ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی


]ہم چین کی ترقی، یک جہتی اور دوستی کے قدر دان ہیں۔ یہی قدردانی اور دوستی تقاضا کرتی ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کی سیاسی قیادت کے سامنے یہ حقیقت واضح کی جائے کہ: ’’دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والے مسلمان، محض علاقائی یا نسلی اقلیت یااکثریت نہیں ہیں بلکہ (مسلمان ایک نبی کی ایک ہی اُمت کی حیثیت سے شناخت رکھتے ہیں)۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا مغربی و امریکی سامراج، مسلمانوں کو علاقوں، ملکوں اور نسلوں کی بنیاد پر دیکھنے کے بجاے، انھیں صرف مسلمان کی حیثیت سے مخاطب کرتاہے۔ اس ابدی حقیقت اور تاریخی سچائی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے یہ بات عرض کرنا چاہتے ہیں کہ چین کی جہاں دیدہ سیاسی قیادت کو ایغور مسلمانوں کے حوالے سے بھی یہی حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے۔ یہ امرواقعہ بھی ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ چین، تجارت اور اسٹرے ٹیجک تعلقات کے حوالے سے، سب سے زیادہ قریب مسلم ممالک ہی سے ہے۔ وہ اپنے ہاں بسنے والے مسلمانوں کے مسائل کو فوجی یا جبری انداز سے حل کرنے کے بجاے، وہاں رہنے والے مسلمانوں کے دینی، سماجی اور معاشی مفادات کو حق و انصاف کی بنیاد پر حل کرتا ہے اور ان کی تہذیب و ثقافت کا احترام کرتا ہے تو یہ بات خود چین کے مفاد میں ہوگی۔ اس طرح ایک جانب وہ مسلمان حکومتوں سے بڑھ کر ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دل میں جگہ بنا سکے گا تو دوسری جانب اپنے لیے ملک اور ملک سے باہر خیرسگالی کے جذبات کو پروان چڑھاپائے گا۔ س م خ


یہ ایک دل چسپ اور رُلا دینے والا رپورتاژ ہے ___ رپورتاژ کو اہل نقد بالعموم افسانوی ادب (fiction) میں شمار کرتے ہیں، مگر زیر نظر کتاب میں حقیقت ہی حقیقت ہے، افسانہ نہیں ہے۔ قاری مطالعے کے دوران  ڈاکٹر شفیق انجم کی خوب صورت نثر کی بے ساختہ داد دیتا ہے۔
مصنف کو ملازمتی مصروفیات کے سلسلے میں کچھ عرصہ سنکیانگ میں رہنے کا موقع ملا۔ وہ لکھتے ہیں :’’مختصر مدّت کی یہ رفاقت عمر بھر کی رفاقت محسوس ہوتی ہے ۔ میں نے اسے صرف دیکھا ہی نہیں، سوچا، سمجھا، چکھااور بھگتا بھی ہے۔ اس قربت و رفاقت کے کچھ زاویے میں نے اپنی نظمیہ کہانیوں میں نقش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ نظمیہ کہانیاں: جلا وطن، خود کلامی اور سنکیانگ میں محبت کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہو چکی ہیں۔ زیر نظر تحریر سنکیانگ نامہ میں کچھ مزید زاویوں کو سمیٹنے اور بیان کرنے کی کوشش کی ہے‘‘۔ (ص۶) 
یہ کتاب سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کے شان دار ’ماضی‘ اور درد ناک ’حال‘ کی رُودادِ زندگی ہے۔ جہاں تک سنکیانگ میں ایغور وں کے ’مستقبل‘ کا تعلق ہے: ’’زمین اس کی ہوتی ہے جس کے پاس طاقت ہو‘‘ (ص ۷)۔ اس اعتبار سے ایغوروں کا ’مستقبل‘ بظاہر دکھائی نہیں دیتا، کیوں کہ موجودہ حکومت ان سے جس طرح معاملہ کر رہی ہے، کوئی دن جاتا ہے (اور یہ چند برسوں کی بات ہے ) کہ وہ نابود کردیے یا دُور دُور بکھیر دیے جائیں گے۔ پھر وجود کہاں؟ اور زمین کا ذکر کہاں؟
مصنف کہتے ہیں : ’’چین سے ہمارا دوستی کا ایک مضبوط رشتہ قائم ہے، یہ رشتہ قائم رہنا اور پھلنا پھولنا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان پہلوئوں پر ضرور بات ہونی چاہیے، جو اس پُر خلوص رشتے میں دُکھ اور تکلیف کے عناصر شامل کیے جا رہے ہیں، انھی میں سے ایک سنکیانگ ہے‘‘۔ (ص ۱۲)
اس طرح یہ کتاب سنکیانگ کے ایغوروں کے دکھوں کی کہانی ہے۔ سنکیانگ ۱۶لاکھ ۶۴ہزار ۸سو ۹۷مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ چین نے جس کثرت سے یہاں سٹرکیں، پُل اور عمارتیں بنائی ہیں، اسی کثرت سے چین کے مختلف علاقوں سے چینی باشندوں کو لا لا کر سنکیانگ میں بسا یا ہے۔ بقول مصنف: ’’کسی زمانے میں یہاں مسلمان واحد اکثریت تھے، لیکن چینی عمل داری کے بعد منظم آباد کاری کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اب یہ تناسب ۴۵/۵۵ کا ہو گیا ہے اور آنے والے برسوں میں مسلم اکثریت آٹے میں نمک کے برابر رہ جائے گی‘‘۔ (ص۱۸)
 مصنف نے سنکیانگ کے مختلف شہروں کے محل وقوع کے ساتھ ان کا تعارف کرایا ہے ۔ مختلف علاقوں کے لوگوں سے تبادلۂ خیال کیا ، ان کے ناگفتہ بہ حالات سنے اور ان میں سے بعض واقعات نقل کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’سنکیانگ مکمل طور پر ایک پولیس اسٹیٹ ہے۔ غیر ملکی سیّاح بکثرت آتے ہیںمگر ایک دودن کے قیام سے انھیں اصلیت کا پتا نہیں چلتا، ہاں طویل قیام سے بخوبی سمجھ لیتے ہیں کہ سنکیانگ میں ایغور ہونے کا مطلب سسکتی موت ہے ۔ بظاہر یہ لوگ زندہ ہیں لیکن انھیں اندر سے مار دیا گیا ہے۔ یہ خبریں تو اب عالمی میڈیا پر بھی عام ہیں کہ سنکیانگ میں ایغوروں کے لیے بڑے بڑے ’حراستی کیمپ‘ بنائے گئے ہیں، جہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگ لائے جاتے اور انھیں اذیت ناک مراحل سے گزار کر وفا دار بننے کی تربیت دی جاتی ہے۔ ان کیمپوں کی موجودگی سے چینی حکومت انکاری ہے اور اسے چین دشمن عناصر کا پروپیگنڈا کہہ کر رد کیا جاتا ہے۔ لیکن واقفانِ حال جانتے ہیں کہ ’حراستی کیمپ‘ ہونے نہ ہونے کی بات ایک طرف، یہاں تو گھر گھر ، گلی گلی، کوچہ کوچہ حراست معصوم لوگوں کو دبوچے بیٹھی ہے۔ ہر ایغور ’مشکوک‘ ہے، ہر ایغور ’دہشت گرد‘ ہے اور ہرایغور پر لازم ہے کہ وہ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے چینی حکومت سے وفاداری کا ورد کرتا رہے۔ پولیس کی نگرانی کے ساتھ ہر ایغور گھرانے پر ایک چینی گھرانا مامور ہے۔ نجی معاملات میں یہ چینی گھرانا دوستی کے لیبل اور باہمی تعاون ومدد کے سلوگن کے ساتھ ایغور گھرانے کی کوتوالی کرتا ہے۔ باہمی شادیوں اورثقافتی اشتراک کی راہ نکالتا ہے اور اگر کہیں کسی طرح کی کم آمادگی یا گریز کی صورت دیکھتا ہے تو نہ جانے پولیس کو کیسے معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں ایغور گھرانے کے فلاں فرد یا پورے گھرانے کو ’خصوصی تربیت کی ضرورت ہے‘۔ پس ’تربیت‘ دی جاتی ہے ، اور ایسی کہ دائیں بائیں والوں کے بھی اوسان خطا ہوجاتے ہیں‘‘ ۔ (ص۵۳) 
ایک اور جگہ کہتے ہیں: ’’ارومچی کے جنوبی علاقے میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ یہاں مساجد موجود ہیں، جن کا احاطہ محدود کر کے ان کے گرد باڑیں لگا دی گئی ہیں۔ گیٹ میں سکینر اور کیمرے ، ہر مسجد کے سامنے پولیس بکتر بند گاڑیاں چوبیس گھنٹے کھڑی رہتی ہیں۔ مسجد صرف نماز کے وقت کھلتی ہے اور پھر مقفل۔ ہر نمازی کی شناخت نوٹ ہوتی ہے ۔ پس، گنے چنے بوڑھے ہی نماز کے اوقات میں نظر آتے ہیں۔ مساجد کے علاوہ گھروں میں قرآن شریف یا کوئی بھی مذہبی متن یا آثار رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ داڑھی رکھنے پر پابندی، روزے پربھی پابندی ، رمضان میں جان بوجھ کر دفتروں میں آفیشل لنچ رکھے جاتے ہیں۔ جو ایغور ملازمت میں ہیں، ان کی جامع رپورٹ بنتی ہے ، نگرانی ہوتی ہے۔ رات دن سولی پر لٹکتے رہتے ہیں، پھر بھی اعتباری قرار نہیں پاتے ‘‘ (ص۵۴- ۵۵) ۔اسی طرح: ’’مسلم ثقافت کا زور توڑنے کے لیے بدھ مذہبی ثقافت کو مقابل لایا جارہاہے‘‘ (ص۶۶)۔’’چینی حلقوں میں ان [ایغور مسلمانوں]کی کوئی عزت نہیں۔ یہ لوگ حکومتی مشینری میں اعلیٰ عہدے بھی رکھتے ہیں اور بہت قابل پروفیسر ، ڈاکٹر اور انجینیر اور کاروباری لوگ بھی ہیں، لیکن نسلاً ایغور ہونا ان کے لیے ایک تہمت بنا رہتا ہے‘‘۔  (ص۷۷)
مصنف نے اپنے مشاہدے کو صرف ایغوروں کی مظلومیت تک محدود نہیں رکھا، بلکہ ان کی ثقافت، تعلیم اور ان کے خوردو نوش کی عادت کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ ریستورانوں میں چائے ، کھانے، چکن تکے، سیخ کباب ، نمکین اور میٹھے بسکٹ ، کلچے ، کرانچی جلیبی، پیزہ اور یہاں کے پھل___ جو ایغور دُور دراز دیہی علاقوں میں رہتے ہیں ، وہ قدر ے عافیت میں ہیں (مگر تابکے ؟)۔ لوگ   حلیم اور خوش گفتار ہیں۔ دھول مٹی سے اَٹے ، لتھڑے، لیکن دل کے غنی وباد شاہ اور مہمان نوازی میں بے مثل ۔ مسافروں کے پہنچتے ہی ہر ایک بقدرِ استطاعت خدمت میں جُت جاتا ہے ۔ پانی،   دودھ اور میوے پیش کیے جاتے ہیں ۔ رسم کے مطابق بھیڑ یا دنبہ ذبح کر کے خوان سجایا جاتا ہے۔ اپنے پاس بھیڑ میسر نہ ہو تو ساتھ والوں سے اُدھار لے لی جاتی ہے۔ زبان اجنبی ہے، چہرے اجنبی ہیں، منظر وماحول اجنبی ہے، لیکن خلوص وایثار ومحبت کے جذبے اپنے اپنے سے ہیں۔ 
ایغوروں اور چینیوں کے عقائد و تجربات، نظریہ ہاے زندگی اور رسومات و مشاغل الگ الگ ہیں۔ مصنف کا اخذ کردہ نتیجہ انھی کے الفاظ میں درج ذیل ہے: 
’’چین، سنکیانگ سے جانے کا نہیں۔ سرحدیں سیل ہیں اور ایسی سیل کہ کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ہے ۔ شہروں شہر نا کہ بندی اور ایسی ناکہ بندی کہ ایک شہر کی ہوا بھی دوسرے شہر جانے سے گریز کرتی ہے۔ شہروں اور قصبوں کے اندر ہر ہر کالونی کی الگ الگ ناکہ بندی ہے۔ ہر کالونی کی ہر منزل کی الگ ناکہ بندی ۔ ہر منزل کے ہر گھر کی الگ ناکہ بندی ۔اور ہر گھر کے ہر فرد کی الگ ناکہ بندی۔ اتنے حصار اور اتنے کڑے حصار ہیں کہ بے بسی سینہ پیٹتی ، بین کرتی رہتی ہے، لیکن کوئی نہیں سنتا۔ جب جس کو اٹھانا ہو، اٹھا لیا جاتا ہے۔ ایک ایک قیدی کے لیے چھے چھے بم پروف گاڑیوں کا قافلہ چلتا ہے، اور معلوم نہیں جانے والا کہاں جاتا ہے۔ شہروں شہر بکتر بند گاڑیوں میں دہشت گشت کرتی رہتی ہے۔ ٹینک اور راکٹ بردار گاڑیاں چوک چوراہوں میں کھڑے ہیں۔ جگہ جگہ پولیس سٹیشن ہیں۔ فوج الگ سے تیارو چوکس کھڑی ہے۔ تو ایسے میں یہ کہنا کہ یہ سارا اہتمام حفاظت کے لیے ہے، کتنا مضحکہ خیز لگتا ہے۔ کیا حفاظت کا یہ اہتمام چین کے باقی شہروں میں بھی ہے؟ کیا [اُن] عالمی اہمیت کے حامل شہروں میں بھی ہے؟ کیا بیجنگ ، شنگھائی اور گوانگ زو جیسے عالمی اہمیت کے حامل شہروں میں اس سے زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں ؟ جواب ملتا ہے: ’نہیں، کیونکہ وہاں ایغور نہیں‘۔توگویا ایغوروں کا ہونا چین کی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھ لیا گیا ہے‘‘۔ (ص۷۸)
مصنف نے آخر میں لکھا ہے:’’سنکیانگ چینیوں کا ہے اور سنکیانگ کے باشندے بھی چینیوں کے ۔ کوئی کچھ نہیں کر سکتا___ مگر دوست کو دوستی کا حوالہ دے کر، درخواست تو کی جا سکتی ہے اگرچہ واضح ہے کہ شنوائی کی کوئی صورت نہیں۔ کسی طور کسی کا دل نہیں پسیجے گا، کسی طور کوئی آمادۂ رحم  نہ ہو گا کہ طاقت ، بے مہار طاقت فریادیں نہیں سنتی، حکم لگاتی ہے، حکم نافذ کرتی ہے۔ اور مظلوم وبے کس لوگ مرتے ، اذیت ناک موت مرتے رہتے ہیں___ تاریخِ انسانی میں ایسا ہوتا رہا ہے اور ہرجغرافیے سے جڑی کہانیوں میں یہ بات مشترک ہے کہ زور والے زیر دستوں پر چڑھ دوڑے اور انسانیت انھیں دیکھ دیکھ شرماتی رہی۔ ترقی اور ارتقا کے خروش میں خون کی ندیاں بہائی جاتی رہیں اور کوئی کسی کے لیے کچھ بھی نہ کرسکا۔ دُکھ ہوتا ہے اور سوچ غالب آتی ہے کہ آخر انسان ترقی اور کمال کی منزلوں پر پہنچ کر بھی دوسروں کو معاف کرنا اور جینے کا حق دینا کیوں نہیں سیکھ پاتا؟ اپنے بچے اپنے ہیں تو دوسروں کے بچے بھی اپنوں کی طرح کیوں نہیںلگتے؟ رنگ، نسل، قوم، قبیلے اگر تفاخر کا باعث ہیں تو اپنے تفاخر کے ساتھ دوسروں کے تفاخر کا احترام کیوں نہیں کیا جاتا؟ تجارت ، کاروبار اور مال واسباب کی دوڑ دھوپ اگر زندگی کے لیے ہے تو پھر یہ سب کچھ پانے کی خواہش میں زندگی ، زندگی کو کیوں کاٹ کھاتی ہے؟ شاید انسان طاقت کے نشے میں اندھا ہو جاتا ہے۔ شاید انسان  خدا بننا چاہتا ہے؟ لیکن جان لینا چاہیے کہ زمین حاکم تو پالتی ہے لیکن کسی کو خدا نہیں بننے دیتی ___  یہ زمین کی سرشت ہے۔ اور یقینا آسمان کی سرشت بھی یہی ہے___  ایسے میں کیا ہی اچھا ہو کہ حاکم، محکوموں پر مہربانی کریں تو سب کی زندگیوں میں خوشیوں کے پھول کھل سکتے ہیں‘‘۔(ص ۷۹-۸۰)
مصنف کی اس درد بھری اپیل پر دوستوں کو بھی دھیان دینا چاہیے اور اپنے آپ کو اُمت ِ مسلمہ سے منسوب کرنے والے حاکموں کو بھی سفارتی اور اخلاقی سطح پر اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔ اس رُودادِ اَلم کو پڑھنے کے لیے ملاحظہ ہو:سنکیانگ نامہ ،ڈاکٹر شفیق انجم ۔ الفتح پبلی کیشنز، ۳۹۲-اے ،گلی نمبر ۵۔اے، لین نمبر ۵، گل ریز ہائوسنگ سکیم۔۲ ، راولپنڈی ۔ صفحات : ۸۰ ۔ قیمت :۲۵۰ روپے۔ 

علامہ اقبال ۱۹۳۳ء میں نادر شاہ کی دعوت پر افغانستان گئے۔ اس سفر میں سیّد راس مسعود اور سیّد سلیمان ندوی بھی ان کے ہم رکاب تھے۔ موٹر کار کے ذریعے پشاور ،جلال آباد کے راستے کابل پہنچے تھے مگر واپسی پر غزنین ،قندھار اور چمن کوئٹہ کا راستہ اختیار کیا۔ پورے سفر کی رُوداد سیرافغانستان کے نام سے سیّد سلیمان ندوی نے قلم بند کی تھی۔

چمن سے کوئٹہ آتے ہوئے علامہ سے ان کی جو گفتگو ہوئی، اس کے ذکر میں سیّد صاحب لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹر صاحب نے اپنے آغازِ زندگی اور طالب علمانہ عہد کا ذکر چھیڑا، پھر اپنے والد مرحوم کا تذکرہ کیا کہ وہ خود ایک صاحبِ دل صوفی تھے اور دین دار علما کی صحبت میں رہتے تھے ۔ اس ضمن میں یہ معلوم ہوا کہ ہمارے جلیل القدر اسلامی شاعر کے حسّیاتِ خفتہ کے تاروں میں جس مضراب نے حرکت پیدا کی، وہ خود ان کے والد ماجد کی ذاتِ بابر کات تھی۔

’’اثناے گفتگو میں ڈاکٹر صاحب نے اپنے طالب علمی کے عہد کے ایک قصے میں اپنے والدمرحوم کا ایک ایسا فقرہ سنایا جس نے میرے دل پر بے حد اثر کیا۔ فرمایا کہ اپنے وطن سیالکوٹ میں صبح کی نماز کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کیا کرتا تھا۔ [خیال رہے کہ مسلم گھرانوں میں، صدیوں سے علی الصبح تلاوتِ قرآن کی روایت چلی آ رہی ہے۔ علامہ کے زمانے تک یہ روایت باقی تھی، اور اب بھی بعض گھرانوں میں موجود ہے، چنانچہ اپنے لڑکپن میں، اقبال نماز فجر کے بعد معمولاً تلاوت کیا کرتے تھے ]۔ایک صبح کو نماز کے بعد حسب دستورِ مَیں تلاوت میں مصروف تھا کہ والدِمرحوم ادھر آئے اور دریافت کیا کہ کیا کرتے ہو ؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ  مَیں اس وقت تلاوت کرتا ہوں۔ فرمایا : ’’جب تک تم یہ نہ سمجھو کہ قرآن تمھارے قلب پر بھی  اسی طرح اترا ہے جیسے محمد ؐ کے قلبِ اقدس پر نازل ہوا تھا، تلاوت کا مزا نہیں‘‘۔ یعنی اپنے اندر احساس پیدا کرو کہ گویا قرآن تم پر نازل ہو اہے۔ علامہ اقبال نے بہت بعد میں اپنے شعر میں اس واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے:

ترے ضمیر پر جب تک نہ ہو نزولِ کتاب

گرہ کشا ہے نہ رازی ، نہ صاحبِ کشاف

(بالِ جبریل، ص ۷۸)

اقبال نے والد کی یہ نصیحت پلے باندھ لی اور قرآن حکیم کے ساتھ ایسی وابستگی پیدا کر لی کہ بقول سیّد مودودی ؒ :’’دنیا نے دیکھا کہ [وہ] قرآن حکیم میں گم ہو چکا ہے اور قرآن سے الگ اس کا کوئی فکری وجود باقی نہیں رہا ‘‘ ۔ اقبال کی انقلاب انگیز شاعری اور ان کے افکار وتصورات اس پر گواہی دے رہے ہیں۔

اقبال اوائلِ عمر ہی سے تلاوتِ قرآن پاک کے عادی تھے۔ تلاوت بہت خوش الحانی سے کرتے۔ کبھی کبھی وہ رات کو اپنے دوست مرزا جلا ل الدین کے ہاں ہی ٹھیر جاتے۔ مرزا صاحب ، ان ایام کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب جب رات میرے پاس گزارتے تھے تو  صبح اُٹھ کر نماز پڑھتے اور اس کے بعد بڑی خوش الحانی سے دیر تک قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے۔ ان کی تلاوت سن کر بڑا لطف آتا تھااور ایک کیفیت طاری ہو جاتی تھی ۔ پھر چائے پی کر وہ اپنے دفتر یا گھر چلے جایا کرتے تھے۔

اقبال کا خادمِ خاص ، علی بخش تقریباً ۳۵ برس تک اقبال کے شب وروز اور سفر وحضر کا رفیق رہا۔ اس کی روایت ہے کہ صبح کی نماز اور قرآن خوانی مدت سے ان کا معمول تھا۔ قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ آواز ایسی شیریں تھی کہ ان کی زبان سے قرآن سن کر پتھروں کے دل پانی ہو جاتے تھے۔ بیماری کے زمانے میں قرآن پڑھنا چھوٹ گیا اور عمر بھر کا معمول باقی نہ رہا۔ اس بات کا انھیں شدید قلق تھا:

در نفس سوزِ جگر باقی نماند

لطفِ قرآنِ سحر باقی نماند

(پس چہ باید کرد،ص۵۰ )

جب خود تلاوت نہ کر سکتے تو کوشش ہوتی تھی کہ کسی اچھے قاری کی تلاوت سنیں۔ ڈورس احمد بتاتی ہیں: ایک روز ایک عرب ،علامہ سے ملنے آیا ۔ اس موقعے پر ڈاکٹر صاحب نے مجھے کہا کہ بچوں کو میرے پاس لے آئیے ۔ عرب مہمان ابھی قرآنِ پاک کی تلاو ت کریں گے۔ اگر آپ بھی تلاوت سننا پسند کریں تو سامعین میں شامل ہو سکتی ہیں۔ ڈورس احمد کہتی ہیں: عرب مہمان نہایت خوش الحان تھے۔ جب تک وہ آیاتِ مقدسہ کی تلاوت کرتے رہے ، ڈاکٹر صاحب برابر روتے رہے۔ اگرچہ میں آیات کا مفہوم سمجھنے سے قاصر تھی، لیکن قاری صاحب کے حسنِ قراء ت نے جو سماں باندھ دیا، میں اس سے بہت متاثر ہوئی۔ بچے مسحور تھے اور ڈاکٹر صاحب تو وجد میں تھے۔

اقبال کو ’ترجمان القرآن‘ بھی کہا جاتا ہے اور یہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں۔ علی بخش کا بیان ہے کہ جب شعر کہنے ہوتے تو بیاض اور قلم دان کے ساتھ، قرآن حکیم بھی منگاتے۔ اس طرح عمر بھر وہ قرآن کی تعلیمات وافکار کو اپنی شاعری میں سمو کر پیش کرنے کی سعی کرتے رہے۔ ان کی یہ کاوش ارادی اور شعوری تھی۔ رموزبے خودی کے آخر میں تو بہت کھل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور عرض کیا کہ اگر میرے اشعار میں قرآن حکیم (کے مطالب ) کے علاوہ یا خلافِ قرآن کوئی بات ہے تو آپ دنیا کو میرے کانٹے سے پاک کر دیجیے اور قیامت کے دن مجھے بوسۂ پا سے محروم کرکے، خوار و رُسوا کیجیے.... پھر کہا: حقیقتِ حال تو یہ ہے کہ میں نے اپنی شاعری میں قرآن پاک کے موتی پروئے ہیں۔

اقبال کا یہ دعویٰ (کہ میں نے سراسر قرآنِ حکیم کی ترجمانی کی ہے) قرآن حکیم پر پورے شعور کے ساتھ ان کے ایک گہرے ایمان وایقان کا نتیجہ تھا۔ ایک بار ایف سی کالج لاہور کے پرنسپل لوکس نے ان سے پوچھا : تمھارے پیغمبر ؐ پر قرآن کا مفہوم نازل ہوا تھااور انھوں نے اسے عربی میں منتقل کر لیا یا یہ قرآن پاک کی موجودہ عبارت ہی ہوبہو اُتری تھی ؟ علامہ نے کہا: یہ اسی طرح اتری تھی ۔ پرنسپل لوکس کو کچھ تعجب ہوا کہ یہ ایم اے، پی ایچ ڈی، بیرسٹرایٹ لا، یورپ کا تعلیم یافتہ فلسفی بھی دقیانوسی باتوں پر یقین رکھتا ہے۔ اقبال نے کہا: میرا تجربہ ہے کہ مجھ پر پورا شعر اترتا ہے، تو پیغمبر پر یہ پوری عبارت کیوں نہ اُتری ہو گی۔

رُموز بے خودی کے ایک باب کا عنوان ہے :’’آئینِ ملتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن است‘‘۔ اس میں پہلے وہ افرادِ اُمت سے سوال کرتے ہیں: کیا تم جانتے ہو کہ تمھارا آئین کیا ہے؟ پھر خود ہی جواب دیتے ہیں :قرآن حکیم ۔فرماتے ہیں:

آں کتابِ زندہ قرآنِ حکیم

حکمتِ او لایزال است و قدیم

نسخۂ اسرارِ تکوینِ حیات

بے ثبات از قوتش گیرد ثبات

نوعِ انساں را پیامِ آخریں

حاملِ او رحمتہً للعالمیں

(رموز بے خودی ،ص ۱۲۳)

[ یہ قرآن حکیم ہے جو ایک زندہ کتاب ہے جس کی حکمت قدیم بھی ہے اور کبھی نہ ختم ہونے والی ہے۔ یہ تخلیق حیات کے اسرار ظاہر کرنے والا نسخہ ہے۔ اس کی قوت اور بل بوتے پر کمزور، ثبات وقوت اور پایداری حاصل کرتے ہیں۔ یہ بنی نوع انسان کے لیے آخری پیغام ہے ، جسے رحمتہ للعالمین لائے ہیں۔ قرآن پاک کی برکت سے ایک بے وقعت شخص بھی قدرو منزلت حاصل کر لیتا ہے]۔

اس کے بعد دور حاضر کے مسلمان اور بحیثیت مجموعی امت مسلمہ سے کہتے ہیں کہ اگر تم پستی وزبوں حالی کی دلدل سے نکلنا چاہتے ہو اور سر بلندی وعروج کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی راستہ ہے:

گر تو می خواہی مسلماں زیستن

نیست ممکن جز بہ قرآں زیستن

(ایضاً)

[اگر مسلمان بن کر زندہ رہنا چاہتے ہو تو قرآن حکیم پر عمل پیرا ہوئے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔]

جاوید نا مہ میں کہتے ہیں کہ اگر دل کی بات پوچھتے ہو تو قرآن حکیم عام کتابوں کی طرح فقط ایک کتاب نہیں ، کچھ اور ہی چیز ہے:

ایں کتابے نیست ، چیزے دیگر است

(جاوید نامہ ،ص ۸۱)

جب اس کا اثر جان کے اندر داخل ہوتا ہے تو وہ جان بدل جاتی ہے (اس میں انقلاب آجاتا ہے ) اور جان بدل جائے تو جہان بد ل جاتا ہے ۔

جاوید نا مہ میں وہ ’پیغامِ افغانی با ملّتِ روسیہ ‘ کے زیر عنوان قرآنِ حکیم کے ذکر سے بات کا آغاز کرتے ہیں:

منزلِ مقصودِ قرآں دیگر است

رسم و آئین مسلماں دیگر است

(ایضاً،ص ۷۸)

[قرآن پاک کی منزل اور اس کا مقصود اور ہے مگر (آج کل کے ) مسلمان کے طور طریقے اور اُصولِ (حیات ) مختلف ہیں] ___پھر فرماتے ہیں : یہ مسلمان قرآن سے فائدہ نہیں اٹھاتا، حالاں کہ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن نے فقر کا جوتصور دیا ہے ، وہ فقر ہی اصل شہنشاہی ہے۔ قرآن پاک ظالم آقائوں کے لیے تو موت کا پیغام ہے اور بے سروساماں انسانوں کا دستگیر اور  بہت بڑا سہارا ۔ اس انقلابی کتاب میں مشرق ومغرب کی تقدیریں پنہاں ہیں، لہٰذا اے مسلمان! نور قرآن پر غور کرو، زندگی کے نشیب وفراز سے اور تقدیر حیات سے آگاہی ،قرآن حکیم سے وابستگی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مسلمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں: تم اور طرح کی شرع اور (غیرقرآنی ) قوانین اپنا کر کسی اور راستے پر چل پڑے ہو۔ ذرا رُک کر قرآن پاک پر غور کرو۔  پھر علامہ، اُمت مسلمہ کو خبر دار کرتے ہیں کہ اگر تم نے غفلت برتی اور قرآن پاک کو چھوڑ دیا اور اس سے منہ موڑ لیا تو اللہ پاک قرآن پاک کو کسی اور قوم کے سپرد کر دیں گے:

حق اگر از پیش ما برداردش

پیشِ قومے دیگرے بگزاردش

(ایضاً،ص ۸۲)

یہ قرآن حکیم کی اس آیت کی ترجمانی ہے :وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِ لْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ۝۰ۙ  ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ۝۳۸ۧ   ( محمد ۴۷:۳۸) ’’اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمھاری جگہ کسی اور  قوم کو لے آئے گااور وہ تم جیسے نہ ہوں گے‘‘۔

جاوید نا مہ کے آخری حصے (خطاب بہ جاوید ) کے تحت کہتے ہیں :

سینۂ ہا از گرمیِ قرآں نہی

از چنیں مرداں چہ اُمید بہی

(ایضاً،ص ۲۰۰)

مسلمانوں کے سینے قرآن حکیم کی حرارت سے خالی ہیں تو قرآن سے غافل لوگوں سے اصلاحِ احوال کی کیا اُمید ہو سکتی ہے:

صاحبِ قرآن وبے ذوقِ طلب

العجب ، ثم العجب ، ثم  العجب

(ایضاً،ص ۲۰۱)

تعجب تو یہ ہے اور انتہا درجے کا تعجب ہے کہ قرآن جیسی نعمت میسر ہے مگر اس سے فائدہ اٹھانے کا خیال ہی نہیں ہے ___ وہی بات کہ جزدان میں لپیٹ کر طاق میں رکھ دیا ہے (ماہرالقادری کی نظم ’قرآن کی فریاد‘ میں اس مفہوم کی بہت عمدہ ترجمانی ملتی ہے ۔ )

اس غفلت کا ایک سبب مسلمانوں کی فرنگیت زدگی ہے:

ہم مسلمانانِ افرنگی مآب

چشمۂ کوثر بجوئندہ از سراب

(ایضاً،ص ۲۰۶)

یعنی افرنگ زدہ (تہذیب مغر ب سے مرعوب ) مسلمان ، سراب میں سے چشمۂ کوثر ڈھونڈتے ہیں۔ علامہ ایک اور جگہ اظہار افسوس کرتے ہیں کہ :

افرنگ زخود بے خبرت کرد وگرنہ

اے بندۂ مومن تو بشیری ، تو نذیری

(ضرب     کلیم ، ص ۱۷۵)

[اے مسلمان ! تہذیبِ مغرب نے تمھیں اتنا مدہوش کر دیا ہے کہ تمھیں اپنی (اصلیت کی)  خبر ہی نہیں ، ورنہ دنیا میں تو ہی بشیر ہے اور نذیر بھی ۔]

جاوید اقبال سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی فرماتے ہیں کہ: عوام الناس سے کیا شکوہ ، خود علما ، قرآنِ حکیم کے علم سے لاپروا ہیں (یعنی قرآن حکیم پر خاطر خواہ غور نہیں کرتے، اور تدبّر وتفکّر کر کے اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اس لیے ان کے وعظ ، بے تاثیر وبے نتیجہ ہیں ) ۔

خیال رہے کہ علامہ اقبال نے اپنی اردو اور فارسی شاعری میںقرآن حکیم کا ذکر بار بار   اور مختلف اسالیب وانداز میں کیا ہے۔ پھر ان کے نمایاں افکار وتصورات، یعنی فلسفۂ خودی ،   تصور بے خودی ، عقل وعشق ، مرد کامل ، فقر ، تصوف وغیرہ ، اصلاً قرآنی تعلیمات کی بنیاد پر ہی تشکیل پذیر ہوئے ہیں۔ شعر اقبال کے سیکڑوں مضامین براہ راست قرآن حکیم سے اخذ کیے گئے ہیں۔ اُردو کلام میں ایک جگہ کہتے ہیں:

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں

اللہ کرے تجھ کو عطا جدّتِ کردار

(ایضاً،ص ۱۳۶)

 قرآن حکیم سے علامہ اقبال کی وابستگی اور رجوع الی القرآن کی تلقین خالی خولی شاعرانہ بات نہ تھی۔ اقبال حتی الوسع خود بھی قرآن حکیم کو راہ نما ے حیات بنانے کی سعی وکاوش کرتے رہے، مثلاً حیاتِ اقبال کی تقریباً ساری کتابوںمیں یہ واقعہ ملتاہے کہ علامہ کی بہن کریم بی بی ، ایک عرصے سے خوش دامن کے نامناسب رویے کی بنا پر ، میکے میں آ کر رہ رہی تھیں۔ خوش دامن فوت ہو گئیں تو ان کا خاوند (اقبال کا بہنوئی ) انھیں لینے آیا ؛ اقبال کے والدین تو رضا مند ہو گئے مگر اقبال، مصالحت پر راضی نہ تھے ۔ والدین نے بہت سمجھایا مگر وہ کسی طرح نہ مانے۔ اصرار کرنے لگے کہ بہنوئی اور ان کے ساتھ آنے والوں کو واپس کر دیا جائے ۔ اب شیخ نور محمد نے اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں اقبال سے کہا: بیٹے، اللہ پاک نے قرآن پا ک میں فرمایا ہے:وَالصُّلْحُ خَیْر ۔یہ سننا تھا کہ اقبال خاموش ہو گئے ، چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا، جیسے کسی نے سلگتی آگ پر برف کی سل رکھ دی ہو ۔کچھ توقف کے بعد ، والد نے پوچھا : اب کیا کیا جائے ؟ اقبال نے کہا: وہی جو قرآن کہتا ہے، چنانچہ مصالحت ہو گئی اور بہن کو رخصت کر دیا۔

قرآن حکیم سے اقبال کی وابستگی تادم آخر برقرار رہی۔ تلاوت تو ان کا عمر بھر کا معمول رہا۔ کبھی کبھی تلاوت کرتے وقت ان پر رقت طاری ہو جاتی اور بے اختیار رونے لگتے۔ نوجوانوں کو علی الصبح تلاوت کی تلقین کیا کرتے ، مثلاً ایک بار فرمایا: ’’مسلمانوں کے لیے جاے پناہ صرف قرآنِ کریم ہے۔ میں اس گھر کو صد ہزار تحسین کے قابل سمجھتا ہوں جس گھر سے علی الصبح تلاوت قرآنِ مجید کی آواز آئے ‘‘۔ تلاوت کے ساتھ ساتھ وہ قرآن حکیم کے معانی ومفاہیم پر بھی برابر فکرو تدبر کرتے رہے۔ خواجہ حسن نظامی کے نام ایک خط میں اعتراف کرتے ہیں کہ میرا ابتدائی میلان تصوف کی طرف تھا اور یورپ کا فلسفہ پڑھنے سے یہ میلان اور بھی قوی ہو گیا کہ یورپ کا فلسفہ بحیثیت مجموعی وحدت الوجود کی طرف رُخ کرتا ہے مگر قرآن پر تدبر کرنے اور تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے سے مجھے اپنی غلطی معلوم ہوئی اور میں نے محض قرآن کی خاطر اپنے قدیم خیال کو ترک کردیا۔  قرآنِ پاک کی تفہیم وتعبیر پر کچھ لکھنا بھی چاہتے تھے، مگر خرابیِ صحت نے انھیں اس کا موقع نہیں دیا۔

قرآن سے ان کے دیرینہ تعلق کو مولانا مودود ی ؒ نے ایک جگہ بڑے مؤثر الفاظ میں،  اس طرح بیان کیا ہے: ’’ وہ جو کچھ سوچتا تھا، قرآن کے دماغ سے سوچتا تھا، جو کچھ دیکھتا تھا ،  قرآن کی نظر سے دیکھتا تھا۔ حقیقت اور قرآن اس کے نزدیک شے واحد تھی اور اس شے واحد میں وہ اس طرح فنا ہوگیا تھا کہ اس کے دور کے علماے دین میں بھی مجھے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو فنائیت فی القرآن میں اس امام فلسفہ اور اس ایم اے، پی ایچ ڈی، بارایٹ لا سے لگّا کھاتا ہو.... آخری دور میں اقبال نے تمام کتابوں کو الگ کر دیا تھا اور سوائے قرآن کے، اور کوئی کتاب وہ اپنے سامنے نہ رکھتے تھے۔ سالہا سال تک علوم وفنون کے دفتروں میں غرق رہنے کے بعد جس نتیجے پر پہنچے تھے، وہ یہ تھا کہ اصلِ علم قرآن ہے۔ اور یہ جس کے ہاتھ آ جائے ، وہ دنیا کی تمام کتابوں سے بے نیاز ہے ‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں عطا کی ہیں، وہ اس قدر ہمہ گیر ، بے پایاں اور مختلف النوع ہیں کہ انھیں پوری طرح احاطۂ تحریر میں لانا ممکن نہیں ہے۔ دیکھنے، بولنے اور چلنے پھرنے کی صلاحیت ، سننے ، چکھنے اور سونگھنے کی صلاحیت ‘ حسب منشا اُٹھنے بیٹھنے اور آزادانہ حرکت کرنے کی صلاحیت ، اپنے ذہن سے سوچنے ، طرح طرح کے منصوبے تیار کرنے اور انھیں رُوبۂ عمل لانے کی صلاحیت___ ان صلاحیتوں کا مثبت پہلو یہ ہے کہ انسان نے زمین کو   گلِ گلزار بنادیا ہے۔ دورِ جدید کی راحتوں اور آسایشوں بھری زندگی، انسان کی انھی دماغی کاوشوں کی مرہونِ منت ہے ، لیکن اسی انسانی دماغ کی منفی سوچ کا نتیجہ ہے کہ انسان نے تخریب وہلاکت کے خوف ناک وسائل بھی مہیا کر لیے ہیں اور آج روے زمین کے بعض خطے جہنم زاربنے ہیں۔ اسے انسان کی بدبختی کے سوا ور کیا کہا جائے۔

تحریر ، بالفاظ دیگر فکرو سوچ یا خیالات واحساسات کو بذریعہ قلم، صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ، ایک بہت بڑی صلاحیت ہے اور نعمت بھی۔بیش تر انسانی صلاحیتوں کی طرح یہ بھی ایک وہبی صلاحیت ہے، تا ہم کوئی بھی شخص جو لکھنا پڑھنا جانتا ہو، مطالعے ، مشق اور کاوش وکوشش کے ذریعے ، اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کر سکتا ہے، اور اسے نشو ونما دے کر ، اس سے مفید کام لے سکتا ہے۔

جو لوگ کسی تحریک سے وابستہ ہو کر، ایک بڑے مقصد کے لیے کام کررہے ہوں، ان کے لیے تو قلم وقرطاس کا فن جاننا ازبس ضروری ہے۔ دورِحاضر میں کتابیں ، رسائل اور اخبارات مختلف نظریات وخیالات کی تبلیغ واشاعت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اگر آپ اپنی بات کو تحریر کا رُوپ دینے پر قادر ہیں اور آپ کی بات میں وزن ہو گا، دلیل ہو گی تو بہتوں کو متاثر کرے گی،  قائل کرے گی، اورا س سے کئی ایک آپ کے ہم آواز اور ہم سفر ہو جائیں گے۔ دورِ حاضر میں تو لکھنے لکھانے کا اقتصادی پہلو بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس وقت لکھنے والوں کی کثیر تعداد نے تحریر کو ذریعۂ معاش بھی بنا رکھا ہے۔ مغرب میں تو لکھنے والوں کو تحریر کا نہایت معقول معاوضہ ملتا ہے ، مگر ہمارے ہاں کتابوں اور رسالوں کی اشاعت نسبتاً کم ہے، اس لیے معاوضہ ملتا ہی نہیں یا بہت کم ملتا ہے۔ اس کے باوجود لکھنے لکھانے سے ادیب کو کچھ نہ کچھ یافت ہو سکتی ہے، اور ہمارے معاشرے میں کئی لوگ اپنے قلم کی کمائی پر گزر بسر کر رہے ہیں۔

انسان کے اندر بہت سی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں،مگر بسا اوقات وہ پوری طرح ان سے باخبر نہیں ہوتا--- ہم میںسے ہر شخص اپنے ما فی الضمیر کو زبان پر لانے اور بذریعہ گفتگو یا اسے دوسروں کے سامنے بیان کرنے پر قادر ہے۔ عمر ، تجربے، تعلیم یا مشق کے مطابق ہر شخص کی گفتگو یا بیان کا معیار تو مختلف ہو سکتا ہے، مگر جسے خدا نے زبان دی ہے، وہ اپنی ضرورت یا احساس کو بیان کرنے پر یقینا قادر ہے۔ اب اگر آپ سے کہا جائے کہ ابھی آپ نے جو کچھ کہا ہے ، اسے لکھ کر بتائیے تو آپ کو تعمیل میں، شاید بہت مشکل پیش آئے گی۔ آپ کہیں گے میں نے تو کبھی لکھا ہی نہیں (گویا لکھنا بھی ایک لحاظ سے پیراکی کے مترادف ہوا۔ جو شخص کبھی پانی میں نہ اترا ہو، اسے کہا جائے یہ ندی نالہ پار کر کے دکھائو، تو وہ آپ کا منہ تکے گا کہ یہ فرمایش ، اور مجھ سے؟) ۔

ہم کیسے لکھیں ؟---یہ صرف آپ کا نہیں ، ان سب لوگوں کا مسئلہ ہے، جو لکھتے نہیں۔  اور جو لکھتے ہیں ان کے لیے لکھنا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ اگر آپ بھی لکھنا شروع کر دیں تو یہ آپ کے لیے کوئی مسئلہ نہیں رہے گا،ان شا اللہ العزیز۔ لکھنا آپ کے لیے ویسا ہی روز مرہ یا روٹین کا عمل ہوگا، جیسے آپ روزانہ گھر سے نکل کر سکول یا کالج جاتے ہیں یا کپڑے بدلتے ہیں یا حسب ضرورت گفتگو کرتے ہیں۔ اگر آپ لکھنا جان جائیں ، اور آپ کے اندر یہ اعتماد پیدا ہو جائے کہ میں جو چاہوں ، جب چاہوں اور جس طرح چاہوں، لکھ سکتا ہوں تو بس یہی مطلوب ہے۔

نثر لکھنے کی صلاحیت ہر اس شخص کے اندر موجود ہوتی ہے، جو معمولی املا لکھ سکتا ہے اور   یہ صلاحیت ہرتعلیم یافتہ (کم یا زیادہ)کے اندر موجود ہوتی ہے۔یہ صلاحیت یقینا آپ کے اندر بھی موجود ہے۔ سب سے پہلے تو آپ کو اپنے اندر ، تحریر کی ضرورت واہمیت کا احساس پیدا کرنا ہے۔ اگر آپ ذہناً اس کی افادیت کے قائل ہو جائیں تو پھر اس عزم کو تازہ کیجیے کہ آپ کو لکھنا سیکھنا ہے، کچھ نہ کچھ لکھنا ہے، اور بذریعہ تحریر اپنی سوچ ، اپنی بات اور اپنا تاثر دوسروں تک پہنچانا ہے۔ مثبت اقدار کی حمایت میں قلم اٹھانا ، اور کسی بھی تحریر (ناول ، افسانہ ، ڈراما، شاعری، مضمون ، تنقید، طنزومزاح، حالات حاضرہ پر تبصرہ ، حتیٰ کہ کسی اخباری مراسلے) کے ذریعے اپنے مقصد ونصب العین کو قارئین تک پہنچانے کی کوشش شہادتِ حق اور جہاد فی سبیل اللہ ہی کی ایک صورت ہے۔

اگر آپ کے اندر یہ عزم راسخ ہو جائے کہ مجھے اپنے مثبت اور سچے محسوسات دوسروں تک پہنچانے ہیں تو ہر روز دس مرتبہ آپ کا جی چاہے گا کہ یہاں مجھے اپنی بات کہنی چاہیے، اپنا موقف پیش کرنا چاہیے۔ ہم ایک نا ساز گار ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور حالات ومعاملات کو قدم قدم پر اپنی طبیعت ، اپنے مقاصد اور اپنے اصولوں کے خلاف پاتے ہیں۔ حق وانصاف کا خون ہوتا دیکھتے ہیں۔ بددیانتی اور بے اصولی فروغ پذیر ہے۔ خیرو شر کے درمیان چہارسُو، ایک معرکہ اور ایک کش مکش برپا ہے ۔ ہمارے ایمان کی کسوٹی یہ ہے کہ ہم شر اور باطل کے خلاف کس حد تک آواز بلند کرتے ہیں۔ اس کا ایک ذریعہ ، اور بہت مؤثر ذریعہ یہ ہے کہ ہم بذریعہ تحریر (اس کی کوئی بھی صورت ہو، کوئی بھی صنف سخن ہو ) حق وراستی کی حمایت میں اور باطل کے خلاف آواز بلند کریں۔ کوئی مضمون لکھیں ، یا اخبار کو ایک مختصر مراسلہ ہی بھیج دیں۔ کسی اور صنف نثر میں دسترس ہے تو اسے  ذریعۂ اظہار بنائیں، یعنی آپ اپنا ردعمل ضرور ظاہر کریں۔ خبریں سنتے ہوئے یا اخبار پڑھتے ہوئے، یا اسکول کالج،ملازمت یا بازار سے واپسی پر آپ کچھ محسوس کر رہے ہیں اور ذہن میں لاوا پک رہا ہے، قلم پکڑ ئیے ، کاغذ اٹھائیے اور اپنے تاثرات قلم بندکر ڈالیے ۔ اب تو سوشل میڈیا بھی اظہار راے کا اہم ذریعہ ہے۔

جب آپ لکھنا شروع کریں گے (اور اگر آپ، لکھنے کی اچھی خاصی مشق نہیں رکھتے تو ) آپ کو کچھ دقت محسوس ہو گی۔ ممکن ہے، الفاظ ، خیالات کا ساتھ نہ دیں۔ اپنے محسوسات کے مناسب جملے بنانے میں آپ کو مشکل پیش آئے یا آپ اپنی بات کو مؤثر انداز میں اور صحیح ترتیب کے ساتھ پیش کرنے میں کامیاب نہ ہوں--- کوئی حرج نہیں ، اہم تو یہ ہے کہ آپ جو کچھ محسوس کرتے ہیں، اسے سوچ ساچ کر، اپنے تئیں بہتر سے بہتر انداز میں مناسب سے مناسب تر الفاظ کے ذریعے کاغذ پر منتقل کر دیں۔یہ عمل وقتاً فوقتاً دہرائیے ۔ رفتہ رفتہ آپ محسوس کریں گے کہ مشکلات کم ہو رہی ہیں اور اب آپ کے لیے ما فی الضمیر کو ادا کرنا آسان تر ہوتا جا رہا ہے۔

درحقیقت مشق ، تحریر کو بہتر اور مؤثر بنانے کا نہایت کار گر اور کامیاب ذریعہ ہے۔ خوش نویسی (کتابت ) کے حوالے سے ایک شعر ہے:

گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس

مے نویس و مے نویس و مے نویس

(اگر تو چاہتا ہے کہ خوش نویس بن جائے تو لکھتا رہ ، لکھتا رہ ، لکھتا رہ )۔

ادیب، مضمون نویس یا نثر نگار بننے کے لیے مسلسل لکھتے رہنا از بس ضروری ہے۔ بعض معروف اور نامور ادیب بھی مسلسل مشق کے اس عمل سے گزر کر ہی بلند پایہ نثرنویس بنے ہیں، مثلاً: محمد حسین آزاد کے صاحب ِطرز ادیب اور منفرد نثرنویس ہونے میں کسے کلام ہے، مگر ایک زمانے میں وہ اپنی معمولی تحریروں کو بھی لکھتے ، پھاڑ دیتے ، پھر لکھتے اور پھاڑ دیتے اور اس طرح متعدد کاوشوں کے بعد تحریر کو حتمی شکل دیتے تھے۔ اپنی تحریر کو تنقیدی نظر سے دیکھنا ، جانچنا اور اسے بہتر بنانے کے لیے اس میں ترامیم کرنا خرابی کی نہیں ، خوبی کی بات ہے۔ محنت ومشکلات کا یہ عمل ’خونِ جگر‘ صرف کرنے کے مترادف ہے۔ ادیب، بلکہ ہر فن کار خونِ جگر صرف کر کے اپنی تخلیق کو زیادہ معیاری بنا سکتا ہے۔ مشق اور محنت کے بغیر کوئی انسانی کاوش پختگی اور معیار حاصل نہیں کر سکتی ۔ بقول علامہ اقبال :

نقش ہیں سب نا تمام خون جگر کے بغیر

نغمہ ہے سوداے خام خون جگر کے بغیر

خود علامہ اقبال نے اپنے بعض اشعار کو تین تین چار چار بار کاٹ کر، بہتر بنایا۔ (اقبال اکادمی پاکستان لاہور میں محفوظ ان کے قلمی مسودوں سے اس بات کا ثبوت فراہم ہوتا ہے ۔ )

مشق کے مرحلے میں، اگر ممکن ہو تو اپنی تحریر کسی کو دکھا لیں۔ کسی استاد یا بزرگ کی اصلاح، آپ کے لیے مفید رہنمائی کا باعث ہوگی۔ وہ آپ کی تحریر میں جو حذف وترمیم کریں، جملوں کی ترتیب بدلیں ، لفظوں میں کانٹ چھانٹ کریں، اس پر خوب غور کر کے ، اپنی خامی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر سمجھ نہ آئے تو دریافت کرنے میں عار محسوس نہ کریں۔

اب اگر آپ کچھ نہ کچھ لکھنے کی افادیت وضرورت کے قائل ہو چکے ہیں تو اللہ کا نام لے کر، آج ہی سے تحریری مشق شروع کر دیجیے ۔ لکھنے کی مشق کے ساتھ ، درج ذیل نکات بھی آپ کی توجہ کے لائق ہیں:

  • مسلسل مطالعہ : ایک اچھا لکھنے والا، معیاری تحریروں اور کتابوں کے مطالعے سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ صاحبِ طرز ادیبوں اور صاف ستھری خوب صورت نثر لکھنے والوں کی کتابیں مسلسل زیر مطالعہ رکھیے، جیسے الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی، پریم چند ،خواجہ حسن نظامی، شاہداحمد دہلوی ، سیّد ابو الاعلیٰ مودودی، رشید احمد صدیقی، صلاح الدین احمد، فضل کریم احمد فضلی ، مختارمسعود، شیخ منظور الٰہی ، نعیم صدیقی ، جیلانی بی اے اور رضا علی عابدی وغیرہ (یہ فہرست مکمل نہیں ہے )۔ انھیں مطالعہ کرتے ہوئے دیکھیے کہ زبان کیسی بامحاورہ ہے ؟ الفاظ وتراکیب کا استعمال کیسا ہے ؟ جملوں کی ساخت کیسی ہے ؟ تشبیہ واستعارہ اور صنائع و بدائع کی صورت کیا ہے ؟آپ کسی سے متاثر ہوکر اس کی نقل نہ کیجیے کیوں کہ صاحب اسلوب ادیب کی تقلید آسان نہیں ہوتی، ہاں اس مثال کو ذہن میں رکھیے اور دیکھیے کہ آپ کو بھی اسی طرح صحیح اور دل کش زبان میں لکھنا ہے۔ بہرحال آپ معیاری تحریروں کا جس قدر وسیع مطالعہ کریں گے ، غیر شعوری طور پر، آپ کی تحریر بھی بہتر ہوتی جائے گی۔
  • لوازمہ و معلومات : جب آپ کسی خاص موضوع پر کچھ لکھنا چاہیں تو ممکنہ حد تک ، متعلقہ معلومات اور لوازمہ فراہم کر لیں ۔ کتابوں سے ، رسالوں سے اور انسائیکلو پیڈیا سے۔ اسی طرح بزرگوں یا اس شعبے کے ماہرین سے استفسار اور مشورہ بھی کیجیے۔ جس قدر مفصل معلومات فراہم ہوں گی ، آپ کی تحریر اس قدر جامع اور بھر پور ہو گی۔ ناکافی یا غلط معلومات کی بنیاد پر لکھی جانے والی تحریر ناقص ہو گی اور بعض صورتوں میں گمراہ کن بھی۔
  • سوچ بچار : اپنے ارد گر د پھیلی ہوئی زندگی ، اس کے نشیب وفراز ، اس کے خیرو شراور اس کے وقوعات وحادثات پر غور وفکر کی عادت ڈالیے ۔ کسی صورت حال کے اسباب ، اس سے  عہدہ بر آ ہونے کی تدابیر، مسائل حل کرنے کے طریقے اور مختلف مسائل کو سلجھانے کی صورتیں ، ان پہلوئوں کے بارے میں آپ جس قدر سوچ بچار سے کام لیں گے اور معاملات کی ماہیت اور تصویر کے دونوں رخ آپ کے زیر غور رہیں گے، آپ کے لیے حقائق تک پہنچنا اور اصلیت کو  جان لینا آسان ہو گا اور آپ کے ذہن میں مسائل ومعاملات کو سلجھانے کی صلاحیت پیدا ہو گی ۔ اس طرح آپ کی تحریر تفکرو تدبر کی حامل اور قارئین کے لیے کہیں زیادہ افادیت کا باعث ہو گی۔
  • ابتدائی خاکہ اور ترتیب : آپ جو کچھ لکھنا چاہیں اور موضوع کاا نتخاب کر لیں (موضوع کا انتخاب اپنی مخصوص افتادِ طبع، Aptitudeاور صلاحیت کے مطابق کیجیے )توتحریر یا مضمون کا ایک ابتدائی خاکہ بنائیے ۔ آغاز کیسے ہو گا ؟ کیا کیا نکات، کس ترتیب سے پیش کریں گے؟ دلائل ؟موضوع کی مناسبت سے اقوال ، فرمودات ، ضرب الامثال ، اشعار بھی جمع ونوٹ کر لیں اور ان کی ترتیب بھی قائم کر لیں۔ پھر اختتام کیسے ہو گا ؟ خاکے پر بارد گر غور کیجیے ۔ کیا یہ ترتیب مناسب اور منطقی ہے ؟ اگر نہیں تو اس میں مناسب رد وبدل کر کے خاکے کو زیادہ سلیقے اور ہنر مندی سے مرتب کیجیے۔ جب آپ کو خاصا تجربہ ہوجائےگا تو پھر آپ کو خاکہ بنانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
  • اسلوب و انداز: کسی تحریر کی دل کشی اور مقبولیت میں عبارت کا انداز واسلوب بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اسلوب جس قدر جان دار، توانا اور خوب صورت ہو گا ، آپ کی تحریر اس قدر جذب وتوجہ سے پڑھی جائے گی اور بلند پایہ شمار ہوگی۔ معروف عمرانی مفکر اور تاریخ نویس ابن خلدون کا کہنا ہے کہ الفاظ پیالہ ہیں، اور معانی پانی ---اب اگر پانی ، کسی بد نما اور بھدے پیالے یا برتن میں ہوگا تو قدرتی طور پر پینے والے کو کچھ اِبا محسوس ہو گا۔ بعض اوقات خیالات کی بلندی اور معلومات کی وسعت کے باوجود اسلوب کی خشکی اور بے کیفی مضمون کا معیار گرا دیتی ہے۔ اس ضمن میں حسب ذیل امور پیش نگاہ رہیں تو فائدہ ہو گا:

(الف ) جملے مختصر اور سادہ ہوں۔ طویل فقروں اور قدیم انداز کی شاعرانہ اور مسجع ومقفیٰ زبان آج کے اسلوب سے مطابقت نہیں رکھتی۔ علاوہ ازیں حتی الامکان انگریزی الفاظ وتراکیب کے استعمال سے احتراز کیجیے ، خصوصاً جہاں اُردو مترادفات موجود ہوں۔

(ب ) صحتِ زبان کا خاص خیال رکھیے ۔ اس ضمن میں یوں تو بہت سی مفید کتابیں آپ کی رہنمائی کر سکتی ہیں۔ تا ہم، پروفیسر آسی ضیائی کی کتاب درست اُردو  زیر مطالعہ رکھیے ۔ اسی طرح رشیدحسن خاں کی انشاء اور تلفظ  ، اور عبارت کیسے لکھیں کے مطالعے سے بھی ان شا اللہ فائدہ ہو گا۔ اشعار یا اقوال بالکل صحیح ہونا ضروری ہے۔ جہاں شبہہ ہو ، اصل کتاب دیکھ کر درست صورت اختیار کیجیے۔

(ج ) جہاں تک ممکن ہو، اختصار ملحوظ رکھیے ۔ اپنے ما فی الضمیر کو کم سے کم لفظوں میں ادا کرنے کی کوشش کیجیے۔ کفایتِ لفظی ، اچھی تحریر کی بنیادی خوبی ہے اور تکرارِ لفظی عیب ہے--- تاہم اختصار وکفایتِ لفظی کا اہتمام مناسب حد تک ہونا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ لفظوں کی کفایت کرتے کرتے عبارت چیستان بن جائے اور قاری مفہوم سمجھنے سے قاصر رہے۔

(د) تحریر کا اسلوب ، موضوع کے حسب حال ہونا چاہیے، یعنی ناول وافسانہ ہے تو افسانوی انداز، سماجی وعمرانی مسائل ہوں تو عالمانہ اسلوب ، ادبی تنقیدی موضوع ہوتو تنقیدی اسلوب ---! تحریر طلبہ کے لیے ہو تو نسبتاً آسان اور تشریحی انداز، روز مرہ کے مسائل ہوں اور اخباری تحریر ہو تو عام فہم اور سلیس عبارت ہونی چاہیے تا کہ کم پڑھے لوگ بھی سمجھ سکیں۔ پھر تحریر کے اندر مثالیں بھی حسب معیار وماحول ہونی چاہییں۔

  • نظرثانی: تحریر مکمل ہونے پر ، اسے دوبارہ دیکھیے ، بلکہ سہ بارہ اس پر نظر ڈالیے ۔  کیا عبارت صاف ہے ؟ جملوں کا باہمی ربط ٹھیک ہے ؟ لفظوں کا انتخاب واستعمال مناسب ہے؟ تحریر پڑھتے ہوئے کوئی ابہام یا اُلجھن تو محسوس نہیں ہوتی ؟ اگر مضمون میں حوالے دیے گئے ہیں تو کیا یہ مکمل ہیں ؟ ادھورے اور غیر معتبر یا مشکوک حوالے نکال دیجیے۔ حسب ِ ضرورت عبارت بڑھائیے یا کم کر دیجیے ، ترمیم وتنسیخ یا حذف واضافہ کیجیے---غرض بہ اطمینان ،اپنی تحریر پر پوری طرح نظرثانی کیجیے ۔

اب اپنی تحریر کی ایک نقل بنوا کر، اسے اشاعت کے لیے بھیج دیجیے ۔ مضمون شائع ہونے میں تاخیر ہو تو گھبرائیے نہیں۔ ایک اور کاوش کیجیے،کوئی اور چیز لکھیے اور یہ سلسلہ مستقلاً جاری رکھیے۔ رفتہ رفتہ آپ کی تحریریں شائع ہونے لگیں گی، اور ایک روز آپ کا شمار لکھنے والوں کی اس فہرست میں ہو گا ، جو شاید اس وقت آپ کے لیے باعثِ رشک ہیں۔

سیّد محمدحسنین(۲۳مارچ۱۹۱۷ء-۱۴جنوری۲۰۰۵ء)اکتوبر۱۹۴۱ء سے جماعت اسلامی ہند سے وابستہ ہوئے اور تادمِ مرگ یہ وابستگی قائم رہی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ پختہ تر ہوتی گئی۔ اس دوران انھوں نے مختلف جماعتی ذمہ داریاں اداکیں۔مشرقی ہند کے قیم،شمالی بہارکے امیرحلقہ اور کُل ہندجماعت مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔مزیدبرآںدرس گاہِ اسلامی دربھنگاکے ناظم بھی رہے۔جماعت اسلامی سے وابستگی کے سبب کئی بارپابندسلاسل بھی ہوئے۔بقول اے یو آصف: ’’ان کی پوری زندگی جماعت کے کازکے لیے وقف تھی‘‘۔ (دعوت دہلی، ۷مارچ۲۰۰۵ء)

ان کا آبائی تعلق صوبہ بہار(کورونی،بھپوڑا،دربھنگا)سے تھا۔ابتدائی تعلیم سوری ہائی اسکول مدھوبنی سے حاصل کی۔ حصولِ علم کا شوق انھیں کشاںکشاں دہلی لے آیا۔وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں گھروالوں کو بتائے بغیر پڑھنے کے لیے آئے تھے۔شیخ الجامعہ ڈاکٹر ذاکر حسین کی توجہ سے محمدحسنین کو اگست۱۹۳۴ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ثانوی سوم میں داخلہ مل گیا۔مئی۱۹۴۰ء میں جامعہ سے بی اے کیا۔ زمانۂ طالب علمی میںوہ ہمیشہ ہرکلاس میںاوّل رہے۔مزیدبرآںجامعہ کالج کے طلبہ کی تنظیم انجمن اتحادکے ناظم اورانجمن اتحاد کے ترجمان قلمی رسالے کے اڈیٹربھی رہے۔ علامہ اقبال پررسالے کاخاص نمبرجوہراقبال کے نام سے شائع ہوا۔ جامعہ میںاُن کاقیام بورڈنگ ہاؤس (اقبال ہال)میں تھا۔ وہ اس ہاؤس کے سینئرمانیٹرتھے۔روایت ہے کہ مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒکسی موقعے پرجامعہ ملیہ گئے توسیّد محمد حسنین کے کمرے میں بھی تشریف لے گئے۔

 ڈاکٹر ذاکرحسین سے طالب علمی کے زمانے میں حسنین صاحب کا جو تعلق قائم ہوا، اسے اوّل الذکر نے ٹوٹنے نہیں دیا، عمر بھر قائم رکھااورآفرین ہے مؤخرالذکر پرکہ انھوں نے (باوجود گورنر صوبہ بہار اور    صدر جمہوریہ ہند ہو جانے کے) حسنین صاحب کویاد رکھا، بھلایانہیں۔ ذاکرصاحب فوت ہوئے تو حسنین صاحب نے حسب ذیل مضمون میں ذاکرصاحب سے اپنے تعلق کی ابتدا اور ان تعلقات میںنشیب وفراز کی تفصیل قلم بند کی۔یہ مضمون پٹنہ کے خدا بخش لائبریری جرنل میں شائع ہوا تھا۔

اس مضمون سے جہاں خود حسنین صاحب کے مزاج اوران کی شخصیت کااندازہ ہوتا ہے،خصوصاً ان کی دعوتی سرگرمیوںاوردعوتِ دین کے طریق کار کا پتا چلتاہے،وہیں ڈاکٹرذاکرحسین کی دل نواز مگر مصلحت پسند شخصیت کی جھلکیاں بھی سامنے آتی ہیں۔ وہ جماعت اسلامی کی دعوت کو سمجھتے تھے اور کانگریسی ہونے کے باوجود جماعت کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے جیسا کہ زیرِ نظر مضمون سے اندازہ ہوتا ہے۔(مرتب)

 

وہ ایک مرد قلندرتھے ___ مروّت حسن عالم گیرتھا،استادذاکرکا ___

  • پہلی ملاقات: استاد ذاکرحسین رحمۃ اللہ سے میری تین یادگار ملاقاتوںمیں سے پہلی ملاقات؛ اگست۱۹۳۴ء میں ہوئی۔ جب میں داخلے کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی پہنچا توداخلے کے آخری مرحلے پرمجھ کو استادرحمۃ اللہ کی خدمت میں پیش کیا گیا کہ وہ میرے داخلے کے فارم پر دستخط کردیں۔ انھوں نے تعارف کے لیے میرے حالات دریافت کیے۔ میں ایک خط لکھ کر لے گیا تھا؛ جس میں مَیں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ لینے کی غرض بتائی تھی اور یہ عرض کیاتھا کہ میں اپنی والدکی مرضی کے خلاف اپنے تعلیمی سلسلے کوچھوڑ کرجامعہ ملیہ اسلامیہ اس لیے آیاہوں کہ مجھ کو معلوم ہواہے کہ یہاں اسلامی اور دنیوی دونوں طرح کی تعلیم ساتھ ساتھ دی جاتی ہے۔ مدھونبی بہار کے جس اسکول میں،مَیں تعلیم حاصل کررہاتھا،اس میں اسلامی تعلیم کا کوئی موقع نہیں تھا اور میرے والد صاحب کا حوصلہ یہ تھاکہ وہ مجھ کو وکیل بنائیںاورمجھے وکیل بننے سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ دوسری بات یہ کہ میں چاہتاہوں کہ جب میں اپنے والد کی مرضی کے خلاف اپنے تعلیمی سلسلے کو چھوڑ کرجامعہ میں تعلیم حاصل کرنے آیاہوں ،توان پراپنی تعلیم کے مصارف کا بارنہ ڈالوں اورآپ سے یہ درخواست کرنا چاہتاہوں کہ اگرمیراداخلہ جامعہ میں ہوجائے تو تعلیمی اوقات کے علاوہ کسی وقت جامعہ کی کوئی خدمت مجھ سے لیں اوراس کے عوض اتنا معاوضہ دیں جس میں کسی طرح یہاں کا خرچ نکال سکوں۔ _میرے خط کوپڑھ کروہ خاموش رہے اورفارم پر دستخط کرنے سے پہلے فرمایا: ’’میں آپ سے ایک عہدلیناچاہتاہوں‘‘۔میں نے عرض کیا:وہ کیا؟ فرمایا: ’’عہدکیجیے کہ میں ہمیشہ سچ بولنے کی کوشش کروں گا‘‘۔ میں نے عرض کیا:’’الحمدللہ، میں شعوری طورپر پہلے سے اس پرعامل ہوں‘‘۔ انھوںنے میرے فارم پردستخط کردیے۔

[اے یوآصف راوی ہیں کہ ڈاکٹرذاکرحسین نے ان کے شوقِ تعلیم اورجستجو کو دیکھ کر داخلے کی منظوری تو دے دی لیکن وطن واپس جا کروالد سے اجازت لے کرآنے کاکہا۔ ان کے حکم کے مطابق وہ واپس آگئے اورپھراجازت حاصل کی۔]

ہاں، یہ بتا دوں کہ جب میں ان کے کمرے میں داخل ہواتوایک نہایت حسین ووجیہ پُروقار شخصیت سے سامناہواتھا۔اس وقت ان کی عمر۳۵-۴۰ کے قریب رہی ہوگی۔ سرخ،سفید چہرہ اور اس پر بھر پورسیاہ داڑھی،بقول حفیظ جالندھری: ع جلال بھی ہے جمال بھی ہے،یہ شخصیت کاکمال بھی ہے۔

انھوں نے ہنستے ہوئے گرمجوشی سے میرا استقبال کیااورمصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ وہ ایک نہایت سفیدفرش پربیٹھے تھے۔ فرش کے اوپرناریل کی چٹائی تھی۔ سامنے فرشی میز تھی جس پرہرچیزاپنی جگہ انتہائی سلیقے سے سجی ہوئی رکھی تھی۔ ان کی بائیں طرف دیوار پرشیشے کاایک فریم آویزاں تھا جس پریہ شعرخوش خطی کا بہترین نمونہ پیش کررہاتھا   ؎

آسایش دوگیتی تفسیر ایں دوحرف است

بادوستاں تلطّف ، بادشمناں مدارا

جب انھوں نے میرے فارم پر دستخط کردیے توان سے الوداعی مصافحہ کرکے کمرے سے باہر آیااوربہت خوش اورمسرورتھا۔

چند دنوں کے بعد جامعہ کے احاطے میں ان سے آمناسامناہوا۔انھوں نے مجھے روک کر فرمایا:’’تعلیم ختم ہوجانے کے بعددوگھنٹے صدرمدرس کے دفترمیں آپ کام کیاکریں گے۔ اس کے عوض آپ کو۸روپے ماہانہ ملا کریں گے جس سے آپ اپناجامعہ کا خرچ پورا کرنے کی کوشش کریں‘‘۔اس پرمیں نے ان کا شکریہ اداکیا۔

میں نے اپناداخلہ جامعہ میں غیرمقیم طالب علم(Day Scholar) کی حیثیت سے کرایا، کیوںکہ اس وقت جامعہ میں دارالاقامہ میں قیام وطعام کے مصارف۱۶ روپے ماہانہ تھے۔ اس وقت مَیں جامعہ ملیہ قرول باغ دہلی سے اُتر کی جانب سبزی منڈی کے ریلوے اسٹیشن کے احاطے میں ایک مسجد میں رہتاتھاجس کی دوری جامعہ قرول باغ سے دو (۲) میل سے کم نہ تھی۔ ایک روزپھر جامعہ میں میرا اُن سے آمناسامنا ہوااوریہ پوچھاکہ ’’آپ کہاں رہتے ہیں؟‘‘ میں نے بتایا کہ سبزی منڈی،ریلوے اسٹیشن کی مسجدمیں۔یہ سن کرخاموش ہوگئے۔ چنددنوں کے بعدپھر اسی طرح سرِراہ ملاقات ہوگئی۔ انھوں نے فرمایا:’’قرول باغ میںجامعہ سے متصل ہی ان کے عزیز، احمد خاں رہتے ہیں،جوطبیہ کالج میں پڑھتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھاہے،ان کے کمرے میں گنجایش ہے،آپ ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں‘‘۔ میں نے ان کا شکریہ اداکیااورچنددنوں میںسبزی منڈی سے قرول باغ منتقل ہوگیا۔ احمدخاںصاحب نے اپنے کمرے میںجگہ دی لیکن کرایہ قبول نہ کیا۔

ایک سال تک ان کے ساتھ رہا۔ نہایت مخلص اورشریف آدمی ثابت ہوئے۔۸ روپے جامعہ سے جو بطور معاوضہ کے ملتے تھے ،اس میں سوادوروپے میں نے جامعہ کی فیس تعلیم اداکی اورچارروپے میں جامعہ کے مطبخ سے دونمبرکھاناجاری کرالیاجس میں صرف دال اور چپاتیاں ملاکرتی تھیں۔ باقی پونے دوروپے ناشتہ اوراوپرکے خرچ کے لیے کافی ہوجایاکرتے تھے۔ کچھ دنوں بعد پھر ایک روز جامعہ میں سرِ راہ ملاقات ہوئی تواستاد علیہ الرحمہ نے مجھے روک کر فرمایا: ’’ڈاکٹرسلیم الزماں صاحب کے چھوٹے بچے کو شام کوایک گھنٹہ ان کی کوٹھی پر جاکر پڑھا دیاکریں۔دس روپے ماہانہ معاوضے کے طورپروہ دیاکریں گے‘‘۔ اس طرح جامعہ میں بہ سہولت تعلیم حاصل کرنے کا موقع میرے لیے پیداکرادیااورجب تک جامعہ میںقیام رہا، ان کی نوازشوں اورکرم فرمائیوں کاسلسلہ جاری رہا۔

ان ساری نوازشوں کا تذکرہ اس وقت نامناسب ہے لیکن ایک واقعے کا تذکرہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایک روز جامعہ لائبریری کے برآمدے میں اسٹینڈ پر جہاںروزنامہ اخبارلگے رہتے تھے، لوگ کھڑے ہو کر اخبارپڑھ رہے تھے،میں بھی اخبار دیکھ رہا تھا۔ بائیں طرف کے راستے سے استاد علیہ الرحمہ گزررہے تھے۔میں نے اپنی آنکھیں اٹھائیں توان سے آنکھیں چار ہوئیں اوربغیران کو سلام کیے میں دوبارہ اخبارپڑھنے میں مشغول ہوگیا۔ استادعلیہ الرحمہ چلتے چلتے رُک گئے اور پھرجب میں نے نظراُٹھا کر ان کو دیکھا توانھوں نے جھک کرمجھ کو فرشی سلام کیااورآگے بڑھ گئے۔ میں نے جواب تو دیالیکن سلام نہ کرنے کی کوتاہی پربڑی ندامت محسوس کی___ یہ تھا ان کا ایک اندازِ تربیت!

  •  دوسری ملاقات کا تاثر:۱۹۴۰ء میں جامعہ ملیہ سے فارغ ہوکر میںدربھنگا آگیا۔ [اے یوآصف لکھتے ہیں:’’۱۹۴۰ء میں مرحوم سیدصاحب جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلیم کی فراغت کے بعد،رخصت ہوتے وقت جب ذاکرحسین سے ملنے گئے تو انھوں نے ان سے برجستہ کہا: تمھارے لیے تو لائبریری میں ذمہ دار کا عہدہ میرے ذہن میں ہے۔ تم کہاںجارہے ہو؟ یہیں رہوتاکہ ہم سب مل کرجامعہ کی خدمت کریں۔ اس پر حسنین سید کہنے لگے: استاد محترم، آپ نے جو تعلیم وتربیت دی ہے،اس کاتقاضا ہے کہ میں پوری زندگی اسلام کے کاز میںلگادوں،لہٰذا معذرت خواہ ہوں اور دربھنگاواپس جا رہاہوں‘‘۔]

۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی کی تشکیل عمل میں آئی اورمیں اس سے وابستہ ہوگیا۔ جماعت اسلامی کا مرکزلاہورسے پٹھان کوٹ منتقل ہوگیا۔ ۱۹۴۴ء میں آل انڈیاجماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ میں رکن بنایاگیا۔ مجلس شوریٰ میں شرکت کے لیے پٹھان کوٹ آتے جاتے میں دہلی میں رک کر  احباب سے ملاقات اوراپنے اساتذۂ کرام کی خدمت میں حاضری دیاکرتاتھا۔ استاد علیہ الرحمہ جب علی گڑھ کے وائس چانسلرہوئے تب بھی دہلی آتے جاتے،ان کی خدمت میں حاضرہوتاتھا۔ جماعت کا لٹریچر ان کی خدمت میںپیش کرتااورجماعت کی سرگرمیوں سے ان کوواقف کراتاتھا۔  وہ ہمیشہ بڑی محبت اور شفقت سے پیش آتے تاآنکہ وہ۱۹۵۷ء میںبہارکے گورنرہوکے پٹنہ تشریف لائے۔ ان کاگورنری کاعہدہ قبول کرنامجھ کو پسند نہ آیا۔ میرے خیال میںیہ منصب ان کے مقام سے بہت فروترتھا۔ نہ میں اُن سے ملنے گیااورنہ ان کی خدمت میںخیرمقدم کاکوئی خط ارسال کیا۔ تقریباًچھے مہینے کے بعد انھوں نے پٹنہ کے کسی صاحب سے میرے متعلق تذکرہ کیاکہ’’یہاں بہار میں میرے ایک شاگردہیںحسنین۔وہ اب تک ملاقات کے لیے نہیں آئے،پتانہیں کیابات ہے۔کبھی کبھی وہ میراایمان تازہ کردیاکرتے تھے‘‘۔ ان صاحب نے پٹنہ میں محبی شبیراحمد (جو ان دنوں پٹنہ میں ایک سوڈافیکٹری کے منیجرتھے)سے میرے بارے میں استادعلیہ الرحمہ کی گفتگو دہرائی۔ ایمان تازہ کرنے کی بات یہ ہے کہ جب میں ان کی خدمت میں حاضری دیاکرتاتھاتوجماعت کی کوئی نہ کوئی کتاب ان کی خدمت میں پیش کیاکرتاتھا۔ محبی بشیر احمدصاحب نے مجھ کو پٹنہ سے ایک کارڈ لکھاکہ تم اب تک اپنے استادسے کیوں نہیں مل سکے اور استاد علیہ الرحمہ کی گفتگونقل کی۔ اُن کا خط ملنے پر میں نے استادؒکی خدمت میں ایک عریضہ ارسال کیا،بعد القاب وآداب میں نے عرض کیاتھا:

’’گورنر کی حیثیت سے آپ کو پٹنہ تشریف لائے ہوئے کافی دن ہو گئے،لیکن افسوس ہے کہ میں نہ تو آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکا اور نہ خیر مقدم کا کوئی خط ہی ارسال کیا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اس الجھن میں ہوں کہ آپ کے لیے گورنری ،قلندری سے کیسے افضل ہو گئی؟اور آپ نے اسے کیسے پسند فرما لیا؟ اخبارات میں یہ پڑھ کر خوشی ہو ئی کہ آپ اس ریاست کو نمونے کی ریاست دیکھنا چاہتے ہیں لیکن جس کے کار پردازوں کا طرزِعمل ظلم و جور کا ہو،اس کو نمونے کی ریاست بنانے میں آپ کو بہت دشواری پیش آئے گی۔جماعتِ اسلامی ہند سے توآپ بہت حد تک واقف ہیں ۔جماعت اسلامی کے سلسلے میں حکومتِ بہار کا جو رویہ ہے ،اس کے متعلق دعوت، اخبار میں میرا ایک بیان شائع ہوا ہے۔اس کا تراشا ارسالِ خدمت ہے‘‘۔(ان دنوں حکومتِ بہار نے جماعت اسلامی پرsubversive activities [تخریبی سرگرمیوں]کا الزام لگایا تھا اور ملازمین کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ لوگ جماعت کی سرگرمیوں سے دور رہیں ورنہ Conduct Rule دفعہ ۳۳ کے تحت ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی)۔ دوسری بات میں نے یہ عرض کی تھی کہ ’’اب مجھ جیسا معمولی آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہونابھی چاہے تو کیسے حاضر ہو سکتا ہے؟اور جماعت کا کچھ تازہ لٹریچر بھی خط کے ساتھ رجسٹرڈ ڈاک سے استاد علیہ الر حمہ کی خدمت میں ارسال کر دیا لیکن پندرہ دنوں تک ان کی طرف سے نہ کوئی جوب آیا اور نہ خط کی رسید ہی ملی۔اس پر میں نے ڈاک سے دوسرا عریضہ ان کی خدمت میں ارسال کیااور اس میں عرض کیا کہ دو ہفتوں سے زائد ہوگئے آپ کی خدمت میں ایک عریضہ اور اور چند کتابیں ارسال کی تھیں۔ تعجب ہے کہ اس کے جواب میں نہ تو آپ کا کوئی گرامی نا مہ ملا اور نہ خط کی رسید ہی ملی۔اندیشہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں  آپ تک نہیں پہنچ سکیں ورنہ آپ سے ایسی توقع نہیں ہے کہ آپ میرے عریضے کا جواب نہ دیں گے۔میرے اس عریضے کے جواب میں رانچی سے ان کا گرامی نامہ ملا۔اس خط کا مضمون یہ ہے:

راج بھون -رانچی کیمپ ، ۱۰ستمبر ۱۹۵۷ء

عزیزم حسنین صاحب،السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

آپ کے دونوں محبت نامے ملے۔آپ کا بھیجا ہوا لٹریچر بھی ملا ۔معافی چاہتا ہوں کہ پہلے خط کے جواب میں اتنی دیر ہوئی کہ آپ کو یاد دہانی کرنی پڑی۔شاید آپ کو غلط فہمی ہو، اس لیے وجہ لکھے دیتا ہوں ۔میں ذاتی خطوط کے جواب لکھنے میں بہت کاہل ہوں۔ پھر اگر کوئی دوست یا عزیز اپنے خط میں کوئی ایسا سوال کر دیتا ہے،جو میری شخصی داخلی زندگی سے متعلق ہو تو مجھے اس کا جواب لکھنا اور دشوار ہو جاتا ہے۔آپ نے اپنے پہلے خط میں الجھن یہ بتائی کہ قلندری سے گورنری کیسے اور کب سے افضل ہو گئی اور میں نے گورنری کو قلندری پر کیسے ترجیح دی؟

پہلے تو عزیز ِمن !میں قلندر کب تھا ؟لیکن سوال کو اپنی ذات سے الگ کر کے ایک اصولی سوال سمجھوں تو اس کا بہت اچھا جواب حضرت مخدوم سیدّعلی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ المعروف داتا گنج بخش ؒنے اپنی کتاب کشف المحجوبمیں ایک جگہ دیا ہے___ اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھتا :

                [وہ فرماتے ہیں ]:استاد ابوالقاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ سے ہم نے سنا،فرمایا:فقیری اور مال داری کے سلسلے میں لوگوں نے بات کہی ہے اور ا س کو اختیار کیاہے، میں اس کو اختیار کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ میرے لیے پسند فرمائے اور مجھ کو اپنی نگاہ میں رکھے۔ اگر مال داری کی حالت میں رہوں تو اللہ سے غافل نہ ہونے پاؤں اور اگر غربت کی حالت میں رہوں تو حریص اور لالچی نہ بنوں۔ لہٰذا مال داری نعمت ہے اوراس حال میں اللہ سے غفلت آفت ہے۔ غریبی اور فقیری بھی نعمت ہے اوراس حال میں حرص آفت ہے۔

دوسری الجھن کا جواب سہل ہے۔ میں ابھی کوئی تین چارہفتہ یہاں ہوں۔ وسط اکتوبرسے ان شاء اللہ پٹنہ میںرہوں گا۔ آپ ایک کارڈ میرے سیکرٹری کو لکھ دیں ،وہ مجھ سے پوچھ کرآپ کے لیے وقت مقرر کردیں گے۔ ضرور تشریف لائیے۔ مفصل گفتگو کو بہت جی چاہتاہے۔خداکرے کہ آپ خیریت سے ہوں اورخوش بھی۔خیرطلب:ذاکرحسین

میں نے استادؒ کی ہدایت کے مطابق ان کے سیکرٹری کوخط لکھااوران سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ انھوں نے وقت مقررکرکے مجھ کو مطلع کیا۔ مقررہ وقت پر میں راج بھون پہنچا۔ ان کے ملٹری سیکرٹری نے میرااستقبال کیااوران کے کمرے تک میری رہ نمائی کی۔ میں کمرے کے اندر داخل ہوگیاتوانھوںنے دروازہ بند کردیا۔ استادؒ کو میں نے سلام کیااورمصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ انھوں نے کھڑے ہوکرمعانقے کے لیے کھینچ لیااور اسی حال میں ہنستے ہوئے فرمایا: ’’آپ لوگ حکومت پر بہت تنقید کرتے ہیں‘‘۔ پھر اپنے قریب کی کرسی پربیٹھنے کی ہدایت کی۔

میں نے جواب میں عرض کیا:’’جب ہم مجبور ہوتے ہیںتبھی حکومت پرتنقید کرتے ہیں‘‘۔

اس کے بعد دوسراسوال انھوں نے یہ کیا:’’کیا ابھی مولاناابواللیث صاحب امیرجماعت اسلامی ہندنے کہیں یہ کہا ہے کہ’’جماعت اسلامی پاکستان نہیں چاہتی تھی؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’کہاہوگا۔ جماعت اسلامی تو پوری دنیا میں اللہ کی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے،لیکن کچھ لوگوں نے ہندستان کے دوٹکڑوں پرہی قناعت کرلی ہے‘‘۔

انھوں نے فرمایاکہ’’حسنین صاحب! آپ لوگ حکومت الٰہیہ قائم کرناچاہتے ہیں لیکن  عام طورسے ہندستان کے مسلمان حکومتِ الٰہیہ نہیں چاہتے ہیں‘‘۔ میں نے ان سے کہا: یہ کم حوصلگی اور پست ہمتی ہے ورنہ مسلمان کی حیثیت سے:’’ہر ملک، ملکِ ماست کہ ملکِ خداماست‘‘۔ ہرملک میں حکومت الٰہیہ یا اللہ کا دین قائم ہوناچاہیے‘‘۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا:’’آپ کی حکومت نے جماعت اسلامی کو subversive [تخریبی]کیسے قراردے دیا، ہم لوگ توپُرامن طریقے پرلوگوں کو اللہ کے راستے پربلاتے ہیں ،کوئی توڑ پھوڑ، قتل وغارت گری کا طریقہ نہیں اپناتے ہیں‘‘۔ انھوں نے فرمایا:’’subversive ہونے کے لیے اتنا کافی ہوسکتاہے کہ حکومت کے دستور کوتسلیم نہ کیا جائے اور غیر پارلیمانی طریقے سے حکومت کوتبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔ دیکھیے! کمیونسٹوں نے ملک کے دستور کو مان کرکیرالا میں الیکشن میں حصہ لیااورالیکشن میں کامیاب ہونے پر وہاں حکومت بنائی۔ آپ لوگ بھی دستورکو مان کرپارلیمانی طریقے سے حکومت کو بدل سکتے ہیں‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ اگرsubversive سے یہ مطلب ہے توہم اقراری مجرم ہیں۔    یہ فرمائیے کہ کیا ہم آپ کی ریاست میں اللہ کا نام لے سکتے ہیں؟ انھوں نے فرمایاکہ اس سے آپ کو کون روک سکتاہے۔ میں نے عرض کیاکہ جب ہم لاالٰہ الا اللہ کی تشریح کریں گے تو پھر subversive آجائے گا۔اس پر آپ نے فرمایاکہ ایک چیز پھل ہے اور ایک چیزدرخت ہے۔ پھل سے اگر لوگوں کواختلاف ہے، قبل از وقت پھل کا تذکرہ مت کیجیے۔ درخت لگانے کی کوشش کیجیے۔ جب لوگ آپ کے میٹھے پھل کو چکھیں گے تومخالفت ترک کردیں گے۔ میں نے بہ ادب عرض کیا:درخت لگانے کا عمل چپکے سے اور اکیلے تو نہیں ہوگا،اس کی خوبیوںکو بتا کرکچھ لوگوں کو تواپنے ساتھ لینا ہی ہوگااوران کے تعاون ہی سے یہ کام انجام پاسکتاہے۔ میں نے جماعت اسلامی کی دعوت اورطریقۂ کار کا مختصراً تعارف کرایا۔ آپ نے توجہ اورصبرسے میری باتوں کو سنا اور فرمایا: ’’ٹھیک ہے جس بات کوآدمی حق سمجھے،اس کے لیے جدوجہدکرے‘‘۔ا س کے بعد میں نے عرض کیاکہ’’آپ کی حکومت میری ہمہ وقت نگرانی کیوں کرتی ہے؟ سی آئی ڈی کے دوآدمی سایے کی طرح میرے ساتھ رہتے ہیں؟‘‘ جواب میں انھوں نے فرمایا:’’یہ آپ کے لیے ہی مخصوص نہیں ہوگا، تمام سیاسی ورکروں کی نگرانی کی جاتی ہے،آپ کی بھی کی جاتی ہوگی۔ اس میں گھبرانے اور پریشان ہونے کی کوئی بات نہیںہے۔ وہ اپنا کام کرتے ہیں،آپ اپنا کام کیجیے۔راہِ حق میں دشواریاں توپیش آتی ہی ہیں‘‘۔

جب میں استادؒ سے ملاقات کے لیے پٹنہ پہنچاتوبرادرم سیدوسیم اللہ صاحب کے یہاں قیام کیا تھا،جو ان دنوںسیکرٹیریٹ میںملازم تھے اور کسی اونچے منصب پر فائز تھے۔ جماعت اسلامی سے ان کا تعلق’ہمدردی‘کاتھالیکن اس تعلق کی بنا پران کے خلاف کارروائی چل رہی تھی۔ استاد محترم سے پہلے جو گورنرصاحب تھے،انھوں نے کوئی آرڈیننس جاری کیاتھاکہ جو سرکاری ملازم کسی سیاسی سرگرمیوں میںملوث پایاجائے گا،اس کا compulsory retirement [جبری سبک دوشی] ہوسکتی ہے۔ اسی آرڈی ننس کے تحت وسیم اللہ صاحب کے خلاف کارروائی ہورہی تھی۔ حالاںکہ  اس آرڈی ننس کی مدت ختم ہوچکی تھی اورگورنرصاحب بھی تشریف لے جا چکے تھے۔میں نے وسیم اللہ صاحب سے اس آرڈی ننس کا نام اورنمبروغیرہ لے کر اسے استادؒ کی خدمت میں پیش کیا۔ انھوںنے چشمہ بدل کربغوراس کو پڑھا اور پوچھاکہ’’اس طرح کے کتنے آدمیوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے‘‘؟ میں نے عرض کیا: ’’بہار میں تقریباً ۲۰اشخاص کو جوجماعت اسلامی کے رکن تھے اور سرکاری ملازم بھی تھے،پرائمری سکول کے ٹیچرسے لے کرگزیٹیڈآفیسر تک کوجماعت اسلامی کی رکنیت کے جرم میں برطرف کیا جاچکاہے۔ ان لوگوں نے ملازمت سے برطرفی کو گوارا کیا اور جماعت سے تعلق کوبرقرار رکھا۔ لیکن وسیم اللہ صاحب جماعت کے رکن نہیں ہیں۔ ان پر جماعت کی رکنیت کاغلط الزام لگا کران کو پریشان کیاجارہاہے‘‘۔استادؒ نے اس پرزے کورکھ لیا۔

ہماری یہ ملاقات بہت زیادہ طویل ہوگئی تھی اوران کے پاس یاددہانی کی گھنٹی بار بار بجتی رہی۔ جب ہماری گفتگوختم ہوئی تووہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایاکہ مقررہ وقت سے زیادہ ہی وقت صرف ہوچکاہے اورلوگ انتظار میں بیٹھے ہوں گے۔باقی ان شاء اللہ آیندہ۔اس طرح ان سے مصافحہ کرکے رخصت ہوااوروہ دروازے تک پہنچاگئے۔

کچھ دنوں کے بعد جب وسیم اللہ صاحب سے ملاقات ہوئی توانھوںنے بتایاکہ ان کے خلاف کارروائی ختم ہوچکی ہے اوران کی ترقی کے ساتھ ان کی تنخواہ میں بھی اضافہ کیاگیاہے اورمیرے ساتھ جوسی آئی ڈی کی نگرانی تھی،وہ بھی ختم ہوگئی۔ دربھنگا میں سی آئی ڈی کے ایک افسرنے آکراطلاع دی کہ ہمارے پاس آرڈرآگیاہے کہ اب آپ کی نگرانی نہ کی جائے۔

  • تیسری اور آخری ملاقات:جماعت اسلامی ہندنے مجھ کو۱۹۶۲ء میںجماعت کی دعوت کے تعارف کے سلسلے میںآسام کاامیرحلقہ بناکرگوہاٹی بھیجا۔ ۱۹۶۲ء سے۱۹۷۰ء تک میں گوہاٹی آسام میں رہا۔ ابتدامیں۱۹۶۷ء میں جماعت اسلامی ہندکے اجتماع میں شرکت کے لیے مجھ کو دلی جاناتھا۔ میں نے استاد محترم کی خدمت میں ایک عریضہ ارسال کیاکہ میں دلی حاضر ہورہا ہوں اور ان تاریخوں میںمرکزجماعت اسلامی میں مقیم رہوں گا۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہوں، اگر موقع ہوتووقت مقررفرماکرمرکزجماعت اسلامی کے پتےپرمجھے مطلع فرمائیں۔ ا س کے جواب میں استادؒ کاجلد ہی ایک گرامی نامہ ملاجس میں درج تھاکہ’’جن تاریخوں میں آپ دلی رہیں گے، ان تاریخوں میںافسوس ہے کہ میں دلی میں نہ رہ سکوں گا۔پہلے سے جنوب کا پروگرام بن چکاہے۔ ان شاء اللہ جلدملاقات ہوگی۔

اس کے کچھ ہی دنوںکے بعدگوہاٹی میں استاد کے پرائیویٹ سیکرٹری اورملٹری سیکرٹری کے خطوط ملے۔ جس میں درج تھاکہ استادؒ۲۵؍اپریل کو گوہاٹی پہنچ رہے ہیں۔ اس شام کوساڑھے پانچ بجے سرکٹ ہاؤس میں مجھ سے مل کروہ خوش ہوں گے۔ اس کے بعد دوسرے دن سی آئی ڈی کے ایک افسر میرے پاس آئے اور بتایاکہ پریسیڈنٹ ۲۵؍اپریل کوگوہاٹی پہنچ رہے ہیں۔ ان کے پروگرام میں آپ سے ملاقات بھی شامل ہے۔ مہربانی کرکے سی آئی ڈی آفس آیئے،آپ کو ایک پاس دیاجائے گا۔اس کولے کر ہی آپ ان سے مل سکتے ہیں۔چنانچہ میںسی آئی ڈی دفترپہنچ گیا۔سی آئی ڈی افسرنے مجھ سے پوچھاکہ صدرجمہوریہ ہند کس سلسلے میں آپ سے ملنا چاہتے ہیں اوران کاآپ سے کیاتعلق ہے؟ میں نے ان کو بتایاکہ وہ میرے استاد رہ چکے ہیں۔میں نے جامعہ ملیہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔۱۹۳۴ء سے ۱۹۴۰ء تک میں وہاں رہا۔ وہ ہمارے استاد بھی رہے اوروائس چانسلر بھی رہے۔ اسی تعلق سے اُن سے ملناہے۔چنانچہ مجھ کو ایک پاس دیاگیا،اس کولے کرمیں ان سے ملا۔ میری ملاقات سے پہلے گوہاٹی کے ایک بڑے میدان میںان کی تقریرتھی۔ پہلے میں جلسے میں شریک ہوا اوراُن کی تقریر سنی۔اس کے بعد مقررہ وقت سے چندمنٹ پہلے سرکٹ ہاؤس پہنچ گیا۔

مجھے ویٹنگ روم میں بٹھایاگیا۔ ان کے ملٹری سیکرٹری میرے پاس آئے اوربتایاکہ سب سے پہلے آپ کی ملاقات ہے اور آپ کی ملاقات کے لیے۵منٹ کاوقت دیا گیا ہے۔جب آپ کی طلبی ہوگی تومیںآپ کو کمرئہ ملاقات میں پہنچا دوں گااورکمرہ بند ہوجائے گا۔جب آپ کا وقت ختم ہوجائے تو میںدروازہ کھول کرکھڑاہوجاؤں گاتو مہربانی کرکے آپ اٹھ جائیے گا،ورنہ جب تک آپ بیٹھے رہیں گے،وہ بھی آپ سے باتیںکرتے رہیں گے اورآپ کے بعدآنے والوں کو موقع نہیں مل سکے گا۔ اس لیے کہ اس کے بعد نماز کا وقت ہوجائے گااوروہ نماز پڑھیں گے۔میں نے ان سے کہا کہ ٹھیک ہے ،مجھے کوئی عرض داشت نہیں پیش کرنی ہے اور نہ کوئی لمبی چوڑی گفتگو ہی کرنی ہے۔ ہم ایک دوسرے کی خیروعافیت دریافت کریں گے اوروقت ختم ہونے پر اُٹھ آئیں گے۔ ہماری یہ گفتگوملٹری سیکرٹری سے ہورہی تھی کہ استادؒ بی کے نہروکے ساتھ،جو اس وقت آسام کے گورنر تھے،سامنے آئے اور اُن سے جداہوکرملاقات کے کمرے میں گئے اور گھنٹی بجائی۔ مقررہ وقت سے پہلے ہی مجھے طلب کرلیا۔ میں اندر داخل ہوااورسلام عرض کیا۔وہ اٹھے،بڑھ کر گلے لگایا۔ خیریت دریافت کی اورپوچھاکہ’’ آپ آسام کیسے آگئے؟‘‘میں نے عرض کیاکہ’’آپ تو جانتے ہیں کہ ہم لوگوں نے جماعت اسلامی ہند بنائی ہے اور کچھ لوگوں نے اپنی زندگیاں جماعتی سرگرمیوں کے لیے وقف کردی ہیں۔میںبھی اُن میں سے ایک ہوں۔۲۲سالوں تک بہار، اڑیسہ، بنگال میں جماعت اسلامی ہند کی دعوت پیش کرتا رہا۔اللہ کے فضل وکرم سے وہاں کچھ کارکن تیار ہوگئے تو اب جماعت نے مجھ کو آسام بھیجا ہے تاکہ یہاں بھی جماعت اسلامی کی دعوت پیش کروں۔ساتھ ہی ساتھ آسامی زبان میں اسلامی لٹریچر تیار کرانے کا کام میرے سپرد ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ آسامی زبان میں اسلامی لٹریچرکی بڑی کمی ہے‘‘۔

انھوں نے فرمایا کہ ’’آپ نے بڑے استقلال سے کام کیا‘‘۔میں نے عرض کیاکہ محض اللہ کی توفیق اور آپ لوگوں کی تعلیم وتربیت ہے کہ اس کام کی سعادت حاصل ہوئی۔آپ نے فرمایاکہ ’’آسامی زبان میںاسلامی لٹریچر کے تیار کرنے کرانے کاکام بھی بہت اہم ہے‘‘۔ انھوں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالااورایک سوروپے کا نوٹ نکال کرآسامی زبان میں اسلامی لٹریچر کے لیے دیا۔میں نے قبول کرنے میں تامّل کیاکہ آپ سفر کی حالت میں ہیں،فوری طور پر دیناکیا ضروری ہے۔انھوں نے میری جیب میںنوٹ ڈال دیا۔اس کے بعد فرمایاکہ:’’پچھلے دنوںآپ نے محسن انسانیت بھیجی تھی،سیرت پریہ کتاب مجھ کوبہت پسندآئی۔ سیرت پرمیں نے بہت ساری کتابیں پڑھی ہیں،حتیٰ کہ مولانا شبلی کی سیرت النبی ؐ   بھی دیکھی ہے مگرمحسن انسانیت    مجھ کو بہت پسند آئی۔

اس کے بعد وہ خاموش ہوگئے۔میں نے سوچاکہ اس مختصر ملاقات میں زیادہ ترانھی کے ارشادات سنوں گا اور اپنی طرف سے کوئی بات نہیں پوچھوں گالیکن وہ خاموش ہوگئے تو میں نے عرض کی کہ آج جمعہ کا دن ہے،اگرگوہاٹی کی کسی مسجد میںجمعہ کی نماز بھی آپ کے پروگرام میںشامل ہوتی تو اچھاہوتا۔ یہاں کے مسلمانوں کو توقع تھی کہ مسلمان صدرجمہوریہ ہند یہاں کی کسی مسجد میں نماز اداکریں گے توقریب سے انھیں دیکھنے کاموقع ملے گا۔اس سلسلے میں گوہاٹی کے مسلمانوں کو مایوسی ہوگی۔

انھوں نے فرمایاکہ’’میرے دونوں گھٹنوں میں تکلیف رہتی ہے اور فرش پرنمازاداکرنے میں تکلیف زیادہ محسوس ہوتی ہے۔میں چوکی پربیٹھ کرپاؤں لٹکا کے نمازپڑھتا ہوں۔ کبھی کبھی عید، بقرعیدکے موقعے پردہلی کی عیدگاہ میں چلا جاتاہوںتو بڑی تکلیف کے ساتھ نماز اداکرپاتاہوں‘‘۔ میں نے عرض کیا:یہ عذرمعقول ہے لیکن لوگوںکو اس کی خبرنہ ہوگی۔

اس کے بعد میں نے عرض کیاکہ’’آپ کے جوبھی ہوم منسٹر ہوتے ہیں،جماعت اسلامی کے خلاف غلط الزامات لگایاکرتے ہیں اور ہم لوگ ان کی صفائی میں جو کچھ کہتے ہیں،ان کا وہ کوئی نوٹس نہیں لیتے۔ ایک طرح کے الزامات بارباردہراتے رہتے ہیں‘‘۔

انھوں نے فرمایاکہ’’وہ اپنا کام کرتے ہیں۔ آپ اپناکام کیجیے۔ بات دراصل یہ ہے کہ آج کل سب لوگوں کواورسب جماعتوں کوخوش رکھنے کے لیے اورتوازن برقرار رکھنے کے لیے سیاسی لوگ ایسی بات کہتے ہیں اورایسی حرکتیں کرتے ہیں جو حقیقت اورصداقت کے خلاف ہوتی ہیں۔ پتا نہیںکہ خودچوہان جی کی(جو اس وقت ہوم منسٹرتھے) جماعت کے بارے میں اپنی رائے کیاہے۔ لیکن عام طورسے ایساہوتاہے کہ الیکشن میں کامیابی کی خاطر لوگ ایسا کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے الیکشن کا موجودہ طریقہ غلط ہے‘‘۔

اس موقعے پر میں نے عرض کیاکہ’’تب تو الیکشن میںجماعت اسلامی کا حصہ نہ لینا    حق بجانب ہے‘‘۔ اس کاانھوں نے خاموش مسکراہٹ سے جواب دیا۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ بھارت میں فسادات کا سلسلہ آخرکب ختم ہوگا؟ میرے اس سوال پروہ افسردہ ہوگئے اور کچھ دیر سکوت کے بعد فرمایا:’’ہم لوگ مسلمان ہیں اور فسادات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، لہٰذا فسادات کوزیادہ محسوس کرتے ہیں،ورنہ حکومت کی کون سی کل سیدھی ہے؟ دیکھیے تلنگانہ میں کیا ہورہا ہے؟(اس وقت آندھراپردیش میں تلنگانہ کی پُرتشدد تحریک زوروں پرتھی)۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری لیڈرشپ بہت کمزورہے‘‘۔

یہ سن کرمیں حیرت میں مبتلا ہوگیاکہ اپنی ہی حکومت کے سلسلے میں صدرجمہوریہ کیا فرما رہے ہیں۔ بات یہاں تک پہنچی تھی کہ صدرکے ملٹری سیکرٹری دروازہ کھول کرنمودارہوئے اور میں ان کی ہدایت کے مطابق اُٹھ کھڑاہوا۔ استاد محترم بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں الوداعی سلام کرکے ہاتھ ملاکردروازے کی طرف بڑھا۔ وہ بھی میرے کاندھوں پرشفقت سے ہاتھ رکھے ہوئے دروازے تک یہ کہتے ہوئے آئے:’’اللہ آپ لوگوں کوکامیاب کرے،آپ لوگوں کی میرے دل میں بڑی قدرہے‘‘۔ اس آخری ملاقات کے بعد جب میں باہر نکلاتومیں بہت خوش اور مسرورتھاکہ انھوں نے میری سرگرمیوں کی تائید فرمائی اور دعادی۔ ان کی حوصلہ افزائی اوردعائیں میرے کانوں میں گونجتی رہیں اوراب تک گونج رہی ہیں،مگرافسوس کہ میری خوشی اورمسرت کے لمحات بہت عارضی ثابت ہوئے۔

ایک ہفتہ بعد۳ مئی ۱۹۶۹ء کو میرے ایک دوست نے آکرخبر دی کہ صدرجمہوریہ ہند ڈاکٹرذاکرحسین انتقال کرگئے ہیں،اِنَّـالِلّٰہِ وَاِنَّـااِلَیْہِ رٰجِعُوْن۔ یہ خبر سن کرمیں اس درجہ متاثر ہواکہ بستر پر جاکرلیٹ گیااوردیرتک روتارہا۔ جب کچھ سکون ملاتووہاں سے اپنے ایک عزیزکے یہاں چلا گیاجن کے پاس ریڈیو سیٹ تھا۔ بستر پرلیٹے لیٹے،اس وقت تک ریڈیو سنتارہاجب تک ان کی تجہیزوتکفین نہ ہوگئی۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اوراپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے___ آمین۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کی زندگی ان دوحرفوں کی تفسیرتھی:’’بادوستاں تلطّف، بادشمناں مدارا‘‘ یااقبالؒ کے اس مصرع کے مصداق تھے:’’مروت حسنِ عالم گیرہے مردانِ غازی کا‘‘___ یااللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق تھے:’’تم میں سے اچھا انسان   وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھاہو۔ اور اللہ نے مجھ کو اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث فرمایا‘‘۔ اورارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اَ کْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقٰکُمْط(الحجرات ۴۹:۱۳)’’تم میں سب سے محترم ومکرم بندہ وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرکرزندگی گزارنے والا پرہیز گارہو‘‘۔

 

نوٹ: ڈاکٹر ذاکر حسین برعظیم کی سیاست ، دانش وَری اور تعلیم کے شعبوں میں ایک بڑا نام ہے۔ صدر جمہوریۂ ہند کے منصب پر فائز ہوکر وہ ترقی اور عروج کی انتہا کو پہنچ گئے۔ برعظیم میں کوئی شخص، خصوصاً ایک بھارتی مسلمان، اس سے بڑے عہدے کا تصور نہیں کرسکتا۔ ڈاکٹر ذاکرحسین کا سیاسی گراف تو بہت اُونچا چلا گیا مگر تعلیم (جو اُن کا اصل میدان تھا) یا دانش وَری کے بارے میں ان کی آدرشیں کیا ہوئیں؟

اُن کے قریبی رفیق اور دانش ور پروفیسر محمد مجیب نے ان کی سوانح عمری میں ان کی شخصی خوبیوں کے ساتھ ان کی مصلحت اندیشی کا ذکر بھی کیا ہے۔ علی گڑھ کے پروفیسر اور نامور ادبی شخصیت اسلوب احمد انصاری نے ذاکرصاحب کی وائس چانسلری کے زمانے میں انھیں قریب سے دیکھا۔ وہ لکھتے ہیں: ’’حکمت عملی اور مصلحت اندیشی ان کی زندگی کے دو بنیادی تشکیلی اصول تھے۔ اس کا نتیجہ ہمیشہ مفاہمت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور کسی طرح کے    تعہّد (commitment) کی نفی کرتا ہے۔ مصلحت اندیشی، حق شناسی اور حق گوئی کے راستے میں، ان کے لیے عمربھر زنجیرپا بنی رہی۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے انھوں نے بڑے قابلِ قدر   کام کیے [مگر] بعض اوقات صاحبانِ جاہ و منصب کے زیراثر اور ان کے دبائو میں آکر نامنصفانہ طورپر اور جانب داری کے ساتھ ایسے لوگوں کو آگے بڑھایا جو اس اعزازاور ترقی کے کسی طرح مستحق نہیں تھے۔ ذاکرصاحب کے ذہین اور فطین اور اعلیٰ فن کار ہونے میں کسی شک و شبہے کی گنجایش نہیں لیکن ان کا کوئی کارنامہ نہیں ہے‘‘۔

ذاکرصاحب کی اس مثال سے یہ واضح ہے کہ انسان کی ذہانت و فطانت، اگر مصلحت کوشی کو راہ نما بنالے تو حاصلِ حیات کیا ہوتا ہے۔ (مرتب)

پاکستان میں علمی وادبی تحقیق زوال کاشکار ہے۔ اس زوال کاپاکستان کی سیاسی تاریخ سے گہرا تعلق ہے۔ سیاسی نشیب وفراز(فراز سے نشیب کی طرف سفر)اورحکمرانی کا (گوارا یا بہتر معیار سے پست ہوتا ہوا)معیار، زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح علم وتحقیق اورعلمی وتحقیقی اداروں پر بھی اثر انداز ہواہے۔

قیامِ پاکستان کے اوائل میں نئی یونی ورسٹیوںاورمتعددعلمی اداروں کے قیام کی صورت میں بعض خوش آیند اقدام کیے گئے ،جس کے نتائج حوصلہ افزاتھے(اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ  بعض پہلوؤں سے چند اداروں کی کارکردگی مایوس کن تھی)۔

جس طرح ملک میں جمہوریت صحیح معنوں میں جڑنہیںپکڑسکی اور جمہوریت کے پودے کو بار بارنوچ کر،جڑسے اُکھاڑپھینکاجاتارہا،اسی طرح اداروں میں بھی من پسنداورنااہل افراد کا تقرر کیا جاتا رہا،خصوصاً ۱۹۷۲ء کے بعد کے اَدوار میں تواہلیت اورمیرٹ کوایک طرف ہی نہیں، بالاے طاق رکھ دیاگیا۔ مثال کے طور پر کم و بیش تمام ہی وفاقی تحقیقی و ادبیاتی اداروں کے سربراہان کچھ ایسا تعارف رکھتے ہیں کہ جنھیں تحقیق و تفکر سے کم ہی واسطہ ہے۔اسی طرح بیرون ملک (برطانیہ، جرمنی وغیرہ)پاکستان اوراقبال مسندوں(chairs)پرمیرٹ سے ہٹ کر ایسے من پسند افراد کا تقرر کیا جاتا رہا جواِن مسندوںکے لیے مقررہ ضابطوں اور شرائط ومعیارپرقطعی پورے نہیں اُترتے تھے (یا پھر ایسی متعدد مسانیدِ دانش (chairs) آج تک خالی پڑی ہیں)۔

ایسے سربراہ اور’عالم‘اپنے مربیّوں کی خوش نودی کو مقدم سمجھتے تھے چنانچہ لاہور کے ایک علمی ادارے کے سربراہ نے حاکمِ وقت کے اشارۂ ابرو پرپہلے توملّاپر چاند ماری کی اور کندھا  علّامہ اقبال کا استعمال کیا۔پھرانھیں اقبال کی شاعری میں بھی کیڑے نظرآنے لگے۔مغربی تہذیب پراقبال کی تنقیدان کی آنکھوںمیںکانٹے کی طرح کھٹکنے لگی اورانھوں نے بڑے بھد ّے انداز میںاقبال پر بھی تبر ّا کیا۔

اقبال کا ذکرہواتو سمجھ لینا چاہیے کہ تخیل پاکستان، تشکیل پاکستان اور پھر تعمیرپاکستان میں اقبال کے کلام و پیغام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ وہ محض ایک شاعر نہیں بلکہ پاکستان کے وجود کو تقویت عطا کرنے کا ایک زندہ و توانا حوالہ بھی ہیں۔ اس لیے آج ۷۰برس گزرنے کے بعد ہمیں اقبال کے حوالے سے روا رکھے جانے والے طرزِعمل کا توجہ سے جائزہ لینا چاہیے۔

اقبال کے فکرپرتحقیق اوران کے پیغام کی نشرواشاعت کے لیے حکومتی سطح پر لاہورمیںدوادارے قائم ہیں:اقبال اکادمی پاکستان وفاقی حکومت کاادارہ ہے اور بزم اقبال پنجاب کی صوبائی حکومت کا۔ دونوں اداروں نے سیکڑوں کتابیں چھاپی ہیں،مگرفروغِ اقبالیات کے ضمن میں صرف کتابیں چھاپناہی کافی نہیں،اقبال کے فکراورپیغام کی نشرواشاعت کے لیے دوسرے ذرائع اختیار کرناناگزیرہے مگر ایسا کچھ نہیں کیاگیا (البتہ ایک استثنیٰ ہے۔اقبال اکادمی نے خصوصاً محمد سہیل عمرکے زمانۂ نظامت میں، ابلاغِ فکراقبال کے لیے کتابوں کی اشاعت کے علاوہ نشرواشاعت کے جدید برقی ذرائع بھی اختیار کیے،جن میں آڈیو کیسٹ،وڈیوکیسٹ،سی ڈی، نمایشیں، اقبالیات کے مختلف النّوع مقابلوں اورمذاکروں کا انعقاد وغیرہ شامل ہیں)۔تاہم ان اداروں میں بہ حیثیت ِمجموعی تنظیم،ترتیب اورمنصوبہ بندی کی خاصی ضرورت ہے۔

یہ منصوبہ بندی کی کمی ہی تھی، جس کی وجہ سے ، مثلاً اقبال کے صدسالہ جشنِ ولادت تک علامہ اقبال کی کوئی ڈھنگ کی سوانح عمری نہ لکھی جاسکی تھی۔ پچاس کے عشرے میں بزمِ اقبال نے یہ منصوبہ ابتدامیں غلام رسول مہرکے سپرد کیا، پھر ان سے واپس لے کرعبدالمجیدسالک کودے دیا۔ انھوں نے۱۹۵۵ء میں ذکراقبال لکھ دی تو اس پرشدیدتنقید ہوئی۔بعض افراد نے اپنے طورپر سوانح عمریاں لکھیں، مگر اداروں کی سطح پرمزیدکوئی کوشش نہ کی گئی۔اسی لیے ۱۹۷۷ء کی صدسالہ جشن اقبال کمیٹی نے ایک مفصّل اورمعیاری سوانح عمری لکھنے کاکام پہلے سید نذیر نیازی، بعد ازاں ڈاکٹرعبدالسلام خورشید کے ذمے لگایا مگر بات نہیں بنی۔آخر علامہ کے فرزندِارجمندجاویداقبال مرحوم نے زندہ رود  لکھ کر اس کمی کوپوراکیا۔

میراتاَثّر یہ ہے(اوراکثرحضرات اس سے اتفاق کریں گے)کہ اقبالیات ہو،غالبیات ہو یا تاریخِ ادب یاادبِ اردو کا کوئی شعبہ،جوچند ایک قابل ِقدرکام ہوئے ،بیش تروہ انفرادی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ اداروں کی کارکردگی بالعموم ناقص رہی ہے،حالاںکہ وسائل،بہ نسبت افراد کے، اداروں کو میسرہوتے ہیں۔

ڈاکٹرعطاء الرحمٰن ہائرایجوکیشن کمیشن کے سربراہ مقرر ہوئے، توعلمی وادبی تحقیق میں تیزی و تیزرفتاری آئی، مگرمعیار،مقدارکاساتھ نہ دے سکا۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے ایما پر پی ایچ ڈی اورایم فل کے وظائف دینے کے مثبت قدم نے، عملاً معیارکونیچے کھینچنے میں حصہ لیا ہے اوراب تو جامعات میںتحقیقی مقالے یوں دھڑادھڑ تصنیف ہورہے ہیں، جس طرح کسی فیکٹری سے خاص وضع قطع کے بُرے بھلے پُرزے تھوک کے حساب سے ڈھل ڈھل کر نکلتے چلے آتے ہیں۔ تحقیق کرانے والے اساتذ ہ کی کمی نہیں مگر محنت کرنے اور کرانے والے اساتذہ بہت کم ہیں۔  آج ایک اخبار نویس نے اپنے بقول’انکشاف‘کیاہے کہ پاکستانی جامعات میں۱۱ہزار پی ایچ ڈی اسکالر (اساتذہ) اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، جب کہ مزید۳۰ہزار اسکالروں کی ضرورت ہے۔ ہائرایجوکیشن کمیشن کی کوشش ہے کہ اگلے سال میں مزید۲۰ہزار اسکالرتیارکیے جائیں (روزنامہ۹۲نیوز،۲۳؍جولائی ۲۰۱۷ء)۔ گویاکمیشن مقداربڑھانے کی فکر میںہے، حالاںکہ ضرورت ان ’خدمات‘ کا معیار بڑھانے کی ہے، جو موجودہ ۱۱ہزار اسکالرانجام دے رہے ہیں۔

بقول رشیدحسن خاں: ’’ہمارے اساتذہ (اسکالر)کو ترقی کے ہجے کرنے سے فرصت نہیں ہے‘‘۔ چمک نے چندھیادیاہے۔ تحقیق کا معیار بلندہوتوکیسے؟ معیار تو بعدکی بات ہے، اب تو پی ایچ ڈی اور ایم فل اسکالر موضوعاتِ تحقیق کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں، کیوں کہ ان کے اساتذہ نے موضوعات کی تلاش بھی شاگردوںکے ذمے ڈال دی ہے(حقیقت یہ ہے کہ موضوعات موجود ہیں، مگر ان پر کام کرانے کے لیے اساتذہ کو خود بھی محنت کرنی پڑتی ہے،دل جمعی سے مطالعہ کرنا پڑتا ہے، اس لیے وہ ان مشکل موضوعات کے قریب نہیں پھٹکتے)۔

پاکستان کامستقبل تعلیم(تحقیق جس کالازمی جزوہے)کے اچھے معیاراورانصاف کی بلاتاخیر فراہمی پرمنحصر ہے، اور یہی دوچیزیں ہمیں نظرنہیں آتیں۔مگرخوش آیندبات یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میںشایدپہلی باراحتساب کاسلسلہ شروع ہوا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوکہ علمی تحقیق خصوصاً جامعات کے تحقیقی مقالوں کا بھی جائزہ لیا جائے(خصوصاً سماجی و ادبیاتی علوم)۔ جامعات کے تحقیقی مقالوں کے پست معیار کاایک سبب ہائرایجوکیشن کمیشن کی غفلت بھی ہے۔ وہ کم ہی اس بات کااہتمام کرتی ہے کہ تحقیقی مقالات کے لیے اس نے جو اصول اورضابطے مقرر کیے ہیں،     یہ دیکھے کہ کیا تحقیقی مقالوں میں ان کی پابندی کی جارہی ہے؟ ماضی قریب میںہائرایجوکیشن کمیشن نے ضابطہ جاری کیاتھاکہ مقالہ نگاروں کا زبانی امتحان (viva)کھلے بندوں لیاجائے گا اور مقالہ نگار اپنے مقالے کا کھلا دفاع (open defence)کریںگے۔شعبوںسے کہاگیاتھاکہ وہ اس کے لیے امتحان کاوقت اورتاریخ میڈیاپرنشرکرانے کااہتمام کریں ،عنوان بھی بتایا جائے اورعوام النّاس کو دعوت دی جائے کہ وہ اس موقعے پر زبانی امتحان کا مشاہدہ کریںاور امیدوار سے سوالات کریں۔ اگر مقالہ نگار، تسلی بخش جواب نہ دے سکے تواسے تیاری کاایک اورموقع دے کردوبارہ امتحان لیا جائے۔ افسوس ہے کہ ہماری جامعات میں اِلاّماشاء اللہ ،اس کااہتمام نہیں کیاجاتا۔ شعبے اخبارات میں اطلاع نہیں بھیجتے۔ خانہ پُری کے لیے متعلقہ شعبے میں فقط ایک نوٹس لگا دیا جاتا ہے، بسااوقات اسی روزیاایک آدھ روز پہلے۔ یہ کمیشن کے ضابطے کا مذاق اُڑانے والی بات ہے مگر کمیشن نے مذاق اُڑانے والوں کاشاید ہی کبھی احتساب کیاہو۔ اگر کمیشن غفلت نہ برتے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کھلے بندوں دفاع کے ضابطے پرپابندی سے عمل کیاجارہاہے تواس سے مقالات کامعیاربہتر ہوگا۔

بہرحال، اُمیدرکھنی چاہیے کہ حالات بہترہوں گے۔ ہمیںایک لمبافاصلہ طے کرنا ہے، تب کہیں جاکرقیام پاکستان کے مقاصد پایۂ تکمیل کوپہنچیں گے۔

افغانستان ، ایران اور ترکی سے اسلامیانِ ہند کا تعلق اور رابطہ دورِ غلامی ہی سے رہا ہے۔  بعض وجوہ سے، افغانستان اور ایران کی نسبت ترکی سے تعلق اُستوار تر ہوتا گیا اور آج پاکستان کا جتنا گہرا ربط وتعلق ترکی کے ساتھ ہے، کسی اور مسلمان ملک سے نہیں ہے (حرمین شریفین سے عقیدت کی بنا پر سعودی عرب سے تعلق ایک دوسری نوعیت رکھتا ہے )۔ ۲۰ویں صدی کے ابتدائی عشروں میں بر عظیم کے مسلمانوں نے جس والہانہ انداز میں دامے ، درمے، سخنے ترکوں کی مدد کی، اس نے ترکوں کے دل جیت لیے اور ان ترک دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک جگہ بنا لی۔ برعظیم کے مسلمانوں خصوصاً پاکستان کے لیے ترکوں کے دل آج بھی دھڑکتے ہیں۔

ترکی سے متعلق حال ہی میں دو کتابیں نظر سے گزریں۔ مندرجہ بالا پس منظر کے حوالے  سے ذیل میں ان کتابوں کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔

1

ڈاکٹر نثار احمد اسرار (۱۹۴۲ء-۲۰۰۴ء )کی کتاب مکتوب ترکی کے سرورق کی عبارت  (ترکی کی سیاست ، معاشرت، ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے ڈاکٹر نثار احمد اسرار کے مضامین کا مجموعہ) سے کتاب کی نوعیت کا کچھ اندازہ تو ہوتا ہے لیکن پورا تعارف نہیں ہوتا۔

 ڈاکٹر نثار کا تعلق بہار سے تھا۔ پہلی ہجرت کر کے مشرقی پاکستان اور دوسری ہجرت کے نتیجے میں کراچی پہنچے ۔ ۱۹۶۵ء میں آر سی ڈی کے وظیفے پر انقرہ یونی ورسٹی سے ایم اے کیا اور ۱۹۷۱ء میں استنبول یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پھر انقرہ منتقل ہو گئے اور وہیں پیوند ِخاک ہوئے ۔ وہ چار زبانوں (ترکی ، اُردو ، انگریزی اور جرمن ) پر دسترس رکھتے تھے۔ ۳۶سال ترکی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی غیر ملکی نشریات سے وابستہ رہے، اور ۳۶ سال تک پاکستانی سفارت خانے میں’ افسرِ اطلاعات‘ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ کچھ عرصہ درس وتدریس اور صحافت میں بھی گزرا۔

ان متنوّع مصروفیات کے ساتھ ، ڈاکٹر نثار نے قلم وقرطاس سے بھی تعلق بر قرار رکھا۔ مصروفیت کیسی ہی ہو، ان کا قلم برابر رواں رہتا تھا۔ ان کی ۵۰ سے زائد تصانیف وتالیف اور کتب ِ تراجم، قلم وقرطاس سے ان کے گہرے تعلق کو ظاہر کرتی ہیں۔(کتب ِ تراجم میں تفہیم القرآن، سیرتِ سرورِ عالم ، سود، سنت کی آئینی حیثیت ، مسئلہ جبرو قدر ، تعلیمات اور     علامہ اقبال کا منتخب اردو کلام شامل ہے )۔ وہ ہفت روزہ اخبار جہاں اور ہفت روزہ تکبیر کراچی میں کئی سال تک ’مکتوب ترکی ‘ لکھا کرتے تھے۔ ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق کی مرتبہ زیر نظر کتاب  انھی مکاتیب کا مجموعہ ہے۔ تقدیم نگار جناب محمد راشد شیخ نے انھیں یاد کرتے ہوئے متأسفانہ لکھا ہے کہ ڈاکٹر اسرار کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ راشد صاحب کے نام اسرار صاحب کے ۲۱خطوط بھی شاملِ کتاب ہیں۔

۴۳ مکاتیب (یا راشد شیخ کے بقول ’رپورٹوں‘ ) میں خاصا تنوع ہے۔ بنیادی موضوع ترک، ترک قوم ، ترک عوام وخواص ، ترک مشاہیر، ترک معاشرہ ، ترک صحافت اور ترک سیاست ہے۔ مضامین پڑھتے ہوئے ترکی کے بارے میں بہت سی ایسی چیزوں کا پتا چلتا ہے جن سے تاریخ کے عام طالب علم بھی واقف نہیں ہوں گے، مثلاً: ’’ترکی تضادات کا ملک ہے بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ اجتماعِ ضدّین ہے___ ترکی واحد سیکولر ریاست ہے جس کی ۹۸ فی صد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور جہاں ۶۵ سال کے لادینی نظام اور مذہب دشمن ظالمانہ قوانین کے باوجود، لوگوں کا اسلامی جذبہ سرد نہیں ہوا بلکہ نمایاں طور پر ابھرا ہے۔ علاوہ ازیں ترکی اکیلا مسلمان ملک ہے جہاں سے پلے بوائے اور پلے مَین  جیسے بین الاقوامی شہرت کے فحش رسائل کے ترکی اڈیشن نکلتے ہیں اور مقامی اخبار ورسائل میں بھی مخر ّب ِ اخلاق تصویریں اور مضامین شائع ہوتے ہیں اور جہاں اسلام نام کا ماہنامہ اور بعض دوسرے اخبارات وجرائد لاکھوں کی تعداد میں چھپتے ہیں ۔ ایک طرف ننگوں کے کلب قائم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور دوسری طرف مذہبی ذہن کی خواتین کے سر ڈھانپنے یا پردہ کرنے پر ایک طوفانِ بد تمیزی اٹھایا جا رہا ہے۔ ان تضادات کی تازہ ترین مثال عیسائیوں کی مشنری سرگرمیاں ہیں۔ واضح رہے کہ ترکی میں ساری آئینی اورقانونی پابندیاں مسلمانوں کے لیے ہیں۔ غیر مسلم اس سے بَری ہیں ‘‘ ۔ ( ص۵۳-۵۴، ۳ مارچ ۱۹۸۸ء کی تحریر ) ۔ ڈاکٹر نثار کا خیال ہے کہ عیسائیت کے پرچار کا راستہ اتاترک اور عصمت انونو کی مذہب دشمنی نے ہموار کیا: مساجد کی   بے حُرمتی، مدارس بند، حج ممنوع اور عربی میں اذان پر پابندی۔ عصمت انونوکے ایک چہیتے وزیر سراچ اوغلو نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا:’’حضرات آپ مجھے ۳۰سال کی مہلت دیجیے، اس ملک سے مذہب کا نام و نشان مٹا دوں گا‘‘۔ یہ مذہب دشمنی ۱۹۴۵ء تک جاری رہی۔

ایک مکتوب (۱۲ مارچ ۱۹۹۸ء ) بہ عنوان: ’’ترک ذرائع ابلاغ فحاشی کی تمام حدود پھلانگ گئے ‘‘ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ترکی کے سرکاری نشریاتی اداروں کے علاوہ تقریباً ۳۰ ٹیلی ویژن چینل انتہا درجے کی آزادی سے چل رہے ہیں۔ ڈاکٹر اسرار بڑے تأسف کے ساتھ لکھتے ہیں: ’’میڈیا کو اپنی آزادی کا گہرا شعور اور احساس ہے اور اس آزادی پر ذرا سی آنچ آتے ہی وہ فوراً ڈٹ جاتے ہیں ۔ صدرِ مملکت اور وزیر اعظم پر بھی تنقید کے تیر چلاتے ہیں۔تا ہم بامقصد صحافت ، سنجیدہ اور  صحیح رپورٹنگ ، معتبر اور بے لاگ تبصرے کا شدید فقدان ہے‘‘ (ص ۶۴ )۔ مصنف نے زیرِ نظر مکتوب میں ترکی میڈیا (۱۹۸۸ء )کی جو کیفیت بتائی ہے وہ پاکستان کے ۲۰۱۷ ء کے میڈیا سے بڑی مماثلت رکھتی ہے۔ ٹی وی چینلوں کو حدود میں رکھنے کے لیے ادارے اور قوانین ترکی میں بھی موجود تھے  اور پاکستان میں بھی موجود ہیں لیکن دونوں جگہ عموماً یہ غیر فعاّل ہیں، اور مجرمین کے خلاف کوئی مؤثر تا دیبی کارروائی کرنے سے قاصر ہیں۔

مختصر یہ کہ مکتوبِ ترکی  کو پڑھے بغیر ترکی کو پوری طرح سمجھنا مشکل ہے ۔ ڈاکٹر محمد سہیل شفیق نے لگن اورمحنت ِ شاقہّ سے یہ تحریریں تلاش وجمع کیں اور ان پر مفید حواشی تحریر کیے۔ (ناشر: قرطاس، ۱۵-اے ، گلشن امین ٹاور ، گلستانِ جوہر ، بلاک ۱۵، کراچی ۔ صفحات: ۳۷۴،قیمت: ۴۰۰ روپے )

2

 تحریکِ خلافت کے زمانے میں ہندستانی مسلمانوں نے ’’ جان، بیٹا! خلافت پہ دے دو ‘‘ کے جذبے سے ترکوںکے ساتھ جذبۂ اخوت کا حق ادا کیا ۔ شعرا نے نظمیں لکھیں اور عوام الناس نے درہم ودینار ارسال کیے۔ مگر زیر نظر کتاب دفتر اعانۂ  ہند (مرتبہ: ڈاکٹر خلیل طوق آر) سے پتا چلتا ہے کہ جذبۂ اخوت کا اظہار ما قبل انیسویں صدی میں بھی اُسی طرح ہوتا رہا ہے۔ ۷۸-۱۸۷۷ء میں روس اور ترکی میں جنگ کی خبریں ہندستان پہنچیں تو یہاں کی انجمنوں اور اداروں نے چندہ  جمع کر کر کے ترکی بھیجنا شروع کیا۔ چوں کہ ہندستانی باشندے ، ترکوں کو مظلوم سمجھتے تھے اس لیے : ’’نہ صرف ہندستان کے مسلمان بلکہ ہندو، پارسی، عیسائی، یہاں تک کہ انگریز افسر بھی [شاید    روس دشمنی میں] ان چندوں میں پیسے دیتے تھے۔ امیر تو امیر ، غریب بھی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ترکوں سے تعاون کرنے کے لیے پیش پیش تھے۔ نواب سے لے کر حجام تک، ملکہ سے لے کر  اپنی کمائی چندے میں دینے والی بیوہ خواتین اور حتیٰ کہ بالا خانوں کی طوائفوں اور دلّالوں تک ہرہندستانی اس کارِ خیر میں حصّہ لینا چاہتا تھا‘‘(ص xii)۔چندہ دینے والوں میں ریاستوں کے نواب ، انجمنوں کے صدور ، انگریزی فوج کے مسلمان سپاہی ، مدرسوں کے مولوی اور سرکاری ملازم بھی شامل تھے۔ ان لوگوں میں بڑے شہروں اور قصبوں کے علاوہ ہندستان کے مختلف صوبوں اور دُور دراز واقع دیہاتوں میں رہنے والے بھی تھے۔ جن جن اداروں یا افراد کے تو سّط سے جتنا جتنا چندہ آتا تھا، ترکی میں اس کا ریکارڈ تحریری طور پر رکھا جاتا تھا۔ بعدازاں اس ریکارڈ کو دفتر اعانۂ  ہند کے نام سے کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا ۔ کتاب کا ایک نسخہ استنبول یونی روسٹی میں موجود ہے۔

ڈاکٹر خلیل طوق آر ( استاد شعبۂ اردو ، استنبول یونی ورسٹی ) نے مذکورہ کتاب کی عکسی نقل، ایک سیرحاصل مقدمے کے ساتھ شائع کی ہے۔ جملہ اندراجات بزبانِ ترکی خطِ نستعلیق میں ہیں ۔ رقوم کی صراحت ’روپیہ، آنہ ،پائی ‘ سے کی گئی ہے۔ اگر یہی کتاب یا ایسی ہی کوئی کتاب ، اتا ترک کے دور میں تیار کی گئی ہوتی تو ہم اردو قارئین نہ جان سکتے کہ کیالکھا ہے کیوں کہ اتا ترک (ترکوں کا باپ) نے رسم الخط تبدیل کر کے اپنے ’بیٹوں‘ (ترکوں) کو مسلمانانِ عالم سے کاٹ دیا اور رومن (انگریزی) رسم الخط کے ذریعے یورپی بننے کی کوشش کی، مگر ما بعد حکمرانوں کی پوری کوششوں کے باوجود ، یورپی یونین ترکی کو رکنیت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ زیرنظر کتاب، ادارۂ تالیف وترجمہ، پنجاب یونی ورسٹی کے ناظم ڈاکٹر محمد کامران نے شیخ الجامعہ ( ڈاکٹر مجاہد کامران ) کی منظور کردہ خاص گرانٹ سے شائع کی ہے۔ (صفحات : ۳۶۰ ، قیمت: ۵۰۰ روپے )

ڈاکٹر صفدر محمود سیاسیات اور تاریخ کے معلّم رہے ہیں۔ سیاست اور تاریخ کا آپس میں گہرا تعلق ہے، چنانچہ ہماری سیاسی اور ملّی تاریخ کے دو بڑے کرداروں (اقبال اور جناح)اور ایک بڑے محور (پاکستان) سے ان کی دل چسپی فطری ہے___ اگر معلّم صاحب ِ نظر ہو اور قلم و قرطاس سے بھی علاقہ رکھتا ہو، تو وہ معلّمی کی ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد بھی، اپنے خیالات کے اظہار سے کبھی سبک دوش نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب گذشتہ ڈیڑھ دو عشروں سے ہزاروں قارئین کو قومی، ملّی،علمی، تہذیبی اور تعلیمی زندگی کے مختلف پہلوئوں کے متعلق اپنے خیالات سے مستفید کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں انھوں نے سیکڑوں ہی کالم لکھے ہوں گے۔

ڈاکٹر موصوف کے نسبتاً مفصل مضامین کا مجموعہ اقبال، جناح اور پاکستان  کے عنوان سے چند برس پہلے شائع ہوا تھا، جس کا مطالعہ پیشِ نظر ہے۔ قائداعظم محمدعلی جناح کی شخصیت بلاشبہہ بہت دل کش تھی۔ انھوں نے پاکستان کا مقدمہ جس قانونی اور سیاسی مہارت سے لڑا اور برعظیم کی ملّت ِاسلامیہ کی ڈولتی ہوئی کشتی کو کھینچ کر سلامتی سے ساحل پر لے آئے، اس نے انھیں لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کا محبوب لیڈر بنا دیا۔ قائداعظم، ڈاکٹر صفدر محمود کے بھی محبوب لیڈر ہیں۔

جب انسان کسی شخصیت کا گرویدہ ہو تو وہ کوئی نہ کوئی ’اتفاق‘ یا ’مناسبت‘ تلاش کر لیتا ہے۔ جس کی بظاہر تو کوئی اہمیت نہیں ہوتی مگر وہ اسے اپنی عقیدت اور گرویدگی کو مستحکم کرنے کا ذریعہ بنالیتا ہے۔ دیکھیے، صفدر محمود نے ایک ’اتفاق‘ اور ’مناسبت‘ تلاش کی ہے۔ لکھتے ہیں: ’’یہ ایک دل چسپ اتفاق ہے کہ قائداعظم کی واحد اولاد، یعنی ان کی بیٹی دِینا جناح نے ۱۴؍اور۱۵؍اگست ۱۹۱۹ء کی درمیانی شب کو جنم لیا۔ ان کی دوسری اولاد اس کے صحیح ۲۸برس بعد ۱۴؍ اور ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کی درمیانی شب کو معرضِ وجود میں آئی اور اس کا نام ’پاکستان‘ رکھا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم اپنی اولاد کو دل و جان سے چاہتے تھے‘‘۔ (ص ۳۰)

قائداعظم مغربی تعلیمی اداروں کے تعلیم یافتہ تھے اور اپنی ظاہری وضع قطع، رہن سہن اور لباس و اَطوار سے وہ ایک جدید اور تہذیبِ مغرب میں ڈھلے ہوئے ماڈرن قسم کے شخص معلوم ہوتے تھے۔ صفدر محمود صاحب نے ان کے کچھ ایسے پہلو دکھائے ہیں جن سے وہ پکّے پیڈے،  اوّل و آخر اور مذہبی فرقوں سے ماورا خالص مسلمان نظر آتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ محمد علی جناح نے اپنا نکاح ایک سُنّی عالم مولانا نذیراحمد صدیقی سے پڑھوایا (جو مولانا شاہ احمد نورانی کے سگے تایا تھے)۔ یہ معلوم ہے کہ قائداعظم کا خاندانی تعلق اِثناعشری فرقے سے تھا مگر ان کے نزدیک فرقوں کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ زیرنظر کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ایک بار کسی نے قائداعظم سے پوچھا: آپ کا تعلق کس فرقے سے ہے؟ قائداعظم نے جواباً سائل سے پوچھا: آں حضور نبی کریمؐ کا مذہب کیا تھا؟ ظاہر ہے قائداعظم کا جواب بہت معنی خیز اور بلیغ تھا۔

ڈاکٹر صفدر محمود نے بجا طور پر قائداعظم کو ایک سچا، کھرا اور باوقار انسان قرار دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ قائداعظم کے ہاں راست گوئی اور عظمت ِکردار سیرت النبیؐ کے گہرے مطالعے کا اعجاز تھی۔ وہ کہتے ہیں: قائداعظم کی تقریریں پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے محبت، اسلام کی بقا اور عظمت، اسوۂ حسنہ، اپنے ضمیر اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی جیسے احساسات و تصورات، اُن کے خون میں شامل تھے۔ ڈاکٹر موصوف، قائداعظم کی ۱۹۳۹ء کی ایک تقریر کے حوالے سے کہتے ہیں کہ انھیں برعظیم کے مسلمانوں کے مسلّمہ راہنما کا مقام اور مرتبہ اس وجہ سے ملا کہ وہ    خدا کے حضور سرخرو ہونے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں اسلام کو سربلند رکھتے ہوئے مرنے کی آرزو اور رضاے الٰہی کی تمنا رکھتے تھے (ص ۳۶)۔ وہ سرتاپا سچے مسلمان اور پکّے مومن تھے۔  صفدر محمود صاحب مولانا اشرف علی تھانوی کے ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ خواب سچا ہے‘‘۔ وہ خواب کیا تھا؟ لکھتے ہیں:

مولانا اشرف علی تھانوی نہ صرف عالم و فاضل شخصیت اور مفسر قرآن تھے بلکہ ایک بلند روحانی مرتبہ بھی رکھتے تھے اور ان کے لاکھوں معتقدین ہندو پاکستان میں بکھرے ہوئے ہیں۔ تعمیر پاکستان اور علماے ربانی کے مصنف منشی عبدالرحمن نے [قائداعظم کا مذہب و عقیدہ کے] ص ۱۱۱ پر لکھا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی کے خواہر زادے مولانا ظفر احمد عثمانی فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت تھانوی نے مجھے بلایا اور فرمایا: ’’میں خواب بہت کم دیکھتا ہوں مگر آج میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے۔ ایک بہت بڑا مجمع ہے گویا کہ میدانِ حشر معلوم ہو رہا ہے۔ اس مجمع میں اولیا، علما اور صلحا کرسیوں پر بیٹھے ہیں اور مسٹر محمد علی جناح بھی عربی لباس پہنے ایک کرسی پر تشریف فرما ہیں۔ میرے دل میں خیال گزرا: یہ اس مجمعے میں کیسے شامل ہوگئے؟ تو مجھ سے کہا گیا کہ محمدعلی جناح آج کل اسلام کی بڑی خدمت کر رہے ہیں، اسی واسطے ان کو یہ درجہ دیا گیا ہے‘‘۔ یقینا اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا اتنا سا صلہ تو ضرور ہوگا۔ انھی مولانا اشرف علی تھانوی نے ۴جولائی ۱۹۴۳ء کو مولانا شبیراحمد عثمانی اور مولانا ظفر احمد عثمانی کو طلب کیا اور فرمایا: ’’۱۹۴۰ء کی قراردادِ پاکستان کو کامیابی نصیب ہوگی۔ میرا وقت آخری ہے۔ میں زندہ رہتا تو ضرور کام کرتا۔ مشیت ِایزدی یہی ہے کہ مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن قائم ہو۔ قیامِ پاکستان کے لیے جو کچھ ہوسکے، کرنا اور اپنے مریدوں کو بھی کام کرنے پر اُبھارنا۔ تم دونوں عثمانیوں میں سے ایک میرا جنازہ پڑھائے گا اور دوسرا عثمانی جناح صاحب کا جنازہ پڑھائے گا‘‘۔

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قیامِ پاکستان سے کئی برس قبل اللہ کو پیارے ہوگئے لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ پاکستان قائم ہوا، مولانا ظفر عثمانی نے تھانوی صاحب کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور سوا پانچ سال قبل کی گئی پیشین گوئی کے مطابق قائداعظمؒ کی نمازِ جنازہ مولانا شبیراحمد عثمانی نے پڑھائی۔ (ص ۳۵-۳۶)

ان دنوں ڈاکٹر صفدر محمود ایک کثیر الاشاعت اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔ اسی اخبار کے کچھ  بزعمِ خویش دانش ور کالم نویس وقتاً فوقتاً ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں کہ قائداعظم ایک سیکولر شخص تھے اور وہ پاکستان کو بھی سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے۔ انھوں نے اس موضوع پر بھی بحث کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قائداعظم نے اپنی تقریروں یا تحریروں میں کبھی لفظ ’سیکولرازم‘ استعمال نہیں کیا۔ ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر (جس کا سیکولرسٹ دانش ور سہارا لیتے ہیں) فی البدیہہ تھی اور خود قائد نے کہا تھا کہ یہ کوئی سوچا سمجھا بیان نہیں ہے۔

جب انھوں نے یہ کہا کہ آپ آزاد ہیں، مندر میں پوجا کریں، یا مسجد میں عبادت کریں۔ آپ کا کس مذہب، ذات یا عقیدے سے تعلق ہے، اس سے حکومت کو سروکار نہیں (ص۴۲)،     تو اس کے یہ معنٰی نہیں کہ پاکستان سے اسلام کو بے دخل کردیا جائے گا بلکہ مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ بطور شہری، مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی وغیرہ برابر کا درجہ رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر صفدرمحمود کہتے ہیں کہ قائداعظم کو اسلام سے گہرا لگائو تھا۔ اسلام ان کے تیقّن اور باطن کا حصہ تھا۔ انھوں نے قرآن اور سیرت کا گہرا مطالعہ کر رکھا تھا۔ اس ضمن میں انھوں نے قائداعظم کی تقریروں کے کچھ حوالے بھی دیے ہیں، مثلاً:

                ۱-            ’’اسلام پاکستان کے قانون کی بنیاد ہوگا اور پاکستان میں کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں ہوگا‘‘۔ (پشاور، نومبر ۱۹۴۵ئ)

                ۲-            ’’میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اسوئہ حسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبرؐ اسلام نے دیا ہے‘‘۔ (سبّی، بلوچستان، ۱۴فروری ۱۹۴۷ئ)

                ۳-            ’’میرا آپ تمام لوگوں سے یہی مطالبہ ہے کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہ کریں‘‘ ۔ (لاہور، ۳۰؍اکتوبر ۱۹۴۷ئ)

                ۴-            ’’میں ان لوگوں کے عزائم کو نہیں سمجھ سکا جو جان بوجھ کر شرارت کر رہے ہیں اور یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں ہوگی۔ ہماری زندگی پر آج بھی اسلامی اصولوں کا اسی طرح اطلاق ہوتا ہے جس طرح ۱۳۰۰ سال پہلے ہوتا تھا‘‘۔ (کراچی، ۲۵ جنوری ۱۹۴۸ئ)

اس طویل مضمون کے آخر میں ڈاکٹر صفدر محمود نے قارئین سے سوال کیا ہے: ’’اب آپ خود فیصلہ کرلیجیے کہ کیا قائداعظم ذہنی طور پر سیکولر تھے اور کیا وہ پاکستان کے لیے کسی سیکولر نظام کا خواب دیکھتے تھے؟‘‘

زیرنظر کتاب میں مصنف نے تصورِ پاکستان کے مختلف پہلوئوں، تعبیرات اور تحریکِ پاکستان کے مختلف عنوانات (تقسیم ہند کی تجویز، خطبۂ الٰہ آباد، قراردادِ لاہور، کابینہ مشن پلان) پر بھی بحث کی ہے۔ ان سب مباحث میں قائداعظم کی ذات، ان کی شخصیت اور ان کے بیانات و تقاریر کا حوالہ بار بار آیا ہے۔ آٹھویں مضمون بہ عنوان: ’قائداعظم سے منسوب غلط بیانات و احکامات‘ میں بعض بے بنیاد اور مشکوک روایات کو دلائل کے ساتھ رد کیا ہے، مثلاً قائداعظم سے ایک جملہ منسوب ہے: ’’پاکستان میں نے اور میرے ٹائپ رائٹر نے بنایا‘‘۔ ڈاکٹر صفدر محمود لکھتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل ہے، نہ کوئی حوالہ۔ ڈاکٹر مبارک علی نے ۲۵دسمبر ۲۰۰۱ء کو روزنامہ ڈان میں اپنے ایک مضمون میں قائداعظم سے یہ جملہ منسوب کیا تھا: He said that he and his typwriter made Pakistan۔ ڈاکٹر صفدر محمود کہتے ہیں کہ جب میں نے سوال کیا کہ حوالہ کیا ہے؟ تو جواب میں ڈاکٹر مبارک علی نے اعتراف کیا کہ اس جملے کی صحت کے لیے ان کے پاس کوئی تحریری ثبوت نہیں ہے، البتہ میں نے یہ بات مسلم لیگی لیڈر احمد سعید کرمانی سے سنی تھی۔ صفدر محمود صاحب کرمانی صاحب کے پاس پہنچے تو کرمانی نے مکمل نفی میں جواب دیا۔ وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی گفتگو لکھ کر ڈاکٹر مبارک علی کو بھیجی مگر انھوں نے چپ سادھ لی۔

راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر مبارک علی جیسے غالی اشتراکی کو ایسی ہی حرکت زیبا ہے۔ اس سے پہلے وہ اصلاحِ احوال کے لیے سرسیّداحمد خاں،شبلی اور اقبال جیسے اکابر کی کاوشوں کو     رد کرچکے ہیں۔ ان کے خیال میں سرسیّداحمد خاں جاگیردارانہ ذہن رکھتے تھے اور ان کی تمام تر کاوشوں کا مقصود مسلم عوام کی بھلائی نہیں،بلکہ امرا، زمین داروں اور جاگیرداروں کے مفادات کا تحفظ تھا۔ انھیں تو یہ بات بھی کھٹکتی اور بُری لگتی ہے کہ شبلی نے الفاروق، النعمان اور المامون لکھ کر مسلمانوں کو ان کے ماضی کی عظمت کا احساس دلا کر اپنی شان دار روایات پر ’ بے جا فخر‘ کرنا سکھایا۔ اور عبدالحلیم شرر نے تاریخی ناول لکھ کر ان میں مسلمانوں کی عظمت اور برتری کو پیش کیا‘۔  وہ مسلم فتوحات کو بھی ’سامراجیت‘ کے ذیل میں شمار کرتے ہیں۔

علامہ اقبال کی شاعری، ڈاکٹر مبارک علی کے نزدیک ’مغرب کے خلاف نفرت کے جذبات‘ پیدا کرتی ہے۔ اقبال جمہور دشمن تھے، معاشرے میں عورت کے صحیح مقام کا تعین نہیں کرسکے اور معاشرے کو کوئی مثبت پیغام دینے میں ناکام رہے۔ بحیثیت مجموعی ان کے افکار اور شاعری معاشرے کی ترقی اور شعور بیدار کرنے میں قطعی ناکام رہی ہے۔ (ملاحظہ ہو: ڈاکٹر مبارک علی کا کتابچہ سرسیّد اور اقبال: آگہی پبلی کیشنز، حیدرآباد، سندھ، ۱۹۸۴ئ)

وہ سندھ یونی ورسٹی میں تاریخ کے استاد تھے مگر وہاں ان کی دال نہیں گلی۔ لاہور کے بائیں بازو والوں نے انھیں خوش آمدید کہا۔ درحقیقت مبارک علی کا شمار قائداعظم کے بقول ’جان بوجھ کر شرارت‘ کرنے اور یہ پروپیگنڈا کرنے والوں میں ہونا چاہیے جو یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں ہوگی (ص ۴۷)۔ صفدر محمود صاحب نے مبارک علی کے اس جھوٹ کی بھی تردید کی ہے کہ قائداعظم کہتے تھے کہ میں پاکستان کا واحد خالق (sole creator) ہوں۔

اسی مضمون میں صفدر محمود صاحب نے قائداعظم سے منسوب اس فقرے ’’میری جیب میں کھوٹے سکّے ڈال دیے گئے ہیں‘‘ پر بھی بحث کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائداعظم نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی۔

راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ مذکورہ بالا جملے کے راوی میاں عبدالعزیز مالواڈہ ہیں، اور  ان کا بیان قلم بند کرنے والے سابق سیکرٹری مالیات حکومت ِ پاکستان جناب ممتاز حسن تھے، جو تحریکِ پاکستان کے پُرجوش مؤیّد اور محب ِ وطن پاکستانی تھے اور قائداعظم اور اقبال سے بے پایاں عقیدت رکھتے تھے۔ اس کا حوالہ ہے: نقوش لاہور کا اقبال نمبر، حصہ دوم،ص ۶۲۶،۱۹۷۷ئ۔

پروفیسر محمد منور نے بھی اس فقرے کو صحیح سمجھتے ہوئے اپنے مضامین میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ صفدر محمود صاحب غور فرمائیں کہ اِنھی کھوٹے سکّوں کی کثرت کی وجہ سے آج پاکستان اس حال کو پہنچا ہوا ہے، لہٰذا قائداعظم نے جب اور جس مناسبت سے بھی کھوٹے سکّوں کا ذکر کیا تو کچھ  غلط نہیں کیا۔کتاب کے آخر میں تین ضمیمے شامل ہیں۔

چودھری رحمت علی، تحریکِ آزادیِ ہند کے ایک اہم کردار تھے۔ جنوری ۱۹۳۳ء میں انھوں نے Now or Never (اب یا کبھی نہیں) نامی کتابچہ شائع کیا تھا جو ڈاکٹر صفدر محمود کے بقول: ’’پاکستان کے مقدمے کی ایک مکمل دستاویز‘‘ ہے۔ کتاب کے ضمیمہ نمبر ایک میں انھوں نے چودھری رحمت علی مرحوم کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ مسلمانوں کے لیے ایک نازک اور ایک حد تک مایوسی کے دور میں، وہ ایک پُرخلوص والہانہ جذبے سے برطانیہ کے مقتدر حلقوں تک پاکستان کا جواز ثابت کرنے اور پیغام پہنچانے میں لگے رہے۔ باستثناے اقبال اس وقت تک مسلمانوں نے ایک الگ اور آزاد مسلم ریاست کے بارے میں سوچا نہ تھا۔ ’’ Now or Never ہماری تحریکِ آزادی میں جلنے والا وہ چراغ ہے جس نے نہ صرف مسلمانوں کی منزل کی نشان دہی کی بلکہ مسلمانوں کی اجتماعی سوچ کی سمت بھی متعین کردی۔ اس لحاظ سے ہم بہ حیثیت قوم چودھری رحمت علی کے احسان مند ہیں‘‘ (ص۱۴۷)۔ آخر میں مصنف اظہار افسوس کرتے ہیں کہ چودھری رحمت علی کی جذباتی افتادِ طبع سے معاملہ بگڑ گیا۔ انھیں زمینی حقائق کا احساس نہ ہوا (انھوں نے ۳جون ۱۹۴۷ء کے تقسیم ہند منصوبے کو The greatest betrayal (عظیم ترین غداری) قرار دیا۔ انھوں نے قائداعظم کے خلاف زہر اُگلا۔ کاش تقسیم سے قبل وہ ہندستان آکر عملاً تحریکِ آزادی میں حصہ لیتے۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان آئے تو قدرتی طور پر خفیہ اداروں نے ان کی نگرانی کی، مایوس ہوکر واپس برطانیہ چلے گئے۔

ضمیمہ نمبر۲ میں قائداعظم کے اے ڈی بریگیڈیئر نوراے حسین کا ایک مضمون نقل کیا ہے جس میں انھوں نے قائداعظم سے منسوب بعض بے بنیاد باتوں کی تردید کی ہے۔

ڈاکٹر صفدر محمود کے یہ مضامین ان کے برسوں کے غوروفکر اور تحقیق کا ثمر ہیں۔ جیساکہ انھوں نے دیباچے میں لکھا ہے: ان کے اظہارخیال کا انداز واسلوب غیر روایتی ہے۔ بلاشبہہ قاری اس کتاب کے مطالعے سے بہت کچھ حاصل کرتا ہے۔ یہ احساس نہیں ہوتا کہ روپے کے ساتھ، وقت بھی ضائع کیا ہے۔

آخر میں صاحب ِ کتاب سے ایک شکوہ: کتاب کے عنوان میں لفظ ’اقبال‘ سب سے پہلے مگر آزادی یا قیامِ پاکستان میں ان کے حصے اور خدمات پر کوئی مکمل مضمون کتاب میں شامل نہیں ہے۔ قاری کو تیسرے ضمیمے میں خطبۂ الٰہ آباد پر صرف پروفیسر شریف المجاہد کا مضمون میسر آتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے ضمن میں کیا علامہ اقبال کی خدمات، قائداعظم سے کم ہیں؟

(اقبال، جناح اور پاکستان، ڈاکٹر صفدر محمود۔ ناشر: سنگِ میل پبلی کیشنز، لوئرمال، لاہور)

کسی معاشرے اور ماحول میں رونما ہونے والے واقعات اس معاشرے اوراس ماحول میں سانس لینے والوں پر اثراندازہوتے ہیں۔ اسی طرح کسی خطے یا علاقے کاموسم بھی وہاں کی انسانی طبیعتوں اورانسانی صحت پر اچھا یا برا اثر ڈالتاہے۔ اس کی ایک مثال جون، جولائی میں پڑنے والی کراچی کی قیامت خیز گرمی ہے، جس سے اہل کراچی شدیدطورپرمتاثر ہوئے اور ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افرادموسم کی تاب نہ لاتے ہوئے اللہ کوپیارے ہوگئے۔ اس موسمی شدت کی چند وجوہ ہیں:

۱- گذشتہ برسوں میں کراچی شہراورمتعددآبادیوں میں واقع پارکوں کو ختم کرکے اُن کے پلاٹ بناکر،عمارتیں اورپلازے کھڑے کرلیے گئے۔ پارکوں میں جتنے درخت اورپودے تھے،وہ سب تہِ تیغ ہوئے۔شاہراؤں کے ساتھ واقع سبزقطعات، سڑکوں کی توسیع کی زدمیں موت کے گھاٹ اُتر گئے اورسبزے اوردرختوں سے محروم ہوگئے اور نئے درخت نہیں لگائے گئے۔

۲- کراچی میں موٹرگاڑیوں،بسوںاورٹرالوںکی تعدادتقریباً۲۰لاکھ ہے۔اس میں سالانہ ۲۰ ہزارکے حساب سے اضافہ ہوتاہے۔یہ لاکھوںموٹریں،بسیں اورٹرالے بلکہ موٹرسائیکلیں،اپنے دھوئیں سے ماحول کوآلودہ اورفضا کوزہریلا بنانے میں اہم کرداراداکرتی ہیں۔

۳-مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے نئی نئی بستیاں وجود میںآئیں جن میں ہزارہا مکانات، عمارتیں، فلیٹ تعمیرکیے گئے یامصروف شاہراؤں اورپرانی آبادیوں میںاُونچے کئی کئی منزلہ پلازے تعمیرکیے گئے مگردرخت نہیں لگائے گئے یابہت کم لگائے گئے اوران کی بھی دیکھ بھال نہیں کی گئی۔

۴- ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں دورکرنے اوراسے رواں رکھنے کے لیے ’بالائی پُل‘  (اوورہیڈ) اور زیرزمین راستے(انڈرپاس) بنائے گئے۔ جب سورج حدّت دکھاتاہے،خصوصاً دوپہرکے وقت،تب اینٹ،پتھر،سیمنٹ اور لوہے سے تعمیرشدہ مکانات،پلازے،فلیٹ اور پُل خوب تپ جاتے ہیں، فضا گرم ہوجاتی ہے اور تارکول سے بنی سڑکیں ماحول کو زہریلی گیسوں سے بوجھل اورآلودہ بناتی ہیں۔ درخت اس حدت اور تپش کو کم کرتے ہیں مگر درختوں کا توہم نے پہلے ہی صفایاکرچھوڑاتھا لہٰذا زہریلی گیسوں کو کون جذب کرے اور آکسیجن کون مہیاکرے۔

فضا اور ماحول،اہل کراچی کے لیے ناقابل برداشت ہوگئے، جس کے نتیجے میں ہزاروں جانیں لقمۂ اجل بن گئیں۔جب کراچی’عروس البلاد‘کہلاتاتھااوریہ بہت پرانی بات نہیں ہے۔ کراچی میں مقیم معروف شاعر ماہرالقادری کراچی کے ماحول اورفضا سے اس قدرخوش تھے کہ انھوں نے ’کراچی نامہ‘ کے عنوان سے کراچی کے لیے ایک قصیدہ مدحیہ لکھا۔اس میں انھوں نے شہرکے حُسن وجمال اورخوب صورتی کا نقشہ کھینچا ہے۔چنداشعار دیکھیے:

کراچی ہے سب بستیوں کی دلھن

یہاں ہر طرف ہے نرالی پھبن

یہاں باغ اور سیرگاہیں بھی ہیں

یہاں چوک اور شاہراہیں بھی ہیں

۵-یہ عروس البلاد صدیوں میں بناتھا۔صدیوں کے ’بناؤ‘کوہم نے چند برسوں میں’ بگاڑ‘ میںبدل کررکھ دیا۔خیال رہے کہ ماحول کو بگاڑنے کی انفرادی کوشش سے اتنی خرابی پیدانہیں ہوتی لیکن جب چاروں طرف بکثرت سیمنٹ اور لوہے کی آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتیں اور جگہ جگہ اونچے اونچے پُل بنائے جائیں تو پھرفطرت بھی انتقام لیتی ہے۔

پاکستان کے کچھ اور بڑے شہروں(لاہور،اسلام آباد،ملتان،پشاور) میں جس طرح کے منصوبے بنائے گئے ہیں اور کچھ بنائے جارہے ہیں انھیں بروے کار لانے کے لیے ماحول دوست ہزاروں درختوں کو بے دردی کے ساتھ کاٹاگیا۔ لاہور میںنہرکے دونوں کناروں پرسڑکوں کووسیع کرنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں درخت کاٹے گئے ۔آخرکار ہائی کورٹ کو درخت کاٹنے پرپابندی لگانی پڑی۔ (برسبیل تذکرہ : سڑکوں کو محض چوڑا کرنے سے ٹریفک کا بہاؤ تیز نہیں ہوتا۔ پیرس اور لندن کی بہت سی سڑکیں ہماری سڑکوںکے مقابلے میں بہت کم چوڑی ہیں، مگر وہاں ٹریفک نہیں رُکتی۔ کیوں کہ قواعد کی سختی سے پابندی کرائی جاتی ہے۔یہاں تو خودٹریفک پولیس والے قوانین کی خلاف ورزی کررہے ہوتے ہیں۔)

کراچی میں درجۂ حرارت شاید ۴۹ درجے تک چلا گیاتھا۔ پنجاب اور سندھ کے دیہاتوں میں بعض اوقات درجۂ حرارت اس سے بھی زیادہ ہوتاہے لیکن وہاں گرمی کی شدت سے بہت کم اموات ہوتی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ دیہات کا ماحول آلودہ نہیں ہوتا۔ فضا صاف ستھری اور زہریلی گیسوں سے پاک ہوتی ہے۔چاروں طرف بکثرت سبزہ اور درخت موجود ہوتے ہیں جو رات کوزہریلی گیس جذب کرتے ہیں اور دن بھرآکسیجن چھوڑتے ہیں اور اس طرح ماحول کو صاف بناتے رہتے ہیں۔اس طرح ۲۴ گھنٹے انسانوں کی خدمت میںلگے رہتے ہیں۔

اچھے یا برے ماحول کا اثرانسانی طبیعتوں پر پڑتاہے۔جب دم گھٹے گا،ناک میں دھواں جائے گا، توعین ممکن ہے کسی کے لیے منہ سے کوئی برا لفظ نکل جائے یا بددعانکلے۔ اس کے برعکس اگر فضا خوش گوارہوگی،سبزہ، درخت اور پھول پھلواری نظر آئے گی تو طبیعت میں انبساط پیداہوگا۔ مجھے فضل کریم احمد فضلی کے ناول خون جگر ہونے تک کا ایک نمایاں کردار ذلیل الدّی یاد آرہا ہے، جو ایک غریب شخص تھا مگر بلبل کی آواز سن کر خوش ہوتااور جھوم جھوم جاتا۔ پھردن یارات کے کسی لمحے وہ تصور ہی تصور میں بلبل کی آواز کو یاد کرکے ایک خودساختہ مصرع پڑھا کرتاتھا  ع

بلبل کی چیں چیّ میں آوازِ مرحبا ہے

کائنات میں سب سے اہم چیز کیاہے؟ ’انسان‘ اگر وہی پریشان ہے،مضطرب اور بے چین ہے اور فضائی آلودگیوں کے سبب طرح طرح کے امراض کا شکار ہورہاہے تو پھریہ ترقی، تیزرفتار میٹرو، اُونچے اُونچے پلازے اور دولت کی ریل پیل سب کچھ ہیچ ہے۔ اگر ماحول بہتر نہ بنایا گیاتو بیماریاں بڑھتی جائیں گی۔طرح طرح کے وائرس اور جراثیم انسان کو سکون کاسانس نہیں لینے دیں گے۔

یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ بڑے شہروں کے ماحول کوبہتر بنانے،موجودآلودگیوں کو کم کرنے اور مزید آلودگیوں سے بچانے کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوششیں کرنی چاہییں۔جس حد تک ممکن ہو ماحول دشمنانہ اقدامات کو قوت اور طاقت سے روکنا چاہیے (اگر سیاسی پارٹیاں اس مسئلے کا ادراک کرلیں تو ان کا احتجاج مؤثر اور ان کی کوششیں کامیاب ہوسکتی ہیں)۔ اگر قوت نہیں ہے تو زبان ہی سے،تقریروں اور تحریروں کے ذریعے احتجاج فرض ہے کیوں کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔

روشنی کا سفر(اوّل، دوم) ،مؤلف: کرنل (ریٹائرڈ) محمد پرویز۔ ناشر: جمہوری پبلی کیشنز، ۲-ایوانِ تجارت روڈ، لاہور۔ فون: ۳۶۳۱۴۱۴۰-۰۴۲۔ صفحات:جلداوّل: ۷۶۲، جلددوم: ۵۰۴۔ قیمت (علی الترتیب): ۱۲۵۰ روپے، ایک ہزار روپے۔

روشنی کا سفر اسلام کی بنیادی تعلیمات کے موضوع پر دو جلدوں پر مشتمل ایک ایسی کتاب ہے جسے مؤلف نے بڑی محنت و محبت سے اس احساس کے ساتھ مرتب کیا ہے کہ مختلف   علما کی تفاسیر اور تحریروں میں ایسے خزینے مدفون ہیں جو اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کے معروف استاد مولانا محمد اکرم کشمیری صاحب نے اس پر نظرثانی کی ہے۔ دونوں جلدوں کو الگ الگ عنوان دیا گیا ہے۔ جلداوّل کا نام ’الحکمہ‘ ہے اور جلد دوم کا نام ’الاساس‘ ہے۔

جلداوّل میں توحید، تخلیقِ کائنات، انسان اور اس کا مقصد ِتخلیق، حضرت آدم ؑ، حضرت ابراہیم ؑ کے بعد حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ، سیرتِ طیبہ، ختم نبوت اور مقصد ِ بعثت کے بارے میں تفصیلی بیان ہے۔ اسی طرح ازواجِ مطہرات، قرآنِ مجید، صفات المومنین بالخصوص اطاعت ِ رسولؐ، انفاق فی سبیل اللہ، احسان، عدل، آثارِ قیامت اور احوال جنت و جہنم کوبھی موضوع بنایا گیا ہے۔ دوسری جلد میں عقائد ِ اسلام، فریضہ اقامت ِدین، اسلامی حکومت کی ضرورت، اہمیت، فرضیت ، اسلامی حکومت کے ادارے اور اسلام کے معاشی نظام پر قرآن و حدیث کی تعلیمات جمع کی گئی ہیں۔

دونوں کتابوں کا حُسن یہ ہے کہ ان میں معروف مفسرینِ قرآن اور اہلِ علم و دانش کی تحریروں سے استفادہ کرتے ہوئے انھیں خوب صورت پیرایے میں ضبط تحریر میں لایا گیا ہے۔ کتاب کے دائرۂ استفادہ کو بڑھانے کے لیے قرآن کے انگریزی تراجم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ ایک قابلِ قدر کاوش اور قابلِ تعریف تحقیقی کام ہے۔مصنف کا ہدف ایک پڑھا لکھا فرد بالخصوص نوجوان ہے۔ انھوں نے استدلال کا پیرایہ اختیار کیا ہے تاکہ فہم و فراست کی دہلیز پر عقائد کے چراغ روشن ہوسکیں۔ تاہم قیمت زیادہ ہے۔(فریداحمد پراچہ)


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مستشرقین کے اعترافات، تالیف: حمیداللہ خان عزیز۔ ناشر: ادارہ تفہیم الاسلام، احمدپور شرقیہ، ضلع بہاول پور۔ صفحات:۲۳۰۔ قیمت: درج نہیں۔

یورپ میں مستشرقین نے حضور اکرمؐ کی شخصیت پر گذشتہ دو صدیوں میں خصوصی توجہ دی ہے اور ہر پہلو سے آپؐ کی ذات و صفات کو زیربحث لاکر نئے نئے نکات پیدا کیے ہیں۔اُردو زبان میں سرسیداحمدخاں نے سیرت النبیؐ پر مغربی مصنفین کے اعتراضات کے مدلل جواب تحریر کیے۔     شبلی نعمانی اور سیّد سلیمان ندوی نے بھی سیرت النبیؐ پر مستشرقین پر گرفت کی ہے۔

زیرنظر کتاب میں مغربی مصنفین کے اعتراضات کے بجاے ان پہلوئوں کو اُجاگر کیا گیا جس میں انھوں نے حضور اکرمؐ کی تعریف وتحسین کی ہے اور آپؐ کے کمالات کا اعتراف کیا ہے۔ مؤلف نے یہ کتاب رسولؐ اللہ کے تقدس اور ان کی عظمت کی بلندی کے لیے تحریر کی ہے۔

کتاب چھے ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب: سیرتِ محسنِ اعظمؐ اور اہلِ عرب، دوسرا باب: محسنِ اعظمؐ کے بارے میں مغرب کے معاندانہ رویے، تیسرا باب: حضور اکرمؐ کی تعلیمات اور مذہب عیسائیت کا تقابلی مطالعہ، چوتھا باب: اسلام اور عیسائیت میں مذہبی رواداری کا تقابلی جائزہ، پانچواں باب: مغرب کی انکوئزیشن (تعذیب و مظالم)کے ظالمانہ عمل کا فتح مکہ کے حوالے سے حضور اکرمؐ کے عفوودرگزر سے موازنہ۔ چھٹا باب: حضور اکرمؐ کے متعلق مستشرقین کے اعترافات۔

کتاب میں سیرت النبیؐ پر مغربی مصنفین کی کتب سے اقتباسات مع ترجمہ بھی شامل ہیں۔ جارج برنارڈشا کا یہ اعتراف لائقِ مطالعہ ہے کہ ’’میں نے محمدؐ کے دین کے متعلق پیش گوئی کی ہے کہ کل یورپ اسے اسی طرح قبول کرے گا جیسے آج کے یورپ نے اسے (غیرشعوری طور پر) اپنانا شروع کردیا ہے‘‘ (ص ۱۶۷)۔ ان کا یہ قول بھی یورپی طرزِفکر کی نقاب کشائی کرتا ہے: ’’زمانہ وسطیٰ کے پادریوں نے جہالت یا اندھے مذہبی تعصب کی وجہ سے محمدؐ کے لائے ہوئے دین کو انتہائی گھنائونی شکل میں پیش کیا ہے‘‘۔

فلپ ہٹی کا یہ قول اعترافِ حقیقت کا اعلان کرتا ہے: ’’محمدؐ عربی کے سوا اور کسی پیغمبر ؑکو یہ خصوصیت حاصل نہیں ہوئی اور نہ کوئی اُمت کرئہ ارضی پر ایسی موجود ہے، جو اپنے پیغمبر ؑ اور ان کی آل پر شب و روز کے ہر حصے میں تواتر و تسلسل کے ساتھ درود و سلام بھیجتی ہو‘‘ (ص ۲۰۸)۔ آخری باب میں ۶۴ اعترافات دیے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور اکرمؐ کی ذات والاصفات ایسی خصوصیات کی حامل ہے جن کی صداقت کا اعتراف غیرمسلم بھی کرتے ہیں۔(ظفر حجازی)


معروف و منکر، مولانا سیّد جلال الدین عمری۔ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،دعوت نگر، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی، بھارت۔صفحات:۳۱۲۔ قیمت: ۱۸۵ بھارتی روپے۔

عالمی تحریکاتِ اسلامی کی دعوت کی بنیاد امربالمعروف کا فریضہ ہے۔ یہ تحریکات اللہ کے بندوں کو جس چیز کی دعوت دیتی ہیں، اسے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اُمت مسلمہ کا مقصدِوجود قرار دیا ہے (اٰلِ عمرٰن۳:۱۱۰) ۔گویا اُمت مسلمہ وہ بھلائی والی اُمت ہے جس کا بنیادی کام لوگوں کو بھلائی، سچائی، حق اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اطاعت کی طرف بلانا اور انسانی معاشرے سے ظلم و استحصال اور برائی کا مٹانا ہے۔

مولانا جلال الدین عمری علمی حلقوں میں ایک ممتاز مقام کے حامل ہیں اور حقیقی معنی میں علماے سلف کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ انھوں نے یہ کتاب ۱۹۶۷ء میں تصنیف فرمائی تھی۔ اب تقریباً ۴۷سال بعد نظرثانی اور اضافوں کے ساتھ اسے کتاب کی جدید ترتیب کے ساتھ طبع کیا گیا ہے۔  کتاب کا ہرہرلفظ انتہائی ذمہ داری کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے اور ۱۰؍ابواب میں ذیلی موضوعات قائم کرکے موضوع کے مختلف پہلوئوں کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

مولانا نے معروضی طور پر مفسرین، فقہا اور مفکرین کی آرا کو مکمل حوالوں کے ساتھ یک جا کیا ہے اور ان کی روشنی میں راہِ اعتدال اختیار کرتے ہوئے اپنے موقف کو پیش کیا ہے۔ عموماً یہ تصور پایا جاتاہے کہ امر بالمعروف ایک فرضِ کفایہ ہے اور اس راے کے حامل شاطبی اور امام ابن تیمیہ جیسے فقہا ہیں۔ دوسری جانب امام غزالی اسے واجب قرار دیتے ہیں۔ اسی موقف کو شیخ عبداللہ دراز نے اختیار کیا ہے کہ دعوتِ خیر کا کام ہر مسلمان پر واجب ہے کیونکہ اس فرض کو انجام دینا حقیقت میں دین کی ایک عمومی مصلحت کو پورا کرناہے اور اس کے پورا کرنے کا مطالبہ فی الجملہ سب ہی کے لیے ہے۔(ص ۶۶)

ایک اہم پہلو جو محترم مولانا نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے ، یہ ہے کہ شہادت علی الناس کے فریضے میں امربالمعروف شامل ہے کیونکہ اس کے بغیر شہادتِ حق کا فرض ادا نہیں ہوسکتا (ص۱۰۰)۔ یہ حکم حالات کی تبدیلی کا پابند نہیں ہے، چنانچہ اس کی فرضیت جس طرح مکہ مکرمہ میں تھی ، اتنی بلکہ اس سے زیادہ مدینہ منورہ میں رہی۔ گویا مسلمان دنیا کے کسی خطے میں ہوں، ان کی تعداد اور ان کا قیام مغرب میں ہو یا مشرق میں، انھیں یہ فرض ادا کرنا ہوگا۔

اس سے آگے بڑھ کر اسلامی ریاست کی ذمہ داریوں میں ایک اہم فریضہ امربالمعروف کا ہے اور اگر غور کیا جائے تو قرآنِ کریم اسے صلوٰۃ اور زکوٰۃ سے متصل بیان کرتا ہے۔ چنانچہ سورئہ حج میں فرمایا گیا کہ اگر اہلِ ایمان کو زمین میں اقتداردیا جائے تو ان کے فرائض میں صلوٰۃ کا نظام قائم کرنا اور زکوٰۃ کا نظام رائج کرنے کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض ادا کرنا لازم ہے۔

اس آیت پر غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ گو امربالمعروف ہر حالت میں کیا جائے گا لیکن اقتدار کے حصول کے بعد اسے اس کے تمام حقوق کی ادایگی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے کیونکہ قوتِ نافذہ کے بغیر اس کے بعض مطالبات پورے نہیں کیے جاسکتے۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ریاست کے اس فریضے کو وضاحت سے بیان کیا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کے قیام میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمام ارکانِ دین کو قائم کرایا جائے، اور معروف کے حکم میں یہ بھی شامل ہے کہ علومِ دین کو زندہ کیا جائے، جہاد کیا جائے، حدود و تعزیرات کونافذ کیا جائے کیونکہ اس کے بغیر نہی عن المنکر کے مطالبات پورے نہیں ہوسکتے۔ (ص ۱۴۰-۱۴۳)

شیخ عبدالقادر عودہؒ شہید بھی اسی راے کے حامل ہیں کہ امربالمعروف میں پوری شریعت شامل ہے لیکن اس فریضے کی ادایگی کرتے ہوئے خوداپنا جائزہ اور اپنے عمل سے ثبوت فراہم کرنا امربالمعروف کی روح ہے۔ قرآن کریم نے اس پہلو کو ایک جملے میں بیان کردیا کہ کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ (البقرہ۲:۴۴)

امربالمعروف کے فریضے کی ادایگی ہرسطح پر فرض ہے۔ چنانچہ ایک شخص کا دائرۂ اختیار جس حد تک ہوگا، وہ اسی حد تک جواب دہ ہوگا۔ تحریکِ اسلامی کے ہر کارکن اور قائد کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔ قیادت چونکہ دوسروں کے لیے مثال کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے دین کے اس بنیادی مطالبے کو اچھی طرح سمجھے بغیر دعوتِ حق کا کام صحیح طور پر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ یہ کتاب بنیادی تحریکی تصورات کو واضح کرنے میں غیرمعمولی مدد فراہم کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ محترم مولانا کو اس کا بہترین اجر دے اور دعوتِ دین کو پیش کرنے کے مزید مواقع سے نوازے۔(ڈاکٹر انیس احمد)


شیئرز بازار میں سرمایہ کاری، موجودہ طریقۂ کار اور اسلامی نقطۂ نظر، ڈاکٹر عبدالعظیم اصلاحی۔ ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی۔ ملنے کا پتا: ڈی ۳۰۷، دعوت نگر، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی، بھارت۔ فون: ۲۶۹۵۴۳۴۱۔ صفحات: ۱۵۲۔ قیمت: ۸۰بھارتی روپے۔

دورِ جدید میں اسٹاک مارکیٹ یا شیئرز بازار کو کسی بھی ملک معیشت کا درجۂ حرارت کہا جاتا ہے۔ کاروبار ترقی کر رہے ہوں تو شیئرز بازار میں اچھے حالات دیکھے جاتے ہیں اور کاروباری حالات کی خرابی کا اثر شیئرز بازار پر مرتب ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ملکی سیاسی حالات اور بین الاقوامی مالیاتی و سیاسی تبدیلیاں بھی اس بازار پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ اس کاروبار سے ہر ملک میں لاکھوں افراد وابستہ ہوتے ہیں۔ مزیدبرآں دورِ جدید کی بہت سی خرابیاں اور غیرشرعی معاملات اس بازار میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن اُردو زبان میں اس موضوع پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک مختصر رسالہ مولانا تقی عثمانی نے۱۹۹۴ء میں لکھا۔ اس کے بعد ایک تفصیلی کتاب جناب عبدالعظیم اصلاحی نے ۱۹۹۹ء میں لکھی اور دہلی (بھارت) سے شائع ہوئی۔ اس کتاب میں شیئرز بازار کی تعریف سے لے کر اس کے عملی پہلوئوں اور خرابیوں کا تذکرہ کرنے کے بعد مصنف نے اس موضوع پر اسلامی نقطۂ نظر کو بھی پیش کیا، جس میں مختلف علما کی آرا بھی شامل کی گئیں۔

اس کتاب کی خوبی یہ تھی کہ اسلامی معاشیات کے حوالے سے وقیع ترین شخصیت جناب ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے دیکھا اور پسند فرمایا اور یہ تبصرہ کیا کہ ’’اصلاحی صاحب نے اس کتاب میں شیئرز کی ماہیت اور شیئرز بازار کا عمل سمجھانے کی بھی کوشش کی ہے اور اس سے متعلق علما کی رائیں بھی نقل کردی ہیں جس سے ایک بڑی کمی پوری ہوگئی ہے۔ مگر ان کا اصل کام ان کی اپنی رائیں اور دوسروں کی رائیں کا تنقیدی جائزہ ہے، جسے مَیں نے متوازن اور معقول پایا ہے‘‘۔

زیرتبصرہ کتاب کا نظرثانی شدہ اڈیشن جنوری ۲۰۱۴ء میں شائع ہوا ہے جس میں    صکوک کے موضوع پر ایک باب کا اضافہ بھی کیا گیا ہے اور کچھ فصلوں کا اضافہ شیئرز بازار میں روزمرہ ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ اس طرح گذشتہ ۱۵برسوں میں شیئرز بازار میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق آرا کا اضافہ بھی کردیا گیا ہے، جس سے اس کتب کی وقعت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس لحاظ سے اس میدان میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک اچھی گائیڈ مارکیٹ میں مہیا ہوگئی ہے، اور محققین کے لیے بھی ایک راہ متعین ہوگئی ہے۔ (ڈاکٹر میاں محمد اکرم)


پاکستان کی روحانی اساس، پروفیسر محمد یوسف عرفان۔ ناشر: سنگت پبلشرز، ۲۵-سی، لوئر مال، لاہور۔فون: ۳۷۳۵۸۷۴۱-۰۴۲۔ صفحات:۲۳۶۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔

پروفیسر محمد منور (م: ۲۰۰۰) معروف ادیب، شاعر، مترجم اور خطیب تھے اور علامہ اقبال، قائداعظم، دو قومی نظریہ اور نظریۂ پاکستان کے متخصص تھے۔ ان کی جملہ تصانیف انھی موضوعات کی تشریح و تعبیر پر مبنی ہیں۔پروفیسر محمد یوسف عرفان (استاد شعبۂ انگریزی، اسلامیہ کالج سول لائنز، لاہور) ان کے تربیت یافتہ اور خاص شاگرد ہیں۔ ان کی زیرنظر کتاب کے مضامین بھی انھی موضوعات کے گرد گھومتے ہیں (پاکستان کی روحانی اساس، پاکستان اور ریاست مدینہ، علامہ اقبال ایک کامل صوفی، اقبال، جہاد اور یہودیت وغیرہ)۔ پاکستان کے قیام میں علامہ اقبال کی فکری رہنمائی اور قائداعظم کی عملی جدوجہد شامل ہے۔ پاکستان کی بقا اور استحکام کے لیے جنرل محمد ضیاء الحق اور ڈاکٹرنذیراحمد قریشی مستعد اور کوشاں رہے۔

کتاب کا ایک ایک حصہ مؤخرالذکر دو صاحبوں کی خدمات اُجاگر کرنے کے لیے وقف کیا گیا ہے۔ یوسف عرفان بھی اپنے استاد پروفیسر محمد منور کی طرح جنرل محمد ضیاء الحق کو ’عالمِ اسلام کا عظیم ہیرو‘ سمجھتے ہیں جو ’’بیرونی اور اندرونی سازش کا شکار ہوگیا‘‘۔ ان پر پانچ مضمون شامل ہیں (جن میں سے ایک پروفیسر محمد منور کے قلم سے ہے)۔ نذیر احمد قریشی، ایک صاحب ِدل اور    ’اللہ والے بزرگ‘ تھے۔ مرزا صاحب سے ان کی صحبت رہتی تھی اور دونوں اکثر شام اکٹھے گزارتے تھے۔ کبھی کبھی یوسف عرفان بھی ساتھ ہوتے۔ مستقبل کے بارے میں ان کی باتیں او ر پیش گوئیاں (جیسے جارج بش صدر بنیں گے، افغانستان میں جہاد کے بعد فساد ہوگا، پاکستان میں مارشل لا لگے گا) بالعموم درست ثابت ہوتی تھیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس کتاب کو ’اَنمول دستاویز‘ قرار دیا ہے۔ جنرل حمید گل، راجا ظفرالحق، مفتی لطف اللہ، مجیب الرحمن شامی اور جسٹس (ر) نذیراحمد غازی ایسے ثقہ بزرگوں اور اہلِ قلم نے کتاب کی تعریف و تحسین کی ہے۔ مصنف کے اپنے بقول: ’’ان کی دیگر بہت سی کتب کا مواد تیار ہے‘‘۔ درخواست ہے کہ انھیں بھی (کاہلی برطرف کرتے ہوئے) شائع کرا دیجیے۔(رفیع الدین ہاشمی)


تنقیدی افکار، شمس الرحمن فاروقی۔ ناشر: یکن بکس، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون:۳۷۳۲۰۰۳۰-۰۴۲   + گلگشت کالونی ، ملتان: فون: ۶۵۲۰۷۹۱-۰۶۱۔ صفحات: ۳۶۰۔ قیمت: ۵۴۰ روپے

جناب شمس الرحمن فاروقی دورِحاضر کی معروف اور نام وَر ادبی و علمی شخصیت ہیں۔ بنیادی طور پر وہ نقاد ہیں لیکن تحقیق، لغت، شرح، افسانہ نویسی اور ناول نگاری میں بھی ان کی بلندپایہ نگارشات اور عالمانہ تحقیقی کاموں کونظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بھارت میں سول سروس کے اُونچے عہدے سے  کئی برس پہلے وظیفہ یاب ہوکر الٰہ آباد میں مقیم ہیں۔ طویل عرصے تک ادبی رسالہ شب خون نکالتے رہے۔ ان کی مختلف النوع تصانیف و تالیفات کی تعداد صحیح تو معلوم نہیں مگر ۳۰، ۴۰ سے کم   نہ ہوں گی۔زیرتبصرہ کتاب کا یہ تیسرا اڈیشن کُل ۱۳ مضامین پر مشتمل ہے۔

دیباچے میں فاروقی صاحب نے اسے ادب کے ’نظری مباحث‘ پر مشتمل ’نظری تنقید‘ کی کتاب قرار دیا ہے۔ پہلے مضمون کا عنوان ہے : ’کیا نظریاتی تنقید ممکن ہے؟‘ فاروقی صاحب کا خیال ہے کہ پچھلی نسل کے تمام نقاد بشمول حالی کسی نہ کسی حد تک موضوعی اور موضوعاتی دھوکے میں گرفتارتھے۔ موضوع کی اچھائی یا بُرائی سے ادب کا معیار متعین نہیں ہوتا اور کسی مخصوص فلسفے یا نظریے کا اظہار فن پارے میں کرنا تضیع اوقات ہے۔ اس پیمانے سے فاروقی صاحب نظریاتی تنقید کو رد کرتے ہوئے ترقی پسند نقادوں پر گرفت کرتے ہیں۔

ایک تفصیلی مضمون مسعود حسن رضوی ادیب کی کتاب ہماری شاعری پر ہے۔ ان کے خیال میں یہ کتاب نظریہ سازی اور کلیہ تراشی کی ایک غیرمعمولی کوشش ہے۔ دیگر مضامین کے عنوانات اس طرح ہیں:’ارسطو کا نظریہ ادب‘، ’نثری نظم یا نثر میں شاعری‘، ’نظم کیا ہے؟‘، ’داستان اور ناول: بعض بنیادی مباحث‘۔ ۵۷صفحات پر مشتمل طویل مضمون ’اصنافِ سخن اُردو لغات اور لغت نگاری میں‘ انھوں نے اُردو لغت نگاروں اور اُردو لغات کی خامیوں کی کوتاہیوں کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور نتیجہ یہ نکالا ہے کہ اس وقت تک تمام لغات نقصِ فکر اور نقصِ عمل کا نمونہ ہیں، اس لیے ہمیں اس مردِ غیب کا انتظار کرنا چاہیے جو ایک اطمینان بخش لغت تیار کرے گا۔

شمس الرحمن فاروقی کی تحریر ہمیشہ ایک تازگی اور ندرت کا احساس دلاتی ہے۔ وہ نہ صرف اُردو ادب (بشمول کلاسکی ادب) کا بلکہ فارسی اور انگریزی ادبوں کا بھی وسیع مطالعہ رکھتے ہیں۔ ’اواخرصدی میں تنقید پر غوروخوض‘‘ میں انھوں نے مغرب کی اہم فکری اور ادبی کتابوں اور جدید ادبی نظریات کا ذکر کیا ہے۔ فوکو اور دریدہ کے خیالات و نظریات پر بھی بحث کی ہے۔ آخر میں بڑی خوب صورت بات کہی ہے کہ ’’آج ہمارے لیے ایک بڑا کام یہ ہے کہ اپنی تہذیبی میراث کی قدروقیمت کو پھر سے قائم کریں اور اس سلسلے میں کلاسکی شعریات کو اسٹیج کے مرکز پر لانا ناگزیر ہے‘‘۔

تنقید خصوصاً نظری تنقید ایک خشک موضوع ہے جیسے پڑھنا پڑھانا آسان نہیں ہوتا مگر فاروقی صاحب کے یہ مضامین اتنے دل چسپ پیرایے میں لکھے گئے ہیں کہ ادب کے باذوق قاری کو پڑھتے ہی بنتی ہے۔ بیکن بکس نے کتاب اچھے معیار پر شائع کی ہے۔ کتاب میں اشاریہ بھی شامل ہے جو اس کی اضافی خوبی ہے۔ آخری صفحے پر فاروقی صاحب نے ترقیمہ لکھ کر کلاسکی ادب اور مخطوطات سے اپنی دل بستگی کا اظہار کیا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


مشاہیرِ ترک، ڈاکٹر دُرمش بلگر۔ ناشر: رومی چیر براے ترکی زبان و ثقافت، پنجاب یونی ورسٹی، علامہ اقبال (اولڈ) کیمپس، لاہور۔ صفحات: ۲۰۰۔ قیمت:۵۰۰ روپے۔

اگر سوال کیا جائے کہ کس اسلامی ملک سے پاکستان کے سب سے زیادہ قریبی، دلی اور ذہنی تعلقات چلے آرہے ہیں؟ تو جواب ایک ہی صحیح ہوگا:ترکی__ وجوہ بہت سی ہیں مگر بنیادی   اور اہم ترین وجہ تحریکِ خلافت میں ہندی مسلمانوں کا ترکوں سے اظہارِ یک جہتی ہے۔ پھر   سقوطِ خلافت ِ عثمانی پر ہندی مسلمانوں کا شدید رنج و غم کا اظہار بھی ایک اہم وجہ تھی۔ چنانچہ ہمارے تمام تر زوال و اِدبار کے باوجود، ترک عوام پاکستان سے غیرمعمولی محبت رکھتے ہیں۔ سلطنت ِ عثمانیہ (اور ماقبل دور) میں ترکی کی بعض شخصیات نے اپنے اپنے شعبوں میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ پروفیسر دُرمش بلگر تین سال سے پنجاب یونی ورسٹی میں قائم مسند رومی پرفائز ہیں۔ ان کی زیرنظر کتاب ۳۰ ترک شخصیات کے تعارف اور کارناموں پر مشتمل ہے۔ ان میں علماے دین ہیں، مصلحین اُمت اور صوفیاے کرام کے ساتھ دانش ور اور سائنس دان بھی ہیں مگر سب باکمال لوگ ہیں، مثلاً ریاضی دان اور ماہرفلکیات الغ بیگ (۱۳۹۳ئ-۱۴۴۹ئ) جو تیمور کی نسل سے تھے، ۳۸سال تک سمرقند کے حاکم رہے۔ حکمرانی کے ساتھ علم دوست ایسے کہ علمی موضوعات پر اہلِ علم کے ساتھ مناظرہ کیا کرتے۔ ایک رصدگاہ قائم کی، اس کے سائنسی تجربات اور مشاہدات پر مبنی کتاب زیجِ گورکانی بہت معروف ہے۔ ان کے دور میں علمِ فلکیات میں بہت ترقی ہوئی اور فلکیات کے جدید آلات ایجاد ہوئے۔ الغ بیگ کا حافظہ اتنا تیز تھا کہ جس کتاب کو ایک بار پڑھ لیتے، وہ انھیں حرف بہ حرف یاد ہوجاتی۔

اسی طرح اولیاچلبی (۱۶۱۱ئ-۱۶۸۲ئ) تاریخ کو نیا رُخ دینے والے ترک سیاح تھے۔ انھوں نے مجموعی طور پر ۵۰سال تک سیروسیاحت میں گزارے۔ شرقِ اوسط، یورپ اور افریقہ کے بیش تر ممالک کی سیر کی اور باریک بینی سے کیے گئے مشاہدات اپنی کتاب سفرنامہ میں قلم بند کیے جو ۱۰جلدوں پر محیط ہے۔ پہلی جلد ۱۸۹۶ء میں اور آخری جلد ۱۹۳۸ء میں منظرعام پر آئی۔ مشاہیر ترک میں معروف دینی شخصیات بدیع الزماں نورسی (۱۸۷۸ئ-۱۹۶۰ئ) کا ذکر ہے اور زمانۂ حاضر کے ایک استاد، محقق، ادیب اور اقبال شناس عبدالقادر کراخان (۱۹۱۳ئ-۲۰۰۰ئ) کے حالات بھی شامل کتاب ہیں جو کلاسیکی ترکی ادب کے ساتھ ’’لوک ادب، تاریخ، حدیث اور دیگر اسلام علوم کے علاوہ ایرانی علوم میں بھی یکتا تھے‘‘(ص ۹۱)۔ اسی طرح سلطنت ِ عثمانیہ کے سب سے بڑے ماہر تعمیرات سنان (۱۴۹۰ئ-۱۵۸۸ئ) کے تعمیری کارناموں کا تذکرہ ہے۔ انھوں نے بیسوں جامع مساجد، مدرسے، دارالقرا، مقبرے، حمام، نہریں، ہسپتال، پُل اور مہمان سرائیں تعمیر کرائیں۔ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ ہم دنیاے اسلام کے مشاہیر ہی سے نہیں، مسلم تاریخ سے بھی ناواقف ہیں۔ کیونکہ ہمارے ہاں رجال کے تذکروں اور مشاہیر پر کتابوں میں ان مایہ ناز ہستیوں کا ذکر نہیں ملتا۔ طلبا کے لیے خاص طور پر اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔ مشاہیر کی تصاویر بھی شاملِ کتاب ہیں۔ (رفیع الدین ہاشمی)

وابستگانِ اُردو زبان و ادب خصوصاً ادب اسلامی سے دل چسپی رکھنے والوں اور تحریکِ اسلامی کے حلقوں کے لیے ڈاکٹر سیّد عبدالباری (شبنم سبحانی) کی رحلت (یکم ستمبر ۲۰۱۳ء) ایک بڑا الم ناک سانحہ ہے۔ وہ ایک بلند پایہ ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ بنیادی طور پر وہ ایک معلم تھے اور اس حیثیت سے انھوں نے ہزاروں تلامذہ کی تعلیم و تربیت کی۔ وہ تحریک ادب اسلامی ہند کے قافلہ سالاروں میں سے تھے۔ مسلسل ۲۴ برس وہ ادارہ ادب اسلامی ہند کے صدر اور تقریباً ۳۷ برس سیکرٹری جنرل رہے۔

سیّد عبدالباری ۷ ستمبر ۱۹۳۷ء کو یو پی کے ضلع فیض آباد کے ایک قصبے ٹانڈا میں پیدا ہوئے۔ گورکھ پور یونی ورسٹی سے بی اے کیا۔ پھر وہیں سے ایم اے اُردو اور ایم اے انگریزی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ایم اے اُردو میں انھوں نے لکھنؤ یونی ورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ بعد ازاں اسی لکھنؤ یونی ورسٹی سے انھیں اُردو میں پی ایچ ڈی کی سند عطا ہوئی۔ اس سے پہلے چند سال تک وہ رام پور کی ثانوی درس گاہ اور مدرسۃ الاصلاح سراے میر، اعظم گڑھ سے عربی زبان و ادب کی تحصیل کرتے رہے تھے۔ مدرسۃ الاصلاح میں انھیں عروج احمد قادری، جلیل احسن ندوی اور صدر الدین اصلاحی جیسے علما سے کسبِ فیض کا موقع ملا اور رام پور میں انھیں مائل خیرآبادی، مولانا عبدالحی، افضل حسین اور مولانا حامد علی کی راہ نمائی حاصل رہی۔

ابتدا میں وہ انگریزی کے لیکچرر رہے۔ بعدازاں اودھ یونی ورسٹی فیض آباد سے ملحق گنپت سہاے پوسٹ گریجویٹ کالج سلطان پور میں طویل عرصے تک اُردو کے استاد رہے اور یہیں سے بطور صدر شعبہ اُردو وظیفہ یاب ہوئے۔

درس و تدریس کے ساتھ شاعری اور تنقید ادب کے شعبوں میں بھی ان کا قلم برابر رواں رہا۔ ان کا قلمی نام ’شبنم سبحانی‘ تھا۔ ۲۰۰۹ء میں ۵۵ سال کی منتخب نظموں کا مجموعہ فکر انگیز  شائع کیا۔ ان نظموں میں فن پر فکر کو فوقیت دی گئی ہے۔ لیکن بیش تر منظومات سے ان کی شاعری کی تاثیر، اس کی فنی دل کشی اور فکر انگیزی کا اندازہ ہوتا ہے۔

ان کا دوسرا شعری مجموعہ طرب خیز  غزلوں پر مشتمل ہے۔ بحیثیت مجموعی ان کی شاعری ایمان و یقین اور امید و روشنی کی شاعری ہے اور قاری کو حوصلہ، عزم اور ولولہ عطا کرتی ہے۔ انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں، نہایت کامیاب مشقِ سخن کی ہے۔

بعدازاں شاعری سے قدرے بے رخی برتتے ہوئے وہ نثر نگاری کی طرف متوجہ ہوئے۔ ’شبنم سبحانی‘ نے قلم رکھ دیا اور ’سیّد عبدالباری‘ نے قلم سنبھال لیا۔ بقول ڈاکٹر نیاز سلطان پوری: ’’شاعر پر نثر نگار غالب آگیا اور اپنے اصل نام سے انھوں نے کتابیں لکھنی شروع کیں‘‘۔

بیسویں صدی کی ۱۴ممتاز شخصیات سے ملاقاتوں اور گفتگوئوں کی رُوداد انھوں نے ملاقاتیں کے عنوان سے ۲۰۰۳ء میں شائع کی۔ یہ انٹرویو (مصاحبے) دوام اور دوامِ نو  کے زمانۂ ادارت میں، تمام حضرات سے ان کے مستقر پر حاضر ہوکرلیے گئے۔ ان میں قاری محمد طیب، عبدالماجد دریا بادی، محمد مسلم، بدر الدین طیب جی، مولانا صدر الدین اصلاحی، ڈاکٹر سیّد محمود،   مولانا ابو اللیث اصلاحی اور سیّد ابوالحسن علی ندوی شامل ہیں۔ یہ مصاحبے، روایتی انداز کے سوال و جواب تک محدود نہیں۔ وہ بھرپور انداز سے شخصیت کا تعارف کراتے ہیں۔ (ان تعارفات میں وہ ایک کامیاب مرقع نگار اور خاکہ نویس کے طور پر بھی سامنے آتے ہیں) اور ان شخصیات کی قیام گاہوں تک پہنچنے کی رودادِ سفر بیان کرتے ہیں۔ یوں ان مصاحبوں کو پڑھتے ہوئے سفرنامے کا لطف بھی محسوس ہوتا ہے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد بھارت کی سیاست کے نشیب و فراز اور بطور اقلیت مسلمانوں کی زندگی اور ان کی جدوجہد کے حوالے سے ملاقاتیں نہایت اہم ہے، بلکہ اس کی حیثیت حوالے کی ایک کتاب کی ہے۔

۲۰۰۹ء ہی میں سیّد عبدالباری صاحب نے انوکھے لوگ، نرالی باتیں شائع کی جو بیسویں صدی کی ۲۰ ’نرالی شخصیتوں‘ کے خاکوں اور ان کے افکار و خیالات پر مشتمل ۲۰ مضامین کا مجموعہ ہے۔’انوکھے لوگوں‘ میں مولانا حسین احمد مدنی، سیّد مودودی، حکیم اجمل خان، سیّد محمود، ابوالکلام، حسرت موہانی، آیت اللہ خمینی، صدر الدین اصلاحی، مولانا دریا بادی اور ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد وغیرہ شامل ہیں۔ یہ خاکے (یا مضامین) تعارفی و سوانحی ہیں اور تنقیدی و تبصراتی بھی۔ زیادہ تر انھوں نے شخصیات کے محاسن بیان کیے ہیں اور معائب سے صرفِ نظر کیا ہے۔

لکھنؤ کا شعر و ادب ان کا تحقیقی مقالہ ہے جس پر انھوں نے گورکھپور یونی ورسٹی سے    پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اسی تسلسل میں انھوں نے لکھنؤ کے ادب کا معاشرتی و ثقافتی پس منظر (۱۸۵۷ء تا ۱۹۴۷ء) کے عنوان سے ایک اور کتاب شائع کی جسے وہ خود  اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کا ’دوسرا حصہ‘ قرار دیتے ہیں۔

تنقیدی مقالات کے پانچ مجموعے (ادب اور وابستگی، کاوش نظر، نقد نوعیار، آداب شناخت، افکار تازہ) ان سے یادگار ہیں۔ آداب شناخت پر اظہار خیال کرتے ہوئے، اُردو تحقیق و تنقید کی نامور اور بزرگ شخصیت ڈاکٹر محمودالٰہی نے لکھا: ’’ان کی تحریر پختہ اور فکر نہایت مستحکم ہے۔ وہ حق و ناحق، خیر و شر کا ایک متعین پیمانہ رکھتے ہیں۔ اسلامیات کے گہرے مطالعے کا اثر ان کی تحریروں پر واضح طور پر نظر آتا ہے۔ انھوں نے اپنے قلم کو جاہ و منصب کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اخلاص کے ساتھ ادب کی بے لوث خدمت انجام دیتے رہے ہیں‘‘۔

سیّد عبدالباری کی فکر و سوچ اور قلمی کاوشوں کا دائرہ شعر و ادب تک محدود نہ تھا۔ وہ اپنے معاشرے کی فلاح و بہبود اور مسلمانوں کے مسائل پر بھی سوچتے تھے اور اس سلسلے میں انھوں نے سیکڑوں مضامین اور کالم لکھے۔ مزید برآں چند ایسی کتابیں بھی شائع کیں جن کا تعلق مسلم معاشرے میں اخلاقی و دینی اقدار کی ترویج اور افراد امت کی تربیت ذہنی و دینی سے ہے، مثلاً: اسماے حسنٰی اور کردار سازی‘ جمہوریت، انسان دوستی اور اسلام‘ اسلام میں آدابِ اختلاف وغیرہ۔

ڈاکٹر سیّد عبدالباری فکری اعتبار سے ادب اسلامی کے علم بردار تھے۔ جیسا کہ ابتدا میں  ذکر آچکا ہے، انھوں نے ادارہ ادب اسلامی ہند کے صدر اور سیکرٹری کی حیثیت سے چھے دہائیوں تک خدمات انجام دیں۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر شکیب ارسلان کے بقول: ’وہ ایک پھرتیلے اور active شخص تھے‘۔ ادب اسلامی کے وابستگان کو متحرک کرنے کے لیے وہ خطوط نگاری اور مضمون نویسی کے ذریعے برابر کوششیں کرتے رہے۔ حیاتِ مستعار کے آخری عشرے میں انھوں نے ادارہ ادب اسلامی ہند کے ترجمان ماہنامہ پیش رفت  دہلی کی ادارت کا فریضہ نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ آخری زمانے میں وہ آل انڈیا ملّی کونسل کے ماہنامے ملّی اتحاد سے بھی منسلک رہے اور اپنے رشحاتِ فکر سے قارئین کی ذہنی آبیاری اور ان کی راہ نمائی کرتے رہے۔

سیّد عبدالباری سے راقم کے قلمی رابطے کا آغاز ۶۰ کے عشرے میں ہوا تھا۔ ان کی وفات سے چندماہ پہلے تک خط کتابت رہی اور کبھی ٹیلی فون پر تبادلۂ خیال بھی ہوتا رہا۔ ہمارے درمیان تصانیف کا تبادلہ بھی ہوتا رہا ___ (اس تفصیل کی یہاں گنجایش نہیں)۔

اُردو شعر و ادب کی دنیا بڑی حد تک پاکستان اور بھارت کے دو الگ الگ ایسے خطوں میں منقسم ہے جن کے بیش تر شاعر، ادیب اور نقاد افسوس ناک حد تک ایک دوسرے سے ناآشنا ہیں۔ اس صورت حال میں پاکستان کے ادبی حلقوں میں سیّد عبدالباری (شبنم سبحانی) کا نام کسی قدر اجنبی محسوس ہو تو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ خود بھارت کے نقادوں اور تاریخ نویسوں نے شبنم سبحانی کے تخلیقی ادب اور ان کی تحقیقی و تنقیدی کاوشوں کو نظر انداز کیا ہے۔ اس پر بھی تعجب نہیں ہے کیوں کہ مرحوم شبنم سبحانی ادب میں صالح فکر اور اخلاقی اقدار کے علم بردار تھے۔

اُردو اکادمی دہلی کے وائس چیئرمین پروفیسر اختر الواسع نے بہت اچھی بات کہی ہے:   ’جو آیاہے، اُسے جانا ہی ہے لیکن ایسے کثیر الجہات لوگ جو معلم بھی ہوں، ادیب بھی، صحافی و نقاد  بھی ہوں اور کسی حد تک سیاسی میدان میں سرگرم عمل بھی، اُن کا اُٹھ جانا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔  ڈاکٹر عبدالباری (شبنم سبحانی) کی وفات ایک ایسا ہی حادثۂ فاجعہ ہے۔ بس یہی دعا ہے کہ   ؎

آسماں ’اس کی‘ لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزۂ نورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے