مضامین کی فہرست


ستمبر ۲۰۱۴

اگست ۲۰۱۴ء کا یہ مہینہ پاکستان پر بہت ہی بھاری پڑا ہے۔ اس وقت ملک اور قوم جس خطرناک صورتِ حال سے دوچار ہیں، اس پر ہر محب وطن دل گرفتہ اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دست بہ دُعا ہے کہ حکومت اور اسے چیلنج کرنے والے دونوں ہی گروہ ذاتی اور گروہی مفادات اور اَنا کے ہر جذبے سے بلند ہوکر، اس ملک کے مفاد میں، جو تاریخ اور ملت اسلامیہ پاک وہند کی ہم سب کے ہاتھوں میں بڑی قیمتی امانت ہے، افہام و تفہیم کے ذریعے دستور، قانون اور اجتماعی اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی حل نکالیں، اور جو خطرات سیاسی اُفق پر منڈلا رہے ہیں ان کے پورے اِدراک کے ساتھ تصادم اور خون خرابے کی ہرشکل سے اجتناب کریں۔ جماعت اسلامی نے الحمدللہ اس زمانے میں مفاہمت اور مسائل کے سیاسی حل کے لیے جو کوششیں بھی کی ہیں ہم ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ ان شاء اللہ    ان کے اچھے نتائج نکلیں گے۔ جماعت اسلامی اس جدوجہد میں تنہا نہیں، دوسری سیاسی اور دینی قوتیں بھی اپنااپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ہمیں توقع ہے اور شب و روز اللہ تعالیٰ سے دُعا کررہے ہیں کہ وہ ان کوششوں کو بارآور فرمائے اور یہ ملک تصادم، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، تنقید اور تنقیص میں ہرحد کو پامال کردینے اور کفن اور قبرستان کے المیے سے بچ جائے، اور ملک و ملت کے بدخواہ جو خطرناک کھیل پورے عالم اسلام میں کھیل رہے ہیں اس سے پاکستان محفوظ رہے۔ بلاشبہہ حالات بے حد سنگین ہیں لیکن ہمیں اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اور ہرسطح پر اپنی کوششوں کو جاری رکھنا چاہیے۔ ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بے حدوحساب ہے اور اس کا ارشاد بھی یہی ہے کہ اہلِ ایمان کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں (لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ط  الزمر ۳۹:۵۳)۔

یہ صورتِ حال کیوں رُونما ہوئی، بگاڑ کے اس مقام تک پہنچنے میں کس نے کیا اور کتنا کردار ادا کیا اور مسئلے کے مستقل حل خصوصیت سے نظامِ حکمرانی کی اصلاح، حقیقی اسلامی جمہوریت کے فروغ، اور ایک عوام دوست فلاحی معاشرے کا قیام، انتخابی نظام کی تشکیلِ نو، سیاسی اختلاف اور تبدیلی کے طریقے کے بارے میں صحیح حدود کا تعین اور ان کے مطابق عملی جدوجہد کے آداب کا تعین اور ان کا احترام، اختلاف کی حدود اور تنقیدواحتساب کی زبان___ یہ سب وہ اُمور ہیں جن پر کھل کر بات کرنے اور قومی اتفاق راے کے ذریعے سیاست کو صحیح خطوط پر استوار کرنے، اور ہرسطح پر اور ہر قوت کے لیے دستور اور قانون کی حدود میں رہ کر اپنے اپنے پروگرام کے مطابق جدوجہد کرنے کے مکمل اور کھلے مواقع فراہم کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ ان شاء اللہ !

آیندہ ہم ان اُمور کے بارے میں اپنی معروضات پیش کریں گے لیکن اس وقت اللہ تعالیٰ سے ہدایت، رہنمائی اور توفیق کی دعائوں کے ساتھ حکومت اور اسے چیلنج کرنے والی قوتوں سے پوری دل سوزی کے ساتھ یہی درخواست کرتے ہیں کہ تصادم سے ہرقیمت پر پرہیز کریں۔ ہرپارٹی چند قدم پیچھے ہٹائے اور ملک و قوم کے اعلیٰ مفاد میں بیچ کا راستہ نکالنے اور ماضی کے اُمور پر انتقام کی جگہ آگے کے حالات کی اصلاح کو اولیت دے۔ احتساب ضرور ہونا چاہیے لیکن اس کے لیے بھی مناسب ماحول بنانا ضروری ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ احتساب قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے،  ورنہ احتساب انتقام بن جاتا ہے جو بڑے فساد کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اس سے بچنا اس وقت ہم سب کے لیے ضروری ہے۔

ان حالات میں، اس دُعا اور گزارش کے ساتھ ہم اس مہینے کے ’اشارات‘ کو کچھ اصولی باتوں کی یاددہانی کے لیے مخصو ص کر رہے ہیں تاکہ ہم سب اپنا اپنا جائزہ     لے سکیں اور نفس کی اُکساہٹوں سے بلند ہوکر اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ ایک مظلوم قوم اور ملک کے مفاد کی خاطر وہ راستہ اختیار کریں جو فساد سے پاک اور خیروصلاح کی راہوں کو استوار کرنے کا ذریعہ بن سکے۔ رَبَّنَا ظَلَمْنَـآ اَنْفُسَنَا سکتۃ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ o (اعراف ۷:۲۳) ’’اے رب، ہم نے اپنے اُوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقینا ہم تباہ ہوجائیں گے‘‘___ (مدیر)

قرآنِ کریم نے اہلِ ایمان کی جماعت اور معاشرے کو باہم دگر محبت ، نرمی، رواداری،  گرم جوشی، عفو و درگزر اور اخوت و یک جائی کی صفات سے متصف جماعت قرار دیا ہے۔ یہ وہ پہلو ہیں جو اہلِ ایمان کے اپنے رب کو رب مان کر اس پر مستقیم ہوجانے اور اپنی عبادات اور قربانیوں کو صرف اللہ کے لیے خالص کردینے کے نتیجے میں شخصیت کا لازمی حصہ بن جاتے ہیں۔ ان صفات پر مبنی جماعت جہاں آپس میں ریشم کی طرح نرم ہوتی ہے، وہاں ایک محبت کرنے والے باپ کی طرح بیک وقت گرفت کرنے والی اور شفیق، اور ایک درگزر کرنے والے بھائی کی طرح نظرانداز  کرنے والے معاشرے کی مثال ہوتی ہے۔

ربِ کریم نے اس جماعت کے بارے میں یوں بیان فرمایا : مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ (الفتح ۴۸:۲۹) ’’محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں اہلِ ایمان کی دو بنیادی صفات کو، جو ان کی پہچان قرار دی گئی ہیں نمایاں کیا گیا ہے۔ ایک مثبت صفت جس کا تعلق ان کے باہمی تعلقات اور معاملات سے ہے۔ یہ ہے کہ جب وہ آپس میں کوئی معاہدہ کرتے ہیں تو اپنے جائز حق کو بھی اپنے بھائی کے لیے قربان کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ جب ان کے ایک بھائی کو دنیا کے کسی خطے میں تکلیف پہنچتی ہے وہ غزہ ہو، بنگلہ دیش ہو، تھائی لینڈ ہو، کشمیر ہو، عراق ہو، مصر ہو یا شام، اس کے درد کی کسک وہ نہ صرف محسوس کرتے ہیں بلکہ ایک رحیم شخصیت ہونے کی بنا پر اس کو سکون پہنچانے، امن دینے، ان کی جان و مال کے تحفظ میں اپنی تمام قوت صرف کردیتے ہیں۔

ایک رحیم ماں یا باپ یہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ ان کا لخت ِ جگر درد میں مبتلا ہو اور وہ سکون کی نیند سو سکیں۔ ان کی بے چینی اور اضطراب محض پریشانی کی حد تک نہیں بلکہ ان کے عمل کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اور وہ آگے بڑھ کر اپنا مال، اپنی جان، اپنی قوت، اپنی صلاحیت ہرشے کے ساتھ اپنے بھائی کو ظلم سے بچانے، اس کی جان کا تحفظ کرنے، اس کے مال کو ظالم سے بچانے کے لیے بے خطر میدان میں کود پڑتے ہیں۔ یہ ایک عظیم عطیہ الٰہی ہے کہ وہ جو کل تک ایک دوسرے کے مال پر نگاہیں جمائے ہوئے تھے، قبائلی تعصبات اور نسلی دشمنیوں میں گھرے ہوئے تھے، اس نے انھیں آپس میں رحیم بنا کر ان کے دلوں کو، ان کی روحوں کو، ان کی فکر کو، ان کے طرزِعمل کو ایک اعتماد کے رشتے میں جوڑ دیا اور وہ دیکھتے دیکھتے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔

 دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ کفار پر سخت (اشداء) ہوتے ہیں۔ ایک تو خود   کفر میں سخت ہونا ہے جس کا تذکرہ سورئہ توبہ میں یوں ہوا: اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ کُفْرًا وَّ نِفَاقًا (التوبہ ۹:۹۷) ’’یہ بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں‘‘۔کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو شدید قرار دیا گیا ہے: وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (البقرہ ۲:۱۹۶) ’’خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے‘‘۔ دوسری جانب کفار پر سخت ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ جب اہلِ ایمان اور اہلِ کفر ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہوتے ہیں تو پھر خون اور خاندان یا قبیلے کی محبت درمیان میں نہیں آتی۔ نظریاتی جنگ میں اہلِ ایمان اہلِ کفر کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ دین کے معاملے میں کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتے اور اپنے موقف پر جم کر استقامت کے ساتھ کفر کو اس کے انجام تک پہنچاتے ہیں۔

پھر کیا وجہ ہے کہ مسلم دنیا میں اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کبھی فرقہ پرستی کے نام پر اور بعض اوقات قبائلی عصبیت اور جغرافیائی قومیت کی بنیاد پر ایک مسلمان دوسرے کے سامنے صف آرا ہوجاتا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ وہ جنھیں باہم شیروشکر ہونا چاہیے تھا نہ صرف زبان سے بلکہ ہاتھ سے اپنے بھائی کو نقصان پہنچانے پر آمادہ ہوجاتے ہیں؟انفرادی اور معاشرتی سطح پر تشدد، عدم رواداری اور عدم برداشت کیوں پیدا ہوتی ہے؟ کیا اس کا علاج مزید شدت، عسکریت اور قوت کے ساتھ اس کو دبانے سے کیا جاسکتا ہے یا ان برائیوں کو اچھائیوں میں تبدیل کرنے کے لیے کسی خاص حکمت عملی کی ضرورت ہے؟ اس تحریر کا مقصد ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ہے۔

انسانی معاشرے میں بُرائی، ظلم و استحصال اور طاغوت کا آغاز غیرمحسوس طور پر ایک بظاہر معصومانہ غلطی سے ہوتا ہے اور وہی غلطی جو کل تک غیرمحسوس تھی انسان کو گھنائونے جرم تک لے جاتی ہے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور حدیث ہے کہ برائی کا آغاز انسان کے دل پر ایک چھوٹے سے داغ سے ہوتا ہے۔ اگر مسلمان توبہ کرلے اور نیکی کی طرف پلٹ آئے تو یہ داغ مٹ جاتا ہے لیکن اگر وہ دوبارہ غلطی کا ارتکاب کرے تو یہ داغ بڑھتا رہتا ہے، حتیٰ کہ یہ پورے قلب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ جب پورا قلب اس کی گرفت میں آجاتا ہے تو پھر انسان کے ذہن سے برائی کے برائی ہونے کا احساس ختم ہوجاتا ہے۔ ہم عموماً یہ بات کہتے ہیں کہ کیا کوئی انسان ایسا گھنائونا جرم کرسکتا ہے کہ وہ ایک بچی یا بچے کو زیادتی کا نشانہ بنائے، یا کسی مسلمان بھائی پر قتل کی نیت سے ہاتھ اُٹھائے، یا کسی راہ چلتے کو، یا مسجد میں اللہ کے حضور اپنا سر جھکانے والے کو مسجد میں گھس کر  نشانۂ قتل بنائے؟ اس حدیث ِ مبارکہ میں سمجھایا گیا ہے کہ شقاوتِ قلبی کس طرح پیدا ہوتی ہے۔ قرآن کریم جن دلوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ وہ شقاوتِ قلبی میں پتھر بلکہ اس سے زیادہ سخت ہوجاتے ہیںکیونکہ بعض پتھر ایسے بھی تو ہوتے ہیں جو پھٹ پڑتے ہیں اور ان سے پانی کا چشمہ رواں ہوجاتا ہے۔ لیکن جو قلب احساسِ بندگی کو دبا کر نفسی نفسی کے زیراثر داغ دار ہوچکے ہوں پھر وہ انسان جن کے دل میں ایک دھڑکنے والا قلب ِ سلیم نہ ہو بلکہ پتھر کا ایک ٹکڑا ہو تو وہ نہ اپنی آنکھ سے سچائی اور جھوٹ میں تمیز کرسکتے ہیں، نہ اپنے کان سے اچھی اور فحش بات میں تمیز کرسکتے ہیں۔   قرآن کریم نے صحیح کہا ہے: صُمٌّم بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَo (البقرہ ۲:۱۸) ’’یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، یہ اب نہ پلٹیں گے‘‘۔

عدم رواداری، شدت پسندی، ظلم، ناانصافی، حقوق پر ڈاکا، بچوں اور خواتین کے ساتھ ظالمانہ رویہ، معاشرے میں دھوکا دہی، رشوت، عدم تحفظ، غرض تمام برائیوں کا آغاز ایک فرد کے دل کے داغ دار ہو جانے سے ہوتا ہے اور جب کئی دل داغ دار ہوجائیں تو پورے معاشرے میں فساد و بدامنی پھیل جاتی ہے۔

انسانی حقوق کی پامالی

اس داخلی سبب کے ساتھ ساتھ بعض بیرونی عناصر بھی انسان میں انتقام، توڑ پھوڑ، ظلم و استحصال کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم انسانوں کے حقوق کا پامال کرنا ہے۔ اگر ایک معاشرہ یا ریاست اپنے باشندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرے اور خود آسایش اور ثروت کی زندگی گزارے تو حقوق سے محروم افراد میں انتقامی جذبہ اُبھرنا ایک فطری عمل ہے۔ ایک حدیث میں اس طرف یوں اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے پڑوسی کو عمدہ اور قیمتی پھل نہ کھلا سکتا ہو تو  کم از کم پھل کھانے کے بعد ان کے چھلکے اپنے دروازے کے سامنے گلی میں نہ پھینکے۔ احساسِ محرومی اور فقر انسان میں جو ردعمل پیدا کرتا ہے حدیث میں اسے شرک سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور شرک ایک شخص کو کسی بھی ایسے کام پر آمادہ کرسکتا ہے جو اسلام کے اعلیٰ اخلاقی رویے کی ضد ہو۔ چوری، ڈاکا، قتل کا ایک سبب یہی احساسِ محرومی ہوتا ہے کہ ایک فرد یہ سمجھتا ہے کہ جس دولت میں سے اسے کچھ ملنا چاہیے تھا وہ صرف چند افراد کے قبضے میں ہے، اس لیے وہ اسے غیر اسلامی ذرائع سے چھین کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ریاست اور معاشرہ اپنی اس ذمہ داری سے اسی وقت عہدہ برآ ہوسکتا ہے جب وہ ناداروں کو ان کا حق دے، بے علم افراد کو تعلیم سے آراستہ کرے اور بے روزگار افراد کو روزگار فراہم کرے۔ یہ شہریوں کے وہ حقوق ہیں جو اسلام نے آج سے تقریباً پندرہ سو سال قبل قرآن اور سنت کے واضح احکامات کی شکل میں ہم کو دیے ہیں۔ ہم نہ ان احکامات سے واقفیت حاصل کرنے کی جستجو کرتے ہیں اور نہ انھیں معاشرے اور ریاست میں نافذ کرنے کی۔ آخر زکوٰۃ کو ایک عبادت اور فریضہ قرار دینے کا مقصد اور کیا تھا۔ زکوٰۃ کو ایک ٹیکس قرار دینا زکوٰۃ کے مفہوم اور روح سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ یہ دراصل معاشرے سے افلاس، فقر، بھوک، جہالت، بیماری اور     عدم تحفظ کے خاتمے کے شرعی نظام کا نام ہے۔ نہ صرف زکوٰۃ بلکہ وسیع تر پیمانے پر صدقات اور انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعے اسلامی معاشرے کے ہر مجبور، نادار اور ضرورت مند کو اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

تعلیم

معاشرے اور فرد میں بغاوت و انتقام کا جذبہ پیدا کرنے میں جہالت کا کردار اہم ہے۔ اسی بنا پر قرآن و سنت میں تعلیم کو ایک فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ تعلیم محض چند صلاحیتوں کا پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ بنیادی اخلاقی رویوں کے اختیار کرنے کا نام ہے۔ وہ تعلیم اُمت کے لیے زہر ہے جو اخلاق و آداب اور تعمیر سیرت کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک اعلیٰ معاشی مزدور تو پیدا کرتی ہو لیکن اسے اخلاق، عدل و انصاف، سچائی، پابندیِ عہد اور انسانوں کے حقوق سے آگاہ نہ کرتی ہو۔

گھر کا ماحول

انسانی کردار کی تعمیر کی پہلی بنیاد گھر کی چار دیواری میں رکھی جاتی ہے۔ اگر ایک بچے کو  ماں باپ کی طرف سے محبت، توجہ اور اچھے اخلاق و عادات کو پیدا کرنے پر متوجہ نہ کیا جائے اور بچوں کو مصروف رکھنے اور ان کے سوالات سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے  ٹی وی اسکرین کے حوالے کردیا جائے، تو پھر وہ روزِ اوّل سے تشدد ، ماردھاڑ ، قتل و غارت، چالاکی ، دھوکادہی اور عریانیت و فحاشی کو کارٹونوں کی شکل میں بار بار دیکھ کر اُس حدیث کے مصداق احساسِ مروت، احساسِ شرم، احساسِ فرض سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاتے ہیں جس میں دل کی سختی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔جدید تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ ایک بچہ عموماً دن میں چار تا آٹھ گھنٹے ٹی وی کے سامنے گزارتا ہے، اور مسلسل چار تا آٹھ گھنٹے تک جب آنکھ کے پردے پر تشدد کے مناظر دہرائے جائیں تو ان کے نقوش یادداشت کے پردے پر مرتسم ہوجاتے ہیں۔ پھر ایک بچے کا ہنسنا، رونا، روٹھنا، مطالبہ کرنا، چلنا، اپنے چہرے سے مختلف قسم کے تاثرات کا اظہار کرنا، غرض اس کا پورا کردار کارٹون کے کردار کا ایک چربہ بن جاتا ہے۔

گھریلو رویے

جنسی مساوات (Gender Equality) کے زیرعنوان خاندان کے تقدس و احترام کو بڑی تیزی کے ساتھ پامال کیا جارہا ہے اور اس میں ابلاغِ عامہ اور سرکاری تعلیم کے نصاب کا بڑا دخل ہے۔ تعلیمی ادارے سرکاری ہوں یا نجی، دونوں شکلوں میں جو کتب استعمال کی جارہی ہیں ان میں انفرادی امتیازات (individualities) اور جنسی مساوات کو مثالوں اور بیانات کی شکل میں بار بار دہرایا جاتا ہے،حتیٰ کہ ایک طالب علم اس مغربی تصور ہی کو حق سمجھتا ہے۔ یہ تصور نہ صرف  اس کی ذاتی شخصیت بلکہ اس کی خاندانی زندگی کو اجتماعیت کی جگہ انفرادیت میں تبدیل کردیتا ہے۔ ایک شوہر اور بیوی دونوں اپنی اَنا، ذاتیت اور انفرادیت کے خول میں گرفتار رہتے ہیں۔ ان کی فکر، ان کا طرزِعمل، ان کا اظہارِ محبت بھی اسی کا اسیر ہوتا ہے اور کسی لمحے بھی اپنے آپ کو بدلنے کے لیے  آمادہ نہیں ہوتے۔ شوہر کی ہرمعاملے میں اپنی پسند ، وہ کھانا ہو، لباس ہو، گھر کا رہن سہن ہو، تفریح ہو، باہمی تعلقات ہوں، اور ایسے میں بیوی کا اپنی ذاتی پسند پر اصرار ، گھریلو عدم تعاون، جذباتی فاصلے اور آخرکار گرم گفتاری اور پھر گھریلو تشدد تک پہنچتا ہے۔ جدید اعداد و شمار، انتہائی تشویش ناک حد تک یہ پتا دیتے ہیں کہ اس وقت ۸۰، ۸۵ فی صد شادیاں اس بحران یا انتشار سے دوچار ہیں۔ یہ وبا ایک معاشرتی کینسر کی شکل اختیار کرگئی ہے اور جب تک تشدد، خودرائی اور انفرادیت کے بتوں کو گھر کے اندر مسمار نہیں کیا جائے گا، ان بتوں کی پرستش سے معاشرہ پاک نہیں ہوسکتا۔

جو بچے ایسے ماحول میں تربیت پائیں گے جہاں گھر روزانہ ایک معرکۂ جنگ کی شکل پیش کرتا ہو وہ معاشرے کو امن و سکون نہیں دے سکتے۔ جو بچہ باپ کو ماں پر ہاتھ اٹھاتے دیکھتا ہے یا جو  ماں باپ اپنے بیٹے کو اپنی بہن کو دھکا دے کر گرانے پر سزا نہیں دیتے وہ گھریلو اور معاشرتی فساد کو کبھی نہیں روک سکتے۔

معاشی استحصال

جس کھیت سے دہقان کو تو روزی میسر نہ ہو لیکن اس کھیت کے مالک کے گھر میں ہر شام محفلِ موسیقی اور پُرتکلف دعوتیں ہورہی ہوں وہ کب تک اپنی ناداری پر نازاں ہوسکتا ہے۔ معاشرے میں معاشی ظلم و استحصال جب بھی بڑھے گا ، عدم تحفظ، تشدد اور توڑپھوڑ کے عمل میں اضافہ ہوگا۔ اس برائی کا دُور کرنا نہ صرف ریاست بلکہ معاشرے کے ہرفرد کا فرض ہے۔ اجتماعی اصلاح کا احساس اس کے لیے مناسب اداروں کا قیام اور سیاسی اور سماجی تحریکات کا ان معاملات میں آگے بڑھ کر اصلاح کا آغاز کرنا ہی معاشرے کو دوبارہ امن و سکون دے سکتا ہے۔

سیاسی عدم استحکام

معاشرے میں جب سیاسی عدم استحکام ہوگا اور کسی کو یقین نہیں ہوگا کہ کل کیا ہونے والا ہے، حکومت کتنے دن کی مہمان ہے تو قانون نافذ کرنے والے  اداروں کا تقدس بھی متاثر ہوگا، اور جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اثر معاشرے میں نہیں ہوگا تو بدامنی ، قانون شکنی اور فساد زمین پر پھیلے گا۔ بیرونی دشمن ہمیشہ یہی حکمت عملی اختیار کرتا ہے کہ کسی ملک کو اندورنی خلفشار میں مبتلا کردے تو پھر بغیر کسی جنگ یا عسکری فتح کے وہ دوسرے ملک کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔ جب بھی سیاسی عدم استحکام اور بدامنی ہوگی معاشی بدحالی اور بدانتظامی کا دور دورہ ہوگا تو یہ مزید استحصال، ظلم اور    عدم تحفظ کو پیدا کرے گا۔ اس طرح بیرونی سرمایہ کار اس ملک کا رُخ کرتے ہوئے ہچکچائیں گے  اور مقامی سرمایہ کار اپنا سرمایہ ملک سے باہر منتقل کرنا چاہیںگے۔ نتیجتاً معاشی انتشار، زوال اور بے روزگاری اور قتل و غارت کا بازار گرم ہوگا۔

اس لیے معاشرتی توڑ پھوڑ کے عمل کو چند خوب صورت سیاسی بیانات سے دُور نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے حکومت ِ وقت اور معاشرے کے ذمہ دار ارکان کو یکساں طور پر اپنے فرائض کو پورا کرنا ہوگا۔

اخلاق و کردار

کسی بھی معاشرے کے بگاڑ میں سب سے بنیادی دخل اس معاشرے کی اخلاقی اقدار کا  ہوتا ہے۔ اگر اخلاق گر گیا تو معاشرہ بھی گرے گا اور اگر اخلاق اعلیٰ اور بلند ہوگا تو معاشرہ بھی   صاف ستھرا، پُرامن اور پُرسکون ہوگا۔

ہم نے مغرب کی اندھی نقالی میں اپنے اخلاقی سرمایے کو ایک طرف لپیٹ کر رکھ دیا ہے اور ہرہرشعبے میں مغربی اخلاق و اقدار کے منفی پہلوئوں کو عالم گیریت کے نام پر سینے سے لگا لیا ہے۔ چنانچہ مغرب کی پابندیِ وقت، محنت کرنے کی عادت، عوام کو جواب دہی، عدالتوں میں قانون کی بالادستی جیسی عادات کی جگہ مغربی فحاشی ، آزادی کے نام پر احترام اور تقدس کو تارتار کرنا، مساوات کے نام پر خواتین کا استحصال اور انھیں ایک معاشی کھلونا بنا دینا، دین کی جامع تعلیمات کی جگہ اسلام کو مذہب قراردینا اور پھر مذہب کو تمام معاشرتی، ثقافتی، تعلیمی، معاشی، سیاسی اور قانونی معاملات سے خارج کرنے کو ترقی پسندی کا نام دے دیا ہے۔

اسلام کے اعلیٰ اخلاقی نظام کی جگہ ہم نے لادینی مفاد پرست اخلاقیات کو ہرسطح پر رائج کرنے کے لیے اپنے ابلاغِ عامہ کو بداخلاقی کے ہراول دستے کا مقام عطا کردیا ہے۔ ہمارا ابلاغِ عامہ ملک سے مایوسی، ملک کے محافظوں سے نفرت، ملک کی اخلاقی اقدار کی جگہ ہندوانہ ثقافت کو رائج کرنے میں پیش پیش ہے، اور ہر وہ بُرائی جو سرحد پار کے معاشرے میں رائج ہو اسے مزید بدتر شکل میں ہمارے ہاں متعارف کرانے میں مصروف ہے۔

اس غیر اخلاقی عمل کو ہم نے ’ابلاغِ عامہ کی آزادی‘ کے خوش کن نعرے کی شکل دی ہے اور آزادیِ اظہار کی ایک نئی تعریف ایجاد کی ہے جس کے نتائج معاشرے میں جابجا نظر آرہے ہیں۔

رواداری اور برداشت : اسلامی حکمت عملی

ہر وہ معاشرہ جو اسلامی تصور صبر، قناعت، مسابقت فی الخیرات، اخوت، قربانی اور   تعاون علی البر کی جگہ درآمد کیے ہوئے ہندوانہ یا مغربی تصورات و اقدار کو اختیار کرے گا، اس میں معاشرتی توڑ پھوڑ کا عمل فطری طور پر ہوگا اور قوتِ برداشت کی جگہ فوری فائدے کے حصول کی نفسیات کارفرما ہو گی۔

قرآن و سنت کا دیا ہوا حل نہ صرف آسان ہے بلکہ انتہائی عملی ہے۔ زندگی کے ہرمرحلے کے لیے اس نے جو حکمت عملی دی ہے ہم نے اسے اپنی ناسمجھی کی بنا پر پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اسلام کایہ حل نہ وقت میں قید ہے نہ مکان میں بلکہ ہر دور میں اور ہرمقام پر یکساں قابلِ عمل ہے۔ اس حکمت عملی کے چند نمایاں پہلو یہ ہیں:

فرد میں اعتدال:

توازن اور عدل کا رویہ:قرآن کریم کاہر فرمان ایک فرد، خاندان، معاشرے اور ریاست ہر سطح پر امن و سکون پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ ہمیں اسے گھر، تعلیم گاہ اور معاشرے میں متعارف کرانا ہوگا۔

قرآنِ کریم کی بنیادی تعلیمات میں توحید کے بعد سب سے اہم تعلیم، عدل، توازن اور اعمال کو جیساکہ اس کا حق ہے ادا کرنے کی ہے۔ ’’اے لوگو، جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور عدل کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ توازن سے پھر جائو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کی روش سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے‘‘ (المائدہ ۵:۸)۔ یہ عدل انسان کے ذاتی، خاندانی، معاشرتی اور بین الانسانی معاملات میں خوب صورتی اور حُسن پیدا کرتا ہے اور اس عدل کی کمی ، ظلم، استحصال اور ناانصافی کو پیدا کرتی ہے۔ اس لیے عدل کے بغیر کسی معاشرے میں بھلائی اور اصلاح نہیں ہوسکتی ۔ معاشی بدحالی سے زیادہ عدل کا فقدان تباہی کا باعث بنتا ہے۔

معاشرتی حقوق کی ادایگی:

وہ حقوق والدین کے ہوں یا بیوی اور بچوں اور پڑوسیوں کے، ہمیں انھیں اولیت دینا ہے اور مغربی انفرادیت کے خول سے نکل کر اسلام کے اجتماعیت کے تصور کو اختیار کرنا ہے۔اسلام ایک جامع اجتماعی نظام ہے، یہ محض ایک فرد کی انفرادی اصلاح کا نسخہ نہیں ہے۔ حقوق کی ادایگی باہمی رواداری، اخوت کو پروان چڑھانے اور طبقاتی نظام سے نجات کا ذریعہ بنے گی۔ فقرا و مساکین کی ضروریات کا پورا کرنا کوئی ’خیراتی‘ کام نہیں ہے۔   یہ انفرادی اور اجتماعی فریضہ ہے۔ اس لیے فرمایا گیا: وَفِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ (الذاریات ۵۱:۱۹)یعنی’’ تمھارے اموال میں سائل اور محروم کا حق ہے‘‘۔

مسلمان کے مسلمان پر حقوق کو تعلیم گاہوں، دفتروں، تجارتی مراکز، غرض ہر مقام پر تعلیمی اور دیگر ذرائع کا استعمال کرکے ان حقوق کی آگاہی اور ان پر عمل کو ضابطہ بنانا ہوگا۔ اس سلسلے میں جو کم از کم عملی کام کرنے ہوں گے وہ اختصار سے درج ذیل ہیں:

غصہ پر قابو:

یہ وہ شیطانی عمل ہے جو ایک انسان کو چند لمحات کے لیے عقل و دانش کی جگہ انتقام اور زیادتی کی طرف لے جاتا ہے۔ ارشاد رحمۃ للعالمینؐ ہے: ’’جو (خلافِ حق بولنے سے) اپنی زبان کی حفاظت کرے گا، اللہ اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا، اور جو اپنے غصے کو روکے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عذاب کو اس سے ہٹائے گا،اور جو خدا سے معافی مانگے گا خدا اس کو معاف کردے گا‘‘۔(عن  انسؓ، مشکوٰۃ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسٰی ؑ نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا: ’’اے میرے رب! آپ کے نزدیک آپ کے بندوں میں سے کون سب سے پیارا ہے؟‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وہ جو انتقامی کارروائی کی قدرت رکھنے کے باوجود معاف کردے‘‘۔(عن ابوہریرہؓ، مشکوٰۃ)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’طاقت ور وہ شخص نہیں ہے جو کُشتی میں دوسروں کو پچھاڑ دیتا ہے بلکہ طاقت ور تو درحقیقت وہ ہے جو غصے کے موقعے پر اپنے اُوپر قابو رکھتا ہے (یعنی غصے میں آکر کوئی ایسی حرکت نہیں کرتا جو اللہ او رسولؐ کو ناپسند ہو)۔(عن ابوہریرہؓ، بخاری)

جھوٹ سے نجات:

ہر وہ شے جھوٹ ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیے گئے معاہدۂ اطاعت و فرماں برداری سے ٹکراتی ہو۔ ایفاے عہد، خوش کلامی، عفو و درگزر، امانت داری یہ وہ احکامات ہیں جن کے خلاف کوئی عمل کرنا جھوٹ پر عمل کرنا ہے۔

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:’’چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ پکا منافق ہوگا اور جس شخص کے اندر ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی تو اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہوگی، یہاں تک کہ اس کو ترک کردے۔ وہ چار خصلتیں یہ ہیں: جب اس کے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرے، اور جب گفتگو کرے تو جھوٹ بولے، اور جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے، اور جب کسی سے اس کا جھگڑا ہوجائے تو گالی پر اُتر آئے‘‘۔(عن عبداللہ بن عمروؓ، بخاری، مسلم)

تعلقات کی اصلاح اور دوغلے پن سے نجات:

ہمارے معاشرے میں دوعملی اور دورُخاپن ایک بیماری کی شکل اختیار کرگیا ہے جو آخرکار تشدد و ٹکرائو کا باعث بنتا ہے۔ ہمیں دورُخے پن کو ختم کر کے اخلاص اور بھلائی کی تلقین کا رویہ اختیار کرنا ہوگا۔

نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’جو شخص دنیا میں دو رُخاپن اختیار کرے گا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی دو زبانیں ہوں گی‘‘۔( عن عمارؓ، ابوداؤد)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم قیامت کے دن بدترین آدمی اُس شخص کو پائو گے جو دنیا میں دو چہرے رکھتا تھا۔ کچھ لوگوں سے ایک چہرے کے ساتھ ملتا تھا اور دوسرے لوگوں سے دوسرے چہرے کے ساتھ‘‘۔(متفق علیہ)

صوبائی،قبائلی ، سیاسی عصبیت:

ظلم اور عدم رواداری کا ایک بڑا سبب برائی کا دفاع، اپنی برادری یا قبیلے کا ساتھ دینے کی بنا پر کرنا ہے۔ یہ ایک عظیم گناہ اور معاشرتی بگاڑ کا ایک بڑا سبب ہے۔ جو شخص اس مرض میں گرفتار ہوا اس کی آنکھ وہی دیکھتی ہے جو اس کی برادری، قبیلہ یا جماعت اسے دکھائے۔

ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرض کی نشان دہی یوں فرمائی: ’’وہ شخص ہم میں سے نہیںہے جو عصبیت کی دعوت دے، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں ہے جو عصبیت کی بنیاد پر جنگ کرے، اور وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے جو عصبیت کی حالت میں مرے‘‘۔( عن جبیر بن مطعمؓ، ابوداؤد)

راوی کہتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ’’اپنے لوگوں سے محبت کرنا کیا عصبیت ہے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’نہیں، بلکہ عصبیت یہ ہے کہ آدمی ظلم کے معاملے میں اپنی قوم کا ساتھ دے‘‘۔(عن ابونسیلہؓ، مشکوٰۃ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص (کسی ناجائز معاملے میں) اپنی قوم کی مدد کرتا ہے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کوئی اُونٹ کنویں میں گر رہا ہو اور یہ اس کی دُم پکڑ کر لٹک گیا ہو تو یہ بھی اس کے ساتھ جاگرا‘‘۔(عن ابن مسعودؓ، ابوداؤد)

جھوٹی گواھی:

ہم اکثر اپنی وابستگیوں اور تعلقات کے اتنے غلام ہوجاتے ہیں کہ عدل اور حق ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ لسانی عصبیت ہو یا قبائلی اور نسلی عصبیت ان بتوں کو پوجنے کے لیے ہم ایسی اصطلاحات ایجاد کرلیتے ہیں جو ہمیں محبت کے نام پر نفرتوں کو پھیلانے کی آزادی دے دیں۔

کسی طاغوتی طاقت کو امن و سلامتی کا رکھوالا سمجھنا، کسی سودی قرض دینے والے ادارے کی ہرطرح کی شرائط تسلیم کرکے قوم کو قرض کے بوجھ تلے دبا دینا، کسی نام نہاد عالمی ادارے کو خوش کرنے کے لیے اسلامی شریعت کے منافی دستوری ترمیمات کے ذریعے شرعی احکام کو پامال کرنا، اپنے ذاتی مفاد اور معاشی فائدے کے لیے قومی مفاد کو پسِ پشت ڈال دینا___ یہ سب معاملات شہادت زور (جھوٹی گواہی) کی تعریف میں آتے ہیں اور جب تک ان سے توبۃ النصوح نہ کی جائے اور ان کی طرف پھر کبھی رُخ نہ کیا جائے اس وقت تک معاشرے میں امن و سکون، رواداری اور اخوت و محبت پیدا نہیں ہوسکتی۔

آج شہادت زور ٹی وی اسکرین پر ہو یا عدالت میں یا کسی عظیم الشان اجتماع میں، اسے ایک فنکارانہ صلاحیت اور چابک دستی قرار دیاجاتا ہے۔ اس کی اصلاح کے بغیر معاشرہ اور فرد بھلائی اور سکون حاصل نہیں کرسکتا۔ شارع اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرض کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے: ’’خریم بن فاتکؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور جب لوگوں کی طرف رُخ پھیرا تو بیٹھے رہنے کے بجائے آپؐسیدھے کھڑے ہوگئے اور تین بار فرمایا: ’’جھوٹی گواہی دینا اور شرک کرنا دونوں برابر کے گناہ ہیں‘‘۔(ابوداؤد)

پھر آپؐ نے پڑھا: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ (تو تم ناپاکی یعنی بتوں سے دُور رہو اور جھوٹی بات کہنے سے دُور رہو اور خدا کے لیے یک سُو ہوجائو، شرک چھوڑ کر توحید اختیار کرو)۔

شہادتِ زور کو الرجس قرار دینا خود اس کے گھنائونا ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ جھوٹی گواہی محض عدالتوں میں نہیں بلکہ ایمان کے دعوے کے بعد نماز کی ادایگی نہ کرنا، زکوٰۃ کا ادا نہ کرنا، ظلم ہوتے ہوئے دیکھ کر خاموش رہنا، طاغوتی قوتوں کے خلاف کلمۂ حق بلند نہ کرنا غرض زندگی کے تمام معاملات میں اس اہم تعلیم کا دخل ہے۔ اسلامی شخصیت کی تعمیر اسی وقت ہوسکتی ہے جب شہادتِ زور سے مکمل طور پر نجات حاصل کی جائے۔

افواھوں کی سرکوبی:

آج آزادیِ صحافت اور آزادیِ راے کے نام پر جس بے دردی کے ساتھ حقائق کا گلا کُندچھری سے ذبح کیا جاتا ہے وہ اپنی مثال آپ بن گیا ہے۔ یہ افواہیں بُرائی کے فروغ اور ظلم و استحصال کے لیے سازگار فضا پیدا کرتی ہیں اور لوگوں کو ورغلا کر سڑکوں پر آکر توڑپھوڑ اور معصوم شہریوں کی اِملاک کو نقصان پہنچانے پر اُبھارتی ہیں۔ اس فتنے کی اصلاح بلاتاخیر کرنی ہوگی۔ دین کی حکمت کو قیامت تک سب سے زیادہ سمجھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’شیطان آدمی کے بھیس میں کام کرتا ہے، وہ لوگوں کے پاس آکر جھوٹی باتیں بیان کرتا ہے۔ پھر لوگ جدا ہوجاتے ہیں (یعنی مجلس ختم ہوجاتی ہے اور یہ لوگ منتشر ہوجاتے ہیں) تو ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے کہ مَیں نے یہ بات ایک آدمی سے سنی ہے جس کا چہرہ تو مَیں پہچانتا ہوں لیکن نام نہیں جانتا‘‘۔ ( عن ابن مسعودؓ، مسلم)

خیرخواھی اور حق گوئی:

معاشرے کے ہر کلمہ گو فرد کو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر عمل کرتے ہوئے اصلاح اور نیکی کے قیام کے لیے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو انجام دینا ہوگا۔ وہ افراد جو اپنے آپ کو اسلامی تحریک سے وابستہ سمجھتے ہوںان پر یہ فریضہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ عائد ہوتا ہے کہ وہ ہرہرسطح پر اپنے ہاتھ،اپنی زبان اور اپنے دل کے ساتھ امربالمعروف ونہی عن المنکر اور خیرخواہی اور نصیحت کے فریضے کو انجام دیں۔

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’دین خلوص و خیرخواہی کا نام ہے‘‘۔ یہ بات آپؐ نے تین دفعہ فرمائی۔ صحابہؓ نے عرض کیا: کس کے لیے خلوص اور خیرخواہی؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے اجتماعی نظام کے سربراہوں کے لیے، اور عام اہلِ اسلام کے لیے‘‘۔(عن تمیم داریؓ، مسلم)

خلوصِ نیت سے اصلاحِ احوال کے لیے بھلائی کا مشورہ دینا، امر بالمعروف کرنا اور اس مشورے میں کوئی تخصیص نہ کرنا دین کا تقاضا ہے۔ یہ نصیحت ہرہرسطح پر کرنی ہوگی۔ وہ ایوانِ اقتدار ہو یا کسی تحریک کا نظم، وہ عام کارکن ہوں یا مرکزی ذمہ داران، اس سے کسی کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک یہ پُرخلوص تنقید ہوتی رہے گی ادارے، تحریکات اور ملک کے سربراہان راہِ راست پر رہیں گے۔ جب مصلحت، بزرگی اور منصب کے احترام کی بنا پر حق بات کا نہ کہنا عام ہو جائے تو پھر نہ کوئی ادارہ، نہ کوئی گھر، نہ کوئی جماعت اور نہ کوئی ملک صحیح خطوط پر ترقی کرسکتا ہے۔

 تعلق باللّٰہ:

دین کے تمام معاملات کا انحصار تعلق باللہ پر ہے۔ اس لیے امربالمعروف اور نصیحت ہو یا افواہوں کو رد کرتے ہوئے حق کی گواہی دینے کا مرحلہ، تحریک کے اندر کسی کمزوری کی نشان دہی اور خلوصِ نیت کے ساتھ اس کی اصلاح کی کوشش ہو یا احتسابِ نفس اور ذمہ داران کا احتساب، ہرہرعمل کی بنیاد تعلق باللہ پر ہے۔ جتنا ہمارا تعلق اپنے رب سے، اس کے بھیجے ہوئے  کلامِ قرآنِ مجید اور اس کے مقرر کردہ ہادی اعظمؐ اور خاتم النبیینؐ سے انتہائی قریبی نہیں ہوگا، ہماری کوئی کوشش بارآور نہیں ہوسکتی۔ ربِ کریم کا وعدہ ہے اور اس کا ہر وعدہ حق ہوتا ہے کہ جب اہلِ ایمان اللہ کو رب مان کر اس پر استقامت سے جم جاتے ہیں اور کسی اور کی حاکمیت ماننے کو تیار نہیں ہوتے، تو وہ اَن دیکھی قوتوں سے ان کی نصرت کرتا ہے اور کامیابی کو ان کا مقدر بنا دیتا ہے۔

معاشرہ، خاندان اور ریاست سے تشدد کا خاتمہ مزید تشدد سے نہیں دین کی حکمت اور دین کی واضح تعلیمات کے نفاذ ہی سے ہوسکتا ہے۔ عدل کا قیام، سچائی کا فروغ اور امانتوں کا ان کے اہل افراد کے سپرد کرنا کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔

[مسئلہ فلسطین] کی پوری نوعیت، نزاکت اور اہمیت اچھی طرح سمجھ [لینے کے بعد]   چند باتیں بخوبی واضح ہوجاتی ہیں:

  • اول: یہ کہ یہودی آج تک اپنے منصوبوں میں اس بنا پر کامیاب ہوتے رہے ہیں کہ دنیا کی بڑی طاقتیں ان کی حامی و مددگار بنی رہی ہیں اور اُن کی اس روش میں آیندہ بھی کسی تغیر کے امکانات نظر نہیں آتے، خصوصاً امریکا کی پُشت پناہی جب تک اسے حاصل ہے، وہ کسی بڑے سے بڑے جرم کے ارتکاب سے بھی باز نہیں رہ سکتا۔
  • دوم: یہ کہ اشتراکی بلاک  سے کوئی اُمید وابستہ کرنا بالکل غلط ہے۔ وہ اسرائیل کا ہاتھ پکڑنے کے لیے قطعاً کوئی خطرہ مول نہ لے گا۔ زیادہ سے زیادہ آپ اس سے ہتھیار لے سکتے ہیں، اور    وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ اشتراکیت کا قلادہ اپنی گردن میں ڈالیں اور اسلام کو دیس نکالا دے دیں۔
  • سوم: یہ کہ اقوامِ متحدہ ریزولیوشن پاس کرنے سے بڑھ کر کچھ نہیں کرسکتی۔ اس میں یہ دم خم نہیں ہے کہ اسرائیل کو کسی مجرمانہ اقدام سے روک سکے۔
  • چہارم: یہ کہ عرب ممالک کی طاقت اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے قطعی ناکافی ہے۔ پچھلے۲۲ سال کے تجربات نے یہ بات پوری طرح ثابت کردی ہے۔

ان حقائق کے سامنے آجانے کے بعد نہ صرف مسجدِاقصیٰ، بلکہ مدینہ منورہ کو بھی آنے والے خطرات سے بچانے کی صرف ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کی طاقت اس یہودی خطرے کا مقابلہ کرنے اور اسلام کے مقاماتِ مقدسہ کو مستقل طور پر محفوظ کردینے کے لیے مجتمع کی جائے۔ اب تک یہ غلطی کی گئی ہے کہ فلسطین کے مسئلے کو ایک   عرب مسئلہ بنائے رکھا گیا۔ دنیا کے مسلمان ایک مدت سے کہتے رہے کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کا مسئلہ ہے مگر بعض عرب لیڈروں کو اس پر اصرار رہا کہ نہیں، یہ محض ایک عرب مسئلہ ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اب مسجداقصیٰ کے سانحے سے ان کی آنکھیں بھی کھل گئی ہیں اور ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ صہیونیت کی عظیم بین الاقوامی سازش کا مقابلہ، جب کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کی پوری تائید و حمایت بھی اس کو حاصل ہے، تنہا عربوں کے بس کا روگ نہیں ہے۔ دنیا میں اگر ایک کروڑ ۶۰لاکھ یہودی ایک طاقت ہیں تو ۷۰، ۷۵ کروڑ مسلمان بھی ایک طاقت ہیں، اور ان کی ۳۰-۳۲ حکومتیں اس وقت انڈونیشیا سے مراکو اور مغربی افریقہ تک موجود ہیں۔ ان سب کے سربراہ اگر سرجوڑ کر بیٹھیں، اور روے زمین کے ہرگوشے میں بسنے والے مسلمان ان کی پشت پر جان و مال کی بازی لگادینے کے لیے تیار ہوجائیں تو اس مسئلے کو حل کرلینا، ان شاء اللہ کچھ زیادہ مشکل نہ ہوگا۔

اس سلسلے میں جو عالمی کانفرنس بھی ہو اس کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اصل مسئلہ محض مسجد اقصیٰ کی حفاظت کا نہیں ہے۔ مسجداقصیٰ محفوظ نہیں ہوسکتی جب تک بیت المقدس یہودیوں کے قبضے میں ہے، اور خود بیت المقدس بھی محفوظ نہیں ہوسکتا جب تک فلسطین پر یہودی قابض ہیں۔ اس لیے اصل مسئلہ فلسطین کو یہودیوں کے غاصبانہ تسلط سے آزاد کرانے کا ہے۔ اور اس کا سیدھا اور صاف حل یہ ہے کہ اعلان بالفور سے پہلے جو یہودی فلسطین میں آباد تھے صرف وہی وہاں رہنے کا حق رکھتے ہیں، باقی جتنے یہودی ۱۹۱۷ء کے بعد سے اب تک وہاں باہر سے آئے اور لائے گئے ہیں انھیں واپس جانا چاہیے۔ ان لوگوں نے سازش اور جبروظلم کے ذریعے سے ایک دوسری قوم کے وطن کو زبردستی اپنا قومی وطن بنایا، پھر اسے قومی ریاست میں تبدیل کیا، اور اس کے بعد توسیع کے جارحانہ منصوبے بناکر آس پاس کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا نہ صرف عملاً ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیا، بلکہ اپنی پارلیمنٹ کی پیشانی پر علانیہ یہ لکھ دیا کہ کس کس ملک کو وہ اپنی اس جارحیت کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ ایسی ایک کھلی کھلی جارح ریاست کا وجود بجاے خود ایک جرم اور بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے اور عالمِ اسلامی کے لیے اس سے بھی بڑھ کر وہ اس بنا پر خطرہ ہے کہ اس کے ان جارحانہ ارادوں کا ہدف مسلمانوں کے مقاماتِ مقدسہ ہیں۔ اب اس ریاست کا وجود برداشت نہیں کیا جاسکتا، اس کو ختم ہونا چاہیے۔ فلسطین کے اصل باشندوں کی ایک جمہوری ریاست بننی چاہیے جس میں ملک کے پُرانے یہودی باشندوں کو بھی عرب مسلمانوں اور عیسائیوں کی طرح شہری حقوق حاصل ہوں، اور باہر سے آئے ہوئے اُن غاصبوں کو نکل جانا چاہیے جو زبردستی اس ملک کو قومی وطن اور پھر قومی ریاست بنانے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

اس کے سوا فلسطین کے مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ رہا امریکا، جو اپنا ضمیر یہودیوں کے ہاتھ رہن رکھ کر، اور تمام اخلاقی اصولوں کو بالاے طاق رکھ کر ان غاصبوں کی حمایت کر رہا ہے،    تو اب وقت آگیا ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان اس کوصاف صاف خبردار کردیں کہ اس کی یہ روش  اگر اسی طرح جاری رہی تو روے زمین پر ایک مسلمان بھی وہ ایسا نہ پائے گا جس کے دل میں   اُس کے لیے کوئی ادنیٰ درجے کا بھی جذبۂ خیرسگالی باقی رہ جائے۔ اب وہ خود فیصلہ کرلے کہ  اسے یہودیوں کی حمایت میں کہاں تک جانا ہے۔ (سانحۂ مسجداقصٰی، ص ۱۸-۲۰، ناشر: ادارہ ترجمان القرآن، لاہور)

ہمارے رب نے اپنے کلام پاک میں بہت سے مناظر کا نقشہ کھینچا ہے ۔اُن میں سے ایک دل کش اور خوب صورت منظر، اہل خانہ کے ساتھ جنت  میں داخلے کا ہے۔کیا میں نے اور آپ نے کبھی ، اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ، جنت میں، وہاں کی حقیقی مسرتوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لُطف اندوز ہو نے کے اس خوب صورت منظر کا  تصور کر نے کی کوشش کی ہے!

اللہ سُبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’(عقل رکھنے  والے لوگ) اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں، اُسے مضبوط باندھنے کے بعد توڑ نہیں ڈالتے۔ اُن کی روش یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے  جن جن روابط کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انھیں برقرار رکھتے ہیں، اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بُری طرح حساب نہ لیا جائے۔ اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے رب کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے عَلانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں، اور بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔ آخرت کا گھر انھی لوگوں کے لیے ہے۔

(اُن کے لیے) دائمی (ہمیشہ ہمیشہ کے لیے) رہایش کے باغات ہوں گے۔وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور اُن کے آباواجداد اور اُن کی بیویوں اور اُن کی اولاد میں سے جو جو صالح ہوں گے وہ بھی اُن کے ساتھ وہاں جائیں گے۔ ملائکہ ہر طرف سے اُن کے استقبال کے لیے آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ: ’’تم پر سلامتی ہے، تم نے دنیا میں جس طرح صبر (دین پر استقامت)سے کام لیا اس کی بدولت آج تم اس (جنت)کے مستحق ہوئے ہو___ پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر!‘‘ ( الرعد ۱۳: ۲۰- ۲۴)

درجِ بالا آیت کی روشنی میں تصور کریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں ہمارے نیک اعمال کی وجہ سے یہ اعزاز بخشے کہ ہمیں اور ہمارے تمام اہلِ خانہ کو  جنت کے اعلیٰ درجات تک پہنچا دے۔

ہم سوچیں کہ کیاہم نے کبھی ،  اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ، جنت میں، وہاں کی حقیقی مسرّتوں سے ہمیشہ کے لیے لُطف اندوز ہو نے کے اس مقام کو پانے کی تمناکی ہے!

یہ وہ مقام ہے جس کے لیے فرشتے بھی ہمارے لیے دُعا کرتے ہیں۔

 سورئہ مومن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’عرشِ الٰہی کے حامل فرشتے اور وہ جو عرش کے گرد و پیش حاضر رہتے ہیں، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دُعاے مغفرت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’’اے ہمارے رب! تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کر دے اور عذابِ دوزخ سے بچا لے اُن لوگوں کو جنھوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کر لیا ہے۔  اے ہمارے رب اور داخل کر، اُن کو ہمیشہ رہنے والی اُن جنتوں میں جن کا تو نے اُن سے وعدہ کیا ہے، اور اُن کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں (اُن کو بھی وہاں اُن کے ساتھ پہنچا دے)۔ تو بلاشبہہ قادر ِمطلق اور حکیم ہے ۔ بچا دے اُن کو بُرائیوں سے۔ جس کو تو نے قیامت کے دن بُرائیوں سے بچا دیا اُس پر تو نے بڑا رحم کیا،یہی بڑی کامیابی ہے‘‘۔(۴۰: ۷-۹)

اس آیت کی تشریح میں صاحبِ تفہیم القرآن سید ابوالاعلیٰ مودودی نے لکھتے ہیں:    یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں (اور قیامت تک حضوؐر اور ان کے صحابہ ؓکے نقشِ قدم پر چلنے والوں)کی تسلّی کے لیے ارشاد ہوئی ہے۔ وہ اس وقت کفّارِ مکّہ کی زبان درازیوں اور چیرہ دستیوں اور ان کے مقابلے میں اپنی بے بسی دیکھ دیکھ کر سخت دل شکستہ ہو رہے تھے۔ اس پر فرمایا گیا کہ ان گھٹیا اور رذیل لوگوں کی باتوں پر تم رنجیدہ کیوں ہوتے ہو، تمھارا مرتبہ تو وہ ہے کہ عرشِ الٰہی کے حامِل فرشتے اور عرش کے گردوپیش حاضر رہنے والے ملائکہ تک تمھارے حامی ہیں اور تمھارے حق میں اللہ تعالیٰ کے حضور سفارشیں کر رہے ہیں۔ عام فرشتوں کے بجاے عرشِ الٰہی کے حامل اور اس کے گردو پیش حاضر رہنے والے فرشتوں کا ذکر یہ تصور دلانے کے لیے کیا گیا ہے کہ    سلطنت ِ خداوندی کے عام اہل کار تو درکنار، وہ ملائکۂ مقربین بھی جو اس سلطنت کے ستون ہیں اور جنھیں فرماںرواے کائنات کے ہاں قرب کا مقام حاصل ہے ،تمھارے ساتھ گہری دل چسپی و ہمدردی رکھتے ہیں‘‘۔ (تفہیم القرآن، جلد۴، ص ۳۹۴)

درجِ بالا دونوں آیات میں اہلِ ایما ن کے والدین، بیویوں اور اولاد میں سے اُن کے لیے جنت کا وعدہ اور اور فرشتوں کی دُعا کا ذکر ہے، جو ان میں سے صالح ہوں ۔ لیکن سورۃ الطور میں مزید رعایت دی گئی ہے۔اور فرمایا گیا ہے کہ اگر اُن کی اولاد کسی نہ کسی درجۂِ ایمان میں بھی اپنے آبا کے نقشِ قدم کی پیروی کرتی رہی ہو، تو اپنے عمل کے لحاظ سے خواہ وہ اُس مرتبے کی مستحق نہ ہو جو ان کے آبا کو ان کے بہتر ایمان و عمل کی بنا پر حاصل ہو گا، پھر بھی یہ اولاد اپنے آبا کے ساتھ ملا دی جائے گی۔یقینا یہ اہلِ ایمان کے لیے ایک بہت بڑا  اعزا زہے ۔

 ارشادِ رب کریم ہے: متقی لوگ وہاں باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے، لُطف لے رہے ہوں گے جو اُن کا رب اُنھیں دے گا، اور اُن کا رب اُنھیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا۔ (اُن سے کہا جائے گا)کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔ وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم خوب صورت آنکھوں والی حوریں اُن سے بیاہ دیں گے۔

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی کسی درجۂ ایمان میں اُن کے نقشِ قدم پر چلی ہے اُن کی اُس اولاد کو بھی ہم (جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے اور اُن کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے۔ ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے۔ ہم اُن کو ہر طرح کے پھل اور گوشت،  جس چیز کو بھی ان کا جی چاہے گا، خوب دیے چلے جائیں گے۔وہ ایک دوسرے سے جامِ شراب لپک لپک کر لے رہے ہوں گے جس میں نہ یاوہ گوئی ہوگی نہ بد کرداری۔اور اُن کی خدمت میں وہ لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو اُنھی (کی خدمت) کے لیے مخصوص ہوں گے، ایسے خوب صورت جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔

یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے۔ یہ  کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں (اللہ سے)ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے۔ آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جُھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔ہم  پچھلی زندگی میں اُسی سے دعائیں مانگتے تھے، وہ واقعی بڑا ہی مُحسن اور رحیم ہے‘‘۔(الطور ۱۷:۲۸)

کیاہم نے کبھی ،اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ، جنت میں، وہاں کی حقیقی مسرّتوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لُطف اندوز ہو نے کایہ مقام حاصل کرنے کی کوشش اور اس کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی ہے؟

آیت ۱۷میں جنت میں داخلے کے ساتھ دوزخ  کے عذاب  سے بچائے جانے کا ذکر ہے۔ اس کی تشریح میں صاحب تفہیم القرآن سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا ہے:’’کسی شخص کے داخلِ جنت ہونے کا ذکر کر دینے کے بعد پھر دوزخ سے اس کے بچائے جانے کا ذکر کرنے کی بظاہر کوئی حاجت نہیں رہتی۔ مگر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یہ دونوں باتیں الگ الگ اس لیے بیان کی گئی ہیں کہ آدمی کا دوزخ سے بچ جانا بجاے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اور یہ ارشاد کہ ’’اللہ نے ان کو عذابِ دوزخ سے بچا لیا‘‘در اصل اشارہ ہے اِس حقیقت کی طرف کہ آدمی کا دوزخ سے بچ جانا اللہ کے فضل و کرم ہی سے ممکن ہے، ورنہ بشری کمزوریاں ہر شخص کے عمل میں ایسی ایسی خامیاں پیدا کر دیتی ہیں کہ اگر اللہ اپنی فیاضی سے اُن کو نظر انداز نہ فرمائے، اور سخت محاسبے پر اُتر آئے تو کوئی بھی گرفت سے نہیں چھوٹ سکتا۔ اسی لیے جنت میں داخل ہونا اللہ کی جتنی بڑی نعمت ہے اُس سے کچھ کم نعمت یہ نہیں ہے کہ آدمی دوزخ سے بچا لیا جائے‘‘۔(تفہیم القرآن، جلد۵، ص ۱۶۷)

آیت۱۹میں فرمایا: ’’کھاؤ اور پیو مزے سے‘‘ اس ’مزے‘کی تشریح بھی صاحبِ تفہیم القرآن نے کی ہے:’’یہاں’مزے سے‘کا لفظ اپنے اندر بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے ۔ جنت میں انسان کو جو کچھ ملے گا کسی مشقت اور محنت کے بغیر ملے گا۔ اُس کے ختم ہوجانے یا اُس کے اندر کمی واقع ہو جانے کا کوئی اندیشہ نہ ہو گا۔ اُس کے لیے انسان کو کچھ خرچ نہیں کرنا پڑے گا۔ وہ عین اُس کی خواہش اور اس کے دل کی پسند کے مطابق ہو گا۔ جتنا چاہے گا اور جب چاہے گا حاضر کر دیا جائے گا۔ مہمان کے طور پر وہ وہاں مقیم نہ ہو گا کہ کچھ طلب کرتے ہوئے شرمائے بلکہ سب کچھ اُس کے اپنے گُذشتہ اعمال کا صلہ اور اُس کی اپنی پچھلی کمائی کا ثمر ہو گا۔ اُس کے کھانے اور پینے سے کسی مرض کا خطرہ بھی نہ ہو گا۔ وہ بھوک مٹانے اور زندہ رہنے کے لیے نہیں بلکہ صرف لذّت حاصل کرنے کے لیے ہوگا۔  اور آدمی جتنی لذّت بھی اُس سے اُٹھانا چاہے، اُٹھا سکے گا بغیر اس کے کہ اس سے کوئی سوئِ ہضم  لاحق ہو اور وہ غذا کسی قسم کی غلاظت پیدا کرنے والی بھی نہ ہوگی۔ اس لیے دنیا میں ’مزے‘ سے کھانے پینے کا جو مفہوم ہے، جنت میں ’مزے‘سے کھانے پینے کا مفہوم اس سے بدرجہا  زیادہ وسیع اور اعلیٰ و ارفع ہے‘‘۔(تفہیم القرآن، جلد۵، ص ۱۶۸)

یہاں اُس حدیث کا ذکر بے محل نہ ہو گا جو حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے حضوؐرنے بیان فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: میں نے اپنے نیک اور صالح بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کررکھی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے اُن کا ذکر سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی اُن کا خیال ہی آیا ہے۔ اگر تم چاہو تو قرآن کی آیت پڑھو:’’پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزا میں ان کے لیا چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر  نہیں ہے‘‘۔ (السجدہ ۳۲: ۱۷)

آئیے !ہم اپنے آپ کو اور اپنے اہلِ خانہ کو دوزخ  کے عذاب سے بچا کر انھیں جنت کے اعلیٰ مقام تک لے جانے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں، اور اُس کے لیے کوشش اور جدو جہد شروع کر دیں۔

مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں پہلا وہ گھر خدا کا، جس کے گرد ان دنوں عشاقِ بے تاب کا ایک ہجوم بے پناہ دُنیا کے گوشے گوشے سے کھنچ کھنچ کر پروانہ وار جمع ہو رہا ہے، اور ہزاروں برس سے ہوتا چلا آ رہا ہے، ہمارے لیے مرکز زندگی کا مقام رکھتا ہے۔ اس گھر کی غریب و سادہ رنگین داستان کے ورق ورق پر آیات بینات کا ایک اتھاہ خزانہ رقم ہے۔ ان آیات میں دیدہ و دل وا کرنے کے لیے، راہ زندگی روشن کرنے کے لیے، اور منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے، بیش بہا دولت محفوظ ہے۔ اس گھر میں وہ زم زم ہی رواں نہیں ہے جو چار ہزار سال سے پیاسوں کی پیاس بجھا رہا ہے اور بجھاتا چلا جائے گا، بلکہ اس ہی سے ہدایت و برکت کا وہ زم زم بھی جاری ہوا ہے جس نے سارے جہانوں کی معنوی تشنگی دور کرنے اور ان کے قلوب و ارواح اور فکر و عمل کی سیرابی کا سامان کیا ہے۔ اور کیوں نہ ہو، کہ اس ایک گوشۂ مکان کے حصے میں یہ سعادت آئی ہے کہ خداے لامکاں کی رحمت کاملہ نے اسیر مکان و زمان کو اپنا تقرب بخشنے کی خاطر اسے اپنا گھر بنا لیا ہے:

اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّہُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَo فِیْہِ اٰیٰتٌم بَیِّنٰتٌ(اٰل عمرٰن۳:۹۶-۹۷) بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ ہی ہے جو مکہ میں واقع ہے۔ اس کو خیر و برکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکزِ ہدایت بنایا گیاتھا۔ اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں۔

ان آیات بینات میں سب سے نمایاں، اخلاص و محبت اور اطاعت و وفا کے وہ نقوش ہیں جو اس گھر کے ایک ایک پتھر پر، اور اس کے جوار میں ایک ایک چپے پر، سلسلۂ رشد وہدایت کے  امام اولیں حضرت ابراہیم ؑ نے راہِ خدا میں اپنے مقام عالی سے ثبت کیے ہیں۔ اُنھوںنے رب واحد کی بندگی کی خاطر وطن چھوڑنے کے بعد، اپنی یکہ و تنہا بیوی اور شیر خوار بیٹے کو اس گھر کے جوار میں لا بسایا، انھوں نے اپنے ہاتھوں سے اس گھر کی دیواریں چنیں، انھوں نے اس گھر کی زیارت کے لیے مشرق و مغرب کو پکارا، انھوں نے اس گھر کو طواف، اعتکاف، قیام اور رکوع و سجود کا     مرکز بنایا، یہیں انھوں نے بارگاہِ محبوب میں اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی۔ انھوں نے مشیت الٰہی کی طرف سے اس گھر کو سلسلۂ رشد و ہدایت کے امام آخر ؑ، اوراُمت مسلمہ کے ظہور کا مبداو مرکز بنانے کے فیصلے کو، دعا کے رنگ میں، ثبت و ظاہرکر دیا۔

پھر اللہ کا یہ گھر، اور یہ البلد الامین ان تمام تابناک و بے مثال روایات کا حامل بھی بن گیا جو بعثت محمدیؐ، نزول قرآن، دعوت اسلامی، اور ہجرت و جہاد کے ابواب میں محفوظ ہیں۔ اس گھر کا کوئی پتھر ایسا نہیں، اس کے قرب میں کوئی چٹان اور سنگریزہ ایسا نہیں، جس کے دل میں ہدایت و دعوت اور ہجرت و جہاد کا کوئی نہ کوئی نقش محفوظ نہ ہو، اور جویا و پیاسا اسے پا نہ سکتا ہو۔ سوچیے تو یہ بھی وراثت ابراہیم ہی ہے:

مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمَ ط ہُوَسَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ (الحج۲۲:۷۸)قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیم ؑکی ملت پر۔ اللہ نے پہلے بھی تمھارا نام ’’مسلم‘‘ رکھاتھا۔

حضرت ابراہیم ؑ نے اس گھر کو، اور اس شہر کو ایسا جاے امن بنایا کہ جو اس میں داخل ہو جاتا ہے، اس کے جان و مال محفوظ ہو جاتے ہیں، اور ہمیشہ سے ایسا ہوتا چلا آیا ہے۔ مگرانھوں نے اس گھر میں ہدایت کا جو مرکز قائم کیا، صرف وہ مرکز ہی ایک ایسا مرکز ہے جہاں انسان داخل ہو تو اس کے قلب و روح، فکر وسوچ، اخلاق و کردار، شخصی زندگی اور حیات اجتماعی، سب محفوظ و مامون ہوجاتے ہیں۔ اگر کہیں انسان خوف و حزن، ظلم و فساد، اور دُنیا و آخرت کے بگاڑ اور تباہی سے امن حاصل کر سکتا ہے تو اس بناء ہدایت میں داخل ہو کر جو عالم معنوی میں خانۂ کعبہ کی مثال ہے:

وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا (اٰل عمرٰن۳:۹۷) اور اُس کا حال یہ ہے کہ جو اس میں داخل ہوا مامون ہو گیا۔

صراطِ مستقیم پر چلنے کے لیے یہ ضروری ہوا کہ جو پہنچ سکتا ہو وہ کم سے کم عمر میں ایک دفعہ، حضرت ابراہیم ؑ کی طرح گھر بار ترک کرکے، طویل مسافت طے کر کے، لباس دُنیا اتار کے، اللہ کے اس گھر تک ضرور پہنچے، اور یہاں فیض کا جو چشمہ بہہ رہا ہے اس میں ضرور غوطہ لگائے۔ اس گھر پر وہ اپنے دل کا لنگر ڈال دے، اس کو نگاہوں میں بسالے کہ اس کو دیکھنا بھی عبادت ہے، اس کے چاروں طرف چکر کاٹے، اس کے دوودیوار سے چمٹے، اس کے جوار میں پہاڑیوں پر چڑھے، وادیوں میں چلے اور رب البیت کے دربار عرفات میں حاضر ہو جائے:

وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًاط (اٰل عمٰرن ۳:۹۷)لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اِس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے۔

لیکن نہ ہر شخص پہنچ جانے کی استطاعت رکھ سکتا ہے، نہ عمر میں صرف ایک دفعہ ہو آنا اس چشمۂ ہدایت سے فیض مطلوب حاصل کرنے کے لیے کفایت کرتا ہے۔ جو ہُدًی لِّـلْعَالِمِیْنَ ہے اس کے ساتھ تو زندگی کے ہر لمحہ مربوط رہنا ناگزیز ہے۔ چنانچہ یہ بھی ضروری ہوا کہ دُنیا میں جہاں کہیں بھی ہو، اور جس حالت میں بھی ہو، ہر روز پانچ دفعہ، دُنیا کا ہر شغل اور ہر دل چسپی ترک کرکے (جس طرح حج کے لیے کرتے ہو)، اس برکت وہدایت کے گھر کی طرف رُخ کرو، سامنے اسی گھر کو رکھو، نگاہیں اسی پر جمائو:

وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہٗ ط (البقرۃ۲:۱۴۴) اب جہاں کہیں تم ہو، اُسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو۔

بیت اللہ کے حج کو جانا، عمر بھر جانے کی آرزو اور شوق میں سلگتے رہنا، گویا کہ اس کو اپنی  سعی و طلب کا مقصود بنانا، اور ہر روز پانچ دفعہ اس کی طرف رُخ کرکے اپنے رب کے سامنے جھکنا اور بچھ جانا اور اس سے ہم کلام ہونا، گویا کہ اس کو اپنے دل و نگاہ کا مرکز بنانا، ایسے اعمال ہیں جوہماری زندگیوں کو رُخ، رنگ اور ساخت عطا کرتے ہیں۔ ان دِنوں جب حج کا موسم ہے اور زائرین اس شمع کے گرد ہجوم کر رہے ہیں، ہمیں آگاہ ہونا چاہیے کہ اس گھر میں، اس کی تاریخ میں، اس کی روایات میں، اس میں ثبت کردہ نقوش و آثار میں، برکت و ہدایت اور آیات بینات کے کیسے کیسے بیش بہا خزانے ہیں جو ہماری جستجو کے منتظر ہیں، اور جن سے ہمیں اپنی جھولی بھرنا چاہیے۔

بروبحر میں فساد کا تلاطم ہو، ہمارے گھروں میں ظلم اور فتنہ کی طغیانی ہو، اُمت ذلت و مسکنت کے شکنجے میں کسی ہوئی ہو، اغیار کا غلبہ ہو تسلط ہو، باہمی افتراق و عداوت ہو، خون مسلم کی ارزانی اور عزت مسلم کی پامالی ہو، اُمت مسلمہ کا احیا مقصود ہو، جس طرح بچے کو ماں کے سینے سے چمٹ کر ہی امن و اطمینان نصیب ہوتا ہے، انسانیت اور اُمت مسلمہ کو امن اور فلاح، بیت اللہ کی دی ہوئی ہدایت سے چمٹ کر ہی نصیب ہو سکتا ہے۔

خداے لامکاں کسی مکان میں سما نہیں سکتا۔ بیت اللہ تو ایک علامت ہے، ایک شعار ہے، اور اس لیے ہے کہ مرکز دل، محبوب نظر، مقصود سعی وجہد، اللہ اور صرف اللہ، بن جائے۔ جو اللہ کو مضبوطی کے ساتھ تھام لے، اسی کے ساتھ جڑ جائے، اس طرح تھام لے اور جڑ جائے جس طرح کہ اللہ کا حق ہے، وہی صراط مستقیم پا لیتا ہے۔

وَمَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ہُدِیَ اِلٰی صِراطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (اٰل عمٰرن۳:۱۰۱)جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہِ راست پا لے گا۔

ہدایت کوئی لیبل چسپاں کر لینے سے حاصل نہیں ہوتی، وہ یہودی کا لیبل ہو نصرانی کا، یا محمدی کا۔ نہ ہدایت خانہ کعبہ کا چکر کاٹ آنے سے ملتی ہے، نہ اس کی طرف منہ کر لینے سے۔ ہدایت تو حضرت ابراہیم ؑ کی طرح اللہ کا حنیف بندہ بن جانے کا نام ہے، جس میں شرک کی گندگی کا شائبہ تک بھی نہ ہو:

بَلْ مِلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ حَنِیْفًا ط وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (البقرہ۲:۱۳۵)نہیں، بلکہ سب کو چھوڑ کر ابراہیم ؑ کا طریقہ۔ اور ابراہیم ؑمشرکوں میں سے نہ تھا۔

حضرت ابراہیم ؑحنیف تھے، یعنی وہ سب کچھ چھوڑ کر صرف اللہ کے بن گئے تھے، اس کے ہو رہے تھے، اور اللہ کے سوا کسی کے نہ رہ گئے تھے۔

انھوں نے ہر ڈوبنے والی چیز کی، اور ماسوا اللہ ہر چیز ڈوبنے والی اور فنا ہونے والی ہے، محبت ترک کرکے، تمام چمکتے دمکتے چاند، سورج اور ستاروں کا طلسم توڑ کے، اپنا اور اپنی زندگی کا رُخ صرف اللہ کی طرف کر لیا تھا، سب سے بڑھ کر صرف اس کی محبت اپنے دل میں بسالی تھی، صرف اس کو طلب و سعی کا مرکز بنا لیا تھا، صرف اسی پر نگاہیں جمادی تھیں، یا یوں کہیے صرف اسی کو اپنی شخصیت اور زندگی کا قبلہ بنا لیا تھا، اور اس رُخ میں، توجہ میں، وابستگی میں، اللہ کے علاوہ اور کوئی رخ نہ تھا جو شریک ہو۔

انھوں نے اپنا سب کچھ اپنے رب کے حوالے کر دیا تھا، اور کوئی چیز اس سے بچا کر نہ رکھی تھی … اپنے علاقے اور محبتیں، اپنا گھر اور وطن، اپنی بیوی اور بیٹے، اپنی دُنیا اور اپنی متاع… پرستش بھی اس کی، ہر چیز اس کے اشارے پر حاضر اور قربان بھی، زندگی بھی اسی کی، موت بھی اسی کی۔ اور اس خود سپردگی میں بھی شمہ برابر حصہ اللہ کے علاوہ اور کسی کے لیے نہ لگایا تھا۔

وہ اپنے رب کے ہر حکم کی فرماں برداری کے لیے ہر وقت مستعد اور حاضر تھے۔ آگ میں بے خطر کود پڑنے کا حکم ہو، گھر اور وطن چھوڑ کر نکل جانے کا حکم ہو، باپ کے لیے استغفار تک ترک کر دینے کا حکم ہو، تمام معبودان باطل سے اعلان براء ت و عداوت کا حکم ہو، اہل و عیال کو   وادیِ غیرذی زرع میں بسانے کا حکم ہو، پتھروں سے اللہ کے گھر کی دیواریں چننے کا حکم ہو، اکلوتے اور محبوب نور نظر کے گلے پر چھری چلانے کا حکم ہو__ ان کی زبان پر ہر وقت لبیک تھا، وہ ہر وقت حاضر تھے، ان کی ہر چیز حاضر تھی۔

توحید خالص، ریاضی کے فارمولے کی طرح، اللہ کو ایک مان لینا نہیں، بلکہ حضرت ابراہیم ؑ کی طرح سب کچھ چھوڑ کر صرف اُسی کا بن جانا اور اُسی کا ہوکر رہنا ہے۔ بیت اللہ کی آیات ہدایت میں سب سے نمایاں اور سب سے اہم حضرت ابراہیم ؑ کا یہی اسوۂ زندگی ہے جو ’اسلام‘ اور حنیفیت سے عبارت ہے۔ حج اور استقبال قبلہ کا عمل ہمیں بندگیِ رب کے اس رنگ میں رنگنے ہی کے لیے ہے، جس کی شان حضرت ابراہیم ؑاور آل ابراہیم ؑ نے اپنی توحید خالص، اخلاص و وفاداری،    فرماں برداری اور یکسوئی سے قائم کی۔ یہی رنگ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے، یہی اُس کو مطلوب ہے، یہی اُس کے ہاں مقبول ہے۔ اس رنگ میں رنگ جانے والوں ہی سے وہ راضی ہوتا ہے۔ اِنھی سے دُنیا میں علو وامامت کا وعدہ ہے، اور آخرت میں جنت کے انعام سے سرفرازی کا۔

ہم حج بھی کریں، عمروں کے لیے بھی جائیں، منہ کعبہ شریف کی طرف کرکے نمازیں بھی پڑھیں، مگر ہم پر وہ رنگ نہ چڑھے جو حضرت ابراہیم ؑ کا رنگ تھا، تو اس سے بڑھ کر ہماری حرماں نصیبی اور کیا ہو سکتی ہے، اور جو حرماں نصیبی ہمارا مقدر بن گئی ہے اس کا سبب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ ہم سے دُنیا میں جو وعدے ہیں… استخلاف فی الارض کا وعدہ ہے، غلبۂ دین کا وعدہ ہے، خوف سے نجات اور امن سے ہم کنار کرنے کا وعدہ ہے… وہ سب وعدے اس شرط کے ساتھ مشروط ہیں کہ ہم اللہ کے ایسے بندے بن جائیں کہ بندگی اور کسی کے لیے نہ ہو:

یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا ط (النور۲۴:۵۵) بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔

مشرق سے لے کر مغرب تک نظر ڈال لیجیے! کیا اُمت مسلمہ میں حضرت ابراہیم ؑ کا کوئی ایسا رنگ ہے جو غیر مسلموں اور مشرکوں کے رنگ سے الگ ہو۔ اپنے دلوں کو دیکھیے، انھی کی طرح بے شمار ٹکڑوں میں منقسم ہیں او رہر ٹکڑے میں ایک الگ معبود بیٹھا ہوا ہے۔ اغراض و مقاصد پر نظر ڈالیے، انھی کی طرح وہ بھی ان گنت ہیں اور ان سب سے کم مقام ان کا ہے جو اللہ کے نزدیک محبوب ترین ہیں۔ نماز میں بے شک ہمارا منہ قبلہ کے علاوہ کسی اور طرف نہیں ہوتا، لیکن زندگی میں تو انھی کی طرح ہمارے بہت سے قبلے ہیں جو ہماری توجہات اور وابستگیوں کا مرکز ہیں۔ زبان پر بے شک لبیک ہے، لیکن ہم نہ خود اپنے کو، نہ اپنی کسی محبوب چیز کو، اللہ کے لیے حاضر کرنے کو تیار ہیں۔ ہر حکم کی تعمیل میں ہماری اپنی کسی نہ کسی خواہش، پسند و ناپسند، محبوب ومبغوض کی قربانی دامن گیر ہوجاتی ہے، یا ہزاروں اندیشے اور خوف ہمیں چاروں طرف سے گھیر کر ہماری راہ مسدود کر دیتے ہیں۔ حج ہو یا استقبال قبلہ، بے جان مراسم عبادت نہ ہمارے قلوب کو بیدار کرتے ہیں، نہ نگاہوں میں پاکیزگی و یکسوئی پیدا کرتے ہیں، نہ عمل میںصالحیت۔ یہ نہ ہماری سوچ بدلتے ہیں، نہ شخصیت ،نہ زندگی۔

بیت اللہ کی آیات بینات میں سے یہ بھی ہے کہ ہمہ اقتدار و ہمہ اختیار حی و قیوم خدا، جو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں سے ہے سب کا بلاشرکت غیر مالک کل ہے، اور جس کی کرسی، اقتدار سب کو سمیٹے ہوئے ہے، وہ جب چاہے موت کو زندگی سے، زندگی کو موت سے، اندھیروں کو روشنی سے، روشنی کو اندھیروں سے، عزت کو ذلت سے، اور ذلت کو عزت سے، بدل دیتا ہے۔ جو اس کے ساتھ ایمان اور بندگی کا رشتہ قائم کر لے، اسے ہر اندیشے اور خوف سے، ہر حزن و غم سے، ہرحسرت و یاس سے پاک ہونا چاہیے۔

صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت ابراہیم ؑ جب حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسماعیلؑ کو مکہ میں بسانے کے لیے آئے وہاں نہ انسان کا نام و نشان تھا، نہ پانی کا، نہ زراعت کا، نہ خوردونوش کا کوئی انتظام، ایک تھیلی (جراب) کھجوروں کی، اور ایک مشکیزہ پانی کا، بس یہ کل کائنات تھی جو وہ ان کے پاس چھوڑ کر چلے۔ حضرت ہاجرہؑ نے بار بار پوچھا کہ ہمیں ایسی وادی میں چھوڑ کر آپ کہاں چلے، جہاں نہ آدم نہ آدم زاد، نہ کوئی اور چیز۔ کوئی جواب نہ پایا تو سوال کیا، کیا اس کا حکم آپ کو   اللہ نے دیا ہے؟ فرمایا، ہاں۔ یہ سن کو اطمینان و سکون اور امن کی اس جنت میں داخل ہو گئیں، جس کا باغ ان کے اندر لہلا اُٹھا۔ یہ جنت کیا تھی؟ فرمایا: اِذَنْ لَایُضیِّعُنَا (پھر تو وہ ہم کو ضائع نہ کرے گا)۔ بخاری کی ایک دوسری روایت کے مطابق، حضرت ہاجرہؑ کے پوچھنے پر ہمیں کس پر چھوڑ کر جارہے ہو، حضرت ابراہیم ؑ نے کہا، اللہ پر۔ یہ سن کر وہ پورے سکون واطمینان سے بولیں، رَضِیْتُ بِاللّٰہِ (میں اللہ پر راضی ہوں)۔

اللہ پر یقین اور اعتماد، اللہ پر بھروسا اور توکل، اللہ کے ہر فیصلے پر خوش، بندگیِ رب کی یہ کیفیت تھی کہ ایک یکہ و تنہا عورت اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ، پتھریلے بیابان میں، بھیانک اور ڈرائونی راتیں، تپتے ہوئے دن، موذی جانور، چور اور ڈاکو، سب کے باوجود، اطمینان اورامن کی کیفیت سے مالا مال تھی۔ معاش کا بندوبست بھی کھجوروں کی ایک تھیلی اور پانی کے مشکیزہ سے زائد کچھ نہ تھا۔ پھر بیت اللہ کی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں کوئی وسائل نہ تھے، کوئی اسباب نہ تھے، کوئی سہارا نہ تھا، صرف خطرات ہی خطرات تھے، وہاں خداے حی و قیوم ۴ ہزار سال سے سب کچھ  بخش رہا ہے۔ جہاں کوئی انسان نہ تھا، وہاں لاکھوں انسان دُنیا بھر سے چلے آ رہے ہیں۔ جہاں نہ پانی تھا، نہ کھانا، وہاں ہر قسم کا خوردونوش کا سامان پایا جاتا ہے۔

یہ علم ہو جانے کے بعد، پیغمبرؐ کی زبان سے کہ جس کا علم غیر مشتبہ ہے، کہ یہ خدا کا حکم ہے، کچھ مادی وسائل نہ ہونے کے باوجود، دُنیا بھرمیں یکہ و تنہا ہونے کے باوجود، ہر قسم کے سنگین اور مہیب خطرات اور اندیشوں کے سامنے ہوتے ہوئے، اطاعت و فرماں برداری کی راہ چل پڑنا ہی حکمت و دانائی کا راستہ ہے۔ یہی حکمت و دانائی راسخ ہونا چاہیے، اس میں جو چشم سر سے بیت اللہ کو دیکھے، اور پانچ وقت اس کی طرف رخ کرے۔ کیاہم اغیار کے علم و حکمت سے جھولیاں بھرنے کے بعد، اپنی اس سب سے بیش بہا متاع حکمت کو کھو نہیں بیٹھے ہیں؟

حج کے تقریباً سارے ارکان، سعی، جہد اور حرکت پر مشتمل ہیں۔ گھر سے نکلنا، سفر کرنا، بیت اللہ کے گرد طواف کرنا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا، مکہ سے نکل کر منیٰ میں ڈیرے ڈالنا، اگلے دن وہاں سے کوچ کر دینا اور عرفات میں جمع ہو جانا، مغرب ہوتے ہی عرفات سے چل دینا، رات کی چند گھڑیاں مزدلفہ میں گزار کر صبح ہی صبح منیٰ واپس پہنچ جانا پھر مکہ جا کر طواف اور سعی کرنا۔

بندگیِ رب کا خلاصہ بھی یہی ہے۔ اللہ کے ہر حکم اور پکار پر لبیک کہنا، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے کھڑے ہو جانا، جو کچھ بھی میسر ہو اور جس حالت میں بھی ہو، تعمیل حکم کے لیے نکل پڑنا، اپنی طرف سے کوشش اور جہد میں کوئی کسر نہ چھوڑنا، وسائل زیادہ سے زیادہ جمع کرنا اور ہر ممکن بہتر سے بہتر تدبیر کرنا مگر بھروسا اور نظر صرف تدبیرِ رب پر رکھنا، اور جو کچھ کرنا صرف رب کے لیے کرنا۔

حج میں سارے اعمال،ان صفات کے راسخ کرنے ہی کا کام نہیں کرتے، بلکہ ان اعمال میں حضرت ابراہیم ؑ کا اُسوہ کامل بھی برابر تازہ کرتے ہیں، اور اسے نگاہوں کے سامنے لاتے ہیں۔ پتھر کے ایک معمولی سے گھر کو یہ مقام، قبولیت، محبوبیت اور مرجعیت حاصل ہوئی تو اس میں اس مشن کا بھی دخل تھا جس کے لیے انھوں نے یہ گھر تعمیر کیا اور یہاں اپنی ذریت کو بسایا، اور اخلاص نیت و عمل کو بھی۔ مکان بنوانے والے نے آغاز ہی میں ہدایت کر دی تھی کہ ’’میری بندگی میں کسی کو شریک نہ بنانا‘‘(الحج)۔ اور میرے گھر کو طواف و اعتکاف اور رکوع و سجود کے لیے پاک و آباد رکھنا (البقرہ)۔ انھوں نے اپنے عزائم اور تمنائوں کا اظہار بھی واشگاف الفاظ میں فرمایا تھا کہ ’’ہماری ذریت بھی تیری فرماں بردار رہے‘‘۔ اس گھر کو بناتے ہوئے جو دُعا لبوں پر جاری تھی وہ صرف رب کے نزدیک قبولیت کی تمنائوں پر مشتمل تھی۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ط اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُo (البقرہ۲:۱۲۷)، اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

اس کے علاوہ نہ کسی کی خوشنودی مطلوب تھی، نہ کسی کے صلہ و انعام پر نظر تھی۔

اس گھر کی آیات میں ایک روشن پیغام سعی کے اس عمل کے اندر بھی ہے جو صفا اور مروہ کے درمیان کی جاتی ہے۔ یہ یادگار ہے اس بھاگ دوڑ کی جو حضرت اسماعیلؑ کو پیاس سے جاں بلب دیکھ کر حضرت ہاجرہؑ نے صفا اور مروہ کے درمیان کی۔ کبھی صفا پر چڑھتیں، کبھی بھاگ کر جاتیں اور مروہ پر چڑھتیں۔ سعی کا پیغام یہ بھی ہے کہ اللہ کو ہم سے ارادے کے ساتھ ساتھ سعی بھی مطلوب ہے، عمل اور کوشش بھی مطلوب ہے، اور اسی پر وہ نتائج مرتب فرماتا ہے۔ ’’ہر انسان کے لیے وہی ہے جس کے لیے وہ سعی کرے۔‘‘(النجم)، اور ’’جو آخرت کا ارادہ کرے اور اس کے لیے سعی کرے جیسا کہ سعی کرنے کا حق ہے… اس کی کوشش کی پوری پوری قدر دانی کی جائے گی‘‘۔ سعی کا پیغام یہ بھی ہے کہ جب بندہ اپنی بندگی کو اللہ کے لیے خالص کرے، اور حتی المقدور کوشش میں اپنے کو لگا دے، تو اس کا رب اک پتھریلی وادی میں شیر خوار بچے کی ایڑیوں تلے بھی کبھی ختم نہ ہونے والا چشمہ جاری کر دیتا ہے۔

اُمت مسلمہ کی کشتی آج جس قدر بھنور میں پھنسی ہوئی ہے، کیا وہ اس سے اپنے ہمہ اقتدار و اختیار رب پر ابراہیم ؑو ہاجرہؑ کی طرح کلی بھروسا کیے بغیر، اس کی فرماں برداری کی راہ میں ان کی طرح اپنا سب کچھ حاضر کیے بغیر، اور اس راہ میں جان و مال سے سعی وجہد کیے بغیر، نکلنے کی کوئی راہ پا سکتی ہے؟ کیا جس کی نظر کے سامنے ہر روز پانچ مرتبہ بیت اللہ کی آیات بینات کو سامنے لانے کا اہتمام کیا گیاہو، اس کی نفسیات میں ان سوالوں کی کوئی گنجایش ہو سکتی ہے کہ ایسی خراب قوم کیسے سدھرے گی، ایسے تاریک حالات کیسے بدلیں گے، ایسے بنجر اور سنگلاخ معاشروں میں نیکی کے چشمے کیسے پھوٹیں گے، ایسے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں روشنی کی کرن کیسے اور کہاں سے طلوع ہو گی، جبر واستبداد کی چٹانوں میں سے راستہ کیسے نکلے گا، حقیر کوششیں کیسے رنگ لائیں گی، زبردست طاقتوں کامقابلہ کیسے ہوگا؟ اگر ایک عورت کا یہ یقین کہ اِذَنْ لَا یُضَیِّعُنَا (پھر اللہ ہم کو ضائع نہ کرے گا)، او ریہ اعلان کہ رَضِیْتُ بِاللّٰہِ  (میں اللہ سے راضی ہوں)، اور اس کی صفا اور مروہ کے درمیان سعی و جہد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ پتھروں کے ایک معمولی گھر کو یہ مقام عطا کر سکتا ہے، اور سنگلاخ زمین سے زم زم کا چشمہ رواں کر سکتا ہے، توآج کی دُنیا میں دین کو غلبہ کیوں حاصل نہیں ہوسکتا، اور ظلم وفساد سے بھری ہوئی دُنیا میں نیکی کا چشمہ کیوں نہیں پھوٹ سکتا؟

دینے والا عاجز و درماندہ نہیں، نہ وہ اُونگھ اور نیند کا شکار ہوتا ہے، لینے والے ہی عاجزودرماندہ ہو گئے ہیں، اپنے مقاصد سے اور اپنی قوت و سربلندی کے اصل خزانوں سے غافل ہوکر نیند میںمدہوش ہیں۔ سعی و عمل اور اخلاص و وفا کی جو دُنیا ان سے مطلوب ہے اس کوانھوں نے اپنے ارادہ و اختیار سے باہر سمجھ کر رکھا ہے۔ انسانیت ہدایت کے لیے جاں بلب ہے، فساد کے بیابان میں زیر زمین امن کا چشمہ موجود ہے، مگر یہ دور اپنے ابراہیم ؑکا منتظرہے۔

حج کا دن تکمیل دین اور اتمام نعمت کی بشارت کا دن بھی ہے۔ اس سے اگلے دن ہی ساری دُنیا کے مسلمان عیدالاضحی کا جشن مناتے ہیں، اور اللہ کے حضور قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ کیا ان کے درمیان ربط کا ادراک بہت مشکل ہے۔ نزول قرآن کے آغاز کے دن ، ضبطِ نفس اور تقویٰ، تلاوت قرآن اور قیام اللیل کے ذریعے قربِ الٰہی کے حصول کے لیے، وقف کیے گئے۔ تکمیل دین اور اتمام نعمت کے دن، قربانی اور حب ِالٰہی کے حصول کے لیے مختص کیے گئے۔

تکمیل و اتمام بغیر قربانی کے ممکن نہیں، اور قربانی بغیر محبت کے ممکن نہیں۔ اسی لیے حج کے مناسک تمام تر عشق و محبت پر مشتمل ہیں۔ شاہ عبدالعزیزلکھتے ہیں:

حضرت ابراہیم ؑکو حکم دیا گیا کہ سال میں ایک دفعہ اپنے کو سرگشتہ وشیدابنا کر، دیوانوں کی طرح اور عشق بازوں کا وتیرا اختیار کرکے، محبوب کے گھر کے گرد ننگے پائوں، اُلجھے ہوئے بال، پریشان حال، گرد میں اٹے ہوئے، سرزمین حجاز میں پہنچیں، اور وہاں پہنچ کر کبھی پہاڑ پر، کبھی زمین پر، محبوب کے گھر کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوں… اس خانۂ تجلیات کے اردگرد چکر لگائیں، اور اس کے گوشوں کو چومیں چاٹیں۔

اسی محبت کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑمیں یہ استعداد پیدا ہوئی کہ وہ ہر محبوب چیز کو اس کے لیے قربان کر دیں جو ایمان لاتے ہی سب سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا ہے: وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ۔ اور جب محبت کی آخری آزمایش آئی، بیٹے کو قربان کر دینے کے لیے کہا گیا، تواُنھوں نے بیٹے کے گلے پر بھی چھری رکھ دی۔ جب وہ محبت کی ان ساری آزمایشوں میں پورے اترے (فَاَتَمَّہُنَّ) تو اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ نعمت بھی تمام کر دی جو دین کی نعمت کے اتمام کے ساتھ لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی ہے۔

وَاِذِ ابْتَلٰٓی اِبْرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ط قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًاط (البقرہ۲:۱۲۴) یاد کرو کہ جب ابراہیم ؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اُتر گیا، تو اُس نے کہا: ’’میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔

جو ایک مکمل دین کے حامل ہونے کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتے، ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جب تک وہ محبت کے اس چیلنج کا جواب دینے کے لیے تیار نہ ہوں گے کہ ’’کیا کوئی بھی ایسی چیزایسی ہے جو اللہ، اس کے رسولؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہے؟‘‘ اس وقت تک ان کے سروں پر سے امرالٰہی ٹل نہیں سکتا، اور وہ وعدۂ الٰہی کے مستحق ہونہیںسکتے    ؎

صدق خلیل بھی ہے عشق ، صبر حسین بھی ہے عشق

معرکہ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق

ذی الحجہ کا پہلا عشرہ عبادات اور اللہ تعالیٰ کی طرف انابت کے حوالہ سے انتہائی اہمیت رکھتاہے۔ان ایام میں جہاں ایک طرف حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے والے فقر کے لباس احرام میں ملبوس ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لبیک اللھم لبیک کی صدائیں لگاتے ہیں اور اپنے ایمان کو جلا بخشتے ہیں۔ وہیں دوسری طرف اس فریضے کی ادائیگی نہ کرنے والے اہل ایمان کے لیے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ترغیب و تحریض احادیث مطہرہ میں ہمیں نظر آتی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

مامن ایام العمل الصالح فیھا احب الی اللّٰہ من ھٰذہ الایام …یعنی الایام العشر……قالوا: یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم والاالجہاد فی سبیل اللّٰہ؟؟ قال: ولاالجہاد فی سبیل اللّٰہ الا رجل خرج بنفسہ ومالہ فلم یرجع من ذٰلک بشی ئٍ (صحیح بخاری) اللہ تعالیٰ کے نزدیک نیک اعمال کے حوالہ سے ان دنوں سے زیادہ پسندیدہ دن اور کوئی نہیں۔ (اس سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں)۔ صحابہ کرام ؓنے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ ۔ کیا جہاد بھی اس سے بڑھ کر نہیں ہے ؟؟

آپؐ نے فرمایا :جہاد بھی اس سے بڑھ کر نہیں ہے الا یہ کہ کوئی شخص اپنی جان اور اپنا مال لے کراللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلے اور واپس کچھ نہ لے کر آئے ۔ (یعنی شہادت بھی نصیب ہو اور مال بھی خرچ ہوجائے۔)

ذی الحجہ کے ان دس دنوں کی فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہے اور احادیث مطہرہ میں ان دنوں میں عبادات کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن بکثرت لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتے ہیں ۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طلب گار ہوناچاہیے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اعظم الایام عنداللہ یوم النحر ثم یوم القر(احمد و ابودائود من عبداللہ بن قرطؓ) ’’اللہ تعالیٰ کے ہاں عظمت والا یوم النحر (قربانی کا دن) اور یوم عرفہ ہے۔ آپؐ  نے اس دن کی سب سے بہترین دعا اسے قرار دیا ہے: لاالہ الا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر ، ’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کاکوئی شریک نہیں اسی کے لیے بادشاہت اور تعریف ہے۔ اور وہی ہرچیز پر قادر ہے‘‘۔

یوم عرفہ کا روزہ

غیر حاجی کے لیے عرفہ کاروزہ رکھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اور اس کا عظیم اجر وثواب ذکر کیاگیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزہ کے بارے میں پوچھاگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :یکفرالسنۃ الماضیۃ والباقیۃ  (رواہ مسلم عن ابی قتادہ ؓ)’’یہ روزہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے سال کاکفارہ بن جائے گا‘‘۔

لیکن حاجی کے لیے افضل اور مستحب یہ ہے کہ وہ یوم عرفہ کاروزہ نہ رکھے تاکہ وہ حج کے موقع پر ذکر دعا اور دیگر عبادات کا حق ادا کرسکے ۔ اور اسے کمزوری ونقاہت لاحق نہ ہو ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اُمت کی سہولت کے پیش نظر خود بھی یوم عرفہ کاروزہ نہیں رکھا۔

حضرت ام فضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے پاس چند لوگ آئے اور عرفہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزہ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اختلاف کرنے لگے۔ بعض نے کہاکہ آپؐ  روزے سے ہیں اور بعض نے کہاکہ آپؐ  روزہ سے نہیں ہیں میں نے (اصل حقیقت معلوم کرنے کے لیے ) آپؐ  کی خدمت میں دودھ کاپیالہ بھیجا۔

آپؐ  اپنے اونٹ پر سوار وقوف فرما رہے تھے ۔ آپؐ نے دودھ پی لیا (بخاری ومسلم)۔عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر اور دعائیں مسنون اور باعث اجر و ثواب ہیں۔

یوم النحر ……قربانی کادن

حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے والے جہاں دیگر مناسک حج کی ادایگی کرکے    اللہ تعالیٰ کا قرب اختیار کرتے ہیں وہیں غیر حاجی عام اہل ایمان کے لیے بھی اُن کی عبادت ’نحر ‘ قربانی کے وقت کی فضیلت ہے ۔ اور جانوروں کی قربانی کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کاذریعہ بتایا گیاہے اس اہم عبادت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور خشیت وللہیت ہے۔ یہ بات قابل صد افسوس ہے کہ آج جہاں دیگر عبادات بھی تدریجاً ایک رسم و روایت کی صورت اختیار کرتی جارہی ہیں وہیں قربانی کو بھی نام و نمود اور نمائش کاذریعہ بنادیاگیاہے۔

قربانی کی اس اہم عبادت میں شریعت مطہرۃ کے پیش نظر یہ ہے کہ جانور کی قربانی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب اختیار کیاجائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُھَا وَ لَا دِمَآؤُھَا وَ لٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ (الحج۲۲:۳۷)اللہ تعالیٰ تک (قربانی کے جانور وں کا )نہ تو گوشت پہنچتاہے اور نہ ہی خون بلکہ اللہ تعالیٰ تک تمہارا تقویٰ پہنچتاہے۔

قربانی کے ذریعے ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ اعزا و اقربا کے لیے صدقہ و انفاق کی کیفیت ہو اور باہم محبت ومؤدت کے تعلقات کو بڑھایاجائے۔ قربانی کاگوشت خود بھی کھانا مستحب ہے۔ قربانی کے ذریعے شعائر اسلام کااظہار اور اس کی عظمت واضح ہوتی ہے ۔ قربان کا یہ عمل حاجیوں کے ساتھ مشابہت کاعمل ہے جس میں ایک گونہ ترغیب اور تشویق کاپہلو بھی غالب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قربانی کرنے والے کے لیے حاجیوں سے مشابہت کے پیش نظر اپنے بال نہ منڈوانا اور ناخن نہ کتروانا مستحب ہے۔

ہم جس دنیا میں جی رہے ہیں اس کی دو صورتیں ہیں: ایک ظاہری اور دوسری حقیقی۔ دنیا کی حقیقت جاے عبرت اور سراے فانی کی ہے۔ یہ محنت اور جدوجہد کا میدان ہے نہ کہ عیش و آرام کا۔ جس نے اس حقیقت کو جانا، وہ اس دنیا کی آسایش اور فارغ البالی میں مدہوش نہیں رہتا اور نہ دنیا کے مصائب پر غم ہی کا شکار ہوتا ہے۔ اس لیے کہ یہ وقتی ہیں، دائمی نہیں، متاع قلیل بھی ہیں اور متاعِ غرور [دھوکا] بھی   ؎

کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا

فریب سود و زیاں! لا الٰہ الا اللہ

(اقبالؔ)

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو دارالامتحان بنایا ہے اور آخرت کو دارالسلام۔ دنیا کی آزمایش کو آخرت کی جزا و سزا سے جوڑ دیا ہے۔ اللہ جل شانہٗ کی سنت یہ ہے کہ وہ بندے سے کچھ لیتا ہے تاکہ اس کو آخرت میں اجرعظیم عطا کرے، اور بندے کو چند چیزوں میں آزماتا ہے تاکہ اس کو  بلندیِ درجات کا وسیلہ بہم پہنچائے۔امام شافعی سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ سے بندہ آزمایش کی دعا کرے یا راحت کی، تو آپ نے فرمایا: آزمایش سے گزرے بغیر حقیقی راحت نصیب نہیں ہوسکتی۔

بندئہ مومن تین مراحل سے گزرتا ہے۔

  • پہلا مرحلہ یہ ہے کہ اس کے عمل میں کوتاہی اور کمی دَر آتی ہے اور وہ اپنے فرائض و واجبات سے غفلت برتتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کو کچھ مصائب میں مبتلا کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹ آئے۔
  • دوسری حالت میں مومن حق کی راہ پر استقامت سے گامزن رہتا ہے۔ پھر بھی اسے کچھ مصائب و آلام گھیر لیتے ہیں تاکہ اس کو آزمایا جائے۔
  • تیسری کیفیت یہ ہے کہ مومن کی زندگی بڑی راحت اور شان و شوکت سے بسر ہوتی ہے۔ گویا ہم تادیب، امتحان اور نوازش کے مراحل سے گزرتے ہیں۔

یہ تینوں مراحل علیحدہ علیحدہ بھی پیش آسکتے ہیں اور ساتھ ساتھ بھی۔ ہرمومن کے پیش نظر یہ بات رہنی چاہیے کہ آزمایش ناگزیر ہے۔ کامیابی یہ ہے کہ آزمایش میں پورے اُتریں اور قضاے الٰہی پر راضی بہ رضا رہیں۔ یہ ایمان کے اعلیٰ مراتب میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو پسند کرتے ہیں تو اُسے آزماتے ہیں اور جب بندہ آزمایش میں صبر کا مظاہرہ کرتا ہے، تو اُسے مقربین میں شامل کرلیتے ہیں۔ قرآنِ مجید سے واضح ہوتا ہے کہ جس شخص کی آزمایش نہیں ہوتی، وہ منزل سے ناآشنا اُونٹ کی طرح بھٹکتا رہتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’پھر جب انھوں نے اس نصیحت کو جو انھیں کی گئی تھی بھلا دیا، تو ہم نے ہرطرح کی خوش حالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ ان بخششوں میں جو انھیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے، تو اچانک ہم نے انھیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ  وہ ہرخیر سے مایوس تھے‘‘۔ (الانعام ۶:۴۴)

ہم سب آزمایش اور امتحان سے گزر رہے ہیں۔ اس امتحان کی مدت انسان کی عمر ہے اور امتحان گاہ اس کا مستقر۔ دولت و ثروت، زیب و زینت، گھر، جایداد اور ہروہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے، اس میں ہمارا امتحان لیا جا رہا ہے۔ اس امتحان کے دو پرچے ہیں: ایک پرچہ   وہ ہے جس کا مضمون ہمیں حاصل شدہ نعمتیں ہیں اور دوسرے پرچے کا مضمون وہ نعمتیں ہیں جن سے ہم دنیا میں محروم ہیں۔ اولادِ نرینہ کا نہ ہونا آزمایش ہے۔ لاولد ہونا آزمایش ہے۔ کثرتِ اولاد آزمایش ہے۔ اولاد کے فوت ہونے میں آزمایش ہے۔ دولت مند ہونا آزمایش ہے اور مفلسی اور  فقر میں بھی آزمایش ہے۔ جاہ و جلال اور منصب ِ عالیہ کا حاصل ہونا ایک آزمایش ہے اور گم نام ہونے میں بھی آزمایش ہے۔ ہرچیز جو اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے اور جو نہیں دی، ان سب میں بھی آزمایش ہے۔ نبی اکرمؐ نے کیا خوب دُعا سکھائی ہے: اللّٰھُمَّ مَا رَزَقْتَنِی مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْہُ قُوَّۃً لِیْ فِیْمَا تُحِبُّ ، اللّٰھُمَّ وَمَا زَوَیْتَ عَنِّی مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْہُ فَرَاغًا لِی فِیْمَا تُحِبُّ ’’خدایا! جو کچھ تو نے مجھے میری پسندیدہ چیزوں میں سے دیا ہے اسے اپنے پسندیدہ کاموں میں میرا مددگاربنادے۔ خدایا! جو کچھ تو نے میری پسندیدہ چیزوں میں سے روک رکھا ہے اُسے تو میرے حق میں ان چیزوں کے لیے موجب ِفراغ بنا جو تجھے پسند ہیں‘‘۔ (ترمذی، کتاب الدعوات، حدیث ۳۸۲۹)

دنیا کی زینت میں آزمایش

یہ دنیا بہت حسین و مرغوب ہے۔ یہاں سبزہ زار ہیں۔ مرغوبات نفس، عورتیں، پُرآسایش  کوٹھیاں ہیں اور مال و اسباب ہیں۔ موٹرکاریں، دل چسپ سفر اور سیاحت کے مواقع ہیں، عمدہ کھانے، پُرتعیش محفلیں اور جاہ و منصب ہے۔سورئہ کہف میں ہے: ’’واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سروسامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ اِن لوگوں کو آزمائیں، اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے‘‘۔ (الکھف ۱۸:۷)

اللہ تعالیٰ نے آپ کو دولت دی اور ایمان والا بنایا۔ لیکن وہ فقرا، جو آپ کے اطراف میں رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے یہ شکوہ کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ یارب آپ نے ہمارے حصے کی دولت فلاں کو عطا کردی اور اسے غنی کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زورقلم عطا کیا تاکہ حق کی تائید اور باطل کی تردید کرے۔ کیا آپ نے قلم کا حق ادا کردیا؟۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ایک اعلیٰ منصب عطا کیا۔ تو کیا آپ نے اس منصب کو مظلوم کی مدد کرنے اور ظالم کا زور توڑنے کے لیے استعمال کیا؟ اللہ تعالیٰ نے آپ کو طاقت ِگفتار عطا کی، تو کیا آپ اس طاقت کو حق کی ترویج اور باطل کی تردید کے لیے کام میں لائے؟

ہم دارالامتحان میں ہیں۔ ایک لمحہ بھی ہماری زندگی کا ایسا نہیں گزرتا جس گھڑی ہم آزمائے نہ جارہے ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ مال و دولت، زرعی اور صنعتی پیداوار، زیب و زینت، اموالِ تجارت وغیرہ سے ہم آزمائے جارہے ہیں۔ صحت و مرض کی بنیاد پر، طاقت اور کمزوری کے پیمانے سے، خوش حالی اور تنگ دستی کے حالات سے ہمیں آزمایا جا رہا ہے۔

جو صحت مند ہیں ان کی آزمایش صحت میں ہے۔ کیا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اپنا وقت گزارا یا معصیت کا ارتکاب کرتے رہے؟ قوت و طاقت والوں کی آزمایش یوں ہوتی ہے کہ آیا انھوں نے اپنی قوت و طاقت حق کے لیے استعمال کی یا باطل کی خاطر۔ تنگ دستی اور کمزوری میں آزمایش یہ ہے کہ آیا ہم مایوس ہوگئے اور حالات سے سمجھوتہ کرلیا یا اللہ کی نصرت سے پُرامید رہے۔ خوش حال لوگوں کا امتحان یہ ہے کہ وہ اللہ کے شکرگزار رہتے ہیں یا نعمتوں کے ملنے کے بعد خدا کو بھول جاتے ہیں۔ نبی کریمؐ کا فرمان ہے: ’’اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے تمام تعریفیں ہیں کہ  جس نے میری روح کو لوٹایا، مجھے صحت عطا کی اور اپنے ذکر کی توفیق بخشی‘‘۔ گویا زینت حیات میں، نفس میں اور مال میں ہمارا امتحان ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’مسلمانو!تمھیں مال اور جان، دونوں کی آزمایشیں پیش آکر رہیں گی‘‘۔(اٰل عمرٰن ۳:۱۸۶)

حق و باطل کا وجود

اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے یہ طے کیا ہے کہ حق و باطل کی جنگ اس کرئہ ارض پر ہرزمانے میں جاری رہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات واجب الوجود ہے اور باقی سب ممکن الوجود۔ یہ ممکن تھا کہ صرف اہلِ ایمان کو اس زمین پر بسایا جاتا۔ حق و باطل کے درمیان کوئی جنگ نہ ہوتی، کوئی فتنہ نہ ہوتا، نہ بدرواُحد اور خندق کے معرکے ہوتے لیکن مشیت الٰہی یہ ہے کہ حق و باطل کے گروہ ہرزمانے میں رہیں    ؎

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تاامروز

چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی

(اقبالؔ)

شاید اس کی علّت یہ ہے کہ حق کی قوت باطل سے نبرد آزمائی ہی میں جِلا پاتی ہے۔ اہلِ حق اسی کش مکش میں قربانی دے کر اور صبرآزمائی کا مظاہرہ کرکے جنت کے حق دار ہوسکتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور ہم ضرور تمھیں خوف وخطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمھاری آزمایش کریں گے۔ اِن حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں کہ: ’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے‘‘، انھیں خوش خبری دے دو۔ اُن پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رو ہیں‘‘۔(البقرہ ۲:۱۵۵-۱۵۷)

آزمایش کی اقسام

امانت میں آزمایش:

مال و دولت، جاہ و منصب، جایداد وغیرہ کے ذریعے ایک طرف ہمارا امتحان ہورہا ہے تو دوسری طرف ہمارا اپنا نفس، اولاد و رشتہ دار، صحت و مرض، حیات و موت، کامیابی و ناکامی، عزیز و اقارب کی موت ہمارا امتحان لے رہی ہے کہ ہم کیا رویہ اختیار کریں؟ کیا ہم صبر کے امتحان میں پورے اُترتے ہیں؟ گویا ہم دارالامتحان میں ہیں۔

امانتوں کی آزمایش یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ ہمارا امتحان ہے کہ آیا ہم اس کے وفادار بندے بنے رہتے ہیں یا نہیں؟ ہم نماز کو پورے خشوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں یا نہیں؟ عبادات محض رسم کی طرح ادا کرتے رہے یا ان کو خوش دلی کے ساتھ  ادا کرتے رہے؟ ان دونوں کیفیات میں بڑا فرق ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

میں نے جِنّ اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے نہیں پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ (الذاریات۵۱: ۵۶)

[اللہ]جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔ (المُلک۶۷:۲)

امام قرطبیؒ لکھتے ہیں: اچھے عمل سے مراد یہ ہے کہ کون اللہ کے محرمات سے اپنے آپ کو روکے رکھتا ہے؟ کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مسابقت کرتا ہے؟ کون کسی عزیز کی موت پر صبر کرتا ہے اور حیات پر شکرگزار رہتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے موت اور حشر کو جزا کے لیے اور حیات کو آزمایش کے لیے بنایا ہے، اور مومن کے سامنے یہ تصور واضح ہوتا ہے۔

شخصی آزمایش:

کبھی کبھی انسان کے لیے راحت و آسایش اور مال و دولت کی فراوانی یا تنگ دستی میں خصوصی آزمایش ہوتی ہے۔ دوسری طرف عمومی آزمایشیں مہنگائی، قہر، جبرواستبداد، قدرتی آفات وغیرہ کی شکل میں ہوتی ہیں: ’’اور ہم ضرور تمھیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمھاری آزمایش کریں گے‘‘۔(البقرہ۲:۱۵۵)

شخصی آزمایش کسی کی دولت میں ہوتی ہے تو کسی کی تنگ دستی میں، کسی کی اولاد کے ذریعے تو کسی کو لاولد رہنے میں، کسی کے ہاں صرف اولادِ نرینہ ہے اور کسی کے ہاں صرف لڑکیاں۔ کوئی کثرتِ عیال کے ساتھ تنگ دست ہے، کوئی کثرتِ اولاد بھی رکھتا ہے اور دولت بھی۔ بعض ایسے رئیس ہیں جن کی کوئی اولاد نہیں۔ جو حالت تمھاری دنیا میں ہے وہ تمھارے خصوصی امتحان کا پرچہ اور مضمون ہے۔ دانا وہ ہے جو اپنے شخصی امتحان میں کامیاب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ تقدیر کے شر اور ناپسندیدہ نتیجے پر رضاے الٰہی کو پانے کی کوشش کرنا ایمان و یقین کا اعلیٰ درجہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلند درجے دیے تاکہ جو کچھ تم کودیا ہے اس میں تمھاری آزمایش کرے۔ بے شک تمھارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے‘‘۔(الانعام ۶:۱۶۵)

اجتماعی زندگی میں آزمایش

آپ کسی کام پر مامور ہیں۔ آپ کے اُوپر افسرانِ بالا ہیں۔ آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان سب لوگوں میں آپ قابلیت کے اعتبار سے بہتر ہیں۔ یہاں ادنیٰ منصب ملنے میں آپ کی آزمایش ہورہی ہے۔ بعض اوقات نرسنگ سٹاف بعض ڈاکٹروں سے بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔ کہیں ایک عام فوجی اعلیٰ افسر سے زیادہ قابل ہوتا ہے ۔ کچھ سرِراہ معمولی تجارت کرنے والے غریب کسی بڑی کمپنی کے اعلیٰ افسر سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔

انسان کو چاہیے کہ وہ ممکنہ اسباب اختیار کرے اور پھر اللہ پر توکل اس طرح کرے جیسے اسباب کی کوئی قدر ہی نہیں۔ کسی کام کے لیے مقدور بھر کوشش کرنا اور مطلوبہ نتیجہ برآمد نہ ہونے پر اللہ سے راضی رہنا تقدیر پر ایمان کا مظاہرہ ہے۔ کسی کا یہ کہنا کہ میں امتحان میں ناکام ہوا کیوںکہ  اللہ تعالیٰ مجھے آزمانا چاہتے ہیں، سراسر جھوٹ ہے۔ اگر وہ فی الواقع امتحان کی تیاری سے غفلت برتتا رہا تو نتیجہ ناکامی کی صورت ہی میں نکلنا تھا۔ شخصی کوتاہی اور بے عملی کو تقدیرکے لکھے سے جوڑنا دین کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے     ؎

تجاہل تساہل تغافل کیا

پڑا کام مشکل توکّل کیا

(میرؔ)

آپ نے کوئی زہریلی دوا بے احتیاطی سے گھر میں رکھ دی، جو بچوں کے ہاتھ لگ گئی۔ اب اس دوا کو پی کر کوئی بچہ ہلاک ہوجاتا ہے اور لوگ یہ سمجھیں کہ یہ تقدیر کا لکھا ہوا ہے، یہ سراسر عقیدے کی غلط تعبیر ہے۔ احتیاط کا تقاضا تھا کہ دوا کو بچوں سے دُور رکھا جاتا۔ یہ ایک اہم کام تھا جس سے غفلت برتی گئی، جو ایک خسارے کا سبب بنی۔ ایسی بے شمار مثالیں ہیں جہاں انسان ضروری احتیاط کو ملحوظ نہیں رکھتا اور اس کا خمیازہ بھگتتا ہے۔

ایک اور مثال دیکھیں۔ ایک مریض بڑے جان لیوا مرحلے میں ہے۔ کسی ڈاکٹر کے پاس لایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کسی سے گفتگو میں مصروف ہے۔ مریض کو انتظار کرایا جاتا ہے اور وہ اس دوران انتقال کرجاتا ہے۔ فوری طبی امداد سے اگر مریض کو افاقہ ہونے کا امکان ہوتا تو ڈاکٹر پر قتل کا مقدمہ دائر کیا جانا چاہیے، کیوں کہ اس نے فوری طبی امداد فراہم نہ کی۔

ان مثالوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ تمام ممکنہ اقدامات اور احتیاطی تدابیر اختیار کرلینے کے بعد چاہے مطلوبہ نتیجہ برآمد ہو یا نہ ہو، ہردو صورت میں راضی بہ رضا رہنا تقدیر ہے۔ اور اگر اس کے برخلاف معاملہ ہو تو اس نتیجے کو اپنی کوتاہی کی سزا سمجھنا چاہیے    ؎

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

(اقبالؔ)

حضوؐر نے کتنی خوب صورتی سے اس پہلو کو اُجاگر کیا ہے۔حضرت عوف بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان کسی معاملے کا فیصلہ کیا، تو جو شخص مقدمہ ہار گیا جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹا تو اُس نے کہا: مجھے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ عجز اور بے وقوفی پر ملامت کرتا ہے بلکہ تمھارے لیے ہوش مندی اور ہوشیاری لازم ہے۔ پھر اگر کسی وجہ سے تم ہار جائو تو کہو کہ مجھے اللہ کافی ہے اور  وہ بہترین کارساز ہے (ابوداؤد)۔ فی الواقع ہم حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْل(ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے) کہنے میں اسی وقت حق بجانب ہوں گے جب ہم نے سارے اسباب اور احتیاطی تدابیر کو اختیار کیا اور مشیت ِ الٰہی کے آگے سرتسلیم خم کیا۔

اگر آپ اصولِ تجارت، بازار کے اُتارچڑھائو اور مال کی کھپت کا اندازہ قائم کیے بغیر تجارت میں مال لگاتے ہیں اور خسارہ ہوجاتا ہے۔ اب یہ کہنا کہ تقدیر میں خسارہ ہی لکھا ہوا تھا تو یہ صحیح نہیں۔ یہ اشد ضروری ہے کہ سارے اسباب و تدابیر کو اختیار کیا جائے، اور پھر اللہ پر توکلّ کریں۔ اس طرح کہ اسباب و تدابیر کی کوئی حیثیت نہیں۔ اسی توکّل کی آج اُمت مسلمہ کو بڑی سخت ضرورت ہے۔مسلمان کوتاہ عملی کا شکار ہیں، اسباب و تدابیر کو اچھی طرح اختیار نہیں کرتے بس اللہ کی مدد اور معجزات کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔

شراکت داری میں آزمایش

قرآنِ مجید میں مذکورہ درج ذیل واقعے پر غور کریں کہ شراکت داری کے معاملے میں کس طرح آزمایشیں ہوتی ہیں اور کیا رویہ اپنانا چاہیے۔ قصہ یوں ہے: ’’تمھیں کچھ خبر نہیں پہنچی ہے۔ اُن مقدمے والوں کی جو دیوار چڑھ کر اُس کے بالاخانے میں گھس آئے تھے؟ جب وہ دائود ؑ کے پاس پہنچے تو وہ انھیں دیکھ کر گھبرا گیا۔ انھوں نے کہا: ’’ڈریے نہیں، ہم دو فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیجیے، بے انصافی نہ کیجیے اور ہمیں راہِ راست بتایئے۔ یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ۹۹دُنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دُنبی بھی میرے حوالے کردے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا‘‘۔ دائود ؑ نے جواب دیا: ’’اِس شخص نے اپنی دُنبیوں کے ساتھ تیری دُنبی ملا لینے کا مطالبہ کر کے یقینا تجھ پر ظلم کیا، اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں۔ بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عملِ صالح کرتے ہیں، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں‘‘۔ (ص ٓ۳۸:۲۱-۲۴)

اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ھے زندگی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو مکتب، شفاخانہ، جامعہ اور دیگر اُمور میں ذمہ دار بنایا۔ اس میں آپ کا امتحان یہ ہے کہ کام میں عدل کرتے ہیں یا ظلم کرتے ہیں؟ اپنے اقربا و اعزہ کا خیال کرتے ہیں یا عدل و انصاف اور اصولوں کو ترجیح دیتے ہیں؟ ایک مدرسے کے استاد کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو جو دیگر طلبہ کے ساتھ پڑھ رہا ہے نااہل ہونے کے باوجود امتیازی حیثیت دیتا ہے یا قابل طلبہ کو امتیازی کامیابی دیتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلند درجے دیے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمھاری آزمایش کرے۔ بے شک تمھارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ (الانعام ۶:۱۶۵)

اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ انسان کو سخت کوشی میں مبتلا کرے تاکہ انسان کی حقیقت آشکار ہوجائے اور جو منافق ہے اس کا پردہ فاش ہوجائے۔ فرمایا: ’’جب یہ اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمھارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کر رہے ہیں۔ اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے۔ وہ ان کی رسّی دراز کیے جاتا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں‘‘ (البقرہ ۲:۱۴-۱۵)۔ مزید فرمایا:’’بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے‘‘۔ (القیامۃ۷۵:۱۴-۱۵)

کہا جاتا ہے کہ چند لوگوں کو ہروقت بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ تمام لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بے وقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن تمام لوگوں کو ہروقت بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ اس پر یہ اضافہ کرلینا چاہیے کہ انسان کا اپنے رب کو اور اپنے آپ کو ایک لمحے کے لیے بھی دھوکا دینا ناممکن ہے۔

مومن آخرت کا طلب گار ھوتا ھے!

اب ہمارے دشمنوں کے احوال پر غور کریں۔ یہ بڑے طاقت ور اور سخت جان ہیں۔ شان و شوکت سے رہتے ہیں۔ ہر طرح کے اسلحے ان کے پاس ہیں۔ سائنس اور دیگر عصری علوم میں ماہر ہیں، بہت سے قدرتی وسائل انھیں حاصل ہیں اور ان کے مقابلے میں مسلمان اس کیفیت سے گزر رہے ہیں    ؎

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر

برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر

(اقبالؔ)

یہ سوال ذہنوں میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دشمنانِ اسلام کو زلزلوں سے کیوں نہیں ہلاک کردیتا؟ قرآن اس کا جواب دیتا ہے: ’’اللہ چاہتا تو خود ہی اُن (کافروں) سے نمٹ لیتا مگر    (یہ طریقہ اس نے اس لیے اختیار کیا ہے) تاکہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے‘‘۔(محمد۴۷:۴)

اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہمیں اجرآخرت سے نوازے۔ ہمارے لیے جہادوعمل کی راہیں ہموار کی گئی ہیں، تاکہ ہم کوشش پیہم کی جزا دیکھ لیں حالانکہ یہ بات عین ممکن تھی کہ اللہ تعالیٰ سارے اعداے اسلام کو ایک آن میں ہلاک کردے۔ فرمایا:’’ اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانوں اور شیطان جنوں کو ہرنبی کا دشمن بنایا ہے، جو ایک دوسرے پر خوش آیند باتیں ، دھوکے اور فریب کے طور پر القا کر رہے ہیں۔ اگر تمھارے رب کی مشیت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے۔ پس تم اُنھیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اپنی افترا پردازیاں کرتے رہیں‘‘۔ (الانعام ۶:۱۱۲)

بعض اوقات ابتلاے عام سے سابقہ پیش آتا ہے۔ زلزلے آتے ہیں، طوفان بادوباراں اور دیگر قدرتی آفات آجاتی ہیں۔ ان حالات میں بھی مومن راضی بہ رضا رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ ہلاکت خیز آزمایشیں آخرت میں اس کا خسارہ نہیں کرسکتیں۔

گناھوں پر اصرار نھیں، رجوع الی اللّٰہ

تمام شرائع میں گناہوں پر اصرار کی مذمت کی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے۔ لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزہ چکھائے ان کو اُن کے بعض اعمال کا شاید کہ وہ باز آئیں‘‘(الروم ۳۰:۴۱)۔معاشرے میں جب فساد بڑھ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ابتلاے عام مسلط کردیتا ہے۔ اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ انھیں ان کے اعمال کا مزہ چکھائے اور نہ یہ کہ تمام بُرے کاموں پر مزہ چکھائے، بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ بعض بُرے کام، جو کیے اس کے بدلے انھیں ہلاکت اور آزمایش سے گھیر لے تاکہ وہ پلٹ آئیں۔

حضرت ابن عمرؓروایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے مہاجرین ! پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ چاہو۔ کسی قوم میں فحاشی علی الاعلان ہونے لگے تو طاعون اور دیگر ایسے امراض پھیل جاتے ہیں جو اس قوم میں پہلے نہیں دیکھے گئے۔ جس قوم میں ناپ تول میں کمی کی جانے لگے تو افلاس اور قہر سلطانی اس پر مسلط کردیا جاتا ہے۔ جس قوم نے مال پر زکوٰۃ ادا نہ کی تو آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے اور اگر چوپائے زمین پر نہ ہوتے تو بارش ان پر مکمل روک لی جاتی۔ جو قوم اللہ کے عہد سے پھر جاتی ہے ان پر دشمن کی یلغار ہوتی ہے۔ جس قوم کے قائدین اللہ کی کتاب کے مطابق عمل نہیں کرتے ، آپس میں لڑائی ان کا مقدر ہوجاتی ہے‘‘ (ابن ماجہ)۔ لہٰذا ہمیں گناہوں پر اصرار نہیں بلکہ ندامت کا اظہار کرنا چاہیے، اور ان سے اجتناب کرتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے تاکہ آزمایش ہماری نجات، احوال کی بہتری اور سربلندی کا ذریعہ بن جائے۔

عالمِ اسلام کے سیاق میں بیسویں صدی کے دو اہم واقعات قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے ایک استعماری طاقتوں سے آزادی ہے۔ پچھلی صدی کے وسط میں مسلمان ممالک مغربی طاقتوں کی غلامی سے آزاد ہوئے۔ آزادی کی تحریک چلانے میں مسلمانوں کے تمام عناصر شریک تھے، لیکن یہ واقعہ ہے کہ ہر ملک میں مسلمان علما اور اُن کے اداروں نے ان تحریکات میں نمایاں رول ادا کیا۔ آزادی کے حصول کے لیے مسلمانوں نے جو جدوجہد کی، اس کا ایک بنیادی محرک یہ توقع تھی کہ آزادی کے بعد وہ اپنے ملک اور سماج کی تعمیر نو اسلام کے مطابق کرسکیں گے اور اللہ کی نازل کردہ شریعت اُن کے آزاد ملک کا قانون ہوگی۔

 بیسویں صدی کا دوسرا اہم واقعہ یہ تھا کہ عالمِ اسلام میں ایسی تحریکیں اٹھیں جنھوں نے اسلام کے قیام کو اپنا نصب العین قرار دیا۔ برعظیم پاک و ہند میں جماعت اسلامی اور مصر میں الاخوان المسلمون کی تحریک کا آغاز ہوا۔ ان تحریکوں نے اپنے کام کو تنظیمی شکل دی، اپنے پیغام کو وسیع پیمانے پرپھیلایا اور اسلام کی ترجمانی و تفہیم کے لیے مدلل لٹریچر شائع کیا۔ بیسویں صدی کے اختتام تک ان تحریکوں کے اثرات ساری دنیا میں پھیل چکے تھے۔ مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقے کو انھوں نے خاص طور پر متاثر کیا اور اُن کی ایک قابلِ ذکر تعداد کی زندگیوں کا رخ بدل دیا۔

عالمِ اسلام میں پیش آنے والے بیسویں صدی کے اِن دو اہم واقعات کے پس منظر میں اس عوامی تحریک کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے، جس کا ظہور پچھلے چند برسوں میں عالمِ عرب میں ہوا۔ اس عوامی تحریک کو دنیا کے مبصرین نے عام طور پر حیرت اور استعجاب کے ساتھ دیکھا۔ بہت سے حلقوں میں اس نئے مظہر سے خوش آیند توقعات وابستہ کی گئیں، وہیں جابر حکمرانوں کے درمیان تشویش اور بے چینی محسوس کی گئی۔ اب دنیا کے اور خود عالمِ اسلام کے سامنے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ عوامی تحریک اپنی فطری منزل تک پہنچے گی یا منفی طاقتیں اس تحریک کا زور توڑ دینے میں کامیاب ہوجائیں گی؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے دو اہم امور پر غور کرنا ہوگا۔ ایک قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ اس عوامی تحریک کی فطری منزل کیا ہے اور اس تحریک کی کامیابی عالمِ اسلام میں کیا اساسی تبدیلی لائے گی؟ دوسرا اہم سوال اُن عوامل سے متعلق ہے جو حالات پر اثر انداز ہوں گے۔ صحیح نتائج تک پہنچنے کے لیے ان داخلی اور خارجی عوامل کی نشان دی ضروری ہے، جو عوامی تحریک کو کامیاب یا ناکام بناسکتے ہیں۔ یوں تو یہ عوامل بہت سے ہیں، لیکن قابلِ ذکر اثر ڈالنے والے عوامل غالباً مندرجہ ذیل ہیں:

  • (الف) مسلمان عوام 
  • (ب) نئی نسل کا تعلیم یافتہ عنصر
  • (ج) مسلمان حکمراں طبقہ
  • (د)دینی جماعتیں اور علما 
  • (ہ) مغربی طاقتیں

ان پانچ عوامل کے علاوہ ایک اہم عامل، اسلامی تحریک ہے۔ اسلامی تحریک کو اللہ کی تائید کے سہارے، ایسی منصوبہ بند جدوجہد کرنی ہوگی کہ اس کا رول، حالات کا رُخ متعین کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہو۔ وہ دوسرے مثبت عوامل کو صحت مند تبدیلی کے حق میں استعمال کرسکے اور منفی عوامل کے اثر کو زائل کرسکے۔

عوامی تحریک کی منزل

دنیا کے عوام کے سامنے یہ تخیل پوری قوت کے ساتھ آچکا ہے کہ اُن پر حکومت کرنے والے اُن کی راے سے منتخب ہونے چاہییں۔ دنیا میں مقبول اس تخیل کا اثر، عرب ممالک کے عوام پر بھی پڑا ہے، چنانچہ جن ممالک میں بادشاہتیں قائم ہیں یا جہاں ڈکٹیٹروں کی حکومت ہے، وہاں کے عوام اُن سے آزادی چاہتے ہیں۔ یہ توقع فطری ہے کہ عالمِ عرب میں جاری عوامی تحریک کا نتیجہ، ایسی حکومتوں کا قیام ہوگا جو عوام کی آزاد راے سے منتخب ہوںگی۔

لیکن یہ واقعہ ہے کہ عالمِ عرب کی عوامی تحریک کا ظہور محض معاصر دنیا کے جمہوری رجحان کا عکاس نہیں ہے، بلکہ اُس کی جڑیں پچھلی صدی کی اس تحریک آزادی سے ملتی ہیں، جو استعمار کی غلامی سے نجات کے لیے عالمِ اسلام میں برپا ہوئی تھی اور جس کو عوام اورعلما دونوں کا سرگرم تعاون حاصل تھا۔ دونوں تحریکوں کا یہ تعلق ایک تاریخی حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس حقیقت کا اِدراک عوامی تحریک کی فطری منزل متعین کردیتا ہے۔ یہ منزل ہر مسلمان ملک میں ایک ایسی حکومت کا قیام ہے جو اسلام کے مطابق ملک اور سماج کی تعمیر نو کا عزم رکھتی ہو اور جس کے چلانے والے، عوام کی آزاد مرضی سے منتخب ہوتے ہوں۔

دنیا کے ذرائع ابلاغ پر جن عناصر کا قبضہ ہے، انھوں نے یہ تخیل پیش کیا ہے کہ عوامی تحریک کے نتیجے میں ایک سیکولر جمہوری حکومت قائم ہونی چاہیے لیکن یہ خیال سطحیت پر مبنی ہے۔ یہ اُس تحریک آزادی کو نظر انداز کرتا ہے جس میں غیر معمولی قربانیاں دی گئی تھیں اور جس کا سب سے قوی محرک، اسلامی نظامِ زندگی کے احیاء کا وہ جذبہ تھا، جس نے عالمِ اسلام کے عوام کو سرشار کررکھاتھا۔ حقیقت یہ ہے کہ معاصر عوامی تحریک پچھلی صدی کی تحریک آزادی کا تسلسل ہے چنانچہ اُس کی فطری منزل استعمار کی غلامی سے مکمل نجات اور شریعت ِ الٰہی کو نافذ کرنے والی حکومت کا قیام ہے۔

کسی عوامی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے دنیا میں عموماً دو طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک طرف ظلم، جبر اور تشدد کے ذریعے تحریک کو روکا جاتا ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ مظالم اور شدائد سے گھبرا کر تحریک کے علَم بردار اپنے مشن سے باز آجائیں گے۔ اگر تحریک چلانے والے ثابت قدمی کا ثبوت دیں اور قربانیوں کے لیے آمادہ ہوں تو عموماً یہ حربہ تحریک کا راستہ روکنے میں کامیاب نہیں ہوتا، بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ زیادتیوں اور مظالم سے تحریک کو ایک نئی زندگی ملتی ہے  ع

بڑھتا ہے ذوقِ جرم یہاں ہر سزا کے بعد

البتہ تحریکوں کا راستہ روکنے کے لیے دنیا میں ایک دوسرا حربہ بھی استعمال ہوتا رہا ہے اور وہ زیادہ کارگر ہے۔ تحریک کے مخالفین یہ کوشش کرتے ہیں کہ تحریک کی منزل کے بارے میں خود اُس کے علَم برداروں کے ذہن میں انتشار اور خلجان (confusion) پیدا کردیا جائے۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہوجائے تو فکری انتشار، بہت جلد عملی انتشار کی شکل اختیار کرلیتا ہے یا تحریک انحراف (deviation) کی طرف لے جانے لگتی ہے۔ چنانچہ اس وقت دنیا کے ذرائع ابلاغ اسی سعی میں لگے ہوئے ہیں کہ عالمِ عرب کی عوامی تحریک کو اُس کی اصل منزل سے منحرف کردیا جائے۔ عالمِ اسلام کے باشعور عناصر کو پوری کوشش کرنی ہوگی کہ مفسدینِ عالم کا یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو، عوامی تحریک انحراف کا شکار نہ ہونے پائے، بلکہ اپنی حقیقی منزل کی طرف گامزن رہے۔

عالمِ اسلام کا باشعور عنصر

مسلمانوں کی نفسیات کی تشکیل میں اسلام بنیادی رول ادا کرتا ہے لیکن دنیا کے مقبول نعرے اور نظریات، دنیا کے دوسرے انسانوں کی طرح، مسلمانوں کو بھی متاثر کرتے ہیں چنانچہ عالمِ عرب کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے تحت الشعور پر یقینا اسلام کی حکمرانی ہے، لیکن اُن کے شعور پر اجنبی تصورات نے بھی اپنے اثرات ڈالے ہیں۔ سیکولرزم، نیشنلزم، علاقائی و قبائلی عصبیت اور عرب قومیت کے منفی اثرات اس سلسلے میں قابلِ ذکر ہیں، جنھوں نے عرب دنیا کے مسلمانوں کے اسلامی شعور کو متاثر کیا ہے۔ ان حالات میں مسلمانوں کے اس عنصر کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے جو اِن باطل نظریات اور نعروں کے شر سے واقف ہے اور جسے اسلام کا صحیح فہم بھی حاصل ہے۔ اس عنصر کو تحریکِ اسلامی کہا جاتا ہے۔ عالمِ اسلام کو درست رہنمائی فراہم کرنا، اس عنصر کا بنیادی کام ہے۔

کسی انسانی گروہ کی رہنمائی کرنے کے لیے کچھ صلاحیتیں درکار ہیں۔ حالات کا درست تجزیہ کرکے پیش قدمی کی راہ نکالنے کی صلاحیت اُن میں سے ایک ہے۔ درست تجزیے کے لیے محض حالاتِ زمانہ کے متعلق معلومات کافی نہیں، بلکہ اُس نقطۂ نظر کا گہرا شعور بھی تجزیہ کرنے والوں کو حاصل ہونا چاہیے جس کے وہ علَم بردار ہیں۔ اسی طرح رہنمائی کے لیے درکار دوسری بنیادی صفت عزم و حوصلہ اور کردار کی پختگی ہے۔ اس وصف کے بغیر کوئی رہنمائی، انسانوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتی۔ ایک تیسری صفت جس کی ضرورت ہے، وہ وسیع النظری اور عالی ظرفی ہے۔ جس گروہ کی رہنمائی پیش نظر ہے اس کے تمام افراد، شعور کی پختگی کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوتے۔ اُن کی خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود صبر، حکمت، ہمدردی اور دل سوزی کے ساتھ اُن کی رہنمائی کا کام بڑا ظرف چاہتا ہے۔

اُمت ِ مسلمہ بھی ایک انسانی گروہ ہے۔ اس کی رہنمائی کافریضہ، تحریک اسلامی کے سپرد ہے۔ چنانچہ تحریکِ اسلامی کو اپنے اندر بلند حوصلگی اور عالی ظرفی کی صفات پیدا کرنی ہوں گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسلام کے نقطۂ نظر کا مستند فہم، علَم بردارانِ تحریک کو حاصل ہو اور وہ حالات کا تجزیہ اس فہم کی روشنی میں کرسکیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج اُمت ِ مسلمہ مختلف عصبیتوں کا شکار ہے، جو قومی و وطنی بھی ہیں، قبائلی اور نسلی بھی اور مسلکی، فرقی و جماعتی بھی۔ ان حالات میں تحریکِ اسلامی کا ایک اہم کام یہ ہے کہ عصبیتوں سے مسلمانوں کو نجات دلائے، جائز اختلافات کو عصبیت بننے سے روکے اور دین کی بنیاد پر مسلمانوں کو یک جہتی، اتحاد، اجتماعیت اور اشتراکِ عمل پر آمادہ کرے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے یہ بہرحال ناگزیر ہے کہ تحریکِ اسلامی خود اپنے بارے میں چوکنّی رہے اور اپنے دامن کو کسی عصبیت سے آلودہ نہ ہونے دے۔ اس کا مقام تقاضا کرتا ہے کہ قرآن و سنت فی الواقع اس کی اساسِ کار ہوں، اُن کے دائرے کے اندر وہ تمام اہلِ ایمان کا یہ حق تسلیم کرے کہ وہ اخلاص کے ساتھ، علم کی روشنی میں قرآن و سنت کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کریں۔ تحریکِ اسلامی کو ایسے رویے سے اجتناب کرنا چاہیے، جو اُسے ایک مسلک یا محدود مکتب ِ فکر بنادے۔ اس کے دامن میں وہی وسعت ہونی چاہیے جو خود اسلام کے آفاقی تصور میں پائی جاتی ہے۔

عالمِ اسلام میں حالات بظاہر ایسے موڑ پرآچکے ہیں کہ مثبت اور منفی دونوں امکانات بروے کار آسکتے ہیں۔ مثبت امکان یہ ہے کہ مسلمان ممالک میں اسلامی نظام کی طرف پیش قدمی شروع ہوجائے اور اس راہ کے مراحل طے ہونے لگیں۔ اس کے برعکس منفی امکان بھی موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ عوامی تحریک کا رخ سیکولر نظام کی طرف موڑ دیا جائے۔ ان حالات میں اسلامی تحریک کا کردار کلیدی ہے۔ اُسے ذہنی، فکری اور عملی تیاری کے ساتھ امت کے تمام عناصر کی رہنمائی کرنی ہوگی۔ اگر اخلاص کے ساتھ علَم بردارانِ تحریک نے یہ کام انجام دیا اور تنگ نظری و عصبیت سے اپنے کو بچائے رہے تو توقع کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے دلوں کو اُن کی طرف راغب کردے گا، اُمت اُن کی رہنمائی سے مستفید ہوگی۔ استعمار کی چالیں ناکام ہوں گی اور عالمِ اسلام کی حقیقی آزادی کی راہیں کھلیں گی۔ تب اس کا بھی امکان ہے کہ عالمِ اسلام کی خوش گوار تبدیلیاں دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے لگیں اور نیشنلزم و سیکولرزم کے فتنوں سے نجات کی راہ،  دنیاے انسانیت کو نظر آجائے۔ تحریکِ اسلامی کو موجودہ حالات، احتسابِ زمانہ کے ساتھ، خوداحتسابی اور تجدیدِ عہد کی طرف متوجہ کرتے ہیں    ؎

صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم

کرتی ہے جو ہر زماں، اپنے عمل کا حساب

مسلمان عوام

پوری دنیا میں مسلمان عوام، دین سے محبت کرتے ہیں اور دینی شعائر کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ وہ تین کمزوریوں کا شکار ہیں۔ ایک کمزوری یہ ہے کہ اُن کے اندر دین کا علم بہت کم اور محدود ہے۔ عموماً دین کے بارے میں اُن کی معلومات کاذریعہ وہ باتیں ہیں، جو انھوں نے مختلف مجالس میں سُن رکھی ہیں، جو غلط اور صحیح کا ملغوبہ ہیں۔ دین کے سرچشموں قرآن و سنت سے عوام کا رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے اور بعض نادان مخلصین اور ہوشیار مفسدین برابر یہ کوشش کرتے رہتے ہیں کہ عوام قرآن و سنت سے واقف نہ ہونے پائیں۔

مسلمان عوام کی دوسری کمزوری اخلاقی پستی ہے۔ مغربی استعمار کی غلامی کی دو صدیوں نے اُن کے اخلاق و کردار کو بگاڑ دیا ہے۔ رسمی آزادی حاصل ہوجانے کے بعد مسلمانوں کی حکومتوں نے عموماً عوام کی دینی و اخلاقی تربیت کا کوئی اہتمام نہیں کیا ہے۔ اس کے برعکس بگاڑ کے لیے ذرائع ابلاغ جو کوشش کرتے ہیں، حکومتیں اُن کی سرپرستی کرتی ہیں۔ عوام کی ایک قابلِ ذکر تعداد اپنی معیشت کے سلسلے میں حلال و حرام کی قیود سے ناواقف ہے یا اُن سے بے پروا ہے۔ اصلاح و تلقین کرنے والے بھی عموماً اپنی گفتگو میں معیشت کو موضوعِ بحث نہیں بناتے۔ بددیانتی اور غیر ذمہ داری کے ساتھ مفاد پرستی بھی عام ہے۔ اپنے مفاد کے لیے لوگ، مفسدین کا آلۂ کار بننے کے لیے یا اُن کی لیڈری و سیادت قبول کرنے کے لیے بآسانی آمادہ ہوجاتے ہیں۔ دین سے لگائو کے باوجود فرض عبادات تک سے عوام کا ایک بڑا حصہ غافل ہے۔

عوام کی ایک تیسری کمزوری غلط مذہبیت ہے۔ تعویذ، گنڈے اور غیر مسنون اذکار اس کی علامت ہیں۔ جب یہ بگاڑ آگے بڑھتا ہے تو مشرکانہ رسومات، اور عرسوں کے اہتمام کی شکل اختیار کرتا ہے۔ پیر اور مرشد کے ساتھ عقیدت میں غلو کیا جاتا ہے اور اس کی غیر مشروط اطاعت درست سمجھی جاتی ہے۔ بدعات کو بلا تکلف قبول کرلیا جاتا ہے اور قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ اصل دین پر خود ساختہ مذہبی رسوم و رواج کا بھاری بوجھ ڈال دیا جاتا ہے جو دین کی پُرکشش شبیہ کو چھپا دیتا ہے اور سلیم الفطرت طبیعتیں دین کی طرف راغب ہونے  کے بجاے اس سے متنفر ہونے لگتی ہیں۔

یہ سمجھنا خام خیالی ہے کہ عوام کی دین سے محبت اور دینی شعائر سے اُن کی عقیدت، اسلامی نظام کی طرف پیش قدمی کے لیے کافی ہے اور عوام کی مندرجہ بالا کمزوریوں کو دُور کرنے کے لیے کسی خاص اہتمام کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقتِ واقعہ اس کے برعکس ہے۔ عوام میں پائے جانے والی ان خرابیوں کی اصلاح کے بغیر اسلامی نظام کی طرف پیش قدمی بہت مشکل ہے۔ جس طرح دستور اور قانون کے اندر اصلاح درکار ہے، اسی طرح عوام کی اصلاح کے لیے بھی منصوبہ بند کوشش ضروری ہے۔ بگڑا ہوا مسلم معاشرہ، اسلامی نظام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اسلامی تحریک کو معاشرے کی ہمہ جہتی اصلاح کے لیے کام کرنا ہوگا۔ بلاشبہہ ایک صالح حکومت معاشرے کے سدھار کا کام بڑے پیمانے پر کرسکتی ہے، لیکن یہ سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ حکومت ہی اس سلسلے میں واحد مؤثر عامل ہے۔ معاشرے کو متاثر کرنے والے بہت سے عوامل ایسے بھی ہوتے ہیں، جو حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہوتے۔ اس لیے معاشرے کی اصلاح اور حکومتی ڈھانچے میں تبدیلی دونوں کی ضرورت ہے۔

نئی نسل

مسلمانوں کی نئی نسل دین سے محبت میں اپنے بزرگوں سے پیچھے نہیں، البتہ دو باتیں اُسے دین اور دین دار لوگوں سے دُور کرتی ہیں:

  • (الف)مسلمانوں کے مسلکی جھگڑے اور
  • (ب) دین دار لوگوں کے کردار کی پستی۔

تحریک اسلامی کا کام یہ ہے کہ اس نئی نسل کے سامنے دین کی وہ تصویر پیش کرے، جو اِن کمزوریوں سے پاک ہو۔ نئی نسل کو اللہ کے دین کے حقیقی پیغام سے واقف ہونا چاہیے، جو اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتا ہے۔ پھر اُن کے سامنے یہ بات بھی آنی چاہیے کہ اختلاف کی جائز حدود کیا ہیں اور ایسے اختلافات کے باوجود اتحادِ عمل کی راہ کیا ہے۔ اس طرح یہ بھی ضروری ہے کہ تحریکِ اسلامی، نوجوان نسل کو اُن دین دار افراد سے متعارف کرائے جن کا اخلاق بلند اور کردار بے داغ ہے۔ اللہ کے فضل سے ماضی میں بھی امت میں بلند کردار افراد موجود تھے اور آج بھی وہ امت کی زندگی کی علامت ہیں۔

مسلمانوں کی نئی نسل خواندگی اور تعلیم کے اعتبار سے اپنے بزرگوں سے آگے ہے۔ تعلیم نے اُسے مغربی کلچر سے روشناس کرایا ہے۔ جمہوریت کے نعرے اس نے سُنے ہیں اور اُس کے مظاہر دیکھے ہیں۔ ٹکنالوجی اور سائنس کی ترقی کا اثر اُس نے قبول کیا ہے۔ تحریکِ اسلامی کو چاہیے کہ اس پس منظر میں نئی نسل کی رہنمائی کرے۔ مغربی کلچر کا ایک وصف، بحث و گفتگو کی آزادی ہے۔ اخلاقی حدود کی پابندی کے ساتھ اسلام اس کا قائل ہے۔ اسی طرح ذرائع ابلاغ اور ٹکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کو اسلام درست سمجھتا ہے بشرطیکہ یہ استفادہ حدود اللہ اور اسلام کے ضوابط کے تحت ہو جو اللہ نے مقرر کیے ہیں۔ اسلام اُس طرزِ حکومت کا قائل ہے، جس میں حکمراں، عوام کی مرضی سے چُنے جائیں اور اس سلسلے میں معاصر رجحان کی تائید اسے حاصل ہے۔ تحریکِ اسلامی مسلمانوں کی نئی نسل کو    ان تمام امور کے سلسلے میں اسلام کے نقطۂ نظر سے آگاہ کرسکتی ہے اور یہ کام اسے ضرور کرنا چاہیے۔

عالمِ اسلام میں برپا عوامی تحریک میں نئی نسل نے اہم رول ادا کیا ہے۔ ابھی تک اُن کی دل چسپی زیادہ تر جمہوریت کی بحالی سے ہے۔ اُن کے سامنے وہ سارے پہلو بھی آنے چاہییں جن میں مغربی جمہوریت اصلاح کی محتاج ہے۔ تحریکِ اسلامی یہ تجزیہ پیش کرے تو نئی نسل کو اسلامی نقطۂ نظر پر مطمئن کرنا کوئی مشکل امر نہ ہوگا۔ اسی طرح یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ جمہوریت سیاسی نظام کے محض ایک پہلو کا نام ہے۔ سیاسی نظام کے سلسلے میں اساسی سوال یہ ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں کے سلسلے میں ہدایت کہاں سے اخذ کی جائے گی؟ اسلام کے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس ہدایت کا ماخذ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی ہے، جو اس کی کتاب اور اُس کے رسول کی سنت میں موجود ہے۔ تحریکِ اسلامی کو چاہیے کہ اس نقطۂ نظر سے نئی نسل کو واقف بھی کرائے اور انھیں مطمئن بھی کرے۔

سیکولرزم کے حق میں ذرائع ابلاغ کا پروپیگنڈا جاری ہے۔ تحریکِ اسلامی کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ سیکولرزم کے تجربے کا تنقیدی جائزہ لے کر بتائے کہ وہ انسانی مسائل حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ سیکولر تہذیب تین صدیوں سے دنیا کے ایک بڑے حصے پر حکمراں ہے۔ اس نے دنیا میں امن کے قیام کے بجاے دنیا کو استعماری طاقتوں کا غلام بنادیا ہے۔ سیکولر ٹکنالوجی نے خشکی اور تری میں فساد برپا کرکے دنیا کو ماحولیاتی بحران سے دوچار کیا ہے۔ سیکولر نظریے کے تحت اباحیت اور بے حیائی کو فروغ ملا ہے۔ انسانی قدریں پامال ہورہی ہیں اور خاندان بکھر رہے ہیں۔

مسلمان حکمراں طبقہ

مسلمانوں کے حکمراں طبقے میں مخلص اور باکردار افراد بھی موجود ہیں، لیکن بہت کم۔ اس طبقے کی اکثریت تین بڑی کمزوریوں کا شکار ہے:

  • (الف)دین سے ناواقفیت اور اس سے بے پروائی
  • (ب)کردار کی پستی اور مسرفانہ طرزِ زندگی
  • (ج) مفاد پرستی اور مغرب سے مرعوبیت۔

ان کمزوریوں نے اُن کو بزدلی اور خوف میں بھی مبتلا کردیا ہے اور وہ بآسانی اپنے ملک اور امتِ مسلمہ کے خلاف غداری پر آمادہ  ہوجاتے ہیں۔

اِن حالات میں تحریکِ اسلامی کا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقے پر توجہ کرے۔ حکمراں عموماً اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ تعلیم یافتہ افراد میں مندرجہ بالا کمزوریاں پائی جائیں تو اُن کی اصلاح کی ہمہ جہتی کوشش کی جانی چاہیے۔ یہ مسلم معاشرے کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔ دوسری طرف مسلمان عوام کو اس جانب متوجہ کیاجانا چاہیے کہ اگر حکمرانوں کا انتخاب اُن کے اختیار میں ہو تو وہ ایسے افراد کو منتخب کریں جو ان نمایاں کمزوریوں سے پاک ہوں۔

یہ حقیقت بھی سامنے رہنی چاہیے کہ عالمِ اسلام حقیقی سیاسی آزادی اُس وقت تک حاصل نہیں کرسکتا اور اسے برقرار نہیں رکھ سکتا، جب تک وہ صنعت و حرفت اور سائنس و ٹکنالوجی کے میدانوں میں قابلِ لحاظ ترقی نہ کرلے۔ یہ ترقی اس حد تک ہونی چاہیے کہ عالمِ اسلام معاشی،  تکنیکی اور حربی پہلو سے خود کفیل (self reliant) ہوجائے۔ اس کیفیت کے بغیر حکمرانوں کی نیک کرداری بھی ملک کو غلامی سے نہیں بچاسکتی۔ خود کفیل ہونے کے لیے منصوبہ بند کوشش درکار ہے۔ عالمِ اسلام کے تمام عناصر کو اس سلسلے میں کام کرنا ہوگا اور تحریکِ اسلامی ان کوششوں میں تعاون پیش کرسکتی ہے۔ خواندگی کا اہتمام، تعلیم کی ترقی، سائنس اور ٹکنالوجی کے فروغ کے لیے اداروں کا قیام، صنعت و حرفت نیز زراعت کی ترقی کا اہتمام اور ان کاموں کے لیے ضروری وسائل کی فراہمی ضروری ہے۔ ان تمام امور میں مسلمان ممالک کا آپسی تعاون بھی درکار ہے۔ ملک کی آزادی کے لیے بنیادی شرط تو آزادی کی طلب اور اس کے حصول کا جذبہ ہے، لیکن اس کو برقرار رکھنے کے لیے خود کفیل ہونا بھی شرط ہے۔

دینی جماعتیں اور علما

بہت سے روایتی دینی حلقے جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون سے مختلف امور میں اختلاف کرتے رہے ہیں اور یہ جماعتیں اُن کی تنقید کا ہدف بھی بنی ہیں۔ اس واقعے کے باوجود ایسے افراد، ان حلقوں میں ہمیشہ پائے جاتے رہے ہیں، جنھوں نے جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون کے کاموں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔

اس تنقید کے باوجود جو بعض دینی حلقوں کی طرف سے کی گئی ہے، حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تحریک کی نمایندہ تنظیمیں اور روایتی دینی حلقے، اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ چنانچہ اسلامی نظام کے قیام کی جانب پیش رفت میں تحریکِ اسلامی کو اُن تمام عناصر کا تعاون حاصل ہونا چاہیے جو دین کے لیے مخلص ہیں اور دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ اس تعاون کے راستے میں آخر کیا چیز رکاوٹ ہے؟

اِس سوال پر غور کیا جائے تو دو ممکنہ رکاوٹوں کی نشان دی کی جاسکتی ہے:

  • (الف)تنگ نظری اور جماعتی و مسلکی عصبیت اور
  • (ب)مفاد پرستی۔چنانچہ اسلامی تحریک کو کوشش کرنی چاہیے کہ خود اس کا دامن اِن کمزوریوں سے پاک ہو۔ پھر اُسے اِس طرف توجہ کرنی چاہیے کہ دینی حلقوں اور جماعتوں میں وسیع النظری اور باہمی تعاون کی فضا فروغ پائے۔ اس سلسلے میں نوجوانوں سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ عموماً اُن کے مزاج میں گروہی عصبیت کے بجاے حق پسندی غالب ہوتی ہے اور مفاد پرستی کے بجاے اُن میں راہِ حق میں قربانی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔

حالات پر اثر انداز ہونے والا آخری اہم عامل مغربی طاقتیں ہیں۔ مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام، اپنے استعماری عزائم کے ساتھ پوری دنیا پر مسلط ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے وہ مشرق میں ہوں یا مغرب میں، اسلام کی دعوت اُن تک پہنچنی چاہیے، اسی طرح ہر فرد چاہے وہ حکمراں طبقے سے تعلق رکھتا ہو، اس کا مستحق ہے کہ اُس کو فلاح و نجات کی راہ دکھائی جائے، لیکن جہاں تک جبر و استبداد پر مبنی، عالمی سرمایہ داری کے نمایندے، استعماری نظام کا تعلق ہے،  اس کے خلاف مسلسل، منصوبہ بند اور اَن تھک جدوجہد کی ضرورت ہے۔ تحریکِ اسلامی کا کام یہ ہے کہ اس عظیم جدوجہد کے سلسلے میں انسانوں کی رہنمائی کرے۔ اس راستے میں اُسے دنیا کے اُن تمام عناصر کا تعاون حاصل ہوگا، جو اللہ کی زمین پر عدل و انصاف کا قیام چاہتے ہیں۔

حیدرآباد دکن یا مملکت ِ آصفیہ حیدرآباد ہندستان کے اُن علاقوں میں سے ایک ہے، جواپنی تاریخی اہمیت اور اپنی تہذیبی شان و شوکت کے لحاظ سے ایک انفرادی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مؤرخین نے بھی اس علاقے اور اس کی تاریخ اور اس کی تہذیبی انفرادیت پر کماحقہٗ توجہ دی ہے۔ اس موضوع پر کثیرتعداد میں کتب تواریخ مطبوعہ اور غیرمطبوعہ، کتب خانوں اور علمی ذخیروں میں موجود ہیں۔ اسی ضمن میں دکن یا مملکت ِ حیدرآباد کی تاریخ پر مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ (۱۹۰۳ء-۱۹۷۹ء) کی دو تصانیف: دولتِِ آصفیہ اور مملکت برطانیہ، سیاسی تعلقات کی تاریخ پر ایک نظر۱؎ اور دکن کی سیاسی تاریخ۲؎ بھی اہم اور معروف ہیں۔

مولانا مودودیؒ ایک مفکروعالم کی حیثیت و شہرت کے حامل ہیں لیکن تصنیف و تالیف کے ابتدائی دور میں انھوں نے تاریخ کے مطالعے اور تراجم میں زیادہ دل چسپی لی تھی اور اپنی نوجوانی ہی میں متعدد اہم مقالات و کتابیں تصنیف کیں جو شائع بھی ہوئیں۔ مذکورہ تصانیف اسی ضمن میں ان کی ابتدائی کاوشیں ہیں۔ ان میں سے اول الذکر ایک عصری تناظر میں لکھی گئی تھی اور ایک تاریخی تسلسل اور عمومی دل چسپی کا اس میں احاطہ نہیں کیا گیا تھا لیکن مملکت ِ آصفیہ کی ایک ایسی تاریخ جس میں اس کے قیام کا پس منظر اور عہد بہ عہد حالات و واقعات شامل ہوں، مولانا مودودیؒ کی نظر میں اس کی ضرورت موجود تھی۔ چنانچہ اپنی مذکورہ اول الذکر کتاب کی تصنیف اور اشاعت کے بعد انھوں نے اس ضرورت کے ذیل میں اپنی اس تصنیف کے لیے جب وہ ۱۹۳۰ء میں بھوپال میں چند ماہ مقیم رہے، تو مواد جمع کرنا شروع کیا تھا اور وہاں سے جولائی ۱۹۳۱ء میں حیدرآباد منتقل ہوئے تو وہاں اسی جستجو اور مآخذ کی جمع آوری میں منہمک ہوگئے۔۳؎ 

ان کاارادہ ایک مفصل تاریخ لکھنے کا تھا جو چار جلدوں پر مشتمل ہوتی۔ انھوں نے اس کا آغاز بھی کردیا تھا لیکن اسے دیکھ کر ان کے ایک مقامی دوست مولوی احمدعارف نے مشورہ دیا کہ ان کا منصوبہ تحقیقی مطالعہ کرنے والوں کے لیے مفید ہوسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک ایسی کتاب کی ضرورت بھی موجود ہے جو مبتدی طلبہ کے لیے ہو۔ یہ مشورہ انھیں پسند آیا۔ چنانچہ انھوں نے اس پر عمل شروع کردیا اور بہت آسان اسلوب میں دکن کے عہدقدیم سے  قطب شاہی تک کے مختصر حالات لکھ دیے۔ پھر یہ طے ہوا کہ خود مولوی احمد عارف بھی اس تصنیف میں شریک ہوجائیں گے۔ چنانچہ مولوی احمد عارف نے اس میں شامل کرنے کے لیے مغلیہ عہد  اور آصف جاہی عہد کے حالات تحریر کیے۔ اس طرح ایک مشترکہ کوشش سے ایک مختصر کتاب تاریخ دکن مرتب ہوگئی اور شائع بھی ہوگئی۔۴؎ 

یقین کیا جاسکتا ہے کہ یہ وہی کتاب ہے جس کا ذکر خود مولانا مودودی نے اپنی ’خودنوشت‘ میں مختصر تاریخ دکن کے طور پر کیا ہے لیکن اس کا ذکر ان کی تصانیف کی کسی فہرست میں نظر نہیں آتا  ۵؎  ، اور نہ اس کا پھر کہیں کسی جگہ ذکر ہوا، جب کہ دکن کے تعلق سے مولانا مودودیؒ کی کُل کاوشوں پر اور دکن و حیدرآباد سے ان کی نسبتوں پر خاص طور پر ڈاکٹر محمدرفیع الدین فاروقی نے حیدرآباد دکن میں رہ کر دادِ تحقیق بھی دی۔۶؎ 

مولانا مودودی کے یہ دوست مولوی احمد عارف (م: ۱۹۴۹ء) حیدرآباد دکن کے معزز اور معروف شخص تھے۔ وہاں کے اکابر میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ادب اور فنون لطیفہ سے خاصی دل چسپی تھی۔۷؎  وہ صحافت سے منسلک تھے اور ایک بہت مؤثر اخبار صبحِ وطن کے مدیر تھے۔اس اخبار کو قومی تحریکوں میں قومی اُمنگوں کی ترجمانی اور حکومت ِ وقت کی تائید و حمایت کی وجہ سے خاصی مقبولیت حاصل تھی۔۸؎ 

ہمیں حال ہی میں اس نادر و نایاب کتاب کا ایک نسخہ ملا ہے۔ ذیل میں ہم اس کا دیباچہ (از قلم مولانا مودودی) نقل کر رہے ہیں، جس سے اندازہ ہوگا کہ یہ کتاب طلبہ کے لیے لکھی گئی تھی اور اس کا مقصد انھیں دکن کی تاریخ سے واقف کرانا تھا۔ ساتھ ہی مولانا ان میں تاریخ کے مطالعے بلکہ تاریخ کے فلسفیانہ مطالعے کا ذوق و شوق پیدا کرنا چاہتے تھے۔ اس کتاب کو موضوعات اور   عہد کے لحاظ سے آٹھ ابواب میں تقسیم کیا گیا، لیکن ہرباب کو بھی ذیلی اسباق میں تقسیم کیا گیا، تاکہ طلبہ ہر عہد کی ذیلی موضوعاتی تفریق و تقسیم کی مصلحت سے بھی واقف ہوسکیں اور تاریخ کو ان کے تناظر میں سمجھ سکیں۔

تاریخِ دکن کی نایابی اور ندرت، اور مولانا مودودی کی ایک غیرمعروف تصنیف ہونے کے باعث، اس کا دیباچہ اور فہرست ِمضامین ، مع صفحات نمبر، ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں:

ص ۱:’’ تین چار سال سے مَیں دکن کی ایک مفصل تاریخ لکھنے میں مشغول ہوں، جس کے متعلق میرا اندازہ ہے کہ چار جلدوں میں تمام ہوگی۔ اس کے بعض حصوں کو دیکھ کر میرے دوست مولوی احمد عارف صاحب نے یہ راے دی کہ یہ کتاب تحقیقی مطالعہ کرنے والوں کے لیے مفید ہوسکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک ایسی کتاب کی بھی ضرورت ہے جس میں مبتدی طلبہ کے لیے تاریخ کا ایک مختصر اور واضح خاکہ کھینچا جائے۔ ان کی اس تجویز کے مطابق میں نے قدیم زمانے سے قطب شاہی عہد تک کے مختصر حالات لکھ دیے اور ان پر مغل اور آصف جاہی عہد کے حالات کااضافہ مولوی احمد عارف صاحب نے کیا۔ اس متحدہ کوشش سے یہ کتاب مرتب ہوئی۔

’’جہاں تک کتاب کے حُسن و قبح کا تعلق ہے اس کو جانچنا ناقدین کا کام ہے۔ البتہ ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے حتی الامکان اس کا تاریخی مواد نہایت معتبرومستند مآخذ سے اخذ کیا ہے اور ایسے واقعات درج کرنے سے پرہیز کیا ہے جن کی سند مشتبہ ہو۔

’’اس کتاب میں جن باتوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے وہ یہ ہیں کہ مبتدی طلبہ کے ذہن میں دکن اور اس کی جغرافی، نسلی، لسانی، تاریخی اور عمرانی حالات کی ایک صاف اور واضح تصویر [نقش] ہوجائے۔ مختلف زمانوں میں جو قومیں یہاں__ ص۲: آئیں اور جو سلطنتیں قائم ہوئیں ان کے زمانی اور جغرافی حدود، ان کے پیدا کردہ تغیرات اور ان کے چھوڑے ہوئے اثرات کو طلبہ کی استعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے، روشن خطوط کے ساتھ نمایاں کردیا گیا ہے۔ پرانی لکھی ہوئی کتابوں کی تقلید میں دکن کی تاریخ کے متعلق جو نظریات قائم کرلیے گئے تھے، ان کو چھوڑ کر وہ نظریات اختیار کیے گئے ہیں جو جدید تحقیق و مطالعے کا نتیجہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ کوشش کی گئی ہے کہ مبتدی طلبہ کے ذہن میں ابھی سے ایک غیرمحسوس طور پر تاریخ کے فلسفیانہ مطالعے کی بنا پڑ جائے۔

’’بچوں کو یہ کتاب پڑھاتے وقت اساتذہ کو دو باتوں کا خصوصیت کے ساتھ لحاظ رکھنا چاہیے: ایک یہ کہ دو دفعہ پڑھائی جائے۔ پہلی دفعہ میں تاریخ کا صرف ایک عمومی خاکہ ذہن نشین کرنے کوشش کی جائے اور دوسری دفعہ میں تفصیلات یاد کرائی جائیں مگر تفصیلات میں بھی غیراہم اشخاص اور سنین کی طرف زیادہ توجہ نہ کی جائے۔ دوسری یہ کہ ہرسبق کو پڑھانے سے پہلے استاد خود اس کو غور سے پڑھے اور یہ راے قائم کرے کہ اس سبق میں کون سی باتیں اہم ہیں، نیز وہ نقشے کی مدد سے اس سبق کو اچھی طرح سمجھ بھی لے۔ پھر وہی سبق بچوں کو لیکچر کے انداز میں پڑھائے اور باربار نقشے سے مدد لیتا جائے۔ اس کتاب میں جو نقشے دیے گئے ہیں، صرف ان ہی پر اعتماد کرنا ٹھیک نہیں ہے، ہرتاریخی تغیر اور اہم واقعے کو سمجھانے کے لیے نقشے کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ کتاب میں اتنے نقشے نہیں دیے جاسکتے‘‘۔

مولانا مودودی نے اس کتاب کے چھے ابواب تحریر کیے، جن کے عنوانات یہ ہیں:

  • ہمارا ملک اور اس کے باشندے
  • دولت ِ آصفیہ کا رقبہ اور آبادی
  • پرانے زمانے کی تاریخ
  • دکن کی آریہ اور دراوڑ ریاستیں
  • دکن میں مسلمانوں کی آمد
  • سلطنت ِ بہمنیہ
  • دکن کی پانچ ریاستیں۔

یہ ابواب کُل ۱۷۱صفحات پر مشتمل ہیں، جب کہ کتاب کی کُل ضخامت ۲۲۴صفحات ہے۔ اس طرح ۵۳صفحات مولوی احمد عارف نے تحریر کیے تھے۔گویا تین چوتھائی کتاب مولانا کی کاوش کا نتیجہ ہے اور ایک چوتھائی مولوی احمد عارف صاحب کی تحریر ہے۔

حوالے اور حواشی

  1. شائع کردہ: کتب خانہ رحیمیہ، دہلی، ۱۹۲۸ء۔ یہ تصنیف بعد میں ۱۹۴۱ء میں عبدالحق اکیڈمی حیدرآباد نے دوبارہ شائع کی۔ اس کی دوسری اشاعت میں کچھ ترامیم بھی شامل کی گئی تھیں، جیسے ’معاہدۂ برار‘ کا متن اضافہ کیا گیا۔ اس کی مزید ایک اشاعت (سوم) کا اہتمام ہفت روزہ آئین، لاہورنے ۲۵جون ۱۹۸۷ء کے شمارے میں، اپنی خصوصی اشاعت کے طور پر کیا۔
  2. مطبوعہ: دارالاشاعت سیاسیہ، حیدرآباد دکن، ۱۹۴۴ء۔ بعد میں یہ کتاب اسلامک پبلی کیشنز لاہور سے اگست ۱۹۶۸ء میں اور پھر جون ۱۹۶۹ء میں شائع ہوئی۔
  3. سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ’’خودنوشت‘‘،(مشمولہ: ادب اور ادیب، سیدمودودی کی نظر میں (مرتبہ: سفیراختر) دارالمعارف، واہ کینٹ، جنوری ۱۹۹۸ء، ص ۲۹
  4. مطبع عہدآفریں، حیدرآباد، ۱۳۵۱ھ۔
  5. مشمولہ: ادب اور ادیب، سیدمودودی کی نظر میں ،ص ۱۹، ۴۳۔ اس تصنیف کا ذکر اور اشاعتی تفصیلات کسی اور جگہ دستیاب نہیں۔ یہاں تک کہ نصیرالدین ہاشمی صاحب نے ’’دکن کی تاریخوں پر ایک نظر‘‘ (مشمولہ: تاریخ و سیاست، کراچی ، نومبر ۱۹۵۳ء،ص ۶۱-۹۸) کے عنوان سے اپنی مرتبہ وضاحتی فہرست میں بھی اس کا ذکر نہیں کیا، جو ان کی قریب العہد تصنیف ہے۔ اس تصنیف کے دو نسخے کتب خانہ انجمن ترقی اُردو، کراچی میں شمار: الف ۱۹؍۳، ۱۰ اور ۱۱ کے تحت موجود ہیں۔ راقم نے اس تصنیف پر ایک علیحدہ تعارفی مضمون تحریر کیا ہے۔ اس تصنیف کے دو نسخے کتب خانہ انجمن ترقی اُردو، کراچی میں الف ۱۹؍۳،۱۰ اور ۱۱ کے تحت موجود ہیں۔
  6. مقالہ، بعنوان: ’’مولانا مودودی اور حیدرآباد دکن‘‘، مشمولہ: تذکرۂ سیدمودودی (مرتبہ: جمیل احمد رانا، سلیم منصور خالد) جلد۳،ادارہ معارف اسلامی، لاہور، ۱۹۹۸ء، ص ۳۱۲-۳۳۱۔
  7. سید محمد جعفری ، اسٹار ڈائرکٹری ،اسٹار پریس، الٰہ آباد، سن ندارد، ص ۴۴۴-۴۴۵، صبح وطن، ۱۹۲۸ء میں جاری کیا  تھا۔ سید ممتاز مہدی، حیدرآباد کے اُردو روزناموں کی ادبی خدمات۔ قومی کونسل براے قومی زبان، نئی دہلی، ۱۹۹۸ء ،ص ۴۱، دارالعلوم، حیدرآباد سے فارغ التحصیل تھے۔ ۱۹۴۸ء میں یہ اخبار بند ہوگیا، طیب انصاری، حیدرآباد میں اُردو صحافت۔ ادبی ٹرسٹ حیدرآباد، ۱۹۸۰ء، ص۶۰۔
  8. اس اخبار میں اسی زمانے میں کہ جب یہ کتاب لکھی جارہی تھی، مولانا مودودی نے دکن کی تاریخ کے ایک اہم اور غیرمطبوعہ ماخذ فتوحاتِ آصفی ، مصنفہ ابوالفیض معنی کا بغائر مطالعہ کیا اور ایک مفصل مقالہ اس کی اہمیت اور خصوصیات و مندرجات پر لکھا جو اس اخبار کے ’سالگرہ نمبر‘ ، ۱۳۵۱ھ میں شائع ہوا۔ مولانا مودودی کا یہ اہم مقالہ بھی غیرمعروف اور غیرمدوّن ہے۔ اس مقالے کی اہمیت کے پیش نظر ایک ضروری تعارف و حواشی کے ساتھ راقم نے اسے بغرضِ اشاعت علیحدہ مرتب کیا ہے۔
  9. ص ۱۔
  10. ص ۱-۲۔

مقالہ نگار شعبہ اُردو ، جامعہ کراچی کے سابق صدر ہیں

اس وقت جب کہ حماس اسرائیلی شہریوں پر راکٹ فائر کر رہی ہے اور اسرائیل ہوائی حملوں کے بعد غزہ میں زمینی کارروائی کر رہا ہے، اس تازہ ترین جنگ کا فوری سبب نظرانداز کیا جارہا ہے ، یعنی اسرائیل اور عالمی برادری نے، اوائل جون میں فلسطین کی قومی مفاہمتی حکومت کے راستے میں متعدد رکاوٹیں کھڑی کیں۔

اس مفاہمتی حکومت کی تشکیل بڑی حد تک حماس کی مایوسی اور تنہائی کی بنیاد پر تھی۔ شام اور   ایران سے ان کا اتحاد بکھر چکا تھا۔ جولائی ۲۰۱۳ء میں ان کے حامی صدر مرسی کے بجاے ایک کٹر مخالف جنرل عبدالفتاح سیسی کے برسرِاقتدار آنے سے اخوان المسلمون سے ان کا تعلق ایک بوجھ بن گیا۔ جب جنرل سیسی نے غزہ آنے والے سامان کے لیے سرنگیں بند کیں اور ٹیکس کے محاصل جن پر حکومت کا انحصار تھا وہ بند ہوگئے، تو حماس کے خزانے خالی ہوگئے۔

یہ دیکھتے ہوئے کہ جو حکومت اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کرسکتی اس کے خلاف عوامی احتجاج ہوگا، حماس نے تختہ اُلٹنے کے اندیشے سے بچنے کے لیے غزہ کا سرکاری کنٹرول چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ۲۰۰۶ء کے آخری انتخابات جیتنے کے باوجود حماس نے رام اللہ میں فلسطینی قیادت کو اختیارات منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے سے حماس اور پی ایل او کے درمیان ایک صلح کا معاہدہ ہوا، جس کی تمام تر شرائط پی ایل او اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے طے کی تھیں۔

اس معاہدے سے جو دوسب سے زیاہ ضروری فوائد حماس کو اور غزہ کے شہریوں کو حاصل ہونا تھے وہ یہ تھے:

  1. حکومت حماس کے لیے کام کرنے والے ۴۳ہزار سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادایگی کہ وہ نئے انتظام کے تحت غزہ کا انتظام چلائیں۔
  2. اسرائیل اور مصر نے غزہ کے رہنے والوں کے لیے سرنگوں کے جو راستے بند کیے تھے انھیں کھولا جائے۔

معاہدے کے فوراً بعد اسرائیل نے ایسے اقدامات کیے کہ حماس اور غزہ کے شہریوں کو یہ فوائد حاصل نہ ہوسکے۔

کئی لحاظ سے یہ حکومت اسرائیلی مفادات کے لیے مفید ہوسکتی تھی۔ اس کے ذریعے حماس کے سیاسی مخالفوں کو غزہ میں پائوں رکھنے کی جگہ مل گئی۔ اس حکومت میں حماس کا ایک بھی ممبر نہیں تھا۔ رام اللہ میں موجود وزیراعظم، نائب وزراے اعظم، وزیرخزانہ اور وزیرخارجہ وہی رہے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس نے ان تین شرائط کو پورا کرنا قبول کیا جو مغربی امداد کے لیے امریکا اور اس کے یورپی حلیف عائد کرتے رہے تھے، یعنی عدم تشدد، سابقہ معاہدوں کی پابندی اور اسرائیل کو تسلیم کرنا۔

اسرائیل نے نئی حکومت کو تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی شدید مخالفت کی اور بین الاقوامی طور پر اسے تنہا کرنے کی کوشش کی۔ فلسطینی اتحاد کی طرف کسی چھوٹے قدم کو بھی ایک خطرہ سمجھتے ہوئے اسرائیلی سلامتی کے ذمہ دار مغربی کنارے اور غزہ کے درمیان کسی بھی تعلق پر معترض ہوتے ہیں کہ کہیں حماس مغربی کنارے میں بھی نظر نہ آنے لگے۔ دوسری طرف جو اسرائیلی دو ریاستی حل کے مخالف ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ایک متحدہ فلسطینی قیادت کسی دیرپا امن کی لازمی شرط ہے۔

مفاہمتی حکومت کی مخالفت کے باوجود، اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کے لیے ٹیکس جمع کرتا اور منتقل کرتا رہا اور اس نئی حکومت کے ساتھ سلامتی کے معاملات پر قریب رہ کر کام کیا۔ لیکن دوکلیدی معاملات: غزہ کے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادایگی اور مصر کے ساتھ سرحد کھولنے کے بحران کو  ناسور بننے دیا گیا۔ نئی حکومت کے قابلِ ذکر حمایتی، یعنی امریکا اور یورپ مصر کو آمادہ کرسکتے تھے کہ  وہ سرحد پر پابندیاں نرم کرے اور اس طرح غزہ کے شہریوں پر ظاہر ہو کہ ان کی پریشانیوں کی اصل وجہ حماس کی حکومت رہی ہے لیکن انھوں نے یہ نہیں کیا۔ جب حماس نے اختیارات مغرب کی حامی ٹیکنوکریٹ حکومت کے سپرد کیے تو غزہ میں زندگی زیادہ مشکل ہوگئی۔ قطر نے غزہ کے سرکاری ملازمین کو ادایگی کی پیش کش کی، امریکا اور یورپ اس کو ممکن بناسکتے تھے لیکن واشنگٹن نے انتباہ کیا کہ امریکی قانون کے تحت ان میں سے کسی ایک ملازم کو بھی ادایگی کرنا منع ہے، جب کہ ان میں سے ہزاروں حماس کے ممبر نہیں ہیں۔ لیکن امریکی قانون کی نظروں میں ان سب نے ایک دہشت گرد تنظیم سے مادی فائدہ حاصل کیا۔ جب اقوام متحدہ کے نمایندے نے اس بحران کے حل کے لیے پیش کش کی کہ وہ تنخواہیں اقوامِ متحدہ کے ذریعے ادا کروا دے اور سب کسی قانونی ذمہ داری سے بچ جائیں تو اوباما انتظامیہ نے مدد نہیں کی، اور اسرائیل کے وزیرخارجہ کے ساتھ کھڑی رہی جس نے اقوام متحدہ کے نمایندے کو اس بنیاد پر ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا کہ وہ حماس کو رقم پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اب حماس ذمہ داریوں کی پُرامن منتقلی سے جو حاصل نہیں کرسکی اسے تشدد کے ذریعے حاصل کررہی ہے۔ اسرائیل سابقہ حالات کو واپس لا رہا ہے جب غزہ میں بجلی مشکل سے آٹھ گھنٹے  آتی تھی، پانی پینے کے قابل نہ ہوتا تھا، سیوریج سمندر میں ڈالا جارہا تھا، ایندھن کی کمی کی وجہ سے کارخانے بند ہوئے اور کوڑاکرکٹ گلیوں میں تیرنے لگا۔ علاج کے ضرورت مندمریض بھی ہسپتال میں نہ پہنچ سکے اور غزہ کے شہریوں نے، جس وقت مصر سرحد کھولتا تھا وہاں سے گزرنے کے لیے  ۳ہزار ڈالر رشوت دی۔

اب صرف حماس کے حامیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ غزہ کے شہریوں کے نزدیک بھی اس ناقابلِ قبول صورتِ حال کو بدلنے کے امکان کے لیے بم باری اور زمینی حملوں کا خطرہ مول لیا جاسکتا ہے۔ ایسی جنگ بندی جو تنخواہوں کا بحران حل نہ کرسکے اور مصر کا سرحدی راستہ نہ کھولے، قائم نہیں رہ سکتی۔ غزہ کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ دنیا سے کٹ کر رہے اور اس کے ملازم تنخواہوں کے بغیر کام کریں۔ ایک کھلے دل سے کی جانے والی جنگ بندی اسرائیلی وزیراعظم کے لیے سیاسی طور پر مشکل لیکن زیادہ دیرپا ہوگی۔ غزہ میں کاروائیوں میں موجودہ اضافہ اسرائیل اور مغرب کے فلسطینی مصالحت کے معاہدے کو نافذ ہونے سے روکنے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ اس بحران سے نکلنے کا راستہ اس پالیسی کا ترک کرنا ہے۔(انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز، ۱۹ جولائی ۲۰۱۴ء، ترجمہ: مسلم سجاد)

چند دنوں میں، مَیں اپنی قید کے ۳۶۵ دن مکمل کرلوں گا جن میں سے نصف سے زائد قاہرہ میں، تورا قیدخانے کے انتہائی حفاظت والے اسکارپین ونگ میں، قیدتنہائی یا سخت پابندیوں میں گزرے۔ مَیں نے گذشتہ سال یہ سوچتے گزارا کہ مجھے کس چیز نے وہاں پہنچایا جہاں مَیں آج ہوں؟ میں اس بارے میں بھی سوچتا رہا ہوں کہ سیاست دانوں، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں اور میڈیا کی میرے کیس کے بارے میں خاموشی کی وجہ کیا ہے؟

مَیں تعلیم کے لحاظ سے انجینیر اور پیشے کے لحاظ سے استاد ہوں۔ ۲۰۱۱ء کے انقلاب مصر کے بعد مجھے سیاست سے دل چسپی ہوئی۔ میں نے صدارتی مہم میں حصہ لیا اور پھر جولائی ۲۰۱۲ء میں  مصر کے پہلے جمہوری منتخب صدر کے لیے خارجہ تعلقات کے سیکرٹری کی حیثیت سے منتخب کیا گیا۔

جب فوج نے صدر مرسی کی حکومت کو برطرف کیا تو اندازہ تھا کہ صدر اور اس کے معاونین کو بھاری قیمت چکانی ہوگی۔ مَیں نے اپنے آٹھ دوسرے ساتھیوں کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ ہم ۳جولائی ۲۰۱۳ء کو ان کی گرفتاری کے لمحے تک ان کے ساتھ انتظار کریں گے۔ نئے سیکرٹری دفاع کے احکامات پر ری پبلکن گارڈ کے سربراہ نے صدر مرسی اور ہم سب کو گرفتار کرلیا۔ مجھے اس کی توقع تھی لیکن جس چیز کی توقع نہیں تھی وہ وہ خاموشی تھی جو ہماری گرفتاریوں کے بعد رہی۔

صدر مرسی کے دورِ صدارت کے سال میں ہماری حکومت کے سرکاری دوروں میں یا عالمی کانفرنسوں میں بے شمار عالمی رہنمائوں سے رابطے رہے۔ صدر کے مترجم کی حیثیت سے مَیں نے تقریباً ہر ملاقات میں شرکت کی۔ ہم نے خطے میں امن کے لیے مغربی راہنمائوں اور ان کے سفیروں کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کیا۔

شام اور مالی بھی وہ علاقے تھے جہاں ہم امن کا قیام چاہتے تھے۔ چنانچہ ہم نے اس  ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایک بڑے منصوبے پر کام کیا۔ ہم نے مصر کے لیے انسانی حقوق کا ایجنڈا طے کیا جس کو لے کر چلنے والا صدارتی دفتر تھا۔ اس نے اقوامِ متحدہ کو دعوت دی کہ قاہرہ میں مصر کے لیے یو این خواتین کا ہیڈکوارٹر کھولے۔ ہم نے ایک نئے مصر کی طرف پیش رفت کے لیے متعدد قانونی اصلاحات تجویز کیں۔ ہم مقامی اور عالمی سطح پر ان تمام افراد سے ملے جن سے  ہم مل سکتے تھے اور جن کا اس میں کوئی حصہ ہوسکتا تھا تاکہ اس ایجنڈے کو آگے بڑھائیں۔

اس سرگرمی اور ان روابط کی وجہ سے مَیں نے جولائی ۲۰۱۳ء میں اپنی گرفتاریوں پر عالمی برادری کی خاموشی کو سمجھنے کی بہت کوشش کی ۔ جب فوج نے مرسی حکومت کو برطرف کیا تو ہمارے عالمی ساتھیوں میں سے کوئی بھی ہمارے لیے کھڑا نہ ہوا۔ بیش تر کے لیے ایسا تھا جیسے کہ ہم کبھی تھے ہی نہیں۔ خاموشی اتنی تھی کہ مَیں اپنے ساتھیوں سے مذاق کرتا تھا کہ ہم واقعی زندہ بھی ہیں؟

جب ہیومن رائٹس واچ نے دسمبر میں بیان جاری کیا جس میں ہمارے جبری طور پر لاپتا ہونے کی تفصیل بیان کی گئی تھی تو ہم نے اپنے آپ کو پھر زندہ محسوس کیا، مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے دوسینیرساتھی، یعنی صدر کے اسسٹنٹ اور مشیروں میں سے ایک نے بغیر کسی قانونی کارروائی کے اپنے کو صدر کے ساتھ ملزموں میں پایا۔ مجھے ایک انتہائی محفوظ قیدخانے میں فضول قسم کے الزامات کے تحت بھیج دیا گیا۔ میری یہ تحریر بھی میرے خلاف جوابی الزامات کا سبب بن سکتی ہے۔

میرے ساتھ یہ سلوک اس نمایندگی کی وجہ سے کیا جا رہا ہے جو میں کرتا ہوں۔ مَیں ایک ایسے عالمی منظرنامے کی نمایندگی کرتا ہوں جو تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان حقیقی تبادلے کی اساس پر تعمیر کیا گیا ہے۔ میں ایک ایسی نسل کا نمایندہ ہوں جو سرحدوں سے ماورا ہے ، جو عالمی برادری میں رہتا ہے، جو غیرجمہوری اداروں کی پابندیوں کی مزاحمت کرتا ہے۔ میں تین براعظموں میں رہتا ہوں۔ ایشیا میں (میرا بچپن متحدہ عرب امارات میں گزرا)، شمالی امریکا میں (کالج اور بعد کی تعلیم کے لیے میں کینیڈا گیا) اور افریقہ میں(مصر اپنے آبائی وطن میں)۔ میری اہلیہ کینیڈین ہیں اور ہمارے چار بچے مصری کینیڈین ہیں۔ میں مسلمان ہوں جو دوسرے مذاہب اور ثقافتوں کے ساتھ اختلاف سے زیادہ مشترک اُمور دیکھتاہے۔ میں کینیڈا کو رواداری اور کثیرثقافتی زندگی کا ایک ماڈل سمجھتا ہوں۔ میں امریکا اور یورپ کو سائنس اور ایجادات کا مرکز اور عالمی امن کا نمایندہ سمجھتا ہوں اس شرط کے ساتھ کہ ان کی خارجہ پالیسی زیادہ بااصول ہو۔ میں ایشیا کو سائنسی ترقی میں ایسی اقدار کے ساتھ جو ہم سب کو بہت کچھ دے سکتی ہیں عالمی مسابقت کار سمجھتا ہوں۔ مَیں شرقِ اوسط کو تہذیبوں کے نقطۂ اتصال کی حیثیت سے دیکھتا ہوں جہاں انسانی رواداری اور باہمی امن کی بنیاد پر دیرپا امن ہمیشہ کے لیے یادگار ہوسکتا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ یہ صدی گذشتہ صدیوں سے مختلف ہوگی۔ عالمی شہری زیادہ باحیثیت اور بااختیار ہوں گے اور ہماری خرابیوں کے لیے سیاست دانوں کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔

ہمیں مل کر خواب دیکھنا چاہیے۔کچھ خواب سچے بھی ثابت ہوتے ہیں۔ ہم نے ایک ایسے آمر کا تختہ اُلٹ دیا جو ۳۰سال سے اقتدار کا مالک تھا۔ یہ اس وقت ممکن ہوا جب ۲۵جنوری ۲۰۱۱ء کو پانچ افراد تحریر اسکوائر میں جمع ہوئے اور انھوں نے تمام مصریوں سے کہا کہ وہ آزادی، انصاف اور عزت کے پرچم تلے ان کے ساتھ آجائیں۔ یہ تحریک تھی جس نے مجھے ۲۰۱۲ء کے انتخابات میں مہم کے ایک رضاکار کے طور پر کام کرنے کا جذبہ دیا تھا۔

آج میرے خوابوں کو اس سوال نے حسرت سے دوچار کر دیا ہے۔انسانیت کے رشتے سے میرے بھائیو اور بہنو! مَیں جانتا ہوں کہ مصری فوجی حکومت میری مکمل خاموشی کیوں چاہتی ہے، مگر براہِ مہربانی مجھے اس سوال کا جواب دیجیے: آپ میرے بارے میں اتنے خاموش کیوں ہیں؟ (خالد القزاز کی یہ تحریر ان کے قیدخانے سے خفیہ طور پر حاصل کی گئی)۔ (انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز، ۲۸جون ۲۰۱۴ء، ترجمہ: مسلم سجاد)