونی حیوان کی خدمت کے لیے وقف ہیں: ’’]مارکس کے نزدیک[ اندر والے انسان نے آج تک اس کے سوا کچھ نہیں کیا‘ نہ وہ آیندہ کرے گا‘ نہ وہ اس کے سوا کچھ کر سکتا ہے کہ بس اپنے آقا‘ یعنی باہر والے حیوان کی خواہشات کے مطابق اخلاق اور قانون کے اصول بنائے‘ مذہب کے تصورات گھڑے‘ اور اپنے لیے زندگی کا راستہ معین کرے -- انسان کی حقیقت کا یہ کتنا ذلیل تصور ہے۔ کتنا پست ہے وہ ذہن جس نے اس تصور کو پیدا کیا اور کتنے پلید ہیں وہ ذہن جو اسے قبول کرتے ہیں‘‘۔(ایضاً‘ ص ۲۷۲)

تاہم سید مودودیؒ نفس انسانی پر حیوانی ہیجانات (impulses) کے اثرات کو یکسر نظرانداز نہیں کرتے‘ بلکہ اس بات کی تردید بھی نہیں کی جا سکتی کہ نفس حیوانی‘ نفس انسانی پر برتری حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ لیکن سید مودودیؒ کے نزدیک مارکس کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ’نفس حیوانی پر نفس انسانی اثرانداز نہیں ہو سکتا‘۔ تاریخ کے متعلق اس کا مطالعہ بالکل باطل نظر آتا ہے‘ جب وہ یہ کہتا ہے کہ تہذیبوں کا نشوونما محکوم افراد پر منحصر ہے جو انسانیت کے نہیں بلکہ اپنے حیوانی نفس کے تابع ہوتے ہیں۔ سید مرحوم فرماتے ہیں: ’’اگر وہ آزادانہ نگاہ سے دیکھتا‘ تو اسے نظر آتا کہ انسانی تہذیب میں جو کچھ قیمتی اور شریف اور صالح‘ ہے وہ سب ان لوگوں کا عطیہ ہے جنھوں نے حیوانیت کو انسانیت کا تابع اور محکوم بنا کر رکھا تھا‘‘۔(ایضاً‘ ص ۲۷۲)

  • متبادل نقطۂ نظر: دنیا میں انسان کے مقام و مرتبے کے بارے میں موجودہ نظریات کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد ان کے مقابلے پر اسلام کا نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے سید مودودیؒ فرماتے ہیں : قرآنی تعلیمات کے مطابق انسان محض ایک حیاتیاتی وجود نہیں ہے جس میں بھوک‘ جنس‘ طمع‘ خوف اور غصے جیسی صفات کا بسیرا ہے‘ بلکہ اس میں ایک روحانی جوہر بھی ہے جو اخلاقی ارتعاشات کے ساتھ ساتھ گھٹتا بڑھتا ہے۔ انسان دوسرے جانوروں کی طرح جبلت کا محض پابند نہیں ہے‘ بلکہ اسے ذہانت‘ صوابدید اور علم حاصل کرنے اور آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیتیں بھی عطا کی گئی ہیں۔  اللہ تعالیٰ انسان کو کسی طے شدہ راستے پر چلنے کے لیے مجبور نہیں کرتا‘ نہ وہ انسانی وجود کو مکمل طور پر اپنا پابند بناتا ہے۔ اس کے برخلاف اس نے انسانوں کو جدوجہد کرنے کی صلاحیت سے مالا مال کیا ہے تاکہ وہ زندہ رہنے کے لیے جفاکشی کو اپنا شعار بنائیں‘ اپنی مخفی صلاحیتوں کا ادراک کریں اور جو کچھ وہ چاہتے ہیں اسے اپنی کوشش سے حاصل کریں۔ ایک خودمختار وجود کے طور پر جدوجہد کرنے کی قابلیت ہی کا نام انسان ہے۔(ایضاً‘ ص ۲۷۲-۲۷۳)

اس بیرونی نفسِ حیوانی کو‘ جو ایک سرکش اور غیر مہذب عامل ہے جسے اپنی خواہشات اور شہوات کو پورا کرنے کے علاوہ کسی اور چیز سے غرض نہیں ہوتی-- اللہ تعالیٰ نے دراصل اندرونی انسان کی خدمت پر مامور کیا ہے۔ جب یہ جذبات سے بے قابو ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام کو تلپٹ کر کے نفسِ انسانی کو اپنا ماتحت بنا لیتا ہے‘ تاکہ اس کی ذہنی صلاحیتوں پر تصرف کر کے اس سے اپنے سفلی مطالبات پورے کروا سکے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ انسانی صفات ترقی نہ کر سکیں‘ اس کی بصیرت محدود ہو جائے‘ اور اس کے اندر جاہلیت کے جذبات بھڑکتے رہیں۔ انسانی نفسِ لوّامہ‘ نفس حیوانی کو نکیل ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سلسلے میں اسے عدل و انصاف‘ زہد و تقویٰ اور صحیح و غلط کی رہنمائی کرنے والا الہامی علم میسر ہے۔ یہاں تک کہ اپنی جبلی خواہشات کی تسکین کے لیے بھی وہ اس علم کی روشنی میں صحیح راستے تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے مقاصد نفسِ حیوانی کی سفلی خواہشات کے مقابلے میں نہایت بلند ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی نظروں میں‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بھی‘ اچھا بننا چاہتا ہے۔ اس کا وجدان اسے ایک اخلاقی وجود کی حیثیت سے خوب سے خوب تر بننے پر اکساتا رہتا ہے۔

سید مودودیؒ کہتے ہیں کہ انھی وجوہ سے بنی نوعِ انسان کی پوری تاریخ نفسِ انسانی اور اپنے مدمقابل نفسِ حیوانی کے درمیان جاری کش مکش سے عبارت ہے۔ نفسِ انسانی اپنے وجدان کی ترغیبات پر عمل کرنا چاہتا ہے ‘جب کہ نفسِ حیوانی اسے نیچے کی جانب کھینچ کر ایسے راستوں پر چلاتا ہے جو خطرناک ہیں اور خود پرستی‘ اختلافِ رائے‘ شہوت (lust) ‘ اور نا انصافی سے پُر ہیں۔ ایک دفعہ پٹڑی سے اتر جائے تو یہ اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے‘ لیکن نفس حیوانی کے زیر اثر اپنے لیے غلط علاج تجویز کر لیتا ہے۔ وہ رہبانیت میں پناہ لیتا ہے‘ نفی ذات کی ریاضتوں کا سہارا لیتا ہے ‘یا پھر معاشرے کی ذمہ داریوں سے فرار کی راہیں ڈھونڈتا ہے۔ لیکن بجاے اس کے کہ نفس ِ حیوانی پر اس کی گرفت مضبوط ہو‘ زندگی سے اس نامطلوب دست برداری کی بدولت وہ دوبارہ غلط راستوں پر چل نکلتا ہے۔ اور اس مرتبہ اس کا حیوانی نفس اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گمراہ ہو جائے۔

سید مودودی کہتے ہیں: ’’افراط و تفریط کی یہ دونوں طاقتیں ]یعنی رہبانیت اور مادیت[ بار بار اپنا زور لگاتی ہیں جو حیات انسانی کو ادھیڑ دیتی ہیں۔ ہر ایک کے اثر سے کچھ ایسے نظریات‘ اصول اور طریقے پیدا ہوتے ہیں جو ایک عنصر حق کا اور کچھ عناصر باطل کے اپنے اندر رکھتے ہیں۔ کچھ دنوں تک انسان ان مخلوط اصولوں اور طریقوں کا تجربہ کرتا ہے۔ آخرکار اس کی اصلی فطرت‘ جوشعوری یا غیر شعوری طور پر صراط مستقیم کے لیے بے چین رہتی ہے‘ ٹیڑھے راستوں سے بیزار ہو کر ان کے باطل عناصر کو پھینک دیتی ہے اور ان کے صرف وہ حصے انسانی زندگی میں باقی رہ جاتے ہیں جو حق اور راست ہیں‘‘۔

سید مودودیؒ کا ٹیڑھے راستے کا تصور ’’قرآن مجیدکی اصطلاح ’’سواء السبیل‘‘ سے ماخوذ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہیگل جس ٹیڑھے راستے کا ذکر کرتا ہے‘ اس کا تصور اس نے کہاں سے لیا؟ کیا اس نے بھی قرآن ہی سے یہ تصور لیا ہے؟ بہرصورت‘ یہ بات دل چسپی سے خالی نہیں کہ اینجلز کے بیانات کے مطابق ہیگل نے بُھول بھلیوں پر مبنی حرکات‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ مثال کے طور پر اینجلز کی کتاب Ludwig Feuerbach سے یہ عبارت ملاحظہ کیجیے:

According to Hegel, therefore, the dialectical development apparent in nature and history, i.e.., the causal interconnection of the progressive movement from the lower to the higher, which asserts itself through all zigzag movements and temporary setbacks, is only a miserable copy of the self-independently of any thinking brain.

ہیگل کے خیال میں فطرت اور تاریخ میں ظاہر ہونے والی جدلّی نشوونما ‘یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی جانب ترقی پذیر حرکت کاتشبیبیربط باہم جو تمام کج مج حرکات اور عارضی رکاوٹوں میں اپنی موجودگی کا اظہار کرتا ہے‘ اس تصورکی محض ایک منحوس نقل ہے‘ جو ازل سے رواں دواں ہے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ اس کی منزل کیا ہے۔ لیکن تمام واقعات و حوادث کسی سوچنے سمجھنے والے ذہن سے آزاد ہیں۔

قرآن مجید اور ہیگل کے موقف میں بہرحال ایک بنیادی نوعیت کا فرق ہے: جہاں ہیگل   پیچ دار حرکات کو کسی معاشرے کے اندر تناقضات پر قابو پانے کی کش مکش کا پرتو قرار دیتا ہے‘ وہاں  قرآن حکیم اس تلوّن مزاجی کو اسلامی اور غیر اسلامی طریق ہاے زندگی کی کش مکش قرار دیتا ہے۔۴؎

  • سیکولرازم اور اس کا خراج:مغربی تہذیب کی عمارت جو اس قسم کے اینٹ مسالے سے تیار ہوئی ہے‘ اسے دیکھتے ہوئے سید مودودیؒ ؒ جیسے صاحب ِفراست لوگوں کے لیے اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہ تھی کہ سیکولرازم‘ نیشنلزم اور جمہوریت جیسے مغربی نظاموں کی نمایاں اقدار انسان کے لیے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنیں۔ ان کی رائے میں ان تین نظاموں نے مل کر نسلِ انسانی کے اوپر عذاب کی مثلث مسلط کر رکھی ہے۔  سیدمودودیؒ بتاتے ہیں کہ مغرب کا یہ اصرار کہ ان کے سیکولر نظام حکومت میں مذہب کوئی مداخلت نہ کرے‘ یہ دراصل عیسائی پادریوں کے مرتب کردہ علم الٰہیات (Theology) کے خلاف ردِعمل تھا‘ جس نے اس کی آزادی اور نشوونما کو اپنے پنجے میں جکڑ کر سخت ذہنی صدمے سے دوچار کر رکھا تھا۔ وہ بار بار دہرائے جانے والے اس پٹے ہوئے جملے (cliche) کو: ’’مذہب انسان اور خدا کے درمیان ایک ذاتی معاملہ ہے‘‘ تہذیب حاضر کا کلمۂ شہادت قرار دیتے ہیں۔ اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی شخص کا ضمیر خدا کے وجود کی گواہی دیتا ہے تو اسے اختیار ہے کہ وہ اپنی نجی زندگی میں خدا کی عبادت  کرتا پھرے‘ لیکن سیکولر نظام حکومت میں مذہب کو دخیل کرنے کی کوئی کوشش نہ کرے … اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر قسم کے دنیوی تعلقات‘ خواہ وہ تعلیم سے متعلق ہوں یا تجارت‘ قانون اور سیاست سے تعلق رکھتے ہوں‘ یا پھر بین الاقوامی تعلقات سے بحث کرتے ہوں‘ وہ سب کے سب مذہب کی گرفت سے یکسر آزاد ہوگئے۔ فیصلے اقدار کی بنیاد پر نہیں‘ بلکہ موقع محل کی مناسبت سے کیے جاتے ہیں جن میںاصلاً  نفسِ انسانی‘ ثالث کا کردار ادا کرتا ہے (ایضاً)۔ ان کے نزدیک یہ دکھ کی بات تھی کہ ’’انفرادی زندگی بھی ’’بے خدا‘‘ تعلیم اور لادینی معاشرتی اثرات کے سبب لادینیت کا شکار ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وجود کی شخصی شہادت اور اس کی عبادت کا علانیہ اظہار بھی اب بالخصوص ان لوگوں کی جانب سے نہیں ہوتا جو اس نئی تہذیب کے اصل محرک اور مبلغ ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے وجود کو عوام کے دل و دماغ کی دنیا سے محو کر دینے کے اس لادینی منصوبے کو   وہ غیر منطقی قرار دیتے ہیں: یہ بات ایک ایسی غیر متعلق ہستی کی خواہ مخواہ پرستش کرنا‘ جس کا ہم سے  کوئی واسطہ ہی نہیں ہے‘ عقل و شعور سے عاری بات ہے۔ اگر وہ فی الواقع ہمارا اور اس تمام جہانِ ہست و بود کا خالق‘ مالک اور حاکم ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی عمل داری محض ایک شخص کی نجی زندگی تک محدودرہے ‘اور جہاں سے انسانوں کے درمیان اجتماعی تعلقات کا آغاز ہو‘ وہاں اس کے اختیارات کی حد ختم ہو جائے۔ یہ حدبندی اگر خدا نے خود کی ہے تو اس کی کوئی سند ہونی چاہیے‘ اور اگر اپنی اجتماعی زندگی میں انسان نے خود ہی اپنے اور خدا کے تعلقات کی حدود مقرر کر لی ہیں پھر یہ    اپنے خالق‘ مالک اور حاکم سے اس کی کھلی بغاوت نہیں تو اور کیا ہے۔ اس بغاوت کے ساتھ یہ دعویٰ کہ ہم اپنی انفرادی زندگی میں خدا کو اور اس کے دین کو مانتے ہیں صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس کی عقل ماری گئی ہو‘‘۔(ایضاً)

سید مودودیؒ کے افکار کے مطالعے سے سیکولر ذہن کی یہ غلطی مزید نمایاں ہو کر سامنے آجاتی ہے: کسی صحیح الدماغ شخص کے لیے یہ تسلیم کرنا دشوار ہے کہ ہر شخص اپنی شخصی اور ذاتی حیثیت میں تو خدا کا بندہ ہو‘ لیکن جب بہت سے افراد مل کر ایک معاشرہ کی تشکیل دیں تو وہ سب افراد خدا کی بندگی سے نکل جائیں یعنی انفرادی طور پر تو سب رب کو رب تسلیم کریں‘ لیکن اجتماعی سطح پر اس کی ربوبیت کا انکار کر دیں۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو حواس سے عاری شخص کے ذہن میں ہی آسکتا ہے۔ پھر یہ بات کسی طرح ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر ہمیں خدا کی اور اس کی رہنمائی کی ضرورت نہ اپنی خانگی معاشرت میں ہے‘ نہ محلے اور شہر میں‘ نہ مدرسے اور کالج میں‘ نہ منڈی اور بازار میں‘ نہ پارلیمنٹ اور گورنمنٹ ہائوس میں‘ نہ ہائی کورٹ اور نہ سول سکرٹریٹ میں‘ نہ چھائونی اور پولیس لائن میں اور نہ میدانِ جنگ اور صلح کانفرنس میں‘ تو آخر اس کی ضرورت ہے کہاں؟ کیوں اسے مانا جائے اور خواہ مخواہ اس کی عبادت اور بندگی کی جائے جو زندگی کے کسی معاملے میں بھی ہماری رہنمائی نہیں کرتا‘ یا معاذاللہ کسی معاملے میں بھی اس کی کوئی ہدایت ہمیں معقول اور قابلِ عمل نظر نہیں آتی۔(ایضاً)

زندگی کو انفرادی اور اجتماعی خانوں میں بانٹنے سے لازماً مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ سید مودودی علیہ الرحمہ کا موقف ہے کہ جس چیز کو لوگ ذاتی زندگی کہتے ہیں‘ اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے‘ کیونکہ انسان ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولتا ہے جس میں وہ اجتماعیت سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا۔ اس کے والدین انسانی سماجی تعلقات کی بدولت ہی ازدواجی رشتے میں بندھے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ماں باپ کی گود ہی میں دن کی پہلی کرن سے واقف ہوتا ہے اور معاشرے کا حصہ بنتا ہے۔ جب وہ سنِ بلوغت کو پہنچتا ہے تو اپنے آپ کو معاشرے اور اس کے مختلف اداروں میں گھرا ہوا پاتا ہے ۔وہ سوچتا ہے کہ انسانوں کو دوسرے انسانوں سے جوڑنے والے بے شمار روابط اپنی ساخت میں صحت مند ہونے چاہییں کیونکہ یہ ان کی فلاح و بہبود کا نقطۂ آغاز ہے۔ باہمی تعلقات کی ایسی صحت مند اور اعلیٰ اقدار صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کی جا سکتی ہیں۔ سید مودودی لکھتے ہیں: جہاں انسان اللہ کی ہدایت سے بے نیاز ہو کر خود مختار بنا‘ پھر نہ تو کوئی مستقل اصول باقی رہتا ہے اور نہ انصاف اور راستی۔ اس لیے کہ خدا کی رہنمائی سے محروم ہو جانے کے بعد خواہش اور ناقص علم و تجربے کے سوا کوئی چیز ایسی باقی نہیں رہتی جس کی طرف انسان رہنمائی کے لیے رجوع کر سکے۔

یہی بات رسل کرک  (Russell Kirk) نے کئی برس کے بعد ان الفاظ میں کہی:۵؎

The sanction for obedience to norms must come from a source higher than private speculation: Men do not submit long to their creations. Standard, erected out of expediency will be hurled down, soon enough, also out of expediency.

معروف اقدار کی پابندی ایک ایسی ہستی عائد کر سکتی ہے جو ہمارے فہم و شعور سے بالاتر ہو۔ انسان زیادہ طویل عرصے تک اپنی تخلیقات کی اطاعت نہیں کر سکتا۔ مصلحت کی بنیاد پر بنائے گئے معیار بہت جلد مصلحت ہی کی بنا پر روند ڈالے جاتے ہیں‘‘۔

سیکولرازم فرد اور معاشرے دونوں کے لیے جو مسائل کھڑے کرتا ہے‘ سید مودودیؒ ؒ اسے بھی عمدہ طریقے سے بیان کرتے ہیں: جس معاشرے کا نظام لادینی اصول پر چلتا ہے اس میں خواہشات کی بنا پر روز اصول بنتے اور ٹوٹتے ہیں۔ آپ خود دیکھ رہے ہیں کہ انسانی تعلقات کے ایک ایک گوشے میں ظلم‘ ناانصافی‘ بے ایمانی اور آپس کی بے اعتمادی گھُس گئی ہے۔ تمام انسانی معاملات پر انفرادی‘ طبقاتی‘ قومی اورنسلی خود غرضیاں مسلط ہو گئی ہیں۔ دو انسانوں کے تعلق سے لے کر قوموں کے تعلق تک کوئی رابطہ ایسا نہیں رہا جس میں ٹیڑھ نہ آگئی ہو‘ ہر ایک شخص نے‘ ہر ایک گروہ نے‘ ہر ایک طبقے نے ہر ایک قوم اور ملک نے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں جہاں تک بھی اس کا بس چلا ہے‘ پوری خود غرضی کے ساتھ اپنے مطلب کے اصول اور قاعدے اور قانون بنا لیے ہیں اور کوئی بھی اس کی پروا نہیں کرتا کہ دوسرے اشخاص‘ گروہوں‘ طبقوں اورقوموں پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ اگر کسی شعبے کو اہمیت اور وقعت دی جاتی ہے تو وہ صرف اور صرف قوت و اختیار ہے جس میں طاقت سے ہی ڈرا جاتا ہے۔ درحقیقت لادینی معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر کسی کے حدود و تصرف میں صرف اور صرف طاقت کی عمل داری کو ایک منطقی اور فطری اصول کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔ پس لادینی معاشرتی نظام کا ماحصل صرف یہ ہے کہ جو بھی اس طرز عمل کو اختیار کرے گا بے لگام‘ غیر ذمہ دار اور بندۂ نفس ہو کر رہے گا خواہ وہ ایک شخص ہو یا ایک گروہ یا ایک ملک اور قوم یا مجموعہ اقوام۔۶؎

قوم پرستی (Nationalism) اور اس سے ملتی جلتی عصبیت (Irredentism) کا آغاز یورپ میں اٹھارھویں صدی کی ابتدا میں ہوا اور یہ دونوں تحریکیں تیزی سے پھلنے پھولنے لگیں کیونکہ گذشتہ صدیوں کے دوران میں آنے والی تبدیلیوں کے سبب بادشاہتوں کی شکست و ریخت شروع ہو چکی تھی۔ سید علیہ الرحمہ نے قوم پرستی کے باعث نوعِ انسانی کو پہنچنے والے ان نقصانات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ قوم پرستی کی ابتدا اِس معصومانہ سوچ سے ہوئی تھی کہ ہر قوم کو اپنے معاملات چلانے کے لیے حکمت عملی خود وضع کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ لیکن جب قومیت کا تصور مستحکم ہو گیا تو اس نے خدا کو اجتماعی معاملات سے بے دخل کر دیا اور ’’قومی مفادات‘‘ کو اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار کا درجہ دے دیا۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ سید مودودیؒ قومیت کے تصور کے یکسر خلاف تھے۔ ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ قوم پرستی کو خداپرستی کا درجہ نہ دیا جائے۔ ان کا خیال تھا کہ محض قومی مفادات کو اچھے اور برے میں تمیز کرنے والے عالمی اخلاقی معیارات سے بدل دینا خطرناک ہوگا۔

قوم پرستی کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی بھی چیز خواہ وہ عدل و انصاف کے منافی ہو یا پرانی مذہبی روایات میں گناہ کبیرہ سمجھی جاتی ہو‘ اگر وہ قوم کے لیے نفع بخش ہے تو اسے ایک پسندیدہ فعل سمجھا جائے۔ اسی طرح کوئی بھی امر جو حق و انصاف اور ایمان داری پر مبنی ہو یا جسے کسی زمانے میں اخلاق کی انتہا سمجھا جاتا تھا‘ اگر وہ قوم کے لیے نقصان دہ ہے تو اسے ایک ناپسندیدہ کام قرار دیا جائے۔ اسی طرزِ فکر کا نتیجہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو اپنی قوم کی خاطر اپنی جان‘ مال‘ وقت‘ حتیٰ کہ ضمیر اور عقائد تک کو قربان کر ڈالے‘ اسے ایک مثالی شہری سمجھا جائے گا۔

ایسے معاشرے میں اجتماعی کوششوں کا محور اپنے شہریوں کو یہ تعلیم دینا ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنی قوم کی عظمت کی بلندی کے لیے کام کریں: نیکی وہ ہے جو قوم کے لیے مفید ہو‘ خواہ وہ جھوٹ ہو‘ بے ایمانی ہو‘ ظلم ہو‘ یا اور کوئی ایسا فعل ہو جو پرانے مذہب و اخلاق میں بدترین گناہ سمجھا جاتا تھا۔ اور بدی وہ ہے جس سے قوم کے مفاد کو نقصان پہنچے خواہ وہ سچائی ہو‘ انصاف ہو‘ وفاے عہد ہو اور اداے حق ہو یا اور کوئی ایسی چیز جسے کبھی فضائلِ اخلاق میں شمار کیا جاتا تھا۔ افرادِ قوم کی خوبی اور زندگی و بیداری کا پیمانہ یہ ہے کہ قوم کا مفاد ان سے جس قربانی کا مطالبہ کرے‘ خواہ وہ جان و مال اور وقت کی قربانی ہو یا ضمیر و ایمان کی‘ اخلاق و انسانیت کی قربانی ہو یا شرافتِ نفس کی‘ بہرحال وہ اس میں دریغ نہ کریں اور متحد و منظم ہو کر قوم کے بڑھتے ہوئے حوصلوں کو پورا کرنے میں لگے رہیں۔ اجتماعی کوششوں کی غایت اب یہ ہے کہ ہر قوم ایسے افراد کی زیادہ سے زیادہ تعداد بہم پہنچائے اور ان میں ایکا اور نظم پیدا کرے تاکہ وہ دوسری قوموں کے مقابلے میں اپنی قوم کا جھنڈا بلند کریں۔(ایضاً)

عوام کی اقدار ِ اعلیٰ کا جو تصور سیکولرازم نے دیا‘ وہ بھی سید مودودیؒ کی نظروں میں اتنا ہی خطرناک ہے: جمہور کی حاکمیت (Sovereignty of the People) کو ابتداً بادشاہوں اور جاگیرداروں کے اقتدار کی گرفت توڑنے کے لیے پیش کیا گیا تھا‘ اور اس حد تک بات درست تھی کہ ایک شخص یا ایک خاندان یا ایک طبقے کو لاکھوں کروڑوں انسانوں پر اپنی مرضی مسلط کر دینے اور اپنی اغراض کے لیے انھیں استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ لیکن اس منفی پہلو کے ساتھ اس کا مثبت پہلو یہ تھا کہ ایک ایک ملک اور ایک ایک علاقے کے باشندے اپنے آپ حاکم اور اپنے آپ مالک ہیں۔ اسی مثبت پہلو پر ترقی کر کے جمہوریت نے اب جو شکل اختیار کی ہے وہ یہ ہے کہ ہر قوم اپنی مرضی کی مختارِ کل ہے۔ اس کی مجموعی خواہش (عملاً اس کی اکثریت کی خواہش) کو پابند کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے۔(ایضاً)

لیکن اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب قوم پرستی کے ساتھ ساتھ انھوں نے ایک دوسرا خدا بھی بنا لیا۔ سید مودودی کہتے ہیں: اخلاق ہو یا تمدن‘ معاشرت ہو یا سیاست‘ ہر چیز کے لیے برحق اصول وہ ہیں جو قومی خواہش سے طے ہوں‘ اور جن اصولوں کو قوم کی راے عامہ رد کر دے وہ باطل ہیں۔ قانون‘ قوم کی مرضی پر منحصر ہے۔ جو قانون چاہے بنائے اور جس قانون کو چاہے توڑ دے یا بدل دے۔ حکومت قوم کی رضا کے مطابق بننی چاہیے۔ قوم ہی کی رضا کا اسے پابند ہونا چاہیے اور اس کی پوری طاقت قومی خواہش کو پورا کرنے پر صرف ہونی چاہیے۔

پھر سید مودودیؒ ؒ جمہوریت کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں: موجودہ تہذیب میں جمہوریت کے معنی ہیں جمہور کی حاکمیت‘ یعنی ایک علاقے کے لوگوں کی مجموعی خواہش کا اپنے علاقے میں مختار مطلق ہونا اور ان کا قانون کے تابع نہ ہونا‘ بلکہ قانون کا ان کی خواہش کے تابع ہونا‘ اور حکومت کی غرض صرف یہ ہونا کہ اس کا نظم اور اس کی طاقت لوگوں کی اجتماعی خواہشات کو پورا کرنے کے کام آئے۔

ان کے خیال میں اسی کے ساتھ عذاب کی مثلث مکمل ہو جاتی ہے: پہلے تو لادینیت نے ان لوگوں کو خدا کے خوف اور اخلاق کے مستقل اصولوں کی گرفت سے آزاد کر کے بے لگام اور غیر ذمہ دار اور بندۂ نفس بنا دیا‘ پھر قوم پرستی نے ان کو شدید قسم کی قومی خود غرضی اور اندھی عصبیت اور قومی غرور کے نشے سے بدمست کر دیا‘ اور اب یہ جمہوریت انھی بے لگام‘ بدمست بندگانِ نفس کی خواہشات کو قانون سازی کے مکمل اختیارات دیتی ہے اور حکومت کا واحد مقصد یہ قرار دیتی ہے کہ اس کی طاقت ہر اس چیز کے حصول میں صَرف ہو جس کی یہ لوگ اجتماعی طور پر خواہش کریں۔

اس بحث کو سمیٹتے ہوئے سید مودودی ایک فطری سوال اٹھاتے ہیں: سوال یہ ہے کہ اس طرح کی خود مختار صاحب ِحاکمیت قوم کا حال آخر ایک طاقت ور بدمعاش کے حال سے کس بات میں مختلف ہو گا۔ جو کچھ ایک بدمعاش فرد خود مختار اور طاقت ور ہو کر چھوٹے پیمانے پر کرے گا وہی تو اس سے بہت زیادہ بڑے پیمانے پر اس طرح کی ایک قوم کرے گی۔ پھر جب دنیا میں صرف ایک ہی قوم ایسی نہ ہو بلکہ ساری متمدن قومیں اسی ڈھنگ پر بے دینی‘ قوم پرستی اور جمہوریت کے اصولوں پر منظم ہوں تو دنیا بھیڑیوں کا میدانِ جنگ نہ بنے گی تو اور کیا بنے گی؟۷؎

مغرب و مشرق میں اقدار کی قدیم دنیا کے تحلیل ہو جانے کے بعد وجود میں آنے والا نیا لادین معاشرہ ایک کھوکھلا معاشرہ تھا‘ جسے نفسانی نظریات کے علاوہ اور کسی چیز کا سہارا میسر نہیں ہے۔ اب وہ چاہے ڈیکارٹ (Descarte) کی ’’یکہ و تنہا انا پرستی‘‘ ہو‘ کانٹ (Kant) کا ’’تخصیص کردہ اصل مافیہ کے اثر سے پاک نفسِ آزاد‘‘ ہو‘ ویبر (Weber) کی ’’طریقیاتی انفرادیت‘‘ ہو‘ جو موجودہ سماجی ساختوں کو افراد کے عقائد اور رویوں کا پرتو قرار دیتی ہے‘ یاپھر کیر کیگارڈ (Kierkegaard) کی ’’جمالیاتی شخصیت‘‘ ہو جو زندگی کے ایک مجموعی لائحہ عمل کی مالک تو ہوتی ہے لیکن جس میں کوئی مافیہ (content) نہیں ہے‘ بلکہ ایک خالی خولی عمل ہے جو کسی اتفاقی عامل (input) کے انتظار میں رہتا ہے۔ لادینی معاشرہ نفس کے بارے میں کم و بیش اس تصور پر متفق ہو گیا‘ کہ یہ ’’جذبات کا معقول مالک اور آقا ہے جو مشین کے جسم میں رہایش پذیر ہے‘‘۔ یہ تصور‘ نفس کے اس تصور سے قطعی طور پر مختلف تھا کہ ’’یہ کائنات اور معاشرے سے متحد نامیاتی اعضا کی دقیق ہم ٖآہنگی کا جزو لازم ہے‘‘۔ جب نفس کو اس کے نامیاتی پس منظر سے جدا کر دیا گیا تو ’’تمام اخلاقی مطالبات کے لیے یہ ایک آخری سہارے‘‘ کی حیثیت اختیار کر گیا۔ لیکن ایک لادین نفس‘ جیسا کہ اسے ہونا چاہیے‘ بے لگام تھا۔ یہ ایک حریص اور لالچی نفس تھا‘ جو پیوستگی‘ اتحاد اور عقل سلیم جیسی صفات کے تقاضوں سے قطعی طور پر ہم آہنگ نہیں تھا۔ عقلیت پرست نفس خود اپنے تیار کردہ جالے (web) میں اُلجھ کر رہ جاتا ہے اور اپنے مغالطوں اور اپنی تحدیدی فطرت کے ہاتھوں اسے لگام ملتی ہے۔

لادین ذہنیت کا مقابلہ کرنے کے لیے سید مودودیؒ ،اعتدال اور میانہ روی کی طرف رجوع کرنے کی تلقین کرتے ہیں‘ کیونکہ خود انسان اپنے لیے کوئی درست راہ منتخب نہیں کر سکتا۔ یہ امر انسان اور اس کی صلاحیتوں کا کوئی خوش کن میزانیہ نہیں ہے۔ لیکن لگتا ہے انسانی تاریخ‘ اس المیے کی تائید کرتی ہے‘ کیونکہ انسان اپنی مجموعی صورتِ حال میں نجات دہندگی کی شاہراہ پر چلنے سے غفلت کا شکار رہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں خود پرستی یا ذات کا عشق (narcissism) اوباشیت‘ نا آسودہ حیوانی خواہشات    کا بے لگام اظہار (bohemianism)  (روایات اور اقدار سے) بے گانگی اور نفرت (estrangement) جو ایک ہی مرض کی تین حالتیں ہیں‘ انھوں نے انسانوں کو اچھائی قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے۔ اس افسوس ناک صورت حال کو سمجھنے کے لیے سید مودودیؒ ہمیں اس حقیقت سے باخبر کرنا چاہتے ہیں کہ ہر مرد اور عورت اپنی ذات میں ایک عالم اصغر ہے‘ جس میں کچھ ذہنی اور طبیعی قوتیں قیام پذیر ہیں۔ اس کی کچھ خواہشات ہیں‘ کچھ جذبات اور ذاتی میلانات ہیں اور ساتھ ہی کچھ روحانی اور جبلی مطالبات بھی ہیں۔ معاشرے کی تشکیل کا عمل بھی‘ جو انسانوں کے میل جول سے وجودمیں آتا ہے‘ پیچیدہ ہے‘ اور جوں جوں تمدن نشوونما پاتا ہے‘ اس پیچیدگی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ معاشرے میں مادی وسائل کی کثرت کے سبب انفرادی اور معاشرتی سطح پر ان کی ملکیت اور تقسیم کے مسائل جنم لیتے ہیں۔

چونکہ انسان فطری طور پر خامیوں سے پاک نہیں ہے‘ لہٰذا اس کے لیے ماضی پر ایک متوازن نظر ڈالنا اور اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے زندگی کا ایک ایسا نظام وضع کرنا ممکن نہیں جو نفسی روحانی (psycho-spiritual) اور مادی‘ ہر دو معنوں میں اس کے لیے ممد و معاون ہو‘ جو اسے اس کی بساط کے مطابق انصاف فراہم کر سکتا اور اس کے اجتماعی معاشیاتی مسائل کو عادلانہ انداز میں حل کر سکتا ہو۔ پھر یہ نظام ایسا بھی ہونا چاہیے‘ جو انفرادی اور معاشرتی دونوں قسم کی ضرورتوں کے لیے مادی وسائل کے استحقاقی استعمال کی ضمانت دے جس سے ایسی صحت مندانہ نشوونما کو فروغ حاصل ہو جو ماحول اور معاشرتی توازن کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔ جب انسان قیادت پر قبضہ کر کے خود ہی اپنے مشیر بن جاتے ہیں تو حقیقت کے محض چند پہلو‘ زندگی کی چند ضروریات اور چند ایک حل طلب مسائل ان کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ تب وہ نادانستہ طور پر دوسرے پہلوئوں کے بارے میں غیر منصفانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ یوں زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے اور یہ ٹیڑھے راستے پر چل نکلتی ہے۔

سید مودودیؒ اپنا راستہ خودمتعین کرنے کی انسانی کوششوں کو بے مقصد اور وقت کا ضیاع قرار دیتے ہیں۔ وہ ان لوگوں سے اختلاف کرتے ہیں جو ’’جدلی عمل‘‘ کو انسانی ترقی کے لیے ایک فطری ارتقائی عمل قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ارتقا کا کامیاب راستہ نہیں بلکہ تباہی کی جانب لے جانے والی ناہموار سڑک ہے‘ جو انسان کو مصیبت کے ایک گڑھے سے دوسرے گڑھے میں گراتی رہتی ہے۔

سید مودودیؒ لادینی ذہنیت کے فروغ کو ایک عذاب سے تعبیر کرتے ہیں اور اس کا علاج یہ تجویز کرتے ہیں کہ کسی بنیادی مابعد الطبیعی ڈھانچے کی طرف رجوع کیا جائے‘ انسان اور قدرت کے درمیان ایک کائناتی وحدت پر یقین رکھا جائے‘ فرد اور معاشرے کے حقوق کے درمیان توازن قائم کیا جائے‘ اخلاقی صفات سے متصف انسان کی تشکیل کی جائے‘ قومیتوں کی کڑی حدبندیوں کو توڑ دیا جائے اور ایک ایسا عالمی نظام وضع کیا جائے جس میں دنیا کی غریب اور پسی ہوئی اقوام کو مساویانہ مقام اور وقار ملے۔

مسلمانوں کے لیے سید مودودیؒ کا پیغام ہے کہ اپنے نظامِ اقدار کو دوبارہ اس کی خالص شکل میں اپنائیں‘ اور اسلامی اخلاق پر مبنی ایک ریاست قائم کر کے اپنے گھر کی اصلاح کریں‘ جو دوسروں کے لیے ایک شان دار نمونے اور انسانیت کے منقسم طبقات کی باہمی تفہیم کے لیے ایک پُل کا کام دے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے‘ لیکن دنیا میں تاریکی جس قدر زیادہ ہو گی‘ روشنی کے لیے انسان کی تڑپ بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی۔

حواشی

۱-            برین گارڈنر (Brain Gardner)   The East India Company  (نیویارک: ڈورسیٹ پریس‘ ۱۹۹۰ئ)۔ یہ پورا پیراگراف لائق مطالعہ ہے کیونکہ یہ ہندستان بھر میں بار بار دہرائے جانے والے اس دعوے کو مسمار کرتا ہے کہ انگریزوں نے ہندوئوں اورمسلمانوں کے درمیان برابری کا رویہ اختیار کیا۔ ’’ایلن برو (Ellenborough) کے ارادے امن پسندانہ تھے‘ یا کم از کم وہ ظاہر یہی کرتا تھا‘ لیکن اس کے افعال اور عملی اقدامات جنگجویانہ نوعیت کے تھے۔ ابھی اس نے [ایسٹ انڈیا] کمپنی کو افغانستان میں ہونے والی مکمل ناکامی سے پیدا ہونے والی صورت حال کو سلجھایا ہی تھا کہ سندھ [موجودہ پاکستان] کے مسئلے نے سر اٹھا لیا۔ یہیں سے افغانستان پر سب سے پہلے چڑھائی کرنے والے روانہ ہوئے تھے۔ یہاں کے مقامی امیر مطلق العنان اور ظالم تھے‘ لیکن اپنی آزادی کا بہت خیال رکھتے تھے۔ دریاے سندھ پر جو پنجاب کی شہ رگ تھا‘ ان کامکمل کنٹرول اور زیریں سندھ کا علاقہ زرخیز اور زمینی پیداوار سے مالا مال تھا۔ وہ مسلمان بھی تھے اور ایلن برو کو پورا یقین تھا کہ ہندو‘ انگریزوں کے فطری ساتھی اور مسلمان ان کے قدرتی دشمن ہیں‘‘۔

۲-            دیکھیے: سٹینلے ایل جیکی (Stanley L. Jaki) کی کتاب The Road of Science and The Ways to God (یونی ورسٹی آف شکاگو‘ ۱۹۷۸ئ‘ ص ۲۸۸ - ۲۸۹)

۳-            دیکھیے: چارلس ڈارون‘ The Origin of Species (نیویارک: دی نیو امریکن لائبریری آف ورلڈ لٹریچر‘ ۱۹۵۸ئ)۔ اس بارے میں ہکسلے نے جو بات کہی‘ اس کے لیے اسی کتاب کا صفحہ ’’y‘‘ دیکھیے۔

۴-            دیکھیے: سید ابوالاعلیٰ مودودی ،’’اسلام اور سیکولر ذہنیت‘‘ The Subversive Principles of Western Civilization ترجمہ و تدوین: طارق جان (لیسٹر: اسلامک فائونڈیشن‘ زیرطبع)۔

۵-            رسل کرک‘ Enemies of The Permanent Things-Observations of Abnormality in Literature on Politics (نیو روشیل‘ آرلنگٹن ہائوس‘ ۱۹۶۹ئ‘ ص ۱۷)

۶-            سید ابوالاعلیٰ مودودی،’’اسلام اور سیکولر ذہنیت‘‘ The Subversive Principles of Western Civilization

۷-            دیکھیے: طارق جان‘ Secularism, The New Idolatory, Pakistan Between Secularism and Islam (اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز‘ ۱۹۹۸ئ)

مغرب کی نماز ختم ہوتی تو وہ کرسی اٹھا دی جاتی جس پر بیٹھ کر وہ نماز ادا کرتے تھے۔ملازم مصلیٰ تہہ کرنے کے لیے واپس پلٹ رہا ہوتا تو میں بھاگ کر اُس جاے نماز پر جاکھڑا ہوتا‘ جس نے ابھی چند لمحے پہلے اُس نابغۂ روزگار شخصیت کے نرم و نازک پائوں چھوئے تھے۔ ذیلدار پارک کے گھر کے برآمدے میں جالی دار دروازے سے لے کر برآمدے اور لان میں بچھی ہوئی صفوں تک ‘میں اُس شخص کی طرف ٹکٹکی لگائے حیرت سے دیکھ رہا ہوتا!

کئی بار میں خود سے سوال کرتا کہ اس چہرے میں ایسی کیا جاذبیت ہے کہ آنکھ اُس سے ہٹتی ہی نہیں‘ گھنٹوں دروازے کے باہر لان میں اُس کی آمد کا انتظار کرتی ہے اور واپسی تک اُس کا پیچھا کرتی ہے۔ یہ کوئی ایسی عمر بھی نہیں کہ کسی ایسی شخصیت کی محبت میں گرفتار ہوا جائے جو مروّجہ اصولوں اور خوابوں کے بنائے ہوئے پیمانوں میں کسی طور پر بھی ہیرو کے سانچے میں نہیں ڈھل پاتی۔ لیکن اس عشق سے چند سال پہلے کی میں اپنی جستجو پر نظر ڈالتاتو جواب مل جاتا۔ مجھے اس جاے نماز‘ ان قدموں کی چاپ اور اُس چہرے سے عشق تھا‘ جسے میں باوجود اپنی کوشش کے آنکھ بھر کے دیکھ نہیں پاتا تھا۔ یوں تو وہ آنکھیں عینک کے پار سے کبھی کبھار اٹھتیں اور وہ بھی سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کے چہروں پر گھوم کر واپس جھک جاتیں۔ لیکن پھر بھی میں سوچتا کہ  ان آنکھوں میں دیکھنے کی شاید ہی مجھ میں ہمت ہوسکے۔ نظریں جھکائے وہ سوالوں کا جواب دیتے رہتے۔

آدمی جب کم علم ہوتا ہے تو علمیت زیادہ جھاڑتا ہے‘ اور میرا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ میں نے ایک دفعہ جدلیاتی فلسفے کے حوالے سے اپنے مبلغ علم کو جمع کر کے پوچھا: ’’ہم تاریخ کے جواب دعویٰ (anti thesis) کے دور سے گزر رہے ہیں۔ اس میں صدیوں پرانے سماجی ڈھانچے کی توڑ پھوڑ کو روکنا تاریخ کے پہیے کو روکنا ہے۔ تباہ ہونے دیں اس فرسودہ ماحول کو‘ تاکہ اس کی کوکھ سے ہم نیا نظام جنم دیں‘ دوبارہ نئی بنیادوں پر؟‘‘

وہ واحد لمحہ تھا جب وہ آنکھیں پورے مجمعے کو چیرتی ہوئی مجھ سے ٹکرائیں اور وہ فقرے جن کی گونج میں آج بھی ۳۰ سال گزرنے کے بعد محسوس کرتا ہوں‘ہولے سے ہاتھ میز پر رکھتے ہوئے انھوں نے کہا: ’’تاریخ میں جن قوموں نے شر کے تھیسس (thesis) کے سامنے خیر کا تھیسس بیک وقت پیش کرنے کی کوشش نہیں کی‘ وہاں پھر کوئی جدلیاتی فلسفہ بھی صالح نظام تخلیق نہیں کرسکا‘‘۔ شاید ہی کسی نے صدیوں کی بحث کو یوں منٹوں میں سمیٹا ہو۔

یہ وہ موڑ تھا جس نے میرے اندر سوال در سوال کے بجاے جستجو کی چنگاری کو سلگا دیا۔ ایک ۱۶ سالہ نوجوان جو تشکیک کے امام نیاز فتح پوری کی  من و یزداں سے لے کر مارکس کی داس کیپی ٹال اور ہیگل اور مارگن کی تاریخ کی بھول بھلیوں سے گزرتا ہوا فکری بے یقینی اور روحانی بے اطمینانی کے دور سے گزر رہا تھا‘ اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس چہرے کے نور اور لفظوں کی حکمت نے ایک جھپاکا سا کیا۔ایسے جیسے چاروں طرف گھٹاٹوپ بادلوں میں اندھیری رات کے عالم میں اچانک زوردار بجلی چمکے تو ایک لمحے کو سارے نشیب و فراز نظرآجاتے ہیں۔ پھر آگے بڑھتے اور قدم رکھتے ہوئے خوف کا عالم کم اور منزل تک پہنچنے کا یقین زیادہ ہو جاتا ہے۔ بے شک وہ بجلی دوبارہ چمکے یا نہ چمکے‘ راستہ ضرور دکھا جاتی ہے‘ اُس کے نشیب و فراز سے آگاہی ضرور دے جاتی ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ آسمانی بجلی کے برعکس‘ آگاہی دینے والے کی چمک اور پیغام کی گھن گرج جتنی اُس وقت میں نے محسوس کی تھی‘ اُس سے ہزار گنا زیادہ آج کی دنیا محسوس کر رہی ہے۔

مجھے کبھی اپنے ہیروز کے قدوقامت کی پیمایش کے لیے غیروں کے حوالے اچھے نہیں لگتے‘ لیکن کیا کروں مجھے آج کی شرمندہ اور اپنے وجود سے برگشتہ قوم کے سامنے ایک حوالہ رکھنا پڑ رہا ہے۔ گذشتہ ۱۰ سالوں میں مذاہب کی تاریخ اور ان کے عروج و زوال پر جس خاتون کی کتب نے سب سے زیادہ تاثر چھوڑا ہے‘ اور جسے آج کے دور میں سب سے زیادہ غیرمتعصب محقّقہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہ کیرن آرمسٹرانگ (Karen Armstrong) ‘ ایک برطانوی کیتھولک راہبہ ہے۔ میں اس کی دو کتابوں  Battle for God (خدا کے لیے جنگ) اور  Islam: A Short History (اسلام‘ ایک مختصر تاریخ)کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

کیرن آرمسٹرانگ ان دونوں کتابوں میں تاریخ کے اس موڑ پر آتی ہے‘ جب مذاہب چلے ہوئے کارتوس بنتے جا رہے تھے اور دنیا سیکولرزم کی گرویدہ اور طلب گار ہوتی جا رہی تھی‘    تو اس سارے طوفان کے مقابلے میں قلم کی صرف ایک آواز اور تحریک کی صرف ایک ہی صورت اُسے نظر آتی ہے اور وہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ذات ہے۔

وہ مولانا مودودیؒ کی‘ اس ’شر‘ کے مقابلے میں ’خیر‘کے ’جواب دعویٰ‘ کی تحریک کو یوں سمیٹتی ہے:

مودودی جنھوں نے ۱۹۳۹ء میں اپنا تصور وضع کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح محمد ]صلی اللہ علیہ وسلم[ نے اسلام سے پہلے کی ’’جاہلیت‘‘ یعنی جہالت اور وحشت سے جنگ کی تھی ‘ بالکل اسی طرح دنیا بھر کے مسلمانوں کو تمام میسرذرائع سے مغرب کی جدید ’’جاہلیت‘‘ کی مزاحمت کرنا ہے۔مودودی کو یقین تھا کہ سچے مسلمان دنیا سے الگ رہ کر اور سیاست کو دوسروں پر چھوڑ نہیں سکتے۔ انھیں اس فروغ پاتے ہوئے لادینی سیکولرزم سے لڑنے کے لیے لازماً متحدہوجانا چاہیے اور ایک انتہائی منظم گروہ تشکیل دینا چاہیے۔ مودودی نے لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے اسلام کو ایک مدلل عقیدے اور منظم تحریک کے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی‘ تاکہ اسے بھی زمانے کے دوسرے نمایاں نظریات کی طرح سنجیدگی سے لیا جائے۔

یہ مصنفہ‘ مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو سیکولرزم کے مقابلے میں اسلام اور الٰہیات کا پہلا منظم سپہ سالار گردانتے ہوئے لکھتی ہے:

حقیقت میں مودودی کسی بھی جدید فرد کی طرح آزادی کے گرویدہ تھے اور آزادی عطا کرنے والی ایک اسلامی الٰہیات پیش کر رہے تھے۔ ان کا استدلال تھا کہ خدا مطلق حاکم ہے‘ اس لیے کوئی انسان دوسرے انسان کی اطاعت پر مجبور نہیں۔ رضاے الٰہی کے مطابق حکومت نہ کرنے والا حاکم اپنی رعایا کو اطاعت پر مجبور نہیں کرسکتا۔ ایسی صورت میں انقلاب صرف ایک حق نہیں‘ بلکہ فرض ہو جاتا ہے۔

شاید ہی کسی نے مولانا مودودیؒ کے اس علمی خزانے سے اتنا مدلل نتیجہ اخذ کیا ہو‘ جتنا اس مصنفہ نے کیا۔ وہ بیان کرتی ہے: ’’مودودی‘ نظریے کی قدر پر یقین رکھتے تھے۔ وہ دوسرے تمام نظاموںکو نقائص سے معمور سمجھتے تھے۔ جمہوریت: حرص و ہوس اور انتشار کا باعث بنتی ہے۔ سرمایہ داری نے طبقاتی جنگ برپا کی ہے اور ساری دنیا کو بنک کاروں کی ایک نہایت قلیل سی تعداد کا غلام بنا دیا ہے۔ کمیونزم نے انسانی آزادی اور انفرادیت کو محدود کر دیا ہے۔ لیکن اسلامی ریاست‘ بدعنوانی اور آمریت سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہے۔ انھوں نے جدید اصلاحات کو ایک اسلامی جہت عطا کی‘‘۔ بقول کیرن آرمسٹرانگ: ’’مودودی نے ایک آفاقی جہاد کامطالبہ کیا۔ ان سے پہلے‘ غرناطہ کی تباہی کے بعد سے اب تک کسی مسلمان مفکر نے ایسا دعویٰ نہیں کیا تھا‘‘۔

بقول مصنفہ: ’’یہ آفاقی جہاد کا مطالبہ ‘عدیم النظیر تھا‘ جب کہ حالات بھی مایوس کن تھے۔ عالمِ اسلام میں محمد عبدہ اور حسن البنا پُرامن انداز سے اپنی کوشش کے باوجود مصر کے آمر کے ہاتھوں مغلوب ہوچکے تھے۔ ایسے میں ۱۹۵۱ء میں مولانا مودودی کی حریت فکر اور انقلابی جدوجہد والی تحریریں مصر میں شائع ہونا شروع ہوئیں اور ۱۹۵۴ء میں اخوان المسلمون کی ایک عظیم شخصیت ۱۵ سال کے لیے جیل چلی گئی‘ جہاں اُسے ان تحریروں سے شناسائی حاصل ہوئی اور اُس کی نظروں کے سامنے مغربی دنیا کا ایک ایسا چہرہ اور سیکولر کلچر کی ایک ایسی تصویر آئی جو تقدس اور اخلاقی اہمیت سے خالی اور دہشت سے بھرپور ہے‘‘۔ وہ مولانا مودودی کی تحریروں سے متاثر ہوکر لکھی گئی سید قطب کی اس تحریر کو موجودہ اسلامی تحریک احیا اور سیکولرزم کی کریہہ صورت سے جنگ کا      حرفِ آغاز گردانتی ہے۔سید قطب کی یہ تحریر اُس علمی خزانے کے موتیوں سے بھرپور ہے جو مولانا مودودی کی تنقیحات ‘ پردہ‘سود اور تفہیمات جیسے مدلل اور تحقیق سے پُرعلمی سمندر میں مدفون ہیں۔

سید قطب کی تحریر ملاحظہ کریں: ’’دورِحاضر میں انسانیت جسم فروشی کی ایک بہت بڑی مارکیٹ میں زندہ ہے۔ اس کا ثبوت اخبارات‘ فلموں‘ فیشن شو‘ حسن کے مقابلوں‘ رقص گاہوں‘ مے خانوں اور نشریاتی اسٹیشنوں پر صرف ایک نگاہ ڈال کر مل سکتا ہے‘ یا عریاں جسموں کی مجنونانہ نمایش‘    ہیجان انگیز مظاہرے ‘نیز ادب‘ فنون اور ذرائع ابلاغ میں مریضانہ اشاروں سے‘ اور اُس پر سب سے مستزاد سود کا نظام جو انسان میں دولت کی ہوس کو فزوں تر کر دیتا ہے۔ قانون کے لبادے میں دھوکادہی‘ چال بازی اور بلیک میل کرنے کے گھنائونے طریقے اس میں اضافے کے لیے وضع کیے جاتے ہیں‘‘۔

اپنی دونوں کتابوں میں یہ خاتون کہتی ہے کہ موجودہ اسلامی نشات ثانیہ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے چراغ سے چراغ روشن کرتی اور سید قطبؒ سے روشنی لیتی ہے۔ پھردنیا بھر میں مغرب کی کریہہ المنظر سوسائٹی کے مقابلے میں اسلام کی نشات ثانیہ کی تحریک کی اس انقلابی اپیل کو انڈونیشیا کے جزائر سے لے کر افغانستان کے پہاڑوں تک اور سوڈان اور الجزائرکے صحرائوں تک لے جاتی ہے۔ مصنفہ کے نزدیک ایران کے انقلاب میں طریق کار کی وضاحت کا شرف اور دنیا بھر میں مزاحمتی تحریکوں کو ایک نیا رخ دینے کا سہرا‘ سید مودودیؒ کے سر بندھتا ہے۔

تاریخ کا یہ تجزیہ بجا اور مصنفہ کی موجودہ دور میں اہمیت اپنی جگہ‘ اُس کا اِس دنیا کی ہربڑی زبان میں ترجمہ ہونے کا اپنا مقام بھی تسلیم‘ لیکن میں آج بھی جب سید مودودی کی تحریریں پڑھتا ہوں تو میں ان کے چہرے کے سحرسے باہر نہیں نکل پاتا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ جدید دور کے ایک نئے صوفیانہ سلسلے کے بانی تھے‘ جس میں بیعت ہاتھ میں ہاتھ دے کر نہیں‘ بلکہ ہاتھ میں کتاب دے کر کی جاتی ہو۔ ایسا سلسلۂ تصوف کہ جس میں شیخ طریقت عقلِ کل نہیں‘ تنقید اور احتساب سے بالاتر نہیں بلکہ خود خادم ہے مخدوم نہیں۔

روایت کیا جاتا ہے کہ ہر دور میں صوفیوں نے روحوں کا علاج کیا اور دلوں کی سیاہی کو دُور کیا۔ ہر دور کا اپنا مرض اور ہردور کی اپنی سیاہی ہوتی ہے۔ موجودہ دور کا مرض جہالت پر مبنی علم تھا‘ اور موجودہ دور کی سیاہی اخلاقیات سے تہی زندگی اور کچلی ہوئی انسانیت ہے جو اپنی کم نظری کے باعث اسے آزادی‘ حقوق اور حریت سمجھ رہی تھی۔ حالانکہ ان دونوں کے پیچھے طاغوت کا جال‘ عقلیت کے روپ میں پھیلا ہوا تھا اور اس سارے علم کے جال نے ذہنی غلامی کو جنم دیا تھا‘ جس میں پوری مسلم اُمہ ندامت و شرمندگی کے مارے بُری طرح پھنسی ہوئی تھی اور دوسری طرف مغرب کی چکاچوند کی دلدادہ ہوگئی تھی۔ ایسے میں کئی صدیوں بعد سید علی ہجویریؒ کے شہر میں ایک اور شخص ہجرت کر کے آتا ہے اور انسانی قانون اور الٰہی قانون کے تضادات بیان کرتا ہے۔ یورپ کی اخلاقی حالت کو بیان کرتے ہوئے پردہ میں خیر کی طاقت کا روپ پیش کرتا ہے۔ آج سے ۵۰ سال پہلے لکھی گئی دو کتابیں:  تنقیحات اور پردہ آج بھی اُس گہری کھائی کی نشان دہی کے لیے کافی ہیں جس کی طرف پوری انسانیت بحیثیت مجموعی پھسلتی چلی جا رہی ہے۔

حضرت جنید بغدادی ؒکے پاس ایک شخص ملنے گیا۔ بہت دن قیام کیا‘ جانے لگا تو آپ نے پوچھا :’’کیسے آئے تھے؟‘‘ کہا: ’’کوئی کرامت دیکھنے آیا تھا‘ نہیں ملی‘‘۔ فرمایا:’’اتنے دن میرے پاس رہے‘ کوئی ایسا عمل بھی دیکھا جو شریعت کے خلاف ہو؟ اس سے بڑی کرامت اور کیا ہو سکتی ہے!‘‘

میرا عشق بھی اُسی شخص کی طرح ذیلدار پارک کی کوٹھی کے لان میں بیٹھ کر اُس شخص کو دیکھنے سے ہوا‘ اور پھر اُن کتابوں نے میرے ہاتھ میں آنا تھا کہ میں اُس سلسلۂ طریقت میں بیعت ہوگیا۔ لیکن روشن چہرے کے نور کا راز کئی سال بعد کھلا‘ جب میں نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پڑھی:’’چہرہ تو اللہ کے تقویٰ سے روشن ہوتا ہے‘‘۔ جہاں علم اور تقویٰ ایک جگہ جمع ہو جائیں وہاں میرے جیسے شخص کو پکار پکار کر کہنا پڑتا ہے: میں بھٹکا ہوا آہو تھا‘ مجھے سوے حرم اس شخص کا علم اور چہرے کا نور لے آیا--- اے اللہ! اگر ایک بھٹکے ہوئے آہو کو سوے حرم لانے کا کوئی صلہ موجود ہے تو مجھے قیامت کے دن اِس شخص کے حق میں یہ گواہی دینے کی توفیق عطا فرما!

میں نے اپنے لیے یہ عنوان اس لیے اختیار کیا ہے کہ گو میں نے ابتدئے جوانی میں تقسیم ہند سے قبل مولانا مودودیؒ کی  خطبات اور دینیات سرسری طور پرپڑھی تھیں لیکن میں مرحوم کے اصلی مقام سے عالم عرب ہی میں روشناس ہوا۔ مولانا سے میری پہلی ملاقات حجاز و مصر کے میرے پانچ سالہ سفرِتعلیم و مطالعہ سے واپسی پر مارچ ۱۹۵۴ء میں‘ مولانا کے مکان اچھرہ لاہور میں ضرور ہوئی تھی‘ البتہ زیادہ تفصیلی ملاقات بلکہ ملاقاتیں ۱۹۵۶ء میں دمشق میں ہوئیں جہاں میں یونی ورسٹی کے کلیتہ الشریعۃ (Shariah Faculty) میں زیر تعلیم تھا۔

مولانا مودودیؒ،اخوان المسلمون کے رہنما استاذ سعید رمضان مرحوم کی دعوت پر المؤتمر الاسلامیکی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے۔ مولانا کے استقبال کے لیے استاذ سعید رمضان اور دیگر علماے دمشق کے ساتھ اس وقت کے شامی وزیراعظم ہبری العلی‘ ایرپورٹ گئے تھے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان میں ملک غلام محمد گورنر جنرل تھے‘ اور سال ڈیڑھ سال ہی قبل مولانا مودودی مرحوم‘ قادیانیت کے خلاف تحریک چلانے کے سبب سخت آزمایش سے گزرے تھے۔ فوجی عدالت کی طرف سے پھانسی کی سزا بعض اسلامی عرب ممالک کے حکومت پاکستان پر دبائو کے سبب منسوخ ہوگئی تھی اور مرحوم قید سے بھی چھوٹ گئے تھے‘ لیکن اس زمانے میں بھی اور بعد میں بھی مسلسل حکومت کے معتوب رہے۔ میں نے اس کا ذکر یہاں اس لیے کیا ہے کہ حکومتی سطح پر اس عتاب کے باوجود شام کے وزیراعظم کو مولانا مرحوم کے استقبال میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی۔ وہ ایک جمہوری حکومت کے وزیراعظم اور ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر تھے‘ کسی مذہبی سیاسی پارٹی کے رہنما نہ تھے‘ لیکن شام میں وہ زمانہ بہت اچھا تھا۔ وزیراعظم کے ایرپورٹ پر مولانا کے استقبال کا پاکستانی سفارت خانے پر اثر کا ذکر کرنا مجھے یہاں مقصود ہے۔

اس وقت وہاں لعل شاہ بخاری پاکستان کے سفیر تھے۔ ایک روز صبح کے وقت میں مولانا کے ہوٹل یرموک میں موجود تھا۔ دیکھتا ہوں کہ لعل شاہ بخاری (جو غالباً پنجاب کے ایک زمیندار خاندان سے تھے اور ان کی اکڑفوں میں ایک موقعے پر دمشق میں دیکھ چکا تھا) ہوٹل میں آئے اور ہم لوگوں کے ساتھ اوپر ہال میں بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میں مولانا اپنے کمرے سے تشریف لائے‘ ملاقات ہوئی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ سفیر صاحب بڑی نیازمندی و ادب کے ساتھ مولانا کے سامنے بیٹھے رہے اور کچھ گفتگو کرتے رہے۔ ان کے انداز کو دیکھ کر میں دل ہی دل میں مسکرا رہا تھا کہ یہ سرکاری لوگ سرکار دربار کی آئو بھگت ہی سے اپنی گردن دوسروں کے لیے جھکاتے ہیں‘ ورنہ عام طور پر ٹیڑھی رہتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر شامی وزیراعظم‘ مولانا کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ نہ گئے ہوتے تو پاکستانی سفیر صاحب‘ مولانا مودودی ؒکے سامنے حاضری دینے کے لیے ہرگز نہ آتے۔ تاہم‘ پاکستانی حکومت کے مولانا کے ساتھ معاندانہ رویے کے سبب سفیر صاحب نے معمول کے مطابق مولانا مرحوم کے اعزاز میں کوئی استقبالیہ یا عشائیہ نہیں دیا۔

شامی حکومت کی طرف سے مولانا مودودی مرحوم کے اعزاز کی بات میں نے مولانا سے اپنی دوسری ملاقات کی مناسبت سے کہی جو ایک عرب ملک ہی میں ہوئی تھی‘ لیکن مولانا مرحوم کی عربوں میں عظمت کا ذکر دمشق کی اسلامی کانفرنس کے حوالے سے بعد میں کروں گا۔ میں چونکہ ۳۷ سال تک ملک سے باہر عرب ممالک یا انگلستان میں رہا‘ اور اس لیے جماعت اسلامی کے حلقوں میں زیادہ معروف نہیں۔ اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ مولانا مرحوم سے دمشق ہی میں اپنی تیسری ملاقات اور اس مناسبت سے مولانا کی ذہانت کے بارے میں اپنے تاثر کا بھی اظہار کر دوں۔

دمشق کے پہلے سفر (۱۹۵۴ئ) میں عاصم الحداد صاحب مولانا کے ترجمان کی حیثیت سے رفیقِ سفر تھے‘ جو اکثر مختلف مجالس و محافل میں مولانا کی گفتگو اور تقاریر کی ترجمانی کرتے تھے۔ ایک دو مرتبہ کسی مجلس یا محفل میں ترجمانی کی سعادت راقم السطور کو بھی ملی۔ لیکن دوسری بار جب چار سال بعد مولانا ۱۹۵۹ء میں حجاز سے کار کے ذریعے جغرافیہ ارض قرآن کی تحقیق میں مدائن صالح (شمالی حجاز) اور اردن کے قدیم و اسلامی تاریخی مقامات کی سیاحت کے بعد صحراے سینا جاتے ہوئے دمشق میں تشریف لائے‘ تو میں نے حیرت و استعجاب کے ساتھ دیکھا کہ اب مولانا اپنے عرب ملاقاتیوں سے بآسانی عربی میں گفتگو کر لیتے تھے‘ اور روانی سے اپنا مافی الضمیرادا کر سکتے تھے۔ مجھے حیرت یہ تھی کہ ۵۵‘ ۵۶ سال کی عمر میں مولانا نے پاکستان میں رہ کر کس طرح بول چال کی اتنی عربی سیکھ لی کہ علمی موضوعات پر فصیح عربی میں گفتگو کر سکیں۔ یہ واقعی ذہانت کی ایک نادر مثال تھی۔ کیونکہ بڑی عمرمیں انسان کے لیے دوسری زبان بخوبی سیکھنا کافی مشکل ہوتا ہے‘ اور خاص طور پر ایسے لوگوں کے لیے جو تحریکی اور تصنیفی کاموں میں انتہائی مصروف زندگی گزارتے ہوں۔ مولانا کے اس علمی و تحقیقی سفر کے نتائج تفہیم القرآن پڑھنے والے اور اس میں انبیا علیہم السلام کے قصص کا مطالعہ کرنے والے بآسانی دیکھ سکتے ہیں۔

مولانا مودودیؒ اگرچہ مطالعہ (reading) کی حد تک برعظیم کے علما ہی کی طرح عربی زبان پر دسترس رکھتے تھے‘ لیکن عربی زبان میں تحریر کی مشق مولانا کو نہ تھی‘ اور بیرونی دنیا میں آدمی کو شہرت دوسرے ممالک کی زبان میں تصنیفات کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہے۔ جیسے میرے استاد اور مشفق مربیّ مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کو عرب ممالک میں ان کی عربی تصانیف کے سبب جو شہرت حاصل ہوئی اور جس طرح وہ اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے عربی اسلامی فکر پر اثرانداز ہوئے‘ اس طرح نہ کسی کو ایسی شہرت ملی اور نہ کسی نے اتنا گہرا فکری و روحانی اثر عرب ممالک میں چھوڑا۔ ہر وہ شخص جو طویل عرصے میری طرح عرب ممالک میں رہا ہو اور عربی زبان جس کی تحریر و تقریر کی دوسری زبان بن گئی ہو یہی کہے گا‘ لیکن یہ ہمارا موضوع نہیں۔ اس بات اور اس شخصیت کا ذکر اس مناسبت سے آ گیا کہ مولانا مودودی کی تصانیف کو‘ براہِ راست عربی زبان میں نہ ہونے کے باوجود جو شہرت و مقبولیت عرب دنیا میں حاصل ہوئی‘ وہ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (مولاناعلی میاںؒ) کو چھوڑ کر برعظیم کے کسی عالم کو حاصل نہیں ہوئی۔

مولانا مودودی مرحوم کی عرب ممالک میں شہرت و مقبولیت کا کریڈٹ درحقیقت مولانا مسعود عالم ندوی مرحوم کو جاتا ہے۔ اگر ان کا قلم اور ان کا ۱۹۴۹ء کا سفرِ حجاز و نجد و عراق نہ ہوتا تو مولانا مودودی مرحوم کا عرب ممالک میں اس پیمانے پر تعارف شاید نہ ہو سکتا جو مولانا مسعود عالم ندوی کی تحریر و تقریر کے سبب ہوا۔ مسعود الندوی مرحوم اپنے اس سفر سے قبل مولانا مودودیؒ کی بعض مختصر تصانیف (رسائل) کا ترجمہ کر چکے تھے اور اسے پاکستان میں طبع کرا کے اپنے ساتھ مذکورہ دیار عرب میں لے گئے تھے۔ مولانا مسعود عالم ندوی تقسیم ہند سے قبل جماعت اسلامی سے منسلک تھے۔ اس سے قبل وہ نجد کے امام اصلاح و دعوت شیخ محمد بن عبدالوہاب پر ایک اعلیٰ تحقیقی کتاب اردو میں لکھ چکے تھے۔

مولانا مسعود عالم ندوی مرحوم ۳۰ کے عشرے میں ندوہ میں جب ادب عربی کے استاد تھے تو مصر کے مشہور علمی و ادبی ماہنامے الفتح میں ان کے عربی مضامین چھپتے تھے جو ایک ہندستانی مصنف کے لیے بڑا اعزاز تھا۔ یہ مجلہ معروف ادیب محب الدین الخطیب مرحوم کی زیر ادارت نکلتا تھا۔ مولانا مسعود عالم ؒان سے دور ہی سے واقف تھے‘ لیکن راقم السطور کو ان سے ۱۹۵۳ء میں قاہرہ میں ملنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ان کا اپنا مجلہ بند ہو چکا تھا اور وہ اس وقت جامعۃالازہر کے ماہنامہ مجلہ الازہر کے ایڈیٹر تھے۔ مصر کے زمانے میں میرا مشغلہ مطالعہ ادب کے ساتھ وہاں کے علما و ادبا سے ملنا تھا اور الحمدللہ مصر کی علمی وادبی نشات ثانیہ اور بعض مصری و غیر مصری سیاسی و دینی علما سے ملنے کا شرف مجھے وہاں حاصل ہوا۔ ان میں قابل ذکر مراکش کے الامیر محمد الخطابی (الامیر عبدالکریم الریفی کے بھائی) جو وہاں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے‘ محمد علی الطاہر (مدیر مجلہ الشوریٰ)‘ الاستاذ احمد امین‘ الاستاذ احمد حسن الزیات‘ ڈاکٹر محمد یوسف موسیٰ (پروفیسر شریعت اسلامی‘ قاہرہ یونی ورسٹی کالج)‘ استاذ الشہید سیدقطب‘ استاذ محمود تیمور‘ المحقق الکبیر الاستاذ محمو داحمد شاکر‘ شیخ احمد الشرباصی‘ الجمعیۃ الشبان المسلمین وغیرہ شامل ہیں۔ قاہرہ کی جمعیۃالشبان المسلمین جو ایک شان دار عمارت میں قائم تھی اور جس کے صدرمصر کے سابق وزیر دفاع صالح حرب پاشا تھے‘ وہاں میرا ہر ہفتہ ہی آنا جانا ہوتا تھا‘ اور      صالح حرب پاشا کے ہاں تمام آفس میں ترکی قہوہ اور سردیوں میں دارچینی پینے کو ملتی تھی۔ بڑے   خوش اخلاق اور سرفروشانِ اسلام میں سے تھے۔ شیخ احمد الشرباصی سے برادرانہ تعلقات تھے۔

میں نے ان سب حضرات کا ذکر اس لیے کیا کہ ان میں سے اکثر مولانا مسعود عالم ندوی کے ترجمہ کردہ مولانا مودودی کے رسائل کے سبب مولانا مودودی سے واقف تھے‘ اور اخوان المسلمون سے منسلک تو عام نوجوان بھی مولانا مرحوم کی دعوت سے واقف اور ان کے ثناخواں تھے۔ یہ بات میں نے مصرکے بعض دور دراز گائوں میں بھی دیکھی۔ لیکن ۱۹۵۱ء میں استاد معظم مرحوم سید ابوالحسن علی ندوی کے سفر مصر کے سبب اور وہاں ان کی مسلسل تقاریر اور اہل علم و ادب اور خاص طور پر زعما اخوان المسلمون سے ربط و ضبط کے سبب‘ اب وہاں مولانا ابوالحسن علی ندوی کا نام زیادہ معروف تھا اور ہے۔ اس شہرت و مقبولیت کا سبب مرحوم مولانا علی میاں کی ایک انتہائی فکر انگیز اور اچھوتے عنوان کی حامل کتاب ماذاخسرالعالم بانحطاط المسلمین (انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر)بھی تھی۔ یہ انکشاف لوگوں کے لیے باعث دل چسپی ہو گا کہ خود مصنف مرحوم نے مجھ سے ۱۹۴۹ء میں لکھنؤ میں کہا تھا کہ: ’’کتاب کا یہ عنوان مولانا مودودی کا تجویز کردہ تھا‘‘ (جماعت اسلامی سے وابستہ پرانے لوگ جانتے ہیں کہ مولانا علی میاں ۱۹۴۱ء تا ۱۹۴۳ء لکھنؤ میں جماعت کے ذمہ دار رہے تھے) بلکہ مصنف مرحوم کے بقول ان کے استفسار پر مولانا مودودی نے مشورہ دیا تھا کہ آپ اس موضوع پر اس عنوان سے کتاب لکھیں۔ دراصل وہ جماعت اسلامی سے وابستگی سے قبل اپنی جوانی ہی میں ایک سنجیدہ دینی مصنف کی حیثیت سے ابھر چکے تھے‘ بعد میں بعض مسائل میں اختلاف رائے کے باوجود مولانا علی میاں مرحوم نے ہمیشہ مولانا مودودی کے علم وفضل کا اعتراف کیا۔

مولانا مسعود عالم ندوی مرحوم نے قیامِ پاکستان ]اگست ۱۹۴۷ئ[ کے فوراً بعد ہی پاکستان آکر یہاں جماعت اسلامی کے تحت عربی زبان میں تصنیف و تالیف کا ایک ادارہ ’’دارالعروبہ‘‘ تشکیل دیا تھا۔ اس ادارے کی طرف سے مولانا مودودی مرحوم کی متعدد کتابوں کا عربی میں ترجمہ مولانا مسعود عالم ندوی کے قلم سے ہوا‘ جو مراکش سے لے کر کویت اور یمن سے سوڈان تک بھیجی گئیں۔ ان میں مولانا مودودی مرحوم کی کتابیں النظام الاقتصادی فی الاسلام‘ النظام السیاسی فی الاسلام‘ شہادۃالحق اور بعد میں الحجاب (کتاب پردہ کا ترجمہ) وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا مسعود عالم نے اپنے آپ کو مولانا مودودی مرحوم کی فکر کی نشر و اشاعت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اس طرح مولانا مودودی کا تعارف عالم عرب کے اسلامی اور علمی حلقوں میں بخوبی ہو گیا اور خاص طور پر مصر و شام وغیرہ میں اخوان المسلمون کے حلقوںمیں‘ جن کے ممبران کی تعداد ۵۰ کے عشرے میں ۵لاکھ کے قریب تھی اور مصر میں وہ اہم ترین دینی و سیاسی طاقت تھی۔

مولانا مودودی کے اس تعارف میں‘ مولانا مسعود عالم ندوی کے مولانا مرحوم کی کتابوں کے عربی تراجم کے علاوہ مصری اخوانی رہنما استاذ سعید رمضان کی کاوشوں کو بھی بہت دخل تھا‘ جو اخوان پر ابتلا کے پہلے دور میں اخوان کے المرشد العام (صدر) الشہید حسن البنا کے مشورے سے ۱۹۴۸ء میں کراچی آ گئے تھے۔ ان کی یہاں اچھی پذیرائی ہوئی تھی‘ حکومتی حلقوںمیں بھی اور جماعت اسلامی کی طرف سے بھی۔ مولانا مودودی سے استاذ رمضان کا اچھا ربط و ضبط ہو گیا تھا۔ پھر جب وہ مصری انقلاب کے بعد مصر واپس گئے تو ا نھوں نے اخوان کی قیادت میں مولانا مودودی کا بخوبی تعارف کرایا۔

عالم عرب اور خاص طور پر اخوان کے فکری و دینی حلقوں میں مولانا مودودی کے اثر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اخوان کے سب سے زیادہ عظیم اور مقبول و محبوب مفکر سید قطب کی عالم عرب میں لاکھوں کی تعداد میں چھپنے والی تفسیر فی ظلال القرآن میں مولانا مودودی مرحوم کی کتاب  الحجاب اور تفسیر سورۃ النور کے متعدد حوالے مذکور ہیں۔

اس موقعے پر اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ مولانا مسعود عالم ندوی نے نہ صرف خود مولانا مودودی کی کتابوں کے ترجمے کیے اور مولانا کی طرف سے اخوان اور عالم عرب کے دیگر     علما و مفکرین سے مراسلت جاری رکھی‘ بلکہ انھوں نے دارالعروبہ میں دو نوجوانوں عاصم الحداد اور خلیل احمد حامدی کو عربی زبان سکھا کر تحریر و تقریر میں ایسا اچھا عربی داں بنا دیا کہ انھوں نے مولانا مسعود عالم ندوی کی وفات کے بعد دارالعروبہ کے کام کو بخوبی سنبھالا اور مولانا مودودی کے عربی مترجم کے فرائض تادیر انجام دیے۔ ان دونوں صاحبان سے میری ملاقات دمشق اور مکہ مکرمہ میں علی الترتیب رہی۔ عاصم صاحب مرحوم کاذکر اوپرہو چکا ہے۔ خلیل حامدی صاحب سے ۱۹۶۵ء میں ملاقات ہوئی جب وہ رابطۃالعالم الاسلامی‘ مکہ مکرمہ میں عربی مترجم تھے اور میں اس وقت مکہ کے کلیۃالتربیہ ایجوکیشن کالج میں اسلامی تاریخ کا پروفیسر تھا۔ لیکن جماعت اسلامی کے اہل قلم حضرات نے مولانا مسعود عالم ندوی کی وفات کے بعد ان کا قرار واقعی ذکر نہیں کیا۔ ۱؎

۱۹۶۵ء میں شاہ فیصل کی تحریک سے  رابطۃالعالم الاسلامی (Muslim World League) قائم ہوئی۔ اس میں استاذ سعید رمضان مرحوم کی کوششوں کا بہت دخل تھا۔ استاذ سعید رمضان اس وقت جنیوا (سوئٹرزلینڈ) میں اسلامی مرکز کے بانی اور جنرل سیکرٹری تھے۔ انھوں نے جو فہرست رابطہ کے بانی ممبران کی بنائی ان میں مولانا مودودی اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے نام سرفہرست تھے‘ اور یہ دونوں پاکستانی و ہندستانی وہاں سالانہ اجتماعات میں نمایاں طور پر اپنے افکار و آرا سے رابطہ کو فیض یاب کرتے رہے۔ مولانا مودودی نے تو چند سال بعد بعض سیاسی فکری اسباب کی بنا پر اجتماعات میں جانا بند کر دیا تھا‘ لیکن مولانا ابوالحسن علی ندوی برابر رابطہ کی خدمت کرتے رہے۔

مولانا مودودی کی فکری عظمت کا عربوں کی طرف سے بے محابا اعتراف کا میں ذاتی طور پر شاہد ہوں۔ ۱۹۵۶ء میں دمشق میں استاذ سعید رمضان مرحوم کی بلائی ہوئی موتمر اسلامی کی عالمی کانفرنس کے اختتامی اجلاس کے موقعے‘ پر دمشق یونی ورسٹی کے ہال میںکافی بڑے اسٹیج پر عرب اور اسلامی ممالک کے وفود کے سربراہان بیٹھے ہوئے تھے۔ جن میں انڈونیشیا کے سابق وزیراعظم اور حزب ماشومی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد ناصر‘ عراق کے معمر اور نامور شیخ امجد الزہاوی اور دیگر عرب علما و زعما کے ساتھ مولانا مودودی اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی بھی مسند نشین تھے۔

شام کے ایک مشہور سیاسی‘ ادیب اور عالم‘ سابق وزیر الشئون الاجتماعیہ (وزیر سماجی امور) اور اس وقت ممبر پارلیمنٹ اور کلیۃ الشریعہ دمشق یونی ورسٹی میں میرے استاذ پروفیسر محمد المبارک‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو دعوت خطاب دینے اور ان کا تعارف کرانے اسٹیج پر آئے۔  انھوں نے مولانا مودودی مرحوم کا تعارف کراتے ہوئے ان کو ’غزالی عصر‘ کے لقب سے یاد کیا‘ جو میرے علم کے مطابق مولانا مودودی مرحوم کی خدمات کے اعتراف میں‘ ایک ذمہ دار عرب عالم و مصنف کی طرف سے وہ اعزاز تھا جو بیسویں صدی عیسوی میں عالم اسلام کے کسی اور مفکر و مصنف کو نہیں ملا۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی فکر سے عالم عرب کے تمام مصنفین فیض یاب ہوئے اور بہت سے مصنفین نے مولانا مودودی سے اپنی تصنیفات میں خوشہ چینی کی‘ جن میں مصر کے عبداللہ السمان‘  انور الجندی اور مکہ مکرمہ کے حسن جمال اور مصر کے ڈاکٹر محمد البہی وغیرہ شامل ہیں۔ عالم عرب کے ممتاز مفکرین و زعما میں مراکش کے استاذ علال فاسی‘ الجزائر کے استاذ محمد البشیر الابراہیمی‘ مصر کے استاذ الشہید سید قطب‘ سوڈان کے حسن الترابی‘ شام کے ڈاکٹر مصطفی السباعی اور ڈاکٹر معروف الدوالیبی‘ عراق کے استاذ محمد محمود الصواف اور شیخ امجد الزہاوی وغیرہ‘ سب ہی مولانا مودودی کے علم وفضل کے معترف تھے اور ان سے ربط و ضبط رکھتے تھے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اپنی ذات میں امت واحدہ تھے۔ ان کے فکری اثاثے سے فائدہ اٹھانا جماعت اسلامی کا فرض ہے۔ جماعت کا فرض ہے کہ وہ یاد رکھے کہ مولانا مودودی مرحوم بنیادی طور پر ایک اسلامی مفکر اور دعوت دین کے منفرد داعی تھے‘ ان کی اس راہ پر چلنا اور علمی و فکری خلا کو پُر کرنے میں ذمہ داری ادا کرنا بھی جماعت اسلامی کا فرض ہے۔