پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد


مسلم ممالک بالخصوص عرب دُنیا میں جمہوری روایت کے نشوونما و ارتقا پر بات کرتے وقت مغربی  تجزیہ نگار عموماً اپنے تحفظات کا ذکر کرتے ہیں اور بادشاہت یا فوجی آمریت کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت دُنیا کی ۱۸۹ اقوام میں سے تقریباً ۱۲۰ میں جمہوریت کسی نہ کسی شکل میں پائی جاتی ہے اور اس میں سے حد سے حد نصف مقامات پر جمہوری روایت مستحکم ہے۔ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں تقریباً ایک درجن ممالک میں جمہوریت کو صدمہ پہنچا۔ اس سلسلے کی آخری مثال ۱۲اکتوبر ۱۹۹۹ء کو ہونے والا پاکستان کا پرُامن فوجی انقلاب تھا۔

ان ممالک میں جمہوریت کی ناکامی کے اسباب متنوع اور پیچیدہ ہیں۔ ان میں خصوصاً انصاف اور قانون کی حکمرانی اور تحفظ کا فقدان اور عدلیہ کا خودمختار نہ ہونا ایک بنیادی سبب کہا جا تا ہے۔ معاشی عدم استحکام اور قرضوں پر مبنی معاشی ترقی بھی ایک بنیادی سبب بتائی جاتی ہے جس میں سیاست دانوں اور نااہل نوکرشاہی کی طرف سے مالی بددیانتی اور فنی قابلیت میں کمی کا بھی بڑا دخل سمجھا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ترقی پذیر ممالک میںتقریباً ۴۰ فی صد قومی معاشی پیداوار صرف قرضوں کے سود کی ادایگی پر صرف ہو جاتی ہے‘ جب کہ قرضے وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔ اس طرح معاشی اضمحلال کا ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ان ممالک کو اپنی گرفت میں لیے رہتا ہے۔ اس میں رہی سہی کسر سیاست دانوں اور نوکر شاہی کی مالی بدعنوانی پورا کر دیتی ہے۔ ایسے معاشی حالات میں جمہوریت کو جس کی روح احتساب اور جواب دہی کے تصور میں ہے‘ کس طرح پنپنے کا موقع مل سکتا ہے۔ گویا نوکرشاہی ہو یا اختیارات پر قابض سیاست دانوں یا فوج کا گروہ‘ ہر ایک جمہوریت کے موضوع پر اپنی گل افشانی کے باوجود حقیقی جمہوریت کے لیے ہمیشہ سنگ راہ بنا رہتا ہے۔

یہ فطری بات ہے کہ عدل و انصاف کا فقدان ‘ تحفظ کا نہ ہونا‘ حکمرانوں کی بے اصولی اور مالی استحصال کا آنکھوں کے سامنے پایا جانا‘ نظم مملکت پر سے لوگوں کے اعتماد کو متزلزل کر دیتا ہے اور crisis of governanceگہرے سے گہرا ہوتا چلا جاتاہے۔ انتظامیہ اور سیاست دان ایسی بگڑی ہوئی صورت حال میں اپنی نااہلی اور جرائم پر پردہ ڈالنے اور عوام کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کے لیے ایسے قضیوں کو ہوا دیتے ہیں جن میں اُلجھ کر عوامی توجہ بدعنوان حکمرانوں کی طرف سے ہٹ جائے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ کارگر حیلہ مذہبی تفرقہ بازی ہے۔چنانچہ اکثر عرب حکومتوں نے اپنی ضرورت کے پیش نظر کبھی اسلامی تحریکات کو قیدوبند اور ظلم کا نشانہ بنایا اور کبھی انھیں وقتی آزادی دے کر دوسرے نظریاتی دشمنوں کی قوت کو توڑنے یا اپنے حق میں ایک توازن پیدا کر کے ان تحریکات پر قابو پانے کے لیے استعمال کیا۔

پاکستان میں بھی صورت حال اس سے مختلف نہیں رہی۔ دو بڑی سیاسی جماعتیں باری باری ملک اور عوام کو اپنی سواری کے لیے استعمال کرتی رہیں۔ خودمسلکی جماعتوں نے خواہ وہ دیوبندی مکتب فکر کی علم بردار ہوں یا بریلوی‘ اہل حدیث یا شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہوں‘ کبھی اپنے آپ کو ایک پارٹی سے وابستہ کیا کبھی دوسری سے اور اپنی سیاسی پشت پناہی کے بل پر اپنی مخالف مسلکی جماعت کے افراد کو زک پہنچانے میں کبھی تکلف نہیں کیا۔ لیکن ایک پرانی کہاوت کے مصداق ’’کرے مونچھوں والا‘ پکڑا جائے ڈاڑھی والا‘‘ مذہبی تشدد کا الزام بلااستثنا مسلکی جماعتوں پر ہی رکھا گیا۔ دوسری جانب ان میں سے کئی جماعتوں نے خود بھی اپنی قوت بازو کا اظہار کرنے کے لیے اپنی ذیلی نیم عسکری تنظیمیں قائم کر کے اس الزام کے لیے خود بنیاد فراہم کر دی۔

ان زمینی حقائق کے پیش نظر اور بالخصوص مذہبی تشدد اور فرقہ وارانہ قتل و غارت کے حوالے سے مغربی مصنفین کے اعتراضات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس صورتِ حال کے اسباب پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص یہ کہ (۱) کیا نام نہاد ترقی پذیر ممالک (عرب دُنیا میں یا ایشیائی ممالک) میں مذہبی منافرت اور تشدد پسندی کے باوجود جمہوریت کا کوئی مستقبل ہے؟ (۲) کیا جمہوریت واقعی اسلام کی ضد ہے؟ اور (۳) کیا تحریکات اسلامی ان بگڑے ہوئے حالات میں اسلامی نظام حکومت کو بطور متبادل نافذ کرنے کی قوت رکھتی ہیں؟

مغربی مصنفین ان تینوں سوالات کا جواب عموماً نفی میں دیتے ہیں‘ یعنی جمہوریت اور اسلامی احیائی تحریکات میں نبھائو بہت مشکل ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اسلامی تحریکات ’’جہاد‘‘ پر ایمان رکھنے کے سبب تشدد کو جائز سمجھتی ہیں۔ اس لیے ایک معتدل (modrate)اور آزادی پسند(liberal) نظام اور ماحول پیدا کرنے سے قاصر ہیں اور نتیجتاً جہاں کہیں بھی اسلامی نظام کے نفاذ کا امکان پیدا ہوتا ہے اسے قصرجمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام کے لیے شدید خطرے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جس طرح deductive logic  یا منطق استخراجیہ میں ایک مفروضہ دوسرے مفروضے سے ملحق ہوتا ہے اور ایک متوقع منطقی نتیجے کی طرف لے جاتا ہے‘ بالکل اسی طرح یہ تصورات مغربی ابلاغ عامہ اور علمی حلقوں میں متواتر پیش کیے جا رہے ہیں جن کا اظہار عمانویل سیوان (Emmanuel Siven)نے اپنے مضمون (Arabs & Democracy: Illusions of Change) میں واضح طور پر کیا ہے۔

ہمارے خیال میں اپنی تمام تر معروضیت کے باوجود مغربی مصنفین اسلام اور جمہوریت کے بنیادی تضاد‘ تحریکات اسلامی کے انتہاپسند اور جہاد کے ’’مذہبی جنون‘‘ ہونے کے بارے میں اپنے طے شدہ تصورات اور ذہنی تحفظات کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ساون کے اندھے کی طرح انھیں ہرچیز ہری ہری نظرآتی ہے۔ گو سوشل سائنس کی تحقیقی حکمت عملی (research methodology) میں نام نہاد معروضیت کے باوجود داخلیت کے عنصر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن یہاں معاملہ اس سے کچھ بڑھ کر ہے۔

مندرجہ بالا تینوں فکری اغلاط کی اصلاح تفصیلی گفتگو کی متقاضی ہے۔ ہم انتہائی اختصار سے یہاں صرف تین نکات کی طرف اشارہ کریں گے:

۱-  اسلام اور جمہوریت بلاشبہ بنیادی طور پر دو مختلف چیزیں ہیں۔ اسلام کی بنیاد قرآن و سنت کی عظمت اور مطلق بالادستی پر ہے‘ جب کہ جمہوریت نظری طور پر عوام کی بالادستی کا نام ہے۔ اس بنیادی فرق کے ساتھ اسلامی نظم مملکت کی بنیاد شوریٰ کے الہامی اصول پر ہے اور اسلامی نظام خلافت فرد یا طبقۂ علما کی آمریت سے مکمل طور پر آزاد ہے۔ مغرب کے ذہن میں لفظ مذہب جو ارتعاش پیدا کرتا ہے اس کی ہر لہرسے تھیاکریسی کی صدا بلند ہوتی ہے۔ پھر بعض حادثات زمانہ بھی مغرب کے اس تصور کی کسی حد تک تائید کر دیتے ہیں‘ مثلاً فی زمانہ ’’طالبان‘‘ کا ذہنی ہّوا جسے مذہبی ریاست کے ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ خود پاکستان کے لادینی فکر رکھنے والے دانش ور‘ ہر دو دن کے بعد انگریزی کے کسی روزنامے میں کسی مضمون یا ادارتی نوٹ کے ذریعے اس خطرے کی گھنٹی بجاتے رہتے ہیں کہ ’’طالبان دستک دے رہے ہیں!‘‘ اور اس طرح ’’مذہبی جنونیت کے غبارے‘‘ میں ہوا بھرتے رہتے ہیں تاآنکہ عوام الناس کے ذہن میں مذہبی عناصر کے لیے سوائے نفرت کے کوئی جذبہ باقی نہ رہے۔

۱-  اسلام روح جمہوریت کا علم بردار لیکن انسان کی خدائی کا منکر ہے۔ وہ انسان کو ایک باشعور‘ آزاد‘ فیصلہ کرنے والی مخلوق کی حیثیت سے ارادے کی آزادی دیتے ہوئے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی معاملات میں اپنی قوت فیصلہ کے صحیح استعمال کی دعوت دیتاہے لیکن ساتھ ہی ہر قدم پر انسان کو یاد دلاتا رہتا ہے کہ نہ وہ اقتدار کا بندہ ہے نہ عوام کا بلکہ وہ صرف اللہ کا بندہ ہے۔ جب تک اس بنیادی حقیقت کو ذہن نشین نہ کر لیا جائے خیالات اور تصورات کا تاج محل بنیادی پتھرکے ٹیڑھے ہونے کے سبب تاثریا کجی اور ٹیڑھ سے خالی نہیں ہوسکتا۔

۲-  مسلم ممالک خصوصاً عرب دُنیا میں ملوکیت‘ فوجی آمریت یا غیر جمہوری نظاموں کے پائے جانے کے اصل سبب پر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ ایک جانب خلافت راشدہ کے بعد خاندانی اور شخصی ملوکیت کے دَور کا آغاز ہوا اور تھوڑے عرصے بعد مسلمانوں کے سیاسی اور تہذیبی زوال کے ساتھ ہمسایہ تہذیبوں کے زیراثر بادشاہت کی مختلف شکلوں نے رواج کی شکل اختیار کرلی۔ دوسری طرف اٹھارھویں صدی سے مغربی سامراج نے مسلم ممالک میں جہاں جہاں قدم جمائے بادشاہوں اور آمروں کو اپنے حق میں بہتر جانا اور اپنے جمہوریت کے عشق کے دعووں کے باوجود اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آمروں اور جابروں کی حمایت و طرف داری کی۔ دَورِ جدید میں مغربی فکر اور حکمت عملی کا ایک واضح تضاد مغربی طاقتوں کی خارجہ ‘ معاشی اور ابلاغ عامہ کی پالیسی میں واضح ہو کرسامنے آجاتا ہے۔ عرب دُنیا کی بادشاہتوں اور سابق شاہِ ایران اور شمالی افریقہ کی آمریتوں کو تحریکات اسلامی نے نہیں جمہوریت کے مدعی مغرب نے پروان چڑھایا‘ کھل کر ان کی مکمل حمایت و امداد کی اور ان ممالک کی اسلامی تحریکات کو ان کی جمہوریت پسندی کے باوجود اپنا دشمن سمجھا۔

۳-  اکثر تحریکات اسلامی نے اپنے سیاسی پروگرام اور منشور میں جن باتوں کو اوّلین اہمیت دی ہم ذیل میں صرف نکات کی شکل میں ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ نکات خود ان تحریکات کے بارے میں مغرب کی غلط فہمی کی اصلاح کے لیے کافی مواد فراہم کرتے ہیں‘ اور تاریخی اور دستاویزی طور پر ان تحریکات کے ’’مذہبی جنونی‘‘، ’’انتہا پسند‘‘ یا ’’جمہوریت دشمن‘‘ ہونے کی مکمل تردید کردیتے ہیں۔ پاکستان‘ سوڈان ‘ ترکی اور اُردن کی تحریکات اسلامی یقین رکھتی ہیں کہ:

  •  ملک میں اسلامی نظام کے قیام کی راہ کے لیے دستوری اور جمہوری جدوجہد ہی صحیح طریقۂ انقلاب ہے۔
  •  ملک و قوم کی اصلاح تعلیمی‘ دعوتی‘ فلاحی اور سیاسی حکمت عملی کے بغیر نہیں ہو سکتی ہے۔ اس لیے تبدیلی و اصلاح کے لیے ایک طویل سفر صبرو استقامت کے ساتھ طے کرنا ہوگا۔
  • ایک صالح اور عادلانہ نظام کا قیام صالح اور آزاد قیادت کے بغیر ممکن نہیں۔ وہ فرماں روا طبقہ جو بیرونی طاقتوں کی خواہشات کا غلام ہو اور ان کے اشاروں پر ناچنے کے لیے ہر وقت آمادہ رہتا ہو محب وطن قیادت فراہم نہیں کر سکتا۔ اس لیے صالح افراد کی تیاری اور ان کی تنظیم و تربیت ایک عادلانہ نظام کا پیش خیمہ ہے۔
  • good governance یا حسن انتظام کے لیے اسلام کے دیے ہوئے ضابطہ ء اخلاق کی پیروی لازمی ہوگی اور ایسے افراد کا بے لاگ احتساب ضروری ہوگا جو ملک و قوم کے استحصال پر پلے اور بڑھے ہوں۔
  • قانون کا احترام اور بالادستی قائم کرنے کے لیے عدلیہ کو سیاسی اور حکومتی اثرات سے پاک کرنا ہوگا اور اہل کاروں کو باوقار اور باعزت طور پر زندگی گزارنے کے لیے مناسب اعزازیے کے ساتھ احتساب کی چھلنی سے گزرنا ہوگا تاکہ صرف وہ حضرات مناصب پر ہوں جن کا دامن خود داغ دار نہ ہو۔
  • اہل کاروں کے انتخاب میں صرف اور صرف صلاحیت کو بنیاد بنانا ہوگا‘ سفارش‘ اقربا پروری اور صوبہ پروری کا کلچر یکلخت ختم کرنا ہوگا۔
  •  اقتصادی خودمختاری کے لیے سودی کاروبار کو ختم کر کے اسلامی اصولوں پر معیشت کو استوار کرنا ہوگا۔
  •  سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ضابطہ ء اخلاق کی پابندی لازمی ہوگی اور کم از کم انھیں خود جمہوری اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔ موروثی سیاست (کہ باپ کے بعد بیٹی یا بیٹا یا بیوی سیاسی جماعت کی قیادت پر قابض ہو جائے) کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
  •  مسلکی تشدد اور منافرت کی جگہ رواداری‘ اور باہمی احترام کو جگہ دینی ہوگی۔
  •  نظام تعلیم میں بنیادی تبدیلی کے ذریعے سیکولر ذہن کی جگہ ایک دین سے محبت کرنے والا‘ انسانی جان و مال‘ عزت اور اختلافات کا احترام کرنے والا انسان وجود میں لانا ہوگا۔

ان نکات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دُنیا بھر میں اسلامی تحریکات نے نہ تو کبھی حصولِ اقتدار کے لیے تشدد کا راستہ اپنایا ہے اور نہ ہلّہبول کر ہی نظام اسلام کے نفاذ کی قائل ہیں بلکہ اس کے برعکس صبرواستقامت اور دستوری ذرائع سے اصلاح اور قیامِ عدل کے لیے کوشاں ہیں۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ تحریکات اسلامی کے مغربی نقاد یا تو ان تحریکات کے دساتیر‘ منشور اور اصلاح و تجدید کے تصورات سے براہِ راست واقفیت نہیں رکھتے اور ثانوی ذرائع معلومات پر انحصار کرتے ہوئے‘ ان کے بارے میں ایک ذہنی تصویر بنا لیتے ہیں‘ یا تحریکات اسلامی نے خود اپنے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور ایک تہذیبی اور فکری مکالمے کے ذریعے دوسروں کو اپنے مقاصد اور طریق کار سے آگاہ کرنے میں غفلت برتی ہے۔ مسئلے کا حل نہ الزام تراشی ہے نہ ایک دوسرے کو نظرانداز کرنا۔ تحریک اسلامی کے بارے میں گمراہ کن تصورات کی اصلاح اگرمغرب کی ضرورت نہ بھی ہو جب بھی تحریکات اسلامی کو اپنے دعوتی اور اصلاحی تشخص کی بنا پر خود آگے بڑھ کر ایک ثقافتی اور علمی مکالمے کا آغاز کرنا ہوگا جو آخرکارخود اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مغرب کے ناقص اندازوں کی اصلاح میں مددگار ہوگا۔

۱۹۷۹ء میں ایران کا اسلامی انقلاب کئی پہلوئوں سے امت مسلمہ اور خصوصاً اسلام کی تحریکی فکر رکھنے والے افراد کے لیے نفاذِ اسلام کی ایک نوید بن کر اُبھرا۔تاریخی نقطہ نظر سے علاماتی (symbolic)خلافت عثمانیہ کے زوال سے جو دَور شروع ہوا‘ اس میں امت مسلمہ اپنے مستقبل اور اختیار و قوت کے دوبارہ حصول کے لیے مسلسل سرگرداں رہی۔ چالیس کی دہائی سے مسلم ممالک میں سیاسی آزادی کا دَور شروع ہوا اور یہ امید بندھی کہ پاکستان‘ انڈونیشیااورشرق ا وسط کے بہت سے ممالک‘ سیاسی آزادی کے ساتھ ثقافتی اور نظریاتی آزادی بھی حاصل کر لیں گے‘ لیکن یہ امیدیں بڑی حد تک ناتمام رہیں۔ اس پس منظر میں ایرانی انقلاب اسلامی قوتوں کے لیے غیر معمولی طور پر اپنی جدوجہد پر اعتماد میں اضافہ کا باعث بنا۔ تحریکات اسلامی کے قائدین نے نہ صرف ذاتی بلکہ اجتماعی طور پر ایران میں طاغوتی ملوکیت کے خاتمہ اور اسلامی نظام کے قیام کے عزم کو خوش آمدید کہتے ہوئے نمایندہ افراد کے وفد کی شکل میں تہران جا کر امام خمینی کو اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ یورپ اور امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ایک غیر اسلامی معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں‘ اسلامی انقلاب کی کھل کر حمایت کی۔

یہ انقلاب ان قوتوں کے لیے سخت تشویش کا باعث بنا جو ایران کو اپنی بین الاقوامی سیاست کا سب سے زیادہ مستحکم ستون سمجھتے تھے۔ یورپ و امریکہ کے بیشتر ممالک نے اسے لادینی جمہوریت‘ اباحیت اور مغرب زدگی کے لیے ایک’’بنیاد پرست‘‘ خطرہ قرار دیتے ہوئے پورے خطے کے لیے ایک نئی حکمت عملی وضع کرنی شروع کی۔ اسی دوران ایرانی طلبہ کی جانب سے (پاسدارانِ انقلاب کے تعاون سے) امریکی سفارت خانے کے عملے کو یرغمال بنانے کے واقعے نے ایران کے خلاف امریکی جذبات کو مشتعل کرنے اور ایران میں امریکہ

کے خلاف نفرت اور غصہ کو بھڑکانے میں جلتی پر تیل کا کام کیا۔ممکن ہے کہ یہ واقعہ بعض قوتوں کے لیے ایک منطقی ضرورت ہو لیکن اس ایک واقعہ کے اثرات معاشی‘ سیاسی اور جذباتی سطح پر ایران کے حوالے سے پورے عالم اسلام پر پڑے۔ اس مفروضہ کو حقیقت مانتے ہوئے کہ اسلام اور مغربی سامراجی طاقتوں کے درمیان کوئی مکالمہ اور تبادلہ خیال‘ اظہار قوت کے علاوہ نہیں ہو سکتا‘ نہ صرف ایران بلکہ دیگر مسلم ممالک کے خلاف بھی معاشی اور سیاسی پابندیوں کا حربہ استعمال کیا گیا۔

اس حکمت عملی کا ردعمل واضح تھا۔ چنانچہ ہر دو جانب سے زبانی جنگ اور موقع ملنے پر ایک دوسرے کو زِک پہنچانے کی کوششیں ہوتی رہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس دوران میں نہ صرف مغربی سامراج بلکہ خود ایران میں زمینی حقائق کے پیش نظر ایک نئی حکمت عملی وضع کرنے پر بھی غور ہوتا رہا۔ داخلی حالات نے اس بات کی اجازت نہ دی کہ یہ عمل سرعت سے ہو‘ لیکن نئی صدی کے آغاز پر صدر خاتمی کی ایرانی قیادت نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھوٹے اور بڑے ’’شیاطین‘‘ کے ساتھ بھی مکالمہ کو ممکن قرار دیتے ہوئے اس کے آغاز کی طرف پیش قدمی کا اعلان کیا۔

مغربی سامراج اور اہل فکر نے بھی اس دوران اپنے موقف پر واضح نظرثانی کی کوشش کی۔ چنانچہ ایران کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’ماضی کی تلخ یادوں کو دفن کیا جائے اور اگر ایران نئی صدی میں کوئی تعمیری کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو عالم گیریت (globalization)کی حقیقت کو مانتے ہوئے اپنے رویے میں تبدیلی کرے‘ نعروں کی نفسیات سے اپنے آپ کو آزاد کرے‘ اپنے تیل کے ذخائر پر بے جا اعتماد و فخر پر نظرثانی کرے‘ اپنے عوام کی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مغرب کے ساتھ تجارتی تعاون پر غور کرے اور خاص طور پر خود پیدا کردہ اندرونی معاشی اضمحلال کو کسی بیرونی ’’شیطان‘‘ کے سرمنڈھنے کی کوشش ترک کرے‘‘۔

مغربی پالیسی سازوں کا کہنا یہ ہے کہ تیل فروخت کرنے والی اقوام کو تیل خریدنے والی اقوام کی خواہشات کا احترام کرنا ہوگا اور ]نام نہاد[ جدید معاشی نظام (N.E.O)میں اپنا مقام پیدا کرنے کے لیے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنائے بغیر بعض بنیادی سمجھوتے (adjustment)کرنے ہوں گے۔

ابھی حال ہی میں ایران کی وزارت خارجہ کے زیر اہتمام تہران میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ایران کے پالیسی ساز مغربی مفکرین کے ان خیالات کو تحمل اور صبر کے ساتھ سننے کے بعد ایک نسبتاً زیادہ عملی(pragmatic) حکمت عملی وضع کرنے پر آمادہ نظر آرہے ہیں۔ اسلامی فقہ کا ایک مستقل مضمون سیاست شرعیہ ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ بدلتے حالات میں شریعت کے ابدی‘ کلی اور جامع اصولوں کی مددسے کس طرح ایک نئی صورت حال کا حل تلاش کیا جائے۔ مصلحت عامہ کا اصول بھی (جسے مصالح مرسلہ بھی کہا جاتا ہے) وسیع تر حکمت کے پیش نظر‘ شریعت کی بالادستی قائم رکھتے ہوئے‘ ایک صورت حال کا حل تلاش کرنے میں مدد کرتا ہے۔

بہ ایں ہمہ اس طرح کی صورت حال میں چند بنیادی سوالات زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ اولاً ایک نظریاتی انقلاب کی مدعی جماعت کے لیے اصل اہمیت طویل المیعاد ہدف و حکمت عملی کی ہے یا قلیل المیعاد اور فوری حصول منفعت کی؟ اور کسی فوری اور قلیل المیعاد مقصد کے حصول کے لیے کس حد تک اصل ہدف کو وقتی طور پر نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ ثانیاً عملیت پسندی (pragmatism) کی سرحدیں کہاں تک ہیں؟ ایک حدیث نبویؐ میں جہاں حلال اور حرام کے بیّن ہونے کے ساتھ ساتھ مشابہات سے اعراض کا حکم دیا گیا ہے‘ اس کی روشنی میں ’’اضطرار‘‘ اور ’’ضرورت‘‘ کی حدود کا تعین کس طرح کیا جائے؟ ثالثاً مادی طور پر ایک مستحکم فریق کے ساتھ مادی طور پر ایک غیر مستحکم فریق کے مکالمے اور احترام مفادات کی شکل کیا ہوگی؟

یہ امر بھی غوروفکر کا متقاضی ہے کہ عالم گیریت (globalization)اور یک قطبی (unipolar) قوت ہونے کی دعوے دار ریاست کے ساتھ معاشی تعلقات کا تانا بانا کیا صرف معیشت کے میدان تک محدود رہے گا یا غالب معاشی قوت کی ثقافت‘ اس کی اقدار حیات‘ اس کا طرزِ زندگی اور مقصد حیات‘ محسوس اور غیر محسوس اثرات بھی معاشی سرگرمی اور تعلقات کے ہمراہ سرحدیں پار کر کے کم ترقی یافتہ ممالک پر اثرانداز ہوں گے؟ حقیقت واقعی یوں ہے کہ ابلاغ عامہ کے انقلاب نے جغرافیائی سرحدوں کو اضافی بنا دیا ہے اور ثقافتی اثرات‘ ایسے مقامات پر بھی جن کے نظریاتی ثقل کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے‘ دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ایک معمولی مشاہدہ جو میں نے خود کانفرنس کے دوران کیا ‘یہ تھا کہ بعض ایرانی خواتین روایتی ’’مانتو‘‘ (سیاہ چادر) تو لازماً استعمال کر رہی تھیں‘ جس سے وہ تمام شرعی تقاضے پورے ہو رہے تھے‘ جو ایک مسلمان خاتون کی پہچان کہے جا سکتے ہیں‘ لیکن گذشتہ دس سال کے عرصے میں اس چادر کی پیمائش میں قابل محسوس فرق واقع  ہوا ہے۔ انقلاب کے فوراً بعد یہ ٹخنوں بلکہ پائوں تک تھی جب کہ آج یہ نصف پنڈلی پر آگئی ہے جس کی بنا پرجینز جو پہلے مکمل طور پر چھپ جاتی تھی‘ غیر ثقافت کے اثرات کی چغلی کرتی نظر آتی ہے (یہاں صرف اس پہلو کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ وہ شدت جو بہرصورت دین کا جزو پہلے بھی نہ تھی اب وسعت میں تبدیل ہوتی نظر آتی ہے اور اس بنا پر ان طبقات کی پریشانی‘ جو دین کو غلو اور شدت ہی کے تناظر میں درست سمجھتے ہیں‘ کسی تعارف کی محتاج نہیں)۔

ایرانی طرزِ عمل اور طرزِفکر میں محسوس یا غیر محسوس طور پر سامنے آنے والی اس تبدیلی کے مثبت اور  منفی اثرات نہ صرف ایران بلکہ ان تمام افراد پر پڑیں گے جو ایران کے انقلاب کو ایک شیعی انقلاب کے تصور سے بلند ہو کر عالمی تناظر میں اسلام اور طاغوت کی کش مکش کا مظہر سمجھتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ قدامت پسند لیکن بااختیار حلقوں میں ایسی کسی تبدیلی کی مضبوط مخالفت بھی موجود ہے۔ خود تحریکات اسلامی کے لیے بھی یہ صورت حال لمحہ فکریہ فراہم کرے گی کہ نظریے سے مکمل وفاداری اور اصولیت کے باوجود وہ کون سے دائرے ہیں جہاں ’’عملیت‘‘ اختیار کرنی ہوگی اور کس طرح ایک ایسی حکمت عملی وضع کی جائے گی جو تحریکات اسلامی کی نظریاتی اساس اور امتیاز کو تحلیل کیے بغیر ان کے دور رس اہداف کے حصول میں مددگار ہو سکے۔

اسلام کا مزاج اصلاً دعوتی اور اصلاحی ہے‘ اس لیے مکالمہ اس کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے۔ حتیٰ کہ اسلام کے سخت ترین دشمن سے بھی مکالمے کے ذریعہ تعلق پیدا کرنا فرائض دعوت میں شامل ہے۔ اس کی واضح مثال اللہ تعالیٰ کا اپنے سچّے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ کہنا ہے کہ جائو اور فرعون کو دعوت اسلام دو‘ وہ حد سے گزر گیا ہے‘ اور یہ بات بھی واضح فرما دی تھی کہ اس مکالمے کا مزاج اور انداز متشدد نہ ہو‘ بلکہ ’’قول لیّن‘‘ انتہائی مناسب اور نرم انداز گفتگو اختیار کیا جائے تاکہ وہ ہدایت کی طرف آ سکے۔ گویا شرک اور طاغوت سے نفرت تو کی جائے گی لیکن مشرک اور طاغی کو مسلسل مکالمے کے ذریعے حق کی دعوت دی جاتی رہے گی۔ یہاں نفرت شرک سے ہے ‘مشرک سے نہیں۔

مغرب سے جس مکالمہ کی طرف صدر خاتمی نے اپنی متعدد گفتگوئوں میں اشارہ کیا ہے ہمیں اس کی اخلاقیات کے تعین کے لیے بھرپور طور پر‘ قرآن و حدیث سے مدد لینی ہوگی اور واضح اصول اور نظریاتی بنیادوں پر اس کے خدوخال کا تعین کرنا ہوگا۔ اسلام کا دعوتی مزاج مطالبہ کرتا ہے کہ اسلامی فکروعقیدہ‘ ثقافت اور معاشرت کی ترویج و تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے‘ ہاں فکر وعقیدہ کی مکمل آزادی کے ساتھ دیگر اقوام اور تہذیبوں کے ساتھ پراعتماد طور پر مکالمہ اور تبادلہ خیالات اسلامی دعوت کے منشور کا لازمی جزو ہے۔ چنانچہ اہل کتاب کے حوالہ سے قرآنی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ آئو اے اہل کتاب ‘ہم کیوں نہ ایک مشترک بنیاد سے اس مکالمہ کا آغاز کریں اور دیکھیں کہ کن معاملات میں تعاون ہو سکتا ہے اور کن معاملات میں اختلاف کے باوجود ایک احترام کا تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس مکالمہ کو نظری سطح سے آگے بڑھاتے ہوئے معاشرتی سطح پر قیامت تک کے لیے عملاً قائم کر دیا گیا اور نہ صرف اہل کتاب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کو‘ جو مکالمہ اور تبادلہ خیالات کا ایک موثر ذریعہ ہے‘ جائز قرار دیا گیا بلکہ ان کے ساتھ معاشرتی تعلق‘ جس میں سب سے زیادہ قریبی تعلق شوہر اور بیوی میں ہو سکتا ہے‘ ممکن قرار دیا گیا۔ چنانچہ مسلمان مرد کو کسی اہل کتاب خاتون سے نکاح کی اجازت اس جانب ایک مثبت اور عملی اقدام کی حیثیت رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ اس کے ساتھ ساتھ اسلام کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اور عقیدہ کے تحفظ کے لیے ایک مومنہ کے کسی اہل کتاب مرد سے نکاح کی ممانعت بھی کر دی گئی ہے۔

ہمیں اپنے تجزیہ میں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میثاق مدینہ میں اس مکالمے کے لیے کون سے اصول طے فرمائے تھے۔ بالخصوص انسانی حقوق اور معاملات کے حوالے سے میثاق مدینہ یہ بات واضح کر دیتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں انسانی جان اور عزت کا احترام ایک قدر مشترک ہوگا۔ نہ صرف یہ بلکہ بین الانسانی مساوات کے اصول کی بھی پیروی کی جائے گی۔ قرآن کریم  نے یہ بات بھی متعین کر دی ہے کہ مقامات عبادت خواہ وہ مسجد ہو‘ کلیسا ہو یا سیناگاگ اور ٹمپل‘ امت مسلمہ ان کے تحفظ اور آزادی کے لیے ہمیشہ اپنے وسائل کا استعمال کرے گی۔ اس عمومی پس منظر میں دوسری جانب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ عالم گیریت کے نام پر کس طرح مغربی سامراجی طاقتیں اپنی پسند کی معیشت‘ معاشرت اور ثقافت کو تمام انسانوں کے لیے معیار قرار دیتے ہوئے دوسروں پر مسلط کرنا چاہتی ہیں۔

مزید یہ کہ بادی النظر میں عالم گیریت کے نام پر جو تہذیب و ثقافت اور معاشرت دیگر ممالک پر برضا و رغبت یا بالجبر مسلط کی جا رہی ہے‘ کیا یہ انسانی حقوق پر ایک حملہ نہیں ہے؟ ایک بامعنی ثقافتی مکالمے کے آغاز سے پہلے ہمیں اس ثقافتی یلغار کی گرفت اور اس کے وسیع اثرات و مضمرات کا اندازہ کرنا ہوگا۔ یہ اور دیگر متعلقہ پہلو ہمیں مزید غوروفکر کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔