دور آدم علیہ السلام ہو کہ حضرت نوح علیہ السلام کا زمانہ ، بنی اسرائیل کا سلسلۂ نبوت ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تاقیامت زمانہ ، اللہ تعالیٰ نے ازل سے ابد تک فلاح و خسران کا ایک ہی پیمانہ متعین کیا ہے۔ خلافت راشدہ کے زمانے کو ایک صدی بھی نہ گزری تھی کہ خود شمع اسلام کے پروانے حرص و ہوس کی آگ بھڑکانے لگے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ یہ چراغ کبھی گل نہ ہوگا۔ انبیا کی بعثت کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد وہ رحمن و رحیم ذات اپنے برگزیدہ بندوں کو شمع ہدایت دے کرانسانوں کو بھٹکنے سے بچاتی رہے گی۔
۱۲ ویں صدی ہجری میں جب عالم اسلام کی حالت دگرگوں ہو رہی تھی اور تاریخ جاہلیت کا سبق دہرا رہی تھی۔ رب رحیم نے ہندستان میں سیداحمد شہید اور سید اسماعیل شہید کو شجر اسلام کی آب یاری کے لیے چنا ، ا ن کا خون بالا کوٹ کی سرزمین کو سیراب کررہاتھا تو ادھر شیخ محمد بن عبدالوہاب بن سلمان سرزمین عرب کو اندھیاروں سے نکالنے میں مصروف تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ قافلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہا اور اللہ تعالیٰ نے ہر دور کے ارتقا کے ساتھ اور نئی جہت کے ساتھ اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے شمع رسالتؐ کے پروانوں کاانتظام فرمایا۔
یہ مغربی کفر و استبداد کا زمانہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے ’ملا کی اذاں‘ اور ’مجاہد کی اذاں‘ کو واضح کرنے کے لیے برعظیم میں علامہ اقبال ا ور سید مودودی جیسے مفکر اسلام کی آواز کو شرق و غرب میں پہنچایا اور مصر میں حسن البنا کی آواز’مجاہد کی اذاں‘ قرار پائی۔ حسن البنا نے صرف بیس سال کے عرصے میں ایسا ذہنی و فکری انقلاب برپا کردیاکہ اس کی مثال خال خال ملتی ہے۔اس فقیر منش انسان کو عاجز ی و انکساری بے حد پسند تھی۔ ان کا ایک پسندیدہ شعر تھا ؎
ما لذۃ العیش الا صحبۃ الفقراء
ھم السلاطین و السادات والامراء
(زندگی کا لطف اللہ والوں کی صحبت ہی میں ہے، دراصل وہی ہمارے سلطان، سردار اور رہنما ہیں۔)
مفتیِ اعظم فلسطین محمد امین الحسینی بیان کرتے ہیں:’’جب میں ۱۹۴۶ء میں یورپ سے مصر واپس لوٹا‘ تو میں نے پہلی مرتبہ حسن البنا کو بچشم سر دیکھا۔ میں نے متعدد مرتبہ ان کی گفتگو سنی۔ مجھے ان کے اندر صاف و شفاف روح نظر آئی۔ جوں جوں ہمارے تعلقات مستحکم ہوتے گئے مجھ پر انکشاف ہوتاگیا کہ اس عظیم انسان کو اللہ تعالیٰ نے بڑی نادر خوبیوں ، اعلیٰ خصائل اور کریمانہ صفات سے نواز رکھاہے۔ گہرا اخلاص ، عقل سلیم ، عزم قوی ، بلند ہمتی ، ایثارکیشی ،ثابت قدمی ، مادی زندگی سے گریز ،دنیاوی مال و منال سے بے نیازی ان کی نمایاں صفات تھیں۔ سادگی ان کا طرۂ امتیاز تھا اور قناعت ان کے مزاج کا حصہ تھی۔یہی وہ اوصاف تھے جن کی بنا پر وہ قیادت کے منصب پہ سرخ رو ہوئے اور زندگی کی امانت اپنے رب کے حضور شہادت کے ساتھ واپس کی‘‘۔
حسن البنا شہید کی زندگی مختصر تھی لیکن ان کی تعلیمات پُر اثر اور جدوجہد باثمر ہے۔ سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کا فلسفہ انھوں نے سچ کردکھایا۔ حسن البنا شہید کے وہ انقلاب انگیز الفاظ جو آج بھی اخوان کے پروگراموں میں نعروں کی شکل میں گونجتے ہیں دلوں کے لیے نشاط انگیز اور میدان عمل کے لیے کسی حربی ترانے سے کم نہیں: ’’اللہ ہمارا مقصود ہے رسولؐ اللہ ہمارے قائد ہیں۔ قرآن ہمارا دستور ہے۔ جہاد ہمارا راستہ ہے اور شہادت ہماری اعلیٰ ترین آرزو ہے۔یہ الفاظ محض نعرہ ہی نہیں، بلکہ حسن البنا نے اپنے جسم کے روئیں روئیں میں اور زندگی کے ہر سانس میں ان کو اُتار لیاتھا۔ ہر لفظ کو ایک عہد و پیمان سمجھ کر اپنی روح میں اُتارا اور اسی جذبے اور تابانی روح کو اپنے ساتھیوں کے دلوں میں منتقل کیا اور ان کے ظاہر و باطن کو اُجلا کردیا۔
حسن البنا شہید نے جس دور میں اسلامی انقلاب کا علَم اٹھایا اس وقت شرکیہ عقاید ، علم نجومِ و اوہام پرستی‘ فرقہ بندی‘ فقہی مسائل میں ائمہ دین کا آپس میں ٹکرائو اور متشابہات کی من مانی تاویلات کا غلبہ تھا۔ ایک دین کے پیرو کار ہوتے ہوئے بھی لوگ گروہ بندی ، تعصب ، بغض و عناد میں مبتلاتھے۔ حسن البنا شہید کے فہم و تدبر اور کردار کی پختگی و استقامت نے عوام الناس خصوصاً تعلیم یافتہ نوجوانوں کو صحیح العقیدہ فہم عطا کیا۔
حسن البنا نے لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کا حقیقی تصور اجاگر کیا۔ لوگوں نے یہ جان لیا کہ اسلام ہی مکمل ضابطہ حیات ہے،اور یہ سلطنت ، وطن ، حکومت ، رعایا، ضابطۂ اخلاق ، طاقت ، رحم، عدل ،ثقافت ،قانون ،علوم معاش میں فیصلہ کن طاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام دعوت بھی ہے اور جہاد بھی۔ اسلام ہی جوش بھی ہے ہوش بھی۔ عقیدت و محبت کا منبع و سرچشمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ ہیں۔ حسن البنا شہید کی دور رس نگاہ نے تزکیہ نفس کے مروجہ خانقاہی طریقوں کے بارے میں لوگوں کا ذہن صاف کیا۔ دلیل کی روشنی میں حقیقت تک پہنچنے کی راہ سجھائی۔ حسن البنا شہید نے اپنے ممبران کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ نیک لوگوں سے تعلقا ت بنائیں۔ نیک صحبت اختیار کریں۔ حکمت مومن کی گم شدہ میراث ہے اس کی تلاش میں اور اس کے حصول میں کوشاں رہیں۔
ان کی تعلیمات میں ’فہم ‘پہلا تربیتی نکتہ تھا جس کو انھوں نے ایک عہد و پیمان کی طرح لوگوں کی روح و عمل میں اتار دیا، اور ساتھ ہی ’اخلاص ‘ کا وہ رنگ قلب وذہن میں پختہ کردیا کہ ان صلوٰتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمینحرز جان بن جائے۔ فہم و اخلاص کا لازمی نتیجہ ’ عمل‘ ہے اور عمل سے مراد ایسا عمل ہے کہ جو فہم اور اخلاص کا پھل ہو۔ اس پھل کو حاصل کرنے کے لیے کچھ منازل طے کرنا پڑتی ہیں۔ ان منازل کو طے کرانے کے لیے حسن البنا شہید نے خصوصی تربیتی کورس کروائے۔ سب سے پہلے مرحلے میں مضبوط جسم کے لیے صحت کا خیال رکھنا، اس کے لیے ورزش ، محنت، مشقت ، خواہشات نفس پہ کنٹرول کی تربیت ، نفس کے خلاف جہاداور اس سلسلے میں اپنا کڑا محاسبہ اور امتحان لیتے رہنا شامل ہے۔
دوسرا مرحلہ : قوا انفسکم و اھلیکم ناراً کی عملی تفسیر بننا۔ گھر کے ہر فرد ، حتیٰ کہ خادموں کی تربیت اور حقوق کا دینی شعور پیدا کرنا۔
تیسرا مرحلہ :معاشرے کی اصلاح ، راے عامہ کو اسلامی فکر کے لیے ہموار کرنا۔
چوتھا مرحلہ : اپنے وطن کو غیر اسلامی حکومت سے آزاد کرانے کی جدوجہد کرنا۔
پانچواں مرحلہ :حکومت کی اصلاح ،تاکہ وہ صحیح اسلامی حکومت بن سکے اور حکومت کو صحیح اسلامی خطوط پہ استوا ر رکھنے کے لیے اس کی رہنمائی کرنا۔
چھٹا مرحلہ : امت مسلمہ کے حاکمانہ وجود کا احیا کرنا۔ اس کے لیے امت مسلمہ کی شیرازہ بندی کرنا--- اور امت مسلمہ کی مایوسی ، پژمردگی ، غلامانہ ذہنیت کو ختم کرنے کی جدوجہد کرنا۔
عمل کے اس پھل کا لازمی نتیجہ ’جہاد‘ہے۔ کفر کو دل سے ناپسند کرنا جہاد کا ابتدائی درجہ ہے اور اللہ کی راہ میں جنگ لڑنا اس کا انتہائی درجہ ہے۔ دعوت اسلام، جہاد کے ذریعے ہی زندہ ہوسکتی ہے اور یہ جہاد: وجاھدوا فی اللّٰہ حق جھادہ سے ہی مکمل ہوسکتاہے۔ حسن البنا شہید نے اسی لیے الجھاد سبیلنا کا نعرہ لگایا۔
جہاد کا لازمی تقاضا قربانی ہے۔قربانی کا لازمی حصہ ’اطاعت ‘ ہے۔ تنگی ، ترشی ، خوشی ، غمی ہرحال میں حکم مانا جائے کہ سمعنا واطعنا کی تصویر بن جائے۔ ’اطاعت کاملہ ‘ کا عہد کرنے والے لوگوں کو جہاد کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے چن لینا، منظم کرنا ، دعوت کے نظام کے مطابق چلانا--- روحانیت کے اعتبار سے یہ ایک مجاہدانہ ٹیم ہوتی ہے۔جو کسی فکر اور دل کی تنگی کے بغیر حکم سنے اور اطاعت کرے۔ اس ٹیم میں وہی لوگ شامل ہوسکتے ہیں جو تربیتی مراحل سے گزر کر جدوجہد کی قبا پہننے کے لیے پوری استعداد فراہم کرلیں۔
یہ ایک امتحان اور آزمایش ہے۔ اخوان المسلمون کے بانی ارکان نے ۵ربیع الاول ۱۳۵۹ھ کو اس امتحان اور آزمایش کے لیے عہد و پیمان کیا اور بعد کے حالات و واقعات نے ثابت کردکھایا کہ اخوان المسلمون کے تاسیسی دستے میں کتنی استقامت اور ثابت قدمی تھی۔ اس امتحان و آزمایش کی بنیادی شرط استقامت یا ثابت قدمی ہے۔ ’’ ایمان دار لوگوں نے اپنا عہد سچاکر دکھایا ہے ان میں سے کچھ لوگ اپنی منزل کو پہنچ گئے اور باقی انتظار میں ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے مقصد میں ذرہ برابر کوئی تبدیلی نہیں کی‘‘۔ اسی استقامت اور ثابت قدمی کو پالینا ممکن ہی نہیں جب تک اللہ کے رنگ میں خود کو نہ رنگ لیا جائے۔ اس رنگ کو سامنے رکھ کر دعوت و جہاد کا کام ہوسکتا ہے۔ اس لحاظ سے اخوان المسلمون نے لوگوں کو چھے قسموں میں تقسیم کیا:
۱-مجاہد مسلمان ۲-بے دست و پا ہو کر بیٹھ رہنے والے مسلمان ۳-گناہ گار مسلمان ۴-ذمی ۵-معاہد غیر جانب دار ۶-محارب۔
اسلام کی عدالت میں ان سب لوگوں کے لیے الگ الگ حکم ہے۔ جس پہ جس قسم کا رنگ ہے اس کی روشنی میں اس سے معاملات رکھے جائیں۔ اسلام نے لوگوں کی اس تقسیم کے باوجود اخوت کا رشتہ برقرار رکھاہے۔ اخوت دو طرح کی ہے : ایک انسانی اخوت اوردوسری عقیدے کی اخوت۔حسن البنا شہید نے عقیدے کی اخوت کی بنیاد اس آیت کو بنایا: ومن یوق شح نفسہ فاؤلئک ھم المفلحون ’’جو لوگ ذاتی مفادات کی خواہش سے بچا لیے گئے وہی کامیاب ہیں‘‘ اور: والمومنون و المومنات بعضھم اولیآء بعض، ’’مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے مدد گار ہوتے ہیں‘‘۔
اخوت کی ترویج کا لازمی تقاضا باہمی اعتماد ہے۔ امرا ومامورین کو ایک دوسرے کی قابلیت ، قائدانہ صلاحیت ، خلوص پہ مکمل اعتماد ہو۔ اعتماد قائم کرنے اور حاصل کرنے کے لیے باہمی تعارف، تعلق ، دلی وابستگی کے لیے بھرپور کوشش کی جائے۔ حسن البنا شہید نے اخوت کے معانی کو معمول کے ایسے اچھے کاموں کے ذریعے حقیقت کا رنگ دیا جو کتابوں میں لکھے ہوئے نہیں ہیں۔ اخوت کے تعلق کو بڑھانے والی اور دلوں میں محبت اور صلہ رحمی کے شعور میں اضافہ کرنے والی عادات خود بخود آتی ہیں۔اسی مناسبت سے اسلام ایک مثالی خاندان کا نقشہ سامنے لاتاہے کہ جہاں ہر مومن چاہے وہ کرہ ارضی کے کسی مقام پہ رہتا ہو ایک خاندان کا فردہے اور وہ مسلم خاندان ہے۔ جس کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جسم سے تشبیہہ دی ہے۔اسی مثالی خاندان کا ایک عمل اخوان المسلمون کے ہاں ’اسرہ ‘کے نام سے رائج ہے۔ مثالی اجتماعیت کو سامنے لانے کے لیے اسرہ کی اصطلاح ۱۹۲۸ء میں استعمال کی گئی‘ جس کے لیے ۷۰ افراد کومنتخب کیاگیا۔
اس کے ایجنڈے میں یہ نکات شامل تھے:
۱-تلاوت و تجوید کی درستی ۲-خاص سورتوں اور آیات کا حفظ کرنا اور تفسیر جاننا ۳-خاص احادیث کو حفظ کرنا اور تشریح ۴-ایمان ،عبادات ، معاملات اور عام اخلاقی اصولوں کی تحریری رپورٹ بنانا ۵-اسلامی تاریخ کا مطالعہ اور اسلاف کی زندگیوں کا جائزہ ۶-سیرت کا مطالعہ ، خاص طور پر اس کے روحانی اور عملی پہلو ، عملی زندگی میں نافذ کرکے محاسبہ کرنا۔
مرد و خواتین کے علیحدہ علیحدہ ’اسرہ جات‘ بنائے گئے۔ مردوں کے گروپ کا ایک مربی جو ان کے لیے استاد کا درجہ رکھتا ہے اور کچھ خاص وقت یا دنوں کے لیے ان کی تربیت کرتاہے۔ اس طرح خواتین کی تربیت کا انتظام ہے۔ اسرہ جات کے پروگرام میں چند لازمی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔۔مثلاً بیماروں کی عیادت ، غیرحاضر ممبران کی مزاج پرسی وغیرہ۔ کھانا کھانا،صفائی ستھرائی ،تک سب کام شرکا خود ہی انجام دیتے ہیں۔ اسرہ کے ممبران کی عملی تربیت کی جاتی ہے :
حسن البنا شہید کی محنت کا ثمر ایک بہترین تربیت یافتہ گرو پ کی شکل میں سامنے آیا جنھوں نے وقت کے فرعونوں کے سامنے سر نہ جھکایا۔ اس میں مرد ہی نہیں خواتین بھی شامل رہیں۔
اسرہ ،کتیبہ،رحلۃ ،المعسکر،دورہ،ندوہ ،موتمر، ان ناموں کے تحت کارکنان کو تربیت کے مختلف مراحل سے گزارا جاتا۔ اب بھی یہی نظام رائج ہے اور وقت و حالات کی نزاکتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر سے بہتر مسلمان مجاہد تیار کیے جارہے ہیں۔
اسرہ کے بعد کتیبہ کا مرحلہ ہے۔ اس میں بنیادی تربیت روحانی نشوو نما کی ہوتی ہے۔ روحانی نشوو نما : عبادات ، ذکر ، دعاکے ساتھ اخلاص نیت کی تجدید ، اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق ، نامساعد حالات ،بے آرامی اور مشقت کے ماحول میں خوش اسلوبی سے ڈیوٹی انجام دینے کی تربیت۔ اس نظام میں اطاعت امر کی خاص تربیت دی جاتی ہے۔ جی چاہے یا نہ چاہے ،ضر ورت ہو یا نہ ہو، طبیعت چاہے نہ چاہے جو کام جس وقت کہہ دیا گیا وہ فوراً کرنا ہے۔
اسرہ اور کتیبہ کا مقصد زیادہ تر معاشرتی ، نفسیاتی ، علمی اور روحانی پہلو کی تربیت ہے، مگر تیسرے مرحلے (رحلۃ ) کا مقصد زیادہ تر جسمانی ہے۔ اس میں جسمانی مشقت کی سخت تربیت ہوتی ہے۔ ’رحلۃ عموماً ‘ایک مہینہ میں ایک مرتبہ فجر سے مغرب تک کسی صحرا ، میدان ، شہر سے دور ، پہاڑی مقام پہ ہوتاہے۔ سخت گرم یا سخت سرد موسم میں محنت ، مشقت کی تربیت ،وسائل و ذرائع کی کمی کے ساتھ کی جاتی ہے۔
معسکر : اس شعبہ کے تحت صرف جسمانی تربیت ہی نہیں بلکہ دنیا کواسلامی فوج کی تاریخ سکھانا بھی ہے۔ اسلام میں نماز کی صورت میں روزانہ پانچ مرتبہ تربیت اور تذکیر ہوتی ہے۔ اس کا مقصد ایک منظم و متحد امت کی اللہ کے سامنے بندگی اور خودسپردگی کا اظہار ہے‘ تاکہ اللہ کا دین غالب ہوجائے۔ معسکر کا مقصد نوع انسانی میں بھائی چارہ پیدا کرنا ہے--- وہ تمام مصائب و آلام جو نوع انسانی کے مشترک ہیں ان کا حل تلاش کرنا ایک دوسرے کے قریب آکر ہی ممکن ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی، بے راہ روی ،انشورنس ،سود ، ذرائع ابلاغ کی بے حیائی دنیا کے ہر خطے کے انسان کے لیے تکلیف کا باعث ہے۔ ان سب کے بارے میں صحیح نقطہ نظر پیش کرکے فلاح کی راہ دکھانا۔
دورہ : اس شعبہ کا کام کسی ایک دن ایک ہی موضوع پہ لیکچر ،ڈسکشن ،تحقیق ، قلیل المیعاد کورس تیار کرواناہے۔
ندوہ : ماہرین کا ایسا گروپ جو کسی خاص موضوع یا مسئلے پر پورے دلائل و براہین کے ساتھ اپنی راے پیش کرے تاکہ عصری چیلنجوںکا مقابلہ کیاجاسکے اور ان کا حل پیش کیاجاسکے۔
اخوان المسلمون کے ارکان کے کردار کی تعمیر کے لیے جس قدر جاںفشانی سے کام لیا جاتاہے وہ قابل تحسین ہے۔ یہ یقینا حسن البنا شہید کے اخلاص کا ثمر ہے اور اس کی آبیاری ان کے خون نے کی ہے۔ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ o (یوسف ۱۲:۹۰)
امام حسن البنا کی شخصیت اور عرب دنیا میں پھیلی ہوئی ان کی تحریک اخوان المسلمون پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ میرے پیش نظر حسن البنا کی تعلیمات کی روشنی میں اس عظیم الشان اصلاحی تحریک کے درج ذیل چار بنیادی نکات ہیں: ۱- اخوان کے فکر کا واضح ہونا ۲- مراحل کا واضح ہونا ۳-اہداف و مقاصد کا واضح ہونا ۴- وسائل و ذرائع کا واضح ہونا۔
امام اپنے کتابچے دعوتنا فی طور جدید (ہماری دعوت نئے پیرایے میں) میں رقم طراز ہیںکہ: ’’ہماری دعوت کا طریق کار اسلا م کی پہلی دعوت کے طریق کار سے مختلف نہیں ہے، بلکہ یہ دعوت حقیقی معنوں میں اسی دعوت کی بازگشت ہے جس کا نعرہ صدیوں پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں بلندکیا تھا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ذہنوں کو نبوت کے اس روشن عہد کی طرف لوٹائیں جو وحیِ الٰہی کی عظمت کا شاہد تھا ، تاکہ اپنے پہلے معلم سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے پیش نظر اصلاح معاشرہ کے اسباق دہرائیں اور نئے سرے سے دعوتی درس کی مشق کریں‘‘۔
بہت بڑے ہدف ___ پوری انسانیت کی اصلاح کی طرف ___ یہ پہلا قدم ہے۔ اسی گذشتہ طریق کار کو پیش نظر رکھتے ہوئے، انھی خطوط پر چل کر اور اسی صاف و شفاف چشمے سے سیراب ہو کر ہی اس عظیم ہدف کی طرف پیش قدمی ممکن ہے۔ امام مالک نے ایک موقعے پر فرمایا تھا: ’’امت کا آخر اسی نسخے سے شفایاب ہوگا جو اس کے آغاز کے لیے شفایاب ثابت ہوا ہے‘‘۔
اکثر مصلحین کے ساتھ مختلف زمانوں میںبنیادی طور پر مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ یا توجذبات کے رو میں بہہ گئے اور یا بغیر کسی مناسب منصوبہ بندی کے، غیر منظم انداز میں اصلاحی تحریک کا آغاز کردیا۔ نیک طینت عوام کا ایک گروہ ان کے گرد اکٹھا ہوگیا، جوشیلے نعرے لگائے اور ایک حدتک جذبات کا مظاہرہ کیا۔ پھر جب یہ دیکھا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود، فساد اور خرابی نہ صرف قائم ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوگیا ہے ،تو طویل عرصہ ساتھ چلنے اور پھر فوری طور پر نتائج نہ پانے سے دل برداشتہ ہو کر بکھر گئے۔ ان کے حوصلے پست اور عزائم شکستہ تر ہوگئے۔ بعض اوقات اصلاحی تحریک کی قیادت اقتدار کے نشے اور حکمرانی کے لالچ میں آکر باہم دست و گریبان ہوجاتی ہے۔ ان کی ساری توانائیاں ایک دوسرے پر الزام تراشی میں صرف ہوجاتی ہیں۔ اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے اصلاح کاوہ کام جو بڑے جوش و خروش سے شروع ہوا تھا بری طرح ناکامی کا شکار ہوجاتا ہے اور مزید فساد کا باعث بنتا ہے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اصلاحی تحریک کی وہی لیڈرشپ جو ابھی ابھی ظلم اور فساد کے خلاف برسرپیکار تھی اور بپھرے ہوئے عوام کی قیادت کررہی تھی ، کچھ لوگ اس کے دشمن ہوگئے، عوام کو ان کے خلاف ابھارا۔ اگرچہ عوام کتنا ہی ان کی پاکیزگی اور لیاقت کا دم بھریں، ان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کا یہی ایک جواب ہوتا ہے کہ : اَخْرِجُوْٓا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ اِِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَo (النمل ۲۷:۵۶) ’’نکال آلِ لوط کو اپنی بستی سے، یہ بڑے پاک باز بنتے ہیں‘‘۔ اصلاحی تحریکوں کی تاریخ میں اس قسم کی بہت سی مثالیں موجود ہیں ، بلکہ ان سے قبل تمام انبیاے علیہم السلام ان مراحل سے گزرے ہیں۔
یہ چیزبھی عام طور پر مشاہدے میں آتی ہے کہ عوام الناس میں مفاد پرست ٹولے اور سرداروں کے ذریعے مفسد عناصر زور پکڑلیتے ہیں اور اصلاحی تحریک پر داروغے بن کرفیصلے صادر کرناشروع کردیتے ہیں۔ ایسے عناصر، تحریک، اس کی قیادت ، اس کے طریق کار ، پروگرام اور افراد کی ہر لغزش و کوتاہی کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں اور کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، خاص طو رپر جب ان مفسدین کے مفادات پر اصلاحی تحریک کے افکار کی ضرب پڑتی ہو : اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِکَ(طٰہٰ۲۰:۵۷)’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرے‘‘۔ اس مناسبت سے تاریخ کے جھروکوں میں اسلامی تحریکوں کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔
۱- تحریکی اور دیگر افکار کے درمیان واضح اور حتمی طور پر فرق بیان کرنا۔
۲-ترجیحات ( بڑے مقاصد ) کی مرحلہ وار اہداف کے طور پر حد بند ی کرنا، اور ان اصول و حدود کی نشان دہی کرناکہ جن سے کبھی بھی مقاصد کے حصول کی خاطر تجاوز نہیں ہوناچاہیے۔
۳- راہ دعوت کے بڑے مراحل کی وضاحت کرنا ( بیج بونا ، اس کی دیکھ بھال کرنا، تنے کا زمین سے نکلنا ، اس کا مضبوط ہونا اور پھر اپنی بنیادوں پر کھڑا ہونا )۔
۴- موجودہ بگاڑ کا اندازہ کرنا ، اس کے حجم ، وسائل، پھیلاؤ اور نشوو نماکے سرچشمے کو جاننا۔
۵- اپنی افرادی قوت کا صحیح اندازہ لگانا۔ اصلاح اور تبدیلی کے لیے اپنے ساتھیوں کی قوت ارادی کا صحیح اندازہ ہونا، کیونکہ اصلاح اور تبدیلی کی کٹھن ذمہ داری انھی کو نبھانا ہوگی۔
۶-امکانات اور وسائل کو سامنے رکھنا اور انھیں اس طرح ترتیب دینا کہ ضرورت کے وقت ان کا استعمال ممکن ہوسکے ، یا کم ازکم بنیادی اہداف کے لیے ان کو بروے کار لایا جاسکے۔
ان چھے اصولوں کو امام حسن البنا کی وسیع تر اصلاحی اٹھان کی فکری بنیادوں سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان کی توضیح و تشریح کے لیے بہت سی کتابوں میں مصنفین نے ان کا توصیفی اور شماریاتی حوالے سے تجزیہ کیا ہے۔ دعوتی ، تربیتی ، سیاسی ، اقتصادی اور اجتماعی پہلوؤں پر بحث کی ہے اور ان امور کا جائزہ لیا ہے، جن کو اس مکتب فکر کے بانی نے نئی مطلوبہ نسل کی تیاری کا ذریعہ بنایا اور جن کے بل بوتے پر ربع صدی کی قلیل مدت میں ،قرآن کی علَم بردار پہلی منفرد جماعت تیارہوئی تھی۔
امام حسن البنا کا ذہن صاف اور فکر پاکیزہ ہے۔ قاری ایک نظر ہی سے ان کی فکری گہرائی کا اندازہ کرلیتا ہے۔ ہر اس فکر کو جسے امام نے اپنی تحریروں ، خطبوں ، رسائل ، ہدایات اور عملی کام کے ذریعے پیش کیا بغیر کسی الجھاؤ کے واضح طور پر سمجھ لیتا ہے۔
انھی واضح الفاظ اور جامع کلمات کے ساتھ ہی امام نے ایک بار ۱۹۴۱ء میں نوجوانوں کو مخاطب کرکے فرمایاتھا :’’اسلام اور مسلمانوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آیا جب وہ بڑے دل خراش حوادث سے دوچار ہوئے، ان پر بہت شدید مصائب ٹوٹے۔ اسلام دشمن قوتیں اسلام کی شمع بجھانے پر تل گئیں اور اس کے شان دار اثرات کو زائل کرنے کی سعی شروع کردی۔ اس کے بیٹوں (ماننے والوں ) کو گمراہ کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ اس کی حدود اور قوانین کو معطل کیا ،اس کے لشکر کو کمزور بنا دیا۔ اس کی تعلیمات اور احکام کو کبھی اضافہ، کبھی کمی اور کبھی من مانی تعبیر کے ذریعے بے اثر بنانے کی کوشش کی۔ اسلام کی سیاسی قوت اور اسلامی خلافت کے زوال اور اسلامی لشکر کی سستی ، بزدلی اور کمزوری نے ان دشمنان اسلام کو مزید تقویت بہم پہنچائی۔ یہاں تک کہ عالم اسلام کا خاصا بڑا حصہ اہل کفر کے قبضے میں چلاگیا اور مسلمانوں کو طاغوتی سامراج کے زیرسایہ ذلت و رسوائی کے برے دن دیکھنے پڑے‘‘۔
یہ اس ناگفتہ بہ حالت اور شکست خوردہ امت کا ایک ٹھوس تجزیہ ہے، جس کے مطابق عالمِ اسلام کے خلاف ان تین محاذوں پرمعرکہ برپاتھا :
اندرونی محاذ : عالم اسلام میں علما کی بے بسی، عوام کی جہالت و نادانی اور مسلمانوں کی صفوں میں کمزوری اور اختلاف سے فائدہ اٹھاکرمسلمانوں کوذلت و رسوائی سے دوچار کرنے کے لیے یہ محاذ کھولاگیا۔
بیرونی محاذ :یہ محاذ اسلام دشمن عناصر کی جانب سے دین اسلام کو کھوٹا ثابت کرنے ، اس کے پیرو کاروں کو گمراہ کرنے ، عالم اسلام پر قبضہ جمانے اور اس کے ذخائر اور معادن کو چرانے کے لیے قائم کیاگیاتھا۔
معنوی محاذ :یہ محاذ ملت کفر کی طرف سے اس لیے قائم ہوا کہ اس کے ذریعے اسلام کی سیاسی قوت کو زائل کیا جائے۔ خلفاے راشدین سے ورثے میں ملے ان تمام اثاثوں یہاں تک کہ ان کی آخری دستاویزات تک کو ضائع کردیا جائے ، اسلام کی بچی کھچی فوجی قوت کو تہس نہس کردیاجائے اور عثمانی خلافت ( جس کو ’مرد بیمار کے نام‘ سے یاد کیا جاتا تھا) کے ترکے کو تقسیم کیا جائے اور بالآخر بحیثیت ملّت، مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹادیا جائے۔
امام کے یہ چند جملے اسلام کے ہر مجاہد اور دین کے ہر پاسبان کے لیے زادراہ اورنقشۂ کار (روڈمیپ) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ امام کے ان چھے نکات کی تشریح سے درحقیقت اس پریشان کن سوال کا جواب اور اس بڑے چیلنج کا توڑ فراہم ہوا، جس کے سامنے عثمانی خلافت کے خاتمے سے لے کر اس وقت تک بہت ساری اسلامی اور اصلاحی تحریکیں لاجواب نظر آتی تھیں اور وہ پیچیدہ سوال یہ تھا کہ :ہمیں کیا کرنا ہے ؟یا یہ کہ :ہم کیا کرنا چاہتے ہیں ؟
اس سوال کا تفصیلی اور جامع جواب دیتے ہوئے امام حسن البنانے فرمایا :
فـرد کی تیاری: سب سے پہلے ہم ایک ایسا مسلم فرد تیار کرنا چاہتے ہیں ، جو اپنی فکروعقیدے، اخلاق و جذبات اور اپنے عمل کے لحاظ سے مکمل طور پر مسلمان ہو‘ یہی ہماری بنیاد ہے۔
مسلم گہرانا: ہم ایک مسلم گھرانا بنانا چاہتے ہیں ، ایسا گھرانا جو اپنے فکر و عقیدے ، اپنے اخلاق و جذبات اور اپنے عمل اور تصرف کے لحاظ سے مسلمان ہو۔ اس لیے ہم خواتین کے لیے بھی اتنا ہی اہتمام کرتے ہیں جتنا مردوں کے لیے، اور بچوں کے ساتھ اتنی ہی رعایت برتتے ہیں جتنی جوانوں کے ساتھ۔ ایک مسلم گھرانے کی تشکیل بھی ہمارے تربیتی پروگرام کا حصہ ہے۔
مسلم معاشرے کی تعمیر:تربیت کے ان تمام پہلوؤں کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم مسلم معاشرے کی تعمیر چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم دن رات ایک کرکے اپنی دعوت ہر گھر تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ ہماری آواز ہر جگہ سنی جائے۔ گائوں گائوں اور شہر شہر اس کا چرچا ہو۔ اپنی دعوت لوگوں تک پہنچانے میں ہم کسی بھی جائز ذریعے کو استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی اور لاپروائی نہیں ہونے دیتے۔
اسلامی ریاست کی تشکیل: اگلے قدم میں ہم ایک ایسی اسلامی ریاست کی تشکیل چاہتے ہیں ، جومسجد کی طرف لوگوں کی راہ نمائی کرے۔ لوگوں کو اسی طرح اسلام کی راہ پر لگائے جس طرح اس سے پہلے ابوبکرؓ، عمرؓاور دیگر صحابہ کرامؓ نے لگایا تھا۔ ہم واشگاف الفاظ میں اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم کسی بھی ایسے حکومتی نظام کو نہیں مانتے جو اسلام کی بنیاد پر استوار نہ ہو اور اسلام سے راہ نمائی نہ لیتا ہو۔ ہم اسلام کی تمام اخلاقیات کو زندہ کرنے کے لیے بھرپور جدوجہد کریں گے اور اسی بنیاد پر اسلامی سلطنت کے قیام کے لیے سرتوڑ کوششیں کرتے رہیں گے۔
متحدہ عالم اسلام:ہم عالم اسلام کے ہر اس حصے کو آپس میں جوڑیں گے جو مغربی سیاست اور یورپی لالچ کی بدولت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر شکست وریخت کا شکا رہوگیا ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم اس جغرافیائی تقسیم اور ان عالمی معاہدات کو تسلیم نہیں کرتے جن کی وجہ سے عالم اسلام کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کردیا گیا ہے، جنھیں بڑی آسانی کے ساتھ کوئی بھی غاصب ترنوالہ بنا سکتا ہے۔ ایک بالشت بھر زمین جہاں ایک بھی کلمہ گو مسلمان بستاہو، اگر دشمن کے قبضے میں ہو تو ہماری غصب شدہ اسلامی سرزمین ہے ،اس کی آزادی ہمارا فرض ہے۔ اسی طرح عالم اسلام کے تمام حصوں کو آپس میں جوڑنا بھی ہمارے پروگرام کا حصہ ہے۔ اسلامی عقیدے کی رو سے ہر طاقت ور مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر اس شخص کا حامی اور مدد گار بنے جو قرآن پاک پر ایمان رکھتا ہو۔ کسی بھی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ ایمان او رعقیدے کے رشتے پر دوسرے رشتوں کو مقدم رکھے۔ اسلام میں عقیدہ ہی اصل بنیاد ہے۔
سامراجی و غاصبانہ قبضے کا خاتمہ: ہمارا عزم ہے کہ ان تمام سرزمینوں پر ایک بار پھر اسلام کا پرچم بلند ہو جو کسی زمانے میں اسلام کی برکات سے فیض یاب ہوئیں اور جہاں مؤذن نے ایک بار بھی تکبیر اور تہلیل کی آواز بلند کی ہو، اور جن کو ظالم اور غاصب طالع آزمائوں نے اسلام کی روشنی اور برکات سے محروم کرکے کفر کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
وہ اپنی بات کو خوبی سے اس مختصر جملے میں سمیٹ لیتے ہیں: ’’ہم پر فرض ہے کہ ہم اس اسلامی سلطنت کی عظمت رفتہ کو لوٹانے کے لیے کوشاں رہیں جو عدل و انصاف پر مبنی تھی اور جس کا مقصد لوگوں میں ایمان کی روشنی پھیلانا او ران کو ہدایت سے ہم کنار کرنا تھا‘‘۔
اس مختصر جملے سے ہم واضح طور پر ان کے طریق کار اور پروگرام کو سمجھ سکتے ہیں۔ کیا ہم اس واضح تصور کو ان لوگوں کے سامنے پیش کرسکتے ہیں جو ابھی تک اپنے ان سوالات کے اسیربن کر یہ پوچھتے ہیں کہ: ہم کون ہیں ؟کیا خیرامۃ اخرجت للناس کا اعادہ اسی طریق کار کے مطابق ممکن ہے، جس کے ذریعے سے صحابہ کرامؓ کی جماعت تیار ہوئی تھی؟ امام حسن البنا نے جو طریق کار مذکورہ بالا چھے نکات میں بیان کیا ہے، کیا یہ امت کو غلامی سے نجات دلانے اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کے اعادے کے لیے کامیاب نسخہ ہے ؟کیا دوسرے پروگرام ، اصلاحی تحریکیں اور طریق کار بھی اس حوالے سے موجود ہیں ؟
میں اپنے مقالے ان سوالات کے مختصر جوابات اس انداز سے پیش کرنے کی کوشش کروں گا، جس سے امام حسن البنا کے طریق دعوت اور اصلاحی پروگرام کی بہتر وضاحت ہوسکے۔
اندرونی جھگڑوں ،اختلافات اور کھینچاتانی کے سبب اسلامی فکر کی اساسی بنیادیں ذہنوں سے محو ہوچکی تھیں۔ اجتہادی مدارس بانجھ ہوچکے تھے اور فقہی اور دینی مراکز رخصت ہونے کو تھے ، جن کے سبب اسلام کی بنیادی فکر فقہی مدارس، مختلف فکری مکاتب ، تربیتی مناہج، علمی اداروں ، تصوف کے نزاعات، متنازع اصلاحی تحریکوں، ادھوری انفرادی کوششوں اورحکومتی اداروں میں تقسیم ہو کر گردش زمانہ کی نذر ہوچکی تھی۔
اسی دوران حسن البنا نے گذشتہ عہد اور عصرحاضر کے فکری مکاتب اور اصلاحی تحریکوں کا بغور مطالعہ کیا اور ان سب کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے جدید فکری خطوط وضع کیے۔ درج ذیل تین اہم خصوصیات کی وجہ سے ان کی اس فکرکو امتیاز اور فوقیت حاصل ہے :
۱- یہ جدید طرز فکر، انتہائی واضح ،سلیس اور عام فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
۲- یہ اسلام کے وسیع تر تصور، روایت اور دقیق فہم کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
۳- یہ ہمہ گیریت ایک دوسرے سے تعاون کرنے سے عبارت ہے۔
میری راے میں یہ ہیں وہ بنیادی نکات، جو امام حسن البنا کی اس تجدیدی فکر کو دوسرے تمام مکاتب فکر سے جدا کر دیتے ہیں۔ یہ ہے وہ عمدہ اور اہم تجدید ی کام جس کی بدولت اسلامی دعوت اور اسلامی فکر اپنے اصل سرچشمے کی طرف لوٹی۔ اس کی برکت سے اس اضطراب کا ازالہ ہوا جو اس وقت اسلام کے بارے میں لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں پایا جاتاتھا اور اسی کے سبب اس دورنگی اور تضاد سے چھٹکارا ملا جس میں مسلمان عملی طور پر مبتلاتھے۔
امام حسن البناکا یہ کارنامہ، فکری تجدید کے میدان میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ افکار کی پراگندکی اور اضطراب دوسری مشکلات کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور تکلیف دہ ہوا کرتا ہے۔ معاشرہ پراگندہ افکار، اجتماعی، معاشی، سیاسی او رثقافتی لحاظ سے شکست و ریخت سے دوچار تھا۔ امت مسلمہ قیادت کے بحران اور انتشار کا شکار تھی۔ کچھ کام اجتماعی اور انفرادی سطح پر اخلاص کی بنیاد پر بھی کیا گیا۔ لیکن فہم کی کمزوری مطلوبہ نتائج کے راستے میں رکاوٹ تھی۔ ہر مکتب فکر ایک مخصوص خول میں بند تھا۔ تنگ نظری اور عدمِ برداشت ایک بڑا مسئلہ بن گیا تھا۔ ہر مکتب فکر کی قیادت اس کوشش میں تھی کہ صرف اسی کی فکر کو فروغ ملے۔
نمایاں طرز ھاے فکر: اس زمانے میں فکری میدان دوقسم کے طرز فکر رکھنے والوں کے لیے خالی تھا۔
صوفی طرزفکر: علم فضائل اور علم سلوک اس مکتب فکر کے اہتمام کا مرکز بنے رہے۔ بلاشبہہ اس مکتب فکر کی کچھ اچھائیاں بھی ہیں لیکن کئی کمزوریاں یا خامیاں بھی پائی جاتی ہیں۔
فلسفی اور جدلی طرز فکر:جس کا بنیادی کا م اسلام کے حوالے سے شکوک و شبہات کو دفع کرنا ، فقہی مسائل پر توجہ دینا اور مناظروں او رمباحثوں کا بھرپور اہتمام کرناتھا۔ اس مکتب فکر کے اپنے منفی و مثبت پہلو ہیں۔
ہم کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے امام نے جو ارشاد فرمایا ، اس سے پوری فکرکی وضاحت ہوجاتی ہے اور مستقبل کے جامع لائحہ عمل پرروشنی پڑتی ہے: ’’ہم قرآن پاک کی جامع دعوت کی حامل تحریک ہیں۔ نفس کے تزکیے ، روح کی پاکیزگی و بالیدگی اور اللہ بزرگ و برتر سے دلوں کو جوڑنے میں ہم اہل تصوف کا تسلسل ہیں۔ خدمت خلق سے سرشار ، انسانیت کے لیے نافع ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والے، مصائب اور تکالیف میں مبتلا لوگوں کے کام آنے والے ، معاشرے کے پسے ہوئے ، غریب اورنادار افراد کی امداد کے لیے ہمیشہ تیار، اورباہم برسرپیکار گروہوں میں صلح و صفائی کرانے کے ناتے ہم ایک فلاحی تنظیم ہیں۔ ہرقسم کے جہل اور فقر سے نبرد آزما اور روحانی و جسمانی تمام امراض کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم ایک سماجی و فلاحی (social ) ادارہ ہیں۔ ہم وہ اصولی سیاسی پارٹی ہیں جس کا مقصد امت میں وحدت کا قیام ہے ، جوکہ تمام شخصی مصالح اور اغراض سے بالا تر ہو کر اہداف کا تعین کرنے، لوگوں کی راہ نمائی کرنے اور ان کو صحیح سمت دینے کے لیے کوشاں ہے۔ لوگو!سنو: جو اسلام کو صحیح طور پر جان گیا ، وہ ہمیں اسی طرح پہچان لے گا جس طرح اپنے آپ کو پہچانتا ہے۔ پس اسلام کو سمجھو---پھر ہمارے حوالے سے جوکچھ کہنا چاہو کہو‘‘۔
امام حسن البنا نے اپنا تعارف ان الفاظ میں کرایاہے:’’میں وہ سیاح ہوں جو حقیقت کی تلاش میں نکلا ہے۔ وہ انسان ہوں جو لوگوں کے درمیان انسانیت کو ڈھونڈنے چلا ہے، اور وطن کا ایسا باشندہ ہوں جو اپنے وطن کے لیے دل کی گہرائیوں سے اسلام کے سایے تلے عزت ،آزادی، امن اور پاکیزہ زندگی کا خواہاں ہے‘‘۔
اسلام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا : ’’اسلام زندگی بھر کے تمام مسائل کو منظم کرتا ہے۔ اس کے ہر مسئلے میں فتویٰ اور حکم دیتا ہے اور ہر معاملے کو سلجھانے کا منظم اور واضح طریق کار پیش کرتا ہے۔ کسی بھی بنیادی اصلاح طلب مسئلے کو حل کرنے میں لاجواب ہی نہیں بلکہ ان تمام نظاموں کی اصلاح کی مکمل اہلیت رکھتا ہے جن کی اصلاح کی بنی نوع انسان کو ضرورت پیش آسکتی ہے‘‘۔
اپنی فکر کو بڑے مختصر اور جامع انداز میں یوں پیش کیا :’’ہماری فکر کا خلاصہ یہ ہے: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مومنوں کی ایک ایسی نئی نسل تیار کرنا جو اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں اعلیٰ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو، اس کے بلند اخلاقی معیارات پر کار بند ہو اور اپنی پوری زندگی اسلام کے رنگ میں رنگ لے: صِبْغَۃَ اللّٰہِ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً (البقرہ۲:۱۳۸) ’’اللہ کا رنگ اختیار کرو اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا ؟‘‘
۱۹۲۸ء، یعنی یوم تاسیس ہی سے اس تحریک میں وہ تمام حر کی ادبیات موجود تھیں، جو اب ایک ہمہ گیر عالمی مکتب فکر کی حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔ اس لیے کہ اخوان المسلمون ،اسلام کی پہلی دعوت کا تسلسل اور اس کی صداے بازگشت ہے۔ حقیقت میں اسی روز سے اس دعوت کا آغاز ہو گیا تھا جس دن قرآن پاک کی پہلی آیت اقرا --- محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ بنیادی طور پر یہی اقرا کا کلمہ ہی مسلمان علما اور مفکرین کی تشریحات کی روشنی میں اس بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوا اور زندگی کے تمام شعبوں کی اصلاح کے لیے ایک اصولی پروگرام کی حیثیت اختیار کرگیا۔ اس سلسلے میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں پوری اُمت کے لیے ایسے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے،جس کی بدولت لوگوں کے عقیدے ، اخلاق، طرز فکر، تغیر اور انقلاب کے اسالیب اور اسی طرح زندگی کے ہر میدان میں ایک تغیر رونماہوا۔لوگ، لات ، منات ،عزیٰ اور ہبل کو چھوڑکر ایک اللہ کی طرف متوجہ ہوئے۔
یہ اصولی پروگرام پوری کائنات اور کائنات کی ہر ایک چیز کے لیے وضع کیاگیا۔ چنانچہ جمادات ، نباتات ، حیوانات ، انسان ، جن اور ملائکہ سب کے سب اس نظام کے پابند ہیں۔ سب اللہ پاک کی تقدیس اور تسبیح کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔جو شخص اسلام کے اصل سرچشمے سے سیراب ہونے کاارادہ رکھتاہو، اس کے لیے اسلام کا پیغام کتنا واضح اور آسان ہے اور نشانات راہ دکھانے کے لیے اس کا طریق کار کتنا روشن ہے___ ذرا ملاحظہ کیجیے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ ؓکو اپنا سفیر بنا کر یمن روانہ فرمایا تو چار مختصرجملوں میں انھیں دعوت اور تبلیغ کا پورا طریق سمجھا دیا۔ آپؐ نے فرمایا:سب سے پہلے ایمان کی دعوت (شہادتین کا اقرار )،اگر اس کو انھوں نے قبول کرلیا تو اس کے بعد ان کو اسلام کے بنیادی قواعد و ضوابط کی طرف دعوت دینا، اگر اس کو بھی انھوں نے تسلیم کرلیا تو پھر ان کو مقاصد کلمہ کی طرف دعوت، اور اس کے بعد پھر اجتہاد کا مرحلہ آتا ہے۔ کتنے واضح آسان تدریجی اسلوب کی راہ نمائی اس مثال میں ملتی ہے۔
اخوان المسلمون کی فکر کا خلاصہ اس کے بانی کی نظرمیں ان کلمات میں پیش کیا جاسکتا ہے : عالمِ اسلام اور اس کے توسط سے پوری نوع انسانیت اپنی دینی پیاس بجھانے کے لیے اس صاف و شفاف چشمے کی طرف لوٹ آئے جس کے بارے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا: ’’میں تمھارے درمیان دو ایسی چیز چھوڑ ے جا رہا ہوں، اگر تم اس پر کاربند رہے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے ، اللہ کی کتاب اورمیری سنت ‘‘۔
انفرادی دعوت او رتدریجی اصلاح سے اس کا م کا آغاز ہوگا۔یہ کام فرد سازی سے لے کرزمانے کی راہ نمائی، خلافت کی اقامت اور ہر طاغوت سے پورے عالم اسلام کی مکمل آزادی تک جاری رہے گا۔ اس ہمہ گیر تحریک میں ہمارا زادراہ گہرا اور پختہ ایمان، مستحکم تربیت ، مضبوط اخوت اور بھائی چارہ اور پیہم اور مسلسل عمل ہوگا۔ انھی عام فہم بنیادی اصولوں پر امام حسن البنا نے اپنی تحریک کے طریق کار کی بنیاد رکھی، جس نے اخوان المسلمون کی صورت میں ایک بہت بڑی عالمی تحریک کی حیثیت اختیار کی۔
جوانوں کے نام ایک پیغام میں امام حسن البنا شہید نے اس تحریک کے مراحل اور وسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:’’اخوان المسلمون کی تحریک کے مراحل متعین اور واضح ہیں۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کو کیا کرنا ہے۔ وہ تمام وسائل بھی بالکل ہماری نگاہ کے سامنے ہیں جن کو استعمال کرکے ہم اپنے وضع کردہ مقاصد کو حاصل کرسکتے ہیں۔ سب سے پہلے مسلمان فرد ، مسلم گھرانے، مسلم معاشرہ اور اس کے بعد اسلامی ریاست کا قیام ، عالم اسلام کی تمام سرزمینوں کو یک جا کرکے ایک بڑی اسلامی مملکت کا قیام ہمارے پروگرام کا حصہ ہے ،جہاں اسلام کا پرچم سربلند ہو۔ اس کے بعد ہم تمام انسانیت کے سامنے برملا اور ہر حالت میںاس دعوت کا اعلان کریں گے اور دنیا کے کونے کونے تک اس کو پہنچائیں گے‘‘۔
m دعوت دین کی بنیادیں: یہ بات درست ہے کہ اسلام اپنی بنیادی تعلیمات کے لحاظ سے بالکل واضح ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلیْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ وَ مَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ o (یوسف ۱۲:۱۰۸)’’اے نبیؐ ان سے کہہ دو کہ میرا راستہ تو یہ ہے ، میں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں ، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ‘‘۔ چنانچہ راستہ روشن ہے۔ دعوت الی اللہ کا مفہوم واضح ہے ، بصیرت موجود ہے ، ذمہ داری متعین ہے ، تزکیہ نفس یقینی ہے اور کفر و شرک کے شائبے سے دوری ان سب کی بنیاد ہے۔
یہ عام بنیادی اصول ہیں جوکہ تمام داعیان دین ، مصلحین امت اور علما وفقہا کے درمیان قدر مشترک ہیں،لیکن ان کی روشنی میں کچھ خاص اصول متعین کرنے کی ضرورت ہے جن کے ذریعے سدالذراع کے دائرے میں رہ کر باریک بینی اور اعتماد کے ساتھ اپنے اہداف کی طرف پیش قدمی کا طریق کار متعین کیا جاسکے، اور اندھیرے میں تیر چلانے والوں کے لیے غلط تاویلات کا دروازہ بند کیا جاسکے ، جوکہتے ہیں کہ جب اسلام موجود ہے تو پھر لوگوں کو اسلام کا جدید فہم حاصل کرنے کی تجویز دینے کا کیا مطلب ؟ جب اسلام کے اصول و مبادی بدیہی طور پر دین کا حصہ ہیں تو پھر اس پر نظرثانی اور نئی کانٹ چھانٹ کی کیا ضرورت ہے جس کو تم اپنے کارکنان کے لیے معیار قبولیت بناتے ہو۔ان تمام سوالات کا جواب نہایت سیدھا اور آسان ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فکر و تدبر اور زمین و آسمان کی پیدایش میں غور وفکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ خود اسلام نے ہمیں اجتہاد و تجدید کی طرف بلایا ہے۔
جن قابل ذکر مسائل میں نظر ثانی اور تجدید کی ضرورت ہے ان میں ایک مسئلہ وہ اصول و مبادی ہیں جن کا بنیادی تعلق میدان دعوت سے متعلقہ مسائل سے ہے ، تاکہ ایسے مشترکہ اصول وضع کیے جاسکیں جو تمام مسلمانوں کے لیے ایک مشترک فکری پس منظر قائم کرسکیں۔
اگر پوری دنیاکے مسلمان قرآن پاک کو ایک درست اور مقدس قانون کے طور پر تسلیم کرتے اور مانتے کہ : لاَّ یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَلاَ مِنْ خَلْفِہٖ (حم السجدہ ۴۱: ۴۱) ’’باطل نہ سامنے سے اس پر آسکتا ہے نہ پیچھے سے ‘‘ تو پھرخود زمانے کے افکار و نظریات کی تصحیح و ترمیم کے لیے کچھ مشترکہ اصول وضع کرنے ہوں گے ، اور ایسے متفقہ قواعد وضوابط مرتب کرنے ہوں گے جن کے ذریعے اسلام کو سمجھا جاسکے۔ دعوت کا آغاز اس اصول کے تحت کیا جائے کہ علما دین کا اجماع حجت قاطع ہے اور ان میں اختلاف کی صورت میں فیصلہ کن حیثیت قرآن کو حاصل ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا o (النساء ۴:۶۵)’’نہیںاے محمدؐ، تمھارے رب کی قسم یہ لوگ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ، پھر جوکچھ تم فیصلہ کرو ، اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں بلکہ اسے پوری طرح تسلیم کرلیں‘‘۔
امام حسن البنا ارشاد فرماتے ہیں :’’میں چاہتا ہوں کہ اس وضاحت کو پرکھنے کے لیے میں ایک معیار مقر ر کروں۔ میری کوشش ہوگی کہ بات آسان اور سلیس زبان میں ہو او رقاری کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے، اور اُمت اسلامیہ میں سے کوئی بھی میری اس بات سے اختلاف نہیں کرے گا کہ وہ معیار اللہ کی کتاب ہے ، جس کے سرچشمے سے ہم سیراب ہوتے ہیں اور جس کی حکمت و دانائی کی طرف ہم رجوع کرتے ہیں۔ ‘‘
امام حسن البنا نے اسلام اور اسلامی دعوت کو سمجھنے کے لیے قرآن پاک ہی کی مدد سے مراحل کا تعین کیا اور انھیں ۲۰ اصولوں کی شکل میں پیش کیا ہے۔ انھوں نے ان اصولوں کو دو اہداف کے حصول کے لیے تمام مسلمانوں کے مابین قدر مشترک قرار دیا ہے:
۱- روزبروز بڑھتے اور شدت اختیار کرتے ہوئے اختلافات سے اجتناب۔
۲- ایک ایسی دینی قیادت کی تشکیل ، جس کی طرف اسلامی امور میں رجوع کیا جاسکے۔
یہ ایک ایسی کوشش ہے جس کی صحت اور وقعت تاریخ نے ثابت کردی۔ یہ اتحاد بین المسلمین کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے جس پر بالا جماع تمام مسلمان متفق ہیں۔ یہ دور یاں ختم کرتی ہے، ایسے آسان راستوں کی نشان دہی کرتی ہے جس کے ذریعے ہم عقائد ،اصول اور سیاسی اجتہادات کے حوالے سے موجود نظریات کی درستی اور ان کا صحیح فہم و ادراک کرسکیں۔
یہ ’۲۰ اصول ‘ اتنے مشہور ہوچکے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان تہذیبی یک جہتی کے دستور کا درجہ حاصل کرچکے ہیں۔ لہٰذا ان کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں ان اصولوں کے اصل مصدر رسالۃ التعالیم اور خاص طو رپر محمد الغزالی اور یوسف القرضاوی کی تحریروں کا حوالہ دینا کافی سمجھتا ہوں۔ تاہم اپنے موقف کی وضاحت کے لیے بعض مقامات کی طرف صرف اشارہ کروں گا۔
امام حسن البنا فرماتے ہیں:’’اسلام ایک ہمہ گیر نظام ہے جو زندگی کے تمام گوشوں پر حاوی ہے ، چنانچہ وہ ریاست و حکومت کے معاملات میں بھی دخل دیتاہے اور تعمیر وطن و تشکیل امت کی ذمہ داری بھی اپنے سرلیتاہے۔ وہ اخلاق و کردار اور شفقت ورحمت کا مظاہرہ بھی کرتا ہے اور علم و ثقافت اور قانون وعدل کا انتظام بھی کرتا ہے۔ وہ کسب مال اور دولت و ثروت کی راہیں بھی متعین کرتا ہے۔ یہ ایک دعوت، ایک نظریہ ، ایک جہاد اور لشکر بھی ہے اور ایک سچا عقیدہ اور عبادت بھی ہے‘‘۔ گویا اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جو زندگی کے تمام پہلوئوں پر حاوی ہے۔
دعوت کے مشترکہ اھداف: یہ ہے اسلام کی اصل حقیقت، جو اللہ کا نازل کردہ دین ہے ، زندگی کے تمام پہلوئوںکو محیط ہے۔ عملیت پسند اورمتوازن ہے اور ہر زمانے اور ہر جگہ ہرانسان کے لیے قابلِ عمل ہے۔ اصل مسئلہ ان کُلی اصولوں کے سمجھنے کا ہے کہ کس طرح ہم ان سے فروعی مسائل اخذ کرسکتے ہیں اور کس طرح ہم تدریج کے ساتھ ان سے شرعی احکام کے نفاذ کے لیے جزئیات اخذ کرسکتے ہیں ؟
اس کے جواب میں امام شہیدنے فرمایا: ’’قرآن کریم اور سنت مطہرہؐ ، اسلامی احکام کے سمجھنے میں تمام مسلمانوں کے لیے مرجع ہے ، اور قرآن بغیر کسی مشکل کے سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ سُنت نبوی کے مطالب سمجھنے کے لیے با اعتماد ماہرین حدیث کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ پھر اس بنیادی اصول سے کئی ضوابط نکلتے ہیں :
__ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی انسان معصوم نہیں ہے۔
__ سلف نے اپنے دور میں اجتہاد کیا ، اس میں جو کچھ قرآن و سنت کے موافق ہے اسے ہم قبول کریں گے او رجو مخالف ہے اسے رد کریں گے، تاہم ان پر طعن و تشنیع نہیں کریں گے۔
__ ہر عالم کا حق ہے کہ وہ قواعد و ضوابط کے مطابق اجتہاد کرے۔جو لوگ عالم نہیں ہیں وہ اَئمہ دین میں سے کسی کا اتباع کریں گے، اور خود بھی کوشش کریں گے کہ کسی شرعی قاعدے کی مخالفت سے بچتے ہوئے احکام کے دلائل معلوم کریں۔
__ فقہا کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کریں او راختلاف و تفرقہ کے مسائل سے بچیں، خواہ وہ نص کے ظاہری معنی مراد لیں یا مقاصد شریعت کی روح کو مدنظر رکھیں۔
__ عقیدہ عمل کی بنیاد ہے ، نیت اعمال سے زیادہ اہم ہے ،تاہم دونوں میں کمال حاصل کرنے کی کوشش مطلوب ہے۔
__ ان معاملات میں اجتہادی راے قابل احترام اور قابل عمل ہے کہ جن کے بارے میں کوئی صریح نص موجود نہ ہویا نص توموجود ہو، لیکن اس میں مختلف معانی کا احتمال ہو اور جس کا مقصد مصالح عامہ کا حصول ہو۔ تاہم اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ کسی شرعی قاعدے سے متصادم نہ ہو اور عرف و عادت اور زمان و مکان کے تقاضوں کے مطابق ہو۔
__ فقہی اختلافات کو تفرقہ بازی کے لیے وجہ جواز نہیں بنایا جاسکتا، بلکہ اخوت و محبت اور باہمی تعاون کی فضا میں فقہی اختلافات میں بحث و جستجو کرنا عباد ت ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ حقیقت تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔
__ ہر وہ مسئلہ جس کا تعلق عمل سے نہیں، اس میں وقت صرف کرنا صحیح نہیں ہے۔ غلط ’عرف‘ شرعی الفاظ کی حقیقت کو نہیں بد ل سکتا۔ شریعت میں چیزوں کے نام نہیں ان کی حقیقت معتبرہے۔
__ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی مسلمہ سائنسی حقیقت شریعت کے کسی قاعدے سے متصادم ہو، جو چیز قطعی ہو وہ ظنی پرمقدم ہے اور تصادم کی صورت میں شرعی اصول کا اتباع مقدم ہوگا۔
__ اسلام عقل کو وہم اور خرافات سے آزاد کرتا ہے اور غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ حدیث نبویؐ ہے : علم وحکمت مومن کی متاع گم گشتہ ہے۔ جہاں کہیں بھی اسے ملے وہ اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔ (ترمذی )
یہ بنیادی اصول امام حسن البنا کی فکر کے واضح پیمانے ہیں۔ امام حسن البنا شروع ہی سے اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ اصل مسئلہ جو اسلام اورمسلمانوں کے درمیان حائل ہے، وہ مقاصد شریعت کے صحیح فہم کا نہ ہونا اور ان بنیادی اصولوں کے معیار کا فقدان ہے۔ حسن البنا شہید نے اپنے ۲۰اصولوں میں ان باتوںکی وضاحت کی ہے۔ چھٹی سالانہ کانفرنس سے خطاب میں یہ کہتے ہوئے اس پر مہرتصدیق ثبت کی کہ :’’ میرے بھائیو! اچھی طرح سے جان لوکہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے اوپر احسان کیا اور تمھیں اسلام کا صحیح اور وسیع تر مفہوم عطا کیا جو زمانے کو ساتھ لے کر چلتا ہے ، تمام امتوں کی ضروریات کو پورا کرتا ہے ، اور لوگوں کو خوشی فراہم کرتا ہے۔ جو جمود ، اباحیت اور فلسفیانہ پیچیدگیوں سے پاک ہے ، جس میں کوئی افراط و تفریط نہیں ہے ، جو قرآن و سنت اور سلف صالحین کی سیرت سے منصفانہ طریقے سے روشنی حاصل کرتا ہے۔ ایک سچے مومن کے دل سے تم نے اسے قبول کیا اور اسی سے آپ نے عقیدہ و عبادت ، وطن و شہریت ، حکومت و قوم ، قرآن و تلوار اور اللہ کی سرزمین پر مسلمانوں کی نیابت کی پہچان حاصل کی‘‘۔
یہ ایسا قول فیصل ہے جو اخوان المسلمون کو تمام جماعتوں سے ممتاز کرتا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ نصب العین کتنا واضح ہے ، جو اخوان المسلمون کی پہچان بن چکا ہے۔ اخوان کے کارکن اسی کو سامنے رکھ کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، اسی کو حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کرتے ہیں، اور بانیِ جماعت کی ہدایات کے مطابق اسی کے گرد جمع ہوتے ہیں۔
ایک دفعہ انھوں نے اپنے قریبی ساتھیوں کے سامنے یہ سوال پیش کیا کہ:’’ہم کیا چاہتے ہیں ؟‘‘اور پھر خود ہی اخوان کے واضح طریق کار کے مطابق جواب دیا :’’کیا ہم مال و دولت چاہتے ہیں جو سایے کی طرح عارضی ہے ، یا ہم دنیا کے جاہ و جلال کے طلب گار ہیں ،یا ہم زمین کے اوپر حکمرانی اور سلطنت چاہتے ہیں، حالانکہ یہ زمین اللہ کی ہے اور یُوْرِثُھَا مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ ط (اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ الاعراف ۷:۱۲۸)، جب کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سامنے رکھتے ہیں: تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا وَ الْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَo (القصص ۲۸:۸۳) ’’وہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے‘‘۔اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ ہم اس دنیا اور اس کے جاہ و جال سے کچھ نہیں چاہتے، نہ ہم اس کے لیے کام کرتے ہیں اور نہ اس کی طرف دعوت دیتے ہیں بلکہ ہمیشہ یاد رکھنا کہ آپ کے سامنے صرف دو اہداف ہیں :
۱- ایک یہ کہ اسلامی ممالک ہر بیرونی تسلط سے آزادہوجائیں۔ یہ ہر انسان کا فطری حق ہے، جس کا انکار کوئی ظالم و جابر آمر ہی کرسکتا ہے۔
۲- دوسرا یہ کہ اس آزاد وطن میں ایک آزاد اسلامی سلطنت قائم ہو جو اسلام کے احکام پر عمل کرے، اس کے اجتماعی نظام کو نافذ کرے ، اس کے راست اصولوں کا اعلان کرے اور اس کی حکیمانہ دعوت کو تمام لوگوں تک پہنچائے۔ جب تک یہ حکومت قائم نہیں ہوگی تمام مسلمان گنہگار ہوں گے اور اس کے قیام کے سلسلے میں کوتاہی و لاپروائی پر اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ ہوں گے‘‘۔
’’ہماری دعوت کے دو نکتے روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں :وطن کی آزادی اور اسلامی مملکت کا قیام‘‘۔ اس کے بعد امام حسن البنا اپنے طریقۂ کار کے مراحل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ہم چاہتے ہیں کہ پہلے ایک مسلم فرد، پھر مسلم گھرانا اور مسلم قوم پیدا ہو۔ پھر ایک مسلم حکومت قائم ہو اور پھر ایک ایسی مملکت وجود میں آئے جو تمام اسلامی حکومتوں کی قیادت کرے ، بکھرے ہوئے مسلمانوں کو یک جا کرکے انھیں ان کا کھویا ہوا مقام واپس دلادے اور ان کی غصب شدہ زمین اور چھینے ہوئے علاقے بازیاب کرائے۔ پھر وہ جہاد اور دعوت الی اللہ کا علم بلند کرے تاکہ پوری دنیا اسلام کی تعلیمات سے بہرہ مند ہوجائے۔ ‘‘
اخوان المسلمون کا بنیادی ہدف لوگوں کو اللہ تعالیٰ وحدہٗ لاشریک کی عبادت، جس کے لیے ہم پیدا کیے گئے ہیں ، کے ذریعے سے اللہ کی رضا تک پہنچانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ o (ذاریات۵۱:۵۶) ’’میں نے انسانوں اور جنوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے‘‘۔ اور عبادت کا حق اداکرنے کے لیے تعمیر وطن اور ہرطاغوت سے اس کی آزادی ضروری ہے، تاکہ لوگ اللہ سے جڑ سکیں اور انھیں ایمان باِللہ اور اعمالِ صالحہ پر اُبھارا جاسکے۔
یہ وسیع تر پیغام ہے جسے اخوان تمام لوگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ امام البنا نے اس پیغام کا دو مختصر جملوں میں خلاصہ پیش کیا :
۱- اُمت کو تمام سیاسی پابندیوں سے نجات دلانا تاکہ اسے مکمل آزادی حاصل ہوجائے۔
۲- اُمت کی تشکیل نو کرنا ، تاکہ وہ دیگر اقوام کے اندر رہ کر آگے بڑھے اور معاشرتی بلندیوں کو حاصل کرنے میں اُن کا مقابلہ کرے۔
یہ دونوں جزو لازم و ملزوم ہیں۔ تعمیر نو اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سابقہ عمارت کو گرایا نہ جائے، مثلاً ایمان لانے کامطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے غیر اللہ کا انکار کرنا ضروری ہے۔ فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤمِنْم بِاللّٰہِ (البقرہ ۲:۲۵۶) ’’جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے‘‘۔ لہٰذا تعمیر سے پہلے آزادی ضروری ہے ، یہی وجہ ہے کہ امام حسن البنا ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اخوان کے کارکنان نے ایک امر بدیہی کے طور پر اسے حفظ کرلیا اور اسی کو عملی جامہ پہنانے کی تگ و دو کرتے رہے۔ امام حسن البنا نے اپنے رسالے الٰی ایّ شیئٍ نَدعُو النَّاس؟(ہم لوگوں کو کسی چیز کی دعوت دیتے ہیں) میں اجمالاً اس کا تذکرہ کیا ہے۔ کہتے ہیں: ’’ہمارا کام اجمالی طور پر یہ ہے کہ ہم مادیت، اباحیت اور الحاد کے سیلاب کی بے رحم موجوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوں ، جو ملت اسلامیہ کی وحدت کو بہالے گئی ہیں اور اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت اور قرآن کی ہدایت سے بھی محروم کردیا ہے‘‘۔
اسی مضمون کو اپنے دوسرے رسالے تحت رایۃ القرآن (پرچمِ قرآن تلے) میں جگہ جگہ وضاحت کے ساتھ پیش کیا۔ اس میں انھوں نے اخوان کے اصول ، اہداف ، وسائل اور کامیابی کے مختلف مراحل کا ذکرکیا اور یوں مسلم فرد سے لے کر اسلامی خلافت کے قیام تک کے خلا کو پرُ کردیا۔ اس طویل وضاحت کو ان الفاظ کے ساتھ ختم کیا :’’یہ وہ پیغام ہے جو اخوان المسلمون لوگوں تک پہنچانا چاہتی ہے۔ وہ امت مسلمہ سے اپیل کرتی ہے کہ اسے بھی یہ سمجھنا چاہیے اور پر عزم ہو کر اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کو اخوان المسلمون نے اپنی طرف سے نہیں بنایا، بلکہ یہ وہی پیغام ہے جو قرآن کی ہر ہر آیت میں نظر آتا ہے اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام احادیث میں نمایاں ہے، قرون اولیٰ کے مسلمان جو اسلام کے فہم اور نفاذ کا اعلیٰ نمونہ تھے ،۱ ُن کے ہرہر عمل سے مترشح ہوتا ہے۔ اگر مسلمان اس پیغام کو قبول کریں گے تو یہ صحیح ایمان و اسلام کی نشان دہی ہوگی اور اگر انھیں اس میں کوئی نقص یا عیب نظر آئے تو پھر اللہ کی کتاب ہمارے درمیان قول فیصل ہوگی۔ وہ عدل کے ساتھ ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان فیصلہ کرے گی۔ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا یا ہمارے خلاف ، یہ معلوم ہوجائے گا : رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَo (اعراف ۷:۸۹) ’’اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما۔ یقینا تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘۔
چھٹے اجتماع عام میں امام حسن البنا نے بنیاد ی مقصد ( اللہ ہمارا مقصود ہے ) کو دو ذیلی اہداف میں تقسیم کیا، جس پر عمل کرکے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا :’’اخوان المسلمون دو مقاصد کے لیے کام کرتی ہے۔ ایک مقصد قریب ہے جس کے ثمرات اخوان میں شامل ہوتے ہی نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں یا اخوانیت اس کے اندر نظر آنے لگتی ہے۔ ایک مقصد دور ہے جس کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے، اور جس کے لیے پہلے تربیت اور اچھی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ قریب کا مقصد ہر قسم کی عام نیکیوں میں حصہ لینا اور حالات کے مطابق سماجی خدمات انجام دینا ہے۔ اخوان المسلمون کے ساتھ جیسے ہی کوئی منسلک ہوتا ہے تو اس سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ :
__ اپنے نفس کو پاک اور اپنے رویے کو درست کرے۔ روح، عقل اور جسم کو ایک لمبے جہاد کے لیے تیار کرے۔
__ اس دعوت کو اپنے خاندان ، دوستوں اور معاشرے میں عام کرے۔ کوئی بھائی اس وقت تک صحیح مسلمان نہیں بن سکتا جب تک وہ اسلام کے احکام و اخلاق پر عمل نہ کرے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ان حدود سے تجاوز نہ کرے جو رسولؐ اللہ نے مقرر فرمائی ہیں۔
’’میرے بھائیو!کیا تحریک اخوان صرف یہ چاہتی ہے؟ نہیں، بلکہ یہ تو اخوان کے مقاصد کا ایک جزو ہے جس کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرنا مقصود ہے۔ یہ توہمارا چھوٹا سا ہدف ہے کہ نیکی و اطاعت میں اپنا وقت صرف کریں اور مکمل اصلاح اور مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مناسب حالات کا انتظار کریں‘‘۔
’’اخوان المسلمون کوشش کرتی ہے کہ نظام مملکت کو نیک حکمرانوں کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ اسلامی خلافت کا احیا کیا جائے اور اسلام کے احکام کو نافذ کیا جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْھَا وَلاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ الَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَo (الجاثیۃ ۴۵:۱۸) ’’اس کے بعد اب ( اے نبیؐ)ہم نے تم کو دین کے معاملے میں ایک صاف شاہ راہ (شریعت ) پر قائم کیا ہے۔ لہٰذا تم اسی پر چلو اور ان لوگوں کو خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے‘‘۔
امام حسن البنا نے اپنی دعوت کی بار بار وضاحت کرنے سے کبھی بھی اکتاہٹ کا اظہار نہیں کیا ،تا کہ یہ اہداف کارکنان کے ذہنوں میں راسخ ہوجائیں اور وہ اسے حاصل کرنے کے لیے مسلسل اس کے ساتھ وابستہ رہیں ، کیونکہ وابستگی ہی اہداف کو حاصل کرنے کا راستہ ہے اگرچہ دسیوں سال بعد ہو۔
بانیِ اخوان کے پیش نظر اہداف یہ ہیں :
’’اس بنیاد پر مناسب وقت آتے ہی اخوان کے امید وار قانون ساز اسمبلیوں میں منتخب ہونے کے لیے الیکشن لڑیں گے اور چونکہ ہمارا مقصد صرف رضاے الٰہی حاصل کرنا ہے، اس لیے ہمیں اللہ کی مد د پر بھروسا ہے کہ ہمیں کامیابی ملے گی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌo (الحج ۲۲:۴۰) ’’اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ اللہ بڑا طاقت ور اور زبردست ہے‘‘۔
’’اس کے علاوہ ہم کبھی کوئی دوسرا راستہ اختیار نہیں کریں گے، الایہ کہ ہمیں مجبور کیا جائے۔ ہمارامقصد واضح اور راستہ متعین ہے۔ اس میں کوئی ابہام اور پیچیدگی نہیں ہے۔ ہم اپنے اس کام کے تمام نتائج کے لیے تیار ہیں۔ ہم کسی دوسرے پر اس کا بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارے لیے جو اجر و ثواب ہوگا وہی بہتر اور پایدار ہے۔ حق کے راستے میں فنا ہونا دراصل بقا ہے۔ دعوت بغیر جہاد کے ممکن نہیں اور جہاد بغیر مشقت کے نہیںہوتا۔ اس انداز سے کام کرنے پر کامیابی ہمارے قریب ہوگی اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہماری حالت پر صادق آئے گا: پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا کہ وہ مدتوں نصیحت کرتے رہے اور لوگوں نے سن کر جواب نہ دیا یہاں تک کہ پیغمبر، لوگوں سے مایوس ہوگئے، تو یکایک ہماری مدد پیغمبروں کوپہنچ گئی۔ پھر جب ایسا موقع آجاتاہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچا لیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالاہی نہیں جاسکتا۔ (یوسف۱۲:۱۱۰)
پس دعوت و تبلیغ اور منظم جدوجہد اخوان کے اہم ظاہری وسائل ہیں۔ ہم ان وسائل کے ذریعے اپنے اعلیٰ مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو مطمئن اور قائل کرکے ان کے ذریعے ملکی قیادت کے لیے ایسے اہل ذمہ داروں کا انتخاب ممکن بنائیں جو معاشرے کی تعمیر و تربیت کی ذمہ داری ادا کرسکیں اور لوگوں کو اصلاح کی تین بنیادوں پر جمع کرسکیں:
__ اصلاح و ترقی کا درست طریق کار
__ اس طریق کار پر یقین رکھنے والے افراد کی تنظیم
__ ایسی باکردار قیادت کی تشکیل، جو ادارہ چلانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو اور دعوت کے لیے مطلوب نرمی سے بھی مزین ہو اور سختی و تشدد اور افراط و تفریط سے اجتناب کرتی ہو۔
امام حسن البنا نے ہماری دعوت نئے مرحلے میں ہے میں فرمایا ہے: ’’طاقت اور تشدد ہمارا ذریعہ و وسیلہ نہیں ہے۔ حق کی دعوت براہ راست روح کو مخاطب کرتی ہے ، دلوں کے ساتھ مناجات کرتی ہے ، اور دل کے بند دروازوں پر دستک دیتی ہے۔ یہ دعوت کبھی بھی زبردستی کسی کے دل میں جگہ نہیں پیدا کرسکتی۔ جو لوگ جماعتوں کی تاریخ جانتے ہیں انھیں معلوم ہے کہ ایمان و عمل صالح اور اخوت و محبت ہی وہ بنیادیں ہیں جنھیں دعوت کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان وسائل کو اخوان کے تین نعروں میں بھی بیان کیا گیا :پختہ ایمان ، بہترین تربیت ، جہدمسلسل‘‘۔ یہ منشور حسن البنا کے کتابچے بین الأمس و الیوم (آج اور کل) سے لیا گیا ہے۔
بعد میں اس کے ساتھ ایک اور وسیلے ’اخوت و محبت ‘ کا اضافہ کیا گیا ، تاکہ تربیت کے ارکان اور دعوتی سرگرمیوں کے وسائل کی تکمیل ہوجائے۔ان وسائل کے دقیق مطالعے سے دوپہلو قابل غور نظر آتے ہیں :
۱- ہر پُرامن طریقے سے دعوت عام کرنا، اس کے لیے لٹریچر، تبلیغ، وعظ و نصیحت اور خطابت و اعلان کو ذریعہ بنانا تاکہ اپنا پیغام لوگوں تک پہنچایا جا سکے اور اس کے مقاصد و اہداف کی وضاحت ہوجائے۔
۲- رفاہِ عامہ کے کاموں میں حصہ لیتے ہوئے معاشرتی اور سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے دعوت کو عام کرنا ۔ اس کے لیے مختلف فلاحی ادارے ،مدارس ، سکول ،ہسپتال اور مساجد وغیرہ قائم کرنا تاکہ دین کا تصور ہر شعبۂ زندگی پر محیط ہوسکے۔ اس طرح راے عامہ کو اخوان المسلمون کی دعوت، اس کے پروگرام اور اغراض ومقاصد سے متفق اور معاون و مددگار بنایا جائے۔
اس سے یہ واضح ہوگیاکہ ہر ممکن اور جائز وسائل سے استفادہ کرنا اخوان کا امتیازی وصف ہے جو وہ داخلی اور خارجی وسائل سے حاصل کرے گی۔ داخلی وسائل سے مراد جماعت کی اندرونی قوت ، بہترین نظام کار اور وہ مضبوط حصار ہے جو اسے ہر قسم کے طوفان و سیلاب سے بچائے ، جب کہ خارجی وسائل میں عوام سے مضبوط تعلق کی بنیاد پر ہرحالت میں صداے حق بلند کرنا ہے:
__ دستوری اور سیاسی جدوجہد کرنا، تاکہ اس دعوت کی آواز سرکاری ایوانوں تک پہنچ جائے، جب کہ ملک کے قانونی اور آئینی ادارے بھی اسے قبول کریں اور عوام بڑے پیمانے پر اس کے ہمدرد بنیں۔
__ اس دعوت کی حمایت کے لیے شرعی قواعد و ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے جہاد کیا جائے۔یہ اس صورت میں ہوگا کہ جب لوگ اس دعوت کے راستے میں حائل ہوں اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو منع کریں۔ امام حسن البنا نے جہادکو چھے مراتب میں تقسیم کیا ہے۔ انھوں نے التعالیم میں فرمایا ہے کہ :جہاد کا پہلا مرتبہ دل کا انکار ہے اور آخری مرتبہ قتال ( مسلح جدوجہد ) فی سبیل اللہ ہے۔ اس کے درمیان والے درجے زبان ، قلم اور ہاتھ کے ذریعے جہاد اور جابر و ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق بلند کرناہیں۔
جہاد کے مختلف درجات ہیں: سب سے پہلے عقیدہ و ایمان کی قوت پیدا کرنا ، پھر وحدت و یگانگت کی قوت حاصل کرنا اور پھر فوجی اور اسلحے کی قوت پیدا کرنا۔ اگر یہ تمام اوصاف موجود نہ ہوں تو کسی جماعت کو طاقت ور جماعت نہیں کہا جاسکتا۔ داخلی اور خارجی وسائل کے بارے میں امام حسن البنا کی تمام تفصیلات کا نچوڑ چار نکات میں واضح ہوجاتا ہے :
پانچویں اجتماع عام کے خطاب میں انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’’اخوان اتنے ظاہر بین اور سطحی نہیں ہیں کہ بات کی تہہ تک نہ پہنچ سکیں اور نتائج کا اندازہ نہ کرسکیں‘‘۔ امام حسن البنا نے اس قول کے ذریعے اجتہاد کی دعوت دی اور کارکنان کو متوجہ کیا ہے کہ حالات اور زمانے کو مد نظر رکھ کر اس کی مناسبت سے نئے وسائل ایجا د کیے جاسکتے ہیں ، بجاے اس کے کہ سایے میں بیٹھ کر چھت اور اس کے نقش و نگار سے لطف اٹھائیں۔ اگر ہر قسم کی قوت و طاقت حاصل ہوجائے اور کامیابی کے امکانات مکمل طور پہ واضح ہوں، تب بھی ہمیں اپنے اغراض ومقاصد کے حصول کی خاطر تمام قوتیں کھپا دینی چاہییں۔ ساتھ ہی ساتھ اسلامی آداب و احکام کی پابندی بھی لازم ہے۔
امام حسن البنا نے اسی اجتماع میں فرمایا کہ:’’کیا اسلام نے ہر حال میں قوت کے استعمال کا حکم دیا ہے،یا اس کے لیے کچھ حدود و قیودمتعین کی ہیں ؟کیا طاقت کا استعمال پہلا ذریعہ اور وسیلہ ہے، یا سب سے آخری حربہ ہے ؟کیا یہ ضروری نہیں کہ انسان طاقت کے استعمال کے اچھے بُرے نتائج کاموازنہ کرے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا جائزہ لے ؟یا اس کا فرض ہے کہ وہ بہرصورت قوت کا استعمال کرے اور کہے کہ بس اس کے بعد جو ہوگا دیکھا جائے گا ؟‘‘
’’یہ سوالات انتہائی آسان ، عام فہم اور لوگوں تک پہنچانے میں نہایت آسان ہیں۔ ان کا خلاصہ یہ ہے :
۱- اسلام ایک مضبوط دین ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہر نوع اور ہرقسم کی قوت پیدا کریں ، وہ قوت جو معروف ہے اور وہ بھی جو معروف نہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ(الانفال ۸: ۶۰)، یعنی ہر قسم کی جائز اور ممکن قوت و طاقت کو حاصل کرو۔
۲- اسلام یہ حکم دیتاہے کہ ہم ہر کام کو سنجیدگی سے لیں اور اسے حق ، دلیل ، بلاغت ، بیان ، اتحاد ، ایمان اور اسلحے و بازو کی طاقت سے تقویت دیں ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تواضع، عجزو انکساری کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ طاقت کا مطلب جدوجہد کرنا اور متانت وذمہ داری ہے۔ یاَیحَیٰ خذ الکتاب بقوۃ کا یہی مطلب ہے۔
۳- اگر مسلمانوں (جماعت ) کو طاقت کے استعمال پر مجبور کیا گیا تو اس صورت میں بھی عرف و عادت ، زمانے اور حالات کے مطابق شریعت کے قواعد و ضوابط اور حدود و قیود کی پابندی لازمی ہوگی۔ اور اس قوت کو اپنے مقاصد کے حصول اور اللہ کے حقوق کی پاس داری کے لیے حکیمانہ انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔
۴- طاقت خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو اس کی طرف اس وقت رجوع کیا جائے گا، جب دیگر تمام ذرائع ناکام ہوجائیں ، لہٰذا اس کا استعمال آخری حربہ ہونا چاہیے۔ طبیب مریض کا علاج اس وقت جراحت سے نہیں کرتا ہے جب تک علاج کے دیگر طریقوں سے مایوس نہ ہوجائے۔
۵- ضرورت کے وقت طاقت کے استعمال اور عدم استعمال کے درمیان موازنہ کرنا ، اس کے منفی و مثبت اثرات کا جائزہ لینا ، اس کے استعمال کے جواز و عدم جواز وغیرہ پر غور کرنا ، یہ ساری چیزیں جاننا انتہائی ضروری ہے‘‘۔
امام حسن البنا کے سامنے یہ ساری چیزیں روز روشن کی طرح عیاں تھیں۔ یہ ان کی واضح راے ہے، تاکہ طاقت فساد کا ذریعہ نہ بنے ، اور ہمارا کام تعمیر ہے تخریب نہیں۔
خلاصہ: اس پوری بحث کو امام حسن البنا شہید کے رسالے اخوان قرآن کے سایے تلیکے کچھ اقتباسات سے سمیٹتا ہوں۔ امام نے اس رسالے میں کہا ہے کہ : ’’میرے بھائیو!ہم کوئی سیاسی جماعت نہیں ، اگرچہ اسلام کے قواعد و ضوابط کے مطابق سیاست ہماری فکر کا حصہ ہے۔ ہم محض فلاحی یا خیراتی ادارہ بھی نہیں ہیں، اگرچہ رفاہی و فلاحی کام ہمارے اولین مقاصد میں شامل ہیں۔ ہماری جماعت کوئی کھیل کی ٹیم بھی نہیں ہے ، اگرچہ جسمانی و روحانی ورزش ہمارے اہم ترین وسائل میں سے ہے۔ ہمارا اس قسم کی تنظیموں سے کوئی واسطہ نہیں، ان کے اغراض ومقاصد کسی ایک بات پرمرتکز ہوتے ہیں، بلکہ کبھی تو اس طرح کے اداروں کا قیام محض ذاتی خواہشات پر مبنی ہوتا ہے یا پھر نام پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے۔
’’ہم تو ایک نظریے اور عقیدے کو لے کر اٹھے ہیں۔ ہم ایک نظام اور طریق کار پر چل رہے ہیں۔ ہمارا کام کسی ایک موضوع یا کسی ایک قومیت تک محدود نہیں ہے۔ یہ دعوت کسی قسم کی جغرافیائی حدود کی پابند نہیں ہے اور نہ یہ کسی واقعے کے نتیجے میں ختم ہوسکتی ہے، یہاں تک کہ قیامت برپا ہوجائے‘‘۔
’’ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔ ہم ان کے بعد ان کی دعوت کا جھنڈا بلند کرنے والے ہیں۔ ان کی دعوت کو عام کرنے والے ہیں جس طرح انھوں نے قرآن کی حفاظت کی، اسی طرح ہم قرآن کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہ ہمارا واضح نظریہ ہے۔ یہی ہمارے اصول ہیں۔ یہ ہمارا ہدف ہے اور جائز حدود کے اندر رہ کر یہ ہمارے مختلف وسائل ہیں۔ ان میں سے جو ناقابل تغیر ہیں وہ اساسیات ہیں ، ان سے ہم ہٹ نہیں سکتے، اور جو قابل تغیر ہیں اس میں اجتہاد کرکے اسے شرعی مقاصد اور شرعی قوانین کی خدمت کے لیے استعمال کریں گے۔ ہمارا پہلا اور آخری مقصد دو بنیادی باتیں ہیں :
۱- ایمان و عمل صالح کے ساتھ دنیاکی امامت و سیادت۔
۲- آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے نتیجے میں خوش نودی اور جنت کا حصول۔
مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا o (النساء ۴:۶۹) وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیا اور صدیقین اور شہدا اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔
مرشد عام استاذ حسن البنا کو دو سالوں میں دوبار دیکھا۔ پہلی مرتبہ اس وقت دیکھا جب وہ میڈیکل کے طلبہ کے ایک گروپ سے مخاطب تھے اور د وسری دفعہ جب وہ چند پڑھے لکھے نوجوانوں سے تبادلۂ خیال کررہے تھے۔ دونوں مرتبہ سامعین نے ہنسی مذاق اور شورو شغب میں ان کی بات کو غیرمؤثر کرنا چاہا، لیکن وہ اس طرح محو گفتگو رہے کہ سننے والوں کے دل موہ لیے، بلکہ دلوں پر قبضہ جمالیا، یوں دونوں مواقع پر اپنے مخالفین پر چھا گئے۔
میں نے انھیں خاموشی سے غوروفکر کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے، اور گفتگو کرتے ہوئے بھی۔ دونوںحالتوں میں ان کے چہرے پر متانت و سنجیدگی کے گہرے نقوش‘ عیاں اور کشادہ و روشن پیشانی پر فہم و فراست کی کرنیں جیسے پھوٹ رہی ہوں، جس کے درمیان کثرت سجود سے بن جانے والا سیاہی مائل نشان نمایاں نظر آتا ہے۔
ان کی آنکھیں مُقَطَّمْ (مصر میں ایک پہاڑ)کے چشموں کی طرح تھیں جنھیں تم کم گہرا سمجھتے ہو، مگر جب ان میں کوئی پتھر پھینکتے ہو تو وہ لڑھکتا چلا جاتا ہے۔ اس کے لڑھکنے کی آواز دیر تک آتی رہتی ہے، حتیٰ کہ آواز آنا بند ہوجاتی ہے مگر وہ پتھر لڑھکتا ہی رہتا ہے۔
ہمیشہ مسکراتے ہوئے ‘ چاق و چوبند ‘ کشادہ قد و قامت ‘ایسے مضبوط جیسے شاہ بلوط کا درخت۔ ان کی آواز میں گہرائی ‘ گیرائی اور زیر و بم ہے۔ ان کی زبان میں اثر پذیری کا جادوہے۔ جب بولتے تو اہل عقل و خرد مسحور ہوجاتے۔ عقلی دلائل اور شوکت اسلام کے تاریخی واقعات ان کی گفتگو میں ایسے برجستہ اور بر محل آتے چلے جاتے ہیں، جیسے کوئی ماہر توپچی پوری توجہ کے ساتھ دیکھ کر ٹھیک ٹھیک اپنے ہدف پر گولہ داغتا ہے۔ ان کے یہ گولے ان کے مخالفین پر بم بن کر پھٹتے ہیں۔
تمھارا کیا خیال ہے ان رنگوں اور لکیروں سے کسی قائد کی تصویر بن سکتی ہے؟
اس مرتبہ مصر کس آواز پر بیدا ر ہوگا؟
کس در سے صبح کی روشنی کی پو پھوٹے گی؟
مصری تاریخ کا نیا شان دار ورق کس کے خون سے لکھا جائے گا ؟
وہ وقت کب آئے گا جب مصر خامیوں و کمزوریوں سے نجات حاصل کرلے گا؟
لوگ کہتے ہیں اس کا علم اللہ تبارک و تعالیٰ کو ہے اوراس کے بعد اخوان المسلمون کو ___ سوال یہ ہے کہ اخوان المسلمون کون ہیں ؟
مبصرین کے خیال میں یہ وہ لوگ ہیں ‘ جو ہر مظاہرے کے پیچھے اور ہر ہڑتال میں سرگرم ہیں۔ یہ وہ تحریک اور طاقت ہے جو اس بیداری کی سرخیل ہے جو آج کل ملی احساس کو زندہ کررہی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں ‘ جنھوںنے ایک ہی دن میں جلا وطنی کے ایک لاکھ بیج (badge) نہ صرف تقسیم کردیے بلکہ انھیں معزز مصریوں کے سینوں پر سجا بھی دیا۔
یہ الاخوان کون ہیں ؟
’الاخوان‘ سے وہ تنظیم و جمعیت مراد ہے،جن کا نشانِ امتیاز یہ مربوط تلواریں ہیں جن کے درمیان قرآن ہے جس کے نیچے اعدو (تیاری کرو) لکھا ہے۔
مرشد عام: مشرع شخصیت ‘ چمکتی آنکھیں ‘ فیصلہ کن اور توانا آواز۔ اس کے ایک حکم پر لاکھوں انسان اپنے خون کاآخری قطرہ تک بہادینے کے لیے تیار ہیں اوریہی وہ اصل طاقت ہے۔ میں نے الاستاذ حسن البنا سے دوتلواروں کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا:
’یہ جہاد کی نشانیاں ہیں ‘
اوریہ قرآن ؟
’جہاد کا دستور ہے ،زندگی بھر جہاد کا‘
میں نے پوچھا:دوتلواروں کے درمیان جو کلمہ لکھا ہے ؟
فرمایا: یہ قرآن کی ایک آیت کریمہ کا پہلا کلمہ ہے:
وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمْ (الانفال ۸:۶۰) اور تم لوگ ، جہاں تک تمھارا بس چلے ، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بند ھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو، تاکہ اس کے ذریعے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو خوف زدہ رکھو۔
ابھی ہم گفتگو مکمل نہیں کرپائے تھے کہ ان کے ۵ہزار انصار جلا وطنی کے دن کے حادثے کے بعد ان سے ہدایات لینے پہنچ گئے۔اب اس شخص کی نمایاں خوبی ظاہرہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ لوگوں کو خطاب کس طرح کیا جائے اور ان کے احساسات کو کس طرح شعلہ بار کیا جائے۔ میں سن رہاتھا جب وہ ان سے کہہ رہے تھے: سنو! اے بہترین انسانو، جنھیں اللہ نے انسانیت کی بھلائی کے لیے چن لیا ہے۔ سنو! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سپاہیو ‘اے لشکر نجات ‘ آزادی کے پیغامبرو ‘ اے راتوں کے تہجد گزارواور دن کے شہسوارو۔
میں نے یہ افتتاحیہ کلمات سنے اور پھر میں نے حاضرین کوبجلی کی سی گرج دار آواز میں لبیک کہتے سنا--- ’’اللہ اکبر ‘ اللہ اکبر ‘ کامیابی ایمان والوں ہی کے لیے ہے ‘‘۔آدمی فوراً سمجھ جاتا ہے کہ اس شخص کو اپنے عوام کی نفسیات کو سمجھنے کی غیر معمولی صلاحیت عطا ہوئی ہے۔ وہ عوام کے جذبات کو اُبھارنا اور ان کو رخ دینا جانتے ہیں۔
جو کچھ ہوا ،اس پر مرشد اپنے احساسات کا اظہار کررہے ہیں۔ وہ انھیں پُرامن مظاہروں کا حکم دیتے ہیں‘ تاہم وہ یہ نہیں سمجھتے کہ صرف پُرامن مظاہروں سے مصر کو اس کے حقوق مل جائیں گے، لیکن ان کی یہ سوچی سمجھی راے ہے کہ فی الحال یہ خون دینے کا وقت نہیں ہے___ اس لیے اپنی طاقت کو محفوظ رکھا جائے۔
حاضرین میں سے پھر بجلی کی گرج سنائی دیتی ہے: اللّٰہ اکبر ‘ وللّٰہ الحمد۔ مرشد تھوڑی دیر سکوت اختیار کرکے پھر فرماتے ہیں:’’اے جوانو !اب اپنے کاموں کی طرف لوٹ جائو ‘ حسب معمول میری ہدایات تمھیں پہنچ جائیںگی ، اے میرے پیارے اور محترم بھائیو‘‘۔ چندلمحوں میں ۵ ہزار پُرجوش اور پر عزم نوجوان واپس لوٹ جاتے ہیں۔ استاذ حسن البنا ہمارے درمیان اپنی نشست پر اس طرح لوٹ آتے ہیں کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ حالانکہ چند لمحوں میں انھوں نے ۵ہزار نوجوانوں کے جذبات کو ابھارا ہی نہیں راستہ بھی دکھایا ہے--- جوکہ رات کے عبادت گزار اور دن کے شہسوار ہیں۔
لوٹتے ہی وہ ہم سے گفتگو شروع کردیتے ہیں: ’’میں تحدید کے ساتھ نہیں بتا سکتا کہ یہ دعوت کب اور کیسے پروان چڑھی۔ کچھ افکار انسان کے ساتھ ہی نشوو نما پاتے رہتے ہیں۔ جب میں نے دارالعلوم سے گریجویشن کیا اس وقت یہ نمایاں تر ہوئے۔ پھر جب میں اسماعیلیہ میں قیام پذیر تھا اس وقت نشان ہاے منزل مزید واضح ہوگئے۔
میں نے پوچھا :’’اس وقت اخوان سے وابستہ کتنے حلقے ہیں ‘‘؟انھوں نے فرمایا :’’مصر میں ۱۵۰۰ حلقے ہیں، جن سے لاکھوں اخوان وابستہ ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں ہمارے کئی حلقے ہیں جن سے ڈیڑھ لاکھ اخوانی کارکن وابستہ ہیں۔ الاخوان المناصرون (متفقین) ان کے علاوہ ہیں۔ وہ ہماری طرح یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا روحانی فلسفہ اسلام کی شان دار تعلیمات سے ماخوذ ہونا چاہیے لیکن وہ فی الحال باقاعدہ ہمارے ساتھ شریکِ عمل نہیں ہوئے‘‘۔
میں نے کہا :’’لیکن گذشتہ چند سالوں میں آپ سیاسی سرگرمیوں میں لگ گئے ہیں‘‘۔ انھوں نے فرمایا: آپ کی مراد قومی سرگرمیوں سے ہے۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ مروجہ سیاسی پارٹیوں اور انجمنوں سے ہمارا میل ملاپ نہ رہے ، مگر جب جنگ چھڑ گئی تو وہ خود ہم سے رابطہ کرنے کے لیے کوشاں ہوئیں۔ اس رابطے کے نتیجے میں وہ شعلہ بھڑک اٹھا جسے دیکھ کر سب نگاہیں ہماری طرف دیکھنے لگیں ‘‘۔
میں نے پوچھا :’’ عنقریب انتخابات ہوئے تو کیاآپ ان میں شریک ہوں گے؟‘‘ انھوں نے فرمایا :’جی ہاں‘۔پوچھا :’’کیا کامیابی کی کوئی ضمانت ہے ؟‘‘جواب دیا :’’اگر آزادانہ انتخابات ہوں‘ اور اگر ہم چاہیں تو واضح اکثریت حاصل کرسکتے ہیں۔ فی الواقع میں یہ نہیں چاہتا، کیونکہ ہمارا قوم کی صفوں میں رہنا حکمرانوں کی صفوں میں شامل ہونے سے بہتر ہے۔ اس لیے فی الحال ہم چند ہی حلقوں میںانتخاب میں حصہ لیں گے‘‘۔
میں نے پوچھا:کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو حکومت دی گئی تو آپ اسے قبول نہیں کریں گے ؟ انھوں نے فرمایا :’’میں حکومت کو قبول کرلوں گا۔ کیونکہ حکومت عیش و عشرت کا نام نہیں بلکہ یہ تو ایک گراں بار ذمہ داری ہے جو جہاد جیسی قربانی کا متقاضی ہے۔ اگر میں نے حکومت قبول کرلی تو انگریزوں سے کہوں گا کہ وہ فوراً اور مکمل طور پر مصر سے نکل جائیں--- یا--- مصر یوں سے کہوں گا ، اے میری قوم کے لوگو!جہاد کرو، صرف جہاد ہی سے آزادی مل سکتی ہے۔ میں نے ایک دن نقراشی پاشا سے کہاتھا کہ وہ صراحت کے ساتھ انگریزوں سے مصر سے نکل جانے کا مطالبہ کریں، کیونکہ انگریز ٹال مٹول کا ماہر ہے ایسے نہیں جائے گا۔ اس لیے وہ تلوار تھام کر میدان جہاد میں قوم کی قیادت کریں‘‘۔
میں نے کہا:’’کیا آپ اُس سے تعاون کرتے ؟‘‘انھوں نے فرمایا :’’میں ہر اس وزیراعظم کے پیچھے چلنے کے لیے تیار ہوں جو جہاد کی دعوت دے‘‘۔
میں نے پوچھا :’’کیا آپ کے پاس طاقت ہے ؟‘‘ انھوں نے فرمایا :’’میرے پاس ۱۰لاکھ ہیں‘‘۔ میں نے کہا : ’’اسلحہ؟ ‘‘ انھوں نے فرمایا:’’ہمارا اسلحہ ایمان ہے۔ اخوان میں سے ہر ایک اس پر ایمان رکھتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی جانیں اور مال جنت کے بدلے خریدلیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے‘ قربانی دیں گے اورسامراج سے آزادی چھینیں گے--- جہاد کے موقع پر تم ہمیں دیکھو گے کہ ہم گولیوں کے سامنے یہ کہتے ہوئے ڈٹ جائیں گے : اے جنت کی ہوائوں، آئو ہماری طرف، آؤہماری طرف‘‘۔
میں نے پوچھا :’’کیا آپ کی جماعت کے پاس مال و دولت ہے؟‘‘ انھوں نے فرمایا : ’’ہماری جماعت سب سے زیادہ غریب ہے اور سب سے زیادہ دولت مند بھی۔ ہمارا باقاعدہ سرمایہ تو اخوان کے چندے اور اعانتیں ہیں‘ البتہ فی الواقع اخوان سے وابستہ کارکنوں کی ساری دولت ہماری دولت ہے۔ جب ہم نے یہ مرکز خریدنے کا فیصلہ کیا، اس وقت اخوان کے بیت المال میں کچھ بھی نہیں تھا۔ اخوان نے ایک ہی دن میں ۱۶ ہزار پائونڈ ادا کردیے۔ ہم نے یکم فروری کو اعلان کیا کہ ہمیں ایک اخبار اور پریس کی ضرورت ہے جس کی لاگت تقریباً ڈھائی لاکھ پائونڈ ہے، کیونکہ ہم مشرق وسطیٰ میں اسی قسم کا سب سے بڑا ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اخوان نے دو ہفتوں میں ۲لاکھ اور ۲۰ہزار پائونڈ پیش کردیے‘‘۔
میں نے کہا :’’آپ کی کچھ چیزیں مجھے اچھی نہیں لگتی ہیں ‘‘۔ انھوں نے کہا :’’وہ کیا ہیں؟‘‘ میں نے کہا : ’’دین کی تبلیغ ،کیونکہ اس سے مصری قوم کی وحدت پارہ پارہ ہوجائے گی‘‘۔ انھوں نے (قرآن کی آیت تلاوت کرتے ہوئے )کہا: ’’اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتائو کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔ (الممتحنۃ ۶۰:۸)
میں نے کہا :’’آپ اپنے اراکین سے یہ تقاضا کیوں کرتے ہیں کہ وہ زیادہ بحث مباحثہ نہ کریں؟‘‘ انھوں نے کہا :’’مناظرہ بازی اور فضول بحث سے کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوتی‘‘۔ میں نے کہا :’’آپ ان سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ زیادہ ہنسی مذاق نہ کیا کریں‘‘۔ انھوں نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ سے ملا ہوا دل پُرسکون اور سنجیدہ ہوتا ہے اور سنجیدگی ہی جہاد کا طرۂ امتیاز ہے‘‘۔ (انور الجندی، حسن البنا ، ص ۱۱۷-۱۲۲)
کسی نے بالکل درست کہا تھا کہ:’’ اخوان المسلمون موجودہ دور میں قرآن مجید کا ایک معجزہ ہے‘‘۔ تو پھر اسے تسلیم کرنے میں کون سا امر مانع ہوگا کہ اخوان المسلمون کے بانی مرشد عام استاذ حسن البنامرحوم و مغفور ہی اس کرشمے کے خالق ہیں۔ انھوں نے اپنے علم و عمل ، ہدایت و راہ نمائی، فعالیت و روحانیت ، مضبوط و غیر متزلزل ایمان اور کامل اطاعت سے اس جماعت کو بے پناہ قوت و توانائی پہنچائی، اور اس جماعت کے افراد نے ایسے عظیم الشان و ناقابل فراموش کارنامے سرانجام دیے جن سے قرونِ اولیٰ کی یاد تازہ ہوگئی۔
حسن البنا اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ ان کی شخصیت کے کئی روشن اور قابل تقلید پہلو ہیں۔ شہید کی دعوت و فکر کی خوشبو دنیاے اسلام کے کونے کونے بالخصوص مصر میں اسلامی زندگی کے ہر شعبے میں پھیلی ہوئی ہے۔ شہید کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے معاملات سے گہری دل چسپی تھی اور مسلمانوں کے حالات ان کی نگاہ میں تھے ، خواہ وہ دنیا کے کسی خطے سے بھی وابستہ ہوں۔
شہادت سے چند سال قبل جب حسن البنا کو یہ معلوم ہوا کہ میں دعوت و اشاعت دین کے لیے امریکا کے سفر کا ارادہ رکھتا ہوں ، تو وہ محترم صالح عشماوی کے ہمراہ دفتر منبرالشرق تشریف لائے، اور مجھے بتانے لگے کہ جنوبی امریکا میں مقیم مسلمان اپنے بچوں کی درست اسلامی و عربی تعلیم وتربیت کے لیے بہت زیادہ پریشان و سرگردا ں ہیں۔ اگر تعلیم یافتہ مربی اساتذہ کے ذریعے ان بچوں کی تربیت کا اہتمام نہ کیاگیا تو ان بچوں کا مستقبل انتہائی بھیانک اور خطرناک ہوگا۔ انھوں نے میری توجہ اس انتہائی اہمیت کے حامل مسئلے کی طرف دلائی اور اس سلسلے میں مالی تعاون اور افراد کار کے ذریعے عملی امداد کا وعدہ بھی فرمایا۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ میں امریکا نہ جاسکا، اور میرا قیام مصر ہی میں رہا۔ اس دوران حسن البنا شہید سے پرخلوص محبت میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا رہا۔
ایک دن میں نے انھیں تجویز پیش کی کہ منبرالشرق کو دارالاخوان المسلمون پر ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کرنا چاہیے ، جیسا کہ بعض دیگر اخبارات نے سیاست و تصوف کے میدان میں کارہاے نمایاں سرانجام دینے والوں پر خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کیا ہے۔ استاد محترم نے اس تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ جب مطلوبہ وسائل اور استعداد فراہم ہوجائے گی تو اس تجویز پر لازماً عمل کیا جائے گا۔ صدافسوس کہ ۸دسمبر ۱۹۴۸ء کو اخوان المسلمون کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ، ان کی دعوتی سرگرمیوں پر پابندی لگادی گئی ، او ر ان کے اخبارات بند کردیے گئے۔ اللہ کی قدرت دیکھیے کہ منبر الشرق مستقل بنیادوں پر جاری رہا تاکہ پرچم حق کو سربلند رکھے۔ وہ ان سخت ترین حالات میں بھی اخوان کا ہمیشہ دفاع کرتا رہا‘ جب کہ ان کے حق میں لکھنے والے قلم خاموش اور بولنے والی زبانیں گنگ ہوگئی تھیں۔
بعد ازاں اخوان کے لیے دعوت کا راستہ ہموار ہونا شروع ہوگیا تو انھوں نے المباحث کا اجرا کیا۔ پھر اسے بھی ترک کردیا اور الدعوۃ جیسے مؤقر اور اہم مجلے کا آغاز کردیا۔ مجھے اس پر بہت خوشی ہوئی اور اس مجلے کی اشاعت کا ایک سال پورا ہونے پر میں نے اخوان کو مبارک باد پیش کی۔
آج اخوان کی صورت میں جس مبارک تحریک کو ہم پھلتا پھولتا دیکھ رہے ہیں ، یہ پودا حسن البنا نے اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔ آج مصر اور غیر مصر کے بے شمار نوجوانوں میں جو پاکیزہ دینی اورروحانی رجحانات و افکار پروان چڑھے ہیں تو یہ شہید کی دی ہوئی اسلامی تعلیم وتربیت ہی کا نتیجہ ہے۔ شہید کی اس تربیت کے روشن نتائج فلسطین کے میدان جہاد میں اخوان کی شجاعت وبہادری اور ان کے جذبۂ قربانی و ایثار کی صورت میں ہمارے لیے مینارہ نور او ربہترین مثال ہیں۔ اگر اخوان کے راستے میں اپنوں اور غیروں کی طرف سے خفیہ سازشیں ، دسیسہ کاریاں اور رکاوٹیں کھڑی نہ کی جاتیں تو فتح و نصرت خداوندی کی تکمیل اور مجاہدین کی کامیابی کی صورت میں آج حالات بالکل مختلف ہوتے۔
میں یقین واثق سے کہتاہوں کہ جس پاکیزہ اور عظیم انقلاب کی بنیاد شہید حسن البنا نے رکھی اور خونِ جگر ہی سے نہیں اپنی شہ رگ کے خون سے اسے سیراب کیا، وہ کبھی زوال کا شکار نہیں ہوسکتا۔ دوام و بقا اس کا مقدر ہے___ مہ و سال کے گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں اس کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں اور یہ تحریک، اسلام کی نشأت ثانیہ اور نوجوانان اسلام کے لیے باعث صدعزت و افتخار ثابت ہوگی۔
امام شہید لکھتے ہیں : میرے والد صاحب کے بیان کے مطابق قمری اعتبار سے آج رات میری عمر ۴۰ سال ہوگئی ہے۔ الحمدللہ! میں اب تک دعوت الی اﷲ کے کام پر ڈٹا ہوا ہوں، تاہم اب بھی اس کام کے لیے مطلوبہ روحانی معیار میں کمی محسوس کرتا ہوں۔ اس لیے مجھے اوراد و وظائف پر پوری توجہ دینا ہوگی‘ دعوتی کام کی وجہ سے اس میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ نیز منگل کے ہفتہ وار لیکچر کے لیے بھی پوری تیاری اور کوشش کرنی ہے، اسی میں بہتری ہے۔ یہ بھی ضروری ہے اور وہ بھی۔
اس طرح انھو ںنے اپنا شدید احتساب کیا۔ اپنے اعمال کے یومیہ جائزے کا وہ اس قدر اہتمام کرتے تھے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔وہ ہمیں بھی ہمیشہ محاسبۂ نفس کا درس دیا کرتے تھے۔
میں ایک ایسا رسالہ شائع کرنا چاہتا ہوں جو کئی زبانوں میں چھپے اور دنیا بھر میں تقسیم کیا جائے۔ اسی طرح میری یہ بھی خواہش ہے کہ اخوان پوری دنیا میں پھیل کر اس فکر کو عام کریں۔ اگر میں موت سے قبل اپنی آرزوؤں کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوگیا تو امید ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی ضروریات کافی حد تک پوری ہوجائیں گی۔
میں نے پہلی مرتبہ امام البنا کو بالائی مصر کے ضلع قنا کے شہر اسنا کے ایک دور دراز گاؤں میں دیکھا۔ جس میں زیادہ تر ہمارے قبیلے المطاعنۃ کے لوگ آباد تھے ،اس وقت تک میں سیاست، قربانی پر مبنی جدوجہد، استعمار کی خرابیوں، انگریز کے قبضے‘ اس کی ہیبت اور اسلام پر بحیثیت دین اس کے سفاکانہ حملوںسے آگاہ نہ تھا‘ اور نہ میں عیسائی مشنریوں کے جال، بیرونی ذرائع ابلاغ کی چیرہ دستیوں اور علاج و تعلیم کے پردے میں ان عالمی ایجنسیوں کی طرف سے پھیلائے جانے والے لٹریچر کے سیلاب ہی سے واقف تھا، جو علم اور صحت کے نام پر الحاد واباحیت پھیلانے اور مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنے کے پروگرام پر عمل پیرا تھیں۔
اگرچہ میں اس بارے میں کچھ نہ کچھ سنتا بھی رہتا تھا۔ کیونکہ میرا شمار گاؤں کے ان بچوں میں ہوتا تھا جو گاؤں کے پڑھے لکھے لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے اور اسکول کی لازمی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ پڑھنے لکھنے اور قرآن کریم حفظ کرنے کے سوا میرا مشغلہ کچھ نہ تھا‘ جب کہ میرے اکثر دوست کھیتی باڑی اور دیگر ضروریات زندگی کے حصول میں اپنے گھر والوں کی مدد کرتے تھے۔ میرے فرائض میں یہ بھی شامل تھا کہ میں فرصت کے لمحات میں گاؤں کے ان پڑھ لوگوں کو الاہرام اخبار پڑھ کر سناؤں۔ یہ وہ واحد اخبار تھا جو میرے ایک ماموں، گاؤں کے چودھری اور مقامی سرکاری افسر کے مشترکہ تعاون سے آیا کرتا تھا۔میں نے سنا کہ اخوان المسلمون کے مرشد عام حسن البنا میرے قبیلے کے خاندانی مہمان خانہ کیمان المطاعنۃ میں بطور مہمان تشریف لارہے ہیں۔ یہ دیوان خانہ میری رہایش گاہ سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا۔ چنانچہ میں نے اس عظیم شخصیت کی زیارت کے ارادے سے رخت سفر باندھا جس کا نام اخبارات میں مختلف حوالوں سے چھپتا رہتا تھا۔ خاص طور پر النذیر رسالے میں ان کا لکھا اداریہ میری توجہ کا مرکز ہوتا جو میرے ماموں جب بھی شہر جاتے میرے لیے لے آتے۔ یہ اگست ۱۹۳۸ء کے آخری ایام تھے ۔ یہ نووارد مہمان دُور سے اور پھر قریب سے میری توجہ کا مرکز بن گیا۔ کھلے سفید، سادہ، موٹے اور کھرّے لباس میں ملبوس تھا، سر پر ترکی ٹوپی کے اوپر پگڑی بندھی ہوئی تھی، درمیانی قدوقامت‘ سرخی مائل سفید رنگ، خوب صورت متشرع داڑھی، دل میں اُترنے والی نگاہ بصیرت___ جب وہ سادہ دیہاتیوں کے جمگھٹے میں چل پھر رہاتھا تو گویا اس کے گرد نور کا ہالہ بن جاتا جسے دیکھ دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوتی۔ وہ سیکڑوں لوگوں کے دلوں پر حکومت کرنا جانتا تھا۔
ظہرانے کے بعد امام نے کچھ دیر آرام کیا۔ دھوپ کافی تیز تھی اور صعید مصر کے بالائی علاقوں کی گرمی ویسے بھی بہت مشہور ہے، یہاں تک کہ عصر کا وقت ہوگیا ۔آپ نے گاؤں کی مسجد میں امامت فرمائی ۔ گاؤں کا نقشہ بھی عجیب تھا۔ کوڑے کے ڈھیروں سے اٹا ہوا، جن پر گرد اڑتی رہتی تھی۔ دھوپ کی تمازت چہار اطراف سے اپنی لپیٹ میں لیے رہتی۔ اس سب کے باوجود نہ تو امام بے چین ہوئے، نہ اکتائے ،کسی تکلیف پر اُف تک نہ کی۔
ایک دن نماز کے بعد اپنی تقریر کی ابتدا اس حدیث سے کی:
وَمَا اجتَمَعَ قَومُ فِی بَیت مِن بُیُوتِ اللّٰہِ، یَتلُونَ کِتَابَہ، وَ یَتَدَارَسُونَ آیَاتِہ، ‘إِلَّا حَفَّتہُمُ المَلَائِکَۃُ وَ غَشیَتھُم الرَّحمَۃ (مسلم) کوئی گروہ ایسا نہیں ہے جو اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوکر اس کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے او راس کی آیات کو سیکھتا اور سکھاتا ہے اِلا یہ کہ فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں۔ اور (اللہ کی) رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے۔
پھر انھوں نے بعض آیات قرآنی کی تفسیر کی اورانھیں لوگوں کے اجتماعی حالات پر منطبق کیا۔ مجھے اب ان کی گفتگو کی تفصیل یاد نہیں ہے۔ البتہ اس کی ایک زندہ تصویر اب بھی میری عقل و دل کو جذبات سے لبریز کردیتی ہے۔قبیلے کی مختلف سرکردہ شخصیات کے دیوان خانوں کے تھکادینے والے دورے کے بعد جب رات چھا گئی اور لوگ نیند کی آغوش میں چلے گئے تو وہ تنہابیٹھ کر گہری خاموشی کے عالم میں اپنے ا ورادو وظائف پڑھنے لگے اور اپنے معمول کے مطابق نوافل اداکرنے لگے۔
اس دورے میں ان کے ہمراہ ایک ساتھی تھے۔ بھرے بھرے جسم، مضبوط ساخت کے مالک، نئے نئے ازہر سے فارغ ہوئے تھے، عمامہ و جبہ میں ملبوس۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ لوگ ان کے تصنع و بناوٹ اور ان کی گفتگو میں خود پسندی کی بنا پر ان سے مطمئن نہ ہوئے۔ یوں لگا کہ گویا ایک مصنوعی شخصیت ان کے لیے بوجھ بن رہی ہے۔ چنانچہ انھوں نے اسے نظر انداز کردیا اور امام البنا کے گرد ہی جمع رہے۔ اگرچہ مہمان نوازی ان کی بھی جاری رہی ۔
کیمان المطاعنۃ سے امام اصفون المطاعنۃ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ فراج طایع خاندان کے مہمان ہوئے۔ اس خاندان کے سربراہ نے کئی سال ازہر میں بغیرکوئی ڈگری لیے گزار دیے، جیسا کہ اس زمانے میں کچھ لوگوں کی روایت تھی۔ پھر وہ اس حلقے سے سینیٹ کے ممبر منتخب ہوگئے اور شیخ محمد امیر کو یقین دہانی کرائی کہ وہ گاؤں میں اخوان کی شاخ قائم کریں گے۔ شیخ امیر نے بھی ازہر میں دو سال گزارے تھے اور ناگزیر وجوہ کی بنا پر اپنی تعلیم مکمل نہ کرسکے۔ انھوں نے اس محرومی کی تلافی یوں کی کہ وہ ہمیشہ گاؤں کے نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے پر ابھارتے رہے۔ وہ خود انھیں اسکولوں اور قاہرہ کے اداروں اور کالجوں میں داخلہ دلانے کی مشقت برداشت کرتے۔
اس بار میں نے انھیں زیادہ قریب سے دیکھا۔ میں ایک سال بڑا ہوگیا تھا اوران سے میرے لگائو میں اضافہ ہوتا گیا۔ انھوں نے اپنے پروگرام، عبادات اور لباس میں کوئی تبدیلی نہ کی تھی۔ اس دفعہ شیخ عبد المعز عبد الستارنامی ایک دوسرا ازہری نوجوان ان کا رفیق سفر تھا۔ وہ کلیہ اصول الدین کا طالب علم تھا۔ لوگوں نے اس کے لیے بھی اسی طرح چاہت کا اظہار کیا جس طرح امام البنا کے لیے کیاتھا۔ وہ نہایت پروقار منکسر المزاج نوجوان تھا۔ ’’وہ حیا سے سر جھکاتا اور چہرے اس کے رعب سے جھک جاتے تھے‘‘۔ حسن البنا اور ان کا یہ ساتھی اصفون المطاعنۃ سے ہمارے پاس آئے تھے۔ اپنی قیام کی مدت پوری کرنے کے بعد وہ ’’إسنا‘‘روانہ ہوگئے تاکہ وہ بالائی مصر کے باقی شہروں کا دورہ مکمل کرسکیں۔
ان دنوں، جب کہ میں جوانی کی دہلیز پر دستک دے رہا تھا، میں نے محسوس کیا کہ جمعیت شبان المسلمین وقت گزاری اور خطابت کی مشق کے لیے اچھی جگہ ہے۔ اگرچہ اس وقت میرا یہ بھی خیال تھا کہ ان کے پاس واضح سیاسی لائحہ عمل نہیں ہے‘ اور وطن کی آزادی ہرگز ان کے مجوّزہ طریقے سے حاصل نہ ہوسکے گی۔ بہرحال آخر شب نشے میں مدہوش غیر ملکی فوجیوں کی نقل و حرکت ہمارے جذبات بھڑکا دیتی اور ہماری رگوں میں بغاوت اور ٹکرائو کے جذبات دوڑا دیتی۔
ایک روز اچانک میں اخوان المسلمون کے دفتر چلا گیا جو شہر کے وسط میں ایک عمارت کی زمینی منزل میں قائم تھا۔ دفترایک لیکچر ہال پر مشتمل تھا جو نماز کے اوقات میں نماز گاہ اور دفتری اوقات میں دفتر کا کام دیتا۔ تیسرے کمرے کے ساتھ طہارت خانے کا انتظام تھا۔ میں دفتر میں داخل ہواتومیرے ذہن میں اس عظیم شخصیت کی تصویر تھی جسے میں نے دو سال پہلے اپنے دیوان خانے (گاؤں) میں دیکھا تھا۔
اخوان المسلمون کی سرگرمیاں مختلف لیکچر اور دروس پرمشتمل تھیں۔ خطابت کی مشق بھی کروائی جاتی تھی۔ ایسی سفری مہمات پربھی بھیجا جاتا جن میں بھلائی کے کاموں میں تعاون کے لیے تربیت دی جاتی۔ ان سرگرمیوں میں سیکنڈری اسکولوں کے اساتذہ و طلبہ اور چھوٹے ملازمین شریک ہوتے‘ اور معہد دینی کے بعض طلبہ بھی شریک ہوجاتے۔ البتہ معہد کے اساتذہ الگ تھلگ رہتے اورصرف جمعیت شبان المسلمین میں وعظ و خطابت پر اکتفا کرتے۔
۲۰ مئی ۱۹۴۱ء کو وزیر اعظم حسین سرّی نے حسن البنا کاتبادلہ عباس اول قاہرہ پرائمری اسکول سے پرائمری اسکول قنا میں کردیا اور وہ بھی تعلیمی سال کے آخر میں۔ حسن البنا صرف منصبی ذمہ داری سنبھالنے آئے اورپھر واپس چلے گئے، کیونکہ میں نے اس سال انھیں دوبارہ نہیں دیکھا۔ میں خود بھی اپنے امتحانات میں مصروف ہوگیا۔ دوسرے سال کے آغاز میں وہ تشریف لائے اور میں اپنا پورا وقت ان کے ساتھ گزارنے لگ گیا۔
حسن البنا کی اس مضمون میں دل چسپی کے دو مقاصد تھے۔ پہلا یہ کہ اس مضمون کے ہرکلاس میں ہفتہ وار دو پیریڈ تھے جس کا مطلب تھا کہ وہ اسکول کے تمام طلبہ کو پڑھائیں گے جو ۱۵کلاسوں اور سیکشنوں میں پھیلے ہوئے تھے ۔اس طرح ان کا رابطہ تمام طلبہ سے ہوگیا جو اب دور جوانی میں داخل ہونے والے تھے اور وہ ان میں سے ایسے افرادِکار تیار کرسکتے تھے جن کی مستقبل میں ملک کو ضرورت تھی۔ عملاً انھیں اس مقصد میں کامیابی بھی ہوئی۔ پس یہ خوش باش استاد، ہمیشہ مسکراتا ہوا، پرسکون طبیعت کا مالک، شایستہ و پر وقار،ایک غیر اہم مضمون میں تمام طلبہ کی دل چسپی کا باعث بننے لگا ۔ وہ پیریڈ کا کچھ حصہ خوش خطی سکھاتاجسے بچے خوشی خوشی سیکھتے۔ وہ ان سے کھل کر گفتگو کرتا۔ ان کے ذاتی معاملات میں دل چسپی لیتا۔ ان کی محدود دنیا سے انھیں دور نہ کرتا۔ وہ ان سے بغیر سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ کے سوال و جواب کرتا:آج صبح کی نماز کس نے پڑھی ہے ؟ نماز پڑھنے والوں کو وہ انعام دیتا ،ان کی حوصلہ افزائی کرتا۔ کس نے قرآن میںسے کچھ یاد کیاہے ،وہ سنتااور تصحیح کرتا۔ پھر جب آدھی چھٹی ہوتی تو وہ ان سے اسکول کی مسجد میں ملنے کا وعدہ کرلیتا۔ایک ماہ کے اندر اندر وہ اسکول کے تمام طلبہ کے محبوب ترین استاد بن چکے تھے۔
یہ مضمون اختیار کرنے کی وجہ یہ بھی تھی کہ خوش خطی سکھانے کا پیریڈ اپنے وقت پر ختم ہوجاتا۔ اس کے لیے انھیں پریڈکے بعد کسی تصحیح کی ضرورت ہوتی اور نہ پریڈ سے پہلے کسی تیاری کی۔ وہ دن کا بقیہ اور رات کا بڑا حصہ دعوت دین اور اسکے مددگاروں (انصار) کی تلاش میں یا عبادت و مطالعے میں صرف کردیتے۔
حسن البنا ہوٹل جبلاوی الجدید میں ٹھیرتے۔ یہ ان دنوں قنا کے اعلیٰ ہوٹلوں میں سے ایک تھا۔ اس کی عمارت آج تک قائم ہے اگرچہ مرور ایام سے اس کی حالت خستہ ہوچکی ہے۔ حسن البنا کا پروگرام معمول کے مطابق یہ ہوتا کہ چار بجے ہوٹل آجاتے،کپڑے تبدیل کرتے، کچھ دیر آرام کرتے۔ پھر اخوان کے دفتر آتے اورنماز مغرب کی جماعت کرواتے۔ خشوع و خضوع سے بھرپور نماز، نہ اتنی لمبی کہ لوگ تھک جائیں اور نہ اتنی مختصر کہ صرف فرض کا بوجھ اتارنا مقصود نظر آئے۔ اس کے بعد جماعت کے دیگر معاملات نمٹاتے، اور ملاقاتیوں سے ملاقاتوں میں مصروف ہوجاتے ۔ کہیں وقت دیا ہوتا تو وہاں چلے جاتے۔ کبھی کبھار دیگر اسلامی اور مسیحی تنظیموں کے ذمہ داروں سے گفتگو رہتی۔ پھر نماز عشا کے لیے تشریف لے جاتے۔ بعد میں امام غزالی کی احیاء علوم الدین سے درس دیتے۔ اس کتاب کی وہ بہت تعریف کرتے بلکہ انھوں نے ہی سب سے پہلے ہماری توجہ اس کی طرف مبذول کروائی۔ شب جمعہ نمازعشا کے بعد عام لیکچر ہوتا جس میں شہر کے کونے کونے سے لوگ شریک ہوتے‘ چاہے ان کا اخوان سے تعلق ہو یا نہ ہو۔ اس لیکچر میں عوام کو درپیش مسائل پر گفتگو رہتی اور دینی حوالے سے ان کا حل پیش کیا جاتا۔
ان کا کیا حافظہ تھا! میں جب بھی ان سے ملا انھوں نے مجھ سے میرے اہل و عیال کی فرداً فرداً نام لے کر خیریت دریافت کی۔ یہاں تک ان لوگوں کے بارے میں بھی پوچھا جن سے ان کی ملاقات صرف چند منٹ کے لیے ہوئی تھی۔
وہ فصیح عربی پر غیر معمولی قدرت رکھتے تھے۔ وہ ہمیشہ فصیح و بلیغ، صاف، آسان اور واضح عربی میں گفتگو کرتے تھے ۔وہ اگر کسی شخص کے کردار پر خواہ وہ دشمن ہی کیوں نہ ہو گفتگو کرتے تو صرف اتنا ہی ذکر کرتے جتنا کھوٹ اور باطل اور دین سے انحراف اس کے اندر دیکھتے۔ مرض کی تشخیص کرتے، علاج تجویز کرتے اور وہ تدابیر بتاتے جو کارگر ہوتیں۔ لوگوں کا انتخاب کرتے اور انھیں اکٹھا رکھنے کی سعی کرتے اوروہ ہمیشہ فرمایا کرتے: جن امورپر ہم متفق ہیں ان کے لیے ہم مل جل کر کام کریں گے‘ اورجن باتوں میں ہمیں ایک دوسرے سے اختلاف ہے ان کے بارے میں ایک دوسرے سے درگزر کا معاملہ کریں گے۔ میں نے انھیں ہر طرح کے لوگوں کے لیے فراخ دل پایا۔ جو ان سے عمراور مناصب میں بڑے تھے یا جو ان سے عمر اور مرتبے میں کم تھے‘ سب کو اہمیت دیتے اور مشکلات پر قابو پانے میں ان کی مدد کرتے۔ اس مقصد کے لیے قاہرہ میں اخوان المسلمون کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تعلقات عامہ کا ڈائریکٹوریٹ قائم ہوا۔ جس کا کام ملکی اور عالمی سطح پر اخوان کی مدد کرنا‘ ان کی روز مرہ مشکلات کا حل ڈھونڈنا تھا۔ شیخ البنا کی انتہائی خواہش ہوتی کہ اخوان ہمیشہ باہمی محبت و تعاون کی بنیاد پر جمع ہوں۔ وہ جہاں بھی جاتے اس بات کا اہتمام کرتے کہ وہ جہاں سے آ رہے ہیں وہاں کے اخوان کا سلام اپنے تمام حاضرین کو پہنچائیں۔
حسن البنا کے دامن دل کو فطرت کا حسن والہانہ طور پر کھینچتا۔ نیل کا منظر، طلوع و غروب آفتاب کے لمحات اور پہاڑوں کا رعب و جلال انھیں بہت بھلا لگتا کیونکہ وہ اس میں خدا کی قدرت دیکھتے۔ ہمیں بارہا قنا کے جنگلوں میں ان کے ساتھ تفریح کے مواقع ملے۔ یہ جنگل شہر کے کنارے صحرا کے ایک حصے میں لگائے گئے تھے ،وہاں ہم نماز مغرب پڑھتے۔ ہماری نگاہوں کو کوئی دیوار نہ روکتی اور نہ کھلے آسمان کو دیکھنے میں کوئی چیز حائل ہوتی۔چندہی ماہ گزرے تھے کہ انگریزی استعماراور اس کے اشاروں پر چلنے والی مصری حکومت نے محسوس کرلیاکہ حسن البنا بالائی مصر (صعید) میں قاہرہ سے زیادہ خطرناک ثابت ہورہے ہیں۔ وہاں انھیں ایک نیا اور وسیع میدان میسر ہے۔ ایسے مخلص لوگوں سے ان کی ملاقاتیں ہوتی ہیں جنھیں تہذیبی یلغار نے خراب نہیںکیا اورخوشامد نے ان کے دل و دماغ تک راہ نہیں پائی۔ چنانچہ انھیں واپس قاہرہ بھیج دیا گیا۔
حسن البنا نے قنا سے کوچ کرنے سے پہلے رخصت کے ان لمحات میں بھی ایک عظیم کارنامہ انجام دے دیا۔ انھوں نے لوگوں کی ان سے محبت اور تعلق کو مقصدیت میں ڈھالتے ہوئے کہا:میں چاہتا ہوں کہ اخوان کا یہ دفتر کسی کرایے کی عمارت کا فلیٹ نہ ہوبلکہ خود آپ کی ملکیت ہو۔ چنانچہ ہر طبقے کی طرف سے چندے کا ڈھیر لگ گیا۔ اس مرکز کی تعمیر شہر کے بہترین مقام پر ہوئی۔ اس میں ایک بڑا لیکچر ہال، ڈسپنسری ،لائبریری، مسجد اور ایک مہمان خانہ قائم ہوگیااور دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے کے عوام و خواص کے لیے مرکز نگاہ کی حیثیت اختیار کرگیا۔
ان کی روانگی کے بعد ہم نے مکمل منصوبہ بندی کی کہ ہم کیسے اہم مراکز پر انگریز کی مزاحمت کریں گے۔ بجلی و ٹیلی فون کی تنصیبات کے مراکز کو ہدف بناتے ہوئے کیسے چند منٹوں میں پورے شہر کی بجلی منقطع کردیں گے ۔ اس مہم کو کون اور کیسے سرانجام دے گا؟ چنانچہ مختلف اداروں میں کام کرنے والے ہمارے کارکن مختلف ضروری معلومات اور نقشے لے آئے۔ حسین رشدی نے بجلی منقطع کرنے کی تربیت اپنے ذمے لی کہ ہم کیسے بغیر تکلیف اٹھأئے اہم مقامات کی بجلی معطل کردیں۔ برطانوی افواج کے پڑاؤ اور اسلحے کے ذخائر کہاں کہاں ہیں‘ فوجی مداخلت کی صورت میں ہم کیسے ان کا مقابلہ کریں گے؟ مجھے نہیں معلوم ان دنوں قاہرہ میں کیا کیا ہورہاتھا، لیکن چند ہی دنوں میں حسن البنا کو رہا کردیا گیا ،اخوان المسلمون سے پابندی اٹھا لی گئی۔ اور انھوں نے اپنی سرگرمیاں مزید زور و شور سے شروع کردیں۔ اب انھیں غیر معمولی عوامی حمایت بھی حاصل تھی۔
قنا میں اخوان کی وسعت پذیر سرگرمیوں کے باوجود ہمارے انسٹی ٹیوٹ میں پڑھائی کی حالت اچھی نہ تھی۔ اساتذہ کا معیار بہت پست تھا۔ تربیتی معیار بھی نہ ہونے کے برابر تھا ۔کسی کا کوئی قابل ذکر تخصص بھی نہ تھا۔ ہر استاد ہر مضمون پڑھادیتا تھا۔ شہر کی ثقافتی زندگی کا حال بھی پتلاتھا۔انھی دنوں معہد میں نئے ڈپٹی ڈائرکٹر کامل عجلان آئے جو صحافی اور ادیب تھے۔ انھوں نے ہمارے جامد افکار میں اپنے نئے اسلوب فکر و فہم سے تہلکہ برپا کردیا۔ مجھے انھوں نے گھٹن کی اس فضا سے نکل جانے کے لیے ابھارا اورمیں نے قاہرہ سے کوچ کرنے کا ارادہ کرلیا‘ اور یہ فیصلہ کیا کہ انٹر میڈیٹ قاہرہ سے مکمل کروں گا۔
۹اکتوبر ۱۹۴۴ء کو میں قاہرہ پہنچا۔تب قاہرہ میںطرح طرح کے مظاہرے عروج پر تھے۔ وفد پارٹی کی حکومت تخت مصر سے نہایت تلخ چپقلش کے بعد مستعفی ہوگئی تھی۔ شاہ فاروق نے احمد ماہر پاشا کو نیا وزیر اعظم نامزدکیاتھا۔ پارلیمنٹ تحلیل کردی‘ اورپھر سے ایک ایسی سیاست کی ابتدا کردی گئی، جس کا مرکز شاہ فاروق کی ذات تھی۔
قاہرہ کے شور نے مجھے مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیا۔ طلبہ کے مظاہرے رکنے کا نام نہ لیتے تھے۔ اور طرح طرح کے ثقافتی اجتماعات، سوسائٹیوں، یونینوں اور یونی ورسٹیوں کی سرگرمیاں چین نہ لینے دیتی تھیں۔ ان میں سے بعض پروگراموں میں ہم ٹکٹ خرید کر شریک ہوتے تھے۔ اس لیے مجھے اخوان المسلمون کے مرکز سے دوبارہ رابطہ کرنے میں کچھ وقت لگا ۔ یہ مرکز حلمیہ الجدیدہ کے ایک اہم میدان میں واقع تھا۔یہ قاہرہ کے عین مرکزمیں واقع تھا، تب یہ علاقے کی سربرآوردہ شخصیات کا ٹھکانا ہوا کرتاتھا۔
اس میدان میں اخوان کی دو عمارتیں تھیں۔ ایک پرانی طرز کی دو منزلہ عمارت جس میں اخوان کا پرانا مرکز اور ان کے اخبار کا دفتر تھا۔ دوسری ایک کشادہ و آرام دہ عمارت تھی جو اخوان نے حال ہی میں خریدی تھی۔ عمارت خریدنے اور ایک روزنامہ نکالنے کے لیے پورے مصر کی سطح پر اہلِ مصر نے تعاون کیا تھا۔ ملک کے تمام ہی طبقات، مال دار و فقرا ، تعلیم یافتہ مزدوروں، مردوں، عورتوں اور بچوں تک نے اپنی بچتیں‘ اورزیورات تک اس مد میں دے دیے تھے۔ قاہرہ میں اس محل نما عمارت کے خوب صورت ’العربی ہال‘ میں میں نے پہلی مرتبہ حسن البنا کوقاہرہ میں دیکھا۔ ان کے گرد لوگوں کا ایک ہجوم تھا۔ مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں منعقدہ اجتماعات میںسے ایک اجتماع کے بعد وہ عوام کو سلام کررہے تھے۔ انھی کے درمیان ،میں نے امین الحسینی مفتی فلسطین اور بریگیڈیر صالح حرب صدر جمعیت شبان المسلمین کو دیکھا۔ وہاں دیگر بہت سی شخصیات کو میں نہیں جانتاتھا۔
میں نے مجمع چھٹ جانے کا انتظار کیا۔ پھر ان کی طرف بڑھا۔ وہ مجھے فوراً پہچان گئے اور میرا پرجوش استقبال کیا۔ پھر عادت کے مطابق میرے اہل و عیال کے بارے میں فرداً فرداً دریافت کیا۔ میری رہایش اور پڑھائی کے بارے میں پوچھا۔ پھر گاہے گاہے ملتے رہنے کے لیے کہا۔ میںاب اکثر مرکز آنے جانے لگا۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ استاذ مرشد - یہ شیخ البنا کا لقب تھا‘ ہرمنگل کو عشا کے بعد درس دیتے ہیں‘ اور یہ حالات کے مطابق دو گھنٹے اور کبھی تین گھنٹے تک طویل ہوجاتا۔ قاہرہ کے کونے کونے، اور آس پاس کے شہروں اور قصبوں سے لوگ کھچے چلے آتے تھے ۔ مرکز کا صحن اورسامنے والا میدان بھر جاتے، سامنے کی شاہراہوں پر بھی تل دھرنے کی جگہ نہ ہوتی۔ لوگ اپنی کرسیاں ہمراہ لاتے یا قدموں پرہی کھڑے رہتے تاکہ وہ اس الہامی شخصیت کو سنیں جس کی بلاغت بے مثل تھی ،جو عوام کے دلوں تک پہنچنا جانتا تھا، صداقت جس کے عمل کی بنیاد تھی۔ ان کی گفتگو جامع ہوتی۔ دین، سیاست، معیشت، سماجیات‘ غرض یہ کہ ہر وہ موضوع جس کا تعلق زندگی سے ہوتا، ان کی تقریر اس سے سجی ہوتی۔ تقریر کے آخر میں عام سامعین کی باری ہوتی کہ وہ جو وضاحت طلب کرنا چاہیں اسے لکھ کربھیج دیں۔ پھر نصف کلومیٹر کے فاصلے تک پھیلے ہوئے عوام کے اس اجتماع کی طرف سے آمدہ سوالوں کے جوابات لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے دے دیے جاتے‘ خواہ سوال کتنا ہی حساس کیوں نہ ہوتا۔
ایک روز سوال کیا گیا کہ وزیر اعظم اسماعیل صدقی پاشا نے اخوان کو فنڈ فراہم کیے ہیں تاکہ وہ ان کو اپنی سیاست کے ڈھب پر لاسکے؟انھوں نے فرمایا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اصولاً جو الزام لگاتا ہے اسی کو الزام ثابت بھی کرنا چاہیے۔ کیونکہ ثبوت کی فراہمی مدّعی پر ہے۔ لیکن اگرالزام ثابت کرنے کے بجاے جھگڑے پر اتر آئے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دو اور اس سے یہ کہو کہ بفرض محال اگر تمھارا الزام سچا ہے تو صدقی (وزیر اعظم) نے اپنی جیب سے کچھ نہیں دیا۔دنیا کو یہ جان لینا چاہیے کہ تحریک اخوان کسی بھی صورت اپنی دعوت یا طریق کار سے ایک انچ بھی نہیں ہٹ سکتی، خواہ کوئی اس کے بدلے اسے زمین بھر سونا ہی کیوں نہ پیش کرے۔
شیخ البنا کا ایک ہفتہ وار خطاب ’جمعرات کی بات‘ سے مشہور تھا۔ یہ یونی ورسٹی کے سطح کے طلبہ کے لیے ہوتاتھا۔ اس کا رنگ وعظ و بیان کے بجاے بحث و مباحثہ کا ہوتا جس میں ہر دفعہ کسی ایک موضوع پرگفتگو اور بحث و تمحیص ہوتی تھی۔لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکا کیونکہ یہ پروگرام شروع ہونے کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد انھیں منصہ حیات سے غائب کردیاگیا۔
ایک دن میرے ایک رشتہ دار شیخ محمد الامیر، قاہرہ آئے۔ شیخ البنا سے گہرا تعارف رکھتے تھے۔ چنانچہ ہم ان کی زیارت کے لیے مرکز عام گئے۔ شیخ کی مصروفیات کے پیش نظر انھوں نے ہمیںاگلے دن صبح نو بجے گھر آنے کا کہا۔ مقررہ وقت پر ہم ان کے پاس پہنچے اس وقت وہ حلمیہ میں مرکزعام سے قریب سنجر الخازن روڈکے قریب قدیم قاہرہ کے گھروں میں سے ایک گھر کی پہلی منزل میں رہایش پذیر تھے۔ انھوں نے سیڑھیوں کے ساتھ متصل کمرۂ استقبال میں ہمارا استقبال کیا۔ میں نے ایک گہرے سکوت کے عالم میں اس شخص کے گھر کا جائزہ لینا شروع کیاکہ جب وہ بولتا تھا تو ہزاروں انسانوں کے جذبات جھنجھوڑ دیتا تھا، جس کے اردگرد عرب مجاہدین جمع رہتے تھے، جس کے ساتھ ہم وطنوں کی بے شمار آرزوئیں وابستہ تھیں۔ کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا گھر نہایت سادہ سا تھا۔ در و دیوار تو لائبریری نے گھیر رکھے تھے۔ تیسری طرف ایک سادہ سی ڈیسک تھی جس کے سامنے بانس کی دوکرسیاں تھیں جن پر ہم بیٹھ گئے‘ جب کہ وہ خود اپنی ڈیسک پر بیٹھ گئے۔ ہم سب کے لیے چائے آگئی۔ وہ دونوں بالائی مصر (صعید) اور اس کے قصبوں میں اخوان کی تنظیم کے موضوع پر اور وہاں سے قاہرہ آنے والے نوجوانوں کی تعلیم کے بارے میں محو گفتگو ہوگئے۔
اس زمانے میں اخوان محض ایک دینی یا سیاسی گروہ نہ تھا‘ بلکہ ایسی غالب قوت تھی جو سڑک، یونی ورسٹی اور فیکٹری پر چھائی ہوئی تھی۔ اس کی حرکت ایک محکم نظام کے مطابق ہوتی تھی اور اس کے معاملات کو شعبوں اور اداروں کے ذریعے منظم کیاگیا تھا۔ وہ مصر میں پہلی ایسی جامع تنظیم تھی جو ایک مضبوط طریق کار کی روشنی میں عالم عرب و عالم اسلام کے معاملات پر نظر رکھتی تھی۔ عالم اسلامی سے رابطے اور وہاں جاری مختلف تحریکات آزادی و اصلاح سے یک جہتی کے لیے ایک علیحدہ شعبہ قائم تھا۔ ادارے اس کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور جدوجہد کو مہمیز دینے کا ممکنہ حد تک اہتمام کرتے۔
شیخ البنا میری راے میں اپنی مثال آپ تھے۔ ان کا عمل ان کے فکر سے مکمل طور پر ہم آہنگ تھا۔ ان کے عمل اور دعوت میں کوئی تضاد نہ تھا۔ میرا ان پر یقین اور محبت ایک الہامی قائد کی حیثیت سے تھی۔ ان کی شخصیت کی یہ جھلک میں مجلہ نذیر اور مجلہ دعوۃ کے مدیر مرحوم صالح عشماوی میں دیکھا کرتا تھا اگرچہ انھیں شیخ البنا جیسی بلاغت، بے ساختگی اور حکمت نہ ملی تھی۔ لیکن وہ بھی ’فنا فی الدعوت‘، زمین پر چلتا پھرتا مجسمۂ اخلاص تھے۔
دو ہفتے کے اندر اندر اس اجتماع کے نتائج سامنے آگئے۔ ۸ دسمبر ۱۹۴۸ء کو نقراشی پاشا نے افواج کے کمانڈر کی حیثیت سے اخوان المسلمون پر پابندی لگانے اور اس کی تمام املاک، فنڈ اور ادارے قبضے میں لینے کا حکم دے دیا۔ اس نے اخوان کے اخبارات پر پابندی اوراس کے ہزاروں کارکنوں کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیے۔
حسن البنا نے کوشش کی کہ بحران کے حل کے لیے وہ وزیر اعظم سے بات کریں‘ کیونکہ وہ حکومت سے ٹکرائو نہیں چاہتے تھے۔ اگرچہ اخوان المسلمون کی قوت اور جہاد فلسطین میں عملی جنگی تجربات کے بعد وہ اس قابل تھے کہ حکومت سے ٹکرا جائیں اور فتح حاصل کریں۔ مگر شیخ البنا اس حقیقت سے خوب واقف تھے کہ ایک لاکھ سے زیادہ برطانوی فوجی قنا کے صوبے میں مناسب موقع کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں اور نئے سرے سے مصر پر قبضہ کے لیے تیار ہیں‘ اور یوں وہ نومولود تحریک احیا کو اس کے جنم کے ساتھ ہی دفن کردینا چاہتے ہیں۔ حسن البنا نہیں چاہتے تھے کہ یہ المیہ دوبارہ رونما ہو۔
نقراشی بہرصورت حکمران رہنا چاہتے تھے اور یہ اسی وقت ممکن تھا جب شاہ فاروق اور انگریز ان سے خوش ہوں۔ چنانچہ اس نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اصلاح احوال کی کسی کوشش کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ اخوان پر پابندی کے فیصلہ کے ۲۰دن بعد۲۸ دسمبر ۱۹۴۸ء کو ایک طالب علم نے نقراشی پاشا پر گولی چلادی جو اس کی موت کا باعث ہوئی۔ یہ طالب علم پولیس کی وردی میں ملبوس تھا۔
دوسری طرف کچھ ادارے یہ چاہتے تھے کہ اخوان المسلمون کے مرشد عام سے نجات حاصل ہوجائے۔ ان میں سرفہرست خود شاہ فاروق تھا، جو اس بات کو نہیں بھلا سکا تھا کہ جنگ فلسطین میں مصر کی دو بنیادی قوتوں نے حصہ لیا تھا۔ ایک تو مصری افواج جو اپنے سپریم کمانڈ‘ یعنی شاہ فاروق سے احکام لیتی تھیں‘ اوردوسرے اخوان المسلمون کے دستے جو حسن البنا سے احکام وصول کرتے تھے۔ حسن البنا کے مجاہدین اپنی تربیت قوتِ ایمانی اور بہترین اسلحے کی وجہ سے ممتاز تھے۔ قربانی اور فداکاری کے جذبے کے لحاظ سے بھی نہایت فعال اور نمایاں تھے۔ انھوں نے کسی ایک معرکے میں بھی شکست نہیں کھائی تھی۔ چنانچہ وہ (شاہ فاروق) ان سے خوف محسوس کرنے لگا۔ خود انگریز اور صہیونی بھی ان نوجوانوں کے جذبۂ قتال کو دیکھ چکے تھے۔ سو یہ ہدف پر متفق ہوگئے اور ابراہیم عبدالہادی کی حکومت کو اکسایا کہ وہ حسن البنا کو ۱۲ فروری ۱۹۴۹ء بوقت شام آٹھ بجے قتل کردیں۔ حملے کے بعد حسن البنا خودٹیکسی سے اترے۔ وہ زخمی ہونے کے باوجود اپنے آپ کو سنبھالے ہوئے تھے۔ انھوں نے جمعیت شبان المسلمین کے فون پر بے ہوش ہونے سے پہلے دوہندسے ڈائل کیے، لیکن پورا نمبر ڈائل کرنے سے پہلے ہی بے ہوش ہوگئے۔ انھیں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے قریبی ہسپتال اور وہاں سے قصر عینی لے جایا گیااور وہاں انھیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
عصر حاضر میں مسلمانوں کی نوجوان نسل کو امام البنا اور ان کی فکر و تحریک کے بارے میں پوری آگاہی کے ساتھ غورو خوض کرنا چاہیے، اس کے مختلف پہلوؤں پر پورے خلوص‘ سنجیدگی اور باریک بینی کے ساتھ نظر دوڑانی چاہیے ۔اس سے ان پر یہ حقیقت کھل کرواضح ہوجائے گی کہ کس طرح ا نسانوں کو راہ راست پر لاکر منظم کیا جاسکتا ہے، اور کس طرح انھیں دعوت کے کام پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔ انھی کاوشوں کے نتیجے میں اب عالمِ اسلام آزادی اور عروج کے حصول کی جانب تیزرفتار پیش قدمی کررہا ہے ،بالکل اس شیر کی طرح جسے بیڑیوں میں جکڑ دیا گیا ہو‘ یا جیسے کسی شاہین کے پر کاٹ دیے گئے ہوں لیکن پھر بھی وہ پہاڑوں کی بلندیوں میں اپنے بسیرے کی تلاش میں پھڑپھڑا رہا ہو۔
عالم اسلام کے ہر فرد پر واجب ہے کہ وہ ہر قسم کے لالچ ‘خوف‘بزدلی اور مایوسی سے پاک، بیداریِ اُمت کے قائد کی یاد تازہ کریں ،اس کی فکر کے اسلوب اور طریقۂ تربیت سے آگاہی حاصل کریں۔ امام شہیدؒ کو اس امت کا اصل مرض بخوبی معلوم تھا اور پھر وہ اس مرض کی دوا اور حقیقی علاج سے بھی پوری طرح آشنا تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ اﷲ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہ ہونا ہی اصل مرض ہے، اور اﷲ تعالیٰ کی معرفت ہی اس امت کا حقیقی علاج بھی ہے۔ انھیں اس بات کا پوراپورا ادراک حاصل تھا کہ نفس انسانی میں دو اطراف سے کمزوری در آتی ہے،جس کے بعد وہ جہاد فی سبیل اﷲ ترک کر بیٹھتا ہے۔ وہ دو چیزیں حرص اور خوف ہیں۔ اگر انسان کو اﷲ تعالیٰ کے تنہا رازق ہونے اور اسی کی طرف سے موت کا یقین ہوجائے تو وہ کبھی حق سے جی چرائے گا اور نہ پسپائی ہی اختیار کرے گا۔
انھوں نے کیسی خوب صورتی سے اس مفہوم کو اپنے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’اے میرے بھائیو! تمھیں اس دنیا میں صرف دو باتوں کا لالچ ہوتا ہے: ایک اپنے رزق کا اور دوسرے لمبی عمر کا ۔ دونوں اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے قابو میں نہیں ہیں۔ اس لیے ان چیزوں کے لالچ میں آکر کبھی حق کا راستہ مت چھوڑو‘‘۔
اصلاح نفس میں معرفت خداوندی اور اس کی قدرو قیمت سے متعلق ان کا ایک شان دار قول ان کی بلند فکری پر دال ہے : ’’ معرفت خداوندی تبدیلی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے جو فرد اور اجتماعیت دونوں کو بدل کر رکھ دیتا ہے‘‘۔ان کے نزدیک اصلاح معاشرہ، نفس کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں اور اصلاح نفس معرفت خداوندی کے ذریعے ہوتی ہے۔گویامعرفت خداوندی ایک ایسی اساس اور کنجی ہے جس پر فرد اور اجتماعیت دونوں کے نظم کا دار و مدار ہے۔ ہم سب کے حکیم و خبیر رب نے فرمایا ہے : وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا o فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا o قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا o وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا o (الشمس ۹۱:۷-۱۰) ’’اور نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا‘ پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کردی‘ یقینا فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا‘‘۔
امام شہیدؒ میں ایسی روحانی خصوصیات جمع ہوگئی تھیں، جو ان کے علاوہ کسی دوسری دینی یا سیاسی شخصیت یا ان کے معاصر قائدین میں نہیں ملتیں، مثلاً : فطری عظمت ‘ روحانی بلندی‘ پاکیزگیِ نفس، روشن ضمیری، سخن دل نوازی، توانا جسم۔ آپ ایسی سحر انگیز قوتوں کے مالک تھے کہ آپ کے ساتھ کوئی ایک مرتبہ بیٹھ جاتا تو اس کا ظاہر و باطن اسلام کے رنگ میں رنگے بغیر نہ رہتا۔ان کی روحانی شخصیت ہر شخص کو روشنی اور سربلندی کی جانب کھینچ لاتی تھی۔
داعیانہ کردار ایسا تھا کہ ہر کسی کو نیکی اور عبادت کی طرف متوجہ کرتے رہتے ۔یہی وجہ ہے کہ امام شہیدؒ میں اسی بندۂ مومن کی فطرت جھلکتی ہے جس کی تعریف کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : اذا رؤی ذکر اﷲ ، کہ اسے دیکھ کر اﷲ یاد آجاتا ہے۔ ایمان کی کیفیت جو دین کے ایک سپاہی‘ عام بندۂ مومن میں بڑی آسانی سے جھلکتی ہو‘ وہ مسلمانوں کے اس قائد میں کس قدر نمایاں طور پر دکھائی دے گی، جو نہ صرف دوسروں سے منفرد ہو بلکہ لوگوں کو بیدار کرنے والا وقت کا جلیل القدر امام بھی ہو۔
امام شہید ؒ کے اثرات ایک کھلی کتاب کی مانند ہیں ‘جو ان کی روحانیت کی روشن دلیل ہیں۔ وہ ایسی بے مثال شخصیت ہیں جیسے وہ ان الہامی روحوں اور پاک بازہستیوں کی کرنوں سے مل کر بقعۂ نور بن گئے ہوں ‘جو اپنے چہار اطراف میں روشنی اور تروتازگی بکھیرتے ہیں۔حسن البنا شہید آپ کے روح و قلب کو منور اور معطر کرنے والی باتیں بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں‘جنھیں دیکھ کر آپ دل کی اتھاہ گہراہیوں سے بے اختیار پکار اٹھتے ہیں: مَا ھَذَا بَشَرا۔ اِن ھَذَا اِلَّا مَلِکُ کَرِیْمٌ (یوسف۱۲: ۳۱) ’’کہ یہ تو کوئی مقرب فرشتہ ہے‘ یہ انسان تو نہیں لگتا‘‘۔
وہ اپنی ذات میں ایک ایسا سیل رواں تھے جو کسی اور کا اثر قبول کیے بغیر دوسروں پر اثر انداز ہوتا ہو، جو مسلسل پیش قدمی کرتا ہو، کبھی پیچھے نہ ہٹتا ہو‘ اس کی تیز روشنی میں ہر چمک دار چیز بھی مدھم پڑجاتی ہو۔ وہ مثل آتش فشاں تھے جس کے آگے کوئی بند اور رکاوٹ نہ ٹھیر سکے۔ دلوں پر نرمی‘ آسانی اور مہربانی کے ساتھ مسلسل اثر انداز ہوتے جیسے کوئی پرسکون نالہ جو پہاڑوں اور وادیوں کے درمیان بہتا چلا جائے جس سے پورا علاقہ سرسبز و شاداب اور بارونق ہوجائے۔
ایسی عظیم شخصیات قدرت کا عطیہ ہوتی ہیں، بلند و بالا آفاقی نظریات کی حامل ، جو نہ گھٹیا خصلتوں کو اپناتی ہیں‘ نہ خوںخوار پرندوں اور لومڑیوں کی سی عیاری سے کام لیتی ہیں۔ یہ آفاقی خوبیاں نہ علم کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہیں اور نہ تگ و دو کرکے اختیار کی جاسکتی ہیں۔ یہ تو خداداد صلاحیتیں ہیں۔ اﷲ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ان خوبیوں سے نوازتا ہے۔
امام شہیدؒ بھی ان پاکیزہ نفوس میں سے ایک تھے، جو ہر طرف روشنی بکھیرنے والے‘ مستقل مزاجی سے کام کرنے والے اور ہر گام خوشبو مہکانے والے تھے۔ امام شہیدؒ کی نمایاں خصوصیات میں سے ان کا تحریکی مزاج اور ان کی وہ قوت عمل ہے جو ان کے رگ و پے میں سرایت کرچکی تھی۔
آپ حیران کن حد تک منفرد شخصیت کے مالک تھے۔ آپ تن تنہا مادی طاقتوں اور دنیا کے خود ساختہ قوانین کے آگے کسی وقت بھی نہیں جھکتے تھے اور ہر دم بیدار‘ انتہائی سرگرم اورروشن فکر کے حامل تھے۔ان کے فکروعمل اور راہ نمائی و تربیت کے حلقات کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا، جس کے لیے وہ اپنے پرایوں سب میں یکساں مقبول، انتہائی مخلص اور عوامی قائد کے طور پر ابھرے تھے۔ انھی کے درمیان اٹھتے بیٹھتے تھے۔ وہ شروع دن ہی سے مصر کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے گروہوں کے ساتھ گھل مل گئے تھے۔ انھیں مختلف طبقات کو درپیش معاشی اور سماجی تکالیف اور مشکلات کا بھی شدت سے احساس تھا۔
امام شہید ؒنے عام روش سے ہٹ کر بالکل علیحدہ راہ اختیار کی۔ ان کی نگاہ، بلند و بالا عزائم اور مقاصد پر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ہر اقدام ممتازہوا کرتا تھا۔ آپ کی کاوشیں کسی ایک فرد تک محدود نہ ہوتیں، بلکہ پوری امت کا احاطہ کرتیں۔ ان کو یہ بات معلوم تھی کہ ان کی زندگی جاری دعوت کے کام سے بہت کم ہے۔ اسی لیے انھوں نے دعوت دین کے لیے ہر قسم کے وسائل و ذرائع کو ممکن بنانا چاہا اور اس کی حفاظت کا پورا بندوبست کیا۔ اس کے لیے ممکنہ حد تک افراد اور وسائل کی فراہمی پر توجہ دی۔ انھیں اس با ت کا بخوبی اندازہ ہوچکا تھا کہ معاشرے کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے ان کا محدود وقت بالکل ناکافی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ہر جگہ اس بات کو بطور علامت (سلوگن) عام کردیا : ’’ فرائض، اوقات سے بہت زیادہ ہیں‘‘۔
دائمی تحرک اورفوری عمل درآمد آپ کا شعار بن چکا تھا۔آپ دعوت کی ضروریات اورتقاضے پورا کرنے میں دیوانہ وار لگے رہتے، جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔وہ کسی قسم کی خامی یا کوتاہی سے بچتے ہوئے نتائج کے حصول پر پوری توجہ مرتکز رکھتے تھے۔ وہ تیزی میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے دیتے تھے۔ ان کی سرگرمیاں بڑی مستحکم تھیں۔ان کی متوازن اورپاکیزہ شخصیت اس روشن چراغ کی مانند تھی جس کے تھوڑے سے تیل کا آخری قطرہ خشک ہونے کے بعد بھی اس کی لو نہیں بجھتی‘ جس کی پاکیزہ قوت کا آخری قطرہ بھی بہادیا جائے تب بھی وہ کلمۂ شہادت کا ورد کرتا رہے۔ ان کی ہمت‘ استطاعت سے کئی گنا بڑھ کر تھی اور یہ استطاعت ہر قسم کی تھکاوٹ اور تنگیِ وقت سے بالاترتھی۔ یہی وجہ ہے ان کی استطاعت عام انسانی استعداد سے بازی لے گئی تھی۔ ان کے شان دار کارنامے اولیا کی کرامات سے کسی طرح کم نہیں، جن میں ان کی پُرحکمت کاوشوں کا پورا دخل ہے۔
اخیر عمر میں ان کے ایک ساتھی نے جب دیکھا کہ نہ تو آپ رات میں ٹھیک سے سوتے ہیں اور نہ دن میں آرام لیتے ہیں‘ تھوڑی دیر کے علاوہ رات بھر یوں ہی جاگ کر کاٹ دیتے ہیں تو انھوں نے مشورہ دیا: ’’جناب مرشد! آپ کو کچھ دیر نیند یا آرام کرکے اپنے جسم پر رحم کرنا چاہیے‘‘۔ اس کے جواب میں امام شہیدؒ نے کہا: ’’ میرے پیارے! کل میں قبر میںلمبی نیند سوؤں گا اور خوب آرام کرسکوں گا‘‘۔
تائید ایزدی سے وہ ایسی عزیمت کے مالک تھے، جس کی مثال مشکل ہی سے ملتی ہے۔ ان میں ایک پورے مضبوط گروہ سے بڑھ کر ہمت و جرات تھی۔ دعوت دین کے کاموں میںیوں لگے رہتے گویا وہ تنہا ہی اس کے مکلف ہوں۔ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتے کہ انھیں کیا ہوگیا ہے کہ انھوں نے اتنا بھاری بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھارکھا ہے؟
آپ نے لوگوں کے ساتھ اتنا گہرا تعلق بنالیا جیسے پھول اور خوشبو کا باہمی تعلق ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ آپ کی سخت مصروفیات ‘ مشکلات کو جانتے ہوئے بھی خط لکھ کر اپنی نومولود بچی کا نام تک دریافت کرتے تھے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پہلے یہ شخص گناہ گار تھا اور اب دنیا کی تکالیف اور مشکلات کو برداشت کرکے اپنے گناہوں کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے؟ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ وہ تو اس سے پہلے بھی اچھی روش پر ہی قائم تھا۔ وہ ان تکالیف و مشکلات کو برداشت کرکے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات کے طلب گار تھے۔
امام شہید ۱۹۰۶ء میں امام محمد عبدہٗ کی وفات کے سال پیدا ہوئے اور انھوں نے ۱۹۲۸ء میں سعد زغلول کی وفات کے بعد اسی سال اپنی دعوت کا آغاز کیا۔انھوں نے امام عبدہٗ کی دعوت میں عسکریت کا اضافہ کردیا اور سعد زغلول کی دعوت پر اسلامی افکار غالب کردیے۔ اس لحاظ سے موجودہ اسلامی تحریک کو نبی کریم ؐ کے عہد میں پہلی اسلامی تحریک کے اتباع میں دوسرااڈیشن شمار کیا جاسکتا ہے۔
اگر یہ سوال پوچھا جائے کہ کیا امام حسن البنا کی زندگی کسی غیر مسلم کے لیے بھی قابلِ تقلید ہوسکتی ہے ، تو بلاجھجک میرا جواب ہوگا: ’ہاں‘۔ممکن ہے کہ بعض لوگ اس سوال کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیں، لیکن دراصل یہ اس مشترک انسانی رشتے کی قیمت کو نمایاں تر کرنے کی ایک کوشش ہے، جو امام شہیدحاصل کرنا چاہتے تھے اور یہی ان کی کامیابی ہے ۔
امام البنا شہید ہر لحاظ سے ایک کامیاب شخص تھے۔ اسی لیے ان کے دشمنوں کوقتل کے سوا ان سے چھٹکارا پانے کی کوئی سبیل نظر نہ آئی ۔ اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ امام شہید کی سیرت مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے لیے ایک پُرکشش اور قابلِ تقلید نمونہ تھی۔
بہت سے بڑے لوگوں کی مانند میدان دعوت میں ان کی عملی زندگی بھی نہایت مختصر تھی، تقریباً ۲۰برس۔ابھی عمر کے ۴۲ویں برس میں تھے کہ مہلت زندگی ختم ہوگئی ۔ اس کے باوجود جب وہ اپنی زندگی کا مشن مکمل کرکے خالق حقیقی سے ملے تو ان کے افکار اور دعوت دُور دُور تک پھیل چکی تھی ۔ آپ کی دعوت کا پھیلائو آج بھی مسلسل جاری ہے اور واقعات عالم کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کررہا ہے۔
امام نے کامیابی کے اس سفر میں جن صفات سے مدد لی ان میں سے ایک ہر دل عزیزی تھی۔ وہ اپنے افکار و اقوال میں عام فہم اسلوب اور دل نشین اختیارکرتے تھے۔ ایسے کلمات جوسننے والے کے دل میں براہ راست اتر جائیں، جن میں نہ تو کوئی تصنع ہوتا اور نہ تکلف۔ وہ اپنے خطاب کا رخ عامۃ المسلمین اور مسلمانوں کے سواد اعظم کی طرف رکھتے ، کبھی اسے مقتدر اور باوسائل طبقے تک محدود نہ رکھتے ۔ اگرچہ یہ طبقۂ خواص بھی دعوت کا بلا استثنا مخاطب تھا، لیکن امام اپنی قائدانہ فراست سے بھانپ گئے تھے کہ خیر اور برکت ،سواد اعظم کو مخاطب کرنے میں ہے ۔ آپ نے عوام سے ربط و تعلق بڑھایا اور عوام کے دل آپ کی ذات سے وابستہ ہو کر رہ گئے۔
امام اپنے مقاصد اور اہداف کی تکمیل کے لیے مسلسل محنت کرتے ،جو ایک بے مثل قائد کی صفت ہوا کرتی ہے ۔ انھوں نے جب دعوت کا آغاز کیا تو بظاہر دعوت کے پھیلائو اور مقبولیت کا کوئی امکان نظرنہ آتا تھا، بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سارے اشارے منفی ہی تھے۔ اگر کسی عام آدمی کو وہ مشکل حالات پیش آتے جن کا سامنا امام کو تھا، تو شایدوہ اپنی قسمت کو کوستے ہوئے‘ اپنے خواب اور امیدیں دل میں لیے اس سارے کام کولپیٹ چکا ہوتا۔
امام شہید ایک ایسے منبع سے سیراب ہوئے تھے جس کی وسعت لا محدود ہے۔ آپ اس منبع کی اساس کو پا چکے تھے اور آپ کا ایمان تھا کہ اسی مرکزایمان وحرارت سے آنے والی مدد لا محدود ہے۔ ہر طرح کی مشکلات کے علی الرغم آپ اپنے سامعین تک پیغام پہنچانے اور اسے ان کے دلوں میں اتارنے میں کامیاب ہوگئے ۔ آپ مستقل مزاج بھی تھے اور مدبر بھی، اسی لیے بخوبی جانتے تھے کہ اپنے اوقات کو کیسے منظم کرنا ہے اور ترجیحات کو کیسے ترتیب دیناہے ۔ اس راز کو پانا بھی کامیاب ذہن اور کامیاب لوگوں کے امتیازات میں سے ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ شہید نہایت کم سوتے(قلیل النوم) تھے، اور اپنا زیادہ تر وقت فرائض کی ادایگی، بڑے اور اہم دعوتی امورکی تکمیل میں صرف کیا کرتے ۔ اگرچہ جماعتی ذمہ داریاں اور پھر اہل خانہ اور عزیز و اقارب کا بھی خیال رکھتے تھے، تاہم بیش تر وقت دعوت کے لیے وقف تھا۔
عظیم قائدین کی مانند ان کے پاس بھی اپنی ذات کے لیے علیحدہ سے کوئی ایسا وقت نہیں تھا کہ جسے دعوتی امور اور لوگوں کا ہجوم مکدر نہ کردیتا ہو ۔ان کے ہاں نہ تو چھٹی کا تصور تھا اور نہ راحت وآرام ہی کا‘ بلکہ ان کی زندگی مسلسل کام اور پیہم جدوجہد سے عبارت رہی۔
وہ پورے مصر کا دورہ کرتے اور جگہ جگہ خطاب کرتے رہے۔ اپنے منہج اور اپنے افکار کو قلم بند بھی کیااور اپنے ساتھ چلنے والوں کی بڑھتی و پھیلتی تعداد کو منظم بھی کرتے رہے ۔ یہی نہیں بلکہ انھوں نے اپنی دعوت کو مصر سے باہر عالم اسلام بالخصوص عرب ممالک میں پھیلانا شروع کیا ۔ ان کی دعوت کا اصل جوہر یہ تھا کہ دین ایک مکمل نظام حیات ہے ۔ زندگی کا کوئی رخ اور میدان ایسا نہیں ہے، جس کے بارے میں اس میں ہدایات نہ ملتی ہوں۔
جب یہوداور مسلمانوں کے درمیان جنگ چھڑی ، اور انگریزوں نے مملکت اسرائیل کے قیام کا فیصلہ کیا تو آپ نے داد شجاعت دینے کے لیے اخوان المسلمون کے رضا کار مجاہد دستے فلسطین روانہ کیے، اور اس طرح گذشتہ صدیوں کی ذلت و پستی کے باعث بھولے ہوئے فریضۂ جہاد کے احیا کا کارنامہ سرانجام دیا ۔ تاریخ مصر کے ان عشروں پر نظر رکھنے والا ہرمصنف فرد بخوبی جان سکتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور اوپر تلے بننے والی متعدد حکومتیں مسائل اور معاملات کو روایتی طریقے سے دیکھ رہی تھیں ۔ کسی کے پاس بھی اپنے طریقے کی سچائی اور منشور کی درستی کا امام جیسایقین اور اعتماد نہیں تھا ۔
اپنی اس صفت کے لحاظ سے امام اپنے ہم عصرقائدین میں فائق تر بلکہ بے مثال تھے ۔ امام حسن البنا شہید کے زمانے میں مصر میں بڑے معروف خطبا موجود تھے جو کلام کریں تو لوگ خاموشی سے سنیں اور اشارہ کریں تو لوگ متوجہ ہوجائیں۔ امام حسن البناکی خطابت میں ان کی سی سحرآفرینی تو نہ تھی، لیکن آپ کے کہے ہوئے کلمات ان کے کلمات سے زیادہ سچے اور زیادہ اثر آفرین ثابت ہوا کرتے تھے ۔ عام خطبا میں سے شاید ہی کوئی مقرر مجمع عام سے اتنا قریب تر ہوتا ہو اور کوئی مجمع کسی مقرر سے شاید ہی اس قدر متاثر ہوتا ہو جتنا امام سے ہوتا۔ ان کے اور عام خطبا کے درمیان فرق یہ تھا کہ آپ کے گفتار کی گواہی آپ کا کردار دے رہا ہوتا تھا۔
پھراس میں تعجب ہی کیاتھا کہ حکومت ان سے تنگ پڑ گئی اور ہر ناپاک ہتھکنڈا آزمانے پر تل گئی۔ انھیں قاہرہ بدر کردیا گیا۔ یوں سامراجی حکمرانوں نے تو چاہا تھا کہ اس سے امام کی آواز دب جائے گی اورآپ کا اثر کمزور پڑ جائے گا لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ ان کی دعوت میں مزید وسعت آگئی اور ان کی صداکا اثر و نفوذ بڑھتا چلا گیا۔
آپ نے زندگی بھر کبھی مغربی علوم نہیں پڑھے ، نہ معاصر یورپی ثقافتی ادب کی طلب کبھی آپ کے دل میں پیدا ہوئی۔آپ کی رسمی تعلیم و تربیت دارالعلوم قاہرہ میں علوم شرعیہ تک محدود تھی ۔ لیکن اپنی فطری ذکاوت اور تاریخ کے گہرے ادراک نے انھیں مغربی تہذیب اورمنہ زور جدیدیت کے چیلنج کا گہرا فہم عطا کردیاتھا۔
امام حسن البنانے مادی تہذیب کے چیلنج کے جواب میں ایک مکمل منصوبۂ عمل پیش کیا۔ آپ کی سادہ سی فکر کا لب لباب یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین سے رہنمائی حاصل کریں اور شریعت کو اپنے تمام معاملات میں حاکم بنائیں۔ جسے شریعت مباح قرار دے ، اسے لے لیں ۔ آپ نے یہ نہیں کہا کہ تہذیب جدید سرتاپا شر ہے اور انسانی دانش کا تمام ورثہ سراسر جھوٹ ہے، نہیںبلکہ مطالبہ صرف یہ رہا کہ اسلام ہی مسلمانوں کے معاملات میں بالادست ہو اور ان کی پسند و ناپسند کا مرکز بھی عملاً وہی ہو۔ وہ مسلمانوں کو ان کا وہ عقیدہ یاد دلاتے تھے جسے طویل دور انحطاط نے ان کے ذہنوں سے محو کررکھاتھا اور مغرب کی ثقافتی یلغار جسے دور کہیں دفن کر چکی تھی: یہ کہ بندے کی زندگی کا ہر لمحہ عبادت ہے ۔ دین کو زندگی کے کسی بھی حصے سے جدا کرنا ممکن ہی نہیںہے۔ امام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے:’’ اسلام دین بھی ہے اور ریاست بھی ،یہ کتاب (ہدایت) بھی ہے اور تلوار بھی۔‘‘
امام البنا کے ان الفاظ نے مسلمانوں کے دل میں موجوداس آتش فشاں کو بھڑکا دیا تھا ، جسے وقتی طور پر دنیا کی محبت اورپست و ذلیل فطرت نے دبا رکھاتھا ۔ یہ وہ مسکت جواب تھا جو شیخ نے تہذیب جدید کے چیلنج کا دیا ۔ یہ تہذیب پوری دنیا کو بالعموم اپنا تابع فرمان بنانے کے لیے صدیوں تک لڑائی لڑتی رہی، اور مسلمانوں کو بالخصوص اپنے نوآبادیاتی حملوں،اورپے درپے ثقافتی یلغار کے ذریعے سے اپنے مفادات کے سامنے جھکانے کی کوششیں کرتی رہی۔
امام شہید نے اپنے علاقے کے عام باشندوں کی طرح ایک صوفیانہ فضا سے معمور گھرانے میں پرورش پائی ۔ ذکر و اذکار کی آوازوں نے آپ کی سوچ و فکر کو سنوارا، اور راتوں کی عبادت نے آپ کے کردار کوصیقل کیاتھا ۔ آپ مزاجاًنرم خو اور فطرتاًمتدین تھے ۔ دیکھنے والے کو آپ کی آنکھوں میںحیا اور چہرے پر نور ایمان کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ ہمیں امام شہیدکی زیارت کا موقع نہیں ملا، لیکن جب ان کی تصویر دیکھتے ہیں تو جذبات سے عاری عام تصاویر کے برعکس حسن و جمال اور زندگی کے ہر رنگ سے بھرپور نظر آتی ہے ۔
مدرسۂ حیات نے انھیں سکھایاتھا کہ امت کے اندر رائج الوقت دین داری کے سارے اسلوب ان کے اس سوال کا شافی جواب دینے سے قاصر ہیں کہ احیاے ملت اسلامیہ کیسے ممکن ہے۔ جس صوفیانہ پس منظر نے آپ کے مزاج اور آپ کی فکر و اسلوب کو تشکیل دیا تھا ، اس نے آپ کے سامنے دین کا اصل راستہ واضح کردیا اور آپ نے زندگی کے دیگر پہلوؤں کو چھوڑکر دین کو چند وردو اذکاراور قلبی اعمال تک محدود کرنا گوارا نہ کیا ۔آپ کہا کرتے تھے کہ میرا عقیدہ شرک اور کجی سے پاک ہے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ آپ نے اپنی دعوت کو مجرد نظریات اور کلامی مسائل تک محدودنہ رکھاتھاکہ جن کا زندگی کے نئے پیش آمدہ مسائل سے کوئی تعلق ہی نہ ہو ۔
وہ اپنی ذات میں انجمن تھے۔ آپ کی ذات میں بادشاہ وقت نے اپنی نام نہاد حکمرانی کے جواز کو عظیم خطرہ محسوس ہوا۔ پھر خطرے کا یہ شعور ایوان حکومت اور اس کے کارپردازوں سے نکل کر مصر اور مصر کی دیگر سیاسی قوتوں تک سرایت کرگیا جو امام کی بقا میں اپنا زوال دیکھتی تھیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی ۔ حسن البناکا پروگرام خالصتاً اصلاحی نوعیت کا تھا ۔ آپ نے کبھی کسی کے استیصال کا نعرہ بلند نہیں کیا، بلکہ عملاً قائم شدہ نظام کی اصلاح کی طرف ہی بلایا ۔ لیکن آپ کی دعوت کی قوت و تاثیر کو دیکھ کر دوسرے آپ کے استیصال پر تل گئے۔ آپ کی زندگی کے خلاف سازش کی گئی اور بالآخر شہادت آپ کا مقدر ٹھیری۔
دشمن آپ کی ذات کے ساتھ وابستہ فضل کو نہیں پاسکے ۔ یقینا امام حسن البنا جیسے آدمی کے لیے بہترین خاتمہ شہادت ہی ہوسکتاتھا ۔ اول تو اس لیے کہ شہادت آپ کی اور آپ کے دیگر ساتھیوں کی قلبی تمنا تھی ۔ یہی تو تھے جنھوں نے فلسطین میں کارجہاد کی تجدید کا کارنامہ انجام دیاتھا۔ شہادت سے بڑھ کراور اس سے قوی تر کوئی اور گواہی ہو نہیں سکتی جسے آدمی اپنے صدق و اخلاص پر دے سکے ۔ آج امام البناکی شہادت کو تقریباً ۶۰ برس ہوگئے ہیں لیکن امام کے افکار و نظریات عامۃ المسلمین ،تعلیم یافتہ لوگوں اور ہر درجے کے قائدین کے افکار و نظریات میں ڈھل چکے ہیں۔
دونوں عالم گیر جنگوں کے درمیانی عرصہ (۱۹۱۸ء-۱۹۳۹ء)میں بوسنیا ہرذی گووینا کے نوجوان حصولِ تعلیم کے لیے دنیا کے بڑے تعلیمی مراکز میں جایا کرتے تھے۔ واپسی پر ان معاشروں کے حقیقی نظریات بھی اپنے ساتھ لایا کرتے تھے۔ بوسنیائی مسلم طلبہ کا ایک ایسا ہی گروہ اس زمانے میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ گیا جب اخوان المسلمون اپنی مقبولیت کے عروج پر تھی۔ مذکورہ طلبہ کی بوسنیا واپسی کے بعد ان کے سامنے پہلا کام بوسنیائی مسلمانوں میں اخوان کے دعوتی پروگرام کو متعارف کرانا اور پھیلانا تھا۔ اس کے فوراً بعد ان کے پیشِ نظر ایک ایسی تنظیم کو تشکیل دینا تھا جو اخوان کے طریقِ کار کے عین مطابق ہو۔ ابتدا میں اس سوچ کو عملی مشکل دینے کے لیے طے پایا کہ اخوان کے نظریات بوسنیا میں دوتنظیموں ’الہدایہ‘ اور اس کے اسی نام کے حامل اخبار (دسمبر‘ جنوری ۱۹۳۶ء فروری ۱۹۴۵ء ) نیز ـنوجوانانِ اسلامـ کے ذریعے پھیلائے جائیں گے۔
ان طلبہ میں چند نمایاں نام یہ تھے: محمد ہاندچ (۱۹۰۶ء-۱۹۴۴ء)،عالیہ اگانووچ (۱۹۰۲ء-۱۹۶۱ء)، قاسم دوبراچا (۱۹۱۰ء-۱۹۷۹ء)،ابراہیم تریبیناچ (۱۹۱۲ء-۱۹۸۲ء)، اور حسین دوظو (۱۹۱۲ء-۱۹۸۲ء)۔
خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ مذکورہ بالا طلبہ میں سے چند نے حسن البنا سے ملاقات کی تھی۔ جن بوسنیائی طلبہ نے ان سے ملاقات کی، غالب گمان ہے کہ ان میں محمدہاندچ اور عالیہ آگانووچ شامل تھے جو اس عرصے میں قاہرہ میں نمایاں اسلامی اسکالر مثلاً یوسف یودیا وغیرہ کے لیکچر زمیں شرکت کیا کرتے تھے۔ قاہرہ میں ان (بوسنیائی) طلبہ نے دو تنظیمیں، Young Muslims اور’ الہدایہ‘ قائم کیں۔ پھر بعد میں ان کی مخلصانہ کاوشوں کے نتیجے میں یہی دونوں تنظیمیں بوسنیا میں بھی قائم ہوگئیں۔
جب تنظیم ’الہدایہ ‘معرضِ وجود میں آئی تو اس زمانے میں اخوان المسلمون کی سرگرمیوں کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا تھا۔جس کے بارے میں حسن البناؒ کا کہنا تھا کہ ـاس مرحلے میں ابلاغ (communication)پیش کاری (presentation) اور نظریات کے فروغ کے ساتھ ساتھ انھی نظریات کو لوگوں کے تمام طبقات تک پہنچایا جائیـ۔ ’الہدایہ‘ کا تاسیسی اجلاس ۸مارچ ۱۹۳۶ء کو بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد ہاندچ نے الہدایہ کی سرگرمیوں اور طریق کارکی وضاحت کی۔ انھوں نے اسلامی تعلیمات کے احیا کے لیے چار بڑے طریقے بیان کیے جو دعوتی کام کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انھوں نے خطبہ ہاے جمعہ کے لیے تحریر ی مضامین اور ذاتی کردار کی اہمیت کو بھی بیان کیا۔
سماجی اہداف کے بارے میں تصور تب تک ممکن نہیں، جب تک علما کی راہ نمائی سے بھرپور استفادہ نہ کیا جائے اور اسلامی تعلیمات کی عام اشاعت نہ کی جائے۔ تاہم نوجوانوں کو ’الہدایہ‘ کی سرگرمیوںمیں شامل کرنے کے لیے اس کی ضرورت کا احساس روزبروزبڑھتا جارہا تھا۔
نوجوانوںکے لیے قائم ان تنظیموں کی کارکردگی کی رفتار اس دوران میں بہت سست تھی۔ اس سست روی کی وجہ محمد ہاندچ کے بقول طریق کار پر عدم اتفاقـ تھی۔ نوجوانوں کا ایک گروہ ـنوجوانانِ اسلامـ کے نام ہی سے کام کرنے میں گہری دل چسپی رکھتا تھا۔ یہ تنظیم مارچ ۱۹۴۱ء کے اواخر میں قائم کی گئی تھی۔ ان نوجوانوں کی راے یہ تھی کہ’ الہدایہ‘ ایسی تنظیم ہے جو خالصتاً مذہبی علما پر مشتمل ہے۔تاہم ’الہدایہ‘ نے ان نوجوانوں کواپنے پروگراموں اور سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے بہت جدوجہد کی۔ اس کا اظہار اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ’ ـنوجوانانِ اسلام‘ـ نے فیصلہ کیا کہ وہ ’الہدایہ‘ کا ایک لازمی جزو ہیں اور اسی کے ایک شعبے کے طور پر کام کریں گے۔’ نوجوانانِ اسلام‘ـ کی آئینی کمیٹی کا اجلاس ۵مئی ۱۹۴۳ کو ہوا جن میں جناب قاسم دوبراچا کو اس کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ ۲۷ اپریل۱۹۴۳ء کو ـ’نوجوانان اسلامـ‘کے اصول وضوابط منظور کیے گئے، جنھیں چند روز بعد’ الہدایہ‘ کے ترجمان اخبار میں شائع کیا گیا۔
ان ضوابط کے آرٹیکل نمبر۲ میں کہا گیا تھاکہ’’ ـاس شعبے (نوجوانانِ اسلام) کا مقصد مسلمان مسلمان نوجوانوں میں اسلامی روح بیدار کرنا‘ اس کے مطابق ان کی تربیت کرنا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کے سماجی و اخلاقی معیار کو بلند کرنا ہیـ‘‘۔
آرٹیکل نمبر۹ میں بیان کیا گیا کہ ـارکان پر لازم ہے کہ وہ اسلامی قوانین کے اصولوں سے بخوبی واقف ہوں، ایک اچھے مسلمان کا رویہ اپنائیں۔ اسلامی تعلیمات کے فروغ اور مسلمانوں کے مفادات کے دفاع کے لیے ـنوجوانانِ اسلامـ کے ارکان کو دوسروں کے لیے ایک مثال ہونا چاہیے۔
مختلف روایتی مذہبی اداروں کی طرف سے اسلام کی جامد تشریح سے اور سخت گیر روّیہ ترک کرکے اسے ایک زیادہ قابل عمل اندازمیں تبدیل کردیاگیا۔ نوجوانوںکے جوش وجذبے اور توانائیوں کو انفرادی سطح پر مذہبی اور اخلاقی رویوں میں روحانی اعتبار سے بدلا گیا۔
تاہم یہ طے کیا گیا کہ اپنے آیندہ کے کام اور سرگرمی کے لحاظ سے ’نوجوانانِ اسلام‘ـ، ’الہدایہ‘ سے جدا اور آزادانہ سرگرمِ عمل رہے گی۔’’ـہم ارکانِ ـنوجوانانِ اسلام ہمیشہ سے مذہبی اداروں میں کسی بھی قسم کی پیشہ وارانہ مذہبی مداخلت کے مخالف رہے ہیں اور یہ رجحان بہت مضبوط رہا ہے‘‘۔ـ یہ تھے عالی جاہ عزت بیگووچ (سابق صدرِ بوسنیا وہرسیگووینا) کے الفاظ جواُن ارکان میں سے ایک تھے، جنھوں نے’ـالہدایہ‘میںشمولیت سے انکار کیا۔ ’’ہمیں شروع ہی سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ پیشہ ور مذہبی حضرات نہ تو اسلامی تعلیمات کے احیا میں دل چسپی لیتے ہیں اور نہ ان میں اس کی اہلیت ہے ، لہٰذا ہماری نظراس سمت میں نہیں ہونی چاہیے جہاں کسی قسم کی امید ہی نہ ہوـ‘‘۔
ان وجوہ کی بنا پر تنظیم کی دیگر سرگرمیوں کے حوالے سے کچھ اور پروگرام سامنے آئے اور فیصلہ کیا گیا کہ ان سرگرمیوں کا دائرۂ کار مسلم فلاحی تنظیم ’ـمرحمت‘ـ تک پھیلایا جائے۔ ’ـنوجوانانِ اسلام‘ـ اسلامی تعلیمات کو خطابات اور دوسری مذہبی و تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے سے آگے بڑھائیں ، سرگرمیوں کاہدف نوجوان نسل ہو جو جنگ عظیم کے باعث اسکولوں میں تعلیم جاری رکھنے سے محروم رہ گئی تھی۔
جوں جوں جنگ کے خاتمے کا وقت قریب آرہا تھا، اسد کراجوِوچ تنظیم کو اپنی ـغیرقانونیـ سرگرمیوں کے لیے تیار کرنے لگے۔ انھیں اس بات کا اندازہ تھا کہ اشتراکی حکومت کے زیر سایہ قانونی سرگرمیاں ممکن نہیں ہوسکیں گی۔ وہ تنظیم میں کلیدی شخصیت تھے ۔ان کے ہمراہ حسن ببراور خالدقائتاز جیسے مستقل ارکان تھے، جب کہ دیگرارکان اپنی تعلیم میں مصروف تھے۔انھوںنے اس دوران سب سے اہم گروہ قائم کیا،جس میں انتہائی قابل اعتماد افراد شامل تھے۔اس گروہ کا مقصد حسن البناؒ کے انداز اور نظریات کا فروغ تھا۔ ان کا نظریاتی مقصد یہ تھا کہ تنظیم کا ہر رکن جہاں وہ خود رہتا ہے اور کام کرتا ہے، اپنے الفاظ اور عمل سے اپنے حلقۂ اثر کو متاثر کرے۔ ایسے ارکان کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے پیشے میں طاق ہوں اور اپنے شعبے میں مثال بننے کے لیے کوشاں ہوں۔ اس طرح عملاً ان نظریات کی قدر و قیمت کو بڑھانا تھا ۔
۱۹۴۵ء میںجب خونیںاشتراکی آمریت بر سرِاقتدار آگئی تو اس تنظیم کو جو پہلا دھچکا لگا وہ یہ تھا کہ اشتراکی حکمرانوں کے وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں اس کے ۱۳ ارکان نے جامِ شہادت نوش کیا، ان عظیم مجاہدوں کے نام درج ذیل ہیں:مصطفی باسولاجچ، حسن ببِر، عمرکوواچ، عمر ستوپاک، نصرت فضلی بیگووچ، خالد قائتاز، فکرط پولچو، ثاقب نشائچ، عاصم چام جچ، آصف سرداروچ، نورالدین گاکچ، عثمان کروپالیا اور اسد کاراجچ۔
بدقسمتی سے اشتراکی حکمرانوں کی جانب سے ظلم و ستم، پکڑ دھکڑ اور وحشیانہ تشدد کا سلسلہ یہاں تھما نہیں۔ آٹھ سو سے زائد ارکان کو طویل مدت (پانچ تا بیس سال)قید و بند کی سزائیںدی گئیں، جب کہ ساڑھے چارہزارارکان کو ایک سے چھے برس تک کی قید بامشقت کی سزائیںدی گئیں۔
۴۰سالہ اشتراکی دور حکومت میں’ـنوجوانانِ اسلامـ‘ کے خلاف مسلسل تفتیش و تحقیق کا یہ سلسلہ جاری رہا اور جھوٹے مقدمات چلتے رہے۔ ان مقدمات میں سے زیادہ تباہ کن مقدمات ۱۹۴۹ء، ۱۹۵۱ء اور ۱۹۸۳ء میں چلائے گئے۔ ایسے دو مقدمات میں راقم السطور [عمر بہمن]کو ۳۰سال قید کی سزا سنائی گئی، جو اس سلسلے کی سب سے لمبی سزا تھی۔تاہم اشتراکی حکمرانوں کی جانب سے’ـنوجوانانِ اسلام‘ـکو مٹا ڈالنے کی تمام کوششیں اور اس کی سرگرمیوں کو روکنے کے تمام حربے ناکام ثابت ہوئے۔ ان ناکامیوں کی واضح ترین مثال بوسنیا پر کی جانے والی اب تک کی وہ آخری جارحیت ہے جو اشتراکی سربیا نے بوسنیا کے اعلانِ آزادی کو روکنے کے لیے مارچ ۱۹۹۲ء میں کی تھی‘ جس کا بھیانک سلسلہ نومبر۱۹۹۵ ء تک جاری رہا‘ نوجوانانِ اسلام نے ۱۹۹۰ء میں بوسنیا میں پہلی مسلم سیاسی جماعت Party of Democratic Action (SDA)کی بنیاد رکھی۔اس سیاسی جماعت اور اس کے صدر عالی جاہ عزت بیگووچ نے سربیا کی جارحیت کے خلاف مزاحمت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
آج ـنوجوانانِ اسلامـ کی سرگرمیاں مختلف شعبہ ہاے حیات میں جاری و ساری ہیں۔ نئی نسل تک اپنے نظریات پہنچائے جارہے ہیں۔ سابقہ جنگی قیدیوں کی دیکھ بھال، غریبوں کی مدد، مہاجرین کی دیکھ بھال، مذہبی سرگرمیوں کا انعقاد اور سرگرمیوں کی اشاعت اور مساجد کی تعمیر وغیرہ ان سرگرمیوں میں شامل ہیں۔اس جذبے کی آب یاری کے لیے جس معاصر شخصیت کا سب سے زیادہ موثر نام ہے ، وہ حسن البنا شہید ہیں۔
۱۳ربیع الثانی ۱۳۶۸ھ بمطابق ۱۲فروری ۱۹۴۹ء ہفتے کے دن امام حسن البنا ۴۳سال کی عمر میں شہید ہوئے۔ اس وقت میںاستاد محمود عبدہ کی قیادت میں چند مصری مجاہدین کے ہمراہ القدس کے قریب واقع شہر ’صورباھر‘ میں قید تھا۔ ہمیں جیل میں ان کی شہادت کی دردناک خبر ملی۔ وسط سال تک میں ان کے ساتھ ہی رہا، پھر انھیں کہیں دوسری جیلوں میں منتقل کردیا گیا۔ میرے ساتھ میرے چار بھائی اور بھی تھے، جن میں سے ضیف اللہ مراد اور کامل حتاحت شہید ہوگئے، جب کہ ابراہیم حداقی کا ہاتھ کٹ گیا اور ادیب الخیاط کی ایک آنکھ پھوٹ گئی تھی۔
میں ترجمان القرآن کی اس خصوصی اشاعت کے لیے ان باتوں کو دہرانا نہیں چاہتا جو ہمارے دوستوں اور احباب نے لکھی ہیں بلکہ میں یہاں ان لمحات کاتذکرہ کرنا چاہتا ہوں جو میں نے شہید امام اور ان کے بعض اقارب و احباب کے ساتھ گزارے ہیں۔ ان میں ان کے والد بزرگوار اور میرے استاذ مکرم الشیخ احمد عبدالرحمن ساعاتی ، امام کے بھائی ، ان کے شاگرد ، ان کے داماد ،ان کے نواسے ،ان کے بیٹے احمد سیف الاسلام، اور بہت سے وہ لوگ جو بڑے اخلاص کے ساتھ امام کے ہم قدم رہے۔
استاذ البنا سے میری پہلی ملاقات ۱۹۴۱ء میں، مصر کے حلمیہ الزیتون کے مقام پر ہوئی۔ حلمیہ مصر میں المطریہ کے قریب واقع ہے۔ یہ وہ حلمیہ نہیں ہے جو بعد میں اخوان کا مرکز بناتھا۔ میں اپنے والد اور اپنے بھائی کے ساتھ تجارت کی غرض سے وہاں گیاتھا اور کبھی کبھار ازہر کے عمومی شعبے میں بھی جایا کرتاتھا۔ ایک روز اخوان کے بعض کارکنان نے مجھے اپنے ایک پروگرام میں شرکت کی دعوت دی۔ درس قرآن کے بعد میں حسن البنا کے نزدیک گیا۔ اس وقت میں نے عربی لباس پہن رکھا تھا۔ ہمارے ایک پڑوسی نے ان سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ شام کے باشندے ہیں تو انھوں نے پیار بھرے لہجے میں مجھے کہا: ابوشام شیخ العرب ، اھلاو سھلاً [شام کے شیخِ عرب ،خوش آمدید]۔
میں۱۹۴۵ء کے وسط تک اخوان کے ساتھ برابر رابطے میں رہا۔ اس کے بعد باقاعدہ طور پر شام میں ’شباب محمدؐ، نامی تنظیم سے منسلک ہوا ، جسے ۱۹۴۶ء میں اخوان المسلمون میں ضم کردیاگیا۔ ۲۴مارچ ۱۹۴۸ء کو دوبارہ امام البنا سے اس وقت ملنے کا اتفاق ہوا جب وہ سرزمین فلسطین تک مجاہد دستوں کو پہنچانے کے سلسلے میں دمشق تشریف لائے تھے۔ اس موقعے پر انھوں نے صدر مملکت شکری القوتلی ، فلسطینی دفاع کونسل کے افراد اوراخوان کے دوسرے مجاہدین سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اس دوران مجھے بھی ان کے ساتھ رہنے کی سعادت ملی۔ ایک موقع پر میرے اور ان کے درمیان ایک گرماگرم بحث چھڑگئی، جب وہ ایک رضا کار مجاہد کو مصر واپس جانے کی طرف راغب کررہے تھے۔ یاد رہے کہ میں نے اس روز اس بھائی کو کہیں چھپا رکھاتھا۔ آخر کار یہ بحث اس طرح اختتام پذیر ہوئی کہ وہ اپنے موقف سے دست بردار ہوگئے۔ اس روز ان کی فراخ دلی اور وسعت قلبی کو دیکھ کر میںحیران رہ گیا۔
۱۹۵۲ء میں جب مجھے اپنے دو اساتذہ مصطفی السباعی اور عصام العطار کے ہمراہ شام سے جلاوطنی کا حکم ملا تو میں مصر چلا گیا اور ۱۹۵۴ء کے وسط تک مصر میں رہا۔ اس کے بعد ہر مقام، اور ہرموقع پر اخوان المسلمون کے ساتھ ہی رہا۔ہر شخص کے ساتھ خواہ میرا موافق ہو یا مخالف رابطہ رکھنا میری فطرت کا حصہ بن گیا۔
امام البنا کا سب سے بڑا اور عظیم کارنامہ اخوان المسلمون کی تاسیس ہے۔ یہ جماعت مصر اور دوسرے عرب ممالک میں ایک بہت بڑی قوت کے ساتھ موجود ہے۔ معاشرے میں اثرونفوذ کے اعتبار سے سب سے زیادہ توانا اور مؤثر ہے۔اسی طرح برعظیم پاک و ہند میں استاذ ابوالا علیٰ مودودی نے بھی ایسی ہی ایک مؤثر اور عظیم جماعت کی بنیاد رکھی ہے۔
اگرچہ معاشرے میں اخوان کے حامی بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن مخالفت کرنے والوں اور الزامات کی بوچھاڑ کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ مدح و ذم کا اثر لیے بغیر اپنی منزل کی طرف گام زن رہے۔ ان تمام نشیب و فراز میں وہ ایک عظیم شخصیت کی حیثیت سے اُبھرے۔ انھوں نے کئی میدانوں میںبڑی اہم خدمات انجام دیں۔
امام البنا کے نزدیک تمام مسلمانوں کا خواہ وہ سلفی ہوں یا صوفی یا فقہی مسالک سے منسلک ہوں ، سنی ہوں یا شیعہ یا إباضی، ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انھوں نے اصولوں اور متفق علیہ معاملات کو اتحاد کے لیے بنیاد بنایا اور فروعی مسائل میں ہر ایک کو اختلاف راے کے ساتھ دوسروں کو برداشت کرنے کی تعلیم دی۔یہی وجہ ہے کہ آپ کو امام حسن البنا کے پیرو کاروں میں مختلف فرقوں اور مختلف مکاتب فکر کے لوگ ایک ساتھ چلتے نظر آئیں گے۔ ایک دفعہ انھوں نے جامعۃ الانصار کے مجلے کے ساتھ تعاون کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ابھی ان کے ساتھ تھوڑا ہی سفرطے کیاتھا کہ ان کو معلوم ہوا کہ وہ اس امت میں خوارج کے طریق کار پر کاربند ہیں تو اس پرفوراً ہی ان کے ساتھ تعاون ختم کردیا۔
ہمارے استاد محب الدین الخطیب نے جو الفتح اور الزہراء نامی مجلات کے بانی مدیر تھے اور بعد میں روزنامہ الاخوان المسلمون کے مدیر بنے، مجھے ذاتی طو رپر بتایا کہ: ’’حسن البنا کی یہ عادت تھی کہ وہ کبھی بھی کسی کا م کے لیے حکم نہیں صادر کرتے تھے، بلکہ ان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے معاونین اور ساتھیوں کے سامنے تجاویز رکھ دیا کرتے تھے۔ نتیجتاً انھی کی پیش کردہ معقول تجاویز ہی نافذ ہو کر رہتیں،مگر کسی جبر کے ساتھ نہیں، بلکہ رغبت اور خوش دلی کے ساتھ‘‘۔
محب الدین الخطیب کی قد آور علمی شخصیت کا اندازہ آپ اس سے کریں کہ جس ازہر نے لاکھوں کی تعداد میں علما تیار کیے، اس ادارے نے اپنے مجلے الازہرکی سرپرستی اور ادارت کے لیے بھی محب الدین الخطیب دمشقی کا نام چنا جس کا ازہر سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ اس عظیم علمی شخصیت کا کمال اور فیضان تھا کہ بعد کے ادوار میںاسی ازہر یونی ورسٹی میں بکثرت اخوان کے کارکن پیدا ہوئے۔
مجاہدحاجی محمد امین الحسینی کے ہاتھ میں عالم اسلام کے بڑے بڑے قائدین کی اجتماعی تصویر تھی جس میں حسن البنا ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے مجھے یہ تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ : اس اجتماع میں حسن البنا سب سے پہلے حاضر ہوئے، لیکن بعد میں ہر نئے آنے والے مہمان کی عزت اور اکرام کی خاطر اپنی نشست چھوڑ دیتے تھے۔ یہا ں تک کہ مجلس کے بالکل آخر میں جا پہنچے حالانکہ اللہ کی قسم، بہت سارے عوامل اور خصوصیات کی بنیاد پر وہی اس لائق تھے کہ صدر مجلس ہوں۔
ایک دفعہ انھوں نے ایک نوجوان طالب علم امین السکری کو جو تعلیم کے سلسلے میں برطانیہ جارہا تھا، ایک خط لکھا، جس میں انھوں نے برطانیہ کے حالات کے ساتھ مختلف علوم کے بارے میں معلومات اور انگریزوں کے اخلاقیات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس خط میں انھوں نے اس نوجوان کو دینی اقدار اور اسلامی شعار پر سختی سے پابندی کرنے کی تاکید کی اور یہ نصیحت کی کہ اللہ تعالیٰ کو سمیع و بصیر سمجھ کر ہمیشہ اس کواپنے اوپر نگران سمجھو۔
حسن البنا کی شہادت کے بعد بھی یہ نظام‘ تنظیم سے الگ ہوکر چلتا رہا، مگر اس کی مختلف کارروائیاں اخوان کے لیے مشکلات کا باعث بنتی رہیں، حالانکہ اخوان کا بحیثیت نظم اور تنظیم اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔ پھر جیسے ہی اخوان کی قیادت مومنانہ بصیرت کی حامل شخصیت ،استاد حسن الہضیبی رحمہ اللہ کو سونپی گئی، انھو ں نے فی الفور اس نظام کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ ردعمل کے طور پر بعض افراد نے استاذ الہضیبی کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا، اور ان کو جماعت کی قیادت سے ہٹانے کی سعی شروع کردی ،جس کے نتیجے میں جماعت کے اندر ایک بڑا فتنہ برپا ہوا۔ اسی زمانے میں استاد حسن الہضیبی گرفتار ہوگئے ، اور جماعت کے بلند پایہ قائدین کو تختۂ دار پر لٹکادیا گیا۔ اس نظام سے منسلک بہت سے دوسرے لوگ بھی تھے جو اس فتنے سے نہ بچ سکے۔ حقائق گڈمڈ ہوگئے ، نظام درہم برہم ہوا اور آزمایش کا یہ سلسلہ برابر چلتا رہا، یہاں تک کہ جماعت پر سے پابندی اٹھا لی گئی۔ حسن الہضیبی نے دوبارہ جماعت کی قیادت سنبھالی اور اس باغی نظام کو ختم کرنے کی کوشش جاری رکھی۔ بالآخر یہ لوگ اخوان کی صفوں سے نکل گئے۔ا س طرح الہضیبی ؒکی فراست اور بصیرت کے نتیجے میں یہ مسئلہ ہمیشہہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔
یہاں ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امام البنا نے جن لوگوں کی تربیت کی تھی وہ بہترین شخصیات ثابت ہوئیں، لیکن جن کی تربیت ادھوری رہ گئی اور انھوں نے تنظیم اور سربراہِ تنظیم کے فیصلوں کی پابندی نہ کی، وہ مفید ہونے کے بجاے نقصان دہ عناصر کی حیثیت اختیار کرگئے۔ داخلی طور پر جماعت کے اندر جتنے بھی اندوہ ناک واقعات رونما ہوئے تقریباً ان سب کا موجب اسی نظام کے افراد تھے۔ اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرمائے۔
اس سلسلے میں آخری بات یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ شام کے ایک معروف عالم دین الشیخ محمد علی ظبیان کیلانی دمشقی نے عقیدہ جمعیۃ الاخوان المسلمون (جماعت اخوان المسلمون کا عقیدہ )کے عنوان سے ایک تفصیلی مضمون تحریر کیاہے۔ اس مضمون کا صحیح سن اشاعت تو معلوم نہیں لیکن مضمون نگار نے ایک جگہ پر لکھا ہے کہ یہ مضمون اخوان کے تاسیس کے دوسال بعد لکھا گیا، یعنی اندازاً ۱۹۳۰ء کا زمانہ تھا۔ اس وقت نہ ریڈیو تھا اور نہ ٹیلی ویژن، لیکن اس کے باوجو د انھیں شام میں جماعت اخوان اور اس کے عقائد کی تفصیلی معلومات پہنچ گئی تھیں۔ انھوں نے ان بہت سے کاموں کاذکر کیا جو اخوان نے سرانجام دیے ہیں، اوراپنی بات ختم کرتے ہوئے لکھا:
میری نظر میں مسلمانوں کی پس ماندگی کا سب سے بڑاسبب اپنے دین سے دوری ہے۔ ان کی اصلاح اور بہتری کی صورت یہ ہے کہ وہ صدقِ دل سے اسلامی تعلیمات و احکام کی طرف پلٹ آئیں۔ اس ہدف تک رسائی بالکل ممکن ہے، بشرطیکہ مسلمان اس کے لیے کمربستہ ہوجائیں۔ میں اخوان کے اصول و مبادی پر قائم اور ثابت رہنے کا وعدہ کرتاہوں اور اس کے ہر کارکن کے لیے میرے دل میں جگہ ہے، اور میں یہ بھی وعدہ کرتا ہوں کہ اس راہ میں اپنی آخری سانس تک ایک تابع دار سپاہی کی طرح زندگی بسرکروں گا… میرے مسلمان بھائی، یہ تیرے اخوان المسلمون کے بھائیوں کا عقیدہ ہے اس کو مضبوطی سے تھام لواو راگرتم اپنے اور تمام مسلمانوں کے لیے خیر اور بھلائی کا ارادہ رکھتے ہو، تو ہر روزمسلسل اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اس عقیدے کی خدمت کی توفیق بخشے اور اس کے مطابق زندگی گزارتے ہوئے اسی راہ میں موت بھی عطا فرمائے۔ وہی ہمارے لیے کافی ہے اور وہی بہتر ین کارساز ہے۔
جماعت کی تاسیس کے تھوڑے ہی عرصے بعد استاد علی طنطاوی نے کہاتھا : حقیقی معنوں اور منظم شکل میں دعوت دین کا آغاز جواں سال حسن البنا نے کیا ہے۔ میں نے اس وقت ان کو پہچان لیاتھا جب وہ میرے خالو محب الدین الخطیب کے پاس سلفیہ پریس میں آیا کرتے تھے۔ ابتدائی زمانے ہی سے وقار ، سکون اور سنجیدگی ان کی طبیعت پر غالب تھی۔ بہترین اور عمدہ اخلاق کے مالک تھے۔ بڑی با ایمان شخصیت تھے۔ زبان میں بلاکی تاثیر اور فصاحت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دوسروں کو قائل کرنے ، پیچیدہ اور لاینحل مسائل کو سلجھانے کی عجب صلاحیت سے نوازاتھا۔ وہ مختلف فیہ امور میں اتفاق پیدا کرنے کی بے پناہ استعداد رکھتے تھے۔
اس کاتجربہ بھی کیاگیاتھا اور اس کے بڑے اچھے نتائج برآمد ہوئے۔ بد قسمتی سے اس وقت سے آج تک اخوان کو آزادی کے ساتھ مصر اور دوسرے عرب ممالک کے انتخابات میں حصہ لینے نہیں دیا گیا۔ اس کے باوجود مصر اور ان تمام عرب ممالک میں جن میں آزادی اور حریت کی کچھ بھی ر مق باقی ہے، اخوان کو شان دار کامیابیاں نصیب ہوئیں۔
۱۹۵۲ء میں فوجی انقلاب آیا تو جمال عبدالناصر فوجیوں کے اس گروہ میں شامل تھا جس نے حکومت پر قبضہ کیا،جب کہ کرنل محمد نجیب ، عبدالمنعم عبدالرئووف اور ان کے ساتھ ایک اچھا خاصاگروپ پس پردہ دھکیل دیا گیا۔ ان میں سے بعض افسران جیلوں میں بند کردیے گئے۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ عبدالمنعم بہت اچھا اورپاک دل شخص تھا ، لیکن اس میں کچھ ایسی کمزوریاں تھیں جس کے باعث وہ قائد نہ بن سکا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنے جوار رحمت میں جگہ عطافرمائے ۔
کرنل محمد نجیب، جمال عبدالناصر اور اس وقت حکومت کے دیگر اہل کار انقلاب کے ابتدائی ایام میں فخر سے کہا کرتے تھے:’’ ہم امام حسن البنا کے اصول و مبادی اور طریق کار پر کاربند ہیں‘‘۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انھوں نے ۱۲فروری ۱۹۵۴ء کو امام حسن البنا کی قبر پر حاضری دی تھی اور اس وقت ایک بہت بڑے جلسے میں بھی شرکت کی تھی۔ محمد نجیب اور جمال عبدالناصر دونوں نے اس بڑے مجمع سے خطاب کرکے اس بات کا اعلان کیاکہ وہ اسلامی نظام کے حامی اور امام حسن البنا کے پیروکار ہیں۔
ایک مرتبہ حکومتی کارندے اخوان کے دفتر سے کارکنان کو گرفتار کررہے تھے تو امام حسن البنا نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کرتے ہوئے پولیس کی گاڑی میں سوار ہونے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ان کو منع کردیا، اور باقی سب لوگوں کو پکڑ کر لے گئے۔ یہاں تک کہ ان کی حفاظت پر مامور افراد کو بھی نہ چھوڑا۔ دراصل حکومت ان کے قتل کے لیے پہلے ہی سے منصوبہ بناچکی تھی۔
سازش کے مطابق مصطفی مرعی بین الاقوامی مسائل کمیشن کے سربراہ کی وساطت سے انھیں ’الشبان المسلمین‘ کے دفتر لایا گیا کہ:’’ حکومت اور اخوان کے درمیان جاری کشیدگی کے لیے آپ سے ایک وزیر ملاقات کرنا چاہتا ہے تاکہ باہمی مفاہمت سے کوئی حل تلاش کیا جاسکے‘‘۔ امام حسن البنا وعدے کے مطابق وہاں پہنچے لیکن کافی انتظار کے باوجود کوئی وزیر نہ آیا، جس پر آپ اپنے بہنوئی استاذ عبدالکریم منصور کے ہمراہ دفتر سے باہر نکلنے لگے کہ بجلی منقطع کردی گئی۔ آپ ٹیکسی میں بیٹھے ہی تھے کہ اندھا دھند فائرنگ کرکے آپ کو زخمی کردیا گیا۔ تاہم کاری زخموں کے باوجود آپ ’الشبان المسلمین‘کے دفتر واپس لوٹ آئے۔ وہاں سے آپ کو ’القصر العینی‘ ہسپتال پہنچا دیا گیا، لیکن آدھی رات تک آپ کو طبی امداد سے محروم رکھا گیا۔ آپ کے جسم سے مسلسل خون بہہ رہاتھا یہاں تک کہ اسی ہسپتال میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، انا للّٰہ وانا الیہ رٰجعون۔
شاہ فاروق کے عہد میں اس قتل کی کوئی تحقیق نہیں کی گئی۔ تمام وزارتوں میں اس فائل کو سیل کردیا گیا۔ یہ فائل برابر بند پڑی رہی۔ یہاں تک کہ فوجی انقلاب کا زمانہ آیا تو نئے سرے سے تحقیقات شروع ہوئیں ،جس کے نتیجے میں ۱۹۵۴ء کو امن عامہ کے ڈائرکٹر جنرل محمودعبدالمجید کو ۱۵سال اور مخبر احمد حسین جاد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ بدقسمتی سے اسی سال جب اخوان اور جمال عبدالناصر کے درمیان حالات مزید بگڑ گئے،تو ان دونوں مجرموں کو رہا کردیا گیا۔
یہ تھا امام البنا، ان کا عظیم مشن اور جہاد اورجہدمسلسل کا مختصر ساتذکرہ جس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے وہ فی الواقع امام اور مرشد تھے___ یہ بات درست ہے کہ وہ معصوم نہیں تھے ، اور بنی آدم سے خطاکا صدور ایک فطری امر ہے۔ عصمت تو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمکو حاصل ہے جو براہِ راست اپنے پروردگار کا پیغام پہنچانے پر مامور تھے۔ جماعت اسلامی پاکستان کا استاذ البنا کی یادوں کا تذکرہ کرنا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ درحقیقت ہر عظیم ہستی کی خیر اور بھلائیوں کا تذکرہ ایک اعلیٰ قدر ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ امام البنا کو جنت میں اعلیٰ و ارفع مقام دے اور ان کو اجرعظیم سے نوازے۔