پروفیسر خورشید احمد


۲۰۰۴ء کے امریکا کے صدارتی انتخابات امریکا کی سوا دو سو سالہ تاریخ میں ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ انتخابات بظاہر امریکا کی سرزمین پر اور امریکی ووٹروں کی شرکت سے واقع ہوئے لیکن عملاً ووٹ کے بغیر‘ دنیا بھر کے باشعور اور عالمی سیاست پر نگاہ رکھنے والے افراد اس انتخاب میں شریک تھے جو امریکا اور دنیا کو جارج بش کی خطرناک اور جنگجویانہ سیاست سے نجات دلانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہر بڑا شہر‘ ہر ٹی وی اسٹیشن‘ ہر اخبار کا دفتر اور ہر سیاسی چوپال پولنگ اسٹیشن کا منظر پیش کر رہا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ پوری دنیا کے باسی اس انتخاب میں بش اور کیری کے انتخابی معرکے میں خود اپنے مستقبل کو تلا ش کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے چشمِ فلک نے امریکا کے کسی بھی انتخابی معرکے میں یہ منظر نہیں دیکھا۔

جہاں تک امریکا سے باہر کی دنیا کا تعلق ہے‘ ہر اخباری جائزہ اور ہر راے عامہ کا سروے بھاری اکثریت سے جارج بش کے مقابلے میں جان کیری کی کامیابی کا اعلان کر رہا تھا۔ بات صرف عرب‘ مسلم اور تیسری دنیا تک محدود نہ تھی‘ بلکہ یورپ اور جنوبی امریکا کے تمام ممالک بشمول انگلستان میں دیکھی جا سکتی تھی۔ اگرچہ برطانیہ کی حکومت بش کی استعماریت کی طرف دار تھی لیکن وہاں کے عوام بھی بھاری اکثریت سے (کچھ جائزوں کے مطابق ۷۰ اور ۸۰فی صد) بش کی شکست کے متمنی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آخری نتائج آنے سے پہلے ہی کیری نے شکست تسلیم کرلی تو ان کی امیدوں پر اوس پڑگئی اور امریکی ووٹروں کی اکثریت سے (گو مقابلہ قریبی تھا اور بش کو عمومی ووٹوں کا ۵۱ فی صد اور کیری کو ۵.۴۸ فی صد ملا اور انتخابی ادارے میں بش کو ۲۷۰ اور کیری کو ۲۵۲ ووٹ ملے) جارج ڈبلیو بش مزید چار سال کے لیے امریکا کے  صدر منتخب ہوگئے۔

عالمی ردعمل

حالات کا اگر گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا حقیقت سے قریب تر ہوگا کہ عالمی راے عامہ اور امریکا کے زمینی حقائق کو نظرانداز کر کے امریکی ووٹروں کی اکثریت نے جو فیصلہ دیا ہے وہ جارج بش کی جیت سے زیادہ سینیٹر کیری کی شکست ہے۔ اس لیے کہ وہ اور ان کی انتخابی حکمت عملی اُس جارج بش کو نہ ہلا سکے جس کی خود امریکی عوام کی تائید ۲۰۰۱ء میں ۹۰ فی صد سے کم ہو کر ۲۰۰۴ء میں الیکشن سے چند دن پہلے صرف ۴۹ فی صد رہ گئی تھی (ٹائم میگزین‘ ۱۵نومبر ۲۰۰۴ئ‘ ص ۲۷)۔ یہ سب امریکی جمہوریت کے مخصوص آہنگ‘ میڈیا کی قوت‘ منظم اور طاقت ور لابیوں کی اثرانگیزی اور اصول اور اخلاقی اقدار کے بارے میں امریکی عوام کے مسخ شدہ اور ناقص وژن کا کرشمہ ہے کہ تباہ کاریوں کے تشویش ناک چار سالہ ریکارڈ کے باوجود جارج بش صدر منتخب ہوگئے اور اب امریکا اور اقوامِ عالم کو نئی آزمایشوں سے دوچار کریں گے۔

صدر بش نے اپنے مخصوص اندازمیں دعویٰ کیا ہے کہ ’’امریکا نے فیصلہ دے دیا ہے‘ اور مجھے اپنی پالیسی پر عمل کرنے کے لیے عوام کی جانب سے اختیار (مینڈیٹ) حاصل ہوگیا ہے‘‘۔ لیکن یہ دعویٰ اس اعتبار سے بہت محل نظر ہے کہ امریکا بری طرح تقسیم ہوگیا ہے اور دنیا کے سارے ہی ممالک کے عوام کی سوچ‘ جذبات اور توقعات اور امریکی قیادت کے عزائم اور اعلان میں اتنا بُعدواقع ہوگیا ہے کہ دنیا امن و سکون‘ قانون کی حکمرانی‘ بین الاقوامی انصاف کے حصول      اور جنگ وجدل سے پاک زندگی کے لیے‘ اپنے دیرینہ خوابوں کو پراگندا ہوتے دیکھ رہی ہے۔ ہرگوشۂ ارض پر بشمول امریکا بے یقینی‘ بے اطمینانی اور عدمِ تحفظ کے مہیب سائے منڈلا رہے ہیں۔ بش صاحب یہ انتخاب خوف (fear) کی فضا پیدا کر کے جیتے ہیں اور اب ساری دنیا اس خوف کی لپیٹ میں آرہی ہے۔ اگر کہیں کوئی خیر کا کلمہ ادا ہو رہا ہے تو وہ یہ ہے ’’بھلا ہو امریکی دستور کا‘ یہ بش کے آخری چار سال ہیں!‘‘ (امریکی دستور کے تحت کوئی تیسری مدت کے لیے صدرنہیں ہو سکتا)

۲۰۰۴ء کے امریکی انتخاب کا ایک غیرمعمولی پہلو یہ بھی تھا کہ امریکا اور یورپ کے اہم اخبارات نے ‘ جن کی روایت تھی کہ مضامین تو ہر مکتب فکر کے شائع کرتے تھے مگر ادارتی کالموں میں کسی صدارتی امیدوار کی تائید نہیں کرتے تھے‘ انھوں نے اس روایت کو توڑتے ہوئے سینیٹرکیری کی کمزوریوں کے اعتراف کے باوجود ووٹروں کو امریکا اور عالمی امن کے مفاد میں ان کو ووٹ دینے کا مشورہ دیا تھا۔ اس بات میں نیویارک ٹائمز‘ واشنگٹن پوسٹ اور اکانومسٹ لندن‘ یک آواز تھے جو دراصل ’’زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو‘‘ پر عمل کرتے ہوئے امریکا اور دنیا کو مزید کش مکش اور تصادم سے بچانے کے لیے کوشاں تھے۔ جب انتخابی نتائج میں بش کو فتح ہوئی تو جرمنی کے مشہور ہفت روزہ Der Spiegel نے سرورق پر امریکا کے مجسّمۂ آزادی کی آنکھوں پر امریکی جھنڈا باندھ کر امریکی عوام کی بند آنکھوں کا گلہ کیا۔ لندن کا ڈیلی مرر چیخ اٹھا کہ:

How can 59,054,087 people be so dumb?

۰۸۷‘۰۵۴‘۵۹ افراد اتنے نہ سوچنے سمجھنے والے کس طرح ہوسکتے ہیں؟

اور ماسکو کا پراودا یہ لکھنے پر مجبور ہوا کہ:

امریکا کے بنیاد پرست عیسائی طالبان کا عکس ہیں۔ دونوں اپنے خدا کی توہین کرتے ہیں اور انکار کرتے ہیں (اکانومسٹ‘ اسپیشل رپورٹ، ’’امریکی اقدار‘‘ ۱۳ نومبر ۲۰۰۴ئ‘ ص ۲۹)

انھی جذبات و احساسات کا اظہار امریکا کے ہمسایہ ممالک کے عوام کر رہے ہیں۔ جارج بش انتخاب کے بعد دو ملکوں میں گئے۔ ایک چلی‘ جہاں انتخابی نتائج کے فوراً بعد ایشیاپیسفک اکانومک کارپوریشن فورم کا سربراہی اجلاس ہوا اور اس میںہزاروں انسانوں نے صدربش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ وہ یہ بینر اٹھائے ہوئے تھے:

You have blood on your hands. We do not want you here.

تمھارے ہاتھ خون سے آلودہ ہیں۔ ہم تمھیں یہاں نہیں دیکھنا چاہتے۔

۲۰ سربراہانِ حکومت اور ۵۰۰ سے زیادہ کارپوریشنوں کے ذمہ داران میں سے سیاہ جھنڈیوں سے صرف ایک شخص کا استقبال کیا گیا اور وہ صدر بش تھے۔ یہ تھا عوامی ردعمل‘ جارج بش کے انتخاب کے بعدپہلے بیرونی دورے کے موقع پر۔ اس کے بعد ۳۰ نومبر ۲۰۰۴ء کو وہ دوسرے ہمسایہ ملک کینیڈا گئے۔ وہاں بھی دونوں شہروں میں‘ یعنی اوٹاوا اور ہیلی فیکس میں ہزارہا انسانوں نے اسی طرح احتجاجی نعروں سے ان کا استقبال کیا۔ کینیڈا کے وکلا کی بڑی تعداد نے کینیڈا کے وزیراعظم پال مارٹن کو ایک یادداشت پیش کی جو انسانیت کے خلاف جارج بش کے جرائم کی چارج شیٹ کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں جارج بش اور امریکا کے ان جرائم کی فہرست دی گئی ہے  جو گذشتہ چار سال میں ان کی قیادت میں وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ ان وکلا نے مطالبہ کیا کہ   جارج بش کا استقبال نہ کیا جائے بلکہ جنگی جرائم کے خلاف ان پر اسی طرح مقدمہ چلایاجائے جس طرح جرمنی کی سیاسی قیادت پر دوسری جنگ کے بعد نیورمبرگ ٹرائل کے ذریعے چلایا گیا تھا۔ الیکشن میں کامیابی‘ حقائق پرپردہ نہیں ڈال سکتی اور پروپیگنڈے کا کرّوفر عوامی جذبات اور احساسات کو دھندلا نہیں کرسکتا۔ امریکا کی موجودہ قیادت اور اس کے حواری حکمرانوں کو ہوا کے رخ کا کچھ نہ کچھ اندازہ کرنا چاہیے کہ    ؎

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا

انتخابی نتائج: بنیادی عوامل

بلاشبہہ ہر ملک کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ جس کو مناسب سمجھیں‘ مسندِقیادت پر سرفراز کریں لیکن عالم گیریت کے ثمرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ممالک جو عالمی کردار ادا کررہے ہیں‘ ان کی قیادت اور پالیسیوں کی تشکیل میں ان ممالک کے عوام اور قیادتیں بھی حصہ لیں (مداخلت کے بغیر) جو ان کی پالیسیوں سے متاثر ہو رہی ہیں۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ ہمارے عوام اور سوچنے سمجھنے والے عناصر ان اسباب و عوامل کا گہری نظر سے جائزہ لیں جو امریکا کے انتخابات‘ اس کے نتائج‘ اور عالمی پالیسیوں پر اس کے اثرات سے متعلق ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکی انتخابات کے جو نتائج نکلے اس کے اہم اسباب کیا ہیں اور ان سے کیا سبق سیکھا جا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکا ایک ملک نہیں‘ عملاً ایک بّراعظم ہے۔ ۱۱۸ ملین ووٹروں نے اس انتخاب میں شرکت کی ہے لیکن تمام معروضی جائزے اس امر پر گواہ ہیں کہ امریکا کے عوام کی دل چسپی کا اصل مرکز و محور بین الاقوامی مسائل اور خارجہ پالیسیوں کے امور کبھی بھی نہیں رہے۔ ان کی اصل دل چسپی اندرونی مسائل سے ہوتی ہے۔ امریکی عوام کی معلومات دوسرے ممالک کے بارے میں بس واجبی سی ہیں۔ گو امریکا ایک مدت سے ایک بڑی عالمی طاقت ہے۔ اس وقت اس کی ۳ لاکھ فوجیں صرف عراق‘ افغانستان اور جنوبی کوریا ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے ۸۰ سے زیادہ ممالک میں موجود ہیں اور عسکری‘ معاشی اور ابلاغی‘ ان تینوں راستوں سے وہ دنیا پر چھایا ہوا ہے۔ اس لیے امریکا کی قیادت اور اس کی پالیسیوں کی صحیح تفہیم ساری دنیا کے پالیسی بنانے والوںکے لیے ضروری ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کی قیادت اور میڈیا دونوں نے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی۔ ہمارے ملک میں پالیسی سازی کے اجتماعی‘ شورائی اور اداراتی نظام کا فقدان ہے جس کے نتیجے میں فردِواحد جو چاہتا ہے کرتا ہے اور سرکاری پارٹی کے ارکان اور ذرائع ابلاغ اس کی ہربات پر تعریف اور توصیف کے ڈونگرے برسانا اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں اور یہی ہماری اصل کمزوری ہے۔ ضروری ہے کہ امریکی معاشرہ ‘اس کے سیاسی نظام کی موجودہ کیفیت‘ وہاں پالیسی سازی کے طریق کار اور موثر قوتوں کا صحیح ادراک کیا جائے تاکہ پاکستان‘ اُمت مسلمہ اور دنیا کے دوسرے ممالک اپنے سیاسی‘ معاشی‘ تہذیبی اور نظریاتی مقاصد‘ عزائم اور مفادات کی روشنی میں صحیح خطوط پر پالیسی وضع کرسکیں اور متبادل حکمت عملی وجود میں لاسکیں۔ اسی لیے ۲۰۰۴ء کے انتخابات اور ان میں کارفرما عوامل کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کی ضرورت ہے۔

۱- خوف کا احساس

ان انتخابات پر تحقیقی کام کے لیے تو ابھی کچھ عرصہ لگے گا لیکن فوری طور پر جو بات کہی جاسکتی ہے اس میں سب سے اہم یہ ہے کہ ان انتخابات میں فیصلہ کن عنصر‘ کوئی مثبت ہدف یا کارکردگی نہ تھی بلکہ غالب چیز خوف کا احساس تھا جسے صدربش اور ان کی انتخابی مہم چلانے والوں نے بڑی کامیابی اور چابک دستی سے استعمال کیا۔ امریکا کی ایک امتیازی خصوصیت مادی خوش حالی اور عوام کا احساس امن وسلامتی ہے۔ گذشتہ ۲۰۰ سال میں کوئی لڑائی امریکا کی سرزمین پر نہیں لڑی گئی۔ دونوں عالمی جنگوں کا میدانِ جنگ یورپ‘ ایشیا اور افریقہ تھے۔ امریکی افواج نے شرکت ضرور کی مگر لڑائی امریکی سرزمین پر نہیں ہوئی‘ اس لیے امریکی عوام و خواص جنگ کی ہولناکیوں اور تباہ کاریوں کا تجربہ نہیں رکھتے۔ پرل ہاربر پر جاپانی حملے کے بعد ۱۱ستمبر کو نیویارک کے جڑواں ٹاوروں کی تباہی جس میں دنیا کے ۴۰ ممالک کے ۲ ہزار ۷ سو ۵۲ افراد ہلاک ہوئے دوسرا واقعہ ہے جس نے امریکیوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا۔

بش انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر عدمِ تحفظ کے احساس کو نہ صرف اپنی پالیسی کا مرکز و محور بنایا بلکہ پوری انتخابی مہم جنگی خوف زدگی کی نفسیات (war-psychosis) کی بنیاد پر منظم کی اور اس جھانسے (trap) میں سینیٹر جان کیری بھی آگئے۔ انھوں نے بھی عراق اور ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ کے سلسلے میں وہی زبان استعمال کی بلکہ بش سے زیادہ شعلہ بیانی کی کوشش کی جو بالکل مصنوعی تھی۔ فطری طور پر امریکی ووٹر نے زمانہ جنگ کے صدر کو ہی اس جنگ کو جاری رکھنے کے لیے ترجیح دی۔  یہی بش کا ترپ کا پتا تھا کہ جنگ کے دوران کمانڈر تبدیل نہ کرو۔ اس کے باوجود عراق کی جنگ اور دہشت گردی امریکی ووٹروں کی نگاہ میں فیصلہ کن عامل کے طور پر تیسرے نمبر پر تھے‘ یعنی ۱۹ فی صد‘ جب کہ معیشت اور روزگار دوسرے (۲۰ فی صد) اور اخلاقی اقدار اور خاندان کے نظام کا تحفظ پہلے نمبر (۲۲فی صد) پر تھے۔

یہ بھی ایک دل چسپ حقیقت ہے کہ بش اور ان کی سیاسی ٹیم نے عراقی جنگ اور دہشت گردی (بین الاقوامی اور ملکی سطح پر) اور لبرل کیری کی وجہ سے خاندانی نظام اور اخلاقی اقدار (خصوصیت سے ہم جنس پرستی‘ اسقاطِ حمل اور جنسی بے راہ روی) کو خطرے کے دورخ بناکر    پیش کیا۔ اور یہی وہ منفی عامل ہے جس کی وجہ سے بش امریکا کے عوام کے مذہبی جذبات اُبھار کر خصوصیت سے قدامت پسند عناصر کی تائید کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ برازیل کے   صدر لولاڈی سلوا (Lula de Silva) نے اس پہلو کو بڑے صاف الفاظ میں یوں بیان کیا:

خوف کا استحصال ایک بہت ترقی یافتہ اعلیٰ درجے کی سائنس ہے لیکن برازیل اس کلچر کا قائل نہیں ہے جسے امریکی انتخابات میں فتح حاصل ہوئی۔ ہمیں جس بات پر تشویش ہے وہ یہ کہ اپنی سلامتی کے دفاع کے نام پر امریکا ان جنگوں کوآگے بڑھائے گا جو اس نے شروع کیں۔ (انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون‘ یکم دسمبر ۲۰۰۴ئ)

اسی احساس کی بازگشت کو فرانس سے لے کر ملایشیاتک تمام اہم تجزیہ نگاروں کی تحریروں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج امریکا ہی نہیں پوری دنیا ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے مقابلے میں کہیں زیادہ غیرمحفوظ اور احساسِ خطر میں مبتلا ہے۔ اس کا سیاسی فائدہ جارج بش نے بھرپور انداز میں حاصل کیا ہے۔

۲-  عیسائی قدامت پرست عنصر

دوسرا اہم پہلو امریکا کی سیاسی اور اجتماعی زندگی میں مذہب اور مذہب میں بھی عیسائی قدامت پرستوں اور انتہا پسندوں کا کردار ہے۔ امریکا دنیا کے دوسرے ملکوں میں سیکولرزم اور آزاد خیالی (لبرلزم) کا علم بردار ہے‘ مسلمان ممالک کو اپنے زعم میں مذہبی عناصر سے پاک کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی تک کر رہا ہے‘ خصوصیت سے پاکستان‘ سعودی عرب اور ایران کو ہدف بنایا ہوا ہے اور دینی تعلیم کو سیکولر سانچے میں ڈھالنے کے لیے پانی کی طرح ڈالر بہا رہا ہے‘ اور ان ملکوں کی قیادتوں کو سرکاری اور این جی اوز کے ذریعے زیردام لانے میں مشغول ہے۔ دین اور سیاست کے رشتے کو توڑنا اصل ہدف ہے۔ لیکن خود امریکا کا اپنا کیا حال ہے اور اس میں خصوصیت سے اس موثر‘ منظم اور نہایت طاقت ورگروہ کا جسے نیوکونز (neo-cons) کہا جا سکتا ہے کیا کردار ہے؟ یہ بات قابلِ غور بھی ہے اور چشم کشا بھی۔دستور میں ضرور ریاست اور مذہب کی تفریق کا اصول بیان کیا گیا ہے مگر تازہ ترین جائزے کے مطابق آبادی کا ۸۰ فی صد کہتا ہے کہ وہ خدا پر ایمان رکھتا ہے اور ۶۰ فی صد کا دعویٰ ہے کہ اس کی زندگی میں مذہب ایک موثر اور کارفرما قوت ہے (PEW کا سروے‘ مارچ مئی۲۰۰۴ئ‘ بحوالہ اکانومسٹ‘ ۱۳ نومبر۲۰۰۴ئ)۔ تقریباً اسی تناسب سے اسرائیل کی تائید اور فلسطینیوں سے بے اعتنائی اور مخالفت کی کیفیت ہے۔ اس کی تائید گیلپ کے سروے سے بھی ہوتی ہے جس کے مطابق ۵۰ فی صد سے زیادہ امریکی اس کے قائل ہیں کہ چرچ کو سیاست میں موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

جارج بش نے اس مذہبی جذبے کو بڑی کامیابی سے اپنی سیاسی مہم میں استعمال کیا۔ اپنے کو new-born عیسائی کی حیثیت سے سامنے لایا۔ یہاں تک دعویٰ کیا کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ فرمانِ خداوندی کے مطابق کر رہا ہوں۔ اس کی الیکشن مہم کا اصل دماغ کارل روو  (Karl Rove) تھا۔ اس کی انتخابی حکمت عملی انتہائی کامیاب ثابت ہوئی۔ آیندہ بھی وہ پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

یہ عجیب تضاد ہے کہ بش اور اس کے پالیسی سازوں کو امریکا میں تو مذہب کے کردار کا استحکام مطلوب ہے اور عالم اسلام میں مذہب کے کردار کا استرداد--- وہاں انتہاپرستی کو سینے سے لگانا اور یہاں جسے انتہاپرستی کا نام دیا جا رہا ہے اس کے خلاف جنگ اور روشن خیال اعتدال پسندی کی تبلیغ بلکہ اسے قوت کے ذریعے مسلط کرنے کی سعی بلیغ۔ یہی وہ تضاد ہے جسے اقبال نے جہاد اور جنگ کے پس منظر میں یوں واضح کیا تھا:

فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے

دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر

تعلیم اُس کو چاہیے ترکِ جہاد کی

دنیا کو جس کے پنجۂ خونیں سے ہو خطر

باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے

یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تاکمر

ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے

مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر

حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات

اسلام کا محاسبہ ، یورپ سے درگزر

۳- انتخابی مھم کا منفی پھلو

امریکا کے صدارتی انتخابات کا تیسرا اہم پہلو اس کا منفی رنگ ہے۔ بش صاحب نے خود بھی اور ان کی پوری میڈیا ٹیم نے بھی‘ جان کیری کی شخصیت کو ہدفِ تنقید بنایا اور اسے منہدم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ نجی زندگی‘ جنگی خدمات‘ ووٹنگ ریکارڈ کون سی چیز ہے جسے استعمال نہیں کیا گیا۔ پوری انتخابی مہم پر ۴ ارب ڈالر خرچ ہوئے جس میں سے ۴۵.۱ ارب ڈالر صرف ٹی وی کی اشتہاری مہم پر خرچ کیے گئے اور ایک نہیں دسیوں کتابیں اس مرکزی خیال پر لائی گئیں کہ کیری دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔ (ملاحظہ ہو‘ Unfit for Command  از John E.O. Neil اور Jerome Corsi)

اگر دنیا کی سب سے ترقی یافتہ جمہوریت کا یہی معیار ہے تو ’’پھر کسے رہنما کرے کوئی؟‘‘ ٹی وی پر دونوں امیدواروں کے مقابلے میں جان کیری کی ذہنی برتری اور پالیسی کے معاملات پر مضبوط گرفت کا اعتراف بلااستثنا سب نے کیا لیکن غیراخلاقی چالیں اس برتری کو بہا کر لے گئیں اور  ع

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا ’’سرمایہ دار‘‘

امریکی ایجنڈا

بش صاحب کا دعویٰ ہے کہ انتخابی نتائج نے ان کی عالمی پالیسیوں کی تائید کر دی ہے  اور اب وہ پہلے سے بھی زیادہ جرأت کے ساتھ اس پالیسی پر گامزن ہوسکیںگے جو مندرجہ ذیل  خونی خصوصیات سے عبارت ہے:

۱- تن تنہا دنیا کے معاملات کو طے کرنے کی سعی اور اس کے لیے قوت کا بے محابا استعمال۔

۲- عالمی اداروں کو غیر موثر بنانا یا اپنی چاکری پر مجبور کرنا‘ خصوصیت سے اقوامِ متحدہ کو بے اثر کرنا‘ اس کے سیکرٹری جنرل کو بلیک میل کرنا اور اس طرح عالمی اداروں کو اپنے اہداف کے لیے استعمال کرنا۔

۳- کسی متبادل قوت کو وجود میں نہ آنے دینا۔

۴- کسی بھی خود ساختہ خطرے کی بنیاد پر پیشگی حملوں کے ’’اصول‘‘ کا سہارا لے کر فوجی اقدام کرنا۔

۵- دنیا کے دوسرے ممالک میں‘ جہاںقیادت سے ناخوش ہوں ‘اسے اپنے اور دنیا کے لیے خطرہ قرار دے کر تبدیلیِ قیادت پر عمل ۔

۶- دنیا میں کسی بھی دوسرے ناپسندیدہ ملک کو کسی بھی صورت میں اور کسی بھی درجے کی نیوکلیر طاقت بننے سے بہ جبر روک دینا۔

۷-  دنیا کے دوسرے ممالک میں قومی تعمیراور فروغِ جمہوریت کے نام پر تبدیلی کی تائید اور معاونت۔

۸- دنیا کے تیل کے وسائل پر قبضہ اور دنیا کی منڈیوں کو اپنی مصنوعات کے لیے آزاد عالمی تجارت کے نام پر حاصل کرنا‘ اور خود اپنی معیشت میں طرح طرح کی درآمدی پابندیوں اور  اعانتوں(subsidies) کو جاری رکھنا۔

یہ وہ بنیادی ایجنڈا ہے جس پر صدر جارج بش اپنی دوسری مدت صدارت میں کاربند رہنا چاہتے ہیں اور ان کے دست و بازو اس کا برملا اظہار کر رہے ہیں۔ انتخابی نتائج کے فوراً بعد جو اقدامات انھوں نے کیے ہیں وہ ہوا کے اس رخ کا پتا دیتے ہیں مثلاً:

۱-  کولن پاول سے نجات اور ان کی جگہ کنڈولیزا رایس کو سیکرٹری خارجہ مقرر کرنا جو نیوکونزکی گل سرسبد اور پیشگی حملوں اور حکومتوں کی تبدیلی کے فلسفے کی خالق ہیں۔

۲-  سیکرٹری دفاع رونالڈ رمس فیلڈ اور اس کے دست راست پال وولفورٹز کو باقی رکھنا حالانکہ ابوغریب کے واقعے کے بعد سے ان دونوں کی برطرفی کا مطالبہ ہر طرف سے ہو رہا ہے لیکن یہ بش صاحب کی آنکھ کے تارے ہیں۔

۳- اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے عراق کی جنگ کو برملا ناجائز (illegitimate)  قرار دیا اور امریکا کے مطالبات تسلیم کرنے میں تردد کا اظہار کیا تو ان کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور اقوام متحدہ کی کرپشن کی باتیں کی جانے لگیں۔ تیسری دنیا کے ممالک کے شدید احتجاج پر یہ لے فی الحال کچھ مدہم پڑگئی ہے لیکن اگر کوفی عنان       راہِ راست پر نہ آئے تو پھر اس لے کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

۴-  فلوجہ پر حملہ اور عراق میں اجتماعی مزاحمت کی تحریک کو قوت سے کچلنے کے لیے فلوجہ کو ایک نشانِ عبرت بنانے کی کوشش۔ بش کے انتخاب کے بعد فلوجہ میں دو سو کے قریب امریکی فوجی مارے گئے ہیں اور عراقی شہریوں کی ہلاکت کا کوئی ریکارڈ نہیں لیکن اندازہ ہے کہ کئی ہزار افراد شہید ہوئے ہیں۔ فلوجہ میں حکمت عملی کا ایک اہم اور دردناک پہلو یہ تھا کہ سب سے پہلے امریکی فوج نے وہاں کے ہسپتال پر قبضہ کیا تاکہ ہلاک ہونے والوں کا ریکارڈ دنیا کے سامنے نہ آسکے اور زخمیوں کی آہ و بکا بھی دنیا تک نہ پہنچ سکے۔

اس کے ساتھ ہی یہ پہلو قابلِ غور ہے کہ صدر بش کے قریبی اور اندرونی حلقے کے جو دانش ور بش کی پالیسیوں کے لیے زمین ہموار کرنے کا کام کرتے ہیں‘ وہ بڑھ چڑھ کر شام‘ شمالی کوریا‘ ایران اور سعودی عرب کو آیندہ ہدف بنانے کی باتیں کررہے ہیں‘ البتہ خود پاکستان کے صدر ان کے پسندیدہ اور محبوب افراد میں سرفہرست ہیں‘ ان کی تو تعریف کی جاتی ہے مگر ہر تحریر کی تان اس پر ٹوٹتی ہے کہ پاکستان پر مزید دبائوڈالا جائے کہ وہ دہشت گردی کی مہم میں اور     بڑھ چڑھ کر حصہ لے‘ خود اپنے لوگوں کو نشانہ بنائے‘ مدرسوں کا مزاج لادینی بنائے‘ دینی سیاسی قوتوں کو غیرموثر بنائے‘ آزاد خیال سیاسی عناصر کو آگے لائے‘ حدود قوانین اور ناموسِ رسالتؐ کے قانون کو تبدیل کرے‘ پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ نکالے اور معیشت کو بیرونی مصنوعات کے لیے کھول دے۔

ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ہر طرف سے یلغار ہے۔ جنرل پرویز مشرف کو اس پوری مہم میں اپنے اصل ساتھی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے بلکہ جمہوریت پسندی کے سارے دعوئوں کے ساتھ ان کی وردی کو بھی (جو فوجی آمریت کی علامت ہے) اس کام کو انجام دینے کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ ادھر جنرل صاحب کا بھی حال یہ ہے کہ ایک سال میں چار بار امریکا تشریف لے گئے ہیں۔ بش اور مشرف کے رازونیاز کا یہ عالم ہے کہ  ع

تاکس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

امریکی عزائم

امریکی صدر کے قریب ترین حلقوں کی سوچ کے انداز کو سمجھنے کے لیے ہم صرف یہ اقتباس پیش کر رہے ہیں‘ انھیں دیکھیے اور اندازہ کیجیے کہ امریکی قیادت دنیا کو کہاں لے جانا چاہتی ہے اور مسلم ممالک کے سربراہ اس کے آلہ کار بننے کے لیے کس حد تک جانے کو تیار ہیں۔

فرانس کا ایک مشہور دانش ور پیٹرک سیل (Patrik Seale) اپنے ایک تازہ مضمون میں امریکا کے ذہنی منظرنامے کا یوں جائزہ لیتا ہے اور اسے جمہوریت بذریعہ فتح (democracy by conquest) کا نام دیتا ہے:

نوقدامت پسندوں کا استدلال ہے کہ عربوں پر تبدیلی باہر سے‘ اگر ضروری ہو تو طاقت کے ذریعے مسلط کی جانی چاہیے۔ پیشگی فوجی حملہ ایک آپشن رہنا چاہیے۔ عرب اسرائیلی تنازعے پر عربوں اور مسلمانوں کی مایوسی کو بآسانی نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ امریکا دشمنی محض گرم ہوا ہے‘ جیسے ہی امریکا کے دشمنوں کو کچلا جائے گا‘ یہ اُڑ جائے گی۔ ڈگلس فِیتھ اور ولیم کرسٹل دو سربرآوردہ نیوکونزہیں جو اپنے اپنے طریقے سے پورے گروپ کی سوچ کی نمایندگی کرتے ہیں۔ فِیتھ پینٹاگون کی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر ہے۔ عام طور پر اسی کو کریڈٹ دیا جاتا ہے کہ اس نے وہ خفیہ معلومات وضع کیں اور استعمال کیں جن کی وجہ سے امریکا نے جنگ شروع کر دی۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ وہ برسرِمنصب ہے اور بش کی دوسری مدت میں اس کے اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا امکان ہے۔

فِیتھ نے‘ جسے اسرائیل کا گہرا دوست کہا جاتا ہے‘ یروشلم پوسٹ سے ۱۲دسمبر کے اپنے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کو ترک کرنے میں لیبیا کی پیروی نہ کی تو ایران کی ایٹمی تنصیبات کے خلاف فوجی حملے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس نے پیش گوئی کی کہ عرب دنیا بشمول مصر‘ سعودی عرب اور اُردن جیسے حلیف ممالک میں آیندہ چار سال میں بش کی خارجہ پالیسی کا محور جمہوری اصلاحات کو ہونا چاہیے۔

ولیم کرسٹل حکومت میں شامل نہیں ہے اس لیے وہ زیادہ کھل کر بات کر سکتا ہے۔ وہ امریکی پریس کا اسامہ بن لادن ہے۔ ہمیشہ عرب دنیا اور ایران کے خلاف امریکی جہاد کی دعوت دیتا ہے۔ وہ مکالمے‘ سفارت کاری اور نیم دلانہ اقدامات میں یقین نہیں رکھتا۔ اس کی تکنیک تشدد پر کھلم کھلا اُبھارنا ہے۔

نیوکونز کے ترجمان ویکلی اسٹینڈرڈ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اس نے صدام کا تختہ اُلٹنے کی مسلسل مہم چلائی۔ اب وہ امریکا کو علاقے کے دوسرے ممالک خصوصاً شام پر حملہ کرنے کے لیے اُکسا رہا ہے۔

اپنے مضمون میں کرسٹل گرجتا ہے: شام ایک دشمن حکومت ہے۔ ہم نے نرم و گرم دونوں طرح کی بات چیت کو آزمایا ہے۔ بات چیت ناکام ہوئی ہے۔ ہمیں اب  اسد کی حکومت کو سزا دینے اور روکنے کے لیے اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔

اس طرح کے فیصلہ کن اقدام کوجائز ثابت کرنے کے لیے وہ شام پر ان سرگرمیوں کی اجازت دینے اور حوصلہ افزائی کرنے کا الزام لگاتا ہے جو نہ صرف ہمارے عراقی دوستوں کی بلکہ براہِ راست امریکی افواج کی ہلاکت کا باعث بن رہی ہیں۔

کرسٹل کیا سفارش کرتا ہے؟ ’’ہم شام کی فوجی تنصیبات پر بم باری کر سکتے ہیں۔   ہم دراندازی روکنے کے لیے طاقت کے ساتھ سرحد سے کچھ پار جاسکتے ہیں۔ ہم مشرقی شام میں سرحد سے کچھ دور قصبہ ابوکمال پر قبضہ کرسکتے ہیں جو عراق میں شام کی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور تنظیم کا مرکز معلوم ہوتا ہے۔ ہم شام کی حزبِ اختلاف کی کھلے اور چھپے حمایت کرسکتے ہیں‘‘۔

وہ اپنے مضمون کا اختتام ان الفاظ پر کرتا ہے: یہ وقت ہے کہ عراق اور وسیع تر مفہوم میں شرق اوسط میں جنگ جیتنے کے لیے ہم شام کے معاملے میں سنجیدہ ہوجائیں۔ (روزنامہ Star ‘لندن ‘۱۹ دسمبر ۲۰۰۴ئ)

امریکا کی The Inter-Press News میں جم ہوب(Jim Hobe) بش کے ساتھیوں کے عزائم کو یوں بیان کرتا ہے:

میڈیا کی مہم کا آغاز گذشتہ ہفتے ہوا۔ فائونڈیشن براے دفاع جمہوریت (F.D.D) کے تین تجزیہ نگاروں نے واشنگٹن ٹائمز میں ایک مضمون شائع کیا‘ عنوان تھا: ’’شام کا خونی کردار: اسد عراق کی دہشت گرد بغاوت کو امداد بہم پہنچا رہا ہے‘‘۔ ایف ڈی ڈی (ایک قدامت پرست گروپ ہے جو عموماً اسرائیل کی دائیں بازو لیکوڈ پارٹی کی حمایت کرتا ہے)۔

پھر ولیم کرسٹل نے جو منصوبہ براے نئی امریکی صدی (PNAC) کا بااثر صدر ہے ویکلی اسٹینڈرڈ کا ایڈیٹرہے‘ اپنے اداریے: شام کے بارے میں سنجیدہ ہونے کی ضرورت میں اسی موضوع کو لیا اور اس نتیجے تک پہنچا کہ عراق کی وجہ سے امریکی فوج پر حقیقی دبائوکے باوجود دمشق سے معاملہ کرنے کے لیے حقیقی راستے موجود ہیں۔

وال اسٹریٹ جنرل شرق اوسط کے بارے میں نیوکونز کی رائے کا قابلِ اعتبار اشارہ ہے۔ اس نے اپنے اداریے میں الزام لگایا: ’’شام دہشت گرد گروہوں کو مادی امداد پہنچا رہا ہے۔ عراق میں امریکی فوجیوں کو مارنے کے لیے اور عراقیوں کو کھلے عام مزاحمت میں شامل ہونے کی دعوت دے رہا ہے‘‘۔

اداریہ ’’شام کے بارے میں سنجیدگی؟‘‘ میں بش انتظامیہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزیوں پر ملے جلے سیاسی اشارے اور کمزور ردعمل دے رہی ہے اور اس بات پر ابھارا کہ جس طرح ۱۹۹۸ء میں ترکی نے کردوں کی حمایت کرنے پر دمشق پر حملہ کرنے کے لیے جنگی تیاری کی تھی کم سے کم اسی طرح کے فوجی اقدام کی دھمکی دی جائے۔

حالانکہ شام امریکا سے ہرطرح کا تعاون کر رہا ہے اور اختلاف کا کوئی موقع نہیںدے رہا۔

مقابلے کی حکمت عملی

امریکا کی موجودہ قیادت کے عزائم کے بارے میں نہ کسی خوش فہمی کی گنجایش ہے اور نہ غلط فہمی کی۔البتہ اہم ترین سوال یہ ہے کہ اس کا مقابلہ کس طرح کیا جائے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے دو باتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔

ایک یہ کہ امریکا آج خود اوپر سے نیچے تک بٹا ہوا ہے۔ بلاشبہہ صدر بش اور ان کے قریبی ساتھی ملک کو ایک خاص رخ پر لے جانا چاہتے ہیں۔ اس میں مذہبی انتہاپرست‘ صہیونی قوتیں اور سرمایہ دارانہ نظام کی وہ قیادت جو فوجی صنعتی طاقت (Military- Industrial Complex)  سے تعبیر کی جاتی ہے اس وقت اصل فیصلہ کن قوت ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دانش وروں ‘ لبرل قوتوں اور عوام کا بڑا حصہ ان حالات پر دل گرفتہ ہے اور کسی دوسرے راستے کی تلاش میں ہے۔ جارج بش کو ۵۱ فی صد ووٹ ضرور حاصل ہوئے ہیں اور ہر طرح کے سیاسی کرتب کرکے حاصل ہوئے ہیں لیکن جن تقریباً نصف ووٹروں نے ووٹ نہیں دیے اور جن ۴۹ فی صد نے کیری اور دوسرے نمایندوں کو ووٹ دیے وہ بھی ملک کی ایک اہم سیاسی قوت ہیں اور کل فیصلہ کن قوت بن سکتے ہیں۔ اس لیے امریکا کو ایک سیاسی وحدت نہیں سمجھنا چاہیے اور اس سے مکالمے میں حکومت کے ساتھ دانش وروں اور دوسرے سیاسی عناصر اور قوتوں تک بھی رسائی حاصل کرنا ضروری ہے۔

دوسری بنیادی بات یہ ہے کہ امریکا اور اس کی قیادت دنیا میں جتنی ناپسندیدہ آج ہے‘ کبھی نہ تھی۔ کبھی امریکا آزادی‘ خوش حالی‘ عالمی امن‘ جمہوریت ‘ ترقی اور انسانی مساوات کی  علم بردار قوت کے طور پر جانا جاتا تھا اور ابراہم لنکن اور ووڈر ولسن سے لے کر جان کینیڈی اور جمی کارٹر تک (امریکا کی ساری خرابیوں کے باوجود) دنیا کو ایک مثبت پیغام دیتے تھے لیکن بش سینیر اور بش جونیئر کے دور میں امریکا کا جو چہرہ دنیا کے سامنے آیا ہے اور اس کے نتیجے میں جو بُعد اور دُوری دنیا بھر کے عوام اور بہت سے ممالک کی قیادتوں کی طرف سے واقع ہوئی ہے‘ وہ عالمی سطح پر دنیا میں امن اور انصاف کے قیام کی تحریک کے نقطۂ نظر سے ایک مثبت شے ہے۔ اسے نظرانداز کرکے حالات کا صحیح جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔

پھر امریکا کی معیشت بھی ایسے دبائو کا شکار ہے کہ یہ اس کے موجودہ سیاسی کردار کو طویل عرصے تک سہارا نہیں دے سکتی۔ اس وقت بھی امریکا دنیا کا سب سے مقروض ملک ہے اور دنیا کے بجٹ کا ۸۰ فی صد امریکا ہڑپ کررہا ہے ‘یعنی تقریباً ۲.۱ بلین ڈالر روزانہ۔ اس کا بجٹ خسارہ اور تجارتی خسارہ دونوں اژدہے کی طرح منہ کھولے کھڑے ہیں اور یہ صورت حال بہت عرصے نہیں چل سکتی۔ ڈالر پر برابر دبائو ہے اور یورو ایک متبادل عالمی کرنسی کے طور پر روز بروز ترقی کررہا ہے۔ یورپ میں امریکا سے بے زاری اور آزاد سیاسی اور معاشی پالیسی سازی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ چین اور جاپان اپنے اپنے طور پر عالمی قوت کے نئے مرکز کے طور پر رونما ہو رہے ہیں۔ لاطینی امریکا شمالی امریکا کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور وہاں ایک بار پھر بائیں بازو کے رجحانات ترقی کر رہے ہیں۔ روس بھی امریکا کی زور زبردستی سے بے زار ہے اور نئے راستوں کی تلاش میں ہے۔

دنیا کے دوسرے ممالک کے لیے امریکا واحد آپشن نہیں اور مستقبل میں سیاست کو ایک بار پھر کثیرقطبیت (multi-polarity)کی طرف بڑھنا ہے۔ پاکستان اور اُمت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو امریکا کے دامن سے نتھی نہ کرے اور اپنے اختیار کو کھلا رکھے اور آہستہ آہستہ خارجہ پالیسی میں آزادی سے قدم بڑھانے کی جگہ(independent space ) پیدا کرنے کی کوشش کرے۔

پھر یہ حقیقت بھی سامنے رہنی چاہیے کہ دنیا کے عوام ایک بڑی قوت ہیں اور ان کو طویل عرصے کے لیے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلہ محض حکومتوں کا نہیں عوامی قوت کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ عوامی طاقت کو نظرانداز کر کے کسی پالیسی کو زیادہ دیر تک نہیں چلایا جاسکتا۔ اس لیے خارجہ پالیسی کے دروبست درست کرتے وقت اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔

ان حالات میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر خصوصیت سے امریکی انتخابات کے نتائج کی روشنی میں ازسرنو غور کی ضرورت ہے۔ امریکا ‘یورپ‘ چین‘ روس‘ افریقی اور ایشیائی ممالک سے تعلقات کے ساتھ ساتھ اُمت مسلمہ کے سیاسی اور معاشی اتحاد کے لیے اقدامات اور کسی نہ کسی شکل میں مشترک دفاع کے نظام کو حقیقت کا روپ دینا‘ ہمارے وجود‘ آزادی اور تہذیبی تشخص کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ اس کے لیے ہرسطح پر کھلی بحث ہونی چاہیے۔ جس سہل انگاری اور کوتاہ بینی کے ساتھ جنرل پرویز مشرف اور ان کی ٹیم نے پاکستان کو بالکل امریکا کی جھولی میں ڈال دیا ہے اور مکمل طور پر امریکی ’گھڑے کی مچھلی‘ کے طور پر خارجہ پالیسی کی تشکیل کی جارہی ہے‘ وہ ملک کے مفاد سے متصادم اور تاریخ کے رخ کے حقیقی فہم سے عاری ہے۔

وقت آگیا ہے کہ ان امور پر کھل کر بحث ہو‘ پالیسی سازی کا کام تمام سیاسی قوتوں کے مشورے سے انجام پائے‘ پارلیمنٹ یہ کام کرے اور کسی ایک فرد کو سیاہ و سپید کا مالک نہ بننے دیا جائے۔ ہماری کمزوریوں کا بڑا سبب پارلیمنٹ کی بے بسی اور اجتماعی اور اداراتی انداز میں پالیسی سازی کا فقدان ہے۔ اب اس روش کو یکسر بدلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس کے لیے دستور کی مکمل بحالی‘ پارلیمنٹ کی بالادستی اور تمام جمہوری‘ سیاسی اور دینی قوتوں کا یک جان ہو کر ملک اور اس کے نظریاتی‘ سیاسی اور تہذیبی تشخص کی حفاظت اور تحریکِ پاکستان کے اصل مقاصد کے مطابق ملک کی تعمیروترقی کے لیے جدوجہد کرنا ناگزیر ہے۔ عزت اور آزادی کا یہی راستہ ہے۔ اس وقت ذرا سی غلطی بڑے دُوررس اثرات اور نتائج پر منتج ہوسکتی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ  تمام جمہوری قوتیں اس بنیادی مقصد کے لیے مل جل کر جدوجہد کریں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اک نشترِزہرآگیں رکھ کر نزدیک رگِ جاں بھول گئے!

اُمت مسلمہ کے مصائب اور آلام کی آج کوئی انتہا نہیں ہے۔ ہر سطح پر بگاڑ ہے اور سارا جسم زخم زدہ‘ گویا ’’تن ہمہ داغ داغ شد‘‘ کی کیفیت ہے۔ لیکن سب سے بڑا المیہ ایمان‘ معاملہ فہمی اور عوام کے جذبات اور احساسات کے ادراک کے باب میں ہماری قیادت کا افلاس اور دیوالیہ پن ہے جس نے دل و دماغ کو سوچنے اور صحیح راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے۔ جنھیں معاملات کا امین بنایا گیا تھا‘ وہ اپنی اُمت کی دولت کو خود ہی برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ دلوں کا حال تو صرف اللہ ہی جانتا ہے‘ مگر انسانوں کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ظاہر پر حکم لگائیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوںپر حکمران بلکہ قابض قیادتوں کے اعمال اور اعلانات کو دیکھ کر انسان یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے  ع

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

اس المیے کا تازہ ترین مظہر وہ بیان ہے جو جنرل پرویز مشرف نے کشمیر جیسے نازک اور اسٹرے ٹیجک اہمیت کے مسئلے پر ۲۵ اکتوبر کو اپنے ہی وزیراطلاعات کی طرف سے دی جانے والی افطار پارٹی میں اپنے ہی ملک کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے‘ بڑی سہل انگاری بلکہ دیدہ دلیری سے‘جو زبان پر آیا بس کہہ ڈالا (off the cuff) کے انداز میں دے ڈالا اور اس کے عواقب اور مضمرات کا کچھ بھی خیال نہ کیا۔ اب خود وطن عزیز کے سنجیدہ فکر عناصر کے منفی ردعمل اور اس سے بھی بڑھ کر بھارت کی بے حسی اور سینہ زوری دیکھ کر ان کی اور ان کے حواریوں کی طرف سے عجیب عجیب تاویلات کی جارہی ہیں اور عالم یہ ہے کہ   ع

کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

اہلِ دانش تو بچے کو بھی یہ سکھایا کرتے تھے کہ پہلے بات کو تولو‘ پھر منہ سے بولو‘ لیکن ہماری قیادت کا عالم یہ ہے کہ منہ سے بولنے کے بعد بھی سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔  اب ارشاد ہو رہا ہے کہ مجھے misrepresent ] غلط پیش[کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کس نے misrepresent کیا؟ آپ کے اپنے وزیراطلاعات نے؟ آپ کے اپنے منتخب صحافیوں نے؟ آپ نے خود ہی تو ان سے کہا تھا:

ہم کیا چاہتے ہیں؟ قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟ اور اس پر بحث کرنا چاہیے۔

میری نظر میں consensus ]اتفاق راے[ وہ ہوگی جو آپ debate ]بحث[ کروائیں۔ میں سن رہا ہوں گا‘ دیکھ رہا ہوں گا‘ ٹی وی پر میڈیا پر لوگ کیا باتیں کر رہے ہیںاور وہی consensus ہوتا ہے۔ کوئی ووٹنگ نہیں ہوتی ہے اس میں۔ اُسی سے میں judgment ]اندازہ اور فیصلہ[کروں گا کہ ok ] ٹھیک ہے[ یہ میرے خیال میں لوگوں کو پسند ہوگا۔ وہ لے کر پھر بات کروں گا… میری آپ سے درخواست ہے کہ اس پر بحث کا آغاز کریں‘ اس پر لکھیں‘ debate کروائیں‘ لوگوں کو بلائیں اور ان سے بات کروائیں۔ (بحوالہ ۲۵اکتوبر ۲۰۰۴ء کی تقریر کا سرکاری متن)

اگر کسی نے misrepresent کیا ہے تو وہ خود جنرل پرویز مشرف ہی ہیں‘ کوئی اور نہیں۔ پتا نہیں انھوں نے خود اپنے کو  misrepresent کیاہے یا نہیں‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان‘ پاکستانی قوم اور اس مسئلے پر قائداعظم سے لے کر اب تک کے قومی اجماع (national consensus) کو خود انھوں نے بری طرح misrepresent کیا ہے۔ انھوں نے جس قومی جرم کا ارتکاب کیا ہے‘ اس پر ان کا بھرپور مواخذہ (impeachment) ہونا چاہیے۔

کشمیر پر قومی موقف

کشمیر پر قومی اجماع جن امور پر ہے اور قائم رہ سکتا ہے‘ وہ یہ ہیں:

                ۱-            جموں و کشمیر کی ریاست ایک وحدت ہے‘ اور اس کے مستقبل کا فیصلہ ایک وحدت کے طور پر کیا جانا ہے۔

                ۲-            ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے‘ اس کے دو تہائی علاقے پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے‘ نام نہاد الحاق ایک ڈھونگ اور دھوکا ہے جسے کوئی دستوری‘ قانونی‘ سیاسی اور اخلاقی جواز حاصل نہیں۔

                ۳-            ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام کو اپنی آزاد مرضی سے کرنا ہے جسے معلوم کرنے کے لیے بین الاقوامی انتظام میں استصواب راے کرایا جائے گا۔

                ۴-            کشمیر کا مسئلہ نہ زمین کا تنازع ہے‘ نہ سرحد کی صف بندی کا معاملہ ہے‘ اور نہ محض پاکستان اور بھارت میں ایک تنازع ہے بلکہ اس کے تین فریق ہیں: پاکستان‘ بھارت اور جموں و کشمیر کے عوام ---جنھیں آخری فیصلہ کرنا ہے۔

                ۵-            کشمیر بھارت کے لیے غاصبانہ ہوسِ ملک گیری کا معاملہ ہے اور پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے کیوں کہ اس کا تعلق ان بنیادوں سے ہے جن پر پاکستان قائم ہوا اور تقسیمِ ہند عمل میں آئی۔ اس کے ساتھ اس کا تعلق ریاست کے مسلمانوں کے (جن کو عظیم اکثریت حاصل ہے) مستقبل اور پاکستان کے اسٹرے ٹیجک مفادات‘ نیز معاشی اور تہذیبی وجود سے بھی ہے۔

ان پانچ امور پر قومی اجماع تھا اور ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کا اصولی موقف یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی ۱۳ اکتوبر ۱۹۴۸ئ‘ ۵ جنوری ۱۹۴۹ء اور سلامتی کونسل کی دوسری قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دوراقتدار کے اولین برسوں میں اسی موقف کا اظہار کیا اور ۱۲ جنوری ۲۰۰۲ء کی تقریر میں جنگِ آزادی اور دراندازی کے بارے میں ایک ابہام کے اظہار کے بعد‘ ۵ فروری ۲۰۰۲ء کو مظفرآباد میں آزاد کشمیر کی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے اصولی موقف کا ایک بار پھر پوری قوت اور صراحت سے اعادہ کیا اور قومی موقف پر ڈٹ جانے کے عزم کا اظہار کیا جسے  موجودہ پسپائی کی اہمیت اور سنگینی کو سمجھنے کے لیے ذہن میں تازہ کرنا ضروری ہے۔

پرویز مشرف صاحب کہتے ہیں:

گذشتہ برسوں سے ۵ فروری ہم سب کے لیے ایک اہم دن ہوگیا ہے۔ اس لیے کہ اس دن پاکستان کی حکومت اور عوام بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اپنے بھائیوں اور بہنوں سے یک جہتی کو تازہ کرتے ہیں‘ اور کشمیری عوام کو ان کے لاینفک حق خودارادی کی شان دار جدوجہد میں غیر متزلزل‘ واضح اور جائز حمایت کو تقویت دیتے ہیں۔ آج ہم تنازع کشمیر سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی تنفیذ کے لیے اپنے عہد کو تازہ کرتے ہیں‘ اور بین الاقوامی برادری خصوصاً ہندستان کو وہ حلفیہ وعدہ یاد دلاتے ہیں جو کشمیر کے عوام سے کیا گیا تھا کہ انھیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ہم ہندستان کے غیر قانونی قبضے کے خلاف اہلِ کشمیر کی جدوجہد کے شہدا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

گذشتہ ۱۳ برسوں میں کشمیریوں کی حق خود ارادی کی جدوجہد نے خصوصی طور پر سخت لیکن المناک منظر دیکھا ہے۔ ۷ لاکھ بھارتی افواج نے ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ایسی روش اختیار کی جس کی کوئی مثال نہیں۔ اس عرصے کے دوران ۸۰ ہزار سے زیادہ کشمیری شہید کیے گئے ہیں۔ ہزاروں کو تعذیب کا نشانہ بنایا گیا ہے اور وہ معذور ہوگئے ہیں اور ہزاروں تعذیب خانوں اور نظربندی مراکز میں انتہائی بے بسی کی حالت میں محبوس ہیں۔

خلاصہ یہ کہ کشمیر کے نوجوانوں کو عملاً انتہائی بے رحمی اور منظم انداز سے ختم کیا جا رہا ہے۔ بھارتی قابض فوجوں کا ایک خصوصی ہدف خواتین ہیں۔ بھارتیوں کا گھنائونا ہدف یہ ہے کہ کشمیر کے عوام کو جبراً جھکا دیا جائے اور انھیں مجبور کیا جائے کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کے استعمال کا مطالبہ ترک کر دیں۔

خواتین و حضرات! مقبوضہ ریاست کے ایک کروڑ عوام کو ان کے آزادی کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا ان کا حق‘ وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوگیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نفاذ کو یقینی بنانے میں بین الاقوامی برادری کی ناکامی نے ان کے جواز کو کم نہیں کر دیا۔

بھارت آزادی کی تحریک کو بدنام کرنے کی ایک بدباطن عالمی مہم میں مصروف ہے۔ وہ الزام لگاتا ہے کہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کی باہر سے پاکستان کے ذریعے سرپرستی کی جارہی ہے۔ اس نے اس کو سرحد پار دہشت گردی اور اسلامی بنیاد پرستی کے طور پر پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔ وہ مغرب کے خدشات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی راے عامہ کو گمراہ کرنا چاہتا ہے۔

بھارت پاکستان پر کشمیر میں پراکسی وار کا الزام لگاتا ہے۔ یہ سوال کرنے کو دل چاہتا ہے کہ اگر کشمیر کی جدوجہد کو باہر سے منظم کیا جا رہا ہے تو وہ ۸۰ ہزار شہدا کون ہیں جو مقبوضہ کشمیر کے قبرستانوں میں دفن ہیں۔

خواتین و حضرات! کوئی بھی بیرونی عنصر کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو‘ عوام کی خواہشات کے علی الرغم کسی بھی تحریک کو اس پیمانے پر‘ اس شدت سے‘ اتنے طویل عرصے تک برقرار نہیں رکھ سکتا۔ بھارت کی بھاری بھرکم فوجی مشین کی‘ مقبوضہ کشمیر میں ریاست کی جبری طاقت کے کلّی استعمال اور قوانین کے بلاامتیاز استعمال کے باوجود‘ آزادی کی تحریک کو کچلنے میں ناکامی کشمیری جدوجہد کی مضبوطی‘ مقبولیت اور مقامی ہونے کا ثبوت ہے۔ یہ جدوجہد کشمیر کے عوام کے دل و دماغ میں پیوست ہے۔ اس کے لیے وسائل اور توانائی کا مخزن بہادر کشمیری مردوں اور عورتوں کا خون پسینہ اور ان کے قائدین کا استقلال و عزم ہے۔

بھارت چاہتا ہے کہ ’سٹیٹس کو‘ کی بنیاد پر سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے قبضے کو مستحکم کرے اور فوجی حل مسلط کرے۔ اس طرح کی کوششیں دنیا میں کہیں بھی کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اصولوں اور فیصلوں سے انحراف تنازعات اور سنگین صورت حال میں اضافے اور طوالت کا باعث ہوا ہے۔ کشمیر کوئی استثنا نہیں ہے۔دوسرے عالمی مسائل  کی طرح تنازع کشمیر کو بھی اقوامِ متحدہ کے فیصلوں کی بنیاد پر اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

خواتین و حضرات! میں اپنے کشمیری بھائیوں کو واضح یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی حکومت‘ عوام اور میں خود اپنے وعدے کی پاسداری کریں گے‘ اور ان کی منصفانہ اور عظیم جدوجہد کی مکمل سیاسی‘ سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ (آزاد جموں اورکشمیر اسمبلی اور جموں اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب‘ ۵ فروری ۲۰۰۲ئ)

ہم نے یہ طویل اقتباس اس لیے دیا ہے کہ یہ جنرل پرویز مشرف کی زبان سے قومی اجماع کا واضح اور مکمل اظہار تھا اور قوم آج بھی اس پر قائم ہے مگر جنرل صاحب نے ایک الٹی زقند لگاکر قومی اتفاق راے کو پارہ پارہ کرنے اور پاکستان کی کشمیر پالیسی کو بھارت اور امریکا کے عزائم اور مطالبات کے تابع کرنے کی مجرمانہ جسارت کی ہے اور کچھ حاصل کیے بغیر لچک کے نام پر وہ سب کھو دیا ہے جو ہمارا سیاسی‘ قانونی اور اخلاقی سرمایہ اور کشمیر کی تحریک مزاحمت کی تقویت کا سامان تھا اور اب خود بھی جھینپ مٹانے کے لیے اصولی موقف کی طرف پلٹنے کی بات کر رہے ہیں۔

کشمیر پالیسی میں تبدیلی

یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے ۱۲ جنوری ۲۰۰۲ء کے بیان کے بعد دیے جانے والے بیانات میں ۵ فروری کے بیان کو چھوڑ کر ایک طے شدہ انداز(pattern ) نظر آتا ہے۔ انھوں نے آہستہ آہستہ پسپائی اختیار کی۔ جنرل صاحب کی پسپائی کا نقطۂ عروج ان کا ۲۵ اکتوبر کا بیان ہے جو دائرہ پورا کر کے قومی کشمیر پالیسی کی یکسر نفی پر منتج ہوا۔

                ___        پہلے دبے لفظوں میں ’’سرحد پار مداخلت‘‘ کو بند کرنے کی بات کی گئی۔

                ___        پھر پاکستانی زمین کو بھارت کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا اعلان ہوا (حالانکہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں اور لائن آف کنٹرول کسی سرحد کا نام نہیں اور مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں ایک ہی قوم آباد ہے)

                ___        پھر کشمیر کی مزاحمتی تحریک کی عملی اعانت اور تعاون سے بڑی حد تک دست کشی اختیار کی گئی۔

                ___        پھر ایک انٹرویو میں رائٹر کے نمایندے سے بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بالاے طاق رکھنے ( set aside کرنے) کا مجرمانہ اعلان کسی قانونی یا سیاسی اختیار کے بغیر کرڈالا گیا۔

                ___        اور اب ۲۵ اکتوبر کے بیان میں جسے بظاہر غوروفکر کے لیے لوازمہ (food for thought ) کہا جا رہا ہے‘ اور جو ہر قسم کے thoughtسے عاری ہے‘ ۱۹۵۰ء سے ۱۹۹۷ء تک دس بار مختلف شکلوں میں بیان کردہ نام نہاد آپشن ( option) کو اپنے زعم میں ایک نئے راستے لیکن حقیقت میں پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کے طور پر پیش کیا ۔ اس سے بھی زیادہ بات یہ کی کہ اسے ایک خود ساختہ مگر برخود غلط اصول کے نام پر پیش کیا کہ جو چیز بھارت کے لیے ناقابلِ قبول (unacceptable) ہے‘ اس سے ہٹ کر راستہ نکالنا چاہیے۔

یہ بڑی ہی بنیادی تبدیلی ہے جسے اسٹرے ٹیجک پسپائی اور بھیانک سیاسی غلطی ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہ بنیادی مفروضہ ہی ناقابلِ قبول ہے اس لیے کہ مسئلہ بھارت یا پاکستان کا قبول کرنا یا نہ کرنا نہیں بلکہ اصولی مسئلہ ہے جس کا تعلق ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے حق خود ارادیت سے ہے۔ اس اصول کا انحصار کسی کی پسند اور ناپسند پر نہیں۔ اگر اس اصول کو مان لیا جائے تو پھر دنیا بھر کی سامراجی قوتوں سے گلوخلاصی کا تو کوئی امکان ہی باقی نہیں رہتا اس لیے کہ کوئی قابض قوت کبھی بھی اپنے تسلط کو ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی ہے‘ حتیٰ کہ اسے مجبور کر دیا جائے اور اس کے لیے قبضہ جاری رکھنا ممکن نہ رہے۔

دوسرا انحراف یہ کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاست کی وحدت کو سات حصوں میں پارہ پارہ کرتے ہوئے مسئلے کا مرکزی نقطہ (focus) ہی بدل دینے کی حماقت کی گئی ہے۔ اصل مسئلہ ریاست جموں و کشمیر کے الحاق (accession) کا ہے جسے تبدیل کر کے ریاست کی تقسیم (division) کا مسئلہ بنا دیا گیا۔

تیسری بنیادی چیز ان علاقوں کی حیثیت (status)کی ہے جس میں بلاسوچے سمجھے امریکا کے عالمی کھیل کے لیے دروازے کھولنے کے لیے آزادی‘ اقوام متحدہ کی تولیت اور بھارت اور پاکستان کے مشترک انتظام کے تصورات کو مختلف امکانات کی شکل میں پیش کیا گیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کا کوئی ادراک تک نہیں کیا گیا کہ ان میں سے ہر ایک کے پاکستان کی سالمیت‘ حاکمیت اور علاقے کے اسٹرے ٹیجک مفادات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور ان عوام کے دل پر کیا گزرے گی جو ۵۷ سال سے بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں۔

چوتھی چیز شمالی علاقہ جات کے مسئلے کو نہایت سہل انگاری اور عاقبت نااندیشی سے سات میں سے ایک حصے کے طور پر پیش کر دیا گیاہے حالانکہ اس سلسلے میں پاکستان کی تمام حکومتوں نے اسے استصواب کے سلسلے میں جموں و کشمیر کی ریاست کا حصہ تسلیم کرتے ہوئے ایک اسٹرے ٹیجک پردے میں رکھا تھا۔ اس کی اہم تاریخی اور علاقائی وجوہ تھیں کہ تقسیم سے قبل کشمیر کی اسمبلی میں نمایندگی کے باوجود یہ علاقہ اس طرح کشمیر کا حصہ نہیں تھا جس طرح باقی ریاست تھی اور نہ یہ اس خرید و فروخت کا حصہ تھا جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر پر ڈوگرا حکمرانی قائم ہوئی تھی۔ نیز یہ علاقہ وہاںکے لوگوں کی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان میں شامل ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک وہ آزاد کشمیر کا حصہ نہیں شمار کیا گیا۔چین سے ہمارے سرحدی رشتے کا انحصار اس حصے پر ہے جو چین کے دو اہم صوبوں سے ملحق ہے۔ جنرل صاحب نے شوق خطابت میں ان تمام نزاکتوں کو نظرانداز کر کے اس علاقے کو بھی ’’آزادی‘‘ بین الاقوامی تولیت اور بھارت کے ساتھ مشترک کنٹرول کی سان پر رکھ دیا ہے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!

سیاست‘ حکومت اور سفارت کاری کی نزاکتوں سے ناواقف جرنیل جب بھی اقتدار پر غاصبانہ قبضہ جماکر ایسے معاملات سے نبٹتے ہیں اور فردِ واحد کو اجتماعی اور اداراتی فیصلہ کاری سے ہٹ کر قوموں کی قسمت سے کھیلنے کا اختیار مل جاتا ہے تو پھر ایسی بھیانک غلطیاں اور ٹھوکریں اس قوم کی قسمت بن جاتی ہیں۔

مغربی تجزیہ نگار اور بہارتی مبصرین کی رائے

پاکستانی قوم اور اس کے معتبر سیاسی قائدین تو اس سیاسی غارت گری( vandalism ) پر آتش زیرپا ہیں لیکن دیکھیے کہ مغربی تجزیہ نگار اور خود بھارتی سیاسی‘ صحافتی دانش ور‘ جنرل صاحب کی ان ترک تازیوں کو کس رنگ میں دیکھ رہے ہیں۔

سب سے پہلے برطانیہ کے رسالے ہفت روزہ اکانومسٹ (۳۰ اکتوبر تا ۶ نومبر ۲۰۰۴ئ) کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیں جسے اس نے ’کمانڈو ڈپلومیسی‘ کا عنوان دیا ہے:

گذشتہ ۱۸ مہینوں سے بھارت اور پاکستان اپنے ۵۷ سالہ جھگڑے کے تصفیے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض دفعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امن کے دو متوازی عمل جاری ہیں۔ ایک میں رکھ رکھائو والے سفارت کار جامع مذاکرات میں مصروف ہیں۔ دوسرا پاکستان کے صدر جنرل مشرف کا انفرادی مظاہرہ (solo show) ہے۔ بعض اوقات وہ سفارتی خندقوں سے تھک کر اوپر آجاتے ہیں اور عوامی سطح پر تبادلۂ خیالات کرتے ہیں۔ ان کے ابلاغی منتظمین (media managers) کو سوچنا چاہیے کہ جو ایک دفعہ کمانڈو بن گیا وہ ہمیشہ کے لیے ایک کھلی بندوق ہے (once a commando, always a loose cannon)۔ ان کے تازہ ترین ارشادات اب تک کے سب سے زیادہ غیر سفارتی ہیں۔ بھارت سے اپنے مرکزی تنازعے‘ یعنی کشمیر کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے جنرل مشرف اب تک عمومی اصولوں پر قائم رہے ہیں۔ کشمیر لائن آف کنٹرول کے ذریعے بھارتی اور پاکستانی انتظام کے حصوں میں تقسیم ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی اسے مستقل سرحد تسلیم نہیں کرتا۔ جنرل مشرف نے ہمیشہ اصرار کیا ہے کہ یہ ’سٹیٹس کو‘ کسی حل کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ وہ کہتے ہیں یہ تنازع ہے اوریہی تین جنگوں کا سبب ہے۔ تازہ ترین جنگ ۱۹۹۹ء میں ہوئی۔

بہرطور ۲۵ اکتوبر کو ایک افطار ڈنر میں جنرل مشرف اپنے خیالات کو دو قدم آگے لے گئے۔

اول : وہ یہ قبول کرتے دکھائی دیے کہ جس طرح لائن آف کنٹرول پاکستان کے لیے ناقابلِ قبول ہے‘ اسی طرح استصواب کے لیے پاکستان کا مطالبہ جس میں کشمیری بھارت یا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کریں گے‘ بھارت کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دے گا۔

دوم: انھوں نے دوسرے متبادلات (options) کو بیان کرنا شروع کیا۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کے سات علاقے ہیں‘ دو پاکستان میں اور پانچ بھارت میں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں سے کچھ یا سب کو غیر فوجی کر دیا جائے اور ان کی حیثیت تبدیل کر دی جائے۔ جس کا نتیجہ آزادی ہو سکتا ہے‘ بھارت پاکستان کے درمیان کانڈومینیم (condominium)  ]ایسا علاقہ جہاں دونوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں[ ہوسکتا ہے یا اقوامِ متحدہ کا مینڈیٹ۔

بہرحال شک و شبہے کی وجوہات ہیں۔ جنرل صاحب کی تجاویز کی اس وقت جو شکل ہے اس میں ان خیالات کی بازگشت سنی جا سکتی ہے جو عرصے سے فضا میں گردش کر رہے ہیں اور جو بھارت کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔بدتر بات یہ ہے کہ پریس کانفرنس کے ذریعے بات چیت کا مطلب یہ ہے کہ دونوں فریقوں میں خلیج اس قدر وسیع ہے کہ اس قسم کے خیالات پر کوئی ابتدائی بات بھی نہیں ہوئی ہے۔

بھارت نے سرد مہری کے ساتھ رسمی ردعمل دیا اور کہا کہ وہ میڈیا کے ذریعے کشمیر پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مگر اس نے کم سے کم ان خطوط پر بات چیت کو یکسر خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ شاید اس کو اندازہ ہے کہ جنرل مشرف ملک کی مذاکرات کی پوزیشن میں انقلابی تبدیلی کے لیے راے عامہ ہموار کرنے کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ ان کو اس کی ضرورت ہے۔ ان کے مخالفین نے ابھی سے ہی ان پر کشمیر کی فروخت کی سازش کا الزام لگا دیا ہے۔

اپنے اقتدار کے پانچ سال میں جنرل مشرف نے اپنی حکومت کو پالیسی کی کچھ غیرمعمولی تبدیلیوں سے گزارا ہے۔ انھوں نے پاکستان کے پروردہ طالبان کو گہری کھائی میں پھنسا دیااور ایٹمی معلومات فروخت کرنے کے الزام پر ایک قومی ہیرو عبدالقدیر خان کی توہین کی۔ اس سب پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے جس پر انھوں نے اب تک قابو پایا ہے۔ اب انھوں نے غالباً اب تک کی سب سے مشکل فروخت شروع کر دی ہے: اپنے اہلِ وطن کو اس بات پر آمادہ کرنا کہ وہ کشمیر پہ اپنے بیش تردعووں سے دست بردار ہوجائیں۔

جنرل صاحب کے ابلاغی منتظمین اور وہ خود اپنی ان تجاویز پر جو بھی روغن چڑھائیں‘ ان کا ماحصل کشمیر پر اپنی قومی پالیسی اور اہداف سے مکمل طور پر دست کش ہونا اور تحریکِ آزادی کشمیر کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے سوا کچھ نہیں۔ دیکھیے خود بھارت کے دانش وروں اور تجزیہ نگاروں نے اسے کس رنگ میں دیکھا ہے۔

انڈین ایکسپریس (۲۷ اکتوبر ۲۰۰۴ئ) میں سی راجا موہن لکھتا ہے:

جنرل مشرف کی تجویز ہے کہ ریاست میں لائن آف کنٹرول کے پار جموں و کشمیر کا ایک حصہ باہمی سمجھوتے کے تحت متعین کیا جائے‘ وہاں سے فوجیں ہٹا لی جائیں اور اس علاقے کی سیاسی حیثیت کو تبدیل کر دیا جائے۔ یہ تجویز پاکستان کے ہمیشہ سے قائم کئی مضبوط موقفوں سے انحراف کیا ہے‘ یعنی:

اول: استصواب راے کے خیال کو ایک طرف رکھنے سے جنرل مشرف نے یہ اشارہ دیاہے کہ پاکستان کا اپنا ہی پروردہ خود ارادیت کا نظریہ جموں و کشمیر میں عملاً بروے کار نہیں آسکتا۔

دوم: انھوں نے اس تصور کو ترک کر دیا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر کے بعض علاقوں پر قبضہ کر کے شامل کر لے۔

سوم : تیسری اور زیادہ اہم تبدیلی یہ ہے کہ نام نہاد شمالی علاقوں کو بھی معاملے کا حصہ بنا دیا ہے حالانکہ ۱۹۷۲ء کے شملہ معاہدے کے بعد پاکستان نے شمالی علاقوں(بلتستان اور گلگت) کو پاکستانی ]آزاد[ کشمیر سے انتظامی طور ر علاحدہ کر دیا تھا۔

بھارت کے اہم روزنامے دی ہندو کی ۸ نومبر کی اشاعت میں جان شیرین نے مشرف صاحب کی تجاویز پر بھارت کے سفارت کاروں کے ردعمل کو یوں بیان کیا ہے:

بھارت کے سفارتی مبصرین نے جنرل مشرف کی نئی پہل کاری میں کشمیر پر پاکستان کے قدیم موقف سے انحراف کو نوٹ کیا ہے۔ پہلی دفعہ ایک پاکستانی صدرِ ریاست نے اشارہ دیا ہے کہ لائن آف کنٹرول دونوں ملکوں کے درمیان بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد کے لیے اندازاً خدوخال فراہم کرسکتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی اعتراف کرلیا ہے کہ آزاد کشمیر اور شمالی علاقے جو پاکستانی انتظام میں ہیں‘ متنازعہ علاقے ہیں۔

جنرل مشرف کی نئی تجویز نے استصواب کے مسئلے کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور اس کے بجاے منقسم جموں و کشمیر کے سات علاقوں کو متعین کیا ہے۔ جنرل مشرف نے جو خیال پیش کیا ہے‘ اس کے مطابق ساتوں علاقوں کے لوگ علاحدہ علاحدہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

جان شیرین نے سری نگر مظفرآباد بس سروس اور گیس کی پائپ لائن کا بھی ذکر کیا ہے کہ اب پاکستان ان تمام امور کا کشمیر کے ’’کور ایشو‘‘ کے بنیادی مسئلے سے تعلق توڑنے (delink) کے لیے تیار ہے اور اس قلب ماہیت میں امریکا کا خصوصی کردار ہے جس کا امریکا کے وزیرخارجہ کولن پاول صاحب نے اپنے ۱۸ اکتوبر کے ایک بیان میں کریڈٹ لے بھی لیا ہے۔

دی ہندو کے ۸ نومبر ہی کے شمارے میں ایک اور تجزیہ نگار لوو پوری کا تبصرہ بھی توجہ کے لائق ہے:

صدر (جنرل مشرف) پاکستان کے وہ پہلے صدر ریاست ہوگئے جنھوں نے کشمیر کے پیچیدہ مسئلے کی اس حقیقت کا اعتراف کیا جس پر کم بحث کی گئی ہے‘ یعنی جموںو کشمیر لسانی‘ نسلی اور جغرافیائی اور مذہبی طور پر ایک منقسم ریاست ہے اور کوئی بھی حل اس ناقابلِ تردید حقیقت سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا۔

پاکستانی صدر نے پہلی دفعہ اس اہم حقیقت کو بیان کیا ہے کہ پاکستانی ]آزاد[کشمیر اور وادی کشمیر میں بہت کم قدرِ مشترک ہے‘ اس لیے کہ دونوں کی مختلف نسلی اور لسانی بنیادیں ہیں… مشرف کی تجویز گیلانی کی اس پرانی تجویز کے خلاف ہے کہ جموںو کشمیر کو حق خود ارادیت ملنا چاہیے اور چونکہ یہ مسلم اکثریتی ریاست ہے‘ اس لیے پاکستان کے حق میں رائے دے گی۔

مشرف کے فارمولے کے ماخذ کے بارے میں اشارہ پاکستان کی حامی جمعیت المجاہدین کی قیادت کے ردعمل سے سامنے آتا ہے:جنرل مشرف ایک امریکی حل کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس طرح کشمیر کے مسئلے پر نظریاتی پسپائی دکھا رہے ہیں اور کشمیر کے عوام سے دغابازی کررہے ہیں۔

جب واقعات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جاتا ہے تو جنرل مشرف کے نئے فارمولے کے پیچھے بین الاقوامی ڈور بہت واضح ہو جاتی ہے۔ یکم دسمبر ۱۹۹۸ء کو تاجر فاروق  کاٹھواڑی (جو اصلاً وادی کشمیر کا باشندہ ہے) کی سربراہی میں کام کرنے والے کشمیر اسٹڈی گروپ نے ایک رپورٹ میں تجویز دی تھی:

’’جموں و کشمیر کی سابقہ ریاست کے ایک حصے کو (کسی بین الاقوامی تشخص کے بغیر) ایک خودمختار وحدت کے طور پر تشکیل دیا جائے جس میں پاکستان اور بھارت دونوں طرف آنے جانے کی سہولت حاصل ہو‘‘۔ دراصل یہ تجویز زمینی اور آمدورفت کی رکاوٹوں کے باوجود کشمیری زبان کے حوالے سے نئی ریاست کی تہذیبی ہم آہنگی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا چاہتی ہے۔

آخری نتیجے کے طور پر اس گروپ نے جس کے کئی ارکان امریکی ایوانِ نمایندگان کے رکن ہیں یا دانش ور ہیں‘ بھارت اور پاکستان کے درمیان وادی کشمیر کے لیے کنڈومونیم (ایسا علاقہ جس میں دو خودمختار ریاستوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں) کا کیس پیش کر دیا تھا۔ تقریباً چھے سال بعد صدر مشرف ایک حل کے طور پر کنڈومونیم کے بارے میں بات کرتے ہیں اور اس طرح ایک متحدہ جموں و کشمیر میں استصواب راے کے پاکستان کے سخت اور اصرار کیے جانے والے مطالبے کو ایک دم ترک کر دیتے ہیں۔ صدر مشرف کے تجویز کردہ سات حصوں کی مشابہت ان سات علاقوں تک جاتی ہے جن کا تعین کاٹھواڑی رپورٹ کے دوسرے حصے میں کیا گیا ہے جو بعد میں آئی۔ (فرنٹ لائن‘ ۲۲ اکتوبر ۱۹۹۹ئ)

اس میں ایک تفصیلی نقشے کے ساتھ سات تجاویز ہیں جو امریکا کے سیاسی جغرافیے کے ماہرین کی مدد سے تیار کی گئی ہیں۔ ساتوں تجاویز میں کمیونل فالٹ لائن (مذہبی بنیادوں پر علیحدگی) واضح طور پر نظر آتی ہے۔ رپورٹ کی چھے تجاویز میں جموں و لداخ کے علاقوں کی تقسیم کی تجویز دی گئی ہے۔ تقسیم کے لیے اصل بنیاد مذہب محسوس ہوتی ہے‘ جب کہ زبان‘ ثقافت اور معیشت کے بندھنوں کو کم اہمیت دی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک مکمل آزاد مسلم ریاست تخلیق کی جائے۔

اسی روزنامے میں ایک اور صحافی اور دانش ور مرالی دھر ریڈی‘ جنرل صاحب کے ۲۵ اکتوبر کے خطاب پر ۲۹ اکتوبر کی وزارت خارجہ کی توضیحات پر تعجب کا اظہار کرتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ جنرل صاحب نے جو کچھ کہا‘ وہ ایک کمانڈو کے انداز کا مظہر ہے اور وہ اپنے یوٹرن کے لیے فضا بنانے کے لیے یہ سارا کھیل کھیل رہے ہیں:

تجویز پر ایک نظرڈالنا ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس کو ۱۹۴۷ء کے بعد سے پاکستانی انتظامیہ کی کشمیر پالیسی کے بارے میں ایک بالکل نئی سوچ کا عنوان دیا جائے۔ پاکستان کا بیان کردہ موقف یہ رہا ہے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نافذ کیا جائے اور کشمیریوں کو موقع دیا جائے کہ وہ فیصلہ کریں کہ آیا وہ بھارت کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا پاکستان کا۔

اس تبدیلی کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے ریڈی کہتا ہے:

ایک ایسے موڑ پر جب بھارت کے ساتھ مکالمہ جاری ہے‘ کس چیز نے مشرف کو اپنی تجویز کو عوام کے سامنے لانے پر آمادہ کیا؟ نئی تجویز ۱۱؍۹ کے اثرات کا منطقی نتیجہ نظرآتی ہے۔ مشرف کو افغانستان پر یوٹرن اور طالبان سے لاتعلقی پر اس وقت مجبور ہونا پڑا جب ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیویارک میں جڑواں ٹاور زمین بوس ہوگئے۔ ان قوتوں کے چیلنج نے‘ جو ’’دہشت گردی ‘‘کے خلاف امریکا کے نام نہاد اتحاد میں پاکستان کی شرکت کی مخالف ہیں‘ پاکستان کے اندر اس بحث کا آغاز کر دیا ہے کہ کشمیر پر ایک نئی سوچ کی ضرورت ہے۔

ایک اور بھارتی روزنامے دی ٹربیون میں ڈیوڈ دیوداس نے کشمیر ڈائری کے عنوان  سے ۱۰ نومبر کی اشاعت میں بڑی دل چسپ اور کھری کھری باتیں لکھی ہیں جن پر پاکستان کے پالیسی ساز اداروں اور سیاسی قیادت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے بلکہ سردھننا چاہیے:

بے چارہ جنرل مشرف! کشمیر کے بارے میں انھوں نے حال ہی میں جو تجویز دی ہے‘ اس کی تاریخی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے سرحد کے اس طرف کے ردعمل سے ان کو شدید طور پر ناامید ہونا چاہیے۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جولائی ۲۰۰۱ء میں انھوں نے آگرہ میں اہتمام کر کے میڈیا میں جو نئی اٹھان (come uppance) حاصل کی وہ انھوں نے کھلی کھلی باتیں کر کے نمبر بناکر حاصل کی۔ لیکن اس دفعہ اسی انداز کے کھلے پن نے ان کو ایک تکلیف دہ صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔ انھوں نے پاکستان کی سوداکاری کی پوزیشن کو علانیہ بیان کر کے‘ جس پر دونوں ممالک بالآخر راضی ہو سکتے ہیں‘ بے حد محدود کر دیا۔ اس کے نتیجے میں انھوں نے اپنے ملک میں اپنے مخالفین کے ہاتھ میں اپنی ٹھکائی کے لیے موٹا ڈنڈا تھما دیا ہے۔

جنرل صاحب کو خاص طور پر جسونت سنگھ کا ردعمل پڑھ کر پریشانی ہوئی ہوگی جنھوں نے بی جے پی اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کی طرف سے کسی تصفیے کی تلاش میں سرحدوں میں تبدیلی کو مسترد کر دیا۔ مسٹرسنگھ این ڈی اے کی حکومت میں مختلف اوقات میں وزیرخارجہ‘ وزیر دفاع اور وزیر خزانہ رہے ہیں۔ صدر مشرف نے جس حل کا ذکر کیا ہے اس کے بہت قریب کے حل پر اس وقت بحث ہوئی ہے‘ جب کہ این ڈی اے کی حکومت تھی…

معلوم ہوتا ہے کہ جنرل صاحب جس چیز کو آخری پیش کش ہونا تھی‘ وہاں سے مذاکرات کا آغاز کر کے انتہائی پیچیدہ صورت حال کا شکار ہوگئے ہیں۔ بلاشبہہ یہی ایک سپاہی اور سیاست دان کا فرق ہے۔ غالباً ان کا اعتماد اس ملاقات کی بنیاد پر ہے جو انھوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ستمبر میں وزیراعظم من موہن سنگھ  کے ساتھ کی تھی۔ یقینا وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جس آدمی سے بات کر رہے ہیںوہ سیاست کی غیریقینی دنیا سے تعلق نہیں رکھتا اور ایک دانش ور کی طرح حقائق پر انحصار کرتا ہے۔

اگر یہ سچ ہے تو صدر مشرف کو دو عوامل کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔ پہلا: ڈاکٹر سنگھ نے ایک طویل مدت ایک کامیاب بیوروکریٹ کے طور پر گزاری ہے۔ دوسرا: اگر وہ سیاست دانوں کے طریقوں میں کوئی دقت محسوس کرتے بھی ہیں تو بہرحال وہ سرکاری مذاکرات کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

فوجی حکمرانوں کے ملمع سازاور ابلاغی ماہرین جنرل مشرف کی ذہنی قلابازیوں اور تکے بازیوں پر جو بھی رنگ روغن چڑھانے کی کوشش کریں‘ عالمی میڈیا اور خصوصیت سے بھارتی میڈیا نے ان کی تجاویز کے اصل خدوخال کو بالکل بے نقاب کر دیا ہے اور اس آئینے میں جناب کمانڈو صدر صاحب کی الٹی زقند کا اصل چہرہ دیکھا جا سکتا ہے۔ پھر بھارتی قیادت نے جس بے التفاتی بلکہ حقارت سے اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے اور اپنے موقف سے سرمو ہٹنے سے انکار کردیا ہے‘ اس نے جنرل صاحب کی خوش فہمیوں کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے اور اب وہ بھارت سے غلط اشاروں کا گلہ کر رہے ہیں اور کسی بچے کی طرح بلبلا کر کہہ رہے ہیں کہ اگر بھارت اٹوٹ انگ کی بات کرے گا تو ہم بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بات کرنے لگیں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمراں نہ برعظیم کی تاریخ کے نشیب و فراز سے واقف ہیں اور نہ ہندو قیادت کے ذہن اور عزائم کا حقیقی ادراک رکھتے ہیں۔ ان کی گرفت برہمن کی سیاست کاری‘ دھوکا دہی اور کہہ مکرنیوں پر بھی نہیں‘ اور وہ مکروفریب کے ان حربوں سے بھی ناآشنا ہیں جو کانگرس اور بھارت کی ہندو قیادت کا طّرہ امتیاز ہیں۔

پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر سیاست اور سفارت کاری کو اس کے مسلمہ آداب کے مطابق انجام نہ دیا جائے تو اس کا نتیجہ اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔ جو قیادت اپنے اصولی موقف کو اس سہل انگاری کے ساتھ ترک کر دیتی ہے اس کا انجام ناکامی اور ہزیمت کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ فلسطینی قیادت نے اسرائیل اور امریکا کے ہاتھوں یہی چوٹ کھائی اور جنرل پرویز مشرف قوم کو اسی ہزیمت اور پسپائی کی طرف لے جارہے ہیں۔ لیکن ان شاء اللہ پاکستانی قوم ان کو اس راہ پر ہرگز نہیں چلنے دے گی اور جموں و کشمیر کی عظیم جدوجہد آزادی سے کسی کو غداری کرنے کا موقع نہیں دے گی۔

شخصی آمریت کا خمیازہ

اگر جنرل مشرف کی اس اُلٹی زقند کا تجزیہ کیا جائے تو چند باتیں سامنے آتی ہیں:

اولاً‘ یہ نتیجہ ہے ملک میں جمہوری اداروں کی کمزوری‘ فردِ واحد کے ہاتھوں میں فیصلے کے اختیارات کے دیے جانے اور اس کے ہر مشورے بلکہ خیال آرائی کے قانون‘ ضابطۂ احتساب اور جواب دہی سے عملاً بالاتر ہونے کا۔ یہ اس بات کا کھلا کھلا ثبوت ہے کہ شخصی نظام سے زیادہ کمزور کوئی اور نظام نہیں ہوتا اور اس میں ایسی ایسی بھیانک غلطیاں ہوتی ہیں جو تاریخ کا رخ بدل دیتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جنرل صاحب کو ایسے پالیسی بیانات دینے کا اختیار کس نے دیا؟ ان کی حیثیت ایک عام تبصرہ گو کی نہیں‘ وہ پاکستان کی پالیسی کے امین اور اس کے پابند ہیں اور ان کو ذاتی خیالات کے اس طرح اظہار کا کوئی حق حاصل نہیں۔ دستور کے مطابق پالیسی سازی‘ پارلیمنٹ اور اس کابینہ کا کام ہے جو پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہے۔ دستور میں صدر کے لیے صواب دیدی اختیارات کے تمام اضافوں کے باوجود‘ صدر کو پالیسی سازی یا طے شدہ پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے کا کوئی اختیار نہیں۔ وہ ان تمام معاملات میں کابینہ کی ہدایت کا پابند ہے۔ لیکن کیا ستم ہے کہ نہ پارلیمنٹ سے مشورہ ہوتا ہے‘ نہ کابینہ کسی مسئلے اور تجویز پر غور کرتی ہے‘ نہ وزارتِ خارجہ کو اعتماد میں لیا جاتا ہے اور صدر مملکت ایک کمانڈو کی شان سے اتنے بنیادی امور کے بارے میں طے شدہ پالیسی سے ایسے جوہری انحراف پر مبنی خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور سرکاری پارٹی کے ارکان مواخذہ کرنے کے بجاے تاویلیں کرنے اور آئیں بائیں شائیں کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اصل وجہ ایک شخص کے ہاتھوں میں اقتدار کا ارتکاز اور قومی اور اجتماعی محاسبے کا فقدان ہے۔ نیز پارلیمنٹ کو غیرمؤثر بنا دیا گیا ہے۔

پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاست اور سفارت دونوں میں اصولی اور انتہائی (maximal)  پوزیشن کے بارے میں اس وقت تک کوئی لچک نہیں دکھائی جاتی جب تک مخالف قوت اپنے پتے کھیل نہیں لیتی۔ جموں و کشمیر کے بڑے حصے پر قبضہ بھارت کا ہے اور لچک ہم دکھا رہے ہیں۔ تجویز بھارت کی طرف سے آنی چاہیے اور ردعمل ہمارا ہونا چاہیے لیکن یہاں الٹی گنگا  بہہ رہی ہے کہ قابض قوت تو اپنے موقف پر سختی سے قائم ہے‘ اور لچک ہم دکھا رہے ہیں اور  ایک خیالی آخری (minimal)پوزیشن کو بات چیت کے آغاز میں پیش کر رہے ہیں۔ایں چہ بوالعجبی است۔

وقت آگیا ہے کہ اس بات کو صاف الفاظ میں بیان کیا جائے کہ اس کام کے لیے مخصوص اہلیت اور ایک ایسی سیاسی قیادت جسے تاریخی حقائق اور عالمی سفارت کاری کا گہرا ادراک ہو‘ ضروری شرط ہے۔ فوج کا اپنا ایک مزاج اور تربیت ہوتی ہے اور فوجی کمانڈ کا یہ کام نہیں کہ وہ اہم اور سنجیدہ سفارتی‘ سیاسی اور فنی معاملات پر جولانیاں دکھائیں بلکہ اصول تو یہ ہے کہ فوج بلاشبہہ دفاع کے لیے ہے‘ لیکن جنگ و صلح ایسے اہم امور ہیں کہ ان کو صرف جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ پھر آمریت کا تو خاصّہ ہے کہ ایک شخص اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگتا ہے‘ اور خود کو ہر مشورے سے بالا سمجھتا ہے اور اپنی بات کو حق اور قانون کا درجہ دینے لگتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو تباہی کا سبب بنتی ہے اور انسانوں کو ہٹلر‘ مسولینی اور اسٹالن بنا کر چھوڑتی ہے۔ ان حالات میں خوشامد‘ چاپلوسی اور مفاد پرستی کا کلچر جنم لیتا ہے۔ فیصلے حقائق اور میرٹ کی بنیاد پر نہیں کیے جاتے اور قومی مفاد تک کو  دائو پر لگا دیا جاتا ہے۔ جمہوری نظام میں فیصلے پارلیمنٹ میں ہوتے ہیں۔ کابینہ بھی کچھ اصولوں اورحدود کی پابند ہوتی ہے۔ غیر ذمہ دارانہ انداز میںاعلانات اور صرف اپنی مرضی کے مطابق اتفاق راے بنوانے کے ڈرامے نہیں ہوتے۔ ادارے فیصلے کرتے ہیں اور قومی مفاد کو ذاتی ترنگ کی چھری سے ذبح کرنے کا کسی کو موقع نہیں دیا جاتا۔ دیکھیے کہ بھارتی صحافی اور سفارت کار کلدیپ نیر جس کو جنرل صاحب نے ۲۵اکتوبر سے ہی پہلے اپنے ان خیالات عالیہ سے روشناس کرا دیا تھا‘ بگاڑ کی اصل وجہ کو کس طرح بیان کرتا ہے:

مشرف کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ ایک حکمران کو جو کچھ کرنا چاہیے وہ بس یہ ہے کہ جرأت کا مظاہرہ کرے اور لوگ اس کی پیروی کریں گے۔ مشرف کو پاکستان میں بہت سے مسائل کا سامنا نہیں رہا۔ جمہوریتیں اتفاق راے کی بنیاد پر کام کرتی ہیں نہ کہ حکم دینے پر‘ حکمران کتنے ہی جرأت مند کیوں نہ ہوں… مشرف سے ملاقات کے بعد میں نے محسوس کیا کہ انھیں بھارت کے زمینی حقائق کے بارے میں کچھ زیادہ جاننے کی ضرورت ہے۔ کوئی سیاسی پارٹی‘ حکمران کانگریس‘ بی جے پی یا کوئی دوسری جماعت لائن آف کنٹرول کو تبدیل کرنے کی جرأت نہیں کر سکتی۔ (روزنامہ ڈان‘ ۲۳ اکتوبر ۲۰۰۴ئ)

پاکستان کی کمزوری کی اصل وجہ قیادت کا دستور‘ قانون‘ پارلیمنٹ‘ اجتماعی فیصلہ کاری  اور ادارتی نظم و احتساب سے بالا ہونے کا تصور رکھنا اور اس کیفیت کا مسلسل برداشت کیا جانا ہے۔ جب تک اس کی اصلاح نہیں ہوگی پاکستانی قوم ۲۵ اکتوبر جیسے اعلانات کی طرح کی بھیانک غلطیوں سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ قومی مفاد سے ایسا خطرناک کھیل کھیلنے والوں کا مؤثر مواخذہ کیا جائے؟ کیا پارلیمنٹ اور قوم ایسی عاقبت نااندیش قیادت کو لگام دے گی یا اس کی سواری کے لیے بدستور اپنی پشت پیش کرتی رہے گی؟

زمینی حقائق پر نظر

اس وقت جو عالمی حالات ہیں ان پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ۱۱؍۹ کے بعد جو فضا بنا دی گئی ہے‘ وہ ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتی۔ امریکا سے دنیا بھر کے عوام کی بے زاری اور عراقی عوام کی مجاہدانہ مزاحمت اپنا رنگ دکھا کر رہے گی۔ امریکا کا جنگی بجٹ آج دنیا کے تمام ممالک کے مجموعی جنگی بجٹ کے برابر ہوگیا ہے۔ امریکا کا تجارتی خسارہ اس وقت ۵۵۰ بلین ڈالر سالانہ تک پہنچ رہا ہے جو اس کی کل قومی پیداوار کے ۷ئ۵ فی صد کے برابر ہے۔ اسی طرح اس کے بجٹ کا خسارہ ۴۰۰ ارب ڈالر سے متجاوز ہے۔ امریکا میں قومی بچت کی سطح بہت گرگئی ہے اور دنیا کی دوسری اقوام کی قومی بچت کو امریکا کے لیے استعمال کرنے پر ہی اس کی ترقی بلکہ بقا کا انحصار ہے۔ اس وقت دنیا کی بچت کا تقریباً ۸۰ فی صد یعنی تقریباً ۶ئ۲ بلین ڈالر روزانہ امریکا کی نذر ہو رہا ہے۔ نتیجتاً امریکا دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک بن گیا ہے۔ امریکی قیادت اور دنیا بھر کے عوام کے درمیان خلیج روز بروز بڑھ رہی ہے۔ حالات ایک نئے رخ پر جا رہے ہیں--- مسئلہ وقت کا ہے‘ صبروہمت کا ہے‘ بصیرت اور تاریخ شناسی کا ہے۔ اور وقت ہمارے ساتھ ہے بشرطیکہ ہم حکمت اور صبر کا راستہ اختیار کریں۔

اسی طرح جموں و کشمیر کے زمینی حقائق بھی غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ بھارت ریاستی ظلم و استبداد کے تمام ہتھکنڈے استعمال کر کے بھی وہاں کے عوام کو اپنی گرفت میں رکھنے میں ناکام ہے۔ اس امر پر سب ہی کا اتفاق ہے کہ وادیِ کشمیر ہی نہیں‘ جموں تک میں بھارتی حکومت اور دہلی کے اقتدار سے مکمل بے زاری ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے جن معروف زمانہ آزاد خیال اور سیکولر صحافیوں نے مقبوضہ جموں کشمیر کا دورہ کیا تھا‘ ان میں سے ہر ایک اس پر متفق ہے کہ وہاں کے عوام بھارت کے ساتھ رہنے کے لیے کسی قیمت پر تیار نہیں۔ لبرل لابی کے ایک سرخیل کے الفاظ میں: alienation from Dehli is complete & irreversible. (دہلی سے بے زاری مکمل اور ناقابل رجوع ہے)۔

یہی وجہ ہے کہ اگر ۱۹۶۵ء کے زمانے میں پاکستان سے جانے والے کمانڈوز کو بھارتی فوج پکڑنے میں کامیاب ہوگئی تو آج کیفیت یہ ہے کہ چند ہزار مجاہدین نے سات لاکھ بھارتی فوجیوں کا ناطقہ بند کیا ہوا ہے۔ جہاد و حریت کی تمام تر جدوجہد مقبوضہ کشمیر کے جا ں نثاروں کے لہو کا ثمر ہے جس کا زندہ ثبوت ہر بستی میں وہاں کے شہیدوں کے مرقد ہیں۔ تاہم آزاد کشمیر اور پاکستان سے جو مجاہدین وہاں گئے ہیں وہ وہاں کے عوام کے ہیرو ہیں جن کو مکمل پناہ دی جاتی ہے اور شہادت کی صورت میں ۳۰‘۳۰ ۴۰‘۴۰ بلکہ ۵۰‘۵۰ ہزار افراد نماز جنازہ میں شرکت کر کے ان سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہر جنازہ بھارت کے تسلط اور قبضے کے خلاف بستی بستی ایک استصواب کا درجہ رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریکِ مزاحمت‘ متحدہ جہاد کونسل اور حریت کانفرنس کے قائد سید علی شاہ گیلانی نے جنرل پرویز مشرف کی تجاویز کی سخت مخالفت کی ہے اور پاکستانی قوم کو یہ پیغام دیا ہے کہ جب ہم اپنی جانوں کی بازی لگائے ہوئے ہیں اور استبداد کی قوتوں کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں توآپ کمزوری اور تھکن کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں؟ ہم اس وقت آپ سے استقامت کی توقع رکھتے ہیں۔ اسلامی تاریخ سخت سے سخت حالات میں بھی حق کی خاطر ڈٹ جانے والوں کی تابناک مثالوں سے بھری پڑی ہے اور آج بھی فلسطین‘ عراق‘ افغانستان‘ کشمیر اور شیشان ہر محاذ پر طاقت ور دشمن کا مقابلہ کرنے والے کمزور مسلمان سینہ سپر ہیں۔ پھر پاکستان کی قوم اور قیادت کیوں صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ رہی ہے۔

امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے جب مائوزے تنگ سے تائیوان کے بارے میں بات کی تو اس نے یہ کہہ کر کسنجر کی زبان بند کر دی تھی کہ’’ہم اس معاملے میں ۱۰۰ سال بھی انتظار کرسکتے ہیں‘‘۔

اہل جموں و کشمیر نے ۵۷ سال جدوجہد کی ہے اور ۱۹۸۹ء کے بعد سے تو ان کی جدوجہد دسیوں گنا بڑھ گئی ہے۔ کیا ایسی جرأت مند اور جان پر کھیل جانے والی قوم کی ہمتوں اور امنگوں کے باب میں ہم بحیثیت قوم فخر اور تائید کے علاوہ کوئی اور راستہ اختیار کرسکتے ہیں؟ وقت ہمارے ساتھ ہے۔ بھارت اس انقلابی قوت کا تادیر مقابلہ نہیں کر سکتا۔ تاریخ میں کوئی بھی استعماری اور قابض قوت ہمیشہ غالب نہیں رہی ہے۔ جس قوم نے بھی بیرونی استبداد کے خلاف سپر نہ ڈالنے کا عزم کیا ہے‘ وہ ایک دن اپنی آزادی حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوئی ہے: تِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ۔ یہی زمانے کی کروٹیں اور نشیب و فراز ہیں جن سے تاریخ عبارت ہے۔

کیا ہم تاریخ کے اس سبق اور اللہ کے اس قانون کو بھول گئے ہیں؟ آزادی‘ ایمان اور عزت کوئی قابلِ خریدوفروخت اشیا نہیں۔ کشمیری قوم نے بھارتی وزیراعظم کے ۲ئ۵ بلین ڈالر کے معاشی پیکج کا ایک ہی جملے میں جواب دے دیا: ’’ہمیں سیاسی آزادی درکار ہے‘ معاشی پیکج ہمارا ہدف نہیں‘‘۔ اہلِ کشمیر نے تو اپنا جواب دے دیا‘ سوال یہ ہے کہ پاکستانی قوم کا جواب کیا ہوگا اور پاکستانی فوج جس کا مقصد وجود ہی ملک کا دفاع‘ کشمیر کی آزادی کا حصول اور علاقے پر بھارت کی بالادستی کو حدود کا پابند کرنا ہے‘ اس کا جواب کیا ہوگا؟ کیا یہ فوج معاشی کاروبار کرنے‘ زمینوں کا انتظام کرنے‘ سول ملازمتوں اور سیاست پر قبضہ کرنے کے لیے ہے یا ملک کے دفاع‘ مظلوموں کی مدد اور پاکستان کی شہ رگ کو دشمن کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے ہے۔ اس وقت عالم یہ ہے کہ فوج کے سربراہ نے اپنی دستوری‘ قانونی‘ اخلاقی ہر ذمہ داری کے برخلاف ایک ایسی تجویز پیش کر دی ہے جس کے معنی کشمیر کی تقسیم ہی نہیں بلکہ کشمیر کو اس خطے کے نقشے سے ہمیشہ کے لیے غائب کر دینے کے مترادف ہے۔ ان کی غفلت اور خوش فہمی کا یہ حال ہے کہ  ع

اک نشترِ زہرآگیں رکھ کر نزدیک رگ جاں بھول گئے!

ھماری قومی ذمہ داری اور تقاضے

اس خطرناک کھیل کو کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے؟ پارلیمنٹ اور قوم کی ذمہ داری ہے کہ اپنا کردار ادا کرے۔ قومی احتساب کو موثر بنائے اور اس قومی اجماع پر سختی سے قائم ہوجائے جس کی شیرازہ بندی قائداعظمؒ نے اپنے ہاتھوں سے کی تھی‘ اور اپنی ساری توجہ اصولی موقف پر مکمل اعتماد اور استقلال کے ساتھ مرکوز کرے اور کشمیری عوام کی تحریکِ مزاحمت کی بھرپور معاونت کی پالیسی اختیار کرے اور پاکستان کی معاشی‘ اخلاقی‘ عسکری اور سیاسی قوت میں اضافے کے لیے اقدامات کرے تاکہ یہ قوم اپنا حق لے سکے‘ مظلوموں کی مدد کر سکے اور ظالموں کو ظلم سے روک سکے:

وَمَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَـآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُھَا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًاo(النسائ۴:۷۵)

آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا! ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کردے۔

اس مقصد کے لیے قوت فراہم کرنا اور اس قوت کو رب کی امانت کے طور پر اپنی حفاظت اور مظلوموں کی مدد و استعانت کے لیے استعمال کرنا بھی عبادت ہی کے زمرے میں آتا ہے۔ اقبال نے اسی طرف اشارہ کیا ہے:

ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ

پہلے اپنے پیکرِخاکی میں جاں پیدا کرے

پھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار

اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے

اور یہ اس لیے کہ    ؎

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

اُمت مسلمہ آج جن حالات سے دوچار ہے کشمیر ہو یا فلسطین‘ افغانستان ہو یا عراق‘ مینڈانائو ہو یا شیشان--- حق و باطل کی کش مکش میں سرخرو ہونے کا ایک ہی راستہ ہے--- ایمان‘ تقویٰ اور جہاد۔ پسپائی‘ سمجھوتے اور کمرہمت کھول دینے سے کوئی قوم عزت اور آزادی کی زندگی نہیں گزار سکتی:

زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ

جوے شیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوے کم آب

اور آزادی میں بحر بے کراں ہے زندگی

اُمت مسلمہ‘ پاکستانی قوم اور اس کی سیاسی و عسکری قیادت کے لیے آج کے حالات میں اور خصوصیت سے کشمیر کی جدوجہد آزادی کے پس منظر میں اقبال کا پیغام یہ ہے کہ:

جس میں نہ  ہو انقلاب‘ موت ہے وہ زندگی

روح امم کی حیات‘ کش مکش انقلاب

صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم

کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب

نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر

نغمہ ہے سوداے خام خون جگر کے بغیر

اس قوم کا مقدر پسپائی نہیں‘ اپنے ملّی اور تاریخی اہداف کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنا ہے۔ یہ کم ہمت لوگوں کا شعار ہے کہ زمانے کے ساتھ بہ جاتے ہیں۔ زمانہ ساتھ نہ دے تو مسلمان کا شیوہ یہ ہے کہ وہ زمانے کو بدلنے کے لیے سرگرم عمل ہوجاتا ہے‘ اور یہی عزت اور کامیابی کا راستہ ہے۔ آج جن کے ہاتھوں میں مسلمانوں کی قیادت ہے  اُن کو ہوا کے رخ پر مڑجانے والے مرغ بادنما کے مذموم کردار سے احتراز کرنا چاہیے اور اپنے مقاصد اوراہداف کے حصول کے لیے زمانے کو مسخر کرنے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے    ؎

حدیث بے خبراں ہے‘ تو بازمانہ بساز

زمانہ با تو نسازد تو بازمانہ ستیز

صبح و شام اقبال اور قائداعظم کا نام لینے والے کیا اقبال اور قائداعظم کے راستے پر چلنے کے لیے تیار ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شخصی اقتدار‘ فوجی مداخلت و حکمرانی اور عوامی نمایندوں کا نفاق و بے وفائی

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۴ء کو قومی اسمبلی میں سرکاری جماعت کے ارکان اسمبلی نے حزب اختلاف کی پرزور اور شدید مزاحمت اور ہمہ جہتی مخالفت کے باوجود جس سرعت‘ دھاندلی اور منہ زوری سے صدر کے لیے دو عہدوں کے بل کو منظور کیا وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ حکمران جماعتوں کے اتحاد نے یہ بل منظور کرکے دستور اور جمہوریت کے سینے میں چھرا گھونپا ہے‘ خود اپنے اوپر اور پارلیمنٹ پر بے اعتمادی کا ووٹ دیا ہے‘ اور سب سے بڑھ کر جنرل پرویز مشرف کے پانچ سالہ دورحکمرانی کی ناکامی پر مہرتصدیق ثبت کر دی ہے۔ ان سب پر مستزاد‘ اپنے زعم میں جنرل پرویز مشرف کو پارلیمنٹ کے ایک دستور سے متصادم فاسد قانون (bad law)کا سہارا لے کر دستور کی خلاف ورزی‘ سترھویں ترمیم کے قانونی تقاضوں اور خود اپنے ۲۵ دسمبر۲۰۰۳ء کے قومی عہدوپیمان (national commitment) سے نکلنے اور بدعہدی کرنے کا ایک موقع فراہم کیا ہے۔یہ  عوام کے نمایندوں کے لیے سیاسی خودکشی سے کم نہیں۔

اس اقدام اور اس کے پس منظر اور پیش منظر پر جتنا بھی غور کیا جائے اسے ملک و ملت کے لیے اندوہناک ہی کہا جا سکتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف دہائی دے رہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں فوج کو کیوں نشانۂ تنقید بنایا جا رہا ہے لیکن اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری خود ان پر اور ان کے پارلیمانی حواریوں پر آتی ہے کہ ان کے ان اقدامات کی وجہ سے ملک کی وہ فوج جسے کبھی صد فی صد عوام کی تائید حاصل تھی اب اتنی متنازع بنادی گئی ہے کہ ہر سطح پرہدف تنقید بنی رہی ہے اور اس کی دفاعی صلاحیتیں بھی بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔ فوج کو سیاست میں ملوث کرنے اور اسے مستقل سیاسی کردار کا حامل قرار دینے کا اس کے سوا کوئی اور نتیجہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کے اس کردار کا ہر سطح پر پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ کے باہر احتساب ہو۔ جنرل پرویز مشرف نے محض اپنے اقتدار کی خاطر وردی کو ہدف بنوایا ہے۔ ان کی اس ہوس کی قیمت فوج کا پورا ادارہ اور قوم کی نگاہوں میں اس کے مقام کو ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ جنرل صاحب کے ایک سینیررفیق لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی نے ان کو بڑا صائب مشورہ دیا ہے کہ اب بھی وہ اپنے عہد کو جو اب ہمارے دستور کا حصہ ہے پورا کریں اور فوج کو اس بدنامی سے بچالیں جو بصورت دیگر ناگزیر ہوگی۔ ان کا مشورہ ایک عقل مند دوست کا مشورہ ہے جس پر جنرل صاحب کو سنجیدگی سے غور اور نیک نیتی سے عمل کرنا چاہیے:

لیکن ایسا کیا ہوگیا ہے کہ جس سے صرف ایک باوردی صدر ہی نبٹ سکتا ہے‘ یہ کوئی نہیں بتاتا… میں نہیں سمجھتا کہ صدر کو پیچیدہ صورت حال کو مزید پیچیدہ کرنے کی کوئی خواہش ہے۔ یہ امکان کہ کچھ لوگ سڑکوں پر آجائیں گے جن کے پُرتشدد ہونے کا خاصا امکان ہے‘ ایک پریشان کن خیال ہے۔ اس بدنظمی کا الزام لامحالہ جنرل کی وردی سے دیرپا محبت پر لگے گا جو بہت پریشان کن ہوگا۔ کیا ہوگا اگر وردی نے بھی کوئی مدد بہم نہ پہنچائی؟ نہیں‘ میں نہیں سمجھتا کہ وردی اور تمغوں سے آراستہ صدر ایک اچھا تصور ہے۔ (ڈیلی ٹائمز‘ ۱۵ اکتوبر ۲۰۰۴ئ)

حالات کی ستم ظریفی ہے کہ عوام کے وہ نمایندے جو پارلیمانی جمہوریت کو مستحکم کرنے اور دستور کے مطابق ملک کا نظام زندگی چلانے کے لیے منتخب ہوئے تھے--- اور مسلم لیگ (ق) کا انتخابی منشور پارلیمانی جمہوریت اور پارلیمان کو مضبوط ومستحکم اور مؤثر کرنے کے دعووں پر مشتمل تھا--- ان کی ایک تعداد دستور کے خلاف ایسا قانون منظور کرتی ہے کہ ایک شخص بیک وقت فوج کا باوردی سربراہ اور سروس آف پاکستان کا تنخواہ دار ملازم بھی ہوسکتا ہے اور ملک کا صدر بھی جو خالص سیاسی عہدہ ہے‘ جب کہ خود فوج کے ریٹائرڈ سوچنے سمجھنے والے افراد صدر کو متنبہ کر رہے ہیں کہ وہ یہ خطرناک کھیل نہ کھیلیں‘ اور دستور کے تحت انھیں جو غیرمعمولی مواقع دیے گئے ہیں ان پر قناعت کر کے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

صدر کے دو عہدوں پر قابض رہنے کے سلسلے میں خود صدر اور ان کے ’’نورتن‘‘ گذشتہ چند مہینوں سے ڈرامے کے مختلف ایکٹ وقتاً فوقتاً اسٹیج کرتے رہے ہیں‘ اور اب دو عہدوں کے قانون کی شکل میں ابہام (suspense) کو ختم کر کے آخری ایکٹ کی طرف پیش رفت کا سماں باندھا جا رہا ہے۔ لیکن یہی وہ فیصلہ کن وقت ہے جب ایک بار پھر اس مسئلے کے سارے پہلوئوں پر غور کر لیا جائے تاکہ اب بھی ملک کو مزید بگاڑ اور تباہی سے بچانے کے لیے کوئی مؤثر اقدام ہو سکے ورنہ ہمیں صاف نظر آرہا ہے کہ ایک شخص کی ہٹ دھرمی اور مخصوص سیاسی گروہوں کی مفاد پرستی کے نتیجے میں ملک جس بحران اور خلفشار کی طرف جا رہا ہے‘ وہ کسی کے لیے بھی خیر کا پیغام نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ عمل خود جنرل پرویز مشرف اور اس سے بھی زیادہ فوج کے لیے بحیثیت ایک دفاعی ادارے کے‘ بڑے ہی مہلک مضمرات کا حامل ہے۔ ابھی وقت ہے کہ عقل کے ناخن لیے جائیں اور ملک اور فوج کو اس بحران سے بچا لیا جائے۔

باطل اورفاسد قانون

’’دو عہدوں کا قانون‘‘ اگرچہ اسے پارلیمنٹ اکثریت سے منظور کرلے تب بھی یہ صرف ایک آمرانہ‘ استبدادی اور من مانی پر مبنی (arbitrary) قانون ہی نہ ہوگا بلکہ دستور کی اصطلاح میں‘ ایک اصلاً باطل اور فاسد قانون (void ab initio) ہوگاجس کی کوئی دستوری اور قانونی حیثیت نہیں ہوسکتی۔

سب سے پہلے ایک اصولی بات سمجھ لی جائے۔ بلاشبہہ ملک کی پارلیمنٹ اصل قانون ساز ادارہ ہے لیکن پارلیمنٹ بھی کوئی باطل اور فاسد قانون بنانے کی مجاز نہیں۔ اسلامی اصول فقہ کی رو سے چونکہ قرآن و سنت قانون کا اصل منبع ہیں اس لیے کوئی قانون ساز ادارہ قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنا سکتا۔ اگرخدانخواستہ کسی پارلیمنٹ کی صد فی صد اکثریت بھی شراب اور زنا کو قانون کے ذریعے جائز کرنے کا اعلان کر دے تو وہ قانون فاسد اور باطل ہی ہوگا۔ اسی طرح جن ممالک میں تحریری دستور ہے ان میں مقننہ پابند ہوتی ہے کہ دستور کے خلاف یا اس سے متصادم کوئی قانون سازی نہیں کر سکتی اور اگر وہ کوئی ایسا قانون بنا دیتی تو وہ سندجواز سے محروم رہتا ہے۔

جدید اصول قانون (jurisprudence)میں ایک بڑا بنیادی اضافہ( contribution) دوسری جنگ عظیم کے بعد نازی جرمنی کے ذمہ دار افراد کے مقدمے میں‘ جسے نیورمبرگ ٹرائل کہا جاتا ہے‘ ہوا۔ اس کے فیصلوں کو عالم گیر قبولیت حاصل ہے اس میں یہ اصول طے کیا گیا کہ کچھ اقدار اور اصول فطری انصاف اور عالم گیر صداقتوں کا درجہ رکھتے ہیں اور اگر ان کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اور انسانیت کے خلاف جرائم کاارتکاب کیا جاتا ہے‘ تومحض یہ بات اس کے لیے جوازفراہم نہیں کرسکتی کہ حکم مجاز ادارے نے دیا تھا یا یہ کہ ایسا اقدام کسی ایکٹ آف پارلیمنٹ‘ یعنی قانون کے تحت کیا گیا تھا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر جرمن پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے اُن قوانین کو باطل قرار دیا گیا جو انسانی اقدار کے خلاف تھے اور نازی جرمنی کے چیف جسٹس آرنسٹ یاننگ کو بطور ملزم اس عدالت میں پیش کیا گیا اور اسے عمرقید کی سزا دی گئی۔ اس کا یہ دفاع کچھ بھی کام نہ آیا کہ اس نے ان قوانین کو نافذ کرنے کے احکام دیے تھے جن کو پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا۔ نیورمبرگ کی عالمی عدالت کا فیصلہ تھا کہ ایسے اقدام جو بظاہر ملکی قانون کا درجہ رکھتے ہوں اور ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے ہی کیوں نہ بنائے گئے ہوں لیکن اگر ایسے ایکٹ آف پارلیمنٹ بنیادی طور پر اخلاقی اور انسانی جمہوری قدروں سے بالاتر یا متصادم ہوں توانھیں جائز قانون اور جائز اقدام تصور نہیں کیاجاسکتا۔ ایسے قوانین اپنی پیدایش کے وقت سے ہی باطل اور فاسد ہیں اور ان کو عدالت نافذ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔

جدید اصول قانون کے اس کلیے کی روشنی میں آیئے اس امر کا جائزہ لیں کہ اگر ’’دو عہدوں کا قانون‘‘ اسمبلی میں منظور ہونے کے بعد سینیٹ سے گزر کر صدر کی منظوری (assent ) حاصل کر بھی لیتا ہے تب بھی اس کی حیثیت کیا ہوگی۔ وہ ایک باطل اور فاسد قانون (void piece of legislation) ہوگا جس کی کوئی قانونی اور اخلاقی حیثیت نہیں ہوگی۔ اس کی وجوہ مختصراً یہ ہیں:

۱-            دستور ملک کا بالاتر قانون ہے اور کوئی قانون دستور سے متصادم نہیں ہوسکتا۔ ہر قانون سازی کو دستور کی کسوٹی پر پر کھا جاتا ہے اور جو قانون اس کے برعکس ہو‘ وہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے اور کسی حیثیت سے بھی مؤثر نہیں ہو سکتا۔ اب دیکھیے دستور کیا کہتا ہے:

(i) دفعہ ۴۱ کی رو سے کوئی شخص جو قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کا اہل نہ ہو‘ وہ صدر نہیں ہوسکتا۔ اور قومی اسمبلی کے رکن کی اہلیت اور نااہلیت کا تعین دفعہ ۶۲ اور دفعہ ۶۳ میں کر دیا گیا ہے جس کی رو سے:

(د) وہ پاکستان کی ملازمت میں کسی منفعت بخش عہدے پر فائز ہو ماسواے ایسے عہدے کے جسے قانون کے ذریعے ایسا عہدہ قرار دیا گیا ہو جس پر فائز شخص نااہل نہیں ہوتا۔

دستور کی دفعہ ۲۶۰ میں سروس آف پاکستان کی تعریف کر دی گئی ہے جس میں ’’فوج کی ملازمت‘‘ اپنی ہر شکل میں موجود ہے۔

اسی طرح دفعہ ۶۳ کی شق (ک) کی رو سے سروس آف پاکستان سے ریٹائر ہونے والا کوئی شخص بھی اہل نہیں ہو سکتا جب تک ملازمت سے فراغت پر دو سال نہ گزر جائیں۔

شق (د) میں قانون کے ذریعے جس عہدے کو مستثنیٰ کیے جانے کا ذکر ہے وہ دفعہ ۲۶۰ کو   بے اثر (over-rule) نہیں کرسکتا۔

(ii) دستور کی دفعہ ۲۴۴ کے تحت مسلح افواج کے تمام ارکان کے لیے لازم کیا گیا ہے کہ وہ یہ حلف اٹھائیں کہ: ’’میں اپنے آپ کو کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوںمیں مشغول نہیں کروں گا‘‘۔

اس عہد کو محض قانون کے ذریعے نہ بدلا جا سکتا ہے اور نہ اس سے کسی کو مستثنیٰ کیا جاسکتا ہے۔

(iii) سترھویں دستوری ترمیم کے ذریعے دفعہ ۴۱ میں جو شرط عائد کی گئی تھی وہ دستوری ترمیم کا مقصد اور ہدف تھی ‘یعنی یہ کہ جنرل پرویز مشرف کو (d) (i) ۶۳ سے جو استثنا دیا گیا ہے وہ ۳۱ دسمبر۲۰۰۴ء کو ختم ہوجائے گا۔ اب دستوری ترمیم کے اس دستوری تقاضے سے فرار ممکن نہیں‘ اس لیے کہ قانون سازی کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ ترمیم کے بارے کوئی ایسی ترمیم نہیں ہوسکتی جو اصل ترمیم کے مقصد کے منافی اور اس کو کالعدم (undo) کرنے والی ہے۔

دو عہدوں کا قانون اگر تسلیم کر لیا جائے تو وہ سترھویں ترمیم کے مقصد کو کالعدم کرتا ہے‘ اس کی مکمل طور پر نفی کر دیتا ہے۔ یہ سادہ قانون کے ذریعے دستور میں تبدیلی کے مترادف ہوگا جو باطل اور فاسد ہے۔

(iv) یہ قانون دستور کے پورے ڈھانچے (structure) کو تہہ و بالا کر دیتا ہے۔ جس تقسیمِ کار پر دستور مبنی ہے اس میں صدر کا فیڈریشن کی علامت ہونا‘ پارلیمنٹ کی بالادستی‘ سول اور فوجی نظام کا الگ الگ ہونا‘ کسی ایک فرد کے ہاتھوں میں قوت کا ایسا ارتکاز نہ ہونا جو باقی اداروں کو غیرمؤثر کر دے‘شامل ہیں۔ یہ ’’قانون‘‘ ان تمام پہلوئوں سے دستور کے نظام کار سے متصادم ہے اور فردواحد کو دستوریا قانون سے بالا کرنے کی کوشش ہے جو جمہوریت کی ضد اور پارلیمانی نظام حکومت کی نفی ہے۔

(v) دفعہ ۴۲ کے تحت صدر کے حلف نامے میں ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ:

میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام اور اپنے سرکاری فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہونے دوں گا۔

حلف کی اس شق اور دو عہدوں کے قانون میں چونکہ تصادم ہے‘ اس لیے کہ یہاں مفاد کا ٹکرائو (conflict of interest) آرہا ہے۔ یہ قانون جنرل پرویز مشرف ہی کو ایک اعتبار سے دستور کے متعدد احکامات سے استثنا دے رہا ہے۔ اس لیے وہ خود اس کی منظوری نہیں دے سکتے۔  اگر وہ اس قانون کو منظوری دیتے ہیں تو اپنے ذاتی مفاد کو بالاتر رکھتے ہیں اور حلف کی خلاف ورزی کی بنیاد پر اپنے کو صدارت کے عہدے کے لیے نااہل بنا لیتے ہیں۔

(vi)  یہ تو دستوری اور قانونی بحث تھی لیکن صدارت کے لیے سب سے اہم چیز ایک شخص کی صداقت‘ عہد کی پاسداری‘ دھوکادہی سے پاک ہونا اور امانت و دیانت ہے۔ دستور کی دفعہ ۶۲ میں بھی دو شقیں ایسی ہیں جو اس پہلو سے اہم ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وہ شخص صدر نہیں بن سکتا جو:

(و) سمجھ دار‘ اور پارسا نہ ہو اور فاسق ہو‘ اور ایمان دار اور امین نہ ہو۔

(ز) کسی اخلاقی پستی میں ملوث ہونے یا جھوٹی گواہی کے جرم میں سزایافتہ ہو۔

بدترین بدعھدی

سترھویں دستوری ترمیم کے سلسلے میں اصل جوہری شق ہی یہ تھی کہ صدر چیف آف اسٹاف کا عہدہ ۳۱دسمبر۲۰۰۴ء تک چھوڑدے گا۔ سینیٹر ایس ایم ظفر جو اس معاہدے کو انجام کار تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے اپنی کتاب Dialogue on the Political Chess Board میں اس کی پوری تفصیل بیان کرتے ہیں۔ کتاب کا آغاز اس آیت ربانی سے کرتے ہیں:

وَلَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْکِیْدِھَا (النحل ۱۶: ۹۱)

اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو۔

کتاب کا انتساب مشہور صحابی رسولؐ حضرت ابوجندلؓ کے نام کرتے ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو نمایاں کرتے ہیں:

ابوجندل صبر کرو‘ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے آسانی کا سامان کرے گا۔ ہم نے ان لوگوں سے ایک معاہدہ کرلیا ہے اور انھیں اپنا عہدوپیمان دے دیا ہے اور ہم اپنے عہد سے پھر نہیں سکتے۔

قرآن و سنت کی اس تذکیر کے ساتھ وہ بیان کرتے ہیں کہ:

میں نے صدر کو بتایا کہ ایم ایم اے نے صدر کے انتخاب کے مطالبے سے دستبردار ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور اس کے بجاے انھیں دستور کے تحت منتخب صدر تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے‘ بشرطیکہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرسکیں۔ اس صورت میں وہ آپ سے دو میں سے ایک عہدہ چھوڑنے کے لیے کوئی حتمی تاریخ معلوم کرنے میں حق بجانب ہیں۔ (ص ۱۵۸)

اسی کے نتیجے میں صدر نے ایک عہدہ چھوڑنے کی شرط تسلیم کی جو معاہدے کا اصل نکتہ تھی۔

اب یہ بات طے ہوگئی کہ اس صورت میں صدر حتمی طور پر ایک قطعی تاریخ کا عندیہ دیں گے…پھر جو تاریخ بتائی جائے گی اس کا اطلاق نااہلیت کی دفعہ‘ یعنی دستور کی دفعہ ۶۳ (د) کے ذریعے ہوگا۔ (ص ۱۶۱)

دیکھیے بالکل واضح ہے کہ اصل ایشو کیا تھا۔ اور دستور کی دفعہ (d) (i) ۶۳ کو سترھویں ترمیم میں لانے کا مقصد چیف آف اسٹاف کے عہدے سے فراغت تھی۔ جب دستوری ترمیم کا مقصد ہی یہ تھا تو استثنا کا سہارا لیے جانے کی کوئی گنجایش نہیں رہتی:

چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ چھوڑنے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ وہ اس مسلمہ اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ صدر اور چیف آف آرمی اسٹاف کے دونوں عہدے ایک شخص نہیں رکھ سکتا۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ایک عارضی مدت کے لیے سول حکومت کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ مگر انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس پر بھی لچک کا اظہار کیا ہے۔ (ص ۱۸۵)

اس کے نتیجے میں طے ہوا کہ ایک عہدہ‘ یعنی چیف آف اسٹاف کا عہدہ ۳۱دسمبر ۲۰۰۴ء تک چھوڑ دیا جائے گا۔ دفعہ ۶۳ (د) ۳۱ دسمبر ۲۰۰۴ء سے نافذ العمل ہوگی جو اس تاریخ کے بعد دو مناصب پر برقرار رہنے کو نااہل قرار دے گی۔

یہ معاہدے کے اسی مرکزی عہدوپیمان (commitment) کا اعلان عام تھا جو صدر نے ٹیلی وژن پر قوم اور پوری دنیا کے سامنے یوں کیا :

I have decided to leave the Army Chief post before Dec 31st, 2004. But it will be upon me to decide about the timing within this period.

میں نے ۳۱ دسمبر ۲۰۰۴ء سے پہلے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیاہے۔ لیکن اس مدت کے دوران اس کے وقت کا تعین میں خود کروں گا۔

دفعہ ۶۳ (i) (د) کے ساتھ دفعہ ۴۳ کا ذکر کرنے کا مسئلہ بھی لیاقت بلوچ صاحب نے اٹھایا لیکن ایس ایم ظفر صاحب نے اطمینان دلایا کہ دفعہ ۶۳ اس سلسلے میں کافی ہوگی (ص ۱۹۴)۔

ایس ایم ظفر صاحب نے اپنی کتاب  میں (ص ۲۲۶-۲۲۷) یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ صدر کو اعتماد کا ووٹ دینے کے سلسلے میں ایم ایم اے نے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا‘ البتہ اس کی مخالفت نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا جسے انھوں نے پورا کر دیا۔

سترھویں ترمیم اس بارے میں امرقاطع ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی بری فوج کی سربراہی سے ۳۱دسمبر۲۰۰۴ء تک فراغت کے بعد سیاست میں فوج کی مداخلت کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ ایس ایم ظفر صاحب نے سینیٹ میں ۲۹ دسمبر کو اپنی تقریر میں اس بات کو اس طرح ادا کیا اور اسی کو انھوں نے اپنی کتاب میں ضمیمہ نمبر۹ کی شکل میں اصل معاہدے کے حاصل کے طور پر پیش کیا ہے:

اب میںاپنے حتمی نتیجے تک آئوں گا۔ جناب عالی! وقت آگیا ہے کہ ہم آگے کی طرف دیکھیں اور ہمیں لازماً آگے کی طرف پیش رفت کرنا چاہیے۔ ہم نئے ہزاریے میں ہیں‘ اب یہ وقت ہے کہ ہم سب عہد کریں‘ تمام سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کو عہد کرنا چاہیے‘بلکہ درحقیقت مکمل سول سوسائٹی کو‘ بشمول افواجِ پاکستان کے افسران اور تمام فوجیوں کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ آیندہ سول میں فوج کی طرف سے کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔ (ص ۲۷۷)

یہ تھا اصل مسئلہ اور جنرل پرویز مشرف اور پوری پارلیمنٹ کا عہدوپیمان۔ یہ ایک سیاسی اور عمرانی معاہدہ تھا جسے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ توڑا جا رہا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ  جو بھی اسے توڑ رہا ہے‘ یا توڑنے کے لیے سامان فراہم کر رہا ہے وہ دستور کا باغی‘ جمہوریت کا قاتل اور قوم کا مجرم ہے اور وہ اللہ کی پکڑ سے بھی نہیں بچ سکے گا۔

اس قانون کے فاسد اور خلاف دستور ہونے کے بارے میں تمام ہی آزاد ماہرین قانون یک زبان ہیں کہ یہ دستور کے خلاف اور جمہوریت کی نفی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی قرارداد پوری قانون دان برادری کے خیالات کی ترجمان ہے:

قومی اسمبلی نے ایک ایکٹ کے ذریعے‘ جو دستور کو پامال کرتا ہے اور جو ریاستی اداروں کو فرد واحد کے خبط (whim)کے تابع کرتا ہے‘ ملک کی دستوری حکومت کو ذاتی حکومت میں تبدیل کر دیا ہے۔ (ڈان، ۱۹ اکتوبر ۲۰۰۴ئ)

اس بارے میں دو آرا مشکل ہیں کہ یہ قانون کتاب قانون کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا اور پارلیمنٹ کے لیے خودکشی کا پروانہ ہے۔ اس کے نتیجے میں حکمران پارٹی کی جو بھی سیاسی حیثیت تھی وہ خاک میں مل گئی ہے۔ حکومت حکمرانی کے لیے ہر جواز سے محروم ہوگئی ہے اور جنرل صاحب اور ان کی پوری ٹیم نے اپنے اعتبار (credibility ) اور سندجواز (legitimacy )‘ دونوں پر وار کر کے خود ہی انھیں تار تار کر دیا ہے۔

مسئلہ صرف قیادت کے اعتبار اٹھ جانے نہیں‘ پورے نظام امر اور اصحاب امر کی سندجواز کا ہے۔ اور جو قیادت اور جو نظام اعتبار اور جواز دونوں سے محروم ہو وہ کھوٹے سکوں کی مانند ہے اور اس کے دن گنے جاچکے ہیں۔ جس ملک کا سربراہ اور حکمران پارٹی ایسے واضح عہدوپیمان کے بعد ان کو پامال کرنے پر تلے ہوئے ہوں‘ ان کے قول و فعل کا دنیا میں کسی کو اعتبار نہیں ہوسکتا۔

ایس ایم ظفر صاحب نے سورۃ النحل کی آیت ۹۱ نقل کی ہے جو عہد کی پاسداری سے متعلق ہے۔ ہم اس کے ساتھ اگلی آیت بھی پیش کرتے ہیں جو ایک آئینہ ہے جس میں جنرل پرویز مشرف اور حکمران پارٹی اپنا پورا چہرہ دیکھ سکتی ہے اور اپنے انجام کی تصویر بھی اسے اس میں صاف نظرآجائے گی:

وَاَوْفُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ اِذَا عٰھَدْتُّمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْکِیْدِھَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰہَ عَلَیْکُمْ کَفِیْلًاط اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَo وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَھَا مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنْکَاثًاط تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَکُمْ دَخَلًام بَیْنَکُمْ اَنْ تَکُوْنَ اُمَّۃٌ ھِیَ اَرْبٰی مِنْ اُمَّۃٍط اِنَّمَا یَبْلُوْکُمُ اللّٰہُ بِہٖط وَلَیُبَیِّنَنَّ لَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ o (النحل ۱۶:۹۱-۹۲)

اللہ کے عہد کو پورا کرو‘ جب کہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو‘ جب کہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو۔ اللہ تمھارے سب افعال سے باخبر ہے۔ تمھاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے اپنی ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکروفریب کا ہتھیار بناتے ہو تاکہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے حالانکہ اللہ اس عہدوپیمان کے ذریعے سے تم کو آزمایش میں ڈالتا ہے‘ اور ضرور وہ قیامت کے روز تمھارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا۔ (النحل ۱۶: ۹۱-۹۲)

اور عہدومیثاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے بارے میں اللہ کا فرمان یہ ہے کہ اس کی زد خود ایمان تک پر پڑتی ہے:

اَوَ کُلَّمَا عٰھَدُوْا عَھْدًا نَّبَذَہٗ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْط بَلْ اَکْثَرَھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَo

یہاں تک کہ جب کبھی ان لوگوں نے پکا عہد کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اس کو توڑ دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر ایمان سے عاری ہیں۔ (البقرہ ۲:۱۰۰)

فَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ (اٰل عمرٰن ۳:۸۲)

اور جواس کے بعد (اپنے عہد سے) پھر جائیں تو یہی فاسق لوگ ہیں۔


اس مسئلے کے قانونی اور اخلاقی پہلو بلاشبہہ بہت اہم اور ملک کے مستقبل اور یہاں جمہوری سیاست کے فروغ کے سلسلے میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن اس کے بڑے دور رس سیاسی مضمرات بھی ہیں۔

عدم استحکام

جنرل صاحب اور ان کے حواری سیاسی استحکام کی خاطر وردی کی بات کرتے ہیں اور جنرل صاحب نے پانچ سال میں جو نظام قائم کیا ہے اور جسے وہ پایدار جمہوریت (sustainable democracy )قرار دیتے ہیں‘ اس کو بچانے اور آگے بڑھانے کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ خود اس کے بارے میں اس قانون کا فتویٰ کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پانچ سال میں انھوں نے استحکام کی طرف قدم بڑھایا ہے‘ جب کہ اگر ایسے کسی قانون کی ضرورت ہے تو وہ صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ان کا بنایا ہوا گھروندا استحکام سے محروم ہو۔ دراصل جنرل صاحب غیریقینی اور مجرم ضمیری کا شکار ہیں اور یہ قانون ان کے پانچ سالہ دور کے حاصل پر عدم اطمینان کا اظہار ہے۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ جو سیاسی نظام انھوں نے قائم کیا وہ متزلزل ہے۔ سیاسی قوت کا مرکز نہ عوام ہیں‘ نہ دستور‘ اور نہ پارلیمنٹ‘ صرف فوج  قوت کا منبع ہے‘ اور انھیں خطرہ ہے کہ ان کا بنایا ہوا یہ محل بندوق کی نالی کے بغیر زمین بوس ہوجائے گا۔ اگر وہ پانچ سال میں بھی اپنے پائوں پر کھڑے ہونے والا کوئی نظام قائم نہیں کرسکے تو مزید چار سال میں کیا کر سکتے ہیں؟ ان کے ایک مداح اسٹیفن کوہن (Stephen Cohen) نے اپنی تازہ ترین کتاب The Idea of Pakistan میں جنرل صاحب اور فوج کی حکمرانی کی ناکامی کا یوں اعتراف کیا ہے:

فوج کے ہر جگہ موجود ہونے کی وجہ سے پاکستان قومی سلامتی کی ایک ایسی ریاست رہے گا جس میں ترقی اور جواب دہی کی قیمت پر سلامتی کے مقاصد فیصلہ کن ہوں گے‘ نیز  جواز اور قوتِ متخیلہ کے فقدان کی وجہ سے سمت تبدیل کرنے کے قابل بھی نہ ہوگا۔ صدر اور آرمی چیف دونوں کی حیثیت سے پرویز مشرف کی کارکردگی غیراطمینان بخش ہے۔ مشکل نظر آتا ہے کہ مشرف کی قیادت کے مزید چار برس کسی طرح پاکستان کے مستقبل میں ڈرامائی تبدیلی لاسکیں۔ (بحوالہ Military's Broken Law لا از عرفان حسین‘ ڈان، ۱۶ اکتوبر ۲۰۰۴ئ)

پھر بات صرف جنرل صاحب کے بنائے ہوئے نظام کے عدم استحکام ہی کی نہیں بلکہ پورے نظامِ حکمرانی کی تباہی کی ہے۔ جنرل صاحب کے پورے دور حکومت اور خصوصیت سے اس ’’دو عہدوں کے قانون‘‘ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملک کے اداروں کو تباہ کر دیا گیا ہے اور سارے نام نہاد استحکام کی بنیاد فرد واحد کو قرار دے دیا گیا ہے۔ شخصی حکمرانی اور وہ بھی فوجی لبادے میں‘ خرابی کی اصل جڑ ہے۔ ملکوں میں استحکام اداروں کے استحکام سے آتا ہے۔ فرد تو آنی جانی چیز ہے۔ جہاں استحکام کا انحصار محض ایک فرد پر ہو وہ آمریت ہی کو جنم نہیں دیتا بلکہ خود استحکام بھی خواب و خیال سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ جمہوریت کے درخت کو جو چیز کسی گھن کی طرح کھا رہی ہے اور جس نے اسے کھوکھلا کر دیا ہے‘ وہ یہی شخصی حکمرانی‘ ارتکاز اختیارات اور فردواحد کی ناگزیریت ہے۔ وقت آگیاہے کہ خرابی کی اس اصل جڑ پر ضرب لگائی جائے اور استحکام کے لیے وہ راستہ اختیار کیاجائے جو پایدار ہو۔ یہ صرف اداروں کے استحکام سے حاصل ہوسکتا ہے اور اس کے لیے جن اداروں کا استحکام ضروری ہے وہ دستور‘ پارلیمنٹ‘ سیاسی جماعتیں‘ عدلیہ‘ قانون کی حکمرانی اور جواب دہی کا مؤثر نظام ہیں۔ بات صرف ایک فرد کی ذات کی نہیں‘ گو جنرل صاحب اپنی تمام ساکھ اور جواز کھوچکے ہیں۔ لیکن اب بھی ہمارا ہدف ان کی ذات نہیں‘ ان کی یہ کوشش ہے کہ شخصی حکمرانی کے نظام کو ملک پر مسلط کر دیں۔

فوجی قیادت کے سیاسی عزائم

اس کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ شخصی حکمرانی بھی دراصل فوجی حکمرانی (military rule) کی شکل میں ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کی راہ میں جو مشکلات اور موانع حائل رہے ہیں‘ ان میں سیاسی قوتوں کی کمزوریوں اور بے تدبیریوں کے ساتھ فوجی قیادت کے سیاسی عزائم اور سیاسی عمل میں بار بار مداخلت کا بڑا ہی بنیادی کردار ہے۔ جو بھی فوجی طالع آزما میدان میں آیا ہے اس نے استحکام اور قومی مفاد ہی کا سہارا لیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں استحکام اور قومی مفاد دونوں ہی پامال ہوئے ہیں۔

آج صورت یہ ہے کہ فوج کی دفاعی صلاحیت کمزور سے کمزور تر ہو رہی ہے اور سیاست‘ انتظامیہ‘ معیشت اور اجتماعی زندگی کے دوسرے دائروں میںاس کا کردار بڑھ رہا ہے۔ ان دائروں کے لیے نہ اس کو تربیت دی گئی ہے اور نہ اسے ان میں کوئی مہارت حاصل ہے۔ سول انتظامیہ میں آج ایک ہزار سے زیادہ ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی چھائے ہوئے ہیں‘ سفارت کاری ہو یا تعلیمی اداروں کی سربراہی--- ہر جگہ ریٹائرڈ فوجیوں کی فوج ظفر موج براجمان ہے۔ پبلک سیکٹر کے اہم ترین اداروں کی سربراہی بھی فوجی عملے (personnel )کو سونپی گئی ہے اور معیشت کے میدان میں بھی فوجی ادارے اپنے ہاتھ پائوں پھیلا رہے ہیں۔ پروفیسر حسن عسکری رضوی ہیرالڈ میں اپنے ایک مضمون میں اس کا اس طرح نوحہ کرتے ہیں کہ:

The corporate interests of the military have expanded so much under General Musharuf that the army is now overwhelming all the major sectors of the state, economy and the society. And it is leading to a situation that can be declared as the colonization of the civil institutions by the military.

جنرل مشرف کے دور میں فوج کے کاروباری مفادات اتنے توسیع پذیر ہوگئے ہیں کہ فوج اب ریاست‘ معیشت اور سوسائٹی کے تمام بڑے شعبوں پر چھائی ہوئی ہے‘ اور ایسی صورت حال کی طرف بڑھ رہی ہے جس کو سول اداروں پر فوج کا استعماری قبضہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

ہمیں دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ فوجی قیادت اور خصوصیت سے جنرل پرویز مشرف کو کوئی شعور نہیں کہ فوج کو سیاست‘ معیشت اور انتظامیہ میں ملوث کر کے وہ کس طرح فوج کو قوم کے اعتماد اور محبت و عقیدت سے محروم کر رہے ہیں‘ اور اسے قوم کے مخالفانہ جذبات کا ہدف بنا رہے ہیں۔ فوج اپنے دفاعی اور پیشہ ورانہ کردار کو بھی کمزور کر رہی ہے اور عوام اور فوج میں فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ اختلافات اور بے اعتمادی اس رخ پر جارہی ہے جو بے زاری اور نفرت کا روپ دھار سکتی ہے جو ملکی دفاع کے لیے بڑا ہی خطرناک ہو سکتا ہے۔

آج وردی کی بحث کا ہدف صرف ایک فرد نہیں بلکہ یہ اصولی مسئلہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں فوج کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ جنرل پرویز مشرف کی شخصی اور باوردی حکمرانی دراصل فوج کے سیاسی کردار کی علامت ہے۔ آج تک سیاسی عناصر بھی اور عدالتیں بھی ’’نظریۂ ضرورت‘‘ کے تحت فوج کے عارضی کردار کو گوارا کرتے رہے ہیں جس نے اس کے مستقل کردار کی راہ ہموار کردی ہے۔ اب اصل ہدف فوج کا یہی کردار ہے اور نظریۂ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کردینے کی ضرورت ہے تاکہ اس باب کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔ فوج صرف دفاع وطن کے لیے مخصوص ہو اور سیاسی نظام دستور کے تحت سیاسی قوتوں کے ذریعے ہی سے چلایا جائے۔ یہی جمہوریت ہے اور یہی اسلام کا تقاضا ہے جس کا بالواسطہ اعتراف خود جنرل صاحب اپنی اس تقریر میں کرچکے ہیں کہ خلیفۂ وقت فوجی سالار کو برطرف کرنے کا حق رکھتا ہے۔

امریکی عزائم کا آلـہ کار

جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوںکے نتیجے میں جن کو ان کے بقول فوجی قیادت کی تائید حاصل ہے‘ ملک امریکا کے عالمی عزائم کا آلہ کار بن گیا ہے۔ امریکا اس وقت عالم اسلام ہی نہیں‘ اسلام اور اس کی احیائی تحریک کو اپنا مدمقابل سمجھ کر ہر طرح سے کمزور کرنے اور کچل دینے کے لیے سرگرم ہے۔ اس لیے اس کروسیڈ میں جنرل صاحب کے تعاون نے پاکستان کو ساری دنیا کے مسلمان عوام اور انصاف دوست انسانوں سے کاٹ دیا ہے اور سمجھا جا رہا ہے کہ ہم امریکا کے پیادہ سپاہی (foot soldier ) کا کردار ادا کررہے ہیں۔ پاکستانی عوام بھی اس پالیسی سے نالاں ہیں اور پوری دنیا میں ہماری جو تصویر ابھر رہی ہے وہ شرمناک ہے۔ امریکا کی دوستی تو کبھی بھی قابل اعتبارنہ تھی اور آج بھی نہیں ہے لیکن امریکا نوازی اور امریکا کے آگے سپرڈالنے سے‘ ہم اپنے عوام سے دُور اور اپنے دوستوں کی نگاہ میں مخدوش بن گئے ہیں۔ اور امریکا کا یہ حال ہے کہ ہر تابع داری کے بعد وہ  ھل من مزید کا مطالبہ کرتا ہے اور ہمیں کمزور کرنے اور رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ بھارت اور اسرائیل کو مضبوط کرنا اور پاکستان اور مسلمان ممالک کو کمزور رکھنا اس کی پالیسی کا ہدف ہے۔ نیز مسلم ممالک کے نظام تعلیم کو خالص سیکولر رنگ دینے‘ جہاد کے جذبے کو ختم کرنے‘ مسلمانوں کے مسائل کومسلسل نظرانداز کرنے اور اُمت مسلمہ کو اپنے معاشی اور ثقافتی شکنجے میں کسنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

حد یہ ہے کہ امریکی کانگرس نے ایک نہیں کئی کئی قوانین منظور کیے ہیں کہ پاکستان کے رویے کو ہر سہ ماہی چیک کیا جائے کہ نام نہاد دہشت گردی کے سلسلے میں وہ کیا کر رہا ہے‘ نیوکلیر عدم پھیلائو کے بارے میں اس کا عمل کیا ہے اور اب تو یہ بھی کہ سیکولر تعلیم کے فروغ اور دینی مدارس کی تعلیم کی اصلاح کے بارے میں کیا کیا جا رہا ہے۔ ہر سہ ماہی جائزے کے بعد جس مالی امداد کا وعدہ کیا گیا ہے وہ بہ اقساط جاری کی جائے گی۔ اکتوبر میں امریکی نائب وزیرخارجہ کرسٹیناروکا  تشریف لائی تھیںتو ان کا اصل ہدف وزارت تعلیم کو اپنے منصوبے کے لیے مسخر کرنا اور شمالی علاقہ جات کا دورہ کر کے آغا خان فائونڈیشن کے کارناموں کا جائزہ لینا تھا۔ جس وقت محترمہ شمالی علاقہ جات کا دورہ کر رہی تھیں اس وقت ہیلری کلنٹن نیویارک میںآغا خان فائونڈیشن کے لیے عطیات جمع کرنے کی مہم کی قیادت کر رہی تھیں۔ اب پاکستانی فوج‘ پاکستانی پولیس‘ پاکستانی انتظامیہ اور پاکستانی سیاسی قیادت‘ سب کی تربیت کا ٹھیکہ امریکا یا امریکا کے فنڈ پر چلنے والی این جی اوز کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ یہ سب عوامی احتساب اور پارلیمنٹ کی نگرانی سے بالا بالا شخصی حکومت کا کرشمہ ہے۔

سیکولر اقدار کا فروغ

عوام کے حقیقی معاشی مسائل کو نظرانداز کر کے معیشت کے تمام دروازوں کو عالمی ساہوکاروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی لوٹ مار کے لیے کھول دیا گیاہے۔ مبادلۂ خارجہ کے ذخائر بڑھائے جارہے ہیں لیکن ملک میں غربت بڑھ رہی ہے اور بے روزگاری میں اضافے کی رفتار دگنی ہوگئی ہے۔ دولت کی عدم مساوات میں دن دونی رات چوگنی بڑھوتری ہو رہی ہے‘ اشیاے صرف کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں‘ پانی اور بجلی کی قلت ہے۔ عوام علاج کی سہولت سے محروم ہیں اور بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد کے لیے تعلیم کا حصول ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

تعلیم کی نج کاری کے نام پر تعلیم کے استحصال کا ایک ایسا نظام ملک پر مسلط کر دیا گیا ہے کہ عام انسان کے لیے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلانا ناممکن ہوگیا ہے۔ انگریزی میڈیم کا فروغ‘ اے لیول‘ مشنری تعلیمی اداروں کا احیا‘ آغا خان فائونڈیشن کو امتحانات اور بالآخر نصاب تعلیم کا ٹھیکہ وہ چیزیں ہیں جو تعلیم کو قومی دھارے اور ملک کی نظریاتی اور اخلاقی اساس سے کاٹ کر مغرب کی تہذیبی غلامی کا آلہ کار بنانے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔ مشنری اداروں کی سرپرستی کے لیے تو یہ بے چینی ہے کہ جن اداروں کو ۱۹۷۰ء کی دہائی میں قومی تحویل میں لیا گیا تھا ان کو ان صلیبی اداروں کو واپس دیا جا رہا ہے‘ لیکن اسی زمانے میں مسلمان اداروں جیسے انجمن حمایت الاسلام کے جن تعلیمی اداروںکو قومیایا گیا تھا انھیں ان اسلامی تنظیموں کو واپس دینے یا ان کے کردار کو بڑھانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ سارا کام یک طرفہ انداز میں سیکولر اور لبرل قوتوں کے عزائم کو تقویت دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک بیرونی ایجنڈا ہے جس کے تحت خود اپنی قوم کو دوسروں کی سیاسی‘ معاشی اور تہذیبی غلامی میں دیا جا رہا ہے اور یہ سب شخصی اور باوردی حکمرانی کا نتیجہ ہے۔

عوامی تحریک کی ضرورت

ان حالات میں قوم کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہیں رہا ہے کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مؤثر عوامی قوت کے ذریعے اس یلغار کا مقابلہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں ہمارے اہداف بہت واضح اور متعین ہونے چاہییں یعنی:

۱-  ملک کی سیاست کو دستور کے تحت سیاسی قوتوں کے ذریعے کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے‘ اور جو قیادت اپنی حکمرانی کا جواز (legitimacy )کھو چکی ہے اور جس نے ہر عہدوپیمان کو پامال کیا ہے اس سے نجات ضروری ہے۔

۲-  ملک کی فوج کو صرف دفاعی ذمہ داریوں کے لیے مخصوص کیا جائے اور کسی صورت میں بھی فوج کی سیاسی مداخلت کو گوارا نہ کیا جائے۔ تمام سیاسی جماعتیں عہد کریں کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی صورت میں بھی سیاست میں فوج کو ملوث نہیں کریں گی اور عدالتیں بھی یکسو ہوجائیں کہ ’’نظریۂ ضرورت‘‘ کے تحت کسی بھی شکل میں فوج کی مداخلت کو سندِجواز نہیں دی جائے گی۔

۳-  پاکستان کی آزادی‘ نظریاتی تشخص اور تہذیبی شناخت کی ہر قیمت پر حفاظت ہوگی۔ امریکا سے دوستی صرف اپنی آزادی‘ معاشی خودانحصاری اور دینی‘ تعلیمی اور تہذیبی اقدار کی مکمل پاسداری کے ساتھ اختیار کی جائے گی اور زندگی کے تمام شعبوں میں امریکی مداخلت اور اثراندازی کو لگام دی جائے گی۔ حقیقی معنوں میں آزاد خارجہ پالیسی اختیار کی جائے گی جو پاکستان اور امت مسلمہ کے مفادات کی محافظ ہو۔ بھارت سے دوستی بھی مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل‘ برابری کے اصول اور باوقار سیاسی اور معاشی تعلقات سے مشروط ہوگی۔

۴-  ملک کے معاشی وسائل ملک کے عوام کو عزت کی زندگی گزارنے کے لائق بنانے کے لیے استعمال ہوں گے‘ اور ہرشہری کو اس کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

۵-  ملک سے کرپشن کا خاتمہ اور ہر سطح پر اور ہر طبقے کے لیے جواب دہی اور احتساب کا آزاد‘ مؤثر اور بے لاگ نظام قائم کیا جائے گا تاکہ ملک کی سیاسی‘ معاشی اور تہذیبی زندگی کو  مفاد پرستوں کے چنگل سے آزاد کیا جاسکے‘ اور عام آدمی عزت کی زندگی گزارنے اور ملک کے وسائل سے اپنا حق وصول کرنے کے لائق ہوسکے۔

۶-  مغرب اور بھارت کی تہذیبی یلغار کے آگے بند باندھے جائیں اور پاکستان حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کی اس منزل کی طرف پیش رفت کر سکے جس کا خواب ملت اسلامیہ پاک و ہند نے علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کی رہنمائی میں دیکھا تھا اور جس کے لیے بیش بہا قربانیاں دی تھیں۔ تقسیمِ ہند کی نفی اور مشترک ثقافت اور مفادات کے بھارتی منصوبے سے قوم کو آگاہ کیا جائے‘ اور اپنی آزادی‘ دینی تشخص‘ معاشی مفادات اور تہذیبی شناخت کی حفاظت کے لیے مؤثر عوامی تحریک برپا کی جائے۔

یہ ہیں وہ اہداف جن کو سامنے رکھ کر عوامی بیداری کی تحریک پورے نظم اور صبروتحمل سے چلانے کی ضرورت ہے۔ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہنی چاہیے جب تک عوامی قوت کے ذریعے تمام اہداف حاصل نہ ہوجائیں۔ اس عوامی تحریک کو ہر غلط راستے سے بچایا جائے اور کسی طالع آزما کو یہ موقع نہ دیا جائے کہ وہ عوام کے جذبات اور قربانیوں کا فائدہ اٹھا کر اپنے لیے کوئی مسیحائی کا مقام حاصل کرلے۔ وقت آگیا ہے کہ ماضی کے تلخ تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور ان خطرات کے پورے ادراک کے ساتھ جن سے ماضی میں عوامی تحریکات زک اٹھا چکی ہیں‘ شخصی حکمرانی سے نجات اور عوامی حاکمیت اور اسلام کی بالادستی کی اس تحریک کو حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کے ساتھ اس کے اصل انجام تک پہنچایا جائے۔ وجاھدوا فی اللّٰہ حق جھادہ!

(کتابچہ دستیاب ہے۔ قیمت: ۵ روپے۔ سیکڑے پر رعایت: منشورات‘ منصورہ‘ لاہور)


دنیا میں ہمیشہ غلط کار لوگوں کا یہ خاصّہ رہا ہے کہ غلط کاروں کے انجام کی پوری تاریخ ان کے سامنے ہوتی ہے مگر وہ اس سے سبق نہیں لیتے۔ حتیٰ کہ اپنے پیش رَو غلط کاروں کا جوانجام خود ان کے اپنے ہاتھوں ہوچکا ہوتاہے اس سے بھی انھیں عبرت حاصل نہیں ہوتی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کا قانونِ مکافات صرف دوسروں ہی کے لیے تھا‘ اُن کے لیے اس قانون میں ترمیم کر دی گئی ہے۔ پھر اپنی کامیابیوں کے نشے میں وہ یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ دنیا میں سب احمق بستے ہیں۔ کوئی نہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے‘ نہ اپنے کانوں سے سُن سکتا ہے اور نہ اپنے دماغ سے واقعات کو سمجھ سکتا ہے۔ بس جو کچھ وہ دکھائیں گے اسی کو دنیا دیکھے گی‘ جو کچھ وہ سنائیں گے اسی کو دنیا سنے گی‘ اور جو کچھ وہ سمجھائیں گے دنیا بُزِاخفش کی طرح اس پر سرہلاتی رہے گی۔ یہی برخود غلطی پہلے بھی بہت سے بزعمِ خویش عاقل اور فی الحقیقت غافل لوگوں کو لے بیٹھی ہے‘ اور اسی کے بُرے نتائج دیکھنے کے لیے اب بھی کچھ برخود غلط حضرات لپکے چلے جارہے ہیں۔   سید مودودیؒ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 چند اہم سیاسی‘ دفاعی اور بین الاقوامی مضمرات

پاکستان کی تاریخ بہت سے عجوبوں کے تذکرے سے مالا مال ہے لیکن اس میں تازہ ترین اضافہ دو مہینوں میں تین وزراے اعظم کا دورِ حکمرانی ہے جسے جنرل پرویز مشرف کا ’’ہیٹ ٹرک‘‘ بھی کہا جا سکتا ہے۔

۲۵ جون ۲۰۰۴ء کو ڈیڑھ سال سے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالے رکھنے والے جناب ظفراللہ خان جمالی نے ان افواہوں کی تردید کی جو ان کی وزارت عظمیٰ سے رخصتی کے بارے میں چند ہفتے سے گردش کر رہی تھیں‘ اور پھر اچانک ایک دن بعد ہی اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کر کے ’‘میوزیکل چیرز‘‘ کے ایک کھیل کا آغاز فرمایا جس میں چودھری شجاعت حسین کو ایک قسم کے سیاسی حلالے کے طور پر وزیراعظم مقرر کیے جانے کا اعلان کیا گیا۔ چودھری صاحب ۵۷ دن وزیراعظم رہے اور اس اثنا میں جناب شوکت عزیز کا قومی اسمبلی میں انتخاب‘ قائد ایوان کی حیثیت سے تقرر اور پھر بالآخر ۲۸ اگست ۲۰۰۴ء کو وزیراعظم کی حیثیت سے حلف برداری واقع ہوئی۔ اس طرح ۲۶ جون کو شروع ہونے والے ڈرامے کا ڈراپ سین ہوا اور دنیا کی سیاسی تاریخ میں پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہوگیا کہ اس نے دو مہینوں میں تین وزراے اعظم کے اقتدار کا نظارہ  دیکھ لیا۔ اس سب کے نتیجے میں پانچ درجن سے زیادہ وزرا پر مشتمل کابینہ ملک کا مقدر بن گئی۔ اس میں ابھی مسلسل اضافے متوقع ہے۔

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جنرل صاحب کے الفاظ میں اس کھیل کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کے most smooth and democratic transition  (سب سے زیادہ ہموار اور جمہوری انتقالِ اقتدار) کا نام دیا گیا۔ اور کولن پاول صاحب نے نہلے پہ دہلا مارتے ہوئے یہاں تک  فرما دیا کہ اب پاکستان کو ایک بااختیار ور وزیراعظم (empowered prime minister ) میسرآگیا ہے!اور اسی ’’دھول دھپے‘‘ میں جنرل پرویز مشرف صاحب نے بھی‘ جو کھلے عام ۳۱دسمبر۲۰۰۴ء سے پہلے آرمی چیف کی وردی اتارنے کا وعدہ قوم اور دنیا سے کرچکے تھے‘ ایک قلابازی کھائی اور اس بارے میں جو ابہام وہ اور ان کے گماشتے چند مہینوں سے پیدا کر رہے تھے‘ اسے تقریباً کھلے طور پر وردی نہ اتارنے کے ارادے کے اظہار کی شکل دے دی۔

یہ تمام واقعات ایسے ہیں کہ ان پرکھل کر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے اور جو نیا سیاسی نقشہ مرتب ہو رہا ہے اس کے ادراک اور مضمرات کا احاطہ ایک اہم قومی ضرورت کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ اس وقت کچھ اوراہم موضوعات بھی ہمارے سامنے ہیں‘ جیسے: وزیرستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوج کُشی‘ بلوچستان کے مخدوش حالات‘ عراق کی ہولناک صورت حال‘ بسلان کا سانحہ‘ شیشان میں بے پایاں ظلم اور روس کے نئے عزائم‘ فلسطین اور کشمیر کے تازہ واقعات اور امریکا کا صدارتی معرکہ‘ جن میں سے ہر ایک مفصل تجزیے و تبصرے کا متقاضی ہے لیکن ان سب کو نظرانداز کرتے ہوئے ہم ملک میں تازہ ترین سیاسی مہم کاری (political engineering) اور اس کے مضمرات پر ملک و قوم کو متوجہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ    ؎

اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی

دوڑو‘ زمانہ چال قیامت کی چل گیا


سیاسی بحث میں شخصیات کا تذکرہ فطری ہے اور ناگزیربھی۔ لیکن ہماری دل چسپی کا اصل مرکز و محور ملک و قوم کے مقاصد اور مفادات ہیں اور حقیقی ہدف پالیسی اور اداروں کی اصلاح اور استحکام ہے۔ جب کوئی شخص پبلک لائف میں قدم رکھتا ہے تو گویا وہ خود کو اجتماعی احتساب کے لیے بھی پیش کرتا ہے اور اسے اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ البتہ ہماری کوشش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ قومی امور کو زیربحث لاتے ہوئے ذاتی معاملات اور معاشرتی تعلقات سے بالا ہوکر گفتگو کریں۔ جن محترم شخصیات کا ذکر اس بحث میں آیا ہے یا آئے گا‘ ان کے بارے میں ہماری بحث کا محور ان کی ذات نہیں بلکہ ان کے افکار‘ کردار اور اجتماعی رول ہے۔ ہمارا اصل مقصد پاکستان کا نظریاتی‘ سیاسی‘ ثقافتی اور معاشی استحکام ہے اور یہی وہ قدر مشترک ہے جو اس ملک کے تمام خیرخواہوں کو تنقیدواحتساب اور تعمیروترقی کے لیے سرگرم کرتی ہے۔

وزیراعظم جمالی کا استعفا

جس عمل کو ہم نے سیاسی مہم کاری کہا ہے اس کا سب سے اولین اظہار سابق وزیراعظم جناب ظفراللہ خان جمالی کی فارغ خطی اور اس کے اسباب اور طریق کار ہے۔ جمالی صاحب کو ایوان نے اپنا باقاعدہ قائد منتخب کیا تھا اور وہ کابینی حکومت(cabinet government )کے سربراہ تھے۔ اگر ان کی پالیسیوں پر عدمِ اعتماد تھا تو پارٹی اور پارلیمنٹ کو ان پر بحث کرنی چاہیے تھی‘ ان کا احتساب کیا جانا چاہیے تھا اور کھلے انداز میں معروف پارلیمانی ضابطوں کے مطابق ان کو ہٹایا جا سکتا تھا‘ مگر ایسا نہیں ہوا۔ صدرصاحب اپنے پارلیمانی چیمبر میں فوجی وردی میں  پہلی بار تشریف لائے اور سرکاری پارٹی کے ارکان سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں ارکان اسمبلی نے ان کے سامنے شکایات کا دفتر کھول دیا ہے۔ جنرل صاحب نے کابینہ اور اسمبلی کی کارکردگی کے بارے میں اپنے تحفظات اور تنقیدات کا کھلا اظہار کیا۔ چند وزیروں کے بدعنوان ہونے کا ذکر بھی فرمایا۔ محلاتی سازشوں کے اس پس منظر میں خود جمالی صاحب کئی دن تک وزارتِ عظمیٰ سے فارغ کیے جانے کی افواہوں کی تردید کرتے رہے مگر دوسرے ہی دن اچانک اپنے استعفے کا اعلان کر دیا بلکہ متبادل وزیراعظم کی نامزدگی بھی کردی۔ اس پورے عرصے میں صدر پرویز مشرف اور چودھری شجاعت حسین بھی ان پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے رہے۔ البتہ سیاسی حلقوں میں یہ چہ مے گوئیاں ہوتی رہیں کہ وردی کے مسئلے پر صدرصاحب کی فرمایش کے مطابق دوٹوک بات نہ کہنے‘ عراق فوج بھیجنے کے معاملے میں عوامی جذبات کے احترام کا عندیہ دینے‘ حدود قوانین اور ناموس رسالتؐ کے قانون میں تبدیلی کے بارے میں تحفظات کے اظہار اور خود قومی سلامتی کونسل کے سلسلے میں کچھ دبے دبے احساسات کی بنا پر وہ صدر صاحب کا اعتماد کھو چکے ہیں اور ’باس‘ کی ناراضی مول لے چکے ہیں جس کی قیمت انھیں ادا کرنی پڑی۔

جمالی صاحب کو جس طرح اور جس عجلت میں فارغ کیا گیا‘ اس نے تمام پارلیمانی طور طریقوں‘ ضابطوں اور روایات کو پامال کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کو ۱۸ ماہ وزیراعظم رکھنے کے بعد دو ماہ کے لیے بھی گوارا کرنا قبول نہیں کیا گیا اور ایک عبوری وزیراعظم لاکر ایک ایسے اپنے قابلِ اعتماد شخص کو وزیراعظم نامزد کیا جو خواہ کتنا ہی اچھا ٹیکنوکریٹ کیوں نہ ہو لیکن جس کی کوئی سیاسی بنیاد(base) نہ تھی‘ کوئی حلقہ انتخاب نہ تھا‘ پارٹی کے نظام میں اس کا کوئی مقام نہیں تھا‘ کوئی سیاسی تجربہ نہیں تھا‘ اسے نامزد وزیراعظم کا مقام دے کر اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے لیے دوحلقوں سے انتخاب لڑایا اور ایک کھلے کھلے انتخابی تماشے کے ذریعے منتخب بھی کرایا گیا۔ اٹک میں جو ہوا سو ہوا‘ مگر مٹھی‘ (تھرپارکر) میں تو ایسا انتخاب ہوا کہ اس علاقے کے جو روایتی لیڈر تھے ان سے بھی دوگنے اور تین گنے ووٹ کسی طلسماتی عمل کے ذریعے ہونے والے وزیراعظم کو حاصل ہوگئے۔ اس سلسلے میں پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے نمایندوں کی رپورٹ چشم کشا ہے جو ملک کے انتخابی عمل کے افلاس اور الیکشن کمیشن کی جانب داری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انتخابی عمل کو اس طرح پامال کیا گیا کہ اس پر لوگوں کا اعتماد جو پہلے ہی متزلزل تھا‘ پارہ پارہ ہوگیا ہے اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کا جو برا بھلا عمل شروع ہوا تھا‘ اسے بڑا دھچکا لگا ہے۔

جمالی صاحب کی فارغ خطی کے اسباب آخر ایک نہ ایک دن تو کھل کر سامنے آئیں گے ہی‘ تاہم ان کے بیانات میں بین السطور کچھ چیزیں نمودار ہونے لگی ہیں۔ لیکن جس بھونڈے اور غیرپالیمانی انداز میں یہ سارا کام ہوا‘ اس نے جمہوریت کے فروغ اور ارتقا پر بڑے منفی اثرات ڈالے ہیں۔ یہ اقدام ملک کو بہت پیچھے لے گیا ہے۔

چودھری شجاعت حسین نے عبوری وزیراعظم کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بحیثیت مجموعی وقار کے ساتھ انجام دیں لیکن ان جیسے جہاںدیدہ اور بااثر سیاست دان کا اس پورے عمل کو آگے بڑھانے میں ایسا نمایاں کردار اور ایک انتخابی ڈھونگ کے ذریعے نئی قیادت کو آگے لانے میں ان کا حصہ‘ کسی صورت میں بھی ان کی نیک نامی کا باعث نہیں ہوا بلکہ ان کی شخصیت کو داغ دار کرنے کا ذریعہ بنا۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کے اقتدار کے دو مہینوں میں اس سلسلے میں جو کچھ ہوا وہ جمہوریت کے چہرے کو بگاڑنے‘ دستور کے تقاضوں کو پامال اور سول نظام اور پارلیمانی اداروں کے استحکام کو مجروح کرنے کا باعث ہوا ہے‘ اور اس میں ان کے ذاتی رکھ رکھائو کے باوجود نتائج کے اعتبار سے ہر بے لاگ مبصر اور تجزیہ نگار کی نگاہ میں ان کا رول منفی اور تکلیف دہ رہا ہے۔

پارلیمانی نظام پر ضرب

دوسرا بنیادی مسئلہ پارلیمانی نظام کے دروبست کی کمزوری بلکہ اس کے نظامِ کار کا درہم برہم ہوجانا ہے۔ یہ محض نظری یا ظاہری ہیئت کا مسئلہ نہیں۔ پارلیمانی نظام میں اقتدار کا سرچشمہ پارلیمنٹ ہوتی ہے جو عوام کی منتخب کردہ اور ان کے سامنے جواب دہ ہے۔ پارلیمانی نظام کا مرکزومحور وزیراعظم بحیثیت ایوان کے قائد اور ان کی کابینہ ہے جو ایوان کے سامنے انفرادی اور اجتماعی طور پر جواب دہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمانی جمہوریت میں پارٹی نظام کے مؤثر ہونے کے باوجود پارٹی کے صدر کے مقابلے میں پارلیمانی لیڈر کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ صرف انگلستان کے ویسٹ منسٹر (westminister) ماڈل ہی کا خاصہ نہیں۔ دنیا میں جہاں بھی پارلیمانی نظام ہے وہاں وزیراعظم چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے اور کابینہ اس کی قیادت میں کام کرتی ہے۔ اگر وزیراعظم کی مرکزی حیثیت نہ ہو اور قوت کا مرکز پارلیمنٹ اور ان کا لیڈر نہیں کوئی اور ہو تو ایسے میں پارلیمانی نظام کام نہیں کرسکتا۔ بھارت میں یہ مسئلہ آزادی کے فوراً بعد رونما ہوا اور اچاریہ کرپلانی جو کانگرس کے صدر تھے اور پنڈت جواہر لعل نہرو جو پارلیمنٹ کے لیڈر اور وزراعظم تھے کے درمیان رونما ہوا‘ اور پارلیمانی نظام کے اصول و روایات کے مطابق وزیراعظم کو مرکزی حیثیت دی گئی جو وہاں پارلیمانی جمہوریت کے استحکام کا ذریعہ بنی۔ بھارت کے سیاسی تجزیہ نگار اور تامل ناڈو کے سابق گورنر ڈاکٹر جی سی الیگزنڈر لکھتے ہیں:

وزیراعظم کے اختیارات کو کم کرنے سے روکنے کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ اس کی پارٹی کے تمام ممبر اور حامی اور اتحادی پارٹیاں پارلیمانی طرزِ جمہوریت کے بنیادی اصول یعنی ’’وزیراعظم کی نظام میں بالادستی‘‘ کو ہمہ وقت اور کسی تحفظ کے بغیر قبول کریں۔ (’’پارٹی اور پی ایم ‘‘ دی ایشین افیر‘ لندن‘ ۱۶ ستمبر۲۰۰۴ئ‘ ص ۱۴)

پاکستان میں گذشتہ چند مہینوں میں جو کچھ ہوا ہے اس کا سب سے بڑا نقصان ملک کے پارلیمانی نظام کو ہوا ہے۔ وزیراعظم کی مرکزی حیثیت ختم ہوگئی ہے۔ قوت کا مرکز پارلیمنٹ‘ پارلیمانی پارٹی اور وزیراعظم اور کابینہ سے ہٹ کر صدر اور چیف آف اسٹاف کا عہدہ اور شخصیت بن گیا ہے۔ ایک غیر سیاسی شخص کو‘ خواہ وہ اپنے میدان میں کتنا ہی لائق کیوں نہ ہو‘ بطور وزیراعظم بنیادی طور پر صدر کی خواہش اور اشارے پر لانا اور اس اہم منصب پر فائز کر دینا ایک طرح سے پارلیمنٹ‘ پارلیمانی نظام اور خود وزارت عظمیٰ کے عہدے کی تنزلی (demotion) ہے۔ اب پالیسی سازی اور قوت کا سرچشمہ صدر‘ چیف آف اسٹاف ہے جو پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ نہیں اور نہ وہ پارلیمنٹ کی بحثوں میں شریک ہوکر پالیسی سازی اور قانون سازی میں کوئی مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ وزیراعظم محض ایک ملازم نہیں‘ اصل چیف ایگزیکٹوہے۔ اب صاف نظر آرہا ہے کہ جنرل مشرف ایک بار پھر کھلے کھلے چیف ایگزیکٹو بن گئے ہیں‘ تمام پالیسی فیصلے وہی کر رہے ہیں اور وہی ان کا اعلان بھی کر رہے ہیں‘ جب کہ وزیراعظم برملا اعلان کر رہے ہیں کہ وہ جنرل صاحب کی پالیسی کو لے کر چل رہے ہیں۔ اس طرح پارلیمانی نظام کے دستوری ڈھانچے پر صدارتی نظام مسلط (superimpose)کر دیا گیا ہے جس نے دستور کے ڈھانچے کا تیاپانچا کر دیا ہے اور دستور اور قانون کی حکمرانی عملاً ختم ہوگئی ہے۔ اس میں جو بھی‘ جس درجے میں بھی‘ جن وجوہ کی بنا پر بھی شریک ہوا ہے‘ وہ اس بگاڑ کا ذمہ دارہے۔ پوری قوم اس کے تلخ نتائج کو بھگت رہی ہے اور مزید بھگتے گی۔

داغ داغ جمہوریت

تیسرا پہلو صدر‘ وزیراعظم‘ کابینہ اور پارلیمنٹ کے باہمی تعلق اور رول کا ہے۔ جناب شوکت عزیز صاحب جس طرح وزیراعظم بنے ہیں وہ معروف سیاسی عمل کے حلیہ بگاڑنے کے مترادف ہے۔ کیا پوری قومی اسمبلی میں ایک شخص بھی اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لائق نہیں تھا کہ باہر سے ایک فرد کو لانا پڑا۔ پھر انتخاب میں جو کچھ ہوا وہ جمہوریت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ اپوزیشن کے نمایندے کو پارلیمنٹ میں آنے اور انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں دیا گیا۔ ایک طرف ایک شخص کو قائدایوان کے انتخاب کے لیے اہل قرار دیا جاتا ہے اور دوسری طرف اسے اجلاس میں شرکت کے لیے نہیں بلایا جاتا۔ شوکت عزیز صاحب نے کہا ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ جاوید ہاشمی صاحب کو شرکت کا موقع دیا جائے۔ پھر کس چیز نے اسپیکرکو روک دیا؟ محض ایک تقریر کا خوف؟ کیا یہی شفاف جمہوریت ہے؟

انتخاب کے بعد شوکت عزیز صاحب نے یہ عندیہ دیا کہ ان کی کابینہ صرف میرٹ کی بنیاد پر بنائی جائے گی اور اہل ترین افراد اس میں ہوں گے۔ لیکن جمالی صاحب کی کابینہ کے سارے ارکان ان کی کابینہ کی زینت بھی بن گئے اور صدر صاحب کا کابینہ کی کارکردگی پر اظہار خیال اور چند افراد کی کرپشن کی بات‘ سب پادرہوا ہوگئی۔ پھر سیاسی جوڑ توڑ اور مختلف گروپوں کے ساتھ ملانے کا عمل شروع ہوا اور ناراض عناصر کو راضی کرنے کے کرشمے سب کے سامنے آگئے۔ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ بنی ہے اور اگر کہیں محکموں کی تبدیلی ہوئی ہے تو وہ بھی براے نام۔ پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے ایک رکن پر الزامات اور ان کے جوابی الزامات اخبارات کی زینت بن چکے ہیں ان کا صرف محکمہ تبدیل کر دیا گیا اور ایک دوسرے صاحب کو وہ محکمہ دے دیا گیا‘ اور لطف کی بات یہ ہے کہ دونوں ہی بزرگ نیب کے مطلوبہ افراد میں سے ہیں اور وزارت بھی ان کو داخلہ کی دی گئی ہے۔ یہ بھی سوالیہ نشان ہے کہ جمالی صاحب جو اب وزیراعظم نہیں رہے اور دو وزرا کا جن کے محکموں کو تبدیل کیا گیا ہے تعلق بلوچستان سے ہے۔ کابینہ کی تشکیل اور بندربانٹ نے میرٹ کے وعدے کی دھجیاں بکھیردی ہیں۔

مبصرین کے اس خدشے کو یہاں نوٹ کیا جانا بے محل نہیں کہ کابینہ کے بنانے میں وزیراعظم اور ان کے اعلان کردہ اصولوں کا رول نہ ہونے کے برابر ہے‘ اور کابینہ ان کو ایک طرح سے ورثے میں ملی ہے اور اضافے کسی اور کے اشارے پر ہوئے ہیں‘ حتیٰ کہ لندن والوں سے رابطے کے لیے صدر کے نمایندہ خاص نے ہی جاکر معاملات طے کیے ہیں۔ اس سب کا حاصل یہ ہے کہ کابینہ جس طرح بنی ہے وہ خود پارلیمانی نظام کے اصول و ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتا اور خطرہ ہے کہ یہ پارلیمانی نظام کے صحت مند ارتقا پر ایک ضرب کاری ثابت ہوگی۔

وزیراعظم کی گرفت کابینہ پر ڈھیلی ہوگی۔ وفاداری کامرکز کہیں اور ہوگا اور اس طرح اتنی بڑی کابینہ ایک مربوط اور ہم آہنگ ٹیم کی طرح کام نہیں کر سکے گی۔ وزیراعظم پر ایک طرف اوپر والوں کا دبائو ہوگا اور دوسری طرف سے پارٹی کے بااثر گروہوں‘ افراد اور ان کے مطالبات کا۔ ہدایت اور رہنمائی کا منبع کہیں اور ہوگا اور پارلیمنٹ ملک کو اچھی حکمرانی فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ خارجہ پالیسی ہو یا داخلہ پالیسی‘ سب اس انتشار اور رسہ کشی کا شکار ہوں گے۔ خدا کرے یہ خدشات غلط ثابت ہوں لیکن جس طرح معاملات رونما ہو رہے ہیں ان سے صاف نظرآ رہا ہے کہ حکمرانی کا نظام یک مرکزیت سے محروم اور دوہری عمل داری (diarchy) بلکہ ایک نئی قسم کی سہ نکاتی تشکیل (troika) کی طرف جا رہا ہے جسے کسی پہلو سے بھی اچھا شگون قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ٹیکنوکریٹ وزیراعظم کے لیے بھی بیک وقت کئی خدائوں کی بندگی کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکال سکتی۔

نیا سیاسی کلچر

چوتھا پہلو نئے سیاسی کلچر کا ہے جو بالکل نیا تو نہیں لیکن وہ ان خرابیوں کو مستحکم اور دائمی کرتا جا رہا ہے جو ماضی میں بگاڑ اور تباہی کا سبب رہی ہیں اور جن کی موجودگی میں صحت مند جمہوری نظام اور انصاف‘ حق اور میرٹ پر مبنی اور کرپشن سے پاک اجتماعی زندگی کا وجود ناممکن ہے۔ جنرل پرویز مشرف صاحب نے تو تبدیلی کے اس عمل پر نہ صرف اطمینان کا اظہار کیا ہے بلکہ اسے مثبت قرار دیا ہے۔ ان کا ارشاد ہے: ’’میں ملک میں ایک اچھی تبدیلی دیکھ رہا ہوں اور ایک نئے سیاسی کلچر کا آغاز ہو رہا ہے‘‘۔

یہ نیا سیاسی کلچر کیا ہے؟ وہی جاگیردار طبقے کی بالادستی‘ وفاداریوں کی چشم زدن میں تبدیلی کا وہی کھیل جو پاکستان کی تاریخ میں مسلسل کھیلا جاتا رہا ہے: وزیراعظم ناظم الدین (جو مسلم لیگ کے صدر بھی تھے) کے ارکان پارلیمنٹ کا ان کے اپنے کیمپ سے نکل کر غلام محمد اور محمدعلی بوگرہ سے جا ملنا‘ ری پبلکن پارٹی کے پرچم تلے مسلم لیگیوں کے غول کے غول کا ڈاکٹر خان اورگورمانی کی طرف منتقل ہو جانا‘ کونسل اور کنونشن لیگ کے ڈرامے--- جو افراد آج شوکت عزیز صاحب کے دست راست ہیں اور جنرل پرویز مشرف کی وردی کے گن گارہے ہیں‘ کل وہی جنرل ایوب کی قصیدہ خوانی کر رہے تھے‘ جنرل یحییٰ کے ہاتھ مضبوط کر رہے تھے‘ جنرل ضیاء الحق کی کرسی مضبوط کر رہے تھے‘ نواز شریف صاحب پر جان چھڑک رہے تھے‘ بے نظیر کی وفاداریوں کے حلف اٹھا رہے تھے‘ ظفراللہ جمالی کے آگے پیچھے پھر رہے تھے۔ ان کے لیے سیاسی قبلہ بدلنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ خوشامد اور چاپلوسی ان کی فطرت اور چڑھتے سورج کی پوجا ان کا مستقل دین ہے۔ وزارتیں اور مفادات ان کا اصل مطلوب و مقصود ہیں۔ ان کی ’’جمہوریت پسندی‘‘ ان کو فوجی قیادت کو اقتدار کی دعوت دینے اور دستور اور قانون کو بالاے طاق رکھنے سے باز نہیں رکھتی‘ اور یہ صدارت اور فوج کی سربراہی کو رشتہ ازدواج میں منسلک کرنے میں نہ صرف یہ کہ کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے بلکہ اس میں ان کو اپنا اور جمہوریت کا مفاد نظرآنے لگتا ہے۔ ہوا کے رخ کے ساتھ بدلنا ان کی نگاہ میں ترقی کی علامت ہے۔ ملک اور اس کے اداروں پر چاہے کچھ بھی گزرے!

جنرل پرویز مشرف اصول پرستی اور سیاست میں گندگی سے نجات کے دعوے کے ساتھ برسرِاقتدار آئے تھے مگر وہ ایک ایک کر کے ہر وہ کام کر رہے ہیں جو بدنامِ زمانہ سیاست دان اور اقتدار کے بھوکے بیوروکریٹس اور جرنیل کرتے رہے ہیں۔ حلف کی خلاف ورزی‘وعدوں کونظرانداز کرنا‘ اپنی ذات کو ریاست کے مترادف بنالینا‘ پارٹیاں چھوڑنے والوں کو سینے سے لگانا‘ وزارتوں کے لیے بلیک میل ہونا اور ہر طالع آزما کو ایک ٹکڑا دے کر اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے میں کوئی باک محسوس نہ کرنا--- کیا یہی وہ مثبت تبدیلی ہے جس کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے اور اسی کا نام نیا سیاسی کلچر ہے؟ پاکستان بلاشبہہ بہت سے بیرونی خطرات سے دوچار ہے‘ لیکن اس کی سلامتی اور ترقی کو سب سے بڑا خطرہ گھر کے ان ہی لوگوں سے ہے۔ مفاد اور قوت کی پرستش کا یہی وہ کلچر ہے جس نے جمہوریت کو پراگندا کردیا ہے‘ معاشرہ فساد کا شکار ہے‘ عوام مصائب میں مبتلا ہیں اوراصحاب اقتدار دادعیش دے رہے ہیں۔ ایسے دوستوں کی موجودگی میں دشمنوں سے کیا خطرہ۔ حالیہ تبدیلی نے اس کلچر کے چہرے سے ہر پردہ اٹھا دیا ہے اور اس ڈرامے کے تمام کردار بے نقاب ہوگئے ہیں۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جب ایک قوم اس راستے پر چل پڑتی ہے تو پھر اسے تباہی سے اگر کوئی چیز بچاسکتی ہے تو وہ ایسا انقلاب ہے جو پورے نظام کو زیروزبر کر دیتا ہے--- کاش اس سے پہلے قوم کی آنکھیں کھل جائیں اور گاڑی کو پٹڑی پر لے آیا جائے۔

فوج کا سیاسی کردار

موجودہ سیاسی منظر اور پس منظر کا سب سے اہم اور سب سے تشویش ناک پہلو ملک کے سیاسی نظام میں فوج کے سیاسی کردار کا ہے اور ان دو مہینوں کی اکھاڑ پچھاڑ کا ایک مرکزی پہلو اسی مسئلے سے متعلق ہے۔ اندر اندر جو کھچڑی پکتی رہی ہے اس کا اصل ہدف فوج کی قیادت کو ایک دستوری اور سیاسی کردار عطا کرنا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کی تاریخ کوئی اچھی تصویرپیش نہیں کرتی۔ اصولی طور پر فوج کا کام ملک کا دفاع ہے اور فوج کو مکمل طور پر سیاسی قیادت کے تابع ہونا چاہیے۔ یہ جمہوریت کی اصل روح ہے اور کیسی ہی ملمع سازی کی جائے‘ فوج کو دفاع سے ہٹا کر کوئی سیاسی کردار دینا اصولی اور عملی ہر دو پہلوئوں سے ناقابلِ تصور اور عملی اعتبار سے ملک کی سیاست اور دفاع دونوں کے لیے تباہ کن ہے۔

قائداعظمؒ نے ۱۴ جون ۱۹۴۸ء کو کوئٹہ اسٹاف کالج کے فوجی افسروں سے خطاب کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ فوج سول نظام کے تابع اور اس کے احکام اور ہدایات کی پابند ہے اور یہی خود ان کے اس حلف کا تقاضا ہے جو وہ فوج میں شمولیت کے وقت اٹھاتے ہیں۔ دستورِ پاکستان میں یہی بات اعلیٰ ترین قانون کی حیثیت سے رقم کر دی گئی ہے۔ دستور کی دفعات۲۴۴ اور ۲۴۵ بالکل واضح ہیں۔ دفعہ ۲۴۵ کہتی ہے:

مسلح افواج‘ وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت‘ بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کے خلاف پاکستان کا دفاع کریں گی اور قانون کے تابع شہری حکام کی امداد میں‘ جب ایسا کرنے کے لیے طلب کی جائیں‘ کام کریں گی۔

اور دفعہ ۲۴۴ کے تحت حلف ان کے کردار اور ان حدود کی وضاحت کر دیتا ہے جن میں رہ کر انھیں اپنے فرائض انجام دینے ہیں:

میں ……… صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوصِ نیت سے پاکستان کا حامی اوروفادار رہوں گا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی حمایت کروں گا جو عوام کی خواہشات کا مظہر ہے‘ اور یہ کہ میں اپنے آپ کو کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں مشغول نہیں کروں گا‘ اور یہ کہ میں مقتضیات قانون کے مطابق اور اس کے تحت پاکستان کی بّری فوج (یا بحری یا فضائی فوج) میں پاکستان کی خدمت ایمان داری اور وفاداری کے ساتھ انجام دوں گا۔

اللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے ‘ آمین!

ہماری عدالتوں نے اس حقیقت کو نظرانداز کر کے ’’نظریۂ ضرورت‘‘ کے تحت فوج کی بار بار سیاسی مداخلت کو جو جواز فراہم کیا ہے اس نے سیاسی نظام کا حلیہ بگاڑ دیا ہے‘ اور ہر طالع آزما کو سیاسی نظام کی بساط لپیٹنے اور ’’قومی مفاد‘‘ کے نام پر فوجی اقتدار قائم کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ سیاسی قیادتوں اور خود عوام نے بھی اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کیا اور آج عالم یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف صاحب ایک نیا فلسفہ وضع فرما رہے ہیں کہ گویا فوج کو سیاست میں مداخلت کا ایک دائمی اختیار حاصل ہے۔ قائداعظم کے اس ارشاد کی ضد میں اور بالکل ان کے مدمقابل آتے ہوئے کوئٹہ ہی میں فوج کے گیریزن کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:

ہمیں اپنے ملک کا محض دفاع ہی نہیں کرنا ہے بلکہ ایک نئے وژن کے ساتھ اسے ترقی بھی دینا ہے‘ اور کوئی دوسرا ہمارے لیے اس کو نہیں کرے گا۔

جنرل صاحب کے قومی سلامتی کونسل کے تصور اور دستور کی سترھویں ترمیم کے موقع پر ان کے‘ سرکاری جماعت کی پوری قیادت کے‘ بلکہ ساری پارلیمنٹ کے عہدوپیمان کے باوجود ۳۱دسمبر ۲۰۰۴ء کے بعد بھی چیف آف اسٹاف کے عہدے سے چمٹے رہنے کے عزائم کے اظہار کی اصل حقیقت کو فوج کے اس تبدیل شدہ سیاسی کردار کے پس منظر میں ٹھیک ٹھیک سمجھا جا سکتا ہے۔ مسئلہ بالکل کھل کر سامنے آگیا ہے اور اب اسے ہمیشہ کے لیے طے ہوجانا چاہیے۔ یا فوج ایک دفاعی قوت ہوگی اور اس شکل میں اسے سیاسی قیادت کے تابع ہونا ہوگا اور سیاسی نظام کے بنانے اور چلانے میں اس کا کوئی کردار نہیں ہوسکتا۔ اور اگر فوجی قیادت کا سیاسی نظام کو بنانے اور چلانے میں کوئی کردار ہوگا تو پھر فوج ایک سیاسی پارٹی اور قوت بن جاتی ہے اور وہ پورے ملک اور پوری قوم کی امیدوں کا مرکز اور تائید کا محور نہیں رہ سکتی۔ پھر اس پر بھی اسی طرح تنقید ہوگی جس طرح تمام سیاسی قوتوں پر ہوتی ہے۔ پھر وہ بھی ایک پارٹی اور ایک گروہ کی نمایندہ بن جاتی ہے‘ پھر وہ بھی حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف میں سے ایک کی حلیف بنتی ہے‘ پھر وہ بھی سیاسی طورپر متنازع بن جاتی ہے۔ پھر وہ بھی مفادات کی جنگ میں ایک مخصوص حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔ ایسی فوج کبھی بھی پوری قوم کی تائید کی دعوے دار نہیں ہوسکتی۔ ایسی فوج کی دفاعی صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اس میں بھی اسی طرح پارٹی بازی کا دروازہ کھل جاتا ہے اور جنبہ داری کا مرض لگ جاتا ہے۔ ایسی فوج کی پیشہ ورانہ حیثیت بری طرح متاثر ہوتی ہے اور فوج کو جس ذہنی افتاد ‘جس ڈسپلن اور جس غیر جانب داری کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس سے محروم ہوجاتی ہے۔

سب سے بڑھ کر دستوری حکومت اور خصوصیت سے جمہوری نظام میں فوج کے ایسے کردار کا تصور ممکن نہیں۔ آج ترکی کے یورپی یونین میں داخلے کے سلسلے میں جو سب سے اہم بحث ہو رہی ہے ان کا تعلق فوج کے سیاسی کردار ہی سے ہے اور اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ فوج کو غیر سیاسی کیے بغیر ترکی کے جمہوری کردار کو دنیا تسلیم نہیں کرسکتی۔ ہمارا بھی یہی مسئلہ ہے کہ فوج کی قیادت ایک سیاسی کردار بن گئی ہے اور جب تک اس باب کو واضح طور پر بند نہیں کیا جاتا‘ ملک میں سیاسی استحکام محال ہے اور ایک جمہوری ملک کی حیثیت سے نہ ملک کے عوام اس پر مطمئن ہوں گے اور نہ دنیا اسے قبول کرے گی۔

اگر ہم اپنی ۵۷ سالہ تاریخ کا جائزہ لیں تو اس میں ۲۳وزیراعظم آئے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کا اوسط اقتدار اڑھائی سال رہا ہے بلکہ صحیح تر الفاظ میں اگر فوجی اقتدار کے زمانے کو نکال دیا جائے تو یہ اوسط کم ہوکر سوا سال ہی رہ جاتا ہے۔اس کے برعکس فوج کے چیف آف اسٹاف کی صدارت کا زمانہ ۳۰ سال ہے جس میں ۴ فوجی سربراہ صدر رہے ہیں۔ گویا ان کا اوسط اقتدار ساڑھے سات سال تھا۔ ان ۵۷ برسوں میں فوج کے ۱۱چیف آف اسٹاف رہے ہیں اور ان کی چیف آف اسٹاف ہونے کی اوسط مدت قواعد کے مطابق تین سال کے بجاے ۵سال سے زیادہ آتی ہے۔ فوجی قیادت ملک کو نہ سیاسی استحکام دے سکی‘ نہ معاشی ترقی میں کوئی غیرمعمولی کارنامہ انجام دیا اور دفاعی اعتبار سے بھی ۱۹۶۵ء کے معرکے کے بعد فوج اعلیٰ دفاعی صلاحیت کا ثبوت نہیں دے سکی۔ فوج کو ایک مؤثر دفاعی قوت بنانے کا ایک ہی راستہ ہے اور یہ کہ وہ خالص پروفیشنل فوج ہو‘ اس کی ہر جائز ضرورت پوری ہو‘ لیکن سیاست میں اس کی دخل اندازی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں عوام‘ پارلیمنٹ‘ سیاسی جماعتیں اور عدالت ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور خود فوج کی قیادت کو بھی یکسو ہونا پڑے گا کہ وہ بیک وقت دوکشتیوں میں سفرنہیں کر سکتی۔

سترھویں ترمیم اور وردی

ان حالات میں سترھویں ترمیم کے ذریعے یہ طے کیا گیا کہ دستوری انحراف کا یہ دروازہ ۳۱دسمبر ۲۰۰۴ء کو بند ہوجانا چاہیے اور اس کے بعد فوج اور اس کا سربراہ صرف دفاعی ضرورتوں تک اپنی صلاحیتوں کو وقف رکھے گا اور سیاسی قیادت سیاسی طریقے سے عوام کے نمایندوں اور پارلیمنٹ اور دستور کے تحت اپنا کردار ادا کرے گی۔ اس عہد سے نکلنے کی جوکوشش کی جا رہی ہے وہ قانونی‘ سیاسی اور اخلاقی‘ ہر اعتبار سے مجرمانہ اقدام ہے جسے کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے ماضی سے کوئی سبق نہ سیکھا تو اس ملک میں جمہوریت‘ قانون کی بالادستی اور عوام کے حق حکمرانی کا مستقبل مخدوش ہے اور ملک کا دفاع بھی بری طرح متاثر ہوگا۔

اس سلسلے میں بظاہر جو دلائل دیے جا رہے ہیں وہ نہایت بودے بلکہ لچر ہیں۔ بنیادی طور پر تین باتیں کہی گئی ہیں جن کا تجزیہ ضروری ہے۔

m دستور کے تحت دونوں عُہدوں کا ساتھ :پہلی بات دستور کے حوالے سے کہی جارہی ہے کہ دونوں عہدے ساتھ ساتھ رکھے جاسکتے ہیں۔ اس سے زیادہ لغو دعویٰ مشکل ہی سے کیا جاسکتا ہے۔ بلاشبہہ ہمارا دستور باربار فوجی قیادتوں کی چیرہ دستیوں کا نشانہ بنا ہے اور اس سے اسے بری طرح نقصان ہوا ہے لیکن ہر دستور کا ایک ڈھانچا (structure) ہوتا ہے اور اس ڈھانچے میں فوج کے سیاسی کردار کی کوئی گنجایش نہیں۔ اسی لیے جنرل ضیاء الحق نے اور پھر جنرل پرویز مشرف نے اپنے اپنے دور میں اپنے لیے دستور میں خصوصی جگہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جو عارضی تھی اور اس کی حیثیت دستور سے انحراف کی تھی جسے بہ حالت مجبوری وقتی طور پر اور ایک متعین مدت کے لیے گوارا کیا گیا جس کے بعد اسے لازماً ختم ہوجانا تھا۔ سترھویں ترمیم میں آرٹیکل ۴۱ کے تحت ترمیم کا جواز ہی یہ تھا کہ چیف آف اسٹاف کے عہدے کو صدارت کے ساتھ جمع کرنے کو ایک تاریخ کا پابند کر دیا جائے۔ اسے دستور کی اصطلاح میں Musharruf-specific بھی کہا جاسکتا ہے اور عمومی طور پر ہر چیف آف اسٹاف پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔

اگر یہ مقصد نہیں تھا تو پھر اس ترمیم کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اب جو قانونی موشگافیاں کی جارہی ہیں وہ بدنیتی اور عہدفراموشی پر مبنی ہیں اور اس کے سوا ان کو کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔ دفعہ d(۱)۶۳میں سروس آف پاکستان کا تصور واضح ہے اور دفعہ ۲۶۰ میں مزید وضاحت موجود ہے کہ فوجی سروس اس میں شامل ہے۔ اس سے ہٹ کر اس کی کوئی تعبیر دستوری تعبیر کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ notwithstanding کا اطلاق پوری دفعہ ۴۱ پر ہوتا ہے۔ اس کے صرف کسی ایک حصے تک اس کو محدود نہیں رکھاجاسکتا اور قانون کے ذریعے ترمیم کے معنی یہ ہیں کہ چیف آف اسٹاف کا تعلق ’’آرمڈ سروسز‘‘ سے نہیں رہے گا‘ نیز یہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں ہوسکتا بلکہ اس عہدے کو سروس سے باہرکرنا پڑے گا۔ لیکن کیا اس کا تصور ممکن ہے کہ چیف آف اسٹاف ’’فوجی سروس‘‘ کا حصہ نہ رہے اور پھر چیف آف اسٹاف بھی ہو--- یہ ایک مضحکہ خیز اور سیاسی نظام اور فوجی انتظام دونوں کو تہ و بالا کرنے والا تصور ہی ہو سکتا ہے۔ دستور و قانون میں اس کی کوئی گنجایش نہیں۔

m ایم ایم اے سے معاہدہ: دوسری دلیل سیاسی ہے کہ ایم ایم اے سے جو معاہدہ کیا گیا تھا وہ مؤثر نہیں رہا۔ ان کے بقول ایم ایم اے نے اس کی پابندی نہیں کی‘ اس لیے صدر صاحب بھی اس کی خلاف ورزی کرسکتے ہیں۔ یہ دعویٰ بھی غلط اور بددیانتی پر مبنی ہے۔ صدر صاحب اور ایم ایم اے میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ معاہدہ حکمران پارٹی اور ایم ایم اے میں ہوا جس کے نتیجے میں دستور میں ترمیم ہوئی اور وہ ایک دستوری تقاضا بن گیا جس کو کھلے طور پر صدر صاحب نے قبول کیا اور قوم سے عہد کیا کہ وہ اس کا احترام کریں گے۔ اب اصل معاملہ دستور کی اطاعت کا ہے‘ کسی خاص معاہدے کا نہیں۔

رہا ایم ایم اے کا معاملہ تو اس نے معاہدے کی مکمل پابندی کی ہے اور آج بھی اس پر قائم ہے۔ اس نے معاہدے کے تحت سترھویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا اور صدر‘ وزیراعظم اور حکمران پارٹی نے اس کا برملا اعتراف کیا۔ اس معاہدے کے تحت ایم ایم اے صدر کو اعتماد کا ووٹ دینے کی پابند نہیں تھی بلکہ معاہدے میں صاف لفظوں میں لکھا ہوا تھا کہ:

طے پایا کہ صدرمملکت کی پانچ سالہ جاری ٹرم کے تسلسل اور ان کے اس عہدے پر فائز رہنے کے لیے آئینی ترمیم کی حمایت کی جائے گی۔ مزیدبرآں سینیٹ‘ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں ایم ایم اے کے ممبران صدر کو اعتماد کا ووٹ دینے کے پابند نہ ہوں گے۔ ایم ایم اے کے ممبران صدر مملکت کے خلاف ووٹ نہیں دیں گے اور نہ کسی مخالفانہ فعالیت کا مظاہرہ کریں گے‘ نیز ووٹنگ کے عمل کے دوران ایم ایم اے کے تمام ممبران پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ایوانوں میں موجود رہیں گے۔

ایم ایم اے نے اس معاہدے کی حرف بہ حرف پابندی کی۔

رہا مسئلہ قومی سلامتی کونسل کا‘ تو ایم ایم اے نے اس دفعہ کو دستور سے خارج کرانے کا ہدف حاصل کیا۔ جہاں تک عام قانون کے تحت ایسے ادارے کے قیام کا تعلق ہے‘ ایم ایم اے نے تعاون کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ البتہ وہ مذاکرات کے لیے تیار تھی لیکن حکومت نے اس قانون سازی میں ایم ایم اے سے کسی بات چیت کی زحمت تک نہ کی۔ پھر بھی ایم ایم اے نے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں متعلقہ قانون میں اپنی ترامیم داخل کرائیں جو اس کے اس عندیہ کی علامت ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی درمیانی راہ نکالنا چاہتی تھی جسے حکومت نے درخوراعتنا نہ سمجھا۔ لہٰذاایم ایم اے کی طرف سے کوئی وعدہ خلافی نہیں ہوئی۔

رہا صدر کا معاملہ تو انھوں نے اپنے ٹی وی خطاب میں قوم سے ہی نہیں‘ پوری دنیا سے بہت واضح الفاظ میں عہد کیا کہ انھوں نے ۳۱ دسمبر ۲۰۰۴ء تک چیف آف اسٹاف کے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ ان کے الفاظ بہت اہم ہیں:

آخری مسئلہ وردی تھا۔ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔ میں نے پاکستان اور بیرونی دنیا میں ہمیشہ یہ کہا کہ صدر کا وردی میں ہونا جمہوریت کا حصہ نہیں ہے۔ یہ غیرجمہوری بات ہے لیکن پاکستان کے حالات کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ میں کہتا رہا ہوں کہ مجھے اس کا احساس ہے کہ یہ جمہوری نہیں ہے اور مجھے کسی مرحلے پر یہ وردی اتارنا ہوگی۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے بہت سے خیرخواہ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں اپنی وردی نہ اتاروں کیونکہ وہ پاکستان کی سلامتی کے لیے فکرمند ہیں‘ میں بھی پاکستان کی سلامتی کے لیے فکرمند ہوں‘ مجھے پاکستان کی ترقی کی بھی فکر ہے۔

میں نے حالات پر گہرا غوروخوض کیا ہے اور ان کا جائزہ لیا ہے۔ میں نے اپنے آپ کو ایک طرف رکھ کر اس کا جائزہ معروضی طور پر لیا ہے‘ میں نے پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی سوچا اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے بھی۔

میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس مسئلے پر صحیح وقت پر فیصلہ کرنا بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ چنانچہ میں نے محسوس کیا کہ فیصلے کا یہی وقت ہے‘ اور اس لمحے فیصلہ کرنا ضروری ہے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں دسمبر۲۰۰۴ء تک اپنی وردی اتار دوں گا اور چیف آف آرمی اسٹاف کے منصب سے دستبردار ہوجائوں گا۔ اس عرصے میں‘ میں خود ہی قطعی تاریخ کا فیصلہ کروں گا۔

آخر میں‘ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے یہ فیصلہ کرنے میں میری رہنمائی کی۔ میں اس موقع پر پاکستانی قوم کو مبارک باد دیتا ہوں اور میں اپنی طرف سے قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میں پاکستان کی ترقی اور خودمختاری پر کوئی آنچ نہ آنے دوں گا۔

اللہ ہم سب کی حفاظت کرے۔

جس طرح چاہیں ان الفاظ کو پڑھ لیں‘ ان کا تجزیہ کرلیں‘ ان کی تعبیرکرلیں‘ بات بالکل واضح ہے کہ:

۱-  بہت سوچ بچار کے بعد فیصلہ کرلیا گیا۔

۲-  یہ طے ہوگیا کہ ایک عہدہ‘ یعنی چیف آف اسٹاف کا عہدہ چھوڑ دیا جائے گا۔

۳- اور یہ کام ۳۱ دسمبر تک ہوجائے گا۔

صرف ایک اختیار باقی تھا اور وہ یہ کہ ۳۱ دسمبر سے پہلے اگر اعلان کرنا چاہیں تو جنرل صاحب کرسکتے ہیں۔ یہ کوئی مشروط فیصلہ نہیں تھا کہ جب چاہیں اسے تبدیل کر دیں۔

عہدوپیمان کے بارے میں صدر صاحب کی ۲۰ نومبر ۲۰۰۲ء کی تقریر کا ایک اقتباس بھی خود ان کو یاد دہانی کے لیے پیش کرنا ضروری ہے جو انھوں نے قرآن پاک کی سورہ بنی اسرائیل اور سورئہ مائدہ کی عہد کی پابندی کے سلسلے میں دو آیات کے حوالے سے ارشاد فرمایا:

حکمرانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ عوام کے اعتماد کا احترام کریں اور اپنے وعدوں کو پورا کریں۔

اگر افراد کو یہ حق دے دیا جائے کہ جب چاہیں اپنے عہدوپیمان سے پھر جائیں تو پھر زندگی کا نظام کیسے چل سکتا ہے اور ایسے قائدین کے قول و فعل پر کون بھروسا کر سکتا ہے۔

  • ترقی اور استحکام کے لیے باوردی صدر: اس سلسلے کی تیسری دلیل اور بھی بودی اور سیاسی اعتبار سے رسوا کن ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ملک کے سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے مضبوط اور طاقت ور صدر کی ضرورت ہے۔ ملک کی صدارت‘ سیاسی نظام ‘ پارلیمنٹ پر اس سے بڑا الزام اور اتہام نہیں ہو سکتا۔

دستور نے صدر کو اختیارات دیے ہیں اور اس کی قوت کا سرچشمہ دستور اور قانون ہے‘ بندوق کی نالی نہیں۔ اگر استحکام کے لیے وردی کی ضرورت ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دستور نے صدر کو جو اختیارات دیے ہیں اور ان میں وافر اضافہ آٹھویں ترمیم اور سترھویں ترمیم کے ذریعے کیا جا چکا ہے‘ وہ کافی نہیں ہیں۔ اس طرح پارلیمنٹ جو اصل خودمختار (sovereign) ادارہ ہے وہ اقتدار کا سرچشمہ نہیں بلکہ اقتدار کا اصل سرچشمہ چیف آف اسٹاف کا عہدہ اور فوج ہے۔ یہ پورے سیاسی نظام اور دستوری انتظام کی نفی کے مترادف ہے۔ پہلے ہی پارلیمنٹ اور وزیراعظم دونوں کی تنزلی اور سبکی ہوچکی ہے اور اختیارات کا خاصا ارتکاز صدر کی ذات میں ہوگیا ہے۔ برا یا بھلا یہ انتظام پھر بھی دیکھنے میں دستوری لگتا ہے۔ لیکن یہ دعویٰ کہ سیاسی اور معاشی استحکام اور ترقی کے لیے صدر کا عہدہ اور اختیارات کافی نہیں اور اس کے لیے چیف آف اسٹاف ہونا ضروری ہے‘ یہ پورے سیاسی انتظام کی نفی کرتا ہے اور خود جنرل صاحب کے پانچ سالہ ’’کارناموں‘‘ پر خط تنسیخ پھیر دیتا ہے۔

سیاست دانوں کا وردی جاری رکھنے کی بات کرنا اور پنجاب کی اسمبلی کی شرمناک قرارداد سیاسی خودکُشی کے مترادف ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص اپنی آزادی کو خود ہی فروخت کر دے اور اپنے کو غلام بنانے پر آمادگی کا اظہار کرے لیکن قانون کی دنیا میں یہی ایک چیز ہے جس کے بارے میں مکمل اتفاق راے ہے کہ کوئی شخص اپنی آزاد مرضی سے بھی خود اپنے کو فروخت نہیں کرسکتا۔


سیاسی اور دفاعی مضمرات کے ساتھ ان حالات کے کچھ بڑے اہم بین الاقوامی اثرات بھی ہیں۔ اگر کسی ملک کی قیادت عہدوپیمان کے بارے میں ایسی غیر ذمہ دارانہ روش اختیار کرسکتی ہے تو اس کے عالمی عہدوپیمان کی کیا حیثیت ہوگی۔ پاکستان نے جمہوریت کے احیا کے سلسلے میں پوری دنیا سے ایک عہد کیا ہے۔دولت مشترکہ میں ہماری واپسی اور یورپی یونین کا پاکستان کو جمہوری ملک تصور کرنا اس شرط سے مشروط تھا کہ صدر چیف آف اسٹاف کا عہدہ چھوڑدیں گے اور دستوری عمل کو مکمل طور پر بروے کار لانے کا موقع دیا جائے گا۔ امریکا کے مفادات جو کچھ بھی ہوں اور ہمیں علم ہے کہ امریکا کی جمہوریت سے دل چسپی کسی دوغلے پن اور مفاد پرستی پر مبنی ہے‘لیکن عالمی برادری میں ہمارا وقار اسی وقت بحال ہو سکتا ہے جب ہم جمہوری سفر کو جاری رکھیں اور اپنے تمام عہدوپیمان پورے کریں ورنہ ہماری اس کمزوری کا اصل فائدہ امریکا کو ہوگا جو پہلے ہی ہمیں بلیک میل کر کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے اور صدر جنرل مشرف کو اپنا حلیف بنا کر پاکستان کو اپنی چاکری پر مجبور کر رہا ہے۔ جنرل صاحب نے بڑے طمطراق سے دعویٰ کیا ہے کہ میں کسی کے دبائو میں نہیں آتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ۱۱/۹ کے بعد جس طرح انھوں نے امریکا کے آگے گھٹنے ٹیکے ہیں اور مسلسل اس کے احکامات کی اطاعت کررہے ہیں‘ اس نے پاکستان کی آزادی‘ خودمختاری اور سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بوب وڈورڈ کی کتاب Bush at War کا مطالعہ کرلیجیے۔ کانڈولیزا رائس کی امریکی کانگرس کے سامنے گواہی کو دیکھ لیجیے‘ صاف کہتی ہے ہم نے جنرل مشرف کے لیے گاجر اور چھڑی (carrot and stick) کی پالیسی اختیار کی۔ گاجر کم اور چھڑی زیادہ۔ بوب وڈورڈ لکھتا ہے کہ جنرل محمود احمد اور جنرل پرویز مشرف دونوں نے بلاچون و چرا امریکا کے ساتوں مطالبات اس طرح تسلیم کرلیے کہ خود جنرل پاول کو تعجب ہوا اور امریکا کی قیادت اس پسپائی اور سپردگی پر حیرت زدہ ہوگئی۔

Bush at Warکے صفحہ ۴۷ پر آرمٹیج کی جنرل محمود سے گفتگو بلکہ ڈانٹ ڈپٹ کا مطالعہ کرلیجیے جس سے ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ پھر صفحات ۵۸-۵۹کے مطالبات اور ان پرآمنا وصدَّقنا کی داستان پڑھ لیجیے اور خود امریکی قیادت کے تعجب کا حال پڑھ کر پسینہ پسینہ ہوجایئے۔ بہادری کے سارے دعوے اپنے کمزور عوام ہی کے مقابلے میں ہیں۔ کیا پاکستان‘ ایران‘شمالی کوریا اور لبنان سے بھی کمزور ہے--- لیکن ہماری قیادت نے ہمارے ملکی وقار کو جو چرکے لگائے ہیں وہ اب تاریخ کا حصہ اور ہماری غیرت اور آزادی پر بدنما داغ ہیں۔ سات مطالبات کی بات اب امریکا کے ۱۱/۹ کے سرکاری کمیشن کی رپورٹ میں بھی آگئی ہے۔ (دیکھیے صفحہ ۳۳۱)

ہم یہ ساری باتیں دل پر پتھر رکھ کر رقم کر رہے ہیں لیکن حقائق حقائق ہیں اور ان سے آنکھیں بند کر کے ہم حالات کی اصلاح کی طرف کوئی پیش رفت نہیں کرسکتے۔

جناب شوکت عزیز صاحب اب ملک کے وزیراعظم ہیں اور انھوں نے دستور کی حفاظت کا حلف لیا ہے۔ پارلیمنٹ کے سارے ارکان اس حلف کے پابند ہیں۔ شوکت عزیز صاحب نے ملک میں قومی یک جہتی اور اتفاق راے پیدا کرنے اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی بات بھی کی ہے۔ اب ان کا اور ان کی پارٹی کا امتحان ہے۔ وہ اس ملک کو دستور کے مطابق اور پارلیمنٹ کی بالادستی قائم کر کے چلانا چاہتے ہیں یا ملک کے پارلیمانی نظام کو تہ وبالا کرنے‘ اس پر ’’خاکی صدارتی نظام‘‘ مسلط کرنے کے عمل میں آلہ کار بنتے ہیں ۔ ہمیں کوئی شبہہ نہیں کہ عوام کی مرضی ان شاء اللہ بالآخر بالاتر قوت ثابت ہوگی اور انا ولاغیری جسے آج کی سیاسی اصطلاح میں "I Syndrom" بھی کہا جا سکتا ہے‘ کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔ اسے آخرکار ختم ہونا ہے!

البتہ سوال یہ ہے کہ اس تاریخی جدوجہد میں کون کس کیمپ میں ہے اور کون جمہوریت‘ دستوریت اور قانون کی بالادستی کے تاروپود بکھیرنے اور ملک کی سلامتی کو دائو پر لگانے میں معاون رہا ہے‘ اور کون دستور کے دفاع‘ قانون کی حکمرانی کے قیام‘ جمہوریت کے فروغ اور اقتدار کو عوام کی مرضی کے تابع کرنے کی جدوجہد میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے؟ تاریخ کا قاضی بڑا بے لاگ فیصلہ دیتا ہے اور سب سے بڑھ کر ہماری جواب دہی اپنے رب کے سامنے ہے جس کی گرفت سے کوئی مفرنہیں۔

آیئے وہ راستہ اختیار کریں جو ملک و قوم کو تباہی سے بچانے اور خیروفلاح اور جمہوریت اور انصاف کے فروغ کا ذریعہ بنے‘ اور آخرکار ہمیں اپنے رب کے سامنے سرخرو ہونے کی سعادت بخشے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اسلام اور مسلمانوں پر مخالف قوتوں کی یلغار کوئی نئی چیز نہیں    ؎

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغِ مصطفوی سے شرارِبولہبی

شرارِ بو لہبی اور چراغِ مصطفویؐ کی کش مکش دراصل ایمان اور جا ہلیت کی کش مکش ہے اور یہ پہلے دن سے ہے۔ اس کا نمونہ آدم علیہ السلام کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے دکھا دیا گیا۔  افراد بدل جا تے ہیں‘ موضوعات تبدیل ہو جاتے ہیں ‘ایشوز بھی نت نئے سامنے آجاتے ہیں۔ زماں کی تبدیلی کے ساتھ مکان کی تبدیلی کو بھی دوام ہے۔ وہ سرزمین جہاں یہ برپا ہو اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ لیکن یہ کش مکش تاریخ کا حصہ ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ کش مکش اسلام کی دعوت کا لازمی تقاضا ہے۔ اس کش مکش کا ایک حصہ وہ ہے جو ہمارے اپنے سینے میں نفسِ امارہ اور نفسِ مطمئنہ کے درمیان پیکار سے عبارت ہے۔ پھر یہی کش مکش ہمارے ارد گرد‘ ہمارے گھروں میں ‘ ہمارے محلوں میں ‘ہمارے ملک میں اور پوری عالمی سطح پر ہو رہی ہے ۔ یہ نئی چیز نہیں‘ بالکل فطری ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اس کش مکش کو سمجھا جائے‘اس کو جانا جائے   اور اس کا مقابلہ کیا جائے۔ اس پہلو سے مغرب کی تہذیبی یلغار کے موجودہ دور میں‘ان کے اہداف‘ ان کے طور طریقے اور وہ ہماری جن چیزوں کو نشانہ بنائے ہوئے ہے‘ اس کا سمجھنا بہت ضروری ہے۔

تہذیبی یلغار کی اصطلاح میں لفظ ’یلغار‘ کا استعمال بہت معنی خیز اور مغرب اور اسلامی دنیا کے موجودہ معرکے کی حقیقی کیفیت کاصحیح ترجمان ہے۔ آج جس کیفیت سے ہم گزر رہے ہیں وہ فی الحقیقت یک طرفہ حملے کی صورت ہے۔ فوجی‘ سیاسی ‘ سماجی‘ معاشی اعتبار سے قوی تر اور بالادست تہذیبی اور سیاسی قوت ہم پر حملہ آور ہے۔ یہ یک طرفہ جنگ ہے اور اسے یلغار ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ حقائق کی ٹھیک ٹھیک عکاسی ہے۔ جہاں تک تہذیبوں کے درمیان کش مکش کا اورخیالات کے ٹکراؤ کا سوال ہے‘ یہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ افکار کے میدان میں مناظرہ اور مسابقت ایک ابدی حقیقت ہے۔ اقدار کا اختلاف اور موازنہ بھی ازل سے ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔ تہذیبوں کے ایک دو سرے کے اوپر اثر انداز ہو نے کایہی وہ طریقہ ہے جس سے افکار جلا پاتے ہیں‘ نئے تصورات ابھرتے ہیں اور ترقی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ تبلیغ‘ ترقی ‘ دعوت‘شہادتِ حق یہ سب اس کے مختلف پہلو ہیں۔ تہذیبوں کے درمیان مقابلہ اورمسابقت کوئی پریشان کن چیز نہیں ہے۔ میں اس کوخوش آمدیدکہتا ہوں۔ دعوت نام ہی اس بات کا ہے کہ ہم ہر گروہ ‘ہر فرد ‘ہر تہذیب ‘ ہرملک ‘ہر قوم تک پہنچیں ۔ان کی بات کو سنیں اور اپنی بات سنائیں۔دلیل سے بات کریں ۔ ا پنی دعوت کی صداقت کو ثابت کریں اور انھیں اپنے دائرے میں شامل کر نے کی کوشش کریں : اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُط (النحل۱۶:۱۲۵) ’’اے نبیؐ، اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ‘ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو‘‘۔

تہذیبوں کے درمیان مسابقت اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہو نے کی کو شش ایک فطری چیز ہے۔ یہ فطری چیز تشویش کا باعث اس وقت بنتی ہے جب جن دو تہذیبوں یا جن دو قوموں یا جن دو افراد کے درمیان یہ معاملہ ہو رہا ہے وہ دلیل کی بنیاد پر نہ ہو‘حقائق کی بنیادپر نہ ہو ‘وہ مواقع کی یکسانی کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ ایک گروہ کو بالادستی حاصل ہوکہ وہ دوسرے کی کمزوری کا فا ئدہ اٹھا کر اس پر قوت کے ذریعے سے یا اثر انگیزی کے وہ ذرائع اختیار کرکے جو عقلی اور اخلاقی اعتبار سے درست نہیں ہیں‘ اسے مغلوب کر نے کی کوشش کرے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے یہ کہہ کر ایسے عمل کا در وازہ بند کر دیا کہ لا اکراہ فی الدین۔ اقدار میںمقابلہ ہو نا چاہیے ‘ انسانوں میں مذاکرہ ہونا چاہیے ۔ تبادلہ خیال اورڈائیلاگ انسانی زندگی ا ور تہذیب کے فروغ کا ذریعہ ہیں‘ ان کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے ۔ لیکن نہ آپ ظلم و جبراورطاقت سے اپنے نظریات اور تصورات دوسروں پرمسلط کریں اور نہ کسی کو اجازت دیں کہ وہ آپ کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر محض اپنی قوت اور طا قت کا سہارا لے کر آپ کے عقائد‘ آپ کی اقدار ‘آپ کے اخلاق ‘آپ کے نظامِ زندگی ‘ آپ کے رہن سہن اور آپ کی تہذیب و تمدن پر چھاجائے ۔

یہ ہے کش مکش کی اصل نو عیت اورا سی بنا پر میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ تہذیبی کش مکش اور مقابلے کے لیے مغرب کی تہذیبی ’یلغار‘کا جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ بہت صحیح ہے۔ اس کے ذریعے وہ کیفیت ہمارے سامنے آجاتی ہے جس سے ہم سب دوچار ہیں۔ آیئے دیکھیں وہ کیفیت کیا ہے؟

مغربی تہذیب سے ہمارا معاملہ اب تقریباََ ۵۰۰‘۶۰۰ سال پرانا ہے۔ کو ئی نئی چیز نہیں۔ مغربی تہذیب کا عروج چو دہویں ‘پندرہویں ‘ سولہویں صدی میں یو رپ میں ہوا اور اسی زمانے میں اسلامی دنیا سے بھی شروع میں تعارف ‘پھر تعاون ‘پھر تصادم ‘ پھر غلبہ ‘پھر اقتدار کے استحکام کے دور آئے ‘اس کے بعد آزادی کی تحریکیں چلیں‘ جوابی رد عمل ہوا‘مغربی تہذیب کی بالا دستی اور اثر ورسوخ سیاسی حد تک ختم ہوا اورآزاد مسلمان مملکتیں وجود میں آئیں ۔ ہم ان سب ادوار سے گزرے ہیں۔ میں اس وقت پو ری تاریخ میں نہیں جا رہا ہوں ‘ صرف اشارہ کر رہا ہوں۔

اس وقت ہم جس دو رپر غور کر رہے ہیں اس کا آغاز افغانستان کے جہاد سے ہو تا ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب بر پا ہوا ‘ افغانستان پر روس نے  فوج کشی کی‘ اس کا مقابلہ کیا گیا اور پھر نو سال تک وہ تا ریخی جدو جہد بر پا ہوئی ‘جس کے نتیجے کے طور پر روس کی پسپائی ہوئی ۔اس سے پہلے کے دور کو ہم سردجنگ کا دور کہتے ہیں جس میں دو سوپرپاورز تھیں:امریکا اور روس۔ یہ دونوں مغربی تہذیب ہی کے مختلف مظہر تھے۔ لیکن ان کا اپنا اپنا تشخص‘ بنیاد اور عزائم تھے۔ اور یہ آپس میں بھی متصادم تھے۔

میں ان لوگوں میں سے ہوں جو شرح صدر کے ساتھ یہ بات کہتے ہیں کہ افغانستان میں جہاد اس علاقے ہی میں نہیں ‘اس دور کی تاریخ کو بدلنے میں موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اُس وقت ہمارے افغان بھائی بہنوں نے اور پو ری اسلامی دنیا نے جوجدو جہد کی اور عالمی سیاست کے پسِ منظر میں دنیا کی مختلف سیاسی قوتوں نے جس میں ہمارے مخالف اور دشمن اور مغربی تہذیب کے ایک حصے کے علمبر دار امریکا اور یورپ نے بھی شر کت کی وہ صحیح ‘ بروقت اور تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑنے والی جدوجہد تھی۔ البتہ اس جہاد کے آخری دور میں ہماری اور امریکا کی راہیں مختلف ہوگئیں۔ جب امریکا نے یہ محسوس کیا کہ اب روس کے لیے پسپائی کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تو اس نے خالص اپنے تہذیبی اور سیاسی مقاصد کی خاطر اپنے کردار کوتبدیل کر ڈالا۔ اور وہ سیناریو وجود میں آیا جس کا ہدف یہ تھا کہ افغان جہاد کی کامیابی کے ثمرات سے افغان اور مسلمان امت کومحروم کیا جائے۔ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ افغانستان کی جہا دی قوتیں جہاں روس کے خلاف جہاد میں کا میاب اور سر خرو تھیں وہیں وہ اس تبدیلی کو نہ بر وقت محسوس کر سکیں اور نہ اس میں اپنا صحیح کردار ادا کرسکیں۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ جس نئے فراز کی طرف بڑھنے والی تھی‘ نہ بڑھ سکی  اور اُمت مسلمہ ایک نئی اندرونی کش مکش اور بیرونی جنگ کی گرفت میں آگئی۔

جس وقت روس نے یہاں سے پسپائی اختیار کی ہے اور ابھی کوئی آثار نمودار نہیں ہوئے تھے کہ اسلامی قوتیں افغانستان میں مستحکم ہوکر وسط ایشیا اور باقی اسلامی دنیا کو ایک نئی صبح کی طرف لے جانے والے سفر کا آغاز کر رہی ہیں‘لیکن نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ ’’ہم اب یہ صاف دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے نقشے پر سے سرخ خطرہ ہٹ گیاہے لیکن سبزخطرہ نمودار ہورہا ہے‘‘۔ابھی توکوئی تبدیلی نمودار نہیں ہوئی تھی‘ ابھی توجہادی گروہ باہم دست و گریبان تھے لیکن انھوں نے یہ بات کہنا شروع کر دی ۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا دنیا کی واحد سپرپاور کی حیثیت سے ابھر آیا اور پھر اس کے بعد سے اب تک کا دور یہ وہ دور ہے جس میں نیا نقشۂ جنگ مرتب کیا گیا ہے۔ یہ نقشۂ جنگ عسکری بھی ہے‘ سیاسی بھی ہے‘ معاشی بھی ہے ‘ فکری بھی ہے اور ثقافتی بھی ہے ۔ اس کے یہ سارے پہلو ہیں۔ کبھی کسی کا پلہ بھاری ہوتا ہے ‘ کبھی کسی کو آگے بڑھایا جا تا ہے ‘کبھی کسی کو پیچھے ہٹایا جاتا ہے۔ لیکن یہ ہمہ جہتی یلغار اورحملہ جاری ہے اور ۱۱ستمبر کے بعد اپنی کیفیت اور کمیت ہر اعتبار سے گمبھیر سے گمبھیر ہو رہا ہے۔

تر جمان القرآن میں ‘میں اور میرے ساتھی اس یلغار کے مختلف پہلوؤں کی طرف مسلسل متوجہ کر رہے ہیں۔ اس پو رے زمانے میں ‘خواہ اس کا تعلق امریکا کے مفکرین سے ہو‘ جن میں فرانسس فوکو یو ما ‘سیموئیل ہنٹنگٹن ‘ڈینئل پائیس اور دسیوں دوسرے سرگرم جنگ ہیں‘  اور خواہ وہاں کے تھنک ٹینکس ہوں یا وہ این جی اوز ہوں‘ جو پو ری دنیا میں‘ خصوصاً مسلم دنیا میں‘ اس جنگ کے طبل بجا رہے ہیں‘ ان سب کا ایک ہی مرکزی خیال (theme) ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اب اصل مقابلہ مغربی تہذیب اور اسلام ‘اسلامی تہذیب‘ مسلم دنیا اور خاص طور پر اسلامی تحریکوں کے درمیان ہونا ہے۔ آپ ان کی فکر کااندازہ اس بات سے کیجیے کہ ۱۹۸۹ ء میں جب روس نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلائیں‘ تو اسی سال کے اکانومسٹ نے ایک خصوصی مضمون شائع کیا اور اس میں پو ری تاریخ انسانی کے ۲۰ اہم لمحات بیان کیے۔ اور ان میں آخری لمحہ روس کی پسپائی کے بعد بننے والا نیا سیاسی اور تہذیبی نقشہ تھا۔ اس میں ایک جملہ بڑاا ہم تھا ۔اس نے کہا کہ رو س کی فو جیں تو واپس چلی گئیں ‘ دیوار بر لن بھی ٹوٹ گئی‘اشتراکیت بھی پسپاہو گئی لیکن کیا ہمارے پاس دنیا کو دینے کے لیے کوئی نیا حیات بخش نظریہ ہے جو اس خلا کو پر کر سکے۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ اس خلا کو پر نہیں کر سکتا۔ اور پھر اپنے مخصوص انداز میں یہ بات کہی کہ البتہ مسلمانوں کو یہ زعم ہے کہ ان کے پاس ایک نظریہ ہے جو اس خلا کو پر کر سکتا ہے۔ گو یا کہ یہ تنبیہ(warning) تھی کہ اب کش مکش کا جو نیاآہنگ ہے وہ کیا ہو سکتا ہے۔

اس کے دس سال کے بعد ایک اور دلچسپ چیز اکانومسٹ میں آئی اور وہ یہ تھی کہ انہوں نے یہ بتایا کہ آج سے ایک ہزار سال بعدروس کا ایک مؤرخ گزرے ہوئے ہزار سال کا جا ئزہ لیتا ہے۔دو ہزا ریے ختم ہو گئے ہیں۔ تیسراہزا ریہ شروع ہو رہا ہے۔ وہ جا ئزہ لیتا ہے اور وہ جا ئزہ لیتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ سرد جنگ کے ختم ہو نے کے بعد اور روس کی اوراشتراکیت کی پسپائی کے بعدامریکا ایک عالمی کر دارلے کرکے اٹھا لیکن اس کے بعد پھر چین اور مسلم دنیا یہ دو نئی قوتیں ابھریں۔ اور اس طرح ایک نئی خلافت قائم ہوئی ۔اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ایسا ہو گا۔مقصد یہ تھا کہ ایسا نہ ہو نے پائے‘ہمیں اس کے لیے پیش بندی کر نی چاہیے۔یہی وہ خیالات ہیں جنھوں نے مغرب کی ذہنی اور فکری فضابنائی ہے اور آج ان کے تھنک ٹینکس اور سیاسی قیادت سب اس پسِ منظر میں کام کرتے ہیں اور حکمتِ عملی بناتے ہیں۔

ہمیں ۱۱ستمبر کا واقعہ اسی پسِ منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ کیسے ہوا ؟کس نے کیا؟ کون کون معاون قوتیں تھیں ؟سارے واویلے کے باوجود ان سوالات کا جواب دینے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی ہے اور نہ ہورہی ہے ۔ اس کے برعکس‘ ۱۹۸۹ء سے۲۰۰۱ء تک نئے تہذیبی تصادم کی جو فضا بنائی گئی تھی‘اس واقعے کو بنیاد بنا کراس نقشے میں رنگ بھرا جا رہا ہے اور اسے ایک واضح اور متعین رخ دیا جا رہا ہے۔امریکی صدر نے نائن الیون کمیشن بڑے حیص بیص  کے بعد اور بڑے دباؤ کے بعد قائم کیا تھا اور ۱۸مہینے کی کوششوں کے بعد اس کی رپورٹ گذشتہ دنوں آئی ہے۔۶۰۰ صفحات کی رپورٹ  پڑھ ڈالیے ‘ اس میں ایک جملہ بھی ان سوالات کے بارے میں نہیں ہے۔ ان کی ساری تو جہ اس پر ہے کہ جسے وہ ’’اسلامک ٹیررزم‘‘ کہتے ہیں‘ اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ لطف کی بات یہ ہے کہ اس اہم ترین دستاویز میں ’دہشت گردی‘ نہیں ’اسلامی دہشت گردی‘ کومقابلے کی قوت قرار دے کر بتایاگیا ہے ہماری یعنی امریکا کی اور مغربی اقوام کی ساری قوت اور ساری فکر اورسا ری کوشش آیندہ اس سے مقابلے کے لیے کیا ہونی چا ہیے۔

پچھلے پانچ چھ مہینوں میں تین چار بڑی اہم رپورٹیں آئی ہیں۔ان میں رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ خاص طور پر اہم ہے جس کا میں نے جون ۲۰۰۴ء کے ترجمان القرآن کے اشارات میںذکر کیا ہے۔اس سے پہلے ایک اور رپورٹ آئی ہے جس کے بارے میں برادرم سلیم منصور خالد نے مارچ ۲۰۰۴ء کے ترجمان القرآن میں لکھا ہے ‘ایشیا میں اس کا مکمل ترجمہ قسط وار شائع ہو رہا ہے۔اب یہ نائن الیون کمیشن کی رپورٹ آئی ہے ۔یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کو بغور پڑھنے اور تجزیہ کر نے کی ضرورت ہے۔پھر اس کو اس فکری کام کے پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جو اس پورے زمانے میں ہوا ہے۔ جہاں تک نائن الیون کمیشن کی رپورٹ کا تعلق ہے میں اس کے صرف دو تین نکات بتا دیتا ہوں۔ ان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آج امریکا کے لیے سب سے بڑاخطرہ دہشت گر دی ہے۔ دنیا میں جنگوں کا نقشہ اب بدل چکا ہے۔ جنگوںکا جو کر دار تاریخ میں رہا ہے اس اندازکی فوج کشی درکار تو ہو گی لیکن قوموں کے درمیان جنگ کی شکل میں نہیں بلکہ دہشت گر دی کا تعاقب کیا جائے گا۔ اور پھر وہ یہ مرکزی جملہ لکھتے ہیں کہ یہ نہ سمجھو کہ یہ صر ف دہشت گر دی ہے‘ہمارا اصل ہدف ’اسلامی دہشت گردی‘ ہے ۔اس طرح دہشت گردی کی باقی تمام شکلیں ‘اس کے مظاہر ‘حتیٰ کی خودا مریکہ کے اپنے نظام کو چیلنج کر نے کے لیے خود امریکی جودہشت گردی کے راستے اختیار کر رہے ہیں ان سب کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ واحدہدف ’اسلامک ٹیررزم‘ ہے۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اسلامک ٹیررزم تو عنوان ہے‘اصل چیز وہ نظریاتی بنیادی ڈھانچا (Infrastructure ) ہے‘جس نے ان کے خیال میں اس دہشت گر دی کو اور امریکا کے خلاف نفرت کوجنم دیا ہے اور امریکا کو چیلنج کرنے کا جذ بہ اور قوت دی ہے۔ یہاں وہ نام لے کر اسلامی تحریکات خصوصیت سے اخوان المسلمون اورسید قطب کا ذکر کرتے ہیں‘ستم ہے کہ امام ابن تیمیہؒ کو بھی اس کا منبع قرار دیتے ہیں۔ جماعت کا نام تو نہیں لیا لیکن حقیقت ہے کہ جن شخصیات اور اسلامی تحریک کا نام لیا ہے وہ امریکی استعمار کے تازہ ہدف کی نشاندہی کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ بہت اہم ہے کہ اس رپورٹ میں جس چیز کو ہدف بنایا گیا ہے وہ محض القاعدہ نہیں بلکہ وہ بنیادی ڈھانچا  ہے جو ان کے زعم میں امریکا مخالف فکر اور مزاحمتی تحریکوں کو پروان چڑھا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہی وہ منبع ہے جس سے یہ نیا ذہن‘ نئے جوان ‘ان کی مختلف کوششیں سامنے آئی ہیں اور انھی کوششوں میں سے ایک کوشش وہ ہے جو مسلح ہے اور جو دہشت گر دی کر تی ہے۔ یہ سارے کا سارا بنیادی ڈھانچا اب امریکا کا اصل ہدف ہے جسے وہ اپنے اقتدار کے لیے اصل خطرہ قرار دے رہے ہیں اور یہ ذہن پیدا کر رہے ہیں کہ گویا جب تک یہ باقی ہے‘ امریکا محفوظ نہیں ہے!

اس خطرے کے مقابلے کے لیے کیاحکمتِ عملی اختیار کی جائے؟ اس سلسلے میں ایک بڑی اہم کتاب آئی ہے :Imperial Hubris: Why the West is Loosing War on Terror جس کے لکھنے والے کا نام نہیں دیا گیا اسےanonymous یعنی گمنام کے نام سے لایا گیا ہے۔ یہ چند ہفتے پہلے آئی ہے۔دل چسپ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ جسے گمنام بنایا گیا ہے وہ سی آئی اے کا حاضر سروس آفیسرہے اور اسے باقاعدہ سی آئی اے نے اجازت دی ہے کہ اپنا نام بتائے بغیر یہ کتاب لکھے اور شائع کرے۔ اس اہم کتاب کے ساتھ ہی برطانیہ سے ایک اور کتاب Collosus: The Price of American Empireشائع ہوئی ہے‘ اس کا مصنف وہاں کا مشہور مورخ Niall Fergusonہے۔ دونوں کتابیں ایک ہی طرز کی ہیں۔ گمنام کی کتاب میں جو نقشۂ جنگ بنایا گیا ہے وہ اس اعتراف پر مبنی ہے کہ امریکا کے خلاف جو نفرت عالم اسلام میں ہے وہ امریکا کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔یہ بات کھل کر پورے دھڑلے سے کہی گئی ہے اور اس میں یہ متعین کیا گیا ہے کہ اس نفرت کی وجہ وہ پالیسی ہے جو امریکا نے اسرائیل کی مکمل تائید میں اختیار کی ہے اور اسرائیل کی جو مدد وہ کر رہا ہے‘ ثانیاً مسلم ممالک کے حکمران جوظالم وجابر (tyrant) ہیں‘ وہ ہمارے ساتھ ہیں اورہم ان کی تائید کر رہے ہیں لیکن مسلمان عوام ان سے ناخوش ہیں ۔ تیسرے‘ چین‘ روس اور انڈیا جو مسلمانوں کی آزادی کی تحریکوں کو کچل رہے ہیں‘ لیکن ہماری تائید ان تینوں ممالک کو حاصل ہے۔ اسی طرح افغانستان اور عراق پر قبضہ اور تیل کے ذخائر کو امریکی تسلط میں لانے پر مسلمان اور عرب برافروختہ ہیں۔

اس تمام اعتراف کے بعد وہ کہتاہے کہ ہمارے سامنے چار سیناریو ہیں۔پہلا راستہ جس پر صدر بش کار بند ہیں یہ ہے کہ ہم محض قوت کے ذریعے سے ‘ فوج کشی کے ذریعے سے ‘ ان ’’دہشت گردوں‘‘کو بھی اور ان کو پناہ دینے والوں کو بھی ختم کر دیں۔ یہ کام محض انھیں ختم کرنے سے پورا نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے ہمیں قوت کا ایسا استعمال کر نا پڑے گا جس کے نتیجے کے طور پر ہزاروں لاکھوں انسانوں کی جا نیں جا ئیں گی‘ بستیاں تباہ ہوں گی‘نقل مکانی ہوگی اور بالآخر ان ملکوں پر فوجی قبضہ ہوگا۔ دو سرا را ستہ یہ ہے کہ ہم اپنی پالیسیاں تبدیل کریں ۔ ان سے بات چیت کریں اور کوئی را ستہ نکالیں ۔اس کا کہنا یہ ہے کہ پہلا ہم کرسکتے ہیں لیکن اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ اور یہ بھی ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آیا اس سے فی الحقیقت تمام خطرات       ختم ہوجائیں گے ۔البتہ اس سے جو کچھ حاصل ہو گا وہ یہ ہے کہ امریکا کو دنیا میں مسلم دنیا میں ایک نئی قابض قوت بننا پڑے گا۔ گو یا کہ جس طرح سترھویں‘ اٹھارھویں‘ انیسویں اوربیسویں صدی کے وسط تک سامراج قابض تھا وہ را ستہ ہمیں اختیار کر نا پڑے گا۔کیا ہم یہ کر سکتے ہیں ؟ اور کیا  یہ قبضہ بہت عرصے چل سکتا ہے؟ اور کیا امریکی قوم اس کے لیے مسلسل قربانی دینے کو تیار ہے؟ لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ موصوف یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دوسرا راستہ بھی ہم اختیار نہیں کرسکتے کہ ہم اپنی پا لیسیاں بد ل لیں۔ یہ بھی ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ پھر کیاکریں ؟

وہ کہتا ہے کہ پھر تیسرا را ستہ یہ ہے کہ ہم مسلم دنیا میں ’قوم سازی‘ (nation building) کریں ۔اس کے معنی یہ ہیں کہ وہاں کے نظامِ تعلیم کو‘میڈیا کو‘نو جوانوں کو ‘حکمرانوں کو ‘ان سب کو اپنے زیرِ اثرلائیں ۔ یہ کام جمہو ریت ‘ آزاد روی(لبرلزم) اور Globalizationیعنی عالم گیریت کے نام پر کیا جائے۔ اس کا دائرہ کار بڑا وسیع اور متنوع ہے۔ اس میں معیشت ہے ‘اس میں کلچر ہے‘ اس میں افکار ہیں ‘اس میں پارلیمنٹیرینز کی تر بیت ہے ‘اس میں طلبا کے تبادلے ہیں ‘اس میں میڈیا کو ہر قیمت پر استعمال کر نا ہے۔ یہ ’قوم سازی‘ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک چوتھی چیز اور چا ہیے‘ اور وہ یہ ہے کہ امریکا ایک نئی قسم کی سلطنت (imperial power) بنے۔جس کے لیے اس نے Liberal Empire کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ قابض تو نہ ہوں ‘لیکن ذہنوں پرقبضہ کریں ‘معیشت کو گرفت میں لائیں‘بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں اور این جی اوز کے ذریعے سے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے آئیںاور اپنے اثر ورسوخ کو اتنا بڑھا لیں کہ ان ممالک کی قیادتیں اور ان کے کارفرما عناصر آپ ہی کے مطلب کی کہیں۔ ساتھ ہی یہ پیغام بھی دے دیا جائے کہ اگر ہمارے نقشے کے مطابق کام نہیں کرو گے اور ’’لبرل میانہ روئی‘‘ اختیار نہیں کرو گے تو قوت استعمال کی جا ئے گی،’سزا دی جا ئے گی‘۔ لفظ استعمال کیا ہے punishmentکا اور اس punishment میںدو چیزیں ہیں ۔ پیش بندی کے طور پر حملہ (preemptive strike) جس کے معنی یہ ہیں کہ جہاں خطرہ محسوس ہو وہا ں فوج کشی کر ڈالو۔ کوئی ثبوت ہو نہ ہو‘جیسا عراق اور افغانستان میں کیا ہے۔اورregime changeیعنی حکمران مفید مطلب نہ ہوںتو ان کو بدل کرمفید مطلب لوگوں کو اوپرلاؤ ۔ یہ وہ نیا ماڈل ‘نیا نمونہ اور نیا نقشہ ہے جس کے مطابق عمل کر کے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے اقتدار کو قائم رکھیں گے۔

ہم جس مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں وہ یہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے ؟اس کا مقا بلہ کر نے کا ایک طریقہ تو یہ ہے۔ اور یہ میں اس مفروضے پر کہہ رہا ہوں کہ ۱۱ستمبر کا واقعہ مسلمانوں نے کیا تھااور جسے وہ القاعدہ کہتے ہیںوہ اس کے ذمہ دار تھے ۔گو اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس وا قعے کے بعد بن لادن نے‘ القاعدہ نے‘ officially انکار کیا تھا کہ ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب امریکا نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ بن لادن کو گر فتار کر کے دے دوتو طالبان نے یہ کہا کہ ہمارے پاس ثبوت لاؤ۔اور اگر تم ہمیں ثبوت نہیں دینا چا ہتے ہو تو کوئی بین الاقوامی عدالتی کمیشن قائم کر دو جس مین تین مسلمان ممالک کے جج ہوں‘ان کے سا منے شہادتیں لاؤ ۔اگر وہ طے کرتے ہیں کہ یہ حملہ بن لادن نے کیا ہے تو ہم اسے آپ کو دے دیں گے۔

جو تحقیق آزاد ذرائع سے ہوئی ہے وہ حیران کن ہے ۔ خود امریکا کے تجزیہ نگاروں نے یہ بات کہی ہے کہ اگر ان چار حملوں میں صرف  یہ ۱۹ ہائی جیکر شریک تھے تو یہ کام ہو نہیں سکتا‘ جب تک کہ ان کے ۵۰‘۶۰ معا ونین امریکا میں زمین پر مو جود نہ ہوں اور خصوصیت سے ان ہوائی اڈوں پر جہاں سے یہ جہاز گئے ہیں ۔اس لیے کہ جس precision کے ساتھ ‘جس چابک دستی سے‘ ٹھیک ٹھیک نشانے پر اور بڑے مؤثر طریقے سے یہ اقدام ہوا ہے وہ کمپیوٹرائزکیے بغیر ہو نہیں سکتا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ۷۴۷جہاز کو ایسے لوگ جن کو Executive Plan چلانے کی تربیت دی گئی ہووہ فضا میں اس جہاز پر قبضہ کر سکیں‘پا ئلٹ کو ہٹا دیں ‘ اسٹیرنگ پر آجائیں۔ اور پھر نیویارک جہاں دو ہزارفلک بوس عمارتیں تھیں اس میں سے متعین طور پر ایک خاص ٹاورکو اور وہ بھی ایک خاص مقام پر جا کر ہٹ کریں ۔ پھراس کے اٹھارہ منٹ کے بعد دوسرا ٹاور۔ اس کے چالیس منٹ کے بعدپینٹاگون ۔ یہ سب ممکن نہیں ۔ پینٹاگون کی عمارت تو صرف تین منزلہ تھی۔ اس کے بارے میں جو کتابیں آئی ہیں ان سے معلوم ہو تا ہے کہ خودپہلا اعلان جو وہاں ہواوہ یہ کہا گیا ہے کہ یہ ایک میزائل حملہ تھا۔ عمارت کو اگر آپ دیکھیں تو اس میں ایک بہت بڑاسوراخ ہے اور جہاز کا کوئی ملبہ وہاں نہیں پایاگیا۔ اور جس طرح ٹاور پر حملہ کرنے والے جہازوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ جہاز ساراکا سارا تحلیل ہو گیا ‘پینٹاگون میں یہ ممکن نہیں تھا۔ لیکن ۴۸گھنٹے کے اندرپینٹاگون نے چھ بار اپنے سر کاری بیان کو بدلا ہے۔ اور بالآخر اسے جہاز قرار دیا۔

اس بارے میںاتنی چیزیں آئی ہیں ‘میں ان سب کو نظر انداز کر تا ہوں‘ میں کہتا ہوں مان لیجیے کہ انھوں نے یہ اقدام کیا ہے اور اگر فی الحقیقت انھوں نے ہی کیا تھا‘تو میں آپ سے صاف کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی جرأت اورسوچ کا فیصلہ تو اللہ کرے گا‘ لیکن بحیثیت مجموعی مسلمانوں کو اور اسلام کو اس سے نقصان پہنچا ہے۔ اور اس کے نتیجے کے طور پرتاریخ تہذیبی مکالمے کے جس رخ پر جا سکتی تھی وہ متاثر ہو ئی ہے۔ اگر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مقابلہ کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے تو نتائج کے اعتبار سے‘ اسلام کے مزاج کے اعتبار سے ‘ اسلامی احیا کے امکانات کے اعتبار سے ‘ اسلامی دعوت کے اعتبار سے ‘ اسلامی تہذیب وثقافت کے اعتبار سے یہ را ستہ مقصد حاصل کر نے کا راستہ نہیں ہے۔ میں فلسطین اور کشمیر کی جہادی تحریک کی بات نہیں کر رہا‘ میں ٹریڈ ٹاور اور اس قسم کے واقعات پر بات کر رہا ہوںاور یہی وجہ ہے کہ تمام اسلامی تحریکات کے قائدین نے اس کی مذمت کی اور۱۲ستمبر۲۰۰۱کو منصورہ  سے ایک بیان جاری ہوا جس میں یہ کہا کہ ہم اس دہشت گر دی کے اس واقعے کی مذمت کر تے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ اعلان بھی کر تے ہیں کہ دہشت گردی افراد کی طرف سے ہو ‘گروہوں کی طرف سے ہو یا حکومتوں کی طرف سے ہو‘ مساوی طور پر قابلِ مذمت ہیں۔ اصل مسئلہ دہشت گر دی نہیں‘ بلکہ وہ اسباب ہیں ‘ وہ نا انصافیاں ہیں ‘وہ ظلم ہیں اوروہ مسائل ہیںجو لوگوں کو دھکیل دھکیل کر غلط راستے کی طرف لے جا رہے ہیں۔ اور جب تک ان معاملات کو حل نہیں کیا جائے گا دنیا میں امن اور سلامتی کا وجود عنقا رہے گا۔

تحریکِ اسلامی کا یہ ذہن ہے اوریہی ذہن حق پر مبنی ہے۔ جہاں مظلوم مجبور ہو کر تشدد کا راستہ اختیار کر تا ہے ‘دنیا بھر کی تحریکاتِ اسلامی اس کی کیفیت ‘اس کے احساسات ‘ اس کے جذبات کو محسوس کر تی ہیں۔  لیکن تبدیلی اور اسلامی انقلاب اور اسلامی احیا کا راستہ تشدد اور دہشت گردی کا راستہ نہیں ہے ۔ را ستہ وہی ہے جو اسلامی تحریکات نے سنت نبوی ؐاور قرآنی منہج کو سامنے رکھ کر مرتب کیا ہے۔ جہاد کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاد تو انصاف کے قیام‘ اللہ کے کلمہ کی بلندی اور اخلاقی اقدار کے احیا کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں ‘میں اپنی بات کو سمیٹتے ہو ئے یہ کہوں گا کہ سب سے پہلی چیز دشمن کو جانناہے۔دشمن کے ہتھیاروں کو جاننا ہے‘دشمن کے اسالیب اور طریقوں سے واقفیت حاصل کرنا ہے‘ اور ان راستوں اور طریقوں کی تفہیم ہے جن سے یہ یلغار ہو رہی ہے۔ یہ ہمہ جہتی یلغار ہے‘ یہ فکری بھی ہے ‘یہ تعلیمی بھی ہے ‘ یہ ٹکنالوجیکل بھی ہے‘یہ معا شی بھی ہے ‘ یہ سیا سی بھی ہے ‘یہ فوجی بھی ہے۔ اس میں میڈیا بڑا اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ہمارے گھروں کونشانہ بنا یا جا رہا ہے۔ ہماری ماؤں‘بہنوں اوربیٹیوں اور بچوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔

یہ بات بھی غور کر نے کی ہے کہ کھلے دشمن کا مقابلہ آسان ہو تا ہے لیکن جب دشمن آپ کے اندر سے ایسے عناصر کو استعمال کرے جن کانام اورچہرے آپ جیسے ہوںتو یہ خطرہ اور یہ لڑائی زیادہ گمبھیر اور زیا دہ مشکل ہو جا تی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک نے کفار کے بارے میں جتنی باتیں کہی ہیں ان سے زیادہ منافقین کے بارے میں کہی ہیں۔ہماری یہ جنگ تصادم و یلغار صرف با ہر سے نہیں‘ یہ اندر ونی سبوتاژ بھی ہے۔ آپ دیکھیے کہ مدارس کو نشا نہ بنایا جارہا ہے۔ نظامِ تعلیم کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وہ مسلم دنیا کو چار گروہوں میں پیش کر رہے ہیں۔ ایک کو وہ کہتے ہیں بنیاد پرست۔ جو ان کی نگاہ میںدہشت گرد ہیں۔ دوسرے کو وہ کہتے ہیں قدامت پر ست۔جو ہیں توروایت اور اسلامی اقدار کے حامی لیکن وہ کوئی بڑا چیلنج نہیں ہیں۔بس وہ اپنی روایات کے علم بردار ہیں۔ تیسرے ہیں ماڈرنسٹ‘لبرل اورچوتھے ہیں کھلے کھلے سیکولرسٹ ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ان کو آپس میں لڑانا چا ہیے۔سا ری قوت ہماری اس پرصرف ہو نی چا ہیے کہ اسلام کو ایک روشن خیال میانہ روی کے مذہب کے طور پرپیش کیا جائے ۔ہم ان کی تا ئید کریں اوران کی تقویت کاذریعہ بنیں ۔ ان کے ذریعے ہم مسلمان معاشرے کو اندر سے تباہ کریں۔

تو یہ حملہ با ہر سے بھی ہے اور اندر سے بھی ہے۔ اور مسلمانوں کی سیاسی اور معا شی قوتوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس کا مقابلہ کر نے کے لیے سب سے پہلی چیزیہ ہے کہ ہم دشمن کو سمجھیں۔ دو سری چیزیہ ہے کہ ایک ہمہ جہتی حکمت عملی بنائیں‘محض کسی ایک ٹارگٹ کونہ لیں۔اور تیسر ی چیز یہ ہے کہ ہم ہر میدان میں مقابلہ کریں اوراس کی تیاری کریں ۔ مقابلے کے ساتھ ساتھ ڈائیلاگ اور مذاکرہ بھی کریں۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ آخری حل مذاکرات سے نہیں ہوگا۔ اپنے صحیح وقت پر ایک ہمہ گیر معرکے کے لیے آپ کو تیار ہو نا ہے۔ لیکن وہ تیاری دہشت گر دی کے اقدامات کے ذریعے نہیں ہوسکتی اور نہ یہ اس کے ممدومعاون ہوسکتے ہیں۔اس کا راستہ یہ ہے کہ عوامی جدوجہد کے ذریعے اپنے اپنے ملک میں اسلامی قیادت کو اوپر لائیں اور پھر ان ممالک کو اسلام کا حقیقی قلعہ بنائیں۔ یہی وہ جنگ ہے جو پاکستان میں ہم لڑرہے ہیں۔ اور یہی وہ جنگ ہے جو تحریکِ اسلامی ہر ملک میں لڑ رہی ہے اور یہی وہ طریقہ ہے جس سے ہم اس تہذیبی تصادم کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ یہ کوئی وقتی جنگ نہیں ہے یہ کوئی شارٹ ٹرم جنگ نہیں ہے۔ بلا شبہ اس کے وقتی تقاضے بھی ہیں اور شارٹ ٹرم تقاضے بھی ہیں لیکن اصل جنگ لمبی ہے اور ہمیں اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرنا ہے اور پوری بالغ نظری کے ساتھ اس کام کو انجام دینا ہے ۔

اس سلسلے میں سب سے اہم چیز اُمت کو اسلام کی بنیاد پر فکری‘ عملی‘ اخلاقی‘ نظریاتی‘ تعلیمی‘ معاشی‘ تہذیبی ہر اعتبار سے مضبوط تر کرنا ہے۔ اس کے رشتے کو ایک طرف اللہ تعالیٰ سے اس طرح جوڑنا ہے کہ صرف اس کی مدد پر ہمارا بھروسہ ہو تو دوسری طرف اس کے فراہم کردہ وسائل کو اس کے بتائے ہوئے دین کی سربلندی اور اہداف کے حصول کے لیے منظم اور مرتب کرنا ہے۔ جن کو دنیا میں بڑی طاقتیں کہا جاتا ہے وہ عارضی اور بالآخر فنا ہونے والی ہیں۔ باقی رہنے والی قوت صرف حق کی قوت ہے۔ اللہ پر بھروسا اور اُمت کی صحیح خطوط پرتیاری ہی وہ راستہ ہے جس سے اس یلغار کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ایمان‘ مادی اور اخلاقی قوت‘ اتحاد اور باہمی تعاون اور سب سے بڑھ کر مسلسل اور صبرآزما جدوجہد درکار ہے۔ اقبال نے مسجد قرطبہ کے سائے میں جو پیغام اُمت مسلمہ کو دیا تھا وہ اسی جدوجہد کا پیغام تھا    ؎

جس میں نہ ہو انقلاب‘ موت ہے وہ زندگی

روحِ امم کی حیات‘ کش مکشِ انقلاب

اور یہ منزل رب سے تعلق‘ اسوہ نبویؐ کے مطابق جدوجہد‘ اور ہر قربانی کے لیے تیاری ہی سے حاصل ہوسکتی ہے     ؎

نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر

نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر

یہی وہ صحیح حکمتِ عملی ہے جس سے مغربی تہذیب کی اس یلغار کا مقا بلہ کیا جا سکتا ہے ۔

جس طرح فرعون نے انا ربکم الاعلٰی کا نعرہ لگایا تھامگر ذلت کی موت مرا ‘اسی طرح برطانیہ کے شاہ لوئی چہاردہم(xiv) نے دعویٰ کیا تھا کہ "I am the State" لیکن وہ اور اس کی سلطنت جلد ہی قصہ پارینہ بن گئی۔ آج کے فرعون اور لوئی بھی اُسی زبان میں بات کررہے ہیں اور اپنے حشر سے بے خبر ہیں۔ ہم امریکا کی قیادت اور اس کے عزائم پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں اور درپیش خطرات کا پورا شعور رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ تبدیلی کی ان لہروں پر بھی نظر ضروری ہے جو غالب نظام اور مغرور حکمرانوں کو چیلنج کر رہی ہے۔

یہ ردعمل عوامی سطح پر تو اول روز سے موجود ہے لیکن اب مقتدر حلقوں میں بھی اختلافی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں جو استبدادی قوتوںکے لیے زوال کے آغاز کی علامت ہیں۔ ۱۱؍۹ کمیشن کی کارروائیوں اور رپورٹوں نے امریکی قیادت کے دعوئوں کا پول کھولنا شروع کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ کی مختلف کمیٹیاں امریکا اور برطانیہ میں پالیسیوں کے پاے چوبیں کی نشان دہی کررہی ہیں۔ صحافی اور اہلِ قلم اب کھل کر بات کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈھائی سال کے حیص بیص کے بعد امریکا کی عدالت عالیہ نے گوانتاناموبے کے قیدیوں کے سلسلے میں پہلا اہم فیصلہ دیا کہ ان کے حق دفاع کو مستقلاً معطل نہیں رکھا جا سکتا اور عدالت نے اپنے فیصلے میں اس اصول کا بھی اعادہ کیا ہے کہ ’’جنگ ہو یا دہشت گردی کا خطرہ‘ انتظامیہ کو لوگوں کو ان کی آزادیوں سے محروم رکھنے کی کھلی چھٹی نہیں دی جا سکتی‘‘۔ عدالت نے اس کلیے کو بھی بیان کیا ہے کہ:

"A state of war is not a blank cheque for the president".

حالتِ جنگ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صدر جو چاہے کرے۔

عوامی سطح پر صدر جارج بش کی قباے شاہانہ کو تار تار کرنے کا کام ایک بہت ہی غیرمتوقع انداز میں ہو رہا ہے۔ ایک مشہور فلم ساز اور آسکرایوارڈ حاصل کرنے والے اداکار مائیکل مور (Michael Moore) نے ایک دستاویزی فلم بنائی ہے جسے امریکا (ہالی ووڈ)کے وال ڈزنی نے تو جاری کرنے سے انکار کر دیا مگر فرانس کے کینزکے میلے کو اس نے لوٹ لیا۔ اب یہ فلم امریکا اور یورپ میں دکھائی جارہی ہے۔ اس کا عنوان ہے فارن ہائٹ ۱۱/۹ (Fahrenheit 9/11)۔ اس فلم میں جارج بش کا اصل چہرہ اور استعماری کردار‘ نیز سعودی حکمرانوں سے ان کی اور ان کے خاندان اور ساتھیوں کے تعلقات کی پوری داستان بیان کی گئی ہے اور دکھایا گیا ہے کہ اس امریکی حکمران ٹولے نے اپنے سامراجی مقاصد اور دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے کس طرح ۱۱/۹ کو استعمال کیا ہے۔ اس کا ایک مرکزی کردار وہ بدنصیب ماں ہے جس نے اپنے بیٹے کو اپنا پیٹ کاٹ کر فوج میں بھرتی کرنے کے لیے تیار کیا اور جسے وہ اپنا سہارا سمجھ رہی تھی مگر کس طرح عراق کی جنگ نے اسے بے سہارا کر دیا۔ یہ ایک ماں کی نہیں پوری امریکی قوم کی کہانی ہے۔ انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون کے کالم نگار پال کروگ مین (Paul Krugman) کے الفاظ میں یہ فلم اپنی ایک گونہ جانب داری کے باوجود ۱۱/۹ اور اس کے بعد کے کھیل کے بارے میں ان حقائق سے پردہ اٹھاتی ہے جن سے امریکی عوام کو بے خبر رکھا گیا تھا۔

یہ ان لیڈروں کے بارے میں ضروری سچائی بیان کرتی ہے جنھوں نے ایک قومی المیے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور جس کی قیمت ایک عام امریکی نے ادا کی۔ (انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبون‘ ۵ جولائی ۲۰۰۴ئ)

ارجنٹائن کا صدر ہیوگو شاویز (Hugo Chavez ) سوال کرتا ہے کہ:

"Who gave the United States a whistle to be the world's refree?"

امریکا اپنی تمام چابک دستی اور اثرورسوخ کے باوجود اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے امریکی فوجیوں کو جنگی جرائم سے مستثنیٰ رکھنے کی قرارداد منظور نہیں کرا سکا اور آخری وقت پر اسے اس قرارداد کو واپس لینا پڑا۔ امریکا کی ساری کوشش کے باوجود اسرائیل کو جنگ کی عالمی عدالت میں منہ کی کھانی پڑی اور ۱۵ میں سے ۱۴ ججوں نے (صرف امریکی جج نے فیصلے سے اختلاف کیا) فلسطینیوں کی زمین پر آہنی باڑ بنانے کو خلافِ قانون قرار دیا اور اسے منہدم کرنے کا مطالبہ کیا جس کی توثیق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی بھاری اکثریت سے کر دی ہے۔

امریکی فوج کے کچھ باضمیر افسر جو عراق سے واپس آئے ہیں صدر بش کی پالیسیوں کی ناکامی کا برملا اعتراف کر رہے ہیں۔۸۲ آرمڈ ڈویژن کا ایک افسر اعتراف کرتا ہے کہ صدر بش کے Mission Accomplishedاور عراق کی مبینہ آزادی کے اعلان کے بعد جو کچھ ہوا وہ مشن کی تکمیل نہیں بلکہ قتل و غارت گری کی نئی دوڑ کے سوا کچھ نہیں۔

ایک دفعہ پھر ہر طرف جنگ کی کیفیت تھی لیکن اس دفعہ آپ کا مقابلہ سول مزاحمت کاروں سے تھا۔ ہم عوام سے لڑ رہے تھے۔ ہر گھر‘ ہر چھت‘ ہر صحن‘ ہر اسکول کا میدان ایک مورچہ بن گیا تھا۔ ایک چیک پوائنٹ پر ایک نوجوان لڑکی نے کسی خوف کے بغیر مجھ سے بہترین انگریزی میں کہا: اگر میں تم کو قتل کر سکتی‘ تو ایسا ضرور کرتی۔

فلوجہ نے مجھے جنگ اس تناظر میں دکھائی۔ اگر ہم پورا شہر بھی روند کر رکھ دیتے اور اس کو ایک کھنڈر میں تبدیل کر دیتے‘ تب بھی ہم جیت نہیں سکتے تھے۔(فریڈرک ایف کلیرمونٹ: Faluja: A New Beginning بہ حوالہ: اکانومک اینڈ پولٹیکل ویکلی‘ ۳ جولائی ۲۰۰۴ئ)

کلیرمونٹ کے الفاظ میں فلوجہ میں جو کچھ ہوا ہے اگر کسی مثال سے بیان کیا جا سکتا ہے تو وہ اسٹالن گراڈ ہے جس نے دوسری جنگ کا رخ بدل دیا۔

اسٹالن گراڈ سے مقابلہ اس لیے مناسب ہے کہ وہ بھی جنگ میں ایک فیصلہ کن موڑ  (turning point ) تھا۔ فلوجہ عوامی شعور کے ایک نئے دور کا آغاز تھا جس میں صدام اور بعثی نظریہ بے معنی ہوگیا۔ مرد اور عورت‘ شیعہ اور سنی‘ عیسائی اور کُرد‘ سب شانہ بشانہ لڑے۔ یہ ایک نیا قومی شعور ہے جو مذہبی‘ اجتماعی اور سیاسی تفریقات سے بالا ہے۔ قابض فوج کی شعیوں اور سنیوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش بری طرح ناکام ہوئی۔ فلوجہ اس جدوجہد کی استعمار دشمن نوعیت کی علامت تھا۔ یہ عرب دنیا میں ایک نیا عنصر ہے اور آج قوم کی حرکی خصوصیت ہے۔

اب امریکی دانش ور یہ سوچنے اور کہنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ صدر بش اور ان کے ساتھیوں کا سارا کھیل ناکام رہا ہے۔ اس سلسلے میں مشہور دانش ور اور کالم نگار نکلسن کرسٹوف (Nicklson D. Kristof)کا مضمون "The Arrogance of Power" بہت چشم کشا ہے۔ وہ لکھتا ہے:

اگر صدر بش اپنی عراقی مہم کو بچانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے تجویز ہے : جارج ٹینٹ جیسے سی آئی اے کے خوشامدیوں کے ساتھ کم وقت گزاریں اور زیادہ وقت الجزیرہ ٹیلی ویژن دیکھیں۔

بش انتظامیہ کے خفیہ اطلاعات کے نظام کا مرکزی عنصر یہ نہیں تھا کہ یہ مناسب تعداد میں ٹیلی فون ٹیپ کرنے میں ناکام رہا‘ بلکہ یہ تھا کہ اس نے عراق یا وسیع تر عرب دنیا کے ذہن (mindset)کو سمجھنے کی پروا نہیں کی اور اب بھی نہیں کر رہا۔

صدربش اور ان کے طائفے کے ذہن کی یہ عکاسی مبنی برحقیقت ہے لیکن ستم بالاے ستم کہ مسئلہ محض صدربش کا نہیں عرب اور مسلم ممالک کے حکمرانوں کا بھی اس سے مختلف نہیں۔ اور مزید بدقسمتی ہے کہ خود ہمارے حکمران بھی اسی مرض کا شکار ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح کے ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ یہ سب ہی اپنے عوام کے جذبات‘ احساسات اور عزائم سے لاتعلق ہیں اور آج کے نیرو (Nero) کا کردار ادا کررہے ہیں۔ اس پر بھی کیا یہ سب یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کا حشر بھی نیرو کے حشر سے مختلف ہوگا؟

شماریات (Statistics) کی بحیثیت ایک علم عمر اب ۱۰۰سال سے زیادہ ہے۔ اس زمانے میں زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں قابلِ اعتماد اعداد و شمار کی اہمیت بے انتہا بڑھ گئی ہے اور معاشی اور معاشرتی منصوبہ بندی میں اعداد و شمار کا کردار روز بروز بڑھ رہا ہے۔ حکومت اور مختلف اداروں کی کارکردگی کا پیمانہ بھی یہی اعداد و شمار بن گئے ہیں۔ ان حالات میں اعداد و شمار کو جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے والے اداروں کو مرکزی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ ایک زمانے میں تو شماریات کو ناقابلِ اعتماد گورکھ دھندا سمجھا جاتا تھا اور ایک ماہرِ شماریات نے یہاں تک لکھ دیا تھا کہ جھوٹ تین قسم کے ہوتے ہیں۔

Lies, white lies and statistics, in order of ascendence.

یہ مبالغہ صحیح نہیں۔ البتہ اعداد و شمار کی صحت اور ان کے جمع کرنے اور مرتب کرنے کے نظام کو حکومت کی مرضی پر چھوڑنا بڑا گمراہ کن ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک اس کے لیے متعدد طریقے اختیار کر رہے ہیں جس میں مندرجہ ذیل خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

۱-            اعداد و شمار کے نظام کو آزاد انتظام کے تحت مرتب کرنا ‘ اس کے لیے قانون کے ذریعے آزاد اداروں کا قیام جن کو دستوری تحفظ حاصل ہو اور جن کے مالی ذرائع حکومتوں کی مرضی پر موقوف نہ ہوں۔

۲-            ہر موضوع کے بارے میں ایک سے زیادہ اداروں کے ذریعے اعداد وشمار کا حصول ‘ تاکہ ایک ہی موضوع کے بارے میں مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کا تقابل کیا جا سکے۔ نیز متبادل ذرائع کی موجودگی اعداد و شمار میں بددیانتی کرنے کے خلاف ایک مؤثر  رکاوٹ کا کردار بھی ادا کر سکے۔ اس باب میں خصوصیت سے نجی شعبے کے اداروں کی خدمات اہمیت اختیار کرگئی ہیں جو سرکاری ذرائع کے لیے بھی checks & balances کی کیفیت پیدا کرنے کا باعث ہوتی ہے۔

۳-            اب یورپ کے کئی ممالک خصوصیت سے انگلستان میں ایک ادارہ بہت مؤثر کردار ادا کر رہا ہے اور وہ ہے Statistics Commission جس کی حیثیت ایک طرح کے نگراں (Statistics Watch-dog  ) یا محتسب (Statistics-Ombudsman) کی ہے جو دوسروں کی تحریک پر اور خود اپنے اختیار سے (suo moto) شماریات کے پورے نظام پر نگاہ رکھتا ہے ‘اور جہاں کہیں کوئی ایسی تدبیر اختیار کی جاتی ہے جس سے شماریات کی صحت پر برا اثر پڑے‘ یہ کمیشن فوری طور پر احتساب کا فرض ادا کرتا ہے۔

حال ہی میں پاکستان میں بنیادی سال (year base) کو تبدیل کرنے کا کام ۲۳سال کے تغافل کے بعد بہت ہی عجلت میں کیا گیا اور نئی اور پرانی دونوں بنیادوں پر اعداد و شمار اور تبدیلی کے رجحانات کا تقابل شائع نہیں کیا گیا جو علمی اعتبار سے سخت قابلِ گرفت ہے‘ خصوصیت سے اس لیے کہ جس سال کو نیا بنیادی سال قرار دیا گیا ہے وہ غیرمعمولی حالات کا شکارتھا‘ یعنی ۲۰۰۰-۱۹۹۹ئ۔ اسی طرح غربت کی کیفیت اور کمیت کا تعین کرنے کے لیے جو سال میں چار بار ہائوس ہولڈ سروے ہوتے ہیں اور ان کے اوسط کو سال کے لیے غربت کے تعین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے ہٹ کر محض ایک مختصر (یعنی اصل نمونے کے صرف ایک تہائی) نمونے کی بنیاد پر اور وہ بھی صرف ایک سہ ماہی تک محدود رکھ کر جو اعداد و شمار دیے گئے ہیں ان کے بارے میں شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اگر ہمارے ملک میں بھی شماریات کا کمیشن بحیثیت محتسب ہو تو ایسے واقعات پر بروقت گرفت ہو سکتی ہے۔

برطانیہ کے کمیشن نے حال ہی میں قومی شماریات کے دفتر پر سخت تنقید کی ہے کہ اس نے بلاجواز اور تمام حقائق ظاہر کیے بغیر کچھ میدانوں میں اعداد و شمار جمع کرنے کے طریقے میں تبدیلیاں کرڈالی ہیں۔ کمیشن نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ:

سرکاری اعداد و شمار پر عوام کا اعتماد اعداد مرتب کرنے کے طریقوں کے معیار سے متاثر ہوتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار مرتب کرنے کے انتظامات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے اعتماد کو تقویت دی جاسکے۔ (گارجین‘ جولائی ۲۰۰۴ئ‘ بیان پروفیسر ڈیوڈرڈ‘ چیئرمین شماریاتکمیشن)

پاکستان میں بھی شماریات کے سرکاری ادارے کی تنظیم نو‘ اس کے تمام معاملات میں مکمل شفافیت اور ایک آزاد کمیشن جو شماریات کے پورے نظام بشمول محکمہ کسٹم اور اسٹیٹ بنک کی فراہم کردہ معلومات پر نگاہ رکھے‘ وقت کی ضرورت ہے۔

جناب جسٹس ناظم حسین صدیقی چیف جسٹس آف پاکستان نے صوبہ پنجاب کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن ججوں کی تربیت کی تکمیل پر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی تقریب تقسیمِ اسناد میں ملک کے عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کے مسئلے پر بڑے بنیادی اور فکر انگیز خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے کہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد مطلوبہ معیار سے کہیں کم ہے‘ انھوں نے صرف نئے ججوں ہی کو نہیں بلکہ عدلیہ کی ہر سطح پر ذمہ دار افراد کو تلقین کی ہے کہ ’’ہمیں (عدلیہ کو) ملک میں انصاف کے نظام پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا‘‘۔ فاضل چیف جسٹس کا ارشاد ہے کہ ’’انصاف کی فراہمی مشکل کام ہے‘ تاہم نئے جج صاحبان اپنی ذہانت اور دل و دماغ کی تمام تر صلاحیتوں کو کام میں لاکر عوام کو انصاف کی فراہمی یقینی بناسکتے ہیں۔ اگر ہمیں ایک مہذب قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا ہے تو اسلام کی آفاقی تعلیمات اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کے مطابق انصاف کی فراہمی کو افضل عمل کی حیثیت سے معاشرتی زندگی میں عملی شکل دینی ہوگی اور عوام کا اعتماد نظامِ انصاف پر بحال کرنا ہوگا‘‘۔ چیف جسٹس صاحب نے  یہ بھی کہا کہ ’’ڈسٹرکٹ جج نظام انصاف میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ضلع کی سطح پر   جج صاحبان انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو پورا نظام انصاف زمین بوس ہوسکتا ہے‘‘۔

جسٹس ناظم حسین صدیقی صاحب نے ایک بڑے بنیادی مسئلے کی طرف عدلیہ اور پوری قوم کو متوجہ کیا ہے اور ہماری اجتماعی زندگی کی ایک نہایت ہی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ اس وقت ملک کے سارے ہی ادارے سخت اضمحلال کا شکار ہیں لیکن جس ادارے کی اصلاح کی سب سے پہلے اور سب سے زیادہ فکر کرنی چاہیے وہ عدلیہ کا ادارہ ہے۔ اگر حالات کا بے لاگ جائزہ لیا جائے تو بڑے دکھ سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ آج ملک میں عام آدمی کے لیے انصاف کا حصول سب سے مشکل بن گیا ہے۔ پولیس کی بدعنوانی اپنی جگہ‘ لیکن عدلیہ کا ادارہ جس حد تک انصاف فراہم کرنے اور اپنے کو مفادات‘ بااثر عناصر کے دبائو اور خود حکومت وقت کی دراندازیوں سے بالا رکھ کر اصلاح احوال کے لیے جو کردار ادا کر سکتا ہے وہ اس میں کامیاب نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روز بروز عوام کا اعتماد پورے نظامِ عدل پر‘ نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ ترین سطح تک بری طرح مجروح ہوا ہے۔ اس باب میں قوم جن مسائل سے دوچار ہے ان میں اہم ترین یہ ہیں:

اولاً ‘قوانین کی بھرمار ہے‘ مگر قانون کا احترام عنقا ہے۔ قوانین کی اکثریت سامراجی دور کا عطیہ ہے اور آزادی کے حصول کے بعد ۵۷ سال گزر جانے کے باوجود ان قوانین میں آزادی کے تقاضوں اور اسلامی قانون و روایات سے ہم آہنگی کے حصول کے لیے کوئی ہمہ گیر تبدیلی نہیں کی گئی۔ دسیوں قانونی کمیشن بنے ہیں اور اسلامی نظریاتی کونسل اور اعلیٰ عدالتی کمیشن  نے سفارشات پیش کی ہیں لیکن حکومت اور پارلیمنٹ نے ان پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ حالانکہ ۱۹۷۳ء کے دستور کے تحت بنیادی حقوق کے نقطۂ نظر سے ملک کے قوانین کی اصلاح کا کام دوسال کے اندر اور اسلامی احکام و قوانین کے اعتبار سے سات سال کے اندر مکمل ہوجاناچاہیے تھا۔ آج بھی اگر پارلیمنٹ دن رات اس کے لیے کام کرے تو یہ مقصد ایک متعین مدت میں حاصل ہو سکتا ہے۔ اس سے عوام او رعدلیہ دونوں کا کام آسان ہو جائے گا۔

دوسری بنیادی چیز ہر سطح پر عدلیہ میں ججوں کے انتخاب‘ ان کی تربیت اور احتساب کے نظام کا مؤثر ہونا ہے۔ ججوں کے انتخاب میں دو ہی بنیادیں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں‘ یعنی قابلیت (merit) اور دیانت(integrity)۔ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح عدلیہ میں بھی تقرر کا نظام نہایت ناقص اور سیاسی اور دوسری مصلحتوں کے تابع ہے جس کے نتیجے میں ہر سطح پر عدلیہ میں ایسے عناصر در آئے ہیں جن کی صلاحیت اور دیانت دونوں شک و شبہے سے بالا نہیں۔ عدلیہ کو جس تربیتی نظام اور جس نظام احتساب کی ضرورت ہے وہ نہایت غیر مؤثر ہے۔ دستور نے اعلیٰ عدالتوں کے لیے تقرری کا جو نظام تجویز کیا ہے اس پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ حالیہ تجربات اور دنیا کے دوسرے ممالک کے اقدامات کی روشنی میں جن چیزوں کی فوری ضرورت ہے وہ یہ ہیں:

ا-             عدلیہ کو مکمل طور پر انتظامیہ سے آزاد کیا جائے اور اس سلسلے میں طے شدہ پالیسیوں پر مکمل طور پر عمل ہونا چاہیے۔ جس میں مرکزی وزارت قانون میں ججوں کا بطور سیکرٹیری تقرر اور صوبوں کے چیف جسٹس صاحبان کا قائم مقام گورنر مقرر کیا جانا بالکل ختم ہونا چاہیے۔

۲-            ججوں کے تقرر کا نظام بھی اصلاح طلب ہے اور اس کے لیے بھارت کے حالیہ انتخابات کی روشنی میں اس پر غور ہونا چاہیے کہ دستوری ترمیم کے ذریعے ایک بالکل آزاد ادارہ نیشنل جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے جو مرکز اور صوبوں کی سطح پر ججوں کے تقرر کے لیے صدرمملکت کو ایک پینل کی سفارش کرے اور صدر اسی پینل میں سے تقرر کا پابند ہو۔

۳-            ججوں کی تعداد میں بھی ضرورت کے مطابق اضافے کی ضرورت ہے۔ اس وقت ملک میں مقدمات کی بھرمار ہے اور پورے ملک میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد مقدمات (۵ ہزار سے زائد سزاے موت کے مقدمات) زیرسماعت ہیں۔ انصاف میں تاخیر انصاف سے محرومی کی ایک شکل ہے۔ ہمارے ملک میں حال یہ ہے کہ مقدمے کے فیصلے کے انتظار میں زندگی کے دن تمام ہوجاتے ہیں مگر مقدمے سے نجات نہیں ملتی۔ اس کی کئی وجوہ ہیں جن میں ججوں کی تعداد کی کمی‘ ججوں کی اسامیوں کا بلاجواز خالی رکھنا (اس وقت اعلیٰ عدالتوں میں مجموعی طور پر ۲۶ سیٹیں خالی ہیں‘ سپریم کورٹ میں ۴‘ لاہور ہائی کورٹ میں ۱۲‘ سندھ میں ۶‘ پشاور میں ۲ اور بلوچستان میں ۱۲)‘ وکیلوں کا بار بار مقدمات کی سماعت ملتوی کرانا‘ عدالت کے انتظامی نظام میں کرپشن اور ناقص کارکردگی‘ ججوں کی کارکردگی کے جائزے اور احتساب کے نظام کی کمزوریاں قابل ذکر ہیں۔ دنیا بھر میں قاعدہ ہے کہ ایک مقدمہ جب ضروری تفتیش مکمل ہونے کے بعد شروع ہوجاتاہے تو پھر اسے فیصلے تک تسلسل سے جاری رکھا جاتا ہے۔ مقدمات کے فیصلے میں تاخیر کی ذمہ داری عدالت‘ پولیس ‘ وکلا اور عوام سب پر آتی ہے اور اس کے مؤثر تدارک کی ضرورت ہے۔

۴-            ججوں کی مدت ملازمت پر بھی معروضی انداز میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔نیز ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد مختلف بامعاوضہ ذمہ داریوں کے لیے ان کے دستیاب ہونے کے بھی اچھے نتائج سامنے نہیں آتے ہیں۔ اس لیے اس مسئلے پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھائی جائے‘ پنشن میں اتنا اضافہ ہو کہ ان کو ملازمت کی حاجت نہ رہے اور ان کی صلاحیتوں سے صرف تعلیم‘ تحقیق اور نیم عدالتی نوعیت کے کاموں میں فائدہ اٹھایا جائے جس کی کوئی تنخواہ نہ ہو بلکہ صرف ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اس طرح مدت ملازمت کے بعد کی ترغیبات کا دروازہ بند کیا جا سکتا ہے۔

۵-            ہر سطح پر ججوں کے تقرر‘ ترقی اور احتساب کا نظام قائم کیا جائے۔

۶-            ہر سطح پر ججوں کے لیے تربیت‘ تحقیق اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں۔

۷-            عدلیہ کے حضرات کو خود بھی اپنے احتساب کی فکر کرنی چاہیے۔ جسٹس محمد منیر سے لے کر جسٹس ارشاد احمد خان تک جج حضرات میں سے کچھ نے جس طرح سرکاری اثرات کو قبول کیا اور قانون اور عدل پر سیاسی اثرات کو قبول کیا‘ وہ عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے کا ذریعہ بنا ہے۔ جج حضرات جس طرح سیاسی اور سماجی محفلوں میں شریک ہو رہے ہیں اس سے ان کی غیر جانب داری کا تاثر متاثر ہو رہا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ جس طرح کا سیاسی کردار ادا کر رہے ہیں وہ ان کے ماقبل کے دور کے بارے میں بھی لوگوں کے اعتماد پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ یہ تمام بڑے نازک معاملات ہیں اور ان کے بارے میں آداب اور روایات کی ذمہ داری خود عدلیہ پر ہے تاکہ اس کا کردار ہر طرح کی انگشت نمائی سے بالا رہے۔

ہمارے دستور کے تحت عدلیہ کی ذمہ داری صرف قانون کی پاسداری کی نہیں بلکہ دستور کی اطاعت اور حقوقِ انسانی کے سلسلے میں عوام کے حقوق کی حفاظت بھی ہے۔ اب تو عدالتی فعالیت (judicial activism) ایک معروف حقیقت بن گیا ہے۔ اس پس منظر میں عدلیہ کا ہر قسم کی سیاسی جانب داری سے پاک ہونا‘ حکومت کے اثرات سے اپنے کو محفوظ رکھنا اور دیانت اور ذہانت کے اعلیٰ ترین معیارات پر پورا ہونا ازبس ضروری ہے۔ چیف جسٹس صاحب نے عدلیہ پر اعتماد کے مسئلے کو اٹھا کر ان تمام پہلوئوں پر ازسرنو غوروفکر کی دعوت دی ہے۔ ہماری رائے میں اس مسئلے پر کھلی بحث ہونی چاہیے اور پارلیمنٹ کو جلد از جلد اس کو زیرغور لاکر ضروری قانون سازی کر کے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

’’روشن خیالی‘‘ اور ’’اعتدال پسندی‘‘ بڑ ے خوش نما الفاظ ہی نہیں‘ بڑے دل پذیر تصورات بھی ہیں۔ اگر مسلمان تہذیب و ثقافت‘ معاشرت اور شریعت پر اسلام کے فکری‘ نظریاتی اور اخلاقی تناظر میں غور کیا جائے‘ تو یہ اس دین اور تہذیب کی امتیازی خصوصیات میں سے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاملہ عقیدے کا ہو یا عمل کا‘ فرد کی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی‘ عبادت ہو یا معیشت‘ حتیٰ کہ دوستی کے امور ہوں یا دشمنی اور جنگ کے‘ ان سب میں اسلام نے عدل کا حکم دیا ہے جو اعتدال اور توازن کی علامت ہے۔ اسلام نے ہر سطح پر ہراقدام کے لیے احتساب کی شرط لگائی ہے جو شعور‘ اختیار اور روشن خیالی پر منحصر ہے اور تعصب‘ جہل اور جانب داری سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اُمت مسلمہ کو خیراُمت اور اُمت وسط قرار دیا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام امور میں میانہ روی اور وسط کی راہ کو بہترین راستہ اور طریقہ قرار دیا ہے (خیر الامور اوسطہا)۔ اس لیے اگر روشن خیال اعتدال پسندی کی بات کی جائے    تو اس پر تعجب یا اعتراض کچھ بے محل معلوم ہوتا ہے۔ لیکن مشکل یہ آپڑی ہے کہ آج جس   ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کی بات کی جا رہی ہے اس کا پس منظر ہمارا اپنا دین‘ ہماری اپنی تہذیب‘ ہماری اپنی روایت اور ہماری ضرورت نہیں بلکہ وہ ایک خاص تاریخی عمل کا حصہ بن گئی ہے اور دنیا کے‘ خصوصیت سے‘ مسلم دنیا کے لیے جس نئے سیاسی اور تہذیبی نقشے میں رنگ بھرا جارہا ہے‘ اس کا اہم رنگ ہے۔ عالمی حالات اور رجحانات کا جائزہ لیجیے تو صاف نظر آ رہا ہے کہ اس کا تعلق بیرونی دبائو اور مطالبات سے ہے۔

جو نیا عالمی نظام وضع کیا جا رہا ہے وہ استعمار کی سب سے جامع اور گمبھیر صورت (version) ہے جس میں عسکری‘ سیاسی‘ معاشی اور ثقافتی پہلو مساوی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کا ہدف دنیا کے تمام ممالک اور اقوام کو ایک سوپر پاورامریکا کی صرف سیاسی اور عسکری چھتری تلے لانا نہیں بلکہ فکری‘ معاشی‘ مالیاتی اور ثقافتی طور پر بھی ایک ہی نظامِ اقدار (value system) سب پر مسلط کرنے کا منصوبہ ہے۔ اسے جبر واختیار اور ترغیب و ترہیب کے ہر ممکنہ ذرائع کے استعمال سے کامیاب کرانا مقصود ہے۔ اس ہمہ جہتی حکمت پر سرد جنگ کے دور کے ختم ہونے کے بعد سے‘ بڑی چابک دستی سے عمل کیا جا رہا ہے اور ۱۱ستمبر کے بعد کے اقدامات اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اسے سمجھے بغیر روشن خیالی اور میانہ روی کی جو آوازیں آج اٹھ رہی ہیں‘ ان کی حقیقت اور مضمرات کو سمجھنا ممکن نہیں۔ اس ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کا کوئی تعلق ہماری اپنی ضروریات سے نہیں‘ یہ ہمارے اپنے تہذیبی لنگر سے مربوط اور وابستہ نہیں بلکہ یہ عنوان ہے اس تبدیلی کا‘ جو اسلام اور مسلم معاشرے اور تہذیب کو‘ اس کی اپنی اساس سے ہٹاکر‘ مغرب سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کی جا رہی ہے اور آج سے نہیں سامراج کی یلغار کے پہلے دور ہی سے کی جا رہی ہے۔ البتہ استعمار کی تازہ یورش میں اس کو ایک زیادہ مرکزی کردار دیا گیا ہے۔

گذشتہ ربع صدی میں امریکی دانش ور‘ پالیسی ساز اور میڈیا ایک نئی تہذیبی  جنگ میں مصروف ہے اور اس کا ہدف مغرب کے لبرل‘ معاشی اور سیاسی نظام کو پوری دنیا پر مسلط کرنا ہے۔ ہم انھی صفحات میں اس سلسلے میں دسیوں کتب اور تحقیقی اور تجزیاتی رپورٹوں کا ذکر کر سکتے ہیں۔ اس پوری حکمت عملی کو مشہور امریکی رسالہ فارن پالیسی (Foreign Policy) کے ایڈیٹر جوزف نائی (Joseph Nye) نے اپنے ایک مضمون میں کسی تکلف کے بغیر مختصر طور پر بیان کردیا ہے۔ وہ کہتا ہے:

عالمی سیاست میں طاقت کی نوعیت میں تبدیلی آ رہی ہے۔ طاقت کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو حاصل کرنا چاہتے ہیں حاصل کریں۔ اور اگر ضروری ہو تو اسے امر واقع بنانے کے لیے دوسروں کے رویوں کو تبدیل کر دیں۔

(Re-Ordering the World: The Long-term implications of 11th Sept. ed. by Mark Leonard. Foreword by Tony Blair, The Foreign Policy Centre, London 2002)

اس کے لیے روایتی طور پر سب سے اہم ذریعہ جنگ رہی ہے اور ایک عظیم طاقت کی قوت کا پیمانہ جنگ کی استعداد ہی ہوا کرتا ہے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ:

جنگ وہ آخری اور قطعی کھیل ہے جس میں عالمی سیاست کے کارڈ کھیلے جاتے ہیں اور طاقت کا تناسب ثابت کیا جاتا ہے۔

البتہ اب نیوکلیر اسلحے کے ایک کارفرما قوت بن جانے سے حالات کروٹ لے رہے ہیں۔ نیز دنیا کی مختلف اقوام میں قومیت کے تصور کے جاگزیں ہوجانے سے عالمی سیاست کے دروبست میں تبدیلی آگئی ہے۔ اسی طرح عالمی سرمایہ داری کی موجودہ شکل جس میں معاشی فوائد کا حصول‘ دنیا کے ممالک کی منڈیوں پر قبضے کے ذریعے ان سے فائدہ اٹھانے کے اسلوب‘ کثیرالقومی کمپنیوں کا کردار یہ سب جنگ اور محض قوت کے ذریعے دوسروں کو قبضے میں رکھنے کو اگر مشکل نہیں تو مہنگا (too costly)بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں فوجی اورمعاشی قوت جسے وہ Hard Power کہتا ہے مؤثرتو ہیں لیکن اب جن عوامل کا کردار بڑھ رہا ہے انھیں جوزف نائی Soft Powerکہتا ہے:

اس صورت میں یہ بات اہمیت رکھتی ہے کہ عالمی سیاست کا ایجنڈا ترتیب دیا جائے اور دوسروں کو فوجی اور اقتصادی ہتھیاروں کی دھمکی یا استعمال کے ذریعے بزور طاقت اس طرف لایا جائے۔ طاقت کا یہ پہلو کہ دوسرے وہ چاہنے لگیں جوآپ چاہتے ہیں‘ نرم طاقت (Soft Power)کہا جاتا ہے۔ نرم طاقت کا انحصار سیاسی ایجنڈے کو اس طرح ترتیب دینے کی قابلیت پر ہوتا ہے جو دوسروں کی ترجیحات کا تعین کرے۔

اس حکمت عملی پر مؤثر عمل کے لیے ابلاغ کی قوت کا استعمال مرکزی اہمیت رکھتا ہے اور اقتصادی قوت کا ہدف افکار‘ اقدار‘ کلچر کی تبدیلی ہے۔ اس نئی جنگ میںاصل مزاحم قوت مقابل تہذیب کا عقیدہ‘ نظریہ‘ اصول اور اقدار بن جاتے ہیں۔ اسلامی دنیا میں عوام کی اسلام سے وابستگی اور اپنی تہذیب اور اقدار کے بارے میں استقامت--- مغرب کے لیے سب سے بڑا دردسر بنی ہوئی ہے۔ جوزف نائی اعتراف کرتا ہے کہ:

یقینی طور پر ایسے علاقے ہیں‘ جیسے شرق اوسط‘ جہاں امریکی کلچر کے حوالے سے گومگو یا  مکمل مخالفت کی کیفیت اس کی ’نرم طاقت‘ کو محدود کر دیتی ہے۔

یہ ہے اصل مخمصہ! اور اس کا حل تجویز ہوا ہے مسلم ممالک میں ’روشن خیالی‘ اور ’اعتدال پسندی‘ کی حکمت عملی کا فروغ کہ اس طرح مسلم دنیا کو اس کی اپنی بنیادوں سے ہلا کر مغرب کے رنگ میں رنگنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے مسلمان عورت کا حجاب بھی توپ اور میزائل کی طرح خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ اسلام سے مسلمانوں کی وابستگی اور اپنی ثقافت اور روایت سے محبت مغرب کی نگاہ میں اس کے عزائم کے حصول کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسلام میں دین و سیاست کا ناقابلِ تقسیم ہونا اصل سدِّراہ ہے۔

جہاد کا جذبہ جو دفاع کا مؤثر ترین ذریعہ ہے‘ ان کی آنکھوں کا کانٹاہے۔ مسئلہ بنیاد پرستی نہیں‘ اسلام کا ایک مکمل نظامِ زندگی ہونے کا تصور ہے۔ یہ مغرب کی نگاہ میں اصل سنگِ راہ ہے۔ ایک جرمن مستشرق خاتون ایندریا لوئیگ (Andrea Lueg) اپنے ایک مضمون The Perception of Islam in Western Debate میں صاف الفاظ میں مغرب کے دانش وروں کے اس یقین کو یوں پیش کرتی ہے:

مغرب اسلام کو ایک ایسے مذہب کے طور پر زیربحث لاتا ہے جو اسلامی ممالک کے بے شمار سیاسی‘ ثقافتی اور سماجی مظاہرکا ذمہ دار ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ اسلام ایک مذہب کی حیثیت سے مغربی ممالک میں خوف پیدا کرتا ہے۔ مذہب کا وہ خوف جو ہمارا خیال ہے کہ ہم نے اپنے روشن خیال معاشروں سے ختم کر دیا ہے۔

The Next Threat: Perception of Islam, ed. by Jochen Heppila and Andrea Lueg, Pluto Press, London 1995, p27)

اس کتاب میں نیویارک ٹائمز میگزین کے ۳۱مئی ۱۹۹۲ء کے شمارے میںجے ملر (J.Miller) کے ایک مضمون The Islamic Wave کا حوالہ قابلِ غور ہے:

مغرب اسلام کی بڑھتی ہوئی سیاسی مقبولیت کو خطرناک‘ یک رخی اور عجیب قرار دیتا ہے۔ جنگجو اسلام کے فروغ نے اس شدید بحث کا آغاز کر دیا ہے کہ مغرب اس کے بارے میں کیا کچھ کر سکتا ہے یا کرنا چاہیے۔ کچھ امریکی سرکاری افسران اور مبصرین نے پہلے ہی جنگجو اسلام کو مغرب کا اگلا دشمن قرار دے دیا ہے جس کو اسی طرح قابو میں رکھنے کی ضرورت ہے جس طرح سرد جنگ میں کمیونزم کو کیا گیا تھا۔ (ص ۱۳۱)

اس پس منظر میں امریکی اور یورپی دانش وروں اور پالیسی ساز اداروں کی کوشش ہے کہ اسلامی دنیا کو بنیاد پرست‘ جنگجو اور لبرل‘روشن خیال اور اعتدال پسندوں میں تقسیم کریں۔ جسے وہ بنیاد پرست‘ جہادی‘ اور مزاحم قوت سمجھتے ہیں اسے ختم کیا جائے اور اس کی جگہ اسلام کے ایک لبرل ورژن کو فروغ دیا جائے۔  نیوزویک کے مدیر بھارت نژاد امریکی فرید زکریا اسی حکمت عملی کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

اوّلین طور پر ہمیں عرب اعتدال پسند ریاستوں کی مدد کرنی چاہیے لیکن اس شرط پر کہ وہ فی الواقع اعتدال پسندی کو مکمل طور پر اختیار کریں۔ ہم مسلمان اعتدال پسند گروہ اور اہل علم تیار کر سکتے ہیں اور ان کی تازہ فکر عرب دنیا میں نشر کرسکتے ہیں جن کا مقصد یہ ہو کہ بنیاد پرستوں کی طاقت کو توڑا جائے۔ (Re Ordering The World ‘ ص ۴۷)

یہ ہے وہ پس منظر جس میں جنرل پرویز مشرف صاحب کی ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کی تازہ حکمت عملی کی اصل معنویت اور مناسبت (relevance) کو سمجھا جا سکتا ہے۔ نیتوں کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے‘ لیکن انسانی جائزوں کا انحصار ظاہری عوامل ہی پر ہوتا ہے۔ جنرل صاحب نے اپنے اقتدار کے اولیں ایام میں اتاترک کی بات کی‘ پھر عوامی دبائو میں تاویلیں کیں‘ جب موقع ملا حدود قوانین اور اہانتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا۔ موقع بے موقع اسلام میں لبرلزم کا ذکر کیا۔ پھر جہاد اور جنگِ آزادی اور دہشت گردی کے فرق کو یکسر نظرانداز کرنا شروع کیا اور اب کھل کر روشن خیال اعتدال پسندی کے نام سے اسلام میں نشات ثانیہ اور دہشت گردی کی تباہ کاریوں پر دل گرفتگی کا اظہار کرتے ہوئے اور تصادم کے مضراثرات سے خائف کرتے ہوئے نہ صرف روشن خیال اعتدال پسندی اور لبرلزم کا درس دے رہے ہیں بلکہ پہلی بار کھل کر کہہ رہے ہیں کہ اسلام کا جدت پسندی اور سیکولرازم سے کوئی تصادم نہیں‘ یہ ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ سیکولرازم کی اتنی کھلی تائید انھوں نے پہلی بار کی ہے اور اس طرح روشن خیالی کی بلی تھیلی سے باہرآگئی ہے۔ اب ان کے پورے وعظ و تلقین کی شان نزول اور روشنی کا منبع بھی کسی پردے میں نہیں رہا۔ نیز یہ بھی کہ یہ آواز نئی نہیں‘ بلکہ بار بار اٹھائی جاتی رہی ہے۔ لبرلزم کے ایسے ہی وعظ ہم سو سال سے سن رہے ہیں۔ اقبال نے مغرب کے مقاصد کی تکمیل کرنے والے دانش وروں اور حکمرانوں کے فکری اور تہذیبی دیوالیہ پن کا بہت پہلے ماتم کر کے ان سے اُمت کو ہوشیار کیا تھا:

ترا وجود سراپا تجلیِ افرنگ

کہ تو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیر

مگر یہ پیکر خاکی خودی سے ہے خالی

فقط نیام ہے تُو زر و نگار و بے شمشیر

اور یہ کہ     ؎

لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازۂ تجدید

مشرق میں ہے تقلیدِ فرنگی کا بہانہ

اسلام پر حملہ کبھی باہر سے ہوتا ہے ‘ کبھی اندر سے‘ کبھی کھل کر ہوتا ہے اور کبھی چھپ کر‘ اور کبھی تحریف کے ذریعے ہوتا ہے تو کبھی تعبیر کے نام پر۔ کبھی دشمنی کے انداز میں ہوتا ہے اور کبھی اصلاح کے نام پر۔ چراغ مصطفویؐ اور شرار بولہبی بہرصورت ہر دور میں اور ہر میدان میں برسرِپیکار رہے ہیں اور رہیں گے۔


روشن خیالی اور اعتدال پسندی وہی مطلوب ہے جو اللہ کی بندگی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے وابستہ ہو۔ ایمان‘ تقویٰ‘ عبادت‘ شریعت سے وفاداری‘ اُمت کے حقوق کی ادایگی اور آخرت کی جواب دہی کا احساس وہ فریم ورک فراہم کرتے ہیں جس میں اسلام کی انصاف‘ اعتدال اور توازن پر مبنی مثالی تہذیب کی صورت گری ہوتی ہے۔ یہ ہدایت پر مبنی اور ہویٰ (خواہشِ نفس) سے پاک روشن خیالی اور اعتدال پسندی ہے۔ جو روشن خیالی اور اعتدال پسندی اسلام میں معتبر ہے۔ اس کی بنیاد وہ دعا ہے جو ہر مسلمان نماز کی ہر رکعت میں اپنے رب سے مانگتا ہے یعنی:

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ o صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ

اے رب! ہمیں سیدھا راستہ دکھا‘ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا‘ جو معتوب نہیں ہوئے‘ جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں۔

ہدایت کوئی مبہم اور غیرمتعین شے نہیں‘ وہ اللہ کی وحی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے عبارت ہے اور روشنی کا اصل منبع یہی رہنمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روشن خیالی کا ماخذ اس سے ہٹ کر کوئی دوسری شے نہیں ہوسکتی۔ اللہ ہی کائنات کا نور ہے (اللّٰہ نور السموات والارض) اور اللہ کی کتاب ہی انسانوں کو تاریکیوں سے نور کی طرف لاتی ہے:

یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ کُمْ بُرْھَانٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا (النساء ۴:۱۷۴)

لوگو! تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس دلیل روشن آگئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمھیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَاعْتَصَمُوْا بِہٖ فَسَیُدْخِلُہُمْ فِیْ رَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَفَضْلٍ وَّیَہْدِیْہِمْ اِلَیْہِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا (النساء ۴:۱۷۵)

اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے ان کو اللہ اپنی رحمت اور فضل و کرم کے دامن میں لے لے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ ان کو دکھا دے گا۔

یَّہْدِیْ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہ‘ سُبُلَ السَّلٰمِ وَیُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِہٖ وَیَہْدِیْہِمْ اِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (المائدہ ۵:۱۶)

تمھارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اُجالے کی طرف لاتا ہے اور راہِ راست کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔

واضح رہے کہ راہ راست ہی اعتدال کی راہ ہے۔ اسی لیے اس اُمت کو اُمت وسط (البقرہ ۲:۱۴۳) اور انصاف اور عدل کو‘ جو توازن‘ حسن‘ ہم آہنگی اور میانہ روی کا جامع ہے‘ اس اُمت کا مشن اور اس کی امتیازی شان قرار دیا (النساء ۴:۱۳۵‘ المائدہ ۵:۸‘ الاعراف ۷:۲۹‘ النحل ۱۶:۹۰) اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی زندگی کے لیے یہ زریں اصول مقرر فرما دیا کہ خیرالامور اوسطھا --- تمام معاملات میں میانہ روی اور اعتدال پسندی ہی بہترین طریقہ ہے۔

حقیقی روشن خیالی اور اعتدال پسندی قرآن و سنت کی مکمل اطاعت اور پاسداری سے عبارت ہے جو ہمارے نظام زندگی میں پہلے سے موجود (built-in) ہے اسے کہیں باہر سے لانے اور دوسروں کی خواہشات اور مطالبات کی روشنی میں کسی انتخاب و اختیار (pick and choose) اور کسی تراش خراش کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ کی نگاہ میں اس کے دین میں کمی بیشی اور دوسروں کی خواہشات کی روشنی میں رد و قبول سے بڑا کوئی جرم نہیں۔ اس پر دنیا میں خسارے اور آخرت میں بدترین عذاب کی وعید ہے۔

اسلام میں روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا جو مقام ہے‘ وہ شریعت کے اس کلّی مثالیے (paradigm) کا حصہ ہے‘ اس سے جدا کوئی جز نہیں۔ اس میں تحریف‘ غلو‘ قطع و برید اور جاہلانہ تعبیرات سے تحفظ اور الفاظ و معانی اور قانون اور روحِ قانون کا ناقابلِ انقطاع رشتہ ہے۔ حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو ہمیشہ صحیح راستے پر قائم رکھنے کے لیے جو نسخۂ کیمیا تجویز فرمایا ہے‘ وہی روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے حدود اربعہ کو طے کر لیتا ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے:

عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْعُذْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَحْمِلُ ھَذَا الْعِلْمَ مِنْ کُلِّ خَلَفٍ عُدُوْ لُہٗ یَنْفُوْنَ عَنْہٗ تَحْرِیْفَ الْغَالِیْنَ وَاِنْتِحَالَ الْمُبْطِلِیْنَ وَتَاْوِیْلَ الْجَاھِلِیْنَ (مشکوٰۃ)

اس علم کے حامل ہر نسل میں وہ لوگ ہوں گے جو دیانت و تقویٰ سے متصف ہوں گے وہ اس دین کی غلوپسندوں کی تحریف‘ اہلِ باطل کی غلط نسبت و انتساب اور جاہلوں کی تاویلات سے حفاظت فرمائیں۔

یہ ہے اسلام کی کھلی شاہراہ۔ لیکن جس لبرلزم‘ ماڈرنزم‘ روشن خیالی اور اعتدال پسندی کی بات امریکی دانش ور اور پالیسی ساز کر رہے ہیں اور جس کی بازگشت خود ہمارے کچھ حکمرانوں اور دانش وروں کی تحریروں اور تقریروں میں سنی جاسکتی ہے اُس میں اور اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔


چراغ مصطفویؐ سے جو روشن خیالی اور اعتدال پسندی رونما ہوتی ہے‘ وہ شریعت اسلامی کے بے کم و کاست اتباع سے عبارت ہے۔ اس کے مقابلے میں ’شراربولہبی‘ کا جو تقاضا اور مطالبہ ہے وہ یہ ہے کہ وقت کی جابر اور بالادست قوتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کے دین‘ اقدار اور تصورِ زندگی کو قبول کیا جائے‘ ان کے تصور ترقی کو اختیار کیا جائے‘ ان کے رنگ میں اپنے کو رنگ لیا جائے اور ان کے دیے ہوئے معیار کے مطابق اور ان کے پسندیدہ پیمانوں میں   اللہ کے دین کو ڈھال دیا جائے۔ گویا جس طرح اکبر بادشاہ نے اپنے دور کے باغیوں کو خوش کرنے کے لیے ایک ’’دین الٰہی‘‘ بنانے کی جسارت کی تھی‘ اسی طرح آج امریکہ اور مغرب کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ایک نیا ’اسلام‘ وضع کیا جائے جو اُمت کے مرکز سے ہٹ کر ملک اور مقامی مفادات کو مرکز بنائے اور جس کا اصل ہدف شریعت کو عملاً معطل کرکے دین و دنیا کی تفریق اور ماڈرنائزیشن کے نام پر مغربیت کے لیے راہ ہموار کرے۔ اس طرح اسلام کا نام باقی رکھ کر ایک سیکولر نظامِ زندگی پروان چڑھایا جائے تاکہ اسے امریکہ اور مغرب کے حکمران اور دانش ور ’روشن خیال اور اعتدال پسند‘ تسلیم کریں‘ جس کو وہ فنڈامنٹلزم اور انتہاپسندی قرار نہ دیں بلکہ اس ’اسلام‘ میں وہ اپنی تہذیبی اقدار اور عادات و اطوار کی جھلک دیکھ سکیں اور اس پر ’ترقی پسندی‘ کی مہر لگا سکیں۔

’چراغ مصطفویؐ ،اور ’شرار بولہبی‘ کی دائمی ستیزہ کاری اور اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلام اور اکبری دین الٰہی کی پیکار کی یاد دہانی کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ ۱۱ستمبر کے بعد مسلم دنیا اور خصوصیت سے پاکستان پر امریکی اثرات بلکہ تسلط کا جو آغاز عسکری تعاون اور سیاسی تابع داری سے ہوا تھا‘ وہ اب نظریاتی‘ تعلیمی اور ثقافتی غلامی کے دائروں تک وسیع ہوتا جارہا ہے۔ اب اس کے لیے ایک تصوراتی خاکہ (conceptual framework) بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ جس کی خصوصی سعادت ہمارے جنرل پرویز مشرف کو حاصل ہو رہی ہے۔ پہلے انھوں نے اپنی تقریروں میں اور اپنے مختلف سیاسی حلیفوں سے ملاقاتوں میں ایک نئے وژن اور ایک تصوراتی ہیولا کی طرف اشارے کیے‘ پھر او آئی سی کے کولالمپور میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں اس ادارے کی تشکیلِ نو کے عنوان سے اُمت مسلمہ کے لیے ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کی ایک حکمت عملی پیش کرنے کی سعی بلیغ فرمائی اور اب ۲ جون ۲۰۰۴ء کو امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ کے ایک مضمون کی شکل میں اپنے اس نئے فلسفے کو‘ غالباً اپنی پہلی تحریر کے طور پر پیش کیا ہے جسے پاکستان کے تمام اخبارات نے بھی نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ او آئی سی کے وزراے خارجہ کے اجلاس منعقدہ استنبول میں ان کی پیش کردہ حکمت عملی (روشن خیال اعتدال پسندی- Enlightened Moderation)کو خود او آئی سی کے ہدف کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔ اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ اس تصوراتی خاکے اور حکمت عملی کا معروضی جائزہ لیا جائے اور اس کے حسن و قبح کو علمی تجزیے کے ذریعے واضح کیا جائے تاکہ اُمت کے رہے سہے گلشن کو شرار بولہبی کی آتش زنی سے محفوظ کیا جا سکے۔

جنرل صاحب نے ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کا جو نظریہ پیش فرمایا ہے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ:

دنیا ۹۰ء کے عشرے کے آغاز سے لے کر اب تک‘ ایک انتہائی ابتری اور افراتفری کے دور سے گزر رہی ہے اور اس تشویش ناک صورت حال میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ انتہاپسندوں‘ دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے ہاتھوں معصوم افراد جس المناک صورت حال سے دوچار ہیں اور خاص طور پر میرے ہم مذہب مسلمان بھائی جس عذاب سے گزر رہے ہیں اس نے مجھے اس بات پر مائل کیا ہے کہ میں اس ابتری اور انتشار سے بھری دنیا کو بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کروں۔

ان کی نگاہِ حقیقت شناس نے یہ بھی تاڑ لیا ہے کہ:

دہشت گردی اور انتہا پسندی کے جرائم میں ملوث افراد بھی مسلمان ہیں اور ان کا نشانہ بننے والے بدنصیب بھی اسلام ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔

اور ان کی نگاہ میں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ’’غیر مسلموں میں‘ غلط فہمی کی بنیاد ہی پر سہی مگر ایک عمومی تاثر یہ قائم ہو رہا ہے کہ اسلام عدم رواداری‘ انتہاپسندی اور دہشت گردی کا مذہب ہے‘‘۔

جنرل صاحب ان بے بنیاد تہمتوں سے اتنے خائف اور مرعوب ہیں کہ پہلے ہی شکست تسلیم کرلیتے ہیں یعنی ’’ہم اپنی دلیلوں کے ذریعے ذہنوں میں بیٹھے ہوئے اپنے خلاف تاثرات کو ختم کرنے کی جنگ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے‘‘۔ اور یہ سب کچھ اس لیے کہ ’’مسلمان آج دنیا میں بہت غریب‘ سب سے زیادہ غیرتعلیم یافتہ‘ سب سے زیادہ بے بس اور سب سے زیادہ عدم اتحاد و استحکام کے شکار گروہ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں‘‘۔

اس تجزیے کے بعد جنرل صاحب مسئلے کا حل یہ بتاتے ہیں کہ مسلمان اور غیرمسلم دنیا دونوں ان کی ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کی حکمت عملی کو قبول کرلیں تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔

جنرل صاحب نے تلقین تو مغربی اقوام کو بھی یہی کی ہے اور بہ کمالِ شفقت مغربی دنیا اور بالخصوص امریکا کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ ’’مسلم دنیا کو درپیش تمام سیاسی تنازعات کو عدل و انصاف کے ساتھ مل کرحل کرنا ہوگا اور محروم اور پسماندہ مسلم دنیا کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے معاونت کرنا ہوگی‘‘۔ لیکن ان کا سارا زور اسلام کی ’اصلاح‘ اور مسلمانوں کے رویوں اور عمل کو تبدیل کرنے پر ہے۔ جنرل صاحب نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے جو وژن پیش فرمایا ہے ‘ اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ:

ہمیں اعتدال کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور ہمیں کشادہ نظری کے ساتھ ایک ایسے رویے کو فروغ دینا ہوگا جو اس غلط تصور کو باطل قرار دے سکے کہ اسلام ایک جارحیت پسند دین ہے اور اسلام جدت پسندی‘ جمہوریت اور سیکولرازم سے متصادم ہے۔

اور اس سب کے باوجود جنرل صاحب متنبہ فرما رہے ہیں کہ:

یہ سب کرتے ہوئے یہ بات بھی ہمیں پیشِ نظر رکھنا ہوگی کہ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں‘ ضروری نہیں ہے کہ ہر وقت ہمارے ساتھ پوری طرح وہی سلوک روا رکھا جائے جو حق و انصاف کے اصولوں کے عین مطابق ہو۔

جنرل پرویز مشرف صاحب نے اسلامی دنیا کی جہادی تحریکوں کو‘ ایک ایسے ڈھکے چھپے انداز میں جو ان کی سوچ اور دل کی کیفیت کی غمازی کرتا ہے‘ افغانستان میں روس کے استعماری حملے کے خلاف تحریکِ مزاحمت کا نتیجہ قرار دیا ہے اور ۱۹۹۰ء کے بعد رونما ہونے والی نام نہاد دہشت گردی کو اس سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا ہے۔ وہ جہاد اور آزادی کی تحریکات اور دہشت گردی کے فرق کو سمجھنے اور بیان کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرتے اور امریکی دانش وروں اور پروپیگنڈے کے ماہرین کی تیار کردہ نئی تثلیث یعنی ’بنیاد پرستی، انتہاپسندی اور دہشت گردی‘ کو سارے مسائل کی جڑ قرار دے کر ’روشن خیال‘میانہ روی اور اعتدال پسندی‘ کے داعی بن کر اسلامی دنیا میں نشاتِ ثانیہ کی ضرورت کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ مضمون میں ایک پیراگراف اسلام کے اولین دور اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماڈل کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ہے مگر اس کے بعد نہ مسلمانوں کے عروج اور عالمی قوت بننے کے اسباب پر کوئی روشنی ڈالی ہے اور نہ موجودہ حالت زار کا کوئی علمی تجزیہ کیا ہے۔ بس تان اس پر ٹوٹتی ہے کہ معاشی ترقی اور سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں ہم پیچھے رہ گئے ہیں‘ مقابلے کی سکت ہم میں نہیں ہے۔ خرابی کی جڑ بنیاد پرستی‘ انتہا پسندی اور دہشت گردی ہے اور ہمارے لیے نجات کی کوئی راہ اس کے سوا نہیں کہ مغرب سے ہم آہنگی اختیار کریں اور ’’کشادہ نظری کے ساتھ ایک ایسے رویے کو فروغ دیں جو اس غلط تصور کو باطل کر دے کہ اسلام ایک جارحیت پسند دین ہے اور اسلام جدت پسندی‘ جمہوریت اور سیکولرازم سے متصادم نہیں۔

ان کا تین نکاتی پروگرام یہ ہے کہ :

۱-  جسے مغرب بنیاد پرستی‘ انتہا پسندی اور دہشت گردی کہتا ہے اسے ترک کر دو اور روشن خیال اعتدال پسندی اختیار کرو۔

۲- ساری توجہ معاشی ترقی‘ تعلیم‘ غربت کے خاتمے‘ صحت اور عدل و انصاف کے حصول پر مرکوز کر دو اور اس کے لیے جدت پسندی‘ جمہوریت اور سیکولرازم کا راستہ اختیار کرو۔

۳-  اسلامی کانفرنس کی تنظیم کو مؤثر اور فعال بنائو اور اس میں نئی روح پھونکو تاکہ مسلم دنیا اکیسویں صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکے۔


جنرل پرویز مشرف کے اس مضمون میں دو باتیں ایسی ہیں جن کو ہم مثبت سمجھتے ہیں۔ ایک‘ خواہ کتنے ہی ادب سے انھوں نے کہا ہو لیکن ان کا یہ ارشاد کہ ’’مغربی دنیا کو اور بالخصوص امریکا کو مسلم دنیا کو درپیش تمام سیاسی تنازعات کو عدل و انصاف کے ساتھ حل کرنا ہوگا اور محروم اور پس ماندہ دنیا کی سماجی اور معاشی ترقی میں معاونت کرنا ہوگی‘‘ اور دوسری یہ کہ مسلم دنیا کو اپنے گھر کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے اور اس کے لیے ’’اپنی ساری توانائیاں غربت کو دُور کرنے‘ تعلیم اور صحت اور عدل و انصاف کے مثالی نظام کے ذریعے اپنے افرادی وسائل کو فروغ دینے کے لیے‘‘ صرف کرنی چاہییں۔ ان دونوں باتوں سے کسی کو اختلاف نہیں لیکن جس پس منظر میں انھوں نے روشن خیال اعتدال پسندی کی اپنی حکمت عملی کو پیش کیا ہے اور جن دلائل اور شواہد کے بل بوتے پر کیا ہے‘ وہ بڑا خام اور حالات کی بڑی غلط عکاسی کرنے والا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اُمت مسلمہ کا مقدمہ پیش کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں اور عملاً ان کی اس تحریر سے اسلام اور مسلمانوں پر مغرب کے تمام غلط اور ناروا اعتراضات کی بالواسطہ یا بلاواسطہ تائید ہوتی ہے۔ ہم خود ان کے اور تمام سوچنے سمجھنے والے اہل فکرودانش کے غور کے لیے چند گزارشات پیش کرتے ہیں:

۱-  دہشت گردی نہ ۱۹۹۰ء کے عشرے سے شروع ہوئی ہے اورنہ اس کا تعلق محض مسلمانوں سے ہے جیسا کہ زیربحث مضمون سے ظاہر ہوتا ہے۔ اول تو دہشت گردی کی تعریف ضروری ہے کیوں کہ قوت کے استعمال کی ہر کوشش کو دہشت گردی نہیں کہا جا سکتا۔ پھر دہشت گردی صرف افراد یا گروہوں کی طرف سے ہی نہیں ہوتی حکومتوں کی طرف سے بھی ہوتی ہے۔ آج دہشت گردی کا زیادہ ارتکاب حکومتوں ہی کی طرف سے ہو رہا ہے بلکہ عوامی سطح پر رونما ہونے والی دہشت گردی بالعموم نتیجہ ہوتی ہے تبدیلی کے سیاسی اور پُرامن مواقع کے مسدود کیے جانے اور ریاستی تشدد اور قومی اور بالاتر قوتوں کے طاقت کے بے محابا اور بے جواز استعمال سے۔ دہشت گردی کو ختم کرنے کے نام پر جو دہشت گردی حکومتیں اور ریاستی ایجنسیاں انجام دیتی ہیں‘ وہ اس کی بدترین شکل ہے جسے آج دہشت گردی کہا جا رہا ہے۔ وہ دراصل ریاستی ظلم اور استبداد اور بالاتر قوتوں کا اپنے کو قانون‘ انصاف اور جمہوری روایات سے آزاد قرار دے لینے اور طاقت ور عناصر کی کمزوریوں پر دست درازیوں کی پیداوار ہے۔ یہ سیاسی مسائل کو سیاسی طریق کار سے حل نہ کرنے اور محض قوت سے حل کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

جنرل صاحب کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ جسے وہ اور امریکا دہشت گردی کہہ رہے ہیں وہ ۱۹۹۰ء میں افغانستان میں جہادی جدوجہد‘ روس کی پسپائی اور بعد میں امریکا کے تغافل سے پیدا ہوئی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ جہادی سرگرمیوں کا آغاز افغانستان میں روس کی فوج کشی سے ہوا اور نہ دنیا میں دہشت گردی کا آغازمسلم دنیا سے ہوا۔ بنیادی طور پر دہشت گردی یورپ کی استعماری اور فسطائی حکومتوں کے خلاف عوامی ردعمل کی ایک شکل کو قرار دیا گیا ہے جس میں غیر ریاستی عناصر مسلح سیاسی مقاصد کے لیے جدوجہد پر مجبور ہوئے ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اورخصوصیت سے مغربی دنیا میں گذشتہ ڈیڑھ سو سال میں اور دنیا کے دوسرے ممالک میں بیرونی استعماری قوتوں کی مزاحمت کی مختلف تحریکوں نے اس راستے کو اختیار کیا ہے۔

یہ دورِ جدید کی تاریخ کا ایک خاص پہلو ہے جس کا کسی مذہب یا علاقے سے تعلق نہیں۔ سیکڑوں کتابیں اور ہزاروں مقالات اس کے مختلف پہلوئوں پرلکھے گئے ہیں۔ ہم صرف ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہیں جسے مارتھا کرنسٹارڈ (Martha Crenstard )نے مرتب کیا ہے اور Terrorism in Context کے نام سے امریکا کی پینسلوانیا اسٹیٹ یونی ورسٹی پریس نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب ۱۱ستمبر کے واقعہ سے ۶ سال پہلے شائع ہوئی ہے اور اس میں مغرب اور مشرق کی درجنوں دہشت گرد تحریکوں کی پوری تاریخ بیان کی گئی ہے۔ نیز مغرب کے سیاسی مفکرین نے‘ خاص طور پر یورپ‘ لاطینی امریکا اور افریقہ کے دانش وروں نے ظالم حکمرانوں اور سامراجی حکومتوں کے خلاف مسلح جدوجہد کا کیا کیا جواز پیش کیا ہے اور اس بحث کو یورپ اور امریکا کے تاریخی تناظر میں انقلابی دہشت گردی (Revolutionary Terrorism) اور انارکسٹ دہشت گردی کے زمروں (Categories) میں بیان کیا ہے۔ شاید ہی دنیا کا کوئی حصہ ہو جہاں گذشتہ ڈیڑھ سو سال میں ایک نہیں‘ کئی کئی تحریکیں ایسی نہ اٹھی ہوں جنھیں آج کی اصطلاح میں دہشت گرد تحریک کہا جاتا ہے۔ ان کے کیا اسباب تھے‘ ذمہ داری کن عناصر پر تھی‘کن تحریکوں کے مثبت نتائج نکلے اور ان کے برپا کرنے والے قومی ہیرو ہی نہیں تاریخی کردار شمار کیے گئے۔ اگر جنرل صاحب اس پورے پس منظر سے واقف نہیں تو انھیں ایسے موضوع پر قلم نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔

۲-  جہادی تحریک کو بھی افغانستان سے وابستہ کردینا حقائق سے ناواقفیت ہے یا مسئلے کو الجھانے کی کوشش۔ جہاد اسی ماڈل کا ایک حصہ ہے جسے جنرل صاحب نے ضمنی طور پر اسلام کے ابتدائی دور کے نام سے پیش کیا ہے۔ دورِ جدید میں مغرب کی تمام استعماری قوتوں کا مقابلہ ہر مسلمان ملک میں جہاد ہی کے ذریعے سے کیا گیا اور اسی وجہ سے مغربی اقوام کا خصوصی ہدف جہاد کا تصور رہا جسے ’منسوخ‘ کرانے کے لیے ان کو جھوٹی نبوت تک کا کھیل کھیلنا پڑا۔ الجزائر کی جہادی تحریک جدید تاریخ کا ایک تابناک باب ہے۔ فلسطین میں صہیونی قوت کے خلاف جہاد کا آغاز جدیدانتفاضہ سے نہیں ۱۹۴۸ء کی جدوجہد سے ہوتا ہے جو آج تک جاری ہے۔ کشمیر میں بھی جہاد کا آغاز افغانستان سے روس کی پسپائی سے شروع نہیں ہوتا بلکہ ۱۹۴۷ء میں ڈوگرہ راج اور اس کے مظالم کے خلاف منظم انداز میں ہوا اور آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کسی سیاسی خیرات یا اتفاقی حادثہ کی بنا پر بھارت سے آزاد نہیں ہوئے‘ یہ منظم جہادی جدوجہد سے آزاد کرائے گئے۔

جنرل صاحب نے جو تاریخی پس منظر بیان کیا ہے‘ وہ حقائق پر مبنی نہیں۔ اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ انھوں نے دہشت گردی کا سارا ملبہ مسلمانوں پر گرا دیا ہے۔ نہ اس کے عالمی پس منظر کاذکر کیا ہے‘ نہ ان حقیقی تاریخی‘ سیاسی اور تہذیبی اسباب و عوامل کا تجزیہ کیا ہے اور نہ مغربی اقوام کے اس کردار کی طرف کوئی اشارہ کیا ہے جو اس صورت حال کو پیدا کرنے کا ذریعہ بنے ہیں۔ کاش انھوں نے جرمن محققہ ایندریا لوئیگ ہی کا مطالعہ کر لیا ہوتا جو The Next Threat کے آخری باب میں اپنے نتائج تحقیق بیان کرتے ہوئے اعتراف کرتی ہے کہ:

ان بہت سی خوفناک چیزوں کا اسلام سے بہت کم تعلق ہے‘ بلکہ ان کی بنیادیں کچھ دوسری ہیں۔ اور ان دل دہلا دینے والے (shocking) کاموں میں سے کئی جدید مغربی معاشروں میں بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ‘ انتہا پسندی کی لادینی جڑیں بھی ہوسکتی ہیں‘ چاہے اس کے علم بردار اس کا انکار کریں۔ اس سے پہلے کہ  ہم دوسروں کی انتہاپسندی کے بارے میں غضب میں آجائیں‘ ہمیں اپنے کلچر کی انتہاپسندی کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ جب جرمن نوجوان تارکینِ وطن کے ہوسٹل جلا ڈالنا چاہتے ہیں تو ان کا تعلق بھی انتہاپسندی اور غیرمعقولیت سے ہوتا ہے‘ صرف شراب نوشی اور فہم و فراست کے فقدان سے نہیں۔ لیکن شاید ہم میں سے کوئی ان جرائم کی بنیاد مذہب میں بتانے کا نہ سوچے یا یہ کہے کہ ان کا سرچشمہ مغرب کی عیسائی روایات ہیں۔ پس شرق اوسط کے لوگوں کی انتہاپسندی یا غیرمعقولیت کا تعلق ہمیشہ مذہب سے نہیں ہوتا۔ (ص ۱۵۷)

کاش ہمارے اہلِ قلم حقائق کی گہرائی تک جانے کی کوشش کریں اور ان گمبھیرمسائل کی گہرائی میں جاکر سیاسی‘ عمرانی اور نفسیاتی عوامل کی روشنی میں تجزیہ کریں۔ جنرل صاحب کا مضمون اس پہلو سے یک طرفہ‘ سطحی اور ملامتیہ انداز کا حامل ہے۔     ؎

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

ایک وہ ہیں جنھیں تصویر بنا آتی ہے

۳-  جنرل پرویز مشرف نے مسلمانوں کو بنیاد پرستی‘ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور ان کے درمیان ایک عارضی تعلق (causal relationship)بھی دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ بنیاد پرستی ایک مبہم اور خالص امریکی تصور ہے جس کا اسلام سے دُور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ انیسویں صدی کے آخر میں اور بیسویں صدی کے آغاز کی ایک عیسائی تبلیغی تحریک کی پیداوار تھا جسے گذشتہ چند برسوں سے مسلمانوں پر تھوپا جا رہا ہے۔ جنرل صاحب نے بے سوچے سمجھے اسے مسلمانوں سے وابستہ کردیا۔

انتہاپسندی ایک انسانی کمزوری ہے جو اہلِ مغرب میں بھی ہو سکتی ہے ‘ سیاست دانوں میں بھی‘ فوجیوں میں بھی اور کسی بھی گروہ یافرد میں۔ اس کا رشتہ نام نہاد بنیاد پرستی اور دہشت گردی سے جوڑنے کا کوئی منطقی جواز نہیں۔ دہشت گردی کے اپنے اسباب ہیں اور انتہاپسندی ایک بالکل دوسری شے ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر دہشت گردی انتہا پسندی کا نتیجہ ہو اور ہر انتہا پسندی دہشت گردی پر منتج ہو۔ جنرل صاحب کی یہ ساری بحث محض مغالطوں پر مبنی ہے اور پاکستان اور اسلام دونوں کی بڑی غلط نمایندگی کا ذریعہ بنی ہے۔ تعجب ہے کہ انھوں نے ایک لمحے کے لیے یہ بھی نہیں سوچا کہ اسلام اور مسلمانوں پر بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کا لیبل لگانے میں مغرب اور امریکا کے دانش وروں اور خصوصیت سے‘ صہیونی اہلِ قلم کا کیا کردار اور ان کے کیا مفادات وابستہ ہیں۔ کس طرح اسرائیل کے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے وہ اسلام‘ عربوں اور مسلمانوں کی ایک خاص انداز میں منظرکشی کر رہے ہیں اور اس میں سیاسی مبصروں‘ دانش وروں اور صحافیوں کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا بلکہ ہالی وڈ کی فلموں نے کیا کردار ادا کیا ہے۔ اگر ان تمام حقائق پر کسی کی نگاہ نہیں تو کیا ضروری ہے کہ جن موضوعات پر آپ کی گرفت نہیں ان پر آپ گوہر افشانی کریں۔ اسلام کے بارے میں مغرب کے خود ساختہ تصورات اور فضا کو خراب کرنے میں ان کے کردار کے بارے میں جوشین ہپلر اور ایندریا لوئیگ کا یہ جملہ قابلِ غور ہے کہ:

یہ کتاب اسلام کا نہیں ‘بلکہ اسلام کے بارے میں مغرب کے دشمنانہ رویے کا جائزہ لے گی] یا مزعومہ ’اسلامی خطرے‘ کا[۔ ہمارا ایک نظریہ ہے کہ اس وقت اسلامی خطرے کے بارے میں عوامی لٹریچر کا جو فیشن ہے‘ مفروضہ خطرے یعنی اسلام سے اس کا بہت کم سروکار ہے۔ اس کا زیادہ تعلق مغرب کے اندازِ فکر سے ہے جس کا ایک جزو سرد جنگ کے اختتام کی وجہ سے ہماری شناخت میں پایا جانے والا خلا ہے۔ یہ پہلو ہمارے اندر دل چسپی پیدا کرتا ہے۔ (ص -۱)

ان مصنفین نے یہ بھی کہا ہے کہ خود بنیاد پرستی کی ساری بحث پر بھی ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی نگاہ میں:

ہمارا استدلال یہ ہے کہ اگرچہ بنیاد پرستی خراب ہے لیکن اس کے ناقد لامحالہ اچھے نہیں ہیں اور ضرور کچھ کے درپردہ محرکات ہو سکتے ہیں۔(ص -۳)

یورپ کے کچھ دانش ور اتنا غور کرنے کو تیار ہیں لیکن ہمارے اپنے ذمہ دار حضرات آنکھیں بند کر کے وہی بات کہنے اور لکھنے میں عار محسوس نہیں کرتے جس کا اظہار مغرب کے متعصب حکمران اور دانش ور کر رہے ہیں! اور جن کے اخلاقی اور ذہنی افلاس کا یہ حال ہے کہ جب ان سے کسی دعوے کے لیے دلیل طلب کی جاتی ہے اور شواہد کی عدم موجودگی پر احتساب ہوتا ہے تو ان کے پاس اس کے سوا کہنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا کہ بس میں یہ کہہ رہا ہوں۔

امریکا کے کمیشن ۱۱/۹نے اپنی عبوری رپورٹ میں یہ فیصلہ دیا کہ:

ہمارے پاس کوئی قابلِ اعتماد شہادت نہیں ہے کہ عراق اور القاعدہ نے امریکا پر حملوں میں تعاون کیا۔

تو اس کے جواب میں امریکی صدر جارج بش صاحب نے جو جواب دیا وہ گنیزبک میں درج کیے جانے کے لائق ہے :

The reason I keep insisting that there was a relationship between Iraq and Saddam and Al-Qaeeda is because there was a relationship between Iraq and Al-Qaeeda.

اس کی وجہ کہ میں برابر اصرار کرتا رہاہوں کہ عراق‘ صدام اور القاعدہ میں تعلق تھا یہ ہے کہ عراق اور القاعدہ میں تعلق تھا۔ (ٹائم ۲۸ جون ۲۰۰۴ئ)

دہشت گردی اور مسلمانوں کے سلسلے میں ہمارے جنرل صاحب اور جارج بش کے  اسلوبِ استدالال میں بھی کوئی زیادہ فرق نہیں!

۴-  جنرل پرویز مشرف کے مضمون میں دہشت گردی کے سارے منظر اور پیش منظر میں نہ ریاستی دہشت گردی کا کوئی ذکر ہے اور نہ دہشت گردی کے ارتکاب‘ فروغ اور دوام بخشنے میں امریکہ کے کردار پر کوئی گرفت بلکہ اس کا کوئی تذکرہ میں نہیں۔ امریکی قیادت کی بنیاد پرستی‘ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا کوئی تذکرہ ان کی تحریر ہی نہیں۔ افغانستان اور عراق میں امریکہ جس دہشت گردی کا ارتکاب کر رہا ہے‘ اس پر ان کے ضمیر کی کسی خلش کا کوئی سایہ ان کی تحریر پر نہیں پڑا حالانکہ یہ ایک اہم موقع تھا کہ وہ امریکی قوم سے خطاب کر رہے تھے اور کچھ ان کو بھی آئینہ دکھانے کی خدمت انجام دیتے۔

امریکی دانش وروں اور عوام کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد امریکا کی اپنی دہشت گردی پر نالہ کناں ہے۔ چومسکی جیسے مفکر تو پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ امریکا آج ایک غنڈہ ریاست (rogue state)بن چکا ہے۔ سابق امریکی اٹارنی جنرل ریمزے کلارک نے امریکا کے وحشیانہ مظالم پر کئی کتابیں لکھی ہیں اور عراق کی ۱۹۹۱ء کی جنگ سے پہلے‘ جنگ کے دوران اور جنگ کے بعد کے جنگی جرائم پر ایک بین الاقوامی ٹربیونل کی رپورٹ بھی موجود ہے جو ریمزے کلارک نے جنگی جرائم (War Crimes)کے نام سے قانونی مطالعوں اور ضروری شہادتوں کے ساتھ شائع کی ہے۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں امریکہ کیا کردار ادا کر رہا ہے‘ اس پر درجنوں کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔ لیکن جنرل پرویز مشرف صاحب کی تحریر‘ امریکہ کے اس کردار کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں کرتی۔ اس موقع پر شالمرز جانسن کی تحقیقی کتاب Blowback: The Costs and Consequences of American Empire سے دو اقتباس اصل حقیقت کے ادراک کے لیے مفید ہوں گے۔

ایک آدمی کی نظروں میں جو دہشت گرد ہے‘ بلاشبہہ وہی دوسرے کی نظروں میں آزادی کے لیے لڑنے والا ہے۔ جس چیز کو امریکی اہلکار اپنے معصوم شہریوں پر بلااشتعال دہشت گردحملے کہہ کر مذمت کرتے ہیں ‘ وہ اکثر سابقہ امریکی استعماری کارروائیوں کا ردعمل ہوتا ہے۔ دہشت گرد بے گناہ شہریوں اور غیرمحفوظ امریکی اہداف پر حملہ کرتے ہیں ‘ صرف اس وجہ سے کہ امریکی سپاہی اور ملاح اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل فائر کرتے ہیں اور آسمان کی بلندیوں پر بی-۵۲ طیاروں میں بیٹھ کر بم باری کرتے ہیں اور واشنگٹن سے جابر و استبدادی حکومتوں کی حمایت کی جاتی ہے۔ ڈیفنس سروس بورڈ کے اراکین نے اپنی ۱۹۹۷ء کی رپورٹ میں جو ڈیفنس کے انڈر سیکرٹری کو دی گئی‘ لکھا تھا: تاریخی حقائق عالمی حالات میں امریکا کی شرکت اور امریکا کے خلاف دہشت گرد حملوں میں اضافے کے درمیان واضح تعلق ظاہر کرتے ہیں۔ مزیدبرآں فوجی طاقت میں فرق کی وجہ سے قومی ریاستیں امریکا پر کھلم کھلا حملہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتیں اور یوں وہ سمندر پار عامل استعمال نہیں کر سکتیں۔ (ص-۹)

دہشت گردی کی تعریف یہ ہے کہ جس طاقت پر حملہ نہیں کیا جا سکتا اس کے جرائم پر توجہ دلانے کے لیے بے گناہوں کو نشانہ بنایا جائے۔ ۲۱ویں صدی کے بے گناہ‘ حالیہ عشروں کی استعماری مہمات کے مابعد اثرات کی تباہیوں کی غیرمتوقع فصل کاٹیں گے۔ اگرچہ بیشتر امریکی اس امر سے ناواقف ہیں کہ ان کے نام پر کیا کچھ کیا جاچکا ہے اور کیا جا رہا ہے‘ سب ہی انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی قوم کی عالمی منظر پر غلبہ پانے کی مسلسل کوششوں کی گراں قیمت ادا کریں گے۔ (ص ۳۳)

خدا کرے مسلمان قیادتوں کو کبھی یہ توفیق حاصل ہو کہ وہ بھی امریکا کی قیادت کو بتا سکیں کہ دنیا میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے وہ اس کی کن پالیسیوں اور اقدامات کا ردعمل ہے اور آخری ذمہ داری کس پر ہے   ع

اٹھا زمانہ میں جو بھی فتنہ اٹھا تیری رہ گزر سے پہلے!

۵- جنرل پرویز مشرف نے اسلام کے تاریخی کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آج کی زبوں حالی کا ذکر کیا ہے اور اس سے نکلنے کے لیے روشن خیال اعتدال پسندی کا درس دیا ہے اور ساتھ ہی معاشی اور تعلیمی ترقی کی بات کی ہے۔ بلاشبہہ معاشی اور تعلیمی ترقی اُمت کی بڑی ضرورت ہے لیکن ہمارا عروج اور ہمارا زوال محض مادی اسباب کی وجہ سے نہ تھا۔ اسلام کی اصل قوت اس کی دعوت‘ اس کے پیغام‘ اس کے اصول اور اس عملی نمونے میں تھی جو اسلاف نے پیش کیا۔ وہ اخلاقی قوت ان کا اصل سرمایہ تھی۔ دین و دنیا کی وحدت‘ انسانی مساوات‘ قانون کی بالادستی‘ حکمرانوں کی جواب دہی‘ شریعت کی پابندی‘ انصاف کی فراوانی‘ معاشرتی اور معاشی مساوات--- علم اور وسائل کے ساتھ عقیدہ‘ اخلاق‘ سیرت و کردار‘ اداروں کا استحکام اور احتساب کا موثر نظام ہماری قوت کا راز تھا۔ جب ان اصولوں اور اقدار کو فراموش کیا جانے لگا‘ جب عیش و عشرت اور سہولت کی زندگی اختیار کر لی گئی‘ جب جہاد اور اجتہاد کو ترک کر دیا گیا تو ہم دوسروں کے لیے تر نوالہ بن گئے‘ کمزور سے کمزور تر ہوتے گئے‘ غلامی اور محکومی کا نشانہ بنے اور آج بھی آزادی کے حصول کے باوجود دوسروں پر محتاجی اور ان کی سیاسی اور معاشی بالادستی کے تحت جینے کی مہلتیں مانگنے میں مصروف ہیں۔ اقبال نے مرض کی صحیح تشخیص کی تھی کہ:

اگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجات

جو فقر سے ہے میسر‘ تونگری سے نہیں

اگر جواں ہوں مری قوم کے جسور و غیور

قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں

سبب کچھ اور ہے‘ تو جس کو خود سمجھتا ہے

زوال بندۂ مومن کا بے زری سے نہیں

اگر جہاں میں مرا جوہر آشکار ہوا

قلندری سے ہوا ہے‘ تونگری سے نہیں

لیکن ہمارا کیا حال ہے؟ ہم کاسہ گدائی سے ترقی کی منزلیں طے کرنا چاہتے ہیں اور خداشناسی اور جہاد کا راستہ ترک کر کے عزت کے حصول کے خواب دیکھ رہے ہیں اور اقبال ہی کی اس بات کو بھول گئے ہیں کہ     ؎

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات

تو جھکا جب غیر کے آگے‘ نہ من تیرا نہ تن

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے زوالِ اُمت کے اسباب کی نشان دہی نورِ نبوت سے فرما دی تھی۔ ارشاد فرمایا:

عنقریب ایک وقت آئے گا جب دوسری قومیں اکٹھی ہو کر تم پر ٹوٹ پڑیں گی‘ جس طرح کھانے والے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ کسی نے پوچھا کیا ہم اس وقت قلیل تعداد میں ہوں گے؟

آپؐ نے فرمایا: تمھاری تعداد تو بہت زیادہ ہوگی لیکن تم سیلاب کے اوپر بہنے والے خس و خاشاک کی مانند ہوگے۔ اللہ تمھارے دشمن کے سینے سے تمھارا رعب چھین لے گا اور تمھارے دلوں میں ’وہن‘‘ ڈال دے گا۔

پوچھا: اللہ کے رسولؐ! یہ وہن کیا ہے؟ فرمایا: دنیا کی محبت اور موت (شہادت) سے نفرت۔

مسلمانوں کی تاریخ کے نشیب و فراز اور ان کے عروج و زوال کے جس تذکرے میں تجزیے کا یہ رخ موجود نہ ہو‘ اسے حقیقت پسندانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

۶-  جنرل مشرف نے معاشی ترقی‘ انصاف کی فراہمی‘ تعلیم کے فروغ اور جمہوریت کی بات بھی کی ہے لیکن کیا اس سوال سے اغماض برتا جا سکتا ہے کہ ان سب سے محرومی کے اسباب کیا ہیں اور وہ کون سے مفاد پرست طبقات ہیں جو وسائل پر قابض ہیں اور قوم کو ان سے محروم رکھے ہوئے ہیں؟ جمہوریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مفاد پرست عناصر اور خود فوجی حکمرانوں کا کیا کردار ہے؟ انصاف سے کون محروم رکھے ہوئے ہیں؟ اداروں کے استحکام کی راہ میں کون رکاوٹ ہے؟ اس ملک کے حکمران طبقوں نے کون سی میانہ روی اختیار کی ہے۔ ساری مسلم دنیا کا جائزہ لے لیجیے۔ جن طبقات نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے وہ وہی ہیں جن پر لبرل کا لیبل ہے‘ جو ماڈرنزم کے علم بردار ہیں‘ جو سیکولر نظام کے حامی ہیں۔ یہی سامراجی قوتوں کے رفیقِ کار تھے اور یہی آزادی کے بعد اپنی ہی قوم کا خون چوسنے میں مصروف ہیں۔ ماڈرنزم کی قوتوں نے یورپ میں تو کچھ اچھے کام بھی کیے ہیں لیکن مسلم دنیا میںتو اصل ناکامی نام نہاد لبرل اور سیکولر لیڈرشپ کی ہے۔ کمال اتاترک اور شاہِ ایران اس ماڈرنزم کی علامت تھے۔  جمال عبدالناصر‘ صدام حسین‘ حافظ اسد‘ معمر قذافی‘ حبیب بورقیبہ‘ حواری بومدین‘ کس کس کا نام لیا جائے‘ یہ سب لبرل اور سیکولر قیادت تھی جس نے اسلامی دنیا کو ذلیل او ررسوا کیا۔ پاکستان میں کون سی قیادت ناکام ہوئی--- یہی لبرل سیکولر قیادت: جنرل ایوب سے جنرل پرویز مشرف تک۔ اقبال نے صحیح ہی کہا تھا     ؎

زندہ کر سکتی ہے ایران و عرب کو کیونکر

یہ فرنگی مدنیت کہ جو ہے خود لبِ گور

اور   ؎

نہ مصطفی نہ رضا شاہ میں نمود اس کی

کہ روحِ شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی

۷-  جنرل مشرف نے یہ بھی کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ان اسباب کی فکر کرنا ہوگی جو ناانصافی پیدا کر رہے ہیں اور لوگوں کو انتہاپسندی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ کیا جنرل صاحب بتا سکیں گے کہ خود اپنے ملک میں جسے وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کہتے ہیں اس کے ازالے کے لیے اسباب کی تلاش اور ناانصافیوں اور محرومیوں کو دُور کرنے کے لیے انھوں نے کیا کیا؟ اور کیا وہ بھی صدر بش کی طرح محض قوت کے استعمال سے ان خرابیوں کا قلع قمع کرنے کی پالیسی پر گامزن نہیں جن کا حل صرف حقوق کی ادایگی‘ انصاف کے قیام‘ جمہوری عمل کے استحکام‘ مذاکرات اور سیاسی طریقے ہی سے کیا جا سکتا ہے۔

۸-  جنرل مشرف نے سیکولرزم کے اسلام سے متصادم نہ ہونے کی بات بھی کی ہے جو اسلام کے تصورِ حیات اور پاکستان کے مقصدِ وجود کی نفی کے مترادف ہے۔ اگر یہ بات سیکولرازم کے تصور اور اس کے مضمرات سے عدمِ واقفیت کی بنا پر کی گئی ہے تو افسوس ناک ہے اور اگر جان بوجھ کر یہ شوشہ چھوڑا گیا ہے تو جنرل صاحب کو یاد رکھنا چاہیے کہ سکندر مرزا اور ایوب سے لے کر آج تک جس نے یہ بات کہی ہے‘ اس نے بالآخرمنہ کی کھائی ہے۔ اُمت مسلمہ لادینی نظریۂ حیات کو کبھی قبول نہیں کرسکتی۔ امریکی دین الٰہی کا اصل ہدف اسلامی دنیا میں دین و دنیا اور مذہب و سیاست کی تفریق کے نظام کو رائج کرنا اور اسلام کا ایک ایسا راہبانہ تصور فروغ دینا ہے جس میں دین گھر اور مسجد تک محدود ہو جائے اور دنیا کا نظام شیطانی نظریات کی پیروی میں چلایا جائے۔ شریعت معطل رہے اور جہاد منسوخ ہو جائے۔ لیکن یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔

استعماری دور میں بیرونی حکمران ایسی دسیوں کوششیں کرکے ناکام رہے ہیں اور اب وہ اپنے دیسی ساجھیوں کے ذریعے یہ کرانا چاہتے ہیں تو ان شاء اللہ اسی طرح اب بھی ناکام رہیں گے البتہ اس سے بہتوں کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ کر دیں گے۔ ماضی میں نہ دین اکبری چل سکا اور نہ اب دین امریکی کے پنپنے کا کوئی امکان ہے۔ اللہ نے اپنے دین کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے اور اس دین سے ٹکر لینے کی جس نے بھی کوشش کی ہے بالآخر پاش پاش ہوا ہے۔ ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ یہ راستہ اختیار نہ کریں۔     ؎

مٹ نہیں سکتا کبھی مردِ مسلماں‘ کہ ہے

اس کی اذانوں سے فاش سرِّ کلیمؑ و خلیلؑ

اور مسلمان فرد اورقوم دونوں کے لیے عزت اور زندگی کا ایک ہی راستہ ہے یعنی     ؎

حدیث بے خبراں ہے‘ تو بازمانہ بساز

زمانہ با تو نہ سازد‘ تو بازمانہ ستیز


  • کتابچہ دستیاب ہے۔ فی کاپی ۵ روپے۔ سیکڑے پر رعایت۔  منشورات‘ منصورہ‘ ملتان روڈ‘ لاہور-فون ۵۴۳۴۹۰۹
  •  ماہ جون ۲۰۰۴ء کے اشارات ’نئی صلیبی جنگ کا سب سے مہلک ہتھیار‘ کے تسلسل میں پاکستان میں نصابات اور     درسی کتب میں تبدیلیوں کے موضوع پر تحریر آیندہ کسی اشاعت میں ملاحظہ فرمایئے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہر دور میں جنگ‘ جنگ کا اسلوب اور جنگی ہتھیار بدلتے رہے ہیں اور نئے نئے ہتھیار اسلحہ خانے کی زینت اور انسانیت کے لیے مصیبت بنتے رہے ہیں۔ جنگ عظیم دوم کے اختتام پر اگست ۱۹۴۵ء میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکا کے ایٹمی حملے نے اجتماعی تباہی کے ہتھیار  Weapons of Mass Destruction (WMD)کی اصطلاح کو عالمی سیاست اور جنگ و صلح کی لغت میں ایک خاص مقام دے دیا۔ کیمیاوی‘ حیاتیاتی اور گیس پر مبنی اسلحے کے لیے یہ لفظ    اس سے پہلے بھی استعمال ہوتا تھالیکن دورِ جدید میں ڈبلیو ایم ڈیز نے بڑی اہمیت اختیار کرلی ہے۔

۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد ’دہشت گردی‘ اور ’خودکش حملوں‘ کو بھی ایک قسم کا ڈبلیو ایم ڈی ہی بناکر پیش کیا جا رہا ہے اور ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ کے نام پر دنیا کو نہ صرف دہشت گردی کے ایک بدترین عفریت کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے‘ بلکہ اس نام نہاد جنگ کے پردے میں کچھ دوسری ہی قسم کے  اجتماعی تباہی کے ہتھیاروں سے دنیا کے مختلف ممالک اور تہذیبوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان میں میڈیا کی ثقافتی یلغار اور مسلم ممالک کے تعلیمی نظام پر ایک کاری وار خصوصیت سے اہمیت اختیار کرگئے ہیں‘ جن کو ہم ڈبلیو ایم ڈیز ہی کی تازہ ترین شکل سمجھتے ہیں۔ اجتماعی تباہی کے ہتھیار جس طرح انسانوں اور شہروں کو جسمانی طور پر تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں‘ اسی طرح یہ نئے علمی اور فنی ہتھیار قلب و نظر کو مسخر کرنے‘ افراد‘ معاشروں اور تہذیبوں کے تشخص کو تہ وبالا کرنے اور ایک نوعیت کی نظریاتی نسل کشی (ideological genocide) کا مقصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ویسے تو استعماری قوتوں نے ایسے حربے ہمیشہ ہی استعمال کیے ہیں اور اکبرالٰہ بادی نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ   ع

دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے!

لیکن اپنی کمیت اور کیفیت دونوں اعتبار سے تعلیم پر جدید حملے تباہی کے مہلک ہتھیار کی شکل اختیارکرگئے ہیں۔ اس حملے کے اہداف کیا ہیں؟ علامہ اقبال نے اس خداداد صلاحیت کی بنیاد پر جو فراست ایمانی اور تاریخی اور تہذیبی شعور کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ان کو دی تھی‘ اُن سے اُمت مسلمہ کو بہت پہلے متنبہ کر دیا تھا۔ ضربِ کلیم میں ’نصیحت‘ کے عنوان سے شیطان کے اس حربے کو وہ یوں بیان کرتے ہیں:

اک لُردِ فرنگی نے کہا اپنے پسر سے

منظر وہ طلب کر کہ تری آنکھ نہ ہو سیر

بیچارے کے حق میں ہے یہی سب سے بڑا ظلم

بَرّے پہ اگر فاش کریں قاعدۂ شیر

سینے میں رہے رازِملُوکانہ تو بہتر

کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے‘ اسے پھیر

تاثیر میں اِکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب

سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیر

امریکا کی سامراجی اور صلیبی قیادت اس وقت عالمِ اسلام اور خصوصیت سے اس کی احیائی تحریکوں اور جہادی قوتوں کو زیر کرنے کے لیے جس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے‘ اس میں فوجی قوت‘ معاشی دبائو اور پروپیگنڈے کی نفسیاتی جنگ کے ساتھ جو سب سے خطرناک ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے وہ تعلیم کے نظام کو تبدیل کرواکے ذہنوں کو مسخر کرنے کے ذریعے اُمت کو غلامی کے نئے شکنجوں کی گرفت میں لینا ہے۔ فوجی قوت سے بلاشبہہ کچھ تھوڑے عرصے کے لیے مقابل قوت کو قابو میں کیا جا سکتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ہر استعمار اور قبضے کے خلاف تحریک مزاحمت جلد یا بدیر رونما ہوتی ہے۔ معاشی دبائو بھی ایک عرصے تک چلتا ہے اور نفسیاتی حربے اور پروپیگنڈے کی تاثیر بھی محدود ہے۔ البتہ ذہنی غلامی‘ تعلیم کے ذریعے دل و دماغ کو مسخر کرنا‘ سوچنے کے انداز اور نفع و نقصان‘ خیروشر اور مطلوب اور نامطلوب کے پیمانوں کو بدل دینا ہی وہ حربہ ہے جس سے محکومی کو دوام      دیا جاسکتا ہے--- اور اس وقت امریکی دانش ور اور سیاسی قیادت اور اس کے ’مراکز دانش‘ (think tanks)عوامی تباہی کے جس ہتھیار کواستعمال کرنے کے لیے سب سے زیادہ بے چین ہیں‘ وہ نظام تعلیم کی تبدیلی اور نصاب تعلیم میں ایسے تغیرات ہیں جو سوچنے کے انداز کو بدل سکیں اور اسلام کے انقلابی پیغام کو کسی ایسی شکل میں تبدیل کرسکیں کہ مذہبی حِس بھی تسکین پالے اور اسلام کا جہاں بانی اور تاریخ سازی کا کردار بھی ختم ہوجائے۔

اصل ہدف اسلام کا تصور‘ اس کا تاریخی کردار اور وہ احیائی قوتیں ہیں جو اسلام کو محض گھر اور مسجد تک محدود نہیں کرتیں بلکہ زندگی کے پورے نظام کو اس کے تابع لانا چاہتی ہیں‘ اور اس سے بھی بڑھ کر دنیا میں ظلم کے ہر نظام کو چیلنج کر کے انسانوں کو انصاف اور عزت کے حصول کے راستے کی دعوت دیتی ہیں۔ استعمار کا یہ وہی حربہ ہے جسے اقبال نے یوں بیان کیا تھا:

بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رمِ آہُو

باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہٗ

کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند

تاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ

سارا ہدف یہ ہے کہ اسلام ایک اجتماعی قوت کی حیثیت اختیار نہ کرے‘ دین و سیاست میں تفریق ہو‘ اور اہل ایمان کفر اور ظلم کی قوتوں کے خلاف ایک تحریک اور ایک چیلنج بن کر نہ ابھر سکیں‘ آپس میں بٹ جائیں اور ہر ملک اور ہر گروہ صرف اپنے آپ میں مگن ہو (’سب سے پہلے پاکستان‘ میں اس کی بازگشت سنی جاسکتی ہے)‘ اور ایک دوسرے کا معاون و مددگار بن کر انصاف کے حصول اور ظلم کے خلاف جدوجہد سے پہلوتہی کرلے--- اقبال نے متنبہ کیا تھا کہ:

ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّت

وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد

وحدت کی حفاظت نہیں بے قوتِ بازو

آتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خداداد

اے مردِ خدا تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل

جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد

مسکینی و محکومی و نومیدیِ جاوید

جس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد

مُلّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

دین کے رشتے کو کمزور کرنے اور دین کے فہم کو مسموم کرنے کی اسی سازش سے اقبال نے خبردار کیا تھا کہ:

اور یہ اہل کلیسا کا نظامِ تعلیم

ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

اُس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے

قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف

فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے

کبھی کرتی نہیں ملّت کے گناہوں کو معاف

۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد جس نقشۂ جنگ کو ترتیب دیا گیا ہے اس میں فوج کشی‘ معاشی دبائو اور نفسیاتی اور ابلاغی جنگ کے ساتھ مسلمانوں کے دینی تعلیمی نظام کو سبوتاژ کرنا اور اسے دنیاوی علوم اور عصری مسائل کے نام پر اپنی جڑوں سے اکھاڑدینا ہے۔ جدید تعلیمی نظام میں جس حد تک بھی اسلام کے انقلابی تصورِ حیات اور خصوصیت سے حق و باطل کی کش مکش میں مسلمانوں کے کردار اور اجتماعی مقاصد اور وحدت اُمت کے تصورات پائے جاتے ہیں‘ ان کو تار تار کرنا اور محض دنیاطلبی‘ عیش پرستی‘ ہوس رانی‘ اور طائوس و رباب کی زندگی کا رسیا بنانا ہے۔اس کے لیے اصل ہدف اسلام کا یہ تصور زندگی ہے کہ مسلمان ایک نظریاتی اُمت ہیں‘ ایک جسم کے اعضا کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کا اپنا اخلاقی‘ معاشی‘ سیاسی‘ تہذیبی‘ مالیاتی اور ثقافتی نظام ہے۔ وہ ایک نظامِ نو کے داعی اور تہذیب و تمدن کے ایک منفرد تصور کے مطابق انفرادی اوراجتماعی زندگی کی تشکیل کی جدوجہد میں اپنا مستقبل دیکھتے ہیں۔ یہ تصور آج کی امریکی قیادت کی نگاہ میں اس کے مفادات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور وہ اسے ’خطرہ‘ بناکر ایک طرف مسلمانوں کی عسکری قوت کو غیرمؤثر بنانے‘ ان کے معاشی وسائل کو گلوبلائزیشن کے نام پر اپنی گرفت میں لانے اور سب سے بڑھ کر فکری یلغار اور تعلیم کے بطور ایک مہلک ہتھیار کے بے محابا استعمال سے ان کو اپنی غلامی میں لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ کام سرکاری ذرائع کے ساتھ مسلمان ملکوں کے اپنے حکمرانوں‘ لبرل طبقات اور بیرونی سرمایے سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے ذریعے انجام دینا چاہتے ہیں جس کے لیے سرمایہ پانی کی طرح بہایا جارہا ہے اور مفید مطلب حکمرانوں کو آلۂ کار بنایا جا رہا ہے۔

اسلام کے تصورِحکومت‘ ملّت کی وحدت‘ جہاد اور ظلم کے خلاف جدوجہد کے جذبے کو اصل ہدف بنایا گیا ہے۔ بنیاد پرستی‘ عسکریت‘ تشدد‘ انتہاپرستی اور اس نوعیت کے تمام اتہامات مسلمانوں پر اور خصوصیت سے دینی قوتوں پر لگائے جا رہے ہیں۔ مسلم دنیا میں حکمرانوں اور عوام میں کش مکش برپا کرنے اور ان کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراکرنے کے لیے نت نئے حربے استعمال کیے جارہے ہیں‘ اور نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اس کے لیے چھتری کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ اگر ایک طرف حفظ ماتقدم حملے(pre-emptive strike) اور حکومتوں کی تبدیلی (regime change)کی حکمت عملی پر عمل ہو رہا ہے تو دوسری طرف دینی تعلیم کے نظام کو تبدیل کرنے‘ اسے سرکاری گرفت میں لانے‘ اور ملکی تعلیمی نظام میں نصاب اور تعلیمی اہداف کو تبدیل کرانے اور ذہنوں کو تبدیل کرنے اور اپنا ہم نوا بنانے کے منصوبوں پر پوری شدومد کے ساتھ عمل کیا جا رہا ہے۔ افغانستان اور عراق کو تو مکمل طور پر اپنے زیرتسلط لے آیا گیا ہے لیکن اس تہذیبی اور تعلیمی جنگ کا ہدف پورا عالمِ اسلام ہے جس میں خصوصیت سے اس وقت سعودی عرب‘ مصر اور پاکستان نشانہ ہیں۔


امریکا کی اس حکمت عملی کی یہ جھلکیاں صدربش سے لے کر ان کے دفاع کے وزیررمزفیلڈ‘ قومی سلامتی کی مشیر کنڈولیزا رائس اور وزیرخارجہ کولن پاول کے بیانات میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ لیکن اس کا بہت واضح اور مکمل اظہار حال ہی میں شائع ہونے والی دو اہم رپورٹوں میں ہوا ہے جس میں جنگ کا پورا نقشہ دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک رپورٹ وہاں کے مشہور تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کے قومی سلامتی کے تحقیقی شعبے نے تیار کی ہے اورCivil Democratic Islam:  Partners, Resources and Strategiesکے عنوان سے حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ اسےCheryl Benardنے مرتب کیا ہے۔ اس کی تیاری میں آٹھ دوسرے دانش وروں نے شرکت کی ہے جن میں کابل میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد بھی شریک ہیں۔

رپورٹ کا بنیادی تصور یہ ہے کہ آج اسلام ایک دھماکا خیز شکل اختیار کرگیا ہے جو اندرونی اور بیرونی جدوجہد میں مصروف ہے تاکہ اپنی اقدار اور اپنے تشخص کو ابھارسکے اور ان کی روشنی میں دنیا میں اپنا مقام حاصل کرسکے۔ اس پس منظر میں امریکا اور مغربی دنیا کا مفاد اور ہدف یہ ہونا چاہیے کہ اسلامی دنیا ایک ایسی صورت اختیار کرے جو مغرب کے ساتھ ہم آہنگ ہو--- یعنی جمہوری اس معنی میں کہ سماجی اعتبار سے ترقی پسند (socially progressive) ہو اور بین الاقوامی طور پر قابلِ قبول رویہ اختیار کرے۔ اس کے لیے امریکی پالیسی کیا ہو؟ رپورٹ کہتی ہے:

اس لیے دانش مندی کی بات یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں ان عناصر کی حوصلہ افزائی کی جائے جو عالمی امن اور عالمی برادری سے ہم آہنگ ہیں اور جمہوریت اور جدیدیت کو پسند کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں مسلمانوں کو چار بڑے بڑے زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے:

۱- بنیاد پرست (fundamentalists)جو مغربی تہذیب کے خلاف ہیں اور اسلامی قانون اور اخلاقیات کا وہ تصور رکھتے ہیں جو رپورٹ کے مصنفین کی نگاہ میں جدیدیت سے متصادم ہے۔ یہ مغرب کے لیے سب سے بڑا خطرہ اور نتیجتاً اہم ترین دشمن ہیں۔

۲- دوسراگروہ قدامت پسندوں (traditionalists)کا ہے جو تبدیلی‘ تجدد اور جدیدیت سے خائف ہیں اور روایت کے اسیر رہنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ یہ بھی ہمارے دشمن ہیں مگر نمبر ایک کے مقابلے میں غنیمت ہیں۔

۳- تیسرا گروہ جدیدیت پسندوں (modernists)کا ہے جو اسلامی دنیا کو آج کی مغربی دنیا (جسے رپورٹ عالمی برادری global community قرار دیتی ہے)سے ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے اسلام کو جدید بنانے کے خواہاں ہیں۔ یہ ہمارے لیے قابلِ قبول ہیں باوجودیکہ یہ گروہ اسلام سے رشتہ باقی رکھنا چاہتا ہے۔

۴- چوتھا گروہ جو مغرب کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ ہے وہ لادینیوں (secularists)کا ہے جو دین و دنیا اور مذہب اور سیاست کی علیحدگی کے کھلے کھلے قائل ہیں‘ اور مغرب کے ماحول کی مکمل پیروی کرتے ہوئے مذہب کو ذاتی مسئلے اور اجتماعی امور کو مغربی صنعتی جمہوریوں کے طور طریق پر چلانا چاہتے ہیں۔

اصل رپورٹ میں ان چاروں کے درمیان بھی تقسیم در تقسیم کی نشان دہی کی گئی ہے جن میں سب سے ’فسادی‘ اور خطرناک وہ بنیاد پرست ہیں جو ان کی نگاہ میں تشدد کے طریقے اختیار کرتے ہیں۔ تمام بنیاد پرست دہشت گرد نہیں خطرناک ضرور ہیں۔ اسی طرح قدامت پسندوں‘ جدیدیت پسندوں اور لادینیوں میں بھی کم از کم دو دو گروہ ہیں۔

اس رپورٹ کے مصنفین نے مقابلے کے لیے جو بنیادی حکمت عملی پیش کی ہے ‘ اس کے اہم نکات یہ ہیں:

یہ طرزِ فکر ترقی‘ جدیدیت اور تہذیب یافتہ جمہوری اسلام کی تشکیل کو مضبوط کرنا اور فروغ دینا چاہتا ہے۔ یہ مختلف حالات سے ان کی مناسبت سے نمٹنے کے لیے ضروری لچک فراہم کرتا ہے‘ اور غیر مطلوب (unintended)منفی خطرات کے اثرات کو کم کرتا ہے۔ درج ذیل خاکے سے واضح ہوتا ہے کہ ایسی حکمت عملی کیا ہوگی:

  • پہلے قدم پر جدیدیت پسندوں کی حمایت کی جائے: انھیں اپنے نظریات مرتب کرنے اور پھیلانے کے لیے وسیع پلیٹ فارم فراہم کرکے‘ ان کے تصورِ اسلام کو روایت پسندوں کے تصور کے مقابلے میں زیادہ وقعت دے کر۔ انھیں‘ نہ کہ روایت پسندوں کومعاصر اسلام کے حقیقی نمایندے کے طور پر تیار کیا جائے اور عوامی سطح پر پیش کیا جائے۔
  •  لادینیت پسند عناصر میں سے ہر ایک کی اس کی کیفیت اور ضرورت کی مناسبت سے (case by case)  حمایت کی جائے۔
  •  لادینی ‘تہذیبی اور ثقافتی اداروں اور پروگراموں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
  •  روایت پسندوں کی اس حد تک پشت پناہی کی جائے جو انھیں بنیاد پرستوں کے مقابلے کے قابل رکھے (اگر اور جہاں‘ یہ ہمارا انتخاب ہو) اور دونوں گروہوں کے درمیان قریبی اتحاد کوروکا جائے۔ روایت پسندوں کے اندر ہمیں انتخاب کر کے ان عناصر کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے جو جدید سول سوسائٹی سے نسبتاً بہتر مناسبت رکھتے ہوں۔مثال کے طور پر بعض اسلامی فقہی مکاتب ہمارے انصاف اور انسانی حقوق کے تصور سے بہ نسبت دوسروں کے زیادہ قریب ہیں۔
  •  آخری بات یہ کہ بنیاد پرستوں کے اسلامی اور نظریاتی موقف میں کمزور مقامات پر پوری قوت سے حملہ کیا جائے تاکہ وہ باتیں کھل کر سامنے آئیں جو ان کے مخاطب لوگوں میں سے نوجوان مثالیت پسند اور نیکوکار روایت پسند ٹھیک نہ سمجھیں: ان کی بدعنوانی‘ ان کی بے رحمی‘ ان کی جہالت‘ اسلام کے اطلاق میں ان کا تعصب اور واضح غلطیاں‘ اور قیادت کرنے اور حکومت کرنے کی ان کی نااہلیت۔

اس مجموعی طرزفکر کی تقویت کے لیے کچھ اضافی زیادہ براہ راست سرگرمیاں ضروری  ہوں گی جیسی کہ ذیل میں درج ہیں:

  • اسلام کی تعریف کرنے‘ تشریح کرنے اور تعبیر کرنے پر بنیاد پرستوں اور روایت پسندوں کے اجارے کو توڑنے میں مدد دی جائے۔
  • ایسے مناسب جدیدیت پسند علما کی شناخت کرنا جو ایسی ویب سائٹ چلائیں جس میں روزمرہ کے معاملات کے بارے میں سوالات کے جواب دیے جائیں اور جدید اسلامی فقہی آرا پیش کی جائیں۔
  • نصابات کی تشکیل اور درسی کتب لکھنے کے لیے جدیدیت پسند اسکالروں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
  •  زرتلافی شامل کر کے کم قیمت پر تعارفی کتب کی اشاعت کی جائے اور انھیں اسی طرح دستیاب کیا جائے جس طرح بنیاد پرست مصنفوں کے کتابچے دستیاب ہیں۔
  • مقبول عوامی ذرائع ابلاغ‘ جیسے ریڈیو‘ کو استعمال کر کے جدیدیت پسند مسلمانوں کی فکر اور عمل کو عام کیا جائے تاکہ اسلام کا جو مطلب ہے اور جو مطلب ہو سکتا ہے اس کا عالمی دائرہ وسیع تر ہو۔ (ص ۴۷-۴۸)

اس حکمت عملی کے بنیادی نکات یہ بیان کیے گئے ہیں:

                ۱-            قائدین اور رول ماڈل تیار کرنا۔ وہ جدیدیت پسند جن کے ستائے جانے کا اندیشہ ہے ان کو شہری حقوق کے حوصلہ مند قائدین کے طور پر سامنے لایا جائے جو وہ فی الحقیقت ہیں۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ یہ مفید مطلب ہے۔

                ۲-            سیاسی حد رسائی (out reach)کے معاملات میں جدیدیت پسند عام مسلمانوں کو شامل کیا جائے تاکہ آبادی کی بنیاد پر حقیقی صورت حال کی صحیح عکاسی ہو۔ مسلمانوں کی اسلامیت کو مصنوعی طور پر ابھارنے سے احتراز کیا جائے۔ اس کے بجاے ان کو اس بات کا عادی بنایا جائے کہ اسلام ان کی شناخت کا بس ایک حصہ ہو سکتا ہے۔

                ۳-            اسلامی دنیا میں سول سوسائٹی کی حمایت کی جائے۔ یہ بحرانی حالات‘ میں مہاجروں کی دیکھ بھال میں اور تنازعے کے بعد کی صورت حال میں خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ اس صورت میں ایک جمہوری قیادت سامنے آسکتی ہے اورمقامی این جی اوز اور دوسری شہری انجمنوں کے ذریعے عملی تجربہ حاصل کر سکتی ہے۔ دیہی اور پڑوسی کی سطح پر بھی یہ انجمنیں ایک ایسا انفراسٹرکچر ہیں جو سیاسی شعور بیدار کرسکتی ہیں اور معتدل جدیدیت پسند قیادت ابھار سکتی ہیں۔

                ۴-            مغربی اسلام ‘ جرمن اسلام اور امریکی اسلام وغیرہ کو تشکیل دینا۔ اس کے لیے ان معاشروں کی ہیئت کا اور ان کے ہاں رائج فکروعمل کے ارتقا کا بہتر فہم حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ان کے نظریات کا استنباط کرنے‘ اظہار کرنے اور ان کو قانونی شکل دینے (codifying)میں مدد دی جائے۔

                ۵-            انتہاپسند اسلام سے وابستہ افراد اور موقفوں کو بے جواز قرار دیا جائے۔ بنیاد پرست خودساختہ قائدین کے غیراخلاقی اور منافقانہ افعال کو عام کیا جائے۔ مغرب پر بداخلاقی اور سطحیت کے الزامات‘ بنیاد پرستوں کے اسلحہ خانے کا پرکشش حصہ ہیں‘ جب کہ  انھی نکات پر وہ خود بہت زیادہ حملے کی زد میں ہیں۔

                ۶-            عوامی ذرائع ابلاغ میں عرب صحافیوں کی حوصلہ افزائی کرنا کہ وہ بنیاد پرست قائدین کی زندگیوں‘ عادات و اطوار اور بدعنوانیوں پر تفتیشی رپورٹنگ کریں۔ ان واقعات کی تشہیر کی جائے جو ان کی بے رحمی کو ظاہر کرتی ہے‘ مثلاً حال ہی میں آتش زنی کے واقعے میں سعودی اسکول میں لڑکیوں کی اموات‘ جب کہ مذہبی پولیس نے آگے بجھانے والوں کو جلتے ہوئے اسکول کی عمارت سے لڑکیوں کو نکالنے سے ہاتھ پکڑ کر روکا کیونکہ وہ باپردہ نہ تھیں۔ اور ان کی منافقت جس کا اظہار اس سے ہوتا ہے کہ سعودی مذہبی انتظامیہ تارک وطن کارکنوں کو اپنے نئے پیدا ہونے والے بچوں کی تصویریں منگوانے سے اس بنیاد پر روکتی ہے کہ اسلام میں تصویر بنانا منع ہے‘ جب کہ ان کے اپنے دفاتر میں شاہ فیصل وغیرہ کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں ہیں۔

                ۷-            دینی سرگرمیوں کی مالی معاونت کے نظام کو درہم برہم کیا جائے‘ اس لیے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو وسائل فراہم کرنے میں خیراتی اداروں کا کردار ۱۱ستمبر کے بعد زیادہ واضح طور پر سمجھا جا رہا ہے۔ ضروری ہوگیا ہے کہ سرکاری سطح پر تحقیقات ہوں اور مسلسل جاری رہیں۔

                ۸-            خوش حال اور معتدل اسلام کے نمونے کے طور پر مناسب نظریات رکھنے والے  ممالک اور علاقوں یا گروپوں کی شناخت کرکے اور ان کی سرگرمی سے مدد کرکے تشہیر کی جائے۔ ان کی کامیابیوں کو شہرت دی جائے۔

                ۹-            تصوف کے مقام ومرتبے کو بلند کیا جائے۔ مضبوط صوفی روایات کے حامل ممالک کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ اپنی تاریخ کے اس حصے کو اہمیت دیں اور اسے اپنے اسکول کے نصاب میں شامل کریں۔ صوفی اسلام پر زیادہ توجہ دی جائے۔

                ۱۰-         انقلابی اسلامی تحریکوں کے بڑی عمر کے وابستگان کے نظریات تبدیل ہونے کی آسانی سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ لیکن اگر جمہوری اسلام کا پیغام متعلقہ ممالک کے اسکول نصابات میں اور سرکاری میڈیا میں داخل کر دیا جائے تو ان کی نوخیز نسل پر اثرانداز ہوا جا سکتا ہے۔ انقلابی بنیاد پرستوں نے تعلیم میں رسوخ حاصل کرنے کے لیے بہت بڑی کوششیں کی ہیں اور اس کا امکان بہت کم ہے کہ وہ کسی لڑائی کے بغیر اپنی قائم شدہ  جڑیں چھوڑ دیں۔ یہ میدان ان سے واپس حاصل کرنے کے لیے ایک بھرپور کوشش کی ضرورت ہوگی۔

اس ۱۰ نکاتی حکمت عملی کو بروے کار لانے کے لیے ایک مفصل پروگرام اور ترجیحات ہی نہیں بلکہ پورے سیاسی اور نظریاتی کھیل کا نقشۂ کار بھی رپورٹ کی زینت ہے۔ میکاولی کی سیاست تو مشہور تھی ہی‘ مگر بش کے امریکا نے میکاولی کی سیاست کا جو اکیسویں صدی کا ایڈیشن مرتب کیا ہے‘ اس کے خدوخال ہی دیکھ لیں اور اس آئینے میں غیروں ہی کے نہیں اپنوں کے بیانات‘ عزائم اور اعلانات کی تصویر بھی دیکھ لیں کہ کس طرح ماڈرن اور ماڈریٹ اور روشن خیال اسلام کا تانابانا بنا جا رہا ہے:

مجموعی حکمت عملی کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوگاکہ درج ذیل خصوصی سرگرمیاں بھی کی جائیں:

  •  جدیدیت پسندوں اور معروف سیکولرسٹوں کی اس طرح سے مدد کی جا سکتی ہے:

                ___        ان کے افکار کی توسیع واشاعت کی جائے۔

                ___        ان کی عوام اور نوجوانوں کے لیے لکھنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے۔

                ___        اسلامیات کے نصاب میں ان کے افکار کو متعارف کروایا جائے۔

                ___        ان کو عوامی پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔

                ___        مذہب کے بنیادی تصورات کے بارے میں ان کے افکار ونظریات کو ان بنیاد پرستوں اور روایت پسندوں کے مقابلے میں عام کیا جائے جو پہلے سے ہی اپنے نظریات کی اشاعت کے لیے ویب سائٹس‘ اشاعتی ادارے‘ تعلیمی ادارے اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہیں۔

                ___        غیرمطمئن مسلم نئی نسل کے لیے جدیدیت کو متبادل ثقافت کے طور پر پیش کیا جائے۔

                ___        قبل از اسلام اور غیر اسلامی تاریخ اور ثقافت سے متعلق بیداری کو سہولت پہنچاکر اور حوصلہ افزائی کرکے متعلقہ ممالک کے میڈیا اور نصاب کے ذریعے عام کیا جائے۔

                ___        لادینی شہری اور ثقافتی اداروں اور پروگراموں کی حوصلہ افزائی اور امداد کی جائے۔

  • روایت پسندوں کی بنیاد پرستوں کے مقابلے میں حمایت اس طرح سے کی جائے:

                ___        روایت پسندوں  کی بنیاد پرستوں کے تشدد اور انتہاپسندی پر تنقید کو عام کر کے‘ اور روایت پسندوں  اور بنیاد پرستوں کے درمیان اختلاف کو ہوا دے کر۔

                ___        روایت پسندوں اور بنیاد پرستوں کے درمیان اتحاد کی روک تھام کرکے۔

                ___        ان جدیدیت پسندوں اور روایت پسندوں  کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے جو اس تناظر میں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ روایت پسندوں  کے اداروں میں جدیدیت پسندوں کی موجودگی اور حیثیت کو بڑھا یا جائے۔

                ___        روایت پسندوں  کے مختلف حلقوں کے درمیان امتیاز برتا جائے۔

                ___        ان عناصر کی حوصلہ افزائی کی جائے جو جدیدیت سے قریب تر ہیں--- جیساکہ دوسروں کے مقابلے میں فقہ حنفیہ۔ ایسے فتاویٰ جاری کیے جائیں جو قبولیت عام حاصل کرکے دقیانوسی وہابی فتووں کی حیثیت کو کمزور کریں۔

                ___        صوفی ازم کی شہرت اور مقبولیت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

  •  بنیاد پرستوں کا اس طرح مقابلہ کیا جائے اور مخالفت کی جائے:

                ___        اسلامی تعبیرات کے سوال پر ان کے نقاط نظر میں پائے جانے والے اختلافات کو چیلنج کرکے اور بے نقاب کر کے۔

                ___        غیرقانونی گروپوں اور سرگرمیوں سے ان کے تعلقات کو بے نقاب کر کے۔

                ___        ان کی پُرتشدد سرگرمیوں کے نتائج کو عام کر کے۔

                ___        اپنی اقوام کی فلاح و بہبود کے صحیح رخ پر تعمیروترقی کرنے کی نااہلیت کو ظاہر کرکے۔

                ___        ان پیغامات کوبالخصوص نوجوانوں‘ نیک روایت پسند آبادی‘ مغرب میں مسلم اقلیتوں اور خواتین کو پہنچاکر۔

                ___        انتہا پسند بنیاد پرستوں اور دہشت گردوں کے کارہاے نمایاں کی تعریف کرنے اور انھیں احترام دینے سے اجتناب کرکے اور اس کے بجاے انھیں خبطی اور بزدل‘ نہ کہ بدی کے ہیرو کے طور پر پیش کر کے۔

                ___        صحافیوں کی حوصلہ افزائی کر کے کہ وہ بنیاد پرستوں اور دہشت گردوں کے حلقوں میں تفتیشی رپورٹنگ کے ذریعے بدعنوانی‘ منافقت اور اخلاقی گراوٹ کے معاملات کو سامنے لائیں۔

  •   صرف لادین عناصر کی حمایت کی جائے:

                ___        بنیاد پرستی کو بطور مشترکہ دشمن تسلیم کرنے کی حوصلہ افزائی کر کے‘ قوم پرستی اور بائیں بازو کے نظریات کی بنیاد پر امریکا مخالف قوتوں کے ساتھ لادینی عناصر کے اتحادوں کی حوصلہ شکنی کر کے۔

                ___        اس نظریے کی حمایت کر کے کہ مذہب اور ریاست اسلام میں بھی جدا جدا ہوسکتے ہیں اور اس سے ایمان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ (ص ۶۱-۶۶)

تہذیبی‘ فکری اور تعلیمی جنگ کا پورا نقشۂ کار آپ کے سامنے ہے۔ اگر اب بھی کسی کو امریکی سامراج کی تازہ ترین صلیبی جنگ کے اصل اہداف‘ مقاصد اور مضمرات کو سمجھنے میں مشکل پیش آرہی ہے تو اس کی وجہ امریکی دانش وروں کی صاف گوئی کی کمی نہیں‘ اپنی کج فہمی یا تغافل جاہلانہ ہوسکتی ہے۔ رہے ہمارے حکمران اور لبرل دانش ور‘ تو ذرا امریکا بہادر کے ان ارشادات کا موازنہ اپنے حکمرانوں‘ وزراے تعلیم بلکہ کچھ ’علماے کرام‘ کی گوہرافشانیوں سے کرکے دیکھ لیجیے۔ صاف نظر آجائے گا کہ    ؎

انھی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں‘ زباں میری ہے بات ان کی

انھی کی محفل سنوارتا ہوں‘ چراغ میرا ہے رات ان کی


دوسری طرف اس سے بھی زیادہ اہم رپورٹ وہ ہے جو ایک اعلیٰ اختیاراتی مشاورتی گروپ نے مرتب کی ہے جس میں ۱۴ اہم سابق سفیر اور چوٹی کے دانش ور تھے اور جس کے صدر سابق سفیر ایڈورڈ پی ڈجرجن(Edward P. Djerejan) تھے اور جسے امریکی ایوان نمایندگان کی Committee on Appropriationنے مرتب کرایا ہے۔ اس گروپ نے مسلم دنیا کے اہم ممالک کا دورہ کیا اور جہاں نہ جا سکا وہاں ٹی وی کانفرنس کے ذریعے وہاں کے اہم لوگوں سے رابطہ کیا۔ مدیر ترجمان القرآن کو بھی ایک ایسی ہی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ رپورٹ اکتوبر ۲۰۰۳ء میںChanging Minds Winning Peace: A New Strategic Direction for U.S. Public Diplomacy in the Arab and Muslim World کے نام سے شائع ہوئی ہے‘ اور امریکی کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس سے استفادہ کیا ہے۔۱؎

اس رپورٹ کا مثبت پہلو تو یہ ہے کہ اس میں امریکا کے بارے میں عالمِ اسلام اور  عرب دنیا میں پائی جانے والی بے چینی بلکہ نفرت کا واضح اعتراف موجود ہے۔ البتہ اصلاحِ احوال کے لیے امریکا کی پالیسیوں پر نظرثانی کا تو بالکل ضمنی طور پر ذکر کرتی ہے لیکن اصل توجہ اس پر ہے کہ دنیا ہمیں صحیح طور پر سمجھ نہیں رہی‘ اس لیے خوب وسائل خرچ کر کے امریکی نقطۂ نظر کو دنیا کو سمجھانے اور عرب اور اسلامی دنیا کے تعلیمی‘ سیاسی اور سماجی نظام میں ایسی تبدیلیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جو امریکا کی ساکھ کو بڑھانے اور ان کو امریکا کا ہم نوا بنانے میں موثر ہوسکیں۔ سرمایے کا بے محابا استعمال‘ نظام تعلیم کو متاثر کرنا‘ ریڈیوا ورٹی وی کا موثر استعمال‘ وفود کے تبادلے‘ طلبہ قیادتوں‘ فوجی ذمہ داروں کے تبادلہ پروگراموں‘ امریکی لٹریچر کی ان ممالک کی زبانوں میں فراہمی‘ امریکی سینٹرز کا قیام‘ امریکا میں ان ملکوں کی زبانوں کے جاننے والوں کا خصوصی پروگرام وغیرہ بھی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ اس خدشے کا بھی اعتراف ہے کہ جمہوریت کے فروغ سے کہیں مذہبی انتہاپسند ان ممالک میں غلبہ نہ حاصل کرلیں۔

ہم ان تمام اخباری مضامین اور بیانات سے صرفِ نظر کر رہے ہیں جن میں مدرسے کی تعلیم‘ جہادی کلچر کی فسوں کاریوں اور نام نہاد بنیاد پرست تنظیموں کی سرگرمیوں کو ہدف تنقیدوملامت بنایا گیا ہے اور جس نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں پیالی میں طوفان (storm in a cup of tea) کا سماں پیدا کر دیا ہے۔ امریکا کے کارفرما عناصر کے ذہن کو بنانے اور خود پالیسی ساز اداروں کو متاثر کرنے میں اس کا بھی بڑا دخل ہے۔ پالیسی ساز اداروں اور ’مراکز دانش‘ کی رپورٹوں کے جائزے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم اس وقت خاص ہدف ہیں۔

اس پس منظر میں پاکستان میں جنرل پرویز مشرف اور ان کی ٹیم کے ذریعے جو تبدیلیاں نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم میں لائی جا رہی ہیں‘ ان کے بے لاگ جائزے کی اشد ضرورت ہے۔ اس لیے کہ سرکاری اعلانات برأت کے علی الرغم یہ ایک حقیقت ہے کہ ان نام نہاد اصلاحات کے ڈانڈے امریکی پالیسی اور مطالبات سے ملتے ہیں جس کا اعتراف امریکی وزیرخارجہ جناب کولن پاول نے امریکا کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سامنے اپنے ایک بیان میں ۱۰ مارچ ۲۰۰۴ء کو ان الفاظ میں کیا کہ: ’’پاکستانی مدارس دہشت گردوں کی آماجگاہ ہیں جس کے لیے ہم مشرف اور دیگر اسلامی ممالک کے سربراہوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں‘‘۔ اسی طرح امریکا کی سلامتی کی مشیر کونڈولیزارائس کا یہ بیان بھی ایک جہانِ معنی اپنے اندر رکھتا ہے کہ ’’اسلامی ممالک بشمول پاکستان کا تعلیمی نصاب    بڑا مسئلہ تھا اور ہم اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی مشاورت سے بڑی تبدیلیاں کررہے ہیں‘‘۔

ہماری وزیرتعلیم خواہ کتناہی یہ کہتی رہیں کہ: ’’نصاب میں تبدیلی اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی منصوبہ بندی ہماری اپنی ہے‘ کوئی امریکی یا بیرونی دبائو کا شاخسانہ نہیں‘‘۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس کے پیچھے امریکا کی عالمی حکمت کا دبائو موجود ہے اور ایک موقع پر   تو کونڈاولیزارائس نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ: ’’پاکستان میں تعلیمی نصاب میں تبدیلی کے پیچھے  ہماری ہدایات کارفرما ہیں‘‘۔اب تو ’زبانِ خنجر‘ اور ’آستیں کا لہو‘ دونوں پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ  تعلیمی نظام اور تعلیمی نصاب دونوں میں کی جانے والی تبدیلیوں کی اصل شان نزول کیا ہے؟

بلاشبہہ یہ تبدیلیاں ۱۱ستمبر کے واقعے کے بعد ہی شروع ہوگئی تھیں اور ان میں سے کچھ جنرل پرویز مشرف کے اپنے سیکولر اور لبرل رجحانات کے زیراثر بھی ہوسکتی ہیں لیکن تعلیم کو سیکولرائز کرنے کی مہم میں تیزی ۱۱ستمبر کے بعد کی امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں آئی ہے۔

اس پس منظر میں کچھ تبدیلیاں تو وہ ہیں جو خاموشی سے وزارتِ تعلیم کے ذریعے لائی جارہی تھیں لیکن ایک دھماکا اس رپورٹ کی اشاعت سے ہوا جسے مغربی سرمایے کے بل بوتے پر ایک این جی او نے سیکولر اور لبرل دانش وروں کے ایک گروہ سے تیار کروایا اور The Subtle Subversionکے نام سے یہ رپورٹ اے ایچ نیر اور احمدسلیم کی ادارت میں Sustainable Development Policy Institute (SDPI)نے شائع کی جس پر وزارت تعلیم کی ایک کمیٹی نے باقاعدہ غور کیا۔ خدا بھلا کرے ان اہلِ قلم اور پارلیمنٹ کے ارکان کا جنھوں نے اس پر بروقت گرفت کی اور وزارتِ تعلیم کو ایک دفاعی پوزیشن میںڈال دیا۔ یہ رپورٹ اس ذہن کی کھلی عکاسی کرتی ہے جو تعلیم کے نظام کو کلی طور پر غیراسلامی بناکر مغرب کے لبرل فریم ورک میں لانا چاہتا ہے اور جو امریکا کے اصل اہداف کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔ اس گروہ نے کوشش تو یہ کی تھی کہ وزارتِ تعلیم کے ذریعے اپنے مذموم اہداف کو حاصل کر لے لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک سنت ہے کہ وہ شر سے کبھی کبھی خیر بھی نمودار کرتا ہے‘ اسی طرح جس طرح رات سے دن رونما ہوتا ہے۔ اس رپورٹ کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مخالف قوتوں کا پورا کھیل سامنے آگیا اور قوم جو ایک حد تک غفلت کا شکار تھی‘ چونک اٹھی اور جو تبدیلیاں خاموشی سے لائی جارہی تھیں وہ ایک دم سب کے سامنے آگئیں۔ اس سلسلے میں روزنامہ نواے وقت و روزنامہ انصاف اور اسلامی جمعیت طلبہ ‘ اسلامی جمعیت طالبات اور تنظیم اساتذہ نے بھی بہت کلیدی کردار ادا کیا۔

اس طرح نظام تعلیم اور نصابِ تعلیم کا مسئلہ قومی بحث اور پارلیمنٹ میں احتساب کا موضوع بن گئے۔ ہم نے جو پس منظر پیش کیا ہے اس میں اس بحث کی اصل معنویت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ ہم آیندہ شمارے میں ان شاء اللہ‘ ایس ڈی پی آئی کی رپورٹ اور وزارتِ تعلیم کے مختلف اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔