بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجھے ہوئے معاملات کو سلجھانا اور اختلافی امور کو حل کرنا حکمت و دانائی کا شیوہ ہے مگر اسے کیا کہا جائے کہ اب اقتدار پر قابض جرنیل اور ان کے ہم نوا دانش ور طے شدہ معاملات کو متنازع بنانے کی مشق بڑی بے دردی سے کر رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ اندرونی مسائل اور مشکلات کی دلدل سے نکلنے کی کوئی راہ پیدا ہو رہی ہے‘ اور نہ خارجہ سیاست میں کہیں روشنی کی کوئی کرن ہی نظر آرہی ہے--- ژولیدہ فکری‘ تضادات اور کہہ مکرنیوں کے سیلاب کے ساتھ اب اصولی موقف اور قومی زندگی کے ثابت اور مستحکم امور بھی مشتبہ اور غیرمعتبر ہوتے جا رہے ہیں اور مفاد کے نام پر ہر اصول‘ ہر حقیقت اور ہر مسلّمہ کلیے سے انحراف کا دروازہ کھولا جا رہا ہے۔ چنانچہ صرف کنفیوژن میں اضافہ ہو رہا ہے‘ پالیسی کے روشن خطوط دھندلا گئے ہیں اور دلیل کی جگہ ایک ایسے شوروغوغا نے لے لی ہے کہ ع کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!
مصائب تو بہت تھے مگر ذہنی افلاس اور بے اصولی کا جو منظر خارجہ سیاست کے میدان میں نظر آ رہا ہے‘ اس نے ملک و ملّت کو ایسے خطرات سے دوچار کر دیا ہے جن کا اگر بروقت مقابلہ نہ کیا گیا تو پاکستان کے نظریاتی وجود اور تاریخی کردار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ان تمام معاملات کا تعلق محض وقتی مصلحتوں سے نہیں بلکہ معاملہ اصول اور ملک و ملّت کے اسٹرے ٹیجک مفادات کا ہے جنھیں محض کسی کی خوشنودی یا کچھ مراعات کی توقع کی خاطر قربان نہیں کیا جا سکتا۔
یہ ایک بڑا چونکا دینے والا سوال ہے کہ آخر اس وقت یہ شوشہ کیوں چھوڑا گیا ہے؟ فلسطین میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ انتفاضہ الاقصیٰ کو تیسرا سال ہے۔ ڈھائی تین ہزار مسلمان مرد‘ عورت اور بچے اس عرصے میں شہیدہو چکے ہیں۔ فلسطین میں انسانی حقوق کے ادارے ’’لائ‘‘(law) کی رپورٹ کے مطابق صہیونیوں نے ۱۹۴۸ء سے لے کر اب تک ۱۵لاکھ افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان کو ٹارچر کا نشانہ بنایا ہے اور طویل عرصے تک بلامقدمہ چلائے جیلوں میں رکھا ہے۔ ۳ لاکھ فلسطینیوں کو زخمی کیا اور ان میں سے ۴۰ ہزار سے زیادہ کو مستقلاً معذور کر دیا ہے۔ سرزمین فلسطین سے اس کے اصل عرب باشندوں میں سے اتنی بڑی تعداد کو ملک بدر کیا ہے کہ اب فلسطین سے باہر فلسطینی مہاجرین کی تعداد۴۵ لاکھ تک پہنچ چکی ہے جو اسرائیل کی پوری یہودی آبادی کے برابر ہے۔ آج بھی مہاجر کیمپوں میں رہنے والوں کی تعداد ۸ لاکھ کے قریب ہے۔ ۱۷۰ ہسپتالوں ‘ ۳۱۵ اسکولوں اور سات یونی ورسٹیوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ عرب علاقے کے ۶۰ فی صد کھیت کھلیان جلا کر خاکستر کر دیے گئے ہیں‘ ۳۷۰فیکٹریاں تباہ کی ہیں‘ ۶ لاکھ سے زائد جانوروں کوموت کے گھاٹ اتار دیا ہے اور اب عرب علاقوں میں ۲۱۰میل لمبی آہنی فصیل بنائی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں عربوں کی لٹی پھٹی زمین کا مزید ۱۰‘۱۵فی صد پر اسرائیلی قبضہ ہوگا۔ جس علاقے کو مستقبل کی عرب ریاست کا محل سمجھا جا رہا ہے وہ ٹکڑوں میں بٹ جائے گی اور اسرائیل کی فوج اور آبادکار ان پر بدستور قابض رہیں گے۔
ظلم و ستم کی اس نہ ختم ہونے والی سوچی سمجھی اسٹرے ٹیجی کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اسرائیل امن کی کسی بھی تجویز پر عمل پیرا ہونے کے لیے تیار نہیںہے۔ نام نہاد روڈمیپ اور اپنی پسند کے فلسطینی وزیراعظم اور پولیس سربراہ کے تقرر کے باوجود نہتے عوام پر ٹینکوں اور ایف-۱۶ سے حملے ہو رہے ہیں۔ ہدف بنا کر سیاسی قائدین اور علما کو قتل کیا جا رہا ہے۔پوری عرب آبادی کو فصیلوں کے ذریعے محصور کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ یاسرعرفات کو بھی کونے سے لگا دیا گیا ہے۔ صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ جسے ’’روڈمیپ‘‘ کہا جا رہا ہے وہ ایک سراب سے زیادہ نہیں کہ فلسطینیوں کے قدموں تلے کوئی روڈ ہی نہیں ،’’میپ‘‘ کی تو بات ہی کیا!
ایک طرف حالات کی یہ ہولناک صورت ہے اور دوسری طرف جنرل پرویز مشرف کے کیمپ ڈیوڈ کے دورے سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے سوال پر اچانک خود کلامی شروع ہو گئی۔ اس کے بعد سیکرٹری وزارتِ خارجہ اور سیکرٹری اطلاعات نے اسرائیل کے تسلیم کیے جانے کے حق میں وعظ شروع کر دیا۔ جنرل صاحب کے علاوہ وزیر داخلہ اور سردار عبدالقیوم بھی میدان میں کود پڑے اور جولائی ۲۰۰۳ء کے Jan's Intelligence Digestنے تو اعلان ہی کردیا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ اس کے الفاظ میں:
پاکستان کے حکام خصوصیت سے مشرف سے قریب فوجی قیادت اسرائیل کے ساتھ براہ راست روابط قائم کرنے کا پہلے ہی فیصلہ کر چکی ہے۔ مشرف اپنے ایجنڈے کے ساتھ مستقبل قریب میں آگے بڑھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ پاکستان کو مستحکم کرنے کی جنرل پرویز مشرف کی کوششوں‘ نیز ان کے اپنے سیاسی مستقبل پر لازماً اہم اثرات مرتب کرے گا۔
دفاعی امور کے بارے میں سراغ رسانی کی اس رپورٹ کا ماحصل یہ ہے کہ فیصلہ تو ہوچکا ہے البتہ ’’جنرل مشرف اندرونِ ملک اور بیرون ملک اس کے ممکنہ اثرات کو ضرور جانچنا چاہتے ہیں‘‘۔
ہم اپنی رائے تو دلائل کے ساتھ پیش کریں گے لیکن اپنی بحث کا نتیجہ بالکل واضح الفاظ میں پہلے ہی بیان کر دینا چاہتے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا ہمالہ سے بڑی غلطی ہوگی جو قوم کے احتجاج اور نفرت ہی نہیں‘ خدانخواستہ اللہ کے غیض و غضب کو بھی دعوت دینے کا ذریعہ بنے گی۔ یہ پاکستان اور جنرل مشرف کے سیاسی مستقبل کو استحکام بخشنے کا نہیں‘ فوری طور پر عدمِ استحکام کی نذر کرنے کا ذریعہ ہوگا۔ اس شوشے کے چھوڑے جانے کے بعد سے آج تک جو کچھ اس کے بارے میں لکھا گیا ہے یا تقاریر اور تبصروں میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ انگلیوں پر گنے جانے والے افراد کے سوا پوری قوم‘ تمام اہم کالم نگاروں اور تمام قابلِ ذکر سیاسی حلقوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ اسے قومی مفاد اور پاکستان کے تاریخی اور اصولی موقف کی ضد اور ایک بے وقت کی راگنی قرار دیا ہے اور اس شبہہ کا اظہار کیا ہے کہ یہ پاکستان کے اندر سے اُبھرنے والا ایک رجحان نہیں بلکہ باہر سے ہم پر مسلط کیا جانے والا ایک فتنہ ہے--- کوئی معشوق ہے اس پردہ زنگاری میں!
کسی ملک کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا سوال بین الاقوامی قانون‘ سفارت کاری اور تجارت سے متعلق ہے۔ دنیا کے ہر ملک کے لیے ضروری نہیں کہ ہر دوسرے ملک کو لازماً تسلیم کرے‘ یا اس سے سفارت کاری اور تجارت کا رشتہ استوار کرے۔ بنیادی طور پر اس مسئلے کا تعلق دو ہی پہلوئوں سے ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ کیا وہ ریاست یا ملک جس سے معاملہ کیا جا رہا ہے ایک مبنی برحق اور صاحب ِ اقتدار ملک ہے یا نہیں؟ اور دوسرے یہ کہ اس سے سفارتی یا تجارتی رشتہ استوار کرنا ہمارے مفاد میں ہے یا نہیں؟ پہلا سوال اپنے قانونی‘ سیاسی اور اخلاقی پہلو رکھتا ہے اور دوسرا خالص مفادات سے متعلق ہے۔ بین الاقوامی قانون اور روایات کی روشنی میں یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر وہ ملک جس سے آپ حالت جنگ (state of war) میں نہ ہوں‘ آپ لازماً اسے تسلیم کریں یا اس سے سفارتی اور تجارتی تعلقات کا رشتہ استوار کریں۔ نیز مختلف وجوہ سے دنیا کے دسیوں ممالک نے برسہا برس تک دوسرے ممالک کو تسلیم نہیں کیا اور کوئی آسمان نہیں گر پڑا۔
خالص قانونی نقطۂ نظر سے کسی ملک کو تسلیم کرنے کے معنی اسے ایک جائز وجود (legitimate entity) تسلیم کرنا ہے۔ بین الاقوامی قانون کی رو سے اس کے لیے اس ملک کے بارے میں چار امور یقینی ہونا چاہییں: ۱- متعین جغرافیائی حدود (defined geographical borders) ۲-آبادی ۳- اپنے حدود میں مکمل آزادی اور ۴- قبضہ۔
یہ حاکمیت (sovereignty) کے لازمی اجزا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے کوئی ملک ان میں سے کسی پہلو سے بھی متنازع ہو تو اسے تسلیم کرنے میں تردد کیا جاتاہے۔ وہ ملک یا علاقہ جو کسی دوسری قوت کے تابع (کنٹرول میں) ہو اسے آزاد تسلیم نہیں کیا جاتا‘ یا اگر کسی اور وجہ سے اسے جواز (legitimacy) سے محروم تصور کیا جاتا ہو تب بھی اسے تسلیم نہیں جاتا اور یہ سلسلہ صدیوں پر محیط ہو سکتا ہے۔ فاک لینڈ پر انگلستان کے قبضے کو ڈیڑھ سو سال سے زیادہ ہونے کے باوجود‘ ارجنٹائن نے اسے آج تک قبول نہیں کیا۔ روس‘چین‘ تائیوان سب ان مراحل سے گزرے ہیں۔ جموںو کشمیر کے دو تہائی حصے پر بھارت کا قبضہ ہے مگر نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کی وجہ سے صرف قبضے کی بنیاد پر اسے قانونی جواز حاصل نہیں ہوگا۔ اسرائیل کے تسلیم کیے جانے کے سلسلے میں بھی سب سے پہلا اصولی‘ قانونی‘اخلاقی اور سیاسی سوال یہی ہے کہ کیا اسرائیل ایک مبنی برحق ’’جائز‘‘ (legitimate) ریاست ہے؟اس کے عملی وجود (de facto existence) سے توکوئی انکار نہیں کرتا۔ جس طرح صدیوں پر محیط برطانوی‘ فرانسیسی‘ اطالوی‘ ہسپانوی‘ ولندیزی اور دوسرے استعماری طاقتوں کے وجود کا انکار نہیں کیا جا سکتا یا جس طرح جنوبی افریقہ میں سفیدفام پورپیوں کی نسلی ریاست (apartheid state) کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ان ریاستوں کو محض قبضے اور اقتدار کی وجہ سے جائز تسلیم نہیں کیا گیا اور بالآخر حالات کی تبدیلی سے آزاد قومی ریاستیں وجود میں آئیں جن کو یواین چارٹر کے تحت سندِجواز حاصل ہوئی۔
ارضِ فلسطین بنی اسرائیل کا اصل مسکن نہ تھا۔ یہ اس سرزمین پر ۱۳ سو برس قبل مسیح میں داخل ہوئے اور ۲۰۰ سال کی کش مکش کے بعد اس پرقابض ہوگئے۔ دو بار یہ اس سرزمین سے بے دخل کیے گئے۔ ۱۳۵ء میں رومیوں نے بنی اسرائیل کو ارضِ فلسطین سے مکمل طور پر نکال باہر کیا۔ گذشتہ ۶ ہزار سال کی تاریخ میں شمالی فلسطین میں بنی اسرائیل کا قیام چار پانچ سو برس اور جنوبی فلسطین میں کل آٹھ نو سو برس رہا جبکہ عرب شمالی فلسطین میں ڈھائی ہزار سال سے اور جنوبی فلسطین میں تقریباً ۲ ہزار سال سے مسلسل آباد چلے آ رہے ہیں۔
ارضِ فلسطین پر یہودیوں کے دعوے کی بنیاد بائبل میں درج نام نہاد الٰہی وعدے پر ہے جسے زیادہ سے زیادہ ایک خیالی مفروضہ (myth) قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس تصوراتی استحقاق کی بنیاد پر انیسویں صدی کے آخر میں یورپ کے دولت مند اور سیاسی طور پر طالع آزما یہودی قیادت نے فلسطین میں یہودی ریاست قائم کرنے کے لیے ایک سیاسی تحریک صہیونیت (Zionism) کا آغاز کیا۔ انھوں نے دولت‘ ظلم و تشدد‘ سیاسی جوڑ توڑ اور سامراجی سازشوں کے ذریعے بالآخر عربوں اور ترکوں کو لڑا کر‘ برطانوی انتداب (mandate) کے دور میں اس سرزمین پر اپنے قدم جمائے۔ یوں ۱۴ مئی ۱۹۴۸ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک قرارداد کے تحت‘ لیکن دراصل فوجی قوت اور اہل فلسطین کے جبری انخلا اور نسل کشی (genocide) کے ذریعے‘ اسرائیل کے قیام کا ہدف حاصل کیا گیا۔ ایک یہودی دانش ور اور ادیب آرتھر کویئسلر(Arther Koestler) اپنی جوانی میں صہیونیت کے طلسم کا شکار تھا اور جرمنی میں اپنا گھربار چھوڑ کر فلسطین کی صہیونی بستیوں (kibbutz) میں نقل مکانی کرنے والوں میں شامل تھا۔ مگر جب اس نے بچشم سر اس ظلم کو دیکھا جس کا نشانہ اہلِ فلسطین کو بنایا گیا تو اس نے ایک مختصر جملے میں اس تاریخی ظلم کو یوں بیان کیا:
کیا ستم ہے کہ ایک قوم نے ایک دوسری قوم کو ایک تیسری قوم کا ملک (بڑی فیاضی سے) تحفتاًدینے کا حلفیہ وعدہ کیا۔ (آرتھر کویئسلر‘ Promise and Fulfilment لندن‘ ۱۹۴۹ئ‘ص ۴)
۱۹۱۴ء میں فلسطین میں صرف ۳ ہزار یہودی گھرانے آباد تھے اور پہلی جنگِ عظیم کے بعد وسیع پیمانے پر یہودیوں کو غیر قانونی طور پر ارضِ فلسطین منتقل کرنے کے باوجود فلسطین میں یہودیوں کی کل آبادی صرف ۵۶ ہزار تھی‘ جب کہ اس وقت فلسطینی عربوں کی تعداد ۶ لاکھ ۴۴ ہزار تھی۔ ساری قتل و غارت گری اور تشدد کے باوجود ۱۹۴۸ء میں جب اسرائیل کو جبراً ریاستی حیثیت دی گئی‘ یہودی ارضِ فلسطین میں صرف ۶.۵ فی صد زمین کے مالک تھے اور فلسطین کی آبادی میں ان کا حصہ بمشکل ۳۳ فی صد تھا۔ واضح رہے کہ گذشتہ ۳۰سال میں دنیا کے ۸۰ ممالک سے چن چن کر یہودیوں کو لا کر یہاں آباد کرنے اور خود فلسطینیوں کو ان کے گھربار سے نکالنے اور ان کی بستیوں کی بستیوں کو تاراج کرنے کے ذریعے یہودی آبادی ۱۰ گنا سے زیادہ بڑھا لی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی قرارداد کے ذریعے یہودیوں کو ارضِ فلسطین کا ۵۶ فی صد سونے کی طشتری میں رکھ کر دے دیا گیا اور باقی ۴۴فی صد فلسطینیوں کی آزاد ریاست کو دیا گیا لیکن اسرائیل کے جنگجو گروپوں نے عملاً ۱۹۴۸ء ہی میں ارضِ فلسطین کے ۷۸ فی صد پر بزور قبضہ کرلیا اور پھر ۱۹۶۷ء میں باقی تمام فلسطین بشمول مشرقی بیت المقدس اپنے قبضہ میں لے لیا۔
مقصد یہاں ظلم کی یہ پوری دل خراش داستان بیان کرنا نہیں بلکہ اس تاریخی حقیقت کو نمایاں کرنا ہے کہ اسرائیل ایک حقیقی اور فطری ریاست نہیں جو ایک علاقے میں اس کے رہنے والوں کے حق خود ارادی کی بنیاد پر وجود میں آئی ہو بلکہ ایک چرائی ہوئی (stolen) ریاست ہے جو ایک سرزمین کے اپنے باسیوں کو بے دخل کر کے‘ باہر سے لائے ہوئے افراد (colonisers) کے تسلط کو قائم کرنے سے وجود میں آئی ہے۔ اس ریاست کے قیام کے اس عمل (genesis) کو سمجھے بغیر علاقے میں اس کی نوعیت کو سمجھنا ممکن نہیں۔ یہ مشرق وسطیٰ کی ایک ریاست نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کے قلب--- فلسطین میں ایک یورپی استحصالی قوم کے تسلط اور غلبے سے عبارت ہے جو بین الاقوامی قانون میں ہر جواز (legitimacy) سے محروم ہے اور رہے گی--- اس کے جواز کی صرف ایک بنیاد ہے اور وہ ہے: جبرکے ذریعے قبضہ (occupation by force) ۔ اور محض قبضے کو کسی بھی ملک کے لیے جوازتسلیم کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہی نہیں بین الاقوامی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ بھی ہے۔
امریکی اخبار انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون (۲۵ جولائی ۲۰۰۳ئ)میں ایک مضمون نگار John V. Whitbeek جو بین الاقوامی قانون کا ماہر ہے موجودہ نام نہاد روڈمیپ کو ایک مغالطہ (illusion) قرار دے رہا ہے۔ اس نے مسئلے کی صحیح تنقیح کی ہے:
"The roadmap builds on a false premise, that the real problem is Palestinian resistance to the 36 years occuption and not THE OCCUPATION ITSELF.
موصوف نے صحیح نتیجہ نکالا ہے کہ مسئلہ فلسطینیوں کی طرف سے تشدد نہیں بلکہ ان کی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ ہے۔ جب تک قبضہ ختم نہیں ہوگا امن کا قیام ممکن نہیں۔
جبری تسلط: اسرائیلی یہودی اس علاقے کے اصل باسی نہیں تھے‘ اور آج تک نہیں ہیں۔ انھیں ساری دنیا سے لاکر‘ ملک کے اصل باشندوں کو اپنے گھروں سے بے گھر کر کے ناجائز طور پر‘ محض قوت کے بل بوتے‘ اور استعماری تحفظ کی چھتری تلے دوسروں کے ملک پر غلبہ دیا گیا اور پھر اقوام متحدہ کو استعمال کیا گیا تاکہ کوئی قانونی جواز فراہم کیا جا سکے۔ یہ باہر سے آئے ہوئے اپنے کلچر اور زندگی کو اس علاقے پر مسلط کر رہے ہیں اور صرف قوت کے بل بوتے پر موجود ہیں۔
استصواب کے بغیر: اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے وجود میں آیا ہے اور وہ بھی اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے جس کی رو سے صرف کسی علاقے کے لوگ اپنی آزاد مرضی اور استصواب رائے کے ذریعے اپنی آزادی حاصل کرسکتے ہیں۔ چونکہ مسلمان عرب فلسطین کی آبادی کا ۶۶ فی صد تھے اس لیے اقوام متحدہ نے امریکہ‘ برطانیہ اور روس کی ملی بھگت سے استصواب کے طریقے کو ماننے سے انکار کر دیا اور محض اقوام متحدہ کی قرارداد سے فلسطین کو تقسیم کر کے دو ریاستوں کے قیام کی قرارداد منظور کی۔ یہ بھی اس طرح کیا گیا کہ جنرل اسمبلی میں ووٹ کو دو بار موخر کیا گیا۔ اس لیے کہ اس وقت کے ۵۶ ممالک میں سے صرف ۳۰ اس قرارداد کے حق میں تھے‘ ۱۳ خلاف تھے اور ۱۳ غیر جانب دار تھے اور اس طرح دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہو پا رہی تھی۔ دو بار ووٹ موخر کر کے امریکہ اور عالمی صہیونی ایجنسی نے اپنا اثر اور سرمایہ استعمال کر کے تین غیر جانب دار ممالک (ہیٹی‘ فلپائن اور لائبریا--- جو سب امریکہ کے زیراثر تھے) کو تقسیم کی قرارداد کے حق میں ووٹ دینے پر مجبور کیا۔ گویا اقوام متحدہ کے چارٹر کی تین کھلی کھلی خلاف ورزیوں پر یہ قرارداد منظور ہوئی۔ (الف) استصواب کے بغیر ایک ملک کے مستقبل کا فیصلہ (ب) دو بار ووٹ موخر کرنا (ج) تین ملکوںسے زبردستی (under duress) تائید حاصل کرنا (یہ تمام حقائق تاریخ کا حصہ ہیں اور امریکی کانگریس میں اہم ارکان کی تقریروں میں اعتراف کی شکل میں موجود ہیں)۔
قانون اور عالمی آداب کی خلاف ورزیاں یہاں تک ہی محدود نہ تھیں بلکہ قرارداد منظور ہونے سے پہلے اسرائیل کا اپنی قوت سے حاصل کردہ غیر متعین علاقے پر اپنی حکومت کا اعلان اور اس کا امریکہ اور روس دونوں کی طرف سے تسلیم کیا جانا (recognition) بھی قانون اور عالمی آداب کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ یہ ہیں تاریخی حقائق--- اور اسرائیل کو تسلیم کرنا اس پورے تاریخی ظلم اور دھاندلی کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔
غیر متعین سرحدیں: اسرائیل وہ واحدملک ہے جس کا قیام‘ وجود اور انحصار آبادی کے مسلسل غیر فطری انتقال‘ تشدد اور قوت کے ذریعے علاقے پر قبضے اور جنگ اور قوت کے ذریعے مسلسل اپنی سرحدوں میں اضافے پر ہے۔ آج بھی اس کی حدود متعین نہیں۔اقوام متحدہ کی قرارداد میں ارضِ فلسطین کا ۵۶ فی صد اسے حاصل ہوا‘ جسے فوج کشی کے ذریعے ۱۹۶۷ء تک ۷۸ فی صد کر لیا گیا۔ ۱۹۶۷ء کی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۴۲ اور ۳۸۳ کے ذریعے جنگ سے قبل کی حدود پر واپسی کے احکام جاری کیے گئے اور ۲۰ سے زیادہ قراردادوں میں اس کا اعادہ کیا گیا مگر اسرائیل نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ اب جس روڈمیپ کی بات ہو رہی ہے اس میں عملاً فلسطینیوں کے باقی ماندہ ۲۲ فی صد میں سے بھی تقریباً ۴۰ فی صد عملاً اسرائیل کے قبضے میں ہوگا اور باقی علاقہ جسے ابھی فلسطین اتھارٹی اور ۲۰۰۵ء کے بعد فلسطینی ریاست کہا جائے گا کس مپرسی اور بے چارگی کے عالم میں ہوگا ۔ وہ سارا علاقہ نہ آپس میں مربوط ہوگا اور نہ ایک حصے سے دوسرے حصے میں اسرائیلی چوکیوں سے گزرے بغیر آمدورفت ممکن ہوگی۔ نیز یہ نام نہاد ریاست ہمیشہ فوج سے بھی محروم رہے گی اور اس کی امن عامہ کی دیکھ بھال (policing) اسرائیل کی ذمہ داری ہوگی جس کا اقتدار شاہراہوں اور پانی کے تمام ذخائر پر ہوگا۔
جو لوگ آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کررہے ہیں وہ کس چیز کو تسلیم کرنے کے مدعی ہیں--- ہماری نگاہ میں تو اسرائیلی ریاست کا وجود ہی ہرجواز سے محروم ہے لیکن جو اقوام متحدہ کی قرارداد کی بنیاد پر دو ریاستوںکی بات کرتے ہیں ان کو اتنا تو صبر کرنا چاہیے کہ نام نہاد ریاستوں کے حدود تو واضح ہو جائیں۔ لچک دار‘ غیر متعین تبدیل ہونے والی سرحدات (flexible, undefined changing boundries) کی حالت کو تسلیم کرنے کے کیا معنی ہیں؟
یہاں یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینے کی ہے کہ اسرائیل ریاست کی نظریاتی اساس ہی وسعت پذیر حدود (expanding boundries) پر ہے جو امپریلزم کا دوسرا نام اور پورے علاقے کے لیے مسلسل خطرے کا پیغام ہے۔ اسرائیل اور اس کی قیادت نے اس معاملے کو ڈھکا چھپا نہیں رکھا ہے اور علی الاعلان کہا ہے کہ ہمارا ہدف عظیم تر اسرائیل (greater Israel) ہے۔ بن گورین ۱۹۴۸ء میں اس کا اظہار اس طرح کرتا ہے:
عرب اتحاد کا زد پذیر پہلو لبنان ہے۔ اس ملک میں مسلمانوں کی برتری مصنوعی ہے‘ اور اسے بآسانی ختم کیا جا سکتا ہے۔ وہاں ایک عیسائی ریاست بننی چاہیے۔ جس کی جنوبی سرحد Litani ہو۔ ہم اس ریاست کے ساتھ اتحاد کا ایک معاہدہ کریں گے۔ اس طرح سے جب ہم عرب لیجن کی طاقت کو توڑ دیں گے ‘ اور عمان پربم باری کرچکے ہوں گے تو اس کے بعد شام کا سقوط ہوگا۔ اور اگر مصر نے ہم پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو ہم پورٹ سعید‘ اسکندریہ اور قاہرہ کو بم باری کا نشانہ بنائیں گے۔اس طرح سے ہمیں اس جنگ کا خاتمہ کرنا ہے اور یوں ہم اپنے آباواجداد کی طرف سے مصر‘ اسیریہ اور چالڈیہ کا بدلا اتاردیں گے۔ (بن گورین کی ڈائری‘ ۲۱ مئی ۱۹۴۸ئ)
اس سے پہلے عالمی صہیونی تحریک (World Zionist Organization) نے ۱۹۱۹ء میں ورسائی امن کانفرنس (Versailles Peace Conference) کے موقع پر اپنی مجوزہ یہودی ریاست کا جو نقشہ پیش کیا تھا: اس کی رُو سے اسرائیل جن علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ان میں دریاے نیل تک مصر‘ پورا اُردن‘ پورا شام‘ پورا لبنان‘عراق کا بڑا حصہ‘ ترکی کا جنوبی علاقہ اور مدینہ منورہ تک حجاز کا پورا بالائی علاقہ شامل ہے۔ (D.H Miller: My Diary at the Conference of Paris with Documents, Vol v, p 17)
اصولی طور پر مملکت اسرائیل کی شمالی سرحد میں گولان ہائٹس کو شامل ہونا چاہیے۔ ۱۹۱۸ء میں سلطنت عثمانیہ کے ٹوٹنے‘ اور فلسطین پر برطانیہ کے انتداب کے قیام کے بعد استعماری حکمرانوں کے ایسے عہد میں یک طرفہ فیصلوں کی وجہ سے یہ شامل نہ ہوسکا جو گزر چکا ہے اور اب کبھی نہیں لوٹے گا۔ ہم ان یک طرفہ فیصلوں کے پابند نہیں ہیں…
فلسطین ایک علاقہ ہے جس کا نمایاں جغرافیائی فیچر یہ ہے کہ دریاے اُردن اس کی حدود متعین نہیں کرتا بلکہ اس کے بیچ میں بہتا ہے۔ (ولادیمیر جیبوٹس‘ سولھویں صہیونی کانگرس ۱۹۲۹ء کے موقع پر)
مثال کے طور پر امریکہ کے اعلان آزادی کو لیجیے۔ اس میں علاقائی حدود کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ ہمارے لیے ضروری نہیں ہے کہ ہم اپنی ریاست کی حدود بیان کریں۔(بن گورین کی ڈائری‘ ۱۴ مئی ۱۹۴۸ئ)
صورت حال کو علیٰ حالہ ہی باقی رکھنے سے بھی کام نہیں چلے گا۔ ہمیں ایک ایسی حرکی ریاست قائم کرنا ہے جو توسیع پسند ہو۔ (Ben Gurion in Rebirth and Destiny of Israel, دی فلاسوفیکل پریس‘ نیویارک‘ ۱۹۵۴ئ)
گذشتہ ۱۶ سو برسوں میں ہمارے لوگ ایک ملک اور قوم کی تعمیر اور اس کی توسیع‘ مزید یہودی جمع کرنے اور اضافی آبادیاں قائم کرنے میں مصروف رہے ہیں تاکہ اپنی حدود کو وسیع کریں۔ کوئی یہودی یہ نہ کہے کہ یہ عمل ختم ہوگیا ہے‘ کوئی یہودی یہ نہ کہے کہ ہم منزل کے قریب ہیں۔ (موشے دیان‘ MAARIV ‘۷ جولائی ۱۹۶۸ئ)
ہمارے آباواجداد ان حدود تک پہنچ گئے جو تقسیم کے منصوبے میں تسلیم کیے گئے تھے۔ ہماری نسل ۱۹۴۹ء کی حدو دتک پہنچ گئی۔ اب شش ایام کی نسل سویز‘ اُردن اور گولان ہائٹس تک پہنچ گئی ہے۔ یہ منزل نہیں ہے۔ موجودہ جنگ بندی لائن کے بعد نئی جنگ بندی لائنیںہوں گے۔ یہ اُردن سے شام تک جائیں گے شاید لبنان تک اور شاید وسط شام تک۔ (دی ٹائمز‘ لندن‘ ۲۵ جون ۱۹۶۹ئ)
یہ ہے اسرائیل کا اپنے عزائم اور اہداف کا کھلا کھلا اظہار۔ کیا اس کے بعد بھی اس میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ اپنی فطرت کے اعتبار سے اسرائیل ایک امن پسند ریاست نہیں ایک سامراجی قوت ہے جس کو تسلیم کرنے کے معنی سامراج کو سندجواز دینا ہے۔ ذرا یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ سامراجیت کی تعریف کیا ہے۔ مشہور ویبسٹر ڈکشنری اس کی تعریف یوں کرتی ہے:
امپریلزم: کسی قوم کا اپنے اختیار اور حدود کو توسیع دینے کی پالیسی‘ عمل یا وکالت‘ خصوصاً براہِ راست علاقے حاصل کر کے یا دوسرے علاقوں کی سیاسی اور معاشی زندگی کے اوپر بالواسطہ کنٹرول حاصل کرکے۔ (ویبسٹر‘ نئی کالج ڈکشنری‘ ۱۹۸۱ئ)
مناسب ہوگا کہ اس موقع پر ایسی اسرائیلی ریاست کے بارے میں مغرب کے چند اہم افراد کی آرا اور خیالات کو بھی پیش کر دیا جائے:
اگر ایک ایسی یہودی ریاست کی تشکیلِ نو مناسب ہے جس کا وجود ۲ ہزار سال سے نہ تھا‘ تو ایک ہزار سال مزید پیچھے کیوں نہ جائیں اور کین اینائٹ (cannanite) ریاست کو کیوں نہ دوبارہ قائم کریں۔ یہودیوں کے برخلاف کین اینائٹس اب بھی وہاں ہیں (ایچ جی ویلز)
فلسطین میں بدامنی کا سبب اور واحد سبب صہیونی تحریک اور اس کے ساتھ ہمارے وعدے ہیں۔ (ونسٹن چرچل‘ تقریر دارالعوام‘ ۱۴ جون ۱۹۲۱ئ)
فلسطین میں صہیونی ریاست صرف جبر کے ذریعے قائم کی جا سکتی ہے اور قائم رکھی جاسکتی ہے اور ہمیں اس میں فریق نہ ہونا چاہیے۔ (صدر روزولٹ‘ ۵ مارچ ۱۹۴۵ئ)
یہودی ریاست کے تخیل کی میرے دل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ میں نہیں سمجھ سکا ہوں کہ اس کی ضرورت کیا ہے۔ اس کا تعلق تنگ نظری اور معاشی رکاوٹوں سے ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ بدی ہے۔ میں ہمیشہ اس کا مخالف رہا ہوں۔ (البرٹ آئن سٹائن‘ ۱۹۴۶ئ)
آیئے غور کریں ۱۹۱۷ء سے اب تک کیا ہوا ہے۔ سیاسی صہیونیوں نے فلسطین کا پورا ملک لے لیا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری دنیا نے ایک قوم سے ایک ملک کی چوری میں شرکت کی ہے‘ حمایت کی ہے اور اس پر یقین رکھا ہے۔ زمینیں‘ مکانات‘ رسوم و رواج‘ معیشت‘ غرض جو چیز بھی عربوں کی تھی‘ اس کی جگہ اسرائیلی کنٹرول اور اثر نے لے لی ہے۔ یہاں تک کہ ملک کا نام بھی۔ یہ مفروضہ کہ فلسطین یہودیوں کا وطن ہے اور انھیں ‘ جو ان کا حق ہے‘ اس کو واپس لینے میں ان کی مدد چاہیے‘ اس کا اتنا زوردار پروپیگنڈا کیا گیا ہے کہ جو کوئی فلسطین پر یہودیوں کے قبضے کی حمایت نہ کرے تو اس پر امتیاز کرنے (discrimination) اور یہودیت دشمنی (anti semitism) کا الزام لگ جاتا ہے۔ مگر اس کے باوجود ہمارے لیے صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ دوسروں کے جذباتی ردعمل کو نظرانداز کر کے حقائق کو پیش کرنے پر اصرار کریں--- اور اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو پھر اس المناک ناانصافی کا کوئی مستقل اور منصفانہ حل کبھی نہیں ہوگا۔ (جورے پبلی کیشنز‘ لاس اینجلس‘ ۱۹۸۹ئ)
نسل پرست ریاست :بات یہیں تک نہیں۔ اسرائیل صرف ایک سامراجی اور اپنی سرحدوں کو مسلسل بڑھانے والی ریاست ہی نہیں وہ ایک نسل پرست (racist) ریاست بھی ہے۔ اگر دنیا کے کسی حصے میں یہودیوں کی اکثریت ہو اور وہ وہاں ایک یہودی ریاست قائم کرنا چاہیں تو جس طرح دنیا میں ہندو ریاستیں (نیپال)ہیں‘ یا بدھ مت ریاستیں ہیں (تھائی لینڈ‘سری لنکا) یا عیسائی ریاستیں ہیں (بشمول Vatican)‘ اسی طرح اگر ایک یہودی ریاست بھی ہو تو کسے اعتراض ہو سکتا ہے۔ لیکن اسرائیل کی بنیاد یہ نہیں ہے۔ دوسروں کی زمین پر‘ ان کو اپنے گھروں سے بے دخل کر کے‘جبر اور ظلم کے ذریعے ریاست قائم کرنے کے ساتھ دعویٰ یہ بھی ہے کہ یہودی قوم نسلی بنیادوں پر دوسری اقوام سے مختلف اور بالاتر ہے اور دوسرے کم تر ہیں اس لیے یہ ایک بالاتر ریاست کی حیثیت سے ان پر حکمران ہونے کا حق رکھتی ہے۔ یہ بالکل جنوبی افریقہ کی نسل پرستانہ ذہنیت ہے۔ یہ وہ چیزہے جواسرائیل کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور انٹرنیشنل چارٹر آف ہیومن رائٹس کے برعکس ایک نسل پرست ریاست بناتی ہے اور علاقے کے تمام ممالک اور اقوام کے لیے خطرہ بناتی ہے‘ جب کہ عسکری اعتبار سے اور ایٹمی صلاحیت سے آراستہ ہونے کی وجہ سے اسے علاقے کے سارے ممالک پر ویسے بھی بالادستی حاصل ہے۔
صہیونی عالمی تحریک کے صدر ڈاکٹر ویزمین نے جو اسرائیل کا پہلا صدر بنا‘ ۱۹۱۸ء میں بالفور اعلان کے ضمن میں جمہوریت کے بنیادی اصول اکثریت اور اقلیت کا مذاق اڑاتے ہوئے عربوں کو حقارت سے مقامی (native) اور یہودیوں کو ان سے صلاحیت (qualititavely) کے اعتبار سے مختلف قرار دیا تھا۔
جمہوری اصول تعداد کو اہمیت دیتا ہے اور خوف ناک تعداد ہمارے خلاف پڑتی ہے‘ اس لیے کہ ایک یہودی کے مقابلے میں پانچ عرب ہیں۔ یہ نظام اس حقیقت کو ملحوظ نہیں رکھتا کہ ایک یہودی اور ایک عرب میں ایک بنیادی فرق ہے جو یہودی کی صلاحیت میں فوقیت پر مبنی ہے۔ موجودہ نظام یہودی کو اسی سطح پر لے آتا ہے جس پر ایک مقامی ہے۔
جب آئن سٹائن نے ڈاکٹر ویزمین سے پوچھا کہ اگر فلسطین یہودیوں کو دے دیا جائے تو پھر عربوں کا کیا ہوگا تو ویزمین نے کہا: کون سے عرب؟ ان کی حیثیت ہی کیا ہے؟
ہمارے ملک میں صرف یہودیوں کے لیے جگہ ہے۔ ہم عربوں سے کہیں گے: باہر نکل جائو۔ اگر وہ یہ نہ مانیں اور مزاحمت کریں تو پھر ہم ان کو طاقت کے زور سے نکال باہر کریں گے۔ (راجر گارودی (The Case of Israel: A Study of Political Zionism, London, 1983)
یہی وہ تصور ہے جس کے تحفظ کے لیے عربوں کو اسرائیل میں دوسرے اور تیسرے درجے کی شہریت کے حقوق بھی حاصل نہیں اور دوسری طرف قانون مراجعت (Law of Return) کے تحت دنیا کے ہر یہودی کو اسرائیل کی شہریت حاصل کرنے کا نسلی اختیار حاصل ہے۔ ابھی ۳۱جولائی ۲۰۰۳ء کو اسرائیل کی پارلیمنٹ نے جو قانون منظور کیا ہے اور جس کی تنسیخ کا مطالبہ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن نے کیا ہے‘ وہ یہ ہے کہ اگر ایک عرب فلسطین کے مغربی کنارے کا رہنے والا اسرائیل میں کسی عرب خاتون سے جو اسرائیل کی شہری ہے شادی کرتا ہے تو انھیں اسرائیل میں رہنے کا حق نہیں ہوگا۔ یا دونوں الگ الگ رہیں‘ یا اسرائیل کو چھوڑ دیں۔ اس سے زیادہ اس کا کیا ثبوت درکار ہے کہ اسرائیل ایک جمہوری نہیں‘ ایک نسل پرست ریاست ہے اور اس کو تسلیم کرنا انسانیت کے آج تک کے حاصل شدہ اکرام کی نفی ہوگا۔ فرانس کا مشہور مفکر راجر گارودی اسرائیل کے خلاف اپنی چارج شیٹ میں صاف الفاظ میں لکھتا ہے:
۱- اسرائیلی ریاست جہاں قائم کی گئی ہے اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس کا ریکارڈ اسے ان بدترین ریاستوں میں شمار کراتا ہے جن سے اس کے قریبی روابط ہیں: ۱-امریکہ ۲- جنوبی افریقہ ۳- ایل سیلوے ڈور ‘گوئٹے مالا‘ پیراگوئے۔
۲- اسرائیلی ریاست کا بنیادی عقیدہ (سیاسی صہیونیت) یہودی روایت سے پیدا نہیں ہوا۔ وہ صرف مغربی قوم پرستی بلکہ۱۹ویں صدی کی استعماریت سے وجود میں آیا ہے۔ یہ نسل پرستی‘ قوم پرستی اور استعماریت کی ایک شکل ہے۔
۳- یہ ریاست اقوام متحدہ کے ایک غلط فیصلے‘ دبائو اور بدعنوانی کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے۔ اور مغرب سے ملنے والے اسلحے اور مال کے زور پر قائم ہے اور ان سب سے بڑھ کر امریکہ کی غیر مشروط اور غیرمحدود مدد پر۔
۴- یہ کوئی مقدس ریاست نہیں ہے۔ (ایضاً، ص ۱۵۷-۱۵۸)
فلسطینی ریاست کی کس مپرسی : اسرائیل کا جو کردار گذشتہ ۵۵ سالوں میں رہا ہے اور جو مظالم وہ اس وقت بھی فلسطینیوںپر ڈھا رہا ہے‘ ان کو نظرانداز کر کے اور فلسطین اتھارٹی کی بے بسی کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کا نام دینا ایک ایسی جسارت ہے جو کوئی شخص بہ قائمی ہوش و حواس نہیں کر سکتا۔ ۲۲ عرب ملکوں میں سے صرف دو (یعنی مصر اور اُردن) نے اعلانیہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کیا ہے مگر شدید مجبوری کے تحت۔ ان دونوں نے بھی ایک عرصے سے اپنے سفیروں کو واپس بلایا ہوا ہے۔ رہا معاملہ یاسر عرفات اور فلسطین اتھارٹی کا‘ تو وہ تو ابھی ریاست کے مراحل کے دور دور بھی نہیں اور محض اسرائیل کے چنگل سے نکلنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔ ان کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات بالکل ایسی ہی ہوگی جیسے کوئی یہ کہے کہ قائداعظم نے برطانوی سامراج کو تسلیم کرلیا تھا کیونکہ جدوجہد آزادی کے مراحل میں وہ انڈین قانون ساز اسمبلی میں شریک ہوگئے تھے۔ فلسطینی آج اپنے حالات کے مطابق سیاسی اور جہادی ہر راستے سے اپنی آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسے ’تسلیم کرنا‘ قرار دینا حقائق کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اور دوسرے ممالک کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اسرائیل پر جو بھی تھوڑا بہت عالمی دبائو ہو سکتا ہے اسے بھی کسی فیصلہ کن مرحلے سے گزرے بغیر ختم کر دیا جائے۔ یہ اہلِ فلسطین کی جدوجہد آزادی کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے: اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ محض ایک ریاست کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ نہیں۔ ارضِ فلسطین صرف فلسطینیوں اور عربوں کے لیے اہم نہیں‘ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے بھی اہم ہے۔ القدس ہمارے لیے حرم کا درجہ رکھتا ہے جہاں مسجد الاقصیٰ اور قبۃ الصخریٰ واقع ہیں اور جو حرم مکہ اور مسجد نبوی کے بعد قبلہ اول کی حیثیت سے دنیا کی تمام مساجد کے مقابلے میں سب سے محترم عبادت گاہ ہے‘ جس کی تقدیس پر قرآن گواہ ہے: سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَاط اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُo (بنی اسرائیل ۱۷:۱) ’’پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجدِحرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔ حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ‘‘۔
پاکستان سے دشمنی: پاکستان پہلے دن سے اور خصوصیت سے نیوکلیر صلاحیت کے حصول کے بعد‘ اسرائیل کا ایک واضح ہدف ہے اور بھارت کے ساتھ مل کر اسرائیل اس پورے علاقے اور خصوصیت سے پاکستان کو غیر مستحکم (de-stabilize) کرنے میں عملاً سرگرم ہے۔ بن گورین نے صاف لفظوں میں اسرائیل کے عزائم کو بیان کر دیا تھا‘ کیا ہماری قیادت ان حقائق سے ناآشنا ہے۔ جیوئش کرانیکل کے ۱۹ اگست ۱۹۶۷ء کے شمارے میں بن گورین کا اعلان ان الفاظ میں موجود ہے:
ہماری عالمی صہیونی تحریک کو فوری طور پر ان خطرات کا نوٹس لینا چاہیے جو ہمیں مملکت پاکستان کی طرف سے ہیں۔ اب عالمی صہیونی تحریک کا ہدف اول پاکستان ہونا چاہیے کیونکہ یہ نظریاتی ریاست اسرائیل کی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے اور اس (پاکستان) کا ہر باشندہ عربوں سے لگائو رکھتا ہے اور یہودیوں سے نفرت کرتا ہے۔ یہ (پاکستان) عرب کا شیدائی ہمارے لیے عربوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ چنانچہ صہیونیوںکے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف فوری اقدامات کرے۔
اس کے بعد گورین نے بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ کو سراہتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ ’’چونکہ ہندستان میں بسنے والوں کی اکثریت ہندوئوں کی ہے‘ جن کے دلوں میں صدیوں سے مسلمانوں کے خلاف دشمنی اور نفرت بھری پڑی ہے‘ اس لیے ہندستان ہمارے لیے اہم ترین اڈا ہے‘ جہاں سے ہم پاکستان کے خلاف ہرقسم کی کارروائیاں کرسکتے ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اس نہایت کارآمد اڈے سے پورا فائدہ اٹھائیں اور انتہائی چالاک اور خفیہ کارروائیوں سے پاکستانیوں پر زبردست وار کر کے انھیں کچل کر رکھ دیں۔
ایک دوسرے اسرائیلی وزیراعظم شیمون پیریز نے ۱۱ستمبر۲۰۰۱ء کے واقعے کے بعد نیوزویک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور جنرل مشرف اب ایک ہی کشتی کے سوارہیں لیکن ذرا انداز بیان کا تیکھا پن ملاحظہ ہو۔ صدربش کی دہشت پسندی کے خلاف اسٹرے ٹیجی اور اس کے ذیل میں اسرائیل کے گرم جوشی سے حصہ نہ لینے (low profile) کے ضمن میں فرماتے ہیں:
میں نے اسے بتایا ہم تمھاری حکمت عملی سمجھتے ہیں۔ ایک اچھے یہودی لڑکے کی طرح میں نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ میں پاکستان کے صدر مشرف کی حفاظت کے لیے دعا کروں گا۔ یہ ایک بہت ہی زیادہ غیرمتوقع تجربہ ہے۔ لیکن ہم آپ کی حکمت عملی کو سمجھتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ خود اپنا کوئی ایجنڈا وضع کریں۔ (نیوزویک‘ ۵ نومبر ۲۰۰۱ئ‘ ص ۳۳)
اس انٹرویو میں طالبان کے بعد عراق پر حملے کا مشورہ بھی موجود ہے اور واضح رہے کہ پس منظر میں کہوٹہ پر بھارت یا اسرائیل کے پیشگی حملے (pre-emptive strike) کے خدشات بھی موجود ہیں۔
عین اس وقت جب جنرل صاحب اور ان کے ہم نوا اسرائیل کو تسلیم کرنے پر قومی بحث کی بات کر رہے تھے اسرائیل کے سرکاری نمایندے نے اعلان کیا ہے کہ ایریل شیرون ستمبر میں بھارت کا دورہ کریں گے اور یہ کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر لے تب بھی اسرائیل پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے تعلقات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے (اوصاف‘ لندن‘ ۱۲ جولائی ۲۰۳)۔ اس سے پہلے ۹ جنوری کے دی نیشن میں پیریز کا بیان بھی قابلِ توجہ ہے جو عین بھارت کی لام بندی کے وقت دیا گیا تھا کہ ’’اگر ہندستان کی پاکستان سے جنگ ہوتی ہے تو ہندستان جو بھی فیصلہ کرے گا اسرائیل ہندستان کا ساتھ دے گا‘‘۔ کیا یہی وہ اسرائیل ہے جس سے دوستی اور خیر کی توقعات باندھی جا رہی ہیں ع
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض!
علامہ اقبال اور قائداعظم کے وژن کی باتیں ہماری قیادتیں بہت کرتی ہیں۔ لیکن کیا ان کو اسرائیل اور صہیونی عزائم اورایجنڈے کے بارے میں اقبال اورقائداعظم کے خیالات اور احساسات کا کوئی پاس ہے۔ علامہ اقبال کو یورپ کے پنجۂ یہود میں ہونے کا مکمل ادراک تھا اور صہیونی دعوے کے بارے میں بڑے واضح الفاظ سے انھوں نے کہا تھا کہ ؎
ہے خاکِ فلسطین پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا
فلسطین کے بارے میں ہمارے موقف کی وضاحت ہمارے نمایندے نے اقوام متحدہ میںکر دی ہے۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ تقسیم فلسطین کا منصوبہ مسترد کر دیا جائے گا ورنہ ایک خوفناک کش مکش اور تصادم ناگزیر اور لازمی امر ہے۔ یہ کش مکش محض عربوں اور تقسیم کا منصوبہ نافذ کرنے والوں کے درمیان نہ ہوگی بلکہ پوری اسلامی دنیا اس فیصلے کے خلاف بغاوت کرے گی کیونکہ ایسے فیصلے (اسرائیل کے قیام) کی حمایت نہ تو تاریخی اعتبار سے کی جا سکتی ہے اور نہ سیاسی اور اخلاقی طور پر۔ ایسے حالات میں پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہوگا کہ عربوں کی مکمل اور غیرمشروط حمایت کرے اور (عربوں کے خلاف) اشتعال اور دست درازیوں کو روکنے کے لیے جو کچھ بھی اس کے بس میں ہو‘ پورے جوش اور جذبے اور طاقت سے بروے کار لائے۔
۱۹۳۳ء سے ۱۹۴۸ء تک قائداعظم کے کم از کم ایک درجن بیان اور خود امریکی صدر ٹرومین کے نام ان کا خط اسرائیل کے خلاف ان کے موقف کا منہ بولتا اعلان ہے۔ لیکن ہماری قیادت کا حال یہ ہے کہ آنکھیں ہیں مگر دیکھتی نہیں‘ کان ہیں مگر سنتے نہیں‘ اور دل ہیں کہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔
اسلام نے خارجہ سیاست کے جو اصول دیے ہیں ان کی روشنی میں بھی ہمارے لیے اس امر کا کوئی جواز نہیں کہ اسرائیل جو ایک کھلی کھلی جارح قوت ہے اور ہمارے کلمہ گو بھائیوں اور مظلوم انسانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ہم کسی موہوم مفاد کی خاطر اس ہمہ گیر خون خرابے کے لمحے اسے سندجواز فراہم کریں اور فلسطین‘ عرب اور دنیا بھر کے مسلمانوں اور مظلوم عوام سے اپنے کو کاٹ لیں۔ عرب عوام ہمارے اصل شریک کاررواں ہیں‘ ہمارے ہم راہی وہ حکمران اور مفادپرست عناصر نہیں جن کو اُمت کا مفاد عزیز نہیں اور جو مغرب کے آقائوں کی خوشنودی کو اپنی معراج سمجھتے ہیں۔
حال ہی میں فلسطین میں جو سروے ہوا ہے اس کی رو سے آبادی کا ۹.۸۷ فی صد الاقصیٰ انتفاضہ کے حق میں ہیں۔ ۳.۶۵ فی صد اسرائیل کے علاقوںمیں اور ۵.۶۰ فی صد مقبوضہ غربی حصوں میں عسکری اورجہادی اقدام کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ۹.۵۹ فی صد خودکش حملوں کے حق میں ہیں۔ ابومازن کو جن کا اعتماد حاصل ہے وہ آبادی کا صرف ۸.۱ فی صد ہیں اور ۸.۶۷ فی صد کا خیال ہے کہ موصوف کو وزیراعظم صرف بیرونی دبائو میں بنایا گیا ہے البتہ ۹.۵۱ فی صد کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں مسئلے کا حل دو آزاد ریاستوں کے قیام کی شکل میں ممکن ہے بشرطیکہ فلسطین کی ریاست بھی حاکمیت کے معیار پر پوری اترے اور اپنے معاملات کی خودمختار ہو (امپیکٹ انٹرنیشنل‘ مئی ۲۰۰۳ئ‘ ص ۱۳)۔ لیکن ظاہر ہے کہ فی الحال ایک ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان دُور دُور تک نظر نہیں آتا۔ ایسے حالات میں اپنے اصولی موقف سے ذرا سا بھی ہٹنا حد درجہ تباہ کن ہوگا۔ ان حالات میں ہمارا کام اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کر کے اس کے ہاتھ مضبوط کرنا نہیں‘ --- اپنے مظلوم بھائیوں اور بہنوں کی ہر ممکن مدد اور ان کی حوصلہ افزائی ہے۔ قرآن تو صاف کہتا ہے:
لاَ یَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْھِمْط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ o اِنَّمَا یَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ وَظٰھَرُوْا عَلٰٓی اِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْھُمْج وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَo (الممتحنہ۶۰:۸-۹) اللہ تمھیں اِس بات سے نہیں روکتا کہ تم اُن لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتائو کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ وہ تمھیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم اُن لوگوں سے دوستی کرو جنھوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہے اور تمھارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ اُن سے جو لوگ دوستی کریں وہی ظالم ہیں۔
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
کسی ملک اور حکومت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی یا ناکامی کو جانچنے کے دو ہی پیمانے ہوسکتے ہیں--- ایک ملکی اور ملّی مفادات کا موثر تحفظ اور مطلوبہ مقاصد و اہداف کا حصول اور دوسرے عالمی برادری میں ساکھ‘ دوستوں اور حلیفوں کی تعداد میں اضافہ اور دشمنوں اور مخالفین میں کمی یا کم از کم ان کے شر کی تحدید۔ ویسے تو ہماری خارجہ پالیسی کبھی بھی بہت کامیاب نہیں رہی البتہ جنرل ایوب کے دور میں امریکہ کی حاشیہ برداری کے آغاز سے تو ہم نے اپنے ایک آزاد اور دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک کی اپنی حیثیت اور مقام و مرتبے کو نظرانداز کر کے امریکی نقشے میں رنگ بھرنے والے ایک خادم کی حیثیت سے اپنے اثرونفوذ اور کارفرمائی کے امکانات کو بہت محدود کر لیا۔ اس طرح دوسروں پر انحصار اور محتاجی ہمارا مقدر بن گئی جس کا سب سے تکلیف دہ نشیب ۱۹۷۱ء کی شکست اور نصف ملک سے محرومی تھا۔
اس تاریک ریکارڈ کے باوجود گذشتہ پچاس سالہ خارجہ سیاست میں کچھ روشن پہلو بھی رہے جن میں اُمت مسلمہ کے مسائل کے بارے میں ہمارا کردار‘ چین سے دوستی‘ برطانوی اور فرانسیسی استعمار کے خلاف مسلمان اور دوسرے ممالک کی جنگ آزادی میں معاونت‘ افغانستان میں روسی جارحیت کے مقابلے میں برادر ملک کے عوام سے تعاون‘ وسط ایشیا کے مسلمان ملکوں کی آزادی میں کردار‘ اور بوسنیا اور کوسووا کے مظلوم مسلمانوں کی مدد نمایاں ہیں۔
۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد سے جو پالیسیاں جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں اختیار کی گئی ہیں اور جن کا سلسلہ دستور کی نامکمل بحالی اور جمالی حکومت کے قیام کے باوجود جاری بلکہ روز افزوں ہے‘ اس کے نتیجے میں ملک بیرونی دبائو اور اندرونی انتشار کے ایک ایسے دور میں داخل ہوگیا ہے جو تاریک ترین ہونے کے ساتھ مستقبل کے لیے اپنے اندر بڑے خطرات لیے ہوئے ہے۔ یہ ناکامی اور نامرادی کی ایک ہولناک تصویر پیش کر رہا ہے۔ اگر ایک طرف بے اصولی‘ تضادات اور ایڈہاکزم کا وہ منظرہے جو قلابازیوں اور یو ٹرنز کا ریکارڈ قائم کر رہا ہے تو دوسری طرف ملک نہ صرف یہ کہ دوستوں اور عالمی عوامی تائید سے محروم ہو رہا ہے بلکہ دوسروں پر انحصار ہر دور سے زیادہ ہو گیا ہے۔ خصوصیت سے امریکہ کی حاشیہ برداری نے تو وہ رنگ اختیار کرلیا ہے کہ اب ہماری آزادی‘ حاکمیت‘ نظریۂ حیات‘ تہذیبی تشخص‘ دفاعی صلاحیت‘ معاشی خودانحصاری اور علاقائی مفادات سب معرضِ خطر میں ہیں۔
یہ حالات اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ خارجہ سیاست کا بے لاگ جائزہ لیا جائے‘ پالیسی سازوں میں اصول اور مفادات دونوں کا واضح ادراک پیدا کیا جائے اور خالص معروضی انداز میں بین الاقوامی اور علاقے کے حالات اور چیلنجوں کی روشنی میں خارجہ پالیسی کی تشکیلِ نو کے خطوط پر قومی اتفاق رائے پیدا کیاجائے۔
بلاشبہہ یہ جائزہ اور تجزیہ زیادہ سے زیادہ معروضی انداز میں ہونا چاہیے۔ اس بارے میں جنرل پرویز مشرف کی یہ بات درست ہے کہ ان معاملات کو جذباتی انداز میں طے نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اگر ایک طرف حقائق کا صحیح صحیح ادراک کیا جائے تو وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ خارجہ پالیسی کی یہ تشکیل صرف اور صرف قومی مقاصد‘ اہداف اور مفادات کے محوری حوالے سے ہونی چاہیے۔ اور اسی کسوٹی پر موجودہ روش کا جائزہ بھی مطلوب ہے۔ یہ کام نہ جذباتی انداز میں ہونا چاہیے اور نہ دوسروں کے دیے ہوئے احکامات اور تصورات کے فریم ورک میں۔ ضروری ہے کہ یہ کام غلامانہ اور مرعوب ذہن کے ساتھ نہ ہو بلکہ صحیح معنی میں آزاد ذہن کے ساتھ اور خود اپنے ملکی اور ملّی مفادات‘ ضروریات اور سب سے بڑھ کر حق و انصاف کے مسلمہ اصولوں سے وفاداری کے جذبے سے ہو۔ نیز پوری قوم اور اس کے سیاسی اداروں اور خصوصیت سے پارلیمنٹ اور میڈیا کی بھرپور شرکت سے ہو۔ جہاں ہم الزام تراشی کو گناہ سمجھتے ہیں‘ وہیں حقائق کے بے لاگ جائزے سے فرار کو بھی ایک قومی جرم تصور کرتے ہیں اور محض پروپیگنڈے کے ذریعے اور کثرتِ تکرار کے سہارے ایک منکر کو معروف بناکر پیش کرنے کو بددیانتی اور قوم سے بے وفائی سمجھتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اخلاص‘ علمی دیانت اور حقائق کی پاسداری کے ساتھ ہر قسم کی مداہنت سے دامن بچاتے ہوئے حالات کا جائزہ لیا جائے اور قوم‘ پارلیمنٹ اور قیادت کو ہمالیہ کی برابری کرنے والی غلطیوں سے بچانے اور پاکستان اور اُمت مسلمہ کی اصل منزل کی طرف پیش قدمی کے لائق بنانے والی پالیسیوں اور اہداف کو دلیل کے ساتھ پیش کیا جائے ع
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
قوم اور قیادت کو اس بات کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ جنرل پرویز مشرف نے ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد امریکی صدر اور وزیرخارجہ کی دھمکی کے تحت جو قلابازی کھائی ہے اس نے ہماری خارجہ پالیسی کو بالکل پٹڑی سے اُتار دیا ہے۔ بش صاحب نے تو بلاشبہہ یہ کہا تھا کہ ’’یا تم ہمارے ساتھ ہو یا دہشت گردی کے ساتھ--- اگر ہمارے ساتھ ہو تو سیدھے سیدھے نہ صرف یہ کہ اپنی زمین اور اپنے ہوائی راستے ہمارے حوالے کر دو بلکہ اپنے دل اور دماغ بھی ہمارے قبضے میں دے دو۔ اگر ایسا نہ کیا تو پھر پتھر کے دور کی طرف واپس جانے کے لیے تیار ہوجائو‘‘۔ صدر بش‘ جن کی پالیسیوں کے اصل کارساز امریکہ کے عیسائی بنیاد پرست اور عالمی صہیونی لابی کے شاطردانش ور اور سیاست کار ہیں‘ دنیا کو ایک نئے امریکی استعمار کے جال میں گرفتار کرنے اور ایک جدید سامراج کے قیام کے لیے سرگرم ہیں۔ عالمی راے عامہ کے برعکس چند ممالک کی قیادتیں جن میں اسرائیل‘ برطانیہ‘ اسپین‘آسٹریلیا اور پولینڈ پیش پیش ہیں اپنے اپنے مخصوص مفادات اور عزائم کی خاطر ان کا ساتھ دے رہی ہیں۔ لیکن اس نئے سامراجی کھیل میں مسلمان ممالک کی قیادت میں سب سے پیش پیش جنرل پرویز مشرف ہیں۔ جن عرب ممالک نے طوعاً و کرہاً امریکہ کا ساتھ دیا ہے انھوں نے کچھ پردہ رکھا ہے لیکن جنرل صاحب کا معاملہ سب سے مختلف ہے۔ انھوں نے سب کچھ دائو پر لگا دیا ہے اور حاصل کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ بش صاحب سے شاباشی‘ جرأت مندی کے سرٹیفیکیٹ اور کیمپ ڈیوڈ کی چند گھنٹے کی ملاقات! ان کی گفتار کا جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ ع
انھی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں‘ زبان میری ہے بات ان کی
اور اگر پالیسی اوراس کے حاصلات کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بات جو ’’پاکستان فرسٹ‘‘ کے دعوے سے شروع ہوئی تھی‘ وہ ’’مُش فرسٹ‘‘ سے ہوتی ہوتی ’’بش فرسٹ‘‘ تک پہنچ گئی ہے اور اب عالم یہ ہے کہ جس تین بلین ڈالر کی دھوم تھی اور جنھیں امریکی بجٹ ۲۰۰۴ئ-۲۰۰۵ء سے شروع ہو کر پانچ سال میں نازل ہونا تھا‘ ان کے بارے میں کانگرس میں نیا بل آگیا ہے اور اس رقم کو جہادِ آزادی کا گلا گھونٹنے اور نیوکلیر استعداد کو قابو کرنے سے مشروط کیا جا رہا ہے۔ افغانستان میں جہاں بات صرف ہفتوں میں معاملہ ختم ہونے کی تھی‘ دو سال ہونے کو آرہے ہیں اور امریکہ کے ساتھ ہم بھی دلدل میں پھنسے جا رہے ہیں‘ کابل میں سفارت خانے پر حملہ اور دو ہفتے اس کے بند رہنے کی نوبت آگئی ہے اور پاک افغان سرحد پر کشیدگی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی بلکہ لفظوں کی جنگ کا آغاز ہوگیا ہے اور پاکستان میں تخریب کاری کے ڈانڈے سرحد پار دیکھے جا سکتے ہیں۔
کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور اس کے بارے میں ہر مشکل کے باوجود ہم اپنے اصولی موقف پر ڈٹے رہے ہیں‘ اب امریکہ اور اس کے حلیف ہی بھارت کی زبان استعمال نہیں کر رہے بلکہ ساری کہہ مکرنیوں کے باوجود خود جنرل صاحب کی تقاریر اور سفارت کاریوں میں ’’جنگ آزادی‘‘ اور ’’دہشت گردی‘‘ کا فرق مٹتا نظر آرہا ہے۔ امریکہ کی حاشیہ برداری اب اس مقام پر پہنچتی نظر آ رہی ہے جہاں اس کی خوشنودی کی خاطر عراق میں امریکہ اور برطانیہ کے منہ پر ملی جانے والی کالک میں سے اپنا حصہ نکالنے کے لیے پاکستانی فوج کی ترسیل اور فلسطین میں خاک و خون کی ہولی کے گرم ہونے کے باوجود اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں شروع ہو گئی ہیں ع
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
ان حالات میں اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ خارجہ پالیسی کا بے لاگ جائزہ لیا جائے‘ اہم مسائل کے بارے میں صحیح موقف کو دلائل سے بیان کیا جائے اور قوم اور قیادت دونوں کے باب میں حق نصیحت ادا کرنے کا فرض انجام دیا جائے۔ قرآن نے حق کی شہادت کی یہی ذمہ داری اسلام کے علم برداروں کے لیے لازم کی ہے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ انصاف کے علم بردار اور اللہ کے لیے سچی گواہی دینے والے بنو‘ اگرچہ تمھارے انصاف اور تمھاری گواہی کی زد خود تمھاری ذات پر یا تمھارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب‘ اللہ تم سے زیادہ ان کا خیرخواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہشِ نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلوتہی کی تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔(النساء ۴:۱۳۵)
اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی کو لیا جائے یا داخلہ پالیسی کو‘ اس کا المیہ یہ ہے کہ فوج کی جس قیادت نے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو اقتدار پر قبضہ کیا تھا وہ اکتوبر ۲۰۰۲ء کے انتخابات کے باوجود اقتدار چھوڑنے اور انتخابی نتائج کو قبول کرنے کو تیار نہیں اور محض جبر‘ قوت اور عسکری طاقت کے غلط استعمال کے ذریعے ملک کی قیادت پر اپنی گرفت اسی طرح جاری رکھنا چاہتی ہے جس طرح اسے فوجی حکمرانی کے دور میں حاصل تھی۔ معاشی ترقی اور مبادلہ خارجہ کے ذخائر میں اضافے کو پالیسیوں کے تسلسل کے لیے بطور دلیل پیش کیا جا رہا ہے اور اس کی کوئی فکر نہیں کہ عملاً معیشت کس بگاڑ کی گرفت میں ہے اور عام آدمی کی زندگی کس تباہی سے دوچار ہے۔ غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور تازہ اعداد و شمار کی روشنی میں اگر آبادی میں اضافہ سوا دو فی صد سالانہ ہے تو غریبوں کی آبادی میں اضافہ دس فی صد سالانہ کی رفتار سے ہے (بحوالہ ڈان‘ ۱۶جولائی ۲۰۰۳ئ‘ ڈاکٹرشاہد جاوید برکی کا مضمون)۔ بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور ۱۷ جولائی ۲۰۰۳ء کو شائع ہونے والی UN Human Development Report 2003 کی رو سے Human Development Index کے باب میں پاکستان کی پوزیشن مزید خراب ہوئی ہے۔ چند سال پہلے ہم دنیا کے ۱۹۰ ممالک میں ۱۲۰ نمبر پر تھے جس سے گر کر اس رپورٹ کے مطابق اب ہمارا نمبر۱۴۴ ہے۔ یعنی ۲۴ مزید ملکوں سے ہم پیچھے آگئے ہیں۔ جو ملک سیاسی اور معاشی اعتبار سے اندرونی قوت و استحکام سے محروم ہو‘ وہ بین الاقوامی دنیا میں اچھی ساکھ کا حامل کیسے ہو سکتا ہے۔
محض امریکہ کی قیادت کی خوشنودی خارجہ پالیسی کی کامیابی کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ امریکہ تو اپنے مفاد میں ہر دور میں اپنے اپنے ملکوں کو تباہ اور کمزور کرنے والے آمروںکی سرپرستی کرتا رہا ہے اور ان سے اپنے مفادات حاصل کرتا رہا ہے۔ ویت نام کے تھیو‘ ڈومینکن ری پبلک کے جنرل ٹروجیلو‘ فلپائن کے مارکوس‘پاناما کے مینویل نوریجو ‘ ایران کے رضاشاہ‘ مصرکے انورالسادات اور حسنی مبارک سے لے کر پاکستان کے فوجی حکمرانوں (ایوب خان سے پرویز مشرف) تک کو امریکہ کی آشیرباد حاصل رہی ہے اور وہ ان کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرتا رہا ہے۔ اس پس منظر میں ۱۱ستمبرکے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی کو جس طرح امریکہ کے مفادات کے تابع کردیا گیا ہے اس سے ملک کی آزادی‘ سالمیت اور نظریاتی تشخص کو شدید خطرہ ہے۔
جنرل صاحب نے پالیسی کی تمام باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہے اور وزیراعظم‘ کابینہ‘ پارلیمنٹ سب غیر متعلق ہو کر رہ گئے ہیں۔ دستور کا جس طرح حلیہ بگاڑا گیا ہے وہ خود ایک المیہ ہے لیکن اس کا نتیجہ ہے کہ خارجہ اور داخلہ دونوں پالیسیوں کی باگ ڈور جنرل صاحب ہی کے ہاتھ میں ہے اور اپنے جن غیرمنتخب پسندیدہ افراد کو چاہتے ہیں اعتماد میں لیتے ہیں اور خود ان کے سیاسی طنبورے کچھ بھی کہتے رہیں وہ وہی کچھ کر رہے ہیں جو خود کرنا چاہتے ہیں اور جس کا سلسلۂ نسب بش انتظامیہ کی خواہشات سے ملتا ہے۔ ایک ماہ میں چار مغربی اور تین عرب ممالک کا دورہ وہ صدر فرماتے ہیں جن کی صدارت کی قانونی حیثیت (legality) بھی معتبر نہیں اور اگر بہ فرض محال اس کو تسلیم بھی کر لیا جائے تب بھی خارجہ سیاست دستور ہی نہیں‘ خود ایل ایف او کے تحت بھی صدر کی ذمہ داری نہیں۔ وزیراعظم اور وزیر خارجہ اور پارلیمنٹ سب غیرمتعلق ہو کر رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے جس طرح ایک فردِ واحد کو دستور میں ترمیم کا حق نہیں دیا جا سکتا اسی طرح خارجہ یا داخلی سیاست بھی کسی ایک فرد کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑی جا سکتی۔ پالیسیوں کے افلاس اور حالات کی خرابی کا بڑا سبب پالیسی سازی اور حکمرانی کے اس پورے عمل (process) کا بگاڑ ہے‘ جس کی اصلاح کے بغیر تبدیلی ممکن نہیں۔
اس اصولی بات کے بعد ہم چاہتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنے ان سات ملکوں کے دوروں سے قبل‘ ان کے دوران اور ان سے واپسی پر خارجہ سیاست کے سلسلے میں جن بنیادی ایشوز کو اٹھایا ہے ان پر مختصر کلام کریں اور قوم اور پارلیمنٹ کے ساتھ خود ان کو اور ان کے قریبی رفقا کو دعوت دیں کہ اپنے موقف اور اس کے مضمرات پر ازسرنو غور کریں اور ضد اور ہٹ دھرمی کا رویہ ترک کر کے صرف حقائق اور دلیل و برہان کی بنیاد پر پالیسی سازی کے اصول کو تسلیم کریں اور صحیح جمہوری اور قانونی عمل (process) کے ذریعے پالیسیاںبنانے اور ان پر احتساب کا راستہ اختیار کریں۔
ہم نے جنرل صاحب کے امریکہ کے دورے کے بارے میں پہلے بھی لکھا ہے اور ایک بار پھر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ محض ’’درمدح خود می گوید‘‘ سے نہ حقائق تبدیل ہوتے ہیں اور نہ تلخ نتائج پر دھول ڈالی جا سکتی ہے۔
کیمپ ڈیوڈ میں پاکستان کے لیے کیا حاصل کیا جا سکا اور امریکہ کی خوشنودی کے لیے کیا کچھ قربان کر دیاگیا ہے؟ اس کی بیلنس شیٹ کو بہت عرصے تک ٹالا نہیں جا سکتا۔ امریکہ میں پاکستانی جن مصائب کا شکارہیں ان میں کوئی کمی آئی ہے؟ گنٹاناموبے کے عقوبت خانے میں جو پاکستانی آج بھی قید ہیں اور دو سال ہونے کو آرہے ہیں لیکن ہر داد رسی سے محروم ہیں ان کے بارے میں کیا حاصل ہوا؟ کشمیرکے مسئلے پر ہمارے موقف کو کہاں کوئی پذیرائی حاصل ہوسکی اور کہاں ہم خود کشمیرکی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو اس زمرے میں شامل کرنے کے مرتکب ہوئے جو امریکہ اور بھارت نے دہشت گردوں کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ افسوس کہ پہلی مرتبہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیرنے امریکی کانگریس کے سامنے اپنے خطاب میں کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے terrorists کا لفظ استعمال کیا اوریہ جنرل صاحب کے امریکہ اور برطانیہ دونوں کے دورے کے بعد ہوا۔ تین بلین ڈالر کے معاشی پیکج کی بڑی دھوم ہے لیکن ایک سال کے بعد شروع ہونے اور پانچ سال پر پھیلے ہوئے اس انتظام کا ابھی آغاز بھی نہیں ہوا کہ امریکی کانگرس میں بل آگیا ہے کہ ہر سال صدر امریکہ کو تصدیق کرنا ہوگی کہ:
۱- کشمیر میں تمام ٹریننگ کیمپ بند ہیں۔
۲- لائن آف کنٹرول سے کوئی آر پار نہیں ہو رہا۔
۳- پاکستان جنگ آزادی کے فرزانوں کی کوئی مدد نہیں کر رہا۔
۴- پاکستان کی نیوکلیر استعداد قابو میں ہے اور امریکہ کے احکام کی (یعنی جوہری عدم پھیلائو جس میں خود اپنی صلاحیت کا بہتر کرنا اور up-grading بھی شامل ہے) مکمل پاسداری کی جا رہی ہے۔
جنرل صاحب نے بڑے طمطراق سے کہا تھا کہ امداد غیر مشروط ہے حالانکہ وائٹ ہائوس کے ترجمان نے تین شرائط کا ذکر اس وقت بھی کیا تھا۔ اب ان میں سے جمہوریت کی طرف پیش رفت خارج کر دی گئی ہے اورکشمیر کی ناکہ بندی کی ہر تدبیر شامل کی جا رہی ہے۔
کیا اسی کا نام خارجہ سیاست کی کامیابی ہے؟
جنرل صاحب نے افغانستان پر امریکی فوج کشی کے لیے پاکستان کا کندھا فراہم کرتے وقت کہا تھا کہ امریکہ کا یہ آپریشن مختصر ہوگا اور صرف متعین اہداف تک محدود ہوگا۔ اس کا حشر بھی سب کے سامنے ہے۔ ہزاروں معصوم افغان شہید کیے جا چکے ہیں‘ سیکڑوں شہر اور دیہات بمباری سے تباہ ہوچکے ہیں‘ ملک دوبارہ بدنظمی اور وار لارڈز کے قبضے میں ہے۔ امریکی فوجیوں‘ سرکاری افواج اور عوام کے درمیان مسلسل تصادم ہے اور وہ روز افزوں ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر وہ پاکستان جس کے جہادِ افغانستان میں تعاون کے سبب پوری افغان قوم ممنونیت کے جذبات سے معمور تھی اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہماری سرحدوں پر سکون تھا اور دونوں ممالک میں بھرپور تعاون کی فضا تھی--- وہ سکون درہم برہم ہوگیا ہے۔ ڈیورنڈ لائن کا تنازع ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوا ہے‘ پاکستان کی سفارت خانے پر سنگ باری ہو رہی ہے‘ سرحدوں پر کشیدگی ہے‘ قبائلی علاقے میں فوج لگا دی گئی ہے اور دونوں طرف سے فوجیں صف آرا ہیں۔ امریکی کمانڈر کہہ رہے ہیں کہ ہم ۵۰ فی صد تعاون پر مطمئن نہیںہیں‘ ۱۰۰ فی صد اطاعت مطلوب ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کرزئی صاحب نے اپنے تازہ انٹرویو میں جنرل صاحب پر بے اعتمادی کا کھل کر اظہار کر دیا ہے۔ لندن کے روزنامہ ڈیلی ٹیلی گراف کو انٹرویو دیتے ہوئے کرزئی صاحب نے کہا ہے کہ ہم پاکستان سے ’’مہذب رویے‘‘ کے متوقع ہیں۔ ان کے الفاظ جنرل پرویز مشرف کی افغان پالیسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
پاکستان کو افغانستان کے خلاف جارحانہ اقدامات سے باز رہنا چاہیے اور انتہاپسندوں کی جانب سے سرحدپار حملے بند ہوجانے چاہییں۔ ہم خاموش تماشائی بنے نہیں رہ سکتے۔ کرزئی نے واضح کیا کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے ان کو ذاتی طور پر دھوکا دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ دوستی اور افہام و تفہیم کا رشتہ پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور پاکستان دونوں کو اس سلسلے میں کوئی شبہہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ پاکستان کے موجودہ رویے کے ساتھ ممکن نہیں۔ (ڈیلی ٹیلی گراف‘ ۱۷ جولائی ۲۰۰۳ئ)
واضح رہے کہ طالبان کے سات سالہ دور میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بھی سرحدی واقعہ رونما نہیں ہوا تھا اور ڈیورنڈ لائن کے سلسلے میں جو بھی تحفظات دونوں طرف سے ہیں‘ وہ تعلقات کو متاثر کرنے کا ذریعہ نہ بنے۔ لیکن امریکہ کے احکامات کے تحت سرحد کو بند کرنے کا اقدام اور علاقہ غیر میں فوجیں بھیجنے کے نتیجے میں جو صورتِ حال رونما ہوئی ہے وہ بالآخر دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو بگاڑنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ جنرل صاحب کے کیمپ ڈیوڈ کے سفر سے دو ماہ قبل پاکستان کے سیکرٹری داخلہ امریکہ سے سرحد بند کرنے کا معاملہ طے کر آئے تھے اور اس پر عمل کا شاخسانہ ہے کہ دوست دشمن میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ افغانستان میں امریکی بری طرح ناکام ہیں اور کوئی بھی ہدف حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ شمالی علاقوں کی قیادت اور پشتون عوام میںبعد بڑھ رہا ہے۔ کابل حکومت کا اثر و رسوخ چند شہروں تک محدود ہے۔ امریکہ مخالف رجحانات تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور بیرونی افواج اور ان کے افغان معاونین کے خلاف تحریکِ مزاحمت زور پکڑ رہی ہے۔ افغانستان میں بھارتی اثرات بڑھ رہے ہیں اور اسرائیل بھی قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کو جلال آباد اور قندھار تک میں سفارتی دفاتر قائم کرنے کا موقع مل گیا ہے اور وہاں سے پاکستان کے خلاف تخریب کاری کی منصوبہ بندیاں ہو رہی ہیں۔ کبھی جس strategic depthکی باتیں ہو رہی تھیں وہ اب strategic dearth میں تبدیل ہو گئی ہے۔ پاکستانی فوج کی ایک معقول تعداد (ایک اندازے کے مطابق ۵۰ ہزار سے ایک لاکھ) اب شمالی سرحد پر پابند ہوگئی ہے اور ہماری ساری خدمات اور کارگزاریوں کے باوجود کابل کے حکمران اور افغانستان میں امریکی فوجی قیادت دونوں ہم سے ناخوش ہیں‘ افغان عوام تو پہلے ہی کبیدہ خاطر اور مایوس تھے۔ یہ ہے ہماری ۱۱ستمبر کے بعد کی افغان پالیسی کا حشر!
دوسرا بڑا مسئلہ پاک بھارت تعلقات اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پایدار حل کا ہے۔ یہاں جو بھیانک غلطی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے دن سے ہم نے ’’terrorism‘‘ کے بارے میں اپنے موقف کی نہ موثر وضاحت کی اور نہ امریکہ اور بھارت سے تعلقات کے سلسلے میں ان کے اور اپنے موقف کے فرق کو تسلیم کرایا۔ آنکھیں بند کر کے تائید کر دی گئی اور اس کا نتیجہ ہے کہ جنیوا میں اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کا کمیشن تو اپنے ۲۰۰۳ء کے اجتماع میں یہ کہتا ہے کہ جنگِ آزادی کے مجاہد اپنا الگ مقام رکھتے ہیں اور ان کو دہشت گرد قرار نہیں دیا جا سکتا اور ہم تسلیم کرلیتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول سے کوئی نام نہاد دراندازی نہیں ہونے دیں گے اور اپنی زمین کو کسی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ عملاً بھی مجاہدین کے سارے کیمپ ختم کر دیے جاتے ہیں اور مجاہدین کو عملاً دہشت گردوں کے زمرے میں شامل کر دیا جاتا ہے بلکہ جہاد کی بات کو بھی ترک کر دیا جاتا ہے اور وہ فوج جس کا موٹو ہی جہاد فی سبیل اللہ ہے اس کے سربراہ کی زبان جہاد کی بات کرتے ہوئے گنگ ہو جاتی ہے۔
بھارت نے اس صورتِ حال کا پورا فائدہ اٹھایا ہے اور ہم ایک ردعمل کی (reactionary) صورتِ حال کے اسیرہوگئے ہیں۔ بھارت میں امریکی سفیر کھل کر اور غالباً پہلی مرتبہ کشمیر کی جنگِ آزادی کو دہشت گردی اور پاکستان کو اس کا پشتی بان قرار دیتا ہے اور ہمارے احتجاج میں بھی کوئی جان باقی نہیں رہی ہے۔ مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں اور اصل ایشوز پر کوئی واضح موقف باقی نہیں رہا ہے۔ جنرل صاحب یہاں تک چلے گئے ہیں کہ کشمیر کے دس بارہ حل کی بات کرتے ہیں اور لچک کے نام پر تجویز دیتے ہیں کہ process of elimination کو بروے کار لایا جائے اور جو حل دونوں کے لیے بالکل قابلِ قبول نہ ہو اس کو ترک کر دیا جائے۔ دوسرے الفاظ میںاگر بھارت یہ کہے کہ استصواب راے اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو ہم تسلیم نہیں کرتے تو یہ راستہ ترک کر دیا جائے۔ اگر اسی کا نام سیاست خارجہ ہے تو پھر ’’کار عقلاں تمام خواب شد‘‘۔
اس تمام ژولیدہ فکری اور سمجھوتہ کاری سے ہم جموں و کشمیر کے عوام کو کیا پیغام دے رہے ہیں--- ان عوام کو جو ۵۵سال سے بھارت کے تسلط کے خلاف صف آرا ہیں‘ جنھوں نے تقسیم کے فوراً بعد تین لاکھ جانوں کی قربانی دی اور جو ۱۹۸۹ء سے جہادِ آزادی کے دورِ نو میں ۸۰ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں اور بھارت کی سات لاکھ فوجوں کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے ہیں اور کسی قیمت پر بھی اس کے قبضے (occuption)کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اصل ایشو ہی ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے ناجائز اور محض مبنی بر جبر تسلط کا ہے۔ مسئلے کا کوئی حل وہاں کے عوام کی مرضی سے ان کے مستقبل کو طے کرنے کے سوا نہیں ہوسکتا۔ لیکن ہم تعلقات کو معمول پر لانے (normalization) کے فریب میں ایک بار پھر مبتلا ہوگئے ہیں اور اسی سوراخ سے دوبارہ ڈسے جانے کے لیے آمادہ ہیں جس سے ۱۹۴۷ء کے بعد سے برابر ڈسے جا رہے ہیں--- کیا یہی جنرل صاحب کی خارجہ پالیسی کا کارنامہ ہے۔
بلاشبہہ کشمیر کا مسئلہ ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ یہ محض سرحدی تنازع یا زمین کا جھگڑا نہیں۔ سوا کروڑ مسلمانوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے اور جس اصول پر پاکستان قائم ہوا تھا اس کے اطلاق اور تقسیمِ ہند کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کا مسئلہ ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور جموں و کشمیر کے عوام کی آزاد مرضی سے ان کی خواہشات کے مطابق حل ہو جائے تو بھارت سے دوستی کے حقوق کے باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار ہونے کے امکانات روشن ہوں گے۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ تقسیم کے اصل منصوبے کے مطابق دونوں ملک عزت و احترام سے اپنے تعلقات استوار کریں لیکن جیساکہ چیئرمین چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل عزیزاحمد خاں نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بعد بھی پاک بھارت تعلقات کا انحصار علاقے کے تمام ممالک کی حاکمیت کے احترام پر مبنی ہے۔ اگر بھارت کے رویے اور عزائم پر علاقے میں بالادستی کا بھوت سوار رہتا ہے اور چھوٹے ممالک کو وہ اپنا باج گزار بنا کر رکھنا چاہتا ہے‘ نیز پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی پر عامل رہتا ہے جیسا کہ وہ اس وقت کر رہا ہے: بھوٹان اور نیپال کے بعد بنگلہ دیش‘ سری لنکا‘ مالدیپ پر گرفت مضبوط کرنے‘ چین سے بظاہر دوستی استوار کرنے‘ ایران سے تعلقات کا وہ آہنگ جس میں پاکستان کو بائی پاس کیا جاسکے‘ افغانستان میں اثر و رسوخ کا ایسا نظام جس کے ذریعے پاکستان پر دبائو ڈالا جا سکے‘ وسطی ایشیا میں اسرائیل کے ساتھ قدم جمانے کی کوشش‘ امریکہ سے ایسے تعلقات جن کی زد پاکستان پر بھی پڑتی ہو‘ اسرائیل سے اسٹرٹیجک گٹھ جوڑ‘ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کا حصول‘ ایٹمی صلاحیت کا عالمی طاقت بننے کے لیے استعمال‘ عسکری قوت میں مسلسل اضافہ جو علاقے کے فوجی توازن کو تہہ و بالا کر دے--- یہ وہ تمام پہلو ہیں جن کو پاکستان اور علاقے کے دوسرے ممالک نظرانداز نہیں کرسکتے۔
دوستی کے خالی خولی نعرے اور اعتماد بنانے والے نام نہاد حربے علاقائی حقائق کو نہ تبدیل کرسکتے ہیں اور نہ ان سے پیدا ہونے والے خطرات کے مقابلے کی کوئی سبیل پیدا کرسکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ٹھوس حقائق‘ دوسرے ممالک کے عزائم کے حقیقی ادراک اور خود اپنے مقاصد‘ مفادات اور اہداف کی روشنی میں ایک اقدامی پالیسی کے جملہ پہلوئوںکا احاطہ ہی پاکستان کے تحفظ اور ترقی کا ضامن ہو سکتا ہے۔ کیا ہماری خارجہ پالیسی میں ان تمام پہلوئوں کے شعور کی کوئی جھلک دیکھی جا سکتی ہے؟
جنرل پرویز مشرف نے اپنے حالیہ دوروں میں خارجہ پالیسی کے سلسلے میں تین نئے موضوعات کو چھیڑا ہے۔ یہ موضوعات اور ان پر بحث کا یہ وقت دونوںاہمیت کے حامل ہیں۔ بظاہر ان کا مقصد امریکہ کی خوشنودی ہے‘ جو ایک خوش فہمی سے زیادہ نہیں۔ لیکن اگر گہرائی میں جاکر تجزیہ کیا جائے تو یہ دراصل پوری خارجہ پالیسی ہی نہیں‘ پاکستان کے نظریاتی رخ کی تبدیلی کا پیش خیمہ اور اس کے لیے اولیں اقدام ہوسکتا ہے۔ اس لیے گربہ کشتن روزِ اول کے اصول پر یہی وہ وقت ہے کہ ان خطرناک feelers کا سرتوڑ دیا جائے اور پوری قوم کو ان کے خطرات اور مضمرات سے آگاہ کر کے اپنی نظریاتی سرحدوں‘ اپنے سیاسی‘ دفاعی اور تہذیبی وجود کی حفاظت اور تاریخی قومی عزائم کی تکمیل کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے۔
پہلی چیز کا تعلق دہشت گردی کے نام پر کی جانے والی جنگ میں ہمارے کردار کا ہے۔ جنرل صاحب اور ان کے رفقا نے ملک کو ایک ہیجانی انداز میں ۱۱ستمبر کے واقعے کے بعد‘ اس سانحے کے اسباب اور ذمہ دار افراد کے بارے میں کسی معروضی تحقیق کے بغیر‘ایک ایسی جنگ میں جھونک دیا جس کی کوئی انتہانہیں‘ جس کا کوئی واضح ہدف اور متعین منزل نہیں‘ جس کی قیادت ایک ایسے ملک کے ہاتھ میں ہے جو کسی دوسرے کو خاطر میں نہیں لاتا‘ جس کے اپنے عالمی عزائم ہیں اور جس پر ایک مذہبی بنیاد پرست گروہ چھایا ہوا ہے جو حق و انصاف اور سچ اور جھوٹ سب سے بالا ہوکر محض اپنے مذموم مقاصد کے لیے سب کچھ کرنے پر تلا ہوا ہے۔
ہم نے اپنے کو ایک ایسی جنگ میں جھونک دیا ہے اور اب امریکہ کی دم سے بندھے‘ بے بسی کے عالم میں اس کے پیچھے پیچھے گھسٹ رہے ہیں اور کیفیت یہ ہے کہ ع
نے ہاتھ باگ پر ہے‘ نہ پا ہے رکاب میں
امریکہ دہشت گردی کے عنوان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اسامہ بن لادن پہلا ہدف تھا مگر اس پر کوئی جرم ثابت کیے بغیر اعلانِ جنگ کر دیا گیا۔ وہ آج تک نہیں پکڑا گیا مگر اس کے نام پر دوسرا سال ہے کہ ایک عالمی جنگ کا بازار گرم ہے۔ طالبان نے کوئی جرم نہیں کیا تھا مگر اسامہ کو پناہ دینے کے الزام پر ان پر فوج کُشی کی گئی اور اب افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی خدمت انجام دی جا رہی ہے اور ایک ایسا ملک‘ جو چاہے غریب اور غیرترقی یافتہ تھا مگر آزاد اور پُرامن تھا‘مسلسل جنگ اور خانہ جنگی کی آگ میں جھونک دیا گیاہے اور پاکستان اور افغانستان کو بھی ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر دیا گیا۔ ملاعمر اب بھی گرفت سے باہر ہیں اور طالبان کا ہّوا سروں پر منڈلا رہا ہے۔ عراق پر صریح جھوٹ اور اب خود اپنے اعتراف کے مطابق محض راے عامہ کو ساتھ ملانے کے لیے غلط اور بے بنیاد الزامات کو ہوا دے کر حملہ‘ ملک کی تباہی اور اس کے وسائل پر قبضے کا ڈراما رچایا گیا ہے۔ شمالی کوریا پردبائو جاری ہے‘ ایران اور شام پر بندوقیں تانی جا رہی ہیں‘ اسرائیل کو کھل کھیلنے کا ہر موقع دیا جا رہا ہے اور صاف نظر آ رہا ہے کہ چند مغربی اقوام (برطانیہ‘ اسپین‘ آسٹریلیا‘ پولینڈ) کے علاوہ بھارت اور اسرائیل اس نام نہاد جنگ سے مستفید ہونے والے (beneficiaries)اصل فریق ہیں۔ البتہ ہم دم چھلے کی طرح امریکہ کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ اخلاقی‘ مالی‘ سیاسی‘ ہر اعتبار سے نقصان اٹھا رہے ہیں مگر امریکہ سے نتھی ہیں۔
اس سے بھی زیادہ خطرناک وہ نظریاتی جنگ ہے جو اسلام‘ اور اس کے دین و دنیا اور مذہب اور ریاست کی یک جائی کے تصور کے خلاف امریکی دانش وروں اور سیاست کاروں نے شروع کی ہوئی ہے۔ ’’سیاسی اسلام‘‘ کو ہدف بنایا جا رہا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ایسا اسلام تو قبول ہے جو گھر اور مسجد تک محدود ہو لیکن اسلام کا یہ تصور کہ زندگی کے پورے نظام کو اللہ کی ہدایت کی روشی سے منور کیا جائے‘ قابلِ قبول نہیں۔ اس تصورِ دین کا نام بنیاد پرستی‘ انتہاپرستی‘ رجعت ‘ جہادی کلچر اور دہشت گردی رکھا گیا ہے۔ دینی تعلیم کا نظام اس تصور کامنبع ہے اس لیے اس نظام کی تبدیلی نئی صلیبی جنگ کا ہدف ہے۔
اس نظریاتی جنگ میں بھی معلوم ہوتا ہے کہ جرنیل پرویز مشرف صدر بش کے ہم رکاب ہیں اور اس پورے سفر میں اسلام کے ایک ترقی پسند اور لبرل تصور کے داعی کے طور پر اُبھرے ہیں۔ یہ وہی راستہ ہے جو استعمار کے پہلے دور میں ماڈرن اسلام کے نام پر اختیار کیا گیا تھا اور جسے اُمت نے علامہ اقبال‘ جمال الدین افغانی‘ محمد علی جوہر‘ ابوالکلام آزاد‘ سید مودودی‘ حسن البنا شہید‘ سعید نورسی‘محمدعبدہ‘ رشید رضا‘ مالک بن نبی اور سید قطب جیسے مفکرین اور مجاہدین کی سرکردگی میں دفن کر دیا تھا۔ شیطان اپنے اسی حربے کو ایک بار پھر اختیار کر رہا ہے اور افسوس ہے کہ جنرل پرویز مشرف غالباً سوچے سمجھے بغیر اور تمام عواقب و مضمرات کا ادراک کیے بغیر اس صلیبی جنگ میں بھی شریک ہوگئے ہیں اورترقی پسند اسلام کو بھی خارجہ پالیسی کا ایک نظریاتی ستون (plank) بنانے کا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ یہ ایک المناک غلطی ہے۔ پاکستان کے عوام اور اُمت مسلمہ اس تصور کو بار بار رد کر چکی ہے اور خود پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیکولر عناصر نے یہ بازی کھیلی ہے انھیں بری طرح شکست ہوئی ہے۔
اسلام وہی ہے جو قرآن و سنت کے ذریعے اس اُمت کو ملا ہے اور جب تک قرآن و سنت محفوظ ہیں اور ان کی حفاظت کی ضمانت خود زمین و آسمان کے مالک نے دی ہے‘ اسلام کے چہرے کوکوئی مسخ نہیں کر سکتا اور نہ اس کے جسم پر کوئی دوسرا چہرہ نصب کرسکتا ہے۔ البتہ اس کوشش کا ایک نتیجہ ضرور نکل سکتا ہے اور وہ ہے ملک و ملّت کے درمیان نظریاتی کش مکش اور تصادم اور قوم کی صلاحیتوں کا ضیاع۔ ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ جنرل صاحب اس لاحاصل تصادم سے اپنے کو بھی بچائیں اور قوم کو بھی اور امریکہ کی خوشنودی کی خاطر اسلام میں تراش خراش اور ایک قابلِ قبول وژن تیار کرنے کی کوشش نہ کریں اور یاد رکھیں کہ ؎
نورِ حق ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْط وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ o (الصف۶۱:۸)
یہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
تاریخ گواہ ہے کہ اسلام پر جو بھی ضرب لگی ہے اور اُمت کو جس نشیب سے بھی سابقہ پیش آیا ہے‘ اسلام پھر قوت بن کر اُبھرا ہے اور اُمت نئے فراز سے شادکام ہوئی ہے ؎
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ اُبھرے گا‘ جتنا کہ دبا دیں گے
دوسرا شوشہ جو اس زمانے میں چھوڑا گیا ہے‘ وہ عراق میں امریکہ کی دعوت پر اور ان کی مدد کے لیے پاکستانی افواج کو بھیجنے کا ہے۔ ستم ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے کسی مشورے‘ کسی قومی مشاورت‘ کسی پارلیمانی بحث کے بغیر اس سے ’’اصولی اتفاق‘‘ کااعلان بھی کر دیا اور صرف ’’مصارفِ لام بندی‘‘ اور کمانڈ کی بات کر کے مسئلے کو الجھانے کی کوشش کی۔
بات بہت صاف ہے۔ اگر پاکستانی فوج محض بھاڑے کے ٹٹو کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ ایک آزاد اور اسلام کی علم بردار قوم کی وہ فوج نہیں جو ایمان‘ تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کے آدرش کی دین ہے تو وہ اسے جہاں چاہیں بھیجیں اور جس جہنم میں جھونکنا چاہیں جھونک دیں لیکن نہ پاکستان کی فوج کسی ایسے بکائو مال (mercenaries)کا طائفہ ہے اور نہ پاکستانی قوم ایسی بے ضمیراور بے غیرت قوم ہے کہ اپنے شاہینوں کو امریکہ کی ایک ناجائز جنگ کی آگ میں جھونکنے دیں۔ یہ فوج کسی کی ذاتی جاگیر نہیں کہ جہاں چاہے بھیج دے اور جس جنگ کا چاہے اسے ایندھن بنا دے۔ ایک مسلمان فوج اور ’’ضمیرفروشوں‘‘ میں یہی فرق ہے کہ وہ حق کے لیے تو جان کی بازی لگا دیتی ہے لیکن محض پیسے کی خاطر ظالموں کا آلہ کار نہیں بنتی۔ مولانا محمد علی جوہر نے خوب کہا تھا کہ ؎
مصلحت کوش مری فطرت پاکیزہ نہ تھی
قول انشا کو کبھی حکمِ الٰہی نہ کہا
گر یہی میری خطا ہے تو خطا کار ہوں میں
میں نے شمشیرفروشوں کو سپاہی نہ کہا
عراق کی جنگ کی حقیقت کونظرانداز کر کے‘ اور آج عراق میں جو کھیل امریکہ کھیل رہا ہے اور اس کی جو قیمت اسے ادا کرنا پڑ رہی ہے اس کے ادراک کے بغیر محض جناب بش کے ارشاد عالی کی تعمیل میں اپنی فوج بھیجنے اور اسے اصولی طور پر ایک صحیح بات کہنے کی جسارت وہی شخص کر سکتا ہے جو یا حالات کا کوئی ادراک نہ رکھتا ہو یا پھر قوم اور فوج دونوں کو دھوکا دینے کی جسارت کر رہا ہو۔
۱- یہ جنگ امریکی قیادت کے ہوسِ انتقام اور سامراجی عزائم کی جنگ ہے جس کی ساری دنیا کے عوام نے مخالفت کی‘ ڈیڑھ سو سے زیادہ ممالک نے اس میں شرکت سے انکار کیا‘ دنیا کی آبادی کے ۹۰ فی صد نے اسے ناجائز قرار دیا‘ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی امریکہ اس کی تائید حاصل نہ کر سکا اور اس کے سہارے ایڑی چوٹی کے زور لگا دینے کے باوجود جنگ کے بعد بھی اسے سلامتی کونسل سے جواز نہ مل سکا اور کونسل نے اپنی قرارداد ۱۴۸۳ کے ذریعے امریکہ اور برطانیہ کو قابض طاقت (occupying power) قرار دیا۔ ایسی ناجائز اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کی جانے والی فوج کُشی میں شرکت کا کوئی قانونی‘ اخلاقی اور سیاسی جواز ممکن نہیں۔
۲- جنگ کے بعد اب اس بات پر خود امریکہ اور برطانیہ میں کھلے بندوںاحتساب ہورہا ہے کہ جنگ کے لیے جن وجوہ کو سندِجواز بنایا گیا تھا وہ محض کذب اور دھوکے پر مبنی تھیں اور امریکی اور برطانوی قیادت نے اپنی پارلیمنٹوں اور اپنے عوام کو صریح دھوکا دیا۔ بش صاحب کی جنوری ۲۰۰۳ء کی State of the Nation تقریر جھوٹ پر مبنی تھی اور یہی حالت اس قرارداد کی تھی جو برطانوی پارلیمنٹ میں منظور کرائی گئی۔ دونوں ملکوں میں اب عوام اور سیاسی قوتیں احتساب اور جواب دہی کی بات کر رہی ہیں اور راے عامہ کے جائزوں میں قیادت کی ساکھ برابر روبہ زوال ہے۔ جنگ کے مبنی برباطل ہونے کے ان واضح اعترافات کے باوجود یہ سوچنا بھی ایک گناہ اور انسانیت کے خلاف ظلم ہے کہ ایسی جنگ برپا کرنے والوں کی معاونت کے لیے ایک مسلمان ملک کی فوج بھیجی جائے۔
۳- عراق میں یکم مئی کو جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد بھی امریکی اور برطانوی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے جو روز بروز بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کے ۱۵۰ سے زیادہ فوجی مارے جا چکے ہیں اور برطانیہ کے ۳۰ سے زائد۔ فوج میں شدید بے چینی ہے اور ہر میت جو امریکہ یا برطانیہ جا رہی ہے ایک کہرام کو جنم دے رہی ہے۔ امریکہ کے ایک لاکھ ۴۸ ہزار فوجی عراق میں اسیر ہیں اور وہ ان میں سے بیشتر کو جلد از جلد واپس بلانا چاہتا ہے اور ان کی جگہ بھاڑے کے ٹٹوں کو عراقی عوام کی مزاحمت کا نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ برطانیہ نے اپنے ۱۷ ہزار فوجیوں کے لیے مزید کمک بھیجنے سے انکار کر دیا اور امریکہ اس کے تھرڈ ڈویژن کو واپس بھیجنے اور متبادل افواج کو لانے کو مشکل پا رہا ہے۔ اس نے فرانس سے فوج طلب کی جس نے انکار کر دیا۔ بھارت سے طلب کی اس نے انکار کر دیا۔ پاکستان سے طلب کی اور وہ جرأت انکار سے بھی محروم ہے اور چور دروازے تلاش کر رہا ہے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک ناحق جنگ‘ ایک ظالمانہ اور سامراجی جنگ اور ایک ایسی صورت حال میں جہاں ایک مسلمان عرب ملک پر امریکہ قابض ہے اس بات کا تصور بھی کیسے کیا جا سکتا ہے کہ اس خونی کھیل میں اپنے فوجیوں کو جھونک دیا جائے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر عراقی عوام درخواست کریں یا وہاں کی امریکہ کی نامزد کونسل درخواست کرے تو غور کرسکتے ہیں۔ کونسل ایک امریکی نامزد ادارہ ہے جس میں اعلیٰ اختیار عراق کے نئے امریکی وائسرائے پال بریمر کو حاصل ہے۔ امریکہ نے عراق کے انتظام کو اقوامِ متحدہ کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ وہاں فوجی اور سیاسی دونوں نظام دونوں امریکہ کے تحت ہیں۔ ایسے حالات میں کسی آزاد اور غیرت مند ملک کے لیے ممکن نہیں کہ اپنی فوج وہاں بھیجے۔ بھارت نے پوری جرأت کے ساتھ انکار کر دیا لیکن ہماری قیادت حیص بیص کا شکار ہے۔
۴- تمام تجزیہ نگار اس بات کا اب کھل کر اظہار کر رہے ہیں کہ عراق میں ایک قومی تحریک مزاحمت وجود میں آگئی ہے۔ امریکہ ویت نام جیسے حالات سے دوچار ہونے کے خطرات سے بچنے کے لیے دوسروںکو اس آگ میں جھونکنے کے لیے دوڑ دھوپ کر رہا ہے۔ ولیم شوکراس نے لندن کے اخبار ایوننگ اسٹینڈرڈ کی ۲۵مارچ ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں جنگ سے پہلے ہی اس کی پیش گوئی کر دی تھی اور اب عالم گیریت کے مطالعے کے ییل مرکز کے ایک مطالعے میں جو یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے کے پروفیسر آر ویل اسکیل نے مرتب کیا ہے صاف لفظوں میں کہا گیا ہے کہ:
ہمارا واسطہ ایک منتشر بھوت سے ہے جو دہشت گردی اور گوریلا جنگ سے مل کر بناہے۔ اس کا صفایا کرنا ہندچینی میں ہمارا جن گوریلا فوجوں سے واسطہ پڑا تھا‘ اس سے زیادہ سخت ہوگا۔ (ایشین ایج‘ لندن‘ ۲۱ جولائی ۲۰۰۳ئ)
کیا اس جہنم میں ہم محض امریکیوں کے نقصانات کم کرنے کے لیے اپنے مجاہد فوجیوں کو بھیجنے کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔
۵- عراق میں خود امریکیوں نے جس گورننگ کونسل کو نامزد کیا ہے اس تک نے اپنے پہلے ہی اجلاس میں امریکہ کے سارے دبائو کے باوجود صدر بش کا شکریہ ادا کرنے اور اسے عراق کا نجات دہندہ قرار دینے سے انکار کر دیا اور عراق کی سڑکوں اور گلیوں میں جو نعرے لگائے جارہے ہیں وہ امریکی کالم نگار نیل میک فرگوارہر کے بیان کے مطابق یہ ہیں:
"No to America! No to Colonialism
No to Tyranny! No to Devil".
(نیویارک ٹائمز‘ ۲۲ جولائی ۲۰۰۳ئ)
یہ ہے عراق کی عوامی فضا ۔ ہم کس کا ساتھ دینا چاہتے ہیں--- عوام کا یا ان پر تسلط حاصل کرنے والی امریکی افواج اور اس کی نامزد انتظامیہ کا؟
۶- ہمیں ان تاریخی حقائق کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ برطانوی استعمارکے دور میں پہلی جنگ کے بعد برطانیہ کی افواج میں شامل برعظیم کے سپاہیوں نے عراق کے لوگوں پر گولیاں چلائی تھیں اور جہادِ آزادی کے متوالوں کو کچلنے کی جنگ میں برطانوی استعماری افواج کے شانہ بشانہ شرمناک کردار ادا کیا تھا جس کی یادیں آج بھی موجود ہیں۔ کیا آزادی کے بعد اور اس دور کی پہلی آزاد مسلم مملکت کا شرف رکھنے والے پاکستان کی فوجوں کو پھر اس کی قیادت ایک ایسی ہی شرمناک جنگ میں جھونکنا چاہتی ہے؟ اس طرح پاکستانی قوم اور عراقی قوم میں محبت کا رشتہ استوار ہوگا یا نفرت کا؟ امریکہ کے فوجی تو عراقی عوام کی نفرت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ کیا پاکستان کی فوجی قیادت پاکستانی فوج اور پاکستانی قوم دونوں کے منہ پر یہ کالک ملنے کی خدمت انجام دینا چاہتی ہے۔
۷- امریکہ کے جو عزائم عراق میں سیاسی بندربانٹ‘ اس کے تیل پر قبضے‘ تعمیرنو کے نام پر امریکی کمپنیوں کے تسلط کے قیام اور ہمیشہ کے لیے عراق کو عسکری اعتبار سے ایک غیرموثر ملک بنانے والے ہیں ان سے ہم ناواقف نہیں۔جو نقشہ کل کے لیے بن رہا ہے وہ عراق‘ عرب دنیا اور عالمِ اسلام سب کے مفاد کے خلاف ہے۔ کیا ہم میں اتنی بھی سیاسی فراست نہیں کہ نوشتہ دیوار کو پڑھ سکیں؟ اور امریکہ کے اس خونی کھیل میں محض چند پیسوں کی خاطر شریک نہ ہوں۔
۸- انگلستان میں ابھی جولائی کے دوسرے ہفتے میں ان ۱۴ ممالک کے سربراہوں کا اجتماع ہوا جو سوشل ڈیموکریسی کے علم بردار ہیں۔ ٹونی بلیر نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح ان کو عراق کی جنگ اور غربت کے خاتمے اور تعمیرنو کے نام پر کیے جانے والے منصوبوں میں شریک کریں لیکن سب نے بہ اتفاق اس میدانِ جنگ میں قدم رکھنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے اس اصول کو بھی تسلیم کرنے سے انکارکر دیا کہ ناپسندیدہ حکومتوں کو ہٹانے‘ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے اور جابر حکومتوں کے خاتمے کے لیے کسی بھی ملک کو اقدام کا اختیار دیں۔ ان کا ایک ہی مطالبہ تھا‘ امن کو جو بھی خطرہ ہو اس کا مقابلہ کرنے کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلے کے ذریعے‘ بین الاقوامی قانون کے مطابق۔ ان کا اعلامیہ بہت واضح ہے:
ہم اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ اس نوعیت کے انسانی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی کارروائی کی اجازت دینے والا واحد ادارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ہے۔ (دی انڈی پنڈنٹ‘ ۱۵ جولائی ۲۰۰۳ئ)
کیا اس اعلامیے میں پاکستان کی قیادت کے لیے کوئی پیغام نہیں؟
۹- آخری بات یہ ہے کہ عراق پر قبضے کے جملہ مقاصد میں ایک اہم مقصد اسرائیل کی تقویت اور اسے علاقے کا چوکیدار بنانا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس کا اعتراف دوست دشمن سب کرتے ہیں۔امریکہ کی صہیونی لابی اور اسرائیلی وزیراعظم شیرون نے عراق کی جنگ کو حقیقت بنانے میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا اور عراق کی تباہی پر سکھ اور چین کا سانس لیا۔ دی انڈی پنڈنٹ نے اپنے ایک حالیہ اداریے میں اس کا کھل کر اعتراف کیا ہے:
عراق میں جنگ کا ایک سبب یہ تھا کہ علاقائی خطرے کا خاتمہ کیا جائے‘ اور امید کی جائے کہ اس طرح شرق اوسط میں امن فروغ پائے گا۔ عراق کے اندر داخلی سلامتی کتنی ہی غیراطمینان بخش ہو اور اس کے ہتھیاروں کے بارے میں تنازع کتنا ہی بھڑک رہا ہو‘ اس جنگ نے اسرائیل کے لیے ایک خطرے کاخاتمہ کر دیا ہے اور خطے کے دوسرے ممکنہ جنگ کرنے والوں کے لیے تنبیہ کا کردار ادا کیا ہے۔ اب اسرائیل کے لیے دنیا ایک نسبتاً زیادہ محفوظ جگہ ہو گئی ہے۔ (اداریہ ‘ ۱۵جولائی ۲۰۰۳ئ)
یہ ہے عراق پر امریکی قبضے کی اصل حقیقت۔ کیا پاکستان کی فوجی قیادت اسرائیل کی تقویت کے لیے کھیلے جانے والے اس کھیل میں اپنے لیے کوئی کردار تلاش کرنے کی حماقت کرنے کے لیے پر تول رہی ہے۔ کیا اب اس ملک کی قیادت میں اس کھیل کو سمجھنے والا کوئی موجود نہیں۔ اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَشِیْد؟
اس خطرناک کھیل کا ایک اور شاخسانہ اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے امریکی دبائو اور ترغیبات سے عبارت ہے۔ جنرل صاحب کے دورے سے پہلے ہی اس کے شوشے چھوڑے جانے لگے تھے اور دورے کے دوران اور اس کے بعد اس بارے میں نت نئے نکتے تراشے جارہے ہیں جن کے تجزیے کی ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اسرائیل ہی نہیں اُمت مسلمہ اور عالم انسانیت کے تمام ہی مسائل کے بارے میں مبنی برحق خارجہ پالیسی کے خدوخال متعین کیے جائیں۔ یہ موضوعات مستقل بحث کا تقاضا کرتے ہیں‘ اس لیے ان شاء اللہ ان پر آیندہ کبھی گفتگو ہوگی۔
عدلیہ ریاست کا ایک اہم ستون اور انصاف کے قیام اور جمہوری حقوق اور روایات کے فروغ بلکہ ان کی تنفیذ کی گراں قدر ذمہ داری کی امین ہے۔ عدلیہ کی آزادی اور ساکھ دونوں قانون اور اصولِ انصاف کی پاسداری کے لیے ضروری ہیں۔ اس کا انتظامیہ کی گرفت اور اثراندازیوں سے پاک ہونا اولیں شرائط میں سے ایک ہے۔ عدلیہ کے لیے سیاسی جانب داری اور کرپشن دونوں سے محفوظ ہونا بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دستور اسے انصاف سے کام کرنے کی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے ضروری تحفظ فراہم کرتا ہے۔
عدلیہ کو اس کا اصل مقام اور احترام محض قانونی جکڑبندیوں سے نہیں‘ اس کی اعلیٰ صلاحیت‘ مکمل غیر جانب داری‘ انصاف کے معاملے میں بے لاگ رویے‘ حکومتی‘ سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالا ہوکر اپنے فرائض کی انجام دہی سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ دستور اور قوم نے عدلیہ سے جو توقعات بجا طور پر وابستہ کی ہیں ان کے کماحقہ پورا نہ ہونے کا احساس بڑھ رہا ہے۔ اس کا ثبوت وہ نصف درجن کے قریب خود نوشت ہیں جو خود ریٹائر ہونے والے ججوں کے قلم سے نکلی ہیں اور جن میں وہ واقعات بھی بہ زبان خود بیان ہوئے ہیں جن میں عدلیہ کے قابلِ احترام ججوں کو متاثر کرنے اور ان کے متاثر ہونے کا ذکر ہے۔ حال ہی میں جو کش مکش وکلا اور ججوں کے درمیان رونما ہوئی ہے اور جس کی انتہا ایک طرف وہ تالہ بندیاں ہیں جن کا تماشا اعلیٰ ترین عدالتوں میں ہو رہا ہے‘ اور دوسری طرف وہ قرطاس ابیض ہے جو عدلیہ کے کردار کے بارے میں پاکستان بار کونسل نے تیار کیا ہے جو وکلا کی اعلیٰ ترین تنظیم ہے اور جسے نظامِ عدل و قانون میں ایک باوقار مقام حاصل ہے۔ اسی طرح ایل ایف او کے ایک ضمیمے کے ذریعے جس طرح اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ہے اس نے عدلیہ کے وقار اور عدلیہ اور انتظامیہ کے تعلق کے بارے میں بڑے پریشان کن سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
اس پس منظر میں‘ بظاہر کسی غیرمعمولی ضرورت کے بغیر‘ ایک صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے ۱۹۷۶ء کے توہینِ عدالت ایکٹ کو‘ جسے پارلیمنٹ نے بحث کے بعد منظور کیا تھا‘ منسوخ کر کے صدارتی فرمان کے ذریعے دستورکی دفعہ ۸۹ کا سہارا لے کر نیا قانون فی الفور لاگو کر دیا گیا ہے جس نے فطری طور پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا توہینِ عدالت کے قانون میں کسی ترمیم کی ضرورت تھی؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ اس نئی قانون سازی کی ایسی کیا جلدی تھی کہ پارلیمنٹ کا انتظار کیے بغیر اور عوامی بحث اور بار سے مشورے کے اہتمام کو نظرانداز کرکے چار ملکوں کے سفر سے واپسی اور تین ملکوں کے سفر پر روانگی کے قلیل وقفے میں ایک نہایت بنیادی قانون کو آرڈی ننس کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے۔ یہ دونوں سوال بڑے اہم ہیں اور ان پر علمی‘ قانونی اور سیاسی‘ ہر سطح پر گفتگو ہونی چاہیے کہ جمہوریت نام ہی کھلی بحث اور مشورے کے بعد‘ عوام اور متعلقہ حلقوں سے بھرپور استفادہ کرنے‘ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مسئلے کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لے کر قانون سازی کا ہے۔
عدلیہ کے وقار کا اصل محافظ عدلیہ کااپنا کردار اور کارکردگی ہے۔ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر اب ایک لاعلاج مرض کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کے ان فیصلوں کے بارے میں بھی مختلف حلقوں میں بڑی تشویش پائی جاتی ہے جن کے اہم سیاسی مضمرات ہیں۔ عدلیہ اور انتظامیہ کی مکمل اور حتمی علیحدگی کا مسئلہ بھی دستور کے واضح احکامات اور طے شدہ میقات (time limit)کے گزرنے کے باوجود معرض التوا میں ہے۔ ججوں کی تقرری کا مسئلہ اور اس میں انتظامیہ کے کردار کو بھی شفاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں خود عدلیہ نے ججوں کے فیصلے میں جو راہ اختیار کی تھی اسے ترک کر دیا گیا ہے۔ وزارتِ قانون میں اب بھی سیکرٹری کا عہدہ بنچ پر موجود جج کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام امور عدلیہ کے مقام‘ وقار اور کردار سے متعلق ہیں اور توہینِ عدالت کے مسئلے کو ان سے جدا کر کے نہیں لیا جا سکتا۔ پھر نئے آرڈی ننس میں صحت مند اور غیرصحت مند تنقید کا باب کھولا گیا ہے‘ جب کہ ان کی کوئی واضح تعریف نہیں کی گئی۔ اسی طرح پارلیمنٹ کے حذف شدہ مواد کو بھی گواہی کے لیے پیش کرنے کا دروازہ کھولا گیا ہے۔ scandalizeکرنے کی اصطلاح بھی بڑی مبہم اور مختلف المعنی ہوسکتی ہے۔ نہ معلوم ایسی کیا جلدی تھی کہ اتنا اہم قانون عوامی بحث اور جائزے اور پارلیمنٹ کے ذریعے قانون بنانے کی بجاے آرڈی ننس کے ذریعے مسلط کر دیا گیا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ توہینِ عدالت کے سلسلے میں عدالت کے اختیارات ہر قانونی نظام کا حصہ ہوتے ہیں لیکن اس کے لیے قانون سازی ضروری نہیں سمجھی جاتی۔ برطانیہ اور چند دیگر ممالک میں اس سلسلے میں قوانین پائے جاتے ہیں لیکن امریکہ اور دوسرے بہت سے ممالک میں یہ معاملہ دستور کی ضمانت کے تحت‘ قانونی روایات اور عدلیہ کے ضمیر پر چھوڑا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں عدالتی فیصلوں اور معاملات کے بارے میں عوامی اور علمی بحث و گفتگو میں لچک پیدا ہوئی ہے۔ اسلامی قانونی روایات کے مطالعے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ عدلیہ کا احترام اور انتظامیہ سے مکمل علیحدگی خود ہماری روایت کا حصہ ہے مگر اس کے ساتھ قاضی کے فیصلوں پر بحث و تعدیل اور عدلیہ کے اپنے احتساب کا بھی موثر نظام رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے پر زیادہ گہرائی میں جاکر اور سارے پہلوئوں کا احاطہ کر کے قانون سازی کی ضرورت ہے اور جلدی میں یک طرفہ انداز میں قانون سازی کے اچھے اثرات نہیں ہو سکتے۔
برطانیہ میں ججوں کے تقرر کے طریقوں پر آج کل عام مباحثہ جاری ہے۔ اسی طرح ہمارے ہاں بھی ضرورت ہے کہ اس نوعیت کے تمام امور کو پہلے تجویز کی شکل میں لایا جائے تاکہ تمام متعلقہ حلقے ان کا جائزہ لے لیں۔ پھر پارلیمنٹ میں کھلی بحث کے بعد قانون سازی کی جائے۔ ورنہ خطرہ ہے کہ انصاف کا حصول‘ حقوق کی حفاظت کا اہتمام اور عدلیہ پر اعتماد اور اس کی آزادی کا تحفظ اور صلاحیت کار میں اضافہ حقیقت سے زیادہ محض ایک تمنا رہیں گے۔
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
جنرل پرویز مشرف امریکہ اور تین یورپی ممالک کے دورے پر ایک نرالی شان سے روانہ ہوئے۔ داخلی طور پر انھوں نے بیک وقت دو محاذِ جنگ گرم کیے اور پے بہ پے ’’کمانڈو ایکشن‘‘ کے ذریعے ایک طرف اس جمہوری عمل کو تابڑ توڑ حملوں سے نوازا جس کا خالق ہونے کا وہ خود ہی دعویٰ کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ کی تحقیر میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ کبھی اس کے ارکان کو ’’غیرمہذب‘‘کے خطاب سے نوازا اور کبھی اس پر فوج کی گرفت کو مضبوط رکھنے کے لیے اپنی مجوزہ قومی سلامتی کونسل اور وردی کی ضرورت کو پوری شان تحکم کے ساتھ بیان فرمایا۔ مرکز اور صوبوں کے دستور پر مبنی معاہدہ باہمی (contractual relationship) کو مجروح کیا‘ ضلعی قیادت کے نظام کو مرکز میں اپنے اقتدار کی تائید کے لیے استعمال کیا اور پھر بھارتی ٹی وی این ڈی ٹی وی کو جو انٹرویو دیا اس کے مطابق: انتخابات کے بعد پاکستان میں پارلیمنٹ اور جمہوریت کی جو شکل سامنے آئی ہے‘ اس پر انھوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا ملک ایک برسرِکار جمہوریت لانے میں ناکام رہا ہے۔ خود اپنے ریفرنڈم کے بارے میں جنرل صاحب نے کہا کہ یہ ایک غلطی تھا۔ (نواے وقت‘ لاہور‘ ۱۴ جون ۲۰۰۳ئ)
جنرل صاحب نے دوسرا محاذ صوبہ سرحد میں شریعت بل کی منظوری کو ہدف بناکر بظاہر ایم ایم اے کے لیکن دراصل اسلام اور اس کے نظام قانون و تہذیب و تمدن کے خلاف کھولا ہے اور اس کے لیے صوبہ سرحد میں لائی جانے والی اصلاحات کو ’’طالبانائزیشن‘‘ (Talibanization) کا نام دے کر صوبے کی حکومت اور اسمبلی تک کی بساط لپیٹ دینے کی دھمکی دی ہے۔
ان دو داخلی محاذوں کے ساتھ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے سلسلے میں بھی انھوں نے ضروری سمجھا کہ چند ایسے واضح اشارے دے دیں جن میں ان کے مستقبل کے عزائم کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ ان اشاروں کو ایک خاص معنویت اس سے حاصل ہوتی ہے کہ ان کا اظہار قوم کو ان حادثات کے لیے تیار کرنا ہے جن کے لیے کیمپ ڈیوڈ کی محفل سجائی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ صدر جارج بش نے جنرل صاحب کو کیمپ ڈیوڈ کی صدارتی آرام گاہ میں دن گزاری کی جو دعوت دی ہے اسے ان کے حواری ایک سفارتی اعزاز قرار دے رہے ہیں مگر اہل نظر اس میں بڑے خطرات دیکھ رہے ہیں--- ویسے ہی خطرات جن میں آج عالم عرب اور خصوصیت سے اہل فلسطین گھرے ہوئے ہیں اور جن کا آغاز ۱۹۷۸ء میں انورالسادات اور یاسرعرفات کی کیمپ ڈیوڈ میں شرف بازیابی سے ہوا تھا۔ انورالسادات کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سزا ان کی اپنی قوم نے دی اور یاسرعرفات آج نشانِ عبرت بنے ہوئے ہیں کہ کل کا کیمپ ڈیوڈ کا یہ مہمان آج اس لائق بھی نہیں کہ اس کا منہ بھی دیکھا جائے۔
جنرل پرویز مشرف کے بیانات میں جن اشاروں کو صاف دیکھا جا سکتا ہے وہ اسرائیل کے بارے میں پالیسی پر نظرثانی‘ کشمیر کے ایک اصولی حل سے ہٹ کر دس بارہ حل کی بات‘ عراق میں امریکی افواج کے منہ پر جو کالک ملی جا رہی ہے اس میں پاکستان کے حصے کی تلاش‘ نام نہاد اسلامی انتہاپسندی کے خلاف محاذ آرائی اور اس اہم سفر میں وزیرخارجہ کی جگہ ان وزیرخزانہ کی ہم سفری جو کہوٹہ کی حساس تنصیبات کا تازہ تازہ معائنہ کر کے جا رہے ہیں اور باخبر حلقوں کے بقول پاکستان کی نیوکلیر صلاحیت کا رشتہ امریکہ کی جوہری توانائی کی حکمت عملی کی چھتری سے جوڑنے کے خواہش مند ہیں۔ اس طرح جناب شریف الدین پیرزادہ کا ہم سفر ہونا بھی بڑا معنی خیز ہے کہ وہ ایل ایف او کے مصنف اور ہرفوجی حکمران کے مشیر اور اس کے لیے سندجواز فراہم کرنے کے ماہر شمار کیے جاتے ہیں۔
داخلی اور خارجی محاذ پر فوج کے خود مقرر کردہ (self-appointed) سربراہ کی‘ جو صدر مملکت ہونے کا بھی مدعی ہے‘ یہ ترک تازیاں بڑی چشم کشا اور ایک خطرناک صورت حال کی غماز ہیں۔ اس لیے اصل مسائل کے بارے میں کلام کرنے سے پہلے ہم اس اصولی بات کو پوری وضاحت اور قوت سے قوم اور دنیا کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں کہ کسی ایک فرد کو یہ اختیار نہیں کہ قوم اور اس کی پارلیمنٹ کے فیصلے کے بغیر ایسے اہم امور پر کوئی من مانا موقف اختیار کرے۔
جنرل صاحب بڑے شوق سے ان ممالک کا دورہ کریں لیکن انھیں پاکستانی قوم اور اسلامی مملکت پاکستان کی طرف سے ان معاملات پر پارلیمنٹ اور قوم کی منظوری کے بغیر کسی معاہدے اور پالیسی کی تبدیلی کے اقرار و اعلان کا حق نہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ کوئی ایک فرد اپنی ذاتی ترجیحات کے مطابق پوری قوم کو پابند کرنے کا اختیار نہیںرکھتا۔ جنرل صاحب کو دستور اور قانون کے اعتبار سے اقتدار کا کوئی جواز (legitimacy) حاصل نہیں۔ وہ نہ صرف اپنے نامزد کردہ صدر ہیں بلکہ چیف آف اسٹاف کی توسیع بھی خود ہی حاصل کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے دستور میں صدر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ خود خارجہ اور داخلہ پالیسی بنائے۔ دستوری ڈھانچے میں تو وہ کابینہ کا حصہ بھی نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ ایل ایف او‘ جو خود متنازع ہے‘ اور زیادہ سے زیادہ ایک دستوری تجویز ہے‘ وہ دستور کا حصہ نہیں‘ اس کے تحت بھی داخلی اور خارجی پالیسی کے ان بنیادی امور اور ان کے بارے میں پالیسی فیصلے (policy decisions) اور معاہدے کرنے کا اختیار کابینہ کو حاصل ہے‘ صدر کو نہیں۔
یہاں پر دستور میں پائے جانے والے اس سقم کی نشان دہی بھی ضروری ہے کہ ایسے اہم معاملات کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی توثیق کی کوئی شرط نہیں حالانکہ دنیا کے بیشترممالک میں پالیسی سازی کا آخری اختیار اور بین الاقوامی معاہدات کی توثیق کا حق پارلیمنٹ کو حاصل ہوتا ہے جو کھلی بحث کے بعد یہ ذمہ داری ادا کرتی ہے۔ پاکستان کے مسائل اور مشکلات کی ایک بنیادی وجہ یہی فردِواحد کی حکمرانی کا اسلوب ہے جسے اب ختم ہونا چاہیے ورنہ یہاں جمہوریت کبھی پنپ نہیں سکتی۔ جنرل صاحب کی ان ترک تازیوں پر بظاہر وزیراعظم ظفراللہ جمالی صاحب بھی دبے الفاظ میں مضطرب نظرآتے ہیں مگر کھل کر عوام کے حقوق کی حفاظت‘ پارلیمنٹ کی بالادستی کے قیام اور خود اپنے صحیح مقام کے حصول کی کوئی کوشش کرتے نظرنہیں آتے۔ کشمیرپالیسی کے دس بارہ حل‘ اسرائیل کے بارے میں پالیسی پرنظرثانی اور نیوکلیر صلاحیت کے بارے میں نئی سوچ کے بارے میں کیے جانے والے سوالوں کے جواب میں دی نیشن کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے دل کی بات اس طرح ان کی زبان پر آجاتی ہے کہ:
اللہ تعالیٰ معاف کرے‘ ایسے فیصلے کرنے والا ظفراللہ جمالی آخری شخص ہوگا۔ کسی بھی حکومت کو ایسے ایشوز پر پوری قوم اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ (نواے وقت‘ ۱۸ جون ۲۰۰۳ئ)
اس لیے ہم سب سے پہلے جس بات کا برملا اظہار ضروری سمجھتے ہیں وہ پالیسی سازی اور بین الاقوامی معاہدات اور عالمی قوتوں سے قول و قرار کے بارے میں صحیح طریق کار کے بارے میں حتمی فیصلہ ہے۔ حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں کو اولیں اہمیت اس امر کو دینی چاہیے اور اس بارے میں ایک پروٹوکول پر فوری طور پر اتفاق رائے ضروری ہے جسے پہلی فرصت میں دستور کا حصہ بنا لیا جائے۔ اس طرح ہر حکمران ایک ضابطے کا پابند ہوگا اور قوم اور پارلیمنٹ ہر اہم فیصلے کی ذمہ دار ہوسکے گی۔
اسلام کی درست تعبیر
جنرل پرویز مشرف نے لاہور میں وکلا کے نام نہاد کنونشن میں‘ پھر کوہاٹ میں پاک جاپان دوستی سرنگ کے افتتاح کے موقع پر‘ اس کے بعد بھارتی ٹی وی این ڈی ٹی وی اور بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اور لندن میں پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے جسے وہ ’’اسلامی انتہاپسندی‘‘ اور طالبان کا ’’اسلام‘‘ کہتے ہیں‘ خصوصیت سے نشانہ بنایا ہے۔ داڑھی‘ شلوارقمیض‘ حجاب‘ عورت کی اشتہاری نمایش پر گرفت وغیرہ پر بڑے سطحی اور تلخ انداز میں تنقید بلکہ تضحیک کی ہے۔ اس پر ’’دقیانوسی اسلام‘‘ کا فتویٰ لگایا ہے اور بزعم خود لبرل‘ ترقی پسند‘ روشن خیال اسلام کی باتیں کی ہیں اور وہی گھسی پٹی بات کہی ہے کہ اقبال اور قائداعظم تھیوکریسی کے مخالف تھے اور پروگریسو اسلام قائم کرنا چاہتے تھے۔ صوبہ سرحد میں شریعت بل کے کتابِ قانون کا حصہ بننے پر اپنی برافروختگی کے اظہار میں یہاں تک فرما گئے ہیں کہ اگر طالبانائزیشن کا یہ عمل آگے بڑھتا ہے تو وہ اسمبلی توڑنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ جنرل صاحب کے ان ہی ارشادات کا آج ہم جائزہ لینا چاہتے ہیں۔
پہلی بات جنرل صاحب اور ان کے فکری ہم سفروں اور موید قلم کاروں کی خدمت میں ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کے یہ ارشادات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ جب سے مغربی استعمار نے مسلم دنیا پر تسلط حاصل کیا ہے‘ ایک طبقہ اپنی روشن خیالی اور ترقی پسندی کے زعم میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتا رہا ہے اور اسے مغرب کے حلقوں میں جو بھی مقبولیت حاصل ہوئی ہے اُمت اسلامیہ کے اجتماعی ضمیر نے اس لبرلزم اور روشن خیالی کو مغرب کی کورانہ تقلید اور استعماری آقائوں کی چاکری قرار دیا ہے۔ اس طرزِفکر کو کبھی پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ یہ ایک نہایت مختصر اقلیت کی سوچ تو رہی ہے لیکن اُمت نے اسے کبھی قبول نہیں کیا۔ جس اقبال کا جنرل صاحب بار بار ذکر کرتے ہیں اس نے اس طرزِفکر کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اور جن قائداعظم کے اسلام کی وہ بات کرتے ہیں‘ وہ اپنی تمام تر مغربی تعلیم اور قانونی مہارت کے باوجود اسلام کے بارے میں وہی نقطۂ نظر رکھتے تھے جس پر اُمت کا اجماع ہے اور جس کا اساسی اصول یہ ہے کہ اسلام محض ذاتی زندگی تک محدود نہیں بلکہ انسان کی پوری زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے‘ جس میں اصول واقدار اور بنیادی ادارات سے لے کر شکل و شباہت‘ رہن سہن‘ لباس اور خوراک‘ ہر پہلو کے لیے ہدایت اور ضابطے ہیں۔ دین و دنیا کی وحدت اور سیاست اور مذہب کی یک رنگی اس کا طرئہ امتیاز ہے۔ اسلام نہ ملّا کا ہے اور نہ طالبان کا‘ نہ کسی مسٹر کی اختراع ہے اور نہ کسی جرنیل کی--- اسلام اللہ کا دین ہے جو قرآن پاک کی شکل میں محفوظ اور متعین ہے اور جس کا ماڈل صرف ایک ذاتِ پاک ہے یعنی اللہ کے برگزیدہ نبی اور ہمارے حقیقی قائد سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اور قرآن و سنت ہی ہر دور اور ہر علاقے کے لیے اسلام کا اصل ماخذ ہیں۔ بلاشبہہ اسلام کی اپنی حکمت انقلاب ہے لیکن جس چیز کو قرآن و سنت نے طے کر دیا وہ حتمی ہے اور اس میں تراش خراش کا اختیار کسی کو حاصل نہیں۔
طالبان کی بات تو ہم بعد میں کریں گے لیکن اصل ایشو یہ ہے کہ اسلام وہی معتبر ہے جو قرآن وسنت سے ثابت ہے۔ مسلمانوں کی نگاہ میں ان کی منزل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا اسلام اور اس کا نمونہ ہے--- وہ نہیں جو بش کو پسند ہو یا جسے مغرب کے سیاست دان یا دانش ور پروگریسو اور لبرل قرار دیں۔ آج امریکہ کا اصل ہدف ہی قرآن وسنت کا اسلام ہے جسے کبھی ’’فرسودہ مذہب‘‘ کہا جاتا ہے‘ کبھی ’’جہادی دین‘‘ کہہ کر اسے انتہاپسندی قرار دیا جاتا ہے‘ کبھی ’’بنیاد پرستی‘‘ کا لیبل اس پر لگایا جاتا ہے اور کبھی ’’طالبان کا اسلام‘‘ یا ’’ملّا کا اسلام‘‘ کہہ کر اس کی تحقیر کی جاتی ہے۔ یہ سب مغربی آقائوں کو خوش کرنے کے حربے ہیں۔ اسلام ایک ہے اور ہمارا ماڈل نہ طالبان ہیں‘ نہ ایران ہے‘ نہ سعودی عرب اور نہ سوڈان کا اسلام۔ ہمارے لیے اصل سرچشمہ ء ہدایت قرآن و سنت ہیں۔ جہاں تک طالبان‘ ایران‘ سعودی عرب‘ سوڈان یا باقی مسلم دنیا کے ممالک اور تحریکات قرآن و سنت کے مطابق عمل پیرا ہیں وہ معتبر ہے اور جہاں وہ اس سے ہٹے ہوئے ہیں وہ اصلاح طلب ہے اور ہمارا مطلوب و مقصود نہیں۔ البتہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینے کی ہے کہ ہمارا اور اُمت مسلمہ کا مقصد اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا اور خوشنودی ہے۔ بش اور بلیر کے لیے قابلِ قبول ہونا اور ان سے داد و دہش کی طلب ہماری منزل نہیں۔ معیار صرف ایک ہے اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اور رہنمائی ہے۔ اس لیے کہ اللہ کا پسند کردہ طریقہ ہمارے لیے اسلام ہے:
تھیوکریسی کا اسلام میں کوئی وجود نہیں لیکن تھیوکریسی کا نام لے کر اسلامی نظامِ زندگی‘ اس کے قانون‘ معاشرتی اقدار‘ سیاسی احکام‘ معاشی ضابطوں‘ ثقافتی حدود و اہداف کو نظرانداز کرنا اور مذہب کو محض افراد کا ذاتی معاملہ قرار دینا اسلام سے انحراف ہی نہیں‘ بغاوت ہے۔ اور اس کے لیے اقبال اور قائداعظم کا سہارا لینا بدترین علمی بددیانتی ہے۔ انگریز دانش ور بیورلی نکلسن اپنی کتاب Verdict on India (مطبوعہ ۱۹۴۴ئ) میں قائداعظم سے تحریک پاکستان کے مقاصد اور مذہب اور ریاست کے تعلق کے بارے میں اپنے انٹرویو کا حال یوں بیان کرتا ہے:
قائداعظم : آپ یہ حقیقت کبھی نظرانداز نہ کریں کہ اسلام صرف نظامِ عبادات کا نام نہیں‘ یہ تو ایک ایسا دین ہے جو اپنے پیروکاروں کو زندگی کا ایک حقیقت پسندانہ اور عملی نظامِ حیات دیتا ہے۔میں زندگی کی ہر اہم چیز کے معنوں میں سوچ رہا ہوں۔ میں اپنی تاریخ‘ اپنے ہیروز‘ اپنے آرٹ‘ اپنے فن تعمیر‘ اپنی موسیقی‘ اپنے قوانین‘ اپنے نظامِ عدل و انصاف کے معنوں میں سوچ رہا ہوں۔ ان تمام شعبوں میں ہمارا نقطۂ نظر ہندوئوں سے انقلابی طور پر نہ صرف مختلف ہے بلکہ بسااوقات متصادم بھی ہے۔ ہماری اور ہندوئوں کی زندگیوں میں ایسی کوئی چیز نہیں جو ہمیں بنیادی طور پر ہم رشتہ کرسکے۔ ہمارے نام‘ ہمارا لباس‘ ہماری خوراک ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہماری اقتصادی زندگی‘ ہمارے تعلیمی تصورات‘ جانوروں تک کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر‘ ہم زندگی کے ہر مقام پر ایک دوسرے کو چیلنج کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گائے کا ابدی مسئلہ لے لیں‘ ہم گائے کو کھاتے ہیں اور وہ اس کی عبادت کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے مقصد وجود کے بارے میں قائداعظم نے صاف الفاظ میں کہا کہ: ’’مسلمان پاکستان کا مطالبہ اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ضابطہ حیات ‘ اپنی روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق حکومت کرسکیں‘‘۔
اور انھی خیالات کا اظہار اور بھی شدت کے ساتھ قائداعظم نے میلادنبویؐ کے موقع پر ۲۵ جنوری ۱۹۴۸ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں کیا اور صاف الفاظ میں شریعت کا لفظ استعمال کرکے کیا کہ تیرہ سو سال پہلے انسانیت کو دیے جانے والے اصول اور قوانین آج بھی اتنے ہی قابلِ عمل اور آج کے انسان کے لیے ضروری ہیں جتنے تیرہ سو سال پہلے تھے۔
بات اسلام کی ہے ‘ کسی خاص گروہ یا طبقے کی خواہشات اور عادات کی نہیں۔ محض طالبان کا ہوّا دکھا کر شریعت اسلامی سے فرار کی کوئی کوشش بھی مقبول و محترم نہیں ہوسکتی۔ رہا معاملہ علامہ اقبال کا تو ان کا تو سارا فلسفہ‘ سارا شعری سرمایہ دین ودنیا کی وحدت اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے کے مطابق مسلمانوں کی پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ڈھال دینے کے لیے وقف ہے۔ ترقی پسند اور لبرل اسلام کے داعیوں کے لیے ان کے پاس تنقید اور ترہیب کے سوا کچھ نہیں ؎
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
وہ مغرب کی ذہنی‘ ثقافتی اور سیاسی ہر قسم کی غلامی سے بغاوت کی دعوت دیتے ہیں اور کس طنز سے فرماتے ہیں ؎
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق
لبرل اسلام کے دعوے داروں سے اقبال کا خطاب کچھ اس طرح ہے ؎
ترا وجود سراپا تجلّی افرنگ
کہ تو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیر
مگر یہ پیکرخاکی خودی سے ہے خالی
فقط نیام ہے تو‘ زرنگار و بے شمشیر
لبرل اسلام کے داعی آج بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ نماز‘ روزہ اور داڑھی کی اجازت ہے۔ پھر یہ شریعت کے نفاذ کی بات چہ معنی ؟ لیکن دیکھیے اقبال نے کس طرح اس کا جواب دیا ہے ؎
ملّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
اقبال ہوں یا قائداعظم یا اُمت مسلمہ پاک و ہند--- انھوں نے کسی ایسے اسلام کے لیے جدوجہد نہیں کی تھی جو بش اور بلیر کے لیے قابلِ قبول ہو۔ جس چیز کو جنرل پرویز دقیانوسی اور ازکار رفتہ کہہ رہے ہیں وہ وہ ابدی اور لازوال ہدایت ہے جس کا سرچشمہ اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور نمونہ ہے۔ مسلمانوں کی نگاہ میں صرف وہی معتبر اور مقبول ہے۔ استعماری قوتوں نے اسلام کو ’’ریفارم‘‘ (reform)کرنے کا کھیل ماضی میں بھی کھیلا ہے اور آج بھی کھیل رہی ہیں اور ان کا آلہ کار بننے والے کل بھی ناکام و نامراد رہے اور ان شاء اللہ آج بھی رہیں گے۔
دوسری بات ہم طالبان کے حوالے سے بھی بہت صاف طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ طالبان کا افغانستان میں ظہور اور غلبہ خاص حالات کا رہین منت تھا۔ پاکستانی حکمران‘ پاکستانی فوج کی قیادت‘ اور سعودی عرب اور امریکہ کے سیاست کار یہ سب ان کی پشت پر تھے۔ ’’طالبان کا اسلام‘‘ ۱۱ستمبر۲۰۰۱ء کو وجود میں نہیں آیا۔ اپنے فہم اور شعور کے مطابق وہ پہلے دن سے ایک خاص انداز میں اپنا اجتماعی نظام چلا رہے تھے‘ جس کے کچھ پہلو نہایت روشن اور تابندہ تھے اورکچھ پہلوئوں سے ان کے نظام میں کچھ خامیاں اور کمزوریاں تھیں۔
افغانستان ایک قبائلی معاشرہ ہے اور طالبان اسی قبائلی نظام کا حصہ تھے جو پشتون آئین‘ قانون‘ روایات اور ضوابط سے عبارت ہے۔ بلاشبہہ اس کی صورت گری میں اسلامی شریعت کا بھی ایک نمایاں حصہ ہے لیکن طالبان کا تصور اجتماعیت بنیادی طور پر پشتون آئین اور روایات پر مبنی تھا اور جس حد تک اسلام اس کا حصہ ہے وہ اس میں شامل تھا۔ تاہم ان کی پالیسیوں کا ایک حصہ ان کی اپنی روایات پر مبنی تھا‘ جو پاکستان یا دنیا کے دوسرے ممالک اور علاقوںکے لیے متعلق (relevant) نہیں۔ اس لیے صوبہ سرحد میں جو اصلاحات لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ان پر طالبان کے حوالے سے کی پھبتی کسی طرح بھی صادق نہیں آتی۔
کہنے والے آج طالبان کو جوچاہے کہہ لیں‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ طالبان نے اس افغانستان کو امن و انصاف دیا جو شدید اور خون آشام خانہ جنگی کی گرفت میں تھا اور جہاں لوٹ مار کا دور دورہ تھا اور وار لارڈز (war lords) نے زندگی اجیرن کر دی تھی۔ طالبان کے دور میں وہ سارا علاقہ جو ان کے زیرحکومت تھا امن اور انصاف کا گہوارا بن گیا تھا اور وار لارڈز کو بے اثر کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح افیون کی کاشت کو چندسال میں ختم کر کے انھوں نے ایک بڑی لعنت سے افغانستان ہی نہیں پوری دنیا کو نجات دلائی اور ان کے اس کارنامے کا خود امریکہ تک نے اعتراف کیا۔یہ بجا کہ معاشی ترقی‘ تعلیم کے فروغ اور خصوصیت سے خواتین کی تعلیم اور ملک کی دوسری قومیتوں سے مصالحت کے سلسلے میں ان کی پالیسیوں میں خامی موجود تھی۔ پاکستان اور عالمِ اسلام کی دینی شخصیات اور تحریکات نے ان کے اچھے کاموں کی قدرافزائی کے ساتھ ان کو ان کمزوریوں کی طرف متوجہ کیا تھا اور وہ تعلیم‘ ترقی اور مصالحت کی راہ پر چل بھی پڑے تھے۔
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جو آج ان پر زبان طعن دراز کر رہے ہیں‘ ۱۱ستمبر۲۰۰۱ء سے پہلے ان کو طالبان میںکوئی خامی نظر نہیں آتی تھی اور آج انھیں کوئی خوبی نظر نہیں آ رہی ہے۔ طالبان کا عروج پیپلز پارٹی جیسی نام نہاد لبرل سیاسی جماعت کے دور میں اور اس کی مکمل تائید سے ہوا‘ فوج کی قیادت بھی ان کی پشت پر تھی۔ امریکہ بھی ان کا موید تھا اور مئی ۲۰۰۱ء تک ان سے گہرے سیاسی‘ سفارتی اور معاشی تعلقات استوار کرنے میں مصروف تھا۔ سارا نزلہ اس لیے گرا کہ انھوں نے امریکی استعمار کا آلہ کار بننے سے انکار کر دیا اور جس شخص یا گروہ کو پناہ دی تھی دلیل اور ثبوت کے بغیر اسے امریکہ کو پیش کرنے سے انکار کر دیا۔
پاکستان کے لیے طالبان حلیف اور ساتھی تھے اور پاکستان سے کوئی بے وفائی انھوں نے نہیں کی۔ پاکستان کے فوجی حکمرانوں نے ہی امریکہ کی خوشنودی کے لیے یوٹرن لیا اور اپنے ہی دوستوں اور بھائیوں کو تباہ کرنے کے لیے امریکہ کو اپنی زمین اور اپنا کندھا فراہم کردیا۔ امریکہ کی نارتھ کمانڈ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے عوام پر امریکی افواج نے ۵۷ ہزار سے زیادہ فضائی حملے ہماری سرزمین یا ہماری فضائی حدود کو استعمال کرکے کیے اور ہم بھی ان کے اس ظلم اور فساد میں شریک ہوئے اور جو دوست اور حلیف تھے ان کو دشمن بنالیا۔
طالبان کا اسلام نہ ۱۱ستمبر کے بعد رونما ہوا اور نہ۱۱ ستمبر سے پہلے اس کا وجود تھا۔ پاکستان کے ان سے ہم رنگ اور ہم ساز ہونے کا قصہ تو سب ہی کے سامنے ہے لیکن امریکہ بھی اس میں کتنا شریک تھا اور طالبان سے کس کس طرح کی پینگیں بڑھا رہا تھا اس کا پورا حال اگر کبھی پوشیدہ تھا تو اب نہیں ہے۔ دسیوں کتابیں گذشتہ دو سال میں اس پر آچکی ہیں اور دو فرانسیسی صحافیوں کی کتاب Forbidden Truth: U.S. - Taliban Secret Oil Diplomacy جو فرانس ہی نہیں امریکہ میں بھی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی (best seller) کتاب ہے اور جس کا انگریزی ایڈیشن امریکہ اور برطانیہ سے ۲۰۰۲ء میں شائع ہوا ہے‘ ایک اہم دستاویزی ثبوت ہے۔ بلاشبہہ ان کتب میں حقائق اور افسانے‘ واقعات اور اختراعات سب کچھ موجود ہیں مگر جو بات ناقابلِ تردید ہے وہ ۱۱ستمبر کے سانحے سے پہلے طالبان سے تعلقات‘ دوستی اور اپنے مفادات کے لیے ان سے پینگیں بڑھانا ہے۔ اس وقت ’’طالبان کا اسلام‘‘ کسی کو پریشان نہیں کر رہا تھا اور سیاسی تائید‘ معاشی مفادات کا حصول‘ اور مالی امداد کی فراوانی یہ سب جائز تھا۔
رہا ہمارا معاملہ‘ تو ہماری تحریریں گواہ ہیں کہ ہم نے طالبان کے اچھے کاموں کی تعریف کی اور ان کی خامیوں پر ان کو دلسوزی کے ساتھ متوجہ کیا اور ان خامیوں سے کبھی صرفِ نظر نہیں کیا۔ آج ہم ان کی مظلومیت کی بنا پر ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور اسے بزدلی ہی نہیں‘ بداخلاقی بھی سمجھتے ہیں کہ محض امریکہ کو خوش کرنے کے لیے اپنے مظلوم بھائیوں کے حق میں کلمہ خیر بھی کہنے سے اجتناب کریں۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو اپنے رویے پر شرمسار ہونا چاہیے‘ چہ جائیکہ وہ طالبان کو ان کی مظلومیت کے اس دور میں نشانۂ تضحیک بنائیں۔
جہاں تک صوبہ سرحد میں متحدہ مجلسِ عمل کی انتخابی کامیابی اور صوبائی حکومت کی نفاذِ اسلام کی کوششوں کا تعلق ہے‘ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ متحدہ مجلسِ عمل عوام کی بھرپور تائید اور جمہوری ذریعے سے برسرِاقتدار آئی ہے۔ وہ کسی چوردروازے سے اقتدار پر قابض نہیں ہوئی۔ جنرل پرویز مشرف کی صدارت کو کوئی دستوری یا اخلاقی جواز بھی حاصل نہیں۔ وہ ایک خود مقرر کردہ (self-appointed) صدر ہیں۔ اس طرح دوسری ٹرم کی حد تک انھوں نے خود ہی اپنے آپ کو چیف آف اسٹاف بنا لیا ہے۔ ۲۰۰۲ء میں نام نہاد صدارتی ریفرنڈم کے بارے میں وہ صرف اپنی شرمندگی کا اظہار ہی کرنے پر مجبور نہیں ہوئے‘ اب وہ اس کو ایک غلطی بھی تسلیم کرتے ہیں گو اس غلطی کے منطقی تقاضوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ متحدہ مجلسِ عمل نے ان کو دستور کے مطابق صدر منتخب ہونے کا ہر موقع دیا اور تعاون تک وعدہ کیا بشرطیکہ وہ غیرقانونی اور غیردستوری اختیارات اور ناجائز دستوری ترمیمات سے دستبردار ہوجائیں لیکن وہ دستوری اور قانونی طریقہ اختیار کرنے سے اب تک گریزاں ہیں اور اس طرح صرف قوت اور فوجی اتھارٹی کے ناجائز استعمال کے ذریعے اقتدار پر رہنے پر مصر ہیں۔ اس کے برعکس متحدہ مجلسِ عمل نے خالص قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کیا ہے اور عوام کے ووٹ کے ذریعے برسرِاقتدار آئے ہیں۔ وزیراعظم ظفراللہ جمالی صاحب بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ:
لیکن جنرل پرویز مشرف صاحب کے گرجنے برسنے کا اور ہی انداز ہے۔ وہ منتخب اسمبلی کو صرف اس لیے توڑنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ ان کے مزعومہ ترقی پسند اسلام کو دین سے انحراف سمجھتی ہے اور جو مینڈیٹ قوم نے اس کو دیا ہے اس کے مطابق عمل کرنا چاہتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ انھیں اس کام پر نعوذ باللہ‘ اللہ تعالیٰ نے مامور کیا ہے۔ اس طرح وہ ظل الٰہی (divine right of kings) کے فرسودہ نظریے کا احیا کرنے کا جرم کر رہے ہیں۔
ایک طرف جنرل صاحب ہیں جنھیں غیرمنتخب اور خودساختہ صدرکے سوا کوئی حیثیت حاصل نہیں۔ دوسری طرف صوبے کی منتخب اسمبلی اور قیادت ہے جو اسمبلی کے ذریعے‘ ملک کے دستور کے مطابق‘ تحریک پاکستان کے مقاصد کی تکمیل اور اقبال اور قائداعظم کے قوم سے کیے ہوئے وعدوں کی تعمیل میں جمہوری اور تعلیمی ذرائع سے شریعت نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ قوم کے سامنے یہ دو ماڈل بالکل واضح ہیں اور قوم یا دنیا کی آنکھوں میں دھول نہیںجھونکی جاسکتی۔
سرحد کی حکومت کے خلاف صرف سیاسی دبائو اور معاشی اور مالیاتی وسائل سے محرومی ہی کے وار نہیں کیے جا رہے بلکہ سب سے بڑھ کر‘ ایک پروپیگنڈا وار پہلے دن سے شروع کردی گئی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پھیلایا جاتا ہے اور مثبت اور تعمیری کاموں کا ذکر تک نہیں ہوتا۔
صوبہ سرحد کی حکومت نے پہلے دن سے سادگی اور کفایت شعاری کو اختیار کیا۔ متعدد وزیروں نے سرکاری مکان تک نہ لیے‘ اپنے دفتر اور گھر دونوں کے دروازے عام انسانوں کے لیے کھول دیے۔ اپنے رہن سہن کا انداز وہی رکھا جو پہلے تھا اورملک کی تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ اور سینیروزیر نے بجٹ میں اپنی تنخواہیں دو ہزار روپے ماہانہ اور باقی تمام وزرا نے ایک ہزار روپے ماہانہ کی کمی کی جب کہ مرکز اور پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے وزیروں کی تنخواہوں میں نمایاں اضافے کا راستہ اختیار کیا اور نئی گاڑیوں اور مہنگی رہایش گاہوں پر غریب عوام کی دولت کو استعمال کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ صوبے میں قومی زبان کو سرکاری زبان کی حیثیت سے اختیار کیا اور عملاً کاروبار حکومت میں اس کے نفاذ کا آغاز کر دیا۔ جرائم کی رفتار صوبے میں باقی تمام ملک سے نصف ہے اور امن و امان کی صورت حال سب سے بہتر ہے۔ آٹے کی قیمت میں کمی ہوئی ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں کم از کم شعبۂ حادثات میں فوری امداد اور مفت ادویہ کی فراہمی کا آغاز کر دیا ہے۔ ترقیاتی اور عمومی بجٹ میں تعلیم کو اولیت دی ہے اور سرحد وہ واحد صوبہ ہے جس نے تعلیم کے لیے اپنے بجٹ کا ۴.۲۸ فی صد مختص کیا ہے‘ جب کہ پنجاب اور سندھ میں یہ حصہ ۱۹ اور ۵.۱۳ فی صد ہے اور مرکز میں صرف ۶فی صد کے قریب۔ خواتین کی تعلیم کو واضح ترجیح دی گئی ہے اور صحت کے میدان میں بھی ان کے لیے خصوصی انتظامات کا اعلان کیا ہے۔
سرحد کا بجٹ اس پہلو سے بھی منفرد ہے کہ کسی صوبے نے پہلی بار بجٹ سازی کے بارے میں ایک نیا وژن پیش کیا ہے کہ عمومی انتظامی اور ترقیاتی بجٹ کی دوگونہ تقسیم کو آیندہ کے لیے بدل کر بجٹ کے لیے تین دھاروں (streams)کو متعین کیا ہے‘ یعنی انتظامی‘ فلاحی اور ترقیاتی۔ یہ اسلام کی اولیں روایات سے مطابقت رکھتا ہے جب حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میںباقاعدہ بیت المال کا آغاز ہوا تو اس کے دو شعبے تھے اموال المسلمین اور اموال الصدقہ۔ اس وژن کو سرحد کے بجٹ میں سمونے کی کوشش کی گئی ہے۔
نفاذِ شریعت کے یہ وہ تمام پہلوہیں جن کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور چند ضمنی باتوں کو جن کے بارے میں بھی ایک ہمدردانہ تعبیرممکن ہے‘ ایم ایم اے کے تصور اسلام کا نام دے کر پروپیگنڈے کا طوفان برپا کیا جا رہا ہے۔ خود جنرل پرویز اس میں شدت پیدا کرنے کے لیے دو اسلاموں کی باتیں کر رہے ہیں۔ ایک انتہا پسند اسلام اور دوسرا لبرل اسلام--- اور امریکہ اور یورپی ممالک سے انتہاپسند اسلام کو کچلنے اور لبرل اسلام کی پشتی بانی کرنے کے لیے واویلا کر رہے ہیں اور اس طرح محض اپنی ذات کی خاطر اسلام اور پاکستان دونوں کو بدنام کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ امن و امان کی صورتِ حال اگر کہیں خراب ہے تو وہ کراچی ہے جہاں ماہنامہ ہیرالڈ کراچی کے ایک تازہ جائزے کے مطابق ہر روز صرف پولیس کی سرپرستی میں پچاس کاریں لوٹی جا رہی ہیں۔ صوبے میں ایم کیو ایم کے حکومت میں آتے ہی اور گورنر عشرت کا اقتدار نازل ہوتے ہی بھتّے کا کاروبار شروع ہو گیا ہے۔ قتل اور بوریوں میں لاشوں کا سلسلہ ایک بار پھر شہر میں خوف و ہراس کا باعث بن گیا ہے۔
ہیرالڈ ہی کی رپورٹ ہے کہ صوبائی محکمہ انصاف کے مطابق روزانہ بنیادوں پر خود پولیس کے خلاف دسیوں کیس درج ہو رہے ہیں۔ ۲۰ مارچ ۲۰۰۱ء سے ۱۹مارچ ۲۰۰۲ء تک ۳۲۸ شکایات پولیس کے خلاف درج کی گئی لیکن ۲۰ مارچ ۲۰۰۲ء سے ۱۹مارچ ۲۰۰۳ء تک کے عرصے کے دوران کراچی پولیس کے خلاف ۴۸۰ کیسوں کی شناخت کی گئی۔ کراچی کے بارے میں ٹائم کی رپورٹ میں اگر مبالغہ بھی ہو تو بھی یہ شہر ایک بار پھر مخدوش حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ بلوچستان اور پنجاب میں فرقہ وارانہ قتل کے واقعات روز افزوں ہیں۔ گیس پائپ لائن ایک ہی مہینے میں دو بار میزائلوں سے اڑائی جاتی ہے اور کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔ وزیراعظم صاحب کے اپنے علاقے میں پولیس کا ڈی آئی جی دن دھاڑے مار دیا جاتا ہے اور کوئٹہ میں پولیس کے زیر حراست نوجوان قتل کیے جاتے ہیں۔ یہ سب جنرل صاحب کے لیے کسی تشویش کا سامان نہیں فراہم کرتے البتہ ان کی نینداگر اڑ جاتی ہے تو اس پر کہ پیپسی کے بورڈوں پر عورتوں کی تصویروں پر کپڑا کیوں چڑھا دیا گیا۔ یہ ہے بالغ نظر (mature) قیادت کا احساسِ تناسب (sense of proportion) !
سرحد اسمبلی نے جو شریعت بل منظور کیا ہے غالباً جنرل پرویز اور ان کے قلم بکف گوریلوں نے اس کا مطالعہ نہیں کیا‘ اس لیے کہ اس میں طالبان کا کوئی ’’سایہ‘‘ (ghost) موجود نہیں۔ وہ بل دستور کے تحت منتخب اسمبلی میں پیش کیا گیا جس کو اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ سیکولر پارٹیوں نے ۲۱ ترامیم بل میں پیش کیں جن کو بعد میں واپس لے لیا اور ساری جماعتوں نے مکمل اتفاق راے سے اسے منظور کیا۔ ایک بھی ووٹ اس کے خلاف نہیں آیا۔ قانون کا آپ تجزیہ کرلیں اس میں تعلیم‘ عورتوں کے حقوق‘ غیرمسلموں کے حقوق‘ انصاف کے حصول کو آسان بنانا اور معاشی اور اجتماعی زندگی کو فساد‘ ناہمواریوں اور استحصال سے پاک کرنے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ تمام کام قانون کے دائرے میں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے سے کرنے کا خاکہ مرتب کیا گیا ہے۔ پوری منصوبہ سازی اور قانون سازی‘ باہمی مشاورت سے کرنے کا عندیہ ہے۔ تین کمیشن بنائے جا رہے ہیں جو مشورے سے اپنی سفارشات دیں گے اور پھر ان کی روشنی میں اسمبلی مزید قانون سازی کرے گی۔ اس پورے عمل میں یہ عوام کی شرکت‘ راے عامہ کی تربیت اور تعلیمی انقلاب کے ذریعے تبدیلی کو اولیت دی گئی ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ایسے تعمیری انداز کو’’انتہا پسندی‘‘ اور ’’طالبانائزیشن‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ بدنیتی پر مبنی نہیں تو کم علمی اور غلط فہمی کے بارے میں تو کوئی شبہہ نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ راستہ قوموں کی ترقی کا راستہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہم پوری قوم اور خصوصیت سے حکمران پارٹی کے ارکان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ کھلے ذہن سے قانون کے مسودے کو پڑھیں اور علم اور دیانت کے ساتھ اس بحث میں حصہ لے۔ یہی ملک و قوم کے لیے بہتر ہے۔
آخر میں ہم قوم کے سوچنے سمجھنے والے عناصر کے اس احساس کو بھی ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ کیمپ ڈیوڈ کے مذاکرات میں حصہ لینے والی جنرل صاحب کی ٹیم میں جناب شریف الدین پیرزادہ کی شرکت سے یہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ ایل ایف او کا رشتہ اب اسلام آباد سے بڑھ کر واشنگٹن سے استوار ہو رہا ہے۔ ویسے تو امریکہ کو جمہوریت پر بڑا ناز ہے اور دنیا بھر میں وہ جمہوریت کی ترویج ہی کو اپنے استعماری پروگرام کا اصل ہدف قرار دیتا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جمہوریت کے لیے زبانی جمع خرچ اپنی جگہ‘ لیکن امریکہ نے ہمیشہ اپنے مفاد کے لیے بادشاہوں‘ ڈکٹیٹروں اور فوجی حکمرانوں کو استعمال کیا ہے۔ تازہ ترین مثال جنرل پرویز مشرف سے دوستی بلکہ یاری کا رشتہ ہے۔ کیا وہ وقت تھا کہ کلنٹن صاحب ملاقات کے روادار نہ تھے‘ آئے تو اسے دورہ نہیں stop over قرار دیا۔ شرط لگا دی کہ وردی میں ملاقات نہیں ہوگی۔ اور سوٹ والی ملاقات کا مصافحہ تک کا فوٹو نہ تصویر کی صورت میں آئے گا اور نہ ٹی وی کیمرے کی آنکھ کا تارہ بنے گا۔ مفاد کی ہوائوں کے رخ کی ذرا سی تبدیلی نے انھی جنرل صاحب کو اب دوست بنا دیا اور کیمپ ڈیوڈ کی قربت کا سزاوار کردیا۔ ترکی میں پارلیمنٹ نے جو جمہوری کردار ادا کیا اس پر امریکی قیادت ناراض ہے اور امریکی وزیر دفاع ریمز فیلڈ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ترکی کی فوج نے ہماری توقعات پوری نہیں کیں‘‘۔ یہ ہے امریکہ کی جمہوریت نوازی!
لگتا یوں ہے کہ اب ’’وردی والی جمہوریت‘‘ کو امریکہ کی سند ملنے والی ہے۔ لیکن جنرل صاحب اور بش صاحب دونوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ فیصلے پاکستانی قوم کرے گی‘ کیمپ ڈیوڈ یا لندن میں یہ معاملات طے نہیں ہوں گے۔ پاکستانی قوم ملک میں حقیقی جمہوریت کی خواہش مند ہے اور وہ فوج کو وہ احترام اور مقام دینا چاہتی ہے جو دفاع وطن کے لیے ضروری ہے۔ سیاست میں فوج کی مداخلت کے باب کو اب ختم ہونا چاہیے‘ ورنہ ڈر ہے کہ فوج روز بروز زیادہ سے زیادہ متنازع بنتی جائے گی اور بالآخر فوجی قیادت کے غلط فیصلوں کے نتیجے میں قوم اور فوج میں بُعدپیدا ہوگا جو دونوں کے لیے برا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں فوجی حکمرانوں کاکردار کسی طرح بھی قابل رشک نہیں رہا اور آج ہم بہت دکھ سے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ پہلے تو عوام کے غم و غصے کا نشانہ صرف وہ حکمران ہوتے تھے جو فوج کو زینہ بنا کر حکومت پر قابض ہوتے تھے مگر اب بے چینی اور اضطراب کا رخ فوج کی طرف بحیثیت ایک ادارے کے ہوتا جا رہا ہے جو بہت تشویش ناک ہے۔ ان حالات میں جنرل صاحب کے ذہن اور عزائم کی جو جھلکیاں ان کے امریکہ جانے سے پہلے کے بیانات سے مترشح ہیں وہ ملک اور فوج دونوں کے لیے نہایت پریشان کن ہیں۔ ذرا غور کریںکہ جنرل صاحب کیا پیغام دے رہے ہیں:
یہ صرف چند نمونے ہیں لیکن موصوف کا ذہن سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ قرآن کے استعارے میں اس بدقسمت خاتون کی راہ پر بڑھ رہے ہیں جو سوت بڑی محنت سے خودکاتتی ہے۔ پھر اسے خود ہی ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے۔ وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَھَا مِنْم بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنْکَاثًاط (النحل ۱۶:۹۲) خدا کرے ایسا نہ ہو لیکن ہے یہ سب کے لیے لمحۂ فکریہ! ان سارے خدشات اور امکانات کی روشنی میں پارلیمنٹ کے تمام ارکان کو غور کرنا چاہیے کہ ہوا کا رُخ کیا ہے اور کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ تمام سیاسی قوتیں دستور اور ملک میں حقیقی جمہوریت کے فروغ کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کریں اور محض فوجی طالع آزمائوں کو سہارا دینے کی روش ترک کریں۔ جمہوریت کبھی بھی جرنیلوں کی سرپرستی (tutelage) کے ذریعے فروغ نہیں پاسکتی۔ جمہوری استحکام کا انحصار دستور اورملکی اداروں کے استحکام کے ذریعے ممکن ہے۔ اگر سیاست دان مراعات اور وزارتوں کی خاطر جرنیلوں کے آلہ کار بننے کو ترجیح دیں اور عدالت کے ججوں کو دستور میں ایسی دفعات نظرنہ آئیں جو حاضرسروس (in service) فوجی کے صدر ہونے میں مانع ہوں تو پھر جمہوریت کا مستقبل روشن کیسے ہوسکتا ہے؟ سرکاری پارٹی اور عدلیہ نے قوم کو مایوس کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن سوال کسی ایک پارٹی اور ایک ادارے کا نہیں‘ اس ملک کے ۱۴کروڑ انسانوں کی آزادی‘خودمختاری‘ ان کے حقوق اور ان کے مستقبل کا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حقوق اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب ان کے لیے جدوجہد کی جائے اور قربانیاں دی جائیں اور آزادی کی حفاظت اسی وقت ممکن ہے جب ہر فرد اپنی اور قوم کی آزادی کی حفاظت کے لیے جان کی بازی لگانے کے لیے تیار ہو۔ اقبال نے اس حقیقت کو کتنے صاف الفاظ میں بیان کر دیا تھا ؎
نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سوداے خام خونِ جگر کے بغیر
آج اگر ہمیںاپنی آزادی اور اپنے حقوق کی خود اپنوں کی دست درازیوں سے حفاظت کرنی ہے تو اس کے لیے ایمان‘ استقامت‘ ایثار و قربانی اور جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ؎
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکمِ اذاں‘ لا الٰہ الا اللہ
(اشاعت عام کے لیے کتابچہ دستیاب ہے: منشورات‘ منصورہ‘ لاہور)
اس مہینے راے عامہ کے دو بہت اہم اوردل چسپ جائزے سامنے آئے ہیں۔ پہلا وہ ہے جس کا اہتمام بی بی سی نے آئی سی ایم کے ذریعے کیا ہے اور جو انگلستان کے روزنامہ گارڈین نے شائع کیا ہے۔ یہ سروے ۱۱ ممالک میں ۱۱۰۰ افراد کی رائے پر مبنی ہے۔ ۱۱ ممالک میں صرف دو مسلمان ملک ہیں‘ یعنی اُردن اور انڈونیشیا۔ سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ گو امریکہ کو بحیثیت ایک جمہوری ملک کے لوگ پسند کرتے ہیں اور اس پہلو سے اس ملک میں ایک مقناطیسی کشش اب بھی موجود ہے لیکن امریکی پالیسیوں اور خصوصیت سے صدربش کو خارجہ سیاست کے اعتبار سے سخت ناپسند کرتے ہیں بلکہ ان پر برافروختہ (infuriated) ہیں۔
امریکہ کی جن چیزوں کو اس کے مثبت پہلو کہا جا سکتا ہے وہ اس کا آئیڈیل ازم ‘ اس کی دولت اور اس میں پائی جانے والی آزادیاں ہیں۔ اس کے برعکس جن چیزوں کی وجہ سے دنیا کے لوگ اس سے خائف ہیں اور جس میدان میں وہ عوامی تائید کی جنگ ہار رہا ہے وہ اس کا دوغلاپن اور اہم عالمی مسائل‘ جیسے نیوکلیر ہتھیاروں کے عدم پھیلائو‘ عالمی غربت کا خاتمہ اور ماحول کے بگاڑ کے اسباب کے بارے میں عدم دل چسپی اور مایوس کن کارکردگی ہے۔ عراق کی جنگ اور صدام کو گرانے کے بارے میں عالمی رائے کی اکثریت امریکہ کے دعووں اور اقدام کے مخالف تھی‘ جب کہ مسلمان ممالک میں امریکہ کو القاعدہ کے مقابلے میں زیادہ بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک دل چسپ بات اس سروے میں یہ بھی سامنے آئی ہے کہ دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ امریکہ کی دولت اور اس کی آزادیوں کو پسندکرتا ہے لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکہ میں رہنا پسند کریں گے تو انھوں نے اس سے انکار کیا۔ انھوں نے امریکی فاسٹ فوڈ اور مشروبات کو ناپسند کیا‘ جب کہ امریکی گانوں اور فلموں کو پسند کیا۔
اس سروے کا ایک اوردل چسپ پہلو یہ ہے کہ امریکہ‘برطانیہ اور سروے میں شامل دوسرے انگریزی بولنے والے ممالک میں بحیثیت مجموعی اکثریت کی رائے میں امریکہ عالمی میدان میں ’’خیر کی ایک قوت‘‘ (a force for good in the world) ہے۔ اس کے مقابلے میں اُن ممالک کے لوگوں کی رائے مختلف ہے جو انگریزی نہیں بولتے ہیں۔ فرانس‘ روس‘ اُردن‘کوریا اور انڈونیشیا کے لوگوں کی اکثریت امریکہ کو دنیا کے لیے ایک خطرہ سمجھتی ہے۔ سروے سے جو نتیجہ نکالا گیا ہے وہ یہ ہے:
اس سب سے ہمیں کیا معلوم ہوتا ہے؟ یہ کہ اصل مسئلہ امریکی اقدار نہیں بلکہ واشنگٹن کے اقدامات اور پالیسیاں ہیں۔ اصل قصور جارج بش کا ہے۔ کیچڑ اُچھالنا اور کائوبوائے جیسا اندازِ گفتگو بیرونی دنیا میں امریکہ کے امیج کو بہتر نہیں بناتا۔دنیا کے لیے امریکہ کم مسئلہ ہے‘ بش زیادہ ہے۔
دوسرا راے عامہ کا سروے اے بی سی نیوز پول اور گیلپ پول پر مبنی ہے جس میں امریکہ کے لوگوں کی رائے اس بارے میں معلوم کی گئی ہے کہ وہ دنیا کی رائے کا کہاں تک لحاظ کرتے ہیں۔ دونوں جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکیوں کو اپنی رائے پر زیادہ اعتماد ہے اور اس کی فکر کم ہے کہ دنیا ان کے بارے میں کیا سوچتی ہے۔ ۱۰ میں سے چھ افراد کو اس کی قطعاً فکر نہیں کہ فرانس‘ جرمنی اور روس کیا سوچتے ہیں اور عراق پر جنگ سے ان کے تعلقات کس طرح مجروح ہورہے تھے۔ اسی طرح دو تہائی افراد نے امریکہ میں اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ان کا اپنا طرزِزندگی ہر حال میں محفوظ رہنا چاہیے اور اسے غیرملکی اثرات سے مکمل تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔
ساری دنیا میں لوگ امریکیوں کو درحقیقت پسند کرتے ہیں اور وہ ہمارے بارے میں مسلسل سوچتے ہیں۔ لیکن ہم مشکل ہی سے ان کا کوئی وجود تسلیم کرتے ہیں۔ ۱۱ستمبر کے بعد رویے میں معمولی تبدیلی آئی ہے لیکن ابھی بھی خود مرکزیت کی کیفیت ہے۔ ہم ہر بات کو اپنے تجربات کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ ہم ایک طویل عرصے سے اپنے آپ میں مگن ہیں۔ لیکن صرف ہم ہی وہ ملک نہیں جو ایسا کرتے ہیں!
یہ دونوں جائزے امریکیوں کی خود اپنے بارے میں سوچ اور امریکہ اور اس کی قیادت کے بارے میں دنیا کے دوسرے ممالک کے لوگوں کی سوچ کا آئینہ ہیں۔
تاریخ سے کم ہی سبق سیکھا جاتا ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مقبولیت اور عزت محض طاقت سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے دوسروں کے جذبات و احساسات کا خیال بھی ضروری ہے۔ زبان خلق کو نظرانداز کرنے والے خلق کی محبت اور تعاون سے محروم ہی رہتے ہیں۔ خوداعتمادی ایک اچھی صفت ہے مگر رعونت اور خود پسندی تعلقات کو بالآخر خراب کرنے کا باعث ہوتی ہے۔ امریکہ اور باقی دنیا کے درمیان اعتماد کی فضا کمزور سے کمزور ہو رہی ہے اور ان کے درمیان بے اعتمادی‘ خوف اور نفرت کی خلیج حائل ہو رہی ہے۔ اگر امریکہ کی قیادت اس تبدیلی کا ادراک کرنے میں ناکام رہتی ہے تو یہ امریکہ اور دنیا دونوں ہی کے لیے مشکلات کا باعث ہوسکتا ہے۔
قومی بجٹ کسی بھی ملک کی اہم ترین دستاویزات میں سے ایک ہوتا ہے۔ یہ محض آمدنی اور خرچ کا بیان نہیں ہوتا بلکہ کسی بھی معیشت کی اقتصادی و مالیاتی صورت حال کا آئینہ دار اور اس حوالے سے حکومت کی پالیسیوں کا مصدقہ بیان ہوتا ہے۔ ’’میگنا کارٹا‘‘ سے لے کر جدید جمہوری مملکتوں کے ابھر کر سامنے آنے تک‘ یہ ایک اہم مسئلہ رہا ہے کہ قومی خزانے کو استعمال
اسلامی تاریخ کے حوالے سے دیکھا جائے تو بیت المال کا انتظام چلانے والوں کا عوامی احتساب‘ اسلامی معاشیات کا سب سے اہم اصول رہا ہے۔ اسلام نے اول روز ہی سے اجتماعی اور ریاستی وسائل کے لیے امانت‘ ذمہ داری اور ایک باقاعدہ نظام کی تشکیل پر زور دیا ہے۔ جمہوری نظام بھی ’’قانون سازی کے بغیر کوئی ٹیکس نہ لینے‘‘ کے اصول کی توقع کرتا ہے جس کا مطلب ہے کہ صرف پارلیمنٹ کو مملکت کی آمدن اور خرچ کی اجازت دینے اور اس کی نگرانی کا اختیار حاصل ہے‘ تاہم بادشاہت‘ سامراجی یا آمرانہ حکومتوں میں انتظامیہ ہی پارلیمنٹ اور عوامی نمایندوں کو نظرانداز کر کے بجٹ کنٹرول کرتی ہے۔ برطانوی دور میں جب منتخب نمایندوں کو بجٹ پر بحث کرنے کی سہولت (luxury) حاصل تھی‘ اصل اختیار انتظامیہ کے پاس تھا جو اس وقت غیر ملکی حکمرانوں پر مشتمل تھی۔
بدقسمتی سے آزادی کے بعد بھی یہی صورت حال چل رہی ہے۔ جہاں تک فنانس بل کا تعلق ہے‘ پاکستان کے تینوں آئین بھی اسی فریم ورک میں ہیں‘ جو ۱۹۳۵ء کے ایکٹ میں دیا گیا تھا۔ اس فریم ورک کا اہم پہلو اخراجات کی charged (وضع شدہ) اور non-charged (غیروضع شدہ) میں تقسیم ہے۔ وہ اخراجات جو دفاع‘ قرض اور اداے قرض اور مرکز یا صوبوں دونوں میں چند ایک اہم سرکاری اداروں (صدر‘ گورنر اور عدلیہ وغیرہ) سے متعلق ہیں charged اخراجات کی ذیل میں آتے ہیں۔ بجٹ کا یہ حصہ جو اس وقت کل بجٹ کے ۵۰ فی صدسے زائد ہے مکمل طور پر انتظامیہ کے ہاتھوں میں ہے اور پارلیمنٹ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتی۔ حتیٰ کہ بجٹ کے اس حصے کے لیے پارلیمنٹ کے ووٹ کی بھی ضرورت نہیں۔ جہاں تک باقی امور کا تعلق ہے‘ اگرچہ ان میں کٹوتی کی تحریکوں کی اجازت ہے‘ لیکن یہ محض علامتی اور عوام کو خوش کرنے والی اجازت ہے۔ ایک عام تصور یہ ہے کہ کوئی بھی کٹوتی کی تحریک جس کو حکومتی جماعت کی حمایت حاصل نہ ہو‘ وہ عدم اعتماد کے ووٹ کے مترادف ہے۔ اس لیے ایک بھی ایسی مثال نہیں دی جاسکتی جب کٹوتی کی تحریکوں سے بجٹ میں کوئی حقیقی تبدیلی آئی ہو۔ اس طرح بجٹ سازی کا عمل محض ایک دکھاوا‘ شو پیس اور رابطہ عوام کی مشق بن کر رہ گیا ہے اور مملکت کے مالیات پر عوام یا ان کے نمایندوں ‘یعنی پارلیمنٹ کا کوئی کنٹرول نہیں۔
دوسرا پہلو بجٹ سازی کے عمل سے متعلق ہے۔ دنیا کے زیادہ تر جمہوری ممالک میں بجٹ سازی چار سے چھ ماہ کے عرصے پر محیط ہوتی ہے۔ پارلیمانی کمیٹیوں اور انتظامیہ کی طرف سے تجاویز آتی ہیں۔ برطانیہ میں Ways and Means Committe بجٹ کے بنیادی خصائص سامنے آنے سے قبل چار مہینے اجلاس کرتی ہے۔ بجٹ بند کمروں میں نہیں بنائے جاتے۔ حتیٰ کہ اگلے تین سے آٹھ سال کے ٹیکس پروگرام بھی سامنے لائے جاتے ہیں اور ان پر عام بحث کی جاتی ہے۔ ایس آر او (قانونی باضابطہ حکم نامہ ہے) اور مالیاتی قانون سازی کسی اور ذیلی ادارے کو تفویض کرنے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ ہر چیز کافیصلہ پارلیمنٹ کی بحث اور کانٹ چھانٹ کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ یہاں انتظامیہ ہی بجٹ بناتی ہے اور یہ پارلیمنٹ میں عملاً ایک طے شدہ دستاویز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔پہلے پارلیمنٹ کو بجٹ پر بحث کرنے اور ووٹ کے لیے تین سے چار ہفتے دیے جاتے تھے۔ موجودہ حکومت نے اس کا بھی اہتمام نہیںکیا۔ ۷ جون ۲۰۰۳ء کو بجٹ پیش کیا گیا ہے اور پانچ دن میں منظور کرلیا گیا۔ یہ بجٹ پر پارلیمنٹ کی نگرانی کا تمسخر ہے۔ بجٹ سازی کے سارے عمل کو جمہوری بنانے کے لیے ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں انتظامیہ آئین کے تقاضوں پر کم ہی توجہ دیتی ہے۔ آئین کا آرٹیکل ۱۶۰ اس کو ضروری قرار دیتا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کی حدود (parameters)طے کرنے کے لیے نیشنل فنانس کمیشن ہونا چاہیے۔ آئین اس کو ضروری قرار دیتا ہے کہ نیشنل فنانس کمیشن کی ہر پانچ سال بعد تشکیل نو کی جانی چاہیے اور بجٹ اس کے طے کردہ حدود کے اندر بنایا جانا چاہیے۔ فنانس کمیشن کی میعاد ۲۰۰۲ء میں ختم ہو گئی تھی۔ حکومت نے چھ ماہ ضائع کر دیے ہیں اور ابھی تک اسے تشکیل نہیں دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سال ۰۴-۲۰۰۳ء کا بجٹ ۱۹۹۷ء کے ایوارڈ کی روشنی میں بنایا گیا ہے جوکہ آئینی طور پر منسوخ ہو چکا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل ۱۶۱ اور ۱۶۲ کی دفعات کی پیروی بھی معقول طریقے سے نہیں کی جا رہی۔ آرٹیکل ۱۶۶ بھی فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ کی پڑتال کے بعد وفاق کے قرض لینے کے اختیار اور پارلیمنٹ کی جانب سے وقتاً فوقتاً اس کی حدود طے کرنے کے بارے میں بہت اہم سوال اٹھاتا ہے۔ آئین کے اس تقاضے کو بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے اور یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ جیسے فنانس بل کی منظوری اس آرٹیکل کے تقاضے کو بطور امر واقعہ پورا کر دیتی ہے‘ جوکہ صحیح نہیں ہے۔
ان نکات کی روشنی میں بجٹ سازی کا عمل اور اس حوالے سے پارلیمنٹ کی نگرانی اور عوامی نمایندوں کے سامنے احتساب دہی کے انتظامات پر نظرثانی اور ان کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
پاک بھارت مذاکرات کی ضرورت اور افادیت کا کون کافر منکر ہوگا۔ اس سلسلے میں جو بھی پیش رفت ہو سر آنکھوں پر‘ چشم ما روشن دلِ ماشاد! البتہ جو بات سمجھنے اور سمجھانے کی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ مذاکرات نہ محض ملاقات کا نام ہیں اور نہ خود کلامی کے انداز میں اپنی اپنی پوزیشن کے اعادے کا۔ مذاکرات اسی وقت مفید اور نتیجہ خیز ہوسکتے ہیں جب کم از کم تنازعے کا ادراک اور اعتراف ہو اور حل کی تلاش کی خواہش اور جستجو۔ اگر عالم یہ ہو کہ ایک طرف شاعرانہ گم گشتگی کے ساتھ ’’دوستی کاہاتھ‘‘ بڑھایا جائے اور دوسری طرف ’’اٹوٹ انگ‘‘ کا نعرۂ مستانہ لگایا جائے اور ’’سرحد پار دراندازی‘‘ بلکہ ’’دہشت گردی‘‘ کا راگ مسلسل الاپا جائے تو پھر بات چیت اور افہام تفہیم کا دروازہ کیسے کھلے؟ بقول غالب ؎
حضرت ناصح گر آئیں‘ دیدہ و دل فرشِ راہ
پاک بھارت تعلقات میں استحکام اور سدھار کی راہ میں حائل ایک اور رکاوٹ وہ غیر حقیقت پسندانہ انداز ہے جس میں دوستی اور مخالفت دونوں کا رنگ آہنگ رچا بسا نظر آتا ہے۔ مخالفت ہو تو تلخی اتنی بڑھتی ہے کہ چشم زدن میں بات گالم گلوچ اور تیغ و تفنگ تک پہنچ جاتی ہے اور پھر اگر دوستی کی ہوائیں چلتی ہیں تو پل بھر میں رازو نیازاور لطف و التفات کا کچھ ایسا سماں بندھ جاتا ہے گویا تلخی اور تصادم کے کوئی اسباب ہی نہ تھے اور نہ جسم پر کوئی زخم لگے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے امیدوں کے قصرتعمیر ہونے لگتے ہیں‘ شاعرانہ بلند خیالیاں فضا پر چھا جاتی ہیں اور لاہور کی پُرفریب الفت رانیوں اور آگرہ کی ’’ایسی بلندی‘ ایسی پستی‘‘ کی کیفیات طاری ہو جاتی ہیں۔ کبھی معاہدوں کے لیے میزیں سجائی جاتی ہیں اور کبھی الوداع کہنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی جاتی۔ کبھی پیش ضرب کاری (pre-emptive strike) کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ ۱۶ ماہ تک فوجیں کیل کانٹے سے لیس آنکھیں چار کیے رہتی ہیں اور نیوکلیر اسلحہ اپنے خول میں کلبلانے لگتا ہے اور کبھی ایک طرف سے دوستی کے پھول ’’زندگی کی آخری خواہش‘‘ بن کر سرحد پار گل پاشی کرنے لگتے ہیں تو دوسری طرف ’’سنجیدگی اور خلوص‘‘کے دریا دریافت ہو جاتے ہیں اور توقعات کے تاج محل ریت کی زمین پر بلند ہوتے نظر آتے ہیں۔
یہ جذباتیت اورعدم توازن‘ اور زمینی حقائق اور تلخ تاریخی عوامل کو نظرانداز کرکے خیالی ترک تازیاں بھی مسائل کی تفہیم اور حالات کے سدھار میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ نہ ایسی دوستی حقیقت پر مبنی ہے اور نہ ایسی دشمنی واحد آپشن۔ حریف سنگ ہونے کے لیے زندگی کے حقائق پر نظر ضروری ہے۔ جذباتی انداز میں ’’چوٹی کی ملاقاتیں‘‘ راہ کی مشکلات کا حقیقی جواب نہیں۔ ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ صرف ٹھنڈے دل سے معاملات اور تنازعات کا تجزیہ اور ٹھوس اور حقیقت پسندی پر مبنی ہوم ورک سے حل کی راہیں استوارہوسکتی ہیں۔ جو حقیقی قوتیں اور دبائو مسئلے کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی ہیں‘ ان کے موثر ترہوئے بغیر مذاکرات کی کوئی گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی۔
اعتماد بحال کرنے والے نام نہاد اقدامات کے چکر میں ہم ۱۹۴۹ء کے لیاقت نہرو معاہدے سے لے کر ۱۹۶۵ء کے معاہدہ تاشقند‘ ۱۹۷۳ء کے شملہ معاہدہ اور ۱۹۹۹ء کے ’’اعلانِ لاہور‘‘ تک گھرے رہے ہیں اور معاملہ ’’ہنوز دلی دور است‘‘ کا ہے۔ ہماری نگاہ میں کلیدی مسئلے دو ہیں‘ باقی تمام امور ضمنی یا ذیلی ہیں۔
پہلا بنیادی مسئلہ ایک دوسرے کو کھلے دل سے تسلیم کرنے کا ہے۔ محض مینارِ پاکستان پر حاضری کا نہیں۔ بھارت نے پہلے دن سے ملک کی تقسیم کو ایک ’’ناجائز عمل‘‘ سمجھا اور صاف الفاظ میں اس کا اعلان کیا ہے۔ ۳ جون ۱۹۴۷ء کی تقسیمِ ہند کی تجویز کو تسلیم کرتے ہوئے کانگریس کی ورکنگ کمیٹی اور اس کی تمام لیڈرشپ نے کھلے لفظوں میں کہا تھا کہ یہ عارضی ہے اور بھارت کو پھرایک ہونا ہے۔ ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کو بہ زور (ہماری اپنی غلطیوں کے سہارے) پاکستان سے جدا کرنے پر اندرا گاندھی نے اعلان کیا تھا کہ آج ہم نے مسلمانوں سے ان کے ہزارسالہ اقتدار اور تقسیم ملک کے ’’ظلم‘‘ دونوں کا بدلہ لے لیا۔ بی جے پی‘ آر ایس ایس اور ہندو بنیاد پرست جماعتوں کا منشور ہی یہ ہے کہ اکھنڈ بھارت قائم کرنا ہے اور تقسیم کی لکیر کو مٹانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے اہل علم کی ایک تعداد پاکستان کو برعظیم میں برطانوی اقتدار کی ایک جانشین ریاست (succeeding state) قرار نہیں دیتے بلکہ اسے ایک علیحدگی پسند اور باغی ریاست (seceeding state) قرار دیتے ہیں۔ یہ ان کا سوچا سمجھا ذہن (mind set) ہے جس سے پالیسی اور رویے دونوں کے دھارے پھوٹتے ہیں۔ اس ذہن کو تبدیل کیے بغیر‘ اور ایک دوسرے کو مبنی برحق ریاست تسلیم کیے بغیر‘ حالات میں بنیادی تبدیلی مشکل ہے۔
گذشتہ سال گجرات کے انتخابات میں صرف مسلمانوں کاقاتل مودی ہی نہیں‘ ایڈوانی اور واجپائی سمیت پوری بی جے پی کی قیادت نے ساری الیکشن کی مہم مشرف ‘پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف پاکستان دشمنی کی بنیاد پر چلائی اور اپنی سر پر لٹکتی شکست کو کامیابی میں بدل دیا۔ ابھی ۲ مئی ۲۰۰۳ء کو بی بی سی کے Question Time India پروگرام میں بی جے پی /شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ نے فخر سے کہا کہ بھارت کو پاکستان میں خودکش حملہ آور بھیجنے چاہیں اور دعویٰ کیا کہ وہ خودخودکش حملہ آوروں کے ایسے گروہ میں شرکت کے لیے آمادہ ہیں۔ جب ایشین ایج کی ایڈیٹر نے اسے مہذب معاشرے کے آداب کے خلاف قرار دیا تو حاضرین کی ۷۰ فی صد نے (واضح رہے کہ بی بی سی کے ان پروگراموں میں مختلف طبقات کے مہذب پڑھے لکھے لوگ ہی بلائے جاتے ہیں) بڑے جوش و خروش سے پاکستان کو ایسے حملوں کا نشانہ بنانے کی تائید کی۔نیز جب ایک ای میل کے ذریعے کشمیر کی لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد بنانے کی تجویز آئی تو بی جے پی کے نائب وزیر خارجہ دج وی جے سنگھ نے نفرت اور غصے سے یہ اعلان کیا کہ ہمیں پورا کشمیر چاہیے ‘محض لائن آف کنٹرول کو سرحد نہیں مان سکتے!
یہ وہ ذہنیت ہے جو تعلقات کی راہ میں سدّ سکندری کی طرح حائل ہے۔ پاکستان میں بھی بھارت کے خلاف شعلہ بیانیاں کرنے والے موجود ہیں لیکن بحیثیت مجموعی پاکستان کی ریاست‘ اس کی کسی بھی حکومت اور اہم سیاسی قیادت نے ریڈکلف ایوارڈ کی ساری زیادتیوں اور حق تلفیوں کے باوجود‘ بھارت کے کسی علاقے پر کوئی دعویٰ نہیں کیا اور کشمیر کے مسئلے کے سوا جو متنازعہ ہے‘ ہمارے درمیان سیاسی جغرافیے کے بارے میں کوئی جھگڑا نہیں۔ پاکستان بھارت کو کھلے دل سے تسلیم کرتا ہے البتہ برابر کی خودمختار حیثیت کی بنیاد پرمعاملہ کرنا چاہتا ہے‘ جب کہ بھارت پاکستان کو جسم میں کانٹے کی حیثیت دیتا ہے اور ایک باج گزار ملک کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہے بلکہ اپنا ہی کٹا ہوا انگ قرار دیتا ہے۔
پہلا مسئلہ جس پر حقیقت پسندی کے ساتھ افہام و تفہیم کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو برابری کے ساتھ تسلیم کرنا اور نظریاتی اور تہذیبی اختلاف کو تحقیر کی نظر سے نہیںاحترام کی نظر سے دیکھنے کی روایت ڈالنا ہے۔ دو قومی نظریہ جو ہماری ریاست کی بنیاد ہے‘ ان کی نگاہ میں وہی بِس کی گانٹھ ہے۔ نظریاتی اور تہذیبی اختلاف کو وہ معتبر ماننے کو تیار نہیں اور یہی ان کی عدم رواداری بلکہ جارحیت کا منبع ہے۔ اگر اختلاف کو معتبرمان کر برابری کی بنیاد پر دوستی کی بات ہو تو پاکستان اس کے لیے کافی حد تک آگے (more than half way) جانے کے لیے تیار ہے اور اس میں پاکستان کی تمام سیاسی اور دینی قوتوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ البتہ بھارت کو اپنا نظریاتی اور تہذیبی تسلط قائم کرنے کا رویہ ترک کرنا ہوگا‘ اسے ہماری سیاسی اور تہذیبی شناخت کے مبنی برحق ہونے پر حرف گیری ختم کرنا ہوگی اور علاقے میںاپنی اپنی تہذیبی و ثقافتی انفرادیت کی بنیاد ایک دوسرے سے تعاون کی روایت مستحکم کرنا ہوگی۔ ثقافتی اور معاشی رشتے--- محض اعتماد بحال کرنے کے اقدامات نہیں---صرف اسی وقت بارآور ہوسکتے ہیں جب تعلقات برابری اور احترام کی بنیادوں پہ استوارہوں ورنہ یا ان پر نفاق کا سایہ ہرلمحہ موجود رہے گا یا پھر وہ سامراجی اور برتری اور کمتری کے کسی نہ کسی فریم ورک کے اسیر رہیں گے جو صحت مند اور باوقار تعاون کے منافی ہے۔
دوسرا بنیادی اور کلیدی مسئلہ جموں و کشمیر کی ریاست کے مستقبل سے متعلق ہے۔ دستور‘ قانون اور بین الاقوامی عہدوپیمان ہر اعتبار سے کشمیر کا پورا علاقہ ایک متنازعہ علاقہ ہے جو تقسیم ملک کے ایجنڈے کا نامکمل حصہ ہے۔ بھارت صرف قوت سے ریاست کے بڑے حصے پر قابض ہے اور شملہ معاہدہ کے بعد اس کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے دھوکے سے سیاچین پر بھی قابض ہو گیا ہے۔ سیاچین یا وولربیرج یا سر کریک کے مسائل کوئی مستقل بالذات مسائل نہیں ہیں‘ مسئلہ کشمیر ہی کا ایک حصہ ہیں۔ کشمیری عوام نے ہر دور میں اور خاص کر گذشتہ چودہ سالوں میں سیاسی اور عسکری جدوجہد کے ذریعے بھارت سے اپنی مکمل علیحدگی (alienation) کا بھرپوراظہار کردیا ہے۔ یہ حقیقت دنیا کے سامنے ہے جس کی شہادت ۶۰‘۷۰ ہزار افراد نے اپنے خون سے دی ہے کہ نہ وہ بھارت کا حصہ ہیں اور نہ ان کے لیے کوئی ایسا انتظام قابلِ قبول ہے جس میں وہ بھارت کے دستور کے تحت ہوں۔ انھیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے اور جو حق شمالی آئرلینڈ اور مشرقی تیمور کو دیا گیا ہے‘ وہی ان کو دیا جائے تاکہ وہ اپنی آزاد مرضی سے اپنے مستقبل کو طے کرسکیں۔
مسئلہ کشمیر کے تین فریق ہیں: پاکستان‘ بھارت اور جموں و کشمیر کے عوام۔ اور مسئلے کا کوئی حل اس کے سوا نہیں کہ یہ تینوں کھلے دل سے مذاکرات کریں۔ حق خود ارادیت اور تقسیم ہند کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں آج کے حالات کے مطابق ریاست کے عوام کو اپنا مستقبل طے کرنے کا آزادانہ موقع دیں اور اس کے تفصیلی عملی طریق کار کو باہمی مشاورت سے خود طے کریں یا غیرجانب دار عالمی انتظام کے تحت اس کا راستہ نکالیں۔
مذاکرات کا موضوع یہی دونوں کلیدی معاملات ہیں اور مذاکرات کا ہدف ان دونوں معاملات کے مبنی برحق اور افہام و تفہیم سے طے ہونے والے متفقہ لائحہ عمل کو ہونا چاہیے۔بیرونی دبائو‘ قوت کے مظاہرے اور سیاسی عجلت پسندی سے ایسے بنیادی مسائل نہ ماضی میں طے ہوئے ہیں اور نہ آج ہوسکتے ہیں۔ ’’کچھ کر دکھانے‘‘ کا جذبہ اور نوبل انعام کا مستحق بننے کی خواہشات خواہ کتنی ہی دل پسند ہوں‘ تاریخی حقائق اور عوامی خواہشات کا بدل نہیں ہوسکتیں۔ ڈپلومیسی کے کتنے ہی راستے (tracks) کیوں نہ ہوں‘زمینی حقائق اور جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات اور ان کے حصہ لینے ہی سے مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ روڈمیپ اسی وقت مفید ہو سکتا ہے جب روڈ ہو--- اور روڈ صرف ایک ہے‘ یعنی بین الاقوامی معاہدات کے مطابق استصواب رائے۔ اس کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ جموں و کشمیر کے عوام نے جس تاریخی شعور کا مظاہرہ کیا ہے‘ بیرونی تسلط کے خلاف جس جرأت‘ استقلال سے مزاحمت کی تاریخ رقم کی ہے‘ آزادی کے لیے قربانیوںکا جو نذرانہ پیش کیا ہے اور غیرمنصفانہ سمجھوتے کے ہر راستے کو جس طرح رد کیا ہے اس کا تقاضا ہے کہ ان کو اپنے مستقبل کو طے کرنے کا موقع دیا جائے۔ نیز بھارت اور پاکستان دونوں کو‘ اگر وہ مسئلے کا حل چاہتے ہیں‘ وہ راستہ اختیار کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنا مستقبل طے کر سکیں اور جو فیصلہ بھی وہ کرلیں اسے کھلے دل سے قبول کر لیا جائے۔ اس سلسلے میں پاکستانی عوام اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان مکمل یک جہتی ہے اور پاکستانی حکومتیں بھی اسی موقف کو اپنا اصولی موقف اور قومی پالیسی قرار دیتی رہی ہیں۔ اگر ۵۵ سال ہم اس پر قائم رہے ہیںتوکوئی وجہ نہیں کہ آج اس سے انحرف کر کے کوئی اور راستہ اختیار کیا جائے۔ دوستی وہی پایدار اور مستحکم ہوسکتی ہے جو حقائق اور انصاف پر مبنی ہو۔ دبائو یا مصلحت کے تحت ہونے والے معاملات تارِ عنکبوت کی طرح ہوتے ہیں اور زندہ قومیں وقتی مصلحتوں کی خاطر اصولی موقف ترک نہیں کیا کرتیں۔
آج پاکستان کی قیادت اور قوم دونوں کا امتحان ہے کہ وہ ایک نسبتاً معاندانہ بین الاقوامی ماحول میں بھی کس حد تک ایمان‘ استقامت اور تاریخی شعور کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ مذاکرات ضرور کیجیے اور جتنی بار موقع ملے‘ کیجیے لیکن تاریخی حقائق ‘ اصول انصاف اور اہل کشمیر کے حق پر سمجھوتہ کرنے کے ظلم سے اپنے دامن کو بچائے رکھیے۔ تاریخ کا سبق ہے کہ کبھی ایک قوم کسی دوسری قوم کو محض قوت اور جبر سے ہمیشہ کے لیے مغلوب نہیں رکھ سکی ہے۔ فرعون کے دور میں بنی اسرائیل سے لے کر دورِ جدید کے استعماری نظام کے زیرتسلط اقوام کی تاریخ تک اس پر شاہد ہے: ولن تجد لسنۃ اللّٰہ تبدیلا، اور اللہ کی سنت بدلا نہیں کرتی۔ وقت ہمارے ساتھ ہے‘ ضرورت یکسوئی‘ صبر اور استقامت کی ہے۔
پاکستانی قوم اور قیادت دونوں کے لیے ضروری ہے کہ بھارت کی تازہ نام نہاد دوستی اور مذاکرات کی پیش کش کے اصل مقاصد اور اہداف کا ٹھیک ٹھیک ادراک کرے۔ نیز امریکہ کا اس علاقے اور خصوصیت سے چین‘ بھارت اور پاکستان کے سلسلے میں کیا منصوبہ اور پالیسی ہے اس کا بھی گہری نظر سے جائزہ لے اور تاریخی حقائق کی روشنی میں تجزیہ کرے۔ پھر اپنے قومی مفادات اور علاقے کے بارے میں اپنے وژن کی روشنی میں پالیسی کے مقاصد طے کرے‘ ان کے حصول کی حکمت عملی کا تعین کرے اور ان پر موثرانداز میں عمل کرنے کے لیے نقشہ کار مرتب کرے۔ اس وقت جنرل پرویز مشرف‘ وزیراعظم ظفراللہ جمالی‘وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری اور شیخ رشیداحمد جس نوعیت کے اور جس رفتار سے بیانات دے رہے ہیں ان سے ژولیدہ فکری‘ عجلت پسندی‘ رومانوی توقعات اور آج تک کی اس پالیسی سے عملی انحراف کے واضح خطوط نظر آرہے ہیں جس پر ملک میں اتفاق رائے تھا۔ ایک طرف اصولی موقف میں عدم تبدیلی کا دعویٰ ہے اور دوسری طرف وہ سب کچھ کہا اور کیا جا رہا ہے جس کا اس اصولی موقف سے کوئی علاقہ نہیں بلکہ اس سے صریح انحراف ہے۔ یہ صورت حال بڑی خطرناک ہے۔
یہ سب کچھ بڑی حد تک ایک فردِ واحد کے اشارہ چشم و آبرو پر ہو رہا ہے‘ نہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور نہ کسی معقول اور موثر قومی سطح کی افہام و تفہیم کا اہتمام کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ملک پر امریکی قیادت کی یلغار ہے اور ہدف محض ۱۱ ستمبر اور نام نہاد عالمی دہشت گردی ہی نہیں‘ پاک بھارت تعلقات اور مسئلہ کشمیر کا امریکی منصوبے کے مطابق ’’حل‘‘ یا بہ الفاظ صحیح تر ’’تحلیل‘‘ بھی ہے‘ اس لیے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ قوم کے سامنے ان چاروں پہلوئوں یعنی بھارت کے اہداف‘ امریکہ کا منصوبہ‘ پاکستانی قیادت کی لچک اور منتشرخیالی اور اقبال اور قائداعظم کے وژن کے مطابق مسئلہ کشمیر پر اصل قومی موقف اور اس کے حصول کے لیے صحیح حکمت عملی کے بارے میں ضروری گزارشات پیش کریں۔
بھارت نے آگرہ کے بعد کشمیر کے بارے میں اپنی پرانی حکمت عملی کو ایک نیا رنگ دیا۔ ایک طرف ریاستی تشدد میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔ پوٹا (POTA)کے ذریعے کشمیری قیادت کی زبان بندی اور ان کو دہشت گردی کے نام پر حراست اور تشدد کا نشانہ بنانے کی جارحانہ پالیسی پر عمل شروع کیا تو دوسری طرف پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا (isolate) کرنے کے لیے سفارتی مہم تیز تر کی اور تیسری طرف جموں و کشمیرمیں نئے انتخابات کا ڈھونگ رچا کر نیشنل کانفرنس کی جگہ نئے چہروں کو پرانا سیاسی کردار ادا کرنے پر مامور کیا۔ اس زمانے میں ۱۱ ستمبر کا واقعہ پیش آیا اور بھارت نے اس کے سہارے امریکہ سے رشتے کو مضبوط تر کرنے‘امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ نیا گٹھ جوڑ قائم کرنے اور دہشت گردی کے خلاف مہم میں امریکہ کا دست راست بننے اور پاکستان کو کارنر کرنے کی بازی چلی۔ پاکستان نے امریکہ کو اپنا کندھا پیش کردیا‘ اس سے بھارت اپنے تمام مقاصد تو حاصل نہیں کر سکا البتہ تین مقاصد حاصل کرنے میں وہ کامیاب ہوگیا۔ پہلا: امریکہ سے strategic partnership‘ جب کہ ہم سے صرف tactical alliance ہے۔ دوسرا: اسرائیل سے قریبی تعاون‘ پالیسی میں باہمی ربط‘ انٹیلی جنس کی شراکت اور مشترک فوجی ٹریننگ کے نظام کا قیام ۔اور تیسرا: کشمیر میں تحریک آزادی کو دہشت گردی کی صف میں شامل کرانا۔
اس میں سب سے افسوس ناک اور ناقابلِ فہم رویہ جنرل پرویز مشرف صاحب کا رہا جنھوں نے ۱۱ستمبر کے سلسلے میں امریکہ سے تعاون بلکہ امریکہ کے آگے سپرڈالنے کے موقع پر دعویٰ کیا تھا کہ یہ سب کچھ انھوں نے تین ضمانتوں کے ساتھ کیا ہے‘ یعنی اول: افغانستان میں امریکی ایکشن مختصر اور متعین اہداف تک محدود ہوگا‘ دوم: کشمیر کے سلسلے میں پاکستان کے موقف کا تحفظ اور سوم: پاکستان کے strategic resources یعنی ایٹمی صلاحیت کا دفاع۔ لیکن صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ تینوں ضمانتیں پادر ہوا ثابت ہوئیں اور ایک ایک کرکے ہر بات کی نفی ہوگئی۔ افغانستان میں آج تک خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور خون خرابے کے اس سلسلے کی کوئی انتہا نظر نہیں آرہی۔کشمیر کے سلسلے میں جنوری اور پھر مئی ۲۰۰۳ء میں جنرل صاحب نے پسپائی اختیار کی اور ’سرحد پار دراندازی‘ مجاہد تنظیموں پر پابندی اور پاکستان کی سرزمین کے نام نہاد دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کیے جانے کی ضمانت‘ یہ سب کچھ انھوں نے خود طشتری پر رکھ کر امریکہ اور بھارت کو دے دیا اور اس کے ساتھ یہ بھی گردان جاری رہی کہ اصولی موقف میں تبدیلی نہیں کی گئی۔
اس پورے معاملے کا سب سے نقصان دہ پہلو یہی ہے کہ جنگ آزادی اور دہشت گردی کا اصولی اور مسلمہ فرق نظرانداز کر دیا گیا اور بھارت اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے شاطرانہ کھیل میں پروپیگنڈے کی حد تک کامیاب رہا۔ واجپائی صاحب اپنی اس کامیابی کا اظہاربھارتی پارلیمنٹ میں ۸ مئی ۲۰۰۳ء کو یوں کرتے ہیں:
میں نے بڑی کامیابی کے ساتھ عالمی برادری کوقائل کر لیا ہے کہ پاکستان کو کشمیر میں دراندازی روکنی چاہیے۔
بھارت مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت تعلقات کے باب میں جس مسئلے کو سب سے اہم اور کلیدی سمجھتا ہے وہ ’سرحد پار دہشت گردی‘ ہے اور امریکہ کے صدر‘ سیکرٹری آف اسٹیٹ اور ان کے پورے طائفے نے بھارت کی ہاں میں ہاں ملائی ہے اور بالآخر جنرل پرویز مشرف سے یہ یقین دہانی حاصل کر لی ہے کہ ’’پاکستان کی طرف سے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پار کرنے کی اجازت یا موقع کسی کو نہ دیا جائے اور یہ کہ آزاد کشمیر میں کشمیری مجاہدین کا کوئی کیمپ نہیں اور اگر کوئی ہیں تو وہ کل ختم کر دیے جائیں گے‘‘۔ یہ امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ آرمٹیج کے الفاظ ہیں۔
۱۸ اپریل ۲۰۰۳ء کو واجپائی صاحب نے اس شاعرانہ انداز میں کہ ’’منہ پھیرکر اِدھر کو‘ اُدھر کو بڑھائے ہاتھ‘‘ سری نگر سے پاکستان کے لیے دوستی کا سندیسہ دیا جس پر پاکستان کی قیادت بغلیں بجا رہی ہے اور ان کی ’’سنجیدگی اور خلوص‘‘ کے گیت گا رہی ہے۔ لیکن واجپائی صاحب نے ۸ مئی کو اپنی پارلیمنٹ میں صاف الفاظ میں اعلان کر دیا کہ ’’جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نئے حالات میں بھی رہے گا۔ اب تقسیم کا زمانہ نہیں اس لیے کشمیر کی بھی تقسیم نہیں ہوگی۔ کشمیرہم سے کوئی چھین نہیں سکتا‘‘۔ نیز یہ بھی کہ سرحد پار دراندازی بندکرنا ہوگی۔ اس کے بغیر مذاکرات کے لیے ماحول سازگار نہیں۔ اور وہی پرانی بات کہ بھارت مرحلہ بہ مرحلہ (step by step) اپروچ پر کاربند ہوگا جس کے معنی یہ ہیں کہ پہلے اعتماد بحال کرنے والے اقدام (سی بی ایم) ہوں‘ تجارت بڑھے‘ بھارت کو انتہائی پسندیدہ ملک (most favoured nation) کا مقام دیا جائے‘ ہوائی راستے کھولے جائیں‘ ثقافتی تبادلے ہوں۔ پھر باقی امور پر بات چیت ہوگی۔ یہی لفظ بہ لفظ وہ حکمت عملی ہے جس پر بھارت ۱۹۴۹ء سے مصر ہے۔ شملہ معاہدے میں اسی کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ دو طرفہ گفتگو کا وعدہ کیا گیا تھا مگر ۱۹۷۲ء اور ۱۹۹۹ء کے درمیان ۴۵ بار بھارت اور پاکستان کے نمایندے ملے‘ جن میں ایک تجزیے کے مطابق چھ بار اور دوسرے کے مطابق آٹھ بار کشمیر کا نام لیا گیا‘ مگر فی الحقیقت صرف ایک بار۔ وہ بھی ۱۹۹۴ء میں جب مقبوضہ کشمیر میں جہادی تحریک اپنے عروج پر تھی‘ عملاً بات چیت ہوئی جو حسب توقع نتیجہ خیز نہ ہوئی۔ یہ ہے بھارت کی حکمت عملی اور اس کا ریکارڈ۔
۱۸ اپریل کی پیش کش کے بعد واجپائی‘ ایڈوانی‘ جارج فرنانڈس اور یشونت سنہا سب نے بعینہٖ وہی بات کہی ہے جو پہلے سے کہتے چلے آ رہے ہیں حتیٰ کہ فرنانڈس نے ۱۷ مئی کو سری نگر میں صاف کہا ہے سیزفائرکا سوال نہیں۔ ایڈوانی نے ۹ مئی کو پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ:
میں ان (واجپائی) کے ساتھ بالکل متفق ہوں۔ اگر دہشت گردی کا انفراسٹرکچر ختم نہ کیا گیا تو پاکستان کے ساتھ کوئی دوستی نہیں ہو سکتی۔
بھارتی پارلیمنٹ کے اس اجلاس میں پوری بھارتی قیادت نے بشمول واجپائی ۱۹۹۴ء کے پارلیمنٹ کے ریزولیوشن پر قائم رہنے کا اعادہ کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کی پوری ریاست بشمول آزاد کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور ریاست کی تقسیم کا کوئی سوال ہی نہیں۔ پارلیمنٹ میں کہا گیا کہ پاکستان سے مذاکرات کی بنیاد ۱۹۹۴ء کا یہ ریزولیوشن ہوگا۔ انھی باتوں کا اعادہ ۱۹ مئی کو بھارتی وزیرخارجہ یشونت سنہا نے کیا ہے۔ اس سب کے باوجود ہمارے وزیراعظم‘ وزیرخارجہ اور وزیراطلاعات بھارت کی سنجیدگی اور خلوص کی باتیں کر رہے ہیں اور کشمیر کے مسئلے کے حل کی نوید سنا رہے ہیں بلکہ اس مژدہ جانفزا کی متوقع تاریخ پیدایش کے بارے میں بھی اشارے کر رہے ہیں حالانکہ بھارت کی قیادت اپنے موقف اور حکمت عملی سے سرمو ہٹتی نظر نہیں آرہی ؎
دیکھ مسجد میں شکستِ رشتہ تسبیح شیخ
ار بت کدے میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ
۱- دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی عالمی جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان پر اتنا دبائو کہ وہ جہاد کشمیر اور تحریکِ مزاحمت سے دست کش ہو جائے اور عملاً اسی قسم کا یوٹرن کرا لیا جائے جس طرح افغانستان میں ۲۰۰۱ء میں ہوا۔
۲- پاکستان کو مرحلہ وار راستے پر ڈال کر ہوائی سفر‘ تجارت‘ ثقافت اور دوسرے میدانوںمیں بھارت کے اہداف حاصل کرنے کے لیے مجبور کیا جائے۔
۳- امریکہ اور اسرائیل سے اپنے تعلقات کو مضبوط کرکے ایک موثر اتحاد: امریکہ اسرائیل بھارت محورکے طور پر قائم کیا جائے اور کشمیر میں خونی حکمت عملی جاری رکھی جائے جس پر اسرائیل فلسطین میں عمل پیرا ہے۔ اس کے لیے صرف اسرائیلی انٹیلی جنس کا تعاون نہیں‘ بلکہ اسرائیلی حربے (tactics) اور ٹکنالوجی دونوں کو استعمال کیا جائے۔
۴- پاکستان کو غیر جانب دار (neutralize)کر کے ریاستی قوت اور تشدد کے ذریعے (واضح رہے کہ ۱۸ اپریل کے بعد بھارت نے گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کیے ہیں اور ایک ہی ہلّے میں ۵۶ افراد شہید کیے ہیں) کشمیر کی تحریک مزاحمت کو پاکستان سے مایوس کر کے نرمی اور سختی (carrot and stick) کی پالیسی کے تحت بھارت کے دستور کے تحت خودمختاری کے نام پر کسی انتظام کو قائم کر دیا جائے اور اس کے لیے امریکی اور عالمی تائید حاصل کرلی جائے۔
۵- لائن آف کنٹرول کوعملاً سرحد بنا دیا جائے البتہ پاکستان پر دبائو جاری رکھا جائے کہ آزاد کشمیربھی بھارت کے زیرتسلط کشمیر کا حصہ ہے۔
۶- اگر اس میں کامیابی ہو جائے تو پھر کشمیر کی معاشی ترقی کے نام پر کشمیر سے پاکستان آنے والے دریائوں پر بجلی اور زراعت کے لیے بند (dams) بنائے جائیں اور پاکستان کو اس کے پانی سے محروم کر کے شدید معاشی دبائو کاشکار کیا جائے۔
۷- امریکی اور اسرائیلی تائید سے بالآخر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کے لیے مستقل نشست حاصل کی جائے‘ مستقل نشست کی بنیاد پر اپنی ایٹمی صلاحیت کو تحفظ دیا جائے اور پاکستان کی ایٹمی طاقت کی حیثیت ختم (de-nuclearize) کرنے کے امریکی منصوبے کے لیے عالمی دبائو استعمال کیا جائے۔
۸- بالآخر علاقے پر بھارت کی بالادستی قائم کی جائے اور پاکستان کو یا توکسی نوع کی کنفیڈریشن میں لایا جائے یا کم از کم سیاست‘ تجارت‘ ثقافت اور میڈیا کے ذریعے تقسیم کی لائن کو عملاً غیرموثر بنا دیاجائے۔ اس کے لیے پاکستان کو ایک جمہوری اور سیکولر ملک بنانے کے لیے دبائو ڈالا جائے۔
یہ ہے بھارت کا وہ عظیم منصوبہ جس پر عمل کا آغاز ۱۸ اپریل کی دوستی کی پیش کش سے ہوا ہے۔ ورنہ کسی پہلو سے بھی بھارت کے رویے میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں آئی ہے جس سے مسئلہ کشیر کو کشمیر کے عوام کی مرضی کے مطابق حل کرنے اور پاکستان سے بھارت کے تعلقات دو آزاد مساوی ممالک کی حیثیت سے استوار ہونے کا کوئی اشارہ بھی ملتا ہو ؎
نہ وہ بدلے‘ نہ دل بدلا‘ نہ دل کی آرزو بدلی
میں کیسے اعتبار انقلابِ آسماں کر لوں
امریکہ کے اہداف اور عزائم کے بارے میں ہمیں کوئی شبہہ نہیں ہوناچاہیے۔ بلاشبہہ افغانستان پر اپنے حملے میں اس نے دل کھول کر پاکستان کو استعمال کیا۔ اور ہم نے عملاً امریکہ کی ایک کالونی کی حیثیت سے اپنے کو استعمال ہونے دیا۔ اسی ہفتے امریکہ کی سنٹرل کمانڈ کی جو رپورٹ شائع ہوئی ہے اس نے وہ تمام تفصیلات دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دی ہیں جن پر آج تک پردہ پڑا ہوا تھا۔ امریکہ نے پاکستان سے ۵۷ ہزار اڑانیں (sorties)کیں اور ملک کو اس دوستی اور تعاون میں ۱۰ ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اہل پاکستان اس بارے میں کسی شک میں نہ تھے لیکن اس خدمت کے باوجود پاکستان‘ اس کے نیوکلیر اثاثہ جات اور مسلمانوں کا جذبۂ جہاد امریکہ کی موجودہ قیادت کی آنکھوں میںکانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔ صدر جارج بش نے ریاض اور دارالبیضاکے واقعات کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جن ملکوں تک پہنچنے کا اعلان کیا ہے‘ ان میں شام‘ کوریا‘ ایران‘ صومالیہ‘ سعودی عرب‘ کینیا کے ساتھ پاکستان کا نام نامی بھی موجود ہے۔
بھارت اور اسرائیل اس وقت امریکہ کے اہم ترین اتحادی (strategic partners) ہیںاور پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اس کی نگاہ میں ایک ناقابلِ برداشت خطرہ ہے۔ ایک طرف دوستی کے دعوے ہیں اور دوسری طرف سی آئی اے نے برعظیم کا جو نقشہ جاری کیا ہے اس میں بھارت کے زیرقبضہ کشمیر کو ’انڈین اسٹیٹ آف جموں و کشمیر‘ کہا گیا ہے‘ جب کہ آزاد کشمیر کو Pakistan controlled areas of Kashmir قرار دیا گیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ آنکھیں کھول دینے والی وہ قرارداد ہے جو ۷ مئی ۲۰۰۳ء کو امریکی کانگریس کے ایوان نمایندگان کی بین الاقوامی تعلقات کمیٹی نے متفقہ طور پر منظور کی ہے۔ اور جس میں امریکی صدر سے کہا گیا ہے کہ:
کانگریس کو بتائیں کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی ختم کرنے ‘آزاد جموں و کشمیر میں دہشت گردی کیمپ ختم کرنے اور جوہری پھیلائو روکنے کے دعووں کو کس حد تک پورا کر رہا ہے۔
یہ اس سے بھی زیادہ بدتر‘ شرم ناک اور جارحانہ قرارداد ہے جو پریسلر نے افغان جہاد کے آخری ایام میں منظور کرائی تھی اور جس کے تحت ۱۹۸۹ء سے پاکستان کے خلاف امریکی پابندیاںلگائیگئی تھیں۔
امریکہ کا ہدف پاکستان کو بے بس (corner) کرنا‘اس کی ایٹمی صلاحیت پر قابو حاصل کرنا اور مسلمانوں کے اندر سے روح جہاد کو کمزور اور بالآخر ختم کرنا ہے۔ خود ملک میں سیکولر نظریات کا فروغ اور لادین قوتوں کی تائید و تقویت اس کا حصہ ہے۔ موجودہ قیادت امریکہ پر اعتماد اور اس سے دوستی کا ایک خطرناک کھیل کھیل رہی ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ نہ توامریکہ سے دوستی کی تاریخ سے کوئی سبق سیکھ رہی ہے اور نہ عالم اسلام کے بارے میں امریکہ کے موجودہ عزائم کا اسے کوئی شعور و ادراک ہے۔
ان حالات میں قوم کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیںکہ اس قیادت پر بھروسا نہ کرے اور اپنے مفاد اور اپنے دین و ایمان‘ ثقافت و تمدن اور سلامتی کے تحفظ کے لیے خود موثر اقدام کرے۔ ہمیں خطرہ ہے کہ ایل ایف او کے معاملے میں جو خطرناک کھیل برسرِاقتدار قوتیں کھیل رہی ہیں وہ بھی علاقے کے لیے امریکی عزائم سے غیرمتعلق نہیں۔ فوج جسے کبھی قوم کی مکمل تائید حاصل تھی اور جس کا آج بھی موٹو ایمان‘ تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ ہے‘ اسے عوام کے اعتماد سے محروم کیا جا رہا ہے اور ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں کہ قوم اور فوج ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار نہ ہوں بلکہ باہم دست و گریباں اور تصادم کا شکار ہو جائیں۔ جو بالآخر پاکستان کی سلامتی کو کمزور کرنے کا باعث اور علاقہ میں قوت کا توازن بھارت کے حق میں کرنے پر منتج ہوسکتا ہے۔
جنرل پرویز مشرف اور مرکزی حکومت کے دوسرے ذمہ دار حضرات کے چند بیانات کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں۔ ان بیانات میں تضاد اور انتشار فکری کا سماں نظر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان بیانات میں بھارت اور امریکہ کی موجودہ قیادت کے بارے میں خوش خیالیوں اور خوش فہمیوں کی اتنی کثیر مقدار دیکھی جا سکتی ہے جس کی کوئی توجیہ سفارتی آداب کے نام پر نہیں کی جا سکتی۔ ایک طرف اصولی موقف پر استقامت کا دعویٰ ہے‘ کشمیر کی مرکزی حیثیت کا اعلان ہے‘ تقسیم کشمیر اور لائن آف کنٹرول کو سرحد بنانے سے برأت کا اظہار ہے تو دوسری طرف کبھی ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کی بات ہے، اور کبھی ان کی تقریروں اور تحریروں میں’’پاکستان یا کشمیر؟‘‘ جیسے فتنہ انگیز جملے یا اعلان کی بھی بازگشت ہے۔ اسی طرح feelerکے طور پر چناب پلان کا ذکر ہے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے بارے میں سہل انگاری کا رویہ ہے‘ جہاد پر معذرت اور جنگ ِ آزادی اور دہشت گردی کے فرق کے بارے میں معذرت خواہانہ رویہ ہے‘ جہادی تنظیموں پر پابندیاں اور مجاہدین کے کیمپوں سے گلوخلاصی کی باتیں ہیں۔ کبھی کشمیر کے مسئلے کے حل کے بغیر تجارت کا لفظ سننے کے لیے تیار نہ تھے اور اب ’’تجارت اورثقافت پہلے‘‘ کے بھارتی مطالبے پر سجدہ ریز ہیں--- اور ان سب پر مستزاد بھارت کے مذاکرات کے ۵۵ سالہ ناکام تجربات اور امریکہ کی دوستیوں اور بے وفائیوں کی الم ناک تاریخ کے باوجود‘ دونوںسے خوش فہمی اور خوش اعتقادی کا ایسا اظہار ہے جو خود فریبی کی حدود کو چھونے لگتا ہے۔ اگر یہ سب ناتجربہ کاری اور پاک ہند تاریخ اور امریکہ کی دو سو سالہ کارگزاریوں سے ناواقفیت کی بنیاد پر ہے تو سخت خطرناک ہے اور اگر اس زعم پر مبنی ہے کہ جو قائداعظم اور آج تک کی قیادت نہیں کرسکی وہ ہم کر دکھائیں گے تو اس کا نام خود اعتمادی نہیں‘ خودفریبی ہے۔ اس پس منظرمیں ضروری ہوگیا ہے کہ قوم اور موجودہ قیادت کے سامنے چند بنیادی حقائق کو بلاکم وکاست رکھ دیا جائے اور پارلیمنٹ‘ سیاسی اور دینی قوتوں اور ملک کے بالغ نظرصحافیوںاور دانش وروں سے درخواست کی جائے کہ وہ اجتماعی احتساب کے ذریعے قیادت کو راہِ ثواب سے نہ ہٹنے دیں۔
۱- پہلی اہم ترین بات یہ ہے کہ مذاکرات میں اصولی موقف پر ذرا سی بھی لچک نہایت خطرناک ہو سکتی ہے۔ اگر ہمارا موقف مبنی برحق ہے اور بین الاقوامی قانون‘اقوامِ متحدہ کی قراردادیں‘ یو این او اور غیر جانب دار تحریک (NAM) کا چارٹر اور بھارت اور پاکستان کی قیادتوں کے وعدے (commitments) اور سب سے بڑھ کر جموں اور کشمیر کے عوام کی کھلی تائید ہمارے موقف کے حق میں ہے تو پھر ہمارے لیے کسی قسم کی بھی کمزوری دکھانے اور انصاف کی راہ سے پیچھے ہٹنے کا کیا جواز ہوسکتا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ محض زمین کا تنازع نہیںہے‘ یہ ایک اصولی مسئلہ ہے اور ایک کروڑ ۴۰ لاکھ انسانوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے۔ مرور زمانہ سے یہ حق نہ کمزور پڑتا ہے اور نہ پادر ہوا ہو جاتا ہے۔ قومیں اس کے لیے برسوں نہیں‘ صدیوں لڑتی ہیں۔ اور کشمیری عوام نے اپنے خون کی گواہی دے کر حصولِ آزادی کے عزم کا ایسا مظاہرہ کیا ہے جس کی نظیر کم ہی ملتی ہے۔ یہ سیاسی جنگ کے ساتھ اعصابی جنگ بھی ہے اور اس میں فتح اسی کا مقدر ہے جو اپنے موقف پر ڈٹا رہے اور اعصاب کی کمزوری کا مظاہرہ نہ کرے۔معاشی ترقی اور دفاع پر اخراجات کا ہّوا دکھا کر جو لوگ پسپائی کی باتیں کرتے ہیں وہ حقائق سے آنکھیں چراتے ہیں۔
معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہماری غلط معاشی پالیسیاں‘ بدانتظامی اور کرپشن ہیں اور سود پر حاصل کیے جانے والے قرضوں کی جونکیں ہیں جو ملک کی معیشت کے خون کو چوس رہی ہیں۔ مرکزی حکومت کی محصولات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا نصف‘ اس سود کی نذر ہو جاتا ہے ‘ جب کہ دفاعی اخراجات بجٹ کا صرف ۳۰ فی صد ہیں۔ معاشی ترقی کے ان متوالوں کو ترقی کا دشمن یہ bottom less sink نظرنہیں آتا اور نہ اپنی غلط کاریاں اور عیاشیاں دکھائی دیتی ہیں۔ نزلہ کشمیر اور اس کی تابناک جنگ ِ آزادی پر گرتا ہے۔ یہ خلط مبحث نہیں تو اور کیا ہے؟ ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کی بات بھی کی جاتی ہے مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ کشمیر کے بغیرپاکستان نامکمل اور خالص اسٹرے ٹیجک اور معاشی اعتبار سے شدید خطرے میں (vulnerable)ہے۔ اگر کشمیر بقول قائداعظم‘پاکستان کی شہ رگ ہے تو پاکستان اور شہ رگ میں فرق کیسے کیا جا سکتا ہے؟ قائدعظم نے تو کشمیر میں ۲۸ اکتوبر ۱۹۴۷ء ہی کو پاکستان کی فوجیں بھیجنے کے احکام جاری کر دیے تھے مگر افسوس کہ اس وقت کے برطانوی کمانڈر ان چیف نے ان کو ماننے سے انکار کر دیا اور خود مرکزی کابینہ کے کوتاہ نظر ارکان نے قائد کی رائے کے خلاف فیصلہ دیا۔ قائداعظم نے چودھری غلام عباس کو خود یہ بتایا کہ:
اس کے بعد میں نے کابینہ کا اجلاس طلب کر کے یہی تجویز اپنے رفقا کے سامنے رکھ دی۔ لیکن تم جانتے ہو کہ کیا نتیجہ نکلا؟ کابینہ نے میری تجویز مسترد کر دی۔ اس لیے کشمیر کے معاملے میں ہم نہ صرف صحیح بس کھو بیٹھے بلکہ غلط بس میں بٹھائے گئے۔
لیکن کچھ بھی ہو کشمیر کے متعلق مایوسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ ان شاء اللہ ہم کشمیر لے کر رہیںگے (ملاحظہ ہو: کشمیری مسلمانوںکی جدوجہد آزادی‘ ۱۸۹۴ء سے ۱۹۴۷ء تک‘ از پروفیسر محمد سرور عباس‘ صفحہ ۴۵۴-۴۵۵)
۲- دوسری بنیادی بات یہ ہے کہ بھارت سے مذاکرات میں کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب بھارتی قیادت کی نفسیات‘ ان کے مذاکراتی حربوں اور چالوں سے واقفیت ہو۔ برطانوی دور میں جس طرح قائداعظم نے کانگریس سے معاملات طے کیے ہیں اس کی تاریخ سے آگاہی ضروری ہے۔ پاکستان بھارت مذاکرات کی دل خراش داستان کے نشیب و فراز جاننا بھی ناگزیر ہے۔ قائداعظم نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے کیا کیا جتن نہ کیے لیکن بالآخر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اپنا راستہ الگ بنائے بغیر‘ کوئی چارئہ کار نہیں۔ قائداعظم نے شیخ عبداللہ کو بہت سمجھایا لیکن اُس وقت اس نے ان کی ایک نہ سنی اور پھر اسے خود اعتراف کرنا پڑا کہ بھارت کی قیادت کی سیاست کس طرح دھوکے اور عیاری پر مبنی ہے۔ شیخ عبداللہ کی خودنوشت کا مطالعہ اس پہلو سے چشم کشا ہے۔ جنرل پرویز مشرف اور جناب ظفراللہ جمالی کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ سمجھ سکیں کہ بھارت سے کس طرح معاملہ کرنا چاہیے۔
شیخ عبداللہ! میںنے اپنے یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کیے ہیں۔ تمھیں باپ کی حیثیت سے سمجھا رہا ہوں۔ وقت آئے گا تو تم مجھے یاد کرو گے۔
شیخ عبداللہ اس وقت تو قائد کی نصیحت کو نہ سمجھے لیکن پنڈت نہرونے‘ جو ان کے جگری دوست بھی تھے نے جب چانکیا سیاست کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور استصواب سے برأت کا اعلان کیا تب شیخ عبداللہ کو ان کی سیاست کا اصل چہرہ نظر آیا۔ ۱۳سال بھارت کی جیل میں گزارنے کے بعد ۱۹۶۸ء کے ایک انٹرویو میں وہ کہتے ہیں:
ہندستان نے عارضی شمولیت کا وعدہ توڑ کر یہ اعلان کر دیا کہ کشمیر ہندستان کا حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ میںنے پریشان ہوکر نہرو سے جو آزادی اور جمہوریت کے بہت بڑے علم بردار تھے‘ کہا کہ ہندستان کے وہ وعدے کیا ہوئے جو اس نے عارضی شمولیت کے بعد کیے تھے۔ جواب میں پنڈت نہرو نے کہا: ’’شیخ محمد عبداللہ! وہ سب تو تماشا تھا‘‘ اور میں بیان نہیں کر سکتا کہ پنڈت نہرو کا جواب سن کر مجھے کتنی حیرت ہوئی‘ میرا دل کس بری طرح ٹوٹ کر چکنا چور ہوگیا۔ (ماہنامہ شبستان‘ دہلی)
بھارت سے مذاکرات کرنے والی ہر ٹیم کو یہ تاریخ نظر میں رکھنی چاہیے۔
۳- بھارت سے مذاکرات میں سب سے بڑا جال (trap) مرحلہ بہ مرحلہ اپروچ اور مسائل پر الگ الگ بات چیت ہے۔ یہی کھیل فلسطین میں اسرائیل اور امریکہ نے کھیلا ہے اور یہی اب کشمیر میں کھیلا جانے والا ہے۔ اصل مسئلے کو مؤخر کرنا اور جزوی معاملات پر کچھ لو اور کچھ دو کا رویہ اختیار کرنا وہ خطرناک سانپ ہے جو مسئلے کے حل کے ہر امکان کو ہڑپ کر جائے گا اور حاصل کچھ نہ ہوگا۔ بھارت سے معاملہ کرنے کا صرف ایک طریقہ ہے اوروہ یہ کہ کشمیر میں تحریکِ مزاحمت کا دبائو ناقابلِ برداشت ہو جائے‘ عالمی دبائو جس حد تک ممکن ہو موثر بنایا جائے‘ پاکستان دفاعی حیثیت سے مستعد ہو اور تمام متعلقہ امور پر ایک جامع منصوبے کے ذریعے معاملات کو طے کیا جائے۔ اس سے ہٹ کر راستہ کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو کا راستہ ہے جس کا انجام ہماری زمین پر مخالف کا قبضہ‘ دائمی محکومی اور پاکستان کو ٹکڑے کر کے غیر موثر حصوں میں تقسیم کرنا (balkanization) ہے۔ فلسطین کی زبوں حالی سے اگر کوئی سبق ملتا ہے تو وہ یہ ہے کہ جزواً جزواً (piecemeal) معاملات سے احتراز کیا جائے اور جامع منصوبے (comprehensive package) پر اصرار کیا جائے ‘ خواہ اس میں کتنا بھی وقت لگے۔
۴- چوتھا مسئلہ اعتماد بحال کرنے والے اقدامات (سی بی ایم) کا ہے۔ لیکن ہمارے لیے اعتماد مضبوط کرنے والے اصل عوامل اور اقدامات وہ نہیں جن کا مطالبہ بھارت کر رہا ہے اور ہررعایت اور نرمی کے بعد ھل من مزید کی پکار لگاتا ہے بلکہ وہ ہیں جو جموں اور کشمیر کے عوام اور تحریکِ آزادی کے جانبازوں کے اعتماد کو مضبوط کریں اور انھیں مزید حوصلہ دیں۔ آج ہماری حکومت ہر وہ اقدام کر رہی ہے جس سے کشمیر کے عوام مایوس ہوں‘ مجاہدین آزادی کی ہمتوں پر اوس پڑے اور بھارت کے ایوانوں میں خوشی کے چراغ روشن ہوں۔ اس سے زیادہ غیرحقیقت پسندانہ اور تباہ کن حکمت عملی کوئی نہیں ہوسکتی اور قوم تحریکِ آزادی پر ضرب لگانے والے ان اقدامات پر حکومت اوران عناصرکو جو ان کی تائید کر رہے ہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ہم کو اس وقت ماضی سے بڑھ کر اس سے یک جہتی کا اظہار کرنا چاہیے اور انھیں جدوجہد تیز تر کرنے کا حوصلہ دینا چاہیے۔ ہمیں عالمی راے عامہ اور اپنی خارجہ سیاست کو اس رخ پر موڑنا چاہیے کہ بھارت فی الفور پوٹا (POTA)جیسے جابرانہ قوانین کو منسوخ کرے جن پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی سخت احتساب کیا ہے‘ ریاستی تشدد کو روکے‘ فوجوں اور بارڈر سیکورٹی فورس اور اسپیشل فورس جن کو ختم کرنے کا وعدہ خود مفتی نے انتخابات کے موقع پر کیا تھا کو فوراً ختم کرے‘ تمام اسیروں کو رہا کرے اور عوام کو سیاسی آزادی دے تاکہ وہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کرسکیں۔
اگر آج بھارت مذاکرات کی بات کررہا ہے تو وہ اس لیے نہیں کہ اس کی سوچ میں تبدیلی آگئی ہے یا امریکہ کے دبائو میں ایسا کر رہا ہے بلکہ اصل دبائواگر کوئی ہے تو وہ جموں و کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی کا ہے۔ بھارت نے دیکھ لیا ہے کہ ۷ لاکھ فوج اور اربوں روپے کو آگ لگا دینے کے باوجود وہ اس تحریک کو کمزور نہیں کر سکا ہے۔ جو لولے لنگڑے اور طے شدہ نتائج حاصل کرنے والے انتخابات پچھلے سال جموں و کشمیر میں ہوئے تھے وہ بھی دراصل بھارت کے اقتدار اور اس کی قتلِ کشمیر میں شریک نیشنل کانفرنس کے خلاف تھے‘ کسی مفتی یا کسی کانگریس کے حق میں نہ تھے۔آج اگر پاکستان کی عاقبت نااندیش قیادت کے مختلف اقدامات سے تحریکِ آزادی کشمیر کمزور ہوتی ہے تو یہ ایک ناقابل معافی جرم ہوگا۔ اصل ضرورت ایسے اقدامات (سی بی ایم) کی ہے جو اس تحریک کو تقویت دیں۔ یہی وہ چیز ہے جو بھارت کو مذاکرات اور بالآخر اصل مسئلے کے حل پر اسی طرح مجبور کرے گی‘ جس طرح گذشتہ صدی میں دنیا کے ۱۵۰ ممالک میں آزادی کی تحریکات نے کیا۔ آخر جب ۱۹۴۵ء میں اقوامِ متحدہ قائم ہوئی ہے تو اس میں شریک ممالک کی تعداد صرف ۴۵ تھی اور آج یہ ۱۹۲ ہے جس میں سے بیشتر نے لڑکر اپنی آزادی حاصل کی ہے۔ اور یہی جذبہ کشمیر میں آج بھی موجزن ہے۔ اسی ہفتے حریت کانفرنس کے اجلاس میں حریت کے قائدین ہی نہیں بلکہ کشمیرٹائمز کے ہندو ایڈیٹر تک نے مجاہدین کو خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے وہ ہماری قیادت کے لیے چشم کشا ہوسکتا ہے۔ اے ایف پی کی رپورٹ ہے:
ہندو اکثریتی علاقے جموں کے ایک معروف دانش ور ویدبھاسن نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیریوں کو کرنا ہے‘ نہ کہ بھارت یا پاکستان کو۔ اگر آپ آزادی کا نصب العین حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو جدوجہد کو جاری رکھنا ہوگا‘ اتحاد برقرار رکھنا ہوگا‘ اور تحریک کو مثبت سمت دینا ہوگی۔ انھوں نے کہا: آزادی کے لیے لڑنے والوں کو اپنے مقصد میں کامیابی کے لیے امریکہ یا کسی ملک پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ کو مدد طلب ہی کرنا ہے تو دنیا کے لوگوں سے طلب کیجیے نہ کہ مختلف ملکوں کی حکومتوں سے۔ (دی نیوز‘ ۲۰ مئی ۲۰۰۳ئ)
اصل میدان جموں و کشمیر ہے‘ اسلام آباد یا دہلی نہیں۔ اور جو بھی اس مقصد سے مخلص ہے اسے ایسے اقدامات کی فکر کرنی چاہیے جو جہاد آزادی کی تقویت کا باعث ہوں۔
۵- ہمارا ایک بڑا اہم محاذ خود ملک کی راے عامہ کو متحرک کرنا اور اسے اتنا قوی کرنا ہے کہ حکومت وقت کوئی غلط اقدام نہ کر ڈالے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکمران بڑی عجلت میں ہیں اور امریکہ جو کبھی ۲۰۰۴ء کی بات کرتا ہے اور کبھی ۲۰۰۵ء کی‘ اس کے چکر میں یہ حضرات ایک تاریخی جدوجہد کو مصلحتوں کے پتھر سے پاش پاش کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کے قدم روکنا اور تحریک کو اس کے اصل مقاصد کے لیے جاری رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
۶- ایک اہم کام عالمی راے عامہ تک اصل حقائق پہنچانا اور اسے کشمیر کی جدوجہد آزادی کے حق میں ہموار کرنا ہے۔ غضب ہے کہ یکم جون کو ہونے والی جی-ایٹ کے سربراہی اجلاس میں بھارت کو دعوت دی گئی ہے جہاں وہ نام نہاد سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ اٹھانے کے دعوے کر رہا ہے اور ہماری وزارتِ خارجہ خوابِ غفلت کا شکار ہے۔ ہم اصل حقائق بھی دنیا کے سامنے رکھنے سے قاصر ہیں حالانکہ یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف قرارداد منظور کی ہے اور جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے صاف الفاظ میں جدوجہد آزادی کی حمایت کی ہے۔ سیکورٹی کونسل کی صدارت کے باوجود ہم مسئلہ اٹھانے میں شرما رہے ہیں حالانکہ اس وقت ایک عالم گیر سفارتی مہم کی ضرورت ہے جس میں ہمارے سفارت کاروں کے ساتھ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے نمایندوں کو بھی شریک کرکے دنیا کو حقائق سے آگاہ کرنا ناگزیرہے۔
۷- آخری بات یہ کہ ہماری قیادت اقبال اور قائداعظم کا نام صبح و شام لیتی ہے لیکن ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے اور ان کے وژن کے مطابق پاکستان کی تعمیرسے مجرمانہ تغافل برتتی ہے۔ اقبال نے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں نمایاں حصہ لیا تھا اور یہ راستہ دکھا دیا تھا کہ جہاد آزادی ہی کے ذریعے کشمیر اپنا حق حاصل کر سکتا ہے۔ اقبال اور قائداعظم نے کشمیر اور پاکستان کے ناقابلِ انقطاع تعلق کو واضح کر دیا تھا۔ ان کی وصیت ہی یہ ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے بلکہ اپنی شہ رگ کو دشمن کے چنگل سے آزاد کیا جائے۔ ہم ان اشارات کو اقبال اور قائداعظم کے تاریخی الفاظ پر ختم کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم اور اس کی قیادت ‘خصوصیت سے مذاکرات کرنے والے تمام افراد سے درخواست کرتے ہیں کہ ان الفاظ کو حرزِ جان بنالیں اور قائد کے اس وژن سے ہٹ کر ہرگز کوئی سمجھوتا نہ کریں۔
کشمیر کا مسئلہ تمام مسلمانان ہندستان کی سیاسی حیات اور موت کا مسئلہ ہے۔ اہل کشمیر سے ناروا سلوک‘ ان کی جائز اور دیرینہ شکایات سے بے اعتنائی اور ان کے سیاسی حقوق کا تسلیم نہ کرنا‘ مسلمانانِ ہند کے حقوق کو تسلیم کرنے سے انکار ہے۔ حق بات بھی یہی ہے کہ اہل خطہ کشمیر ملت اسلامیہ کا جزولاینفک ہے۔ ان کی تقدیر کو اپنی تقدیر نہ سمجھنا تمام ملت کو تباہی و بربادی کے حوالے کر دینا ہے۔ اگر مسلمانوں کو ہندستان میں ایک مضبوط و مستحکم قوم بننا ہے تو دو نکتوں کو ہر وقت ذہن میں رکھنا ہوگا۔ اول یہ کہ شمال مغربی سرحدی صوبے کو مستثنیٰ کرتے ہوئے حدود ہند کے اندر جغرافیائی اعتبار سے کشمیر ہی وہ خطہ ہے جو مذہب اور کلچر کی حیثیت سے خالصتاًاسلامی ہے۔ دوسری بات جسے مسلمانان ہند کبھی نظرانداز نہیں کر سکتے یہ ہے کہ ان کی پوری قوم میں سب سے بڑھ کر اگر صناعی و ہنرمندی اور تجارت کو بخوبی پھیلانے کے جوہر نمایاں طور پر کسی طبقے میں موجود ہیں تو وہ اس خطے کا گروہ ہے۔ بہرحال وہ قوم اسلامی ہند کے جسم کا بہترین حصہ ہیں۔ اگر وہ حصہ درد و مصیبت میں مبتلا ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ باقی افراد ملت فراغت کی نیند سوجائیں۔ (بحوالہ کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی‘ ص ۴۷۱)
کشمیر کا مسئلہ نہایت نازک مسئلہ ہے لیکن اس حقیقت کو کوئی انصاف پسند قوم اور ملک نظر انداز نہیں کر سکتا کہ کشمیر تمدنی‘ ثقافتی‘ جغرافیائی‘ معاشرتی اور سیاسی طور پر پاکستان کا ایک حصہ ہے۔ جب بھی اور جس نقطہ نظرسے بھی نقشے پر نظرڈالی جائے گی یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ کشمیر سیاسی اور دفاعی حیثیت سے پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کوئی ملک اور قوم اسے برداشت نہیں کر سکتی کہ اپنی شہ رگ کو دشمن کی تلوار کے نیچے دے۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ ایک ایسا حصہ جسے پاکستان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے یہ کہتے ہوئے قطعاً کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ریڈکلف ایوارڈ میں مسلمانوں کے ساتھ دھوکا کیا گیا۔ (ایضًا‘ص ۴۷۲)
ایک طرف لیگل فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کر رہی تھی اور دوسری طرف جنرل پرویز مشرف‘ وزیراعظم ظفراللہ جمالی‘ چودھری شجاعت حسین‘ شیخ رشیداحمد‘ چودھری پرویز الٰہی اور جنرل صاحب کے لے پالک ناظمین نے ایک کورس کی شکل میں یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ عوام کو ایل ایف او سے کوئی دل چسپی نہیں ہے اور یہ کہ حزب اختلاف عوامی مسائل میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتی اور ایک non-issue پر قوم اور پارلیمنٹ کا وقت ضائع کر رہی ہے۔ اس سیاسی ناٹک میں فوجی دھنوں کا اضافہ کرنے کے لیے یہ سُربھی شامل باجا کر دیے گئے کہ پوری فوجی قیادت جنرل صاحب کی وردی کی پشت پر ہے اور قوم کا اصل مسئلہ ایل ایف او اوراس کے نتیجے میں پارلیمنٹ اور سیاسی نظام پر بری فوج کے چیف آف اسٹاف کا تسلط نہیں بلکہ روزگار‘ افلاس اور امن و امان وغیرہ ہیں۔ یہ ایک خطرناک خلط مبحث ہے اور اس کا تجزیہ اور اصل ایشو کی تنقیح ازبس ضروری ہے۔
امن وامان‘ روزگار‘ غربت و افلاس بنیادی مسائل ہیں اور ان سے کسی کو انکار نہیں۔ یہ ہماری توجہ کا مرکز و محور ہیں اور ہونے چاہییں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے ان مسائل سے اغماض‘ حزب اختلاف نہیں برسرِاقتدار قوتیں برت رہی ہیں۔اگر امن و امان کی صورت حال خراب ہے‘ غربت و افلاس میں اضافہ ہوا ہے اور اگر بے روزگاری روز افزوں ہے تو اس کی بڑی وجہ موجودہ اور سابق حکومتوں کی غلط پالیسیاں اور شاہ خرچیاں ہیں‘ اور اس کی بڑی ذمہ داری خود فوجی حکومت پر آتی ہے جس نے معاشی استحکام کی آئی ایم ایف کی بتائی ہوئی پالیسی پر آنکھ بند کر کے عمل کیا اور پیداوارمیں اضافہ‘ زراعت کی ترقی‘ روزگار کی فراہمی‘ غربت سے نجات اور تقسیم دولت کی ناہمواریوں اور ناانصافیوں کی تلافی کی کوئی فکرنہ کی‘ اور اب اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایل ایف او پر حزب اختلاف کی گرفت اور تنقید کو ہدف بنا رہی ہے جو ماروگھٹنا پھوٹے آنکھ کے مترادف ہے۔ اس طرح قوم کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکی جاسکتی۔
ایل ایف او کا مسئلہ بڑا بنیادی اور اصولی ہے۔ فرد کی زندگی کے معاملات ہوں یا ملک اور حکومت میں اصحابِ اختیار کا حق حکمرانی‘ سب کے باب میں بنیادی امر یہ ہے کہ جو بھی اقدام کیا جا رہا ہے اس کا جواز کیا ہے۔ مہذب معاشرہ اور جنگل میں فرق ہی قانون کی حکمرانی اور اختیار اور اقتدار کے لیے سندِجواز (legitimacy)کا ہے۔ آپ کو اپنی مِلک پر تصرف کا حق حاصل ہے اور دوسرے کی املاک پر دست درازی جرم ہے۔ نکاح اور زنا میں فرق عمل کا نہیں جوازِ عمل کا ہے۔ خود فوج میں اتھارٹی کی بنیاد دستور اور آرمی ایکٹ ہے۔ کسی کو اختیار نہیں کہ آرمی ایکٹ میں جو چاہے ترمیم کر لے یا اسے محض ایک نظری چیز قرار دے کر فوجیوں کے مسائل حل کرنے کے شوق اور دعوے کے ساتھ جوچاہے کھل کھیلے۔ خود جنرل مشرف نے جب اقتدار سنبھالا تو اس وقت تک ان کے اقتدار کو جواز میسر نہ تھا جب تک سپریم کورٹ نے مشروط جواز (validation) نہ دے دیا ‘اور اس سترپوشی کے پتے (fig leaf) کے سہارے وہ تین سال حکمرانی کرتے رہے اور خود ایل ایف او کا جواز بھی اس سے حاصل کررہے ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی قانون کی حکمرانی ہے اصل ایشو صاحب ِ اختیار کے سندِ جواز ہی کا ہے۔ آج امریکہ قوت کے زور پر عراق پر قابض ہوگیا ہے لیکن اس کا اقتدار سندِجواز سے محروم ہے اور وہ دھونس اور دھاندلی ہی سے سہی اقوام متحدہ سے کسی نہ کسی شکل میں جواز حاصل کرنے کی سعی کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ افسر مائیکل اسٹینر نے حال ہی میں اس مسئلے پر بڑی دل چسپ بحث کی ہے اور اس نے لکھا ہے کہ صرف اقوام متحدہ کے ذریعے ہی بین الاقوامی معاملات میں سندِجواز کا حصول ممکن ہے:
جہاں تک سندِ جواز کا سوال ہے اقوام متحدہ کو بالکل منفرد اخلاقی اختیار حاصل ہے کیونکہ اس کے ارکان سیاسی نظاموں اور اقدار کے وسیع تناظر کی نمایندگی کرتے ہیں۔ بیشتر دنیا کسی ایک ملک یا اتحاد کے مقابلے میں اقوام متحدہ پر زیادہ اعتماد کرتی ہے۔ اسی وجہ سے لوگ کسی آمریت یا خاندانی حکومت کے مقابلے میں جمہوریت پر زیادہ بھروسا کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ آمر وقت پر کام مکمل کرلیتے ہیں‘ لیکن احکامات کی تعمیل کا نظام‘سندِجواز نہ ہونے کی وجہ سے بالآخر بنیادوں سے اکھڑجاتا ہے۔ جیسا کہ سردجنگ میں مغربی جمہوریتوں کی فتح سے ثابت ہوتا ہے‘ تہذیبی اقدار میں شرکت کا احساس پیدا کرنے کی ان کی صلاحیت بالآخر زیادہ خوش حالی اور استحکام کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ مستقل اخلاقی اختیار پر مستزاد‘ اقوام متحدہ کو کسی تنازعے کے اختتام کے بعد کسی نئے سیاسی نظام کو قائم کرنے کا منفرد قانونی اختیار بھی حاصل ہے… تاہم امن کا اصل انحصار سندِجواز پر ہے اور اس میں اقوامِ متحدہ کا کوئی ہمسر نہیں۔ (دی ڈیلی ٹائمز‘ مئی ۱۹‘ ۲۰۰۳ئ)
عراق میں فوجی تسلط حاصل کرنے کے باوجود امریکہ کو سندِجواز حاصل نہیں ہورہی۔ یہی مسئلہ ہمارا ہے۔ مسئلہ ٹرین چلانے یا عوامی مسائل حل کرنے کا نہیں‘ ان تمام کاموں کو انجام دینے والوں کے حق اختیار کا ہے۔ ایل ایف او اپنی ساری خامیوں کے باوجود جمہوریت اور دستوری نظام کی بحالی کے لیے ایک ذریعہ اور ایک پُل تو ہو سکتا ہے لیکن آپ سے آپ دستور کا حصہ نہیں بن سکتا‘ اور جب تک پارلیمنٹ اسے جس شکل میں چاہے اور جن ترامیم کے ساتھ قبول کرنا چاہے‘ قبول کر کے دستوری ترمیم کے ذریعے دستور کا حصہ نہیں بناتی پورا نظام سندِجواز سے محروم رہے گا۔
یہ دلیل مضحکہ خیز ہے کہ اصل مسئلہ عوامی مسائل کو حل کرنے کا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مسائل کے حل کرنے کے نام پر دستور‘ قانون‘ حق حکمرانی‘ ضابطے اور قاعدے کو بالاے طاق رکھ کرجو جو چاہے کرے۔ اگر اس دلیل کو مان لیا جائے تو پھر کل کوئی ڈاکو اس دلیل کی بنیاد پر لوگوں کی دولت کو لوٹنے کا ’’حق‘‘ تسلیم کرا سکتا ہے کہ وہ اس دولت کو غریبوں میں تقسیم کر رہا ہے۔ اسی ’’دلیل‘‘ کی بنیاد پر سامراجی اقوام دنیا کے دوسرے ممالک کو غلام بناتی تھیں کہ ان کی ترقی کا سامان کر رہی ہیں اور ریلوں کا جال بچھا رہی ہیں‘ سڑکیں بنا رہی ہیں اور بجلی کی روشنی فراہم کر رہی ہیں۔ اس سے کمزور اور لچر دلیل اور کیا ہوسکتی ہے؟
اسلامی نقطۂ نظر سے بھی اگر آپ غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ایمان کے بغیر اچھے اعمال بھی قابل قبول نہیں۔ اہل کفر کی تو دلیل ہی یہ ہوتی ہے کہ نیک کام کرو‘ خدا اور رسول پر ایمان کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن قرآن کا فیصلہ یہی ہے کہ ایمان کے بغیر اعمال اکارت ہیں اور بظاہر نیکی اور خدمت کے کام بھی ‘سمت درست ہوئے بغیر‘ اور سندِجواز جو ایمان سے حاصل ہوتی ہے اس کے بغیر‘ قابلِ قبول نہیں۔
مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرِبِّھِمْ اَعْمَالُھُمْ کَرَمَادِنِ اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍط لاَ یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰی شَیْ ئٍط ذٰلِکَ ھُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ o (ابراھیم ۱۴:۱۸) جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑا دیا ہو۔ وہ اپنے کیے کا کچھ بھی پھل نہ پا سکیں گے۔ یہی پرلے درجے کی گم گشتگی ہے۔
وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اَعْمَالُھُمْ کَسَرَابٍ بِقِیْعَۃٍ یَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ مَآئًط حَتّٰیٓ اِذَا جَآئَ ہٗ لَمْ یَجِدْہُ شَیْئًا (النور ۲۴:۳۹) جنھوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت ِ بے آب میں سراب کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا۔
جس طرح ایمان کے بغیر اچھے اعمال بے سود ہیں اسی طرح سندِجوازکے بغیر زندگی کے تمام میدانوں میں کسی خیر کی کوئی توقع نہیں۔ ایل ایف او کے سلسلے میں اصل ایشو اس سندِجواز کا فقدان ہے۔ حزبِ اختلاف کی پوری کوشش ہے کہ افہام و تفہیم کے ذریعے دستور اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو قائم کرے تاکہ ملک کا ہر ادارہ دستور کے فریم ورک میں اپنے فرائض انجام دے سکے۔ عوام کے مسائل کے حل کا یہی صحیح طریقہ ہے اور یہی عوام کی دلی خواہش ہے جنھوں نے جنرل صاحب کے حسب منشاپارلیمنٹ منتخب نہیں کی بلکہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے نمایندے بھیجے‘ اور ساری دھاندلی اور لوٹاکریسی کے باوجود جنرل صاحب کی پارٹی کو دستور میں من مانی تبدیلی کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہو سکا۔ اب انھیں سیدھے سیدھے عوام کے فیصلے کو قبول کر لینا چاہیے اور ان حدود کے اندر ملک کے معاملات کو چلانے کی کوشش کرنی چاہیے جو دستور اور عوام کی رائے نے متعین کیے ہیں۔ اسی میں ملک اور فوج دونوں کی بھلائی ہے---
کیا وہ قوم کو مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ تصادم کا راستہ اختیار کرے جس کا آخری نتیجہ تو ان شاء اللہ عوام کی فتح ہی کی شکل میں رونما ہوگا لیکن اس میں فوج اور اس کی قیادت کی ساکھ بُری طرح مجروح ہو جائے گی جو ملک کی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس سے بچنا سب کے لیے اولیٰ ہے۔ جنرل صاحب کو ضد اور ہٹ دھرمی کا راستہ اختیار کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے اور ملک کو تصادم اور انتشار سے بچانے کے لیے اس راستے کی طرف پیش قدمی میں قوم سے تعاون کرنا چاہیے جو حزب اختلاف اور خصوصیت سے متحدہ مجلس عمل نے اختیار کیا ہے۔
عراق پر امریکی افواج نے جس جارحانہ فوج کشی کے ذریعے قبضہ کیا ہے اس نے اس باب میں کوئی شبہہ باقی نہیں چھوڑا کہ امریکہ اب پورے عالمِ اسلامی کے خلاف برسرِجنگ ہے۔ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ اور اس کی امریکی تائید ومعاونت‘ سرپرستی اور مالی اور سیاسی مدد تو ایک کھلی حقیقت تھی لیکن اب گذشتہ ۲۲ سال سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت امریکہ دنیا پر صرف اپنی بالادستی قائم کرنے ہی کی جدوجہد میں مصروف نہیں بلکہ شرق اوسط پر اسرائیل کی بالادستی اور علاقے میںعظیم تراسرائیل کے قیام کی جنگ میں بھی کھلا کھلا شریک ہے۔ جس کا تازہ ترین ثبوت امریکی کانگریس کی ۱۰ ارب ڈالر کی وہ امداد ہے جو سالانہ ۳ ارب ڈالر کی امداد کے علاوہ صرف عراق پر فوج کشی کے موقع پر اسرائیل کو دی گئی ہے۔ عراق پر امریکی قبضہ جنگ کا خاتمہ نہیں‘ جنگ کے ایک نئے اور دیرپا دَور کا آغاز ہے۔
اُمت مسلمہ کی حقیقی قیادتوں نے دنیا کے ہر حصے میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ مسلمان اس جنگ میں خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے۔ انھیں خود اور دنیا کے دوسرے امن پسند انسانوں کے ساتھ مل کر جہاں اس نئی سامراجی یلغار کے خلاف سیاسی جدوجہد اور عوامی مزاحمت (resistance) میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے‘ وہیں امریکی ‘ برطانوی اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے معاشی دبائو کا ہتھیار بھی استعمال کرنا چاہیے۔ عالم عرب کے تمام ہی اہم علما نے بائیکاٹ کا فتویٰ دیا ہے اور انڈونیشیا سے مراکش تک تمام اہم دینی جماعتوں نے بائیکاٹ کی کال دی ہے۔ پاکستان میں بھی متحدہ مجلس عمل نے اس سلسلے میں قوم کو رہنمائی دی ہے اور دوسرے امن پسند عناصر اس کی تائید کر رہے ہیں اور عملاً اس جدوجہد میں شریک ہیں۔ اس موقع پر ایک لابی بڑے معصوم انداز میں لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے یہ کہہ رہی ہے کہ بائیکاٹ سے امریکہ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ خود پاکستان اور مسلم ممالک کے تاجر اس سے متاثر ہوں گے‘ نیز اسی طرح ہم امریکہ کے عتاب کا نشانہ بنیں گے‘ جس سے بچنا اولیٰ ہے۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ اب عملاً اسرائیل کی معیت میںمسلمانوں کی سرزمین پر قابض ہے اور مزید کے لیے تگ و دو کر رہا ہے۔ اس موقع پر خاموشی اور مقابلے کی کارروائی سے اجتناب بے غیرتی ہی نہیں‘ سیاسی اور معاشی خودکشی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس چیلنج کا بروقت مقابلہ کیا جائے اور مزید مقابلے کی تیاری کی جائے۔ اس کے لیے کم سے کم چیزیں دو ہیں: ایک یہ کہ سیاسی اور سفارتی سطح پر امریکی‘ اسرائیلی جنگی حکمت عملی کی بھرپور مخالفت ہو‘ راے عامہ کو بیدار کیا جائے اور عالمی جمہوری مزاحمت میں شرکت اور اس کی تقویت کے لیے جدوجہد کی جائے۔ دوسری چیز معاشی میدان میں بائیکاٹ کے ذریعے صرف احتجاج ہی نہ کیا جائے بلکہ اسے اتنا موثر بنایا جائے کہ امریکی اسرائیلی معیشت اس کا دبائو محسوس کرسکے۔
دوسری بات یہ سامنے رہنی چاہیے کہ معاشی مقاطعہ ایک معروف احتجاجی حربہ ہے جسے دنیا کی ہر قوم نے استعمال کیا ہے اور یہ مظلوم اقوام کا حق ہے۔ مغربی اقوام نے تو اس کو ناروا انداز میں اور خود ظلم کے لیے استعمال کیا ہے۔ آخر معاشی پابندیاں (economic sanctions) کیا چیز ہیں؟ پاکستان کے خلاف یہ پابندیاں موقع بہ موقع ۱۹۶۵ء سے استعمال کی جا رہی ہیں اور خصوصیت سے ۱۹۷۶ء کے بعد تو کم ہی زمانہ ایسا گزرا ہے کہ ہم پر کچھ نہ کچھ پابندیاں نہ ہوں۔ اور ابھی حال ہی میں کہوٹہ لیبارٹریز پر جو پابندیاں لگائی گئی ہیں وہ آخر کس چیز کی غماز ہیں؟ خود عراق پر ۱۹۹۱ء سے پابندیاں ہیں جن کے نتیجے میں یونیسیف کے مطابق ۵ لاکھ سے زیادہ بچے ہلاک ہوئے ہیں اور عراق کی فی کس آمدنی ۸۰ فی صد کم ہوگئی ہے اور غربت نے آبادی کے ۶۰فی صد کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ مغربی اقوام کا تو حال یہ ہے کہ امریکہ نے فرانس اور جرمنی کی مصنوعات کے خلاف صرف اس جرم میں مہم چلا دی ہے کہ انھوں نے عراق کے خلاف جارحیت میں ساتھ نہیں دیا۔ امریکی کانگریس نے فرانس‘ جرمنی اور روس تک کو عراق کے نام نہاد تعمیرنو کے ٹھیکوں کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے اور حد یہ ہے کہ french fries کے نام تک سے french کو نکالنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اگر امریکہ دوسروں کے ساتھ یہ معاملہ کر رہا ہے تو حیف ہے ہم پر کہ ہم اس کی کھلی کھلی جارحیت کے جواب میں اس کی مصنوعات تک کا بائیکاٹ کرنے میں تغافل کا شکار ہوں۔
مصنوعات کا بائیکاٹ احتجاج کا ایک معروف طریقہ ہے اور اس کے نتیجے میں‘ اگر یہ موثرانداز میں کیا جائے تو‘ مطلوبہ نتائج رونما ہوتے ہیں: جس ملک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے اس کی معیشت پر اثرات کی شکل میں‘ اور اس سے بھی بڑھ کر ان مصنوعات کو تیار کرنے والی کمپنیوں کے ذریعے حکومت کی پالیسی کو متاثر کرنے کے ذریعے۔ پھر اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ بائیکاٹ خود اپنی قوم کی تعلیم‘ شعور کی بیداری اور اسے عالمی حالات کا مقابلہ کرنے کے لائق بنانے کا ذریعہ بنتا ہے‘ اور ملکی مصنوعات کے فروغ اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے مقامی صنعت و تجارت کو موقع فراہم کرنا ہے جو بالآخر معاشی ترقی اور خودانحصاری پر منتج ہوتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ بائیکاٹ موثر ہو اور وسیع پیمانے پر اسے کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گذشتہ چار ہفتوں میں صرف سعودی عرب میں بائیکاٹ کے نتیجے میں امریکی مصنوعات کی کھپت میں ۲۵ فی صد کی کمی ہوئی ہے۔ پاکستان میں بھی چند چیزوں کے استعمال کے بارے میں بڑی واضح شہادتیں سامنے آ رہی ہیں۔
اس بات کی ضرورت ہے کہ اس بائیکاٹ کو زیادہ سے زیادہ موثر بنایا جائے اور پُرامن ذرائع سے صرف عوامی تائید ہی حاصل نہ کی جائے بلکہ کاروباری مراکز میں مظاہروں کے ذریعے عوام کو اسے کامیاب بنانے کی ترغیب دی جائے۔ متعین اہداف کے بارے میں لوگوں کی تعلیم اور راے عامہ کی بیداری کا اہتمام کیا جائے اور موثر عوامی مظاہروں کی شکل میں امریکی مصنوعات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اپنے ملک کی مصنوعات کے استعمال کی ترغیب دی جائے۔ یہ وہ کم سے کم شرکت ہے جو امریکہ کی عالمِ اسلام کے خلاف جنگ کے مقابلے میں ہم کرسکتے ہیں۔
یہ ایک عام دن نہیں ہے کہ جس کے شمار سے کوئی پہلو بچا کر نکل جائے۔ اسلامی‘ عالمی اور سیاسی تاریخ میں یہ دن کئی اعتبار سے حوالے‘ عبرت اور نئی منزلوں کی تلاش کا دن قرار پائے گا۔ اور اگر کوئی عبرت پکڑنے کے لیے تیار ہو تو قدرتِ حق کا یہ تازیانہ‘ بے عملی اور نفاق میں مبتلا قوموں کو راست رو بنا دے گا‘ اگر شکستہ جسم و جان کے باوجود ذہن و ضمیر میں زندگی کی رمق موجود ہوئی تو اس یوم سے وابستہ دکھ ‘ نہ صرف صف بندی کرائے گا‘ بلکہ منزل پر پہنچنے اور شکست و خجالت کے داغ دھونے کاکام بھی کرے گا۔
گذشتہ ایک صدی کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بظاہر ایسی اُمید افزا بات کہنے کے لیے کوئی بڑے قابلِ قدر حوالے دکھائی نہیں دیتے۔ تاہم اس موضوع پر کلام کرتے ہوئے ۹ اپریل کی شام بغداد کی دھواں دار فضا‘ اور تحیّروصدمے سے پتھرایاہوا شہر---جہاں ۵۰ لاکھ انسانوں کے اس شہر میں صرف ۱۵۰ افراد دیوانگی یا مسرت کا اظہار کر رہے ہیں‘ نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔
اس روز بغداد کی تیسری تباہی کا علامتی سطح پر اظہار ہوا‘ جسے برقی خبر رسانی اور تصویرکشی کے سہارے کروڑوں انسانوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ تاتاری لشکروں کی بغداد میں خوں آشامی تو ماضی بعید کی تاریخ کا ایک حصہ ہے‘مگر آج کا انسان جو کچھ عراق میں ہو رہا ہے اسے بہ چشم سر دیکھ رہا ہے ‘ اور انسان کی پستی‘ ظلم‘ زیادتی‘ بے بسی و بے چارگی کا بار بار مشاہدہ کر رہا ہے۔
میں ان معنوں میں تو تاریخ کا طالب علم نہیں جن معنوں میں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کوئی مورخ ہوتا ہے‘ لیکن اُمت مسلمہ کے بہی خواہ اور تاریخ کے موضوع میں دل چسپی رکھنے والے ایک شخص کی حیثیت سے اس کی کئی سطحیں میرے سامنے آتی ہیں۔
بغداد کی پہلی تباہی (۱۲۵۸ئ) اپنے اندر بڑے سبق رکھتی تھی اور رکھتی ہے۔ اس کے بعد پہلی جنگ ِ عظیم (۱۸-۱۹۱۴ئ) کے اختتام پر دولت ِ عثمانیہ کا انتشار‘ لارنس آف عریبیا کی زیرقیادت عرب قومیت کے فریب کی پرورش‘ اور پھر برطانیہ کی عراق پر فوج کشی اور بغداد پر قبضہ اور اب سقوطِ بغداد کا وہ واقعہ جو ہم میں سے بیشترنے ٹی وی پر دیکھا ہے ‘ یہ ہماری تاریخ کے وہ الم ناک لمحے ہیں جن پر آنسو بہائے گئے ہیں اور آنسو بہائے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ دکھ‘ کرب اور غصے کی حالت میں مقید رہنے کے بجائے آگے بڑھیں‘ قرآن عزیز کے اوراق پر قوموں کے عروج و زوال اور ناکامی و کامرانی کا قانون پڑھیں۔ اس سے جو سبق سیکھنا چاہیے‘ اُس کی طرف توجہ دیں۔
یہی بغداد چار ساڑھے چار سو سال تک علم‘ تہذیب‘ سیاسی قوت اور عسکری طاقت کا مرکز و محور رہا ہے‘ جو مسلمانوں کی سطوت کی علامت اور پہچان تھا۔ بلاشبہہ اس باوقار ماضی کا ایک بڑا محرک وہ تعلیمی نظام تھا‘ جس نے ہر ہر میدان میں اُمت مسلمہ کی قیادت کو پیدا کیا تھا۔ مفسرین‘ محدثین‘ فقہا‘ متکلمین‘ منتظمین ‘ مالیات کے ماہر‘ فوجی جرنیل‘ یہ سب اس نظامِ تعلیم کی پیداوار تھے‘ جسے آج مدرسے کا نظام کہتے ہیں۔ کبھی یہی مدرسہ ان تمام چیزوں کا جامع تھا۔ میرے محدود علم کی حد تک جامعہ کا تصور نہ یونان میں تھاکہ جنھوں نے تعلیم کی شمعیں روشن کیں‘ نہ چین میں تھا جو تعلیم کے میدان میں دنیا کی بہت سی تہذیبوں میں دنیا کے دوسروں ملکوں سے بہت آگے تھے۔ تعلیم کو زندگی کے اجتماعی معاملات میں اہمیت دینے والوں میں‘ اُس عہدکے مسلمان بہت اُونچے مقام پر تھے۔ یہ تصور کہ تمام علوم کو ایک محور کے گرد جمع ہونا چاہیے‘ ایک منبع سے انھیں روشنی حاصل کرنی چاہیے‘ حتیٰ کہ ایک چھت کے نیچے ان سب کو جمع کیا جائے--- یہ تھا جامعہ کا تصور‘ جسے انگریزی میں یونی ورسٹی کہا گیا۔ یونی ورسٹی کا مفہوم ہی یہی تھا کہ پوری ’ورس‘ کو ہم ایک وحدت میں لا رہے ہیں۔ وہ مدرسہ جس کو آج تحقیر کے ساتھ پکارا جاتا ہے‘ اپنے آغاز میں دراصل یہی مدرسہ اس انقلابی تصورکا علم بردار اور نمونہ تھا۔
پھر اس زمانے کی مسلم قیادت نے پلٹی کھائی‘ جس کے نتیجے میں فکری آزادی‘ جمود اور تقلید کا شکار ہوگئی۔ وہ الہامی ہدایت ‘ جسے زندگی کے ہر شعبے میں اصل رہنما اور صورت گر ہونا چاہیے تھا‘ وہ گروہ بندی‘ فرقہ بندی‘ مسلک بندی کی نذر ہوگئی۔ تحقیق‘ جستجو‘ سائنس و ٹکنالوجی‘ عمرانی علوم‘ اخلاقی پہلو‘ جن میں ہم آگے تھے روایت پسندی اور بے عملی کی یخ بستگی کا نشان بن کر رہ گئے۔ جارج سارٹنس اپنی کتاب ’ہسٹری آف سائنس‘ میں ہر ۵۰ سال پر ایک باب (chapter) باندھتا ہے اور ہر باب کے لیے ایک مفکر کو اس دور کا سب سے بڑا فکرساز اور مفکر قرار دیتا ہے۔ اس زمانے کے پانچ ابواب کے سرعنوان میں ہمیں مسلمان مفکر نظر آتے ہیں۔
اسی بغداد نے یہ بھی دیکھا کہ تعیش‘ نفس پرستی‘ فرقہ بندی‘ اندھی تقلید‘ قبرپرستی اور اکابر پرستی ‘ محسن ناشناسی کے ایک طاعون نے انھیں گھیرلیا۔ اپنے محسنوں کی قدرافزائی ایک بڑی قیمتی قدر ہے اور کوئی فرد اور کوئی قوم اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ لیکن جب یہی محسن شناسی‘ قبرپرستی اور شخصیت پرستی میں بدل جاتی ہے تو پھر فکری آزادی کے سوتے سوکھ جاتے ہیں۔ وہاں پر بھی یہی المیہ رونما ہوا۔
مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب منگولوں کی سفاک فوجوں نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی ‘کشتوں کے پشتے لگا دیے تھے۔ بغداد کی نہریں انسانی خون سے سرخ ہو رہی تھیں‘ اس وقت مسلمانوں کے خوف کا عالم یہ تھا کہ اگر کوئی حملہ آور منگول‘ مسلمانوں سے کہتا تھا کہ تم زمین پر لیٹ جائو‘ تاکہ میں تمھیں مارنے کے لیے نیا خنجر یا تلوار اپنے خیمے سے لے آئوں‘ تو وہ اُس حملہ آور کے ’’احترام‘‘ میں وہیں لیٹا رہتا‘تاآنکہ وہ اپنی تلوار لائے اور اس کو ذبح کر ڈالے۔
آج بھی ’آیندہ کون؟‘ (Who Next?) کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ آج اس کرئہ ارضی پر ۵۶ آزاد مسلمان ملک اور ایک ارب پچیس تیس کروڑ مسلمان ہیں۔ کس مپرسی کے عالم میں اس منظر کو دیکھ رہے ہیں اور ہر ایک یہ سوچ رہا ہے کہ ’آیندہ کون؟‘ کسی کو خیال نہیں آتا کہ اگر ہم مل کر اپنی قوت‘ اور اپنے وسائل کو استعمال کریں تو پھربے بسی‘ موت اور بربادی کے انتظار کا یہ لمحہ ختم ہو سکتا ہے۔
دوسرا واقعہ مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب خلیفہ کو تین یا چار دن کے فاقے کی حالت میں زنجیروں سے باندھ کر دربار میں لایا گیا تو فاتح تاتاری جرنیل نے حقارت سے پوچھا: ’’تمھیں کیا چاہیے؟‘‘ تو عباسی خلیفہ نے بے ساختہ کہا: ’’مجھے پانی چاہیے‘ کچھ کھانے کو دو‘‘۔ تو تاتاری جرنیل نے سونے کا ایک ٹکڑا اس کے سامنے ڈال دیا۔ خلیفہ نے کہا: ’’میں اس کو تو نہیں کھاسکتا‘‘۔ اس لمحے وہ دشمن یہ تاریخی الفاظ کہتا ہے: ’’اگر تم نے اس سونے کو اسلحہ بنانے کے لیے استعمال کیا ہوتا تو آج تمھیں ان حالات سے دوچار نہیں ہونا پڑتا‘‘--- ایسی صورت آج ہماری بھی ہے۔ ہم اپنے اسلحے کے لیے بھی دوسروں کے محتاج ہیں۔ہمیں اپنے دفاع کے لیے یہ اختیار بھی نہیں کہ اپنے قومی وسائل سے جو دفاعی ذرائع ہم کو درکار ہیں انھیں حاصل کر سکیں‘ یا ان کی بنیاد پر ہم اپنا دفاعی اسلحہ تیار کر سکیں اور اپنا دفاع کر سکیں۔ برطانیہ کے وزیردفاع نے ۹ اپریل ۲۰۰۳ء ہی کی شام ڈنمارک میں یہ کہہ دیا کہ ’’عراق ہی نہیں‘ جس کے پاس بھی ہم سمجھیں گے کہ مہلک ہتھیار ہیں اور وہ ہمارے لیے خطرہ ہے تو ہم ان پر بھی پیشگی حملے کا حق استعمال کریں گے‘‘۔
یہ وہ ماحول ہے جس میں آج ہم سانس لے رہے ہیں۔ جس طرح امریکی صدر بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے عراقی عوام کے لیے بیان دیا ہے: ’’ہم آپ کی آزادی کے لیے آئے ہیں‘ آپ بالکل پریشان نہ ہوں‘‘، اگر تاریخ کے ورق اُلٹیں تو برطانیہ کے وزیراعظم نے پہلی جنگ ِ عظیم کے بعد فوج کشی کے موقع پر بھی یہی کہا تھا: ’ہم عربوں کو ترکوں سے آزادی دلانے کے لیے آ رہے ہیں‘ بعینہٖ وہی الفاظ ہیں‘ بلیئرکے بیان میں درج ہیں۔اُس وقت کے وزیراعظم کا بیان ملا کر دیکھ لیجیے‘ زبان و بیان ایک ہے‘ اگرچہ زمانہ بدلا ہوا ہے۔
میں بڑے ادب سے یہ عرض کروں گا کہ تعلیم کسی غار میں نہیں دی جاتی۔ تعلیم کاتعلق تہذیب سے ہے‘ معاشرے ‘سیاست ‘عسکریت اور زندگی کے ہر پہلو سے ہے۔ تعلیم کا یہ رشتہ اگر کٹ جائے تو پھر وہ تعلیم‘ زندگی سے لاتعلق ہو جاتی ہے‘ محض وقت کاضیاع اور محکومی و غلامی کا دعوت نامہ بن جاتی ہے۔ ماضی میں جو کچھ ہوا اس میں اس بات کا بڑا دخل تھا کہ عرصہ گزرا ہمارا تعلیمی نظام‘ زندگی کے تقاضوں اور اس کے مطالبات سے اس طرح مربوط نہیں رہا کہ جس طرح اسے ہونا چاہیے تھا۔ اس کا نتیجہ وہ زوال کے حادثات بنے ۔ آج بھی ہم اسی قسم کی صورت حال سے دوچار ہیں۔
پچھلے ۲۰۰ سال کے حالات پر خصوصاً بیسویں صدی کے حالات و واقعات پر غور کرتے ہوئے ‘میں بڑی شدت کے ساتھ یہ محسوس کرتا ہوں کہ اُمت مسلمہ کو جو حالات درپیش ہیں ایک بنیادی فرق کے ساتھ ان میں غیرمعمولی مشابہت ہمارے اولین دور سے ہے۔
بڑا بنیادی فرق یہ تھا کہ پہلا دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم اور ان کے ذریعے وحی کے نور سے انسانیت کی زندگی کو منور کرنے کا دور تھا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک نئی تحریک اورایک نئی تہذیب اور ایک نئی عالمی رو کے اُبھرنے کا دور تھا۔ اس بنیادی فرق کے باوجود ہم دیکھتے ہیں اور جوں ہی اسلامی دعوت جزدانوں سے نکلی اور فکرورہنمائی سامنے آئی تونئی تہذیب‘ نئی ٹکنالوجی‘ حکمرانی اور قانون کے نئے نظام نے‘ ایرانی و رومی تہذیبوں یا دوسری تہذیبوں کو متاثر ہی نہیں‘ بلکہ مسخر کیا۔ ایک طرف انھوں نے اس تحریک‘ پیغام اور انقلابی رو کو مستحکم کیا اور آگے بڑھایا اور دوسری طرف نئے ادارے قائم کیے اور جو ادارے پہلے سے موجود تھے ان کا احتساب کیا۔ رد و قبول کا سلسلہ شروع کیا ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ جو چار بڑے علم اس زمانے میں پروان چڑھے: علمِ تفسیر‘علمِ حدیث‘ اصول فقہ اور کلام‘ کچھ پہلو سے ان میں اصول فقہ سب سے مرکزی حیثیت رکھتا ہے‘ ان سب نے ہماری فکر اور تہذیب کو استحکام عطا کیا۔
پھر قیادت‘ تعلیم‘قوت کا حصول اور قوت کے تمام ذرائع‘ جن میں علم‘ ایمان و کردار‘ سائنس و ٹکنالوجی ‘ انتظام و انصرام‘ تنظیمی مہارت‘ عسکری قوت‘ اسلحہ سازی‘ یہ چیزیں تقریباً چار صدیوں تک ہماری وسعت اور استحکام کے لیے جوہری بنیاد بنی رہیں۔ تہذیبی انتشارکے شروع ہو جانے کے باوجود امام غزالی ؒنے کوشش کی کہ فکری اعتبار سے اس وقت کی تمام تحریکوں کو جوڑ کر ایک مربوط شکل دیں۔ اس کے برعکس اگر آپ پچھلے ۲۰۰ سالوں کو دیکھیں تو ایک بالکل اُلٹے پائوں چلتی ہوئی تحریک نظر آتی ہے ‘ جس کی بنیاد ‘اندرونی کمزوریوں پر استوار ہے۔
میں اس خیال کا علم بردار نہیں ہوں کہ اُمت مسلمہ کا انتشار اور ہماری سیاسی قوت کا محکوم اور منتشر ہو جانا محض بیرونی اسباب کی وجہ سے ہے۔ بلاشبہہ اس میں بیرونی اسباب ایک بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں‘ لیکن بہرحال یہ ہماری اندرونی کمزوری تھی‘ جس نے بیرونی قوتوں کو ایک موثر کردار ادا کرنے کا موقع دیا۔ پھر ہم برابر پیچھے ہوتے چلے گئے۔ انجامِ کار جو کچھ ہوا‘ اس کا آغاز انیسویں صدی کے ابتدا میں ہوا‘ اور جس کا آخری باب ۱۹۲۴ء میں سقوطِ خلافت عثمانیہ کی شکل میں نظر آیا۔
اس زمانے میں وہ اُلٹا عمل شروع ہوا کہ جو کچھ ہم نے پہلے تین یا چار صدیوں میں حاصل کیا تھا‘ وہ رفتہ رفتہ ہم سے چھن گیا۔ اندرونی انتشار اور کمزوری‘ سیاسی شکست‘ عسکری میدان میں ہزیمت‘ ایک ایک کر کے مسلمان ممالک مغربی (یعنی: برطانوی‘ فرانسیسی‘ ہسپانوی‘پرتگالی‘ روسی‘ ولندیزی) سامراج کی زد میں آگئے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں صرف چار بیمار مسلمان ملک باقی رہ گئے جنھیں نام کا آزاد کہا جا سکتا تھا۔ یوں تاریخ میں پہلی مرتبہ قوت‘ اقتدار اور عالمی حکمرانی کے کردار سے مسلمانوں کی گرفت ختم ہوگئی۔ اس سے پہلے ۱۲۰۰ سال میں نشیب و فراز تو بہت آئے ‘ لیکن بے کسی و محکومی کا یہ سانحہ کبھی پیش نہیں آیا۔
دوسری چیز یہ کہ‘ پہلی صدی سے ہم نے جو ادارے قائم کیے تھے‘ وہ ایک ایک کر کے تباہ ہو گئے۔ بغدادکے پہلے سقوط کے بعد ہماری سیاسی قوت کو شکست ہوئی تھی‘ لیکن ہماری ایمانی اور تہذیبی اور اخلاقی قوت نے اس کو دوبارہ حاصل کیا اور اقبال نے اسی مناسبت سے فرمایا: ؎
سبق ملا ہے یہ تاتار کے فسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
حقیقت یہ ہے کہ پہلی مرتبہ ہماری تاریخ میں یہ واقعہ بھی رونما ہوا کہ مغربی سامراج نے گذشتہ ۲۰۰برسوں کے دوران سیاسی قوت اور فوجی برتری حاصل کرنے کے ساتھ‘ ان اداروں کو تباہ ہی نہیں کیا‘ بلکہ ان کی جگہ متبادل ادارے مسلط (impose) بھی کیے۔ لے دے کر ۲۰۰ سال میں مجروح اور مضمحل شکل میں اگر کوئی چیز باقی رہی تو وہ تین ادارے تھے: مسجد‘ مدرسہ اور گھر۔ انھوں نے اس پورے زمانے میں ہم کو سنبھالا ہے۔ یہ بھی اپنی اصل شکل میں نہیں رہے‘ بلکہ مضمحل اور مجروح شکل میں اپنے وجود کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیکن باقی سارے ادارے ہمارے ہاتھ سے نکل گئے!
پھر تیسرا سانحہ یہ ہوا کہ اس زمانے میں ایک نئی قیادت اُبھری۔ یہ قیادت بظاہر مسلمانوں میں سے اُبھاری گئی اور صرف سیاسی میدان میں نہیں‘ بلکہ ہر شعبے میں فکری‘ معاشی اور سیاسی سطح پر یہ قیادت‘ حکمران قوت کے طور پر تیار کر کے مسلط کر دی گئی۔ جو شکل اور نام سے مسلم دنیا کا حصہ دکھائی دیتی ہے‘ مگر ذہن‘ کردار‘ فکر اور مفادات کے حوالے سے مغربی استعمار کی نسل در نسل آلۂ کار بن کر خدمات انجام دیتی نظر آتی ہے۔ یہی قیادت اُمت مسلمہ کو ٹکڑیوں میں توڑنے اور غلامی و بربادی کے اندھیروں میں دھکیلنے کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔
پچھلے ۵۰ سال میں ۵۶ مسلمان آزاد ملک وجودمیں آئے ہیں۔ معاشی اعتبار سے بھی توازن میں کچھ نہ کچھ تبدیلیاں ہوئی ہیں‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قوت پر ہماری گرفت‘ اداروں کی تباہی اور استعماریت کی کاسہ لیس قیادت کی معزولی میں ناکامی ہمارے بحران کے تین بڑے محورہیں۔
اللہ کی رحمتیں ہوں‘ ان انسانوں پر جنھوں نے دینی پس منظر میں بھی اور سیاسی پس منظر میں بھی‘ اس زمانے میں مسلمانوں میں بیداری کی تحریکوں کو جنم دیا۔ جمال الدین افغانی‘ پرنس حلیم پاشا‘ علامہ محمد اقبال‘مولانا ابوالکلام آزاد‘ مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا اشرف علی تھانوی‘ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی‘ مفتی محمد عبدہ‘ امیرشکیب ارسلان‘ رشید رضا‘ امام حسن البنا شہید‘ سعید نورسی‘ مالک بن نبی رحمہم اللہ الاجمعین روشنی کے وہ مینار ہیں جنھوں نے دو صدیوں کی تاریکی کو چھاننے کا مشکل کام انجام دیا اور نئی راہیں کھول دیں۔بظاہر مایوس کن منظرنامہ ہونے کے باوجود مجھے امکانات نظر آرہے ہیں‘ لیکن ابھی منزل بہت دُور ہے‘ مسائل گمبھیرہیں اور ہمیں اپنے آپ کو اس ہمہ گیر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔
اس وقت بغداد کا سقوط ہمیں سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ آمریت کا نظام کبھی استحکام نہیں دے سکتا۔ اس کے استحکام کے دعوے بڑے بودے اور بڑے دھوکا دینے والے ہوتے ہیں۔ آمریت کے علم بردار لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے استحکام دے دیا ہے‘ لیکن وہ استحکام چشمِ زدن میں زمین بوس ہو جاتا ہے۔ دراصل استحکام وہی ہے جو اعتماد‘ مشاورت‘ محبت‘ تعاون اور باہم شراکت کی بنیاد پر ہو اور جس کا انحصار افراد نہیں قوم اور اس کے اداروں پر ہو۔ پھر یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے اس کے کیا نتائج نکل رہے ہیں۔ ہر وہ فوج جو فنی مہارت پر مشتمل فوج کے دائرے سے نکل کرسیاسی قوتوں کی آلہ کار بنی ‘ خواہ وہ ۱۹۶۷ء میں مصر کی فوج ہو‘ ۱۹۷۱ء میں پاکستان کی فوج ہو‘ یا ۱۹۹۱ء اور ۲۰۰۳ء میں عراق کی فوج--- اس فوج نے کبھی مزاحمت نہیں کی۔ عوام ہی نے بری بھلی مزاحمت کی ہے۔
وہ تمام اندازے‘ خواہشات‘ توقعات اور پروپیگنڈا جو استعماری قوتیں اپنے میڈیا کی طاقت کے زور پر کرا رہی تھیں ان میں کوئی اندازہ پورا نہیں ہوا۔ سبھی نے صدام حسین کے علامتی بت کو زمین بوس ہوتے ہوئے دیکھا ‘کہ ۵۰ لاکھ کے شہر میں ۱۵۰ سے زیادہ افراد دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ لیکن وہ فوج کہاں گئی جس کی طرف سے مزاحمت کی بات کی گئی تھی۔ اگرچہ فوجی قوت اور ٹکنالوجی کے مابین کوئی مقابلہ نہیں تھا ‘ لیکن تاریخ میں اس سے پہلے بھی قوت میں عدمِ توازن کے ساتھ مقابلے ہوئے ہیں‘ بے جگری سے ہوئے ہیں اور وہ مقابلے سنہری حروف میں لکھے گئے ہیں۔ کیا اسی عراق کی سرزمین پر شہید کربلا کا مقابلہ تاریخ کا حصہ اور تاریخ سازی کا عنوان نہیں؟ لیکن یاد رکھیے وہ فوج لڑنے کے لائق نہیں رہتی جو کسی ایک شخص کی وفاداری کے لیے اپنی قوتیں وقف کردے‘ جسے سیاست میں ملوث کیا جائے‘ جو اپنے لوگوں کو دھوکا دینے‘ اور ان کے اُوپر ظلم ڈھانے کے لیے استعمال کی جائے۔ ایسا عمل خود‘ فوج اور قوم دونوں کے لیے ایک بڑے خطرے کا پیغام ہے۔ اگر ہم آج بھی کوئی سبق نہیں سیکھتے تو پھر معلوم نہیں کون سی چیز ہماری آنکھیں کھولنے کا ذریعہ بنے گی؟ اور کتنے زلزلے‘ کتنی قیامتیں برپا ہوں گی کہ جن سے آنکھیں کھلیں گی اور ضمیر بیدار ہوں گے۔
اس المیے کی کتنی ہی تہہ در تہہ پرتیں ہیں۔ چند ایک تو آشکارا ہوئی ہیں‘ اور بہت سی پرتیں وقت کا تندوتیز دھارا کھول کر رکھ دے گا۔ امریکہ کی قیادت میں‘ استعمار کی بدترین یلغار اور عراق کے بے بس مسلمانوں کی حسرت ناک موت و حیات‘ وہ دو انتہائیں ہیں ‘ جنھیں دیکھنے کے لیے بڑے حوصلے کی ضرورت ہے۔ ڈارون ازم کی فکری بنیادوں پر اُٹھنے والی مغربی تہذیب کا بے رحمانہ طوفان دیکھ کر‘ علامہ اقبال نے خواب دیکھا تھا ع
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہاے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
کیا واقعی بحیثیت مسلمان ہم اس خواب کی تعبیر پیش کرنے کے لیے کوئی تیاری کر رہے ہیں؟ کیا ہمارے مقتدر طبقے‘ مذہبی قیادتیں‘ اہل قرطاس و قلم اور اساتذہ کرام‘ اس طوفانِ مغرب بلکہ عذابِ مغرب کی طوفان خیزیوںکو محسوس کر رہے ہیں۔ اگر واقعی ان میں یہ احساس پیدا ہوا ہے تو یہ نقصانِ عظیم‘ فلاح و کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے اور گذشتہ ۳۰۰برس سے مسلمان جس عبرت کدے کی مجبور پتلیاں بنے ہوئے ہیں‘ اسے پیغامِ حق کا مرکز ثقل بنا سکتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور یہ سب کچھ کسی خوف ناک فلم کے دہشت انگیز منظر کی طرح ذہن کی اسکرین سے محو ہو جانے کا ایک عام واقعہ ہی ہے تو پھر اناللّٰہ وانا الیہ راجعون پڑھے بغیر چارہ نہیں۔
ایک کے بعد دوسرے کی باری ضروری نہیں کہ ڈرٹی بموں اور میزائلوں یا نیپام بموں کی بارش کی صورت ہی میں سامنے آئے ‘ بلکہ ان کے بغیر بھی وہ سب کچھ ہو سکتا ہے کہ ایک رات قوم سو کر اُٹھے‘ تو اس کے حکمران‘ محض جدید فرعون و نمرود کی خوشنودی پر پھولے نہ سمائے ہوئے قوم کے مستقبل کا سودا کر دیں‘ اور وہ بے بس لوگ تڑپ بھی نہ سکیں۔ کل ایسا ہوا ہے اور آنے والے کل میں ایسا ہو سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ غداری اور بے وفائی کے ان مقامی کٹھ پتلیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے کون کیا کردار ادا کرے گا؟
۱- جن مسلم ممالک میں اسلام کو محض اپنے اقتدار کی مدت دراز کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا‘ وہاں اسلام کا سایہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔
۲- پروپیگنڈے کے زور پر‘ خود کو دھوکا دیا جا سکتا ہے لیکن قضا کو نہیں ٹالا جا سکتا۔
۳- ایمان کی دولت اور آخرت میں کامیابی کی خوشبو سے کٹے ہوئے مسلم معاشرے کبھی کامرانی حاصل نہیں کر سکتے۔
۴- قدرت کے خزانوں کو تعیش اور بے کار کی مہم جوئی پر صرف کرنے سے انسان خود اپنی نفی کرتا ہے‘ اور آخرکار عبرت کا نشان بن جاتا ہے۔
۵- تعلیمی و تحقیقی دنیا کو روایتی سست روی کا نشان بنانے سے کبھی حریت اور آزادی کے پرچم نہیں لہلہایا کرتے۔
۶- اسلام کا سب سے بڑا موضوع انسان ہے۔ اسلام کا انسانِ مطلوب تیار کرنے کی کوشش نہ کی جائے تو پھر وہی ہوتا ہے ‘ جو مظلوم اہل عراق کے ساتھ اُن لٹیرے ہم وطنوں نے کیا۔ کیا یہ لوگ اَن پڑھ تھے‘ کیا یہ جدید روشنی سے بے خبر تھے‘ مگر انھیں کیا ہوگیا کہ اپنے ہی بے بس و بے کس لوگوں کے گھروں کو لشکروں کی صورت میں لوٹنے پر آمادہ ہوگئے۔ اصل انقلاب سڑکوں‘ ڈیموں‘ بموں اور بڑے ایئرپورٹوں کی تعمیر سے نہیںرونما ہوتا‘ بلکہ انسان کے اندر حیوانی جبلت کو اشرف المخلوقات اور ایک ذمہ دار ہستی کے قالب میں ڈھالنے سے روپذیر ہوتا ہے۔
۷- حکمرانوں کے ظلم پر خاموش رہنے والے حکمران ہی نہیں‘ بلکہ گونگے بہرے معاشرے‘ قانون الٰہی کے تحت خود ظالم کے طرف دار اور سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔
۸- آج بھی اگر مسلم دنیا بالعموم اور عرب دنیا بالخصوص ان امور کو ذہن میں رکھتے ہوئے ‘ نئے سرے سے اپنے معاملات اور عوام کے تعلقاتِ کار کو درست نہیں کرتے ‘ تو کوئی وجہ نہیں کہ قومِ یہود کی عبرت انگیزیوں سے فرار کا کوئی راستہ مل سکے۔
اس موقع پر ہم یہ کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے حکمران‘ بلکہ حکمرانی کے سرچشموں پر قابض رہنے پر مصر پاکستانی پینٹاگون کے چند ’’راج دلاروں‘‘ کو عبرت کے چوراہوں پر گھسٹنے سے پہلے توبہ کر کے اپنی اصل جگہ چلے جانا چاہیے۔ قدرتِ حق کی جانب سے عبرت کے یہ چابک کبھی تاتاروں سے‘ کبھی یہودیوں سے‘ کبھی ہندو مہاشوں کے ہاتھوں اور اب مسیحی جنگ بازوں کے ذریعے‘ جسدِملّی پر پڑے ہیں۔ کیا ایسا انجام دیکھنے کے باوجود ‘ اپنوں کو محکوم بنانے کا نشۂ قوت ابھی تک ہرن نہیں ہوا؟
] آرمڈ [ سروسز سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ تعلیم یافتہ لوگ ہیں‘ دین کی نہیں تو کم از کم دنیا کی سمجھ رکھنے کا تو آپ کو بڑا دعویٰ ہے۔ خدارا‘ کبھی اس بات پر غور کریں کہ جن انگریزوں سے آپ نے تعلیم اور حکمرانی کی تربیت پائی ہے‘ ان کی سروسز کے اخلاق و کردار کے مقابلے میں آپ کس قدر گھٹیا اور قابلِ شرم کردارپیش کر رہے ہیں۔ وہ اپنی قوم‘ اور اس کے آئین اور اس کی پارلیمنٹ کے وفادار تھے۔ اس کا مظاہرہ ایک دو دن نہیں‘ پورے ۱۹۰ سال انھوں نے آپ کی اسی سرزمین میں کر کے دکھا دیا… جب ان کی پارلیمنٹ نے آئینی طریقے سے اتنی بڑی سلطنت سے دست بردار ہو جانے کا فیصلہ کر لیا تو ان کی سول سروس نے بھی‘ اور ان کی فوج نے بھی پورے ڈسپلن کے ساتھ اس فیصلے کے آگے سر جھکا دیا۔ ایک انگریز افسر بھی ایسا نہ تھا جو اَڑ کر بیٹھ گیا ہو‘ اور اس نے کہا ہو کہ میں لڑے بغیر اتنی بڑی سلطنت ہاتھ سے دینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ مگر آپ نے دنیا بھر کو یہ دکھا دیا کہ آپ کے اندر نہ قوم کی وفاداری ہے‘ نہ اس کے آئین کی‘ نہ اس کی پارلیمنٹ کی۔ آپ نے ہر موقع پر ان اشخاص کا ساتھ دیا ہے جنھوں نے آئین کو توڑ کر‘ قوم کی مرضی کو نظراندازکرکے‘ اور پارلیمنٹ کو پاے استحقار سے ٹھکرا کر‘ یہاں اپنی مرضی چلانے کی کوشش کی ہے۔ آپ نے ہر آزمایش کے موقع پر یہ ثابت کر دیا کہ آپ کو قانون کی حکمرانی کے اصول کی ہوا تک نہیں لگی ہے۔ (سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، جلسہ عام سے خطاب‘ لاہور‘ ۲۵مئی ۱۹۶۸ئ)
اپنی قوم کے لوگوں سے مجھے یہ کہنا ہے کہ آپ اپنی آزادی کی حفاظت اس وقت تک قطعاً نہیں کرسکتے ‘جب تک آپ کے اندر یہ مضبوط اور غیرمتزلزل قومی ارادہ پیدا نہ ہو جائے کہ آپ اپنے افراد کو‘ اور اپنے ] سول اور فوجی [ ملازمین کو اپنی اجتماعی مرضی کے تابع بنا کر چھوڑیں گے۔ کسی کو اس سے منحرف نہ ہونے دیں گے۔ آپ کے ملک میں آپ کی اپنی ہی پسند کا آئین چلے گا۔ کسی شخص یا گروہ یا طبقے کے بنائے ہوئے آئین کو آپ ہرگز نہ مانیں گے‘ اور جو آئین آپ کی مرضی سے بنے اس کی پیروی اس سرزمین میں ہر شخص کو کرنی پڑے گی‘ اور اس سے انحراف کرنے والے کے ساتھ آپ قطعاًکوئی رعایت‘ کوئی مداہنت اور کوئی مصالحت نہ کریں گے۔ یہ عزم اور یہ ارادہ آپ کے اندر پیدا نہ ہوا توآئے دن کوئی نہ کوئی طاقت ور آپ پر مسلط ہوتا رہے گا اور آپ کی حیثیت بھیڑ بکریوں کے ایک گلے کے سوا کچھ نہ ہوگی‘ جسے ہر لاٹھی والا جدھر چاہے ہانک کر لے جا سکے گا۔ (سیدابوالاعلیٰ مودودی‘ تحریک جمہوریت: اسباب اور مقاصد‘ ۱۹۶۸ئ‘ ص ۸۷)