فقر کے ظاہری اورلغوی معنی توافلاس،محتاجی ،تنگ دستی اورغربت کے ہیں مگرعلامہ اقبال اس کے ظاہری معنوں سے قطع نظرکرتے ہوئے اس کے اصطلاحی معنی مراد لیتے ہیں،یعنی: اِستغنا یا اسبابِ ظاہری سے بے نیازی۔ جہاں تک امتِ مسلمہ کاتعلق ہے،اِستغنا کا رویہ ہی امت اور افرادِامت کوکامیابی اورسربلندی کی معراج تک پہنچاسکتاہے۔حضرت علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ ع
کہ پایا میں نے اِستغنا میں معراج مسلمانی
(بال جبریل،ص۱۲۰؍۴۱۲)
فقرکایہ مفہوم علامہ اقبال نے نبی کریمؐ کی حیات طیبہ سے اخذکیاہے۔
نبی کریمؐ کی پوری زندگی فقیرانہ اسلوب کانمونہ اورفقرکی عملی تفسیرہے۔متعددروایات میں بتایاگیاہے کہ اِدھراُدھرسے جو تحائف،ہدایا، مال ومنال اورزروجواہرآتا،آپؐاسے فی الفور تقسیم کردیتے۔اپنے لیے یاگھروالوں کے لیے کچھ بھی نہ رکھتے تھے۔ قریشِ مکہ نے پیش کش کی کہ ہم زروجواہرلاکرآپ کے قدموں میںڈھیرکردیتے ہیں ہمارے بتوں سے تعرض نہ کیجیے۔آپؐنے اس پیش کش کو پرکاہ کے برابربھی اہمیت نہ دی۔ دراصل اقبال کے تصورِ فقر کا مفہوم اسوۂ رسولؐ سے ہٹ کرسمجھناممکن ہی نہیں ہے۔ علامہ کے نزدیک فقرایسی ’متاعِ مصطفی ؐ ‘ ہے جو اُمت مسلمہ کو وراثت میں عطا ہوئی ہے اورآپ نے اُمت کو اس کاامانت دار اور نگران (care-taker) بنایا ہے۔ فرمایا ؎
فقر ذوق و شوق و تسلیم و رضا ست
ما امینیم ، ایں متاعِ مصطفیؐ ست
(پس چہ بایدکرد،ص۲۰؍۸۱۶)
چوں کہ رسول اللہؐ کوحجازسے نسبت تھی،اس لیے علامہ متاع فقرکو’’حجازی فقر‘‘کہتے ہیں : ؎
ہمت ہو اگر تو ڈھونڈ وہ فقر
جس فقر کی اصل ہے حجازی
(ضربِ کلیم،ص۸۸؍۵۵۰)
یہاںبھی اشارہ رسولؐ اللہکی طرف ہے جن کا طریق فقرآج بھی ہر مسلمان کے لیے ایک مثال اور نمونہ ہے۔علامہ اقبال اس فقر کی خصوصیات کاذکراس طرح کرتے ہیں: ؎
اس فقر سے آدمی میں پیدا
اللہ کی شانِ بے نیازی
یہ فقرِ غیور جس نے پایا
بے تیغ و سناں ہے مرد غازی
مومن کی اسی میں ہے امیری
اللہ سے مانگ یہ فقیری
(ضربِ کلیم،ص۸۹؍۵۵۱)
علامہ اقبال نے ’؎فقرغیور‘کی ترکیب’غیراسلامی فقر‘کے متضادکے طورپراستعمال کی ہے۔ فقرغیور اور غیراسلامی فقردوایسے مختلف اور متضادرویے ہیںجومتوازی خطوط کی طرح کبھی آپس میںنہیںملتے۔ بال جبریل کی نظم ’فقر‘میں دونوں اصنافِ فقرکاباہمی موازنہ کیاگیاہے۔ایک فقر، کم ہمتی،بزدلی اورپسپائی سکھاتاہے۔ دوسری نوعیت کافقر امامت وامارت کاراستہ دکھا کر فقیر کا رشتہ حضرت شبیرؓسے جوڑتاہے: ؎
اِک فقر سکھاتا ہے صیاد کو نخچیری
اِک فقر سے کھلتے ہیں اسرار جہانگیری
اِک فقر سے قوموں میں مسکینی و دل گیری
اِک فقر سے مٹی میں خاصیتِ اکسیری
اِک فقر ہے شبیری ، اس فقر میں ہے میری
میراثِ مسلمانی ، سرمایۂ شبیری
(بال جبریل،ص۱۶۰؍۴۵۲)
سیدنذیرنیازی کے نام۲۱؍اکتوبر۱۹۲۵ء کو لکھتے ہیں:’’اسلام کی حقیقت فقرِغیور ہے اور بس‘‘ (مکتوباتِ اقبال،ص۳۰۳)ایک جگہ علامہ نے فقر غیور کوعین اسلام قراردیاہے۔ان کے نزدیک اسلام اورفقرِغیورپورے دین پرمحیط ہے: ؎
لفظ اسلام سے یورپ کو اگر کد ہے تو خیر
دوسرا نام اسی دین کا ہے فقرِ غیور
(ضربِ کلیم،ص۳۱؍۴۹۳)
علامہ اقبال نے فارسی اوراردوشاعری میں قلندر،مردقلندر،درویش ،بندۂ درویش اورمردِکامل جیسے الفاظ وتراکیب کوفقرغیورکے معنوں میں اورفقیرکے متبادل اورمترادف کے طورپراستعمال کیاہے۔ایک جگہ کہتے ہیں: ؎
قلندر جز دو حرفِ لَا اِلٰہ کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہِ شہر قاروں ہے لغت ہاے حجازی کا
(بال جبریل ،ص۴۴؍۳۶۸)
گویاتوحید، مردِقلندرکاسرمایۂ حیات ہے اور یہی فقرکی کلید ہے۔جب وہ لا الٰہ اِلاَّ اللّٰہ کہتے ہوئے غیراللہ کی نفی کرتاہے تو اس میں’اللہ کی شانِ بے نیازی‘پیداہوجاتی ہے۔حضرت علی ہجویری نے اس کی تائیداس طرح فرمائی ہے کہ :ذات خداوندی کے ماسواتمام چیزوں سے دل کو فارغ رکھنے کانام فقرہے(کشف المحجوب،ص ۸۵)۔ حضرت نے ایک بزرگ ابوسعیدؒکاقول نقل کیا ہے کہ اصل فقیروہ ہے جو اللہ کے ساتھ غنی ہو۔(ایضاً،ص۸۷)یعنی اللہ اسے کافی ہواور وہ خودکو اللہ کے سواکسی کا’’بندہ‘‘نہ سمجھے،نہ وہ کسی سے ڈرے،نہ کسی سے دبے اور’پیش فرعونے سرش افگندہ نیست‘کے مصداق ،نہ وہ کسی کے سامنے سرجھکائے ۔
ڈاکٹرسیدعبداللہ لکھتے ہیں:[فقر]ایک روحانی کیفیت،ایک رویہ ہے جس کی رُو سے برترمقاصدزندگی کومادی لذائذ اورقریبی ترغیبات پرترجیح حاصل ہوتی ہے۔فقرفردکے اندرایک خاص قسم کاوقار،ایک خاص قسم کامیلانِ بے نیازی پیداکرتاہے‘‘۔(مسائل اقبال، ص۲۵۰) چنانچہ وہ مال ودولت،مادی طرزِ فکر، حُبّ ِدنیا،ہوسِ جاہ ومنصب اورآل اولاد کی محبت سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ اسے دنیا کی ساری نعمتیں ہیچ اورساراکرّوفربے حقیقت معلوم ہوتاہے۔ وہ صرف ذاتِ واحد پر ایمان رکھتااوراسی پربھروسا کرتاہے ،اس لیے علامہ اقبال کے نزدیک اس کا مقام ومرتبہ سکندرودارا جیسے معروف حکمرانوں اورشاہوںسے بھی بلندوبرتراوراُونچاہوتاہے،بشرطیکہ اس کی فقیری میں اسوۂ رسولؐ اللہ اور اسوۂ صحابہؓ کے آثار پائے جاتے ہوں۔فرماتے ہیں: ؎
دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللّٰہی
(بال جبریل،ص۵۷؍۳۴۹)
؎ نہ تخت و تاج ، نے لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے
(ایضاً،ص۶۸؍۳۶۰)
؎ فقر کے ہیں معجزات ، تاج و سریر و سپاہ
فقر ہے میروں کا میر ، فقر ہے شاہوں کا شاہ
(ایضاً،ص۷۷؍۳۶۹)
ع مومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی شاہی
(ایضاً،ص۳۵؍۳۲۷)
حضرت علی ہجویریؒ کے نزدیک فقرکی اصل متاع دنیا کا ترک اور اس سے علیحدگی نہیں ،بلکہ دل کو دنیاکی محبت سے خالی اور اس سے بے نیاز کرنا ہے۔ (کشف المحجوب،ص ۸۴)
علامہ اقبال کے تصورِفقر کوترک دنیا،سکوںپرستی،خانقاہیت یاگوشہ گیری سے کوئی علاقہ نہیں کیوں کہ یہ رویہ’’کش مکشِ زندگی میں گریز‘‘ کی طرف لے جاتاہے اورزندگی کا ارتقا،کش مکش اورحرکت وجدوجہدہی سے ممکن ہے۔راہب جس سکوں پرستی کاقائل ہے،وہ تحرک اورفعالیت کی ضد ہے۔ ضربِ کلیمکی نظر’فقر و راہبی‘ میں علامہ نے کہاہے: ؎
کچھ اور چیز ہے شاید تیری مسلمانی
تری نگاہ میں ہے ایک فقر و رہبانی
سکوں پرستیِ راہب سے فقر ہے بیزار
فقیر کا ہے سفینہ ہمیشہ طوفانی
(ضربِ کلیم،ص۵۰؍۵۱۲)
اقبال گوشہ گیری کے اسی حدتک قائل ہیں،جس حد تک اسوہ ٔرسولؐ اجازت دیتاہے، مثلاً رمضان المبارک میں چندروز کے لیے اعتکاف کی صورت میں خلوت نشینی کی اجازت ہے اوریہ خلوت نشینی بھی ذکرالٰہی، فکرِآخرت، ضبطِ نفس،خوداحتسابی اور ان سب کے نتیجے میں استحکام خودی کے لیے ہے۔ اتباع سنت ِنبویؐمیں اعتکاف کرنا،نہ صرف کارِثواب ہے بلکہ یہ معتکف کو اصلاحِ باطن اورصفاے قلب کے لیے ایک سازگارماحول بھی فراہم کرتاہے۔
علامہ اقبال جن اخلاق واوصاف کو فقر کا لازمہ سمجھتے ہیں،ان میںصبروشکر،تسلیم ورضااور حلم وانکسار بھی شامل ہیںمگر اس تسلیم ورضا کے معانی،بے کسی ،ناتوانی یاضعف کے نہیںہیں۔ فقر تحرک و جرأت کانمونہ ہوتاہے بلکہ قوت کا اظہار بھی چاہتاہے۔ ہمارے ہاں روایتی طور پر فقر ودرویشی کے ساتھ بے چارگی اوربے بسی کے تصورات وابستہ ہیں۔اقبال کے تصورِفقر میں اس کی گنجایش نہیں۔ اقبال کا فقیر جرأتِ رندانہ کا مالک ہے۔چوںکہ وہ غیر اللہ سے مستغنی ہے،اس لیے اس بے باک انسان کو کسی کاخوف ہے نہ کسی کی پروا۔علامہ کہتے ہیں: ؎
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
(بال جبریل،ص۳۴؍۳۲۶)
وہ قرآن حکیم کے اس فرمان پرکاربندہوتاہے: اَلاَ اِنَّ اَوْلِیَائَ اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَہُمْ یَحْزَنُوْنَ فقراورجرأت وبے خوفی کے باہمی تعلق کو علامہ بعض مخصوص تراکیب سے واضح کرتے ہیں، مثلاً: فقرحیدری،بوے اسداللّٰہی،سرمایۂ شبیری، متاعِ تیموری وغیرہ۔تاریخ وروایات میں حیدر،شبیراورتیمورغیرمعمولی جرأت اورعزم وہمت کی علامتیںہیں۔اس حوالے سے اقبال سمجھتے تھے کہ مرد فقیر مزاحم قوتوں کا مقابلہ نہایت ثبات واستقلال کے ساتھ کرتاہے۔ وہ کش مکش، پیکار اور ٹکراؤ میں ایک لطف محسوس کرتا ہے۔ ضربِ کلیمکی نظم’فقروملوکیت‘ فقر کی قوت وشوکت اور اس کے جلالی مزاج کااظہار ہے۔
فرماتے ہیں: ؎
فقر جنگاہ میں بے ساز و یراق آتا ہے
ضرب کاری ہے اگر سینے میں ہے قلب سلیم
اس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی سے
تازہ ہر عہد میں ہے قصّۂ فرعون و کلیم
(ضربِ کلیم،ص۳۰؍۴۹۲)
بے باکی وبے تابی اوراظہارجرأت وقوت فقرکی پہچان ہے۔یہی اس کی زندگی کی علامت ہے اور اسی حوالے سے وہ حق کاپاسبان اورمحافظ ہے: ع
زندہ حق از قوتِ شبیری است
(اسرارورموز،ص۱۱۰)
کسی معرکے میںاگراسے وقتی طورپرپسپابھی ہونا پڑے ،تب بھی وہ ذہنی طورپرشکست قبول نہیں کرتا۔ اس طرح فقر کااقبال کے فلسفۂ جہدو عمل سے ایک قریبی تعلق قائم ہوتاہے۔
مردِ فقیرفلاح انسانیت کاعلمبردار ہے۔وہ فطرت پر بھی غالب آسکتاہے اورتسخیرجہات بھی اس کے لیے ناممکن نہیں: ؎
فقر بر کرّوبیاں شبخوں زند
بر نوامیسِ جہاں شبخوں زند
(پس چہ بایدکرد،ص۲۰؍۸۱۶)
؎ فقرِ مومن چیست ؟ تسخیر جہات
بندہ از تاثیر او مولا صفات
(ایضاً،ص۲۲؍۸۱۸)
اقبال کے تصورفقرکا،قوموں کے عروج وزوال سے بھی گہرا تعلق ہے۔کسی معاشرے کی اجتماعی سربلندی میں صاحب فقراپنی متحرک شخصیت کی وجہ سے مؤثرکرداراداکرسکتاہے۔دنیا کی قیادت اور امامت فقیرکی وراثت ہے اور اس کا استحقاق بھی ہے۔ دنیا میں سربلندی صرف اسی قوم کا مقدر ہے جس کے افرادفقرکی صفت کو اپنائیں۔امت مسلمہ نے جب سے فقر کی غلط تعبیر اپنائی،اور حقیقی اسلامی فقرکو ترک کردیا تو زوال واِدباراورپستی ونکبت کا شکارہوگئی۔ علامہ فرماتے ہیں: ؎
یہ فقر مردِ مسلماں نے کھو دیا جب سے
رہی نہ دولتِ سلمانی و سلیمانی
(ضربِ کلیم،ص۵۱؍۵۱۳)
؎ نہ ایراں میں رہے باقی، نہ توراں میں رہے باقی
وہ بندے فقر تھا جن کا ہلاکِ قیصر و کسریٰ
(بال جبریل،ص۲۳؍۳۱۵)
؎ اب حجرۂ صوفی میں وہ فقر نہیں باقی
خونِ دلِ شیراں ہو جس فقر کی دستاویز
(ایضاً،ص۲۶؍۳۱۸)
علامہ اقبال نے اُردو شاعری کی تاریخ میںپہلی مرتبہ شاہین کا ایک خاص تصور پیش کیاہے۔ اقبال کا شاہین کارزارِحیات میں چندمخصوص امتیازات رکھتاہے۔فقر بھی انھی امتیازات سے متصف ہے۔ علامہ اقبال نے ایک خط میں وضاحت کی ہے کہ:’’اس جانور میںاسلامی فقر کے تمام خصوصیات پائے جاتے ہیں: (۱)خودداراورغیرت مندہے کہ اورکے ہاتھ کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا۔ (۲)بے تعلق ہے کہ آشیانہ نہیں بناتا۔ (۳)بلندپروازہے۔(۴)خلوت پسند ہے۔ (۵)تیزنگاہ ہے‘‘۔(اقبال نامہ،ص۱۹۴)
گویاشاہین میں بیش تر وہ امتیازات موجودہیںجوفقیرکی زندگی کالازمی جزوہیں۔ بعض مقامات پر اقبال کے ہاںیوں محسوس ہوتاہے جیسے انھوںنے فقر کی تجسیم آںحضوؐرکی ذات مبارک میں کی ہے۔اسی طرح حضرت علیؓ اور حضرت شبیرؓ اورحضرت خالدؓبن ولیدکوبھی ایسے مردان ِقلندرمیں شمار کرتے ہیں جن کاوجود کسی معاشرے کے لیے باعث خیروبرکت ہوتاہے: ؎
آتشِ ما سوز ناک از خاکِ او
شعلہ ترسد از خس و خاشاکِ او
بر نیفتد ملتے اندر نبرد
تا درو باقیست یک درویشِ مرد
(پس چہ باید کرد،ص۲۱؍۸۱۷)
اقبال کے تصور فقر کے سلسلے میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اقبال کئی جگہ خود کو ایک ’قلندر‘اور’مردفقیر‘قراردیتے ہیں۔فقر کو وہ اپنے لیے باعث ِعزت وفخر سمجھتے ہیں۔وہ فقرکوشاعری سے بھی برترقراردیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دولت ِفقر کے مقابلے میں دنیا کی ظاہری شان و شوکت ہیچ ہے۔ فرماتے ہیں: ؎
خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری
وگر نہ شعر مرا کیا ہے ، شاعری کیا ہے؟
(بال جبریل،ص۴۸؍۳۴۰)
؎ مرا طریق امیری نہیں ، فقیری ہے
خودی نہ بیچ ، غریبی میں نام پیدا کر
(ایضاً،ص۱۴۷؍۴۳۹)
؎ مرا فقر بہتر ہے اسکندری سے
یہ آدم گری ہے ، وہ آئینہ سازی
(ایضاً،ص۱۴۶؍۴۳۸)
علامہ کا دعواے فقر وقلندری نری لفّاظی نہیں،انھوںنے اپنے نجی زندگی میں بھی فقروقلندری کو برتاہے۔مزاجاًوہ درویش تھے۔مولانا غلام رسول مہرطویل عرصے تک حضرت علامہ کی خدمت میںحاضررہے۔سفروحضرمیں بھی ساتھ رہا۔وہ لکھتے ہیں:’’ان کی فطرت وطبیعت درویشانہ تھی۔ یہ ان کے کلام میں بار بار نظرآتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو’فقیر ‘اور’دریش ‘ اور’قلندر‘کہہ کرپکارتے تھے تو یہ کوئی شاعر انہ تخیل آرائی نہ تھی بلکہ ان کی فطرت کے صحیح احساس کااظہارتھا‘‘۔(حیات اقبال کے چند مخفی گوشے، ص ۵۵۵) مہرصاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں:’’فقیری ، قلندری، توکل اور خداکے سواہرشے سے بے نیازی اقبال کے وہ اوصاف ہیں جو آخری دور کی طرح پہلے دورمیں بھی ممتاز تھے‘‘۔(اقبالیات مہر،ص۲۲۲)
حیات اقبال کے بعض واقعات،ان کے درویشانہ اِستغنا کی طرف اشارہ کرتے ہیں،مثلاً: بھوپال کے نواب حمید اللہ خاں نے مئی ۱۹۳۵ء میں علامہ کاپانچ سوروپے ماہوار وظیفہ مقرر کردیا تھا۔ اس کے محرک سرراس مسعود تھے۔ سرراس نے یہ کوشش بھی کہ بہاول پور اور حیدرآباد کی ریاستوںاورسرآغاخاں کی طر ف سے بھی اسی طرح کے وظائف مقرر ہوجائیں۔ان کی درخواست پر آغاخان نے پانچ سو روپے ماہوار کی اعانت منظور کرلی مگر خوداقبال نے ان تجاویز کو پسند نہیںکیا۔ ۱۱؍دسمبر۱۹۳۵ء کو راس مسعودکے نام ایک خط میںلکھا:’’آپ کو معلوم ہے کہ اعلیٰ حضر ت نواب صاحب بھوپال نے جو رقم میرے لیے مقررفرمائی ہے ،وہ کافی ہے اور کافی نہ بھی ہو تو میں کوئی امیرانہ زندگی کا عادی نہیں۔بہترین مسلمانوں نے سادہ اوردرویشانہ زندگی بسر کی ہے۔ضرورت سے زیادہ کی ہوس کرناروپے کا لالچ ہے جو کسی طرح بھی مسلمان کے شایان شان نہیں ہے‘‘۔(اقبال نامے،ص۱۹۵)
اقبال کے بڑے بھائی شیخ عطامحمد،علامہ کوسیالکوٹ والے مکان کا ایک حصہ دینا چاہتے تھے۔یہ علامہ کا اِستغنا تھا کہ وہ مکان لینے کے لیے تیار نہ ہوئے بلکہ ستمبر۱۹۳۰ء میں انھوں نے جایدادمیں اپنے حقوق سے دست برداری کی قانونی دستاویزبھی لکھ دی۔(مظلوم اقبال، ص۷۵، ۷۹، ۸۰)
اسی طرح آخری زمانے میں انھوں نے حیدرآباددکن سے سراکبرحیدری کا بھیجاہواایک ہزارروپے کا چیک قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ (ارمغانِ حجازاردو،ص۴۸؍۶۹۰)علامہ کا یہ مصرع خودانھی پر صادق آتاہے: ع
فقیرِ راہ نشین و دل غنی دارد
(پیام مشرق،ص۶۳؍۳۳۳)
اقبال کا تصورِفقراُردوشاعری میں ایک نیااور منفرد تصورہے۔ کش مکشِ حیات سے فرار، رہبانیت یاترک ِدنیا سے اس کا علاقہ نہیںبلکہ انسانی ارتقا کے لیے فقرکامتحرک اور برسرِعمل رہنا ضروری ہے۔ وہ حق وباطل کی آمیزش میں حصہ لیتاہے اورمثبت اوراخلاقی قدروں کے ذریعے معاشرے کو صحت منداورپاکیزہ بنانے میں معاونت کرتاہے۔ وہ مادیت میں ملوث نہیں ہوتا کیوں کہ ِاستغنااس کی بنیادی سرشت ہے جو انسان کے اندرنیک طینتی کو فروغ دیتی ہے۔
علامہ اقبال نے فقر کے مفہوم کو وسعت دی ہے اور واضح کیاہے کہ نہ صرف فردکے روحانی ارتقا بلکہ معاشرے کی صحت منداور قومی وملّی سربلندی کے لیے بھی فقرکا رویہ اورقلندرانہ طرزِ عمل اپناناضروری ہے۔
کتابیات
۱- اعجازاحمد:مظلوم اقبال۔اعجازاحمد۔کراچی،۱۹۸۵ء
۲- اقبال،علامہ محمد:اقبال نامہ(مرتبہ:شیخ عطاء اللہ)۔اقبال اکادمی پاکستان لاہور، ۲۰۰۵ء
۳- اقبال،علامہ محمد:اقبال نامے(مرتبہ:ڈاکٹراخلاق اثرؔ)۔مدھیہ پردیش اردواکادیمی، بھوپال،۶ ۲۰۰ء
۴- اقبال،علامہ محمد:کلیات اقبال اردو۔شیخ غلام علی اینڈ سنزلاہور،۱۹۷۳ء
۵- اقبال،علامہ محمد:کلیات اقبال فارسی۔شیخ غلام علی اینڈ سنزلاہور،۱۹۷۳ء
۶- اقبال،علامہ محمد:مکتوبات اقبال(مرتبہ:سیدنذیرنیازی)۔اقبال اکادمی پاکستان لاہور،۱۹۷۷ء
۷- حمزہ فاروقی،محمد:حیات اقبال کے چندمخفی گوشے۔ادارہ تحقیقات پاکستان،دانش گاہ پنجاب لاہور،۱۹۸۸ء
۸- سیدعبداللہ،ڈاکٹر:مسائل اقبال۔مغربی پاکستان اردواکیڈمی لاہور،۱۹۷۴ء
۹- علی ہجویری،شیخ:کشف المحجوب(مترجم:میاں طفیل محمد)۔اسلامک پبلی کیشنزلاہور، ۱۹۸۰ء
۱۰- مہر،غلام رسول:اقبالیات مہر(مرتبہ:امجدسلیم علوی)۔مہرسنز لاہور،۱۹۸۸ء
جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورِ نامسعود میں جس نام نہاد روشن خیالی کا بیج بوکر ایک زہریلا پودااُگایا گیا تھا، پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں وہ سیکولرزم، اباحیت پسندی اور فکری انتشار اور نظریۂ پاکستان سے انکار جیسے کڑوے کسیلے اور زہریلے برگ و بار لے آیا ہے۔ پیپلزپارٹی بظاہر تو صبح وشام ’عوام عوام‘ کی رَٹ لگاتی ہے اور ’جمہوریت جمہوریت‘ کی دُہائی بھی دیتی ہے مگر پاکستان کی نظریاتی جہت کے ضمن میں اسے نہ تو عوام کی اُمنگوں کی کوئی پروا ہے نہ جمہور کی خواہشات کا کوئی پاس و لحاظ۔ اس کے برعکس یہ پارٹی بلاتامّل ہر وہ اقدام کر گزرتی ہے جس سے پاکستان کی نظریاتی شناخت دھندلی ہوتی ہے اور جس سے اسلامی شریعت کے نفاذ میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔
کیا پاکستان اس لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں حکمران طبقہ (سرکاری منصب داروں، نوکر شاہی اور برسرِاقتدار پارٹی کے وزرا وار ممبران پارلیمنٹ کی بڑی تعداد سمیت) واضح طور پر بدعنوانیوں، بے ایمانیوں اور طرح طرح کی کرپشن کی بہتی گنگا میں نہاتا نظر آئے؟ پھر یہ کہ ان کے متعدد اہم لوگ پاکستان کی نظریاتی شناخت کے منکر اور سیکولرزم اور ’روشن خیالی‘ کے وکیل بن جائیں؟ حقیقت یہ ہے کہ زیرنظر کتاب کے مؤلف نے بجا طور پر لکھا ہے کہ پاکستان میں سیکولر لابی، اس کی نظریاتی بنیادوں پر تیشہ چلانے میں سرگرمِ عمل ہے اور اس سلسلے میں اُنھیں سیکولر دانش وروں، بعض بھارتی صحافیوں، رقص و موسیقی کے دل دادگاں، میلوں، ٹھیلوں اور بسنت کے شائقین، ویلنٹائن ڈے اور میراتھن ریس کے رسیا، بعض سرکاری عہدے داروں اور کچھ غیرسرکاری کالم نگاروں، برقی ذرائع ابلاغ، اینکروں کے ایک طبقے اور چند اخبارات کی تائید حاصل ہے۔ ان لوگوں نے ایک جتھا بنا لیا ہے اور اُنھیں قائدعظم کی ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کی صورت میں ایک ہلدی کی گانٹھ مل گئی ہے، جس کے بل بوتے پر انھوں نے سیکولرزم اور آزاد خیالی کی دکان کھول لی ہے۔ حالیؔ کیا خوب کہہ گئے ؎
مال ہے نایاب، پر گاہک ہیں اکثر بے خبر
شہر میں حالیؔ نے کھولی ہے دکان سب سے الگ
اگر آپ اس ٹولے کی صفوں پر نظر ڈالیں اور ان کے ماضی پر غور کریں تو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ یہ طبقہ پرلے درجے کا موقع پرست ہے۔ ان موقع پرستوں میں ایک تو وہ ’ترقی پسند‘ ادیب اور دانش ور صحافیوں کا طائفہ شامل ہے، جس کا ’قبلہ‘ روزِ اوّل ہی سے ماسکو رہا ہے۔ ۱۹۱۷ء میں ’سرخ سویرا‘ طلوع ہوا تو روس کے سوا انھیں ساری دنیا میں اندھیرا نظر آنے لگا۔ یہ لوگ کریملن سے جاری ہونے والے ہرنظریے، بیان اور موقف کو وحی کا درجہ دیتے ہوئے اس پر آمنّا وصدقنا کہتے رہے۔ یہ حضرات افغانستان پر روسی حملے کے فوراً بعد روسی ٹینکوں کو طورخم پر ہار پہنانے کے لیے بے تاب نظر آتے تھے، مگر مجاہدین نے یہ موقع ہی نہ آنے دیا، بلکہ روسی فوجوں کا منہ پھیر دیا۔ اس کے نتیجے میں جب اشتراکی روس منہدم ہوگیا توانھوں نے ’عظیم باپ اسٹالن‘ کی مدح خوانی سے ہاتھ اُٹھاتے ہوئے اور روس سے منہ موڑ کر اپنا رُخ واشنگٹن کی طرف پھیرلیا۔ ’قبلۂ اوّل‘ سے انھوں نے ترکِ تعلق تو نہیں کیا مگر اب طاقت کا سرچشمہ چوں کہ وہائٹ ہائوس میں منتقل ہوگیا ہے (اور ویسے بھی روسی آقا کنگلے ہوچکے ہیں) اس لیے قلابازی کھانا ضروری تھا۔
موقع پرستوں میں دوسرا طبقہ سرحدی گاندھی کے جانشینوں کا ہے۔ یہ ان سرخ پوشوں کے وارث ہیں جنھوں نے صوبہ سرحد کو پاکستان کے بجاے، بھارت میں شامل کرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر ریفرنڈم میں منہ کی کھائی۔ اب انھوں نے اقتدار کی خاطر، اس پیپلزپارٹی کی حاشیہ برداری میں عار محسوس نہیں کی جس نے ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں صوبہ خیبر میں ان کی معاون و معاہد مفتی محمود کی جمہوری حکومت کو غیرقانونی طور پر برطرف کیا۔ لیاقت باغ میں ۲۳مارچ کے جلسے میں سیدھی سیدھی فائرنگ کرکے (قدرے چھوٹے پیمانے پر) جلیانوالہ باغ کا رِی پلے کیا، اور پھر جنھوں نے ان کے لیڈر ولی خاں کو جیل میں ڈالا، اور ان کی جان کے درپے رہے۔ یہ بھی ہماری سیاست کا المیہ ہے کہ خان عبدالولی خان جیسے بااصول راہ نمائوں کی وراثت ایسے موقع پرستوں کے ہاتھ آئی ہے جنھوں نے سرخ پوشی ترک کر کے امریکی پوشش پہن لی ہے۔ ’بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا‘ کے مصداق یوں اب واشنگٹن سے ان کے ’رومان‘ نے انھیں صوبہ خیبر کی ’خواجگی‘ کیا عطا کی ہے کہ وہ روشِ بندہ پروری کے منکر ہوگئے ہیں۔ ان کے وزرا علی الاعلان نظریۂ پاکستان کا انکار کرتے نظر آتے ہیں۔
اس منظر اور صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے، پیشِ نظر کتاب پاکستان اور اسلامی نظریہ کا مطالعہ کیا جائے تو اس کے مباحث و محتویات کی معنویت بخوبی واضح ہوتی ہے۔
پروفیسر خورشیداحمد نے ۱۹۶۱ء میں ماہنامہ چراغِ راہ کے ’نظریہ پاکستان نمبر‘ میں ایک تحریری مذاکرہ شائع کیا تھا۔ جس میں پاکستان اور بیرونِ پاکستان کے چوٹی کے ۲۴ دانش وروں نے پاکستان کی نظریاتی جہت اور اُس کی اسلامی شناخت پر اپنے اپنے انداز میں اظہار خیال کیا تھا۔ اس مذاکرے کا مجموعی تاثر اس قدر واضح تھا کہ صدر ایوب خان کی حکومت اسے ہضم نہیں کرسکی اور رسالے کو جابرانہ طریقے سے بند کر دیا۔ پروفیسر صاحب نے عدالتِ عالیہ میں اس اقدام کو چیلنج کیا تو عدالت نے ’’اس پابندی کو باطل قرار دے دیا‘‘۔ مذکورہ قلمی مذاکرے کو چراغِ راہ سے بازیافت کر کے مختصر حواشی اور پروفیسر صاحب کے نئے دیباچے کے ساتھ (منشورات، منصورہ لاہور سے) کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔
ایک ایسے ماحول میں جب مطالبۂ پاکستان کے اصل اور بنیادی محرک (پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ) کو ڈھٹائی کے ساتھ نظراندازکرکے واضح طور پر جعل سازی کی جارہی ہے، اور پاکستان کی اسلامی شناخت پر گرد اُڑائی جارہی ہے اور پاکستان مخالف لابی بھارتی، اسرائیلی اور امریکی سرپرستی کے منہ زور گھوڑے پر سوار اپنے کالم نگاروں، اینکروں کے ذریعے، مخالفین کے کشتوں کے پشتے لگا رہی ہے، مذکورہ قلمی مذاکرے کی اشاعتِ نو بہت برمحل ہے۔ یہ ایسا صاف شفاف آئینہ بھی ہے جو قارئین کو بلاکم و کاست پاکستان کی اصل شناخت سے روشناس کراتا ہے۔ اس مذاکرے میں شامل تمام ہی شخصیات اپنے دور کی سربرآوردہ، اور اپنے اپنے شعبوں (قانون، تعلیم، سیاست، ادب، منصفی، فکروتحقیق، تجارت، معیشت وغیرہ) میں مسلّمہ طور پر واجب الاحترام مانی جاتی تھیں۔ تقریباً تمام ہی اصحابِ فکرونظر اس بات پر متفق ہیں کہ دو قومی نظریہ ہی قیامِ پاکستان کی بنیاد ہے۔ ممتاز عالمِ دین مولانا مفتی محمد شفیع کہتے ہیں: ’’دو قومی نظریے کو نظرانداز کردیا جائے تو پھر پاکستان بنانے کی کوئی وجۂ جواز باقی نہیں رہتی (ص ۱۶۴)‘‘۔ معروف ادبی نقاد، محقق اور استاد ڈاکٹر سیدعبداللہ کہتے ہیں کہ: ’’پاکستان اسی نظریے کی خاطر معرضِ وجود میں آیا تھا۔ اس بنیادی حقیقت سے ہٹ کر پاکستان کے جواز کی کوئی صورت باقی نہیں رہ جاتی‘‘ (ص ۱۰۹)۔ ماہر تعلیم، دانش ور اور ادبی نقاد پروفیسر حمیداحمد خاں کہتے ہیں: ’’پاکستان کے بقا، قیام اور استحکام کے لیے اسلامی نظریے کی ضرورت اور اہمیت بڑی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور وہ اس لیے کہ پاکستان جب قائم ہوا تھا تو نظریاتی بنیاد پر ہی قائم ہوا تھا۔ پاکستان نام ہی ایک نظریاتی تنظیم کا مظہر ہے اور اگر وہ اس نظریے سے وابستہ نہ رہے جو اس کے قیام کی غرض و غایت تھا، تو پاکستان کا قیام ہی بے معنی ہوجاتا ہے‘‘۔ (ص ۸۵)
ادیب، شاعر اور سفارت کار میاں بشیر احمد تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن تھے، ان کا خیال ہے کہ ’’اسلامی نظریہ ہی پاکستان کی اساس اور وجۂ جواز ہے‘‘ (ص ۷۷)۔ معروف ناول نگار، شاعر اور بیوروکریٹ فضل احمد کریم فضلی نے کہا: ’’اسلامی نظریے ہی نے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے دلوں کو گرمایا، روح کو تڑپایا اور اُنھیں ایک ایسا نصب العین بخشا جس کے لیے وہ لٹنے، تباہ ہونے، بسے بسائے گھر اُجاڑنے اور اپنی جان تک قربان کرنے پر تیار ہوگئے‘‘۔ (ص ۱۲۱)
چراغِ راہ کے سوالات میں یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ گذشتہ برسوں میں پاکستان اسلامی نظریے سے قریب آیا ہے یا اُس سے دُور ہٹا ہے؟ اور اسی طرح یہ کہ اسلامی نظریے کو عملاً بروے کار لانے کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں؟ مذاکرے کے شرکا نے نہ صرف ان سوالوں کے جواب دیے ہیں بلکہ اُن وجوہ کا بھی ذکر کیا ہے جو پاکستان کو اسلامی نظریے سے قریب آنے میں مانع رہی ہیں، اور پھر یہ بھی بتایا ہے کہ اسلام کے نفاذ کے لیے زمین کو ہموار کرنا کس قدر ضروری ہے۔ اس سلسلے میں فرزندِ اقبال جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال کہتے ہیں: ’’اسلامی نظریے کو عملاً بروے کار لانے کے لیے ذہنیتوں میں انقلاب لانا ضروری ہے‘‘ (ص ۸۰)۔ ایک اور چیز جس کی طرف ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، ڈاکٹر سید عبداللہ اور پروفیسر حمیداحمد خاں نے متوجہ کیا ہے، وہ نظامِ تعلیم کی اصلاح ہے۔ اس ضمن میں معروف مؤرخ، دانش ور، سابق رئیس الجامعہ کراچی اور وزیرتعلیم ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کا خیال ہے کہ اوّل ہمارے اساتذہ کے کردار میں اسلام کا عمل دخل ضروری ہے۔ دوسرے، ہماری ذہنیتوں کو وہی تعلیم بدل سکتی ہے جو طلبہ کے اندر ’صحیح دینی ذوق‘ پیدا کرے اورٹھیٹھ اسلامی ذہنیت اور رجحانات کی حوصلہ افزائی کرے۔(ص ۶۳)
پروفیسر حمید احمد خاں کہتے ہیں: جب تک تعلیم میں بنیادی اصلاحات نہ کی جائیں گی، ہمارے طالب علم اسلامی نظریے سے مانوس نہ ہوں گے۔ اُن کے نزدیک بنیادی اصلاحات میں قرآن و سنت کا فہم، فارسی، عربی اور اُردو کی تعلیم، انگریزی کے بجاے اُردو ذریعۂ تعلیم اور استاد اور شاگرد کا بہتر سطح پر باہمی تعلق شامل ہیں۔ (ص ۹۲)
خان لیاقت علی خان سے لے کر بے نظیر بھٹو تک پاکستان کے تمام وزراے اعظم اور غلام محمد سے لے کر زرداری تک (بشمول ایوب خان، یحییٰ خان، چودھری فضل الٰہی، جنرل ضیاء الحق، فاروق لغاری اور جنرل مشرف) سبھی صدورِ مملکت سال میں دو بار قائداعظم اور علامہ اقبال کو ہمیشہ خراجِ تحسین پیش کرتے رہے لیکن علامہ اقبال اور قائداعظم جس قسم کے پاکستان کی تعمیر چاہتے تھے یا پاکستان کو جس منزل کی طرف لے جانا چاہتے تھے (وہ منزل اسلامی نظام کی منزل تھی اور ایک جدید اسلامی ریاست کی منزل تھی)، ان لوگوں نے ہمیشہ اس راہ میں روڑے اٹکائے بلکہ جس کسی نے نظامِ اسلامی کا مطالبہ کیا، اسے پکڑا، جیل میں ڈالا، یا اُسے پاکستان مخالف قرار دے کر پروپیگنڈا مشینری سے بدنام کرنے کی کوشش کی۔ اب دیکھیے علامہ اقبال نے خطبۂ الٰہ آباد میں مسلمانوں کے لیے ’منظم اسلامی ریاست‘ کا ذکر کیا تھا اور اس کے بعد اُنھوں نے نظریۂ قومیت کی بحث میں مولانا حسین احمد مدنی کے فرمودات کے جواب (روزنامہ احسان، ۹مارچ ۱۹۳۸ء ) میں واضح کر دیا تھا کہ فقط ’’انگریز کی غلامی سے آزاد ہونا منتہاے مقصود نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد اسلامی حکومت کا قیام ہے۔ ایک باطل کو مٹاکر، دوسرے باطل کو قائم کرنا چہ معنی دارد؟ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہندستان کلیتاً نہیں تو ایک بڑی حد تک دارالاسلام بن جائے لیکن اگر آزادیِ ہند کا نتیجہ یہ ہو کہ جیسا دارالکفر ہے،ویسا ہی رہے یا اس سے بھی بدتر بن جائے تو مسلمان ایسی آزادیِ وطن پر ہزار مرتبہ لعنت بھیجتا ہے، ایسی آزادی کی راہ میں لکھنا بولنا، روپیا صرف کرنا، لاٹھیاں کھانا، جیل جانا، گولی کا نشانہ بننا سب کچھ حرام اورقطعی حرام سمجھتا ہے‘‘۔ (مقالاتِ اقبال، مرتبین: سیّد عبدالواحد معینی، محمدعبداللہ قریشی، آئینہ ادب، لاہور، ۱۹۸۸ء، ص ۲۷۹)
علامہ اقبال کی یہ بات ہوبہو مولانا مودودیؒ کی تائید تھی۔ مولانا مودودی علامہ اقبال کے مذکورہ بالا بیان سے پہلے یہ کہہ چکے تھے کہ: ’’انگریز کی غلامی کے بند توڑنا ضرور آپ کا فرض ہے۔ [مگر] آپ کا کام باطل کو مٹاکر حق قائم کرنا ہے۔ ایک باطل کو مٹا کر دوسرے باطل اور بدتر باطل کو قائم کرنا نہیں ہے‘‘ (ترجمان القرآن، صفر ۱۳۵۶ھ [اپریل ۱۹۳۷ء]،جلد۱۰، عدد۲،ص ۹۰)۔ پھر ایک ماہ بعد مولانا نے لکھا: ’’یہ ملک، کلیتاً نہیں تو ایک بڑی حد تک دارالاسلام بن جائے لیکن اگر آزادیِ ہند کانتیجہ یہ ہو کہ یہ جیسا دارالکفر ہے ویسا ہی رہے یا اس سے بدتر ہوجائے تو ہم بلاکسی مداہنت کے صاف صاف کہتے ہیں کہ ایسی آزادیِ وطن پر ہزار مرتبہ لعنت ہے اور اس کی راہ میں بولنا، لکھنا، روپیا صرف کرنا، لاٹھیاں کھانا اور جیل جانا سب کچھ حرام قطعی حرام ہے‘‘۔ (ترجمان القرآن، ربیع الاوّل ۱۳۵۶ھ [مئی ۱۹۳۷ء] جلد۱۰، عدد ۳، ص ۱۶۹-۱۷۰)
قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم نے انھی خطوط پر ۲۵ جنوری ۱۹۴۸ء کو یہ کہا تھا کہ: ’’لوگوں کا ایک طبقہ [اور یہاں اُن کی مراد وہی سیکولر اور دو قومی نظریے سے منحرف طبقہ ہے جس کی ذُریت آج اسلامی نظریے کو مسخ کرنے میں پیش پیش ہے] جو دانستہ طور پر شرارت کرنا چاہتا ہے، یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ پاکستان کے دستور کی اساس شریعت پر استوار نہیں کی جائے گی۔ حالانکہ آج بھی اسلامی اصولوں کا اُسی طرح زندگیوں پر اطلاق ہوتا ہے جس طرح تیرہ سو برس پیش تر ہوتا تھا‘‘۔ (قائداعظم: تقاریر و بیانات، جلد۴، بزمِ اقبال لاہور، ص ۴۰۲)
قائدعظم نے جس ’شرارتی طبقے‘ کی طرف اشارہ کیا ہے، پروفیسر حمیداحمد خاں نے اس کے بارے میں ذرا کھل کر بات کر دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’میرے خیال میں اس نظریے کی طرف بڑھنے میں وہ تمام قوتیں مزاحم ہیں جو ۱۴ سو برس پہلے کبھی ابوجہل کی شکل میں رونما ہوئی تھیں اور کبھی مسیلمہ کذاب کا روپ دھارتی تھیں۔ نام تو بس ایک اضافی سی چیز ہے کہ اپنے اپنے زمانے کے مطابق نام بدل جاتے ہیں۔ لیکن وہ جو شرارِ بولہبی ہے، وہ ہر وقت زندہ ہے اور اسلام سے برسرِپیکار بھی ہے‘‘۔ (ص ۸۶)
پروفیسر حمیداحمد خاں جسے ’شرارِ بولہبی‘ اور قائداعظم جسے ’شرارتی طبقہ‘ کہتے ہیں، اس کا ذکر ہم زیرنظر تحریر کے ابتدائی حصے میں کرچکے ہیں___ اس حوالے سے ہم زیرنظر کتاب میں شامل مولانا مودودی کی چند سطور سیکولر دانش وروں کے غوروفکر کے لیے یہاں نقل کرتے ہیں۔ مولانا لکھتے ہیں: ’’…مسلمان ہونے کے تو معنی ہی یہ ہیںکہ ہمارے خیالات اسلامی ہوں، ہمارے سوچنے کا انداز اسلامی ہو، معاملات پر ہم اسلامی نقطۂ نظر ہی سے نگاہ ڈالیں اور اپنی تہذیب و تمدن، سیاست، معیشت اور فی الجملہ اپنے پورے نظامِ زندگی کو اسلام کے طریقے پر چلائیں۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو آخر کس بنا پر ہم اپنے آپ کو مسلمان کہنے کے حق دار ہوسکتے ہیں؟ مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی کرنا اور پھر اپنی زندگی کے مختلف گوشوں میں کسی غیراسلامی نظریے پر کام بھی کرنا، لازماً یہ معنی رکھتا ہے کہ یا تو ہم منافق ہیںاور دل سے مسلمان نہیں ہیں، یا پھر ہم جاہل ہیں اور اتنا شعور بھی نہیں رکھتے کہ مسلمان ہونے کے کم سے کم منطقی تقاضے کیا ہیں؟‘‘ (ص ۳۳)۔ ہمارا خیال ہے کہ پاکستان کی اسلامی شناخت پر گرد اُڑانے والے سیکولر دانش وروں کو غور کرنا چاہیے کہ ان کی اپنی ’شناخت‘ کیا ہے؟
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامیوں اور سیکولرسٹوں کے درمیان جو کش مکش اور پیکار جاری ہے، زیرنظر کتاب دانش و برہان کے اسلحے کے ذریعے اسلامیوں کے ہاتھ مضبوط کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ بقول مرتب: ’’آج پاکستان جن مسائل میں گھرا ہوا ہے، اس کا واحد حل دوقومی نظریے کی بازیافت اور اسلامی نظریۂ حیات کے لیے مکمل یکسوئی میں پوشیدہ ہے‘‘۔ (ص ۲۸)
(پاکستان اور اسلامی نظریہ، پروفیسر خورشیداحمد، مرتب: سلیم منصور خالد۔ منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲۔ صفحات: ۲۴۸۔ قیمت: ۲۷۵ روپے۔)
مسجدِ حرام میں قدم رکھا تو ایک عجیب سی طمانیت کا احساس ہوا۔ راستہ ڈھلواں ہے، دونوں طرف فرشِ مسجد پر قیمتی قالین بچھے ہیں۔ سامنے کعبہ کی مختصر سی عمارت ہے--- حرم شریف نشیب میں واقع ہے۔ ایک پیالہ ساکہ جس کے کناروں پر مسجدالحرام کی دومنزلہ عمارت ہے۔ حرم کے مینار اتنے اُونچے نہیں کہ پگڑی سنبھالنی پڑے۔ اس لمحے میں نے صرف اتنا کچھ دیکھا یا دیکھ سکا۔ میں حرمِ کعبہ کے پہلے نظارے میں یوں کھو گیا تھا کہ ماحول کی ہرتفصیل نگاہوں سے اوجھل ہوگئی تھی۔ یہ لمحہ بہت عظیم تھا اور اب بھی ہے۔ (ارضِ تمنّا، ص۱۴۲-۱۴۳)
o
میں باب السلام کے سامنے کھڑا تھا۔ حرم میں داخل ہوا اور کعبہ کی کشش کو دل میں محسوس کرتے ہوئے، بیرونی ہال سے گزرتے ہوئے ان سیڑھیوں کے پاس جا پہنچا جو کھلے آسمان تلے موجود اُس وسیع احاطے تک جاتی ہیں جس کے بیچوں بیچ، سیاہ غلاف میں ملفوف، وہ مکعب عمارت ہے جسے کوئی چار ہزار سال قبل ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی مدد سے تعمیر کیا تھا اور جو سیکڑوں سال سے اربوں انسانوں کی روحانی زندگی کا مرکز رہی ہے۔
آنکھیں سیاہ پوش عمارت پر مرتکز اور دل ایک عجب سرور سے سرشار، پائوں سرد سنگِ مرمر پر یوں جیسے اس سحرانگیز لمحے میں جسم کے وزن سے آزاد ہوچکے ہوں۔ نہ جانے کتنا وقت گزر گیا، بالآخر دل میں کوئی چیز پگھلی، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جیسے کوئی چشمہ خاموشی سے جاری ہوگیا ہو۔
ہزاروں مرد، عورتیں، اور بچے صحن میں موجود تھے۔ ان میں طواف کرنے والے بھی تھے اور وہ بھی جو رات کے اس اوّل پہر میں کعبہ کے گرد عبادت میں مصروف تھے۔ طواف کرنے والوں میں احرام میں ملبوس زائر بھی تھے اور عام کپڑوں میں ملفوف مکین بھی، سب کعبہ سے نکلنے والی پُراسرار جذبی شعاعوں کی غیرمرئی کشش میں محصور، متحرک بچے، عورتیں، مرد اور فرشتے جو اس رات بیت اللہ کی زیارت کے لیے بلائے گئے تھے۔
نظر درِ کعبہ پر مرتکز کیے، صحن کی طرف اُترنے والی سیڑھیوں پر کھڑا ایک حاجت مند فقیر جس کا دل ربِ کعبہ کی بڑھتی ہوئی کشش سے یوں دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پھٹ جائے گا اور اپنے قفس کو توڑ کر کسی پرندے کی طرح پھڑک کر ڈھیر ہوجائے گا۔ (سحرِمدینہ،ص ۲۰-۲۱)
o
دنیا کے بتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا
یہ سیاہ پتھروں سے بنا ہوا چوکور کمرہ حرم شریف کی عالی شان دومنزلہ عمارت کے درمیان اس طرح مسند نشیں ہے جیسے کسی قیمتی انگوٹھی میں کوئی بیش قیمت سیاہ پتھر آویزاں ہو جس سے بے شمار کرنیں پھوٹ رہی ہوں۔ میں اور میری اہلیہ عجب عالمِ استغراق میں تھے۔ دعا کے لیے ہاتھ بلند تھے۔ سارے اعزا و اقربا، احباب جو دنیا میں تھے یا دنیا سے جاچکے تھے ایک ایک کرکے یاد آرہے تھے۔ بیت اللہ کے سنہرے دروازے پر نگاہ ٹکی ہوئی تھی کہ کاش! یہ کھل جاتا اور کاش! ہم اندر کا منظر بھی دیکھ لیتے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اللہ کا گھر تو بالکل ایک عام انسان کے گھر سے بھی معمولی ہے، مگر اس کے اردگرد بقعۂ نور بنی ہوئی بلندوبالا عمارتیں حقیر محسوس ہورہی تھیں۔ اللہ کے گھر میں کوئی چمک دمک نہ تھی مگر مسجدحرام کی پُرشکوہ محرابیں، سلیٹی دھاریوں والے سنگِ مرمر کی بلندوبالا دیواریں، پُروقار و چمک دار ستون جن کو بڑے بڑے روشن فانوس اپنی شعاعوں سے جگمگا رہے تھے لیکن کسی زائر کی نگاہیں اللہ کے گھر کے سامنے ان عمارات پر نہیں ٹکتی تھیں۔ سب کی نگاہوں کا محور وہ سیاہ غلاف سے ڈھکا ہوا چوکور کمرہ تھا جو ہر طرح کی زیبایش سے بے نیاز تھا۔ اس گھر کے جاں نثار اگر اجازت ہوتی تو اسے سونے کی چادروں سے ڈھک دیتے مگر اس گھر کے مالک کی یہی مرضی تھی کہ اس کا گھر بھی ایک عام انسانوں کے گھر جیسا نظر آئے اور اسی صورت میں برقرار رہے جس شکل میں اسے معمارِ اوّل حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا۔ (جلوے ہیں بے شمار،ص ۱۵)
o
تم اس گھر پہنچ گئے ہو جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا اور ان کے رب نے اس شہر کو ایسا امن کا مسکن بنایا کہ جو اس میں داخل ہوتا ہے اس کے جان و مال محفوظ و مامون ہوجاتے ہیں۔ یہی گھر اُس ہدایت کا مرکز بھی ہے جس میں انسان پورے کے پورے داخل ہوجائیں تو ان کے قلب و روح، فکروسوچ، اخلاق و کردار، شخصی زندگی اور حیاتِ اجتماعی، سب محفوظ و مامون ہوجاتے ہیں۔ انسان اگر کہیں خوف و حزن، ظلم و فساد اور دنیا و آخرت کے بگاڑ اور تباہی سے امن حاصل کرسکتا ہے تو اس بناے ہدایت میں داخل ہوکر جو عالمِ معنوی میں خانہ کعبہ کی مثال ہے، وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا (اٰل عمرٰن ۳:۹۷)۔ (حاجی کے نام، ص ۲۰)
o
حرم کا صحن بقعۂ نور بنا ہوا ہے۔ برآمدوں میں فروزاں ہزاروں یا شاید لاکھوں برقی قمقموں اور فانوسوں کی روشنی خانۂ خدا کی طرف لپک رہی ہے۔ برآمدوں کی چھت پر نصب ۱۴۴ انتہائی طاقت ور سرچ لائٹس، ۱۴۴ ننھے منھے سورجوں کی طرح دہک رہی ہیں۔ قطار اندر قطار بیٹھے ان ہزاروں لاکھوں زائرین میں سے کچھ اللہ کے ایسے پُراسرار بندے بھی ہیں جن کے زمانے عجیب اور جن کے فسانے غریب ہیں- -- اگلے دن مغرب کی نماز سے ذرا پہلے ایک ایرانی نوجوان میرے پہلو میں بیٹھا تھا۔ اذان کی آواز بلند ہوتے ہی اُس نے جھٹ سے کوئی نمبر ملایا، لمحہ بھر کو بات کی اور پھر فون بند کیے بغیر ہاتھ میں پکڑے رکھا۔ اذان ختم ہوئی تو اُس نے فون بند کر دیا اور میری طرف دیکھ کر بولا: ’’میری ماں نے کہا تھا کہ مجھے حرم شریف کی اذان ضرور سنانا‘‘۔
میں مسلسل کعبہ کے غلاف کو دیکھ رہا ہوں۔ حجراسود کے عین اُوپر، چھت کے قریب سنہری ریشے سے بنے الفاظ یاحیی یاقیوم، میری نگاہوں کے سامنے ہیں۔ شام رات میں تحلیل ہورہی ہے لیکن ہزاروں لاکھوں برقی قمقموں کی روشنی نے حرم کے دالان کو نور میں نہلا دیا ہے۔ ایک دو دن بعد جب میں یہاں سے چلا جائوں گا تو بھی یہ دالان، یہ روشنیاں، یہ بیت اللہ اسی طرح موجود ہوں گے۔ یاحیی یاقیوم ، میں تو شاید پھر سے دنیا کے جھمیلوں میں تجھے بھول جائوں، لیکن تو مجھے یاد رکھنا۔ تو نے بھلا دیا تو میں کہاں جائوں گا؟ (مکہ مدینہ، ص ۴۶-۴۷)
o
اللہ کے گھر کے سامنے ہم نہ جانے کتنی دیر دست بدعا رہے، یاد نہیں۔ سفر کی تکان غائب ہوچکی تھی اور ہم مطاف میں داخل ہوکر عشاق کے اُس سیلِ رواں کا ایک حصہ بن گئے تھے جو مصروفِ طواف تھا۔ کبھی نگاہ ملتزم پر جاکر رُک جاتی تھی، کبھی حجراسود کو دُور سے بوسہ دیتی، کبھی رکنِ ایمانی پر دل اٹک جاتا اور کبھی حطیم کے اندر داخل ہوکر نماز ادا کرنے کی اُمنگ دل پر چھا جاتی۔ طواف تھا کہ جاری تھا۔ میری اہلیہ اپنے گھٹنوں کے درد کو بھول کر اس طرح چل رہی تھی گویا جنت کی کسی کیاری میں گلگشت کر رہی ہوں۔ ہمارے آگے پیچھے دائیں بائیں کبھی ایرانی، کبھی ترکی، کبھی مصری، کبھی شامی، کبھی امریکی و یورپین، کبھی پستہ قد انڈونیشیائی، کبھی درازقد اور بھاری بھرکم صافوں اور لبادوں میں ملبوس افغانی، کبھی وسط ایشیا و چین کے مخصوص رنگ و بناوٹ کے مرد عورت اس طرح چل رہے تھے جیسے سمندر میں بے شمار موجیں اُٹھ رہی ہوں، مگر ہرشخص اسی فکر میں غلطاں کہ اس کی وجہ سے دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے۔ سب کی زبان پر دعائیں، کوئی بآواز بلند اور کوئی دھیرے دھیرے اللہ کے کلام اور مسنون دعائوں کے ورد میں مصروف مگر کچھ ایسے بے تاب و مضطرب لوگ بھی تھے جو مطاف میں سب سے آگے نکلنے کی دُھن میں یوں چھلانگ لگاتے گویا سامنے جنت کا دروازہ ہے اور وہ سب سے پہلے داخل ہونا چاہتے ہیں۔(جلوے ہیں بے شمار، ص۱۶)
o
اس گھر کے گرد جتنے طواف کرو، کم ہیں، بلکہ میں تو یہی کہوں گا کہ جتنا وقت بھی تمھیں اس کے جوار میں گزارنے کے لیے ملے، اور جتنی محبت و استطاعت اللہ تمھیں دے، سب طواف کرنے میں لگا دینا۔ نماز، رکوع، سجدہ، تلاوت، سب عبادات ہر جگہ ہوسکتی ہیں، اگرچہ مسجدالحرام میں ان عبادات کا ثواب لاکھوں گنا زیادہ ہے، لیکن طواف کی نعمت تو اور کہیں بھی میسر نہیں آسکتی۔ طواف میں جو والہیت ہے، وارفتگی ہے، عشق و محبت ہے، وہ اور کسی عبادت میں نہیں۔ طواف کی ہمت نہ ہو، تو اس محبوب اور حُسن و جمال میں یکتا گھر کو جی بھر کے دیکھنا، اس کے گرد نثار ہوتے ہوئے پروانوں کو دیکھنا۔ دل کے لیے کیف و لذت کا یہ سرمایہ بھی اور کہیں میسر نہ آئے گا۔ (حاجی کے نام، ص۲۱)
o
رکنِ یمانی کے پاس سے گزرتے ہوئے میں کعبہ کی دیوار سے متصل اس قطار میں جاکھڑا ہوا جو حجرِاسود کی طرف بڑھ رہی تھی--- قطار زیاہ طویل نہ تھی اور اس وقت قطار کے باہر سے حجراسود کی طرف آنے والوں پر سخت پہرہ تھا۔ اس لیے لوگ تیزی سے سیاہ پتھر تک پہنچ رہے تھے۔ وہ آگے بڑھتے، ہونٹوں کو حجراسود پر رکھتے اور دو تین ثانیوں میں پہرے دار ان کے سر کو پیچھے دھکیل دیتا۔ ایک شخص پیچھے ہٹایا جاتا تو فوراً دوسرا اس کی جگہ لے لیتا۔ میری باری آئی، میں نے سر جھکا کر چاندی کے طاقچے میں رکھے ہوئے پتھر پر ہونٹ رکھے، پتھر چمکا، اس کے اندر ہزارہا سفید اور سبز لکیریں پل بھر کو جگمگائیں، پھر ایک سخت اور کھردرے ہاتھ نے میرے سر کو پیچھے دھکیل دیا، اور ایک ہجوم مجھے اپنے ساتھ لیتا ہوا ملتزم کی طرف بڑھا۔
درِ کعبہ اور حجرِاسود کے درمیان واقع دیوار کے قریب کھڑے پندرہ بیس آدمی، کچھ گریہ کناں، کچھ خاموش، کچھ ذرا بلندآواز میں رحمت ِ خداوندی کے خواستگار، اور ان میں شامل ایک فقیر جو طواف کے بعد کعبہ کے رب کی خوشنودی اور اعانت کا طالب تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ ادھیڑ عمر آدمی جس کے پیچھے کھڑا میں دیوارِ کعبہ کو چھونے کا منتظر تھا، آہستگی سے پیچھے ہٹا، ایک نظر مجھ پر ڈالی اور اپنی آنسوئوں سے تر داڑھی اور چہرے کے نقوش کی اَنمٹ یاد چھوڑتے ہوئے ہجوم میں اوجھل ہوگیا۔
میں آگے بڑھا، کعبہ کے غلاف کو چھوا اور پھر غلاف کے نیچے موجود پتھروں کو۔ جیسے ہی ہاتھ پتھروں سے مَس ہوئے، سارے وجود میں ایک غیرمرئی طاقت ور لہر دوڑ گئی، جسم کپکپایا اور دل نے التجا کی:
یااللہ! اے اس قدیم گھر کے رب! آزاد فرما ہماری اور ہمارے آبا کی گردنوں کو، اور ہماری مائوں اور بھائیوں کی اولاد کی گردنوں کو، اے صاحب ِ جُود و کرم و فضل و عطا! اے احسان کرنے والے! اے اللہ! ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا فرما اور ہمیں بچالے دنیا کی رسوائی سے اور آخرت کے عذاب سے۔
اے اللہ! تجھ سے التجا ہے کہ ---
اے اللہ! میں تیرے در سے لپٹا گریہ کناں ہوں ---
اے اللہ! اے اللہ! ---
وہ ایک نرم ہاتھ تھا لیکن اس کے اندر نہ جانے کیا پکار تھی کہ جیسے ہی میں نے اسے اپنے شانے پر محسوس کیا، میں دیوار سے پیچھے ہٹ آیا اور احرام میں ملبوس ادھیڑعمر آدمی، جس نے مجھ سے کامل خاموشی کے ساتھ دیوارِ کعبہ کے قرب میں کھڑے ہونے کی فہمایش کی تھی، میری جگہ پر جاکھڑا ہوا۔ اس خاموش تبادلے میں ایک خوبی تھی، ایک بہائو تھا، ایک باہمی رشتے کی خوشبو تھی، ایک نسبت تھی جو دین حنیف سے منسلک انسانوں کو ایک دوسرے کا مونس بناتی ہے۔ (سحرِمدینہ،ص ۲۷-۲۹)
m
اللہ کا گھر ہر لمحے، ہرثانیے، ہر پَل یونہی آباد رہتا ہے۔ کعبۃ اللہ کے گرد، دن رات اور دھوپ چھائوں کی تمیز کے بغیر خلقِ خدا کا دائرہ پیہم حرکت میں رہتا ہے--- قافلۂ شوق صدیوں سے رواں دواں ہے---
لبیک اللّٰھم لبیک کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ چہرے عقیدت کی آنچ سے تمتما رہے ہیں۔ آنکھوں سے آنسوئوں کے سیلاب جاری ہیں۔ آہیں اور سسکیاں تھمنے میں نہیں آرہیں۔ مرد بھی، عورتیں بھی، بچے بھی، بڑے بھی، جوان بھی اور لب ِ گور پہنچ جانے والے بھی۔ کچھ طواف کر رہے ہیں، کچھ نوافل ادا کر رہے ہیں اور کچھ سعی میں مصروف ہیں۔ کچھ تسبیح پر اوراد و وظائف پڑھ رہے ہیں۔ کچھ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے ہیں اور کچھ گردوپیش سے بے نیاز خانۂ کعبہ پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ ان سب کے دل عبودیت اور بندگی کے احساس سے لبالب بھرے ہیں۔ سب اپنی خطائوں پر نادم ہیں۔ سب خداے رحیم و کریم سے عفو و درگزر کے خواستگار ہیں۔ سب کی گردنیں عجزوانکسار سے جھکی جارہی ہیں--- انڈونیشیا سے مراکش تک پھیلی مسلم ریاستوں میں بسنے والے، غیر مسلم ممالک میں اقلیتوں کی زندگی گزارنے والے، سب کھنچے چلے آرہے ہیں۔ ۱۴ سو سال سے صحن حرم یونہی آباد ہے۔ فجر کی اذان کے ساتھ ہی ابابیلوں کے جھنڈ اسی طرح اُمنڈ اُمنڈ کر آرہے ہیں اور حرم کا معطر دالان سرمئی کبوتروں سے لبالب بھرا ہے۔ (مکّہ مدینہ،ص ۲۲-۲۳)
o
تمھاری نظروں کے سامنے جو گھر ہے، وہ گھر والے کی تجلیات گاہ ہے۔ انھوں نے اسے زمین کا مرکز بنایا ہے، کنویں کے گھاٹ کی طرح لوگ پلٹ پلٹ کر اس کی طرف آتے ہیں اور کسی طرح سیراب ہونے میں نہیں آتے۔ لوگوں کے قیام و بقا کا سامان بھی اسی گھر کے دم سے ہے۔ جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قَیَامًا لِلّنَّاسِ (المائدہ ۵:۹۷) مَثَابَۃً لِلَّنَّاسِ وَاَمْنًا (البقرہ ۲:۱۲۵)۔ (حاجی کے نام، ص ۲۱)
o
ایسا کیوں ہے کہ ہم لوگ جو حرم میں داخل ہوتے ہی اپنے اندر ایک جہاں نو کروٹیں لیتا محسوس کرتے ہیں اور ہمارے احساس و خیال کی دنیا میں زلزلہ سا بپا ہوجاتا ہے، حرم سے نکلتے اور اپنے آشیانوں کو لوٹتے ہی، سارے لطیف احساسات اور ساری منور سوچوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔
مسلم ممالک مسلسل گردابِ بلا کے تھپیڑے کھا رہے ہیں۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے افغانستان آگ اور خون میں نہاگیا۔ ہماری آنکھوں کے سامنے بصرہ و بغداد پر قیامت ٹوٹ گئی۔ فلسطین، کشمیر اور چیچنیا میں درندہ صفت سامراجیوں کی بھوک مٹنے میں نہیں آرہی۔ ہم کہ سوا ارب سے زائد سر اور اس سے دُگنے ہاتھ رکھتے ہیں، بے چارگی اور بے بسی کی تصویر بنے تماشا دیکھ رہے ہیں--- سوال پیدا ہوتا ہے کہ سوا ارب انسان کیا کرر ہے ہیں؟ اگر اتنی چنگاریاں بھی بہم ہوجائیں تو جانے کتنے سامراج بھسم ہوجائیں لیکن ایسا کیوں نہیں ہو رہا؟ ممکن ہے اس سیاہ بختی کا ایک سبب سائنس اور ٹکنالوجی سے محرومی بھی ہو۔ لیکن بلاشبہہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عشق کی آگ بجھ چکی ہے اور مسلمان راکھ کا ڈھیر بن کر رہ گیا ہے۔ ہماری صفیں کج، دل پریشاں اور سجدے بے ذوق ہیں۔ ہمارے دلوں میں ایمان کی حرارت سرد پڑتی جارہی ہے اور ہمارا کردار و عمل ان تعلیمات سے دُور ہوتا جا رہا ہے جو اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسولؐ نے ہم تک پہنچائیں---
میں حجراسود کے عین سامنے بیٹھا، غلافِ کعبہ پر نظریں جمائے سوچتا رہا کہ ایسی ہریالی ، ایسی زرخیزی اور ایسی شادابی کے بعد بھی ہمارے دل و نگاہ کا شجر یکایک ٹنڈ منڈ کیوں ہوجاتا ہے؟ حج اور عمرے، طواف اور سعی، اوراد اور وظائف، عبادتیں اور زیارتیں، سب کچھ پُربہار موسم کی خوشبو بھری پھوار کی طرح آتے اور گزر جاتے ہیں اور ہم ایک بار پھر دنیاداری کے لق و دق صحرا میں غرق ہوجاتے ہیں--- جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے وقت ہمارے ایک ہاتھ میں آبِ زم زم کا کنستر اور دوسرے ہاتھ میں کھجوروں کی پوٹلی ہوتی ہے اور صحن حرم میںعطا ہونے والے جذب و کیف اور روح و فکر میں بپا ہونے والے انقلاب کی گٹھڑی ہم اُسی میقات پر چھوڑ آتے ہیں، جہاں سے احرام باندھ کر حدودِ حرم میں داخل ہوتے ہیں۔(مکہ مدینہ، ص ۲۳-۲۴)
مدینہ کی فضا کافی خوش گوار تھی۔ بادل آسمان پر آتے تھے اور گاہے گاہے بارش ہوتی تھی۔ مکّہ کی فضا میں عجب جاہ و جلال تھا۔ چٹانوں اور پہاڑوں، وادیوں اور گھاٹیوں کے بیچ میں کھردرے سیاہ پتھروں کے نہایت سادہ سُودہ گھر کے سامنے سارے انسان حقیر نظر آتے ہیں جو والہانہ اس گھر کا طواف کرتے ہیں--- مدینہ میں انسان خود کو ہر طرح کے بوجھ (tension) سے آزاد اور ایک عجیب دوستانہ ماحول میں خود کو محسوس کرتا ہے۔ ہر شے سے اُنس و محبت کی خوشبو آتی ہے۔ ہرطرف لطافت اور خوش گواری کے منظر نظر آتے ہیں۔ حرمِ نبویؐ کے ساتھ ہی مدینہ شہر اور اس کے مضافات کا گوشہ گوشہ اپنی حیات افروز تاریخ چھپائے ہوئے ہے۔ (جلوے ہیں بے شمار،ص ۴۹)
o
مسجدنبویؐ کے اس حصے میں جو روضۂ اطہر سے ملحق ہے اور جہاں حجرۂ عائشہ صدیقہؓ اور حضور اکرمؐ کا مصلیٰ و منبر تھا، قدم رکھتے ہوئے احساس ہو تاکہ کہیں ہمارے ناپاک وجود ناپاک قدم اس مقام کے تقدس کو مجروح تو نہیں کر رہے ہیں۔ مسجد نبویؐ اور روضۂ اطہر ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ مسجد کی عمارت بے حد وسیع و شان دار ہے۔ بے حد کشادگی ہے۔ سب کو نماز ادا کرنے کی جگہ آسانی سے حاصل ہوجاتی ہے۔ بقول مولانا عبدالماجد دریابادی حُسن و جمال کے لحاظ سے، خوبی و محبوبی کے لحاظ سے، زیبائی و دل کشی کے لحاظ سے پردئہ زمین پر اس مسجد کا جواب نہیں۔ بس یہ جی چاہتا ہے کہ ہروقت صحن میں بیٹھے ہوں اور عمارتِ مسجد کی طرف ٹکٹکی لگی رہے۔ تصور میں ۱۴سوسال کی تاریخ پھر جاتی ہے۔ دورِصحابہ، تابعین و تبع تابعین اور اہل اللہ و اہلِ حق کی ایک طویل قطار سامنے آتی ہے جنھوں نے تاریخ میں اس مسجد کے صحن و محراب میں آکر خدا کے حضور رکوع و سجود کیا ہوگا۔ روضۂ اطہر پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا ہوگا--- اللہ اللہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم خود دورِ نبویؐ میں آگئے ہیں۔ (جلوے ہیں بے شمار،ص ۴۸-۴۹)
o
روضۂ رسولؐ کے سامنے کھڑا فرد عجیب کیفیتوں سے دوچار ہوتا ہے۔ وہ ہیبت، خوف اور تلاطم جو کعبہ کے قرب سے دل میں پیدا ہوتا ہے، نبیؐ کی قبر کے پاس محبت، نرمی اور سکون سے بدل جاتا ہے۔ کوئی دومیٹر چوڑا راستہ، جو زائرین کو سبز جالیوں کے پیچھے موجود ان تین قبروں کے قریب لاتا ہے جن میں حضوؐر اور ان کے دو اصحابؓ مدفون ہیں، نسبتاً خالی ہوا تو میں اس قطار میں جاکھڑا ہوا جو آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی اور جس میں شامل لوگ اس عظیم تجربے کے منتظر تھے جو روضۂ رسولؐ کے قرب سے دلوں میں تغیر پیدا کرتا ہے۔
روضے کے قریب پہنچ کر میں قطار سے نکل کر اس چھوٹے سے ہجوم میں شامل ہوگیا جو رواں قطار کے پیچھے کھڑا تھا۔ اس ساکت گروہ میں موجود لوگ نبیؐ پر درود و سلام بھیج رہے تھے، دعاگو تھے اور اپنی اپنی کیفیت و حالت و مقام کے مطابق اس مبارک مقام سے فیض حاصل کر رہے تھے۔ ان میں سے اکثر کے لبوں سے سلام و درود کی صدائیں اُبھر رہی تھیں۔(سحرِمدینہ،ص ۷۴-۷۵)
o
سامنے رسولؐ خدا سو رہے ہیں۔ کوئی لمحہ درود و سلام اور سجدہ و تکبیر سے خالی نہیں۔ یہ تسبیح و تہلیل، قرآن و حدیث، ذکر و اذکار، نوافل و وظائف اور دعا و صفا کی دنیا ہے۔ اس کی بنیادیں وہی ہیں جو رسولؐ اللہ نے اٹھائی تھیں۔ اس کی روح رسولؐ اللہ کی روح ہے۔ اُمہات المومنینؓ کی حیا چاروں طرف محیط ہے۔ صحابہؓ کی آوازیں گندھی ہوئی ہیں اور اہلِ بیت بولتے چالتے ہیں۔ صرف محسوس کرنے کی ضرورت ہے اور احساس کسی کسی کو ملتا ہے۔(شب جاے کہ من بودم، ص ۱۴۰)
o
اس حجرے سے متصل چبوترے پر بیٹھ کر میں نے قرآن شریف کا ربع پڑھا۔ یہ جگہ وہ ہے جو مسجدنبویؐ کے صحن میں اصحابِ صفہ کے لیے مخصوص تھی۔ قرآن شریف میں نے ریک میں رکھ دیا اور سر جھکا کر بیٹھ گیا۔ میں یہ دعویٰ نہیں کروں گا کہ مجھ پر استغراق کی حالت طاری ہوئی اور میں ۱۴سو سال پیچھے چلا گیا، البتہ یہ ضرور ہوا کہ حضوؐر کی سیرت و سوانح پر میں نے بچپن سے بڑھاپے تک جو کچھ پڑھا تھا، وہ ایک فلیش [جھلک] کی صورت میں میری نگاہوں کے سامنے سے گزر گیا۔ اس کی تفصیل میں بیان نہیں کرسکتا۔
تاہم میں نے ایک انقلاب کو مدینے میں مکمل ہوتے ہوئے دیکھا، جس کا آغاز مکّے میں ہوا تھا۔ آغاز اور انجام کے درمیان صرف ۲۳ سال کا زمانہ حائل تھا۔ یہ ایک مکمل و اکمل انقلاب تھا جس میں انسانیت کے ہرپہلو کی تنقیح و تہذیب ہوگئی تھی۔ معاشرت انسانی کی ایک نئی تعبیر وجود میں آئی تھی۔ دین و دنیا میں ہم آہنگی کی ایک نئی تصویر اُبھری تھی اور ایک نہایت خوب صورت متوازن، مہذب اور متمدن معاشرہ قیام پذیر ہوگیا تھا۔ (ارضِ تمنّا، ص۸۷)
o
رات مسجد اور غسل خانوں کے درمیان صحن سے گزرتے ہوئے آسمان نے مجھے روک لیا۔ اس کی گہرائیوں میں ایسا سکون تھا جو میں نے آج سے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا۔ ستاروں سے مزین گہرے نیلے رنگ کے شفاف آسمان میں ایک نور تھا جو اس کی بسیط وسعتوں میں موجزن تھا۔ نہایت دھیما، ٹھنڈا نور جو اس کے نیلے رنگ کے اندر سے اُمڈ رہا تھا۔ کیا یہ لیلۃ القدر تھی؟
تراویح کے دوران قرآن حکیم کی آخری سورتوں کے اثر سے دل کانپتا رہا، آنکھوں سے آنسو بہتے رہے اور دل کے اندر کوئی شے یوں پگھلتی رہی جیسے موم بتی پگھلتی ہے۔ (سحرِمدینہ، ص ۱۲۷)
o
مدینہ منورہ، چمنستان ہستی کا ایک سدا بہار پھول ہے جس کی لطافت سب سے جدا، جس کے رنگ سب سے منفرد اور جس کی خوشبو سب سے مسحورکن ہے۔ اس کی ہوائوں میں کچھ ایسا جادو اور فضائوں میں کچھ ایسا حسن ہے کہ کسی بھی خطۂ ارضی سے آنے والا انسان اپنے جذبات و احساسات پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ مکہ مکرمہ کے پُرشکوہ جلال کے دائرے سے نکل کر مسجدنبویؐ کے احاطۂ جمال میں داخل ہوتے ہی قلب و نظر ایک سراسر مختلف کیفیت سے ہم کنار ہوجاتے ہیں۔ اس کیفیت کی سرشاری اور سرمستی کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جو برسوں کوچۂ جاناں تک پہنچنے کی آرزو میں سلگتا رہا ہو۔ جس کی زندگی کا ہرلمحہ حضوری و حاضری کی تمناے بے تاب سے مہکتا رہا ہو۔ جس نے انتظار کی لمبی راتیں اور آتشیں دن گزارے ہوں۔ جو صرف اس لیے جیتا رہا ہو کہ مرنے سے قبل اپنی آنکھوں کو گنبد خضریٰ کے عکس جمیل سے منور کرلے۔(مکہ مدینہ، ص ۲۵)
o
اب سکون قلب، طبعی اہتزاز و انبساط، احساس فرحت و مسرت سے طبیعت چمن چمن ہوتی محسوس ہوئی، شاید حضوؐر اپنے غلاموں کو رخصت کرتے ہوئے اُن کے اضمحلال و نقاہت کو ان کی رگوں سے نکال کر ایک جذبۂ توانا بھر دیتے ہیں۔ انعاماتِ بارگاہ رسالت کا یہ جرعۂ اولیں سیر ہوکر اپنی نَس نَس میں اُتارتا ہوں۔ یہ آس بندھ جاتی ہے کہ حضوؐر اپنے حوضِ کوثر سے اپنے غلام ابن غلام کو ایک جامِ لب ریز سے ضرور نوازیں گے۔ اس یقین کے ساتھ واپس اپنے ہوٹل آجاتا ہوں۔(حرمین شریفین میں،ص ۱۴۶)
o
حج کے اس سفر سے بڑا سکون بڑی طمانیت حاصل ہوئی۔ دل میں یہ خواہش بار بار کروٹ لیتی رہی کہ کاش! اسی طرح بار بار جوارِ حرم اور دیارِ حبیب کی حاضری کا شرف حاصل ہوتا رہے، مگر پھر یہ خیال آتا کہ اس حرم کے مالک اور اسی دیار کے حبیب نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ہر مومن کو اپنے گردوپیش سے باخبر رہنے اور اسے صالحیت کی طرف موڑنے کی ہرآن فکرکرنی چاہیے۔ حج اگر فرض کی ادایگی کے بجاے سیاحی و تفریح بن جائے تو یہ پسندیدہ بات نہیں۔ افسوس کہ کتنے اہلِ ثروت اپنی ملّت کے غریب و پس ماندہ لوگوں کی ضرورتوں کی طرف توجہ نہیں کرتے اور کرتے بھی ہیں تو اس طرح کہ اپنے وسائل کے سمندر سے چند قطرے ملّت کے پریشان لوگوں کی طرف بھی ٹپکا دیتے ہیں۔ چنانچہ اسلامی معاشرے میں عدم توازن اور اسلام کی قوت و شوکت کے فقدان کے مظاہر ہروقت سامنے آتے رہتے ہیں۔ کاش! حج ہر انسان کو ایک انقلابی انسان ایک مردِ مجاہد اور ایک دین کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردینے والا حوصلہ مند انسان بنائے۔ کاش! یہ ملّت کے مقدر کو تبدیل کرنے کا ایک ذریعہ بن سکے۔ کاش! یہ بھی ہماری دیگر عبادتوں کی طرح ایک بے روح عبادت بن کر نہ رہ جائے۔ (جلوے ہیں بے شمار،ص ۵۸)
o
ہم حج بھی کریں، عمروں کے لیے بھی جائیں، منہ کعبہ شریف کی طرف کر کے نمازیں بھی پڑھیں، مگر ہم پر وہ رنگ نہ چڑھے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا رنگ تھا، تو اس سے بڑھ کر ہماری حرماں نصیبی اور کیا ہوسکتی ہے، اور جو حرماں نصیبی ہمارا مقدر بن گئی ہے، اس کا سبب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ ہم سے دنیا میں جو وعدے ہیں___ استخلاف فی الارض کا وعدہ ہے، غلبۂ دین کا وعدہ ہے، خوف سے نجات اور امن سے ہم کنار کرنے کا وعدہ ہے___ وہ سب وعدے اس شرط کے ساتھ مشرط ہیں کہ ہم اللہ کے ایسے بندے بن جائیں کہ بندگی اور کسی کے لیے نہ ہو: یَعْبُدُوْنِی لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَئْـیًا (النور ۲۴:۵۵)۔(حج کا پیغام، ص ۹)
۱- ارضِ تمنّا، غلام الثقلین نقوی، فیروز سنز، لاہور، ۱۹۸۸ء
۲- پھر نظر میں پھول مہکے، محمد اکرم طاہر، ادارہ معارف اسلامی، لاہور، ۲۰۰۹ء
۳- جلوے ہیں بے شمار، ڈاکٹر سید عبدالباری، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی، ۲۰۰۷ء
۴- حاجی کے نام، خرم مراد، منشورات، لاہور، ۲۰۰۱ء
۵- حج کا پیغام، خرم مراد، منشورات، لاہور، ۲۰۰۵ء
۶- حرمین شریفین میں، محمد رفیق وڑائچ، منشورات، لاہور، ۲۰۰۸ء
۷- سحرِمدینہ، مظفراقبال، دوست پبلی کیشنز، اسلام آباد، ۲۰۰۹ء
۸- شب جاے کہ من بودم، شورش کاشمیری، مکتبہ چٹان، لاہور، ۱۹۷۱ء
۹- مکّہ مدینہ، عرفان صدیقی، جہانگیر بکس، لاہور، ۲۰۱۰ء
علامہ اقبال کے زمانے میں سلطنت ِعثمانیہ کے سوا، عالم اسلام کے تمام خطوں پر غاصب استعماری مسلط تھے۔ سلطنتِ عثمانیہ داخلی خلفشار اور کمزوریوں میں گرفتار تھی، اس لیے اس کے مغربی دشمن اسے The sick man of the Europe کہتے تھے، اور اس پر دندانِ آز تیز کیے بیٹھے تھے۔ ۲۰ویں صدی کے ابتدائی عشروں میں ہندستان میں خلافت کی بقا اور بحالی کے لیے جو تحریک شروع ہوئی، اقبال اس کے پوری طرح مُویّد تھے۔ یہی زمانہ تھا جب یہودی سر زمین فلسطین میں اپنے قدم جمارہے تھے مگر مجموعی حیثیت سے ’مسئلہ فلسطین‘ ابھی ابتدائی مراحل میں تھا۔
یہود، فلسطین کے اصل باشندے (son of the soil) نہیں ہیں۔ وہ تقریباً تیرہ سو برس قبل مسیح اس علاقے میں وارد ہوئے، یہاں کے قدیم فلسطینیوں کو نکال باہر کیا اورخود ان کی سرزمین پر قبضہ کرکے بیٹھ گئے (یہ حرکت بالکل ویسی ہی ہے جیسے یورپ کے سفید فاموں نے ماردھاڑ کرکے امریکا کے قدیم باشندوں (ریڈ انڈینز) کی نسل کشی کی اور خود امریکا پر قابض ہوگئے)۔ آیندہ صدیوں میں یہود کئی بار فلسطین سے نکالے گئے اور ان کے ہیکل سلیمانی کو بھی نیست و نابود کردیا گیا۔ ان کی دربدری کے زمانے میں پورے یورپ میں کوئی اُنھیں منہ نہ لگاتا تھا۔ یہ مسلمان تھے جنھوں نے ان کی دستگیری کی۔ خاص طور پر اندلس کے مسلم حکم رانوں کے حسنِ سلوک کی وجہ سے، اندلس میں یہود طویل عرصے تک نہایت خوش و خرم رہے اور امن و اطمینان کی زندگی بسر کرتے رہے۔پھرسقوطِ غر ناطہ کے بعد جب عیسائیوں نے انھیں کھدیڑ کر وہاں سے نکالا تو وہ: ’’نہ کہیں جہاں میں اماں ملی‘‘ کی سی کیفیت سے دوچار ہوئے، ایک بار پھر پورے جہاں میں انھیں کہیں اماں ملی توعثمانی ترکوں کے ہاں۔ یہود مؤرخ سلطان سلیم عثمانی(۱۵۲۴ئ-۱۵۷۴ئ) کے اس احسان کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس نے دیوارِ گریہ کی جگہ دریافت کر کے اس جگہ کو صاف کرا کے یہود کو وہاں جانے اور گریہ کرنے کی اجازت دی۔
احسان فراموشی یہود کی گھٹی میں پڑی ہے ۔ عثمانی سلطنت میں رہتے ہوئے وہ آسودہ و خوش حال ہوئے تو اُنھوں نے پر پُرزے نکالے اور فلسطین اور بیت المقدس پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔ معروف واقعہ ہے کہ یہودی دانش ور اور راہ نما ڈاکٹر تھیوڈور ہرزل (Theodor Herazl) نے سلطان عبدالحمید ثانی کو مالی امداد کا لالچ دے کر ’یہودی وطن‘ کے لیے ارضِ فلسطین کا ایک حصہ خریدنے کی درخواست کی جسے سلطان نے حقارت سے ٹھکرا دیا (فلسطین اس وقت تک سلطنت عثمانیہ میں شامل تھا)۔ اس پر یہودی انتقام پر اُتر آئے۔ سلطنت عثمانیہ اور سلطان کے خلاف ان کی سازشیں رنگ لائیں۔ ان کی پہلی کامیابی وہ تھی جب انجمن اتحاد و ترقی کی وزارت کے ذریعے ۱۹۱۴ء میں ایک ایسا قانون پاس کرایا گیا، جس کے ذریعے یہودیوں کو فلسطین میں زمینیں اور جایدادیں خریدنے کی اجازت مل گئی۔ ۱۹۱۶ء میںوہ بر طانیہ سے صہیونیت کی پشت پناہی کے طلب گار ہوئے۔ برطانیہ نے اس درخواست کو اعلانِ بالفور (دسمبر ۱۹۱۷ئ) کی شکل میں پذیرائی بخشی۔
انگریزوںکی ’بد دیانتی کے شاہ کار‘ اعلان بالفور کو، جنگِ عظیم اوّل کے تمام اتحادیوں کی توثیق حاصل تھی۔ جنگِ عظیم اوّل (۱۹۱۴ئ-۱۹۱۸ئ) کے خاتمے پر برطانیہ نے عربوں سے کیے گئے تمام تر وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے فلسطین پر قبضہ کر لیا۔جس مجلسِ اقوام (League of Nations) کے بارے میں اقبال نے کہا تھا ع
بہرِ تقسیمِ قبور، انجمنے ساختہ اند
اس نے بھی ۱۹۲۲ء میں یہ خطہ برطانیہ کے اِنتداب (mandate) میںدے دیا۔ یہ برطانوی اقتدار ایک یہودی حکومت ہی کے مترادف تھا، کیوں کہ انگریزو ں نے اپنی طرف سے فلسطین میں اپنا جو پہلا ہائی کمشنر مقرر کیا (سربرہٹ سیموئل) وہ بھی یہودی تھا۔
اسی زمانے میں مقاماتِ مقدسہ کے متعلق تنازعات کے حل کے لیے ایک رائل کمشن کے قیام کی تجویز انگریزوں کے زیرِ غور تھی۔ ایک مسلمان ممبر کے طور پر علامہ اقبا ل کو کمیشن کا ممبر بننے کی پیش کش کی گئی مگر انھوں نے بوجوہ ،معذرت کر لی۔
انگریزوں کی تائید اور سرپرستی میں دنیا بھر سے یہودی نقل مکانی کر کے ، فلسطین پہنچ رہے تھے اور ’آبادکاروں‘ کی حیثیت سے مختلف حیلوں بہانوں سے اور زور زبر دستی سے بھی فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کرتے چلے جارہے تھے۔ اس کے نتیجے میں ۱۹۱۹ئ، ۱۹۲۸ء اور ۱۹۲۹ء میں یہودیوں اور مقامی فلسطینی آبادی کے درمیان متعدد خون ریز تصادم ہوئے۔
فلسطین ہو یا عالمِ اسلام کا کوئی اور خطّہ ،اقبال افرادِ ملت کوپیش آمدہ کسی بھی مصیبت یا آزمایش کی خبر سنتے تو بے چین اور پریشان ہو جاتے۔خنجر کہیں بھی چلتا، وہ اپنی جگہ تڑپ کر رہ جاتے۔فلسطین تو انبیاؑ کی سر زمین تھی، اقبال وہاں کے باشندوں کے الم ناک مصائب پر رنجیدہ کیوں نہ ہوتے۔مسلمانانِ لاہور نے ۷ ستمبر ۱۹۲۹ء کو انگریزوں کی یہود نواز پالیسیوں کے خلاف بطور احتجاج ایک جلسہ منعقد کیا جس کی صدارت علامہ اقبال نے کی تھی۔اسی زمانے میں یروشلم میں فلسطینیوں کے قتل و غارت کے ا لم ناک واقعات رونما ہوئے تھے۔آپ نے اپنے صدارتی خطبے میں یہودیوں کی ’’ہولناک سفاکی‘‘کی مذمت کی۔ علامہ نے یہودیوں کو یاد دلایا کہ ہیکل سلیمانی کے محل وقوع کی دریافت حضرت عمرؓ نے کی تھی اور یہ ان پر حضرت عمرؓکا احسان ہے ۔ پھر یہ کہ یہ مسلمان ہی تھے جنھوں نے بقول اقبال: ’’یورپ کے ستائے ہوئے یہودیوں کو نہ صرف پناہ دی بلکہ انھیں اعلیٰ مناصب پر فائز کیا‘‘۔
یہ کیسی احسان فراموشی ہے کہ بالفاظِ اقبال: ’’فلسطین میں مسلمان، ان کی عورتیں اور بچے بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیے جا رہے ہیں‘‘۔ دراصل اعلانِ بالفور ہی کے زمانے میں یہودیوں نے فلسطینیوں کو ان کے وطن سے بے دخل کر کے زور زبردستی کے ذریعے ان کی زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے دیہات کے دیہات تباہ کر دیے گئے۔ اگر کسی نے مزاحمت کی تو اسے قتل و غارت کا نشانہ بنایا گیا۔
سفرِ انگلستان (۱۹۳۱ئ) کے دوران میں ، جہاں بھی موقع ملا،علامہ اقبال نے فلسطین کے بارے میں کلمہ خیر کہنے سے گریز نہیں کیا، مثلاً: ایک موقع پر انگریزوں کو اہلِ فلسطین کے ساتھ انصاف کی تلقین کی ،اور فرمایا کہ اعلان ِ بالفور بالکل منسوخ کر دینا چاہیے۔ علامہ اقبال پر مسئلہ فلسطین کی نزاکت اور اہمیت اس وقت اور زیادہ واضح ہوئی جب انھوں نے بذاتِ خود فلسطین کا سفر کیا۔
دسمبر ۱۹۳۱ء میں فلسطین کے نو روزہ سفر کا اصل مقصد مؤتمر عالمِ اسلامی (اسلامی کانفرنس) میں شرکت تھی۔ کانفرنس کے داعی سید امین الحسینی تھے۔ اس میں تقریباً ۲۷ ملکوں اور علاقوں کے مندوبین شامل تھے جن میں اربابِ علم و فضل بھی تھے اور سیاسی او رملی راہ نما بھی۔ اسی طرح متعدد واجب الاحترام بزرگ شخصیات او رمجاہدینِ آزادی اور اپنے اپنے ملکوں کی سیاست میں سرگرم ممبرانِ پارلیمنٹ بھی۔ گویا قبلہ اوّل کے شہر میں عالمِ اسلام کی منتخب شخصیتیں جمع تھیں۔
یوں تو اس کانفرنس کے کئی مقاصد تھے لیکن سب سے اہم مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو فلسطین پر یہودیوں کے ناجائز قبضے کے سنگین مسئلے کا احساس دلایا جائے اور صہیونی خطرے کے خلاف اتحادِ عالمِ اسلام کی تدابیر پر غور کیا جائے۔ کانفرنس کے دنوں میں علامہ اقبال اوران کے ہمراہ غلام رسول مہر کانفرنس کی مختلف نشستوں میں شریک رہے۔ ایک نشست میں علامہ اقبال کو نائب صدر بناکر سٹیج پر بٹھایا گیا۔ انھوں نے بعض کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شریک ہو کر رپورٹیں مرتب کرنے میں بھی مدد کی۔
قیامِ فلسطین کے دوران میں علامہ اقبال اور غلام رسول مہر کوجتنا بھی وقت اور موقع ملتا، وہ مقاماتِ مقدسہ اور آثارِ قدیمہ کی زیارت کو نکل جاتے۔ انھوں نے بیت اللحم میں کلیسا ے مولد مسیح دیکھا اور الخلیل میں متعدد پیغمبروں کے مدفنوںکی زیارت بھی کی۔ بیت المقدس شہر میں بھی انھوں نے بہت سے قابلِ دید مقامات، عمارات اور آثار دیکھے۔ ایک دن موقع پا کر انھوں نے فلسطین کے اسلامی اوقاف کا بھی معائنہ کیا۔
کانفرنس کے مندوبین کو فلسطین کے دوسرے شہروں کا دورہ کرنے کی دعوت ملی، مگر وہ سب جگہ نہیں جا سکے۔ قیام کے آخری دن شام کی نشست میں اقبال نے ایک مؤثر تقریر کی، جس میں عالمِ اسلام کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کو الحادِ مادی اور وطنی قومیت سے خطرہ ہے۔ میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ دل سے مسلمان بنیں۔ مجھے اسلام کے دشمنوں سے اندیشہ نہیں ہے، لیکن خود مسلمانوں سے مجھے اندیشہ ہے۔ اقبال نے نوجوانوں کا خاص طور پر ذکر کیا اور مندوبین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے وطنوں کو واپس جاؤ تو روحِ اخوت کو ہر جگہ پھیلا دو اور اپنے نوجوانوں پر خاص توجہ دو۔
اقبال کے سفرِ فلسطین کا شعری ماحصل وہ معرکہ آرا نظم ہے جو ’ذوق شوق‘کے عنوان سے بالِ جبریل میں شامل ہے ۔ نظم کے ساتھ اقبال نے یہ توضیح لکھنا ضروری سمجھا کہ ’’ان اشعار میں سے اکثر فلسطین میں لکھے گئے‘‘:
قلب و نظر کی زندگی، دشت میں صبح کا سماں
حسنِ ازل کی ہے نمود، چاک ہے پردۂ وجود
سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحابِ شب
گرد سے پاک ہے ہوا، برگِ نخیل دھل گئے
چشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں
دل کے لیے ہزار سود، ایک نگاہ کا زیاں!
کوہِ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!
ریگِ نواحِ کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاں!
یہ اشعار لکھتے ہوئے فلسطین کے مختلف علاقوں کے خوب صورت مناظر اقبال کے ذہن میں تازہ ہوں گے۔ سر سبز و شاداب علاقہ، پھلوں اور پھولوں کے قطار اندر قطار درخت اور پودے، دُوردُور تک پھیلے ہوئے سبزیوں کے کھیت، انگور، انجیر اور مالٹوں کے باغات اور پھر موسم بہار کا۔ بقول غلام رسول مہر: عرب دنیا میں اس سے زیادہ حسین خطہ اور کوئی نہ تھا، مگر فلسطینی اپنے ہی خطے میں اور اپنے ہی گھر میں اجنبی بنتے جا رہے تھے۔ آج سر زمین فلسطین دھواں دھواں ہے ۔
سفر فلسطین سے واپس آنے کے بعدبھی اقبال وائسرائے ہنداور برطانوی اکابر کو برابر احساس دلاتے رہے کہ برطانیہ کی فلسطین پالیسی صریحاً مسلم مخالفانہ ہے۔ اقبال نے اپنا یہ مطالبہ بھی برابر جاری رکھا کہ فلسطین میں یہودیوں کا داخلہ روکا جائے اور اعلان بالفور واپس لیا جائے۔ اقبال نے یہ بھی کہا کہ برطانوی پالیسی کے سبب مسلمانانِ ہند میں زبردست ہیجان و اضطراب پیدا ہو رہا ہے۔ اُسی کا نتیجہ تھا کہ ۲۴، ۲۵ ستمبر ۱۹۳۷ء کو کلکتے میں فلسطین کانفرنس منعقد ہوئی۔ علامہ اقبال اپنی کمزور صحت اور بیماری کے سبب اس میں شریک نہ ہو سکے لیکن وہ اپنے دلی جذبات کا اظہار اس طرح کر رہے تھے ؎
جلتا ہے مگر شام و فلسطین پہ مرا دل
تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدۂ دشوار
اسی زمانے میں انھوں نے کہاـ:
ہے خاکِ فلسطین پہ یہودی کا ہے اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا
مقصد ہے ملوکیتِ انگلیس کا کچھ اور
قصہ نہیں نارنج کا یا شہد و رطب کا
یہ ’’مقصد ہے … کچھ اور‘‘ اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اپنے استعماری عزائم کو جاری رکھنے کے لیے برطانیہ مشرق وسطیٰ میں ایک مستقل اڈا یا ٹھکانا بنانا چاہتا تھا مگر علامہ اقبال اسے عالمِ اسلام کے لیے ازحد خطرناک سمجھتے تھے اور اس کے سدّباب کے لیے وہ بڑے سے بڑا اقدام اٹھانے کے لیے بھی تیار تھے ۔ قائداعظم محمد علی جناح کے نام ۷؍اکتوبر ۱۹۳۷ء کے خط میں لکھتے ہیں: ’’ذاتی طور پر میں کسی ایسے امر کی خاطر جیل جانے کو بھی تیار ہوں جس سے اسلام اور ہندستان متاثر ہوتے ہوں۔ مشرق کے دروازے پر مغرب کا ایک اڈا بننا اسلام اور ہندستان دونوں کے لیے پُرخطر ہے‘‘۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اقبال آزادیِ فلسطین کی خاطر انتہائی اقدام کے لیے بھی پُرجوش اور پُرعزم تھے۔
مسئلۂ فلسطین کے ضمن میں علامہ اقبال کا کارنامہ صرف یہی نہیں کہ انھوں نے فلسطین میں یہودیوں کی بتدریج بڑھتی ہوئی پیش رفت اور اس کے مضمرات اور خطرناک نتائج کو سمجھا اور اہل ہند کو ان سے آگاہ کیا بلکہ اس وقت مسلمانان ہند کی نمایندہ جماعت مسلم لیگ اور اس کے سربراہ قائداعظم محمد علی جناح (۱۸-۱۹۴۸ئ) کو بھی مسئلہ فلسطین کی نزاکت سے آگاہ کیا۔ چنانچہ اقبال کی وفات کے بعد بھی مسلم لیگ اور قائداعظم نے فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھی۔
علامہ اقبال کی وفات کو پون صدی ہو چلی ہے۔ فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی آج بھی جاری ہے اور فلسطین کی مکمل آزادی تک، ان شاء اللہ جاری رہے گی۔ضربِ کلیم میں ’فلسطینی عرب سے ‘کے عنوان سے ایک چھوٹی سی نظم ہے جس میں وہ کہتے ہیں:
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے!
تری دوا نہ جنیوا میں ہے ،نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجہ ء یہود میں ہے!
سنا ہے میں نے غلامی کی امتوں سے نجات
خودی کی پرورش و لذت ِنمود میں ہے!
فلسطینیوں کی نمایندہ جماعت حماس، فلسطینیوں کی موجودہ تحریک آزادی میں مزاحمت کی ایک تابندہ علامت بن چکی ہے، اس نے علامہ اقبال کی نصیحت کو حرزِ جاں بنا لیا ہے اور وہ یہود کی غلامی سے نجات کے لیے اپنی سی تگ و دَو میں مصروف ہے۔ غزہ فی الوقت ایک محصور علاقہ ہے۔ ۴۰کلو میٹر طویل اور ۱۰ کلو میٹر عریض اور صرف ۱۵ لاکھ افراد پر مشتمل یہ آبادی تین اطراف سے دشمنوں سے اور ایک طرف سے ’دوستوں‘ سے گھری ہوئی ہے۔ ظلم، زیادتی، گرفتاری،جیل، تعذیب، تشدد، ناکہ بندی، بم باری، مکانوں کا انہدام، غرض کون سا حربہ ہے جو ان کے خلاف نہیں آزمایا گیا۔ ان پر فاسفورس بم تک برسائے گئے۔ شیخ احمد یاسین، عبدالعزیز رنتیسی اور اس طرح کے چوٹی کے فلسطینی دانش ور اور راہ نما شہید کردیے گئے مگر وہ صہیونیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکاری ہیں اور ان کے غیرمتزلزل عزم جہاد و مزاحمت میں کمی نہیں آئی۔ آخر کیوں؟ اس لیے کہ ان کا ایمان سلامت ہے۔ اس کے برعکس ۵۰ سے زائد مسلم ملکوں کے حکمران الا ماشا اللہ (الا ماشا اللہ= ایران، شام، سوڈان، لبنان اور ترکی) صہیونیوں اور امریکیوں کے سامنے جھک چکے ہیں یا پھر کچھ بک چکے ہیں۔ یہ حکمران خصوصاً مسلم بادشاہتیں پسپائی اختیار کر چکی ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ ان کا ایمان کمزور ہے۔ علامہ اقبال کی چشمِ بصیرت نے پون صدی پہلے فلسطینیوں کو خبردار کیا تھا کہ عرب بادشاہتوں پر ہرگز اعتماد نہ کریں، کیونکہ یہ بادشاہ لوگ مسئلہ فلسطین پر کوئی آزادانہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ پون صدی، اقبال کی بصیرت پر گواہی دے رہی ہے۔
اور آخر میں ،صرف فلسطینیوں کے لیے ہی نہیں،عالمِ اسلام کی تمام اقوام کے لیے، وہ کشمیری ہوں یا افغانی، عراقی ہوں یا شیشانی، اقبال کا پیغام یہ ہے کہ ؎
آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
اہلِ ایران تو ربع صدی پہلے ظلمت ِشب کی گریز پائی اور نورِ سحر کے طلوع کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ اُنھیں علامہ اقبال کی بات پر یقین کرنا چاہیے کہ ؎
شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہو گا نغمۂ توحید سے
وضاحت: یہ مضمون شعبۂ اُردو، تہران یونی ورسٹی کے تحت ۵؍مئی ۲۰۱۰ء کو منعقدہ ایک روزہ بین الاقوامی اقبال سیمی نار میں پڑھا گیا۔ اس کی تیاری میں حسب ذیل کتابوں اور رسائل سے مدد لی گئی ہے:
۱- اقبال اور جدید دنیاے اسلام، ڈاکٹر معین الدین عقیل، مکتبہ تعمیرانسانیت، لاہور، ۲۰۰۸ء
۲- اقبال کی طویل نظمیں، رفیع الدین ہاشمی، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۴ء
۳- (ماہ نامہ) ترجمان القرآن، لاہور میں عبدالغفار عزیز کے مضامین: فروری ۲۰۰۹ئ، نومبر ۲۰۰۹ء
۴- خطبات، چہارم، سیدابوالاعلیٰ مودودی، ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، ۱۹۸۵ئ۔
۵- سفرنامہ اقبال، محمد حمزہ فاروقی (مرتب)۔ مکتبہ اسلوب، کراچی، ۱۹۸۹ئ۔
۶- کلیاتِ اقبال اُردو، علامہ محمد اقبال، شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، ۱۹۷۳ء
۷- گفتارِ اقبال، علامہ محمد اقبال (مرتب: محمد رفیق افضل)، ادارہ تحقیقاتِ پاکستان، پنجاب یونی ورسٹی، لاہور، ۱۹۶۹ئ۔
۸- مکاتیب اقبال بنام گرامی،علامہ محمد اقبال (مرتب: محمد عبداللہ قریشی)، اقبال اکادمی پاکستان، لاہور، ۱۹۸۱ئ۔
۹- Letters of Iqbal، علامہ محمد اقبال (مرتب: بی اے ڈار)، اقبال اکادمی پاکستان، لاہور، ۱۹۷۸ئ۔
۱۰- Speeches, Writings and Statements of Iqbal ، علامہ محمد اقبال (مرتب: لطیف احمد شروانی)، اقبال اکادمی پاکستان، لاہور، ۱۹۷۷ئ۔
برسرِاقتدار طبقے، خاص طور پر پاکستان کی بانی جماعت، اور اُس کے بطن سے جنم لینے والی پارٹیوں کے وابستگان کی اخلاقیات، ابتدا ہی سے محلِّ نظر رہی ہیں___ خرابیاں گوناگوں تھیں: ناجائز الاٹمنٹیں، رشوت ستانی، نااہلوں کا تقرر، ناجائز سفارشیں، انتخابات میں بدعنوانیاں، قانون کی پامالی، اقربا پروری، مقامی، مہاجر اور برادریوں کا تعصب وغیرہ وغیرہ۔ یہ خرابیاں دورِ ملوکیت اور دورِ غلامی کی پروردہ تھیں اور کسی بھی سطح کا اختیار رکھنے والے حاکم یا ماتحتوں کے شعور کا حصہ اور ایک طرح سے ان کی ’عادتِ ثانیہ‘ بن چکی تھیں___ اس دور میں زیادہ تر وزرا، ارکانِ اسمبلی اور پارٹی لیڈر طبقۂ اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے شخصی سطح پر ایک گونہ اخلاقیات کا خیال ضرور رکھتے تھے اور خود کو ایک خاص سطح سے نیچے نہیں گرنے دیتے تھے۔ گو ان کی اخلاقیات ان کی روایتی جاگیردارانہ نوعیت کی ہوتی تھی۔
انھیں یہ خوف بھی لاحق رہتا تھا کہ ان پر کوئی الزام نہ لگ جائے۔ اگر کسی شخص پر بدعنوانی کا الزام لگتا تو وہ پریشان ہوتا اور شرمندگی محسوس کرتا۔ بعض اوقات تردید یا اپنی صفائی پیش کرکے، اس الزام سے بری الذّمہ ہونے کی کوشش کرتا۔ گو کہ اس طبقے کی اخلاقیات کا اسلامی اخلاقیات سے تعلق بہت کم ہوتا تھا، وہ صرف دنیاوی یا ظاہری اخلاق کی اتنی مقدار کا قائل تھا جس سے انسان ’منہ دکھانے کے قابل‘ رہے___ مختصراً یہ کہ معاشرے، حکومت اور حکمرانی کی تمام تر خرابیوں کے باوجود، زوال پذیر ’اخلاقیات‘ ایک مستحسن ’قدر‘ کے طور پر تسلیم کی جاتی تھی۔
تاریخِ پاکستان کی پہلی ربع صدی میں سیاست اور قانون کی حکمرانی میں اخلاقیات کا گراف زوال پذیر ہی رہا، مگر پستی کی طرف اس کی رفتار نسبتاً کم کم تھی۔ اس گرتے ہوئے گراف میں پہلا ’کریش‘ اس وقت ہوا جب ہمارے پہلے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر نے اقتدار سنبھالا۔ انھوں نے عنانِ حکومت ہاتھ میں لیتے ہی مخالفین کی ٹانگیں توڑ دینے، زبان گُدّی سے کھینچ لینے اور ہزاروں کے ہجوم میں علی الاعلان بدکلامی اور گالم گلوچ (قذافی اسٹیڈیم، لاہور) کا نمونہ پیش کرکے ایک ’نئی سیاسی اخلاقیات‘ کی طرح ڈالی۔ چند سالہ دورِاقتدار میں اس بے چاری جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور اخلاقیات پر کیا کیا نہ ستم ہوئے۔ اُس تفصیل سے قطع نظر کرتے ہوئے صرف یہ کہنا کافی ہوگا کہ گذشتہ ۳۰؍۳۵ برسوں میں ہماری ۶۳سالہ تاریخ کے صاحبانِ اقتدار نے اخلاق و قانون کے گراف کو نیچے لے جانے میں بڑی مستعدی سے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اخلاق ایک طرح کا غیرتحریری قانون ہے، جو لوگ اخلاق کی پامالی کو جائز سمجھتے تھے، وہی قانون شکنی میں بھی آگے آگے رہے۔ قانون شکنی ملکی قوانین کی ہو یا مذہبی اصولوں کی، اُنھیں یہ کہنے میں ذرہ برابر عار نہیں رہا کہ ’’ایفاے عہد، قرآن و حدیث تو نہیں جس کی پابندی ضروری ہو‘‘۔
بداخلاقی، بدکلامی اور قانون شکنی کا یہ رجحان شجرِخبیثہ کی طرح خوب خوب برگ و بار لے آیاہے۔ مثالیں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں، کسی بھی دن کا اخبار اُٹھا کر دیکھ لیجیے___ ارکانِ اسمبلی (مرد و زن) اپنی گفتگوئوں میں (ایوان کے اندر یا باہر) ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے، ایک دوسرے کے لتّے لیتے، ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے نظر آئیں گے___ انھی دنوں کی ایک سرخی دیکھیے: ’’پنجاب اسمبلی: سینیروزیر اور اپوزیشن لیڈر کے ایک دوسرے کو جوتے اُٹھانے کے طعنے، لوٹے لٹیرے کے نعرے‘‘(نواے وقت، ۱۱؍فروری ۲۰۱۰ئ)۔ اِنھی دنوں آپ نے ایک اور اخباری سرخی بھی ملاحظہ کی ہوگی، جو کچھ اس طرح تھی کہ ’’بسنت ضرور منائوں گا۔ عدلیہ انصاف پر توجہ دے ٹریڈ یونین نہ بنائے‘‘ (ایضاً، ۲۱ فروری)۔یہ بیان اس شخص کا ہے جو وطنِ عزیز کے سب سے بڑے صوبے کا حاکمِ اعلیٰ ہے۔ پنجاب میں پتنگ بازی قانوناً جرم ہے۔ قانون توڑنے اور علی الاعلان ارتکابِ جرم کا عزم) دیدہ دلیری کی وہ انتہا ہے، جس کے بارے میں مولانا حالی نے کہا تھا ع
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اخلاقی گراوٹ اور قانون شکنی ایک عالم گیر بیماری ہے، اسی لیے دنیا کے مختلف معاشروں میں اخلاقیات کا معیار خاصی نچلی سطح تک چلا گیا ہے۔ اگر اس مفروضے کو تسلیم بھی کرلیا جائے، تب بھی خیرِاُمت کے لیے اور ملّی تشخص کی دعوے دار قوم کے لیے، جس نے ایک ملک اسلامی احکامِ شریعت کے نفاذ کے لیے حاصل کیا ہو، یہ صورتِ حال ناقابلِ رشک ہی نہیں، انتہائی تشویش کا باعث بھی ہے۔ چند صدیاں پہلے یورپ میں سیاست، معیشت اور حکمرانی نے مذہب سے پیچھا چھڑایا، بایں ہمہ اس نے ایک درجے کی اخلاقیات کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اخلاقی ضابطوں کی پابندی، کاروبار میں ایفاے عہد، نظم و ضبط اور بعض دوسرے اصول اور ضابطے برقرار رکھے۔ اِسی اخلاقیات کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی نے انھیں زندہ رکھا ہوا ہے۔
صرف لاہور میں پانچ برسوں کے دوران ۱۷۱؍ افراد پتنگ بازی کی بھینٹ چڑھ گئے جن میں ۵۱ کم سِن بچے اپنے والدین کے ساتھ موٹرسائیکل پر جاتے ہوئے ڈور پھرنے سے جاں بحق ہوئے (نواے وقت، ۲۱؍ فروری)، مگر بڑے صوبے کے لاٹ صاحب پتنگ مافیا کے لیڈر کے طور پر قانون اور حکمرانی کو للکار رہے ہیں۔ مرزا غالب نے کہا تھا ؎
ہر اِک بات پر کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے؟
تمھی کہو یہ اندازِ گفتگو کیا ہے؟
اندازِ گفتگو انسان کی شخصیت کو بے نقاب کرتا ہے۔ غالب اپنے مخاطب کے ذرا سے بدلے ہوئے اندازِ گفتگو سے بدمزہ ہوئے تھے اور ہم اس نوبت کو پہنچ چکے ہیں کہ روزانہ اخبار کے ہرہرصفحے پر چھپنے والے نمونہ ہاے بدکلامی و بداخلاقی کا مطالعہ، ایک ’معمول‘ بن چکا ہے۔ قائدین کرام کی عظیم اکثریت بے بنیاد دعوے کرنے سے نہیں چوکتی۔ اگر کہیں سے گرفت کا اندیشہ ہو تو صاف جھوٹ بولتے ہوئے تردید کردیتے ہیں۔ چونکہ قانون کے رکھوالے خود قانونِ شکن بن گئے ہیں اِس لیے علی الاعلان ’پاکستان نہ کھپے‘ کہنے والے (سندھ کے وزیرداخلہ سمیت) سبھی بدستور اپنے عہدوں پر قائم ہیں۔ اگر معاشرے کا تعلیم یافتہ اور دین دار طبقہ بیدار ہوتا تو قانون شکنی کے مجرمانہ اعلان پر، صوبہ پنجاب کے حاکمِ اعلیٰ کے خلاف اتنا احتجاج ہوتا کہ آیندہ انھیں اس طرح کی بات کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ خواجہ الطاف حسین حالی نے سوا سو سال پہلے ۱۸۸۶ء میں یہ رُباعی کہی تھی :
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کر نہ اُبھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مَد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اُترنا دیکھے
کلامِ اقبال پر ایک مجموعی نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے دیگر تمام طبقوں سے بڑھ کر نوجوان طبقے اور بالخصوص نوجوانانِ ملت کو مخاطب کیا ہے۔
علامہ اقبال نے مسلم نوجوانوں کو مخاطب کرکے انھیں عرفانِ نفس اور شعورِ ذات کا درس دیا۔ بالفاظِ دیگر ان کے اندر احساسِ خودی پیدا کرنے کی کوشش کی۔انھیں مسلمانوں کے شان دار ماضی، آبا و اجداد کی شان و شوکت اور تاریخِ اسلامی کی عظمت سے روشناس کرایا، ان کے سامنے دورِ حاضر کے پُر آشوب حالات کی ایک عبرت خیز تصویر پیش کی اور پھر ان کے دل میں احیاے دین و ملت کی تمنا بیدار کر کے انھیں ایک ولولۂ تازہ عطا کیا ؎
اک ولولۂ تازہ دیا میں نے دلوں کو
لاہور سے تاخاکِ بخارا و سمرقند
(ضربِ کلیم، ص۲۳)
نوجوانانِ ملت سے مکالمہ کرتے ہوئے اپنی شاعری میں علامہ اقبال ان مراحل کا ذکر بڑے حکیمانہ انداز میں کرتے ہیں۔ بعض نظموں میں تو وہ براہِ راست نوجوانوں سے مخاطب ہیں، جیسے ’طلبۂ علی گڑھ کالج کے نام‘ یا ’خطاب بہ نوجوانانِ اسلام‘ یا ’ ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام‘ وغیرہ۔ ابتدائی دور کی نظم ’عبدالقادر کے نام ‘ (بانگِ درا، ۱۳۲ ) بظاہر فردِ واحد کے نام ہے لیکن فی الحقیقت اس نظم کے حوالے سے، اقبال نے عام نوجوانوں تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ یہ نظم سب سے پہلے مخزن میں شائع ہوئی تھی۔ زمانی اعتبار سے یہ پہلی نظم ہے، جس میں شاعر کے پُرجوش اور ولولہ انگیز خیالات کا اظہار ملتا ہے۔
شیخ عبدالقادر اقبال کے نہایت قریبی اور گہرے دوست تھے۔ ہندستان کے ادبی حلقوں تک اقبال کا نام اور کلام پہنچانے میں شیخ صاحب کے رسالے مخزن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اقبال کے سفرانگلستان میں شیخ عبدالقادر کی تجاویز و تلقین کا بھی دخل رہا۔(نذر اقبال، ۱۶۴،۱۷۴،۱۷۶)۔ پھر قیام یورپ کے دوران میں جب انھوں نے ترکِ شعر کا ارادہ کیا تو یہ شیخ صاحب ہی تھے جن کے حسنِ تدبیر سے اقبال ترکِ شعر سے باز رہے (دیباچہ : بانگِ درا، ۱۵)۔ اقبال کو شیخ عبدالقادر کے ذوق و ذہن ، ملت اور قوم کے لیے ان کے پُرخلوص جذبات، ان کی درد مندانہ سوچ اور خیر خواہانہ مساعی کا بخوبی احساس تھا، اسی لیے انھوں نے بطورِ خاص شیخ صاحب کو مخاطب کیا ؎
اٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا اُفقِ خاور پر
بزم میں شعلہ نوائی سے اُجاَلا کردیں
(بانگِ درا، ۱۳۲)
قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ اقبال کی جوانی کا زمانہ تھا۔ انھوںنے اپنے ہم مزاج اور ہم عمر شیخ عبدالقادر ہی کو خطاب کے لائق سمجھا‘ تاہم اُن کے توسّط سے یہ خطاب، اُس دور کے تمام دردمند اور صاحبِ احساس نوجوانوں سے تھا۔ اقبال جب ’شعلہ نوائی سے اُجالا‘ کرنے ’قیس کو آرزوے نو سے شناسا‘ کرنے یا ’بزم گہِ عالم کو منور‘ کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک جدید تعلیم یافتہ نوجوان، جس کا سینہ بلند عزائم سے پُرہے اور پختہ صالح ارادوں، اُمنگوں اور ولولوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، وہ جذبات سے معمور اپنے دل‘ لگن اور حرارت اور اپنے سوزوگداز سے زندگی میں ایک انقلاب برپا کرنے کا خواہاں ہے۔ بقول غلام رسول مہر: ’’قوم کی عملی خدمت کے لیے کمربستہ ہونے کا یہ پہلا اعلان‘‘ تھا۔ (مطالب بانگِ درا، ۲۰۹)
’خطاب بہ جوانانِ اسلام‘ (بانگِ درا، ۱۸۰) اس سلسلے کی ایک اور اہم نظم ہے۔ اس کا زمانہ ذرا بعد کا ہے، اسی لیے اس کے لہجے اور آہنگ میں مذکورہ بالا نظم کا سا جوش و خروش نہیں، اس کے بجاے اس میں تفکر اور سوچ بچار کا انداز غالب ہے۔ فرماتے ہیں ؎
کبھی اے نوجواں مسلم، تدبرّ بھی کیا تونے
وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
(بانگِ درا، ۱۸۰)
چند اشعار کی اس نظم میں علامہ نے بطور پس منظر، ملتِ اسلامیہ کے شان دار اور سنہرے ماضی کا ذکر کیا ہے۔ یہاں خاص طور پر قرنِ اوّل کے مسلمانوں کی طرف بعض بلیغ اشارات کے ذریعے، انھوں نے امّتِ مسلمہ کے عروج و زوال کی پوری داستان بیان کر دی ہے۔قابل غور بات ہے کہ اس میں خطاب، نوجوان مسلم سے ہے۔ علامہ نے کوشش کی کہ نوجوان مسلم کے دل میں اس کے حقیقی مقام و مرتبے کا شعور پیدا کرکے، اسے بتایا جائے کہ اس مقام اور مرتبے کے کھو جانے کی وجوہ کیا ہیں۔ نظم کے ایک مصرعے (کہ تو گفتار، وہ کردار، تو ثابت ، وہ سیارا) میں نہایت کفایت لفظی سے اس تضاد کی طرف توجہ دلائی ہے جو قرنِ اوّل اور دورِ حاضر کے مسلم نوجوانوں کے کردار میں نظر آتا ہے۔ یہ مصرع ایک آئینہ ہے جس سے آج کے نوجوانوں کے ہاں بے عملی، تساہل، غفلت، لاپروائی، غیر ذمہ داری اور ایک مجموعی جمود کی کیفیت صاف اور صریح طور پر نظر آ رہی ہے۔
اقبال کا زمانہ ، برطانوی استعمار کے عروج کا زمانہ تھا، چنانچہ وہ غلامی کے اس ماحول میں پلے بڑھے، اس لیے نوجوانوں کی کمزوریوں ( کہ تو گفتار، وہ کردار۔۔۔ ) سے بخوبی آگاہ تھے۔ ان کی متعدد نظموں، مثلاً ’جاوید کے نام‘ (بال جبریلِ، ۱۷۴) ’’طلبہ علی گڑھ کالج کے نام‘ (بانگِ درا، ۱۱۴) ’ ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام‘ (ضرب کلیم،ص ۱۸) اور ’سخنے بہ نژادِنو‘ (جاوید نامہ، ۱۹۹) میں ان کمزوریوں اور کوتاہیوں کا ذکر ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ، یہ نظمیں ، نژادِ نو کے بارے میں اقبال کی امیدوں، آرزوؤں اور ولولوں کا خوب صورت اظہار بھی ہیں:
ترے صوفے ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں
(بالِ جبریل، ۱۱۹-۱۲۰)
’سخنے بہ نژادِ نو‘ اس اعتبار سے ایک اہم نظم ہے کہ دور آخرکی اس طویل نظم میں علامہ نے نئی نسل کے بارے میں اپنے احساسات کو بڑی تفصیل اور جامعیت کے ساتھ قلم بند کردیا ہے۔ نژادِ نو کی چند کمزوریوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ یہ بڑی افسوس ناک صورت حال ہے کہ:
نوجواناں تشنہ لب، خالی ایاغ
شستہ رو، تاریک جاں، روشن دماغ
کم نگاہ و بے یقین و نااُمید
چشم شاں اندر جہاں چیز ے ندید
(جاوید نامہ، ۲۰۲)
(نوجوان پیاسے ہیں مگر ان کے جام خالی ہیں۔ چہرے چمک دار‘ دماغ روشن مگر اندرون تاریک۔ بے چارے کم نگاہ‘ بے یقین اور مایوس ہیں۔ انھیں دنیا میں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔)
علامہ اقبال کے ایک مدّاح اور اُن کی صحبت و ملاقات سے فیض یاب ہونے والے عالم جناب ممتاز حسن نے ایک جگہ لکھا ہے کہ: ’’ان کے پاس سب سے زیادہ نوجوان طالب علم آتے تھے اور صرف لاہور ہی سے نہیں‘ بلکہ دُور دُور سے۔ اقبال کو نوجوانوں سے مل کر اور ان سے باتیں کرکے بڑی خوشی ہوتی تھی‘ اور ان لوگوں کو بھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اقبال ان کے ہم عمر ہیں‘‘۔
ایک ماہر طبیب کی طرح، علامہ کا ہاتھ زمانے کی نبض پر ہے اور وہ نئی نسل کے امراض کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بے یقینی و بے اعتمادی اور ریب و تشکیک کا شکار ہے۔ خودی سے محروم ہے، اس لیے اپنی ذات پر بھروسا نہیں ہے اور چونکہ خودشناس نہیں، اس لیے خدا شناسی کی نعمت بھی حاصل نہیں۔ وہ اپنے ماضی کا عرفان رکھتا ہے، نہ اسے اپنے حال کی خبر ہے اور نہ مستقبل پر یقین ہے۔ علامہ سمجھتے ہیں کہ بے یقینی نوع انسان کے لیے ایک مہلک مرض ہے اور ’ذوقِ یقین ‘ سے محروم شخص کی حالت غلاموں سے بھی بدتر ہوتی ہے (ع :غلامی سے بتر ہے بے یقینی۔ بالِ جبریل‘ ۳۷۳)۔ نژادِ نو کو اس بیماری سے نجات دلانے کے لیے ، اقبال سب سے پہلے اسے لاالہ کا درس دیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ؎
اے پسر! ذوقِ نگہ ازمن بگیر
سوختن در لا اِلَہ از من بگیر
(جاوید نامہ، ۱۹۹)
(اے بیٹے! ذوقِ نگہ [کا شعور و ادراک‘ بصیرت اور معیارِ انتخاب] مجھ سے سیکھو۔ لا الٰہ کا سوز کیا ہے؟ [اور اس میں کیا لذت ہے؟] یہ بھی مجھ سے سیکھو۔)
لا اِلٰہَ الاّ اللّٰہ ہی وہ نسخۂ کیمیا ہے جو بنی نوع انسان اور خاص طور پر نژادِ نو کی بے یقینی ، بے اعتمادی، فکر و نظر کی لغزشوں اور کردار کی جملہ کمزوریوں کا تیر بہدف علاج ہے۔ ’بتانِ وہم و گماں‘ اس سے شفا یاب اور سودو زیاں کے مغالطے لا اِلٰہَ الاّ اللّٰہ سے بے نقاب ہوتے ہیں۔ علامہ فرماتے ہیں: اے عزیز انِ من، لا الٰہ کو فقط دو حرف نہ سمجھو، یہ ایک ’تیغِ بے زنہار‘ ہے اور یہ دو حرف ’ضربِ کاری‘ کی سی قوت کے حامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال، قرآن سے وابستگی کو نئی نسل کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔ ’سخنے بہ نژادِ نو‘ میں وہ تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ اُمتِ مسلمہ، صاحبِ قرآن ہونے کے باوجود ذوقِ طلب سے محروم ہے۔ نوجوانوں کو ان کی تلقین یہ ہے کہ وہ قرآن حکیم سے دلی وابستگی پیدا کریں ‘ کیوں کہ یہی ذریعہ ہے استحکامِ خودی ، ذوقِ طلب، یقین و اعتماد اور جذبِ اندروں کے حصول کا۔ اور ہماری فوز و فلاح ، دنیاوی کامرانی اور اُخروی نجات قرآن پر عمل پیرا ہونے سے مشروط ہے۔
علامہ کہتے ہیں کہ سو خرابیوں کی ایک خرابی تو یہ ہے کہ مکتب کی تعلیم نے نوجوانوں کی فطرت کو مسخ کردیا ہے ؎
نورِ فطرت را ز جاں ہا پاک شست
یک گلِ رعنا ز شاخِ او نرست
(جاوید نامہ، ۲۰۲)
(اہلِ مکتب نے نوجوانوں کی جانوں سے نورِ فطرت کو دھو دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مکتبوں کی شاخ سے ایک گلِ رعنا بھی نہیں پھوٹا۔)
اقبال کہتے ہیں کہ حقیقی علم فقط کتابوں سے حاصل نہیں ہوتا،اس کے لیے کسی صاحبِ نظر کی طرف رجوع ضروری ہے۔ (ع ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں۔ بال جبریل، ۴۷) علامہ ، اپنی اس بے مثال نظم میں نئی نسل کو حسب ذیل نصیحتیں بھی کرتے ہیں:
۱- عدل و انصاف کو ہاتھ سے نہ دو۔
۲- اعتدال اور میانہ روی اختیار کرو۔
۳- احکام ِالٰہی کو اپنی گرہ میں باندھ لو۔
۴- اپنے قلب سے روشنی حاصل کرو۔
۵- ضبط ِنفس سے اپنی جوانی کی حفاظت کرو۔
۶-اور فقر و درویشی کو اپنی زندگی کا عنوان (motto) بناؤ۔
فقر و درویشی کے ضمن میں علامہ اقبال نے شاہین کو ایک مثالی پرندے کے طور پر پیش کیا ہے۔ شاہین مسلم نوجوان کے لیے ایک استعارہ بھی ہے۔ اس حوالے سے اقبال نئی نسل میں فقر، درویشی ، قناعت، استغنا، خودداری، اور بلند پروازی کی صفات دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ صفات اس وقت تک نوجوانوں کے اندر پیدا اور راسخ نہیں ہوسکتیں، جب تک وہ سخت کوشی کو اپنی زندگی کا شعار نہ بنائیں۔ (ع سخت کوشی سے ہے تلخِ زندگانی انگبیں۔ بال جبریل، ۱۲۱)
مختصر یہ کہ یہ نظم اقبال کے مثالی نوجوان کا ایک نہایت عمدہ خاکہ پیش کرتی ہے۔ اُوپر ذکر ہوا ہے کہ علامہ اقبال نئی تعلیم کو نوجوانوں کے حق میں زہرِ ہلاہل سمجھتے تھے (ع لادیں ہو تو ہے زہرِہلاہل سے بھی بڑھ کر۔ ضرب کلیم ، ۲۹)‘ کیونکہ یہ تعلیم اسے عقل پرستی اور مادّیت و لادینیت کا اسیر بناتی ہے۔
اقبال جدید دور کی مادیت کو نوجوانانِ ملت کے لیے بہت بڑا فتنہ سمجھتے تھے۔ ۱۹۳۱ء میں انگلستان میں نوجوانوں کے ایک گروہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دہریت اور مادیت سے محفوظ رہیں۔ اہلِ یورپ کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے مذہب و حکومت کو علاحدہ علاحدہ کردیا۔ اس طرح ان کی تہذیب روحِ اخلاق سے محروم ہوگئی اور اس کا رُخ دہریانہ مادیت کی طرف پھر گیا‘‘ (گفتار اقبال، ۲۵۴)۔ حقیقت تو یہ ہے کہ علامہ اقبال جوانانِ ملّت کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھتے تھے۔ جاوید کے نام پند ونصیحت کو، وہ ’سخنے بہ نژادِ نو‘ قرار دے کر پیش کرتے ہیں۔ نئی نسل انھیں اپنے دونوں بیٹوں (آفتاب اقبال، جاویداقبال) میں سے عزیز تر جاویداقبال ہی کی طرح عزیز تھی اور وہ اپنی اولاد کی طرح ہی اس کے خیر خواہ تھے، چنانچہ پندو نصائح کے ساتھ ساتھ، اقبال ہمیشہ ان کے لیے دعاگو بھی رہے۔ ۲۹ نومبر ۱۹۲۹ء کو وہ علی گڑھ میں تھے۔ یونی ورسٹی سٹوڈنٹس یونین نے ان کے اعزاز میں جلسہ منعقد کرکے، انھیں یونین کی ’آنریری لائف ممبرشپ‘ دی اور ایک سپاس نامہ پیش کیا تو جوابی تقریر میں فرمایا: ’’گذشتہ چند سال سے میں صرف جسد خاکی کا مالک ہوں۔ میری روح ہمیشہ آپ کی خدمت کے لیے حاضر رہی ہے اور جب تک زندہ ہوں، وہ آپ کی خدمت کرتی رہے گی‘‘ (گفتار اقبال، ۱۰۳)۔ اکبر الٰہ آبادی کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں: ’’ صرف ایک بے چین اور مضطرب جان رکھتا ہوں۔ قوتِ عمل مفقود ہے۔ ہاں، یہ آرزو رہتی ہے کہ کوئی قابل نوجوان جو ذوقِ خدا داد کے ساتھ قوتِ عمل بھی رکھتا ہو، مل جائے جس کے دل میں اپنا اضطراب منتقل کردوں۔‘‘ (اقبال نامہ ، ۳۸۲)
اس اضطراب اور خدمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ جوانانِ ملّت کی تنظیم و تربیت کے متمنی تھے۔ ۲۱ مارچ ۱۹۳۲ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے تنظیماتِ نوجوانان (Young Leagues) قائم کرنے کی تجویز پیش کی جو ایک مرکزی تنظیم کے تحت سماجی خدمت، نا مطلوب رسوم و رواج کی اصلاح اور معاشرے کی اقتصادی فلاح و بہبود کے کام انجام دے ۔(Speeches، ۴۱) مولانا راغب احسن نے ۱۹۳۱ء میں آل انڈیا یوتھ لیگ قائم کی (اقبال، جہان دیگر، ۳۰) تو انھیں تلقین کی کہ جمعیت کو زیادہ فعاّل اور منظم بنائیں۔ لکھتے ہیں: ’’مقصد صرف تربیت ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ڈسپلن۔ تربیت سے مراد وہ طریق ہے جس سے مسلمان نوجوانوں میں دینی حرارت پیدا ہو‘‘۔ (اقبال نامہ)
جوانانِ ملّت کے لیے اقبال کی نیک تمناؤں اور دعاؤں کا تذکرہ ان کی شاعری میں بھی کئی مقامات پر ملتا ہے۔ بال جبریل کی نظم ’ساقی نامہ‘ میں کہتے ہیں:
جوانوں کو سوز جگر بخش دے
مرا عشق، میری نظر بخش دے
مرے دیدۂ تر کی بے خوابیاں
مرے دل کی پوشیدہ بے تابیاں
مرے نالۂ نیم شب کا نیاز
مری خلوت و انجمن کا گداز
امنگیں مری، آرزوئیں مری
امیدیں مری، جستجوئیں مری
مرے قافلے میں لٹا دے اسے
لٹا دے، ٹھکانے لگا دے اسے
(بالِ جبریل ۱۲۴-۱۲۵)
سوال یہ ہے کہ یہ اضطراب ، حضرت علامہ نوجوانوں ہی کو کیوں منتقل کرنا چاہتے ہیں؟ امت مسلمہ کے عمر رسیدہ و آزمودہ کار اور جہاں دیدہ اصحاب کے بجاے انھوں نے نوجوانوں کا انتخاب کیوں کیا؟ اور جب وہ یہ کہتے ہیں کہ: ’جوانوں کو پیروں کا استاد کر‘ (بال جبریل، ۱۲۴) ، تو اس کا حقیقی محرک کیا تھا؟
ہمارے خیال میں، پیروں اور بزرگوں کی تمام تر فہم و دانش ، طویل زندگی کے تجربات اور بزرگی کے باوجود، جوانوں کو اُن پر ترجیح کا سبب غالباً یہ تھا کہ تاریخ اسلام کے ہر دور میں دعوتِ حق کی پکار پر لبیک کہنے والوں میں نوجوان ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔ حق و باطل کی پیکار میں انھوں نے ہر طرح کے سود وزیاں سے بے نیاز ہو کر حق و صداقت کا ساتھ دیا۔ یہ حقیقت معرکۂ فرعون و کلیم سے آنحضورؐ کے دور تک اسلام اور جاہلیت کی کش مکش میں ہمیشہ بہت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ قرآن حکیم میں ایک مقام پر فرمایا گیا ہے کہ :
فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓی اِلَّا ذُرِّیَّۃٌ مِّنْ قَوْمِہٖ عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاْئِھِمْ اَنْ یَّفْتِنَھُمْ (یونس ۱۰: ۸۳) (پھر دیکھوکہ ) موسیٰ کو اس قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا، فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے سربرآوردہ لوگوں کے ڈر سے (جنھیں خوف تھا کہ) فرعون ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا۔)
گویا اس پر آشوب اور پر خطر زمانے میں جب فرعون اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے درمیان ایک زبردست کش مکش برپا تھی، حق کا ساتھ دینے اور حضرت موسیٰ کو اپنا رہنما تسلیم کرنے کی جرأت فقط چند لڑکوں نے کی۔ اُمتِ موسٰی ؑکے عمر رسیدہ لوگ مصلحت کوشی اور عافیت پرستی کا شکار ہو کر رہ گئے۔ نہ صرف یہ کہ وہ خود حق کا ساتھ دینے پر آمادہ نہ ہوئے، بلکہ نوجوانوں کو بھی موسیٰ کی پیروی سے روکتے رہے تاکہ وہ فرعون کے غیظ و غضب سے محفوظ رہ سکیں۔ سرزمینِ عرب میں آنحضوؐر نے دعوتِ حق پیش کی تو آپؐ پر ایمان لانے والوں میں بڑے بوڑھوں اور سن رسیدہ لوگوں کے بجاے اولیت کا شرف بھی نوجوانوں ہی کو حاصل ہوا۔ ان باہمت نوجوانوں کی عمریں قبولِ اسلام کے وقت اس طرح تھیں:
۱- ۲۰ سال سے کم عمر: علی ابن ابی طالب، جعفر بن طیار، زبیر ، طلحہ، سعد بن ابی وقاص، مصعب بن عمیر، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم۔
۲- ۲۰ اور ۳۰ سال کے درمیان: عبدالرحمن بن عوف ، بلال ، صہیب رضی اللہ عنہم۔
۳- ۳۰ اور ۳۵ سال کے درمیان: ابوعبیدہ ابن الجراح، زید بن حارث، عثمان غنی، عمر فاروق رضی اللہ عنہم۔
اس تاریخی حقیقت کی بنا پر جس کی شہادت قرآن حکیم پیش کر رہا ہے، علامہ بجا طور پر یہ محسوس کرتے تھے کہ اُمت مسلمہ کے مختلف طبقات میں سے صرف نوجوان ہی وہ طبقہ ہے جو ذوقِ عمل کی دولت سے مالا مال ہے اور انھی کے ہاتھوں انقلاب برپا ہوسکتا ہے، اس لیے اقبال نے اپنی تمام امیدیں نوجوانوں سے وابستہ کرلی تھیں۔ مزید برآں قریبی زمانے کی مسلم تاریخ اور ہم عصر مسلم معاشرے کے عمیق مطالعے کے بعد‘ حضرت علامہ نوجوانوں کے سوا، ملت کے تمام گروہوں سے تقریباً مایوس ہوگئے تھے۔ مایوسی کا یہ احساس مختلف اصحاب کے نام لکھے گئے خطوط میں خاصا نمایاں ہے۔ آخر زمانے کے ایک خط (بنام چودھری نیاز علی خاں مرحوم) میں ان کی سوچ کا یہ رخ بہت دو ٹوک اور واضح نظر آتا ہے۔ لکھتے ہیں :
علما میں مداہنت آگئی ہے۔ یہ گروہ حق کے کہنے سے ڈرتا ہے۔ صوفیہ اسلام سے بے پروا اور حکام کے تصرف میں ہیں۔ اخبار نویس اور آج کل کے تعلیم یافتہ لیڈر خودغرض ہیں۔ ذاتی منفعت اور عزت کے سوا کوئی مقصد ان کی زندگی کا نہیں ۔ عوام میں جذبہ موجود ہے مگر ان کا کوئی بے غرض راہ نما نہیں ہے۔ (اقبال نامہ، ۲۲۳)
چنانچہ اقبال اپنے برس ہا برس کے مطالعے، مشاہدے اور ذاتی تجربے کے بعدا پنی تمام تر توقعات صرف اور صرف نوجوانوں سے وابستہ کرلینے میں حق بجانب تھے۔ ان کے ہاں عقل پر عشق کی ترجیح اور شاہین کی ایک مثالی پرندے کی حیثیت سے تعریف و توصیف اسی نکتے کی تفسیریں ہیں۔ نوجوانوں سے امیدیں وابستہ کرلینے کے بعد‘ وہ بے چین ہوئے تو انھی کے لیے ، تڑپے اور مضطرب ہوئے تو انھی کے لیے، ان کی دعائیں اور نیک تمنائیں‘ اُمنگیں اور آرزوئیں انھی کے لیے وقف ہوگئیں :
جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کردے
(بالِ جبریل، ۸۶)
کچھ عجب نہیں کہ اس وقت جبکہ دنیا بھر کے مسلمان ابتلا و آزمایش کا شکار ہیں اور عالمِ اسلام کو سنگین مسائل کا سامنا ہے، حضرت علامہ کی روح آج بھی بے تاب و مضطرب ہو اور اس بات کی منتظر کہ نوجوانوں کے عزائم اور ان کے ارادے اور ولولے اقبال کے مطلوبہ انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوں۔
۲۱ویں صدی کے آغاز میں جب متمدن اور ترقی یافتہ مغرب، اقبال کے الفاظ میں ، ایک بہت بڑے ’قمار خانہ‘ کی شکل اختیار کرچکا ہے اور وہاں زندگی، علامہ کے اس شعر کی تفسیر بن چکی ہے ؎
بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات
(بالِ جبریل، ۱۰۸ )
مسلم نوجوان دورِ جدید کا وہ خوش قسمت انسان ہے جو اسلام کے حیات بخش اور جاں فزا پیغام کی بدولت آج بھی ہر طرح کے ذہنی و فکری انتشار سے محفوظ ہے ۔ اقبال کی شاعری‘ اس نوجوان کی قوتِ عمل کے لیے ایک مہمیز ہے۔ اقبال دور حاضر کے مسلم نوجوانوں کو تسکینِ قلب کے لیے منفی اور مصنوعی طور طریقوں کے بجاے‘ دین فطرت کا وہ صراط مستقیم دکھاتے ہیں جو اسلامی انقلاب کی شاہراہ ہے۔
مسجد قرطبہ ، یورپ میں مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی ایک خوب صورت یادگار ہے۔ آج سے تقریباً نصف صدی قبل اس کے پہلو میں بہتے دریا وادی الکبیر کے کنارے حضرت علامہ اقبال نے ایک خواب دیکھا تھا:
آبِ روانِ کبیر! تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
عالمِ نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میں
میری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجاب
(بالِ جبریل، ۱۰۱)
مگر یہ سحر عالمِ اسباب میں تاحال بے حجاب نہیں ہوئی۔ اقبال کی چشم ِنگراں آج بھی اس خواب کی تعبیر دیکھنے کے لیے بے تاب ہے۔ جب ہم ’’ساقی نامہ‘‘ کے ان اشعار کو دیکھتے ہیں کہ :
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے
دلِ مرتضیٰؓ سوزِ صدیقؓ دے
جگر سے وہی تیر پھر پار کر
تمنا کو سینوں میں بیدار کر
جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
مرا عشق، میری نظر بخش دے
(بال جبریل، ۱۲۴)
تو غالباً یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ نئی نسل ہی اقبال کے خواب شرمندہ ٔ تعبیر کرسکتی ہے۔
۱- ابوالاعلیٰ مودودی، سیدّ : تفہیم القرآن، دوم۔ مکتبہ تعمیر انسانیت، لاہور، ۱۹۷۱ء
۲- اقبال، علامہ محمد : اقبال نامہ (مرتب : شیخ عطاء اللہ) اقبال اکادمی پاکستان لاہور، ۲۰۰۵ء
۳- اقبال، علامہ محمد : اقبال ، جہانِ دیگر (مرتب: محمد فرید الحق) گردیزی پبلشرز کراچی ، ۱۹۸۳ء
۴- اقبال، علامہ محمد : کلیات اقبال، اُردو ۔ شیخ غلام علی لاہور، ۱۹۷۳ء
۵- اقبال، علامہ محمد : کلیات اقبال ، فارسی ۔ شیخ غلام علی لاہور، ۱۹۷۳ء
۶- اقبال، علامہ محمد : Speeches, Writings and Statements of Iqbalمرتب: لطیف احمد شروانی ۔ اقبال اکادمی پاکستان لاہور، ۱۹۷۷ء
۷- اقبال، علامہ محمد : گفتار اقبال (مرتب: محمد رفیق افضل ) ادارہ تحقیقاتِ پاکستان، پنجاب یونی ورسٹی لاہور، ۱۹۶۹ء
۸- عبدالقادر ، شیخ سر : نذرِ اقبال (مرتب: محمد حنیف شاہد) بزم اقبال لاہور، ۱۹۷۳ء
۹- ممتاز حسن: مقالاتِ ممتاز (مرتب: شان الحق حقی)۔ ادارہ یادگار غالب کراچی‘ ۱۹۹۵ء
۹- مہر ، غلام رسول مہر : مطالبِ بانگِ درا ۔ شیخ غلام علی لاہور۔ ۱۹۷۲ء
یہ حیاتِ اقبال کا ایک معروف واقعہ ہے‘ جسے خود اقبال نے اپنی فارسی مثنوی رمـوزِ بے خودی (۱۹۱۸ء) میں بیان کیا ہے۔ مثنوی کے متعلقہ حصے کا عنوان ہے: ’’درمعنیِ ایں کہ حسنِ سیرتِ ملّیہ از تادّب بآدابِ محمدیہ است‘‘ یعنی اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملّت اسلامیہ کا حسنِ سیرت و کردار‘ آدابِ محمدیہؐ کی اتباع میں ہے۔
علامہ اقبال بتاتے ہیں کہ میرے لڑکپن کا زمانہ تھا‘ بلکہ آغازِ عہدِشباب تھا۔ ایک روز ایک بھکاری ہمارے گھر کے دروازے پر آیا اور اُونچی اُونچی آواز سے بھیک مانگنے لگا۔ میں نے چاہا کہ وہ ٹل جائے مگر وہ پیہم صدا بلند کرتا رہا۔ مجھے غصہ آگیا۔ جوشِ جذبات میں مجھے اچھے بُرے کی تمیز نہ رہی‘ اور میں نے اس کے سر پر ایک لاٹھی دے ماری۔اس نے اِدھر اُدھر سے بھیک مانگ کر جو کچھ بھی جمع کیا تھا‘ وہ سب کچھ اس کی جھولی سے زمین پر گرگیا۔ والد صاحب یہ منظر دیکھ رہے تھے‘ میری اس حرکت سے بے حد آزردہ ہوئے‘ چہرہ مرجھا گیا اور افسردگی چھا گئی۔ ان کے لبوں سے ایک جگرسوز آہ نکلی‘ اور دل سینے میں تڑپ اُٹھا۔ ستارے جیسا ایک آنسو آنکھوں سے نکلا‘ پلکوں پر چمکا اور گرگیا۔
یہ دیکھ کر مجھے بے حد ندامت اور خفّت ہوئی کہ میں نے والد کو سخت تکلیف پہنچائی۔ اپنی اس حرکت پر بے قرار بھی ہوا (کہ اب تلافی کیسے ہو؟)
اسی کیفیت میں والدماجد کہنے لگے: اُمت مسلمہ کل اپنے آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جمع ہوگی۔ ان میں ہرطبقے کے لوگ ہوں گے: غازی‘ حفاظِ حدیث‘ شہدا‘ اکابراُمت‘ زاہد‘ عالم اور گنہگار بھی‘ اس موقع پر اس دردمند گدا کی صدا بلند ہوگی (وہ فریاد کرے گا کہ مجھ سے ایک نوجوان نے زیادتی کی ہے) چنانچہ نبی کریمؐ مجھ سے مخاطب ہوں گے:
حق جوانے مسلمے با تو سپرد
کو نصیبے از دبستانم نبرد
از تو ایں یک کار آساں ہم نہ شد
یعنی آں انبارِ گل آدم نہ شد
حق تعالیٰ نے ایک مسلمان نوجوان کو تیرے سپرد کیا تھا (کہ تو اسے صحیح تعلیم و تربیت دے) لیکن اس نوجوان نے میری ادب گاہ سے کوئی سبق حاصل نہ کیا۔ (حضوؐرفرمائیں گے کہ) تو اس آسان سے کام کو بھی انجام نہ دے سکا‘ یعنی تجھ سے ایک تودۂ مٹی آدمی نہ بن سکا۔
والد نے فرمایا کہ اگرچہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس ملامت میں بھی نرم گفتار ہی ہوں مگر میں تو سخت خفیف اور شرمندہ ہوں گا اور اُمیدوبیم میں گرفتار ہوں گا۔ پھر مجھے مخاطب ہوکر کہا: بیٹا! ذرا سوچو اور رسولؐ اللہ کی اُمت کے جمع ہونے کامنظر تصور میں لائو‘ پھر میری یہ سفید ڈاڑھی دیکھو اور میرے اُمیدوبیم کے لرزے کو نگاہ میں رکھو۔ اس کے بعد بڑے دردمندانہ لہجے میں کہنے لگے:
بر پدر ایں جورِ نازیبا مکن
پیشِ مولا بندہ را رسوا مکن
غنچہ ای از شاخسارِ مصطفی
از بہارش رنگ و بو باید گرفت
گل شو از بادِ بہار مصطفی
بہرۂ از خلقِ اُو باید گرفت
(دیکھو‘ بیٹا) اپنے باپ پر یہ نازیبا ظلم نہ کرو ۔(کل) آقا کے سامنے غلام کو رسوا نہ کرنا۔ تو شاخسارِ مصطفی کا ایک غنچہ ہے‘ حضوؐر ہی کی نسیمِ بہار سے شگفتہ ہوکر پھول بن جا۔ تجھے آپؐ کی بہار سے رنگ وبو حاصل کرنی چاہیے اور تجھے آپؐ کے خلقِ عظیم کی اتباع کرنی چاہیے۔
وجوہات تو اور بھی ہیں‘ مثلاً اقبال کے گھرانے کی دین سے گہری وابستگی‘ مذہبی شعائر کی پابندی‘ والدۂ اقبال کا جذبۂ خدمتِ خلق‘ پھر علامہ میرحسن کی علمی اور اخلاقی تربیت اور خود اقبال کے والد شیخ نورمحمد کا روحانی مزاج‘ نیک نفسی‘ اور پرہیزگاری وغیرہ ___ لیکن راقم کی دانست میں یہی وہ واقعہ ہے جس نے اقبال کے قلب و ذہن میں‘ آخرت میں جواب دہی کے احساس و شعور کو بیدار کیا اور ان کے نیک طینت والد نے اپنی مذکورہ بالا دل سوز و دردمندانہ گفتگو اور پندونصیحت کے ذریعے‘ ان کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دلی محبت اوروابستگی کا بیج بویا___ اقبال کی شاعری اور شخصیت میں یہ بیج ایک تن آور‘ اور بلندوبالا اور اطراف میں خوب پھیلی ہوئی شاخوں والا گھنا درخت بن کر نمودار ہوا___ (کَشَجَرۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَا فِی السَّمَآئِ) (ابراہیم ۱۴:۲۴)
عین ممکن ہے اقبال کے لڑکپن میں اسی طرح کے کچھ اور واقعات بھی رونما ہوئے ہوں تاہم بالیقین یہ واقعہ اقبال کی محبتِ رسولؐ میں ایک کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔ اوائلِ عمر کے بعض وقوعات‘ انسانی ذہن پر گہرے اور دُور رس اثرات مرتب کرتے ہیں۔ متذکرہ بالا واقعہ نوجوان محمداقبال کے قلب ودماغ پر مرتسم ہوکر رہ گیا اور پھر پایانِ عمر وقتاً فوقتاً اورطرح طرح سے اظہار ہوتا رہا۔
علامہ اقبال کی زندگی‘ شخصیت‘ شاعری اور نثرنگاری کا مطالعہ کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ‘ علامہ اقبال کا تعلقِ خاطر‘ ایک قلبی و ذہنی وابستگی اور عشق و محبت کا جذبہ مطالعۂ اقبال کا ایک نمایاں اور زرّیں باب نظر آتا ہے۔ ان کی زندگی کے ہر دور میں عشقِ رسولؐ ایک زندہ‘ توانا اور ایک انقلاب انگیز جذبے کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔ یہ حکایت دراز ہے اور لذیذ بھی‘ لیکن فی الوقت یہاںاس کے فقط چند پہلو پیش کیے جارہے ہیں:
ابتدا ہی سے اقبال کی شاعری میں جذبۂ عشق رسولؐ کا ایک والہانہ اظہار ملتا ہے مگر اظہارِ عقیدت کا انداز بالعموم رسمی و روایتی ہے۔ وہ اس عبوری دور سے آگے بڑھتے ہیں تو اُن کی توصیف ِمحمدؐ میں ہمیں ایک خاص معنویت نظر آتی ہے‘ مثلاًآںحضوؐر کی پیغمبرانہ اور بشری عظمت اور آپؐ کی رحمت و شفقت کا پہلو اُن کے لیے سب سے زیادہ جذب و کشش کا باعث بنتا ہے۔ ابتدائی نظموں میں سے ’نالۂ یتیم‘ کا یہ شعر ملاحظہ ہو ؎
درد ، انساں کا جو تھا، وہ میرے پہلو سے اُٹھا
قلزمِ جوشِ محبت ، تیرے آنسو سے اُٹھا
نظم ’فریادِ اُمت‘ کے متعدد شعروں میں عشق و محبت سے اقبال کی مراد دردِ انسانیت ہے‘ اور یہ درد عشقِ رسولؐ ہی سے پیدا ہوتا ہے ؎
تیری الفت کی اگر ہو نہ حرارت دل میں
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
۱؎
پھر رموز بے خودی میں کہتے ہیں ؎
تا دمِ تو آتشے از گلِ کشود
تودہ ہاے خاک را آدم نمود
(آپؐ کے نفسِ گرم سے مٹی کے پیکروں نے آگ پیدا کی اور خاک کے تودوں نے آدم کی صورت اختیار کرلی۔)
گویا‘ اقبال کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ آپؐ نے ’انسان سازی‘ کی عظیم الشان خدمت انجام دی۔ آپؐ نے اپنی ۲۳ سالہ مثالی زندگی میں جو گوناگوں کارنامے انجام دیے‘ اقبال کی شاعری میں مختلف مقامات پر ان کا ذکر ملتا ہے۔ ایک مفصل تذکرہ تو رموزِ بے خودی کے آخری باب بعنوان: ’عرضِ حالِ مصنف بحضورِ رحمت للعالمینؐ، میں کیا گیا ہے ؎
اے ظہورِ تو شبابِ زندگی
جلوہ اَت تعبیرِ خوابِ زندگی
(حضورِ والاؐ! آپؐ کا ظہور زندگی کے لیے شباب کا باعث ہے۔ آپؐ کا جلوہ خوابِ زندگی کی تعبیر ہے۔)
فارسی مثنوی پس چہ باید کرد اے اقوام شرق میں ’درِحضورِ رسالت مآبؐ، کے عنوان سے ایک نظم شامل ہے جسے اقبال نے پروفیسر سلاح الدین محمد الیاس برنی کے نام ایک خط میں (حضوؐراکرم کی خدمت میں ایک)’عرض داشت‘ کہا ہے۔ یہ ’عرض داشت‘ ان کی نعتیہ شاعری کا ایک خوب صورت نمونہ ہے۔ اس میں ملّت اسلامیہ کی کس مپرسی‘ بے چارگی اور خواری و زبوں حالی کا حوالہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔
علامہ اقبال سب سے پہلے انسانیت پر آپؐ کے احسانِ عظیم کا ذکر کرتے ہیں کہ آپؐ نے اُسے لات و منات اور چوپایوں اور کاہنوں کی عبدیت (غلامی) کے بوجھ سے آزاد کیا اور امرا و سلاطین کی غلامی کے چنگل سے نجات دلائی۔ پھر افرادِ اُمت کی موجودہ حالت ِ زبوں کا ذکر کرتے ہوئے افرادِ اُمت کے مختلف طبقوں (نوجوانوں‘ اہلِ مکتب‘ افرنگ کے نقالوں) کی ذہنی پستی اور پس ماندگی پر رنج و تاَسف کا اظہار کرتے ہیں:
درِ عجم گردیدم و ہم در عرب
مصطفی نایاب و ارزاں بولہب
ایں مسلماں زادۂ روشن دماغ
ظلمت آباد ضمیرش بے چراغ
درِ جوانی نرم و نازک چوں حریر
آرزو در سینۂ او زود میر
ایں غلام ابن.ِ غلام ابن.ِ غلام
حریت اندیشۂ او را حرام
(میں عجم میں بھی پھرا ہوں اور عرب میں بھی۔ بولہب زیادہ ہیں اور آپؐ کے رنگ میں رنگے ہوئے لوگ نایاب ہیں۔ یہ روشن دماغ مسلمان زادہ‘ اس کے ضمیر کی اندھیرنگری چراغ کے بغیر ہے۔ یہ جوانی میں ریشم کی طرح نرم و نازک ہے۔ اس کے سینے میں آرزوئیں پیداہوتے ہی مرجاتی ہیں۔ اس غلام ابن غلام ابن غلام پر آزادی کی سوچ حرام ہے۔)
پھر کہتے ہیں کہ جدید تعلیم نے اس سے دین کا جذبہ چھین لیا ہے۔ اور اب تو وہ ایک بے جان لاشہ ہے‘ اس کا وجود: ’’ایں قدر دانم کہ بود‘‘ (اتنا جانتا ہوں کہ کبھی ’’تھا‘‘___)
یہ نوجوان اپنے آپ سے ناآشنا ہے اور افکارِ فرنگ میں مست ہے۔ یہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ فرنگیوں کے ہاتھ سے اسے َجو کی روٹی مل جائے۔ اس فاقہ کش نے اپنی جانِ پاک دے کر روٹی خریدی۔ اس کے اس طرزِعمل نے ہمیں دردناک نالوں پر مجبورکردیا۔ یہ پالتو پرندوں کی طرح (دوسروں کے ہاتھ سے) دانہ چگتا ہے اور فضاے نیلگوں کی پہنائیوں سے ناآشنا ہے۔ فرنگیوں کی آگ نے اسے پگھلا دیا ہے۔ اس دوزخ نے اس کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ اسکول کا استاد نالائق اور کم نظر ہے‘ اس نے نوجوان کو اس کے حقیقی مقام سے آگاہ نہیں کیا۔
اقبال اُمت کے امراض سے بخوبی واقف تھے‘ جن میں سے ایک بڑی بیماری ’ترسِ مرگ‘ ہے۔ اس نظم کے ابتدا میں انھوں نے فریاد کی تھی کہ: وارہاں ایں قوم را از ترسِ مرگ (اس قوم کو موت کے خوف سے نجات دلایئے) یہاں وہ اس تاَسّف کا اظہار کرتے ہیں کہ ؎
مومن و از رمزِ مرگ آگاہ نیست
در دلش لاغالب الااللہ نیست
(مومن ہے اور موت کی رمز سے آگاہ نہیں۔اس کا دل لاغالب الا اللہ سے خالی ہے)
اقبال نے اس نوحہ و فریاد میں ایک ایسی بات کہی ہے جو اقبال کے دور میں تو سچی تھی ہی‘ آج ۷۰سال بعد‘ دورِاقبال سے کہیں زیادہ ہمارے حسبِ حال ہے___ کہتے ہیں ؎
ما ہمہ افسونیِ تہذیبِ غرب
کشتۂ افرنگیاں بے حرب و ضرب
(ہم سب مغرب کی تہذیب کے سحر زدہ ہیں۔ ہمیں افرنگیوں نے بغیر جدال و قتال کے قتل کردیا ہے۔)
تاہم‘ اقبال کو علم نہیں تھا کہ جب یہ سخت جان اُمت‘ صرف تعلیم اور (نام نہاد)ثقافتی حربوں کے ذریعے پوری طرح بے جان نہ ہوسکے گی تو فرنگی جدال و قتال پر بھی اتر آئیں گے___ (یہ الگ بات ہے کہ اس محاذ پر بھی انھیں منہ کی کھانی پڑے گی۔)
علامہ اقبال کے حبِّ رسولؐ کے جذبے پر ایک اور پہلو سے بھی نظر ڈالنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ ہمارے معاشرے میں حبِّ رسولؐ اور عشقِ رسولؐ کا جذبہ چند ظاہری آداب (نعت نویسی‘ نعت خوانی‘ مجلس میلاد‘ میلادالنبیؐ کا جلوس یا رسمی و روایتی انداز میں دھواں دھار تقریروں) تک محدود ہوکر رہ گیا ہے‘ اور الا ماشاء اللہ اب یہ ہمارا ایک ’ثقافتی مظہر‘ ہے۔ لیکن علامہ اقبال کی محبتِرسولؐ فقط آپ کی زبانی کلامی توصیف و تحسین یا درود و سلام تک محدود نہیں (گو کہ علامہ اقبال نے نبی ِکریمؐ پر بکثرت درود شریف پڑھنے کی تلقین کی ہے) وہ محبتِرسولؐکو خدمتِرسولؐ اور خدمتِرسولؐ کو خدمتِدین کے مترادف سمجھتے ہیں‘ یعنی ان کے نزدیک:
محبتِرسولؐ= خدمتِرسولؐ
اور:
خدمتِرسولؐ = خدمتِاسلام
چنانچہ متذکرہ بالا ’عرض داشت‘ پیش کرتے ہوئے انھیں خیال آتا ہے کہ ہم مسلمانوں نے نہ تو اپنی نسبتِ رسولؐ کا خیال رکھا اور نہ محمدؐ کے نام لیوا ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیا۔ ہم مسلمان ہیںتو اسلام ہم سے کیا چاہتا ہے؟ رسالتِمحمدیہؐ پر ہمارا ایمان ہے تو اس کے تقاضے کیا ہیں؟___افراد ِاُمت‘ اس ضمن میں ایک عمومی غفلت کا شکار ہیں۔ اقبال کے لیے یہ چیز دلی اذیت.ّکا باعث ہے۔ اس کیفیت کو‘ وہ ذاتی حوالے سے اس طرح بیان کرتے ہیں:
میں تو جب کبھی سوچتا ہوں‘ شرم و ندامت سے میری گردن جھک جاتی ہے کہ کیا ہم مسلمان آج اس قابل ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر فخر کریں؟ ہاں‘ جب ہم اس نور کو اپنے دلوں میں زندہ کرلیں گے‘ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں داخل کیا تھا‘ تو اس وقت اس قابل ہوسکیں گے کہ حضوؐر ہم پر فخر کریں۔
وہ نور کیا تھا جو آپؐ نے ہمیں عطا کیا؟ اسلام کی نعمت‘ قرآن حکیم کی دولت‘ احکام الٰہی کا سرمایہ اور خدمتِدین کا جذبہ___ یہ سب عشقِ رسولؐ کا تقاضا اور اس کے ثمرات ہیں۔ ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں: ’’اقبال کے تجربے میں تو عشقِ رسولؐ ہی ایسی نعمت ہے‘ جس کے ذریعے‘ وہ اپنے تمام فکری مسائل حل کرسکتے تھے‘‘۔ اقبال کے نزدیک حبِّ رسولؐ کے ذریعے دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت کا حصول ممکن ہے‘ بلکہ زمین و آسمان کی ساری عزتیں اور ساری نعمتیں صرف اسی طریقے سے مل سکتی ہیں ؎
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا‘ لوح وقلم تیرے ہیں
ہر کہ عشقِ مصطفی سامانِ او ست
بحر و بر در گوشۂ دامانِ اوست
(جس شخص کو بھی عشقِ مصطفیؐ کی نعمت مل جاتی ہے‘ وہ دریا و صحرا دونوں پر متصرف ہوجاتا ہے۔)
لیکن جیساکہ اکثر ابناے زمانہ کا شیوہ ہے‘انسان غفلت کا اسیر رہتا ہے‘ مکروہاتِ زمانہ ہی سے فرصت نہیں ملتی‘یا ساری تگ و دو حصولِ دنیا کے لیے وقف رہتی ہے۔ دین کیا ہے؟ اس کے تقاضے کیا ہیں؟ ہمارے گردوپیش بہت کم لوگ ہوں گے‘ جنھیں تفہیم دین‘ خدمتِ اسلام یا اتباعِ رسولؐ کا حقیقی شعور ہو اور وہ ان فرائض کو اداکرنے کااحساس بھی رکھتے ہوں۔ اقبال کو اس کا احساس تھا مگر انھیں ایک گونہ ندامت ہوتی تھی کہ وہ اتباعِ رسولؐ کے تقاضوں کو خاطرخواہ طریقے سے پورا نہیں کرسکے۔ ایک خط میں لکھتے ہیں:
میں جو اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی عمر یورپ کا فلسفہ وغیرہ پڑھنے میں گنوائی۔ خدا تعالیٰ نے مجھ کو قواے دماغی بہت اچھے عطافرمائے تھے۔ اگر یہ قویٰ دینی علوم کے پڑھنے میں صرف ہوتے‘ تو آج خدا کے رسولؐ کی ‘ میں کوئی خدمت کرسکتا اور جب مجھے یاد آتا ہے کہ والدِمکرم مجھے علوم دینی ہی پڑھانا چاہتے تھے‘ تو مجھے اوربھی قلق ہوتا ہے کہ باوجود اس کے‘ کہ صحیح راہ معلوم بھی تھی‘ تو بھی وقت کے حالات نے اس راہ پر چلنے نہ دیا۔ بہرحال جو کچھ خدا کے علم میںتھا‘ ہوا‘ اور مجھ سے بھی جو کچھ ہوسکا‘ میں نے کیا‘ لیکن دل چاہتا ہے کہ جو کچھ ہوا‘ اس سے بڑھ کر ہونا چاہیے تھا‘ اور زندگی تمام و کمال نبیِکریمؐ کی خدمت میں بسر ہونی چاہیے تھی۔
اگرچہ جیسا اُوپر بھی ذکر ہوا‘ علامہ اقبال نے آنحضوؐر پر بہ کثرت درود شریف پڑھنے کی تلقین کی ہے‘ مگر درجِ بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عشقِ رسولؐ ان کے نزدیک محض درود شریف پڑھنے اور محبت کے زبانی کلامی دعووں یا ان کی یاد میں آنسو بہانے تک محدود نہیں۔ عشقِرسولؐ کا حقیقی تقاضا ’’نبی ِکریمؐ کی خدمت ہے‘‘۔ یہ خدمتِ رسولؐ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا احیا اور اس کا نفاذ___ یعنی خدمتِ رسولؐ، خدمتِ اسلام کے مترادف ہے۔ سیدغلام میراں شاہ کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:
دعا کرتا ہوں خدا تعالیٰ آپ کو اس امر کی توفیق دے کہ آپ اپنی قوت‘ ہمت‘ اثر‘ رسوخ اور دولت و عظمت کو حقائقِ اسلام کی نشرواشاعت میں صرف کریں۔ اس تاریک زمانے میں حضور رسالت مآبؐ کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے۔
آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی باطل کے خلاف سراپا جہاد تھی۔ عصرِحاضر میں بھی گوناگوں باطل نظریات‘ اسلام کے راستے کی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ان کے خاتمے کے لیے کوشش و کاوش ایک طرح سے سنت ِنبویؐ ہے‘ خدمتِ رسولؐ بھی اور خدمتِ دین بھی۔ علامہ اقبال کے نزدیک ایک مومن کی زندگی کا یہی مشن ہونا چاہیے۔ اپنی زندگی میں انھیں ’نازک زمانے میں اسلام کی حفاظت‘ کی فکر برابر دامن گیر رہی اور وہ ’اسلام کی منتشر قوتوں کو جمع کرکے اس کے مستقبل کو محفوظ‘ کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے رہے۔ ۲۲ اپریل ۱۹۳۱ء کو مولوی صالح محمد کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:
مسلمانوں کو ابھی تک اس کا احساس نہیں ہوا کہ جہاںتک اسلام کا تعلق ہے‘ اس ملک ہندستان میں کیا ہو رہا ہے‘ اوراگر وقت پر موجودہ حالت کی اصلاح کی طرف توجہ نہ کی گئی تو مسلمانوں اور اسلام کا مستقبل‘ اس ملک میں کیا ہوجائے گا؟ آیندہ نسلوں کی فکر کرنا ہمارا فرض ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی زندگی گونڈ اور بھیل اقوام کی طرح ہوجائے اور رفتہ رفتہ ان کا دین اور کلچر اس ملک سے فنا ہوجائے۔
آپ خواجہ صاحب کے دل میں بھی یہی تڑپ پیدا کریں کہ وہ اپنے دیگر احباب میں بھی یہی تحریک کریں‘ ورنہ ہم سب لوگ قیامت کے روز خدا اور رسولؐ کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔
اسی تسلسل میں ۳۰ جولائی ۱۹۳۴ء کو ایک خط میں لکھتے ہیں: ’’اس وقت مسلمان کا فرض ہے کہ جو قوت‘ خداتعالیٰ نے اسے عطا کی ہے‘ اسے اسلام کی خدمت اور اقوام و مللِ اسلامیہ کے احیا و بیداری میں صرف کردے‘‘۔ یہاں یہ عرض کرنا بے جا نہ ہوگا کہ اسلام کی نشاَتِ ثانیہ کے بارے میں علامہ اقبال کارجائی ذہن بہت واضح تھا۔ شاعری کے علاوہ خطوں میں بھی یہ رجائیت‘ اپنی جھلک دکھاتی ہے۔ ایک صاحب نے خواب میں رسولِ پاکؐ کی زیارت کی تعبیر دریافت کی‘ اقبال انھیں جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
عام مسلمانوں کی طرح میرا بھی یہ عقیدہ ہے کہ حضورِ رسالت مآبؐ کی زیارت خیروبرکت کا باعث ہے۔ گذشتہ دس پندرہ سال میں کئی لوگوں نے مجھ سے ذکر کیا ہے کہ انھوں نے حضورِ رسالت مآبؐ کو جلالی رنگ میں یا سپاہیانہ لباس میں خواب میں دیکھا ہے۔ میرے خیال میں یہ علامت احیاے اسلام کی ہے۔
خود علامہ اقبال اپنے تئیں احیاے اسلام کے لیے کاوش و کوشش کا فریضہ ادا کرنے کی سعی کرتے رہے‘ اور انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے خدمتِ اسلام اور خدمتِ رسولؐ میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔
محبت ِ رسولؐ کے ضمن میں علامہ اقبال کو اپنی ’نسبتِ حجازی‘ بھی بہت عزیز تھی‘ وہ آں حضوؐر کی زبانِ مبارک سے خود کو ’اے عندلیبِ باغِ حجاز‘ کہلوا کر فخرومسرت اور روحانی لذت و سرشاری محسوس کرتے تھے۔ اسی طرح ان کے حالات میں حجازِ مقدس کے سفر اور زیارتِ روضۂ رسولؐ کی تمنا کا بہ تکرار اظہار ملتا ہے۔ بارہا سفرِحجاز کا ارادہ بھی کیا مگر بوجوہ یہ ارادہ بروے کار نہ آسکا۔
آخری زمانے میں نبی پاکؐ کے لیے ان کا ذوق و شوق بڑھ گیا تھا‘ اس بنا پر آںحضوؐر کا ذکر آتے ہی وہ آبدیدہ ہوجاتے اور اکثر اوقات ان پر رقت طاری ہوجاتی۔ غلام رسول مہر کا بیان ہے کہ :
آپؐ کا نام زبان پر آتے ہی چہرہ سرخ ہوجاتا تھا اور آنکھوں میں آنسو بھر آتے تھے۔ آپؐ ذاتِ بابرکات کے ساتھ اقبال کا عشق‘ بیان کا متحمل نہیں۔ ان کی تصانیف میں جو اشعار حضوؐر کے متعلق ہیں‘ ان میں سے ایک شعر بھی ایسا نہیں‘ جسے انھوں نے سنایا ہو اور اس پر بے اختیار اشک بار نہ ہوئے ہوں۔
وفات سے کوئی آٹھ دس ماہ پہلے‘ علامہ کے ایک دوست مخدوم الملک سید غلام میراں شاہ نے حج بیت اللہ کا عزم کیا اور غالباً ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ جواباً انھیں لکھا کہ حجِ بیت اللہ کی آرزو تو گذشتہ دو تین سال سے میرے دل میں بھی ہے۔ خدا تعالیٰ ہر پہلو سے استطاعت عطا فرمائے‘ تو یہ آرزو پوری ہو‘ اور اگر آپ رفیقِراہِ ہوں تو مزید برکت کا باعث ہو۔ آپ ایسے باہمت جوان کے لیے تو یہ سفر قطعاً مشکل نہیں۔ ہمت تو میری بھی بلند ہے لیکن بدن عاجز و ناتواں ہے۔ کیا عجب کہ خدا تعالیٰ توفیق عطا فرمائے اور آپ کی معیت، اس سفر میں نصیب کرے۔
یہی زمانہ تھا‘ جب وہ ’حضورِ رسالتؐ، (جو اَب ارمغانِ حجاز میں شامل ہیں) کے عنوان سے فارسی رباعیات لکھ رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے حج پر جانے کے لیے مختلف جہاز ران کمپنیوں سے خط کتابت بھی شروع کردی تھی، گویا عملاً حالتِ سفر میں تھے۔ اسی زمانے کی رباعی ہے:
بہ ایں پیری رہِ یثرب گرفتم
نوا خواں از سرورِ عاشقانہ
چوں آں مرغے کہ در صحرا سرِشام
کشاید پر بہ فکرِ آشیانہ
(اس بڑھاپے میں‘ میں مدینے کی طرف سرورِعاشقی سے مست‘ گاتا چلا جا رہا ہوں اور میرا حال اُس پرندے کی طرح ہے جو صحرا میں شام ہوتے ہی اپنے آشیانے کی طرف لوٹنے کی فکر کرتا ہے۔)
اپنی بیماری کے سبب‘ اقبال کے لیے جسمانی طور پر سفر بہت مشکل ہوگیا تھا چنانچہ عالمِ خیال ہی میں وہ مدینہ طیبہ کی جانب رواں دواں رہے۔ اپنی علالت کے حوالے سے اسی زمانے کی حسبِ ذیل رباعی ان کے حسبِ حال تھی:
سحر با ناقہ گفتم: نرم تر رَو
قدم مستانہ زد چنداں کہ گوئی
کہ راکب خستہ و بیمار و پیر است
بہ پایش ریگِ ایں صحرا حریر است
(بوقت صبح میں نے اُونٹنی سے کہا کہ ذرا آہستہ چل کیوں کہ سوار خستہ‘ بیمار اور بوڑھا ہے۔ اس پر وہ اس طرح مستانہ انداز میں قدم زن ہوئی گویا اس کے پائوں کے نیچے پھیلی ہوئی ریگِ صحرا‘ ریت نہیں ریشم ہے۔)
مگر اثناے سفر کی لذت ایسی سرور انگیز اور وجدآفریں ہے کہ مسافر‘ سارباں کو راہِ دراز اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے تاکہ سفرِشوق میں مسرت کے لمحات دراز تر ہوسکیں:
غمِ راہی نشاط آمیز تر کن
فغانش را جنوں انگیز تر کن
بگیر اے سارباں راہِ درازے
مرا سوزِ جدائی تیز تر کن
(اے سارباں! تو مسافر کے غم میں نشاط اور کیف کی آمیزش بڑھا دے اور اس کی آہ و زاری میں جنوں کا عنصر زیادہ کردے۔ اے سارباں! لمبا راستہ اختیار کر اور یوں میرے سوزِ جدائی کو تیز تر کردے۔)
علامہ اقبال کو ۱۹۳۱ء میں دوسری گول میز کانفرنس کے سلسلے میں لندن کا سفر درپیش ہوا۔ واپسی پر موتمرعالم اسلامی میں شرکت کے لیے بیت المقدس گئے۔ وہاں سے مصر گئے اور پھر براہِ راست ہندستان چلے آئے۔ اس پر بعض لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ علامہ نے عمرے اور روضۂ رسولؐ پر حاضری کے اس موقعے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ اس ضمن میں روزگارِ فقیر کے مؤلف فقیر سید وحیدالدین کی ایک روایت قابلِ غور ہے۔ [فقیرسیدوحیدالدین کے والد فقیر سیدنجم الدین علامہ اقبال کے قریبی اور بے تکلف دوستوں میں شامل تھے] وہ بتاتے ہیںکہ علامہ یورپ سے واپس آئے تو والدمرحوم اس موقعے پر ان سے ملنے گئے۔ بڑی مدت کے بعد‘ ایک دوسرے سے ملاقات ہوئی تھی‘ اس لیے بڑے تپاک سے ملے‘اور ڈاکٹرصاحب سے ان کے سفر کے تجربات کے متعلق گفتگو ہونے لگی۔ والدمرحوم نے اثناے گفتگو میں کہا: ’’اقبال! تم یورپ ہوآئے ہو‘ مصر اور فلسطین کے سیر بھی کی‘ کیا اچھا ہوتا کہ واپسی پر روضۂ اطہر کی زیارت سے بھی آنکھیں نورانی کرلیتے‘‘۔ یہ سنتے ہی ڈاکٹرصاحب کی حالت دگرگوں ہوگئی‘ یعنی چہرے پر زردی چھاگئی اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ چند لمحے تک یہی کیفیت رہی۔ پھر کہنے لگے: ’’فقیر! میں کس منہ سے روضۂ اطہر پر حاضر ہوتا‘‘۔
انھی دنوںکسی شخص نے دریافت کیا کہ فلسطین سے زیارتِ حرمین کے لیے جانا مشکل نہ تھا‘ پھر کیاامر مانع ہواکہ آپ نے اس موقعے سے فائدہ نہ اٹھایا؟ جواباً علامہ نے انھیں لکھا:
مدینۃ النبیؐ کی زیارت کا قصد تھا‘ مگر میرے دل میں یہ خیال جاگزیں ہوگیا کہ دنیوی مقاصد کے لیے سفر کرنے کے ضمن میں حرمِ نبویؐ کی زیارت کی جرأت کرنا سوئِ ادب ہے۔ اس کے علاوہ بعض مقامی احباب سے وعدہ تھا کہ جب حرمِ نبویؐ کی زیارت کے لیے جائوں گا‘ تو وہ میرے ہم عناں ہوں گے۔ ان دونوں خیالوں نے مجھے باز رکھا‘ ورنہ کچھ مشکل امر نہ تھا۔
بہ الفاظِ دیگر‘ انھیں دربارِ رسالت مآبؐ میں ضمنی طور پر حاضر ہونا اچھا نہ لگا۔ دراصل آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اُمتی کی طرح علامہ اقبال کو بھی اپنے گناہوں اور کوتاہیِ فکروعمل کا شدید احساس تھا۔ احساسِ ندامت کے سبب‘ وہ روضۂ رسولؐ پر حاضری سے گریزاں تھے‘ اور غالباً اسی لیے وہ ایک جگہ بارگاہِ خداوندی میں اس طرح التماس کرتے ہیں:
تو غنی از ہر دو عالم، من فقیر
روزِ محشر عذر ہاے من پذیر
وَرحسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہِ مصطفی پنہاں بگیر ۲؎
(اے اللہ) تو سراپا غنی ہے(اور) میں تہی دست ہوں۔ روزِحشر مجھے جواب دہی سے معاف رکھنا۔ لیکن اگر جواب دہی ناگزیر ہو تو پھر آں حضوؐر کی نظروں سے اوجھل ہوکر حساب لیجیو۔ (تاکہ آپؐ کے سامنے‘ میری رسوائی نہ ہو۔)
بہرحال انھوں نے سفر ِحجاز کا ارادہ ترک نہیں کیا‘ مگر سوئِ اتفاق سے‘ یورپ سے واپسی کے چندماہ بعد وہ شدید طور پر علیل ہوگئے۔ انھیں وکالت ترک کرنی پڑی‘ معمولات متاثر ہوگئے‘ علاج معالجے کے لیے بار بار دہلی اور بھوپال جانا پڑا۔ بیماری کے نتیجے میں طرح طرح کے تفکرات اور غم ہاے روزگار نے گھیرلیا‘ مگر اس عالم میں بھی سرزمین مقدس کے لیے ان کے عزم و ارادے میں فرق نہیں آیا۔ ارادۂ سفر نہ صرف برقرار رہا‘ بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سفرِحجاز کی آرزو تیز تر ہوتی گئی۔ اس آرزو نے رسول اکرمؐ کے ساتھ ان کی دل بستگی میں اضافہ کردیا تھا۔
دورِ آخر میں وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور دل بستگی کی جس کیفیت سے گزر رہے تھے‘ اس کا ذکر‘ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے بڑے عمدہ الفاظ میں کیا ہے:
زندگی کے آخری ایام میں پیمانۂ عشق اس طرح لبریز ہوا کہ مدینے کا نام آتے ہی اشکِمحبت بے ساختہ جاری ہوجاتے۔ وہ اپنے اس کمزور جسم کے ساتھ مدینۃ الرسولؐ میں حاضر نہ ہوسکے لیکن اپنے مشتاق اور بے تاب دل‘ نیز اپنی قوتِ تخیل اور زورِ کلام کے ساتھ انھوں نے حجاز کی وجدانگیز فضائوں میں باربار پرواز کی اور ان کا طائرِ فکر ہمیشہ اسی آشیانے یا آستانے پر منڈلاتا رہا۔
مدینۃ النبیؐ اقبال کے خوابوں کا شہر تھا۔ وہاں ان کی عزیز ترین ہستی محوِاستراحت تھی۔ ان کی دیرینہ آرزو تھی کہ انھیں حجاز جانے کا موقع ملے تو سرزمینِ مدینہ ہی میں پیوندِ خاک ہوجائیں۔ یہ تمنا بھی آپؐ سے ایک تعلقِ خاطر کی دلیل‘ اور قلبی وابستگی کی ایک شکل ہے جس کا اظہار ایک شعر میں اس طرح کیا ہے ؎
ہست شانِ رحمتت گیتی نواز
آرزو دارم کہ میرم در حجاز
(آپؐ کی شانِ رحمت ایک زمانے کو نوازتی ہے۔ میری آرزو یہ ہے کہ مجھے موت آئے تو سرزمین حجاز میں۔)
اقبال کے سفرِحجاز کا خواب تو شرمندئہ تعبیر نہیں ہوسکا اور نہ اُن کی ’میرم درحجاز‘ کی تمنا بروے کار آسکی۔ مگر ’عرضِ حال مصنف بہ حضوؐر رحمت للعالمین‘ (رموزِ بے خودی‘ ۱۹۱۸ء) کے ۲۰سال بعد (۱۹۳۸ء میں) جب وہ اس عالمِ فانی سے رخصت ہوکر عالمِ جاودانی کو سُدھارے اور عالم گیری مسجد لاہور کے سایۂ دیوار میں سپردِ خاک ہوئے‘ تو ان کی آرزو تھی:
کوکبم را دیدۂ بیدار بخش
تا بیاساید دلِ بے تابِ من
مرقدے در سایۂ دیوار بخش
بستگی پیدا کند سیمابِ من
با فلک گویم کہ آرامم نگر
دیدۂٖ آغازم انجامم نگر
(میری قسمت کے ستارے کو بھی دیدۂ بیدار عطا فرمایئے اور اپنی دیوار کے سایے میں آسودئہ خاک ہونے کے لیے ذرا سی جگہ عطا فرمایئے تاکہ میرے دلِ بے تاب کو سکون نصیب ہو اور میری سیمابیت کو قرار آجائے‘ اور مَیں فلک سے کہہ سکوں کہ دیکھو‘ مجھے کیسے آرام نصیب ہوا‘ تو میرا آغاز دیکھ چکا ہے‘ اب میرے انجام پر بھی نظر ڈال۔)
اس آرزو کو ایک شکل میں تو یوں شرفِ قبولیت حاصل ہوا کہ وہ عالم گیری مسجد لاہورکی دیوار تلے آسودئہ خاک ہیں جہاں ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ء سے آج تک‘ نماز اور زیارتِ مسجد کے لیے آنے والے ہزاروں لاکھوںمسلمان‘ ان کے لیے مستقلاً دست بدعا رہتے ہیں___ یہ ’رُتبہ بلند‘ ہرکسی کو نصیب نہیں ہوتا اور ایسا اعزاز و افتخار عشقِ رسولؐ کا دعویٰ کرنے والوں میں سے کم ہی لوگوں کے حصے میں آیا ہوگا۔
۱- مذکورہ بالا دونوں اشعار‘ اقبال کے متداول کلام میں شامل نہیں ہیں‘ بلکہ دوسرے شعر سے متصل ومابعد حسب ذیل نہایت عمدہ شعر بھی اقبال نے‘ نمعلوم کیوں اپنے متداول کلام میں شامل نہیں کیا:
یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
۲- یہ رباعی‘ اقبال کے متداول کلام میں شامل نہیں ہے‘ اقبال نامہ (جدید یک جا اڈیشن‘ شائع کردہ: اقبال اکادمی پاکستان لاہور‘ ۲۰۰۵ء‘ ص ۲۵۶) میں موجود ہے۔ اس کا قصہ یوں ہے کہ مذکورہ رباعی اوائل ۱۹۳۷ء میں کسی اخبار یا رسالے میں شائع ہوئی تو ڈیرہ غازی خاں کے ایک مدرس محمدرمضان عطائی نے‘ علامہ سے تحریراً درخواست کی کہ یہ رباعی مجھے عطا کریں۔ علامہ کا ظرف دیکھیے کہ انھوں نے عطائی صاحب کو لکھا: ’’شعر کسی کی ملکیت نہیں۔ آپ بلاتکلف وہ رباعی جو آپ کو پسند آگئی ہے‘ اپنے نام سے مشہور کریں‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے___‘‘اور علامہ واقعی اس بے مثال رباعی سے دست بردار ہوگئے اور اسے اپنے مجموعۂ کلام میں شامل کرنے کی ممانعت کردی‘ تاہم راقم کی راے میں‘ اب یہ رباعی ارمغانِ حجاز میں شامل کرلینی چاہیے۔
اُردو دنیا کی ایک محترم اور معتبر شخصیت ‘ اُردو کے معروف اور جید نقاد اور بھارت کے نام ور مسلم دانش ور پروفیسر عبدالمغنی ۵ستمبر ۲۰۰۶ء کو پٹنہ میں انتقال کرگئے‘ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی رحلت اُردو دنیا خصوصاً بھارت کی اُردو تحریک کے لیے ایک نقصانِ عظیم ہے۔ اسی طرح وہاں کی تحریک ِ ادب اسلامی کے لیے (جس کے مرحوم ایک نمایاں سرپرست تھے) یہ ایک بڑا سانحہ ہے۔
ڈاکٹر عبدالمغنی مرحوم کا تعلق صوبہ بہار کے ایک علمی خانوادے سے تھا۔ مغلوں نے ان کے ایک بزرگ کو الٰہ آباد سے ’قاضی‘ بناکر اورنگ آباد (بہار) بھیجا تھا۔ ان کے والد قاضی سید عبدالرؤف دیوبند اور ندوہ کے فارغ التحصیل اور اورنگ آباد کے قاضی تھے۔ معارف ، اعظم گڑھ کے ابتدائی زمانے میں ان کے متعدد مضامین مذکورہ رسالے میں شائع ہوئے۔ خاندانی روایت کے مطابق والدنے عبدالمغنی کو بھی ’قاضی‘ بناناچاہا مگر وہ والد کی اس خواہش کی تکمیل نہ کرسکے۔ سات آٹھ برس تک مختلف مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد‘ یکے بعددیگرے اسکول‘ کالج اور یونی ورسٹی کے امتحانات بڑے امتیازات کے ساتھ پاس کیے۔ ان کی عملی زندگی کا آغاز انگریزی کے لیکچرر کی حیثیت سے ہوا۔ کئی سال بعد انگریزی ہی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ پٹنہ یونی ورسٹی کی ملازمت سے سبک دوش ہوئے تو انھیں بہار کی ایل این متھلا یونی ورسٹی دربھنگا کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ فرقہ پرستوں کو ایک مسلم وائس چانسلر ہضم نہ ہوسکا تو ان کے خلاف سازش کرکے‘ انھیں گرفتار کرا دیا مگر جلد ہی وہ تمام الزامات سے بری الذمہ ہوکر‘ باعزت طریقے سے رہا ہوگئے۔ ۳۱اگست ۱۹۹۹ء کو مجھے ایک خط میں لکھا: ’’اسلام پسندی کا ملزم آزاد ہے اور پہلے سے زیادہ معتبر و معروف‘ ہرفرقے اور حلقے میں‘ بلاامتیاز مذہب و ملّت‘‘۔
پروفیسر عبدالمغنی نہایت فعال‘ متحرک اور دبنگ شخصیت کے مالک تھے۔ اپنے نظریات میں بہت پختہ‘ واضح اور دوٹوک موقف رکھتے تھے اور تحریراً و تقریراً اس کے اظہار میں بے باک اور جری تھے۔ ہمیشہ بے جا مصلحتوں اور ذاتی مفادات سے بالا رہے۔ نہ صرف بات چیت بلکہ معاملات میں بھی کھرے تھے‘ اس لیے اُن سے معاملہ کرنے والے اُن سے دبتے بھی تھے اور ان کی عزت بھی کرتے تھے۔ راقم کو دو بار انھیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ پہلی ملاقات تو ۲۶اپریل ۱۹۸۶ء کو دہلی میں ہوئی۔ دوسرا موقع اس وقت ملا‘ جب وہ پنجاب یونی ورسٹی کی اقبال کانگریس (نومبر ۱۹۹۸ئ) میں شرکت کے لیے چار روز کے لیے لاہور آئے۔ اس دوران میں‘ وقتاً فوقتاً ان سے ملاقاتیں اور باتیں ہوتی رہیں۔ کانفرنس کے علاوہ مختلف ادبی جلسوں اور گفتگوؤں‘ نیز اخبارات کے مصاحبوں (انٹرویو) میں بھی عبدالمغنی صاحب نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر‘ اپنے خیالات کا نہایت کھل کر اظہار کیا۔ بھارتی مسلمانوں کے مسائل‘ ہندوئوں کا معاندانہ رویہ‘ ہندستان میں اُردو زبان کا حال اور مستقبل‘ کشمیر کا مسئلہ‘ ادبی دھڑے بندیاں‘ پاکستانی معاشرے اور بعض نقادوں‘ افسانہ نگاروں اور شاعروں کے بارے میں انھوں نے بہت سے مسلّمات کے برعکس اپنی دوٹوک آراظاہر کیں اور قطعاً پروا نہیں کی کہ لوگ کیا کہیں گے اور اس کا ردعمل کیا ہوگا۔
اوّل: وہ بھارت میں اُردو زبان کی بقا اور اُس کی ترویج اور فروغ کے بہت بڑے حامی تھے۔ حامی اور نعرے لگانے والے تو اور بھی بہت سے لوگ ہیں لیکن عبدالمغنی صاحب نے کسی خوف‘ مصلحت اور مداہنت کے بغیر اُردو کے حق میں ایک بڑی تحریک چلا کر بہار میں ۱۹۸۰ء میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان تسلیم کرانے کا کارنامہ انجام دیا۔ وہ ابتدا سے تادمِ آخر انجمن ترقی اُردو بہار کے صدر رہے اور بالعموم‘ ہمیشہ بلامقابلہ ہی صدر منتخب ہوتے رہے۔
دوم: پروفیسر عبدالمغنی بھارت کی اسلامی ادبی تحریک کے ایک نمایاں سرپرست تھے۔ وہ ادارہ ادب اسلامی ہند کے مجلسِ عاملہ کے رُکن اور اُس کے ادبی ترجمان پیش رفت کی مجلسِ ادارت میں شامل تھے۔
سوم: وہ اُردو ادب کے سربرآوردہ نقاد تھے۔ عربی‘ فارسی اور مشرقی و دینی علوم کے ساتھ انگریزی ادب کے مطالعے بلکہ دیگر یورپی زبانوں کے ادب سے واقفیت نے ان کی تنقید میں ایک وزن اور وقار پیدا کردیا تھا۔ رسمی و روایتی اندازِ نقد و انتقاد سے ہٹ کر‘ ان کے تنقیدی تجزیوں میں ایک حقیقت پسندانہ قدر سنجی اور واضح نقطۂ نظر ملتا ہے۔ ان کے اوّلین تنقیدی مجموعے کا نام نقطۂ نظر (پٹنہ‘ ۱۹۶۵ئ) اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ وہ ادب کی سنجیدہ تنقید میں کسی نہ کسی نقطۂ نظر کو ضروری خیال کرتے تھے۔
چہارم: پروفیسر عبدالمغنی کی ایک حیثیت اپنے عہد کے ایک نام ور اقبال شناس کی بھی ہے جیساکہ اُوپر ذکر ہوا۔ انھوں نے نظم و نثر کی مختلف اصناف پر بہت کچھ لکھا مگر جس رغبت اور والہانہ انداز میں انھوں نے اقبال کے فکروفن کے مختلف گوشوں کو منور کیا‘ وہ ان کے ادبی و تنقیدی سرمایے میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ اُردو اور انگریزی میں اقبالیات پر ان کی سات کتابیں‘ اس موضوع سے ان کی غیرمعمولی لگن کا ثبوت ہیں۔ اقبال کے فکروفن پر ان کی تنقید بڑی متوازن اور معتدل ہے اور وہ اقبال کی شاعری میں ان کے فکر کے ساتھ‘ ان کے فن کو بھی برابر کی اہمیت دیتے ہیں۔ وہ علامہ اقبال کو عالمی سطح پر سب سے بڑا شاعر سمجھتے تھے۔ اپنے دورۂ پاکستان میں انھوں نے اس راے کا اظہار‘ مختلف مجالس اور اخبارات سے مکالموں اور مصاحبوں میں بھی بڑی شدّومد سے کیا۔
پروفیسر عبدالمغنی کی اُردو اور انگریزی تصانیف کی تعداد ۵۰ سے اُوپر ہے۔ ان کا آخری علمی کارنامہ: The Quran: An Authentic Modern Idiomatic English Translation ہے___ شبلی نعمانی‘ ابوالکلام آزاد اور سیدابوالاعلیٰ مودودی ان کے سب سے زیادہ پسندیدہ مصنفین تھے۔ وہ بھارت کی بہت سی علمی‘ تعلیمی اور ادبی انجمنوں سے مختلف حیثیتوں سے وابستہ رہے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات پر انھیں متعدد انعامات واعزاز پیش کیے گئے۔ اس مختصر تعارف میں اس کی تفصیل دینا مشکل ہے۔ خدا ان کی مغفرت کرے اور روح کو آسودہ رکھے‘ آمین!
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ
وہ باغ کی بہاریں‘ وہ سب کا چہچہانا
اس قید کا الٰہی‘ دکھڑا کسے سنائوں
ڈر ہے یہیں قفس میں‘ مَیں غم سے مر نہ جائوں
بانگِ درا میں شامل بچوں کے لیے بیشتر نظمیں‘ انگریزی شاعری سے ماخوذ ہیں‘ مگر ’’پرندے کی فریاد‘‘ پر ’’ماخوذ‘‘ کی وضاحت درج نہیں ہے۔ پروفیسر حمیداحمد خاں مرحوم کی تحقیق یہ ہے کہ اقبال کو اس نظم کی تحریک‘ معروف انگریز شاعر ولیم کوپر کی ایک نظم سے ہوئی‘اور انھوں نے اس نظم میں کوپر کی آزاد ترجمانی کی ہے‘ لیکن اس سے قطع نظر‘ کہ یہ کوپر سے ماخوذ ہے یا ایک طبع زاد تخلیق ہے‘ اقبال کی یہ نظم معنی خیز ضرور ہے۔ یہ بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں‘ یعنی ۱۹۰۱ء سے ۱۹۰۵ء تک کے درمیانی عرصے میں لکھی گئی۔ یہ وہ دور تھا جب غلام ہندستان‘ برطانوی استعمار کے شکنجے میں بُری طرح جکڑا ہوا تھا ‘ اور غلامی کے خلاف کھل کر فریاد کرنا بھی مشکل تھا۔ اس لیے ہمارے بعض نقادوں کا خیال ہے کہ اس نظم کے ذریعے،’گفتہ آید درحدیثِ دیگراں‘ کے مصداق‘ علامہ نے اہلِ وطن کی غلامی پر احتجاج کیا ہے۔
ہم اقبال کے شارحین اور نقادوں سے اتفاق کریں یا اختلاف‘ یہ مُسلّم ہے کہ علامہ ہرنوع کی غلامی کے خلاف تھے۔ غلامی‘ سیاسی اور مادی و معاشی ہو یا روحانی اور ذہنی‘ براہ راست ہو یا بالواسطہ‘ غیروں کی ہو یا اپنوں کی‘ اقبال اسے انسانیت کی توہین سمجھتے ہیں اور اُن کے لیے کسی کی خودساختہ حکمرانی‘ کسی کا من مانا اقتدار یا کسی کا جبری تسلط ناقابلِ قبول تھا۔ ان کا عقیدہ تو یہ تھا کہ قوت‘ طاقت اور حکمرانی کا سرچشمہ نہ عوام ہیں‘ نہ خواص‘ نہ اشرافیہ‘ نہ کوئی فردِ واحد‘ بلکہ صرف اور صرف باری تعالیٰ کی ذات ہے ؎
سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی‘ باقی بتانِ آزری
علامہ اقبال کی شاعری انھی بُتانِ آزری کے خلاف ایک پُرزور صداے احتجاج ہے۔ اقبال نے دورِ غلامی میں آنکھ کھولی تھی اور وہ دُور دیس سے آنے والے فرنگیوں کی محکومی کے ماحول میں پروان چڑھے۔ اُنھی کے قائم کردہ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی‘ پھر یورپ کے آزاد اور لادین معاشروں کا مشاہدہ کیا۔ وہ مختلف قوموں کی تاریخ پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ اُن جیسے وسیع المطالعہ اور صاحبِ بصیرت دانش ور کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ غلامی‘ انسان کے لیے بہت بڑی لعنت کے مترادف ہے۔ غلامی کی زندگی‘ انسان کی فطرتِ آزاد کواعلیٰ انسانی اور اخلاقی اوصاف و اقدار سے محروم کرکے‘ اُسے حسنِ خیال و عمل سے تہی دامن اور مردہ ضمیر بنا دیتی ہے اور وہ ایک بے بصیرت و بے توفیق انسان کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے:
بدن غلام کا سوزِ عمل سے ہے محروم
کہ ہے مُرور غلاموں کے روز و شب پہ حرام
غلامی کیا ہے؟ ذوقِ حسن و زیبائی سے محرومی
جسے زیبا کہیں‘ آزاد بندے‘ ہے وہی زیبا
بھروسا کر نہیں سکتے‘ غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بینا
غلام اقوام میں خیروشر کے پیمانے بدل جاتے ہیں‘ خوب و ناخوب کی تمیز اٹھ جاتی ہے‘ اور حق و باطل میں کوئی تفریق باقی نہیں رہتی‘ بلکہ خوے غلامی راسخ ہو جائے تو‘ آج کل کی اصطلاح میں ’’یوٹرن‘‘لینے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں ہوتا۔ جہاد اور تحریکِ آزادی کو دہشت گردی مان لینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہوتا ؎
تھا جو ناخوب‘ بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
قوموں کی تاریخ میں‘ ایسی صورتِ حال بہت تشویش ناک ہوتی ہے کیوں کہ بقول حضرت علامہ: ’’محکوم کا دل مردہ و افسردہ و نومید‘‘۔ اپنی بے چارگی کا ذمہ دار وہ تقدیر کو قرار دیتا ہے (برلبِ او حرفِ تقدیر است و بس)۔ اس کے پاس ’’دیدئہ نمناک‘‘ کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہتا ع
محکوم کا سرمایہ فقط دیدئہ نمناک
علامہ کہتے ہیں کہ بے بسی و بے کسی کے اس عالم میں‘ نہ تو شمشیریں کام آتی ہیں نہ تدبیریں--- ’’ذوقِ یقین‘‘ تو اُس سے پہلے ہی چھن چکا ہوتا ہے‘ اس کے اندر’’نفسیاتِ غلامی‘‘ پیدا کرنے میں غلام قوم کے بعض شعرا‘ حکما اور علما اہم کردار ادا کرتے ہیں ؎
کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند
تاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ
خوے غلامی پختہ کرنے میں‘ سیاست دان اور حکمران بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیوں کہ ’’حکمراں کی ساحری‘‘ محکوم کی نفسیات کو بہ خوبی سمجھتی ہے‘ اور اُسے چند پُرفریب مگر دل کش وعدوں کا نشہ پلا کر‘ اُسے سلا دینے کے فن میں بہت ماہر ہے ؎
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری
یہ ساحری‘ بدیسی ہو یا مقامی‘ دونوں کے طور اطوار ایک جیسے اور طریقۂ واردات یکساں ہے---
قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں کاذکر ہے (یہ راقم کے لڑکپن کا زمانہ تھا) ایک سوال دیواروں پر لکھا نظر آتا تھا: ’’انگریز رخصت ہوچکا‘ انگریز کا نظام کب رخصت ہوگا؟‘‘--- یہ سوال آج بھی تشنہ جواب ہے ---بہ ظاہر تو ہم ایک آزادمملکت کے باشندے ہیں لیکن کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ یہ بیرونی قرضے‘ آئی ایم ایف کی چاکری اور بالادست قوتوں کی نیازمندی‘ وہی yours most obedient servant والا رویّہ--- حضرتِ علامہ نے اس ضمن میں بڑے پتے کی بات کہی ہے۔ ظفر احمد صدیقی کے نام خط میں لکھتے ہیں: ’’غلام قوم‘ مادّیات کو روحانیات پر مقدّم سمجھنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور جب انسان میں خوے غلامی راسخ ہو جاتی ہے تو وہ ہر ایسی تعلیم سے بے زاری کے بہانے تلاش کرتا ہے جس کا مقصد‘ قوتِ نفس اور روح انسانی کا ترفّع ہو‘‘۔ (اقبال نامہ‘ اول‘ ص ۲۰۱)
اسی خوے غلامی کا شاخسانہ ہے کہ ہم نے بیرونی بالادستوں کے احکامات کی تعمیل میں قومی تعلیم کے پورے نظام کو تلپٹ کرنے میں کمال درجے کی مستعدی دکھائی ہے اور خاص طور پر ان شعبوں کو جن کا تعلق ہماری تہذیب‘ دین اور روایت سے ہے‘ مثلاً: اردو زبان کو بارہ پتھر باہر قرار دے کر انگریزی کو اوّل جماعت ہی سے جابرانہ طریق سے مسلّط کیا جا رہا ہے‘ پھر دینی تعلیم کو اپنے کنٹرول میں لینے اور اس کا دائرہ محدود کرنے کی کوشش‘ اسی طرح عمرانی و مشرقی علوم سے بے اعتنائی --- غرض جملہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے فرنگی تہذیب کے غلبے کی ایک ہمہ جہتی تگ و دو ہے جس کا مقصد بقولِ اقبال یہ ہے کہ: ’’روحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو‘‘۔
یہ روحِ محمدؐ، یہ خودی‘ یہ خودداری اور یہ اسلامی اور ملّی تشخص ہی وہ کانٹاہے جو بالادست طاقتوں سے لے کر سیکولر طبقوں‘ دیسی انگریزوں اور نام نہاد روشن خیال بزرجمہروں تک سب کو کھٹکتا ہے۔ یہی تشخص تو علامہ اقبال کے خطبۂ الٰہ آباد کی بنیاد تھا‘ اسی بنا پر قرارداد پاکستان پاس ہوئی اور اسی تشخص پر اصرار کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان وجود میں آیا--- اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اپنے تشخص سے دست بردار ہوجائو--- یہ دوستی کی باتیں‘ یہ سرحدیں گرانے اور مٹانے کے مشورے‘ یہ مشترکہ تہذیب کی باتیں‘ یہ ثقافتی طائفے اور ’’ہم ایک ہیں‘‘ کے راگ--- علامہ نے کیا خوب کہا ہے ؎
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اُسے پھیر
نئی نسل کی تعلیم کے لیے جس قسم کا تیزاب تیار کیا جا رہا ہے‘ بلکہ تیار ہوچکا ہے اس کی ایک ہلکی سی جھلک اس غیرمعمولی آرڈی ننس میں دیکھی جاسکتی ہے جو دو سال پہلے (۸ نومبر ۲۰۰۲ئ) کو جاری ہوا جس کے تحت ہمارے امتحانات کا نظام‘ آغا خان امتحانی بورڈ کے تصرف میں چلا جائے گا۔ نہ صرف امتحانات‘ بلکہ نصابات بھی۔ (دیکھیے: سلیم منصور خالد کا مضمون ’’تعلیم کا استعماری ایجنڈا: آغا خان بورڈ‘‘، ترجمان‘ ستمبر۲۰۰۴ئ)
علامہ اقبال کے نزدیک کسی قوم کی آزادی یا غلامی کا انحصار اس کے اجتماعی رویوں پر ہے۔ شاید ہم دورِ غلامی کی غلامانہ ذہنیت اور yours most obedient servant قسم کے فدویانہ رویّے سے چھٹکارا نہیں پاسکے‘ چنانچہ دوسروں کو دوش کیا دیں‘ علامہ اقبال کے بقول ؎
یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے‘ یورپ سے نہیں ہے
حضرتِ علامہ کے خیال میں خودی کا احساس اور فقر کا رویّہ‘کسی قوم کو پستی سے اٹھانے اور سربلندی و آزادی کی طرف لے جانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے برعکس خودی اور فقر سے پہلوتہی اور غفلت‘ قوموں کو پستی کی طرف کھینچتی اور غلامی کے گڑھے میں گرا دیتی ہے۔ خیال رہے کہ علامہ کے ہاں خودی اور فقر‘ ایک دوسرے کے مترادف ہیں اور لازم و ملزوم بھی ؎
کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو
کہ تجھ سے ہو نہ سکی‘ فقر کی نگہبانی
سنا ہے میں نے غلامی سے اُمتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذتِ نمود میں ہے
اے کہ غلامی سے ہے روح تری مضمحل
سینۂ بے سوز میں ڈھونڈ خودی کا مقام
کیسا عبرت ناک منظر ہے کہ اُمتِ مسلمہ‘ جس نے انسانیت کو بتانِ آزری کی بندگی سے آزاد کیا‘ اور غلاموں کو آزاد کر کے‘ معاشرے کے معزز و محترم افراد کی حیثیت سے اپنے برابر لابٹھایا‘ اور علامہ کے نزدیک روے زمین پر ہم ہی وہ قابلِ فخر امت ہیں ع
نوعِ انسان کو غلامی سے چھڑایا جس نے
توڑ دی بندوں نے آقائوں کے خیموں کی طناب
وہی اُمت آج دوسروں کی دست نگر ہے--- وطن عزیز میں اس وقت جو صورت حال ہے‘ اس کے پیشِ نظر قدرتی طور پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں یا غلام؟ جہاں اپنے ہی شہریوں کو پکڑ پکڑ کر غیرملکی ظالموں کے حوالے کیا جا رہا ہو اور جہاں پاکستان ہی نہیں‘ پوری اُمتِ مسلمہ کے محسن سائنس دانوں کو مجرموں کی طرح نظربند کر دیا گیا ہو‘ تو ایسا سوال پیدا ہونا فطری ہے۔
ہوا ہے بندئہ مومن فسونیِ افرنگ
اسی سبب سے قلندر کی آنکھ ہے نمناک
ترے بلند مناصب کی خیر ہو یارب
کہ ان کے واسطے تو نے کیا خودی کو ہلاک
مگر یہ بات چھپائے سے چھپ نہیں سکتی
سمجھ گئی ہے اسے ہر طبیعتِ چالاک
’’شریکِ حکم غلاموں کو کر نہیں سکتے
خریدتے ہیں فقط ان کا جوہرِ ادراک‘‘
حاکم کی نگاہ میں محکوم کی حیثیت‘ پرِکاہ کے برابر بھی نہیں ہوتی۔ کیوں کہ ’’جوہرِ ادراک‘‘ غیروں کے ہاتھ بیچنے کے بعد‘ اب اس بات کا فیصلہ بھی ہمارے غیرملکی آقا ہی کرتے ہیں کہ وزیراعظم کون ہوگا‘ کون سی وزارت کس کے لیے موزوں ہے اور کون سا قلم دان‘ کس کے سپرد کرنا چاہیے۔
علامہ اقبال ‘ سید سلیمان ندوی اور سر راس مسعود کے ہمراہ ۱۹۳۳ء میں افغانستان گئے تھے۔ مثنوی مسافر اسی سفر کی یادگار ہے--- کابل کی مصروفیات سے فارغ ہو کر‘ بطورخاص غزنی اور قندھار کا سفر کیا اور بابر‘ حکیم سنائی‘ محمود غزنوی اور احمد شاہ ابدالی کے مقابر کی زیارت کی۔ بابر کی قبر پر فاتحہ خوانی کرتے ہوئے ان پر جو کیفیت طاری ہوئی‘ اس کی ایک جھلک اس شعرمیں ملتی ہے ؎
خوشا نصیب کہ خاکِ نو آرمید ایں جا
کہ ایں زمیں ز طلسمِ فرنگ آزاد است
تو کیسا خوش نصیب ہے کہ تیرا جسدِ خاکی‘ اس سرزمین میں آرام کر رہا ہے‘ جو فرنگیوں کے طلسم سے آزاد ہے۔
میں سوچتا ہوں سرزمینِ غزنی و قندھار سے توآزادی چھن چکی اور اب سرزمین پاکستان بھی‘ جہاں علامہ اقبال کا جسدِخاکی دیوارِ مسجد کے سائے میں محوِخواب ہے‘ طلسمِ فرنگ کی زد میں ہے۔ جب کبھی ہم اقبال کی یاد تازہ کرتے ہیں تو رہ رہ کر احساس ہوتا ہے کہ روحِ اقبال‘ کس قدر افسردہ و رنجیدہ اور بے قرارو مضطرب ہوگی؟
سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ بیسویں صدی کی ایک نابغۂ روزگار شخصیت تھے۔ ان کی بہت سی حیثیتیں ہیں: مفسرِقرآن‘ سیرت نگار‘ دینی اسکالر ‘ اسلامی نظامِ سیاست و معیشت اور اسلامی تہذیب و تمدن کے شارح‘ برعظیم کی ایک بڑی دینی و سیاسی تحریک کے موسس و قائد‘ ایک نام ور صحافی اور اعلیٰ پاے کے انشاپرداز--- فکری اعتبار سے وہ گذشتہ صدی کے سب سے بڑے متکلمِ اسلام تھے۔
بیسویں صدی میں علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو ایک ولولۂ تازہ عطا کیا اور ان کے اندر اسلامی نشاتِ ثانیہ کی جوت جگائی۔ مولانا مودودیؒ نے اسی جذبے اور ولولے کو اپنی نثر کے ذریعے آگے بڑھایا اور علامہ اقبال کی شاعری کے اثرات کو سمیٹ کر احیاے دین کی ایک منظم تحریک کی بنیاد رکھی‘ پھر اپنے گہربار قلم کی قوت اور غیرمعمولی تنظیمی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اس تحریک کوپروان چڑھایا۔ اقبال اور مودودی دونوں پر پروفیسر رشیداحمدصدیقی کی یہ بات صادق آتی ہے کہ ان کی تحریروں کو پڑھ کر دین سے تعلق ہی میں اضافہ نہیں ہوتا‘ اُردو سے محبت بھی بڑھ جاتی ہے۔
سید مودودیؒ اُردو زبان کے سب سے بڑے مصنف ہیں۔ ’’سب سے بڑے‘‘ ان معنوں میںکہ کثیرالتصانیف مصنف تو اور بھی ہیں مگر اُردو زبان کی کئی سو سالہ تاریخ میں انھیں سب سے زیادہ چھپنے والے مصنّف کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کا حلقۂ قارئین‘ بلاشائبۂ تردید‘ اُردو کے ہرمصنّف سے زیادہ ہے۔ اس اعتبار سے ہم انھیں اُردو کا مقبول ترین مصنّف بھی کہہ سکتے ہیں۔
سید مودودیؒ کی شخصیت‘ افکار و نظریات اور ان کی تحریک کے ہمہ گیر اثرات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی کم از کم ۴۳ زبانوں میں ان کی تحریروں کے ترجمے شائع ہوچکے ہیں--- ان کے ذخیرئہ علمی کا مطالعہ‘ ایک بے حد وسیع اور بڑا موضوع ہے۔ دنیا کی مختلف جامعات میں ان پر ایم اے‘ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے لکھے گئے ہیں‘ اور بعض پہلوئوں پر مزیدتحقیقی کام ہو رہا ہے۔
ذیل میں ہم نے تصانیفِ مودودی کی ایک فہرست ترتیب دینے کی کوشش کی ہے۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ موصوف کا علمی کام کس قدر وسیع الاطراف ‘ہمہ جہت اور ہمہ گیر ہے۔قرآن‘ حدیث‘ سیرت‘ فقہ‘ عقائد‘ عبادات‘ تاریخ‘ فلسفہ‘ تہذیب‘ تمدن‘ سیاست‘ معیشت‘ تعلیم‘ اجتماعیت‘ اخلاقیات‘ مغربی فکر وغیرہ--- اُردو زبان میں کوئی اور مصنّف اس تنوع اور کثیرالجہتی میں‘ سیّدموصوف کا ہم پلّہ نظرنہیں آتا۔
۱- پہلا حصہ تفسیرِقرآن اور سیرت النبیؐ کی کتابوں پر مشتمل ہے‘ اور یہ ان کی قلمی کاوشوں کا اہم ترین سرمایہ ہے۔
۲- یہ حصہ ایسی کتابوں پر مشتمل ہے جنھیں مولانا نے خود تصنیف و مرتب کر کے شائع کیا یا بعض ان کی نگرانی میں اور ان کی تائید و اجازت سے مرتب ہو کر شائع ہوئیں۔ یہ حصہ بھی‘ سید موصوف کے مستند متن میں شمار ہوگا۔
۳- یہ حصہ مولانا کے مکاتیب کے مجموعوں پر مشتمل ہے۔
۴- اس حصے میں ایسی کتابوں کی نشان دہی کی گئی ہے جن میں سے چند ایک تو ان کی زندگی میں شائع ہوئیں‘ مگر بیش تر ان کی وفات کے بعد منظرعام پر آئیں۔ یہ کتابیں‘سید مرحوم کی نہیں‘ بلکہ دوسروں کی مرتب کردہ ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ایسی کتابوں اور مجموعوں کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا تو وہ ان کے بعض حصوں پر نظرثانی کرتے اور شاید کسی قدر ترمیم و حذف سے بھی کام لیتے‘ کیوں کہ وہ زبان و بیان‘مضمون اور نفسِ مضمون کی نزاکت اور احتیاط کے بارے میں سخت حسّاس تھے۔ اس حصے کی بعض کتابیں ایسی ہیں جنھیں مرتبہ صورت میں مولانا نے دیکھا اور پسند فرمایا بلکہ کہیں کہیں قلم بھی لگایا‘ جیسے:تصریحات یا ۵ اے ذیلدار پارک‘ اول وغیرہ۔
اس حصے میں مولانا کی ترجمہ کردہ ایک کتاب کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس فہرست میں مولانا مرحوم کی تحریروں کا پوری طرح احاطہ نہیںہو سکا۔ ان کی بہت سی تحریریں اور تقریریں‘ رسائل و جرائد میں بکھری ہوئی ہیں اور چند ایک کتابچوں کی صورت میں شائع کی گئی ہیں۔
اس فہرست میں شامل ہرکتاب کی نوعیت واضح کرنے کے لیے‘ قوسین میں اس کی مختصر توضیح (annotation) بھی دی گئی ہے۔ ہر حصے میں حوالوں کی ترتیب الفبائی ہے۔
۱
۱- ترجمہ قرآن مجید‘ مع مختصر حواشی: ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۷۶ئ‘ ۱۵۸۰ ص۔ (یہ ترجمہ اور حواشی تفہیم القرآن ہی سے ماخوذ ہیں لیکن ترجمے پر مولانا نے نظرثانی کر کے بعض ترامیم کیں۔ اس نسخے کی اس اہمیت اور استناد کے سبب اس کا ذکر ابتدا میں کیا جا رہا ہے)
٭ قرآن مجید‘ مترجم (بین السطّور): ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۹۰ئ‘ ۹۲۷ ص۔ (اس نسخے میں حواشی شامل نہیں۔ ترجمہ متن کے ساتھ ساتھ (بین السطّور) دیا گیا ہے۔ دیباچہ از ملک غلام علی‘ ۲۰ اگست ۱۹۹۰ئ)
۲- تفہیم القرآن‘ جلد اول: شیخ قمرالدین‘ مکتبہ تعمیر انسانیت لاہور‘ ۱۹۵۱ئ‘ ۶۶۳ ص۔ (ترجمہ و تفسیر: سورہ فاتحہ تا سورہ الانعام۔ آغاز تحریر: فروری ۱۹۴۲ئ)
۳- تفہیم القرآن‘ جلد دوم : شیخ قمرالدین‘ مکتبہ تعمیر انسانیت لاہور‘ ۱۹۵۴ئ‘ ۷۱۴ ص۔ (ترجمہ و تفسیر: سورہ الاعراف تا بنی اسرائیل)
۴- تفہیم القرآن‘ جلد سوم : شیخ قمرالدین‘ مکتبہ تعمیر انسانیت لاہور‘ ۱۹۶۲ئ‘ ۸۲۱ ص۔ (ترجمہ و تفسیر: سورہ الکہف تا سورہ الروم)
۵- تفہیم القرآن‘ جلد چہارم: شیخ قمرالدین‘ مکتبہ تعمیر انسانیت لاہور‘۱۹۶۶ئ‘۶۸۴ ص۔ (ترجمہ و تفسیر: سورہ لقمان تا سورہ الاحقاف)
۶- تفہیم القرآن‘ جلد پنجم : ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۷۱ء ‘ ۶۳۲ص۔ (ترجمہ و تفسیر: سورہ محمد تا سورہ الطلاق)
۷- تفہیم القرآن‘ جلد ششم : ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۷۲ء ‘ ۶۵۹ص۔ (ترجمہ و تفسیر: سورہ التحریم تا سورہ الناس--- تکمیل: ۷ جون ۱۹۷۲ئ)
۸- سیرتِ سرورِعالمؐ،جلداول: ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۷۸ئ‘ ۷۶۴ص۔ (نبوت‘ رسالت‘ دعوت وغیرہ کے مباحث۔ سیرت النبیؐ کا پس منظر۔ مرتبہ: نعیم صدیقی‘ عبدالوکیل علوی)
۹- سیرتِ سرورِعالمؐ،جلددوم: ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۷۸ئ‘ ۷۶۳ص۔ (سیرت النبیؐ کامکی دور۔مرتبہ: نعیم صدیقی‘ عبدالوکیل علوی)
۲
۱۰- اسلام اور جدید معاشی نظریات: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۵۹ئ‘ ۱۶۷ ص۔ (کتاب سود کے ان ابواب کا مجموعہ‘ جن کا براہ راست تعلق مسئلہ سود‘ سے نہیں ہے)
۱۱- اسلام اور ضبطِ ولادت: ادارہ دارالاسلام پٹھان کوٹ‘ ۱۹۴۳ئ‘ ۶۹ ص۔ (تحریک ضبطِ ولادت کی تاریخ)
۱۲- اسلامی تہذیب اور اس کے اصول ومبادی: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی ‘ لاہور‘ ۱۹۵۵ء ۳۲۰ ص۔ (۳۳-۱۹۳۲ء کے وہ مضامین‘ جو پہلے پہل ترجمان القرآنمیں شائع ہوئے)
۱۳- اسلامی ریاست: اسلامک پبلی کیشنزلاہور‘ ۱۹۶۲ئ‘ ۶۲۰ ص۔ (اسلام کے تصور ریاست اور اس کے سیاسی نظام پر مختلف تحریریں۔ ترتیب و تدوین: پروفیسر خورشیداحمد)
۱۴- اسلامی عبادات پر ایک تحقیقی نظر: اقبال اکیڈمی‘ لاہور‘ ۱۹۴۴ئ‘ ۷۸ ص۔ (نماز اور روزے پر دو مقالات)
۱۵- اسلامی نظامِ زندگی اور اس کے بنیادی تصورات: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۲ئ‘ ۴۹۳+۴۸ ص۔ (مختلف مضامین اور تقاریر کا مجموعہ)
۱۶- الجہاد فی الاسلام: ادارہ دارالمصنفین اعظم گڑھ‘ ۱۹۳۰ئ‘ ۵۰۴ ص۔ (الجمعیت دہلی میں یہ سلسلہ مضامین‘ ۲ فروری ۱۹۲۷ء کو شروع ہوا اور ۱۵ جون ۱۹۲۷ء کو جملہ مباحث مکمل ہوئے)
۱۷- انتخابی تقاریر: شعبہ نشرواشاعت جماعت اسلامی حلقہ لاہور ] ۱۹۴۲ء [ ۹۶ ص۔ (صدارتی انتخاب ایوب خاں بمقابلہ فاطمہ جناح کے موقع پر لاہور‘ پشاور‘ سرگودھا‘ کراچی میں تقاریر)
۱۸- پردہ: دفتر ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۴۰ئ‘ ۲۶۰ ص۔ (پردے سے متعلق مضامین و مباحث۔ آغاز: ۱۹۳۶ئ)
۱۹- تجدید و احیاے دین: دفتر ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۴۱ئ‘ ۸۰ ص۔ (یہ مقالہ پہلے پہل رسالہ الفرقان بریلی کے شاہ ولی اللہ نمبرکے لیے لکھا گیا تھا)
۲۰- تحریکِ آزادیِ اور مسلمان‘ جلد اول: اسلامک پبلی کیشنزلاہور‘ ۱۹۶۴ئ‘ ۴۸۴ص۔ (یہ مجموعہ مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش،اول‘دوم‘ اور مسئلہ قومیت پر مشتمل ہے۔ مرتب: پروفیسر خورشیداحمد)
۲۱- تحریکِ آزادی ہند اور مسلمان‘ جلد دوم: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۳ئ‘ ۴۰۸ ص۔ (مشتمل بر: مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘ حصہ سوم‘ اور اسی موضوع سے متعلق ۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۸ء تک کے زمانے میں لکھے گئے مزید سولہ مضامین)
۲۲- تحریکِ اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان لاہور‘ ۱۹۵۸ئ‘ ۲۳۹ ص۔ (جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماعِ ارکان‘ منعقدہ ماچھی گوٹھ‘ فروری ۱۹۵۷ء میں پیش کردہ قرارداد اور اس کی توضیح میں ایک مفصل تحریر)
۲۳- تحریکِ جمہوریت ‘ اس کے اسباب اور اس کا مقصد : شعبہ نشرواشاعت تحریک جمہوریت مغربی پاکستان لاہور‘ ] ۱۹۶۸ئ[ ۸۹ ص۔ (تقاریر :کراچی‘ سکھر‘ لاہور‘ راولپنڈی‘ مرتب: جیلانی بی اے‘ نظرثانی و تصویب: سیّدمودودی)
۲۴- تعلیمات: دارالاشاعت نشاتِ ثانیہ‘ حیدر آباد دکن‘ ۱۹۴۵ئ‘ ۱۲۲ ص۔ (تعلیم کے موضوع پر مختلف تحریریں اور لیکچر۔ مابعد اشاعتوں میںمتعدد اضافے کیے گئے)
۲۵- تفہیمات: جلد اول: دفتر رسالہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۴۰ئ‘ ۳۵۰ ص۔ (سرورق: ’’بعض معرکہ آرا مسائل اسلامی کی تشریح و توضیح‘‘ ۔ ترجمان القرآن میں شائع شدہ مضامین ۱۹۳۳ء تا ۱۹۳۶ئ)
۲۶- تفہیمات: جلد دوم: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۵ئ‘ ۴۳۶ ص۔ (حصہ اول کے تسلسل میں ۱۹۳۸ء تک ترجمان القرآن میں شائع شدہ مضامین)
۲۷- تفہیمات: جلد سوم: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۵ئ‘ ۳۷۳ ص۔ (حصہ اول اور دوم کے تسلسل میں ۱۹۶۴ء تک ترجمان القرآن میں شائع شدہ مضامین)
۲۸- تنقیحات: دفتر ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۳۹ئ‘ ۲۴۰ ص۔ (سرورق: ’’اسلام اور مغربی تہذیب کا تصادم اور اس سے پیدا شدہ مسائل پر مختصر تبصرے‘‘)
۲۹- ٹرکی میں عیسائیوں کی حالت: دارالاشاعت سیاسیاتِ شرقیہ دہلی‘ ۱۹۲۲ئ‘ ۳۵ص۔ (سلطنت عثمانیہ میں عیسائیوں کے حالات اور ان کے ملکی حقوق)
۳۰- جماعت اسلامی‘ اس کا مقصد‘ تاریخ اور لائحہ عمل: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۱ئ‘ ص ۱۱۱۔ (ترجمان القرآن میں شائع شدہ ایک سلسلۂ مضامین)
۳۱- جماعت اسلامی کے ۲۹ سال: شعبہ نشرواشاعت جماعت اسلامی پاکستان لاہور‘ ۱۹۷۰ئ‘ ۸۰ ص (۲۶ اگست ۱۹۷۰ء کی تقریر)
۳۲- حقوق الزوجین: دفتر ترجمان القرآن دارالاسلام پٹھان کوٹ‘ ۱۹۴۳ئ‘ ص ۱۴۸۔ (اسلامی قانون ازدواج کے مقاصد اور نکاح و طلاق کے مسائل پر بحث)
۳۳- حوادث سمرنا، اتحادی کمیشن کی رپورٹ : دارالاشاعت سیاسیاست مشرقیہ دہلی‘ ۱۹۲۱ئ‘ ۱۶ ص۔ (اتحادی حکومتوں یعنی امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس‘ اٹلی کے مقرر کردہ کمیشن کی تحقیق۔ واقعاتِ مظالم کی رپورٹ)
۳۴- خطبات: دفتر ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۴۰ئ‘ ۲۴۸ ص۔ (عام فہم انداز میں اسلام‘ کلمہ طیبہ‘ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ اور جہاد کی تشریح)
۳۵- خطباتِ حرم: دارالعروبہ‘ منصورہ لاہور‘ ۱۹۸۴ئ‘ ۹۲ص۔(۱۹۶۳ء کے ایامِ حج میں حرم شریف میں کی جانے والی تقریریں)
۳۶- خلافت وملوکیت: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۶ئ‘ ۳۵۱ ص۔ (اسلام میں خلافت کا تصور‘ خلافت کی ملوکیت میں تبدیلی کے اسباب اور نتائج پر ایک علمی بحث)
۳۷- دکن کی سیاسی تاریخ: دارالاشاعت سیاسیہ‘ حیدرآباد دکن‘ ۱۹۴۴ئ‘ ۳۰۰ ص۔ (ایک تاریخی مطالعہ)
۳۸- دولت آصفیہ اور حکومتِ برطانیہ: سیدعلی شبرحاتمی‘ حیدرآباد دکن‘ ۱۹۲۸ئ‘ ۲۱۹ص۔ (ایک تاریخی مطالعہ)
۳۹- دینیات: دفتر ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۳۹ئ‘ ۱۳۶ ص۔(ناظم تعلیمات حیدرآباد دکن کی فرمایش پر تحریر کردہ میٹرک کے لیے نصابی کتاب۔ اسلامی عقائد و اعمال کی تشریح و توضیح)
۴۰- رسائل و مسائل: جلداول: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۱ئ‘ ۵۲۸ ص۔ (قرآن‘ حدیث‘ تاریخ‘ فقہ‘ معیشت‘ کاروبار‘ سیاست‘ جماعت اسلامی اور بعض دیگر موضوعات پرترجمان القرآن میں شائع شدہ سوالات و جوابات کا مجموعہ)
۴۱- رسـائل ومسـائل: جلد دوم‘ مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۴ء ۶۲۲ ص۔ (حصہ اول کے تسلسل میں مزید سوالات و جوابات۔ دیباچہ از مولانا امین احسن اصلاحی)
۴۲- رسـائل و مسـائل:جلد سوم: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۵ئ‘ ۴۶۸ ص ۔ (ماسبق دو جلدوں کے تسلسل میں تیسرا حصہ)
۴۳- رسائل ومسائل: جلدچہارم: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۵ئ‘ ۳۷۵ ص۔ (مزید سوالات و جوابات کا مجموعہ)
۴۴- رسـائل و مسـائل: جلد پنجم: ادارہ معارف اسلامی لاہور‘ ۱۹۸۳ئ‘ ۳۶۸ ص۔ (مصنف کی وفات کے بعد ملک غلام علی صاحب کی رہنمائی میں حافظ عبدالحمید کا مرتبہ مجموعہ۔ مقدمہ از خلیل احمد حامدی)
۴۵- سانحہ مسجدِ اقصٰی: دفتر ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۶۹ئ‘ ۲۰ ص۔ (۲۴ اگست ۱۹۶۹ء کی ایک تقریر۔ یہودی عزائم اور ان کی منصوبہ بندی۔ قیام اسرائیل کا پس منظر وغیرہ)
۴۶- سلاجقہ: ناشر: ابوالخیر مودودی‘ لاہور‘ ۱۹۵۴ء ‘ ۲۶۷ ص۔ (سلجوقی حکمرانوں خصوصاً طغرل بک‘ الپ ارسلان اور ملک شاہ کے عہد کی تاریخ)
۴۷- سنت کی آئینی حیثیت: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۳ئ‘ ۳۹۲ ص۔ (نظامِ دین میں حدیث اور سنت کی حیثیت اور مقام۔ منکرین حدیث کے دلائل پر تنقید۔ ترجمان القرآن کے ’’منصب رسالت نمبر‘‘ کی کتابی اشاعت)
۴۸- سود‘ جلد اول: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۴۸ئ‘ ۱۶۸ ص۔ (سود اور اس سے متعلقہ مباحث‘ اشتراکیت اور سرمایہ داری پر تنقید‘ اسلام کا معاشی نظام وغیرہ)
۴۹- سود‘ جلد دوم: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۲ئ‘ ۱۵۰ ص۔ (حصہ اول کے بعض تشنہ مباحث کی تکمیل۔ جدید بنک کاری وغیرہ)
۵۰- سود‘ اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۱ئ‘ ۴۱۰ ص۔ (سود‘ اول و دوم کو ازسرِنو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ زیرنظر کتاب ایک حصہ ہے‘ باقی مباحث اسلام اور جدید معاشی نظریات میں شامل کیے گئے ہیں۔)
۵۱- قادیانی مسئلہ اور اُس کے مذہبی‘ سیاسی اور معاشرتی پہلو: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۶۳ئ‘ ۴۲۳ ص۔ (اس موضوع پر مصنف کی تحریریں اور بیانات۔ قادیانیت پر اقبال کی تحریریں‘ چند عدالتی فیصلے۔)
۵۲- قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: مکتبہ جماعت اسلامی دارالاسلام پٹھان کوٹ‘ ۱۹۵۳ئ‘ ۹۵ص ۔ (الٰہ‘ رب‘ عبادت اور دین پر ایک علمی بحث)
۵۳- مُرتد کی سزا: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان لاہور‘ ۱۹۵۱ئ‘ ۸۶ ص۔ (اسلامی قانون میں مرتد کی سزا پر ایک علمی بحث۔ شائع شدہ: ترجمان القرآن ۱۹۴۲ء -۱۹۴۳ئ)
۵۴- مسئلہ جبر و قدر: دفتر ترجمان القرآن پٹھان کوٹ‘ ۱۹۴۳ئ‘ ۸۴ ص ۔ (چودھری غلام احمد پرویز کا طویل خط اور اس کا جواب۔ ایک علمی بحث۔ اسی موضوع پر مصنف کی ایک نشری تقریر بھی شامل ہے۔)
۵۵- مسئلہ قومیت: دفتر ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۳۹ئ‘ ۶۴ ص۔(قومیت کے مسئلے پر چند مضامین و مباحث کا مجموعہ۔ مابعداشاعتوں میں اضافہ کیا گیا)
۵۶- مسئلہ ملکیتِ زمین: مکتبہ جماعتِ اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۰ئ‘ ۸۶ ص۔ (۱۹۳۴ء کی ایک بحث‘ شائع شدہ: ترجمان القرآن۔ زمین کی شخصی ملکیت اور مزارعت پر ایک علمی بحث)
۵۷- مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش: جلد اول: دفتر ترجمان القرآن پٹھان کوٹ‘ ۱۹۳۸ئ‘ ۱۳۵ ص ۔ (اسلامی ہند کی گذشتہ تاریخ اور موجودہ حالات اور مستقبل کے امکانات پر ۸ مضامین کا مجموعہ)
۵۸- مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘ جلد دوم: دفتر ترجمان القرآن‘ پٹھان کوٹ‘ ۱۹۳۸ئ‘ ۲۴۰ ص۔(سیاسی حالات اور سیاسی جماعتوں پر تنقید ‘ جنگِ آزادی کی نوعیت وغیرہ۔ ۱۲ مضامین کا مجموعہ)
۵۹- مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘ جلد سوم:دفتر ترجمان القرآن‘ لاہور‘ ۱۹۴۱ئ‘ ۱۷۶ص۔ (پہلے دوحصوں کے تسلسل میں مزید ۱۲ مضامین۔ مصنف کے بقول: یہ کتاب جماعت اسلامی کاسنگِ بنیاد ہے)
۶۰- مشرقی پاکستان کے حالات و مسائل کا جائزہ اور اصلاح کی تدبیر: مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۶ئ‘ ۳۵ ص ۔ (ڈھاکا میں ۲ مارچ ۱۹۵۶ء کی ایک تقریر)
۶۱- معاشیات اسلام: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۲۹ئ‘ ۴۳۶ ص۔ (اسلام کے معاشی اصول و احکام کی توضیح۔ مصنف کی مختلف کتابوں سے ماخوذ مباحث پر مبنی تحریروں کا مجموعہ۔ مرتب: پروفیسر خورشیداحمد۔ دیباچہ از مصنف)
۶۲- نشری تقریریں: اسلامک پبلی کیشنز‘ لاہور‘ ۱۹۶۱ئ‘ ۱۲۴ ص۔ (سیرتِ پاکؐ ، معراج‘ شب برات‘ روزہ ‘ عیدقربان‘ زندگی بعد موت اور پاکستان ایک مذہبی ریاست پر ریڈیو سے نشرشدہ تقریریں۔)
۳
۶۳- خطوط مودودی‘ جلد اول: (مرتب: رفیع الدین ہاشمی۔ سلیم منصور خالد) البدر پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۸۳ئ‘ ۲۶۴ ص۔ (مسعود عالم ندوی کے نام ۵۰خطوط کا مجموعہ مع مفصل تعارف‘ مکتوب الیہ اور متن پر حواشی و تعلیقات)
۶۴- خطوط مودودی‘ جلد دوم: منشورات‘ لاہور‘ ۱۹۹۵ئ‘ ۵۵۸ ص۔ (مختلف اصحاب کے نام ۱۵۰ خطوط مع حواشی و تعلیقات۔ ۵۲ خطوں کے عکس بھی شامل ہیں)
۶۵- مکاتیب سید ابوالاعلٰی مودودی‘ جلد اول :(مرتب: عاصم نعمانی) ایوان ادب‘ لاہور‘ ۱۹۷۰ئ‘ ۲۵۶ ص۔ (۱۶۴ خطوط‘ جو مراسلہ نگاروں کے استفسارات کے جواب میں لکھے گئے)
۶۶- مکاتیب سیدابوالاعلٰی مودودی‘ جلد دوم: (مرتب: عاصم نعمانی)اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۲ئ‘ ۳۹۲ص۔ (حصہ اول کے تسلسل میں مزید ۲۶۶ مکاتیب کا مجموعہ)
۶۷- مکتوبات: (مرتب: حکیم محمد شریف) البدر پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۸۶ئ‘ ۲۷۲ ص۔ (مرتب کے نام ۱۰۹ خطوط کا مجموعہ۔ ضمیمے میں بعض دیگر اصحاب کے نام ۶ خطوط۔ پیش لفظ از اسرار احمد سہاوری)
۶۸- مکتوباتِ مودودی: (مرتب وناشر: اشرف بخاری) پشاور‘ ۱۹۸۳ئ‘ ۱۷۴ص۔ (صوبہ سرحد کے احباب اور نیازمندوں کے نام ۹۲ خطوط کا مجموعہ)
۶۹- مکتوباتِ مودودی بنام مولانا محمد چراغ: (مرتب: عبدالغنی عثمان) الانصاری پبلشرز‘ فیصل آباد‘ ۱۹۸۴ئ‘ ۸۰ ص۔ (مکتوب الیہ کے نام ۳۶ خطوط کا مجموعہ مع مختصر حواشی۔ مقدمہ از مفتی سیاح الدین کاکاخیل)
۷۰- مولانا مودودی کے خطوط: (مرتب: سید امین الحسن رضوی) مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی‘ ۱۹۹۳ئ‘ ۱۰۲ص ۔ (مرتب کے نام سید مودودی کے ۱۹ خطوط۔ مرتب نے ابتدا میں‘ سید مرحوم کے ساتھ اپنے مراسم اور ملاقاتوں کی تفصیل بھی بیان کی ہے)
۷۱- یادوں کے خطوط: (مرتب: محمد یونس) اسلامی مکتبہ حیدرآباد دکن‘ ۱۹۸۳ئ‘ ۱۲۸ص۔ (زیادہ تر حیدرآباد دکن کے احباب واصحاب کے نام ۴۹ خطوط ۔ مجموعے میں میاں طفیل محمد‘ابوالخیر مودودی اور چودھری نیاز علی خاں وغیرہ کے ۱۵ خطوط بھی شامل ہیں)
۷۲- Correspondence between Maulana Maudoodi and Maryam Jameelah ] مولانا مودودی اور مریم جمیلہ کی باہمی مراسلت[ ۔ محمد یوسف خاں‘ لاہور‘ ۱۹۶۹ئ‘ ۸۳ ص۔(مریم جمیلہ کے گیارہ اور سیدموصوف کے بارہ خطوط کا مجموعہ)
۴
۷۳- آفتابِ تازہ: (مرتب : خلیل حامدی) ادارہ معارف اسلامی لاہور‘ ۱۹۹۳ئ‘ ۴۵۶ ص۔ (الجمعیت دہلی کے ۱۹۲۷ء کے اداریوں اور مضامین کا مجموعہ)
۷۴- ادبیاتِ مودودی: (مرتب: پروفیسر خورشیداحمد)اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۲ئ‘ ۴۴۷ص۔ (حصہ اول میں سید مودودی کی انشاپردازی پر ضیااحمد بدایونی‘ ابواللیث صدیقی‘ ماہر القادری‘ احسن فاروقی‘ ابوالخیرکشفی اور سیدمحمد یوسف کے مضامین ہیں۔ حصہ دوم میں ۷۴کتابوں پر سید موصوف کے تبصرے اور مقدمے شامل ہیں۔ ۸۷ صفحات کا سیرحاصل مقدمہ از مرتب )
۷۵- ادب اور ادیب ،سید مودودی کی نظرمیں: (مرتب: سفیراختر) دارالمعارف واہ کینٹ‘ ۱۹۹۸ئ‘ ۱۷۶ ص۔ (ادب ادیب کے حوالے سے سید موصوف کی متداول اور بعض نادر تحریروں کا مجموعہ)
۷۶- اخلاقیاتِ اجتماعیہ اور اس کا فلسفہ: (مرتب: محمد خالد فاروقی) الاخوان پبلی کیشنز کراچی‘ ۱۹۸۰ئ‘ ۸۸ص ۔ (ماہ نامہ ہمایوں لاہور‘ فروری ۱۹۴۲ء میں مطبوعہ ایک مقالہ‘ جو مصنف نے بیس سال کی عمر میں تحریر کیا)
۷۷- استفسارات: جلد اول (مرتب:اختر حجازی) ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۸۷ئ‘ ۴۴۸ص۔ (بعض رسائل: آئین‘ ایشیا‘ تجلّی میں مطبوعہ مذہبی‘ فقہی‘ سیاسی اور قانونی سوالات کے جوابات۔اس مجموعے کی تدوین مناسب طریقے پر نہیں کی گئی)
۷۸- استفسارات: جلد دوم‘ (مرتب: اخترحجازی) ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۹۲ئ‘ ۴۰۰ص۔ (مختلف جرائد میں شائع شدہ بعض تقریریں‘ مصاحبے‘ سوالوں کے جواب)
۷۹- استفسارات: جلد سوم‘ (مرتب: اخترحجازی) ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۹۹ئ‘ ۴۲۴ص۔ (جلد اول اور دوم کے تسلسل میں مزید لوازمہ)
۸۰- اسلام کا سرچشمۂ قوت: (مرتب: شہیرنیازی)۔ ایوان ادب لاہور‘ ۱۹۶۹ئ‘ ۱۱۲ص۔ (الجمعیت دہلی کے زمانۂ ادارت ۲۵-۱۹۲۴ء کا ایک سلسلۂ مضامین۔ اشاعتِ اسلام کے اسباب پر بحث)
۸۱- افاداتِ مودودی: (مرتبین: میاں خورشیداحمدانور+ بدرالدّجٰی خان) ناشرکا نام درج نہیں۔ ۱۹۹۷ئ‘ ۳۷۵ ص ۔ (نماز کے متعلق احادیث مشکوٰۃ شریف کی تشریحات‘ سید موصوف کے دروسِ حدیث سے ماخوذ)
۸۲- اقبال نے کیا چاہا؟: ]مرتب: سلیم منصورخالد[ پنجاب یونی ورسٹی اسٹوڈنٹس یونین لاہور۔ ۱۹۷۷ئ‘ ۴۰ ص۔ (علامہ اقبال سے متعلق مصنف کی تحریریں اور تقاریر‘ شذرات وغیرہ)
۸۳- بانگِ سحر: (مرتب: خلیل احمد حامدی) ادارہ معارف اسلامی لاہور‘ ۱۹۹۳ئ‘ ۴۴۳ص۔ (الجمعیت دہلی کے زمانۂ ادارت ۱۹۲۶ء کے اداریوں اور مضامین کا مجموعہ)
۸۴- ۵-اے ذیلدار پارک: حصہ اول (مرتب:مظفربیگ) البدر پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۸ئ‘ ۲۹۵ص۔ (نمازِعصر کے بعد سید مودودی سے سوالات و جوابات کی نشستوں کی روداد)
۸۵- ۵- اے ذیلدار پارک:حصہ دوم (مرتب: رفیع الدین ہاشمی) البدر پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۹ئ‘ ۲۸۰ ص ۔ (حصہ اول کے تسلسل میںمزید سوالات و جوابات کا مجموعہ۔)
۸۶- ۵- اے ذیلدار پارک:حصہ سوم (مرتب: حفیظ الرحمن احسن) البدر پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۹۱ئ‘ ۲۱۵ ص۔(حصہ اول اور دوم کے تسلسل میں مزید سوالات و جوابات۔)
۸۷- تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پر تبصرہ: (مرتبین: نعیم صدیقی+سعیداحمدملک) مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی لاہور‘ ۱۹۵۵ئ‘ ۲۰۸ ص۔ (قادیانی مخالف تحریک ۱۹۵۳ء پر عدلیہ کی تحقیقاتی رپورٹ پر تبصرہ)۔] ادارہ معارف اسلامی لاہور کے شائع کردہ‘ دوسرے ایڈیشن (۱۹۹۴ئ) پر بطور مصنّف‘ سید صاحب کا نام موجود ہے۔ اس اشاعت کے دیباچے میں جناب نعیم صدیقی نے وضاحت کی ہے کہ یہ سید صاحب ہی کی تحریر ہے‘ طبع اول پر بوجوہ‘ مصنف کا نام نہیں آسکا تھا۔[
۸۸- تصریحات: (مرتب: سلیم منصور خالد) احباب پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۹ئ‘ ۳۱۸ ص۔ (طلبہ‘ اسلامی جمعیت طلبہ اور اسلامی جمعیت طالبات کے مختلف اجتماعات میں سوالات کے جوابات اور انٹرویو)
۸۹- تفہیمات‘ حصہ چہارم: (مرتب اخترحجازی) ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۸۵ئ‘ ۳۹۲ص۔ (سید موصوف کی متفرق تحریروں کا ایک ناقص مجموعہ۔ اس میں شامل مضمون ’’افادات شاہ ولی اللہ‘‘ سیدصاحب کا نہیں‘ صدرالدین اصلاحی کا ہے)
۹۰- تفہیمات‘ حصہ پنجم: (مرتب: اخترحجازی) ادارہ ترجمان القرآن لاہور‘ ۱۹۹۰ئ‘ ۴۸۰ ص۔ (مزید مختلف النوع تحریریں۔ واضح رہے کہ جلد چہارم اور پنجم کی استنادی حیثیت وہ نہیں‘ جو تفہیمات کے پہلے تین مجموعوں کی ہے۔ یہ دونوں جلدیں خاصی بے توجہی اور تساہل سے مرتب کی گئی ہیں اس لیے نہ صرف ان دونوں پر نظرثانی ہونی چاہیے بلکہ ان دونوں مجموعوں کا نام بھی تفہیمات نہیں‘کچھ اور ہونا چاہیے۔ تفہیمات‘ سیدموصوف کی اپنی مستقل تصانیف ہیں۔ کسی اورشخص کی مرتبہ کتاب کو وہی نام دینے سے التباس پیدا ہوتا ہے)
۹۱- جلوۂ نور: (مرتب: خلیل حامدی) ادارہ معارف اسلامی لاہور‘ ۱۹۹۳ئ‘ ۲۱۳ ص۔ (الجمعیت دہلی میں ۱۹۲۸ء میں شائع شدہ مضامین اور اداریے)
۹۲- خطباتِ یورپ: (مرتب: اخترحجازی) احباب پبلی کیشنز لاہور‘ س ن‘ ۲۵۴ ص۔ (مصنف کے اسفارِ برطانیہ و یورپ کی تقریریں اور سوالات و جوابات کی رودادیں)
۹۳- صدائے رستاخیز: (مرتب: خلیل احمد حامدی) ادارہ معارف اسلامی لاہور‘ ۱۹۹۳ئ‘ ۵۴۱ص۔ (الجمعیت دہلی کے بعض اداریے اور مضامین )
۹۴- فضائل قرآن:(مرتب: حفیظ الرحمن احسن) البدر پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۷ئ‘ ۱۵۵ ص۔ (سید موصوف کے دروسِ حدیث کا تحریری روپ۔ مشکوٰۃ المصابیح کے ایک جز ’’فضائل قرآن‘‘ سے منتخب احادیث کی تشریح)
۹۵- کتاب الصّوم: (مرتب: حفیظ الرحمن احسن) مکتبہ آئین‘ لاہور‘ ۱۹۷۳ئ‘ ۲۸۰ ص۔ (دروسِ حدیث۔ مشکوٰۃ المصابیح کے ایک جز’’کتاب الصوم‘‘ کی ۱۴۷‘ احادیث کا متن‘ اُردو ترجمہ اور مختصر تشریح)
۹۶- مسئلہ کشمیر اور اس کا حل: (مرتب: سلیم منصورخالد) اسلامی جمعیت طلبہ لاہور‘ ۱۹۸۰ئ‘ ۱۲۸ ص۔ (مسئلہ کشمیرپر سید موصوف کی تقاریر اور تحریروں کا مجموعہ)
۹۷- مولانا مودودی کی تقاریر‘ اول: (مرتبہ: ثروت صولت) اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۶ئ‘ ۵۳۲ ص۔ (مختلف نوعیت کی ۲۶ تقاریر‘ زیادہ تر جماعت اسلامی کی رودادوں سے اخذ کردہ)
۹۸- مولانا مودودی کی تقاریر‘ دوم: اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۶ئ‘ ۴۶۳ ص۔ (مزید ۵۱ تقاریر۔ زیادہ ترتسنیم، قاصد اور ترجمان القرآن سے ماخوذ)
۹۹- مولانا مودودی کے انٹرویو‘ اول: (مرتب: ابوطارق) اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۷۶ئ‘ ۵۳۲ ص۔ (سیدموصوف سے مختلف اہل قلم اور صحافیوں کے مصاحبے)
۱۰۰- مولانا مودودی کے انٹرویو‘ دوم: (مرتب: ابوطارق) اسلامک پبلی کیشنز لاہور‘ ۱۹۸۷ئ‘ ۳۳۶ ص۔ (مزید ۳۲ مصاحبے۔ ابوطارق‘ پروفیسر رحیم بخش شاہین کا قلمی نام تھا)
۱۰۱- وثائق مودودی: (مرتب: سلیم منصورخالد) ادارہ معارف اسلامی لاہور‘ ۱۹۸۴ئ‘ ۱۰۰ص۔ (سید موصوف کی تعلیمی اسناد‘ ۸ اور دس سال کی عمر کے تحریروں اور بعض دیگر نوادرات کے عکس۔ جہازی سائز پر نفیس اور خوب صورت طباعت)
۱۰۲- ہندستان کا صنعتی زوال اور اس کے اسباب: مرکزی مکتبہ اسلامی‘ دہلی‘ ۱۹۸۸ئ‘ ۷۹ص۔ (نگار لکھنؤ میں‘ اکتوبر‘ نومبر اور دسمبر ۱۹۲۴ء میں شائع شدہ ایک طویل مقالہ۔ پہلی قسط جناب نیاز فتح پوری نے اپنے نام سے چھاپ لی تھی‘ مصنف کے احتجاج پر‘ باقی ۲قسطوں پر ان کا نام دیا گیا)
۵
۱۰۳- المسئلۃ الشرقیہ: ادارہ معارف اسلامی لاہور‘ ۱۹۹۴ئ‘ ۳۸۳ ص۔ (مصطفی کمال پاشا کی عربی تصنیف کا اُردو ترجمہ)
سید مودودی ؒکے ذخیرۂ علمی کا ایک حصہ (بیسیوں تقاریر اور مضامین) ابھی تک اخبارات و رسائل کے اوراق میں گم ہے۔ علاوہ ازیں بعض تقریریں اور مضامین کتابوں کی صورت میں بھی ملتی ہیں۔ ان میں سے بعض کا ذیل میں ذکر کیا جا رہا ہے:
۱- آزادی ] ۱۹۶۸ئ[‘ ۲- آیندہ انتخابات‘ ملک کی نجات کا واحد راستہ ] ۱۹۷۰ئ[ ۳-آیندہ انتخابات اور قوم کی ذمہ داری ] ۱۹۷۰ئ[ ۴- اسلامی نظام اور مغربی لادینی جمہوریت ] ۱۹۶۹ئ[ ۵- ۱۹۶۷ء کی رِہائی کے بعد مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی تقریر] ۱۹۶۷ئ[ ۶- بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا مسئلہ ] ۱۹۸۲ئ[ ۷- پاکستان کے انتخابی نتائج اور ان میں جماعت اسلامی کی پوزیشن‘ ۱۹۷۱ء ۸- تحریک اسلامی: کامیابی کی شرائط ‘ ۱۹۶۴ء ۹- تحریک پاکستان اور جماعت اسلامی ] ۱۹۶۷ئ[ ۱۰- تقریر ڈھاکا‘ ۱۹۶۳ء ۱۱- توحید اور شرک ]۱۹۷۷ئ[ ۱۲- توحید کی برکات ]۱۹۷۳ئ[ ۱۳-جماعت اسلامی اور پاکستان ] ۱۹۷۰ئ[ ۱۴- جماعت اسلامی کو ووٹ کیوں دیا جائے؟] ۱۹۷۰ئ[ ۱۵- جماعت اسلامی کی پالیسی اور پروگرام] ۱۹۷۰ئ[ ۱۶-جماعت اسلامی کی دعوت‘۱۹۴۸ء ۱۷- خطاب مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی ]۱۹۷۳ئ[ ۱۸- دستوری تجاویز ]۱۹۵۲ئ[ ۱۹- عملی جہاد سے قلبی جہاد تک ] ۱۹۶۵ئ[ ۲۰- قومی وحدت کی مضبوط بنیادیں۱۹۸۴ء ۲۱- موجودہ انتخابی معرکے پر سیرحاصل تبصرہ ]۱۹۷۷ئ[ ۲۲- مولانا مودودی کا دورئہ مشرق وسطیٰ ]۱۹۵۷ئ[ ۲۳- مولانا مودودی کی دو اہم تقریریں اور مرکزی مجلس شوریٰ کی اہم قراردادیں ]۱۹۷۲ئ[ ۲۴- وقت کے اہم مسائل اور ان میں جماعت اسلامی کا موقف‘ ۱۹۷۰ء وغیرہ۔
آخر میں یہ وضاحت مناسب ہوگی کہ بعض کتابیں‘ سیّد مودودی کے متذکرہ بالا ذخیرئہ علمی کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں مثلاً:
اس نوعیت کی متعدد کچھ اور کتابیں بھی مرتب اور شائع ہوئی ہیں (اور یہ سلسلہ جاری ہے) مگر یہ سب تصانیفِ مودودی کے منتخبات (selections)پر مشتمل ہیں اور ان کی حیثیت ’مکرّرات‘کی ہے۔ اس لیے انھیں باقاعدہ فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔