نومبر ۲۰۱۸

فہرست مضامین

ریاستِ مدینہ کی خصوصیات

سیّد اسعد گیلانی | نومبر ۲۰۱۸ | اسوہ حسنہ

Responsive image Responsive image

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخِ انسانیت کی ۲۳سالہ قلیل ترین مدت میں جو عظیم الشان انقلاب برپا کیا وہ اپنی نوعیت ، کیفیت، جدوجہد اور نتائج کے اعتبار سے اتنا حیران کن ہے کہ اس کی نظیر تاریخِ عالم میں کہیں موجود نہیں ہے۔ جب ہم اس انقلاب کے مختلف پہلوئوں پر غور کرتے ہیں تو حقیقتاً اس کے سوا کسی دوسرے انقلاب پر لفظ انقلاب کا اطلاق ہی درست معلوم نہیں ہوتا۔ اگر یہ بات کہی جائے کہ اب تک انسانیت کی تاریخ صرف ایک ہی حقیقی انقلاب سے آشنا ہے تو یہ کوئی مبالغہ آمیز بات نہیں ہے اور نہ اس کا انکار آسان ہے۔ اس لیے کہ اب تک دنیا میں انقلاب کا مفہوم صرف اسی قدر سمجھا جاتا ہے کہ انسانوں پر غالب اور مسلّط، پہلے اقتدار کو بے دخل کر کے  ایک دوسرا اقتدار ان پر مسلّط کردیا جائے۔ یہ کام جس قدر اچانک ہو اور اس میں جس قدر زیادہ خون خرابہ ہو اسی قدر بڑا انقلاب سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالاں کہ فساد فی الارض ،ہلاکت ِ انسانی، ضیاع جان و مال و عزت و آبرو، انسانی بستیوں کی بربادی اور ظالموں کے ایک گروہ کے بعد ظالموں کے ہی کسی دوسرے گروہ کے مسلط ہوجانے سے انسانیت کی قسمت میں وہ کون سا تغیر واقع ہوجاتا ہے جس کی بناپر اسے انقلاب کہا جاسکے۔

البتہ ایک ایسی جدوجہد جس کے نتیجے میں پرانا، بداخلاق اور بدکردار انسان یکسر ایک نئے پابند ِ اخلاق انسان کا رُوپ دھار لے۔ قدیم رسموں اور عصبیتوں کا مارا ہوا اور اخلاقی خرابیوں میں ملوث انسانی معاشرہ سارے بوجھ اُتار کر سیدھا سادا خداپرست ،شریف اور پابند ِ اخلاق معاشرہ بن جائے جس میں خدا ترسی، ہمدردی، اخوت، مساوات، مسئولیت، آخرت کی جواب دہی، نیکی اور خیرخواہی کی قدریں جاگزیں ہوجائیں۔ ظام اور جابر حکام کی بجائے خدا ترس اور نیک حاکم کا ٹھنڈا سایہ انسانوں کو میسر آجائے اور جانب دارانہ، سنگدلانہ اور متعصبانہ قوانین کے بجاے مساواتِ انسانی پر مبنی غیر جانب دارانہ ، خداترسانہ اور رحمدلانہ قوانین انسانوں میں رائج ہوجائیں___ تو اس کو حقیقی طور پر انقلاب کہا جاسکتا ہے۔ پھر جب یہ بات معلوم ہو کہ یہ کام صرف ۲۳برسوں کی مختصر مدت میں ہوگیا تو انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ پھر جب مزید یہ پتا چلے کہ یہ سب کچھ پُرامن طور پر بلاخون خرابے کے ہوا اور ۲۷غزوات اور ۵۴سرایا میں صرف چند سو انسان دوطرفہ کام آئے تو انسانی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہتی۔ اس ساری انقلابی جدوجہد کا مطالعہ کرنے کے بعد انسان بے ساختہ یہ بات کہنے پرمجبور ہوجاتا ہے کہ اگر تاریخ انسانی میں کوئی حقیقی انقلاب برپا ہوا ہے تو فقط یہی انقلاب ہے باقی جو کچھ ہے وہ ساری کش مکش اقتدار اور خون خرابی کی داستان ہے....

اس سے پہلے کہ ہم مدینہ کی عظیم الشان اسلامی ریاست کے قیام کی تدابیر اور اسلامی نظام کے اجرا کی حکمتوں اور مختلف جہتوں پر بحث کریں خود اسلامی ریاست کی بعض خصوصیات کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔ یہ اندازہ کرنا نہایت ضروری ہے کہ صرف چند برسوں میں ایسا حیرت انگیز کارنامہ سرانجام دینا کتنی زبردست جدوجہد، بصیرت، تدبر، حکمت، دانش اور بے نظیر رہنمائی اور قیادت کا نتیجہ ہے۔ یہ انقلاب انسانی تاریخ میں اب تک منفرد واقعہ ہے جیسے کہ انسائی کلوپیڈیا برٹانیکا نے لکھا ہے: ’’یہ وہ کامیابی ہے جو آپ سے قبل کسی دور میں بھی کسی دینی معلّم کو حاصل نہ ہوسکی تھی‘‘۔

حقیقت یہ ہے کہ اس کی نظیر بنی نوع انسان زمین پر آج تک پیش نہیں کرسکے ہیں۔ ایک فرد فی قوم اُٹھ کر اپنی بات کہتا ہے۔ پوری قوم مزاحمت کرتی ہے اور ۲۳سال کی قلیل مدت میں اس کے پیش کردہ نظریے کے عین مطابق افراد ڈھل جاتے ہیں۔ معاشرہ بدل جاتا ہے۔ قوانین کا اجراء ہوجاتا ہے۔ تصوراتِ اخلاق و کردار اور معیشت و معاشرت و سیاست و تہذیب و تمدن   سب بدل جاتے ہیں۔ اس انقلاب سے ۲۵سال پہلے کا انسان یکبارگی قبرمیں سے اُٹھ کر اگر واپس اس سرزمین میں آتاتو اس بدلےہوئے ماحول کو دیکھ کر کبھی باور نہ کرسکتا کہ وہ کھلی آنکھوں کے ساتھ عالمِ بیداری میں ایسا عظیم الشان تغیر انسانی زندگی میں دیکھ رہا تھا اور وہ واقعی اس سرزمین میں واپس آیا تھا جس سے وہ رخصت ہوا تھا۔

یہ اسلامی ریاست جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تائید اور اپنی زبردست جاںگسل جدوجہد سے قائم کی، ایک اصولی اور نظریاتی ریاست تھی۔ یہاں اس کی بیش بہا خصوصیات میں سے چند ایک کا ذکر نہایت ضروری ہے۔

  1. اس ریاست کی بنیاد ایک ایسے معاہدے پر رکھی گئی تھی جو پہلے ایک شخص اور ایک شہر کے باشندوں کے درمیان طے پایا تھا اور انھوں نے برضا و رغبت اسے سارے معاملات کا سربراہ اور ذمہ دار تجویز کر کے اس کے ہاتھ پر بیعت (عقبہ) کی تھی۔ اگر کوئی معاہدئہ عمرانی نامی شے کسی جگہ واقع ہوئی تھی تو وہ یہی معاہدہ تھا جس کے تحت ایک جگہ کے باشندوں نے اپنی آزاد مرضی سے حضوؐر کو اپنا سربراہ تجویز کیا۔ گویا یہ ریاست خالص عوامی رضامندی اور معاہدے پر قائم کی گئی تھی۔
  2. اس ریاست کی ایک اور خصوصیت اس کا ایک تحریری دستور تھا۔ یہ ایک خالص دستوری اور آئینی ریاست تھی جس میں اس کے باشندوں کے حقوق و فرائض کی واضح تعین و تقسیم کی گئی تھی۔ غالباً یہ دنیا کا پہلا تحریری دستور تھا جو مدینہ کی ریاست کے ذریعے وجود میں آیا تھا۔
  3. یہ ایک اصولی اور نظریاتی ریاست تھی کیوںکہ اس کی بنیاد نسل، علاقہ، زبان، قبیلہ یا معاشی اور سیاسی مفادات کے کسی اشتراک پر نہیں رکھی گئی تھی بلکہ چند اصولوں کی حفاظت اور ان کے اجرا کے لیے یہ ریاست وجود میں آئی تھی۔
  4. اس کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ یہ ایک جامع تصورِ زندگی پر قائم ریاست تھی جو انسان کی زندگی کے تمام شعبوں کو منظم کرتی اور انھیں ایک سمت بندگیِ رب کی طرف موڑتی تھی۔ وہ عبادات سے معاملات تک انسانی زندگی کے تمام گوشوں پر محیط تھی۔
  5. دنیا میں پہلی بار دین و سیاست کے حسین امتزاج پر مبنی یہ ریاست قائم ہوئی تھی۔ رسول ہی اس ریاست کا سربراہ تھا۔ وہی فوجوں کا کمانڈر تھا اور وہی نمازوں کا امام تھا۔ وہی عمّال کا نگران تھا اور وہی الٰہی تعلیمات پہنچانے کا ذمہ دار تھا۔ محراب و منبر اور دربار و دفتر کے اس امتزاج و اجتماع نے انسانی زندگی کی تقسیم کو ختم کر کے اسے ایک حسین اور متوازن وحدت میں بدل دیا تھا جس سے انسان کے بے شمار بوجھ اُتر گئے تھے۔
  6. یہ ایک جمہوری اور شورائی ریاست تھی جس میں سارے کام مشورے سے طے ہوتے تھے۔ چوں کہ خدائی حکم یہی تھا کہ سارے کام مشورے سے طے کیے جائیں: وَشَاوِرْھُمْ فِیْ الْاَمْرِ’’ان سے معاملات میں مشورہ کرو‘‘ اور وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ ’’ان کے امور آپس میں مشورے سے طے ہوتے ہیں‘‘کے مطابق صلح وجنگ، داخلی اور خارجی معاملات سب کے سب مشورے سے طے پاتے تھے اور ساری پالیسیاں باہمی مشورے سے ہی مرتب ہوتی تھیں۔ حُریت ِ فکر، مساواتِ انسانی، عدلِ اجتماعی اور جمہوریت، ان الفاظ کی روح کے مطابق ان کا پورا پورا اہتمام تھا۔ہرقسم کی غلامی سے آزادی کا منشور وہ انقلابی کلمہ تھا جو اس ریاست کے بنیادی نظریہ کا ترجمان تھا۔ مساواتِ انسانی، وحدتِ انسانیت اور اخوت پر قائم تھی۔ قانون سے بالاتر خود سربراہِ مملکت کی ذات بھی نہ تھی۔
  7. یہ ایک فلاحی اور خادمِ خلق ریاست تھی جس کے ذمے خدمت ِ انسانیت اورکفالت ِ رعایا تھی۔ اس ریاست میں کوئی گداگر نہ تھا۔ اس کے سربراہ کا اعلان تھا کہ جو مقروض فوت ہوجائے اس کا قرض ریاست کے ذمے ہے اور جو وراثت چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کی ہے۔ روزگار کی ضمانت اور معاشی کفالت کا اہتمام ریاست کے ذمے تھا۔
  8. یہ ریاست اپنے اجتماعی اُمور میں خدا کے سامنے جواب دہ تھی اور اس کی تمام پالیسیاں اور قانون سازی خدا کی اُتاری ہوئی ہدایات کے مطابق طے پاتی تھیں۔ اس ریاست کا فردفرد اس امر سے سرشار تھا کہ وہ خدا کے سامنے جواب دہ تھا اور اسی احساس کے تحت پوری ریاست کے باشندوں میں ذہنی مطابقت اور جذباتی ہم آہنگی موجود تھی۔ درحقیقت یہ کوئی غیرمسئول ریاست نہ تھی بلکہ اس کی حیثیت خدا کے سامنے ایک ایسے جواب دہ ادارے کی تھی جو خدا کی نیابت کرتا تھا۔ اسی لیے اسے خلافت سے تعبیر کیا گیا تھا۔
  9. اس ریاست کا تصورِ حاکمیت دنیا کی تمام ریاستوں سے مختلف تھا۔ اس کی حاکمیت نہ عوام کی تھی، نہ سربراہِ مملکت کی،نہ کسی خاندان کی اور نہ کسی ادارے کی بلکہ اس کی حاکمیت کا براہِ راست تعلق اللہ تعالیٰ سے تھا۔ وہ اس کا حقیقی اور مستقل حاکمِ اعلیٰ تھا جو ازل سے اَبد تک حی و قیوم اور علیم و خبیر ہے اور جو ہرلمحہ اپنے بندوں کا نگران اور کفیل ہے، اور جو اپنی مخلوق کا تنہا واحد حاکم ہے، باقی سب اس کے محکوم ہیں۔ اس نظریے نے ریاستوں کے نظریۂ حاکمیت میں انقلابی تبدیلی کردی۔ اس سے ایک ایسی بے لاگ مساوات اور ایک ایسا بے لوث انصاف قائم ہوگیا جس کی نظیر کسی دور اور کسی معاشرے میں ممکن نہ تھی۔
  10. اس ریاست کی ایک مستقل کتابِ ہدایت تھی جو خود قانون اور ماخذ ِ قانون تھی اور ہرنزاع میں آخری اتھارٹی شمار ہوتی تھی۔ اس نوعیت کی ریاست کے لیے تاقیامت یہ کتابِ ہدایت تھی جسے قرآن کہا گیا تھا اور جس کا ایک ایک لفظ حاکمِ اعلیٰ کا فرمایا ہوا اور ناقابلِ تغیر تھا ۔ وہ اس ریاست کی مستقل گائیڈبک، بنیادی قانون اور دستور تھی۔
  11. اس ریاست کے مقاصد میں سب سے بڑا مقصد خدا کے باغیوں کی سرکوبی تھا، نیز طاغوت کی مکمل نفی کرکے، دنیا کے تمام باغی انسانوں، ریاستوں، اداروں اور گروہوں کو خدا کی بندگی کی طرف لانا اور ایمان باللہ کو زمین کے آخری کناروں تک پہنچانا اس ریاست کا مقصد ِ اوّلین تھا۔ اس طرح یہ ریاست ایک عالم گیر دعوتِ انقلاب کی داعی ریاست تھی اور اس کا قیام تمام دنیا کے طاغوتوں اور خدا کے نافرمانوں کے لیے ایک مستقل چیلنج تھا۔
  12. یہ ریاست ایک تعلیمی اور تربیتی ادارہ تھی جو اپنے باشندوں کو ایک مخصوص اخلاقی سانچے میں ڈھالنے کا اہتمام کرتی تھی۔ اس کا تصورِ انسان و کائنات اس کی تعلیم کے ہرگوشے میں پیوست تھا اور اس تصور کی روشنی میں وہ اپنے تمام باشندوں کو تعلیم دیتی اور ان کے کردار کے مطابق ڈھالتی تھی جس سے خدا ترس اخلاقی کردار وجود میں آتے تھے۔ یہ ریاست مادی اشیا سے زیادہ انسانوں پر توجہ دیتی تھی اور اس کے نزدیک ہرشے سے زیادہ انسان کی قدروقیمت تھی۔ اس کے نزدیک ایک انسان کا ناحق قتل ساری مخلوق کے قتل کے مترادف تھا۔
  13. اس ریاست میں عمّال کے بارے میں صالح کی شرط لازم تھی۔ غیرصالح کردار کے لیے اس ریاست میں روٹی کپڑے اور مکان کا انتظام تو ضرور موجود تھا،لیکن اس کے لیے  اعلیٰ مدارج اور اُونچے مناصب کے حصول کا کوئی سوال نہ تھا۔ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰکُمْ کے اصول کے تحت نیک اور صالح افراد ہی اس ریاست کے کَل پرزے بن سکتے تھے۔ اس میں مال و نسب کی اہمیت نہیں شرافت اور اخلاق کی اہمیت تھی۔

یہ وہ عظیم الشان ریاست تھی جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ۲۳سال کی مدت میں قائم کر کے ایک حیرت انگیز کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ جو اپنی نوعیت میں منفرد اور ممتاز تھی اور جس کی مثال نہ اس سے پہلے دنیا میں کوئی ریاست قائم ہوئی تھی اور نہ اس کے بعد ایسی ریاست قائم ہوسکی، جب کہ ایسی ریاست کا قیام اُمت مسلمہ کا فرض ہے۔ اور اس کے قیام کے بغیر مسلمان اپنے مالک کے سارے احکام پر عمل پیرا نہیں ہوسکتے اور اس کے بغیر ان کی مسلمانی اَدھوری رہ جاتی ہے۔

یہ کارنامہ سرانجام دینے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کی روشنی میں مختلف حکمتوں سے کام لیا۔ اس میں حکمت تبلیغ و دعوت بھی شامل ہے۔ حکمت ِ تنظیم و اجتماع ہے۔ حکمت ِ اخلاق و کردار ہے، حکمت ِ ہجرت اور ترکِ وطن ہے ، حکمت ِ اَزدواج ہے، حکمت ِ جنگ اور جہاد ہے اور حکمت ِ تدبیر و سیاست ہے۔ ان ساری حکمتوں نے اپنی اپنی پوری کامیابی اور عمدگی سے کام کیا ہے تب جاکر وہ عظیم الشان ریاست وجود میں آئی جو درحقیقت حضرت عیسٰی ؑ کے الفاظ میں زمین پر آسمانی بادشاہت تھی۔