طاغوت سے آزادی اور اسلامی ریاست کا قیام ہر زندہ ضمیر مسلمان کا خواب ہے۔ تحریک پاکستان کی بازگشت سمندر پار پہنچی تو یہ خواب دیکھنے والے لاکھوں لوگ اس کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوگئے۔ وادیِ نیل میں بسنے والی ایک ولی اللہ شخصیت حسن البنا شہید نہ صرف اپنے لاکھوں ساتھیوں کے ہمراہ اس تحریک کی کامیابی کے لیے دعاگو تھے، بلکہ اپنے محاذ پر سرگرم کار بھی تھے۔ قائداعظم اور حسن البنا کے درمیان براہِ راست ملاقات بھی ہوئی۔ بعدازاں یہ رابطہ متعدد حوالوںسے برابر قائم رہا۔ دونوں کی تمنا ایک ہی تھی اور ایک ہی خواب: استعمار سے آزادی اور ایک ترقی یافتہ مثالی اسلامی ریاست کا قیام۔
دوسری جانب قائد اعظم محمد علی جناح [۲۵دسمبر ۱۸۷۶ء- ۱۱ستمبر ۱۹۴۸ء]،تحریک پاکستان کو رہنمائی دینے کے ساتھ انڈونیشیا ، فلسطین ، لیبیا، ملایشیا وغیرہ میں مسلمانوں کی آزادی کی تحریکوں کو ہمیشہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان کے حق میں کلمۂ خیر کہتے تھے۔ ریکارڈ سے معلوم ہوتاہے کہ بحیثیت صدر آل انڈیامسلم لیگ قائد اعظم نے ایران، اُردن ،مصر ،ترکی ،عراق وغیرہ کے مسلمان حکمرانوں سے بھی رابطہ رکھا۔ اس زمانے میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عبدالرحمن عزام۱؎ تھے۔ ایک جانب قائداعظم کا ان سے رابطہ تھا اور دوسری جانب عالم عرب کی ہمہ گیر اسلامی عوامی تحریک اخوان المسلمون، تحریک پاکستان کی تائید و حمایت کو اپنی دینی اور ملی ذمہ داری سمجھتی تھی۔
دسمبر۱۹۴۶ء میں قائد اعظم کچھ دنوں کے لیے مصرمیںرکے ، تو اخوان المسلمون کے مرشدعام حسن البنا نے ۱۶دسمبر سے ۱۹دسمبر ۱۹۴۶ء کے دوران ان سے ملاقات میں تحریک پاکستان کی تائید وتحسین کی، اور انھیں قرآن کریم کا ایک نہایت خوب صورت نسخہ، تحریک پاکستان کی علامتی تائید کے لیے، بطور ہدیہ پیش کیا (یہ نسخہ اس وقت بھی کراچی میں مزارِ قائد پر موجود نوادرات میں نمایاں طور پردیکھا جاسکتاہے ‘ جس کا عکس یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔)
مفتیِ اعظم فلسطین محمد امین الحسینی (۱۸۹۳ء-۱۹۷۴ء) بیان کرتے ہیں: ’’مجھے یاد ہے ایک دعوت کا اہتمام عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عبدالرحمن عزام نے قائداعظم محمد علی جناح کے اعزاز میں کیا تھا، قائداعظم کے ہمراہ لیاقت علی خاں [یکم اکتوبر ۱۸۹۵ء- ۱۶ اکتوبر ۱۹۵۱ء] بھی تھے عزام صاحب کے گھر سب سے پہلے پہنچنے والوں میں‘ میں اور امام حسن البنا شہید تھے۔ ہم قائداعظم سے دیر تک محو گفتگو رہے۔۲؎
قائداعظم نے ۱۶ دسمبر ۱۹۴۶ء کو قاہرہ پہنچنے پر اپنے بیان میں فرمایا تھا: ’’مصر کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مسلم ہند کس مقصد کے لیے جدوجہد میں مصروف ہے؟ یہ مصر کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اہلِ ہند کے لیے۔ اگر ہم حصولِ پاکستان میں کامیاب ہوگئے تو یہ مصر کے لیے بھی اچھا ہوگا۔ کانگریس کے پروپیگنڈے سے بہت سے اہلِ مصر گمراہ ہوئے ہیں۔ میں ان مصری بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مسلم ہند کے معاملات میں زیادہ دل چسپی لیں اور ہند کے آیندہ دستور کے مسائل کا مطالعہ کریں۔ اہلِ مصر کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمانانِ ہند کی جدوجہد کا مقصد کیا ہے‘اور یہ جدوجہد مصر کے لیے کس قدر اہم ہے کہ ہم پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں‘ اور یہ کتنا خطرناک ہوگا کہ اگر ناکام ہوجاتے ہیں… جب پاکستان قائم ہوجائے گا تب ہی ہم [ہندی اور مصری مسلمان] حقیقت میں آزاد ہوں گے‘ وگرنہ ہندو سامراج کی لعنت اپنے پنجے (tentacles) مشرق وسطیٰ کے اس پار تک پھیلا دے گی‘‘۔۳؎ [قاہرہ میں ایک ضیافت سے خطاب کرتے ہوئے ۱۸دسمبر ۴۶ء کو کہا] ’’اگر ہند میں ہندو سلطنت قائم ہوگئی تو اس کا مطلب ہوگا ہند میں اسلام کا خاتمہ اور دیگر مسلم ممالک میں بھی… اس باب میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ روحانی اور مذہبی رشتے ہمیں مصر سے منسلک کرتے ہیں۔ اگر ہم ڈوبے تو سب ڈوب جائیں گے‘‘۴؎… [پھر قاہرہ ریڈیو سے ۱۹دسمبر کو نشری تقریر میں وضاحت کی] ہم چاہتے ہیں کہ ان دو منطقوں میں جہاں ایک مسلم حکومت اپنے علاقوں کی فرماں روا بنے‘ وہاں ہم ایک خودمختار قوم کی حیثیت سے اپنی زندگی بسر کریں‘ اور ان تمام اقدار کا تحفظ کریں جن کا علَم بردار اسلام ہے… یہ ۱۰کروڑ مسلمانوں کی حیات و موت کا معاملہ ہے‘‘۔۵؎
قاہرہ میں ۱۹ دسمبر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’اگر ہند پر ہندو سامراج کی حکمرانی ہوئی تو یہ مستقبل کے لیے‘ اگر اس سے زیادہ نہیں تو اتنا ہی بڑا خطرہ ہوگا جتنا بڑا خطرہ برطانوی سامراج سے ماضی میں تھا۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ پورا مشرق وسطیٰ آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک جائے گا… میں یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان ان تمام اقوام کو بلاتمیز رنگ و نسل اپنا تعاون پیش کرے گا‘ جو حصولِ آزادی کی غرض سے جدوجہد کر رہی ہوں‘‘۔۶؎
حسن البنا شہید، آل انڈیا مسلم لیگ کے مقصدِ تخلیق پاکستان کے زبردست تائید کنندگان میں شمار ہوتے تھے۔ بقول جناب پروفیسر خور شید احمد: ’’اخوان کے نوجوان رہنماسعید رمضان [م:۸ اگست ۱۹۹۵ء] نے بتایا کہ وہ خود اور اخوان کی قیادت کے مرکزی رہنما تحریک پاکستان کی تائید کے لیے مصر کے طول و عرض میں پُرجوش تقاریرکیاکرتے تھے۔اس کے برعکس مصرکے سیکولر قوم پرستوں میں کانگریس اور نہرو کے بارے میں نرم گوشہ پایا جاتا تھااور وہ ان کی تائید کرتے تھے‘‘۔
خود قائد اعظم بھی اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ عرب قوم پرست اور سیکولر عناصر انڈین نیشنل کانگریس اور انڈین نیشنل ازم کے حامی ہیں۔ اس پس منظر میں اخوان المسلمون کی جانب سے عالمِ عرب و افریقہ کے مرکز علم و تہذیب میں تحریکِ پاکستان کی تائید و حمایت اپنی قدر وقیمت کے اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت رکھتی تھی۔ ۱۹۴۷ء کے اوائل میں کانگریس نے دہلی میں ایک بین الاقوامی ایشیائی کانفرنس [۲۳مارچ تا ۲اپریل۱۹۴۷ء]منعقد کرنے کا ڈول ڈالا۔ قائد اعظم اس کانفرنس کے پس پردہ محرکات کو مسلمانوںکے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے۔اگرچہ شام،لبنان اوریمن نے اس کانفرنس کادعوت نامہ مسترد کردیاتھا ، لیکن عرب لیگ نے کانفرنس میں وفدروانہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ قائد اعظم نے فروری ۱۹۴۷ء کو عرب لیگ کے سیکرٹری عبدالرحمن عزام کے نام خط میں اس فیصلے پر افسوس کااظہار کیا تھا۔
اسی دوران میں حافظ کرم علی (م:۳جنوری ۱۹۷۲ء۔سربراہ حج کمیٹی، مسلم لیگ صوبہ جات متحدہ (یوپی)۷؎ نے قاہرہ میں امام حسن البنا سے ملاقات کرنے کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر‘ قائداعظم محمد علی جناح کے نام خط لکھا : ۸؎
نیو ہوٹل ،قاہرہ
مارچ ۱۹۴۷ء
جناب محترم [محمد علی جناح]
میں کئی دنوں سے یہاں مقیم ہوں۔اس قیام کے دوران میں ،میں نے قاہرہ میں موجود بہت سے مسلمانوں سے رابطہ قائم کیا--- اور [انھیں] مسلم لیگ کے موقف سے آگاہ کیا ہے۔
میں ،عبد الرحمن عزام سیکرٹری [جنرل]عرب لیگ سے بھی ملا،اور ان سے درخواست کی کہ وہ بھارت میں[منعقد ہونے والی کانفرنس میں ]کوئی وفد نہ بھیجیںکیوں کہ یہ مسلم لیگ کے مفاد میں نہیں ہوگا۔انھوں نے جواب میں کہا کہ:’’ہمارا وفد وہاں کوئی تقریر نہیں کرے گا۔اگر مسلم لیگ چاہے تو انھیں چائے پر بلالے‘‘۔
میں گذشتہ دو ہفتے سے یہاں پر مقیم ہوں ،اور امکان ہے کہ جلد یہاں سے چلا جائوں گا۔اگر کوئی اطلاع ہو تو براہ کرم مجھے جلد مطلع فرمائیں،میں اپنی استعداد کے مطابق تعمیل ارشاد کے لیے بھرپور کوشش کروں گا۔
مصر میں سب سے زیادہ طاقت ور ، مضبوط اور مقبول تنظیم اخوان المسلمون کے نام سے موسوم ہے‘ جس کے سربراہ شیخ حسن البنا ہیں۔ ان کے ۵۰ہزار رضا کار اور لاکھوں پیروکار ہیں۔ اس تنظیم کا اپنا ایک روزنامہ اخبار اورایک ہفت روزہ بھی ہے۔ میں نے تنظیم کے مرکزی دفتر میںتنظیم کے سربراہ سے ملاقات کی۔ وہ نہایت تپاک اوربڑی شفقت سے پیش آئے۔ آپ سے میری استدعاہے کہ حسن البنا سے رابطہ قائم کریں۔
اگر آپ مناسب سمجھیں تو [آل انڈیا مسلم] لیگ کے سیکرٹری انھیںایک خط لکھیں‘ جس میں ان کے کریمانہ سلوک پر شکریہ اداکریں۔اس چیز کی قطعاً ضرورت نہیں ہے کہ خط میں میرا تذکرہ کیا جائے۔
ان کا پتا ہے:شیخ حسن البنا ،الاخوان المسلمون ،حلمیہ قدیمہ،قاہرہ
آپ کا نہایت مخلص
محمدکرم علی
ممبر ورکنگ کمیٹی یوپی ،ممبر ،آل انڈیا مسلم لیگ کونسل
۱۳ اپریل ۱۹۴۷ء کو قائداعظم نے عبدالرحمن عزام کے نام خط میںزور دیا کہ:’’کانفرنس میں اگرچہ بہت سے لوگوں کو گمراہ کیاگیا ، لیکن ہم ان شاء اللہ اس کوشش سے بچ نکلیں گے اورہم ہندستان اور مشرق وسطیٰ دونوںجگہ کامیاب ہوںگے‘‘۔ اسی تسلسل میں قائد اعظم نے اخوان المسلمون کے سربراہ حسن البنا کے نام جو ذاتی پیغام مصطفی مومن کے ذریعے بھیجا تھا،۹؎ امام البنا نے دستی طور پراس کا جواب مصطفٰے مومن کے ذریعے ہی بھیجا ،جو حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ اکبر وللہ الحمد
قاہرہ،۲۸ مئی ۱۹۴۷ء
میرے محترم قائد محمدعلی جناح ،
ہمارے بھائی جناب مصطفی مومن ۱۰؎ کے ذریعے آپ کا پر خلوص پیغام موصول ہوا،جس کے لیے میں آپ کا انتہائی شکر گزار ہوں۔جہاں تک ایشیائی کانفرنس کا تعلق ہے ،تو اس بارے میں ،میں یہ عرض کر سکتا ہوںکہ ہم اس کانفرنس کے مقاصد اور اہداف کے بارے میں بے خبر نہیں ہیں۔ہم نے اس موقعے کو بعض وجوہ سے مناسب سمجھا ،کہ وہاں پر مصر کا ایک نہایت متقی اور وفادارمسلمان شرکت کرے۔ جو پورے ہندستان کی اسلامی تحریک کے قائدین ،بالخصوص آپ سے ذاتی طور پر ملے ،خط کتابت کے ذریعے نہیںبلکہ بالمشافہہ ملاقات کی سعادت حاصل کرے ،تاکہ پاکستان کی مبارک تحریک کے بارے میں اسلامیان مصر کے مخلصانہ جذبات اور نیک تمنائیں آپ تک پہنچائے۔
اس کانفرنس میں ہماری شرکت کا دوسرا بڑا ہدف یہ تھا کہ اگر خدانخواستہ اس میں کوئی ایسی بات ہو، یاتبادلہ خیالات کے دوران میں کوئی ایسا پہلوزیر بحث آجائے جو مسلمانوں اور عالم عرب کے خلاف ہو، جیساکہ اس سے پہلے مسئلہ فلسطین کے بارے میں عملاً ہوچکاہے تو ہم اسے ناکام بناسکیں۔
آپ کویہ بتاتے ہوئے مجھے انتہائی مسرت ہو رہی ہے کہ پوری وادیِ نیل کامل خلوص دل کے ساتھ آپ کی مکمل تائید کرتی ہے۔اورکامل اعتمادرکھتی ہے کہ آپ کی زیر قیادت یہ جدوجہد ہندستان کی اسلامی قوم کو اتحاد سے سرفراز کرے گی،اور آزادی کے لیے کی جانے والی یہ جدوجہد بالآخر کامیاب ہوگی۔آج کے بعد پوری روے زمین پر کوئی ا یسی طاقت نہیں ہے جو اخوت اسلامی کے ان مضبوط رشتوں کوتوڑسکے ،یاجو امت اسلامیہ کی آزادی اور استقلال کی راہ میں حائل ہوسکے، یا ان کے منصفانہ قومی مطالبات کو تسلیم ہونے سے روک سکے۔اس لیے آپ کامل یقین سے آگے بڑھیے، اللہ آپ کے ساتھ ہے اور وہ آپ کی بہترین کوششوں کا اجر عطا فرمائے گا۔۱۱؎
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
حسن البنا۱۲؎
سربراہ ،اخوان المسلمون
قائداعظم گورنر جنرل پاکستان کے نام ٹیلی گرام
قیام پاکستان کی خبر سن کر حسن البنا نے پاکستان کے بانی اور گورنر جنرل قائداعظم کے نام حسب ذیل ٹیلی گرام ارسال کیا:
[قاہرہ: ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء]
عزت مآب محمد علی جناح
آج کے اس تاریخی اور ابدی حقیقت کے حامل دن، کہ جب دانش اور حکمت پر مبنی آپ کی قیادت میں پاکستان کی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا ہے،میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد اور نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔ یہ مبارک باد‘ وادیِ نیل کے سپوتوں اور بالخصوص اخوان المسلمون کے دلی جذبات کی حقیقی عکاس اور نمایندہ مبارک باد ہے۔
حسن البنا۱۳؎
گاندھی جی۱۴؎ ، نہرو۱۵؎ اور ماؤنٹ بیٹن۱۶؎ کے نام مشترکہ ٹیلی گرام
قیامِ پاکستان کے وقت‘ ہندو اکثریت کے علاقوں میں مسلمانوں کے قتل عام‘ عورتوں کی بے حُرمتی اور مہاجر قافلوں کی لوٹ مار پر بھارتی قیادت سے احتجاج کرتے ہوئے حسب ذیل ٹیلی گرام روانہ کیا:
[قاہرہ: ۳۱ اگست ۱۹۴۷ء]
سرزمین ہند پر مسلمانوں کی خوں ریزی نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل‘ رنج و حزن اور غم و غصے سے بھر دیے ہیں۔ اسلام سراسر سلامتی کا دین ہے‘ الا یہ کہ اہل اسلام پر کوئی زیادتی کرے۔ اخوان المسلمون ،عالم عرب اور عالم اسلام کی نمایندگی کرتے ہوئے اپنے بھائیوں کی خوں ریزی کو روکنے میں تساہل کا ذمہ دار آپ کو قراردیتے ہیں۔ یاد رہے کہ لہو کی پکار کو کوئی نہیں دبا سکا اور یہ ہمیشہ زیادتی کرنے والے کے لیے تباہی لے کر آتی ہے۔ آپ حضرات کو معلوم ہونا چاہیے مسلمانوں سے دوستی، اس خوں ریزی کے تمام اہداف و مقاصد سے زیادہ مفید و بہتر ثابت ہوگی۔
حسن البنا۱۷؎
قائداعظم ، گورنر جنرل پاکستان کے نام ٹیلی گرام
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد بھارت کے مسلمانوں پر ہندوئوں اور سکھوں نے جو بہیمانہ مظالم کیے‘ ان پر مسلمانوں سے یک جہتی اور اظہارِ ہمدردی کی غرض سے امام حسن البنا نے قائداعظم کے نام حسب ذیل ٹیلی گرام بھیجا:
[قاہرہ: ۳۱ اگست ۱۹۴۷ء]
جناب قائد اعظم محمد علی جناح
مسلمانان ہند کے بہنے والے خون پر اخوان المسلمون گہرے رنج و غم کا شکار ہیں۔ ہم اپنے تمام فوت شدگان کے لیے شہادت اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہیں۔ ہم نے مائونٹ بیٹن ،نہر و اور گاندھی کے نام بھی فوری تار ارسال کیے ہیں اور انھیں مسلمانوں پر ہونے والی اس زیادتی کو روکنے میں غفلت برتنے کا ذمہ دار ٹھیرایا ہے۔ ہم دل کی گہرائیوں سے آپ کے ساتھ ہیں اور عملاً آپ کے شانہ بشانہ ہیں۔اس ضمن میںہم نے اپنے ہاں موجودسفارتی حلقوں تک بھی اپنے جذبات پہنچائے ہیں، اورہم اپنے بھائیوں کی خوں ریزی رکوانے کے لیے جو کچھ بھی ممکن ہوسکا‘ ضرورکریں گے۔ آپ ہمیں جو بھی ہدایت فرمائیں گے، ہم اس کی روشنی میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔یقینا صبر اور ثابت قدمی کا مقدر فتح و نصرت ہوا کرتی ہے۔
حسن البنا ۱۸؎
صدر مسلم لیگ برطانیہ ،علی محمد خاں کے نام خط
مسلم لیگ ‘ لندن نے پاکستان اور بھارت کے مسلمانوں پر ٹوٹنے والے مظالم پر آواز بلند کرنے کے لیے دنیا بھر کے مسلم ممالک اور اہم پارٹیوں کے ساتھ رابطہ کیا۔ اس موصولہ خط کے جواب میں امام حسن البنا نے لکھا:
[قاہرہ: ۳۱ اگست ۱۹۴۷ء]
محترم جناب علی محمد خان،صدر مسلم لیگ ،لندن
لندن میں اخوان المسلمون کے اخبار کے دفتر کے ذریعے پہنچنے والی آپ کی اپیل نے پورے مصر میں شدید اضطراب پیدا کردیا ہے۔ اے ہمارے مسلم بھائی ،ہم آپ کی پکار پر لبیک کہتے ہیں۔ آپ کی اپیل آتے ہی ہم نے ان تمام سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے جن کا تذکرہ آپ نے کیاتھا۔ ہم نے فوراً مائونٹ بیٹن ،گاندھی اور نہر و کے نام ٹیلی گرام روانہ کیا ہے، جس میں انھیں اس شرم ناک اور وحشیانہ خوں ریزی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ہم نے انھیںلکھا ہے کہ اسلام سراسر سلامتی کا دین ہے۔ اہل اسلام اپنے دفاع کے علاوہ کبھی جنگ نہیں کرتے، اوربھارت کے لیے زیادہ بہتریہ ہے کہ وہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کا دل جیتنے کی کوشش کرے، اور اپنے ہاں موجود مسلمانوں سے حسن سلوک برتے۔
اسی طرح ہم نے خود قائد اعظم کے نام بھی ٹیلی گرام ارسال کیا ہے، جس میں ہم نے مسلمانان ہند کی تائید کی ہے‘ ان سے غم گساری کا اظہار کیا ہے ،اور ان کے ہم وطن مسلمان فوت شدگان کے لیے رتبہ شہادت کی دعاکی ہے۔ ہم نے اپنے ہاں موجود سفارت خانوں سے بھی رابطہ کیا ہے اور آئندہ بھی یہ عمل جاری رکھیں گے۔ اس کے علاوہ بھی ہم جو کچھ کرسکے اور جس کام کا بھی آپ نے ہمیں مشورہ دیا،ان شاء اللہ ضرور کریں گے۔ پور ی امت مسلمہ ایک جسد واحد کی حیثیت رکھتی ہے اور ہم اسی جسد ملّی کا حصہ ہیں، اور اس کی خدمت کے لیے ہمیشہ مستعد ہیں۔
لندن میں ہمارے اخبار کے دفتر کے ذریعے آپ نے ہم سے جو رابطہ کیا ہے، ہم اس پر آپ کے شکر گزار ہیں۔ ہمیں خوشی ہوگی کہ اس رابطے کو جاری رکھیں، تاکہ حق اور خیر کی خاطر باہمی تعاون جاری رہے۔
خدا حافظ اور السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
حسن البنا ۱۹؎
علامہ شبیر احمد عثمانی کے نام خط
تحریک پاکستان کے بزرگ رہنما اور ممتاز دینی قائد‘ جناب شبیراحمد عثمانی۲۰؎ نے امام حسن البنا سے اظہار یک جہتی کرتے ہوئے یہ تفصیلی خط لکھا، جس میں رنج و غم کا اظہار اور ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے پر سرگرم کار اسلامیانِ عالم کے دلی جذبات اور پاکستان سے وابستہ توقعات کا بیان ملتا ہے:
[قاہرہ: ۱۸ نومبر ۱۹۴۷ء]
بزرگ جلیل جناب شبیر احمد عثمانی مدظلہٗ
اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔اس مالک کی تعریفیں بیان کرتے ہوئے ‘آقاے نامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے اہل بیت صحابہ کرامؓ اور قیامت تک آپ کی شریعت پر عمل کرنے اور آپ کی دعوت عام کرنے والوں پر درودو سلام بھیجتے ہوئے، السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ!
حرمین شریفین میں اور پھر قاہرہ میں مجھے برادر عزیز الحاج کرم علی صاحب سے بہت مفید ملاقاتوں کا موقع ملا۔ ان کے ذریعے آپ کی خدمات جلیلہ کا بھی علم ہوا۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ آپ پاکستان اور دیگر ممالک میں ہمارے بھائیوں میں اسلام کی دعوت اور اس کے احکامات عام کرنے کے لیے ہمہ پہلو جہاد کررہے ہیں۔ یہ سب کچھ جان کر ہمیں دلی مسرت ہوئی۔ غائبانہ طور پر آپ سے اللہ کی خاطر محبت کاایک مضبوط تعلق قائم ہوگیا‘ اور ہم نے رب ذوالجلال سے دعا کی کہ اپنے فرشتوں کے ذریعے آپ کی مدد فرمائے اور ہمارا اور آپ کا شمار اپنے ہدایت یافتہ اور پیغام ہدایت کے حامل ان داعیان حق میں فرمائے ،کہ جو اللہ کی عطا کردہ بصیرت کے سہارے دعوت حق کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
پاکستان کی صورت میں ایک ابھرتی ہوئی اسلامی ریاست کے وجود سے‘ ہمیں عظیم مسرت نصیب ہوئی اور اللہ کے حکم سے اس کے ساتھ ہماری بڑی امیدیں وابستہ ہوگئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری یہ امیدیں پوری فرمائے۔ اگرچہ پاکستان کو معرض وجود میں آنے کے فوراً بعد بڑی مہیب رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے‘ تعصب کرنے والوں کے تعصبات ، سازشی عناصر کی سازشوں اور ان کی جانب سے حالیہ مجرمانہ و تباہ کن جارحیت کا منہ دیکھنا پڑا ہے ،لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ سب کچھ اسے جہاد فی سبیل اللہ ، جدوجہد آزادی و استقلال سے اور اسلام حنیف کے احکامات کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھنے سے روک نہیں سکے گا اور پرچم اسلام یقینا سربلند ہوگا، ان شاء اللہ۔
ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں اس مبارک سفر میں ہمارے پاکستانی بھائی تنہا نہیں ہیں۔ پوری امت اسلامیہ اور اقوام عرب اپنے تمام تر جذبات واحساسات اور اپنی عملی کاوشوں کے ذریعے آپ کے ساتھ ہیں۔ اخوان المسلمون جوکہ ان اقوام و امم کی اکثریت کی ترجمانی کرتی ہے اور جس کا شعار یہ ہے: ’اللہ ہمارا مقصود ہے ، رسولؐ ہمارا اسوہ ہیں ، قرآن ہمارا دستور ہے ، جہاد ہمارا راستہ ہے، اور اللہ کی راہ میں موت ہماری سب سے بڑی آرزو ہے‘___ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور انھیں تب تک سکون نصیب نہیں ہوگا، جب تک کہ پاکستان کو نصرت و استحکام نصیب نہ ہوجائے اور اسے اطمینان و سلامتی حاصل نہ ہوجائے ،اس راستے میں جو بھی قربانیاں دینا پڑیں‘ وہ ضرور دیں گے۔
پورے روے زمین کے مسلمانوں کی سب سے بڑی آرزو یہی ہے کہ ریاست اسلامی پاکستان کے تمام سرکاری اور عوامی معاملات:اسلامی تعلیمات و احکامات اور جامع رہنمائی کی محکم بنیادوں پر استوارہوجائیں۔ اگر عصر حاضر کے حادثات نے سوشلزم ، جمہوریت یا دیگر ایسے نظریات کو جنم دیا ہے، جو کسی بھی صورت اسلام کے جامع اور مکمل نظام کی برابری کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اسلام عذاب و اذیت سے دوچار انسانیت کو عالمی بھائی چارے کے مضبوط رشتے سے جوڑتاہے، اور اگر دنیا میں ایسے ممالک موجود ہیں جنھوں نے ان نظریات کو اپنایا ہے اور اپنے مال و اعمال سے ان کی مدد کررہے ہیں، تو ہم مسلمانوں کا بھی فرض اولین ہے کہ ہماری ایسی حکومتیں قائم ہوں اورایسے ممالک وجود میں آئیں ،جن کی بنیاد اسلام کی دعوت پر رکھی گئی ہو ،اس دعوت پر کہ ایک جامع نظام اور کامل پیغام کی حامل دعوت ہے۔
اکثر مسلم ممالک کی حکومتیں اسلام کی حقیقی تعلیمات سے منحرف ہوچکی ہیں، کوئی کم کوئی زیادہ‘ لیکن اب یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے کہ حکومت پاکستان کی بنیادہی اسلام پر رکھی جائے۔ اب اسلام ہی اس کا شعار، اسلام ہی اس کی متاع ،اسلام ہی اس کی تکوینی بنیاد اور اسلام ہی اس کی ترقی کا رازقرار پایا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے یہ فضیلت اسی کے لیے بچا کر رکھی ہوئی تھی، تاکہ وہ دوسروں سے پہلے اور دوسروں سے نمایاں ہو کر اس فضیلت کو پالے۔
جناب من ، اب ان لوگوں کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا کی ہے ،جن سے پختہ عہد لیا ہے کہ وہ اس کتاب کو لوگوں تک پہنچائیں گے ، اس کا کتمان نہیں کریں گے۔اس کی خاطر نصیحت کریں گے اور اسی کی طرف لوگوں کی رہنمائی کریں گے، خواہ انھیں اس راہ میں کتنی بھی مصیبتیں کیوں نہ برداشت کرنی پڑیں۔ اب آپ کے لیے یہ سنہری موقع ہے ، کہ آپ حکومتی ذمہ داران کی بھی اسی درست سمت میں رہنمائی فرمائیں۔ انھیں دین حنیف کی تعلیمات اپنانے پر آمادہ کریں، اور انھیں اس ضمن میں دین کی آسانیوں سے روشناس کروائیں۔ جناب من،آپ امت مسلمہ میں اخوت کی وہ روح دوڑائیں ،جس کی آبیاری، جس کی سرپرستی اور جس کی بیداری کے لیے قرآن کریم نازل ہوا۔ اس مقصد کے حصول میں کامیابی ہوگئی‘ تو امت مسلمہ، وحدت ویگانگت کے علاوہ کسی دوسری جانب نہیں جاسکے گی۔ اس کی تاریخ ، اس کا شعور ،اس کی اخوت اور اس کی جہت ایک ہی رہے گی، خواہ وہ بعض مسائل یا آرا میں کچھ اختلافات ہی کیوں نہ رکھتی ہو۔ جناب من !آپ امت واحدہ میں مذہبی تعصبات کی بیخ کنی کے لیے ہر ممکن سعی فرمائیے، جس کی جو راے ہے وہ رکھے، لیکن رہیں گے سب ہمہ پہلو اسلام ہی کے زیر سایہ۔
اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ آپ کو اس کی تائید حاصل رہے اور آپ کے دست مبارک پر خیر کثیر جاری فرمائے اور ہمیں اپنے فیصلوں میں رشد و ہدایت سے نوازے۔
خدا حافظ اور السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
حسن البنا ۲۱؎
قائد اعظم محمد علی جناح گورنر جنرل پاکستان کے نام
پاکستان کو معرض وجود میں آئے ساڑھے تین ماہ گزر چکے تھے‘ لیکن مشکلات اور رنج و الم کا طوفان تھمتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس صورت حال میں امام البنا نے قائداعظم سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:
[قاہرہ: ۲۴ نومبر ۱۹۴۷ء]
عزت مآب جناب قائداعظم محمد علی جناح
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
ہم وہ مبارک گھڑیاں کبھی فراموش نہیں کرسکتے ہیں جن میں مصر کو آپ کی زیارت ، اور ہمیں آپ سے ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی۔ آج جب کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری ان آرزوئوں کوپورا کردیا ہے جن کے بارے میں ہم نے باہم گفتگو کی تھی، اور پاکستان کی اسلامی ریاست ایک حقیقت کی صورت میں نقشۂ عالم پر موجود ہے۔ ہم‘ جناب کی خدمت میں دلی مبارک باد اور نیک تمنائیں پیش کرتے ہیں۔
اس وقت خوں ریزی کے جو افسوس ناک واقعات دیکھنے میں آ رہے ہیں ، اور جس طرح مسلمانوں کے نوتشکیل اور نوخیز ملک کے خلاف جارحیت کی جا رہی ہے، اس کی بازگشت مصر اور عالم عرب کے ہر باشندے نے اور اخوان المسلمون کے ہر کارکن نے خاص طور پر اپنے دل میں محسوس کی ہے۔ ان کٹھن لمحات میں مسلم اقوام ،پاکستان کے مجاہد عوام اور پاکستان کی مقدس ریاست کی مدد کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔
جناب قائد ،آپ اس ضمن میں کامل یقین اور بھروسا رکھیے۔ آپ یقین رکھیے کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ رہ کر دل و جان سے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، یہاں تک کہ پاکستان اپنی آزادی ، استحکام اور مذموم تعصب کے خلاف مزاحمت کی بھرپور جدوجہد میں مکمل طور پہ فتح یاب ہوجائے۔
ہمیں کامل یقین ہے کہ آپ کی حکیمانہ قیادت میں پاکستان ہر شعبہ زندگی میں حقیقی اسلامی منزل کی طرف گام زن ہوگا۔ پاکستان، اسلام کی ان تعلیمات پر اپنی ترقی کی بنیادیں استوار کرے گا جو ہر زمانے اور ہر علاقے کے لیے یکساں موثر ہیں۔ اس طرح پاکستان مضبوط ترین بنیادوں پر تعمیر حیات کرتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں اور دیگر اقوام کے لیے ایک روشن مثال قائم کرے گا۔
میں آپ کی خدمت میں اخوان المسلمون کے سیکرٹری جنرل اوراپنے مجاہد بھائی صالح عشماوی۲۲؎ کو بھیج رہا ہوں، جو ہمارے روزنامے کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ الحمدللہ، ہمارا یہ روزنامہ مصری اور پاکستانی راے عامہ میں قربت و ہم آہنگی پیدا کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا۔ یہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو رہے ہیں، تاکہ وادیِ نیل اور عالم عرب کے شرق و غرب میں بسنے والے اخوان کے مخلصانہ اورمحبت بھرے جذبات آپ تک پہنچا سکیں۔ میں اس موقع پر یہ ذکر خیر کرتے ہوئے بھی خوشی محسوس کررہا ہوں کہ ان دنوں ہمارے بھائی عبدالعلیم صدیقی۲۳؎، مصر کے معزز مہمان کی حیثیت سے یہاں موجود ہیں، جو پاکستان سے وادیِ نیل میں اخوان المسلمون کے مرکز آئے ہوئے ہیں۔
انھوں نے نہایت محنت و خوش اسلوبی سے اپنے پروگرام کیے ہیں اور وہ بہت کامیاب عوامی سفیر ثابت ہوئے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مصر میں پاکستان کا موقف کیسے پیش کریں اور یہاں کے عوام کے ساتھ اپنے قلبی روابط کس طرح مضبوط کریں۔
اگرچہ اس وقت ہم آپ کی طرف صرف یہی نیک جذبات اور خطوط ارسال کرپا رہے ہیں، لیکن ہمیں امید ہے کہ ہم عنقریب اپنی اس ابدی اخوت کا عملی اظہار بھی کرسکیں گے کہ جس اخوت کے اس ابدی رشتے کو کبھی زوال نہیں آسکتا، یہ ہمیشہ باقی رہنے والے دین اسلام کی طرح قائم و دائم، زیادہ قوی، زیادہ مؤثر اور دوجہاں میں زیادہ نفع بخش ثابت ہوگا۔
آخر میں ایک بار پھر ہمارے تحیات اور احساسات توقیر قبول فرمایئے۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حسن البنا ۲۴؎
بھارتی قیادت کے نام ٹیلی گرام
جنوبی ہند میں ۱۱۳۷ھ/۱۷۲۴ء کو نظام الملک کی قیادت میں حیدرآباد‘ دکن‘ خودمختار ریاست بن گئی تو مغل بادشاہ محمد شاہ نے نظام الملک کو آصف جاہ کا خطاب دیا۔ ۱۸ویں صدی عیسوی میں جب سازش‘ ہوس اور ظلم کے زور پر برطانوی سامراج نے ہندستان پر غلبہ پانا شروع کیا تو حیدرآباد‘ دکن نے دوسری ریاستوں کے برعکس اپنی نیم خودمختارانہ حیثیت کا تحفظ کرنے کی کوشش کی۔ اس ریاست کا اپنا سکّہ‘ اپنی ڈاک‘ ریل اور اپنا فوجی و انتظامی نظم و نسق تھا۔ اس کے فرماں روا کبھی برطانوی ہند کے ’والیانِ ریاست کے اجلاس‘ (چیمبر آف پرنسس)میں شریک نہ ہوئے۔ ۳جون ۱۹۴۷ء کو تقسیم ہند کے فارمولے کا اعلان ہوا‘اور برطانوی مقبوضہ ہند کی ریاستوں کو حق دیا گیا کہ وہ بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک ملک سے الحاق کرسکتے ہیں۔ ۱۱ جون ۱۹۴۷ء کو حیدرآباد، دکن کے حاکم میرعثمان علی خاں۲۵؎ نے حیدرآباد کی آزادی کا فرمان جاری کرتے ہوئے کہا: ’’پاکستان میں شرکت، حیدرآباد کی ہندو رعایا کے لیے تکلیف کا باعث ہوگی‘ اس لیے حیدرآباد‘ ریاست آزاد رہ کر‘ مستقبل کے ممالک بھارت اور پاکستان سے دوستانہ تعلقات قائم رکھے گی‘‘۔ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان اور ۱۵ اگست کو بھارت کا قیام عمل میں آیا‘ مگر پہلے ہی روز سے بھارت نے حیدرآباد کو دبانے اور مرعوب کرنے کی پالیسی پر عمل شروع کیا۔ آخرکار ۲۹نومبر ۱۹۴۷ء کو بھارت اور حیدرآباد کے درمیان’معاہدہ انتظامیاتِ جاریہ‘ طے پایا‘ جس میں بھارت نے ریاست حیدرآباد‘ دکن کی محدود خودمختاری کے احترام اور تحفظ کا وعدہ کیا۔ مگر بھارت نے اس معاہدہ جاریہ کی بہت جلد خلاف ورزیاں شروع کردیں‘ اور ریاست کے اندر ہندو انتہاپسندی کو کھلے عام جدید ترین اسلحہ فراہم کرنا شروع کردیا‘ جنھوں نے دہشت انگیزی اور مسلم کشی کی منظم کا آغاز کردیا۔ چاروں طرف سے بھارتی سلطنت میں گھری (land locked) اس ریاست پر دہلی کے حکمرانوں کا حریصانہ دبائو بڑھتا گیا، جس کے تحت ریاست کی معاشی ناکہ بندی کردی‘ پٹرول کی فراہمی ختم کر دی‘ ادویات‘ کپڑے اور خوراک کی سپلائی روک دی‘ انجام کار ہزاروں افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ ریاست نے دہلی سے مفاہمت کی بہت کوشش کی مگر ہر پیش کش ٹھکرا دی گئی۔۲۶؎ بھارت نے حیدرآباد پر چڑھائی کرنے کے لیے ریاست کی سرحدوں پر اپنی افواج لگادیں، تاکہ اس کی آزادی سلب کرتے ہوئے اسے زبردستی اپنے ساتھ قبضے میں لے آئے۔ اس تباہ کن صورت حال میں اخوان المسلمون کے مرشد عام امام حسن البنا نے بھارت کی حسب ذیل شخصیات کے نام یہ ٹیلی گرام ارسال کیا:
[قاہرہ: ۱۴ جون ۱۹۴۸ء]
o پنڈت جواہر لال نہرو: وزیراعظم‘ نئی دہلی
o راج گوپال: ۲۷؎گورنر جنرل ،نئی دہلی
o سری پرکاش: بھارتی قونصل جنرل ،کراچی
’’حیدرآباد ایک آزاد ریاست ہے، اور ہر مسلمان اور عرب باشندے کو بے حد عزیز ہے۔ اس کے خلاف کوئی بھی جارحیت یا اس سے کوئی بھی چھیڑ چھاڑ، عالم اسلام کے ہر باشندے کو اشتعال دلانے کا سبب بنے گی۔ عالم اسلام اس آزاد ریاست کے مسلمانوں کے خلاف ہونے والی کسی جارحیت پر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے رہیں گے۔
عالم عرب اور عالم اسلامی کی ترجمانی و نمایندگی کرتے ہوئے اخوان المسلمون،بھارتی حکومت کو ریاست حیدرآباد [دکن]کی سلامتی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ ظلم وزیادتی کے بجاے انصاف و سلامتی کی ترویج کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گی‘‘۔
حسن البنا ۲۸؎
حیدر آباد دکن کے سربراہ عثمان علی خان کے نام
اُوپر مذکورہ صورت حال کی مناسبت سے میرعثمان علی خاں کو یہ ٹیلی گرام روانہ کیا گیا:
[قاہرہ: یکم اگست ۱۹۴۸ء]
محترم المقام نظام عثمان علی
عالم عرب اور عالم اسلام کے اخوان المسلمون کی طرف سے ہم ریاست حیدرآباد کی آزادی کی مکمل تائید کرتے ہیں، اور آپ کی مملکت کے خلاف ہونے والی کسی بھی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم نے اس ضمن میں بھارتی حکومت کے ذمہ داران کے نام بھی ایک ٹیلی گرام ارسال کیا ہے، جس میں ہم نے عالم عرب او رعالم اسلام کے اس دوٹوک موقف کا اعادہ کیا ہے کہ حیدرآباد کے خلاف کسی بھی طرح کی جارحیت ناقابل قبول ہے۔ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سرزمین کا امن و استحکام یقینی بنایا جائے اور اس کی آزادی و استقلال پر کوئی آنچ نہ آنے دی جائے۔
حسن البنا ۲۹؎
مصر میں مسلم ممالک کے وزراے خارجہ کے نام ٹیلی گرام
[قاہرہ: یکم اگست ۱۹۴۸ء]
محترم جناب ، السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
پاکستان اور بھارت کی صورت میں انگریزی سامراج کے چنگل سے آزادی نے تمام مسلم اقوام کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔ مشرقی اقوام کو عمومی طور پر انتظار تھا کہ یہ دونوں نوآز اد ریاستیں باہم محبت و ہم آہنگی سے رہیں گی، لیکن بد قسمتی سے بھارت انگریز وں کی شہ پر ، برادر ملک پاکستان سے دشمنی پر اتر آیا ہے، وہ اس کے ایک مضبوط اور معزز مشرقی ملک بننے سے پہلے ہی اس کا خاتمہ کردینا چاہتاہے۔
یہی نہیں،بلکہ وہ پورے بھارت میں پھیلے ہوئے مسلمانوں سے جنگ پر اتر آیاہے۔ اسلامی ریاست جموں و کشمیر سے اس کا برتائو پوری دنیا کو معلوم ہے۔ وہ وہاں کے عوام کے حق خودارادیت کے خلاف برسرپیکار ہے۔ وہ اپنے غلط موقف پر اصرار کرتے ہوئے امن وسلامتی کو جنگ و جدال میں بدل دینا چاہتاہے۔ بھارت نے مسلمانوں کو کچلنے کے لیے اپنی یہ رجعت پسندانہ پالیسیاں ہرخطے میں اپنائی ہوئی ہیں۔ اب وہ ایک نئے شکار (ریاست حیدرآباد)پر جھپٹا ہے۔ حالانکہ یہ ایک مستقل ریاست ہے، مگر بھارت اس کی آزادی کا انکاری ہے، اور اسے دھمکیاں دے رہا ہے۔ وہ نظام حیدرآباد کے زیر انتظام آزادی و امن سے رہنے والے بعض چھوٹے غیر مسلم دھڑوں کو بغاوت پر اُکسا رہاہے۔
یہی نہیں، بلکہ بھارت نے اس ریاست کی سرحدوں پر فوجیں لا بٹھائی ہیں ، اور اس سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی ہے ، اس طرح حیدرآباد کے خلاف خفیہ اعصابی جنگ چھیڑ دی گئی ہے۔ خود نظام [یعنی میرعثمان علی خان] کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہاہے اور ان کی حکومت پر استبدادی نظام ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ حالات بتارہے ہیں کہ بھارت کو تب تک چین نہیں آئے گا، جب تک وہ حیدرآباد کے خلاف ظالمانہ حملہ نہیں کردیتا، اس کی دولت اور قیمتی ذرائع آمدنی پر قبضہ نہیں جمالیتا اور ہندوئوں کے ہاتھ میں مسلمانوں کی گردنیں دیتے ہوئے ان کے مردوں کوذبح کرنا اور خواتین کی توہین کرنا یقینی نہیں بنالیتا۔ ان کے گھر بار اور بستیاں تباہ نہیں کروا دیتا، اس سے پہلے وہ کشمیر اور پاکستان میں بھی ایسا ہی کرچکا ہے۔
تحریک اخوان المسلمون آپ سے بھرپور اپیل کرتی ہے کہ آپ ازراہ کرم آزاد ریاست حیدرآباد کی تائید وحمایت کریں۔ اپنے ملک میں موجودبھارتی سفیر کو فوراً طلب کریں یا بھارتی وزیرخارجہ کو بلائیں اور انھیں بتائیں کہ آپ ایک آزاد [مسلم] ریاست حیدرآباد پر کسی بھی طرح کی جارحیت کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ آپ سے یہ بھی درخواست ہے کہ آپ نظام حیدرآباد سے رابطہ کرتے ہوئے انھیں اپنی تائید کا مکمل یقین دلائیں۔
اس عادلانہ مسئلے کے بارے میں آپ کی کامیاب کاوشوں کے انتظار میں ہم آپ عزت مآب کی خدمت میں با حترام تمام، سلام و تحیات پیش کرتے ہیں۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
حسن البنا ۳۰؎
پاکستان کے پہلے یوم آزادی پر حسن البنا کا پیغام
اسلامی نیوز ایجنسی نے مرشد عام سے درخواست کی کہ پاکستان کے پہلے یوم آزادی ۱۴ اگست ۱۹۴۸ء کے موقع پر اپنا پیغام ارسال کریں، تو مرشد عام حسن البنا نے درج ذیل پیغام لکھا:
[قاہرہ: اگست ۱۹۴۸ء]
’’اسلامی ریاست پاکستان کی تشکیل و ولادت پر پورے عالم اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسلامی نظام حیات کی اقامت کی طرف دعوت دینے والے اخوان المسلمون کی خوشی اپنے دوسرے بھائیوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ہم نے نظام اسلامی کی آغوش میں جنم لینے والی‘ اس کے سایے میں پروان چڑھنے والی اس مضبوط ریاست کے وجود میں آنے پر وہ حوصلہ و ہمت حاصل کی ہے، جس نے ہمارے جذبۂ جہاد کو دوچند کردیا ہے، ہمیں حادثات سے دل شکستہ نہ ہونے کا پیغام دیا ہے، اور مشکلات پر غلبہ پالینے کے یقین سے سرشار کردیا ہے۔ پاکستان کی آزادی سے ہمارے اس یقین کو مہمیز ملی ہے کہ ہمیں بھی یقینا اسلامی نظام کی اسی منزل تک پہنچنا ہے، جس کی نعمت سے ہمارا یہ برادرا ور نوزائیدہ ملک ہم کنار ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس اسلامی ریاست کو برکتیں عطا فرمائے اور اسے اپنی تائید و نصرت سے نوازے۔
اس دور میں کہ جب پوری دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ اسے ایک طرف سے سوشلزم اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور دوسری طرف سے اینگلو امریکی سرمایہ دارانہ جمہوری نظام، حالانکہ مسلمانوں کے لیے ان دونوں نظاموں میں کوئی خیرا ور بھلائی نہیں ہے۔ ان کے پاس اللہ کی کتاب ہے، نظام اسلامی کا مکمل خاکہ ہے اور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے :
قَدْ جَآئَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌo یَّھْدِیْ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِہٖ وَ یَھْدِیْھِمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ o (المائدہ ۵:۱۵،۱۶) تمھارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں ،سلامتی کے طریقے بتاتاہے اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتاہے ، اور راہ راست کی طرف ان کی رہنمائی کرتاہے۔
ہم پاکستان کی اس مبارک عید آزادی کے موقع پر، اس کے معزز عوام ، حکیم حکومت اور قائد اعلیٰ [محمد علی جناح]کی خدمت میں دلی مبارک باد اور معطر تحیات پیش کرتے ہیں۔ ہم اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور دعا گو ہیں کہ وہ اسے اپنی خصوصی تائید سے نوازے ، اپنی خصوصی رحمت سے اس کی حفاظت فرمائے اور اس کے نصیب میں عروج وکمال اور توفیق وہدایت لکھ دے ، آمین۔
ہم اپنے عزیزملک پاکستان کے عوام اور حکومت کی خدمت میں عید الفطر کے مبارک موقع پر بھی خلوص و محبت کے پر جوش احساسات و جذبات پیش کرتے ہیں۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حسن البنا۳۱؎
بھارتی وزیراعظم نہر و کے نام ارسال کردہ ٹیلی گرام
۲۱ اگست ۱۹۴۸ء کو ریاست حیدرآباد نے اپنا مقدمہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا۔ ۱۱ستمبر ۱۹۴۸ء کو قائداعظم کا انتقال ہوا‘ اور ۱۳ستمبر ۱۹۴۸ء کو علی الصبح بھارت کی مسلح افواج نے ریاست پر پوری قوت سے حملہ کردیا۔ دو لاکھ مسلمان‘ ہندو افواج کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنے۔ ہزاروں خاندان اُجڑ گئے اور حیدرآباد دکن بھارت میں ضم کرلی گئی ہے۔ فوری حکم کے تحت اُردو میں تعلیم ختم کرتے ہوئے ہندی لازمی کر دی گئی۔ مسلمانوں کو ملازمتوں سے برطرف کردیا گیا اور بہت سی مساجد شہید کردی گئیں۔۳۲؎ حسن البنا نے وزیراعظم ہند جواہر لال نہرو کو یہ ٹیلی گرام ارسال کیا:
[قاہرہ: ستمبر۱۹۴۸ء]
عالم عرب اور عالم اسلام کے الاخوان المسلمون حیدرآباد پربھارت کی وحشیانہ جارحیت پر شدید احتجا ج کرتے ہیں۔ عنقریب رجعت پسند ہندوازم بھی اسی انجام سے دوچار ہوگا، جس سے دیگر سامراجی ممالک دوچار ہوئے۔ ریاست حیدرآباد آزاد ہوکر رہے گی۔
حسن البنا۳۳؎
امام حسن البناشہید کے صد سالہ جشن ولادت کی مناسبت سے ترجمان القرآن نے جو خصوصی شمارہ شائع کرنے کا عزم کیا ہے، وہ بہت مستحسن و مبارک قدم ہے۔ اس موقع پر میں نے سوچا کہ اس عظیم شہید کی شخصیت و شمائل ،ان کی دعوت و تحریک ،ان کی تصنیفات و خطبات ، ان کے دعوتی خصائص و امتیازات وغیرہ پرتو بہت سے فاضل مقالہ نگار روشنی ڈالیں گے،اخوان المسلمون جوان کا سب سے بڑا کارنامہ بلکہ ان کا سرمایۂ حیات اور ان کی زندگی کا نچوڑ تھی ، کیوں نہ میں اس کے بارے میں اپنے مشاہدات پیش کروں ، کہ میں مصر اور شام میں اس سے وابستہ رہا ہوں ، اور عراق و اردن میں بھی اس تحریک کے مظاہربڑے قریب سے دیکھے ہیں۔ اس کے قائدین اور کارکنوں کے ساتھ میرا گہرا تعلق رہا ہے بلکہ میں ان کے خاندان (اسرہ ، سب سے چھوٹا تنظیمی یونٹ) کا ایک فرد رہا ہوں۔ میں نے ان کو آزادانہ اور سرفروشانہ سرگرم عمل بھی دیکھا ہے، اور ان کا وہ دور ابتلا بھی دیکھا ہے جب سرزمینِ مصر ان کے چھے ممتازشہیدوں کے لہو سے لالہ زار تھی، اور جب ان کے ہزاروں کارکن و قائدین پابند سلاسل تھے اور ہزاروں ہی خود اختیاری جلا وطنی پر مجبور تھے۔
وہ سرزمین جہاں امام حسن البناشہید پیدا ہوئے، اور جہاں ان کی عظیم عالمی اسلامی تحریک اخوان المسلمون پر وان چڑھی اور پھر ان کے خون سے لالہ زار ہوئی، یعنی مصر ، اس پر میں نے پہلا قدم ستمبر ۱۹۵۳ء میں رکھا۔ مصرکا میرا یہ پہلا سفر جدہ سے سویز براستہ سمندر تھا۔ اس کے بعد متعدد بار فضائی اور بری راستوں (لیبیا ،مصر ) سے مصر جانا ہوا ، لیکن پہلا سفر متعدد وجوہ سے بڑا یاد گار سفر تھا۔ ایک تو یہ کہ اس کا دورانیہ خاصا طویل، یعنی تقریباً پونے دو سال تھا، کیونکہ یہ مطالعاتی اور تعلیمی سفر تھا۔دوسرے، یہ کہ اس سفر میں جوجنرل نجیب کے ہاتھوں انقلاب کے صرف ایک سال بعد پیش آیا تھا، میں نے مصر میں فوجی سیاست کے بڑے اتار چڑھائو دیکھے۔ تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں نے اس سفر میں مختلف مراحل میں اخوان کی تحریک کو بہت قریب سے دیکھا اور پرکھا ، اس کے راہ نمائوں کو سنا اور اس کے کارکنوں کے صبح و شام دیکھے۔ان کے عزم و ہمت کا مشاہدہ کیا اور ان کا صبر وثبات دیکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ساتھ میرا جو زمانہ گزرا وہ بہت ہی عزیز زمانہ تھا۔
استاذ سعید رمضان مرحوم نے مکہ کے واحد بڑے ہوٹل ’بنک مصر ‘ میں حج کے فوراً بعد ایک جلسہ منعقدکیا، جس میں حجاز کے علما ،ادبا اور دانش وروں کو دعوت دی۔ اس جلسے میں مشہور مبلغ اسلام مولانا عبدالعلیم صدیقی (مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم کے والد گرامی )بھی مقرر کی حیثیت سے شامل تھے اور میں بھی حضرت مولاناعلی میاں کے ایک رفیق کی حیثیت سے موجود تھا۔ مولانا مرحوم نے اس موقعے پر عربی زبان میں،جب کہ مولانا عبدالعلیم صدیقی نے انگریزی میں تقریر کی تھی، لیکن برادرم مرحوم الاستاذ سعید رمضان کی تقریر سب پر بھاری تھی۔ اس کے کئی سال بعد دمشق میں مؤتمر اسلامی کی بین الاقوامی کانفرنس کے موقعے پر ان کے جوہر دیکھنے میں آئے۔ ۱۹۵۶ ء کی اس کانفرنس میں جو استاذ سعید رمضان ہی نے منعقد کی تھی، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی بھی شریک تھے۔ میں اس وقت دمشق یونی ورسٹی کے کلیۃ الشریعہ کا ایک طالب علم تھا۔ ڈاکٹر سعید رمضان مرحوم کی شعلہ بیانی اور زور خطابت شہید حسن البناکے اثر ہی سے تھا، وہ اپنے مرشد مرحوم کی کاپی تھے۔
استاذ سعید رمضان سے ۱۹۵۰ء میں مختصر تعارف اور ملاقات کے بعد دوسرے موسم حج کے موقعے (۱۹۵۱ء) پر اخوان کا ایک مختصر وفد ڈاکٹر عبدالعزیز کا مل کی قیادت میں مکہ مکرمہ آیاتھا۔ موصوف اسکندریہ کی فاروق یونی ورسٹی میں جغرافیہ کے استادتھے۔ ان کے ہمراہ اسکندریہ یونی ورسٹی کے بعض اخوان طلبہ بھی تھے ، ان میں سے ایک محب المحمدی الحسنی سے میری اچھی ملاقات ہوگئی۔ دوسال بعد جب میں مصر گیا تو اس وقت یہ ملاقات بہت کام آئی ، کیونکہ اس وقت یہ ساتھی قاہرہ آچکے تھے، جہاں وہ بی اے آنرز کے بین الاقوامی تعلقات میں قاہرہ یونی ورسٹی سے ڈپلومہ کررہے تھے۔ ساتھ ہی ایک نئے روزنامے الجمہوریہ میں کام بھی کرتے تھے۔ اس اخبار کے ایڈیٹر اس زمانے میں جمال عبدالناصر کے ساتھی اور انقلابی قیادت کونسل (Revolutionary Command Council)کے رکن انور السادات تھے، جو جمال عبدالناصر کے بعد صدر بنے۔
میں نے قاہرہ پہنچنے کے بعد قصر عابدین (اندرون شہر شاہ فاروق کی سابقہ قیام گاہ ) کے قریب شارع عبدالعزیز پر ایک گیسٹ ہائوس (pension)میں ایک کمرہ کرایے پر لے لیاتھا۔ یہاں مجھے رہتے ہوئے تین چار ماہ کے قریب ہوئے تھے کہ میرا اخوانی دوست، محب المحمدی جس سے دوسال قبل مکہ میں تعارف و ملاقات رہی تھی اور اس سے کچھ مراسلت بھی رہی ، اس گیسٹ ہائوس سے اصرار کرکے وسط شہر سے دو ر بلکہ قاہرہ کے الدقی نامی محلے میں مجھے اپنے فلیٹ پر لے گیا، جو اس گیسٹ ہائوس کے مقابلے میں بہت سستاتھا۔ اس میں پانچ نوجوان اور رہتے تھے‘ جن میں دو اسکول ماسٹر تھے ، دو طالب علم اور ایک کسی کمپنی میں کلرک تھا۔ محب المحمدی اپنا کمرہ چھوڑ کر اپنے ایک رشتہ دار کے یہاں رہنے جا رہے تھے اور انھوں نے مجھے اپنا کمرہ دے دیا تھا۔ یہ فلیٹ شارع جوہرپر تھا۔ ان پانچ میں سے صرف ایک مدرس غیر اخوانی تھا ، لیکن وہ بھی حامیوں میں سے تھا۔
اب میں اس اخوانی خاندان کا ایک فرد تھا۔ خاندان کا لفظ یہاں بے محل استعمال نہیں کیاگیا ہے ، بلکہ اخوان المسلمون کے مرشد عام( صدر یا امیرجماعت ) نے اپنی تحریک کا جو تنظیمی ڈھانچا بنایاتھا ، اس میں پہلے تنظیمی یونٹ یا اکائی کا نام ’اسرہ ‘(خاندان ) ہی رکھا تھا۔ اس ’اسرہ‘کے ان پانچ ممبران (بشمول محب المحمدی)کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی ممبر (عضو) تھے۔ اس سے بڑی تنظیمی اکائی ’شعبہ ‘ تھی۔۱؎ ’اسرہ ‘ اور ’شعبہ ‘ کے اجلاس مقررہ اوقات پر ہوتے رہتے تھے۔ ہمارے محلے کے شعبے کا سربراہ ایک ترکی الاصل مصری نوجوان تھا اور شعبے کی میٹنگ ایک قریبی مسجد میں ہوتی تھی۔
ان سب اخوانی اور ایک غیر اخوانی بھائیوں کا مجھ سے ایسا برادرانہ اور مخلصانہ تعلق تھا کہ میں اپنی مسافرانہ حیثیت کو بھول گیاتھا اور ایسا لگتاتھا کہ واقعتا ہم ایک ہی خاندان کے فرد ہیں۔ حجاز میں رہنے کے سبب میری عربی اچھی ہوگئی تھی اور گفت و شنید میں کوئی دشواری نہ تھی ، جلد ہی میں نے مقامی مصری بولی (colloqial) بھی سیکھ لی۔ اسلامی اخوت جواخوان کا امتیازی نشان تھا کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عید کے موقعے پر یہ اخوانی جو مصر کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے تھے، اپنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے ، ابو احمد جو سب میں سینئر تھے انھوں نے اصرار کیا کہ میں بھی ان کے ساتھ ان کے گائوں جائو ں۔ میرے تکلف پر انھوں نے کہا کہ اگر تم ہمارے ساتھ نہ گئے تو ہم بھی عید کرنے اپنے گھروں کو نہ جائیں گے۔ مجبوراً میں ان کے ساتھ قاہرہ سے کافی دور ان کے گائوں دکرنس تحصیل بیت عمر گیا ، جوقاہرہ کے شمال مغرب میں واقع مشہور شہر منصورہ کے قریب تھا۔ یہاں ان لوگوں نے میری اس اہتمام سے خاطر مدارت کی جو شاید بہت سے قریبی رشتے دار بھی نہ کرسکیں۔ یہ ایک پرخلوص اور غیر معمولی اسلامی اخوت کا سحر انگیزمشاہدہ تھا ۔
تقریباً ڈیڑ ھ سال تک میرا قاہرہ میں ان کے ساتھ قیام رہا اور اس دوران میں کتنے ہی اخوانی دوستوں سے ملا۔ سب کا طریقۂ تعارف نام بتاتے وقت یہ تھا ’اخوکم فی اللہ ‘مصطفی یا محمد وغیرہ یعنی اللہ کی خاطر تمھارا بھائی فلان۔ یہ اسلامی اخوت کا وہ پہلا سبق تھا جو بہت پہلے حسن البناشہید نے اپنی تحریک کے پیروئوں کو سکھایاتھا۔جس پروہ آج تک کاربند ہیں اور جس نے ان کو ایک ایسے مضبوط رشتے میں جوڑ دیاتھا، جس کی مثال کسی اور تحریک میں نہیں ملتی۔ اس کا بھرپور مظاہرہ اس شدید دو ر ابتلا میں ہوا جو جمال عبدالناصر کے عہد ۱۹۵۴ء سے شروع ہوا اور اس کی موت (۱۹۷۱ء) تک جاری رہا۔ اس دور میں ۲۰‘ ۲۵ ہزار کے قریب اخوان جیلوں میں تھے۔ ان کے بیوی بچوں کے مصارف وہ ہزاروں اخوانی برداشت کرتے رہے جوکہ کسی نہ کسی طریقے سے جان بچا کر خلیج ، کویت ،قطر ، سعودیہ ، بحرین وغیرہ پہنچ گئے تھے۔ یہ لوگ خفیہ طریقے سے رقم مصر بھیجتے تھے ، جوان بے سہارا خاندانوں میں تقسیم کردی جاتی تھی۔
جنرل محمد نجیب کا جو ابتدا میں انقلابی کمانڈ کونسل کے صدر بنائے گئے تھے، اخوان سے براہِ راست تعلق نہ تھا، لیکن وہ اپنی اسلامی سیرت کے سبب اخوان سے قریب تھے، چونکہ وہ ایک سینیرجنرل تھے اور بادشاہت کے خلاف ، اس لیے انقلابی فوجی افسران نے ان کو صدر بنانا پسند کیا۔ لیکن وہ فوجی انقلابی جو عیاشی کی طرف مائل تھے یا وہ جو بائیں بازو کی سیاست کے حامی تھے ، انھوں نے کرنل جمال عبدالناصر کو صدر بنانے اور جنرل محمد نجیب کو صدارت سے ہٹانے کی حمایت کی۔ مصری انقلاب کی تاریخ کا ایک دل چسپ پہلو جس کا میں عینی شاہد ہوں یہ ہے کہ جیسے ہی جنرل نجیب کو صدارت سے معزول کرنے کی خبر پھیلی ، عوام نے غم و غصے کے اظہار میں مظاہرے شروع کردیے۔ دو یا تین دن کے بعد انقلابی کمانڈ کونسل نے جنرل نجیب کی صدارت کے عہدے پر واپسی کا اعلان کردیا۔ یہ شاید ستمبر یا اکتوبر کامہینہ تھا۔ میں اس وقت قصرعابدین کی شارع عبدالعزیز کے فلیٹ میں ہی مقیم تھا۔ گیارہ بارہ بجے کے قریب بلڈنگ سے باہر آیا تو دیکھا کہ سڑک پر لوگ خوشی سے ناچ رہے ہیں اور راہ گیروں کو شربت پلا رہے ہیں۔ مجھے بھی ایک دکان دارنے شربت پیش کیا ، آگے بڑھا تو دیکھا کہ قصر عابدین کے سامنے وسیع میدان میں بڑا ہجوم ہے۔ معلوم ہوا کہ تھوڑی دیر پہلے لوگ یہاں جنرل نجیب کو کاندھوں پر اٹھائے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کررہے تھے۔
ابتدا میں انقلابی افسران اور جنرل نجیب نے اعلان کیاتھا کہ ملک میں آزاد انتخابات کرائے جائیں گے۔ بہت سی سیاسی پارٹیوں کوالیکشن کی تیاری کا حکم بھی دے دیا گیاتھا۔ ملک میں ایک عجیب سرخوشی اور گہما گہمی کا راج تھا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اعلیٰ انقلابی افسران حسن البناشہید کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے گئے تھے اور انھو ں نے اعلان کیا تھاکہ اخوان پر جو ظلم ہوا ہے اس کی پوری پوری تلافی کی جائے گی۔ لیکن بعد میں یہ وعدے پورے نہیں کیے گئے بلکہ بعض وہ اعلیٰ اخوانی فوجی افسران جن کا انقلاب میں اہم کردار تھا، ان کو ملک چھوڑ کر خفیہ طور پر بھاگنا پڑا، تاکہ جمال عبدالناصر کی داروگیرسے بچ سکیں۔ ان میں نمایاں نام کرنل عبدالمنعم عبدالرئوف کاتھا ، جنھوں نے شاہ فاروق کو تخت چھوڑنے اور ملک بدر ہونے پر مجبور کیاتھا۔
انقلاب سے ڈیڑھ دوسال قبل وفدی حکومت کے عہد میں اخوان پر سے پابندی اُٹھا لی گئی۔ اخوان پر پہلی پابندی ۱۹۴۹ء میں لگی اور حسن البناشہید کے ۱۲ فروری ۱۹۴۹ء کو سرکاری کارندوں کے ہاتھوں شہادت کے ایک سال بعد، ان کی جماعت کو پھر فکر و عمل کی آزادی مل گئی تھی۔ انقلاب کے بعد اس میں مزید سرگرمی آگئی۔ میں اپنے اخوانی دوستوں کے ساتھ محلہ الحلمیۃ الجدیدۃ کے ، مرکز اخوان میں ان کے ہفتہ وار منگل کے اجتماع میں جاتاتھا، جو بعد مغرب ہوتاتھا اور جس میں اخوان کا کوئی مقرر یا بیرونی مہمان اسلامی موضوعات پر تقریر کرتاتھا۔
جنوری ۱۹۵۴ء کی ایسی ہی ایک شام میں نے وہاں ایران کی تحریک فدائیان اسلام کے ایک نوجوان راہ نما نواب صفوی کی تقریر سنی (ایک سال بعد شہنشاہ ایران نے ان کو پھانسی دے دی تھی )۔ فصیح و بلیغ عربی میں یہ تقریرکیاتھی ، ایک شعلہ افشانی تھی۔ دوران تقریر اخوان کا خاص مفصل نعرہ ، اللّٰہ غاتینا ، والرسول زعیمنا (مجھے زعیمنا ہی یاد ہے اور یوسف القرضاوی نے اپنی تازہ کتاب الاخوان المسلمون میں یوں ہی لکھاہے ، بعض کتابوں میں ’قدوتنا‘ ہے)، والقرآن دستورنا ، والجہاد سبیلنا و الموت فی سبیل اللہ اسمٰی امانینا، کئی ہزار افراد کی آواز میں بلند ہو رہاتھا (اللہ ہمارا مقصود و مطلوب ہے ، رسول ؐہمارے لیڈر ہیں ، قرآن ہمارا دستور ہے ، جہاد ہمارا طریقہ کار ہے اور اللہ کے راستے میں شہادت ہماری عزیز ترین آرزو ہے)۔ جوش و جذبے کا یہ عالم تھا کہ محسوس ہورہاتھا کہ یہ تین چا ر ہزار افراد اگر چاہیں تو ابھی مرکز اخوان سے نکل کر پورے شہر پر قبضہ کرسکتے ہیں۔
انقلابی فوجی افسران جو اپنی بیرکوں وغیرہ میں خفیہ اجتماعات و ملاقاتیں کرتے تھے ، ان کو یہ عوامی مقبولیت کہاں حاصل تھی، جو اخوان کو تھی۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ انقلاب کے فوراً بعد تمام سیاسی پارٹیاں (احزاب ) غیر قانونی قرار دے دی گئی تھیں ، سواے اخوان المسلمون کے، کیونکہ اس کا سرکاری نام حزب (پارٹی ) اخوان المسلمون نہیں تھا، بلکہ جماعت اخوان المسلمون تھا، اور مصر میں ’حزب ‘ کا لفظ سیاسی پارٹی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح اخوان ہی تنہا میدان میں تھے اور ان کے ذریعے انقلاب کو عوامی مقبولیت حاصل ہو رہی تھی۔
جمال عبدالناصر اخوان کے جذبۂ جہادکا مشاہدہ کرچکاتھا ، ان کی ممتاز عسکری کارکردگی کو ۱۹۴۸ء کی پہلی جنگ فلسطین میں دیکھ چکاتھا‘ اور انقلاب سے قبل مختلف خفیہ اجتماعات میں ان کے ساتھ شریک ہوچکاتھا۔ وہ ان کی عوامی مقبولیت اور انتظامی قابلیت سے واقف تھا۔ اب انقلاب کے بعد وہ خود زمام حکومت اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتاتھا اور اپنے قومی اشتراکی ایجنڈے پر عمل کرنا چاہتاتھا۔اخوان اپنے اسلامی فکر و عمل سے اس کے راستے میں حائل تھے۔ اس لیے اس نے اخوان کو اپنے راستے سے ہٹانے کے لیے ۱۹۵۴ء کی ابتداسے مختلف طریقے اختیار کیے۔ پہلے جنوری ۱۹۵۴ء میں قاہرہ یونی ورسٹی میں اخوانی طلبہ اور سرکاری تنظیم ہیئۃ التحریر کے نوجوانوں کے درمیان جھڑپ کو بہانہ بنا کر اخوان پر پابندی لگادی اور بہت سے اخوانیوں کو قید وبند میں مبتلا کیا۔ پھر مارچ ۱۹۵۴ء میں یہ پابندی اٹھی تو اخوان از سرنو سرگرم عمل ہوگئے۔
جولائی ۱۹۵۴ء میں ابتدائی طور پر ایسے ایک معاہدے پر انقلابی حکومت اور انگریز وں کے مابین دستخط ہوگئے۔ اس کمزور اور انجام کار ضرر رساں معاہدے کی تکمیل کرانے میں امریکا او ر بھارت کی نہرو حکومت کا بڑا ہاتھ تھا۔ اس سلسلے میں ، میں اپنا ایک ذاتی مشاہدہ پیش کرتا ہوں۔
میں اس زمانے میں بھارتی شہریت کا حامل تھا۔ جدہ سے ایک مشہور کانگریسی سیاسی شخصیت عبداللہ مصری قاہرہ آئی ہوئی تھی۔ ان سے مکہ مکرمہ میں میری ملاقات رہی تھی۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ قاہرہ میں بھارتی سفیر علی یاور جنگ عربی زبان پڑھنا چاہتے ہیں ، آپ یہ کام انجام دیں۔ میں تیار ہوگیا۔ ہفتے میں دوتین اسباق ہوئے تھے کہ سفیر صاحب کو اقوام متحدہ جانا پڑ گیا۔ اس دوران بھارتی سفارت خانے میں میری ملاقات ملٹری اتاشی کرنل مدن سے ہوگئی۔ انھوں نے کہا کہ سفیر صاحب کی جگہ میں ان کو عربی پڑھا دیا کروں۔ یہ اپریل یا مئی ۱۹۵۴ء کا واقعہ ہے۔ ابھی مجھے انھیں پڑھاتے ہوئے صرف ایک ماہ ہوا تھا کہ انھوں نے مجھ سے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ میں آج کل مصری فوجی حکومت اور انگریزوں کے مابین سویز کینال سے متعلق سمجھوتے کے لیے ثالثی کے طور پر گفت و شنید میں سخت مصروف ہوں ، اس لیے عربی زبان کی تعلیم کا یہ سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا۔ مصر کے اس اہم مسئلے میں بھارت کی ثالثی کا یہی کردار تھا جو مصر اورخاص طور پر جمال عبدالناصر کے بھارت سے پایدار تعلق کی بنیاد بنا۔ورنہ اس سے قبل جب اسی سال کی ابتدا میں جنرل محمد نجیب اور جمال عبدالناصر کے مابین سخت اختلافات رونماہوئے تھے تو انھیں حل کرانے میں پاکستان کے سفیر طیب حسین کا بڑا ہاتھ تھا۔ تب پاکستان سے نئی مصری فوجی حکومت کی بڑی دوستی تھی ، جو بعد میں مختلف وجوہ کی بنا پر دشمنی میں تبدیل ہوگئی۔
۱۹۶۴ء میں رہائی کے بعد ۱۹۶۵ء کے چوتھے دور ابتلا میں ان کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا اور پانچ سال کے بعد ۱۹۷۱ء میں ان کو جیل سے رہائی ملی۔ ۱۹۹۶ء میں وہ اخوان المسلمون کے پانچویں مرشد عام منتخب ہوئے(ان کے اور باقی اخوان کے مرشدین کے بارے میں ملاحظہ ہو میری کتاب تحریک اخوان پر میرا مقدمہ، ص ۲۴-۳۵)۔ ستمبر۲۰۰۳ء میں ۳۰سال بعد جب میں مصر گیا تو اس سے چند ہی برس قبل مرشد مصطفی مشہور وفات پاچکے تھے اور مامون الہضیبی چھٹے مرشد عام تھے ، جن سے محلہ الروضہ کے چھوٹے سے مرکز اخوان میں ملاقات ہوئی، یہیں میں نے ان کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔ یہ مرکز پرانے مرکز کے مقابلے میں جو وسط شہر کے محلہ الحلیۃ الجریدۃ میں تھا، بہت چھوٹا ہے۔
یہ سال جمال عبدالناصر کے استبدادای مزاج اور پالیسیوں کے لیے آزمایش کا سال تھا۔ جنرل محمد نجیب جنھوں نے آزاد افسران کی تنظیم کے مطالبے پر انقلاب کی قیادت اور ملک کی صدارت سنبھالی ، ان سے جمال عبدالناصر سب کچھ چھیننا چاہتاتھا ، لیکن فوج کے ایک حصے نے محمدنجیب کا ساتھ دیا۔ دوسری طرف عوام نے نجیب کے لیے مظاہرے کیے اور عبدالناصر کو مجبوراً ان کا دوسری بار فوج کے کمانڈر ان چیف اور صدر جمہوریہ کی حیثیت سے تقرر کرنا پڑا۔ تیسر ی طرف اخوان المسلمون تھے جو اس بات کے لیے تیار نہ تھے کہ ملک کو قومیت اور لادینی اشتراکیت کے راستے پر چلایا جائے۔ جمال عبدالناصر ان کی عوامی قوت اور جذبۂ جہاد و قربانی سے پوری طرح واقف تھا۔ وہ یہ بھی خوب جانتا تھا کہ فاروق کی باشاہت کے خلاف مزاحم اصل قوت وہی تھے، اور فاروق کے حسن البناکو قتل کرانے کے بعد عوام کی ہمدردیاں اخوان کے ساتھ کم ہونے کے بجاے مزید بڑھ گئی ہیں۔ پھر یہ کہ وہ اس انقلاب میں بھی بڑے حصہ دار ہیں۔ کرنل عبدالمنعم عبدالرئوف اخوان کے ہمدردرہے ہیں اور انھی نے شاہ فاروق کو اپنی معزولی کے پروانے پر دستخط کے لیے مجبور کرکے اٹلی کے لیے ملک بدر کیاتھا۔
اس صورت حال اور اپنی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر جمال عبدالناصر نے اپنی خفیہ فوجی پو لیس کے ذریعے ایک بہت ہی معمولی شخص پلمبر کو یہ ڈراما رچانے کے لیے قربانی کا بکرابنایا ، تاکہ اس طرح وہ اخوان کو بدنام کرکے ان سے چھٹکارا حاصل کرے ،جو اس کے سب سے بڑے مدمقابل تھے۔مگر اس کے لیے اس کے کارندوں نے جو طریقہ اختیار کیا وہ بڑا بھونڈا تھا۔ بھلا ایک ملک کے سربراہ (اس وقت جنرل نجیب صرف نام کے صدر تھے،سارے اختیارات جمال عبدالناصر کے ہاتھ میں تھے )اور ایک قائد انقلاب کو قتل کرنے کے لیے اخوان ایک اناڑی پلمبر کو مشن سونپتے ، پھر اس کو صر ف دو مصری پائونڈ اس کام کے لیے دیتے۔ ایک غیر جانب دار مصری مؤرخ و مصنف پروفیسر ڈاکٹر شبلی نے اپنی کتاب تاریخ الحضارۃ الاسلامیہ کی جلد ۹ میں بہت اہم دلائل دیتے ہوئے اخوان پر اس الزام کو سراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔ (ص ۴۲۰تا۴۲۹)۲؎
اس سلسلے میں ایک ذاتی واقعہ بیان کرتا ہوں کہ اس ڈرامے سے دو تین ماہ پہلے یہ محمود عبداللطیف ہم لوگوں سے ملنے ہمارے فلیٹ پر شام کو آیاتھا۔ درمیانی قداور جسامت کا یہ شخص جو واقعتا امبابہ کا رہنے والا اور پلمبر تھا ، خاموش طبیعت کا عام اخوانی لگ رہاتھا ، اس موقع پر ہمارا اخوانی بھائی محب المحمدی بھی آگیا تھا۔ جب یہ واقعہ پیش آیا اور محمود عبداللطیف کانام اخباروں میں آیا تو ہمیں تعجب ہوا۔ پھر یہ کہ ہمارے فلیٹ کی ان دنوں انٹیلی جنس والوں کی طرف سے نگرانی ہوتی تھی۔ اپنے ایک منزلہ فلیٹ کی سڑک پر کھلنے والی کھڑکی سے ہمارے ساتھی اکثر وہاں ایک آدمی کو کھڑا دیکھتے تھے۔ اگر محمود عبداللطیف کا اس قصے میں ہاتھ ہوتا تو اس واقعے کے بعد پولیس ہمارے فلیٹ پر دھاوا بولتی اور ہم سبھی کو پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کرلیتی۔
اس خود ساختہ جھوٹی کہانی کا مقصد اخوان کی اسلامی تحریک اور ان کی قوت کو تباہ کرناتھا۔ چھے اخوانی راہ نمائوں کو سخت تعذیب کے بعد پھانسی دے دی گئی، جن میں شیخ محمد فرغلی جیسے ازہری عالم اورجسٹس (ریٹائرڈ) عبدالقادر عودہ جیسے ممتاز قانون دان اور دو جلدوں میںاعلیٰ درجے کی تحقیقی کتاب التشریع الجنائی فی الاسلام (اسلام کا فوج داری قانون ) کے مصنف بھی شامل تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر شبلی کے مطابق ان کا جرم درحقیقت صرف یہ تھا کہ وہ مارچ ۱۹۵۴ء میں جمال عبدالناصر کے خلاف اور جنرل محمد نجیب کی تائید میں عوامی مظاہرے کے وقت نجیب کی واپسی پر قصرعابدین (صدارتی قیام گاہ)کی بالکونی پر کھڑے تھے۔
اس دار وگیر کے زمانے میں اخوان کے ہزاروں کارکن کسی نہ کسی طریقے سے ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ انھی میں سے دو نوجوان محمد عرفہ اور اسماعیل ہضیبی (اخوان کے دوسرے مرشد عام کا بھتیجا جس کو ۱۵ سال قید کی سزا غیر حاضری میں سنائی گئی تھی )دمشق پہنچ گئے تھے ،وہ ثابت قدم تھے۔ میں دورانِ تعلیم ان کے ساتھ ایک سال کے قریب (۱۹۵۷ء) رہا۔ ان کی زبانوں پر بھی قرآن کریم کی یہی آیت تھی جس کا اوپر ذکرہوا ہے۔ اسی فلیٹ میں دوپہر کے کھانے پر جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ہماری ملاقات کرنل عبدالمنعم عبدالرئوف سے ہوئی تھی جو کسی نہ کسی طریقے سے جمال عبدالناصر کی جیل سے بھاگ نکلے تھے اوراب ترکی جا رہے تھے۔
استاذ سعید رمضان مرحوم اور بعض دیگر اخوانی راہ نما ۱۹۵۴ء کے اس واقعے سے پہلے ہی ایک کانفرنس میں شرکت کے سبب دمشق میں موجود تھے۔ جمال عبدالناصر نے ایسے چھے ممتاز اخوانی راہ نمائوں کی مصری شہریت ختم کردی تھی۔ مصر کے بعدمیرا اکثر ان سے ملنا رہتا تھا اور ان کا ماہانہ مجلہ المسلمون قاہرہ کے بعد اب دمشق سے شائع ہونے لگاتھا۔ اس زمانے میں انھوں نے اپنے اس مجلے میں جمال عبدالناصر پر ایک مضمون لکھاتھا جس کا عنوان تھا :’فرعونِ مصر‘۔ اسی لقب سے اس کو اس کے ایک فوجی رفیق انقلاب اور سابق وزیر عبداللطیف بغدادی نے اپنی کتاب میں یاد کیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ نصف صدی سے قبل اس شدید ابتلا اور پھر ۱۹۶۵ء میں دوسری ابتلا، پھانسیوں (سید قطب شہید کی پھانسی )، قید و بند اور جلا وطنی اور معاشی و خاندانی مصائب کے باوجود اخوان کی تنظیم آج بھی مصر میں فعال ہے۔جمال عبدالناصر کی قوم پرستانہ اشتراکیت اب قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ ۲۰ویں صدی کے اس فرعون کا اب کوئی نام بھی لینا پسند نہیں کرتا،جب کہ اخوان نے ان پر سیاسی پابندیوں کے باوجود آزا د حیثیت اور دوسری سیاسی پارٹیوں کے ٹکٹ پرگذشتہ انتخابات میں ۸۸سے زائد نشستیں حاصل کی ہیں۔ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْھَبُ جُفَآئً وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ(الرعد۱۳:۱۷) ’’اور جہاں تک (سلابی) جھاگوں کا تعلق ہے تو وہ رائیگاں ہوتی ہیں اور جو چیز لوگوں کو نفع دینے والی ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتی ہے‘‘۔
امام حسن البنانے اخوان المسلمون میں جو ثبات و صلاحیت پیدا کردی تھی ، یہ اسی کافیض تھا کہ تعذیب و قتل اور مسلسل سخت ابتلا کی آندھیاں بھی ان کو ہلا نہ سکیں۔ مرد تو مرد اخوانی خواتین بھی ناصری جلادوں کے ہاتھوں جیل میں سخت تعذیب کا شکار رہیں،لیکن ان کے پاے ثبات میں جنبش تک نہیں آئی۔ ۱۹۶۵ء کے دورابتلا میں سیدہ زینب الغزالی اور سید قطب شہید کی بہنوں حمیدہ قطب اور امینہ قطب وغیرہ نے جیل خانوں میں بڑی تعذیب برداشت کی ،لیکن اپنے مشن پر قائم رہیں۔
اس تعذیب کا ایک شکار ہمارا دوست محب حسنی المحمدی بھی ہوا۔ وہ ۱۹۵۴ء میں قاہرہ یونی ورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات میں ایک کورس پڑھنے کے ساتھ ساتھ رات کو روزنامہ الجمہوریہ میں بھی کام کرتاتھا۔ جمال عبدالناصر کے قتل کے ڈرامے کے بعد جہاں ہزاروں اخوانی گرفتار کیے گئے تھے ،وہاں اس کو بھی گرفتار کیاگیا۔ یہ دو ہفتے جیل میں رہنے کے بعد ہم سے ملنے آیا۔ اس کا سرمونڈ دیا گیاتھا اور اس نے ہمیں پیٹھ دکھائی جو کوڑوں کی مار سے اب تک نیلی تھی اور کہیں کہیں سے کھال ادھڑی ہوئی تھی، لیکن اس کا آہنی عزم اب بھی ویسا ہی تھا۔ یہ اخوان کی اس تنظیم میں نہ تھا ، جو نہر سویز کے علاقے میں انگریزوں کے خلاف گوریلاحملوں کے لیے ۱۹۵۱ء میں بنائی گئی تھی جس سے مصری وفدی حکومت اور فوجی حکومت واقف تھی۔محب المحمدی کو اس کے بقول صرف شبہے میں پکڑا گیاتھا،اور محض یہ دیکھنے کے لیے کہ اس کا اس تنظیم سے کوئی تعلق تو نہیں جیل میں ننگا کرکے اس کی کھال ادھیڑ دی گئی تھی۔ خدا شاہد ہے کہ وہ ہمارے سامنے ہنستاتھا۔اس اذیت ناک عمل کی اس پر کوئی دہشت ،کوئی خوف طاری نہ تھا۔ وہ اور میرے دوسرے فلیٹ کے اخوانی ساتھی امام حسن البناشہید کو دیکھ چکے تھے ، سن چکے تھے ، ان کے ساتھ بیٹھ چکے تھے ، ان کی صحبت نے ان نوجوانوں کو جو اَب ۷۰ برس کے بوڑھے ہیں یا دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں، کندن کردیاتھا۔
امام حسن البنا نے اپنی کتاب مذکرات الدعوۃ و الداعیۃ (حسن البناشہید کی ڈائری) میں تصوف کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ شیخ حسن البنا تصوف کے خانقاہی نظام سے متفق نہیں تھے ، تاہم وہ اس کو عبادات کا ذوق و شوق او راس میں حلاوت پیدا کرنے کاذریعہ سمجھتے تھے۔ واقعی وہ اپنے جوانی کے ابتدائی زمانے سے اس کے سبب تہجد و دیگر نوافل اور نفلی روزوں اور اذکار و اورادکے پابند تھے۔اسی ذوق عبادت کے تحت انھوں نے بعد میں اخوان کے لیے مسنون ادعیہ واوراد پر ایک چھوٹی سی کتاب الماثورات لکھی، جو عام طور پر اخوان پڑھتے ہیں۔ شیخ حسن البنا متحرک یا تحریکی (dynamic)تصوف کے قائل تھے۔ اسی لیے جب انھوں نے تحریک اخوان المسلمون کی بنیاد ڈالی جو حرکت و عمل پر مبنی تھی تو ان کے شیخ طریقت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ تب انھوں نے اپنے شیخ کے اختلاف پر کوئی توجہ نہیں دی اور اپنی تحریک پر عمل پیرا رہے۔
اس غرض کے لیے حسن البنا جمعیۃ نہضۃ الاسلام کے صدر شیخ یوسف الدجوی کے پاس گئے ، ان کی محفل میں کچھ علما اور ممتاز لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ نوجوان طالب علم حسن البنانے ملک میں بڑھتی ہوئی لادینیت اور بے حیائی کا شکوہ کیا۔ شیخ یوسف نے عام بزرگوں کی طرح کہا جو کچھ ہوسکتا ہے کرو کہ لایکلف اللّٰہ ---‘‘مگر خود حسن البنا کہتے ہیں :میں نے کہا نہیں، یا سیدی ! یہ کمزوری اور اپنی ذمہ داری سے فرار کی بات ہے۔ آپ کو کس کا ڈر ہے ، حکومت کا، ازہر کا ؟آپ کو گزارہ الائونس ملتا ہے ، اپنے گھر بیٹھے ہیں، کوئی کام نہیں ، اسلام کے لیے کام کیجیے۔ ہماری قوم مسلمان قوم ہے ، وہ آپ کے ساتھ ہے۔ میں نے ان لوگوںکو قہوہ خانوں میں ، سڑکوں پر اور مسجدوں میں دیکھا ہے ، وہ آپ کے ساتھ ہیں ، لیکن چونکہ کوئی ان کی راہ نمائی نہیں کررہا ہے ، اس لیے اپنے پرجوش ایمان کے باوجود وہ ایک ضائع شدہ طاقت ہیں، اور اسی سبب سے لادین اور بدکردار عناصر کے اخبارات و رسائل، جو آپ لوگوں کی لاتعلقی کے سبب سرگرم ہیں ، ان کو گمراہ کررہے ہیں۔ اگر آپ لوگ ان کے خلاف کھڑے ہوجائیں تو یہ عناصر اپنے بلوں میں گھس جائیں گے۔ یا استاذ !اگر آپ اللہ کے لیے قدم اٹھانا نہیں چاہتے ہیں تو اپنی دنیا اور اپنی روٹی کے لیے ہی اٹھیے، کیونکہ اگر اسلام مٹ گیا تو ازہر بھی مٹ جائے گا ، علما بھی مٹ جائیں گے۔ پھر نہ آپ کو کچھ کھانے کے لیے ملے گا اور نہ خرچ کرنے کے لیے پیسہ ملے گا۔ اگر اسلام کے دفاع کے لیے نہیں اٹھتے تو اپنی ذات کے لیے اٹھیے، اپنی دنیا کے لیے ہی سرگرم عمل ہوجائیے۔ اگر آخرت کے لیے عمل نہ کیا، تو اے شیخ محترم! یہ دنیاا ور آخرت دونوں ہی رائیگاں جائیں گے۔
حسن البناشدت جذبات میں اسی سوز دروں سے بولتے رہے ، لیکن حاضرین میں کچھ لوگوں کو نوجوان طالب علم کا یہ لہجہ پسند نہیں آیا۔ ایک مریدنے سختی سے انھیں جھڑکا کہ ’’تم نے شیخ کے ساتھ گستاخی کی ہے اور علماے ازہر کی بھی تو ہین کی ، اسلام کمزور نہیں پڑے گا۔ اللہ نے خوداس کی نصرت کا وعدہ کیا ہے۔ تم کون ہوتے ہویہ ڈراوے دینے والے‘‘۔لیکن حاضرین میں سے ایک معززشخص احمد بے کامل نے ان صاحب کو روکا : ’’نہیں، یہ نوجوان حق بات کہہ رہا ہے ۔ تمھارا فرض ہے کہ اٹھو ، کب تک یہ بے عملی رہے گی؟ وہ تو تم سے صرف یہ چاہتا ہے کہ تم اسلام کی نصرت کے لیے جمع ہوجائو۔اگر تمھیں جگہ درکار ہے تو میرا گھر موجود ہے ،پیسہ چاہیے تو خیرخواہ مسلمانوں کی کمی نہیں ، تم ہمارے راہ نما ہو ، ہم تمھارے پیچھے ہیں ، لیکن یہ حیل وحجت کسی کام کی نہیں۔۳؎
اس کے بعد شیخ یوسف الدجوی ایک دوسرے بزرگ شیخ محمد سعید کے یہاں جانے کے لیے اٹھ گئے۔ حسن البنا بھی ان کے ساتھ ہوگئے اور ان کے گھر جو کچھ پیش آیا وہ حسن البنا شہیدکی اللہ کے یہاں مقبولیت کی پہلی نمایاں جھلک تھی۔
الامام البنا خود اس رقت آمیزاور اثر انگیز واقعے کو اس طرح بیان کرتے ہیں : ’’ہم سب شیخ دجوی کے مکان سے قریب ہی شیخ محمد سعید کے یہاں منتقل ہوگئے ، اور میں نے کوشش کی کہ شیخ دجوی کے قریب ہی بیٹھوں ، تاکہ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ بخوبی کہہ سکوں۔ اس موقعے پر رمضان کی جو مٹھائیاں ہوتی ہیں حاضر کی گئیں۔ وہ لینے کے لیے شیخ بڑھے تو میں ان کے قریب آگیا۔ شیخ نے کہا تم یہاں بھی ہمارے ساتھ آگئے۔ میں نے کہا :جی ہاں ، جب تک ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جائیں گے، آپ کو چھوڑوںگا نہیں۔ شیخ دجوی نے مجھے کھانے کے لیے مٹھائی دی اور کہا کہ یہ کھائو ،ان شاء اللہ ہم سوچیں گے۔ اس پر میں نے کہا یاسیدی! مسئلہ اب سوچتے رہنے کا نہیں ہے، ضرورت عمل کی ہے۔ اگر مجھے مٹھائی وغیرہ کھانا ہوتی تو میں ایک قرش(روپیہ ) میں خرید کر اپنے گھر میں بیٹھ کر آرام سے کھاتا اور یہاں آنے کی مشقت گوارا نہیں کرتا۔ یاسیدی!اسلام کے خلاف اتنی سخت جنگ جاری ہے او راسلام کے پیروکار ، اس کے حمایتی اورمسلمانوں کے پیشوا اس عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ جو کچھ کھا رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس کا آپ سے حساب نہیں لے گا؟اگر آپ لوگوں کو اپنے سوا اسلام کے کوئی اور پیشوا اور دفاع کرنے والے معلوم ہوں تو براہ کرم مجھ کو انھی کا پتا دے دیجیے، میں ان کے پاس چلا جائوں گا۔ ہوسکتا ہے کہ مجھے ان کے پاس وہ مل جائے جو آپ کے پاس نہیں ( یعنی اسلام کا درد)‘‘۔
’’ایک گھڑی کے لیے عجیب خاموشی طاری ہوگئی اورپھر شیخ کی آنکھوں سے شدت سے آنسو بہنے لگے ،جس سے ان کی داڑھی تر ہوگئی اور حاضرین پر بھی گریہ طاری ہوگیا۔ شیخ نے خود ہی اس خاموشی کو توڑا اور گہرے غم اور شدید احساس میں کہا :میں کیا کرسکتا ہوں حسن؟میں نے کہا یاسیدی! معاملہ آسان ہے، لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا (البقرہ ۲:۲۸۶)میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اہل علم اور اصحا ب جاہ و منزلت میں سے جن میں آپ کو دینی حمیت نظر آتی ہے،آپ براہ کرم صرف ان کے نام شمار کرادیں تاکہ وہ کچھ کرنے کے بارے میں سوچیں۔ الحادی جرائد کے مقابلے میں کچھ نہیں تو ایک ہفتہ وار مجلہ ہی نکالیں ، اور ان کی کتابوں کے رد میں کتابیں اور پمفلٹ لکھیں۔ نوجوانوں کے لیے تنظیمیں بنائیں ، وعظ و نصیحت میں سرگرم ہوں ، وغیرہ وغیرہ۔ کہنے لگے خوب۔ (ایضاً ،ص-۷۷)
مٹھائی کی پرات اٹھاکر لے جانے کا حکم دیا اور کاغذ و قلم منگوایا اور مجھ سے کہا لکھو۔ ہم نام یاد کرنے لگے۔ ہم نے کچھ علما اور بڑے لوگوں کے نام لکھے جن میں سے مجھے یہ یاد ہیں ، خود یوسف الدجوی، شیخ محمد الخضرحسین (۱۹۵۲ء کے مصری فوجی انقلاب کے بعد ابتدا میں ازہر کے شیخ متعین کیے گئے تھے۔ باقی بھی سب مشہور علما تھے )، شیخ عبدالعزیز جاویش ، شیخ عبدالوہاب النجار ، شیخ محمد الخضری ، شیخ محمداحمد ابراہیم اور شیخ عبدالعزیز الخولی۔ شیخ السید محمد رشید رضا کا نام آیا تو کہا :یہ بھی لکھو ، یہ بھی لکھو ، یہ کوئی فروعی مسئلہ نہیں ہے کہ جس میں ہم اختلاف کریں ، بلکہ یہ اسلام و کفر کا معاملہ ہے اور شیخ رشیدرضا اپنے قلم ، علم اور اپنے مجلے سے اسلام کا بہترین دفاع کرتے ہیں۔ ‘‘(السید رشید رضا دراصل سلفی مسلک کے آدمی تھے اور تصوف و تقلید کے خلاف،جب کہ شیخ یوسف الدجوی ایک صاحب طریقت عالم تھے ، پھر بھی شیخ نے ان کا نام لکھوا یا ، ان کے مجلے سے مراد مشہورمجلہ المنارہے‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۷۷)
اس فہرست میں ان علما کے علاوہ ملک کے سربرآوردہ اشخاص کے نام بھی تھے۔ اس کے بعد شیخ ان لوگوں سے ملے جن کو وہ جانتے تھے اور حسن البنا ان سے ملے جن کو وہ جانتے تھے۔پھر ان سب مشاہیر علما او رسربرآور دہ شخصیات کے باہم اجتماعات ہوتے رہے۔ یہ بہت سے اہل علم کے لیے ایک انکشاف ہوگا، جس طرح میرے لیے ہوا کہ حسن البناکی ان کوششوں اور ان حضرات کے تعاون کے نتیجے میں ۲۰ویں صدی کے نصف اول میں مصر کا المنار کے بعد مشہور ترین مجلہ الفتح شائع ہوا، جو برسوں محب الدین الخطیب کی ادارت میں جاری رہا۔ یہی وہ مجلہ تھا جس کو ہندستان کے علامہ سید سلیمان ندوی ، مولانا مسعود عالم ندوی اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی پڑھ کر اپنی عربی کو جلا دیتے اور اس میں اپنے مضامین شائع کرتے تھے۔ محب الدین الخطیب سے راقم الحروف کو ملنے کی سعادت ۱۹۵۴ء میں حاصل ہوئی۔ اس وقت وہ مجلۃ الازھرکے ایڈیٹر تھے۔
امام حسن البنا نے دارالعلوم کالج کی طالب علمی کے زمانے میں جن علما اور سربرآورد ہ اشخاص کو اسلام کی خدمت اور تقویت کے لیے جمع کردیاتھا،ان سے ان کا رابطہ بعد میں بھی قائم رہا اور سربرآوردہ شخصیات میں سے احمد تیمور پاشا ، عبدالعزیز پاشا اور عبدالحمید بک سعید اور خاص کر موخرالذکر کی کوشش سے مصر کی مشہور تنظیم جمعیۃ الشبان المسلمین قائم ہوئی جومسلمان نوجوانوں کی مؤثر تنظیم تھی۔ شیخ حسن البنااس تنظیم کے سرگرم معاون تھے اور جس روز، یعنی ۱۲ فروری ۱۹۴۹ء کی شام کو ان کی شہادت ہوئی ، اس شام وہ اسی تنظیم کے دفترمیں بعض حکومتی نمایندوں سے میٹنگ کے لیے گئے ہوئے تھے۔ میرا بھی زمانۂ قیام مصر میں یہاں اکثر جانا رہتاتھا۔ یہ ثقافتی سماجی اور دینی سرگرمیوں کا مرکز تھا اور یہاں کے شان دار آڈٹیوریم میں بعض مشہور علما و ادبا کے ساتھ مجھے ایک پروگرام میں تقریر کرنے کا موقع ملا، عنوان تھا: ’دنیا میں اسلام‘۔ میں نے ہندوپاک میں اسلام کے موضوع پر تقریر کی تھی۔صالح حرب پاشا اس زمانے میں اس کے صدر تھے۔
۲۰ویں صدی عیسوی میں جوعظیم دینی تحریکیں دنیا میں قائم ہوئیں، ان میں تحریک اخوان المسلمون(مصر)، تبلیغی جماعت (ہند)، اور جماعت اسلامی (ہندوپاکستان ) سب سے زیادہ دوررس نتائج کی حامل تھیں۔ان تحریکوں کے بانیوں میں سب سے کم عمر حسن البنا شہید تھے اور سب سے زیادہ کم عمری ہی میں، یعنی ۴۳سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے ،اور ان کو شہادت کا شرف نصیب ہوا۔ پھر ان کی تحریک کو جس ابتلا و مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے ارکان جس قتل و غارت گری سے دوچار ہوئے، اگر یہ سب کچھ کسی دوسری تحریک کے ساتھ پیش آتا تونہیں کہا جاسکتا کہ ان کا کیا انجام ہوتا، لیکن الحمدللہ یہ عظیم اور جامع اسلامی تحریک آج بھی زندہ ہے۔
امام حسن البنا کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازاتھا۔ ان کا اپنا بیان ہے کہ ان کو ۲۰ ہزار اخوانیوں کے نام یاد تھے۔ وہ کوئی بہت بڑے مصنف نہیں تھے۔ ان سے جب بعض لوگوں نے تصنیف و تالیف کے لیے کہا تو انھوں نے جواباً کہا :’’میں کتابوں کے بجاے ایسے آدمی بناناچاہتا ہوں کہ ان میں سے اگر ایک آدمی کو بھی میں کسی شہر میں بھیجوں تو وہ اس شہر کی حالت درست کردے‘‘۔ واقعی انھوں نے ایسے افراد تیار کیے۔ایسے افراد میں، سید قطب شہید نمایاں ترین تھے۔ اس کے باوجود انھوں نے اخوان کی راہ نمائی کے لیے مختلف دینی موضوعات پر آٹھ رسائل تحریر کیے، جس کا ۵۰۰ صفحات پر محیط اڈیشن بیروت سے ۱۹۶۶ء میں چھپا۔بے شک وہ چودھویں ہجری کے مجدد تھے۔ رحمہ اللّٰہ رحمۃ واسعۃ -
ابو کی شہادت کے وقت وفاء باجی کی عمر ۱۷برس تھی اور سیف ۱۴سال کے تھے۔ سناء ۱۱سال کی تھی۔ رجاء ساڑھے پانچ برس کی تھیں‘ جب کہ ہالہ اڑھائی سال کی تھی۔ ہماری والدہ اس وقت بیماری سے دوچار تھیں۔ وہ دل کی مریضہ بھی تھیں۔ ہالہ کی پیدایش کے بعد امی کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ابو کی شہادت کے وقت ان پر بیماری کا حملہ شدید تھا، حتیٰ کہ ان کے معالج نے کہا کہ اسقاط کے سوا کوئی چارہ نہیں۔اس ضمن میں حتمی فیصلہ کرنے کے لیے انھوں نے ۱۲فروری کی تاریخ طے کردی۔لیکن ۱۱فروری ۱۹۴۹ء کی شام ابو کو شہید کردیاگیا۔ امی کی طبیعت خراب ہونے کے باعث ڈاکٹر صاحب وزارت داخلہ سے خصوصی اجازت کے بعد ابو کی شہادت کے اگلے دن گھرآنے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے ہمارے گھر کا مکمل محاصرہ کیاہواتھا۔ ڈاکٹر نے اصرار کیا کہ والدہ کو ہسپتال لے جایا جائے، لیکن امی نے انکار کردیا۔ پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ یہی بات چلی۔ سیف بھائی نے امی کی کمزور صحت کے باعث اسقاط سے انکار کردیا۔ ہماری ایک رشتہ دار خاتون انھیں ایک اور ڈاکٹر کے پاس لے گئیں جنھوں نے کہا کہ ہر ۱۵روز بعد طبی معائنہ ہوتا رہے گا۔ اگر کوئی خطرہ ہوا تو پھر کوئی انتہائی فیصلہ بھی کیا جاسکتاہے۔ اللہ کو منظور تھا کہ استشہاد دنیا میں آئی اور اس کانام ابو کی شہادت کی نشانی بن گیا۔
’جدید مصر‘ نامی ایک پرائیویٹ اسکول کی پرنسپل، میرے والد صاحب سے بڑی عقیدت رکھتی تھیں۔ وہ ہر منگل کو ابو کے درس کے لیے خواتین کو جمع کیا کرتی تھیں۔ انھوں نے ابو سے پوچھا کہ:’’ آپ اپنی کوئی بیٹی داخل کروانا چاہتے ہیں‘‘۔ ابو نے رضامندی ظاہر کی تو انھوں نے مجھے وہاں براہِ راست پہلی کلاس میں داخلہ دے دیا۔ لیکن جب ابو نے دیکھا کہ پرنسپل کے لاڈ پیار کی وجہ سے میری پڑھائی کا معیار گررہاہے، تو انھوں نے مجھے وہاں سے وفاء بہن کے اسکول منتقل کردیا۔
ابو کبھی ہمیں افسردہ نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ ایک بار دادی جان نے شادی کی ایک تقریب میں جانے کا پروگرام بنایا۔ طے ہوا کہ سیف بھائی ، وفاء بہن اور میں ان کے ہمراہ جائیں گے، لیکن جب روانگی کا وقت آیا تو معلوم ہوا کہ سامان زیادہ ہوگیا ہے اور ہمارے لیے جگہ نہیں ہے، بہ مشکل وفاء بہن اور سیف بھائی ہی بیٹھ سکتے تھے۔ اس لیے دادی جان ان دونوں کو لے گئیں اور میں اپنے کپڑوں کا بیگ تھامے وہیں کھڑی رہ گئی۔ ابو آئے انھوں نے میرے کندھے تھپتھپائے اور کہا سناء کوئی بات نہیں اور مجھے راضی کرنے کے لیے ۲۵قرش دے دیے جو اس وقت اچھی خاصی رقم تھی۔ میں پھر بھی اداس ہی رہی جس پر انھوں نے میرا بیگ اٹھایا اور مجھے ساتھ لے گئے۔
ابو صبح کام پر جاتے ،دوپہر کے کھانے کے وقت آتے ، پھر بہت تھوڑا سا آرام کرتے ، یہاں تک کہ وفاء باجی کہتی ہیں ایک بار ابو نے کہا:’’ میں تھوڑی دیر آرام کرنے لگا ہوں۔ مجھے ٹھیک سات منٹ بعد جگا دینا‘‘۔ باجی کہتی ہیں کہ میں جا کر قہوہ تیار کرنے لگ گئی کہ جتنی دیر میں قہوہ بنے گا سات منٹ ہوجائیں گے اورمیں ساتھ ہی قہوہ پیش کردوں گی۔ لیکن جیسے ہی میں قہوہ تیار کرکے پلٹنے لگی وہ میرے ساتھ کھڑے پوچھ رہے تھے۔’’ وفاء بیٹی!قہوہ بن گیا‘‘۔ ابو خود پر مکمل کنٹرول رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنی ذا ت کو اپنی خواہشات کے ہاتھوں مغلوب نہیں ہونے دیا۔
ابو نے ہم میں سے ہر ایک کی الگ الگ فائل بنا رکھی تھی ، جس میں اس کا سارا ریکارڈ محفوظ رکھتے تھے۔ ہر بچے کے اسکول کے معاملات ، بیماری اور علاج ، حفاظتی ٹیکوں کی تاریخیں ، یہاں تک کہ ولادت سے لے کر جو جو ٹیکے لگے اور جو جو بیماری لاحق ہوئی ہر چیز کا ریکارڈ ہماری فائلوں میں رکھتے۔ یہ بھی ان کے منظم ہونے کی علامت تھی کہ کسی کام کو دوسرے کام پر حاوی نہیں ہونے دیتے تھے۔
تھوڑی ہی دیر میں میری پھوپھیوں کو بھی معلوم ہوگیا ، ان کے گھر بھی قریب ہی تھے۔ میری ایک پھوپھی آئیں اور کمرے میں جانے لگیں جہاں ابو کی میت رکھی تھی۔ ان کے ساتھ ہی میں بھی جلدی سے چلی گئی ، کسی روکنے والے کو میرا پتا ہی نہیں چلا۔ میں نے ابو کے چہرے سے چادر ہٹائی--- اللہ کی قسم! جب تک میں زندہ ہوں ابو کا وہ مسکراتاہوا چہرہ نہیں بھلاپائوں گی۔ ایک پرسکون میٹھی سی مسکراہٹ لیے ہونٹوں میں ابو کے چمکتے ہوئے دانت نظر آرہے تھے۔ میں نے انھیں دیکھاتو بالکل یقین ہی نہیں آیا کہ وہ دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ میری ایک سہیلی نے جب مجھ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ تمھارے ابو فوت ہوچکے ہیں تو میں نے اسے کہا: نہیں وہ فوت نہیں ہوئے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح اللہ کے پاس چلے گئے ہیں لیکن جلد واپس آجائیں گے۔ میں نے خود ان کا چہرہ دیکھا ہے وہ فوت نہیں ہوئے۔
پھر میرے دادا نے ابو کو غسل دیا۔ انھیں کفن پہنایا۔ گورکن تابوت لے آیا اور ابو کی میت اس میں رکھ دی گئی۔ میرے دادا فوجیوں سے مخاطب ہوئے اور کہا :’’ میرے ساتھ میرے بیٹے کا جنازہ تو اٹھوا دو‘‘۔ انھوں نے جواب دیا’’ہمیں آرڈرنہیں ہے ‘‘۔وفاء باجی چلا اٹھیں: ’’ جنازہ تو اٹھائیں کندھا کون دے گا‘‘۔ لیکن وہ نہیں مانے اس پر میری دادی جان اٹھیں اور کہا: ’’اپنے بیٹے کاجنازہ میں خود اٹھائو ں گی‘‘۔ وہ تابوت کی طرف بڑھیں تو اخوان سے تعلق رکھنے والی چند خواتین جو اس وقت اندر آنے میں کامیاب ہوگئی تھیں وہ بھی آگے بڑھیں اوراس دہشت کے عالم میں خواتین نے امام حسن البنا شہید کا جنازہ اٹھایا۔
ابو کی وفا ت کے ۱۰ سال بعد دادا اللہ کو پیارے ہوئے تو انھیں ابو کے پہلو میں دفن کرنے کے لیے لے جایا گیا۔۱؎ اس وقت ابو کی قبر کھولی گئی تو ایک حیرت ناک منظر تھا کہ ۱۰ سال بعد بھی ابوکا تابوت اسی طرح صحیح سالم تھا۔ میت کے چہرے کے اوپر جو شیشہ لگا ہوتاہے اس میں سے نظر آیا کہ صرف تابوت ہی محفوظ نہیں بلکہ چہرے سے کفن کھلا ہوا تھا اور ابو کا چہرہ بالکل صحیح سالم تھا۔ اسی طرح آنکھیں موند رکھی تھیں۔ داڑھی کے بالوں کی جگہ کچھ نشان تھے۔ یہ اب سے تقریباً ۱۰سال پہلے کا واقعہ ہے۔
m امام کی شہادت کے بعد آپ کی والدہ مرحومہ کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا ہوگا؟
۲۰ویں صدی ، مغربی مفکرین کی تحریرات میںعموماً ’سیاسی اسلام‘ کی صدی قرار دی جاتی ہے۔ اسلام نے اس صدی میں مسلم امت کو نہ صرف مغربی سامراج کی غلامی سے نکلنے میں قوت محرکہ فراہم کی، بلکہ دنیا کے نقشے پر اس صدی میں وہ تحریکات اسلامی ابھریں جن کا مشترکہ ہدف اور مقصد ایک صالح اخلاقی معاشرے اور نظام حکم کا قیام تھا۔ ان تحریکات نے روایتی اسلامی تعبیر سے ہٹ کر اپنا رشتہ براہ راست قرآن و سنت سے جوڑتے ہوئے دین کی حرکی تعبیر اپنے ادب ، تنظیم اور نظام تربیت کے ذریعے امت مسلمہ کے سامنے رکھی۔ امت مسلمہ نے جو اپنے سیاسی ، معاشی ، معاشرتی ، نفسیاتی زوال کی چبھن کومحسوس کررہی تھی اور جس کے دیکھتے ہی دیکھتے مغربی سامراج کے زیراثر اس کے اتحاد کی علامتی خلافت کی جگہ مغربی لادینی نظام کو رائج کردیاگیاتھا۔ وہ اُمت جو الجزائر سے انڈونیشیا تک کہیں فرانسیسی ، کہیں پر تگالی،کہیں اطالوی اور کہیں انگریزی سامراج کی غلامی میں جکڑی ہوئی تھی۔ اُمت نے اس صالح مقصد کے حصول کے لیے نئی فکر اور تعبیر پر الجزائر سے انڈونیشیا تک استقبال کیا۔ مختلف ناموں اور عنوانات سے اٹھنے والی اس تحریک نے امت کے سنجیدہ ، تعلیم یافتہ نوجوانوں کو جو امت مسلمہ کے مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے، امید کی ایک کرن دکھائی اور یوں لوگ ساتھ آتے گئے اور قافلہ بنتا گیا۔
اس تناظر میںامام البنا نے اپنی تحریک اصلاح کا آغاز کیا۔ ان کی حیات ، تحریک کے تاریخی ارتقا، اشاعت فکر ، اداروں کے قیام ، سیاسی اتار چڑھائو ، مختلف عناصر کے ساتھ اتحاد اور ٹکرائو کو ایک لمحے کے لیے نظر انداز کرتے ہوئے، اس مقالے میں ہمارا مقصد صرف یہ دیکھناہے کہ بعض معروف مغربی مفکرین امام البنا اور ان کی تحریک کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ممکنہ اختصار کے ساتھ ہم صرف چند اشارات کی شکل میں اس موضوع سے بحث کریں گے۔
مغربی مفکرین بالعموم ۲۰ویں صدی کی اسلامی تحریکات کو روایت پرست ، رجعت پسند، بنیاد پرست عسکریت پسند ،ملوکیت کی پشت پناہ اور اس سے ملتے جلتے متضاد القاب سے یاد کرتے ہیں۔ عموماً یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ یہ تحریکات ایک تصوراتی اسلام (Utopia)کی طرف دعوت دیتی ہیں، جب کہ زمینی حقائق کو نظر انداز کرجاتی ہیں۔ یہ ایک ایسے ماضی کی طرف پلٹنے کی دعوت دیتی ہیں جو تاریخ کے اور اق میں دفن ہوچکاہے۔ ان پر یہ الزام بھی دھرا جاتا ہے کہ یہ اس بوسیدہ ڈھانچے کو کوہ کنی کرنے کے بعد ایک حیات نو بخشنے کی خواہش میں گرفتار ہیں اور یہ تحریکات تاریخ کی رفتار اور تبدیلیوں سے کوئی آگاہی نہیں رکھتیں۔ ان مفروضات کو کلید تصور کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکال لیا جاتا ہے کہ ان تحریکات کی پکار سے صرف وہ لوگ متاثر ہوتے ہیں جو متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ، خیالات میں گم رہنے والے اور اپنے مروجہ معاشروں سے عدم اطمینان رکھنے والے افراد ہیں۔اس قسم کے تصورات کی بنا پر اسلامی تحریکات کو بادی النظر میں بآسانی بنیاد پرست اور قدامت پرست یاروایت پسند کا عنوان دے دیا گیا۔
بعض جدید مغربی مفکرین نے ایک قدم آگے بڑھ کر نہ صرف اصلاح اور تبدیلی کی قیادت کے جذبے سے سرشار ان اسلامی تحریکات کو، بلکہ خود اسلام کو امن عالم اور جدید مغربی لادینی سیاست و معیشت پر مبنی نظام کے لیے ایک خطرہ قرار دیتے ہوئے اسلام کے ساتھ کسی مکالمے یا تبادلۂ خیال کے امکان کو ردکرتے ہوئے ٹکرائو اور قوت کے ذریعے زیر کرنے کی تلقین سے بھی گریز نہیں کیا۔ بعض مغربی بنیاد پرست مفکرین مغرب کی عسکری اور معاشی برتری سے سرشار نہ صرف اسلامی احیا کی تحریکات کو بلکہ خود اسلام کو راہ کی رکاوٹ سمجھتے ہوئے اپنا ہدف بنا بیٹھے۔ اس سلسلے میں معروف امریکی ماہر سیاسیات پروفیسر سیمویل پی ہن ٹنگٹن کا صرف ایک جملہ مغرب کی مذہبی بلکہ سیاسی و عسکری قیادت کے حالیہ ذہن کی عکاسی کرنے کے لیے کافی ہے۔ وہ کہتاہے:
The underlying problem for the West is not Islamic Fundamentalism, it is Islam ,a different civilization whose people are convinced of the superiority of their culture and are obsessed with the Inferiority of their power.۱؎
مغرب لیے بنیادی مسئلہ اسلامی بنیاد پرستی نہیں‘ اسلام ہے۔ یہ ایک مختلف تہذیب ہے جس کے ماننے والے اپنی ثقافت کی برتری پر یقین رکھتے ہیں اور اقتدار سے محرومی کا احساس ان پر چھایا ہوا ہے۔
اتنے واشگاف الفاظ میںاسلام کو بجاے خود ایک خطرہ قرار دینا علمی بوکھلاہٹ اور ایک بنیاد پرست ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔
ایک ہی تیرسے کئی شکار کرتے ہوئے ایک دوسرے مغربی مصنف جان لافن نے اسلامی تحریکات اصلاح کو ایک جانب مغرب کے لیے خطرہ اور دوسری جانب خودان ممالک کے حکمرانوں اور حکمران طبقوں کے لیے سخت مہلک قرار دیا ہے۔پھر ان کا موازنہ یورپ کی اشتراکی تحریک سے کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ: ان کے ہتھکنڈے بھی وہی ہیں جو اشتراکی تنظیمات کے ہوتے ہیں یعنی یہ پیشہ ورجنونی اور ’روایتی ترقی پسند‘ہیں جو ہر لمحہ حملہ کرنے کی تاک میں صبر و استقامت سے منتظر رہتے ہیں۔ اس کے اپنے الفاظ میں یہ بات یوں کہی گئی ہے :
" The third group of millitant leader, the "traditional progressives", can for the West be the most dangerous of all, though short-term they are even more dangerous to the present political leaders of Arab regimes. Professional zeaolts , these men are more worldly wise than the ayatullahs . They know that their Islamic Ideal can be reached and held ---through political action. They use violance as a deliberate means to a desired end. Their strength is their group discipline and motivation. I have always been struck by the similarity of their orgnization with that of European Communists - the same emphasis on self contained cells the courier contact with other cells, the policy of working and watching while being ready to strike. The most obvions samples are the Muslim Brotherhood in Arab World and Jamaat-e-Islami in Pakistan.۲؎
جنگ جو قائدین کا تیسرا گروہ: ’روایت پسند ترقی پسند‘ مغرب کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے‘ اگرچہ مختصر مدت میں وہ عرب حکومتوں کے موجودہ سیاسی قائدین کے لیے اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ پیشہ ور انتہا پسند‘ آیت اللہ (ملاؤں) سے زیادہ دنیاوی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کا اسلامی نصب العین سیاسی عمل کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے اور قائم رکھا جاسکتا ہے۔ وہ مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کے لیے تشدد کو سوچے سمجھے ذریعے کے طور پر اختیار کرتے ہیں۔ ان کی طاقت‘ ان کا گروہی نظم و ضبط اور جذبہ ہے۔ مجھے ان کی اور یورپی کمیونسٹوں کی تنظیمی مماثلت ہمیشہ غیرمعمولی محسوس ہوئی: خود مکتفی چھوٹے چھوٹے گروہوں کی وہی اہمیت اور دوسرے گروہوں سے کوریئر کے ذریعے رابطہ، حملے کے لیے تیار رہتے ہوئے دیکھنے اور جائزہ لینے کی حکمت عملی۔ اس کی نمایاں مثال عرب دنیا میں اخوان المسلمون اور پاکستان میں جماعت اسلامی ہے۔
اگر اس بیان کا تجزیہ کیا جائے تو چار نکات ابھر کر سامنے آتے ہیں :
امام البنا کی تحریک اشتراکی ماڈل پر ایک شدت پسند عسکری جماعت تھی جو حملہ آور ہو کر ملکی نظام کو درہم برہم کرنے کے لیے ایک ایک لمحہ گن کر گزاررہی تھی۔ ثانیاً مغرب اور مغرب کی حمایت کی بنا پر جو حکمران مسلمان ممالک پر مسلط ہیں، یہ ان کی دشمن تھی۔ ثالثاً اس کا اصل ہدف کسی نہ کسی طرح اقتدار پر قبضہ کرکے اپنی من مانی اسلامی تعبیر کو دوسروں پر زبردستی نافذ کردینا تھا اور رابعاً اس کی اصل قوت اس کے وہ کارکن تھے، جنھیں اشتراکی طرز کے کمیون(commune) یا حلقوں میں تربیت دے کر مذہبی فدائی بنادیا جاتاتھا جو جنون کی حد تک اطاعت امیر پر ایمان رکھتے تھے اور اس بناپر اس دور میں سب سے زیادہ مہلک خطرے اور اسلحے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
خرد مندی کے نام پر مذکورہ بالا قیاسات اور مفروضوں کی بنیاد پر کسی تحریک کا تصوراتی خاکہ بنالینا کہاں تک درست ہے اور اس قسم کے جذباتی، غیر حقیقی، متعصبانہ اور رنگ آلود بیانات معروضیت کی کسوٹی پر کہاں تک درست ثابت ہوسکتے ہیں؟ ان سوالات کا جواب بجاے انفرادی قیاس آرائی میں تلاش کرنے کے ،خود ایک تحریک کے دستور اس کے زعما کی تحریرات اور اس کی اعلان کردہ حکمت عملی میں تلاش کیے جائیں تو شاید ایسی تحریکات کے ساتھ زیادہ انصاف کیاجاسکے۔ یہ بات دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنی پڑتی ہے کہ مغرب کے اکثر مصنف اپنے طولانی دعوئوں کے باوجود بہت کم معروضیت پر عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے اکثر مفروضات ثانوی ذرائع معلومات اور پہلے سے مرتب کردہ احساسات پر تعمیر ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض ایسے مغربی مفکرین بھی ہیںجو ان تحریکات اصلاح اور ان کے قائدین کے حوالے سے راے رکھنے میں جادۂ اعتدال سے قریب تر رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مثلاً معروف کناڈین محقق اور میکیگل کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے بانی، ڈائرکٹر پروفیسر ولفرڈکینٹ ول اسمتھ جنھوں نے کچھ عرصہ لاہور کے فورمین کرسچن کالج اورمسلم یونی ورسٹی علی گڑھ میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیے،جو عربی اردو اوردیگر اسلامی زبانوں سے واقفیت رکھتے تھے،وہ اخوان المسلمون پر لگائے گئے ایک فکری الزام کی تردیدان الفاظ میں کرتے ہیں:
"To regard the Ikhwan as purely reactionary would , in our judgement be false. For there is at work in it also a praise worthy constructive endeavour to build a modern society on the basis of justice and humanity, as an extrapolation from the best Values that have been experienced in the tradition from the past.۳؎
اخوان کو صرف رجعتی قرار دینا ہماری راے میں غلط ہوگا۔ اس کے اندر عدل و انسانیت اور ماضی کی روایات سے تجربے کی بنیاد پر حاصل کردہ سنہری اقدار کی بنیاد پر ایک جدید معاشرے کے قیام کے لیے ایک قابلِ تعریف تعمیری کوشش بھی بروے کار ہے۔
اسمتھ کے اس معتدل بیان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اخوان المسلمون‘ امام البنا اور اسی طرح سید مودودی کا دورِحاضر میں ایک عادلانہ اسلامی سیاسی نظام اور معاشرے کے قیام کی کوشش کو رجعتی تحریک کہنا ان تحریکات کے ساتھ ظلم ہے۔ ایک جانب اس فکر کے حامل مغربی مفکر نظر آتے ہیں تو دوسری جانب ایسے مفکرین کی ایک بڑی تعداد ہے جوالبنا اور ان کی تحریک کو بنیاد پرست قرار دینے پر اصرار کرتے ہیں۔
یہ بات کہ امام البناعسکریت پسند جنگ جو تھے اور انھوں نے اپنی تحریک کو ایک تشدد پسند جماعت بناناچاہا، یا وہ شمشیر بے نیام کے ذریعے نظام عدل و امن کو قائم کرنا چاہتے تھے، مغربی مصنفین کا ایک پسندیدہ موضوع ہے اور امام البنا ، اخوان المسلمون اور اسی رو میں جماعت اسلامی پاکستان اور دیگر دستوری اصلاحی اسلامی تحریکات کو لپیٹتے ہوئے یہ حضرات اکثر ان تحریکات کی ’جنگ جویانہ ‘ صلاحیت پر اتنے مختلف بلکہ متضاد زاویوں سے روشنی ڈالتے ہیں کہ ان تحریکات کے اصل خدوخال اردگرد کے گردآلود ماحول میںدھندلاجاتے ہیں اور کبھی ابھر کر سامنے نہیں آنے پاتے۔
"This is the movement which , in one form or another, has been the most prominent-fundamentalist current in sunni Islam since its Inciption in 1928. He launched the Brotherhood as movement for education and reform of hearts and minds.۴؎
یہ وہ تحریک ہے جو ایک یا دوسری حیثیت میں‘ ۱۹۲۸ء میں اپنے آغاز کے بعد سے سنّی اسلام کی سب سے نمایاں بنیاد پرست لہر رہی ہے۔ انھوں [امام البنا] نے اخوان کو دل و دماغ کی اصلاح و تعلیم کے لیے تحریک کی حیثیت سے شروع کیا۔
امام البنا اور اخوان پر ’بنیاد پرست‘ ہونے کا خیالی الزام اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ غیر شعوری طور پر بعض اخوانی بھی خود کو بنیاد پر ست سمجھنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔
بنیاد پرستی کے الزام کے ساتھ ہی بار بار یہ بات بھی دہرائی جاتی ہے کہ امام البنا اور تحریک اخوان المسلمون گردش ایام کو پیچھے کی طرف دھکیل کر انسانیت اور مسلم دنیاکو ایک ایسے دور کی طرف لے جانا چاہتی ہے جو ماضی کا ایک ورق بن چکاہے اور جو ۲۱ویں صدی کی ٹیکنالوجی ،مادی ترقی اور علوم میں نئی ایجادات سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ اس لیے یہ دعوت ،ترقی کی جگہ علمی ، فکری اور مادی زوال کی دعوت ہے اور اس بنا پر ’روشن خیال ‘دنیا کے لیے ایک شدید خطرے کی حیثیت رکھتی ہے۔
The Muslim Brothers world view was articulated in conservative Islamic terms calling for the restorating an Ideal society of the distant past.۵؎
اخوان المسلمون کا تصور جہاں (ورلڈ ویو) قدامت پسند اسلامی اصلاحات میں بیان کیا گیا تھا جس میں ماضی بعید کے مثالی معاشرے کو بحال کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔
جن محققین نے براہ راست امام البنا کے خطبات اور تحریرات کا مطالعہ کیا ہے ،وہ یہ ماننے پر مجبور ہوئے ہیں کہ گو درمیانی دور میں اخوان کے بعض اقدامات عسکری نوعیت کے تھے، لیکن مجموعی طور پر نفوس کا تزکیہ و اصلاح ہی دعوت کا مرکزی نکتہ رہا۔ چنانچہ ایک مفصل تجزیاتی تحریر میں پروفیسر جان ایل اسپوزیٹونے اخوان کی دعوت کے اس پہلو کو اجاگر کیا ہے۔۶؎
امام البنا کی شخصیت کا ارتقا اور ان کا تصوف سے نہ صرف متاثر ہونا بلکہ اس کو عملاً اس حدتک اختیار کرنا کہ ان کی تعلیمات اور نظام تربیت میں ایک بڑا حصہ قرآن کریم کی تلاوت ، اذکار و اوراد اور قیام الیل کے ذریعے نفوس کی اصلاح سے تعلق رکھتاہے، ان کی شخصیت اور طرز عمل ہرزاویے سے ایک روحانی پیشوا سے ملتا ہوا نظرآتاہے۔اس غالب پہلو کے باوجود ان کی دعوت کا ایک جزوی نکتہ جس سے وہ خود بہت زیادہ مطمئن نہ تھے‘ اور ان کی عسکریت ہی اکثر مغربی مفکرین کی توجہ کا مرکز بنی ہے۔
امام البنا کی شخصیت اور جماعت اخوان المسلمون پر غیر مسلم محققین کی تحریرات میں نمایاں ترین اور اولین مصاد ر پر مبنی ایک تحقیقی کتاب جس کا مصنف ایک عرصے تک مصر میں امریکی خفیہ ادارے کے رکن کی حیثیت سے متعین رہا ،باربار اس بات کا تذکرہ کرتاہے کہ :
"The two continous Influnces in history so far had been classical Islamic learning and emotional discipline of sufism.۷؎
تاریخ پر کلاسیکل اسلامی علوم اور تصوف کے جذباتی پہلو دونوں کے اثرات مسلسل رہے۔
امام البنا کے رسائل مدلل طور پر تزکیۂ نفس ،تزکیۂ خاندان اور تزکیۂ معاشرہ پر متوجہ کرتے ہیں لیکن چونکہ سید ابوالاعلی مودودی کی طرح امام البناکا پہلا دعوتی نکتہ بھی یہی ہے کہ اسلام مکمل جامع اور عملیت پر مبنی نظام حیات ہے۔ اس لیے تصوف کے واضح اور غالب اثرات کے باوجود ان کی تحریک اور شخصیت کو سیاسی حوالے سے زیادہ نمایاں کیا جاتارہا۔ بظاہر اس کاسبب مغربی اور مغرب زدہ اذہان کا ’مذہب ‘ اور ’سیاست ‘ کو دو الگ خانوں میں تقسیم کرناہے،جس کے بعد ’مذہب ‘ سے وابستہ کسی بھی فرد کے سیاسی عمل میں حصہ لینے کو اصول سے انحراف سمجھا جاتا ہے، جب کہ امام البناہوں یا سید مودودی، دونوں کی دعوت کا مقصد روایتی مذہبیت اور روایتی روحانیت سے بغاوت کرتے ہوئے، ایک انقلابی فکر کے ذریعے علامہ محمد اقبال کی طرح ،اسلامی فکر اور معاشرے کی تشکیل جدید کرنا تھا۔مغربی نگارشات میں اس اختیار کردہ جدید (innovative) اور غیر روایتی طرز عمل کو بہ تکرار ’قدامت پرستی ‘ اور ’روایت پرستی ‘کہنا دراصل اصطلاحات کو گڈمڈ کرکے قارئین کی فکر کو پراگندہ کرناہے۔ جس طرح امام ابن تیمیہ نے اپنے دور کی روایت پرستی کو رد کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ نہ صرف مختلف تعبیراتِ فقہ حتیٰ کہ صحابہ کرام کے اجماع کو بھی وہ مقام نہیں دے سکتے جومقام اتباع قرآن و سنت کا ہے۔ چنانچہ انھوں نے فقہ کے تخلیقی عمل کو اجماعِ صحابہ کا پابند بھی کرنا پسند نہیں کیا۔ یہ طرزِفکر ہرزاویۂ نظر سے انقلابی‘ اجتہادی تھا اور روایت پرستی کے رد پر مبنی تھا، لیکن بہت سے حضرات نے اسے ’سلطنت‘ کا عنوان دے کر بزرگوں کی اطاعت کہنا شروع کردیا۔ بالکل اسی طرح امام البنا نے سلف صالح سے پوری عقیدت کے باوجود دور جدید کے معاملات میں اجتہاد پر زور دیا۔ مولانا مودودی کا بھی یہی جرم روایت پرست فقہا اور قدامت پسند صوفیا کے نزدیک ناقابل معافی فعل تھا کہ وہ معاشی ، سیاسی ، معاشرتی ، ثقافتی اور قانونی معاملات میں براہِ راست قرآن وسنت کی روشنی میں جدید حل تلاش کرکے ایک اسلامی ریاست اور معاشرے کی تشکیل چاہتے تھے۔
امام البنا اور سید مودودی کا حالات کا تجزیہ اور معاشرتی ، معاشی ، ثقافتی اور سیاسی مسائل کا قرآن و سنت کی روشنی میں حل تلا ش کرنا نہ صرف روایت پرست فقہا اور قدامت پرست صوفیا بلکہ جدیدیت کے علم بردار مغربی مفکرین کے لیے بھی قابل قبول نظر نہیں آتا۔ اسی لیے قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کو، نامعلوم خدشات اور وجوہ کی بنیاد پر یکایک بنیاد پرستی کی دعوت کا عنوان دے دیا جاتاہے:
"Thus Banna's reaction to the crisis milieu was to advocate a return to the basis of Islam the call to fundamentlism.Banna's da'wah was a direct descendent of earlier revival movements.۸؎
بحرانی حالات میں حسن البنا کا ردعمل اسلام کی اصل کی طرف رجوع کی وکالت تھا، یعنی بنیاد پرستی کی طرف دعوت۔ حسن البنا کی دعوت ماقبل احیائی تحریکوں کا راست ورثہ تھی۔
بنیاد پرستی اپنے اصطلاحی یورپی پس منظر میں مغربی لادینی تہذیب کے لیے ایک خطرے کی حیثیت رکھتی ہے۔ بنیاد پرستی کی اصطلاح کا تعلق اسلام سے ہو یا عیسائیت سے، ہر شکل میں یورپی ذہن اس کے ساتھ نباہ کرنے سے اپنے آپ کو قاصر پاتاہے، جب کہ سادہ لوح مسلمان مفکرین بنیاد پرستی کے لفظی مفہوم یعنی دین کی بنیاد ی تعلیمات پر عمل کرنے کو اس کا صحیح مفہوم سمجھتے ہوئے یورپی ذہن کی اس نفسیاتی بیماری کا صحیح طور پر ادرا ک نہیں کرپاتے، بلکہ بعض اوقات فخر سے کہتے ہیں کہ ’’الحمد للہ ارکان اسلام پر عمل کرتے ہیں اس لیے بنیاد پرست ہیں ‘‘۔ مفاہیم کا یہ غلط اختلاط ایک بڑی فکری رکاوٹ بن کر مغرب کو ایسے نتائج اخذ کرنے پر آمادہ کردیتاہے جن کا حقیقتِ واقعہ سے کوئی تعلق نہیں پایا جاتا اور سادہ لوح مسلم مفکرین بھی مغربی فکر کی بعض فنی اصطلاحات سے کماحقہٗ واقفیت نہ ہونے کے سبب اس مسئلے کو سلجھانے میں کوئی پیش رفت نہیں کرپاتے۔
امام البنا جس تصوف کے قائل ہیں وہ قوم کو جگانے والا، تزکیۂ نفوس کے ذریعے معاشرتی عدل قائم کرنے والا اور مظلوم کو ظلم سے نجات دلانے کے لیے جہاد پر آمادہ کرنے والا عمل ہے۔ اسی بنا پر ان کے حلقہ ہاے ذکر قائم کرنے اور اخوان کوالماثورات کا اہتمام کرنے کی ہدایت کے باوجود ان کی جو تصویر کشی مغربی مفکرین کرتے ہیں وہ نہ صرف مبالغہ آمیز بلکہ گمراہ کن حد تک غلط ہے۔ دو معروف تصنیفات ہماری راے کی توثیق کرتی ہیں۔ایک،اسحاق موسیٰ الحسینی کی تصنیف‘ جو اخوان المسلمون کی تحریک پر سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ ۹؎ دوسرے ،استاذ سعید حویٰ کی تصنیف الاخوان المسلمونبھی اس پہلو پر مستند اور براہ راست معلومات فراہم کرتی ہے۔۱۰؎
بنیادی طور پر مغربی مصنفین گھوم پھر کر جس پہلو کو اجاگر کرتے ہیں، اس کا تعلق یورپ کی تاریخ کے بعض اہم ادوار سے ہے۔ ان کے خیال میں یورپ کی معاشی ، علمی ،اور سیاسی ترقی و استحکام کا تعلق براہ راست مذہب کو پس پشت ڈال کر زندگی کے معاملات میں مادی اور ٹکنالوجیکل ترقی کو رہنما بنانے سے ہے۔ اس لیے اسلامی تحریکات کا احیاے دین کی دعوت دینا ان اہلِ مغرب کے نزدیک تاریک ماضی کی طرف لوٹنے کے مترادف ہے اور اسی بنا پر وہ ان تحریکات کو بنیاد پرست قرار دیتے ہیں۔ امام البنا نے اپنے رسائل میں یہ بات وضاحت سے بیان کی ہے کہ ان کا تصور دین ، روایتی مذہبیت اور روایتی روحانیت دونوںسے مختلف ہے۔ وہ سید مودودی کی طرح دین کی شامل و کامل تعریف کرتے ہیں اور مذہب کو محض عبادت اور رسومات تک محدودتصور نہیںکرتے۔
اس پہلو سے دیکھا جائے تو دونوں تحریکات میں غیر معمولی فکری قربت کے باوجود انتظامی اور حکمت عملی کے بعض امور میں جزوی اختلاف پایا جاتاہے۔ جو چیز دونوں تحریکات کا امتیاز کہی جاسکتی ہے وہ دونوں کے قائدین میں غیر معمولی قوت کار اور شخصیت کی جاذبیت ہے ،جس کی بنا پر البنا ہزار ہا ارکان کے لیے ایک مرشد اور رہنما کی حیثیت اختیار کرگئے۔ بعض مغربی مصنفین بھی اس راز سے واقف نظر آتے ہیں اوربرطانوی مستشرق بشپ کینتھ کریگ اس طرف اشارہ کرتا ہے:
" The secret of its success lay in the force and dedication of its Ideas and in the extraordinary energy almost in its quality of al-Banna himself.He combined the meticulousness of a watch maker with the drives of a prophet.۱۱؎
اس کی کامیابی کا راز اس کے نظریات کی طاقت اور خلوص اور حسن البنا کی طرح کی غیرمعمولی توانائی تھا۔ ان میں ایک گھڑی ساز کی باریک بینی اور ایک نبی کی قائدانہ قوتوں کا امتزاج تھا۔
اگر غور کیا جائے تو ان دوصفات سے متصف شخص کو’جنگ جو‘یا شدت پسند کہنا ایک منطقی تضاد ہی کہا جاسکتاہے۔ لیکن امام البنا کی دعوت وشخصیت سے واقفیت کے باوجود تان آکر ٹوٹتی اسی بات پر ہے کہ البنا دور جدید میں پائی جانے والی تشدد پسند تحاریک کے محرک تھے۔ امام البنا کا معاشرتی اصلاح کا تصور خود بعض مغربی مستشرقین کی زبان میں کچھ یوں نظر آتاہے کہ امام البنا کی دعوت کا پہلانکتہ یہ تھا کہ قرآن کی جدید تعبیر کی ضرورت ہے اور سائنسی حقائق کے علم کے ساتھ قرآن کے مفہوم کو بیان کیا جانا چاہیے۔ثانیاً، مغربی سامراج سے نجات کی خواہش کا یہ مطلب نہیں کہ مغربی ایجادات اور تحقیقات سے استفادہ نہ کیا جائے۔ ثالثاً، سرمایہ دارانہ اور اشتراکیت پر مبنی معاشی نظام سے نکل کر ایک سرمایہ کار (enterprenuer) کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ وسائل تک دسترس حاصل کرے اور معاشی میدان میں اپنا کردار ادا کرسکے۔ رابعاً ،امت کے اندر مسلکی اختلافات سے بلند ہو کر صرف قرآن و سنت کی بنیاد پر یک جہتی کا قیام عمل میں لایا جائے،خامساً، اسلامی معاشرے کو خودکفیل بنانا تاکہ وہ فطری انداز میں ترقی کرلے۔سادساً ،قومی افق پر اعتماد اور قومی صفات کا پیدا کرنا، تاکہ سامراجی دورکے منفی اثرات سے نجات حاصل کی جاسکے۔ ۱۲؎
البنا کی دعوت کو سمجھنے اور اتنے اچھے انداز میں بیان کردینے کے بعد بھی اگر یہی مغربی مصنفین یہ نتیجہ نکال بیٹھیں کہ البنا ایک ’جنگ جو‘،’تشدد پسند‘ رہنما تھے تو یہی کہا جاسکتاہے کہ
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
یعنی مستشرقین نے البنا کی شخصیت کے حوالے سے ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں جو تعریفی بھی ہیں اور ان کی من مانی تعبیر بھی کی جاسکتی ہے ،مثال کے طور پر:
"Hassan al-Banna, more than any Individual, can be considerd the atvair of the twentieth Century Sunni revivalism. He was the unique embodiment of the Sufi spiritualist, Islamic scholar and activist leader who possessed a rare ability to evoke masses., support by translating doctrinal complexities into social action.۱۳؎
کسی بھی فرد سے زیادہ‘ حسن البنا کو ۲۰ویں صدی کے سنّی اسلام کے احیا کا روح رواں قرار دیا جاسکتا ہے۔ وہ صوفی روحانی شیخ، مفکر اسلام ، اور سرگرم قائد کا منفرد اظہار تھے جو عوام کو اُبھارنے اور عقیدے کی پیچیدگیوںکو عوامی اقدامات میں تبدیل کرنے کا شاذ ملکہ رکھتے تھے۔
امام البنا کی ان قائدانہ روحانی صفات کی بنا پر اسی مصنف کا یہ تبصرہ ہے کہ مشہور مغربی ماہر نفسیات ارکسن (Ereckson)نے ایک متاثر کرنے والے قائد کی جو صفات بتائی ہیں وہ سب امام البنا میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔
امام البنا نے جس تدریجی حکمت عملی سے اپنی دعوت کا آغاز کیا اور ایک وسیع تر حلقہ کو براہِ راست مخاطب کیا، وہ انبیا کے طریقِدعوت کے عین مطابق نظر آتاہے۔ البنا نے نہ صرف عوام الناس ، وکلا ، انجینیروں ، اطبا ،تاجروں بلکہ خود فرماںروائوں کو دعوتی خطوط کے ذریعے اپنی جماعت میںشمولیت کی دعوت دی بلکہ ایک مرحلے میں فوج کے نوجوان افسران میں دعوت کی مقبولیت اس حد تک پہنچی کہ ۱۹۵۲ء میں فوجی انقلاب میں اخوان کی حیثیت ایک شریک کار کی قرار پائی۔
اگر تقابلی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ حکمت عملی سید مودودی کی تجویز کردہ حکمت عملی سے کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ سید مودودی ایک نظریاتی جماعت اور برسراقتدار گروہ میں ایک فاصلے کے قائل نظر آتے ہیں اور وقت کی قید سے آزاد ہو کر ایک طویل فریم ورک میں فرد ، خاندان، معاشرے اور ریاست میں تبدیلی و اصلاح کے حوالے سے بے انتہا پرامید نظر آتے ہیں، جب کہ،حسن البنا نے اس اصولی موقف کے ساتھ زمینی حقائق کو اہمیت دیتے ہوئے تبدیلی قیادت کے عمل کے جلد واقع ہونے کے لیے بعض مفاہمتی اقدامات کو اختیار کرنے میں کوئی تکلف محسوس نہیں کیا۔
اس کے باوجودرچرڈ پی مچل کا خیال ہے کہ،اگرچہ البنا نے اسلامی معاشرے کے ساتھ اسلامی ریاست کے قیام پر یکساں زور دیا ،لیکن وہ اسلامی ریاست سے کیامراد لیتے تھے ، اس میں نظمِ حکومت کس قسم کا ہوگا، اس کے اندرونی اور بیرونی تعلقات کس نوعیت کے ہوں گے؟ کیامغربی سیکولر جمہوریت کے بعض عناصر جوں کے توں اسلامی ریاست میں شامل کرلیے جائیں گے۔؟ غرض اس نوعیت کے سوالات جو تفصیل طلب ہیں، ان کے بارے میں امام البنا نے کسی متعین راے کا اظہار نہیں کیا۔ اس کے مقابلے میں سید مودودی نے اسلامی ریاست کے حوالے سے ایک جامع اصولی اور عملی نقشہ مرتب کیا ،اور دستوری اور انتظامی حیثیت سے جو تبدیلیاں لانی ضروری تھیں ان پر قلم اٹھایا۔۱۴؎
حسن البنا کو حالات کا پورا علم تھا اور اپنی قوت کا اندازہ بھی تھا۔ اس بنا پر انھوں نے حالات کو تبدیل کرنے میں جلدبازی کی جگہ ایسی حکمت عملی اختیار کرنا چاہی جو دوررس نتائج پیدا کرسکے۔ اس میں وہ کہاں تک کامیاب ہوسکے یہ ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے۔ لیکن یہ بات شواہد کی بنا پر کہی جاسکتی ہے کہ یہ تدریجی حکمت عملی ایک وسیع تر وقت کے فریم ورک سے وابستہ تھی۔۱۵؎
مچل کی اس راے سے ہمیں واضح اختلاف ہے کہ چونکہ بعض سیاسی مسائل پر امام البنا کی راے متعین نہ تھی یہ قیاس کرلیا جائے کہ اسلامی معاشرت اور ریاست کے بارے میں امام البنا کے ذہن میں کوئی نقشۂ کار ہی نہ تھا۔ امام البنا اپنے دور میں حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد ایک اصلاحی تحریک کو لے کر اٹھے ،جسے مسلم امت کی سیاسی اور معاشی زبوں حالی کاپورا ادراک تھا۔ اس مناسبت سے علمی حلقوں میں اسلام کے سیاسی نظام کے حوالے سے علی عبدالرازق کی کتاب نظام الحکم فی الاسلام جس میں انھوں نے یہ دعویٰ کیاکہ قرآن و سنت سے کسی واضح اسلامی ریاست کا نقشہ نہیں بن سکتا، زیربحث تھی، جب کہ رشید رضا نے خلافت کے عنوان پر ایک عالمانہ کتاب لکھ کر یہ سمجھانا چاہا کہ کس طرح تاریخ کے حوالے سے اسلامی ریاست کا وجود ممکن ہے۔ اس لیے شیریںہنٹر کا یہ خیال یا لیری پوسٹن کایہ سمجھنا کہ امام البناکے سامنے معاشرے اورر یاست کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ بندی اور نظام کا نقشہ موجود نہ تھا ۱۶؎ ایک گمراہ کن تصور نظر آتاہے۔ یہ الگ بات ہے کہ امام البنا نے اسلامی ریاست کے عنوان سے کوئی کتاب نہ لکھی ہو، لیکن ان کی دعوت کا بنیاد ی ہدف معاشرے کے ساتھ ساتھ ریاست کی اصلاح اور تبدیلیِ قیادت و اقتدار تھا، جو ان کی دیگر تحریروں میں واضح نظر آتاہے۔
امام البنا کی شخصیت ، نظام تربیت اور خصوصاً اذکار اور تزکیۂ نفس پر توجہ پہ غور کیا جائے تو آسانی سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتاہے کہ ان کی ابتدائی تربیت اور امام غزالی سے متاثر ہونے کی بنا پر ان کا رجحان تصوف کی طرف رہا، لیکن یہ وہ تصوف نہ تھا جو معاشرتی، معاشی اور سیاسی مسائل کو اہمیت نہ دیتاہو۔ البتہ مغربی مفکرین کو اس میں جو دقت پیش آتی ہے وہ امام البنا کے مائل بہ تصوف ہونے کے باوجود سیاسی زندگی میں فعال ہونا، پھر بذات خود الیکشن میں حصہ لینا اور اپنی دعوت کے نکات میں اس بات کا کھل کر اعتراف کرنا کہ ہم اسلامی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔
یہی وہ پہلو ہے جس کی بنا پر ۲۰ویں صدی کی اسلامی تحریکات کو Political Islamیا سیاسی اسلام ،کا طعنہ دیا جاتا ہے۔یہ کام نہ صرف مغربی مصنفین بلکہ ان سے متاثر بعض معروف مسلم دانش وروں نے بھی کیا، جو اسلام کی محض روایتی مذہبی تعریف پر یقین رکھتے تھے۔ وہ اس پورے عمل کودین کی سیاسی تعبیرقرار دیتے ہیں۔ امام البنا اور ان کی تحریک کے بارے میں یہ خیال درست نظر نہیں آتاکہ وہ دور جدید میں اسلامی ریاست کا واضح تصور نہیں رکھتے تھے۔ ان کی تحریرات سے ثابت ہوتاہے کہ وہ اللہ کی حاکمیت ، شورائیت ، امانت اور صلاحیت کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست کے قائل تھے۔ اگرامام البنا کو زندگی کی مزید مہلت ملتی تو وہ لازمی طور پر ان اصولوں پر مبنی مفصل خاکہ تیار کرتے۔ اس کے مقابلے میں سید مودودی کو یہ امتیاز حاصل رہا کہ وہ نہ صرف اصولی طور پر بلکہ عملی طور پر، ایک اسلامی ریاست کے خدوخال، اس میں پارلیمنٹ ،عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات اور اہل کاروں کی خصوصیات کے حوالے سے اپنے خیالات کو تفصیل سے تحریری شکل میں پیش کرسکے۔
امام البنا جس معاشرے اور ریاست کی تعمیر کے لیے کوشاں تھے، اس میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ ظاہر ہے یہ کام ریاست کی قوت نافذہ کے بغیر نامکمل رہتا، نہ صرف یہ بلکہ ان کی جانب سے بار بار کھلے الفاظ میں بیرونی سامراج سے نجات کی دعوت میں بھی یہ بات شامل تھی کہ مقامی آمروں ،بادشاہتوں اور موروثی نظام کی جگہ قرآن و سنت کا دیا ہوا نظام نافذ ہونا چاہیے۔
اپنے آخری ایام میں ان کو اس بات کا احساس ہوچلا تھا گو بعض حالات میں عسکری تنظیم کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں ہوسکتاجس طرح کہ فلسطین میں اخوان المسلمون نے عملاً حصہ لے کر مسجد اقصیٰ کا دفاع کیا ، لیکن اندرونی معاملات میں مسائل کا حل، سیاسی حکمت عملی ، مکالمہ اور مسلسل تعلیم وتربیت ہی سے کیا جاسکتاہے۔
یہ عجب اتفاق ہے کہ امام البنا اور ان کی تحریک کو اپنی دعوت کے اصولوں کے لیے ایک امن پسند ، صلح جو اور داعیِ اصلاح ماننے کے باوجود، صرف جہاد فلسطین میں شرکت اور برطانوی اور اطالوی سامراج کی مخالفت کی بناپر بنیاد پرست اور شدت پسند کہا گیا۔ بالکل اسی طرح پاکستان میں جہاد کشمیر کی حمایت کرنے والی جماعت اسلامی کو بنیاد پرست اور شدت پسند ہونے کا الزام دیا جاتا رہا۔ گو زمینی حقائق اس بات کے گواہ ہیں کہ ان تحریکاتِ اسلامی نے ہمیشہ دستوری ذرائع سے اصلاح حال اور تبدیلیِ اقتدار کی دعوت دی اور اس بنا پر ان تحریکات کا جمہوریت پسندی کا ریکارڈ وقت کی سب سے زیادہ جابر و ظالم ریاست امریکا سے کئی ہزار گنا زیادہ جمہوری اور شفاف ہے۔
امام البنا جس طرح اپنی تعلیمی ، تذکیری اور تربیتی حکمت عملی کے نتیجے میں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ افراد میں عوام الناس کی سطح پر اپنی دعوت کو پھیلانے میں کامیاب ہوئے ،اس کی کوئی اور مثال ۲۰ویں صدی میں نظر نہیں آتی۔ دیگر تحریکاتِ اسلامی کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اور ان کی قیادت کو تجزیہ کرنے کے بعد یہ سوچنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ نصف صدی سے اوپر کام کرنے کے باوجود عوام میں ان کا وہ نفوذ اس درجے میںکیوںنہ ہوسکا، جو امام البنا نے ۱۹۲۸ء سے ۱۹۴۸ء تک محض ۲۰سال میں حاصل کرلیاتھا اور جب ۱۹۴۹ء میں وہ شہید کیے گئے تو اخوان المسلمون دنیاے اسلام کے نقشے پر ایک بین الاقوامی تحریک بن چکی تھی۔
اسی دوران ،امام حسن البناکی جانب سے محمد البنا اور محمود الحافظ ہمارے پاس آئے۔ امام کا طریقہ کار تھا کہ جب بھی گرمیوں کا موسم آتا تو آپ اپنے ساتھیوں کومختلف علاقوںمیں داعی بناکر بھیجتے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے تھے۔ ہمارے نصیب میں حسن البنا کے بھائی محمد البنا اور ان کے ساتھ محمود الحافظ آئے۔ ان کے پاس اخوان المسلمون کا دعوتی لٹریچر بھی تھا۔
اخوان المسلمون کے لٹریچر میں اخوان کا یہ عقیدہ واضح کیاگیا تھا کہ:’’ ہمارے تمام امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نبی ہیں۔ جزا و سزا کا دن برحق ہے۔ قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے ،جس میں دین اوردنیا کی بھلائی ہے۔ میں عہد کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو قرآن کریم کی جماعت میں شامل کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت کا مطالعہ کروں گا‘‘۔
میں اس وقت ثانویہ کے چوتھے سا ل میں تھا۔ محمد البنا بھی میرے ساتھ چوتھے سال میں تھے، لیکن اگلے سال جب ہم ثانویہ سے فارغ ہوئے تو وہ شعبہ ادب میں چلے گئے اور میں نے کلیہ اصول الدین میں داخلہ لے لیا۔
میں بات کررہاتھا کہ ہم نے فلسطین کے لیے فنڈ اکٹھا کیا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ یہ فنڈ محب الدین الخطیب کو بھیجا جائے۔ محب الدین الخطیب الفتح جریدہ نکالا کرتے تھے۔ انھوں نے مسئلہ فلسطین کے متعلق لکھا اور لوگوں کو اس مسئلے کے حقیقی پس منظر سے روشناس کرایا۔ اس وقت مسئلہ فلسطین کے متعلق زیادہ تر دو ہی: شخص محب الدین الخطیب اور رشید رضا لکھا کرتے تھے۔ محب الدین الخطیب الفتحمیں اور رشید رضا المنارمیں لکھا کرتے تھے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ خود عالم عرب میں بھی لوگ مسئلہ فلسطین سے بے خبر تھے۔
محمد البنا اور محمو د الحافظ ہمارے پاس آئے اور کہا کہ:’’فلسطین کے مسئلے سے ہماراتعلق ہے۔ ہمارے اور مجاہدین کے درمیان روابط ہیں۔ ہم انھیں اسلحہ اور مالی امداد پہنچاتے ہیں۔ آپ بھی فنڈ اکٹھا کرکے دیں ہم آگے پہنچا دیں گے‘‘۔ ان کے کہنے پر جمع شدہ فنڈ لے جا کر میں نے محب الدین الخطیب کے سپرد کردیا۔ ان حضرات کا شمار اخوان المسلمون کے بنیادی ، اہم ترین ارکان اور اوّلین داعیوں میں سے ہوتاتھا۔ انھوں نے مجھے اخوان المسلمون کی بعض کتابیں اور رسالے بھی دیے۔ پھر میں اپنے شہر واپس آگیا۔
حج کے موقع پر جامعہ ازہر نے حج کے لیے ازہری طلبہ کا ایک وفد بھیجنے کا اعلان کیا۔ حکومت نے اس وفد سے تعاون کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بحری جہاز کی کمپنی وفد سے آدھا کرایہ وصول کرے گی۔ مصری حکومت نے وفد میں شریک ہر فرد کو ۱۰مصری پائونڈ دینے کا اعلان کیا۔ دوسری جانب سعودی حکومت نے ٹیکس وغیرہ نہ لینے کااعلان کیا۔
ہمارے لیے یہ فریضہ حج اداکرنے کا سنہری موقع تھا۔ میں بھی حج وفد میں شامل ہوگیا۔ ہمارے دوست شیخ خلف السید نے حج پر جانے والوں کو اپنے گھر پر چائے کی دعوت دی۔وہ اس وقت ہمارے ساتھ طالب علم تھے۔ بعد میں وہ مجمع البحوث الاسلامیہ کے ڈائرکٹر بنے۔ چائے کی نشست کے دوران میں انھوں نے بتایا کہ الشیخ حسن البنا نے جامعہ ازہر کے حج وفد کے لیے دعوت کا اہتمام کیاتھا۔ آپ کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ میں نے کہا اللہ تیرا بھلا کرے میری تو ان سے ملنے کی بڑی خواہش تھی۔ تم نے موقع ضائع کردیا ، چائے کا کپ توبعد میں کبھی پی لیتے لیکن ان سے ملاقات ---؟ انھوں نے کہا کہ فکر نہ کریں شیخ حسن البنا حج وفد کو الوداع کہنے کے لیے ریلوے اسٹیشن پر بھی جائیں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ خود طلبہ اور اساتذہ کے وفود کو خدا حافظ کہیں۔
مصر کی کسی جماعت یا تنظیم نے حاجیوں کو دعوت نہیں دی تھی۔ صرف امام حسن البنا نے حج پرروانہ ہونے والوں کی دعوت کا اہتمام کیا، انھیں ریلوے اسٹیشن پر الوداع کہا۔ ہم اسٹیشن پر امام حسن البنا سے ملے۔ میں ان سے مل کر بے پناہ خوش تھا۔ امام حسن البنا،کی شخصیت سنت کے مطابق ڈھلی ہوئی تھی ، ان کی داڑھی سیاہ تھی۔ انھوں نے ملتے ہوئے مجھے گلے لگالیا ، میرے لیے مسنون دعا پڑھی: استودعکم اللّٰہ دینک و امانتک و خاتم عملک و زودک اللّٰ بالتقوی۔ میں آپ کے دین آپ کی امانتوںاور آ پ کے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتاہوں،اللہ تعالیٰ آپ کے تقویٰ میں اضافہ فرمائے۔ پھرانھوں نے مجھے وہی بات کہی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ سے کہی تھی۔ انھوں نے فرمایا :’’اپنی دعائوں میں اپنے بھائی کو نہ بھولنا‘‘۔ میری ان سے یہ پہلی ملاقات تھی۔
امام حسن البنا کا ایک تعارف ان کی کتب پڑھ کر ہواتھا ،لیکن میںنے انھیں تصوراتی طور پر پہچانا تھا ، حج پر جانے والے ان کے ساتھیوں کے درمیان رہ کرمجھے خود امام البنا کو عملی طور پر جاننے کا موقع ملا۔ جیسے ہی ہم بندرگاہ پہنچے تو کچھ نوجوان ہماری بس کی طرف لپکے۔ انھوں نے ہمارا سامان اتارنا شروع کردیا۔ ان میں سے بعض نوجوان بس کے اوپر چڑھ گئے تھے اوروہ نیچے والوں کو سامان پکڑاتے۔ میںنے سمجھا شاید یہ بحری جہاز کے ملازمین ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اخوان المسلمون کے اعلیٰ درجے کے تعلیم یافتہ نوجوان تھے، جو اپنے بھائیوں کی بے لوث خدمت کے لیے کوشاں تھے۔ ہم بحری جہاز پر سوار ہوگئے۔ جہاز والوں نے ہماری پذیرائی کی۔ ہم ازہری طلبہ کی مالی حالت کمزور تھی ،اس لیے تیسرے درجے میں سوار ہوئے۔ جامعہ کے اساتذہ صاحب استطاعت تھے، وہ دوسرے درجے میں سوار ہوئے۔ ہمارا سامان:ایک تکیہ، ایک کمبل ، ایک جاے نماز اور ایک بیگ پر مشتمل تھا۔ اخوان المسلمون کے ان نوجوانوں میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو قرآن نہ پڑھتا اور تہجد نہ ادا کرتا ہو۔بحری جہاز میںایک کشادہ صحن تھا۔ یہ تمام نوجوان ہمارے ساتھ صحن میں باجماعت نماز اداکرتے۔ ان میں سے ایک شخص کو اذان دینے کابہت شوق تھا، وہ ڈاکٹر عبدالمنعم فتحی تھے۔ عبدالمنعم فتحی اس وقت میڈیکل کالج میں سال اول کے طالب علم تھے۔ بعدازاں وہ میڈیکل کالج کے فیکلٹی ڈین بنے۔ اشتراکی روس میں ان کے ہاتھ پر لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا۔
جب ہمارا قافلہ سعودی عرب پہنچا تو سعودیہ کے شاہ عبدالعزیز کی جانب سے ہماری رہایش کا انتظام کیاگیا تھا۔ یہ وفد ۳۵افراد پر مشتمل تھا جس میں ۴اساتذہ اور باقی طلبہ تھے۔ البتہ ازہر یونی ورسٹی کے دوسرے وفود کو شامل کرکے یہ تعداد ایک سو تک پہنچ جاتی تھی۔ شاہ عبدالعزیز کی جانب سے ترکوں کے اسکول کی ایک بڑی عمارت میں ہماری رہایش کا انتظام تھا۔ سعودی عرب کے فوجی جوانوں کی حالت خستہ تھی۔ ان کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب سعودی عرب میں تیل کے ذخائر دریافت نہیں ہوئے تھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہرمدینہ منورہ روانگی کی تیاری ہے، لیکن بس پر سوار ہونے کے لیے جھگڑا ہو رہا ہے۔چار وناچار ہم اساتذہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ ہماری بس کون سی ہے، شیخ غرباوی نے احمد امین سے کہا کہ ہم اکٹھے آئے ہیں اور اکٹھے واپس جائیں گے‘‘۔ احمد امین نے جواب دیا :’’آپ کی بس موجود ہے۔ آپ اس میں جا کر سوار ہوجائیں‘‘۔ ہم نے کہاکہ:’’ لیکن وہ بس ہے کہاں ذرا ہمیں بھی دکھادیں‘‘۔ احمد امین نے کہا کہ:’’ تم نے اس طرح بات کرکے میری بے عزتی کی ہے‘‘۔ ہم نے جواب دیا کہ صرف اتنا ہی تو پوچھا ہے کہ ہماری بس کہاں ہے۔ اس میں بے عزتی کی کیا بات ہے۔احمد امین نے کہا کہ ہمارے ہاں اس طرح بات کرنے کو بے عزتی سمجھا جاتا ہے۔ غرباوی صاحب نے ہم سے کہا چھوڑیے، یہ لوگ نہیں جانتے کہ وہ اللہ کے نزدیک کتنی بڑ ی بات کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :ومن یردفیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم۔ ’’اس مسجد (حرام ) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے‘‘۔ شیخ غرباوی ہمیں وہاں سے لے گئے۔ انھوں نے کمپنی سے بات کرکے بس کا انتظام کیا۔ ہم سب سے آخر میں چلے لیکن یہ اللہ کا فضل و کرم تھا کہ سب سے پہلے مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ اخوان المسلمون کے طلبہ نے جھگڑا کرنے والے طلبہ کو سمجھا یاتھا کہ بس پر سوار ہونا ان کا بھی حق ہے، لیکن دوسرے طلبہ نے بات تک نہ سنی۔جن صاحب نے شیخ غرباوی سے کہا تھا کہ تم نے ہماری بے عزتی کی ہے ، ان کی بس راستہ گم کربیٹھی ،اور تین دن تک صحرا میں بھٹکتی رہی۔ آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت مکہ سے مدینہ تک سڑک پختہ نہیں ہوا کرتی تھی۔ گاڑیاں ریت پر چلتی تھیں۔ گردو غبار سے آگے جانے والی گاڑیاں نظر نہ آتی تھیں۔ بس کا ڈرائیورراستہ گم کربیٹھا اور ایسی وادی میں پہنچ گیا جس کا نام وادی النار یعنی آگ کی وادی تھا۔ واللہ اس کا نام وادی جہنم تھا۔ ان دنوں ہیلی کاپٹر وغیرہ بھی نہیں ہوتے تھے کہ صحرا میں گم شدہ گاڑیوں کو ان کے ذریعے تلاش کرلیا جائے۔ گم شدہ گاڑی کی تلاش کے لیے بدوئوں کو بھیجا گیا۔ بالآخر تین دن کے بعد انھیں تلاش کرلیا گیا۔لیکن معلوم ہے بھوک اور پیاس سے ان کا حال کیا ہوچکاتھا ؟ خوردو نوش کی تمام اشیا ختم ہوچکی تھیںاور وہ پینے کے لیے اپنا پیشاب تک برتن میں محفوظ کرنے پر مجبورتھے۔
اس وقت مدینہ منورہ کے دروازے شام کے وقت بند کردیے جاتے تھے۔ شام سے پہلے شہر میں داخل ہوگئے تو ٹھیک ،ورنہ مدینہ میں داخلے کے لیے صبح تک انتظا ر کرنا پڑتا۔ ہم غروب آفتاب سے پہلے مدینہ پہنچ گئے اور حکومت نے جہاں پر ہماری رہایش کا انتظام کیا تھاسیدھا وہاں چلے گئے۔ یہ قصہ اخوان المسلمون کے نوجوانوں کی سیرت کی ایک مثال ہے۔ اُن نوجوانوں کی مثال ہے جنھوں نے امام حسن البنا سے تربیت حاصل کی۔ جو نیکی ، بھلائی ، تعاون ، قربانی اور ایثار کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہتے۔ وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے تھے اور اللہ ان کا حامی و ناصر تھا،سبحان اللہ۔
ہم حج سے واپس مصر آئے تو میری سب سے اولین خواہش اس شخصیت سے ملاقات تھی جنھوں نے ان نوجوانوں کو تربیت دی تھی۔ یہ نوجوان جو میری ڈیوٹی پر خود برتن صاف کرتے، جو میرا سامان اٹھاتے ، جو با جماعت نماز ادا کرتے، جو قرآن پاک کی تلاوت کرتے ، جو ذکر اللہ میں مشغول رہتے ، جو تہجد پڑھتے ، صبر اور شکر کے راستے پر چلتے ،ان نوجوانوں کا شیوہ نیکی ، بھلائی ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تھا۔ انھی نوجوانوں کے شیخ سے ملنامیری سب سے بڑی خواہش تھی۔میں اس وقت قاہرہ میں تُصن روڈ پر مقیم تھا۔ اسی روڈ پر ایک طالب علم رہتاتھا ، جمال عامر۔ وہ فیکلٹی آف فارمیسی کا طالب علم تھا اور امام حسن البنا کے نمایندے کی حیثیت سے ہمارے شہر کا دورہ بھی کرچکاتھا۔ ایک دفعہ اسی روڈ پر میری اس سے ملاقات ہوگئی۔ اس نے مجھ سے پوچھا تم کس جگہ مقیم ہو ؟ میں نے بتایا کہ اسی شارع پر رہتا ہوں۔ اس نے کہا میرا گھر بھی یہیں پر ہے اور بتایا کہ آج منگل کا روز ہے۔ آج الشیخ حسن البنا کا ہفتہ وار درس ہے۔ میں نے اس پر بارک اللہ فیک کہااور ہم درس سننے چلے گئے۔ اس وقت اخوان المسلمون کا مرکز ( دارالاخوان) عقبہ میںتھا۔ عقبہ ، قاہرہ کا سرسبز علاقہ ہے۔ مختلف علاقوں ،عباسیہ مصر الجدید،الشافعی،سیدہ زینب اور شُبرہ سے آنے والی ٹرامیں یہیں آکر ملتی ہیں۔ اخوان اسی گھر میں آکر آپس میں ملتے تھے۔یہ قدرے کشادہ مکان تھا۔ اس میں پانچ کمرے تھے اور ایک وسیع و عریض صحن تھا، جہاں پر کرسیاں لگی ہوئی تھیں اور امام حسن البنا درس قرآن کریم دے رہے تھے۔ یہ مرکزازہر روڈ کے ساتھ ملی ہوئی سڑک پر واقع تھا۔
درس ختم ہوا تو ایسے محسوس ہوا کہ مجھ میں نئی روح پھونک دی گئی ہے۔ پھر ہم ان سے ملنے کے لیے آگے بڑھے۔ انھوں نے دو ماہ کے بعد بھی مجھے پہچان لیا۔ بڑی گرم جوشی سے گلے لگایا اور کہا خوش آمدید۔ امام کو محمد البنا نے ہمارے بارے میں بتادیا تھا کہ یہ کچھ نوجوان ہیں جو جذبہ رکھتے ہیں اور انھوں نے فلسطین کے لیے فنڈ اکٹھا کیاہے۔ اس طرح میرے بارے میں ان کو کچھ اندازہ تھا۔ دفتر سے نکلنے سے پہلے ہی میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرچکاتھا کہ :’’میرا ایمان اللہ پر ہے ، میرا عمل میرے دین کے لیے ہے ، مجھے اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔ ایمان ، عمل اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں‘‘۔
پھر میلا دالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دن آیا۔ مصر میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم بڑے جوش و خروش سے منایا جاتاہے۔ مصر کی ہر وزارت میں بڑے بڑے شامیانے لگائے جاتے جن میں محفل اذکار کا اہتمام ہوتا۔ سب لوگوں کے دل متوجہ ہوتے ہیں ، ایسے میں انھیں سیرت کا حقیقی پیغام پہنچانے اور سمجھانے میں بہت مدد ملتی ہے۔اس لیے اخوان المسلمون بھی ان تقریبات میں پوری گرم جوشی سے حصہ لیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ اس سال ہم نے ان تقریبات میں انگریزوں اور یہودیوں سے بائی کا ٹ کے حوالے سے لٹریچر تقسیم کیا۔ برطانوی انگریز وں ہی نے یہودیوں کو سرزمین فلسطین دینے کا وعدہ کیااور اس طرح عالم اسلام کے سینے میں خنجر گھونپاتھا۔ انگریزوں ہی نے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے فلسطین میں اس شجر خبیثہ کا بیج بویاتھا۔ انگریزوں ہی نے مال و دولت ، اسلحہ اور ہر طریقے سے یہودیوں کی مدد کی تھی۔
فلسطین زندہ باد، یہودی مردہ باد ، انگریز مردہ باد
اچانک پولیس کی گاڑیاں اخوان المسلمون کو گرفتار کرنے آگئیں۔ لوگ یہ منظر دیکھ کربڑے حیران ہوئے کہ اخوان المسلمون کے نوجوان بلاخوف ،خود پولیس کی گاڑیوں پر چڑھ گئے۔ انھوں نے انگریزوں اور یہودیوں کے خلاف نعرہ بازی کی۔ یہ بڑی دل چسپ بات تھی کہ پولیس آپ کو گرفتار کرنے آتی ہے اور آپ خود کو د کر گاڑی پر چڑھ جاتے ہیں۔
حکومت کو احساس ہواکہ یہ تو ایک ہمہ گیر اور منظم جماعت بن گئی ہے۔اس نے جماعت کو ختم کرنے کے لیے کارروائی شروع کردی۔ اللہ تعالیٰ نے اخوان المسلمون کو ثابت قدم رکھا اور یہ قافلہ رواں دواں رہا۔ اخوان، فلسطین کی مدد کے لیے لکھتے، فلسطین کے لیے تقریریں کرتے ، ان کے لیے دعائیں کرتے ، ان کے لیے فنڈ جمع کرتے۔ تب مسئلہ فلسطین عروج پر تھا۔
ہم نے مصر میں موجود یہودی تاجروں اور کمپنیوں کے بائی کاٹ کا فیصلہ کیا ،ہمارے ساتھی یہودیوں کی دکانوں کے سامنے کھڑے ہوتے اور خریداروں کو یہودیوں کی دکانوں سے خریداری کرنے سے روکتے۔ ان کو کہتے :’’ تم اپنی دولت یہودیوں کو دے رہے ہو ،اس سے وہ تمھیں قتل کریں گے۔ تمھارے مسلمان بھائیوں کو قتل کریں گے اور تم سے مسجد اقصیٰ کو چھینیں گے۔ ‘‘یہودیوں کی دکانیں بڑی بڑی تھیں۔ یہ دکانیں نہیں بلکہ بازار تھے۔ ان میں گھریلو استعمال کی ہرچیز فروخت ہوتی تھی اورمصر کے تمام بڑے شہروں سکندریہ ، قاہرہ ، المنصورہ، ہرجگہ ان کی شاخیں تھیں۔ جب ہم دکانوں کے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے اور خریداروں سے کہتے :’’خریداری کرکے تم یہودیوں کی مدد کررہے ہو ، یہودی جو کچھ کررہے ہیں ، کیا تمھیں اس کی خبر نہیں ‘‘۔لوگ ہماری بات سنتے اور مانتے تھے لیکن حکومت کی طرف سے ہمارا پیچھا اور نگرانی کی جاتی اور ہمیں گرفتار کرلیا جاتا۔
امام البنا نے کہا کہ فلسطین میں صف ماتم بچھی ہے ایسے میں جشن فتح کیسا۔سودمشق جانے کا پروگرام منسوخ کردیاگیا اور مجھے امام نے کہا کہ تم ہماری طرف سے فلسطین جائو ، وہاں کی صورت حال کا جائزہ لو اور ہمارے بھائیوں کو ہماری طرف سے حوصلہ و تسلی دینے کی سعی کرو۔ میں اسی روز شام پانچ بجے کی ٹرین سے قاہرہ سے غزہ کے لیے روانہ ہوگیا اور غزہ سے ہوتے ہوئے اگلے روز صبح ۱۰ بجے فلسطین کے اہم شہر ’’یافا‘‘پہنچ گیا۔ ۳۰:۱۲بجے خطبہ جمعہ شروع ہوناتھا۔ ساتھی مجھے یافا کی مرکزی جامع مسجد لے گئے اور خطبہ جمعہ کے لیے منبر پربٹھادیا۔ میں نے فلسطینی عوام پر طاری مایوسی کو امید و حوصلے میں بدلنے کی سعی کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آزمایش کڑی ہے لیکن یقین رکھو کہ تم تنہا نہیں نہ ہی قبلہ اول صرف تمھارا ہے ، امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قبلہ اول اور اس کا دفاع کرنے والوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ فلسطینیوں کو متحد و منظم کرنے کی کوششوں میں مزید اضافہ کردیاگیا۔ بد قسمتی سے اس وقت وہاں ان کی کوئی قیادت موجود نہیں تھی۔ مفتی اعظم امین الحسینی کو بھی ملک چھوڑنے پر مجبور کردیاگیا تھا۔ فلسطین پہنچنے کے ایک ہفتے بعد میں نے مسجد اقصیٰ میں خطبہ جمعہ دیا اور پھر میں نے قریہ قریہ بستی بستی پروگرام کرنا شروع کردیے۔ میں نے ہر جگہ دیکھا کہ بیرون ملک سے لا کر بسائے گئے یہودیوں اور نسل درنسل وہاں مقیم فلسطینیوں کی آبادیوں میں بے حدتفاوت تھا۔ یہودیوں کو برطانیہ اور دیگر مغربی ملکوں کی طرف سے بے بہا سرمایہ ، آلات اور اسلحہ فراہم کیاجا رہاتھا۔ وہ دھڑا دھڑ زمینیں خرید کر آباد ہو رہے تھے‘ جب کہ فلسطینیوں پر غربت اور بھوک مسلط تھی۔
اسی لیے میں نے ضروری سمجھا کہ میں فلسطین میں رہوں اور فلسطینیوں میں مایوسی اور احساس شکست کے بجاے امید اور مزاحمت کا حوصلہ پیدا کروں۔ میں نے وہاں سے امام البنا کو تفصیلی رپورٹ ارسال کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں اسرائیلی ریاست قائم کرنے کے تمام تر انتظامات عملاً پورے کیے جاچکے ہیں اب صرف اعلان ہوناباقی ہے۔ اس عالم میں فلسطینیوں اور عالم اسلام کی ذمہ داری میں بہت اضافہ ہوچکاہے میں نے کچھ عملی تجاویز بھی ارسال کیں۔ اسی دوران مفتیِ اعظم مصر کے سرکاری دورے پر آئے وہ مرشد عام امام البنا سے بھی آکر ملے۔ امام البنا نے انھیں میرا تجزیہ اور تجاویز دکھائیں تو انھوںنے ان سے کامل اتفاق کیا۔
۱۹۴۵ء میں عرب لیگ تشکیل دی گئی تھی اس کے پہلے سیکرٹری جنرل عبدالرحمن عزام بھی وہاں تھے اور تقریباً تمام ممالک کے سفرا بھی تھے۔ جشن کے دوران ایک بڑے ہال میں تقاریر کا اہتمام کیاگیا تھا۔ مجھے دعوت خطاب ملی تو میں نے حمد و صلوۃ کے بعد کہا کہ میں آج فلسطین کے مفتی امین الحسینی کو سلام عقیدت پیش کرتاہوں کہ وہ فلسطین کے لیے ........اتنا ہی کہاتھاکہ پورا ہال زبردست نعروں اور تالیوں سے گونج اٹھا۔ دیر تک تالیاں بجتی رہیں حالانکہ ہر کوئی جانتاتھا کہ آج بننے والے ملک عبداللہ اور مفتیِ فلسطین کے درمیان سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مفتیِ اعظم کی وفاداری اللہ اور اس کے رسول ؐ سے تھی‘ جب کہ شاہ اردن کی تمام وفاداری اپنے عرش و اقتدار اور انگریزوں سے تھی۔ اسے شاہ کا لقب بھی اسی لیے دیا گیاتھا کہ فلسطین کے مغربی کنارے کو اردن سے ملاتے ہوئے شرق اردن اور غرب اردن کو ایک مملکت بنادیاجائے۔ شاہِ وفادار کو اس کا اقتدار اور باقی ماندہ فلسطین کو اسرائیل مان کر مسئلہ فلسطین سے نجات حاصل کرلی جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ساری سازش ناکام بنادی ان کی یہ ناکامی جہاد و مزاحمت کے باعث ہوئی ؟
اہل فلسطین نے مسلسل قربانیاں دے کر بھی علم جہاد کو سرنگوں نہیں ہونے دیا حالانکہ انگریزوں اور ان کے غلاموں نے جہاد سے نجات کی ہر ممکن کوشش کی۔ برصغیر میں جس طرح قادیانیت کا ناپاک پودا کاشت کرکے جہاد ساقط کرنے کی کوشش کی گئی اسی طرح مشرق وسطیٰ میں بہائیت سے یہ کام لینے کی کوشش کی گئی۔ یہودیوں نے بہائیت کی بنیاد رکھی۔ بہاء کی قبر فلسطین کے شہر عکا میں تھی اور عباس بہاء کی قبر حیفا میں دونوں کو بڑی شان و شوکت سے نوازا گیا۔ کیونکہ بہائیت میںجہاد کو حرام قرا دیا گیاہے۔مصر میں بھی اس کا بڑا مرکز بنایا گیا۔ شاہ فاروق کو بھی انھی صہیونی سازشوں کی تکمیل کے لیے استعمال کیاگیا۔ افسوس صد افسوس شاہ فاروق کا محل یہودیوں کا مدد گار و معاون تھا ،ملکہ کی خصوصی خادمہ یہودیہ تھی اور خود شاہ فاروق کے گرد یہودیوں اور عیسائیوں کا جھمگٹاتھا۔
’’تتجا فی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفا وطمعاً۔ ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں۔ اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں‘‘۔ اپنے مسائل اور مشکلات ایک دوسرے سے بانٹتے اگر کسی کوکوئی مشکل ہوتی ،کسی کے بچے کی پڑھائی کا مسئلہ ہوتا یا گھر میں کوئی بیمار ہوتا تو ہر ایک دوسرے سے حسب استطاعت تعاون کرتے، اس کو مشورہ دیتے۔
ان دنوں جماعت کے سیکرٹری جنرل احمد حسن الباقوری تھے۔ احمد حسن جامعہ ازہر کی یونین کے صدر بھی رہے تھے۔ انھوں نے ہی اخوان کے اسکائوٹس کا ترانہ لکھا جواخوان میں بہت مقبول ہوا:
یارسول اللہ ھل یرضیک أنا
ننفض الیوم غبارالنوم عنا
اخوۃ فی اللہ للإ سلام قمنا
لانھاب الموت لا بل نتمنی
أن یرانا اللہ فی ساح الفداء
إن نفسا ترتضی الاسلام دیناً
اوتری الإسلام فی أرض مھینا
ثم ترضی بعدہ أن تستکینا
ثم تھوی العیش نفس لن تکونا
فی عداد المسلمین العظماء
حبذا الموت یریح البائسین
فلنمت نحن فداء المسلمین
ویرد المجد للمستعبدین
سادۃ الدنیا برغم الکاشحین
ولیسد فی الأرض قانون السماء
ان للدنیا بنا أن تطھرا
قد قطعنا العھد ألانقبرا
نحن أسداللہ لا أسد الشری
أونری القرآن دستور الوری
کل شیء ماسوی الدین ھباء
أیقظت جمعیۃ الإخوان فینا
أسعدوا العالم بالإسلام حینا
روح آباء کرام فاتحینا
فاستجبنا للمعالی ثائرینا
وتسابقنا إلی حمل اللواء
غیرنا یرتاح للعیش الذلیل
إن حیینا فعلی مجد أثیل
وسوانا یرھب الموت النبیل
أوفنینافإلی ظل ظلیل
حسبنا أنا سنقضی شھداء
میں ان کے ساتھ صعید کے دورے پر بھی گیا ہوں۔ یہ ایک یاد گار سفر تھا۔ اسی سفر میں ان سے میری قربت ہوئی۔ اس یاد گار سفر کے کچھ واقعات ملاحظہ ہوں:
یہ ۱۹۳۹ء کی بات ہے کہ امام حسن البنا نے مجھ سے فرمایا:’’ تیار ہوجائیے ، آپ ہمارے ساتھ اس سال صعیدمصر جائیں گے‘‘۔ صعید میں شدید گرمی ہوتی تھی۔ لوگ گرمی سے بھاگ کر اسکندریہ اور رأس البر جاتے، جب کہ امام حسن البنا اس کے برعکس گرمی میں داخل ہوتے۔ میں نے امام حسن البنا سے پوچھا سفر کے لیے کیا درکار ہو گا۔ انھوں نے جواب دیا صرف۲جنیہ( مصری پائونڈ)۔ تب قاہرہ سے اسوان کا کرایہ دو جنیہ تھا۔ ایک جنیہ جانے کا اور ایک جنیہ واپسی کا۔ اخوان المسلمون کے بعض اور ساتھی بھی اس سفر میں شریک ہونا چاہتے تھے ، جن میں ڈاکٹر محمدالھرولی، استادطاہر ، الشیخ محمود عوض اور دیگر ساتھی شامل تھے۔ ریل کا ٹکٹ تیسرے درجے کا تھا۔ تیسرے درجے کا سفر نہایت کٹھن اور ماحول بہت خراب ہوتاتھا۔ مسافروں کا سامان ، خیمے ، بیگ اور طرح طرح کی چیزیں بکھری ہوئی ہوتیں۔ سیٹوں کے درمیان چلنا ممکن نہ تھا۔ مسافروں کا ہجو م ہوتا۔ ان تمام مشکلات کے باوجود امام حسن البنا تیسرے درجے ہی میں سفر کیا کرتے تھے۔
ہم نے دوجنیہ دے دیے۔ ڈاکٹر محمد الھرولی نے کہا کہ اگر ہم اسی کرایے میں دوسرے درجے میں سوار ہوجائیں تو کیا خیال ہے۔ امام حسن البنا نے پوچھا وہ کیسے ؟ انھوں نے کہا کہ ریلوے میں ایسی ٹکٹیں ہیں جو کلومیٹر کے حساب سے ہوتی ہیں۔ جنھیں کلومیٹر ٹکٹیں کہا جاتا ہے۔ دوتصویریں اور ٹکٹیں لیں۔ ریلوے آفس چلے جائیں۔ وہ کچھ پیسے لے کر ان ٹکٹوں پر دوسرے درجے کی مہر لگا دیں گے۔ امام حسن البنا نے اس کام کے لیے میری ذمہ داری لگائی۔ میں ٹکٹیں لے کر ایک دفتر سے دوسرے دفتر کا چکر لگاتارہا۔ کبھی جواب ملتا کہ متعلقہ آدمی موجود نہیں ہے تو کہیں جواب ملتا کہ کل آجانا۔بالآخر میں ناکام واپس لوٹا۔ امام حسن البنا ،نے پوچھا :کیا بنا؟۔ میں نے جواب دیا بہت سے دفتروں کے چکر لگائے لیکن کچھ نہ بنا۔ وہاں پر موجود مرکز کے سیکرٹری جناب عبدالحکیم نے کہا کہ ریلوے میں میرا ایک دوست ہے میں اس کو لکھ دیتا ہوں وہ اس سلسلے میں آپ کی مدد کرے گا۔اگلے روز میں یہ رقعہ لے کر اس شخص کے پاس پہنچا۔ وہ ایک نہایت ہی شریف اور بااخلاق انسان تھا۔ وہ ریلوے دفتر میں میرے ساتھ گیا۔وہاں پہنچے تو وہی سلسلہ جس سے مجھے کل واسطہ پڑ ا تھا۔ متعلقہ آدمی نہیں ہے، ملازم نہیں ہے ، کل آجانا، جیسے جوابات ملے۔ دفتروں میں چکر لگاتے پورا دن گزر گیا لیکن کچھ نہ بنا۔ البتہ اس شخص نے تعاون کی کوئی کسر باقی نہ چھوڑی تھی۔ واللہ میں نے اس سے زیادہ شریف ، بااخلاق اور با ہمت شخص نہیں دیکھاتھا۔واپس حسن البنا کے پاس لوٹا ، تمام قصہ سنایا۔ انھوں نے کہا کہ اپنے آپ کو تکلیف میں مت ڈالو۔ اللہ کی مرضی یہی ہے کہ ہم سبنسہ( ٹرین کے آخر میں لگا مال بردار ڈبہ) میں سفر کریں۔
نہ درجہ اول ، نہ دوم اور نہ درجہ سوم ہم ریل کے سب سے آخری ڈبے میں سوار ہوں گے۔ ریل گاڑی کا آخری ڈبہ صرف سامان کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ اس ڈبے میں کرسی ہوتی ہے نہ کوئی بیٹھنے کی جگہ۔امام البنا نے کہا :’’لگتا ہے اللہ کی مرضی یہی ہے کہ ہم اسی ڈبے میں سوار ہوں گے‘‘۔
جب ہم اگلے دن صبح ریلو ے اسٹیشن پہنچے تو گاڑی پر مسافروں کا بہت ہجوم تھا۔ اول ، دوم اور سوم سب ڈبے بھرے ہوئے تھے۔ لوگ کھڑکیوں سے لٹکے ہوئے تھے، حتیٰ کہ گاڑی کے پایدان پر بھی پائوں رکھنے کی جگہ نہ تھی ، اس دوران میںہمیں آخری ڈبے والے نے دیکھا، اس کو ہم پر ترس آیا۔ اس نے کہا:’’ محترم ادھر آجائیے ، اگلے اسٹیشن تک اس ڈبے میں سوار ہوجائیے ‘‘۔ یہ ریل گاڑی صرف بڑے اسٹیشنوں پر رکتی تھی۔ قاہرہ سے چلتی تو صرف جیزہ ، بنی سویس اور اسیوط جیسے تقریباً چھے اسٹیشنوں پر رکتی۔ اس ریل گاڑی کو ایکسپریس کہا جاتاتھا۔ ہم آخری ڈبے میں سوار ہوگئے۔ بیٹھنے کی جگہ نہ تھی۔ ہمیں کھڑے ہوکر سفر کرنا پڑا۔ ہم نے کوشش کی کہ کسی جگہ پر بیگ رکھ کر اسی کے اوپر امام حسن البنا کو بٹھایا جائے، لیکن اتنی جگہ بھی میسر نہ تھی۔ جب گاڑی منیہ کے اسٹیشن پر رکی تو بعض مسافر اترے۔ امام حسن البنا نے ایک روز پہلے کہاتھا کہ واللہ ہم آخری ڈبے ہی میں سفر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم پوری کردی۔ اس وقت سے مجھے اس شخص سے ایک طرح کا خوف محسوس ہونا شروع ہوگیا۔ کیونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیتا تو اللہ اس کی قسم کو پورا کردیتا۔ میں نے دیکھا وہ کبھی ایسی ویسی بات نہ کیا کرتے تھے۔ ہم چھوٹے چھوٹے لوگ تیسرے درجے میں سفر کرنا ناپسند کرتے ہیں، لیکن حسن البنا جس نے پوری نسل کی تعمیر کی، جس نے نوجوانوں کی زندگیوں کو بدلا ، جو مصر کا ایک ایک شہر اور ایک ایک قصبہ پھرا ، شمال و جنوب میں کوئی ایسا شہر یا گائوں نہیں جس میں یہ خبر نہ ہو کہ یہ آدمی تیسرے درجے میں سفر کرتا ہے۔ حالانکہ تیسرے درجے میںاور خود اس قیامت کی گرمی میںسفرناقابل برداشت تھا۔
اسی دوران میں انگریزی افواج کے خفیہ ادارے کے سربراہ کلومیل کلیتون نے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا۔ وہ معروف جنگی مجرم تھا لیکن اس نے مصر میںایک مسلمان لڑکی سے شادی کرلی۔ وہ مصریوں کے دل جیتنا چاہتاتھا۔ جب جلو س نکلے کہ اے رومیل آگے بڑھو تو اس نے امام حسن البنا سے ملاقات کرنا چاہی۔ کلومیل کلیتون امام حسن البنا کے پاس آیا۔ اس نے اس سوال سے اپنی بات شروع کی :’’اخوان المسلمون انگریزوں سے کیوں نفرت کرتے ہیں ؟‘‘سوال بڑا عجیب تھا۔ امام حسن البنا کی دو صفتیں نمایاں تھیں: سچائی اور اپنی دعوت کے لیے ہر لمحہ مستعد اور بیدار رہنا۔ امام سچائی اور تجرد کی خوبیوں سے مالا مال تھے۔ دوسری تجرد یعنی نہ دنیا ، نہ اقتدار ، نہ حکومت اور نہ کوئی اور چیزبس صرف اللہ کی رضا۔
امام حسن البنا نے کلومیل کلیتون سے کہا: اخوان المسلمون اس لیے انگریز حکمرانوں سے نفرت کرتے ہیں کہ انگریز ہماری زمین اور ہمارے ملک، ہماری دولت پر قابض ہیں۔ آپ کا سوال عجیب ہے کہ ہم انگریزوں سے کیوں نفرت کرتے ہیں۔ تم انگریز لوگ مصریوں سے ایک ٹن کپاس تین جنیہ میں خریدتے ہو۔ اگر یہی کپاس تم خود کاشت کرو تو ایک ٹن پر ۱۰ جنیہ خرچہ آئے۔ کیا یہ تمھارے لیے جائز ہے ، کوئی بھی قوم اس ظلم کو برداشت نہیں کرے گی۔ تم جانتے ہو کہ جاپان نے ایک ٹن کپاس ۱۷جنیہ میں خریدنے کی پیش کش کی ہے ، لیکن تمھاری حکومت آڑے آتی ہے۔ ہم آپ سے کیسے نفرت نہ کریں‘‘۔کلومیل کلیتون نے بحث کرنا چاہی کہ:’’اخوان المسلمون ایسے ہیںویسے ہیں ‘‘۔
امام نے جواب دیا:’’خدا لگتی بات یہ ہے کہ اخوان المسلمون سچے ہیں ، وہ جھوٹ نہیں بولتے ،اگر تم ہم سے انصاف کرو تو ہم تم سے محبت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جس قیمت میں دوسرے ہم سے کپاس خریدتے ہیں تم بھی اسی قیمت پر ہم سے کپاس خریدو۔ تم قابض ہو ، غاصب ہو ‘‘۔ اس کے بعد انگریزخفیہ ادارے کے سربراہ نے مصر میں اپنے سفیر اور دوسرے ذمہ داران سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد کپاس کی قیمت تین جنیہ سے بڑھا کر آٹھ جنیہ کردی گئی۔ اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں کہ شیخ حسن البنا سے ملاقات کے بعد کپاس کی قیمت میں اضافہ کردیاگیا۔
انگریزمہمان نے امام حسن البنا سے پوچھا اخوان المسلمون کے پاس اتنا بڑا مرکز ہے۔ اتنی رقم کہاں سے آئی ؟ تو امام حسن البنا نے نے ازراہ تفنن جواب دیا رومیل (جرمن کمانڈ)نے پیسے دیے ہیں۔ پھرآپ نے فرمایا :’’اخوان المسلمون کے ساتھی ایک ایک پیسہ جمع کرتے ہیں۔ ہماری جماعت کے پاس جو کچھ ہے وہ اخوان المسلمون کے ساتھیوں کے تعاون سے ہے۔ اخوان المسلمون کے ساتھی اپنے اخراجات سے بچا کر پیسے جمع کرتے ہیں‘‘۔ پھر آپ نے فرمایا:’’ میرے جسم پر جو لباس آپ دیکھ رہے ہیں اس کی قیمت تقریباً۶۰قرش (پیسہ )ہے، جب کہ تمھارے لباس کی قیمت ۶۰ جنیہ(پائونڈ) ہے ‘‘۔
کلومیل نے کہاکہ بادشاہ سلامت نے اخوان کی مدد کے لیے ۱۰ ہزار مصری پائونڈ کی مدد ارسال کی ہے۔ یہ ایک بڑی رقم تھی لیکن امام حسن البنا نے اس برطانوی ذمہ دار سے کہا :’’بڑے احترام سے عرض کروں گا کہ آپ پہلے شخص ہیں جس کے منہ سے سن رہا ہوں کہ شاہِ انگلستان نے اخوان المسلمون کے بیت المال کے لیے دس ہزار جنیہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بہت شکریہ لیکن ہم آپ کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے یہ رقم لینے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ رقم ہم بادشاہ سلامت کے لیے بطور تحفہ پیش کرتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ مال حرام ہے۔ امام حسن البنا نے ۱۰ہزار جنیہ کی پیش کش مسترد کر دی اور کہا کہ اگر آج ہم آپ سے رقم لیں گے تو کل دوسروں سے بھی لے سکتے ہیں۔ پھر ہم آپ کو بھی دھوکا دے سکتے ہیں۔
یہ برطانوی فوج کے خفیہ ادارے کے سربراہ کلو میل کلیتون کا قصہ ہے جو امام حسن البنا سے کہنے آیاتھا کہ آپ برطانیہ سے کیوں نفرت کرتے ہیں۔؟
امام حسن البنا نے اپنی ذات یا کسی مفاد کے لیے پارلیمنٹ کے انتخابات میں حصہ نہیں لیاتھا بلکہ اس لیے حصہ لیا کہ پارلیمنٹ میں اسلام کی مضبوط آواز بلند ہو۔ پارلیمنٹ میں اسلام کا نمایندہ ہو۔ یہی امام حسن البنا کا موقف تھا وہ تشدد کو ناپسند کرتے تھے۔ بہرحال امام اور اخوان المسلمون کو اندازہ تھا کہ اس انتخابات کا نتیجہ ہمارے خلاف ہی آئے گا۔
انھوں نے ہمیں سوشلسٹوں کے ساتھ رکھا ان دنوں سوشلسٹ عناصر متحد تھے اوران کے سربراہ کا نام ہنری کریز تھا جو مصر کے مال داروں میں شمار ہوتاتھا۔ایک روز امریکیوں نے اخوان المسلمون کے ساتھیوں کومزہ چکھانے کی ٹھانی۔اخوان کے ایک ساتھی نے فوجی افسرسے ذرا کھردرے الفاظ میں بات کی ،مقصود فوجی کی شان میںکوئی گستاخی نہیں تھی، بلکہ اپنے حق کی بات تھی۔ اس پر وہ بپھر گئے ، ایسا لگ رہاتھا کہ فوجی معرکہ درپیش ہے۔ بڑی تعداد میں فوجی آگئے۔ مجھے اس چھائونی سے سوشلسٹوں کے ساتھ حوالات میں منتقل کردیا گیاتھا۔ جیل میں سب سے تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ انسان کو کسی غیر قوم کے ساتھ رکھا جائے۔ قرآن پاک میں سلیمان علیہ السلام نے ہد ہد کو کہاتھا کہ لأعذبنہ عذاباً شدیداً أولأذبحنہ’’میں اسے سخت سزا دوں گا یااسے ذبح کردوں گا ‘‘۔علما اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ہد ہد کو سلیمان علیہ السلام نے جو سزا دینے کا فیصلہ کیاتھا وہ یہ تھا کہ اسے غیر جنس کے پر ندوں کے ساتھ رکھا جائے گا۔ ہمیں سوشلسٹوں کے ساتھ رکھا گیا۔ وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے مختلف چیز تھے۔ مزاج کے اعتبار سے پست فطرت انسان۔ سگریٹ ٹکڑے تک کے لیے ایک دوسرے سے خیانت کرتے تھے۔ اپنے بھائی کی چوری کرلیتے، ایک دوسرے کا کھانااچک کر کھاجاتے۔ آپس میں جھگڑتے۔ مختصراً یہ کہ وہ مادی جانور تھے۔ ہمیں حوالات سے فوجی چھائونی کے ڈائریکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ اس چھائونی میں شیخ یوسف قرضاوی اور دوسرے ساتھی بھی تھے۔ مجھ اکیلے کو حوالات میں لے جایا گیا۔ فوجیوں نے مجھے لاٹھیوں اور سریوں سے مارا۔ بہت شدید مارا، لیکن اللہ کی قسم، بری طرح مارنے کے بعد جب مجھے واپس لایا گیا تو کوئی درد محسوس نہیں ہو رہاتھا۔ ایسے لگ رہاتھاجیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ میری آنکھ کے نیچے لوہے کا راڈ لگنے سے نشان پڑ گیاتھا لیکن الحمد للہ آنکھ کو کچھ نہ ہوا۔ اخوان پریشان تھے کہ وہ کیا کریں۔ جب میں واپس لوٹا تو مجھے حوالات میں دیگر اخوانی ساتھیوں سے الگ رکھا گیا ، مجھ پر پانی بھی بند کردیا گیا۔ اخوان کے ساتھی بہت پریشان تھے اور مجھ تک پانی پہنچانے کی کوششیں کررہے تھے۔ میرے دروازے کے نیچے پتا رکھ کر اس پر پانی ڈالتے تاکہ مجھ تک پہنچ جائے۔ ہماری سب سے بڑی مشکل گرمی تھی۔ شدید گرمی، کمرے کی چھت لوہے کی تھی۔ کمرہ گرم ہوجاتا تھا۔ تازہ ہوا کے داخلے کی کوئی صورت نہ تھی۔ دروازے اور کھڑکیاں بند تھیں۔ہم تازہ ہوا لینے کے لیے اپنی ناک ٹوٹی ہوئی جالیوں کے سوراخوں پر رکھتے تھے۔ یہ امام حسن البنا کی شہادت کے کچھ ہی زمانہ بعد کی بات ہے۔
ایک اور مثال دیتاہوں۔اخوان کے ایک ساتھی احمد حسن نے بہادری دکھانا چاہی، اس کے ساتھی جو اخانہ میں گئے اور توڑ پھوڑ کی۔اسی طرز پر اخوان کے بعض دیگرساتھیوں نے بھی کارروائی کرنا چاہی، مگرامام حسن ا لبنا نے انھیں ایسا کرنے سے سختی سے منع کردیا:’’ یہ ہمارا نہیں، حکومت کا کام ہے۔ ہمارا کام دعوت ہے۔ ہم دعوت کا کام کریں گے ، ہم پارلیمنٹ کے ذریعے جوا اورشراب رکوائیں گے ‘‘۔امام حسن البنا لوگوں کی رہنمائی حکمت اور دانش سے کرتے تھے۔ وہ اتحاد کے داعی تھے۔ وہ تفرقہ پیدا کرنا نہیں چاہتے تھے ، وہ انتشار پھیلانے کو نا پسند کرتے تھے۔ ان کا کہناتھا کہ ہم پارلیمنٹ کے ذریعے تبدیلی لائیں گے۔ قانون کے ذریعے تبدیلی لائیں گے ، ہم لڑائی نہیں کریں گے ، فساد نہیں کریں گے ،لیکن امن پسندی اور روشن خیالی کے راگ الاپنے والوں کو دیکھیں اسی امن کے علَم بردار کو قتل کردیا۔
آپ کی مہربانی کہ آپ نے مجھے امام حسن البنا کی یاد میں کچھ لکھنے کے لیے کہا۔وہ قائد کہ جس کے لیے اللہ کی رحمت نے یہی فیصلہ کیا کہ وہ اس بے وفا دنیا کو چھوڑ کر اپنے رحمن و رحیم پروردگار کے حضور پہنچ جائے۔ اللہ کی رحمت نے ہمارے لیے بھی یہ چاہا کہ جس عظیم شخصیت سے ہم محروم ہوئے ہیں وہ اپنی یادوں اور اپنے تقویٰ کے ساتھ ہمارے سامنے موجود رہے۔
اے اخوان المسلمون !اگر آپ لوگ اپنے بڑے بھائی سے محروم ہوگئے ہیں، تو آپ کو اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ وہ شخص جس نے ہر رشتے اور واسطے کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کررکھاتھا، اس نے انتہائی پاک دامنی کی حالت میں اپنی جان اپنے دین اور عقیدے پر نثار کردی۔ آپ لوگ جب بھی اسے یاد کریں گے تواسے معزز و محترم اور پایندہ پائیں گے۔ جب موت انسان پر قبضہ کرنے کے لیے زندگی سے برسرپیکار ہوتی ہے تو زندگی کو غلبہ اس وقت ملتا ہے جب ایسے انسان کو یاد رکھا جائے، اور موت اس وقت غالب آتی ہے جب اسے فراموش کردیا جائے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ الشیخ حسن البنا ہم سب کے دلوں میں اپنی یادوں کی بدولت زندہ ہیں۔ بھلا وہ شخص کیوں کر پایندہ نہ رہے جس نے دین میں اپنے پروردگار کی ہدایت اختیار کی اور دنیا میں قلب کی سلامتی کو مشعل راہ بنایا !
اے اخوان المسلمون !آپ لوگ اسے یاد کریں ،اسے بارباریاد کریں ، اسی یاد میں اس کی اور آپ لوگوں کی زندگی مضمر ہے۔ ذرا دیکھو یہ بات کون کہہ رہا ہے ؟یہ مکرم عبید ہے ، مرحوم کا مسیحی دوست ، جس نے اپنے اس مسلمان بھائی میں صدق و امانت کو یک جا پایا۔ مرحوم کو یاد کرتے وقت میں آپ کو کیسے نہ بتائوں کہ ہمارا اکثر ایک دوسرے سے ملنا جلنا رہتاتھا۔ میں اس کی عظمت و فضیلت کی گواہی کیوں نہ دوں کہ میں اسے انتہائی قریب سے جانتا ہوں۔ مجھے قسم ہے حق کی کہ یہ ایک سچی گواہی ہے ، میں اس گواہی پر اپنے رب کو گواہ ٹھیراتا ہوں۔ میں یہ شہادت زبا ن کے ساتھ ساتھ اپنے دل کی گہرائی سے دے رہا ہوں۔ یہ ایک ایسے شخص کی گواہی ہے جس کے اور مرحوم کے مابین قدر مشترک ایک رب پر ایمان اور اتحاد ملّی پر ایقان تھا۔ تمام آسمانی مذاہب میں توحید صرف اس قدر کافی نہیں کہ آپ اللہ کو ایک قرار دیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ خود بھی اپنے اللہ کی خاطر ایک ہوجائیں۔ قومی وحدت کے لیے محض ملک اور خطے کایک جا ہونا ہی کافی نہیں بلکہ ملک کے تمام باشندوں کا متحد ہونا بھی ضروری ہے۔
صرف اخوان المسلمون اور وفد پارٹی ہی دو ایسی تنظیمیں تھیں جو’دارالاخوان‘اور’وفد پارٹی کے کلب ‘میں باہم ملاقاتوں کا اہتمام کرتی تھیں۔ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ حسن البنا میرے گھر تشریف لائے اور ہم نے ذاتی دل چسپی کے امور او رقومی معاملات پر طویل تبادلۂ خیال کیا۔ مجھے ان کی باتیں سن کر ایسے لگتا تھا جیسے وہ ظاہر پرستی اور رسمی باتوں سے کوسوں دور اور بلند تر ہوں۔ مجھے یقین ہوگیا کہ ہم لوگوں میں ان جیسی گہری فکروالا اور پاک ضمیر شخص کم ہی ہوگا۔
ان کی شہادت کے بعد میں نے انھیں ان کے گھر میں دیکھا۔ یہ ایک ایسی انوکھی ملاقات و زیارت تھی جس کے کرب ناک اور خوف ناک اثرات کو میں مرتے دم تک نہ بھلا سکوں گا۔ مجھے یہ دیکھ کر سخت دلی صدمہ پہنچا کہ پولیس کی نفری نے اس سڑک کا محاصرہ کررکھا ہے جس پر مرحوم کا گھر واقع تھا۔ اگر پولیس آفیسر مجھے پہچان کر وہاں سے گزرنے کی اجازت نہ دیتا تو میں تعزیت کا فریضہ سرانجام دینے سے بھی قاصر رہ جاتا۔
میں اگر سب کچھ بھی بھول جائوں تب بھی میں اس بات کو ہرگز نہ بھلا سکوں گا کہ ان کے والد بزرگوار میری اس حاضری سے کس قدر متاثر تھے۔ انھوں نے آبدیدہ ہو کر مجھے بتایا کہ مرحوم کے جنازے کے پیچھے چلنے سے عوام کو زبردستی روک دیا گیا ہے۔ مرحوم کے والد کے ماسوا ،کسی کو بھی میت کے پیچھے چلنے کی اجازت نہ تھی ، نہ کسی کو تعزیت کے لیے ان کے گھر جانے دیا گیا۔
دکھی والد نے شکریہ ادا کرتے ہوئے مجھے اپنی دعائوں سے نوازا ، میں اب تک ان دعائوں سے برکت پاتا ہوں۔میں مغموم والد محترم سے کہنا چاہتا تھا کہ تعزیت کرنا اگر ایک لازمی انسانی فریضہ ہے تو پھر مجھ سمیت ہر مصری نے یہ فریضہ انجام دیا ہے، کیونکہ ہر مصری کو ان کے فرزند ِمظلوم کی وفات کا گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ تعزیت نہ کرنا یا نہ کرنے دینا ہماری روایات اور اقدار سے انحراف ہے۔
میرے بھائیو !جی ہاں، آپ سب لوگ میرے بھائی ہیں۔ اے اخوان المسلمون !آپ لوگ وطن اور قومیت کے لحاظ سے میرے بھائی ہیں۔ آپ میرے سب سے قریبی بھائی ہیں۔ مرحوم کو یاد کرتے وقت ،آپ ان کی اس بات کو بھی یاد رکھیں کہ مرحوم ہمیشہ آزادی کی بات کیا کرتے تھے۔ وہ جیل میں رہ کر بھی اپنے ملک و قوم کی آزادی کا مطالبہ کرتے تھے۔ ظالموں نے شہید کر کے انھیں ہرغم سے آزاد کردیا۔ ان کی اس آزادی میں بیک وقت اجر بھی ہے اور جدوجہد جاری رکھنے کا پیغام بھی۔ (مجلہ الدعوۃ‘ ۱۶جمادی الاول۱۳۷۱ھ)
ارض فلسطین کے بارے میں جب بھی جہاد کا ذکر کیا جائے گا ، اخوان المسلمون کا نام سرفہرست ہوگا، بلکہ شاید یہ کہنازیادہ مناسب ہو کہ یہاں اب بھی حقیقی جہاد اخوان المسلمون ہی کررہی ہے۔
اخوان نے ارض مقدس کو اپنے خون سے سیراب کیا اور اس کے ہزاروں شہدا نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ فلسطین کی موجودہ تحریک حرکۃ المقاومۃ الاسلامیہ اسلامی تحریک مزاحمت (حماس ) بھی اخوان المسلمون کے لگائے ہوئے پودے ہی کی ایک شاخ ہے۔ اخوان المسلمون کی بنیاد امام حسن البنا نے مارچ ۱۹۲۸ء میں رکھی تھی اور وہی اس کے پہلے مرشد عام تھے‘ جب کہ ان کی پیدایش ۱۴اکتوبر ۱۹۰۶ء کو ہوئی تھی۔ اس طرح اخوان المسلمون کے قیام کے وقت ان کی عمر صرف ۲۲برس تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا‘ جب انھوں نے دارالعلوم قاہرہ سے سند فراغت حاصل کی تھی۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی کہ وہ اپنی پوری تعلیمی زندگی میں اس طرح کی کوئی تنظیم بنانے کے بارے میں سوچتے رہے تھے، جو ان کے خیال میں دین اسلام کی تجدید اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کے احیا کے لیے ضروری تھی۔
دنیا کے گوشے گوشے میں جو تحریکیں اقامت دین کا کام کررہی ہیں، ان پر اخوان المسلمون کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اخوان المسلمون کے پہلے مرشدعام امام حسن البنا کی کوششیں تھیں، جنھوں نے اخوان المسلمون کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔ یہاں پریہ ذکر بر محل ہوگا کہ امام ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳ء-۱۹۷۹ء)نے برعظیم پاک و ہند میں دین اسلام کی ترویج و تجدیدکے لیے بڑی عظیم کوششیں کیں۔ یہ بھی امام حسن البنا کے ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں نے اپنے دور میں تجدید و احیاے دین کا کارنامہ سرانجام دیا۔ان ہستیوں کے ذریعے عالمِ اسلام میں ایسی تحریکوں کی بنا پڑی جس کی نظیر ہمیں دُور دُور تک کہیں نظر نہیں آتی۔ انھی تحریکوں کے ذریعے پوری دنیا میں علم جہاد بلند ہوا اور مسلمان اس عظیم مقصد کے لیے اپنے تمام وسائل بروے کار لائے۔ ان حضرات‘ یعنی البنا اورمودودی کی فکر بڑی حد تک ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے۔
مسئلہ فلسطین کے ساتھ دونوں رہنمائوں کی گہری وابستگی تھی اور فلسطینیوں کے حقوق کے بارے میں ان کی سیاسی پالیسیاں بھی بڑی واضح اور مخلصانہ تھیں۔ انھوں نے مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے عظیم خدمات انجام دیں اور اہل فلسطین کی بھلائی اور ان کے منصفانہ موقف کی حمایت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے بعد ان کے رفقا کی جدوجہد ہی ہے، جس نے مسئلہ فلسطین کو اس کے محدود دائرے (یعنی اسے صرف فلسطین یا عرب کا مسئلہ متصور کیے جانے کی سوچ) سے نکال کر اسے عالم اسلام کا مسئلہ بنا دیا۔ دنیا کے گوشے گوشے میں مسلمان مسئلہ فلسطین کو اپنا مسئلہ سمجھنے لگے اور اس معرکے کو قابض صہیونیوں کے خلاف اپنی جنگ تصور کرنے لگے۔
تعلیم کی تکمیل کے بعد امام البنا اسماعیلیہ میں استاد مقر رہوئے۔ یہ علاقہ نہر سویز کے کنارے واقع ہے جو اس وقت قابض انگریز فوج کی چھائونیوں میں گھرا ہوا تھا۔ امام نے اسماعیلیہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا اور اپنی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ انھوں نے اپنی فکر کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام شروع کیا۔ وہ اسماعیلیہ کے محلوں اور قرب و جوار کی بستیوں میں اخوان المسلمون کے لیے ایک کے بعد ایک مراکز ، شاخیں ،مدرسے اور مسجدیں بناتے رہے۔ اس طرح ان کے حامیوں اور ساتھیوں میں روز بروز اضافہ ہونے لگا۔اس دوران امام کی حالت یہ ہوتی کہ دن رات میں چند گھنٹوں کے علاوہ نیند ان کے قریب بھی نہیں آسکتی تھی۔ وہ دن کا اکثر حصہ اخوانی عوام اور کثیر آبادی والے علاقوں میں بطور ایک داعی ، معلم اور واعظ کے دوروں میں گزارتے تھے۔
امام البنا نے اپنی کوششوں کو صرف مردوں اور نوجوانوں تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ بڑے پیمانے پر خواتین کو بھی اپنی دعوت کا مخاطب بنایا۔ صرف ان کی دعوت پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کا بھی موثر انتظام کیا۔ چنانچہ اسماعیلیہ میں ان کے لیے جدید طرز پر مدرسہ امہات المؤمنین کی بنیاد رکھی۔ اس مدرسے میں اسلامی نہج پر تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ زمانے کے تقاضوں اور ضروریات کا بھی انتظام تھا۔ یہ مدرسہ جدید و قدیم علوم کا حسین امتزاج تھا۔
جب اسماعیلیہ اور اس کے قرب و جوار میں اخوان المسلمون کو تقویت ملی تو امام کو دوسرے مقامات پر بھی کام کرنے کا حوصلہ ملا اور ان کے دل میں شوق پیدا ہوا کہ اب اللہ تعالیٰ ان کی دعوت کے لیے ایک نیا دروازہ کھول دے۔اس طرح انھوں نے مرکز دعوت کو قاہرہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیاکیونکہ امام کی ملازمت بھی ادھر منتقل ہوچکی تھی۔ دعوت کے اس نئے مرکز سے یہ دعوت دنیا بھر میں پہنچ گئی۔ اس دعوت کے علم بردار اپنے امام کے حکم سے ملک اور بیرون ملک، دنیاکے گوشے گوشے میں پھیل گئے اور اس دعوت کی اشاعت میں ہمہ تن مصروف ہوگئے۔
اخوان المسلمون کے مرکز میں امام کے ہفتہ وار دروس ہوتے تھے۔ دینی ، قومی اور تاریخی اہم مواقع پر ان کے لیکچروں کا انتظام ہوتا تھا۔ جریدۃ الاخوان میں ان کے روزانہ خطوط شائع ہوتے تھے اور مصر کے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں ان کے دورے ہوتے تھے۔ یہ تمام سرگرمیاں امت کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کا ذریعہ بن رہی تھیں، اور اسے اپنے مقصد ِوجود سے آگاہ کررہی تھیں۔
امام البنا نے زیادہ کتابیں نہیں لکھیں لیکن انھوں نے ہزاروں مؤلفین اور مفکرین تیار کیے۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے امام کی ہدایات اور ان کے رسائل سے‘جن کی تعداد ۲۰سے زیادہ نہیں ہوگی‘ فیض حاصل کیا۔ ان ہدایات و رسائل کی وجہ سے وہ اس قابل ہوئے کہ مسلمانوں کی نشاتِ ثانیہ سے متعلق مختلف میدانوں میں تصنیف و تالیف کا کام کریں۔ اسی حوالے سے امام حسن البنا کا شمار ۲۰ ویں صدی عیسوی کے مجددابوالاعلیٰ مودودی کے ساتھ ہوتا ہے۔
امام حسن البنا کا کارِ تجدید دین اسلام کے کسی ایک پہلو تک محدود یا مسلمانوں کے کسی ایک مسئلے پر اکتفا کرنے والا نہیں تھا، بلکہ یہ تجدید ان تمام پہلوئوں پر حاوی تھی جن کے حوالے سے امت کا پرچم سرنگوں ہوچکاتھا اور ان کے مقاصد پست ترین سطح پر اتر آئے تھے۔
یہ تجدید عقیدے کی تجدید تھی جو لوگوں کے دلوں میں ڈانواںڈول ہوچکاتھا۔ اسی طرح یہ اخوت کی تجدید تھی، جس کا کوئی نام و نشان تک مسلمانوں کی زندگی میں عملاً باقی نہیں رہاتھا۔ یہ اسلامی فکر کی تجدید تھی جسے غاصب استعماری قوتوں نے لوگوں کے ذہنوں میں مشتبہ کر ڈالاتھا۔ یہ فقہ کی تجدید تھی جو جامدذہن رکھنے والوں اور انتہا پسند وں کی وجہ سے جمود کا شکار ہوچکی تھی۔ یہ تعلیم و تربیت کی تجدید تھی جس کا دائرہ مقلدانہ نصاب تعلیم تک محدود ہوچکا تھا۔ یہ علوم و فنون کی تجدید تھی جس کے سرکردگان مغربی تہذیب کی چکا چوند سے متاثر تھے۔یہ معیشت کی تجدید تھی جو سود پر مبنی معیشت کی وجہ سے کھوکھلی ہوکر تباہ ہونے کے قریب تھی۔ یہ ذرائع ابلاغ کی تجدید تھی جن کا کام گانے بجانے تک محدود ہوکر رہ گیا تھا۔ یہ ایک حرکی اور دعوتی تجدید تھی۔ یہ تجدیداس دعوت کا احیا تھی جو جمود کا شکار ہو کر دم توڑنے کے قریب تھی۔ یہ معاشرتی زندگی کی تجدید تھی جو خواب غفلت سے بیداری کی طرف دعوت دے رہی تھی۔ یہ سیاست کی تجدید تھی جو دھوکا، فریب دہی اور بد ترین غلامی کی صورت اختیار کرگئی تھی۔ یہ جہاد کی تجدید تھی جس کا صیغہ مسلمانوں کی لغت اور یاد داشت سے محو ہوچکاتھا۔
اس طرح امام حسن البنا کا شمار بجا طور پر ۲۰ویں صدی کے نمایاں ترین مجددین میں ہوتا ہے۔ یہ موقع اس تفصیل میں جانے کا نہیں ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس ہمہ پہلو تجدید نے مختلف معاشروں کو کس طرح متاثر کیا۔ ہم یہاں اس تجدید کے صرف جہادی پہلو کے متعلق گفتگو کریں گے جو مسلمانوں کے دلوں میں نشاتِ نو کا پیغام تھا، اور جس کے نتیجے میں اہل فلسطین کی حمایت کی ایک عظیم الشان تحریک برپا ہوئی۔
امام نے جہاد کے بارے میں انتہائی قیمتی ارشادات پیش کیے ہیں،جنھوں نے اخوان کے دلوں میں جہاد کی محبت کو زندہ کردیا۔ انھوں نے رسالۃ الجھاد کا اختتام بھی انتہائی بیش قیمت کلمات سے کیا ہے۔ جس کی وجہ سے اخوان ہمیشہ سے اس دن کے انتظار میں رہتے ہیں جس دن اللہ کے دشمنوں سے ان کا آمنا سامنا ہو، اور وہ اللہ کے سامنے اپنی جان کی قربانی کا وہ مظاہرہ کریں جس کے ذریعے اللہ ان سے راضی ہوجائے۔
رسالۃ الجھاد کے مقدمے میں امام رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے جہاد کو ہرمسلمان پر فرض کردیا ہے۔ یہ ایک لازمی اور حتمی فریضہ ہے جس سے کسی کو چھٹکارا اور مفر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کی طرف بڑی ترغیب دی ہے اور شہدا و مجاہدین کے لیے عظیم اجر و ثواب کا وعدہ کررکھا ہے۔ ان کا مرتبہ اتنا بلند رکھا گیا ہے کہ جہاد کے علاوہ کسی عمل سے اس مقام تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین اور شہدا کو دنیا و آخرت میں وہ روحانی اور عملی امتیازات عطا فرمائے ہیں، جو ان کے علاوہ کسی کو نہیں دیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاکیزہ خون کو دنیا میں فتح ونصرت کی قیمت اور آخرت میں فوزو فلاح کا عنوان بتایا ہے۔ جہاد سے پیچھے رہ کر بیٹھ جانے والوں کو دردناک سزائوں کی وعید سنائی گئی ہے۔ انھیں بدترین صفات سے متصف کیا گیا ہے اور بزدلی اور بیٹھے رہنے پر سخت الفاظ میں سرزنش کی گئی ہے۔ کمزوری اور پستی کے اس رویے کے باعث دنیا میں ان پر وہ ذلت مسلط کی گئی ہے جس سے جہاد کے بغیر نجات ممکن نہیں، جب کہ آخرت میں ان کے لیے وہ عذاب تیار کیاگیا ہے جس سے چھوٹنے کے لیے اگر وہ احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کریں تب بھی اس سے بچ نہ سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد سے منہ موڑنے اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے کو گناہ کبیرہ کی سب سے بڑی قسم شمار کیا ہے۔ یہ ان سات اعمال میں سے ایک ہے جو انسان کے لیے مہلک اور تباہ کن ہیں۔
دنیا میں کوئی قدیم و جدیدنظام یا کوئی مذہبی یا تمدنی قانون نہیں ہے جس نے جہاد و دفاع کو اتنی اہمیت دی ہو اور اس کے لیے ساری امت کو ایک صف میں جمع کیا ہو‘تاکہ وہ پوری قوت کے ساتھ حق کا دفاع کرسکے۔ یہ صفت صرف دین اسلام اور اس کی تعلیمات میں پائی جاتی ہے۔ قرآن و حدیث میں اس بلند مرتبہ فکر کو وضاحت سے بیان کیاگیا ہے۔ قرآن کی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بالکل واضح اسلوب اور فصیح ترین عبارت کے ساتھ جہاد و قتال کی دعوت دیتی ہیں‘ اور ہر قسم کے بری، بحری اور فضائی دفاعی و سائل کو مضبوط بنانے کی تاکید کرتی ہیں تاکہ مسلمان کسی بھی حالت میں دشمن کے مقابلے سے عاجز نہ ہوں۔ (رسائل الامام الشھید‘ ص۲۷۳)
امام فرماتے ہیں : میرے بھائیو! جو قوم مرنے کا سلیقہ جانتی ہے‘اس قوم کو اللہ تعالیٰ دنیا میں باعزت زندگی اور آخرت میں دائمی جنت نصیب فرمادیتا ہے۔ جس چیز نے ہمیں ذلیل کرکے رکھ دیا ہے وہ دنیاکی محبت اور موت کی کراہت کے سوا کچھ نہیں۔ تم لوگ اپنے آپ کو ایک بڑے کام کے لیے تیار کرو۔ شہادت کی تمنا کرو گے تو تمھیں زندگی ملے گی۔ جان لوکہ موت تو آنی ہی ہے اور وہ ایک ہی مرتبہ آنی ہے۔ اگر تم نے اس کو اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے پالیا تو یہ دنیا کا نفع اور آخرت کا ثواب ہوگا۔ تمھیں وہی کچھ ملتا ہے جو تمھارے لیے مقر ر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر خوب غور و فکر کرو گے:
اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے۔ مگر ایک دوسرا گروہ جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنی ذات ہی کی تھی ، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا، جو سراسر خلاف حق تھے۔ یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ ’’ اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے ؟‘‘ان سے کہو :’’ (کسی کا کوئی حصہ نہیں ) اس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ ‘‘دراصل یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں اسے تم پر ظاہر نہیں کرتے۔ ان کا اصل مطلب یہ ہے : ’’اگر (قیادت کے)اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے۔ ‘‘ان سے کہہ دو :’’ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔ ‘‘ اور یہ معاملہ جو پیش آیا ، یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمھارے سینوں میں پوشیدہ ہے، اللہ اسے آزمالے اور جو کھوٹ تمھارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ دے ، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے۔ (اٰل عمرٰن۳:۱۵۴)
پس تم باعزت موت کے لیے کام کرو ، بھرپور سعادتوں کے حصول میں کامیاب ہوجائو گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمھیں اپنی راہ میں شہادت سے سرفراز فرمائے۔ (ایضاً، ص ۲۹۱)
امام حسن البنا اخوان المسلمون میں حُب جہاد کی تربیت کے لیے صرف رسالۃ الجھاد پر اکتفا نہیں کرتے تھے، بلکہ انھیں جب بھی موقع ملتا، دلوں میں اس جذبے کو اُبھارنے کی تدبیر کرتے تھے۔ چنانچہ وہ نوجوانوں کے نام اپنے پیغا م میں فرماتے ہیں :’’اے نوجوانو!تم ان لوگوں سے کمزور نہیں ہو جن کے ہاتھوں اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس پروگرام کو عملی طور پرنافذ کردکھایا تھا، لہٰذا تم وہن اور ضعف کا شکار مت بنو۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو اپنا نصب العین بنائو کہ: اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِیْمَانًا وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلo (اٰل عمرٰن ۳:۱۷۳)’’جن سے لوگوں نے کہا کہ ’’ تمھارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں ، ان سے ڈرو ‘‘ ، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انھوں نے جواب دیا کہ ’’ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے‘‘)۔ اس مقصد کے لیے ہم نے ایسا ایمان پروان چڑھایا ہے جو ڈگمگانے والا نہیں ہے اور ہم اس کے لیے مسلسل عمل کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہمیں اللہ پر ایسا اعتماد حاصل ہے جس میں کوئی کمزوری نہیں آتی، اور ہم ایسی روحوں سے سرشار ہیں جن کے لیے سب سے زیادہ باسعادت دن وہ ہوگا جب وہ اپنے رب کے راستے میں شہادت دے کر اس سے ملاقات کریں گی‘‘۔ (ایضاً‘ ص۱۰۳)
اپنے ایک اور رسالے میں فرماتے ہیں :’’سب کچھ کرنے کے بعد ہم اللہ کی مدد کا پختہ یقین رکھتے ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس پر ہمارا ایمان ہے اور جس کے لیے ہم کوشاں ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر یقین رکھتے ہیں : وَ لَاتَھِنُوْا فِی ابْتِغَـآئِ الْقَوْمِ اِنْ تَکُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّھُمْ یَاْلَمُوْنَ کَمَا تَاْلَمُوْنَ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرْجُوْنَ (النساء ۴:۱۰۴)’’اس گروہ کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھائو ، اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو تمھاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھا رہے ہیں اور تم اللہ سے اس چیز کے امیدوار ہو جس کے وہ امید وار نہیں ہیں‘‘۔ ہمارے اسلاف میں سے جن لوگوں نے دنیا کو فتح کیا اور اللہ نے انھیں زمین میں سلطنت عطا فرمائی‘ وہ زیادہ تعداد یا بڑی تیاری نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ ایمان اور جہاد کے اسلحے سے لیس تھے‘‘۔ (الاخوان تحت رایۃ القرآن‘ (اخوان قرآن کے پرچم تلے)،ص۱۱۸)
اخوان المسلمون نے یہ سبق یاد کیاتھا اور ان کے دلوں میں اس نے یقین کا مقام حاصل کرلیاتھا۔ یہاں تک کہ جب فلسطین میں جنگ کا میدان گرم ہوا، اور غاصب یہودیوں نے فلسطین کے باشندوں کو اپنے گھروں سے دربدر کرکے جنگ کی آگ بھڑکائی تو اخوان المسلمون مرشد عام کا حکم سنتے ہی میدان میں کود پڑے۔ اس راستے میںوہ کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لائے حالانکہ وہ عسکری تربیت اور اسلحے کے حوالے سے کمزور تھے۔ وہ اللہ کی اطاعت میں راتیں جاگ جاگ کر گزارتے تھے مگر ان کے دل جامِ شہادت نوش کرنے کے لیے بے تاب تھے۔ وہ اس مقصد کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ کرنے والے نہیں تھے۔ انھوں نے اس راستے کی ہر رکاوٹ اور ہر رخنے کو پاے حقارت سے ٹھکرادیا۔
اس تاریخ کو پروفیسر فتحی یکن نے اپنی کتاب القضیۃ الفلسطینیۃ من منظور اسلامی (مسئلہ فلسطین، اسلامی تناظر میں)میں اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں :۱۹۴۸ء میں امام حسن البنا نے حکومت مصر کو ایک درخواست پیش کی کہ وہ اخوان المسلمون کے ۱۰ ہزار رضا کاروں پر مشتمل ایک کمک فلسطین بھیجنا چاہتے ہیں، لیکن حکومت نے اس درخواست کو مسترد کردیا۔ اس کے باوجود اخوان المسلمون نے مصر اور اُردن کی سرحدوں پر صف اول کے اکثر معرکوں میں دادِشجاعت دی اور نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جن کی وجہ سے حکومت برطانیہ نے مصر ی وزیر اعظم اور مصری ایجنٹوں کے ساتھ مل کر ایک سازش کے تحت اخوان المسلمون پر پابندی لگوادی۔ اس کے سرکردہ رہنمائوں کو گرفتارکیا گیا اور مرشد عام کو ۱۹۴۹ء میں شہید کروادیا۔(ص۸۹-۹۰)
مسئلہ فلسطین کے ساتھ اخوان کا تعلق ۱۹۴۸ء کی جنگ سے نہیں ہوا بلکہ یہ اس وقت قائم ہواتھا جب استاذ کامل الشریف کے بقول امام البنا نے کہا تھا : ’’ہر وہ ملک جس میں کلمہ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھا جاتا ہے وہ ہمارے ملک کا حصہ ہے ، وہ ہمارے لیے قابل عزت و احترام ہے۔ اس ملک کے ساتھ مخلص ہونا اور اس کی بھلائی کے لیے جہاد کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے ‘‘۔ (الاخوان المسلمون فی حرب فلسطین، (جنگ فلسطین میں الاخوان المسلمون)، ص ۴۵)
استاذ کامل الشریف نے جو جنگ فلسطین میں اخوانی دستے کے کمانڈر تھے ، اپنی کتاب میں وہ بات لکھی ہے جو امام حسن البنا اور ان کے ساتھیوں کے مسئلہ فلسطین کے ساتھ والہانہ وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ کہتے ہیں :اخوان المسلمون کی ترجیحات میں مسئلہ فلسطین کو نہایت بلند مقام حاصل تھا کیونکہ القدس مسلمانوں کے لیے قبلۂ اول اور حرم ثالث کا درجہ رکھتا ہے اور یہ عرب ممالک کا مرکزی مقام ہے۔ اس کے ضائع ہونے سے اسلامی ممالک ایک دوسرے سے کٹ جاتے ہیں۔ اگر یہودی اس پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے تو یہ شرپسند عناصر کا ایک خطرناک مرکز اور آگ سے بھرا ہوا ایک آتش فشاں ہوگا، جس سے ہمیشہ کے لیے عرب ممالک کے امن و امان کو خطرات لاحق ہوں گے۔ اسی لیے فلسطین کے بارے میں جب برطانوی حکومت کے ارادے واضح ہوئے تو اخوان المسلمون نے پے درپے کئی عوامی کانفرنسیں منعقد کیں۔ انھوں نے عوام اور حکومت کو اس خطرے کی حقیقت سے آگاہ کیا، جو ان کے قومی ڈھانچے اور ان کے مستقبل کو چیلنج کررہاتھا۔ وہ اپنی مسلسل کوشش کے نتیجے میں پورے عالم اسلام کو اس مسئلے کا فریق بنانے میں کامیاب ہوئے‘ اور اب یہ مسئلہ صرف فلسطین یا صرف عربوں کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ پورے عالم اسلام کا مسئلہ بن گیا۔ (ایضاً،ص۴۵)
فلسطین کے حالات جب دگرگوں ہوئے تو انھیں مال ، اسلحہ اور جو کچھ بھی ملا، انھوں نے اسے لے کر مجاہدین کی مدد کو پہنچنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ ۱۹۳۶ء میں اخوان المسلمون کے کچھ نوجوان فلسطین کی حدود میں گھس جانے میں کامیاب ہوئے اور حریت پسندوں کے ساتھ مل کر جہاد کا آغاز کیا۔ خاص طور پر شمالی علاقوں میں جہاں انھوں نے عظیم عرب مجاہد شیخ عزالدین القسام کی رفاقت میںجہاد جاری رکھا۔دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر اخوان المسلمون نے اس مسئلے کے حل کے لیے سفارتی اور عوامی سطح پر کام شروع کیا۔ انھوں نے اپنے نوجوانوں کے وفود عربوں کے پاس بھیجے تاکہ انھیں متحد کرکے مقابلے کے لیے تیار کریں۔ بعض اخوان نے خفیہ طور پر فلسطینی نوجوانوں کو جہادی تربیت دینے کا ذمہ لیا اور اس میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی۔ یہاں تک کہ اب ان کی وادیاں اور خود ان کے گھر مراکز قیادت اور تربیتی مرکز بن گئے۔
امام حسن البنا اور ان کے اخوانی شاگردوں کا مسئلہ فلسطین کے ساتھ تعلق مفصل جائزے کا متقاضی ہے۔ اسی طرح فلسطین میں اخوان المسلمون کا بہہ جانے والا خون اور بے شمار اخوانیوں کی شہادت بھی بڑی تفصیل چاہتے ہیں۔ پھر اہل فلسطین کی مدد کی وجہ سے انھیں اپنے ممالک میں جن حالات سے دوچار ہونا پڑا وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ مصر میں ان کی جماعت پر پابندی لگانے کی سازش ہوئی ، تحریک کے نمایاں افراد کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، اس کے تمام مراکز کو سیل کردیا گیا۔ جماعت کی تمام دستاویزات ، مجلات اور مطبوعات کے علاوہ نقد سرمایے اور سارے املاک کو ضبط کرلیا گیا۔ اس سازش کی بنیاد وہ فوجی احکامات تھے جو ۸دسمبر ۱۹۴۸ء کو حکومت مصر کی طرف سے جاری کیے گئے۔(الامام الشھید ،ص۲۶۸)
ایک طرف یہ سازشیںتھیں اور دوسری طرف اخوان المسلمون کے مجاہد فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کرنے والوں کے مقابلے میں روشن تاریخ رقم کررہے تھے، جب کہ عرب ممالک کی باقاعدہ افواج شکست پر شکست کھا رہی تھیں۔ اس خیانت بھری فضا اور مصر میں جماعت کو ختم کرنے کے اقدامات کے درمیان امام حسن البنانے مجاہدین فلسطین کے نام اپنا تاریخی پیغام بھیجا۔ اس میں انھوں نے لکھا تھا:میرے بھائیو!مصر کے حالات سے آپ ہر گز پریشان نہ ہوں۔ آپ لوگو ں کا کام فلسطین کو یہودیوں سے آزاد کرانا ہے‘ اور جب تک فلسطین میں ایک بھی یہودی موجود ہے آپ کا یہ کام اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا۔(ایضاً،ص۲۹۹)
جب اخوان المسلمون کو فلسطین میں غاصبوں کے مقابلے سے روک دیا گیا ، کیونکہ خائن حکمرانوں کو یہی بات بھلی معلوم ہوئی ، تو اخوان المسلمون کا شہرہ آفاق نعرہ پھر بھی وہاں باقی رہا‘ یعنی: اللّٰہ غایتنا ، الرسول زعیمنا ، القرآن دستورنا ، الجھاد سبیلنا ، الموت فی سبیل اللّٰہ اسمی امانینا، اللہ ہمارا مقصود ،رسول ؐہمارے قائد ، قرآن ہمارا دستور ، جہاد ہمارا راستہ اور اللہ کی راہ میں شہادت ہماری اعلیٰ ترین آرزو ہے۔ یہ نعرہ فرزندان فلسطین کے کانوں میں گونجتا رہا اور ان کے اجتماعات ، جلسوں جلوسوں اور ہر قسم کے پروگرامات میں دہرایا جاتا رہا ، یہاں تک کہ انھوں نے حرکۃ المقاومۃ الاسلامیہ (حماس ) کی بنیاد رکھی جس نے اخوان المسلمون کے مشن کو عملی جامہ پہنانے کا کام اپنے ذمے لے لیا۔ وہ مشن یہ تھا کہ اللہ کی طرف دعوت دی جائے ، خواب غفلت میں پڑے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کیا جائے ، فلسطین کی آزاد ی کے لیے جدوجہد کی جائے‘ اور بیت المقدس کو غاصبوں کے چنگل سے آزادی دلائی جائے۔
شہید کبیر ، استاد حسن البنا نے امت کو متحد کرنے اور اس کی صلاحیتوں کو بروے کار لانے کے سلسلے میں جو اہم کردار ادا کیا،وہ خراج تحسین پیش کرنے کے لائق ہے۔
آپ کا شمار ان عظیم علماے اسلام میں ہوتا ہے جن کی تحریک اور کوشش سے مختلف مکاتب فکر کے مابین قربت و یک جہتی اور ہم آہنگی کے لیے ایک مثالی ادارے کا قیام عمل میں آیا۔ جس میں چیدہ چیدہ معروف علما شامل تھے، اس عالمی ادارے میں:الاستاذ محمد علی علوبۃ پاشا ، عبدالمجید سلیم شیخ الازہر ، امین الحسینی مفتی فلسطین، محمد عبدالفتاح العنانی (مالکی)، الشیخ عیسیٰ منون رکن ہئیۃ کبار العلما (شافعی) ، محمد شلتوت شیخ الازہر (حنفی) ، محمد تقی قمی (از علما امامیہ)، عبدالوہاب خلاف، علی الخفیف شیخ الازہر ، علی بن اسماعیل موید علما(زیدی) ،محمد عبداللطیف سبکی(حنبلی)، استادجامع ازہر ، محمد محمدمدنی ،محمد الحسین کاشف نجف کے ایک مرجع ، سیدھبۃ الدین شہر ستانی از علما کا ظمیہ اور علامہ عبدالحسین شرف الدین جیسے جلیل القدر علما شامل تھے۔
استاد حسن البناکا علماے کرام کو یک جا کرنے کا فیصلہ ، مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں ان کی فکر و نظر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔مسلم اُمّہ کی یک جہتی کا یہ پہلو اخوان المسلمون کی جماعت کے بنیادی ڈھانچے اور نظم میں شامل ہے۔ خصوصاً ان کے دستور کی دوسری شق میں، جہاں اس جماعت کے مقاصد واہداف پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے :
۱- مختلف اسلامی مکاتب فکر کے مابین اتحاد و یک جہتی کے لیے مناسب ماحول فراہم کرنے کے لیے تگ و دوکرنا ، اس لیے کہ اسلامی اصولوں سے منحرف ا ور غیر مربوط رویوں نے مسلمانوں کو باہم متفرق کردیا ہے۔
۲-عام اسلامی عقائد و قوانین کو مختلف زبانوں میں شائع کرنا اور معاشرے کو عملاً جن چیزوں کی ضرورت ہے ، ان کی وضاحت کرنا۔
۳- اسلامی گروہوں یا قوموں کے مابین تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرنا اور انھیں ایک دوسرے کے قریب کرنے اور متحدرکھنے کے لیے جدوجہد کرنا۔
اگرچہ مرحوم البنا، علماے ازہر میں سے نہ تھے، تاہم وہ ایک شان دار متحرک اور مؤثر شخصیت تھے۔ ہمیں اس کا ثبوت جناب محمد تقی قمی کی اس گفتگو سے ملتا ہے جو انھوں نے جماعۃ التقریب کے بارے میں اپنی یادداشتوں میں بیان کی ہے۔ وہ جب حسن البنا کو یاد کرتے ہیں تو انھیں اپنے جسم میں ایک قسم کی حرارت ، کلام میں تازگی اور زندگی کا احساس ہوتا ہے۔
ابتدا میں حسن البناکے ازہر کے شیوخ سے کوئی قابل ذکر تعلقات نہ تھے، مگر وہ اپنے کام ، منصوبہ بندی اور خلوص میں ایک کوہ گراں تھے۔ اپنی انھی صفات کی بنا پر انھوں نے کالجوں اور یونی ورسٹیوں کے نوجوانوں تک اپنی بات پہنچائی،جس کے نتیجے میں وہ ایک متقی، پرہیزگار ، مجاہد ، اسلامی تعلیم و ثقافت سے آراستہ ،بیدار مغز اور رروشن خیال نسل تیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔
آپ مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور فقہوں کے ماننے والوں کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کی فکر کے علَم بردار تھے۔ اُمت مسلمہ کو اس کی عظمت رفتہ اور سطوت پارینہ سے ازسرنو مربوط کرنا آپ کی زندگی کا نصب العین تھا۔ ان کے اسی جذبے کی بدولت آج اخوان المسلمون ایک منفرد اسلامی جماعت ہے جو فرقہ وارانہ تعصبات سے پاک ہے۔
پروفیسرمحمد علی آذر شب بتاتے ہیں کہ الشیخ البنا مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے نصب العین میں بہت دل چسپی لیتے تھے۔ الشیخ القمی بھی ہمیشہ اسی راے کا اظہار کیا کرتے تھے۔ شروع میں مذکورہ بالا عالمی ادارے کے نام کے بارے میں کافی بحث ہوئی۔ مختلف نام زیربحث آئے بالآخر امام البنا نے ’تقریب ‘ (قریب لانے )کا نام تجویز کیا، کیونکہ اس ادارے کے مقاصد و اہداف کے اظہار کے لیے یہی نام زیادہ موزوں تھا ، اس لیے اس متقی مجاہد عالم کی تجویز پر اس جماعت اور اس کے ہیڈکوارٹر کا نام ’التقریب‘ ہی رکھا گیا۔
علامہ سید ہادی خسرو شاہی نے مجھے بتایا کہ ایران کے بعض بڑے علما البنا مرحوم کے عملی اقدامات کو خوب سراہتے تھے ، چنانچہ سید ہادی جب ۱۳۷۵ھ میں ایک بڑے عالم آیت اللہ سید رضا الصدرکی محفل میں حاضر ہوئے تو وہ حج کے عمرانی پہلوئوں پر گفتگو کے ساتھ ساتھ اور اسلامی اتحاد کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے بتا رہے تھے کہ مرحوم البنا نے اپنے حج کے سفر کے دوران مصریوں کو اہلِ تشیع کی حقیقت سے آگاہ کرنے میں اہم کردارادا کیا ہے۔ انھوں نے شیعوں کے بارے میں اہل مصر میں پائے جانے والے شکو ک و شبہات ختم کرنے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اس موقع پر آیت اللہ الصدر نے حاضرین کی طرف بطور خاص توجہ کرتے ہوئے زور دے کر کہا: ’’آپ لوگ شیخ حسن البنا سے ضرور واقف ہوں گے۔ وہ ایک عظیم انسان ہیں۔ وہ اخوان المسلمون کے عالمی قائدہیں‘‘۔
یہ تھے حسن البنا جو تشکیک ،تکفیر اور تفسیق کے دور میں اپنے نظریہ و عمل میں ہم آہنگی و مطابقت پر قائم تھے ، جس کے لیے بڑی جرأت و شجاعت چاہیے۔ مسلمانوں کو باہم قریب کرنے کا یہی جذبہ حسن البناکی جماعت کے رگ و ریشہ میں سرایت کرچکا ہے اور اب یہ جذبہ اس جماعت کے طفیل پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ اس جماعت کے بنیادی اصولوں میں یہ بات داخل ہے کہ فرقہ وارانہ اور فقہی جھگڑوں سے دور رہا جائے۔اخوان ہمیشہ اسلامی جذبے سے سرشار رہے ہیں، وہ حقیقی روح اسلام سے وابستہ رہے ہیں۔ان کی جماعت کا وجود کسی ایک فقہ کے پابندحضرات تک محدود نہیں۔ وہ فروعی اختلافات سے دور رہتے ہیںاور دوسروں کو بھی ان اختلافات سے روکتے ہیں۔
حسن البنا کے جانشین بھی انھی کے نقش قدم پر چلے اور اسی روش پر زور دیا۔ چنانچہ اخوان کے ایک مرشد عام مصطفی مشہور مرحوم نے سید خسرو شاہی کے نام اپنے ایک خط میں لکھا :’’اخوان المسلمون ، جب سے اپنے پہلے مرشد عام امام حسن البنا کے ہاتھوں قائم ہوئی ہے، فقہی ، مذہبی اور دینی و فکری اختلافات کے باوجود تمام مسلمانوں کو وحدت و اتحاد کی دعوت دیتی ہے ، کیونکہ مسلمان اپنے دشمنوں کے سامنے ذلیل و رسوا ہوئے ہیں تو تفرقہ اور تنازعات کی وجہ سے اور نفرت و بغض تک لے جانے والے اختلافات کی وجہ سے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا اور فرماتا ہے: وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْ بَعْدِ مَاجَآئَ تْھُمُ الْبَیِّنٰتِ وَ اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ-یہی وجہہے کہ آپ اخوان کی فکری بنیاد فہم دین پر دیکھتے ہیں، جسے امام حسن البنا نے اپنے ۲۰اصولوں کے ذریعے واضح کیا۔ قانون سازی کا مصدر قرآن کریم اور سنت مطہرہ ہیں۔ شہادتین ادا کرنے والے اور ان کے تقاضوں پر عمل کرنے والے کسی بھی مسلمان کو ہم اس وقت تک کافر قرار نہیں دیتے، جب تک کہ وہ کسی کفر یہ عمل کا مرتکب نہ ہو۔ ہمارے یہاں امام البنا کے اس مقولے نے خوب شہرت پائی ہے، حتیٰ کہ یہ سنہری اصول کہلانے لگا ہے کہ : ’’جس چیز پر ہم متفق ہیں اس پر باہم تعاون کرتے ہیں اور جس بات پر ہم میں اختلاف ہے ، اس میں ہم ایک دوسرے کو اختلاف کا حق دیتے ہیں‘‘۔ مطلب صاف واضح ہے کہ اتفاق اصول میں اور اختلاف فروع میں ہوتا ہے۔
حسن البنا اپنے اقوال و افعال میں اس معاملے میں بہت دل چسپی لیتے تھے۔ میں نے ان کے ہم عصر بڑے علما کے ساتھ ان کی ۱۳۲۵ھ کی ایک تصویردیکھی ہے۔ ان علما میں عبدالمجید سلیم شیخ الازہر، مفتی امین الحسینی، محمد تقی قمی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تصویر دار التقریب بین المذاہب الاسلامیہ کے ایک اجتماع میں لی گئی تھی۔ ایران اور دوسرے ممالک کے شیعوں کے ساتھ اخوان کا عملی تعاون گذشتہ صدی کے ۵۰ کے عشرے سے ہے اور ایرانی انقلاب کے بعدبھی قائم ہے۔
مسلمانوں کو اپنی صفوں میں اتحاد و یک جہتی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ سنیوں او رزیدی شیعوں یا اثناعشری شیعوں میں اختلافات صرف کچھ فروعات تک ہیں۔ ان میں ہر ایک اللہ کو معبودِ برحق‘ رسولؐ اللہ کو اللہ کا آخری رسولؐ، قرآن کریم کو قانون سازی کا پہلا اور سنت مطہرہ کو دوسرا مصد ر قرار دیتا ہے۔ سب ایک قبلے کی طرف رخ کرتے ہیں۔ دین لوگوںکی خواہشات کا تابع نہیں ہے، اب وقت آچکا ہے کہ تفرق کے بھڑکتے شعلوں کو بجھا کر اس فتنے کو سرے سے مٹا دیا جائے۔ (مصطفی مشہور، ۲۷ رجب ،۱۴۲۳ھ ، قاہرہ )
مسلمانوں کو ایک دوسرے سے قریب کرنے کا یہی جذبہ عظیم داعی محمد الغزالی مرحوم ، حسن الہضیبی مرحوم ، عمر تلمسانی ،سید قطب شہید، محمد حامد ابوالنصر ،مامون الہضیبی ، علامہ یوسف قرضاوی، ڈاکٹر حسن ترابی اور استاد محمد مہدی عاکف وغیرہ کی تحریروں میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک اخوان المسلمون کی سب سے بڑی صفت اعتدال اور میانہ روی ہے۔ اخوان کے بارے میں استاد محمود عبدالحلیم اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ’’اخوان المسلمون کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انھوں نے بغیر کسی انحراف یا افراط و تفریط کے، میانہ روی اور اعتدال کو اپنا رکھا ہے۔ کمال یہ ہے کہ انھوں نے یہ کامیابی انتہائی سخت نامساعد حالات ، منہ زورخو اہشات اور سخت مزاج لوگوں کی طرف سے انتہا پسندانہ افکار کے پھیلائو کے زمانے میں حاصل کی ہے‘‘۔
اتحاد و یک جہتی کا یہ جذبہ ان کے لٹریچر میں بھرپور انداز سے نظر آتا ہے۔ وہ نہج البلاغۃ کے حوالے دیتے ہیں، جس میں حضرت علیؓکے شان دار کلمات یک جا کیے گئے ہیں۔ مثلاً الاستاد عبدالحلیم حضرت علیؓ کے اس خط پر تبصرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں جوانھوں نے مصریوں کی گورنری کے بارے میں مالک بن اشتر کے نام لکھاتھا۔
یہ نتیجہ ہے امام البنا کی بلندپایہ تعلیمات ، شان دار راہ نمائی اور پوری اُمت کے لیے ان کی کھلی دعوت کا۔ مرحوم کو ایک طرف تو علما کے ایک طبقے اور دوسری طرف غالی صوفیوں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کا ایک سبب یہ تھاکہ آپ کی دعوت میانہ روی کی جانب بلاتی تھی۔
گذشتہ صدی کے تیسرے عشرے میں امام البنا نے اخوان المسلمون کے رسالے میں ایک مضمون لکھا ، اس مضمون میں آپ نے ایک بڑے سائز کی مربع شکل بنائی۔ اس مربع کے چاروں طرف اندر: لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ لکھا اور اس مربع کے مرکز میں ایک چھوٹا سامربع بنایا۔
اس کے بعد آپ نے لکھا کہ: ہمارے جو بھائی ہم پر تنقید کرتے ہیں وہ گویا اپنی دعوت کو اندرونی چھوٹے مربع تک محدود کیے ہوئے ہیں۔ یہ حضرات اپنی دعوت کو صرف ان لوگوں تک محدود کیے ہوئے ہیںجن کے بارے میں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف ان ہی کا عقیدہ صحیح ہے، حالانکہ ایسے لوگوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ اس کے برعکس ہم اپنی دعوت کا رخ ہر اس شخص کی طرف کرتے ہیں جو توحید الٰہی و رسالت محمدیؐ کی گواہی دیتا ہے ، خواہ وہ شخص اسلام کی تعلیمات و افکار میں کتنا ہی کوتاہ و کمزور کیوں نہ ہو۔ ہم اس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کی شوکت رفتہ کو واپس لانے کے لیے اسلامی اخوت و بھائی چارے میں ہمارے ساتھ مل جائے۔ ہم اپنی اس دعوت میں اقرار شہادتین کے سوا ، اس شخص پر کوئی اور شرط عائد نہیں کرتے۔ چنانچہ ہماری اس دعوت کو اسلامی تعلیمات پر ایمان و عمل کے لحاظ سے مختلف سطحوں اور درجوں کے لوگ قبول کرتے ہیں‘‘۔
غرض یہ کہ حسن البنا اس طریق کار کو ہدایت پر چلنے اور اسلامی عمل کو معاشرے میں مکمل طور پر پھیلانے کا ایک قدرتی حل سمجھتے تھے۔ وہ اصولی و فقہی میدانوں میں پُرسکون علمی مکالمے کا دروازہ کبھی بند نہیں کرتے۔اسی طرح وہ عقائد و تاریخ کے میدان میں بھی پُرامن مکالمے پر یقین رکھتے تھے کہ یہی ایک پسندیدہ اور معقول روش ہے ،یعنی شہادتین اور ایمان و اسلام کے ارکان پر ایمان کے دائرے میں رہتے ہوئے مکالمہ۔ اللہ تعالیٰ حسن البنا پر رحم فرمائے ، آپ کو بہترین جزا دے۔ ہم آپ کی پاک روح اور عظیم فکر کو سلام پیش کرتے ہیں۔
شہید حسن البناکے ساتھ میرا پہلا تعارف ، ۱۹۳۷ء میں، لندن سے واپسی پر ہوا۔ میں اس وقت ولی عہد کے ساتھ تھا۔ تین حضرات میرے انتظار میں تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ اخوان المسلمون کے لوگ ہیں۔ میں نے کہا کہ میں ان لوگوں سے نہیں ملنا چاہتا ،چونکہ میں سمجھتا تھا کہ اخوان المسلمون تجدید و انقلاب کی فکر کی نمایندہ ہے۔ اگرچہ وہ جیکٹ اور پتلون میں ملبوس تھے ، تاہم ان کے لباس انتہائی سادہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنے ہاتھ میں تسبیح کے بجاے کتاب اٹھا رکھی تھی اور وہ میرے ساتھ اسی کتاب کے مندرجات پر گفتگو کرنا چاہتے تھے۔ میں نے ان لوگوں کو دیکھا ضرور مگر ملاقات سے صاف انکار کردیا۔
میرے تعجب کی اس وقت انتہا نہ رہی جب اگلے روز ، تینوں میں سے ایک صاحب پھر میرے پاس تشریف لائے اورتعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میں حسن البنا ہوں۔ وہ میرے کل کے رویے سے واقف تھے، مگر انھیں اس توہین پر کوئی ملال نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان جس پس ماندگی کا شکار ہیں ، اسی نے انھیں یہ دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور کیا ہے۔ ہم چاہتے ہیںکہ ہم سب مل کر مسلمانوں کو ایک بار پھر صحیح اور درست فکر کی جانب لے جائیں۔ ایک ایسی فکر جس کے ذریعے مسلمان علم وسائنس میں بھی پیش رفت کریں اور انسانیت کی ترقی و ہدایت کے لیے مشعل راہ کا کام بھی کریں۔
اس پہلی ملاقات ہی میں حسن البنا کی شخصیت کی عظمت نکھر کر سامنے آگئی۔میں نے دیکھا کہ آپ انانیت سے یکسرپاک، ایک ہو ش مند اور بیدار مغزداعی ہیں۔ آپ خود چل کر میرے پاس تشریف لائے ،حالانکہ مجھے ، اپنے سخت رویے اور بدسلوکی کی وجہ سے ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ میں دوبارہ کبھی ان سے مل سکوں گا۔
اس ملاقات کے بعدسے ان کے اور میرے درمیان رابطہ و تعلق مضبوط تر ہوتا گیا۔ ہم وقتاً فوقتاً ایک دوسرے سے ملتے رہتے تھے۔ مجھے ان کے چہرے پر ایمان ،سچائی اور اخلاص کی علامات واضح نظر آتی تھیں ، جنھیں دیکھ کر ان پر میرے اعتماد و یقین میں مزید اضافہ ہوجاتا تھا۔
جب انھیں شہید کیاگیا تو میں اس وقت غیر ملکیوں کے لیے قائم جیل کے دورے پر تھا۔ ایک افسر میرے پاس آیا ، اس کے چہرے پر غم و اندوہ کی پرچھائیاں گہری ہوچکی تھیں۔ سرکاری احکام کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے مجھے یہ غم ناک خبر سنائی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اس عظیم انسان کی رحلت سے میرے سینے میں خنجر پیوست ہوگیا ہو۔ (مجلہ الدعوۃ ، قاہرہ، ۱۳فروری۱۹۵۱ء)
ابھی سورج پوری طرح غروب نہیں ہواتھا۔ مغرب کی اذان کا وقت قریب تھا کہ امام شہید پورے خشوع و خضوع کے ساتھ خاموش کھڑے ہوگئے۔ کچھ دیر کھڑے سوچتے رہے، پھر اچانک کعبۃ اللہ کی طرف رخ کرکے دائیں ہاتھ کے سہارے زمین پر بیٹھ گئے۔ مجھے یوں لگا کہ ابھی ان کی روح پرواز کر جائے گی۔ میں ان کی یہ حالت دیکھ کر خوف زدہ ہوگیا اور عجب پریشانی میں مبتلا ہوگیا۔ میری ہمت جواب دے گئی‘ زبان گنگ ہوگئی‘ نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس عالم میں،میں اپنے آنسو روکتے ہوئے ان پرجھکا اور میں نے کہا:’’ اﷲ آپ پر رحم کرے، ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔ اﷲ نہ کرے کہ ہم آپ کے بارے میں کوئی بُری خبر سنیں‘‘۔ یہ سن کر امام البنا نے کہا: ’’میرے بھائی،کیوں نادانی کی بات کررہے ہو! کیا تم بھی ایک دن اسی مقام پر نہیں لائے جاؤگے؟ یہی توہمارا آخری مقام ہے‘ اس لیے لمبی جدائی اور فوری رخصتی کے لیے ہر وقت تیار رہو‘‘۔
پھر امام البنا حرم میں نماز مغرب ادا کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ چند دن بعد ہماری حج سے واپسی ہوگئی۔ تب وہ منحوس گھڑی آگئی جب امام ربانی کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا اور انھوں نے دنیا کے قید خانے سے ہمیشہ کے لیے نجات پاتے ہوئے داعی اجل کو لبیک کہا۔
آدھی رات گزرنے کے بعد عمر بہاء الامیری (شامی وزیر مملکت‘بعد ازاں پاکستان میں شام کے سفیر) نے ہمیں آرام کی دعوت دی۔ مرشد کا رعب اتنا تھا کہ جب وہ اورین پلس کے دروازے پر کھڑے تھے، انھوں نے وہیں سے عمرامیری کو زور سے آواز دے کر بلایا اوران سے کہا: ’’بھائی، ہم رات ایسی خوش نما جگہ پر نرم و گداز بستر پر گزاریں اور خوب لذیذ کھانے کھائیں اور ہمارے مجاہد بھائی فلسطین کے مہاجر کیمپوں میں کس مپرسی کے عالم میں ہوں۔ ہم یہاں شام میں مزے اڑائیں اور ہمارے بھائی کھلے آسمان تلے پڑے ہوں۔ واللہ! اپنے کسی بھائی کے گھر، چٹائی پر ہاتھ کا تکیہ بناکر اور اپنی عبا اوڑھ کر سونا، مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ پسند ہے‘‘۔