ڈرون حملے پہلے دن سے غلط اور پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور سالمیت کے لیے ایک چیلنج تھے، جنھیں کسی بھی شکل میں اور کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جانا چاہیے تھا اور نہیں کیا جاسکتا۔ بدقسمتی سے سابقہ حکومتوں نے اس بارے میں مجرمانہ غفلت اور شاطرانہ مفاہمت کا راستہ اختیار کیا اور ملک و ملت کی آزادی اور عزت دونوں کو بُری طرح پامال کیا۔ توقع تھی کہ ۱۱مئی۲۰۱۳ء کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت ماضی کی روش کو یکسر تبدیل کرے گی اور عوام سے جس بنیاد پر اس نے مینڈیٹ حاصل کیا ہے، اس کی روشنی میں ایک خودمختار اور آزاد ریاست کے مفادات کے مطابق خارجہ پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ سے نکلنے کا راستہ اختیار کرے گی۔ لیکن ان چھے مہینوں میں مرکزی حکومت نے ویسے تو ہرمیدان میں قوم کو مایوس کیا ہے، تاہم جس سلسلے میں وہ سب سے زیادہ ناکام رہی ہے، وہ امریکا سے تعلقات کو ازسرِنو مرتب کرنا اور دہشت گردی کی امریکی جنگ سے نکلنے کے لیے قومی جذبات اور سیاسی اتفاق راے کے مطابق مؤثر اقدام ہے۔
امریکا نے اپنی جارحانہ پالیسیوں کو نہ صرف جاری رکھا ہے، بلکہ ان کو ایک نئی جہت دینے کی کوشش کی ہے۔ جس کے نتیجے میں مذاکرات کے سیاسی عمل کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں کو وہ مسدود کر رہا ہے اور پاکستان کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے کا کھیل کھیل رہا ہے۔
یکم نومبر۲۰۱۳ء کو فاٹا میں میران شاہ کے مقام پر ڈرون حملہ مذاکراتی عمل کو اس کے آغاز سے پہلے ہی تباہ کرنے کی کھلی کھلی کوشش ہے، اور پھر ۲۰نومبر کو خیبرپختون خوا کے آباد علاقے ہنگو میں ایک دینی تعلیمی ادارے پر حملہ اس جنگ کو وسعت دینے کی ایک ناپاک اور شرانگیز جسارت ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو حالات میں جوہری تبدیلی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ قوم کے لیے اپنی آزادی، خودمختاری اور عزت کی حفاظت کے لیے اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں کہ اپنی آزادی، مفادات اور عزت کے تحفظ کے لیے اُٹھ کھڑی ہو اور پالیسی تبدیل کرنے کے لیے حکومت پر مؤثر سیاسی دبائو ڈالے۔
امریکی اور ناٹو افواج کے لیے پاکستان کی سرزمین کے راستے رسد جانے کو روکنا خود مطلوب نہیں بلکہ اصل ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مؤثر، پُرامن اور قابلِ عمل ذریعہ ہے، تاکہ نہ صرف یہ کہ ہماری ملکی سرحدات کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ملکی اور عالمی سطح پر مؤثراقدامات کیے جاسکیں، بلکہ امریکا کی اس جنگ سے ہم نکل سکیں اور توجہ کا مرکز ، مسائل کا سیاسی حل بن سکے۔ اس کے نتیجے میں راہ کی تمام رکاوٹوں کو دُور کیا جاسکے گا اور ملک میں امن و امان کی وہ کیفیت پیدا کی جاسکے گی، جس میں عوام سُکھ کا سانس لے سکیں، معیشت رُوبہ ترقی ہوسکے اور ۱۲سال سے جس آگ میں ملک جل رہا ہے اس سے نجات پائی جاسکے۔
اصل ہدف امریکی جنگ سے نکلنا، اس جنگ کو پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پورے علاقے میں ختم کرنے کی راہ ہموار کرنا، ڈرون حملوں کو فوری طور پر بند کروانا اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ یہ تمام اُمور اس طرح ایک دوسرے سے مربوط ہیں کہ ان سے الگ الگ پنجہ آزما نہیں ہوا جاسکتا۔ اس لیے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے اور قوم میں بھی اس مصلحت کے بارے میں مناسب اور مؤثرانداز میں تفہیم کا اہتمام کرنا چاہیے کہ سپلائی لائن کو روکنے کی کوشش ایک ذریعہ ہے، تاکہ ایک طرف عوام کو متحرک کیا جاسکے، تو دوسری طرف مرکزی حکومت اور عالمی راے عامہ کو ڈرون حملوں کو رُکوانے، دہشت گردی کے خلاف اس ۱۲سالہ جنگ کی ناکامی کو الم نشرح کرنے، اور مسئلے کے حل کے لیے متبادل حکمت عملی پر فی الفور اور سرگرمی سے کوشش کو ممکن بنایا جائے۔
ڈرون حملے خود اپنی جگہ ایک ظلم، ایک جرم اور تباہی کا سبب ہیں اور اس کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنیادی حکمت عملی کی راہ کی بڑی رکاوٹ ہیں۔ بظاہر امریکا کو یہ ایک آسان راستہ نظر آیا ہے کہ اپنی فوجوں کو جانی نقصان سے بچانے کے لیے جدید ٹکنالوجی کے ذریعے انسانوں کا قتل عام کرے اور سمجھے کہ اس طرح دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس ظلم کے نتیجے میں دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے اور بلانام کے ایک دہشت گرد کی ہلاکت کے نتیجے میں دسیوں نئے دہشت گرد پیدا ہورہے ہیں، اور پوری پوری آبادیاں اپنے پیاروں سے محروم ہوکر غم و غصے اور ہیجان میں مبتلا ہی نہیں ہورہیں بلکہ نفرت اور انتقام کی آگ میں بھی جل رہی ہیں۔ اس طرح یہ حملے بگاڑ اور خطرات میں اضافے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
ایک امریکی دانش ور ڈیوڈ سوان سن نے کاؤنٹرپنچ کے ۲۶نومبر۲۰۱۳ء کے شمارے میں افغانستان میں امریکی فوجوں کو مزید روکے رکھنے کی پالیسی پر سخت تنقید کی ہے اور اس جنگ سے جو کچھ حاصل ہوا ہے، اسے ایک جملے میں بڑی خوب صورتی سے بیان کردیا ہے، یعنی:
ہم افغانستان کی جنگ پر ہر گھنٹے ۱۰ملین [یعنی ایک کروڑ] ڈالر خرچ کر رہے ہیں مگر ہمیں جو کچھ حاصل ہوا وہ یہ ہے کہ ملک میں ہم زیادہ غیرمحفوظ ہیں اور دنیا بھر میں ہم سے نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔
’دہشت گردی کے خاتمے‘ کے نام پر اس جنگ سے امریکا کے اعلان شدہ مقاصد یہ تھے کہ: امریکا کو ہم محفوظ بنارہے ہیں اور دنیا کے دل و دماغ جیتنے کی سعی کر رہے ہیں، مگر امریکی مقتدرہ کو ان دونوں مقاصد میں ناکامی ہوئی ہے۔ یہ تو اعلان شدہ مقاصد تھے۔ اصل مقاصد تو دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنا تھا (global hegemony) اور اس کے دن بھی اب گنے جارہے ہیں۔
امریکا کو ویت نام اور عراق کی طرح افغانستان میں بھی ناکامی کا سامنا ہے اور اپنی آبرو بچانے کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ امریکی عوام کی اکثریت اس جنگ کو ایک ناکام مہم جوئی قرار دے رہی ہے اور اس سے نجات کا مطالبہ کررہی ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں ماسوا، اسرائیل اور بھارت، امریکا کی مقبولیت کا گراف اتنا گرچکا ہے کہ ۵۰ سے ۹۰ فی صد لوگ اس سے متنفرہیں۔ پاکستان میں ۹۳فی صد اسے دوست نہیں سمجھتے اور اب تو خود افغانستان کے وہ عناصر جن پرامریکا کو تکیہ تھا، اس جنگ کی ناکامی اور امریکا سے نجات کی بات کر رہے ہیں۔
۲۳نومبر ۲۰۱۳ء کابل میں امریکا کے ساتھ دوطرفہ معاہدے کے بارے میں جولویہ جرگہ
منعقد ہوا ہے، اس میں حامد کرزئی کی تقریر کے دوران ایک خاتون شریکِ جرگہ نے بلندآواز سے کہا: ’’امریکی افواج نے بہت زیادہ افغان خون بہایا ہے، یہ اب رُکنا چاہیے‘‘، جس نے تمام شرکا کو ششدر کردیا اور عالمی میڈیا کو اس فطری ردعمل کا نوٹس لینا پڑا (الجزیرہ، انگلش، ۲۵ نومبر ۲۰۱۳ء)۔ حامدکرزئی اور امریکا میں اعتماد کا فقدان ہے جس کا اظہار کرزئی نے جرگہ سے اپنے خطاب میں ان الفاظ میں کیا: ’’مجھے امریکا پر زیادہ اعتماد نہیں ہے۔ میں ان پر اعتبار نہیں کرتا، وہ مجھ پر اعتبار نہیں کرتے‘‘۔
اس موقع پر، جب کہ امریکی سفیر جیمز کوٹنگم بھی سامنے موجود تھا، حامدکرزئی نے جو کچھ کہا ہے وہ اہم ہے اور اس میں پاکستان کے ان دانش وروں اور خصوصیت سے لبرل لیفٹ لابیز کے بلندآہنگ سورمائوں کے لیے بڑا سبق ہے جو امریکا کی اس جنگ کو اپنی جنگ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ افغان صدر نے کہا: ’’اگر ہم نے جنگ کا آغاز کیا ہوتا تو ہم ہی اسے ختم کرسکتے تھے۔ اگر ہم نے آغاز نہیں کیا تو ہم اسے ختم نہیں کرسکتے۔ اس جنگ کا آغاز ہمارے علاوہ کسی اور نے کیا‘‘۔
اسی طرح حامدکرزئی نے چند دن پہلے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے جنگ کی ناکامی کا کھلے الفاظ میں اعتراف کیا ہے جسے امریکا نے بڑی ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔ افغان صدر کا ارشاد ہے:’’سلامتی کے محاذ پر ناٹو کی تمام مشقیں بہت زیادہ تکالیف اور جانیں جانے کی وجہ بنی ہیں‘‘۔اور پھر نہایت مایوسی سے اعتراف کیا کہ: ’’اور کچھ حاصل نہیں ہوا، اس لیے کہ ملک محفوظ نہیں ہے‘‘۔
اس تباہ کن جنگ کا آغاز بھی امریکا نے کیا ہے اور اسے ختم بھی اسے ہی کرنا ہوگا۔ افغانستان اس کی اصل آماج گاہ ہے لیکن پاکستان کو بھی اس جنگ میں زبردستی شریک کرلیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اپنی اس جنگ کے اخراجات کے ایک حصے کا بل بھی امریکا ہی ادا کر رہا ہے جسے پاکستان کے باب میں کولیشن سپورٹ فنڈ کا نام دیا گیا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ان تاریخی حقائق اور اُجرت کی جزوی وصولی، جو کبھی کبھی حقارت آمیز تک ہوجاتی ہے، کے باوجود ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کا ایک حصہ اسے اپنی جنگ کے طور پر پیش کرنے لگا ہے اور اب تو انتہا یہ ہے کہ یہ لابی ڈرون حملوں پر ظاہری تشویش کا اظہار کرنے کے بعد ان کی افادیت، ضرورت اور ناگزیریت تک کی باتیں کررہی ہے، اور امریکا اور ناٹو افواج کے لیے رسد کو بھی اس لیے ضروری قرار دے رہی ہے کہ اس کا تعلق بین الاقوامی معاہدے سے ہے اور اس سے امریکی فوجوں کی افغانستان سے واپسی میں مدد ملے گی۔
ضرورت ہے کہ ان تمام اُمور پر کھل کر بات کی جائے اور پاکستان کی آزادی اور سلامتی کی حفاظت اور اس کے اسٹرے ٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے واضح پالیسی بنائی جائے، اور دنیا کی تمام سیاسی قوتوں سے صرف قومی مفاد اور وقار کے مطابق معاملہ کیا جائے۔ اس وقت ڈرون حملوں کو رُکوانا اور اس کے لیے بشمول سپلائی لائن کو بند کرنے کے مختلف leverages استعمال کرنا قوم و ملت کی اہم ترین ضرورت بن گیا ہے۔ لیکن ہمیں اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ ڈرون حملے امریکی جارحیت اور مداخلت کا صرف عنوان ہیں اصل ایشو ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے نکلنا اور امریکا سے تعلقات کی خیالی نہیں بلکہ حقیقی بنیادوں پر تشکیل نو کرنا ہے۔ اس کے لیے ڈرون حملوں کا رُکنا اولین ضروری قدم ہے اور سپلائی لائن روکنے کی کوشش کا مقصد حکومت کی پالیسی اور کارروائی میں وہ تبدیلیاں لانا ہے جو اس مقصد کے حصول کو ممکن بناسکے۔ طالبان سے مذاکرات کا مقصد بھی دہشت گردی اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ دونوں ختم کرانے اور ملک میں امن اور سلامتی کی فضا پیدا کرنے کی کوششوں کے باب میں حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری پاکستانی قوم مذاکرات چاہتی ہے اور تمام سیاسی جماعتوں نے اسی قومی طلب کو۹ستمبر کی ’کل جماعتی کانفرنس ‘ کی قرارداد کی شکل میں پیش کیا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو امریکا نہیں چاہتا اور امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وہ ہراس کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم ہے جو اس کے ایجنڈے کے مطابق نہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ ایک بار اُن بنیادوں کو واضح طور پر بیان کردیا جائے جن کا اِدراک صحیح حکمت عملی کے بنانے کے لیے ضروری ہے:
۱- پاکستان اور افغانستان دینی، سیاسی، تہذیبی، قبائلی، خاندانی اور معاشی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔ وہ صرف جغرافیائی طور پر ہی ہمسایہ نہیں۔ یہ رشتہ ہمہ جہتی اور تاریخی اعتبار سے صدیوں کے تعلق کی بنیاد پر استوار ہے اوراپنے بہت سے اختلافات کے باوجود ہر بُرے وقت میں یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے پشتی بان اور مددگار رہے ہیں۔ گذشتہ ۱۲برسوں میں اس رشتے میں جو دراڑیں پڑی ہیں وہ امریکا کی افغان جنگ کی وجہ سے ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کا فرض ہے کہ اپنی اپنی غلطیوں کا احساس اور اعتراف کرتے ہوئے دوستی، بھائی چارہ اور باہمی تعاون کے اصل رشتوں کو استوار کریں۔ ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت سے مکمل گریز کریں اور سیاسی اُمور کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے طے کریں۔ ان ۱۲برسوں میں امریکا کا کردار بڑا منفی رہا ہے جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کو بڑا عظیم نقصان ہوا ہے جس کی تلافی اب ہمارا ہدف ہونا چاہیے۔ اس کے لیے افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلا ضروری ہے۔ اگر امریکی افواج ۱۰ یا ۱۲ہزار کی تعداد میں مع نو فوجی اور ہوائی اڈوں کے وہاں رہتی ہیں تو نہ افغانستان میں یہ جنگ ختم ہوگی اور نہ پاکستان اس آگ کی لپٹوں سے بچ سکے گا۔
۲-افغانستان میں ضروری ہے کہ قومی مفاہمت کی بنیاد پر افغانستان کی تمام سیاسی اور دینی قوتیں مل کر کسی بیرونی مداخلت کے بغیر، اپنے معاملات کو طے کریں، اور ملک کو نہ صرف خانہ جنگی کے خطرات سے بچائیں بلکہ قومی تعمیرنو اور ترقی کے ایک نئے دور کے لیے سب مل کر سرگرمِ عمل ہوجائیں۔ اس سلسلے میں مُلّاعمر نے عیدالاضحی کے موقعے پر جو پیغام دیا ہے وہ بڑا اہم ہے کہ اس میں امریکی اور ناٹو افواج کے مکمل انخلا کے ساتھ تین اہم باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، یعنی:
ا- افغانستان میں ایک ایسا سیاسی انتظام جس میں وہاں موجود تمام افغان قوتیں اور عناصر شریک ہوں، یعنی سب کو ساتھ لے کر چلنے کا نقطۂ نظر۔
ب- تعلیم اور دوسرے اُمور کے بارے میں وسعت نظر کا عندیہ۔
ج- معصوم انسانوں کو ہلاکت کا ہدف بنانے سے مکمل احتراز۔
کچھ دوسرے بیان بھی اپنے اندر نئی اور کھلی سوچ کا پیغام رکھتے ہیں۔ یہ مثبت اشارے ہیں۔ پاکستان اور دوسرے حقیقی ہمسایہ ممالک خصوصیت سے ایران کی کوشش ہونی چاہیے کہ افغان مسئلے کا افغان حل نکالا جائے اور سب مل کر ملک کے استحکام کے لیے کوشش کریں۔ پاکستان کا مفاد اس میں ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور وہ بیرونی عناصر خصوصیت سے امریکا اور بھارت کے کھیل کا حصہ نہ بنے۔ ہمیں افغانستان کے معاملات کو افغان بھائیوں پر مکمل طور پر چھوڑ دینا چاہیے تاکہ ایک طرف ہمارے مشترک مفادات کا حصول ہوسکے تو دوسری طرف دونوں کے اپنے اپنے مفادات کا احترام ہو۔ یہ تعلق سچائی اور شفافیت پر مبنی ہونا چاہیے، اسی میں خیر ہے۔
۳- پاکستان کے لیے اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں کہ امریکا کی اس جنگ سے ایک متعین نظام الاوقات کے مطابق اپنے تعلق کو ختم کرے، اور اس جنگ میں شراکت اور امریکا سے معمول کے سیاسی، سفارتی اور معاشی تعلقات جو دو الگ الگ ایشوز ہیں، ان پر الگ الگ معاملہ کرے۔ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے نکلنے اور اس میں امریکا کے شریکِ کار نہ رہنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم امریکا سے ٹکرائو یا جنگ چاہتے ہیں، البتہ یہ ایک حقیقت ہے اور امریکا کے ۶۶سالہ تعلقات کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ امریکا سے ہماری اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ نہ کبھی تھی اور نہ ہوسکتی ہے۔ یہ اس لیے کہ زمینی حقائق اس کے لیے سازگار نہیں۔ جہاں تک عمومی دوستی کا تعلق ہے، جسے سفارت کاری کی اصطلاح میں transactional relationsکہا جاتا ہے وہ دونوں کے مفاد میں ہیں اور ماضی میں ہمارے حقیقی تعلقات اس سطح سے کبھی بھی بلند نہیں ہوسکے۔ اس لیے زمینی حقائق کی روشنی میں تعلقات کو معروف دوستی اور مشترک مفادات کے باب میں تعاون کی بنیاد پر ازسرِنو مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک شفاف انداز میں اس جنگ سے ہم نکلیں اور اگر ہمیں نکلنے نہ دیا جائے تو پھر اپنے مفادات کی روشنی میں مناسب اقدام کریں۔
اس کے لیے حکومت کو کیا کرنا چاہیے وہ ہم ضروری وضاحت کے ساتھ قوم اور حکومت اور اس کے تمام اداروں کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ ان اُمور پر کھل کر دلیل کے ساتھ بات ہونی چاہیے۔ ایک دوسرے کو بلیک میل کرنے کی مذموم کوشش سے مکمل احتراز کیا جائے، جو بدقسمتی سے اس وقت کی جارہی ہے اور اس کا خصوصی نشانہ جماعت اسلامی پاکستان اور تحریک انصاف ہیں۔ یہ روش نہایت نقصان دہ ہے۔ ہم دلیل سے بات کرنے کے لیے ہروقت تیار ہیں اور دلیل سے قائل کرنے اور قائل ہونے کو صحیح راستہ سمجھتے ہیں لیکن غیرمتعلقہ بحثوں کو اُٹھا کر ایک اصولی تحریک کو نشانہ بنانے کی کوشش نہ ماضی میں کامیاب ہوئی ہے اور نہ آج ہوسکتی ہے۔ جماعت اسلامی اور اس کی قیادت نے مختلف اَدوار میں ایسے حملوں کا استقامت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے اور یہی توقع ہم تحریکِ انصاف اور دوسری تعمیری قوتوں سے بھی رکھتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ نے بڑی سچی بات کہی تھی کہ برسرِاقتدار عناصر یہ نہ سمجھیں کہ اصولی جماعتوں کو دھونس، دھمکیوں اور غلط بیانیوں سے مغلوب کیا جاسکتا ہے، بلکہ ان کی حیثیت لوہے کے چنوں کی سی ہے جن کو چبانے کی کوشش کرنے والے کے دانت ٹوٹ تو سکتے ہیں مگر ان لوہے کے چنوں کو چبایا نہیں جاسکتا___ ان شاء اللہ۔
واضح رہے کہ عوام احتجاج اور دھرنوں پر اس لیے مجبور ہوتے ہیں کہ حکومت اور ذمہ دار افراد اور ادارے معروف سیاسی راستوں کو عملاً غیرمؤثر بنادیتے ہیں اور سیاسی معاملات کے سیاسی حل سے اجتناب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں کو ایسے معاملات میں بھی مداخلت کرنا پڑتی ہے جو بالعموم ان کے دائرے میں داخل نہیں، لیکن دستور میں دیے ہوئے بنیادی حقوق کے محافظ کی حیثیت سے جب متعلقہ ادارے دادرسی میں ناکام رہتے ہیں تو پھر عدالتوں کو اقدام کرنا پڑتا ہے۔
ڈرون حملوں کا مسئلہ کسی ایک علاقے یا کسی ایک جماعت اور گروہ کا مسئلہ نہیں۔ یہ پاکستان کی پوری قوم اور ملک کی آزادی، خودمختاری، سلامتی اور عزت و وقار کا مسئلہ ہے۔ اس کا تعلق اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور پاکستان کے دستور سے ہے جن کی ان کے ذریعے دھجیاںبکھیری جارہی ہیں۔ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور عالمی انسانی قانون (International Humanitarian Law)سے اس کا قریبی تعلق ہے۔ یہ ملک میں دہشت گردی کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے اور پورے پورے علاقے کے امن و امان اور لاکھوں انسانوں کی زندگی کے سُکھ اور چین سے اس کا تعلق ہے۔ لیکن حکومت اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ ڈرون حملے امریکی استعمار کا ایک شرم ناک ہتھیار ہیں جسے انتقام اور شبہے کی بنیاد پر انسانوں کے قتل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اب عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے ایوانوں میں، یورپین پارلیمنٹ میں اور خود امریکا میں صرف دانش وروں اور قانون سے متعلق حلقوں ہی میں نہیں خود امریکی کانگرس کی کمیٹیوں کی سطح پر بھی اس پر تنقید ہورہی ہے لیکن ہماری حکومت کا رویہ ناقابلِ فہم ہی نہیں قابلِ مذمت ہے۔
ڈرون حملے کم از کم مندرجہ ذیل بنیادوں پر ناقابلِ برداشت ہیں:
۱- یہ پاکستان کی علاقائی حاکمیت اور خودمختاری پر حملہ ہیں۔ پاکستان کسی بین الاقوامی وارزون کا حصہ نہیں اور اس کی فضائی اور زمینی سرحدات کو جو بھی پامال کرے اور بے دردی سے پامال کرتا رہے وہ ہمارے خلاف جنگی اقدام کا مرتکب ہورہا ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ دستور پاکستان کی سرزمین، اس کی سرحدات اور پاکستان کے شہریوں کے جان و مال اور عزت کی محافظت کی ضمانت دیتا ہے۔ امریکا اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور پاکستان اور اس کے ذمہ دار ادارے پاکستان کے دستور، اس کی سرحدات، اس کی آزادی، حاکمیت اور خودمختاری کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
۲- امریکا کے یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون، اور خود امریکا کے دستور کی خلاف ورزی ہے۔ سلامتی کونسل نے امریکا کو پاکستان کی سرزمین پر کارروائی کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا، حتیٰ کہ امریکی کانگرس میں بھی یہ سوال اُٹھا دیا گیا ہے کہ کانگرس تک سے خفیہ رکھ کر امریکی سی آئی اے اور انتظامیہ جو اقدام کر رہی ہے وہ امریکی دستور کے خلاف ہے۔
۳- عالمی طور پر مسلّمہ تصورِ انصاف اور قانونی پراسس کی کھلی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے جس نے پورے criminal justice کے نظام کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ ماوراے عدالت قتل اور ہدفی (targetted) قتل خواہ افراد کریں یا حکومتیں، جرم ہیں اور اگر ان کا ارتکاب بین الاقوامی سطح پر کیا جائے تو یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں، جیساکہ خود اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے Repporteur نے بار بار کہا ہے اور اکتوبر ۲۰۱۳ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی اپنی رپورٹ میں صاف اور سخت الفاظ میں اس کا اعادہ کیا ہے۔
۴-غیرمتحارب شہریوں بشمول خواتین، بچے اور بوڑھے انسانوں کا قتل، کسی عدالتی عمل کے بغیر، اگر بڑے پیمانے پر ہو تو نسل کشی شمار کیا جاتا ہے جو انسانیت کے خلاف ایک عظیم جرم ہے۔ امریکا کی اس جنگ میں ڈرون کے بے محابا استعمال سے ایک امریکی تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہلاک کیے جانے والوں میں متعین طور پر دہشت گردوں اور ان کے رہنمائوں کی تعداد بمشکل ۳فی صد ہے، جب کہ ۹۷ فی صد کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں کہ ان کا کوئی تعلق کسی بھی درجے میں کسی دہشت گرد گروپ سے تھا۔ امریکی حکومت نے اپنے ناجائزاقدام پر پردہ ڈالنے کے لیے متحارب کی ایک نئی تعریف وضع کی ہے، یعنی متحارب وہ نہیں جو عملاً کسی جنگ یا دہشت گردی میں ملوث ہو بلکہ اس علاقے میں جسے امریکا جنگ کا علاقہ سمجھتا ہے، ہر وہ مرد جو ۱۶ سے ۶۰سال کی عمر میں ہو دہشت گرد تصور کیا جائے گا۔ اس تعریف کو دنیا میں کسی نے قبول نہیں کیا اور نہ اسے قبول ہی کیا جاسکتا ہے کہ اگر اس کا دائرہ اس طرح وسیع کیا جائے تو پھر دنیا کا کوئی بھی مرد کسی نہ کسی کے ڈرون کا نشانہ بننے کا مستحق ٹھیرتا ہے۔
امریکا کے اپنے تحقیقی اداروں کی اب چھے سے زیادہ رپورٹیں شائع ہوچکی ہیں اور جو مبنی ہیں ان ٹوٹی پھوٹی معلومات پر جو میسر ہیں، اور ان کا حاصل یہ ہے کہ ڈرون حملوں سے ہلاک ہونے والے تین سے چار ہزار افراد میں سے ۴۰۰ سے ۹۰۰ تک کو معلوم طور پر سویلین قرار دیا جارہا ہے اور ان میں عورتوں اور بچوں کی تعداد ۳۰۰ سے زیادہ بتائی جارہی ہے۔
۵-پھر ایک اور انسانی پہلو یہ ہے کہ ڈرون صرف لوگوں کو متعین طور پر ہی نشانہ نہیں بناتے بلکہ پوری پوری آبادیوں پر گھنٹوں پرواز کرنے اور فضا کو اپنی مکروہ آواز سے پراگندا کرتے ہیں اور اس طرح ان علاقوں میں بسنے والے تمام لوگوں پر مسلسل خوف کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں، اور تمام آبادی میں خصوصیت سے بچوں اور عورتوں میں ذہنی امراض کا سبب بن رہے ہیں۔ اس طرح یہ ایک اور انداز میں نسل کشی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔
گویا عالمی قانون، ملک کا دستور، عالمی انسانی قانون، اور انسانی معاشرے کے بنیادی آداب، ہر پہلو سے ڈرون حملے ناجائزاور اس ملک اور اس کے باسیوں کے خلاف اقدامِ جنگ اور کھلے کھلے ظلم کا ارتکاب ہیں۔ ان کے لیے جواز فراہم کرنا ذہنی اور اخلاقی دیوالیہ پن کی دلیل ہے۔
۶-یکم نومبر کو جو ڈرون حملہ ہوا ہے اس نے ایک نئے پہلو کا اضافہ کردیا ہے، یعنی امن کے مذاکرات اور سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے کی مذموم سعی۔
ان چھے وجوہ سے پاکستانی قوم اور حکومت کے لیے اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں کہ ڈرون حملوں کے فی الفور بند کیے جانے کا مطالبہ کرے اور اس سلسلے میں کم از کم مندرجہ ذیل اقدام کرے:
۱-حکومت کی طرف سے ان حملوں کے ناجائز اور ناقابلِ قبول ہونے کا اسٹیٹ پالیسی کے طور پر برملا اعلان اور امریکا سے مطالبہ کہ انھیں فی الفور بند کیا جائے ورنہ حکومت اور قوم ان کا توڑ کرنے کے لیے ہرضروری اقدام کرے گی۔ امریکی حکومت کو واضح الٹی میٹم تاکہ اس باب میں کوئی عذر باقی نہ رہے۔ ماضی میں اگر کسی نے کوئی اشارہ دیا بھی ہے تو اس کی تنسیخ اور واضح قومی پالیسی کا اعلان، حالانکہ بین الاقوامی قانون کا یہ اصول بھی مسلّمہ ہے کہ انفرادی حیثیت سے کسی بھی سرکاری یا غیرسرکاری فرد کا کوئی قول ایسے معاملات میں جہاں معاملہ ملک کے دستور اور قانون، حکومت کے ضابطۂ کار اور بین الاقوامی قانون بشمول بین الاقوامی قانون بسلسلہ انسانی حقوق کا ہو،کبھی معتبر نہیں ہوسکتا۔ اس سلسلے میں وزیراعظم صاحب کے واشنگٹن کے دورے کے موقعے پر امریکا کے اداروں نے پاکستان کے سیاسی اور عسکری ذمہ داروں کے ملوث ہونے کے بارے میں جو دستاویزات شائع کی ہیں ان کے قانونی طور پر ناقابلِ قبول ہونے کا اظہار اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی Ristof Heyne Report سے بھی کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈان میں ۱۹؍اکتوبر ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا:
پاکستان کا واضح حوالہ دیتے ہوئے ہینز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے مطابق: فوجی یا خفیہ افسران کی اجازت امریکا کے کسی بیرونی ملک پر ڈرون حملے کرنے کا قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں۔
ہینز کی رپورٹ جس میں دنیا میں مسلح تنازعات میں ڈرون کے استعمال کی قانونی شرائط بیان کی گئی ہیں، کے مطابق: کسی ریاست کی اعلیٰ ترین سرکاری مقتدرہ ہی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ طاقت کے استعمال کی اجازت دے۔ یہ کافی نہیں ہے کہ علاقائی اتھارٹی یا کچھ خاص ایجنسیوں سے یا حکومت کے شعبوں سے کوئی تائید حاصل کرلی جائے۔
ماضی میں جو ہوا سو ہوا لیکن اب حکومت کو صاف الفاظ میں ڈرون حملوں کے بند کیے جانے کا مطالبہ کرنا چاہیے اور پھر امریکا کو عالمی عدالت اور اقوام متحدہ کے کٹہرے میں لانے کے لیے مؤثر اقدام کرنے چاہییں۔ رپورٹ میں اس سلسلے میں بھی واضح رہنمائی موجود ہے:
’’طاقت استعمال کرنے کی اجازت جس لمحے واپس لی جائے تو جو ریاست ڈرون حملے کر رہی ہے بین الاقوامی قانون اس کو پابند کرتا ہے کہ وہ اس لمحے کے بعد مزید کسی حملے سے احتراز کرے‘‘۔ رپورٹ مزید کہتی ہے: ’’ریاستیں اپنی مملکت میں بین الاقوامی حقوق، انسانی قانون اور انسان دوست قانون کی کسی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے سکتی‘‘۔
۲-دوسرا اہم اقدام یہ ہے کہ اگر امریکا ڈرون حملے نہیں روکتا تو سرکاری طور پر سپلائی لائن فی الفور بند کردینی چاہیے اور اس سلسلے میں جو بھی معاہدہ ہوا ہے، جو خود ظلم اور جبر پر مبنی ہے اسے ختم کیا جائے۔ واضح رہے کہ وسط ایشیا سے لے جانے والی سپلائز پرامریکا ۱۷ہزار۵سوڈالر فی ٹرک خرچ کر رہا ہے، جب کہ پاکستان کو صرف ۲۵۰ڈالر فی ٹرک دیا جاتا ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اس سے کم از کم پانچ گنا زیادہ ’بھتہ‘ ہر ٹرک پر خود طالبان کو دیا جاتا ہے۔ ٹرکوں کی اس آمدورفت سے پاکستان کی سڑکوں اور انفراسٹرکچر کو جو نقصان گذشتہ ۱۲سال سے ہوا ہے اس کے بارے میں محتاط ترین سرکاری اندازہ یہ ہے کہ ہمیں ۱۰۰ بلین روپے سے زیادہ کا نقصان ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس راہ داری کی وجہ سے اگر ایک طرف کرپشن کا طوفان آیا ہے تو دوسری طرف اسمگلنگ اور خود اسلحے کی اسمگلنگ کا بازار گرم ہوا ہے اور ۱۹ہزار ٹرکوں کے غائب ہوجانے کا معمہ تو آج تک سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اگر ہم یہ پابندی لگائیں تو اس سے دوسرے ممالک سے ہمارے تعلقات خراب ہوں گے، حالانکہ یہ ایک بے معنی واہمہ ہے۔ ایک آزاد ملک کی حیثیت سے معاہدہ کرنے اور ختم کرنے کا ہمیں اختیار ہے اور دنیا میں ایسا ہوتا ہے۔ پابندیاں بھی لگائی جاتی ہیں، tariff کے ہتھیار کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اب معروف طریقے ہیں اور ان سے کوئی قیامت برپا نہیں ہوتی۔
اسی طرح اس بات میں بھی کوئی صداقت نہیں کہ اس وقت پابندی سے امریکی افواج کے انخلا پر اس کا اثر پڑے گا۔ ابھی تو سپلائز افغانستان جارہی ہیں، اصل واپسی تو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی، نیز واپسی کا انتظام ہماری نہیں امریکا کی ذمہ داری اور ضرورت ہے۔ اگر وہ ہماری شرائط پر ہماری سہولتیں استعمال نہیں کرنا چاہتا تو شوق سے جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ ہمیں اس کے لیے پریشان ہونے کیا ضرورت ہے۔ ڈرون کا معاملہ ہو یا راہ داری کا معاملہ، ہمارے لیے ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے اصل پیمانہ ہماری اپنی آزادی اور حاکمیت اور قومی مفادات کا ہے، اور اگر ہم اپنے قومی مفادات کو دوسروں کے تابع کردیتے ہیں تو یہ آزادی کا نہیں غلامی کا راستہ ہے۔ ہم ہی نہیں دوسرے بھی اس کا احساس رکھتے ہیں۔ مثلاً خود بارک اوباما کے ایک سابق مشیر مائیکل بوے لی (Michael Boyle) اپنے ایک حالیہ مضمون میں اعتراف کرتا ہے کہ :
پاکستانی علاقے میں ڈرون حملے حکومت امریکا کے سامنے جرنیلوں کی بے بسی اور تابع داری کی نہایت طاقت ور علامت ہیں۔(بحوالہ الجزیرہ، انگلش، ۱۱نومبر ۲۰۱۳ء)
اب یہ فیصلہ ہمارے ہاتھوں میں ہے کہ ہم آزادی کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا غلامی اور بے چارگی کا!
۳- تیسری بنیادی چیز یہ ہے کہ ملک میں امریکا کے جاسوسی نظام پر کاری ضرب لگائی جائے۔ امریکی سفارت خانوں اور سفارت کاروں کو ان کی سفارتی حدود میں پابند کیا جائے اور ملکی اور غیرملکی مخبروں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ ڈرون حملے اس کے بغیر ممکن ہی نہیں کہ امریکا کا مؤثر جاسوسی نظام ملک کے اندر موجود ہو اور اسے معلومات اندر سے فراہم کی جارہی ہوں۔ اس سلسلے میں فوری اقدام ضروری ہے۔ واضح رہے کہ اسنوڈن نے جو سرکاری دستاویزات شائع ہونے کے لیے فراہم کی ہیں اور ان میں سے جو دی گارڈین اور نیویارک ٹائمز میں شائع ہوگئی ہیں، ان کی رُو سے سی آئی اے نگرانی پر جو ۶۰۰ملین ڈالر سالانہ خرچ کر رہا ہے اس میں پاکستان کا حصہ تقریباً ۵۰ فی صد ہے۔ یہ ایک ہولناک صورت حال ہے اور اس سلسلے میں حکومت اور ہماری اپنی خفیہ ایجنسیوں کی خاموشی اور مداہنت تشویش ناک ہے۔ یہ پالیسی فوراً تبدیل ہونی چاہیے۔
۴-عالمی سطح پر اس مسئلے کو پوری تیاری کے ساتھ اُٹھایا جائے۔ آج عالمی فضا بدل رہی ہے۔ جگہ کی قلت کے باعث ہم اس کی تفصیل نہیں دے سکتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان ۱۲برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ سے لے کر دنیا کے انسانی حقوق کے معروف ادارے اس مسئلے کو اُٹھا رہے ہیں اور اس کی بازگشت امریکا، برطانیہ اور جرمنی کی پارلیمنٹ تک میں سنی جاسکتی ہے۔ ہماری سفارت کاری بڑی کمزور ہے۔ اس کے لیے عالمی سطح پر ایک مؤثر اور جارحانہ مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ معذرت خواہانہ انداز میں گزارشیں پیش کرنے کا طریقہ ترک کرنا ہوگا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے حقوق کے لیے لڑنا ہوگا۔ دنیا ہماری بات سننے پر مجبور ہوگی اور ہمیں اعوان و انصار ہرجگہ سے مل جائیں گے۔ حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جو رپورٹ Will I be Next? US Drone Strikes in Pakistan کے نام سے شائع ہوئی ہے، اس نے ایک تہلکہ مچا دیا ہے۔ اسی طرح ڈرون کی تباہ کاریوں اور انسان کشی کے بارے میں جو ڈاکومنٹری ’جمائما فائونڈیشن‘ نے جاری کی ہے اس نے عالمی میڈیا کے یک رُخے پروپیگنڈے کا توڑ کیا ہے۔
ضرورت ہے کہ سفارتی محاذ، سیاسی پلیٹ فارم، میڈیا اور سوشل میڈیا، ہرجگہ اس سلسلے میں مؤثر کارروائی کی جائے۔ اس کے اثرات مرتب ہوں گے اور راے عامہ تبدیل ہوگی۔ ضرورت یکسوئی کے ساتھ منظم انداز میں بڑے پیمانے پر جدوجہد ہے___ کیا ہماری حکومت اس کے لیے تیار ہے؟
واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے اپنے ایک واضح فیصلے میں ڈرون حملوں کو پاکستان کی آزادی اور علاقائی سالمیت پر حملہ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور حکومت کو حکم دیا ہے کہ ان کو روکنے کے لیے سیاسی، سفارتی کارروائی کرے اور ان کے غیرمؤثر ہونے کی صورت میں سپلائی لائن کو بند کرنے اور ڈرون حملوں کو عسکری قوت سے روکنے کا اقدام کرے۔ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل نہیں کی جس کے معنی یہ ہیں کہ اب اس کی دستوری ذمہ داری ہے کہ ڈرون کو رُکوانے کے لیے مؤثر اقدام کرے۔
صوبہ خیبرپختونخوا اور ملک کے دوسرے مقامات پر جماعت اسلامی اور تحریکِ انصاف ناٹو کی سپلائی لائن روکنے کے لیے جو جمہوری اور قانونی جدوجہد کر رہی ہیں وہ اس لیے ہے کہ قوم بیدار ہو اور مرکزی حکومت پر دبائو ڈالے کہ وہ ڈرون حملے بند کرانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے اور ’ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم‘ کی پالیسی ترک کرے۔ نیز یہ بھی دراصل امریکا سے اپنے تعلقات کی تشکیل نو کے لیے ایک قدم ہے۔ ساتھ ساتھ امریکا سے جن خطوط کے اندر تعلقات استوار ہونے چاہییں ان کو قومی مشاورت کے ساتھ مرتب کیا جائے، اوردو آزاد ممالک کے درمیان باوقار دوستی اور تعاونِ باہمی کا جو رشتہ ہونا چاہیے اس کے قیام کے لیے نئی پالیسی مرتب کی جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ محکومی کی پالیسی کو ختم ہونا چاہیے۔ دسیوں چھوٹے ممالک ایسے ہیں جنھوں نے سوپرپاورز کے ساتھ عزت اور وقار کے ساتھ باہمی اور مشترک مفادات کے حصول کے لیے پالیسیاں ترتیب دی ہیں اور دھونس اور دبائو کے ہر حربے کو غیرمؤثر بنادیا ہے۔ کیوبا اور ایران اس کی اہم مثالیں ہیں۔ جنوبی امریکا کے متعدد ممالک نے اپنی آزادی، عزت اور مفادات کی روشنی میں کامیاب خارجہ پالیسیاں بنائی ہیں اور امریکا کو بھی ان کا پاس کرنا پڑا ہے۔
نیوکلیرپاورکے سلسلے میں امریکا اور ایران کا حالیہ معاہدہ اس کی ایک تازہ مثال ہے۔ شام پر فوج کشی کے امریکی اقدام کو لگام دینے کے سلسلے میں برطانیہ اور امریکا کی پارلیمنٹ نے جو کردار ادا کیا اور امریکا اور یورپی ممالک کو کس طرح اپنی پالیسی کی تشکیل نو کرنا پڑی، وہ سب حالیہ واقعات ہیں۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگ نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ اب سوپرپاور کی پاور غیرمحدود نہیں اور وہ ملک جسے کل تک ناگزیر ریاست کہا جارہا تھا، اب اس کے اپنے دانش ور برملا کہہ رہے ہیںکہ وہ اب غیرضروری (dispensible)ریاست ہے۔ ولی نصر کی تازہ کتاب اس کی مثال ہے۔
اس لیے ہمیں بھی کھلے ذہن کے ساتھ تمام معاملات کا جائزہ لے کر پوری حکمت اور حقیقت پسندی کے ساتھ، لیکن کسی بھی قسم کی مرعوبیت اور مجبوری کی سطح سے بلند ہوکر، اپنی پالیسی بنانی چاہیے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے باربار آزاد خارجہ پالیسی، ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے نکلنے اور مسئلے کے سیاسی حل اور مذاکرات، ترقی اور سدِّجارحیت کے فریم ورک میں نئی پالیسی کی ضرورت کا مکمل اتفاق راے سے اظہارکیا ہے، مگر حکومتوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ اب وقت آگیا ہے پالیسیاں قوم اور ملک کے مفاد میں اور عوام کی مرضی اور اُمنگوں کے مطابق بنائی جائیں اور عوام کے ساتھ دھوکے اور دوغلے پن کی روش کو یکسر ترک کردیا جائے۔ حکومت کو جس پالیسی پر پورے اعتماد اور تیاری کے ساتھ اور پوری قوم اور اس کی قیادت کو ساتھ لے کر عمل پیرا ہونا چاہیے اس کے چند اہم پہلو یہ ہیں:
۱- خارجہ پالیسی اور دہشت گردی کے مقابلے کے لیے ہمہ جہتی پالیسی کو تمام سیاسی اور دینی قوتوں کی مشاورت سے مرتب کیا جائے، اور ملک اور علاقے کی روایات کی روشنی میں نہ صرف اسے مرتب کیا جائے بلکہ ان کی تنفیذ کے لیے بھی صحیح اور جامع حکمت عملی بنائی جائے۔
۲-حکومت قوم اور سیاسی اور دینی قیادت سے حقائق چھپانے کی پالیسی ترک کرے اور شفافیت کے ساتھ مشاورت کے ذریعے اعتماد کی فضا قائم کرے۔
۳- حکومت اور اس کے تمام اداروں اور ایجنسیوں کے درمیان مناسب ہم آہنگی ہونی چاہیے۔پالیسی سازی میں ہر ایک اپنا کردار ادا کرے لیکن پالیسی بننے کے بعد ہر ادارہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے حصے کی ذمہ داری کو ادا کرے اور ریاست میں ریاست کی کیفیت نہ پیدا ہو۔ اسی طرح پالیسی کو دوغلے پن کے بدنما سایے سے مکمل طور پر پاک ہونا چاہیے۔
۴- پارلیمنٹ کی ۲۲؍اکتوبر ۲۰۰۸ء ، پارلیمانی کمیٹی براے قومی سلامتی کی اپریل ۲۰۰۹ء کی سفارشات، پارلیمنٹ کی ۱۴مئی ۲۰۱۱ء کی قرارداد اور کُل جماعتی کانفرنس کی ۹ستمبر ۲۰۱۳ء کی قرارداد کو پالیسی کی بنیاد بنایا جائے اور اس سلسلے میں باہمی مشاورت سے ایک ہمہ گیر پالیسی تشکیل دی جائے جس پر سب سختی سے عمل پیرا ہوں۔ پالیسی کے نفاذ کی نگرانی کا مؤثر نظام ہو اور پارلیمنٹ میں اس بارے میں کارکردگی کو بار بار پیش کیا جائے تاکہ قوم کو اعتماد رہے۔
۵- اس وقت اصل ہدف ’دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ‘ سے نکلنے، ملک میں ڈرون حملے رُکوانے اور بیرونی حکومتوں کی دراندازیوں اور خفیہ سرگرمیوں کو روکنے کو قرار دیا جائے۔ خودمعیشت کی بحالی کے لیے امن کا قیام ضروری ہے۔امریکا کو اپنی پالیسی کے بارے میں تفصیلی طور پر باخبر رکھا جائے۔ جہاں جہاں تعاون ممکن نہیں وہ لال خطوط سے بھی واضح کردیے جائیں۔ پھر ان کا پورا احترام کیا جائے۔ جہاں تک اندرونِ ملک مسئلے کے حل کا تعلق ہے اس سلسلے میں مذاکرات، ترقی اور سدِّجارحیت کے سہ گانہ تقاضوں کو سامنے رکھ کرایک مربوط پالیسی اور پروگرام وضع کیا جائے۔
۶-حکومت کی پالیسیوں اور عوام کے جذبات، عزائم اور توقعات میں جو خلیج واقع ہوگئی ہے اسے دُور کیا جائے۔ مرکز اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے۔
۷- جس طرح امریکا اور افغانستان کی حکومت اور وہاں کی دوسری قوتوں سے مذاکرات کیے جائیں، اسی طرح ملک میں بھی طالبان سے مذاکرات کے بارے میں پوری حقیقت پسندی کے ساتھ پالیسی بنائی جائے۔ ہمیں یقین ہے کہ امریکا کے بارے میں اور دہشت گردی کی جنگ سے نکلنے کے سلسلے میں ہماری پالیسی کے واضح ہوجانے اور اس پر عمل شروع ہونے سے پورا سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوجائے گا اور طالبان کو بھی ہرقسم کی دہشت گردی سے اجتناب کرنے کے راستے پر لانا ممکن ہوگا۔ ریاست کی رٹ کا قیام ضروری ہے مگر وہ محض قوت سے قائم نہیں ہوسکتی۔ گو قوت کا استعمال بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ رٹ قائم ہوتی ہے قانونی استحقاق (legal legitimacy) اور اخلاقی قوت اور باہمی اعتماد سے، صرف ڈنڈے سے نہیں قائم ہوتی۔ ڈنڈے سے قبضہ (occupation) تو ہوسکتا ہے، حکمرانی نہیں۔ اور یہی ہمارا مسئلہ ہے۔ فاٹا کو ہم نے ۶۶برس تک ’علاقہ غیر‘ بنا رکھا ہے اور اس پر دستور تک نافذ نہیں جس کی دفعہ ۲۵۶ نے اسے دستور کی دسترس سے باہر رکھ دیا ہے اور باتیں کرتے ہیں حکومت کی رٹ کی۔ ایک تدریج سے، مقامی حالات اور روایات کی پاس داری کے ساتھ پہلے اس علاقے کو دستور کی دسترس میں لایئے، وہاں قانون کی حکمرانی اور حقوق کے احترام کا اہتمام کیجیے، تو پھر ان شاء اللہ رٹ بھی قائم ہوگی اور ناپسندیدہ افراد سے بھی نجات پائی جاسکے گی۔
۸- بلاشبہہ ان اقدامات کے ساتھ ساتھ معیشت کی اصلاح اور استحکام اور ایک ایسی معاشی پالیسی کا اجرا ضروری ہے جو ملک کو خودانحصاری کے راستے پر گامزن کرسکے۔ سیاسی آزادی، حاکمیت اور قومی وقار کا حقیقی تحفظ اور اظہار اسی وقت ممکن ہے جب معاشی طور پر ملک میں خودانحصاری کی کیفیت ہو۔ بیرونی امداد اور قرضوں پر انحصار کو بتدریج ختم کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے نئی اور مؤثر حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے۔ بیرونی تعلقات میں بنیادی بات جو امداد یا قرض یا سرمایہ کاری سے بھی کہیں زیادہ ہے، وہ شرائط ہیں جن پر یہ معاملات طے ہوتے ہیں۔ مشروط امداد جو بیرونی قوتوں کے ایجنڈے کا حصہ ہوں غلامی کی زنجیریں ہیں جن کو کسی قیمت پر بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ رہا تجارت اور باہم رضامندی کی بنیاد پر معاشی اور مالی تعلقات تو وہ خودانحصاری سے متصادم نہیں۔ ان کو گڈمڈ کرنا صحت ِ فکر کے منافی ہے۔ پھر تاریخ بتاتی ہے کہ بیرونی امداد کی بنیاد پر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکی لیکن محنتی اور خوددار اقوام پابندیوں کے باوجود ترقی کرتی ہیں بلکہ ان حالات میں زیادہ اچھے انداز میں ترقی اور خودانحصاری کے اہداف کو حاصل کرسکی ہیں۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ قومی سلامتی کی نئی پالیسی کے ایک اہم حصے کے طور پر معاشی پالیسی کی تشکیل نو بھی ضروری ہے۔ اس قوم میں بڑی صلاحیت ہے بشرطیکہ اسے صحیح مقاصد کے لیے صحیح طریقے سے منظم اور متحرک کیا جائے ۔
ع ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ملک کی اسلامی اور جمہوری قوتیں دستور کے مطابق پاکستان کے سارے مسائل کو حل کرنا چاہتی ہیں۔ کسی کو بھی اپنے نظریات قوت کے ذریعے دوسروں پر مسلط کرنے کا اختیار نہیں۔ لیکن موجودہ کیفیت سے نکلنے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے ان سب کا اہتمام کرنا ہوگا۔ کوئی وجہ نہیں کہ سب کے لیے قانون کی بالادستی اور افہام و تفہیم اور جمہوری اور معروف ذرائع سے ملک کے معاملات طے کرنے کے مواقع کی فراہمی کے نظام کے قائم ہونے کے بعد کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا ماوراے قانون اقدام کرنے کا کوئی جواز باقی رہے گا۔ ایسی صورت میں جو بھی دستور اور قانون کی خلاف ورزی کرے، اس کے ساتھ قانون اور عدل کے نظام کے مطابق معاملہ کرنا ہی حق و ثواب کا راستہ ہوگا۔ لیکن اس کیفیت تک پہنچنے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے، وہ کرنا ضروری ہیں اور یہی وقت کی اصل ضرورت ہے۔
۱۰محرم الحرام کو راولپنڈی میں جو الم ناک اور خون آشام واقعہ رُونما ہوا ہے، اس پر ہر آنکھ اشک بار اور ہر زبان مصروفِ مذمت ہے۔ مسجد، مدرسہ، امام بارگاہ، سب کا تقدس بے دردی اور بے شرمی سے پامال کیا گیا۔ کم از کم ۱۱؍افراد شہید ہوئے اور ۱۰۰ کے قریب زخمی، جب کہ ۲۰۰دکانیں نذرِآتش کی گئیں۔ قیمتی جانی اور مالی نقصان کا ابھی پورا جائزہ لینا ممکن نہیں۔ توقع ہے کہ جو تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا گیا ہے وہ پورے حالات کا بے لاگ جائزہ لے کر تمام صورتِ حال قوم کے سامنے لائے گا۔ تاہم، یہ ایک حقیقت ہے کہ اس واقعے نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ پوری قوم مغموم اور مشتعل ہے۔ بڑے بنیادی سوالات ہیں جو ہرذہن کو پریشان کر رہے ہیں اور ان کے واضح جواب تلاش کرنا اربابِ حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ قوم کے سامنے تمام حقائق آسکیں اور اس خونیں واقعے کے تمام ذمہ داران کو قرار واقعی اور عبرت ناک سزا مل سکے۔
بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ واقعہ محض اتفاقی نہیں اور قوم کو فرقہ واریت کی جنگ کی طرف دھکیلنے کے کسی منصوبے کا پیش خیمہ ہے، اور حکومت کی بے تدبیری، نااہلی اور پوری انتظامی مشینری کی غفلت یا کچھ سرکاری عناصر کی معاونت سے اتنا بڑا واقعہ رُونما ہوا ہے۔ پانچ گھنٹے تک معصوم انسان مرتے رہے۔ عبادت گاہیں، مدرسے اور دکانیں جلتی رہیں اور پوری سرکاری مشینری غیرحاضر یا غیرمؤثر تھی اور بالآخر شہر میں کرفیو لگانا پڑا اور فوج کو انتظام سپرد کرنا پڑا۔ جو عناصر اس تباہی کے ذمہ دار ہیں ان کو پوری دیانت اور سُرعت سے حقیقی آہنی ہاتھوں سے قانون کے مطابق گرفت میں لانے کی ضرورت ہے۔ روایتی تحقیقات اور لیپاپوتی نے حالات کو بگاڑ کی اس انتہا پر پہنچا دیا ہے جہاں آج ہم ہیں۔ اس مجرمانہ روش کو ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
مسئلے کے تین پہلو ہیں جن کی طرف ہم توجہ دلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں:
اوّلاً: پورے معاملے کی بے لاگ تحقیق اور پوری شفافیت کے ساتھ اور ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کم سے کم مدت میں اس تحقیق کی روشنی میں مؤثر کارروائی۔ شرپسند عناصر اور ان کے پشتی بانوں کو گرفت میں لانا اور مؤثر اور فی الفور عدالتی کارروائی کے ذریعے انھیں ان کے گھنائونے جرائم کی پوری پوری سزا۔ اس سلسلے میں شرپسند عناصر کے ساتھ پولیس، انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی کارکردگی پر بھی مؤثر گرفت ہونی چاہیے اور جس کی جتنی ذمہ داری ہے اس کے مطابق اسے سزا ملنی چاہیے تاکہ انصاف ہو اور انصاف ہوتا نظر آئے، اور مجرموں کو کھلے عام سزا ملے تاکہ وہ نشانِ عبرت بنیں اور آیندہ کے لیے ایسے واقعات سے ملک کو محفوظ کیا جاسکے۔
اس کے ساتھ جو افراد متاثر ہوئے ہیں ان کی فوری امداد___ شہدا کے خاندانوں اور زخمیوں کی مدد، اور جن کی دکانیں جل گئی ہیں اور عمربھر کی پونجی سے وہ محروم ہوگئے ہیں ان کی معاشی بحالی کا فوری انتظام، نیز مسجد، مدرسہ اور دکانوں کی فوری تعمیرنو، تاکہ متاثرہ افراد اور اداروں کی تلافی ہوسکے۔ یہ تمام کام پوری مستعدی سے اور کم سے کم وقت میں انجام پانے چاہییں، اور راولپنڈی کی دینی اور سیاسی قیادت کو اس پورے عمل کی نگرانی کرنی چاہیے۔
دوسرا بنیادی مسئلہ وہ فرقہ وارانہ کشیدگی ہے جو اس واقعے کے نتیجے میں رُونما ہوئی ہے۔ اِکّادکّا واقعات پہلے بھی رُونما ہوتے رہے ہیں۔ چند گروہ مختلف شکلوں میں اور مختلف مقامات پر یہ کھیل کھیلتے رہے ہیں اور حکومت نے ان عناصر کو قابو کرکے اور قانون کی گرفت میں لانے کے بارے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ الحمدللہ بحیثیت مجموعی پاکستانی معاشرے میں اہلِ سنت اور اہلِ تشیع شانہ بشانہ زندگی گزار رہے ہیں اور شرپسند عناصر ان کے درمیان منافرت کے فروغ اور تصادم کے کھیل میں کامیاب نہیں ہوسکے، لیکن اس واقعے نے نئے خطرات کو جنم دیا ہے اور پورے ملک میں جذبات میں بے حد اضطراب بلکہ اشتعال ہے۔ یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مسئلے کو پوری سنجیدگی سے لیا جائے اور اس چنگاری کو بجھانے کے لیے کوشش کی جائے تاکہ یہ کسی بڑی آگ کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔
۱۹۹۰ء کی دہائی میں بھی ایسے حالات پیدا ہوئے تھے مگر ملک کی تمام ہی دینی جماعتوں نے بڑی حکمت اور بالغ نظری کے ساتھ حالات پر قابو پایا ، ملّی یک جہتی کونسل کی شکل میں ایک منظم تحریکی قوت بن کر تمام مکاتب فکر کو ایک دوسرے سے قریب لایا گیا، ایک دوسرے کی بات کو کھلے دل سے سنا گیا اور حقیقی شکایات کا ازالہ کیا گیا، اور ملی یک جہتی، رفاقت باہمی اور رواداری کی راہیں استوار کی گئیں۔ آج اس کی ضرورت ماضی سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ جس طرح اس وقت فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے اور غلط فہمیوں اور دُوریوں کو پیدا کرنے والے عوامل کی نشان دہی کرنے کے ساتھ متفقہ طور پر ایک ضابطۂ اخلاق طے کیا گیا آج اس کے احیا اور اس پر سختی سے عمل کی ضرورت ہے۔
وقت کی ضرورت ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اور ملک کے تمام دینی اور سیاسی عناصر اس سلسلے میں اپنا کردار پوری مستعدی کے ساتھ انجام دیں۔ملّی یک جہتی کونسل کو بھی اس سلسلے میں ازسرِنو پہل کرنا چاہیے۔ اسی طرح مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو ان اصولوں کی روشنی میں فی الفور ضروری قانون سازی کا اہتمام کرنا چاہیے، نیز مسجدومحراب، اسکول اور مدرسہ، اور میڈیا سے ان اصولوں کی باربار تلقین کی جائے اور عملاً ان کے احترام کا اہتمام کیا جائے۔
۱- اختلافات اور بگاڑ کو دُور کرنے کے لیے ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ تمام مکاتب فکر نظم مملکت اور نفاذِ شریعت کے لیے ایک بنیاد پر متفق ہوں۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے ہم ۳۱سرکردہ علما کے ۲۲نکات کو بنیاد بنانے پر متفق ہیں۔
۲- ہم ملک میں مذہب کے نام پر دہشت گردی اور قتل و غارت گری کو اسلام کے خلاف سمجھنے، اس کی پُرزور مذمت کرنے اور اس سے اظہارِ براء ت کرنے پر متفق ہیں۔
۳- کسی بھی اسلامی فرقے کو کافر اور اس کے افراد کو واجب القتل قرار دینا غیراسلامی اور قابلِ نفرت فعل ہے۔
۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و حُرمت ہمارے ایمان کی بنیاد ہے اور آنحضوؐر کی کسی طرح کی توہین کے مرتکب فرد کے شرعاً و قانوناً موت کی سزا کا مستحق ہونے پر ہم متفق ہیں۔ اس لیے توہین رسالتؐ کے ملکی قانون میں ہم اس میں ہرترمیم کو مستردکریں گے اور متفق اور متحد ہوکر اس کی مخالفت کریں گے۔ عظمت اہلِ بیت اطہار و امام مہدی رضی اللہ عنہم، عظمت ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اور عظمت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و خلفاے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین ایمان کا جز ہے۔ ان کی تکفیر کرنے والا دائرۂ اسلام سے خارج ہے اور ان کی توہین و تنقیص حرام اور قابلِ مذمت و تعزیری جرم ہے۔
۵- ایسی ہر تقریر و تحریر سے گریز و اجتناب کیا جائے گا جو کسی بھی مکتبۂ فکر کی دل آزاری اور اشتعال کا باعث بن سکتی ہے۔
۶- شرانگیز اور دل آزار کتابوں، پمفلٹوں اور تحریروں کی اشاعت، تقسیم و ترسیل نہیں کی جائے گی۔
۷- اشتعال انگیز اور نفرت انگیز مواد پر مبنی کیسٹوں پر مکمل پابندی ہوگی اور ایسی کیسٹیں چلانے والا قابلِ سزا ہوگا۔
۸- دل آزار، نفرت آمیز اور اشتعال انگیز نعروں سے مکمل احتراز کیا جائے گا۔
۹- دیواروں، بسوں اور دیگر مقامات پر دل آزار نعرے اور عبارتیں لکھنے پر مکمل پابندی ہوگی۔
۱۰- تمام مسالک کے اکابرین کا احترام کیا جائے گا۔
۱۱-تمام مکاتب فکر کے مقاماتِ مقدسہ اور عبادت گاہوں کے احترام و تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
۱۲-جلسوں، جلوسوں، مساجد اور عبادت گاہوں میں اسلحہ خصوصاً غیرقانونی اسلحے کی نمایش نہیں ہوگی۔
۱۳-عوامی اجتماعات اور جمعہ کے خطبات میں ایسی تقریریں کی جائیں گی جن سے مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرنے میں مدد ملے۔
۱۴-عوامی سطح پر ایسے اجتماعات منعقد کیے جائیں جن سے تمام مکاتب فکر کے علما بیک وقت خطاب کر کے ملّی یک جہتی کا عملی مظاہرہ کریں۔
۱۵- مختلف مکاتب فکر کے متفقات اور مشترکہ عقائد کی تبلیغ اور نشرواشاعت کا اہتمام کیا جائے گا۔
۱۶- باہمی تنازعات کو افہام و تفہیم اور تحمل و رواداری کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔
۱۷-ضابطۂ اخلاق کے عملی نفاذ کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو اس ضابطے کی خلاف ورزی کی شکایات کا جائزہ لے کر اپنا فیصلہ صادر کرے گا، اور خلاف ورزی کے مرتکب کے خلاف کارروائی کی سفارش کرے گا۔
ان گزارشات کے ساتھ ہم ایک تیسری بات بھی کہنا چاہتے ہیں اور پوری ذمہ داری اور بے باکی کے ساتھ کہنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ ایک مدت سے مغربی اقوام اور خصوصیت سے امریکا کے پالیسی ساز اداروں اور خود امریکی حکومت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ مسلم دنیا کو تقسیم در تقسیم کا نشانہ بنایا جائے، اور اس میں نسلی اور زبانی عصبیتوں کے ساتھ مذہبی، مسلکی اور فرقہ وارانہ عصبیتوں کو اُبھارا جائے اور ان کی بنیاد پر مسلم ممالک کو تقسیم کیا جائے۔
اس سلسلے کا آغاز مغربی استعمار کے مسلم دنیا پر غلبے کے ساتھ ہی ہوگیاتھا اور دولت ِ عثمانیہ کو پارہ پارہ کرنے کے لیے ان ہی عصبیتوں کو اُبھارا گیا تھا۔ پھر ۱۹۶۰ء کی دہائی میں ہنری کسنجر نے عرب دنیا کو امریکا کے قابو میں رکھنے اور اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کے مذموم مقاصد کو یقینی بنانے کے لیے جو حکمت عملی تجویز کی تھی، اس میں نسلی اور مذہبی عصبیت کی بنیادوں پر عرب ممالک کے سیاسی نقشے کی ازسرنو تشکیل کو مرکزی اہمیت حاصل تھی۔ متعدد امریکی تھنک ٹینک انھی خطوط پر پالیسی سازی کے مشورے دیتے رہے ہیں اور نئے سیاسی نقشے بنانے میں مصروف ہیں۔
رابن رائٹ نے نیویارک ٹائمز میں ۲۸ستمبر ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں مشرق وسطیٰ کا ایک نیا نقشہ تجویز کیا ہے جو نئی سُنّی اور شیعہ ریاستوں سے عبارت ہوگا اور آج کے پانچ ممالک ۱۴ملک بن جائیں گے۔ عراق اس کی پہلی بڑی تجربہ گاہ بنائی گئی تھی اور شام، بحرین اور افغانستان کو اس آگ میں دھکیلنے کی کوششیں ہورہی ہیں اور پاکستان بھی اس مذموم ایجنڈے کا حصہ ہے۔ مقصد یہ کہ جہاں بھی کسی ملک کو فوری طور پر تقسیم کیاجاسکتا ہو، وہاں اس کے لیے فضا سازگار کی جائے اور جہاں فرقہ وارانہ اور مسلکی ریاستیں نہ بھی بن سکتی ہوں وہاں بھی فرقہ اور مسلک کی بنیاد پر مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کا کھیل کھیلا جائے ،اور اس میں امریکا ہی نہیں چند مسلمان ممالک کے کچھ حکمران بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عراق میں امریکا نے یہ سارا کھیل کس طرح کھیلا ہے، اس کی پوری تصویر ایک تجزیہ نگار ایشلے اسمتھ (Ashley Smith) نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں پیش کی ہے جو کاؤنٹرپنچ کے ۱۱نومبر ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس سے چند اقتباس پیش کیے جاتے ہیں تاکہ سامراجی قوتوں کے اصل کھیل کو سمجھاجاسکے اور ان لبرل دانش وروں کا اصل چہرہ بھی دیکھا جاسکے جو اس خطرناک کھیل میں آلۂ کار بن رہے ہیں۔
بلاشبہہ بیرونی قوتیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنا کھیل کھیل رہی ہیں لیکن ان کو اعوان و انصار ہمارے اپنے درمیان سے مل رہے ہیں، اور ہماری فکری اور سیاسی قیادت اپنی لاعلمی یا مفادات کی پرستش میں شعوری یا غیرشعوری طور پر ان کے مقاصد کے آگے بڑھانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ ضرورت ہے کہ قوم ان بیرونی سازشوں کو بھی سمجھے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے گھر کی حفاظت اور اپنی صفوں کو ایسے عناصر سے پاک کرنے کی فکر کرے جو اس خطرناک کھیل کا حصہ بن رہے ہیں۔
ایشلے اسمتھ صاف لفظوں میں کہتا ہے:
عراق اور خطے میں فرقہ واریت پھیلنے کے پیچھے اصل مجرم امریکا ہے۔
بش انتظامیہ سُنّیوں اور شیعوں دونوں کی اس مزاحمت کے خلاف جنگ کی مرتکب ہوئی جو وہ بیرونی استعمار کے خلاف کر رہے تھے۔ امریکی افواج نے پہلے سُنّی مزاحمت کو بہت زیادہ ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا اور گھروں پر حملے، عام آدمیوں کی پکڑدھکڑ، ابوغریب میں قیدیوں پر ٹارچر، اور پورے پورے شہروں، جیسے فلوجہ میں تباہی پھیلانے کو ہدف بنایا۔ اس کے ساتھ ہی امریکا نے شیعہ رہنما مقتدا الصدر اور اس کی مہدی فوج کو جبروتشدد کا نشانہ بنایا۔ ایک مختصر عرصے کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ وہ ٹوٹی پھوٹی سُنّی اور شیعہ مزاحمت جو متحد ہونے والی ہے، اس کو روکنے کے لیے واشنگٹن نے سامراج کی پٹاری کا پرانا نسخہ: ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کو استعمال کیا۔ اس طرح امریکا نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے فرقہ واریت کو بڑھایا جس کے ذریعے عراق میں جاری تشدد کا بیج ڈالا گیا۔
ایشلے اسمتھ نے اپنے مضمون میں صدربش کے دور میں رُوبۂ عمل لائی جانے والی حکمت عملی کا قدم بہ قدم ذکر کیا ہے اور پوری تفصیل سے امریکی اقتدار کے چھے سال کا جائزہ لے کر دکھایا ہے کہ کس طرح عراق میں شیعہ سُنّی تصادم کی آگ کو بھڑکایا گیا، اور اب عراق شیعہ، سُنّی اور کرد تین حصوں میں عملاً بٹ چکا ہے۔
اپنے اس تجزیے کی تائید میں ایشلے اسمتھ نے ایک اور مصنف نیر روزن (Nir Rosen ) کی کتاب Aftermath: Following the Bloodshed of America's Wars in the Muslim World کا حوالہ دیا ہے جس کا ایک اقتباس چشم کشا ہے:
گو شیعہ اور سُنّیوں کے درمیان کبھی بھی مکمل ہم آہنگی نہیں رہی، لیکن ان کے درمیان عراق پر امریکی حملے کے وقت تک خانہ جنگی کی تاریخ بھی نہیں تھی۔ آج اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر فروغ دینے والی فرقہ واریت، ذرائع ابلاغ میں مباحث کی بھرمار اور سیاست دانوں اور علما کے جو مباحثے نظر آرہے ہیں ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں تھی، لیکن عراق پر قبضے کے بعد جو علاقے امریکا کے قبضے میں تھے ان میں سُنّیوں اور شیعوں کے درمیان خونیں خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہاں تک کہ شیعہ اور سُنّی تعلقات اس سطح تک پہنچ گئے کہ اگر آپ کسی اجنبی سے ملیں تو پہلی بات یہ جاننا چاہیں گے کہ وہ شیعہ ہے یا سُنّی۔
اسی طرح خود رینڈ کارپوریشن جو امریکا کا ایک بہت ہی معروف اور بااثر تحقیقی ادارہ ہے، اس کی ایک اہم رپورٹ The Muslim World After 9/11 جو صدر جارج بش کے دوسرے دور میں شائع ہوئی تھی اور جو باقاعدہ امریکا کی ایئرفورس کی دعوت پر تیار کی گئی تھی اور اس واضح مقصد کے لیے تیار کی گئی تھی کہ مسلم دنیا میں وہ کون کون سے کمزور پہلو ہیں جن کا فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔ تحقیق کروانے والوں کے اپنے الفاظ میں:
فرقہ ،نسل ، علاقہ اور قوم کی بنیاد پر جو تفریق موجود ہے اس کی تشخیص کرنا اور یہ اندازہ کرنا کہ اس تفریق سے امریکا کے لیے کس طرح کے چیلنج اور مواقع پیدا ہورہے ہیں۔
رینڈ کارپوریشن نے اس تحقیقی رپورٹ میں یہ مشورہ دیا تھا کہ:’’شیعہ سُنّی اور عرب اور غیرعرب کے اختلاف کو مسلم دنیا میں امریکا کے پالیسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے‘‘۔
اس رپورٹ میں اس توقع کا بھی اظہار کیا گیا تھا کہ نئے حالات میں خود سعودی عرب کی شیعہ آبادی امریکا کی طرف اپنے جھکائو کا مظاہرہ کرے گی:
ان کی اُمید یہ ہے کہ عراق میں جمہوریت کے ذریعے شیعہ اکثریت کو اس ملک میں سیاست میں زیادہ مقام ملے گا اور سعودی عرب میں اپنے بھائیوں کی مدد کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح کی اُمیدیں امریکا کے لیے یہ مواقع پیدا کرتی ہیں کہ وہ اپنی پالیسی کو شیعہ جذبات سے ہم آہنگ کرے تاکہ جن ملکوں میں دوسرے لوگ حکمران ہیں وہاں انھیں زیادہ سے زیادہ مذہبی اور سیاسی اظہار کی آزادی ملے اور اپنے معاملات میں ان کی راے کا وزن بڑھے۔
یہ ہے وہ نقشۂ جنگ جو ہمارے دشمنوں نے ترتیب دیا ہے اور ہم ہیں کہ اس جنگ میں شریک ہوکر اپنے ہی دشمنوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے جرم میں شریک ہورہے ہیں۔
مسلمانوں کے تمام ہی معروف فرقے اور مسالک صدیوں سے ایک اُمت کے حصے کے طور پر اپنا اپنا کردارادا کر رہے ہیں اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ کو اپنا رب ماننے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہادی اور آقا، اور سند تسلیم کرنے کے بعد ہم سب ایک رشتے میں جڑگئے ہیں اور اختلافات جو بھی ہیں، وہ اپنی اپنی دلیل پر مبنی ہیں جن کا ماخذ اور سند بالعموم قرآن و سنت ہی ہیں، اور ہر ایک کا مقصد اور خواہش اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت ہی ہے:
اِنَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ز وَّ اَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ o وَ تَقَطَّعُوْٓا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ ط کُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَo (الانبیاء ۲۱:۹۲-۹۳) یہ تمھاری اُمت حقیقت میں ایک ہی اُمت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو ، مگر (یہ لوگوں کی کارستانی ہے کہ) انھوں نے آپس میں اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا___ سب کو ہماری طرف پلٹنا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے کہ:
وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا ص وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا وَ کُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْھَا ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَo (اٰل عمران ۳:۱۰۳) سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمھارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچالیا۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمھارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ ان علامتوں سے تمھیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آجائے۔
معلوم ہوا کہ اللہ کی رسی، یعنی دین اور شریعت کو مضبوطی سے تھامنا ہی دنیا میں راہِ ثواب کے حصول اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے اور اُمت کی وحدت کتاب و سنت پر قائم رہنے پر منحصر ہے۔ پھر تفرقہ اور آپس میں پھوٹ ڈالنے سے واضح طور پر منع فرمایا ہے کہ یہ اُمت کو پارہ پارہ کرنے کا راستہ ہے۔ قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ اختلاف سے منع نہیں کیا، تفرقے سے روکا ہے اور دونوں میں جوہری فرق ہی یہ ہے کہ اختلاف ، اخلاص اور دیانت سے، دلیل کی بنیاد پر، تلاشِ حق کے جذبے ہی کی خاطر ایک فطری عمل ہے جس کی روایت دور رسالت مآبؐ اور صحابہؓ سے آج تک اُمت کی روشن شاہراہ کا حصہ رہی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ ’’میری اُمت کے درمیان اختلاف راے ایک رحمت ہے‘‘۔
مفتی محمد رفیع عثمانی ’اختلاف‘ اور ’تفرق‘ کا فرق یوں واضح فرماتے ہیں کہ ’’اختلاف کا حاصل اور لب ِ لباب تین چیزیں ہیں: ایک یہ کہ جو اختلاف قرآن و سنت کی بنیاد پر اخلاص و للہیت کے ساتھ ہو، اور اختلاف کرنے والوں میں وہ اہلیت بھی موجود ہو جو اس کے لیے ضروری ہے، تو یہ اختلاف ممنوع نہیں بلکہ اُمت کے لیے رحمت ہے۔
دوسرے یہ کہ یہ اختلاف ایسے مسائل میں ہو جن میں قرآن و سنت نے کوئی دوٹوک فیصلہ نہیں کیا ، اور ایسے مسائل میں جن میں اجتہاد کی گنجایش ہوتی ہے، یعنی ایک سے زیادہ آراکا احتمال ہوتا ہے۔ ان میں جو فریق بھی جو راے دلائل کی بنیاد پر قائم کرلے وہ ناجائز اور ناپسندیدہ نہیں ہوتی۔
تیسری بات یہ ہے کہ ہم جو، مثلاً یہ کہتے ہیں کہ ہم حنفی ہیں اور فلاں شافعی یا مالکی یا حنبلی ہے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ امام ابوحنیفہؒ کا قول ہی یقینا، یقینا صحیح ہے، اور امام شافعیؒ کا قول یا کسی اور امام، مثلاً امام احمد بن حنبلؒ یا اما م مالکؒ کا قول جو اس کے مقابلے میں ہے، وہ یقینا غلط ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمارا قول مَظْنُوْنُ الصَّوَابْ اور مُحْتَمَلُ الْخَطَائِ ہے، جب کہ دوسروں کا قول مَظْنُوْنُ الْخَطَائِ اور مُحْتَمَلُ الصَّوَابِ ہے،یعنی ظنِ غالب یہ ہے کہ امام ابوحنیفہؒ کا قول صحیح ہے، اگرچہ احتمال اس کے غلط ہونے کا بھی ہے۔ دیگر ائمہ کے بارے میں ہمارا نظریہ یہ ہے کہ ہمارا ظن غالب یہ ہے کہ وہ خطا ہے لیکن احتمال یہ بھی ہے کہ وہ صحیح ہو۔
دوسری چیز ہے ’تفرق‘، یعنی مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنا۔ یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ شریعت نے کسی بھی حالت میں اس کی اجازت نہیں دی۔ خنزیر کا گوشت کھانا جتنا بڑا حرام ہے، مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنا اس سے بڑا حرام ہے۔ خالص انگور کی شراب پینا جتنا بڑا گناہ ہے، مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنا اس سے بڑا گناہ ہے..... لیکن مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی اجازت کسی حالت میں نہیں دی۔ جتنا ہم نے قرآن و سنت میں غور کیا اور جتنا ہمارے بزرگوں نے ہمیں سکھایا، ہمیں یہی نظر آیا کہ ’تفرق‘ اور فرقہ بندی کے جواز کی کوئی صورت نہیں‘‘۔
اور پھر رواداری اور رحماء بینھم بننے کا نسخہ بھی یوں بیان کرتے ہیں:’’اس سلسلے میں حکیم الامت حضرت تھانوی کا ملفوظ جو بہت مختصر ہے، یاد رکھنے کے قابل ہے، وہ یہ کہ ’’اپنا مسلک چھوڑو نہیں، دوسروں کا مسلک چھیڑو نہیں‘‘۔ جو جس مسلک کا پیروکار ہے وہ اپنے مسلک پر عمل کرے، لیکن دوسروں کو نہ چھیڑے۔ پس میری گزارشات کا خلاصہ یہ نکلا کہ اختلاف راے جائز ہے اور اختلاف کرنے والوں کی آرا کا احترام لازم ہے لیکن افتراق کسی حال میں جائز نہیں۔ ہم اسی افتراق کی وجہ سے تباہ ہورہے ہیں۔ آج کفر ہمیں مٹانے پر تلا ہوا ہے، اور ہم آپس میں جھگڑے کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے مسلک پر عمل کرے اور بھائیوں کی طرح مل کر رہیں اور مل کر کفر کا مقابلہ کریں‘‘۔
علامہ اقبال نے مسلمانوں کی حالت اور وقت کی ضرورت دونوں کو کس خوبی سے پیش کیا ہے:
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
دہشت گردی کی جس آگ میں ملک گذشتہ ۱۲سال سے جل رہا ہے اور جس آگ کی تپش بڑھتی ہی جارہی ہے، اس سے نجات ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ بدقسمتی سے یہ مسئلہ مختلف وجوہ سے پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خود دہشت گردی کی نوعیت کو سمجھنے میں بڑا ذہنی انتشار ہے جسے بیرونی طاقتوں اور خصوصیت سے امریکا کے کردار اور مفادات نے اور بھی اُلجھا دیا ہے۔
ملک میں برپا دہشت گردی کے ایک بڑے حصے کا تعلق امریکا کی افغانستان میں برپا نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس میں پاکستان کی جونیئر پارٹنر کے طور پر شرکت سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کے عسکری اور سیاسی پہلوئوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا اور امریکا کے افغانستان سے انخلا اور مسئلے کے سیاسی حل کے بغیر عسکریت کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ لیکن وہ دہشت گردی جس کی لپیٹ میں اس وقت پورا ملک آچکا ہے، اس میں کچھ دوسرے عناصر اور قوتیں بھی شریک ہیں اور ان میں علیحدگی پسند تحریکوں، علاقائی مفادات کا کھیل کھیلنے والی قوتوں، مذہبی اور مسلکی منافرت پھیلانے والے عناصر، بیرونی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے تخریب کاروں اور پیشہ ور مجرموں، سب کا کردار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہمہ جہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس کی چھتری تلے ہرہرنوعیت کی دہشت گردی کا اس انداز میں مقابلہ کیا جاسکے جس کا وہ تقاضا کرتی ہے اور جس کے نتیجے میں بالآخر امن و امان بحال ہوسکے۔
ان حالات میں ۹ستمبر ۲۰۱۳ء کی کُل جماعتی کانفرنس نے متفقہ طور پر جو رہنمائی فراہم کی ہے، وہ بڑی حقیقت پسندانہ ہے مگر حکومت نے اس پر عمل درآمد کرنے کے لیے آج تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی ہے، جب کہ مخالف قوتیں اس کے شروع ہونے سے پہلے ہی سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ ایک طرف امریکا اور اس کے گماشتوں کا کردار ہے جو فکری اور عملی، دونوں محاذوں پر سیاسی عمل کو پٹڑی سے اُتارنے (de-rail کرنے) میں مصروف ہیں تو دوسری طرف کچھ عسکریت پسند گروہ بھی حالات کو بگاڑنے کے لیے بڑی چابک دستی کے ساتھ تباہ کاریوں اور خون خرابے میں سرگرم ہیں۔ ادھر حکومت کا یہ حال ہے کہ وہ اس خطرناک کھیل کا مقابلہ کرنے کے لیے پورے شعور اور زمینی حالات کے اِدراک کے ساتھ ایک فعال پالیسی اختیار کرنے کے بجاے گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہے اور ہمت اور حکمت دونوں کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہے۔
ان حالات میں ایک طرف وزیراعظم صاحب امریکا تشریف لے گئے ہیں اور دوسری طرف ان کی حکومت نے ۱۵ دن کے اندر دو آرڈی ننس نافذ فرمائے ہیں جن میں سے ایک کے ذریعے ۱۹۷۹ء کے دہشت گردی کے خلاف قانون میں بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں، اور دوسرے نئے آرڈی ننس کا عنوان ہے: تحفظ پاکستان (Protection of Pakistan) آرڈی ننس ۲۰۱۳ء۔ اس کا ہدف حکومت کی رٹ قائم کرنا اور ان عناصر کی سرکوبی کرنا ہے جن کو ملک دشمن تصور کیا جائے۔
دہشت گردی کے حوالے سے جو بھی قوانین ملک میں رائج ہیں، ان پر ضرورت کے مطابق نظرثانی کوئی معیوب شے نہیں بلکہ کچھ حالات میں مطلوب بھی ہے لیکن تین چیزیں ایسی ہیں جو تشویش کا باعث ہیں اور بڑے بڑے سوالیہ نشان اُٹھا رہی ہیں:
۱- ان قوانین کے نفاذ کا وقت ۔
۲- دستور اور جمہوری روایات کے مطابق پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کا راستہ ترک کرکے ۱۵ دن میں تابڑتوڑ دو آرڈی ننسوں کے ذریعے ان کا نفاذ۔
۳- ان قوانین میں دستور میں طے کردہ اصولوں اور حدود کی نزاکتوں کو نظرانداز کرکے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے افراد اور اداروں کے لیے ایسے بے قید اختیارات کا حصول جو بنیادی حقوق اور دستور کی دفعہ ۱۰ (الف) میں ضمانت دیے ہوئے due process of law (ضروری قانونی عمل) کے حق سے ہم آہنگ نہیں۔ان تینوں نکات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ۱۰؍اکتوبر اور ۲۰؍اکتوبر ۲۰۱۳ء کو نافذ کیے جانے والے دونوں آرڈی ننسوں میں جو اختیارات حاصل کیے گئے ہیں اور نظامِ عدل اور قانون کا جو نقشہ ان کے تحت بنتا ہے، اسے سمجھ لیا جائے۔
تحفظ پاکستان آرڈی ننس کے تحت رنگ، نسل، قومیت یا مذہب سے قطع نظر خوف و ہراس پھیلانے اور دہشت گردی کے مرتکب یا اس کا قصد کرنے والے افراد کو ریاست کا دشمن قرار دیا گیا ہے۔ ایسے افراد کو محض سرکاری اطلاعات کی بنیاد پر گرفتار کیا جاسکتا ہے اور تین مہینے تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس آرڈی ننس کے تحت دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات میں سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے تعاون کرسکیں گے اور گمان غالب کی بنیاد پر بھی کارروائی ہوسکے گی، نیز قانون نافذ کرنے والے افراد کو وارنٹ کے بغیر تلاشی اور ہرمقام تک رسائی کا اختیار حاصل ہوگا، اور مزاحمت کی شکل میں یا اس کے خدشے کی صورت میں بھی قوت کے استعمال کا استحقاق ہوگا۔ پھر جن پر جرم ثابت ہو، ان کو کڑی سزا دی جاسکے گی جو کم از کم ۱۰سال قید پر مشتمل ہوگی۔ سنگین مجرموں کے لیے خصوصی جیلیں بنیں گی۔ مخصوص جرائم کے مقدمات کے جلد اندراج اور فوری تحقیقات کے لیے الگ تھانے ہوں گے اور آرڈی ننس کی دفعہ۳۷کے تحت ان مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی وفاقی عدالتیں تک قائم کی جائیں گی۔ اس سب پر مستزاد یہ کہ سول اور فوجی اہل کاروں کو اپنے فرائض کی بجاآوری میں آئینی اور قانونی تحفظ حاصل ہوگا اور احتساب اور نگرانی کا کوئی نظام اس نئے قانون کا حصہ نہیں ہے۔
تحفظ پاکستان آرڈی ننس سے ۱۰ دن پہلے جو آرڈی ننس اینٹی ٹیررزم ایکٹ میں بنیادی ترامیم کے لیے نافذ کیا گیا تھا اس کے تحت گواہوں کو اور عدلیہ کو خصوصی تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور نئی ٹکنالوجی کو تفتیش کے لیے استعمال کرنے کا دروازہ کھول دیا گیا ہے جس میں وڈیوٹیپس اور فرانزک شواہد کو بطور شہادت استعمال کرنا شامل ہے۔ اسی طرح وڈیو لنکس کے ذریعے مقدمات کی سماعت کی گنجایش پیدا کردی گئی ہے اور حکومت کو یہ اختیار بھی دے دیا گیا ہے کہ وہ ملک کے کسی بھی علاقے میں درج دہشت گردی کے کسی بھی مقدمے کو ملک کی کسی بھی عدالت میں منتقل کرسکتی ہے۔
ان قوانین کے تحت ان تمام قانون نافذ کرنے والے افراد اور اداروں کو جس کا تعلق رینجرز، فرنٹیئرکور ، فرنٹیئر کانسٹیبلری یا کسی بھی دوسرے ادارے سے ہو، ان کو پولیس کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے اور وہ بھتہ خوری، اغوا براے تاوان، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ ہی نہیں، خوف و ہراس پھیلانے والے عناصر کو بھی اپنی گرفت میں لے سکیں گے۔
بلاشبہہ دہشت گردی اور اس کی مختلف شکلوں سے نبٹنے کے لیے قانون کا مؤثر ہونا اور قانون نافذ کرنے والوں، گواہی دینے والوں اور عدلیہ کو معقول اور قرارواقعی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ لیکن جتنا یہ پہلو اہم ہے اتنا ہی اہم یہ پہلو بھی ہے کہ تمام انسانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور قانون کے تحت مکمل انصاف کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور قانون کے غلط استعمال کے ہردروازے کو بند کردیا جائے۔ دہشت گردی کسی بھی شکل میں ایک گھنائونا جرم ہے، لیکن دہشت گردی اور خوف و ہراس پھیلانے کے نام پر ایک بھی معصوم انسان کا نشانہ بنایا جانا بھی اتنا ہی گھنائونا جرم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مناسب checks & balance کے بغیر اورہر کسی کے لیے قانون کے اندر جواب دہی (accountability) کے مؤثر نظام کے بغیر معاشرے میں نہ عدل قائم ہوسکتا ہے اور نہ امن و امان اور عزت اور جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ان دونوں پہلوئوں میں توازن ضروری ہے۔
یہ ضرورت اس وجہ سے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہمارے ملک میں مسلسل بگاڑ کے باعث جس طرح عوام کے ایک حصے میں جرم کے رجحانات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اسی طرح یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جن افراد اور اداروں پر قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری ہے، ان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو شتربے مہار بن گئے ہیں اور کرپشن اور ظلم و زیادتی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ ایک تکلیف دہ امر ہے کہ عوام دونوں طرف سے پس رہے ہیں___ مجرموں کا بھی وہ نشانہ ہیں اور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے افراد میں ایسے لوگ خاصی تعداد میں موجود ہیں جو آلۂ ظلم بن گئے ہیں اور عملاً اپنے کو قانون سے بالا تصور کرتے ہیں بلکہ ان کا زعم ہے کہ وہ خود ہی قانون ہیں___ معاذاللہ!
یہی وجہ ہے کہ جس قسم کے غیرمعمولی وسیع اختیارات ان آرڈی ننسوں میں سرکاری اہل کاروں کو دیے گئے ہیں، ان پر بہت سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح خصوصی وفاقی عدالتوں کے قیام کا جو تصور ان میں دیا گیا ہے، اور وفاقی نظام میں نئے پولیس اسٹیشنوں اور خصوصی جیلوں کے قیام کی بات کی گئی ہے، وہ اپنے اندر بڑے دُوررس مضمرات رکھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دو متوازی نظام ہاے عدل کے قائم ہونے کا خطرہ ہے جو دستور کے واضح ڈھانچے سے متصادم ہوگا، اور جس کی کوشش اس سے پہلے بارھویں ترمیم کی شکل میں میاں نواز شریف کے پہلے دورِحکومت میں کی گئی تھی مگر پارلیمنٹ اور عدالت دونوں نے اسے رد کردیا تھا۔
اس تلخ تجربے کے باوجود اس نئے آرڈی ننس کے ذریعے ایک ایسی تجویز کو کتابِ قانون میں داخل کرنا جس کے دُور رس منفی اثرات ہوں، حکمت اور عدل دونوں کے تقاضوں پر پورا نہیں اُترتا۔ انسداد دہشت گردی قانون کے تحت انسداد دہشت گردی کی عدالتیں موجود ہیں۔ اگر ان کی تعداد کم ہے تو انھیں بڑھایا جاسکتا ہے۔ اگر ان میں کچھ دوسری اصلاحات کی ضرورت ہے تو وہ بھی اس قانون کے دائرے میں ہی کی جاسکتی ہیں۔ لیکن ایک طرف صوبائی قانون کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی عدالتیں ہوں اور دوسری طرف وفاقی عدالتیں ہوں اور فیڈریشن کو یہ اختیار بھی ہو کہ جس مقدمے کو جس عدالت اور جس صوبے سے جہاں چاہے منتقل کردے، اس میں بڑے خطرات پوشیدہ ہیں۔ ہماری نگاہ میں یہ دروازہ کھولنا محلِ نظر ہے۔
ان دونوں آرڈی ننسوں کو دستور کی متعلقہ دفعات اور عدل و انصاف اور ہرفرد کے بنیادی حقوق اور حق دفاع کی دستوری ضمانتوں کی میزان پر پرکھنا ہوگا۔ نیز فیڈریشن کے مسلّمہ اصولوں اور خصوصیت سے اٹھارھویں ترمیم کے بعد جو نقشہ مرکز اورصوبوں کے اختیارات کا بنا ہے، اس کسوٹی پر بھی ان کو پرکھنا ہوگا۔ جلدبازی میں اور دہشت گردی کا ہوّا دکھاکر ایسی قانون سازی جو بنیادی حقوق سے متصادم ہو، جمہوریت اور اسلام دونوں کے مقاصد اور مزاج سے متصادم ہوگی۔
تحفظ پاکستان آرڈی ننس میں دہشت گردی کو قانون کے ذریعے ختم کرنے اور فوج داری قانون کے ذریعے اس کا مقابلہ کرکے معروف راستے سے ہٹ کر جارج بش اور امریکی انتظامیہ کے وضع کردہ War Paradigm (بہ مثل جنگ)کو بھی پہلی مرتبہ پاکستان کی کتابِ قانون میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جسے کسی شکل میں بھی قبول نہیں کیا جاسکتا۔ دہشت گردی ایک جرم ہے اور ایک جرم ہی کی حیثیت سے اس کا قلع قمع کیا جانا چاہیے۔ اسے جنگ قرار دے کر انتظامیہ کے لیے شتربے مہار بن جانے کے مواقع فراہم کرنا بے حد خطرناک ہے، اور امریکا نے جو کچھ گذشتہ ۱۲برسوں میں کیا ہے اس کی موجودگی میں یہ کوشش کہ ہماری کتابِ قانون میں بھی یہ تصور جگہ پالے، بے حد خطرناک اور ناقابلِ قبول ہے۔ اس آرڈی ننس میں جس طرح دہشت گردی کو Waging of war against Pakistan کے انداز میں پیش کیا گیا ہے، وہ اپنے اندر بہت دُوررس مضمرات رکھتا ہے۔ اسی طرح قوت کے استعمال کے لیے ہونے والے جرم کے معقول خدشے (reasonable apprehension of a scheduled offence)کو کافی قرار دے دیا گیا ہے۔ قوت کے استعمال کا یہ اختیار بھی ماضی کے تجربات کی روشنی میں اپنے اندر بڑے خدشات لیے ہوئے ہے۔ بلاشبہہ خاطرخواہ تنبیہہ (sufficient warning) کی بات بھی کہی گئی ہے لیکن محض خدشے کی بنیاد پر قوت کا ایسا استعمال جس میں جان ضائع ہوجائے، ایک ایسا اختیار ہے جس کے غلط استعمال کا بڑا خطرہ ہے اور جو ظلم و زیادتی کا راستہ کھولنے کا باعث ہوسکتا ہے جیساکہ ’مقابلہ میں مارے جانے‘ کے نام پر ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
اسی طرح جہاں جرم کے ثبوت کے لیے نئی ٹکنالوجی کا استعمال مفید ہوسکتا ہے، وہیں یہ پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ سرکاری اداروں کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ معاشرے کے تمام افراد کی نجی زندگی (privacy) کو مجروح کرنے کے حربے استعمال کریں اور ٹیلی فون اور ای میل میں مداخلت کریں جس کے نتیجے میں ایک مہذب معاشرہ ایک پولیس اسٹیٹ بن جاتا ہے۔ فرد کی آزادی ایک سراب بن جاتی ہے اور چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہوتا ہے، اس سلسلے میں گذشتہ ۱۲برسوں میں امریکا نے جس طرح خود اپنے شہریوں اور دنیا کے دوسرے انسانوں، اداروں اور حکومتوں کے ڈھکے اور چھپے سب ہی معاملات تک پر جاسوسی کے ذرائع سے رسائی حاصل کی ہے اس نے خود مغربی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ وکی لیکس اور اب سنوڈین کے ذریعے جو معلومات سامنے آئی ہیں اس سے پتا چلتا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے دوست اور دشمن، سب ہی کی نجی زندگی کو پامال کیا ہے، اور دوسروں کے گھروں ہی تک رسائی نہیں حاصل کی ہے بلکہ حکومتوں کے پالیسی سازی کے اداروں کو بھی اپنی الیکٹرانک مداخلت کا نشانہ بنایا ہے جس پر امریکا کے قریب ترین دوست ملک بھی چیخ اُٹھے ہیں۔ ان دونوں آرڈی ننسوں میں شہادت کے لیے جن چیزوں کو معتبر کہا گیا ہے اس سے یہاں بھی ایک غلامانہ ریاست (servilliance state) کے قیام کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ جدید ٹکنالوجی سے فائدہ اُٹھانا ضروری ہے لیکن اس باب میں صحیح حدود کا تعین بھی ضروری ہے جس کا کوئی اشارہ ان قوانین میں نظر نہیں آتا۔
ہم حکومت، پارلیمنٹ کے ارکان، وکلابرادری اور خصوصیت سے انسانی حقوق کی علَم بردار تنظیموں کو دعوت دیتے ہیں کہ ان قوانین پر انسانی حقوق اور عدل اور قانون کی حکمرانی کے مسلّمہ اصولوں کی روشنی میں غور کریں اور محض طالبان دشمنی کے جذبے میں قانون میں ایسی چیزوں کو دَر آنے کا موقع نہ دیں جو معاشرے کی بنیادوں کو ہلا دیں، اور جو ریاست کے اداروں کو حقوق کی پامالی کے لیے کھلی چھٹی دے دیں۔ یاد رہے کہ آج نشانہ جو بھی ہو، کل ہم میں سے ہر ایک بھی نشانے پر آسکتا ہے۔ اس وقت تو ہمارے وہ دوست جو اپنے آپ کو لبرل کہتے ہیں بڑے جوش سے کہہ رہے ہیں کہ ’’طالبان کو مارو اور بھسم کردو‘‘ لیکن ریاست کو مضبوط کرنے(strengthening of the State) کے نام پر جو اختیارات ان اداروں کو آج آپ دے رہے ہیں، کل وہ کس کس کے خلاف اور کہاں کہاں استعمال ہوسکتے ہیں، اس سے خدارا صرفِ نظر نہ کریں۔
ہم یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان دونوں قوانین کو آرڈی ننس کے ذریعے ملک پر مسلط کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ۱۱مئی کے انتخابات کے بعد قومی اسمبلی کے چار اجلاس ہوچکے ہیں۔ قانون سازی کے باب میں موجودہ اسمبلی کی اب تک کی کارکردگی صفر رہی ہے۔ ان چار ماہ میں اسمبلی میں صرف تین سرکاری بل قانون سازی کے لیے تجویز کیے گئے ہیں، جب کہ حکومت کے تین کے مقابلے میں چار پرائیویٹ بل غور کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ گو ابھی تک سرکاری یا غیرسرکاری کوئی ایک بھی بل کتابِ قانون کا حصہ نہیں بن سکا ہے۔ توقع ہے کہ ایک ہفتے میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہونے والا ہے۔ ایسی کیا عجلت تھی کہ دو ہفتے کے عرصے میں دو آرڈی ننس جاری کردیے گئے اور ایک ہفتہ مزید انتظار نہیں کیا گیا کہ اسمبلی ان قوانین پر پوری طرح غوروخوض کرلیتی، کمیٹیوں میں ان پر تفصیلی بحث ہوسکتی۔ پریس اور پبلک دونوں ہی کے لوگ ان قوانین کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے اور اس طرح افہام و تفہیم اور بحث و مشاورت کے نتیجے میں پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی کے تعاون سے مناسب قانون سازی کی جاسکتی۔
ماضی میں ہم سب نے بشمول مسلم لیگ (ن) آرڈی ننس کے ذریعے قانون سازی کی مخالفت کی ہے۔ اٹھارھویں ترمیم میں آرڈی ننس کی تجدید کے بارے میں کچھ پابندیاں بھی اس طریقِ قانون سازی کو مشکل بنانے کے لیے عائد کی گئی ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کو نظرانداز کر کے اس ناپسندیدہ طریقے کو جس کا جواز صرف حقیقی ایمرجنسی میں ہی ہوسکتا ہے ، اختیار کیا گیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ تحفظ پاکستان آرڈی ننس میں تو یہ عجیب و غریب تضاد بھی موجود ہے کہ ایک طرف اسے فوری طور پر اور پورے ملک میں آرڈی ننس کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے اور دوسری طرف اس کے عملی نفاذ کے معاملے کو کھلا چھوڑ دیاگیا ہے جس کے معنی ہی یہ ہیں کہ ایسی کوئی فوری ایمرجنسی نہیں تھی کہ اسے اسمبلی سے بالا ہی بالا نافذ کردیا جائے۔ ملاحظہ ہو دفعہ ۳، جس میں صاف لکھا ہے کہ:’’یہ ایسی تاریخ یا تاریخوں سے نافذالعمل ہوگا جو وفاقی حکومت اس بارے میں طے کرے، نیز اس آرڈی ننس کی مختلف شقوں کے نفاذ کے لیے مختلف تاریخیں بھی مقرر کی جاسکتی ہیں‘‘۔
اختیارات تو لے لیے گئے ہیں لیکن نفاذ کو ابھی معلق رکھا گیا ہے، گویا ان کے استعمال کی کوئی فوری ضرورت نہیں تھی۔ اس وقت جلدی میں پارلیمنٹ میں بحث کے بغیر غیرمعمولی اختیار لے لیا گیا ہے اور اب یہ مرکزی حکومت کی صواب دید ہے کہ اس کو جب اور جتنا نافذ کرنا ہو، کرسکے۔ اگر فوراً ہی اسے نافذ نہیں کیا جارہا تو پھر ایسی جلدی کیا تھی کہ اسمبلی کو نظرانداز (bypass) کیا جائے اور جو قانون اسمبلی کے ذریعے چند ہفتوں میں منظور کرایا جاسکتا ہے وہ اُوپر سے مسلط کردیا جائے۔
جیساکہ ہم نے شروع میں اشارہ کیا کہ ایک پہلو ان قوانین کے نفاذ کے وقت کا بھی ہے۔ ایک طرف آپ مذاکرات کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف آپ جنگ کے اعلان کی تیاریاں کررہے ہیں اور تلواریں سونت کر اکڑفوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔اسے انگریزی محاورے میں blowing hot and cold in the same breathکہتے ہیں جو کبھی بھی اچھی حکمت عملی نہیں ہوتی۔
آخیر میں ہم ایک بنیادی بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اصل مسئلہ قانون کی موجودگی کا نہیں، قانون کے احترام اور اس کے عملی نفاذ کا ہے۔ دہشت گردی کے مقابلے کے لیے ۱۹۹۷ء سے قانون موجود ہے جس میں ایک درجن سے زیادہ ترامیم ہوچکی ہیں اور مزید بھی ہوسکتی ہیں، لیکن عملاً اس پر اور دوسرے قوانین پر عمل نہیں ہورہا۔ پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور افراد اپنی صلاحیت کار کے اعتبار سے وقت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لائق نہیں ہیں۔ سروسز میں کرپشن نے گھر کرلیا ہے اور سیاسی بنیادوں پر تقرریوں نے ان کی وفاداری، ساکھ اور کارکردگی ہر ایک کو تباہ کردیا ہے۔ ٹکنالوجی اور ٹریننگ دونوں کے اعتبار سے وہ بہت خام ہیں اور وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ حکومتوں کا اپنا رویہ بھی صاف ستھرا (above board) نہیں۔ وہ دستور، قانون اور قومی مفاد کے مقابلے میں ذاتی اور گروہی مفادات کو فوقیت دیتے ہیں۔ پولیس میں ہزاروں کی تعداد میں سیاسی بنیادوں پر یا رشوت لے کر تقرریاں ہوئی ہیں اور ہربرسرِاقتدار پارٹی نے اپنے اپنے دور میں بہتی گنگا میں خوب خوب ہاتھ دھوئے ہیں۔ اسی طرح مالی وسائل اور بجٹ کا مسئلہ بھی ہے۔ اگر پولیس تفتیش، جیلوں اور عدالتوں کا ایک نیا ملک گیر نیٹ ورک پیش نظر ہے تو اس کے لیے مالی وسائل کہاں سے آئیں گے؟اگر ان تمام پہلوئوں کو نظرانداز کردیا جائے اور قانون پر قانون بنائے جائیں تو اس سے تبدیلی اور خیر کی توقع عبث ہے۔اتنے اہم مسئلے پر جلدبازی سے کچھ حاصل نہیں۔ پارلیمنٹ اور میڈیا دونوں ان تمام اُمور پر کھل کر بحث کریں۔ وکلابرادری اور سیاسی اور سول سوسائٹی کو اپنی راے کے اظہار کا موقع دیا جائے اور اس طرح وسیع تر قومی مشاورت سے ان نازک اُمور پر مناسب قانون سازی کی جائے۔ مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو اپنے طور طریقے بدلنا ہوں گے اور وہ راستہ اختیار کرنا ہوگا جو حقیقی مشاورت پر مبنی ہو۔ اس میں سب کے لیے خیر ہے۔ وما علینا الا البلاغ۔
جنگ دو دھاری تلوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ جہاں انسانیت کے لیے فساد فی الارض سے نجات کا وسیلہ بن سکتی ہے، وہیں وہ اسے ایک عظیم تر فساد کی آگ میں جھونکنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے جو قانون دیا ہے، اور جو اپنی آخری اور مکمل شکل میں قرآن اور سنت نبویؐ میں محفوظ ہے، اس میں اس بارے میں ایسی رہنمائی دی گئی ہے جو انسانیت کو فساد سے بچاسکے اور عدل وا نصاف کی راہیں ہموار کرسکے۔
اس قانون کی رُو سے جنگ کے باب میں دو اہم ترین شرطیں واضح کردی گئی ہیں ، یعنی: اول یہ کہ جنگ زر اور زمین کے حصول، محض سیاسی قوت، معاشی بالادستی اور دوسرے مفادات، تعصبات یا محض جہاں گیری اور اپنی قوت کے غلبے کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔ مبنی برحق جنگ وہی ہوسکتی ہے جو دفاع یا ظلم کے مقابلے کے لیے ہو۔ اس اصولی اور ابدی ہدایت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جنگ کے جواز کو حق اور عدل سے مشروط کردیا۔ اس کے ساتھ دوسری اہم تحدید یہ بھی کردی کہ خود جنگ کے دوران ہر قسم کے ظلم اور انسان سوز زیادتیوں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ دشمن کی عسکری قوت پر بھرپور ضرب ہو لیکن عام انسانوں، خصوصیت سے معاشرے کے ان تمام عناصر کے جان، مال اور آبرو کی مکمل حفاظت کی جائے جو شریکِ جنگ نہیں ۔ (non-combatants) دشمن کی عبادت گاہوں، عورتوں، بچوں، حتیٰ کہ پھل اور سایہ دار درختوں اور کھڑی فصلوں تک کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ اس لیے کہ جنگ کا ہدف صرف حقیقی امن اور انصاف کا حصول ہے اور جنگ کے دوران میں عام انسانوں اور بستیوں کو تباہی سے بچانا اور امن کے پیامبر ہونے کا ثبوت پیش کرنا جنگ کے آداب کا حصہ ہے۔
اسلام کی ان تعلیمات کا دورِ جدید کے بین الاقوامی قانون کے ارتقا پر واضح اثر دیکھا جاسکتا ہے۔ سولھویں صدی کے بعد جو قانون وجود میں آیا ہے، اس میں سفارت کاری کے اصول و آداب کی حد تک ہی سہی، بین الاقوامی کنونشنز (conventions) پر مبنی برحق جنگ (just war) اور جنگ کے دوران عدل و انصاف کے اہتمام (justice in war) کے اصولوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جن اقوام کو ’مہذب‘ اقوام ہونے کا دعویٰ ہے، انھوں نے ان دونوں حیات بخش اور امن پرور اصولوں کو بُری طرح پامال کیا ہے۔ اس کی تازہ ترین اور اندوہناک مثال دہشت گردی سے دنیا کو پاک کرنے کے نام پر وہ جنگ ہے، جو امریکا نے ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے افسوس ناک اور قابلِ مذمت واقعات کا سہارا لے کر پوری دنیا پر مسلط کی ہے اور عالمی دہشت گردی کا ایک شرم ناک خونیں باب رقم کردیا ہے۔
بظاہر ۲۰۱۴ء میں افغانستان سے امریکی اور ناٹو افواج کی واپسی کے اعلانات کیے جارہے ہیں، مگر ان کے باوجود جنگ و جدال اور ریاستی اور مزاحمتی دہشت گردی کی آگ کے ٹھنڈے ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے۔ اگر امریکی افواج ہزیمت و شرمندگی کے ہاتھوں مجبور ہوکر افغانستان سے واپس چلی بھی جائیں، تب بھی یہ علاقہ اور دنیا کے دوسرے حساس علاقے جنگ کی آگ میں سلگتے رہیں گے اور کسی نہ کسی طرح ان ممالک پر مغرب زدہ نام نہاد لبرل سیکولر نظام کے حاشیہ بردار اور وہاں کی سیاسی اور عسکری قوت کے گٹھ جوڑ سے عوام کو، خصوصیت سے اُمت مسلمہ کو، اپنی گرفت میں رکھا جائے گا، تاکہ اس کے قومی و معدنی وسائل کی لُوٹ مار کا سلسلہ جاری رہے، اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو کھل کھیلنے کے مواقع حاصل رہیں۔
۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعے اور اس کے نام پر شروع کی جانے والی جنگ کو ۱۲برس ہوگئے ہیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ان ۱۲برسوں کا بے لاگ جائزہ لیا جائے۔ یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ اس جنگ کے ذریعے امریکا نے کیا حاصل کیا اور کیا کھویا اور اس سے بھی بڑھ کر اس کے نتیجے میں ان ممالک کو کیا ملا، جو امریکا کے حلیف بنے یا جن کو امریکا نے اپنا ہدف بنایا۔اس لیے کہ اس جنگ کی سب سے بڑی حقیقت ہے ہی یہ کہ مغربی اقوام نے اسے اُمت مسلمہ کی سرزمین پر لڑا ہے، اور وقتی اسباب جو بھی ہوں، اپنے عالمی ایجنڈے کے مطابق لڑا ہے۔ بظاہر مقصد القاعدہ کو ختم کرنا تھا، پھر طالبان ہدف بنے، پھرعراق کے ایٹمی ہتھیار جن کا کوئی وجود نہ تھا۔ پھر جمہوریت کے فروغ، عورتوں کے حقوق کی پاس داری، تعلیم کے فروغ اور معاشی ترقی کے خواب دکھائے گئے، لیکن اصل مقاصد صرف اپنے سیاسی اور معاشی ایجنڈے پر عمل تھا اور اس کے لیے ان ممالک میں، خصوصیت سے افغانستان، عراق، یمن اور خود پاکستان میں ایسے عناصر کو آلۂ کار بنایا گیا جو ملک و ملّت کے مفادات کو ذاتی اقتدار اور مفادات پر بے دریغ قربان کرنے کو تیار ہوں۔ وقت آگیا ہے کہ اس پورے دور کا بے لاگ تجزیہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ کس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اور اس کی روشنی میں آگے کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ اس موضوع کا حق ایک مقالے میں ادا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ موضوع تو ایک یا ایک سے بھی زیادہ کتابوں کا تقاضا کرتا ہے۔ مغرب میں یہ عمل شروع ہوچکا ہے اور مسلمان اہلِ علم کو بھی اپنے مقاصد، اہداف اور مفادات کی میزان پر اس دور کی پالیسیوں اور رُونما ہونے والے نتائج اور حالات کا صحیح صحیح تجزیہ کرکے نفع و نقصان کے پورے اِدراک کے ساتھ آگے کا نقشۂ کار تیار کرنا چاہیے۔ پاکستان میں اس وقت ۱۱مئی کے انتخابات کے نتیجے میں نئی حکومتیں وجود میں آگئی ہیں جن میں عوام نے تبدیلی کا پیغام دیا ہے۔ اگر نئی حکومتیں اس تاریخی موقع کو ضائع کردیتی ہیں اور امریکا ہی کے احکام پر عمل پیرا رہتی ہیں تو اس سے بڑی غداری کا تصور بھی مشکل ہے۔
اس جنگ کے ۱۲برس پورے ہونے پر نئی حکومت اور پوری قوم کو دعوت غوروفکر دینے کے لیے ہم چند اہم گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کی اہمیت اس بحث کے پس منظر میں مزید بڑھ گئی ہے کہ اس نازک وقت پر بھی پاکستان کی امریکی جنگ میں شرکت اور اس کی تمام تباہ کاریوں کا مزہ چکھنے کے باوجود شمالی علاقہ جات ہی نہیں، پورے پاکستان میں فوجی آپریشن اور قوت کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نئی اور وسیع تر معرکہ آرائی کے لیے فضا ہموار کی جارہی ہے۔ یوں ملک کو ایک نہ ختم ہونے والی خونیں جنگ کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ اس میں امریکی اور اس کی حلیف بھارتی لابی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیکولر اور لبرل قوتیں پیش پیش ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی نظرآرہا ہے کہ اس میں خود اسلام اور پاکستان کے ناراض دوستوں کا بھی ایک کردار ہے ، یا انھیں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ مسئلے کو اس کے عالمی اور ملکی پس منظر میں دیکھا جائے اور جو بھی پالیسی بنائی جائے، وہ بہت سوچ سمجھ کر، قوم اور اس کی قیادت کو اعتماد میں لے کر، تاریخی تجربات سے پورا پورا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بنائی جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسے ملک کے حقیقی مفادات اور قومی مقاصد کے حصول کے لیے صحیح معنی میں ایک قومی پالیسی ہونا چاہیے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کے لیے لازمی ہے کہ عوام کے عقائد، وژن، احساسات اور توقعات کی روشنی میں پالیسی بنائے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جو پالیسیاں بیرونی مفادات کے حصول کے لیے بنی ہوں یا جن کی تشکیل جبر اور دبائو کے تحت ہوئی ہو، یا جن کے محرکات غرور، طاقت کا زعم، انتقام اور غصہ ہوں، وہ تباہی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ایک بار نہیں بار بار طاقت کا زعم رکھنے والوں نے ایسی پالیسیاں بنائی ہیں اور ان کے نتیجے میں انسانیت کو ظلم و طغیان کی آگ میں دھکیلا ہے، بڑے بڑے علاقے تاراج کیے ہیں، لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اُتارا ہے، اور اربوں اور کھربوں ڈالر کے وسائل اس آگ میں جھونک دیے ہیں۔
اکیسویں صدی کا آغاز بھی ایسے ہی تباہ کن اور اندوہناک حالات میں ہوا ہے۔ بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی، جس کا آغاز بظاہر آسٹرین شاہی خاندان کے ڈیوک فرانسس فریڈرک کے قتل سے ہوا، جسے ۲۸جون ۱۹۱۴ء کوسرائیو کے مقام پر ہلاک کردیا گیا تھا،اور اس ایک چنگاری سے ایسی آگ بھڑکی کہ پورا یورپ استعماری جنگ کی آماج گاہ بن گیا۔ انجام کار ۵۰لاکھ فوجی اور عام شہری موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے۔ امریکا پہلی بار یورپی جنگوں میں شریکِ کار بن گیا، نئی ٹکنالوجی انسانیت کی خدمت کے بجاے اسے تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے لگی۔ پھر بیسویں صدی ۱۰۰ سے زیادہ جنگوں کا میدان بن گئی، جن میں دوسری عالمی جنگ میں ہلاک ہونے والے ۵کروڑ انسانوں سمیت ۱۰کروڑ انسان لقمۂ اجل بنے۔
اکیسویں صدی نے دوسرے عشرے کا بھی انتظار نہ کیا کہ اس کے دوسرے ہی سال میں نیویارک اور واشنگٹن کے واقعات رُونما ہوگئے۔ یوں انسانیت کو ایک دوسرے ہی قماش کی جنگ کی آماج گاہ بنادیا گیا۔ استعماری قوتوں نے ویت نام اور افغانستان کے تجربات سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔ جنگ، جو ماضی میں دو ممالک یا چند ممالک کے درمیان فوجی معرکے سے عبارت تھی اور جس کی نوعیت، جس کا ہدف، جس کا میدان اور علاقہ بڑی حد تک متعین ہوتا تھا، اس کے تصور ہی کو بدل ڈالا گیا۔ حکومت اور غیرحکومتی عناصر (نان اسٹیٹ ایکٹرز ) میں تصادم، ریاست کی حدود کے اندر تو مختلف شکلوں میں ہوتا تھا مگر اب جنگ ریاستوں اور غیرریاستی مہم جُو عناصر کے تصادم تک بڑھا دی گئی اور اسے بھی عالمی سطح تک پھیلا دیا گیا۔ اس طرح ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں ایک طرف ریاست یا ریاستیں فریق بن گئیں تو دوسری طرف ایک مبہم، غیرمتعین عنصر، جو مکانی اعتبار (space wise) سے بھی بے حدوحساب علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس طرح پوری دنیا اس جنگ کا میدان بنادی گئی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کون کس کے خلاف لڑرہا ہے مگر ہرطرف خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے اور ملک کے ملک تاراج کیے جارہے ہیں۔
دہشت گردی کی تاریخ پیدایش۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء نہیں۔ یہ تو صدیوں سے انسانی معاشرے میں ایک دھونس، دھاندلی اور جبر کے ’نظام‘ کی حیثیت سے موجودرہی ہے۔ کچھ کے لیے پسندیدہ راستے کے طور پر اور کچھ کے لیے ناپسندیدہ اور ناقابلِ برداشت۔ خود امریکا میں دہشت گردی کے واقعات امریکی ری پبلک کے قیام سے ۲۰۰۱ء تک بارہا اور بڑی ہولناک شکلوں میں ہوتے رہے ہیں۔ بیسویں صدی کے آخری عشرے میں نیویارک کے ٹریڈ سنٹر ( ۱۹۹۳ء) کو ہدف بنایا گیا اور اس کے ذمہ دار افراد کو ملک کے فوجداری قانون کے تحت مقدمہ چلا کر سزائیں دی گئیں۔ یمن کے سمندر میں یوایس کول نامی بحری جہاز کا واقعہ رُونما ہوا اور اس کو بھی اسی طرح ملکی قانون کے تحت نمٹایا گیا۔ پھر اوکلاہوما کا خونیں واقعہ رُونما ہوا، جس میں ۱۶۸؍افراد کو ایک سفیدفام قدامت پرست امریکی دہشت گرد نے ہلاک کیا اور ۷۰۰؍ افراد زخمی ہوئے، لیکن اس واقعے پر بھی قانون کی مشینری ہی حرکت میں آئی، طبل جنگ نہیں بجایا گیا۔ لیکن ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء ایک ایسا واقعہ بن گیا جس کی بنیاد پر عالمی قانون اور ملکی فوج داری قانون دونوں کے پورے نظام فکروعمل ہی کو بدل کررکھ دیا گیا۔
امریکی صدر جارج بش اور پوری مغربی دنیا نے اس کے زیراثر، دہشت گردی کے اس قابلِ مذمت واقعے کو جس میں ۲ہزار۹سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں امریکا میں موجود ہرنسل، ملک اور مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد لقمۂ اجل بنے تھے، ’امریکا کے خلاف جنگ‘ قرار دیا۔ ناٹو نے دفعہ ۵ کا سہارا لے کر امریکا پر حملے کو ناٹو پر حملہ قرار دیا۔ اقوام متحدہ نے بھی ایک مبہم قرارداد میں قوت کے استعمال کے لیے ایک ایسا بودا سا جواز فراہم کرنے کی کوشش کی، جس کو علمی قانونی حلقوں میں چیلنج کیا گیا۔ امریکی کانگریس نے بھی ایک مجہول قرارداد کے ذریعے امریکی صدر کو دہشت گردی کے خلاف ہر ذریعہ اور قوت استعمال کرنے کا پروانہ دے دیا۔ لیکن اب اس کے بارے میں بھی سوالات اُٹھائے جارہے ہیں اور اس بحث کی روشنی میں امریکی صدر کے لیے شام پر فوج کشی کی اجازت حاصل کرنا مشکل ہوگئی ہے۔۱؎
یہ ۱۲سالہ جنگ جدید مغربی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے اور اس کی تباہ کاریاں بھی بے حساب ہیں۔ اس کا کوئی جواز نہ بین الاقوامی قانون میں ہے اور نہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں، جو صرف دفاعی جنگ کی اجازت دیتا ہے۔ اگر واضح خطرے کے پیش نظر اور حقیقی دفاع کے لیے چارٹر میں اقدام میں پہل کی گنجایش پیدا کی گئی ہے، تو وہ بھی اقوام متحدہ کے چارٹر کی حدود میں اور اقوام متحدہ کو اطلاع ہی نہیں اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والی فوج کی شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔ لیکن امریکی صدر نے طاقت کے زعم میں، امریکا کے سامراجی اہداف کے حصول کے لیے، جن کی ایک مدت سے منصوبہ سازی کی جارہی تھی، اس عجیب و غریب جنگ کا آغاز کیا۔ صرف القاعدہ نہیں، افغانستان اور اس کے ساتھ عراق، ایران اور شمالی کوریا پر بھی اپنے جنگی اور جارحانہ عزائم کے اظہار کے ساتھ دبائو کا آغاز کیا۔ اس کے لیے یہ اصول وضع کیا کہ جو امریکا کے ساتھ نہیں، وہ دہشت گرد ہے یا دہشت گردوں کے ساتھ ہے اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے جنگی اقدام کے لیے ایک جائز ہدف ہے۔
صدربش کے یہ الفاظ اس جنگ کے اصل اہداف کو سمجھنے کے لیے ہمیشہ سامنے رہنے چاہییں:
یہ ہے وہ ذہن (mind-set)، جسے سمجھے بغیر اس نام نہاد جنگ کی حقیقت، اس کے اصل عزائم اور اہداف اور امریکا کی عالمی سیاست میں اس کے کردار کو سمجھنا مشکل ہے۔ اس سلسلے میں گذشتہ ۱۲برسوں میں جو ناقابلِ انکار شہادتیں سامنے آگئی ہیں، ان کا احاطہ جگہ کی تنگی کے باعث یہاں ممکن نہیں۔ تاہم ان کے صحیح اِدراک پر ہی پاکستان کے لیے ایک قومی مفادات سے ہم آہنگ قومی سلامتی پالیسی بن سکتی ہے اور دہشت گردی کی امریکی جنگ سے نکلنے اور ملک میں حقیقی امن اور رواداری کا حصول ممکن ہوسکتا ہے۔
دہشت گردی ایک تاریخی اور سیاسی مسئلہ ہے، جس کا مقابلہ دہشت گردی پر قابو پانے کی سیاسی اور غیرسیاسی حکمت عملی سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی کی بلاشبہہ کوئی متفق علیہ تعریف موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے اقوام متحدہ میں اس مسئلے پر ۶۰برس سے بحث جاری ہے۔ اقوام متحدہ نے جہاں عام حالات میں سیاست میں قوت (violence) کے استعمال کو ناروا اور ناقابلِ قبول قرار دیا ہے، وہیں خاص سیاسی حالات میں حق خود ارادی کی مسلح جدوجہد کو ’دہشت گردی‘ تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔
قانون، سیاسیات اور سماجیات کے محققین اس پر متفق ہیں کہ ’دہشت گردی‘ کے اسباب کے تعین اور ان کے حل کے بغیراس سے نمٹنا ناممکن ہے۔ دہشت گردی کے مقابلے کے لیے سیاسی حکمت عملی ہی مؤثر ہوسکتی ہے، گو کہ مخصوص حالات میں کچھ حدود کے اندر ریاستی قوت کے استعمال کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ محض قوت کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی بیش تر مساعی بُری طرح ناکام رہی ہیں اور ان کے نتیجے میں دہشت گردی میں بالعموم اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے دہشت گردی کو ملکی دستور اور قانون کے ڈھانچے میں اور سیاسی اور انسانی حالات کی روشنی میں حل کرنے ہی میں خیر ہے۔ ہر دوسرا راستہ ایسی قباحتوں اور خرابیوں کی طرف جاتا ہے جو انسانی معاشرہ، امن و امان، عدل و انصاف، جمہوریت اور آزادی کے لیے تباہ کن ہوسکتی ہیں۔
امریکا کے تھنک ٹینک رانڈ کارپوریشن نے افغانستان میں ۱۲برس تک لڑی جانے والی جنگ کے پس منظر میں دنیا میں دہشت گرد تنظیموں، کارروائیوں اور مسلح تحریکوں کو قابو کرنے کی عالمی کوششوں کا جائزہ لیا ہے، اور اس رپورٹ کے نتائجِ تحقیق صاف اشارہ کررہے ہیں کہ بالآخر مذاکرات کے علاوہ کوئی اور راستہ مؤثر نہیں ہوتا۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا کی ان تمام دہشت گرد تحریکوں کے مقابلے اور بڑے خون خرابے کے بعد بالآخر جو حل نکلا ہے اس کی تصویر کچھ ایسی ہے:
جن مقامات پر قوت کے ذریعے سیاسی بنیادوں پر رُونما ہونے والی دہشت گردی کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے، ان میں سب سے زیادہ ’کامیاب مثال‘ سری لنکا کی پیش کی جاتی ہے جہاں ۱۹۸۳ء میں تامل ٹائیگرز نے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ خودکش بمباری کے ہتھیار کو استعمال کرنے کا ’سہرا‘ بھی انھی کے سر ہے۔ سری لنکا کے ایک صدرمملکت اور ایک فوجی سربراہ کو بھی انھوں نے دہشت گردی کا نشانہ بناکر ہلاک کیا۔ ۲۶سال پر پھیلی ہوئی اس دہشت گردی اور اس کے خلاف فوجی قوت کے بے دریغ استعمال میں ۴۰ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے ۳۰ہزار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عام شہری تھے۔ ۲۰۰۹ء میں سری لنکن فوج کو غلبہ حاصل ہوا، لیکن ایسی بے دردی سے قتل عام کے بعد کہ پوری دنیا چیخ اُٹھی اور چارسال سے اس نسل کشی (genocide) کے خلاف دنیابھر میں آواز اُٹھائی جارہی ہے اور سری لنکا کی سیاسی اور فوجی قیادت پر جنگی جرائم کے مقدمات چلانے کا مطالبہ ہورہا ہے۔
اگر ہم سری لنکا کے مخصوص جغرافیائی، نسلی، لسانی اور تاریخی پہلوئوں سے صرفِ نظر بھی کرلیں اور اس حقیقت کو بھی نظرانداز کردیں کہ یہ مسئلہ ایک مخصوص اور محدود علاقے اور اس کی خودمختاری یا آزادی سے متعلق تھا، تب بھی جس قیمت پر یہ فتح حکومت کو حاصل ہوئی، وہ عسکری حل کو دوسروں کے لیے پُرکشش نہیں بناسکتا۔ لیکن تعجب ہے کہ ہمارے ملک کا لبرل سیکولر طبقہ اور امریکی اور بھارتی لابی کے ہم نوا بڑھ چڑھ کر اس خونیں حکمت عملی کے اختیار کرنے کی تلقین کررہے ہیں اور اخبارات اور ٹی وی کے ٹاک شو اس سے بھرے پڑے ہیں، لیکن تاریخ اپنا لوہا منوا کر رہتی ہے۔
ابھی ۱۸ستمبر ۲۰۱۳ء کو سری لنکا میں علاقائی انتخابات منعقد ہوئے۔ ان کے نتائج نے اس حکمت عملی کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ جافنا اور تامل علاقے میں TNA (The Tamil National Alliance) جو سابق تامل ٹائیگرز کا سیاسی محاذ تھا، اسے ان انتخابات میں حیران کن کامیابی ہوئی ہے۔ صدر راجا پاکسا کی پارٹی کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹی این اے نے ۳۸میں سے ۳۰ نشستیں حاصل کی ہیں، جب کہ صدر مہندرا راجا پاکسا اور ان کے اتحادیوں کی کولیشن کو صرف سات نشستیں ملی ہیں۔ ایک نشست مسلمانوں کی جماعت نے حاصل کی ہے۔
رائٹر کے نمایندے نے اسے صدر راج پاکسا کے لیے، جو ۲۰۰۵ء سے صدر ہیں، ’شرمناک شکست‘ قرار دیا ہے۔ اس نے عوام کے اس فیصلے کو اس انتخاب کا اصل پیغام قرار دیا ہے: ’’یہ بین الاقوامی برادری کے لیے ایک بھرپور پیغام ہے کہ تاملوں کی ضرورت ایک سیاسی حل ہے‘‘۔
اس انتخاب میں ۶۸ فی صد نے ووٹ ڈالے اور ٹی این اے نے جافنا جو تحریک کا مرکز ہے، اس میں ۸۴ فی صد ووٹ حاصل کیے۔ اس کے علاوہ دوسرے ملحقہ علاقوں میں بھی ان کو ۸۱فی صد اور ۷۸ فی صد ووٹ ملے۔ یہ ہیں وہ تمام علاقے، جہاں فوج نے اندھی قوت کے ذریعے تحریک کو ختم کیا تھا، مگر پہلا موقع ملتے ہی عوام نے انھی مطالبات اور ایشوز کو اُٹھا دیا، جن کو ختم کرنے کے لیے عسکری آپریشن اختیار کیا گیا تھا اور ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ سُلاکر امن کا پیغام دیا تھا۔ ٹی این اے کے فتح یاب نمایندے ایم اے سماندھیران نے صاف الفاظ میں اعلان کیا ہے :
ہم نے جو سیاسی موقف اختیار کیا تھا، یہ اس کی ایک بڑی تائید ہے۔ ہمارے عوام تشدد اور دھمکیوں کے سامنے جھکے نہیں، کھڑے رہے ہیں۔ اب صدر کو اس فیصلے کے سامنے جھکنا پڑے گا۔ (ڈیلی سٹار، ۲۲نومبر ۲۰۱۳ء)
ٹی این اے نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ: ’’تمام علاقے سے فوج واپس بلائی جائے، جس نے علاقے میں بے پناہ مظالم کیے ہیں‘‘۔ عالمی سطح پر بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فوج کی زیادتیوں پر محاسبہ ہو، عالمی قوانین کے مطابق ان سب لوگوں پر مقدمہ چلایا جائے جو جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔ اس سارے خون خرابے کے بعد بات پھر سیاسی حل ہی پر آکر رُکی ہے اور امریکا کے دانش ور بھی اس کی تائید کر رہے ہیں۔
’دہشت گردی‘ کے مسئلے کا کوئی حل سیاسی گفت و شنید اور افہام و تفہیم کے سوا نہیں۔ یہ نہ کسی کی فتح ہے اور نہ کسی کی شکست۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس عمل کو بروقت اور صحیح انداز میں کیا جائے یا بعد از خرابیِ بسیار___ ہمیں کوئی شبہہ نہیں کہ اس عمل کو سبوتاژ کرانے میں امریکا، بھارت اور اسرائیل کا ہاتھ ہے اور ان کے گماشتے یہ کھیل کھیل رہے ہیں___ بلاواسطہ بھی اور بالواسطہ بھی۔ حالانکہ افغانستان میں خرابیِ بسیارکے بعد امریکا سیاسی حل کے لیے ہاتھ پائوں مار رہا ہے اور ؎
آنکہ داناں کند ، کند نادان
لیک بعد از خرابیِ بسیار
کی تصویربنا ہوا ہے۔ برطانوی وزیراعظم چرچل نے امریکا کے طور طریقوں کے بارے میں ایک بار بڑی پتے کی بات بڑے لطیف انداز میں کہی تھی جو آج بھی حقیقت کا رُوپ دھارتی نظر آرہی ہے، یعنی:’’ہم، امریکیوں کو ہمیشہ ان لوگوں میں شمار کرسکتے ہیں، جو صحیح کام تب کرتے ہیں جب وہ دوسرے تمام ذرائع کو ہرطرح سے آزما چکے ہوتے ہیں‘‘۔
امریکا اور برطانیہ کے بڑے خصوصی تعلقات ہیں، اس لیے بالآخر امریکا ان سے صحیح معاملہ کرنے پر تیار ہوجاتا ہے، لیکن پاکستان اور دوسرے ممالک اتنے خوش نصیب کہاں___ وہ تو غلط اقدامات کی چکّی ہی میں پستے رہتے ہیں۔
افغانستان پر امریکی حملہ عالمی قانون، عالمی چارٹر براے انسانی حقوق، ریاستی حاکمیت، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے اپنے چارٹر اور خود امریکی دستور سے بھی متصادم تھا۔ لیکن طاقت کے زعم، سیاسی اور معاشی غرور و استکبار اور جذبۂ انتقام سے سرشار امریکی قیادت نے قانون کے راستے کو ترک کرکے، اندھی قوت کا استعمال کیا اور چھے ہفتے میں افغانستان کو خاک و خاکستر بنانے، القاعدہ کو بیخ و بُن سے اُکھاڑنے اور طالبان کو ان کی حکم عدولی کی سزا دینے کے لیے ایک ’گلوبل وار آن ٹیررزم‘ کا آغاز کیا۔ ۱۲برس پر پھیلے ہوئے خون خرابے کے باوجود امریکا اور اس کے اتحادیوں کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اب افغانستان سے بے نیل و مرام نکلنے اور طالبان سے مفاہمت اور مذاکرات کی بیل منڈھے چڑھانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔
امریکا اور ناٹو کے ۴ہزار سے زیادہ فوجی افغانستان میں ہلاک ہوچکے ہیں، جو۱۱ستمبرکے واقعے میں جاں بحق ہونے والوں سے زیادہ ہیں۔ زخمی ہونے اور اپاہج ہوجانے والے فوجیوں کی تعداد ۳۰ہزار سے زائد ہے۔ جو امریکی فوجی واپس ہوئے ہیں، ان میں خاص طور پر اور خود ان فوجیوں میں جو افغانستان میں ہیں خودکشی عام ہے۔ پھر وہی افغان فوج اور پولیس جسے اربوں ڈالر خرچ کر کے اور بڑے چائو کے ساتھ تربیت دے کر طالبان کے مقابلے کے لیے تیار کیا گیا تھا، اس کے جوانوں نے امریکی اور ناٹو فوجیوں ہی پر حملے شروع کردیے ہیں اور اس کے لیے Green on Blue (سبز بمقابلہ نیلا) کی نئی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔ اب خود افغان فوج اور امریکی اور ناٹو کی افواج ایک ہی محاذ پر کھڑی نظر نہیں آتیں۔ نہ صرف اعتماد کا رشتہ ختم ہوچکا ہے بلکہ عملاً بھی ان کے درمیان رابطے کو کم کیا جارہا ہے، بلکہ امریکی افواج کو افغان افواج سے محفوظ رکھنے کی تدابیر بھی جنگی حکمت عملی کا حصہ بن گئی ہیں۔
جب یہ جنگ شروع ہوئی تو امریکی حکام نے اس پر بُرا منایا تھا کہ تھنک ٹینکس اور کچھ فوجی تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ اس جنگ کے ذریعے امریکا پر ۱۰۰؍ارب ڈالر کی چپت پڑسکتی ہے۔ لیکن تجربہ اور مشاہدہ یہ بتارہا ہے کہ امریکا کو فوج اور افغانستان پر ۱۰۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ ہرسال خرچ کرنا پڑرہے ہیں اور صرف افغانستان میں ان ۱۲برسوں میں ۱۲۰۰؍ارب ڈالر کا بوجھ امریکی معیشت پر پڑچکا ہے۔ اگر عراق کی جھوٹ پر مبنی جنگ کے اخراجات اور یمن وغیرہ میں دہشت گردی کے خلاف کیے جانے والے اخراجات کو بھی شامل کرلیا جائے تو بلاواسطہ اخراجات ۳ہزار ارب ڈالر تک پہنچ جاتے ہیں، لیکن اگر بلواسطہ معاشی بوجھ کا اندازہ کیا جائے تو وہ ۵ہزار ارب ڈالر سے متجاوز ہیں، جو امریکا کے سالِ رواں کے کُل جی ڈی پی کا ۳۰ فی صد بن جاتا ہے۔
پھر اس جنگ کا جو کردار ۲۰۰۸ء سے رُونما ہونے والے معاشی بحران کے باب میں رہا ہے، اس کا بھی جائزہ لیا جائے تو پوری دنیا اس جنگ کے عذاب میں جھلستی نظر آرہی ہے۔ امریکا میں ۲ہزار۹سو افراد کی ہلاکت ایک سانحہ تھا، جس کی تمام دنیا نے مذمت کی۔ خود طالبان نے سرکاری طور پر اور مُلّاعمرنے اپنے بیان میں اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ سابق افغانی صدر اور طالبان کے مخالف پروفیسر برہان الدین ربانی نے نہ صرف مذمت کی، بلکہ دعوے سے کہا کہ افغانستان سے کسی کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ ایسی کوئی کارروائی کرسکے یا کرواسکے۔ لیکن جرم بے گناہی کی سزا میں ڈیڑھ لاکھ افغان موت کے گھاٹ اُتارے جاچکے ہیں، اور ۳۰لاکھ ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔
اسی طرح عراق میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۱۰لاکھ بتائی جاتی ہے، جس میں ۵لاکھ بچے بھی ہیں۔ خود پاکستان میں ۴۰ہزار سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں، جن میں فوجی جوانوں اور افسران کی تعداد ۵ہزار سے متجاوز بتائی جاتی ہے، جب کہ کتنے اصل دہشت گرد مارے گئے کسی کو علم نہیں۔ امریکا اور مغربی اقوام کی نگاہ میں اپنے چند ہزار فوجیوں یا عام شہریوں کی ہلاکت تو اہمیت رکھتی ہے، لیکن باقی دنیا میں صرف اس ۱۲سالہ جنگ میں کتنے معصوم انسانوں کو لقمۂ اجل بنادیا گیا ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ حالانکہ جو کردار امریکا نے اس جنگ میں اختیار کیا ہے، اس کے بارے میں ہرآزاد اور باضمیر شخص یہ کہنے پر مجبور ہے کہ امریکی اور ناٹو قیادت نے انسانیت کے خلاف بڑے پیمانے پر جن جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے، اسے ایک نہ ایک دن ان کا حساب دینا ہوگا۔
یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ امریکا افغانستان اور پوری دنیا میں اپنی دہشت گردی کے خلاف جنگ ہارچکا ہے۔ عراق سے ذلیل و خوار ہوکر اسے نکلنا پڑا، البتہ عراق کو اس نے تباہ کردیا اور وہاں آج بھی خاک و خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔ امریکا نے اس جنگ کے آغاز میں ایک دعویٰ کیا تھا کہ اس جنگ کے نتیجے میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا، مگر عملاً دنیابھر میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ القاعدہ جو افغانستان میں ایک پناہ گزین گروہ تھا، اب دنیا کے طول و عرض میں ایک قوت بن گیا ہے۔ اگرچہ امریکیوں کے دعوے کے مطابق اس کی مرکزی تنظیم کمزور ہوگئی ہے، لیکن اس ایک القاعدہ کے بطن سے اب درجنوں القاعدہ گروہ رُونما ہوگئے ہیں۔ جو راستہ انھوں نے اپنے حالات کی مجبوری میں اختیار کیا تھا، وہ اب دنیا کے دوسرے حصوں میں بلاروک ٹوک اختیار کیا جا رہا ہے اور امریکا کے تمام دعوے خاک میں مل گئے ہیں۔
امریکی خود جنگ سے تنگ آگئے ہیں۔۱۲برس کے کارناموں کا حاصل یہ ہے کہ اب امریکا میں بھی راے عامہ کے تمام جائزے یہ بتارہے ہیں کہ عوام جنگ سے تنگ ہیں اور تازہ ترین سروے کے مطابق ۲۰۰۱ء کے واقعے کے بعد ۲۰۰۲ء میں امریکی آبادی کی جتنی عظیم اکثریت (۷۵ فی صد) اپنے کو غیرمحفوظ سمجھ رہی تھی، ۲۰۱۳ء میں بھی عدم تحفظ کی یہی صورت حال برقرار ہے۔ شام پر فوج کشی کے عندیہ کا اظہار کرکے خود امریکی وزیرخارجہ جان کیری کو کہنا پڑا: ’’امریکی عوام جنگ سے بے زار ہیں اور میں بھی بے زار ہوں‘‘ لیکن پھر ٹیپ کا بند وہی تھا کہ عالمی قانون اور ریڈلائنز کی حفاظت کے لیے فوجی قوت استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
فارن افیئرز امریکا کا مؤقر ترین مجلہ ہے۔ اس کے تازہ ترین شماروں میں اس جنگ اور اس میں استعمال ہونے والے ذرائع، خصوصیت سے ڈرون حملوں کی ناکامی کا واشگاف اعتراف کیا گیا ہے۔ اپنے مضمون Why Drones Fail? میں پروفیسر اوڈری کورتھ کرونن اعتراف کرتا ہے:
ڈرون حملوں کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ القاعدہ کا پروپیگنڈا بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہا ہے، بلکہ انھوں نے اس میں نمایاں طور پر اضافہ کردیا (فارن افیئرز، جولائی/اگست ۲۰۱۳ء،ص ۴۶)۔
وہ کہنے پر مجبور ہے کہ:
پُرتشدد جہادیت، جو نائن الیون سے بہت پہلے بھی موجود تھی جب ’دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ‘ آخرکار ختم ہوگی تو اس کے بعد بھی طویل عرصے تک جاری رہے گی۔
اور یہ کہ:
واشنگٹن اب اپنے آپ کو جغرافیائی طور پر پھیلے ہوئے غیرمتعین دشمن کے ساتھ ایک مستقل جنگ میں پاتا ہے، جس کا نائن الیون کے اصل سازش کرنے والوں کے ساتھ بڑا ہی موہوم تعلق ہے۔ اس نہ ختم ہونے والے مقابلے میں امریکا کے لیے اپنے دشمنوں کے تعداد میں بہت بڑھ جانے اور ملک پر حملہ کرنے کے ان کے جذبے میں اضافے کے اندیشے ہیں (ص ۴۸)۔
ڈرون حملوں سے امریکا کو جو کچھ حاصل ہورہا ہے وہ منفی ہے:’’لیکن اس وقت واشنگٹن جو واحد یقینی کام کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ امریکا کے لیے عالمی حمایت کم ہوجائے اور مقامی آبادی اس سے برگشتہ ہوجائے‘‘۔ (ایضاً، ص ۵۰)
فارن افیئرز کے تازہ ترین شمارے (ستمبر /اکتوبر ۲۰۱۳ء) میں جارج واشنگٹن یونی ورسٹی میں علم سیاسیات کے پروفیسر اسٹیفن بڈل نے اپنے مضمون Ending the War in Afghanistan میں صاف اعتراف کیا ہے کہ اب امریکا کے سامنے مکمل شکست یا طالبان سے مذاکرات کے سوا کوئی اور راستہ نہیں:
اس جنگ کے صرف دو حقیقی متبادل ہیں، جن میں سے کوئی بھی خوش گوار نہیں ہے: ایک یہ کہ طالبان سے مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ ہوجائیں۔ یہ کوئی امرت نہیں ہے لیکن یہ مکمل شکست کا واحد متبادل ہے۔ (ص ۵۰)
حالات کے مفصل جائزے کے بعد لکھتا ہے: ’’طالبان کے ساتھ صلح ایک کڑوی گولی کی طرح نگلنا ہوگی، مگر اس مرحلے پر یہ دوسرے متبادل کے مقابلے میں کم درجے کی قربانی ہوگی‘‘۔(ص۵۵)
اسے اعتراف ہے کہ مشکلات حائل ہیں، لیکن پھر بھی راستہ یہی ہے۔ انجامِ کار اس کا برملا مشورہ اس کڑوی گولی کو نگلنا ہی ہے:
مذاکرات کی بنیاد پر تصفیے میں رکاوٹیں بہت ڈرانے والی ہیں، تاہم اس طرح کا معاملہ ابھی بھی افغانستان میں امریکا کے لیے سب سے آخری بُرا متبادل ہے۔ اگر وائٹ ہائوس تصفیے کی ایک سنجیدہ کوشش کی قیمت قبول کرنے کے لیے رضامند نہیں ہے ، تو پھر یہ وقت ہے کہ امریکا اپنے نقصان کم کرے اور افغانستان سے ابھی باہر آجائے۔(ص ۵۷)
انگلستان کے مؤقر جریدے Prospect (پراسپیکٹ)نے ستمبر ۲۰۱۳ء کے شمارے میں ایک پورا حصہ جس موضوع کے لیے وقف کیا، وہ یہ ہے:
Admit it - We Lost: Why did the Afghan war go wrong?
تسلیم کرو! ہم ہار گئے ہیں: افغان جنگ کیوں غلط تھی ؟
مضمون نگار رسالے کا مدیر ہے اور اس نے صاف الفاظ میں اس ۱۲سالہ ناکام تجربے کے بارے میں کہا ہے کہ: ’’یہ جنگ غلط تھی۔ ہمارے سارے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں تھے‘‘ اور یہ کہ انگلستان کے لیے یہ جنگ نہ صرف ناکام جنگ تھی، بلکہ ناکام ترین جنگ ثابت ہوئی، جو عراق میں جنگ کی شکست سے بھی کچھ زیادہ ہی ناکام رہی۔ وہ افواج جو افغانستان کو امن اور سلامتی فراہم کرنے اور طالبان کا قلع قمع کرنے کے لیے گئی تھیں، ان کا سپریم کمانڈر ،یعنی ملک کا وزیراعظم اب یہ کہنے پر مجبور ہے کہ: ’’طالبان کے ان سارے ’دقیانوسی خیالات‘ اور ’غیرمہذب طور طریقوں‘ کو بھول کر، جو جنگ کا سبب قرار دیے گئے تھے، ہم افغانستان میں امن اور استحکام چاہتے ہیں۔ ہم طالبان کی ان کے ملک میں واپسی چاہتے ہیں‘‘۔
برون وین مڈوکس نہ صر ف جنگ کی تباہ کاریوں کو بیان کرتے ہوئے شکست کا اعتراف کرتا ہے اور جنگ کے خاتمے اور افواج کی فوری واپسی کا مطالبہ کرتا ہے، بلکہ ایک آزاد اور مؤثر تحقیقات کا بھی مطالبہ کرتا ہے، تاکہ جنگ میں جانے اور جنگ میں ادا کیے جانے والے کردار کا بھرپور محاسبہ ہوسکے اور آیندہ ایسے تباہ کن تجربات سے بچاجاسکے۔ شاید یہ اس جنگ کا سایہ ہی تھا جس نے برطانوی وزیراعظم کو شام پر فضائی حملہ کرنے کا شوق پورا کرنے سے محروم رکھا۔
افغانستان میں جنگی ناکامی اور دہشت گردی کے مسئلے کے فوجی حل کے دیوالیہ پن اور سیاسی حل کی ضرورت پر حال ہی میں ایک بڑی دل چسپ کتاب شائع ہوئی ہے جس میں ہمارے سیاست دانوں اور عسکری قیادت کے لیے چشم کشا حقیقتیں درج ہیں۔ یہ کتاب افغانستان میں برطانیہ کے سابق سفیر شیرارڈکوپل نے اپنے افغانستان میں قیام کے دوران کی یادداشتوں پر مشتمل Cables from Kabul کے نام سے لکھی ہے جو ہارپر پریس لندن نے شائع کی ہے۔ اس کے مفصل اقتباسات دی سنڈے ٹائمز نے اپنی ۲۳جولائی ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں شائع کیے ہیں۔ ان میں سے چند ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں، جو توقع ہے کہ اُن تمام افراد کے لیے بڑے مفید ہوں گے جو کُل جماعتی کانفرنس کے تجویز کردہ سیاسی حل اور مذاکرات کے ذریعے امن کی حکمت عملی کو ہدفِ تنقید بنارہے ہیں، بلکہ اس جنگ کو نہ صرف جاری رکھنے بلکہ مزید فوجی آپریشن کے ذریعے حالات کو بگاڑنے کا مشورہ دے رہے ہیں:
آہستہ آہستہ یہ واضح ہوگیا کہ طالبان کمزور ضرور ہوئے ہیں، لیکن شکست سے بہت دُور ہیں۔ انھیں امن کے عمل میں مصروف کرنے کے بجاے امریکیوں نے یہ یقین کرنے کی تباہ کن غلطی کی کہ وہ طالبان کو محض طاقت سے شکست دے سکتے ہیں۔ عراق کی غلط مثال کی پیروی کرتے ہوئے وہ فوجوں کی تعداد میں باربار اضافہ کرتے رہے۔
یہی نہیں افغانستان کے آزادی پسند لوگوں پر باہر سے دستور مسلط کیا گیا اور عوام اور مزاحمت کرنے والی قوتوں سے یورپ میں تیار ہونے والے اس دستور پر عمل کی توقع کی گئی: اس کے بعد ہم نے جو مہینے گزارے، ان میں ہم نے ایک امریکی کو یہ اجازت دے کر اپنی غلطی میں اضافہ کیا کہ وہ افغانوں پر ایسا دستور نافذ کرے، جو ایک فرانسیسی نے مرتب کیا تھا۔ یہ اٹھارھویں صدی کے یورپی دستوری نمونے کا مکمل چربہ تھا، جو افغانستان کے اصل سیاسی جغرافیے اور تاریخ کے بالکل خلاف تھا۔ اس میں اگلے ۲۰برسوں میں ۱۴قومی انتخابات تجویز کیے گئے تھے۔ دستوری کانفرنس میں موجود بیش تر افغان مندوبین کی خواہشات کے برعکس، بہت محبوب افغان بادشاہت کو بھی ختم کردیا گیا۔ یہ وہ دستور ہے جس کے لیے ہمارے سپاہی لڑ رہے ہیں اور مر رہے ہیں۔
طالبان اور دوسرے آزادی پسند عناصر نے اگر کچھ لچک کا مظاہرہ بھی کیا، تو اس کا بھی ان کو کوئی مثبت ردعمل نہ ملا۔ نتیجتاً افغانستان میں امریکی اور ناٹو افواج جنگ کی دلدل میں مزید دھنستے چلے گئے۔ ایک اعلیٰ امریکی سفارت کار نے کوشش بھی کی، مگر لاحاصل:
القاعدہ سے علیحدگی کے واضح اشارے کے طور پر طالبان نے کہا کہ وہ افغانستان کو ایک ایسے اڈے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جہاں سے دوسرے ملکوں پر حملے کیے جائیں۔ اس بات کی شہادت بھی موجود تھی کہ پٹھان کسانوں میں جو سوچنے سمجھنے والے تھے اور جو طالبان کی افواج کا بیش تر حصہ تھے، وہ اپنے گھروں اور کھیتوں کو واپس جانا چاہتے تھے۔ مگر ان زیادہ معتدل رجحانات کے ساتھ کام کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے بجاے ناٹو کا جواب یہ تھا کہ: ’تشدد میں اضافہ کردیا جائے‘۔ ۲۰۱۰ء کے موسم گرما میں جب افغانستان میں کمانڈر کی حیثیت سے جنرل اسٹینلے کے بجاے جنرل ڈیوڈ پیٹرس آیا، تو اسپیشل فورسز کے فضائی حملوں اور رات کی کارروائیوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ناٹو کے نئے کمانڈر کے آنے کے بعد فضا سے بمباری تین گنا بڑھ گئی۔ افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی صدر اوباما کے پہلے خصوصی نمایندے رچرڈ ہال بروک نے اپنے سفارتی کیریئر کا آغاز جنوبی ویت نام میں خارجہ افسر کی حیثیت سے کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ صرف طاقت کا استعمال بغاوتوں کو دبا تو سکتا ہے، مگر ان کو ختم نہیں کرسکتا۔
امریکی حکمت عملی کا ایک اور اہم حصہ افغانستان میں اپنی پسند کے سیاست دانوں کو مضبوط کرنا اور اپنی خواہشات اور مفادات کے مطابق فوج اور پولیس تیار کرنا تھا۔ اس پر بھی اربوں ڈالر ہرسال خرچ کیے گئے، معاشی ترقی کے منصوبوں سے بھی زیادہ۔ مگر اس کا حشر بھی قابلِ دید ہے:
افغانستان کو مغربی فوجوں کے بجاے افغان فوجوں کے ذریعے گیریژن (حفاظتی نقطۂ نظر سے تعیناتی ) کی حکمت عملی کی کامیابی کی سب باتوں کے باوجود، افغان فوج اور پولیس کی ہلاکتیں بہت زیادہ ہیں۔ مزید جیساکہ افغانستان کے ایک اعلیٰ برطانوی افسر نے بتایا ہے ساڑھے تین لاکھ کی فوج ہرسال ۵۰ہزار ملازمت سے بھاگنے والے برداشت نہیں کرسکتی۔
برطانوی سفیر کی نگاہ میں سیاسی حل ہی واحد حل ہے، جس کے بارے میں وہ بڑے وثوق سے اپنا نقطۂ نظر پیش کرتا ہے، سفیرصاحب کے اس تجزیے میں پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کے لیے بھی بڑا سبق ہے، بشرطیکہ وہ کھلے دل و دماغ کے ساتھ ان تاریخی حقائق پر غور کریں:
جیساکہ دنیا کے بیش تر تنازعات میں ہوتا ہے بشمول شمالی آئرلینڈ، وہی بات افغان جنگ کے لیے بھی درست ہے، یعنی وسیع حدود میں ایک ہی دانش مندانہ حل ہے۔
شمالی آئرلینڈ سے جو دوسرا سبق سیکھا جاسکتا ہے، وہ یہ ہے کہ ہم نے آغاز سے ہی یہ یقینی بنایا کہ فوجی کوششیں ایک سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہوں، جو باغیوں کو نئے دستوری تصفیے میں کوئی مقام دیتی ہوں۔ بہت پہلے ۱۹۷۲ء میں، جو خونیں اتوار کا سال تھا، جب سیکرٹ انٹیلی جنس سروس کے بہادر افسروں کو اختیار دیا گیا کہ وہ آئرلینڈ کے طول و عرض میں سفر کریں تاکہ پرویژنل آرمی کونسل کو یہ پیغام جائے کہ اگر IRA (آئرش ری پبلکن آرمی)تنازعے کو ختم کرنا چاہتی ہے تو مذاکرات کا راستہ کھلا ہے۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ افغان جنگ میں امریکا ایک بہت آسان اور یک رُخے نقطۂ نظر پر جما رہا، یعنی کائوبوائے والا رویہ! سوچ کے دائرے بڑے محدود رہے: اچھے لوگ اور بُرے لوگ، افغان افواج اور دہشت گرد طالبان۔ بیش تر امریکی گہرے قدامت پسند اور شدت سے مذہبی بنیاد پرست طالبان اور القاعدہ کے عالمی عرب جہادیوں کو ایک جیسا سمجھتے تھے۔
حالیہ دنوں تک اعتدال پسند طالبان سے معاملہ کرنا، تاکہ ان کے اور ان کے جنگ جُو، نہ ماننے والوں کے درمیان دراڑ ڈال کر انھیں ان کے سابق عرب مہمانوں سے علیحدہ کردیا جائے، اس کا مغربی حکمت عملی میں کوئی حصہ نہ تھا۔ دہشت گردوں سے بات چیت کرنا ان کو ممنون کرنا سمجھا جاتا تھا۔ جرنیلوں کو اجازت دی گئی کہ وہ فوجی فتح کا نہ صر ف وعدہ کریں بلکہ زیادہ حیرت انگیز طور پر اس کا اعلان بھی کردیں۔
افغانستان کے اندر اور اس کے ہمسایوں کے درمیان امن کے لیے واحد قابلِ عمل راستہ مذاکرات ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اب جب ناٹو سنجیدگی سے بات کرنا چاہ رہی ہے، شاید طالبان نہیں چاہ رہے۔ افغانستان کی تکالیف ابھی کچھ عرصہ جاری رہیں گی۔
افغانستان جانے سے پہلے ۲۰۰۷ء میں ناٹنگم شائر کے ایک کارکن نے مجھ سے کہا: ’’تمھیں طالبان سے بات چیت کرنا پڑے گی‘‘۔ ہزاروں جانیں بچ جاتیں اور اربوں پائونڈ بچ جاتے اگر عقل عام کی اس معمولی بات پر تب عمل کرلیا جاتا، اب نہیں۔
کیا اب بھی یہ راستہ استوار ہوسکے گا؟ کہنا مشکل ہے، مگر راستہ اس کے سوا کوئی اور نہیں اور پاکستان میں تو افغانستان کے مقابلے میں ۱۰ہزار گنا زیادہ ضروری ہے۔ وہی قومی سلامتی پالیسی بارآور ہوسکتی ہے، جو حقائق پر مبنی ہو اور تاریخی حقائق، اور ہمارے حالات اور ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بنائی جائے۔ ملک اس وقت بڑے نازک مرحلے میں ہے اور طالبان کا نام لینے والے چند عناصر کی کارستانیاں بھی ایک منفی کردار ادا کررہی ہیں اور اس سمت میں ملک کو دھکیل رہی ہیں، جو علاقے کے لیے امریکی اور بھارتی عزائم کے لیے مفید اور ملک کی سیکولر لبرل لابی کی تمنا ہے۔
سیاسی عمل اور مذاکرات کو آغاز سے پہلے ہی سبوتاژ کرنے کے لیے ایک شوشہ یہ بھی چھوڑا جارہا ہے کہ بات چیت سے پہلے یہ اصول تسلیم ہونا چاہیے کہ دوسرا فریق دستور کو تسلیم کرے اور اس کے فریم ورک میں مذاکرات ہوں۔ سیاست، اور جنگ اس کا ایک حصہ ہے، کام ہی دوستوں اور دشمنوں دونوں سے معاملات کرنے کا ہے۔عین جنگ کے عالم میں بھی مذاکرات ہوتے ہیں اور فتح و شکست سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ہائی جیکنگ اور اغواکاری کے واقعات بڑے تلخ اور صبرآزما ہوتے ہیں لیکن ہائی جیکر اور اغواکار سے بھی معاملات کیے جاتے ہیں۔ ایجاب و قبول کا راستہ اختیار نہیں کیا جاتا۔ دستور کو پہلے منوانے کی بات وہ سیاسی بقراط بھی کررہے ہیں جو خود دستور کی اساس___ یعنی اسلام اور قرآن و سنت کی بالادستی کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور ملک کو ایک سیکولر ریاست بنانے کے کھلے کھلے داعی ہیں۔ جن کی دستور سے وفاداری کا عالم یہ ہے کہ وہ کسی بھی بنیادی معاملے میں دستور کے واضح احکام پر اپنی راے کو فوقیت دینے اور دستور کے نفاذ کو بے اثر ( subvert)کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے۔ دستور سود کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے، وہ سود کے محافظ ہیں۔ دستور فحاشی اور بداخلاقی کی مخالفت کرتا ہے، وہ اس کے فروغ میں مصروف ہیں۔ دستور قرآن و سنت کی تعلیم کو لازمی قرار دیتا ہے، وہ تعلیم کو دین کے ہراثر سے پاک کردینا چاہتے ہیں۔ دستور قانون کی حکمرانی کا داعی ہے اور مقررہ قانونی کارروائی (due process of law) کے بغیر کسی شہری کو اس کی آزادیوں سے محروم نہ کیے جانے کی ضمانت دیتا ہے، اور ان کا عمل یہ ہے کہ ہزاروں افراد لاپتا ہیں اور ریاست کی عمل داری (writ) کی کسی کو فکر نہیں۔ پھر جہاں تک فاٹا کا تعلق ہے، اس علاقے کو تو دستور کے ان پاسبانوں نے دستور کی دسترس سے خود ہی باہر کردیا ہے اور دوسروں سے دستور کو پہلے ماننے کی بات کررہے ہیں۔ ہم بھی دل سے دستور کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کے لیے سرگرم ہیں لیکن جن حالات میں ملک کو ان حکمرانوں نے جھونک دیا ہے ان سے نکلنے کے لیے حکمت اور تدبیر کے ساتھ انسانی تاریخ کے کامیاب تجربات کی روشنی میں راستہ نکالنا ہوگا اور سیاسی عمل کو مؤثر بنانے کی راہ میں جو رکاوٹیں ہیں یا ڈالی جارہی ہیں ان کو دُور کرنا ہوگا۔ اس دلدل سے نکلنے کا اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔
اُوپر کی بحث کی روشنی میں نئی سلامتی پالیسی کیا ہونی چاہیے اور اسے کن کن پہلوئوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے؟ اس کے لیے چند اشارات پیش کیے جارہے ہیں۔
۱- قومی سلامتی کی پالیسی کے لیے ضروری ہے کہ اسے عوام کی تائید حاصل ہو۔ حکومت کی اور عوام کے جذبات،احساسات، توقعات اور عزائم میں اگر بُعد ہوگا تو وہ پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ دہشت گردی کے سلسلے میں جنرل مشرف کے دور سے جو پالیسیاں ملک پر مسلط کی گئی ہیں، ان کو قوم کی تائید حاصل نہیں رہی اور صحیح نتائج نہ نکلنے میں بڑا دخل اس اندرونی تضاد کا ہے۔
۲- دہشت گردی کے مسئلے کی اصل حقیقت کو سمجھے بغیر کوئی پالیسی نہیں بن سکتی۔ اس مسئلے کے کم از کم چار پہلو ایسے ہیں، جن کا سمجھنا اور ان کی روشنی میں صحیح پالیسی بنانا ضروری ہے:
اوّل: مسئلے کا گہرا تعلق پاکستان کی خارجہ پالیسی، علاقے کے بارے میں امریکی پالیسی اور اس پر عمل درآمد بشمول ڈرون حملے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت، معیشت اور فوج کے معاملات پر ان کے اثرات، افغانستان میں ان کی کارروائیاں اور ان کے پاکستان پر اثرات سے ہے۔ اس لیے محض دہشت گردی کے خلاف پالیسی کے کوئی معنٰی نہیں۔ خارجہ پالیسی، افغانستان میں امریکا کا کردار اور پاکستان کی اس میں شرکت اور خود پاکستان میں اس کے اثرات ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور ان کو الگ کر کے کوئی مؤثر پالیسی نہیں بنائی جاسکتی۔ یہ وہ بنیادی بات ہے، جس کو پارلیمنٹ کی ۲۲؍اکتوبر ۲۰۰۸ء، اور ۱۴مئی ۲۰۱۱ء کی قراردادوں میں واضح کیا گیا ہے اور پارلیمانی کمیٹی براے قومی سلامتی نے اس پر تفصیلی ۶۰نکات سے زیادہ پر مبنی اپنی رپورٹ دی ہے جسے نظرانداز کیا گیا ہے۔
دوم: دہشت گردی کے خلاف پالیسی اور بغاوت کے خلاف پالیسی ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان کو گڈمڈ کرنے کے نتائج بڑے خوفناک ہوسکتے ہیں۔ سری لنکا کی مثال سرکاری حلقے اور میڈیا باربار دے رہے ہیں، لیکن وہ اس مغالطے پر مبنی ہے کہ بغاوت کے خلاف پالیسی کو دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنایا جاسکتا ہے۔ سری لنکا کا مسئلہ کئی اور پہلوئوں سے بھی مختلف ہے اور اس کی بھی جو قیمت قوم کو دینا پڑی ہے اور مسلسل دے رہی ہے، وہ ایک الگ پہلو ہے۔ انسانی حقوق کا مسئلہ اور ملک میں مستقلاً آمرانہ نظام کا قیام الگ پہلو ہے، لیکن اپنی اصل اور جوہر کے اعتبار سے وہ پالیسی دہشت گردی کے خلاف مؤثر نہیں ہوسکتی۔
سوم: پاکستان میں جس چیز کو دہشت گردی کہا جا رہا ہے وہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ افغان طالبان الگ شے ہے۔ جسے پاکستانی طالبان کہا جاتا ہے، وہ بھی مختلف عناصراور گروہوں کا مرکب ہے، جس میں باہم کوئی ربط یا وحدتِ نظم نہیں ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد ایک الگ شے ہے۔ مرکز گریز اور علیحدگی پسندی کے لیے کام کرنے والے گروہ مختلف نوعیت کا چیلنج پیش کرتے ہیں، جب کہ عام مجرموں نے جس طرح اس صورت حال کا فائدہ اُٹھایا ہے یا کچھ مخصوص سیاسی اور مذہبی گروہوں نے اپنے اپنے مقاصد کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہے، ان کے لیے الگ الگ حکمت عملی اور اقدام کی ضرورت ہوگی۔اسی طرح کراچی کا مسئلہ اپنا الگ رنگ رکھتا ہے اور اس میں سیاسی اور دوسرے عناصر سے نبٹنے کے لیے الگ حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔
چہارم: ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی، شدت پسندی، تشدد، فرقہ واریت، عدم رواداری ___ ہر ایک کا اپنا مخصوص مسئلہ ہے اور اصلاح کا راستہ مختلف ہے۔ ان سب کو باہم دگر ملادینا سخت نقصان دہ اور غیرحقیقت پسندانہ پالیسی ہے۔
ان چاروں پہلوئوں کو سامنے رکھ کر پالیسی بنانا ہوگی اور ہر پہلو کے لیے الگ پالیسی اور اقدامات درکار ہوں گے۔ یہ سب مجموعی قومی سلامتی پالیسی کے اجزا ہوں گے، لیکن ہر ایک کو مجموعی پالیسی کے فریم ورک میں دیکھنا ہوگا۔
۳- بنیادی مسئلے کا حل سیاسی ہے اور اس کے لیے مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں، لیکن دوسرے متعلقہ پہلوئوں کے لیے دستور اور قانون کے دائرے میں ریاستی قوت کا صحیح استعمال بھی درکار ہوگا۔ اس کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے، ان سب کا اہتمام ضروری ہے۔ پارلیمنٹ کی قراردادوں میں یہ بار بار کہا گیا کہ مسئلے کا اصل حل سیاسی ہے اور اس کے لیے مذاکرات کا راستہ ہی صحیح راستہ ہے۔ البتہ اس کے لیے اپنے اپنے دائرے میں اور اپنے اپنے آداب کے ساتھ پیش رفت اور رکاوٹ (deterrance) دونوں ضروری ہیں۔ موجودہ حالات میں اس فریم ورک میں نیا نقشۂ کاربنانا ہوگا۔
۴- حکومت کی پالیسی کی سطح پر ناکامی کے ساتھ پانچ مزید پہلو ہیں، جن کے لیے مناسب اقدام کرنے ہوں گے:
کوئی پالیسی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ان پانچ اُمور کو صحیح طور پر طے نہ کرلیا جائے۔
۵-پاکستانی سیاست، دہشت گردی کے خلاف اقدام، مذہبی منافرت، علیحدگی پسندی کی تحریکیں، ان سب میں بیرونی قوتوں کے کردار کو محض ’سازش‘ کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مداخلت اور کردار بھی ایک حقیقت ہے اور اس کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں کئی ممالک اور ان کی خفیہ ایجنسیوں کا کردار خطرناک حد تک موجود ہے۔ امریکا اور بھارت بڑے کردارہیں لیکن مقامی قوتیں بھی اپنا اپنا مفاد حاصل کرنے کے لیے اپنا اپنا کھیل کھیل رہی ہیں۔ جامع پالیسی کے ذریعے ان تمام پہلوئوں کا بھی پورا پورا توڑ کرنا ضروری ہے۔
۶- قومی سلامتی پالیسی کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام پہلوئوں کا اِدراک کیا جائے اور حقیقت پسندی، جرأت، بیرونی دبائو سے آزاد ہوکر، قومی مفاد میں اور قوم کو اعتماد میں لے کر اس کے عزائم اور احساسات کی روشنی میں اسے تشکیل دیا جائے۔ اس سلسلے میں اس وقت برطانیہ کی اس مثال کو پیش نظر رکھا جائے کہ برطانوی حکومت جو شام پر حملہ کرنا چاہتی تھی، اسے کس طرح پارلیمنٹ اور عوام کی راے کے دبائو میں پالیسی بدلنا پڑی ہے۔ امریکا میں بھی یہ مسئلہ درپیش ہے۔ پاکستان میں عوام کی راے کو جس بے دردی سے نظرانداز کیا گیا وہ مہلک تھا۔ اب اس روش کو یکسر تبدیل ہونا چاہیے اور نئی پالیسی تمام پہلوئوں کو سامنے رکھ کر بنانے کی ضرورت ہے۔
۷-یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے، کہ اس نوعیت کے تنازعات اور دہشت گردی کے باب میں پیدا ہوجانے والے حالات میں مذاکرات کا کوئی ایک ٹریک نہیں ہوسکتا۔ نیز مذاکرات ٹی وی شو کے ذریعے نہیں کیے جاتے۔ ہمارے مخصوص حالات میں اس امر کی ازبس ضرورت ہے کہ مذاکرات، مذاکرات سے پہلے کے اقدام اور ان کی ترجیحات، مذاکرات کے اصل اہداف اور سب سے بڑھ کر ملک کے حالات اور علاقے کی روایات کی روشنی میں بہت سوچ سمجھ کر، مشاورت کے ساتھ اور اپنے حالات کی مناسبت سے ترتیب دیا جائے۔
۸- یہ امر بھی سامنے رہے کہ مذاکرات اور پورے سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے والی قوتیں بہت سرگرم ہیں اور ہوشیار بھی ہیں۔ ان تمام خطرات، رکاوٹوں اور دراندازیوں کی بھی پیش بندی کرنا ہوگی جو اس نوعیت کے حالات کا لازمی حصہ ہیں۔ اس کام کے لیے اہداف کا صحیح صحیح تعین، روڈمیپ کا شعور اور اس کی تیاری، مفید قوتوں سے تعاون اور مخالف اور مذاکرات کو درہم برہم کرنے والی قوتوں کو قابو کرنے اور ان کے شر سے اس عمل کو محفوظ بنانے کے لیے کب اور کون سی تدابیر ضروری ہیں، ان کا اِدراک اور اہتمام بھی ضروری ہے۔ ایسے پیچیدہ حالات میں غیرحکیمانہ حل کی تلاش اور جلدبازی میں حکمت عملی میں تبدیلیاں تباہ کن ہوسکتی ہیں۔ ضروری ہے کہ ان مسائل کی اہمیت اور پیچیدگیوں کو سامنے رکھ کر حکمت اور استقامت کے ساتھ ایک جامع حکمت عملی بنائی جائے اور راستے کی مشکلات اور مواقع کو سامنے رکھ کر مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی قومی اہداف کے حصول کے لیے کوشش کی جائے، اور کسی بھی معاملے کو اَنا کا مسئلہ نہ بنایا جائے اور جذبات اور اندرونی و بیرونی دبائو، دونوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے___ وما علینا الا البلاغ
۱۹۶۳ء میں ماہنامہ چراغِ راہ کے ’تحریک اسلامی نمبر‘ میں مَیں نے ایک طالب علمانہ کوشش یہ کی تھی کہ مولانا مودودیؒکی ان تحریروں کو جو ترجمان القرآن میں جماعت اسلامی کے قیام سے پہلے شائع ہوئی تھیں، اور جو باقاعدہ لٹریچر کا حصہ نہیں تھیں، مگر تحریک، اس کی تاریخ، اس کے مزاج اور سب سے بڑھ کر داعی کے افکار و احساسات، جذبات و محرکات اور عزائم کی آئینہ دار تھیں، ان کو جمع کروں۔یہ تحریر تحریک اسلامی: ایک تاریخ، ایک داستان کے عنوان سے شائع ہوئی اور پھر کتابی شکل میں بھی اسے شائع کیا گیا۔ یہ داستان ہماری تاریخ کے ایک ایسے باب سے متعلق ہے جس سے بعد کے اَدوار میں تحریک سے وابستگی اختیار کرنے والے بالعموم واقف نہیں تھے، حالانکہ یہ تحریریں تحریک کے مزاج اور اس کی روح کو سمجھنے کے لیے شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہیں۔
’منشورات‘ اس کتاب کا نظرثانی شدہ دوسرا اڈیشن شائع کر رہا ہے۔ اس موقع پر مَیں نے ضروری سمجھا کہ اس تحریر کی شکل میں تحریک کے فراہم کردہ تصورِ دین کو جو قرآن و سنت پر مبنی ہے، اور منہجِ نبویؐ کی صحیح ترجمانی ہے، مختصر الفاظ میں پیش کردوں۔ یہ کتاب میںبطور ’مقدمہ‘ شامل ہے۔ مدیر
زندگی کی سب سے بڑی حقیقت اللہ اور اس کی عنایت کی ہوئی وہ نعمتیں ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔ دل گواہی دیتا ہے کہ اگر ہم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہیں تو انھیں گن نہیں سکتے۔ بلاشبہہ وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے (وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَااِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo النحل ۱۶:۱۸)۔ یہ محض ایک معروضی سچ کا اعتراف ہی نہیں، ہرباشعور انسان کا ہرلمحے واقع ہونے والا تجربہ بھی ہے___ اور اس پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے ، کم ہے۔
اپنی زندگی پر غور کرتا ہوں تو دل شکر کے جذبات سے معمور ہوجاتا ہے کہ خالق کائنات نے اپنے کرم سے انسان بنایا، ورنہ جمادات، نباتات، حیوانات، کسی بھی دائرے میں وجود بخش سکتا تھا۔ پھر انسان ہی نہیں بنایا، مسلمان گھرانے میں پیدا کیا جس کی بدولت ایمان کی دولت شیرِمادر کے ساتھ میسر آئی۔ دنیا میں زندگی کے سفر کا آغاز کلمہ اور اذان کی آواز سے ہوا، اورایک اچھے دینی گھرانے میں پرورش کی سعادت حاصل ہوئی۔ پھر جس دور میں زندگی بخشی وہ بڑا انقلابی اور تبدیلیوں کا دور تھا۔ پیدایش برطانوی سامراج کے دور میں ہوئی۔ طالب علمی ہی کے زمانے میں آزادی کی جدوجہد میں شرکت نصیب ہوئی، اور پھر ایک آزاد مسلمان ملک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور زندگی کے سفر کی اگلی منزلیں طے کرنے کا موقع ملا۔ پھر آزادی ہی کی نعمت سے نہیں نوازا بلکہ اُس دور میں شعور کی آنکھیں کھولنے کا موقع ملا جب برعظیم میں تحریکِ اسلامی بھی سرگرمِ عمل تھی ورنہ کتنی ہی نسلیں ہیں جو ایسے کسی دور کو نہ پاسکیں جب غلبۂ اسلام کی عملی جدوجہد ہورہی ہو۔ پھر طالب علمی ہی کے دور میں تحریکِ اسلامی سے واقفیت اور اس کی دعوت پر لبیک کہنے کی سعادت سے بھی نوازا، اور الحمدللہ زندگی کے لیے جو راستہ ۱۹۴۹ء کے آخر میں اختیار کیا تھا، اس پر اپنی ساری کمزوریوں اور حالات کے نشیب و فراز کے باوجود سرگرم رہنے کی توفیق بخشی۔ بلاشبہہ اللہ تعالیٰ کے تمام ہی انعام و اکرام میں یہ نعمت سب سے قیمتی اور دنیا اور آخرت دونوں کی اعلیٰ ترین متاع ہے، فالحمدللّٰہ علٰی ذٰلِک۔
تحریکِ اسلامی اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا انعام ہے، اس پر جتنا بھی غور کرتا ہوں دل میں ایک تلاطم برپا ہوتا ہے، آنکھیں اَشک بار ہوجاتی ہیں اور سر سجدۂ شکر میں جھک جاتا ہے۔ ایمان اور اسلام کی دولت تو الحمدللہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے اور دینی ماحول والے گھر میں پرورش پانے سے حاصل ہوگئی تھی لیکن اس دولت کا اصل شعور صرف تحریک اسلامی کو سمجھنے اور اس کا حصہ بننے سے حاصل ہوا۔ یہی وہ چیز ہے جس نے زندگی کے اصل مقصد کا شعور بخشا اور جینے اور مرنے کے اُس اسلوب سے واقف کردیا جو ہمارے پیدا کرنے والے کو مطلوب اور اس کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہے۔
تحریکِ اسلامی نے مجھے اور مجھ جیسے لاکھوں انسانوں کو غفلت، جہالت اور بغاوت کی تاریکیوں سے نکال کر اسلام کی روشن شاہراہ کی طرف رہنمائی کی، اور اپنی تمام کمزوریوں، کوتاہیوں، غلطیوں کے باوصف ہم اس قافلے کا حصہ ہیں اور اپنے رب کی رضا اور اس کی رحمتوں کے سائل اور طلب گار ہیں۔ تحریک نے ہمیں یہ سمجھنے کا موقع دیا کہ ہماری، تمام انسانوں کی، اور کم از کم ان تمام انسانوں کی جو اپنے رب کو پہچان لیں، اس زندگی میں اصل حیثیت اللہ کے خلیفہ اور نمایندہ کی ہے اور اس طرح، استخلاف ہی ہمارا اصل تشخص ہے جو ہمیں اپنے رب سے جوڑتا ہے۔ رب سے ہمارا رشتہ آقا، مالک اور معبود کا ہے، اور ہماری معراج اس کا عبد ہونے میں ہے۔ اللہ سے اس رشتے کے تقاضے کے طور پر انسان اس دنیا اور تمام انسانوں سے ایک نئے رشتے میں جڑ جاتا ہے۔ اللہ کو رب ماننے والوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اللہ کی رضا کو جانیں، اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کی کوشش کریں، اور اللہ کی مرضی کو اس کی زمین پر پھیلانے اور قائم کرنے کی جدوجہد کریں۔ اس طرح تحریک نے ہمیں اپنے صحیح مقام کو سمجھنے اور اللہ، اللہ کے بندوں، دنیا کے تمام وسائل اور کائنات کے پورے نظام سے اپنے رشتے اور تعلق کو شعوری طور پر اس ہدایت کی روشنی میں استوار کرنے کا شعور، عزم اور موقع دیا جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنے انبیاے کرام ؑ کے ذریعے فراہم کی ہے۔ اور جو اپنی آخری اورمکمل شکل میں قرآن اور سنت ِ رسولؐ کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔
اسلام کا جو وژن تحریک نے دیا ہے، اس کے پانچ پہلو ہیں جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی دوسروں سے جدا نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ کا واضح حکم ہے کہ:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَـآفَّۃً ص وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِط اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌo(البقرہ۲:۲۰۸) ’’اے ایمان لانے والو، تم پورے کے پورے اسلام میں آجائو اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘۔ اور___ قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o لَا شَرِیْکَ لَـہٗ ج وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَo (الانعام ۶:۱۶۲-۱۶۳) ’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سراطاعت جھکانے والا مَیں ہوں‘‘۔
اسلام کی پہلی اور سب سے اہم بنیاد ایمان ہے: اللہ پر، اللہ کے رسولؐ پر، اللہ کی کتاب پر، اللہ کے فرشتوں پر اور یومِ جزا و سزا پر ۔یہ ایمان صرف زبان کے اقرار ہی سے عبارت نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں سے تصدیق اور اس کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے کا عزم اور کوشش اس کا لازمی حصہ ہے۔ اللہ ہی اوّل اور آخر ہے اور صرف اس کی رضا ہی اصل مقصود و مطلوب ہے۔ اللہ سے گہرا قلبی تعلق، اس سے محبت اور اس کا خوف ہی زندگی کی سب سے بڑی کارفرما قوتیں ہیں، اور ایمان کا لطف اور مزہ انسان اسی وقت حاصل کرسکتا ہے جب وہ صرف اللہ کو اپنا رب، اللہ کے رسول محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا آقا اور رہبر، اور اللہ کی دی ہوئی ہدایت اسلام کو اپنا نظامِ زندگی بنالے اور اس پر صرف قانع ہی نہ ہو، اس پر راضی اور مطمئن ہوجائے۔ اس کے سوا رہنمائی کے لیے کسی اور سمت نہ دیکھے جیساکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذَاقَ طَعْمُ الْاِیْمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّد رَسُوْلًا (بخاری، مسلم)’’ایمان کا مزہ چکھا اس شخص نے جو اللہ کو اپنا رب ماننے اور اسلام کو اپنا دین ماننے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول تسلیم کرنے پر راضی ہوگیا‘‘۔
جب انسان اللہ کے رنگ میں رنگ جاتا ہے تو پھر وہ اس مقام کو حاصل کرلیتا ہے جسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ خود اس کے بندے کا ولی اور دوست بن جانے کے اعلیٰ مقام سے تعبیر کرتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بندے کی خواہشات اپنے مالک کی رضا سے اس طرح ہم آہنگ ہوجاتی ہیں کہ اس کی پوری زندگی اپنے آقا کی رضا کی مظہر بن جاتی ہے۔ پھر بندہ اللہ کی طرف ایک قدم بڑھتا ہے تو مالکِ حقیقی اس کی طرف دو قدم بڑھتا ہے ،جیساکہ حدیث قدسی میں آتا ہے:
سُبْحَانَ اللّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ:عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَقُولُ اللّٰہُ اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ ، وَاَنَا مَعَہٗ اِذَا ذَکَرَنِیْ، فَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ نَفْسِہٖ، ذَکَرْتُہٗ فِی نَفْسِیْ ، وَ اِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ مَلَائٍ، ذَکَرْتُہٗ فِی مَلَاٍء خَیْرٍ مِنْہ، وَ اِنْ تَقَرَّبَ اِلَیَّ ذِرَاعاً تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ بَاعاً ، وَ اِنْ أَتَانِیْ یَمْشِیْ، اَتَیْتُہٗ ھَرْوَلَۃً - (رواہ البخاری وکذٰلک مسلم و الترمذی و ابن ماجہ)
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں، اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’’میرا بندہ مجھ سے جو توقع رکھتا ہے اور جیسا گمان اس نے میرے متعلق قائم کر رکھا ہے ویسا ہی مجھے پائے گا۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگروہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے تنہائی میں یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھے کسی جماعت کے ساتھ بیٹھ کر یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اس کو یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ میری طرف ایک بالشت بھر بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھ جاتا ہوں، اور اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف چار ہاتھ بڑھتا ہوں، اور اگر وہ میری طرف آہستہ آہستہ آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔
اللہ پر کامل ایمان اور اس کے سامنے مکمل سپردگی کا تقاضا ہے کہ بندہ اپنے آپ کو اپنے رب اور محبوب کی مرضی کے مطابق ڈھالے اور وہ سیرت و کردار اختیار کرے جو مالک کے انسانِ مطلوب کا طرۂ امتیاز ہے۔ تزکیۂ نفس ایمان کا فطری مطالبہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسولؐ کی اولین ذمہ داری تلاوتِ کتاب اور تعلیمِ کتاب کے ساتھ تزکیۂ نفس ہے___ یعنی انسان سازی ۔ تزکیے کا یہ دائرہ محض ذاتی کردار تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہرپہلو پر حاوی ہے جس میں انفرادی زندگی کے ساتھ اجتماعی زندگی کا ہرپہلو شامل ہے۔ البتہ ایمان کی بنیاد پر اور اس کے مطابق انفرادی اور اجتماعی تبدیلی میں مرکزی حیثیت فرد کی ہے اور دنیا اور آخرت میں آخری جواب دہی ہرہرفرد کی ہے۔ رہا معاملہ دنیا کا، تو یہاں بھی ’ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا‘۔ یہی وجہ ہے کہ جن اینٹوں سے یہ عمارت تعمیر ہوتی ہے، ان میں ہراینٹ کا مضبوط ہونا ضروری ہے، اور یہی وجہ ہے کہ تحریکِ اسلامی نے اسلام کا جو وژن دیا ہے اس کی پہلی بنیاد ایمان ہے تو دوسری بنیاد فرد کی اصلاح اور تزکیہ ہے۔
فرد کی اصلاح اور سیرت سازی کو یہ مرکزی مقام دینے کے ساتھ اسلام یہ بھی واضح کرتا ہے کہ عملِ صالح اور صراطِ مستقیم کا دائرہ صرف انفرادی زندگی تک محدود نہیں بلکہ انسان کے تمام تعلقات___ سب انسانوں سے اور معاشرے اور اس کے تمام اداروں سے___ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فراہم کردہ رہنمائی کے مطابق ہونے چاہییں اور اس میں کسی بھی پہلو کو اللہ کی حاکمیت اور اس کی ہدایت کی فرماں روائی سے باہر رکھنا اللہ سے بغاوت اور طاغوت سے سمجھوتے کے مترادف ہے۔ اسلام ایک مکمل نظامِ زندگی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے روایتی مفہوم میں مذہب نہیں کہا گیا بلکہ الدین کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف الفاظ میں فیصلہ فرما دیا ہے:
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ قف وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًام بَیْنَھُمْ م وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِo (اٰل عمرٰن ۳:۱۹) اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے ان لوگوں نے اختیار کیے جنھیں کتاب دی گئی تھی، ان کے اس طرزِعمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انھوں نے علم آجانے کے بعد آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لیے ایسا کیا، اور جو کوئی اللہ کے احکام اور ہدایات کی اطاعت سے انکار کردے، اللہ کو اس سے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔
پھر یہ بھی صاف لفظوں میں انسان کو بتا دیا کہ اللہ کی ہدایت مکمل ہے اور اس میں نہ کسی کمی کی گنجایش ہے نہ کسی اضافے کی ضرورت۔ یہ بجاے خود مکمل (self-contained) ہے اور ہردور کے لیے اس میں وہ تمام گنجایشیں موجود ہیں جن کے باعث اہلِ ایمان اس دین کی حدود (frame work) میں رہتے ہوئے زمانے کی تبدیلیوں کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ط (المائدہ ۵:۳) ’’آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور اسلام کو تمھارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے‘‘۔ اور ساتھ ہی یہ انتباہ (warning) بھی فرما دیا کہ: وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ ج وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo (اٰل عمرٰن۳:۸۵) ’’اس فرماں برداری (اسلام) کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا‘‘۔
پس اہلِ ایمان کے لیے کامیابی کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے مکمل اطاعت، سپردگی اور رب کی مرضی کے حصول کی پیہم جدوجہد کا راستہ ، فرمایا: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ o (الحجرات ۴۹:۱۵) ’’حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لائے، پھر اس میں کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ وہی سچے لوگ ہیں‘‘۔
ایمان کے استحکام اور اس کی افزایش، سیرت و کردار کی تعمیر اور پوری زندگی کو اللہ کی ہدایت اور اس کی مرضیات کے تابع کرنے کی جدوجہد کے ساتھ ایک چوتھا تقاضا اللہ کے دین کو اللہ کے تمام بندوں تک پہنچانے کی سعی و جہد ہے۔ فرد اور اُمت دونوں کے لیے لازم کیا گیا ہے کہ شہادتِ حق کی ذمہ داری کو ادا کریں۔ اسلام ہماری زندگیوں ہی کو نورِ الٰہی سے منور کرنے پر قانع نہیں۔ وہ بلاشبہہ ہرصاحب ِ ایمان کو نور کا ایک مینار بنادینا چاہتا ہے تاکہ اس کے ذریعے یہ نور زمین و آسمان میں پھیلے اور پوری دنیا اس سے رہنمائی حاصل کرے اور پورا عالم اس سے منور ہوجائے۔
یہ ایک تاریخی جدوجہد ہے جس میں تمام ہی انبیاے کرام ؑ شامل رہے ہیں اور یہ آخری نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کبریٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ سورئہ فاتحہ میں جس صراطِ مستقیم کی دعا کی تعلیم بندے کو دی گئی ہے اس میں یہ حقیقت بھی اُسے سمجھا دی گئی ہے کہ یہ سیدھا راستہ کوئی محض نظری چیز نہیں بلکہ ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں نازل فرمائیں اور جن کا شمار انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین میں ہوتا ہے:وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ ج وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا o (النساء ۴:۶۹) ’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے، جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیا، صدیقین اور شہدا اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آجائیں‘‘۔
معلوم ہوا کہ استخلاف کا چوتھا تقاضا یہ ہے کہ اہلِ ایمان کی زندگی، دعوت اور تحریک کی زندگی ہو۔ اللہ کے انعام یافتہ افراد کی رفاقت کے طلب گاروں کو اللہ کے دین کے قیام اور حق کی شہادت کی ذمہ داری کو اپنی زندگی کا مقصد اور اپنی تمام سعی و جہد کا آخری ہدف بنانا ہوگا۔ ہرمسلمان کو بحیثیت مسلمان اور اُمت مسلمہ کو بحیثیت قوم اور ایک منظم گروہ، یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ انسانوں کو خیر کی طرف بلانے والے، بدی سے روکنے والے، حق کی شہادت دینے والے اور دین کو قائم کرنے والے بنیں: وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا ط(البقرہ۲:۱۴۳)’’اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’اُمت وسط‘ بنایا تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ تم پر گواہ ہو‘‘۔
اور___ کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ط(اٰل عمرٰن۳:۱۱۰)’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو،بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘۔
پھر واضح الفاظ میں اقامت ِ دین کو اُمت کا اصل نصب العین قرار دیا:
شَرَعَ لَکُمَ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَا اِِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط(الشوریٰ۴۲:۱۳) ’’لوگو! اس نے تمھارے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوحؑ کو دیا تھا، اور جسے (اے محمدؐ) اب تمھاری طرف ہم نے وحی کے ذریعے بھیجا ہے اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم ؑ اورموسٰی ؑ اور عیسٰی ؑ کو دے چکے ہیں، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجائو‘‘۔
ایمان، اصلاحِ نفس، پورے نظامِ زندگی کی اللہ کی ہدایت کی روشنی میں صورت گری اوردین کی اس دعوت کو تمام انسانوں تک پہنچانے کی جدوجہد اور بالآخر اقامت ِ دین اور مال اور جان کی قربانی کے ساتھ غلبے کی جدوجہد___ یہ ہے وہ تصورِ دین جو قرآن و سنت سے ہمارے سامنے آتا ہے، جو اسوئہ نبویؐ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج انقلاب کا طرئہ امتیاز ہے۔ یہی وہ چار بنیادیں ہیں جن کے تقاضے کے طور پر پانچویں چیز رُونما ہوتی ہے اور وہ، وہ عملی اورمنظم جدوجہد ہے جو دین کے قیام اور غلبے کے لیے برپا کی جائے اور صرف اللہ کی رضا کے لیے برپا کی جائے___حالات خواہ کیسے بھی ہوں۔ البتہ یہ کام مقصد کے واضح شعور، اور ان اخلاقی حدود کی مکمل پاس داری کے ساتھ انجام دینا مطلوب ہے جن کا شریعت حکم دیتی ہے۔ اس کے لیے قلب و نظر اور جان و مال کے تمام وسائل کو اس اجتماعی اور منظم جدوجہد کے لیے بخوشی پیش کردینا شریعت کا تقاضا ہے۔ یہ کام ہر دور میں حکمت اور اپنے زمانے کی ضروریات اور تقاضوں کے اِدراک کے ساتھ انجام دینا مطلوب ہے۔
یہی وہ پانچ عناصر ہیں جن سے اسلام کا مفصل وژن عبارت ہے اور جن کا نام آج کے دور میں ’تحریکِ اسلامی‘ ہے۔جہاں یہ جدوجہد اپنے متعین مقاصد، اہداف، لائحۂ عمل، حکمت عملی اور پروگرام رکھتی ہے وہیں داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے جدوجہد کرے اور اس راستے میں جو بھی مشکلات پیش آئیں، ان کا مقابلہ صبر اور استقامت کے ساتھ کرے۔
تحریکِ اسلامی کی پہچان یہ دعوت اور داعی کی وہ کیفیات ہیں جو اسے اللہ کے انعام پانے والوں کی صف میں شامل ہونے کی سعادت بخشتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریکِ اسلامی کے دونوں پہلو ایک تصویر کے دو رُخ ہیں___داعی کی عملی جدوجہد اور اس کی قلبی کیفیات اور محرکات۔
حضرت آدم ؑکے بعد قرآن حضرت نوح ؑکی دعوت کا تفصیل سے ذکر کرتا ہے___ اللہ کی بندگی کی دعوت، تقویٰ اور اللہ کے رسول کی اطاعت اور انسان کی پوری زندگی کو رب کی مرضی کے تابع کرنے کی دعوت___ سورئہ نوح میں اس کا بڑا ایمان افروز اور تاریخی حقائق پر مبنی احوال اللہ کے نبی ؑ ہی کے الفاظ میں کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے:
اس نے کہا: اے میری قوم کے لوگو، میں تمھارے لیے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (پیغمبر) ہوں۔ (تم کو آگاہ کرتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو، اللہ تمھارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمھیں ایک وقت ِ مقرر تک باقی رکھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا، کاش تمھیں اس کا علم ہو۔ اس نے عرض کیا: اے میرے رب، میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب و روز پکارا مگر میری پکار نے اُن کے فرار ہی میں اضافہ کیا۔ اور جب بھی مَیں نے اُن کو بلایا تاکہ تو انھیں معاف کردے، انھوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے اور اپنی رَوش پر اَڑ گئے اور بڑا تکبر کیا۔ پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی۔ پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا۔ میں نے کہا: اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا، تمھیں مال اور اولاد سے نوازے گا، تمھارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمھارے لیے نہریں جاری کردے گا۔ تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کے لیے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے؟ حالانکہ اُس نے طرح طرح سے تمھیں بنایا ہے۔ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بر تہ بنائے اور اُن میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا؟ اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اُگایا، پھر وہ تمھیں اِسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اِس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا۔ اور اللہ نے زمین کو تمھارے لیے فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو۔ نوحؑ نے کہا: میرے رب، اُنھوں نے میری بات ردّ کردی اور اُن (رئیسوں) کی پیروی کی جو مال اور اولاد پاکر اور زیادہ نامراد ہوگئے ہیں۔ اِن لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلا رکھا ہے۔(نوح ۷۱:۲-۲۲)
اللہ کے تمام انبیاے کرام ؑ نے یہی دعوت دی اور اسی تحریک کو برپا کیا بلالحاظ اس کے کہ ردعمل کیا ہو۔ اسی دعوت کا ایک منظر فرعون کے دربار میں نظر آتا ہے جب حضرت موسٰی ؑ کی دعوت کی تائید میں ایک صاحب ِ ایمان وقت کے فرعون اور اپنی قوم کو مخاطب کرکے کہتا ہے:
وہ شخص جو ایمان لایا تھا، بولا: ’’اے میری قوم کے لوگو، میری بات مانو، میں تمھیں صحیح راستہ بتاتا ہوں۔ اے قوم، یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے، ہمیشہ کے قیام کی جگہ آخرت ہی ہے۔ جوبُرائی کرے گا اُس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اُس نے بُرائی کی ہوگی اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن،ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں ان کو بے حساب رزق دیا جائے گا۔ اے قوم، آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ مَیں تو تم لوگوں کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم لوگ مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو! تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ اُن ہستیوں کو شریک ٹھیرائوں جنھیں میں نہیں جانتا، حالانکہ میں تمھیں اُس زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلا رہا ہوں۔ نہیں، حق یہ ہے اور اِس کے خلاف نہیں ہوسکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو اُن کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے ، نہ آخرت میں، اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں۔ آج جو کچھ مَیں کہہ رہا ہوں، عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اُسے یاد کرو گے۔ اور اپنا معاملہ مَیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں، وہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے۔(المومن ۴۰:۳۸-۴۴)
اس انقلابی دعوت کو اللہ کے جن برگزیدہ بندوں نے پیش کیا وہ بے غرضی و بے لوثی کا مجسمہ تھے۔ وہ اپنی قوم سے کسی اجر کے طالب نہیں تھے ۔ وہ صرف اللہ کے بندوں کو جہنم کے عذاب سے بچانے اور زمین و آسمان کے خالق کے بتائے ہوئے راستے کو اختیار کر کے دنیا اور آخرت کی کامیابی کی شاہراہ دکھانے والے تھے۔ وہ خیرخواہی، دل سوزی اور درمندی کے ساتھ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں اور اس میں اپنی جان تک ہلکان کردیتے ہیں: وَیٰــقَوْمِ لَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مَالًا طاِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ وَ مَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (ھود ۱۱:۲۹) ’’اے برادرانِ قوم، میں اس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ کے ذمے ہے اور میں ان لوگوں کو دھکے دینے سے بھی رہا جنھوں نے میری بات مانی ہے‘‘۔
داعی اپنے تمام مخاطبین کے لیے سراپا رحمت اور محبت ہوتا ہے اور تکلیف دینے والوں کے لیے بھی دوست اور بہی خواہ کا کردار ادا کرتا ہے۔
دیکھیے قرآن اس کا سراپا کس طرح بیان کرتا ہے:
لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ o فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ ق لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ ط تَوَکَّلْتُ وَ ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِo (التوبہ ۹:۱۲۸-۱۲۹) ’’دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسولؐ آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمھارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمھاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے___ اب اگر یہ لوگ تم سے منہ پھیرتے ہیں تو اے نبیؐ، ان سے کہہ دو کہ ’’میرے لیے اللہ بس کرتا ہے، کوئی معبود نہیں مگروہ، اُسی پر میں نے بھروسا کیا اور وہ مالک ہے عرشِ عظیم کا‘‘۔
اور اس دعوت میں وہ جس طرح اپنی جان کھپاتا ہے اور دوسروں کے لیے جس طرح فکرمند رہتا ہے اس کا بیان زبانِ حق نے یوں کیا ہے: فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا (الکھف ۱۸:۶)’’اچھا، تو اے نبیؐ! شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو، اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے‘‘۔
تحریکِ اسلامی نے دین کا یہ وژن ہمیں دیا ہے اور اس کے مطابق عملی جدوجہد کے راستے پر بھی گامزن کردیا ہے۔ استخلاف کی زندگی حق و باطل کے درمیان کش مکش کی زندگی ہے اور زندگی کا اصل لطف حق کا ساتھ دینے اور غلبۂ حق کی جدوجہد میں مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے اور اس جدوجہد کے درمیان لگنے والی ہرچوٹ کو اعزاز اور افتخار کے جذبات کے ساتھ انگیز کرنے میں ہے:
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآئَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ o لَوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَھْوًا لَّاتَّخَذْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّآ ق اِنْ کُنَّا فٰعِلِیْنَo بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ھُوَ زَاھِقٌ وَ لَکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ o (الانبیاء۲۱:۱۶-۱۸) ’’ہم نے اس آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے، کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے۔ اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے ہی پاس سے کرلیتے۔ مگر ہم تو باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سرتوڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مٹ جاتا ہے اورتمھارے لیے تباہی ہے اُن باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو‘‘۔
اس کش مکش میں اہلِ حق کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق پر جمے رہیں: فَلِذٰلِکَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَلاَ تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ ھُمْ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنْ کِتٰبٍ وَّاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمُ اللّٰہُ رَبُّنَا وَرَبُّکُمْ لَنَـآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ لاَحُجَّۃَ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَللّٰہُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا وَاِِلَیْہِ الْمَصِیْرُ o (الشورٰی۴۲:۱۵) ’’اے محمدؐ! تم اسی دین کی طرف دعوت دو اور جس طرح تمھیں حکم دیا گیا ہے اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجائو، اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو، اور ان سے کہہ دو کہ ’’اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے مَیں اس پر ایمان لایا۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمھارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اعمال تمھارے لیے۔ ہمارے اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اس کی طرف سب کو جانا ہے‘‘۔
پھر اسی راہ پر استقامت دکھانے والوں کو اللہ کی مدد کی یقین دہانی ایمان افروز انداز میں کرائی جاتی ہے اور انھیں دعوت پر قائم رہنے اور بدی کو نیکی سے دفع کرنے کی تلقین کی جاتی ہے:
جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اس پر ثابت قدم رہے ،یقینا ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ ’’نہ ڈرو نہ غم کرو اور خوش ہوجائو۔ اس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمھارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمھیں ملے گا اور ہرچیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمھاری ہوگی، یہ ہے وہ سامانِ ضیافت اس ہستی کی طرف سے جو غفور و رحیم ہے‘‘ اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا، اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔(حٰمٓ السجدۃ ۴۱:۳۰-۳۵)
آخرت کی کامیابی کے ساتھ ان کو دنیا میں بھی عزت اور کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے بشرطیکہ وہ اپنے ایمان میں سچے ہوں اور دعوت اور جدوجہد کا حق ادا کریں۔ وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(اٰل عمرٰن۳:۱۳۹)
دعوت اور جہاد کیسی نفع بخش تجارت ہے۔ اس کا صاف الفاظ میں اظہار کردیا گیا ہے:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتائوںتم کو وہ تجارت جو تمھیں عذابِ الیم سے بچادے؟ ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسولؐ پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمھارے گناہ معاف کردے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمھیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔ اور دوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمھیں دے گا۔ اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح۔ اے نبیؐ، اہلِ ایمان کو اس کی بشارت دے دو۔(الصّف ۶۱:۱۰-۱۳)
اور پھر لسانِ نبوتؐ سے دلوں میں طمانیت پیدا کرنے والی یہ خوش خبری بھی سنوا دی گئی کہ: وَ قُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ ط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا o (بنی اسرائیل ۱۷:۸۱) ’’اور اعلان کردو کہ ’’حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل تو مٹنے ہی والا ہے‘‘۔
تحریکِ اسلامی نے اسلام کا جو فہم دیا ہے، اس نے زندگی کی اس حقیقت کو روزِ روشن کی طرح واضح کردیا ہے کہ زندگی نام ہے کش مکش کا اور قرآن وہ کتابِ ہدایت ہے جو حق و باطل کے درمیان کش مکش میں قدم قدم پر رہنمائی فرماتی ہے اور کش مکش کے ہرمرحلے میں راہِ صواب کی نشان دہی کرتی ہے۔ سیدمودودی نے تفہیم القرآن کے مقدمے میں جس مؤثر انداز میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے اس کی نظیر دینی ادب میں مشکل سے ملے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ اور فکروعمل کی یہی وہ شاہراہ ہے جسے سامنے لانا تحریکِ اسلامی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ مولانا مذکورہ مقدمے میں لکھتے ہیں: ’’لیکن فہم قرآن کی اِن ساری تدبیروں کے باوجود آدمی قرآن کی روح سے پوری طرح آشنا نہیں ہونے پاتا جب تک کہ عملاً وہ کام نہ کرے جس کے لیے قرآن آیا ہے۔ یہ محض نظریات اور خیالات کی کتاب نہیں ہے کہ آپ آرام کرسی پر بیٹھ کر اسے پڑھیں اور اس کی ساری باتیں سمجھ جائیں۔ یہ دنیا کے عام تصورِ مذہب کے مطابق ایک نری مذہبی کتاب بھی نہیں ہے کہ مدرسے اور خانقاہ میں اس کے سارے رموز حل کرلیے جائیں۔ یہ ایک دعوت اور تحریک کی کتاب ہے۔ اس نے آتے ہی ایک خاموش طبع اور نیک نہاد انسان کو گوشۂ عزلت سے نکال کر خدا سے پھِری ہوئی دنیا کے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ باطل کے خلاف اس سے آواز اُٹھوائی اوروقت کے علَم برداران کفروفسق و ضلالت سے اس کو لڑا دیا۔ گھرگھر سے ایک ایک سعید روح اور پاکیزہ نفس کو کھینچ کھینچ کر لائی اور داعیِ حق کے جھنڈے تلے ان سب کو اکٹھا کیا۔ گوشے گوشے سے ایک ایک فتنہ جُو اور فساد پرور کو بھڑکا کر اُٹھایا اور حامیانِ حق سے ان کی جنگ کرائی۔
ایک فردِ واحد کی پکار سے اپنا کام شروع کرکے خلافت ِ الٰہیہ کے قیام تک پورے ۲۳سال یہی کتاب اس عظیم الشان تحریک کی رہنمائی کرتی رہی، اور حق و باطل کی اس طویل و جاں گسل کش مکش کے دوران میں ایک ایک منزل اور ایک ایک مرحلے پر اسی نے تخریب کے ڈھنگ اور تعمیر کے نقشے بتائے۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ سرے سے نزاعِ کفرودین اور معرکۂ اسلام و جاہلیت کے میدان میں قدم ہی نہ رکھیں اور اس کش مکش کی کسی منزل سے گزرنے کا آپ کو اتفاق ہی نہ ہوا ہو اور پھر محض قرآن کے الفاظ پڑھ پڑھ کر اس کی ساری حقیقتیں آپ کے سامنے بے نقاب ہوجائیں۔ اسے تو پوری طرح آپ اُسی وقت سمجھ سکتے ہیں جب اسے لے کر اُٹھیں اور دعوت الی اللہ کا کام شروع کریں اور جس جس طرح یہ کتاب ہدایت دیتی جائے، اُس طرح قدم اُٹھاتے چلے جائیں۔ تب وہ سارے تجربات آپ کو پیش آئیں گے جو نزولِ قرآن کے وقت پیش آئے تھے۔ مکہ اور حبش اور طائف کی منزلیں بھی آپ دیکھیں گے اور بدرو اُحد سے لے کر حُنین اور تبوک تک کے مراحل بھی آپ کے سامنے آئیں گے۔ ابوجہل اور ابولہب سے بھی آپ کو واسطہ پڑے گا، منافقین اور یہود بھی آپ کو ملیں گے ، اور سابقینِ اوّلین سے لے کر مؤلفۃ القلوب تک سبھی طرح کے انسانی نمونے آپ دیکھ بھی لیں گے اور برت بھی لیں گے۔
یہ ایک اور ہی قسم کا ’سُلوک‘ ہے جس کو مَیں ’سُلوکِ قرآنی‘ کہتا ہوں۔ اس سُلوک کی شان یہ ہے کہ اس کی جس جس منزل سے آپ گزرتے جائیںگے، قرآن کی کچھ آیتیں اور سورتیں خود سامنے آکر آپ کو بتاتی چلی جائیں گی کہ وہ اسی منزل میں اُتری تھیں اور یہ ہدایت لے کر آئی تھیں۔ اس وقت یہ تو ممکن ہے کہ لُغت اور نحو اور معانی اور بیان کے کچھ نکات سالک کی نگاہ سے چھپے رہ جائیں، لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ قرآن اپنی روح کو اس کے سامنے بے نقاب کرنے سے بُخل برت جائے‘‘۔ (تفہیم القرآن، جلداوّل، ص ۳۳-۳۴)
قرآن، اس کے پیغام اور اس کی دعوت کی صحیح صحیح تفہیم، اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلمکی قرآن کی روشنی میں ۲۳سالہ جدوجہد، جس نے تاریخ کے رُخ کو موڑ دیا اور رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کا سامان فراہم کردیا، وہ ہردور میں اُس دور کے حالات کی روشنی میں انھی خطوط پر تبدیلی اور تعمیرنو کے لیے نمونہ فراہم کرتی ہے۔
بیسویں صدی میں اللہ تعالیٰ نے اپنے جن نیک بندوں کو اس توفیق سے نوازا کہ وہ اپنے اپنے حالات کے مطابق اسلام کو ایک تصورِ حیات اور مکمل نظامِ زندگی اور ایک دعوت اور تحریک کے طور پر پیش کریں اور اس دعوت پر لبیک کہنے والوں کو اس تاریخی جدوجہد میں لگادیں جو اقامت ِ دین کے لیے مطلوب ہے، مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ ان میں نمایاں ہیں۔ انھوں نے برعظیم پاک و ہند میں اس دعوت کا آغاز ۱۹۳۳ء میں ترجمان القرآن کے ذریعے کیا تھا۔یہ دعوت ایک فکری تحریک کی شکل میں آغاز کرنے کے بعد اجتماعی اصلاح کی ایک انقلابی تحریک کی شکل میں ۱۹۴۱ء میں منظم ہوسکی اور الحمدللہ، آج پاکستان ہی نہیں برعظیم کے تمام ہی ممالک میں اپنے اپنے آزاد نظم کے ساتھ سرگرمِ عمل ہے اور اس کے اثرات برعظیم تک محدود نہیں، دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے ہیں۔
کئی صدیوں کے سامراجی دور، مغربی تہذیب کے غلبے، اور خود مسلمانوں کے ذہنی جمود کے نتیجے میں دین کے قرآنی تصور اور منہج نبویؐ پر جو پردے پڑگئے تھے یا ’تجدد‘ ، ’اصلاح‘ اورموڈرنٹی (modernity)کے نام پر جس قطع و بُرید کا ان کو نشانہ بنایا گیا تھا، الحمدللہ تحریکِ اسلامی نے اس فکری انتشار اور خلفشار کا بھرپور مقابلہ کیا اور اسلام کی روشن شاہرا ہ کو ہرگردوغبار سے پاک کرکے اس کی اصل شکل میں پیش کیا اور قرآن و سنت کے محکم دلائل کے ساتھ پیش کیا اور پھر اس فکر کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی تبدیلی کی جدوجہد کو عملی طور پر برپا کیا جو آج پوری دنیا میں حق و باطل کی کش مکش کی بنیاد ہے۔
۱۱مئی ۲۰۱۳ء کے انتخابات میں عوام کے فیصلے کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ ملک کے نظام اور پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیوں کے خواہش مند ہیں۔ پرویز مشرف اور زرداری،گیلانی، پرویز اشرف اور ان کے اتحادیوں نے اپنے ۱۴سالہ دورِ حکومت میں ملک کے پورے نظام کو جس طرح درہم برہم کیا تھا اور ملک کی آزادی، حاکمیت، سالمیت اور نظریاتی شناخت سے لے کر امن و امان، جان و مال اور آبرو کے تحفظ، اور معاشی اور معاشرتی، تعلیمی اور اخلاقی زندگی میں جو بگاڑ اور فساد اس زمانے میں رُونما ہوا، اس نے زندگی کی ہرسطح پر تباہی مچادی۔ کرپشن اور بدعنوانی کا طوفان اُٹھ کھڑا ہوا اور ایک عام آدمی کے لیے زندگی اجیرن ہوگئی۔ قوم کے سامنے ایک طرف وہ سیاسی پارٹیاں تھیں جو اس ۱۴سالہ دور کی نمایندہ بنیں، یعنی پیپلزپارٹی، اے این پی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ(ق) اور ایک حد تک جے یو آئی۔ اور دوسری طرف وہ جماعتیںتھیں جو اس اسٹیٹس کو (status quo) کو چیلنج کررہی تھیں اور قوم کو تبدیلی کا پیغام دے رہی تھیں۔
قوم نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا اور پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کو سندھ میں اپنے اپنے حلقوں میں اگر بظاہر کامیابی ہوئی بھی تو وہ عوامی مینڈیٹ کا نتیجہ نہیں بلکہ اس مینڈیٹ کو جبر اور دھوکے سے اغوا کرنے کے نتیجے میں حاصل ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) کو مرکز اور پنجاب میں واضح مینڈیٹ ملا اور صوبہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف اور ایک حد تک جماعت اسلامی کو۔ جناب میاں نواز شریف نے ۱۱مئی کی رات ہی کو اپنی فتح کا اعلان کردیا اور گو وزارتِ عظمیٰ کا چارج انھیں ۶جون کو ملا لیکن ان کے فی الواقع (virtual) اقتدار اور آزمایش کا آغاز ۱۱مئی ہی سے ہوگیا۔ چونکہ وہ اس سے پہلے دو بار وزیراعظم کی ذمہ داریاں اُٹھاچکے تھے، ۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۳ء تک سب سے بڑے صوبے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو اقتدار حاصل تھا اور مرکز میں بھی اس زمانے میں مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی اور سینیٹ میں معقول تعداد میں موجود ہونے کے باعث حزبِ اختلاف کا کردار ادا کر رہی تھی، اس لیے توقع تھی کہ اقتدار سنبھالتے ہی وہ تبدیلی کے سفر کا آغاز کرے گی اور قوم کے سامنے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق ایک نئی راہ کھل جائے گی۔
پارلیمانی جمہوریت کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ حزبِ اختلاف دراصل منتظر حکومت (Government in waiting) کی حیثیت رکھتی ہے، اس کے پاس شیڈوکیبنیٹ کی شکل میں متبادل قیادت ہرلمحہ موجود ہوتی ہے اور وہ متبادل پالیسیوں کے باب میں بھی ہرلمحہ تیار ہوتی ہے۔ پھر مسلم لیگ (ن) کا دعویٰ تھا کہ اس کے پاس بہتر اور تجربہ کار ٹیم موجود ہے۔ اس نے دو سال کی تیاری اور بحث و مباحثے کے بعد ۲۰۱۳ء کے انتخابات کے لیے قوم کے سامنے ایک مفصل منشور پیش کیا تھا اور اس امر کی توقع تھی کہ ذمہ داری سنبھالنے کے فوراً بعد معروف جمہوری روایات کی روشنی میں وہ پہلے ۱۰۰ دن کا پروگرام قوم کے سامنے پیش کرے گی۔ پھر چونکہ ذمہ داری سنبھالتے ہی ۱۰دن کے اندر اسے نیا بجٹ پیش کرنا تھا جس کے لیے عملاً اس نے ۱۱مئی کے بعد ہی کام شروع کردیا تھا۔ وہ ایک نادر موقع تھا کہ کم از کم نئی پالیسیوں کا ایک مربوط نقشہ قوم کے سامنے پیش کردیا جائے لیکن بجٹ بحیثیت مجموعی مایوس کن رہا اور ان سطور کے لکھتے وقت تک ۱۰۰ میں سے ۵۰دن گزر چکے ہیں لیکن نئے پروگرام کی کوئی جھلک قوم کے سامنے نہیں آسکی۔
ایک بظاہر تجربہ کار ٹیم کی طرف سے یہ کارکردگی بڑی مایوس کن اور ملک کے مستقبل کے لیے تشویش ناک ہے۔ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ کی پوری قیادت کو حالات کی نزاکت کا احساس کرنا چاہیے۔ ہم اپنے تمام اختلافات کے باوجود ملک کے وسیع تر مفاد میں دعاگو ہیں کہ وہ سیاسی قوتیں جنھیں قوم نے حالات کو سنبھالنے اور بگاڑ کی اصلاح کے لیے مینڈیٹ دیا ہے، وہ سنجیدگی، دیانت اور اعلیٰ صلاحیت کے ساتھ ملک و قوم کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں اور عوام کو اس دلدل سے نکالیں جس میں ان کو دھنسایا گیا ہے، ورنہ قوم خاص افراد ہی نہیں، سیاسی جماعتوں اور جمہوری عمل سے مایوس ہوسکتی ہے جو سب کے لیے خسارے کا سودا ہے۔
نئی حکومت سے یہ توقع تھی کہ اسے واضح مینڈیٹ ملا ہے۔ وہ معلّق پارلیمنٹ کی آزمایش سے بچ گئی ہے۔ چھوٹی جماعتوں کے بلیک میل کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ وہ آگے بڑھ کر خارجہ اور داخلہ دونوں میدانوں میں ایک واضح لائحہ عمل قوم کے سامنے لائے گی اور کوشش کرے گی کہ زیادہ سے زیادہ اُمور پر قومی اتفاق راے پیدا کرے اور عوام کو ایک نئی اُمید اور اُمنگ دے کر سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھے۔ بلوچستان کے گمبھیر حالات کی بناپر جو ابتدائی روش مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے اختیار کی، اس سے اچھی اُمیدیں پیدا ہوئی تھیں لیکن ۵۰دن گزرنے کے باوجود اب تک صوبے میں کابینہ کا نہ بننا ایک پریشان کن صورت حال کی خبر دے رہا ہے۔ نیز دہشت گردی اور لاقانونیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ فاٹا اور کراچی کے حالات بھی دگرگوں ہیں اور سارے بلندبانگ دعوئوں کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جامع قومی سلامتی پالیسی بنائے جانے کا خواب ایک خوابِ پریشان بنتا جارہا ہے۔ قومی سلامتی کے مسئلے پر کُل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کی ایک تاریخ (۱۲جولائی) دینے کے باوجود اس طرف کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی اور معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی اُمور کے بارے میں کوئی واضح سوچ بھی موجود نہیں۔ سب سے پریشان کن چیز سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی اور یک سوئی کے باب میں متضاداشاروں کا ظہور ہے۔ ایبٹ آبادکمیشن کی رپورٹ کے نام سے جو دستاویز سامنے آئی ہے اور جس طرح سامنے آئی ہے اس نے سیاسی سطح پر بڑے سوالیہ نشان مرتسم کردیے ہیں۔
ڈرون حملے بند کرانے اور امریکا سے دہشت گردی کی جنگ کے باب میں تعلقات پر مکمل نظرثانی قوم کے لیے اوّلین ترجیح کا عالمی مسئلہ تھا اور ہے۔ توقع تھی کہ اس سلسلے میں مسلم لیگ(ن) نے مناسب ہوم ورک کررکھا ہوگا جس کا وہ عندیہ بھی دیتے تھے مگر معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے کوئی واضح خطوطِ کار موجود نہیں ہیں اور خود اپنے منشور میں جو باتیں انھوں نے کہی ہیں، ان کو بھی کسی واضح اور متعین پالیسی میں ڈھالنے اور قوم کو ساتھ لے کر ایک حقیقی طور پر آزادخارجہ پالیسی مرتب کرنے کے باب میں ان ۵۰دنوں میں وہ پہلا قدم بھی نہیں اُٹھا سکے۔ نہ معلوم کس مصلحت کے تحت وزیراعظم صاحب نے خارجہ اُمور اور دفاع دونوں شعبے اپنے پاس رکھے ہیں اور عملاً کوئی مستقل وزیر ان اہم ترین شعبوں میں نہیں مل سکا۔ وزیراعظم کے مشیر براے خارجہ اُمور اور سلامتی اور معاون خصوصی کے درمیان بھی ہم آہنگی کا فقدان نظر آتا ہے۔ عالمِ سیاست کے دو اہم ترین مراکز، یعنی واشنگٹن اور لندن دونوں کے لیے مسلم لیگ(ن) کی حکومت مناسب سفیروں کا انتخاب نہیں کرسکی ہے۔ واشنگٹن میں ڈیڑھ مہینے سے کوئی سفیر نہیں ہے اور لندن میں زرداری صاحب کے معتمدخاص سفارتی تجربہ نہ رکھنے کے باوجود بطور ہائی کمشنر کام کر رہے ہیں۔ ان کے بارے میں جو کچھ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ میں آیا ہے، اس کا ذکر نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ افغانستان سے تعلقات پر کھچائو اور بے اعتمادی کے سایے صاف نظرآرہے ہیں۔ طالبان امریکا مذاکرات کی جو دگرگوں کیفیت ہے، وہ پاکستان کے لیے بھی بڑے مسائل پیدا کر رہی ہے اور آگ بجھانے کی کچھ کوششیں تو ہورہی ہیں لیکن اصل مسئلہ یعنی ’دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ‘ سے نکلنے اور اس آگ سے خود افغانستان کو بچانے کے لیے جس داعیے (initiative) کی ضرورت ہے، اس کے اِدراک کا دُور دُور پتا نہیں۔
خارجہ پالیسی کا سب سے تشویش ناک پہلو بھارت کے بارے میں نہایت سطحی اور جذباتی انداز میں نہایت غیرحقیقت پسندانہ پالیسی اشارے ہیں جو ناقابلِ فہم ہیں۔ انتخابی نتائج کے آتے ہی بھارت سے پینگیں بڑھانے کا عندیہ دیا گیا۔ بھارت سے آئے ہوئے ایک سکھ وفد کے سامنے جن جذبات کا اظہار کیا گیا اور جن میں تحریکِ پاکستان کے مقصد ِ وجود تک کی نفی کردی گئی، اس نے پوری قوم کو چونکا دیا۔ اگر تحریکِ پاکستان کی بنیاد، یعنی دو قوموں اور دو تہذیبوں کا اپنا اپنا مستقل وجود ہی محض ایک واہمہ تھا تو پھر پاکستان کا جواز ہی کہاں باقی رہتا ہے۔ یہ بات اگر بھارت میں گونجنے والی آواز کی بازگشت نہیں تو کیا ہے؟ پھر بھارت کے وزیراعظم کو حلف برداری کی تقریب میں بلانے کی بات کسی ہوم ورک کے بغیر اور ان کے ٹکے سے جواب کے بعد بھی شیروشکر ہونے کی باتیں کن عزائم کی غماز ہیں؟ بھارت میں ان د و مہینوں میں پاکستان کے خلاف اور خصوصیت سے کشمیر میں جس طرح بے دردی سے نوجوانوں کا قتل اور قرآنِ پاک کی بے حُرمتی ہورہی ہے، اس پر قرارواقعی ردعمل کا فقدان، بلکہ اس سب کے باوجود تجارت ہی نہیں ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا آغاز قومی سلامتی کے باب میں کسی اعلیٰ اور جامع وژن اور ملک کے حقیقی مفادات کے باب میں صحیح ترجیحات کے فقدان کی بدترین مثال ہے۔
بھارت امریکا کے تعاون سے پاکستان میں، افغانستان میں اور اس پورے خطے میں جو کھیل کھیل رہا ہے، اس کو نظرانداز کرکے خوش فہمیوں پر مبنی جو اقدام کیے جارہے ہیں خواہ ان کا تعلق معیشت اور تجارت سے ہو یا سیاسی تعلقات اور بنیادی تنازعات کے بارے میں صحیح رویے سے، وہ کم سے کم الفاظ میں نہایت غیرحقیقت پسندانہ اور ملکی سلامتی پر منفی اثرات رکھنے والے ہیں۔ بھارت سے دوستانہ تعلقات ہم بھی چاہتے ہیں لیکن پاکستان کے اسٹرے ٹیجک مفادات کی قربانی یا ان کو پسِ پشت ڈالنے کی قیمت پر نہیں۔ اس سلسلے میں ایک اسٹرے ٹیجک ناکامی کشمیر کے مسئلے کے بارے میں مؤثر اور مضبوط ردعمل پاکستان کی طرف سے مؤثر ردعمل ظاہر نہ کیا جانا ہے۔ نیز عالمی سطح پر ان اُمور کو جس طرح ہمیں اُجاگر کرنا چاہیے تھا، اس کی کوئی فکر دُور دُور نظر نہیں آتی ہے۔ کشمیر میں نوجوان روزانہ اپنے خون سے اپنا احتجاج رقم کر رہے ہیں اور قرآن کی بے حُرمتی کے واقعے پر سروں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور پاکستانی حکومت بے جان تحفظات کے اظہار کے تکلف سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔
بھارتی پارلیمنٹ پر دسمبر ۲۰۰۱ء کے حملے کا الزام بھارت نے پاکستان کو دیا تھا اور ایک سال تک بھارتی فوجیں پاکستان کی سرحدوں میں کیل کانٹے سے لیس کارروائی کے لیے پَر تولتی رہیں،اب اس واقعے کے بارے میں بھارت کے ایک سابق انڈر سیکرٹری نے بھارتی سپریم کورٹ میں ایک حلفیہ بیان دیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ حملہ کسی پاکستانی گروہ کے ایما پر نہیں خود بھارت کی اپنی ایجنسیوں کے ایما پر ہوا تھا اور سارا منصوبہ خود انھی کا تیار کردہ تھا۔ لیکن ہماری وزارتِ خارجہ کا یہ عالم ہے کہ اس نے صرف وضاحت حاصل کرنے کا تکلف کیا ہے اور عالمی سطح پر اس سے جو فائدہ اُٹھانا چاہیے تھا اس کا کوئی احساس دُور و نزدیک نظر نہیں آتا ہے۔ حالانکہ صرف یہ بیان ہی بھارت کی ایجنسیوں کے اس معاملے میں کردار کا غماز نہیں، اس سے پہلے خود بھارت کے آزاد مبصرین اور محقق اس راے کا اظہار کرچکے ہیں جس کی تفصیل خود بھارت کی پینگوئن پبلشرز کی شائع کردہ کتاب The Strange Case of The Parliament Attack میں موجود ہے جو ۲۰۰۶ء میں واقعے کے پانچ سال بعد شائع ہوئی ہے، اور جس میں بھاررت کی مشہور دانش ور ارون دھتی رائے نے اس پورے واقعے کے بارے میں ۱۳سوال اُٹھائے ہیں اور صاف الفاظ میں وہی بات کہی ہے جو اب بھارتی وزارتِ داخلہ کا انڈرسیکرٹری روی شنکرمانی ، بھارت کے خفیہ ایجنسی کے افسر ستیش چندرا ورما کی روایت کی روشنی میں کہہ رہا ہے۔ گویا اس کے اور ممبئی کے ۲۰۰۸ء کے خونیں واقعے کے پیچھے خود بھارت کا ہاتھ تھا اور یہ دونوں خونی ڈرامے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کیے گئے۔ ارون دھتی رائے جس نتیجے پر ۲۰۰۶ء میں پہنچی، وہ اسی کے الفاظ میں پڑھنے کے لائق ہے کہ سات سال پہلے اس نے وہی بات کہی جو آج سپریم کورٹ میں حلف نامے پر کہی جارہی ہے اور پاکستان کی قیادت منہ میں گھونگنیاں ڈالے بیٹھی ہے۔ اپنے ۱۳سوالات کی روشنی میں ارون دھتی رائے کہتی ہے:
ان سوالات کا مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو یہ نااہلیت سے بہت زیادہ سنگین صورت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جو الفاظ ذہن میں آتے نظر آتے ہیں وہ یہ ہیں: شرکت، سازش، خفیہ سازباز۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم صدمے کا جھوٹا اظہار کریں اور نہ ان خیالات کے سوچنے یا ان کو بلندآواز میں کہنے سے پیچھے ہٹیں۔ حکومتیں اور ان کی خفیہ ایجنسیاں ایک پرانی روایت رکھتی ہیں کہ اس طرح کے اسٹرے ٹیجک واقعات کو، جیساکہ یہ ہے، اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کریں (دیکھیے: جرمنی میں Reichstag کا جلنا اور ۱۹۳۳ء میں نازی طاقت کا عروج یا آپریشن گلے ڈیو جس میں یورپی خفیہ ایجنسیوں نے دہشت گردی کی کارروائیاں خود کیں، خصوصاً اٹلی میں، جن کا مقصد جنگ جوُ گروہوں جیسے Red Brigades کو منتشر کرنا خیال کیا جاتا ہے۔ (دی گارڈین، لندن، India's Shame از ارون دھتی رائے، ۱۵ دسمبر ۲۰۰۶ء)
واضح رہے کہ ممبئی حملے کے بارے میں صرف مانی اور ورما کے بیانات سوالیہ نشان نہیں اُٹھا رہے، ممبئی حملے میں جس طرح سمجھوتا ایکسپریس کے بارے میں بھارتی فوج کے حاضر سروس افسر کے کردار کا راز فاش کرنے والے پولیس افسر کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا، اور پھر جس طرح حال ہی میں حصولِ معلومات کے حق (Right to Information) کے ذریعے حاصل کی جانے والی معلومات کے ذریعے یہ حقائق سامنے آئے کہ ممبئی کے میونسپل آفس سے اس تاج محل ہوٹل کے بارے میں جو اس واقعے کا مرکزی مقام تھا، تمام میونسپل ریکارڈ غائب کردیے گئے ہیں جسے بھارتی اخبارات نے ایک بڑا سیکورٹی رسک قراردیا ہے۔ (ملاحظہ ہو، ایوننگ نیوز ڈائجسٹ، ۱۶جولائی ۱۳،۲۰ء رپورٹ کا عنوان: Taj Hotel Files went Missing before 26/11 attacks)
بات ذرا طویل ہوگئی لیکن مقصد اس طرف متوجہ کرنا ہے کہ بھارت سے دوستی کے شوق میں ہماری قومی سلامتی اور خارجہ سیاست کے ذمہ دار کس طرح زمینی حقائق کو نظرانداز کررہے ہیں، اور وہ پاکستان کے خلاف بھارت کے پروپیگنڈے کا مؤثر توڑ کرنے اور اصل حقائق دنیا کے سامنے لانے کے مواقع کو ضائع کر رہے ہیں۔
ہم بڑی دل سوزی کے ساتھ وزیراعظم صاحب کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کے اُمور پر لب کشائی سے پہلے ٹھنڈے غوروفکر سے کام لیں اور خارجہ سیاست کے نشیب و فراز سے واقف ماہرین سے مشورہ کرلیا کریں۔ وہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ ہم بھارت سے معاملات کو اس مقام سے شروع کرنا چاہتے ہیں جہاں ۱۹۹۹ء میں واجپائی صاحب کے ساتھ طے ہوئے تھے۔ ان کی خواہشات اپنی جگہ، اوّل تو جو کچھ اس موقع پر ہوا وہ نمایش زیادہ اور حقیقت (substantion) کم تھا۔ پھر لاہور کی بس ڈپلومیسی کے بعد کارگل واقع ہوا۔ جس نے حالات کو بدل دیا۔ اس زمانے میں بھارت میں بی جے پی کی پوزیشن اور سیاسی کردار میں زمین آسمان کا فرق واقع ہوچکا ہے۔ دسمبر ۲۰۰۱ء اور جولائی ۲۰۰۸ء کے دہلی اور ممبئی کے ڈراموں نے حالات کو بدل دیا ہے۔ بھارت امریکا تعلقات میں اس زمانے میں جو تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں انھوں نے پوری علاقائی سیاسی بساط کو متاثر کیا ہے۔ افغانستان اور بلوچستان میں بھارت کے کردار نے بھی مستقبل کے سیاسی منظرکو متاثر کیا ہے۔ چین اور بھارت کے تعلقات کے نشیب و فراز بھی ہوا کے نئے رُخ کا پتا دے رہے ہیں۔ کشمیر میں اس زمانے میں جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں ڈیم تعمیر کرنے کی جو کوششیں کی جارہی ہیں وہ اپنے خاص تقاضے رکھتے ہیں۔ وزیراعظم صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان ۱۴برسوں میں برعظیم کے سیاسی پُلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ گیا ہے اور اب ۱۹۹۹ء کے پروسس کا اُس مقام سے بحالی کا کوئی امکان نہیں۔ اس خواہش کی بحالی کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ مشرف نے اس زمانے میں کشمیر کے مسئلے کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کے منفی اثرات بھی ناقابلِ انکار ہیں۔ نئی پالیسی کو اصولی پوزیشن ، زمینی حقائق اور ملک کے اسٹرے ٹیجک مفادات کی روشنی میں مرتب کیا جانا چاہیے۔ شاعرانہ خوش خیالیوں کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ انھیں بھارت کے بارے میں اپنی سوچ پر بنیادی نظرثانی کرنا ہوگی ورنہ وہ خدانخواستہ پاکستان کے مفادات کو مشرف سے بھی زیادہ نقصان پہنچانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ریاست کے اُمورپر اگر ’عمرا جاتی‘ کے جذباتی احساسات کا سایہ پڑنے دیا جائے تو اس کے بڑے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں جن کے بارے میں ہم پوری دردمندی سے ان کو متنبہ کرنا اپنا دینی اور ملّی فرض سمجھتے ہیں۔
اس سلسلے کی سب سے تکلیف دہ اور شرمناک مثال دفترخارجہ کا وہ بیان ہے جو بنگلہ دیش کے بارے میں دیا گیا ہے۔ وہاں کی عوامی لیگی حکومت ۱۹۷۱ء کے واقعات کے سلسلے میں جنگی جرائم کے نام پر ایک ڈراما کر رہی ہے جو دو سال سے جاری ہے۔ اس نتیجے میں پروفیسر غلام اعظم صاحب اور جماعت اسلامی کے پانچ قائدین کو شرمناک سزائیں دی گئی ہیں۔ ان کا ہدف صرف جماعت اسلامی کی قیادت نہیں بلکہ پاکستان، اس کی حکومت اور فوج ہے جس پر دنیا بھر میں احتجاج ہورہا ہے۔ جس مقدمے کا سارا بھانڈا خود لندن کے اکانومسٹ نے ٹربیونل کی غیرقانونی کارروائیوں کے پورے ریکارڈ کی بنیاد پر پھوڑا ہے، جس پر کئی مسلم اور مغربی ممالک کی حکومتوں نے احتجاج کیا ہے اور اس کے خلاف بنگلہ دیش کے عوام گذشتہ پانچ مہینے سے احتجاج کر رہے ہیں اور سیکڑوں افراد شہید ہوچکے ہیں اور ۵۰ہزار افراد اس وقت جیلوں میں ہیں، لیکن شرم کا مقام ہے کہ ہمارے دفترخارجہ کے ترجمان اسے بنگلہ دیش کا ’داخلی معاملہ‘ فرما رہے ہیں۔
بدقسمتی سے داخلی میدان میں بھی ان دنوں میں کوئی مثبت پیش رفت نظر نہیں آرہی اور ع
وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی، سو اب بھی ہے
سب سے اہم مسئلہ دہشت گردی، لاقانونیت، قتل و غارت گری، بھتہ خوری اور جرائم پر قابو پانے کا تھا لیکن چند خوب صورت بیانات کے سوا مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے دامن میں کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ سپریم کورٹ ہر روز اسی طرح شکوہ سنج ہے کہ حالات میں کوئی تبدیلی نہیں۔ اس کے احکامات سے اسی طرح رُوگردانی کی جارہی ہے جس طرح ماضی میں ہورہی تھی۔ لاپتا افراد بھی اسی طرح لاپتا ہیں بلکہ ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے( جولائی ۲۰۱۳ء میں سپریم کورٹ نے ۵۰۴ لاپتا افراد کی بازیابی کا حکم دیا ہے اور پشاور ہائی کورٹ نے مزید ۲۵۴ کا)، اور بوریوں میں لاشیں اسی طرح مل رہی ہیں۔ پولیس اور ایف سی کی روز سرزنش ہوتی ہے مگر ’زمیں جُنبد نہ جُنبد گُل محمد ‘کی کیفیت ہے اور نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ عدالت عالیہ کو پولیس کے آئی جی، ڈی آئی جی اور فوج کی خفیہ ایجنسیوں کے کرنل صاحبان تک کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنا پڑ رہے ہیں۔ کراچی اُسی طرح میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔ نئے وزیرداخلہ صاحب نے جوش میں ایک مہینے میں حالات درست کرنے کی وارننگ دے دی تھی مگر پھر خود ہی اپنے الفاظ واپس لینے پڑے۔ لیاری ہی نہیں پورے شہرقائد میں جس طرح انسانوں کا خون ارزاں ہے اور بھتہ خور جس طرح دندناتے پھررہے ہیں، وہ بڑے بنیادی بگاڑ کی خبر دے رہے ہیں۔ کسی بڑے اقدام کے بغیر ان حالات کی اصلاح ممکن نظر نہیں آرہی۔ اصل وجہ مجرموں سے ناواقفیت نہیں، مجرموں پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت اور سیاسی عزم اور اقدام کا فقدان ہے۔ سپریم کورٹ اپنے ۲۰۱۱ء کے فیصلے میں نام لے کر پولیس اور دوسری ایجنسیوں کی جوائنٹ رپورٹ کے حوالے سے ان عناصر کی نشان دہی کرچکی ہے اور ان کے خلاف باربار اقدام کا مطالبہ کر رہی ہے مگر صوبے کی حکومت حسب سابق غافل ہے اور مرکز ’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘ کی تصویر بنا ہوا ہے۔
بجلی اور توانائی کا بحران ایک عفریت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ ۴۸۰؍ارب روپے گردشی قرضے کے سلسلے میں ادا کیے جاچکے ہیں لیکن ابھی تک بجلی کی فراہمی اور لوڈشیڈنگ کی کمی کی شکل میں اس کا کوئی اثر نظر نہیں آرہا۔کن اداروں کی کتنی مدد کی گئی ہے اور کن شرائط پر؟ اس کی کوئی تفصیل قوم یا پارلیمنٹ کے سامنے نہیں آئی ہے۔ جس طرح قومی سلامتی کی پالیسی ایک خواب اور خواہش سے آگے نہیں بڑھ پارہی، اسی طرح قومی توانائی پالیسی بھی ابھی تک پردۂ اخفاء میں ہے، حالانکہ یہ دونوں چیزیں ایسی تھیں جنھیں حکومت کے بننے کے بعد فوری طور پر واضح شکل میں قوم کے سامنے آنا چاہیے تھا اور اس کے ساتھ ایک متعین ٹائم ٹیبل طے ہونا چاہیے تھا جس میں ہر ماہ کا ٹارگٹ ہوتا تاکہ کم از کم ان دونوں میدانوں میں فوری نتائج قوم کے سامنے آنا شروع ہوجاتے۔ کوئی بھی یہ توقع نہیں رکھتا کہ فقط ایک دو ماہ میں یہ مسائل حل ہوجائیں گے لیکن یہ توقع تو ضرور کی جارہی تھی کہ فوری طور پر نئی پالیسی اور اس پر عمل درآمد کا نقشۂ کار قوم کے سامنے ہوگا اور قوم یہ محسوس کرسکے گی کہ ہرماہ ہم اپنی منزل کی طرف چند قدم آگے بڑھا رہے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش واضح پالیسی کا فقدان اور عملی نتائج کی طرف پیش رفت کے نقشے کا نہ ہونا ہے۔اندازِ حکمرانی اور نتائج و ثمرات عوام تک پہنچانے کے نظام میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی اور یہ سب سے تشویش ناک پہلو ہے۔
ہم سیاسی انتقام کو ایک اخلاقی اورقانونی جرم سمجھتے ہیں لیکن اہم قومی اداروں اور دستوری ذمہ داری کے مقامات پر صحیح لوگوں کا شفاف انداز میں تقرر اچھی حکمرانی اور نظامِ کار میں تبدیلی کے لیے ازبس ضروری ہے۔ سب سے بڑا صوبہ دو مہینے سے گورنر سے محروم ہے۔ سندھ میں ۱۱سال سے ایک ہی شخص سیاسی گٹھ جوڑ کی علامت بنا ہوا ہے۔ اہم قومی ادارے بشمول نیب سربراہ سے محروم ہے اور درجنوں مرکزی اداروں اور پبلک سیکٹر (enterprises) پر وہ لوگ براجمان ہیں جو اہلیت اور صلاحیت کو نظرانداز کرکے ذاتی یا گروہی مفادات کی خاطر مقرر کیے گئے تھے جو ان اداروں کی تباہی اور قومی وسائل کے ضیاع کا سبب رہے ہیں، لیکن آج تک نہ نئے افراد کے تقرر کا شفاف نظام بنایا گیا ہے اور نہ صحیح افراد کے تقرر کا عمل شروع ہوا ہے۔ بدقسمتی سے جہاں نئی تقرریاں ہوئی ہیں وہاں وہی پرانی روش جاری ہے۔ اس سلسلے میں پی آئی اے کی مثال میڈیا میں آرہی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود، نئی حکومت بھی مناسب اقدام کرنے سے گریزاں ہے۔ شخصی پسندوناپسند اور ذاتی وفاداریوں، دوستیوں اور احسانات کا بدلہ اُتارنے کے عمل کے تاریک سایے آج بھی منڈلاتے نظرآرہے ہیں۔ پنجاب میں لگژری مکانات پر ٹیکس ایک اچھا اقدام ہے مگر اس کے ساتھ وزرا اور بااثرافراد کے اپنے لگژری مکانات کو کیٹگری ۲ میں لانے کے بارے میں جو اطلاعات اخبارات میں آرہی ہیں، وہ اسی بیماری کا پتا دیتی ہے جس کے علاج کے لیے قوم نے قیادت کی تبدیلی کا اقدام کیا تھا۔ سرکاری وسائل کا شخصی استعمال اب بھی ہورہا ہے۔ اگر زرداری صاحب اپنے سرکاری دوروں پر بلاول اور آصفہ کو لے جاتے تھے تو اب چین کے دورے پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ اپنے اپنے صاحب زادوں کو لے کر گئے ہیں حالانکہ ان کو ایسے اہم اور حساس سیاسی دوروں میں شامل کیے جانے کا کوئی جواز نہیں۔ قوم سابقہ دور کی کرپشن سے بے زار تھی اور روزانہ سپریم کورٹ میں اُس دور کی کرپشن کے کسی نہ کسی واقعے کی شرمناک داستان بے نقاب ہورہی ہے۔ سابقہ حکمرانوں نے ترقیاتی فنڈز کو جس طرح ذاتی اور جماعتی مفادات کے لیے استعمال کیا ہے وہ شرمناک ہی نہیں مجرمانہ فعل ہے جس پر قانون کے مطابق گرفت ہونی چاہیے۔
ہم توقع رکھتے ہیں کہ موجودہ حکومت بدعنوانی اور کرپشن کے تمام دروازوں کو بند کرے گی اور سپریم کورٹ جس طرح بدعنوانی کے ایک ایک معاملے کو بے نقاب کر رہی ہے، حکومت نہ صرف ان اتھاہ کنوئوں(bottomless sinks) کو بند کرے گی بلکہ قوم کی لُوٹی ہوئی رقم قومی خزانے میں واپس لائے گی اور کرپشن کے ان شہزادوں کو قانون کے مطابق قرارواقعی سزا دلوائے گی۔ لیکن وزیراعظم کے حالیہ چینی دورے کے ضمن میں جو اطلاعات اخبارات میں آرہی ہیں، وہ بڑی پریشان کن ہیں اور ان کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ نندی پور پروجیکٹ کے باب میں سابق حکومت نے مجرمانہ غفلت برتی اور مشینری ایک سال سے بندرگاہ پر پڑی سڑ رہی تھی، اس پروجیکٹ کو بحال کرنا ایک مفید اقدام ہے لیکن یہ بات عقل سے بالاتر ہے کہ ۳۳؍ ارب روپے کے اس پروجیکٹ کو چشم زدن میں ۵۷؍ارب روپے کا کیسے بنا دیا گیا اور چشم زدن میں متعلقہ وزارت کی سمری اور پلاننگ کمیشن سے منظوری اور غالباً وزارتِ مالیات کی طرف سے رقم کی فراہمی، یہ سب کیسے ہوا؟ اخباری اطلاعات ہیں وزارتِ خزانہ نے انکوائری شروع کردی ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ سب ہوا کیوں؟ اس سلسلے میں ایک سابق ایم ڈی پیپکو کا ایک خط بھی اخبارات میں آیا ہے جس سے بڑی ہولناک صورت حال سامنے آرہی ہے (ملاحظہ ہو روزنامہ دنیا کا کالم ’میرے دوستوں کو اتنی جلدی کیوں؟‘)۔ اس کا فوری سدباب ضروری ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ نئی حکومت کو مناسب موقع ملنا چاہیے لیکن نئی حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ واضح پالیسیوں کا اعلان کرے، پالیسیوں پر عمل درآمد کا نقشۂ کار قوم کے سامنے لائے۔ اس نقشے کے مطابق احتساب کا نظام مرتب کیا جائے جس پر پوری شفافیت کے ساتھ عمل ہو اور قوم اور پارلیمنٹ کو ہرقدم پر پوری طرح باخبر رکھا جائے۔ میڈیا کو بھی پوری دیانت اور ذمہ داری سے مگر کسی مداہنت کے بغیر نگران (watch-dog) کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پارلیمنٹ اور خصوصیت سے حزبِ اختلاف کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور تمام اہم اُمور پر احتساب کا فریضہ پوری ذمہ داری اور مستعدی سے انجام دیں۔
اس سلسلے میں تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی کے ارکان پر خصوصی ذمہ داری آتی ہے کہ وہ قوم کے ضمیرکا کردار ادا کریں اور پارلیمنٹ اور اس کی کمیٹیوں کو عوام کے حقوق کے تحفظ اور قوم کے وسائل کے صحیح استعمال کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کریں۔ ایبٹ آباد کمیشن کی اصل رپورٹ کو فوری طور پر پارلیمنٹ کے سامنے آنا چاہیے تاکہ وہ کنفیوژن ختم ہو جو ایک ابتدائی مسودے کے ایک پُراسرار انداز میں شائع کیے جانے سے رُونما ہوا ہے۔ اسی طرح سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کے فیصلوں کے سلسلے میں بھی حکومت اور پوری انتظامیہ کے رویے میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ ان فیصلوں پر ٹھیک ٹھیک عمل ہو۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اگر حکومتیں اور ریاست کے تمام ادارے اپنے اپنے کام ٹھیک ٹھیک انجام دیں تو عدالتوں کو انتظامی اُمور میں مداخلت کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ عدالتوں کو اس میدان میں احکام جاری کرنے کی ضرورت بھی صرف اس وجہ سے پڑرہی ہے کہ حکومت اور دوسرے ریاستی ادارے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے اور لوگ مجبور ہوتے ہیں کہ انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں یا عدالت کو خود نوٹس لینا پڑتا ہے تاکہ ذمہ دار اداروں کی بے حسی پر ضرب لگا سکے۔ اندازِ حکمرانی کی فوری اصلاح ہی سے حالات صحیح رُخ پر آسکتے ہیں۔
ہم ہرگز معجزات کی توقع نہیں رکھتے لیکن قوم کا یہ حق ہے کہ کم از کم اس کے سامنے یہ چیز تو آئے کہ تبدیلی کی سمت کیا ہے اور منزلِ مقصود کی طرف کوئی قدم اُٹھ بھی رہا ہے یا نہیں۔ سفر بلاشبہہ طویل ہے اور قوم صبروہمت کے ساتھ راستہ کاٹنے کے لیے تیار ہوگی اگراسے یہ نظر آئے کہ منزل کا ٹھیک ٹھیک تعین ہوگیا ہے، پالیسیاں واضح ہیں، نقشۂ کار سب کے سامنے ہے، اور عملاً قدم اس سمت میں اُٹھائے جانے لگے ہیں۔ لیکن اگر ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہ آئے اور تبدیلی ایک سراب سے زیادہ نہ ہو تو پھر ع
میں کیسے اعتبار انقلاب آسماں کرلوں!
انتخابی نظام کی تمام خامیوں اور کوتاہیوں اور انتخابی عمل میں رُونما ہونے والی تمام بدعنوانیوں کے باوجود، قوم نے بحیثیت مجموعی ۱۱مئی ۲۰۱۳ء کے قومی اور صوبائی انتخابات کے ذریعے کم از کم تین پیغام بڑے صاف انداز میں ملکی قیادت اور متعلقہ عالمی قوتوں کو دیے ہیں:
اوّل: گذشتہ پانچ برسوں میں جو افراد اور جماعتیں برسرِاقتدار رہیں انھوں نے ملک کی آزادی، سالمیت اور نظریاتی تشخص ہی کو مجروح نہیں کیا ملک کی معیشت کو بھی تباہ و برباد کردیا اور ذاتی مفاد کی قربان گاہ پر قومی مفاد کو بے دردی سے بھینٹ چڑھایا، بدعنوانی اور کرپشن کا طوفان برپا کیا، عوام کے جان و مال اور آبرو کو بڑے پیمانے پر پامال کیا اور اس طرح اس اعتماد کو پارہ پارہ کردیا جو عوام نے ان پر کیا تھا۔ حکمرانی کی اس ناکامی کی وجہ سے قوم نے اس قیادت کو رد کردیا اور متبادل سیاسی قوتوں کو حالات کو سنبھالنے کا موقع دیا۔ برسرِاقتدار آنے والے لوگوں کا اصل امتحان اس میں ہے کہ وہ ملک کو ان دگرگوں حالات سے کیسے نکالتے ہیں، محض ماضی کا نوحہ کرنے سے کوئی خیر رُونما نہیں ہوسکتا۔
دوم: عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور یہ تبدیلی محض جزوی اور نمایشی نہیں بلکہ حقیقی اور ہمہ جہتی ہونی چاہیے۔ انھوں نے لبرل سیکولر قوتوں کو رد کردیا ہے اور ان قوتوں کو ذمہ داری سونپی ہے جو آزاد خارجہ پالیسی ، دہشت گردی سے نجات ، معاشی ترقی، تعلیم اور صحت کے باب میں بہتر سہولتوں کی فراہمی، توانائی کے بحران کی دلدل سے ملک کو نکالنے اور معاشی اور سماجی خوش حالی اور سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی کی منزل کی طرف قوم کو رواں دواں کرسکیں۔
سوم: عوام نے ملک کو معلّق پارلیمنٹ کی آزمایش میں نہیں ڈالا۔ نہ تو کسی پارٹی کو ایسی اکثریت فراہم کی جس کے بل بوتے پر اسے من مانی کرنے کا موقع مل جائے اور نہ ایسی بے بسی کی حالت والا اقتدار ہی دیا کہ دوسری چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی تائید کی ایسی محتاج ہو کہ ان کے ہاتھوں بلیک میل ہو، اور ان کے مفادات کے تحفظ پر مجبور ہو۔
عوام کے اس پیغام کا تقاضا تھا کہ وفاقی حکومت اپنا بجٹ ایسا بنائے جو عوام کی توقعات اور ضروریات پر پورا اُترتا ہو اور ملک کی ترقی اور استحکام کے باب میں ایک واضح وژن، مناسب پالیسیاں اور ایسا نقشۂ کار (روڈمیپ) فراہم کرے جس سے تبدیلی کا سفر مؤثر ہو اور اس حالت میں شروع ہوکہ سب کو نظر آئے ۔ عوام کسی معجزے کے طالب نہیں لیکن وہ یہ توقع ضرور رکھتے ہیں کہ تبدیلی کا صاف شفاف راستہ اختیار کیا جائے اور خوش نما الفاظ اور سیاسی شعبدہ گری سے مکمل طور پر گریز کرتے ہوئے حقیقت پسندانہ انداز میں نئے سفر کا آغاز کیا جائے اور اس طرح کیا جائے کہ عوام اس کے عملی اثرات دیکھ سکیں۔ بلاشبہہ یہ قیادت کے لیے بڑی آزمایش ہے لیکن وقت کا یہی تقاضا ہے اور اسی میزان پر حکومت کے بجٹ، اس کی پالیسیوں اور اس کے عملی اقدامات کو تولا اور پرکھا جائے گا۔
۱۲جون ۲۰۱۳ء کو پیش کیے جانے والے بجٹ کا اگر معروضی جائزہ لیا جائے تو اس اعتراف کے باوجود کہ نئی حکومت کو ورثے میں جو معیشت اور سوسائٹی ملی، وہ بڑے بُرے حال میں تھی اور عالمی سطح پر بھی ملک کی ساکھ بُری طرح متاثر تھی، وفاقی حکومت پاکستان کی تاریخ میں عوام کی خواہشات کے مطابق نیا باب کھولنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ بجٹ بحیثیت مجموعی مایوس کن اور اس تبدیلی کے آغاز کا سامان کرنے میں ناکام رہا ہے جس کے عوام خواہش مند ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ انتخابی نتائج کی روشنی میں انتقالِ اقتدار اور نئے سال کے لیے بجٹ پیش کرنے کے لیے جو وقت وزیرخزانہ کو ملا وہ بہت کم تھا اور انھیں عبوری دور کی ٹیم کے کیے ہوئے ہوم ورک ہی کی بنیاد پر رواں سال کا بجٹ پیش کرنا پڑا۔ مسلم لیگ (ن) کی معاشی ٹیم نے تو انتخاب سے قبل محنت اور تیاری کرلی تھی۔ اس کا مظہر وہ مفصل منشور ہے جو انھوں نے انتخاب سے کئی مہینے قبل قوم کے سامنے پیش کر دیا تھا۔ اب جو مینڈیٹ حکمران جماعت کو حاصل ہوا ہے وہ اسی منشور کی بنیاد پر حاصل ہوا ہے۔ نیز یہ بھی عام تاثر ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس زیادہ لائق اور تجربہ کار ٹیم موجود ہے اور اس سے بجاطور پر یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ وقت کی ضرورتوں کے مطابق اور اس کے اپنے منشور میں رکھے گئے پروگرام کی روشنی میں ایک ایسا بجٹ پیش کرے گی جو قوم کو نئی اُمید دلا سکے، جو عوام کو ان کی مشکلات کی دلدل سے نکالنے کا ذریعہ بن سکے اور جسے وہ نہ صرف خوش دلی کے ساتھ قبول کریں بلکہ اس پر عمل کے لیے بھی کمربستہ ہوجائیں۔ ہم کسی جماعتی تعصب کی بناپر یہ بات نہیں کہہ رہے ہیں، ملک اور ملک کے باہر بیش تر نقاد اس احساس کا برملا اظہار کررہے ہیں کہ وفاقی حکومت عوام کی توقعات کے مطابق حالات کے چیلنج کا مؤثر جواب دینے والا بجٹ پیش نہیں کرسکی۔ اس کے برعکس صوبہ خیبر پختونخوا کی نئی حکومت اپنی تمام تر ناتجربہ کاری اور صوبے میں ہونے والی جنگ و دہشت گردی اور سابقہ حکومت کی نااہلی، بدعنوانی اور بُری حکمرانی کے نتیجے میں رُونما ہونے والی زیادہ گمبھیر صورت حال کے باوجود ایک نسبتاً بہتر اور عوام دوست بجٹ پیش کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ مرکزی وزیرخزانہ ایک اچھے انسان، ایک لائق ماہر حسابیات اور ایک تجربہ کار مالی منتظم ہیں اور اپنی جماعت میں بھی ان کا ایک اہم مقام ہے۔ وقت کی کمی کے باوجود ان سے ایک بہتر بجٹ کی توقع تھی جو بدقسمتی سے پوری نہیں ہوئی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کی پانچ سالہ وفاقی حکومت پاکستان کی تاریخ کی ناکام ترین حکومت تھی۔ ۱۹۴۷ء سے ۲۰۰۷ء تک پاکستان کی معیشت کی سالانہ اوسط رفتار ترقی (growth rate) ۵ فی صد سے کچھ زیادہ رہی ہے لیکن پیپلزپارٹی کے اس دور میں اوسط رفتار ترقی ۳ فی صد رہی ہے جو سب سے کم ہے۔ غربت کی شرح ان پانچ برسوں میں آبادی کے ۲۹ فی صد سے بڑھ کر ۴۹ فی صد تک پہنچ گئی اور جو افراد خوراک کے بارے میں عدم تحفظ کا شکار ہیں، ان کی تعداد ۵۸ فی صد تک پہنچ گئی۔ ملک کی درآمدات اور برآمدات اور ادایگیوں کا عدم توازن دونوں کا خسارہ آسمان سے باتیں کرنے لگا اور اس طرح بجٹ کا خسارہ ۱۳-۲۰۱۲ء میں ۲۰۰۰؍ ارب روپے تک پہنچ گیا جس کا پیٹ بھرنے کے لیے اندھادھند قرضے لیے گئے۔ ۱۹۴۷ء سے ۲۰۰۷ء تک ۶۰برسوں میں ملک پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا کُل بوجھ ۶۰۰۰؍ارب روپے تھا جو ان پانچ برسوں میں بڑھ کر ۱۴۰۰۰؍ارب روپے سے تجاوز کرگیا ہے۔ ’دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ‘ میں پاکستان کی شرکت کے نتیجے میں ۵۰ہزار افراد کی ہلاکت ہوئی، اتنی ہی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے اور ۳۰لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے اور ساتھ ہی ملک کی معیشت کو بھی ۱۰۰؍ارب ڈالر ، یعنی ۱۰ہزار ارب روپے سے بھی زیادہ کا نقصان ہوا۔
ان حالات میں نیا بجٹ بنانا آسان نہیں تھا۔ ایسے ہی حالات میں قیادت کا اصل امتحان ہوتا ہے کہ وہ کس طرح گرداب سے نکلنے کا راستہ قوم کو دکھاتی ہے اور ایک قابلِ عمل پروگرام کی شکل میں نئے سفر کا آغاز کرتی ہے۔ وفاقی حکومت اور اس کی معاشی ٹیم اس بازی کو سر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ بجٹ کا فریم ورک وہی پرانا فریم ورک ہے اور جس نئے فریم ورک اور مثالیے (paradigm) کی ضرورت تھی اس کی کوئی جھلک اس میں نظر نہیں آتی۔ بلاشبہہ چند اچھے اقدام بھی اس میں تجویز کیے گئے ہیں اور ان کا کریڈٹ وزیرخزانہ اور ان کی ٹیم کو دیا جانا چاہیے۔ ان کی مشکلات اوروقت کی قلّت کا اعتراف بھی ضروری ہے لیکن ان مثبت پہلوئوں کے اعتراف کے ساتھ اس امر کا اظہار اور اِدراک بھی ضروری ہے کہ بجٹ معیشت کو ایک نیا رُخ دینے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ معیشت کو دلدل سے نکالنے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت تھی، ان سے پہلوتہی کی گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے منشور میں جو خطوطِ کار پیش کیے گئے تھے، بجٹ ان کا احاطہ نہیں کرسکا ہے اور سب سے بڑھ کر معیشت کو چھلانگ لگاکر آغاز (jump start) کرنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت تھی، کرپشن اور وسائل کے ضیاع کو روکنے کے لیے اور ٹیکس چوری کی وبا سے نجات کے لیے جس نوعیت کی حکمت عملی اور کارفرمائی درکار تھی، اس کا کوئی سراغ بجٹ میں نہیں ہے۔ مہنگائی کو قابو میں کرنے، پیداوار اور روزگار کو بڑھانے، غربت کو ختم نہیں تو بڑی حد تک کم کرنے کے لیے جو اقدام ضروری تھے اور جن میں سے کچھ کا ذکر مسلم لیگ کے منشور میں موجود تھا، ان کی طرف پیش قدمی کی کوئی سبیل اس میں نظر نہیں آئی بلکہ ہر وہ اقدام کیا گیا ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو۔ خسارہ اور قرضوں کے کم ہونے کا کوئی امکان دُور دُورتک نظر نہیں آرہا۔
ہم اس سلسلے میں بجٹ کے چند اہم پہلوئوں کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ بجٹ کا ایک اُمیدافزا پہلو یہ ہے کہ معیشت کے بارے میں حکومت کے وژن کو چھے نکات کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جو ایک خوش آیند کوشش ہے۔ اس طرح سے یہ ایک کسوٹی بھی بن جاتی ہے جس پر پورے بجٹ کو پرکھا جاسکتا ہے۔ اس میں پہلا نکتہ پاکستان کی خودمختاری کا حصول اور تحفظ اور محکومی اور مانگے کی معیشت سے نجات ہے۔ لیکن پورے بجٹ میں حقیقی خودانحصاری کے حصول کے لیے کوئی مؤثر پالیسی اور نقشۂ کار موجود نہیں۔ یہ بجٹ ۱۵۰۰؍ارب روپے سے زیادہ خسارے کا بجٹ ہے ، اور یہ بھی اس وقت جب ایف بی آر ۲ہزار۵سو ۹۸ ارب روپے کے ٹیکس محصولات وصول کرے اور امریکا کولیشن سپورٹ فنڈ، نج کاری، جی-۳ کی فروخت اور کے ای ایس سی کی فروخت کے سلسلے کی پھنسی ہوئی رقوم مل جائیں۔ یہ سب محکومی کی زنجیریں ہیں، خودانحصاری کا راستہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین معاشیات کی ایک تعداد نے اس بجٹ کو دیکھتے ہی کہہ دیا تھا کہ اس میں آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لیے زمین ہموار کی گئی ہے اور ان میں سے بیش تر چیزیں اپنے کارنامے کے طور پر شامل کرلی گئی ہیںجو دراصل آئی ایم ایف کے مطالبات تھے۔ خصوصیت سے بجٹ کے خسارے میں قومی پیداوار کے ۵ء۲ فی صد کی کمی کا دعویٰ اور جنرل سیلزٹیکس اور دوسرے ٹیکسوں میں اضافہ جن کے نتیجے میں مہنگائی میں اور بھی اضافہ ہوگا اور بجٹ کے اعلان کے فوراً بعد یہ عمل شروع ہوگیا۔ اس نوعیت کی معاشی پالیسیوں کی موجودگی میں خودانحصاری ایک خواب بلکہ سراب سے زیادہ نہیں۔
دوسرا، تیسرا اور پانچواں نکتہ نجی سرمایہ کاری اور معیشت میں حکومت کے کردارکے بارے میں ہے اور اس کا پورا جھکائو سرمایہ دارانہ نظام اور لبرل معیشت کی طرف ہے۔ یہ تجربہ ہمارے اپنے ملک میں اور ترقی پذیر دنیا کے بیش تر ممالک میں ناکام رہا ہے۔ نجی ملکیت اور کاروباری معیشت کے جان دار مثبت پہلو ہیں لیکن متوازن معاشی ترقی اور عوام الناس کی خوش حالی کے دوگونہ مقاصد کو بیک وقت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جہاں نجی سرمایہ کاری کو ضروری مواقع فراہم کیے جائیں، وہیں ریاست کا بھی ایک مثبت اور مؤثر کردار ہو جو قومی مفادات اور عوام کے حقوق کے تحفظ اور انصاف اور معاشرتی عدل کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ حکومت کی شرکت کو سیاسی دراندازی سے محفوظ رکھنا ضروری ہے مگر ریاست کے مثبت کردار کے بغیر غربت کا خاتمہ، روزگار کی فراہمی، اجتماعی عدل کا حصول اور معاشی ناہمواریوں سے نجات اور علاقائی عدم مساوات کا تدارک ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نجی سرمایہ کاری تو مطلوب ہے مگر سرمایہ دارانہ فریم ورک میں نہیں بلکہ اسلامی فلاحی ریاست کے فریم ورک میں۔ بدقسمتی سے اس کی کوئی جھلک بجٹ میں دیے گئے وژن میں نظر نہیں آتی بلکہ چوتھے نکتے میں تو کھل کر بات کہہ دی گئی ہے کہ ریاست عوام کی جو خدمات انجام دیتی ہے، اسے حق ہے کہ ان کی لاگت وصول کرے۔ یہ خالص سرمایہ دارانہ ذہنیت ہے، ورنہ ریاست کا تو تصور ہی یہ ہے کہ وہ عوام سے ٹیکس وصول کرتی ہے لیکن امن و امان کے قیام، دفاعِ وطن، عوام کو سہولت فراہم کرنے کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے۔ ’’ٹیکس کے ساتھ خدمات کا معاوضہ بھی وہ وصول کرے‘‘ یہ ریاست کے بنیادی تصور اور خاص طور پر اسلام کے تصورِ حکمرانی سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔
بلاشبہہ وژن کے آخری نکتے میں آبادی کے کمزور اور غریب طبقات کی دادرسی کی بات کی گئی ہے لیکن یہ اس وژن کا مرکزی تصور نہیں،ایک ضمیمہ ہے اور وہ بھی بڑا کمزور اور خام۔
ہم بڑے دکھ سے یہ بات کہنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ بجٹ کی اس تقریر میں اگر کسی چیز کا ذکر نہیں تو وہ اسلام اور اس کے دیے ہوئے معاشی عدل اور خدمت ِ خلق کے نظام کا ہے۔ مسلم لیگ کے منشور میں اسلام کے ذکر کے علاوہ، قرآن پاک کی دو آیات اور دو احادیث نبویؐ سے استشہاد کیا گیا ہے۔ جناب اسحاق ڈار نے سینیٹ میں حزبِ اختلاف کی طرف سے بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے ۴جون ۲۰۱۲ء کو اپنی تقریر میں کہا تھا: ملک کی اوّلین ترجیح غربت کا خاتمہ ہونا چاہیے اور غربت کی لکیر کو بھی ایک نہیں، دو سے ڈھائی ڈالر ہونا چاہیے، اس لیے کہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور مہنگائی کی صورت حال کی روشنی میں خطِ غربت کے بارے میں نئی سوچ رُونما ہورہی ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے اپنی اسلامی روایت کا مؤثرانداز میں یوں اظہار کیا:
اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اب وہاں دو سے اڑھائی ڈالر کی بات ہو رہی ہے۔ آج سے چار سال پہلے بات کی تو یہاں کالم بھی لکھے گئے۔ اس کو عالمی سطح پر acknowledge [تسلیم]کیا گیا ہے۔ آپ کو یہ سن کر تکلیف ہوگی کہ اگر two dollar a day والی آبادی [یومیہ دو ڈالر]پاکستان کو focus [مرتکز]کیا جائے تو آج تقریباً ۷۳یا ۷۴ فی صد آبادی کی یہ آمدن ہے۔ وہ poverty line [خط ِ غربت] سے نیچے رہ رہے ہیں، یعنی وہ تقریباً ماہانہ چھے ہزار روپے سے کم پر گزارا کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بحیثیت مسلمان بھی ہماری یہ ذمہ داری ہے ۔ ہمارے اُوپر ایک بہت بڑی مذہبی ذمہ داری ہے through Quran and Hadiths [قرآن و حدیث کی رُو سے]کہ اس issue [مسئلے] کو ہم tackle کریں [نبٹیں]۔ زکوٰۃ اور عشر کا concept [تصور] یہی ہے۔ ایک وقت آیا کہ کوئی لینے والا نہیں تھا۔ مدینہ منورہ کی poverty [غربت] غائب ہوچکی تھی اور انھوں نے اسلامی مملکت کو consistently [مستقل طور پر] ایمان داری اور شفاف پالیسی کے ساتھ چلایا۔
اسی طرح سینیٹ نے ۲۰۰۹ء سے ۲۰۱۲ء تک جو سفارشات دی ہیں اور ان میں راقم الحروف اور جناب اسحاق ڈار اور مسلم لیگ، جماعت اسلامی اور دوسری جماعتوں کے نمایندے یک زبان تھے کہ ملک میں اسلامی نظامِ بنکاری اور مالیات کو فروغ دینا چاہیے اور ربٰو کو اس کی ہرشکل میں ختم کرنا چاہیے۔ ہرسال ہم نے متفقہ طور پر یہ سفارش دی کہ:
سینیٹ قومی اسمبلی سے سفارش کرتی ہے کہ اسٹیٹ بنک اسلامی بنکاری اور مالیات کی ترویج کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کرے تاکہ دستور کی دفعہ ۳۸-الف میں درج معاشی استحصال اور ربٰو کا خاتمہ کیا جاسکے۔
ہماری مشترکہ تحریک کے ذریعے سینیٹ نے درج ذیل مطالبات بھی ہرسال کیے۔ کم از کم جنرل سیلزٹیکس کے بارے میں تو ایک سال حکومت کو مجوزہ اضافے کو واپس لینے پر مجبور کردیا۔ واضح رہے کہ ۲۰۰۹ء سے پہلے جنرل سیلز ٹیکس ۱۵ فی صد تھا جسے ۱۶ فی صد کیا گیا اور سینیٹ نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی(ڈارصاحب اس میں ہمارے ساتھ تھے)۔ پھر ۲۰۱۰ء میں آئی ایم ایف کے اصرار پر اسے بڑھا کر ۱۷ فی صد کیا گیا لیکن ہماری، قومی اسمبلی اور عوام کی مخالفت کے باعث اس اضافے کو واپس لیا گیا۔ ستم ظریفی ہے کہ آج خود جناب اسحاق ڈار کے ہاتھوں وہی ردشدہ اضافہ قوم پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ سینیٹ کی متفقہ قرارداد ملاحظہ ہو:
قومی اسمبلی میں زیرغور RGST بل کی منظوری کے بعد سیلزٹیکس کم کرکے ۱۵ فی صد کردیا جائے گا۔
سینیٹ نے ہماری مشترکہ کوششوں سے یہ بھی سفارش کی کہ بنکوں اور انشورنس کمپنیوں کے منافع پر کارپوریٹ ٹیکس بڑھایا جائے اور اسے ۳۵ فی صد سے بڑھا کر ۴۰ فی صد کیا جائے، مگر اب وزیرخزانہ صاحب نے تمام کارپوریٹ سیکٹر کے ٹیکس کو ۳۵ فی صد سے کم کرکے ۳۴ فی صد کردیا ہے اور وعدہ کیا گیا ہے کہ پانچ سالوں میں اسے برابر کم کرکے ۳۰ فی صد کردیا جائے گا۔ گویا سیلزٹیکس کے ذریعے تمام باشندوں خاص طور پر غریبوں کے لیے، جن پر ٹیکس کا بوجھ امیروں سے زیادہ پڑتا ہے، زیادہ ٹیکس ادا کرنے اور نتیجے میں افلاس کے بڑھنے اور مہنگائی میں اضافے کا سامان کیا جائے اور امیروں کو ٹیکس پر چھوٹ دی جائے۔ سینیٹ کی متفقہ قرارداد ملاحظہ ہو:
سفارش : کمیٹی نے سینیٹ کو سفارش کی بنکاری سیکٹر پر انکم/کارپوریٹ ٹیکس بڑھا کر ۴۰فی صد کردیا جائے۔
سینیٹ نے ہماری مشترکہ مساعی کے نتیجے میں صرف بنکنگ سیکٹر پر ہی ٹیکس بڑھانے کی بات نہیں کی، ہم نے یہ بھی تجویز دی کہ مالیاتی سیکٹر کو آمادہ کیا جائے کہ اپنے منافع کا کم از کم ۵فی صد تعلیم، صحت اور سپورٹس کے فروغ کے لیے وقف کرے۔
موجودہ بجٹ میں بلاشبہہ کچھ خوش گوار پہلو بھی ہیں۔ VVIP کلچر کو ختم کرنے کے جو اقدام کیے گئے ہیں، وزیراعظم سیکرٹریٹ اور وزیراعظم ہائوس کے اخراجات میں جو کمی کی گئی ہے، وزارتوں کی تعداد میں جس کمی کی بات کی جارہی ہے، صواب دیدی اختیارات کو جس حد تک ختم یا کم کیا گیا ہے، تعلیم کے لیے جو بھی وسائل دیے گئے ہیں، نوجوانوں کی تربیت اور روزگار کی فراہمی کے باب میں جو بھی پروگرام ہیں، ہم ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ لیکن ہم اس سے کیسے صرفِ نظر کرسکتے ہیں کہ کئی درجن نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں اور ان میں سے بیش تر ایسے ہیں جن کی زد عوام پر پڑتی ہے، جن کے نتیجے میں مہنگائی بڑھے گی، پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوگا اور عوام کے لیے مشکلات دوچند ہوجائیں گی، حالانکہ مسلم لیگ نے اپنے منشور میں جو وعدے کیے تھے وہ اس سے بہت مختلف تھے۔ منشور میں عوام کو یقین دلایا گیا تھا کہ:
۱- تمام آمدنیوں پر منصفانہ ٹیکس لگاکر زیادہ آمدنی حاصل کی جائے گی اور بالواسطہ ٹیکس (indirect tax) پر انحصارکم سے کم کیا جائے گا (ص ۲۰)
۲- ٹیکس کی شرحوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ جب ٹیکس کا اصلاحاتی پروگرام پوری طرح سے نافذ ہوجائے گا تو کچھ عرصے کے بعد ٹیکس کی شرحیں کم کردی جائیں گی (ص ۲۱)
۳- پُرتعیش اور غیرضروری اشیا کی درآمد کی حوصلہ شکنی کے لیے ان پر بھاری ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ (ص ۲۱)
۴- برآمدات پر ٹیکس معاف کردیا جائے گا۔
ایک طرف عوام کو جنرل سیلز ٹیکس میں اضافے اور withholding tax کی شکل میں مختلف تجارتی اور صنعتی دائروں پر ٹیکس کا سامنا ہے جس سے مہنگائی کا طوفان اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ان کا نفاذ مسلم لیگ کے منشور اور سینیٹ میں ہمارے مشترکہ موقف کی کھلی خلاف ورزی ہے، تو دوسری طرف ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے، ٹیکس چوری کے تباہ کن کاروبار کو بند کرنے اور ان متمول طبقات کے بارے میں جن کے لیے منشور میں کہا گیا ہے کہ سب سے ٹیکس وصول کیا جائے گا، کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ ایف بی آر کی سرکاری رپورٹ کے مطابق Tax Gap، یعنی جو ٹیکس واجب ہے اور جو ملتا ہے ۵۰ فی صد ہے، یعنی جو ٹیکس جمع ہوا ہے وہ اگر ۲۰۰۰؍ارب روپے ہے تو وہ جو واجب ہے مگر نہیں ملا، یعنی ٹیکس چوری ۱۰۰۰؍ارب روپے کی ہے۔ اس کے برعکس ورلڈبنک کا تخمینہ یہ ہے کہ یہ گیپ ۵۰ فی صد نہیں، ۷۰ فی صد سے زیادہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں ۱۳-۲۰۱۲ء کے اعدادوشمار کی روشنی میں جو رقم کسی نئے ٹیکس کے لگائے بغیر صرف اس گیپ کو پُر کرنے سے حاصل ہوسکتی ہے وہ تقریباً ۱۵۰۰؍ارب روپے ہوگی۔ اسے وصول کرنے کی تو کوئی فکر نہیں لیکن ۶۲؍ارب کے لیے ایک فی صد سیلزٹیکس لگاکر ۱۸کروڑ انسانوں کی کمر توڑنے میں کوئی باک نہیں، اور صرف ۳؍ارب روپے کے لیے تعلیم پر ایک نہیں تین ٹیکس ایک ہی سانس میں لگادیے گئے ہیں۔
بلاشبہہ جو لوگ ٹیکس چوری کر رہے ہیں، ان کی گرفت ضروری ہے۔ لیکن اس کے لیے ایک ایسا طریقۂ کار اختیار کرنا جو انسانوں کو نجی زندگی کے تحفظ کے حق سے محروم کرے اور بدعنوانیوں کے لیے دروازہ چوپٹ کھول دے بہت ہی خطرناک ہے۔ یہ نجی زندگی کے تحفظ کے اسلامی آداب کے بھی خلاف ہے۔ اس بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو اختیار دیا جارہا ہے کہ ہروہ شخص جس کے بنک میں ۱۰لاکھ روپے سے زیادہ ہوں، یا جس نے اپنے کریڈٹ کارڈ پر ایک لاکھ روپے تک کی خریداری کی ہو، ان تک ایف بی آر کو بلاواسطہ رسائی حاصل ہوگی۔ یہ نہایت خطرناک تجویز ہے اور اس کے نتیجے میں ایف بی آر کو وہ اختیارات حاصل ہوں گے جو حقوق کی پامالی ہی نہیں ملکی معیشت کی بربادی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں documentation (تحریری شواہد) میں کمی ہوگی اور cash economy (نقد معیشت) بڑھ جائے گی اور ملک سے سرمایے کی منتقلی کا خطرہ پیدا ہوگا۔ مزید یہ کہ اس سے کرپشن اور بلیک میل کے دروازے کھلیں گے اور ملک میں کرپشن میں اضافہ ہوگا۔ اس کے مقابلے میں ترقی یافتہ ممالک میں ان حالات میں جو راستہ اختیار کیا جاتا ہے وہ کہیں زیادہ معقول ہے۔ وہ یہ ہے کہ جن افراد کے بارے میں قرائنی شہادت موجود ہو، ان کے معاملات کی ایک خصوصی عدالت کے ذریعے تحقیقات کی جاتی ہیں اور معاملات کو دیکھا جاتا ہے۔ اس طریقۂ کار میں مرکزی بنک کے ذریعے کام انجام دیا جاتا ہے۔ براہِ راست بنک کے عملے اور ایف بی آر کے عملے کے درمیان ربط نہیں ہوتا۔ حقیقی مسائل کے حل کے لیے ایسے طریقے اختیار کرنے چاہییں جو معقول ہوں۔ انصاف کے اندر خود ایسے راستے موجود ہیں، انھیں چھوڑ کر ایسا راستہ اختیار کرنا جس سے ایف بی آر کا اختیار اس خطرناک حد تک بڑھ جائے، ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کس کے مشورے پر وزیرخزانہ نے یہ خطرناک تجویز پیش کی ہے۔
نادرا کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں کم از کم ۷۰ لاکھ افراد کو بلاواسطہ ٹیکس دینا چاہیے اس لیے کہ ان کی آمدنی کم سے کم آمدنی کی حد سے زیادہ ہے، اور ان میں سے ۳۵ لاکھ کے بارے میں نادرا کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ان کے اثاثوں، عالمی دوروں، پُرتعیش ہوٹلوں میں رہایش، پاکستان میں ان کی شان دار جایدادوں، کاروں، ٹیلی فون، بجلی اور گیس کے بل، نہ معلوم کیا کیا معلومات موجود ہیں جن کی روشنی میں ان کو ٹیکس کی خطیر رقوم ادا کرنی چاہییں۔ لیکن وہ ٹیکس کے جال سے بالکل باہر ہیں، دندناتے پھرتے ہیں اور کوئی گرفت کرنے والا نہیں۔ اس وقت انکم ٹیکس دینے والوں کی تعداد ۹لاکھ کے قریب ہے اور باقی سب کا حال یہ ہے کہ ع
بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے
بجٹ میں ان کو ٹیکس کے جال میں لانے کے لیے کوئی قابلِ ذکر اقدام نہیں کیا گیا۔ ہاں، عام آدمی پر ٹیکس لگادیا گیا ہے، اس وعدے کے باوجود کہ بالواسطہ نہیں لگایا جائے گا اور بلاواسطہ کے نظام کو فروغ دیا جائے گا۔
انتظامی اخراجات کو کم کرنے کے بارے میں بھی بڑے دعوے کیے گئے تھے اور مسلم لیگ کی قیادت کا عزم تھا کہ انتظامی اخراجات میں ۳۰ فی صد کمی کی جائے گی۔ لیکن اگر بجٹ کا بغورمطالعہ کیا جائے تو آخری صورت حال یہ سامنے آتی ہے کہ VVIP کلچر اور مراعات اور پروٹوکول کے خاتمے کے تمام اقدامات کے باوجود خالص انتظامی اخراجات میں ۹فی صد کا اضافہ ہوا ہے اور اس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں وہ ۱۰ فی صد اضافہ شامل نہیں ہے جو مجبور ہوکر بجٹ کے بعد کیا گیا ہے حالانکہ سینیٹ میں متفقہ تجاویز میں بنیادی تنخواہ میں اضافے کا بار بار مطالبہ کیا گیا۔ جون ۲۰۱۲ء کی سینیٹ کی رپورٹ میں یہ موجود ہے کہ جب خود مسلم لیگ کی بنیادی تنخواہ کے طور پر ۹۰۰۰ کی حد مقرر کیے جانے کی تجویز کو کمیٹی کے اصرار پر واپس لیا گیا، تو اس سے اختلاف کرنے والے واحد معزز رکن جناب اسحاق ڈار تھے۔ ۱۲جون ۲۰۱۲ء کی سینیٹ کی رپورٹ کا یہ حصہ ملاحظہ ہو:
سینیٹ قومی اسمبلی سے سفارش کرتی ہے کم سے کم تنخواہ ۹ہزار روپے تک بڑھا دی جائے، واپس لے لی گئی۔ سینیٹرمحمداسحاق ڈار نے اصل سفارش کے واپس لینے پر اپنا اختلافی نوٹ درج کیا تھا۔
۱۴-۲۰۱۳ء کے بجٹ کے لیے کم سے کم تنخواہ کا باب خاص تھا۔ یہ اور بات ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا نے نہ صرف ۱۰ہزار روپے کم سے کم تنخواہ مقرر کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کو جرم قرار دیا۔ خود مسلم لیگ کے منشور میں کم سے کم تنخواہ کی مد ۱۵ہزار روپے تجویز کی گئی ہے، گو اس پر عمل کا یقین نہیں۔
۱۴-۲۰۱۳ء کے بجٹ میں قرضوں سے نجات کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ اسی طرح بہت سے پالیسی اعلان ہیں مگر ان پر عمل درآمدکے لیے کوئی نقشۂ کار اور ٹائم ٹیبل نہیں دیا گیا۔ محترم وزیرخزانہ کو یاد ہوگا کہ خود انھوں نے سینیٹ میں اپنی ایک تقریر میں بڑی پتے کی بات کہی تھی کہ جب کسی غیرملکی معزز مہمان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے تین بڑے مسائل کیا ہیں تو اس نے کہا: نفاذ، نفاذ اور نفاذ!
بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رُسوائی کی!
بجٹ میں ایک بڑا اہم خلا برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے پالیسی پہل کاری اقدامات (initiatives) کی عدم موجودگی ہے۔
بجٹ میں توانائی کے بحران کو بجاطور پر اہمیت دی گئی ہے مگر اس کے حل کے لیے جو اقدام تجویز کیے گئے ہیں، وہ بہت ناکافی ہیں۔ قرض لے کر گردشی قرض اُتارنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ گردشی قرضے کوئی نیا مسئلہ نہیں ہیں گو، اب ان کا حجم غفلت اور مناسب اقدام نہ کرنے کے سبب بہت بڑھ گیا ہے اور ۵۰۲؍ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ۶۰ دن میں اُسے اُتارنے کی کوشش سرآنکھوں پر، لیکن مسئلے کی جڑ بلوں کی عدم ادایگی ہے جس کے ۴۰ سے ۵۰ فی صد کا تعلق مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور ان کے تحت کام کرنے والے اداروں سے ہے۔ جب تک ادایگی کے نظام کو ٹھیک نہیں کیا جائے گا یہ مسئلہ بار بار سر اُٹھاتا رہے گا۔ پھر مسئلہ توانائی کی رسد بڑھانے ہی تک محدود نہیں۔ توانائی کی مسلسل فراہمی اور اس کی لاگت کو کم کرنے کا ہے جس کا انحصار توانائی کے ذرائع کے درمیان نئی مساوات (equation) پر ہے۔ پن بجلی کُل رسد کا ۷۰ فی صد فراہم کرتی تھی اور یہ بجلی سب سے سستی ہے۔ اب یہ حصہ صرف ۳۰ فی صد رہ گیا ہے اور تھرمل بجلی کی لاگت کئی گنا زیادہ ہے۔ اس لیے مسئلے کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرکے ہمہ جہتی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ کے منشور میں ایک اہم تجویز یہ تھی کہ توانائی سے متعلق تمام وزارتوں کو مدغم کرکے ایک وزارت بنائی جائے گی۔ توانائی کے باب میں سب سے پہلی تجویز ہی یہ تھی کہ: ’پانی و بجلی‘، اور ’پٹرولیم و قدرتی وسائل‘ کی وزارتوں کو مدغم کر کے ’وزارت براے توانائی و قدرتی وسائل‘ کے نام سے ایک وزارت بنائی جائے گی (ص ۲۸)۔ لیکن جب وزارتیں بنیں تو وہی ڈھاک کے تین پات! دونوں وزارتیں آج بھی الگ الگ ہیں اور بات ایک انرجی پالیسی کی ہورہی ہے۔
منشور میں اور بھی کئی بڑے اہم پہل کاری اقدامات کا وعدہ ہے مگر بجٹ تو ایک تاریخی موقع تھا کم از کم ان اقدامات کی طرف پہلا قدم اُٹھانے کا، لیکن بجٹ اس باب میں خاموش ہے۔ چند تجاویز ریکارڈ کی خاطر پیش خدمت ہیں:
واضح رہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا نے تعلیم اور صحت کے سلسلے میں قومی ایمرجنسی کا اعلان اپنے پہلے بجٹ میں کیا ہے اور اس کے لیے خطیر رقم بھی مختص کی ہے۔
منشور میں ان کے علاوہ بھی کئی پہل کاری اقدامات کا ذکر ہے لیکن وفاقی حکومت کا پہلا بجٹ اس باب میں خاموش ہے حالانکہ یہ ایک اہم موقع تھا، تبدیلی کا پیغام دینے کا۔
بجٹ اور بجٹ تقریر کے معروضی تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ بجٹ میں جو وژن پیش کیا گیا ہے، اس کے چند حصے درست ہیں لیکن بحیثیت مجموعی اس میں نمایاں خامیاں اور خلا ہیں اور اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ پھر جو بھی وژن پیش کیا گیا ہے اس میں اور بجٹ میں خاصا تفاوت ہے۔ بجٹ میں پیش کردہ تجاویز اور قانونی ترامیم وژن سے ہم آہنگ نہیں بلکہ کچھ پہلو تو ایسے ہیں جو کھلے کھلے متصادم ہیں۔ بجٹ بڑی حد تک macro-stabilization model ہی کے فریم ورک میں بنایا گیا ہے جو آئی ایم ایف کا مقبول ماڈل ہے۔ کہیں کہیں growth model سے کچھ مستعار لیا گیا ہے مگر وہ ناکافی بھی ہے اور پوری طرح مربوط بھی نہیں۔ پھر سب سے اہم پہلو فلاح و بہبود اور اخلاقی زاویے کا ہے جو بجٹ کا کمزور ترین پہلو ہے۔ ملک کا اصل مسئلہ stagflation ہے، یعنی وہ کیفیت ہے جس میں افراطِ زر اور جمود (stagnation) بیک وقت موجود ہوتے ہیں۔ اس بڑی رکاوٹ کو توڑنے کے لیے جس قسم کے اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے وہ بجٹ میں موجود نہیں۔ بجٹ میں وسائل کو متحرک کرنے کے تمام طریقے استعمال کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔سروسز سیکٹر یعنی خدمات کا شعبہ جس کا اس وقت مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں ۵۶ فی صد حصہ ہے اس کا حصہ کُل ٹیکس آمدنی میں ۳۰ فی صد کے لگ بھگ ہے۔ ہمارے ملک میں بمشکل ۱۵،۱۶ سروسز ہیں جو ٹیکس نیٹ ورک میں آتی ہیں۔ بھارت میں یہ تعداد ۱۷۰ ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ بجٹ میں ان تمام پہلوئوں کے اِدراک کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی۔
زراعت اور خاص طور پر لائیوسٹاک کو جو اہمیت دینی چاہیے تھی وہ نہیں دی گئی ہے۔ غیرضروری اشیا کی درآمد کو روکنے کے بارے میں بھی کوئی مؤثر پالیسی نہیں، حالانکہ تجارتی خسارہ اب ۱۵؍ارب ڈالر سے متجاوز ہے جو برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ ایک تحقیقی رپورٹ کی روشنی میں اس وقت درآمدات کا صرف ۶۰ فی صد ضروری اشیا پر مشتمل ہے، ۴۰ فی صد غیرضروری اشیا کی نذر ہورہا ہے۔ اس بارے میں مؤثر پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
معاشی ماہرین اور عوام الناس سب کو یہ سوال پریشان کر رہے ہیں کہ:
یہ ہے وہ کسوٹی جس پر بجٹ اور معاشی پالیسیوں کو جانچا اور پرکھا جانا چاہیے۔
امریکی صدر اوباما نے ۲۲مئی ۲۰۱۳ء کو واشنگٹن میں نیشنل ڈیفنس یونی ورسٹی میں اپنی صدارت کے دوسرے دور کا اہم ترین خطاب کیا ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگی پالیسی، خصوصیت سے ڈرون حملوں کے بارے میں اپنے آیندہ لائحہ عمل کے خطوطِ کار بیان کیے ہیں۔ اس تقریر کا ایک خاص پس منظر ہے جسے سامنے رکھنا ضروری ہے۔
نائن الیون کے بعد امریکی صدر جارج بش نے کانگریس سے ایک مبہم قانون کے تحت افغانستان میں ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘کے لیے ہرذریعے کو استعمال کرنے کی اجازت حاصل کرلی تھی۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی صرف افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف اقدام کے لیے چھتری فراہم کی تھی مگر امریکا کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس مبہم اختیار (authorization) کو دنیا بھر میں خصوصیت سے عراق، پاکستان، یمن اور صومالیہ میں ہرطرح کے بے دریغ فوجی اقدامات کے لیے استعمال کیا۔ اپنی صدارت سے پہلے اوباما نے ایک سینیٹر کی حیثیت سے بش کے ان اقدامات کو چیلنج کیا تھا اور ۲۰۰۷ء میں اپنی انتخابی مہم کے ابتدائی مرحلے میں صاف الفاظ میں اعلان کیا تھا:
دستور کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ ایسی صورتِ حال میں جس میں قوم کو درپیش کوئی فوری یا حقیقی خطرہ روکنا پیش نظر نہ ہو، یک طرفہ طور پر فوجی حملے کا اختیار دے۔ تاریخ نے ہم کو بارہا دکھایا ہے کہ فوجی حملہ اسی وقت سب سے زیادہ کامیاب ہوتا ہے جب اس کا اختیار مقننہ نے دیا ہو اور وہ اس کی حمایت کرتی ہو۔
صدربش نے اپنے صدارتی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے پوری دنیا میں فوجی کارروائیوں کی چھوٹ دی اور اپنے ماضی کے سارے دعوئوں کے باوجود صدر اوباما نے بھی اس جارحانہ پالیسی کو جاری رکھا بلکہ جہاں تک ڈرون حملوں کا تعلق ہے، ان میں چند در چند اضافہ کردیا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، بش کے دور میں کُل ۴۵ بار ڈرون حملے ہوئے، جب کہ اوباما کی صدارت کے پہلے ہی سال یہ تعداد ۵۳ ہوگئی اور اب تک ۳۲۰حملے ہوچکے ہیں جن میں ۳ہزار سے زائد افراد جاں بحق کیے جاچکے ہیں۔ پاکستان سینیٹ کی دفاعی اُمور کی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ان میں ’عسکریت پسندوں‘ کی تعداد ۵۶۵ تھی، جب کہ عام معصوم شہریوں کی تعداد ۲ہزار۳سو۲۴ تھی جن میں سے متعین طور پر خواتین اور بچوں کی تعداد ۶۴۶ تھی۔ اوباما کے دور میں ڈرون حملوں کا دائرہ دوسرے ممالک تک بھی وسیع کردیا گیا اور یمن اور صومالیہ میں بھی بے دریغ ڈرون حملے کیے جارہے ہیں۔
ویسے تو دہشت گردی کے خلاف امریکا کی ۱۲سالہ جنگ میں لاکھوں افراد ہلاک کیے جاچکے ہیں لیکن ڈرون حملوں کے باب میں کئی سال سے امریکا اور خود مغربی دنیا میں تنقید اور احتساب کی مؤثر آوازیں اُٹھائی جارہی ہیں جن کا اب کچھ نتیجہ بھی نکلنے لگا ہے۔ اس میں اہم نکات یہ ہیں:
۱- امریکی صدر اور انتظامیہ کو امریکی دستور کے تحت اس نوعیت کے حملوں کی اجازت نہیں تھی اور انتظامیہ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
۲- امریکی دستور اور فوجی قانون کے تحت ایک قانونی جنگ میں بھی فوجی قوت کے استعمال کا اختیار صدر اور پینٹاگان کو ہے۔ سی آئی اے ایک جاسوسی اور تجزیہ کرنے والا ادارہ ہے۔ فوجی اقدام کا اسے اختیار نہیں۔ حالیہ ڈرون حملے امریکی فوج نہیں، سی آئی اے کررہی ہے جو امریکا کے دستور اور جنگی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ نیز اس طرح انتظامیہ کے ان اقدامات کے باب میں کانگریس کی نگرانی اور اس کے سامنے جواب دہی سے بچ نکلنے کے چور دروازے بنے ہوئے ہیں۔
۳- ڈرون حملوں کے پورے عمل کو کانگریس اور عوام سے مخفی رکھا گیا ہے۔ حکومت نے بھی مجبوراً اب اس کی ذمہ داری قبول کی ہے، اور یہ عوام سے دھوکا ہی نہیں،امریکی دستور اور جمہوری اصولوں کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔
۴- ایک ایسے ملک پر ڈرون حملے، جس سے امریکا برسرِ جنگ نہیں بلکہ جسے دوست ملک قرار دیتا ہے، اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون، جنیوا کنونشن اور معروف سفارتی آداب کی صریح خلاف ورزی ہے۔
۵- ڈرون حملوں میں محض مبہم اطلاعات یا اندازوں کی روشنی میں ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے جو ہر قانون کی خلاف ورزی اور نہ صرف جنگی جرم ہے بلکہ کچھ صورتوں میں نسل کشی (genocide) کے زمرے میں آتی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا یہ خودساختہ اصول کہ مخدوش علاقے میں جو بھی مرد اسلحہ اُٹھانے کی عمر میں ہو، وہ متحارب (combatant) شمار کیا جاسکتا ہے اور اسے ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے، ہرقانون اور ضابطے کے منافی ہے اور انسانیت کے قتل کی کھلی چھٹی دینے کے مترادف ہے جو بالکل ناقابلِ قبول ہے۔ اس پر عمل انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
۶-ڈرون حملوں کے نتیجے میں نہ صرف حملوں کا نشانہ بننے والے علاقوں میں بلکہ متعلقہ ممالک اور پوری دنیا میں امریکا کے خلاف جذبات فروغ پارہے ہیں جو نفرت کے طوفان کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ اس طرح معروف ’دہشت گرد‘ تو کم مارے جارہے ہیں، نئے دہشت گردوں کی فوج ظفرموج تیار ہورہی ہے اور اس طرح امریکا اپنے جنگی مقاصد میں ناکام ہو رہا ہے اور ایک نہ ختم ہونے والی اور روز بروز وسعت اختیار کرنے والی جنگ کی آگ میں پھنستا چلا جا رہا ہے۔ PEW کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ڈرون حملوں کی آبادی کے ۹۸ فی صد نے مخالفت کی ہے اور اس کی وجہ سے امریکا دشمنی کے جذبات کو فروغ حاصل ہوا ہے۔
صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ردعمل کی یہی کیفیت ہے۔ PEW ہی کے ایک سروے کے مطابق ان ممالک میں جو امریکا کے دوست ہیں اور اس جنگ میں امریکا کے ساتھ ہیں، وہاں ڈرون حملوں کے خلاف عوامی ردعمل سخت منفی ہے۔ یونان کی آبادی میں ۹۰ فی صد، مصر میں ۸۹ فی صد، اُردن میں ۸۵ فی صد، ترکی میں ۸۱ فی صد، اسپین اور برازیل میں ۷۶ فی صد، جاپان میں ۷۵ فی صد اور میکسیکو میں ۷۳ فی صد ڈرون حملوں کی مخالفت اور مذمت کرتے ہیں۔ امریکا میں ۲۶ فی صد مرد اور ۴۹ فی صد خواتین اس کے خلاف راے کا اظہار کررہی ہیں۔
یہ ہے وہ پس منظر جس میں امریکا کی کانگریس میں بھی اس پالیسی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ کانگریس کی کمیٹیاں اس کا جائزہ لے رہی ہیں اور علمی، اور عوامی سطح پر بھی اسے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں اوباما نے پالیسی پر جزوی نظرثانی کی بات کی ہے، یعنی تعداد میں کمی، اہداف کا زیادہ احتیاط سے تعین، اعلیٰ ترین سطح پر فیصلے کا عندیہ، کسی عمومی نگرانی کے نظام کے امکانات کا جائزہ اور چھے ماہ کے بعد سی آئی اے سے لے کر پینٹاگان کی طرف ان اختیارات کے تبادلے کی کوشش۔ لیکن اس اعتراف کے باوجود صدراوباما نے کہا:
جیسے جیسے ہماری لڑائی ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہی ہے، امریکا کا خود اپنے دفاع کا جائز دعویٰ بحث کا آخری نکتہ نہیں ہوسکتا۔ کسی فوجی تدبیرکے قانونی یا مؤثر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ دانش مندانہ بھی ہے اور ہرحال میں اخلاقی بھی۔ وہ انسانی ترقی جس نے ہم کو یہ ٹکنالوجی دی ہے کہ ہم نصف دنیا دُور جاکر حملہ کریں، اس نظم و ضبط کا تقاضا بھی کرتی ہے کہ ہم طاقت کے استعمال کو قابو میں رکھیں یا پھر اس کے غلط استعمال کا اندیشہ مول لیں۔
اوباما صاحب نے صاف لفظوں میں اصرار کیا ہے کہ پاکستان پر حملے جاری رہیں گے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت آیا ہے جب ۱۱مئی ۲۰۱۳ء کے انتخابات میں عوام نے ان جماعتوں کو عبرت ناک شکست دی ہے جو امریکا کی اس جنگ میں اس کے معاون تھے اور پاکستان کی حاکمیت، آزادی اور سالمیت پر ان حملوں میں تعاون کر رہے تھے، یعنی ملوث تھے، یا کم از کم قوم کے مزاحمت کے مطالبے کے باوجود خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ جن جماعتوں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے انھوں نے اپنی انتخابی مہم میں ڈرون حملوں کو رُکوانے اور امریکا کی دہشت گردی کے نام پر اس جنگ میں سے پاکستان کو نکالنے کا وعدہ کیا ہے۔
امریکا کے ڈرون حملوں کے جارحانہ اقدام کو پشاور ہائی کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے جو ۹مئی ۲۰۱۳ء کو دیا گیا ہے۔ اس میں عدالت نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ:
۱-ڈرون حملے جو قبائلی علاقوں (فاٹا) خصوصاً شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سی آئی اے اور امریکی انتظامیہ کر رہی ہے، بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور یو این جنرل اسمبلی کی متفقہ طور پر منظور کردہ قرارداد اور جنیوا کنونشن سب کے خلاف ہیں، لہٰذا اس کو جنگی جرم قرار دیا جاتا ہے جو عالمی عدالت انصاف یا جنگی جرائم کے خصوصی ٹربیونل ، جو اقوامِ متحدہ نے اس مقصد کے لیے قائم کیا ہو یا قائم کرے، کی حدود میں آتا ہے۔
۲- ڈرون حملے جو ان مٹھی بھر مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف کیے جائیں جو امریکی حکومت، حکام یا افواج سے حالت ِ جنگ میں نہیں ہیں، اس موضوع پر بین الاقوامی کنونشن اور ضوابط کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ اس لیے یہ قرار دیا جاتا ہے کہ یہ کُلی طور پر غیرقانونی ہیں اور ریاست پاکستان کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہیں، کیونکہ اس کی حدود اور فضائی حدود میں اس کی اجازت کے بغیر بلکہ اس کی مرضی کے خلاف باربار مداخلت کی جاتی ہے۔ اس پر امریکا سے حکومت پاکستان کے احتجاج کے باوجود، اس کی اجازت کے بغیر اور مرضی کے خلاف یہ حملے برابر جاری ہیں۔
۳- شہری ہلاکتیں جیساکہ اُوپر بتایا گیا بشمول املاک، مویشی، جنگلی حیات اور ننھے بچے، دودھ پیتے بچے، خواتین اور چھوٹے بچوں کا قتل امریکی حکام بشمول سی آئی اے کا ناقابلِ معافی جرم ہے، اور عدالت یہی قرار دیتی ہے۔
۴-شہری ہلاکتوں، جایداد اور مویشیوں کو پہنچنے والے نقصان کی، ثابت شدہ حقائق اور اعدادوشمار کے پیش نظر، امریکا متاثرین کی امریکی ڈالروں میں مقررہ شرح کے مطابق تلافی کرنے کا پابند ہے۔
۵- حکومت پاکستان اور اس کی سیکورٹی فورسز یہ یقینی بنائیں گی کہ مستقبل میں ایسے ڈرون حملے پاکستان کی خودمختار حدود میں نہ کیے جائیں۔ اس حوالے سے مناسب تنبیہ کردی جائے اور اگر یہ نتیجہ خیز نہ ہو تو حکومت پاکستان اور ریاستی ادارے خصوصاً سیکورٹی فورسز کو یہ حق حاصل ہوگا کہ دستوری اور قانونی تقاضوں کے تحت پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرون کو گرا دیں۔
۶- حکومت پاکستان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جائے اور اگر وہاں کامیابی نہ ہو اور امریکی حکام بغیرجواز ویٹو پاور استعمال کریں تو جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے تاکہ اس خطرناک مسئلے کا مؤثرانداز سے حل ہوسکے۔
۷- حکومت پاکستان ایک مناسب شکایت درج کرائے گی جس میں ڈرون حملوں سے پاکستان کے شہریوں کے جان و مال کا جو نقصان ہوا ہے، اس کی مکمل تفصیل ہوگی۔ اس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو کہا جائے گا کہ ایک آزاد وار کرائم ٹربیونل قائم کرے جس کا یہ مینڈیٹ ہو کہ تمام معاملات کی تحقیق و تفتیش کرے اور یہ حتمی فیصلہ دے کہ آیا یہ جنگی جرم کے مترادف ہے یا نہیں۔ پہلی صورت میں امریکی حکومت یا حکام کو ہدایت کرے کہ پاکستان کی فضائی حدود اور علاقے میں ڈرون حملے فوری طور پر روک دے، اور فوری طور پر متاثرہ خاندانوں کی عالمی معیارات کے مطابق مقررہ شرح اور تناسب کے مطابق جان و مال کی تلافی کی جائے۔
۸- وزارتِ خارجہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ مناسب قرارداد، اپیل اور ریکوزیشن کے لیے عدالت کی دی ہوئی ہدایات کے خطوط کی روشنی میں کم سے کم ممکنہ وقت میں تیاری کرے اور ساتھ ہی سلامتی کونسل سے یا جنرل اسمبلی سے (جو بھی صورت ہو) یہ مطالبہ کیا جائے کہ ایک قرارداد کے ذریعے سی آئی اے اور امریکی حکام کی یو این چارٹر اور یواین کے دیگر مختلف ضابطوں اور روایات کی خلاف ورزی کرنے پر ڈرون حملوں کی مذمت کرے، جیساکہ پہلے بیان کیا گیا ہے۔
۹- اس صورت میں کہ امریکی حکام اقوام متحدہ کی قرارداد کی تعمیل نہ کریں، خواہ یہ سلامتی کونسل نے منظور کی ہو یا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے، حکومت پاکستان ایک احتجاج کے طور پر امریکا سے ہرطرح کے تعلقات ختم کردے گی اور بطور احتجاج امریکا کو کسی بھی طرح کی لاجسٹک سہولیات فراہم نہیں کرے گی۔
ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ تو بالکل واضح اور دستور، عالمی قانون اور پاکستان کے مفادات کے عین مطابق ہے لیکن اسے ملک کے میڈیا اور سیاسی قوتوں نے قرارِ واقعی اہمیت نہیں دی۔ عبرت کا مقام ہے کہ جس ملک پر یہ حملے ہورہے ہیں اور جس کی حاکمیت اور عزت کو یوں پامال کیا جا رہا ہے وہاں تو بات صرف تحفظات کی ہے لیکن خود امریکا کا ایک معروف کالم نگار کلائیو اسٹین فورڈ اسمتھ دی گارڈین لندن کی ۱۲مئی ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں عدالت کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے چیف جسٹس کے احکام کی مکمل تائید کرتا ہے اور امریکا کو شرم دلاتا ہے___ یہ اور بات ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کا حال یہ ہے کہ ’’شرم تم کو مگر نہیں آتی‘‘۔
وہ لکھتا ہے:
پھر وہ ایک بالکل سامنے کی بات کہتے ہیں۔ پاکستانی افواج کا اوّلین فریضہ اپنے شہریوں کاتحفظ ہونا چاہیے۔ سیکورٹی فورسز کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مستقبل میں اس نوعیت کے ڈرون حملے پاکستان کی خودمختار حدود میں نہیں کیے جائیں گے۔ پھر پہلے قدم پر ہی شوٹ کرنے کے بجاے، حکومت کو ’مناسب انتباہ‘ دینے کی ہدایت دی جاتی ہے لیکن اگر اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو تو پاکستان کی فضائیہ کو ڈرون طیارے فوراً گرا دینے چاہییں۔
گو، کہ مَیں خود ایک امریکی ہوں، اس ناخوش گوار صورت حال کے بارے میں استدلال کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہو کہ پاکستان سے کوئی بے پائلٹ ڈرونز کے ذریعے ٹیکساس میں دہشت گردی کرے تو میں یہ اُمید کروں گا کہ اوباما فوراً ہی فوجی طیارے بھیجے۔
یہ عدالتی فیصلہ کُل کا کُل جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سے بحث کرتا ہے۔ امریکا ۲۰۰برس سے زائد سے اپنے آپ کو ان نظریات کے علَم بردار کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ یہ بڑی شرم کی بات ہے کہ سی آئی اے کی ڈرون حملوں کی خفیہ مہم دونوں نظریات سے بُعد کی مظہر ہے اور گوانتاناموبے اور ابوغریب جیسے سابقہ المیوں کو آگے بڑھاتی ہے۔
بات بہت واضح ہے۔ پاکستان کی آزادی اور حاکمیت پر مسلسل حملے ہورہے ہیں، اور امریکا ہمارے خلاف اقدامِ جنگ کا مرتکب ہوا ہے۔ پاکستانی عوام ہرسطح پر اس اقدام کو فوری طور پر رکوانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ تین قراردادوں کی شکل میں انھیں حاکمیت پر حملہ قرار دے چکی ہے اور حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ ان حملوں کو رکوانے کے لیے ہرممکن اقدام کرے۔
انتخابات میں عوام نے ایک بار پھر اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عدالت عالیہ کے فیصلے نے دو اور دو چار کی طرح متعین کردیا ہے کہ حکومت اور قوم کو ان حالات میں کیا کرنا ہے۔ اب محترم میاں نواز شریف کا امتحان ہے اور ان کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ حلف برداری کے بعد تقریر میں صاف الفاظ میں اعلان کردیں کہ یہ حملے کسی شکل میں بھی قابلِ قبول نہیں۔ اگر امریکا پاکستان کے ساتھ دوستی کا رشتہ رکھنا چاہتا ہے تو اسے ان کو فی الفور بند کرنا ہوگا۔
ایک گروہ میاں صاحب کو ابھی سے یہ سبق پڑھا رہا ہے کہ اصل مسئلہ معاشی اور انرجی کے بحران کا ہے۔ بلاشبہہ معاشی مسئلہ اور انرجی کا یہ بحران اہم ہیں لیکن آزادی، حاکمیت اور سالمیت پر حملوں سے زیادہ نہیں۔ اور اگر دقتِ نظر سے دیکھا جائے تو معاشی بحران کے پیدا کرنے میں امریکا کی اس ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں ہماری شرکت نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی وجہ سے صرف معاشی میدان میں سرکاری تخمینے کے مطابق ۱۱سال میں ۹۷بلین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے اور تباہی کا یہ سفر جاری ہے۔ معیشت کی اصلاح اور بحالی اور آزادی اور حاکمیت کے تحفظ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ الگ الگ شعبے نہیں ہیں۔ آج میاں نواز شریف جس صورت حال سے دوچار ہیں وہ مئی ۱۹۹۸ء سے مختلف نہیں ہے۔ اس وقت امریکا ایٹمی دھماکے روکنے پر مصر تھا اور رشوت اور دھمکی دونوں حربے استعمال کر رہا تھا لیکن ملک و قوم نے وہی فیصلہ کیا جو آزادی اور حاکمیت کا تقاضا تھا، خواہ اس کے معاشی اثرات منفی ہی کیوں نہ ہوں اور ہوئے، لیکن تھوڑے ہی عرصے میں معاشی حالات تبدیل ہوگئے لیکن جو تحفظ اور دفاعی قوت حاصل ہوئی وہ ملک کی زندگی اور سلامتی کی ضامن بن گئی۔ آج پھر ایک تاریخی موقع ہے، حلف اُٹھانے کے فوراً بعد ذلت اور محکومی کی ان بیڑیوں کو کاٹ پھینکا جائے اور آزادی، حاکمیت اور عزت و وقار کی حفاظت کے راستے کو اختیار کیا جائے۔ یہ ایک تاریخی موقع ہے اور پہلا اور آخری موقع ہے۔ معاملہ محض تحفظات کا نہیں ہے، دوٹوک فیصلہ آج وقت کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی اور دوسری دینی جماعتیں پہلے دن سے مضبوطی کے ساتھ اس موقف پر مصر ہیں اور اب تحریکِ انصاف بھی، جو پارلیمنٹ میں سب سے بڑی حزبِ اختلاف ہے، مسلم لیگ کے ووٹر اور ان سب پر مستزاد پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ جسے عدالتی حکم کی حیثیت حاصل ہے، ان سب کا تقاضا ہے کہ پاکستان کے موقف کو دوٹوک انداز میں امریکا اور پوری دنیا کے سامنے واضح کردیا جائے کہ ڈرون حملے ہماری حاکمیت کی خلاف ورزی ہیں اور ناقابلِ قبول ہے۔ اس پر کسی قسم کا سمجھوتا ممکن نہیں ہے۔
اگر اس موقع پر نئی حکمت عملی کا جرأت کے ساتھ اعلان نہ ہوا تو پھر یہ موقع دوبارہ نہیں آئے گا۔ ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ میاں نوازشریف صاحب اس موقعے پر اپنی دینی اور ملّی ذمہ ادارکریں اور پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں ذلت اور محکومی کے اس باب کو بند کریں، اور عزت اور برابری کی بنیاد پر نئے باب کے آغاز کا راستہ اختیار کریں اور تاریخ کا یہ سبق سامنے رکھیں کہ ع
یک لحظہ غافل بودم و صدسالہ راہ ہم دور شد
ایک مہذب معاشرے اور ریاست اور ایک انارکی زدہ معاشرے میں اصل فرق اور وجہِ امتیاز قانون کی حکمرانی یا اس کا عدم وجود ہے۔ قرآن نے ربِ کعبہ کے احسان کو جس شکل میں پیش کیا ہے وہ انسانی معاشرے اور تہذیب کے اصل جوہر کو دو اور دو چار کی طرح واضح کردیتا ہے، یعنی اَطْعَمَھُمْ مِّنْ جُوْعٍ وَّاٰمَنَھُمْ مِّنْ خَوْفٍ(قریش ۱۰۶:۴) ’’جس نے انھیں بھوک سے بچاکر کھانے کو دیا اور خوف سے بچاکر امن عطا کیا‘‘۔ بھوک اور جان و مال کی پامالی کا خوف ہی معاشرے کو انارکی کی طرف لے جاتے ہیں اور امن و امان، قانون کی حکمرانی اور معاشی و معاشرتی انصاف کا قیام ایک معاشرے کو مہذب معاشرہ اور ترقی پر گامزن انسانی اجتماع بناتے ہیں۔ اسی لیے قرآن نے کہا کہ: وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلط(النساء ۴:۵۸) ’’اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو‘‘۔ نیز یہ کہ ایک بھی معصوم انسان کا بلالحاظ مذہب و نسل قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ حضرت علیؓ نے کتنی سچی بات کہی کہ ’’معاشرہ کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے، ظلم کے ساتھ نہیں‘‘۔
آج ہمارا المیہ ہی یہ ہے کہ عدل و انصاف معدوم ہیں، قانون پابہ زنجیر ہے، اور ظلم و تشدد کا دور دورہ ہے۔ جن کی ذمہ داری ہے کہ قانون کی حکمرانی قائم کریں وہی قانون کے توڑنے والوں میں سرفہرست ہیں۔
ایک مہذب معاشرے میں طاقت کے استعمال کا بلاشبہہ ایک واضح کردار ہے لیکن یہ ریاست کا اختیار ہے۔ جو ریاست طاقت کے استعمال پر اپنی اجارہ داری (monopoly) کو قائم نہیں رکھ سکتی اور جو مختلف سرکاری اور غیرسرکاری اداروں اور شخصیات کو لوگوں کی جان، مال اور عزت سے کھیلنے کو روا رکھتی ہے وہ حکمرانی کا استحقاق کھودیتی ہے۔
لاقانونیت،سیاست میں تشدد کا بے دریغ استعمال اور دہشت گردی کا عفریت پاکستانی قوم کو ایک مدت سے اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہیں۔ مسئلہ پورے ملک کا ہے مگر کراچی کی صورت حال غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ کراچی کم از کم ۳۰سال سے کچھ عناصر کا یرغمال بنا ہوا ہے۔ ایک سیاسی گروہ نے اس راستے کو اختیار کر کے پورے شہر کو اپنی جاگیر بنا لیا۔ پھر متبادل قوتیں رُونما ہوئیں اور حکمرانی میں شریک ہوتے ہوئے بھی ہرپارٹی نے اپنی اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کیا اور بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضے سے بڑھ کر گوشت پوست کے انسانوں کو گاجرمولی کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے چلن کو عام کردیا۔ غضب ہے کہ گذشتہ پانچ برسوں میں صرف کراچی میں ۷ہزار سے زیادہ افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ کسی کے ایک اشارے پر یہ گروہ پورے شہر کو جب تک چاہے موت کی نیند سلاسکتا ہے اور کوئی نہیں جو ظالموں کو گرفت میں لاسکے۔
اس میں جہاں سیاسی عناصر کا خونیں کردار ہے وہیں حکومت اور اس کی ایجنسیوں کے ہاتھ بھی خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے سندھ اور کراچی کے حالات پر اپنے فیصلے میں جوائنٹ انوسٹی گیشن رپورٹ کی روشنی میں نام لے کر اس دور کی حکمران جماعتوں، ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی، اس کی نام نہاد امن کمیٹی، اے این پی اور ان کے ساتھ طالبان، سُنّی تحریک اور چند دوسرے عناصر (صرف تین جماعتیں اس خونیں کھیل میں ملوث نہیں تھیں: جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف)کی نشان دہی کی مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ لاپتا افراد اور اغوا کے واقعات پر گرفت کرتے ہوئے عدالت نے معاشرے کے دوسرے عناصر کے ساتھ خود سرکاری ایجنسیوں کے احتساب کا بڑی اُونچی آواز میں مطالبہ کیا مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات!
اس سے پہلے کینیڈا کی ایک عدالت نے باقاعدہ طور پر ایم کیو ایم کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ یہ برطانیہ اور عالمی میڈیا میں شائع ہوا، لیکن پاکستانی میڈیا کو اسے شائع کرنے اور اس پر سوال اُٹھانے کی جرأت نہ ہوئی اور برسرِاقتدار پارٹی نے اسے شریکِ اقتدار کیے رکھا۔
صحافیوں کا قتل بھی اس خونیں کھیل کا ایک اہم حصہ ہے جس نے بھی حق بات کہنے کی جرأت کی، خواہ کتنی ہی دبی آواز میں اور اگر مگر کے ساتھ، اسے یا ٹھیک کردیا گیا یا جان سے مار دیا گیا۔ یہ واقعات صرف کراچی تک محدود نہیں۔ بدقسمتی سے ملک کے دوسرے مقامات پر بھی رُونما ہورہے ہیں لیکن کراچی کا حال سب سے زیادہ خراب ہے۔
اس صورت حال کا ایک خاص پہلو، یعنی صحافیوں پر کیا بیتی کے بارے میں ایک بڑی ہی چشم کشا رپورٹ نیویارک کے ایک وقیع عالمی ادارے Committee to Protect Journalists - (CPJ) کی طرف سے شائع ہوئی جس کا نوٹس لینا اور اس میں پیش کردہ حقائق کی روشنی میں ضروری اقدام کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ یہ رپورٹ ۵۱صفحات پر مشتمل ہے۔ اسے نیویارک ٹائمز کی ایک سابقہ صحافی الزبتھ رابن نے مرتب کیا ہے اور مئی ۲۰۱۳ء کے وسط میں یہ امریکا سے جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کا عنوان ہے:Roots of Impunity: Pakistan's Endangered Press and the Perilous Web of Militancy, Security and Politics. (پکڑ سے بے خوفی کی بنیادیں: پاکستان کا خطرات میں گھِرا پریس اور عسکریت پسندی، سیکورٹی اور سیاست کا خطرناک جال)
اس رپورٹ میں صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ تشدد، اغوا اور دہشت گردی کے ان واقعات میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور ایک سیاسی جماعت ایم کیو ایم کا ہاتھ ہے۔ رپورٹ میں صوبہ خیبرپختونخوا کے ایک صحافی مکرم خان عاطف کے قتل کا بھی جائزہ لیا گیا ہے جس کے ہلاک کیے جانے کی ذمہ داری بظاہر طالبان نے قبول کی تھی مگر تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آگئی کہ اس سے طالبان کا کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ اسے سلالہ پر امریکی حملے کی خبر کے اصل حقائق دنیا کے سامنے لانے کی سزا سرکاری ایجنسیوں نے دی۔ رپورٹ کے الفاظ میں:
مکرم نے پاکستانی فوج کی سلالہ پوسٹ پر تباہ کن امریکی حملے کی خبر دی تھی۔اس کی رپورٹ نشر ہونے کے بعد اس کو فوجی اور خفیہ افسران کی جانب سے بار بار دھمکیاں دی گئیں۔ سی پی جے کے ذرائع کو یقین ہے کہ اس قتل کے پیچھے سرکاری افسران ہیں اور فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان رابطوں کا انکشاف وہ سرخ لکیر ہے جسے پار نہیں کیا جاسکتا۔
اس رپورٹ میں ان ۲۳ صحافیوں کے قتل کے بارے میں معلومات جمع کی گئی ہیں جو ۲۰۰۳ء سے ۲۰۱۲ء کے درمیان پاکستان میں موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے ہیں۔ یہ جو دیگ کے ان چند چاولوں کی حیثیت رکھتے ہیں جن کے حشر کے آئینے میں ان ۵۰ہزار سے زیادہ مظلوموں کی تصویر الم بھی دیکھی جاسکتی ہے جو ۲۰۰۱ء کے بعد لقمۂ اجل بنے ہیں۔
پوری رپورٹ رونگٹے کھڑے کردینے والی داستان سناتی ہے لیکن چند اقتباسات حالات کی سنگینی اور ظالموں کے چہروں کو پہچاننے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں:
سی پی جے نے معلوم کیا ہے کہ قتل کے کم سے کم سات واقعات میں سرکاری فوجی یا خفیہ پولیس کے افسران کے مرتکب ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ یہ ہدف زدہ افراد بالکل بے دھڑک قتل کردیے گئے۔ گذشتہ ۱۰برسوں میں کسی ایک صحافی کے قتل کا بھی کامیاب مقدمہ نہیں چلایا جاسکا۔ جنوری ۲۰۱۱ء میں ولی خان بابر کے قتل کے بارے میں رپورٹ کہتی ہے کہ پولیس نے ایم کیو ایم سے وابستہ کئی مشتبہ افراد پکڑے لیکن دھمکیوں اور کلیدی افراد کے قتل نے مقدمات کو پٹڑی سے اُتار دیا۔ اس مقدمے کے پانچ گواہ یا قانون نافذ کرنے والے افسران قتل اور دو سرکاری وکیل کوئی وجہ بتائے بغیر برطرف کیے جاچکے ہیں۔
صحافیوں کو ایم کیو ایم کی جانب سے دھمکیاں ملتی ہیں۔ سی پی جے کی رپورٹ میں ایک صحافی نے انٹرویو میں کہا کہ ایم کیو ایم کے بارے میں کوئی خبر شائع کرنے سے پہلے غیرمعمولی طور پر محتاط ہونا پڑتا ہے۔ وہ بات کو بھولتے نہیں ہیں۔ مَیں ۱۵۰رپورٹروں کا نگران ہوں۔ کسی کی بائی لائن لگے تو مجھے محتاط ہونا پڑتا ہے (ایک اخبار کے مدیرنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا)۔
ایک ٹی وی آپریٹر نے کہا کہ ایم کیو ایم کیبل آپریٹر پر بھی دبائو ڈالتی ہے کہ جو پروگرام پارٹی کو پسند نہیں،اسے بند کیا جائے۔ ایک اور آپریٹر نے بتایا کہ ہمیں طالبان سے زیادہ ایم کیو ایم سے دھمکیاں ملتی ہیں۔اگر طالبان کی طرف سے دھمکی ملے تو آپ انتظامیہ سے مدد مانگ سکتے ہیں لیکن اگر ایم کیو ایم دھمکیاں دے تو یہ راستہ بھی نہیں۔ سی پی جے نے کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے پوچھا کہ ولی خان بابر کے قاتل پکڑے کیوں نہیں جاتے؟ ایک صحافی نے کہا کہ ہر کوئی ایم کیو ایم کی طرف انگلی سے اشارہ کرتا ہے۔(دی نیوز، ۲۴ مئی ۲۰۱۳ء)
سرکاری کارندوں کا اس گھنائونے اور خونیں کھیل میں ملوث ہونے کا معاملہ صحافیوں تک محدود نہیں ہے۔ کئی ہزارلاپتا افراد کا مسئلہ اعلیٰ عدالتوں میں کئی سال سے گردش کر رہا ہے اور ڈور کا سِرا ہے کہ مل ہی نہیں پارہا۔ ۲۴ اور ۲۵مئی کے صرف دو روز کے اخبارات سے صرف تین رپورٹیں یہاں دی جاتی ہیں جن سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ لاقانونیت اپنی تمام حدوں کو پھلانگ چکی ہے اور ہرجرم کے لیے طالبان کا نام لے لینا ایک سنگین مذاق بن چکا ہے۔ طالبان یا طالبان کے نام پر جو بھی قتل و غارت گری، اغوا اور دہشت گردی کا مرتکب ہے وہ قابلِ مذمت ہی نہیں، قابلِ گرفت اور قابلِ سزا ہے۔ لیکن آج لاقانونیت اور دہشت گردی کا مسئلہ نہایت پیچیدہ اور مختلف جہتی ہے اور اس کے لیے ہمہ جہتی حکمت عملی اور مؤثر اقدام کی ضرورت ہے۔ بات کہاں کہاں تک پہنچی ہے اس کا اندازہ ان رپورٹوں سے کیا جاسکتا ہے:
بلوچستان کی سیکورٹی ایجنسیوں میں دہشت گردوں کے ہمدردوں، انتہاپسندوں اور عسکریت پسندوں کا نفوذ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ اس سال جنوری میں سی آئی ڈی کے اعلیٰ افسران ایس پی طارق منظور ، ڈی ایس پی قطب خاں اور ڈی ایس پی بلال کو فرنٹیر کور نے اغوا براے تاوان کے الزام میں گرفتار کیا۔ (دی نیوز، ۲۴ مئی ۲۰۱۳ء)
پاکستان کے فرقہ وارانہ جنگی تھیٹر میں کوئٹہ پولیس کے عملے کے خطرناک ترین دہشت گردوں سے رابطوں کی پریشان کن اطلاعات ملی ہیں۔ پیر کو ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس ریاض احمد سنبل نے دو سپاہیوں کی گرفتاری کا انکشاف کیا۔ (دی نیوز، ۲۵ مئی ۲۰۱۳ء)
پاکستان میں دہشت گردی کے عفریت کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے۔ اُمت رپورٹ کے مطابق ایسی ہی ایک واردات فیصل آباد میں ہوئی جس میں ایک مسیحی نوجوان بارودی مواد پھٹنے سے مارا گیا اور اس کے دو ساتھی گرفتار کے لیے گئے۔ دورانِ تفتیش معلوم ہوا کہ فیصل آباد میں گرفتار عیسائی گروہ طالبان اور لشکر جھنگوی کا نام استعمال کرتے تھے۔ تین ملزمان نے پادری قیصرشان کو طالبان کے نام سے خط لکھا پھر فون پر قتل کی دھمکی دے کر ۱۰لاکھ روپے طلب کیے۔ خوف زدہ کرنے کے لیے گھر پر دھماکا کرنے جارہے تھے کہ بارودی مواد موٹرسائیکل پر پھٹ گیا۔ دوبرس میں شہر کے تاجروں سے ۲۰کروڑ روپے بھتہ وصول کیا جاچکا ہے۔(نوائے وقت، ۲۵ مئی۲۰۱۳ء)
یہ صرف نمونے کے چند چاول ہیں۔ نئی حکومت نے دہشت گردی اور لاقانونیت سے ملک کو نجات دلانے کا وعدہ کیا ہے۔ کیا حکومت پوری جرأت کے ساتھ ان تمام عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے تیار ہے جو اس سارے خون خرابے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ امریکا کی جنگ میں شرکت کی جو قیمت اس مظلوم قوم نے ادا کی ہے وہ تاریخ کا ایک المیہ ہے لیکن اب مسئلے کو اس کے تمام پہلوئوں کو سامنے رکھ کر حل کرنا ہوگا۔ نیز جو جو عناصر خود ملک میں اس صورتِ حال کا فائدہ اُٹھا کر اپنے دوسرے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ایک خونیں کردار ادا کر رہے ہیں اور باربار سرکاری تحفظ میں آکر اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں، ان سب پر قانون کی گرفت لاگو ہو۔ سرکاری ایجنسیوں کو بھی لگام دینے کی ضرورت ہے اور ان دوسری تمام قوتوں کو بھی گرفت میں لانا ہوگا جو اب تک اپنے اپنے انداز میں کھل کھیلتی رہی ہیں، اور آج اس کی ڈوریاں ہلانے والے ۴ہزار میل دُور سے آنسو بہابہا کر یہ رونا رو رہے ہیں کہ دوسرے اس کے نام پر بھتہ خوری، زمینوں پر قبضہ، انسانی جانوں کا اتلاف کرتے رہے ہیں حالانکہ اس کے اشاروں کے بغیر اس گروہ کے بام و دَر میں ایک پتّا بھی نہیں ہلتا۔ وقت آگیا ہے کہ ایک ایک معصوم جان کا اس کے قاتلوں سے حساب لیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر آج اور کل تمام انسانوں کی جان، مال اور آبرو کو محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری عمال، ایجنسیاں، سیاسی گروہ، مذہب کے نام پر تشدد کرنے والے، فرقہ پرستی کی آگ بھڑکانے والے___ سب کو قانون کی گرفت میں آنا چاہیے اور اپنے کیے کی سزا بھگتنی چاہیے۔ یہی قرآن کے اس ارشاد کا مطلب ہے: لَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰآُولِی الْاَلْبَابِ (البقرہ ۲:۱۷۹)، ’’عقل و خرد رکھنے والو، تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے‘‘۔
آج پاکستانی قوم ایک ایسی صورت حال سے دوچار ہے، جو اگرچہ الم ناک ہے، لیکن اپنے جلو میں ایک تاریخی موقعے کی حامل بھی ہے۔ پاکستان محض ایک ملک اور ایک خطۂ زمین کا نام نہیں___ یہ ایک تصور، ایک نظریہ، ایک آدرش ، ایک منزل اور ایک واضح وژن سے عبارت ہے جس کی شناخت اس کا اسلامی، جمہوری اور فلاحی کردار ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے اور اسلام ہی میں اس کی بقا اور ترقی کا راز مضمر ہے۔ اسلام اور پاکستان ایک تصویر کے دو پہلو اور ایک سکّے کے دو رُخ ہیں۔ تحریکِ پاکستان کی بنیاد نظریاتی قومیت کے تصورپر تھی اور علاقے کا حصول اس لیے تھا کہ اس نظریے کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قائداعظم نے برملا کہا تھا کہ قیامِ پاکستان کی جدوجہد کا آغاز اس وقت ہوگیا تھا جب ہند میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا اور علامہ اقبال نے برعظیم پاک و ہند میں مسلمانوں کی ایک آزاد ریاست کی ضرورت کا جو اعلان ۱۹۳۰ء کے الٰہ آباد کے خطبۂ صدارت میں کیا تھا، اس میں اس مطالبے کے برحق ہونے کے لیے جو دلیل دی تھی وہ بڑی واضح تھی کہ اسلام کو بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرے۔
تحریکِ پاکستان کے اس مقصد کو قائداعظم نے قیامِ پاکستان سے قبل جدوجہد کے دوران کم از کم ۱۰۰ بار اور قیامِ پاکستان کے بعد ۱۴بار صاف الفاظ میں بیان کیا اور اس طرح پاکستان کی اساس اور نظریے کی حیثیت ایک معاہدئہ عمرانی (social contract) کی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان اور اسلام لازم و ملزوم ہوجاتے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو بالآخر دستور کی زبان میں قرارداد مقاصد کی شکل میں پہلے ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کو دستور ساز اسمبلی کی قرارداد میں سامنے آئی، اور پھر پاکستان کے ہردستور کا حصہ بنی۔ اس وقت یہ دستور کے دیباچے کے علاوہ اس کے operational (تنفیذی) حصے میں بھی شامل ہے (دفعہ ۲-الف)۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے اپنے ۱۹۷۳ء کے ایک فیصلے میں اس تاریخی اور دستوری حقیقت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:
پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور اس کا نظریہ ۱۹۴۹ء کی قرارداد مقاصد میں درج ہے، جسے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے منظور کیا ہے… مملکت پاکستان اسلامی نظریے کی بنیاد پر وجود میں لائی گئی تھی اور اسی نظریے کی بنیاد پر چلائی جائے گی۔ (پی ایل پی ۱۹۷۳ء، ص ۴۹ اور ص ۷۲-۷۳)
پاکستان کے اسلامی جمہوریہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دیے ہوئے قانون اور رہنمائی کو زندگی کے بالاتر قانون کی حیثیت حاصل ہوگی۔ قانون سازی اور پالیسی سازی دونوں میں رہنمائی کا اولیں سرچشمہ قرآن و سنت ہوں گے۔ مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل و تعمیر میں ریاست ہرممکن کردارادا کرے گی۔
اس کے ساتھ ہی یہ اصول بھی اسلام ہی کا طے کردہ ہے کہ نظامِ حکومت کو چلانے اور قیادت کو منصب ِ قیادت پر لانے اور ہٹانے کا اختیار ملک کے عوام کو حاصل ہوگا اور ریاست کا سارا نظام اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ (ان کے معاملات باہم مشورے سے طے پاتے ہیں) کے قرآنی اصول کے مطابق انجام دیا جائے گا۔ تمام انسانوں کے بنیادی حقوق محترم اور مقدس ہوں گے اور اربابِ اختیار اللہ اور عوام دونوں کے سامنے جواب دہ ہوں گے، نیز ریاست کا کام انسانوں کے حقوق کی حفاظت کے ساتھ ان کو ان تمام سہولتوں کی فراہمی بھی ہوگا جن کے نتیجے میں وہ عزت اور سہولت کے ساتھ زندگی گزار سکیں، زندگی کے ہرشعبے میں انصاف قائم کیا جائے اور معاشرے میں ایثار، قربانی اور احسان کا دوردورہ ہو۔ یہ وہ لائحہ عمل ہے جس کے نتیجے میں ایک حقیقی جمہوری اور فلاحی معاشرہ اور ریاست وجود میں آئے گی۔ اس ریاست میں انسانی حقوق کے باب میں تمام انسان بلالحاظ مذہب، مسلک، زبان، نسل، خون، قبیلہ برابر ہوں گے اور ہرشخص اپنی انفرادی اور خاندانی زندگی استوار کرنے میں آزاد ہوگا اور اسے اجتماعی زندگی میں بھی قانون کے دائرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے پورے مواقع ہوں گے۔ اسلام میں نہ شخصی آمریت کی گنجایش ہے اور نہ کسی بھی نوعیت کی پاپائیت کی۔ پاکستان کے لیے اصل ماڈل اور نمونہ صرف مدینہ منورہ کی وہ اسلامی ریاست اور معاشرہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں قائم ہوا اور ۱۴۰۰سال سے مسلمانوں کے لیے روشنی کا مینار اور اجتماعی زندگی کے لیے نمونہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
پاکستان کے اس تصور کی روشنی میں جب ماضی کے ۶۶ برسوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ الم ناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ قیامِ پاکستان کے چند سال کے بعد ہی ایک مفادپرست ٹولے نے اقتدار کو اپنی گرفت میں لے لیا اور اس میں سیاست دانوں کے ساتھ بیوروکریسی، فوجی جرنیل اعلیٰ سطح کی عدلیہ کے بعض عناصر، سرمایہ دار، وڈیرے اور جاگیردار سب ہی شریک تھے۔ ان سب نے مل کر ملک کی آزادی، نظریاتی تشخص اور تہذیبی شناخت سب کو پامال کیا، ملک کے وسائل کو ذاتی اور گروہی مقاصد کے لیے بے دردی سے استعمال کیا، کرپشن اور بدعنوانی کا بازار گرم کیا اور عوام کے لیے زندگی کو تلخ سے تلخ تر بنادیا۔ اعلیٰ ترین سیاسی دروبست میں پہلے بیوروکریسی اور پھر فوجی قیادت کی دراندازیوں نے جمہوریت، دستور اور قانون پر مبنی حکمرانی کے انتظام کو درہم برہم کردیا۔ دستورشکنی کو عدالتوں نے تحفظ فراہم کیا اور انتخابات کے نظام کو اس طرح اپنے مقاصد کے لیے استعمال ( manipulate) کیا گیا کہ عوام کی حکمرانی کا خواب چکناچور ہوگیا۔ ناانصافیوں کا دوردورہ ہوا اور حقوق کی پامالی اس مقام پر پہنچ گئی کہ دشمنوں کی مداخلت سے ملک کا ایک حصہ بدن سے جدا ہوگیا، جو بچا ہے وہ بھی لہولہان ہے۔
گذشتہ ۱۴برس ہماری تاریخ کے سیاہ ترین سال ہیں۔ پہلے نو سال ایک فوجی طالع آزما حکمراں رہا اور اسے ارباب سیاست، کارپردازانِ معیشت، سول اور فوجی انتظامیہ سب ہی میں سے مددگار میسر آگئے۔ بیرونی ممالک نے بھی اسے ہر طرح کی سرپرستی سے نوازا۔ ۲۰۰۸ء میں حالات نے کروٹ لی لیکن بدقسمتی سے پھر این آر او کے سایے میں وجود میں آنے والی حکومت نے نہ صرف وہی تباہ کن پالیسیاں جاری رکھیں بلکہ ان میں کچھ اور بھی رنگ بھرا جو فوجی حکمران کے دور میں امریکا کے اشارے پر ملک پر مسلط کی گئی تھیں۔ اس پر مستزاد، ان کے دور کی بُری حکمرانی (bad governance) ہے جس کے نتیجے میں کرپشن اور بدعنوانی میں ہوش ربا اضافہ، عوامی مسائل کو نظرانداز کرنا، توانائی کے بحران سے غفلت، تعلیم اور صحت کے باب میں مجرمانہ عدم توجہی کی لعنتوں کا اضافہ کردیا۔ ان پانچ سال میں ملک کو جو نقصان پہنچا ہے اور عوام جن مصائب سے دوچار ہوئے ہیں وہ پچھلے ۶۰برسوں سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ دور ایسی حکومت کے اقتدار کا تھا جس میں حکمرانی ہی کا فقدان تھا۔ اس دور کی ناکامیوں اور غلط کاریوں کی فہرست بڑی طویل ہے لیکن اگر اہم ترین چیزوں کی نشان دہی کی جائے تو ان میں سرفہرست مندرجہ ذیل ہیں:
پاکستان اور اہلِ پاکستان کی اولیں قیمتی متاع ان کی آزادی اور خودمختاری ہے جو بڑی جدوجہد اور قربانی کے بعد حاصل کی گئی ہے۔ ایوب خان کے دور ہی میں اس آزادی پر امریکا، مغربی اقوام اور عالمی اداروں کا منحوس سایہ پڑنا شروع ہو گیا تھا اور آہستہ آہستہ آزادی اور خودمختاری میں کمی آرہی تھی۔ ہمارے قومی معاملات میں بیرونی مداخلت بڑھ رہی تھی اور ملک کی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں، خاص طور پر معاشی پالیسیاں، ملک اور قوم کے مفاد سے کہیں زیادہ بیرونی قوتوں کے مفاد میں بننے لگی تھیں مگر کمانڈو صدر جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں محکومی اور امریکا کی غلامی کا جو دور شروع ہوا ہے، وہ سب سے زیادہ تباہ کن تھا اور بعد کے دور میں بھی وہ کم ہونے میں نہیں آرہا۔ ملک کی آزادی، عزت و وقار اور سالمیت پر تابڑ توڑ حملوں کے باوجود حکمرانوں کی روش میں عملاً کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ انھوں نے بہ رضاورغبت یا بہ جبر و اِکراہ اپنے کاندھے بیرونی قوتوں کے استعمال کے لیے فراہم کر دیے ہیں۔ اب قوم کے سامنے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اپنی آزادی اور خودمختاری کو کس طرح دوبارہ حاصل کریں۔
۲۰۰۱ء میں نائن الیون کے بعد کولن پاول نے صدر جارج بش کی طرف سے جو دھمکی ’’ہمارے ساتھ ہو یا دہشت گردوں کے حامی ہو؟‘‘ کی شکل میں دی تھی اور جس پر مشرف صاحب چاروں شانے چت ہوگئے تھے، وہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ غلامی اور محکومی کی یہ کیفیت ہرغیور پاکستانی محسوس کرتا ہے اور بچشم سر دیکھ رہا ہے لیکن صرف ریکارڈ کی خاطر مشرف اور زرداری اور اس کے ساتھیوں کے اس مجرمانہ کردارکو ذہن میں تازہ کرنے کے لیے چند شواہد امریکا کے کارفرما عناصر کی زبان میں پیش کرنا مفید ہوگا تاکہ ۱۱مئی کے موقعے پر سابقہ قیادت کا اصل چہرہ سامنے رہے:
نیویارک ٹائمز کا نام وَر نمایندہ ڈیوڈ سانگر اپنی کتاب Confront and Conceal میں امریکی حکم اور پاکستانی قیادت کی نیازمندی کی یوں منظرکشی کرتا ہے:
جب امریکا نے افغانستان پر حملے کی تیاری کی تو اس نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ طالبان اور القاعدہ کا ساتھ دینے یا واشنگٹن کا ساتھ دینے کے درمیان انتخاب کرے۔ پاکستان کے فوجی سربراہ پرویز مشرف کی کنپٹی پر بندوق تھی اور اس نے صرف وہی انتخاب کیا جو وہ کرسکتا تھا اور ملک افغانستان پر حملے کرنے کے لیے پلیٹ فارم بن گیا۔ (ص۱۲۹)
امریکا کی خارجہ سیکرٹری کونڈولیزا رائس نے اپنی سوانح عمری No Higher Honour میں بھی صاف لفظوں میں امریکا اور پاکستان کے حاکم اور محکوم والے تعلقات کو ستمبر۲۰۰۶ء میں مشرف اور بش کی ملاقات کے ذیل میں بیان کیا ہے۔ مشرف صاحب فاٹا میں امن کے معاہدوں کے باب میں امریکا کی اجازت چاہتے تھے مگر صدرِ امریکا نے ٹکاسا جواب دے دیا:
لیکن صدر نے اوول آفس کی میٹنگ میں ان پر یہ واضح کردیا کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ہماری سرحدات کو کوئی خطرہ ہے، نیز اس صورت میں بھی کہ ہمیں یہ معلوم ہوا کہ القاعدہ کے کلیدی رہنما ئوں کو وہاں پناہ دی گئی ہے،امریکا خود اقدام کرے گا۔ مشرف کو دوٹوک انداز میں (point blank) بتا دیا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام کسی کی اجازت کے بغیر اور ممکنہ طور پر اسلام آباد کے علم میں بھی لائے بغیر، ہمارا خصوصی استحقاق ہے۔
یہ ہے امریکا سے ہمارے تعلقاتِ غلامی کی اصل حقیقت۔ ۱۱مئی کو عوام کو یہ طے کرنا ہے کہ آیا وہ اپنی آزادی کی بازیافت کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور کیا وہ وقت نہیں آگیا کہ یک سُو ہوکر ایسے لوگوں سے نجات پائیں جو اس ذلت کے ذمہ دار ہیں اور جو ایک بار پھر دھوکا دینے کے لیے میدان میں آگئے ہیں۔
امریکا کی غلامی اور اس کی بالادستی کے یوں تو دسیوں پہلو ہیں لیکن اس وقت ان میں سب سے اہم: ڈرون حملوں کا تسلسل ہے۔ یہ حملے پاکستان کی کی آزادی، حاکمیت اور خودمختاری پر حملہ اور ہمارے خلاف ایک طرح کا اعلانِ جنگ ہیں۔ امریکا نے پہلے کچھ پردہ رکھا مگر اب ایک سال سے اس نے کھل کر اعتراف کرلیا ہے کہ وہ حملے کر رہا ہے اور کرتا رہے گا___ تم جو چاہے کرلو۔ آج خود امریکا میں اور عالمی سطح پر ڈرون حملوں کے خلاف مؤثر آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ امریکا کے قانون دان امریکی قیادت کو چیلنج کر رہے ہیں کہ کانگریس کی واضح اجازت کے بغیر صدر یہ حملے نہیں کرسکتا۔ انھیں ٹارگٹ کِلنگ بھی قرار دیا جارہا ہے جو بین الاقوامی قانون اور امریکی قانون دونوں میں ممنوع ہیں۔ پھر یہ اعتراض بھی ہو رہا ہے___ اور صدرامریکا کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں___ کہ سی آئی اے جو ایک سول اور سراغ رسانی کا ادارہ ہے، اسے اس جنگی اقدام کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس کے نتیجے کے اعتبار سے نقصان دہ ہونے (counter productive) کا بھی اعتراف کیا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے رُوداد پیش کار (rapporteur) نے بھی انھیں اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
لیکن امریکا نے اپنی جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے اور پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کوئی مؤثر کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ پرویز مشرف نے تو اب سی این این کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ اس نے ڈرون حملوں کی اجازت دی تھی۔ اس سے پہلے ایک انٹرویو میں اس وقت کے پرویز مشرف کے وزیرخارجہ اور آج کے تحریکِ انصاف کے ایک قائد جناب خورشید قصوری نے بھی اعتراف کیا ہے کہ حکومت وقت نے ان حملوں کی اجازت دی تھی۔ نیز شمسی ایئربیس کوئی خفیہ چیز نہیں تھی جس کو امریکا دھڑلے سے ان حملوں کے لیے استعمال کررہا تھا اور فوجی قیادت اور وزارتِ دفاع صرف غضِ بصر ہی نہیں کیے ہوئے تھی بلکہ پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کے سامنے خود پاکستان کی سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر لاعلمی کا اظہار کررہی تھی! جو کردار مشرف اور اس کی ٹیم کا تھا وہی زرداری، گیلانی اور کیانی کا ہے جن کے بارے میں امریکا کے سرکاری ذرائع کے بیانات کی روشنی میں لکھی جانے والی کتابوں اور مضامین میں کھلے الفاظ میں کہا جارہا ہے کہ سب کچھ ان کی مرضی سے ہورہا ہے۔
اب یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ امریکی تحقیقی اداروں کے مطابق ڈرون حملوں سے مارے جانے والوں میں سے صرف ۳ فی صد کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کا تعلق القاعدہ یا دہشت پسندوں سے تھا اور تقریباً ۹۷ فی صد یقینی طور پر سویلین مرد، بچے اور عورتیں ہیں۔ خود پاکستان کے سینیٹ کی ڈیفنس کی کمیٹی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مرنے اور زخمی ہونے والوں کی عظیم اکثریت سویلین ہے۔ اس سب کے باوجود ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے اور امریکا کو انھیں روکنے اور کم از کم راہداری کی تمام سہولتوں کو ختم کرنے اور ہرممکن ذریعے سے ان کو ناکام بنانے کے واضح اعلان کا دُور دُور پتا نہیں۔ ۱۱مئی کو یہ طے ہوجانا چاھیے کہ مستقبل کی قیادت وہ ہوگی جو ان شاء اللّٰہ ڈرون حملوں کو رکوانے کے لیے کوئی کمزوری نہیں دکھائے گی اور سفارت کاری اور عسکری دفاع کا ہر طریقہ اس کو روکنے کے لیے استعمال کرے گی۔
جس طرح آزادی، حاکمیت اور خودمختاری کا تحفظ جسمانی وجود کی حفاظت ہے، اسی طرح پاکستان کی شناخت، اسلام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی حفاظت اور ترقی روحانی وجود کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ پرویز مشرف اور زرداری، گیلانی، پرویز اشرف اور ان کے حلیفوں کے دور میں پاکستان کی اسلامی اساس کو کمزور اور اس کی شناخت کو تحلیل اور مجروح کیا گیا ہے۔ اسلام اب ہماری قانون سازی اور پالیسی سازی کے لیے مرکزی حوالے (point of reference) کی حیثیت سے باقی نہیں رہا ہے۔ تعلیم میں جو تھوڑا بہت اسلام اور اسلامی تاریخی روایات اور ادب کا حصہ تھا، اسے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کم یا ختم کیا جارہا ہے۔ میڈیا پر اسلام اور اسلامی اقدار کے خلاف ایک جنگ برپا ہے اور جو اسلام اور اسلامی اقدار کے تحفظ کی بات کریں، ان پر ’غیرت بریگیڈ‘ کی پھبتی کَسی جارہی ہے۔ دستور کی دفعہ ۶۲ اور ۶۳ کو استہزا کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور صادق اور امین جیسے مقدس الفاظ تک کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ مغرب سے اسلام کے خلاف جو یلغار ہے، اور جہاد اور شریعت کو جس طرح ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے، یہاں بھی اعتدال پسندی اور لبرلزم کے نام پر اسی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور ’چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی‘ کی بزدلانہ اور منافقانہ روش کو عام کیا جا رہا ہے۔ معترضین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسلام، اس کے اصولوں اور تعلیمات کے دفاع کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ اگر ایک طرف قوم کو سیاسی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا جا رہا ہے تو دوسری طرف نظریاتی، تہذیبی اور اخلاقی غلامی کے طوق اس کی گردن میں ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے اور حکمران طبقہ اور اشرافیہ اس میں عالمی استعماری قوتوں کے کارندوں کا کردار ادا کر رہا ہے۔ حالانکہ پاکستانی عوام امریکا سے بے زار، اس کی اسلام دشمن اور مسلم کش پالیسیوں پر آتش زیرپا اور اپنے دین اور اپنی اقدار کے تحفظ کے لیے جان کی بازی لگادینے کے لیے تیار ہیں۔ الحمدللہ، عوام اور اہلِ اقتدار میں سے بھی باضمیر افراد پاکستان کے اسلامی تشخص پر دل و جان سے یقین رکھتے ہیں اور حسب موقع اس کا اظہار بھی ہوتا ہے لیکن برسرِاقتدار طبقے کا عمومی رویہ وہی ہے جس کا ذکر ہم نے اُوپر کیا ہے۔ ۱۱مئی کو عوام کو اس بات کا بھی فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایک ایسی قیادت کو برسرِکار لائیں جو دین کے بارے میں مخلص اور یک سو ہو اور جو معذرت خواہانہ رویے کی جگہ پورے اعتماد سے اپنے دین اور اپنی اقدار کا تحفظ کرنے کا عزم اور صلاحیت رکھتی ہو۔
تیسرا اہم ترین مسئلہ ملک میں امن و امان کی ناگفتہ بہ حالت اور دہشت گردی کے دوردورے کا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینے کی ہے کہ امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ‘ نہ ہماری جنگ تھی، نہ ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ ہم اس دلدل میں اپنوں کی ہمالیہ سے بلند غلطیوں کی وجہ سے پھنس گئے ہیں اور جان، مال، آبرو اور آزادی ہر ایک کی پامالی کی شکل میں بیش بہا قیمت اداکررہے ہیں۔ ۵۰ہزار سے زیادہ افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں۔ اس سے دوگنے زخمی ہوگئے ہیں،۲لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوچکے ہیں۔ معاشی اعتبار سے ۱۰۰؍ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اُٹھا چکے ہیں اور پورے ملک میں جرائم اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔ صرف کراچی میں گذشتہ چار سال میں ۷ ہزار سے زیادہ افراد قتل کیے جاچکے ہیں اور قاتل حکمران جماعتوں کی پناہ میں ہیں اور دندناتے پھر رہے ہیں۔
ملک کی فوج ملک کے دفاع کی جگہ خود اپنوں کے خلاف صف آرا ہے اور قوم اور فوج میں اعتماد اور محبت کا جو رشتہ ہے، وہ مجروح ہورہا ہے۔ اس سب کے باوجود امریکا کے عتاب کا بھی ہم ہی نشانہ ہیں اور ہمیں بے وفائی کے طعنے بھی سنائے جارہے ہیں۔ پارلیمنٹ نے تین بار متفقہ قراردادوں کے ذریعے فیصلہ دیا ہے کہ مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور ایک آزاد خارجہ پالیسی کے تحت مذاکرات، ترقی اور سدِّجارحیت (deterrence) کے سہ نکاتی فارمولے ہی کے ذریعے معاملات کو حل کیا جاسکتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ۱۱مئی کو قوم دوٹوک الفاظ میں ان کو رد کردے جو امریکا کی دہشت گردی کی اس جنگ میں قوم کو جھونکنے کے ذمہ دار ہیں، اور قیادت ان کو سونپیں جو جنگ سے نکلنے اور علاقے کو امریکا کی گرفت سے نکال کر علاقے کے تمام ممالک کے تعاون سے مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہوں۔
چوتھا بنیادی مسئلہ معاش کا ہے۔ یہ پانچ سال معاشی اعتبار سے تباہ کن رہے ہیں ۔وہ ملک جو ماضی میں چھے اور سات فی صد سالانہ کی رفتار سے معاشی ترقی کی منزلیں طے کر رہا تھا، آج معاشی جمود، کسادبازاری، افراطِ زر، بے روزگاری اور غربت کے گرداب میں گرفتار ہوگیا ہے۔ گذشتہ برسوں میں مجموعی قومی پیداوار (GDP ) کی سالانہ نمو کی رفتار ۶۰سالہ تاریخ میں سب سے کم اوسطاً ۳ فی صد کے لگ بھگ ہے، حالانکہ ۱۹۴۷ء سے ۲۰۰۷ء تک اوسط ترقی کی رفتار پانچ اور ۶فی صد سالانہ کے درمیان رہی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلسل پانچ برس تک ۳ فی صد یا اس سے بھی کم رفتارِ ترقی کا چکر ہماری تاریخ میں کبھی نہیں رہا۔ان پانچ برسوں میں افراطِ زر ۱۰ اور ۱۲فی صد کے درمیان رہا جو خود ایک ریکارڈ ہے۔ اشیاے خوردنی کی قیمتوں میں ان پانچ برسوں میں تقریباً ۱۰۰ فی صد اضافہ ہوا ہے، یعنی تقریباً ۲۰ فی صد سالانہ۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی شاہ خرچیوں پر کوئی لگام دینے والا نہیں۔ کرپشن کا یہ عالم رہا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان پانچ برسوں میں مجموعی کرپشن کا اندازہ ۸۰۰۰؍ارب روپے سے زیادہ کا ہے۔ تجارت میں خسارہ، بجٹ میں خسارہ اور سرکاری تحویل میں چلنے والے اداروں کا خسارہ ملکی معیشت پر تازیانہ بن کر گرتے رہے ہیں۔ عوام تڑپ رہے ہیں اور کوئی سننے والا نہیں۔ پاکستان میں ۱۹۴۷ء سے ۲۰۰۷ء تک جتنے قرضے حکومت نے لیے تھے وہ ۶ٹریلین روپے کے قریب تھے جو ان پانچ برسوں میں دگنے سے بڑھ کر ۱۲ اور ۱۳ٹریلین روپے کے درمیان ہیں اور ہر روز بڑھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ ۲۰۱۳ء جو اسی مہینے شائع ہوئی ہے اس کی رُو سے پاکستان میں ترقی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارا شمار کم ترقی کرنے والے ملکوں کے زمرے میں ہوتا ہے اور دنیا کے ۱۸۶ممالک میں ہمارا نمبر ۱۴۶ ہے۔ شدید اور انتہائی غربت میں ہمارا مقام نیپال، بنگلہ دیش اور بھوٹان سے بھی خراب اور نیچے ہے، یعنی آبادی کا ۴ء۲۷ فی صد شدید غربت کا شکار ہے۔ عمومی غربت کو اگر دو ڈالر فی کس یومیہ کی آمدنی کی بنیاد پر شمار کیا جائے تو آبادی کا ۷۰ فی صد اس عذاب میں مبتلا ہے۔ ایک طرف معیشت کا یہ حال ہے اور دوسری طرف حکمرانوں کی شاہ خرچیوں اور بدعنوانیوں کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شرم و حیا کا کوئی وجود ہمارے معاشرے میں باقی نہیں رہا ہے۔
صدر اور وزیراعظم کے سرکاری محلوں کا خرچہ ایک سے دو لاکھ روپے یومیہ ہے۔ معاشی پالیسی سازی کے باب میں مجرمانہ رویے کی ایک مثال یہ ہے کہ پانچ سال میں پانچ بار وزیرخزانہ تبدیل ہوئے ہیں، چھے بار وزارتِ خزانہ کے سیکرٹری بدلے گئے ہیں اور چار باراسٹیٹ بنک کے گورنر کو تبدیل کیا گیا ہے۔ ستم یہ ہے کہ گذشتہ چار برسوں میں صرف ایس آر او کے ذریعے اپنے چہیتوں کو ٹیکس سے رعایت کی مد میں ۷۱۹؍ ارب روپے کی چھوٹ دے کر خزانے کو اس رقم سے محروم کیا گیا ہے، اور دوسری طرف سرکاری انتظام میں چلنے والے اداروں کو جن میں اپنی پسند کے ہزاروں افراد کو سیاسی بنیاد وں پر کھپایا گیا ہے اور جن کی قیادت اپنے من پسند کرپٹ اور نااہل افراد کو سونپی گئی ہے خسارے کے جہنم میں جھونک دیا گیا ہے۔ صرف ان پانچ سال میں سرکاری خزانے نے ان اداروں کو جو رقم مدد کے نام پر دی ہے وہ ۸ء۱ ٹریلین روپے ہے، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
ملک کو درپیش مسائل اور مصائب تو اور بھی ہیں لیکن ہم نے صرف اہم ترین چار مسائل کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ ان کا تعلق ملک کی آزادی، شناخت اور عوام کی زندگی کے سب سے اہم پہلو، یعنی امن و امان اور بنیادی معاشی ضروریات اور خوش حالی سے ہے۔ ان اور تمام دوسرے مسائل کی بڑی وجہ اربابِ اختیار اور زندگی کی ہرسطح پر خصوصیت سے مرکز اور صوبوں میں قیادت کی غفلت، نااہلی، وژن کی کمی، مفادپرستی اور بدعنوانی اور مؤثر احتساب کے نظام کے فقدان پر ہے۔ ملک کی آزادی اور خودمختاری کے باب میں غفلت اور بے وفائی، اسلام اور اس کے تقاضوں سے بے اعتنائی، عوام کے مفاد اور ضروریات سے لاپروائی اور اپنی ذات یا گروہ اور جماعت کے مفادات کی اندھی پرستش ہی بگاڑ کی اصل وجہ ہے۔ قیادت کی تبدیلی، اہل اور دیانت دار افراد کا ذمہ داری کے مناصب کے لیے انتخاب اور تقرر، اداروں کے درمیان تعاون اور باہمی احترام کا رشتہ، دستور اور قانون کی بالادستی، ہر حالات میں مکمل انصاف کا اہتمام اور ہرسطح پر جواب دہی کا مؤثر اور شفاف نظام ہی پاکستان کے استحکام اور ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ان ۱۴برسوں کا اصل المیہ ہی یہ ہے کہ ان میں مسلسل تنزل کے باعث پاکستان میں آج پاکستان کا اصل تصور اور مقصد ہی نایاب ہوگیا ہے اور شاید یہ کہنا بھی غلط نہ ہو کہ آج سیاسی نقشے پر تو پاکستان موجود ہے مگر وہ تصور اور وہ وژن، جس سے پاکستان عبارت ہے، گم ہوگیا ہے۔ اب ملک کی بقا اور تعمیرنو کا انحصار تصورِپاکستان کی بازیافت پر منحصر ہے اور یہ عوام کی بیداری اور انتخاب کے موقع پر ان کے فیصلہ کن کردار ہی سے ممکن ہے۔ ۱۱مئی قوم کو ایک تاریخی موقع فراہم کررہی ہے کہ وہ اس اصل تصور اور وژن کو ایک بار پھر غالب وژن بنانے کے لیے ایک ایسی قیادت کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور دے جو اس ملک کی گاڑی کو اس کی اصل پٹڑی پر لے آئے اور اصل مقصد کی روشنی اور اس حقیقی وژن کے مطابق جو قیامِ پاکستان کا محرک تھا اس کی تعمیرنو کی خدمت انجام دے سکے۔
حال ہی میں برٹش کونسل نے نوجوانوں کے جذبات، احساسات اور خیالات کا ایک سروے کیا ہے جس میں ملک کے عوام اور خصوصیت سے نوجوان نسل کی مایوسیوں اور اُمیدوں کا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک نوجوان نے ملک و قوم کی موجودہ کیفیت کی عکاسی بڑے دردبھرے الفاظ میں کچھ اس طرح کی ہے کہ ’’آزادی سے پہلے ہم ایک قوم تھے اور ایک ملک کی تلاش میں تھے لیکن آج ایک ملک ہے مگر قوم مفقود ہے‘‘۔ اسلام ہی نے کل ہمیں ایک قوم بنایا تھا اور اسلام سے غفلت اور بے وفائی نے قوم کو خود اپنے شعور اور وحدت سے محروم کردیا ہے۔ اسلام ہی کو مضبوطی سے تھامنے سے ہم ایک توانا قوم بن کر ایک توانا پاکستان کی تعمیر کی منزل طے کرسکتے ہیں۔
برٹش کونسل کے اس سروے سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ملک کی بالغ آبادی کے ۸۷فی صد کی نگاہ میں ملک جس سمت میں جا رہا ہے، وہ غلط ہے لیکن نوجوانوں میں یہ احساس اور بھی زیادہ ہے، یعنی ۹۴ فی صد۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے ان نوجوانوں کا اعتماد اپنے ملک اور اس کے مستقبل پر غیرمتزلزل ہے اور وہ اس کی تعمیروترقی کا عزم رکھتے ہیں۔ ان کی عظیم اکثریت، یعنی ۶۷فی صد مرد اور ۷۵ فی صد خواتین اپنے کو روایت پسند (conservatives) کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور سروے کے مرتبین یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ : Conservatives seem dwarfing the number of moderates and liberals. (روایت پسند اعتدال پسندوں اور آزاد رووں (لبرل) پر تعداد میں چھائے ہوئے نظر آتے ہیں)۔
نوجوانوں میں سے ایک بڑی تعداد، یعنی ۳۸ فی صد یہ کہتی ہے کہ ملک کے لیے بہترین راستہ نظامِ شریعت کا نفاذ ہے اور ۲۹ فی صد جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ رپورٹ کے الفاظ میں:
اسلامی شریعت کو اس وجہ سے پسند کیا جا رہا ہے کہ یہ اخلاقی اور مذہبی اقدار کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شریعت کو عوام کے ان کے حقوق، آزادی، رواداری اور برداشت کے فروغ اور ملک کو ایک بہتر سرزمین بنانے کے لیے بہترین نظام بھی سمجھا جاتا ہے۔ (ص ۴۴۴)
نوجوان اس ملک میں کیسی قیادت دیکھنا چاہتے ہیں؟ اس کے جواب میں ان کا نقطۂ نظر بہت واضح ہے:
جب پوچھا گیا کہ وہ سب سے زیادہ اہم صفات کیا ہیں جو آپ اپنے لیڈر میں دیکھنا چاہتے ہیں تو (جواب دیا گیا کہ) وہ دیانت داری اور کرپشن سے پاک ہونا ہے۔ اس کے بعد پاکستان کو تبدیل کرنے کے لیے مضبوط خیالات۔ دوسرے الفاظ میں عملیت پسندی کافی نہیں ہے۔ نوجوان ووٹر اخلاقیات، شفافیت اور رواداری کے بارے میں سننا چاہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ کسی ایسے کی تلاش میں ہوں جو انھیں اُمید دے سکے۔
اس رپورٹ میں جن کو روایت پسند کہا گیا ہے ان کی سوچ اور عزائم کا اظہار رپورٹ میں کچھ اس طرح ہوتا ہے:
ان کی ایک امتیازی شناخت ہے جو انھی کی نسل کا خاصّا ہے۔ وہ اُمید کرتے ہیں کہ پاکستان کو بہتر بنائیں گے۔ ایسا ملک جہاں کے ۹۸ فی صد لوگ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے خواب کے مطابق زندگی گزاریں۔
حالات کتنے بھی خراب اور تشویش ناک ہوں، امید اور تبدیلی کا عزم رکھنے والے عوام اور نوجوان ہی ہمارا اصل سرمایہ ہیں۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ؎
طولِ شبِ فراق سے گھبرا نہ اے جگر
ایسی بھی کوئی شب ہے کہ جس کی سحر نہ ہو
۱۱مئی ہمیں اس سحر سے قریب لاسکتی ہے اگر ہم سب اس دن اپنی ذمہ داری خدا اور خلق دونوں کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ ادا کریں۔
جماعت اسلامی پاکستان ملک کے تمام صوبوں سے مرکزی اور صوبائی، دونوں اسمبلیوں کے لیے انتخاب میں شرکت کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی محض ایک سیاسی جماعت ہی نہیں، ایک نظریاتی تحریک ہے جو دین حق کی بنیاد پر زندگی کے تمام شعبوں کی دورِ جدید کے حالات، مسائل اور وسائل کی روشنی میں تشکیل نو کرنے کی جدوجہد ۱۹۴۱ء سے کر رہی ہے۔ اس نے فکری تشکیل نو، کردار سازی اور تعمیراخلاق، تعلیم و تربیت، سماجی خدمت، نوجوانوں اور طلبہ میں اسلامی احیا کی تنظیم، جدوجہد، مزدوروں، کسانوں، وکیلوں، سائنس دانوں، تجار، غرض زندگی کے ہر میدان میں بے لوث خدمت کی اعلیٰ مثالیں قائم کی ہیں۔ اس نے انتخابات کے ذریعے سیاسی تبدیلی کے لیے بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ۱۹۶۲ء کی اسمبلی میں اس کے صرف چار ارکان تھے مگر الحمدللہ ان کی مساعی سے جنرل ایوب خان نے دستور سے قرارداد مقاصد کو خارج کرنے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان سے ’اسلامی‘ کا لفظ نکالنے کی جو جسارت کی تھی، وہ دوسال کے اندر اسے واپس لینی پڑیں اور دستور کی اسلامی دفعات بحال ہوئیں۔
۱۹۷۱ء کی اسمبلی میں ڈاکٹر نذیر احمد کی شہادت کے بعد جماعت اسلامی کے صرف تین ارکان تھے لیکن دوسری دینی جماعتوں کے تعاون سے پروفیسر عبدالغفوراحمد، مولانا مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی کی مساعی کا نتیجہ تھا کہ ۱۹۷۳ء کے متفقہ دستور میں اسلام کو مرکزی حیثیت رہی۔ ۲۰۱۰ء کی اٹھارھویں دستوری ترمیم کے موقعے پر جماعت اسلامی کے سینیٹ میں صرف تین ارکان تھے لیکن جماعت اور جمعیت علماے اسلام کی مساعی سے اٹھارھویں ترمیم میں دستور کی تمام اسلامی دفعات کو نہ صرف مکمل تحفظ ملا بلکہ بہت سی کمزوریوں کو دُور کیا گیا، خصوصیت سے وفاقی شرعی عدالت کے نظام میں جو سقم تھے اور جس کی وجہ سے اس کی آزادی اور کارکردگی بُری طرح متاثر ہورہی تھی، ان کو دُور کرکے اس کے لیے اعلیٰ عدالت کو وہ تمام تحفظات فراہم کیے گئے جو عدالت کی آزادی کے لیے ضروری ہیں۔
پلڈاٹ (PILDAT) جو ایک آزاد ادارہ ہے، اس کی رپورٹیں گواہ ہیں کہ خواہ ۲۰۰۲ء کی قومی اسمبلی ہو یا ۲۰۰۳ء سے ۲۰۱۲ء تک کی سینیٹ، ہرجگہ جماعت کے ارکان نے پارلیمنٹ کی کارروائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ان کی کارکردگی سب سے نمایاں رہی۔ سینیٹ کی ۲۰۱۲ء کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہرہرلحاظ سے ___ یعنی تقاریر میں سب سے زیادہ وقت، سب سے زیادہ سوالات، سب سے زیادہ قراردادیں، سب سے زیادہ نکتہ ہاے اعتراض___ گویا ہر معیار سے جماعت اسلامی کے ارکان کی کارکردگی سب سے اعلیٰ تھی۔
اسی طرح جب اور جس حد تک جماعت اسلامی کے نمایندوں کو لوکل باڈیز یا صوبہ خیبرپختونخوا میں ساڑھے چار سال خدمت کا موقع ملا، جماعت کی کارکردگی نمایاں رہی اور کرپشن کے ہرداغ سے پاک رہی۔ جماعت کے کارکن بھی انسان ہیں اور وہ ہرگز خطا سے پاک نہیں، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور صرف تحدیث نعمت کے طور پر یہ بات کہی جارہی ہے کہ جماعت کے تمام کارکنوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت، پوری محنت اور اپنے دامن کو ہر بدعنوانی اور ذاتی منفعت سے بچاکر انجام دیں۔ اس کا اعتراف دوست اور دشمن سب نے کیا ہے۔ جماعت اسلامی کوئی مسلکی جماعت نہیں، اس نے ہرتعصب سے بلند ہوکر اسلام اور پاکستان کی خدمت انجام دی ہے اور سب کو ساتھ لے کر چلی ہے۔ ۱۹۷۰ء سے اب تک مختلف اَدوار میں جماعت اسلامی کے مرد اور خواتین ممبران سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلی کی تعداد ۱۸۶ رہی ہے ،لیکن الحمدللہ ان میں سے ہرایک نے مقدور بھر خدمت کا ایک ایسا معیار قائم کیا جو اپنی مثال آپ ہے۔
کراچی میں جناب عبدالستار افغانی (۱۹۷۹ء-۱۹۸۳ء) اور جناب نعمت اللہ خان (۲۰۰۱ء-۲۰۰۴ء) نے علی الترتیب کراچی کے میئر اور سٹی ناظم کے فرائض انجام دیے اور دیانت اور خدمت کا بہترین ریکارڈ قائم کیا۔ افغانی صاحب نے جب میئر کی ذمہ داری سنبھالی تو بلدیہ کراچی ۱۰کروڑ کی مقروض تھی اور جب ۱۹۸۳ء میں بلدیہ تحلیل کی گئی ہے اور ان کو فارغ کیا گیا، اس وقت ۱۵کروڑ کے اضافی فنڈ موجود تھے۔ ان کے دور میں بلدیہ کا بجٹ ۵۰ کروڑ سالانہ سے بڑھ کر ایک ارب ۷۰کروڑ تک پہنچ گیا تھا، نیز اس دور میں بیسیوں تعمیراتی منصوبے ہرشعبۂ زندگی میں شروع کیے گئے۔اسی طرح جب جناب نعمت اللہ خان صاحب نے ناظم کراچی کی ذمہ داری سنبھالی تو سٹی نظم کا بجٹ ۶؍ارب روپے تھا اور چار سال کے بعد جب وہ فارغ ہوئے تو یہ بجٹ ۴۲؍ارب روپے سے زائد تھا۔ دونوں اَدوار میں جو پراجیکٹس شروع ہوئے، وہ اپنی مثال آپ ہیں۔شہر کے انفراسٹرکچر میں غیرمعمولی ترقی ان اَدوار میں واقع ہوئی جسے ہرشخص نے بچشم سر دیکھا۔ اور سب سے بڑھ کر دونوں نے جس سادگی اور پروٹوکول کے بغیر اپنی ذمہ داریاں ادا کیں، وہ نفسانفسی کے اس دور میں تابناک مثالوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ افغانی صاحب ہوں یا نعمت اللہ صاحب، دونوں نے سرکاری مکان اور مراعات سے اپنا دامن بچایا۔ افغانی صاحب اپنے ۶۰گز کے فلیٹ ہی میں رہتے رہے اور نعمت اللہ خان نے سرکاری بنگلہ لینے سے انکار کر دیا۔ تنخواہ میں ملنے والی رقم ۴۰لاکھ روپے بھی الخدمت کے اکائونٹ میں جمع کرا دیے۔
ہم نے یہ چند باتیں صرف تحدیث نعمت کے طور پر عرض کی ہیں تاکہ قوم کے سامنے یہ بات آجائے کہ آج بھی اس قوم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اعلیٰ صلاحیت کے ساتھ دیانت اور خدمت کے جذبے سے معمور ہیں۔ انھیں قوم نے جب بھی جو ذمہ داری دی، اسے انھوں نے وقت اور صلاحیت کے بہترین استعمال سے انجام دیا اور دیانت اور امانت کی روشن مثال قائم کی۔
ہم قوم سے صرف یہ اپیل کرتے ہیں کہ ۱۱مئی کے تاریخی موقعے پر اپنی ذمہ داری اللّٰہ کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ انجام دیں۔ووٹ کے لیے لازماً گھر سے نکلیں اور دوسروں کو بھی ووٹ ڈالنے کی ترغیب دیں۔ ووٹ ایک امانت ہے اور اس امانت کو امانت دار افراد کے سپرد کریں۔ جمہوریت کی کامیابی کا انحصار صرف اس امر پر ہے کہ اپنے ووٹ کا ٹھیک ٹھیک استعمال کریں اور ایسی قیادت کو بروے کار لائیں جو دیانت اور صلاحیت، دونوں معیارات پر پوری اُترتی ہو۔ اگر اسمبلیوں میں اچھی قیادت کی اکثریت ہو تو ملک کی قسمت چند برسوں میں بدل سکتی ہے۔ اگر ایسے لوگوں کی اکثریت نہ بھی ہو مگر وہ ایک معقول تعداد میں موجود ہوں تو وہ حالات کو متاثر کرنے میں ایک بڑا اور مؤثر کردار ضرور ادا کرسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے تعاون کے بغیر کوئی پایدار حکومت بن ہی نہ سکے، اور اگر ایسا نہ ہو جب بھی ایک جان دار، مؤثر اور اصول پرست اپوزیشن کی حیثیت سے وہ ملک کی پالیسیوں کو متاثر کرسکتے ہیں، احتساب کی خدمت انجام دے سکتے ہیں، عوام کی آواز کو اقتدار کے ایوانوں میں اُٹھا سکتے ہیں اور کم از کم بگاڑ کی قوتوں پر گرفت اور بگاڑ کی رفتار کو بریک لگاسکتے ہیں۔
۱۱مئی فیصلے کا دن ہے۔ اگر آپ نے صحیح فیصلہ کیا تو آپ ملک کی قسمت کو تبدیل کرسکتے ہیں اور اگر آپ نے اپنی ذمہ داری ہی ادا نہ کی تو پھر آپ نتائج کی ذمہ داری سے کیسے مبرا ہوسکتے ہیں۔ آیئے! اپنے آپ سے اور اپنے اللّٰہ سے عہد کریں کہ ۱۱مئی کو ہم پاکستان کے لیے ایسے لوگوں کو منتخب کریں گے جو اس کی آزادی، خودمختاری، حاکمیت، اسلامی شناخت اور فلاحی کردار کے حقیقی محافظ ہوسکیں، اور جو اپنی ذات کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ ملک کی خدمت کے لیے اپنے جان اور مال کی بازی لگانے والے ہوں۔ اگر ہم اپنے اس عہد کو ٹھیک ٹھیک پورا کرتے ہیں تو پھر اُس پاکستان کی بازیافت اِن شاء اللّٰہ ہوکر رہے گی جس کے لیے قیامِ پاکستان کی تحریک برپا کی گئی تھی اور جس پر اس ملک کے مستقبل کا انحصار ہے۔
کتابچہ دستیاب ہے، قیمت: ۱۰ روپے۔ سیکڑے پر رعایت۔ منشورات، منصورہ، لاہور۔ فون:۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲
۱۹۷۱ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کے الم ناک سانحے کے نتیجے میں بنگلہ دیش تشکیل پایا۔ آج ۴۲برس بعد، یہی بنگلہ دیش ایک بار پھر ایک خطرناک خونیں ڈرامے کا اسٹیج بن گیا ہے۔بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے علَم بردار ادارے اودھی کار (Odhikar) نے اپنے ۵مارچ ۲۰۱۳ء کے اعلامیے میں اس تلخ حقیقت کا اظہار اس طرح کیا ہے:
اودھی کار بنگلہ دیش کی تاریخ میں قتل و غارت کی انتہائی گھنائونی لہر اور تشددکے واقعات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں پولیس اور دوسری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے تشدد پر قابو پانے کے عذر کی بنا پر ۵فروری اور ۴مارچ ۲۰۱۳ء کے درمیان بلاامتیاز گولی چلائی اور کم سے کم ۹۸ افراد کو جن میں سیاسی کارکن، عورتیں اور بچے اور عام شہری شامل ہیں، مار دیا۔انسانی حقوق کو بڑے پیمانے پر پامال کیا جا رہا ہے۔ جس وقت یہ بیان جاری کیا جارہا ہے، مزید اموات کی خبریں آرہی ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۱۶۶، زخمی ہونے والوں کی ۳ہزار۸سو ۲۸ اور جیلوں میں محبوس کیے جانے والوں کی تعداد ۲۰ہزار سے متجاوز ہوچکی ہے اور جیساکہ بنگلہ دیش کے ایک ماہرقانون بیرسٹر نذیراحمد نے امریکا اور انگلستان میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ پولیس کی جانب سے اندھادھند قتل و غارت، تشدد اور انسانی حقوق کی پامالی کی یہ بدترین مثال ہے جس کا کوئی جواز دستور اور قانون میں موجود نہیں۔ دوسری جانب حزبِ اختلاف کی قائد خالدہ ضیا نے اپنی ۲مارچ ۲۰۱۳ء کی پریس کانفرنس میں اس اجتماعی قتل (mass killing) کو نسل کُشی (genocide) اور انسانیت کے خلاف جرم (crime against humanity) قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ: حکومت جھوٹے مقدمات کا ڈراما رچا کر، سیاسی مخالفین کے قتلِ عام جیسے گھنائونے جرم کا ارتکاب کررہی ہے۔
بنگلہ دیش حکومت کے اس اقدام نے ملک کو اس کی تاریخ کے خطرناک اور خونیں تصادم سے دوچار کردیا ہے اور ملک ہی میں نہیں، پوری دنیا میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ حالات کو جس رُخ پر دھکیلا جا رہا ہے، اس کے بڑے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے پر پوری دیانت کے ساتھ، اصل حقائق اور عالمی حالات کی روشنی میں گفتگو کی جائے، اور حق و انصاف اور عالمی قانون اور روایات کے مسلّمہ اصولوں کی روشنی میں حل کی راہیں تلاش کی جائیں۔ جب مسئلہ انسانی حقوق کا، انسانوں کے جان و مال اور عزت کی حفاظت کا، اور علاقے میں امن اور سلامتی کا ہو تو پھر وہ مسئلہ ایک عالمی مسئلہ بن جاتا ہے اور اسے کسی ملک کے اندرونی معاملات تک محدود نہیں سمجھا جاسکتا۔ بات اور بھی سنگین ہوجاتی ہے جب ۴۲سال کے بعد ایک طے شدہ مسئلے (settled issue) کے مُردہ جسم میں جان ڈال کر سیاسی انتقام اور نظریاتی کش مکش کو ہوا دی جائے اور ملک کے سکون کو درہم برہم کردیا جائے۔۱؎
۱- بھارت کے بائیں بازو کے مشہور لبرل مجلہ اکانومک اینڈ پولیٹیکل ویکلی میں ایک ہندو دانش ور نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہونے والے ان مقدمات اور سزائوں پر ملک گیر اور خون آشام ردعمل کے جو سیاسی اور نظریاتی پہلو ہیں، وہ بنگلہ دیش کی معاشی ترقی اور سماجی ارتقا پر بُری طرح اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ بیگم خالدہ ضیا نے ان مقدمات کو غیرمنصفانہ اور حسینہ واجد کے سیاسی انتقام کے ایجنڈے کا حصہ قرار دیا ہے۔ مقالہ نگار کے مطابق عوامی لیگ اگلے انتخابات کے سلسلے میں بی این پی اور جماعت اسلامی کے اتحاد سے خائف ہے اور جماعت کو انتخابات سے پہلے نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ لیکن اس تناظر میں جو ایک اہم نظریاتی پہلو رُونما ہو رہا ہے اس کی طرف بھی اس نے اپنے اضطراب کا اظہار اس طرح کیا ہے: یہ صورتِ حال ، بنگلہ دیش میں حریف نظریاتی قوتوں ___ سیکولر قوم پرستی اور اسلامی انقلابیت کے درمیان ایک نئے پُرتشدد تصادم کے مرحلے کی طرف نشان دہی کرتی ہے۔ (ملاحظہ ہو: The Unfinished Revolution in Bangladesh، از Subir Bhaumik، ۲۳ فروری ۲۰۱۳ء، ص ۲۷-۲۸)
بنیادی سوال ہی یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام کے ۴۲سال بعد یہ خونیں ڈراما کیوں رچایا جارہا ہے؟ جماعت اسلامی بنگلہ دیش مارچ ۱۹۷۹ء سے منظم انداز میں اور اپنے دستور کے مطابق، اپنے جھنڈے اور اپنے انتخابی نشان تلے اور اپنی قیادت کی رہنمائی میں ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے سرگرمِ عمل ہے۔ اس اثنا میں پانچ بار (۱۹۸۶ء، ۱۹۹۱ء، ۱۹۹۶ء، ۲۰۰۱ء، ۲۰۰۸ء) ملکی انتخابات میں حصہ لے چکی ہے اور پارلیمنٹ میں مؤثر خدمات انجام دیتے ہوئے اپنا کردار ادا کرچکی ہے، نیز ایک بار حکومت کا حصہ بھی رہی ہے۔ ۱۹۹۰ء میں جنرل حسین محمد ارشاد کی حکومت کے خلاف عوامی جمہوری مزاحمتی جدوجہد میں بنگلہ دیش جماعت اسلامی خود عوامی لیگ کی ایک حلیف جماعت کی حیثیت سے پانچ جماعتوں کے اتحاد کا حصہ رہی ہے۔
آخر اب ایسا کیا واقعہ ہوگیا کہ ۲۰۱۰ء میں عوامی لیگ کی موجودہ حکومت نے نام نہاد International Crimes Tribunal قائم کیا۔ جماعت کے نو قائدین بشمول سابق امیرجماعت، ۹۱سالہ پروفیسر غلام اعظم، امیرجماعت مولانا مطیع الرحمن نظامی اور نائب امیرجماعت علامہ دلاور حسین سعیدی اور بی این پی کے دوقائدین پر مقدمہ قائم کیا۔ ۲۰۱۳ء کے آغاز میں علامہ دلاور حسین سعیدی کو سزاے موت، اور عبدالقادر مُلّا (اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل بنگلہ دیش جماعت اسلامی) کو عمرقید کی سزا سنائی گئی۔معروف اسلامی اسکالر (مولانا) ابوالکلام آزاد (جو ایک زمانے میں جماعت اسلامی سے وابستہ رہے)اور آج کل ٹیلی ویژن پر قرآن پاک کا درس دینے کی وجہ سے بہت مقبول ہیں، انھیں بھی، ان کی غیرحاضری میں، سزاے موت سنائی گئی۔پھر حکومت کی سرپرستی میں شاہ باغ سکوائر (چوک) میں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر شاہ باغ اجتماع کو منظم کرنے والے گروہ نے اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نازیبا، ہتک آمیز اور بے سروپا الزامات لگائے۔ ایک منصوبے کے تحت کچھ مقامات پر ہندوئوں پر حملے کیے گئے اور ان کے مندر جلائے گئے۔ ساری شہادتیں اس طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ یہ سب عوامی لیگ کے جیالوں نے کیا۔ فطری طور پر ان ظالمانہ اور انتقامی کارروائیوں کے خلاف اسلامی اور جمہوری قوتوں نے بھرپور احتجاج کیا اور حالات نے وہ کروٹ لی جو موجودہ سنگین کیفیت تک پہنچ گئی ہے۔
الحمدللہ جماعت اسلامی کا، اس کی قیادت کا اور اس کے کارکنوں کا دامن ہر ظلم، قتل و غارت گری، فساد فی الارض، لُوٹ مار اور اخلاقی جرائم سے پاک ہے۔ جماعت نے ہمیشہ مبنی برانصاف ٹرائل کا خیرمقدم کیا ہے اور ۱۹۷۱ء اور اس کے بعد الم ناک واقعات کے بارے میں اس نے یہی کہا ہے۔ دسمبر ۱۹۷۱ء تک متحدہ پاکستان کا دفاع اور اس کی حفاظت اور حمایت اور اس پر بھارتی جارحیت کا مقابلہ ایک الگ چیز ہے اور عام شہریوں پر خواہ ان کا تعلق کسی نسل یا کسی مذہب سے ہو، ظلم اور زیادتی ایک الگ معاملہ ہے۔ دونوں کو گڈمڈ کرنا اصولِ انصاف، بین الاقوامی قانون اور خود ملک کے دستور کے خلاف ہے۔
جماعت اسلامی ہمیشہ مبنی بر انصاف ٹرائل کی حامی رہی ہے اور آج بھی ہے لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ ٹرائل ہراعتبار سے شفاف ہو، مسلّمہ ضابطہ قانون اور انصاف کے تسلیم شدہ عالمی معیارات اور طریق کار کے مطابق ہو۔ ہرشخص کو دفاع کا حق ہو اور بین الاقوامی معیار پر پورے اُترنے والے ججوں کے ذریعے اور عالمی مبصرین کی موجودگی میں ہو، جیساکہ اقوام متحدہ کے طے کردہ ضابطے کے تحت ہیگ کی International Criminal Court کر رہی ہے۔ لیکن کنگرو کورٹ (بے ضابطہ عدالت، جہاں قانون کی دانستہ غلط تعبیر کی جاتی ہے)کے ذریعے دستور، قانون اور انصاف کے ہر مسلّمہ اصول کو پامال کر کے جو ڈراما رچایا جا رہا ہے، وہ ایک صریح ظلم ہے جسے کسی طور برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک گھنائونا سیاسی کھیل ہے جس کا مقصد حقیقی جمہوری اور اسلامی قوتوں کو انتقام کا نشانہ بنانا ہے، جس کا ہدف عوامی لیگ کی مقابل قوتوں کو کمزور کرنا اور انھیں سیاسی میدان سے باہر کرنا ہے، اور جس کے ڈانڈے بنگلہ دیش میں بھارت کے سیاسی عزائم اور عالمی سطح پر اسلامی احیا کی تحریکات کے پَر کاٹنے کے ایجنڈے سے ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش میں جو کچھ ہورہا ہے، اسے عالمی پس منظر اور اس کے نتیجے میں رُونما ہونے والے ان حالات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جن سے بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے اس اندازِحکمرانی کی بنا پر بنگلہ دیش کی آزادی، معاشرت، معیشت اور سیاست سب کو وجودی خطرہ (existential threat) لاحق ہوگیا ہے۔
اقوامِ عالم کی موجودہ صورت حال پر ایک اجمالی نگاہ دوڑانے سے یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں اور معمولاتِ زندگی کے فیصلے کر رہے ہیں جو سردجنگ کے خاتمے کے بعد کی دنیا سے بہت مختلف ہے۔ بظاہر جنگوں سے تھکا ہارا انسان اب امن کی تلاش میں سرگرداں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نظریات کی جنگ کے مقابلے میں میزائل اور ڈرون ٹکنالوجی کی حیثیت ثانوی ہوکر رہ گئی ہے۔ اسلامی احیا ایک عالمی لہر کی صورت اختیار کر رہا ہے اور اسلام کے پھر سے قوت بن جانے کا زمانہ قریب محسوس ہو رہا ہے۔ اس انتہائی بنیادی اور اہم تبدیلی کو محسوس بھی کیا جا رہا ہے اور اُس کے متنوع ممکنہ اثرات و مضمرات کو سامنے رکھ کر مختلف عالمی قوتیں اپنا اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ مسلمان عوام کے جذبات اور عزائم ایک سمت میں ہیں اور عالمی استعمار اور لبرل سیکولر قوتیں اپنا کھیل کھیل رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں اس اہم تبدیلی کے دروازے پر کھڑے اہلِ اسلام کو جگانے والوں کی مساعی کے برگ و بار لانے کا وقت قریب آرہا ہے، وہیں اس کے ساتھ متوازی واقعات بھی رُونما ہورہے ہیں۔ ایک طرف آزادی اور حُریت کا عنوان اسلامی تحاریک کے جمہوری اظہار سے جھلک رہا ہے، تو دوسری طرف ایک بڑا سامراج اس تبدیلی کو روکنے اور فکری و نظری اُلجھائو پیدا کرنے میں بھی پوری توانائیاں صرف کر رہا ہے۔ عالمِ اسلام کی بیدار قیادت کو نئی مشکلات کے بھنور میں ڈالنے، ان کی شخصیت اور کردار کو اخلاقی اعتبار سے چیلنج کرنے اور ان کو اپنے نصب العین کی جانب تیزی سے پیش قدمی سے روکنے کے اقدامات خود مسلم دنیا کے اندر سے اُٹھائے جارہے ہیں۔ ایسا ہی منظرنامہ آج بنگلہ دیش میں ترتیب دیا جارہا ہے۔
ہم اس حقیقت سے بہت اچھی طرح آگاہ ہیں اور ہمیں بجا طور پر اس پر فخر بھی ہے کہ بنگلہ دیش نہ صرف ہمارا برادر اسلامی ملک ہے بلکہ دنیا میں تیسرا بڑا اسلامی ملک بھی ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کبھی ایک تھے۔ ایک جسم کے دو بازو! اس طرح وہ ربع صدی رہے۔ مسلم بنگال کو ہی دیکھ لیجیے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا آغاز ڈھاکہ میں ۱۹۰۶ء میں ہوا۔ پاکستان بننے میں، تحریکِ پاکستان کے اُبھرنے اور قوت پکڑنے میں، حتیٰ کہ قراردادِ پاکستان (لاہور ۱۹۴۰ء) اور قرارداد دہلی (۱۹۴۶ء) پیش کرنے والوں میں مسلم بنگال کے مسلم رہنما اے کے ایم فضل الحق اور حسین شہید سہروردی کا کردار ناقابلِ فراموش تاریخی حقائق ہیں۔ برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں کو ایک نمایندہ سیاسی پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور مسلم لیگ کو منظم کرنے میں بھی باقی ہندستان کی طرح بنگال کے مسلم رہنمائوں اور عوام کی گراں قدر مساعی کا نمایاں اور فیصلہ کن کردار رہا ہے۔ اس کردار نے روزِاوّل ہی سے برعظیم پاک و ہند میں اسلام اور مسلمانوں کا مضبوط حوالہ بن کر آزادی کے حصول اور ہندو کی غلامی سے نجات کے لیے یہاں کے مسلمانوں کے راستے کشادہ کیے ہیں۔
یہ حقیقت تلخ سہی، تاریخ کی ایک حقیقت ہے کہ دونوں بازو دو الگ الگ ملکوں میں تبدیل کردیے گئے ہیں۔ اس مقام تک جاتے جاتے دونوں طرف کے باشندوں کو انتہائی تکلیف دہ اور ناپسندیدہ کش مکش سے گزرنا پڑا۔ یہ ایسی جغرافیائی علیحدگی تھی جس میں دونوں بھائیوں کی غلطیاں اور خطاکاریاں اپنی جگہ، لیکن بالآخر ان کو ایک دوسرے سے کاٹ دینے میں بیرونی قوتوں کا کردار فیصلہ کن تھا۔ مغربی پاکستان کی فوجی قیادتوں کے کچھ عناصر کا کردار بلاشبہہ شرم ناک، ظالمانہ اور عاقبت نااندیشانہ تھا، لیکن بھارت کی سیاسی ریشہ دوانیوں اور جارحانہ فوج کشی سے کیسے صرفِ نظر کیا جاسکتا ہے؟ بالآخر جو ہونا تھا وہ ہوا، لیکن اس سانحے کے باوجود زندگی نے نئی کروٹ لی۔ جغرافیائی علیحدگی ضرور واقع ہوئی لیکن دو ملکوں کے اس طرح وجود میں آنے کے باوجود، ان کے مابین اسلام کا گہرا رشتہ موجود رہا ہے۔ یہ علیحدگی مشترکہ اقدار اور ایک دوسرے کے لیے تعلق خاطر کو ختم نہ کرسکی اور دونوں نے نئے سفر کے آغاز اور تعلقات کی بحالی کا عزم کیا۔ حالات و واقعات نے اگرچہ بہت گرد اُڑائی اور اپنے پرائے بھی ایسے انداز میں سامنے آئے جو تکلیف دہ اور نامطلوب تھا، لیکن اس زخم کے باوجود پاکستان اور بنگلہ دیش کے باشندوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت موجود رہی اور اب بھی ہے۔
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام میں پیش پیش رہنے والی سیاسی جماعت، یعنی عوامی لیگ کو مسلسل ایسی پذیرائی نہ مل سکی جو عموماً آزادی کی تحریکوں کے ہراول دستوں کو ملا کرتی ہے۔ یہ جماعت ابتدا میں بھی صاف شفاف انداز میں پولنگ بوتھ کے ذریعے اکثریت نہ پاسکی اور اب بھی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی کے اکٹھے ہوجانے سے اقتدار سے باہر ہوجاتی ہے۔ اس میں اس جماعت کی اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا حصہ بہت بڑا ہے، نیز اس پر بھارت کا اثرورسوخ جس طرح سایہ فگن رہا اور ہے، وہ بھی بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے لیے اضطراب کا باعث رہا ہے۔اس کے باوجود ہم بنگلہ دیش کی آزادی ، خودمختاری اور حاکمیت اعلیٰ کا احترام کرتے ہیں۔ وہاں کے سیاست دانوں، عوام اور دانش وروں کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دستور اور قانون کے مطابق اپنے معاملات طے کریں اور اپنے تنازعات کا حل انھی کے فریم ورک میں تلاش کریں۔ یہ حقیقت بھی کسی طرح سے نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ وہاں کی حکومت کو بھی مسلمہ بین الاقوامی اقدار، کنونشنز اور معاہدوں کے مطابق اپنے آئین و قانون کی تشریح کا حق اسی طرح سے حاصل ہے جس طرح کسی بھی ملک کی آزاد عدلیہ اس کی تعبیر و تشریح کا حق رکھتی ہے۔
بنگلہ دیش جماعت اسلامی اپنے آزاد وجود اور خصوصی تشخص کے ساتھ، جنوبی ایشیا میں سرگرمِ عمل جماعت اسلامی کی ہمہ گیر نظریاتی تحریک کا ہی تسلسل ہے۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال، ہر ملک میں جماعت اسلامی کے نام کی مستقل بالذات تحریکیں کام کر رہی ہیں۔ ان تمام ممالک میں جماعت اسلامی کے نظریے اور کام میں اصولی مشترکات کے باوجود، ہر ایک کی مخصوص جغرافیائی، قومی اور دستوری انفرادیت ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی کا نصب العین اور اس کا نظریاتی کردار بلاشبہہ پاکستان یا جنوبی ایشیا میں کہیں بھی جماعت اسلامی کے کام اور نظریاتی پہچان سے مختلف نہیں ہے۔
یہ تمام تحریکیں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے پیغام کی قاصد ہیں۔ ان کے لٹریچر میں بھی ایک گونہ اشتراک ہے اور ان کے درمیان بھائی چارہ بہت ہی قیمتی سرمایہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ہرایک کا نظم، دستور اور قیادت مختلف اور مکمل طور پر آزاد ہے اور اپنے ملکی حالات، ضروریات اور اہداف کی روشنی میں ہر ایک اپنے پروگرام اور ترجیحات کے مطابق سرگرمِ عمل ہے۔ نظریاتی ہم آہنگی کے باوجود سیاسی آرا اور پالیسیوں میں ہر ایک آزاد اور اپنے معاملات میں مکمل طور پر خودمختار ہے۔ اس کی اہم ترین مثال مشرق وسطیٰ کی مشہورِ زمانہ خلیجی جنگ (گلف وار) ہے جس کے ہرمرحلے میں بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کا موقف پاکستان کی جماعت اسلامی سے مختلف رہا۔ صدام حسین کے ایران پر حملے اور بش اوّل کے عراق پر حملے پر دونوں کا ردعمل مختلف تھا مگر اس سب کے باوجود صرف برعظیم کی اسلامی جماعتوں ہی میں نہیں، دنیا کی تمام ہی اسلامی تحریکات میں نظریاتی اور روحانی طور پر ایک گونہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے جو اسلام کے دامن رحمت سے وابستہ ہونے کا ثمرہ ہے۔
جب ہم پاکستان میں بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے بارے میں بات کرتے ہیں تو تین گہرے اور مضبوط حوالے ایسے ہیں جن کی بنیاد پر ہم یہ استحقاق رکھتے ہیں کہ وہاں رُونما ہونے والے ایسے واقعات پر محاکمہ کریں جو حق و انصاف کے خلاف ہوں، جو مہذب معاشرے کے مسلّمہ اصولوں کو پامال کرنے کا سبب ہوں، جس سے انسان اپنے جائز حقوق سے محروم ہورہے ہوں اور جو عالمی راے عامہ کو اضطراب اور بے چینی میں مبتلا کرنے کا باعث ہوں۔ بین الاقوامی اور عالمی سیاسی آداب کی رُو سے یہ صرف ایک استحقاق ہی نہیں، ایک فرض بھی ہے اور خود اپنے برادر ملک بنگلہ دیش سے خیرخواہی کا تقاضا بھی ہے۔ جہاں تک اہلِ پاکستان کا تعلق ہے، ہم تین وجوہ سے ضروری سمجھتے ہیں کہ اس پورے معاملے کے بارے میں اپنی بے لاگ راے کا دلیل اور حقائق کی روشنی میں اظہار کریں اور بنگلہ دیش اور تمام دنیا خصوصیت سے اسلامی دنیا کے ارباب حل و عقد کو اور عامۃ الناس کو حق اور انصاف کے مطابق اپنے اثرات کو استعمال کرنے کی دعوت دیں۔
ہماری تشویش اور پریشانی کا سبب بہت واضح اور کھلا ہے۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی سے وابستہ قیادت کو مخصوص سیاسی، علاقائی اور بین الاقوامی ایجنڈے پر قربان کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ مخصوص قانون سازی اور مرضی کی عدالتیں بنا کر قائدینِ جماعت کو سزائیں سنائی جارہی ہیں۔ یہ آزاد ملک کے اندر قانون کو غلام بنا کر دستور کی سنگین پامالی کا بھی معاملہ ہے جس پر دنیا کے ہرباشعور اور غیرجانب دار فرد کو تشویش ہونی چاہیے اور اسے اپنی آواز حق و انصاف کے لیے بلند بھی کرنی چاہیے۔ ہم بھی اس حوالے سے نہ صرف اس سارے عمل کی شدید مذمت کررہے ہیں بلکہ اقوامِ عالم اور ان کے نمایندوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ اس ظلم کا راستہ روکنے کے لیے ناانصافی پر آمادہ عوامی لیگ کی حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاس داری کرے اور جن معصوم انسانوں کو تعذیب و انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ان کے حقوق انھیں واپس کرے تاکہ وہ غیر جانب دار عدلیہ کے سامنے پیش ہوکر اپنی بے گناہی ثابت کرسکیں۔
ہم اس بات کو بھی ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی آزادی، ترقی اور خوش حالی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ بنگلہ دیش نے گذشتہ برسوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ اس کی صنعتی پیش رفت سے ہمیں دو گونہ خوشی ہوتی ہے کیونکہ ہمارے نظریے اور ایمان کا رشتہ اب بھی تروتازہ ہے۔ بنگلہ دیش کے نوجوانوں کا کردار ہمارے لیے بھی حوصلے کا سبب ہے کیونکہ ان نوجوانوں نے ایک طرف اسلامی دنیا میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں، دوسری طرف ملایشیا اور انڈونیشیا میں ان کا تعمیری کردار سب تسلیم کر رہے ہیں، بلکہ یورپ میں اور بالخصوص برطانیہ کی ترقی میں بھی پیش پیش رہے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ بنگلہ دیش کو اپنے قیام کے بعد سے مخصوص علاقائی اور جغرافیائی دبائو کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے پڑوس سے اسے کبھی سکون نہیں مل سکا۔ یہ جغرافیائی یا محض علاقائی حالات کا ہی نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس کے ڈانڈے امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے بھی جاملتے ہیں۔ اس لیے بھی ہم خصوصی طور پر مضطرب ہیں کہ وہاں جماعت اسلامی کی قیادت کے خلاف جو کچھ ہورہا ہے، اس پر آواز اُٹھانا چاہیے۔ بنگلہ دیش کی یہ صورتِ حال گذشتہ کچھ عرصے سے نہایت پریشان کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ گذشتہ چند برسوں سے مسلسل ایسی کارروائیاں ہورہی ہیں جن کا نشانہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی اور بی این پی کے رہنمائوں کو بنایا جا رہا ہے۔ ایک نام نہاد اور
۲- حال ہی میں جناب شیخ مجیب الرحمن کی نامکمل خودنوشت شائع ہوئی ہے جس میں انھوں نے اپنے دو قومی نظریے کے پُرجوش مبلغ ہونے کا فخر سے اعتراف کیا ہے۔ تحریکِ پاکستان میں شرکت کی داستان بیان کی ہے اور پاکستان کی وحدت اور یک جہتی کا دم بھرا ہے۔ ملاحظہ ہو: The Unfinished Memoirs of Sheikh Mujibur Rehman
اگست ۱۹۷۱ء میں شیخ مجیب الرحمن کے وکیل صفائی جناب اے کے بروہی نے بھی اس بات کی گواہی دی تھی کہ اس مقدمے کے وقت تک شیخ مجیب نے پاکستان کے فریم ورک میں صوبائی خودمختاری کی بات کی تھی اور علیحدگی کا کوئی اعلان یا عندیہ نہیں دیا تھا۔
خود ساختہ انٹرنیشنل ٹریبونل بنا کر جماعت اسلامی اور بی این پی کے رہنمائوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات چلائے جارہے ہیں اور انصاف کے جملہ تقاضوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے ان رہنمائوں کے حق دفاع کو بھی پامال کیا جا رہا ہے۔ اس وقت تک جماعت کے رہنمائوں کو جو سزائیں سنائی گئی ہیں، انھوں نے پورے بنگلہ دیش میں ایک آگ سی لگا دی ہے کیوں کہ سب جانتے ہیں کہ پروفیسر غلام اعظم، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا دلاور حسین سعیدی اور مولانا عبدالقادر مُلّا۳؎ اصحابِ علم و تقویٰ کا دامن ان الزامات سے پاک ہے، جو ان پر لگائے جارہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انھیں صرف اور صرف ظلم اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ مسئلے کی اصل نوعیت کو متعین کرلیا جائے۔ جنگی جرائم کا تعلق ان جرائم سے ہے جو حالت ِ جنگ میں بھی جنگ کے مسلّمہ آداب اور حدود کو پامال کر کے انجام دیے جائیں، اس لیے انھیں انسانیت کے خلاف جرائم (crimes against humanity) قرار دیا جاتا ہے اور ان کو لڑائی کے دوران معروف حدود میںہونے والے قتل اور تباہی سے ممتاز کیا جاتا ہے۔ اسی طرح نسل کُشی (genocide) بھی ایک متعین جرم ہے جس میں ایک خاص نسل، مذہب، قومیت، قبیلے یا برادری کو محض اس خاص نسل، مذہب، قومیت، قبیلے یا برادری سے تعلق کی بناپر ظلم و ستم کا ہدف بنایا جائے، بلاجواز قتل کیا جائے یا تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔
ہم پوری ذمہ داری سے یہ بات کہتے ہیں اور کسی بھی آزاد اور غیر جانب دار عدالت میں اس الزام کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے اس امر کا واضح اعلان کیا ہے
۳- ستم ظریفی ہے کہ مولانا عبدالقادر مُلّا نے بنگلہ دیش کی آزادی کے فوراً بعد ڈھاکہ یونی ورسٹی سے تعلیم مکمل کرکے بنگلہ دیش رائفلز میں، جو ایک غیر سرکاری نیم فوجی تنظیم ہے، شرکت کی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے جرائم میں مبتلا ہونے کی کوئی خبر ۱۹۷۱ء کے معاً بعد کے زمانے میں کسی کو نہ تھی اور اب ۴۲سال کے بعد یہ الہام ہوا ہے۔ علامہ دلاور حسین سعیدی بنگلہ دیش کے ایک معتبر عالم دین اور شہرئہ آفاق مقرر اور مبلّغ ہیں۔ ۱۹۷۱ء میں ان کا جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ وہ کبھی بھی کسی غیرقانونی یا غیراخلاقی کارروائی میں بلاواسطہ یا بالواسطہ ملوث رہے۔ جماعت اسلامی کی دعوت سے وہ نظریاتی طور پر ۱۹۷۵ء میں روشناس ہوئے اور جماعت کی بحالی کے بعد ۱۹۷۹ء سے اس کے سرگر م رکن رہے اور سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہوئے، بعدازاں جماعت کے ٹکٹ پر پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔
کہ وہ بحیثیت جماعت یا اس کا کوئی ذمہ دار اس نوعیت کے کسی بھی جرم کا مرتکب نہیں ہوا۔ البتہ جس بات کا جماعت نے اعتراف کیا ہے، وہ یہ ہے کہ اس نے پاکستان پر بھارتی افواج کے حملے اور مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کی عسکری اور تخریبی کارروائیوں کے دوران پاکستان کا دفاع کیا اور اس زمانے میں بھی بار بار اس امر کا اعلان کیا کہ مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔ شیخ مجیب الرحمن نے بھی بنگلہ دیش کے قیام کے بعد جنگی جرائم کے مرتکبین کے حوالے سے جو قوانین بنائے، ان میں جنگی جرائم اور پاکستان حکومت کا ساتھ دینے والوں میں فرق کیا اور دونوں کے لیے ۱۹۷۲ء میں دو الگ الگ قانون نافذ کیے۔ ۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء تک جو متحدہ پاکستان کے حامی تھے، ان کی سیاسی پوزیشن کے بارے میں پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور عوامی لیگ الگ الگ راے رکھتے ہیں اور دنیا کی تاریخ میں ایسے واقعات اور حادثات کے موقع پر یہ بالکل فطری بات ہے، لیکن سیاسی موقف کے اس اختلاف کو جنگی جرائم سے خلط ملط کرنا قانونی ، سیاسی اور اخلاقی ہراعتبار سے ناقابلِ قبول ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک نئی سیاسی حقیقت کے رُونما ہونے سے پہلے اور اس کے بعد کے معاملات کو سیاسی تناظر میں لیا جاتا ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا رویہ صریح ناانصافی ہوگا۔
اس اصولی وضاحت کے بعد چند حقائق کا ریکارڈ پر لانا بھی ضروری ہے:
مجلس عاملہ یہ تسلیم کرتی ہے کہ [انتخابی] بدعنوانیاں خواہ کتنے ہی بڑے پیمانے پر ہوئی ہوں، ملک کے مختلف حصوں میں جو لوگ کامیاب ہوئے ہیں، ان کو بہرحال معروف جمہوری اصولوں کے مطابق عوام کی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ جماعت چونکہ خود جمہوریت کی حامی ہے، اس لیے وہ قطعی طور پر یہ راے رکھتی ہے کہ جو پارٹیاں کامیاب ہوئی ہیں، انھیں لازماً کام کرنے اور عوام کو یہ دیکھنے کا موقع ملنا چاہیے کہ وہ کس حد تک ان کی توقعات پوری کرتی ہیں۔ جمہوریت میں کسی انتخاب کا فیصلہ بھی آخری اور ابدی فیصلہ نہیں ہوتا۔ اگر اس ملک میں جمہوری طریق کار اپنی صحیح صورت میں جاری رہے، شہری آزادیاں محفوظ رہیں اور وقتاً فوقتاً انتخابات ہوتے رہیں تو ہر جماعت کے لیے یہ موقع باقی رہے گا کہ عوام کی راے کو اپنے حق میں ہموار کرسکے، اور عوام کو بھی یہ موقع حاصل رہے گا کہ ایک گروہ کی کارکردگی کا تجربہ کرکے اگر وہ مطمئن نہ ہوں تو دوسرے انتخاب کے وقت دوسرے کسی گروہ کا تجربہ کریں۔ (ہفت روزہ آئین، لاہور، ۸جنوری ۱۹۷۱ء)
اسی طرح جماعت اسلامی کی مجلس عاملہ نے ایک اور قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس جلد از جلد بلایا جائے اور دستور سازی کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے:
جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس ملک کی بگڑتی ہوئی سیاسی، اقتصادی اور امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ موجودہ مسائل کے حل کا صحیح طریق کار یہی ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس جلد از جلد بلایاجائے اور منتخب نمایندوں کو دستور سازی کے سلسلے میں اپنے فرائض ادا کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ موجودہ غیریقینی صورت حال ختم ہو اور انتقالِ اقتدار کے بعد کوئی نمایندہ حکومت ان مسائل کے حل کی ذمہ داری سنبھال سکے۔ انتخابات کو مکمل ہوئے اب دو مہینے سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اگر اب دستور سازی کا کام شروع نہ کیا گیا تو اس کام میں روزبروز پیچیدگیاں بڑھنے کا امکان ہے..... بلکہ ذہنی انتشار بڑھ رہا ہے اور بحالیِ جمہوریت سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں، وہ مایوسی میں تبدیل ہورہی ہیں۔ یہ سیاسی خلا کسی طوفان کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوسکتا ہے، اس لیے مجلسِ عاملہ صدرِمملکت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ قومی اسمبلی کا اجلاس جلداز جلد بلائیں اور دستور سازی کا کام مکمل کرانے کی جو ذمہ داری اُنھوں نے اپنے اُوپر لی تھی، اُسے پورا کریں۔ (ہفت روزہ آئین، لاہور، ۱۷ فروری ۱۹۷۱ء)
واضح رہے کہ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی نے ۲۴؍اکتوبر ۱۹۷۰ء کو، انتخابات سے دومہینے قبل، صاف الفاظ میں قوم کو متنبہ کردیا تھا کہ فوج ملک کو ایک نہیں رکھ سکتی۔ اس کے لیے اسلامی جذبے اور عوام کی تائید اور رضامندی ضروری ہے۔
جماعت اسلامی کی پوزیشن اور کردار کو سمجھنے کے لیے ان حقائق کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ جہاں جماعت نے پاکستان کو ایک رکھنے کے لیے آخری لمحے تک کوشش کی، وہیں اس کی کوشش یہ بھی تھی کہ نظریاتی، اخلاقی اور سیاسی میدان میں وہ اقدام کیے جائیں جس سے یہ وحدت قائم رہ سکے اور مستحکم ہوسکے۔ مولانا مودودی نے اس موقعے پر فرمایا:
میں آپ سے صاف کہتا ہوں کہ اس وقت فوج بھی ایسی پوزیشن میں نہیں کہ اس ملک کو ایک ملک رکھ سکے۔ اگر کسی کے اندر عقل ہے تو وہ خود غور کرے کہ اگر خدانخواستہ مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک زور پکڑ جائے تو کیا آج فوجی طاقت کے بل پر اسے مغربی پاکستان کے ساتھ جوڑ کر رکھا جاسکتا ہے؟ پاکستان کے ان دونوں بازوئوں کو کسی فوج نے ملاکر ایک ملک نہیں بنایا تھا بلکہ اسلامی اخوت اور برادری کے جذبے نے انھیں ملایا تھا، اور آج بھی یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہ سکتے ہیں تو صرف اسی طرح کہ وہی اسلامی برادری کا جذبہ دونوں طرف موجود ہو اور مشرقی پاکستان کے لوگ خود یہ چاہیں یا کم از کم ان کی بہت بڑی مؤثر اکثریت یہ چاہے کہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کا اتحاد برقرار رہے، ورنہ علیحدگی پسند اگر خدانخواستہ اس رشتۂ اخوت کو کاٹنے میں کامیاب ہوجائیں تو محض فوج کی طاقت کے بل بوتے پر آپ مشرقی پاکستان کو مجبور نہیں کرسکتے کہ وہ مغربی پاکستان کے ساتھ ملا رہے۔(افغان پارک، لاہور میں جلسۂ عام سے ۲۴؍اکتوبر ۱۹۷۰ء کا خطاب، ہفت روزہ آئین، لاہور، ۱۲ مارچ ۱۹۷۱ء)
ا - مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی، بھارت کے ایجنٹوں اور دوسرے عناصر کی طرف سے پاکستان کے حامیوں (جن میں بنگالی اور غیربنگالی دونوں شامل تھے اور خصوصیت سے بہاریوں اور غیربنگالیوں اور پاکستانی افواج اور دوسرے اہل کاروں) کا قتل، ان کے اموال کی لُوٹ مار اور خواتین کی عزت و آبرو کی خلاف ورزی۔
ب- پاکستانی افواج اور ان کی معاون قوتوں کی طرف قتلِ ناحق، لُوٹ مار اور جنسی زیادتی کے واقعات۔
ج- بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ان تمام عناصر پر ظلم و زیادتی اور ان کا قتل اور غارت گری جو کسی جنگی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے لیکن محض عوامی لیگ کا ساتھ نہ دینے کے جرم میں ان کو زیادتیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ان تینوں حوالوں سے جو بھی زیادتی کی گئی اور جس نے بھی کی وہ قابلِ گرفت تھی اور قانون اور عدل و انصاف کے معروف اصولوں اور ضوابط کے دائرے میں ان کا احتساب ہونا چاہیے تھا جو نہیں ہوا۔
جہاں تک جماعت اسلامی اور اس کے کارکنوں کا تعلق ہے، انھوں نے اس ریاست کا ساتھ ضرور دیا جس سے وفاداری کا انھوں نے حلف اُٹھایا تھا مگر وہ کسی غیرقانونی اور غیراخلاقی کارروائی میں شریک نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ۲۰۰۷ء سے پہلے ان کے خلاف جنگی جرائم یا کسی دوسری زیادتی کا کوئی واضح الزام نہیں لگایا گیا اور بنگلہ دیش میں جناب مجیب الرحمن کے اقتدار کے زمانے میں احتساب اور جرم و سزا کا جو نظام بھی قائم ہوا، اس میں کوئی ایک کیس بھی جماعت کی قیادت یا اس کے کارکنوں کے خلاف ثابت نہیں ہوا۔ ہم اس سلسلے کے کچھ شواہد ریکارڈ کے لیے پیش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ ان دو قوانین کے تحت کارروائی کے ساتھ ایک تیسرا اقدام بھی کیا گیا اور وہ بنگلہ دیش کی دستور ساز اسمبلی کے ۱۲؍ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تھی جسے جنگی جرائم کے مرتکب افراد کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا کام سونپا گیا اور اسے MCA Committee کہا گیا اور عوامی لیگ کے آفس میں اس کا دفتر قائم کیا گیا۔ اس کے ساتھ پاکستانی فوج کے ستم زدہ لوگوں کو زرتلافی (compensation) ادا کرنے کے لیے بھی انتظام کیا گیا اور وزارتِ خزانہ کے سپرد یہ کام ہوا کہ جس خاندان میں کوئی شخص مارا گیا ہے، ان کو زرِتلافی دیا جائے۔ سرکاری اعداد و شمار جو بعد میں اسمبلی میں پیش کیے گئے، ان کی رُو سے اس پوری کوشش کے نتیجے میں ۷۲ہزار افراد نے کلیم دائر کیے اور تحقیق کے بعد ۵۰ہزار کو زرِتلافی ادا کیا گیا۔ جماعت اسلامی سے ان تمام کا کوئی دُور دُور کا بھی تعلق نہ تھا۔
گو، سرکاری طور پر دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ۳۰لاکھ افراد کو پاکستانی افواج نے قتل کیا ہے اور ۲لاکھ خواتین کی عصمت دری کی ہے لیکن دو سال پر پھیلی ہوئی ان تمام کارروائیوں میں جو حقائق متحقق (establish) ہوئے ،اُن کی اِن دعووں سے کوئی نسبت نہیں۔۴؎
۴- بلاشبہہ ایک فردکا بھی خونِ ناحق اور ایک پاک دامن کی عصمت دری پوری انسانیت کے قتل اور بے حُرمتی کے مترادف ہے لیکن حقائق کے بیان میں مبالغے کی حدود کو پامال کرنا بھی ایک جرم ہے۔ اسی طرح صرف ایک گروہ کی زیادتیوں کو نشانہ بنانا اور دوسرے گروہوں نے جو مظالم ڈھائے ہیں، ان کو نظرانداز کرنا بھی انصاف اوراخلاق دونوں کے منافی ہے۔ جو زیادتیاں بھی ہوئیں وہ شرم ناک اور قابلِ گرفت ہیں لیکن کسی صورت حق و انصاف اور توازن و اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس سلسلے میں اب جو حقائق سامنے آرہے ہیں ان سب کو اس الم ناک، تاریک اور خون آشام دور کے جملہ پہلوئوں کو سمجھنے کے لیے دیکھنا ضروری ہے۔ حمودالرحمن کمیشن نے بھی ان تمام ہی پہلوئوں کا احاطہ کیا ہے۔ بھارت کی ایک بنگالی ہندو محقق خاتون شرمیلا بوس (جو تحریکِ آزادی کے ہیروسبھاش چندربوس کی نواسی ہے) اپنی کتاب میں تصویر کے دونوں رُخ پیش کرتی ہے، ملاحظہ ہو:
اس پورے احتسابی عمل کا اختتام نسبتاً ایک خوش گوار شکل میں ہوا۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندستان کی مشترکہ کوششوں سے ایک معاہدہ ہوا جس پر تینوں ممالک کے وزراے خارجہ، یعنی ڈاکٹر کمال حسین، عزیز احمد اور سورن سنگھ نے اپریل ۱۹۷۴ء میں دستخط کیے۔ اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش نے ۱۹۵ پاکستانی فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ واپس لے لیا اور یہ مطلوب جنگی قیدی باقی جنگی قیدیوں کے ساتھ پاکستان واپس کردیے گئے۔ دوسری قسم کے مطلوبہ افراد جنھیں collaborater کہا گیا تھا، کے بارے میں نومبر ۱۹۷۳ء میں شیخ مجیب الرحمن نے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔ اُن چند سزا یافتہ افراد کے سوا جن کو بہت ہی سنگین جرائم میں سزا دی گئی تھی۔ بعد میں ان کو بھی معافی دے دی گئی اور اس طرح یہ افراد بھی دو سال کے بعد رہا کردیے گئے۔
پاکستان کی طرف سے بھی تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں ہوئیں۔ اپریل ۱۹۷۴ء میں پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان سہ فریقی معاہدے سے زمین ہموار ہوئی۔ اسلامی کانفرنس تنظیم کے دوسرے سربراہی اجلاس (منعقدہ لاہور) میں شیخ مجیب الرحمن نے شرکت کی۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا اور بالآخر جنوری ۱۹۷۶ء میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات قائم ہوگئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا۔ ماضی کے واقعات پر
پاکستانی فوج کے ایک مشرقی پاکستانی افسر لیفٹیننٹ کرنل شریف الحق جو ۱۹۷۱ء میں فرار ہوکر مکتی باہنی میں شریک ہوگئے تھے، اور جنھیں بنگلہ دیش کے اعلیٰ ترین اعزاز ’بیر اُتّم‘ (Bir Uttam)سے نوازا گیا تھا اور جنھوں نے سفارت کاری کی ذمہ داریاں بھی ادا کیں، اس کی خودنوشتBangladesh: Untold Facts ایک چشم کشا دستاویز ہے جس میں مکتی باہنی اور مشرقی پاکستان کی جدائی میں بھارت کے کردار کی first person (براہِ راست)تفصیلات دی گئی ہیں، اس کے علاوہ شیخ مجیب الرحمن ساڑھے تین سالہ دورِحکومت کے مظالم کا نقشہ بھی ذاتی علم کی بنیاد پر کھینچا گیا ہے۔
بھارت کے لیفٹیننٹ جنرل جیکب کی کتاب Surrender at Dacca: Birth of a Nation بھی قابلِ مطالعہ ہے جس میں بھارت کے کردار کا مکمل اعتراف موجود ہے۔ واضح رہے کہ اس دور میں پاکستان سے وفادار رہنے والوں کے ساتھ کیا ہوا، اس کا احوال بڑا دردناک ہے ۔ ڈھاکہ یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سید سجاد حسین کی کتاب The Waste of Time بھی قابلِ مطالعہ ہے جس کا ترجمہ شکستِ آرزو کراچی سے اسلامک ریسرچ اکیڈمی نے شائع کیا ہے۔
افسوس کا اظہار کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے بنگلہ دیش کے سیلاب کے موقعے پر وہاں کا دورہ کیا اور جنرل ارشاد کے دور میں تعاون کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ محترمہ خالدہ ضیا صاحبہ نے ۹۰ کے عشرے میں پاکستان کا دورہ کیا اور جنرل مشرف نے ۲۰۰۳ء میں بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور ایک بار پھر اس تاریک دور پر اپنے افسوس کا اظہار کیا۔
یہ تمام اقدام ۱۹۷۱ء کے واقعات کو دفن کرنے، عام معافی دینے، تعلقات کے ایک نئے باب کو شروع کرنے کے مختلف مراحل تھے۔ انسان سمجھنے سے قاصر ہے کہ یکایک اس پورے عمل کو اُلٹانے (reverse کرنے) کا کھیل بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت نے کیوں شروع کیا اور ہرحد کو پھلانگ کر سیاسی انتقام اور ملک میں شدید خلفشار کی کیفیت کیوں پیدا کی؟ اس سوال پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔ عام معافی کے بعد ۲۰۱۰ء میںنام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کا قیام اور چُن چُن کر جماعت اسلامی اور بی این پی کی قیادت کو نشانہ بنانا اور ان لوگوں کو نشانہ بنانا جن کا ۱۹۷۱ء کے خونیں اور شرم ناک واقعات میں کوئی ذاتی کردار نہیں تھا، صرف ظلم ہی نہیں، ایک بڑے سیاسی کھیل کا حصہ ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔
جسے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کہا جا رہا ہے، اس کا انٹرنیشنل معیار سے دُور کا بھی کوئی تعلق نہیں اور اس میں کسی بین الاقوامی شرکت سے دُور رکھنے کے لیے ہر دروازہ بند کردیا گیا ہے۔ اس ٹریبونل کا چیئرمین وہ جج تھا جو عوامی لیگ کا جیالا تھا اور جس نے اپنے خودساختہ وار کرائمز ٹرائل کا ڈھونگ اپنی جوانی میں رچایا تھا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک تازیانہ ہے کہ خود اس جج کو جو اس وقت کے ٹربیونل کا صدر تھا، مقدمے کے دوران ہی بے وقعت ہوکر استعفا دینا پڑا کیونکہ اکانومسٹ نے اس کے برسلز کے ایک وکیل اور عوامی لیگ کے ایک سرگرم کارکن کے ساتھ ۲۳۰ ای میل اور ۱۷گھنٹے کی ریکارڈ شدہ ٹیلی فون کی گفتگو کا راز فاش کیا جس میں ایک طرف ٹربیونل پر حکومت کے دبائو کا اور ٹربیونل اور پراسکیوشن کے درمیان خفیہ سازباز کے ناقابلِ انکار ثبوت تھے تو دوسری طرف برسلز کے اس جیالے کی طرف سے نہ صرف مقدمے کو چلانے کے بارے میں واضح ہدایات دی گئیں بلکہ مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے سے پہلے ہی مقدمے کے فیصلے کا ڈرافٹ بھی بھیج دیا گیا تھا۔ لندن اکانومسٹ نے اپنی ۸دسمبر ۲۰۱۲ء اور ۱۵دسمبر ۲۰۱۲ء کی اشاعتوں میں یہ سارا کچاچٹھا کھول کر بیان کردیا جس سے ایک تہلکہ مچ گیا اور پہلے انکار اور پھر اقرار کے بعد ٹربیونل کے چیئرمین محمدنظام الحق کو مستعفی ہونا پڑا۔ لیکن یہ بھی بنگلہ دیش کی عوامی لیگی حکومت اور اس کے طریق انصاف کا شاہکار ہے کہ ٹربیونل اسی طرح قائم رہا اور اسی ٹربیونل نے نئے ممبران کے ساتھ جن میں سے کسی ایک نے پورے مقدمے کی مکمل کارروائی سنی تک نہ تھی اور عالمی قانونی اداروں کے اس مطالبے کے باوجود، کہ ان حقائق کے سامنے آنے کے بعد حکومت کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ نیا ٹربیونل قائم کرے جو ازسرِنو مقدمے کی کارروائی کرے، جنوری، فروری اور مارچ ۲۰۱۳ء میں جماعت کے قائدین کو سزائیں سنائی گئیں۔ پھر عوامی لیگ کے جیالوں کے مطالبے پر قانون میں مؤثر بہ ماضی (retrospective) کارروائی کی ترمیم کرکے اس ٹربیونل کو یہ اختیار دے دیا جو پہلے سے دی ہوئی سزا میں اضافہ بھی کرسکتا ہے۔
اس ٹربیونل کو یہ ’اعزاز‘ بھی حاصل ہے کہ دنیا میں شاید یہ واحد ٹربیونل ہے جس کے تمام ججوں نے مقدمہ سنے بغیر فیصلے دیے ہیں۔ ٹربیونل کی تشکیل اور موجودہ ہیئت کو ساری دنیا کے قانون دانوں نے انصاف کے مسلّمہ اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں چند حقائق کا ریکارڈ پر لانا حالات کی سنگینی کے اِدراک کے لیے مددگار ہوگا۔ اکانومسٹ (۱۵دسمبر۲۰۱۲ء) Trying War Crimes in Bangladesh کے عنوان سے لکھتا ہے:
اسے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ ان معنوں میں انٹرنیشنل نہیں ہے کہ یہ کسی انٹرنیشنل قانون کے تحت قائم کیا گیا ہو..... جرائم کرنے والے نمایاں افراد سب کٹہرے میں نہیں کھڑے ہیں۔ ان میں سے کچھ مرچکے ہیں یا پاکستان میں رہ رہے ہیں..... آخری مرحلے پر محمد نظام الحق نے جو اس کے سربراہ جج تھے، ٹربیونل کے جج کی حیثیت سے اس وقت استعفا دے دیا جب اکانومسٹ نے ان سے سوالات کیے اور ان کی بنگلہ دیش میں پرائیویٹ ای میل کی اشاعت کی، جس سے ان کے کردار اور عدالتی کارروائی کے بارے میں شبہات پیدا ہوگئے.....یہ تشویش اتنی سنگین ہے کہ صرف اسی بات کا اندیشہ نہیں ہے کہ انصاف کا سقوط ہو جس سے انفرادی طور پر مدعا علیہ ہی متاثر نہ ہوں بلکہ ٹربیونل کے غلط طریق کار کی وجہ سے بنگلہ دیش جو نقصان اُٹھا چکا ہے، اس میں بھی اضافہ ہو۔ یہ ملک کے زخموں پر مرہم نہیں رکھیں گے بلکہ ان کو گہرا کردیں گے۔ جو شہادتیں ہم نے دیکھی ہیں، وہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ عدالتی کارروائی کے ازسرِنو مکمل جائزے کی اب ضرورت ہے۔ہمیں یقین ہے کہ اگر ایک ساتھ دیکھا جائے تو جو لوازمہ ہمیں دکھایا گیا ہے وہ جاری کارروائی (due process) کے بارے میں جائز سوالات اُٹھاتا ہے جن کی بنگلہ دیش کی حکومت کو اب مکمل تفتیش کرنی چاہیے۔ یہ تفتیش نظام الحق کے استعفے کے بعد اب ناگزیر ہوگئی ہے۔
مقدمے کی کارروائی کے دوران کوئی بے قاعدگی ایسی نہیں جس کا ارتکاب پوری ڈھٹائی سے نہ کیا گیا ہو۔ استغاثے کو ہرممکن سہولت دی گئی حتیٰ کہ عملاً شہادتیں تک پیش کرنے سے مستثنیٰ کردیا گیا اور صرف تحریری بیان کو کافی سمجھ لیا گیا تاکہ گواہوں پر جرح نہ کی جاسکے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جو بھی گواہ پیش کیا گیا، جرح میں وہ اپنے موقف پر قائم نہ رہ سکا اور سارا پول کھل گیا۔دفاع کے وکلا کو اپنے گواہ پیش کرنے سے روک دیا گیا اور ان مقدمات میں بھی جن میں درجن بھر الزام تھے، قید لگادی گئی کہ چھے سے زیادہ گواہ پیش نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ مولانا سعیدی کے مقدمے میں جس شخص کے قتل کا ان پر الزام تھا، خود اس کے بھائی نے (دونوں بھائی ہندو تھے) گواہی دی کہ مولانا سعیدی کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس کو کمرئہ عدالت کے باہر سے اغوا کرلیا گیا اور ملک کے اور عالمی میڈیا نے لکھا کہ سرکاری ایجنسی کے لوگ اسے اغوا کر کے لے گئے۔ اس کا بیان ٹی وی تک سے نشرہوچکا تھا۔
جیساکہ ہم نے اُوپر عرض کیا ہے، سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ٹربیونل کے ججوں میں سے کسی ایک نے بھی پورے مقدمے کو سنا ہی نہیں لیکن فیصلہ دینے میں ان کے ضمیر نے کوئی خلش محسوس نہیں کی۔ عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اسے اپنی ۱۳دسمبر کی رپورٹ میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے اور اس مطالبے کے ساتھ کیا ہے کہ سعیدی کے مقدمے کو ازسرِنو منعقد کیا جانا ضروری ہے۔ رپورٹ کا عنوان ہی یہ ہے:Bangladesh: Retrial Needed in Sayeed's Case
دلاور حسین سعیدی کے وار کرائمز ٹرائل میں تین رکنی پینل میں بار بار کی تبدیلیوںکا مطلب ہے کہ منصفانہ مقدمہ اب ممکن نہیں رہا ہے، اور ایک نیا مقدمہ ہونا چاہیے۔ ہیومن رائٹس واچ عرصے سے مطالبہ کر رہا ہے کہ ۱۹۷۱ء کی جدوجہد آزادی میں، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی ریاست قائم ہوئی جو لوگ مظالم کے مرتکب ہوئے ہیں، ان پر عالمی اصولوں کے مطابق بے لاگ مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔
۱۱دسمبر کو کرائمز ٹربیونل( ICT) کے چیئرمین جسٹس نظام الحق نے جو ۱۹۷۱ء میں کیے گئے فوجی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور دوسرے سنگین جرائم بھی جو پاکستان سے آزادی کی جنگ کے دوران ڈھائے گئے تھے، مقدمہ سن رہے تھے، اس وقت استعفا دے دیا جب اکانومسٹ نے ان کی ای میل، خط کتابت اور آڈیو ٹیپ شائع کردیے جن سے ایک جج کی حیثیت سے سعیدی کیس اور دوسرے معاملات میں ان کا جانب دارانہ رویہ سامنے آگیا۔اکانومسٹ نے مزید ای میل اور باہمی روابط دسمبر ۲۰۱۲ء کو شائع کیے جن میں اس کا کہنا تھا کہ جج، سرکاری وکلا اور انتظامیہ کے درمیان ملی بھگت ظاہر ہوتی تھی۔
سعیدی کیس میں تین رکنی پینل میں محمد نظام الحق واحد جج تھے، جب کہ مقدمے کے دوران دوسرے ممبر تبدیل ہوگئے جس کا مطلب یہ ہوا کہ پینل کے کسی جج نے بھی مکمل گواہیاں نہیں سنی تھیں۔ سعیدی کے مقدمے میں ۶دسمبر کو بحث مکمل ہوئی جس کا مطلب یہ ہوا کہ جسٹس محمد الحق کا جو متبادل آیا، جسٹس فضل کبیر، وہ ۱۲دسمبر کو مقرر کیا گیا، جو ایک ایسے مقدمے کے فیصلے میں شرکت کر رہے تھے جس میں انھوں نے سرکاری شہادتوں کا صرف ایک حصہ سنا ہے۔ یہ چیز انتہائی غیر ذمہ دارانہ، غیرپیشہ ورانہ ہوگی، جب کہ کسی مقدمے کا اس طرح فیصلہ لیا جائے جب کہ کسی بھی جج نے اہم گواہوں کو نہ سنا ہو، خاص طور پر ایک ایسے مقدمے میں جس میں ۴۲سال پہلے کی گواہی پیش ہورہی تھی اور پیچیدہ قانونی مسائل موجود تھے۔ یہ بات ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے ڈائرکٹر بریڈ ایڈم نے کہی۔ جب کورٹ کے صدر نے نامناسب باتوں کی وجہ سے استعفا دیا تو صرف ایک جج نے شہادت سنی تھی اور اب وہ جج بھی نہیں رہا۔ عدالت کے لیے اپنی ساکھ ثابت کرنے کے لیے ایک نیا مقدمہ ہی واحد راستہ ہے۔
سعیدی کیس میں مارچ ۲۰۱۰ء میں بننے والے پہلے پینل میں جسٹس محمد نظام الحق، جسٹس فضل کبیر اور جسٹس ذاکراحمد شامل تھے۔ جسٹس کبیر کو ۱۸دسمبر کو جسٹس حق کے استعفے کے بعد سعیدی پینل پر دوبارہ مقرر کردیا گیا۔ انھوں نے مارچ ۲۰۱۲ء میں سعیدی کیس چھوڑ دیا تھا، جب انھیں آئی سی ٹی کے دوسرے مقدمے کی صدارت کے لیے تبدیل کیا گیا تھا۔ ان کے متبادل جسٹس انوارالحق نے دفاع کی طرف سے اپنا مقدمہ شروع کرنے سے پہلے صرف ایک سرکاری تفتیشی افسر کو سنا۔ اگست کے آخر میں جسٹس احمد نے خرابی صحت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے غیرمتوقع طور پر استعفا دے دیا اور ان کے بجاے جسٹس جہانگیر آئے جنھوں نے صرف دفاع کے گواہوں کو سنا۔ ہیومن رائٹ واچ نے تشویش ظاہر کی ہے کہ وزیرقانون شفیق احمد اور سرکاری وکیل دونوں نے کہا کہ جسٹس نظام الحق کے استعفے سے سعیدی کے مقدمے کی کارروائی پر کوئی اثر نہ پڑے گا۔ ٹیپ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذاکر احمد نے آئی سی ٹی کے عدلیہ میں مداخلت کی۔
ایڈیمز نے کہا کہ پوری دنیا میں عدالتیں زبانی گواہیاں کیوں سنتی ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خود یہ فیصلہ کرنے کے قابل ہوسکیں کہ ان کے سامنے جو گواہی پیش کی گئی ہے براہِ راست سوالات اور گواہوں کو چیلنج کرنے سے اسے کتنا وزن دیں۔ سعیدی کیس میں تین ججوں میں سے ایک بھی مکمل گواہی پیش کرنے کے دوران حاضر نہ رہا تھا۔ (لیکن اس کے علی الرغم وہ) ایک فیصلہ دے گا جو ملزم کو پھانسی کے تختے تک لے جاسکتا ہے۔ سعیدی ملزم ثابت ہویا نہ ہو، اس کا تعین صرف اس بات سے ہوسکتا ہے کہ ایک فیئر ٹرائل ان ججوں کے ذریعے ہو جو تمام شہادتوں کو سنیں۔
بنگلہ دیش کے موجودہ ٹربیونل اور اس کی جانب داری اور مایوس کن کارکردگی کا اعتراف دنیا کے گوشے گوشے میں ہورہا ہے اور ملک میں اور ملک سے باہر مقتدر ادارے اور ماہرین قانون اسے انصاف کا خون قرار دے رہے ہیں۔ انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن نے اس کے قیام کے وقت ہی سے flawed یعنی قانونی اعتبار سے ناقص قرار دے دیا تھا۔ پھر ’امریکن سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا‘ نے ۲۱جون ۲۰۱۱ء کی رپورٹ میں ٹربیونل کے بارے میں شدید اعتراضات کا اظہارکیا۔ خود ڈھاکہ میں سونارگائوں کے ہوٹل میں ۱۳؍اکتوبر ۲۰۱۰ء کو منعقد ہونے والی بین الاقوامی وکلا کانفرنس نے اس مقدمے اور ٹربیونل کو انصاف کے اصولوں کے منافی قرار دیا اور اس کے قانون میں ۱۷ بڑی بڑی خامیوں کی نشان دہی کی۔ بنگلہ دیش کے ایک سابق چیف پبلک پراسکیوشن خندکر محبوب حسین نے جو اس وقت وہاں کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہیں، ان مقدمات کی نیک نیتی (bonafides) کو چیلنج کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت اگر حق پر ہے تو اسے ان مقدمات میں اقوام متحدہ کو شریک کرنا چاہیے اور جس طرح اقوام متحدہ نے بوسنیا اور روانڈا کے جنگی جرائم کے مقدمات کو عالمی کریمنل کورٹ کے ذریعے منعقد کیا ہے، اسی طرح ان کو بھی کیا جانا چاہیے۔ ایک سابق سعودی سفارت کار نے، جو بنگلہ دیش میں خدمات انجام دے چکے ہیں، وہاں کے حالات سے واقف ہیں اور آج کل امریکا میں کیلی فورنیا اسٹیٹ یونی ورسٹی میں پروفیسر ہیں، انھوں نے تمام حالات کا تجزیہ کرکے لکھا ہے کہ:
سعیدی کے پھانسی کے فیصلے نے حتمی طور پر ثابت کردیا ہے کہ کسی شبہے کے بغیر آئی سی ٹی کینگرو کورٹ سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ انصاف کی مکمل نفی کرتی ہے۔ بنگلہ دیش کے آئی سی ٹی کے بارے میں انصاف کے نقطۂ نظر سے ہمارا جائزہ سچائی اور معقول وجوہات کی بنا پر ہے نہ کہ جذبات اور سیاست کی بنا پر۔ (’خوف ناک انصاف‘ از پروفیسر محمد ایول، سعودی گزٹ، ۷مارچ ۲۰۱۳ء)
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی متعدد رپورٹوں میں بنگلہ دیش میں انصاف کے اس قتل پر اپنے احتجاج کا اظہار کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایک درجن سے زیادہ رپورٹیں اس بارے میں آچکی ہیں۔ International Centre for Transitional Justice نے بھی اپنی رپورٹ (۱۵مارچ۲۰۱۱ء) میں اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے ایک ورکنگ گزٹ نے ۶فروری ۲۰۱۱ء کو اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ امریکی سفیر براے Transitional Justice جس کا اصل موضوع ہی جنگی جرائم ہیں، نے اپنی رپورٹ (۶فروری ۲۰۱۲ء)میں ٹربیونل کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کیا۔برطانیہ کے مشہور ماہرقانون لارڈ ایوبری، یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا کے قانون کے پروفیسر لارل فلچر اور انگلستان بین الاقوامی کریمنل لا کے ماہر اسٹیون کِے، اور دسیوں یورپی ماہرین قانون نے اس پورے عدالتی عمل کو غیرتسلی بخش اور انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیا ہے۔ تازہ ترین بیان میں خود اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے رپورٹر جبریل اور اقوام متحدہ ہی کے ایک اسپیشل رپورٹر چسٹاف ہینز نے اپنے شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔ گیبربل کا کہنا ہے:
مجھے ان سوالوں پر تشویش ہے جو ’’ججوں کی غیر جانب داری اور ٹربیونل کی سروسز اور انتظامیہ کی آزادی کے بارے میں اُٹھائے گئے ہیں۔نیز ڈیفنس کے وکلا اور گواہوں کے ماحول کے سلسلے میں سامنے آئے ہیں‘‘۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’’ٹربیونل منصفانہ مقدمہ اور ڈیوپراسس کے بنیادی تقاضوں کا احترام کرے‘‘۔
اس سلسلے میں عالمی اضطراب کا تازہ ترین اظہار برطانوی پارلیمنٹ میں نجی پارلیمنٹ کی قرارداد میں اور اس سے بھی زیادہ یورپین پارلیمنٹ میں ۲۶ممبران پارلیمنٹ کی ایک قرارداد میں صاف الفاظ میں کیا گیا ہے:
آئی سی ٹی کے عمل میں بیان کی گئی بے قاعدگیاں، مثلاً مبینہ حراساں کرنا، اور گواہوں کو زبردستی اُٹھانا، اس کے ساتھ ہی ججوں، سرکاری وکیلوں اور حکومت کے درمیان غیرقانونی تعاون کے ثبوت، بزور کہتی ہے کہ خاص طور پر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں گواہوں کے مؤثر تحفظ کے لیے اقدامات بڑھائیں۔ پارلیمنٹ حکومت ِ بنگلہ دیش سے مطالبہ کرتی ہے کہ آئی سی ٹی سختی کے ساتھ قومی اور بین الاقوامی عدالتی معیارات کی پابندی کرے ۔ اس حوالے سے وہ آزاد، منصفانہ اور شفاف مقدمے پر زور ڈالتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انصاف کا اہتمام ہو۔ یہ پارلیمنٹ مطالبہ کرتی ہے کہ قانون کے دفاع کے لیے اپنی کوششوں کو دگنا کردے۔ یاد دلاتی ہے کہ ’’انسانی حقوق کے بارے میں بین الاقوامی وعدوں کو پورا کرے گی‘‘۔
ہم نے عالمی ردعمل کی صرف چند جھلکیاں قارئین کی نذر کی ہیں۔ جو حقائق ہم نے پیش کیے ہیں، ان سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ بنگلہ دیش میں اس وقت جو ظلم ڈھایا جا رہا ہے، وہ انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے خلاف مؤثر احتجاج نہ کرنا اس جرم میں ایک طرح کی شرکت کے مترادف ہے۔
ہم صاف الفاظ میں کہنا چاہتے ہیںکہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی ہر الزام کا مردانہ وار مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔ اس نے اس ٹربیونل کی ساری خامیوں، ناانصافیوں اور زیادتیوں کے باوجود قانونی لڑائی کا راستہ اختیار کیا اور وہ ہرسطح پر صاف شفاف مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، اس لیے کہ اس کا دامن بے داغ ہے، لیکن اس وقت جو ظلم کیا جا رہا ہے اس کی وجہ سیاسی انتقام ہے۔ عوامی لیگ کی قیادت اسلامی اور جمہوری قوتوں کے اتحاد سے خائف ہے ، اور ان کو ان ناپاک ہتھکنڈوں سے میدان سے ہٹانا چاہتی ہے۔ وہ سیکولر لبرل قوتوں اور بھارت کے ایجنڈے پر عمل کررہی ہے۔ اس ٹرائل کے دوران میں بھارت کے وزیرخارجہ نے خاص طور پر بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور ان مقدمات میں دل چسپی کا اظہار کیا۔سزاے موت کے فیصلے کے اعلان کے بعد بھارت کے صدر صاحب بنفسِ نفیس بنگلہ دیش تشریف لائے اور حکومت کو اشیرباد دی۔ وہ مغربی حکومتیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے اِکا دکا واقعات پر آسمان سر پر اُٹھا لیتی ہیں، اس صریح ظلم پر خاموش ہیں یا صرف دبے لفظوں میں اور ’اگرمگر‘ کے ساتھ چند جملے کہہ رہی ہیں، اور سب سے زیادہ افسوس ناک رویہ پاکستان کی حکومت اور اس کے بااختیار حلقوں کا ہے جو سفارتی میدان میں بھی کوئی سرگرمی نہیں دکھا رہے۔ ہم کسی سے رحم کی اپیل نہیں کرتے۔ ہم صرف بنگلہ دیش کے مسلمانوں، خصوصیت سے جماعت اسلامی اور بی این پی کی قیادت کے اس حق کی بات کرتے ہیں کہ وہ انصاف اور صرف انصاف چاہتے ہیں اور انتخابی عمل کے ذریعے موجودہ حکمرانوں کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی جماعت اور وہاں کے عوام نے احتجاج کا راستہ اس لیے اختیار کیا ہے کہ حکومت اور عدالت نے انصاف کا دروازہ بند کردیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ فتح ان شاء اللہ حق ہی کی ہوگی اور یہ آزمایش اسلامی قوتوں کو بالآخر مزید قوت سے اُبھرنے کا موقع دے گی جس طرح دوسرے ممالک میں نظر آرہا ہے۔ مصر میں اخوان المسلمون پر کون سے مظالم ہیں جو ۶۰برس تک نہیں ڈھائے گئے مگر ظلم کی قوتیں حق کی آواز کو دبانے میں ناکام رہیں اور آوازئہ حق بلند ہوکر رہا۔ ان شاء اللہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی تو اس امتحان میں ضرور کامیاب ہوگی لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اہلِ پاکستان اور دوسرے وہ تمام عناصر جو انسانی حقوق اور انصاف کی بالادستی چاہتے ہیں وہ اس امتحان میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں؟ یا پھر ان کا شمار تاریخ میں مجرموں کے ساتھ ہوگا؟
کتابچہ دستیاب ہے، ۱۳ روپے، سیکڑے پر خاص رعایت، منشورات، منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲
بات بہت واضح ہے۔ تاریخ کا لمحہ لمحہ گواہ ہے کہ مسئلہ آزادی، ایمان اور عزت کی حفاظت کا ہو یا ظلم و استبداد کے نظام سے نجات اور اعلیٰ مقاصد حیات کے حصول کا___ یہ بازی صرف ایک ہی طریقے سے سر کی جاسکتی ہے اور وہ عبارت ہے مسلسل اور پیہم جدوجہد، ایثار اور قربانی سے۔ اس حیات آفریں عمل ہی کو شریعت نے جہاد کا نام دیا ہے اور اس کے مقاصد و اہداف، اصول و آداب اور قواعد و ضوابط کار کا بھی پوری وضاحت سے تعین کردیا ہے۔ یہ جدوجہد نیت اور سمت کی درستی کے ساتھ وقت، جان اور مال، غرض ہر چیز کی قربانی کا تقاضا کرتی ہے اور اگر اس جدوجہد میں نوبت جان کو جانِ آفریں کے سپرد کرنے کی آجائے تو اسے کامیابی کی معراج قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح جان دینے والے کی موت کو عرفِ عام کی موت سے یہ کہہ کر ممیز کردیا گیا ہے کہ یہی اصل حیات ہے:
ایک اور پہلو اس مقام کو حاصل کرنے والوں کی زندگی کا یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے روشن مثال قائم کرتے ہیں، انسان کو موت کے خوف سے بے نیاز کرتے ہیں، زندگی کو ان مقاصد کے لیے قربان کرنے کا داعیہ پیدا کرتے ہیں جو محض ایک فرد نہیں بلکہ پوری اُمت اور تمام انسانوں کو زندگی کے اس مفہوم سے آشنا کرتے ہیں جس سے زندگی زندہ رہنے کے لائق بنتی ہے (what makes life worth living)۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا اظہار اس طرح کیا گیا ہے کہ ع
شہید کی جو موت ہے ، وہ قوم کی حیات ہے
آج ایک خاص طبقہ کچھ مخصوص بلکہ مذموم مقاصد کے لیے ’جہاد‘ اور ’شہادت‘ کو ناپسندیدہ الفاظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن چاند پر تھوکنے سے چاند کی روشنی اور پُرکیف ٹھنڈک میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ ہر دور میں شہادت کا ہر واقعہ ایمان کی تازگی اور حق اور صداقت کی جدوجہد کرنے والوں کے لیے مہمیز دینے کا ذریعہ رہا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کے نتیجے میں بالآخر ظلم و استبداد کا ہرنظام سرنگوں ہوتا ہے اور آزادی، عزت، غلبۂ حق اور عدل و انصاف کی صبح طلوع ہوتی ہے۔ تاریخ کے در ودیوار سے یہ گونج مسلسل سنائی دیتی ہے کہ ؎
یہ خون جو ہے مظلوموں کا، ضائع تو نہ جائے گا لیکن
کتنے وہ مبارک قطرے ہیں، جو صرف بہاراں ہوتے ہیں
بھارتی غلبے اور استبداد کے خلاف جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی جدوجہد ہمارے دور کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اس جدوجہد میں جو سعید روحیں جان کا نذرانہ پیش کرتی ہیں، وہ دراصل اُمید کا ایک چراغ روشن کرتی ہیں۔ بھارتی ظلم و استبداد کا نشانہ بننے والی ہر روح تاریکیوں کو چیلنج کرنے والے ایک چراغ کی مانند ہے۔ اس سلسلے کی تازہ ترین مثال ۹فروری ۲۰۱۳ء کو دہلی کی تہاڑ جیل میں ایک بے گناہ مجاہد محمد افضل گورو کو تختۂ دار پر چڑھانے کے ظالمانہ اقدام کی شکل میں دیکھی جاسکتی ہے جس نے بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور اس کے عدالتی نظام کا اصل چہرہ ہی بے نقاب نہیں کیا، بلکہ عالمی قیادت کے اس مدعی ملک کی ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال بھی پوری دنیا کے سامنے پیش کردی ہے۔ یہ اس کے سیاسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت اور اس کی کشمیر پالیسی کی ناکامی کی علامت ہے۔
اس امر میں ذرا بھی شبہہ نہیں کہ یہ اقدام ایک مکروہ سیاسی چال ہے اور تحریکِ آزادیِ کشمیر کو نہ صرف یہ کہ اس سے ان شاء اللہ کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں اس جدوجہد کو نئی جِلا ملے گی اور نئی قوت میسر آئے گی۔ ذرا تصور کیجیے کہ ایک مظلوم انسان جسے ایک سازش کے تحت دہشت گردی کے ایک واقعے میں ملوث کیا گیا، اسے تین بار عمرقید اور دو بار پھانسی کی سزا دی گئی، جس کی (افسوس ہے کہ ) ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے کھلے بندوں، قانون اور عدل کی بنیاد پر نہیں، علانیہ طور پر سیاسی وجوہ سے توثیق بھی فرما دی۔ وہ ۱۳سال سے قید تنہائی میں تھا اور سات سال سے پھانسی کے تختے کا انتظارکررہا تھا۔ اسے اور اس کی اہلیہ کو قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اطلاع دیے بغیر اور آخری وقت میں بیوی اور بچے سے بھی ملنے سے محروم رکھ کر تختۂ دار پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں کرفیو لگا دیا جاتا ہے اور اخبارات، میڈیا، اور سیل فون تک کو خاموش کردیا جاتا ہے، اس کے باوجود مظلوم مجاہد کی جبیں پر کوئی شکن نہیں آتی۔ وہ فجر کی نماز پڑھ کر پورے اعتماد کے ساتھ تختۂ دار کی طرف شانِ استغنا کے ساتھ بڑھ جاتا ہے۔ اپنے خاندان اور تمام مسلمانوں کو پیغام دیتا ہے کہ ’’اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے اس مقام کے لیے چنا۔ باقی میری طرف سے آپ اہلِ ایمان کو مبارک ہو کہ ہم سب سچائی اور حق کے ساتھ رہے اور حق و سچائی کی خاطر آخرت میں ہمارا اختتام ہو۔ اہلِ خانہ کو میری طرف سے گزارش ہے کہ میرے مرنے پر افسوس کے بجاے اس مقام کا احترام کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو، اللہ حافظ!‘‘۔
یہ الفاظ کسی مجرم یا باطل سے دب جانے والے انسان کے نہیں ہوسکتے۔ یہ خطاب صرف اہلِ خانہ سے نہیں، تمام اہلِ ایمان سے ہے جو دلوں میں نیا ولولہ پیدا کریں گے اور اس جدوجہد کو نئی زندگی دیں گے۔ اس کا ایک ہلکا سا نظارہ ان واقعات میں بھی دیکھا جاسکتا ہے جو اس شہادت کے بعد رُونما ہوئے۔ ایک طرف خائف سوپر پاور ہے اور دوسری طرف بے سروسامان عوام___ لیکن وہ ہررکاوٹ کے باوجود احتجاج کر رہے ہیں۔ کرفیو ان کا راستہ نہیں روک سکتا اور گولی اور لاٹھی کی بوچھاڑ انھیں گھروں میں قید نہیں رکھ سکتی۔ بوڑھا سید علی شاہ گیلانی زیرحراست ہے لیکن اس کی آواز پر کشمیر کے مظلوم شہری ظالموں کے خلاف کمربستہ ہیں۔ دہلی تک میں مظاہرے ہوتے ہیں جن کی قیادت دہلی کالج کا وہی پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن گیلانی کر رہا ہے جس پر اس مقدمے میں شریکِ جرم ہونے کا الزام تھا، اسے بھی افضل گورو کے ساتھ سزاے موت ملی تھی جو بعد میں سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دی اور اسے بے گناہ قرار دیا۔ وہ نہ صر ف ا س احتجاج کی قیادت کر رہا ہے بلکہ برملا شہادت دے رہا ہے کہ محمد افضل گورو بے گناہ تھا اور اسے صرف اس لیے پھانسی کے تختے پر چڑھایا گیا ہے کہ وہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کا ایک مجاہد تھا اور اسے اس کے سیاسی خیالات کی وجہ سے موت کے گھاٹ اُتارا گیا ہے۔ مظاہرے میں شریک ہر نوجوان یہ عہد کر رہا ہے کہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کو جاری رکھے گا۔ بلاشبہہ افضل گورو کی شہادت سے اس تحریک کو ان شاء اللہ نیا ولولہ ملے گا۔
جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے، ۹فروری کی شہادت کی خبر سارے کرفیو اور تمام پابندیوں کے باوجود جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔ کرفیو کے علی الرغم عوامی احتجاج ہرسُو رُونما ہوا اور قربانیوں اور شہادتوں کی نئی تاریخ رقم ہونے لگی۔ ہڑتالوں کا سلسلہ ان سطور کے لکھنے تک جاری ہے اور کشمیر ہی نہیں، دنیا بھر میں کشمیری نوجوان، وہ بھی جو پہلے اس جدوجہد میں شریک نہیں تھے، اب نئے جذبے کے ساتھ مزاحمت کی تحریک میں شرکت کے لیے بے تاب ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی نامہ نگار برمنگھم یونی ورسٹی کی ایم فل کی ایک طالبہ عارفہ غنی کے اس عزم کا اظہار کچھ ان الفاظ میں کرتی ہے:
جب مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی تو میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ جب میں نے اس کے بارے میں کچھ پڑھا تو پھر وہ ہمارا ہیرو ہوگیا۔ گورو کی پھانسی کے بعد میں جس طرح محسوس کررہی ہوں اس طرح کبھی بھی محسوس نہیں کیا۔ مگر ہم اپنے بڑوں کی طرح ہتھیار نہیں اُٹھائیں گے۔ ہم زیادہ ذہانت سے ردعمل دیں گے۔
(نیویارک ٹائمز کے نمایندے کی رپورٹ جو دی نیشن کی ۱۸فروری ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں شائع کی گئی ہے)۔
یہ کیسی جمہوریت ہے اور یہ کیسی اُبھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے جو مجاہدین کی لاشوں سے بھی خائف ہے اور جس نے نہ مقبول بٹ شہید کی لاش اس کے لواحقین کو دی اور نہ اب افضل گورو کی لاش دینے کے لیے تیار ہے؟ لندن کے اخبار دی گارڈین کے کالم نگار نے کس طنز سے لکھا ہے کہ:
یہ بات ضرور پوچھی جانی چاہیے کہ بھارتی ریاست کیا کہنے کی کوشش کر رہی تھی؟ یقینا اس کی وضاحت سادگی سے اس طرح نہیں کی جاسکتی تھی جیساکہ بعض تجزیہ نگاروں نے کی ہے کہ یہ محض انتخابی سیاست کی مجبوریوں کا ایک مکروہ اظہار ہے۔ بلاشبہہ یہ وہ عمل ہے جس میں بھارت کی سیاسی پارٹیاں اپنے حریفوں سے آگے بڑھنے کے لیے نئی اخلاقی پستیوں میں ڈوبنے کے لیے بے چین ہیں لیکن یہ اقدام دراصل کشمیری عوام کے لیے ایک پیغام ہے کہ ایک قابض طاقت بے اختیار عوام کو پوری گھن گرج کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ تمھیں لازماً تعظیماً جھکنا پڑے گا۔ اس مقدمے کے اثرات پھانسی کے تختے سے بہت آگے بھی جاسکتے ہیں۔ اس کا تاریک سایہ ان کے بچوں کے لیے دودھ اور بزرگوں کے لیے دوائوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔دو لمحات تاریخ کا حصہ بنتے نظر آرہے ہیں۔ کشمیری، بھارت کی مزاحمت کی یاد میں گہری قبر کھود کر مقبرہ تعمیر کر رہے ہیں، اور بھارت بزدلانہ اعتراف کر رہا ہے کہ ایک کشمیری لاش بھی باغی ہوسکتی ہے، لہٰذا اسے جیل ہی میں ہمیشہ کے لیے مقید رہنا چاہیے۔
بھارتی قیادت کے عزائم اور اہلِ کشمیر کے لیے اس کا پیغام تو بہت واضح ہے۔ شہیدوں کی لاشوں تک سے ان کا خوف بھی الم نشرح ہے لیکن دی گارڈین کے مضمون نگار کا یہ خیال کہ جو قبریں سری نگر کے شہدا کے تاریخی قبرستان میں ان دو شہدا کے لیے بنائی گئی ہیں، وہ اپنے مکینوں کا انتظار کر رہی ہیں اور بس یادوں اور مزاحمتوں کا مقبرہ ہوں گی، شدید غلط فہمی پر مبنی ہیں۔ یہ قبریں تحریکِ مزاحمت کی علامت اور آزادی کی ناتمام جدوجہد کا عنوان ہیں۔ یہ آزادی کے کارواں اور اس راہ میں مزید قربانیوں کے لیے ایک تکبیرمسلسل کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس آرزو اور عزم کا اظہار بھی ہیں کہ ایک دن ان شاء اللہ جموں و کشمیر کے مسلمان بھارت کے قبضے اور استبدادی نظام سے نجات پائیں گے، اپنی آزاد مرضی سے اپنا مستقبل طے کریں گے اور پھر شہدا کی وہ لاشیں، جن سے آج وہ محروم کر دیے گئے ہیں، وہ انھیں حاصل کرسکیں گے اور وہ وقت دُور نہیں جب یہ خالی قبریں اپنے اصل مکینوں کو خوش آمدید کہہ سکیں گی۔
بلاشبہہ محمد افضل گورو کی شہادت کا واقعہ اس جدوجہد میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس پہلو کے ساتھ یہ واقعہ کئی اور حیثیتوں سے بھی بڑے غوروفکر کا مواد فراہم کر رہا ہے۔ ہم ان میں سے چند پہلوئوں پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں تاکہ حالات کو ان کے صحیح تناظر میں دیکھا جاسکے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے صحیح پالیسیاں اور مناسب حکمت عملیاں تیار کی جاسکیں۔
بھارت نے پہلے دن سے کشمیر کو صرف قوت کے ذریعے اور بدترین سامراجی حربوں کے بے محابا استعمال کے بل بوتے پر اپنی گرفت میں رکھا ہوا ہے اور وہ ظلم و استبداد کے مکروہ سے مکروہ تر اقدام کا ارتکاب کررہا ہے۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۱ء کی جنگ بندی تک اپنے قدم جمانے اور جنگِ آزادی کو کچلنے کے لیے بھارتی اور ڈوگرہ افواج نے چار لاکھ افراد کا خون بہایا اور ۱۹۸۹ء سے رُونما ہونے والے تحریکِ آزادی کے دوسرے دور میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو شہید کیا جاچکا ہے۔ لاکھوں زخمی ہوئے ہیں، ہزاروں لاپتا ہیں، ہزاروں جیلوں میں سڑرہے ہیں اور خاص و عام آبادی کے انسانی حقوق کو پوری بے دردی کے ساتھ پامال کیا جا رہا ہے۔ پاک باز خواتین کی آبروریزی بڑے پیمانے پر کی جارہی ہے اور جنسی زیادتی کو ایک جنگی حربے (military strategy) کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر میں ۷لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجی ظلم کی یہ داستان رقم کررہے ہیں اور ان کو ایک مہذب معاشرے کے ہر قانون سے، حتیٰ کہ جنگی قانون تک سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔ Armed Forces Special Powers Act ایک ایسا جنگل کا قانون ہے جس نے بھارتی فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کو دستور، قانون، جنگی قواعد و ضوابط اور سماجی روایات، ہرضابطے اور قاعدے سے آزاد کردیا ہے۔
جموں و کشمیر میں جو خونی کھیل کھیلا جارہا ہے اسے تمام دنیا کے میڈیا اور عالمی مبصرین کے لیے ’نوگو ایریا‘ بنادیا گیا ہے تاکہ دنیا اس سے بے خبر رہے جو کچھ مجبوروں کی اس بستی میں کیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں محمدافضل گورو کی گرفتاری کا مقدمہ، اس کی قیدتنہائی، اس پر تعذیب کی دل خراش داستان، اس کی سزا، اس کی رحم کی درخواستوں پر کیا جانے والا معاملہ، اس کی پھانسی، پھانسی کی اطلاع سے خود اس کو اور اس کے اہلِ خانہ تک کو بے خبر رکھنا، اس کی میت سے بھی اس کے خاندان کو محروم رکھنا، اس کی پھانسی کی خبر تک کا گلا گھونٹنے کی کوشش___ یہ سب کشمیر کی حقیقی صورت حال کا ایک آئینہ ہے جس میں بھارت کے سیاسی اور عدالتی نظام کا اصل چہرہ بھی دیکھا جاسکتا ہے اور جسے اب دنیا سے چھپانے کی کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ بھارت کے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تمام دعووں کی قلعی صرف اس ایک واقعے کے ذریعے کھل جاتی ہے۔ کس طرح ہرسطح پر اور ہرہرقدم پر دستور، قانون، سیاسی آداب اور مسلّمہ اخلاقی اصول و ضوابط کو پامال کیا جاتا ہے اور کس ڈھٹائی سے انصاف کا خون کرکے ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کی گئی ہے۔ اس کیس کے حقائق کو ان کی اصل ترتیب میں دیکھنے سے بھارت کی سیاست اور عدل و انصاف کی زبوں حالی کی مکمل تصویر سامنے آجاتی ہے۔
یہ ستم ظریفی بھی قابلِ غور ہے کہ جس اصل نام نہاد ماسٹر مائنڈ، یعنی پروفیسر عبدالرحمن گیلانی کو محمد افضل تک رسائی کا ذریعہ ظاہر کیا گیا تھا، وہ تو اعلیٰ عدالت کے حکم سے بے گناہ ثابت ہوئے اور جو ان کے لیے بھی ایک بالواسطہ ذریعہ قرار دیا گیا تھا وہ اصل مجرم بن گیا اور سولی پر چڑھا دیا گیا۔
۱- اس کیس میں محمد افضل گورو کے ملوث ہونے کا کوئی واقعاتی یا شہادت پر مبنی ثبوت موجود نہیں۔
۲- کسی دہشت گرد تنظیم سے کسی سطح پر بھی محمد افضل گورو کا کوئی باقاعدہ تعلق ثابت نہیں۔
۳- جو بالواسطہ موادپولیس/تفتیشی عملے نے دیا ہے اس میں شفافیت نہیں بلکہ وہ تہ در تہ تضادات سے بھرا پڑا ہے، مثلاً پروفیسر عبدالرحمن گیلانی کے بارے میں کہا گیا کہ ان کے ذریعے محمدافضل گورو کا نام ملا، مگر محمد افضل گورو کو عبدالرحمن گیلانی کی گرفتاری سے پہلے ہی سری نگر میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ جس لیپ ٹاپ کا ذکر ہے وہ محفوظ (protected) نہیں تھا اور ایسی شہادت جو محفوظ نہ ہو قابلِ قبول نہیں ہوتی۔ نیز جو معلومات اس پر تھیں وہ خود یہ ظاہر کرتی تھیں کہ کمپیوٹر سے بہت سی معلومات نکال دی گئی ہیں اور جو معلومات باقی ہیں، ان میں ہیرپھیر کردیا گیا ہے۔ سیل فون کے بارے میں سم کے حاصل کرنے کی جو تاریخ دی گئی ہے، وہ بے معنی ہے اس لیے کہ وہ سم اس تاریخ سے کم از کم تین ہفتے پہلے سے کسی کے زیراستعمال تھی اور بدیہی طور پر محمد افضل گورو نہیں تھا۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں، ورنہ کیس میں کسی سطح پر بھی کوئی جان نہیں تھی۔
ان تمام حقائق کو تسلیم کرنے کے بعد عدالت عالیہ نے جس بنیاد پر موت کی سزا کی توثیق کی ہے وہ عدل کی تاریخ میں ایک عجوبہ اور بھارت کے عدالتی نظام کے چہرے پر کلنک کا ٹیکا ہے۔ سپریم کورٹ ہی کے الفاظ میں عدل کے قتل اور قانونی دہشت گردی پر مبنی اس فیصلے کو ملاحظہ فرمائیں:
افضل گورو ان دہشت گردوں میں سے نہیں تھا جنھوں نے ۱۳دسمبر۲۰۰۱ء کو پارلیمنٹ ہائوس پر حملہ کیا۔ وہ ان لوگوں میں سے بھی نہ تھا جنھوں نے سیکورٹی اہل کاروں پر گولی چلائی اور چھے میں سے تین کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔جیساکہ بیش تر سازشوں کے ساتھ ہوتا ہے، یہاں بھی کوئی ایسی براہِ راست شہادت نہ ملی ہے اور نہ مل سکتی ہے جسے مجرمانہ سازش قرار دیا جاسکے۔اس واقعے نے جس میں ایک تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے پوری قوم کو ہلا دیا ہے اور معاشرے کا اجتماعی ضمیر اسی صورت میں مطمئن ہوسکتا ہے کہ مجرم کو سزاے موت دی جائے۔
یعنی ایک شخص کو صرف اس لیے سولی پر چڑھا دو تاکہ اس سے جس شے کو سوسائٹی کا ’اجتماعی ضمیر ‘کہا جا رہا ہے اس کی تسکین ہوسکے۔ عدل و انصاف کے قتل کی اس سے زیادہ قبیح اور اندوہناک صورت کیا ہوسکتی ہے؟
پھر یہی نہیں، قانونی اور دستوری نقطۂ نظر سے دستور اور قانون کے مسلّمہ اصولوں اور خود بھارت کی عدالت ِ عالیہ کے ایک درجن سے زیادہ فیصلوں کی بھی اس مقدمے اور سزا میں کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
۹فروری کو افضل گورو کی پھانسی بھارتی حکومت کا ایک غیرانسانی فعل تھا۔ افضل گورو کو ۴؍اگست ۲۰۰۵ء کو سپریم کورٹ کی طرف سے سزاے موت کے فیصلے کے سات سال بعد اور صدرِ بھارت کو ۸نومبر ۲۰۰۶ء کو دی گئی رحم کی اپیل کے چھے سے زیادہ سال بعد پھانسی دی گئی۔ اس عرصے میں اُس نے اور اس کے اہلِ خانہ نے اس کی قسمت کے بارے میں ہردن تکلیف و پریشانی میں گزارا۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس کی تمام مہذب ممالک اور ہماری سپریم کورٹ بھی مذمت کرتی ہے۔ صدرِ بھارت کی طرف سے اس کی رحم کی درخواست کو چھے سال کے بعد ۳فروری ۲۰۱۳ء کو مسترد کیا گیا ہے جسے ارادتاً خفیہ رکھا گیا اور اس کے اہلِ خانہ کو بھی اطلاع نہیں دی گئی کہ کہیں یہ عدالتی درخواست کی بنیاد نہ بن جائے۔ ۹فروری ۲۰۱۳ء کو اس کے اہلِ خانہ کو بتائے بغیر خفیہ طور پر اسے پھانسی دی گئی اور اتنی ہی خفیہ طور پر تہاڑجیل نئی دہلی میں ایک قبر میں اسے دفن کردیا گیا۔
۱۹۸۳ء میں شیرسنگھ بمقابلہ ریاست پنجاب کے مقدمے میں عدالت نے انھی باتوں کو دہرایا جو ایک اور مقدمہ تری وینی بن بمقابلہ ریاست گجرات میں وسیع تر دستوری بنچ نے طے کرنا چاہا، اور سپریم کورٹ نے دوبارہ انھیں دہرایا کہ پھانسی دینے میں تاخیر غیرمنصفانہ اور غیرمعقول ہوگی۔ عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ رحم کی اپیلوں کے فیصلوں میں پوری دنیا میں یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ متعلقہ شخص ایک ذہنی ٹارچر میں مبتلا رہتا ہے بلالحاظ اس کے کہ اس کے ساتھ کوئی جسمانی بدسلوکی نہیں کی جاتی۔ اس لیے رحم کی اپیل کے استرداد کی اطلاع دینا لازمی تھا۔ جگدیش بمقابلہ ریاست مدھیہ پردیش مقدمہ ۲۰۱۲ء سپریم کورٹ نے نہ صرف ملزم کی اس اذیت کو نمایاں کیا جو اسے سزا ملنے میں تاخیر سے ہوتی ہے بلکہ اس تکلیف اور اذیت کو بھی جو اس کے قریبی رشتے داروں کو ہوتی ہے۔ ۱۹۹۴ء میں پرائیوی کونسل نے بھارتی سپریم کورٹ کی راے کو درست قراردیا اور اپنے فیصلے کے ایک پُرتاثیر حصے میں لکھا کہ پھانسی پانے کے احکامات کے خلاف ایک جبلی کراہت ہوتی ہے۔ یہ جبلی کراہت کس وجہ سے ہوتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ ہم اس کو غیرانسانی فعل قرار دیتے ہیں کہ ایک آدمی کو پھانسی کی اذیت میں طویل عرصے تک رکھا جائے۔ کئی برس تک اپنی تحویل میں رکھنے کے بعد ان لوگوں کو پھانسی دینا ایک غیرانسانی سزا ہوگی۔ یورپی یونین کی انسانی حقوق کی عدالت نے ۱۹۸۹ء میں اور کینیڈا کی سپریم کورٹ نے بھی یہی موقف اختیار کیا۔ افضل گورو کو پھانسی دینے میں حکومت نے جان بوجھ کر سپریم کورٹ کے موقف کو نظرانداز کیا اور دوسری عدالتوں کے موقف کو بھی۔
ایک زیرالتوا مقدمہ خود افضل گورو کا تھا۔ عدالت نے مجھے اپنا مشیر مقرر کیا تاکہ غیرمعمولی تاخیر کے بعد سزا دینے کے مسئلے کو صحیح پس منظر میں دیکھا جائے۔ عدالت کے سامنے مَیں نے اپنے دلائل دیتے ہوئے خاص طور پر افضل گورو مقدمے کے حقائق کا حوالہ دیا۔ سماعت ۱۹؍اپریل ۲۰۱۲ء کو ختم ہوگئی۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا (جس کا ابھی تک اعلان نہیں ہوا ہے)۔ حکومت اس بات سے پوری طرح آگاہ تھی کہ مجرموں کی پھانسی کی سزا میں طویل تاخیر کا مسئلہ قانونی طور پر سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے۔ حکومت کے لیے لازم تھا کہ زیرالتوا فیصلوں پر سپریم کورٹ کے مستند فیصلے کا انتظار کرتی۔ لیکن حکومت نے ۹؍فروری کو افضل گورو کو پھانسی کی سزا دے دی۔ افضل گورو کی پھانسی بھارتی حکومت کے سزاے موت کے کیے ہوئے فیصلوں میں سب سے زیادہ بے رحمانہ فیصلہ سمجھا جائے گا۔
اس مضمون میں اُٹھائے گئے سوالات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک طرف عدالت عالیہ کا موت کا فیصلہ ہی کسی قانونی جواز کے بغیر تھا۔ یہ فیصلہ محض سیاسی وجوہ سے سوسائٹی کے اجتماعی ضمیر کا سہارا لے کر دیا گیا تھا لیکن اس کے علاوہ بھی کم از کم مندرجہ ذیل شکلوں میں دستور اور قانون کی دھجیاں بکھیردی گئیں:
۱- چھے سال تک رحم کی اپیل کو لٹکانا انسانی حقوق اور انصاف کے تقاضوں سے متصادم تھا اور ایسی صورت میں موت کی سزا کا ساقط کیا جانا قانون اور انصاف سے اقرب ہے جس پر بھارتی سپریم کورٹ تک کی متعدد آبزرویشن موجود ہیں۔
۲- رحم کی اپیل کے فیصلے میں تاخیر کے خلافِ انصاف ہونے کا مسئلہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیرسماعت تھا۔ مقدمے کی سماعت مکمل ہوگئی تھی اور اس مقدمے میں افضل گورو کا کیس بھی شامل تھا۔ مقدمے کا فیصلہ ابھی آنا تھا جس میں اس کا امکان بھی تھا کہ کیس کے تمام متعلقہ افراد کی موت کی سزا کو ختم کیا جاسکتا تھا۔ فیصلہ آنے سے پہلے افضل گورو کو پھانسی دینا غیرقانونی فعل تھا اور اس طرح کا ایک اقدام قتل بن جاتا ہے۔
۳-اگر رحم کی اپیل رد کردی گئی تھی جب بھی یہ سزا پانے والے کا حق تھا کہ اسے اپیل کے رد کیے جانے کی اطلاع بروقت دی جاتی۔ اس لیے کہ سپریم کورٹ کے باربار کے فیصلے موجود ہیں کہ دستور کی دفعہ ۷۲ کے تحت موت کی سزا کے بارے میں رحم کی اپیل رد کرنے کے صدارتی فیصلے پر عدالتی محاکمہ (Judicial Review) ممکن ہے اور اس طرح رحم کی اپیل رد ہونے کے بعد بھی افضل گورو کی اہلیہ کو یہ حق تھا کہ عدالت سے ایک بار پھر رجوع کرے اور اپیل کے روکے جانے کے مبنی برحق و قانون ہونے کے بارے میں عدالت کی راے حاصل کرے، لیکن اپیل رد کیے جانے کے بعد افضل گورو اور اس کے اہلِ خانہ کو بروقت اطلاع تک نہ دی گئی اور انھیں اپنے اس حق سے محروم کر دیا گیا کہ وہ عدالتی اپیل کرسکیں۔ یہ ملک کے دستور اور قانون کی صریح خلاف ورزی تھی۔
اس طرح افضل گورو کو پھانسی کی شکل ہی میں ایک بار نہیں، چار بار عدل و انصاف کا خون ہوا اور بھارت کے جمہوری نظام ہی نہیں، پورے عدالتی نظام کے کھوکھلے ہونے اور سیاسی مصلحتوں کا اسیر ہونے کا تماشا تمام دنیا نے دیکھ لیا۔ نیز یہ بھی ثابت ہوگیا کہ اس ملک میں انصاف خاص لوگوں کے لیے (selective) اور امتیازی (discriminatory) ہے اور انصاف اور قانون کو سیاست اور مصلحت کے تابع کردیا گیا ہے۔ کیا ایسے نظام کو دستوری اور جمہوری نظام کہا جاسکتا ہے؟ دیکھیے بھارت اور عالمی سطح پر انصاف کے اس اسقاط (miscarriage of justice) کا کیسے اعتراف کیا جارہا ہے۔
بھارت کی مشہور ادیبہ اور سماجی کارکن ارون دھتی راے اپنے دو مضامین میں جو لندن کے اخبار دی گارڈین میں شائع ہوئے ہیں، افضل گورو کی پھانسی کے آئینے میں بھارت کا اصل چہرہ کس طرح پیش کرتی ہے۔ پہلا مضمون ۱۰فروری کو شائع ہوا ہے اور دوسرا ۱۸فروری کو۔ اپنے پہلے مضمون میں وہ لکھتی ہیں:
۲۰۰۱ء کے پارلیمنٹ کے حملے کے ملزم افضل گورو کو صبح خفیہ طور پر پھانسی دی گئی اور اس کے جسم کو تہاڑجیل میں دفن کر دیاگیا۔ کیا اسے مقبول بٹ کے ساتھ ہی دفن کیا گیا؟ (وہ دوسرا کشمیری جس کو تہاڑجیل میں ۱۹۸۴ء میں پھانسی دی گئی)۔ افضل گورو کی اہلیہ اور بیٹے کو اطلاع نہ دی گئی(کیا ستم ظریفی ہے کہ اس الم ناک واقعے نے پوری سیاسی قیادت کو متحد کردیا ہے)۔ اتحاد کے ایک شاذ لمحے میں قوم اور کم از کم اس کی بڑی سیاسی جماعتیں کانگریس، بی جے پی اور سی پی ایم، سواے ان چند کمزور آوازوں کے جو اس پھانسی میں تاخیر کے خلاف اُٹھیں، قانون کی بالادستی کا جشن منانے کے لیے متحد ہوگئیں۔ رہا معاملہ قوم کے ضمیر کا___ وہ تو وہی ہے جو ٹی وی سے براہِ راست ہرپروگرام میں نشر ہوتا ہے اور جس کی اجتماعی ذہانت نے سیاسیات کے جذبوں پر اپنی گرفت قائم کی ہوئی ہے اور حقائق تک کی صورت گری کرتی ہے۔ ان دنوں سیاسیات کے جذبے اور حقائق پر گرفت اور اپنی اجتماعی ذہانت کو چھوڑ دیا۔ حیف کہ ایک آدمی جو مرچکا تھا اور جابھی چکا تھا لیکن پھر بھی اس پر طاری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بزدلوں کی طرح انھیں اپنے حوصلے کو قائم رکھنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت تھی۔ کیا یہ سب اس کا غماز نہیں کہ وہ بخوبی اپنے دل میں اس بات کو جانتے تھے کہ وہ لوگ ایک انتہائی غلط کام میں تعاون کر رہے تھے۔
وہ سینیرصحافی جو بہتر طور پر جانتے ہوں گے کہ ان کے بتائے ہوئے جھوٹے بیانات کے برعکس افضل گورو ان دہشت گردوں میں شامل نہیں تھا جنھوں نے ۱۳دسمبر ۲۰۰۱ء کو پارلیمنٹ پر حملہ کیا تھا اور جنھوں نے سیکورٹی اہل کاروں پر گولی چلائی تھی جس میں چھے ہلاک ہونے والوں میں سے تین کو اس نے گولی ماری (یہ بات بی جے پی کے راجیہ سبھا کے ایم پی چندن مترا نے ۷؍اکتوبر ۲۰۰۶ء کے دی پانیر میں کہی)۔حتیٰ کہ پولیس کی چارج شیٹ بھی اس پر یہ الزام نہیں لگاتی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ شہادتیں صرف قرائن پر ہیں۔ اس طرح کی سازشوں میں عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ مجرمانہ سازش کے لیے کوئی براہِ راست ثبوت فراہم نہیں ہوتا۔ آگے چل کر کہا گیا ہے کہ اس واقعے نے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اموات ہوئیں، پوری قوم کو ہلاکر رکھ دیا اور معاشرے کا اجتماعی ضمیر اسی صورت میں مطمئن ہوگا، جب کہ مجرم کو سزاے موت دی جائے۔ پارلیمنٹ پر حملے کے مقدمے میں کس نے اجتماعی ضمیر کو بنایا؟ کیا یہ صرف اخبارات کی خبریں ہیں؟کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم نے یہ حقائق اخبارات سے اخذ کیے یا ان فلموں سے جو ہم ٹی وی پر دیکھتے تھے؟
پھر اس کا ایک پس منظر ہے۔ دوسرے بہت سے ہتھیار ڈالنے والے جنگ جوئوں کی طرح افضل گورو کے ساتھ کشمیر میں تعذیب، بلیک میل یا استحصال کرنا آسان تھا۔ وسیع تر اسکیم میں وہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ اگر کوئی پارلیمنٹ کے حملے کے راز کو واقعی حل کرانے میں دل چسپی رکھتا تھا تو اس کے لیے شہادتوں کی بڑی تعداد ایک سراغ کی طرح تھی جس کی پیروی کی ضرورت تھی، یہ کسی نے نہ کیا۔ اس طرح یہ یقینی ہوگیا کہ سازش کے اصل کردار شناخت نہ کیے جاسکیں گے اور ان کے خلاف تفتیش بھی نہیں ہوگی۔ اب، جب کہ افضل گورو کو پھانسی دی جاچکی ہے، مجھے اُمید ہے کہ ہمارا ’اجتماعی ضمیر‘ مطمئن ہوچکا ہے یا ہمارے اجتماعی ضمیر کا پیالہ ابھی تک خون سے صرف آدھا ہی بھرا ہے؟
بھارت کے روزنامہ دی ہندو نے افضل گورو کی پھانسی کو ’انصاف نہیں انتقام‘ قرار دیا ہے۔ ادارتی کالم میں ۱۰فروری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں کہا گیا ہے کہ:
آٹھ سال گزرنے کے بعد سپریم کورٹ نے محمد افضل گورو کو ۲۰۰۱ء کے پارلیمنٹ کے حملے کے کردار کی بنیاد پر پارلیمنٹ ہائوس حیرت ناک طور پر یہ کہتے ہوئے کہ: معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو صرف اسی صورت میں مطمئن کیا جاسکتا ہے کہ ملزموں کو سزاے موت دی جائے، پھانسی کی سزا دی۔ گورو کو اس ہولناک رسم کی ادایگی کے لیے ہفتے کی صبح پھانسی کے تختے تک لے جایا گیا جو حکومتیں وقتاً فوقتاً روایتی دیوتائوں کے غیض و غضب کی تسکین کے لیے ادا کرتی ہیں اور آج یہ دیوتا انتقام کے طالب عوام بن گئے ہیں۔ اس وحشت ناک اور خفیہ حرکت کے نتیجے میں بھارت کا قد دُنیا میں بہت زیادہ چھوٹا کردیا گیا ہے۔ اس سزا کی وجوہات صرف وہ نہیں جو بظاہر نظر آتی ہیں بشمول اس کے کہ گورو پارلیمنٹ پر حملے میں ایک بالکل معمولی سا کردار تھا جس کا مقدمہ ضابطے کی خلاف ورزیوں اور جوہری اہمیت کی حامل غلطیوں کی وجہ سے خراب ہوگیا ہو۔ سزاے موت کے لیے دیے جانے والے دلائل کا ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ نے جائزہ لیا اور ان کو معیار سے کم تر پایا۔ لیکن ایک دلیل جس کا کھل کر جائزہ نہیں لیا گیا(اور جو فیصلہ کن دلیل بنی) وہ وہی تھی جس کی بنا پر گورو اور دیگر بھارتی شہریوں کو تختۂ دار پر لے جایا جاتا ہے اور وہ ہے مصلحت۔ گویا پھانسی کی سزا کو ترجیح دیے جانے کے سوال کے جواب کا تعلق بڑی حد تک مصلحت سے ہے، اور انصاف سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
بھارت کا سب سے سنجیدہ رسالہ اکانومک اینڈ پولیٹیکل ویکلیہے، جو اپنے ۲۳فروری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں ادارتی کالم میں افضل گورو کی پھانسی کو انصاف کا خون اور بھارتی حکومت کے دامن پر بدنما دھبا قرار دیتا ہے۔ پھانسی کے فیصلے، پھانسی دیے جانے کے ڈرامے اور پھانسی کے بعد جس طرح حالات کو سیاسی مصلحتوں کا کھیل بنایا گیا، اس پر مؤثر احتساب کرتا ہے:
۹فروری کی صبح افضل گورو کی پھانسی موجودہ حکومت کے خراب ٹریک ریکارڈ پر شاید تاریک ترین دھبا ہے۔ افضل گورو کا قتل غیرقانونی اور ملکی قوانین کی رُو سے رُسوا کن تھا۔ افضل گورو کی ہلاکت غیرقانونی ہے اور اس جمہوری حکومت کے قوانین کے لیے بھی رُسوا کن ہے۔ صدر سے رحم کی اپیل کے مسترد ہونے کو خفیہ رکھا گیا، اس کے خاندان اور وکلا کو آگاہ نہ کیا گیا اور ایک مجرم کی حیثیت سے اسے جو حقوق حاصل تھے انھیں استعمال کرنے کی اجازت نہ دی گئی، رحم کی اپیل مسترد ہونے پر اپیل کا حق نہ دیا گیا، اپنے اہلِ خانہ سے ملنے نہ دیا گیا اور آخری خواہش کے اظہار کا موقع بھی نہ دیا گیا۔ حکومت نے حیران کن مکارانہ اقدام کے تحت اس کی پھانسی کی اطلاع سپیڈ پوسٹ کے ذریعے اس طرح سے دی کہ وہ اس کے خاندان کو پھانسی کے بعد اس وقت ملے جب وہ ٹیلی ویژن پر اس کی خبر سن چکے ہوں۔ یہ محض ہیومن رائٹس کے علَم بردار ہی نہیں بلکہ گوپال سبرامینم، سرکاری وکیل جس نے گورو کے خلاف مقدمہ لڑا، کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے یہ حکومت کی ’بہت بڑی فروگزاشت‘ ہے۔
گورو کی پھانسی کے مسئلے کو اگرایک طرف رکھ بھی دیا جائے تب بھی کیسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے کہ حکومت نے وادیِ کشمیر کی پوری آبادی کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا اور اس کی پھانسی کے نتیجے میں لگنے والے کرفیو کی وجہ سے عوام ضروری اشیا، دوائوں اور خبروں سے بھی محروم ہوگئے جو شہریوں کے ان حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے جن کی ضمانت دستور نے شہریوں کو دی ہے۔ حد یہ ہے کہ خود دارالحکومت (یعنی دہلی) میں بھی پولیس نے غیرقانونی طور پر اس (یعنی افضل گورو) کے بہت سے حمایتیوں اور ان کے بچوں تک کو کسی متعین الزام کے بغیر گرفتار کیا۔ گویا حکومت نے نمایشی طور پر قانون کے پردے (fig leaf) کو نظرانداز کردیا اور عوام سے بالکل اس طرح معاملہ کیا جس طرح کوئی غنڈا کرتا ہے۔
ایسے اقدام کا لازمی نتیجہ ہے کہ لوگ دُور سے دُور ہوتے جائیں اور ان کے اور حکومت کے درمیان مغائرت ہی میں اضافہ ہو، اور یہ دُوری صرف کشمیر کے لوگوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ لوگ بھی اس کا شکار ہوں گے جن کو اس حکومت سے یہ توقع تھی کہ وہ روشن خیالی پر کاربند ہے خواہ یہ روشن خیالی کتنی ہی جزوی اور کچی پکّی ہی کیوں نہ ہو۔
امریکی روزنامہ انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون میں بھارت کے ایک صحافی مانو جوزیف نے پورے مسئلے پر بڑا بھرپور تبصرہ کیا ہے اور افضل گورو کے مقدمے اور حکومت کی کارکردگی اور اس کے تضادات پر جچی تلی تنقید کی ہے لیکن سب سے اہم سوال جو اس نے اُٹھایا ہے وہ بھارت کے نظامِ عدالت کے قابلِ بھروسا ہونے سے متعلق ہے'
افضل گورو کی پھانسی جس نے اس کے خاندان کو صدمے سے دوچار کیا ہے اس نے پوری قوم کو بھی حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ ہاں، اس پر مختلف پارٹیوں کے سیاست دانوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور عام شہریوں نے بھی۔ یہ کیسی دنیا ہے جو ایک طرف افضل کے بارے میں فتویٰ دیتی ہے کہ وہ اس زمین پر زندہ رہنے کے لیے موزوں نہیں، وہیں یہ ایک انسان کی موت پر جشن تک منانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے لوگ بھی بہت بڑی تعداد میں تھے جو اس پر نالاں اور متنفر تھے اور انھوں نے احتجاج بھی کیا۔ اور ان لوگوں کا تعلق محض وادیِ کشمیر سے نہ تھا جو افضل کی جاے پیدایش ہے اور جہاں کرفیو لگا ہوا تھا۔ اس پھانسی نے بڑے بنیادی سوالات اُٹھا دیے ہیں جو ایک بڑی تعداد کے لیے وجہِ تشویش بن گئے ہیں۔ اگر ان تمام سوالات کو ایک جملے میں سمو دیا جائے تو ان کا حاصل یہ تشویش ناک صورت ہے کہ:
کیا بھارت کا نظامِ انصاف معیاری ہے، اور یہ کہ کیا اس کی اخلاقی سند (moral authority) اس امر کے لیے تسلیم کی جاسکتی ہے کہ اس کے حکم پر ایک انسانی جان کو ختم کیا جاسکے؟
محمد افضل گورو کی شہادت نے بھارت کے جمہوریت اور انصاف اور قانون کی بالادستی کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے اور اس پالیسی کو بے نقاب کردیا ہے جسے ریاستی دہشت گردی کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔بظاہر اس پھانسی پر بھارت کے سیاسی حلقوں میں خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں لیکن فی الحقیقت یہ اس کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہے اور ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کا ذریعہ بن سکتا ہے جو بھارت سے خیر کی توقع رکھتے ہیں۔
جس طرح افضل گورو کو پھانسی دی گئی ہے اس پر دنیا میں بھارت کے عالمی شہرت کے ایک ماہرقانون فالی ایس نریمان نے برملا کہا ہے: ہمارا بدترین دشمن بھی اس سے بہتر نہیں کرسکتا تھا جس طرح یہ کیا گیا۔ یہ بعض کے لیے ایک بدقسمتی تھا اور اس کے نتیجے میں بھارتی ریاست نے اپنے کو چھوٹا کرلیا ہے اور اُمیدوں کے کم ترین معیار کو اختیار کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔
جہاں تک کشمیر کی تحریکِ آزادی کا تعلق ہے ہمیں یقین ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے نہ ماضی میں اسے دبا یا جاسکا ہے اور نہ مستقبل میں اسے کوئی نقصان پہنچانا ممکن ہوگا۔ اس لیے کہ ظلم اور استبداد کی چیرہ دستیاں حق پرستوں کا راستہ کبھی نہیں روک سکی ہیں اور آزادی کی تحریکیں خون کے ایسے ہی سمندروں کو عبور کر کے اپنی منزل کا سراغ پاتی رہی ہیں۔ ان شاء اللہ یہ خونیں واقعہ کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے بشرط کہ پاکستان کی حکومت اور اُمت مسلمہ کی قیادتیں اپنے کشمیر ی بھائیوں کی اس مبنی برحق جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت نے اس خاص موقعے پر یہ اقدام کیوں کیا؟ ہماری نگاہ میں اس کی وجہ بھارت کی وہ بوکھلاہٹ ہے اور آنے والے حالات کے باب میں اس کا وہ اِدراک ہے جو پاکستان اور علاقے کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کی بنا پر وہ محسوس کر رہا ہے۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں کشمیر کے سلسلے میں جو قلابازیاں کھائی گئیں اور بھارت کے سلسلے میں جس پسپائی کا رویہ اختیار کیا گیا اور جسے زرداری دور میں زیادہ بھونڈے انداز میں جاری رکھا گیا ہے، صاف نظرآرہا ہے کہ اب اس سلسلے کا جاری رہنا محال ہے۔
چند مہینوں میں نئے انتخابات کے نتیجے میں نئی سیاسی قیادت برسرِکار آئے گی اور وہ امریکا اور بھارت دونوں کے بارے میں موجودہ پالیسیوں پر بنیادی نظرثانی کرے گی۔ افغانستان سے امریکا اور ناٹو کی افواج کی واپسی کی وجہ سے بھی علاقے کے حالات میں بڑی تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ عالمِ اسلام کے حالات بھی بدل رہے ہیں۔ ترکی، مصر، تیونس اور دوسرے ممالک میں ہونے والی تبدیلیوں نے پورے علاقے کے زمینی حکمت عملی (geo-strategic) کے نقشے کو بدل ڈالا ہے۔ مصر میں فروری ۲۰۱۳ء میں منعقد ہونے والی اوآئی سی کانفرنس میں عالمِ اسلام کے مسائل کے ساتھ کشمیر کو نمایاں حیثیت دی گئی ہے۔ خود پاکستان میں اس سال ۵فروری کو جس جوش اور ولولے سے ’کشمیر سے یک جہتی کے دن‘ کے طور پر منایا گیا ہے وہ آنے والے دور کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ افغانستان میں امریکا نے بھارت کو جو رول دیا تھا، وہ بھی اب معرضِ خطر میں ہے اور پاکستان کی موجودہ ناکام کشمیر پالیسی میں بھی تبدیلی ناگزیر ہے۔ نیز بھارت کے اپنے اندرونی سیاسی حالات جن میں اگلے سال ہونے والے انتخابات اور بی جے پی کی نئی سیاست اہم ہیں، کانگریس حکومت کی بوکھلاہٹ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
ان حالات میں بھارت نے ایک بار پھر قوت سے آزادیِ کشمیر کی تحریک کو دبانے کا اشارہ دیا ہے، لیکن اس کی حیثیت ایک ناکام پالیسی کو ایک بار پھر آزمانے کی حماقت سے زیادہ نہیں ہے ۔ تاریخ کا ایک تلخ سبق یہ ہے جن کو طاقت کا گھمنڈ ہوجاتا ہے وہ تاریخ سے کم ہی سبق سیکھتے ہیں اور وہی غلطیاں بار بار کرتے ہیں جو ماضی میں اقوام کی تباہی کا سبب بنی ہیں۔ ہم پاکستان اور مسلم اُمت کی قیادت کو دعوت دیتے ہیں کہ بھارت کے اس اقدام کے پس منظر میں غور کریں اور مقابلے کی حکمت عملی بنانے پر توجہ دیں۔
یہ بہت ہی افسوس ناک ہے کہ افضل گورو کی شہادت پر جو ردعمل پاکستان کی قیادت کی طرف سے آنا چاہیے تھا وہ نہیں آیا۔ بلاشبہہ عوام اور اسلامی قوتوں نے اس کی بھرپور مذمت کی ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ صدر، وزیراعظم اور وزیرخارجہ کو یہ توفیق بھی نصیب نہ ہوئی کہ واضح الفاظ میں اور پوری شدت کے ساتھ اس کی مذمت کرتے اور کشمیر ی عوام سے یک جہتی کا اظہار کرتے۔ وزارتِ خارجہ کا بھی ایک کمزور ردعمل واقعہ سے ۴۸گھنٹے کے بعد آیا ہے جو لمحۂ فکریہ ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کشمیر پالیسی پر فوری نظرثانی کرے جس پر حکومت گذشتہ ۱۲سال سے عمل پیرا ہے۔ ۲۰۰۳ء میں سیزفائر کے نام پر جو قلابازی کھائی گئی تھی اس نے تحریکِ آزادیِ کشمیر کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ بھارت نے اسرائیل کی مدد سے بارڈر کو سیل کردیا ہے اور ایسی الیکٹرانک دیوار بنا دی ہے جس نے کشمیری عوام کی مشکلات میں اضافہ اور پاکستان کی حکمت کاری کے وزن (strategic leverage) کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ پھر جنگ ِ آزادی اور دہشت گردی کے جوہری فرق کو نظرانداز کرکے پاکستان نے اس کشمیر پالیسی کا شیرازہ منتشر کردیا ہے جس پر قائداعظم کے وقت سے لے کر آج تک قومی اتفاق راے تھا۔ جنوری ۲۰۰۴ء کا مشرف واجپائی معاہدہ ہماری قومی کشمیر پالیسی کو صحیح رُخ سے ہٹانے (derail) کا ذریعہ بنا اور پھر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز (by-pass) کرنے اور روایت سے ہٹ کر حل ( out of box solution) کی تلاش میں ہماری سیاسی قیادت نے وہ بھیانک غلطیاں کی ہیں جس نے پاکستان کی سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے اور ہمارے اسٹرے ٹیجک مفادات بُری طرح متاثر ہورہے ہیں ۔
ان حالات میں وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ مشرف اور زرداری دور کی خارجہ پالیسی کو ترک کر کے پاکستان کے مقاصد اور مفادات کی روشنی میں حقیقی طور پر آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے جس میں ملک کے نظریاتی، سیاسی، معاشی، تہذیبی اور سیکورٹی کے حساس پہلوئوں کا ٹھیک ٹھیک احاطہ کیا جاسکے۔ یہ پالیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی ہو، پاکستان کے لیے ایسی خارجہ پالیسی نہ ہو جس کی تشکیل پر واشنگٹن، لندن اور دبئی کا سایہ ہو۔ ہماری پالیسی پاکستان میں اور وہ بھی اسلام آباد میں عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق پارلیمنٹ کے ذریعے بنائی جائے۔ ملک عزیز کو دوسروں پر محتاجی کی دلدل سے نکلا جائے اور خودانحصاری کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اس کا مقصد پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی، جمہوری، فلاحی اور وفاقی ریاست بنانا ہو۔ فطری طور پر اس میں کشمیر کی بھارت کے قبضے سے آزادی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے مستقبل کے حل کو ایک مرکزی مقام حاصل ہوگا۔ نائن الیون کے بعد اختیار کی جانے والی کشمیر پالیسی جنرل پرویز مشرف کی اُلٹی زقند اور ژولیدہ فکری کانتیجہ ہے جس کی وجہ سے ہم اپنی منزل سے کوسوں دُور جاپڑے ہیں۔
کشمیر کے عوام پاکستان سے دلی لگائو رکھنے کے باوجود پاکستان کی حکومت اور اس کی پالیسیوں سے مایوس ہورہے ہیں اور خصوصیت سے نئی نسل پریشان اور سرگرداں ہے۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان کی نئی قیادت کشمیر پالیسی کی تشکیلِ نو کرے اور اس پالیسی کو بروے کار لائے جو پاکستان اور کشمیری عوام کی اُمنگوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ مسئلۂ کشمیر کے تین فریق ہیں، پاکستان، بھارت اور کشمیر کے عوام___ اور اصل فیصلہ کشمیر کے عوام کو کرنا ہے، اور یہ سامنے رکھ کر کرنا ہے کہ ان کے مفادات کا بہتر حصول کس انتظام میں ممکن ہے اور ان کا مستقبل کس صورت میں روشن ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے پاکستان کی کشمیر پالیسی کو جموں اور کشمیر کے عوام کے جذبات، احساسات اور عزائم کی روشنی میں مرتب ہونا چاہیے جو مشترک سوچ پر مبنی اور مشترک جدوجہد سے عبارت ہو۔
کشمیر کو اب کسی طور پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ حالات میں جیسے کہ اُبال آرہا ہے اور پھٹ پڑنے کو تیار ہیں۔ موجودہ چیلنج کا مقابلہ بالغ نظری کے ساتھ باہم مشاورت ہی سے کرنا ہوگا تاکہ ایک بہتر مستقل انتظام کی راہ ہموار ہوسکے۔ محمدافضل گورو کی شہادت نے ایک تاریخی موقع فراہم کیا ہے۔
کیا پاکستان اور کشمیر کے عوام اس موقعے سے فائدہ اُٹھائیں گے، اور کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو ایک ایسا آہنگ دینے کی کوشش کریں گے جو مجاہدین کی قربانیوں کے شایانِ شان ہو؟
(’افضل گورو کی شہادت‘، منشورات سے دستیاب ہے۔ فون: ۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲)