اپریل ۲۰۱۰

فہرست مضامین

مدیر کے نام

| اپریل ۲۰۱۰ | مدیر کے نام

Responsive image Responsive image

شفیق الرحمٰن انجم ،قصور

’پاکستان کا تصور‘ (مارچ ۲۰۱۰ئ) پروفیسر فتح محمد ملک کا ایک قابلِ توجہ اور چشم کشا تبصراتی مقالہ ہے جس میں دو قومی نظریے اور پاکستان کے اساسی تصورات کو ایک بار پھر مدلل انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ پاکستان اسلامی دنیا میںواحد اسلامی ریاست ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوئی۔ ابتدا ہی سے امریکا اور بھارت پاکستان کی نظریاتی اساس اور جغرافیائی حدود پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کبھی مغرب سے درآمد ’روشن خیالی‘ کا نعرہ لگایا جاتا ہے اور کبھی بھارت کے ساتھ ’امن کی آشا‘ کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ ڈرون حملے ہوں یا پانی کا بحران ، سب اسی شیطانی چال کی کڑیاں ہیں۔ ان کے مکروہ عزائم کی تکمیل میں ہمارے اپنے ان کے مؤید ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں دشمن کے شیطانی ہتھکنڈوں کو سمجھ کر اور پاکستان کی نظریاتی اساس کو مدنظر رکھ کر اپنا لائحہ عمل ترتیب دیں اور عوام کی درست سمت میں رہنمائی کریں۔


نوید اسلام صدیقی ،لاہور

آج دنیا بھر میں جو معرکۂ حق و باطل جاری ہے، اس کے ہر محاذ کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ مارچ کے شمارے میں مصر اور بنگلہ دیش کی مسلمان حکومتوں کے ہاتھوں اہلِ حق کی آزمایش کا جو نیا دور شروع ہوا ہے اس کی تفصیلات معلوم ہوئیں۔ پاکستانی میڈیا اس طرح کی خبروں کو سامنے نہیں لا رہا۔ ان کی دل چسپی کے اور بہت سے میدان ہیں۔ ان حالات میں ترجمان کا دم غنیمت ہے۔


اسامہ مراد ، کراچی

’عالمِ عرب کی اسلامی تحریکیں‘ (فروری ۲۰۱۰ئ) معلومات سے پُر تھا۔ مضمون کے آخر میں     اسلامی تحریک کے لیے حکمت عملی کے حوالے سے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی گئی ہے: تفصیلی تجزیے کے بعد ہم اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ موجودہ حالات میں کسی بھی ملک میں تحریکِ اسلامی کا تنہا اقتدار سنبھالنا نہ صرف اس کے لیے بلکہ متعلقہ ملک کے مفاد میں بھی نہیں خواہ ووٹوں کی اکثریت کی بنا پر تنہا حکومت کرنا اس کا حق ہی کیوں نہ ہو۔ تحریکِ اسلامی میں یہ کوشش ہونا چاہیے کہ وہ مختلف معاہدوں کے ذریعے اقتدار میں شریک ہوکر معاشرے میں بنیادی تبدیلی لائے اور دیگر حکومتی امور سرانجام دے۔ بتدریج تبدیلی ہی زیادہ مؤثر اور دیرپا انقلاب کا باعث ہوتی ہے‘‘۔ کیا پاکستان کی تحریکِ اسلامی کے لیے اس میں غوروخوض کا کوئی پہلو موجود نہیں ہے!