مضامین کی فہرست


اکتوبر ۲۰۰۳

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی فقہی، کلامی اور سیاسی آرا سے تدریج کے ساتھ متاثر اور متفق ہونے کے بعد ان کی ذات گرامی سے آہستہ آہستہ دل چسپی، تعلق اور گرویدگی پیدا ہوتی گئی۔ اس کے نتیجے میں ان کی سیرت و کردار سے واقفیت کا داعیہ فطری طور پر پیدا ہوا، اور بہت سے منفی پہلو بھی بارسماعت ہوئے، مگر ان میں سے بیش تر معاصرت، حسد، مسلکی اختلاف کے اثر سے بے اصل و نامعتبر نکلے۔

محاسن سیرت کے سلسلے میں مجھے پہلی اطلاع یہ ملی کہ جامعہ عثمانیہ میں ] اپنے[ تقرر کی پیش کش مولانا نے اپنے اصول کی خاطر مسترد کر دی،۱؎ حالانکہ مولانا اس دور میں معاشی خستہ حالی کا شکار تھے۔ اس خبر نے مجھے مولانا مودودیؒ سے قلبی طور پر قریب تر کر دیا۔ حصول مقصد کے لیے قربانی اور تحملِ شدائد کا حوصلہ صرف عظیم انسانوں کی صفت ہے۔ اس کے بعد جب بھی مجھے ایسے حضرات ملے جن کو مولانا مودودیؒ سے کوئی معاملہ کرنے‘ ملاقات کرنے کا اتفاق ہوا تھا‘ ان سے ذکرِ یار سن کر کبھی لکھ لیتا اور کبھی حافظے کے خزانے میں جمع کر لیتا۔ ایسی ہی چند ملاقاتوں اور تاثرات کے جمع شدہ نوٹس قارئین ترجمان القرآن کے لیے پیش خدمت ہیں۔

  • جوش ملیح آبادی (م: ۱۹۸۴ئ): جوش صاحب سے مولانا مودودی کے روابط حیدر آباد‘ دکن میں قیام کے زمانے سے تھے۔ مولانا کے بردار بزرگ مولانا سید ابوالخیر مودودی (م: اگست ۱۹۷۹ئ) اور جوش صاحب ایک ہی مکان میں کچھ عرصے تک رہے تھے۔ لکڑی کے پل (محلہ) میں مکان کے اوپر کے حصے میں جوش صاحب اور نیچے ابوالخیر صاحب رہتے تھے۔ جوش صاحب کا جب ریاست حیدر آباد سے اخراج ہوا‘ تو ان ریاستوں میں جو ماحول ہوتا تھا اس کے پیش نظر ان کے احباب تو ایک طرف‘ قریب ترین اعزہ بھی ان سے ملنے اور تعلق ظاہر کرنے سے کتراتے تھے۔ مگر جیسا کہ خود جوش صاحب نے یادوں کی برات میں لکھا ہے کہ انھیں اسٹیشن پر رخصت کرنے صرف مودودی برادران آئے تھے۔ اس کے بعد برسوں دونوں کی ملاقات نہیں ہوئی ۔

مولانا مودودی‘ پاکستان میں تھے اور جوش صاحب بھارت میں۔ پھر جب جوش اپنے دوست جواہر لال نہرو اور ’نئے بھارت‘ سے مایوس ہو کر پاکستان آ گئے اور کراچی میں طرح اقامت ڈالی تو ایک دن مولانا مودودی سے بھی ملاقات ہو گئی۔ مولانا کراچی تشریف لائے ہوئے تھے اور پیرالٰہی بخش کالونی میں شیخ سلطان احمد صاحب لکھنؤ والے کے ہاں مقیم تھے۔ جوش صاحب پتا حاصل کر کے ایک دوپہر وہاں پہنچ گئے۔ پروفیسر حبیب اﷲ رشدی (م: ۱۹۶۹ئ) جوش صاحب کے ساتھ تھے۔ رشدی صاحب کا تعلق حیدرآباد‘ دکن سے تھا‘ وہ وہاں پر صف اول کے صحافی تھے‘ روزنامہ نظام گزٹ انھی نے جاری کیا تھا اور تقسیم کے بعد سے کراچی میں مقیم تھے۔ حبیب اللہ رشدی صاحب اور جوش صاحب‘ سلطان صاحب کے ہاں پہنچے۔ جب جوش صاحب کو بتایا گیا کہ مولانا مودودی کھانے اور نماز ظہر سے فراغت کے بعد آرام کر رہے ہیں‘ تو جوش نے اصرار کر کے معلوم کیا کہ مولانا کس کمرے میں سو رہے ہیں اور پھر بے تکلفی سے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا‘ دروازہ کھلا تو ہانک لگائی ’’عوام کو جگا کر علما سو گئے‘‘۔ مولانا نے خوش دلی سے جوش صاحب کا استقبال کیا اور دیر تک یہ مجلس گرم رہی۔ بہت سے دل چسپ فقروں کا تبادلہ ہوا‘ مثلاً جب مولانا نے ذکر فرمایا: ’’اپنی قیام گاہ تبدیل کر رہا ہوں‘‘ تو‘ جوش صاحب نے پیش کش کی: ’’مولانا‘ میرے ہاں آ جائیے‘‘۔ مولانا نے برجستہ فرمایا: ’’اس میں میری بھی رسوائی ہے اور آپ کی بھی‘‘۔ گفتگو میں جوش صاحب نے مسئلہ جبر و قدر سے اپنی دل چسپی کا ذکر کیا تو مولانا نے فرمایا: ’’بگڑا ہوا شاعر ضرور جبر و قدر پر طبع آزمائی فرماتا ہے‘‘۔

اس محفل کی روداد رشدی صاحب نے اسی روز مجھے سنائی تھی اور میں نے قلم بند کر لی تھی۔ مولانا دوسرے ہی روز علی الصبح بازدید کے لیے جوش صاحب کے ہاں تنہا تشریف لے گئے۔

  • حکیم نصیر الدین ندوی (م: ۱۹۹۸ئ): حکیم صاحب‘ اجمیرکے مقبول معالج تھے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی منتقل ہو گئے تھے۔ ان کا مطب ’’نظامی دواخانہ‘‘ دواخانے سے زیادہ ایک علمی اور تہذیبی مرکز کے طور پر متعارف تھا۔ اکابر دین‘ مشاہیر سیاست‘ خاصان علم و ادب کی ان کے ہاں آمدورفت رہتی تھی اور علمی و ادبی مجالس گرم رہتی تھیں۔ حکیم صاحب کو اپنے فن میں مہارت کے علاوہ شعر و ادب کا اعلیٰ ذوق تھا۔ انھیں اردو سے زیادہ عربی و فارسی کے ہزاروں اشعار یاد تھے۔ سردار عبدالرب نشتر ابتدا میں تو ان کے زیر علاج مریض تھے‘ مگر بعد میں دوست ہو گئے تھے اور بیدل کے اشعار سمجھنے ان کے ہاں آ جایا کرتے تھے۔

حکیم صاحب‘ مولانا مودودی کے نام اور کام سے واقف تھے مگر ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ ایک بار مولانا مریض کی حیثیت سے ان کے ہاں تشریف لائے۔ حکیم صاحب سے ادویہ تجویز کروانے کے بعد چودھری غلام محمد صاحب مرحوم کو نسخہ دیا کہ ’’۴۰ دن کی دوا بنوا لیں‘‘۔ مگر جب چودھری صاحب کو معلوم ہوا کہ حکیم صاحب نے ادویہ کی قیمت نہ لینے کی ہدایت کی ہے‘ تو مولانا سے آ کر یہ بات کہی۔ مولانا نے فرمایا: ’’کوئی بات نہیں ‘دوائیں لے لیجیے‘‘ (اس کے جواب میں مولانا نے لاہور پہنچتے ہی چیتی گلاب کی ایک بڑی مقدار حکیم صاحب کو بھجوا دی۔ چیتی گلاب کی کراچی میں نایابی کاذ کر آیا تھا)۔

پہلی ملاقات میں دونوں میں قرب و اتحاد کے کئی پہلو نکل آئے۔ حکیم صاحب نے جب مولانا کو دعوت طعام دی تو مولانا نے بے تامل قبول کر لی ۔اس ملاقات میں راقم بھی شریک تھا۔ مولانا اس بزمِ طعام میں بے تکلف اور شگفتہ انداز میں شریک ہوئے۔ موسم سرما تھا۔ حکیم صاحب نے مولانا سے پوچھا : ’’مولانا‘ آپ کی روٹی گرم کر دوں؟‘‘ مولانا نے فرمایا: ’’گرم روٹی اور ٹھنڈا پانی تو بڑی نعمت ہے‘‘۔ چنانچہ حکیم صاحب نے انگیٹھی پر روٹی گرم کر کے مولانا کو پیش کی‘ مگر پانی کے درجہ برودت کو ناکافی بتایا تو گلاس میں برف کی ڈلیاں ڈال دی گئیں۔ حکیم صاحب نے کہا: ’’مولانا‘ آپ کے ہاں معقولی اور منطقی انداز فکر ہم خیر آبادیوں جیسا ہے‘‘۔ اس پر مولانا نے فرمایا: ’’جی ہاں‘ میں بھی خیر آبادی مکتب فکر سے منسلک ہوں۔ میں نے معقولات کی تحصیل مولانا عبدالسلام سے کی ہے‘‘۔ اس پر حکیم صاحب بہت خوش ہوئے۔ مولانا عبدالسلام نیازی۲ سے ان کے گہرے مراسم تھے۔ جب بھی وہ اجمیر آتے تو حکیم صاحب کے ہاں ہی قیام فرمایا کرتے تھے۔

کھانے سے فراغت کے بعد حکیم صاحب نے فرمایا: ’’مولانا‘ وائٹ جیسمین کا ذوق ہے؟‘‘ مولانا نے شگفتگی سے فرمایا: ’’جی‘ جیسمین بہت پی ہے مگر جب سے غبار خاطر شائع ہوئی ہے‘ چھوڑ دی‘‘۔ مولانا کا جواب سن کر کئی حضرات مسکرا دیے۔ ایک صاحب نے زیر لب فرمایا: ’’اعاظم کی اناکی بھی ایک اپنی ہی شان ہوتی ہے‘‘۔

مولانا نے چند ماہ بعد ماہرالقادری مرحوم کے نام اپنے ایک گرامی نامے میں اصل مقصد کے بعد تحریر فرمایا تھا: حکیم نصیرالدین ندوی صاحب کو میری طرف سے عرض کریں کہ آپ نے مجھے جو دوا دی تھی اس نے میری برسوں کی غلاظتیں دور کر دیں۔ اگر آپ مجھے اس کا نسخہ عنایت فرما دیں تو کرم ہو (ایسے ہی کچھ الفاظ تھے) -- ماہر صاحب نے مولانا کا یہ خط فاران میں شائع فرماتے ہوئے مولانا اور حکیم صاحب کے مراسم پر ایک نوٹ بھی لکھا تھا جس پر یہ مصرع بھی تھا   ع

میانِ پختہ کاراں بود بحث خویشتن داری

  • محمد یوسف صدیقی (م: ۱۹۷۶ئ): محمد یوسف صدیقی صاحب جماعت کے ابتدائی دور کے رفقا میں سے تھے اور وطن ٹونک تھا۔ غالباً تقسیم سے پہلے جماعت کی شوریٰ میں بھی تھے‘ تقسیم کے بعد اپنا کاروبار ختم کر کے مرکز کی دعوت پر دہلی جا بسے۔ جماعت اسلامی ہند کے انگریزی اخبار Radiance ‘دہلی کے چیف ایڈیٹر بھی تھے۔ ۱۹۴۷ء میں انھی کی تحریک پر جماعت اسلامی کا سالانہ اجتماع ٹونک میں ہوا تھا‘ جس میں مولانا مودودیؒ بھی تشریف لے گئے تھے۔ صدیقی صاحب کئی کئی دن دارالاسلام میں جا کر مقیم رہتے تھے اور مولانا کو ان سے خصوصی تعلق تھا۔

محمد یوسف صدیقی صاحب کے بتائے ہوئے و اقعات درج ذیل ہیں:

۱-  مولانا مودودیؒ نے ایک مرتبہ فرمایا: ’’حیدرآباد میں ہاتھ تنگ رہتا تھا اور آمدنی قلیل تھی۔ اس لیے فاقہ کشی سے بچنے کے لیے میں چند سیر ]بھنے ہوئے[ چنے خرید کر رکھ لیتا تھا‘ تاکہ کچھ نہ ملنے کی صورت میں چنے کھا کر پانی پی لیا جائے‘‘۔

۲۔ اسی طرح ایک مرتبہ مولانا مودودی ؒنے فرمایا: ’’میں دکن سے دارالاسلام ]پنجاب[ نیا نیا آیا تھا۔ آتے ہی ترجمان القرآن کا تازہ شمارہ شائع کر دیا اور پھر دارالاسلام کے انتظامات میں مصروف ہو گیا ۔کمر کمر تک گھاس کھڑی تھی‘ وہ کٹوا رہا تھا۔ اسی دوران ایک صاحب آئے‘ پختہ عمر‘ سادہ دیہاتی لباس‘ ہاتھ میں لکڑی اور تھیلا‘ وہ مجھ سے ہی ملنے آئے تھے۔ میں نے جب اپنا تعارف کروایا تو انھوں نے تھیلے سے ترجمان القرآن کا تازہ شمارہ نکال کر‘ میرے مضمون کی ایک عبارت دکھائی جس پہ انھیں اعتراض تھا۔ میرے جواب سے مطمئن ہو کر انھوں نے رسالہ تھیلے میں رکھا اور رخصت ہونے لگے۔ میں نے تعارف چاہا تو معلوم ہوا کہ صوبہ سرحد کے ایک قصبے سے ان کا تعلق ہے۔ رسالے میں ایک قابلِ اعتراض عبارت دیکھتے ہی وہ اس پر احتجاج کے لیے لکڑی اور تھیلا ہاتھ میں لے کر چل پڑے‘ لیکن جب اعتراض رفع ہو گیا تو مطمئن ہو کر اسی وقت واپسی کے لیے تیار ہوگئے۔ میں نے انھیں پیش کش کی کہ کچھ دیر قیام کریں‘ سستا لیں‘ ماحضر تناول فرما لیں پھر واپسی ہو۔ مگر انھوں نے عذر کیا: ’’جزاک اللہ‘ مجھے کئی ضروری کام درپیش ہیں‘ بس یہ مضمون پڑھتے ہی میں بے چین ہوا‘ اورسب کام چھوڑ کر یہاں چلا آیا۔ اب چونکہ اطمینان ہو گیا ہے اس لیے ایک لمحہ ٹھیرنا بھی دوبھر ہوگا‘‘۔ مولانا مودودیؒ فرماتے تھے: ’’میں نے ان صاحب کی آمد سے بڑا اطمینان محسوس کیا کہ میں زندوں کی بستی میں آ گیا ہوں۔ ورنہ برسوں دکن میں رہا اور بہت متنازعہ فیہ مضامین لکھے‘ لیکن وہاں پر مجھے کوئی گربیان پکڑنے والا نہیں ملا تھا‘‘۔

محمدیوسف صدیقی مرحوم ہی کے حوالے سے ایک اور واقعہ بھی جی چاہتا ہے کہ ذکر کروں۔ اجتماع ٹونک کے موقعے پر یوسف صاحب نے اپنے ہاں مولانا کی دعوتِ طعام کا اہتمام کیا‘ اور اس میں خاصان شہر کو بھی شرکت کی دعوت دی تھی۔ انھی حضرات میں ایک وکیل صاحب بھی تھے۔ اﷲ بخشے بحث و مناظرہ کا انھیں خاص ذوق تھا۔ بہت بولتے تھے اور دوسرے کی ہر بات کی تردید کی کوشش میں ہر لمحے مستعد دکھائی دیتے تھے۔ کئی دن سے وہ مولانا کی نشست میں شریک ہو رہے تھے اور اپنے ’’فن‘‘ کا مظاہرہ کرتے تھے۔ خیر‘ یہ وکیل صاحب بھی اس دعوت میں بلائے گئے تھے۔ کھانے کی ڈشوں میں بکرے کا بھیجا بھی تھا۔ میزبان نے مولانا کو متوجہ کیا: ’’مولانا‘ بھیجے کی طرف بھی توجہ فرمائیں‘‘۔ مولانا نے فرمایا: ’’ہمارے وکیل صاحب کو دیجیے۔ انھیں بھیجا کھانے کا بہت شوق ہے‘‘۔ سب شرکاے طعام وکیل صاحب کے اس ذوق و شوق سے واقف تھے‘ اس لیے وکیل صاحب سمیت سبھی نے خوب لطف لیا۔

  • حکیم شمس الحسن (م: ۱۹۷۹ئ): حکیم صاحب سہارن پور کے گھرانے کے فرد تھے۔ ان کے ایک بزرگ داروغہ محمد ارحم انصاری میرٹھ میں ۱۸۱۸ء میں سید احمد شہیدؒ سے بیعت ہوئے۔

حکیم شمس الحسن صاحب‘ عالم اور فاضلِ طب تھے۔ تاسیسِ جماعت اگست ۱۹۴۱ء سے پہلے بھی ان کا مولانا مودودیؒ سے تعلق تھا۔ پھر اگست ۱۹۴۱ء میں جماعت کے بنیادی رکن بنے۔ بعد میں بعض وجوہ سے رکنیت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ لیکن ۱۹۷۱ء میں جب دیکھا کہ اشرار کے ساتھ اخیار بھی‘ اور اسلام دشمنوں کے ساتھ علماے کرام بھی جماعت اسلامی کی مخالفت میں ہم قدم ہیں‘ تو انھوں نے میدان جہاد میں کود پڑنے کا فیصلہ کر لیا اور جماعت کی رکنیت دوبارہ اختیار کر لی۔ پھر اخباری بیانات کے علاوہ خطبوں کے ذریعے مولانا امین احسن اصلاحی (م: دسمبر ۱۹۹۷ئ) وغیرہ کو جماعت کا ساتھ دینے کی تلقین کی۔ سکھرمیں جہاں وہ عرصے سے مقیم تھے ۱۵/ ۱۶ دسمبر ۱۹۷۹ء کو وصال فرمایا۔

حکیم شمس الحسن صاحب سے راقم کا تعارف ۱۹۵۲ء میں ہوا۔ اس وقت وہ جماعت میں شامل نہیں تھے۔ ان کی علیحدگی میں بنیادی طور پر رفقاے جماعت سے اختلافات کو دخل تھا‘ مولانا کے افکار و نظریات سے اس وقت بھی انھیں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ مولانا کے ذاتی اوصاف و کمالات کے تووہ بے حد مداح و معترف تھے‘ اور اکثر اس قسم کے واقعات بڑی عقیدت سے سنایا کرتے تھے‘ جن سے مولانا کی عظمتِ کردار‘ وسعتِ ظرف‘ علو ہمت‘ درویش مزاجی‘ اتقا‘ توکل‘ تحمل‘ صداقت شعاری‘ ایثار‘ تدبر‘ دردمندی‘ ذہانت‘ فراست اور شگفتہ مزاجی کا اندازہ ہوتا ہے۔ بعد میں حکیم شمس الحسن صاحب کراچی سے سکھر منتقل ہو گئے‘ تاہم جب بھی وہ کراچی تشریف لاتے تو لازماً غریب خانے پر آنے کی زحمت فرماتے اور ہماری طویل نشست رہتی۔ ہماری گفتگو کا موضوع بیش تر مولانا مودودی کی شخصیت ہی ہوتی تھی۔

اخیار و صلحا کی داستانوں سے مجھے لڑکپن سے ہی دل چسپی رہی ہے‘ اور اس کے فوائد و ثمرات کا بھی مسلسل تجربہ ہوا ہے۔ ایک بار خیال ہوا کہ حکیم شمس الحسن کی ان قیمتی روایات کو قلم بند کر لیا جائے۔ اس حوالے سے میں نے خود حکیم صاحب سے عرض کی: ’’آپ کے حافظے میں تاریخ جماعت اور سیرت مودودی کا بڑا قیمتی سرمایہ محفوظ ہے‘ اسے ضائع نہ ہونے دیں بلکہ اسے قلم بند کر لیں۔ مجھے بحیثیت معالج معلوم ہے کہ پایانِ عمر میں بہت سا ذخیرہ لوحِ حافظہ سے محو ہو جاتا ہے اور بہت سے واقعات اور سنین مختلطہو جاتے ہیں‘‘۔ جواب میں حکیم صاحب قلم دانی سے اپنی عدم مناسبت کا عذر کرتے رہے‘ مگر میرے مسلسل اصرار کے بعد انھوں نے وعدہ کر لیا۔ جس پر یہ طے ہوا کہ حکیم صاحب سکھر سے مجھے اقساط بھیجتے رہیں گے اور میں انھیں جمع کرتا رہوں گا۔ چنانچہ حکیم صاحب نے یہ سلسلہ شروع کر دیا۔ وہ ایک ایروگرا م لے کر لکھنا شروع کر دیتے اور جب اس کی وسعت تنگ ہو جاتی تو مجھے روانہ کر دیتے۔ افسوس ہے کہ حکیم صاحب کے ایسے تین ہی خط آئے تھے کہ پھر داستان سنانے والا خود داستان بن گیا۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ ان خطوں میں بات اس انداز سے شروع کی گئی تھی کہ جیسے کوئی مبسوط کتاب لکھنی پیشِ نظر ہو۔ اس ضمن میں سیرت مودودی کے سلسلے میں‘ حکیم صاحب کی باتیں آپ کو سناتا ہوں:

حکیم شمس الحسن نے فرمایا: ’’میں ایک زمانے میں بہاول پور میں مقیم تھا۔ وہاں مولانا مودودی کے خالہ زاد بھائی مشتاق احمد زاہدی سے جو بہاول پور کے ایک کالج میں پرنسپل تھے‘ مولانا کا تذکرہ‘ ان کے علم و فضل اور ذہانت و ذکاوت کی باتیں سنی تھیں‘ اور مولانا کی کچھ تحریریں خصوصاً مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکشوغیرہ دیکھی تھیں۔ چنانچہ‘ میں بہاول پور سے سہارن پور جاتے ہوئے لاہور اتر گیا اور مولانا کے گھر پہنچا۔ مولانا اس زمانے میں پٹھان کوٹ سے لاہور منتقل ہو گئے تھے‘ اور اسلامیہ کالج لاہور میں اعزازی پروفیسر بھی ہو گئے تھے‘ اسلامیہ پارک میں کرائے کے ایک مکان میں رہتے تھے۔ میری اطلاع پر مولانا آئے‘ بیٹھک کھول کر بیٹھ گئے۔      یہ ۱۹۳۹ء کی بات ہے‘ جب مولانا سے میری مختصر سی بات ہوئی۔

میں نے دریافت کیا: ’’آپ کیاکرنا چاہتے ہیں؟‘‘ مولانا نے فرمایا: ’’تجدید و احیاے دین‘‘۔ میں نے کہا: ’’یہ کام تنہا نہیں ہو سکتا اور ایک جماعت کے بغیر نہیں ہو سکتا‘‘۔ مولانا نے فرمایا: ’’صحیح ہے جماعت بنانی ہو گی‘‘۔ میں نے کہا: ’’جب بھی آپ جماعت بنائیں تو میرا پتا یہ ہے‘ آپ مجھے اس کی اطلاع ضرور دیں اور مجھے اس میں آج ہی شامل سمجھیں‘‘۔ مولانا نے فرمایا: ’’سوچ سمجھ لیجیے‘‘۔ بس اتنی سی بات کر کے میں چلا آیا۔ چند روز کے بعد قمرالدین صاحب کا خط آیاجو اس زمانے میں مولانا کے سیکرٹری تھے: ’’مولانا پوچھتے ہیں کہ آپ نے کیا فیصلہ کیا ہے؟‘‘ میں نے جواب لکھ دیا: ’’میں تو اپنا فیصلہ اسی وقت مولانا کو بتا آیا تھا۔ وہی میرا آخری فیصلہ ہے‘‘۔ چنانچہ اگست ۱۹۴۱ء میں جماعت کی تاسیس کے سلسلے میں دعوت نامہ آیا اور میں اجتماع میں شرکت کے لیے لاہور پہنچ گیا‘‘۔

حکیم شمس الحسن صاحب کے بقول: ’’تاسیسِ جماعت کے اجتماع میں شرکت سے پہلے میری مولانا سے ایک اور ملاقات بھی ہوئی تھی۔ جب میں پہلی بار مولانا مودودی سے مل کر سہارن پور پہنچا تو مدرسہ مظاہرالعلوم کے ایک عالم مولوی جمیل احمد نے مجھ سے اپنے ایک منصوبے کا ذکر کیا‘ جو بم بنانے کا کارخانہ بنانے سے متعلق تھا۔ جمیل صاحب نے سہارن پور کی اہمیت بتائی کہ: ’’یہ شہر کئی انگریزی چھائونیوں کے عین وسط میں ہے اور یہاں کا ہنگامہ بہت جلد پھیل سکتا ہے‘‘۔ میں نے ان کی تائید کی اور اپنی اعانت کا وعدہ بھی کیا‘ مگر اس شرط کے ساتھ کہ میں ایک صاحب سے وعدہ کر چکا ہوں اور پہلے ان سے اجازت لینی ضروری ہے۔ چنانچہ میں نے مولانا مودودی کو خط لکھا: ایک اہم مسئلے پر آپ سے مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔ میرے اس خط کے جواب میں مولانا محترم نے مجھے چار روپے کا منی آرڈر کیا (اس دور میں سہارن پور سے لاہور تک ریل کا کرایہ چار روپے ہوتا تھا) اور کوپن پر مولانا نے لکھا: ’’یہ کرایہ ہے‘ آپ فوراً چلے آئیں‘‘۔ چنانچہ میں لاہور پہنچا اور مولانا سے اس منصوبے کاذکر کیا۔ میری بات سننے کے بعد مولانا مودودی نے ایک مفصل گفتگو فرمائی اور یہ ثابت کر دیا کہ: ’’یہ کرنے کا کام نہیں ہے۔ کرنے کا کام اقامت دین‘ اسلام کی ہمہ گیر اور ہمہ جہت جدوجہد ہے‘ جس کے نتیجے میں صرف اس ملک سے انگریز ہی نہیں‘ بلکہ ہر طاغوت کو سیادت و قیادت ِ عالم سے ہٹا دیا جائے گا‘‘۔ چنانچہ میں نے واپس سہارن پور جا کر مولوی جمیل احمد صاحب سے معذرت کر دی۔

حکیم صاحب نے بتایا: ’’اگست ۱۹۴۱ء میں تاسیسِ جماعت کا جلسہ ہوا۔ اس میں ۷۵ افراد نے رکنیت کا حلف اٹھایا تھا۔ مولانا محمد منظور نعمانی نے اس وقت جو تقریر کی تھی‘ اس میں وہ خود بھی اس قدر روئے تھے کہ داڑھی تر ہوگئی تھی اور دوسرے شرکا پر بھی رقت طاری تھی‘‘۔

تاسیسِ جماعت کے کچھ عرصے بعد مولانا مودودیؒ پھر دارالاسلام‘ پٹھان کوٹ منتقل ہو گئے تھے۔ حکیم صاحب بتاتے ہیں: ’’میں ۴۳-۱۹۴۲ء میں تقریباً ایک سال تک پٹھان کوٹ میں مقیم رہا۔ وہاں میرے ذمے مہمان خانہ اور اسٹور وغیرہ کا انتظام تھا‘ ساتھ ہی میں مولانا کے دو بچوں عمر فاروق اور  احمد فاروق کو پڑھایا بھی کرتا تھا۔ اسی لیے میں مولانا کے گھرانے میں ’ماسٹر صاحب‘ کہلاتا تھا۔ اس تقریباً ایک سال کے عرصے میں وہاں جو واقعات پیش آئے‘ یا مولانا سے جو واقعات سنے ان میں سے چند سناتا ہوں‘‘۔

حکیم شمس الحسن مرحوم نے فرمایا: ’’مولانا مودودی‘ دکن سے علامہ اقبال کی دعوت پر پنجاب جاتے ہوئے ابھی دہلی میں ٹھیرے ہوئے تھے کہ عبدالعزیز شرقی‘ علامہ کا کوئی پیغام لے کر دہلی پہنچے اور مولانا سے ملے۔ پھر مولانا‘ دہلی سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے تو چودھری نیاز علی مرحوم‘ مولانا کے استقبال کے لیے بٹھنڈہ تک آئے تھے اور ساتھ ہی لاہور گئے تھے‘‘۔

’’پٹھان کوٹ میں مولانا مودودی کی والدہ بھی ان کے ساتھ رہتی تھیں۔ بڑی عابدہ و زاہدہ خاتون تھیں‘ مگر مولانا سے چھپ کر قرب و جوار کی قبروںکی زیارت کے لیے ضرور جایا کرتی تھیں۔ مولانا‘ اپنی والدہ کے اس طرح اخفا کی کوشش کے ساتھ جانے پر بس مسکرا دیا کرتے تھے‘‘۔

’’مولانا دکن سے پٹھان کوٹ تو آگئے مگر چودھری نیاز علی صاحب سے چند اصولی باتوں پر اختلاف کی وجہ سے وہاں نبھی نہیں‘ اس لیے لاہور منتقل ہو گئے۔ تاسیسِ جماعت سے پہلے منتقل ہونے کا یہ واقعہ مولانا مودودی نے مجھے بتایا تھا۔ فرمایا: ’’میں نے اچانک ایک دن پٹھان کوٹ چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا اور ٹرک لے کر اہل و عیال اور سامان کو اس پر لاد کر لاہور پہنچ گیا اور مکان کی تلاش شروع کردی۔ شام کو چوبرجی کے علاقے میں ایک مکان مل گیا‘ تو ٹرک سے سامان اور اہل و عیال کو اتارا‘‘۔

’’تاسیسِ جماعت کے کچھ ہی دن بعد قمرالدین خان‘ مولانا جعفر شاہ پھلواروی‘ مولانا محمد منظور نعمانی‘ وغیرہ نے مولانا مودودی پر اچانک تنقید شروع کر دی اور ایک تیرہ نکاتی تحریر مولانا کے خلاف لکھی۔ ان تیرہ میں سے ایک نکتہ یہ بھی تھا: ’’مولانا مودودی کے ہاں صوفہ سیٹ ہے‘‘ (وہ صوفہ بانس کا بنا ہوا تھا)۔ اور یہ کہ : ’’آپ کا پان دان اور پانوں کی ڈبیا چاندی کی ہے‘‘ (یہ دونوں چیزیں چاندی کی نہیں نِکل کی تھیں اور دکن کی مشہور فیکٹری کی بنی ہوئی تھیں)۔ مزید یہ کہ: ’’آپ کی وضع قطع علما کی سی نہیں ہے‘‘۔ چنانچہ دہلی میں مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا‘ جس میں یہ احباب جماعت سے الگ ہوگئے‘‘۔

’’اسی زمانے میںجماعت کے مکتبے کے ناظم محمد شاہ تھے‘ جنھوں نیترجمان القرآن کا ۴۰ رم کاغذ غائب کر دیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جنگ عظیم دوم کی وجہ سے کاغذ نایاب تھا۔ ہم نے بہت اصرار کیا کہ: ’’مولانا‘ پولیس میں رپورٹ درج کرا دیں‘‘۔ مولانا مودودی‘ برطانوی سامراج کی حکومت سے استفادے کی ان شکلوں کو جائز نہیں سمجھتے تھے‘ اس لیے انھوں نے یہ تجویز مسترد کر دی‘‘۔

’’اپنی اولاد کے سلسلے میں مولانا نے فرمایا: میں نے لڑکوں کے نام کے لیے حضرت عمر فاروقؓ کے نام کا انتخاب کیا ہے (یعنی عمر فاروق اور احمد فاروق وغیرہ) اور لڑکیوں کے نام کے لیے حضرت صدیق اکبر ؓکے گھرانے کی خواتین کے نام منتخب کیے ہیں‘ یعنی حمیرا‘ اسماء وغیرہ‘‘۔

’’پٹھان کوٹ میں مولانا مودودی درس قرآن دیا کرتے تھے‘ جس میں میرے علاوہ نعیم صدیقی‘ مولانا امین احسن اصلاحی‘ یحییٰ صاحب‘ ملک غلام علی وغیرہ شریک ہوتے تھے۔ مولانا کا درس قرآن پورا ہونے کے بعد مولانا امین احسن اصلاحی نے درس دینا شروع کیا۔ اب مولانا مودودی ہمارے ساتھ سامعین کے حلقے میں بیٹھ کر مولانا امین احسن اصلاحی کا درس سنتے تھے‘‘۔

حکیم شمس الحسن نے یہ بھی فرمایا: ’’مرکز جماعت کے قیام کے زمانے میں ‘ مَیں مولانا کے بیٹوں کو پڑھاتا تھا۔ اسی دوران مولانا محترم کی اہلیہ سے میری تلخ کلامی ہو گئی ۔اس کے بعد الہ آباد کے اجتماع میں جہاں بیگم مودودی اور مولانا کی والدہ صاحبہ بھی گئی تھیں‘ وہاں پر والدہ صاحبہ نے میری تلخی ختم کرا دی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اپنی بیگم سے سخت تلخی سے پیش آنے اور سچی بات یہ ہے کہ گستاخی تک کر گزرنے کے باوجود ‘ مولانا مودودی نے مجھ سے نہ صرف یہ کہ کچھ نہیں کہا‘ نہ طرز عمل میں کوئی تبدیلی آنے دی بلکہ انھوں نے اپنی باوقار خاموشی اور باخبری پر مبنی لا تعلقی سے اس قسم کا تاثر دیا کہ دوبہن بھائیوں کی جنگ ہے ‘ہم کیوں دخل دیں۔ البتہ ایک روز کسی نے ذکر کیا تو بس یہ جملہ کہا: دو جلالی آپس میں متصادم ہو گئے ہیں‘‘۔

حکیم شمس الحسن صاحب نے ایک عجیب تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا: ’’مولانا مودودی کے صبر و ضبط کا ہم نے بار بار امتحان لیا‘ جس میں ہر بار وہ کامیاب نکلے۔ ایک بار نعیم صدیقی صاحب نے مولانا کے پاس سے آکر ہم رفقا سے کہا: ’’مولانا نے فرمایا ہے کہ میں ایک ضروری تحریر لکھ رہا ہوں‘ اس لیے کوئی صاحب ملنے نہ آئیں‘‘۔ میرے مزاج میں جو بغاوت کا مادہ ہے وہ اس دور میں ویسے بھی شباب پر تھا۔ مولانا کی ہدایت اور نعیم صدیقی صاحب کی اطلاع سنتے ہی اس جذبۂ بغاوت نے مجھے اکسایا‘ اور مولانا کی اس ہدایت کو چیلنج کرنے کے لیے میں اگلے ہی لمحے مولانا مودودی کے کمرے میں جا پہنچا اور کرسی کھینچ کر اس انداز سے مولانا کے سامنے جا بیٹھا کہ جیسے گپ شپ کرنے آیا ہوں۔ اب آپ مولانا مودودی کے ظرف کو دیکھیے‘ کہ وہ قلم رکھ کر میری طرف متوجہ ہو گئے اور میری باتوں کا جواب دینے لگے۔ جواب بھی کوئی ہاں‘ ناں میں نہیں‘ تفصیلی دیے اور گفتگو میں ایسی دل چسپی لی کہ جیسے خود اس وقت ایسی بے مقصد و بے موضوع گفتگو کے موڈ میں تھے۔ کچھ ہی دیر بعد مجھے ان پر رحم آ گیا اور میں یہ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا: ’’مولانا‘ آپ اپنا کام کریں‘ میں تو نعیم صاحب کی زبان سے آپ کی ہدایت سن کر‘ کہ مجھ تک کوئی نہ پہنچے  بھڑک اٹھا تھا۔ بس اب بہت امتحان لے لیا‘‘۔ میں نے باہر نکلنے کے لیے قدم اٹھایا ہی تھا کہ مولانا نے حسب معمول شگفتگی سے جواب دیا: ’’اور پاس بھی کر دیا‘‘ ، پھر ایک خاص انداز میں فرمایا: بھئی‘ ایک کمزور آدمی کو کب تک آزمائو گے‘‘۔

شمس الحسن صاحب نے بتایا: ’’ایسے ہی ایک بار ہم چند رفقا بھاری لکڑی اٹھا کر لا رہے تھے‘ کہ میری نظر مولانا مودودی پر پڑی‘ جو اپنے چبوترے پر سفید بے داغ اور بّراق کپڑے پہنے بیٹھے لکھ رہے تھے۔ میرے ذہن میں پھر بغاوت کا کیڑا کلبلایا اور قدرے بلند آواز میں رفقا سے کہا: ’’یہ بار تو وہ اٹھائے‘ جس نے امارت کا بار اٹھایا ہے‘‘۔ مولانا نے میری یہ بات سن لی اور کوئی تاثر دیے بغیر فوراً قلم رکھ کر چبوترے سے اتر آئے اور ہماری مدد سے وہ لکڑی کاندھے پر رکھوا لی اور چلنے لگے۔ انھوں نے چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ ہم نے الحاح وزاری کے ساتھ مولانا سے درخواست کی: ’’بس کیجیے‘‘ اور بمشکل وہ لکڑی مولانا کے کندھے سے اتروائی‘‘۔

’’ایک بار ایک ہندو کانگریسی رہنما‘ جو غالباً پنڈت جواہر لال نہرو کا پرائیوٹ سیکرٹری تھا اور بڑا ذہین اور صاحب ِنظر تھا‘ بیمار ہو کر ہمارے قریب میں اپنے گائوں چھٹی پر آیا ہوا تھا۔ اس کو جب دارالاسلام کی بستی اور جماعت کے کام کی سن گن لگی‘ تو اس نے مولانا مودودی سے ملنے کے لیے وقت مانگا۔ وہ جب آیا تو ہم لوگ بھی شریک محفل ہو گئے۔ چائے سے تواضع کی گئی۔ وہ مولانا مودودی کی شخصیت اور دارالاسلام کے ماحول کی شائستگی اور صفائی کے اعلیٰ معیار سے خاص طور پر متاثر ہوا‘‘ ۔

شمس الحسن صاحب نے روایت کیا: ’’ بعد میں بھی کئی بار میری اس سے ملاقات ہوتی رہی۔ اس نے کئی بار کہا: ’’مولانا مودودی میں تو مولانائوں جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ باقاعدگی‘ صفائی‘ ستھرائی‘ منطقی اندازِ فکر‘ باخبر رہنے کا اہتمام‘ پُرزوراستدلال‘ یہ باتیں مذہبی رہنمائوں میں نایاب ہیں‘ سوائے مولانا ابوالکلام آزاد کے‘‘۔

مولانا مودودی سے گفتگو میں اس نے بڑے اہم سوالات کیے اور مولانا کے جوابات پر اس کے اطمینان ہی نہیں حیرت کا بھی اظہار ہوتا تھا۔ جیسے سوچتا ہو: ایسا جواب‘ اور اس گائوں میں ایک مولوی کی زبان سے؟ -- مولانا دوران گفتگو متعدد بار اعداد و شمار پیش کرتے تو وہ چونک سا جاتا تھا۔ ایک بار اس نے مولانا کے بتائے ہوئے اعداد وشمار پر شک کا اظہار کیا تو مولانا نے حوالہ پیش کر دیا‘ غالباً کانگریس کمیٹی کی رپورٹ کا۔ آخر میں اس نے مولانا مودودی سے پوچھا: ’’آپ کو کب تک اپنے مقصد میں کامیابی کی توقع ہے؟‘‘ مولانا نے ایک لمحے کا توقف کیے بغیر فرمایا: ’’کم سے کم دونسلوں کے بعد‘‘۔ وہ اس جواب سے بہت ہی متاثر اور مرعوب ہوا۔

پھر اس کے بعد بھی اس سے میری کئی بار ملاقاتیں ہوئیں‘ کیوں کہ مجھے اس کے گائوں سے گزرنا ہوتا تھا۔ ان ملاقاتوں میں اندازہ یہ ہوا کہ ایک ہندو کی حیثیت سے وہ خائف بھی ہوتا تھا۔ کہتا تھا :’’جب اسلام کے لیے اتنے سائنٹی فک طریقے پر کام کیا جائے گا‘ انداز فکر اتنا غیر جذباتی اور منطقی ہوگا‘ اور حالات حاضرہ اور سیاسیات عالم پر اس گہری نظر کے ساتھ اور صحیح خطوط پر تحریک چلائی جائے گی تو اس کی کامیابی کا قوی اندیشہ ہے‘‘۔

حکیم شمس الحسن صاحب نے کہا: ’’جماعت اسلامی کی تاسیس کے بعد بڑے بڑے زلزلے آئے‘ باہر بھی مخالفت کا طوفان اٹھتا رہا اور اندر بھی کئی ارکان معترضانہ‘ ناقدانہ بلکہ معاندانہ سرگرمیوں میں منہمک رہے۔ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اب جماعت منتشر ہونے سے نہ بچ سکے گی۔ مگر  اس سارے ماحول میں مولانا کے حوصلے اور ہمت کی شاید کوئی حد نہیں تھی۔ ان کو ہم نے کبھی مایوس‘  دل گرفتہ اور پریشان نہیں دیکھا‘ بلکہ ہماری پریشانی اور نراش مولانا کے پاس جا کر دور ہو جاتی تھی۔ مولانا کی شگفتگی کی بہار ہر موسم میں پھول کھلاتی رہتی تھی‘ وہی فقرے‘ چٹکلے‘ لطف طبع‘ تبسم‘ خندہ جبینی۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے مولانا کے کمرے میں نہ کسی آندھی کا گزر ہوتا تھا‘ نہ ژالہ باری ہوتی تھی اور نہ کوئی آگ برستی تھی۔ بس ہر وقت باد بہار کے جھونکے اٹھلائے پھرتے تھے۔ ہم میں سے ہر شخص نے بار بار اس تاثر کا اظہار کیا ہے کہ مولانا کی گفتگو کوئی الگ چیز ہے۔ ان کے پاس جاتے ہی ایک نوع کی ٹھنڈک کا احساس ہوتا تھا‘ اور ہم رفقا کے درمیان یہ جملہ تو کئی بار دہرایا گیا کہ: ’’مولانا کے کمرے کا درجہ حرارت ہمارے کمروں سے مختلف ہوتا ہے‘‘۔

ایک روز حکیم شمس الحسن صاحب نے فر مایا: ’’مولانا ہم لوگوں کے ساتھ اپنائیت‘ سادگی اور بے تکلفی سے پیش آتے تھے‘ مگر ہم میں سے بیش تر رفقا بلکہ باہر سے آنے والے مشاہیر اہل علم و اہل قلم بھی ایک حد تک مرعوبانہ انداز سے ملتے تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ کوئی شخص مولانا سے گفتگو میں حد سے تجاوز کر سکا ہو یا ایسا بے تکلف ہو سکا ہو کہ اس کی آواز بلند ہو گئی ہو۔ میری نظر میں اس چیز میں مولانا کی روحانیت کو دخل تھا‘‘۔

لفظ ’’روحانیت‘‘ پر میں چونکا تو شمس الحسن صاحب کہنے لگے: ’’حکیم صاحب‘ ہم تو علما کے مرکز سہارن پور میں پلے اور بڑھے۔ بڑے بڑے علما کو قریب سے دیکھا ہے۔ اوراد و وظائف اور ظاہر کے اہتمام کا نام اگر روحانیت ہے تو ایسی روحانیت بہرحال مولانا میں نہیں تھی ‘ لیکن اگر دین کی خدمت کے پرزور ولولے‘ اصلاح باطن کی مسلسل فکر و تدبیر‘ تزکیہ نفس کے لیے پیہم جدوجہد‘ انسان سے ہمدردی‘ عاجزی‘ ظلم سہنے اور سہے جانے کا ذوق‘ سخت سے سخت تنقید کا تحمل سے جواب بلکہ ہمت افزائی‘ اللہ تعالیٰ پر بھرپور بھروسا‘ رازوں کا ہر حال میں اخفا‘ جذبۂ عفو‘ درمدح خود گفتن سے کامل احتراز‘ اپنی ستایش بہ کراہت سننے پر راضی ہونے سے بھی اجتناب‘ عبادت میں خشوع و خضوع--- ان باتوں کا نام بھی اگر ’’روحانیت‘‘ ہے‘ تو یہ روحانیت مولانا مودودی میں بدرجۂ تام پائی جاتی تھی‘ اور اسی لیے وہ مستجاب الدعوات تھے۔ ان کے بہت سے خواب سچے نکلے۔ ان کی زبان سے کسی کی غیبت نہیں سنی گئی‘ بلکہ ان کی محفل میں کوئی غیبت نہیں کر سکتا تھا‘‘۔

’’نماز ایسے خشوع و خضوع سے پڑھتے تھے کہ میں نے آج تک کسی کو اس طرح نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ کسی کی اعانت (اور بکثرت کرتے تھے) اخفا کے بڑے کامیاب اہتمام کے ساتھ کرتے تھے۔ اپنی مدح و ستایش سننا ان پر بڑا شاق گزرتا تھا۔ کیونکہ ا س سے زیادہ تحمل انھیں کسی اور چیز کے لیے نہیں کرنا پڑتا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ اپنی مدح سن کر پسینے سے تر ہوجاتے اور شرما جاتے تھے۔ میں ان کی یہ ادا دیکھنے کے لیے ان کے سامنے اکثر ان کی تعریف کر گزرتا تھا۔ اللہ معاف فرمائے‘‘۔

’’ جب دیکھتے کہ کوئی بحث پر اتر آیا ہے‘ تو چپ ہو جاتے۔ بات کرنے والے کی بات کبھی کاٹتے نہیں تھے خواہ وہ کیسی ہی غلط بات کیوں نہ کہہ رہا ہو۔ جب بولنے والا چپ ہو جاتا تو بولنا شروع کرتے۔ ان کی گفتگو کے دوران جونہی کوئی بول پڑتا تو فوراً چپ ہو جاتے‘ اسے بولنے دیتے۔ میں نے ان کو کبھی برہم اور خشم ناک نہیں دیکھا۔ ان کی کسی گفتگو میں جھنجلاہٹ کی جھلک نہیں دیکھی۔ مختصر یہ کہ ان کے ساتھ ہمیں یہ محسوس ہوتا تھا کہ کسی بزرگ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ ان کی صحبت میں رہ کر دنیا سے دل سرد ہو جاتا تھا‘‘۔

’’وہ صاف ستھرے رہتے تھے‘ جامہ زیب تھے‘ مزاج میں نفاست و لطافت تھی‘ اس لیے ان کو دور سے دیکھنے والے انھیں خوش حال اور امیر مزاج سمجھتے تھے‘ حالانکہ وہ بہت کم معاش تھے۔ ان کے ذرائع آمدنی بہت محدود تھے اور اکثر تنگ دست رہتے تھے‘ مگر انھوں نے اخراجات بہت کم کر رکھے تھے۔ ضروریات بہت محدود کر لی تھیں اور ضرورت کی چیزوں کو بہت سلیقے سے استعمال کرتے تھے۔ ان کے بعض کرتے کئی کئی سال سے ان کے پاس تھے۔ ایک بار پوچھنے پر بتایا یہ شیروانی ۲۵ سال پہلے سلوائی تھی۔ اپنے کپڑے خود دھولیتے تھے‘ گھر کے بہت سے کام خود کرتے تھے۔ ہم نے ان کو ایندھن کے لیے لکڑی کاٹتے دیکھا ہے۔ بجلی کی وائرنگ‘ گھڑی گھنٹے کی صفائی اور درستی اور دروازے کھڑکیوں کی مرمت بھی خود کر لیتے تھے۔ اس طرح ان کے بہت سے اخراجات کم ہو جاتے تھے۔ اللّٰہ اکبر‘ مگر سوء اتفاق سے یہی چیز بہت سے علماے کرام کے نزدیک قابلِ اعتراض اور علما کی ’شان‘ کے خلاف تھی اور مولانا کی دنیاداری کا ثبوت بھی قرار دی گئی‘‘۔

حکیم شمس الحسن صاحب ہی نے بتایا: ’’ایک بار رمضان میں مولانا مودودی کے اہل و عیال دہلی گئے ہوئے تھے‘ جو ملازم کھانا پکانے وغیرہ کے لیے رکھا تھا وہ فرض ناشناس‘ کاہل اور گندا تھا۔ مولانا اس کے طرزعمل سے تنگ تھے۔ ایک دن میں نے سنا کہ‘ مولانا اپنے ملازم سے کہہ رہے تھے: ’’تمھیں روز کہتا ہوں‘ مگر آج بھی سحری کے برتن اب تک بے دھلے پڑے ہیں۔ روزے میں ان کو دیکھنے سے الجھن ہوتی ہے‘‘۔ دوسری شکائتیں بیان کر کے کہنے لگے: ’’اگر تم یہ چاہتے ہو کہ جیسا برتائو دوسرے لوگ کرتے ہیں اور جس زبان کے سننے کے تم عادی ہو‘ وہی زبان میں استعمال کروں اور ویسی باتیں کہوں تو تمہیں مایوس ہونا پڑے گا‘ مجھ سے اس زبان و بیان کی توقع نہ رکھو۔ اس لیے یہی بہتر ہے کہ کوئی اور ٹھکانہ تلاش کرکے مجھے بتا دو‘‘۔ کیسے عجیب انسان تھے کہ اپنے ناہنجار ملازم سے شکایت بھی درخواست کی صورت میں کر رہے تھے!‘‘

’’اخلاق و کردار کی اصلاح و تربیت کے سلسلے میں مولانا محترم اتنے ہی ’دیرباز‘ تھے جتنے ہم ’جلدباز‘ ہوتے ہیں۔ انھیں اس نکتے پر بڑا اصرا رتھا کہ اصلاح بڑی حکمت کے ساتھ‘ بڑے تحمل سے اور بڑی تدریج سے ہونی چاہیے۔ انھوں نے ہم لوگوںکی اصلاح کے لیے بھی ایسا ہی حکیمانہ اور طویل المیعاد منصوبہ بنایا تھا۔ ہم میں سے کوئی کسی رفیق کی اخلاقی کمزوری یا کوتاہی یا نوافل سے غفلت کی طرف متوجہ کرتا تو مولانا حکمت سے لبریز لہجے میں فرماتے: ’’ان کی اصلاح ہو رہی ہے‘ مگر رفتا ر سست ہے‘ آپ مایوس کیوں ہوتے ہیں؟‘‘ ایک بار ایک صاحب کی داڑھی رکھنے کا ذکر آیا تو ہم نے درخواست کی: ’’آپ ان کو متوجہ فرمائیں‘‘ تو جواب دیا: ’’داڑھی میری سنت تو نہیں ہے سنت رسولؐ ہے‘ اور انھیں بھی معلوم ہے کہ سنت رسول ہے‘ اس لیے آپ انھیں اپنے حال پر چھوڑ دیں‘ تاکہ جب بھی رکھیں تو سنت رسولؐ سمجھ کر رکھیں۔ میری یا آپ کی فہمایش پر یا دکھاوے کے لیے نہ رکھیں‘‘۔ ان کو امید تھی کہ جلد ہی یہ جذبہ ان کے اندر سے ابھرے گا اور وہ ضرور داڑھی رکھیں گے۔ اسی طرح ایک صاحب کا ذکر آیا کہ: ’’ان کی داڑھی کی مقدار شرعی نہیں ہے‘‘۔ فرمایا: ’’آپ یہ کیوں سوچتے ہیں کہ داڑھی کی مقدار شرعی نہیں ہے‘ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ پہلے داڑھی نہیں تھی اب داڑھی ہے۔ ان شاء اللہ بڑھ بھی جائے گی‘‘۔

حکیم شمس الحسن کے بقول: مختصر یہ کہ اخلاق و کردار کی اصلاح کے لیے ان کے کچھ تجربے اور کچھ اصول تھے‘ جن کو غلط بہرحال نہیںکہا جاسکتا۔ صوفیا کے مختلف سلسلوں میں جو اختلافات ہیں اور تورع اور تقشف کا جو اختلاف ہے وہ صوفیا کے تجربوں پر مبنی تھے‘ ایک سلسلۂ تربیت یہ بھی سہی۔

  • منظورعلی صاحب: (م: ۸ مئی ۱۹۸۵ئ): آج ہمسائے سید موجد علی صاحب‘ رکن جماعت اسلامی کے ہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی‘ جن کا نام منظور علی ہے۔ ایٹہ (یوپی‘ بھارت) کے رہنے والے ہیں اور اب بھی وہیں ہیں‘ آج کل پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ ان کی    عمر تقریباً ۶۶ سال ہے۔ محفل میں مولانا مودودی کا ذکر آیا تو بولے: ’’میں مولانا کو جانتا ہوں‘ ان کے ہاں چھ سات سال ملازم رہا ہوں‘‘۔ میرے سوالات کے جو جوابات انھوں نے دیے ان سے   حسب ذیل حالات کا علم ہوا:

’’۱۹۳۹ء میں مولانا مجھ کو لاہور لائے تھے۔ ۱۲ روپے میری تنخواہ مقرر ہوئی تھی۔ اس زمانے میں مولانا کا محلہ چوبرجی میں قیام تھا۔ سات آٹھ مہینے کے بعد اسلامیہ پارک منتقل ہو گئے تھے۔ یہ مکان مولوی ظفر اقبال صاحب کا تھا‘ جن کے ایک بھائی ڈاکٹر ریاض قدیر بڑے قابل سرجن تھے۔ اسی مکان میں جماعت کا پہلا جلسہ ہوا تھا۔ میں جب پہنچا تو مولانا کے صرف ایک بیٹا تھا۔ اسے پیار سے جگو ]عمر فاروق[ کہتے تھے۔ پھر میرے قیام کے دوران دو بچے پیدا ہوئے‘ امن ]احمد فاروق[ اور بیٹی حمیرا۔ حمیرا کے لیے ایک آیا تھی‘ جو ضلع ہردوئی کی رہنے والی تھی۔ پھر ۱۹۴۲ء میں مولانا‘ دارالاسلام منتقل ہوگئے۔ وہ جماعت اسلامی کی بستی تھی۔ وہاں قمرالدین خان کے علاوہ ایک ماسٹر صاحب جو مولانا کے بچوں کو پڑھاتے تھے‘ ایک جیلانی صاحب تھے۔ ایک توختہ صاحب مولانا کے تانگے پر ملازم تھے‘ شاید ترکستان کے رہنے والے تھے۔ ایک منشی کاتب تھے‘ کالے سے‘ لانبے سے‘ وہ پورب کے رہنے والے تھے اور ان کا انتقال بھی وہیں ہوا تھا۔ مولانا کی والدہ صاحبہ بھی ساتھ رہتی تھیں۔ کچھ دن کے لیے مولانا کے بڑے بھائی صاحب بھی آ کر رہے تھے‘ وہ شاید حیدر آباد دکن سے آئے ہوئے تھے۔

گھر اور دفتر میں مولانا چوڑے پائینچے کا پاجامہ پہنے رہتے تھے۔ گائوں سے باہر جانا ہوتا تو شیروانی اور قدرے تنگ موہری کا پاجامہ پہنتے تھے۔ مولانا کی مالی حالت اچھی نہیں تھی۔ کھانا بہت سادہ کھاتے تھے۔ یہ لوگ اپنے اپنے کپڑے خود دھوتے تھے۔ کپڑے دھونے کا صابن مولانا مودودی خود بناتے تھے۔ مولانا زیادہ تر سفید کپڑے پہنتے تھے‘ جو بہت اجلے ہوتے تھے‘ کیوں کہ وہ کپڑے زیادہ میلے نہیں ہونے دیتے تھے‘ جلد بدل لیتے تھے۔ایک بار مجھ سے بھی کہا : ’’کپڑے زیادہ میلے نہ ہونے دیا کرو۔ آسانی سے اور جلد صاف ہو جاتے ہیں‘‘۔ مولانا نے مجھ پر ایک بار بھی غصہ نہیں کیا اور میں نے تو ان کو کسی پر غصے ہوتے نہیں دیکھا۔ مجھ سے بہت غلطیاں ہوتی رہیں‘ قیمتی برتن توڑ دیے‘ ویسے بھی میں بہت الھڑ اور بُھلکّٹر تھا‘ اس لیے اکثر کام خراب کر دیتا‘ مگر انھوں نے کبھی ایک لفظ بھی سخت نہیںکہا۔ فروری ۱۹۴۴ء میں‘ میں اپنے گھر چلا گیا۔ ملازمت میں نے خود چھوڑی تھی‘‘۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی دینی خدمات کا ایک نہایت درخشاں باب مسلم عورت کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔ مولاناؒ کی گراں قدر علمی‘ سیاسی‘ تنظیمی خدمات کا تذکرہ اور اعتراف تو کسی نہ کسی سطح پر ہوتا ہی ہے‘ لیکن مسلم عورت پر مولاناؒ کی فکری رہنمائی کے دور رس نتائج کا جائزہ کماحقہ لینا باقی ہے۔

برعظیم جنوب مشرقی ایشیا میں برطانوی استعمار کی غلامی کے مابعد اثرات نے جہاں ایک طرف دیسی فرنگیوں کی ایک کھیپ بااثر اور مقتدر طبقات میں پیچھے چھوڑی‘ وہاں ’’آزادیِ نسواں اور      شانہ بشانہ‘‘ کے بیج بھی ساتھ ہی بو دیے ۔ جس ماحول میں ہماری نسل نے آنکھ کھولی تھی‘ اس میں شریف‘ دین دار خاندانوں کی بیٹیاں بھی تعلیمی اداروں میں خوب سے خوب تر کی جانب رواں دواں تھیں۔ تعلیم اور کیریئر میں جی داری سے لپکنے والی یہ وہ نسل تھی‘ جو روایتی میٹرک‘ ایف اے‘ بی اے سے آگے بڑھ کر بہت کچھ کر گزرنے کی خواہاں تھی۔ ’ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر‘ کی کیفیت تو ہر دور ہی میں پائی جاتی ہے۔ یہاں بھی ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک جانب تو خاندانی شرافت‘   دین داری کی روایتی یا جامد روایات تھیں اور دوسری جانب تعلیم کے میدان میں بڑھتا پھیلتا مقابلے کا رحجان‘ جو اپنے ساتھ کالجوںاور یونی ورسٹیوں کی فضا میں آزادی کے تمام تر لوازم لیے ہوئے تھا۔

ایسے ماحول میں جب کبھی کسی مذہبی مجلس کا رخ کیا‘ وہاں پر عورت کے حوالے سے ایک نہایت محدود اور گھٹی ہوئی سوچ کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی نے خشمگیں نگاہوں سے لباس کو گھورا اورکسی نے تعلیمی میدان میں عورت کے بگٹٹ دوڑنے کی صلواتیں سنائیں۔ سر جھکا کر ہانڈی روٹی‘ چولہا سنبھالنے‘ بچے پالنے اور شوہر کی اندھی بلکہ غیر مشروط اطاعت و فرمانبرداری کے ذریعے جنت پا لینے کو عورت کی معراج بتایا۔ ایسا نہ کرنے پر جہنم کی ہولناک عذاب کی وعیدیں قبر کے سانپ بچھو -- مذہب کے حوالے سے جدھر رخ کیا طبیعت پر ہول طاری ہو گیا‘ اور اُسی طرح ٹھیک ہے‘ کی کیفیت لیے پیچھے ہٹتی رہی۔   حتیٰ کہ جدید تعلیم سے آراستہ علماے کرام نے بھی پس پردہ خواتین سے خطاب کیا تو اس دل پذیر تقریر میں شوہر کے حقوق کی فہرست تھمائے بغیر نہ اٹھنے دیا۔ گویا پڑھی لکھی‘ ’’حقوق زدہ اور شانہ بشانہ‘‘ کے مرض میں مبتلا عورت کے مرض کا مداوا کہیں نہ تھا۔ طبیعت کے اندر سے وعدۂ الست کی پکار شور مچاتی -- راستہ پوچھتی -- جواب نہ پا کر مایوسی سے چپ رہ جاتی۔

اسی اثنا میں اسلامی جمعیت طالبات نے یونی ورسٹی کا رخ کیا۔ ابتدا میں تو کالے کالے برقعے دیکھ کر وہی جہالت کا دورہ پھر پڑ جاتا‘ تاہم دعوت کی حکمت‘ تحمل اور صبر نے آہستہ آہستہ رنگ دکھایا۔ ایک دن پیغام آیا کہ مولانا مودودیؒ اور ان کی بیگم اسلام آباد آئے ہوئے ہیں۔ ان سے ملاقات اور سوال و جواب کی نشست رکھی گئی ہے‘ چلیے۔ مروت میں ساتھ دیا‘ تصور ہی تصور میں ایک تنگ نظر‘ وعیدیں داغنے والے مولوی صاحب اور ان کی سخت گیر قدامت پسندی کی تصویر والی بیگم کا نقشہ طبیعت کو ہولائے دے رہا تھا۔ پاکستان کی جدید ترین یونی یورسٹی کی تعلیم کا خمار بھی ہمراہ تھا۔ مگر جب کمرے میں قدم رکھا تو ایک نہایت نفیس اور شائستہ خاتون سے تعارف ہوا: ’’آپ ہیں‘ بیگم مولانا مودودی‘‘۔ میں انھیں دیکھتے ہی حیرت زدہ سی رہ گئی کہ دینی شخصیات ایسی بھی ہو سکتی ہیں۔ اجلا لباس‘ شائستہ اطوار‘ عمدہ گفتگو! ایک رعب کا ہالہ مسحور کر گیا۔ مولاناؒ کی شخصیت‘ مدلل اور دانش ورانہ گفتگو سے سابقہ تو بعد میں پیش آیا۔ سچی بات ہے کہ مولاناؒ کی اہلیہ محترمہ ہمیں پہلے ہی مسخر کر چکی تھیں۔ دل کے دروازے پر یہ شعوری اسلام کی پہلی دستک تھی۔ دیکھنے والے نے تو شاید ام عبداﷲؓ کے شوہر کی مانند یہی کہا ہو: ’’خطّاب کا گدھا تو ایمان لا سکتا ہے مگر عمر نہیں‘‘ -- لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا ایک حیات بخش جھونکا وعدۂ الست کی پکار کی تشنگی کوراہ دکھا گیا۔

اس کے بعد تفسیر سـورۂ نور‘ خلافت و ملوکیت‘ رسائل و مسائل نے طبیعت پر مولاناؒ کی تحریروں کا سحر طاری کر دیا۔ تفہیم القرآن کا مقدمہ اور دیباچہ پڑھ کر تو یوں لگا کہ یہ لکھا ہی میرے لیے گیا تھا۔ ان تحریروں کے دلائل کے سامنے اندر کی باغی عورت ہتھیار ڈالتی چلی گئی۔ چلانے والے انگلی پکڑ کر چلاتے رہے‘ کایا کب پلٹی ؟تصورات کب بدلے ؟ لڑکپن کے وہ مشاغل جنھیں چھوڑنے کا تصور روح فرسا تھا‘ ان کی روح  تفہیم القرآن نے کب سلب کر لی؟ یہ سب مولاناؒ کی تحریروں کی کرشمہ سازی تھی۔ مولانا مودودیؒ جب تفسیر میں بیالوجی [حیاتیات] کے حقائق بیان کرتے تو اس میں اتنی جامعیت اور کاملیت (perfection) ہوتی‘ کہ یوں محسوس ہوتا کہ لکھنے والے محترم اسکالر شاید ہمارے ہی شعبے سے فارغ التحصیل ہیں۔ ہر موضوع سے متعلق بات میں تفہیم کا حق ادا کر دیا کہ حقیقتاً اسے اسمِ باسمٰی کہیے۔ تحریر میں ان تمام اوصاف کا یکجا ہو جانا کہ مشکل مضامین کو سادہ‘ شگفتہ اور آسان انداز میں بیان کر دیا جائے یوں کہ زبان کا حسن‘ روانی اور معیار بھی برقرار رہے‘ مولاناؒ کی تحریروں کا خاصہ ہے۔

عورت کے وجود اور مسائل کے حوالے سے مولاناؒ کا انداز بے انتہا مؤثر اور دل پذیر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولاناؒ نے قرآن اور شارح اولینؐ ہی کے انداز میں عورت کی دنیا کو دیکھا‘ سمجھا اور بیان کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے عورت کو الگ اس کی چھوٹی سی دنیا کی ڈبیا میں بند کر کے اس پر تالا ڈال دینے کا وہ طریقہ نہیں اپنایا‘ جو برعظیم جنوب مشرقی اور وسطی ایشیا میں بیان کردہ اسلام یا مقامی روایات کا خاصہ تھا۔

قرآن اول تا آخر مرد اور عورت دونوں کو یکساں خطاب کرتا ہے۔ توحید‘ رسالتؐ، جنت دوزخ‘ اعمال دونوں اصناف (genders)  کو ایک ہی انداز میں پڑھائے سکھائے جاتے ہیں۔ اﷲ کی رضا کی طلب‘ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و سلم کی اطاعت و اتباع مرد‘ عورت دونوں کے لیے یکساں نصاب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چشم ہوش سے پڑھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ بھی اور نبی رحمت صلی اﷲ علیہ و سلم بھی -- عورت کو تقدس‘ احترام اور وقار کے پیرائے میں انگلی پکڑ کر گھر لیے جاتے ہیں۔ملکہ بنا کر‘ قدموں تلے جنت بچھا کر‘ ننھے منے بچوں کی محبت کی میٹھی پھوار چار سو برسا کر فطری انداز میں عورت کو اس کام میں یوں مصروف کر دیتے ہیں کہ عورت سے منسوب روایتی کج روی کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ مرد کے سر پر قوامیت کا تاج سجا کر اسے بوجھوں تلے یوں لاد دیتے ہیں اور اُسے عورت کی ناز برداری پر یوں مامور کر دیتے ہیں کہ عورت ’’بغاوت‘‘ کی چوکڑی بھول کر سجدۂ شکر بجا لاتی ہے۔ باصلاحیت عورت کے لیے سیدہ عائشہؓ اور سیدہ ام سلمہؓ کی سیرت میں بہترین نمونۂ عمل سامنے آتا ہے۔ یہی نسخہ سید مودودی علیہ رحمتہ نے استعمال کیا۔ سید مودودیؒ نے عورت کی زندگی کو قرآن سے جوڑ دیا۔ سیرت طیبہؐ کے اسباق بھی اسے اُسی طرح پڑھائے گئے جیسے مردوں کو -- ہر سطح کی عورت نے اسے حسب صلاحیت سیکھا‘ سمجھا اور عمل پیرا ہوئی‘ بلکہ قرآن و سنت سے براہ راست جوڑ دینے اور اپنے لٹریچر میں اسی پوری روح کو اتار دینے کی بنا پر انھوں نے سادہ دیہاتی عورت کو بھی عالم فاضل بنا دیا۔

ابتدائی دور کے محسوسات میں سے ایک دو واقعات ذہن پر گہرا تاثر چھوڑ گئے:

  • یونیورسٹی کی چار سالہ تعلیم ]ایم ایس‘ ایم فل‘ باٹنی[ مکمل کر کے درس کے حلقوں میں تازہ وارد ہوئی تھی۔ علم لاکھ عجز سکھانے کی کوشش کرے پھر بھی بلا اختیار احساس تفاخر تو کہیں نہ کہیں سر اٹھاتا ہی ہے۔ ایک خاتون درس دینے کے لیے بیٹھیں‘ فیصل آباد کے کسی نواحی گاؤں سے سادہ سی عورت -- دل نے سوچا: ’آج تو دن ضائع ہی ہوا‘۔ خاتون نے درس شروع کیا۔ ان کی عظمت بڑھتی پھیلتی گئی -- اپنا قد چھوٹا ہوتے ہوئے ذرۂ ناچیز رہ گیا --- قرآن اور تفہیم القرآن ایک سادہ دیہاتی عورت کے داخلی وجود کو چھوکر کندن بنا چکے تھے اور دنیاوی ڈگریوں کی زیب و زینت کا گاؤن         ] عباے علمی[ تار تار تھا۔ یہ تھا سید مودودیؒ کی تحریروں کا روح پرور جھونکا‘ جس نے عورت کو پرکاٹ کر چادر اور چار دیواری ہی کا پہاڑہ پڑھا پڑھا کر محدود نہ کیا‘ بلکہ سادہ سادہ خواتین کو دشمنان اسلام کے عالمی ایجنڈوں کی فہم و فراست بھی عطا کر دی۔
  • ایسے ہی ایک اور موقع پر پڑھی لکھی نوجوان خواتین کا سٹڈی سرکل چل رہا تھا۔ ایک دیہاتی چادر اوڑھے خاتون بھی ان میں سے ایک کی ہمراہی تھیں۔ سٹڈی سرکل ختم ہوا۔ خاتون سے تعارف چاہا۔ پتا چلا کہ گاؤں میں واجبی سی تعلیم حاصل کی لیکن کہانیاں پڑھنے کا شوق خوب تھا۔ اسی شوق میں ایک دن دیمک کی کھائی ہوئی خطبات‘ ہاتھ لگ گئی۔ پڑھی اور پڑھتی چلی گئیں۔ اس کے بعد شہر سے مولاناؒ کی دیگر کتابوں کا پتا کروایا اور منگوائیں۔ لفظ جوڑ جوڑ کر پڑھتیں اور جب خود مشکل لگتی‘ کسی سے مدد لیتیں۔ اسی ایک خطباتکی روشنی اپنے گاؤں میں بچیوں میں پھیلائی۔ اس کے بعد چادر میں یہی خطباتپکڑے دوسرے گاؤں چل دیں۔ یوں ایک سادہ دیہاتی عورت نے تمام تر دیہاتی ماحول کی مخصوص مخالفتیں مول لے کر بھی وہاں بچیوں اور عورتوں میں ایمان کے چراغ روشن کیے۔

مولاناؒ کی کتب کا یہ سدابہار اثر کہ آج ۵۰‘۶۰سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے پر بھی یوں تروتازہ ہیں -- ہر سطر حال کی خوشبو دیتی ہے جو آج بھی روشن اور رہنما ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ  ان کتب میں ‘قرآن کے پیغام و ابلاغ کا جوہر موجود ہے۔ وہ قرآن جو کبھی پرانا نہیں ہوتا‘ جس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے‘ جسے تخیلات کبھی غلط راستے پر نہیں لے جا سکتے اور زبانیں جس میں آمیزش نہیں کر سکتیں (بحوالہ حدیث‘ ترمذیؒ)۔ مولاناؒ نے قرآن کریم کے اعجاز کے سائے میں اور اسی قرآن کی زبان میں عصرِحاضر کی عورت کے دل اور روح کی دنیا کو اسی طرح اپیل کیا‘ جس طرح قرآن حکیم نے کل سیدہ ام حبیبہؓ، سیدہ ام سلمہؓ، سیدہ خدیجہؓ کے من کی دنیا کومسخرکیا تھا۔

اگرچہ یہ جملہ عام قاری کو لگے گا تو بڑا عجیب‘ لیکن اپنے مشاہدے کی بنیاد پر یہ لکھنے میں کوئی مبالغہ محسوس نہیں ہوتا کہ مولانا مودودیؒ کے لٹریچر سے استفادہ کرنے والی تحریکی خواتین اپنے ایمان‘ اپنے ایثار‘ اپنی کمٹ منٹ‘ حد درجے کے توازن‘ دور اندیشی کے باعث نظام حکومت چلانے کی صلاحیت مروجہ سیاست دانوں سے زیادہ رکھتی ہیں۔ تحریک میں ملکی اور عالمی سیاست پر بسا اوقات سادہ سادہ خواتین اتنے پیچیدہ اور گہرے سوالات کر گزرتی ہیں کہ جو ان میں پائی جانے والی     دانش وری کی خبردیتی ہے۔ جیسے مولانا مودودیؒ نے چند کتابوں میں دنیا بھر کے علوم گھول دیے ہوں۔

آج بھی ملک بھر میں تعلیم یافتہ خواتین میں دینی فہم کے ساتھ درس و تدریس کے حلقوں کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ بڑے شہروں میں ان حلقہ ہاے قرآنی کا ایک جال بچھا ہوا ہے۔ بلا مبالغہ رحمت کے یہ تمام چشمے اسی ایک فکر سے پھوٹے ہیں‘ چاہے آپ انھیں جس نام سے بھی جانیں۔ گلاب کو کوئی بھی نام دیں: گل‘ گلاب یا روز‘ ہے تو وہ گلاب ہی۔ اسی طرح قرآن کی تعلیم و تدریس کے ان تمام فعال حلقوں کے آخری سرے سید مودودیؒ ہی کی تعلیم و تربیت سے جا ملتے ہیں‘ خواہ جماعت اسلامی ہو یا تحریک اسلامی کے حلقہ ہاے خواتین‘ اسلامی جمعیت طالبات ہو یا تنظیم اساتذہ خواتین‘ اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن ویمن ونگ ہو یا الہدیٰ انٹرنیشنل کا نفوذ -- -یا بے شمار انفرادی کاوشیں۔ یہاں پر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ دیگر دینی جماعتوں نے بھی مولانا مودودیؒ کے  طریق کار سے متاثر ہو کر خواتین میں باضابطہ کام اور تنظیم کی بنیاد رکھی۔ وگرنہ مولانا مودودیؒ کے ہاں پائے جانے والے عورتوں میں تحریک و تنظیم کے تصور سے پہلے‘ ہمارے مذہبی حلقوں میں خواتین کے لیے اجتماع اور تنظیم سازی کا کوئی تصور تک موجود نہ تھا۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ مولانا مودودیؒ کی براہ راست رہنمائی میں تیار ہونے والی خواتین نے تعلیم یافتہ خواتین کے ہر طبقے میں نفوذ کیا ہے: اساتذہ‘ ڈاکٹر -- ادیبات اور مصنفات -- خواتین کی صلاحیتوں کو ہر شعبۂ زندگی میں اسلام کی روشنی میں کار آمد بنایا گیا۔ یہاں تک کہ الحمدللہ! آج باعمل مسلم خواتین کا ایک ہراول دستہ اپنی اصل: گھر‘ بچے‘ شوہر‘ خاندان سے وابستہ رہتے ہوئے بھی اسلام کے لیے اپنی قوتیں اور صلاحتیں وقف کیے ہوئے ہے۔ مولاناؒ کے اس انداز فکر کی روشنی نے صرف پاکستانی مسلم عورت ہی کو متاثر نہیں کیا‘ بلکہ مولاناؒ کی تحریروں کے عربی تراجم عرب خواتین کی اور انگریزی تراجم مغربی ممالک میں نو مسلم خواتین کی بھی اسی انداز میں رہنمائی کر رہے ہیں۔ مولانا مودودی مرحوم کے جنازے کے بعد جب نیویارک ایرپورٹ سے اُن کا جسد خاکی پاکستان روانہ ہوا تو وہاں پر نو مسلم خواتین نے رخصت کرتے ہوئے مجھے دلاسہ دیتے ہوئے کہا تھا:

’’بہن‘ وہ صرف تم لوگوں ہی کے تو نہیں تھے‘ ہم پر بھی ان کے احسانات کچھ کم نہیں ‘‘!

مولانا سید ابوالاعلیٰ موودیؒ کی شخصیت اور ان کی تحریروں کی اثر آفرینی کا یہ حال ہے کہ اس نے بلوچستان کی تاریخ کا رخ اسلام اور نظریہ پاکستان کی طرف موڑنے میں اپنا ایک مثالی کردار ادا کیا ہے۔ اس کی اصل حقیقت اسی وقت کھل کر سامنے آ سکتی ہے‘ جب ذرا پیچھے مڑ کر تاریخ بلوچستان میں جھانک کر دیکھا جائے۔

قیام پاکستان سے پہلے جنوب مشرقی ایشیا میں جو سیاسی لہریں اٹھتی رہی ہیں‘ سرزمین بلوچستان بھی ان سے متاثر ہوتی رہی ہے۔ اسلام کے بخشے ہوئے جذبۂ ایمانی کے بل پر بلوچستان میں بسنے والے مسلمانوں کے رگ و پے میں انگریز دشمنی سرایت کیے ہوئے تھی۔ اس وقت کی سیکولر تحریکوں نے آگے بڑھ کر اپنے مقاصد اور عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے‘ انگریز دشمنی کو ایک حربہ اور وسیلہ بنا کر پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ وہ قدرے کامیاب بھی ہوئیں‘ لیکن اہل بلوچستان کے اسلامی تشخص کو مٹانے میں بہرحال ناکام رہیں۔ خصوصی طور پر انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا کمیونسٹ پارٹی نے اسی راستے سے بلوچستان اور پشتون نوجوانوں میں بااثر سرداروں کے توسط سے بڑی چالاکی سے نفوذ کیا اور پھر اس ساری تحریک جہاد کو‘ جو ان کے بزرگوں نے انگریزوں کے خلاف خالص جذبۂ ایمانی کی بنیاد پر کھڑی کی تھی‘ اسے بلوچوں اور پشتونوں کے قومی تشخص کو بچانے کا رنگ دے دیا گیا۔ اس طرح ان لادینی تحریکوں نے قوم پرستی‘ علاقائیت اور زبان کی بنیاد پر گرم خون کو اپنے مقاصد اور عزائم کی برآوری کے لیے استعمال (exploit) کر کے نوجوانوں کو اسلام کی صراط مستقیم سے ہٹانے اور انھیں اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی۔ اشتراکی کوچہ گردوں نے وہ افسوں پھونکا کہ مسلمان بلوچ اور پشتون نوجوان درآمدہ غیر ملکی افکار و نظریات کے اسیر ہو کر یہ سمجھنے لگے کہ کسی دوسری استعماری طاقت کی غلامی کا قلاوہ اپنی گردنوں میں ڈال لینے کا نام آزادی کا حصول ہے‘ جس کی خاطر سب کچھ نچھاور کر دینا‘ یہاں تک کہ دین و ایمان بھی لٹا دینا عین راہِ صواب ہے۔

بلوچوں اور پشتونوں کا ایک تعلیم یافتہ عنصر بلوچستان کی خدمت کے نام پر صحافت کی مسند بچھاکر پوری یکسوئی اور انہماک کے ساتھ سیکولر نظریات کا پرچار کرنے لگا۔ بلوچستان کے اندر جب نشرواشاعت کی کوئی صورت ممکن نہ رہی تو لاہور‘ دہلی‘ کراچی اور جیکب آباد سے بلوچستان سے متعلق مختلف حوالوں سے مقالے اور مضامین شائع کرنے کے لیے اخبارات و جرائد کا اہتمام کیا گیا۔   دانش وروں کے اجلاس‘ جلسے اور کانفرنسیں اس پر مستزاد تھیں۔ اس زمانے میں لادینی تحریکوں کو مزید آگے بڑھنے کا موقع ملا۔ زبان‘ علاقے اور قومیت کی بنیاد پر نوجوانوں کا دائرہ مزید وسعت اختیار کرتا چلا گیا اور اس طرح مزید نو خیز ذہن درآمد شدہ ملحدانہ نظریات کا شکار ہوئے۔

۱۹۳۶ء کے دوران عبدالصمد خان اچکزئی مرحوم نے برٹش بلوچستان میں انجمن وطن کی بنیاد رکھی‘ جس کابنیادی مقصد متحدہ قومیت کے نظریے کے مطابق پورے بلوچستان کو ایک صوبے کی حیثیت دے کر اس میں ہندستان کے دوسرے صوبوں کی طرح اسمبلی کا قیام تھا۔ ۵ فروری ۱۹۳۷ء کو دربار سبی کے موقع پر میر عبدالعزیز کرد نے ریاست قلات میں سٹیٹ نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھ دی‘ جسے قلات کے قوم پرستوں کی واحد نمایندہ جماعت سے موسوم کیا گیا۔ اس پارٹی کے سرکردہ اگرچہ انڈین نیشنل کانگریس سے متاثر تھے اور بالآخر ۱۹۴۵ء میں انھوں نے اپنی پارٹی کا کانگریس کے ساتھ الحاق بھی کردیا تھا‘ لیکن اس کے باوجود بھی وہ بلوچستان کو ایران اور افغانستان کی طرح ہندستان سے علیحدہ ایک وطن خیال کرتے تھے۔ حالانکہ تاریخی اعتبار سے بلوچستان مسلمانوں کی مملکت کے اندر کابل یا پھر دہلی کے زیر اثر رہا ہے۔ قلات سٹیٹ نیشنل پارٹی کے رہنما‘ قلات کی حکومت کو بلوچستان اور بلوچوں کی مرکزی حکومت سمجھتے تھے اور قومی بنیادوں پر اس کی تنظیم و ترقی کے خواہاں تھے۔ اس لیے ابتدا میں اپنی تحریک کو ہندستان کی تحریکوں سے علیحدہ رکھ کر قومی‘ لسانی اور علاقائی بنیادوں پر اپنی جداگانہ تنظیم کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان کے قیام کے بعد اسی گروہ کی سربرآوردہ شخصیتوں کی یہ انتہائی کوشش رہی کہ ریاست قلات کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے پائے۔ وہ خان قلات پر مسلسل دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ قلات کا حکمران ہونے کی حیثیت سے پاکستان سے علیحدہ رہتے ہوئے قلات کی آزادانہ ریاست کا اعلان کر دیں۔

ہند و پاک کی تقسیم سے قبل ۱۹۲۷ء میں پہلی مرتبہ اور اس کے بعد ۱۹۲۹ء میں اپنے ۱۴ نکات میں قائداعظم محمد علیؒ جناح نے ہندستان کے دوسرے صوبوں کی طرح بلوچستان کو بھی صوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا‘ تاکہ بلوچستان بھی جملہ صوبائی حقوق حاصل کر کے سیاسی اصلاحات نافذ کر سکے --- خان قلات میر احمد یار خان‘ نواب محمد خان جوگیزئی‘ سردار میر جعفر خان جمالی اور قاضی محمد عیسیٰ کی کوششوں کے نتیجے میں‘ ۱۹۳۹ء میں قلعہ سیف اﷲ کے مقام پر نواب محمد خان جوگیزئی کے ہاں    مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ قاضی محمد عیسیٰ کو صدر اور سردار غلام محمد خان ترین کو جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ ۱۹۴۵ء میں مسلم لیگ: انجمن وطن‘ کانگریس اور جمعیت علماے ہند سمیت تمام چھوٹی بڑی قومیتوں کی بنیاد پر بنی ہوئی تنظیموں کے مقابل ایک طاقتور جماعت کی حیثیت سے آکھڑی ہوئی۔

بلوچستان کی یہ وہ صورت حال تھی جس میں دوسرے تاریخی عوامل کے ساتھ ساتھ‘ مولانا مودودیؒ کی پُراثر تحریروں نے یہاں پر بسنے والی امت مسلمہ کے سرکردہ رہنماؤں کو صحیح سمت میں رہنمائی بہم پہنچائی۔ خطۂ بلوچستان کے اندر‘ تحریک پاکستان کو اس کی منزل تک پہنچانے میں اس مرد خدا مست کی رہنمائی نے ایک نہایت اہم تاریخی کردار انجام دیا ہے۔ اس حقیقت کا انکشاف نوابزادہ جہانگیر شاہ جوگیزئی نے اپنے مضمون ’’حضرت مولانا مودودیؒ ‘‘ میں کیا ہے۔ اس مضمون میں وہ رقم طراز ہیں:

پاکستان کی تحریک شروع ہوئی تو دو قومی نظریہ ایک نعرہ بن گیا۔ مگر اس کی علمی و عقلی توجیہات کسی کے پیش نظر نہ تھیں۔ مسلم لیگی قیادت بھی محض جذباتی نعروں میں بہے چلے جا رہی تھی۔ میرے والد محترم نواب محمد خان جوگیزئی مرحوم بلوچستان سے پہلی دستوریہ ہند کے واحد رکن تھے‘ جن کے ووٹ سے بلوچستان‘ پاکستان میں شامل ہوا۔ میں نے پاکستان کے حق میں انھیں جس قدر ہموار کیا اور جن جن دلائل سے کام لیا وہ علم و عقل کا سارا اسلحہ مولانا ]مودودی[ کی کتب  سیاسی کش مکش‘ سے لایا تھا۔ اسی طرح مولانا کی کتاب  مسئلہ قومیت نے بھی وہ کام کیا جو ایک تحریک کر سکتی تھی‘‘۔ (ہفت روزہ  چٹان‘ لاہور‘ ۱۳ اکتوبر ۱۹۸۰ئ‘ ص ۳۲)

سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی یہ وہ فکری رہنمائی ہے جس نے بلوچستان کی تاریخ کا دھارا اسلام کی طرف موڑنے کاعظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ فکر مودودی نے بالوسطہ اور بلا واسطہ بلوچستان کے مستقبل کو اسلام سے ہم آہنگ کرنے کا تاریخی کام کیا ہے۔ بلاشبہہ آپ کی تحریروں نے بلوچستان کے نو خیز ذہنوں سے کفر‘ الحاد اور تشکیک کے کانٹوں کو ایک ایک کر کے نکالا اور انھیں اسلام کی شاہراہ پر گامزن رکھنے کے لیے فطری اور عملی سامان بہم پہنچایا۔

پاکستان کے ظہور کے وقت ریاست قلات میں ’دیوان عام‘ اور ’دیوان خاص‘ کے نام سے دو ایوان موجود تھے۔ ان دونوں ایوانوں نے چند شرائط کے تحت مملکت خداداد پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی‘ لیکن حکومت پاکستان نے ان شرائط کو تسلیم نہیں کیا۔ اس دوران مکران‘ لسبیلہ اور خاران کی ریاستوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا۔ بالآخر قائداعظم کی زندگی ہی میں ۲۷مارچ ۱۹۴۸ء کو خان آف قلات میر احمد یار خان نے بھی ریاست قلات کا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا اعلان کر دیا۔

ریاست قلات کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے اعلان سے پہلے خان آف قلات میراحمد یار خان نے اس اہم مسئلے پر مولانا مودودیؒ سے رائے اور مشورہ مانگا تھا۔ جس انداز سے مشورہ اور رائے طلب کی گئی تھی‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خان آف قلات‘ مولانا مودودی کی اعلیٰ شخصیت‘ اُن کے علم و فضل اور ان کی اسلامی خدمات کے پہلے ہی سے قائل اور معترف تھے۔

۶ مارچ ۱۹۴۸ء کو جہانگیر پارک کراچی کے جلسۂ عام میں مولانا مودودیؒ نے جماعت اسلامی کے چار نکاتی مطالبۂ نظام اسلامی کی تفصیل بیان کی تھی۔ یہی وہ موقع ہے ‘ جب کہ خان آف قلات جناب میر احمد یار خان نے مولانا قاضی عبدالصمد سربازیؒ کو اپنا دستی مکتوب دے کر کراچی مولانا مودودیؒ کے پاس بھیجوایا تھا۔ یاد رہے کہ مولانا قاضی عبدالصمد سربازیؒ جنوری ۱۹۵۱ء میں ۲۲ نکاتی دستوری خاکہ منظور کرنے والے مختلف مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علما میں سے ایک تھے۔

بلوچستان کے علاقے نصیر آباد کے دیرینہ بزرگ رکن جماعت اسلامی مولانا ماسٹر عبدالرحیم مرحوم نے بہت پہلے یہ بتایا تھا کہ وہ ان دنوں کراچی میں موجود تھے اور یہ واقعہ ان کے سامنے کا ہے۔ خان آف قلات میر احمد یار خان کے مکتوب کا مفہوم انھوں نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ خط میں تحریر تھا:

پورا بلوچستان دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک حصہ وہ ہے جو حکومت ِ برطانیہ کے زیر تسلط تھا اور اب پاکستان کا حصہ ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جسے ریاستِ قلات کہتے ہیں۔ اگرچہ برطانوی دور میں یہ ریاست انگریزوں کے زیر اثر تھی لیکن ہمارے ہاں فیصلے شریعت کے مطابق ہی ہوتے تھے۔ اب بھی ہمارے ہاں قاضی مقرر ہیں جو شریعت کے مطابق فیصلے صادر کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہم پاکستان سے علیحدہ رہتے ہوئے ایک آزاد اسلامی ریاست کا اعلان کر دیں۔ اس معاملے میں ہم آپ کا مشورہ چاہتے ہیں۔ مجھے بے حد خوشی ہو گی اگر آپ میرے ہاں قلات تشریف لائیں۔

مولانا ماسٹر عبدالرحیم ؒنے بتایا کہ مولانا مودودیؒ نے اُسی وقت جوابی خط تحریر کیا‘ اور خانِ قلات کو پہنچانے کے لیے مولانا عبدالصمد سربازیؒ کے حوالے کر دیا۔ انھوں نے بتایا کہ مولانا مودودیؒ کا مکتوب مندرجہ ذیل مفہوم پر مبنی تھا:

آزاد ریاست کے اعلان کا میں آپ کو مشورہ نہیں دے سکتا۔ بلوچستان ]معاشی اعتبار سے[ ایک پسماندہ علاقہ ہے۔ ریاست قلات اس سے زیادہ پسماندہ ہے۔ میں آپ کو مشورہ نہیں دوں گا کہ آپ علیحدگی اختیار کریں اور اس میں تعجیل کریں۔ پاکستان‘ اسلام کے نام پر بنایا گیا ہے اور ہم اس ملک میں اسلام کے قانون کو نافذ کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ آپ کی طرف سے علیحدگی کا اعلان کرنے سے حکومت کے ساتھ ٹکرائو پیدا ہوگا جس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔ گرمی کے موسم میں اگر آپ نے یاد کیا تو ان شاء اللہ میں قلات ضرور آئوں گا۔ تفصیلی طور پر بالمشافہہ ملاقات ہو گی۔

بلوچستان کے تاریخی پس منظر میں اس خطے کے ایک فرمانروا‘ سربرآوردہ اور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت کو بروقت اور صحیح رہنمائی بہم پہنچا کر سید مودودیؒ نے اس خطے کے اسلامی تشخص کو لادینی عناصر کی دست برد سے محفوظ کر دیا۔ بلوچستان کے اس اہم خطے کو مملکت خداداد پاکستان سے جوڑنے اور اسے نظریہ پاکستان سے ہم آہنگ کرنے کی سعی سے انھوں نے علیحدگی پسند گروہ کے عزائم کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ سیکولر ذہن رکھنے والا ایک گروہ انتہائی طور پر کوشاں تھاکہ ریاست قلات کو پاکستان سے بالکل علیحدہ کیا جائے‘ تاکہ اسے مستقل ایک آزاد ریاست کی حیثیت میں رکھ کر اپنے عزائم و مقاصد کی تکمیل کے لیے آماج گاہ بنایا جا سکے۔ یوں سید مودودیؒ بلوچستان کے اسلامی تشخص کے محافظ اور معمار دکھائی دیتے ہیں۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے دستور ساز اسمبلی سے اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے چار نکاتی مطالبہ کیا۔ تاریخ میں اسے مطالبۂ نظام اسلامی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آن کی آن میں اس تاریخی مطالبے کی بازگشت سے پاکستان کے در و دیوار گونجنے لگے۔ بلوچستان جو ہمیشہ اپنے گرد و پیش سے متاثر ہوتا رہا ہے اور برعظیم جنوب مشرقی ایشیا کی تحریکوں کے اس پر اثرات پڑتے رہے ہیں بھلا اپنے ہی ملک کی عظیم شخصیت سید مودودیؒ کی برپا کردہ تحریک سے کیوں کر بیگانہ رہ سکتا تھا‘ جب کہ غیرمنقسم ہندستان میں ہی اس خطے پر سید مودودی کے اثرات ان کی تحریروں کی وساطت سے براہ راست پڑنا شروع ہو گئے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد تو یہاں جماعت اسلامی کا باقاعدہ نظم قائم کیا گیا تھا۔ چنانچہ وادیِ بولان کے دشت وجبل بھی مطالبۂ نظامِ اسلامی کی بازگشت سے گونجنے لگے تھے۔

بیس ماہ کی طویل قید ]اکتوبر ۱۹۴۸ء - مئی ۱۹۵۰ئ[ سے رہائی پانے کے بعد سید مودودیؒ پہلی مرتبہ اگست ۱۹۵۰ء میں کوئٹہ تشریف لائے۔ لیاقت پارک میں ایک بہت بڑے جلسے سے آپ نے خطاب فرمایا۔ پاکستان کی نظریاتی اساس کی بنا مطالبۂ نظامِ اسلامی کو دہرایا۔ اسی دورے میں آپ پشین بھی تشریف لے گئے جہاں مرکزی جامع مسجد میں آپ نے ایک مرتبہ پھر پُرزور طریقے سے اسلامی دستو راور اسلامی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔

جنوری ۱۹۵۱ء میں کراچی میں مختلف مکاتیب فکر سے تعلق رکھنے والے ۳۱ علما کے اجتماع سے فارغ ہونے کے بعد فروری کے مہینے میں آپ سبّی دربار کے موقع پر سبّی تشریف لائے‘ اور یہاں بھی پرانی عیدگاہ میں جلسہ ٔ عام کے اندر حکومت سے اسلامی دستور کا مطالبہ کیا۔ یہ وہ موقع تھا جب کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان بھی سبّی کے اس تاریخی جشن میں آئے ہوئے تھے۔ سبّی کی دیواریں اس مطالبے کے پوسٹروں سے چھپی ہوئی تھیں اور کارکنوں کے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے مظاہروں سے پوری فضا ’’اپنا مقصد اپنی منزل‘ اسلامی دستور‘‘ کے نعرۂ مستانہ سے معمور تھی۔

پھر دارورسن کی منزلوں سے گزر کر جون ۱۹۵۵ء میں مردِ حق آگاہ تیسری مرتبہ بلوچستان آیا۔ کوئٹہ اور وادیٔ زیارت میں کم و بیش ایک ماہ گزارا۔ اس طرح کہ ہر سو حق کی روشنی بکھیرتا رہا۔

 ایوب خان کے مارشل لا سے پہلے دو مرتبہ ‘یعنی اکتوبر ۱۹۵۷ء اور ستمبر ۱۹۵۸ء میں آپ پھر کوئٹہ تشریف لائے۔ اور آخری مرتبہ ۱۹۶۲ء میں چھٹی بار آپ بلوچستان تشریف لائے۔

آپ کی آمد کا ہر موقع عشق و مستی کی داستان اور عرفان و معرفت کا الگ الگ مفصل باب ہے۔ اس طرح سید مودودیؒ نے بہ نفس نفیس خود یہاں آ کر اس خطے کے تشخص کو اسلام سے ہم کنار کرنے کی سعی بلیغ فرمائی اور دل و نگاہ کو لادینی عناصر کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رکھنے کا سامان      بہم پہنچایا۔ خطہ ٔ بلوچستان کے اسلامی تشخص کی حفاظت‘ نگرانی اور نشوونما کا یہ وہ پہلو ہے ‘جس کے لیے مرشد مودودیؒ نے برسرزمین خود آکر اس کی آبیاری کی ہے۔

جب پاکستان دولخت ہو گیا‘ مغربی پاکستان میں بلوچستان سمیت صوبائی حکومتیں بن چکیں تو اس موقع پر جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس لاہور میں ہوا۔ ان دنوں سابق امیرجماعت اسلامی بلوچستان ‘مولانا عبدالعزیز بیمار تھے۔ چنانچہ انھوں نے ایک نوجوان ساتھی کو اپنا نمایندہ بنا کر شوریٰ میں بھجوایا۔ اس نوجوان نے صوبہ بلوچستان کے حالات شوریٰ کے سامنے بیان کیے۔ مولانا مودودی خاموشی سے سنتے رہے۔ جب بیان ختم ہوا تو مولانا محترم نے فرمایا: ’’صوبہ بلوچستان کے موجودہ حالات کے متعلق میرے ذہن میں جو نقشہ تھا اس کی تفصیل شوریٰ کے سامنے اس نوجوان نے رکھ دی ہے‘‘۔

مولانا محترم کے اس تبصرے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے معاملے میں بیدار تھے۔ اس خطے کے اتار چڑھائو سے وہ پوری پوری واقفیت رکھتے تھے۔ پوری صورت حال کا نقشہ ان کے ذہن میں محفوظ رہتا تھا۔ فکر تھی تو بس اتنی کہ بلوچستان کے اسلامی تشخص کو مزید کس طرح مستحکم کیا جائے اور اسے اغیار کی چیرہ دستیوں سے بچانے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جائیں۔

۱۹۷۰ء کے انتخابات اور پاکستان کے مشرقی بازو کے کٹ جانے کے بعد ۲ مئی ۱۹۷۲ء کو ۲۱ارکان پر مشتمل بلوچستان کی پہلی منتخب صوبائی اسمبلی وجود میں آئی۔ سردار عطاء اللہ مینگل کی وزارتِ اعلیٰ میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علماے اسلام کی مخلوط صوبائی حکومت تشکیل پائی‘ جس نے ۱۵جولائی ۱۹۷۲ء میں جسٹس فضل غنی کی سربراہی میں بلوچستان قانون کمیشن بٹھایا‘ جس میں ۱۰اصحاب علم و دانش کو شامل کیا گیا۔ اس قانون کمیشن کی غرض و غایت یہ تھی کہ صوبہ بلوچستان میں دیوانی اور فوجداری عدالتوں کے نظام کو جو بیک وقت متعدد قوانین کے تحت چل رہے ہیں‘ ان میں یکسانیت کیسے پیدا کی جائے۔ اس کے لیے کمیشن نے ۳۴ سوالات پر مبنی ایک سوال نامہ جاری کیا تھا‘ تاکہ عوام و خواص اس بارے میں اپنی آرا اور مشورے کمیشن کو دے سکیں۔ اپنی ناسازی طبع اور پیرانہ سالی کے باوجود مولانا مودودی نے انتہائی محنت کر کے اسلامی قانون کی روشنی میں ان سوالات کے جوابات مرتب کر کے بلوچستان قانون کمیشن کو بھجوائے‘ اس طرح ایک مرتبہ پھر بلوچستان کے اسلامی تشخص کے محافظ اور معمار کی حیثیت سے رہنمائی فرمائی‘ تاکہ خطۂ بلوچستان کی تاریخ میں وہ رنگ بھر دیں جسے صبغۃاللہ ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

بلوچستان کی پسماندگی‘ معاشی بدحالی‘ قوم‘ زبان اور علاقے کی بنیاد پر سیکولر تحریکوں کے پیدا کردہ تعصبات وہ اسباب تھے‘ جن کی وجہ سید مودودی ہمیشہ فکرمند رہتے تھے۔ آخری زمانے میں ان کی فکرمندی میں مزید اضافہ اس صورت حال سے ہوا‘ جب روسی استعمار دریاے آمو کو پار کرکے بلوچستان کے شمال مغربی پہاڑوں کے عقب میں افغانستان آ پہنچا۔ لیکن ان کی یہ فکرمندی‘ آشیاں بندی کے لیے تھی۔ انھوں نے اپنے فکر و نظر سے خطہ ٔ بلوچستان کے اسلامی تشخص کو محفوظ بھی کیا اور اس کے نشوونما کا سامان بھی خود بہم پہنچایا۔ اس لیے انھیں قطعاً یہ ڈر نہیں تھا کہ کوئی بیرونی لادینی نظریہ یہاں شبِ خون مار سکے گا۔

۵- اے ذیلدار اچھرہ‘ لاہور میں بلوچستان سے آنے والے ایک نوجوان نے مرشد مودودی سے پوچھا: ’’بلوچستان کے حالات دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان بھر کے سوشلسٹوں کا زور بلوچستان پر صرف ہو رہا ہے۔ کیا یہ امر تشویش ناک نہیں؟‘‘

مرشد مودودی کے سامنے بلوچستان کا ماضی اور حال ایک کھلی کتاب کی طرح عیاں تھا۔ انھوں نے عصر حاضر میں اس خطے کے اسلامی تشخص کو قائم رکھنے‘ اسے نشوونما دینے اور اغیار کی چیرہ دستوں سے اسے بچانے کے لیے بیش قیمت خدمات انجام دی تھیں۔ اس لیے نوجوان کے سوال کو انھوں نے بغور سنا اور جواب میں فرمایا:

ہم وہاں کے حالات سے کبھی بے خبر نہیں رہے۔ مولانا عبدالعزیز مرحوم ہمارے بڑے قیمتی رفقا میں سے تھے‘ انتہائی مخلص انسان تھے اور اپنے علم و تقویٰ کی بدولت خاص مقام رکھتے تھے۔ وہ برابر ہمیں وہاں کے حالات بتاتے رہے۔ کم و بیش ۲۰سال پر پھیلی ہوئی ان تفصیلات نے ہمیشہ اپنے ملک کے اس حصے سے باخبر رکھا۔ ہم نے وہاں کی نئی نسل کو سوشلزم سے بچانے کے لیے جو کام کیا ہے وہ جاری ہے اوران شاء اللہ جاری رہے گا۔ پاکستان کا کوئی حصہ سوشلزم کے لیے نہیں ہے۔ آپ دیکھیں گے جب ضرورت پیش آئے گی تو اس ملک کے ہر حصے کے نوجوان -- پوری قوم ایک جسدِ واحد کی طرح اٹھ کھڑی ہو گی۔ خدا کا شکر ہے کہ اس قوم میں ابھی بہت خیر باقی ہے۔ تشویش کی کوئی بات نہیں‘ ہاں بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔ (ہفت روزہ آئین‘ لاہور‘ ۱۷ جنوری ۱۹۸۰ئ)

بلوچستان کے اسلامی تشخص کی حفاظت و نگرانی اور اس کی آبیاری و تعمیر اور پہلے کی طرح آج بھی لادینی تحریکوں کا مقابلہ اور ان کی ذہنی بنیادوں پر تیشہ زنی‘ سید مودودیؒ کی تحریروں ہی سے کی جاسکتی ہے‘ جن میں قوم پرستی‘ سیکولرزم‘ اشتراکیت‘ سرمایہ داری‘ مغربی جمہوریت‘ لسانیت اور علاقائیت کے اصل چہروں سے نقاب کشائی کی گئی ہے‘ تاکہ نسلِ نو ان مکروہ چہروں کو اچھی طرح پہچان لے۔ ایمان و آگہی کے مقابلے میں وہ لادینی افکار اور ملحدانہ نظریات ہیں جو نوجوانوں کی خودی کو دیمک کی طرح چاٹ کر ختم کر دینا اور ان کے دین و ایمان کو غیروں کی چوکھٹ کی بھینٹ چڑھا دینا چاہتے ہیں۔ آج بھی ان لادینی نظریات کی اگر کاٹ ہے تو وہ ’’مودودی بابا‘‘ کی نالۂ نیم شبی میں ڈوبی ہوئی حقیقت پر مبنی اور ایمان افروز تحریروں ہی کی صورت میں موجود ہے۔

سیکولرزم کے نظری اور اعتقادی زہر کا تریاق بس اگر ہے تو اسی حکیمِ دوراں کے پاس ہے‘ جسے خلقت سید ابوالاعلیٰ مودودی کے نام سے جانتی ہے!

اس وسیع کائنات پر تفکر کی نظر ڈالیں تو چاروں طرف تا حد نگاہ اﷲ رب العزت کی بے شمار  خوب صورت نشانیاں نظر آتی ہیں۔ سروں پہ آسمان کی شکل میں خوب صورت چھت اور اس پہ سجے ہوئے سورج‘ چاند‘ ستارے‘ سیارے‘ بادلوں سے برستے پانی کے مصفا و مجلّٰی قطرے‘ سوندھی سوندھی مٹی سے جنم لیتے ہوئے پودے اور پھلوں اور پھولوں کی بہار--- رب لازوال کی نعمتوں کو نہ آج تک کوئی گن پایا ہے‘ نہ گن سکتا ہے:  فَبِاَیِّ اٰلآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ رب قدیر کی نشانیاں ہر لمحے نئی شان اور اچھوتی آن بان سے بکھری ہوئی جلوہ گر نظر آتی ہیں۔

زندگی اور موت‘ ہر ذی روح کی حقیقت ہے‘ بلکہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت موت ہی ہے۔ یہی حقیقت انسان کی آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے۔ آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب انسان اپنی قیمتی ہستی سے محروم ہو جاتا ہے۔ جن کو عزیز از جان کہتا ہے‘ وہ بھی اس کے لیے کچھ بھی نہیں کر پاتے۔ خالق ارض و سما نے موت کو بھی اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا‘ کہ انسان کتنا بے بس مجبور ہے۔ موت کی حقیقت کا سامنا ہر نیک و بد کو کرنا ہے۔

یہ نابغۂ روزگار‘ زمین کا نمک اور پہاڑی کے چراغ اللہ تعالیٰ کی رحمت ِ واسعہ کے نشان ہوتے ہیں۔ انبیا کے وارث اور دین متین کے امین‘ وہ دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی دلوں سے بھلا کب جاتے ہیں؟ وہ تو یادوں میں رچ بس جاتے ہیں۔ وہ مصروفِ عمل رہتے ہیں اور ہمیں اپنے علم سے فیض یاب کرتے رہتے ہیں۔ وہ آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں‘ مگر بصیرت کی روشنی پھیلاتے ہوئے ہماری آنکھوں کے نور بن جاتے ہیں۔ ہمارے دکھ سکھ میں رہنما بن جاتے ہیں۔ یہ موت سے ہمکنار ہونے کے بعد حیاتِ جاوداں کو پا لیتے ہیں۔ زندگی میں فاصلوں کے بُعد حائل ہوتے ہیں‘ لیکن زندگی کا حصار ختم ہوتے ہی یہ آفاقی ہو جاتے ہیں۔ حیاتِ مستعار کا ہر لمحہ ایسے ہی انسان کو اخروی کامیابیوں کی نوید سناتا ہے۔ ایسے خوش نصیب انسانوں سے معمولی سا ناتا بھی کتنا فخر کا باعث بن جاتا ہے۔ ایک مرتبہ کی زیارت‘ چند لفظوں کا تبادلہ‘ سلام دُعا کا اعزاز‘ خوش بختی کا عنوان بن جاتا ہے۔

میرے روحانی استاد‘ میرے شعور اور علم و فہم کو روشنی عطا کرنے والے محسن سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃاللہ علیہ کے ساتھ تعلق ابدی و لازوال ہے۔ میری حیاتِ فکر کے نقشے میں سید مودودیؒ کی تصویر شامل ہے۔

مجھے اپنے بچپن اور گھر کا ایک منظر یاد آتا ہے۔ ہم چند ننھے مُنے بچے جن کو نماز کے رکوع و سجود سے واقفیت تو ہے‘ مگر نماز میں پڑھے جانے والے الفاظ اور رکعتوں کی تعداد سے ناآشنا ہیں۔ ہماری نانی جان مرحومہ نے (جنھیں ہم سب اماں جی کہتے تھے) صف پہ قطار میں بٹھایا ہوا ہے۔ چھوٹی سی چُنریا میرے سر سے گرنے لگتی ہے تو اماں جی اسے دوبارہ ٹکادیتی ہیں۔ پھر انھوں نے سب بچوں کے ہاتھ دعُا کے لیے اُٹھوائے اور کئی بار کہلوایا:

’’اے اللہ‘ ہمیں نیک بنا‘‘۔

’’اے اللہ‘ اماں جی کو حج کروا دے‘‘۔

’’اے اللہ‘ مولانا مودودی کو صحت عطا فرما‘‘۔

اور پھر یہ تین دُعائیں انہماک سے سنی جاتیں‘ اور ہر وقت تاکید کی جاتی کہ ان دُعائوں کو ضرور مانگنا ہے۔ گھر میں امی جان اور اماں جی سے جو بچے قرآن پاک پڑھنے آتے‘ ان سے یہ دعائیں ورد کی طرح کروائی جاتیں۔ میری والدہ محترمہ ] اُم شاہد[ بھی علم دوستی‘ شوقِ مطالعہ اور تربیت ِ اولاد کے لیے انتہائی فکرمند اور حساس خاتون ہیں۔ بہرحال اماں جی کو اللہ تعالیٰ نے حج کی نعمت سے سرفراز فرمایا تو نانی جان نے دُعا میں تبدیلی کروا دی: ’’اے اللہ اماں جی کو پھر سے بیت اللہ کی زیارت کروا دے‘‘ اور باقی دو دُعائیں کسی تبدیلی کے بغیر جاری و ساری رہیں۔

لاشعور میں اماں جی کا حج‘ اللہ تعالیٰ کا گھر‘ مولانا مودودی کا تصور ایک ہی جگہ نقش تھا۔ مولانا کا دوسروں سے مختلف نام اور اوروں سے منفرد تذکرہ‘ بچپن کی خوب صورت‘ ان بھولی بسری یادوں میں یاد رہنے والی یاد ہے۔ اکثر سوچا کرتی تھی: یہ شخصیت کون ہے؟ کیا فرشتہ ہے؟ کوئی نبی ہے؟ نہیں‘نبی  تو نہیں ہو سکتا‘ کیونکہ ہمیں اکثر بتایا جاتا تھا کہ رسولؐ اﷲ ‘ آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس لیے سوچتی کہ جب نبی کی آمد ختم ہے تو پھر یہ کوئی فرشتہ ہی ہوگا۔ اب اللہ تعالیٰ کے تصور کے ساتھ ہی ان کا خیال بھی آتا ۔ یہ رشتہ دار تو نہیں ہیں‘ نہ کبھی ہم ان کے گھر گئے‘ نہ کبھی وہ ہمارے گھر آئے۔ لیکن یہ کیا بات ہے کہ گھر میں ان کا تذکرہ رشتہ داروں سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ گھر میں آنے والا ہر اخبار‘ رسالہ اور ہر فرد ان سے واقف ہے۔ وہ گھر کے فرد تونہیں‘ لیکن ہمیشہ گھر کے مکینوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

دوسرا منظر مجھے کسی جلسے کا یاد ہے۔ نعروں سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ جلسہ گاہ کی  پچھلی طرف خواتین کے لیے انتظام تھا۔ وہاں سے پردہ ہٹا کر میں باہر کو لپک آئی۔ بہت سارے لوگ‘ شور و غل اور نعرہ بازی کے اس شور سے مجھے اپنا دل زور زور سے دھڑکتا محسوس ہو رہا تھا۔ مجھے خیال آ رہا تھا کہ شاید زمین کانپ رہی ہے اور اس کی لرزش میرے پائوں کے تلووں سے ہوتی ہوئی میرے دل کو بھی لرزا رہی ہے۔ میں اس وقت نہیں جان سکی کہ یہ لڑائی کا شور و غل ہے‘ یا لوگ اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ بہرحال لوگوں کے سامنے اونچی جگہ پر کچھ لوگ بیٹھے نظر آئے‘ جن میں میرے نانا جان حکیم محمد عبدؒاللہ (جہانیاں) بھی تھے۔ ان کو دیکھ کر مجھے کچھ حوصلہ ہوا۔ اُسی وقت کسی نے مجھ سے پوچھا :’’مولانا مودودی سے ملنا ہے؟‘‘ میں نے حیرت سے سر اٹھا کر ان کو دیکھا۔ ان صاحب نے مجھے اٹھا کر سٹیج پر کھڑا کر دیا۔ نانا جان نے میرا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کے آگے کر دیا۔

کالی شیروانی‘ کالی ڈاڑھی اور عینک‘ بس یہ سراپا مجھے یاد ہے۔ انھوں نے میرا ہاتھ تھام لیا‘ سر پر ہاتھ رکھا اور کچھ کہا بھی جو مجھے یاد نہیں۔ پھر مجھے سٹیج سے کس نے اتارا‘ نہیں معلوم‘ کالی شیروانی کے تصور کے ساتھ ہی تصویروں میں دیکھی جانے والی خانہ کعبہ کی تصویر یاد آئی اور اماں جی کی یاد کروائی ہوئی دُعا بھی۔

تیسرا تصور بھی جم غفیر کا ہے۔ خانہ کعبہ کے غلاف کی زیارت کے لیے خلقت جمع ہے۔ یہ وہ غلاف کعبہ تھا جو پاکستان میں تیار ہوا تھا اور سعودی عرب روانہ کرنے سے پہلے مختلف جگہوں پر اس کی زیارت کروائی جا رہی تھی۔ کسی عمارت کی چھت پر کھڑے ہو کر کچھ لوگ عوام کو غلافِ کعبہ کی زیارت کروا رہے تھے۔ ان میں مولانا مودودیؒ بھی شامل تھے۔ کلمہ طیبہ کا ورد لوگوں کو اپنے حصار میں لیے ہوئے تھا۔ پاکیزہ سوچیں‘ خانہ کعبہ کا کالا غلاف‘ کلمے کا ورد‘ کالی شیروانی‘ عقیدت‘ منظم ہجوم اور حج کا سفر گڈ مڈ سے ہونے لگے۔ میں سوچتی خانہ کعبہ کے کالے غلاف اور کعبہ والے کا‘ کالی شیروانی والے سے کوئی خاص تعلق ہے۔ یہ سب کچھ ایک ساتھ ہی ذہن میں خوشبو بن کر پھیل جاتا۔

مجھے یاد نہیں مولانا مودودیؒ کی سب سے پہلے کون سی کتاب پڑھی؟ کب پڑھی؟ اور اس وقت میں نے کیا محسوس کیا؟

پھر دیکھتی ہوں کہ گھرکی ہر الماری مولانا کی کتابوں سے مزین تھی۔ میرے گھر کے سارے افراد جماعت اسلامی اور مولانا مودودیؒ کے شیدائی تھے۔ میرے والد محترم عبدالغنی احسن صاحب   کو مطالعے کا شوق تھا اور ہر اچھی کتاب اور رسالہ گھر میں مستقل آتا تھا۔  چراغِ راہ‘ ایشیا‘ ترجمان القرآن‘ نور‘ عفت‘ بتول‘ الحسنات کا پہلا شمارہ غالباً ہمارے گھر آیا تو پھر یہ ساتھ آج تک قائم ہے۔ مجھے مطالعے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ نئے تو نئے پرانے سے پرانے   رسالے بھی نکال نکال کر پڑھ لیتی۔ بہت موٹی بھاری ضخیم سے ضخیم کتاب پر میرا دل نہال ہو جاتا۔ تفہیم القرآن کی جلد میرے لیے انتہائی کشش کا باعث ہوتی۔ چچا جان عبدالوکیل علوی صاحب کی کتابیں میری دست بُرد سے محفوظ نہ رہتی تھیں۔ کتابوں میں کیا لکھا ہے؟ عربی کی بھاری بھاری کتابیں اور ڈکشنریاں لے کر بیٹھنا‘ کھولنا‘ بند کرنا میرا مشغلہ ہوتا تھا۔ چچا جان اپنی کتابوں کی ترتیب اور ان میں رکھے نوٹس کو اپنی جگہ پر نہ پا کر بہت محظوظ ہوتے۔ کتابوں سے میری محبت کو انھوں نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا‘ لیکن کبھی کبھار ڈانٹ بھی پڑ جاتی تھی۔ تفہیم القرآن میں میرا انہماک دیکھ کر انھوں نے مجھ سے پوچھا: کیا کر رہی ہو؟‘‘ میں نے بتایا: ’’قرآن پاک کا ترجمہ پڑھ رہی ہوں‘‘۔ اس وقت حاشیہ نمبر دیکھنے اور اس کو پڑھنے کا طریقہ سمجھ میں نہ آ رہا تھا۔ چچا جان نے مجھے باقاعدہ قرآن پاک کا ترجمہ پڑھانا شروع کیا۔ اس وقت میں کلاس پنجم کی طالبہ تھی۔ مولانا کی صحت کے بارے میں کچھ نہ کچھ خبریں آتی رہتی تھیں کہ گردے کا آپریشن ہے۔ تکلیف ہے۔ ایسی خبر سنتے ہی ہمارے گھر میں اس طرح تشویش کی لہر دوڑ جاتی جیسے گھر کے اندر کوئی عزیز ہستی صاحب ِفراش ہو۔ دُعائوں کاسلسلہ اور بڑھ جاتا۔

اسکول کے زمانے کی بات ہے۔ سالانہ امتحان تھے۔ میری نشست کے پاس ہی ٹیچر کی نشست تھی۔ دوسری ٹیچر نے اخبار لا کر مس ناصرہ کو دکھایا: ’’دیکھو کچھ غنڈوں نے قرآن پاک جلا دیا ہے‘‘ اور مس ناصرہ نے انتہائی غصے سے کہا: ’’یہ مودودیوں کا ہی کام ہو گا‘‘۔ پرچہ حل کرتے کرتے میرا ذہن بری طرح الجھ گیا: مودودیوں سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ مولانا مودودیؒ کو کچھ کہہ رہی ہیں؟ لیکن قرآن پاک جلانے کا کام ان کا کیسے ہو سکتا ہے‘ یا ان کے کہنے سے کون کر سکتا ہے؟ -- مس ناصرہ تو خود اتنی اچھی ہیں۔ ان کو تو معلوم ہی ہو گا کہ مولانا مودودیؒ اتنے اچھے ہیں‘ وہ یہ کام نہیں کر سکتے۔ یہ کوئی اور بات ہو گی -- اور میں الجھی الجھی سی پرچہ حل کر کے دے آئی۔

گھر آ کر اماں جی سے تذکرہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے لاہور میں جماعت اسلامی کے دفتر پر حملہ کیا ہے اور سارا ریکارڈ جلا دیا ہے۔ ان میں تفہیم القرآنکے نسخے بھی تھے۔ اخبار میں ان جلے ہوئے قرآن کے نسخوں کی تصویر سے بھی واضح تھا کہ یہ تفہیم القرآن کی جلدیں تھیں۔ ذہن میں طرح طرح کے سوال اٹھنے لگے کہ مولانا خود اتنے اچھے ہیں‘ اگر اچھے نہ ہوتے تو قرآن کی تفسیر کیسے لکھتے؟ پھر میرے ذہن میں اللہ تعالیٰ‘ مولانا اور حج کا تصور اکٹھے آتا تھا۔ کوئی منفی بات  ذہن میں نہیں آتی تھی۔ میں یہ بات ماننے کو تیار نہ تھی کہ مولانا کو بھی لوگ بُرا سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اب تک اپنے اردگرد‘ خاندان بھر میں ان سے عقیدت کا اظہار ہی سنا اور دیکھا تھا۔ پھر اماں جی نے سمجھایا کہ اچھے لوگ‘ اچھے لوگوں کو پسند کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اچھے لوگوں سے حسد کرتے ہیں‘ اس لیے ان کو پسند نہیں کرتے۔ نبیوں کو بھی تو لوگ ناپسند کرتے تھے۔ بھلا نبی سے بڑھ کر بھی کوئی اچھا ہو سکتا ہے؟

زندگی میں عمر‘ تجربے اور مشاہدے کے ساتھ ساتھ یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی گئی کہ  اچھے لوگوں کو تسلیم کرنے والے اور اچھائی کا دم بھرنے والے اعلیٰ ظرف لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔ عزت و مرتبہ‘ علم و ہنر میں جھوٹے پُرفریب نعروں سے عزت و مقام حاصل کرنے والا‘ سچائی کو کب برداشت کر سکتا ہے۔ اندر کی جلن عبداللہ بن ابی کی ہو یا مکہ کے سرداروں کی‘ یا فی زمانہ کسی بھی عالم و قائد کی‘    یا صاحب ِاقتدار کی‘ اپنے دل کے حسد و بغض کو ظاہر کر کے ہی چھوڑتی ہے۔ یہ بھی ہر زمانے کے      کم فہم و کم ظرف لوگوں کا وطیرہ رہا ہے کہ اچھائی کی راہ میں روڑے اٹکائے جائیں۔ جب جواباً  اخلاق و کردار کی پختگی کا مظاہرہ ہو تو تنگ دلی میں مزید اضافہ ہوتا چلا جائے‘ اور محاذ کھل جائے تاکہ صاحب ِکردار لوگوں کو نیچا دکھانے کے لیے زبان اور قلم کا ہر وار استعمال کیا جائے۔ اپنے وار کے کارگر ثابت نہ ہونے پر گھٹیا الزامات لگائے جائیں۔ یہ کیا طرفہ تماشا ہے اس دنیا کے انسانوں کا کہ خود جس اعلیٰ مقام پر جانے کا حوصلہ اور ظرف نہ ہو تو دوسروں کو اس مقام سے گرانے کے لیے توانائیاں صرف کی جاتی ہیں۔ نجی زندگی میں‘ شخصی زندگی میں کیڑے نکالے جاتے ہیں اور اگر کیڑے نظر نہ آئیں تو خود ڈالے جاتے ہیں اور پھر ان کو چُن چُن کر نکالا جاتا ہے‘ دنیا کو دکھا دکھا کر۔

مولانا مودودیؒ کی زندگی میں یہ سب مرحلے‘ ہر پہلو سے آئے۔ مگر آفرین ہے اس عظیم انسان پر کہ نہ خود ڈگمگایا‘ نہ جواباً کسی کو پتھر مارا‘ نہ تیر پھینکا۔ اور اللہ جسے چاہے عزت عطا فرمائے‘ بے شک عزت اسی کے لیے ہے‘ اس کی طرف سے ہے۔ جب لوگ اُس کے بندوں کو کم تر و حقیر بنا کر پیش کرنے کی سعی کرتے ہیں تو اللہ ان کو اپنے ہاں سے عزت و مرتبہ عطا فرماتا ہے۔ آج دنیا مولانا کے مقام و مرتبے کو اس سے زیادہ جانتی ہے جتنا ان کی زندگی میں پہچان رہی تھی۔ نیکی اپنا دائرہ  وسیع سے وسیع تر کرتی چلی جاتی ہے‘ زمان و مکاں سے بے نیاز ہو کر۔ خلوصِ نیت شرط ہے۔

۱۹۷۰ء کے عام انتخابات پاکستان کے اہم ترین الیکشن تھے۔ میری زندگی میں سیاسی گہما گہمی کو دیکھنے‘ پرکھنے اور کسی اجتماعی سرگرمی میں عملی طور پر ہاتھ پیر ہلانے کا پہلا تجربہ تھا۔ اُس وقت میں مڈل اسکول میں زیر تعلیم تھی۔ امی جان اور بہنوں کے ساتھ گھر گھر‘ گلی محلے میں جا کر انتخابی مہم کا کام کرنا بہت دل چسپ اور اہم لگتا تھا۔ پاکستان کے ساتھ محبت اور اس کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لیے تگ و دو کا احساس اجاگر ہو رہا تھا۔ جذبہ‘ شوق اور لگن کے جذبات و احساسات انگڑایاں لے رہے تھے۔ عجیب سرخوشی اور سرمستی کا عالم تھا۔ ہمارے خاندان اور ملنے جلنے والوں کا ہر بچہ جماعت اسلامی کے پرچم ‘ بیج‘ اسٹکرز جمع کرنے میں مگن تھا۔ یہی مشغلہ بن گیا۔ لڑکے چھتوں پر چڑھ چڑھ کر جماعت اسلامی کا پرچم بلند سے بلند جگہ پر لگانے میں مصروف تھے۔ روزانہ گھروں کی چھتوں پر لگے ہوئے پرچم گنے جاتے کہ کس جماعت کے پرچم زیادہ ہیں‘ اور کہاں جماعت اسلامی کا پرچم کتنا بلند لگا ہوا ہے؟ وہ جوش اور ولولہ‘ ایسا والہانہ تھا کہ گویا حق و باطل کے معرکے کا اسی الیکشن کے بعد فیصلہ ہو جائے گا۔ مہم کے دوران مولانا مودودیؒ کے بیانات مشعلِ راہ ہوتے۔ ہفت روزہ آئین میں عصری مجالس کی روداد حالات حاضرہ کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتی تھی۔

الیکشن کا دن ہم سب بچوں کے لیے انتہائی پُرتجسس اور ناقابل بیان بے چینی سے بھرپور دن تھا۔ ہمارے خاندان کا ہر فرد‘ خواتین و مرد اور بچے کسی نہ کسی طور پر الیکشن کے کارکن تھے۔ سب بہت پُرامید‘ اور خوش تھے۔ مگر جب رات کو نتائج آنے لگے تو وہ گلے‘ شکوے ایک احتجاج بن کر میرے وجود میں سرایت کر گئے کہ ’’معتبر‘ سچے‘ اچھے لوگ کیوں پسند نہ کیے گئے‘‘ اور میں یہ سوچ سوچ کر روتی تھی کہ قوم کے اس فیصلے سے میرے مولانا کو کتنا دکھ ہوا ہو گا‘ ان کا دل کتنا بے چین ہو گا‘ اور وہ تو مجھ سے بھی زیادہ رو رہے ہوں گے۔ اب مولانا کے رونے کا تصور کرتے ہی مجھے بے تحاشا رونا آتا چلا جاتا‘ اور میں اپنی دانست میں مولانا کو تسلیاں دینے لگتی۔ خیالوں میں مولانا سے باتیں کرتی۔ سب لوگوں کی شکایتیں کرتی۔ سوال پوچھتی کہ لوگ آپ سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟ آپ کی کتابوں کو کیوں نہیں پڑھتے؟ آپ کا نام دیکھ کر لوگ کیوں نازیبا الفاظ کہتے ہیں؟ اچھے لوگ جیلوں میں کیوں جاتے ہیں؟

اور پھر مولانا مودودی ؒ ہی کے لٹریچر سے مجھے سارے سوالوں کا جواب ملتا چلا جاتا ہے۔

مولانا مودودیؒ کے گھر پہلی مرتبہ جانے کا واقعہ میری زندگی کا خوشگوار ترین دن تھا۔ یہ جمعہ کا دن تھا۔ چچا جان اور چچی جان کے ہمراہ جانا ہوا تھا۔ چچی جان ( پروفیسرثریا بتول علوی صاحبہ) کو  کسی مسئلے پر مولانا سے رائے لینا تھی۔ مولانا مرحوم سفید براق کرتے پاجامے میں ملبوس تھے۔ میں نے مولانا سے آٹوگراف لیا تو انھوں نے یہ لکھ کر دیا: ’’اللہ کا خوف اور اس کی محبت ہر بھلائی کی جڑ ہے‘‘۔ براہ راست مولانا کی زیارت شعور کے ساتھ‘ میرے لیے ہفت اقلیم سے کم نہ تھی۔ لاشعور میں بسی ہوئی اس ماورائی سی شخصیت سے میری ملاقات‘ کہاں میں کہا ںیہ مقام‘ اللہ اللہ ---!

چچا جان محترم عبدالوکیل علوی‘ جناب نعیم صدیقی مرحوم کے ساتھ مل کر تصنیف و تالیف کا کام کرتے تھے۔ مولانا مودودیؒ کے گھر سے قریب ہی ان کا دفتر تھا۔ تعلیم کے دو سال (میٹرک) میں نے اپنے مہربان چچا جان کے گھر گزارے تھے۔ ان دنوں مجھے زندگی کے مشاہدات سے بہت کچھ سیکھنے کا اور تاریخ کا رُخ موڑ دینے والی شخصیت کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ ہماری رہایش اچھرہ میں تھی۔ مولانا مرحومؒ کی رہایش گاہ سے قریب ہی۔ مولانا کا دفتر لکھنے پڑھنے کا کمرہ‘ گھر کے دیگر مقامات جہاں ان کو چلتے پھرتے دیکھا‘ لان میں بیٹھتے‘ کھانا کھاتے‘ عصر کے وقت چائے پیتے‘ غرض وہ سارے مناظر مجھے بہت اچھی طرح یاد ہیں۔ براہ راست گفتگو تو نہ ہونے کے برابر‘  بس سلام جواباً سلام۔ درخواست دُعا اور دُعا جو یہی ہوتی: ’’اللہ آپ کو دین و دنیا کی ساری بھلائیاں عطا فرمائے‘‘ اور یہ دُعا میرے لیے سرمایۂ افتخار رہی۔

لاہور سے جہانیاں واپس آئی تو اسلامی جمعیت طالبات‘ جہانیاں شہر کی نظامت سونپی گئی۔ اس سلسلے میں مولانا کی شفقت‘ رہنمائی میرے لیے فخر و انبساط کا باعث رہی۔ میرا دل خوشی سے بھر جاتا‘ جب میں سوچتی کہ مولانا جیسی عظیم شخصیت کی زندگی میں کوئی ایک لمحہ ایسا بھی تھا جب انھوں نے میرے لیے سوچا‘ دُعا دی اور اپنے قیمتی وقت سے مجھے بھی نوازا۔ تحریکی ذمہ داریوں کے علاوہ مولانا کی مہربانیوں‘ دُعائوں‘ شفقتوں نے مجھے ذاتی و نجی زندگی میں بے شمار الجھنوں سے نجات دی‘ اور ہمیشہ ان کی دُعا اور مشورے نے دلی تسکین عطا کی۔ مولانا کا لٹریچر میرے لیے ہمیشہ رہنمائی کا باعث بنتا ہے۔ تفہیم القرآن ہو‘  ترجمان القرآن ہو یا کوئی کتاب‘ میرے قلب و ذہن کو سیدھی راہ پر رکھنے میں ممد و معاون ثابت ہوئی ہے۔ مولانا کا ہر لفظ‘ ہر جملہ اور ہر کتاب میرے لیے قرآن و حدیث کو سمجھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یقینا ہم پر یہ شکر و احسان واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دور پُر فتن میں اپنے دین کی سمجھ بوجھ عطا کرنے کو اس بندۂ مومن کے علم سے فیض یاب ہونے کا موقع نصیب فرمایا۔

مولانا مودودیؒ کی صحت کے بارے میں تو مدتوں سے جانتے تھے کہ کیا حال ہے؟ اور ان کی صحت کی دُعا‘ اپنی دعائوں کا لازمی حصہ بچپن ہی سے مقرر ہو چکا تھا۔ خرابی صحت کے باوجود مولانا کی خدمت دین قابل رشک تھی۔ اور یہ بات تصور میں نہ آتی تھی کہ مولانا اس سے زیادہ بھی بیمار ہو جائیں گے۔ دل مطمئن سا رہتا کہ اللہ تعالیٰ نے مولانا سے ابھی بہت سا کام لینا ہے۔ فروری ۱۹۷۷ء میں مولانا کی آخری مرتبہ زیارت کی۔ میرے شوہر مجھے مولانا کے گھر لے گئے تھے۔ چند دن پہلے ہماری شادی ہوئی تھی۔ بیگم مودودیؒ نے ہماری شادی کے بارے میں انھیں بتایا۔ مولانا نے مبارک باد دی اور خصوصی طور پر چائے پلائی۔ عصری مجلس سے اٹھ کر مولانا گھر کے بیرونی لان میں جا کر کرسی پر تشریف فرما تھے۔ غروب ہوتے سورج کی سنہری شعاعیں ان کے پروقار چہرے کو اور زیادہ منور کر رہی تھیں۔ امریکہ سے آئے ہوئے ان کے بیٹے کے بچے لان میں کھیل کود رہے تھے اور مولانا ان کو دیکھ کر محظوظ ہو رہے تھے۔ یہ مولانا کی آخری زیارت تھی!

چند ماہ بعد اللہ تعالیٰ کے خصوصی کرم سے مجھے سعودی عرب جانے کا شرف حاصل ہوا۔ حرم شریف میں داخل ہو کر خانہ کعبہ پر نظر پڑی اور اچانک کچھ مناظر لاشعور میں ابھرنے لگے: کالی شیروانی‘ اماں جی‘ غلاف کعبہ۔ اب بھی لوگوں کا ہجوم تھا‘ مختلف کلمات کی آوازیں‘ عقیدت و محبت کا ماحول اور وہ دُعا جو میری مناجات کا حصہ تھی۔ مولانا کی صحت کے لیے دعا بے اختیار زبان پر آ گئی اور اماں جی کے لیے دعا‘ اور یہ کہ اے اللہ ہمیں نیک بنا۔ دعائیں ہمیشہ اپنی تازگی برقرار رکھتی ہیں۔ مولانا کی صحت کے بارے میں تشویش ناک خبریں آتی رہتی تھیں‘ اور دل دست دعا بن جاتا۔

جدہ کے جس علاقے (روئیس) میں ہمارا گھر تھا‘ وہیں مولانا مرحوم کی بڑی صاحبزادی حمیرا مودودی رہایش پذیر تھیں۔ اس بات کی مجھے ازحد خوشی تھی۔ ان سے ملاقاتیں مجھے ہمیشہ یاد رہیں گی‘ جنھوں نے حق ہمسایگی بھی خوب نبھایا۔ مولانا کی صحت کے بارے میں معلومات انھی سے ملتی رہتی تھیں۔ حمیرا باجی سے جدہ میں ہی پہلی ملاقات ہوئی تھی‘ بہت محبت سے ملی تھیں۔ مولانا سے شباہت کا حصہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے زیادہ ان کو ہی ملا ہے۔ بہت باغ و بہار شخصیت ہیں۔ ان کے گھر ترجمۂ قرآن کی ہفتہ وار کلاس ہوتی تھی۔ جدہ کے علاقے (بلد) میں ذاکر صدیقی صاحب کے گھر ان کا درس ہوا کرتا تھا۔ وہاں جب جاتے تو حمیرا باجی کے شوہر انظر بھائی ہم دونوں کو لے جاتے اور واپسی پر میرے شوہر ہم دونوں کو گھر لے آتے۔ باہم ملاقاتوں اور دروس میں شرکت سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اپنے محبوب و محترم قائد کی پیاری بیٹی کی زبانی ان سے متعلق ڈھیر ساری باتیں کر کے دل شاد ہوتا تھا۔ حمیرا باجی مجھے اکثر گھرداری‘ تعلق داری کے متعلق اپنے تجربات سے فیض یاب کرتی رہتی تھیں۔ ہم لوگ روئیس میں حمیرا باجی کی ہمسایگی میں تقریباً دو سال رہے۔ ان کی طرف سے مشفقانہ برتائو‘ میرے لیے پردیس میں کافی حوصلہ بخش تھا۔

مولانا مودودیؒ کی عالمانہ عظمت سے تو ایک دنیا واقف تھی۔ نجی زندگی کسی بھی قائد کی عظمت و توقیر میں چار چاند لگاتی ہے۔ حمیرا باجی سے جب بھی ملاقات ہوتی تو وہ اپنے عظیم باپ کی گھریلو زندگی کے بے مثال پہلوئوں سے آگاہ کرتی تھیں۔ بیٹیوں سے خصوصی محبت کے تذکرے ہوتے‘ بیٹوں پر بیٹیوں کو زیادہ اہمیت دینے کا ذکر ہوتا کہ ان کی دلجوئی کا وہ کتنا زیادہ خیال کرتے تھے۔

حمیرا باجی اکثر ذکر کرتیں: ’’ابا جان عام انسانوں سے کسی قدر مختلف ہیں۔ ہر چیز‘ ہر معاملے‘ ہرواقعے پر ان کا ردعمل دوسروں سے مختلف‘ مگر گہرائی کے ساتھ حقیقت پسندانہ ہوتا ہے۔ اعتراضات اور تنقید کے معاملے میں ان کی قوتِ برداشت ناقابل یقین حد تک زیادہ ہے‘ نہ دل برداشتہ ہوتے اور نہ حوصلہ ہارتے ہیں۔ ان کا عزم و حوصلہ پہاڑ کی طرح ہے۔ جب ایک حقیقت کو جان لیا تو استقامت کا بلند و بالا پہاڑ بن کر جم گئے‘‘۔

طائف میں جماعت اسلامی کے کارکن کوئی نہ کوئی پروگرام طے کرتے رہتے تھے۔ اکثر ہی حمیرا باجی کے ساتھ وہاں جانا ہوتا تھا۔ بہنوں سے باہم ملاقاتوں میں مولانا کا ذکر آتا بلکہ حمیرا باجی سے ان کے عظیم باپ کی بابت ہی باتیں ہوتی تھیں۔ ایک مرتبہ کسی نے پوچھا: ’’آپ کو مولانا جیسے جلیل القدر باپ کی بیٹی ہونا کیسا لگتا ہے؟‘‘ تو انھوں نے اپنے کالج کی طالبات کے بارے میں بتایا: ’’جب جدہ کالج میں پہلی مرتبہ اپنی کلاس لینے گئی تو لڑکیوں نے مجھ سے میرا تعارف پوچھا۔ جب میں نے اپنا نام حمیرا مودودی بتایا تو سب نے اتنی خوشی کا اظہار کیا کہ میں دم بخود رہ گئی‘‘۔

بچوں کی تربیت کے حوالے سے لوگوں میں جو بدگمانیاں تھیں ان کے بارے میں اکثر خواتین سوال کرتی تھیں تو حمیرا بتاتیں: ’’ابا جان نے روک ٹوک  اور ڈانٹ ڈپٹ سے ہماری تربیت نہیں کی۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا‘ کام کرنا‘ پڑھنا لکھنا‘ باہم رویے‘ ہمت وحوصلہ برداشت‘ گھر والوں کے ساتھ تعاون وغیرہ میں ہمارے لیے تربیت کا سامان ہوتا تھا‘ اور کوئی باپ اپنے بچوں کو اس سے بہتر طریقے سے تربیت نہیں دے سکتا کہ اُس کا کردار اجلا ہو اور اس کے قول و عمل میں کوئی تضاد نہ ہو‘‘۔

مئی ۱۹۷۹ء کے آخری ہفتے میں مولانا مودودیؒ کو علاج کے سلسلے میں ان کے بیٹے ڈاکٹر احمد فاروق امریکہ لے گئے۔ حمیرا باجی سے مولانا کی صحت کے بارے میں معلومات ملتی رہتی تھیں۔ پہلے ماہ وہاں علاج سے صحت قدرے بہتر ہو گئی تو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ مولانا نے سیرت سرور عالم پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ ہم سب ہر اجتماع میں اور ہر طواف و عمرہ میں مولانا کی صحت یابی کے لیے خصوصی دعائیں کرتے۔

۲۰اگست ۱۹۷۹ء کو معلوم ہوا کہ مولانا کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے اور ڈاکٹروں نے پیٹ کے آپریشن کا فیصلہ کیا ہے۔ ۴ ستمبر ۱۹۷۹ء کو مولانا کا آپریشن تھا۔ اس دن مولانا کی صحت کے لیے خصوصی طور پر حرم شریف جا کر دعا کی اور ان کے لیے بہت سے لوگوں نے خصوصی طواف و عمرہ کی نیت کی۔ آپریشن کامیاب ہونے کی خبر نے سب کو مطمئن کر دیا۔

۶ ستمبر ۱۹۷۹ء کو مولانا دل کے شدید دورے سے دوچار ہوئے۔ امت مسلمہ پر ایک کڑا وقت افغانستان پر روس کے حملے کی صورت میں آن پڑا تھا اور انقلاب کے بعد ایران کے حالات بھی مخدوش تھے۔ ادھر مولانا کی صحت کا اتار چڑھائو اہل دل کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا تھا۔ ایک ہفتہ بعد مولانا پر دل کا ایک اور سخت دورہ پڑا مگر پھر حالت سنبھل گئی۔

۲۱ ستمبر ۱۹۷۹ء کو شام ساڑھے پانچ بجے میں حمیرا باجی کے ہاں گئی۔ کچھ دن پہلے وہ پاکستان گئی تھیں اور معلوم ہوا کہ واپس آ گئی ہیں۔ مولانا کے بڑے بھائی سید ابوالخیر مودودی ؒکی رحلت پر تعزیت بھی کرنا تھی۔ جب ان کے ہاں پہنچی تو عجیب سی اداسی کا احساس ہوا۔ رابعہ (حمیرا کی بیٹی) بھی خاموش خاموش دروازہ کھولنے آئی۔ حمیرا باجی کی حالت دیکھ کر ایک دم دل اداس ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ ابھی ابھی امریکہ بات ہوئی ہے کہ مولانا کی طبیعت بے حد خراب ہے۔ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔ اماں کو بھی سکون آور انجکشن لگا کر سُلایا ہوا ہے۔ کچھ دیر حمیرا باجی کے پاس بیٹھی‘ صحت و عافیت کی دعائیں کرتے رہے۔ مغرب کی نماز ادا کر کے بوجھل دل لیے میں گھر آئی۔ حمیرا باجی نے مولانا کی صحت یابی کے لیے صدقہ قربانی کے لیے رقم دی کہ جب مکہ مکرمہ جانا ہو تو قربانی کروادیں۔ مولانا کا چہرہ بار بار نظروں کے سامنے آتا۔ مولانا کے وہ خطوط جو انھوں نے میرے استفسارات کے جواب میں لکھے تھے‘ نکالے‘ ان کو پڑھتی رہی۔ رات کو کافی دیر تک ہم میاں بیوی مولانا کا تذکرہ کرتے رہے۔ سوچا کہ مولانا کی صحت یابی کے لیے خصوصی عمرہ کرنے جائیں گے اور قربانی بھی کر آئیں گے۔ مگر ۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ء کی دوپہر کو خواجہ مجاہد صاحب دفتر سے آئے تو ان کی رنگت اڑی ہوئی تھی۔ میں نے بے چینی سے صرف ایک لفظ پوچھا ’’خیریت؟‘‘ تو الفاظ ان کے منہ سے اٹک اٹک کر نکلے ’’مولانا انتقال فرما گئے ہیں‘‘۔انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔  ہمیں ان کی بیماری کی تفصیلات کا علم تھا اور دل کو ایسی خبر کا دھڑکا بھی لگا ہوا تھا۔ مگر پھر بھی لگ رہا تھا: ’’یہ کوئی غیر متوقع بات ہو گئی ہے‘‘۔ اپنی دعائوں اور محبتوں کا کتنا مان تھا اور مجھے تو بچپن سے مولانا کی صحت کی دُعا کا جواب ملتا رہا تھا کہ شاید ہم جیسوں کی دُعائیں رائیگاں نہیں جا رہی ہیں۔

مولانا کا ناتواں وجود ہمارے لیے ایک قوی سہارا تھا۔ وہ بیمار تھے مگر بیمار امت کے لیے نسخۂ شفا تھے۔ ایک ایک کر کے جسم کا ہر حصہ تکلیف میں مبتلا ہوتا رہا‘ لیکن عالم اسلام کے ہر گوشے کے لیے وہ باعث طمانیت تھے۔ وہ ماہِ تمام موت کی اٹل چادر کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ اس ماہتاب کے پس پردہ جانے سے اندھیرا چھا گیا تھا۔ مولانا کی وفات سے گویا سارا عالم اسلام سوگوار ہو گیا تھا۔ ہم فوراً حمیرا باجی کے ہاں پہنچے۔ ان کی آنکھیں متورم ہو رہی تھیں۔ میں پہنچی تو وہ قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھیں۔ میں نے دکھی دل سے سلام کیا اور پاس بیٹھ گئی اور صرف اتنا کہا: ’’حمیرا باجی! میں چاہتی ہوں کہ کوئی مجھے تسلی کے دو لفظ کہہ دے‘ میں آپ سے کیا کہوں گی؟‘‘ حمیرا باجی نے کہا: ’’بشریٰ! وہ جیسے میرے باپ تھے ویسے ہی تمھارے بھی باپ تھے‘ ہم سب کا غم مشترک ہے‘‘۔ اور انھوں نے مجھے سینے سے لگا لیا‘ پھر ہم دونوں بہنیں پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔ ان کا خونی رشتہ تھا اور میرا روحانی رشتہ تھا مگر غم تو مشترک تھا۔ خونی رشتے بھی اٹوٹ ہیں اور روحانی رشتے بھی ابدی۔ کچھ دیر ایک دوسرے کو تسلی و تشفی دے کر ہم نے قرآن خوانی شروع کر دی۔ کچھ دیر بعد ہم گھر آ گئے۔

حمیرا باجی نے پاکستان روانہ ہونے کی تیاری کرنا تھی‘ اور ہم نے ایک دن پہلے مکہ مکرمہ جانے کا جو پروگرام بنایا تھا‘ اس کے مطابق مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے۔ حرم شریف جا کر اللہ سے اپنا دکھ کہا‘ کچھ سکون ملا۔ بیت اللہ‘ خانہ کعبہ کا غلاف‘ مولانا کی کالی شیروانی‘ صحت کی دعا--- روحانی تعلق کی ابتدا ایک لاشعور میں بسے خیال سے وابستہ تھی‘ اور وہ روحانی تعلق آج نئی طرز پر پھر زندہ ہو رہاتھا۔ طواف کرتے ہوئے سارے خیالات‘ مناظر‘ مرحلے اور باتیں ترتیب سے یاد آتی گئیں اوراَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ]یوسف ۱۲:۸۶۔ میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا[کہہ کر سکینت بھی ملتی گئی۔ معلوم ہو رہا تھا کہ وہ روحانی تعلق اب آفاقی ہوتا جا رہا ہے‘ جہاں زمان و مکاں کی قید نہیں رہتی۔ علامہ اقبال کی ایک دعا کی قبولیت کا احسا س اب ہو رہا تھا     ؎

تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بند

اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی

تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ

ترے پیمانے میں ہے ماہِ تمام اے ساقی 

اور وہ ماہِ تمام سید مودودیؒ کی صورت میں طلوع ہوا اور اس صدی کا سب سے بڑا مفکر کہلایا۔

سید مودودیؒ کو شاہ فیصل ایوارڈ دینے کی تقریب میں نے جدہ ٹی وی پر براہ راست دیکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دنیا میں بھی عزت و مقام عطا فرماتا ہے: ’’ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو ان کے اجر‘ ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے۔ جو شخص بھی نیک عمل کرے گا‘ خواہ وہ مرد ہو یا عورت‘ بشرطیکہ وہ ہو مومن‘ اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسرکرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے‘‘۔ (النحل ۱۶:۹۷)

مولانا کی وفات اور پھر پاکستان میں جنازے و تدفین کی تفصیلات اخبارات سے معلوم ہوتی رہیں۔ جب حمیرا باجی پاکستان سے واپس آئیں تو مزید تفصیلات سے آگاہی ہوئی۔ سعودی عرب کی ہر مسجد میں آیندہ جمعہ کو غائبانہ نماز جنازہ کا اعلان سرکاری طور پر کیا گیا۔ ہم نے حرم شریف مکہ میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ کی سعادت حاصل کی۔

کچھ عرصے بعد بیگم مودودیؒ کی جدہ میں تشریف آوری ہوئی۔ انھوں نے حمیرا باجی کے گھر قرآن کی ہفتہ وار کلاس رکھی اور ترتیب سے قرآن پاک کا ترجمہ شروع کر وا دیا۔ جدہ کے مختلف علاقوںسے خواتین بہت شوق سے شریک ہوتیں۔ مولانا کی بیگم سے شرف ملاقات بھی حاصل ہوتا‘ اور مولانا کے بارے میں گفتگو بھی ضرور ہوتی۔ بیگم مودودی مرحومہ کے ساتھ میں نے کئی بار طائف کا سفر کیا اور راستے میں ان کے ساتھ مکہ مکرمہ میں طواف کی سعادت بھی حاصل کی۔ ان کے ساتھ گزرا ہوا وقت بھی بہت یادگار ہے۔ طائف میں ڈاکٹر عبدالحق کے گھر قیام ہوتا تھا۔ ان کی بیگم فرحانہ بے حد مخلص خاتون تھیں۔ ان کے گھر پروگرام ہوتا تھا۔ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا۔ خواتین عموماً مولانا کے بارے میں پوچھتیں کہ وہ بطور شوہر کیسے تھے؟

بیگم صاحبہ فرماتیں :’’ مولانا بہت صابر و شاکر اور تحمل و برداشت والے انسان تھے۔ اپنی تکلیف اور بیماری کو انھوں نے کبھی گھر والوں کے لیے باعث آزار نہیں بنایا۔ میرے رشتہ داروں کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ جب کچھ فرصت ملتی تو گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹا دیتے۔ رات کو کوئی بچہ  بے چین ہوتا یا روتا تو خود اٹھ کر کندھے سے لگا کر اسے خاموش کر اتے اور ٹہل ٹہل کر اُسے بہلاتے۔ میری نیند اور میرے آرام کا ہمیشہ بہت خیال رکھتے تھے۔ وقت کے بے حد پابند تھے۔ ایک منٹ کی دیر سویر پر بہت اذیت محسوس کرتے تھے۔ گھریلو معاملات میں پوری دل چسپی لیتے تھے۔ شروع شروع میں میرے لیے خاص طور پر خریداری کر کے لاتے تھے‘ مگر جب بیماری اور مصروفیت کی وجہ سے نہ لا سکتے تھے تو افسوس کرتے تھے کہ بیوی! جو میں تمھیں پہنانا چاہتا ہوں‘ جو چیزتمھارے لیے پسند کرتا ہوں‘ خودنہیں لا سکتا۔ ان کا بہت اعلیٰ ذوق تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ بیوی بھی خوب سے خوب تر پہنے‘ اوڑھے اور جتنے وسائل میں آسانی سے ممکن ہو‘ رانی بن کر رہے بلکہ وہ تو یہ چاہتے تھے کہ میں کام کاج نہ کروں‘ ہمیشہ گھر کاکام کرنے کے لیے معاون و ملازم رکھ کر دیے‘‘ -- پھر آخر میں کہتیں: ’’بھئی وہ تو بے حد مہربان انسان اور شفیق شوہر تھے‘‘۔ بیگم مودودیؒ کا یہ بھرپور جملہ ان کی ساری زندگی کی عکاسی کرتا تھا۔

کچھ عرصے بعد محترمہ حمیرا مودودی پاکستان منتقل ہو گئیں‘ تو یہ محفلیں بھی ختم ہو گئیں۔ جب ہم ۱۹۹۰ء میں سعودی عرب سے مستقل پاکستان منتقل ہوئے تو لاہور آ گئے۔

فیروز پور روڈ سے گزرتے اور اچھرہ کو پار کرتے ہوئے ہر مرتبہ خیال آتا کہ اپنے محبوب و محترم راہبر سے ملنے جائوں‘ مگر جیتے جاگتے مولانا کے تصور اور اس گھر کو ذہن سے نکالنا نہیں چاہتی تھی۔ ایک دن رہا نہ گیا اور ہم ۵- اے ذیلدار پارک کے سامنے کھڑے تھے۔ اس وقت میرا ذہن بالکل بھول گیا کہ مولانا کی وفات ہو چکی ہے۔ گیٹ سے اندر اسی عالم میں داخل ہوئے۔ تینوں بچے اور شوہر بھی ساتھ تھے۔ سیدھے برآمدے میں جا رکے۔ وقت وہی تھا جو عصری مجلس کا ہوتا تھا۔

میرے شوہر نے داہنے گیٹ کے پاس لان کے کنارے کی طرف اشارہ کیا۔ میں تو عالم استعجاب میں گنگ ہو کر رہ گئی۔ ’’یہ مولانا ہیں‘‘؟ نہیں‘ میں نے تو مولانا کو اسی لان میں کرسی پر بیٹھے دیکھا تھا۔ میں خودآج تک حیران ہوں کہ مولانا کی قبر پر فاتحہ خوانی کے ارادے سے جانے کے باوجود میں اس قبر کو دیکھ کر اتنی پریشان کیوں ہو گئی تھی۔ میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ میں اس جگہ کو دیکھوں جو سطح زمین سے اُبھری ہوئی تھی‘ اور ۱۲ برس گزرنے کے باوجود دل تسلیم نہ کرنے پر بضد تھا کہ یہ مولانا کی آرام گاہ ہے۔ مجھے اس دن ایسا لگا کہ مولانا تو تنہا ہیں‘ اکیلے ہیں۔ اف! وحشت کا یہ عالم میرے روئیں روئیں میں سرایت کرنے لگا۔ اس دن یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ اکیلی قبر کا تصور دیکھنے والوں پر کیا قیامت ڈھاتا ہے۔ شہر خموشاں کی اپنی رونق ہوتی ہے۔ پھر میں نے مولانا سے خیالوں ہی خیالوں میں ڈھیر ساری باتیں کیں۔ دل کا بوجھ ہلکا تو ہوا‘ مگر خلا کبھی پُر نہ ہو گا۔ گھر میں کوئی موجود نہ تھا۔ ملازم ہی تھا جس نے ہمیں جا نماز لا کر دی۔ ہم نے لان میں عصر کی نماز پڑھی اور وہاں سے گھر آ گئے۔ مولانا سے یہ ملاقات ۵ - اے ذیلدار پارک میں بہت ہی رنجیدہ اور افسردہ کرنے والی تھی۔ مولانا کو اس وقت دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً ربع صدی ہو گئی ہے۔ مگرآنے والی کئی صدیوں تک ’’لائٹ ہائوس‘‘ کا فریضہ انجام دینے والا‘ میری طرح اور لاکھوں لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

جب بھی بزرگانِ دین کے حالاتِ زندگی پڑھا کرتی تھی تو سوچتی تھی کہ کاش! میں امام ابوحنیفہؒ‘ امام شافعیؒ‘ امام احمد بن حنبلؒ، امام ابن تیمیہؒ، سید احمد شہیدؒ جیسے کسی انسان کے ز مانے میں پیدا ہوئی ہوتی‘ اور اُن سے دین کا فیض حاصل کرتی۔ مولانا سے دلی عقیدت‘ اور دینی فہم و شعور کے حوالے سے جو تعلق ہے اُس پر بجاطور پر اظہار تشکر کیا جا سکتا ہے۔ مجھ جیسے نہ جانے ساری دنیا میں کتنے مسلمان ہیں جن کو اپنے مسلمان ہونے کا حقیقی شعور اس شخص کے مومنانہ انداز دلبری کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔ ایسے عظیم انسان کے احسان کا حق ادا ہونا مشکل ہے۔ مولانا مودودیؒ کی تحریروں کا یہ کمال و اعجاز ہے کہ ہم آج بھی ان کو اپنے پاس پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ میں نے جب بھی اپنی زندگی کی کسی بھی الجھن کو اپنے لیے پریشان کن پایا تو مولانا سے روحانی تعلق میرے کام آیا۔ اللہ رب العزت نے اس پیارے بندے کے ذریعے مجھے سیدھی سچی راہ دکھائی۔ مجھے حوصلہ بخشا‘ زندگی کے بے شمار لاینحل مسئلوں اور مغموم و دل مضطر کو سکون و عافیت کا مژدہ سنایا۔

چند دن پہلے ]اپریل ۲۰۰۳ئ[ بیگم مودودیؒ بھی اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو گئیں۔  انا للّٰہ وانا  الیہ راجعون۔ ایک مرتبہ طائف کی کسی محفل میں ایک خاتون نے کہا: ’’مولانا کو اللہ نے ۷۰ حوریں دی ہوں گی تو مولانا نے کیا کہا ہو گا‘‘۔ دوسری خاتون نے کہا: ’’مولانا نے اللہ تعالیٰ سے کہا ہو گا کہ   میری بیوی کب آئے گی؟ وہی ٹھیک ہے‘‘۔ اس خاتون کی بات سن کر بیگم مودودیؒ بے حد محظوظ ہوئیں۔ بیگم مووددیؒ انتہائی شاکرو صابر خاتون تھیں‘ بہت حوصلے والی‘ اللہ والی‘ ملنسار‘ محبت کرنے والی۔ یہ ان کا عظیم الشان حوصلہ ہی تھا کہ روزانہ اپنے شوہر کی جدائی کا غم تازہ ہوتا ہو گا قبر کو دیکھ کر‘ اور صبر کی منزل سے ہر روز گزر کر آتی ہوں گی۔ شوہر بھی ایسا جس کی مثال ملنا مشکل ہو۔ میرے دل کو عجب ڈھارس ہے کہ اب مولانا تنہا نہیں ہیں۔ بیگم مودودیؒ کی آرام گاہ قریب ہے۔ بے مثال شوہر کی مثالی بیوی۔ زندگی کے ساتھی‘ ہمیشہ کے ساتھی۔ اللہ دونوں کو غریق رحمت فرمائے۔ آمین!

جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام کی آمد پہلی صدی ہجری ہی میں ہو گئی تھی۔ محمد بن قاسم دورِ اموی (۴۰ - ۱۳۲ئ) ہی کی یادگار تھے۔ غزنوی، غوری اور خلجی ادوار میں صوفیاے کرام نے دعوت و تبلیغ کی شمع روشن کیے رکھی، جن کی کوششوں سے ہزاروں افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ سولھویں صدی عیسوی (۹۳۱ھ) میں مغلیہ دور بادشاہت کا آغاز ہوا، لیکن اپنی اٹھان کے ساتھ ہی دین الٰہی کے فتنے سے دوچار ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس فتنے کے مقابلے کے لیے ایک ہستی کا انتخاب کیا، جو تاریخ میں مجدد الف ثانی ؒ (۱۵۶۴ء - ۱۶۲۴ئ) کے نام سے مشہور ہے۔ اگر اس فتنے کا بروقت مقابلہ نہ کیا جاتا تو آج اس علاقے کے مسلمانوں کی شاید یہ صورت بھی نہ ہوتی اور وہ اپنے تشخص سے کلی طور پر محروم ہوجاتے۔ مجدد صاحب کے انتقال کے لگ بھگ ۸۰ سال بعد مغلیہ سلطنت کے دورِ زوال میں، کمال حاصل کرنے والی ایک اور ہستی منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئی اور یہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (۱۷۰۳ء - ۱۷۶۳ئ) کی ذاتِ گرامی تھی۔

شاہ ولی ؒاللہ ۱۷۰۳ء میں پیدا ہوئے اور ان کے ٹھیک ۲۰۰سال بعد ۱۹۰۳ء میں‘ آج سے ٹھیک ۱۰۰ سال پہلے اللہ تعالیٰ نے ایک اور ہستی کا انتخاب کیا، جس سے نئی دنیا اور نئے حالات میں تجدید و اقامت دین کا ایک منفرد کارنامہ مطلوب تھا۔ یہ سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒکی ذاتِ والا صفات تھی۔

مجددین کی تاریخ اور ان کے عظیم الشان کارناموں پر نظر ڈالیے۔ معلوم ہوگا کہ اپنے اپنے دور کے حالات اور تقاضوں کے مطابق انھیں راہ عمل اختیار کرنا پڑی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ بن مروان بن حکم (۱۰۱ھ) کے پیشِ نظر اموی خلافت کی اصلاح تھی۔ ان سے پہلے خلافت کو ملوکیت سے بچانے کے لیے بعض متدین ہستیوں نے سیاسی محاذ پر اپنی جدوجہد جاری و ساری رکھی، جن میں امام حسینؓ (۶۱ھ)، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ (۷۳ھ) حضرت زید بن علی بن امام حسین بن علیؓ (۱۲۲ھ) اور حضرت محمدبن عبداللہ بن حسن بن امام حسن بن علی (۱۴۵ھ) المعروف بالنفس الزکیہ کے نام نامی قابلِ ذکر ہیں۔

  •  امام ابوحنیفہؒ (۱۵۰ھ) کے پیشِ نظر سوادِ اعظم اور سبیل المومنین سے ہٹ کر انتہا پسندانہ نظریات قائم کرنے والوں کے عقائد کی اصلاح اور ہٹ دھرموں کی ضد سے امت کو بچانا مقصود تھا، جسے فقہ الاکبر کا نام دیا گیا۔ اس زمانے کا عراق فتنوں اور شورشوں کا مرکز تھا۔ جہمیہ، قدریہ، جبریہ، خوارج، روافض، مرجہ ‘کن کن کا سدباب مطلوب نہ تھا۔
  •  امام مالکؒ (۱۷۹ھ) اور امام احمد بن حنبلؒ (۲۴۱ھ) عباسی خلافت کی بے اعتدالیوں کے مقابلے میں سینہ سپر رہے، تکلیفیں اور اذیتیں برداشت کیں۔
  •  امام شافعیؒ (۲۰۴ھ) کا مقابلہ نام نہاد ’عقل پرستوں‘ سے تھا، وہ دفاعِ سنت کے لیے اٹھے اور ناصرالسنہ کہلائے۔
  •  امام احمدؒ (۲۴۱ھ) کے زمانے تک معتزلہ، عباسی حکومت میں گہرا اثر و رسوخ حاصل کر چکے تھے۔ خلقِ قرآن کا فتنہ ان کی خام عقلیت ہی کا شاہکار تھا۔
  • اعتزال کے تابوت میں آخری اور پائے دار کیل ٹھونکنے اور امتِ مسلمہ کو سنت کی شاہراہ پر استوار رکھنے کا رنامہ محدثین کے حصے میں آیا۔ یہ بلند پایہ ہستیاں امام بخاریؒ (۲۵۶ھ)، امام مسلمؒ (۲۶۱ھ)، امام احمدؒ (۲۴۱ھ) ، امام اسحٰق بن راہویہؒ (۲۳۸ھ)، امام دارمیؒ (۲۵۵ھ)، امام ابن ماجہؒ (۲۷۳ھ)، امام ابودائودؒ (۲۷۵ھ)، امام ترمذیؒ (۲۷۹ھ)، امام نسائی  ؒ(۳۰۳ھ)، امام ابن خزیمہؒ (۳۱۱ھ)، اما م طبری ؒ(۳۱۰ھ)، امام دار قطنیؒ (۳۸۵ھ)، امام طبرانی ؒ (۳۶۰ھ)، امام بیہقیؒ (۴۵۸ھ) اور خطیب بغدادیؒ (۴۶۳ھ) وغیرہ کی ہیں۔
  •  امام غزالی ؒ (۵۰۵ھ) کا بنیادی کام یونانی فلسفے کا ابطال، قوانین اخلاق کی وسیع پیمانے پر تہذیب و اشاعت اور اجتہاد کے دروازے کو دوبارہ کھولنا تھا، جو چوتھی صدی ہجری کے بعد تقلیدِ شخصی کی پابندیوں کے غوغاے رستا خیز کی نذر ہو چکا تھا۔
  • امام ابن تیمیہؒ (۷۲۸ھ) کا دور: فتنۂ تاتار، عقیدہ وحدۃالوجود، منصوریت اور باطنیت سے عبارت تھا۔ امام صاحب نے اپنے نقلی اور عقلی دلائل سے ایک ایک فتنے کا ابطال کیا۔ قرآن و سنت پر ان کی نظر زیادہ عمیق تھی۔ امام تیمیہؒ بنیادی طور پر حنبلی تھے، لیکن کتاب وسنت پر کامل عبور اور خدا داد تفقہ اور شعور نے انھیں مجتہد مطلق کے مقام پر فائز کر دیا۔ یہ نہ صرف عالم تھے بلکہ راہِ حق میں سخت قربانیاں دینے کے لیے ہر دم تیار مجاہد بھی تھے۔
  •  حافظ ابن حجر ؒعسقلانی (۸۵۲ھ) نے علم حدیث کے میدان میں وہ عظیم الشان علمی سرمایہ چھوڑ ا کہ بالاتفاق امیر المومنین فی الحدیث کہلائے۔
  •  جلال الدین السیوطیؒ (۹۱۱ھ) نے تمام علوم و فنون پر بنیادی کتابیں تصنیف کیں۔

غرض یہ کہ تشریح، تفہیم ‘تعبیر اور تحقیق کا یہ سلسلہ جاری رہا اور ان شاء اﷲ جاری رہے گا۔

شاہ ولی ؒاللہ صاحب کی ولادت کے تین سال بعد ہی اورنگ زیب عالم گیر کا ۱۷۰۷ء میں انتقال ہوگیا۔ شاہ صاحب نے مغلیہ دور کی یہ سات حکومتیں دیکھیں: ۱- بہادر شاہ اول، جو شیعہ ہو چکے تھے۔ ۲- جہاندار شاہ، ۳- فرخ سیئر، ۴۔ محمد شاہ رنگیلے کا ۲۹ سالہ دور، ۵۔ احمد شاہ، ۶- عالم گیر ثانی اور، ۷۔شاہ عالم ثانی کا دور۔

برعظیم پاک و ہند کے مسلمان، شاہ ولی ؒاللہ صاحب کے احسانات سے سبکدوش نہیں ہوسکتے۔ آپ کی عالی ظرفی، آپ کا سیاسی شعور‘ احکام شریعت کی حکمتوں پر آپ کی نظر، مغلیہ دور کی خرابیوں کا تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ، علم حدیث سے بے پناہ شغف، فقہی مسائل میں اقرب الی الکتاب والسنہ کی جستجو، غرض بے پناہ پہلو ہیں، جن کی وجہ سے آپ بجا طور ’امام الہند‘ کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔ شاہ صاحب کا انتقال ۱۷۶۳ء میں ہوا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ولادت (۱۹۰۳ئ) تک یہ عرصہ ۱۴۰ سالوں پر محیط ہے۔

مولانا مودودیؒ کے کارناموں کا جائزہ لینے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہو گا کہ ان ۱۴۰ سالوں میں مسلمان کس قسم کے حالات سے دوچار ہوتے رہے؟ اس اثنا میں کون سے اہم لوگ پیدا ہوئے؟ کون سی تحریکیں برپا ہوئیں اور کون سے رجحانات مسلم فکر پر اپنے اثرات مرتب کرتے رہے؟

۱۷۶۴ء میں مسلمانوں نے انگریزوں سے شکست کھا کر معاہدہ کر لیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا   اثر و رسوخ روز بروز بڑھتا گیا۔ اکبر شاہ ثانی کا ۳۱ سالہ دور حکومت اور ان کے فرزند ارجمند بہادر شاہ ظفر کا ۲۰سالہ دور عملاً انگریزوں کی عمل داری سے عبارت ہے۔ ۱۸۵۷ء میں یہ رہی سہی حکومت بھی جاتی رہی اور تاجِ برطانیہ کو مکمل بالادستی حاصل ہو گئی اور اس کا ’وائس رائے‘ نظام حکومت چلانے لگا۔ ۱۸۵۸ء سے ۱۹۴۷ء کا یہ پُر آشوب ۹۰ سالہ دور اپنے اندر فتح و شکست، سپردگی و استقامت، محکومیت اور بیرونی تسلط کے خلاف جدوجہد کی ایک عظیم تاریخ رکھتا ہے۔ ۱۸۵۷ء کے سانحے کے بعد، مسلمانوں کی قیادت نے نئے حالات میں مقابلے کے لیے نئی حکمت عملی وضع کی۔ اس سے پہلے ۱۸۳۱ء میں سید احمد شہیدؒ بریلوی اور شاہ اسمٰعیل شہیدؒ کی تحریک بھی سکھوں کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہو چکی تھی۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے ٹھیک نو سال بعد ۱۸۶۶ء میں دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا اور اس کے ٹھیک ۹سال بعد ۱۸۷۵ء میں علی گڑھ کے اداروں کی بنیاد پڑی جو آگے چل کر یونی ورسٹی میں تبدیل ہو گئی۔

یہی وہ زمانہ تھا جب اشتراکیت کے نظریات دنیا میں بڑی تیزی سے پھیل رہے تھے۔ ۱۸۸۳ء میں کارل مارکس کا انتقال ہوگیا۔ لیکن اگلے ۶۰‘۷۰ سال میں اس تحریک نے عالمی اثرات مرتب کیے اور مسلمانوں کی فکر بھی اس کے مضر اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکی۔

سرسید احمد خان کے جذبۂ تعمیر ملت کو سب نے سراہا، لیکن جب انھوں نے انیسویں صدی کے بعض خام سائنسی نظریات کی بنیاد پر صحیح اسناد پر مشتمل احادیث کا انکار کیا اور جنات اور ملائکہ کی  من مانی تاویل و تفسیر بیان کی تو علماے حق کی طرف سے ان کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ سائنس اور جدید علوم سے مرعوبیت کی یہ ایک واضح علامت تھی۔

۱۸۹۴ء میں دارالعلوم ندوۃالعلما کا قیام عمل میں آیا۔ شبلی نعمانی  ؒاس کے روح رواں تھے۔ وہ علی گڑھ سے مایوس ہو کر اعظم گڑھ آ چکے تھے۔ شبلی نے تصنیف وتالیف و تحقیق کا نہ صرف خود اعلیٰ معیار قائم کیا، بلکہ لائق شاگردوں کی ایک کھیپ تیار کر دی۔ دارالمصنفین کی کتابوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کو اسلاف کے کارناموں سے روشناس کرایا۔ چنانچہ  سیرت البنیؐ، سیرت الصحابہ، سیرت الصحابیات، سیرت التابعین، سیرت الفقہا ، سیرت المحدثینوغیرہ  تصنیف کی گئیں۔ ان کتابوں نے لوگوں کو صحابہ کرامؓ اور تابعین کے ابتدائی جذبوں کو سمجھنے اور بدعتوں سے دور رہنے کا پختہ سبق دیا۔

مولانا مودودی ؒنے ۷۶ سال کی عمر پائی اور ۱۹۷۹ء میں انتقال فرمایا۔ ان کی زندگی کو دو بڑے ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ۱۹۰۳ء سے ۱۹۴۷ء کا ۴۴ سالہ دور‘ جو قیام پاکستان سے پہلے کے زمانے پر مشتمل ہے‘ اور ۱۹۴۷ء سے ۱۹۷۹ء کا ۳۷ سالہ دور جو قیام پاکستان کے بعد کے زمانے پر محیط ہے۔ پہلے دور میں انھوں نے علمی اور فکری محاذ پر زبردست جہاد کیا اور دوسرے دور میں علمی اور فکری میدان کے علاوہ عملی اور سیاسی میدان میں استقامت کے بلند مینار تعمیر کیے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ انھیں قادیانی مسئلہ کی تصنیف پر موت کی سزا سنائی گئی، جس پر بوجوہ عمل در آمد نہ ہوسکا۔ انھیں اپنے مبنی برحق ہونے، رب سے ملاقات کرنے اور اس کی مرضی پر کامل شرح صدر تھا۔ شاعر نے یوں ہی نہیں کہہ دیا   ع

سزاے موت سن کر بھی نہ پیشانی پہ بل آیا

مولانا مودودیؒ کی فکر کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے تاریخِ اسلام، تاریخ تجدید، تاریخ اجتہاد اور تاریخ علوم اسلامی کے علاوہ اٹھارھویں‘ انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی کے دوران دنیا میں برپا ہونے والی دیگر تحریکوں کا مطالعہ ضروری ہوگا۔ فرانسیسی انقلاب کے بعد کے یورپ اور نئی دنیا (امریکہ) کی آبادکاری اور اس کی مادی ترقی اور اس کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے قیام اور پھر اس کے بعد مارکس اور اینگلز کے نظریات پر مبنی اشتراکی حکومتوں کی تاسیس، سیکولرزم، لبرلزم اور مالتھس کے نظریات کی روشنی میں تحدید نسل (Birth Control) کی تحریک اور عالمِ اسلام پر مغربی استعمار کے نتیجے میں اس کے مضراثرات کا جائزہ لیے بغیر مولانا کو پوری طرح سمجھنا دشوار ہو گا۔

بڑی شخصیتیں روزروز نہیں پیدا ہوتیں۔ مولانا کی بعض کتابوں کے انگریزی تراجم کا دیباچہ خود مولانا نے راست انگریزی میں لکھا ہے، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انگریزی تحریر کا ملکہ بھی انھیں حاصل تھا۔ خداداد ذہانت اور سخت محنت اور مسلسل جستجو نے ابوالاعلیٰ کو امامِ وقت بنا دیا۔

مولانا عبدالغفار حسن صاحب نے خود مجھے بتایا کہ مولانا مودودی کی اسیری کے بعد جب انھیں قائم مقام امیر مقرر کیا گیا تھا، انھوں نے مولانا کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد ان کے میز کی دراز کھولی تو اس میں ایک مسودہ دیکھا۔ یہ سنن ابی داؤد کے مضامین کا اشاریہ (انڈکس) تھا، جس میں نہ جانے مولانا کو کتنا عرصہ لگا تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ آج تک ایسی قیمتی چیزکی اشاعت کا مرحلہ نہیں آیا۔

مولانا مودودیؒ نہ صرف ذہین ہیں، بلکہ جفاکش بھی ہیں۔ ذہین لوگوں کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ نسبتاً کام چور ہوتے ہیں، لیکن جہاں ذہانت اور جفاکشی کا امتزاج ہو جائے، وہاں نورٌ علٰی نورکی کیفیت ہوتی ہے۔ مولانا مودودیؒ کا کام نہ صرف انسائیکلوپیڈیائی قسم کا ہے، بلکہ قریباً ہر میدان میں وہ بلندیوں کو چھوتے نظر آتے ہیں۔ وہ مفسر ہیں، حدیث میں ان کی نگاہ عمیق ہے۔ متکلم ہیں، داعی اور مبلغ ہیں۔ مصلح ہیں، گہرا سماجی، سیاسی اور معاشی شعور رکھتے ہیں۔ وہ تجدید کے قائل ہیں، تجدد کے نہیں۔ وہ فقیہ ہیں، ان کی عقل، وحی پر مشتمل علم کی تابع ہے۔ ان کی تحریروں میں امام شافعیؒ کی طرح استدلال کی قوت ہوتی ہے، لیکن اعتزال کے عیب سے پاک ہے۔ وہ مؤرخ بھی ہیں اور مزکی بھی۔ مولانا مودودیؒ نے اصولوں اور کلیات میں کہیں مداہنت اور چشم پوشی کا مظاہر نہیں کیا ہے۔ ان کا شمار لاَ یَخَافُونَ لَوْ مَۃَ لاَ ئِمٍ میں ہے۔ وہ حق کے اظہار میں عوامی مقبولیت کے مجروح ہو جانے کی پروا تک نہیں کرتے تھے۔

مولانا مودودیؒ کی تحریروں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے قاری کو قرآن و سنت کی روشنی میں افراد، اشخاص، نظریات و رجحانات، اداروں اور تحریکوں کو جانچنے، پرکھنے اور تولنے کا تنقیدی شعور عطا کرتی ہیں۔ عقیدت اور احترام کا صحیح شعور فراہم کرتی ہیں۔ اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفاداری کو اولین اہمیت دینے کا سبق سکھاتی ہیں۔ بزرگ اور نیک انسانوں کے درجات کا صحیح تعین کرتی ہیں۔ قرآنی حکم لاتَغْلُوا فِی دِیْنِکُمْ کے مطابق، اسے غلو سے بچاتی ہیں۔ نہ صرف مقابر پرستی، بلکہ اکابر پرستی سے بھی محفوظ رکھتی ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی توحید بہت جامع ہے۔ ان کی تحریریں  توحید ذات، توحید اسماء و صفات، توحید ربوبیت، توحید الوہیت اور تکوینی توحید کے علاوہ توحید حاکمیت اور تشریعی توحید راسخ کرتی ہیں۔ شریعت کی مستقل، پائے دار اور ابدی تعلیمات کو نئے زمانے اور نئے حالات پر منطبق کرنے کا ہنر سکھاتی ہیں۔

  • تحریر میں ہم آہنگی:  مولانا مودودیؒ کی تحریروں کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان میں باہمی تناقض و تضاد کم سے کم پایا جاتا ہے۔ یہ دراصل اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ خود مصنف کے ذہن میں یہ بات کس حد تک واضح ہے۔ ایک بڑے عالم دین کی مثال پیش کرنا چاہوں گا، وہ جب بدعات کے خلاف لکھتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہندستان میں ابن تیمیہؒ کا قلم رواں ہو گیا ہے لیکن یہی بزرگ جب تصوف کی حمایت میں لکھتے تو ایک سے بڑھ کر ایک ضعیف حدیث لے آتے اور بعض اوقات خود اپنے لکھے ہوئے کے خلاف لکھ جاتے۔ یہ عیب ہر انسان میں ممکن ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کا کلام ہی اس سے پاک ہے:  لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِاللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًاo (النساء ۴:۸۲) ’’اگر قرآن کسی غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ لوگ اس میں بہت اختلاف پاتے‘‘۔

حالات کی تبدیلی اور خیالات کی تبدیلی سے بھی ابتدائی تحریروں سے آخری زمانے کی تحریر مختلف ہو جاتی ہے۔ مولانا مودودی ؒکے ہا ں اس قسم کی چیزیں کم، بہت ہی کم ہیں اور بنیادی اصولوں میں تو بالکل نہیں ہیں، البتہ حکمت عملی میں ہیں جو ہر گز عیوب میں شمار نہیں کی جاسکتیں۔

  • مولانا مودودیؒ کا ترجمۂ قرآن: مولانا مودودیؒ کی ایک شاہکار چیز ان کا ترجمہ ہے، جسے وہ ’ترجمانی‘ کا نام دیتے ہیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی ؒنے بھی بعد میں یہی انداز ِ ترجمانی اختیار کیا ہے۔ دونوں ترجموں کا مقابلہ کر کے دیکھ لیجیے، کئی باتیں مشترک ملیں گی۔ دونوں نظم کا خیال رکھتے ہیں۔ دونوں پیراگراف کی تقسیم کے قائل ہیں۔ دونوں محذوفات کو (قوسین میں یا بلاقوسین  علی الترتیب) کھولتے ہیں۔ سلاست اور روانی میں مولانا مودودیؒ فائق ہیں‘ جب کہ مولانا اصلاحیؒ بعض اوقات عربی اور فارسی کے بعض غیر مانوس الفاظ استعمال کر جاتے ہیں۔

علماے ادب نے واؤ (و) کی مختلف قسمیں بیان کی ہیں، جیسے عطفیہ، استنافیہ، قسمیہ، حالیہ، زائدہ براے تاکید، بمعنی فاے تعقیب وغیرہ وغیرہ۔ میں نے تفہیم القرآن میں حرف وائو (و) کے ترجمے کا جائزہ لیا تو کھلا کہ مولانا مودودی ؒنے سیاق و سباق کو ملحوظ رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل مختلف ترجمے کیے ہیں:

اور، مگر، جب کہ، حالانکہ، درانحالیکہ، رہا، رہی، رہے، بھی، اور پھر، جو، یا، ہی اور جو، لیکن، نیز، اس لیے کہ، البتہ، ورنہ، دوسری طرف، آخرِکار، اسی طرح۔

اس طرح بعض اوقات ’واؤ‘کے ترجمے کو حذف کر دیا ہے، ورنہ عبارت سلیس نہ رہتی‘ جیسے: وکلوا وشربواکا ترجمہ کھائو پیو۔ جو لوگ بلاغت زبان کا ذوق رکھتے ہیں وہ ہر گزبے مزہ نہ ہوں گے اگر ان دو ترجموں کا تقابلی جائزہ لیتے رہیں گے۔ ترجمہ کرنے والوں کے لیے بھی ان دونوں ترجموں میں بہت کچھ رہنمائی ہے      ؎

دردِ سر ہوتا ہے‘ بے رنگ نہ فریاد کریں

بلبلیں مجھ سے گلستان کا سبق یاد کریں

مولانا مودودیؒ کے اس ترجمے نے برعظیم کے مسلمانوں کو خالق کائنات اور اس کے کلام سے جوڑنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ سورۃ الممتحنہ کی پہلی آیت کے ترجمے پر غور کیجیے۔ مولانا نے عربی ترتیب کو اردو ترتیب میں یکسر بدل دیا، ورنہ اردو میں تعقید پیدا ہو جاتی۔  اِنْ کُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِھَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَابْتِغَآئَ مَرْضَاتِیْ کے ترجمے کو پہلے رکھ دیا، جس کی وجہ سے اردو داں آدمی کے لیے مضمون پانی ہو گیا۔

  • تفہیم القرآن: چھ جلدوں پر مشتمل اس تفسیر کی پہلی دو جلدوں میں بہت زیادہ اختصار پایا جاتا ہے اور تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ البتہ تیسری جلد سے یہ اپنی اصل اٹھان کی طرف مائل بہ پرواز ہے‘ جس کا تسلسل آخر تک قائم ہے۔ مولانا ہمیشہ خود کو طالب علم سمجھتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھٹی جلد بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ مسافرِ قلم تھکا نہیں، اس کا ذوق و شوق اور اس کا جذبۂ صادق بڑھتا ہی گیا۔

ہر سورہ کی تفسیر سے پہلے، زمانۂ نزول کے بارے میں تحقیق ملتی ہے، پھر ہر سورہ کے موضوع اورمضمون کی وضاحت۔ مولانا مودودیؒ سورتوں کی تمہید صحیح اور مستند تاریخی واقعات سے اس طرح بیان کرتے ہیں، کہ اس کے مطالعے کے بعد سورہ کو سمجھنا مشکل نہیں رہتا۔

مولانا کو اوائل عمری ہی سے مناسبتِ علم حدیث رہی ہے۔ مولانا اشفاق الرحمن کاندھلوی سے جامع ترمذی اور موطا امام مالک کی سند حاصل کی، چنانچہ ساری تفسیر مستند احادیث سے مزین ہے۔ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کوئی ضعیف یا موضوع حدیث نادانستہ در آئی ہو۔ عبدالوکیل علوی صاحب نے ان تمام احادیث کی تخریج کر کے تفہیم الاحادیث کے نام سے آٹھ جلدوں میں مرتب کر دیا ہے۔

احکام میں بلاتعصب چاروں فقہی مذاہب کی تفصیلات درج کرتے ہیں۔  ہدایہ، المَدَّونہ، الرّسالۃ، کتاب الام، المغنی، بدائع الصنائع، المحلیّٰ، المنہاج، الفقہ علی المذاہب الاربعہ وغیرہ سے فتاویٰ نقل کرتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ قاری مختلف مذاہب کے درمیان اصول میں اتحاد اور فروع میں اختلاف رائے کے ساتھ باہمی رواداری اور یکجہتی کا سبق سیکھتا ہے۔

تفہیم القرآن جدید ذہن کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتی ہے۔ زبان بہت شستہ اور رواں ہے۔ دلّی کا محاورہ ‘انگریزی کے اُن الفاظ کے ساتھ مل کر (جواب اردو میں شامل ہو گئے ہیں) عجیب لطف پیدا کرتا ہے۔

اس تفسیر میں بیسویں صدی کے تمام فتنوں کا رد موجود ہے، جن کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ مولانا کی تنقید بہت سخت ہوتی ہے، لیکن زبان شائستہ۔ ’آپ‘ سے نیچے نہیں آتے۔ اہلِ تشیع کے عقائد پر بہت ہی لطیف انداز میں سوالات اٹھا تے ہیں۔

مولانا مودودیؒ نے قرآنی قصص کی وضاحت کے لیے یہ مناسب سمجھا کہ بنظرِ خویش ارضِ قرآن کا مشاہدہ کیا جائے۔ چنانچہ ان سے متعلق نہایت مفید نقشے اور فوٹو فراہم کیے گئے ہیں۔ غزوات نبویؐ کے نقشہ جات سے سیرت البنیؐ کے بعض واقعات کا منظر آنکھوں میں سمٹ آتا ہے۔

یہ تفسیر‘ دین کا کلی تصور پیش کرتی ہے۔ فلسفۂ اقتصادیات و عمرانیات کے حوالے سے     عدلِ اجتماعی کا جامع تصور۔

اس تفسیر کی سب سے اہم خصوصیت اس کا دعوتی مزاج ہے۔ قوانین شریعت کی حکمتوں کو کھول کر جدید تعلیم یافتہ طبقے کو اسلام کی حقانیت کا قائل کرتی ہے۔ قرآن و حدیث پر کامل ایمان و ایقان کے ساتھ قاری کو اس دور میں ایک جدید فلاحی اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے سرگرم عمل کرنے کے لیے ابھارتی ہے۔

اس تفسیر کی ایک اہم خصوصیت اس کا انڈکس  (اشاریہ) ہے۔ دین کے ایک ابتدائی  طالب علم کے لیے یہ’ فہرست مضامین‘ نہایت مفید ہے۔ اس کو دیکھ کر اور اس کے ذریعے، تفسیر اور آیاتِ قرآنی کی طرف رجوع کر کے وہ بہت ساری ان غلط فہمیوں کو دور کر سکتے ہیں، جو اس فتنہ پرور دور نے ہمارے ذہن میں پیدا کی ہیں۔ علومِ قرآن سے دل چسپی رکھنے والا ہمارا جدید تعلیم یافتہ طبقہ، جو مشکل عربی الفاظ اور پرانی عبارتوں سے نابلد ہوتا ہے، اس کے لیے تفہیم القرآن پہلی سیڑھی ہے، اس کے مطالعے کے بعد دیگر تفاسیر کا مطالعہ آسان ہو جاتا ہے۔

  • قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: مولانا مودودیؒ کی ہر کتاب اپنی جگہ  لاجواب ہوتی ہے۔ قاری کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان کی بہترین کتاب کون سی ہے؟  تفہیم القرآن میں تفصیل ہے اور اس کتاب میں ایجاز و اختصار۔ لیکن یہ وہ اہم کتاب ہے، جو قرآن فہمی کے لیے ایک بنیا د کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ ہر زبان میں ’لفظ‘ ایک سے زیادہ مفہومات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔  رب، الٰہ، عبادت اور  دین کے الفاظ بھی عربی زبان میں مختلف معنوں میں مستعمل ہیں۔ مولانا نے لسان العرب وغیرہ سے  پہلے الفاظ کی لغوی تحقیق درج کی ہے، پھر ایک ایک لفظ کے مختلف مقامات پر سیاق وسباق کی روشنی میں مخصوص مفہوم کا تعین کیا ہے۔

میں نے یہ کتاب پڑھی ہے اور بار بار پڑھی ہے بلکہ کئی مرتبہ پڑھانے کی کوشش کی ہے۔ مجھ پر ہر مرتبہ نئے آفاق کا انکشاف ہوتا رہا ہے۔ مجھے جانے پہچانے راستوں میں بھی حیرتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور نہ جانے مستقبل میں کتنے اور نئے مناظر دیکھنے کو ملیں۔ ہر مرتبہ میرے دل سے مولانا مودودیؒ کے لیے دعائیں نکلی ہیں۔ انھوں نے کلامِ الٰہی میں اترنے کے لیے ہمارے سامنے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔

مولانا مودودی ؒکے بعض معاصر علما نے اس کتاب کی بعض عبارتوں پر یہ اعتراض وارد کیا ہے کہ اس سے تَعَلّیِ کا پہلو نکلتا ہے کہ قرآن کو بس انھوں ہی نے سمجھا ہے‘ کسی اور نے نہیں۔ مولانا بھی انسان ہی تھے، نبیِ معصوم نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی مغفرت فرمائے، اور اعلیٰ درجات عطا فرمائے‘ لیکن مقامِ شکر ہے کہ الحمدللہ کسی عالم نے بھی یہ ثابت نہیں کیا کہ ان الفاظ کے جو مختلف مفہوم، مولانا مودودیؒ نے عربی لغت اور عربی محاورے کے مطابق بیان کیے ہیں، وہ صحیح نہیں ہیں۔ ایک بزرگ نے لکھا کہ سورۃ الزخرف کی آیت:  ھُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآئِ اِلٰـہٌ وَّفِی الْاَرْضِ اِلٰہٌ ط (۴۳:۸۴)کا جو مفہوم مولانا نے بیان کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے لیکن مقامِ حیرت ہے کہ ان محترم ناقد نے دوسرا متبادل مفہوم بھی نہیں بیان کیا، جو ان کے نزدیک صحیح ہے۔ مولانا سید سلیمان ندویؒ نے سیرت النبیؐ کی آخری جلد میں، مولانا مودودیؒ کے برآمد کردہ مفہوم کی تائید کی ہے اگرچہ وہاں مولانا مودودیؒ کا حوالہ موجود نہیں ہے۔ یہ تواردِ تعبیر ہے۔

اس کتاب کی افادیت اور بڑھ جائے گی اگر کوئی صاحب علم اس کی شرح لکھیں۔ ذیلی عنوانات قائم کریں۔ قوسین میں جا بجا انگریزی مترادفات درج کرتے جائیں اور مزید مثالوں کا اضافہ کریں تاکہ درمیانی درجے کے قارئین بھی اس سے استفادہ کر سکیں‘ بالخصوص جدید تعلیم یافتہ طبقہ۔

دینی مدارس میں دورۂ تفسیر سے پہلے، امام ابن تیمیہؒ کا  مقدمہ التفسیر‘ حضرت شاہ ولی ؒ اللہ کی الفوزالکبیر اور مولانا مودودیؒ کی  قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں، ان تینوں کتابوں کو سبقاً سبقاً پڑھایا جانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مولانا حمیدالدین فراہیؒ کے بعض رسائل بھی تفسیر کا طالب علم پڑھ لے تو تعبیر کے چاروں اسکولوں کا احاطہ ہو جائے گا اور وہ بہتر انداز میں قرآن کو سمجھنے کے قابل ہو جائے گا۔

  • تجدید واحیاے دین: مولانا نے ۱۹۳۹ء میں‘ جب کہ وہ صرف ۳۶ سال کے تھے، یہ معرکہ آرا کتاب لکھی۔ یہ تاریخِ دعوت و عزیمت اور تاریخ اصلاح و تجدید کی مختصر ترین روداد ہے۔  کم سے کم لفظوں میں ۱۲‘ ۱۳ صدیوں کی تاریخ بیان کر کے تبصرہ کرنا دیدۂ بینا ہی سے ممکن ہے بچوں کا کھیل نہیں۔ جماعت اسلامی کا قیام اس کی اشاعت کے دو سال بعد ہوا۔ یہ مضامین قبل ازیں ایک موقر رسالے الفرقان میں شائع ہو چکے تھے ۔

امام غزالی   ؒکے تجدیدی کارناموں کی تفصیل اور بعض امور پر نقد ایک عجیب و غریب چیز ہے۔ احیاء العلوم کی احادیث پر کلام کرنا ۳۰ کے عشرے میں انتہائی جرأت مندانہ بات تھی۔ مشہور محدث محمد ناصرالدین البانی  ؒ نے اب اس اہم ترین کتاب کی احادیث کی تخریج کر دی ہے، جس نے بلاشبہہ اخلاقیات کی تعمیر و تشکیل میں چھٹی صدی سے ایک موثر کردار ادا کیا ہے۔

امام ابن تیمیہؒ کے کمالات سے اردوداں طبقے کو روشناس کرانے کا سہرا بھی مولانا مودودی ؒہی کے سرہے۔ علامہ شبلی نعمانی  ؒ تک امام ابن تیمیہؒ کی کتابوں کی رسائی اخیر عمر میں ہوئی، جس کا اعتراف انھوں نے اپنے خطوط میں کیا ہے۔ امام ابن تیمیہؒ علم کا سمندر ہیں۔ ایک حلقے نے ان کی بعض تصانیف کا ترجمہ کر کے شائع کیا ہے، لیکن ابھی بہت سے گوشوں سے برعظیم کا عام قاری لاعلم ہے۔ مولانا گوہر رحمنؒ نے اپنی دو آخری تصانیف علوم القرآن (اول و دوم) اور تقلید و اجتہاد میں ان سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔

تجدید و احیاے دین اسلامی تحریکوں کو اپنی سرگرمیوں اور اپنی حکمت عملی کا بار بار جائزہ لینے اور اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر نظر ڈالنے اور اعتدال و توازن کی شاہراہ سے ہٹ جانے کے اندیشوں کے بارے میں ہمیشہ رہنمائی فراہم کرتی رہے گی۔ اسلامی خلافت، دراصل اقتدار اور تقویٰ کے امتزاج کا نام ہے۔ ان دونوں کے درمیان جب بھی افتراق ہو گا، دنیاوی (یعنی سیکولر) سیاست اور تصوف کے انتہا پسندانہ رجحانات جنم لیتے رہیں گے۔

  • مولانا مودودیؒ کے تجدیدی کام کا دائرہ: مولانا مودودیؒ کے تجدیدی کام کے بے شمار پہلو ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ یہاں ۱۳ اہم امور پر مختصر اًروشنی ڈالی جائے۔

۱-  فتنہ قومیت کا مقابلہ: بیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں یہ فتنہ اٹھا اور علما کی صف سے اٹھا۔ اقبال بھی تڑپ تڑپ گئے۔ انھیں مجبوراً نہ صرف لکھنا پڑا، بلکہ شائع بھی کرنا پڑا   ؎

ان تازہ خدائوں میں نیا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

کہا جا رہا تھا، موجودہ زمانے میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ علامہ اقبال ؒ(۱۹۳۸ئ) کی شاعری کو بیسویں صدی کا علم کلام کہا گیا ہے اور صحیح کہا گیا ہے۔ لیکن شاعرانہ رموز‘ تلمیحات اور کنایات پر مشتمل علم کلام سے ، استدلال کی قوت سے لیس تحریر اور قرآن و سنت کے نقلی دلائل کے علاوہ شعور عصر حاضر سے مزین عقل سلیم پر مبنی علم کلام یقینا مختلف ہے۔ یہ سعادت مولانا مودودیؒ کے حصے میں آئی۔ بلاشبہہ وہ بیسویں صدی کے عظیم متکلم ہیں۔

۲-  فتنۂ  انکار حدیث کا مقابلہ: منکرین حدیث ہر زمانے میں پائے گئے ہیں۔ مولانا مودودی ؒکے دور کے منکر حدیث، اصل میں اشتراکیت سے مرعوب تھے۔ مولانا نے ان کی کھوکھلی عمارت کو منہدم کرنے کے لیے سب سے پہلے بنیاد پر ضرب لگائی اور خود قرآن سے ثابت کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن کے علاوہ بھی وحی نازل ہوا کرتی تھی۔

اس کے بعد ان کے اہم ترین اعتراض : ’قرآن کی طرح سنت کتابی شکل میں محفوظ نہیں ہے‘ کا بہت ہی تفصیل سے جواب دیا کہ سنت ایک لمحے کے لیے بھی امت مسلمہ سے غائب نہیں ہوئی۔ صحابہ کرامؓ اس پر عامل رہے۔ اسے مختلف ممالک اور مختلف شہروں میں رائج کرتے رہے۔ قاضی اور مفتی اس کے مطابق فیصلے کرتے رہے۔ تابعین اور تبع تابعین اس کے ناقل، عامل اور مبلغ رہے۔ فقہا نے اس کی اساس پر قانون و فقہ کی تدوین کی اور محدثین نے ان گہرپاروں کو مختلف ملکوں‘ شہروں اور قبیلوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر کتابی شکل میں محفوظ کر دیا۔ پھر اس کے بعد یکے بعد دیگرے ان کے تمام جزوی اعتراضات کے مسکت جوابات دیے۔  سنت کی آئینی حیثیت اور  رسائل و مسائل میں اس موضوع پر مباحث کا بغور جائزہ لیجیے۔ آپ پر یہ بات روشن ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی کہ یہ کتنا عظیم کارنامہ ہے۔

۳-  فتنۂ قادیان کا مقابلہ: اس فتنے کے مقابلے میں بلاشبہہ ہزاروں علما نے بھی جرأت و استقامت سے جدوجہد کی۔ لیکن مولانا نے اپنے مخصوص استدلالی انداز میں اس فتنے کا تعاقب کیا۔

نبیِ کاذب اور ان کے خانوادے کی اخلاقی برائیوں اور پستیوں سے قطع نظر، مولانا نے اپنی توجہ صرف اس بات پر مرکوز کیے رکھی کہ کیا رسول ؐ کے بعد کوئی نبی یا رسول ہو سکتا ہے یا نہیں؟ سورۃالاحزاب کا ضمیمہ دیکھ لیجیے، ۱۴۰۰ سال کے علما‘ فقہا‘ محدثین و مفسرین کے اقوال نقل کر کے  قرآنی الفاظ خاتم النبیینکی تاویل و تعبیر پر اُمت ِمسلمہ کا اجماع ثابت کیا۔

علاوہ ازیں خود مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریروں کو نقل کر کے ثابت کیا کہ یہ کس درجے کی حامل ہیں اور کلام نبوت سے ایسے فرد کو کوئی علاقہ نہیں ہو سکتا۔ یہ بات سمجھنے میں آپ دشواری محسوس کریں تو ذرا اس موضوع پر لکھی جانے والی بے شمار تحریروں کا مطالعہ کیجیے اور پھر مولانا مودودیؒ کی تحریروں کو دیکھیے‘ آپ ہمارے موقف سے اختلاف کی گنجایش نہ پا سکیں گے۔

۴-  اسلام کی غیر معذرت خواہانہ تشریح: اللہ تعالیٰ جب کسی شخص سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے تو اس کے لیے ابتدا ہی میں ایسے اسباب فراہم کر دیتا ہے کہ وہ اپنی منزل کی طرف بآسانی گامزن ہو جائے۔

آج سے ۹۰- ۱۰۰ سال پہلے کے زمانے کو چشمِ تصور سے دیکھیے۔ تعلیم کے کیا مواقع حاصل تھے۔ ایک انتہائی ذہین و فہیم لڑکا جو عام لڑکوں سے بہت ممتاز ہے، کم وقت میں زیادہ سے زیادہ چیزیں پڑھ کر ہضم کر لینا چاہتا ہے۔ لائبریریوں کو دماغ میں اتار لینا چاہتا ہے۔ مسلسل آگے پڑھنا چاہتا ہے۔ مختلف علما سے مل کر خصوصی وقت حاصل کرتا ہے۔ صبح سویرے اٹھ کر ان کے گھر پہنچ جاتا ہے اور یکے بعد دیگرے ان سے کتب پڑھتا چلا جاتا ہے۔

۱۹۱۴ء میں اس لڑکے کی عمر صرف ۱۱ سال تھی، مولوی کا امتحان پاس کر لیتا ہے۔ انگریزی زبان سیکھنے کی لگن اسے مولوی محمد فاضل مرحوم کے پاس لے جاتی ہے۔ دلّی میں مولانا عبدالسلام نیازیؒ سے استفادے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ دینی علوم کے ساتھ ساتھ، تاریخ، ادب، سیاست، فلسفہ، تنقید، ثقافت وغیرہ وغیرہ کتنے ہی علوم ہیں، جنھیں وہ پانی کی طرح پی جانا چاہتا ہے۔

الجہاد فی الاسلام مولانا مودودیؒ کی پہلی کتاب ہے جو شائع تو ۱۹۲۷ء میں ہوئی جب مولانا صرف ۲۴ سال کے تھے لیکن ذرا اس کتاب کا پس منظر دیکھیے۔ وہ  گیتا، رامائن، مہابھارت وغیرہ اچھی طرح پڑھ چکے تھے۔  بائیبل اور تلمود کا مطالعہ ہو چکا تھا۔ مولانا اشفاق الرحمن کاندھلوی کے ہاں جامع ترمذی اور موطا امام مالک کے درس کا سلسلہ جاری و ساری تھا۔

۱۹۲۳ء میں۱۹ سال کی عمر میں یہ نوجوان جمعیت علماے ہند کے اخبار الجمیعۃ کا مدیر بنادیا جاتا ہے۔ کیا ۱۸‘۱۹ برس کا نو عمر لڑکا، اتنے بڑے علما کے اخبار میں کسی حادثے کے نتیجے میں مدیر بن گیا تھا؟ ایسا حادثہ تو دو چار ماہ کے لیے گوارا کیا جا سکتا ہے، تین چار سال تک یہ ذمہ داری دینا ناممکن بات ہے۔ یہ نوجوان پہلی جنگ عظیم کی ہولناکیوں سے بخوبی واقف ہے۔ شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی تحریک ریشمی رومال اور مولانا محمد علی جوہرؒ اور تحریک خلافت کے نشیب و فراز سے پوری طرح آگاہ ہے۔ ۱۹۲۶ء میں ۲۳ سال کی عمر میں دارالعلوم فتح پور دہلی سے سندِ فراغت حاصل کر لیتا ہے۔

ذرا  الجہاد فی الاسلام کے اوراق پر نظر ڈالیے اور دیکھیے کہ یہ نوجوان قرآن سے کیسے استدلال کرتا ہے، فضائل و ترغیب کے علاوہ فرضیت و مشروعیت کے لیے کیسے مستند احادیث نقل کرتا چلاجاتا ہے؟ دوسرے مذاہب سے قانونِ صلح و جنگ کے اقوال کس طرح نقل کرتا ہے۔ لیکن یہ نوجوان ایک جگہ بھی اسلام پر شرمندہ نہیں ہے، نہ قرآن سے شرمندہ، نہ احادیث سے شرمندہ‘ بلکہ وہ اسلام کو من و عن پیش کرتا ہے، غیر معذرت خواہانہ انداز میں - اور پھر بتاتا ہے کہ جہاد، انسانیت کے لیے رحمت ہے، شرپسندوں کی سرکوبی اور عدلِ اجتماعی کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔ اللہ کے نبیوں، رسولوں اور رباَّنِیُّون کی سنت ہے۔

یہ ابتدائی عزم، یہ حوصلہ، یہ جرأت، یہ بے خوفی اور یہ غیر معذرتی انداز، اللہ کے فضل و کرم سے آخری سانس تک قائم رہا۔ اس میں اضافہ ہی ہوتا رہا، کمی نہیں آئی۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی طرف سے اس عظیم خدمت کو قبول فرمائے۔  

۵-  اشتراکی فتنے کا مقابلہ: پچھلے مجدّدین کے ادوار میں یونانی فلسفے کا مقابلہ درپیش تھا۔ مولانا مودودیؒ کا دور استعماریت، اشتراکیت اور سرمایہ داری کا دور تھا۔ انیسویں صدی عیسوی میں اشتراکی نظریات منظر عام پر آئے۔ ۱۸۴۸ء میں  اشتراکی منشور منظور ہوا۔ ۱۸۸۳ء میں کارل مارکس جو ایک جرمن یہودی تھا انتقال کر گیا۔ لیکن اگلے ۶۰‘ ۷۰ سال میں انھی نظریات پر مبنی دوبڑی سلطنتیں معرض وجود میں آگئیں۔ ۱۹۱۷ء میں روس میں اشتراکی انقلاب برپا ہو۔ ۱۹۳۴ء میں چین کے اندر مائوزے تنگ نے ’طویل مارچ‘ کیا۔ ہندستان میں بھی اس تحریک نے جڑ پکڑی، جس کی تائید میں ناول لکھے گئے اور نظمیں تخلیق ہوئیں، ترانے گائے گئے اور ڈرامے سٹیج ہوئے۔ ۱۹۳۵ء میں سجاد ظہیر نے ’’ترقی پسند تحریک‘‘ کی بنیاد رکھی اور ۱۹۳۶ء میں ’’انجمن ترقی پسندمصنفین‘‘ کی پہلی کانفرنس منعقد ہوئی۔ ادیبوں اور شاعروں کے علاوہ اس سیلاب بلا خیز کی نذر علما بھی ہونے لگے۔ مولانا عبیداﷲ سندھی مرحوم و مغفور، شاہ ولی ؒ اللہ صاحب کا نام لے کر روس سے واپسی کے بعد  ہندستانی قومیت، اشتراکیت اور اسلام کا ملغوبہ بنا کر معجون ِ مرکب کی طرح پیش کرنے لگے۔ ایک اور

صاحب ِعلم کا خیال تھا کہ موجودہ زمانے میں اشتراکیت اور اسلام کے امتزاج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

علی گڑھ جیسی جگہ میں اس کے اثرات بہت تیزی سے پھیلے۔ اسلام اور اسلامی شعائر کا کھلے عام مذاق اڑایا جانے لگا۔ بعض علما بھی یہ سمجھنے لگے کہ: آخر اسلام کے اعتقادی تصورات اور نظام عبادت سے اشتراکیت کے اقتصادی تصورات کی کیا لڑائی ہے؟ مولانا مودودیؒ اس فتنے کے خلاف سینہ سپر ہوئے۔ قرآن کی معاشی تعلیمات پر مبنی کتاب لکھی۔ چن چن کر احادیث سے وضاحت کی کہ اسلام کا اپنا اقتصادی نظام ہے۔ اسلام شخصی ملکیت کا حق دیتا ہے اور حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انسان سے اس کی یہ آزادی چھین لے۔

۶-  سرمایہ داری اورسود کے فتنے کا خاتمہ: اشتراکیوں نے مولانا مودودی ؒکے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا۔ ان کا شمار ’’دائیں بازو‘‘ میں کیا۔ امریکہ کا ایجنٹ کہا گیا۔ لیکن اسلام کا یہ سپاہی نہ اشتراکیت کا اسیر تھا اور نہ سرمایہ داری کا پابند۔ وہ خالص اور ٹھیٹھ اسلام کا قائل تھا۔ وہ کہتا تھا کہ اسلام ایک مکمل خدائی نظام ہے، اور یہ کسی خارجی انسانی پیوندکاری کا محتاج نہیں۔ یہ وحی پر مشتمل تعلیمات پر قائم ہے۔ ان کی کتاب  سود کے مباحث کا جائزہ لیجیے، جو تقسیم ہند کے وقت لکھی گئی۔

آج دنیا میں جہاں کہیں غیر سودی بنک کاری کی بات ہو رہی ہے‘ اس ڈور کے سرے مولانا مودودیؒ سے مل جاتے ہیں۔ مولانا کی فکر سے متاثر افراد نے ان جیسے عزم و اعتماد کو اختیار کرتے ہوئے اس طاغوتی اقتصادی نظام کے خلاف علم جہاد بلند کیے رکھا‘ اور غیر سودی نظام کے قیام کے لیے بنک کاروں اور مسلم سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، پروفیسر خورشید احمد، ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا، اور ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی وغیرہ کانام بطور ہراول دستہ لیا جاسکتا ہے     ؎

گرمدعی حسد سے نہ دے داد، تو نہ دے

آتش غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا

۷-  اسلامی نظام تعلیم کے خدوخال کی وضاحت: نظام تعلیم کے حوالے سے بھی مولانا مودودیؒ کی فکر زیادہ گہری اور زیادہ عمیق ہے۔ وہ تمام اسلامی اور اقتصادی علوم کے علاوہ سائنسی علوم کو بھی اسلام میں رنگ دینا چاہتے ہیں۔ مولانا مودودی کی فکر، سرسید احمد خان کی فکر سے بہت مختلف ہے۔ پاکستان کا موجودہ نظام تعلیم اور نام نہاد ’اسلامی سکول‘ دراصل سرسید ہی کی فکر کی عملی تعبیر ہیں۔ سرسید کے تعلیمی ڈھانچے میں دینیات اور جدید علوم الگ الگ رہتے ہیں، ملتے نہیں۔ آیت قرآنی:  بَیْنَھُمَا بَرْزَخٌ لاَّ یَبْـغِـیٰنِ o ( الرحمٰن۵۵:۲۰)‘ کے مصداق یہ دو دریا ہیں، جن کے درمیان ایک آڑ ہے۔ دینیات کا پروفیسر سود کو حرام بتاتا ہے‘ اور معاشیات کا پروفیسر کہتا ہے کہ اس کے بغیر دنیا نہیں چل سکتی۔ اسلامیات کا استاد کہتا ہے تم آدمؑ کی اولاد ہو‘ اور حیاتیات (بیالوجی) کا استاد کہتا ہے کہ تم بندر سے ہو۔ اس تضاد تعلیم کی پروردہ نسل ذہنی انتشار اور افتراق کاشکار رہی ہے۔

مولانا مودودیؒ چاہتے تھے کہ سماجی علوم (سوشل ساینسز) اور طبیعی علوم (فزیکل ساینسز)‘  یعنی فزکس، کیمسٹری، عمرانیات، اقتصادیات،جیالوجی (علم طبقات الارض)، فلکیات اور سائنس کے دیگر شعبوں کی کتابیں قرآن و سنت کی روشنی میں لکھی جائیں۔ قرآن اللہ کا کلام ہے، احادیث وحی خفی پر مشتمل ہیں۔ کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور سائنس حقیقت کی تلاش میں سفر پیہم کا نام ہے۔ کائنات کی تحقیق و جستجو کا مسافر ان تمام میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔ کائنات فہمی سے قرآن فہمی میں اور قرآن فہمی سے کائنات فہمی میں مدد ملتی ہے۔ ان میں باہمی اختلاف ناممکن ہے اور بالفرض کہیں اس کا شبہہ بھی وارد ہو جائے تو یہ انسان کی کم فہمی اور کج فہمی اور تطابق کی صلاحیت کے فقدان ہی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری درسی کتابوں کے مصنف جدید ترین تحقیقات اور انکشافات سے کام لیتے ہوئے ایسی نصابی کتابیں مرتب کریں، جن میں قرآن و سنت کا آمیزہ (blend) ہو۔ طلبہ کے ذہن میں یہ بات بٹھائی جائے کہ قرآنی حقائق بدل نہیں سکتے اور نہ غلط ثابت کیے جا سکتے ہیں‘ بلکہ سائنس بدلتی رہتی ہے اور اپنے سابقہ موقف سے بار بار رجوع کرتی رہی ہے اور رجوع کرتی رہے گی، اور اس میں اس کی عافیت ہے۔ مولانا مودودیؒ نے ایک اصولی شاہراہ قائم کردی ہے۔ اس شاہراہ پر کام کو آگے بڑھانا اس میدان کے ماہرین کا کام ہے۔

۸-  تصوف پر جامع تنقید اور اس کی اصلاح: تصوف پر مولانا مودودی ؒنے بہت کم لکھا، لیکن جو کچھ لکھا اس میں تمام اصولی اور بنیادی باتیں آ گئی ہیں۔ مولانا مودودیؒ کو اس اصطلاح سے کدّ نہیں ہے     ؎

الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا

غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے

البتہ وہ صوفیانہ رموز و اشارات سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں۔ احسان، تزکیۂ نفس اور تعلق باللہ کے عنوان سے گہرپارے ان کی تحریروں میں موجود ہیں۔ اپنے مخالفین، معاصرین، اور معترضین کے ساتھ ان کا رویہ ہمیشہ ’احسان‘ کا رہا ہے۔ کسی دینی مسئلے میں مولانا کو جہاں اختلاف کرنا پڑا، وہاں ذاتی باتوں سے ہٹ کر مولانا نے تنقید کی ہے لیکن بات ذاتیات تک پہنچنے لگی تو قلم اور زبان کو روک لیا۔ وہ احسان کے نہ صرف قائل تھے بلکہ صحیح معنوں میں اس پر عامل بھی تھے۔ ان کے بعض قریبی رفقا سے ان کی شب بیداری اور ذکر و تسبیح و مناجات کا انکشاف ہوا ہے‘ وہ ریاکاری سے کوسوں دُور تھے۔

۹-  فقہی مسائل میں اعتدال کا رویہ: مولانا مودودیؒ کی فکر کی ایک اہم خصوصیت فقہی مسائل میں اعتدال ہے۔ قدیم مسائل میں وہ تعبیر و تشریح کے اختلاف کو نہ صرف روا رکھتے ہیں‘ بلکہ لوگوں کو تحمل، برداشت اور کشادہ دلی کا مشورہ دیتے ہیں۔ تفہیم القرآن میں وہ تمام فقہی مسالک کی آرا بلاتعصب نقل کرتے ہیں۔ مجھے شمالی امریکہ میں عربوں اور اخوان المسلمون کے حلقے میں بیٹھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے، میں مختلف تفاسیر اور بالخصوص تفہیم القرآن کو پڑھ کر جاتا۔ مجھے وہاں کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔ اس کے برخلاف ہمارے دوسرے ساتھی جو صرف مخصوص قسم کی کتابیں پڑھ کر شریک حلقہ ہوتے انھیں دیگر مسالک و مذاہب کی باتیں نہ صرف حیران بلکہ بہت حد تک پریشان کر دیتیں۔ پانچ پانچ، دس دس دس سال کی رفاقت کے باوجود فکری بُعد دور نہ ہونے پایا۔

مولانا مودودیؒ کا قاری وسیع النظر اور وسیع القلب ہو جاتا ہے، اپنے تنگ فقہی دائرے سے نکل کر اسلام کی آفاقیت اور عالم گیریت میں ضم ہو جاتا ہے۔ بعض فقہی مسائل میں وہ اجتہاد سے کام لیتے، وہ کہتے کہ جب میں تحقیق کرتا ہوں تو اقرب الی الکتاب والسنہ کی پیروی کرتا ہوں اور جب مجھے اس کا وقت اور موقع نہیں ملتا تو مذہب حنفی کا اتباع کرتا ہوں۔ دیکھیے یہ کس قدر مثبت رجحان ہے۔ نہ ہر پرانی چیز کو رد کیا اور نہ تحقیق و اجتہاد کے دروازے کو بند کیا۔

حضرت شاہ ولی اللہؒ نے  الانصاف میں لکھا ہے کہ چوتھی صدی کے بعد احناف، مالکیہ اور حنابلہ میں مجتہدین فی المذاہب بہت کم پیدا ہوئے‘جب کہ شوافع میں بہت ہوئے اور مسلسل ہوتے رہے، جس کی بنیادی وجہ ان کا علم حدیث سے گہرا شغف اور انہماک تھا۔

برعظیم ہندو پاک کے حنفی علما میں مولانا عبدالحی لکھنویؒ (م: ۱۸۶۶ئ) علامہ انور شاہ کشمیری (م: ۱۹۳۴ئ)، مولانا اشرف علی تھانویؒ (م: ۱۹۴۳ئ) وغیرہ نے دلیل کی قوت کی بنا پر یا مصلحت عامہ کے پیش نظر بعض مسائل میں حنفی مذہب کو ترک کر کے مالکی اور شافعی یا حنبلی مذہب کے مطابق فتوی ٰ دیا ہے‘ یا اپنی ترجیحی رائے کا اظہار کیا ہے۔ مولانا مودودی ؒنے بھی جرابوں پر مسح اور جمع بین الصلاتین جیسے مسائل میں یہی روش اختیار کی ہے۔

جدید مسائل میں مولانا نے نئی راہیں متعین کی ہیں۔ لائوڈ سپیکر ہی کا مسئلہ لیجیے۔ ہندستان کے ایک نہایت ہی قابل احترام اور صاحب علم و تقویٰ بزرگ سے ان کا اختلاف ہوا۔ مولانا نے انتہائی احترام اور کمال درجے کی شائستگی کے ساتھ ان کے ساتھ اختلاف کیا‘ جب کہ ہر دو طرف دلائل قوی اور جذبے صادق تھے۔ لیکن مولانا مودودیؒ کا مؤقف اصح تھا۔ خواتین کے بعض مسائل کے سلسلے میں حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے مالکیہ کے موقف کو اختیار کیا ہے۔ ذرا مولانا مودودیؒ کی حقوق الزوجین اٹھا کر دیکھیے، ان مظلومات کی کس عمدہ انداز میں دادرسی ہوئی ہے۔

مولانا کے اس منہج کو مولانا کے بعد ملک غلام علی مرحوم نے اپنایا۔ مولانا تقی عثمانی مدظلہ العالی اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بھی بعض مسائل میں حنفی مسلک ترک کر کے دیگر فقہا کی آرا کو ترجیح دی ہے، جنھیں  جدید فقہی مسائل اور فقہی مقالات (اول و دوم) میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ مولانا گوہر رحمنؒ نے بھی اس موضوع پر بہت کچھ لکھا ہے اور بہت خوب لکھا ہے۔ ان کی کتاب اجتہاد و تقلید کا بغائر مطالعہ کیجیے‘ مولانا مودودی ؒکے اصول منہج سے اتفاق مل جائے گا۔

ہر لمحہ بدلتی ہوئی دنیا میں، جو عالم دین اور مفتی، علوم دینیہ پر مہارت کے باوجود اگر عصر حاضر کے بہتر شعور سے محروم رہے گا تو اس سے جدید فقہی مسائل میں بالخصوص اقتصادی اور طبی معاملات میں امت مسلمہ کی رہنمائی کا کام احسن انداز میں ممکن نہیں ہو گا۔

۱۰-  جدید نسل کو مغرب کی مرعوبیت سے محفوظ رکھنا: مولانا مودودیؒ کا ایک اہم کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو مغربی علوم و افکار اورجدید سائنس اور ٹکنالوجی کی مرعوبیت سے نجات دلائی ہے۔ وہ سائنس اور ٹکنالوجی کو ایک ذریعہ سمجھتے ہیں، مقصد نہیں۔  پردہ مولانا کی وہ شاہکار تصنیف ہے (جس کے بعض اعداد وشمار اب پرانے ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود) آج بھی جس کے مطالعے کے بعد مغرب زدہ خواتین جن میں ایمان کی رمق اور چنگاری موجود ہے‘ اپنے آپ کو ستر اور حجاب کی برکتوں سے مالا مال کر سکتی ہیں۔ اس کتاب نے کئی زندگیوں کے اندر انقلاب برپا کیا۔

اس کتاب کے دوسرے حصے میں مولانا نے جو ادبی زبان استعمال کی ہے اس پر اردو ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔ فتنۂ خوشبو‘ فتنۂ لباس وغیرہ کے عنوان سے جو پیراگراف ہیں، انھیں میں اپنے دوستوں کو بار بار پڑھ کر سناتا ہوں اور کسی مرصع غزل یا مربوط نظم کی طرح داد وصول کرتا ہوں۔ تنقیحات کے مضامین نے تو کتنے ہی باکمال اور خدا ترس بزرگوں کو مولانا کی تحریروں کا شیدا بنا دیا۔

۱۱-  دین کا جامع تصور: مولانا مودودیؒ کا ایک اور اہم کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے دین اسلام کو ایک مکمل اور جامع نظام کی حیثیت سے پیش کیا۔ رہبانیت نے اس کو محض عبادات تک محدود کرنے کی کوشش کی اور اشتراکیوں نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔ لیکن مولانا مودودیؒ نے    اس قسم کی ساری گرد صاف کر کے اس کی اصل تصویر دکھا دی۔ قرآن و سنت کی تمام تعلیمات        بے کم و کاست پیش کیں، نہ اس سے زیادہ، نہ اس سے کم۔ یہ دین عقائد، احکام، عبادات، معاشرت، معیشت، احکامِ صلح و جنگ، حکومت و فرمانروائی، عدالت و قضا، ا جتماعی عدل، معاملات وغیرہ وغیرہ، غرض ان تمام چیزوں پر محیط ہے، جن پر انسانی زندگی کا دارومدار ہے۔ یہ خالقِ کائنات کا تجویز کردہ دین ہے اور اس طرزِ حیات کے علاوہ کوئی اور منہج اسے قابلِ قبول نہیں ہے۔

مولانا مودودیؒ نے بیسویں صدی میں حضرت ابوبکرؓ کی ثابت قدمی کا اعادہ کرتے ہوئے، دن کے اجالے میں اور بھری دنیا کے سامنے اعلان کیا کہ میرے جیتے جی اس دین میں کانٹ چھانٹ اور کتربیونت نہیں ہو سکتی (جیسا کہ رسول ؐ کے انتقال کے بعد، بعض اہل ثروت نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا تھا‘ مگر حضرت ابوبکرؓ ان کے مقابلے میں ڈٹ گئے تھے)۔ اسلام نہ کانٹ چھانٹ پسند کرتا ہے اور نہ پیوندکاری۔ یہ ایک خالص چیز ہے۔  اَلَالِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُط (الزمر ۳۹:۳)’’یاد رکھو کہ اطاعت ِخالص کا سزا وار اﷲ ہی ہے‘‘۔

۱۲-  مختلف مکاتب فکر کے علما کو اصولی موقف پر جمع کرنا: اس ناچیز کے خیال میں مولانا مودودیؒ کے کارناموں میں سب سے اہم کارنامہ جس کی آج بھی ہمیں سخت ضرورت اور احتیاج ہے، وہ مختلف المسالک علما کو فروعی اختلافات کے باوجود نفاذِ شریعت اور اقامت دین کے لیے ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کرنا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر (اگست ۱۹۴۱ئ) میں انھوں نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ جماعت اسلامی میں شامل ہونے والے علما فقہی اور کلامی مسائل میں میری شخصی اور ذاتی رائے کے پابند نہیں ہوں گے، بلکہ وہ اپنی تحقیق و آرا میں آزاد ہوں گے۔

مولانا مودودیؒ کے قلم کی قوت اور تحریر کی تاثیر تھی کہ بے شمار جدید تعلیم یافتہ افراد، جن میں انجینئر، سائنس دان، ڈاکٹر، ماہرین معیشت، قانون دان، ادیب، اساتذہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کتاب و سنت کے وارث علما جیسے l دارالعلوم دیوبند سے: مولانا محمد منظور نعمانی، مفتی سید سیاح الدین کاکاخیل،مولانا محمد چراغ (گوجرانوالہ) مولانا عامر عثمانی، مولانا معین الدین خٹک‘ مولانا مفتی محمد یوسف وغیرہ،

  • مدرسۃ الاصلاح، سراے میر، اعظم گڑھ سے: مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا اختراحسن اصلاحی، مولانا صدرالدین اصلاحی، مولانا عبدالحسیب اصلاحی، مولانا عبدالعلیم اصلاحی، مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی، مولانا حامد علی، مولانا محمد یوسف اصلاحی وغیرہ۔
  • ندوۃالعلما سے: مولانا مسعود عالم ندوی، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا جلیل احسن ندوی، مولانا سید سلمان ندوی ایڈیٹر الـدعوۃ، مولانا مطیع اللہ کوثر یزدانی ندوی وغیرہ۔
  • جامعۃدارالعلوم عمر آباد (جنوبی ہند) سے: مولانا سید جلال الدین عمری، مولانا سید امین عمری‘ مولانا عبدالرحمن عمری (ابوالبیان حماد)،
  • مظاہرالعلوم سہارن پور سے: شیخ التفسیر مولانا زکریا قدوسی مظاہری، مولانا مظاہرالحق مظاہری، مولانامحمد عزیز مظاہری، مولانا گلزار احمد مظاہری وغیرہ۔
  • اہل حدیث علما سے: شیخ الحدیث مولانا عبدالغفار حسن، حکیم محمد عبداﷲ ‘حکیم عبدالرحیم اشرف، مولانا شمس پیرزادہ وغیرہ۔
  • پھلواروی شریف‘ بہار سے: مولانا سید احمدعروج قادری وغیرہ شامل ہیں۔ جو سب جوق در جوق جماعت سے وابستہ ہوتے گئے۔ بعض علما کو یہاں تک کہتے سنا گیا کہ ہم کانگریس میں تھے اگر ہم مولانا مودودی کی تحریریں نہ پڑھتے تو شاید ہماری موت کفر پر ہوتی۔

یہ صلابت فکر اور ترجیحات کا یہ صحیح تعین اور مزاج کا یہ اعتدال علما کو مشترک اور متفق علیہ باتوں پر ڈٹ جانے اور صحابہ کرامؓ کی طرح جزوی اختلافات کے باوجود باہم شیر وشکر ہو جانے اور رواداری کا مظاہرہ کرنے اور دشمنان دین کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اتحاد ملت کا یہ سبق سورۂ آل عمران کا عمود ہے۔ کافروں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سورہ میں تین بنیادی ہدایات دی ہیں۔

  •  اولاً، اہل کتاب کو اسلام کی دعوت، ان سے مباحثہ، مکالمہ مجادلہ حسن، مناظرہ، اور مباہلہ کی ہدایات ۔l ثانیاً، اہل کتاب کی سازشوں اور شرپسندی سے خود محفوظ رہنے اور دوسرے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے تدابیر اختیار کرنا اور l ثالثاً‘ مسلمانوں کا باہمی اتحاد و اتفاق‘ حبل اللہ سے اجتماعی اعتصام، صبر اور تقویٰ کا التزام اور احد کی شکست سے عبرت حاصل کرنے کی نصیحت ہے۔

فروعی اور اجتہادی مسائل میں مولانا مودودیؒ نہ تو خود اپنی ذاتی رائے سے دست بردار ہوتے ہیں، جن کی بنیاد خود ان کی تحقیق ہوتی ہے اور نہ دوسرے علما کو اپنی آرا ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ البتہ اجتماعی امور میں وہ سب کو مشترک موقف اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور خود بھی ہمیشہ اس کے پابند رہے ہیں۔ مولانا مودودیؒ نے علما کو یہ سبق دیا ہے کہ وہ باہمی محبت اور احترام کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے اختلاف رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے علما نے جماعت اسلامی میں شامل رہ کر، اپنی تحقیق کی روشنی میں عقیدت اور احترام کے باوجود، غلو سے بچتے ہوئے، مولانا مودودیؒ سے اختلاف کرنے کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کی ہیں۔ یہاں مولانا چراغ  ؒ، مولانا معین الدینؒ خٹک، مفتی سیاح الدین کاکاخیلؒ اور مولانا گوہر رحمنؒ وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے، اور یہی ہر بڑے عالم اور محقق کے شایانِ شان ہے۔

ہمیں مولانا مودودیؒ سے محبت ہے بلکہ شدید محبت، اور یہ محبت لِلّٰہ ہے، اور ان کی اسلامی خدمات کی وجہ سے ہے۔ وہ ہمارے محسن ہیں، لیکن ان سے زیادہ ہماری وفاداری رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ہے، جس کے بارے میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا، جب تک رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم اس کے لیے اس کے ماں باپ، اس کی اولاد اور دنیا کے دیگر تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائیں (متفق علیہ)۔ اور ان سے زیادہ ہماری محبت اپنے خالق اور مالک سے ہے‘ جس کے بارے میں قرآن مجید خبر دیتا ہے:  وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًا لِّلّٰہِط (البقرہ ۲:۱۶۵) ’’ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اﷲ کو محبوب رکھتے ہیں‘‘۔ خود مولاناؒ نے ہمیں یہ سبق سکھایا ہے کہ مَا قال کو دیکھو،  مَنْ قَال کو مت دیکھو۔ ہمیں ہر قسم کے تعصب کو بالاے طاق رکھتے ہوئے قرآن و سنت کے محکم نصوص اور دلیل کی قوت پر نگاہ رکھنی چاہیے۔

مولانا مودودیؒ اپنے قاری کی تربیت کچھ ایسے انداز میں کرتے ہیں کہ وہ شریعت کے    منشا و مزاج کو پا کر‘ اپنی فکر میں مسائل کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ لیتا ہے۔ لکیر کے اس طرف وہ مسائل ہیں جن میں تمسّک اور اعتصام لازمی ہے اور دوسری طرف وہ مسائل ہیں جہاں لچک، نرمی، برداشت اور تحمل کا مظاہرہ ضروری ہوتا ہے۔ اور یہی امت وسط کے اقتصاد و اعتدال کی راہ ہے۔

۱۳- آئینی اور جمہوری راستہ: مولانا مودودیؒ نے عالم اسلام کی تمام اسلامی تحریکوں کو خفیہ جدوجہد کے بجاے آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد کی دنیا کا جائزہ لیجیے اور دیکھیے کہ مولانا کا مشورہ کس قدر صحیح اور صائب تھا۔ مغربی دنیا اپنے باطنی حسد کے باوجود آئینی اور جمہوری اسلامی تحریکوں کا راستہ بند کرنے کا کوئی اخلاقی جواز ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اسلامی دعوت کو کھلم کھلا اور علی الاعلان ہونا چاہیے، اور یہی انبیا کا منہج ہے۔

جماعت اسلامی کا مرکز جب دارالاسلام‘ پٹھان کوٹ میں قائم ہو گیا اور مولانا مودودیؒ اپنے رفقا کے ساتھ وہاں منتقل ہو گئے‘ توکافی رفقا کی موجودگی کے باوجود مولانا خود کو تنہا محسوس کرنے لگے۔ ملک اور بیرون ملک میں تحریک اسلامی کو متعارف کرنے اور اقامت دین کو ایک عالمی تحریک کی حیثیت دینے کے لیے مولانا مودودی ؒکو اپنے دو جلیل القدر رفقا کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس ہوئی۔ ان دونوں کو مرکز جماعت دارالاسلام بلانے اور اپنے ساتھ ٹھیرائے رکھنے کے لیے مولانا مودودیؒ نے مسلسل جدوجہد شروع کر دی۔ ان میں سے ایک بزرگ مولانا امین احسن اصلاحیؒ تھے‘ جو مدرسۃ الاصلاح‘ سراے میر میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے اور دوسرے بزرگ مولانا مسعود عالم ندویؒ تھے‘ جو خدا بخش لائبریری‘ پٹنہ میں کیٹلاگر کی حیثیت سے ملازمت کر رہے تھے۔

مولانا مودودیؒ نے دونوں حضرات سے رابطہ پیدا کیا‘ اور انھیں توجہ دلائی کہ وہ دونوں دارالاسلام چلے آئیں اور اقامت دین کے عظیم نصب العین کو بروے کار لانے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دیں۔ مولانا مودودی ؒکی پُرخلوص دعوت پر لبیک کہتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحیؒ، مدرسۃ الاصلاح سراے میر سے فوراً ہی چلے آئے اور کچھ عرصے بعد ۱۹۴۵ء میں مولانا مسعود عالم ندویؒ بھی خدا بخش لائبریری پٹنہ سے دارالاسلام پہنچ گئے۔دونوں حضرات تشریف لائے تو مولانا مودودیؒ کو یوں محسوس ہوا کہ انھیں دست و بازو مل گئے۔ مولانا مودودیؒ کی گرفتاریوں کے دوران میں یہ دونوں حضرات قائم مقام امیر بھی رہے۔

مولانا اصلاحیؒ، سراے میر سے چلے تو دارالاسلام ہی پہنچے اور مولانا مودودی ؒکے ساتھ مستقل طور پر وہیں ٹھیر گئے‘ لیکن مولانا مسعود عالم ندویؒ پٹنہ سے روانہ ہوئے اور دارالاسلام میں کچھ دن ٹھیرے تو وہاں کی آب و ہوا ناساز گار ہونے کے باعث دارالاسلام میں ٹھیر نہ سکے‘ کیونکہ آپ ضیق النفس (دمہ) کے مستقل مریض تھے۔ مولانا مسعود عالم ندویؒ کے لیے مناسب مقام تلاش کیا گیا تو آپ کی طبیعت کے حسب حال جالندھر کے قریب ایک بستی مل گئی‘ جس کا نام بستی دانشمنداں تھا۔ بہرحال یہ دونوں حضرات طارق بن زیاد کی طرح کشتیاں جلا کر مرکز جماعت پہنچے اور قافلۂ سخت جاں کی صف اول میں شامل ہو گئے۔

میری خوش نصیبی اور خوش قسمتی تھی کہ میں ۱۹۴۴ء کے آخر میں جامعہ قاسم العلوم لاہور پہنچا اور استاذ محترم حضرت مولانا احمد علی لاہوری علیہ الرحمۃکی خدمت بابرکت میں حاضر ہو کر ’’تخصص فی التفسیر میں داخلہ لے لیا‘‘ اور پھر ۱۹۴۵ء میں سند تفسیر حاصل کر کے لاہور ہی میں ٹھیرا ہوا تھا۔ اب میری علمی مصروفیت کا اگلا مرحلہ دارالاسلام‘ پٹھان کوٹ میں قیام اور اکابرجماعت کے فیوض و برکات سے استفادہ تھا۔ چنانچہ میں نے‘ مولانا مودودی علیہ الرحمۃ سے مراسلت کے ذریعے دارالاسلام میں حاضری کی اجازت مانگی۔ مولانا مودودیؒ کی ہدایت پر محترم میاں طفیل محمد صاحب قیم جماعت نے جواب دیتے ہوئے‘ مولانا مودودی کی طرف سے منظوری عنایت فرما دی کہ میں دارالاسلام حاضر ہوسکتا ہوں۔ مولانا کی طرف سے اجازت ملنے پر میں نے اطلاع دی کہ میں فلاں تاریخ کو لاہور سے دارالاسلام پہنچ رہا ہوں۔ مقررہ تاریخ کو میں نے رخت سفر باندھا اور لاہور سے ٹرین کے ذریعے روانہ ہو گیا۔ دارالاسلام پہنچنے کے لیے اس کے بالکل قریب ریلوے اسٹیشن کا نام ’سرنا‘ تھا۔

میرے دارالاسلام پہنچنے کی اطلاع مولانا مودودی کو قبل از وقت مل چکی تھی‘ اس لیے مولانا نے از راہ شفقت میرے استقبال کے لیے اپنے ایک نہایت عزیز رفیق کو ’سرنا‘ اسٹیشن روانہ فرما دیا۔ اسٹیشن پر ٹرین سے اترتے ہی وہ صاحب آگے بڑھے‘ میرا نام دریافت کیا۔ میں نے نام بتایا تو موصوف نے بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ مصافحہ کیا اور کہا کہ میں ان کے ساتھ دارالاسلام چلوں۔ میرے منع کرنے کے باوجود بڑے اصرار کے ساتھ انھوں نے میرا سامان بھی اٹھا لیا۔ وہ مجھے اپنے ہمراہ لے گئے اور مہمان خانے میں ٹھیرا دیا۔ کچھ ہی دیر بعد مولانا مودودی‘ مولانا امین احسن اصلاحی و دیگر رفقاء کرام سے ملاقات کا شرف حاصل ہو گیا۔ پھر میں نے کسی سے دریافت کیا: ’’دارالاسلام سے مولانا مودودی کی ہدایت پر جو صاحب مجھے لانے کے لیے ’سرنا‘ اسٹیشن پر تشریف لائے‘ وہ کون تھے؟‘‘ اپنے سوال کا جواب ملنے پر رفقاے جماعت کی شفقت و محبت اور بے نفسی و بے لوثی کا حال معلوم کر کے میں حیران رہ گیا‘ میرے استقبال کے لیے آنے اور میرا سامان اٹھا کر مجھے اپنے ساتھ لے جانے والے صاحب محترم المقام ملک غلام علی ؒتھے۔

قیام دارالاسلام کے سلسلے میں مولانا مودودی سے میں نے مشورہ کیا تو مولانا نے میری خیرخواہی کو پیش نظر رکھتے ہوئے بڑے خلوص کے ساتھ یہ مفید مشورہ دیا کہ میں دارالاسلام کے بجاے ’بستی دانشمنداں‘ جالندھر میں ’دارالعروبہ‘ میں رہ کر مولانا مسعود عالم ندوی سے فیض حاصل کرتا رہوں۔ جس کی ایک وجہ مولانا مودودی نے یہ بتائی: ’’دارالاسلام میں تحریک اسلامی کے کام کی جو موجودہ نوعیت ہے‘ اس کے لحاظ سے باصلاحیت افراد کی بہت کمی ہے‘ سبھی لوگ ہر وقت مصروف رہتے ہیں اس لیے افادے اور استفادے کے لیے آپ کو وقت نہیں دے سکیں گے‘ دوسری وجہ یہ کہ دارالعروبہ میں مولانا مسعود عالم تنہا اور اکیلے ہیں۔ لہٰذا‘ انھیں رفقاے کار کی ضرورت ہے‘‘۔ اس کے ساتھ مولانا نے یہ بھی فرمایا: ’’آپ ’دارالعروبہ‘ سے برابر دارالاسلام آتے جاتے رہیں گے اور دونوں مقامات سے فیض یاب ہوتے رہیں گے‘‘۔ میں نے خوشی کے ساتھ مولانا کے مفید مشورے کو قبول کر لیااور جالندھر پہنچ کر دارالعروبہ میں ٹھیر گیا۔ ’دارالعروبہ‘ کی تاسیس کے موقعے پر میرے علاوہ‘ دوصاحبان اور مولانا ندوی کے رفیق کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ ایک تو تحریک اسلامی کے سرگرم کارکن اور جلیل القدر عالم سید جلیل احسن ندوی تھے اور دوسرے مولانا عمر قطبی تھے۔ مولانا مودودی کے مشورے کے مطابق میرا معمول یہ رہا کہ میں تقریباً ہر ماہ زیادہ وقت ’دارالعروبہ‘ میں اور تھوڑا وقت دارالاسلام میں گزارتا تھا۔ وقتاً فوقتا مولانا مسعود صاحب کا کوئی پیغام لے کر مجھے مولانا مودودی کی خدمت میں حاضر ہونا پڑتا تھا۔ میں جب بھی دارالاسلام پہنچتا‘ وہاں جن حضرات سے ملاقات کر کے ان سے فیض یاب ہونے کی خواہش مجھے ہوتی‘ ان میں سب سے زیادہ اہم شخصیت مولانا مودودی ہی کی تھی۔

دارالاسلام میں دن بھر تمام رفقا مصروف رہتے تھے۔ نماز مغرب کے بعد مسجد میں مولانا مودودی کی مجلس ہوتی تھی‘ جس میں تحریک اسلامی کے مسائل پر تبادلۂ خیال ہوتا تھا۔ حاضرین مجلس مولانا مودودی سے کچھ سوالات کرتے تھے‘ جن کے اطمینان بخش جوابات مولانائے موصوف دیا کرتے تھے۔ یہ مجلس بالکل خشک بھی نہیں ہوتی تھی‘ بلکہ مجلس میں گاہے گاہے ظرافت کے پھول بھی  کھل اٹھتے تھے۔ مولانا مودودی کی عظیم شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ انتہائی متانت و سنجیدگی کے باوجود ظرافت و مزاح کی چاشنی آپ کی گفتگو میں سامعین کو مل جاتی تھی۔

ایک دن جیسے ہی نماز مغرب ختم ہوئی حسب معمول مولانا مودودی کی مجلس شروع ہو گئی۔ حاضرین مجلس ہمہ تن گوش ہو کر مولانا کی طرف متوجہ ہوئے۔ حاضرین مجلس میں زیادہ تر آپ کے رفقا ہی تھے۔ مولانامحترم نے رفقا کے سامنے اس وقت کا ایک اہم مسئلہ مشورے کے لیے رکھا۔ یہ مسئلہ مرکز جماعت‘ دارالاسلام کاکسی اور بہتر مقام پر منتقلی کا تھا۔ کیونکہ بعض ایسے نامساعد و ناسازگار حالات پیدا ہو گئے تھے‘ جن کے باعث مولانا مودودی کی تجویز تھی کہ مرکز کو موجودہ مقام سے ہٹا کر کسی دوسرے مقام پر منتقل کر دیا جائے۔ مولانا اپنی تجویز کے سلسلے میں رائے طلب کرنے لگے۔ جتنے بھی حضرات مجلس میں موجود تھے ان میں سے ہر شخص نے اپنی اپنی صواب دید کے مطابق مرکز کی تبدیلی کے سلسلے میں مشورہ دیا۔ لیکن معلوم نہیں اس دن مولانا امین احسن اصلاحی کے مزاج کا کیا عالم تھا کہ وہ بالکل خاموش تھے‘ کچھ بول نہیں رہے تھے اور کوئی مشورہ بھی نہیں دے رہے تھے۔ مولانا مودودی ان سے براہ راست دریافت بھی نہیں کر رہے تھے۔ اتنے میں کسی رفیق نے مولانا کو توجہ دلائی: ’’اصلاحی صاحب کی بھی اس ضمن میں رائے آ جائے‘‘۔ اپنے رفیق کی بات سن کر مولانا مودودی کی رگ ظرافت پھڑکی اور مولانا اصلاحی کو شگفتہ انداز میں چھیڑنے کی غرض سے مولانا مودودی فرمانے لگے: ’’ارے بھائی‘ مولانا امین احسن صاحب سے اگر میں مشورہ لوں تو وہ اس کے سوا اور کیا کہیں گے کہ مرکز جماعت کو ’’راہون‘‘ میں منتقل کر دیا جائے‘‘۔ مولانا مودودی کا یہ جملہ سن کر رفقاے کرام مسکرانے لگے‘ مولانا امین احسن بھی محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکے اور بے ساختہ ان کے لبوں پر بھی تبسم کے پھول کھلنے لگے۔ ’’راہون‘‘ امین احسن صاحب کا عقد مسنون ہونے کی وجہ سے مولانا کا سسرال بن گیا تھا‘ اسی لیے مولانا مودودی کو انھیں چھیڑنے کا موقع مل گیا۔ مولانا مودودی کے چھیڑنے پر بھی مولانا امین احسن صاحب محو سکوت رہے۔ پھر ان کے کچھ اور بے تکلف احباب انھیں مزید چھیڑنے لگے‘ جس کے باعث مولانا امین احسن کی حالت کچھ اسی طرح کی ہو گئی:    ؎

کیا کہوں کچھ کہا نہیں جاتا

اور چپ بھی رہا نہیں جاتا

آخر مولانا اصلاحی فرمانے لگے: ’’آپ حضرات کی چھیڑ چھاڑ پر مجھے ایک پرانا قصہ یاد آگیا ہے‘‘۔ سب نے کہا: ’’مولانا! براہ کرم ہمیں بھی وہ قصہ سنا دیجیے ‘‘۔ پھر مولانا نے اپنے مخصوص انداز میں باپ‘ بیٹے اور گدھے والا مشہور قصہ سنایا۔ یہ قصہ سنا کر مولانا اصلاحی فرمانے لگے : ’’کوئی شخص دنیا کے سبھی لوگوں کو مطمئن اور خوش نہیں کر سکتا‘ لہٰذا میں بھی آپ حضرات کی چھیڑ چھاڑ کا جواب دینے کے بجاے خاموش رہنا ہی پسند کرتا ہوں‘‘۔

اس کے بعد مجلس برخاست ہو گئی اور حاضرین مجلس نماز عشاء کی تیاری کرنے لگے۔ نماز کا ذکر آیا تو میں یہ بھی عرض کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ دارالاسلام کی مسجد میں جہری نمازیں مولانا مودودی ہی پڑھایا کرتے تھے۔ کئی نمازیں آپ کی اقتدا میں پڑھنے کی سعادت مجھے بھی حاصل ہوئی تھی۔ مولانا جہری نمازوں کی جب امامت کرتے اور قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تو آپ کی قرأت اگرچہ سادگی و پرکاری کا نمونہ ہوتی‘ لیکن اس میں سوز‘ درد اور گداز کی جو عجیب و غریب کیفیت ہوتی وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔

مولانا مودودی جیسی عبقری شخصیتیں روز روز پیدا نہیں ہوا کرتیں بلکہ مدتوں اور قرنوں میں ایسے یگانۂ روزگار بندگانِ پروردگار روے زمین پر ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ مختلف مقامات پر اجتماعات میں شرکت کے لیے مولانا مودودیؒ کی رفاقت میں سفر کے مواقع بھی مجھے ملتے رہے‘ جس کی بدولت آپ کے فیوض سے مستفید ہونے کا شرف حاصل ہوتا رہا۔ کاروان علم و فضل کی صف اول میں جن حضرات کو شامل ہونے کی سعادت حاصل ہوتی ہے‘ ان میں زیادہ تعداد ایسے ہی علماے کرام کی ہوا کرتی ہے‘ جو اگرچہ کچھ نہ کچھ واقفیت علوم و فنون کے جملہ گوشوں سے رکھتے ہیں‘ لیکن درجۂ تخصص کسی ایک ہی شعبۂ علم میں انھیں حاصل رہتا ہے۔ مولانا مودودی کو اﷲ تعالیٰ نے بڑی فیاضی کے ساتھ دولت علم و فضل سے نوازا تھا۔ وہ ایک طرف جہاں معتبر مفسر قرآن تھے‘ وہیں دوسری طرف سنت نبوی اور حدیث پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔‘ جس طرح وہ سحر طراز انشا پرداز اور ممتاز ادیب تھے‘ اسی طرح ایک دانش پرور خطیب بھی تھے۔

مولانا مودودیؒ کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ قلم و قرطاس کے ذریعے اس کا احاطہ کرنا دشوار ہے۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ جو آپ کے لیے ذخیرۂ آخرت اور     صدقۂ جاریہ ہے وہ چھ جلدوں میں آپ کی تفسیر تفہیم القرآن ہے۔ تفسیر آپ کی حیات مستعار کی یادگار بھی ہے اور آپ کی علمی و دینی خدمات کا عظیم شاہ کار بھی۔

مولانا مودودیؒ سے میری آخری ملاقات مدراس کے اس یادگار اور تاریخی اجتماع میں ہوئی جو ۲۶ اپریل ۱۹۴۷ء کو منعقد ہوا تھا۔ یہ اجتماع اس حیثیت سے منفرد نوعیت کا حامل تھا کہ یہ پورے جنوبی ہند بہ شمول حیدر آباد کے جملہ وابستگان جماعت اسلامی کا اجتماع تھا‘ جسے برعظیم میں جماعت کا آخری اجتماع بھی کہا جا سکتا ہے۔ اجتماع منعقد ہونے سے قبل جماعت اسلامی کے بارے میں مخالفین نے عوام میں جو غلط فہمیاں پھیلائی تھیں‘ ان میں ایک بے ہودہ الزام یہ بھی تھا کہ جماعت اسلامی کا تعلق کانگرس سے ہے۔ اس غلط فہمی کا شکار سب سے زیادہ مسلم لیگ تھی‘ جس کا عامۃ المسلمین پر غیرمعمولی اثر تھا۔ پہلے دن جیسے ہی اجتماع کی کارروائی شروع ہوئی‘ اجتماع گاہ میں غنڈا گردی شروع ہوگئی۔ مفسد عناصر کی بھیڑ اجتماع میں داخل ہوئی اور اس نے توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع کر کے ہنگامہ برپا کر دیا۔ پہلے تو معاملہ شور و غل اور نعرہ بازی تک محدو درہا‘ مگر کچھ دیر بعد سنگ باری ہونے لگی‘ تاہم رفقا اور شرکا برابر اجتماع میں بیٹھے رہے اور ذمہ دار حضرات ہڑ بونگ مچانے والوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے۔ کچھ پتھر اسٹیج کی طرف بھی آنے لگے۔ میاں طفیل محمد صاحب جو اجتماع کی کارروائی چلا رہے تھے اسٹیج ہی پر بیٹھے رہے۔ میں میاں طفیل محمد صاحب سے بار بار کہہ رہا تھا کہ اسٹیج پر سے اٹھ کر آجائیے۔ لیکن وہ اپنی جگہ پر جم کر بیٹھے رہے اور مجھے سمجھاتے رہے کہ آپ پریشان کیوں ہو رہے ہیں‘ اﷲ ہمارا محافظ ہے۔ اتنے میں مسلم لیگ کے ذمہ دار آئے اور شورش پسند کارکنوں کو اجتماع گاہ سے باہر لے گئے۔ اجتماع گاہ کو چونکہ درہم برہم کر دیا گیا تھا‘ اس لیے شرکا اجتماع کو قریب ہی میں واقع اس کوٹھی میں پہنچا دیا گیا جہاں مولانا مودودی بطور مہمان ٹھیرے ہوئے تھے۔ یہ کوٹھی معروف تاجر محترم نذیر حسین صاحب پنجابی کی تھی‘ جن کا شمار مولانا مودودی کے حلقۂ احباب میں ہوتا تھا۔ اجتماع کی بقیہ ساری کارروائی اسی کوٹھی میں ہوتی رہی ۔ اس اجتماع میں مولانا مودودی کا خطابِ عام آپ کی غیرمعمولی سیاسی بصیرت کا آئینہ دار تھا۔ مولانا کے خطاب عام سے پہلے تک میرا اندازہ یہی تھا کہ ملک کی تقسیم عمل میں نہیں آئے گی اور ہندستان اپنی متحدہ شکل ہی میں قائم رہے گا۔ لیکن مولانا نے خطاب کرتے ہوئے جب یہ فرمایا: ’’ہمارے ملک میں جلد ہی ایک تغیر واقع ہونے والا ہے‘ میں جس تغیر کی طرف اشارہ کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ ملک تقسیم ہو جائے گا‘‘۔ اثناے تقریر میں جب یہ کلمات میں نے سنے تو مجھے اپنی زندگی بھر کا یہ اندازہ بدلنا پڑا کہ ہندستان متحد رہے گا۔ میرے دل نے گواہی دی کہ جب مولانا مودودی کہہ رہے ہیں کہ ہند تقسیم ہو گا تو میرے لیے اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ مولانامحترم کی اس رائے کو میں ان کی سیاسی بصیرت ہی نہیں بلکہ ان کی مومنانہ فراست کا اظہار سمجھتا ہوں‘ جیساکہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے:  اِتَّقُوا فَرَاسَۃَ المُومِن فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ مِن نُور اللّٰہِ، مومن کی غیرمعمولی ذہانت سے بچو کیونکہ وہ اﷲ کے نور سے دیکھتا ہے۔ مولانا مودودیؒ کا یہ بصیرت افروز خطاب پہلے ہندستان میں تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل کے عنوان سے شائع ہوا‘ اور اب خطبۂ مدراس کے نام سے شائع ہو رہا ہے۔ اس عظیم الشان ہنگامہ خیز‘ غیر معمولی نوعیت کے تاریخی اجتماع میں شروع سے آخر تک میں مولانا مودودیؒ کے ساتھ رہنے کی کوشش کرتا رہا۔ اجتماع کے اختتام پر مولانا جب مدراس سے واپس ہونے لگے‘ اس وقت بھی مدراس ] چنائے[ کے سنٹرل اسٹیشن پر مولانا کو پُرخلوص دعاؤں کے ساتھ رخصت کرنے والوں میں خود میں بھی شامل تھا۔ ۵۶ سال پہلے یہ تھی میری آخری ملاقات مولانا مودودی سے‘ جسے میں اپنی زندگی کی سب سے اہم سعادت سمجھتا ہوں۔

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

یہ وہ چراغ ہے‘ جس کی حفاظت و نصرت کا وعدہ خود رب کریم نے کیا ہے۔ جب بھی طاغوت کی پھونکیں اس کو گل کرنے کے لیے حرکت میں آتی ہیں‘ رب کریم اس کی لو بڑھانے کا کام خود کرتا ہے۔ کبھی امام غزالی ؒ، ابن تیمیہؒ، مجدد الف ثانی ؒ اور شاہ ولی ؒ اللہ کے روپ میں علم کے ہتھیاروں سے لیس اور کبھی محمد بن عبدالوہاب‘ سید احمد شہیدؒ اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی صورت میں علم‘ تحریک اور جہاد کے ہمہ پہلو مظہر کی صورت میں ان کا پیغام‘ عمل کے سانچے میں ڈھلے لاکھوں افراد کی صورت میں متحرک‘ شرار بولہبی سے برسرپیکار و مصروف جہاد نظر آ رہا ہے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، صدی کے نہیں بلکہ صدیوں کے انسان اور صدیوں تک انسانوں کے محسن ہیں۔ ان شاء اللہ! اس چراغ سے جتنے چراغ جلے‘ جتنی ضو پھیلی اور اس میں جتنے بھٹکے ہوئوں کو  راہِ ہدایت نظر آئی‘ ہم سب ان کے احسان مند ہیں اور انھی میں وہ طبقۂ نسواں بھی ہے‘ جو ایک طرف جدید تعلیم یافتہ‘ دین دار اور باحجاب خواتین پر مشتمل ہے جو زندگی کے مختلف میدانوںمیں اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں۔ دوسری جانب وہ لاکھوں گھریلو خواتین ہیں‘ جو اسی چراغ کی روشنی میں اپنے مردوں کی قوامیت پر ’آمنا و صدقنا‘ کہتے ہوئے ایک حیات طیبہ بسر کر رہی ہیں اوراپنے نونہالوں کی تربیت کا فریضہ اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ادا کر رہی ہیں۔

عورت‘ نوع انسانی کی تعمیر کا پہلا مکتب ہے۔یہی وجہ ہے کہ عورت زمانے کے اکثر ادوار میں سازشوں کا شکار رہی اور اکثر مذاہب میں مظلوم بھی رہی۔ حقوق انسانی سے تہی دامن‘ شرف انسانی سے فارغ بلکہ حق زندگی سے محروم جس کی گواہی خود قرآن نے دی:  وَ اِذَا الْمَؤْدَۃُ سُئِلَت o بِاَیِّ زَنْبٍ م قُتِلَتْo (التکویر۸۱:۸-۹) ’’اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے نجات دہندہ بن کر بھی آئے‘ اور ان کو سربلندی بھی عطافرمائی۔ بیٹی کو زندہ گاڑنے کے بجائے اسے اپنے جسم کا حصہ اور جگر کا ٹکڑا قرار دیا۔ ماں کے قدموں میں جنت قرار دی اور نیک بیوی کو دنیا کی بہترین متاع قرار دیا۔ باپ‘ شوہر‘ بھائی‘ بیٹا ہر رشتے میں مرد کو اس کا محرم اور محافظ قرار دیا۔ خطبہ حجۃالوداع کے منشور انسانیت میں عورت کے حقوق کا خیال رکھنے کی خاص طور پر تاکید فرمائی۔ لیکن صد افسوس‘ آج کفار و مغرب کو تو چھوڑیے خود مسلمان عورت ایک مرتبہ پھر ایک دوراہے پر کھڑی کر دی گئی ہے۔ بات محض حقوق کی نہیں کہ وہ تو اہلِ مغرب نے بھی ادا نہ کیے‘ بلکہ اس کے مقام اور دائرہ عمل کو متنازع بنانے کی ہے۔

ایک جانب مغرب زدہ میڈیا ہے الحاد پرست میڈیا‘ جس نے عورت کی عزت و حرمت اور حیا و پاک دامنی کو داغ داغ کر دیا ہے۔ دوسری جانب مخصوص ایجنڈے پر عامل این جی اوز ہیں‘ جو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے تحت ڈالروں کے عوض‘ تہذیب و ثقافت کا رخ دین سے لادینی اور حیا سے بے حیائی کی طرف موڑ دینے کے لیے دن رات ایک کر رہی ہیں۔ تیسری جانب ایک طبقہ علما سوء کا بھی ہے جو ہر دور میں باطل کی سرپرستی کے لیے آموجود ہوتا اور خود کو عقلِ کل سمجھتے ہوئے قرآنی آیات پر عقل کے گھوڑے دوڑاتا ہے اور آیات قرآنی کو نئے نئے معنی پہنا کر طاغوت اور خدا سے باغی لوگوں کی خدمت بجا لاتا ہے۔ وہ ہر ایسی چیز کے لیے اسلام کا دامن وسیع کر دینا چاہتے ہیں‘ جسے مغرب نواز طبقہ پسند کرتا ہے۔ مسلمان خواتین ان حالات میں یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہیں کہ بحیثیت عورت ہمارا اصل مقام کیا ہے؟معاشرے میں ہماری حیثیت کیا ہے؟ کیا واقعی ہم ثانوی ہیں؟ کیا گھرداری اور بچوں کی پرورش واقعی دوسرے درجے کا ایک بے کار کام ہے؟ کیا تعلیم اور ووٹ ہمارا حق نہیں؟ کیا رزق حاصل کرنے کی جدوجہد میں ہمارا شامل ہونا گناہ ہے؟ ہمارا دائرہ عمل کون سا ہے؟ اور کون سے میدان کار ہمارے لیے درست ہیں؟ اور کہاں ممانعت کی حدبندی ہے؟

بہرحال آج کی باشعور مسلمان عورت ‘ سید مودودی ؒکے جلائے ہوئے چراغوں کی روشنی میں نہ صرف ان سوالوں کے جوابات پا چکی ہے‘ بلکہ پورے اطمینان قلب کے ساتھ دین دار عورت ان چیلنجوں سے نبرد آزما بھی ہو رہی ہے۔ اگرچہ یہ چیلنج مختلف النوع اور کثیر تعداد میں ہیں‘ لیکن ان کے بارے میں مولانا مودودیؒ کے شان دار لٹریچر میں ہمہ پہلو اور وسیع معلومات کے خزانے اور رہنمائی کا مکمل سامان موجود ہے۔

خواتین کی حیثیت اور مقام سے لے کر دقیق فقہی مسائل تک‘ سبھی کچھ مولانا کے لٹریچر میں مل جاتا ہے اور پیش کیا جا سکتا ہے‘تاہم میں اپنی گفتگو کا دائرہ تحریک مساوات مرد و زن کے تناظر میں ’’عورت کا صحیح دائرہ کار‘‘ تک محدود رکھوں گی۔ میری کوشش ہو گی کہ گفتگو مولانا کی زبان میںہو اور اس ضمن میں نہ صرف ان کا نقطۂ نظر سامنے رکھا جائے‘ بلکہ یہ واضح کیا جائے کہ اس میدان میں انھوں نے ’مدنیت صالحہ‘ کی کتنی بڑی خدمت سرانجام دی ہے۔

  • عورت کا دائرہ عمل: اس باب میں انسان کبھی افراط کا شکار ہوا‘ کبھی تفریط کا۔ جب کسی الہامی رہنمائی کے بغیر اس نے اس مسئلے کے حل کی کوشش کی تو اس کے ہواے نفس اور اس کی عقل نے اکثر اس کو دھوکا دیا اور بقول مولانا مودودیؒ: ’’انسان کی یہ فطری کمزوری ہے کہ اس کی نظر کسی ایک معاملے کے تمام پہلوئوں پر من حیث الکل حاوی نہیں ہو سکتی۔ ہمیشہ کوئی ایک پہلو اسے زیادہ اپیل کرتا ہے اور اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ پھر جب وہ ایک طرف مائل ہو جاتا ہے تو دوسری اطراف یا تو اس کی نظر سے بالکل اوجھل ہو جاتی ہیں‘ یا وہ قصداً ان کو نظرانداز کر دیتا ہے‘‘۔ (پردہ‘ ص ۱۹۹)

چنانچہ عورت کے دائرہ کار پر بحث کرنے سے پہلے جو چیز مولانا مودودیؒ دلائل سے ثابت کرتے ہیں وہ ’مدنیت صالحہ‘ کے لوازم ہیں۔

اس تمدن میں وہ بنیادی اہمیت ’تاسیس خاندان‘ کو دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں: ’’انسان کے دل میں اولاد کی محبت تمام حیوانات سے زیادہ رکھی گئی ہے --- اس شدید جذبۂ محبت کی تخلیق سے فطرت کا مقصد صرف یہی ہو سکتا ہے کہ عورت اور مرد کے صنفی تعلق کو ایک دائمی رابطے میں تبدیل کر دے۔ پھر اس دائمی رابطے کو ایک خاندان کی ترکیب کا ذریعہ بنائے۔ پھر خونی رشتوں کی محبت کا سلسلہ بہت سے خاندانوں کو مصاہرت کے تعلق سے مربوط کرتا چلا جائے‘ پھر محبتوں اور مجبوبوں کا اشتراک ان کے درمیان تعاون اور معاملت کا تعلق پیدا کر دے‘ اور اس طرح ایک معاشرہ اور ایک نظام تمدن وجود میں آ جائے‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۱۴۱)

یہ صالح معاشرہ انسان کو محض اس کی عقل یا حیوانی جبلت پر نہیں چھوڑ دیتا بلکہ اس معاملے میں انسان کی رہنمائی کرتے ہوئے ایسا نظام وضع کرتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں کو انسانیت کے لیے ایثار پر آمادہ کیا جائے۔ مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں: ’’تمدن کے وسیع کارخانے کو چلانے کے لیے جن پرزوں کی ضرورت ہے وہ خاندان کی اس چھوٹی سی کارگاہ میں تیار کیے جاتے ہیں --- زمین پر اپنی زندگی کا پہلا لمحہ شروع کرتے ہی بچے کو خاندان کے دائرے میں محبت‘ خبرگیری‘ حفاظت اور تربیت کا وہ ماحول ملتا ہے‘ جو اس کے نشوونما کے لیے آبِ حیات کا حکم رکھتا ہے۔ خاندان ہی میں بچے کو وہ لوگ مل سکتے ہیں جو اس سے نہ صرف محبت کرنے والے ہوں‘ بلکہ جو اپنے دل کی امنگ سے یہ چاہتے ہوں کہ بچہ جس مرتبے پر پیدا ہوا ہے اس سے اونچے مرتبے پر پہنچے۔ دنیامیں صرف ماں اور باپ ہی کے اندر یہ جذبہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو ہر لحاظ سے اپنے سے بہتر حالت میں اور خود اپنے سے بڑھا ہوا دیکھیں ---- ایسے مخلص کارکن (labourers) اور ایسے بے غرض خادم (workers) تم کو خاندان کی اس کار گاہ کے باہر کہاں ملیں گے‘ جو نوع انسانی کی بہتری کے لیے نہ صرف بلا معاوضہ محنت صرف کریں‘ بلکہ اپنا وقت‘ اپنی آسایش‘ اپنی قوت و قابلیت اور اپنی محنت کا سب کچھ اس خدمت میں صرف کر دیں۔ جو اس چیز پر اپنی ہر قیمتی چیز قربان کرنے کے لیے تیار ہوں‘ جس کا پھل دوسرے کھانے والے ہوں؟ کیا اس سے زیادہ پاکیزہ اور بلند ترین ادارہ انسانیت میں کوئی دوسرا بھی ہے‘‘ (ایضاً‘ص ۱۵۳ - ۱۵۴)۔ ’’صنفی میلان کو خاندان کی تخلیق اور اس کے استحکام کا ذریعہ بنانے کے بعد اسلام خاندان کی تنظیم کرتا ہے‘ اور یہاں بھی وہ پورے توازن کے ساتھ قانون فطرت کے ان تمام پہلوئوں کی رعایت ملحوظ رکھتا ہے‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۲۳۲)

اس تنظیم میں عورت کو گھر کی ملکہ بنایا گیا ہے۔ کسب مال کی ذمہ داری اس کے شوہر پر ہے اور اس کے مال سے گھر کا انتظام کرنا اس کا کام ہے۔ المراء ۃ راعیۃعلیٰ بیت زوجھا و ھُوَ مَسْئولَۃ‘ عورت اپنے شوہر کے گھر کی حکمران ہے۔ اور وہ اپنی حکومت کے دائرے میں اپنے عمل کے لیے جواب دہ ہے۔ مولانا کے نزدیک مرد اور عورت کے دائرہ عمل کا تعین کوئی سرسری بات نہیں ہے یا یہ محض ایک ایشو نہیں ہے‘ بلکہ یہ تمدن کی ایک بڑی اہم اور اساسی نوعیت کی بنیاد ہے۔ معاشرے کی تعمیر کو درست خطوط پر استوار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فطرت نے جس کے ذمے جو فرض لگا دیا ہے‘ وہ اسی کو ادا کرے۔ جہاں کوئی صنف اپنے حصے کا کام چھوڑ کر دوسری صنف کے کرنے کا کام سنبھالے گی‘ وہ خود بھی نقصان اٹھائے گی‘ اور معاشرہ بھی بری طرح اس کے نتائج کو بھگتے گا۔

مولانا مودودیؒ اس ضمن میں اسلام کی روح کو واضح کرتے ہوئے نہ کسی جدید تحریک سے مرعوب نظر آتے ہیں اور نہ قدیم تہذیب کے کسی ایسے اصول کو مانتے ہیں جو اسلام کی اصل روح سے ٹکراتا ہو۔ نہ جامد تقلید کے قائل ہیں‘ نہ ہر چلتے ہوئے سکّے کو اسلامی ثابت کرنے والوں کی مذمت سے گریز کرتے ہیں۔ چنانچہ ترقی کے نام پر عورت کو گھر سے باہر نکال کر کارخانوں میں لگا دینے اور تمدن کی ترقی کے اہم ترین کارخانے کو نظر انداز کر دینے کے بارے میں مولانا فرماتے ہیں: ’’یہ کہنا کہ ’پردے میں رہ کر عورت ملک کی ترقی میں معاون بننے کے بجاے رکاوٹ بنتی ہے‘ اس کے جواب میں‘ میں پوچھتا ہوں کہ ترقی میں آخر نئی نسلوں کو پرورش کرنا اور ان کو اچھی تربیت دینا بھی شامل ہے یا نہیں؟ وہ ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے جس میں بچوں کو اول روز سے ماں اور باپ کی محبت نصیب نہ ہو اور پیدا ہوتے ہی بچوں کو وہ ادارے سنبھال رہے ہوں جن کے کار پرداز بہرحال ماں باپ کی جگہ نہیں لے سکتے۔ ان بچوں کو ابتدا ہی سے محبت کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔ اور جن بچوں کو بچپن میں ماں باپ کی محبت نصیب نہیں ہوتی وہ حقیقت میں انسان بن کر نہیں اٹھتے۔ آج دنیا میں جو ظلم و ستم ہو رہا ہے اور  کم سنی کے جرائم نے معاشرے کے لیے ایک پریشان کن مسئلہ پیدا کر دیا ہے‘ اس کا سبب یہی ہے کہ اب دنیا کی باگیں ان نسلوں کے ہاتھ میں آ رہی ہیں‘ جنھوں نے ماں باپ کی محبت نہیں دیکھی ہے۔ اور جہاں خون کے رشتوں تک میں محبت نہ ہو‘ وہاں انسانی محبت کا کیا سوال؟ ایسے انسان تو پھر خود غرضی کے پتلے اور آدمیت کے احساسات سے خالی ہی ہوں گے‘‘۔ (دین اور خواتین‘ ص۲۸)

’’یہ معلوم ہوتا ہے کہ ]مغرب میں[ خاندانی تعلق کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ باپ کا بیٹی سے اور بیٹی کا ماں سے اور بھائی کا بھائی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب کچھ اسی چیز کا نتیجہ ہے کہ ملک کی ’ترقی‘ کا مفہوم صرف معاشی پیداوار کی ’ترقی‘ سمجھ لیا گیا ہے۔ اس کے لیے عورتوں اور مردوں‘ سب کو لا کر معاشی میدان میں کھڑا کر دیا گیا اور خاندانی نظام کے برباد ہونے کی کوئی پروا نہیں کی گئی۔ حالانکہ ترقی صرف معاشی پیداوار بڑھانے کا نام نہیں ہے۔ اگر عورتیں گھروں میں نئی نسل کو تربیت دیں‘ انسانیت سکھائیں‘ ان کے اندر اعلیٰ اخلاق اور خدا ترسی پیدا کرنے کی کوشش کریں تو یہ بھی ترقی ہی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ملک کی ترقی کا صرف یہی ایک ذریعہ نہیں ہے کہ مرد بھی کارخانوں میں جا کر کام کریں اور عورتیں بھی …] بلکہ[ ترقی کا یہ بھی ایک بڑا ذریعہ ہے کہ گھروں میں بچوں کو انسانیت کی تربیت دے کر تیار کیا جائے تاکہ وہ دنیا میں انسانیت کے رہنما بننے کے قابل بنیں‘ چرندے اور درندے بن کر نہ اٹھیں‘‘۔ (ایضاً‘ص ۲۹ - ۳۰)

ایک موقعے پر مغرب کے ایسے ہم نوا دانش وروں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں: ’’یہ تعبیرات دراصل ایسے لوگوں نے کی ہیں جو قرآن سے نہیں بلکہ آپ لوگوں سے رہنمائی لیتے ہیں اور پھر قرآن کو مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ضرور اسی بات کو حق کہے‘ جسے آپ لوگ حق کہیں۔ ]یہ[ چیز میرے نزدیک منافقت اور بے ایمانی ہے۔ اگر میں ایمان داری کے ساتھ یہ سمجھتا کہ اس معاملے میں یا کسی معاملے میں بھی قرآن کا نقطۂ نظر غلط اور اہل مغرب کا صحیح ہے تو صاف صاف قرآن کا انکار کر کے آپ حضرات کے نظریے پر ایمان لانے کا اعلان کر دیتا اور یہ کہنے میں ہرگز تامل نہ کرتا کہ میں مسلمان نہیں ہوں۔ یہی رویہ ہر مخلص اور راست باز آدمی کا ہونا چاہیے۔ (رسائل و مسائل‘ سوم‘ ص ۳۱ - ۳۲)

گویا مولانا مودودیؒ دو ٹوک انداز میں یہ بات واضح کرتے ہیں کہ عورت کا اصل دائرہ کار اس کا گھر ہے… اور اگرچہ خواتین اسلام نے بوقت ضرورت گھر سے نکل کر دیگر خدمات بھی انجام دی ہیں اور مولانا نے اس کی وضاحت مختلف مواقع پر کی ہے۔ حجاب پر گفتگو کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’حکم قرآنی کا منشا یہ نہیں کہ عورتیں گھر کے حدود سے قدم کبھی باہر نہ نکالیں۔ ضروریات کے لیے ان کو گھر سے نکلنے کی پوری آزادی ہے۔ مگر یہ اجازت غیر مشروط ہے نہ غیر محدود --- ضروریات سے مراد ایسی واقعی ضروریات ہیں جن میں نکلنا اور کام کرنا عورتوں کے لیے واقعی ناگزیر ہو‘‘۔ (اسلام اور مسلم خواتین‘ ص ۷۲)

دوسری جانب جنگ کے موقع پر حجاب کا یہ حکم کچھ رعایت اختیار کر جاتا ہے۔ مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں: ’’مسلمان جنگ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ عام مصیبت کا وقت ہے۔ حالات مطالبہ کرتے ہیں کہ قوم کی پوری اجتماعی قوت دفاع میں صرف کر دی جائے‘ ایسی حالت میں اسلام خواتین کو عام اجازت دیتا ہے کہ وہ جنگی خدمات میں حصہ لیں۔ مگر یہ حقیقت اس کے پیش نظر ہے کہ عورت جو ماں بننے کے لیے بنائی گئی ہے وہ سر کاٹنے اور خون بہانے کے لیے نہیں بنائی گی۔ اس لیے وہ عورتوں کو اپنی جان اور آبرو کی خاطر ہتھیار اٹھانے کی اجازت تو دیتا ہے مگر بالعموم انھیں فوجوں میں بھرتی کرنا اس کی پالیسی سے خارج ہے --- [تاہم] اسلامی پردے کی نوعیت کسی جاہلی رسم کی طرح نہیں ہے جس میں کمی بیشی نہ ہو سکتی ہو۔ جہاں حقیقی ضرورت پیش آ جائے وہاں اس کے حدود کم ہو سکتے ہیں۔ لیکن جب ضرورت رفع ہو جائے تو حجاب کو پھر اپنی حدود پر قائم ہو جانا چاہیے‘ جو عام حالات کے لیے مقرر کیے گئے ہیں ۔ جس طرح یہ پردہ جاہلی نہیں ہے اس طرح اس کی تخفیف اور اس میں نرمی بھی جاہلی نہیں‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۷۳ - ۷۴)

ان چند سطروں سے مطلوبہ حدود اور دائرہ کار کی اہمیت بھی واضح ہو جاتی ہے‘جب کہ حجاب اور گھر بیٹھنے کا مفہوم‘ اور اس روایتی پردے کی نفی بھی ہو جاتی ہے جو بقول مولانا مودودیؒ: ’’ایک گروہ نے انھیں گھر کی چار دیواری میں اس طرح قید کر دیا کہ صوبہ بہار میں مسلمانوں کے قتل عام ]۱۹۴۶ئ[ کے وقت بھی ان کی عورتیں گھروں سے ڈولی کے بغیر نہ نکل سکیں۔ دوسرے گروہ نے اس قدر آزادی اختیار کر لی کہ اپنی عورتوں کو نیم برہنگی تک لے گئے۔ یہ دونوں طریقے غلط ہیں۔ اس وقت تو ملک میں حالات ایسے پیدا ہو رہے ہیں کہ عورتوں کو اس کے لیے تیار ہونا چاہیے کہ بوقت ضرورت اپنی حفاظت خود کر سکیں‘ ایک جگہ سے دوسری جگہ خود منتقل ہو سکیں اور مصیبت کے وقت مردوں کے لیے بار اور رکاوٹ بننے کے بجاے ان کی قوت میں اضافہ کرنے کا موجب ہوں۔ میں یہ بھی مشورہ دوں گا کہ بھائی اپنی بہنوں کو اگر ممکن ہو سکے تو گھروں کے اندر سائیکل سواری بھی سکھا دیں تاکہ ضرورت کے وقت اس سے کام لیا جا سکے‘‘ (ایضاً‘ ص ۳۸ - ۳۹)۔ اور حقیقتاً یہی دائرہ کار اور پردے کا متوازن تصور ہے جو اسلام دیتا ہے۔ یہ دین فطرت کی روح ہے جسے مولانا مودودیؒ واضح کرتے ہیں۔

  • مساوات کا دل فریب نعرہ: آج جس فورم پر جائیے‘ کسی این جی او کا پروگرام ہو‘ ٹی وی کا ڈراما ہو‘ یا خواتین سے متعلق اخبارات کا کالم -- مرکزی نکتہ ایک ہی ہے ’’مساوات       مرد و زن‘‘ -- خواتین کے متعلق اقوام متحدہ کا چارٹر اٹھا کر دیکھیے‘ ’بیجنگ‘ اور ’بیجنگ + ۵‘ کانفرنسوں کا مرکزی مطالبہ اور اس پر عمل درآمد کے لیے وجود میں آنے والے CEDAW کنونشن‘ سبھی کا مرکزی مطالبہ مساوات مرد و زن ہے۔بظاہر یہ اتنا دل فریب نعرہ ہے‘ کہ دانستہ یا نادانستہ خواتین اور خود حکومت بے سوچے سمجھے اس کے پیچھے بھاگی جا رہی ہے۔ بلدیاتی اداروں میں تو شاید خواتین کو منتخب ہی اس مقصد کے لیے کیا گیا ہے کہ ان کو باقاعدہ ایجنڈے کے تحت یہ سبق ’’باتصویر‘‘ اور عملی طور پر  ذہن نشین کرادیا جائے (بلدیہ کے تحت مخلوط کانفرنسوں میں یہ لازم کیا جاتا ہے کہ مرد اور عورت الگ الگ نہیں‘ بلکہ برابر کی نشستوں پر بیٹھیں گے)۔ اس کے علاوہ بلدیاتی اداروں میں ماسٹر ٹرینر تیار کی جارہی ہیں‘ جن کی تیاری کا بنیادی مقصد خواتین کی Gender Sex کے موضوع پر ذہنی تطہیر اور  ’سیڈا‘ کے طے کردہ اصول و ضوابط کے تحت معاشرتی اصولوں کی استواری کی تربیت ہے۔ یہ ایک بڑا دھوکا ہے جو ’عوامی خدمت‘ کے نام پر بلدیاتی اداروں کی صورت میں دیا جا رہا ہے (کاش! کوئی کونسلر بہن گذشتہ دو برس کے مشاہدات و تجربات تفصیل سے لکھے)۔

ایسے مسلمان دانشوروں کی کمی بھی نہیں‘ جوہر چلتے ہوئے سکے کو کھرا ہو یا کھوٹا‘ اسلامی سکہ ثابت کرنے پر قوت لگا دیتے ہیں۔ آئیے ہم دیکھیں کہ مولانا مودودیؒ مساوات مرد و زن پر کیسے روشنی ڈالتے ہیں: ’’اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ انسان ہونے میں مرد اور عورت دونوں مساوی ہیں‘ دونوں نوع انسانی کے دو مساوی حصے ہیں۔ تمدن کی تعمیر اور تہذیب کی تشکیل اور انسانیت کی خدمت میں دونوں برابر کے شریک ہیں --- تمدن کی صلاح و فلاح کے لیے دونوں کی دماغی تربیت اور عقلی و فکری نشوونما یکساں ضروری ہے‘ تاکہ تمدن کی خدمت میں ہر ایک اپنا پورا پورا حصہ ادا کر سکے۔ اس اعتبار سے مساوات کا دعویٰ بالکل صحیح ہے اور ہر صالح تمدن کا فرض یہی ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی اپنی فطری استعداد اور صلاحیت کے مطابق زیادہ سے زیادہ ترقی کرنے کا موقع دے۔ ان کو علم اور اعلیٰ تربیت سے مزّین کرے‘ انھیں بھی مردوں کی طرح تمدنی و معاشی حقوق عطا کرے‘ اور انھیں معاشرت میں عزت کا مقام بخشے‘ تاکہ ان میں عزت نفس کا احساس پیدا ہو‘ اور ان کے اندر وہ بہترین بشری صفات پیدا ہو سکیں‘ جو صرف عزتِ نفس کے احساس ہی سے پیدا ہوسکتی ہیں‘‘۔ (پردہ‘ ص ۱۸۲)

’’لیکن مساوات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عورت اور مرد کا دائرہ عمل بھی ایک ہی ہو‘ دونوں ایک ہی سے کام کریں۔ دونوں پر زندگی کے تمام شعبوں کی ذمہ داریاں یکساں عائد کر دی جائیں۔ اس معاملے میں: ’’فطرت نے دونوں پر مساوی بار نہیں ڈالا ہے۔ ’بقائے نوع‘ کی خدمت میں    تخم ریزی کے سوا اور کوئی کام مرد کے سپرد نہیں کیا گیا ہے‘ اس کے بعد وہ بالکل آزاد ہے۔ زندگی کے جس شعبے میں چاہے کام کرے۔ بخلاف اس کے اس خدمت کا پورا بار عورت پر ڈال دیا گیا ہے --- اس کے لیے حمل اور مابعد حمل کا پورا ایک سال سختیاں جھیلتے گزرتا ہے‘ جس میں وہ درحقیقت نیم جان ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے رضاعت کے پورے دو سال اس طرح گزرتے ہیں کہ وہ اپنے خون سے انسانیت کی کھیتی کو سینچتی ہے --- اس پر بچے کی ابتدائی پرورش کے کئی سال اس محنت و مشقت کے گزرتے ہیں کہ اس پر رات کی نیند اور دن کی آسایش حرام ہوتی ہے۔ وہ اپنی راحت‘ اپنے لطف‘ اپنی خوشی‘ اپنی خواہشات‘ غرض ہر چیز کو آنے والی نسل پر قربان کر دیتی ہے۔ جب حال یہ ہے تو غور کیجیے کہ عدل کا تقاضا کیا ہے۔ کیا عدل یہی ہے کہ عورت سے ان فطری ذمہ داریوں کی بجا آوری کا مطالبہ بھی کیا جائے جن میں مرد اس کا شریک نہیں ہے‘ اور پھر ان تمدنی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اس پر مرد کے برابر ڈال دیا جائے‘ جن کو سنبھالنے کے لیے مرد فطرت کی تمام ذمہ داریوں سے آزاد رکھا گیا ہے؟ اس سے کہا جائے کہ تو وہ ساری مصیبتیں بھی برداشت کر‘ جو فطرت نے تیرے اوپر ڈالی ہیں اور پھر ہمارے ساتھ آ کر روزی کمانے کی مشقتیں بھی اٹھا۔ سیاست‘ عدالت اور صنعت و حرفت اور تجارت و زراعت اور قیام امن اور مدافعت وطن کی خدمتوں میں بھی برابر کا حصہ لے۔ ہماری سوسائٹی میں آ کر ہمارا دل بھی بہلائے اور ہمارے لیے عیش و مسرت اور لطف و لذت کے سامان بھی فراہم کرے۔ یہ عدل نہیں ظلم ہے‘ مساوات نہیں صریح نامساوات ہے‘ عدل کا تقاضا تو یہ ہونا چاہیے کہ جس پر فطرت نے بہت زیادہ بار ڈالا ہے اس کو تمدن کے ہلکے اور سبک کام سپرد کیے جائیں اور جس پر فطرت نے کوئی بار نہیں ڈالا --- اسی کے سپرد یہ خدمت بھی کی جائے کہ وہ خاندان کی پرورش اور اس کی حفاظت کرے… اس میں عورت کے لیے ارتقا نہیں‘ انحطاط ہے --- اس میں عورت کے لیے کامیابی نہیں بلکہ ناکامی ہے۔ زندگی کے ایک پہلو میں عورتیں کمزور ہیں اور مرد بڑھے ہوئے ہیں۔ دوسرے پہلو میں مرد کمزور ہیں اور عورتیں بڑھی ہوئی ہیں۔ تم غریب عورتوں کو اس پہلو میں مرد کے مقابلے پر لاتے ہو‘ جس میں وہ کمزور ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی ہو گا کہ عورتیں ہمیشہ مردوں سے کم تر رہیں گی‘ تم خواہ کتنی ہی تدبیریں کر لو۔ ممکن نہیں ہے کہ عورتوں کی صنف سے ارسطو‘ ابن سینا‘ کانٹ‘ ہیگل‘ خیام‘ شکسپیر‘ سکندر‘ نپولین‘ صلاح الدین‘ نظام الملک طوسی اور بسمارک کی ٹکر کا ایک فرد بھی پیدا ہوسکے۔ البتہ تمام دنیا کے مرد چاہے کتنا ہی سر مار لیں‘ وہ اپنی پوری صنف میں سے ایک معمولی درجے کی ماں بھی پیدا نہیں کرسکتے‘‘۔ (ایضاً‘ص ۱۹۱-۱۹۵)

وہ کہتے ہیں:پردہ تقسیم عمل ہے‘ جو خود فطرت نے انسان کی دونوں صنفوں کے درمیان رکھ دی ہے اور اس میں تمدن کا ارتقا ہے۔ ایک صالح تمدن وہی ہو سکتا ہے جو اولاً اس فیصلے کو جو ںکا توں قبول کرے۔ پھر عورت کو اس کے صحیح مقام پر رکھ کر اسے معاشرت میں عزت و مرتبہ دے۔

  • مغرب اور مساوات: مولانا مودودیؒ مساوات مرد و زن کی حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں: ’’اہل مغرب نے عورت کو ’برابری‘ کا جو مقام دیا ہے اسے عورت رکھ کر نہیں دیا‘ بلکہ اس کو ’نیم مرد‘ بنا کر دیا ہے‘‘ (دین اور خواتین‘ ص ۲۱) ۔عورت درحقیقت اس کی نگاہ میں اب بھی ویسی ہی ذلیل ہے جیسے دور جاہلیت میں تھی… عزت اگر ہے تو اس ’’مرد مونث‘‘ یا ’’زن مذکر‘‘ کے لیے جو جسمانی حیثیت سے تو عورت ہو‘ مگر دماغی اور ذہنی حیثیت سے مرد ہو اور تمدن و معاشرت میں مرد ہی کے سے کام کرے۔ ظاہر ہے یہ’انوثت‘ کی عزت نہیں ’رجولیت‘ کی عزت ہے… مردانہ کام کرنے میں عورتیں عزت محسوس کرتی ہیں‘ حالانکہ خانہ داری اور پرورش اطفال جیسے خالص زنانہ کاموں میں کوئی مرد عزت محسوس نہیں کرتا۔ پس بلاخوف و تردید کہا جا سکتا ہے کہ مغرب نے عورت کو بحیثیت عورت ہونے کے کوئی عزت نہیں دی ہے‘‘۔(پردہ‘ ص ۲۵۵-۲۵۶)

’’عورتوں نے دھوکا کھا کر جب مردوں کے ساتھ برابری کا دعویٰ کیا‘ تو اس کے بعد اب مغرب میں ’لیڈیزفرسٹ‘ (پہلے خواتین) کا قصّہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ میں نے خود انگلستان میں (سفر کے دوران) دیکھا ہے کہ عورتیں کھڑی ہوتی ہیں اور مرد پروا تک نہیں کرتے۔ حالانکہ ہمارے ہاں ابھی تک مردوں میں یہ بات ہے کہ اگر ٹرین یا بس میں کوئی عورت کھڑی ہو تو مرد اٹھ جائے گا‘ اور اس سے کہے گا کہ ’آپ تشریف رکھیے‘۔ لیکن وہاں اب وہ کہتے ہیں کہ: تم برابر کی ہو۔ تمھیں پہلے بیٹھنے کا موقع مل گیا تو تم بیٹھ جاؤ‘ ہمیں موقع مل گیا تو ہم بیٹھ گئے۔ اب عورتیں دھکے کھاتی پھرتی ہیں اور کوئی ان کو پوچھتا تک نہیں۔ الا یہ کہ پوچھنے کی کوئی ’خاص‘ وجہ ہو‘‘۔ (دین اور خواتین‘ ص ۲۱ - ۲۲)

’’اسلام نے جو کچھ کیا ہے وہ یہ ہے کہ عورت پر وہی ذمہ داریاں ڈالی ہیں‘ جو فطرت نے اس پر ڈالی ہیں۔ اس کے بعد اس کو مردوں کے ساتھ بالکل مساویانہ حیثیت دی ہے۔ ان کے حقوق میں کوئی فرق نہیں رکھا ہے۔ ان کے لیے عزت کا وہی مقام رکھا ہے جو مرد کے لیے ہے۔ مسلمان عورتوں کو اﷲ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ اس معاشرے میں پیدا ہوئی ہیں جس سے بڑھ کر عورتوں کی عزت دنیا کے کسی معاشرے میں نہیں ہے۔ جائیے جا کر امریکہ اور انگلستان میں دیکھیے‘ عورت کا حال کیا ہے؟ کیسی مصیبت کی زندگی بسر کر رہی ہے؟ باپ کے اوپر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے‘ بیٹے پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ ادھر وہ جوان ہوئی ادھر اس کا باپ اسے رخصت کر دیتا ہے: ’’جاؤ اور خود کما کر کھاؤ‘‘۔ اب اس کے بعد اسے اس سے کچھ بحث نہیں ہے کہ وہ کس طرح سے کما کر کھائے اور کس طرح زندگی بسر کرے۔ مغرب میں عورت اس بے بسی کی زندگی بسر کر رہی ہے‘ کہ اس پر ترس کھانے والا بھی کوئی نہیں ہے …یہاں باپ اپنی بیٹی کی ذمہ داری سے اس وقت تک سبک دوش نہیں ہوتا جب تک وہ اس کی شادی نہیں کر دیتا۔ شادی کر دینے کے بعد بھی وہ اس کی اور اس کی اولاد تک کی فکر رکھتا ہے۔ بھائی اپنی بہنوں کے پشت پناہ ہوتے ہیں۔ بیٹے ماؤں کے خدمت گزار ہوتے ہیں۔ (کچھ مثالوں کو چھوڑ کر عموماً) شوہر اپنی بیویوں کو گھر کی ملکہ بنا کر رکھتے ہیں۔ یہاں آپ کو آنکھوں پر بیٹھایا جاتا ہے اور آپ کی عزت کی جاتی ہے۔ وہاں بغیر اس کے کہ ]بے چاری عورت[ نیم برہنہ ہو کر مردوں کے سامنے ناچے ]اس[ کے لیے عزت کا کوئی مقام نہیں ہے۔ اب اگر ہمارے ملک کی عورتیں ان حقوق پر قناعت نہیں کرنا چاہتیں جو اسلام ان کو دیتا ہے‘ اور وہی نتائج دیکھنا چاہتی ہیں جو مغرب میں عورت دیکھ رہی ہے‘ تو انھیں اس کا اختیار ہے۔ مگر یہ سمجھ لیجیے کہ اس کے بعد پھر پلٹنے کا موقع نہیں ملے گا۔… ]کیونکہ[ ایک معاشرہ جب بگاڑ کے راستے پر چل پڑتا ہے تو اس کی انتہا پر پہنچے بغیر نہیں رہتا اور انتہا پر پہنچنے کے بعد پلٹنا محال ہو جاتا ہے‘‘۔ (ایضاً‘ص ۲۳ -۲۴)

تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے رب کے دیے ہوئے اعزازات کی قدر نہ کی‘ وہ کس قدر رسوا ہوئے۔ وہ کس کس پاتال میں گرے۔ نہ عورتیں عورتیں رہیں‘ نہ مرد مرد رہے‘ نہ بچوں کو باپ ملے‘ نہ معاشرے کا تحفظ ملا --- نہ رشتے نہ احترام‘ نہ شفقت و محبت‘ بوڑھے بھی ترس رہے ہیں‘ بچے بھی بلک رہے ہیں۔ عورت اپنے حقوق کے لیے لڑ رہی ہے۔ مرد اپنے حال پر پریشان ہے۔

کیا یہی وہ تصویر نہیں تھی جو مولانا مودودیؒ نے آج سے کئی برس قبل کھینچی تھی اور پکار پکار کر قوم کو ان کے نقش قدم پر چلنے سے روکنے کی سعی کی تھی۔ کتاب پردہ اٹھا کر دیکھیے ۔اس کا ایک ایک صفحہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ انھو ںنے کس کس طرح مثالوں سے قوم کو سمجھانے کی کوشش کی۔

قدیم معاشروں اور گزرے ہوئے مختلف ادوار میں عورت کی حیثیت کے بارے میں افراط و تفریط پر مبنی تصورات اور تباہ کاریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے‘ مولانا محترم کے ذوق سلیم پر کیا گزری ہو گی‘ مگر انھوں نے لکھا ‘کیونکہ ان کے دل میں اُمت کا درد اور معاشرے کو صحیح بنیادوں پر استوار کرنے کی فکر تھی۔ ان کی نگاہیں آنے والی تباہ کاریوں کو بھانپ رہی تھیں اور وہ ان خطرات سے قوم کو آگاہ کررہے تھے۔ کاش ’ایسی آزادی‘ کی متوالی تمام خواتین کم از کم ایک بار لازماً اس کتاب کا مطالعہ کریں تو انھیں مغرب کے شاخ نازک پر بنے آشیانے کی سمجھ بھی آ جائے اور اسلام کے مضبوط معاشرتی نظام کا علم بھی ہو جائے اور تمدن کی شان اعتدال بھی واضح ہو جائے۔ بقول مولانا مودودیؒ: ’’بے اعتدالی اور افراط و تفریط کی اس دنیا میں صرف ایک نظام تمدن ایسا ہے‘ جس میں غایت درجے کا اعتدال و توازن پایا جاتا ہے۔ جس میں انسان کی جسمانی ساخت اور اس کی حیوانی جبلت ‘ اس کی انسانی سرشت اور اس کے فطری داعیات …ان میں سے ایک ایک چیز کی تخلیق سے فطرت کا جو مقصد ہے‘ اس کو اس طریقے سے پورا کیا گیا ہے‘ کہ دوسرے چھوٹے سے چھوٹے مقصد کو بھی نقصان نہیں پہنچتا‘ اور بالآخر یہ سب مقاصد مل کر اس بڑے مقصد کی تکمیل میں مددگار ہوتے ہیں جو خود انسان کی زندگی کا مقصد ہے۔ یہ اعتدال‘ یہ توازن‘ یہ تناسب اتنا مکمل ہے کہ کوئی انسان خود اپنی عقل اور کوشش سے اس کو پیدا کر ہی نہیں سکتا۔ انسان کا وضع کیا ہوا قانون ہو اور اس میں کسی جگہ بھی یک رخی ظاہر نہ ہو‘ ناممکن ‘قطعی ناممکن! خود وضع کرنا تو درکنار‘ حقیقت یہ ہے کہ معمولی انسان تو اس معتدل و متوازن اور انتہائی حکیمانہ قانون کی حکمتوں کو پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکتا۔(پردہ‘ ص ۲۱۰ - ۲۱۱)

  • خواتین اور ترقی: بی بی سی کے نمایندے نے جدید تہذیبی قدروں کی روشنی میں عورت کے بارے میں اسلام کے نقطۂ نظر میں مخصوص ’ترقی پسندانہ‘ تبدیلی کے بارے میں سوال کیا۔

مولانا مودودیؒ نے گھر اور گھر سے باہر عورت کی حیثیت اور ذمہ داریوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’دیکھیے‘ آپ کے خیال میں جو جدید تہذیب اور ماڈرن کلچر ہے‘ آپ سمجھتے ہیں کہ تہذیب اور ثقافت کا یہی ایک معیار ہے۔ اس معیار پر آپ دوسری ہر تہذیب و ثقافت کو پرکھتے ہیں۔ لیکن ہم اس کو نہیں مانتے۔ آپ اپنی جس تہذیب اور کلچر کو ’ماڈرن‘ کہہ کر اس کی بڑی تعریف کرتے ہیں‘ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک پس ماندہ اور فرسودہ چیز ہے اور یہ تباہ کر رہی ہے آپ کی پوری سوسائٹی    کو اور آپ کے پورے نظام تمدن کو۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس ’ماڈرن کلچر‘ کو اپنی سوسائٹی میں لائیں    اور اسے بھی تباہ کر لیں --- ہمارے نزدیک ترقی اور چیز ہے اور نام نہاد ماڈرن سوسائٹی کی بری عادات و اطوار اور چیز۔ ہم ترقی کے قائل ہیں اور وہ ہم ضرور کریں گے‘ لیکن اس شکل میں نہیں کہ جس طرح آپ کر رہے ہیں --- اس کے بجاے ہم اپنے اصولوں پر تعمیر و ترقی کریں گے اور وہی صحیح معنوں میں تعمیر و ترقی ہو گی --- اسلامی اصولِ معاشر ت کی رو سے عورت کا مقام اس کا گھر ہے اور اس میں مرد کی حیثیت نگران اور قواّم کی ہے۔ عورتوں کے تعلیم پانے کو ہم نہ صرف درست سمجھتے ہیں بلکہ ضروری سمجھتے ہیں۔ ہماری خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بھی بنیں گی‘ لیکن وہ عورتوں کا علاج کریں گی‘ مردوں کا نہیں۔ ]غرضیکہ[ مسلمان عورت سے ہم جو کام بھی لیں گے وہ اس کے گھر کے اندر اور عورتوں کی سوسائٹی کے اندر لیں گے۔ (اسلام‘ دور جدید کا مذہب‘ ص ۱۵ - ۱۷)

  • ملکی سیاست میں عورتوں کا حصہ: مجالس قانون ساز میں عورتوں کی شرکت کے مسئلے پر مولانا سے پوچھا گیا کہ آخر وہ کون سے احکام ہیں جو عورتوں کی رکنیت ِقانون ساز مجالس میں مانع ہیں؟ اور قرآن و حدیث کے وہ کون سے ارشادات ہیں جو ان اداروں کو صرف مردوں کے لیے مخصوص قرار دیتے ہیں؟

مولانا نے فرمایا:اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم ان مجالس کی صحیح نوعیت اچھی طرح واضح کریں‘ جن کی رکنیت کے لیے عورتوں کے استحقاق پر گفتگو کی جا رہی ہے۔ ان مجالس کا نام ’’مجالس قانون ساز‘‘ رکھنے سے یہ غلط فہمی واقع ہوتی ہے کہ ان کا کام صرف قانون بنانا ہے اور پھر یہ غلط فہمی ذہن میں رکھ کر جب آدمی دیکھتا ہے کہ عہد صحابہ میں خواتین بھی قانونی مسائل پر بحث‘ گفتگو‘ اظہار رائے کرتی تھیں اور بسا اوقات خود خلفا ان سے رائے لیتے اور اس کا لحاظ کرتے تھے‘ توآج اسلامی اصولوں کا نام لے کر اس قسم کی مجالس میں عورتوں کی شرکت کو غلط کیسے کہا جا سکتا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو مجالس اس نام سے موسوم کی جاتی ہیں ان کا کام محض قانون سازی کرنا نہیں ہے‘ بلکہ عملاً وہی پوری ملکی سیاست کو کنٹرول کرتی ہیں۔ وہی نظم و نسق کی پالیسی طے کرتی ہیں۔ وہی مالیات کے مسائل طے کرتی ہیں اور انھی کے ہاتھ میں صلح و جنگ کی زمام کار ہوتی ہے۔ اس حیثیت سے ان مجالس کا مقام محض ایک فقیہہ اور مفتی کا مقام نہیں ہے‘ بلکہ پوری مملکت کے ’’قواّم‘‘ کا مقام ہے۔

’’قرآن اجتماعی زندگی میں یہ مقام کس کو دیتا ہے۔ ارشاد باری دیکھیے:’’مرد عورتوں پر قواّم ہیں‘ اس بنا پر کہ اﷲ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلتدی ہے اور اس بنا پر مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں‘‘۔ (النسا۴: ۳۴)

’’]کوئی کہہ سکتا ہے[ کہ یہ حکم تو خانگی معاشرت کے لیے ہے‘ نہ کہ ملکی سیاست کے لیے۔ مگر یہاں اول تو مطلقاً  الرجال قوامون علی النساء کہا گیا ہے فی البیوت کے الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔ جن کو بڑھائے بغیر اس حکم کو خانگی معاشرت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اگر یہ بات مان بھی لی جائے‘ تو ہم پوچھتے ہیں کہ جسے گھر میں اﷲ نے قواّم نہ بنایا‘ بلکہ قنوت (اطاعت شعاری) کے مقام پر رکھا‘ آپ اسے تمام گھروں کے مجموعے ‘یعنی پوری مملکت میں قنوت کے مقام سے اٹھا کر قوامیت کے مقام پر لانا چاہتے ہیں؟ گھر کی قوامیت سے مملکت کی قوامیت تو زیادہ بڑی اور اونچے درجے کی ذمہ داری ہے اور دیکھیے قرآن صاف الفاظ میں عورت کا دائرہ عمل یہ کہہ کر متعین کر دیتا ہے : اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ ٹھیری رہو اور پچھلی جاہلیت کے سے تبرج کا ارتکاب نہ کرو‘‘۔ (الاحزاب۳۳:۳۳)

’’آپ یہ فرمائیں گے کہ یہ حکم تو نبی کریم ؐ کے گھر کی خواتین کو دیا گیا تھا۔ مگر ہم یہ پوچھتے ہیں کہ آپ کے خیال مبارک میں کیا نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم کے گھر کی خواتین کے اندر کوئی خاص نقص تھا‘ جس کی وجہ سے وہ بیرون خانہ کی ذمہ داریوں کے لیے نااہل تھیں؟ اور کیا دوسری خواتین کو اس لحاظ سے ان پر فوقیت حاصل ہے؟ پھر اگر اس سلسلے کی ساری آیات‘ اہل بیت نبوت کے لیے مخصوص ہیں‘ تو کیا دوسری مسلمان عورتوں کو تبرج جاہلیت کی اجازت ہے؟ --- اور کیا اﷲ اپنے نبیؐ کے گھر کے سوا ہر مسلمان کے گھر کو ’’رجس‘‘ میں آلودہ دیکھنا چاہتا ہے؟‘‘ (اسلامی ریاست‘ ص ۵۰۶ - ۵۰۸)

اب یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اس نقطۂ نظر کے باوجود اس وقت جماعت اسلامی کی خواتین پارلیمنٹ میں کیوں موجود ہیں؟ یہاں پر یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ خواتین ہرگز خوشی سے ان اداروں میں نہیں گئی ہیں۔ حالات نے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ اور یہ تمام خواتین شرعی حدود و قیود کے ساتھ وہاں پر گئی ہیں اور تہذیب اسلامی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کا ابطال کرنے کا فرض ادا کررہی ہیں اور اسلامی معاشرے میں عورت کے اصل مقام کو واضح کرنے میں بھی پیش پیش ہیں۔

  • اسلامی نظام کی جد وجہد میں خواتین کی ذمہ داریاں: نفاذ اسلام کی جدوجہد میں مولانا مودودیؒ خواتین کے کام کو مردوں کے برابر اہم سمجھتے ہیں۔ عام دنوں میں خواتین کے اندر کام کرنے کی اہمیت اور تنظیم سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں: ’’ہمیں پاکستان میں اسلام کی حکومت قائم کرنا ہے‘ اور یہ کام بہت بڑی جدوجہد کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہاں کے باشندوں کو یہ طے کرنا ہے‘ کہ وہ اپنے لیے کس طریق زندگی کو‘ کس اصول اخلاق کو اور کس نظام حکومت کو پسند کرتے ہیں۔ اس ملک میں ایک کش مکش برپا ہے۔ ایک طرف وہ نام نہاد مدعیان اسلام ہیں جن کو صرف اسلام کا نام باپ دادا سے ورثے میں ملا ہے‘ لیکن اس کو طریق زندگی کی حیثیت سے انھوں نے نہ قبول کیا ہے اور نہ قبول کرنے پر تیار ہیں۔ اسلام کے نام پر جو حقوق حاصل ہو سکتے ہیں انھیں تو وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں‘ لیکن جن پابندیوں کا اسلام مطالبہ کرتا ہے‘ ان سے وہ خود بھی آزاد رہنا چاہتے ہیں اور ملک کو بھی آزاد رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ مسلمانوں کے اوپر کافرانہ حکومت قائم رکھنے اور کافرانہ قوانین جاری رکھنے کے ارادے رکھتے ہیں۔ دوسری طرف ان کے مقابلے میں وہ سب لوگ ہیں‘ جو اسلام کو اپنے طریق زندگی کی حیثیت سے پسند کرتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اس ملک میں اسلام کی حکومت قائم ہو اور اسلام کا قانون جاری ہو۔

’’ان دونوں طاقتوں کے درمیان برپا کش مکش کے دوران جس طرح مردوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اسلام نما کفر کا ساتھ دیں گے یا حقیقی اسلام کی حمایت کریں گے‘ اسی طرح مسلمان خواتین کو بھی یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ اپنا وزن کس پلڑے میں ڈالیں گی۔ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کش مکش میں کیا کیا صورتیں پیش آئیں۔ بہرحال بہنوں اور ماؤں سے میں درخواست کروں گا کہ--- انھیں اس کش مکش میں اپنا پورا وزن حقیقی اسلام کے پلڑے میں ڈالنا ہو گا‘‘۔ (دین اور خواتین‘ ص ۱۶)

عام انتخابات کے موقع پر خواتین سے خطاب کرتے ہوئے فر مایا: ’’اس وقت ہر مرد اور عورت پر فرض ہے کہ اٹھے اور ان لوگوں کے حق میں رائے ہموار کرے جو اس ملک میں صحیح اسلامی نظام لانا چاہتے ہیں… جو تعلیم یافتہ خواتین اس ملک کو ایک اسلامی ملک دیکھنا چاہتی ہیں‘ انھیں اٹھنا چاہیے اور ان عورتوں کو سمجھانا چاہیے جو صورت حال کی نزاکت کا پورا احساس نہیں رکھتیں۔ اس معاملے میں آپ جتنی بھی کوشش کریں گی اﷲ تعالیٰ اجر عطا فرمائے گا۔ میں یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ لوگ عورتوں کے اجتماعات منعقد کریں۔عورتوں کے اندر جا کر کام کریں۔ انفرادی طور پر بھی جا کر عورتوں سے ملیں اور انھیں صورت حال سمجھائیں اور کوشش کریں کہ انتخابات میں عورتیں بھی اسلامی نظام اور پاکستان کی وحدت کے لیے اپنی رائے استعمال کریں۔

میں یہ بات اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو حقیر نہ سمجھیں۔ وہ مردوں کے ساتھ جدوجہد میں ہر محاذ پر قابل قدر خدمات انجام دے سکتی ہیں۔ اس وقت اس جدوجہد کا ایک محاذ انتخابی معرکے کی صورت میں درپیش ہے۔ جس طرح مرد‘ مردانہ حلقوں میں کام کر رہے ہیں‘ عورتوں کو بھی چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر اپنے اپنے حلقے میں کام کریں‘ اور اپنا پورا وزن اسلامی طاقتوں کے پلڑے میں ڈالنے کی کوشش کریں‘‘۔ (اسلام اور مسلم خواتین‘ ص ۱۵ - ۱۷)

تعلیم یافتہ خواتین کے فرائض کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’تعلیم یافتہ خواتین پر ایک اور  فرض عائد ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ مغرب زدہ طبقے کی خواتین پاکستان کی عورتوں کو جس گمراہی‘ بے حیائی اور ذہنی و اخلاقی آوارگی کی طرف دھکیل رہی ہیں اور جس طرح حکومت کے ذرائع و وسائل (سرکاری تقریبوں‘ اداروں اور ٹیلی ویژن) سے کام لے کر عورتوں کو غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں‘ ان کا پوری طاقت سے مقابلہ کیا جائے۔ اس فتنے کا سدباب کرنے میں عورتوں کی مدد کی سخت ضرورت ہے۔ خدا کے فضل سے ہمارے ملک میں ایسی خدا پرست خواتین کی کمی نہیں ہے‘ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں‘ اور وہ ان بیگمات سے علم و ذہانت اور زبان و قلم سے طاقت میں کسی طرح کم نہیں ہیں۔ اب یہ ان کا کام ہے کہ آگے بڑھ کر ڈنکے کی چوٹ کہیں کہ مسلمان عورت اس ’’ترقی‘‘ پر لعنت بھیجتی ہے جسے حاصل کرنے کے لیے خدا اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کی مقرر کی ہوئی حدیں توڑنی پڑیں‘‘۔ (ایضاً‘ص ۱۹)

’’عورتوں میں جو ذہنی‘ اخلاقی اور نفسیاتی بیماریاں پھیل رہی ہیں ان کا مقابلہ کرنا عورتوں کا کام ہے۔ وہ خواتین جو اسلام سے منحرف ہونا نہیں چاہتیں اگر اٹھ کھڑی ہوں تو اس فتنے کا مداوا اچھی طرح سے کیا جا سکتا ہے۔ جو لڑکیاں اعلیٰ درسگاہوں میں تعلیم پا رہی ہیں خدا کا شکر ہے کہ ان کی بڑی تعداد دین سے منحرف نہیں ہے۔ وہ خدا اور اس کے رسولؐ کو مانتی ہیں اور اسلامی احکام کی اطاعت اپنا فرض سمجھتی ہیں۔ اگر وہ متحرک ہوں اور جو لڑکیاں غلط تہذیب سے متاثر ہو رہی ہیں اگر انھیں وہ سنبھالنے اور بچانے کی فکر کریں تو بہت جلد لڑکیوں کے اندر ایک اصلاحی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ جو خواتین دین کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں وہ آگے بڑھیں اور اس بگاڑ کا رخ موڑ دیں۔ لیکن اس کے لیے سب سے پہلے خود دین سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اسلامی لٹریچر کا پوری توجہ سے مطالعہ کریں‘ پھر میدان میں نکلیں۔ اور عورتوں کے لیے حلقہ ہاے درس قائم کرکے انفرادی ملاقاتوں اور آسان لٹریچر کے ذریعے اپنا کام کریں۔ اس طرح کالجوں اور مدرسوں میں تعلیم پانے والی لڑکیاں بھی اپنے فرض کو پہچانیں اور اپنی ہم جماعت لڑکیوں میں اس کام کا آغاز کریں‘‘۔ (ایضاً‘ص ۹ - ۱۰)

یہ چند سطریں پڑھ کر ہم بخوبی جان سکتے ہیں کہ ایک باشعور مسلمان عورت آج کے درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کس طرح کرے۔ اس کا بنیادی دائرہ عمل ’گھر‘ اس کی بنیادی سرگرمیوں کا اصل محور ہے۔ اس کے لیے ایک متعین مقام و مرتبہ بھی ہے۔ وہ اﷲ کے مقرر کردہ دائرے کے اندر ہر طرح کی سرگرمیاں ادا کر سکتی ہے۔ اپنی طرف سے کسی ’’معاشرتی امام‘‘ یا رسم و رواج کو اس پر ناروا پابندیاں لگانے کا حق نہیں ہے۔ اس کی تعلیم‘ نسلوں کی تربیت کے لیے ضروری ہے۔ مگر تعلیم کی نوعیت اور  تعلیم گاہ کا ماحول درست ہونا اور درست کرنا ضروری ہے۔ اپنے فطری دائروں کے اندر ترقی کے مواقع حاصل کرنا اس کا حق ہے اور اﷲ کے مقرر کردہ دائرے سے اس کا باہر نکلنا‘ پوری قوم اور معاشرے میں بگاڑ کا موجب۔

اس وقت قوم کے تمام باشعور خواتین و حضرات کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خاندانی نظام کو بچانے‘ معاشرتی بنیادوں اور مدنیت صالحہ کے تحفظ کے لیے اپنے اپنے حصے کا فرض ادا کریں۔ مغرب پرست این جی اوز ‘الحاد پرست میڈیا اور مفاد پرست حکمرانوں کی مسلط کردہ بے حیائی کی یلغار کا مقابلہ عملی‘ قولی اور علمی ہر طرح کے جہاد سے اﷲ کے حضور سرخروئی حاصل کریں۔ علما پر ایک بڑی ذمہ داری یہ عائد ہوتی ہے کہ وہ ان ’علما سوئ‘ کا مقابلہ کریں‘ جو پردے کو محض امہات المومنینؓ کے لیے خاص قرار دیتے ہیں‘ ریاست کو اسلامی نظام کے نفاذ سے بری الذمہ قرار دیتے ہیں۔ وہ جو زکوٰۃ‘ سود‘ جہاد اور اسوۂ حسنہ تک کے معنی بدل رہے ہیں۔

دعا ہے کہ اﷲ اس قوم میں محترم مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے سے جذبے والا مرد حق اور ’عالم حق‘ پھر پیدا کرے جو ان سارے محاذوں پر پھر سے مردہ سنتوں کو زندہ کر سکے۔ اور ہم خواتین کو بھی اس راہ میں ویسی ہی محنت کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم بھی مولانا مودودیؒ کی طرح کہہ سکیں: ’’آج میری ہڈیاں بھی مجھ سے حساب مانگتی ہیں‘‘ --- اﷲ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کے سارے حساب آسان کر دے۔ آمین ‘ثم آمین!

مسیحی تہذیب نے عورت کو گناہ کی جڑ گردانا اور تقویٰ و اعلیٰ اخلاق کا تقاضا یہ سمجھا کہ نکاح ہی نہ کیا جائے۔ یہ پابندی ایک مستحسن قدر کے طور پر آج بھی وہاں کے مذہبی پیشوا پادری کے لیے موجود ہے۔ اس راہبانہ تصور کے زیر اثر یورپ اور امریکہ کے لیے جو قوانین بنائے گئے‘ ان میں عورت کو ادنیٰ حیثیت اور پست مقام دیا گیا۔ جب تہذیب کے مرکز کے دعوے دار معاشرے کی صورت حال یہ تھی تو دنیا کے بیش تر حصوں میں کسی نہ کسی شکل میں عورت کا استحصال جاری رہا۔

ردعمل کے طور پر حقوق نسواں کی ایک تحریک برپا ہوئی‘ جس کا آغاز اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے حقوق نسواں کمیشن کے قیام ۱۹۴۸ء سے ہوا۔ عالمی کانفرنسوں کا انعقاد‘ خواتین کا سال اور حقوق نسواں کا عالمی دن منانے کے ساتھ‘ اہم پیش رفت ۱۹۷۹ء میں سیڈا (CEDAW) کے ذریعے ہوئی۔ جس کے لائحہ عمل کے طور پر ۱۴ نکات طے کیے گئے جنھیں عورت کے لیے ترقی‘ امن مساوات کے نعرے کے ساتھ عالمی سطح سے پیش کیا گیا۔ آج امریکی‘ نیور ورلڈ آرڈر‘ کے تحت اسے مغرب کی تہذیبی بالادستی کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بیش تر مسلمان ممالک کی حکومتوں نے اس عالمی معاہدے پر دستخط کیے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی امداد بھی کسی حد تک اس ایجنڈے کے نفاذ کے ساتھ مشروط رکھی گئی۔ باقاعدگی سے منعقد ہونے والے جائزہ اجلاسوں نے ان اہداف کے حصول میں مدد کی۔ عالمی میڈیا اور انٹرنیٹ اس تحریک کے لیے معاون ثابت ہوئے۔ خود مغربی تصورات کے تحت رونما ہونے والی نام نہاد ’عالم گیریت‘ نے ساری دنیا کی عورتوں کو غیر محسوس طور پر اس کا ممبر بنا دیا۔ انھوں نے اپنے ساتھ روا رکھنے جانے والے رویوں اور پیش آنے والے واقعات کو مغرب کے پیش کردہ تناظر میں دیکھنا شروع کیا۔ اسی تسلسل میں دنیا کے بیش تر ممالک میں عورت کے حقوق کی علم بردار این جی اوز اس ایجنڈے کے لیے دنیا بھر میں سرگرم عمل ہیں۔

مولانا مودودیؒ نے مسلم عورت کو عصر حاضر کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے جو رہنمائی عطا فرمائی ہے‘ اسے انھی کی تحریروں سے منتخب کردہ نکات کی روشنی میں پیش کیا جا رہا ہے:

’’یہ نظریات جن پر نئی مغربی معاشرت اور (حقوق نسواں کی عالمی تحریک) کی بنیاد رکھی گئی ہے‘ تین عنوانوں کے تحت آتے ہیں:

  • عورت اور مردوں کی مساوات‘ 
  • عورتوں کا معاشی استقلال ‘
  • دونوں صنفوں کا آزادانہ اختلاط

مساوات کے معنی یہ سمجھ لیے گئے کہ عورت اور مرد نہ صرف اخلاقی مرتبے اور انسانی حقوق میں مساوی ہوں‘ بلکہ تمدنی زندگی میں بھی عورت وہی کام کرے جو مرد کرتے ہیں۔ معاشی‘ سیاسی اور اجتماعی سرگرمیوں‘ انتخابی جدوجہد‘ دفتروں اور کارخانوں میں ملازمت‘ آزاد تجارتی و صنعتی پیشوں میں مردوں سے مقابلہ‘ سوسائٹی کے تفریحی مشاغل میں شرکت‘ یا اور بہت سی نا کردنی و ناگفتنی مصروفیات۔

عورت کے معاشی استقلال‘ یعنی خود کمانے نے اسے مرد کی معاونت سے بے نیاز کر دیا‘ اور اصول یہ بنا کہ عورت اور مرد دونوں کمائیں اور گھر کا انتظام بازار کے سپرد کر دیا جائے۔

مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط نے عورتوں میں حسن کی نمایش‘ عریانی اور صنفی خواہش کو غیرمعمولی ترقی دے دی۔ اس قسم کی مخلوط سوسائٹی میں فطری طور پر دونوں صنفوں کے اندر  یہ جذبہ ابھر آتا ہے کہ صنفِ مقابل کے لیے زیادہ سے زیادہ جاذب نظر بنیں‘ لہٰذا ہوش سنبھالتے ہی انھی خواہشات کا دیوان کو دبوچ لیتا ہے۔

ہمارے اہل حل و عقد نے جب مرعوبیت سے مسحور آنکھوں کے ساتھ فرنگی عورتوں کی زینت‘ آرایش اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت اور سرگرمیوں کو دیکھا تو ان کے دلوں میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش! ہماری عورتیں بھی اس روش پہ چلیں‘ تاکہ ہمارا تمدن بھی فرنگی کا ہمسر ہو جائے۔ پھر وہ آزادی نسواں‘ اور تعلیم اناث اور مساوات مرد و زن کے ان جدید نظریات سے بھی متاثر ہوئے‘ جو طاقت ور استدلالی زبان اور شان دار طباعت کے ساتھ بارش کی طرح مسلسل ان پر برس رہے تھے۔ اس لٹریچر کی زبردست طاقت نے ان کی قوت تنقید کو ماؤف کر دیا اور ان کے وجدان میں یہ بات اتر گئی کہ ان نظریات پر ایمان بالغیب لانا اور تحریر و تقریر میں ان کی وکالت کرنا (بقدر جرات و ہمت) عملی زندگی میں بھی ان کو رائج کر دینا‘ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو ’’روشن خیال‘‘ کہلانا پسند کرتا ہو اور ’’دقیانوسیت‘‘ کے بدترین الزام سے بچنا چاہتا ہو‘‘۔

پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں ان نظریات کا پرچار کرنے والے گروہ‘ سیڈا پر عمل درآمد کے لیے قائم کیے گئے حکومتی ادارے‘ ویمن ڈویژن‘ اور این جی اوز اس کے نفاذ کے لیے سرگرم عمل ہوئیں تو دینی و نظریاتی اقدار رکھنے والوں نے اس پروگرام اور لائحہ عمل کی جزئیات کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھنا شروع کیا۔ اس جائزے سے تو درج ذیل صورت احوال سامنے آئی:

۱-  معاشرتی مسائل جو اکثر مسلم معاشرے میں رواج پا چکے ہیں‘ گو اسلام سے ان کا کوئی واسطہ نہیں‘ ان کو ایک خاص انداز سے اجاگر کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے بیش تر سے انکار ممکن نہیں کہ یہ ہمارے معاشرے میں موجود ہیں‘ تاہم ان کی شدت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان میں قرآن سے شادی‘ کاروکاری‘ گھروں میں عورتوں کی بے جا مار پیٹ‘ مٹی کے تیل کے چولہوں کے پھٹنے کے واقعات میں عموماً عورتوں کا زخمی ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

۲-  دوسرے وہ نکات جن کی زد براہ راست اسلام کے قوانین پر پڑتی ہے۔ مثلاً وراثت‘ گواہی اور دیت میں نصف مقدار کی بنا پر ’’آدھی عورت‘‘ کہا گیا۔ عورت کے لیے حجاب و ستر کی حدود‘ چار شادیوں کی اجازت‘ پسند کی شادی‘ حدود قوانین‘ آئین پاکستان سے قرارداد مقاصد اور اسلامی نظریاتی کونسل کے خاتمے وغیرہ کا غلغلہ۔

۳-  تیسرا حصہ‘ براہ راست تو نہیں مگر بالواسطہ اسلامی اقدار اور نظریاتی اساس کو متاثر کرنے والا ہے۔ عورتوں کی بیرون خانہ سرگرمیوں کے لیے چلائی جانے والی تحریک‘ ملازمتوں کا کوٹہ‘ ۳۳ فی صد سیاسی نمایندگی‘ ہر میدان میں مخلوط ملازمت‘ وغیرہ کا عنوان یہ ہے کہ عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ مرکزی دھارے میں شامل کیا جائے‘ کیونکہ عورت کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کی نفی کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔

اس صورت حال کے مقابلے میں مولانا مودودی فرماتے ہیں کہ اسلام عورت کے حقوق کے تعین میں تین باتوں کو خاص طور پر ملحوظ رکھتا ہے:

  • ایک یہ کہ مرد کو جو حاکمانہ اختیارات محض خاندان کے نظم کی خاطر دیے گئے ہیں ان کا ناجائز فائدہ اٹھا کر وہ ظلم نہ کر سکے اور ایسا نہ ہو کہ تابع و متبوع کا تعلق لونڈی اور آقا کا تعلق بن جائے۔
  • دوسرے یہ کہ عورت کو ایسے تمام مواقع بہم پہنچائے جائیں‘ جن سے فائدہ اٹھا کر وہ نظام معاشرت کی حدود میں اپنی فطری صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ ترقی دے سکے اور تعمیر تمدن میں اپنے حصے کا کام بہتر سے بہتر انجام دے سکے۔
  •  تیسرے یہ کہ عورت کے لیے ترقی اور کامیابی کے بلند سے بلند درجوں تک پہنچنا ممکن ہو‘ مگر ان کی ترقی و کامیابی جو کچھ بھی ہو عورت ہونے کی حیثیت سے ہو۔ مرد بننا نہ تو اس کا حق ہے‘ نہ مردانہ زندگی کے لیے اس کو تیار کرنا اس کے اور تمدن کے لیے مفید ہے‘ اور نہ مردانہ زندگی میں وہ کامیاب ہو سکتی ہے۔

مذکورہ بالا تینوں امور کی پوری پوری رعایت ملحوظ رکھ کر اسلام نے عورت کو وسیع تمدنی و معاشی حقوق دیے ہیں‘ اور عزت و شرف کے جو بلند مراتب عطا کیے ہیں اور ان حقوق و مراتب کی حفاظت کے لیے اخلاقی و قانونی ہدایات میں جیسی پائے دار ضمانتیں مہیا کیں ہیں‘ ان کی نظیر دنیا کی کسی قدیم و جدید معاشرت میں نہیں ملتی۔

  • معاشی حقوق:اسلام عورت کو وراثت کے نہایت وسیع حقوق دیتا ہے۔ باپ سے‘ شوہر سے اور قریبی رشتہ داروں سے اس کو وراثت ملتی ہے‘ نیز شوہر سے اس کو مہر بھی ملتا ہے۔ مزید برآں اگر وہ کسی تجارت میں روپیہ لگا کر یا خود محنت کر کے کچھ کمائے تو اس کی مالک وہی ہے۔ ان تمام ذرائع سے جو مال اس کو پہنچتا ہے اس کی ملکیت اور تصرف کے پورے حقوق اسے دیے گئے ہیں‘ جس میں مداخلت کا اختیار نہ اس کے باپ کو حاصل ہے نہ شوہر کو اور نہ کسی اور کو۔ ان سب کے باوجود اس کے نفقہ کی ذمہ داری ہر حال میں اس کے شوہر پر واجب ہے۔ بیوی خواہ کتنی ہی مال دار ہو‘ اس کا شوہر اس کے نفقے سے بری الذمہ نہیںہو سکتا۔ اس طرح اسلام نے عورت کی معاشی حیثیت کو مستحکم کیا۔

تمدنی حقوق: شوہر کے انتخاب کا عورت کو پورا پورا حق دیا گیا ہے۔ ایک ناپسندیدہ یا ظالم یا ناکارہ شوہر کے مقابلے میں عورت کوخلع اور فسخ و تفریق کے وسیع حقوق دیے گئے ہیں۔ شوہر کو بیوی سے حسن سلوک اور فیاضانہ برتاؤ کی ہدایت کی گئی ہے:  وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْـرُوْفِ(النساء ۴:۱۹)‘یعنی عورت کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرو۔ اسی طرح نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: ’’تم میں اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ لطف و مہربانی کا سلوک کرنے والے ہیں‘‘۔

بیوہ اور مطلقہ کو نکاح ثانی کا غیر مشروط حق دیا گیا ہے‘ جو آج تک یورپ و امریکہ کے بیش تر ممالک میں نہیں ملا۔

مرد و عورت کے درمیان امتیاز کے خاتمے کے لیے جان‘ مال اور عزت کے تحفظ میں اسلامی قانون عورت اور مرد کے درمیان کسی قسم کا امتیاز نہیں برتتا۔

عورتوں کی تعلیم‘ عورتوں کو دینی اور دنیوی علوم سیکھنے کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ اسے ضروری قرار دیا گیا۔

قرآن پاک میں واضح کر دیا گیا: ’’اور جو نیک عمل کرے گا‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘بشرطیکہ ہو وہ مومن‘ تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی‘‘۔ (النسائ۴:: ۱۲۴)

آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے باطنی اصلاح پر ہی اکتفا نہیں فرمایا‘ بلکہ قانون کے ذریعے عورتوں کے حقوق کی حفاظت اور مردوں کے ظلم کی روک تھام کا انتظام بھی کیا۔ اور عورتوں میں اتنی بیداری پیدا کی کہ وہ اپنے جائز حقوق کو سمجھیں اور ان کی حفاظت کے لیے قانون سے مدد لیں۔

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ کا بیان ہے کہ جب تک حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و سلم زندہ رہے ہم اپنی عورتوں سے بات کرنے میں احتیاط کرتے تھے کہ مبادا ہمارے حق میں کوئی حکم نازل ہو جائے‘ اور جب حضور اکرم ؐنے وفات پائی تب ہم نے کھل کر بات کرنا شروع کی۔ (الجامع الصحیح)

خاندان کا نظام عورت اور مرد کے اس مستقل اور پائے دار تعلق سے بنتا ہے جس کا نام نکاح ہے۔ یہی چیز ان کی انفرادیت کو اجتماعیت میں تبدیل کرتی ہے اور صنفی انتشار کے میلانات کو تمدن کا خادم بناتی ہے۔ اسی نظام کے دائرے میں محبت و ایثار کی وہ فضا پیدا ہوتی ہے‘ جس میں نئی نسلیں صحیح تربیت کے ساتھ پروان چڑھتی ہیں۔ اسی تصور نکاح کے ساتھ ازواج کی ذمہ داریوں‘ ان کے حقوق و فرائض اور ان کے اخلاقی انضباط کا بوجھ سہارا جا سکتا ہے‘‘۔

خاندان کے اس دائرے میں‘ دائرہ کار کی تقسیم کرتے ہوئے معاشی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی۔ اس کو قوام و منتظم قرار دیا (provider & sustainer) ‘  اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْط (النساء ۴:۳۴)’’مرد عورتوں پر قوام ہیں‘ اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے‘ اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں‘‘۔ جب کہ عورت کو فرماں برداری‘ شکر گزاری اور   اپنی عفت و شوہر کے مال کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اولاد کی پیدایش و پرورش عورت کا   وظیفۂ زندگی قرار دیا گیا۔ اولاد کے لیے ’’ضعف پرضعف اٹھایا‘‘ کہہ کر عورت کی وکالت کی‘ سعی ہاجرہ کو مردوں کے لیے بھی حج و عمرے کا لازمی رکن قرار دے کر اس اہم ذمہ داری کو تسلیم کروایا۔ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّط (البقرہ ۲:۱۸۷)  ’’وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو‘‘ کہہ کر ایک دوسرے کے لیے حفاظت‘ زینت اور ستر پوشی کا ذریعہ قرار دیا۔

اسلام کی تعلیمات تو یہ تھیں مگر اسلامی معاشرے میں رواج پانے والے بہت سے رویے اور معاملات اسلام کی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ وراثت میں استحقاق رکھنے کے باوجود‘ وراثت سے محروم کرنے کے لیے نہایت قبیح رسوم کو اپنانا‘ مہر کا خوش دلی کے ساتھ‘ پوری طرح ادا نہ کرنا‘ یہ ظلم تو خود دین کی سمجھ رکھنے والوں میں بھی عام ہے۔ شادی کے موقع پر ۳۲ روپے غیر شرعی مہر مقرر کرنے کی حکایت کا وجود‘ یا پھر زیادہ رقم مقرر کر دینا‘ مگر ادا نہ کرنا‘ یا مختلف حیلے بہانے سے بیوی کو محبور کر کے معاف کرا لینا اور اس فعل کی حرمت کے بارے میں لاپروائی برتنا‘ ہمارے آج کے مسلم معاشرے میں معیوب نہیں ہے۔ نان نفقہ‘ یعنی کھانا‘ لباس اور رہایش کے خاطر خواہ انتظام سے بے نیازی و عدم   دل چسپی‘ شادی میں لڑکی کی مرضی معلوم کرنے کو غیر اہم جاننا‘ ناپسندیدہ شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنے تک کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ بیوی کی تفریح و دلجوئی و احسان کے معاملے کا نہ ہونا‘ بیوی کی ملکیت تسلیم نہ کرنا‘ خاندانی اکائی کو گھن کی طرح کھا رہا ہے۔ دیگر غیر اسلامی رسمیںجن میں جہیز‘سورا‘ونی‘ قرآن سے شادی‘ کاروکاری اور عورت کے گھر والوں سے معاشی مطالبات وغیرہ بھی مروج ہیں۔

معاشرے میں نئی تبدیلیاں بھی واضح ہیں۔ عورت کی ملازمت ایک حق اور رواج بنتا جا رہا ہے۔ بچوں کو ڈے کیئر سنٹر بھجوانا‘ خاندانی منصوبہ بندی کا عام ہونا اور اپنا معیار زندگی بلند کرنے کی تگ و دو کے لیے اس کی وکالت۔ اس کے ساتھ زوجین کی باہم ناراضیاں‘ خلع کی شرح میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ‘ مردوں کے ساتھ اختلاط کے لیے پہلے کی سی کراہت کا نہ ہونا وغیرہ وغیرہ۔ یوں خاندانی اکائی کا استحکام متاثر ہو رہا ہے۔

مولانا فرماتے ہیں: ’’ضرورت اس امر کی تھی کہ مرد کے ساتھ عورت کے تعاون کی ایسی سبیل مقرر کر دی جائے کہ دونوں کا اشتراک عمل ہر حیثیت سے تمدن کے لیے صحت بخش ہو۔ اس نقطۂ عدل کو دنیا صد ہابرس سے تلاش کرتی رہی‘ مگر آج تک نہیں پا سکی‘ کبھی ایک انتہا کی طرف جاتی ہے تو پورے نصف حصے کو بیکار بناکر رکھ دیتی ہے۔ کبھی دوسری انتہا کی طرف جاتی ہے‘ اور انسانیت کے دونوں حصوں کو ملا کر غرق مے ناب کر دیتی ہے۔ افراط و تفریط کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے والی دنیا کو اگر عدل کا راستہ دکھانے والا کوئی ہو سکتا تھا تو وہ صرف مسلمان تھا جس کے پاس اجتماعی زندگی کی ساری گتھیوں کے صحیح حل موجود ہیں‘ مگر دنیا کی بدنصیبی کا یہ بھی دردناک پہلو ہے کہ دوسروں کو راستہ دکھانا تو درکنار وہ خود اندھوں کی طرح ہر بھٹکنے والے کے پیچھے دوڑتا پھرتا ہے‘‘۔

لہٰذا ہر مسلمان عورت کو ایک بنیادی فیصلہ کرنا چاہیے: کیا آپ کو مغربی معاشرت اور اس کے زیر اثر پروان چڑھنے والی حقوق نسواں کی عالمی تحریک کا حصہ بننا ہے یا مسلمان معاشرے میں اسلام کے عطا کردہ حقوق کے حصول کے لیے معاون بننا ہے یا معاون نہیں بننا۔

اگر ایک ایسے صالح اور پاکیزہ تمدن کی ضرورت ہے‘ اور اگر ہم اسلام کے محکم اور آزمودہ نظام معاشرت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو ہمیں اسلام کا راستہ اختیار کرنا چاہیے‘ اس کے ضابطے اور اس کے ڈسپلن کی پوری پوری پابندی کرنی چاہیے۔ ہمیں ان نظریات‘     تخیلات سے بھی اپنے دماغ کو خالی کرنا ہو گا جو مغرب سے مستعار لے رکھے ہیں۔ اسی طرح اسلام کو غیراسلامی تصورات سے مسخ کرنے سے لازماً باز آنا ہو گا۔ یہ عملی تصور ہی اسلام کی     اشاعت و تعارف کا ناقابل تردید ثبوت ہو گا۔ اس کے لیے درج ذیل طریق اختیار کیے جا سکتے ہیں:

  •  عورتوں کو اسلام میں عورت کے مقام و مرتبے‘ حقوق و فرائض سے آگاہ کرایا جائے۔ مغرب کے تقابل کے ذریعے‘ اس نظام کی برکتوں پر مطمئن اور قانع بنایا جائے۔ اس کے لیے درس قرآن کے رہایشی حلقوں میں چھوٹے گروپوں میں سلسلہ وار پروگرامات ہوں۔
  • سیمینار‘ مذاکرے‘ گفتگو کے فورم کا انعقاد براے خواتین کیا جائے جس میں تعلیم یافتہ طبقے کو آگاہی دی جائے اور خدشات دور کیے جائیں۔
  •   اسلام میں دیے گئے حقوق دلوانے کے لیے ایک فعال تحریک چلائی جائے‘ واضح اہداف حاصل کیے جائیں‘اور ملکی و عالمی سطح پر خواتین کو اس تحریک کا ہم نوا اور ممبر بنایا جائے۔
  •  یہ کام بنیادی طور پر خواتین کے اسلام پسند گروہوں و تنظیموں کا ہے۔ اس کا دوسرا اور اہم حصہ مردوں کے تعاون پر منحصر ہے۔
  •   مردوں کو اسلام میں عورت کے مقام و مرتبے اور حقوق و فرائض سے قرآن و حدیث‘ اسوہ رسولؐ کی روشنی میں آگاہی دیے جانے کا معقول مؤثر و باقاعدہ انتظام کیا جائے۔
  •  گھرمیں بیوی اور بیٹی کے ساتھ اور بیرون خانہ عورتوں کے ساتھ تحقیر آمیز رویے کے بجاے برداشت اور اعلیٰ ظرفی کی اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد کروایا جائے۔
  •   حقوق نسواں کی عالمی تحریک کے فکری‘ تہذیبی‘دینی اور معاشرتی مضمرات سے آگاہ کیا جائے۔
  •   ہر ماہ ایک دن (پہلا جمعہ یا اتوار) اہل خانہ کے ساتھ گزارنے اور ان کی ضروریات کی فراہمی کے لیے مختص کرنے کا سوچا جائے۔

اسلامی معاشرے کو بگاڑ سے بچانے کے لیے‘ عورت اور مرد دونوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا‘ وگرنہ یہ بگاڑ مسلمان عورت کو ہی نہیں مرد کو بھی متاثر کرے گا۔ اس کے بالمقابل یہ کسی ایک مسلمان عورت کے لیے ہی نہیں‘ دنیا بھر کی عورتوں کے لیے ایک نمونہ و پناہ ہو گا۔ دین کی قدروں کا عملی ابلاغ ہی تشہیر و اشاعت دین کا بہترین ذریعہ ہے۔ (ماخوذ: پردہ‘ حقوق الزوجین‘ مسلم خواتین سے اسلام کے مطالبات از سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ)

زندگی کی وہ ساعتیں جو سید مودودیؒ کی صحبت ِ گرامی میں گزری ہیں‘ ایسی متاع گراں بہا ہے‘ جس کی قدر و قیمت کا اندازہ صرف وہی حضرات کر سکتے ہیں جنھوں نے سیدیؒ سے براہ راست اکتسابِ فیض کیا ہے۔ ذاتی واقعات بیان کرنے سے قبل مختصراً ان حالات کا ذکر مناسب ہو گا جن کا مولانا کی ہمہ گیر عبقری شخصیت سے بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق رہا ہے۔

مولانا کی اشتراکیت‘ نام نہاد جمہوریت اور شخصی یا گروہی آمریت کے خلاف جہدِ مسلسل‘ قیدوبند کی اعصاب شکن صعوبتیں‘ پھر حرفِ حق بلند کرنے کی پاداش میں دارورسن کی آزمایشوں سے گزرتے ہوئے پامردی اور استقامت کا بے پناہ مظاہرہ‘ وقت کی طاغوتی طاقتوںکے خلاف    ایمان و یقین کی قوت کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے انھیں پسپائی پر مجبور کرنا زندگی کے ایسے    ناقابلِ فراموش کارنامے ہیں‘ جن کی بدولت اسلام کی تاریخ کے وہ باب پھر سے درخشاں اور تابناک ہو گئے جب اکابرین امت نے اپنے اپنے دور کے تند و تیز بلا خیز طوفان کا رخ موڑ دیا‘ اور ملت کو   ان کی ہلاکت آفرینیوں سے بچا لیا۔

امام احمد بن حنبلؒ کے دور کا فتنۂ خلق قرآن‘ امام ابن تیمیہؒ کے دور کا فتنۂ تاتار‘ امام غزالیؒ کے دور میں لادینی فلسفے کی یلغار‘ مجدد الف ثانی  ؒ کے دور میں اکبر کے نام نہاد دین الٰہی کی گم راہیاں‘ شاہ ولی ؒ اللہ کے دور میں اسلام کے خلاف شورشیں‘ جیسی فتنہ سامانیوں کے خلاف یہی وہ برگزیدہ ہستیاں تھیں جنھوں نے اپنی فراست ایمانی‘ حکمت و دانائی اور تبحرِ علمی سے وہی اسلوب اور وہی پیرایۂ اظہار اور وہی زبان استعمال کی جو اس دور کے فہم و ادراک کے لیے موزوں اور مناسب تھی۔ ان نابغۂ روزگار شخصیتوں کا طّرئہ امتیاز رہا ہے کہ فرماں روا کے جبر و استبداد اور قہرمانی قوت سے نبرد آزما ہوتے ہوئے اس وادی ٔ پرخار کو کامیابی اور فیروز مندی کے ساتھ عبور کر گئے۔

مولانا مودودیؒ نے بھی یہی دشوار گزار‘ کٹھن اور صبر آزما راستہ اپنے لیے اختیار کیا۔   یورپ کے صنعتی انقلاب کے بعد مولانا نے ان تمام علوم جن کا تعلق آئین و قانون‘ سائنس و فلسفہ‘ مذہب و معیشت‘ معاشیات و معاشرت‘ سیاست اور عمرانیات سے تھا اور ساتھ ہی ان تمام عالمی تحریکوں کا جو اشتراکیت‘ فسطائیت اور بے لگام سرمایہ دارانہ جمہوریت کی صورت میں دنیا پر مسلط ہو رہی  تھیں‘ عالمانہ بصیرت کے ساتھ مطالعہ کیا۔ پھر ساینٹی فک انداز میں ان کا تجزیہ کر کے ان سب کو  قرآن و سنت کے معیار حق پر پرکھا اور ان تمام خرابیوں کو جو ان تحریکوں کی پیداوار تھیں‘ انھیں اسلام میں در آنے سے اپنی پوری قوت کے ساتھ روک دیا۔ ورنہ یہ خرابیاں امت کے لیے بڑی تباہی کا باعث ہوتیں۔

بیسویں صدی کے آغاز میں سوشلزم کا فتنہ نہایت برق رفتاری کے ساتھ اٹھا اور اٹھارھویں صدی کی لائی ہوئی ظلم پر مبنی سرمایہ دارانہ معیشت کی تباہ کاریوں کے خلاف عالمی انقلاب کی صورت میں نمودار ہوا۔ کارل مارکس اور اینجلز کے افکار اور لینن و اسٹالن کے عملی اقدام سے یہ سیل بے پناہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا جا رہا تھا۔ سب سے پہلے وہ دین و مذہب کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کے درپے تھا‘ کیونکہ پیروانِ مذہب اس نوزائیدہ اشتراکی مذہب کی راہ میں حائل تھے۔ روس کی ملحقہ مسلم ریاستوں کو زیر و زبر کرنے کے بعد سوشلزم کا یہ سیلاب ہندستان کے اندر داخل ہو گیا۔ اگرچہ اس وقت برطانوی سامراج نے مسلمانوں کی تہذیب و تمدن‘ زبان و ثقافت اور اقدار حیات کو بڑی حد تک اپنے کلچر میں تحلیل کر کے اپنی استعماری گرفت کو مضبوط کر لیا تھا لیکن اشتراکیت کے مقابلے میں اس کی گرفت کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ یہ فتنہ مسلمانوں پر ۱۸۵۷ء والی ابتلا سے بڑھ کر تباہ کن اور ہلاکت خیز تھا۔ اکابرین دیوبند‘ فرنگی سامراج کے خلاف برسرپیکار تھے۔ اسی دور میں سرسید کی تحریکِ علی گڑھ تہذیب ِ فرنگ کو مسلمانوں کی ترقی کے لیے ضروری خیال کرتی تھی۔ اس لیے ان دونوں کا منہج اور طریق کار ایک دوسرے سے مختلف تھا‘ لیکن دونوں کے پیش نظر مسلمانوں کی فلاح و بہبود تھی۔ اس وقت سوشلسٹ اپنی کمین گاہوں کے اندر مذہب کی جڑیں کاٹنے کا تخریبی کام کر رہے تھے۔ امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ اور ان کے ہم عصر سیاست دانوں کے دور میں سوشلزم کھل کر سامنے آ گیا تھا۔ مولانا آزاد اور ان کے ہمرہانِ سیاست نے اس اشتتراکی چیلنج کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی۔ اپنی  تفسیر ترجمان القرآن میں مولانا آزاد نے اپنے مخصوص انداز کے ساتھ یہ فرماتے ہوئے کہ ’’سوشلزم ایک نیا تجربہ ہے اور اسے یہ حق ہے کہ وہ اپنے اس تجربے کو زمانے کی کسوٹی پر آزمائے‘‘، اسے یکسر نظرانداز کر دیا۔ اصل میں اس وقت مولانا آزاد کی تمام توجہ اپنے اخبارات الہلال اور البلاغ میں پیش کردہ پیغام سے منقطع ہو کر برطانوی سامراج کے خلاف مجتمع ہو گئی تھی۔ اس کے لیے انھوں نے نیشنلزم کی ہندستانی قوم پرستانہ تحریک کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اسی راستے پر چل نکلے۔

ٰاشتراکی ترقی پسندی‘ الحاد اور لادینی کے اس پرآشوب دور میں ایک مردِ خود آگاہ و حق اندیش اٹھا‘ جس نے برعظیم ہند میں سب سے پہلے اشتراکیت کی تباہ کاریوں‘ یورپ کی لادین سیاست اور وطن پرستانہ قومیت کے خطرناک نتائج و عواقب سے ملت اسلامیہ کو بروقت خبردار کیا‘ اور ساتھ ہی  اپنے کلام اور پیغام کی ضربِ کلیمانہ سے برطانوی ملوکانہ اقتدار پر پے درپے حملے کرتا رہا۔ یہ  شخصیت تھی داناے راز علامہ محمد اقبالؒ کی‘ جس کی ذات میں مشرقی اور مغربی علوم کے دھارے آ کر دریاے بے کراں بن گئے تھے۔ اقبالؒ نے کارزارِ سیاست میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت کو ملت کے لیے معتبر اور اپنا ہم عنان سمجھا‘ کیونکہ قائداعظمؒ‘ علامہ اقبالؒ ہی کے الہ آباد میں ۱۹۳۰ء کے مسلم قومیت پر مبنی خطبۂ صدارت کے پیغام کو لے کر آگے بڑھتے چلے گئے‘ جو پاکستان کی صورت میں دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔

سید مودودیؒ، علامہ اقبال ؒ کی جداگانہ مسلم قومیت کے بنیادی نظریہ خلافتِ الہٰیہ اور اس سے بڑھ کر نیابتِ الٰہی کے عظیم مشن کے رازدانوں میں تھے۔ علامہ کی مردم شناس نظر اور ان کی اسلامی بصیرت نے اسلام کی ایک ابھرتی ہوئی قوت کو سید مودودیؒ کی صورت میں پہچان لیا تھا۔ اس لیے انھوں نے مولانا مودودیؒ کو لاہور آنے کی دعوت دی‘ تاکہ وہ اپنے اس مشن کو ان کے حوالے کردیں۔

علامہ اقبال کے ہم راز عزیز دوست سید نذیر نیازی مرحوم نے کرنل اقبال کی موجودگی میں بتلایا تھا کہ علامہ اقبال‘ مولانا مودودی سے ملنے کے لیے کس قدر منتظر تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اس شخص میں وہ خداداد صلاحیتیں موجود ہیں جو ان مقاصد عالیہ کی تکمیل کے لیے ناگزیر ہیں۔ انھیں یقین تھا کہ یہ شخص سیکولر نظام کی پیدا کی ہوئی فتنہ انگیز تحریکوں کا جرأت رندانہ اور فراست مومنانہ کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے منزل مراد کی طرف بڑھتا چلا جائے گا۔ مجھے حیرت ان لوگوں پر ہے جو نظریہ پاکستان کے حقیقی معمار علامہ اقبالؒ کے سید مودودیؒ کے نام اس دستاویزی ثبوت کے باوجود ان پر اس الزام تراشی سے باز نہیں آتے کہ مولانا مودودیؒ قیامِ پاکستان کے حق میں نہیں تھے۔ حالانکہ قائداعظم ؒ کے سیکرٹری اور ملک کے چوٹی کے قانون دان جناب شریف الدین پیرزادہ نے انھیں پاکستان کے مخلص بانیوں میں شمار کیا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجنز میں مولانا مودودیؒ کو بیسویں صدی میں اسلام کی نشات ثانیہ کا قائد اور پاکستان کے Founding Fathers کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔

اب میں صرف ان حالات اور واقعات کا ذکر کروں گا جن کا تعلق آئین و قانون اور شرعی قوانین کے حوالے سے ہے‘ جو ہم نے خود مولانا کی زبان صدق و صفا سے سنے ہیں۔ اگر تمام واقعات قلم بند کروں تو ایک پوری کتاب تیا ر ہو جائے گی۔

مولانا کی عصری مجالس (نماز عصر کے بعد کی نشستوں) کے علاوہ خاص نشستیں بھی ہوتیں‘ جن کے لیے ہم خود حاضر ہوتے یا جب کبھی مولانا یاد فرماتے۔ ان نشستوں میںاکثر: حاجی غیاث محمد سابق اٹارنی جنرل‘ میاں شیر عالم سابق صدر لاہور ہائی کورٹ بار‘ درویش محمد عاربی اور راجا محمد صفدر اور کبھی کبھی اے کے بروہی مرحوم‘ چودھری نذیر احمد خان سابق اٹارنی جنرل‘ جناب خالد اسحق‘   جناب راجا افرا سیاب خان سابق جج سپریم کورٹ موجود ہوتے۔

ایک خصوصی نشست میں دستور سازی پر گفتگو ہو رہی تھی۔اس نشست میں مولانا مودودیؒ نے جو تفصیلات بتائیں‘ ان کے ایک پہلو کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:

پاکستان بنا تو اسلام کے لیے ہے‘ لیکن انگریزوں کے غلامی کے اثرات‘ سوشلسٹ اور لادینی عناصر کی بیوروکریسی کے ساتھ گٹھ جوڑ کی وجہ سے اسلام کے خلاف محاذ بن چکا ہے۔ اسلام کی بات کرنا ملائیت کی نشانی سمجھا جاتا ہے اور اس کا تمسخر اڑایا جاتاہے۔ قانون دان حضرات کی اکثریت کا بھی خیال تھا کہ اس دور میں اسلامی قانون کا نفاذ ممکن نہیں۔ حکمران طبقہ تو اپنے انگریز آقائوں کی طرح مذہب اور سیاست کو ایک دوسرے سے بالکل علیحدہ خیال کرتا تھا۔ سب سے بڑا اعتراض جس کو وہ بطور ہتھیار استعمال کرتے‘ یہ تھا کہ خود علما حضرات مذہب کے بارے میں متفق نہیں تو پھر یہاں اسلامی دستور کی تشکیل اور اسلامی قانون سازی کس طرح ہو سکتی ہے۔ جسٹس منیر صاحب اس طبقے کے قائد تھے۔ یہ گروہ اس قسم کے اعتراضات اٹھا کر حکومت کے ایک خاص طبقے کے ہاتھ مضبوط کرتا تھا۔ ان حالات میں مجھے اور میرے رفقاے کار کو نہایت جانفشانی کے ساتھ کافی تگ و دو کرنا پڑی۔ اسلامی دستور کے بنیادی نکات تیار کرکے علما کو پیش کیے گئے‘ کیونکہ ان میں کوئی اختلافی بات نہیں تھی اس لیے تمام مکاتب فکر کے علما نے اسلامی دستور کے بارے میں متفقہ قرارداد منظور کر لی۔ اس پر حکومت میں ہمارے مخالفین بہت گھبرائے‘ ان کے سازشی ذہن نے جوڑ توڑ کا کاروبار شروع کیا۔ چند علما جو اس قرارداد کی منظوری میں شامل تھے انھیں یہ باور کرایا گیا کہ اس مہم کی کامیابی کا سارا کریڈٹ تو مودودی اور ان کی جماعت اسلامی لے جائے گی۔ اس بات کی مجھے بھی خبر ہو گئی اور ان سے گفتگو کے بعد اس کی تصدیق بھی ہو گئی۔ میں نے ان سے کہا کہ اصل غرض اور مقصود تو اسلام کے لیے بنیادی کام ہے۔ اگر میرا اور میری جماعت کا نام اس راستے میں رکاوٹ ہے تو آپ ہمیں سب سے آخر میں رکھ دیں۔ اس کے بعد ان علما کے لیے قرارداد سے انحراف کی کوئی گنجایش نہیں رہی۔ طے پایا کہ اس سلسلے میں مجلس عمل کا اجلاس طلب کیا جائے جہاں عملی اقدامات کے بارے میں لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ لیکن مجلس عمل کا یہ اجلاس ہمیں بلائے بغیر ہی طلب کر کے ملتوی کر دیا گیا۔ مگر دوسری طرف خواجہ ناظم الدین مرحوم نے مجھ سے رابطہ قائم کیا۔ وہ بطور وزیراعظم اور قائد اسمبلی‘ اسلامی دستور سازی کے سلسلے میں مثبت اقدام کرنا چاہتے تھے۔ لیکن وہ عناصر جو اسلام کو اپنی من مانی کارروائیوں کی راہ میں مزاحم سمجھتے تھے‘ ہمارے ان ارادوں سے بے خبر نہ تھے۔ چنانچہ ملک غلام محمد‘ بیوروکریسی کے اہل کار‘ عدلیہ کے سربراہ جسٹس محمد منیر اور چودھری ظفراللہ خان بیرونی طاقتوں کی ساز باز سے نفاذ اسلامی نظام کی تحریک کو روکنے میں کامیاب ہوگئے۔ جس کے نتیجے میں: خواجہ ناظم الدین وزارتِ عظمیٰ سے برطرف کر دیے گئے‘ دستور ساز اسمبلی توڑ دی گئی‘ پنجاب میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا‘ دینی عناصر کی سرکوبی کی گئی۔ میرے وجود کو حکومت اور اقتدار کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھ کر مجھے ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ پمفلٹ قادیانی مسئلہلکھنے کے جرم میں سزاے موت سنائی گئی‘ مگر قدرت کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ مجھے سزاے موت دینے والے خود ہی بے بسی کی حالت میں دنیا سے چل بسے۔

مسئلہ قادیانیت کے بارے میں دریافت کرنے پر بتلایا :دلائل کا جواب دینے کے لیے ’’دلائل موجود نہ ہوں تو پھر طاقت کے زور پر حق کو دبانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے‘‘۔ گفتگو ختم کرتے ہوئے فرمایا: ’’اس ناپاک سازش کے باوجود الحمدللہ میرے اور جماعت کے عزائم اور حوصلے بلند رہے ۔ ہم اپنے کام میں لگے رہے۔ حکومت وقت اور اس کے کارندے ہمارے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہے‘‘۔

  • سال ۱۹۶۴ء کا ایک آئینی مقدمـہ: ۱۹۶۴ء میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ نے مولانا مودودیؒ کی وہ رٹ خارج کر دی جس میں جماعت اسلامی کو غیر قانونی قرار دینے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف مولانا مودودی‘ ان کے صاحبزادے سید عمر فاروق مودودی وغیرہ نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی۔ مشرقی پاکستان ہائی کورٹ نے جماعت اسلامی پر پابندی کو ناجائز قرار دیا تھا۔

سپریم کورٹ میں مولانا مودودیؒ کی اپیل کی پیروی کے لیے جو پینل بنا اس کے سربراہ اے کے بروہی تھے۔ ان کے ہمراہ جسٹس (ر) شبیر احمد‘ میاں محمود علی قصوری‘ ایس ایم ظفر سینئر ایڈوکیٹس تھے۔ ان کی معاونت کے لیے بیرسٹر مس رابعہ قاری‘ یہ خاکسار‘ بیرسٹر اخترالدین‘ چودھری اسماعیل اور دیگر وکلا موجود تھے۔ گورنمنٹ کی جانب سے منظور قادر‘ سید نسیم حسن شاہ اور دیگر نامور وکلا پیش ہوئے۔ مولوی تمیزالدین خاں کے بعد پاکستان کی عدلیہ کا ایک اہم اور دور رس نتائج کا حامل مقدمہ تھا‘ جس میں شہریوں کے بنیادی حقوق‘ حکومت کے بے رحم اور جارحانہ قوانین‘ قانون کی معقولیت اور جوڈیشنل ریویو جیسے آئینی اور قانونی نکات زیر بحث آئے۔

بروہی صاحب اپیل کی سماعت کے بعد روزانہ ہر جج کو اس کی صلاحیتوں کے مطابق نمبر (مارکس) دیتے۔ ۱۰۰فی صد مارکس انھوں نے کسی کو نہیں دیے‘ البتہ یہ فل مارکس انھوں نے صرف ایک شخص کو دیے جو جج یا وکیل نہیں بلکہ مدعی تھا‘ اور وہ مولانا مودودی تھے۔ بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ مولانا مودودیؒ نے کیس کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لے کر اپنے نوٹس بروہی صاحب کو پہنچا دیے تھے۔ اس اپیل کا فیصلہ سپریم کورٹ نے مولانا مودودیؒ کے حق میں صادر کیا۔ اے کے بروہی صاحب سے واقف حضرات جانتے ہیں‘ کہ یہ وہی مسٹر اے کے بروہی ہیں جو دین کو پرائیویٹ معاملہ سمجھتے تھے اور جنھوں نے چیلنج دیا تھا کہ اگر کوئی شخص قرآن سے اسلامی آئین کا ثبوت دے تو وہ اسے ۵۰ ہزار روپے انعام دیں گے۔ مولانا کے مقدمات کی پیروی کرنے اور ان کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے سے اور ان سے ملاقاتوں کے بعد انھی بروہی صاحب میں ایسا ذہنی انقلاب آیا کہ وہ مولانا کے ہم نوا ہو گئے اور اسلامی آئین اور قانون کے داعی اور شارح بن گئے۔

  • سال ۱۹۷۴ء  میں مولانا کا استقبال: سال ۱۹۷۴ء میں جناب منظور قادر کی وفات کے بعد لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا میں صدر اور جہانگیر جھوجہ سیکرٹری جنرل تھے۔ اس دوران مولانا مودودیؒ جب پہلی مرتبہ امریکہ سے جہاں وہ بغرض علاج اپنے صاحبزادے احمد فاروق کے پاس گئے ہوئے تھے‘ واپس آئے تو ہم دونوں نے شہریان لاہور کی جانب سے ان کا استقبال کیا۔ دینی اور سیاسی جماعتوں کے عمائدین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ لاہور کا سارا شہر رشید پارک کے وسیع میدان میں امڈ آیا ہے۔ میں نے مولانا کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے کہا: ’’مولانا نے اس سرزمینِ بے آئین کو اسلامی آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے جو بنیادیں فراہم کی ہیں‘ ان پر ملک عزیز کی بقا اور استحکام کا انحصار ہے‘‘۔ اس کے جواب میں مولانا نے نہایت مشفقانہ انداز میں مسلمانوں کو ملک عزیز میں اسلامی نظام حیات کے لیے کوششیں تیز کرنے کی تلقین کی۔

امریکہ کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے مولانا نے بتلایا :’’وہاں اسلام کے لیے فضا تیار ہو رہی ہے مگر وہاں جو مسلمان سرکاری یا پرائیویٹ امریکن فرموں میں ملازم ہیں ان کو ٹوپی اور داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں۔ علماے ازہر سے فتویٰ لیا گیا تو انھوں نے اس پابندی کو جائز قرار دیا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا یہودی اپنی مذہبی ٹوپی پہن سکتے ہیں‘ سکھ ڈاڑھی رکھ سکتے ہیں‘ لیکن صرف مسلمانوں کے لیے یہ امتیازی قانون کیوں؟ اصل بات یہ ہے کہ امریکی حکومت کو اسلامی تشخص کی ہر نشانی سے ڈر لگتا ہے‘‘۔

  • ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کا قیام: جناب اے کے بروہی سے میرے قریبی تعلقات رہے ہیں۔ جب بھی وہ لاہور آتے ان سے ملاقات رہتی۔ سال ۱۹۷۶ء میں جب وہ یورپ کے دورے سے واپسی پر مجھ سے ملے تو کہنے لگے: ’’مولانا مودودی کے لٹریچر سے یورپ کے دانش ور طبقے  (Intellectual class) میںاسلام بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے‘‘۔ عرض کیا: ’’بروہی صاحب‘ مولانا اور ان کی تربیت یافتہ جماعت اور خصوصاً نوجوانوں کے ذریعے اسلام کی روشنی دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلتی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کی خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان اور دنیا میں پھیلے ہوئے اسلامی اسکالروں اور دانشورانِ قانون کا     ایک پلیٹ فارم بن جائے تو یہ بھی ہمہ گیر اسلامی آرڈر (Islamic Order) کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوگی‘‘۔

بروہی صاحب نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ کافی عرصہ غور و خوض کے بعد میںنے مولانا مودودیؒ سے اس بارے میں رہنمائی کی درخواست کی۔ مولانا نے اس پر خوشنودی کا اظہار فرمایا اور بلاتامل اس عصری مجلس میں جس میں چودھری محمد اسلم سلیمی صاحب بھی موجود تھے‘ اس کے چارٹر کے لیے اغراض و مقاصد تحریر کرائے۔ اس تنظیم کا نام میں نے  ورلڈ ایسوسی ایشن آف اسلامک جیورسٹس تجویز کیا تھا۔ مولانا مودودی نے اسلامک (Islamic) کے بجاے مسلم کا لفظ پسند کیا۔ مولانا خلیل احمد حامدی مرحوم نے عربی میں اس کا نعم البدل بتلا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا نے اپنے نفس گرم سے اس تنظیم کے ڈھانچے میں روح پھونک دی۔

اس وقت کے نامور علما سے جو قدیم اور جدید علوم کے ماہر تھے اس کا تعارف کرایا۔ یہاں میں صرف چند ممتاز شخصیتوں کا ذکر کروں گا جو اس تنظیم کے اعزازی اور اساسی اراکین میں شامل ہیں۔ اعزازی اراکین:  ۱- عبداللہ بن عبدالعزیز‘ پریذیڈنٹ سپریم کونسل آف جسٹس سعودی عرب‘ ۲- ڈاکٹر معروف دوالیبی‘ ۳- ممتاز اسکالر محمد قطب مصر‘ ۴- شیخ عبداللہ ابراہیم‘ ڈپٹی لیڈر رابطہ عالم اسلامی۔

اساسی اراکین: ۱- ڈاکٹر محمد حمید اللہ (فرانس)‘ ۲- ڈاکٹر محمد اسد (اسپین)‘ ۳- ڈاکٹر اسماعیل راجی فاروقی (امریکہ)‘ ۴- ڈاکٹر محمد کاشانی (ایران)‘ ۵- ڈاکٹر ادریس علوی (مراکش)‘ ۶- ڈاکٹر عبدالقادر (ڈپٹی چیف جسٹس ترکی)‘ ۷- مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (بھارت)‘ ۸ -جناب حمودالرحمن (چیف جسٹس پاکستان)‘ ۹- شیخ غیاث محمد (اٹارنی جنرل پاکستان)‘ ۱۰- جناب اے کے بروہی‘ بیرون پاکستان کے سکالرز‘ مسلم ماہرین قانون کی تنظیم کے اجتماعات سے خطاب کرتے رہے اور اسلامی قانون اور جیورس پروڈنس کے بارے میں اپنی آرا سے بھی مستفید کرتے رہے۔ جب اس تنظیم کی تشکیل مکمل ہو گئی اور مختلف شعبوں نے مختلف ممالک میں کام کرنا شروع کیا‘ ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ‘ ریاض سعودی عرب نے مجھے اپنے ایڈوائزری بورڈ کا رکن منتخب کر لیا تو میں نے مولانا سے اس عالمی تنظیم کا سرپرست اعلیٰ بننے کی درخواست کی۔ پہلے تو وہ پس و پیش کرتے رہے‘ بالآخر اپنے مکتوب کے ذریعے اس کے لیے رضامند ہو گئے۔ مکتوب کا متن حسب ذیل ہے:

محترمی و مکرمی‘ السلام علیکم‘

آپ کا عنایت نامہ ملا۔ یہ آپ کی عنایت ہے کہ آپ مجھے اس عظیم تنظیم کا سرپرست بنانا چاہتے ہیں۔ دراصل یہ مقام تو کسی جلیل القدر قانون دان کو عطا کرنا چاہیے‘ تاہم اگر آپ کے رفقا بھی اس خیال ہی کی تائید کرتے ہیں تو میں اسے بخوشی منظور کر لوں گا۔

خاکسار   

۲۴ مئی ۱۹۷۹ئ                                                                    ابوالاعلیٰ

تمام اراکین جن میں اے کے بروہی‘ شیخ غیاث محمد‘ چودھری نذیر احمد خان‘ بی زیڈ کیکاوس شامل تھے‘ انھوں نے مولانا کو متفقہ طور پر اپنی رائے سے مطلع کیا اور اسے تنظیم کے لیے باعث افتخار قرار دیا۔ مولانا کے دست راست جناب عاصم نعمانی نے میرے اور میرے رفقا کی ملاقاتوں کا ذکر اپنی یادگار کتاب گفتار اور افکار میں کیا ہے اور اپنے ایک مکتوب میں لکھا ہے: ’’آپ حضرات کی غیر حاضری میں آپ کی تنظیم کا ذکر آ گیا تو مولانا نے آپ کے کام کو سراہا اور تحسین فرمائی‘‘۔ یہ مولانا کی عظمت کی دلیل ہے۔

اس سے قبل مولانا نے اس تنظیم کے لیے اپنی خرابیِ صحت کے باوجود ۱۶ مئی ۱۹۷۸ء کو ایک مبسوط پیغام ارسال فرمایا جس کا خلیل حامدی صاحب نے عربی میں ترجمہ بھی کر دیا۔ اس پیغام کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے:

قانون کو جو شخص بھی جانتا اور سمجھتا ہو وہ اس بات سے ناواقف نہیں ہو سکتا کہ کوئی قانون بھی بجاے خود ایک مستقل علم اور مجموعہ احکام نہیں ہوتا‘ بلکہ اس کے پیچھے ایک نظامِ فکر‘ ایک تصورِ حیات‘ ایک نظامِ اقدار‘ ایک معیار خیر و شر اور ایک تصور اخلاق کارفرما ہوتا ہے‘ جس کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے۔

مولانا کے مکمل پیغام کے ہر لفظ میں ایک جہانِ معنی پنہاں ہے۔ قانون کی اس سے بہتر ترجمانی جیورس پروڈنس کے ماہرین بھی نہیں کر سکے۔ میرے نام مولانا کے اور مکتوبات گرامی کی طرح یہ دونوں مکتوبات بھی ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے۔ ۳۱ اگست ۱۹۷۸ء کو مسلم جیورٹس ایسوسی ایشن نے مولانا کے اعزاز میں ایک افطار پارٹی کا اہتمام کیا۔ خرابیِ صحت کے باوجود مولانا نے اس میں شرکت فرمائی۔ جس میں میاں طفیل محمد‘ جناب قاضی حسین احمد‘ مولانا نعیم صدیقی‘ محمد اسلم سلیمی اور پاکستان نیشنل الائنس کے وزراے کرام‘ چودھری نذیر احمد خان‘ میاں شیر عالم‘ جناب عامر رضا خان ایڈووکیٹ جنرل پنجاب‘ چودھری ایم عارف (جو بعد میں سپریم کورٹ کے سینئر جج رہے ہیں) اور دینی جماعتوں کے عمائدین نے شرکت کی۔ مولانا نے اپنے حیات آفریں خطاب میں وکلا کے اتحاد اور اسلامی قانون کی حکمرانی کے لیے جرأت مندانہ کوششوں کو قابلِ ستایش قرار دیا اور دعا فرمائی کہ اللہ آپ حضرات کو اس نیک کام میں زیادہ محنت اور غور و خوض کی توفیق دے اور آپ جس عظیم مقصد کے لیے کوشاں ہیں اس میںکامیابی عطا فرمائے۔

m  ۱۹۷۸ء اور ۱۹۷۹ء کے دوران ملا قاتیں:  ۱۹۷۸ء اور ۷۹ء میں جو ملاقاتیں ہوئیں‘ ان میں شیخ غیاث مرحوم‘ میاں شیرعالم‘ درویش عاربی‘ راجا صفدر مرحوم‘ خالد ایم اسحاق اور ڈاکٹر ظفر علی راجا بھی ہمراہ ہوتے تھے۔ گفتگو کا موضوع: علما کا اتحاد‘ آئین‘ مسلم جیورٹس ایسوسی ایشن اور کام کی ترجیحات ہوتیں۔

مولاناکی صحت کے بارے میں ہم سب نہایت فکرمند تھے۔ عرض کیا: ’’اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ شب و روز کی سعی و کاوش‘ جیل کی بے پناہ صعوبتیں برداشت کرنے اور مسلسل تحقیقی کام کو جاری رکھنے کے نتیجے میں ان کے اثرات اور ثمرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ ثمرات سے ساری ملت فیضیاب ہو رہی ہے‘ جب کہ اعصاب شکن اثرات سے آپ کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ اس لیے زیادہ تر وقت آرام کے لیے وقف کیجیے‘‘۔

مولانا نے فرمایا: ’’کوشش بھی کر کے دیکھ لی ہے‘ کامیابی نہیں ہوئی۔ کم بخت کام کی لت کچھ ایسی پڑ گئی ہے بغیر کام کے زیادہ تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اس کی وجہ سے ہڈیوں کی تکلیف بڑھتی جا رہی ہے غالباً اب وہ مجھ سے انتقام لے رہی ہیں‘‘۔

خرابی صحت کے دوران ترکی اور ایران کے وفود نے مولانا سے ملاقاتیں کیں۔ ان کی اہم باتیں ہمیں بتلاتے رہے۔ فرمایا : ’’اقبال کے افکار اور جماعت اسلامی کی فکری تحریک نے ایران اور ترکی میں اسلام کی طرف مراجعت میں اہم کردار ادا کیا ہے‘‘۔ پھر مولانا نے ترکی میں خلافت کے زوال اور ایران میں شہنشائیت کے خاتمے کے تاریخی عوامل کی تفصیل کے ساتھ نشان دہی فرمائی۔

الوداعی ملاقات

۲۴ مئی ۱۹۷۹ء کو مولانا کی اقامت گاہ پر حاضر ہوا‘ جسے میں نے ’بیت الامت‘ کا نام دیا تھا۔ دوبارہ امریکہ علاج کی غرض سے جانے کے بارے میں بتلایا کہ: ’’دل تو نہیں چاہتا کہ اتنے لمبے سفر کی صعوبت برداشت کروں‘ لیکن بچوں کے اصرار پر اس خیال سے کہ ان کی دل شکنی نہ ہو رضامندی کا اظہار کیا ہے‘ ۲۶ مئی لاہور سے روانگی کا پروگرام ہے‘‘۔ پھر فرمایا ’’پروگرام کو عام نہ کیا جائے کیونکہ نقاہت کی وجہ سے سب سے مل نہ سکوں گا‘‘۔ ۲۶ مئی کو بنچ اور بار کی ایک خاص میٹنگ کی وجہ سے ایرپورٹ پر بروقت نہیں پہنچ سکا۔ جب پہنچا تو معلوم ہوا کہ مولانا جہاز میں سوار ہو چکے ہیں۔ مولانا کے صاحبزادے سے جو اس وقت وہاں موجود تھے کہا کہ مولانا کو میرا سلام پہنچا دیں۔ کہنے لگے اس وقت کسی کو جہاز پر جانے کی اجازت نہیں ہے لیکن پی آئی اے کی محنت کش یونین پیاسی کے ایک  عہدہ دار نے یہ ذمہ داری قبول کر لی۔ مولانا کو اطلاع ہوئی تو انھوں نے از راہ شفقت جہاز پر اُوپر بلالیا۔ دیکھ کر فرمایا: ’’آخر آپ آ ہی گئے‘‘۔ عرض کیا: ’’بفیلو تک بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارادہ ہے‘‘۔ فرمایا: ’’ضرور آئیے‘‘۔ رخصت ہوتے ہوئے میں نے سعدیؒ کا یہ شعر ادنیٰ تصرف کے ساتھ پڑھا:

دیدئہ سعدی و دل ہمراہ تست

تا نہ پنداری کہ تنہا می روی

سعدی کا دل اور نظر تمھارے ساتھ ہے تاکہ تو یہ خیال نہ کرے کہ تو تنہا جا  رہا ہے۔

مولانا نے بے ساختہ فرمایا: ’’بھئی‘ میں نے کبھی اپنے آپ کو تنہا محسوس نہیں کیا‘ بلکہ ہمیشہ یہ محسوس کرتا ہوں کہ میرا خدا میرے ساتھ ہے۔ سب کی محبت میرے ساتھ ہے‘‘۔ عرض کیا: ’’مولانا‘ آپ کی شخصیت فرقہ پرستی اور گروہی سیاست سے بہت بلند ہے۔ روانگی سے قبل قوم کو اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتے جائیے‘ اختلافات ختم نہیں تو کم ضرور ہوں گے‘‘۔ چنانچہ مولانا نے امریکہ جاتے ہوئے راولپنڈی سے ایک حیات آفریں پیغام دیا‘ جو ملک کے سارے اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوا۔ بفیلو پہنچنے کے بعد طبیعت کا حال معلوم ہوتا رہا۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ء کو یہ اندوہناک خبر ملی کہ مولانا رحلت کرگئے۔ یوں محسوس ہوا کہ گردش لیل و نہار کچھ دیر کے لیے رک گئی ہے پھر لسان الغیب کی صدا آئی     ؎

ہرگز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است برجریدۂ عالم دوام ما

وہ دل جو عشق کی بدولت زندہ ہوگیا‘ کبھی موت سے ہمکنار نہیں ہوتا۔ ہماری ہمیشگی صحیفہ عالم پر قائم ہوچکی ہے۔

وقت کے ریگ رواں پرمولانا کے نقش قدم انسانیت کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ دنیا میں جہاں جہاں اسلام ایک زندہ قوت بن کر ابھر رہا ہے‘ اس میں مولانا کے جذبے اور عمل کی روح کارفرما ہے۔ پاکستان اور پاکستان سے باہر دنیا میں اسلامائزیشن اور سود سے پاک معاشرے کے لیے   عدل و قانون کے میدان میں جو گراں قدر خدمات‘ مولانا کی سرپرستی میں قائم ہونے والی مسلم  ماہرین قانون کی عالمی تنظیم نے جسٹس ملک غلام علی مرحوم‘ مولاناگوہررحمن مرحوم اور جناب پروفیسر خورشید احمد کی معاونت سے سرانجام دی ہیں‘ وہ سب مولانا کے فیضان نظر کا نتیجہ ہیں۔

 ٰ60سال پہلے

کرنے کا کام

مجھے حیرت ہوتی ہے جب میں اپنے رفقا سے بسااوقات اس قسم کی باتیں سنتا ہوں کہ’ہمارے لیے کرنے کا کام کیا ہے؟‘میں پوچھتا ہوں کہ کیا اپنی تمام کمزوریوں کو آپ دُور کرچکے ہیں‘ اور اپنے نفس کو کامل طریقے پر اللہ کا بندہ بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں؟ کیا اپنی زندگی کو جاہلیت کے ہر شائبے سے آپ پاک کر چکے ہیں؟ کیا اُن تمام حقوق کی ادایگی سے بھی آپ فارغ ہوچکے ہیں‘ جو اللہ اور اس کے دین کی طرف سے آپ کے دماغ پر‘ آپ کے دل پر‘ آپ کے اعضا و جوارح پر‘ آپ کی ذہنی و جسمانی قوتوں پر اور آپ کے مملوکہ اموال پر عائد ہوتے ہیں؟ اور کیا آپ کے گردوپیش کوئی انسان بھی خدا سے غافل یا گمراہ یا دین حق سے ناواقف یا اخلاقی پستیوں میں گِرا ہوا نہیں رہا ہے‘ جس کی اصلاح کا فرض آپ پر عائد ہوتا ہو؟--- اگر ایسا نہیں ہے تو آپ کے اندر یہ تخیل آکہاں سے گیا کہ آپ کے لیے کرنے کا کوئی کام نہیں رہا ہے اور اب آپ کو کچھ اور کام بتایا جائے‘ جس میں آپ مشغول ہوں۔ یہ سارے کام تو اَن ہوئے پڑے ہیں جو آپ سے ہر وقت کا شدید انہماک چاہتے ہیں‘ اور اگر آپ ان کو اس طرح انجام دینا چاہیں جیسا کہ ان کا حق ہے تو آپ کو ایک لمحے کے لیے دم لینے کی فرصت  بھی نہیں مل سکتی۔ (ترجمان القرآن‘جلد۲۳‘ عدد ۵-۶‘ذوالقعدہ‘ ذوالحجہ ۱۳۶۲ھ‘ نومبر‘دسمبر ۱۹۴۳ئ‘ ص۱۰)