پاکستان اپنے قیام کے ۷۲ سال بعد بھی اندرونی خلفشار اور صف بندی (Polarization) کا شکار ہے۔ یہ صورتِ حال بےحد تشویش ناک اور ملکی سلامتی کے لیے بہت خطرناک ہے۔ آج بھارت میں مسلمانوںکے ساتھ بالخصوص اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ بالعموم جو خونیں کھیل کھیلا جارہا ہے، اس کا ایک چشم کشا پہلو اس احساس کا اُجاگر ہونا ہے کہ پاکستان کے قیام نے پاکستانی مسلمانوں کو کن خطرات اور کس عذاب سے بچالیا اور اپنی زندگی کو آزادی اور عزت کے ساتھ ترقی دینے کے کیسے مواقع فراہم کیے۔ اس احساس کا تقاضا ہے کہ ہم پاکستان کے اصل مقاصد کے مطابق اپنی سیاسی، معاشی، تہذیبی اور اخلاقی زندگی کی تعمیر کریں اور ملک کے دستور میں جس تصور کو واضح الفاظ میں طے کر دیا گیا ہے، اس کے مطابق ہر ادارہ، ہر قوت اور ہرفرد اپنی ذمہ داری اداکرے، تاکہ عوام اپنے دین، اپنی تہذیب اور اپنے عزائم کے مطابق ترقی و استحکام کی منزلیں طے کرسکے۔
زمینی حقائق جو تصویر اس وقت پیش کر رہے ہیں، وہ پریشان کن ہے اور فوری طور پر اصلاح کی طالب۔ ہم نے چار فوجی حکومتوں اور ایک درجن سے زیادہ نام نہاد جمہوری حکومتوں کا دور دیکھا ہے جس میں: پارلیمانی، صدارتی، اور فوجی نظامِ حکومت کا تجربہ بھی کرلیا ہے۔ فوج، بیوروکریسی اور عدالتی مداخلت کا مزا بھی بار بار چکھا ہے۔ حالیہ تاریخ میں جنرل مشرف کی فوجی حکومت کے ۹برسوں کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پانچ پانچ سال بھی بھگتے ہیں اور ان سے نجات پانے کے لیے تحریک انصاف کی شکل میں تبدیلی کے لیے دروازے بھی کھولے ہیں۔ لیکن ان ۱۶مہینوں کا تجربہ بھی تلخیوں، محرومیوں اور مصائب کے سوا قوم کو کچھ نہیں دے سکا۔ اب عوام میں بے چینی، بے یقینی، اضطراب اور مایوسی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ جزوی طور پر چند مثبت پہلوؤں کے باوجود بحیثیت مجموعی عمران خان کی وزارتِ عظمیٰ اور حکومت نےعوام کو مایوس کیا ہے اور مصائب میں کمی کے بجاے مشکلات میں اضافہ ہی ہوا ہے۔
ہم پاکستان کے مستقبل کے لیے جہاں یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ دستور اور جمہوری نظام کی ہرقیمت پر حفاظت کی جائے، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت اپنی منزل کا صحیح صحیح تعین کرے۔ اس کے حصول کے لیے صحیح پالیسیاںپوری تحقیق، مشاورت اور عوام کو اعتماد میں لے کر مرتب اور نافذ کی جائیں۔ہر ادارہ اپنے اپنے دائرے میں اپنا کام کرے اور اچھی حکمرانی (good governance) کی اعلیٰ مثال قائم کی جائے۔ موجودہ حکومت اس حوالے سے بُری طرح ناکام رہی ہے اور اگر حالات کی فوری اور مؤثر اصلاح کی کوشش نہیں ہوتی تو پھر واحد راستہ نئے انتخابات کا انعقاد ہے۔
تمام اختلافات اور ۲۰۱۸ء کے انتخابات کی ساری کمزوریوں کے باوجود، ہم نے کھلے دل سے حکومت کو موقع دیے جانے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اس دوران انجام دیے گئے کاموں اور سارے دعوؤں کا جوحشر ہوا ہے، وہ ناقابلِ تصور اور ناقابلِ بیان ہے۔فکری انتشار، پالیسیوں کافقدان، دعوؤں کی بھرمار، الزامات اور اتہامات کی بوچھاڑ، اقوال واعمال میں تضادات ہرسطح پر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ایسے اقدامات کی روز افزونی سے ملک کی آزادی، خودمختاری، معاشی ترقی ، قانون کی حکمرانی، انصاف کی فراہمی اورعوام کی خوش حالی بُری طرح مجروح ہورہی ہے۔ یوں معلوم ہوتاہے کہ وزیراعظم صاحب اپنی ٹیم کے ہمراہ آج بھی ڈی چوک والے کنٹینر سے حکومت چلارہے ہیں۔ جوزبان استعمال کی جارہی ہے، اس نے سیاسی فضا کونہ ختم ہونے والی نفرت سے آلودہ کردیا ہے۔ بلاشبہہ اپوزیشن کارویہ بھی تعمیری نہیں ہے اور اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیاں اپنے اپنےمفادات اور اپنی اپنی قیادت کی بداعمالیوں پر پردہ ڈالنے اور ان سے توجہ ہٹانے کو اپنی اولین ترجیح بنائے ہوئے ہیں۔ ملک کے مسائل اور حالات کی اصلاح کے لیے پارلیمنٹ اور دوسرے تمام میدانوں میں کوئی کردار اداکرنے کے لیے وہ تیار نہیں دکھائی دیتیں۔ لیکن، خود حکومت بھی اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ مسائل کے ادراک، افراد کے انتخاب، صحیح پالیسیوں کی تشکیل اور اچھی حکمرانی کے باب میں بُری طرح ناکامی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔
خود تحریک انصاف کا نظام بھی اسی طرح چل رہا ہے، جس طرح دوسری بڑی جماعتوں میں قیادت، شخصی پسند و ناپسند کی بنیاد پر چلائی جارہی تھی۔نہ مرکز میں کوئی مؤثر ٹیم وجود میں آئی ہے اور نہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومتیں مؤثر انداز سے کام کر رہی ہیں۔ اداروں سے تصادم، میڈیا میں مداخلت اور ساتھ ہی میڈیا سے رابطہ کاری، بزنس کمیونٹی کی سرزنش اور بزنس کمیونٹی سے سمجھوتا ___ ۱۶ماہ سے ایک ہی کہانی دُہرائی جارہی ہے۔ملک میں جہاں عام آدمی کو ہرروز سرکاری اداروں سے سابقہ پڑتا ہے عوام حسب سابق کرپشن، بے توجہی، لاقانونیت، جرائم کی بہتات، روزگار سے محرومی اور روزافزوں مہنگائی کا شکار ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ:
رو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رُکاب میں
اس پس منظر میں ہم تین واقعات کی طرف خصوصیت سے توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں جو اپنی اپنی جگہ بھی اہم ہیں، لیکن اس سے بڑھ کر ایک آئینہ ہیں جس میں اس وقت معاشرہ، حکومت اور ملک کے اہم ترین اداروں کی اصل تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔
پہلا واقعہ لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ۱۱دسمبر کا وہ اندوہناک تصادم ہے، جو سوسائٹی کے دو اعلیٰ طبقوں کے نمایندوں کے درمیان ہوا۔ وہ طبقے جنھیں انسانیت، تہذیب اور شائستگی کی اعلیٰ ترین مثال ہونا چاہیے،یعنی انسان کی جان بچانے والے ڈاکٹر اور معاشرے میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کو یقینی بنانے والے وکلا۔
بلاشبہہ مسئلہ ۱۱دسمبر کو شروع نہیں ہوا۔ دونوں کے درمیان مختلف وجوہ سے کشیدگی ایک ماہ سے موجود تھی۔ ینگ ڈاکٹرز کے اپنے مسائل تھے اور دوسری طرف وکلا کا اپنا غروراور احساسِ برتری۔ ان اہم اداروں میں ٹریڈ یونین کے سے طریقوں کا استعمال پریشان کن ہے۔ ڈاکٹر اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے جو حربے استعمال کرتے ہیں وہ کسی خیر کی خبر نہیں دیتے۔ وکلا جس طرح خصوصاً گذشتہ ۱۰، ۱۵ برسوں سے اپنی بالادستی اور زورزبردستی کا مظاہرہ کرتے چلے آرہے ہیں، وہ بے حد تشویش ناک ہے۔ پھر جس طرح مختلف حکومتوں نے بشمول موجودہ حکومت، ان طبقات سے اصلاحِ احوال کی کوئی مؤثر کوشش نہیں کی اورہربار فقط لیپاپوتی سے کام چلایا ہے، وہ بھی بگاڑ کو اس مقام تک لانے کا ذمہ دار ہے۔۱۱دسمبر کو جو المیہ رُونما ہوا، اس میں بظاہر زیادہ جارحانہ رویہ وکلا کا تھا۔ جس طرح اعلان کرکے وہ منظم انداز میں سات کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ہسپتال پر حملہ آور ہوئے اور پھر جو تباہی مچائی، اس میں چار، پانچ افراد جان کی بازی ہارگئے، کروڑوں کا قیمتی سامان برباد اور نہایت قیمتی میڈیکل مشینری کو تباہ کر دیا گیا، سیکڑوں مریض دربدر ہوگئے۔ پھر جس طرح وکیلوں کی تنظیموں نے (چند معزز وکلا کے استثنا کےساتھ) محض گروہی عصبیت کی بنیاد پر اپنے ہم پیشہ افراد کا ساتھ دیا، وہ اتنا تکلیف دہ ہے کہ پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ تین گھنٹے ’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘ کی تصویر بنی رہی۔ جو انتظامی اور پولیس افسران ڈیوٹی پر موجود تھے، انھوں نے اپنی ذمہ داری انجام دینے میں غفلت برتی:
حادثہ سے بڑا حادثہ یہ ہوا
لوگ ٹھیرے نہیں حادثہ دیکھ کر
اس الم ناک واقعے کو محض ایک حادثہ سمجھنے کے بجاے جان لینا چاہیے کہ یہ معاشرے کی اخلاقی گراوٹ اور ملک کے تعلیمی نظام کے غیرمؤثر ہونے کا بھی ثبوت ہے۔ گھر، معاشرہ ،اسکول، میڈیا، حکومت اپنے اپنے میدان میں اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے۔ مسئلہ سفید کوٹوں اور کالے کوٹوں کے تصادم کا نہیں، معاشرے کی اقدار کے تہ و بالا ہوجانے کا ہے۔ ایک مہذب معاشرے کے لیے جو کم سے کم اجتماعی آداب ہیں، یہ المیہ ان سے بھی محروم ہوجانے کا پتا دیتا ہے۔ اسلام کا تو اصل ہدف انسان کو ایک بہتر انسان بنانا ہے۔ قرآن و سنت کا مطالعہ کیجیے، کس طرح ذاتی اخلاق اور اجتماعی معاملات میں خیروصلاح کی بنیاد پر تمام اُمور کو انجام دینے کی بہ تکرار ہدایت کی گئی ہے۔ محض قرابت داروں کے نہیں، ہرانسان کے حقوق کے احترام کو مسلمان کی شان قراردیا گیا ہے۔ گفتگو اور میل جول میں الفاظ اور جملوں کے برتاؤ تک کی ہدایت دی گئی ہے۔ اختلاف میں کن حدود کی پاسداری کرنا ہے، تنازعات کے حل کے لیے کیا راستہ خیر اور صلاح کا بتایا گیا ہے۔ افسوس کہ آج ہم ان سب چیزوں سے محروم ہوگئے ہیں اور ہوتے جارہےہیں۔
بات ہم مدینہ کی ریاست کی کرتے ہیں اور اعمال ہمارے اسوئہ رسولؐ اور مدینہ کے مسلم معاشرے کی ضد ہیں۔ حکومت، میڈیا ، دانش ور اوراہلِ علم، علماے کرام اور دینی جماعتوں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اتنا بڑا واقعہ بھی ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہ ہوگا۔ ایسے معاملات میں سمجھوتاکاری اور لیپاپوتی سمِ قاتل ہیں۔ اگر بُرائی کو بروقت روکنے میں تساہل کیا جائے گا تو وہ بُرائی بڑھتی اور غالب آتی جائے گی۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہی وہ طریقہ ہے، جس سے بُرائی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ بُرائی کو اگر بُرائی سے تبدیل کیا جائے گا تو غالب بُرائی ہی رہے گی ۔ اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب بُرائی یا خرابی کو خیر اورفلاح سے تبدیل کیا جائے اورمعاشرے میں بُرائی کو گوارا نہ کیا جائے اور ظلم و زیادتی کے ذمے داران کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ سزا، تعلیم و تربیت اور معاشرے میں قبول اور رَد___ یہ سب بیک وقت اپنا اپنا کردار ادا کریں۔
پاکستان کا قیام انصاف اور حق پر مبنی معاشرہ اورریاست قائم کرنے کے لیے تھا، ظلم اور استحصال کے راج کے لیے نہیں۔
دوسرا واقعہ جس کی طرف ہم متوجہ کرنا چاہتے ہیں، وہ جنرل پرویز مشرف پر دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ۶ کی خلاف ورزی کے مقدمے کا فیصلہ ہے، جو ہسپتال کے واقعے کے ایک ہفتے کے بعد آیا ہے اور جس میں خصوصی عدالت کی اکثریتی راے (دو جج فیصلے کے حق میں اور ایک اختلاف میں) کے مطابق وہ دستورشکنی کے جرم کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ اس کے لیے وہ دستور میں بیان کردہ سزا، یعنی سزاے موت کے مستحق ہیں۔ افسوس ہے کہ اس تاریخی فیصلے میں ایک معزز جج نے سزاے موت کے طریقے کے بارے میں جو راے دی ہے، محض اسے اصل موضوع بنالیاگیا اور فیصلے میں جو نہایت اہم تفصیلات اور نتائج درج ہیں، ان سب کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ ہمارا تاثر بھی یہی ہے کہ اگرپیراگراف۶۶ میں وہ ایک جملہ نہ ہوتا تو بہتر تھا۔ لیکن ملک ہی نہیں عالمی سطح پر گذشتہ سیکڑوں برسوں ہی میں نہیں بیسویں صدی میں بھی اور خود مغربی ممالک میں بھی اس انداز میں سزا دی گئی ہے۔ البتہ ہمارا یہ موضوع نہیں۔ ہماری نگاہ میں اگر وہ جملہ نہ ہوتا تو فیصلے کے حقیقی (substantive ) حصے پر ہی توجہ مرکوز رہتی اور اب بھی اسی پر توجہ رہنی چاہیے۔ واضح رہے کہ وہ جملہ فیصلے کا حصہ نہیں، ایک جج کی راے ہے۔ البتہ عدالت کا فیصلہ یہ ہے کہ ’’جنرل مشرف دستورشکنی کے مرتکب ہوئے ہیں اورانھیں اس کی سزا ملنی چاہیے‘‘۔
ہم نے اصل فیصلے کا بغور مطالعہ کیاہے اور اس امر کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے اور قانونی اور دستوری اعتبار سے بڑا جان دار اور محکم فیصلہ ہے۔ افسوس ہے کہ ایک غیرضروری جملے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ اصل فیصلہ مرکز توجہ نہیں رہا بلکہ مخصوص طبقوں کی طرف سے اس پرایسے اعتراضات ہورہے ہیں جن کے جواب فیصلے میں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر یہ اعتراض کہ ’’جنرل پرویز مشرف کو دفاع کا موقع نہیں ملا اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے‘‘۔اور یہ کہ ’’فیصلہ آرمی کے خلاف بحیثیت ایک انسٹی ٹیوشن کے ہے‘‘ اس سے غلط الزام کوئی نہیں ہوسکتا۔
اس فیصلے میں پوری تفصیل موجود ہے کہ کس طرح چھے سال تک مقدمہ چلا ہے، ۱۰۰ سے زائد مرتبہ پرویز مشرف اور ان کے وکلا عدالت گئے اور انھوں نے محض التوا اور فیصلہ مؤخر کرنے کا کھیل کھیلا۔ اس فیصلے میں ’غداری‘ کا لفظ ایک بار بھی استعمال نہیں ہوا۔ جو لفظ استعمال ہوا ہے، وہ وہی ہے، جو خود دستور میں استعمال ہوا ہے یعنی، high treason۔ جنرل صاحب نے ۴۰سال فوج کی خدمت کی، اس پر یہاں بحث نہیں۔ پھر جس طرح فوج میں high treason کے الزام میں کئی اعلیٰ فوجی افسران کو سزا دی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے فوج کے ادارے پر کوئی حرف نہیں آتا،ذمہ داری متعلقہ فرد پر ہی جاتی ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہے۔
جس طرح ایک وزیر، وزیراعظم، صدر، جج، اعلیٰ سول ملازم، سیاسی لیڈر کسی جرم سے صرف اس لیے محفوظ نہیں رہ سکتا کہ وہ وزیر، جج یا افسر ہے، اسی طرح اگر فوج کے کسی بھی افسرنے خواہ اس کی دوسری خدمات کتنی ہی شان دار کیوں نہ ہوں، اگر اس نے ایک بھی مجرمانہ اقدام کیا ہے تو محض خدمات کی بناپر اسے جرم سے تحفظ نہیں دیا جاسکتا۔ یہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف اقدام (اور فیصلہ) ہے فوج کےخلاف نہیں۔ فوج کے نمایندوں نے اس سلسلے میں جس ردعمل کا اظہار کیا ہے، وہ محل نظر ہے۔
کیا فوجی قیادت ماضی قریب کی اس فضا کو بھول گئی کہ جنرل پرویز مشرف صاحب کے زمانۂ اقتدار میں،خصوصیت سے اسلام آباد کی لال مسجد کے واقعے میں مشرف کے ظالمانہ اقدام کے باعث فوج کی ساکھ، عوام کی نگاہ میں اتنی متاثر ہوگئی تھی کہ وردی میں تنہا سفر کرنے سے انھیں سرکاری طورپر منع کردیا گیا تھا۔ حالاںکہ پاکستانی عوام اپنی فوج کے ایک ایک سپاہی سے محبت کرتے ہیں اور سپاہی ہو یا افسر اور جرنیل انھیں اپنا محسن سمجھتے ہیں۔پرویز مشرف کے چلے جانے کے بعد فوج نے اپنی ساکھ کوبحال کرانے میں اہم اقدامات کیے۔ عدالتی فیصلے میں واضح طور پر پرویز مشرف اور اس کے اقدام اور فوج بحیثیت ادارہ میں فرق کیا گیا ہے اور پوری جرأت اور وضاحت سے فیصلے میں اس امر کو ثابت کیا گیا ہے: ’’فوج، دستورکے تابع ہے اور دستور کے طے کردہ اصول کے مطابق سول نظام کے تحت کام کرتی ہے‘‘۔ سول معاملات میں مداخلت یا دستور کا تعطل، تبدیلی، یا کُلی اور جزوی تنسیخ اس کے اختیارات سے باہرہیں اور اس جرم کی سزا دستور نےمقرر کردی ہے۔
جنرل پرویز مشرف کے ساتھ اس جرم میں اور کون کون شریک تھا؟ اس بات کو بھی اُچھالا جارہا ہے۔حالاں کہ فیصلے میں اس مسئلے کو بالکل واضح کر دیا گیا ہے کہ یہ مسئلہ مقدمے کے دائرۂ کار سے باہر تھا۔ البتہ حکومت ان تمام افراد پر جب چاہے مقدمہ قائم کرسکتی ہے اور عدالت نے اس کا راستہ نہیں روکا۔ لیکن اس کی وجہ سےپرویز مشرف جو اصل اور کلیدی کردار ہیں، ان کو کیسے تحفظ دیا جاسکتا ہے؟ ہمارے نام نہاد دانش ور اس فیصلے پرجتنے بھی اعتراضات اُٹھا رہے ہیں، ان سب کا جواب فیصلے کے اندر تحریری طور پر موجود ہے۔ لیکن فیصلہ پڑھے بغیر یااس کے مندرجات کو نظرانداز کرکے فتوے دینے کی جو رسم ہمارے اینکروں اور تبصرہ نگاروں نے قائم کر دی ہے، وہ افسوس ناک ہے۔
فیصلے میں اختلافی نوٹ بھی پڑھنے کے لائق ہے۔اس میں پارلیمنٹ اور سیاسی قیادتوں کا جو کرداررہا ہے، اس پربھرپور گرفت کی گئی ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ فیصلہ ہماری تاریخ کا بڑا اہم اورروشن فیصلہ ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ پڑھا جانا چاہیے اور اس پر مکمل عمل ہونا چاہیے۔ہم ایک بار پھر یہ وضاحت کیے دیتے ہیں کہ پیراگراف ۶۶ کا وہ حصہ جس پر لے دے کی جارہی ہے، ایک راے ہے،فیصلے کا حصہ نہیں۔ اسے اس حد تک رکھا جائے تو بہتر ہے اور اگر ریویو میں عدالتِ عظمیٰ اسے نکال دے تو بہترہے۔
تیسرا مسئلہ جس پر ہم توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں، اس کا تعلق عدالت کے اس فیصلے سے ہے، جس میں فوج کے سربراہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کو قانونی جواز سے عاری قرار دیا گیا ہے اور حکومت اور پارلیمنٹ کو موقع دیا گیا ہے کہ چھے مہینے کے اندر اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کرلے۔
اس معاملے میں حکومتی نااہلی اور اس کی قانونی ٹیم کے پھوہڑپن اورتساہل کا جو بھانڈا پھوڑا گیا ہے، وہ بڑا چشم کشا ہے۔کابینہ کی کارروائی اور اہم اُمورپر سرکاری دستاویزات جس طرح لکھی جارہی ہیں اور جن الفاظ کا استعمال قانونی تقرریوں میں کیا جارہا ہے، انھیں دیکھ کر سرپیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہماری سول سروس کو کیا ہوگیا ہے؟ قانون، ضابطہ، طرزِبیان کے سلسلے میں جو تربیت انھیں دی جاتی تھی، وہ اب کہاں چلی گئی ہے؟ تین سرکاری دستاویزات جو پیش کی گئیں، وہ تینوں غلطیوں سے پُر ہیں۔ کیا اس کے ذمہ دار افراد کا احتساب نہیں کیا جاسکتا؟
پاکستان کے موجودہ حالات کا گہرائی میں جاکر جو بھی جائزہ لے گا، وہ اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ہم اپنی تاریخ کے ایک سنگین بحران سے دوچار ہیں اور اس سے نکلنےکا کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔ اس کے لیےتمام سیاسی اور دینی قوتوں کے درمیان حقیقت پسندانہ مشاورت اور ملک و قوم کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے مناسب اور مؤثر لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔
بدقسمتی سے عمران خان صاحب نے ایک تاریخی موقعے کو بڑی بے دردی سے ضائع کیا ہے۔ جولائی ۲۰۱۸ء کے انتخابات، منصفانہ انتخابات نہیں تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ پاکستان میں آج تک ایک بھی انتخاب دیانت اور انصاف کی بنیاد پر نہیں ہوا۔ ۱۹۷۰ء کے انتخاب کے بارے میں دعویٰ تو کیا جاتا ہے کہ وہ منصفانہ تھا، لیکن جن کی نگاہ زمینی حقائق پر ہے، وہ جانتے ہیں کہ خاص طور پر مشرقی پاکستان میں انتخابات کو بُری طرح عوامی لیگ کا یرغمال بنا دیا گیا۔ تاہم، جو سیاسی لہریں ملک کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھیں، ان کی بھی عکاسی انتخابی نتائج میں پائی جاتی تھی۔
مختصر الفاظ میں، مختلف شکلوں میں اورمختلف طریقوں سے ہرسطح پر، ملک کے ہر انتخاب پر اثرانداز ہوا گیا ہے اور ۲۰۱۸ء کے انتخابات کے نتائج میں بھی یہ چیز موجود تھی۔ لیکن اس کے باوجود ایک دو جماعتوں کو چھوڑکر سب نے ایسے داغ دار نتائج کی بنیاد پر بھی پارلیمنٹ کو مؤثر کرنے اور حکومت سازی کی تائید کی۔ ہماری بھی سوچی سمجھی راے یہ تھی کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو کام کا موقع ملنا چاہیے اور انھیں اپنی پوری مدت ملنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی نے ان قوتوں کا ساتھ نہیں دیا جو انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھیں۔ لیکن بدقسمتی سے تحریک انصاف اور اس کی قیادت نے اس تاریخی موقعے کوضائع کیا ہے اور پارلیمنٹ کو اہمیت دینے اور اپوزیشن سے تعلقاتِ کار قائم کرکے نظام کو چلانے اور مستحکم کرنے کے بجاے ٹکراؤ،کش مکش اور گہری صف بندی (polarization )کا راستہ اختیار کیا۔ اپوزیشن میں خصوصیت سے مسلم لیگ (ن) کا رویہ بھی منفی رہا ہے اور تصادم کی سیاست کے فروغ میں اسے بری الذمہ قرار نہیں دیاجاسکتا۔شروع میں پیپلزپارٹی کا رویہ زیادہ متوازن تھا لیکن اب وہ بھی تصادم کے راستے پرچل پڑی ہے۔
ہماری نگاہ میں اس غلطی کی زیادہ ذمہ داری حکومت اور اس کے نمایندوں پر ہے۔ خود وزیراعظم صاحب اس معاملے میں سب سے آگے ہیں۔انھیں دانش مندی سے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ راستہ نہ ان کے مفاد میں ہے اور نہ ملک اور جمہوریت کے مفاد میں۔ اس صورتِ حال میں پارلیمنٹ غیرمؤثر ہوتی جارہی ہے ۔ سینیٹ کا اجلاس گذشتہ ۱۲۰ دن سے نہیں ہوا ہے۔ قومی اسمبلی میں بھی قانون سازی نہ ہونے کے برابر ہے۔ آرڈی ننسوں کے ذریعے سے حکومت چلائی جارہی ہے۔ یہ دستورکے الفاظ اور روح دونوں کے منافی ہے۔ پارلیمانی کمیٹیاں بھی اپنا کردار ادا نہیں کررہیں۔ کونسل آف کامن انٹرسٹ جو ایک دستوری ادارہ اور وفاق کی علامت ہے اور اسے ہرتین ماہ میں ایک بار لازماً ملنا چاہیے۔ اس کا سال بھر میں صرف ایک اجلاس ہوا ہے اوروہ بھی محض صوبوں کے اصرار پر۔پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں گذشتہ ۱۶ مہینوں میں سب سے کم قانون سازی ہوئی ہے، جو بہت تشویش ناک ہے۔ بلاشبہہ موجودہ حکومت کے دور میں کابینہ کے اجلاس زیادہ باقاعدگی سے ہورہے ہیں اوراس کے لگ بھگ اجلاس حکومتی ترجمانوں کے بھی ہوئے ہیں۔ ان میں سے اکثر ترجمان، ابہام پیدا کرنے اور تصادم کی فضا کو پروان چڑھانے میں دل چسپی رکھتے ہیں۔
اس اصول کو ذہن نشین رہنا چاہیے کہ حکومتی کابینہ اسی وقت مؤثر ہوسکتی ہےجب وہ پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہو۔ ارکان کی پارلیمنٹ میں دل چسپی کا یہ حال ہے کہ جو بھولے بسرے اجلاس ہوئے ہیں، ان میں بھی کوئی اجلاس وقت پر شروع نہیں ہوا۔ ارکان کے سوالوں کے جواب بھی پورے نہیں آسکے، بلکہ کچھ اجلاس تو چند منٹ کے بعد مؤخر کرناپڑے۔ یہ پارلیمنٹ کی بڑی تاریک تصویر ہے جو موجودہ حکومت کےدور میں قوم کےسامنےآرہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن جیسے اہم ادارے کے ارکان جنھیں دستورکے مطابق ۴۵دن کے اندر مقرر ہونا چاہیے تھا، چھے مہینے سے زیادہ گزرنے کے باوجود تاحال (۳۱دسمبر ۲۰۱۹ء تک) مقرر نہیں کیے جاسکے ہیں۔اور اس وقت کوئی چیف الیکشن کمشنر بھی موجود نہیں۔ ۳۰ سے زیادہ اہم سرکاری اداروں کے سربراہ مقرر نہیںکیے جاسکے۔جہاں افسر مقرر کیےجاتے ہیں وہاں باربار تبدیلی کا یہ حال ہے کہ مرکز اورپنجاب دونوں میں چیف سیکرٹری، سیکرٹری اور پولیس افسران ناقابلِ فہم عجلت میں بدلے جارہے ہیں۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ گورننس کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ ان حالات میںاگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مناسب ہم آہنگی اور تعلقاتِ کار قائم نہیں ہوتے تو پارلیمنٹ کا چلنا مشکل ہے۔ بلاشبہہ ہماری اولین ترجیح پارلیمنٹ کی مدت پوری کرنے کےلیے تھی، لیکن موجودہ حالات میں اگر حکومت اور اپوزیشن رویہ نہیں بدلتے ہیں تو پھر نئے انتخاب اورنئی پارلیمنٹ کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔
ہم پوری ذمہ داری سےعرض کریں گے کہ مسئلہ نئی پارلیمنٹ سے بھی حل نہیں ہوگا، کیوں کہ ہماری سیاسی پارٹیاں، جمہوری پارٹیوں کی طرح کام نہیں کررہی ہیں۔ جماعت اسلامی اور غالباً اے این پی کے سو ا کسی جماعت میں باقاعدہ اور مؤثر انتخابات نہیںہوتے۔ تاہم اے این پی میں بھی موروثی سیاست اسی طرح براجمان ہے، جس طرح پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دوسری جماعتوں میں مستحکم ہے۔
پارٹیوں کے پاس کوئی واضح پروگرام اور شفاف پالیسی نہیں ہے۔ جس کا تلخ ترین تجربہ تحریک انصاف کی حکومت میں سامنے آیا ہے کہ ۲۲سال کی جدوجہد اور تبدیلی کے حسین خواب دکھانے کے باوجود، جب حکومت ملی، توان کے پاس کوئی پروگرام نہیں تھا۔ میرٹ کی بات بہت ہوتی تھی، مگر ان تقرریوں میں جس چیز کا سب سے زیادہ قتلِ عام ہوا، وہ خود میرٹ ہے۔روایتی سیاسی اثرات پوری طرح کارفرمانظر آئے ہیں۔ آدھی کابینہ جنرل مشرف، زرداری اورنوازشریف کی وزارتوں کے سابق ارکان پر مشتمل ہے یا وزیراعظم کے محض ذاتی دوستوں اور معتمدین پر۔پوری معیشت آئی ایم ایف کے اشاروں پر منحصر کردی گئی اور عالمی مالی اداروں سے متعلقہ افراد کو معیشت کی باگ ڈور سونپ دی گئی۔ حکومت کی مجموعی کارکردگی مایوس کن ہے، لیکن ’سب اچھا ہے‘ ثابت کرنے کے لیے وزیروں اور خصوصی نمایندوں کی بڑی تعدادایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہے۔
احتساب کا جو حشر کیا گیا ہے، اس میں جو بدسلیقگی برتی گئی ہے، اس کے بارے جتنا کہا جائے کم ہے۔ عوام کا اعتماد اس پر سے اُٹھتا جارہا ہے۔ وہ حکمران اور سرکاری عمال جو قومی خزانے کو لوٹنے یا نقصان پہنچانے کے ذمہ دار تھے، ملزم سے مجرم ثابت ہونے کے بجاے مظلوم بنتے جارہے ہیں اور ان کی اور ان کے ساتھیوں کی سودے بازی کی حیثیت بڑھ گئی ہے۔ نیب کاکرداراحتساب سے زیادہ انتقام کا نظر آنے لگاہے اور اس کی کارکردگی بالکل غیرمؤثر رہی ہے۔ نو نو مہینے حراست میں رکھنے کے باوجود،کوئی مناسب شہادتیں فراہم کرنے میں ناکامی اس کا کھلاثبوت ہے۔دعوےنیب چیئرمین کے بھی بہت بلندبانگ، لیکن عملی اقدام کمزور اور غیرمؤثر۔ احتساب جسے عمران خان صاحب نے اپنے انتخابی نعروں میں سرفہرست رکھا تھا، وہ مذاق بنتا جارہا ہے۔
ان حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو شدید خوداحتسابی کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ ملک کے حالات کا گہری نظرسے مطالعہ کریں۔ مختلف شعبوں کے ماہرین کے تعاون سے مسائل کا صحیح ادراک کریںاور ان کے حل کے لیے مناسب اور مؤثر پالیسیاں تشکیل دیں۔ ان پر عوامی بحث و مباحثہ ہو اور سیاسی قیادت میں ایسے لوگوں کو لایا جائے جو دیانت و امانت کےساتھ صلاحیت اور قابلیت بھی رکھتے ہوں۔ پارلیمنٹ میں سوالات اور پارلیمانی کمیٹیاں وہ ادارے ہیں، جہاں معلومات حاصل کرکے سرکاری پالیسیوں اور ان کے نتائج پر گرفت حاصل کی جاسکتی ہے۔ ضرورت ہے کہ ان کو متحرک کیا جائے۔
ایک مصیبت یہ ہے کہ جناب محمد خان جونیجو کے دورِ حکومت [۸۸-۱۹۸۵ء] میں پارلیمان کےارکان کو ترقیاتی فنڈ فراہم کرنے کی جس لعنت کا آغاز کیا گیا تھا، اس نے پارلیمنٹ کے فطری اور منصبی کیریکٹر ہی کو تباہ کردیا ہے۔ ہماری نگاہ میں یہ کام مقامی حکومتوں (لوکل باڈیز) کا ہے اور اوّلین ترجیح لوکل باڈیز کےقیام، اور تمام ترقیاتی فنڈز کو لوکل باڈیز کے ذریعے استعمال کرنے کی ہے۔ یہ پارلیمنٹ اور اس کے ارکان کا کام نہیں ہے۔ انھیں وہ کام کرنا چاہیے جو دستورنے ان کوسونپا ہے اور اس کے کرنے کی انھیں نہ کوئی فکر ہے اور نہ خواہش۔
تحریک ِ اسلامی کے لیے بھی ضروری ہے کہ اپنی نظریاتی اورتہذیبی شناخت کے مطابق ملک کے مسائل اور عوام کے حالات کو بہتربنانے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرے اور ایک ایسا موقف اختیار کرے، جس میں عوام اپنے جذبات کی صداے بازگشت سن سکیں۔ ہمارے پاس الحمدللہ دیانت دار اور اپنےمقصدحیات کی خدمت زندگی بھر کرنے کا جذبہ رکھنے والے کارکن اور لیڈر ہیں ۔اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم عوام تک پہنچیں اوراپنے چار نکاتی پروگرام کی روشنی میں، ہرہرنکتے کےمطابق دعوت اورعوام کو متحرک کرنے کا کام انجام دیں۔ زندگی کے ہرہرشعبے کے سلسلےمیں جو متبادل پالیسیاں ہم لانا چاہتے ہیں، انھیں تفصیل سے پیش کریں۔
معاشی میدان میں جماعت نے ایک مفیددستاویز تیار کی ہے،اسے بڑے پیمانے پرپھیلانے اور اس کی مزید تفصیلات طے کرنے اور ان پر سیمی نار منعقد کیے جانے چاہییں۔ اسی طرح ہرہرشعبے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے منصوبۂ کارکا ایک حصہ جہاں فوری تبدیلیوں کا ہونا چاہیے، وہاں اس میں درمیانی اور طویل المدت تبدیلیوں کابھی خاکہ شامل ہونا چاہیے۔ ملک میں نجی تحقیقی اداروں اور یونی ورسٹیوں میں اس حوالے سے جو تحقیقی کام ہورہے ہیں، ضروری ہے جماعت کی قیادت اور کارکن اس کام سےواقف ہوں۔
ہمارے سامنے صرف ایک الیکشن یا کسی ایک حکومت کی بدنظمی سے نبٹنے کا چیلنج نہیں ہے، بلکہ پیش نظر ملک کے نظام میں تبدیلی ہے اوراس کا خاکہ ہمارے منشور میں ہے۔ تاہم، اس کا تفصیلی نقشۂ کار تیارکرنے اور اسے عام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اُوپر سے لے کر نیچے تک، ہماری قیادت کی گرفت ان تمام موضوعات پر ہونی چاہیے تاکہ اپنی گفتگوؤں، دعوتی ملاقاتوں، تقریروں اورمضامین میں ان کو پیش کرسکیں۔ عمومی تقاریر کا اپنا رول ہے، لیکن جو تبدیلی ہم لانا چاہتے ہیں اور جو ملک کو مطلوب ہے، اس کے لیے یہ دوسرا کام ازبس ضروری ہے۔ اس میدان میں تحریک ِ انصاف کی ناکامی سے جو خلا پیدا ہواہے، وہ جماعت اسلامی ہی کوپُر کرنا چاہیے۔ اس خلا کو پُر کیے بغیر قیامِ پاکستان کے اصل مقاصد کے مطابق تعمیرنو ممکن نہیں۔ یہ ہمارے ملک و قوم کے لیے زندگی اورموت کا مسئلہ ہے۔ فکری یکسوئی، منظم اجتماعی جدوجہد، راے عامہ کی تسخیر اور راے عامہ کی قوت سے سیاسی نظام کی تبدیلی کے ذریعے ہی پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنایا جاسکتا ہے۔
علامہ اقبال ایک ہمہ گیر صاحب ِکمال اور غیرمعمولی ذہانت کے حامل جوہرِقابل تھے۔ ایک بڑے چمکتے دمکتے ہیرے کی مانند ان کی شخصیت کے بے شمار پہلو نظر کو خیرہ کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کی شاعری کے حُسن کمال اور ہنر کی خوب صورتی سے متاثر ہیں۔ کچھ ان کے علم کی وسعت اور خیالات کی گہرائی سے متاثرہیں، جب کہ کچھ ان کی فلسفیانہ سوچ اور سیاسی زکاوت و فراست سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔لیکن،جب عصری تاریخ کا ایک طالب علم اقبال پر نظر ڈالتا ہے، وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک عظیم شاعر، علاوہ ازیں ایک تیزفہم اور دُوراندیش سیاست دان اور ایک معززونام ورفلسفی بھی تھے،مگر ان سب سے بڑ ھ کر وہ اسلام کی نشاتِ ثانیہ کے بانی تھے۔ درحقیقت اسی میں ان کی حقیقی عظمت پوشیدہ ہے۔
مسلم معاشرہ ایک طویل عرصے سے انحطاط کے دور سے گزر رہا تھا۔ جس انتشار نے ’تحریکِ خلافت‘ کے خاتمے پر جنم لیا تھا،اس نے بتدریج اسلامی تہذیب وثقافت کی بنیادوں کو نگل لیا اور اس پر مصائب و پریشانیوں پر مشتمل مایوسی اور شعوری مدہوشی کی تاریک رات چھا گئی۔ تخلیقی صلاحیتیں ماند پڑ گئیں اور سیاسی قوت مضمحل ہوگئی۔اگرچہ مختلف اصلاحی تحریکوں نے جنم لیا اور بہت سے اصحاب فکر نے بھی مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے علاوہ مسلم معاشرے میں ایک نئی زندگی کی روح پھونکنے کی کوشش کی مگر انھیں بہت کم کامیابی نصیب ہوئی۔ اس صورت حال کا انتہائی المیہ یہ تھا کہ اب اسلام ایک سیاسی وتہذیبی متحرک قوت نہیں رہا تھا۔اب اسلام،محض چند مذہبی رسوم ورواج کا ملغوبہ بن کر رہ گیا تھا، اور المیہ تو یہ تھا کہ اس کے پیروکار بھی اسے تہذیب وتمدن کی نشوونما کے عنصر کی حیثیت سے تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔یہ ایک افسوس ناک صورتِ حال تھی۔ مزید خرابی یہ ہوئی کہ جب انگریزوں نے ہندستان پر قبضہ کر لیا تو انھوں نے نہایت ہوشیاری سے اس خطے پر مغربی تہذیب وتمدن مسلط کر دیا اور یوں بے شمار مسائل پیدا ہوتے چلے گئے۔ مغرب کی سیاسی ومعاشی برتری اور نظام تعلیم نے ہندستان کے مسلمانوں میں غلامانہ ذہنیت پیدا کر دی۔ وہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہو گئے۔ان کے سیاسی اعتماد کی آخری نشانیاں بھی مٹ گئیں اوران کی بقا کو خطرہ لاحق ہو گیا۔
نئی بیداری کی علامات اس وقت افق پر نمودار ہوئیں جب کامریڈ،الہلال اورزمیندار نے مسلمانوں کو خوابِ غفلت اور مدہوشی سے جگایا اوران میں حرکت کرنے اور اپنا فرض ادا کرنے کا حوصلہ پیدا کیا۔تحریکِ خلافت ایک عظیم نعمت ثابت ہوئی۔اس نے مسلمانانِ ہند کے جذبات کو مہمیز بخشی او ران کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ سیاسی جدوجہد اور تہذیبی انقلاب کے دور میں داخل ہوجائیں۔لیکن یہ نئی بیداری کسی بھی مناسب عقلی اور فلسفیانہ بنیادوں سے محروم تھی۔یہ اقبال ہی تھے جنھوں نے یہ بنیادیں مہیا کیں۔وہ ہندستان میں اسلام کی نشاتِ ثانیہ کے ہدی خواں تھے۔
اقبال واضح نظریے کے حامل اور تحقیقی ذہن کے مالک تھے۔انھوں نے مسلم معاشرے کے حالات کا مطالعہ کیا اور ان کمزوریوں وامراض کا ادراک کیا جو مسلم معاشرے میں سرایت کر چکے تھے۔ وہ انتہائی واضح طور پرمغربی تہذیب وثقافت کے دُور رس اثرات کوسمجھ چکے تھے اور انھوں نے نوشتۂ دیوار پڑھ لیا تھا۔انھیں معلوم تھا کہ مسلمانوں کے نقطۂ نظر میں انقلابی تبدیلی،وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ اگرانھوں نے اپنے دور کے عظیم چیلنج کو نظرانداز کیا، تو وہ صفحۂ ہستی سے مٹ جائیں گے اور تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیے جائیں گے۔
اس ضمن میں اقبال کی تشخیص یہ تھی کہ تہذیبی وثقافتی انحطاط کے ایک طویل عرصے کے علاوہ جدید مغرب کے اثرونفوذنے مسلم معاشرے کی چولیں ہلا دی ہیں۔مسلمان اس لیے زوال پذیر ہوئے کیونکہ انھوں نے اسلام کو ترک کر دیا اور انھوں نے اتباع اور عدم فعالیت کی آسان زندگی اپنالی۔ مغرب کے زیرِ اثر رہتے ہوئے اپنی اقدار پر ان کا اعتماد متزلزل ہو گیا اور وہ مغربی طرزِ زندگی اپنانے لگے۔مزیدبرآں ان میں احساسِ کمتری پیدا ہوگیا، جب کہ سماجی زندگی اور مذہبی اقدار کے درمیان کدورت پیدا ہو گئی۔غیراسلامی تصوف نے فعالیت کے پَر مزید کاٹ دیے اور مسلمانوں کی حالت مزید ابتر ہوگئی۔یہ حالات کا درست ادراک اور تشخیص تھی اور اقبال نے مسلمانوں کو انحطاط کی دلدل سے نکالنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاںصرف کر دیں۔
سب سے پہلے اقبال نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ مغرب کے متعلق اپنے اندازفکر پر نظرثانی کریں۔انھوں نے کہا کہ یورپ میں سب اچھا نہیں۔انھوں نے مغربی تہذیب وثقافت کے بنیادی اصولوں کا تنقیدی جائزہ لیا اور ان کی گمراہ کن نوعیت کو بے نقاب کیا۔انھوں نے ان لوگوں پر تنقید کی جو اندھادھندمغربی تہذیب وثقافت کی تقلید کررہے تھے۔ اقبال نے انھیں کہاکہ وہ اس ضمن میں استدلال اور ادراک سے کام لیں۔اپنے انگریزی خطبات میں انھوں نے کہا: ’’ہمارے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ جدید علم کے متعلق قابل احترام لیکن آزادانہ طرزعمل اپنائیں‘‘۔
انھوںنے اس خوف کا اظہار کیا:’’ یورپی تہذیب وتمدن کا خیرہ کن ظاہر ہمارے وقت کو اپنے حصار میں لے سکتا ہے‘‘۔انھوں نے مغرب کے مادی تہذیب وتمدن کے تباہ کن اثرات اور الحادوبے دینی کے خطرات سے خبردار کیا۔وہ اپنی نظمـ’پس چہ بایدکرداے اقوامِ شرق‘ میں کہتے ہیں:
آدمیت زار نالید از فرنگ
زندگی ہنگامہ برچید از فرنگ
پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق؟
باز روشن می شود ایامِ شرق
در ضمیرش انقلاب آمد پدید
شب گذشت و آفتاب آمد پدید
یورپ از شمشیرِ خود بسمل فتاد
زیر گردوں رسم لادینی نہاد
گر گے اندر پوستینِ برئہ
ہرزماں اندر کمینِ برئہ
مشکلاتِ حضرتِ انساں ازو است
آدمیت را غمِ پنہاں ازوست
درنگاہش آدمی آب و گل است
کاروانِ زندگی بے منزل است
[نوعِ انسانی فرنگیوں کے ہاتھوں سخت فریاد کر رہی ہے۔ زندگی نے اہلِ فرنگ سے کئی ہنگامے پائے ہیں۔ تو اے اقوامِ شرق اب کیا ہونا چاہیے؟ تاکہ مشرق کے ایام پھر سے روشن ہوجائیں۔ مشرق کے ضمیر میں انقلاب ظاہر ہورہا ہے۔ رات گزر گئی اور آفتاب طلوع ہوا۔ یورپ اپنی تلوار سے خود ہی گھائل ہوچکا ہے۔ اس نے دنیا میں رسمِ لادینی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اس کی حالت اس بھیڑیے کی سی ہے جس نے بکری کے بچّے کی کھال اوڑھ رکھی ہے۔ وہ ہرلمحہ ایک نئے برہ کی گھات میں ہے۔ نوعِ انسانی کی ساری مشکلات اس کی وجہ سے ہیں۔ اسی کی وجہ سے انسانیت غم پنہاں میں مبتلا ہے۔ اس کی نگاہ میں آدمی محض پانی و مٹی کا مجموعہ ہے اور زندگی بے مقصد ہے]۔
اقبال نے بہت ہی خوب صورتی سے یہ اعلان کیا کہ محض مذہب ہی انسانیت کو سماجی انتشار اور عقلی اُلجھن کے موجودہ ہنگامے سے نجات دلا سکتا ہے۔انھوں نے کہا:اور محض مذہب ہی اخلاقی طور پر دورِحاضر کے انسان کو اس عظیم ذمہ داری کے بوجھ کے لیے تیار کرسکتا ہے جو سائنس کی ترقی کے باعث لازمی طور پر اس کے سپرد کی گئی ہے۔ دین کے اصول و ضوابط اسے یہاںاپنی شخصیت کی تشکیل اور آخرت میں اسے برقرار رکھنے کی اہلیت عطا کرتے ہیں۔ یوں بالآخر وہ ایک ایسی تہذیب و ثقافت پر فتح حاصل کر لے گا،جو اپنی مذہبی اور سیاسی اقدار کے اندرونی اختلاف کے باعث اپنی روحانی یک جہتی کھو چکی ہے۔
مغرب کی روحانی کمزوریوں، مادیت اور سیکولرزم کے کھوکھلے پن کی نشان دہی کرتے ہوئے انھوں نے واضح کیا کہ مغرب کی ترقی کی بنیاد علم و ہنر ہے، نہ کہ بعض سطحی عناصر___ وہ کہتے ہیں:
قوتِ مغرب نہ از چنگ و رباب
نے زر قصِ دخترانِ بے حجاب
نے ز سحرِ ساحرانِ لالہ روست
نے ز عریاں ساق و نے اَز قطعِ موست
محکمی اورانہ از لادینی است
نے فروغش از خطِ لاطینی است
قوتِ افرنگ از علم و فن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است
حکمت از قطع و بریدِ جامعہ نیست
مانعِ علم و ہنر عمّامہ نیست
[مغرب کی قوت چنگ و رباب سے نہیں۔نہ یہ بے پردہ لڑکیوں کے رقص کی وجہ سے ہے۔ نہ یہ سرخ چہرہ، محبوبوں کے جادو کی وجہ سے اور نہ یہ ان کی عورتوں کی ننگی پنڈلیوں اور بال کٹانے سے ہے۔ نہ اس کا استحکام لادینی کی وجہ سے ہے اور نہ اس کی ترقی رومن رسم الخط کے باعث ہے۔ افرنگ کی قوت ان کے علم اور فن کے سبب سے ہے۔ ان کا چراغ اسی آگ سے روشن ہے۔ ان کی حکمت لباس کی قطع و برید کے سبب سے نہیں۔ عمامہ علم و ہنر سے منع نہیں کرتا]۔
یوں اقبال نے عصری نظریاتی منظر نامے کا جائزہ لیا اور مغربی تہذیب وتمدن کی حقیقی کامیابیوں اور اصلی احساسات کو پیش کیا، تاکہ ان کی اندھادھندتقلید کی روک تھام کی جا سکے لیکن انھوں نے اسی پر بس نہیں کیا۔بلکہ انھوں نے فیصلہ کن انداز میں ان امور میں مغرب کو اسلام کا مقروض دکھایا، جو اس کے عروج اور ترقی کا باعث ہوئے اور پھر انھوں نے مسلمانوں میں ان کی اپنی اقدار پرایک نیااعتماد پیدا کیا۔انھوں نے کہا:
حکمتِ اشیا فرنگی زاد نیست
اصلِ او جز لذتِ ایجاد نیست
نیک اگر بینی مسلماں زادہ است
ایں گہرا ز دستِ ما افتادہ است
چوں عرب اندر اروپا پرکشاد
علم و حکمت را بنا دیگر نہاد
دانہ آں صحرا نشیناں کاشتند
حاصلش افرنگیاں برداشتند
ایں پری از شیشۂ اسلافِ ماست
بازصیدش کن کہ او از قافِ ماست
[اشیا کی ماہیت جاننے کا آغازفرنگیوں سے نہیں ہوا۔ اس کی بنیاد صرف نئی دریافت کی لذت ہے۔ اگر تو غور سے دیکھے، تو یہ چیز مسلمانوں کی پید ا کردہ ہے۔ یہ وہ موتی ہے جو ہمارے ہاتھ سے گرا۔ جب عربوں نے یورپ کے اندر کشورکشائی کی، تو انھوں نے وہاں نئے انداز سے علم و حکمت کی بنیاد رکھی۔ دانہ ان صحرا نشینوں نے بویا، اور فصل کا حاصل افرنگیوں نے اکٹھا کیا۔ اس پری کا تعلق ہمارے آبا و اجداد کے شیشے سے ہے، تُو اسے دوبارہ شکار کر کیونکہ یہ ہمارے کوہِ قاف کی پری ہے]۔
اقبال نے اسلامی فکر کی ازسرنوتشکیل کی ضرورت کا ادراک کر لیا تھا۔انھیںعلم تھا کہ مذہب پر جدید حملے کا مقابلہ صرف اور صرف نئے ہتھیار سے ہی کیا جا سکتا ہے۔مخالف کا مقابلہ اس کے اپنے میدان میں ہی کرنا ہو گا۔انھوں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ اسلام ایک متحرک اور انقلابی تحریک ہے لیکن صدیوں کے انجماد نے اس کے مذہبی افکار پر گرد کی کچھ تہیںچڑھا دی ہیں۔ انھوں نے گرد کی اس تہہ کو صاف کرنے کے لیے پیش قدمی کی اور ہیرے کو صاف کیا تاکہ وہ ایک دفعہ پھر اس دنیا کو روشنی مہیا کرسکے جو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاںمار رہی تھی۔
’اسلام میں مذہبی فکر کی ازسرنوتشکیل‘ کے موضوع پر ان کے انگریزی خطبات اس ضرورت کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہیں۔ان کی تشریح سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کے انقلابی پیغام کے زبردست اثر کوتسلیم کرنا چاہیے جو انھوں نے ہندستان کے مسلمانوں پر مرتب کیا۔
لیکن اقبال کے ذہن میںاس سے بھی کہیں ایک بڑا مشن موجزن تھا۔وہ محض فلسفی ہی نہیں تھے جو اسلا م کے نظریے کی سادہ عقلی وعلمی تشریح پر ہی اکتفا کر لیتے۔وہ تو یہ چاہتے تھے کہ وہ قوم کے ہراس طبقے کو حرکت دیں اور بیدار کریں جو خوابِ غفلت میں مدہوش تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اُمت کے مستقبل کو سنوارنے کی خاطر مسلم معاشرے کا ہر طبقہ اپنا کردار ادا کرے۔ اپنی دومثنویوں ’اسرارِخودی‘ اور ’رموزِ بے خودی‘ میں انھوں نے انفرادی اور سماجی ترقی کے عناصر کا ایک خاکہ پیش کیا۔اقبال نے ملت کے زوال کی وجوہ پر گفتگو کی اور ان بدیسی اثرات پر روشنی ڈالی جنھوں نے ملت کے سیاسی پیکر کومنتشر کر دیا۔اقبال نے مسلمانوں سے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی پیغام کی طرف واپس لوٹ آئیں۔
انھوں نے کہا کہ اسلام کے بنیادی عقائد،توحید،رسالت، آخرت اور جہاد ہیں۔توحید اسلامی معاشرے کے تمام ارکان کو فکری اتحاد اور عمل کرنے کی یک جہتی کی بنیاد مہیا کرتی ہے۔دنیا میں یہ انتہائی عظیم قوت ہے:
درجہانِ کیف و کم گردید عقل
پے بہ منزل بُرد از توحید عقل
ورنہ ایں بیچارہ را منزل کجاست
کشتیٔ ادراک را ساحل کجاست
اہلِ حق را رمزِ توحید ازبر است
در اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا مضمراست
تا ز اسرارِ تو بنماید ترا
امتحانش از عمل باید ترا
دیں ازو، حکمت ازو، آئیں ازو
زور ازو، قوت ازو ، تمکیں ازو
عالماں را جلوہ اش حیرت دہد
عاشقاں را بر عمل قدرت دہد
پست اندر سایہ اش گردد بلند
خاک چوں اکسیر گردد ارجمند
[جذبات و پیمایش کی اس دنیا میں عقل آوارہ پھر رہی تھی۔ توحید سے اسے منزل کی طرف رہنمائی حاصل ہوئی، ورنہ عقل کو منزل کہاں نصیب تھی۔ فہم کی کشتی کے لیے کوئی ساحل نہیں تھا۔ اہلِ حق توحید کی رمز کو خوب جانتے ہیں۔ یہی راز سورئہ مریم کی آیت ۹۳ میں مضمر ہے۔ تیرے عقیدۂ توحید کا امتحان عمل سے ہونا چاہیے تاکہ وہ تجھ پر تیری مخفی صلاحیتیں ظاہر کرے۔ دین، حکمت، شریعت، سب توحید ہی سے ہیں۔ اسی سے (افراد و اقوام) میں زور، قوت اور ثبات و استحکام پیدا ہوتا ہے۔ اس کا جلوہ عالموں کو حیرت میں مبتلا کردیتا ہے اور عاشقوں کو عمل کی قدرت عطا کرتا ہے۔ اس کے سایے میں پست بلند ہوجاتے ہیں اور خاک اکسیر کی مانند قیمتی بن جاتی ہے]۔
انھوںنے اسلام کے بنیادی تصورات کا مفصل ادراک کیا اور دین کی مخفی قوتوں کو واضح کردیا۔ان کی شاعری نے قوم کو زندگی کا ایک نیا پیغام دیا جو کافی عرصے سے نظرانداز کر دیا گیا تھا۔
اقبال کی شاعری اور افکار نے مسلمانانِ ہند کو بیدار کر دیا اور دنیا کی ازسرنوتشکیل کے لیے ان کے خاطرخواہ کردا رادا کرنے کے ضمن میں ان میں حوصلہ پیدا کیا۔قوم کو ایک نئے جذبے سے سرفراز کرنے کے بعد،انھوںنے [خطبہ الٰہ آباد کے ذریعے ہندستان کے شمال مغربی خطے میں ایک الگ وطن کا تصور پیش کیا تاکہ مسلمان اپنی توانائیاں] اسلام کے لیے ایک وطن حاصل کرنے کی جدوجہد میں صرف کریں۔ یہ حصولِ پاکستان کاتصور تھا۔
اقبال نے مسلمانانِ ہند میں ملّی تشخص کو زیادہ مضبوط و مستحکم کرنے کے لیے بہت محنت کی کہ مسلمان ایک قوم اور ایک نظریاتی برادری ہیں، اور یہ ان کے دین کی ہدایت ہے کہ وہ قرآن اور سنت کے فراہم کردہ اصولوں کی روشنی میں ایک ریاست،معاشرہ اور تہذیب و ثقافت قائم کریں۔ انھوں نے مسلمانانِ ہند کے سیاسی مسائل کے لیے متین فکر مہیا کی اور برسوں کے غوروفکر کے بعد ۱۹۳۰ء میں آل انڈیامسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اپنے صدارتی خطاب میں نظریۂ پاکستان پیش کیا جس میں انھوں نے کہا:’’اس ملک میں ایک تہذیبی وثقافتی قوت کی حیثیت سے اسلام کی زندگی کا زیادہ تر انحصار ایک مخصوص علاقے کی مرکزیت پر ہے۔مسلم ہندستان کے اکثریتی مسلم علاقے کی مرکزیت بالآخر ہندستان کے علاوہ ایشیاکے مسائل بھی حل کر دے گی۔یہ ضروری تھا کیونکہ مسلم ہندستان اپنی تہذیب وثقافت اور روایت کے مطابق ایک بھرپور اور آزاد ترقی کا حق دار ہو سکے‘‘۔
اپنی وفات سے ایک سال پہلے۱۹۳۷ء میں قائداعظم کے نام ایک خط میں انھوں نے لکھا:
مسلم صوبوں کا ایک الگ وفاق ہی، واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہم پُرامن ہندستان کو محفوظ رکھ سکتے اور مسلمانوں کو غیرمسلموں کے غلبے سے بچا سکتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ شمال مغربی ہندستان اور بنگال کے مسلمانوں کو ایک ایسی قوم نہ تصور کیا جائے جو عین اسی طرح حقِ خوداختیاری کی حق دار ہو جس طرح ہندستان اور بیرون ہندستان کی دیگر اقوام حقِ خوداختیاری کی حق دار ہیں۔
یہ مستقبل کا پیش خیمہ تھا۔قوم نے اقبال کی فراہم کردہ رہنمائی پر عمل کیا اور ایک عظیم کوشش اور قربانی کے بعد پاکستان ایک حقیقت بن گیا اور مسلم نشاتِ ثانیہ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
اقبال کا پیغام،عمل کا پیغام ہے۔وہ برعظیم پاک وہند میں اسلامی نشاتِ ثانیہ کے بانی تھے اور یہی ان کی حقیقی اہمیت ہے۔ہم نے انتہائی مختصر طور پر اس عظیم الشان کارنامے کا احاطہ کیا جو انھوں نے انجام دیا،یہاں ہم ان کے کام کی چند جھلکیاںہی پیش کرسکے ہیں۔ ان کے کام کو تو مفصل طریقے سے بیان کرنا بھی ممکن نہ تھا۔ اس مقالے کا اختتام اس عظیم انقلابی کے ان غیرفانی الفاظ پر کرتے ہیں جس نے قوم کو خوابِ غفلت سے بیدار اور ایک بلندوبالا مقصد کے حصول کے لیے راہِ عمل پر گامزن کیا:’’قوت کے بغیر فکراور سوچ اخلاقی رفعت تو مہیا کر سکتی ہے لیکن ایک پائیدار کلچر فراہم نہیں کر سکتی۔سوچ وفکرکے بغیر قوت ایک تباہ کن اور غیرانسانی نوعیت اختیار کرلیتی ہے، لیکن انسانیت کی روحانی وسعت کی خاطر ان دونوں کو لازماً اکٹھا کر لینا چاہیے‘‘۔
سچائی کے معیارات کے علَم بردار اپنی بقا مضبوطی ہی کے ذریعے برقرار رکھ سکتے ہیں:
اہلِ حق را زندگی از قوت است
قوتِ ہر ملّت از جمعیت است
راے بے قوت ہمہ مکر و فسوں
قوتِ بے رائے جہل است و جنوں
[اہلِ حق کی زندگی کا دارومدار قوت پر ہے اور ہر ملّت کی قوت اس کی جمعیت پر موقوف ہے۔ ایسی راے جسے منوانے کی قوت نہ ہو، محض مکروفسوں ہے]۔
(انگریزی سے اُردو ترجمہ: ریاض محمود انجم)
مسئلہ کشمیر کسی ’زمینی تنازع‘ کا نام نہیں اور نہ یہ دوملکوں کے درمیان جوع الارض کی کسی لڑائی کا شاخسانہ ہے۔ یہ ایک کروڑ ۳۰لاکھ انسانوں کی آزادی اور حقِ خود ارادیت کا مسئلہ ہے، جن کی ریاست کے بڑے حصے پر ایک سامراجی ملک بھارت نے محض طاقت کے بل پر، فوج کشی کے ذریعے قبضہ کرکے تقسیم ہند کے ایجنڈے کی تکمیل کو سبوتاژ کیا ہے۔ وہ قوت کے ذریعے آج بھی نہ صرف اس پر قابض ہے بلکہ اس نے اپنے دستور کی دو دفعات (۳۵-الف، اور دفعہ ۳۷۰) کو تبدیل کرنے کے لیے، ترمیمی ضابطے کی کھلی خلاف ورزی کی ہے اور سیاسی عہدوپیمان کا خون کرکے ضم کرنے کا خطرناک کھیل کھیلا ہے۔ جس کے نتیجے میں مقبوضہ جموں و کشمیر، بدترین کرفیو اور شہری و کاروباری زندگی کی مکمل معطلی سے دوچار کیا جاچکا ہے۔ پوری ریاست کے مظلوم، نہتے اور بے نوا شہری ۹لاکھ بھارتی مسلح فوجیوں کی سنگینوں تلے ایک ہولناک اجتماعی جیل خانے (Collective Prison) کی چکّی کے دوپاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ لیکن آفرین ہے کہ ان کی تحریک مزاحمت اور آزادی کی جدوجہد نہ صرف جاری ہے بلکہ وہ ایک فیصلہ کن موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔
یہ غاصب ملک خود اپنے وعدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی بے مثال جدوجہد آزادی اور قربانیوں کو یکسر نظرانداز کرکے فسطائی اور سامراجی فلسفے کی بالادستی قائم کرنے پر بضد ہے۔ اقوام متحدہ بہ حیثیت ادارہ بدستور بزدلانہ لاتعلقی اور مجرمانہ روش پر قائم ہے اور لفظی لیپاپوتی سے زیادہ ایک قدم آگے بڑھنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ کشمیر میں اقوامِ متحدہ کے مبصروں کی موجودگی اور مسئلے کے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود رہنے کے باوجود، ۷۲برسوں سے اس مسئلے کے حل کے لیے عملی کوششوں سے دست کش ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں قصۂ پارینہ ہیں اور اس عالمی تنظیم کو اپنے چارٹر کے تحت قیامِ امن اور تصفیہ طلب تنازعات کی دفعات سے بھی کوئی غرض نہیں۔ اب لے دے کے دوطرفہ مذاکرات کے وعظ اور اپیلوں کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں، اور ان کا بھارت کی طرف سے وہی ایک جواب ہوگا کہ ’’پہلے فضا سازگار ہو‘‘۔یعنی وہ فضا کہ جو خود بھارت کی سفاکی نے خراب کی ہے۔
بھارت کی اصل دل چسپی مسئلہ کشمیر کے حل سے نہیں، صرف اس دبائو سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ہوگی، جو ۳۰ سالہ تحریک ِ جہاد نے اس پر ڈالا ہے اور جس کے نتیجے میں بھارت کی فوج اور ایک حد تک سوچنے سمجھنے والے سیاسی عناصر کسی راہِ نجات کی تلاش میں ہیں۔ بھارتی قیادت پوری عیاری کے ساتھ اصل اسباب کی طرف رجوع کرنے کے بجاے ’دہشت گردی‘، ’انتہاپسندی‘ کا راگ الاپ رہی ہے، اور امریکا اور بہت سے مغربی سیاست کار بھی اسی آواز میں آواز ملاتے نظر آرہے ہیں۔ یہ سب نہ نیا ہے اور نہ غیرمتوقع، البتہ سب سے تشویش ناک پہلو پاکستان کے کچھ رہنمائوں کے متعدد متضاد بیانات اور صحافت کے کچھ قلم کاروں کی مغالطہ انگیز خلافِ جہاد مہم ہے، جس کا بروقت نوٹس لینا بہت ضروری ہے۔
امریکا، بھارت، اسرائیل اور ان کے حواریوں نے ایک عرصے سے جہاد کے خلاف ایک عالم گیر مہم چلا رکھی ہے اور اسے ’دہشت گردی‘ اور ’تشدد‘ کے ہم معنی قرار دیا جارہا ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ خود پاکستان کی انگریزی صحافت میں ’مجاہد‘ کو اب ’جہادی‘ اور ’دہشت گرد‘ بناکر پیش کیا جاتا ہے، اور دفاع پر اخراجات کو غربت اور پس ماندگی کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔کبھی دینی مدارس پر پابندیوں کی باتیں کی جاتی ہیں، کبھی ان کو دہشت گردی کے مراکز بناکر پیش کیا جاتا ہے۔
اس پس منظر میں امریکی سیاسی اور فوجی قیادتوں کی مداخلت بلکہ مداخلت کرنے کی دعوت اور دبے اور کھلے الفاظ میں کشمیر کے مسئلے کے جلد حل ہوجانے کی ہوائیاں اپنے اندر خطرات رکھتی ہیں۔ اس کھیل میں شامل سابق فوجی افسران ہوں یا سفارت کار، سب کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی قوم کا ایک اصولی اور تاریخی موقف ہے جس سے ہٹ کر کسی فرد کو اس قوم کی قسمت سے کھیلنے کا اختیار نہیں۔ کسی کو یہ حق اور مینڈیٹ حاصل نہیں ہے کہ پاکستانی قوم اور مسلمانانِ جموں و کشمیر، قائداعظم سے لے کر آج تک جس موقف پر قائم ہیں اور جس کے لیے انھوں نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں اور تنگی اور غربت کے باوجود ایک عظیم الشان فوج کی تمام ضرورتیں پوری کی ہیں اور ملک کو ایک ایٹمی قوت بنایا ہے، وہ اس بارے میں کسی انحراف یا پسپائی یا سمجھوتے کا تصور بھی کرے۔ یہ قوم غریب ہے اور بٹی ہوئی بھی، لیکن جہاں تک کشمیر کے مسئلے کا تعلق ہے یہ اس کے لیے ایمان و اعتقاد اور زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ زمانے اور وقت کی قید کا بھی پابند نہیں۔ اس جدوجہد کے بارآور ہونے میں جتنی مدت بھی لگے، لیکن مسلمانانِ پاکستان اور مسلمانانِ جموں و کشمیر اس علاقے کے مستقبل کو طے کرنے کے لیے اپنے حقِ خود ارادیت سے کم کسی بات کو کبھی قبول نہیں کرسکتے۔
اسی طرح یہ کسی خاص جماعت، گروہ یا طبقے کا مسئلہ بھی نہیں ہے۔ اس مسئلے کے بارے میں قوم، قومی سیاسی قیادت اور فوج کے درمیان بھی مکمل ہم آہنگی ہے۔ امریکا کو الگ سے اس عمل میں ملوث کرنے کے طرف دار چند طالع آزمائوں کے سوا کوئی پاکستانی اس بارے میں کسی سمجھوتے کو برداشت نہیں کرے گا۔ ماضی میں بھی، جس کسی نے پاکستانی قوم کے اصولی موقف سے انحراف کی کوشش کی ہے، اس کا حشر عبرت ناک ہوا ہے اور مستقبل بھی ان شاء اللہ اس سے مختلف نہیں ہوگا۔
خود اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں دفعہ ۲۵۷ میں یہ بات واضح طور پر تحریر ہے: ’’جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں تو پاکستان اور مذکورہ ریاست کے درمیان تعلقات، مذکورہ ریاست کے عوام کی خواہشات کے مطابق متعین ہوں گے‘‘۔
جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہمارے قومی دستور کی رُو سے بھی استصواب راے ہی کے ذریعے اس ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے اور وہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق ہی پاکستان سے ان کا رشتہ اور انتظام و انصرام کا دروبست قائم ہوگا۔ اس موقف میں کوئی تبدیلی یا اس پر کوئی سمجھوتا ممکن نہیں کیوں کہ یہ حق و انصاف پر مبنی اور عالمی قانون اور عہدوپیمان کے مطابق ہے۔ محض غاصبانہ قبضہ، خواہ وہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، اہل جموں و کشمیر کے اس استحقاق کو متاثر نہیں کرسکتا اور پاکستان کے اس موقف کو کمزور یا غیرمتعلق نہیں بناسکتا۔ دستور کی یہ دفعہ اس امر کو واضح کردیتی ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاست کی قسمت کا آخری فیصلہ کرنے کا اختیار، صرف وہاں کے عوام کو حاصل ہے۔ اس طرح کشمیر کے تنازعے کے بنیادی فریق پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام ہیں۔ یہی وہ پوزیشن ہے جسے اقوام متحدہ کی ۱۸ قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔
بلاشبہہ پاکستان سے ریاست جموں و کشمیر کے الحاق کے دلائل اور اس کی تاریخی بنیادیں بھی بڑی محکم ہیں۔ جغرافیائی حیثیت سے دونوں کا ملحق ہونا ہی نہیں، سارا فطری اور تہذیبی نظام مشترک ہے۔ دریائوں کے رُخ اور سڑکوں کے تسلسل، رنگ و نسل کی یکسانی، طریق بودوباش کی وحدت، دین و ثقافت، رسوم و رواج، تہذیبی روایات، تاریخی جدوجہد، سیاسی ہم آہنگی، سب نے کشمیر اور پاکستان کو ایک ناقابلِ تقسیم وحدت بنائے رکھا ہے اور ہمیشہ رکھیں گے۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں جموں اور کشمیر کے مسلمان بھی شانہ بشانہ شریک تھے اور اصول تقسیم کی رُو سے ۱۷جولائی ۱۹۴۷ء میں کشمیر کی اسمبلی کے منتخب ارکان کی اکثریت نے الحاق پاکستان کا اعلان تک کر دیا تھا اور پونچھ اور شمالی علاقہ جات کے مسلمانوں نے باقاعدہ جنگ آزادی لڑ کر اپنے کو ڈوگرہ راج سے آزاد اور پاکستان سے وابستہ کیا تھا۔
ہم صرف ان حقائق کی بنیاد پر یہ بات نہیں کر رہے بلکہ اس اصول کو بنیاد بنارہے ہیں جسے پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے، جس کی بنیاد پر خود امریکا کے لوگوں نے برطانیہ کی حکمرانی کے خلاف بغاوت کی تھی اور مسلح جنگ کے ذریعے اپنے لیے اور دنیا کے تمام انسانوں کے لیے حقِ خود ارادی کے اصول کا اعلان، ’فلاڈلفیا کے اعلامیے‘ کی شکل میں کیا تھا۔ اس پر ریاست ہاے متحدہ امریکا کی بنیاد پڑی اور امریکی صدر ووڈرو ولسن نے پہلی جنگ عظیم کے بعد ساری دنیا کی قوموں کے لیے اس کا اعلان کیا تھا۔ اسی اصول پربرعظیم کی تقسیم واقع ہوئی اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے۔
کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے ایک کروڑ ۳۰لاکھ انسانوں کی قسمت سے کھیلے۔ بھارت اور پاکستان کی حکومتیں بھی خود یا کسی بیرونی دبائو سے ان کے مستقبل کو طے نہیں کرسکیں گی۔ ان کی اور عالمی ادارے کی صرف یہ ذمہ داری ہے کہ عالمی انتظام میں غیرجانب دارانہ استصواب کے ذریعے ان کو حقِ خود ارادیت کے استعمال کا موقع فراہم کردیں۔ اسی حق کی خاطر وہاں کے مسلمان جدوجہد کر رہے ہیں۔ جب ان کے لیے سیاسی اور پُرامن جدوجہد کے تمام دروازے بند کر دیے گئے تو اسلام اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے اسی حق کو حاصل کرنے کے لیے انھوں نے مسلح جہاد کا آغاز کیا۔ یہی وہ جدوجہد ہے جس نے آج بھارت کو اور عالمی راے عامہ کو اسے ایک زندہ انسانی مسئلہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا ہے۔ محض امن ، غربت سے نجات، ایٹمی جنگ کے خطرات سے بچائو اور عالمی کمیونٹی کی خواہشات کے نام پر کسی کنٹرول لائن کو (جس کی کوئی قانونی اور اخلاقی حیثیت نہیں) مستقل سرحد میں بدلنے یا تقسیم ریاست کے کسی منصوبے کو جموں و کشمیر کے عوام پر مسلط کرنے کا کسی کو اختیار نہیں۔ یہ مسئلے کا حل نہیں، اسے مزید بگاڑنے اور دائمی فساد کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہوگا۔ آزادی کی قوتوں کو خاموش یا کمزور کرنے کی ہرکوشش خدا اور خلق دونوں سے غداری کے مترادف ہے۔
اس لیے مغربی یا بڑی طاقتوں کے دبائو پر کوئی مذاکرات اس وقت تک بامعنی اور نتیجہ خیز نہیں ہوسکیں گے، جب تک:
۱- بھارت صاف الفاظ میں اس حقیقت کو تسلیم نہ کرے کہ کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام اپنی آزاد مرضی سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے وعدوں کے مطابق کریں گے۔
۲- مذاکرات کا اصل مقصد ان کی راے کو معلوم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر آج کے حالات کے مطابق عمل درآمد اور اس کے لیے مناسب انتظام اور اقدامات ہوگا۔
۳- استصواب کے لیے ایک ہی قانونی، سیاسی اور اخلاقی فریم ورک ہے اور وہ اقوام متحدہ کی ۱۳؍اگست ۱۹۴۸ء، ۵جنوری ۱۹۵۱ء اور ۲۴جنوری ۱۹۵۷ء کی قراردادیں ہیں۔ البتہ پاکستان، بھارت اور جموں و کشمیر کے عوامی نمایندوں کی ذمہ داری ہے کہ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ایک متفقہ لائحہ عمل حقِ خودارادیت کے استعمال کے لیے طے کریں اور جو فیصلہ بھی وہاں کے عوام کریں اسے کھلے دل سے قبول کریں۔
پاکستان کی کسی قیادت، اور کسی عالمی رہنما کو ان تاریخی حقائق اور حق و انصاف پر مبنی اس موقف سے ہٹ کر کوئی راہ اختیار کرنے اور جموں و کشمیر کے عوام کی قسمت سے کھیلنے کا اختیار نہیں۔ جس نے بھی اس کے برعکس کوئی راستہ اختیار کیا، یا کرے گا، اسے بالآخر منہ کی کھانا پڑے گی اور وہ حالات کو سنوارنے اور سنبھالنے کا نہیں مزید بگاڑنے کا باعث ہوگا۔ یہ تاریخ کا اٹل اصول ہے جو کسی کی خواہش یا سازش سے بدلا نہیں جاسکتا۔
ماضی میں اقوام متحدہ کے ایک سیکرٹری جنرل کوفی عنان صاحب نے کہا تھا: ’’کشمیر کے بارے میں قراردادوں پر کافی عرصہ گزر گیا ہے۔ اس لیے اگر بھارت اور پاکستان دونوں درخواست کریں، تب ہی اقوام متحدہ کچھ کرسکتی ہے ورنہ وہ صرف دوطرفہ مذاکرات کی اپیل ہی کرسکتی ہے‘‘۔اور آج کے امریکی صدر ٹرمپ ہوں یا اقوام متحدہ کے موجودہ ذمہ دار، سبھی ’مذاکرات کی بحالی‘ پر زور دے رہے ہیں، حالاں کہ اصل مسئلہ، جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کا اور مقبوضہ کشمیر میں جبر اور ظلم کے راج اور وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی ایسی پامالی ہے، جو اَب نسل کشی (Genocide) اور آبادی کی نوعیت (demographic composition) ہی کو تبدیل کرنے کی طرف جارہی ہے۔ ’اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے‘ کی تازہ ترین رپورٹیں، اور ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کی متعدد رپورٹیں اس کا کھلا ثبوت ہیں، جب کہ ’ورلڈ جینوسایڈواچ‘ (WGW) نے تو ان مظلوم کشمیریوں کی اجتماعی قبروں کی بھی نشان دہی کی ہے۔
اس میں پہلا سوال یہ ہے کہ کیا بین الاقوامی قانون، جنیوا کنونشن، قوموں کے درمیان معاہدات اور بین الاقوامی یقین دہانیاں کسی زمانی تحدید (Time limitation) کے پابند ہیں؟ ہمارے علم میں ایسا کوئی بین الاقوامی قانون، اصول یا روایت نہیں اور یہ ممکن بھی نہیں ہے۔ اس طرح تو قانون محض ایک کھیل بن جائے گا اور معاہدات بے معنی اور بے وقعت ہوکر رہ جائیں گے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ مکائو (Macau) کے علاقے پر پرتگالیوں نے ۱۵۵۷ء میں قبضہ کیا تھا اور وہ ان کے تسلط میں ساڑھے چار سو سال تک رہا۔ مگر یکم دسمبر ۱۸۸۷ء کے ’معاہدہ بیجنگ‘ کے تحت آخرکار ۲۲دسمبر ۱۹۹۹ء کو چین نے اسے حاصل کرلیا، اور محض ایک طویل مدت تک قبضہ حقائق کو بدلنے کے لیے وجۂ جواز نہ بن سکا۔
کیا ۱۹۶۷ء میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد منظور ہونے والی قراداد ۲۴۲ محض وقت گزر جانے سے ازکار رفتہ (out dated) ہوگئی؟ ۱۷۱۳ء میں یوٹرخت کا معاہدہ واقع ہوا جس کے تحت جبرالٹر کی حاکمیت اسپین سے برطانیہ کو منتقل ہوئی۔ اسپین کے دعوئوں کے باوجود کیا محض وقت کے گزرنے سے معاہدہ کالعدم ہوگیا؟ ۱۸۹۸ء میں ہانگ کانگ کا علاقہ برطانیہ نے چین سے حاصل کیا تھا، لیکن ۹۹سال گزرنے پر برطانیہ کو معاہدے کو پورا کرنا پڑا۔ تائیوان کا معاہدہ بھی اسی طرح وقت گزرنے کے باوجود ایک زندہ مسئلہ ہے۔ مسلم ریاست انڈونیشیا کے علاقے مشرقی تیمور ہی کو لے لیجیے، جس پر اقوام متحدہ کی قرارداد تو ۱۹۷۵ء میں منظور ہوئی، لیکن عمل ۲۷سال کے بعد ۲۰مئی ۲۰۰۲ء کو ہوا، اور عیسائی اکثریت پر مشتمل مشرقی تیمور ایک الگ ملک کے طور پر وجود میں آیا۔اسی طرح امریکی دھونس اور دبائو کے نتیجے میں مسلم ریاست سوڈان کو دولخت کرنے کے لیے جنوری ۲۰۱۱ء کو ریفرنڈم کرایا گیا اور ۹جولائی ۲۰۱۱ء کو جنوبی سوڈان پر مشتمل عیسائی ریاست قائم کردی گئی۔ اگر ۲۷ سال میں مشرقی تیمور کی قرارداد غیرمؤثر نہیں ہوئی، تو کشمیر کی قراردادیں کیوں غیرمتعلقہ ہوگئیں؟
پھر کشمیر کی قرارداد کا معاملہ محض ایک قرارداد کا نہیں، ایک اصول کا ہے، یعنی حقِ خود ارادیت۔ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا بنیادی اصول ہے۔ دفعہ۱، اقوام متحدہ کے مقاصد کا تعین کرتی ہے۔ اس کی شق۲ میں صاف الفاظ میں اس مستقل اصول کو بیان کیا گیا ہے، یعنی:
لوگوں کے حقِ خود ارادی اور مساوی حقوق کے حصول کے احترام میں۔
اسی طرح دفعہ ۲ (۴) تمام رکن ممالک کو پابند کرتی ہے کہ:
تمام ممبران اپنے بین الاقوامی تعلقات میں کسی ریاست کی سیاسی آزادی یا ملکی سرحدوں کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے احتراز کریں گے، یا کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کریں گےجو اقوام متحدہ کے مقاصد کے خلاف ہو۔
واضح رہے کہ حقِ خود ارادیت اقوام متحدہ کے مقاصد میں سے ایک ہے۔
کشمیر کی قرارداد کا تعلق حقِ خود ارادیت سے ہے جس پر وقت گزرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ۱۹۷۰ء اور ۱۹۷۴ء کی دو تاریخی قراردادوں میں بین الاقوامی قانون کو واضح کیا گیا ہے۔ اسے اقوام متحدہ کے تمام ممالک نے بشمول امریکا، بھارت اور پاکستان نے تسلیم کیا ہے۔ ۱۹۷۰ء کا اعلامیہ: دوستانہ تعلقات اور تعاون کے حوالے سے بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا اعلامیہ ہے اور ۱۹۷۴ء کے اعلامیہ کا عنوان: ’جارحیت کی تعریف پر قرارداد‘ ہے۔ یہ دونوں قراردادیں متفقہ طور پر منظور ہوئی ہیں۔ ۱۹۷۰ء کے اعلامیے کی مزید اہمیت یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ۲۵سال پورے ہونے پر جس جنرل اسمبلی نے اس کا چارٹر قبول کیا تھا، اسی نے اسے منظور کیا ہے۔
ان قراردادوں میں جن دو بنیادی اصولوں کی وضاحت ہے، وہ دراصل اقوام متحدہ کے چارٹر کی توضیح ہے۔ جس میں حقِ خود ارادیت اور طاقت کے استعمال کے اصول سرفہرست ہیں۔ اس میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ: طاقت کے استعمال کے نتیجے میں جو علاقہ حاصل ہوا ہو، اسے جائز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ نیز یہ کہ نہ جارحیت کے نتیجے میں ملنے والے کسی خصوصی فائدے کو قانونی تسلیم کیا جائے گا۔
ان اعلانات کو اقوام متحدہ ہی کے اجلاس میں آسٹریلیا کے نمایندے نے چارٹر کی دفعہ۱۳ کے حوالے سے بین الاقوامی قانون کا حصہ قرار دیا تھا۔ (ملاحظہ ہو: بین الاقوامی قانون کی تدوین اور مرحلہ وار ارتقا میں ایک حصہ، نوم چومسکی کی کتاب Power and Prospects ، ۱۹۶۶ء، ص ۲۰۷)
بین الاقوامی قانون کی اس پوزیشن کی روشنی میں سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۴جنوری ۱۹۵۷ء پر نگاہ ڈال لیجیے جس میں مقبوضہ کشمیر کی اُس نام نہاد دستور ساز اسمبلی کو غیرمؤثر قرار دیا گیا ہے جس نے بھارت سے الحاق کی توثیق کی تھی، اورصاف الفاظ میں کہا ہے کہ اسمبلی کی قرارداد اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق اور اس کے انتظام میں استصواب راے کا بدل نہیں اور کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ استصواب راے کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔
اور اگر اس بارے میں کسی کو کوئی شبہہ ہو تو عالمی ماہرین قانون کے کمیشن کی اپریل ۱۹۹۴ء کی رپورٹ کا مطالعہ کرے جن میں کشمیریوں کے اس حق کا ان صاف الفاظ میں اعتراف کیا گیا ہے اور اسے وقت کی گردش سے آزاد حق مانا گیا ہے:
کشمیریوں کا حق اُس حق کی بنا پر ہے جو کسی علاقے کے غیرملکی غلبے سے آزاد ہوتے ہوئے وہاں کے لوگوں کو اپنے لیے یہ انتخاب کرنے کا ہوتا ہے کہ بعد میں قائم ہونے والی (Successor) ریاستوں میں سے کس ریاست میں شامل ہوں۔ یہ حق ایک قائم شدہ آزاد ریاست سے علاحدگی کے قابلِ بحث حق سے بالکل ممتاز اور جدا ہے اور یہ ہندستان سے اس کے علاقوں میں سے کسی کی علاحدگی کے لیے مثال نہیں بنتا۔
تقسیم کے نتیجے میں جموں و کشمیر کے عوام کو جس حقِ خود ارادی کا استحقاق حاصل ہوا تھا، وہ ابھی تک استعمال نہیں ہوا اور نہ ختم ہوا ہے اور اس لیے آج بھی قابلِ استعمال ہے۔
اس لیے یہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ امن عالم کو درپیش ہر خطرے کا خود نوٹس لے اور تمام ارکان کی طرف سے عملی اقدام کرے۔ دفعہ ۲۴ کے مطابق:
اقوامِ متحدہ کی جانب سے فوری اور مؤثر اقدام یقینی بنانے کے لیے اس کے ممبران عالمی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کی اوّلین ذمہ داری سلامتی کونسل پر ڈالتے ہیں۔ وہ قرار دیتے ہیں کہ اس ذمہ داری کے تحت اپنے فرائض کی ادایگی کا عمل سلامتی کونسل ان کی جانب سے کرتی ہے۔
اس میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ ہرملک کا اتفاق کرنا ضروری ہے یا اس کا اطلاق صرف باب ہفتم کی قراردادوں پر ہے۔ اس شرط کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ کبھی بھی کسی بھی جارح کے خلاف اقدام نہ ہوسکے کیونکہ وہ خود اپنے خلاف اقدام کو کیوں قبول کرے گا؟ یہی وجہ ہے کہ دفعہ ۲۵ میں کہا گیا ہے:
اقوامِ متحدہ کے ممبران موجودہ چارٹر کے مطابق سلامتی کونسل کے فیصلوں کو قبول کرنے اور بجالانے کو تسلیم کرتے ہیں۔
پھر دفعہ ۳۳ میں ہر تنازعے کے تمام فریقوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ خود، یا اقوامِ متحدہ کے ذریعے، تمام تنازعات کے پُرامن تصفیے کے لیے اقدام کریں گے۔ دفعہ ۳۶ ، اور ۳۷ کے تحت یہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ مناسب اقدامات اور طریقۂ کار تجویز کرے، خصوصیت سے ان معاملات میں جہاں دفعہ۳۳ کے تحت کارروائی نہ ہوپارہی ہو۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اگر ان دفعات پر عمل نہ ہورہا ہو تو یہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ باب ہفتم کی دفعہ ۵۱-۳۹ کے تحت کارروائی کا اہتمام کرے۔
یہ یاد دلانے کی بھی ضرورت ہے کہ اعلانِ لاہور، معاہدۂ تاشقند یا شملہ معاہدہ دو ملکوں کے درمیان معاہدے کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن ۱۳؍اگست ۱۹۴۸ء اور ۵جنوری ۱۹۴۹ء کی قراردادیں بین الاقوامی معاہدات کی حیثیت رکھتی ہیں جن کے بارے میں ان کے چارٹر کی دفعہ ۱۰۳ یہ کہتی ہے:
اقوام متحدہ کے ممبران کے فرائض میں، جو موجودہ چارٹر کے مطابق طے ہیں، اور کسی دوسرے بین الاقوامی معاہدے کے تحت فرائض میں اگر کوئی تنازع ہو، تو موجودہ چارٹر کے تحت متعین فرائض رُوبۂ عمل آئیں گے۔
اس سب کی موجودگی میں اقوامِ متحدہ کے ذمہ داران اور دوسرے قائدین کا، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نفاذ سے مجرمانہ پہلوتہی اور محض مذاکرات کی بات اس بات کا ثبوت ہے کہ اقوامِ متحدہ صرف طاقت ور ملکوں کے ہاتھوں میں کھلونا ہے۔ ان کے مفادات کے لیے تو سب دفعات حرکت میں آجاتی ہیں، خواہ معاملہ عراق کا ہو، یا مشرقی تیمور اور سوڈان کا۔ اور اگر ان کا مفاد نہ ہو تو کمزور ملکوں کو کوئی تحفظ حاصل نہیں، اور ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے جو راستہ بھی انھیں نظر آئے خود اختیار کریں۔ چومسکی نے صحیح کہا ہے کہ یہی رویہ پورے عالمی نظام کے لیے خطرہ ہے:
ایسے لوگوں کی قسمت دائو پر لگی ہے جنھوں نے سخت تکلیفیں اُٹھائی ہیں اور اب بھی اُٹھا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عالمی نظام اور بین الاقوامی قانون کی بنیادیں بھی دائو پر لگی ہیں بشمول طاقت کے استعمال اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادی کے یو این چارٹر کے اہم اصول کے، جو تمام ریاستوں پر لازمی اور فرض ہے۔ (کتاب مذکور، ص ۲۰۴)
جب عالمی طاقتوں اور خود اقوامِ متحدہ کا عملاً یہ حال ہو تو پھر کمزور ملکوں اور قوموں کے لیے کیا راستہ رہ جاتا ہے بجز اس کے کہ جو قوت بھی ان کو حاصل ہو ___ سیاسی اور عسکری___ اسے اپنے حق کے دفاع اور اپنی آزادی کے حصول کے لیے استعمال کریں۔ عقل، اخلاق اور بین الاقوامی قانون مظلوم کو ظلم کرنے کے خلاف جدوجہد اور مقبوضہ علاقوں اور لوگوں کو اپنی آزادی کے لیے قوت استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور اسے ان کا ایک جائز حق تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی قانون طاقت کے ہراستعمال کو تشدد اور دہشت گردی قرار نہیں دیتا۔ مبنی برحق جنگ جو دفاعی مقاصد کے لیے بھی ہوسکتی ہے اور آزادی اور حقوق کے لیے مثبت جدوجہد بھی، ایک معروف حقیقت ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں دفاعی جنگ اور چارٹر کے تحت اجتماعی طور پر قوت کا استعمال اس کی واضح مثالیں ہیں۔ حق خو دارادیت کے حصول کے لیے جو جنگیں لڑی گئیں، اقوامِ متحدہ نے ان کی تائید کی اور آزادی کے بعد انھیں آزاد مملکت تسلیم کیا۔ گویا بین الاقوامی قانون نے اس حق کو تسلیم کیا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے ایک ماہر کرسٹوفر او کوئے (Christopher O. Quaye) نے اس اصول کا ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے:
تقریباً تمام ہی آزادی کی تحریکوں کا ایک لازمی عنصر طاقت کا استعمال ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں جس تسلسل سے آزادی کی تحریکوں کی حوصلہ افزائی کی ہے اور کچھ کو جرأت مندانہ قرار دیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ طاقت کے عنصر کو جائز قرار دیتی ہے۔ (Liberation Struggle in International Law، فلاڈلفیا، ٹمپل یونی ورسٹی پریس، ۱۹۹۱ء، ص ۲۸۲)
یہی مصنف صاف الفاظ میں لکھتا ہے کہ: ’’دہشت گردی اور آزادی کی جدوجہد ایک جیسی سرگرمیاں نہیں ہیں‘‘(ص۱۷)۔نیز یہ کہ: ’’اقوام متحدہ کے تمام ادارے جس ایک چیز پر متفق ہیں وہ یہ ہے کہ حقِ خود ارادی کی ہرجدوجہد قانونی اور جائز ہے‘‘۔ (ص ۲۶۱)
بین الاقوامی امور کے وہ ماہر جو اس پوزیشن کو اتنے واضح الفاظ میں قبول نہیں کرتے، وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ قوت کے ہر استعمال کو دہشت گردی ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ بین الاقوامی تعلقات کی پینگوئن ڈکشنری میں اس بات کو یوں ادا کیا گیا ہے:
دہشت گردی کے مسئلے پر ممانعت کرنے والا کوئی خصوصی معاہدہ تیار نہیں ہوسکا ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ سیاسی ترجیحات کے حوالے سے اس کی تعریف میں مسائل ہیں۔ ایک کا دہشت گرد، دوسرے کا آزادی کا سپاہی ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی قانون ابھی تک اس عمل کا احاطہ نہیں کرسکا ہے۔(ص ۱۷۷)
لیکن اس کے ساتھ وہ اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ حقِ خود ارادیت ایک مسلّمہ حق ہے، جس کا تعلق ایک علاقے کے عوام کے اس حق سے ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں:
سیاسی حقِ خود ارادی لوگوں کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی تقدیر کا اپنے طریقے کے مطابق فیصلہ کریں۔ یہ تصور ۱۷۷۶ء کے اعلانِ آزادی اور ۱۷۸۹ء میں فرانس کے اعلان حقوقِ انسانی میں مضمر ہے۔ اقوام متحدہ نے مختلف مواقع پر یہ کوشش کی ہے کہ اس تصور کو نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے ساتھ منسلک کرے اور اس طرح اسے محض ایک تمنا نہیں بلکہ قانونی حق اور مثبت فرض قرار دے۔(ص ۴۷۷-۴۷۸)
ہارورڈ یونی ورسٹی کے پروفیسر سیموئیل پی ہن ٹنگٹن نے اپنی کتاب The Clash of Civilizations and The Remaking of World Order (نیویارک، ۱۹۹۷ء) میں دہشت گردی کے خلاف سارے غم و غصے کے باوجود یہ اعتراف کیا ہے:
تاریخی طور پر دہشت گردی کمزوروں کا ہتھیار ہے، یعنی ان لوگوںکا جو روایتی عسکری طاقت نہیں رکھتے۔ (ص۱۸۷)
اور اس خطرے سے بھی متنبہ کیا ہے کہ:
دہشت گردی اور ایٹمی ہتھیار علاحدہ علاحدہ غیرمغربی کمزور قوموں کے ہتھیار ہیں۔ اگر، یا جب بھی، یہ ایک ہوئے، غیرمغربی کمزور ملک طاقت ور ہوجائیں گے۔ (ص ۱۸۸)
ہن ٹنگٹن کی بات تو ایک جملہ معترضہ تھی لیکن اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کا حقِ خود ارادیت ایک مسلّمہ قانونی حق ہے اور اگر بھارت، اقوام متحدہ اور عالمی برادری اس حق سے ان کو محروم کرنے پر تلے ہوئے ہیں، تو انھیں اپنی آزادی کے لیے ہرطرح کی جدوجہد کا، بشمول قابض دشمن کے خلاف قوت کے استعمال کا، حق حاصل ہے اور اسے کسی طرح بھی دہشت گردی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
بھارت کے ایک چوٹی کے وکیل کے بالاگوپال (K Balagopal) وہاں کے اہم مجلے اکنامک اینڈ پولیٹیکل ویکلی (۱۷ جون ۲۰۰۰ء) میں ’دہشت گردی‘ کے مسئلے پر TADA (بھارت کا انسداد دہشت گردی کا قانون) پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’ٹاڈا‘ کے مقاصد کے لیے جسے دہشت گردی کہا جاتا ہے ، وہ سیاسی عسکریت ہے۔ سیاسی اور اجتماعی عسکریت میں دہشت کا ایک عنصر، جو ضروری نہیں کہ کم ہو، شامل ہے لیکن یہ اصل بات نہیں ہے۔ اصل چیز جو اس کو ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ جرم نہیں ہے۔(ص۲۱۱۵)
بالاگوپال نے سیاسی عسکریت کو مجرمانہ دہشت گردی سے ممیزکیا ہے اور بھارتی قیادت کو متنبہ کیا ہے کہ:
اگر کوئی ایک لمحے کے لیے ہتھیاروں سے پرے دیکھ سکے تو وہ یہ دیکھ سکتا ہے کہ کم از کم کشمیر اور ناگالینڈمیں عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت، دیانت داری سے یہ سمجھتی ہے کہ ’’ہم بھارتی نہیں ہیں اور ہم کو مجبور نہیں کیا جانا چاہیے کہ اپنے آپ کو بھارتی سمجھیں‘‘ ۔ یقینا یہ بہت ہی نامناسب ہے کہ اس وسیع البنیاد عوامی احساس پر انھیں سزا دی جائے۔ (ص۲۱۲۲)
موصوف کے تجزیے کا حاصل یہ ہے کہ’بھارت میں تشکیل کردہ اور نافذ شدہ قوانین جو ظالمانہ، استبدادی ذہنیت کے عکاس ہیں، کسی بھی جمہوری نظام کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ وہ سیاسی عسکریت کا مداوا نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے سیاسی عمل کی ضرورت ہے‘۔
اس پس منظر میں اب یہ آوازیں بھی اُٹھ رہی ہیں کہ کشمیر میں عسکریت ظلم کی پیداوار ہے اور عوام کی مرضی کے خلاف ان کو محض بندوق کی گولی کی قوت پر زیردست رکھنا ممکن نہیں۔ اکانومک اینڈ پولیٹیکل ویکلی میں ایک مشہور صحافی گوتم ناولکھا (Gautam Navalakha) نے لکھا ہے:
یہ قابلِ ذکر ہے کہ عسکریت بھارتی [مقبوضہ] کشمیر میں شروع ہوئی۔ یہ ایک ایسے عمل کا نتیجہ تھا جو لوگوں کے ہتھیار اُٹھانے سے بہت پہلے شروع ہوا تھا، اور ایسا جب ہوا تھا جب قومی مفاد اور سلامتی کے نام پر ہر جمہوری راستے کو بند کر دیا گیا۔ اختلاف کو کچلا گیا۔ مطالبات مسترد کر دیے گئے۔ حکومت کی فوجی کارروائیاں کشمیری عوام کو مغلوب کرنے میں ناکام ہوگئیں۔ فدائیوں کے حملے روکنے کے لیے سیکورٹی فورسز کچھ زیادہ نہیں کرسکتی ہیں۔ جموں و کشمیر میں CRPF کے انسپکٹر جنرل نے ایک انٹرویو میں کہا : ’’مجھے صاف کہنا چاہیے کہ فدائی حملے کا سرے سے کوئی جواب نہیں ہے۔ فوج کا کم سے کم ایک حلقہ اس بارے میں واضح ہے کہ فدائی حملے جاری رہیں گے، جنگ بندی ہو یا نہ ہو اور کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ کشمیر میں فوج کی تعداد میں مسلسل اضافہ اس کا ثبوت ہے۔ دبائو کے تحت فوجیوں کا اپنے ہی ساتھیوں اور افسروں کا قتل کرنا خود اپنی کہانی کہہ رہے ہیں۔
یہ احساس اب تقویت پکڑ رہا ہے کہ عوام کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ موصوف نے لکھا ہے:
جو لوگ ظلم و جبر کے تحت زندگی گزار رہے ہوں، جن کا وجود شناختی کارڈ سے ثابت ہوتا ہو، جن کی نجی زندگی کو جب چاہے برباد کیا جاسکتا ہو، جن کو احتجاج کے حق سے محروم کیا گیا ہو، ایسے لوگوں کے لیے آزادی اپنا ایک معنی رکھتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے آزادی ان کی اور ان کی تہذیب کی بقا کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ یہی واحد راستہ ہوتا ہے، جس سے وہ اپنی انسانی حیثیت کو حاصل کرسکتے ہیں۔ اس عوامی کیفیت (Mood) کی بہترین مثال [کشمیر میں]حزب المجاہدین کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ جو مکمل طور پر سب سے بڑے مقامی عسکری گروپ کی حیثیت سے متحرک نظر آتی ہے۔ اس ضمن میں عوامی سوچ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ عوام کی رضامندی نہ ہو تو عسکری اقدامات نہیں کیے جاسکتے۔ وہ اس موقف پر قائم ہیں کہ اصل فیصلہ کن عامل جموں و کشمیر کے عوام ہیں۔
جموں و کشمیر کے مسلمان جرأت اور استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کی جرأت کا تو یہ حال ہے کہ وہ جنازوں میں شرکت کرتے وقت بھارتی فوجیوں کی بے رحمانہ فائرنگ تک کو پرِکاہ کی حیثیت نہیں دیتے۔ اسی لیے بھارت کے کچھ تجزیہ نگار اب یہ کہنے کی جرأت بھی کر رہے ہیں کہ ’سرحد پار دہشت گردی‘ کا واویلا مبنی بر کذب ہی نہیں، حماقت ہے۔ نئی دہلی کے اخبار سنڈے پاینیر نے ’سرحد پار دہشت گردی‘ کے بارے میں کہا ہے:
یہ جھوٹ ہے اور خطرناک حد تک سادہ بات ہے۔ دہشت گردی عوامی بے اطمینانی سے پرورش پاتی ہے اور عوامی بے اطمینانی غیرہمدردانہ حکمرانی سے پھیلتی ہے۔
مزید اعتراف کیا گیا ہے کہ:
تنازع کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ بھارتی فوجیں عوام کو قتل کرسکتی ہیں لیکن جدوجہدِ آزادی کو کچل نہیں سکتیں۔ یہ معلوم کرنا بے حد آسان ہے کہ ہم کشمیر پر کب اور کیوں ہولناک غلطی کا شکار ہوئے؟ جو بات آسان نہیں ہے، وہ واپس نکلنے کا راستہ معلوم کرنا ہے۔ جنگ بندی کوئی حل نہیں ہے۔ یہ مقصد کے حصول کا صرف ایک ذریعہ ہے۔
جس مقام پر اس وقت بھارت کی قیادت اور دانش ور ہیں، وہاں سے اگلا قدم اس کے سوا کچھ نہیں کہ انھیں جموں و کشمیر کے عوام کی مرضی کی بالادستی تسلیم کرنا ہوگی۔ پاکستان اور تحریک مزاحمت کی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ اس نازک مرحلے کو صبروہمت اور جرأت و استقامت کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھنے اور تیز تر کرنے کے لیے استعمال کرے۔ ایک قدم کی لغزش بھی حالات کو متاثر کرسکتی ہے۔
یہاں اس بات کی یاد دہانی کی ضرورت ہے کہ ۱۹۴۸ء اور ۱۹۴۹ء میں بھی بھارت کی حکمت عملی یہی تھی کہ ’جنگ بندی‘ تسلیم کرلو مگر استصواب اور مسئلے کے حل کی بات مؤخر کردو۔ تاہم، ہمارا ہدف مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب اندرونی اور بیرونی دبائو نہ صرف جاری رہے، بلکہ بھارت کے لیے اپنے قبضے کو باقی رکھنا عسکری، سیاسی اور معاشی، ہراعتبار سے ممکن نہ رہے۔ گوتم ناولکھا نے بھارت کے طریق واردات کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، اس پر پاکستانی قیادت اور صحافت کے ان کرم فرمائوں کو غور کرنا چاہیے، جو وقت بے وقت غیرمشروط مذاکرات کے لیے بے چینی کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ گوتم نے بیان کیا ہے:
ماضی کا ایک پیغام ہے۔ بھارتی حکومت نے کئی بار یہ مظاہرہ کیا ہے کہ یہ اسی وقت بات سنتی ہے جب لوگ ہتھیار اُٹھا لیں۔ مسلح گروپوں کو سر پہ بٹھاتی ہے، مگر غیرمتشدد تحریکوں کو حقیر گردانتی اور نظرانداز کرتی ہے اور یہ خواہ مخواہ کی بات نہیں ہے۔حُریت کانفرنس نے غیرمتشدد جدوجہد کو اختیار کیا ہے، مگر اسے مسلسل نظرانداز کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسے پُرامن مہم چلانے یا احتجاجی مظاہرے کرنے کا حق نہیں دیا گیا ہے۔ اس کے بالمقابل باغیوں کو تحریک پر حملہ کرنے اور نفرت کی بنیاد پر قائم شیوسینا، سنگھ پری وار اور پَنن کشمیر جیسوں کو کھلی آزادی دی گئی ہے۔ اس لیے یہ توقع کرنا کہ جنگجو مذاکرات کے لیے پیشگی شرط کے طور پر غیرمسلح ہوجائیں، عبث ہے۔ رائفلیں بھی اس وقت تک خاموش نہیں ہوں گی، جب تک کوئی پُرخلوص کوشش نظر نہیں آتی۔
گذشتہ عشروں سے آزادی کے لیے ناگا تحریک [ناگالینڈ، شمال مشرقی ہند کی بھارتی ریاست ہے جہاں ۸۸ فی صد عیسائی، ۸ فی صد ہندو اور ڈھائی فی صد مسلمان ہیں] کے ساتھ جو برتائو کیا گیا ہے، وہ سامنے ہے۔ زیرزمین ناگا تحریک کے ساتھ کئی بار جنگ بندی ہوئی، جس کے بعد اعلیٰ ترین سطح پر مذاکرات ہوئے (کئی بھارتی وزیراعظم زیرزمین ناگالیڈروں سے مل چکے ہیں)۔ حکومت نے ایسے ہرموقعے کو ان میں تفریق ڈالنے کے لیے استعمال کیا، اور ان کے ایک حصے کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ تصفیہ کا اعلان کیا اور کہا کہ حالات معمول پر آگئے ہیں اور مسئلہ حل ہوگیا لیکن ناگا عوام ہربار پھر بغاوت کرتے نظر آئے۔ مسلح جدوجہد کو شکست نہ دی جاسکی بلکہ بی ایس ایف خصوصاً فوج پھنس کر رہ گئی۔ بھارتی فوج کتنی ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، لیکن وہ پُرعزم عوام کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یہ تلخ سبق بھارتی فوج نے ناگا زیرزمین سے اپنی جنگ میں سیکھا ہے۔ اب نہ صرف غیرمشروط مذاکرات ہورہے ہیں بلکہ تین سال کی ٹال مٹول کے بعد حکومت نے تسلیم کرلیا ہے کہ مطالبے کے مطابق جنگ بندی تمام ناگاعلاقوں کے لیے ہے۔
اسی طرح حُریت کانفرنس اور پاکستان کے ساتھ غیرمشروط مذاکرات کے بغیر امن کا عمل سطحی ہوکر رہ جاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں ایک طرف ایسے اقدامات ضروری ہیں کہ قانون کی حکمرانی بحال ہو اور دوسری طرف ایسے اشارے ہوں جس سے بھارت اور پاکستان میں امن چاہنے والوں کو تقویت ملے۔
بھارتی قیادت کی ہٹ دھرمی اور چال بازیوں، اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں کی بے حسی اور بے توجہی، تحریک مزاحمت کی قربانیاں اور خود بھارت میں ایک نئی سوچ کے آثار تقاضا کرتے ہیں کہ ثابت قدمی کے ساتھ منزل کی طرف بڑھا جائے۔ اصولی موقف پر دل جمعی اور استقا مت سے تحریک آزادی کی مکمل حمایت اور ممکنہ مددو استعانت کی جائے۔ عالمِ اسلام اور دنیا کی تمام انصاف پرور اور آزادی پسند قوتوں کو متحرک اور منظم کرنے کی جان دار مہم چلائی جائے۔
کشمیر کے مسلمانوں کے معروضی حالات کا جائزہ لیا جائے، تو اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ بھارتی ظلم کے خلاف ہرممکن ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس پر کارفرما ہوکر اہل جموں و کشمیر اپنے ایمان، اپنی آزاد ی اور اپنی ثقافت و تہذیب کی حفاظت کرسکتے ہیں اور ان کی اس جدوجہد میں مدد ہی کے ذریعے پاکستانی قوم اپنا فرض ادا کرسکتی اور خود اپنی سرحدوں کی حفاظت کرسکتی ہے۔ بلاشبہہ جہاد اور محض جنگ میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور خود قرآن نے ’حرب‘ کی اصطلاح کو ترک کرکے ’جہاد‘ کی اصطلاح کو اختیار کرکے ان کے فرق کی ہم کو تعلیم دی ہے۔
جہاد، فی سبیل اللہ کی شرط سے مشروط ہے اور ان آداب اور احکام کے فریم ورک میں اسے انجام دیا جاتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمائے ہیں۔ نیز جہاد ان ہی حالات میں فرض ہوتا ہے جو شریعت نے طے کر دیے ہیں۔ ان تمام اُمور کی روشنی میں ، فلسطین ہو یا جموں و کشمیر، جو جدوجہد مسلمان کر رہے ہیں، وہ جہاد ہے۔ اس میں ان کی مدد و نصرت تمام مسلمانوں پر اور خصوصیت سے پاکستانی مسلمانوں پر لازم ہے۔
ہم ۲۷ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کی مؤثر اور مدلل تقریر کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس معنویت کی تحسین کرتے ہیں کہ انھوں نے ثالثی کی نعرے بازی کو اپنے خطاب میں کوئی جگہ نہیں دی اور پوری توجہ، حقِ خود ارادیت پر مرکوز کیے رکھی۔ یہی درست، قانونی اور اخلاقی موقف ہے۔
تاہم، بھارت اس وقت جس دلدل میں پھنسا ہے، اس سے نکلنے کے لیے حسب ِ روایت وہ جو ہتھکنڈے استعمال کرے گا ، ان کا ادراک ضروری ہے:
اس لیے ہم واضح لفظوں میں یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت کی جانب سے درندگی اور غیرانسانی اقدامات کی بدترین مثالیں قائم کرنے کے نتیجے میں بھارتی حکومت، عالمی سطح پر دبائو میں آئی ہے۔ ماضی کا تجربہ اور مشاہدہ بتاتا ہے کہ بھارت بہت جلد، ممکن ہےدو ماہ کے اندر ’’مذاکرات شروع کرنے پر راضی‘‘ ہونے کی چمک دکھائے۔ جو درحقیقت مسلم دنیا کے ایک حصے کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور عالمی سطح پر اقوام کو فریب دینے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوگا۔
ایسا موقع جب بھی آئے گا اور جلد آئے گا، تو پاکستان کے حکمرانوں کو ہوشیار رہنا ہوگا کہ وہ موجودہ نفرت پرور بھارتی آر ایس ایس مافیا کے اپنے ایجنڈے کے تحت مذاکراتی پیغام ہوگا۔ اس لیے پاکستانی پارلیمنٹ اور دفترخارجہ اور میڈیا کو ان امکانی چالوں کا پیشگی اندازہ ہونا چاہیے اور کشمیر کی مناسبت سے گذشتہ تمام ’’پاکستان بھارت مذاکرات‘‘ کا ایک زائچہ مرتب کرکے نگاہوں کے سامنے رکھنا چاہیے کہ مذاکرات کب اور کس شکل میں شروع ہوئے؟ ان سے بھارت نے کیا حاصل کیا؟ مذاکرات کیسے اور کن چالوں سے ختم کیے گئے؟ ان کے بعد فضا میں تنائو کو بڑھانے کے لیے کس نوعیت کی نعرے بازی کی گئی؟ اور اس ساری مشق کے دوران کشمیر کے مظلوموں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے اور عتاب نازل کرنے کا موسم کس طرح گولہ بارود کی بارش کرتا رہا؟
ہم بڑے واشگاف لفظوں میں یہ بیان کیے دیتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر نہ دوطرفہ مسئلہ ہے، نہ تولیت کا معاملہ ہے، اور نہ ثالثی کی کاک ٹیل پارٹی کا سامانِ ضیافت۔
اس معاملے میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس میں بنیادی فریق کشمیر کے عوام اور ان کی وہ قیادت ہے، جس نے مسلسل جدوجہد آزادی کی قیادت کی، صعوبتیں برداشت کیں اور قربانیاں دی ہیں۔ اس لیے کبھی اور کسی سطح پر اس نوعیت کی حماقت کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے، جیساکہ صدر جنرل پرویز مشرف نے بھارت کو پیش کشوں کے ذریعے کیا تھا۔ یہ چیز قومی موقف کی نفی اور عالمی فیصلوں سے رُوگردانی تھی اور اگر آیندہ کسی نے ایسا کیا تو وہ گویا آگ سے کھیلے گا۔
۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے بھارتی حکومت کے غیرآئینی اور غیراخلاقی اقدامات کے بعد، اعلانِ تاشقند اور شملہ معاہدہ کی کھائیوں میں پھنسے مخمصے کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ بھارت نے یک طرفہ طور پر ان معاہدوں میں دوطرفہ مکالمے کے ڈھانچے کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ آج ۶۰ روز کے بدترین کرفیو اور بھارتی فیصلوں سے پیدا شدہ تنائو، بھارت کے خلاف فضا کو نام نہاد دو طرفہ مذاکرات کا موضوع نہیں بننا چاہیے۔ تمام ظلم، دھاندلی اور وعدہ خلافیوں سے لتھڑے بھارتی حکمرانوں کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے پاکستان کو’اعتماد سازی‘ جیسی نفاق پر مبنی اصطلاح کا اسیر نہیں بننا چاہیے، بلکہ مسئلہ کشمیر پر اس عالمی بیداری کو، اقوام متحدہ کے تحت حل کرانے اور حقِ خود ارادیت کے حصول کی طرف توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔
اگر آج پھر اس بے معنی مذاکراتی چکّر میں پھنس گئے تو ۳۵-الف کی ترمیم چند برسوں میں مسلم آبادی کا توازن بگاڑ کر رکھ دے گی اور ممکن ہے چند تاجروں کو بھی کچھ مادی فائدہ پہنچ جائے، لیکن اس سے مسئلہ کشمیر پھر ایک طویل عرصے کے لیے مزید گہرے کنویں میں ڈبو دیا جائےگا۔
اندریں حالات دفترخارجہ کو پوری توجہ اور قوت اس جانب لگانی چاہیے کہ ہم کسی ایک بڑے یا چھوٹے ملک، مسلم یا غیرمسلم ملک کی ’ثالثی‘ کے زہر کا پیالہ نہیں پئیں گے، بلکہ ہم سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرائیںگے اور انھی کو مانیںگے۔ اس اصولی موقف سے جب بھی ایک انچ قدم پیچھے ہٹایا گیا تو یاد رکھیے یہ بدترین غداری ہوگی۔
زنیرہ کومل، کیلے فورنیا یونی ورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ نے اپنے مضمون: Untill Kashmir is Free, War It Will Be (Milestones: Commentry on the Islamic World ۲۱؍اگست ۲۰۱۹ء) میں ایک کشمیری نوجوان لڑکی جس کا نام احتیاطاً تبدیلی کے ساتھ عائشہ بتایا گیا ہے کہ اس کے دو بھائی یکے بعد دیگرے جامِ شہادت نوش کرچکے ہیں اور وہ خود ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔ وہ اپنے جذبات، احساسات اور عزائم کا اظہار اپنے اشعار میں کرتی ہے۔ ہم اس کے چند اشعار پر اپنی گزارشات کو ختم کرتے ہیں اور اللہ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ مظلوموں کی اس جدوجہد کو جلد کامیابی سے ہم کنار فرمائے گا:
کہتے ہیں کشمیر جنّت ہے
جنّت کسی کافر کو ملی ہے، نہ ملے گی
اے کافرو! ہٹ جائو کشمیر ہمارا ہے
سارے کا سارا ہے
میں کہتی ہوں کشمیر کی آزادی تک
جنگ رہے گی، جنگ رہے گی
عائشہ کے اشعار ایک فرد کے نہیں، ایک قوم کے جذبات، احساسات اور عزائم کے آئینہ دار ہیں۔ دو بھائیوںکی قربانی دے کر اور خود زخم کھا کر پوری قوم کی آواز بن گئے ہیں۔ جس قوم کی ستم زدہ اور زخموں سے چور لڑکیوں کے یہ عزائم اور یہ اُمنگیں ہوں، ان کو گولی اور چھرّوں سے خاموش اور محکوم نہیں بنایا جاسکتا۔
مصر کی تاریخ میں ۱۷جون۲۰۱۹ء نے ایک یادگار حیثیت حاصل کرلی ہے۔
۱۷جون ۲۰۱۲ء وہ روشن دن تھا، جب جدید مصر ( جس کا آغاز ۱۹۵۲ء میں شاہ فاروق کے تخت چھوڑنے سے ہوا تھا) میں پہلاآزاد جمہوری انتخاب منعقد ہوا۔ اس کے نتیجے میں ڈاکٹر محمد مرسی عیسیٰ العیاط صدرِ مملکت منتخب ہوئے۔ وہ ’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘ (حزب الحریۃ والعدالۃ) کے نامزد اُمیدوار تھے۔ مگر مصر میں جمہوری دور کے آغاز کا جو امکان پیدا ہوا تھا، بدقسمتی سے ایک حریصِ اقتدار جنرل عبدالفتاح السیسی نے بیرونی طاقتوں کے اشارے پر، چند روزہ ہنگاموں کا ڈراما رچایا، اور حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ اس طرح ایک سال اور تین دن بعد ۳جولائی ۲۰۱۳ء کو حکومت پر ناجائز قبضہ کرکے جمہوریت کے اس چراغ کو ضوفشاں ہونے سے پہلے ہی بجھا دیا۔ یوں اکیسویں صدی میں فرعونی استبداد اور ریاستی دہشت گردی کا ایسا آغازہوا کہ جس کا نہایت گہرا زخم ۱۷جون ۲۰۱۹ء کو ٹھیک سات سال بعد منتخب صدرمحمدمرسی کی کمرئہ عدالت میں شہادت ہے۔
اس الم ناک واقعے نے ایک بار پھر ساری دنیا کے سوچنے سمجھنے والے افراد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ خصوصیت سے مصر کے عوام کو، اور دنیا کے ہرگوشے میں مسلمانوں کو آمرانہ اقتدار اور ظلم کے نظام کے خلاف نئی جدوجہد کی ضرورت کا احساس دلایا ہے۔ صدر ڈاکٹرمحمد مرسی کی زندگی کو، جو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھ کر اس خوش فہمی میں تھے کہ ان کی زندگی کے چراغ کو گل کرکے وہ محفوظ ہوجائیں گے، ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان شاء اللہ ان کے اقتدار اور ظلم کے اس نظام کے لیے شہید مرسی اور بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوگا۔ یہ تاریخ کا اٹل فیصلہ ہے:وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبْدِيْلًا (احزاب ۳۳:۶۲)’’اللہ کی سنت تبدیل نہیں ہوتی‘‘۔
جارج ٹائون یونی ورسٹی،واشنگٹن کے پروفیسر عبداللہ الریان نے ’الجزیرہ ویب پیج‘ میں شائع شدہ اپنے مضمون میں بڑی سچی بات لکھی ہے، جس کے آئینے میں مستقبل کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے:
اوریوں ان کی صدارت،درحقیقت شروع ہونے سے قبل ہی ایک ناخوش گوارانجام کو پہنچ گئی۔مرسی کادورحکومت،ایک جمہوری مستقبل کی خاطر محض ایک وقتی اورموہوم سی امید کا پیکر تھا، جوبے رحم مطلق العنان حکمرانوں کے طویل دورکے بعد، ان [مرسی] کی طرف سے صدرکے پرشکوہ منصب پرفائزہونے میں نظرآیاتھا۔
لیکن ان کے جانشین [جنرل سیسی] کوجلد ہی یہ احساس ہوجائے گاکہ اس موہوم سی اُمید [یعنی جمہوریت کے احیا]کا چراغ بجھانابہت ہی مشکل ہوگا۔اس [نام نہاد] فوجی انقلاب کے چھے برس بعد بھی بہت سے مصری شہری، موجودہ حکومت کو ایک مسلسل غیرقانونی اور ناجائز حکومت تصورکرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ السیسی حکومت جس کاطرۂ امتیاز انسانیت دشمنی ہے، اس نے سابق صدر[ محمد مرسی]کی تدفین بھی کھلے عام نہیں ہونے دی، بلکہ جلدبازی، بدحواسی اور بوکھلاہٹ میں سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی ان کی میت کو دفن کردیا،جب کہ مرسی کے خاندان کے محض [آٹھ] افراد کو تدفین میںشرکت کی اجازت دی۔(الجزیرہ،۲۴جون ۲۰۱۹ء)
محمد مرسی، نیل ڈیلٹا میں واقع شمالی مصر کے ایک چھوٹے سے گائوں ’العدوہ‘ میں ۲۰؍اگست ۱۹۵۱ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک دین دار متوسط درجے کے کاشت کار تھے۔ ابتدائی تعلیم گائوں کے قریبی علاقے میں حاصل کی اور آمدورفت کی مشکلات اور اسکول دُوردراز ہونے کے باعث گدھے پر بیٹھ کر جاتے تھے۔ اعلیٰ تعلیم قاہرہ یونی ورسٹی کے شعبہ میٹلرجیکل انجینئرنگ سے حاصل کی۔ بی ایس سی اور ایم ایس سی کے امتحانات امتیازی شان سے پاس کیے۔ سرکاری وظیفہ حاصل کیا اور امریکا کی یونی ورسٹی آف سائوتھ کیرولائنا سے میٹریل سائنسز میں پی ایچ ڈی کی سند ِفضیلت حاصل کی۔ چندسال امریکا ہی کے تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ امریکا جانے سے پہلے فوجی تربیت بھی حاصل کی اور مصر واپس آکر زقازیق (Zagazig) یونی ورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات انجام دینے لگے۔ اعلیٰ تعلیم کے دوران مصر ہی میں اخوان المسلمون کی دعوت و تحریک سے متاثر ہوئے اور رکنیت اختیار کی۔ امریکا میں قیام کے دوران وہاں پر بھی دعوتِ دین اور خدمت ِ خلق کے کاموں میں مصروف رہے۔
مصر واپس آنے کے بعد ۲۰۰۰ء میں آزاد نمایندے کے طور پر پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور بحیثیت رکن پارلیمنٹ اچھی شہرت حاصل کی۔ سابق مصری آمر حسنی مبارک کے دور میں دوبار جیل بھی گئے۔ اخوان کے مرکزی پالیسی ساز ادارے مکتب الارشاد کے رکن رہے۔ ۲۰۰۷ء میں نئی سیاسی حکمت عملی مرتب کرنے والی کمیٹی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جب ۲۰۱۱ء میں ’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘ قائم ہوئی، تو اس کے صدر منتخب ہوئے۔ آپ ۲۰۱۲ء کے صدارتی انتخاب میں متبادل صدارتی اُمیدوار تھے، لیکن جب الیکشن کمیشن نے ’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘ کے صدارتی اُمیدوار محمدخیرت سعدالشاطر کو نااہل قراردے دیا، تو ڈاکٹر محمدمرسی صدارتی اُمیدوار کے طور پر سامنے آئے، جو دوسرے رائونڈ میں ۵۱ء۷۳ فی صد ووٹ لے کر حسنی مبارک کے دور میں وزیراعظم اور ایئرفورس کے سابق سربراہ احمد شقیق کے مقابلے میں کامیاب ہوئے۔
۳۰جون ۲۰۱۲ءکو صدارتی حلف لے کر ذمہ داری سنبھالی۔ ایک ہی سال بعد ۳۰جولائی ۲۰۱۳ء کو فوجی سربراہ اور وزیردفاع جنرل السیسی نے اقتدار پر قبضہ کرکے، چار ماہ تک ان کو نامعلوم مقام پر قید تنہائی میں رکھا۔ پھر ان پر متعدد مقدمات قائم کر کے مصر کی بدنام ترین ’الطرۃ جیل‘ میں بھی قیدتنہائی میں ڈال دیا۔ان بے سروپا مقدمات میں، قومی رازوں کے افشا، اہرامِ مصر کی مبینہ فروخت، اور بکریوں کی چوری تک کے مضحکہ خیز الزامات لگاکر دسیوں بار موت اور عمرقید کی سزائوں کا مطالبہ کردیا۔ صدرمرسی کو (جو شہادت کے وقت تک قانونی طور پر مصر کے صدر تھے) لوہے کے ایک پنجرے میں بند رکھا گیا، جس میں وہ دن رات ۲۴گھنٹے محبوس رہتے تھے۔ جسمانی تشدد کے علاوہ خوراک، ادویہ اور علاج کی سہولتوں سے انھیں محروم رکھا گیا۔ اس طرح ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک ایسے شخص کو، جو ذیابیطس، گردوں، اور بلڈپریشر کا مریض تھا، موت کے منہ میں دھکیلنے کی مذموم حرکت کی۔
الحمدللہ، ڈاکٹر محمد مرسی نے یونی ورسٹی کی تعلیم کے دوران قرآن حفظ کرلیا تھا، اور یہ نُور چالیس سے زیادہ برسوں تک ان کے سینے میں امانت رہا۔ لیکن مصر کے ظالم حکمرانوں اور جیل کے عملے کا حال یہ تھا کہ رمضان میں ڈاکٹر محمدمرسی نے قرآن پاک کا نسخہ ہاتھ میں پکڑنے، چھونے اور آنکھوں سے لگانے کے لیے مانگا تو اس سے بھی انکار کر دیا گیا۔چھے سال کی قید کے دوران میں انھیں صرف تین بار اہلِ خانہ سے (اہلیہ اور بچوں) اور دوبار وکیل سے ملنے دیا گیا، حتیٰ کہ جب وہ عدالت میں لائے جاتے تھے، تو اس وقت بھی وہ اپنے اہلِ خانہ یا وکیل سے نہیں مل سکتے تھے۔ ۱۷جون ۲۰۱۹ء کو وہ ایک پنجرے میں بند تھے اور دوسرے بڑے پنجرے میں اخوان کے دوسرے زعما بند تھے۔ جب ڈاکٹر محمد مرسی بے ہوش ہوکر گرے، تو وہ ۳۰ سے ۴۰منٹ تک زمین پر پڑے رہے۔ اخوان کے دوسرے زعما جو دوسرے پنجرے میں تھے، ان میں پانچ ڈاکٹر بھی تھے جو چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ: ’’ہمیں ڈاکٹر مرسی کو دیکھنے دیا جائے‘‘ مگر ظالم جج اور جیل عملے کے ارکان ٹس سے مَس نہ ہوئے۔ ہسپتال لے جانے اور بے ہوش ہو کر گرنے میں ۴۰منٹ کا فاصلہ ہے، جس میں وہ اللہ کو پیارے ہوگئے: اِنَّـا لِلہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔
ہسپتال میں ان کی موت کے تعین کی رپورٹ تک نہیں تیار کی گئی، اور صرف یہ کہا گیا: ’’ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے‘‘۔ حالانکہ ہارٹ اٹیک کی ان کی کوئی ہسٹری نہ تھی۔ ڈاکٹر مرسی کو ذیابیطس اور گردوں کے امراض تو تھے، مگر دل کی تکلیف کبھی نہیں ہوئی تھی۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل ہدف، ان کو علاج سے محروم رکھ کر موت کی طرف دھکیلنا تھا۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹر مرسی شہید کے صاحبزادے نے بجاطور پر حکومت پر ان کو ارادے سے قتل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ پھر دوسرے تمام اداروں بشمول اقوامِ متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن کے نمایندے، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور وکلا کے وفد نے (جو ایک سال پہلے مارچ ۲۰۱۸ء میں محمدمرسی کو دیکھنے مصر گیا تھا،اور جسے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی) تمام ضروری تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ: ’’ان کو علاج کی ضروری سہولتوں، غذا اور جسمانی راحت سے محروم رکھنے کا جو رویہ اختیار کیا گیا ہے، وہ اگر ایک طرف تشدد (torture ) کی حدود کو چھورہا ہے تو دوسری طرف ان کو موت کی طرف دھکیل رہا ہے‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ صدر طیب اردوغان اور پاکستان سینیٹ نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ: ’’ان کی شہادت کے حالات کی آزاد ذرائع سے بلاتاخیر تحقیق ہونی چاہیے‘‘۔ شہید محمد مرسی کے صاحبزادے نے تو الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے، جنرل سیسی، تین ججوں، ایڈووکیٹ جنرل اور چند دوسرے افراد کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ یہاں چند اداروں اور ان کے ذمہ دار حضرات کے مطالبے کو اپنی اس تحریر کا حصہ بنا لیں، جو الجزیرہ ٹی وی نے اپنی ۱۹جون سے لے کر ۲۳جون کی نشریات میں اُٹھائے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نمایندے ریوپرٹ کول ولے نے ڈاکٹر مرسی کے اہلِ خانہ، وکلا اور دوسرے افراد کی طرف سے اُٹھائے گئے سوالوں اور سرکاری رویے کی روشنی میں مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے میں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیق ضروری ہے:
ان کی موت کے حالات اوروجوہ کاتعین کرنے کے لیے ایک ایسے عدالتی یاکسی دیگر مجازادارے سے تحقیق کرائی جائے جوحراستی مجازادارے کے اثرسے آزاد ہو، اور اسے فوری،غیرجانب دار اورمؤثر تفتیش کرنے کااختیارحاصل ہو۔
’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW)کی شرقِ اوسط کی ڈائرکٹر سارہ لیہہ وہیٹ سن نے کہا ہے کہ: ’مرسی کی موت ایک اندوہناک مگر مکمل طور پر قابلِ فہم واقعہ ہے، جو نتیجہ ہے حکومت کا ان کو طبی سہولتیں نہ دینے کا‘۔ ’الجزیرہ‘ کے مطابق سارہ لیہہ کا موقف ہے:
ہم گذشتہ کئی برس سے جس امر کااظہار کرتے رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ: ’وہ [مرسی] انتہائی بدترین حالات کاشکاررہے ہیں۔جب بھی وہ جج کے رُوبرو پیش ہوتے،وہ ذاتی حیثیت سے طبی نگہداشت اورعلاج کے حوالے سے درخواست کرتے‘۔
انھیں مناسب خوراک اورادویات سے محروم رکھاجاتارہا۔مصری [فوجی]حکومت کو ان کی گرتی ہوئی صحت کے متعلق مسلسل باخبر رکھا جاتارہا۔ان کاوزن بہت زیادہ کم ہوگیاتھا اور وہ متعدددفعہ عدالت میں بھی بے ہوش ہوکر گرتے رہے۔
انھیں قیدتنہائی میں رکھاگیا،جہاں انھیں ٹیلی ویژن،ای میل یاپھرکسی دیگرذرائع ابلاغ تک رسائی حاصل نہیں تھی، کہ وہ اپنے دوستوں یاخاندان سے رابطہ کرسکتے۔ وٹسن نے اس بناپر یہ موقف پیش کیا کہ: ’مرسی کی موت کے متعلق کوئی بھی قابل اعتبار آزادانہ تفتیش نہیں ہوگی،کیونکہ ان [مصری حکومت] کاکام اورکرداریہ ہے کہ کسی بھی غلط کاری سے خودکوبری قراردے دیں‘۔ (الجزیرہ، ۱۹جون ۲۰۱۹ء)
ایک بڑی اہم گواہی برطانیہ کے ’انڈی پنڈنٹ ڈی ٹنشن ریویو پینل‘ کی ہے، جس کے سربراہ سر کرسپین بلنٹ ہیں۔ اس پینل میں برطانوی پارلیمنٹ کے تین ارکان اور دو آزاد وکلا تھے، جو مارچ ۲۰۱۸ء میں مصر گئے تاکہ ڈاکٹر مرسی کی صحت اور طبی سہولتوں کا جائزہ لیں۔ مگر انھیں ڈاکٹر محمدمرسی سے ملنے نہیں دیا گیا۔ آزاد ذرائع سے جو معلومات اس وفد نے حاصل کیں، ان کی بنیاد پر انھوں نے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔طبی سہولتوں کے فقدان، غذا اور دوسری تمام محرومیوں کی بنا پر صاف الفاظ میں ’قبل از وقت موت‘ (premature death) کے اندیشے کا اظہار کیا اور عالمی راے عامہ کو خبردار کرنے کے لیے آواز بلند کی ۔ مرسی کی شہادت پر سر کرسپین بلنٹ نے بھی مطالبہ کیا ہے:
مصری حکومت کایہ فرض ہے کہ: ’’وہ ان کی بدقسمت موت کاسبب بتائے اورحراست کے دوران ان کے ساتھ کیے گئے سلوک کی مناسب جواب دہی ہونی چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جنھوںنے ان کے ساتھ بدترین سلوک کیا،نہ صرف وہ قابلِ تعزیرہیں بلکہ وہ لوگ بھی سزاکے مستوجب ہیں جنھوںنے اس سازش میںحصہ لیا‘‘۔انھوںنے ایک بیان میںکہا:’’اس صورت کی تلافی کے لیے اس وقت جو قدم ضروری ہے وہ یہ کہ اس کی آزادانہ عالمی تحقیق کی جائے‘‘۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل (AI)نے بھی یہی مطالبہ کیا ہے:
ہم مصری حکام سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ قیدتنہائی اوربیرونی دنیاسے عدم رابطہ سمیت ان کی موت کے حالات کی ایک غیرجانب داراورشفاف تحقیق کرائی جائے ۔
لندن سے انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہا:
’مصری حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیاگیاکہ مرسی کو فراہم کردہ طبی امدادکی بھی تحقیق کرائی جائے اور جو کوئی بھی ان سے بدسلوکی کا ذمہ دار پایاجائے،اسے سزادی جائے‘۔
ترکی کے صدر طیب اردوغان اور پاکستان کی سینیٹ نے بھی اپنی متفقہ قرارداد میں آزاد تحقیق اور مجرموں کو قرار واقعی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔خود ڈاکٹر محمد مرسی نے اپنے انتقال سے قبل عدالت کو مخاطب کر کے اپنے ساتھ اس ظالمانہ رویے کی شکایت کی تھی، مگر عدالت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
جج صاحب! مجھے کچھ بولنے کی اجازت دیں۔ مجھے قتل کیا جارہا ہے، میری صحت بہت خراب ہے۔ ایک ہفتے کے دوران میں دو دفعہ بے ہوش ہوا، لیکن مجھے کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جایا گیا۔ میرے سینے میں راز ہیں، جنھیں اگر ظاہر کروں، میں جیل سے تو چھوٹ جائوں گا، لیکن میرے وطن میں ایک طوفان آجائے گا۔ ملک کو نقصان سے بچانے کے لیے میں ان رازوں سے پردہ نہیں ہٹا رہا۔ میرے وکیل کو مقدمے کے بارے میں کچھ پتا نہیں اور نہ مجھے پتا ہے کہ عدالت میں کیا چل رہا ہے؟
۳۵سیکنڈ کی اس گفتگو کے بعد سیّدنا حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پڑپوتے الشریف قتادہ بن ادریس کا یہ مشہور زمانہ شعر پڑھا اور بے ہوش ہوکر گرگئے:
بِلَادِی وَ اِنْ جَارَتْ عَلَیً عَزِیْزَۃٌ وَاَھْلِی و اِنْ ضَنَوا عَلَیً کِرَامُ
میرا وطن مجھے عزیز ہے، اگرچہ وہ مجھ پر ظلم کرے۔ اور میرا خاندان قابلِ احترام ہے اگرچہ وہ میرے ساتھ کنجوسی سے پیش آئے۔
مصر کی حکومت نے ڈاکٹر مرسی اور خاندان کی خواہش کے مطابق انھیں ان کے آبائی قبرستان میں دفن کیے جانے کی اجازت نہیں دی۔ عام جنازہ بھی نہ کرنے دیا۔ صرف ان کی اہلیہ، دوبیٹوں اور بھائیوں پر مشتمل صرف آٹھ افراد نے جیل کی مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کی اور قاہرہ کے اس قبرستان میں خاموشی سے دفن کر دیا گیا، جہاں اخوان کے دو سابقہ مرشدعام ابدی نیند سو رہے ہیں۔
ڈاکٹر محمد مرسی سے میرا قریبی تعلق نہیں رہا۔ ایک بار ان سے امریکا میں ۱۹۸۰ء کے عشرے میں ملاقات ہوئی، اور دوسری اور آخری بار مارچ ۲۰۱۳ء اسلام آباد میں، جب وہ پاکستان کے سرکاری دورے پر تشریف لائے۔ اس وقت امیرجماعت اسلامی پاکستان، برادر عزیز و محترم سیّد منورحسن کی سربراہی میں جماعت کے وفد نے ان سے ملاقات کی۔ ان کی طبیعت بڑی سادہ اور اندازِگفتگو بڑا دوستانہ اور حکیمانہ تھا۔ تحریکی مسائل پر بہت جچی تلی بات کرتے تھے اور اپنی بات دلیل سے پیش کرتے تھے۔
اخوان نے ۲۰۰۷ء میں اپنی نئی سیاسی حکمت عملی بنانے کے لیے جو کمیٹی بنائی تھی، ڈاکٹر مرسی اس کے ایک اہم رکن تھے اور میرے علم کی حد تک ابتدائی ڈرافٹ انھی نے تیار کیا تھا۔ مجھے بھی اس مسودے کو دیکھنے کا موقع ملا اور جسے میں نے ایک بہت ہی مثبت اور وقت کی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش سمجھا۔ بعد میں ’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘ کا قیام اسی کمیٹی کی تجویز کا حاصل تھا۔ اسلام آباد کی نشست میں انھوں نے ہم سے بہت کھل کر بات کی اور ان سے بات کرکے حالات سمجھنے میں مدد ملی۔ ہمیں یقین ہوگیا کہ اصل اختیار و اقتدار کہیں اور ہے۔ اس لیے اخوان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑرہا ہے اور وہ تصادم سے بچتے ہوئے آہستہ آہستہ اختیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فلسطین کے بارے میں مرسی حکومت نے جو واضح موقف اختیار کیا تھا، اس پر ہم نے انھیں مبارک باد دی اور میں نے خصوصیت سے کشمیر کے مسئلے پر ان کو کردار ادا کرنے کی دعوت دی، جس پر انھوں نے کہا کہ: ’’ہم ضرور اپنا فرض ادا کریں گے‘‘ اور مجھ سے کہا کہ: ’’ایک نوٹ میرے لیے تیار کردیں، جس میں واضح ہو کہ مصر کیا کرسکتا ہے؟‘‘ میں نے دو ہفتے میں وہ نوٹ بنا کر ان کو بھیج دیا، لیکن بدقسمتی سے اس ملاقات کے تین مہینے کے اندر ہی ان کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا۔
ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کے ساتھیوں نے جو کارنامہ ایک سال کے مختصر وقت میں انجام دیا، وہ غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ افسوس ہے کہ اس کا ادراک پاکستان میں اور پاکستان سے باہر کی دنیا کو نہیں۔ امریکا، مغربی میڈیا، عرب میڈیا اور خصوصاً فوجی حکومت نے جو غلط فہمیاں پھیلائی ہیں، اور غلط بیانیاں کی ہیں، ان کی وجہ سے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت حالات کو قابو نہ کرسکی۔ جن حالات میں ڈاکٹر مرسی اور ان کے ساتھیوں نے زمامِ کار سنبھالی اور جن اندرونی اور بیرونی قوتوں سے ان کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، انھیں دیکھا جائے تو میں دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ ان کا ایک سال ہراعتبار سے کامیاب اور نئی منزل کی طرف لے جانے کی معتبر کوشش تھی۔
سب سے پہلی بات یہ سامنے رہنی چاہیے کہ اخوان اپنی زندگی کے ۹۱ سالوں میں سے کم از کم ۸۰سال کش مکش اور ابتلا کاشکار اور حکومت اور سامراجی قوتوں کا ہدف رہے ہیں۔ اس کش مکش کا آغاز دوسری عالمی جنگ کے دوران، فلسطین میں برطانوی سامراجی چالوں اور صہیونی قوتوں کے خطرناک کھیل کی وجہ سے ہوا۔ اخوان نے نہرسویز پر برطانوی قبضے، اور فلسطین کی سرزمین پر اسرائیلی بستیوں کو بسانے اور اسرائیل کے قیام کی سازشوں کی مخالفت اور مزاحمت کی، اور یہیں سے برطانیہ، صہیونیت اور مصری حکومت سے اخوان کی ہمہ پہلو کش مکش کا آغاز ہوا۔
امام حسن البنا کو ۱۲فروری ۱۹۴۹ء کو شہید کیا گیا اور شاہ فاروق کی حکومت نے ان کے جنازے تک کی اجازت نہیں دی۔ بالکل وہی منظر تھا، جو ڈاکٹر مرسی کی شہادت کے موقعے پر بھی دیکھنے میں آیا۔ لیکن اخوان نے بڑے صبروتحمل سے اس آزمایش کو برداشت کیا۔ پھر جمال ناصر پر حملے کا ڈراما رچا کر ہائی کورٹ کے سابق جج عبدالقادر عودہ اور مجاہد اعظم شیخ محمدفرغلی سمیت اخوان کے چھے قائدین کو پھانسی کی سزا دی گئی۔ اخوان کے ہزاروں کارکنوں، مرد و خواتین کو جیلوں میں ایسی صعوبتوں کا نشانہ بنایا گیا، جن کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
۱۹۴۹ء سے لے کر ۲۰۱۱ء تک اخوان پر مظالم اور پابندیوں کی المناک تاریخ ہے۔ یہ ایک کرشمۂ قدرت ہے کہ اتنی مخالفت، اتنی تعذیب، اتنے پروپیگنڈے اور سیاسی دہشت گردی کا مسلسل نشانہ بننے کے باوجود تحریک نہ صرف زندہ رہی بلکہ دعوت، تربیت، خدمت اور بالآخر سیاسی اثرورسوخ میں بھی ہر میدان میں نئی بلندیوں کی طرف سفر کرتی رہی۔ اس پورے زمانے میں فوج، پولیس، عدلیہ، انتظامی مشینری، روایتی مذہبی قیادت اور ادارے بشمول الازہریونی ورسٹی، میڈیا اور مفاد پرست اشرافیہ اخوان کے خلاف صف آرا رہے۔
اس پس منظر میں ڈاکٹر مرسی کا صدارتی انتخاب میں کامیاب ہونا اور پارلیمنٹ میں ’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘ کی اکثریت کا حصول، جہاں ایک بہت بڑا سیاسی کارنامہ ہے، وہیں یہ مخالف قوتوں کے لیے ایک چیلنج اور اشتعال دلانے والے سرخ رومال کی حیثیت اختیار کر گیا۔ مرسی صاحب کے ۵۲فی صد کے مقابلے میں ۴۸ فی صد ووٹ لینے والی قوتوں نے اپنی شکست قبول نہیں کی تھی۔ ان کی ساری کوشش مرسی حکومت کو ناکام بنانے پر مرکوز ہوگئی۔ فوج، پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ سب نے مل کر اخوان کے خلاف محاذ بنالیا۔ ڈاکٹر مرسی کے صدارت کی ذمہ داری اختیار کرنے سے پہلے ہی فوجی کونسل نے صدر کے تمام اختیارات قومی کونسل کو سونپ دیے۔ عدالت نے بھی انتظامیہ کے اختیارات پر شب خون مارا۔ منتخب پارلیمنٹ کو عدالت کے ذریعے ختم کر دیا گیا۔ مرسی صاحب کو پارلیمنٹ میں حلف تک لینے سے روک دیا گیا۔ اس لیے انھوں نے حلف بھی تحریر اسکوائر پر لیا۔
جب محمد مرسی صدرمنتخب ہوئے تو اس وقت فوج کے ۷۸سالہ سربراہ جنرل محمد حسین طنطاوی ۱۵سال کی توسیع ملازمت لے چکے تھے، اور مزید کے لیے سازشیں کر رہے تھے۔ جنرل طنطاوی کو ہٹا کر صدر مرسی نے جنرل عبدالسیسی کو ۱۲؍اگست ۲۰۱۲ء کو مصری فوج کا سربراہ مقرر کیا۔
صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے پہلا کام یہ کیا کہ اسلام سے وفاداری کو( جو دستور کا حصہ تھا) اور مصر کی خودانحصاری اور آزادی کو اپنی اوّلین ترجیح قرار دیا۔ سادگی کو عملاً اختیار کیا۔ پہلے دن سے صدرمملکت اور ان کی پوری ٹیم نے سرکاری پروٹوکول کو ترک کرکے عوام کے ساتھ برابری کا رویہ اختیار کیا۔ صدرمرسی کی بہن شدید بیمار تھیں، لیکن ان کو علاج کے لیے باہر نہیں بھیجا، اور قاہرہ ہی کے ہسپتال میں زیرعلاج رہیں جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔ صدر مرسی نے مقتدر طبقات کے امتیازی اختیارات کو کم کرنے کی کوشش کی، جس پر انھیں قدم قدم پر مزاحمت کا سامنا کرناپڑا۔ صرف یہی نہیں بلکہ مفادپرست عناصر نے ماضی میں حکمرانی کا فائدہ اُٹھانے والے، نیز لبرل اور سیکولر حلقوں کو اسلام کا ہوّا دکھا کر مرسی حکومت کے خلاف صف آرا کرنے کے لیے سارے وسائل لگادیے۔ صدافسوس کہ اس میں روایتی مذہبی عناصر، اور سلفی تحریک کی قیادت بھی شامل ہوگئی۔
صدرمرسی کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ غزہ اور مغربی فلسطین پر جو پابندیاں مصر کی حکومت نے لگائی ہوئی تھیں اور رفح کی جو سرحد بند کی ہوئی تھی، اسے فوراً کھول دیا۔ حماس پر اسرائیل نے جو زندگی تنگ کی ہوئی تھی، اس کی تلافی کے لیے مؤثر اقدام کیے اور فلسطین کے مسئلے کو مصر کی اوّلین ترجیح قرار دیا، حتیٰ کہ ستمبر ۲۰۱۲ء میں صدر مرسی نے اقوامِ متحدہ میں جو خطاب کیا اس میں سب سے پہلے اور نہایت جان دار الفاظ میں مسئلہ فلسطین کو پیش کیا۔ اس کے حل کا مطالبہ اور اسرائیل کے فلسطین پر قبضے کے خلاف اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ تصادم سے بچنے کے لیے مرسی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی اس امر کا بھی اعلان کردیا تھا کہ مصر کے ماضی میں کیے گئے تمام عالمی معاہدات کا احترام کیا جائے گا۔ حماس کی حمایت کی وجہ سے اسرائیل اور مصر نے غزہ کے عوام پر زندگی تنگ کردی تھی، صدرمرسی نے انھیں اس عذاب سے فوری نجات دلائی اور نقل و حرکت اور تجارت کی راہیں ہموار اور کشادہ کیں۔ القدس اور فلسطین پر اسرائیلی قبضے اور فلسطین کے حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد کی کھل کر تائید و حمایت کی، جو مصر کے سابق صدر انوارالسادات اور صدر حسنی مبارک کی حکومتوں کی شرم ناک اسرائیل نواز چالوں کے برعکس ۱۰۰ فی صد معکوس تبدیلی (reversal) تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے برملا کہا کہ: ’’ہم نے مرسی حکومت سے معاملہ طے کرنے اور سابقہ مصری حکومت سے جو بندوبست کیا ہوا تھا، اس پر تعاون کے لیے ہرکوشش کی، لیکن مقبوضہ علاقوں کے بارے میں کسی انتظام پر مرسی حکومت تیار نہ ہوئی اور پھر ہماری ساری کوشش اس حکومت سے نجات پر مرکوز ہوگئی‘‘۔ یہی کوشش روس، امریکا اور یورپی ممالک کی تھی اور بدقسمتی سے یہی رویہ خود مشرق وسطیٰ کے کئی عرب ممالک نے اختیار کیا۔ حتیٰ کہ مرسی حکومت کے خلاف بغاوت کی مالی اعانت اور پشت پناہی کے لیے چندعرب ممالک نے مصر کے غاصب حکمران، جنرل سیسی کی حوصلہ افزائی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
یہ تھے وہ حالات، جن میں مرسی حکومت نے ایک سال اور تین دن گزارے، اور وہ بھی اس طرح کہ ان عناصر نے نیا دستور بننے میں رکاوٹیں کھڑی کیں، عدلیہ نے قدم قدم پر رکاوٹیں ڈالیں، اور عسکری قوتوں نے سول حکومت کو غیرمؤثر کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ پھر نام نہاد عوامی بغاوت کے تانے بانے بُنے گئے اور وہ سب عناصر جو ماضی کی حکومتوں سے فائدہ اُٹھاتے رہے یا جو نظریاتی طور پر اسلامی قوتوں کے مخالف تھے، سب کو مرسی حکومت کے خلاف صف آرا کیا گیا۔ ان تمام حالات میں حکومت کا ایک سال چلنا بھی ایک بڑی کامیابی تھی۔ مخالفت کے اس پورے طوفان اور میڈیا کی یلغار کے باوجود یہ بھی ایک چشم کشا حقیقت ہے کہ مرسی حکومت کو عوام کی اکثریت کی تائید حاصل تھی۔ جس کا اعتراف ۱۸جون ۲۰۱۹ء کو الجزیرہ ٹی وی پہ نشر کیے جانے والے تعزیتی (obituary) پروگرام میں ان الفاظ میں کیا گیا:’’محمدمرسی کا ایوانِ صدارت میں جو وقت گزرا، اس میں ان کی شہرت اور عزت میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی، اور ان کے لیے عوامی پسندیدگی کا اشاریہ ۶۰ اور ۵۵ فی صد کے درمیان رہا‘‘۔
واضح رہے کہ اس ایک سال میں دو بار فوجی بغاوت کی کوشش کی گئی، لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ البتہ ۳جولائی ۲۰۱۳ء کو فوج اور نام نہاد عوامی مظاہروں کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا اور پھر ۱۴؍اگست ۲۰۱۳ء کو صدرمرسی کی تائید اور فوجی اقتدار کے خلاف جو عظیم عوامی مظاہرہ ہو رہا تھا، اس کے شرکا کو خود کار رائفلوں کی فائرنگ سے بھون ڈالا گیا اور فوجی گاڑیوں تلے کچل دیا گیا۔ اخوان نے ۲۶۰۰ سے زائد شہدا کی فہرست جاری کی۔ ہزاروں زخمی علاج معالجے کے لیے ترستے رہے۔یوں جنرل سیسی نے اقتدار اپنی مٹھی میں لے کر ایک آمرانہ دستور ملک پر مسلط کردیا، اور اب جنرل سیسی کو ۲۰۳۰ء تک صدر رکھنے کا ڈراما رچایا گیا ہے۔
یہ سب اپنی جگہ، مگر قدرت کے انتقام کا بھی اپنا ہی نظام ہے۔ بہت سے سیکولر اور جمہوریت پسند عناصر جو اخوان دشمنی میں فوجی سازشوں کے آلہ کار بنے اور جنھوں نے۳جولائی ۲۰۱۳ء کی فوجی مداخلت کی راہ ہموار کی، وہ خود بھی بہت جلد حکومت کی دست درازیوں کا نشانہ بن گئے۔ ان کی ایک بڑی تعداد داخلِ زندان کی گئی اور اخوان کے قیدیوں کے ساتھ اب وہ بھی جنرل السیسی کے قیدی ہیں۔ نیز ان میں سے بھی ایک بڑی تعداد اخوانیوں کی طرح ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئی اور ان میں سے کچھ آج صدر ڈاکٹر مرسی کی شہادت پر افسوس کا اظہار کررہے ہیں۔
ایمن نُور جو غیراخوانی حزبِ اختلاف کے قائدہیں، انھوں نے بیرونِ مصر سے کہا ہے:
مرسی بلاشبہہ شہید ہوئے اور انھیں سوچ سمجھ کر مارا گیا ہے… میں اپنی اوردنیاکے تمام آزاد لوگوں کی طرف سے آزادی کے راستے کے ایک عظیم معمار (great striver)کی موت پرغم ودکھ کااظہارکرتاہوں۔(الجزیرہ، ۱۹جون ۲۰۱۹ء)
صدرمحمد مرسی کی ایک سخت ناقدمونا الطحاوی اپنے مضمون میں لکھتی ہیں:
یہ ہے وہ کچھ جوعبدالفتاح السیسی نے حاصل کیا۔جولائی۲۰۱۳ء سے (جب مرسی کی حکومت کاتختہ اُلٹاگیا،اور) جنوری۲۰۱۶ء (جب مصری پارلیمان بحال ہوئی) کے دوران ۱۶ہزار سے ۴۱ہزار کے درمیان لوگ گرفتار کیے گئے، جن میں سے زیادہ تر اب کالعدم اخوان المسلمون کے حامی تھے۔ البتہ اطلاعات کے مطابق ان میں ایک تعداد ان افراد کی بھی ہے، جو لبرل اور سیکولر (اور اخوان مخالف تحریک میں) سرگرم تھے۔ اس کے بعد سے سزاے موت کے اعلانات کی تکرار ہے، جس پر عمل ہورہا ہے۔ غیرقانونی اور غیرعدالتی اغوا اور قتل اس کے علاوہ ہیں۔ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی کوشش کا نتیجہ ہے، جس سے معاشرے میں اختلاف راے کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ ایک طرف اخوان کو صفحۂ ہستی ہی سے مٹانے کا اہتمام ہورہا ہے، دوسری طرف ہر شکل میں، ہراختلافی راے اور ہرمدمقابل قوت کو دبانے پر بھی توجہ مرکوز ہے۔(دی نیویارک ٹائمز، ۱۸جون ۲۰۱۹ء)
مگر اب اظہارِ حقیقت کرنے کا فائدہ؟ ع
صبح دَم کوئی اگر بالاسے بام آیا تو کیا
مختصر یہ کہ جو عناصر اخوان المسلمون کے خلاف میدان میں لائے گئے تھے، خود وہ بھی موجودہ فوجی استبدادی حکومت کا نشانہ بن رہے ہیں اور اب اخوان اور ان کے مخالف سیکولر عناصر، دونوںمصری عقوبت خانوں میں یا مصر سے باہر مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
واضح رہے کہ صدر محمدمرسی کے زمانے میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا۔ ان سے پہلے صدر حسنی مبارک کے دور میں جنھیں سیاسی بنیادوں پر قید کیا گیا تھا، صدر مرسی نے ان کے لیے بھی جیل کے دروازے کھول دیے تھے، اس بات کا لحاظ کیے بغیر کہ ان کی سیاسی یا مذہبی وابستگی کیا ہے، اور یہ ان کے اوّلین اقدام میں سے ایک تھا۔
اخوان کو جس ’جرم‘ کی سزا دی گئی ہے، وہ اسلامی اور جمہوری اقدار سے ان کی وفاداری اور ہرقیمت پر مصر کے دستور کو اسلام، جمہوریت اور اجتماعی فلاح کی بنیاد بنانے، منصفانہ سیاسی اور معاشی نظام کی تشکیل اور تمام ریاستی اداروں کو اپنی اپنی حدود میں رکھنے کی کوشش ہے۔ مصر کی قومی خودمختاری اور مسئلہ فلسطین کو انصاف، تاریخی اور زمینی حقائق، اور فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی بنیاد پر مستقل حل، اور فلسطینی سرزمین اور الاقصیٰ کو اسرائیلی قبضے سے نکالنے کے لیے پُرعزم ہونا اور ڈٹ جانا ہے۔ عرب اور اسلامی دنیا کے مسائل کا مل جل کر اور اپنے وسائل کے صحیح استعمال کے ذریعے حل اور دنیا میں ایک مبنی برانصاف معاشی نظام کا قیام ہے جس میں دولت چند ممالک اور چند ہاتھوں میں مرکوز نہ ہو اور وسائل تمام نسانوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے، غربت کو ختم کرنے اور سماجی فلاح کے لیے استعمال ہوں۔اس سلسلے میں صدرمحمد مرسی کی تقاریر بہت واضح ہیں اور ان تمام نکات کا جامع اور مؤثر استحضار ان کی اس یادگار تقریر میں موجود ہے، جو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ستمبر۲۰۱۲ء میں انھوں نے کی تھی (یہ تقریر یوٹیوب پر آج بھی سنی جاسکتی ہے)۔
صدر مرسی کی حکومت نے پہلے دن سے تہذیبوں، مذاہب اور ملکوں کے درمیان تصادم کے بجاے ایک دوسرے کے احترام کی بنیاد پر مکالمے اور بقاے باہمی کا تصور پیش کیا، اور عالمی سطح پر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جو فکری اور تہذیبی جنگ جاری ہے، اسے ختم کرنا اپنا ہدف قرار دیا۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات اور اسلام کی تعلیمات پر جو رکیک حملے کیے جارہے ہیں، ان پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا، ناموسِ رسالت کے سلسلے میں مسلمانوں کے عالمی احتجاج کی مکمل تائید کی اور اقوامِ متحدہ میں برملا اعلان کیا کہ اگر دنیا ہمارے نبیؐ، ہمارے دین اور ہماری اقدار کا احترام نہیں کرے گی، تو ہم سے اپنی تہذیب و ثقافت کے احترام کی توقع نہ رکھے۔ سب کے لیے سلامتی اور آشتی کا راستہ ایک ہی ہے کہ ہم سب مل جل کر تمام انسانوں، تمام علاقوں اور تمام تہذیبوں کا برابری کی بنیاد پر احترام کریں۔ سب کی طرف سے اپنے اپنے موقف کی پیش کاری اور اختلاف، علمی حدود کے اندر ہو، اور کسی کو بھی نفرت کی آگ بھڑکانے اور دوسروں کی تحقیر اور انھیں مشتعل (provocation) کرنے کی کھلی چھٹی حاصل نہ ہو۔ قومی اور بین الاقوامی، ہردائرے کی کچھ اخلاقی حدود ہیں، جن کا احترام ضروری ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے عالمی امن اور تعاون پروان چڑھ سکتا ہے۔
عالمی استعماری قوتیں ہوں یا وہ قومی اور مقامی عناصر، جن کے مفادات پر مندرجہ بالا پالیسی کے خطوطِ کار سے ضرب پڑتی ہے، وہ اخوان اور دوسری اسلامی تحریکات کا راستہ روکنے میں اپنی بقا دیکھتے ہیں، اور ’سیاسی اسلام‘ ، ’اسلامی انتہاپسندی‘ اور ’اسلامی ٹیررازم‘ کے نام پر اسلام اور اسلامی تہذیب کو ہدف بنا رہے ہیں۔ یہی خطرناک کھیل ہے جو مصر میں کھیلتے ہوئے سمجھا جا رہا ہے، وہ یہ کہ محض قوت اور جبرکے ذریعے اسلام کی نظریاتی اور تہذیبی لہر کوروکا جاسکتا ہے۔
اخوان المسلمون محض ایک تنظیم نہیں ہے، بلکہ ایک تصور اور نظریہ، ایک پیغام اور نظامِ حیات ہے، جو ایک طرف انسان کو اپنے ربّ سے جوڑتا ہے، تو دوسری طرف ربّ کی دی ہوئی ہدایت کی روشنی میں پوری انسانی زندگی کی تشکیل، خیروفلاح، عدل و انصاف، حقوق کی پاس داری اور تعاون اور اخوت کی بنیادوں پر کرنا چاہتا ہے۔ افراد کو قیدوبند اور قتل و غارت گری کا نشانہ تو بنایا جاسکتا ہے، لیکن افکار اور نظریات کو تیروتفنگ اور جبرواستبداد سے ختم نہیں کیاجاسکتا۔ مصر میں اخوان کو گذشتہ ۸۰سال میں جس طرح ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس سارے ظلم و استبداد کے باوجود اخوان ایک قوت ہیں اوران شاء اللہ رہیں گے، اس لیے کہ:
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ اُبھرے گا ،جتنا کہ دبا دیں گے
حسن البنا، عبدالقادر عودہ، سیّد قطب اور محمد مرسی مر کر بھی زندہ ہیں اور ان پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والوں اور خود کو فراعنہ کے فرزند قرار دینے والوں کا نام و نشان باقی نہیں ہے۔ کوئی اسرائیل سے شکست کھا کر ندامت کی موت مرا، کوئی اپنے ہی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بنا، اور کوئی جیل اور ہسپتال کے درمیان ایڑیاں رگڑتا رہا ہے: فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ (الحشر ۵۹:۲) ’’پس عبرت حاصل کرو اے دیدئہ بینا رکھنے والو!‘‘
قاہرہ میں روزنامہ لاس اینجلس ٹائمز کی نامہ نگار سلمہ اسلام،۲۴ جون ۲۰۱۹ء کو صدرمرسی کی وفات اور اخوان پر پابندی کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے قاہرہ کے ماحول کی عکاسی کرتی ہیں، جس میں جبرواستبداد کی گرفت ہے، اور وہ ماحول سب کو دعوتِ فکر دے رہا ہے:
قاہرہ کی گلیوں میں لوگ عام طور پر بے چین نظر آتے ہیں۔ اگر کسی سے سیاست بالخصوص حساس یا ممنوع موضوعات، یعنی اخوان المسلمون کے بارے میں راے لینے کی کوشش کی جائے تو جواب میں صرف بے چین نظریں دکھائی دیتی ہیں۔ وسطی قاہرہ میں سیّدہ زینب کے قرب میں، جب کوئی بھی فرد مرسی کی موت کے بارے میں اپنی راے دینے پر راضی نہ ہوا تو ایک شخص نے جو بظاہر ۴۰برس کا لگتا تھا، دوٹوک انداز میں کہا: ’’ہم اس موضوع پر بات نہیں کرسکتے کیونکہ حکومت ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتی‘‘۔
اپوزیشن رہنما، مصر کے تیسرے صدر محمدانور السادات کے بھتیجے نے [مرسی کی شہادت پر]کہا: ’اگرچہ اخوان المسلمون، حکومت کی نظر میں یقینا ’دشمن نمبر۱‘ ہے، مگر تاریخ شاہد ہے کہ اخوان المسلمون ایک نظریہ ہے، اور نظریے کے طور پر یہ کبھی نہیں مرسکے گی‘۔
کلیرمونٹ کے اسکرپس کالج میں پولیٹیکل سائنس کی پروفیسر سومٹ پاہاوا کے تجزیے کا حاصل یہ ہے کہ :
مرسی کی موت کو اخوان المسلمون کی قیادت اپنے وجود کو ایک شہید کے طور پر نئی زندگی بخشنے کے لیے استعمال کرے گی....اخوان کے رہنما یہ توقع رکھتے ہیں کہ مرسی کی موت مصری عوام کے دلوں میں زیادہ ہمدردی پیدا کرے گی۔ اس لیے بھی کہ عوام ۲۰۱۳ء کے مقابلے میں آج حکومتی دبائو کے نتیجے میں زیادہ بے حال ہیں اور روزانہ بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی کا سامنا کررہے ہیں۔ ۲۰۱۳ء میں مرسی کی گرفتاری کے وقت اتنا زیادہ اشتعال نہیں تھا کہ جس کا اب مستقبل میں امکان ہے۔ (لاس اینجلس ٹائمز، ۲۴جون ۲۰۱۹ء)
امریکا کے مشہور صحافی اور کالم نگار ڈیوڈ ہرسٹ (David Hearst) نے وہاں کے جریدے Middle East Eye ( ۲۵جون۲۰۱۹ء) میں اخوان کے ایک مخالف اور سابق صدارتی اُمیدوار ایمن نُور کے حوالے سے لکھا ہے کہ:
مرسی کی موت جس طرح واقع ہوئی ہے، اس سے بڑے پیمانے پر حکومت تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ دراصل مرسی کو چھے سال مسلسل ایک عمل کے ذریعے موت کے گھاٹ اُتارا گیا ہے(Killed slowly over six years)اور حکومت کو اس کی پوری ذمہ داری اُٹھانی پڑے گی اور جواب دہی کرنا ہوگی۔
پروفیسر عبداللہ الاریان الجزیرہ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون: ’محمد مرسی: ایک مصری المیہ‘ میں مرسی حکومت کی کمزوریوں پر گرفت کرنے کے ساتھ بڑے مؤثرانداز میں ان عوامل کی بھی نشان دہی کرتے ہیں، جن کا مرسی حکومت کو مقابلہ کرنا پڑا اور جو گمبھیر مسائل کسی بھی حکومت کے لیے ناقابلِ تسخیر تھے:
تاہم، جو چیز مرسی کے دورِ اقتدار کے ایک متزلزل سال میں ان کے سخت ترین ناقد سمجھنے میں ناکام ہوگئے، درحقیقت وہ تشکیلی ڈھانچے سے متعلق رکاوٹیں تھیں، جو مصر کے ان انقلابیوں کی صفوں میں سے کسی بھی شخصیت کو ناکامی کی بدنصیبی سے دوچار کر دیتے۔
مرسی کے بدقسمت دورِ صدارت کے اکثر تنقیدی جائزوں میں سے اُن چند در چند عوامل و عناصر کا ذکر غائب تھا، جو مصر کی انقلابی تحریک کو ناکامی سے دوچار کرنے کے لیے یکسو تھے (مثال کے طور:) سابقہ [حسنی مبارک کی آمرانہ] حکومت کے طاقت ور بیوروکریٹ جنھوں نے [مرسی کی] صدارتی پالیسیوں کو نافذ کرنے سے انکار کر دیا، محدود طبقے کی حکومت سے متعلقہ وہ لوگ کہ جنھوں نے عوامی بے اطمینانی کو بڑھاوا دینے کے لیے توانائی کی کمی کا مصنوعی بحران پیدا کیا، ایک ایسی سیاسی حزبِ مخالف جس نے جب دیکھا کہ وہ مرسی کو یا ان کی جماعت کو انتخابات میں شکست نہیں دے سکے، تو انھوں نے مریضانہ ذہنیت کے ساتھ تخریبی کردار ادا کرنا شروع کردیا، وہ غیرملکی حکومتیں کہ جنھوں نے جوابی [فوجی] انقلاب کی مالی مدد کی، اور بلاشبہہ مصر کی مسلح افواج۔ یہ سب، انقلابی تبدیلی کے عمل کے دوران زیادہ تر مسائل و مشکلات پیدا کرتے رہے۔
اس پس منظر میں کوئی بھی، یقینا مرسی کی قیادت کی غلطیوں کی نشان دہی کرسکتا ہے، کلیدی فیصلوں کا ان کی طرف سے مناسب طور پر لوگوں تک ابلاغ کا نہ ہونا، اور پھر یہ عدم صلاحیت کہ وہ ایک وسیع تر انقلابی اتحاد نہ تشکیل دے سکے۔ تاہم، اس یلغار کے باوجود، اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ حزبِ مخالف کی کوئی بھی شخصیت کامیاب ہوسکتی۔
اس گفتگو سے چند باتیں بالکل واضح ہوجاتی ہیں:
اخوان المسلمون کی قوت کا اصل سرچشمہ اللہ اور اس کے آخری رسولؐ پر ایمان ہے۔اللہ کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت اور طریقے کو زندگی کا شعار بنانا اس کا اصل مطلوب ہے۔ نفس کا تزکیہ اور اخلاق و کردار کی تعمیر اس کا اہم ترین ہتھیار ہے۔ خاندان اور معاشرے کی اصلاح اس کی طاقت کا سرچشمہ ہے۔ خدمت اور حق و انصاف اور زندگی کےسارے معاملات کی صورت گری اس کی قوت کا ذریعہ ہے۔ سیاست اجتماعی زندگی میں اسی اخلاقی انقلاب کا ذریعہ ہے۔ اصل مقصود اللہ کی رضا، آخرت کی کامیابی اور جنّت کی تمنا ہے۔ یہ تمام پہلو ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔
فرد، معاشرہ، ریاست، انسانیت کی تعمیر اس کا ہدف ہیں، لیکن اس کی کامیابی کا اصل راز اور اس کی جدوجہد کا اصل ہدف اللہ کی رضا اور اللہ کی زمین پر اللہ کی مرضی اور قانون کو جاری و ساری کرنے کی جدوجہد ہے۔ حسناتِ دنیا اور حسناتِ آخرت دونوں مطلوب ہیں، لیکن رضاے الٰہی کے ثمرات کی حیثیت سے۔ یہ چیز آزمایشوں میں استقامت کا ذریعہ بنتی ہے اور دُنیوی نشیب و فراز سے بے نیازی اور جہد ِ مسلسل کا شعار بناتی ہے۔ اس کیفیت کو پیدا کرنے میں کلیدی کردار قرآن سے تعلق اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اتباع کا رشتہ ہے۔ اس ضمن میں، مَیں نے اخوان المسلمون کو تمام اسلامی تحریکات میں سب سے بہتر اور سب سے بلند پایا ہے۔
گذشتہ ۷۰برس میں مجھے ہرسطح پر اخوان کے ساتھیوں سے قریبی تعلق کی سعادت حاصل ہوئی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اخوان کے ہرکارکن کا قرآنِ عظیم سے جو تعلق میں نے دیکھا ہے، وہ قابلِ رشک ہے۔ مصری معاشرے میں جو دینی اور اخلاقی تبدیلی گذشتہ ۹۰برسوں میں آئی ہے، اس میں دوسری تمام دینی قوتوں کی کوششوں کے ساتھ امام حسن البنا شہید اور اخوان المسلمون کا کردار سب سے زیادہ نمایاں اور روشن ہے۔ قرآن سے تعلق اور ایک دوسرے سے محبت اور خبرگیری، یہ دو ستون ہیں جن پر اخوان کی تحریک قائم ہے۔ اخوت کا رشتہ، محبت اور خبرگیری کا رشتہ اور بھائی چارے کی فضا، اخوان نے گھرگھر اور محلے محلے میں قائم کی ہے۔ فہم قرآن کے حلقے اور اسرہ کا نظام اخوان کی طاقت کا منبع ہیں اور جب تک یہ تعلق اور نظام موجود ہے، ان شاء اللہ ظلم کی کوئی قوت اس تحریک کو دبا نہیں سکتی، اور بقول جگر مراد آبادی:
یہ خوں جو ہے مظلوموں کا ، ضائع تو نہ جائے گا لیکن
کتنے وہ مبارک قطرے ہیں ،جو صرفِ بہاراں ہوتے ہیں
استقامت اور تحریک کے نظریاتی کردار کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اتنے ظلم و زیادتی، حقوق کی پامالی، ملک کے دستور اور قانون اور اصولِ انصاف سے رُوگردانی کے باوجود تحریک نے اینٹ کا جواب پتھر، اور تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دیا۔ ہرظلم و زیادتی کو برداشت کرتے ہوئے قانون، اخلاق اور خود اپنے طے کردہ طریق کار سے انحراف کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تحریک اپنے طریق کار کی صحت اور اخلاقی برتری پر یقین رکھتی ہے، اور بُرائی کے جواب میں بُرائی کے راستے کو اصولی اور اخلاقی طور پر غلط سمجھتی ہے۔ اسلامی تحریک کا طریقہ محض مصلحت، بدلہ اور انتقام نہیں بلکہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہے اور سب سے بڑھ کر قرآن کا یہ اصول ہے کہ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَـنَۃُ وَلَا السَّيِّئَۃُ۰ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ (فصلت۴۱: ۳۴) ’’نیکی اور بدی یکساں نہیں ہے۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو، جو بہترین ہو‘‘۔
اخوان کی عظیم کامیابی ہے کہ ۸۰سال میں آزمایش کے تین ہولناک اور صبر آزما اَدوار میں جھونک دیے جانے کے باوجود، انھوں نے اپنے تعمیری، اخلاقی، اصلاحی، جمہوری اور عدم تشدد کے طریق سے سرِموانحراف نہیں کیا۔ اس کے باوجود اگر غصّے، ردعمل اور بدلے کے جذبے سے مغلوب ہوکر کسی نوجوان نے تحریک کے معروف طریقے سے ہٹنے کی کوشش کی، تو اس کا ہاتھ روک دیا یا اس کو تنظیم سے خارج کر دیا۔ افسوس کہ مسلم حکومتوں، مقتدر طبقات اور مخالفین نے اس پہلو پر غور نہیں کیا حالانکہ اب تو اس بات کو غیر بھی محسوس کرنے اور اس کا برملا اظہار کرنے لگے ہیں۔
نیویارک ٹائمز ( ۱۹جون ۲۰۱۹ء) میں اس کے اسٹاف رائٹر پیٹر ہیسلر نے ، جو مصر پر ایک کتاب The Buried: An Archeology of The Egyption Resolution کے مصنف ہیں، اپنے حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ: ’’سامراجی حکمرانوں کے خلاف ابتدائی دور میں اخوان کے کچھ ارکان سیاسی تشدد کے مرتکب ہوئےہیں، اور اخوان کے رہنمائوں نے بالآخر ایسی حکمت عملی کو مسترد کر دیا اور عدم تشدد کے اصول کو اختیار کیا‘‘۔اخوان پر مظالم اور ریاستی تشدد کے تازہ دور کے پس منظر میں صاحب ِ مقالہ لکھتا ہے کہ:
یہ بات اہم ہے کہ حکومتی قیادت میں ہونے والے قاہرہ کے مختلف قتل عام اور ان کے نتیجے میں بچ جانے والوں اور (ان کے) رشتہ داروں میں سے بہت ہی کم افراد نے دہشت گردانہ عمل یا تشدد سے جواب دیا۔ دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات جزیرہ نما سینائی کے دُور دراز حصوں میں ہوئے، نہ کہ بالائی مصر کے گنجان آبادی والے حصوں میں، جو کہ ابتدائی نسلوں میں انقلابی اسلام کا گہوارارہے تھے۔ مصری حکومت نے اخوان پر ایک ’دہشت گرد گروہ‘ کے طور پر پابندی لگادی ہے لیکن اس کے پاس کوئی شہادت نہیں کہ اخوان نے متشددانہ مزاحمت کوچال کے طور پر اختیار کیا ہو۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اخوان جس طرح ماضی کے ہولناک اَدوارِ ابتلا سے صبرواستقامت کے ساتھ نبردآزما ہوئے، اسی طرح اس دور کا بھی مقابلہ کریں گے اور بالآخر کامیابی کے ساتھ اپنی اصلاحی اور تعمیری سرگرمیوں کو ایک بار پھر چار چاند لگائیں گے۔ ہمیں خوشی ہے کہ بیرونی حلقوں سے بھی اب ایسی آوازیں اُٹھنے لگی ہیں۔مثال کے طور پر سی این این کی ایک تازہ رپورٹ، جو صدرمرسی کی شہادت کے اگلے روز (۱۸جون ۲۰۱۹ء) شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں مصر کے حالات کا جائزہ لے کر آخری حصے میں کہا گیا ہے:
اور ابھی تک بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور آمرانہ من مانی ہلاکتوں کے باوجود، اخوان تحریک معدوم ہونے سے کوسوں دُور ہے۔اخوان ظلم و تعذیب سہنے کے عادی ہیں اور خدمت خلق کے لیے ان کا اپنا ایک بے مثل ڈھانچا ہے۔ جیساکہ ’کارنیگی رپورٹ‘ نے کہا ہے: ’’مصر کے سیاسی مقدّر کا تعین بدستور اس تصادم سے ہی ہوتا رہے گا جو حکومت اور اسلام پسندوں کے درمیان جاری ہے‘‘۔
صدر محمد مرسی کی شہادت پر مسلمان عوام، دینی اور سیاسی جماعتوں اور متعدد حکمرانوں کا جو ردعمل سامنے آیا ہے، وہ اُمت مسلمہ اور عالمی سیاسی منظرنامے کے لیے ایک آئینے کی حیثیت رکھتا ہے۔ترکی اور اس کے صدر طیب نے سب سے بڑھ کر اور قطر، حماس، ملائیشیا اور انڈونیشیا کی حکومتوں نے کھل کر اور چند دوسرے ممالک کے حکمرانوں نے صرف تعزیت کے انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کی حکومت تو خاموش ہے، مگر قومی اسمبلی نے دُعاے مغفرت اور پھر سینیٹ آف پاکستان نے ایک جان دار اور مفصل قرارداد کے ذریعے، جسے قائد ایوان اور قائد حزبِ اختلاف کے تعاون سے ۳۵ سینیٹروں کے دستخطوں کے ساتھ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے پیش کیا اور سینیٹ نے متفقہ طور پر پاس کیا، وہ پاکستانی عوام کے دل کی آواز ہے۔
مسجد اقصیٰ سے لے کر دنیا کے ہراس ملک میں، جہاں مسلمان آباد ہیں، ہزاروں مقامات پرغائبانہ نمازِ جنازہ ادا کرکے اُمت نے اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کیا ہے۔ لیکن عوام اور حکمرانوں اور مفاد پرست اشرافیہ کے درمیان بالعموم جو فاصلہ اور دُوری ہے، و ہ بہت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اسی طرح امریکا اور مغربی دنیا کے حکمرانوں، اور بااثر طبقات پر موت کا سکوت طاری رہا ہے، وہ چشم کشا ہے۔ حکمران ، دانش ور، صحافی اور انسانی حقوق کے علَم بردار جو ہر چھوٹے بڑے حادثے یا معاملے پر زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں، ان کی خاموشی یا پشت پناہی نے ان کے دوغلے پن اور منافقت کا پردہ بھی بُری طرح چاک کردیا ہے۔بلاشبہہ مغربی دُنیا میں چند اداروں اور کچھ اصحابِ ضمیر نے غاصب مصری حکومت کے اس اقدامِ قتل کی مذمت بھی کی ہے، یا کم از کم افسوس کے اظہار کے ساتھ معاملے کی تحقیق کا برملا مطالبہ کیا ہے۔ ہم ان افراد اور اداروں کے لیے تحسین کے جذبات رکھتے ہیں، لیکن افسوس کہ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔
امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، کینیڈا کے وہ حکمران اور سیاسی اور انسانی حقوق کے ان نام نہاد علَم برداروں کو (جو ہرگستاخِ رسولؐ کی حمایت میں زمین و آسمان ایک کردیتے ہیں) صدرمرسی کے اس ظالمانہ قتل پر سانپ سونگھ گیا ہے۔ مغربی حکمرانوں اور لبرل ازم اور جمہوریت کے دعوے داروں کے دوغلے پن اور نفاق کا یہی مکروہ رویہ ہے جس کی وجہ سے عالمِ اسلام اور تیسری دنیا کے لوگ ان کے دعوئوں پر یقین نہیں کرتے۔ جمہوریت اور حقوقِ انسانی کے بارے میں ان کی نعرے بازی (sloganeering)کو بجاطور پر محض اقتدار اور مفاد کے کھیل کا حصہ سمجھتے ہیں۔
ہم اس مضمون کو رابرٹ فسک کے ایک اقتباس پر ختم کرتے ہیں، جو روزنامہ انڈی پنڈنٹ اور کاؤنٹر پنچ میں شائع ہوا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ ’ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں‘:
اے دیوتائو، محمد مرسی کی پنجرے میں ظالمانہ موت پر ہمارا ردعمل کیا ہی عمدہ تھا! شاید افسوس، پچھتاوے اور غم، نفرت، جبر اور خوف کے تمام الفاظ کو دُہرانا ایک تھکا دینے والا عمل ہو، جو مصر کے واحد منتخب صدر کی اس ہفتے قاہرہ کے کمرئہ عدالت میں موت کی کانوں کے پردے پھاڑ دینے والی مذمت کرتے ہوئے لوگوں کے کانوں میں انڈیلے گئے۔ ڈائوننگ سٹریٹ اور وائٹ ہائوس سے لے کر، جرمن چانسلری اور ایلسی پیلس تک اور کہیں ہم برلے مونٹ کو بھول نہ جائیں۔ ہمارے مدبروں اور ہماری خواتین نے ہماری خوب خاطرداری کی۔ مرسی کی موت پر ان کی پشیمانی اور احتجاجوں پر غور کرنا تو حقیقت میں ہمیں تھکا دے گا۔
کیونکہ یہ مطلقاً موجود ہی نہیں تھا۔ خاک اور دھول، کچھ بھی نہیں۔ نہ خاموشی اور نہ کوئی بڑبڑاہٹ، نہ کسی پرندے کی چہچہاہٹ، نہ کسی پاگل صدر کا کوئی ٹویٹر پیغام، یہاں تک کہ بالکل رسمی اور سرسری سے اظہارِ افسوس کا کوئی لفظ تک بھی نہیں۔ وہ جو ہماری نمایندگی کا دعویٰ کرتے ہیں،خاموش تھے، گنگ تھے۔ ان کی صدا اسی طرح روک دی گئی تھی جس طرح مرسی (کی صدا) کمرئہ عدالت میں اپنے سائونڈ پروف پنجرے میں۔ اور یہ نمایندے اسی طرح خاموش ہیں جس طرح مرسی اب اپنی قاہرہ کی قبر میں ہے۔
لیکن وہ کوئی بُرا آدمی اور کوئی دہشت گرد نہیں تھا۔ اس نے اپنے جانشین [جنرل سیسی] کی طرح ۶۰ہزار سیاسی قیدیوں کو بند نہیں کیا ہوا تھا۔ وہ جانشین کہ جسے وائٹ ہائوس میں موجود عظیم شخص کی طرف سے عظیم شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔
یہ بات نوٹ کرنا مفید و سبق آموز رہے گا کہ اس انقلابِ مرسی کے ساتھ کتنا مختلف سلوک کیا گیا ہے۔ اسے قیدتنہائی میں ڈال دیا گیا، وہ اپنے خاندان سے بھی بات نہیں کرسکتا تھا، اس کو طبی امداد سے بھی محروم کر دیا گیا۔ اب اس گھنائونے سلوک کا ذرا اس سہولت و آسایش سے مقابلہ کرکے دیکھیں، جو اس [صدر مرسی] کے پیش رو [آمرمطلق] حسنی مبارک کو اپنی معزولی کے بعد حاصل رہی۔ مسلسل ہسپتال میں علاج معالجہ، خاندان کے لوگوں کی ملاقاتیں، عوامی ہمدردی کا اظہار، حتیٰ کہ اخبارات کو انٹرویو بھی۔
مرسی کے آخری الفاظ، جو اس نے اپنے دفاع میں کہے کہ:’مَیں مصر کا اب بھی صدر ہوں‘ ان کو مشینی انداز میں سائونڈ پروف پنجرے میں دبا دیا گیا۔ ہماری بے حوصلہ ذلت آمیز خاموشی نہ صرف مغرب میں عوامی عہدے داروں اور انتظامیہ کی شرمناک فطرت کا ثبوت ہے بلکہ یہ مشرق وسطیٰ کے ہر[ظالم]رہنما کی قطعی اور حتمی حوصلہ افزائی [کا اجازت نامہ ]بھی ہے، کہ اس کے بُرے افعال کی اسے کبھی سزا نہیں ملے گی۔ کوئی اس بارے میں سوچے گا بھی نہیں، انصاف کبھی نکھر کر سامنے نہیں لایا جائے گا اور تاریخ کی کتابوں کو کبھی پڑھا نہیں جائے گا۔
ان حالات میں اُمت مسلمہ کے لیے ایک ہی راستہ ہے___ خود اپنے پائوں پر کھڑے ہونا اور اپنے ایمان، اپنی آزادی، اپنی عزت، اپنے دین، اپنی تہذیب و ثقافت، اپنے معاشی مفادات، اپنی خودمختاری اور خودانحصاری کا تحفظ اور ترقی۔ صدر محمدمرسی کی شہادت ہمیں اگر غفلت سے بیدار کرنے کا ذریعہ بنے اور ہمیں اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے سرگرم ہونے کے لیے مہمیز کا کام کرے، تو ان کی زندگی بھی قابلِ رشک تھی اور ان کی موت بھی قابلِ رشک ہے۔ بلاشبہہ وہ کامیاب ہیں اور دل گواہی دیتا ہے کہ ان کا شمار ان لوگوں میں سے ہوگا جن کے بارے میں خود زمین و آسمان کے خالق اور پروردگار نے بشارت دی ہے کہ:
مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَيْہِ۰ۚ فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَہٗ وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ۰ۡۖ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا۲۳ۙ (الاحزاب ۳۳:۲۳) ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں، جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہدکو سچا کر دکھایا ہے، ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
یہی اللہ کے وہ نیک اور کامیاب بندے ہیں جو حق کے علَم بردار بن کر زندگی گزارتے ہیں جو ظلم کے ہر وار کو مردانہ وار سہتے ہیں اور زندگی کے آخری لمحے تک حق و انصاف، عدل و احسان، اطاعت ِ رب اور خیروفلاح کی سربلندی کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ جو نفسِ مطمئنہ کی چلتی پھرتی تصویر ہوتے ہیں، اور جنت جن کا انتظار کر رہی ہے!
بیسویں صدی کی عالم گیر تحریک ِ احیاے اسلامی کے اصل معمار اللہ کے تین برگزیدہ بندے ہیں: ۱- علّامہ اقبال [م:۱۹۳۸ء] ۲- حسن البنا شہید [م:۱۹۴۹ء] ۳- سیّدابوالاعلیٰ مودودی [م: ۱۹۷۹ء]۔
اس دور کے فکری،تہذیبی اور سیاسی رجحانات کے فہم کی اصل کلید، ان شخصیات کے افکارو خیالات اور اُن کے نظریاتی، اخلاقی،سماجی اور سیاسی اثرات کا معروضی مطالعہ اور تفہیم ہے۔ آج کا تجزیہ نگار اور کل کا مؤرخ ان تاریخ ساز شخصیات اور اُن کی برپا کردہ تحریکات کے آئینے میں اُمت اسلامیہ کی اصل تصویر دیکھ سکتا ہے۔
تاہم، یہاں پر اسلامی مقدمۃ الجیش علّامہ اقبال کے فکری اور تہذیبی کارنامے کے بارے میں کچھ معروضات پیش ہیں:
اقبال کی علمی اور ادبی زندگی کا آغاز اُنیسویں صدی کے آخری عشرے میں ہوگیا تھا لیکن قومی زندگی پر ان کے اثرات یورپ سے واپسی کے بعد مرتب ہونے شروع ہوئے۔ اسرارِ خودی کی اشاعت اور انجمن حمایت اسلام کے جلسوں میں ان کی رُوح پرور شرکت نے نہ صرف فکرِ اقبال کے نئے دور کا آغاز کیا ، بلکہ اسی سے ان کی ملّی زندگی کے ایک نئے باب کا افتتاح بھی ہوا۔ اقبال نے اپنا پیغام، نظم و نثر اور زبان و قلم کے ذریعے پیش کیا اور بالآخر عملی سیاست میں شرکت کرکے تغیر اور تعمیر کے عمل میں مؤثر کردار ادا کیا۔ ان کی مساعی کا ثمرہ اسلامی فکر کی تشکیلِ نو، ملّت کی مزاجی کیفیت کی تعمیرِ جدید، ایک غلام قوم کی آزادی اور ایک عظیم اسلامی مملکت کے قیام کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے۔
ساتویں صدی ہجری میں جو کام مولانا جلال الدین رومیؒ (۱۲۰۷ء-۱۲۷۳ء) نے مثنوی کے ذریعے انجام دیا تھا، اسے دورِحاضر میں اقبال نے اوّلاً اسرارِ خودیاور رموزِ بے خودی اور پھر جاوید نامہ اور پس چہ باید کرد اے اقوام شرق کے ذریعے انجام دیا۔
اسرارِ خودی میں جمود اور انحطاط کے بنیادی اسباب کی نشان دہی کی گئی ہے۔ یونانی اور عجمی اثرات کی وجہ سے تصوف پرجو حیات کش تصور مسلمان ذہنوں پر مسلط ہوگیا تھا، اس کی تباہ کاریوں کو بیان کیا گیا ہے اور نفی ذات اور ترکِ دُنیا کی جگہ اثباتِ خودی اور تعمیرحیات کا اسلامی تصور پیش کیا گیا ہے۔
اسرارِ خودی کا مرکز تصور ایمان کی یافت اور اس کی قوت سے ایک نئے انسان: مردِمومن کی تشکیل ہے۔
رموز بـے خودی میں اس اجتماعی، اداراتی اور تاریخی پس منظر کو بیان کیا گیا ہے،جس میں یہ انسان اپنا تعمیری کردار ادا کرتا ہے۔ فرد اور ملّت کا تعلق، اجتماعی نصب العین، خلافت ِالٰہی کی تشریح و توضیح، اجتماعی نظم اور ادارات (خاندان، قانون و شریعت وغیرہ) کی نوعیت اور خودی کی پرورش اور ملّی شخصیت کے نمو میں تاریخ کے حصے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
جاوید نامہ درحقیقت شاعر کے روحانی سفر کی داستان ہے، جس میں وہ عالمِ افلاک کی سیر کرتا ہے۔ دُنیا اور اس کے ماورا پر بصیرت کی نظر ڈالتا ہے اور مشرق و مغرب کی نمایندہ شخصیات کی زبان سے آج کی دنیا کے حالات، مسائل اور افکار اور مسلمانوں کے ماضی، حال اور مستقبل کے نقوش کو نمایاں کرتا ہے۔
پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرقمیں مغربی تہذیب کے چیلنج کا مطالعہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یورپ کی ترقی کا اصل سبب کیا ہے اور مغربی تہذیب کے روشن اور تاریک پہلو کیا ہیں۔ مغرب کی اندھی تقلید کے خطرے سے قوم کو متنبہ کیا گیا ہے اور ترقی کی راہ کی نشان دہی کی گئی ہے۔
پیامِ مشرق اور ارمغانِ حجاز میں یہی پیغام دوسرے انداز میں بیان کیا گیا ہے اور اس کا اظہار اُردو کلام میں بھی ہوا ہے۔ خصوصیت سے بانگِ درا کی قومی نظموں میں بالِ جبریل کے ولولہ انگیز تغزل میں اور ضربِ کلیم کے بے باک رجز میں، جسے اقبال نے خود ’دورِحاضر کے خلاف اعلانِ جنگ‘ قرار دیا ہے۔
اقبال کی نثر کا غالب حصہ انگریزی میں ہے۔ ڈاکٹریٹ کے تحقیقی مقالے میں اُنھوں نے ایران کی مابعد الطبیعی فکر کا مطالعہ کیا ہے۔ یہ محض ایک فکری تاریخ نہیں ہے بلکہ اس کے آئینے میں اسلام پر عجمی اثرات کی پوری تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ اقبال نے تصوف کا جو تنقیدی جائزہ لیا ہے، وہ اصل مآخذ کے وسیع مطالعے پر مبنی ہے۔
اسلام کے تصورِ مذہب کی علمی اور فلسفیانہ تعبیر اسلامی الٰہیات کی تشکیل جدید میں پیش کی گئی ہے۔ اس کتاب میں بنیادی طور پر مغرب کے فکری رجحانات کو سامنے رکھ کر انسان، کائنات اور خدا کے بارے میں اسلامی تصور کی وضاحت کی گئی ہے۔ مذہب اور سائنس کے تعلق سے بحث کی گئی ہے اور ذرائع علم کا تنقیدی جائزہ لے کر بتایا گیا ہے کہ دورِ جدید کے یک رُخے پن کے مقابلے میں اسلام میں کس طرح عقل، تجربے اور وجدان کی ہم آہنگی قائم کی گئی ہے۔ اس بنیادی فکر کی روشنی میں آزادی اور عبادت کے تصور کو واضح کیا گیا ہے اور اُن تصورات کی بنیاد پر قائم ہونے والے تمدن کی خصوصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے، نیز اسلامی قانون کی مثال کو لے کر یہ دکھایا گیا ہے کہ اسلامی تمدن میں ثبات اور تغیر کا حسین امتزاج کس طرح قائم ہوتا ہے اور اس کے اندر ہی سے زندگی اور حرکت کے چشمے کس طرح پھوٹتے ہیں۔
وقت کے علمی، تہذیبی، سیاسی اور معاشی مسائل کے بارے میں اقبال نے اپنے خیالات کا اظہار متعدد مضامین، تقاریر، بیانات، نجی گفتگوئوں اور خطوط کے ذریعے بھی کیا ہے جن کا بیش تر حصہ اب کتابی شکل میں شائع ہوچکا ہے۔
اگرچہ اقبال کی مخاطب پوری ملت اسلامیہ بلکہ پوری انسانیت ہے، لیکن خصوصیت سے اس نے مسلم اُمت کے ذہین اور بااثر تعلیم یافتہ طبقے کو خطاب کیا ہے۔ یہ مؤثر اور کارفرما طبقہ دو ذہنی اور لسانی روایات سے وابستہ تھا۔ اقبال نے اپنے افکار کے اظہار کے لیے بنیادی طور پر شعر کو ذریعہ بنایا اور غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک شکست خوردہ قوم کو حرکت اور جدوجہد پر اُبھارنے کے لیے عقلی اپیل کے ساتھ ساتھ جذباتی اپیل کی ضرورت تھی۔ وقت کی ضرورت محض عقل کو مطمئن کرنا نہ تھا بلکہ یہ بھی تھا کہ جذبات میں تموج برپا کرکے اس جمود کو توڑا جائے جس میں ملّت گرفتار تھی۔
ایک مدت سے برعظیم کی ملّت ِ اسلامیہ، انتشار ذات (split personality) کے مرض میں مبتلا تھی، یعنی عقیدے اور عمل میں یکسانیت اور مطابقت باقی نہ رہی تھی۔ عقیدہ موجود تھا مگر اس میں وہ حرارت نہ تھی جو جذبے کی خنکی کو دُور کرسکے اور بے عملی اور مایوسی کی برف کو پگھلا دے۔ عقیدے کا چراغ اگر ٹمٹما بھی رہا تھا تو عشق کی روشنی باقی نہیں تھی۔ اس کیفیت نے ’روحانی فالج‘ کی سی صورت اختیار کرلی تھی، جس سے حقیقی معنوں میں دین داری کی حس مجروح ہو رہی تھی۔ اس کیفیت میں تبدیلی اور انقلاب کے لیے صرف عقل کی روشنی کافی نہیں ہوسکتی تھی، اس کے لیے جذبے کی آگ بھی درکار تھی۔ اقبال نے جذباتی کیفیت میں انقلاب برپا کرنے کے لیے شعر کا جادو جگایا (مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم نے اپنے ابتدائی زمانے میں اس کو انجام دینے کے لیے خطابت کا طوفانی طریقہ اختیار کیا تھا۔ ان کے اسلوب کو اس کام سے خاص مناسبت حاصل ہے جو تاریخ ان سے لے رہی تھی، مگر افسوس کہ وہ تسلسل قائم نہ رکھ سکے)۔
علّامہ محمد اقبال کے کارنامے کا مختصر الفاظ میں احاطہ ناممکن ہے، مگر ہم اس کے چند اہم پہلوئوں کی طرف اشارہ کرنے کی جسارت کر رہے ہیں:
قدیم و جدید کی کش مکش میں راہِ اعتدال: قدیم و جدید کی کش مکش کو اقبال ’دلیل کم نظری‘ سمجھتے ہیں۔ اُنھوں نے دونوں سے پورا پورا استفادہ کیا، مگر کسی ایک کے سامنے سپر نہ ڈالی۔ ان کی نگاہ میں زندگی ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ہے، جس میں ثبات و تغیر دونوں کا اپنا اپنا مقام ہے۔ اقبال کا اصل کارنامہ ہی یہ ہے کہ اس نے راہِ اعتدال کو نمایاں کیا۔ اس نے بتایا کہ صحت مند ارتقا اسی وقت ممکن ہے، جب تمدن کی جڑیں ماضی کی روایت میں مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ وہ حال کے مسائل اور مستقبل کے رجحانات سے بھی پوری طرح مربوط ہوں۔ اقبال کی نگاہ میں کورانہ تقلید، خواہ وہ ماضی کی ہو یا اپنے ہی زمانے کے چلتے ہوئے نظاموں کی، فرد اور قوم دونوں کے لیے تباہ کن ہے۔ صرف تعمیری اور تخلیقی تشکیل ہی کے ذریعے ترقی کی منزلیں طے کی جاسکتی ہیں اور یہی وہ راستہ ہے جو اقبال نے اختیار کیا۔
ماضی اور حال پر تنقیدی نگاہ: اقبال نے مسلمانوں کے ماضی اور حال دونوں پر تنقید ی نگاہ ڈالی۔ ان کے خیال میں مسلمانوں کے زوال کا بنیادی سبب یہ تھا کہ اُنھوں نے غیراسلامی اثرات کے تحت ایک ایسے تصورِحیات کو شعوری طور پر اختیار کرلیا، جو اسلام کی ضد تھا۔ اس سے ان کی صلاحیتیں پراگندہ ہوگئیں اور وہ تاریخ کی اہم ترین تعمیری قوت ہوتے ہوئے بھی تمدنی زوال، سیاسی غلامی اور فکری انتشار کا شکار ہوگئے۔ اس سلسلے میں یونانی اور عجمی مآخذ سے حاصل کیا ہوا تصوف سب سے اہم حیات کش قوت تھی، جس نے زندگی کا غیرحرکی اور جمود زدہ تصور مسلمانوں میں رائج کردیا۔ نفی ذات کے فلسفے نے یہاں بھی گھر کرلیا اور ترکِ دنیا، ترکِ آرزو عمل اور ترکِ عمل کی بنیاد پر جمود اور انحطاط کے مہیب سایے مسلط ہوگئے اور بالآخر ’آگ اس گھر کو لگی ایسی کہ جو تھا ، جل گیا‘۔
اسلام کا حرکی اور انقلابی پہلو: بگاڑ کے اسباب کی تشخیص کے بعد، اقبال نے اسلام کے تصورِ حیات اور اس کی بنیادی اقدار کو ان کی اصل شکل میں پیش کیا۔ اسلام کی جو تشریح و توضیح اقبال نے کی ہے، اس کی امتیازی خصوصیت اس کا حرکی اور انقلابی پہلو ہے۔ کائنات کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں عملِ تخلیق و ارتقا جاری ہے۔ کائنات محض ایک تخلیقی حادثہ نہیں ہے بلکہ اس میں کُنْ فَیَکُوْنَ کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور ’جاوداں، پیہم رواں، ہر دم جواں ہے زندگی‘ اور پھر کائنات کی ’تخلیق اور اَمر‘ کی نوعیت پر غور کرکے ہی اسے سمجھا جاسکتا ہے۔ اگر خلق میں پیدایش اور وجود کی طرف اشارہ ہے، تو اَمر میں سمت اور منزل کی تعیین ہے۔ ہرچیز ایک مقصد کے لیے سرگرمِ عمل ہے اور وجود کا اساسی پہلو یہی احساسِ سمت، مقصدیت، حرکیت اور مطلوب کی طرف بڑھنے کا شوقِ آرزو ہے۔ کائنات ، انسان اور تاریخ، ہر ایک میں یہی حرکی اُصول کارفرما ہے۔ جسم اگر خلقت کا مظہر ہے تو روح اَمر کی آئینہ دار ہے۔ خودی اور اس کی تعمیر، اس حرکی اصول کا تقاضا ہے۔ ترقی اور بلندی کی راہ نفیِ ذات نہیں، اثباتِ خودی ہے، جو خود ایک ارتقائی اور حرکی عمل ہے۔ روح کی معراج ذاتِ باری تعالیٰ میں فنا ہو جانا نہیں، بلکہ ربِّ حقیقی سے مطلوب تعلق استوار کرنا ہے۔ ایمان، اس کا نقطۂ آغاز ہے اور عشق اس کی ترقی کا راستہ۔ یہی اُصولِ حرکت تاریخ میں بھی کارفرما ہے۔ تاریخی احیا محض ماضی کے صحت مند رجحانات کے بقا و استحکام کا نام نہیں بلکہ اَبدی اقدار اور تمدنی نصب العین کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کے میدانوں میں تخلیقی اظہار سے عبارت ہے۔ انسان اس ارتقائی عمل کا اصل کارندہ ہے۔ کائنات کی ہرشے اس اشرف المخلوقات کی مدد کے لیے فراہم کی گئی ہے۔ لیکن یہ انسانی زندگی فی الحقیقت کچھ اعلیٰ تر مقاصد کے حصول کے لیے ہے اور یہ مقصد ہے منصب ِنیابت ِ الٰہی۔ اسلام وہ طریقہ ہے جو انسان کو اس کام کے لائق بناتا ہے اور تاریخ اس حرکت کو صحیح سمت دیتی ہے۔ مردِ مومن اور ملت ِاسلامیہ کائنات کی اصلی معمار قوتیں ہیں۔ اگر وہ اپنا وظیفہ انجام نہ دیں تو بگاڑ رُونما ہوگا، خود ان کے درمیان بھی اور کائنات میں بھی۔
روحانی اور مادی تقسیم کی نفی:اقبال نے مذہب کی بنیاد عقل یا سائنس پر نہیں رکھی۔ اس نے عقل، تجربے، سائنس اور وجدان، ہر ایک کی اصل حقیقت کو واضح کیا اور اُن کی مجبوریوں اور دقتوں پر بھی روشنی ڈالی۔ اس نے بتایا کہ جبلت، عقل اور وجدان کے تناقض کو وحی کی روشنی اور تربیت کے ذریعے دُور کیا جاسکتا ہے اور تینوں کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرکے انسان کی خدمت اور رہنمائی کے صحیح مقام پر فائز کیا جاسکتا ہے۔یہ نومعتزلائی عقلیت اور مغرب کی بے جان سائنس کے مقابلے میں عقلِ سلیم کی فتح تھی۔ اس طرح نبی کا تجربہ اور مشاہدہ مذہبی فکر میں ایک اساسی حیثیت قرار پایا۔ روحانی اور مادی تقسیم کا باطل نظریہ ترک ہوا اور دونوں کے امتزاج سے متوازن اسلامی زندگی کی تعمیر کی راہ روشن ہوئی۔
مذہب کا انقلابی تصور:ایمان اور عمل کا باہمی تعلق واضح کرنے میں، اقبال نے غیرمعمولی ندرت کا ثبوت دیا۔ زندگی کا حرکی تصور آپ سے آپ عمل کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔ پھر مذہبی تجربے کی اساسی اہمیت بھی اسی سمت میں اشارہ کرتی ہے۔ اثباتِ خودی اور تعمیرِشخصیت ایک مسلسل عمل ہے، جس کے بغیر انسان مقامِ انسانیت کو حاصل نہیں کرسکتا۔ نیابت ِ الٰہی کے تقاضے صرف تسخیر کائنات اور اصلاح تمدن ہی کے ذریعے انجام دیے جاسکتے ہیں۔ خودی ایک بے لگام قوت کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ خدا پرستی اور اخلاقی تربیت سے ترقی پاتی ہے۔ عشق اس کی قوتِ محرکہ ہے اور مادّی قوت کو دین کی حفاظت اور پوری دُنیا میں نظامِ حق کے قیام کے لیے استعمال کرنا اس کی اصل منزل ہے۔ یہی خلافت ِ الٰہی ہے، یہی انسان کا مشن ہے۔ اقبال نے دینِ اسلام کا یہی انقلابی تصور اُجاگر کیا اور پوری ملّت میں حرکت پیدا کردی۔
دین اور سیاست کی دُوری کا خاتمہ: اس تصورِ حیات اور اس مشن کا لازمی تقاضا ہے کہ خود ریاست، سیاست، معیشت اور قانون اسلام کے تابع ہو۔ نہ صرف یہ کہ اسلام میں دین و دُنیا کی کوئی تقسیم نہیں، بلکہ دین اور ریاست ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔ اگر دین اور سیاست جدا ہوجائیں تو دین صرف رہبانیت بن جاتا ہے اور سیاست چنگیزیت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ مسلمانوں کی قومیت ان کے دین ہی سے تشکیل پاتی ہے اور اُن کی ریاست، معاشرت اور معیشت دین کے مقاصد ہی کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسلام اپنے اظہار کے لیے ریاست اور تمدن کا رُوپ دھار لے۔ مسلمانوں کو ایسے خطۂ زمین کی ضرورت ہے، جہاں وہ اغیارکے اثرات سے آزاد ہوکر اپنے تمدنی وجود کا مکمل اظہار کرسکیں اور پھر اس روشنی کو باقی دُنیا میں پھیلا سکیں۔ اسی عمل کو اقبال نے ’اسلام کی مرکزیت‘ کہا ہے اور اسی کے لیے ایک آزاد زمین کا مطالبہ کیا۔ آزاد اسلامی ریاست صرف مسلمانوں کی سیاسی ضرورت ہی نہیں بلکہ خود اسلام کا بنیادی تقاضا ہے۔
مغربی فکر پر تنقید اور احیاے اُمت: اقبال نے مغربیت اور اس کے بطن سے رُونما ہونے والی مختلف تحریکوں، خصوصیت سے لادینیت، مادیت، قومیت ، سرمایہ داریت اور اشتراکیت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے لیے اسلام میں کوئی گنجایش نہیں۔ نیز یہ کہ دراصل یہی تحریکیں انسان کے دُکھوں اور پریشانیوں کا سبب ہیں۔ مسلمانوں کی نجات ان کی پیروی میں نہیں بلکہ اپنی خودی کی بازیافت اور اپنے دین کے احیا میں ہے۔ اگر اُنھوں نے مغرب کی تقلید کی روش کو اختیار کیا، تو یہ ان کی خودی کے لیے زہرِ قاتل ہوگا۔ زندگی اور ترقی کا راستہ نہ ماضی کی اندھی تقلید ہے اور نہ وقت کے تقاضوں کی کورانہ پیروی، یہ راستہ اسلامی تعمیرنو کا راستہ ہے جواثباتِ خودی، احیاے ایمان، تعمیرِاخلاق، اجتماعی اصلاح اور سیاسی انقلاب کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے۔ اس کے ذریعے سیاسی غلامی سے بھی نجات ہوسکے گی، اور اس سے زیادہ خطرناک ذہنی، تمدنی اور تہذیبی غلامی سے بھی۔ پھر وہ جو زمانے کے پیرو بننے پر قناعت کر رہے ہیں، زمانے کی امامت کا فریضہ انجام دے سکیں گے اور یہی ملت اسلامیہ کے کرنے کا اصل کام ہے۔
اقبال نے ایک طرف دینی فکر کی تشکیلِ نو کی اور اسلامی قومیت کے تصور کو نکھارا تو دوسری طرف ملّی غیرت اور جذبۂ عمل کو بیدار کیا۔ مغربی افکار کے طلسم کو توڑا اور قوم کو تمدنی اور سیاسی اعتبار سے اسلام کی راہ پر گامزن کرنے میں رہنمائی دی۔ یہی ہے اقبال کا اصل کارنامہ، اور اسی بناپر وہ بیسویں صدی کے اسلامی تشخص کا امام اور اس میں تجدید کی روایت کا بانی ہے۔
ان معروضات کی روشنی میں اس حقیقت کو سمجھا جاسکتا ہے کہ اقبال محض ایک فرد کا نام نہیں، وہ ایک دور کی شناخت اور خصوصیت سے مسلمانانِ برعظیم کے جدید دور میں تحریک احیاے اسلامی کا ایک نمایاں معمار ہے۔ اس نے برعظیم کی اُمت ِ مسلمہ کو خوابِ غفلت سے بیدار کرکے میدانِ حیات میں اپنا تہذیبی اور سیاسی مقام حاصل کرنے کی جدوجہد کی طرف پکارا۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال بیسویں صدی میں اسلام کے نشاتِ ثانیہ کی انقلابی تحریک کا عنوان ہے اور میرے جیسے ہزاروں متلاشیانِ حق کے افکار و جذبات کی تہذیب میں اس کا بڑا ہاتھ ہے۔ ہم نے شعور کی آنکھ اقبال کے کلام کی روشنی میں کھولی اور ہمارے فکر اور جذبات کی صورت گری اس کی ضوفشانیوں کی رہینِ منت ہے۔ بلاشبہہ وہ ایک عظیم شاعر تھا مگر جس چیز نے شعرِاقبال کو ذہنی، فکری، احساساتی اور شعورِ زندگی کی تشکیلِ نو کی جدوجہد میں نئی رُوح پھونکنے کا ذریعہ بنایا، وہ اس کا پیغام ہے جس سے کلامِ اقبال کا ایک ایک حرف روشن اور تابندہ ہے ؎
شعر را مقصود اگر آدم گری است
شاعری ہم وارثِ پیغمبری است
[اگر شعر کا مقصد شخصیت کی تعمیر ہے تو شاعری پیغمبری کی وارث ہے]
۵جنوری ۲۰۱۹ء میں یہاں لسٹر [برطانیہ]میں نمازِ فجر کی تیاری کے لیے اُٹھا ہی تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی اور برادر عزیز سلیم منصور خالد نے یہ دل خراش اطلاع دی کہ ’’محترم چودھری رحمت الٰہی صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ‘‘۔بے ساختہ میری زبان سے نکلا: An Era is over۔ ہماری تحریکی تاریخ کا ایک اہم باب اپنے اختتام کو پہنچا۔
چودھری رحمت الٰہی صاحب ان خوش نصیب ساتھیوں میں سے تھے، جنھیں قیامِ پاکستان سے پہلے تحریک ِ اسلامی کی رکنیت اختیار کرنے اور دارالاسلام میں ہجرت کرکے منتقل ہونے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ بلاشبہہ مولانا مودودیؒ کو اللہ تعالیٰ نے اس دور میں دینِ حق کی دعوت اس کی اصل شکل میں پیش کرنے اور عملاً اس دعوت کی بنیاد پر اصلاح اور اجتماعی انقلاب کی تحریک برپاکرنے کی سعادت سے نوازا، اور انھوں نے اپنی زندگی کے شب و روز اس خدمت کے لیے وقف کر دیے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جن سعید روحوں نے مولانا محترم کی دعوت پر لبیک کہا اور قیامِ جماعت اور اس کے بعد کے برسوں تحریک کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا، ان میں سے ہرشخص زمین کے نمک اور پہاڑی کے چراغ کی حیثیت رکھتا ہے۔
مجھے اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی کی سعادت ۱۹۵۰ء میں اور جماعت اسلامی کی رکنیت کے حلف پڑھنے کا اعزاز ۱۹۵۶ء میں حاصل ہوا۔ مَیں اس حیثیت سے بڑا خوش نصیب ہوں کہ مجھے جماعت کے سابقون الاولون میں سے ایک معقول تعداد کی رفاقت نصیب ہوئی، اور ان سے مَیں نے بہت کچھ سیکھا۔ پھر ان میں سے کچھ کے ساتھ، خصوصیت سے محترم میاں طفیل محمدصاحب، مولانا مسعودعالم ندوی صاحب، مولاناعبدالغفار حسن صاحب، ملک نصراللہ خاں عزیز صاحب، پروفیسر عبدالحمید صدیقی، سیّدعبدالعزیز شرقی صاحب، خان سردار علی خان صاحب، چودھری غلام محمدصاحب، حکیم اقبال حسین صاحب، چودھری علی احمدخاں صاحب، مولانا معین الدین خٹک صاحب، ملک غلام علی صاحب، نعیم صدیقی، سیّد اسعد گیلانی اور چودھری رحمت الٰہی صاحب کے ساتھ بہت قریب ہونے اور ان سے بے حدوحساب استفادے کا موقع ملا ہے۔ ان کا پیار اور سرپرستی میری زندگی کا قیمتی ترین سرمایہ ہے۔ ان کا وژن، ا ن کی مقصدیت اور اس باب میں یکسوئی، دین اور تحریک سے ان کی وفاداری، دیانت، امانت، معاملہ فہمی، صبروتحمل اور حکمت و تدبر کی تابناکی میرے لیے مشعل راہ رہی ہیں۔ اپنے اپنے انداز میں ہر ایک سے مَیں نے بہت کچھ سیکھا اور مجھے جو تھوڑی بہت خدمت انجام دینے کی سعادت حاصل ہوئی، اس میں ان حضراتِ گرامی قدر کی رہنمائی اور رفاقت کا بڑا دخل ہے۔ مولانا مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی تو سرفہرست ہیں، لیکن اس میں ذرا بھی مبالغہ نہیں کہ ان میں سے ہربزرگ اور ساتھی کے مجھ پر بے پناہ احسان ہیں۔
یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں، جنھوں نے مولانا محترم کے دستِ راست کی حیثیت سے اس تحریک کے قیام اور تشکیل و ترقی میں اہم کردار اداکیا ہے اور جو کچھ تحریک آج ہے، اللہ کے فضلِ خاص کے بعد، ان سب محسنوں کی محنت، خدمت اور کاوش کا حاصل ہے اور ان کے رخصت ہوجانے کے باوجود ان کی برکات سے یہ تحریک ہمیشہ فیض یاب ہوتی رہے گی۔ کسی نے مولاناابوالکلام آزاد مرحوم سے تاج محل کی مضبوطی اور حُسن کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے برملا کہا کہ: ’’اس کا حُسن اور اس کی مضبوطی ہردو کا انحصار اُن پتھروں پر ہے جو نظر نہیں آرہے، لیکن جو اس کی بنیاد میں ہیں اور اسے تھامے ہوئے ہیں۔ مولانا محترم اور ان کے ان ساتھیوں کا معاملہ بھی تحریک کی بنیاد ہی کا سا ہے اور ان شاء اللہ ان مضبوط بنیادوں پر یہ تحریک ہمیشہ قائم رہے گی، بشرطیکہ ہم اور ہمارے بعد آنے والے اللہ سے وفاداری، مقصد کے باب میں یکسوئی، اور دعوت اور تنظیم کے اُصولوں پر قائم رہیں اور دیانت اور حکمت سے اپنا فریضہ انجام دیتے رہیں:
ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۰ۭ وَكَفٰى بِاللہِ شَہِيْدًا۲۸ۭ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ۰ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَہُمْ تَرٰىہُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًا۰ۡسِيْمَاہُمْ فِيْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ۰ۭ ذٰلِكَ مَثَلُہُمْ فِي التَّوْرٰىۃِ۰ۚۖۛ وَمَثَلُہُمْ فِي الْاِنْجِيْلِ۰ۣۚۛ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْــــَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰي سُوْقِہٖ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِہِمُ الْكُفَّارَ۰ۭ وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا۲۹ (الفتح ۴۸:۲۸-۲۹) وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے، تاکہ اُس کو پوری جنسِ دین پر غالب کردے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔ محمدؐ، اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفّار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گےاُنھیں رکوع وسجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوش نودی کی طلب میں مشغول پائوگے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے اُن کی صفت تورات میں، اور انجیل میں اُن کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفّار اُن کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنھوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجرکا وعدہ فرمایا ہے۔
چودھری رحمت الٰہی صاحب تحریک کے ان سابقون الاولون میں سے آخری چراغ تھے۔ ان کی وفات پر بے ساختہ میرے دل سے ایک باب اور ایک عہد کے ختم ہونے کی فریاد نکلی، کہ:
داغ چراغ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اِک شمع رہ گئی تھی ، سو وہ بھی خموش ہے
یہ بھی اللہ کا فضل ہے کہ تحریک کی کتابِ زندگی اور میدانِ دعوت کھلے ہوئے ہیں اور ان شاء اللہ کھلے رہیں گے۔ایک باب ضرور مکمل ہوا ہے، لیکن وہ نئے ابواب کا پیش خیمہ اور ان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ چودھری رحمت الٰہی صاحب کی خدمات کو قبول فرمائے، ان کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے، ان کی قبر کو روشن اور ان کو جنت کے اعلیٰ مقامات سے سرفراز فرمائے اور جو صدقات جاریہ وہ چھوڑ گئے ہیں، انھیں جاری رکھے اور ان کے لیے بلند درجات کا ذریعہ بنائے، آمین!
چودھری رحمت الٰہی صاحب ضلع جہلم میں ۱۹۲۳ء میں پیدا ہوئے اور ۵جنوری ۲۰۱۹ء کو لاہور میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ گریجویشن تک تعلیم حاصل کر کے برٹش انڈین فوج میں ملازمت اختیار کی اور نان کمیشنڈ افسر کی حیثیت سے ۶،۷ سال فوجی خدمات انجام دیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جنوب مشرقی ایشیا خصوصیت سے ملایا (جو اَب ملایشیا ہے) میں وقت گزرا۔ نماز، روزے کی پابندی اس زمانے میں بھی کی اور اس کی پاداش میں کورٹ مارشل اور قید کی سزا بھی بھگتی۔ مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے غالباً ۴۶-۱۹۴۵ء میں شناسائی ہوئی۔ دسمبر ۱۹۴۶ء میں سیالکوٹ میں فوجی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مولانا کے جلسے میں شرکت کی اور شہادتِ حق پر مولانا کی شہرئہ آفاق تقریر سنی، اور اسی وقت یہ عزم کرلیا کہ اب زندگی انگریزکی فوج میں نہیں، اللہ کے سپاہی کی حیثیت سے گزارنی ہے۔ فوج نے بھی ڈسپلنری کارروائی کی اور اس طرح طوقِ غلامی سے نجات پاکر نوجوان سپاہی دارالاسلام میں مولانا مودودی کے ساتھ قافلۂ حق میں شریک ہوگیا۔
۱۹۴۷ء کے اوائل میں رکنیت اختیار کی اور اپنے کو جماعت کے حوالے کر دیا۔ تقسیمِ ہند کے موقعے پر دارالاسلام میں مہاجرین کی دیکھ بھال، پھر لاہور کی طرف ہجرت اور وہاں مہاجر کیمپوں میں جماعت کی طرف سے خدمت اور امداد کی سرگرمیوں میں مشغول رہے۔ کچھ عرصے بعد راولپنڈی منتقل ہوگئے اور یہاں مولانا مسعود عالم ندوی اور جناب عبدالجبار غازی کی شاگردی اختیار کی اور خصوصیت سے عربی اور دینی علوم کے حصول کو منزل بنایا۔ بدقسمتی سے یہ انتظام زیادہ عرصہ نہ چل سکا تو کراچی منتقل ہوگئے۔ یہاں ایک سرکاری دفتر میں ملازمت اختیار کرلی، لیکن پھر ۱۹۵۰ء کے صوبہ پنجاب و بہاول پورکے انتخابات کے موقعے پر تحریکی خدمات کے لیے پنجاب آگئے اور اس کی پاداش میں ملازمت سے فارغ کر دیے گئے۔ ویسے بھی اس زمانے میں سرکاری دفاتر سے جماعت سے متعلق افراد کی چھانٹی ہورہی تھی۔
اس کے بعد کراچی میں حکیم اقبال حسین صاحب، شیخ سلطان احمد صاحب اور صادق حسین صاحب کے دواساز ادارے سے وابستہ ہوگئے۔پھر محترم چودھری غلام محمدصاحب کے ساتھ مل کر ٹنڈوالٰہ یار میں زراعت کے شعبے سے وابستگی اختیار کرلی۔ جہاں تک مجھے علم ہے زراعت سے ان کا تعلق کسی نہ کسی شکل میں باقی رہا، لیکن عملاً ۱۹۵۳ء سے ان کا زیادہ وقت جماعت کے مرکزی نظام میں گزرا۔ تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں جو ابتلا جماعت پر پڑی اور مولانا مودودی کو سزاے موت اور مرکزی قیادت کی گرفتاری سے آزمایش کا جو دور آیا اس میں شیخ سلطان احمد صاحب کی امارت جماعت اسلامی پاکستان میں چودھری رحمت الٰہی صاحب نے بحیثیت قیم گراں قدر خدمات انجام دیں۔
یہی وہ زمانہ ہے جب مجھے پہلی مرتبہ ان سے ملنے اور اس کے بعد مسلسل ان سے ربط میں رہنے کا موقع ملا۔ مَیں اس زمانے میں پہلے صوبہ سندھ میں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم تھا اور پھر اگست ۱۹۵۳ء میں ناظم اعلیٰ منتخب ہوا تھا۔ چودھری رحمت الٰہی صاحب ایک سال تک قیم جماعت رہے اور اس کے بعد پھر کچھ عرصے کے لیےدواساز کمپنی ’آئی ساکو‘ اور پھر زراعت سے وابستہ رہے۔ ۱۱دسمبر ۱۹۶۳ء سے عملاً جماعت سے ہمہ وقتی طور پر وابستہ ہوگئے، جو سلسلہ ۲۰۰۹ء تک مختلف شکلوں میں جاری رہا۔
کراچی اور سندھ کے قیام کے دوران انھوں نے پرائیویٹ طالب علم کے طور پر ایم اے بھی کیا اور اچھے نمبروں سے کامیاب ہوئے۔ چودھری رحمت الٰہی صاحب اور سیّد اسعد گیلانی صاحب نے میری ذاتی لائبریری سے بھی بھرپور استفادہ کیا۔ یہ ایک بڑی چشم کشا اور قابلِ توجہ خوبی تھی کہ جماعت کے اوّلین ارکان میں سے ہر فرد کا مَیں نے کتاب سے بڑے قریبی رشتے کا مشاہدہ کیا۔ بلالحاظ اس کے کہ ان کے پاس ڈگری تھی یا نہیں، یا کس شعبۂ زندگی سے وہ متعلق ہیں۔ چودھری رحمت الٰہی صاحب فوج کے پس منظر سے آئے تھے، چودھری علی احمد خاں صاحب پولیس سروس سے آئے تھے، چودھری غلام محمد صاحب صرف میٹرک تھے اور ریلوے سروس سے آئے تھے، مگر ان میں ہر ایک سنجیدہ مطالعے کا شوقین تھا۔ صرف جماعت کا لٹریچر تو ان کا اوڑھنا بچھونا تھا ہی، وہ تفسیر، حدیث، فقہ، سیاست، تاریخ، بین الاقوامی اُمور، مذہب، اشتراکیت، ادب، مغربی تہذیب اور جدید مباحث پر بصد ذوق و شوق کتابوں کا مطالعہ کرتے۔ آج جہاں وطنِ عزیز میں بحیثیت مجموعی کتاب کا کردار کم ہو رہا ہے، وہیں خود تحریک میں بھی کتاب سے رشتہ کمزور ہوگیا ہے اور اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
چودھری رحمت الٰہی صاحب نے محترم سلطان احمد صاحب کی امارت میں ایک سال، اور پھر محترم مولانا مودودی صاحب کی امارت میں سات سال، ازاں بعد محترم میاں طفیل محمد کی امارت میں پانچ سال بحیثیت قیم جماعت خدمات انجام دیں۔ محترم قاضی حسین احمد صاحب کے دور میں ۱۹۷۹ء سے ۲۰۰۹ تک نائب امیر جماعت رہے۔ ۱۹۶۴ء میں جماعت پر پابندی کے دور میں وہ عملاً جماعت کے کرتا دھرتا تھے اور ساری قانونی اور سیاسی جنگ انھی کی قیادت میں لڑی گئی۔ اس کے علاوہ جماعت کے نصف درجن سے زیادہ اہم اداروں کے سربراہ یا کسی بھی مفوضہ ذمہ داری پر مامور رہے اور ہمیشہ اپنی ذمہ داری کو بہترین صلاحیت، دیانت، معاملہ فہمی ،حکمت اور خوش اسلوبی سے انجام دیا۔اس طرح جماعت کی تاریخ کے بڑے حصے پر(یعنی تقریباً ۶۳برس) ان کی گراں قدر خدمات کے نقوش دیکھے جاسکتے ہیں۔
چودھری رحمت الٰہی صاحب سے میرا ذاتی طور پر بڑا گہر ا تعلق رہا ہے، جو ۱۹۵۳ء سے ان کی آخری بیماری تک کے طویل عرصے پر پھیلا ہوا ہے۔ میرے لیے وہ ایک بڑے بھائی اور تحریکی قائد تھے، مگر انھوں نے ہمیشہ جس محبت اور عزت سے معاملہ کیا، وہ میرے لیے زندگی کا سرمایہ اور ان کے کردار کا روشن ستارہ ہے۔ انھوں نے کبھی مجھے اپنے سے کم عمر محسوس نہیں ہونے دیا اور یہ ان کی عظمت کا ثبوت ہے۔
تحریک کے جس وژن کو انھوں نے جوانی میں قبول کیا تھا، پورے اعتماد اور یکسوئی کے ساتھ وہ اس پر قائم رہے اور اجتہادی بصیرت کے ساتھ پیش آمدہ معاملات پر غوروفکر کرتے اور مسائل کا حل نکالتے رہے۔معاملہ فہمی، حالات کا تجزیہ، ٹھنڈے دل و دماغ سے معاملات پر غور کرنا اور سارے ممکنہ پہلوئوں کا ادراک کرکے راے قائم کرلینا اور جو راے سوچ بچار کے نتیجے میں قائم کرلیں اسے دلیل اور سلیقے سے،کسی رو رعایت کے بغیر پیش کرنا ان کا معمول تھا۔ دوسرے کی بات کو سننا اور اس پر غور کرنا، اتفاق یا اختلاف کو دلیل کے ساتھ معقول انداز میں اور بڑے توازن کے ساتھ بیان کرنا اور پھر جو بات سب کے اتفاق یا کثرت راے سے طے ہوجائے، اس پر دیانت داری اور انہماک سے عمل کرنا___ یہ ان کا طریقہ تھا۔ میں نے انھیں کبھی اُونچی آواز میں بات کرتے نہیں سنا۔ مَیں گواہی دیتا ہوں کہ کئی معاملات پر میری اور ان کی، یا ان کی اور امیرجماعت کی راے میں اختلاف ہوا، لیکن اختلاف کو جس سلیقے سے انھوں نے پیش کیا، وہ اتنا عمدہ تھا کہ اس کا نقش دل سے کبھی دُور نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح مجھے اس امر کا بھی اعتراف ہے کہ چند معاملات پر بعد میں ثابت ہوا اور خود مَیں نے اعتراف کیا کہ ان کی راے صحیح اور میری یا میرے دوسرے ساتھیوں کی راے درست نہیں تھی۔ اس سلسلے میں ۲۰۰۸ء کے انتخابات کا بائیکاٹ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر اگر چودھری رحمت الٰہی صاحب کی راے پر عمل ہوتا تو مجھے اعتراف ہے کہ وہ تحریک اور ملک کے لیے کہیں بہتر ہوتا۔
چودھری رحمت الٰہی صاحب اپنے مقصد ِ زندگی کے بارے میں نہایت یکسو تھے اور اسی وجہ سے اپنے وژن اور معاملات کی تفہیم کے باب میں بہت واضح ذہن رکھتے تھے۔ تحریک کے متعلق ان کی راست فکری بے حد نمایاں اورمتاثرکن تھی۔ ان کی دیانت اور امانت اور جماعت کے اثاثوں کے بارے میں حساسیت اپنی مثال آپ تھی۔ اجتماعی زندگی کے معاملات میں اعتدال اور میانہ روی ان کا طرئہ امتیاز تھا۔ سادگی، صفائی اور نظافت ان کے مزاج کے مظاہر تھے۔ معاملات میں مشاورت، دوسرے کی راے کو سننا، اس پر غور کرنا اور سلیقے سے ردعمل ظاہر کرنا ان کا شعار اور مشاورت کے نظام کو فروغ دینے میں ممدومعاون تھا۔وہ تحمل اور بُردباری کا ایک نہایت قابلِ قدر نمونہ تھے اور اصول اور ضابطے کی پاسداری میں اپنی مثال آپ تھے۔ اقبال کے الفاظ میں اگر مَیں ان کی شخصیت کا خلاصہ بیان کروں تو کہہ سکتا ہوں کہ:
نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز
ان کی شخصیت کے دو پہلو مزید ایسے ہیں، جن کا ذکر کیے بغیر بات نامکمل رہے گی۔ مَیں نے اُن میں Crisis Management (یعنی بحرانی صورتِ حال سے نمٹنے) کی غیرمعمولی صلاحیت کا بار بار مشاہدہ کیا۔ ایک انسان کا اور خصوصیت سے ایک قائد اور ذمہ دار شخص کا سب سے بڑا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اسے کسی بحران یا چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خواہ اندرونی ہو یا بیرونی۔ میں نے محترم چودھری رحمت الٰہی صاحب کو بحران کی دونوں صورتوں میں بڑا متحمل، متوازن، معاملہ فہم اور مشکلات اور غلط فہمیوں میں سے راستہ نکالنے والا پایا۔
اس ضمن میں میرا پہلا تجربہ اس وقت سے متعلق ہے جب مَیں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کا ناظم اعلیٰ منتخب ہوا اور ڈاکٹر اسراراحمد بھائی نے ایک زوردار تقریر کر کے جمعیت کو اندرونی طور پر بڑے تنظیمی بحران سے دوچار کر دیا تھا۔ چودھری رحمت الٰہی صاحب اس وقت قیم جماعت تھے، اگرچہ وہ بلاواسطہ اس کمیٹی میں نہیں تھے جس نے معاملات کا جائزہ لے کر اس بحران سے جمعیت کو محفوظ کیا۔ لیکن ذاتی طور پر میں پہلی مرتبہ ان سے اس موقعے پر ملا اور ان کی گفتگو اور دلائل سے دل پر بڑا گہرا نقش ثبت ہوا۔ اسرار بھائی کے خیال میں حالات کا تقاضا یہ تھا کہ: ’’جماعت اور جمعیت کو ایک نظم میں آنا چاہیے‘‘۔ لیکن چودھری رحمت الٰہی صاحب نے بڑے سلیقے اور ٹھنڈے انداز میں جداگانہ نظم کی حکمتوں پر روشنی ڈالی اور اس سے مجھے بہت تقویت محسوس ہوئی۔
پھر جب ۱۹۶۴ء میں جنرل ایوب خان کے دور میں جماعت اسلامی پر پابندی لگی تو اس موقعے پر پوری قانونی اور سیاسی لڑائی میں چودھری رحمت الٰہی صاحب کا کردار قائدانہ تھا۔ جماعت کے اندر نظم کو قائم رکھنا اور جماعت کے باہر کے عناصر سے ربط اور ان سے تعاون کا حصول، اے کے بروہی صاحب اور پوری قانونی ٹیم کو ضروری معلومات فراہم کرنا اور ان سے قانونی معاملات طے کرنا، پھر اسی پس منظر میں ملک کی دوسری سیاسی قوتوں کو جمع کر کے ’متحدہ حزبِ اختلاف‘ (Combined Opposition Parties - COP) کا قیام اور اس میں جماعت کا کردار، اور پھر محترمہ فاطمہ جناح کو صدر جنرل ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی اُمیدوار کے لیے لانا، اس کے لیے جماعت کے اندر اور باہر فضا ہموار کرنا، اس مقصد کے لیے مولانا مودودی اور جماعت کی زیرحراست قیادت سے ربط و مشورہ___ یہ پورا دور غیرمعمولی دبائو، کش مکش، اشتعال اور تنازعے کا دور تھا۔ تاہم، چودھری رحمت الٰہی صاحب نے جس سمجھ داری، تحمل، حکمت اور تحریکی وفاداری کے ساتھ یہ معرکہ سر کیا، اس نے دل میں ان کے مقام کو بلند اور محکم کر دیا۔
اسی طرح جب ۱۹۹۴ء میں کچھ خاص اندرونی حالات کی وجہ سے محترم قاضی حسین احمد صاحب سخت دل برداشتہ ہوکر جماعت کی امارت سے مستعفی ہوگئےتھے۔ ان چند مہینوں میں بھی قائم مقام امیر کی حیثیت سے محترم چودھری رحمت الٰہی صاحب نے تمام معاملات کو حکمت و دانائی اور دستورِ جماعت کے فریم ورک میں رہتے ہوئے سلجھایا اور محترم قاضی صاحب نے پھر انتخابِ امارت کے بعد ذمہ داری سنبھالی۔
بیرونِ ملک بھی ایک اسلامی تحریک کے اندرونی خلفشار کے عالم میں اس کے ارکان نے محترم چودھری رحمت الٰہی صاحب اور مجھے معاملات کو سلجھانے کی ذمہ داری سونپی اور میں نے دیکھا کہ اللہ کے فضل اور چودھری صاحب کی بالغ نظری کی وجہ سے ایک ہفتے ہی میں معاملات کو سنبھال لیا گیا۔ یہ ان کی غیرمعمولی صلاحیت اور خدمت تھی۔جزاھم اللہ خیر الجزاء۔
دوسرا تذکرہ ہے ان کے اس کردار کا، جو بحیثیت وزیربجلی اور توانائی انھوں نے انجام دیا۔ مجھے ان کے ساتھ پاکستان قومی اتحاد کی مرکز میں حکومت میں آٹھ ماہ گزارنے کا موقع ملا۔ ڈیڑھ مہینے تک میں ان کے اور پروفیسر عبدالغفور احمد صاحب اور برادرم محموداعظم فاروقی کے ساتھ واپڈا گیسٹ ہائوس میں رہا ہوں، جو انھی کی وزارت کے تحت تھا۔ وہ خود تقریباً پانچ مہینے وہاں رہے اور پروفیسر عبدالغفور صاحب اور محموداعظم فاروقی صاحب وزارت کے پورے زمانے میں وہیں مقیم رہے۔ وزارت اور کابینہ میں اور عوام اور انتظامیہ کے ساتھ نیز فوجی قیادت کے ساتھ، جس طرح وہ معاملہ کرتے تھے اور جس اعتماد اور خوب صورتی سے اپنی راے کا اظہار کرتے تھے، وہ نہایت متاثرکن تھا۔ حالاں کہ ہم سب کا حکومت میں یہ پہلا تجربہ تھا لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جماعت سے متعلق چاروں وزرا نے اپنے اپنے شعبوں میں، اور بحیثیت مجموعی ان تمام افراد پر جن سے سابقہ پیش آیا ایک منفرد مثال قائم کی۔
صلاحیت ِکار اور دیانت دونوں پہلوئوں سے اپنے نقوش چھوڑے اور پاکستان کی تاریخ میں صرف ایک ہی بار ایسا ہوا ہے کہ جب وزیروں نے استعفا دے کر حکومت چھوڑی ہو، اور وزارت کے لوگوں نے اجتماعی طور پر دعوت کی شکل میں رخصت کرنے کا اہتمام کیا ہو۔ جماعت کے چاروزرا کے علاوہ کسی دوسرے وزیر کے ساتھ ایسا نہیں ہوا، اور اس سے پہلے اور اس کے بعد اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ وزارت میں آنے کے وقت خوش آمدید کہنے کی مثالیں تو موجود ہیں، لیکن وزارت چھوڑتے وقت اس طرح رخصت کرنے کی مثال کم از کم ہمارے ملک میں تو نہیں۔ محترم چودھری رحمت الٰہی صاحب کے وزارت چھوڑنے پر وزارت کے اسٹاف کو سخت افسوس تھا۔ واپڈا کے اس وقت کے چیئرمین فضل رزاق صاحب جو صوبہ سرحد کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل فضل حق کے بھائی تھے، ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے، وہ بھی ان سے متاثر تھے اور ہمیشہ ان کا ذکر احترام سے کرتے تھے:
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
جماعت کا ۱۹۵۸ء کے انتخاب کے لیے جو منشور مرتب ہوا، اس کا پہلا ڈرافٹ جس کمیٹی نے بنایا، اس کے سربراہ بھی چودھری رحمت الٰہی صاحب تھے اور اس کمیٹی میں چودھری غلام محمد صاحب اور مجھے اس کی رکنیت کا شرف حاصل ہے۔آخری ڈرافٹ بہرحال مولانا مودودی نے مرتب فرمایا تھا، لیکن اس میں ہمارے ڈرافٹ کا بڑا حصہ شامل تھا۔ ایک مدت تک مرکزی مجلس شوریٰ کی قرارددوں کو جو کمیٹی مرتب کرتی یا آخری شکل دیتی رہی، اس میں پروفیسر عبدالغفور احمد صاحب، چودھری رحمت الٰہی صاحب اور مجھے یہ خدمت انجام دینے کی سعادت حاصل رہی۔چودھری صاحب کی اُردو تحریر جامع، مختصر اور واضح ہوتی تھی اور جس تحریر کو وہ دیکھ لیتے تھے اس کے بارے میں اطمینان ہوجاتا تھا کہ وہ نقص سے پاک ہے۔
چودھری رحمت الٰہی صاحب اپنے خاندان اور اس سے بڑھ کر اپنے وسیع تر نظریاتی اور تحریکی خاندان کے لیے اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت تھے۔ موت برحق ہے اور کسی کو بھی اس سے مفر نہیں، لیکن ان کے اُٹھ جانے سے جو خلا واقع ہوا ہے اس کا بھرنا بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔ مگر یقین ہے کہ اللہ کے دین کی یہ دعوت دنیا کے آخری لمحے تک کے لیے ہے اور جس ربّ نے یہ رہنمائی کمالِ مہربانی سے عنایت فرمائی ہے، وہ برابر ایسے افراد بھی ذمہ داری کے مناصب پر مامور کرتا رہے گا، جو دین حق کو اس کی اصل شکل میں، اپنے دور کے حالات کی اصلاح اور تشکیل نو کے لیے برپا کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دُعا ہے کہ ہمارے رخصت ہونے والے بھائی پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتا رہے اور ان کی اس ابدی زندگی کو روشن اور تابناک بنائے، آمین!
تجدید و احیاے دین، اسلامی تاریخ کی ایک روشن روایت اور عقیدۂ ختم نبوت کا فطری نتیجہ اور دینِ اسلام کے مکمل ہونے کا تقاضا ہے۔ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ برگزیدہ بندوں کو اس توفیق سے نوازا کہ وہ دین کی بنیادی دعوت پر مبنی اللہ کے پیغام کو، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدینؓ کے نمونے کی روشنی میں، اپنے دور کے حالات کا جائزہ لے کر بلاکم و کاست پیش کریں۔ دورِحاضر میں جن عظیم ہستیوں کو یہ سعادت حاصل ہوئی، ان میں مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳ء - ۱۹۷۹ء) کا نام سرفہرست ہے۔
ویسے تو مسلم تاریخ کے ہر دور میں نشیب و فراز نظر آتا ہے، لیکن ۱۹ویں صدی عیسوی اس اعتبار سے بڑی منفرد ہے کہ ساڑھے چودہ سو سال کی تاریخ میں پہلی بار مسلمان ایک عالمی قوت کی شناخت اور حیثیت سے محروم ہوئے۔ اس دوران چار کمزور ممالک اورنام نہاد حکومتوں کو چھوڑ کر پورا عالمِ اسلام مغرب کی توسیع پسندانہ اور سامراجی قوتوں کے زیرتسلط آگیا۔ یہ صورتِ حال ۲۰ویں صدی کے وسط تک جاری رہی۔ اس بات میں ذرا بھی مبالغہ نہیں کہ یہ دور مسلم تاریخ کا تاریک ترین دور تھا، جو فکری و نظریاتی اور اخلاقی انحطاط کے ساتھ ساتھ معاشی، سیاسی اور تہذیبی، گویا ہراعتبار سے اُمت کی محکومی کا دور تھا۔
پھر اسی دور میں،کسی نہ کسی پہلو سے تجدید و احیاے دین کی خدمت انجام دینے والی عظیم شخصیات: میں جمال الدین افغانی، مفتی محمد عبدہٗ، ابوالکلام آزاد، سیّد رشید رضا، حسن البنا، علّامہ محمد اقبال، سعید نورسی، سیّدقطب، سیّدابوالاعلیٰ مودودی اور مالک بن نبی جیسے نمایاں ترین رجال شامل ہیں۔ ان سب کی سوچ کا دھارا، کئی اُمور اورمعاملات میں اختلاف کے باوجود، مقصد اور ہدف کے اعتبار سے ایک جیسا تھا، اور وہ یہ تھا: اللہ کے دین کو اس کی اصل شکل میں پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کو اس دین کے مطابق اپنی اور انسانی زندگی کی تشکیلِ نو اور تعمیرِنوکی دعوت دی جائے۔ اللہ تعالیٰ ان سب محسنوں پر اپنی رحمت کی بارش فرمائے، اور ان کی اور ان کے رفقاے کار کی کاوشوں کو قبولیت اور فروغ عطا فرمائے۔یہی ہیں وہ رہنما کہ جن کی مساعیِ جمیلہ کے نتیجے میں، اللہ تعالیٰ کے فضلِ خاص سے تاریخ نے کروٹ لی اور محکومی کی تاریک اور طویل رات ختم ہوئی ۔ اسلام ایک بھرپور دعوت، انقلابی قوت اور ہمہ پہلو پیغام کی حیثیت سے ایک بار پھر اپناکردار ادا کرنے کی طرف رواں دواں ہے۔
مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے ۱۹۲۰ء سے صحافت اور علم و ادب کے میدان میں گراں قدر خدمات کا آغاز کیا۔ ۲۴برس کی عمر میں انھوں نے الجہاد فی الاسلام جیسی معرکہ آرا کتاب لکھی، جو ۱۹۳۰ء میں، برعظیم میں علمی، تحقیق اور اشاعت کے بڑے باوقار ادارے دارالمصنّفین، اعظم گڑھ نے شائع کی۔ اس کتاب کے لیے تحقیق و جستجو مولانا مودودی کے فکری ارتقا میں ایک سنگِ میل کا درجہ رکھتی ہے۔
پھر یہی ہے وہ فیصلہ کن موڑ ( turning point) جہاں سے انھوں نے پیغامِ دین کے لیے عزم و ہمت کا عہد کیا اور عملی قدم اُٹھایا۔۱۹۳۳ء سے ماہ نامہ ترجمان القرآن ، حیدرآباددکن کے ذریعے اسلامی فکر اور دعوت کے نئے چراغ روشن کرتے رہے۔ ۱۹۳۸ء میں ادارہ دارالاسلام کی تاسیس کی۔ ۲۶؍اگست ۱۹۴۱ء کو جماعت اسلامی قائم کی اور اس کے امیر منتخب ہوئے۔ فروری ۱۹۴۲ء سے تفہیم القرآن کی تحریر واشاعت کا آغاز کیا۔ ستمبر۱۹۷۹ءیعنی اپنی وفات تک فکرورہنمائی کے ہر میدان اور تجدیدو احیاے دین اسلام کے بارے میں گراں قدر خدمات انجام دیتے رہے۔مولانا مودودی کی زندگی اور ان کی فکر میں سب سے نمایاں چیز اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق اور قرآنِ کریم کو زندگی کے ہرہرپہلو کے لیے اپنا رہنما بنانا ہے۔
الحمدللہ، ۳۰برس تک میرا، مولانا مودودی سے ایسا تعلق رہا ہے کہ جس میں وہ میرے استاد، قائد، محسن اور مربی کی حیثیت سے قدم قدم پر رہنمائی سے نوازتے رہے۔ اس مناسبت سے گواہی دیتا ہوں کہ مَیں نے جس چیز کو مولانا کی زندگی میں فکروعمل کا سرچشمہ اور روشنی و ہدایت کا منبع پایا ہے، وہ قرآن پاک ہے۔ اسی بنا پر مولانا کی زندگی کی اہم ترین متاع جن چیزوں کو قرار دیا جاسکتا ہے، ان میں سب سے پہلی، بنیادی اور مرکزی متاع قرآنِ کریم ہے۔ پھر قرآنِ کریم اور صاحب ِ قرآن خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک ہی کی روشنی میں دینِ حق کا تصور ہے، اور تیسری چیز ہے: ان دونوں کا تقاضا دعوت، اصلاح اور اقامت ِ دین کی منظم جدوجہد۔ یہی وہ تین میدان ہیں، جن میں مولانا مودودی نے بڑا تاریخ ساز کردار (contribution) اداکیا ہے۔
قرآنِ پاک سے مولانا مودودی مرحوم و مغفور کے تعلق کو سمجھنے کے لیے تین چیزیں بڑی اہم اور چشم کشا ہیں:
۱۹۴۶ء میں مولانا محمد عمران خاں ندوی صاحب نے غیرمنقسم ہندستان کے اٹھارہ اکابر علما، دانش وروں اور رہنمائوں سے دریافت کیا کہ ’’آپ کی محسن کتاب کون سی ہے؟‘‘ دیگر افراد نے اپنی اپنی پسندیدہ کتاب کے بارے میں بتایا، لیکن ان میں واحد مولانا مودودی تھے، جنھوں نے سب سے مختصر جواب دیا۔یہ جواب مولانا کی شخصیت اور ان کی پوری زندگی کا غماز ہے اور سب پہ بھاری بھی۔ انھوں نے لکھا:
جاہلیت کے زمانے میں، مَیں نے بہت کچھ پڑھا ہے۔ مَیں قدیم و جدید فلسفہ، سائنس، معاشیات، سیاسیات وغیرہ پر اچھی خاصی ایک لائبریری دماغ میں اُتار چکا ہوں ، مگر جب آنکھیں کھول کر قرآن کو پڑھا تو بہ خدا یوں محسوس ہوا کہ جو کچھ پڑھا تھا سب ہیچ تھا، علم کی جڑ اب ہاتھ آئی ہے۔ کانٹ، ہیگل، نٹشے، مارکس اور دنیا کے تمام بڑے بڑے مفکرین اب مجھے بچے نظر آتے ہیں۔ بے چاروں پر ترس آتا ہے کہ ساری ساری عمر جن گتھیوں کو سلجھانے میں اُلجھتے رہے اور جن مسائل پر بڑی بڑی کتابیں تصنیف کرڈالیں، پھر بھی حل نہ کرسکے، ان کو اِس کتاب نے ایک ایک دو دوفقروں میں حل کر کے رکھ دیا ہے۔ اگر یہ غریب اس کتاب سے ناواقف نہ ہوتے تو کیوں اپنی عمریں اس طرح ضائع کرتے؟ میری اصلی محسن بس یہی ایک کتاب ہے۔ اس نے مجھے بدل کر رکھ دیا ہے۔ حیوان سے انسان بنادیا ، تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئی، ایسا چراغ میرے ہاتھ میں دے دیا کہ زندگی کے جس معاملے کی طرف نظر ڈالتا ہوں، حقیقت اس طرح برملا مجھے دکھائی دیتی ہے کہ گویا اس پر کوئی پردہ ہی نہیں ہے۔ انگریزی میں اُس کنجی کو ’شاہ کلید‘ (Master Key) کہتے ہیں، جس سے ہرقفل کھل جائے۔ سو، میرے لیے یہ قرآن ’شاہ کلید‘ ہے۔ مسائلِ حیات کے جس قفل پر اسے لگاتا ہوں، وہ کھل جاتا ہے۔ جس خدا نے یہ کتاب بخشی ہے، اس کا شکر ادا کرنے سے میری زبان عاجز ہے۔
مولانا مودودی کے لیے سب سے بڑی دولت اور زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ، اللہ کی آخری ہدایت یہ کتاب ہی ہے۔ قرآن ہی وہ اَبدی ہدایت ہے، جو خود خالق حقیقی نے اپنے بندوں کی رہنمائی اور ان کو زندگی میں کامیابی کا راستہ دکھانے کے لیے عطا فرمائی۔ مولانا مودودی کے نزدیک:قرآن کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا کتاب اللہ ہونا ہے، یعنی یہ رہنمائی کسی انسان کی طرف سے نہیں ہے۔ اس کا ذریعہ اور وسیلہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اللہ کو جاننے، اللہ سے جوڑنے اور اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کا واحد راستہ قرآن کی ہدایت کو تسلیم کرنا،اور اس کے مطابق اپنی ذات کو اور ساری دنیا کو ڈھالنا ہے۔ اس کے تین پہلو ہیں:
پہلا اور سب سے اہم خداشناسی ہے، جس سے ہم اللہ کو پہچان سکتے ہیں اور اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی کو ڈھال سکتے ہیں۔ اس لیے اللہ پر ایمان اور اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی کو ڈھالنا ، زندگی کو گزارنا، قرآن سے تعلق کو جوڑنا،اور قرآن کا فہم حاصل کرنا نہایت بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ قرآن کا اصل مخاطب انسان ہے اور قرآن کا اصل مقصودتمام انسانوں کی دست گیری ہے۔ جو اسے قبول کریں، ان کے لیے یہ سراپا ہدایت ہے اور رہنمائی عطا کرتا ہے۔ یہی خداشناسی اسلام کی بنیاد اور اسلام پر عمل پیرا ہونے کے لیے اصل سہارا اور قوت ہے۔
دوسرا پہلو خودشناسی ہے، یعنی یہ سمجھنا اور جاننا کہ اللہ ہمیں کیسے انسان کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہے؟ یہ دیکھنا کہ ہمیں کیا کام سونپا گیا ہے، اور کس معیار پر ہمیں کامیابی اور اجر ملے گا؟ اس چیز کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تووہ ہے ’استخلاف‘۔ اس کے لیے فرد کا تزکیہ کرنا، اس کی کردار سازی کرنا اور علم وعمل کے اعتبار سے اس لائق بنانا کہ وہ اللہ کی زمین پر، اللہ کے خلیفہ کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرے، یعنی تقویٰ کا حصول۔
تیسرا پہلو ہے خلق شناسی۔ اس سے مراد ہے: انسانوں سے، اداروں سے، معاشروں سے، اقوام سے اور کائنات میں خلق کی ہوئی ہرشکل سے قرآن و سنت کی ہدایت کے مطابق ربط و تعلق قائم کرکے معاملہ کرنا، تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو اور دنیا عدل، امن اور احترامِ آدمیت کا گہوارا بن جائے۔
ان تینوں بنیادوں کو قرآن نے جامع اصطلاح ’اقامت ِ دین ‘ میں سمو دیا ہے اور یہی معنی عبادت کے ہیں۔یہ دوسرا پہلو ہے: قرآنِ کریم سے مولانا کے تعلق کا، جسے انھوں نے بڑی تفصیل سے مختلف اسالیب میں بیان کیا ہے اور وضاحت فرمائی ہے۔
مولانا نے بتایاہے کہ قرآن صرف اللہ کی کتاب اور کتابِ ہدایت ہی نہیں بلکہ کتابِ انقلاب ہے۔ جہاں اس کے مخاطب تمام انسان ہیں، وہاں اس کا خاص طور پر خطاب انسانوں کے ایسے گروہ سے ہے، جو اسے قبول کرتا ہے۔ قرآن انھیں رہنمائی فراہم کرتا اور تیار کرتا ہے کہ وہ کس طرح خود کو اور پوری انسانی زندگی کے ہر شعبے اور دائرہ کار کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے دعوت، شہادتِ حق اور امربالمعروف و نہی عن المنکر کو جہاد فی سبیل اللہ قرار دیا ہے اور ہدف دین کے پیغام کو عام کرنا اور اللہ کی مرضی کو غالب کرنا بتایا ہے۔ اس مقصد کو تفہیم القرآن کے مقدمے میں مولانا مودودی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
فہم قرآن کی ساری تدبیروں کے باوجود، آدمی قرآن کی رُوح سے پوری طرح آشنا نہیں ہونے پاتا، جب تک عملاً وہ کام نہ کرے جس کے لیے قرآن آیا ہے۔ یہ محض نظریات اور خیالات کی کتاب نہیں ہے کہ آپ آرام کرسی پر بیٹھ کر اسے پڑھیں اور اس کی ساری باتیں سمجھ جائیں۔ یہ دُنیا کے عام تصورِ مذہب کے مطابق ایک نری مذہبی کتاب بھی نہیں ہے کہ مدرسے اور خانقاہ میں اس کے سارے رُموز حل کرلیے جائیں۔ یہ ایک دعوت اور تحریک کی کتاب ہے۔ اس نے آتے ہی ایک خاموش طبع اور نیک نہاد انسان کو گوشۂ عزلت سے نکال کر، خدا سے پھری ہوئی دنیا کے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ باطل کے خلاف اس سے آواز اُٹھوائی اور وقت کے علَم بردارانِ کفر و فسق و ضلالت سے اس کو لڑا دیا۔ گھرگھر سے ایک ایک سعید رُوح اور پاکیزہ نفس کو کھینچ کھینچ کر لائی اور داعیِ حق کے جھنڈے تلے ان سب کو اکٹھا کیا۔ گوشے گوشے سے ایک ایک فتنہ جُو اور فساد پرور کو بھڑکا کر اُٹھایا اور حامیانِ حق سے ان کی جنگ کرائی۔ ایک فردِ واحد کی پکار سے اپنا کام شروع کر کے خلافت ِ الٰہیہ کے قیام تک پورے ۲۳سال یہی کتاب اس عظیم الشان تحریک کی رہنمائی کرتی رہی، اور حق و باطل کی اس طویل و جاں گسل کش مکش کے دوران میں ایک ایک منزل اور ایک ایک مرحلے پر اسی نے تخریب کے ڈھنگ اور تعمیر کے نقشے بتائے۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ سرے سے نزاعِ کفرودین اور معرکۂ اسلام و جاہلیت کے میدان میں قدم ہی نہ رکھیں اور اس کش مکش کی کسی منزل سے گزرنے کا آپ کو اتفاق ہی نہ ہوا ہو اور پھر محض قرآن کے الفاظ پڑھ پڑھ کر اس کی ساری حقیقتیں آپ کے سامنے بے نقاب ہوجائیں؟
اسے تو پوری طرح آپ اُسی وقت سمجھ سکتے ہیں، جب اسے لے کر اُٹھیں اور دعوت الی اللہ کا کام شروع کریں اور جس جس طرح یہ کتاب ہدایت دیتی جائے ،اُس طرح قدم اُٹھاتے چلے جائیں۔ تب وہ سارے تجربات آپ کو پیش آئیں گے، جو نزولِ قرآن کے وقت پیش آئے تھے۔ مکّے اور حبش اور طائف کی منزلیں بھی آپ دیکھیں گے اور بدر و اُحد سے لے کر حُنین اور تبوک تک کے مراحل بھی آپ کے سامنے آئیں گے۔ ابوجَہل اور ابولَہب سے بھی آپ کو واسطہ پڑے گا، منافقین اور یہود بھی آپ کو ملیں گے، اور سابقینِ اوّلین سے لے کر مؤلفۃ القلوب تک سبھی طرح کے انسانی نمونے آپ دیکھ بھی لیں گے اور برت بھی لیں گے۔ یہ ایک اور ہی قسم کا ’سُلوک‘ ہے، جس کو میں ’سُلوکِ قرآنی‘ کہتا ہوں۔ اس سُلوک کی شان یہ ہے کہ اس کی جس جس منزل سے آپ گزرتے جائیں گے، قرآن کی کچھ آیتیں اور سورتیں خودسامنے آکر آپ کو بتاتی چلی جائیں گی کہ وہ اسی منزل میں اُتری تھیں اور یہ ہدایت لے کر آئی تھیں۔ اس وقت یہ تو ممکن ہے کہ لُغت اور نحو اور معانی اور بیان کے کچھ نکات سالک کی نگاہ سے چھپے رہ جائیں، لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ قرآن اپنی رُوح کو اس کے سامنے بے نقاب کرنے سے بُخل برت جائے۔
پھر اسی کُلیّے کے مطابق قرآن کے احکام، اس کی اخلاقی تعلیمات، اس کی معاشی اور تمدّنی ہدایات اور زندگی کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے اُصول و قوانین آدمی کی سمجھ میں اُس وقت تک آ ہی نہیں سکتے، جب تک کہ وہ عملاً ان کو برت کر نہ دیکھے۔ نہ وہ فرد اس کتاب کو سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی انفرادی زندگی کو اس کی پیروی سے آزاد کررکھا ہو، اور نہ وہ قوم اس سے آشنا ہوسکتی ہے جس کے سارے ہی اجتماعی ادارے اس کی بنائی ہوئی روش کے خلاف چل رہے ہوں۔(تفہیم القرآن، اوّل، ص ۳۳-۳۵)
قرآن سے اس تعلق کے ساتھ مولانا نے دوسری اہم فکری خدمت (contribution) یہ انجام دی ہے کہ دین اسلام کو آج کی زبان میں، ایک مکمل لائحہ عمل کے طور پر بڑی وضاحت سے پیش کیا ہے، جس میں دین اور دنیا کی کوئی تقسیم نہیں ہے۔ ایمان اس کی بنیاد ہے اور عبادت اس کا مظہر بھی ہے اور اس کے تقاضوں کے لائق بنانے کا ذریعہ بھی۔ لیکن اصل ہدف اور مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ ہرشعبۂ زندگی کو اللہ کی مرضی کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرنا ہے۔ اس میں نجی، خانگی، اجتماعی، معاشرتی، معاشی، سیاسی، ملکی، عالمی سطح کے تمام تعلقات شامل ہیں۔
اس ضمن میں مولانا مودودی نے بنیادی نوعیت کے چار مزید کام انجام دیے، جو ان کی فکری خدمات میں نمایاں ترین مقام رکھتے ہیں:
مسلم معاشروں میں دین سے عدم واقفیت، اور جاہلیت کی گرفت بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک صاحب ِ ایمان مسلمان علم، اخلاق اور دیانت کے بغیر کسی بھی میدان میں کام نہیں کرسکتا۔ علوم کی تقسیم دین اور دنیاوی دائروں میں اس حد تک تو گوارا کی جاسکتی ہے کہ مختلف علوم کے دائروں کو متعین کیا جائے، لیکن اسلام کے تصورِعلم میں اللہ کی مرکزیت اور اللہ کی ہدایت کو علم کے ہرشعبے میں مطابقت (relevance) کے ساتھ پیش کرنا اور ہروقت اس کا احساس بیدار کرنا فہمِ دین کا بنیادی اصول ہے۔ ہمارےدورِ زوال میں شعوری یا غیرشعوری طور پر علم کا تصور محدود تر ہوگیا۔ کم از کم علمی سطح پر دین کے دائروں اور دینی ہدایت کو شخصی زندگی اور عبادات تک محدود کردیا گیا۔ اجتماعی زندگی اور اجتماعی علوم کے باب میں دین حق نے جو رہنمائی فراہم کی ہے اور جو دورِ عروج میں ہماری شان رہی ہے، اس سے ہم بہت دُور ہوگئے ہیں۔ جب تک یہ ترتیب اور مطابقت علوم اور تربیت کا حصہ نہیں بنتی، احیاے اسلام ممکن نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے لیے مولانا مودودی نے مسلم معاشروں کی فکری ساخت کا تجزیہ کرتے ہوئے بنیادی مرض کی نشان دہی کی۔
اس کے بعد قرآن و سنت کی روشنی میں نئے مسائل حل کرنے کے لیے استدلال، قیاس، استنباط اور اجتہاد کی بنیاد پر قانون سازی ہے۔ یہی ہے وہ عمل کہ جس سے فقہ کا قیمتی سرمایہ وجود میں آیا۔ پھر فقہ کے مطابق عمل کرتے ہوئے علم اور تقلید کی روایت نے سفر شروع کیا۔ مولانا مودودی کے نزدیک احیاے دین کے لیے صحیح ترتیب قرآن، سنت، فقہ اور تاریخ ہے۔ جس کی روشنی میں نئے مسائل کا حل قرآن و سنت اور اجتہاد و استنباط ہے۔ لیکن بدقسمتی سے دورِ زوال میں یہ ترتیب اُلٹ کر رہ گئی۔ یوں تقلید و تاریخ نے عملاً اوّلیت اختیار کرلی، پھر فقہ، اس کے بعد سنت ِ رسولؐ، حکایاتِ بزرگانِ دین اور اس کے بعد قرآن۔ گویا کہ جس چیز، یعنی قرآن کو سب سے پہلے ہونا چاہیے تھا، وہ سب سے آخر میں چلا گیا۔ یہی بدقسمتی مسلمانوں میں مروج نظامِ تعلیم کے ساتھ ہوئی اور وہاں پر بھی ترتیب اُلٹ گئی، اور قرآن سب سے آخر میں اور وہ بھی محدود تر دائرے میں شاملِ نصاب ہوا۔
مولانا مودودی نے اس بات کی طرف متوجہ فرمایا کہ مسلم معاشرے میں اصل اصلاح طلب چیز، حقیقی اور مطلوب ترتیب کو بحال کرنا ہے۔ فقہ کو نظرانداز کرنا یا دریابُرد کرنا خودکشی کے مترادف ہے، مگر رہنمائی کے لیے ترتیب میں قرآن ، سنت اور پھر فقہ وتاریخ کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔ یہ ایک انقلابی نکتہ ہے، جسے مولانا مودودی نے ابن تیمیہ، امام غزالی اور شاہ ولی اللہ سے گاہے اتفاق اور کچھ اختلاف کے ساتھ پیش کیا اور اس جرأتِ اظہار کی بڑی قیمت ادا کی۔
نہیں اس کی کوئی پرسش کہ یاد اللہ کتنی ہے
یہی سب پوچھتے ہیں آپ کی تنخواہ کتنی ہے
اور یہ کہ :
ہم کیا کہیں، احباب کیا کارِ نمایاں کرگئے
بی اے ہوئے، نوکر ہوئے، پنشن ملی پھر مر گئے
مولانا مودودی نے اقبال اور دوسرے علما و مصلحین کے ساتھ مغربی تہذیب کا بھرپور محاکمہ کیا اور بہت صاف صاف الفاظ میں یہ بات کہی کہ: ’’مغربی سامراج سے صرف سیاسی آزادی مطلوب نہیں بلکہ فکری، نظریاتی، معاشی، معاشرتی، تہذیبی آزادی بھی مطلوب ہے، تاکہ مسلمان اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی کو مرتب اور منظم کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے محض مسجد بنادینا اور صرف نماز پڑھ لینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے خاندانی نظام کا تحفظ اور اجتماعی زندگی کی تشکیل و تعمیربھی ضروری ہے۔ نیز سیاسی آزادی اور اختیار بھی مطلوب ہے تاکہ دینی اقدار بالادست ہوں اور یوں اجتماعی زندگی اسلامی بنیادوں پر استوار ہو‘‘۔ اقبال نے بڑے لطیف انداز میں کہا:
مُلّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
اور یہ کہ:
جدا ہو دیں سیاست سے،تو رہ جاتی ہے چنگیزی
اسلام، درحقیقت سیاسی و تہذیبی اور فکری و سیاسی میدان میں آزادی کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہ غلامی کی ہر رمز اور محکومی کی ہر علامت کو رَد کرتا ہے، تاکہ اسے قبول کرنے والے زندگی کی تشکیلِ نو کرسکیں۔ مولانا مودودی نے اس موقف کو بڑی وضاحت سے پیش کیا ہے۔ ان کے متوازن ذہن اور محتاط قلم نے مغرب زدگان کو دلیل کے میدان میں بے بس کر دیا ہے اور یہی چیز مغرب کو کھائے جارہی ہے۔ جس کے لیے کبھی اس کے ترجمان ’سیاسی اسلام‘ جیسی نامعقول، مہمل اور مضحک (absurd) اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور کبھی اسلام کے ڈانڈے فاشزم اور انتہاپسندی سے جوڑتے ہیں ۔ حالاں کہ سچ بات یہ ہے کہ مسلمان اپنا حق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ حق کہ وہ اپنی انفرادی اور اپنی اجتماعی زندگی کو اپنی اقدار و تہذیب اور قانون و ضابطے کے مطابق گزار سکیں۔
جس طرح مولانا مودودی نے مسلم معاشروں کا جائزہ لے کر ان کی خامیوں کو متعین کیا، اسی طرح انھوں نے مغربی تہذیب کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے۔ یہاں بھی انھوں نے اندھی تنقید اور اندھی تقلید دونوں کے مقابلے میں ایک آزاد، نظریاتی، منطقی اور اعتدال پر مبنی رویہ اختیار کیا۔ انھوں نے تعصب پر مبنی تحقیق و مطالعے کو عدل اور شرفِ انسانی دونوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ مولانا نے مغرب اور مغربی تہذیب کو اس کے مآخذ کے مطالعے اور سرچشموں کے مشاہدے سے جاننے کی جستجو کی ہے۔ پھر ان بنیادوں پر تنقید کی ہے، جو خدا ناشناسی یا خدا کی قدرت کے محدود تصور پر مبنی ہیں۔
مولانا مودودی نے مغرب کے سامراجی کردار اور نظریاتی و سیاسی پہلوئوں کا ہمہ پہلو محاکمہ کیا ہے۔ پھر مسلم دنیا کو مغرب کے اس اثر سے نکالنے کے لیے سیاسی، فکری، اجتماعی جدوجہد کی دعوت دی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ مغرب میں یا مغرب کی ہر چیز غلط نہیں، اور نہ مشرق میں اور مشرق کی ہر چیز خیرہے۔ ہمیں کھلے ذہن اور کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے کہ ’خیر‘ کے لیے کس چیز سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ اس ضمن میں انسانی زندگی کے معاملات، سیاسی تجربات اور سائنسی علوم کو ایک صاحب ِ ایمان فرد کی حیثیت سے پرکھنا چاہیے کہ کہاں اور کس قدر خیر ہے، خیر کو شر سے چھانٹ کر انسانی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے اور شر سے انسانیت کو بچانا چاہیے۔ یہ حس اور یہ صلاحیت اس کھلے ذہن سے پیدا ہوسکتی ہے کہ جس کی میزان لازمی طور پر اسلامی ایمانیات پر استوار ہو اور جس کی کسوٹی اسلامی اصولوں کے ساتھ تصادم یا مطابقت کے سوال سے مشروط ہو۔
جو چیز اسلام کے بنیادی اصولوں سے متصادم نہیں، وہ انسانیت کی میراث ہے۔ البتہ اندھی تقلید اور اندھی تنقید غلط چیز ہے۔ جو اچھا ہے، اسے قبول کرلو اور جو بُرا ہے، اسے مسترد کردو۔ خیر تک رسائی اور خیر کے استعمال و اختیار کے لیے پوری دنیا ایک میدان ہے۔ ایک صاحب ِ ایمان فرد کسی ایک علاقے اور کسی ایک زمانے تک محدود نہیں رہ سکتا۔ اسے معتدل طریقے سے یہ خدمت انجام دینی چاہیے۔
مسلم اور مغربی معاشروں کے تنقیدی جائزے کے بعد مولانا نے بتایا ہے کہ اسلامی احیا ہی انسانی زندگی کے لیے خیر اور فلاح کا سرچشمہ ہے، جس کا ماخذ قرآن ہے۔ قرآن کی بنیاد پر دین کو سمجھا جائے، قرآن کی حکمت عملی کو سمجھا جائے اور قرآن کے زیرسایہ اسلامی احیا کی تحریک کو منظم کیا جائے۔ یہ کام دعوت اور نظم و ضبط سے، افراد کی تیاری اور اداروں کی تعمیروترقی ہی سے ممکن ہے، جس میں سب سے مرکزی اور بنیادی ادارہ خاندان ہے۔ مولانا محترم نے زور دے کربتایا ہے کہ جدید دور میں، جدید ذرائع اور جدید اسلوب کو دعوت و تنظیم اور عمومی بیداری کا ذریعہ بننا چاہیے۔ اسی لیے انھوں نے جدید زمانے میں تنظیم سازی کے لیے بہترین انداز سے جماعت اسلامی اور دوسرے دعوتی اداروں کو منظم کیا۔
مولانا مودودی نے یہ بھی بتایا ہے کہ قومی ریاستیں (Nation States)مسلمانوں کی منزل نہیں، البتہ مسلم ممالک اور دنیا کے حالات کی روشنی میں وہ مسلم اُمہ کے اتحاد واشتراک کی جانب رواں سفر کا ایک ذریعہ بن سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ نظریاتی اساس پر اپنی تعمیر کریں۔ہماری قومی ریاستیں مغرب کی طرح علاقائی اور جغرافیائی اکائیاں نہیں ہیں، بلکہ ایک نظریے کی علَم بردار اور ایک جسد ِ واحد کا حصہ ہیں، جنھیں ایک جان دار جسم سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہی ہے وہ سبق، جو قرآنِ کریم نے ہرمسلمان کو پڑھایا اور سمجھایا ہے۔
اس حوالے سے مولانا مودودیؒ کی فکر کو سمجھنے کے لیے بنیادی نکات دو ہیں: قرآن اور اقامت دین۔ ان کا سارا علمِ کلام اس کی تفسیر ہے اور ان کی تمام سرگذشت ِ زندگی انھی کے مدار میں رواں رہتی اور پھلتی پھولتی ہے۔
ایک اہم بات جس کا ادراک بہت ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ نے ایک طرف قرآن و سنت اور تاریخ تجدید و احیا کے گہرے مطالعے اور تجزیے کی روشنی میں اسلام کے تصورِحیات کو اس کی مکمل شکل میں پیش کیا۔ ایمان اور تزکیے کے ساتھ زندگی کے پورے نظام کی اسی بنیاد پر تعمیر و تشکیل کا واضح تصور اور نقشہ پیش کیا۔ پھر اس کے مطابق زندگی کے نقشے کو بدلنے کے لیے دعوت اور منظم تحریک کی ضرورت اور حکمت کو واضح کیا، وہیں سوچ کا ایک انداز، تحقیق کا ایک اسلوب اور افکار اور حکمت عملی کی تشکیل کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں خطوطِ کار مرتب کیے، جسے مَیں مولانا مودودی کا منہج (methodlogy ) کہتا ہوں۔ اس عمل میں انھوں نے قرآن و سنت سے مکمل وفاداری پر زور دیا ہے۔ تاریخی روایت کے تسلسل کے ساتھ بدلتے ہوئے حالات اور زمانے کے تقاضوں کا ادراک کرنے اور اُن کی روشنی میں حدود اللہ کی پاس داری اور مقاصد ِ شریعت سے وفاداری کو لازم قرار دیا ہے۔ پھر زبان و بیان، دلیل و استدلال، تنظیم اور نظامِ کار اور پالیسی کے میدان میں نئے تجربات کی ضرورت اور حدود کو بھی معین فرمایا۔ ان اُمور کی روشنی میں مسلمانوں کی اپنی تاریخ اور دورِحاضر کی غالب تہذیب دونوں کا تنقیدی نظر سے جائزہ لیا اور نئے تجربات کیے۔
مولانا محترم کے اندازِ فکر اور تحقیق و تجزیے کے اسلوب، دونوں میں ہمارے لیے بہترین رہنمائی ہے۔ مسلمانوں کو عہد ِ حاضر میں تجدید و احیاے دین کے لیے سرگرم اور متحرک کرنے پر اللہ تعالیٰ انھیں بہترین انعامات سے نوازے، آمین۔
[صحت کی خرابی کے باعث یہ مضمون، نائب مدیر کو املا کرایا گیا۔ مدیر]
مدینہ منورہ کی ریاست کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان بار بار یہ کہتے ہیں کہ ان کا آئیڈیل مدینہ کی ریاست اور حکومت ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے یقینا ان کا دل بھی یہی چاہتا ہوگا کہ وہ یہ کام کریں اور اس کی عملی تشکیل کی سمت میں بامعنی قدم بڑھائیں۔ ہمیں اس خواہش کو محض سیاسی بیان سمجھنے کے بجاے ان کے قول کواقبال، قائداعظم اور تحریک ِ پاکستان کے تصورِ پاکستان کا اعادہ سمجھنا چاہیے اور حکومت اور قوم دونوں کی ذمہ داری ہے کہ عملاً اس سمت میں پوری یکسوئی کے ساتھ پیش قدمی کریں۔
یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم متعین کرکے بتائیں کہ یہ ماڈل کیا ہے؟ پھر اس بات کو واضح کیا جائے کہ اس ماڈل کو حاصل کرنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے؟ ہم نے جو نکات نومبر۲۰۱۸ء کے ترجمان میں بیان کیے تھے ،وہ اس باب میں معاون ہوسکتے ہیں ۔
معلوم ہوا کہ شہریت، حقوق اور ذمہ داریاں ان دونوں میثاقوں کی بنیاد ہیں۔ اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مختلف عقائد کے حامل افراد ایک ریاست کے شہری ہوسکتے ہیں اور اپنے اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے مشترک تعلقات (joint relationship) کے ساتھ ریاست کا نظام چلایا جاسکتا ہے، یعنی ایک یہ کہ مسلمانوں کا حضوؐر کو بحیثیت نبی ماننا اورریاست کا سربراہ ماننا، اور غیرمسلموں کا حضوؐر کو نبی تسلیم نہ کرتے ہوئے بھی انھیں ریاست کا سربراہ ماننا، آخری سیاسی اتھارٹی تسلیم کرنا۔ پھر یہ کہ ایک اسلامی قیادت اور اسلامی مملکت کا غیرمسلموں کے حقوق اور ان کے مقام کا تعین کرنا۔ مدینہ کا ماڈل سمجھنے کے لیے یہ دونوں معاہدے بنیاد ہیں۔
یہ ۱۲کے ۱۲ نکات ’میم‘ سے شروع ہوتے ہیں: محمدؐ، مدینہ، میثاق، مسجد، مدرسہ، ماں، مواخات، مساوات، مفادِ عامہ، مجاہدہ اور جہاد، مذاکرات اور معبودِ حقیقی کا قرب۔
یہ ہے مدینہ کا ماڈل اور یہ ہیں اس ماڈل کے بنیادی اجزا۔ آج کے زمان و مکان (Time and Space) میں آپ جتنا بھی رنگ بھرلیں اوراس کو وسعت دے لیں، آپ کے لیے، اُمت کے لیے اور انسانیت کے لیے سعادت مندی کا راستہ آں حضوؐر کی قائم کردہ ریاست ِ مدینہ کے اتباع ہی میں مضمر ہے۔
(سفرِ برطانیہ کے دوران یہ نکات برادرِ عزیز سلیم منصور خالد کو اِملا کرا دیے تھے)
پاکستان اس وقت ایک غیرمعمولی صورتِ حال سے گزر رہا ہے اور ایک کے بعد دوسرے گرداب میں گھرا ہوا ہے۔ مَیں بڑے دُکھ سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ وطنِ عزیز کو اس گرداب سے نکالنے کے لیے حکومت ، احزابِ اختلاف، میڈیا اور سوشل میڈیا وہ ذمہ داری ادا نہیں کر رہے، جو قومی مفاد کی مناسبت سے ان پر عائد ہوتی ہے۔
تین منظرنامے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں جن میں:پہلا اور اوّلین ملک کا اندرونی منظرنامہ ہے۔ دوسرا علاقائی منظرنامہ اور پھر تیسرا عالمی منظرنامہ۔ان میں سے کسی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور یہ سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ ان چیلنجوں کا جواب دینے کے لیے الگ الگ پالیسیاں، متضاد اور متناقض رویے اختیار کرنا سخت نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
یہاں ان وجوہ کا تذکرہ نہیں کیا جارہا جن کی بنا پر ۷۰برس کے دوران میں ہم نے مختلف نشیب و فراز دیکھے ہیں۔البتہ ملکی منظرنامے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قیامِ پاکستان کے جو چار بنیادی اہداف تھے، انھیں پیش نظر رکھا جائے۔ اوّلیں اور سب سے اہم ہدف ہے: ایک حقیقی اسلامی معاشرے اور مملکت کا قیام۔ دوسرا ہدف اسلام کی روح کے مطابق ایک ایسے جمہوری نظام کا قیام ہے کہ جس میں عوام اپنی قسمت اور مستقبل کے ذمہ دار ہوں اور اس کی تشکیل اور تعمیر میں اپنے منتخب نمایندوں کے ذریعے سے کردار ادا کریں، اور یہ منتخب نمایندے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔ تیسرا ہدف یہ ہے کہ ملک کا نظامِ حکومت دستور، قانون اور ضابطۂ کار کے مطابق چلے۔ اور چوتھا یہ کہ حکومت کا مقصود عوام کی بھلائی، ان کی بہبود اور ان کے معیارِ زندگی کے ساتھ ان کے معیارِ اخلاق کو بلند کرنا بھی ہو۔ اس کے لیے دُنیوی وسائل اور جدید ٹکنالوجی کا حصول ضروری ہے، تاکہ ترقی کے لیے مؤثر قوتِ کار فراہم کی جاسکے۔
ان بنیادی اہداف کے ساتھ یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ یہ زمینی حقائق ہیں کہ ہم بہرحال ایک وفاق ہیں،اور ہمارے ہاں ایک تنوع پایا جاتا ہے۔ بجاے اس کے کہ ہم گروہی، علاقائی اور قومیتی عصبیتوں میں مبتلا ہوں، مناسب ہوگا کہ اختلاف کے باوجود اتفاق و اتحاد اور رواداری اور افہام و تفہیم کے ماحول میں محنت اور جدوجہد کریں اور موجودہ حکومت کو موقع دیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اصل مقاصد کے حصول کے لیے پیش رفت کرے۔
قائداعظم نے ان تمام چیزوں کو ان تین الفاظ میں جمع کر دیا: ایمان، اتحاد اور تنظیم۔ یہ بھی کھیل کھیلا جا رہا ہے کہ ایمان پہلے آتا ہے یا اتحاد پہلے آتا ہے۔ میرے علم کی حد تک قائداعظم نے اسے دونوں طرح استعمال کیا ہے لیکن زیادہ تر ایمان پہلے آیا ہے، اتحاد اس کے بعد اور تنظیم آخر میں ہے۔ یہ الفاظ ایک دوسرے سے مربوط ہیں، ایک دوسرے کی تقویت کا باعث ہیں اور برابر کی اہمیت رکھتے ہیں۔ ملک کی صورتِ حال پر نظر ڈالیے۔ اس وقت قوم کو لفظی بحثوںمیں اُلجھایا جارہا ہے، اس سے قوم کو معاف رکھا جائے۔ قیامِ پاکستان کے بنیادی اصول و اہداف (objectives) جنھیں ہم بھول گئے ہیں، انھیں پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
لفظوں کی ترتیب کی بہرحال ایک معنویت ہوتی ہے، اسی لیے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ’ایمان، اتحاد اور تنظیم‘ کو قومی موٹو قرار دیا گیا۔ قرآن ہمیں ایمان، عمل اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ انبیاے کرام ؑ کا مقصد تلاوتِ آیات، تزکیہ، تعلیم کتاب اور تعلیم حکمت ہے:
كَـمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ (البقرہ ۲:۱۵۱) ’’ہم نے تمھارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا، جو تمھیں ہماری آیات سناتا ہے، تمھاری زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے‘‘۔
خاص طور پرپچھلے ۲۰ برس قومی زندگی کے لیے اہم ہیں کہ ان میں پچھلے ۱۰سالہ فوجی آمریت کا دور، پھر پانچ سالہ پیپلزپارٹی کا دور اور سابقہ پانچ سالہ نون لیگ کا دور___ یہ تینوں حکمران اپنے دیے ہوئے اہداف کے حصول میں ناکام رہے۔ مزیدبرآں پاکستان کی آزادی اور خودمختاری، سالمیت، معاشی صلاحیت میں ترقی، نظریاتی استحکام ، جمہوری روایات، دستور، قانونی اداروں کی حکمرانی کو ہرایک نے اپنے اپنے انداز سے پامال کیا ہے۔یہ ہے عوام کی مایوسی کی وہ بنیاد جس نے تبدیلی کی لہر کو جنم دیا ہے۔
تبدیلی اور مدینہ کی ریاست کے ماڈل کو مرکزیت دے کر پاکستان کو اس کے سیاسی، تہذیبی، اخلاقی اور معاشی بحران سے نکالنا جماعت اسلامی کا مقصد ہے۔ ۲۰۱۳ء میں جماعت اسلامی کے منشور کا مرکزی موضوع بھی یہی تھا، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب ہم اپنے موضوع و مقصد کو عوام اور اپنے ووٹروں کے لیے باعث ِ کشش نہیں بنا سکے تو عمران خان اور ان کی پارٹی نے اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ ۲۰۱۸ء کے انتخابات میں مختلف سطحوں پر نمایاں گڑبڑ ہوئی ہے اور یہ گڑبڑ ماضی کے مقابلے میں زیادہ فن کارانہ انداز میں ہوئی ہے۔ لیکن یہاں پر حسب ذیل دو باتوں کا ادراک ضروری ہے اور انھیں انتخابات میں مداخلت کے علی الرغم اہم عوامل کی حیثیت سے زیرغور لانا چاہیے:
پہلی بات یہ کہ عوام تبدیلی چاہتے تھے اور چاہتے ہیں ، اسی لیے انھوں نے سیاسی خلا کو پُر کرنے کے لیے ایک تیسری قوت کو آگے لانا ضروری سمجھا۔ اس خواہش کو انتخابی اعتبار سے نتیجہ خیز بنانے کے لیے کس نے کیا کیا کردار ادا کیا، یہ ایک الگ مسئلہ ہے، جس پر الگ سے تحقیق اور گفتگو ہونی چاہیے۔لیکن جو اندرونی مسئلہ ہے، یعنی تبدیلی اور وہ بھی ایک خاص سمت میں اور روایتی سیاسی قیادت اور اداروں کی ناکامی___ یہ ایک حقیقت ہے اور یہی بڑا چیلنج ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان صاحب کی حکمتِ عملی میں یہ چیزیں مرکزی اہمیت کی حامل تھیں۔
دوسری بات جس کے بارے میں مجھے کوئی تحفظ نہیں، وہ یہ ہے کہ انتخابات میں اثرانداز ہونے کا معاملہ نیا نہیں ہے۔ ایسا کبھی زیادہ اور کبھی کم ہوتا رہا ہے، بلکہ برملا کہوں گا کہ پاکستان میں کوئی بھی انتخابات آج تک حقیقی معنوں میں شفاف نہیں ہوئے، بشمول ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے جس کے بارے میں یہ غلط تاثر بٹھا دیا گیا ہے کہ وہ بہت غیر جانب دارانہ تھے۔ حالاںکہ ان انتخابات میں بھی مغربی پاکستان میں نسبتاً کم لیکن مشرقی پاکستان میں بہت زیادہ مداخلت ہوئی۔ مشرقی پاکستان میں انتخابی عملہ اور پولنگ اسٹیشن مکمل طور پر عوامی لیگ کے قبضے میں تھے۔ عوامی لیگ نے سارا سال کسی دوسری پارٹی کو انتخابی مہم نہیں چلانے دی اور پورے انتخابی عمل کو آغاز سے انجام تک اغوا کیے رکھا۔مگر حیرت ہے کہ ہمارے دانش ور اسے ’آزادانہ انتخابات‘ کہتے ہیں، حالاں کہ وہ صرف ’عوامی لیگ کے انتخابات‘ تھے۔پھر اس کے نتائج ہم نے قومی سطح پر بھگتے۔
حالیہ انتخابات میں تمام تر بے اعتدالیوں کے باوجود، مَیں سمجھتا ہوں کہ انتخابی نتائج کو تحفظات کے ساتھ تسلیم کرتے ہوئے حکومت کو کام کرنے دینا چاہیے اور جہاں جو چیز غلط ہوئی ہے، اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔
حزبِ اختلاف احتجاج کر رہی ہے اور احتجاج اس کا حق ہے، مگر کوئی ایسا احتجاج جس سے جمہوری عمل متاثر ہو یا خدانخواستہ ناکام ہوجائے، یہ ہمیں اس سے بڑی مصیبت کی طرف لے جائے گا، اس لیے ہمیں ان دونوں باتوں کو تسلیم کرنا چاہیے کہ: ایک یہ کہ عوامی رو موجود ہے اور حقیقی ضرورت بھی ہے اور اس کو ایک سیاسی جماعت نے اپنے لیے بامعنی بنایا بھی ہے۔ بعض قوتیں کوشش کر رہی ہیں کہ ملک کسی طرح تصادم کی طرف جائے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تباہی کا راستہ ہے، اس سے ہمیں ہرصورت میں بچنا چاہیے۔
راستہ یہ ہے کہ ہم دستور اور جمہوری نظام کے اندر سیاسی مکالمے، احتساب اور سیاسی عمل کے ذریعے سے بہتری لانے کی کوشش کریں۔ اس میں حکومت بھی اپنا کردار ادا کرے اور اپوزیشن بھی اپنا کردار ادا کرے۔ اس وقت یہی ایک راستہ ہے، تصادم کوئی راستہ نہیں ہے اور اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ تصادم خواہ شکست خوردہ قوتیں کرنا چاہ رہی ہیں یا وہ سیاسی قوتیں جو کرپشن کا ہدف بننے کی وجہ سے (بجاے اس کے کہ کرپشن سے اپنی پاک دامنی کو ثابت کریں) سیاسی نظام کو عدم استحکام سے دوچار اور اداروں کو تصادم کی طرف لے جانے کا ذریعہ بن رہی ہیں، وہ سب قابلِ مذمت ہیں۔ یہ طرزِعمل حددرجہ افسوس ناک ہے، اس سے ہمیں بچنا چاہیے۔
اب علاقائی (regional) منظرنامے کو دیکھیے۔ خطے میں بہت اہم علاقائی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ ان علاقائی تبدیلیوں میں امریکا کا بہت دخل ہے۔ اس نے نائن الیون کو اپنے گھٹیا مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔ افغانستان کو مسلسل جنگ کے نتیجے میں تباہ کر دیا گیا ہے۔ افغانستان میں معقولیت کے ساتھ معاملات کو سلجھانے کے بجاے عراق پر حملہ کیا اور پھر ۲۰۰۳ء سے لے کر آج تک (۱۵سال ہوگئے ہیں کہ) عراق، شام اور لیبیا، امریکی سامراجیت کی لگائی ہوئی آگ میں جل رہے ہیں۔ پورا خطہ تصادم اور تباہی و بربادی سے دوچار ہے۔ پھر اسی پر بس نہیں، آگے بڑھ کر مشرق وسطیٰ میں شیعہ سُنّی تصادم کی فضا پیدا کی اور قوت کا استعمال کر کے یمن کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکا کے علاوہ ایران کا کردار بھی متعددحوالوں سے غیرتسلی بخش ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں کہ عراق میں ایران نے کچھ مقامات پر القاعدہ یا اس سے نکلنے والے افراد کی مدد کی ہے۔ ادھر لبنان کی حزب اللہ نے شیعہ سُنّی ٹکرائو میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ بھی واضح ہے۔ شام کے معاملے میں جس طرح شیعہ سُنّی کا مسئلہ اُٹھایا گیا اور پھر یمن پر حملہ،پھر قطر کو دیوار سے لگادینا اور اسے تنہائی سے دوچار کرنا۔ گویا عرب اور عجم کو لڑانا، عرب اور عرب کو لڑانا اور اس طرح سب کو اپنا دست نگر بنانا امریکی پالیسیوں کا ہدف ہے۔ پھر امریکا کا ایک طرف یہ کہنا کہ ہم القاعدہ اور داعش کے خلاف ہیں اور دوسری طرف اس کا داعش کے ان گروپوں کی مالی اور اسلحے کی شکل میں مدد دینا جو ترکی کے خلاف بھی صف آرا ہیں، ایک ظالمانہ شیطانی کھیل ہے ۔سی آئی اے ان کو مالی امداد فراہم کر رہا تھا اور امریکی اہل کار ان کے پاس پہنچ رہے تھے۔ یہ عجیب و غریب منظر دل کو دہلا دینے والا اور آنکھوں کو کھول دینے والا ہے، لیکن بدقسمتی سے مسلم ممالک اب بھی غفلت کا شکار ہیں اور امریکا اور استعماری قوتوں کے چنگل سے نکلنے کی کوشش نہیں کررہے۔
اس صورتِ حال میں پاکستان سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن بہرحال پاکستان بہت سی ایسی چیزوں سے بچ بھی گیا ہے جن سے اسے بچنا چاہیے تھا۔ ترکی، پاکستان، ملایشیا اور انڈونیشیا یہ چار ممالک ہیں جو اس پوری صورتِ حال میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ہمارے لیے اس منظرنامے میں بھارت کا کردار اہم ہونے کے ساتھ خطرناک بھی ہے۔
بھارت نے اس زمانے میں دُوراندیشی سے ایک طرف روس سے اپنے تعلق کو باقی رکھا ہے، ایران سے دوستی بڑھائی ہے تو دوسری جانب ایران اور امریکا کے ذریعے افغانستان میں اپنے اثرات بڑھائے ہیں۔ امریکا کے ساتھ حقیقی اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ بنائی ہے۔اس وقت امریکا بھارت اتحاداس پورے خطے میں بھارت کو آگے بڑھانے اور چین کو ہدف بنانے کے لیے پوری قوت سے متحرک ہے۔اس گمبھیر ، اُلجھی ہوئی اور نازک صورتِ حال کا اِدراک اور خارجہ پالیسی کو حکمت و بصیرت کے ساتھ مرتب کرنا بہت ضروری ہے ورنہ پاکستان کے لیے بڑے سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
تیسرا منظرنامہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر پورا ورلڈ آرڈر (عالمی نظام) بدل رہا ہے۔ یہ عمل نائن الیون سے پہلے شروع ہوگیا تھا۔ نائن الیون کے بعد امریکا کو توقع تھی کہ وہ واحد عالمی سوپرپاور کی حیثیت سے پوری دنیا پر حاوی ہوجائے گا ، مگر اللہ کی حکمت سے معاملہ اس کے برعکس ہوگیا۔ اس کے نتیجے میں یورپ اور امریکا میں دُوری، روس کا نیا کردار، چین کا مؤثر کردار اور خود امریکا میں ’امریکافرسٹ‘ (سب سے پہلے امریکا)کے نعرے کا عام ہونا ایک نئی صورتِ حال کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کے برسرِاقتدار آنے کے بعد امریکا اپنے آپ کو نہ صرف ورلڈ آرڈر سے نکالنے بلکہ اسے تباہ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اس کے تحت اس نے اقوام متحدہ، انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فورم اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کو ہدف بنایا ہے۔ ایران سے جوہری پروگرام کی تحدید کا معاہدہ چھے ممالک سے ہوا تھا، اس معاہدے سے نکل کر امریکا نے تباہی کی ایک نئی صورتِ حال پیدا کر لی ہے۔ پیسفک کے ۱۲ممالک کے معاہدے سے امریکا نکلا ہے، میکسیکو اور کینیڈا سے بھی کھچائو اور کشاکش کا کھیل جاری و ساری ہے۔یہ عالمی سطح پر بگاڑ اور انتشار کی علامت ہے۔
پھر اس کے ساتھ ساتھ دولت اور غربت کا ارتکاز تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس زمانے میں حقیقی قوتِ خرید انسانوں کی عظیم اکثریت کے ہاتھ سے نکل گئی ہے اور لاکھوں کروڑوں میں کھیلنے والے ادارے اور افراد کھل کر اور چالاکی سے اس صورتِ حال کو اپنے حق میں استعمال کررہے ہیں۔ ۲۰۰۸ء میں جو معاشی بحران شروع ہوا، وہ نہ صرف یہ کہ ختم نہیں ہو رہا بلکہ اس نے سرمایہ داروں، کارپوریشنوں اور بنکوں کو تقویت پہنچائی اور مضبوط بھی کیا ہے۔ عام انسان، حتیٰ کہ امریکی صدر اوباما کے دور میں عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جو کوشش کی گئی تھی (کہ کسی طرح ہائوسنگ، انشورنس، صحت کے مسئلے پر عوام کو کچھ سہولت دی جائے)۔ امریکا اب اس سے بھی پیچھے ہٹ رہا ہے۔ شعبۂ تعلیم و تحقیق، امریکا کا بہت بڑا اثاثہ رہا ہے، لیکن ترجیحات کے اُلٹنے سے اب تعلیم ہر جگہ خریدوفروخت کی چیز بن گئی ہے۔ مفت تعلیم جس نے دنیا میں ایک انقلاب برپا کیا ہے، وہ نہ صرف امریکا میں بلکہ پوری دنیا میں رُوبہ زوال ہے۔
ان تینوں منظرناموں کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسی کا جائزہ لینے اور عصری حالات میں بہتر حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے، البتہ اس میں میری نگاہ میں اصل اور بڑا چیلنج داخلی ہے۔ ہم علاقائی اور عالمی صورتِ حال کو نظرانداز کرکے داخلی صورتِ حال کو بہتر نہیں بناسکتے۔ داخلی صورتِ حال ہی اصلاح اور مضبوطی کا ذریعہ ہے کہ جس سے خارجی حالات کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔
اس لیے داخلی استحکام ہماری اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔ رہی عالمی اور علاقائی صورتِ حال، تو اس کے بارے میں جہاں تک ہم اپنے مفادات کا تحفظ کرسکتے ہیں، کرنا چاہیے۔ پھر ہمارے اس خطۂ ارضی کو بھارت کی ہٹ دھرمی اور کشمیر میں سفاکی نے خطرناک بنادیا ہے۔ اسی طرح دیگر مسلم ممالک کے مسائل ہیں جنھوں نے گلوبل ڈس آرڈر (عالمی بدنظمی) کو رواج دیا ہے۔ ان مسائل اور ان کے متاثرین کے ساتھ ہم آہنگی اور ان کا ہم آواز ہونا ___ ہماری نگاہ میں رہنا چاہیے۔
اب سوال یہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
تحریکِ انصاف کی حکومت نے دو تین پہلوئوں سے شروع ہی میں لوگوں کو مایوس کیا ہے اور یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ بلاشبہہ ان کے لیے پہلا موقع ہے، خاص طور پر عمران خان کے لیے کہ اس سے پہلے کبھی ان کی حکومت نہیں رہی ۔ انھیں بہت کچھ سیکھنا ہوگا اور ماہرین کی آرا سے فائدہ اُٹھا کر، قابلِ اعتماد اور باصلاحیت افراد سے استفادہ کرتے ہوئے اور خود اپنی ٹیم کو رہنمائی دینا ہوگی۔یاد رکھنا ہوگا کہ وہ دوسروں پر سخت جارحانہ تنقید کرتے رہے ہیں، اور اب انھیں اپنے دامن کو ایسے تمام داغوں سے بچاکر چلنا ہوگا۔
مجھے خود اس بات کا تجربہ ہے کہ جب اگست ۱۹۷۸ء میں پلاننگ کمیشن میں بطور وزیر آیا تو وزارت میں جماعت اسلامی کے تین محترم رفقا پروفیسر عبدالغفوراحمد صاحب، محترم چودھری رحمت الٰہی صاحب اور محترم محمود اعظم فاروقی صاحب بھی پاکستان کی وفاقی کابینہ میں شامل تھے۔ پروفیسر غفورصاحب اور محمود اعظم فاروقی صاحب مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن میں اچھی گرفت اور تجربہ رکھتے تھے، لیکن ان کے برعکس میرا سارا علم کتابی اور تجربہ دعوتی کام کا تھا۔ چودھری رحمت الٰہی صاحب فوج میں رہے تھے اور پھر انھیں جماعت کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے انتظامی اُمور کو چلانے کا تجربہ بھی میسر تھا۔
اس تناظر میں ہمیں اندازہ ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد ایک دم کس طرح ایک نئی دنیا آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔ الحمدللہ ،ثم الحمدللہ ہم آٹھ نو ماہ تک حکومت میں رہے ہیں لیکن کوئی ایک مثال نہیں دی جاسکتی کہ ہمارے بیانات میں تضادات ہو یاہم نے قابلِ ذکر غلطیاں کی ہوں یا ہم نے جو فوری اقدامات کیے، وہ ندامت کا باعث بنے ہوں۔ دوسرا یہ کہ جماعت اسلامی نے ہماری تربیت کی تھی، چنانچہ ہم نے مشاورت میں ہمیشہ تحمل سے بات کی اور سنی بھی، اس طرح بولنے سے پہلے ہرمرحلے پر سوچا بھی کہ اس کے کیا نتائج ہوسکتے ہیں۔ پھر فوجی حکمرانی میں انتظامی حدود کے جو زمینی حقائق تھے، ان کو سامنے رکھ کر پھونک پھونک کر قدم رکھا اور پھر عمل کر کے دکھایا بھی کہ کس طرح کام ہوتا ہے۔
مجھے یہی توقع تھی کہ عمران خان بھی اپنے تجربات کی بنا پر ایسا کریں گے، لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ ۲۰۱۳ء سے جن مسائل و معاملات پر وہ یکسوئی سے بات کر تے رہے ہیں، ان سے وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹے ہیں۔ اس میں یہ دو تین چیزیں اہم ہیں: ایک یہ کہ ان کے سیاسی موقف کا بہت اہم حصہ یہ تھا کہ انتخابات جیتنے کی صلاحیت رکھنے والوں کے بارے میں دیکھنا ہوگا کہ وہ باصلاحیت ہوں اور ان کا دامن صاف ہو۔ ان کی اس بات میں بڑی اپیل تھی مگر عملاً وہ اس سے پیچھے ہٹے۔ دوسری طرف نوجوانوں نے آنکھیںبند کرکے ان کا ساتھ دیا ہے۔ یہ بہت بڑی قوت تھی اور ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں باصلاحیت افراد موجود ہیں۔ ریاست کی انتظامی مشینری میں بھی باصلاحیت اور اچھے لوگ موجود ہیں۔ میں نے خود پلاننگ کمیشن میں آنے کے بعد پہلا کام یہی کیا تھا کہ سب سے پہلے محنتی اور باصلاحیت افراد کی ٹیم بنائی تھی۔ اگر وہاں اچھی ٹیم نہ بناتاتوجو کچھ خدمات انجام دے سکا، وہ مَیں انجام نہ دے سکتا تھا۔ اس معاملے میں عمران خان توقعات پرپورا نہیں اُترے اور انتخابی کامیابی حاصل کرنے والے افراد کے چکّر میں، یا دوستیوں کی بنا پر وہ اس سے پیچھے ہٹے ہیں۔ حالاںکہ ان کا ایک خاص منصوبہ بھی رہا ہے کہ ایک ٹیم بنائی جائے۔ وہ جن لوگوں کو آگے لائے ہیں ان میں کچھ اچھے اور لائق لوگ بھی ہیں، ان کے نظریاتی کارکن بھی اور کچھ نوجوان بھی آئے ہیں لیکن ایک خاصی بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جن کی شہرت اچھی نہیں اور جن پر الزامات ہیں۔ ان کی وجہ سے ان کا عمومی تاثر خراب ہوا ہے۔
دوسری چیز جو پریشانی کا باعث رہی، ان کی سوچ اور گفتگو کا انداز ہے۔ انھوں نے تنقید کا جو انداز اپنایا اور جو الفاظ استعمال کیے، وہ ہماری اخلاقی اور تہذیبی روایات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اقتدار میں آنے کے بعد بھی اس چیزکو جاری رکھنا اگرچہ خواہ پہلے کی نسبت کم ہوا ہے، لیکن ان کا اوران سے بھی زیادہ ،ان کے ترجمانوں کا مخالفین پر تنقید کا انداز بہت نقصان دہ ہے۔
تیسری چیز یہ ہے کہ مشورے اور گہری سوچ کے بغیر اہم فیصلے کرنا اور اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ فیصلوں کا قبل از وقت اعلان کرنا ہے۔ یہ چیز انتظامیات کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیصلہ سازی اور شوریٰ کے اصول کے بھی خلاف ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ ہرمعاملے پر علی الاعلان اظہارِ خیال ان کی حکومت کا طرزِعمل بنتا جارہا ہے۔ ایک جانب جلدبازی میں فیصلوں کا اعلان کردیتے ہیں اور پھر اچانک فیصلہ بدل دیتے ہیں، جو باعث ِ ندامت ہوتا ہے۔ ڈپلومیسی ۹۰ فی صد خاموشی کا نام ہے اور ۱۰فی صد اس کا اظہار زبانی (vocal ) اور بہ آوازِ بلند (loud) ہوتا ہے۔ مگر عمران حکومت نے معاملہ اس کے اُلٹ کر دیا ہے۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ڈپلومیسی بھی ٹویٹر (tweeter) کی مرہونِ منت ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اڑھائی مہینے کے دوران میں عوام کی توقعات کو صدمہ پہنچا ہے۔
ان تمام کمزوریوں، خامیوں اور تضادات کے باوجود حکومت کرنے کا انھیں موقع دیا جائے۔ جو کام یہ ٹھیک کریں، اس کی تائید کی جائے، محض مخالفت براے مخالفت نہ کی جائے۔ البتہ جو کام پالیسی کے اعتبار سے غلط کریں، ان پر گرفت اور تنقید کی جائے، لیکن یہ تنقید بھی جارحانہ نہیں بلکہ تعمیری ہونی چاہیے، تاکہ اس سے معاملات میں بہتری آسکے۔ اس میں حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں کو اپنے رویوں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ ان کے درمیان باہمی رابطے اور افہام و تفہیم کی ضرورت ہے۔ اس وقت رابطے اور افہام و تفہیم میں دونوں کی طرف سے کوتاہی کا مظاہرہ دیکھنے میں آرہا ہے، لیکن حکومت کی طرف سے یہ بے نیازی زیادہ ہے۔ حکومت کو پہل کرتے ہوئے زیادہ بُردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اس وقت یہی دکھائی دیتا ہے کہ ہم ایک منقسم قوم ہیں اور مختلف سطحوں پر گروہ بندی (polarlization) کا شکار ہیں۔ جمہوریت میں اختلاف راے اور مسابقت اپنی حدود کے اندر رہنی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ قومی فریم ورک پر اتفاق بھی رہنا چاہیے۔ قومی فریم ورک کا دفاع اور اسے مضبوط کرنے کی کوشش، یہ سب کی ذمہ داری ہے۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ گروہ بندی سے نکلا جائے اور سخت نوعیت کی تقسیم کو ختم کیا جائے یا کم کیا جائے۔ باہمی رابطے کا راستہ اختیار کیا جائے اور یہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔
دوسرا مسئلہ اداراتی بحران کا ہے۔ کھلی آنکھوں سے دیکھا جائے تو صورتِ حال شدید اداراتی بدنظمی کا نوحہ سناتی ہے۔ مَیں اسے مکمل اداراتی ناکامی نہیں کہتا مگر یہ حقیقت ہے کہ اداروں پر اعتبار و اعتماد کی فضا موجود نہیں ہے۔ پارلیمنٹ، عدلیہ، فوج، انتظامیہ، میڈیا، سوشل میڈیا اس وقت بڑے بڑے مؤثر عوامل ہیں مگر یہ سب ایک سطح پر نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اپنا دستوری، سیاسی اور تہذیبی کردار خاطرخواہ طریقے سے ادا نہیں کر رہا۔ مداخلت، گروہ بندی ، لوگوں کو خریدنا، اپنی لابی بنانا، نان ایشوز کو ایشوز بنانا___ یہ انھی کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ نتیجہ ہے: ذہنی انتشار جو ہمارے دشمن اور عالمی اور علاقائی بحران پیدا کرنے والوں کے مقاصد پورا کرنے میں معاون بن رہا ہے۔ ’انسٹی ٹیوشنل ڈس لوکیشن‘ سے نکلنا اور اس کی اصلاح کی جائے۔
میری نگاہ میں آج بھی ملک میں معقول تعداد میں ایسے افراد موجود ہیں، جن کی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھاکر بہت کم وقت میں اداروں کو مؤثر اور متحرک کیا جاسکتا ہے۔ ہردائرے میں اچھے لوگ موجود ہیں بشرطیکہ ہم اپنی ذاتی پسند اور ناپسند سے بالا ہوکر انھیں اداروں میں لائیں اور ان کو اختیار دیں اور موقع بھی دیں۔ پنجاب میں اصلاحِ احوال کے لیے ایک ایسے باصلاحیت شخص کو لایا گیا جس نے خیبرپختونخوا میں پولیس کی اصلاح کے لیے ایک مؤثر کردار ادا کیا تھا، اور جسے سب نے سراہا تھا۔ لیکن پنجاب میں وہ ایک مہینے سے زیادہ چل نہ سکا۔ خیبرپختونخوا میں اپنی پسند سے جس شخص کو احتساب کے لیے مقرر کیا ، قانون بنایا اور حقیقت یہ ہے کہ وہ قانون نیب کے قانون سے اچھا تھا لیکن اس قانون پر کچھ عرصہ بھی عمل نہ ہوا اور پھر بالآخر وہ ادارہ ہی ختم کرنا پڑگیا۔ اس اداراتی بحران کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
تیسری چیز کرپشن ہے۔ کرپشن فی الحقیقت ایک بہت بڑی بیماری ہے، بہت بڑی لعنت ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، مقدار و معیار بھی دونوں اعتبار سے۔ اور بدعنوانی کی واردات میں ملوث افراد کے ہاں کرپشن کی نئی نئی صورتیں بھی سامنے آرہی ہیں۔ کرپشن برطانوی دورِغلامی میں بھی تھی۔ یاد رہے ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کی قائداعظم نے تمام معاملات سے پہلے کرپشن اور اقرباپروری، تنگ نظری، مگر عصبیت، گروہ بندی، لسانیت اور قومیت پرستی پر ضرب لگائی تھی۔ مگر افسوس کہ کرپشن اس کے باوجود آگے بڑھی ہے۔
پہلے ۱۰ برسوں میں شاذشاذ ہی مالی کرپشن ہوتی تھی۔ زمانۂ طالب علمی میں ہم لوگ فریئر روڈ کراچی پر رہتے تھے اور ساتھ ہی گورنمنٹ سیکرٹریٹ تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ان لوگوں کو دیکھاجنھوں نے توبہ کی اور عہد کیا کہ: ’’ہم نے انگریزکے زمانے میں رشوت لی تھی لیکن اب نہیں لیں گے کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے‘‘۔ کلرکوں نے قلم دوات تک اپنے پاس سے لا کر کام کیا ہے۔ یہ جذبہ تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ پرمٹوں کا چکّر، اقرباپروری، زمینیں، مہاجرین کے حقوق پر دست درازی اور بی ڈی ممبرسسٹم سے کرپشن بڑھتی چلی گئی۔ اس کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو صاحب کے زمانے میں صنعتی اداروں کو قومیا لیا گیا۔ اس سے اداروں میں سیاسی مداخلت زیادہ ہوگئی، جس نے مزید کرپشن کا راستہ کھول دیا اور خاص طور پر بے نظیر صاحبہ اور نوازشریف صاحب اور مشرف صاحب کے زمانے میں تو یہ اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں کرپشن تھی ضرور، لیکن اس نے وبائی شکل اختیار نہیں کی تھی، اس کے بعد یہ ایک وبا کی صورت اختیار کرگئی۔
ضرورت ہے کہ جہاں اور جب احتساب ہو، سب کا ہو۔ یہ بات بھی ضروری ہے کہ احتساب کے ذریعے انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔ احتساب کو سیاسی انتقام کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور نہ جمہوریت کو بچانے کے نام پر اپنی بدعنوانی پر پردہ ڈالا جائے یا ڈالنے کی اجازت دی جائے۔
اس حوالے سے موجودہ نیب کی کارکردگی افسوس ناک ہے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ موجودہ نیب اور اس سے پہلے کی نیب بھی وہ تھی جو مسلم لیگ نون اور پی پی کے مشورے سے بنی تھی۔ مَیں خود اس کے حق میں تھا کہ حزبِ اختلاف سے نیشنل اکائونٹس کمیٹی کا سربراہ ہونا چاہیے۔ گو، ہم ۱۸ویں ترمیم میں اسے لا نہیں سکے لیکن یہ ہماری خواہش تھی۔ اس کے بعد اس پر عمل ہوا اور چودھری نثار علی خاں نے اس پر بڑی محنت اور دیانت داری سے کام کیا۔ ان کے استعفے کے بعد پیپلزپارٹی نے بھی اس روایت کو اُس حد تک اور اُس سطح پر تو نہیں لیکن بہرحال اسے کچھ نہ کچھ قائم رکھا۔ اس کے بعد نوازشریف کے دور میں یہ بالکل غیرمؤثر ہوگئی اور صاف نظر آنے لگا کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی اور سب سے بڑھ کر نیب اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس طرح ان شبہات کو روز بہ روز تقویت مل رہی ہے کہ احتساب کے نام پر ایک دوسرے کو تحفظ دینے کے لیے کھیل کھیلا جا رہا ہے یا پھر بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ اپنا کام نکالا جاتا ہے اور پھر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایم کیو ایم جس طرح بنائی اور پالی پوسی گئی ، اسی طرح اسے تقسیم کیا گیا ہے۔ تاہم آج بھی اسے سیاسی درجۂ حرارت حسب ِ ضرورت بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور شاید آیندہ بھی استعمال کیا جائے گا۔ یہ بڑی پیچیدہ اور ملک کے لیے اور خود جمہوریت کے مستقبل کے لیے بڑی خطرناک صورتِ حال ہے۔
کرپشن کا خاتمہ اس طرح نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے نیب کے کردار پر اَزسرِنو غور کرنا ہوگا۔ نیب میں ایسے افراد لانا ہوں گے جو دیانت دارہوں، اہل اور باصلاحیت ہوں، اپنے شعبوں میں تخصص رکھتے ہوں، ہرطرح کے دبائو کو برداشت کرسکیں اور تفتیشی عمل اور عدالتی عمل کے جملہ مراحل میں مقدمے کو احسن طریقے سے پیش کرسکیں۔
محمد نواز شریف صاحب ، ڈاکٹر عاصم حسین، شرجیل میمن اور ایان علی وغیرہ کے مقدمات سامنے آئے ہیں۔ ان میں صاف نظر آتا ہے کہ ایک طرف تو چوٹی کے وکلا ہیں جو دفاع کر رہے ہیں اور دوسری طرف نیب کا وکیل یا پراسیکیوشن کمزور سے کمزور چیز لے کر آتا ہے اور اہم اور مضبوط چیزوں کی موجودگی کے باوجود دانستہ طور پر کیس کمزور رہتا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں کے میاں نوازشریف کے مقدمے کے سلسلے میں اصل فیصلے اور مشترکہ تفتیشی ٹیم کی کارروائی کی ۱۰ جلدوں کو دیکھیے تو بالکل دوسری تصویر سامنے آتی ہے، اور آخری فیصلے کو پڑھیے تو بالکل ہی مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ بلاشبہہ کرپشن اس ملک کا تیسرا اہم مسئلہ ہے اور اسے حل کرنا ازبس ضروری ہے مگر اس کے لیے بڑے حکیمانہ طریقِ کار، بالغ نظری اور غیر جانب داری کی ضرورت ہے۔
ملک کا چوتھا بڑا مسئلہ معیشت ہے۔ معیشت کے حوالے سے ہمارے ملک اور قوم میں بے پناہ صلاحیت ہے۔ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کے باوجود ہم ابھی تک محفوظ چلے آرہے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے بھی کمزور پالیسی اختیار کی تھی لیکن نوازشریف کے زمانے میں تو اس سے بھی زیادہ تباہ کن پالیسی اختیار کی گئی۔ قرض پر انحصار کیا گیا، میگا پراجیکٹس کے اُوپر، غلط ترجیحات، بروقت اقدامات سے غفلت،ہرمنصوبے کی اصل لاگت اور حقیقی لاگت میں زمین آسمان کا فرق، یہ سب چیزیں معاشی بحران کا سبب بنیں۔ پھر برآمدات گھٹتی اور درآمدات بڑھتی چلی گئیں اور ان کا فرق بھی ہرسال بڑھتا چلا گیا۔مالیاتی خسارہ، تجارتی خسارہ اور بین الاقوامی مالیاتی خسارہ ، یہ تینوں خسارے جس مقام پر پہنچ گئے ہیں، وہ بالکل ناقابلِ فہم ہیں۔
اس پہلو سے عمران حکومت کو بہت ہی مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF)کے حوالے سے نظریاتی اور قومی سطح پر میری راے یہی ہے کہ ہمیں اس کے چنگل سے نکلنا چاہیے، لیکن اب ملک جس معاشی دلدل اور دبائو میں پھنس چکا ہے، صاف نظر آرہا ہے کہ کچھ وقت کے لیے مجبوراً اس کا سہارا لینا پڑے گا۔ تاہم اس مسئلے میں حکومت کا طرزِعمل کوئی اچھا تاثر نہیں پیش کرہا۔ اس میں بالغ نظری اور بصیرت کہیں نظر نہیں آتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماہرین سے مشورہ کرکے ایک راستہ بنایا جائے۔ اس کے بعد Internal fiscal control (اندرونی مالیاتی کنٹرول)، ٹیکس ڈھانچے میں تبدیلی، لوگوں کی شرکت، مقامی وسائل کی دریافت اور ان کے استعمال، کرپشن کے خاتمے، برآمدات کے فروغ، زراعت کو اہمیت دینے، سمال انڈسٹری اور میڈیم انڈسٹری کی طرف توجہ، کاروباری طبقات کی شرکت وغیرہ۔ اس کے لیے فوری، درمیانے اور طویل درجے کے منصوبے بنائے جائیں۔
پلاننگ کمیشن، پیپلزپارٹی اور نواز شریف کے زمانے میں اور پھر مشرف کے دورِ حکومت میں ایک عضوِ معطل رہاہے۔ قومی پلاننگ کمیشن کو معاشی پالیسیوں کے حوالےسے حکومت کا دماغ اور مرکز ہونا چاہیے۔ جب تک آپ اس کو یہ حیثیت نہیں دیں گے، پلاننگ کمیشن اور وزارتِ خزانہ کے درمیان تعاون نہ ہوگا اور تمام معاشی وزارتوں میں ہم آہنگی نہ ہوگی تو اسٹیٹ بنک اپنا کردار ادا نہیں کرسکے گا۔ اسی طرح نیشنل اکنامک کونسل کا قیام اور اس کی صحیح رہنمائی میسر نہ ہوگی تو معاشی بحران پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ یہ تمام کرنے کی چیزیں ہیں۔
مَیں اب بھی یقین رکھتا ہوں کہ ہمیں ہرگز ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ چھے ماہ سے ایک سال کے اندر اندر ہم معاشی بحران سے نکلنے کے راستے پر آسکتے ہیں۔ پھر ہم اگلے چند برسوں میں ترقی کے راستے پر گامزن ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ صحیح اور ٹھیک اقتصادی پالیسی بنالیں۔
آخری بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنے وژن اور اپنی منزل مقصود کے بارے میں بہت واضح ہونا چاہیے اور اس کو سامنے رکھ کر ایک تسلسل سے جدوجہد کی ضرورت ہے۔
قومی زندگی میں انتخابات ہمیشہ ہی بنیادی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ انتخابات کو جمہوری نظام کے وجود اور ارتقا میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس ذریعے سے عوام حکمرانی کے نظام کی صورت گری اور قیادت کی تبدیلی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں، اور جن حکمرانوں کی کارکردگی سے وہ مطمئن نہیں ہوتے، انھیں نکال کر اپنی زمامِ کار بہتر لوگوں کے سپرد کر سکتے ہیں۔ دی اکانومسٹ نے جمہوریت کی اس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے بڑی جامع بات کی ہے کہ:
جمہوریت، انتخابی عمل سے بھی برتر چیز کا نام ہے، جس کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہیں: آزاد عدالتیں، گروہی تقسیم سے بالاتر ریاستی افسران کی موجودگی، مضبوط ریاستی ادارے، قانون کی عمل داری کے ساتھ ساتھ شفاف حقِ ملکیت، آزاد ذرائع ابلاغ، آئینی نظم و ضبط اور احتساب کا خودکار نظام کہ جو ہرقسم کے تہذیبی و نسلی تعصبات سے بالاتر ہو، اور جس میں خصوصاً اقلیتوں کے لیے احترام و برداشت کا اہتمام ہو۔ یہ سب بجا، لیکن ووٹروں کا یہ اختیار اور صلاحیت کہ وہ متعین وقفوں کے بعد ایسے افراد کو اُٹھا کر سیاست سے باہر پھینک سکتے ہیں ، جو بددیانت اور بدعنوان ہیں، جمہوریت کی ناگزیر شرط اور وجۂ جواز ہے۔(دی اکانومسٹ، لندن، ۲۴ ؍اکتوبر ۲۰۱۶ء)
۲۵ جولائی ۲۰۱۸ء کے انتخابات پاکستانی قوم کو ایک ایسا ہی تاریخی موقع فراہم کر رہے ہیں، جسے بھرپور انداز میں استعمال کرنا اہلِ وطن کی قومی اور دینی ذمہ داری ہے۔ حکومت پر تنقید بلکہ اس سے بے زاری، اپنے دُکھوں کے بارے میں اس کی بے حسی پر تڑپنا بجا، لیکن اصلاح اور تبدیلی کا راستہ محض شکایات کی تکرار اور آہ و فغاں میں نہیں ہے۔ اس کے لیے الیکشن کے موقعے پر صحیح اقدام اور مؤثر جدوجہد ضروری ہے۔اگر عام شہری اور ہر ووٹرصحیح وقت پر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا تو مثبت تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ اس تاریخی موقعے پر ہم قوم کے ہرفرد سے پوری دل سوزی سے اپیل کرتے ہیں کہ سوچ سمجھ کر اور اپنے ضمیر اور ایمان کے مطابق، ہرمفاد، تعصب اور جانب داری سے بلند ہوکر ملک و قوم کے مفاد میں ایسی قیادت کو بروے کار لانے کے لیے بھرپور کوشش کریں، جو ملک و قوم کو اُس تباہی سے نکال سکے کہ جس اندھے گہرے کنویں میں نااہل اور مفاد پرست خاندانی قیادتوں نے انھیں جھونک دیا ہے اور جس کے نتیجے میں ملک اپنے نظریے، اپنی آزادی و خودمختاری، اپنی تہذیب و ثقافت ہی سے دُور ہی نہیں جارہا،بلکہ عوام کی زندگی بھی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے۔
ملک کے معاشی حالات بدسے بدتر ہورہے ہیں، عوام کی اکثریت مشکلات سے دوچار ہے اور چند ہزار خاندانوں کی دولت و ثروت میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی ہورہی ہے۔ ملک کی دولت ملک سے باہر جارہی ہے۔ عام انسان بدسے بدتر حالت کی طرف جارہا ہے۔ آج پاکستانی برآمدات ۲۰ اور ۲۲؍ارب ڈالر سالانہ پر رُکی ہوئی ہیں ، جب کہ ہماری درآمدات ۵۰؍ارب ڈالر کی حد کو چھو رہی ہیں، اور تجارتی خسارہ ۳۰؍ارب ڈالر کی خبر لارہا ہے۔
ملک میں غربت کی شرح سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۳۰فی صد اور حقائق کی روشنی میں ۵۰ فی صد سے زیادہ ہے۔ ۸۰ فی صد آبادی کو صاف پانی میسر نہیں، ۴۰ فی صد سے زیادہ آبادی خوراک کے باب میں خودکفیل نہیں۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں عوام کے بڑے حصے کو میسر نہیں۔ برآمدات میں مسلسل کمی آرہی ہے اور صنعتیں بند ہورہی ہیں۔ زراعت کئی سال سے بحران کا شکار ہے اور حکمرانوں کو صرف اپنے اثاثے بڑھانے اور شاہانہ طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے میں دل چسپی ہے۔
صرف پچھلے دس برسوں میں ملک پر قرض کا بار ڈھائی گنا ہوگیا ہے۔ ۲۰۰۸ء میں پاکستان ۳۷؍ارب ڈالر کا مقروض تھا، جو ۲۰۱۸ء میں ۹۲؍ارب ڈالر کی حدوں کو پار کرگیا ہے۔ آج ہرنومولود بچہ ڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض پیدا ہورہا ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے اسٹیٹ بنک آف پاکستان اور ۱۲ماہرین کی تازہ ترین رپورٹ کی روشنی میں ہرسال تقریباً ۱۵؍ارب ڈالر ملک سے سرکاری طور پر باہر بھیجے جارہے ہیں اور تقریباً اتنی ہی رقم سالانہ ہنڈی کے ذریعے باہر جارہی ہے۔ ملک کو لوٹنے اور عوام کو اپنے ہی ملک کے وسائل سے محروم کرنے کے جرم میں ایک جماعت نہیں، گذشتہ ۴۰برس میں حکمران رہنے والی سبھی سول اور فوجی حکومتیں___ اور خصوصیت سے گذشتہ دس برس کے دوران حکمرانی کرنے والی حکمران جماعتیں اور ان کی قیادتیں شامل ہیں:
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے
وقت کی سب سے بڑی ضرورت اس خودپسند، مفادپرست اور کوتاہ اندیش قیادت سے نجات حاصل کرنا ہے، جس نے ملک و قوم کو اس حال میں پہنچا دیا ہے۔ انتخاب کا موقع ہی وہ راستہ فراہم کرتا ہے جس پر قوم اپنی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ اور اپنے وسائل کولٹیروں سے واپس لینے اور خود اپنے تصرف میں لانے کا کارنامہ انجام دے سکتی ہے۔ اس فیصلے کی گھڑی میں ضروری ہے کہ قوم ایک ایسی قیادت کو سامنے لائے، جس کا دامن داغ دار نہ ہو، جو اسلامی نظریے پر یقین رکھتی ہو اور حقیقی، اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست کو قائم کرنے کے جذبے اور صلاحیت سے مالا مال ہو۔ اگر قوم اس وقت اپنے اس اختیار کو استعمال نہیں کرتی تو محض روایتی آہ و بکا سے حالات ہرگز تبدیل نہیں ہوسکتے۔ یہ ہمارے اپنے مفاد اور ہماری آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کا تقاضا ہے اور یہی ان بے تاب روحوں کی پکار ہے، جنھوں نے تحریک ِ پاکستان کے دوران اپنے جان ومال اور عزت و آبرو کی قربانی دی۔ آج وہ پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ پاکستان کو بچانے اور اس کو مقصد ِ وجود کے مطابق بنانے کے لیے بھی اسی طرح جدوجہد کریں، جس طرح اسے قائم کرنے کے لیے کی تھی۔
ووٹ ایک امانت ہے اور اس امانت کو اس کے صحیح حق داروں کو سونپنے کے ہم ذمہ دار ہیں۔ ووٹ ایک شہادت اور گواہی ہے کہ ہم ایک شخص کو پاکستان کے اقتدار کی امانت کے باب میں امین تصور کرتے ہیں اور یہ امانت اس کے سپرد کر رہے ہیں۔ ووٹ کا غلط استعمال جھوٹی گواہی اور شرعی اعتبار سے امانت میں خیانت کے مترادف ہے، جس کے لیے دُنیا میں بھی ہمیں نتائج بھگتنا ہوں گے اور آخرت میں بھی جواب دہی ہوگی:
اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا۰ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ۰ۭ اِنَّ اللہَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِہٖ۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا۵۸ (النساء ۴:۵۸) مسلمانو، اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے، اور یقینا اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔
۱- قومی انتخابات قومی زندگی میں ایک فیصلہ کُن لمحے کی حیثیت رکھتے ہیں اور ووٹ کے صحیح استعمال کے ذریعے ہم اور آپ ملک میں حقیقی تبدیلی لاسکتے ہیں۔
۲- جمہوریت کے حقیقی فروغ کے لیے بہت سے اقدام ضروری ہیں جن میں قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، بنیادی حقوق کی ضمانت اور پاس داری، دستوری اداروں کا استحکام اور اس میں طے کردہ حدود (check and balance) کا اہتمام، شخصی حکمرانی سے اجتناب اور اصول و ضوابط کی پابندی اور احترام کے ساتھ ریاستی ذمہ داریوں کی ادایگی اور امانتوں کی حفاظت بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے لیے مقررہ وقت پر انتخابات کا انعقاد اور انتخاب کے موقعے پر ووٹر کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔
۳- ضروری ہے کہ ووٹر: (الف) اپنے حق راے دہی کو استعمال کرے۔(ب) دوسروں کو بھی ترغیب دے کہ وہ نکلیں اور اپنی ذمہ داری ادا کریں، اور(ج) اس ذمہ داری کو اللہ اور عوام دونوں کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ امانت داری سے استعمال کریں۔ خاندان، برادری، قومیت، گروہی عصبیت ، مفاد، ہر ایک سے بالاہوکر صرف ایک معیار پر فیصلہ کرے کہ پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی، جمہوری اور فلاحی مملکت بنانے کی خدمت کون سا فرد اور جماعت انجام دے سکتی ہے۔ ووٹ صرف اور صرف اس شخص اور جماعت کو دے، جو اپنے نظریے، کردار اور عملی کارکردگی (performance) کی بنیاد پر مطلوبہ معیار پر پورے اترتے ہوں، یا اس سے قریب تر ہوں۔ آزمائے ہوئے کو آزمانا کوئی دانش مندی نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔
پاکستان میں ووٹ کے استعمال کا تناسب بڑا غیرتسلی بخش ہے اور بدقسمتی سے برابر کم ہورہا ہے۔ ۱۹۷۰ء کے انتخاب میں ۶۴ فی صد ووٹرز نے ووٹ کا حق استعمال کیا تھا۔۱۹۷۷ء میں یہ ۶۲ فی صد ہوگیا۔جو ۱۹۹۰ء کے عشرے میں کم ہوکر۴۰ فی صد پر آگیا، یعنی نصف سے بھی کم، جب کہ اس زمانے میں بھارت میں یہ اوسط ۶۰ فی صد رہا ہے اور ترکی کے انتخابات (۲۴جون ۲۰۱۸ء)میں یہ تناسب ۸۷ فی صد رہا ہے۔ آج پاکستان میں نوجوان ووٹرز کا تناسب ۶۰ فی صد تک پہنچ چکا ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ نوجوان بڑی تعداد میں ووٹ کے لیے نکلیں، دوسروں کو نکالیں، تاکہ ووٹ کی قوت کو تبدیلی کے لیے مؤثرانداز میں استعمال کیا جاسکے۔
۲۰۱۸ء کے انتخابات کے ماحول پر نگاہ ڈالی جائے تو ان میں سے کچھ مثبت اور کچھ منفی چیزیں سامنے آئی ہیں، اور دونوں ہی کی روشنی میں ووٹر کو متحرک اور صحیح کردارادا کرنے کے لائق بنانے کی صحیح حکمت عملی اور پروگرام کی ضرورت ہے۔ بمشکل چند ہفتوں پر مشتمل اس وقت میں تحریک ِ اسلامی کے کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ ایک ایک لمحہ اس فیصلہ کن مہم کے لیے وقف کردیں۔
اسی طرح جو چیز بڑی پریشان کن ہے، وہ بحث و گفتگو کی سطح، انداز اور سیاسی جوڑ توڑ کا وہ آہنگ ہے، جو گذشتہ چند مہینوں میں تیزی سے پروان چڑھا ہے۔ انتخابات میں صرف چند ہفتے ہیں، مگر متحدہ مجلس عمل کے علاو ہ کسی ایک جماعت نے بھی ان سطور کے تحریر کیے جانے کے وقت (۲۸ جون ۲۰۱۸ء) تک اپنا منشور قوم کے سامنے پیش نہیں کیا ہے۔ ایک پارٹی نے منشور کی جگہ پہلے ایک سو دن کے پروگرام کا اعلان کیا۔ حالاں کہ سیاسی جماعتیں انتخابات سے پہلے منشور پیش کرتی ہیں اور کامیابی کے بعد کامیاب جماعت پہلے ۱۰۰ دن کا پروگرام دیتی ہے، لیکن اس مثال میں تو گھوڑا اور گاڑی دونوں گڈمڈ ہوکر رہ گئے ہیں۔
سیاسی قائدین کی تقریریں الزام تراشیوں سے پُر اور نظریے، پالیسی اور پروگرام کے ذکر سے خالی ہیں۔ جس سطحی بلکہ بازاری انداز میں تنقید اور مکالمہ ہو رہا ہے، اسے دیکھ ، سن اور پڑھ کر نگاہیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔ جس رفتار اور انداز سے سیاسی وفاداریاں تبدیل کی جارہی ہیں، اور پھر پارٹیوں میں اس کے نتیجے میں جس طرح کے ٹکرائو وجود میں آرہے ہیں، اور ایک دوسرے کی پگڑیاں اُچھالی جارہی ہیں وہ نہایت تکلیف دہ مشاہدہ ہے۔ بڑے فخر سے کہا جارہا ہے کہ ’نظریاتی سیاست کا دور ختم ہوگیا اور اب سارا کھیل منتخب ہونے والے چہروں (electables )کا ہے‘۔ اس سوچ کی پذیرائی جمہوریت کے مستقبل کے لیے کوئی نیک شگون نہیں ہے۔
ہم تمام سیاسی جماعتوں کی قیادتوں سے دل سوزی کے ساتھ اپیل کرتے ہیں کہ قومی سیاست کو اس سطح پر نہ گرائیں کہ یہ طرزِفکروعمل جمہوریت کے مستقبل کے لیے بڑا خطرناک ہوگا۔ بحث کا محور ملک کے حالات اور اس کو درپیش چیلنج ہونے چاہییں۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے پالیسی اور پروگرام توجہ کا مرکز ہونے چاہییں۔ جن چیزوں پر قومی اتفاق راے پایا جاتا ہے ان ایشوز کو متنازع بنانا، یا انھیں محدود سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنا دُور رس انتشار اور نقصان دہ نتائج کا باعث ہوسکتا ہے۔
ہربات کے کہنے کا ایک موقع اور محل ہوتا ہے، جس کو نظرانداز کرکے بات کہنا بڑے نقصان کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ پارٹیوں کے اندر مشورے کی محفلوں کی باتوں کو پبلک میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے طشت ازبام کرنا، کسی مہذب معاشرے کا شیوہ نہیں ہوسکتا۔ اسلام نے ہمیں نہ صرف تجسس اور بدگمانی سے منع کیا ہے، بلکہ محفل اور مجلس کی بات کو امانت سمجھنے کی تلقین بھی کی ہے اور تحقیق کے بغیر خبر پھیلانے کو افترا اور بدمعاملگی قرار دیا ہے۔ سورۃ الحجرات ان آداب کی تعلیم سے مالا مال ہے۔ یہ آیات اللہ کے احکام اور مسلم معاشرے کے آداب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آج ان ہدایات کو جس طرح پامال کیا جارہا ہے، اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہم کہاں جارہے ہیں؟
دو مسائل اور بھی ہیں، جن کی طرف ہم توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن ان پر گفتگو کرنے سے پہلے ہم چاہتے ہیں کہ چندا اُمور کو واضح کردیں، جن کی حیثیت پاکستانی قوم کے لیے مسلمات کی ہے اور ان کو متنازع بنانا ملک وقوم کے لیے تباہ کن ہوگا:
اس کی روشنی میں دستور کی دفعہ۴ ہر شہری کو قانون کا تحفظ اور قانون کے مطابق سلوک کی ضمانت دیتی ہے۔ لیکن اس کے فوراً بعد دفعہ۵ یہ مطالبہ کرتی ہے کہ: ’’مملکت سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے‘‘ اور یہ کہ ’’دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری، خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہروہ شخص جو فی الوقت پاکستان میں ہو (واجب التعمیل) ذمہ داری ہے‘‘۔
ایک طبقہ بڑے سوچے سمجھے انداز میں پاکستان کی اساس کو مشتبہ بنانے، اور اس کے بارے میں متنازع سوالات اُٹھانے کی مذموم کوشش کر رہا ہے اور خصوصیت سے انگریزی پریس کا ایک حصہ یہ کام بڑے تسلسل کے ساتھ کر رہا ہے۔ اس ضمن میں یہ شوشا بھی چھوڑا جارہا ہے کہ ’اب نظریاتی دور ختم ہوگیا ہے اور مادی ترقی، زندگی کا اصل ہدف ہے‘۔ آزادیِ اظہار سر آنکھوں پر اور علمی بحث و مباحثہ کا دروازہ بھی ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے، لیکن ریاست کی بنیادوں پر تیشہ زنی اور انھیں پامال کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی۔
دوسرا اہم مسئلہ احتساب کا ہے۔ احتساب جمہوریت کی روح اور حالات کو بگاڑ سے بچانے کے لیے ’سیفٹی والو‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’دین خیرخواہی کا نام ہے‘‘۔اور احتساب اس خیرخواہی کا لازمی حصہ ہے۔ آپؐ کا ارشادِ مبارک ہے: ’’اپنا احتساب کرلو، قبل اس کے کہ تمھارا احتساب کیا جائے‘‘۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کے اجتماعی نظام میں خوداحتسابی اور اجتماعی احتساب کا خودکار انتظام موجود ہیں۔ ’احتساب سب کا اور احتساب انصاف کے مسلّمہ اصولوں کے دائرے میں‘ اسلام کا تقاضا اور جمہوریت کی روح ہے۔ انصاف ہونا بھی چاہیے اور انصاف ہوتا نظر بھی آنا چاہیے۔ یہ ہیں وہ بنیادی مسلّمات، جن کے بارے میں اختلاف کی کوئی گنجایش موجود نہیں۔
بدقسمتی سے اس وقت وطن عزیز میں ایک ایسی فضا بنائی جارہی ہے کہ جس سے احتساب کا پورا عمل مشتبہ ہوکر رہ جائے۔ نیب (NAB: قومی احتساب بیورو) کی کارکردگی اور طریق پر ہمیں اور دوسرے بہت سے افراد کو شدید تحفظات ہیں۔ اس ادارے کو جس طرح جنرل پرویز مشرف نے شروع کیا اور پھر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکمرانی کے اَدوارمیں استعمال کیا گیا، وہ نہایت غیرتسلی بخش تھا۔ اگرچہ اِس وقت پہلے کے مقابلے میں صورتِ حال بہتر ہے، اس کے باوجود پُرانی بُری روایات کا سایہ نظر آتا ہے اور بلاتفریق احتساب کے دعوئوں کے باوجود جس طرح مرضی اور ترجیح کی بنیاد (pick and choose) پر احتسابی سلسلہ جاری ہے، وہ ناقابلِ اطمینان اور اصلاح طلب ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ نے احتساب کے عمل کو متحرک کرنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں، وہ لائق تحسین اور وقت کی ضرورت ہیں۔
اس پس منظر میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف صاحب اور ان کے خاندان کی جو گرفت ہورہی ہے، وہ صحیح سمت میں ایک قدم ہے، مگر بہت تاخیر سے اُٹھایا گیا ہے۔ احتساب کے اس عمل کو کسی خاص فرد یا جماعت تک ہرگز محدود نہیں ہونا چاہیے اور بلاتفریق ان تمام افراد اور خاندانوں کو قانون کی گرفت میں آنا چاہیے، جو گذشتہ برسوں میں حکمران رہے ہیں اور ان کا دامن داغ دار گردانا جاتا ہے۔ بہت سے مقدمات جو شروع تو کیے گئے،مگر پھر ان کو منطقی نتائج تک پہنچائے بغیر داخل دفتر کردیا گیا۔ درجنوں مقدمات ایسے ہیں، جو برسوں سے زیرغور ہیں، حتیٰ کہ کچھ لوگوں کو قیدوبند کے مراحل سے بھی گزرنا پڑا، لیکن صدافسوس کہ نہ تو یہ تفتیش مکمل ہوئی اور نہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا ۔ یہ انصاف کا خون ہے اور احتساب کے ساتھ مذاق۔
جہاں یہ ضروری ہے کہ احتساب کا عمل لازمی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھنا چاہیے، تفتیش پوری دیانت اور محنت اور پیشہ ورانہ انداز میں ہونی چاہیے، وہیں مقدمات کا فیصلہ بھی متعین وقت میں اور انصاف کی روح کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس سے احتسابی عمل پر بھروسا اور اعتماد بڑھے گا۔ اس کے نتیجے میں بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کا دروازہ بند ہوسکے گا، اور عوام کے وسائل محفوظ ہوسکیں گے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف ٹیکس کے بارے میں کم از کم چار ہزار ارب روپے سالانہ چوری ہورہے ہیں۔ عالمی بنک اور ہمارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اندازے کے مطابق موجودہ ٹیکس نظام کے تحت، جو سالانہ ٹیکس ۸کھرب روپے ہونا چاہیے، وہ اس سے نصف ہے۔ یہ اس صورت میں ہے، جب کہ ٹیکس نیٹ میں ۲۲کروڑ کی آبادی میں بلاواسطہ ٹیکس ادا کرنے واے صرف ۸لاکھ افراد ہیں،جب کہ موبائل ٹیلی فون استعمال کرنے والوں کی تعداد۱۵کروڑ ہے اور سمارٹ فون استعمال کرنے والے ساڑھے ۹ کروڑ ہیں، جن میں سے ۵۰ لاکھ کا سالانہ ٹیلی فون کا بل ۳۰ہزار سے زیادہ ہے۔ اندازاً ان کی سالانہ آمدنی ۲۰لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ پاکستانیوں نے جو جایدادیں دبئی اور دوسرے مغربی ممالک میں خریدی ہوئی ہیں اور جو بنک اکائونٹ سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور دبئی میں ہیں، ان کا کوئی حسا ب کتاب نہیں۔ حالیہ انتخاب کے موقعے پر جو نمایندے کھڑے ہوئے ہیں، ان میں ۲۷۰۰ اُمیدوار ایسے ہیں، جن پر بدعنوانی، کرپشن، اس نوعیت کے الزامات پر مقدمے چل رہے ہیں اور ۸۰۰؍ارب روپے کے خرد برد کے الزامات ہیں، مگر کسی احتساب کے بغیر انھیں انتخاب میں شرکت کی اجازت دینا عدل و انصاف کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔
اس پس منظر میں ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نوازشریف صاحب اوران کے خاندان پر جو الزامات ہیں، بار بار موقع ملنے کے باوجود اپنی صفائی پیش کرنے میں نہ صرف یہ کہ وہ ناکام رہے ہیں بلکہ انھوں نے اس احتساب کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کھلی کھلی کوشش کی ہے۔ ان کے وکلا نے عدالت کے واضح سوالات اور اپنے متضاد بیانات کی وضاحت کرنے کے بجاے بات کو اُلجھانے کی کوشش کی ہے۔ حد یہ ہے کہ انھوں نےاپنی صفائی میں دستاویزات یا گواہ لانے سے بھی احتراز کیا ہے۔
پارلیمنٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہر چیز کا ریکارڈ موجود ہے، ریکارڈ تو کیا اس کا ایک حصہ بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔ دو بار انھوں نے خود قوم اور پارلیمنٹ کے سامنے اپنی تقریروں میں کہا کہ ایون فیلڈ کے فلیٹ ابوظہبی سے حاصل ہونے والی رقم سے خریدے گئے۔ لیکن خریداری کا کوئی ریکارڈ بار بار کے مطالبے کے باوجود پیش نہیں کیا گیا۔ کوئی منی ٹریل نہیں دی گئی۔ نیب عدالت کے نصف سے زیادہ سوالوں کے جواب میں ’مجھے نہیں معلوم‘ یا ’مجھ سے نہیں، میرے بیٹے سے پوچھو‘ ارشاد فرمایا۔ دستاویزات اور ثبوت فراہم کرنے میں ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے بے جا طور پر عدلیہ اور فوج دونوں کو نشانہ بنانے اور اپنی مظلومیت کا بے جا غلغلہ بلند کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح سول قیادت اور ’اسٹیبلشمنٹ‘ جس سے مراد فوج اور اعلیٰ عدلیہ ہے، انھیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ ایک بڑی مذموم حرکت اور قومی مفادات کے خلاف جسارت ہے۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ فوج اور عدلیہ دستوری ادارے ہیں اور ملک کی سلامتی کا ستون ہیں۔ دوسرے اداروں کی طرح وہ بھی دستور کے تحت وجود میں آئے ہیں اور دستور کے دائرے ہی میں ان کی کارکردگی کو محدود ہونا چاہیے۔ دستور نے عدلیہ کو انسانی حقوق کے تحفظ، دستور کی پابندی اور عدلیہ کی آزادی اور اسلامی دفعات اور اسلامی قانون سازی کی پاس داری کے سلسلےمیں جو اختیارات دیے ہیں، ان کے دائرے میں ان کو اپنے فرائض انجام دینے چاہییں اور ’عدالتی مہم جوئی‘ (Judicial activism) اور ’عدالتی ضبط و احتیاط‘ (Judicial restrain) کے درمیان توازن قائم رکھنا چاہیے۔
اسی طرح فوج، ملک کی سلامتی اور سرحدوں کے تحفظ اور دستور کے تحت اپنی دوسری ذمہ داریوں کی ادایگی کی پابند ہے۔ ملکی سیاست میں مداخلت اور دستور سے ماورا کسی کارروائی کا اختیار اسے حاصل نہیں ہے۔ البتہ قومی سلامتی کے سلسلے اور خارجہ پالیسی کے امور کے بارے میں اس کی راے، احساسات اور تحفظات پر اسی طرح غور ضروری ہے جس طرح پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور تحقیقی اداروں کے خیالات سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ البتہ اس قومی ضرورت سے ماورا، ریاست میں فوج کی بلاواسطہ یا بالواسطہ مداخلت، اس کے فرائضِ منصبی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ البتہ یہ بات مستحسن ہوگی کہ فوج اور سول قیادت کے درمیان مشاورت اور قومی سلامتی کے اُمور کو مسلسل، مستقل اور اداراتی انداز میں انجام دیا جائے۔ قومی مفاہمت اور یک رنگی سے معاملات کو چلایا جائے۔ تمام ہی جمہوری ممالک میں اس کا اہتمام ہوتا ہے۔ تاہم، اس کی بنیاد پر سیاسی نظام میں مداخلت کا کوئی حق اور جواز نہیں۔
پروفیسر سیموئیل ہن ٹنگٹن نے فوج کے کردار کے بارے میں بڑی اہم کتاب ۱۹۵۷ء میں The Soldier and the State کے نام سے لکھی تھی۔ اس کتاب میں امریکا کی تاریخ اور خصوصیت سے دوسری جنگ ِ عظیم اور اس کے بعد فوج اور سول حکومت کے تعلقات پر بڑی گہرائی میں جاکر بحث کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ خود امریکا میں دوسری جنگ عظیم کے دوران فوج کا جو سیاسی کردار نمودار ہوا تھا، اسے جنگ کے بعد کس طرح، کس ترتیب سے اور کس حد تک قابو میں کیا گیا۔ اس طرح قومی سلامتی سے متعلق مختلف اُمور پر، فوج کی سوچ کے حوالے سے سیاسی ماہرین نے engagement (مشارکت)کا دل چسپ لفظ استعمال کیا ہے،جو جمہوری ممالک میں ایک معروف عمل ہے۔ ہن ٹنگٹن کے الفاظ میں یہ رشتہ کچھ اس طرح ہے:
A healthy society must preserve the autonomy of the military, while simultaneously integrated it into an important decision making role.
ایک صحت مند معاشرے کو فوج کی خودمختاری کا اس طرح تحفظ کرنا چاہیے کہ وہ اسے ساتھ ساتھ ایک اہم فیصلہ کرنے والے کردار کا حصہ بنادے۔
امریکا کی نیشنل سیکورٹی کونسل یہ اداراتی کردار ادا کرتی ہے اور پاکستان میں بھی یہ ادارہ کابینہ کی کمیٹی کی شکل میں ذمہ داری ادا کر سکتا ہے، جو ماضی میں مناسب انداز میں متحرک نہیں رہا۔
سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے جس طرح عدلیہ اور فوج کے خلاف محاذ کھولا ہے، وہ اپنے دُور رس مضمرات کے اعتبار سے بہت نقصان دہ اور خطرات سے بھرپور ہے۔بالکل اسی طرح فوج نے بھی پاکستان کی تاریخ میں سیاسی مداخلت کی بڑی بُری مثال قائم کی ہے۔ جس میں چار بار فوجی حکومت کا قیام ہماری تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اگرچہ دستور کی دفعہ۶ میں آیندہ کے لیے فوجی مداخلت کا دروازہ بند کیا گیا ہے، لیکن اصل دروازہ بند کرنے کا طریقہ محض قانون سازی نہیں ہے بلکہ مناسب اداروں کا قیام اور صحیح رویوں (attitudes) کا اختیار کیا جانا ہے۔ اس سلسلے میں سول اور فوجی قیادت دونوں کو نہ صرف سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے بلکہ مناسب مشاورت اور مشارکت کے ذریعے طریق کار اور حدودِ کار طے کرنی چاہیے۔
مَیں جہاں تک حالات کا تجزیہ کرسکا ہوں، فوج کی قیادت نے ابتدا ہی سے اپنا ایک کردار بنانے کی کوشش کی۔ اوّلیں دور میں یہ صرف فوجی قیادت کی اپنی سوچ تھی اور اس میں فوجی قیادت اور سول انتظامیہ (خصوصیت سے گورنر جنرل ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا) میں سازباز تھی۔ جنرل محمد ایوب خاں اور جنرل آغا محمد یحییٰ خان دونوں کا فوج نے ساتھ دیا، لیکن بظاہر فیصلہ صرف اُوپر کے چند جرنیل حضرات کا تھا، اور نظامِ حکومت میں فوج کا عمل دخل (involvement) محدود اور صرف اُوپر کی سطح تک محدود رہا۔
جنرل محمد ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے اَدوار میں محسوس ہوتا ہے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت بحیثیت فوجی قیادت اور فوج بحیثیت ایک ادارہ ان کے فیصلوں میں شریک ہوگئی۔ دوسرے دواَدوار میں فوج کی قیادت نے سیاست، انٹیلی جنس اور بڑے کاروباری منصوبوں میں بھی اپنے قدم جمالیے اور اس طرح ایک خاموش اداراتی تبدیلی واقع ہوئی۔جنرل محمد ضیاء الحق نے کئی مواقع پر خود مجھ سے اور دوسرے افراد سے کہا کہ: ’’فوج میرا حلقۂ انتخاب (constituency) ہے اور مجھے اس کی سوچ کا لحاظ رکھنا ہوتا ہے‘‘۔ گذشتہ دس برسوں میں الحمدللہ فوج کی کوئی براہِ راست سیاسی مداخلت تو سامنے نہیں آئی، لیکن بالواسطہ اثرانداز ہونے سے انکار ممکن نہیں۔ البتہ غورطلب مسئلہ یہ ہے کہ اس کردار کو کس طرح اور کس حد تک تبدیل کیا جائے اور اس میں مشارکت کا طریق کار کیا ہو؟
بلاشبہہ یہ کام اس براہِ راست ٹکرائو سے نہیں ہوسکتا، جو اس وقت نوازشریف نے اختیارکیا ہے اور یہ اس طریقے سے بھی نہیں ہوسکتا جو انھوں نے اپنے اقتدار کے اَدوار میں تسلسل سے اختیار کیا۔ جس طرح ہم فوج کی قیادت کے کردار کو قابلِ گرفت سمجھتے ہیں، اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کہ نوازشریف صاحب نے بھی منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے سول اور فوجی تعلقات کو صحیح سمت میں رواں دواں نہ رکھ کر فاش غلطیاں کی ہیں۔ آصف علی زرداری صاحب نے بھی اپنی صدارت کے دوران اپنی نام نہاد مفاہمتی حکمت عملی اور اپنی دوسری کمزوریوں کی وجہ سے حالات کو اصلاح کی سمت لانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
نواز شریف صاحب پہلے دن سے اپنے ہاتھوں میں مکمل اختیارات کے ارتکاز کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان کے اس طرزِفکر کا اندازہ اور تجریہ مجھے خود ان کے وزیراعظم بننے کے بعد ہی ہوگیا تھا، جب بارھویں دستوری ترمیم (۲۸جولائی ۱۹۹۱ء) میں انھوں نے یہ اختیار حاصل کرنا چاہا کہ وہ دستور کی جس شق کو جب چاہیں اور جتنے عرصے کے لیے چاہیں معطل کرسکتے ہیں۔ میں نے اور محترم قاضی حسین احمد مرحوم نے صاف لفظوں میں اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اوریہی ہمارے اور ان کے درمیان گہرے اختلاف اور بے اعتمادی کا آغاز تھا۔ لیکن ہم نے اس سلسلے میں مضبوط موقف اختیار کیا حالاں کہ وہ اس ترمیم کو کابینہ سے منظور کرا چکے تھے۔
نواز شریف صاحب سے دو دن اس امر کے بارے میں ہمارے تلخ و ترش مذاکرات ہوتے رہے۔ پھر ان کی کابینہ کے ارکان بھی اس میں شریک ہوئے۔ ہماری حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہی کہ مسلم لیگ کے بڑے بڑے لیڈرانِ کرام نواز شریف صاحب کے سامنے تو اس مجوزہ ترمیم کی تائید کرتے یا زیادہ سے زیادہ خاموش رہے، لیکن جنھیں اختلاف تھا، وہ بھی کھل کر بات کرنے سے احتراز کرتے تھے۔ کم از کم تین افراد نے بعد میں مجھ سے کھل کر کہا کہ: ’’ہم آپ حضرات کے ممنون ہیں کہ آپ اس پر ڈٹ گئے۔ ہم بھی ناخوش تھے مگر مخالفت نہ کرسکے۔ جنرل مجید ملک مرحوم نے سب سے پہلے یہ بات مجھ سے کہی،اور پھر وسیم سجاد صاحب اور حامد ناصر چٹھہ صاحب نے ملاقاتوں میں دُہرائی۔ یہ دونوں حیات ہیں اور ان شاء اللہ گواہی دیں گے کہ پنجاب ہائوس میں انھوں نے یہ بات کہی تھی۔ بہرحال صدر غلام اسحاق خاں صاحب بھی اس کے مخالف تھے، اس طرح بارھویں ترمیم سے نواز شریف صاحب کے من پسند حصے نکال دیے گئے۔
اس سے نواز شریف صاحب کے ذہن کو سمجھا جاسکتا ہے۔وزیراعظم کی حیثیت سے ہر دور میں ان کے اس مزاج کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ان میں بہت سی خوبیاں ہیں جن کا اعتراف نہ کرنا ناانصافی ہوگی، لیکن انانیت اور ہرچیز کو اپنی ذات کے گرد محصور کرلینا، ذاتی وفاداری کو اہمیت دینا اور فیصلوں میں من مرضی پر اڑ جانا ان کا امتیازی وصف ہے، جو شورائیت اور جمہوریت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سول اور فوجی تعلقات کو ان کے دور میں خراب کرنے میں اگر فوج کی قیادت کے رجحانات کا عمل دخل ہے، تو سول قیادت کی اس ذہنیت کا بھی اس میں کردار کچھ کم نہیں۔
محمد نوازشریف صاحب وہ واحد وزیراعظم ہیں، جنھوں نے چھے فوجی سربراہ مقرر کیے،اور پہلے سے ذمہ داری ادا کرتے ہوئے تین سربراہانِ فوج کے ساتھ بھی انھیں کام کرنا پڑا (سواے چند گھنٹوں کے لیے ضیاء الدین بٹ کے) ان کے تعلقات کسی بھی فوجی سربراہ سے خوش آیند نہیں دیکھے گئے۔فوجی سربراہ کے انتخاب میں بھی ذاتی پسند اور متوقع وفاداری کو اہمیت دینا خرابی کی بڑی وجہ بنی___اسی طرح فوجی سربراہ کو اس کی متعین مدت کے بعد توسیع دینا بھی بہت سے فتنوں کا باعث بنا ہے۔ میں نے اٹھارھویں ترمیم کے وقت بہت کوشش کی تھی کہ اس مدت (term) کو’ناقابلِ تجدید‘ (non-renewable) سے بدلوا لوں، لیکن مسلم لیگ (ن، ق) اور پیپلزپارٹی اس کے لیے تیار نہیں ہوئیں۔
اصلاحِ احوال کے لیے دونوں جانب سے پُرخلوص اور حکمت آمیز کوششوں اور تعاون کی ضرورت ہے۔ اور اس میں بھی کرپشن سے پاک، پُرعزم اور تعصبات سے بالاتر قیادت کا وجود ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ترکی کی مثال بڑی چشم کشا ہے۔ فوج جس نے ترکی کی آزادی کی جنگ لڑ کر عوامی جمہوریہ کو قائم کیا تھا۔ پھر تحریری طور پر اسے دستور کے محافظ ہونے کا کردار دیا گیا تھا۔ وہاں بھی فوج کے بار بار مارشل لا لگانے اور سول حکومت کو ناکوں چنے چبوانے، کھلی اور ڈھکی چھپی مداخلت کے باوجود، ایک اچھی سول قیادت نے اپنی کارکردگی اور حکمت عملی کے ذریعے فوج کو دستوری کردار سے فارغ کردیا، لیکن اسے سول نظام کی قیادت میں باعزت اور فعال (participting) انداز میں نظام کا حصہ بنالیا۔ جب جولائی ۲۰۱۶ء میں فوج کے ایک عنصر نے بغاوت کی کوشش کی تو جہاں عوام نے جان دے کر جمہوری اور سول نظام کا دفاع کیا، وہیں فوج کی عظیم اکثریت نے بھی سول نظام کا ساتھ دیا اور اس کے تحت کام کرنے کے راستے کو قبول کیا۔
مناسب حکمت ِعملی اور اداراتی اصلاح کے ذریعے اس نوعیت کا کام انجام دیا جاسکتا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کی سیاسی قیادت بدقسمتی سے ہردور میں ناکام رہی ہے۔ موجودہ انتخابات اس پس منظر میں ہورہے ہیں اور نئی قیادت کو اس نازک مسئلے کو بڑی حکمت اور مشاورت سے حل کرنا ہوگا۔
ان انتخابات کے سلسلے میں ایک اور پریشان کن پہلو سیاسی جماعتوں کے کردار کا ہے، جس میں متعدد پہلو ایسے ہیں جن پر تفصیل سے بحث کرکے اور قومی سطح پر باہم مشاورت سے حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں ہم چند اہم ترین پہلوئوں کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کریں گے:
۱- سیاسی جماعتوں میں جو خرابیاں اور کمزوریاں نمایاں ہوکر سامنے آرہی ہیں، ان میں سب سے اہم چیز نظریات، افکار اور وژن کی بنیاد پر پالیسیوں اور پروگراموں کی کمی ہے۔ علمی محاذ تو سبھی میں کمزور ہے اور تحقیق ناپید ہے۔ ماہرین سے استفادہ اور علم و تجربے کی بنیاد پر مسائل کا ادراک، ان کے مختلف حل کا جائزہ، عالمی حالات و رجحانات اور ملکی وسائل اور مسائل کا بے لاگ جائزہ لینے کی روایت موجود ہی نہیں ہے۔
۱۹۸۰ءکے عشرے تک کسی نہ کسی شکل میں نظریات پر مبنی پالیسیاں اور ان کے بارے میں بحث و مباحثہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے بعد یہ رجحانات کمزور پڑتے گئے۔ بلاشبہہ عالمی سطح پر بھی اس دور میں نظریات میں بڑا اُتار چڑھائو نظر آتا ہے اور مباحث کے رُخ بھی بدلتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں، حکومتی اداروں، حتیٰ کہ پلاننگ کمیشن تک نظر آتا ہے کہ فکری اور نظریاتی اعتبار سےیہ غیرمؤثر ہوگئے ہیں۔ کچھ برسوں سے وژن اور مستقبل بینی کے نام پر بھی جو دستاویزات پیش کی گئی ہیں، ان میں سرے سے حقیقی وژن ہی کا فقدان ہے۔ نظریے کے مقابلے میں شخصیت اور خاندان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس طرح اپنی فطرت اور اصل کے اعتبار سے بڑی پارٹیاں سیاسی، جماعتی اور فکری تحریکات کے بجاے ’پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں‘ بن کر رہ گئی ہیں۔
دینی جماعتوں کا معاملہ کچھ بہتر ہے، لیکن ان کے باب میں بھی اس امر کا جائزہ لینا چاہیے کہ شریعت کا نفاذ اور پارلیمنٹ سے اسلامی، جمہوری، فلاحی ریاست کا قیام تو ایک تسلسل سے ان کی ترجیح رہا ہے، لیکن ان اصولی اور آفاقی تصورات کو اپنے ملکی احوال اور عوام کے حالات، مسائل کے اُلجھائو اور توقعات کے پس منظر میں قابلِ عمل پروگرام کی ایسی شکل میں پیش کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ پروگرام ان کے دل کی آواز اور ان کو اجتماعی جدوجہد اور قربانی پر آمادہ کرنے کا ذریعہ بن جائے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک مثبت قوت اور ایک واضح منزل کا شعور اور پروگرام رکھنے کے باوجود، دینی قوتوں کے سامنے اس اخلاقی اور نظریاتی وژن (vision)کو سیاسی وزن (political weight & power) میں ڈھالنے کے لیے بڑے پیمانے پر ابلاغ (communication) اور پیش کاری (projection) کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
اس وقت قوم کو سب سے زیادہ توقع دینی جماعتوںاور خصوصیت سے تحریک اسلامی سے ہے کہ اس نے جس طرح دستور کی حد تک ایک جدید اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست کے بنیادی خدوخال کو دستور کا حصہ بنوایا، اسی طرح وہ اسے زندگی کے پورے نظام انفرادی، اخلاقی، اجتماعی، معاشی، معاشرتی اور تہذیبی، سب میدانوں میں واضح اہداف اور پالیسیوں کے ذریعے قائم کرنا چاہتی ہے۔
اصولی اور بنیادی باتیں بہت واضح انداز میں پیش کی گئی ہیں، لیکن جس تفصیل کے ساتھ، جس انداز میں اور جس زبان میں آج پیش آنے والے سوالات کی تشریحِ نو کی ضرورت ہے، اس باب میں اسی تسلسل سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔
۲- دوسرا سانحہ یہ ہے کہ قومی جماعتیں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے سکڑ کرمقامی جماعتوںمیں تبدیل ہوگئی ہیں۔ بڑی جماعتوں کا ارتکاز کسی ایک صوبے یا علاقے تک ہی محدود نظر آتا ہے، جب کہ علاقائی جماعتیں توہیں ہی مخصوص مفادات یا علاقوں کے لیے۔فیڈریشن کے مستقبل کا بڑا انحصار اور قومی یک جہتی کی بنیادی ضرورت قومی جماعتوں پر منحصر ہے، جن کے ہر علاقے میں اثرات ہوں اور وہ تمام صوبوں، علاقوں اور گروہوں کو مربوط اور منظم رکھ سکیں۔
۳- تیسری بنیادی چیز سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت اور شورائیت کا فقدان یا کمی ہے، دھڑے بندیاں ہیں،شخصیات یا خاندان وفاداریوں کے محور بن گئے ہیں۔جماعتیں نہ عمودی (vertical ) طور پر منظم ہیں اور نہ اُفقی (horizontal) سطح پر مربوط۔تنظیمی ڈھانچا اُوپر سے نیچے تک موجود نہیں ہے اور تربیت کا کوئی نظام نہیں ہے۔نئے لوگوں کو فکری اور تنظیمی اعتبار سے ضم کرنے کا عمل خام ہے۔ احتساب کا نظام مفقود ہے۔ لیڈرشپ سے ذاتی وفاداری کے نتیجے میں میرٹ اور اہلیت غیرمتعلق ہوکر رہ گئے ہیں، جس سے کارکنوں میں بددلی پیدا ہوئی ہے۔
۴- چوتھی چیز کرپشن کے موضوع پر پارٹیوں کا رویہ ہے۔ معاشرے میں شدید اخلاقی انحطاط ہے اور پارٹیوں کے اندر بھی کرپٹ عناصر کو نہ صرف برداشت کرنے بلکہ افسوس ناک حد تک انھیں پُرکشش (glamourize) کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ ذاتی اخلاق و کردار اور اجتماعی کردار اگر غیرمتعلق نہیں ہوگئے ہیں تو غیراہم ضرور سمجھے جارہے ہیں۔یہ بڑا ہی افسوس ناک اور خطرناک پہلو ہے۔ سیاست میں اصل قوت اخلاقی برتری اور کردار کی پختگی ہے۔ ہر دوسری کمی پوری کی جاسکتی ہے لیکن اگر امانت اور دیانت کا جوہر موجود نہ ہو تو اس کا کوئی متبادل نہیں۔ آج ہماری سیاست، سیاسی جماعتوں اور اجتماعی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ کرپشن اور بدعنوانی نہ صرف عام ہے بلکہ اس کا بُرا اور ناپسندیدہ سمجھا جانا بھی رفتہ رفتہ معدوم ہوتا جارہا ہے۔ یہ بہت بڑا سانحہ ہے۔ اگر اب بھی اس کی فکر نہ کی گئی تو پھر کوئی چیز ملک کو تباہی سے نہیں بچاسکتی۔ اگر ’ناخوب‘ ہی ’خوب‘ بن جائے تو پھر زندگی میں باقی رہ کیا جاتا ہے؟
ان حالات میں دینی جماعتوں اور خصوصیت سے تحریک ِ اسلامی کی ذمہ داری ہے کہ ایک صالح معاشرے کے قیام اور ایک صالح قیادت کو بروے کار لانے کے لیے مؤثر قومی اور کلیدی کردار ادا کرے۔ الحمدللہ، جماعت اسلامی کا دامن اس جدوجہد میں آج تک پاک رہا ہے۔ اس میں شخصیت پرستی اور موروثی سیاست کا کوئی وجود نہیں۔ جماعت کے اندر جمہوریت ہرسطح پر موجود اور مشاورت کا نظام قائم ہے۔ قیادت کا انتخاب ارکان کے آزادانہ انتخاب سے ہوتا ہے۔ غیر جانب دار محققین کے جائزے، اندرونی طور پر جماعت میں جمہوری اور شورائی نظام کی کارفرمائی کے معترف ہیں۔ حکومت یا حکومت سے باہر جہاں بھی جس حد تک بھی ذمہ داری اس پر آئی ہے، اس کے کارکنوں نے دیانت اور امانت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے ہیں۔ قومی اسمبلی، سینیٹ، صوبائی اسمبلی، صوبائی وزارتیں جہاں بھی ان کو ذمہ داری دی گئی ہے، ان کا ریکارڈ نمایاں اور بے داغ رہا ہے۔ جس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور مزید کی توفیق طلب کرتے۔
اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے سابق گورنر اور مشہور ماہر معاشیات ڈاکٹر عشرت حسین کی تازہ ترین کتاب: Governing the Ungovernable: Institutional Reforms for Democratic Government ابھی حال ہی میں اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس نے شائع کی ہے۔ اس سے دو اقتباس ہدیۂ ناظرین ہیں:
دو بڑی مذہبی سیاسی جماعتیں، جماعت اسلامی اور جمعیت علماے اسلام مختلف اطراف (sideline) سے آکر سیاسی منظر پر غالب آجاتی رہی ہیں، لیکن یہ دونوں قومی سطح پر کبھی کامیابی حاصل نہیں کرسکیں۔ بہترین نتائج انھوں نے اس وقت حاصل کیے جب تمام کی تمام چھے مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے ۲۰۰۲ء میں متحدہ مجلس عمل (MMA) بنائی اور صوبہ سرحد میں انتخابات جیت کر حکومت بنالی، اور بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت میں شامل ہوگئی۔
فی الوقت جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کی حکومت کا حصہ ہے، جب کہ جمعیت علماے اسلام وفاقی حکومت میں چند وزرا شامل کرانے میں کامیاب رہی ہے۔ جماعت اسلامی سب سے زیادہ منظم اور ضابطے کے تحت چلنے والی جماعت رہی ہے۔
افتخار ملک کے مطابق، پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا امتیازی وصف ان کی ’موقع پرستی کی سیاست‘ رہی ہے، جہاں ذاتی مفاد کو باہم شادیوں اور کاروباری مہم جوئی کے ذریعے مستحکم کرلیا گیا اور نظریہ پچھلی نشستوں پر دھکیل دیا گیا، سواے جماعت اسلامی کے، جو کہ ریاست کو اسلامی بنانے کے نصب العین سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔
’پاکستانی سیاسی جماعتیں اتحاد اور جوابی اتحاد بناتے ہوئے ان اخلاقی تقاضوں کا خیال نہیں رکھتیں۔ نسل در نسل حکومت کرتے، ۵۰ کے قریب خاندانوں کے ذاتی مفادات نے، جنھیں باہمی شادیوں اور کاروبار نے استحکام بخشا ہوا ہے، ہمیشہ موقع پرستی کی سیاست کو مسلط کیا ہے۔ یہ نظریاتی اختلافات، مسائل کا جائزہ اور اس کے حوالے سے رویے کا تعین، اور نظریات کا مقابلہ سیاسی جماعتوں سے پہلو بچاکر گزر جاتے ہیں، سواے جماعت اسلامی کے، جو ریاست کو اسلامی بنانے کا واضح نصب العین سینے سے لگائے ہوئے ہے۔
جماعت اسلامی کے ۸۱ سے ۸۹ سال کے بوڑھے میئر نعمت اللہ خاں، ایک ایسے ایمان دار فرد تھے جو زیرتکمیل کاموں کی مستعدی اور باقاعدگی سے نگرانی کرتے تھے، ان پر نظر رکھنے کے ساتھ لوگوں کی شکایات اور تکالیف کا ازالہ کرنے، اُن کی سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر، دانش مندی اور انصاف سے معاملہ کرتے تھے۔
اچھے لوگ بلاشبہہ، ہر جماعت اور ہرطبقے میں موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جماعتی اور گروہی عصبیت سے بلند ہوکر اصول، صلاحیت،کردار اور میرٹ کی بنیاد پر اچھی قیادت کو برسرِاقتدار لایا جائے، تاکہ زندگی کا نقشہ بدل سکے اور پاکستان کو صحیح معنوں میںایک جدید اسلامی، جمہوری، فلاحی ریاست بنایا جاسکے۔ یہ کام ایک دن میں نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے اور اس سمت میں ایک مؤثر قدم اپنے ووٹ کے ذریعے ۲۵جولائی کو اُٹھایا جاسکتا ہے۔ آج پاکستان کو اُسی جذبے اور اسی نوعیت کی تحریک اور جدوجہد کی ضرورت ہے جیسی قائداعظم کی قیادت میں ۴۷-۱۹۴۰ء میں مسلمانانِ پاک و ہند نے کی تھی۔ کیا پاکستانی قوم اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار ہے؟ مستقبل کا انحصار آپ کے اور ہمارے آج کے فیصلے پر ہے:
یا مُردہ ہے یا نزع کی حالت میں گرفتار
جو فلسفہ لکھا نہ گیا خونِ جگر سے
اور:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دُنیا کی امامت کا
(کتابچہ منشورات ، منصورہ سے دستیاب ہے۔ قیمت: 13 روپے ، سیکڑے پر خصوصی رعایت۔ فون: 042-35252211)
ضبط ِگریہ تو ہے پر دل پہ جو اِک چوٹ سی ہے
قطرے آنسو کے ٹپک پڑتے ہیں دو چار ہنوز
جس طرح دن ایک حقیقت ہے، اسی طرح رات بھی ایک حقیقت ہے۔ روشنی اور تاریکی، سپید و سیاہ ، سکون و اضطراب، بہا ر و خزاں، شیریں و تلخ، یہ سبھی زندگی کے حقائق ہیں، اور قافلۂ زندگی ان تمام مراحل سےدوچار رہتا ہے۔ زندگی نام ہی نشیب وفراز سے گزرنے کا ہے۔
کارخانۂ قدرتِ حق ایک صورت کو دوسری صورت سے بدلنے میں ہمہ وقت مصروف ہے اور انسان کا اصل امتحان اسی دھوپ چھائوں کے درمیان رازِ حیات کی تلاش و جستجو میں ہے۔ گردشِ لیل و نہار کی اصل اہمیت یہی ہے کہ یہ جانا جائے کہ ہر تبدیلی کے مقابلے میں انسان کا کیا ردعمل ہوتا ہے۔ آیا وہ بھی ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ ہوا کے رُخ کی سمت میں اُڑنا شروع ہوجاتاہے، یا اپنے نہ بدلنے والے مقاصد ِ حیات کی خدمت کے لیے نیا عزم اور نیا راستہ تلاش کرنے کی جستجو میں مصروف ہو جاتاہے۔
ہرتبدیلی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ مرورِ ایّام کی ہر کروٹ کارزارِ زندگی میں کچھ نئے میدانوں کا اضافہ کرتی ہے۔ لیل و نہار کی ہر گردش ایک نئی آزمایش کا باب کھولتی ہے۔ اصل اہمیت زمانے کی اس گردش کی نہیں، بلکہ اس ردعمل کی ہے جو اس کے نتیجے میں رُونما ہوتا ہے اور انسان کے بلند عزم یا پست ہمتی کا پتا اسی ردعمل سے چلتا ہے۔ گردش لیل و نہار کے اس پہلو کا مطالعہ ہدایت ربّانی کی روشنی میں کیا جائے تو بڑے اہم، سبق آموز اور ہوش ربا پہلو نگاہوں کے سامنے آتے ہیں۔
O
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّہَارِ وَيُوْلِجُ النَّہَارَ فِي الَّيْلِ (لقمٰن۳۱:۲۹) کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں؟
روشن دن کا رات کی آغوش میں دم توڑ دینا اور پھر تاریک رات کے بطن سے روشنی ٔ سحر کا رُونما ہونا ربِّ جلیل و کریم کی قدرت اور اس کے اقتدار کی دلیل ہے اور سوچنے سمجھنے والوں کے لیے ایک نشانی بھی۔ یہ کائنات کے قوانین اور زمانے کی گردش کی آئینہ دار ہے اور خود انسانی زندگی اور معاملات کے لیے اس میں عبرت ، بصیرت اور رہنمائی کے بے شمار پہلو اور اسباق پوشیدہ ہیں:
يُقَلِّبُ اللہُ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ ۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ۴۴ (النور ۲۴:۴۴) رات اور دن کا اُلٹ پھیر وہی [اللہ] کر رہا ہے۔ اس میں ایک سبق ہے، آنکھوں والوں کے لیے۔
قرآن کا یہ خاص اسلوب ہے کہ وہ ایک معلوم و محسوس چیز کی طرف توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ایسی چیز جو ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے، جو ہمارے لیے اتنی واضح اور بیّن ہے کہ ہم اس پر سے یونہی گزر جاتے ہیں۔ قرآن کریم ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم کائنات کی ان نشانیوں پر سے یونہی نہ گزر جائیں، بلکہ ایک لمحہ توقف کر کے ان پر غور کریں اور دیکھیں کہ تفکّر و تدبر کے بے شمارگوشے وہ اپنے دامن میں لیے ہوئے ہیں۔ دن اور رات کی آمدورفت، جو ہمارے لیے بس ایک روز مرّہ کی سی حیثیت اختیار کرچکی ہے،کوئی بے معنی شے نہیں ہے۔ اس کے دامن میں عبرت و معرفت کے دفتر پنہاں ہیں۔ قرآن پاک اس نگاہ کوبیدار کرنا چاہتا ہے، جو گردش لیل و نہار کے پیچھے کام کرنے والی قوتوں کو دیکھ اور سمجھ سکے اور انسان اس علم و بصیرت کی روشنی میں ایک دانش مندانہ رویہ اختیار کرسکے۔
’’رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کو لانا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ کسی کی طاقت نہیں کہ رات میں دن ظاہر کردے یا دن میں رات نمودار کردے، یا ان کی آمدوشد میں منٹ یا سیکنڈ کا فرق ہی پیدا کردے۔ فرمایا کہ ان تمام باتوں کے اندر، اہلِ نظر کے لیے بڑا سامانِ عبرت ہے۔ ’عبرۃ‘ کا مفہوم ایک حقیقت سے دوسری حقیقت تک عبور کر جانا [بھی]ہے، یعنی جو لوگ وہ نظر رکھتے ہیں، جو ظاہر کے اندر باطن اور جزئیات کے اندر کلیات کو دیکھنے والی ہے، ان کو اِن مشاہدات کے بعد اس بات میں ذرا بھی شک باقی نہیں رہ سکتا کہ یہ کائنات ایک خداے حکیم و قدیر کی بنائی ہوئی ہے، جو اس ساری کائنات پر یکّہ و تنہا حاکم و متصرف ہے۔ اس وجہ سے تنہا وہی حق دار ہے کہ اس کی عبادت و اطاعت کی جائے۔ یہ امرملحوظ رہے کہ ’عبرۃ‘ انسانیت کا اصلی جوہر ہے۔ اگر یہ جوہر کسی کے اندر نہیں ہے تو وہ انسان نہیں بلکہ حیوان ہے، اور جو آنکھ ظاہر کے اندر باطن نہ دیکھ سکے وہ کور ہے۔(تدبر قرآن، ج۵، ص ۴۲۱)
قطرے میں دجلہ کھائی نہ دے اور جزو میں کُل
کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدئہ بینا نہ ہوا
’’گردش لیل و نہار کے نظام پر غوروفکر، قرآنِ مجید کا ایک اہم موضوع ہے۔ رات اور دن کے بدلنے کا یہ نظام مسلسل چل رہا ہے اور اس کے اندر ایک لمحے کا تغیّر و تبدل رُونما نہیں ہوا ہے۔ اس سے وہ ناموسِ کائنات اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے، جو اس کائنات میں کارفرما ہے۔ اس ناموسِ کائنات پر غوروفکر سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس باریکی کے ساتھ اس نظام کو چلا رہا ہے۔ قرآنِ کریم اپنے مؤثر اندازِ بیان کے ساتھ ان مناظر کے ان اثرات کو تازہ کردیتا ہے، جو بالعموم مانوس ہونے کی وجہ سے انسانی ذہن اور یادداشت سے مٹ گئے ہوتے ہیں۔مگر آیاتِ قرآنی کے مطالعے کے بعد انسان ان مناظر کو ایک نئے احساس کے ساتھ دیکھتا ہے اور ہربار ان سے بالکل نیا تاثر لیتا ہے۔ ذرا یہ بات ذہن میں لایئے کہ اگر انسان گردش لیل و نہار کو پہلی مرتبہ دیکھے تو اس کا تاثر کیا ہو؟ لیکن انسانی احساس اور اِدراک، دن اور رات کی گردش کے مناظر کو دیکھتے دیکھتے بجھ سا گیا ہے، حالاں کہ رات اور دن کے اس نظام نے اپنی خوب صورتی اور انوکھے پن میں کسی چیز کی کمی نہیں پیدا ہونے دی۔ درحقیقت جب انسان اس کائنات پر سے غافلوں کی طرح گزر جاتا ہے تو وہ زندگی کی ایک بڑی مسرت اور خوشی کو گنوا دیتا ہے، اس طرح اس کائنات کی حقیقی خوب صورتی اس کی نظروں سے اوجھل ہوکر رہ جاتی ہے۔ قرآن عظیم کا یہ کمال ہے کہ وہ ہماری بجھی ہوئی حِس کو تازہ کردیتا ہے، اور ہمارے چھپے ہوئے شعور اور خوابیدہ احساسات کو تجدید و توانائی بخشتا ہے۔ ہمارا سرد مہر دل پُرجوش اور ہمارا کُند وجدان تیز تر ہوجاتا ہے۔ پھر ہم کائنات کو یوں دیکھنے لگتے ہیں کہ گویا ہم نے اس کائنات کو پہلی مرتبہ دیکھا ہو۔ پھر ہم اس کائنات کے مظاہر پر غور کرتے ہیں۔ پھر ہمیں نظر آنے لگتا ہے کہ دست ِ قدرت ہرجگہ کام کر رہا ہے۔ ہمارےماحول کی ہرچیز میں اسی خالق و مالک کی صنعت کاری ہے اور اس کائنات کی ہرچیز میں اسی پروردگار کے نشانات روشن ہیں، اور ہمارے لیے عبرتیں ہی عبرتیں ہیں___اللہ تعالیٰ ہم پر یہ کتنا بڑا احسان فرماتا ہے کہ جیسے ہی ہم اس کائنات کے مناظر میں سے کسی منظر پر غور کرتے ہیں، تو ہمیں ایک حیاتِ تازہ مل جاتی ہے۔ ہمیں اس کائنات کی ہرچیز کے بارے میں ایک نیا احساس اور ایسی مسرت ملتی ہے کہ گویا ہم اس منظر کو پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔ اگر حساس نگاہوں سے دیکھا جائے تو یہ کائنات بہت ہی خوب صورت ہے اور ہماری فطرت، فطرتِ کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ فی الحقیقت ہماری فطرت اس سرچشمے سے پھوٹی ہے، جس سے اس کائنات نے وجود پایا۔ جب ہم اس کائنات کی روح سے پیوست ہوجاتے ہیں، تو ہمیں عجیب اطمینان و سکون نصیب ہوتا ہے۔ خوشی، محبت اور طمانیت ملتی ہے، بالکل اسی طرح ، جیسے کوئی شخص براہِ راست اپنے محبوب سے مل جائے۔
’’اس کائنات کی گہری معرفت کے نتیجے میں، ہمیں اس میں اللہ کا نُور نظر آتا ہے اور یہی ہے مفہوم اللہ کے نور سماوات والارض ہونے کا۔ جب ہم اپنے وجود، اپنے نفس اور اس کائنات کا گہرا مشاہدہ کرتے ہیں، تو اس میں ہرجگہ، ہرسمت اللہ کا نُور نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم بار بار ہمیں توجہ دلاتا ہے کہ ہم اس کائنات کے روز مرہ مناظر کو ذرا گہرے غوروفکر کے ساتھ دیکھیں۔ قرآن دعوت دیتا ہے کہ: اُن مظاہر اور مناظر پر سے غافل لوگوں کی طرح نہ گزر جائو آنکھیں بند کرکے، کیوں کہ اس دنیا میں تمھارا یہ سفر نہایت بامقصد ہے۔ یہاں سے کچھ لے کر جائو، لیکن افسوس: انسان ہیں کہ خالی ہاتھ جارہے ہیں‘‘۔(فی ظلال القرآن، ترجمہ: معروف شاہ شیرازی، ج۴، ص۹۲۲، ۹۲۳)
وَہُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا۶۲ (الفرقان ۲۵:۶۲) وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہراس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے یا شکرگزار ہونا چاہے۔
اَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُوْا فِيْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۸۶ (النمل ۲۷:۸۶) کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا؟ اس میں بہت سی نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے، جو ایمان لاتے تھے۔
ان آیات پر غور کرنے سے جہاں گردش لیل و نہار کی طبیعی اور اخلاقی حکمتوں کا علم ہوتا ہے۔ وہیں ہمیں غوروفکر کا ایک اسلوب بھی ملتا ہے، جس کے ذریعے ہم صرف دن اور رات ہی کی گردش نہیں، بلکہ گزرتے ہوئے زمانے کے برسوں، مہینوں، دنوں حتیٰ کہ لمحوں کی ہر کروٹ پر بصیرت کی نگاہ ڈال سکتے ہیں۔ اس سے عبرت کے درس حاصل کرسکتے ہیں اور حال و مستقبل کی تعمیر کے لیے روشنی اور رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔
رات صرف تاریک نہیں ہوتی ، بلکہ قدرت کے اس نظام میں اس کا بھی بڑا اہم وظیفہ ہے۔ اور دن صرف روشن ہی نہیں ہوتا، اس روشنی کے پہلو بہ پہلو بہت سے سایے بھی ہوتے ہیں، جو کچھ حلقوں کو سورج کی روشنی کے باوجود دامِ سیاہ میں گرفتار رکھتے ہیں، اور کچھ انسانوں کے لیے کمرِہمت کسنے کی دعوت اور گوشۂ آرام طلبی کو مسترد کرنے کی پکار بن جاتے ہیں۔ قرآن کریم جہاں ان حقائق زندگی سے ہمیں بلند تر اخلاقی حقائق کو سمجھنے کی دعوت دے رہا ہے، وہیں ہمیں یہ تعلیم بھی دے رہا ہے کہ اس نقطۂ نظر سے زندگی کے چند در چند پہلوئوں اور زمانے کی ہر گردش پر نگاہ ڈالیں اور ان اخلاقی حقائق کو سمجھیں، جو سطح بین نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل رہتے ہیں۔
O
دن اور رات اور ماہ و سال کی یہ گردش ہمیں اس حقیقت کا احساس بھی دلاتی ہے کہ تبدیلی اور تغیّر محض کوئی ماضی کے واقعات یا اتفاقی حادثات نہیں ہیں، بلکہ فطرت کا ایک قانون ہیں۔
’ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں‘۔ زندگی نام ہی تبدیلیوں کا ہے۔ یہ تبدیلیاں خوش آیند بھی ہوسکتی ہیں، ناپسندیدہ بھی۔ بلندی کی سمت میں بھی ہوسکتی ہیں اور پستی کی طرف بھی۔ ان سے روشنیوں میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اور تاریکیوں میں بڑھوتری بھی۔ یہ تعمیر کی راہ ہموار کرنے والی بھی ہوسکتی ہیں اور اس راہ میں کانٹے بکھیرنے والی بھی۔لیکن جس کی نگاہ زندگی کے حقائق پر ہے، وہ ان میں سے کسی تبدیلی پر بھی قناعت کرکے نہیں بیٹھ جاتا۔ نہ ’خیر‘ کی سمت میں کوئی کامیابی اس میں غلط بھروسا، غرّہ یا غفلت پیدا کرتی ہے اور نہ ’شر‘ کے کسی جھونکے کا وقتی غلبہ اس میں مایوسی، ہمت شکنی اور بے کیفی کا کہرام برپا کرتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ شمع کی لَو جتنی تیز ہوگی اور روشنی کا ہالہ جتنا بڑھے گا، تاریکیوں سے مقابلے کا میدان بھی اتنا ہی وسیع سے وسیع تر ہوجائے گا۔{ FR 1133 } اور حق و باطل کی کشمکش کا دائرہ بھی اتنا ہی بڑھ جائے گا۔ حق و باطل کی اس کشمکش میں ذرا سی غفلت بھی بے پناہ گھاٹے اور نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی طرح اگر کبھی ایسے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، جو ناخوش گوار اور ناموافق ہیں، تو اسے یہ یقین رہتا ہے کہ اس ناخوش گوار حالت کو دوام حاصل نہیں ہوسکتا۔ یہ قابلِ تغیّر ہے اور اسے بدلنے کی کوشش ہی ایک صاحب ِ بصیرت کے لیے کرنے کا کام ہے۔ وہ مایوسی کا شکار نہیں ہوتا اور وقت کے آگے ہتھیار نہیں ڈالتا ۔ وہ کسی ایک تبدیلی کو بھی مستقل اور دائمی نہیں سمجھتا، بلکہ تاریخ کی طول طویل شاہراہ پر نگاہ ڈال کر صاف صاف نشانِ منز ل دیکھ لیتا ہے۔
وقت، تاریخ اور زمانے کے تغیّرات کا یہ شعور انسان کے لیے بڑا قیمتی سرمایہ ہے اور شب و روز کی گردش کا ہرلمحہ اسی کا درس دیتا ہے۔ اگر یہ احساس نہ ہو تو انسان نہ کامیابیوں میں علم اور برداشت کا مظاہرہ کرسکے اور نہ ناکامیوں میں صبر اور وقار کا اظہار۔ نہ فتح مندیاں اس کا دماغ خراب کردیں اور نہ شکستیں اس کا کلیجہ پھاڑ دیں۔ نہ اچھے حال میں وہ راہِ اعتدال پر قائم رہ سکے اور نہ بُرے حال میں وہ خودشکنی و خودکُشی کی راہ پر دوڑ پڑے۔ اسی گردشِ ایام پر غوروفکر انسان میں شعورِ زمان (Time Consciousness)پیدا کرتا ہے اور اسے یہ سکھاتا ہے کہ وہ محض ایک لمحہ حال (Moment in Time)میں زندگی نہ گزارے بلکہ پورے جادئہ وقت (Time Stream) کو اپنی نگاہ میں رکھے۔ اسلام صبر، قناعت، شکر اور مجاہدے کی جن اقدار کا درس دیتا ہے، ان کو صرف اسی ذہنی پس منظر میں سمجھا جاسکتا ہے اوراسی فضا میں ان پر عمل ہوسکتا ہے۔
O
قرآنِ پاک میں رات کی آمد کو ایک ایسا واقعہ قرار دیا گیا ہے، جس سے ذہن کو فوری طور پر اس خالقِ لیل و نہار کی طرف رجوع کرنا چاہیے، جس کے قبضۂ قدرت میں ہر شے ہے اور جس کی مرضی کے بغیر زمانے کی سطح پر کوئی جنبش نہیں ہوتی:
وَاٰيَۃٌ لَّہُمُ الَّيْلُ۰ۚۖ نَسْلَخُ مِنْہُ النَّہَارَ فَاِذَا ہُمْ مُّظْلِمُوْنَ۳۷ۙ (یٰسین۳۶:۳۷) اور ان کے لیے ایک نشانی رات ہے ، ہم اس کے اُوپر سے دن ہٹادیتے ہیں تو ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔
قدرتِ الٰہی سے روشن زمین و آسمان پر تاریکی کا پردہ غالب آجاتا ہے اور انسان نیچے، اُوپر، دائیں بائیں غرض ہر سمت میں تاریکی ہی تاریکی کو غالب پاتا ہے۔
انسان اس تاریکی سے نیند کی آغوش میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ دوسری آیت ِ قرآنی انسان کو اس کے ربّ کی قدرت اور اس کے اقتدار و اختیار کا احساس دلاتی ہے:
وَہُوَالَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّہَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْہِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى۰ۚ ثُمَّ اِلَيْہِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۶۰ۧ (الانعام ۶:۶۰) وہی ہے جو رات کو تمھاری روحیں قبض کرتاہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے، پھر دوسرے روز وہ تمھیں اسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقررہ مدت پوری ہو۔آخرکار اسی کی طرف تمھاری واپسی ہے، پھر وہ تمھیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو؟
ان قرآنی آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رات اور دن کی یہ گردش اس ابدی سچائی جاننے اور پہچاننے کی دعوت دیتی ہے کہ اس کے پیچھے جو قوت کارفرما ہے، اُسے سمجھا جائے اور جن مقاصد کے لیے وہ رفتارِ زمانہ میں یہ تبدیلیاں کر رہا ہے، ان کو پورا کرنے کی سعی کی جائے۔ رات محض تاریکی کا ایک پردہ نہیں، دراصل یہ ایک مہلت ہے جو اس ہستی کی طرف سے انسان کو ملتی ہے، جس کے ہاتھ میں انسانوں کی جان ہے، جس میں وہ ہمیں کاروبارِ حیات سے کھینچ کر اس حالت میں لے آتا ہے،کہ جس میں محنت اور جدوجہد کے دوران صرف کی ہوئی قوت کو بحال کیا جائے اور پھر دوبارہ کاروبارِ عالم کی طرف انسانوں کو بھیج دیا جائے۔ اس حقیقت کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے کہ:
وَہُوَالَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا وَّالنَّوْمَ سُـبَاتًا وَّجَعَلَ النَّہَارَ نُشُوْرًا۴۷ (الفرقان ۲۵:۴۷)وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمھارے لیے لباس، اور نیند کو سکونِ موت اور دن کو جی اُٹھنے کا وقت بنایا۔
۱- یہ گردش لیل و نہار بے مقصد نہیں ہے۔ اس کو سطحی نظر سے نہ دیکھا جائے، بلکہ اس کے ذریعے انسان ان مقاصد کا شعور حاصل کرنے کی کوشش کرے، جن کی خاطر حکیم مطلق نے دن اور رات، روشنی اور تاریکی کا یہ نظام بنایا ہے۔
۲- اس کا ایک واضح مقصد یہ ہے کہ انسان کی کام اور آرام کی فطری ضرورتیں پوری ہوں۔ انسان کے جسم و جان کے یہ تقاضے ہیں کہ ان میں جدوجہد اور راحت و آرام کے درمیان ایک فطری توازن قائم ہو۔ لیکن یہ آرام محض براے آرام نہیں ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ کارگہِ حیات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے انسان اپنے آپ کو تیار کرے۔ وہ آرام، جس کے بعد انسان نئی طلوع ہوتی صبح کے تقاضوںکو پورا کرنے کے لیے نہیں اُٹھتا اور جو نئی جدوجہد پر منتج نہیں ہوتی، وہ راحت اور آرام نیند کا آرام نہیں، موت کی علامت تھا۔ خالق کا عطاکردہ آرام دراصل وہ آرام ہے ،جو جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔ اگر انسان اس کو نظرانداز کردے، تو وہ اپنے مقصد کو کھو دیتا ہے اور اس کی سرحدیں موت سے جاملتی ہیں۔ یہ رات کا ایک حرکی تصور (dynamic view) ہے جو قرآن سے ملتا ہے، اور جس کی بناپر صبح و شام اوردن اور رات انسان کی عملی زندگی کے لیے علامتیں (symbols) بن جاتے ہیں۔ پھر ان علامتوں کی مدد سے انسان زندگی کے وسیع میدان میں بے شمار چیزوں کو سمجھ سکتا ہے اور انھیں ان کے صحیح پس منظر میں ان کے ٹھیک ٹھیک مقام پر رکھ کر ان کے بارے میں صحیح رویہ اختیار کرسکتا ہے۔
۳- قرآن ہمیں یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ زندگی کے ان واقعات سے اپنے ذہن کو ان کے پسِ پشت کارفرما قوتوں پر غوروفکر کی طرف راغب کریں اور صرف مادی اور طبیعی پہلوئوں ہی پر غور نہ کریں بلکہ ان کے اخلاقی پہلوئوں پر بھی توجہ صرف کریں۔ پھر اسبابِ حیات ہی کو انتہاے زندگی نہ سمجھ لیں، بلکہ ان اسباب کے ذریعے مسبب الاسباب تک پہنچیں اور اس کے دامنِ رحمت کے سایے کی طلب میں بے چین و بے قرار ہوکر، اس کی مرضی جاننے اور اس پر چلنے کی دیوانہ وار کوشش کریں۔لاریب، وقت کی ہر کروٹ اور زمانے کی ہر جنبش کے پیچھے اس کی حکمت ِ بالغہ کام کر رہی ہے۔ عقل مند وہ انسان ہے، جو اس حکمت کو پانے کی جستجو کرتا ہے اور اپنے ربّ سے اپنا تعلق استوار کرتا ہے۔
O
ایک گروہ وہ ہے جسے روشنی سے نفرت ہے اور جو تاریکی کا پرستار ہے۔ دن کے اُجالے میں بھی یہ تاریکیوں ہی کی تلاش میں مصروف رہتا ہے اور رات کی چادر کے جلد از جلد پھیل جانے کی آرزو کرتا ہے۔ رات کی آمد اس کی تمنائوں کی بہار ہوتی ہے۔ اس کی ساری سرگرمیاں شب کے اندھیروں میںفروغ پاتی ہیں۔ انسانی معاشرے میں جس فساد کو پھیلاکر یہ گروہ اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ اندھیروں کے پردے ہی میں برپا کیے جاسکتے ہیں۔ جرائم کے ارتکاب اور سازشوں کے جال پھیلانے سے لے کر، دوسروں کے مال، جان اور عزّت و آبرو پر حملہ کرنے کے لیے رات کی تاریکی اس گروہ کو بہترین مو اقع فراہم کرتی ہے ۔ اس لیے یہ اس کی تمنا کرتا ہے اور اسی کے لیے یہ رات کو استعمال کرتاہے۔ انسانی معاشرے پر جب اندھیرا چھاتا ہے تو یہ گروہ سرگرمِ عمل ہوتا ہے اور صبح کی روشنی جب اُفق کو پُرنور کردیتی ہے، تو یہ اپنی پناہ گاہوں میں جا چھپتا ہے۔ جس رات کو مالک نے آرام کے لیے بنایا تھا، یہ گروہ اسے انسانوں کے لیے حرام کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، اور فساد فی الارض کا باعث ہوتا ہے۔ زمین میں فساد نام ہے اللہ کے دیے ہوئے احکام کو توڑنے اور اس کی جگہ دوسرے طریقوں کو رائج کرنے کا:
اَوْلِيٰۗــــُٔــھُمُ الطَّاغُوْتُ ۰ۙ يُخْرِجُوْنَـھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ ۰ۭ (البقرہ ۲:۲۵۷) ان کے حامی و مددگار طاغوت ہیں اور وہ انھیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔
اہلِ کفر اور اہلِ فساد کی یہی روش ہے اور رات ان کو بالکل بے نقاب کردیتی ہے۔ جس طرح چمگادڑ اندھیرے میں ظاہر ہوتی ہے، اسی طرح یہ شیطانی گروہ بھی اندھیرے کے دوران میدان میں آتا ہے اور معاشرے کا صاحب ِ بصیرت گروہ اس کو دیکھ بھی لیتا ہے اور اس کے مقابلے میں مدافعت اور جان،مال اور آبرو کی حفاظت کا بندوبست بھی کرتا ہے۔
انسانوں کا دوسرا گروہ وہ ہے، جس نے نُورِ ہدایت سے اکتساب کیا ہے۔ اس کے لیے رات ’لباس‘ اور ’سکینت‘ ہے۔ وہ اس سے نئی قوتِ کار حاصل کرتا ہے۔ تاریکی کا کوئی پرتو اس کے روشن دل ودماغ پر نہیں پڑتا۔ وہ اس موقعے کو جسم کے آرام اور روح کی غذا کے لیے استعمال کرتا ہے۔ وہ ایسی نیند سے اجتناب کرتا ہے جو غفلت کا رنگ لیے ہو،اور جو چوروں اور نقب زنوں کا سہارا ہو۔ وہ رات کی تاریکیوں میں اپنی، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے معاشرے کی حفاظت کا بندوبست کرتا ہے۔ بالکل اس طرح جیسے ایک فوج رات کے وقت دشمن کے شب خون کی مدافعت کے لیے سامان کرتی ہے۔ ایسے چوکنّے اور ہوشیار لوگ ہی ان خطرات سے محفوظ رہتے ہیں، جو فسادپرست عناصر سے ان کو لاحق ہیں اور جن کے لیے رات ان عناصر کو موقع فراہم کرتی ہے۔ پھر یہ گروہ آرام تو ضرور کرتا ہے لیکن مزید کام کے لیے تیار ہونے کی خاطر، اس کا آرام بے مقصد نہیں ہوتا، بامقصد ہوتا ہے۔ اس کا مقصد کبھی اس کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ رات کی تاریکی میں دل زندہ چراغ کی طرح روشن رہتا ہےاور اندھیروں کو کبھی غالب نہیں ہونے دیتا۔
یہ گروہ رات کو صرف جسم کے آرام ہی کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ روح کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے صرف کرتا ہے۔ جس طرح جسم آرام اور نیند کا مطالبہ کرتا ہے،اسی طرح روح محاسبہ، عبادات اوردُعا کا تقاضا کرتی ہے۔ وہ جسم کا تقاضا ہے تو یہ روح کی غذا ہے۔ خدا پرست انسانوں کا یہ گروہ رات کو آرام کے لیے بھی استعمال کرتا ہے اور محاسبہ، عبادت اور دُعا کے لیے بھی:
قُـمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا۲ۙ نِّصْفَہٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِيْلًا۳ۙ اَوْ زِدْ عَلَيْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا۴ۭ اِنَّا سَـنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَـقِيْلًا۵ اِنَّ نَاشِـئَۃَ الَّيْلِ ہِيَ اَشَدُّ وَطْـاً وَّاَقْوَمُ قِيْلًا۶ۭ (المزمل۷۳: ۲تا ۶) (اے محمدؐ) رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرو یا کچھ زیادہ بڑھا دو، اور قرآن کو ٹھیرٹھیر کر پڑھو۔ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔درحقیقت رات کا اُٹھنا، نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور (قرآن) ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
محاسبے اور دُعا کے لیے بھی یہ بہترین وقت ہے، جیساکہ متعدد احادیث ِ مبارکہ میں آتا ہے کہ اس وقت بندے اور رب کے درمیان کوئی شے حائل نہیں ہوتی اور دینے والا سب کچھ دینے کے لیے سب سے زیادہ آمادہ ہوتا ہے اور پکارتا ہے:’ہے کوئی مانگنے والا؟‘ سمجھ دار وہ ہے جو رات کو ان کاموں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ پھر رات کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں اور شب کے پردوں کے باوجود نُور غالب رہتا ہے:
اَللہُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۰ۙ يُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ(البقرہ ۲:۲۵۷) جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا حامی و مددگار اللہ ہے، اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے۔
O
رات کا طول بھی اپنے اندر غوروفکر کے چند پہلو رکھتا ہے۔ ہر رات برابر کی طویل نہیں ہوتی ۔ ایک ہی سال میں رُونما ہونے والی ہر رات دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ محض ایک طبیعی حقیقت ہی نہیں ہے بلکہ اس امرواقعہ کی معنویت کے پہلو بے شمار ہیں۔
اسی طرح رات کی گراں باری ہرہر فرد کے لیے مختلف نوعیت کی ہوتی ہے۔ جو اپنے مقصد کو سمجھتا ہے اور اس کے لیے خلوص اور توکّل کے ساتھ مصروفِ کار ہے، وہ نہ رات سے گھبراتا ہےاور نہ رات کے اندھیروں سے خوف کھاتا ہے۔ اس کا کام اپنا چراغ روشن رکھنا ہے۔ وہ چراغ جو پہاڑی کا چراغ ثابت ہوتا ہے اور دُور دُور تک اندھیروں کا سینہ چیر کر رہ نوردوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن، جس کی نگاہ اپنے اصل سے ہٹ گئی ہو، اس کے لیے ہر رات پہاڑ ہوجاتی ہے، جسے صبح کرنا ’لانا ہے جوئے شِیر کا!‘
دراصل رات کے اصل طول کے احساس کا انحصار انسان کے وجدان اور رویے پر ہے۔ بات شاعری کی نہیں لیکن ’شب ِ ہجر‘ اور ’شب ِ وصل‘ میں جو فرق ہے، وہ ساعتوں کے طول کا نہیں احساس کی کیفیت اور شدت کا ہے۔ اس لیے جس کی نگاہ ایک انمٹ مقصد پر ہو اور جس کا کام اللہ کے دین کو قائم کرنا ہو (جو ایک مسلمان کا مقصد وجود ہے) اس کے لیے دن اور رات میں کوئی فرق نہیں۔ سرما کی رات ہو یا گرما کی، خزاں کی شب ہو یا بہار کی۔ اسے اپنا کام انجام دینا ہے۔ رات اس کے لیے جو معنویت رکھتی ہے، اس کی پیمایش ساعتوں اور لمحوں سے نہیں کی جاسکتی ۔ اس کے لیے تو: ’جاوداں ، پیہم رواں، ہر دم جواں ہے زندگی‘ کی سی سرشاری چاہیے۔
O
قرآنِ پاک میں دن اور را ت کا ذکر جس انداز میں کیا گیا ہے، اس میں ایک بڑا معنی خیز پہلو یہ ہے کہ دن سے رات اور رات سے دن کے رُونما ہونے کا منظر ۔ ہر رات کو ایک دن ختم ہونا ہے۔ کامیاب ہیں وہ خوش نصیب، جو رات کا استقبال اس طرح کرتے ہیں کہ صبحِ نو کے لیے تیاری کریں:
یوں اہلِ توکّل کی بسر ہوتی ہے
ہر لمحہ بلندی پہ نظر ہوتی ہے
گھبرائیں نہ ظلمت سے گزرنے والے
آغوش میں ہر شب کے سحر ہوتی ہے
جس طرح بیماری سے انسان کو صحت کی ضرورت و عظمت کا احساس ہوتا ہے، اسی طرح رات بھی دن کے نُور کی اہمیت اور اس کی ضرورت کے احساس کو تیز تر کرنے کا ذریعہ ہے۔ جس نے رات سے یہ سبق سیکھ لیا، اس کی رات احساس سے محروم انسانوں کے ’دن‘ سے ہزار گنا بہتر ہے:
شاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کی
کچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کی
۲۳مارچ ۱۹۴۰ء ہماری تاریخ کا ایک نہایت سنہری اور تابناک دن ہے ۔ اس روز برعظیم پاک و ہندکے مسلمانوں نے قائداعظم محمدعلی جناح کی پُرعزم قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد اور خودمختار ملک کے قیام کا مطالبہ کیا۔ ایسا ملک کہ جہاں وہ اپنے دین و ایمان، اپنی تہذیب و ثقافت، اپنے نظامِ قانون و اخلاق، اپنی روایات، اپنے سیاسی عزائم اور مفادات کے مطابق اپنا مستقبل تعمیر کرسکیں۔
برعظیم کے مسلمان برطانوی استعمار کے غلبے سے پہلے آٹھ نو سو سال تک ہندستان کی حکمران قوت تھے۔ برطانوی دورِ اقتدار میں اپنے دینی، تہذیبی اور سیاسی تشخص کی حفاظت کے لیے انھوں نے مختلف محاذوں پر جدوجہد کی، اور سامراج سے آزادی کی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا لیکن اس جدوجہد میں ایک تلخ حقیقت نے ان کی سوچ اور ان کے سیاسی اہداف کو یکسر بدلنے پر مجبور کردیا۔
تب ہندستان کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد صرف ایک چوتھائی تھی اور عددی اعتبار سے اکثریت ہندوئوں کو حاصل تھی۔ مسلمانوں کی کوشش تھی کہ وہ اپنے دینی، تہذیبی اور سیاسی تشخص کو محفوظ اور مستحکم رکھتے ہوئے اکثریت کے ساتھ مل کر محض ایک قومی ریاست (Nation State) نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست قائم کریں، جس میں ہرقوم اپنے نظریاتی، اخلاقی اور تہذیبی تشخص کو مستحکم کرسکے اور اس طرح ایک کثیر قومی ریاست (Pluralistic State) اور کثیرثقافتی ریاست (Multi-cultural State) کا نیا نمونہ دُنیا کے سامنے پیش کیا جاسکے لیکن نصف صدی پر پھیلی ہوئی بھرپور سیاسی جدوجہد کے تجربات نے یہ ثابت کر دیا کہ ہندو قوم کسی ایسے تصور کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔
یہ وہ پس منظرتھا جس میں مسلمانوں نے دو قومی نظریے کو فکری، سیاسی اور عملی ہرسطح پر پیش کیا اور اس کے فطری تقاضے کے طور پر مسلمان قوم کے لیے بحیثیت قوم حق خود ارادیت کو تسلیم کرا کے ایک الگ ریاست قائم کرنے کا عزم کیا۔ صاف نظر آرہا تھا کہ اگر وہ اپنے لیے ایک الگ آزاد ملک کے حصول کا راستہ اختیار نہیں کرتے جہاں وہ اپنے نظریے، عقیدے، تہذیب اور سیاسی اور معاشی مفادات کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعمیرنو کرسکیں، تو اس کا صاف نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ انگریز کی غلامی سے نجات پاکر ہندوئوں کی غلامی کا شکار ہوجائیں گے۔ مغربی جمہوریت اور اس میں عددی اکثریت کے فیصلہ کن کردار کا یہ منطقی نتیجہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کو اسلامی قومیت کی بنیاد پر برعظیم کے ان علاقوں میں، جہاں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہے، ان کی آزاد ریاست کے قیام کی منزل کا اعلان کیا گیا۔ یہی تھا وہ تاریخی لمحہ، جب ہندستان کی تحریک ِ آزادی میں مسلمانوں نے اپنے جداگانہ کردار کو ایک واضح اور متعین رُخ دے دیا۔
۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کو منظور ہونے والی اس قرارداد میں لفظ ’پاکستان‘ نہیں تھا، صرف الگ ریاست کا تصور تھا۔ البتہ اگلے ہی سال مسلم لیگ کے دستور میں آزاد مسلم ملک ’پاکستان‘ کے حصول کو سیاسی جدوجہد کا مقصد قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد ہرسطح پر، شب و روز پاکستان کے وژن کو نکھارنے اور اس پر برعظیم کے مسلمانوں کو متحد اور منظم کرنے کی جدوجہد برپا کی گئی۔ ۱۹۴۵ء اور ۱۹۴۶ء کے مرکزی اور صوبائی سطح کے انتخابات میں مسلم لیگ کو مرکز اور صوبوں میں فقیدالمثال کامیابی حاصل ہوئی۔ اپریل ۱۹۴۶ء میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے نومنتخب مسلمان ارکان کا کنونشن دلّی میں منعقد ہوا، اور اس کی قرارداد اور حلف نامے میں اس تصور کو اور بھی وضاحت سے پیش کیا گیا۔
اس طرح صرف سات سال کی جدوجہد میں، ایسی بیش بہا قربانیوں کے نتیجے میں اور اللہ تعالیٰ کے فضلِ خاص سے ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو (جو ۲۷رمضان المبارک تھا) مسلمانوں کی آزاد ریاست اور ۲۰ویں صدی میں اسلام کے نام پر قائم ہونے والی پہلی ریاست قائم ہوئی۔ دشمنوں کا خیال تھا کہ یہ ملک چند ہی سال میں اپنا وجود کھو دے گا اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے انھوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ساری مشکلات اور آزمایشوں کے باوجود اور بہت سے نشیب و فراز کے ساتھ پاکستان کے استحکام کا سامان کیا۔ ۱۶دسمبر۱۹۷۱ء کو سقوطِ مشرقی پاکستان، سانحہ بڑا دل خراش تھا، جو اللہ کی طرف سے ایک تازیانہ اور تنبیہہ بھی تھا، لیکن اس کے علی الرغم برعظیم میں ایک نہیں دو مسلمان ملک پاکستان اور بنگلہ دیش اپنے اپنے انداز میں قائم و دائم ہیں اور ترقی کے مراحل طے کر رہے ہیں، جس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
۲۳مارچ جہاں یومِ تشکر ہے، وہیں یومِ احتساب بھی ہے، تاکہ ہم دیانت داری سے حالات کا جائزہ لیں۔ جہاں اپنی کامیابیوں پر اللہ کا شکر ادا کریں، وہیں اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں کا بھی جائزہ لیں اور اصلاحِ احوال کے لیے نقشۂ کار بنائیں اور اس کے حصول کے لیے سرتوڑ کوشش کریں، تاکہ جن مقاصد کے لیے برعظیم کے مسلمانوں نے جدوجہد کی اور پاکستان کی شکل میں ایک آزاد اور اسلامی ملک کے قیام کے لیے قربانیاں دیں، اس کا حق ادا کرسکیں۔ یہاں ہم خصوصیت سے ان کروڑوں مسلمانوں کے جذبات، احساسات اور احسانات کو یاد کرنا چاہتے ہیں، جو یہ جانتے تھے کہ وہ ہندستان ہی میں رہ جائیں گے اور ایک مدت تک اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی آزادی کی جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالنے کی قیمت ادا کرتے رہیں گے۔ اگر ہم پاکستان کو ایک طاقت ور اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، تو وہ صرف اہلِ پاکستان ہی کے لیے نہیں بلکہ پورے خطّے کے لیے ایک رحمت اور ایک مثبت قوت ہوگا۔ یہی وہ وژن تھا جو اقبال اور قائداعظم نے پیش کیا تھا، اور جس نے برعظیم کےمسلمانوں کو قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں سب کچھ لٹا دینے کے عزم و ہمت سے سرفراز کیا تھا۔
قائداعظم نے ۳۰؍اکتوبر ۱۹۴۷ء پنجاب یونی ورسٹی لاہور کے اسٹیڈیم میں خطاب فرماتے ہوئے صاف الفاظ میں قوم کو حصولِ آزادی کے اصل مقصد کی یاد دہانی ان الفاظ میں کرائی تھی:
ہرشخص تک میرا یہ پیغام پہنچا دیں کہ وہ یہ عہد کرے کہ وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے اور اسے دُنیا کی عظیم ترین قوموں کی صف میں شامل کرنے کے لیے بوقت ِ ضرورت اپنا سب کچھ قربان کردینےکے لیے آمادہ ہوگا۔
اور یہی بات آپ نے ۱۱؍اکتوبر ۱۹۴۷ء سول، بحری اور فضائی افواج کے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھی:
قیامِ پاکستان، جس کے لیے ہم گذشتہ دس برس سے کوشاں تھے، آج اللہ کے فضل و کرم سے وہ ایک مسلّمہ حقیقت بن چکا ہے، مگر کسی قومی ریاست کا معرضِ وجود میں لانا مقصود بالذات نہیں ہوسکتا، بلکہ کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہی ہوسکتا ہے۔ ہمارا نصب العین یہ تھا کہ ایک ایسی مملکت کی تخلیق کریں، جہاں ہم آزاد انسانوں کی طرح سانس لے سکیں، جسے ہم اپنی صواب دید اور ثقافت کے مطابق ترقی دے سکیں اور جہاں اسلام کے معاشرتی انصاف کے اصول جاری و ساری ہوں۔
دیکھیے ،پاکستان کا وژن قائداعظم کی نگاہ میں کتنا واضح ہے۔ یہی وژن پوری تحریک ِ پاکستان کی روحِ رواں تھا۔ اسی منزل کے حصول کے لیے برعظیم کے تمام مسلمان، وہ بھی جن کو پاکستان کی نعمت ملنی تھی اور وہ بھی جو ہندستان میں جانے تھے اور جنھیں مستقبل میں مصائب کا شکار ہونا تھا، وہ سب ایک اعلیٰ وژن کی خاطر اس جدوجہد میں سب سے آگے تھے۔ پچھلے ۷۰سال پر مَیں نگاہ ڈالتا ہوں تو جہاں اللہ کے انعامات پر دل احساسِ تشکر سے لبریز ہے ، وہیں اپنی قیادتوں کی کوتاہیوں اور بے وفائیوں پر دل خون کے آنسو بھی روتا ہے۔
میں بڑے دُکھ سے یہ سطور لکھ رہا ہوں کہ ہم نے اپنی تاریخ اور اپنے شرکاے سفر کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ نہ صرف یہ کہ پاکستان کی تاریخ، اس کے بنیادی محرکات، تصورِ مملکت اور ملکی اور عالمی کردار کا حق ادا نہیں کیا، بلکہ اپنے ذاتی، گروہی اور علاقائی مفادات کی خاطر ملک اور عوام دونوں کے باب میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسی طرح ہم نے اپنی نئی نسلوں کو اپنی تاریخ اور تحریک ِ آزادی کے مقاصد کا صحیح شعور نہیں دیا اور ہمارے حکمرانوں نے الا ماشاء اللہ ملک کی تعمیروترقی اور عوام کی خدمت اور خوش حالی کے باب میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ جو وسائل اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو دیے ہیں، اگر ان کو ٹھیک ٹھیک استعمال کیا جاتا تو پاکستان آج دُنیا کے لیے ایک مثال ہوتا اور قیادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتا۔ اس اعتراف کے ساتھ، اس احساس بلکہ یقین کا ادراک بھی ضروری ہے کہ آج بھی جو مواقع حاصل ہیں، وہ بے پناہ ہیں اور ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اگر آیندہ کے لیے صحیح لائحۂ عمل مرتب کیا جائے اور مخلص، دیانت دار اور باصلاحیت قیادت کو آگے لایا جائے، تو چند برسوں میں صورتِ حال بدل سکتی ہے اور ان شاء اللہ بدلے گی۔ چند مہینوں میں ملک نئے انتخابات کی طرف جارہا ہے اور یہ ایک تاریخی موقع ہے ،جب قوم اپنے اصل مشن کے حصول کے لیے نئی قیادت اور نئے پروگرام کے تحت نئے سفر کا آغاز کرسکتی ہے۔
۲۳مارچ ۲۰۱۸ء کا یہی پیغام ہے کہ اگر مارچ ۱۹۴۰ء میں ظلمت کی گہرائیوں کے باوجود منزل کے صحیح شعور اور اس کے بارے میں یکسوئی کے ساتھ قومی عزم اور منظم جدوجہد کے نتیجے میں اللہ کے فضل سے صرف سات سال میں پاکستان حاصل کیا جاسکتا ہے، تو آج ۲۱کروڑ انسانوں کو بیدار اور منظم کر کے قدرتی وسائل سے مالا مال اور ایٹمی صلاحیت اور جدید ٹکنالوجی سے آراستہ یہ مملکت ایک نئی تاریخ کیوں رقم نہیں کرسکتی؟ مشکلات خواہ کتنی ہی ہوں لیکن ایمان اور عزمِ صمیم کے ساتھ صحیح مقاصد کے لیے منظم اور مؤثر جدوجہد کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت دیتا ہے اور بظاہر ناممکن کو ممکن ہی نہیں بناتا، بلکہ مشکل کو آسان کردیتا ہے:
فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۵ۙ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۶ۭ (الم نشرح ۹۴:۵-۶) پس حقیقت یہ ہےکہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے، بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔
یوں اہلِ توکّل کی بسر ہوتی ہے
ہرلمحہ بلندی پہ نظر ہوتی ہے
گھبرائیں نہ ظلمت سے گزرنے والے
آغوش میں ہرشب کے سحر ہوتی ہے
تحریک پاکستان اور تحریک اسلامی سے گہرا تعلق اور عشق کی حد تک وابستگی میری زندگی کی سب سے قیمتی متاع اور اس تاریخ ساز جدوجہد میں گذشتہ ۷۰، ۷۵ سال کی شرکت کی یادیں اور کیفیات سرمایۂ حیات ہیں۔ ۱۲،۱۳سال کی عمر میں شعوری طور پر تحریکِ پاکستان سے وابستگی اور قائداعظم سے گھر کے ماحول میں احترام اور والد ِ محترم کی مسلم لیگ میں دہلی کی قیادت سے قربت اور اجلاسوں میں شرکت کے نتیجے میں گہرا تعلق پیدا ہوا۔ پھر عملاً اینگلوعربک ہائر سیکنڈری سکول کی بزمِ ادب کے پلیٹ فارم سے تحریک ِ پاکستان میں شرکت اختیار کی۔ ۱۹۴۶ء کے الیکشن میں قائداعظم کے ارشاد کی تعمیل میں دومہینے تعلیم سے بس واجبی تعلق رکھا اور سارا وقت الیکشن کی مہم میں صرف کیا۔ ڈاکٹر عبدالغنی قریشی ہمارے علاقے سے مسلم لیگ کے نمایندہ تھے، جو عظیم اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ الحمدللہ، اس دور کے سارے نشیب و فراز کا مَیں گواہ ہی نہیں، ایک ادنیٰ سا کردار بھی ہوں اور اس امر کی شہادت دے سکتا ہوں کہ تحریک ِ پاکستان کی پوری جدوجہد آزادی، اسلام کی سربلندی اور مسلمان قوم کے لیے اس کا اصل مقام حاصل کرنے سے عبارت تھی۔
۱۹۴۶ء کا مسلم لیگ کا قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا کنونشن ہمارے ہی اسکول کے سبزہ زار میں منعقد ہوا تھا، اور مَیں اور میرے بڑے بھائی اس میں رضاکار کے طور پر شریک تھے۔ مئی ۱۹۴۷ء کو امپریل ہوٹل، دلی میں ہونے والے مسلم لیگ کے کنونشن میں میرے والد محترم بحیثیت منتخب کونسلر شریک تھے اور ہم بھائی ،کارکنوں کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ پھر میں نے ہندو مسلم فسادات کے سارے مناظر بھی اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ قرول باغ دہلی میں اپنا بھرا پُرا گھر لٹتا دیکھا ہے اور تن کے کپڑوں میں جان بچانے کے لیے باڑہ ہندواڑ کے مسلم علاقے میں پناہ لینے کا ایک ایک لمحہ یاد ہے۔ پھر باڑہ ہندواڑکی وہ رات بھی مَیں کیسے بھول سکتا ہوں، جس میں بلوائیوں سے جان بچانے کے لیے ایک رات میں چار جگہیں ہمیں تبدیل کرنی پڑیں اور بالآخر ہمایوں کے قلعے میں مہاجر کیمپ میں پناہ لینی پڑی، جہاں ایک ماہ سے زیادہ زمین پر سوئے اور خیمے میں زندگی گزارنے کا تجربہ ہوا۔ باڑہ ہندواڑ کی ایک رات کی یہ تلخ یادیں کیسے بھول سکتا ہوں کہ جن تنگ گلیوں میں ہم ایک مکان سے دوسرے مکان میں پناہ لے رہے تھے، تو پاس کے گھروں سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے اور انسانی چربی کے جلنے کی بُو دل و دماغ کو مائوف کر رہی تھی اور موت کے سایے ہر طرف منڈلاتے نظر آرہے تھے۔ مَیں ان تمام مراحل سے گزرا ہوں اور ان کا شاہد ہوں، لیکن الحمدللہ ایک لمحے کے لیے بھی تحریک ِ پاکستان کی صداقت اور کامیابی کے لیے کوئی شبہہ نہیں ہوا۔ بالآخر ۱۲فروری ۱۹۴۸ء کو خاندان کے ساتھ پاکستان پہنچا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ایک آزاد وطن کی نعمت سے مالا مال کیا۔
میں نے ’اشارات‘ میں آج پہلی بار ترجمان کی ادارت سے وابستگی کے بائیسویں برس، ذاتی نوعیت کی یہ باتیں صفحۂ قرطاس پر مرتسم کی ہیں اور ۲۳مارچ کے مبارک موقعے پر لکھی ہیں لیکن اس کا محرک وہ بہت سی تحریریں، بیانات اور تبصرے ہیں،جو کچھ دانش ور اور سیاست دان تحریک ِ پاکستان کی ’ناکامی‘ اور پاکستان کے مستقبل کے بارے میں اوہام و خدشات کے باب میں پوری دیدہ دلیری سے بیان فرما رہے ہیں اور جنھیں میڈیا پوری قوت سے اُچھال رہا ہے۔ مَیں اپنی صحت کی خرابی، بینائی کی مشکلات اور ذاتی مجبوریوں کے باعث وطن سے دُور ہوں، لیکن دل مستقلاً پاکستان میں اٹکا ہوا ہے اور الحمدللہ پاکستان کے روشن مستقبل کے بارے میں کبھی ایک لمحے کے لیے بھی شک نہیں ہوا۔ مَیں جہاں زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کو ضروری سمجھتا ہوں، وہیں اللہ پر بھروسے اور حق کے غلبے کے یقین میں کبھی کوئی لرزش محسوس نہیں کرتا۔ اللہ نے مایوسی کو کفر قرار دیا ہے اور اپنی رحمت سے مایوس ہونے سے دوٹوک الفاظ میں منع فرمایا ہے۔ مالک کائنات کا ارشاد ہے: لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ ط(الزمر ۳۹:۵۳) ’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجائو‘‘ اور لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا ج (التوبہ ۹:۴۰)’’غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔
تاریخ کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے، اس نے الحمدللہ مجھے اس یقین سے مالا مال کیا ہے۔ کفر، ظلم اور فساد کی قوتیں ان شاء اللہ شکست سے دوچار ہوں گی اور حق کو بالآخر فتح ہوگی۔ البتہ اس کے لیے اصل ضرورت منزل کے صحیح شعور، اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل ایمان اور اعتماد اور مقصد کے حصول کے لیے صحیح حکمت عملی کے مطابق صبرواستقامت کے ساتھ مؤثر جدوجہد کی ہے۔ بندہ اگر ان کا قرارواقعی اہتمام کرے، تو پھر ربِّ کریم بھی اپنا وعدہ پورا کرتا ہے کہ اس کا ارشاد ہے:
وَلَا تَہِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۱۳۹ (اٰل عمرٰن ۳:۱۳۹) دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔
مزید ارشاد ہوتا ہے:
وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ ۰ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَہُوْقًا۸۱ (بنی اسرائیل ۱۷:۸۱)اور اعلان کرو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تبدیلی، اصلاح اور اسلام کی سربلندی کے لیے جو راستہ مقرر فرمایا ہے، اس کو بہت صاف الفاظ میں ہمیں سمجھا بھی دیا ہے کہ:
يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ۰ۭ وَاللہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ كَرِہَ الْكٰفِرُوْنَ۸ ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ ۰ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْنَ۹ۧ يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ہَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰي تِجَارَۃٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ۱۰ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ۰ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۱۱ۙ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَۃً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ۰ۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۱۲ۙ وَاُخْرٰى تُحِبُّوْنَہَا ۰ۭ نَصْرٌ مِّنَ اللہِ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ ۰ۭ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ۱۳ (الصف ۶۱:۸-۱۳) یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نُور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نُو ر کو پورا پھیلا کر رہے گا، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی تو ہے، جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے، تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کردے، خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، میں بتائوں تم کو وہ تجارت، جو تمھیں عذابِ الیم سے بچا دے؟ایمان لائو اللہ اور اس کے رسولؐ پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے، یہی تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانو۔ اللہ تمھارے گناہ معاف کردے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور اَبدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمھیں عطا فرمائے گا، یہ ہے بڑی کامیابی۔ اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو، وہ بھی تمھیں دے گا، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح، اے نبیؐ! اہلِ ایمان کو اس کی بشارت دے دو۔
تحریک ِ پاکستان کی کامیابی اور تاریخِ پاکستان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے آئینے میں بھی اللہ کے اس قانون اور سنت کی مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ ہماری نگاہ مثبت اور منفی ہر دو پہلوئوں پر ہونی چاہیے اور دیانت داری کے ساتھ زمینی حقائق کے صحیح ادراک اور مطلوبہ مقاصد و اہداف تک پہنچنے کے لیے منصوبہ بندی اور مؤثر لائحۂ عمل کی تیاری اور اس پر صبرواستقامت کے ساتھ عمل ہی اصلاح اور تبدیلی اور بالآخر کامیابی کا صحیح راستہ ہے۔
اس بنیادی یاد دہانی اور تذکیر کے ساتھ ہم چاہتے ہیں کہ نہایت اختصارکے ساتھ ان چند مثبت اور منفی پہلوئوں کی طرف اشارہ کردیں، جو اس وقت اہمیت کے حامل ہیں:
فوج اور عدلیہ، عوام کے لیے معتبر ترین ادارے ہونے کے باوجود اپنے اپنے دائرے میں بھی صرف جزوی طور پر کامیاب ہوسکے ہیں اور جب بھی دوسرے دائروں میں انھوں نے مداخلت کی ہے، تو کچھ جزوی مثبت نتائج کے ساتھ، واقعہ یہ ہے کہ کہیں زیادہ بڑے نقصانات کا وہ باعث ہوئے ہیں۔ سیاسی قوتوں نے بھی بار بار کے تجربات کے باوجود قوم کی توقعات کو پورا نہیں کیا اور اس کی بھی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے بالعموم دستور، مقاصد اور عوام کی فلاح و بہبود کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر، اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کو اوّلیت دی ہے۔ ان تمام خرابیوں اور کمزوریوں کے باوجود جو بہت بڑی نعمت ہمیں حاصل رہی ہے، وہ قرارداد مقاصد اور ۱۹۷۳ء کا دستور ہے، جو ایک قومی اور اجتماعی معاہدے (National and Social Contract) کی شکل میں ملک و قوم کی کشتی کے لیے لنگر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ دستور وہ فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس پر دیانت اور تدبر سے کام کرکے ان تمام چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے جو آج درپیش ہیں۔
موجودہ انتشار اور تنائو کی صورتِ حال سے نکلنے کا مؤثر ترین راستہ دستور کو مضبوطی سے تھامنے اور اس کے تمام پہلوئوں کو سامنے رکھ کر ایک مناسب ترتیب سے اصلاحِ احوال کے لیے قومی سطح کی جدوجہد ہے، جسے باہم مشاورت سے انجام دینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت پارلیمنٹ، عدلیہ اور قومی عساکر پر مشتمل اداروں کے درمیان تصادم کی جو فضا بنتی جارہی ہے، وہ ہماری نگاہ میں قومی نقطۂ نظر سے بہت پریشان کن بلکہ انتہا درجے کی خطرناک صورت ہے۔ اسے مزید ہوا دینا، جمہوریت کے مستقبل کے لیے بڑا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت، ملک کی سیاسی اور دینی جماعتوں، فوجی قیادت ، اعلیٰ عدلیہ اور میڈیا، ہر ایک کا کردار بہت اہم ہے۔ دستور، جمہوریت کے آداب اور روایات اور تاریخ، سب کا سبق یہ ہے کہ تصادم کے راستے کو بند کیا جائے اور مل بیٹھ کر موجودہ تنائو کی صورتِ حال سے نکلا جائے۔
بدقسمتی سے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے عدلیہ اور فوج دونوں کو جس طرح ہدف بنایا ہے، اس نے حالات کو بڑے خطرناک رُخ پر ڈال دیا ہے۔ عمل اور ردِعمل، حالات کو بگاڑ تو سکتے ہیں، انھیں سنوار نہیں سکتے ، جب کہ وقت کی ضرورت آگ پر تیل چھڑکنا نہیں، اسے بجھانا ہے۔ اَنا کی پرستش مزید تباہی کا راستہ ہے اور یہ ذمہ داری ہم سب کی ہے۔ سیاسی قیادت، تمام پارلیمانی جماعتیں، عدلیہ، وکلا برادری، سول سوسائٹی کے نمایندے، میڈیا اور فوج کے ذمہ داروں پر لازم ہے کہ حالات کی نزاکت کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے تمام معاملات کو دستور میں دیے ہوئے خطوط کے اندر حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس میں نہ کسی کی فتح ہے اور نہ کسی کی شکست۔ اس سے زیادہ تکلیف دہ اور کیا بات ہوگی کہ قومی اسمبلی کا اسپیکر بھی احتجاج میں واک آؤٹ کرے، اور ملک کے وزیراعظم صاحب سینیٹ کے چیئرمین کی تضحیک کریں۔ ’ن‘ لیگ کے ’تاحیات رہبر‘ کی صاحب زادی اور مشیر، عدالت عظمیٰ اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف روز اعلانِ جنگ کریں اور فوج کے سربراہ کو مجبوراً صحافیوں کو بریفنگ دینا پڑے اور ملک کا چیف جسٹس روز بیان دے اور وضاحتیں کرے:
بات کرنی مجھے مشکل، کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل، کبھی ایسی تو نہ تھی
ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں: مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور تحریک ِ انصاف نے جو انداز اختیار کیا ہے اور جو زبان وہ روزانہ استعمال کر رہےہیں، وہ جلتی پر تیل کا کام تو انجام دے سکتی ہے اصلاحِ احوال کی کوئی صورت اس میں نظر نہیں آتی۔ جب تک دینی سیاسی جماعتوں کا اتحاد وجود میں نہیں آیا تھا، اس کے بارے میں دو آرا ہوسکتی تھیں لیکن اب اس کے قیام میں آجانے کے بعد فوری اور اہم چیلنج اس کے سامنے یہ ہے کہ وہ ملک کو فوری طور پر اس بحران سے نکالنے کے لیے کوئی اقدام کرے کہ ماحول ٹھنڈا ہو اور ملک و قوم انتخابات کے ذریعے صحت مند تبدیلی کے راستے پر گامزن ہوسکے۔
مسلم لیگ (ن) کا سانحہ یہ ہے کہ وہ ایک دستوری اور قانونی معاملے کو سیاسی رنگ دے کر اداروں اور سیاسی قوتوں کو تصادم کی طرف لے جارہی ہے۔ وہ بیک وقت حکومت اور حزبِ اختلاف کا کردار ادا کر رہی ہےاور اپنے پونے پانچ سالہ دورِاقتدار میں اپنی کارکردگی کی بنا پر انتخابات میں حصہ لینے کے بجاے غیرحقیقی مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر عدل اور سلامتی کے اداروں کے خلاف محاذآرائی سے سیاسی فاصلے طے کرنا چاہتی ہے ۔ یہ ان کی قیادت کی خام خیالی ہے کہ اس طرح وہ انتخاب میں ایسی دو تہائی اکثریت حاصل کرسکتی ہے کہ جس کے نتیجے میں وہ دستور کا تیاپانچا کرنے کی قوت حاصل کرپائے، اور شخصی آمریت کا وہ خواب جو محترم نواز شریف ۲۳سال سے دیکھ رہے ہیں، وہ پورا ہوسکے۔
ہم صاف الفاظ میں انتباہ کرنا چاہتے ہیں کہ سیاست میں فوجی مداخلت نے نہ ماضی میں کوئی قومی خدمت انجام دی ہے، نہ آیندہ دے سکتی ہے۔ فوج کا کام ملک کا دفاع اور ملک کی سول حکومت کی تائید اور معاونت ہے۔ بلاشبہہ قومی سلامتی، دفاع اور ملک کے مفادات کے سلسلے میں فوج کے نقطۂ نظر کو سمجھنا اور باہم مشاورت سے ایک دوسرے سے استفادہ کرنا ہی صحیح سیاسی اور دستوری طریق کار ہے۔ اسی طرح اگر قانون سازی، پالیسی سازی، اچھی حکومت و انتظامی صلاحیت ِ کار، پارلیمنٹ اور حکومت کی ذمہ داری ہے، تو قانون کا احترام، انصاف کا قیام اور دستور کی حفاظت اور تعبیر اعلیٰ عدلیہ کی ذمہ داری اور استحقاق ہے۔ اس باب میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور نے بڑی واضح رہنمائی دی ہے اور اعلیٰ عدالتوں کی تعبیرات کی روشنی میں اختیارات میں تحدیدو توازن (check and balance) کا ایک واضح نقشہ سب کے سامنے ہے۔ اس میں عدالتی فعالیت (Judicial activeness) اور عدالتی احتیاط (Judical restraint) دونوں کاایک مقام ہے، جس کا احترام ہونا چاہیے۔ لیکن، ایک دوسرے کے دائرے میں کھلی یا دھمکی (Overt and Covert)، مداخلت ِ دستور اور قومی مفاد دونوں کے احکام اور روح سے مطابقت نہیں رکھتی۔
یہی معاملہ مسلح افواج اور قومی سلامتی کے معاملات کا ہے۔ اس وقت اس سلسلے میں اگر ’بگٹٹ آزادی‘ (free for all ) کی کیفیت نہ بھی ہو، تو ایک دوسرے کے پائوں پر پائوں رکھ کر راستہ روکنے کی کیفیت تو نظر آتی ہے، جس کی اصلاح باہم مشورے سے ضروری ہے۔ جس ملک میں نظامِ حکومت تحریری دستور کی بنیاد پر قائم ہو، وہاں بالادستی صرف دستور کو حاصل ہوسکتی ہے اور باقی سب دستور کی تابع اکائیاں (Creatures) ہوتی ہیںاور انھیں دستور ہی جائز حق (legitimacy) دیتا ہے،اور دستور کے دائرے ہی میں وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرسکتے ہیں۔ دستور نے اعلیٰ عدلیہ کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ دستور کی تعبیر کرے اور ایسی قانون سازی ، پالیسی سازی کو خلافِ دستور قرار دے، جو دستور کے انسانی حقوق کی دفعات سے متصادم ہوں، یا وہ جو قرآن وسنت کے احکام کے منافی ہوں۔ عوام کے ووٹ کے تقدس اور بالادستی کے نام پر دستور اور قانون سے کوئی بالادست نہیں ہوسکتا۔
دفعہ ۶۲ اور ۶۳پر تنقید کی حقیقت :دستور کے آرٹیکل ۶۲ اور ۶۳ نے یہ اصول طے کر دیا ہے کہ جہاں پارلیمنٹ اور حکومت عوام کے ووٹ سے وجود میں آئے گی، وہیں محض ووٹ کی طاقت سے ان دفعات پر پورا نہ اُترنے والا شخص نہ پارلیمنٹ کا رکن بن سکتا ہے اور نہ رکن رہ سکتا ہے۔ اور یہ اصول جمہوری دُنیا میں بھی ایک مسلّمہ اصول کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ ووٹ لینے والا قانون سے بالاتر مخلوق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر وہ قانون کی گرفت میں آنے کے بعد اپنی اہلیت کھو دیتا ہے تو محض ووٹ کی قوت سے اسے قیادت کے منصب پر فائز نہیں کیا جاسکتا۔
دفعہ ۶۲ اور ۶۳ کے بارے میں یہ بات بھی بے معنی ہے کہ یہ صدر جنرل محمدضیاء الحق کی داخل کردہ ہیں۔ بلاشبہہ یہ دفعات ۱۹۷۳ء کے اصل دستور میں موجود تھیں، البتہ ان میں بعد میں اضافے اور تبدیلیاں ہوئی ہیں، جن میں اہم تبدیلیاں آٹھویں، سترھویں اور اٹھارھویں ترامیم کے ذریعے ہوئی ہیں۔ لیکن واضح رہے کہ اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے جو آخری شکل ان دفعات کو دی گئی ہے، وہ پارلیمنٹ کی متفقہ تجاویز کی بنیاد پر ہیں اور اب ان کی ملکیت (ownership) کا اعزاز جنرل ضیاء مرحوم سے ہٹ کر پارلیمنٹ اور قوم کو منتقل ہوچکا ہے۔ یہاں ضمنی طور پر ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں ’صادق‘ اور ’امین‘ ہونے کے سلسلے میں جو باتیں ایک نام نہاد سیکولر طبقہ ایک مدت سے اُگل رہا ہے اور اب اس میں مسلم لیگ (ن) کے ترجمان اور دانش ور، جو کل تک اس کے مؤید تھے، وہ بھی شریک ہوگئے ہیں، ایک بہت سطحی اور افسوس ناک غوغا آرائی ہے۔ علمِ سیاست ہی نہیں بلکہ مینجمنٹ اور حکمرانی کا ہر طالب علم واقف ہے کہ ہر سیاسی نظام ہی میں نہیں بلکہ چھوٹی اور بڑی کاروباری قیادت تک کے لیے امانت، دیانت اور صداقت بنیادی صفات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسلامی نظام میں تو یہ اوّلین شرائط ہیں، لیکن دنیا کے ہر نظام میں دیانت(Honesty)، اعلیٰ کردار (Integrity) اور معاملہ فہمی (Prudence) لازمی اوصاف تصور کیے جاتے ہیں۔
مشہور مصنف سر آئیور جیننگ[Ivor Jennings ، م: ۱۹۶۵ء] نے اپنی شہرئہ آفاق کتاب Cabinet Government میں لکھا ہے کہ:’’ ایک وزیر اور وزیراعظم کی اوّلین اور ناقابلِ سمجھوتا خصوصیت اس کا اعلیٰ کردار (Integrity) ہے۔ اگرچہ صلاحیت کے باب میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، جس کی تلافی مشیر اور معاونین کے ذریعے ہوسکتی ہے لیکن اگر صداقت اور دیانت کے باب میں قیادت مطلوبہ معیار سے فروتر ہے تو اس کا کوئی متباد ل نہیں ہوسکتا‘‘۔
دفعہ ۶۲ میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ان میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
کیمبرج ڈکشنری Honesty کی تعریف یہ کرتی ہے:
سچا یا اعتماد کے قابل، جس کے بارے میں یہ امکان نہ ہو کہ وہ چوری کرےگا، دھوکا دے گا یا جھوٹ بولے گا۔
اسی طرح کولن انگلش ڈکشنری کے بقول:
اگر آپ کسی کو ایمان دار قرار دیتے ہیں تو آپ کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور لوگوں سے دھوکا دہی نہیں کرتے اور نہ قانون کو توڑتے ہیں۔
ہفنگٹن پوسٹ (Huffington Post )کے الفاظ میں:
اخلاقیات میں اخلاقی بلندی (integrity) سے مراد دیانت داری، راست بازی، سچائی اور اعمال کی درستی ہوتے ہیں۔
اسی طرح Integrity کی تعریف لغت کی رُو سے یہ ثابت ہوتی ہے:
اخلاقی اصولوں پر سختی سے عامل، اخلاقی کردار کی درستی اور مضبوطی، دیانت داری۔
انتظامیات (مینجمنٹ) کی کتب میں یہ اصول اور معیار بیان کیا گیا ہے کہ:
اخلاقی بلندی (Integrity) بنیادی اقدار میں سے ایک ہے، جن کی آجر کو اپنے اجیر میں، ملازم رکھتے ہیں، تلاش ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی امتیازی خصوصیت ہوتی ہے، جو اپنے کام میں ٹھوس اخلاقی اصولوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔
لطف کی بات یہ ہے کہ آج حکمرانی کے منصب پر فائز رہنے والوں کی طرف سے دستور کی دفعہ۶۲ اور ۶۳ نکالنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ یہاں مسلم لیگ کی وہ قیادت اور اس کے ہم نوا کالم نگار جو طرح طرح کی گُل افشانیاں کر رہے ہیں اور صدر جنرل محمد ضیاء الحق کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں، وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ سینیٹ آف پاکستان نے متفقہ طور پر (رولز آف بزنس) اصول و ضوابط بنائے ہیں اور جن پر ضیاء الحق مرحوم کا کوئی سایہ بھی کبھی نہیں پڑا، ان میں بھی مذکورہ دفعات موجود ہیں۔ فاعتبروا یااولی الابصار۔
ضابطہ اے-۲۲۶ کی تشریح سینیٹ آف پاکستان کے رولز کے ضمیمے میں ان الفاظ میں کی گئی ہے:
اپنے پارلیمانی اور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں، ارکان سے یہ توقع کی جائے گی کہ وہ چال چلن یا طرزِعمل کے درج ذیل اصولوں کی پابندی کریں گے، جن کی نشان دہی اخلاقیات کی کمیٹی نے کی ہے۔ ان ا صولوںکو اس وقت مدنظر رکھا جائے گا جب ضابطے کے حصہ پنجم میں دیے گئے طرزِعمل کے اصولوں کی خلاف ورزی کے الزامات کی تحقیق و تعیین مقصود ہوگی۔
ان بقراطوں کے سامنے ہم یہ سوال رکھتے ہیں کہ: دستور کی دفعات ۶۲، ۶۳ کا مطالبہ وفاقِ پاکستان کی علامت ایوانِ بالا کے ان اُمورِ کار سے کچھ مختلف ہے؟ اور اگر کوئی رکن ان دفعات کی خلاف ورزی کرتا ہے،تب بھی کیا وہ ووٹ کی عظمت اور عزّت کے نام پر پارلیمنٹ کا رکن رہ سکتا ہے؟
غلط بیانی، دستاویز میں جعل سازی، جھوٹی گواہی، کتمانِ حق، یعنی سچی بات کو چھپانا، وہ اخلاقی اور سماجی بُرائیاں ہیں جو انسان کو ناقابلِ اعتبار بنا دیتی ہیں۔ اس وجہ سے وہ فرد ان کے ارتکاب کے بعد سیاسی ذمہ داری کی اہلیت کھو دیتا ہے۔ یہ اسلام کا بھی ایک معیاری اصول ہے اور دُنیا کے دوسرے تمام نظاموں ، خصوصیت سے پارلیمنٹ اور حکومت کے مناصب کے باب میں اس احترام کا بنیادی تقاضا ہے۔ دنیا کے بعض دستوری اور قانونی نظاموں میں جھوٹی گواہی، غلط بیانی اور حقائق چھپانا ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے اور اگرکوئی منتخب نمایندہ یا عہدے دار اس جرم، جیسے Perjury (نقضِ عہد، جھوٹی گواہی) کا مرتکب پایا جاتا ہے، تو اسے نہ صرف عہدے سے فارغ کردیا جاتا ہے بلکہ سزا بھی دی جاتی ہے۔
(قانونی اہمیت کے حامل معاملے کے بارے میں) جان بوجھ کر دروغ گوئی کا عمل یا جرم، جب کہ (ایسا کرنے والا) حلف اُٹھا کر بیان دینے کی وجہ سے یا (حلف اُٹھائے بغیر) صدق دلانہ بیان دینے کی وجہ سے یا کسی سرکاری طور پر جاری اعلامیہ کے تحت اس بات کا پابند ہو کہ وہ جو کہہ رہا ہے ، تحریر کررہا ہے، یا جس کا وہ دعویٰ کر رہا ہے، درست اور سچ ہے۔
’Perjury ‘ برطانیہ میں کامن لا کا حصہ ہے اور امریکی قانون میں بھی ایک جرم ہے جس کی مختلف حلقوں میں اور امریکا کی مختلف ریاستوں میں مختلف سزائیں ہیں۔ برطانیہ، کینیڈا اور امریکا میں یہ سزائیں ایک سے پانچ سال تک قید اور جرمانے پر مشتمل ہیں۔
جہاں تک اسلامی قانون کا تعلق ہے، اسلامی ریاست میں امیر، قاضی اور عُمال کے لیے عادل اور صالح ہونا بنیادی اور لازمی شرط ہے۔ کسی بھی معاملے میں خواہ اس کا تعلق شادی بیاہ، طلاق، وصیت سے ہو یا کاروباری معاملات سے، گواہ کے لیے عادل ہونا لازمی شرط ہے۔ جھوٹی گواہی پر حضرت عمرؓ نے ۴۰کوڑوں کی سزا بھی دی ہے اور جھوٹے گواہ کو آیندہ گواہی کے لیے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ اسلامی معاشرہ ہی نہیں ہر مہذب معاشرے میں جھوٹ اور بددیانتی، اخلاقی اور معاشرتی جرائم ہیں۔ علم الرجال کے اصولوں کے مطابق اگرکسی راوی سے کسی معمولی سے معاملے میں بھی خلافِ واقعہ روش کی کوئی جھلک نظر آئی ہے تو اس سے روایت قبول نہیں کی گئی ہے۔
اس امر پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے کہ محض اپنی ذات کو بچانے کے لیے اسلام کے مسلّمہ اصول اور دستور کی واضح دفعات کا مذاق اُڑایا جا رہاہے اور انھیں تبدیل کرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں، تاکہ وہ افراد جو دیانت و امانت اور صدق و صفا کے معیار پر پورے نہ اُترتے ہوں، وہ ملک و قوم کے سیاہ و سفید کے مالک بن سکیں۔ اس سے بڑا ظلم جمہوریت اور عوام کے ووٹ پر کیا کیا جاسکتا ہے کہ ووٹ لینے والے کو ہرقانون و دستور اور بنیادی اخلاقی اصولوں سے بالا کر دیا جائے اور محض اس بنا پر چوںکہ اسے ووٹ حاصل ہوتے ہیں، اس کے لیے یہ جرم اور قانون شکنی جائز ہوجائے۔ جس طرح ووٹ جمہوریت کا ستون ہے، اسی طرح قانون کا احترام، قانون کی نگاہ میں سب کی برابری، دستور اور قانون کے مطابق سب کا احتساب، جمہوریت کے فروغ اور منصفانہ معاشرے کے قیام کے لیے ضروری شرط ہے۔ پاکستان کا مستقبل، جمہوریت کا فروغ اور عوام کی فلاح و بہبود کا انحصار دستور کے احترام، قانون کی بالادستی اور سچائی، دیانت، عدل و انصاف اورعوام کی خدمت اور خوش حالی کے لیے تمام وسائل کے استعمال اور سردھڑ کی بازی لگا دینے میں ہے۔ اقبال کا یہ ارشاد ہمارے لیے رہنما اصو ل ہونا چاہیے:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا