اپریل ۲۰۰۳

فہرست مضامین

علامہ اقبالؒ اور تجدید و احیاے دین

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی | اپریل ۲۰۰۳ | اقبالیات

Responsive image Responsive image

جملہ انبیاے کرام ؑ کی تمام تر جدوجہد کی غایت یہ تھی کہ بنی نوع انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اسلامی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ بعثت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد بھی یہی تھا کہ روے زمین پر اَن اَقِیْمُوا الدِّیْنَ (الشورٰی ۴۲:۱۳) اور لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖلا (التوبۃ ۹:۳۳)‘ کا ایک مثالی اور عملی نمونہ پیش کیا جائے۔ چنانچہ آں حضوؐر کے برپا کردہ فکری اور ذہنی انقلاب کے ذریعے جاہلی معاشرے کی کایاپلٹ گئی۔ اسلام بساطِ عالم پر ایک غیرمعمولی قوت بن کر اُبھرا اور مشرق و مغرب کے باطل پرستوں کے لیے ایک چیلنج بن گیا۔

مگر خلفاے راشدین کے بعد کثرتِ اموال اور تمدنی ترقی سے جاہلیت کی روح پھر سے بیدار ہونے لگی۔ نظمِ مملکت غیراسلامی بنیادوں پر استوار ہونا شروع ہوا۔ اس پر مصلحین اُمت کو اصلاحِ احوال کی فکر دامن گیر ہوئی۔ خلفاے راشدین کے بعد حضرت عمربن عبدالعزیز وہ پہلے شخص ہیں‘ جنھوں نے حقیقی معنوں میں احیاے اسلام کی سنجیدہ کوشش کی۔ آپ کے بعد امام احمد بن حنبل‘ امام غزالی‘ مجدد الف ثانی‘ اورنگ زیب عالم گیر‘ شاہ ولی اللہ‘ سیداحمد شہید‘ شاہ اسماعیل شہید اور متعدد دیگر اکابر کی مختلف النوع تجدیدی کاوشیں‘ تاریخ تجدید و احیاے دین کا ایک   روشن باب ہیں۔ بیسویں صدی میں اسلامی نشاتِ ثانیہ کے لیے جن اکابر نے تگ و دو کی‘ اُن میں علامہ اقبال کا نام بہت نمایاں ہے۔

علامہ اقبال کے اسلامی اور دینی مزاج کی تشکیل میں اُن کے آباواجداد کے متصوفانہ رجحانات‘ والدین کی دین داری‘ گھر کا اخلاقی ماحول اور علامہ سیدمیرحسن کی تعلیم و تربیت اورفیضانِ نظر کے علاوہ دو باتوں کو بنیادی دخل ہے--- اوّل: قرآنِ حکیم سے اُن کا گہرا شغف۔ دوم: آں حضوؐر کی ذاتِ گرامی سے والہانہ عقیدت۔ احیاے اسلام کے لیے اقبال نے جو مختلف النوع کوششیں کیں‘ وہ انھی بنیادوں پر تشکیل پانے والے اُن کے دینی مزاج کا حصہ تھیں۔

علامہ اقبال نے شعور کی آنکھ کھولی تو پورا عالمِ اسلام نہایت پیچیدہ مسائل کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ فکری اور سیاسی‘ دونوں اعتبار سے مغربی استعمار اس پر حاوی ہو چکا تھا۔ غلامی کے نتیجے میں مسلم معاشرہ جمود‘ تعصب اور تنگ نظری کا شکار تھا۔زوال پذیری کے ردِّعمل میں جو آوازیں بلند ہوئیں‘ اُن میں سب سے توانا اور بلند آہنگ آواز علامہ اقبال کی تھی جنھوں نے غلامی کی زنجیریں توڑنے کی تلقین کی۔مقصود یہ تھا کہ غلامی سے نجات‘ احیاے اسلام کی تمہید بن سکے۔

تجدید و احیاے اسلام کی یہ تمنا بالکل ابتدائی زمانے ہی سے اُن کے ہاں موجود تھی اور یہ کبھی سرد نہیں ہوئی‘ بلکہ عمرکے ساتھ اس جذبے کی حرارت و شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ تجدید و احیاے دین کے لیے اقبال کی مختلف النوع کاوشیں‘ ان کی طویل زندگی میں مختلف شکلوں میں اور کئی سطحوں پر سامنے آتی رہیں۔ ان کی اُردو فارسی شاعری‘ ان کی تمام نثری تحریریں‘ ان کا پورا نظامِ فکروفلسفہ‘ اُن کے جملہ تصورات و نظریات (مثلاً: خودی‘ بے خودی‘ فقر‘ عشق‘ مردِ مومن‘ عقل وغیرہ) نہایت قریبی طور پر احیاے اسلام کے لیے اُن کی مساعی کے ساتھ مربوط ہیں۔

اسلام کی سربلندی کے لیے اُن کے بے تاب جذبوں اور مضطرب تمنائوں کا راز اس امر میں پوشیدہ ہے کہ انھیں اسلام کی حقانیت کے ساتھ‘ اسلام کے روشن مستقبل پر بھی کامل یقین تھا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں‘ عالمِ اسلام ایک مایوس کن منظر پیش کر رہا تھا۔ ایسے میں اقبال کی طرف سے غلبۂ اسلام کی یہ نوید :

آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش

اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی

اس قدر ہوگی ترنم آفریں بادِ بہار

نکہتِ خوابیدہ غنچے کی نوا ہو جائے گی

پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغامِ سجود

پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائے گی

شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے

یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے

دیوانے کا ایک خواب معلوم ہوتی تھی یا محض ایک شاعرانہ تعلّی--- مگر اقبال کو ایک عالم گیر اسلامی انقلاب پر کامل یقین تھا‘ جس کا واشگاف اظہار انھوں نے نثر میں بھی کئی جگہ کیا ہے‘ مثلاً:

اسلام ایک عالم گیر سلطنت کا یقینا منتظر ہے جو نسلی امتیازات سے بالاتر ہوگی اور جس میں شخصی اور مطلق العنان بادشاہتوں اور سرمایہ داروں کی گنجایش نہ ہوگی۔ دنیا کا تجربہ خود ایسی سلطنت پیدا کر دے گا۔ غیرمسلموں کی نگاہ میں شاید یہ محض خواب ہو‘ لیکن مسلمانوں کا یہ ایمان ہے۔ (گفتارِ اقبال‘ ص ۱۷۸)

ایک اور موقع پر فرمایا:

اس وقت جو قوتیں دنیا میں کارفرما ہیں‘ اُن میں سے اکثر اسلام کے خلاف کام کررہی ہیں لیکن  لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ کے دعوے پر میرا ایمان ہے کہ  انجام کار اسلام کی قوتیں کامیاب اور فائز ہوں گی۔ (ایضًا‘ ص ۱۹)

تجدید و احیاے دین کے لیے علامہ اقبال کے مجموعی کام کو تین دائروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ۱- فرد کی تعمیر سیرت ۲- فکری اور علمی کاوشیں ۳- پاکستان کا تصور اور اس کے لیے عملی جدوجہد

  • فرد کی تعمیرسیرت

علامہ اقبال نے تاریخِ عالم کے مطالعے سے بجا طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جب تک فرد اپنے اخلاق و اطوار اور سیرت و کردار میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتا ‘ معاشرے میں کسی بڑے انقلاب کی توقع عبث ہے۔ اقبال کے الفاظ میں: ’’دنیا میں کسی قوم کی اصلاح نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس قوم کے افراد اپنی ذاتی اصلاح کی طرف توجہ نہ کریں‘‘ (مقالاتِ اقبال‘ ص ۵۳)۔    اور: ’’کردار ہی وہ غیرمرئی قوت ہے جس سے قوموں کے مقدر متعین ہوتے ہیں‘‘ (شذراتِ فکراقبال‘ ص ۱۲۴)۔ مسلمان مجموعی اعتبار سے اخلاقی انحطاط کا شکار تھے۔ انھیں اس پستی سے نکالنے کے لیے اقبال ان کی اخلاقی تربیت کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ اخلاقی تربیت کے لیے: ’’مذہب بے حد ضروری چیز ہے‘‘(گفتارِ اقبال‘ ص ۲۵۵)۔ اور مذہب کی مضبوط گرفت ہی ہمیں بھٹکنے اور گمراہ ہونے سے بچاسکتی ہے۔ اگر: ’’یہ گرفت ڈھیلی پڑی تو ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔ شاید ہمارا انجام وہی ہو جو یہودیوں کا ہوا‘‘ (شذراتِ فکراقبال‘ ص ۸۵)۔ اقبال کے نزدیک انسانی کردار کی تعمیر میں قرآن حکیم اساسی حیثیت رکھتا ہے    ؎

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں

اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار

ایک بار چند نوجوانوں کو مخاطب ہو کرکہا: ’’یاد رکھو مسلمانوں کے لیے جاے پناہ صرف قرآنِ کریم ہے--- میں اس گھرکو صدہزار تحسین کے قابل سمجھتا ہوں جس گھرسے علی الصبح تلاوتِ قرآن مجید کی آواز آئے ‘‘ (گفتارِ اقبال‘ ص ۲۱۳)۔ مگر اس کے ساتھ ہی یہ نصیحت بھی کی کہ: ’’قرآن مجید کا صرف مطالعہ ہی نہ کیا کرو بلکہ اس کو سمجھنے کی کوشش کرو‘‘ (ایضًا)۔ قرآنی تعلیمات کے حوالے سے اقبال نے افراد اُمت کو ارکانِ خمسہ کی پابندی (ملفوظاتِ اقبال‘ ص۳۹) اور فرائض کے ساتھ نوافل‘ شب بیداری‘ اور تہجد کے اہتمام کی تلقین کی (اقبال نامہ‘ ج۲‘ ص ۱۹۳)۔ یہ اہتمام مسلمان کے اندر اخلاقِ فاضلہ کا موجب بنتا ہے۔

علامہ اقبال‘ قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق آں حضورؐ کے اُسوئہ حسنہ کو بھی پیشِ نظر رکھنے کی تاکید کرتے ہیں۔ اسوئہ حسنہ میں اعلاے کلمۃ الحق کو ایک نمایاں اور روشن باب کی حیثیت حاصل ہے۔ اقبال کے نزدیک ایک حقیقی مسلمان کلمۂ حق کا اعلان و اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا‘ مگر سچائی کا اظہار خوداعتمادی کی بنا پر ہی ممکن ہے۔ فلسفۂ خودی کا پس منظر یہی ہے۔

اقبال کے فلسفۂ خودی کی تشکیل میں عشق اور فقر کو اہم عناصر کی حیثیت حاصل ہے۔   جذبۂ عشق میں ایک غیرمعمولی قوت پنہاں ہے اور فقر کی لازوال دولت بھی عشق سے کم اہم نہیں۔ جس قوم کو یہ دونوںقوتیں حاصل ہو جائیں‘ دنیا کی کوئی طاقت اس قوم کا راستہ نہیں روک سکتی   ؎

خوار جہاں میں کبھی ہو نہیں سکتی وہ قوم

عشق ہو جس کا جسور‘ فقر ہو جس کا غیور

اقبال‘ احیاے اسلام کے لیے جس انقلاب کے داعی ہیں‘ اُسے برپا کرنے کے لیے خودی‘ فقر اور عشق سے متصف ہونا ضروری ہے۔ فرد کے اندر یہ صفات پیدا ہو جائیں تو وہ ’’مردِ مومن‘‘ کا روپ اختیار کرلیتا ہے اور اس جدوجہد میں مردِ مومن کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

اُمت مسلمہ کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو احساس ہوتا ہے کہ ضعف ِاسلام کا بہت بڑا سبب اُمت کے اندر فروعی مسائل پر شدید اختلافات‘ اوراس بنیاد پر باہمی دشمنیاں اور مجموعی طور پر انتشار و افتراق کی افسوس ناک صورتِ حال رہی ہے جس کا ایک اہم سبب علماے سوء اور نام نہاد صوفیا کا غلط رویہ تھا۔ علامہ اقبال‘ غیر اسلامی اور عجمی تصوف کو خاص طور پر خرابیِ احوال کا ذمہ دار گردانتے ہیں۔ ان کے خیال میں عجمی تصوف نے’’مسلمانوں کے زوال میں ایک اہم عنصر کے طور پر کام کیا ہے‘‘ (اقبال نامہ‘ ج ۱‘ ص ۷۸)۔علماے سوء اور نام نہاد مدعیانِ تصوف کے متعلق وہ بہت شدید جذبات رکھتے تھے۔

دوسرا طبقہ جس سے اقبال بطور خاص مخاطب ہوئے‘ نوجوانوں کا طبقہ تھا۔ اقبال کی نظر میںاحیاے اسلام کی تحریک میں کامیابی کا انحصار بڑی حد تک نوجوان طبقے پر ہے۔ خود آںحضوؐر کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں اوّلیت کا شرف بھی نوجوان طبقے کو حاصل ہوا۔ اقبال مسلم نوجوانوں کو تن آسانی اور عیش پسندی کے بجائے جفاکشی اور سخت کوشی کی تلقین کرتے ہیں     ؎

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

اس طرح احیاے اسلام کے سلسلے میں اوّلین سطح پر اقبال نے فرد کی انفرادی اصلاح اور اس کی تعمیرسیرت پر زور دیا اور پھر معاشرے کے دو اہم طبقوں‘یعنی علماے مذہب و صوفیہ اور نوجوانوں کو متوجہ کیا کہ وہ آگے بڑھ کر اسلامی نشات ثانیہ کی تحریک میں اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کریں۔

فکری اور علمی کاوشیں

مسلمان‘ انگریزوں کی سیاسی غلامی کے ساتھ‘ ذہنی اور فکری اعتبار سے بھی مغرب سے مغلوب ہو چکے تھے۔ اس مغلوبیت کی تین صورتیں تھیں: اوّل: نیشنلزم کا سراب ۔ دوم: دین و دنیا کی دوئی۔ سوم: مغربی تہذیب سے ایک مجموعی مرعوبیت۔ علامہ اقبال نے ان تینوں تصورات پر کاری ضرب لگائی۔

اپنے فکری سفر کے آغاز میں اقبال خود بھی قوم پرست تھے مگر یورپ کو قریب سے دیکھنے پر انھیں نیشنلزم کے کھوکھلے پن کا احساس ہوا۔ وہ بتاتے ہیں کہ قیامِ یورپ نے ان کے خیالات میں انقلابِ عظیم پیدا کر دیا تھا۔ اقبال کے الفاظ ہیں: ’’یورپ کی آب و ہوا نے مجھے مسلمان کر دیا‘‘ (انوارِ اقبال‘ ص ۱۷۶)۔ وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کے اندر قوم پرستی کے ’’فرنگی نظریۂ وطنیت‘‘ کی اشاعت کا مقصد ’’اسلام کی وحدتِ دینی پارہ پارہ کرنا ہے‘‘ (حرفِ اقبال‘ ص۲۲۲)۔ اسی بنا پر عرب قوم پرستی کا فتنہ پروان چڑھا اور سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھرگیا۔ علامہ نے مغربی تصورِ قومیت کو ایک ’’روحانی بیماری‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عمربھرجہاد کیا۔ اقبال کے نزدیک انسانی اشتراک کا سب سے قوی رابطہ اور ان کے درمیان سب سے زیادہ مضبوط رشتہ کلمۂ توحید کا ہے۔ اسی بنیاد پر انھوں نے تصورِ ملت کی بازیافت کی     ؎

اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

اسی تصور ملّت نے آگے چل کر علامہ کے ہاں اتحادِ عالم اسلامی کی شکل اختیار کی (ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے)۔

مسلمانوں کے فکری و ذہنی انحطاط کا دوسرا نمایاں پہلو اُن کا محدود تصورِ دین تھا۔ شہنشاہیت نے اہل مذہب کو مساجد تک محدود کر دیا اور سیاست کی باگ ڈور خود سنبھال لی۔ دین و سیاست میں بُعد پیدا ہو گیا۔ اقبال کے نزدیک: ’’ازروے شریعت محمدیہؐ مذہب و سیاست میں کوئی تفریق نہیں‘‘ (مقالاتِ اقبال‘ ص ۹۲)۔ انھوں نے دین و سیاست کی علیحدگی پر سخت تنقید کی کیونکہ اس کا نتیجہ ہمیشہ خوں ریزی و چنگیزی اور عالم گیر تباہی کی شکل میں نکلتا ہے۔

درحقیقت احیاے اسلام کی تحریک میں کسی طرح کی پیش رفت اس کے بغیر ممکن ہی نہ تھی کہ دین و سیاست میں دوئی کی نفی کرکے‘ دین کا حقیقی اور (سیاست‘ تمدّن‘ معیشت‘ تعلیم‘ عمرانیات‘ قانون‘ غرض زندگی کے تمام شعبوں پر محیط) ایک جامع تر تصور نہ پیش کیا جاتا۔

تجدید و احیاے دین کی راہ میں تیسری بڑی رکاوٹ مغرب سے ذہنی مرعوبیت تھی۔ علامہ اقبال مغرب اور مغربیت کا بذاتِ خود مشاہدہ کر چکے تھے۔ اس لیے انھوں نے نہایت واشگاف الفاظ میں اس کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کیا    ؎

یورپ میں بہت روشنی علم و ہنر ہے

حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات


فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب

کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف

خطبات میں ایک جگہ کہتے ہیں کہ ’’یورپ سے بڑھ کر‘ آج انسان کے اخلاقی ارتقا میں بڑی رکاوٹ اور کوئی نہیں‘‘۔ (تشکیلِ جدید الہیاتِ اسلامیہ‘ ص ۲۷۶)

یہاں اس امر کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ فکرمغرب کے جو ثمرات ‘سوشلزم اور نام نہاد جمہوریت اور سرمایہ داری کی شکل میںدنیا کے سامنے رونما ہوئے تھے‘ اقبال نے ان سب کو باطل اور بہرطور ناقابلِ قبول ٹھہرایا تھا۔ مغربی جمہوریت کو‘ جس کی بنیاد مادر پدر آزادی ہے‘ انھوں نے رد کر دیا کیونکہ    ؎

گریز از طرزِ جمہوری غلامِ پختہ کارے شو

کہ از مغزِ دو صدخر فکرِ انسانی نمے آید

طرزِ جمہوری سے گریز کر‘ کسی مرد پختہ کار کا دامن پکڑ‘ کیونکہ دو سو گدھے مل کر بھی ایک انسان کی طرح نہیں سوچ سکتے۔

خیال رہے کہ سوشلزم اور اشتراکیت کے بارے میں اُن کے خیالات میں ایک ارتقا ملتا ہے۔ پہلے پہل انھوں نے ۱۹۱۷ء کے روسی انقلاب کو سراہا کیونکہ وہ مظلوموں کا حامی بن کر سامنے آیا تھا مگر بہت جلد اس کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا۔ چنانچہ اقبال نے اس سے براء ت کا اعلان کرتے ہوئے تاریخ کی مادی تعبیر کو سراسر غلط قرار دیا (اقبال نامہ‘ ج ۱‘ ص ۳۱۹)۔

علامہ اقبال کا یکم جنوری ۱۹۳۸ء کا ریڈیائی پیغام ‘مغربی فکر اور سیاست پر ایک جامع تبصرے کی حیثیت رکھتا ہے۔ فی الحقیقت انھوں نے جس طرح مغربی تہذیب اور فکروفلسفے پر  تنقید کی‘ ہماری فکری تاریخ میں ان سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ملتی اور یہ اُن کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ ان کی اس جرأت مندانہ تنقید کے نتیجے میں تعلیم یافتہ مسلمانوں میں مغرب سے مرعوبیت ختم ہونے لگی اور احیاے اسلام کے لیے فضا اورسازگار ہو گئی۔

علامہ اقبال کو اس امر کا بھی شدید احساس تھا کہ ہمارے علماے مذہب‘ اجتہاد کی اہمیت سے غافل ہو چکے ہیں۔ فکری سطح پر علامہ اقبال کی ایک مثبت عطا یہ بھی ہے کہ انھوں نے عصرحاضر میں اجتہاد کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کے انگریزی خطبات میں چھٹا خطبہ ’’الاجتہاد    فی الاسلام‘‘ کے موضوع پر ہے۔ اس سلسلے میں ایک بار فرمایا:

آج اسلام کی سب سے بڑی ضرورت فقہ کی جدید تدوین ہے جس میں زندگی کے ان سیکڑوں ہزاروں مسائل کا صحیح اسلامی حل پیش کیا گیا ہو‘ جن کو دنیا کے موجودہ قومی اور بین الاقوامی سیاسی‘ معاشی اور سماجی احوال و ظروف نے پیدا کر دیا ہے۔ (حیاتِ انور‘ ص ۱۶۵)

اجتہاد پر یہ زور مسلم علما کے اندر صدیوں کے فقہی جمود کے خلاف ایک ردِّعمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ردِّعمل کا ایک مثبت پہلو‘ اقبال کا یہ احساس ہے کہ عصرِحاضر کی مقتضیات ومسائل کی روشنی میں اسلامی فقہ کی ازسرنو ترتیب و تشکیل کی ضرورت ہے۔ ابتدا میں اقبال نے خود اس طرح کے کام کا آغاز کیا (اقبال نامہ‘ ج ۱‘ ص ۳۲۰)۔ لیکن پھر یہ نازک ذمّہ داری کسی روشن دماغ عالم کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا۔غالباً اسی خیال کے پیشِ نظر انھوں نے مختلف اوقات میں مولانا شبلی نعمانی‘ سیدانورشاہ کاشمیری اور سید سلیمان ندوی کو پنجاب منتقل ہونے کی دعوت دی مگر کامیابی نہ ہوئی‘ تاہم پٹھان کوٹ کا ادارہ دارالاسلام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ عبدالمجید سالک کے خیال میں اس ادارے کی غایت یہ تھی کہ دینی و دنیاوی علوم کے ماہرین ایک گوشے میں بیٹھ کر‘ علامہ کے نصب العین کے مطابق‘ اسلام‘ تاریخِ اسلام‘ تمدنِ اسلام‘ ثقافت ِ اسلامی اور شرعِ اسلام کے متعلق ایسی کتابیں لکھیں جو آج کل کی دنیا کے فکر میں انقلاب پیدا کر دیں (ذکرِاقبال‘ ص ۲۱۲-۲۱۳)۔

علامہ اقبال ہی کے ایما اور مشورے پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی‘ ۱۹۳۸ء کے اوائل میں حیدرآباد‘ دکن سے ہجرت کر کے جمال پور (پٹھان کوٹ) آگئے تھے۔ علامہ کا ارادہ تھا کہ   وہ بھی ہر سال چند ماہ کے لیے وہاں آکر قیام کیا کریں گے مگر افسوس کہ وہ جلد ہی خالق حقیقی سے جا ملے۔ اس میں شبہہ نہیں کہ اس ادارے نے قابلِ قدر خدمات انجام دیں جنھوں نے آگے چل کر تجدید و احیاے دین کے لیے ایک عملی تحریک کی صورت اختیار کی۔

  • اسلامی ریاست (پاکستان) کا تصور

ہندستان میں ایک علیحدہ اسلامی ریاست (جسے بعد میں پاکستان کا نام دیا گیا) کا تصور اور اس کے حصول و قیام کے لیے عملی کوششیں‘ احیاے اسلام کے لیے اقبال کی مساعی میں آخری سنگ ِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انھوں نے مغرب کے نظریۂ قوم پرستی کو ردّ کر کے اسلام کے تصورِ ملّت کو اُجاگر کیا۔ ہندستانی سیاست سے ان کی دل چسپی اسی حوالے سے تھی۔ اس سلسلے میں اقبال کی خواہش تھی کہ‘ اوّل: ہندستان آزاد ہو۔ دوم: یہاں اسلامی حکومت قائم ہو۔

ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات ہونے کی حیثیت سے ‘اسلام ہمیشہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ اسے زندگی کے تمام شعبوں میں نافذ و رائج کیا جائے۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور ان اقیموا الدین کا مفہوم بھی یہی ہے مگر سیاسی قوت کے بغیر اقامت ِ دین ممکن نہیں۔ اقبال کا یہ معروف شعر    ؎

رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم

عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد

اسی نکتے کی شعری تفسیر ہے۔ اقبال کے خیال میں باطل کی بیخ کنی بھی قوت ہی سے ممکن ہے   ؎

تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سحرِقدیم

گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوبِ کلیم

یہاں اُن کا یہ قول لائق توجہ ہے: ’’مسلمانوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا حکم دیا گیا ہے    ]لیکن[ بغیرطاقت کے امرونہی کیسے ممکن ہے۔ اگر مسلمان امرونہی کے فرائض ادا کرنا چاہتے ہیں تو اُن کے بازوئوں میں طاقت ہونا ضروری ہے‘‘۔ (نقوش، اقبال نمبر‘ اوّل ‘۱۹۷۷ئ‘ ص ۴۰۷)

برطانوی سامراج کی غلامی میں فوری طور پر قوت و طاقت اور اقتدار کا حصول آسان نہ تھا۔ اقبال نے مسلمانوں کے اندر سیاسی شعور کی بیداری پر پوری توجہ مرکوز کی۔ آزادیِ ہند سے متعلق کوئی معاملہ ہو یا مسلمانوں کا کوئی ملّی مسئلہ‘ وہ برابر کوشاں رہے کہ مسلمان مستقبل کے منظرنامے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائیں۔ سیاسی سطح پر اقبال نے ہمیشہ مسلمانوں کی علیحدہ قومیت پر زور دیا اور مخلوط انتخاب کی مخالفت کی۔ مسلمانوںکے ملّی تشخص کی خاطر جداگانہ اصولِ انتخاب پر اقبال کا اصرار ‘آگے چل کر ایک علیحدہ مسلم مملکت کے تصور کی شکل میں سامنے آیا۔ اقبال کا خیال تھا کہ انگریز کے رخصت ہونے کے بعد‘ اصولِ جمہوریت کے تحت ہندستان کا اقتدار ہندوئوں کو منتقل ہو جائے گا اور اکھنڈ بھارت میں مسلمانوں کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ اس لیے انھوں نے دسمبر ۱۹۳۰ء میں ہندستانی مسلمانوں کے لیے ایک الگ مملکت کا تصور پیش کیا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے: خطبۂ الٰہ آباد)

جس موقع پر اقبال نے ایک ’’منظم اسلامی ریاست‘‘ کا تصور پیش کیا‘ مسلمان شدید انتشار اور مایوسی کا شکار تھے۔ محمد علی جناح ہندستانی سیاسیات سے بددل ہو کر لندن جا بسے تھے اور مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت بقول سید نوراحمد: ’’مسلم لیگ کا پلیٹ فارم طفلانہ حرکتوں کا میدان بن گیا تھا‘‘ (مارشل لا سے مارشل لا تک‘ ص ۱۴۱)۔ اس مایوس کن صورت میں اقبال کی پیش کردہ اسلامی ریاست کی تجویز‘ مسلمانوں کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہوئی۔

مسلمانوں کے مسائل سے ان کی دل چسپی اور ان کے مستقبل کے بارے میں ان کی فکرمندی سے ‘ قائداعظم کے نام ان کے خطوط سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ خطوط‘ اسلامی نشات ثانیہ کے لیے اقبال کے ولولوں‘ اُمنگوں اور مضطرب جذبوں کا خوب صورت اظہار ہیں۔ اقبال تو ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ء کو اپنے رب سے جا ملے مگر ۱۹۴۰ء کی قراردادِ پاکستان کے سات سال بعد‘ ۱۴اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان‘ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کی حیثیت سے‘ کرئہ ارض پر نمودار ہوا۔ بلاشبہہ پاکستان کا قیام اسلامی نشات ثانیہ کی جدوجہد میں ایک اہم پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے مگر علامہ اقبال کے خوابوں کی حقیقی تعبیر اُس وقت سامنے آئے گی جب پاکستان میں اسلامی قانون اور شریعت ِ محمدیہؐ کا مکمل اور نتیجہ خیز نفاذ ہوگا اور پاکستان‘ دنیا میں اسلام کے احیا اور مسلمانوں کی سربلندی کی علامت بن جائے گا۔

  • --- کام ابھی باقی ہے

احیاے اسلام کے لیے علامہ اقبال کی اس جدوجہد میں اسلام اور ملّت ِ اسلامیہ کے لیے ا ن کے انتہائی خلوص‘ دردمندی اور دل سوزی کے جذبات بہت نمایاں ہیں۔ اُن کا یہ شعر اسی کیفیت کا آئینہ دار ہے۔     ؎

اسی کش مکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں

کبھی سوز و سازِ رومی‘ کبھی پیچ و تابِ رازی

پھر اپنی ساری مساعی میں عشقِ رسولؐ، اقبال کے لیے سب سے بڑا source of inspiration رہا۔آں حضوؐر کی ذات اور آپؐ کا اسوۂ حسنہ کارزارِ حیات میں اقبال کے لیے روحانی تائید کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ ایک صاحب نے علامہ سے ذکر کیا کہ انھوں نے خواب میں حضورؐ رسالت مآب کو جلالی رنگ میں یا سپاہیانہ لباس میں دیکھا ہے ۔ اس پر علامہ نے انھیں لکھا: ’’میرے خیال میں یہ علامت احیاے اسلام کی ہے‘‘۔ (انوارِ اقبال‘ ص ۲۱۶)


تجدید و احیاے دین کے لیے اقبال کی اس ساری تگ و دو اور جدوجہد کا مقصد بھی سنت ِ رسولؐ کی پیروی ہے۔ اقبال کے نزدیک‘ ایک مسلمان کی جملہ مساعی کا محور یہی ہونا چاہیے     ؎

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

اگر بہ او نہ رسیدی‘ تمام بولہبی است

اُن کے خیال میں آں حضوؐر کی ذاتِ گرامی سے تعلق خاطر‘ نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی مومن کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ احیاے اسلام اور تجدید و احیاے دین کے لیے کی جانے والی کوششوں اور کاوشوں کا منتہاے مقصود یہ تھا کہ مسلمانوں کے قلوب عشق رسولؐ کی سچائی‘ روشنی اور حرارت سے منور ہوکر جگمگا اُٹھیں    ؎

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا‘ لوح و قلم تیرے ہیں

تجدید و احیاے دین کے لیے علامہ اقبال کے ایمان افروز مشن کی داستان‘ اقبال کے نام لیوائوں  اور عقیدت مندوں کے لیے ایک مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ انھوں نے نشات ثانیہ کے لیے عمربھر جو کاوشیں کیں‘ ابھی ان کی تکمیل ہونا باقی ہے۔ علامہ اقبال کا یہ شعر دنیا بھر کے مسلمانوں کو اُن کا فرض یاد دلا رہا ہے     ؎

وقتِ فرصت ہے کہاں‘ کام ابھی باقی ہے

نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے