پروفیسرفواد سیزگین (Fuat Sezgin )موجودہ زمانے کے ایک عظیم محقق اور اسلامی اسکالر تھے۔ مقصد سے لگن، کام کے حجم اور حددرجہ محنت کے حوالے سے ان کا مقام و مرتبہ ناقابلِ فراموش رہے گا۔افسوس کہ وہ بر صغیر پاک و ہند میں معروف نہیں تھے، جس کی وجہ یہی ہے کہ وہ جرمن زبان میں لکھتے تھے اور ہمارے ہاں صورت حال یہ ہے کہ عربی اور فارسی سے بے بہرہ اور انگریزی کی حاکمیت سے مرعوب ہیں، اس لیے انگریزی کے علاوہ دیگرزبانوں میں علوم تک رسائی نہیں رکھتے۔
فواد سیزگین ۲۴؍اکتوبر ۱۹۲۴ء کو مشرقی ترکی کے صوبے بطلیس میں پیدا ہوئے۔ انٹرسائنس تک تعلیم اناطولیہ کے شہر ارض روم (Erzurum ) میں حاصل کی۔ ۱۹۴۲ء میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انجینیرنگ فیکلٹی استنبول یونی ورسٹی میں داخلہ لیا۔ اسی دوران میں ایک واقعے نے زندگی کا دھارا بدل دیا، اور وہ انجینیرنگ کے بجاے دوسرے عظیم ترین میدان کی طرف چلے آئے۔ ان دنوں ایک مشہور جرمن مستشرق ڈاکٹر ہیلمیٹ ریٹر (۱۸۹۲ء-۱۹مئی۱۹۷۱ء) اورینٹل فیکلٹی استنبول یونی ورسٹی میں پڑھا رہے تھے، جنھیں عربی، فارسی اور ترکی زبان پر دسترس حاصل تھی۔ وہ تصوف اور فلسفے پر اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔ ایک روز فواد کے قریبی عزیز نے کہا کہ: ’کسی روز یونی ورسٹی میں ہیلمیٹ نامی جرمن ماہر علوم اسلامیہ کا لیکچر سنو‘۔ اس ہدایت پر فواد نے ہیلمیٹ کے ایک سیمی نار میں شرکت کی۔ دورانِ گفتگو پروفیسر ہیلمیٹ نے کہا کہ: ’’اسلامی تاریخ اور عربی ادب کی عظمتوں اور وسعتوں کا کوئی حساب نہیں۔ مسلمانوں نے سائنس میں جو کارنامے انجام دیے ہیں، ان سے دُنیا ناواقف ہے، کاش! کوئی اس طرف توجہ دے؟‘‘فواد نے متاثرکن استاد کی یہ بات سن کر اسی وقت دل میں عہد کیا: ’’میں یہ کام کروں گا‘‘ اور اگلے روز انجینیرنگ چھوڑ کر اورینٹل فیکلٹی میں داخلے کے لیے درخواست دے دی، اور یہ سوچا تک نہ کہ داخلے کی تاریخ ختم ہوچکی ہے۔ پھر پروفیسر ہیلمیٹ سے التجا کرکے داخلہ لے لیا۔ استاد نے کہا: ’’عربی سیکھنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘۔ لیکن جب شاگرد کو پُرعزم پایا تو استاد نے فواد کو سب سے پہلے قدیم عربی میں دسترس کی طرف متوجہ کیا، جو واقعی ایک مشکل کام تھا۔ تاہم وفورِشوق میں فواد نے ۱۷، ۱۷ گھنٹے عربی سیکھنے پر صرف کیے۔
اسی دوران دوسری جنگ ِعظیم میں۱۹۴۳ء میں ہٹلر کی فوجیں بلغاریہ تک آپہنچیں، تو یونی ورسٹی طویل عرصے کے لیے بند ہوگئی۔ ان چھٹیوں میں فواد نے عربی سیکھنے کے ساتھ تفسیرطبری کو براہِ راست عربی سے پڑھنا اور قرآن پر غوروفکر شروع کیا۔ چھے ماہ بعد جب یونی ورسٹی کھلی تو استاد نے عربی میں استعداد جانچنے کے لیے امام غزالیؒ (۱۰۵۸ء-۱۱۱۱ء)کی احْیَاء عُلُومُ الدِّین سامنے رکھی۔ فواد نے اس کے مقامات پر اس طرح گفتگو کی جیسے کوئی روزنامہ پڑھ رہے ہوں۔ اس چیز سے متاثر ہوکر استاد نے ایک اور پہاڑ لاسامنے کھڑا کیا: ’’اگر علم اور مسلمانوں کی کوئی خدمت کرنا چاہتے ہو تو ساتھ ساتھ ہرسال ایک نئی زبان سیکھنے کی کوشش بھی کرو اور کم از کم ۳۰زبانیں تو ضرور سیکھو۔ یہ لسانی علم تمھیں فکر، دانش اور معلومات کی ان دُنیائوں تک لے جائےگا، جس کا کوئی شمار نہیں کرسکتا‘‘۔ اس توجہ پر بھی فواد نے عملی طور پر کام شروع کر دیا۔یوں ترکی کے علاوہ جرمن، فرانسیسی، عربی، لاطینی، سریانی، عبرانی اور انگریزی سیکھ لی، البتہ لکھنے کا زیادہ تر کام جرمنی زبان میں کیا۔
انجینیرنگ کا سابق طالب علم اب پوری دل جمعی سے دینی اور عربی علوم کے ہفت خواں طے کر رہا تھا۔ جب ۱۹۵۰ء میں ایم اے علومِ اسلامیہ پاس کرنے کے بعد اعلیٰ تحقیق کا مرحلہ آیا تو فواد اس نتیجے پر پہنچے کہ مستشرقین اور پادری حضرات، دین اسلام پر حملہ کرتے وقت بنیادی ہدف ذخیرۂ حدیث کو بناتے اور کہتے ہیں: ’سنی سنائی باتوں کا علم‘، اور بخاری ان کے نشانے پر ہوتی ہے۔ فواد نے بدنیتی پر مبنی اس حملے کا جواب علمی سطح پردینے کا عزم کیا۔ پروفیسر ہیلمیٹ کی رہنمائی میں تحقیق کرتے ہوئے البخاری کے ماخذ کے موضوع پر ۱۹۵۴ء میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ جب ۱۹۵۶ء میں استنبول سے یہ تحقیقی مقالہ شائع ہوا تو علمی حلقوں کی توجہ کا موضوع بنا۔
ڈاکٹر فواد نے ذخیرئہ حدیث کی تدوین پر ’محض زبانی سنے سنائے‘ علم کے تاثر کا جواب دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ: ’’مجموعہ ہاے حدیث میں ابتدائی زمانوں ہی سے لفظ کتاب بطوراصطلاح مکاتبت کے معنوں میں استعمال ہواہے، جس سے مراد روایت ِ حدیث کو زبانی سنے سنائے بغیر تحریری شکل میں منتقل کرنا ہے۔ اس امر کی وضاحت کے لیے اسناد میں کتب الی یا من کتاب کے الفاظ استعمال کیے جاتے تھے۔ یوں اسناد بظاہر زبانی روایت کا حوالہ رکھنے کے باوجود بسااوقات باقاعدہ تصانیف سے حرف بہ حرف نقل اور اقتباس کی جاتی تھیں‘‘۔
ڈاکٹر خورشید رضوی کے بقول : ’’ڈاکٹر سیزگین کی شہرت کا ایک خصوصی حوالہ علمِ حدیث میں اسناد کے طریق کار اور اس کی حقیقت و اہمیت کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر ہے، جس نے مغرب کے علمی حلقوں میں بازگشت پیدا کی اور گولڈ زیہر [۱۸۵۰ء-۱۹۲۱ء] کے گمراہ کن نتیجۂ فکر اور دیگر مغربی تحقیق کاروں کے تصورات پر سنجیدہ تجزیے اور محاکمے کی ضرورت کا احساس دلایا‘‘۔
اس دوران ڈاکٹر فواد اورینٹل فیکلٹی، استنبول یونی ورسٹی میں بطورِ استاد خدمات انجام دیتے رہے کہ۲۷مئی ۱۹۶۰ء کو ترک جرنیل جنرل جمال گرسل (۱۸۹۵ء-۱۹۶۶ء)نے فوجی انقلاب برپا کیا۔ یہ انقلاب سخت گیر لادینی نظریات کا علَم بردار تھا۔ یہ وہی جنرل گرسل ہیں، جنھوں نے ۱۹۵۰ء سے ۱۹۶۰ء تک دومرتبہ منتخب ترک وزیراعظم عدنان میندریس (پ:۱۸۹۹ء) کو برطرف کیا اور ۱۷ستمبر ۱۹۶۱ء کو، عدنان کابینہ کے وزیرخارجہ فطین رشدی زورلو (پ:۱۹۱۰ء) کے ہمراہ پھانسی دے دی تھی۔ عدنان میندریس شہید کا ایک ’جرم‘ یہ بھی تھا کہ انھوں نے اپنے دورِ حکومت میں ۱۷جون ۱۹۵۰ء کو عربی میں اذان پر پابندی ختم کی، پھر مسجد یں کثرت سے تعمیر کیں، حج پر عائد پابندیاں ختم کیں اور محکمہ مذہبی امور قائم کیا۔ اس محکمے نے نئی اور پرانی اسلامی کتب کی اشاعت کے ساتھ، مولانا مودودیؒ (م:۱۹۷۹ء)اور سیّد قطبؒ (شہادت:۱۹۶۶ء)کی بھی چند کتب ترکی زبان میں شائع کیں۔
’ترک فوجی حکومت‘ نے ۱۴۷ پروفیسروں کو ترکی یونی ورسیٹیوں سے نظریاتی اختلاف بلکہ اسلامی غیرت و حمیت کی پاداش میں برطرف کردیا، جن میں فواد سیزگین بھی شامل تھے۔ مارشل لا حکومت سے انصاف مل نہیں سکتا تھا، اس لیے فواد نے جلاوطنی اختیار کی۔ جرمنی چلے گئے اور فرینکفرٹ یونی ورسٹی میں استاد مقررہوئے۔ ۱۹۶۵ء میں انھوں نے فلسفی، ریاضی دان اور کیمیا دان جابر بن حیان [۷۲۱ء-۸۱۵ء]پر دوسری ڈاکٹریٹ حاصل کی، تو پروفیسر کے درجے میں ترقی مل گئی۔پھر ۱۹۶۷ء میں ایک ذہین اور محنتی نومسلم جرمن مستشرقہ ارسل سے شادی کی۔ ان کے ہاں ۱۹۷۰ء میں ایک بیٹی پیدا ہوئی، جس کا نام ’ہلال‘ رکھا۔ (مغربی دنیا میں ’ہلال‘ [کریسنٹ] اسلام کی علامت ہے اور نام رکھتے وقت یہی پہلو پیش نظر تھا)۔
پروفیسر سیزگین کا یادگار کارنامہ عربی زبان میں علمی ذخیرے کی کیفیت کی تدوین ہے۔ جس میں ہر کتاب کے بارے اشاعت، عدم اشاعت کے ساتھ تفصیل مذکور ہے کہ یہ مخطوطہ کہاں موجود ہے۔ اس کام کی ابتدا محمد بن اسحاق الندیم (م:۹۹۵ء ) نے الفہرست کے نام سے کی تھی۔ درحقیقت ڈاکٹر فواد کا کام جرمن محقق کارل بروکلمان (Carl Brockelmann: ۱۸۶۸ء- ۱۹۵۶ء) کی اسی نام سے کتاب Geschichte der Arabischen Litteratur کی تکمیل ہے، جو ۱۸۹۸ء میں دو جلدوں میں شائع ہوئی تھی۔ اس زمانے میں اکثر کتب خانوں کی فہرستیں تیار اور شائع شدہ نہیں تھیں، اس لیے بروکلمان کی کتاب میں بہت سی کمیاں رہ گئی تھیں۔ حتیٰ کہ استنبول میں موجود قیمتی مخطوطات کا بھی ذکر نہیں تھا۔
اس بھاری بھرکم کام کی ابتدا فواد سیزگین نے ۱۹۵۴ء میں پروفیسر ہیلمیٹ ریٹر کی خواہش پر کی تھی۔ انھوں نے مجوزہ کتاب Geschichte des Arabischen Shrifttums [تاریخ التراث العربی، عربی ورثے کی تاریخ) پر ۱۹۶۱ء میں باقاعدہ لکھنے کا آغاز کیا۔ اس کی پہلی جلد ۱۹۶۷ء میں اور ۱۷ویں جلد فروری ۲۰۱۸ء میں شائع ہوئی۔ اب وہ ۱۸ویں جلد کی اشاعت پر کام کر رہے تھے کہ زندگی کی ساعتیں ختم ہوگئیں۔ یہ کتاب عربی زبان میں لکھے جانے والے ایک بڑے علمی ورثے کا احاطہ کرتی ہے، جس میں: قرآن پاک،تفسیر، حدیث، تاریخ، فقہ، علم کلام، عربی شاعری، طب، علم حیوان، کیمیا، زراعت، نباتیات، ریاضیات، فلکیات، موسمیات، تصوف، نفسیات، فلسفہ، اجتماعیات، نحو، بلاغت، لغت، کائناتی مطالعہ، منطق، ارضیات، موسیقی، ادویہ سازی، حیوانیات، نجوم، عربی زبان، جغرافیہ، نقشوں جیسے گوناگوں علوم پر عربی مخطوطات و کتب کا تذکرہ شامل ہے۔
پروفیسر فواد سیزگین نے ۱۹۸۲ء میں جرمنی کی گوئٹے یونی ورسٹی میں ’عربی واسلامی تاریخ انسٹی ٹیوٹ‘ کی بنیاد رکھی۔۱۹۸۴ء میں تحقیقی مجلّے Journal of Arab and Islamic Sciences کا اجرا کیا اور مدت تک ادارت کی۔ سائنسی علوم کے بارے میں مسلمان علما و فضلا کے لکھے چار لاکھ قدیم مخطوطوں کے آثار اور قدیم کتب کو، ۳۰سال کی مدت میں، یورپ، افریقہ، بھارت، ترکی، ایران، مصر، روس اور مشرق وسطیٰ کی لائبریریوں، ذاتی کتب خانوں اور دیہات تک میں پہنچ کر اکٹھا کیا یا معلومات لیں۔ جمع شدہ کتب کی تعداد ۴۵ہزار سے زیادہ ہے، جب کہ ۱۳ سو اصل مخطوطے اور ۷ہزار مخطوطات کے عکس شامل ہیں۔پھر ان مخطوطات و معلومات کو ایک ہزار مطبوعات کی صورت میں شائع کیا۔
ایک مشہور جرمن ماہر طبیعیات اور سائنسی علوم کے مؤرخ ڈاکٹر ایلہارڈ ویڈمین (۱۸۵۳ء-۱۹۲۸ء) نے ۱۸۹۹ء میں طے کیا کہ:’ ’میں مسلمانوں کے ایجاد کردہ ان سائنسی آلات کو جن کا تذکرہ کتب میں پڑھا ہے، عملی شکل اور نمونوں (ماڈلوں) کی صورت دوں گا‘‘۔ ڈاکٹر ایلہارڈ نے ۱۹۲۸ء تک ۳۰برسوں کی شبانہ روز کاوش سے ایسے پانچ ماڈل تیار کیے۔ اس مثال کوسامنے رکھ کر پروفیسر فواد نے دوستوں سے کہا : ’’میں کوشش کروں گا کہ کم از کم ۳۰ ماڈل اور آلات کے نمونے بناکر اس کمرے کی خالی جگہ کو پُر کروں‘‘۔ پھر اسی انسٹی ٹیوٹ میں انھوں نے اگلے سال ایک میوزیم قائم کیا، جس میں مسلمانوں کے سنہرے دور میں ایجاد اور استعمال ہونے والے آٹھ سو (۸۰۰) سائنسی آلات اور مشینوں کے اصل کے مطابق نمونے بنواکر رکھے۔
جرمن حکومت نے پروفیسر سیزگین کے ذاتی کتب خانے کو قومیا لیا تھا اور بدلے میں معقول مالی معاوضہ دیا تھا۔ ترکی منتقل ہونے کے بعد پروفیسر سیزگین نے دوبارہ ایک ایک کتاب اکٹھی کر کے استنبول میں ایک عظیم الشان کتب خانہ بنایا۔ ترکی کی موجودہ حکومت اس لائبریری کے لیے استنبول میں ایک خصوصی بلڈنگ تعمیر کر رہی ہے۔ یہاں پر ۲۰۰۸ء میں ایک میوزیم بھی قائم کیا۔ اس میوزیم میں انھوں نے اسی طرح کے ۷۰۰ماڈل اور آلات تیار کر کے رکھوائے جیسے جرمن میوزیم میں رکھے تھے۔ پھر ۲۰۱۰ء میں استنبول میں اسلامی وعربی تاریخ کا ٹرسٹ قائم کیا۔
پروفیسر فواد نے متعین کیا ہے کہ :’’ کرسٹوفر کولمبس [م: ۱۵۰۶ء]سے بہت پہلے عربوں نے شمالی امریکا دریافت کیا تھا اور ۱۸ویں صدی کے اوائل تک دنیا کے تمام نقشے مسلمانوں ہی کے بنائے ہوئے نقشوں کی نقل تھے‘‘… پھر بتایا کہ: ’’عباسی خلیفہ مامون الرشید [م: ۸۳۳ء] نے تقریباً ستّر جغرافیا دانوں کو پوری دنیا کے مطالعے کے لیے بھیجا، جنھوں نے کئی برس گھوڑوں، اُونٹوں اور سمندری جہازوں پر گھوم پھر کر دنیا بھر کے بارے معلومات اکٹھا کیں اور نقشے بنائے‘‘۔
پروفیسر سیزگین کہا کرتے تھے: ’’ مجھے اتنی سی بات سے خوشی نہیں ہوتی کہ سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں عربوں اور مسلمانوں نے جو کارنامے انجام دیے ہیں آج ہم محض انھی پر فخر کریں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ آج کے مسلمان سمجھیں کہ ان کے آباء کتنے عظیم لوگ تھے، جو صرف اپنی انگلیوں پر گنتی کرکے اتنی زیادہ ترقی کرگئے۔ ہم ان سے اور دوسروں سے بہت کچھ سیکھ کر خوداعتمادی سے اپنی مشکلات پر قابوپا سکتے ہیں۔ ہم کو ان علما سے سبق حاصل کرنا چاہیے، جنھوں نے ہم سے کہیں زیادہ محنت کی اور لکھا۔ اتنی مشقت کے باوجود وہ زندگی میں ہم سے کہیں زیادہ خوش تھے‘‘۔
پروفیسر سیزگین نے لکھا ہے: ’’مسلمانوں میں نتیجہ خیز فکری و عملی سرگرمی کا آغاز پہلی صدی ہجری ہی میں ہوگیا تھا۔ علم کے بارے میں اہلِ اسلام کا رویہ بڑا فراخ دلانہ تھا۔ انھوں نے بغیر کسی نفسیاتی رکاوٹ کے، اپنے پیش روؤں کے علوم کو قبول کیا۔ اس طرح اسلامی تہذیب، مختلف قوموں کی ثقافتوں ، زبانوں اور علمی میراث کا نقطۂ اتصال ثابت ہوئی، جس سے انسانی فکر کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ مسلمان اپنے پیش روؤں کے مقلّد محض نہ تھے بلکہ جانچ پرکھ اور تنقید کے صحت مند معیارات کے قائل تھے۔ مسلمانوں نے اجنبی اقوام سے علمی فیض حاصل کرنے کا آغاز ان قوموںسے کیا جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے،اس لیے ان کے استفادے میں تعصب کا عنصر نہیں پایا جاتا تھا، لیکن اس کے برعکس لاطینیوں[اہل مغرب] نے عربوں کو اپنا دشمن سمجھ کر ان کے علوم سے استفادہ کیا، جس نے ان میں نفسیاتی اُلجھائو، تعصب اور سرقے کی روایت پیدا کی۔ اس طرح اعتراف کے بجاے دانستہ طور پر مسلمانوں کی دریافتوں کا سہرا بھی مغربیوں کے سر باندھنے کا رویہ شامل ہوگیا‘‘۔
پروفیسر فواد سیزگین کے کارناموں کو دُنیا بھر کے اہل علم نے سراہا۔ ۱۹۷۹ء میں جب ’شاہ فیصل ایوارڈ‘ کا اجرا ہوا تو پہلے ہی سال سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ کو اسلام کے لیے خدمات پر اور پروفیسر فواد سیزگین کو ان کی کتاب تاریخ التراث العربی (عربی ورثے کی تاریخ) پر یہ ایوارڈ دیا گیا۔ اسی طرح جرمن حکومت نے اعلیٰ ترین اعزاز ’آرڈر آف میرٹ آف جرمنی‘ دیا۔ ’اسلام میں سائنسی اور تکنیکی علوم‘ (پانچ جلدوں) پر ایک خوب صورت کتاب پر ایران نے ۲۰۰۶ء میں ’کتاب کا عالمی ایوارڈ‘ دیا۔ یہ کتاب علمی تفصیلات کے ساتھ تصویروں اور خاکوں سے مرصع ہے، اور جرمن، ترکی، انگریزی اور فرانسیسی میں شائع ہوچکی ہے۔
۱۹۷۹ء میں امام محمد بن سعود اسلامی یونی ورسٹی ، ریاض کی دعوت پر ڈاکٹر فواد نے سات خطبے دیے، جو محاضرات فی تاریخ العلوم کے عنوان سے شائع ہوئے۔ پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی نے ان خطبات کا اُردو ترجمہ تاریخ علوم میں تہذیب اسلامی کا مقام کے نام سے کیا، جسے ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد نے ۱۹۹۴ء میں شائع کیا ہے۔
پروفیسر فواد نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے لکھا ہے: ’علومِ اسلامیہ کے مطالعے اورعربی فہمی کے لیے یکسوئی عطا کرنے میں میرے استاد پروفیسر ہیلمیٹ ریٹر کا مجھ پر بے حد احسان ہے۔ جن علمی کاموں کے لیےمیں نے قدم اُٹھایا، ان راہوں کی مشکلات کو دیکھ کر ممکن ہے دوسروں کو گھبراہٹ محسوس ہوتی ہو۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ میں اپنے باطن کی دنیا میں گہری طمانیت اور تشکر کے جذبات رکھتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے خوش نصیب ترین بندوں میں سےہوں، کہ جس کی توفیق اور مدد سے یہ کام کر رہا ہوں‘‘۔
پروفیسر فواد سیزگین ۳۰ جون ۲۰۱۸ء کو ۹۵ برس کی عمر میں استنبول کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔ جامع سلیمانیہ میں ان کی نمازِ جنازہ میں ترکی کے صدر طیب اردوان بھی موجود تھے، جنھوں نے حاضرینِ جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے گلوگیر لہجے میں کہا: ’’میں اللہ سے دُعا کرتا ہوں کہ ہمارے عظیم محسن پروفیسر فواد کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ ہمارا وہ محسن کہ جس نے ہمیں، اسلامی تاریخ اور اسلامی تہذیب کے حوالے سے بیداری کی بہترین دولت دی۔ ہمارا وہ محسن کہ جس نے سائنسی علوم میں، زمانوں پر پھیلی ہوئی اسلامیانِ عالم کی خدمات کو وضاحت سے پیش کیا۔ میں ۲۰۱۹ء کو فواد سیزگین کے سال سے منسوب کرتا ہوں کہ : جب ہم اپنی نسل کو اسلامی علوم کی واقفیت دینے اور شوق پیدا کرنے کے لیے کانفرنسیں، سیمی نار، نمایشیں اور علمی پروگرام کریں گے‘‘۔
ایمان، عزم ، ارادے، محنت اور اَن تھک جستجو کے زادِراہ سے سفر کا آغاز کرنے والے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ جو بسترمرگ پر بھی علمی فریضہ انجام دیتا رہا۔ اس اکیلے فرد نے حالیہ زمانے میں وہ کارنامہ انجام دیا، جو کئی ادارے بھی مل کر انجام نہ دے سکے۔ کیا ہماری نوجوان نسل، عشق و جنوں کی اس وادی میں قدم رکھنے کے لیےتیار ہے؟
جو مسلمان یہ کہتے ہیں کہ: ’دین اسلام کے غلبے کا کام آسا ن ہے اور اس کو انجام دینے کے لیے کسی خاص مشقت کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ کام آسانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ’غیبی مدد‘ کے ساتھ انجام دیا جاسکتا ہے، اور جو اپنی زندگی کے شب و روز اسی زعم میں گزار رہے ہیں، ان کے لیے دو چیزیں سمجھنا ضروری ہیں۔ ایک ، سورۂ مزمل و مد ثر یا نبوت کی ذمہ دار ی پر فائز ہونے کے فوراً بعد کی نازل شدہ آیات میں آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خطاب کہ: ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں، جس کے تقاضوں کو انجام دینے کی خاطر آپ ؐ رات کے آدھے حصے سے کم یا زیادہ وقت نماز میں گزاریں، قرآن کو ٹھیر ٹھیر کر پڑھیں،اور ساتھ ساتھ اپنے ربّ پر توکل و بھروسا اورصبروثبات سے کام لینے کی مشق بھی کیا کریں۔
بالفاظِ دیگر فرمایا گیا کہ نبوت کا کام اتنا آسان نہیں ہے کہ کسی داخلی طلب کی گئی استعانت کے بغیر آپ ؐ اس کو انجام دے سکیں، بلکہ اس کارِ عظیم کو انجام دینے کی خاطر اپنے آپ کو ذاتی طور، اخلاق و روح کے بے پایاں ہتھیاروں سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسرا اہم نکتہ جو اسی نکتے سے اخذ کیا جاسکتا ہے کہ نبوت کے مدعا و مقصد کو انجام دینے کی خاطر آپ ؐ کو بڑی بڑی طاقتوں سے نبردآزما ہونا پڑے گا۔جن کے پاس ہر قسم کے وسائل مہیا ہیں، وقت کی طاقت ور مشینری پر کنٹرول کے ذریعے افواہ سازی اور پروپیگنڈا میں ہر کسی سے آگے، اپنے جاسوسوں کو کام پر لگائے پل پل کی خبر رکھے ہوئے ہیں۔ آپ کی صفوں کے اندر بھی اپنے ہی زر خرید ایجنٹ و منافقین بھرتی کرنے والے آ پ کے کسی بھی کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے سے پہلے ہی اس کی بیخ کنی میں مصروف ہیں۔
اِن حالات میں جو ہمہ گیر دعوت آپ ؐ نے برپا کی ، وہ ان تمام(اندرون و بیرون) چیلنجوں کا پورا ادراک رکھے ہوئے تھی۔ اُس انقلابی دعوت سے وابستہ افراد میں آپؐ نے اِن تمام چیلنجوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کی تھی۔ اگرچہ اِن افراد سے تشکیل دی گئی جماعت مخالف سمت سے ٹکرانے والی پارٹی کے مقابلے میں انسانی اور مادی وسائل میں کمی کا شکار تھی۔ لیکن اِن تمام کمیوں کے باوجود وہ اُن تمام صفات سے متصف تھی جس کا تقاضا وقت کر رہا تھا اور جو انھیں ’حزب اللہ‘ کا لقب دینے کے لیے کافی تھا۔مسلمانوں کے اندر جس قدر جذبۂ جہاد اور شوقِ انفاق فی سبیل اللہ سرایت کر چکا تھا، وہ مخالفین کے تمام وسائل کو مات دینے کے لیے حد درجہ مؤثر تھا۔
اس صورتِ حال سے ہمیں اپنے آج کا اور خود اپنا موازنہ کرنا چاہیے کہ ہمارے لیے وہی اصل معیار ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام سے وابستگی رکھنے والی اُمت اور اس قافلۂ حق سے وابستہ افراد کی ایک بڑی تعداد، غالباً حق و باطل کے مقابلے میں آرام کی زندگی بسر کر رہی ہے اور اس کے پاس کسی قسم کا مدافعانہ سامان (بصورتِ دلیل و بیان) غالباً موجود نہیں۔ باطل جس طریقے سے اپنے حربے آزما رہا ہے، باطل کے دفاتر جس سرعت و جان فشانی سے کام کررہے ہیں، ان کے مقابلے میں اہلِ حق کی سرگرمیوں کا موازنہ کس صورت میں کیا جائے؟ باطل سویا ہوا نہیں ہے، و ہ اپنا کام دن رات کرتا ہے کہ اس کے پاس مادی وسائل اور اختیارات فراواں ہیں۔ اس فضا میں یہ اُمید کیسے کی جاسکتی ہے کہ حق کا بول بالا ہو، ظالم اپنے ہی ہاتھوں خودکشی کرکے میدان طشتری میں رکھ کر پیش کرے گا؟ مقامی سطح سے لے کر عالمی معاملات تک کا یہ نقشہ ایک معقول اور سنجیدہ غوروفکر کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ باطل کے ہرکارے روزِ اوّل سے ہی اس کام میں لگے ہوئے ہیں کہ کیسے اور کس طرح حق کے چراغ کو اپنی پھونکوں سے بجھایا جائے۔
حق کے ماننے و چاہنے والوں کا کام ہے کہ وہ اپنی محنت و لگن سے حق کو اس کا وہ مقام عطا کریں، جس کا تذکرہ قرآن وحدیث میں موجود ہے۔ بالفاظِ دیگر یہ اس وقت ہوگا جب اس کے علَم بردار نظریاتی حدوں کے اندر خواب دیکھتے اور پوری دیانت داری سے ان کی تعبیر کے لیے فکرمند ہوتے ہیں۔ بقولِ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی: ’’ہمیں عوام میں عوامی تحریک (mass movement) چلانے سے پہلے ایسے آدمیوں کو تیار کرنے کی فکر کرنی ہے، جو بہترین اسلامی سیرت کے حامل ہوں اور ایسی اعلیٰ درجے کی دماغی صلاحیتیں بھی رکھتے ہوں کہ تعمیر ِ افکار کے ساتھ اجتماعی قیادت کے دوسرے فرائض کو بھی سنبھال سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں عوام میں تحریک کو پھیلا دینے کے لیے جلدی نہیں کر رہا ہوں، بلکہ میری تمام تر کوشش اس وقت یہ ہے کہ ملک کے اہلِ دماغ طبقوں کو متاثر کیا جائے اور ان کو کھنگال کر صالح ترین افراد کو چھانٹ لینے کی کوشش کی جائے، جو آگے چل کر عوام کے لیڈر بن سکیں ‘‘۔(رُودادِ جماعت اسلامی، حصہ اول)
اس صورتِ حال میں اگر ہم آج کی تیز رفتار ٹکنالوجی سے منضبط نظامِ زندگی کی طرف نظر دوڑائیں، تو کچھ اہم باتیں نمایاں ہوکر سامنے آتی ہیں:
۱- محض انسانی وسائل اور ٹکنالوجی کی فراہمی کچھ معنی نہیں رکھتی، بلکہ مقصد سے وابستگی اور اسے رُوبۂ عمل لانے کے لیے پیشہ ورانہ صلاحیتوں (professional skills) کی موجودگی اہم تر ہے۔
۲- انسانی وسائل کے ساتھ ساتھ انھیں ایسے آلات و اختیارات کی ضرورت ہے، جن کو استعمال میں لا کر وہ اپنے اہداف حاصل کرنے کی طرف پیش رفت کرسکیں۔
۳- انسانی وسائل اور اُن سے جڑے اختیارت و آلات کو تبھی سرعت دی جاسکتی ہے ، جب کچھ مالی وسائل بھی ہاتھ میں ہوں۔
۴- اِن تمام چیزوں کو جو ایک اہم بنیاد، اثرپذیری اور تیزی بخشتی ہے اور اسے ایک ہم آہنگ کُل (inter-related whole) کے طور پر منضبط کرتی ہے، اس کا نام انسانی مشینری ہے، جس کو بالفاظِ دیگر تنظیم ، جماعت ، حلقہ،پارٹی وغیرہ کی اصطلاحات سے بھی جانا جاتا ہے۔
سیاسی ہو یا غیر سیاسی، سرکاری ہو یا غیر سرکاری، قومی ہو یا بین الاقوامی، دینی ہویا لا دینی، کوئی بھی تنظیم ہو، اگر اُس میں پیشہ ورانہ انسانی وسائل کے پاس اختیارات، قوتِ فیصلہ ، مادی وسائل اور ٹکنالوجی نہ ہو، تو وہ ہمہ پہلو مقابلے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ محض تنظیم کا وجود اس بڑے معرکے کا بدل نہیں ہوسکتا۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حق و انصاف کا ساتھ ہمیشہ کم لوگوں نے ہی دیا ہے۔ آبادی کا غالب حصہ یا تو باطل و ظلم کے ہتھے چڑھ جاتا ہے یا لاعلمی کے عالم میں مزے سے سو رہا ہوتا ہے۔ تحریکی پس منظر میں جنھیں یہاں زیربحث لایا جارہا ہے، ان سے مراد ایسے ا فراد ہیں جن کے پاس غیرمعمولی طور پر مقصد سے وابستگی، پیشہ ورانہ صلاحیتیں، جوش ، جذبہ اور حق کے تعین کے لیے کچھ کرنے کا جذبۂ عمل اور رفتارِ عمل موجود ہو۔ ’وسائل‘ سے مراد انسانوں کا افرادی قوت کے اعتبار سے محدود مگر مربوط ہونا ہے اور’نظم‘ سے مراد ایسا طریق کار کہ جس کو عمل میں لاتے ہوئے کم سے کم(محدود) انسانی وسائل سے زیادہ سے زیادہ کام لیا جاسکے۔
اِن چار اہم نکات میں انسانی وسائل کی شناخت ، تربیت، احتساب، ترقی اور ان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ دعوت و تبلیغ اور دنیا کو بدل دینے کاکام لینا، ایک بہت بڑے علم کی حیثیت رکھتا ہے۔ تحریکاتِ اسلامی جتنی جلد اس سرمایے کی شناخت کرکے فیصلہ سازی کی اہمیت و افادیت کا ادراک کرلیںگی،اسی قدر ترقی اور پیش قدمی کرپائیں گی۔ دوسری صورت میں ڈھانچے تو موجود ہوں گے، مگر زندگی کی رمق کا وجود نہیں ہوگا اور مقابلے میں باطل سہولت سے ترقی کرتا رہے گا۔ تحریک کا اصل سرمایہ تو انسانی وسائل ہی ہیں۔ حتیٰ کہ مشین نما انسان(robot) کا بھی کنٹرول انسانوںکے ہاتھوں میں ہی ہوتا ہے۔ احادیث کی کتابوں ، بلکہ خود قرآن پاک میں حق کے غلبے کی جو بشارت دی گئی ہے، وہ اپنی جگہ برحق ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کی کثیر تعداد حق کے اُس غلبے کا غلط مفہوم لے کر اِس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ’’ کسی سرعت سے کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے، حق کو غالب ہو کر رہنا ہے۔ اس سے پہلے یہ زوال، یہ کسمپرسی ، یہ تباہی، یہ ذلت و مسکنت تو پیش گوئیوں کے عین مطابق ہمارے نصیب میں ہے‘‘۔ درحقیقت اس تصور کو ذہنوں سے نکالنا بے حد ضروری ہے۔
اسلامی تنظیمات انسانی وسائل کے ایک مخصوص حصے کو تنظیم کا حصہ بناکر عام لوگوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتیں، بلکہ اصل مسئلہ زیادہ سے زیادہ افراد کو اس کے اندر سمونے کا ہے، جس کے لیے دعوت و تبلیغ کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ لوگوں تک دعوت پہنچائی جاتی ہے ، انھیں اُن کے اصل مسائل کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، اُن کی عقل کے دریچے کھولے جاتے ہیں، اُن کے ساتھ بحث و تمحیص اور تبشیر و انذار سے کام لیا جاتا ہے اور انھیں اِس جماعت کی طرف راغب کرنے کے لیے ہر قسم کی محنت و کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد جتنے بھی لوگ اِس کاروان کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں، اُن کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔ منصوبہ بندی دراصل ایک مخصوص عمل کا نام ہے جس میں متذکرہ انسانوں کی تعداد، اُن کی سکونت، اُن کے پاس صلاحیتیں، اُن کی مالی و جسمانی حیثیت وغیرہ کا پورا ریکارڈ مدنظر رکھا جاتا ہے، جس پر تنظیم کے اعلیٰ ذمہ داران یہ غور و خوض کرتے ہیں کہ کس انسان کی جگہ کہاں پر موزوں ہے یا کس انسان سے کس جگہ پر زیادہ سے زیادہ کام لیا جاسکتا ہے۔
بالفاظِ دیگر منصوبہ بندی سے انسانی وسائل کی کمی و بیشی کو تنظیم کی ضروریات کے مطابق ڈھالا جاتا ہے ۔ ایک جہاں دیدہ اور دُور اندیش قیادت اس چیز کا خاص خیال رکھتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تنظیم کے پاس پیشہ ورانہ انسانی وسائل کی کمی کے نتیجے میں تنظیم اپنے مشن کی آبیاری کی راہ میں ہچکولے ہی کھا رہی ہو، یا کہیں ایسا بھی نہ ہوکہ انسانی وسائل کی فراوانی کو لے کر تنظیم ان کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا موقع ہی فراہم نہ کر سکے ۔ اس صورتِ حال میں یہ بات غور کرنے کے لائق ہے کہ انسانی وسائل کی کمی کا معاملہ جتنا درد انگیز ہوتاہے ، اتنا ہی ان وسائل کی فراوانی میں، انھیں سلجھے انداز سے استعمال نہ کرنا بھی ایک تاریخی المیہ ہوتا ہے۔ ترقی کی منازل کی کوئی حد نہیں۔ اس لیے انسانی وسائل کی کثرت میں تحریکات کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے دست و بازو بننے والے افراد کو ترقی وپھیلائو کے مواقع فراہم کرنے کی خاطرنئے نئے چیلنج تخلیق کرے۔ ایسا نہ ہو کہ مواقع نہ پانے کی صورت میں قیمتی افراد، تنظیم میں عدم دل چسپی یا فرار کا راستہ اختیار کریں۔
یاد رکھنے کے قابل یہ بات ہے کہ تنظیم کے مددگار اور متفق افراد تین مقاصد کے لیے اپنے آپ کو تنظیم سے وابستہ کرتے ہیں: mایک ، تنظیم کے مشن کی آبیاری کرنے کا مقصد m دوسرا، تنظیم کی کارکردگی ، استحکام و نشوونما میں پیش پیش رہنے کا ہدف m اور تیسرا، اپنی ذاتی تربیت و شناخت کو قائم رکھنے کی منزل۔ انھی تین مقاصد کو لے کر تنظیم اپنے مشن کی طرف رواں دواں ہو سکتی ہے، اور انھی سے باقی معمولات و مشمولات کا نظام آگے بڑھ سکتا ہے۔
تنظیم میں کسی فرد کو ذمہ داری سونپ دینے میں اس بات کا خاص خیال رکھنا لازمی ہے کہ فرد کو اپنی ذمہ داری کا پورا ادراک ہو۔یہ نہیں کہ اسے محض ذمہ داری کے ٹائٹل کی پہچان حاصل ہوجائے اور بس۔اوراگر وہ نہیں جانتاہے تو اس کو اپنی ذمہ داری سمجھائی جائے۔ عام طور پر یہاں ان کارکنان کو ذمہ داری سونپی جاتی ہے، جنھوں نے متعلقہ ذمہ داری کے خدو خال سمجھ لیے ہوں۔ افراد شناسی کے اعتبار سے یہ ایک بہترین فارمولا ہے مگر تنظیم کے لیے یہ ایک خطرے کی گھنٹی اُس وقت بنتا ہے، جب بہترین فرد کی جگہ بہتر آدمی کو ذمہ داری دی جائے یا بہتر فرد کی جگہ غیر بہتر فرد کو سونپ دی جائے۔ اس حوالے سے پیش نظر رہنا چاہیے کہ فرد کے لیے اپنی ذمہ داری کو انجام دینے میںجتنی اہمیت ’فرض شناسی ‘کی ہے، اتنی ہی اہمیت قیادت کے لیے’ افراد شناسی‘ کی ہے۔
افراد کی تربیت کے حوالے سے ایک اور ذریعہ کار گر ثابت ہو سکتا ہے کہ اُن کی ذمہ داریوں کو کچھ وقت کے بعدبدل دیا جائے، جس کو job rotation کی اصطلاح سے بیان کیا جاتاہے۔ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس کا تنظیم کی داخلی ضروریا ت تقاضا کرتی ہیں۔مثال کے طور پر زمان، مکان، ٹکنالوجی وغیرہ کے بدلنے سے افراد کی ذمہ داریاں بھی بدلتی رہتی ہیں۔ مزید برآں ، اس سے افراد کے اندر مختلف النوع ذمہ داریاں انجام دینے کا فن پیدا ہو تا ہے اور اُن کی صلاحیتیں بھی پروان چڑھتی ہیں۔ ایسی تبدیلیا ں تنظیم کے مختلف شعبہ جات کے اندر بھی لائی جاسکتی ہیں۔ اسلامی تحریکا ت اس حوالے سے اپنے افراد کی تربیت کے لیے اگر ایسا کوئی لائحہ عمل مرتب کرلیتی ہیں تو یہ ایک انقلابی افادیت کا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر جموں و کشمیر میں تحریک اسلامی سے وابستہ کسی کارکن کو ایک مقررہ وقت کے لیے پاکستان، ترکی یا بنگلہ دیش وغیرہ میں تحریک اسلامی کے نظامِ کار میں کچھ عرصہ گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے یا اسی طرح سے پاکستان کے کسی کارکن کوترکی، ملائشیا یا انڈونیشیا وغیرہ کی تحریک اسلامی کے خدو خال سمجھنے کا موقع دیا جائے۔ تحریکاتِ اسلامی کی تاریخ میں ایسا شاید کم ہی ہوا ہوگا، لیکن اگر اس حوالے سے ایک منصوبہ بند طریقے سے اقدامات اٹھائے جائیں تویہ تحریکاتِ اسلامی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھے گا اور اس کے ثمرات بہت دُور رس ہونے کی اُمید ہے۔ اسی طرح یہ بھی عرض ہے کہ اگر کسی فرد نے اپنی پچھلی ذمہ داری سے انصاف کا تقاضا پور ا نہ کیا ہو تو اسے اُس سے بڑھ کر کسی بلند درجے کی ذمہ داری سو نپ دینا نامناسب ہوگا۔
افراد کی تربیت ،اُن کی صلاحیتوں کی دریافت، اُن صلاحیتوں کو پروان چڑھانا اور انھیں اپنی صلاحیتوںکے مطابق ذمہ داریاں سونپنا، اُن کی عزتِ نفس کی قدرکرنا، اُنھیں اپنی ذمہ داریوں سے انصاف کرنے پر مبارک باد یاانعام سے نوازنا اور اُن کی مزید تربیت کرنا وغیرہ ایسے اقدام ہیں، جن سے انسانی وسائل کے فر وغ میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔
تحریکات ِ اسلامی کے اندر کام کرنے والےلوگ بھی باقی انسانوں کی طرح جائز خواہشات رکھتے ہیں، اُن کی بھی ایک نجی زندگی ہوتی ہے، اُنھیں بھی اہل و عیال کی ذمہ داریاں انجام دینا ہوتی ہیں، بالفاظِ دیگر انھیں بھی معاشی معاملات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ خاص کر موجودہ دور میں، جب کہ انسان کی ضروریات کئی گنا بڑھ گئی ہیں اور باقی دنیا کے ساتھ زندگی گزارنے میں ایک سے بڑھ کر ایک مشکل پیش آرہی ہے۔ اس صورت میں تحریک کے ساتھ ہمہ وقت کام کرنے والے افراد سے یہ مطالبہ مناسب نہیں ہوسکتا ہے کہ وہ توازن کے ساتھ کسی معاشی مقصد کو پیش نظر نہ رکھیں۔ تاہم، یہیں پر اس چیز کی طرف توجہ مبذول کرانا نہایت ضروری ہے کہ تحریکات سے منسلک افراد کو اپنے معاشی مقصد کوثانوی حیثیت دینی چاہیے، بنیادی اور پہلی حیثیت تنظیم کے مشن کی آبیاری ہونی چاہیے۔ ورنہ، معاش کو اوّلیت دینے کے نتیجے میں افراد کہیں تنظیم کے مشن کو ہی معاش کمانے کا ذریعہ نہ سمجھ لیں۔ اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ تحریک یا تحریکی ذمہ داریوں کے وسیلے سے محض مادی وسائل کی کشش ہی انھیں کھینچ نہ لے جائے۔
قدامت پرستی اور روایت پسندی کا دور اب اس دنیا سے رحلت کر رہا ہے۔ نہ صرف انسانوں کو بلکہ تنظیمات کو بھی دنیا کے بدلتے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خصوصاً جب اس کے مخالف شر پسند عناصر اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر اعلیٰ درجے پر فائز ہوں تو وہاں اسلامی تحریکات کو بھی اپنے افراد کو بدلتے تقاضوں کے پیش نظر تربیت دینا ہوگی۔
آخر میں جس چیز کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے، وہ تحریکات کے اندر اختلافات کا وجود ہے۔ اختلافات یا تنازعات کا پیدا ہونا کوئی معیوب بات نہیں، اگر انھیں اخلاقی حدوں کے اندر پیش کیا جائے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ اگر کسی تنظیم میں اختلاف راے پیدا نہ ہو، اور وہ بھی آج کی دنیا میں، جب کہ ’معلومات‘ کی بہتات ہے، تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ لوگ غور نہیں کر رہے یا کام میں دل چسپی نہیں لے رہے۔ جہاں پر مختلف عملی صلاحیتوں کو لے کر ایک سے زیادہ انسان کام کر رہے ہوں، وہاں پر اختلاف کا پیدا ہونا معیوب بات نہیں، بلکہ سچی بات یہ ہے کہ اختلافات کا نہ اٹھنا حیرت کی بات ہے۔ تاہم، اختلافات کے نبٹانے میں علم و اخلاق کے حدود کو مدِ نظر رکھنا اور افراد کے نئے خیالات کو وقعت دیتے ہوئے باہم صلاح و مشورے سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی صورتِ حال کا سامنا کرنے کے لیے تنظیمات کو ہمیشہ سے تیار رہنا چاہیے۔
تنظیمات کے اندر صورتِ حال تب دگر گوں ہوتی ہے، جب کسی ایک فرد کے تنظیم میں اختلاف کی صورت میں اسے خاطر خواہ اہمیت نہ دی جائے۔ ایسی سردمہری کے نتیجے میں فرد تنظیم کے ساتھ رسمی طور پر وابستہ رہتا ہے، لیکن دل اورعمل اُس کی گواہی نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے اختلاف کی وجہ سے تنظیم کے معمول کے کام کاج پر منفی اثر پڑتا ہے۔ دراصل ایسا فرد جسمانی زبان سے، اپنے ساتھیوں سے متوقع طور پر کم باتیں کرتا، کام میں لیت و لعل یا کام نہ کرنے پر بے جا معذرتیں پیش کرتا اور بغیر کسی مسئلے کے چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلاف کا اظہار کرتا ہے۔ پیٹھ پیچھے اختلاف ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر تنظیمی اُمور پہ نکتہ چینی، باقی ساتھیوں کی عزت نہ کرنا اور چہ مہ گوئیوں کا بازار گرم کیے رکھنا وغیرہ ایسے اشارے ہیں ، جہاں پر تنظیم کو دیر کیے بغیر اِن مسائل اور اس فرد کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ان چیزوں کو نظرانداز کرکے فرد کو فنا ہونے کے لیے چھوڑ دینا تنظیم کے لیے زہرقاتل ہے کہ جس میں ممکن ہے ایسے فرد سے جان چھوٹ جائے، مگر تنظیم کا بھی نقصان ہوگا۔ آخر اہلِ نظم کا کام یہی تو ہے کہ وہ اپنے ساتھی کو ساتھ لے کر چلے،اس کے اشکالات دُور کرے۔
تنظیم کے اندر کچھ اختلافات ایسے ہوتے ہیں جن کو نظر انداز (avoid) کرنے ہی کے نتیجے میں اُن کا حل سامنے آتا ہے۔ کچھ اختلافات میں فریقین میں سے کسی ایک فرد کو ضرور پیچھے ہٹنا، accommodate کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح سے کچھ اختلافات کی نوعیت ایسی ہوتی ہے، جہاں پر پنجہ آزمائی (compete)کرنا پڑتی ہے۔ کبھی ایسا بھی اختلاف سامنے آجاتا ہے، جہاں پر مفاہمت (compromise) کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے اور لے دے کے مسئلے کو سلجھانا پڑتا ہے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ فریقین میں سے کسی ایک کی بات بہت معقول ہو، مگر اپنے موقف سے ہٹ جانے کے بعد دوسرے کی بات کو تسلیم کرنے سے انصاف کا تقاضا پورا ہوتا ہو۔
یہ نکات قیادت سے باریک بینی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی تحریک کے لیے ایمان، اخلاق اور افراد میں سے کسی ایک چیز کو بھی سو فی صدبنیادی درجے کی ضرورت سے کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ اسی چیز سے افراد یا انسانی وسائل کی درست منصوبہ بندی کی نیو اُٹھائی جاسکتی ہے۔
یہ ستمبر ۲۰۱۳ء کی بات ہے، بھارت کے صوبے اتر پردیش میں ایک لڑکی کو چھیڑنے کے مسئلے پر تین قتل ہو گئے اور بعد ازاں ایک وڈیو کے منظرعا م آنے کے بعد ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ بی بی سی کے مطابق تقریباً ۵۰؍ افراد ہلاک ہوئے اور ۴۰ہزار افراد جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی انھیں نقل مکانی کرنا پڑی۔ دراصل ایک وڈیو کے ذریعے افواہ اڑی تھی کہ: ’’دوہندو جاٹ لڑکے مُردہ حالت میں پائے گئے ہیں، جنھیں مسلمانوں نے ہلاک کیا‘‘۔ یہ وڈیوعام (وائرل) ہونے پر جاٹ ہجوم اتنا برافروختہ ہوگیا کہ انھوں نے مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر لوگوں کے گلے کاٹے ،حالاںکہ اس سے قبل متاثرہ علاقے میں جاٹوں اور مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی جھگڑا سامنے نہ آیا تھا۔ قتل عام اور خون کی بارش تھم گئی تو پولیس نمودار ہوئی اور معلوم ہوا کہ وہ وڈیو دراصل پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں مارے جانے والے دو بھائیوں کی تھی اور ایک سال پرانی تھی۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق ان دو لڑکوں کی ہلاکت بھی غلط فہمی اور افواہوں، یعنی غیر مصدقہ خبروں کی وجہ سے ہوئی تھی، جس نے ہجوم کو اتنا مشتعل کر دیا کہ اس نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور خود ہی ان لڑکوں کو سڑک پر سزا دینے کا فیصلہ کرلیا۔
اسی طرح۲۰۱۶ء میں پنجاب میں بچوں کے اغوا کی خبروں کے اسکینڈل سے اندازہ ہوا کہ ہمارا میڈیا غیر تصدیق شدہ خبروں پر کتنا انحصار کرتا ہے اور سوشل میڈیا کی وجہ سے معاشرہ کتنے دباؤ میں ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ انتشار پھیلانے والی خبریں بڑے خلوص سے ’فارورڈ‘ کی گئیں کہ: ’بچوں کے والدین ہوشیار ہو جائیں‘۔ بعد میں غیر جانب دارانہ تحقیقات سے معلوم ہوا کے اصل اعداد وشمار آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اور جن بچوں کے اغوا کی رپورٹیں درج کروائی گئیں، ان میں سے بھی زیادہ تر بچے خود گھر سے کسی ناراضی یا ڈر کی وجہ سے بھاگے تھے۔ پنجاب کے بعض مقامات پر اغوا کے شبہے میں معصوم افراد کے ساتھ بلاجواز مارکٹائی اور تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے۔
ان مثالوں سے کسی کے ذہن میں یہ خیال نہ آئے کہ ایسا صرف غربت زدہ تیسری دنیا میں ہوتا ہے۔ گذشتہ سال امریکی انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے غیرمصدقہ حقائق پر مبنی بیانات مسلسل گردش میں رہے اور بڑے پیمانے پر انھیں آگے شیئر کیا جاتا رہا۔ فیس بک آج دنیا میں نشرو اشاعت کا سب سے بڑا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ جہاں کل کا اخبار بین، اب خود صحافی ہے اور خبر بنانے سے لے کر اس کو منٹوں میں نشر کرنے کے تمام وسائل اسے حاصل ہیں۔ ایک طرف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر صحافتی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے، تو دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ آج ہر وہ فرد جسے کمپیوٹر یا موبائل پر انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے بلاگر، فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب، پر خبر بنا رہا ہے۔ اس طرح صحافی اورعام شہری کے درمیان فرق ختم ہو چکا ہے۔ عام شہری جو پہلے خبر یا میڈیا کا صارف تھا، اب ٹیکسٹ، تصویر، وڈیو کی ترسیل کے ذریعے خبرسازی میں براہِ راست حصہ لے رہا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کی آمد سے جہاں اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں کی اجارہ داری ختم ہوئی ہے، وہاں خبروں کی غیر ذمہ دارانہ ترسیل کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ صحافت کے بنیادی اصول، یعنی تصدیق اور احتساب کو بُری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے۔ بیک وقت ’صحافی اور قاری‘ عموما ً خبر کی تصدیق کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور نہ خبروں کے غلط یا صحیح ہونے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری محسوس کرتا ہے، اور سب سے بڑھ کرحوالہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ پوسٹ کا ماخذ کیا ہے۔ خبر یا پوسٹ کا محض دل چسپ ہونا ہی اسےوائرل کرنے کے لیے سب سے بڑی اہلیت ہے۔
جھوٹی خبریں معاشرے میں ہمیشہ موجود رہی ہیں۔ ان جعلی خبروں کے پیچھے سیاسی اور عسکری مقاصد کے لیے منظم پروپیگنڈا کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے اور بیمار ذہن کے افراد محض سنسنی اور افراتفری پھیلانے کے لیے بھی ان کی ترسیل کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر منافع بھی سنسنی خیز جعلی خبروں، غلط مگر دل چسپ تاریخی اور من گھڑت مذہبی واقعات کی ترسیل کو پُرکشش بناتا ہے۔ اس میں ضرررساں پہلو یہ ہے کہ انھیں پھیلانے والے نیٹ ورک میں اکثر ان لوگوں کا حصہ ہوتا ہے جنھیں خود نہیں معلوم ہوتا کہ خبر جھوٹی ہے۔ وہ مذہبی عقیدت یا قومی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔ اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارے دین نے ابلاغ کے جو اصول واضح کیے ہیں اور اس حوالے سے جو عالمی اصول موجود ہیں، ان سے واقفیت عام معاشرے میں تو کیا پڑھے لکھے افراد میں بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس سے معاشرے میں انتشار پھیل رہا ہے۔ نسل پرستی، انتہا پسندی یہاں تک کہ دہشت گردی میں بھی کئی گنا اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ موجودہ دور کا ایک ایسا چیلنج ہے جس سے نبرد آزما ہونا وقت کی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔
اس حوالے سے قرآن و سنت کی تعلیمات اور عالمی معیارات کے مطابق عوام کو میڈیا کے محتاط استعمال کی آگاہی دینا ضروری ہے۔ اس مضمون میں ہم نے عالمی معیارات اورقرآنی تعلیمات کی روشنی میں سوشل میڈیا کے لیے کچھ اصول مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔ امید ہے کہ اہل علم اس بحث کو آگے بڑھانے میں مددگار ہوں گے۔
آئیے ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب کی مثال کے ذریعے صحافت کے ان اہم اصولوںکو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے اور ایک صحافی بھی انسان ہوتا ہے۔ یہاں مثال پیش کرکے انھیں ہدف بنانا مقصود نہیں ہے۔ صرف ایک ایسے عمل کا، جو ابلاغ کے حوالے سے اجتماعی زندگی پر اثر انداز ہوا یا ہو سکتا تھا کا تنقیدی جائزہ پیش نظر ہے۔ ڈاکٹر شاہد صاحب نے ایک چینل پر زینب قتل کے بارے میں کچھ انکشافات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ: ’ملزم عمران کا ایک غیر ملکی مافیا سے تعلق ہے اور اس کے درجنوں غیر ملکی اکاؤنٹس موجود ہیں اور بااثر سیاسی شخصیات اس کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ثبوت خود ان کے پاس موجود ہیں۔ بعد ازاں معاملہ عدالت تک پہنچنے پر اور بات بہت زیادہ بڑھ جانے پر انھوں نے یہ کہہ کر معافی مانگی کہ وہ ایک باپ کے طور پر جذباتی ہو گئے تھے۔ ایک ذمہ دار صحافی کی حیثیت سے یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ ٹی وی پر اتنے بڑے دعوے کرنے سے پہلے وہ اپنے طور پر اس معاملے کی تصدیق کرتے، مثلاً خود اپنے ذرائع استعمال کر کے بنک سے آفیشل ڈیٹا نکلواتے۔
دوسرے، اگر اپنے طور پر تصدیق کے بجاےوہ کسی سورس پر بھروسا کر رہے تھے تو سورس کے نام سے قوم کو مطلع کرتے۔ اگر کسی وجہ سے سورس اپنا نام اور شناخت پبلک کرنا نہیں چاہتا تھا، تو کم از کم اس کی شناخت ظاہر کیے بغیر مثلاً 'ایک قومی بنک کے وائس پریذیڈنٹ یا اعلیٰ عہدے دار کے ذریعے معلوم ہوا ’یا 'ایک اہم سیاسی شخصیت‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے۔ یہ شفافیت، یعنی ٹرانسپیرنسی کا اصول ہے کہ خبر کا ذریعہ، سورس یا ماخذ سے خبر کے صارف (قاری، سامع یا ناظر)کو مطلع کیا جائے۔ ہم نے دیکھا کہ اس معاملے میں شفافیت کے اس اصول کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا۔ اب آخری اصول رہ جاتا ہے احتساب یا مواخذہ۔ یہ اصول ہمیں بہرحال نظر آتا ہے کہ انھوں نے اس خبر کی پوری ذمہ داری شروع سے آخر تک لی (ویڈیو ریکارڈنگ کی موجودگی میں اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا)، اور اسی لیے آخرکار قوم کے سامنے یہ بات آ گئی کہ خبر صحیح نہیں تھی بلکہ ڈاکٹر شاہد صاحب جذبات میں آ کر افواہوں اور اپنی ذاتی راےکو حقیقت سمجھ بیٹھے تھے۔
سورۂ احزاب آیت ۷۰ میں کہا گیا:’’اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو‘‘۔ اس آفاقی کتاب میں حق بات کرنے کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ دشمن کی دشمنی میں بھی اشتعال سے پرہیز اور انصاف کی گواہی کا حکم دیا گیا ہے۔ سورۂ مائدہ آیت ۸ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے‘‘۔
سورۂ نساء آیت ۱۳۵ میں انصاف کی گواہی کو ایک دوسرے زاویے سے موضوعِ بحث بنایا گیا ہے:’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علَم بردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو، اگرچہ تمھارے انصاف اور تمھاری گواہی کی زد خود تمھاری اپنی ذات پر یا تمھارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریق معاملہ خواہ مال دار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے‘‘۔
بظاہر ان آیات کی شان نزول اور سیاق و سباق مختلف محسوس ہو سکتا ہے اور قاری یہ محسوس کرسکتا ہے کہ ابلاغ سے ان قرآنی تعلیمات کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ قرآن کی آیات اور تعلیمات ہرزمانے اور ہر طرح کے حالات میں مشعل راہ ہیں اور ان کے مفاہیم بہت وسیع اور تعلیمات آفاقی ہیں۔ ان آیات کے مفاہیم کا آج کے سیاق و سباق میں اطلاق بھی بہت اہم دینی اور دنیوی ضرورت ہے۔
کولمبیا جرنلزم سکول کے پروفیسر جم کیری کے مطابق، صحافت کی بنیاد دراصل ’سچ کا سفاک احترام‘ ہے اور تصدیق کے بغیر سچ کی جانچ پڑتال ممکن نہیں۔ تصدیق درحقیقت صحافت کا اصل کام ہے۔ دراصل یہی اسے ادب کی دوسری اصناف اور پروپیگنڈا سے ممیز کرتا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی خبر کی ترسیل کا ضابطۂ اخلاق یہی ہونا چاہیے۔
اگر مصنف نے تاریخ کی کتاب یا تاریخ داں کا حوالہ دیا ہے تو ذرا گوگل سے کسی مستند ویب سائٹ پر یا انسائی کلوپیڈیا پر دیکھ لیں کہ اس نام کی کوئی کتاب یا تاریخ دان موجود تھا یا نہیں؟ اگر تھا تو اس کا تعلق اسی دور سے تھا کہ جس کا خبر میں ذکر کیا گیا ہے؟ یہ وہ اصول ہیں جنھیں ہمارے بزرگوں نے حدیث نبویؐ کا ذخیرہ مرتب کرتے ہوئے اختیار کیا۔ انھوں نے ایک ایک راوی کے حالاتِ زندگی کو بھی مرتب کیا تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ اس سلسلے میں موجود ایک راوی، دوسرے راوی کی زندگی میں موجود بھی تھا اور اگر تھا تو کیا ان دونوں کی آپس میں ملاقات ممکن ہوئی؟ اور ایک کی عمر اتنی تھی کہ دوسرے سے اپنے ہوش کی عمر میں ملاقات کے دوران حدیث سن سکتا یا اسے یاد رکھ سکتا؟ کیا ایک نے دوسرے کی رہایش کے مقام کا سفر کیا یا نہیں؟ اسی بنیاد پر روایت کے موضوع، ضعیف یا مستند ہونے کے بارے میں فیصلہ کیا گیا اور آج بھی اسے اختیار کیا جاتا ہے۔
کہا جا سکتا ہے کہ حدیث کا معاملہ بہت نازک تھا کہ اس پر ہمارے دین اور ایمان کا دارومدار ہے۔ بجا ارشاد! مگر کسی انسان کی زندگی اور آبرو کی حُرمت کا تقدس تو اسلام کے اس اصول سے ظاہر ہے کہ: ’’ایک بے گناہ فرد کا قتل انسانیت کا قتل ہے‘‘۔جھوٹی خبریں انسان کے اعتبا ر اور آبرو کے ساتھ اس کی جان بھی لے سکتی ہیں،جیساکہ اس تحریر کے شروع میں مثال دی گئی ہے۔ جھوٹی خبروں کا معاملہ انتہائی سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔
فی الوقت عالمی منظر نامے میں دوسری قوموں کے خلاف بےبنیاد خبروں کے ذریعے افواہیں پھیلانے کا کام یورپ، امریکا، بھارت، پاکستان سمیت تقریباً دنیا کے ہر خطے میں نسل پرستی، اور مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے۔ جرمنی میں سوشل میڈیا پر مہاجرین کے خلاف نفرت پھیلانے پرفیس بک کے خلاف مقدمہ اور سوش میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف قانون سازی ہو چکی ہے۔ سویڈن اور کچھ دوسرے یورپی ممالک اپنے عوام کو میڈیا کے حوالے سے آگاہی کو اپنی اہم ترجیحات میں شامل کر رہے ہیں۔
ہم کم از کم یہ تو کر سکتے ہیں کہ ہمارے درمیان جو اس شعبے کا علم رکھنے والے ہیں، ان سے اس خبر کی تصدیق کروا لیں۔ خبروں کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے، مگر یہ سادہ سا اصول جھوٹی پوسٹوں کی ترسیل کو روکنے میں بہت معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ہمارے ارد گرد ایسے مستند عالم حضرات کی کمی نہیں ہے، جو دینی معلومات کے ماخذین اور کتب کا علم رکھتے ہوں۔ یہی معاملہ دنیوی علوم کا بھی ہے۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں رابطہ منٹوں میں کیا جا سکتا ہے اور پوسٹ کی تصدیق ان حضرات سے کی جا سکتی ہے۔ میں نے ہمیشہ اہل علم حضرات کو تصدیق کے معاملے میں ہمدرد اور معاون پایا ہے۔ ہمارے نزدیک دینی اور علمی ادارے افواہوں اور غلط پوسٹس کے سد باب کے لیے ہیلپ لائن بھی قائم کر سکتے ہیں۔ جہاں موجود ماہرین سے خبر یا پوسٹ کی جانچ کروائی جا سکے۔
انسانی نفسیات پر تبصرہ کرتے ہوئے سورۂ یونس کی آیت ۳۶ میں یہ بات واضح کی گئی کہ دنیا کے لوگوں کی اکثریت محض قیاس اور گمان پر چل رہی ہے:’’حقیقت یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ محض قیاس و گمان کے پیچھے چلے جا رہے ہیں، حالاں کہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پُورا نہیں کرتا۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے‘‘۔
بغیر علم کے بحث کرنے والوں کے لیے سورۂ آل عمران آیت ۶۶ میں کہا گیا: ’’تم لوگ جن چیزوں کا علم رکھتے ہو اُن میں تو خوب بحثیں کر چکے، اب اُن معاملات میں کیوں بحث کرنے چلے ہو جن کا تمھارے پاس کچھ بھی علم نہیں۔ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے‘‘۔ سورہ بنی اسرائیل آیت ۳۶ میں کہا گیا:’’کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو، جس کا تمھیں علم نہ ہو۔ یقیناً آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے‘‘۔
سورۂ احزاب آیت ۶۰ کے مطابق:’’اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے، اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمھیں اُٹھا کھڑا کریں گے، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمھارے ساتھ رہ سکیں گے‘‘۔
یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ قومی سلامتی، یعنی نیشنل سیکورٹی کے بعض معاملات میں رازداری لازم ہے۔ سورۂ ممتحنہ اور بعض دوسری سورتوں میں اس حوالے سے بھی بات کی گئی ہے۔ اس پر آیندہ کسی مضمون میں بحث کریں گے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ چودہ سو سال پہلے یہ اصول دنیا کو متعارف کروانے والی کتاب مسلمانوں پر ہی نازل ہوئی اور ہمارے آبا نے اپنی پوری پوری زندگیاں تصدیق میں صرف کر دیں اور شفافیت کے اصولوں کو رواج دیا، مگر آج ہم ہی وہ قوم ہیں جو ان اصولوں کا ذکر سننا بھی پسند نہیں کرتے۔ اقبال سچ ہی کہہ گئے: ’گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی‘۔ اور کتابوں کے ساتھ ساتھ ان اخلاقی اصولوں کو ’جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارا ‘۔
خبروں کو بغیر تصدیق کے پھیلانا ہمیشہ سے انسانی معاشرے کے لیے نقصان دہ رہا ہے، لیکن اب ایک عام آدمی اور صحافی کے فرق مٹ جانے کی صورت میں یہ اور زیادہ ضرر رساں ہو گیا ہے، کیوںکہ اب خبروں کی ترسیل تو آسانہو گئی ہے مگر صحافت کے اس نئے دور میں تصدیق، شفافیت اور مواخذہ ناپید ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک عام شہری خبر بنا تو رہا ہے مگر اس کو بنانے اور پھیلانے کے اخلاقی اصولوں سے بے بہرہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکولوں کا نصاب اور میڈیا دونوں عالمی معیارات اور دینی تعلیمات کی روشنی میں میڈیا کے اصولوں کی آگاہی دینے والے ہوں۔
سوال : مولانا مودودی ؒ نے اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ [یوسف۱۲:۶۷]اور دوسری آیات سے حاکمیت الٰہیہ کا جو سیاسی نظریہ پیش کیا ہے، یہ درست نہیں ۔ وہ تمام آیات جن سے مولانا مودودیؒ استدلال کرتے ہیں ان سے تکوینی نظام مراد ہے ۔ اسلام دوسرے مذاہب کی طرح ایک مذہب ہے اور یہ ہر شخص کی نجی زندگی کو کنٹرول کرتا ہے اگر کوئی اس مذہب کو تسلیم کرے ۔
جواب : مولانا مودوی ؒ کی کتاب قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں نے عالمِ اسلام میں جو فکری انقلاب برپا کیا ہے، اس پر اب عالم اسلام کے علما اور مفکرین کا اجماع ہو گیا ہے۔اسلام کی اس تعبیر سے اہل مغرب بہت پریشان ہیں ۔ وہ عالم اسلام کے بعض فکری منحرفین سے ایسی کتابیں اور مقالات لکھواتے ہیں، کہ جن سے مولانا مودودی کی جانب سے تشریح کردہ اسلامی سیاسی نظریے اور اسلامی جمہوری انقلاب کے نظریے اور اسلامی جہاد کے نظریے کی نفی ہوجائے۔
یہاں پر سب سے پہلی بات یہ ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہ نظریہ کوئی مولانا مودودی کا ذاتی حیثیت میں وضع کردہ نظریہ نہیں ہے کہ جس میں انھوں نے چند آیات کی صرف لغوی تشریح کردی ہو۔ مذکورہ کتاب میں قرآنی آیات کی تشریح کی پشت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل سیرت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلافت راشدہ کے قیام کی تمام عملیات کھڑی ہیں اور قرآن و سنت کی واضح تصریحات بھی اس کے لیے شاہد عادل ہیں ۔ مولانا نے جن آیات سے استدلال کیا ہے، ان کے علاوہ انھوں نے اپنی کتاب سیرت سرور عالمؐ میں بھی استدلال کیا ہے اور قرآن کی بے شمار تعبیرات اور سنت کی لا تعداد تصریحات سے بھی دلائل و نظائر کو پیش کیا ہے ۔ ان میں سے اہم تصریحات یہ ہیں:
۱- سورۂ قصص آیت ۵ میں ہے: وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَہُمْ اَىِٕمَّۃً وَّنَجْعَلَہُمُ الْوٰرِثِيْنَ۵ۙ (القصص ۲۸:۵)’’اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کرکے رکھے گئے تھے اور انھیں پیشوا بنا دیں اور ان ہی کو وارث بنائیں‘‘۔اگر مذہب کے اندر امامت کا کوئی دخل نہیں ہے تو اللہ نے یہ حکم کیوں دیا؟ لہٰذا، یہ کہنا کہ جب لوگ ایمان قبول کریں گے تو خود بخود اسلامی نظام قائم ہو جائے گا محض تکلف ہے۔اللہ تعالیٰ صراحت سے فرماتا ہے کہ ہمارا ارادہ اور حکم یہ تھا کہ غریب عوام کی امامت قائم ہواور پیغمبروں نے اس پر عمل کیا۔
۲-اسی طرح سورئہ مائدہ آیات ۴۴ تا ۵۰ میں ہے: تمام اُولوالعزم پیغمبروںؑ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ نظام عدل قائم کریں اور اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کریں۔ پھر سخت تنبیہ کی گئی کہ اگر تم عدل نہیں کرو گے تو تم ظالم ہو گے ، فاسق ہوگے اور کافر ہو گے۔ اس سے تکوینی احکام مراد نہیں کہ تم بارشیں بر سائو اور زلزلے برپا کرو ۔ ان آیات کے آخر میں مسلمانوں کو بھی عدل کا حکم دیا گیا ہے ۔ مزید یہ کہ کیا قرآن میں حضرت دائود علیہ السلام کے نظام عدل اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے عدل اور حکومت کے قصے آخر ویسے ہی تو بیان نہیں کیے گئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس اعتبار سے تمام انبیاؑ دعوت اور کام کے اعتبار سے ’سیاسی لوگ‘ تھے اور احادیث میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْسُہُمُ الْاَنْبِیَاءُ (البخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب ما ذکر فی بنی اسرائیل، حدیث: ۳۲۸۶) ’’بنی اسرائیل کے سیاسی امام بھی انبیا تھے‘‘۔ تعجب ہوتاہے کہ ان منحرفین کو کس طرح یہ غیرعقلی شبہہ لاحق ہو گیا ۔ کیا انھوں نے سیرتِ رسولؐ اور سیرت انبیا علیہم السلام نہیں پڑھیں؟
۳-اس میں شک نہیں کہ اسلام کا مرکز مسجد ہے اور اس نے مسجد کی تعمیر اور اللہ کی عبادت کا حکم دیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ اسلام کا مرکز مسجد ہے، لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ اسلام مسجد تک محدود ہے بلکہ اسلام نے تو پوری زمین کو مسجد بنایا ہے اور واضح طور پر فرمایا ہے کہ مسجد جہاد کا سنٹر ہوگا اور فرمایا کہ مسجد کی خدمت کرنے کا ثواب تو ہے، لیکن یہ خدمت بہرحال اقامت ِ دین کے لیے زندگی بھر کی ہمہ پہلو جدوجہد سے بڑا درجہ نہیں رکھتی ۔ تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ اسلامی جہاد اور انقلاب کی راہ میں اگر تجارت اور مالی سر گرمیاں حائل ہوں یا تمھاری قومیت حائل ہو تو پھر اپنے انجام کا انتظار کرو۔ اسی لیے مولانا مودودی نے سب سے پہلے نظریۂ جہاد پر قلم اٹھا یا اوریہ بتایا کہ جہاد اسلامی انقلاب کا اصل ستون ہے ۔اس میں نکتے کی بات یہ ہے کہ مولانا نے اُمت مسلمہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جہاد سے بھی پہلے اسلامی حکومت کا قیام ضروری ہے کیونکہ جہاد اسلامی حکومت کا کام ہے ۔ اگر کچھ لوگ اسلام سے حکومت کا باب نکال کر کچھ اور منہاج بنانا چاہتے ہیں تو وہ قرآن کریم کے ایک بڑے حصے کو منسوخ کر رہے ہیں اور سنت اور سیرتِ رسولؐ اور سیرتِ صحابہؓ سے صریح انکار کرتے ہیں۔
۴-اسی طرح سورۂ انبیاء کی آیات ۱۰ تا ۱۷ غوروفکر کی دعوت دے رہی ہیں، جن کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے ایک کتاب اتاری، جس میں تمھارے لیے نصیحت ہے۔ ہم نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق اور ان میں انسانوں کی تخلیق اور ان کا عروج و زوال محض کائناتی اور تکوینی کھیل تماشا کے لیے نہیں بنایا بلکہ یہاں حق و باطل کی ایک کش مکش ہے ۔ ہم حق کو باطل پر ایک بم کی طرح پھینکتے ہیں جو باطل کا بھیجا نکال دیتا ہے اور جس سے ظالم اقوام کو پیس کر رکھ دیا جاتا ہے۔ وہ اس لیے کہ وہ ظالم ہوتی ہیں اور ہم نے ان کے نظام کی جگہ ایک عادلانہ نظام قائم کرنا ہوتا ہے ۔ یہ آیات خالص اقوام کے عروج و زوال اور عادلانہ نظام کے بارے میں ہیں ۔ سائنسی اعتبار سے تو یہ کائنات پہلے سے عادلانہ اصولوں پر چلتی ہے ۔ کوئی ستارہ دوسرے پر ظلم نہیں کرتا ۔ سورج چاند کو نہیں پکڑ سکتا۔ یوں تکوینی اعتبار سے کائنات پوری ہم آہنگی سے چلتی ہے۔
۵-پورے قرآن کریم اور سنت رسولؐ میں تذکیر و تبشیر کے ساتھ جرائم اور ان کی سزائوں کا ذکر بھی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر قرآن و سنت میں جرم و سزا کا تصور نہیں اور کوئی حکومت نہیں ہے تو پھر اسلام نے سزائیں کیوں مقرر کیں ہیں ؟ میں نے مصرکے فقیہ ڈاکٹر عبد العزیز عامر کی ایک کتاب مولانا مودودی کی ہدایت پر ترجمہ کی تھی ۔ اس کے حصہ اول پر مولانا مودودی نے خود نظرثانی کی۔ یہ کتاب اسلام کا قانونِ جرم و سزا کے نام سے شائع ہوئی ہے ۔جو لوگ اسلامی نظام کے مختلف پہلوؤں ، سول کوڈ،کریمینل کوڈ اور معاشی نظام، مثلاً حرمت سود کا انکار کرتے ہیں، ان کے لیے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ وہ سرے سے اسلام سے وابستگی کا انکار کر دیں، اللہ ہمیں ہدایت دے کیوںکہ ہم بدیہیات کا انکار کرتے ہیں۔
۶-سورۃ الفرقان کی آخری آیات ۶۳ تا ۷۷ میں عباد الرحمٰن، یعنی نبی آخر الزماںؐ اور صحابۂ کرامؓ کا جو پروگرام دیا گیا ہے کہ یہ لوگ کن خصوصیات کا معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے ۔ ان آیات کے آخر میں ان کی یہ دعا نقل فرمائی ہے: وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًاکہ(ہمیں ایسی متقی سوسائٹی کا امام بنا) ۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر معاشرہ متقی نہ ہو اور وہ اصلاح نہ چاہتا ہو تو صرف حکمران ڈنڈے کے زور سے کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ قیامت میں ایسے پیغمبر بھی آئیں گے، جن کے ساتھ ایک ایک امتی ہو گا۔ اس آیت میں امامت و خلافت کے قیام کی صراحت ہے اور یہ نص صریح ہے ۔
مولانا مودودیؒ کا ساتھ چھوڑنے اور جماعت اسلامی سے نکلنے والے بعض حضرات ابہام پیدا کرتے آئے ہیں اور اس اعتبار سے موجودہ لبرل حضرات اور امام بخاری کے دور کے جھَمِیَّہ ایک ہی فکر رکھتے ہیں ۔ یہ لوگ اسلامی معاشرے سے مفادات تو لیتے ہیں، مگر معاشرے سے قطع تعلق نہیں کرسکتے ۔ اللہ ان کو ہدایت عطا فرمائے، آمین۔(مولانا سیّد معروف شاہ شیرازی)
قادیانیت (کے موضوع ) کے حوالے سے محمد متین خالد کا نام اس قدر معروف ہے کہ ان کے تعارف کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ انھوں نے مسئلہ ختم نبوت اور فتنۂ قادیانیت پر مختلف زاویوں سے معرکہ آرا تصانیف وتالیفات پیش کی ہیں۔ زیر نظر کتاب اگرچہ اپنے مندرجات اور مباحث کے اعتبار سے بہت متنوع اور وسعت کی حامل ہے، اس کے باوجود انھوں نے بیسیوں موضوعات کو ناموسِ رسالتؐ سے منسلک کر کے پیش کیا ہے۔ سرورق پر موضوعِ کتاب کی توضیح ان الفاظ میں دی گئی ہے: ’اسلام اور ناموس ِرسالتؐ کے خلاف مغرب کے تعصّب، دُہرے معیار اور بھیانک سازشوں پر مبنی تحقیقی دستاویز___ ناقابلِ تردید حقائق، تہلکہ خیز واقعات ، ہوش ربا انکشافات‘‘۔
مؤلف نے بڑی محنت کے ساتھ مختلف کتابوں ، رسالوں اور اخبارات (کی خبروں اور کالموں) سے ایسے واقعات، تبصرے اور لکھنے والوں کے مشاہدات اور بعض اداروں کی رپورٹیں جمع کر دی ہیں جن سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کی تنگ نظری ، تاریک خیالی، اندھے تعصّب اور دُہرے معیار کا اندازہ ہوتا ہے اور اس کی نام نہاد روشن خیالی، روا داری اور عدم برداشت کے دعوئوں کی حقیقت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ مصنف نے یہودیوں اور انتہا پسند ہندوئوں کی مسلم دشمنی کو بھی تذکرۂ مغرب سے منسلک کیا ہے۔ مغربیوں کی دیگر خرابیوں (کرپشن ، بددیانتی ، فریب کاری ، بدعہدی، نام نہاد آزادیِ اظہار ، ہم جنسیت ، اور قتل وغارت گری ) کا تذکرہ بھی کتاب میں شامل ہے۔
کتاب ایک مسلسل مضمون کی شکل میں ہے۔زمانی ترتیب کے بغیر ،مصنف کو جو مواد میسر آتا گیا ، وہ کتاب میں جمع کرتے گئے۔ اپنے موضوع پر یہ ایک مفید کتاب ہے ۔(رفیع الدین ہاشمی)
پاکستان کی اردو صحا فت میں کالم نگاری کو گذشتہ ایک دو عشروں میں بہت فروغ ملا ہے مگر بیش تر کالم نگاروں کی تحریریں پڑھتے ہوئے مرزا غالب کا یہ مصرع ذہن میں گونجتا ہے ع
ہر بُل ہوس نے حسن ِ پرستی شعار کی
اگر آپ بُل ہوسی سے بالاتر کالم نگاروں کو تلاش کریں تو بہ مشکل وہ انگلیوں پر گنے جا سکیں گے۔ شاہ نواز فاروقی انھی منفرد اور صاحب ِاسلوب کالم نگاروں میں شامل ہیں۔ زیر نظر دونوں کتابوں میں جون ۱۹۹۹ء سے اکتوبر ۱۹۹۹ء تک کے کالم شامل ہیں۔ شاہ نواز فاروقی، ایک صاحبِ ایمان، بامطالعہ اور تجربہ کار صحافی ہیں۔ سلیقے سے بات کرنے کا ڈھنگ جانتے ہیں۔ وہ نہ صرف یہ کہ اسلام اور پاکستان بلکہ اسلامی نشاتِ ثانیہ کے مجاہدین (ٹیپو سلطان، اورنگ زیب عالم گیر، حضرت شاہ ولی اللہ، سیّد احمد شہید، شاہ اسماعیل شہید ، علامہ اقبال ، قائد اعظم ، سید ابوالاعلیٰ مودودی ) پر تنقیدکرنے والوں کی خبر لیتے ہیں، بلکہ سیکولر اور لبرل نظریات کے علَم بر دار نام نہاد دانش وَروں کی تضادبیانی کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔ سیاست دان ہویا دانش ور یا کوئی بڑا منصب دار گروہ ،جب کوئی کمزور بات کرے گا، فاروقی صاحب کی گرفت سے بچ نہیں سکے گا۔
تقریباً ۲۰سال پیش تر انھوں نے نواز شریف کی شخصیت کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا: ’’اور ہم نے انھی کالموں میں عرض کیا تھا کہ میاں صاحب ایک بڑے امریکی ایجنڈے کے ساتھ اقتدار میں لائے گئے ہیں اور فوج کو ہدف بنانا اس ایجنڈے کا اہم حصہ ہے‘‘۔ (۳۰ ؍اکتوبر ۱۹۹۹ء)
مذہب ، ایمان اور تقویٰ کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ: ’’یہ شکایت عام ہے کہ حاجیوں اور نمازیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مبلغین اسلام کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی پر اس کا کوئی اثر نظر نہیں آتا ۔ کیو ں؟ اس لیے کہ دین کی کلیت کا تصور لوگوں کے ذہنوں سے محو ہو گیا ہے‘‘ (ص ۳۸)۔ اور اس لیے بھی کہ مذہبی مسلمان بھی ’اپنی پوری زندگی کو دین کے حوالے ‘نہیں کرتے۔
فاروقی صاحب کے کالم بہت متنوع ہیں: پاکستان ، بھارت ،چین، امریکا، افغانستان : باہمی قربت اور فاصلے، عالمی سیاست ، ہماری مذہبیت، جماعت اسلامی کی ’امن دشمنی‘، ذرائع ابلاغ ، کھیل اور ہم، دوستووسکی، خود کشیوں کی لہر وغیرہ ۔ شاہ نواز فاروقی کے کالم قاری کے ذہن کو ایک اطمینان، سرخوشی اور یقین سے سرشار کرتے ہیں۔ ان کا استدلال اور اسلوب قاری کو ان کے موقف کا قائل کر کے ہی چھوڑتا ہے۔
شاہ نواز فاروقی کی تحریریں ہمارے رویوں پر تنقید کے ساتھ سلامتی کا راستہ بھی سجھاتی ہیں اور یوں موجودہ اجتماعی بحران سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے ہماری رہنمائی بھی کرتی ہیں۔ طباعت واشاعت عمدہ اور قیمت بہت مناسب ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی )
جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی کے اطراف (اوکھلا اور جامعہ ملّیہ) کی مسلم آبادی کو بھارت کے اکثریتی ہندو طبقے نے ایک ’خطرہ‘ بنا رکھا ہے، جس کا بے جا اظہار گاہے گاہے بھارتی سیاسی رہنما، میڈیا اور بے جا طور پر عام ہندو بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں کی بیش تر مسلم آبادی کو روزانہ ہی ایسی ذہنیت سے ملے جلے غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر آٹو رکشہ ، بنک بلکہ پیزا کمپنی کے کارندے بھی ان کی درخواستوں کو کئی مرتبہ نفرت سے مسترد کر دیتے ہیں ۔ اسی ذہنیت کے تابع اَن کہی اور من گھڑت کہانیاں بھی اس علاقے کو ایک ’دیو‘ اور ’عفریت‘ کی شکل میں پیش کرتی ہیں۔ علاقے میں ہر وقت پولیس فورس کی تعیناتی ڈر اور خوف کے ماحول کو مزید خوف ناک اور دہشت زدہ کرتی ہے۔
نیاز فاروقی کی یاد داشتوں پر مشتمل یہ کتاب دراصل اسی مسلم اکثریتی علاقے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر (۱۹ستمبر ۲۰۰۸ء) کے بعد علاقے میں رہنے والے مسلم نوجوانوں اور طالب علموں کو درپیش چیلنجوں اور ان کی ذہنی کیفیت کا اظہار ہے۔ کتاب کی تمہید میں اس بات کا ذکر ہے کہ اندرون بھارت دُور دراز دیہات و قصبات اور چھوٹے شہروں سے مسلم نوجوان جو اپنی تعلیم یا روزگار کی غرض سے دہلی آتے ہیں، ان میں سے کثیر تعداد جامعہ نگرکے علاقے کو اپنا مسکن بناتے ہیں۔ مصنف کا آبائی وطن بیرام، گوپال گنج، بہار ہے اور حصولِ تعلیم کی غرض سے جامعہ نگر میں بہت ہی کم عمری سے سکونت پذیر ہیں۔نیاز فاروقی نے بتایا ہے کہ میرے دادا نے علّامہ اقبال کی نظم ’بچے کی دُعا‘ کے ساتھ ساتھ کبیر کی شاعری کے بارے میں بھی بچپن میں بتایا تھا۔مصنف نے اپنی کہانی کے ذریعے مسلم نوجوانوں کے دکھ درد ،غم و غصے، تجربات اور مشاہدات کو بہت ہی سادہ اور مؤثر انداز تحریر میں پیش کیا ہے۔
سیاست اور میڈیا کی ملی بھگت نے اپنی چالاکی اور منصوبہ بندی سے بٹلہ ہائوس کے ایک مشکوک انکاؤنٹر کو عام ہندوئوں کے ذہنی خوف کا مستقل حصہ بنا دیا ہے۔ کتاب نے پولیس اور میڈیا کی گمراہ کن کہانی پر بڑے ماہرانہ انداز میں پیشہ ورانہ سوالات اُٹھا کر بتایا ہے کہ: ’’بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر پر میڈیا کی متعصبانہ اور جانب دارانہ رپورٹنگ دیکھ کر مَیں نے بایو سائنس کے کیریئر کو ترک کرکے خارزارِ صحافت کارُخ کیا، تاکہ ان باشندگان کی آواز بنوں، جن کی آوازوں کو میڈیا شوروغوغا میں دباکر منفی انداز میں پیش کرتا ہے‘‘۔ مصنف ہندستان ٹائمز کے اسٹاف ایڈیٹر رہے، پھر نیویارک ٹائمز اور الجزیرہ کے لیے بھی رپورٹنگ کی۔
زیر نظر کتاب کے کچھ بہت ذاتی اور غیرمتعلق حصوں کو نظرانداز کر دیا جائے تو یہ ہر اس مسلم نوجوان کی آپ بیتی ہے، جس نے اس خوف ناک اور دہشت زدہ ماحول کا تجربہ اور مشاہدہ کیا ہے۔ یوں اس کتاب نے آپ بیتی کو جگ بیتی بنانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ مصنف کی یہ تخلیقی اور تحقیقی خدمت آج بھارت میں بسنے والے ہر مسلمان نوجوان کے کرب ، بے چینی اور گھٹن کی زندہ تصویر ہے کہ صفحۂ قرطاس پر لفظوں کی صورت گری سے فاروقی نے پوری دُنیا کو یہ بتایا ہے کہ: ’دیکھو میری اصلی تصویر یہ ہے، نہ کہ وہ تصویر جسے متعصب بھارتی میڈیا نے تخلیق کیا ہے جسے فرقہ وارایت اور نسل پرستی کے رسیا تنگ نظر و تنگ دل دانش وروں اور سیاست دانوں نے ہمارے رہایشی علاقوں، کھانے پینے کی عادات اور پہناووں کی بنیاد پر، دوسرے شہریوں کے سامنے بھیانک انداز سے پیش کیا ہے‘۔
یہ کتاب بھارتی مسلم نوجوانوں کو اپنی صداے بازگشت کی طرح محسوس ہوگی اور بھارت کے عام لوگوں کو بھی۔ اسی طرح مسلمانوں کے دُکھ اور کرب کو سمجھنے میں معاون ثابت گی۔(ادارہ)
ترجمان تحریک اسلامی کا ایک مستند، معیاری اور انقلابی ماہ نامہ ہے۔ قصہ یہ ہے کہ میرے ایک قریبی دوست اور ایم فل کے اسکالر فرما رہے تھے کہ اس دور میں چوں کہ ہر تحریکی ساتھی یہ بات کہتا ہے کہ ’’میرے پاس وقت نہیں ہے کہ میں کوئی مطالعہ کروں تو میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر مطالعہ نہیں کرسکتے تو ایک ترجمان پابندی کے ساتھ اوّل تا آخر دل جمعی اور عمیق نظر سے پڑھ کر کافی معلومات لے سکتے ہو‘‘۔
جولائی کا شمارہ اس حوالے سے شان دار ہے اور اس کی ہر تحریر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے لیکن ڈاکٹر عبیداللہ فہدفلاحی کا چشم کشا مقالہ مغربی فکروفلسفے پر مولانا مودودیؒ کا تبصرہ تاریخی اعتبار سے ایک سند کا درجہ رکھتا ہے۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریکی احباب اس مضمون کو اور اس رسالے کو بڑی تعداد میں پڑھیں اور دیگر لوگوں کو پڑھائیں۔
جولائی کے شمارے میں تمام مضامین قیمتی تھے، لیکن ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی کے مقالے ’مغربی فکروفلسفہ پر مولانا مودودی کا تبصرہ‘ اپنی مثا ل آپ ہے۔ آج جب لوگوں کا کتب سے تعلق کٹ کے رہ گیا ہے، ایسے میں یہ مختصر مقالہ نہ صرف مغربی فکروتہذیب کے تاریک پہلوئوں کو قاری کے سامنے لاتا ہے، بلکہ اس سلسلے میں ہمارے محسن سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒکی خدمات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ کاش! ہر شمارے میں اس نوعیت کے ٹھوس علمی ذوق کو بڑھانے والے مقالات کی اشاعت ممکن ہوسکے۔
جولائی کا ترجمان مجموعی طورپرقومی اوربین الاقوامی معلومات سے لبریز ہے۔ پروفیسر خورشید احمد صاحب نے بہترین اندازمیںعام انتخابات اورپاکستان میںجمہوریت کے مستقبل پرروشنی ڈالی،جب کہ عبدالغفارعزیزصاحب نے ترکی اورملائشیاکے انتخابی نتائج پرسیرحاصل تبصرہ کیا۔ ہم سب کے لیے غوراور عمل کا یہ ایک سوال ہے کہ اگرترکی میںاسلامی انقلاب کی راہیںہموارہوسکتی ہیںتوپاکستان میںکیوںنہیں؟ اسی طرح مریم جمیلہ مرحومہ نے ’علم کے سایے میں‘ نوجوانوں کو بامقصد مطالعے کی جانب بڑی خوبی سے متوجہ کیا ہے۔ اس مضمون کوالگ شائع کرواکرتعلیمی اداروںمیںتقسیم کرنے کی ضرورت ہے۔
ماہ نامہ ترجمان اس اعتبار سے پوری قوم کا محسن ہے کہ اس میں بڑے تسلسل کے ساتھ مسئلۂ کشمیر اور وہاں کے مظلوم بہن، بھائیوں اور بچوں کے دُکھ درد کو پیش کیا جاتا ہے۔ تازہ شمارے میں ڈاکٹر غلام نبی فائی، افتخار گیلانی اور ایس پیرزادہ کے مضامین اسی شعور کی گواہی دیتے ہیں۔
میں نے زندگی میں پہلی بار ترجمان کو پڑھنے کی سعادت حاصل کی ہے اور بے اختیار یہ لکھنے پر مجبور ہوا ہوں کہ واقعی یہ رسالہ منفرد ہے اور بے پناہ رہنمائی کا سامان رکھتا ہے۔ تمام مضامین ایک سے بڑھ کر ایک قیمتی ہیں۔ اسی طرح فلسطین پر ڈاکٹر حمید دباشی کا مختصر مگر نہایت مفید مضمون اور شکیل رشید کا مطالعہ کتاب ’بے گناہ قیدی‘ آنکھیں کھول دیتا ہے۔
ترجمان القرآن ایک طویل عرصے سے امت کی رہنمائی کے لیے بے لاگ تجزیے ، مسائل کی نشان دہی اور ان کے حل کے لیے جامع تجاویز پیش اور اُمت کی ترجمانی میں اپنے حصے سے بڑھ کر کردار ادا کرتا آرہا ہے۔ خاص طور پر ’اشارات‘ میں آج کے گمبھیر حالات کو درست عینک سے دیکھنے، ان حالات کا پس منظر جاننے اور مشکلات سے نکلنے کے لیے جس درد کے ساتھ رہنمائی کا فریضہ انجام دیا جارہا ہے، اس پر ناصرف خراجِ تحسین پیش کرنے کی ضرورت ہے بلکہ مستقل طور قومی اخبارات میں ’اشارات‘ کو شائع کروانے کی بھی ضرورت ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ترجمان کی اشاعت اتنی ہو کہ قوم کا باشعور و تعلیم یافتہ طبقہ اس سے روشنی حاصل کرسکے ۔بزرگی، صحت کی خرابی اور وطن سے دُوری کے باوجود، عمر کے اس حصے میں پروفیسر خورشید احمد صاحب کی کوششوں کو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور اُمت کو ایمان، ہمت اور دانش عطا فرمائے، آمین۔
جولائی ۲۰۱۸ء کے ’اشارات‘ میں محترم پروفیسر خورشیداحمدصاحب نے سیاسی پارٹیوں اور سیاست میں فوج کے کردار کو بھی بڑی وضاحت سے دو اور دو چار کی طرح کھول کر بیان فرمایا ہے۔
تزئین حُسن کا مضمون ’سوشل میڈیا پر منقول کلچر‘ (جون ۲۰۱۸ء) وقت کی آواز ہے۔ مجھے اس بات سے صد فی صداتفاق ہے۔ سند اور حوالے کے بغیر نہ صرف ایک دو جملے بلکہ پورے پورے پیراگراف نشر کر دیے جاتے ہیں۔ بعض ستم گر تو کسی حوالے کے بغیر مشہور مذہبی شخصیات سے بھی پورے پورے فقرے منسوب کردیتے ہیں۔اگر کسی سے سوال کیا جائے کہ آپ نے غلط معلومات کیوں ارسال کی ہیں تو اکثر یہ جواب ملتا ہے کہ: ’میں نے تو صرف forward کیا ہے‘۔ بعض لوگوں کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ معلومات کو forward کرنے سے پہلے خود پڑھنے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ ایسی عادت نجانے ہمیں کہاں لے جائے گی۔
جو شخص میرے اور جماعت اسلامی کے اس کام کو میرا اور جماعت کا کوئی ذاتی ’کاروبار‘ سمجھتا ہو اور اس میں بطورِ احسان ہاتھ بٹانے آرہا ہو تو وہ سخت گناہ گار ہے۔کیوں کہ دین کے نام سے کاروبارکرنا اور اس کاروبار میں حصہ لینا وہ بدترین تجارت ہے، جس سے زیادہ خسارے کا سودا شاید ہی کوئی ہو۔ کسی نے اگرآج تک یہ سمجھتے ہوئے ہماری تائید کی ہے، تو اب اسے توبہ کرنی چاہیے اور فوراً اس تائید سے دست کش ہوجانا چاہیے۔
لیکن، اگر کوئی ہمارے اس کام کو خالصتاً للہ دین کا کام سمجھ کر ہماری تائید کرنے آتا ہے تو اس کے اور ہمارے درمیان جو معاملہ بھی ہوگا، خالص حق پرستی کی بنیاد پر ہوگا۔ نہ ہم اس سے کوئی مطالبہ حق کے خلاف کرسکتے ہیں اور نہ وہ ہم سے خلافِ حق کوئی مطالبہ کرسکتا ہے۔
کسی [فرد] کے پاس اگر اس مطالبے کے لیے کوئی دلیل ہو کہ: ’’دُنیا میں اور جو بھی دینی تصوّرات اور اصولوں کے خلاف کوئی کام کرے اس کی تو خبر لے ڈالو، مگر ہمارے حضرتوں میں سے کوئی یہ کام کرے تو اس پر دم نہ مارو‘‘، تو وہ براہِ کرم اپنی دلیل پیش کرے۔ ہم بھی غور کریں گے کہ قرآن، حدیث یا سلف صالحین کے اسوے میں اس دلیل کا کوئی مقام ہے یا نہیں۔
اور اگر ایسی کوئی دلیل اس [فرد] کے پاس نہیں ہے تو ہم صاف کہتے ہیں کہ اس کا یہ مطالبہ ماننے کے لیے ہم تیار نہیں ہیں۔ اس طرح کی شرطیں لے کر جو لوگ خدا کا کام کرنے کے لیے ہمارے ساتھ آئیں، وہ ہمارے لیے سبب ِ قوت نہیں بلکہ سراسر سبب ِ ضعف ہیں۔ ایسے لوگ دُنیا میں کبھی حق قائم نہیں کرسکتے۔ وہ سب بیک وقت ہماری تائید سے دست کش ہوجائیں تو ہم اللہ کا شکر کریں گے۔([سیّدابوالاعلیٰ مودودی] ترجمان القرآن، جلد۵۰، عدد۴، ذوالحجہ ۱۳۷۷ھ/ اگست۱۹۵۸ء، ص۵۲-۵۳)