ستمبر ۲۰۲۱

فہرست مضامین

کتاب نما

| ستمبر ۲۰۲۱ | کتاب نما

Responsive image Responsive image

معارفِ سیرتؐ، مرتبہ: محمدسعد خالد۔ ناشر: دارالکتاب، یوسف مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۴۷۴۷۶۷۱-۰۳۳۳۔ صفحات: ۵۸۴۔ قیمت: ۹۰۰ روپے۔

برصغیر پاک و ہند کی مجلاتی تاریخ میں ماہ نامہ معارف   ، اعظم گڑھ (اجرا: ۱۹۱۶ء) ایک سدابہار لہلہاتا شجرِ علم و فضل ہے، جس کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا:’’ معارف   ، ایک ایسا رسالہ ہے، جس کے پڑھنے سے حرارتِ ایمان میں ترقی ہوتی ہے‘‘ ، اور ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے بقول: ’’ساری دُنیائے اسلام میں، عرب ہو کہ عجم، کوئی رسالہ اسلامیات پر، معارف   کے معیار کا نہیں‘‘۔ بلاشبہہ مختلف اوقات میں اس کے معیار میں اُتارچڑھائو آتے رہے ہیں، لیکن جس جاںفشانی سے اس کے مدیران نے اس کو باقاعدہ رکھا کہ وہ خود تاریخ کا روشن باب ہے۔

فاضل مرتب نے اس علمی مجلّے سے سیرتِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر ۳۱مقالات کا انتخاب مرتب کرکے پیش کیا ہے۔ سبھی عناوین اور مباحث دل نواز ہیں اور ایمان افروز۔(س م خ)


مکاتیب ِ صدر یارجنگ ، مرتب: سفیراختر۔ ناشر: قرطاس ، فلیٹ نمبر ۱۵، اے، گلشن امین ٹاور، گلستانِ جوہر، بلاک۱۵، کراچی۔ صفحات: ۲۱۲۔ قیمت: ۴۵۰ روپے۔

ابوالکلام آزاد کی غبارِخاطر کے مکتوب الیہ مولانا حبیب الرحمٰن خان شیروانی ’صدریار جنگ‘ کے نام سے بھی معروف ہیں۔ ڈاکٹر سفیراختر نے ۳۸ نام وَر شخصیات (الطاف حسین حالی، مولوی عبدالحق، عبدالعزیز میمن،امتیاز علی خان عرشی، سیّد سلیمان ندوی اور مسعود عالم ندوی وغیرہ) کے نام نواب صاحب کے خطوط مرتب کیے ہیں۔ پاورق میں حواشی و تعلیقات بھی شامل ہیں، اور آخر میں خطوں کے مآخذ اور اشاریہ۔ کتاب تدوین کی ایک خوب صورت مثال ہے۔

 خطوں کی اہمیت کا اندازہ ’پیش لفظ‘ نگار ڈاکٹر سیّد عبداللہ کے اس جملے سے لگایا جاسکتا ہے: ’’میں اسے دیکھ کر اتنا مسرور ہوا کہ کیفیتِ مسرت کو الفاظ کے قالب میں ڈھالنے سے قاصر ہوں‘‘۔ پھر سیّدصاحب نے ان خطوں کی خوبیاں گنوانے کے بعد بجاطور پر لکھا ہے کہ ’’اخترراہی [سفیراختر] نے یہ مکاتیب جمع کرکے بڑی خدمت انجام دی ہے‘‘۔(رفیع الدین ہاشمی)


اقتدار کی مجبوریاں، جنرل (ر)مرزا اسلم بیگ (مرتبہ: کرنل اشفاق حسین)۔ ناشر: ادارہ مطبوعاتِ سلیمانی، غزنی سٹریٹ،اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۳۲۷۸۸-۰۴۲۔ صفحات:۳۴۹۔ قیمت: ۶۵۰ روپے۔

طاقت کے سرچشموں پر ذمہ داریاں ادا کرنے والوں کی زندگی اور اُن کے ذاتی مشاہدات و واقعات سے واقفیت حاصل کرنا، عام اور خاص لوگوں کا فطری تقاضا ہے۔ زمانۂ وسطیٰ سے لے کر آج تک ایسے بہت سے مقتدر حضرات نے خود نوشت تحریر کیں، یا اُن کی سوانح عمریاں لکھی گئیں۔ جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ صاحب نے پاکستانی مسلح افواج کی قیادت ایک بڑے کٹھن دور میں کی۔ ان کی زندگی، مشاہدات اور تاثرات پر مشتمل یہ ایک دل چسپ اور معلومات افزا کتاب ہے۔

کتاب میں جنرل صاحب نے پاکستان کے ابتدائی زمانے کی فوجی زندگی اور خاص طور پر جہادِ افغانستان، ایٹمی پروگرام، جمہوریت کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ، وغیرہ پر بہت سی نئی معلومات فراہم کی ہیں۔ اس کتاب کے مبصرین نے عام طور پر مختلف سیاسی رہنمائوں کے حوالے ہی سے کتاب کو اہمیت دی ہے، لیکن اس کا نہایت اہم حصہ مشرقی پاکستان کے المیے سے متعلق ہے۔ یہاں اسی پہلو پر چند حوالے پیش کیے جارہے ہیں۔

جنرل صاحب نے بتایا ہے کہ مغربی پاکستان کے سیاست دانوں اور مقتدر طبقوں کی تمام تر ناانصافیوں کے باوجود مشرقی پاکستان میں نفرت کی آنچ تیز نہ ہوسکی۔ اہلِ فکرونظر اس بے رحمی سے باز آنے کے لیے بار بار توجہ بھی دلاتے رہے۔مذکورہ کمزوری سے دشمن ملک نے بہ سہولت فائدہ اُٹھایا۔ وہ بتاتے ہیں: ستمبر ۱۹۶۵ء کی جنگ نے مشرقی پاکستانی بھائیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی کہ تین طرف سے بھارت سے گھرے مشرقی پاکستان کے دفاع کے لیے صرف ایک ڈویژن فوج، فضائیہ کا ایک سکواڈرن اور بحریہ کے محض چند جہاز تھے (ص۸۱)۔ ازاں بعد شیخ مجیب الرحمٰن کی شعلہ بار خطابت اور عبدالحمید بھاشانی کے ’’جالن جالن، آگن جالن‘‘ [جلائو جلائو، آگ جلائو] کے نعروں نے مشرقی پاکستان میں آگ لگادی (ص۸۳)۔ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے انتخابات (دسمبر ۱۹۷۰ء) میں دو کے علاوہ مشرقی پاکستان سے تمام نشستیں جیت لیں۔ صدر جنرل یحییٰ خاں نے ۳مارچ ۱۹۷۱ء کو اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا، مگر فروری کے وسط میں مغربی پاکستان سے ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے اجلاس ملتوی کرنے کے لیے دبائو بڑھایا اور ۲۸فروری کو دھمکی دی کہ ’’مغربی پاکستان سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والوں کی ٹانگیں توڑی دی جائیں گی‘‘ (ص۸۵) اور جنرل یحییٰ خان نے اجلاس ملتوی کر دیا۔ امیرجماعت اسلامی مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی نے اس اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’’اکثریتی پارٹی کو نئے آئین کا مسودہ پیش کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، اور دوسروں کو اعتراض ہو تو دلائل کے ساتھ اپنی تجاویز پیش کریں.... صورتِ حال اتنی نازک ہے کہ غلط سمت میں اُٹھایا جانے والا ایک قدم بھی پاکستان ٹوٹنے کا سبب بن سکتا ہے‘‘ (ص۸۴)۔ بھٹو، یحییٰ غیردانش مندانہ اقدام نے مشرقی پاکستان میں عدم تعاون کی خونی تحریک کو راستہ دیا، اور’’سول انتظامیہ مفلوج ہوکر رہ گئی۔ تمام احکامات عملاً عوامی لیگ کے سیکرٹریٹ سے جاری ہونے شروع ہوئے....پاکستان کے صوبوں کے مابین سیاسی توازن بحال رکھنے میں ناکام ہوگیا‘‘۔ (ص۸۵)

اس طرح مشرقی پاکستان عملاً انارکی کا شکار ہوکر اگلے ساڑھے آٹھ ماہ کے دوران بغاوت اور بھارتی جارحیت میں گھِر گیا۔ امن و امان کی بحالی کے لیے پاکستانی فوج کی تائید کرنے کی سزا کےطور پر مشرقی پاکستان سے جماعت اسلامی اور اسلامی چھاتروشنگھو ( اسلامی جمعیت طلبہ) کے نیک اور صالح لوگوں پر جھوٹے مقدمات قائم کرکے انھیں آج تک پھانسی کی سزائیں سنائی جارہی ہیں، مگر ’’پاکستان کی طرف سے سرکاری سطح پر ان اقدامات کے خلاف کوئی آواز نہیں اُٹھائی گئی‘‘ (ص۸۴)۔

جنرل صاحب دل گرفتگی سے لکھتے ہیں: ’’ان نامساعد حالات میں بھی ہماری فوج نے بڑی ہمت اور جاں فشانی کا مظاہرہ کیا اور قربانیاں دیں، جنھیں ہم نے بھلا دیا۔ کتنے آفیسر اور جوان شہید ہوئے، جنھیں ہم یاد بھی نہیں کرتے‘‘ (ص ۹۴)۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’بھارت کی ایسٹرن کمان کے چیف آف سٹاف جنرل جیکب لکھتے ہیں کہ ’’پاکستانی سپاہی ایک ایک انچ زمین کے لیے لڑے۔ پانی میں اور دلدلی علاقوں میں مسلسل چل چل کر ان کے پائوں گل چکے تھے، نیند سے بے حال تھے، لیکن پھر بھی کوئی [پاکستانی]سپاہی بھاگا اور نہ ہی پیچھے ہٹا، بلکہ آخری دم تک لڑتا رہا‘‘ (ص۹۵)۔

یوں جنرل بیگ نے متعدد تفصیلات بڑے واشگاف لہجے میں بیان کی ہیں۔ بلاشبہہ اس کے باوجود کئی گوشے ایسے ہیں کہ جن پر اختصار کے بجائے تفصیل سے لکھنے اور بتانے کی اشد ضرورت ہے۔

یہ کتاب اپنی نوعیت کے اعتبار سے بھی خاصی منفرد ہے، یعنی ایک میں تین: کہیں کتاب کے فاضل مرتب کرنل (ر) اشفاق حسین کا بیان ہے، کسی جگہ محترم جنرل صاحب کی تحریر ملتی ہے، اور پھر درمیان میں سوال و جواب شروع ہو جاتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس شان دار کتاب کو مختلف خلا پُر کرکے، ہموار انداز سے شائع کیا جائے۔ محترم مرتب اور ناشر اس خدمت پر قابلِ تحسین ہیں۔ (س م خ)


مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف ، حیات و خدمات -۲، مرتب: ڈاکٹر زاہداشرف، مکتبہ المنبر، عبدالرحیم اشرف ٹرسٹ،فیصل آباد۔ ملنے کا پتا: کتاب سرائے ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۴۱۶۔ قیمت: درج نہیں۔

اس کتاب کے حصّۂ اوّل پر تبصرہ ترجمان القرآن ستمبر ۲۰۱۸ء میں شائع ہوا تھا۔اِسی تسلسل میں زیرنظر جلد بارہ مصاحبوں اور عربی مضامین (بعض کے تراجم) پر مشتمل ہے۔ جن حضرات سے مصاحبے کیے گئے، اُن میں نام وَر بزرگ عبدالغفار حسن، مصطفیٰ صادق، جسٹس محمد افضل چیمہ، راجا محمد ظفرالحق، حکیم سیّد ظلّ الرحمٰن اور بیگم مولانا عبدالرحیم اشرف شامل ہیں۔ ان گفتگوئوں میں زاہد اشرف صاحب اپنے والد مرحوم سے بارہ شخصیات کے تعلق اور ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہیں اور قارئین کے لیے اُن کا تعارف بھی پیش کرتے ہیں۔ اِن گفتگوئوں میں مولانا عبدالرحیم اشرف کی شخصیت کے علاوہ اسلامی تحریکات، پاکستان میں نظامِ اسلامی کے امکانات، اُمت مسلمہ کے مسائل وغیرہ بھی زیربحث آئے ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)

تعارف کتب

  • ترکی جو میں نے دیکھا  ، ڈاکٹر اعجازفاروق اکرم۔ ناشر: مثال پبلشرز، رحیم سنٹر، امین پور بازار، فیصل آباد۔ صفحات: ۱۹۲۔ قیمت: ۵۰۰ روپے۔ [مصنف نے جمہوریہ ترکیہ میں اپنے حالیہ ایک سفر کی رُوداد لکھی ہے، اور قارئین کو مختلف مقامات کے بارے میں اپنے مشاہدات اور دلی کیفیات کا شریکِ سفر بنایا ہے۔]
  • آس کے دیپ ، شاہدہ سحر۔ ناشر: ماورا پبلشرز، ۶۰-شاہراہ قائداعظم، لاہور ۔ صفحات: ۲۵۵۔ قیمت: ۸۰۰ روپے۔ [حریم ادب پاکستان کی شاعرہ شاہدہ سحر کا پہلا مجموعۂ کلام مشتمل بر حمدونعت، غزلیات اور منظومات۔  سیاسی تحرک اور سماجی خدمات سے تعلق کی بناپر ان کی شاعری خصوصاً نظمیں زیادہ بامعنی اور پُرمطالب ہیں۔ فنی اعتبار سے انھیں نظموں کی مختلف اقسام پر بخوبی دسترس حاصل ہے۔]