مضامین کی فہرست


اپریل۲۰۰۵

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ آج آپ زندگی کے جس شعبے سے بھی متعلق کسی شخص سے بات کریں گے تو ٹیپ کا بند یہی ہوگا: ’’حالات بڑے خراب ہیں۔ ہر طرف گھٹاٹوپ اندھیرا ہے۔ ایک مخصوص طبقے کو چھوڑ کر‘ ہر شخص شدید مشکلات اور مصائب کا شکار اور بے بسی اور مایوسی کی گرفت میں ہے‘‘۔ نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ جس چیز کا مسلمان معاشرے میں کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا‘ یعنی حالات سے بیزار ہو کر خودکشی‘ اب اس میں بھی روز افزوں اضافہ ہے۔ ان حالات میں ’’تابناک مستقبل‘‘ کی بات کیا بے وقت کی راگنی نہیں؟

اس ماحول میں بالعموم ردعمل کچھ ایسا ہی ہوتا ہے کہ ’’جسے دیکھو یہی کہتا ہے‘ ہم بیزار بیٹھے ہیں‘‘۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہی حالات میں مستقبل اور خصوصیت سے تابناک مستقبل کا تصور اور اس کی طرف بڑھنے کی بات وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن جاتی ہے۔ اس لیے کہ اگر مستقبل کو حال سے بہتر بنانے کا احساس اور جستجو موجود نہ ہو تو پھر تاریکی کے چھٹنے اور حالات کو تبدیل کرنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔ بگاڑ اور تاریکی ہی کا تقاضا یہ ہے کہ بنائو کی فکر ہو‘ روشنی کی تلاش ہو اور تعمیرنو کے لیے جدوجہد کی جائے۔ ترقی اور اصلاح کا راستہ حالات کے آگے سپرڈال دینے کا نہیں‘ حالات کو صحیح رخ پر موڑنے کے عزم اور عملی کوشش کا راستہ ہے۔ زندہ رہنے اور پستی سے بلندی کی طرف اٹھنے ‘ اپنی اور مظلوم اقوام کی قسمت بدلنے کا یہی راستہ ہے۔ خاص طور پر ہرمسلمان کے لیے‘ ہرمسلمان ملک کے لیے اور بحیثیت مجموعی پوری اُمت مسلمہ کے لیے تو اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ممکن ہی نہیں ہے۔ البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ’’تابناک مستقبل‘‘ کا صحیح تصور ہمارے سامنے ہو‘ اور مستقبل کو تابناک بنانے کے لیے جن عوامل اور اقدامات کی ضرورت ہے‘ ان کا پورا پورا شعور ہو اور عملاً ایسے مستقبل کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے نہ صرف جدوجہد کا راستہ اختیار کیا جائے بلکہ اس کے تقاضے بھی پورے کیے جائیں۔ اس لیے ہماری نگاہ میں جہاں حالات کی خرابی کا ادراک ضروری ہے‘ وہیں مستقبل کے صحیح تصور اور ایک تابناک مستقبل کے حصول کے لیے مطلوبہ لائحہ عمل کی تفہیم ازبس ضروری ہے۔

مستقبل کا حقیقی تصور

سب سے پہلا سوال ہمارے غور کرنے کا یہ ہے کہ مستقبل ہے کیا؟ جس تابناک مستقبل کی بات ہم کر رہے ہیں‘ اُس کے بارے میں سب سے پہلے ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اس کی اصل وسعتیں کیا ہیں۔ یہ دنیا ایک عارضی گھرانا ہے۔ افراد ہی نہیں‘ اقوام کے لیے بھی یہ محدود امکانات سے عبارت ہے۔ البتہ اگر کوئی مستقبل ہے تو وہ صرف آخرت کا ہے‘ جو ہمیشہ کے لیے ہے۔ آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ البتہ آخرت کی اس کامیابی کا انحصار اس دنیا ہی کی زندگی کی صحیح ترتیب و تنظیم پر ہے۔ دنیا ایک کھیتی کی مانند ہے‘ لیکن اس کھیتی سے تیار ہونے والی فصل یا منزلِ مقصود ہے یا آج کی کاروباری اصطلاح میں اس کی جو مارکیٹ ہے وہ آخرت ہے۔ اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ تابناک مستقبل وہ ہے جو آخرت میں تابناک ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مستقبل سے محفوظ رکھے جو آخرت میں تاریک ہو۔

جب ہم اس موضوع پر انفرادی یا اجتماعی طور پر‘ ایک گروہ یا ایک قوم کی حیثیت سے‘ پاکستانی یا اُمت مسلمہ کے فرد کی حیثیت سے غور کریں تو ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اصل تابناکی اور اصل کامیابی اور اصل روشنی آخرت کی زندگی کی ہے۔ وہی ہمارا ہدف ہونا چاہیے۔ یہاں جو مشکلات بھی ہوں‘ جو صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں‘ اور پریشانیاں اور دشواریاں پیش آئیں بلکہ بظاہر جو ناکامیاں ہوں‘ وہ سب عارضی‘ وقتی اور غیرحقیقی ہیں۔ حقیقی کامیابی صرف آخرت کی کامیابی ہے۔ اس لیے جس تابناک مستقبل کا ہم خواب دیکھ رہے ہیںاور جس کے لیے ہم دعائیں کر رہے ہیں‘ جس کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کی کامیابی ہے۔

یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ہمارے اوپر ایک بہت بڑا انعام ہے کہ اس نے ہماری بشری کمزوریوں کو سامنے رکھ کر وعدہ فرمایا کہ اصل ہدف اور حقیقی کامیابی تو صرف آخرت کی کامیابی ہے لیکن تم کو دنیا میں بھی اس کی کچھ جھلکیاں دکھا دی جائیں گی ‘گویا اس کا کچھ حصہ تمھیں دنیا میں بھی میسرآسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے انقلابی پیغام اور مشن کا یہ بڑا اہم پہلو ہے کہ اس میں دنیا کی تعمیر اور اصلاحِ انسان ‘ اور یہاں انصاف اور خیر کا حصول اور غلبۂ آخرت کی کامیابی کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔ یہ پیغام اور مشن دوسرے مذاہب اور فلسفوں سے ہٹ کر ہے کہ اس میں وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (اٰل عمرٰن ۳:۱۳۹) کی بشارت موجود ہے کہ دیکھو حوصلہ نہ ہارنا اور نہ غم کرنا‘ اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے‘ یعنی دنیا میں بھی تم کو کامیابی ہوسکتی ہے بشرطیکہ سچے معنی میں اہلِ ایمان کا رویہ اور کردار اختیار کرو۔ یہاں بھی حالات بدل سکتے ہیں‘ یہاں بھی تاریکیاں چھٹ سکتی ہیں‘ یہاں بھی زمین اپنی نعمتیں اُگل سکتی ہے اور آسمان اپنی برکتیں نازل کرسکتا ہے اور اس طرح یہ آخرت کی کامیابی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ انتہا تو بہرحال آخرت ہی میں ہے البتہ آغاز یہیں سے ہوسکتا ہے کیونکہ یہ ایک تسلسل ہے۔ اس پہلو سے دنیا میں مستقبل کے تابناک ہونے کی خواہش کرنا‘ اس کی تمنا اور دعا کرنا‘ اس کے لیے کوشش اور جدوجہد کرنا بھی دراصل اسلام کے مشن کا ایک حصہ ہے۔

قرآن کی روشنی میں

اسی لیے ہمیں دعا کی صورت میں جو ہدف اور مشن دیا گیا وہ یہ ہے کہ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِo (البقرہ ۲:۲۰۱)’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا‘‘۔

قرآن نے اہلِ تقویٰ کو یہ بشارت بھی دی ہے کہ:

وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرٰٓی اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ (الاعراف ۷:۹۶)

اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔

اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کی کش مکش کے بارے جس سنت الٰہی کا واشگاف اعلان کیا ہے وہ تو ہے ہی یہ کہ:

وَقُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًاo

(بنی اسرائیل ۱۷:۸۱)

اور اعلان کر دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا‘ باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔

اللہ کا قانون اور تاریخ کا فیصلہ بلاشبہہ یہی ہے کہ:

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ھُوَزَاھِقٌط (الانبیاء ۲۱:۱۸)

مگر ہم تو باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مٹ جاتا ہے۔

اللہ کا وعدہ ہے:

وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ o اِنَّھُمْ لَھُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَo وَاِنَّ جُنْدَنَا لَھُمُ الْغٰلِبُوْنَ o فَتَوَلَّ عَنْھُمْ حَتّٰی حِیْنٍ o وَّاَبْصِرْھُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ o اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ o فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِھِمْ فَسَآئَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَo وَتَوَلَّ عَنْھُمْ حَتّٰی حِیْنٍ o وَّاَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَo (الصٰفٰت ۳۷:۱۷۱-۱۷۹)

اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کرچکے ہیں کہ یقینا ان کی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب ہوکر رہے گا۔ پس اے نبیؐ، ذرا کچھ مدت تک انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور دیکھتے رہو‘ عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی تحریک کو مخاطب کر کے یاد دلایا جاتا ہے:

وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰکُمْ وَاَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہٖ وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَo (الانفال ۸:۲۶)

یاد کرو وہ وقت جب کہ تم تھوڑے تھے‘ زمین میں تم کو بے زور سمجھا جاتا تھا‘ تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمھیں مٹا نہ دیں۔ پھر اللہ نے تم کو جاے پناہ مہیا کردی‘ اپنی مدد سے تمھارے ہاتھ مضبوط کیے اور تمھیں اچھا رزق پہنچایا‘ شاید کہ تم شکرگزار بنو۔

غلبۂ حق کی نوید تمام صحف سماوی میں مرقوم ہے:

وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِـنْم بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَo اِنَّ فِیْ ہٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَo وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَo(الانبیاء ۲۱:۱۰۵-۱۰۷)

اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے اس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے اور اے نبیؐ، ہم نے تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

دنیا میں کامیابی اور آزمایش دونوں ہی اہلِ ایمان کی تقدیر ہیں:

عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّھْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ o (الاعراف ۷:۱۲۹)

قریب ہے وہ وقت کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے‘ پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

حق و باطل کی اس کش مکش میں نشیب و فراز آتے ہیں۔ شکست و فتح دونوں سے سابقہ پڑتا ہے اور اس عمل سے گزرے بغیر منزل مقصود حاصل نہیں ہوتی لیکن استقامت اور وفاداری سے جو جدوجہد کی جائے گی‘ وہ بالآخر کامیاب ہوکر رہے گی:

اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗط وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ ج وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُھَدَآئَ ط (اٰل عمرٰن ۳:۱۴۰)

اگر تمھیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمھارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے۔ یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں‘ اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے) گواہ ہیں۔

مخالفت کے طوفان اہلِ ایمان کے عزم و ہمت اور توکل اور ایقان میں اضافے کا باعث ہوتے ہیں اور جب وہ استقامت دکھاتے ہیںتو پھر اللہ کی مدد آتی ہے اور وہ غالب و کامران رہتے ہیں:

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمُ النُّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِیْمَانًا وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُo فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْھُمْ سُوْٓئٌ لا وَّاتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰہِط وَاللّٰہُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍo (اٰل عمرٰن ۳: ۱۷۳-۱۷۴)

جن سے لوگوں نے کہا کہ’’تمھارے خلاف بڑی قوتیں جمع ہوئی ہیں‘ ان سے ڈرو‘‘ تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انھوں نے جواب دیا: ’’ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے‘‘۔ آخرکار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے‘ اور ان کو کسی قسم کا ضرر نہ پہنچا اور اللہ کی رضا پر چلنے کا شرف بھی انھیں حاصل ہوگیا‘ اللہ بڑا فضل فرمانے والاہے۔

اللہ کا وعدہ یہ بھی ہے کہ:

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَo ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ o (الصف ۶۱:۸-۹)

یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں‘ اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔

اور پھر اہل ایمان کو دعوتِ جہاد دی جاتی ہے جو آخرت کی کامیابی‘ جو فوزِ عظیم کا زینہ اور ضمانت ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا کہ:

وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا ط نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌط وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَo(الصف ۶۱:۱۳)

اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو‘ وہ بھی تمھیں دے گا‘ اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح۔ اے نبیؐ، اہلِ ایمان کو اس کی خوشخبری دے دو۔

مشکلات اور سختیاں ضرور آئیں گی مگر پھر اللہ تعالیٰ آسانیوں اور کامیابیوں کا سامان بھی کر دے گا بشرطیکہ اس پر توکل کر کے اپنی جدوجہد جاری رکھیں اور استطاعت بھر جدوجہد میں کمی نہ کریں۔

سَیَجْعَلُ اللّٰہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا o (الطلاق ۶۵:۷)

بعید نہیں کہ اللہ تنگ دستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرما دے۔

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا o اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا o (الم نشرح ۹۴:۵-۶)

پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔

سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کسی حالت میں بھی اللہ سے مایوس نہ ہوا جائے اور جدوجہد سے کسی صورت میں بھی پہلوتہی نہ کی جائے۔ مومن کی قوت کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ رب العزت سے تعلق ہے اور اس کا وعدہ ہے کہ اہلِ ایمان اور اہلِ تقویٰ کا مستقبل ہر حال میں روشن ہے‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی‘ اور اگر اہلِ ایمان صحیح طریقے سے جدوجہد کریں توانھیں آخرت کی کامیابی کے ساتھ دنیا میں بھی کامرانی حاصل ہوگی‘ اس لیے حالات کیسے بھی مشکل اور نامساعد ہوں‘ اہلِ ایمان کے لیے مایوسی کی کوئی گنجایش نہیں‘ قرآن کے الفاظ میں مایوسی کفر ہے اور اللہ کی رحمت کا دروازہ ہر لمحے کھلا ہوا ہے۔ ہر حال میں مومن کی نظر اپنے اللہ کے وعدے‘ اس کی نصرت اور مدد‘ اس کی اعانت اور سرپرستی اور اس کی رضا اور خوش نودی پر ہوتی ہے اور یہی وہ چیزہے جو اس کی زندگی کے ہر لمحے کو روشن اور اس کے ہر قدم کو تابناک مستقبل کی طرف پیش رفت بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میںتابناکی اور کامیابی‘ اگر وہ آخرت کی کامیابیوں کے تسلسل کے لیے ہو‘ تو وہ خود بھی اصل کامیابی کے موثر ذریعے کی حیثیت سے ایک مطلوب شے ہے‘ نامطلوب چیز نہیں ہے‘ لیکن معیار‘ آخرت کی کامیابی ہی کو ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اگر آخرت کی کامیابی کی بنا پر یہاں ہماری ساری زندگی صعوبتوں میں گزر جاتی ہے تو بھی یہ ناکامی نہیں۔ یہ بھی روشنی کی طرف اور تابناکی کی طرف پیش قدمی ہے۔ البتہ یہ اللہ کا ہمارے اوپر بڑا انعام ہے‘ رحم ہے اور فضل ہے کہ اس نے ہماری کمزوریوں کی بناپر ہم کو کسی ایسی آزمایش میں نہیں ڈالا جو ہماری استطاعت سے بڑھ کر ہو۔ انسان کی فطرت کا لحاظ رکھتے ہوئے اُس نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ ہمیں زمین میں خلافت اور تمکن عطا کرے گا تاکہ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ اس دین کو دوسرے تمام طریقوں کے اوپر غالب کرنا اس کی سنت اور وعدہ ہے۔ یہ ساری چیزیں بھی مسلمان کا مقدر ہیں‘ ہماری تاریخ اور جدوجہد کا حصہ ہیں۔

مستقبل کی تابناکی کے بارے میں ایک مومن کو ایک پَلکے لیے بھی شک یا خوف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ یقینا مشکلات ہیں‘ مسائل ہیں‘ پریشانیاں ہیں‘تصادم ہے‘ مگر اس کے ساتھ ساتھ ایمان کی قوت‘ اللہ پر بھروسا اور اللہ کا یہ وعدہ لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ کہ مایوس کبھی نہ ہونا‘ ہمت نہ ہارنا اور تابناک مستقبل کا صرف خواب ہی نہیں دیکھتے رہنا بلکہ اس کے لیے سرگرم عمل ہوجانا‘ یہ مسلمان کی شخصیت کا لازمی حصہ ہے۔ تو کیسی ہی پریشانیاں اور کیسی ہی مشکلات کیوں نہ ہوں لیکن ہماری نگاہ اسلام کے روشن مستقبل ہی پر ہونی چاہیے۔

کیا یہ ایک حقیقت نہیں کہ جب ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ اس دعوت اور اس پیغام کا آغاز فرمایا تو حضرت ابوذر غِفاریؓ اسلام قبول کرتے ہیں اور اُن کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ابھی آغازِ وحی کا تیسرا اور چوتھا سال ہی ہے۔ اس موقع پر ایک اِعرابی آتا ہے‘ اسلام قبول کرتا ہے اور حضوؐر اس سے یہ کہتے ہیں کہ اپنے قریے میں چلے جائو اور انتظار کرو اس وقت کا جب یہ دین غالب ہوگا۔ آپؐ قریش کے سرداروں کو مخاطب فرما کر کہتے ہیں کہ کیا میں تم کو ایک ایسا کلمہ نہ بتا دوں کہ جس کو اگر تم مان لو تو پھر عرب اور عجم تمھارے تابع ہوں گے۔ وہ وقت کہ جب مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور تعذیب اس مقام پر تھی کہ حضرت خبابؓ جیسے اولوا العزم صحابی بھی بے چین ہوکر کہتے ہیں: یارسولؐ اللہ! اللہ کی مدد کب آئے گی؟ تو آپؐ فرماتے ہیں کہ خباب‘ کیا تم ابھی سے تھک گئے ہو؟ کیا تم نہیں جانتے کہ تم سے پہلی قوموں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا‘ ان کے گوشت کو ان کی ہڈیوں سے لوہے کی کنگھیوں سے جدا کیا گیا تھا اور ان کے جسم کو آروں سے کاٹ دیا جاتا تھا لیکن وہ اللہ کی راہ پر قائم رہتے تھے۔ لیکن دیکھیے حضور اکرمؐ یہ بات کہہ کر رک نہیں گئے بلکہ آپؐ نے فرمایا: خدا کی قسم! وہ وقت آئے گا جب ایک سوار تنِ تنہا صنعا سے حضرموت تک بے خوف و خطر سفر کرے گا اور اللہ کے سوا اسے کوئی خوف نہ ہوگا‘ یعنی جب دین حق کو غلبہ حاصل ہوگا۔ پھر سب نے دیکھا وہ وقت آیا اور اَطْعَمَھُمْ مِّنْ جُوْعٍ لا وَّاٰمَنَھُمْ مِّنْ خَوْفٍo (قریش ۱۰۶:۴) کی کیفیت پیدا ہوگئی‘ یعنی بھوک سے تحفظ اور کھانے کی فراوانی اور خوف سے نجات اور امن کی نعمت۔ پھر وہ وقت کہ جب حضوؐر مکہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ہجرت کا وقت ہے‘ بظاہر کس مپرسی کا عالم ہے۔ اپنے وطن کو چھوڑنا پڑ رہا ہے اور اس وقت جب سراقہ آپؐ کا تعاقب کر کے آپؐ تک پہنچ جاتا ہے تو آپؐ اسے کہتے ہیں کہ تمھیں کسریٰ کا کنگن دیا جائے گا۔ کیا وقت ہے لیکن کسریٰ کے کنگنوں کا ذکر کس اعتماد کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ کسریٰ کے کنگن آئے اور اس شخص کو دیے بھی گئے‘ سبحان اللہ!

تابناک مستقبل کی بات‘ میں کسی خوش فہمی یا شاعرانہ خیال آرائی کی بنا پر نہیں کر رہا بلکہ  اللہ کی کتاب اور نبی پاکؐ کی سنت یہ دونوں ہمیں یہ اعتماد اور یقین دلاتے ہیں کہ جو بھی حالات ہوں اور جیسے بھی حالات ہوں وہ لوگ جنھیں اللہ نے ایمان کی دولت سے مالا مال کیا ہے وہ تابناک مستقبل کے بارے میں کبھی کسی غلط فہمی کا یا کسی مایوسی کا شکار نہیں ہو سکتے۔

تاریخ کی گواھـی

اگر آپ تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ تاریخ کے نشیب و فراز‘ قوموں کا عروج و زوال‘ پستی و بلندی کے مناظر‘ کامیابی و ناکامی کی داستانیں‘ فتح و شکست کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اللہ کے اسی وعدے کا منظرنامہ پیش کرتے ہیں۔ معلوم تاریخ میں کم از کم ۳۶ عظیم تہذیبوں کے اسی سفر کی کہانی ملتی ہے اور عروج کے وقت ہر تہذیب کو یہی گمان تھا کہ اب اس کا کوئی مقابلہ کرنے والا نہیں ہے۔لیکن پھر چشمِ تاریخ نے دیکھا کہ اُسے زوال‘ انتشاراور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری اقوام اُبھریں اورتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ کا یہ سلسلہ برابر چلتا رہا اور چلتا رہے گا۔ حضرت عیسیٰ ؑنے سچ کہا تھا کہ کتنے آگے ہیں جو پیچھے رہ جائیں گے اور کتنے پیچھے ہیں جو آگے نکل جائیں گے۔

قرآن کہتا ہے کہ اسی طرح ہم قوموں کے در میان اتار چڑھاؤ‘کامیابی وناکامیابی اور زندگی ا ور موت کے دور لاتے رہتے ہیں۔ تاریخ سے صاف نظر آتا ہے کہ کوئی بھی دور ابدی یا مستقل نہیں۔ نہ کامیابی کو دوام ہے اور نہ ناکامی کو۔ حالات برابر بدلتے ہیں ۔اس لیے کسی ایک صورت حال کے اوپر یہ سمجھ لینا کہ اَب تو ہم بس پھنس گئے ‘اب کوئی را ستہ نہیں۔ اب شکست ہمارا مقدر ہے اور دوسروں کے تابع دار بن کر ہی زندہ رہ سکتے ہیں‘ یہ ایک مغالطہ ہے۔ جس کی نگاہ تاریخ پر ہو گی وہ کبھی بھی اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہو سکتا۔

پو ری تاریخ کو چھوڑ دیجیے ۔ بہت سے لوگ آج موجود ہیں ‘میں خود بھی اپنے آپ کواِن میں شامل کر تا ہوں جنھوں نے چشمِ سر سے دیکھا کہ سلطنتِ برطانیہ کا ایک زمانے میں کیا دبدبہ  تھا۔ اسے دنیا کی حکمران قوت ہونے کار زعم تھا۔ غلبہ و بالادستی کو وہ اپنا مقدر سمجھتی تھی اور غرور کا یہ حال تھا کہ اس نے انگریزی زبان میں اس محاورے کا ا ضا فہ کیا کہ:

Sun is never set in the British Empire.

چونکہ دنیا کی چو تھا ئی سرزمین پر اس کی حکمرا نی تھی‘ اس لیے اس کا دعویٰ تھا کہ ہماری حکمرانی میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا ۔ایک جگہ سے غروب ہوتا ہے تو دو سری جگہ سے اُبھر جاتا ہے۔ لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ چند ہی سالوں میں اس کی سلطنت قصۂ پارینہ بن گئی اور کیفیت یہ ہوئی کہ وہ ایک سپرپاور سے سکڑکر ‘ صرف ڈیڑھ جزیرے کی حکومت رہ گئی۔ اور اب تو عالم یہ ہے کہ ہفتوں اس کی قلمرو میں سورج طلوع نہیں ہوتا! اسی طرح دولتِ برطانیہ نے انگریزی زبان میں اس محاورے کا اضا فہ کیا کہ Britannia rules the waves ‘یعنی دنیا کے سارے سمندروں کے پانی پرہما ری حکمرانی ہے لیکن پھر ہم نے دیکھا کہBritannia had to waive the rule [یعنی برطانیہ کو حکومت چھوڑنا پڑی]اور سمندر اس کی گرفت سے نکل گیا۔ تو یہ ہیں وہ نشیب وفراز ‘ جن میں مغرور کے طلسم کا ٹوٹنا اور مظلوم کا بالاتر قوت بن جانا‘ یہ سب مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔

ابھی کل کی بات ہے کہ امریکا اور اشتراکی روس دونوں بڑی طاقتیں (super powers) تھیں اور دونوں ایک دو سرے سے برابر پنجہ آزمائی کر رہی تھیں۔ کیا آپ بھول گئے کہ روس کے سربراہ مملکت خروشچیف اقوامِ متحدہ کے ہال میں میز پراپنے جوتے رکھ کرکے کہتا ہے کہ : I have come here to bury capitalism. (میں یہاں سرمایہ داری کا جنازہ نکالنے آیا ہوں)۔

اور پھر آپ نے دیکھا کہ کس طرح روس منتشر ہو جاتا ہے۔ گویا کہ محض ایک خاص موقعے پر کسی کاحا وی ہوناکوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کو ابدی (everlasting) سمجھا جائے۔اقتدار‘ غلبہ اور قوت سب بڑی وقتی اور عارضی چیزیں ہیں۔ہم نے خود اس کا نظارہ کیا ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ ایسے ابھی اور بہت سے تجربات اور مناظر ہم اور آپ دیکھیں گے۔ اس لیے یہ سمجھ لینا کہ اس وقت فلاں غالب ہے تو وہی غالب رہے گا‘ درست نہیں۔

اپنے ملک کی تاریخ بھی آپ دیکھ لیجیے۔ کیا یہ ایک حقیقت نہیں کہ ایک سرپھرے آمر (اسکندر مرزا) نے مکمل اقتدار کے زعم میں برسرِاقتدار آنے کے بعد پہلا بیان یہ دیا تھا کہ ہم اِن مولویوں کو کشتیوں میں بٹھا کر کے سمندر پار بھیج دیں گے۔ لیکن اللہ کی قدرت کو آپ نے دیکھا کہ مو لوی تو الحمد للہ وہیں ہیں ۔ خود اس کو ایک مہینے کے اندر ملک چھوڑنا پڑا۔یہاں کون تھا جس نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ’’ہما ری کر سی مضبوط ہے اور اس کو کوئی نہیں ہلا سکتا‘‘۔ لیکن کون سی کر سی ہے جو با قی رہ گئی۔ آپ چا ہے وسیع تر تاریخ کے پسِ منظر میں دیکھیں‘ چاہے اپنے دور کے عا لمی سطح پر رونما ہو نے والے نشیب وفراز کو دیکھیں اور خواہ آپ اپنے ملک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر غور کریں‘ کہیں بھی مایوسی کے لیے کوئی وجہِ جواز نظر نہیںآتی۔ اس سے انکار نہیں کہ تاریکی آتی ہے‘ شکستیں بھی ہوتی ہیں‘ لیکن ہر نشیب کے بعد فراز اور ہر شکست کے بعد کامیابی کا امکان بھی رونما ہوتا ہے۔ کیا خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی بلندیوں کے بعداُحد کی ہزیمت نہیں دیکھی ۔کیا حدیبیہ کے بعد فتحِ مکہ کا منظر رونما نہیں ہوا۔ کیا فتح مکہ کے بعد حنین سے سابقہ پیش نہیں آیا۔یہ نشیب و فراز زندگی کی حقیقت ہیں۔لیکن ان میں سے کسی کو لے کر یہ سمجھ لینا کہ اب کچھ ممکن نہیں اورہمت ہار جانااور مایوسی میں گرفتار ہو جانا کسی مسلمان کا شیوہ نہیں۔ جس کی نگاہ تاریخ پر ہو ‘انسانی زندگی کے نشیب وفراز پر ہو وہ کبھی بھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔ اس کے اوپر قرآن شا ہد ہے ‘سیرت شاہد ہے ‘پو ری تاریخ گواہ ہے اور میرا اور آپ کا تجربہ گواہ ہے۔تو پھر کیوں ایک خاص وقت کی کیفیت کو ہم مستقل اور دوام کا درجہ دینے کی غلطی کریں۔ ہمیں چیزوں کو ان کے حقیقی پسِ منظر میں دیکھنا چاہیے اور اسی کی رو شنی میں پھر ہمیں اپنا رویہ اور اپنا کرنے کاکام متعین کرنا چاہیے۔

قابلِ غور مثبت پھلو

اس پس منظر میں غور کرنا چاہیے کہ جہاں یہ ناقابلِ انکار حقائق ہیں اور جہاں اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ ان شاء اللہ حق غالب ہوگا اور باطل کو شکست ہوگی‘ وہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمیں ہمیشہ پو ری دیا نت کے ساتھ حالات کا بے لاگ جا ئزہ لینا چاہیے۔ خوش فہمیوں میں رہ کر کبھی کوئی فرد یا کوئی قوم وقت کے تقا ضوں کو پورا نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ پاک میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں جو بھی نشیب وفراز آئے اور معرکے ہوئے‘ اُن کے اوپر خود زمین و آسمان کے مالک نے تبصرہ فرمایا ہے‘ احتساب کیا ہے‘ آیندہ کے لیے سبق سکھائے ہیں۔ یہ بھی حکمت ہے کہ اس پورے تبصرے کو ہمیشہ کے لیے قرآن کا حصہ اس لیے بنا دیا گیا تاکہ انسان خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔ ہمیں متنبہ کردیا گیا اس وقت بھی جب اللہ کا نبیؐ ہمارے درمیان تھا‘ اگر انسانوں نے حقائق سے صرفِ نظر کیا ‘احکام سے رو گر دانی کی یاجو ذمہ داری سونپی گئی ہے اس کو ادا نہ کیا گیا تو جیتی ہوئی با زی پلٹ سکتی ہے۔ اور اسی طرح اگر حق کے داعی کی آواز پر لبیک کہا تو ہا ری ہوئی با زی جیتی جا سکتی ہے۔ قرآنِ پاک میں یہ تمام چیزیں اسی لیے محفوظ کی گئی ہیں کہ ہم اُن سے سو چنے کا انداز ‘ غوروفکر کا اَسلوب اور ہر دور میں حالات کے جائزے ‘ اُن کا احتساب ‘ان کی تشخیص اور پھر ان کی رو شنی میں لائحہ عمل کی تیاری کاکام انجام دے سکیں۔

اس وقت ہم بڑے نازک امتحانی دور سے گزر رہے ہیں ۔ تاہم‘ اس میں کچھ بڑے مثبت پہلو ہیں اور ان مثبت پہلوؤں میںیہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ عددی اعتبار سے مسلمان آج ‘ایک ارب ۴۰کروڑ کے قریب ہیں جو دنیا کی آبا دی کا پانچواں حصہ ہیں ۔ہم ابھی اڑھائی تین سو سال کے کھلے کھلے استعماری دور کے تسلط سے نکلے ہیں ۔ پورا عالمِ اسلام پانچ بڑی مغربی استعماری قوتوں کی گرفت میں تھا اور ہمیں سانس لینے تک کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن ہمارے دیکھتے دیکھتے استعمار کی گرفت ڈھیلی پڑی‘ اور غلامی کے سائے چھٹے اور ۵۷ آزادمسلمان مملکتیں وجود میں آئیں۔ تقریباً۹۰ کروڑ مسلمان اِن آزاد مملکتوں میں ہیں۔ اور تقریباً ۴۰‘ ۴۵ کروڑ مسلمان ایسے ہیں کہ جو ۹۰‘ ۹۵ مسلم آبادیوں کی شکل میں غیر مسلم ممالک میں رہ رہے ہیں۔ یہ عددی قوت ہر ایک اعتبار سے بڑی اہم حقیقت ہے۔ معاشی ‘ عسکری اور نظریاتی ہر اعتبار سے دنیا کے مستقبل کا فیصلہ کر نے میں انسانوں کی اتنی بڑی تعداد اور ان کی یہ قوت ایک بڑا اہم کر دار ادا کر تی ہیں۔

پھران ممالک کا محلِ وقوع دیکھ لیجیے ۔ دنیا کے کل زمینی رقبے کا تقریباً۲۳ فی صد مسلمانوں کے اقتدار کے تحت ہے۔اور یہ سارا علا قہ معاشی وسائل سے مالامال ہے۔ پو ری دنیا کی توانائی کے ۸۰فی صد ذخا ئرہمارے پاس ہیں۔ مالی وسائل اور جنگی اعتبار سے اور معاشی نقطۂ نظر سے تمام اہم  راستے انھی علاقوں سے گزرتے ہیں۔ معاملہ خواہ زمینی رابطوں کا ہو‘ یا سمندری اور ہوائی ‘ ان تمام میں مر کزی حیثیت مسلمان ممالک کی ہے۔

لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جسے ہم آزادی کہہ رہے ہیں‘ وہ صحیح معنوں میں مکمل طور پر آزا دی نہیں ہے۔بظاہر قانونی اور سیا سی انداز میں ہم استعمار کی گرفت سے نکل گئے ہیں‘ لیکن ان کا فکری غلبہ ‘تہذیبی گرفت ‘ عسکری اور معاشی قوت کا عدم توازن اور پھر اس وقت   عالم گیریت اور گلوبل سسٹم جس انداز سے کارفرما ہیں تو اس میں ایک سوپر پاور عسکری اور سیاسی اعتبار سے ‘ اور مغربی تہذیب فکری اور سا ئنسی‘ ٹکنالوجی اور ثقا فتی اعتبار سے چھائی ہوئی ہے اور مسلمان ملکوں کی آزادی حقیقی آزادی کا رنگ اختیار نہیں کر سکی ہے۔ دوسرے الفاظ میں نوآبادیاتی تسلط ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا۔

اس نئے دور میں نوآبادیاتی استعماری تسلط کی شکل میںبڑی جو ہری تبدیلی آئی ہے‘اس کو سمجھنا ضروری ہے۔  یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی ایک ملک کے لیے خواہ عسکری اعتبار سے وہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو‘ ممکن نہیں کہ وہ پوری دنیا کو زیادہ دیر تک اپنی گرفت میں رکھ سکے۔بش چار سوا چار سال سے جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نشا نہ صرف ہم رہے‘اُس کی قیمت ہم ادا کر تے رہے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خواہ وہ افغانستان ہو یا عراق ہو‘ سوپرپاور جو کچھ کرنا چاہتی تھی نہیں کر سکی اور وہ مجبور ہے کہ اپنی قوت کی کم مایگی (limitations of power )کا بھی احساس کرے۔ وہ جو کچھ کرنا چاہتی ہے محض اپنی قوت کے زعم میں کرنہیں سکتی۔ اگر کہیں اسے جبر کی قوت سے غلبہ میسر آبھی گیا ہے‘ تب بھی اس کا اقتدار بڑا کمزور اور محدود ہے اور اسے اس کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ ہرجگہ مزاحمت ہے اور یہ مزاحمت ایک بہت بڑے قومی اور مؤثر عنصر کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ سوپرپاور کی قوت کا مقابلہ اس کے سامنے سر جھکا دینے اور غلامی کو قبول کر لینے سے نہیں بلکہ سامراجی قوت کی مزاحمت کرنے سے ہوتا ہے۔ نائن الیون کے واقعے سے بڑے منفی نتائج رونما ہوئے ہیں۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوپر پاور کے لیے ہر میدان میں اپنی من مانی کرنا ممکن نہیں رہاہے۔دہشت گر دی کے خلاف جنگ کا جائزہ لیجیے۔ آج نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا اُس سے کہیں زیا دہ غیر محفوظ ہے جتنا اس واقعے سے پہلے تھی۔ طا قت کی اس ساری نمایش اور کشت وخون کے ذریعے افغانستان کو کھنڈر بنا دیا گیا ۔وہاں ۲۰ سے ۲۵ہزارمعصوم افراد شہید ہوئے۔ عراق میں ایک لاکھ سے زیا دہ عام شہری شہید ہوئے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ساری قوت اور وسائل کے بے محابا استعمال کے باوجود یہ سوپرپاور افغانستان ہو یا عراق کہیں بھی محفوظ نہیں۔

پھر آپ یہ دیکھیے کہ کس طرح عوامی بیداری کی ایک لہرسا ری دنیا میں رونما ہوئی ہے۔دنیا کے ہر سروے میں امریکا کی غیرمقبولیت بلکہ نفرت نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ ممالک جن کی قیادتیں  بظاہر اس کے ساتھ ہیں‘مثلاً خود ترکی کا ایک سروے یہ بتاتا ہے کہ۸۰ فی صد سے زیادہ آبا دی اُس سے نفرت کا اظہار کررہی ہے۔جر منی اور فرانس کے ۶۰اور ۷۰فی صد لوگ امریکا اور روس کی پالیسیوں سے بے زاری کا اظہار کر رہے ہیں۔بر طا نیہ اس کا سب سے بڑا حلیف ہے لیکن وہاں عوامی ردِ عمل کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمند ر امریکا اور برطانوی حکومت کو چیلنج کر رہا ہے۔ میں نے خوداپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح لوگوں نے احتجاج کیا۔ ۱۹ مارچ ۲۰۰۵ء کو عراق پر حملے کے   دو سال بعد پورے یورپ میں اس ناجائز جنگ کے خلاف شدید عوامی مظاہرے ہوئے ہیں۔

ہما ری موجودہ فوجی حکومت بھی اس معاملے میں بش کے ساتھ ہے لیکن ملک کے کسی بھی کونے یاگوشے میں جا کر دیکھ لیجیے کہ عوام کے اس با رے میں جذ بات کیا ہیں۔نیوز ویک نے یہ دل چسپ اور عبرت آموز واقعہ ریکارڈ کیا ہے کہ افغانستان میں جس پاکستانی فوجی دستے نے ۱۰افغانوں کو شہید کیا تھا جب اس کا کما نڈر جو غالباً لیفٹیننٹ کرنل کے رینک کا تھا ‘ہلاک ہوا اور اس کا جنازہ اس کے گاؤں میں آیا تو اس کے باپ نے اپنے بیٹے کی نمازِ جنا زہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔ نیوز ویک کے نمایندے نے اس سے پو چھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا ؟ تو اس نے کہا کہ میں نے اپنے بیٹے کو بڑی تمناؤں سے فوج میں بھیجا تھا مگر اس لیے نہیں بھیجا تھاکہ وہ جاکر مسلمانوں کو مارے ۔ اس کی نماز جنازہ بش کو پڑھنی ہے تو پڑھے‘ میں باپ ہوتے ہوئے بھی اس غدار کی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ یہ ایک فرد کا واقعہ نہیں ہے ‘ایک باپ کا وا قعہ نہیں ہے‘یہ ایک قوم کی سوچ ہے۔    یہی پوری اُمت مسلمہ کی سوچ ہے۔

اسی طرح انڈی پنڈنٹ کے نامہ نگار رابرٹ فسک نے ایک پورا مضمون افغانستان کے بارے میں لکھا ہے جس میں وہ کہتا ہے: میں جہاں بھی گیا ہوں امریکی بم باری سے جولوگ شہید ہوئے ہیں‘ ان کے مزارلوگوں کے لیے مر جع بنے ہوئے ہیں۔ ہر جمعے کو وہاں عرس کا سماں ہوتا ہے اور امریکی فو جی تنہا با ہر نکلنے کی ہمت نہیں کرسکتے۔ اس طرح دیکھیے بظاہر امریکا کا غلبہ ہے ‘خون بھی بہہ رہا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی غورطلب ہے کہ عوامی سطح پر اس کا ردِ عمل کیا ہو رہا ہے۔ ہمیں منفی اور مثبت‘ روشن اور تا ریک دونوں پہلوئوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ صرف ایک چیز کونہ دیکھیے۔ ساری بربادی کے باوجود‘ مَیں تو اس صورتِ حال میں ایک تابناک مستقبل کے امکانات بچشمِ سر دیکھتا ہوں۔

لیکن یہ بات ضرور میں کہنا چا ہتا ہوں کہ یہ تابناک مستقبل آپ سے آپ نہیں آئے گا۔ یہ اللہ کا قانون ہے کہ تبدیلی مسلسل جدوجہد‘ قربانی اور ثابت قدمی سے آتی ہے‘ یہی اللہ کی سنت اور قانون ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے قانون اور سنت کو بدلتا نہیں۔  فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًاج وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحْوِیْلًاo (فاطر ۳۵:۴۳) ’’تم اللہ کی سنت میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پائو گے اور تم اللہ کی سنت کو ٹلتی ہوئی ہرگز نہ دیکھو گے‘‘۔

قانون یہ ہے کہ آپ کو اس تابناک مستقبل کے لیے کوشش کرنی ہو گی۔آپ کو اس کے لیے جدوجہد کرنی ہو گی۔مجھے اور آپ کو اس کے لیے اپناکردار ادا کر نا ہو گا۔ پھر یہ تابناک ہو گا‘ اور کوئی چیز اس کو تابناک ہونے سے روک نہیں سکتی۔لیکن اگر ہم اپنا فرض ادا نہیں کریں گے‘ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے‘ یا ہم مایوسی کا شکار ہو جائیں گے تو پھر یہ مستقبل تابناک نہیں‘ تاریک ہوگا۔کسی بھی کاروبار میں نفع نقصان دونوں ہو تے ہیں۔بار بار نقصان ہوتے ہیں۔ آدمی دیوالیہ ہوجاتا ہے‘ دکان بند کرنی پڑجا تی ہے۔کارخانے پر قفل لگ جاتا ہے۔ لیکن کیا یہ ایک حقیقت نہیں ہے کہ ایک نقصان کے بعد آپ پھر نفع کے لیے کوشش کر تے ہیں۔ایک بارکاروبار میں نقصان ہونے کے بعد آپ پھر دوسرا کاروبار شروع کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔اگر کاروباری زندگی میں آپ کا یہ رویہ ہے تو پھر سیاسی ‘تہذیبی‘ دینی اور ایمانی زندگی کے لیے آپ اِس سے ہٹ کر کے کیوں سو چتے ہیں؟

منزل اور مقصد کا شعور

تابناک مستقبل تو ہمارا مقدر ہے۔ لیکن یہ اسی وقت ہمارا مقدر ہے جب ہم اس کا حق ادا کرد یں گے۔ اس کے لیے دو چیزیں بہت ضروری ہیں ۔پہلی چیز خود احتسابی ہے۔ آپ دیانت داری کے ساتھ جائزہ لیں کہ ہماری کمزوری کے اسباب کیا ہیں؟ پھر آپ یہ دیکھیں کہ ان حالات کا مقابلہ کر نے کے لیے صحیح لائحہ عمل کیا ہوسکتا ہے؟

جدوجہد اور اس کے نتیجے میں کامیابی کے لیے اولیں شرط ہے منزل اور مقصد کا شعور‘ یعنی انسان کا وژن‘ اس کا تصور ِ حیات۔ میں اگر اسے سے ذرازیا دہ کھل کر کہوں تو اس کا ایمان اور ایمان کی بنیاد پر اُس کا مقصدِ حیات اور زندگی کے اہداف۔ اگر یہ کمزو ری کا شکار ہو جائیں تو یہ سب سے بڑی مصیبت اور سب سے بڑی ناکامی ہے۔ آج مسلمانوں کا معاملہ یہی ہے کہ اللہ کی کتاب بھی موجود ہے ‘اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی موجود ہے‘ ہما ری تاریخ بھی موجود ہے اورصلحاے اُمت کی کوششیں اور کارنامے اور خدمات بھی موجود ہیں۔لیکن اس کے باوجود عملاََہم نے بھی زندگی کوخانوں میں بانٹ دیا ہے۔میں اُن کی بات نہیں کر رہا جو دین سے اتنے غافل ہیں کہ صرف دنیا کو اپنا ملجا اورماویٰ اور اپنا سب کچھ بنا چکے ہیں۔میں اُن کی بات کر رہا ہوں جو نمازیں پڑھتے ہیں ‘ جو روزہ رکھتے ہیں جو گڑگڑاگڑگڑا کر دعائیں بھی کر تے ہیں‘ جو صدقات وخیرات بھی دیتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں سو چتے کہ اِس نماز کے اثرات ہما ری انفرا دی اور اجتما عی زندگیوں پر بھی پڑنے چا ہییں۔کیا ہماری ذمہ داری صرف نماز پڑھ لینے کی ہے یا جس خدا نے ہمیں نماز پڑھنے کے لیے کہا ہے‘ اس نے ہمیں یہ بھی کہا ہے کہ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَـنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ، یعنی نماز تو وہ ہے جو انسان کو فحش اور منکر سے روکتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں جو پوری زندگی کو اللہ کی بندگی میں لانے کا ذریعہ بنتی ہے۔

ہم بڑے اہتمام سے رمضان کا استقبال کرتے ہیں ‘سحری اور افطار کا اہتمام کر تے ہیں‘ عیدیں منا تے ہیں لیکن یہ بھول جا تے ہیں کہ یہ روزہ تو تقویٰ کے لیے ہے۔یہ رو زہ تو اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے ہے۔قرآن نے تو اس کا مقصد اور حاصل یہ بتایا ہے کہ جس ہدایت‘ یعنی قرآن سے تمھیں سرفراز کیا ہے اسی پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکرگزار بن جائو (وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَo البقرہ ۲:۱۸۵)۔ گویا روزہ تو اس مقصد کے لیے ہے کہ ہم قرآن کے پیغام کو پھیلائیں‘ اللہ کی حاکمیت کو قائم کریں اور دین کی سربلندی کی جدوجہد میں مسلسل مصروف رہیں۔

ایمان کی فکر اور ایمان کے مطابق زندگی گزارنے کا عزم ہماری قوت کی پہلی بنیاد ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم اپنا جا ئزہ لے کر کے یہ دیکھیں کہ ایمان ‘ایمان کے تقاضے ‘ زندگی کا مقصد اس کے اہداف اوروژن ‘اور اِس وژن کے ساتھ ساتھ پھر اِیمان اور عمل کے تعلق کی کیا کیفیت ہے۔ اسلام میں ایسا کوئی تصور موجود نہیں ہے کہ ایمان عمل کے بغیرہو ‘ جس طرح عمل ایمان کے بغیر ممکن نہیں ہے اسی طرح ایمان بھی عمل کے بغیر نامکمل اور بے ثمر ہے‘ یہ دونوں ساتھ ساتھ ہیں۔ لہٰذا ہماری پہلی کمزوری ایمان کی‘ تصورِ زندگی کی ‘مقصودِ حیات کی‘ ہدف کی اور منزل کے شعور کی ہے۔ اگر اسے ہم درست کر لیں تو باقی تمام معاملات صحیح رُخ پر آسکتے ہیں ۔اور جب تک یہ درست نہ ہو تو تابناک مستقبل ایک خواب اور سراب رہے گا‘ وہ ہمارا مستقبل نہیں بن سکے گا۔

اخلاقی قوت

ایمان کے ساتھ دوسری بنیادی چیز اخلاقی قوت ہے۔اخلاقی قوت کی بنیاد ایمان ہے۔ عبادات اِس قوت کو پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ یہ وہ قوت ہے جو انسان کو سکھاتی ہے کہ وہ ظلم کو    نہ برداشت کرے بلکہ اسے چیلنج کرے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے صاف کہا کہ اگر تم اخلاق کے اعلیٰ مقام پر ہو گے تو پھر تم میں سے ہر ایک دس دشمنوں کے لیے کا فی ہوگا۔اور اگر تمھا رے اخلاق کمزور ہو جائیں گے توتم دو کے لیے کافی ہوجاؤ گے۔لیکن آج معا ملہ یہ ہے کہ ہم ایک کا مقابلہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس لحاظ سے ہماری دوسری کمزوری یہی اخلاقی قوت کی کمزوری ہے۔ اور اخلاقی قوت ایمان اور عبادات کے ساتھ پیدا ہوتی ہے‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے جلا پاتی ہے اور دعوت الی الخیر اور قربانی دینے سے اس میں نمو اور ترقی رونما ہوتی ہے۔

مادی وسائل کی ضرورت

تیسری اہم بات ما دی قوت ہے۔اگر آپ ما دی قوت کوحاصل کر نے میں غفلت برتتے ہیں اور مقابلے کی قوت پیدا کرنے کی فکر نہیں کرتے تو صرف ایمان اور اخلاق کے ذریعے سے آپ یہ با زی نہیں جیت سکتے ہیں۔ اسلام ہم میں حقیقت پسندی پیدا کرتا ہے اور فطرت کے قوانین کے احترام کی تلقین کرتا ہے۔

اسلام کی خوبی ہی یہ ہے کہ اس کی قوت اس کے اندر ہے کہ اس نے  ایمان ‘اخلاق اور مادی قوت‘اِن تینوں کو ایک وحدت میں تبدیل کردیا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کاحکم نہیں دیا کہ قوت حاصل کرو‘ اتنی قوت کہ دشمن پر تمھارا خوف اور دبدبہ قائم ہوسکے اور تم اس کو منہ توڑ جواب دے سکو:

وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ وَاٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِھِمْ ج لَا تَعْلَمُوْنَھُمْ ج اَللّٰہُ       یَعْلَمُھُمْ (الانفال ۸:۶۰)

اور تم لوگ‘ جہاں تک تمھارا بس چلے‘ زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعدا کو خوف زدہ کرو جنھیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔

قرآن میں طاقت کے حصول اور گھوڑوں کو تیار رکھنے کی جو بات کہی گئی ہے وہ محض گھوڑوں تک محدود نہیں بلکہ وہ اس بات کی دعوت ہے کہ اپنے وقت کی بہترین معاشی‘ سائنسی‘ عسکری ٹکنالوجی کو اپنی گرفت میں لاؤ۔ اس بارے میں قرآن نے بڑے پیا رے انداز میںاپنی بات کہی ہے کہ یہ قوت اتنی ہو نی چاہیے کہ تمھا رے دشمن کو خوف ہو جو دراصل تمھا را دشمن ہی نہیں‘ اللہ کا دشمن بھی ہے اور یہ دشمن وہ ہیں جنھیں تم جانتے ہو اور وہ بھی جن کو تم نہیں جانتے لیکن اللہ کو ان کا علم ہے۔

اجتما عی نظام کی اصلاح کے لیے قوت کا حصول ضروری ہے۔ یہ ما دی قوت اگر اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے ہو ‘ اگر اُمت مسلمہ کے شہداء علی الناس کے مشن کو ادا کرنے کے لیے ہو تو یہ عبادت ہے۔ یہ دنیا پرستی نہیں ہے‘یہ ما دہ پرستی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ دیا ہی اسی لیے ہے کہ اُسے ہم مسخر کر کے اُن اخلاقی مقاصد‘اور نظر یات کے غلبے کے لیے استعمال کریں جو استخلاف کی بنیاد پرہما رے ذمے کیے گئے ہیں۔

معاشرے اور قیادت کا بگاڑ

ان تین بنیا دی چیزوں کے بعد پھر میں یہ بات کہنا چا ہتا ہوں کہ ِاس وقت جہاں انفرادی طور پر‘ الحمدللہ ہما رے معا شرے کے اندربہت خیر موجود ہے اور  میری طرح جن افراد کو بھی دنیا کے گوشے گوشے میں جا نے کا موقع ملا ہے‘ وہ یہ گوا ہی دے سکتے ہیں کہ خراب مسلمان معا شرہ   بھی اپنے اندر بڑا خیر رکھتا ہے۔لیکن اس اعتراف کے بعد ‘یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ آج  مسلم معاشرہ ‘مسلمانوں کا اجتما عی نظامِ قانون ‘ اخلاق‘ معیشت سب زبوں حالی کا شکار ہیں۔ اس پر پردہ ڈالنے سے کوئی فا ئدہ نہیں ۔ ہمیں سمجھنا چا ہیے کہ یہ بگاڑکی گرفت میں ہیں اور خود پورے معاشرے اور ریاست کی اصلاح اور تعمیرنو تابناک مستقبل کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ انفرادی اصلاح کافی نہیں‘ دعوت‘ نیکی کا حکم‘ برائی کو مغلوب کرنے اور معاشرے اور ریاست کو شریعت اسلامی کے مطابق منظم اور سرگرم کرنا بھی دنیا اور آخرت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

پانچویں چیز مسلمانوں کی قیادت کا بگاڑ ہے۔اور میں یہاں ’قیادت‘ کے لفظ کو اس کے وسیع ترین مفہوم میں استعمال کر رہا ہوںجس میں گھر کا سر براہ‘ استاد اور تعلیمی ادارے کا سر براہ‘معا شی حیثیت سے قیادت کے مقام پر فائز لوگ‘ اور پھر اجتما عی اور سیاسی قوت اور سربرا ہی۔ اس وقت اُمتِ مسلمہ کا بہت بڑامسئلہ قیادت کا بگاڑ اور اسلامی معیار سے کوسوں دُور ہونا ہے۔ عوام کی خامیاں اپنی جگہ‘ مگر قیادت کا بگاڑ‘ اصل خرابی ہے۔ عوام الناس‘ عمل میں خواہ کتنے بھی گئے گزرے ہوں‘ ان کی خواہشات ‘ اور تمنائیںسب کا ہدف دورِ رسالت مآب اوردورِ خلافت را شدہ ہی ہے۔آپ کسی اَن پڑھ بڑھیا سے پو چھ لیں کہ تم کون سا نظام چا ہتی ہو؟ وہ کہے گی کہ مجھے وہ عدل چاہیے جو حضرت عمر فاروق ؓ نے دنیا کو دیا تھا۔ یہ احساس موجود ہے۔ لیکن قیادت ‘اس کا قبلہ ‘ اس کی وفاداریاں‘ اس کی ترجیحات سب بگاڑ کا شکار ہیں اور عوام اور قیادت کے درمیان ایک سمندر حائل ہے۔صرف سمندر ہی حائل نہیں بلکہ ان کے درمیان مسلسل کش مکش ہے اور اب تو عالم یہ ہے کہ اس قیادت میں ایسے بدنصیب بھی ہیں جن کو یہ تک کہنے کی جسارت ہو تی ہے کہ کیا میں لوگوں کے ہاتھ کاٹنا شروع کر دوں‘اور اس طرح پوری قوم کولنجا کر دوں۔انھیں ڈاڑھی اور حجاب کا تمسخر اُڑاتے ہوئے بھی کوئی شرم نہیں آتی۔ یہ بگاڑ بڑا بنیادی بگاڑ ہے۔

ہمیں ان پانچوں دائروں میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ان میں سے ہم کسی ایک کو بھی اگر نظر انداز کر تے ہیں تو پھر تابناک مستقبل ایک خواہش تو ہو سکتا ہے‘ ایک حقیقت نہیں بن سکتا۔ یقین جا نیے ان میں سے کوئی مشکل اور کوئی سبب بھی ناقابلِ تسخیر نہیں ۔ہم نے آج بھی ان    گئے گزرے حالات میں اپنی آنکھو ں سے دیکھا ہے کہ کس طرح افراد کی زندگیاں بدلتی ہیں؟  کس طرح قوموں کی تقدیریں بدلتی ہیں؟ میں دو واقعات آپ کو بتانا چا ہتا ہوں۔

دو روشن مثالیں

جب ملایشیا آزا د ہوا تو اس وقت کی حکومت نے یہ طے کیاکہ انگریزوں کی حکمتِ عملی پر عمل کر تے ہوئے اسکول کے بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے لیے بیرونِ ملک بھیجیں ۔اس کے لیے برطانیہ‘ آسٹریلیا اور امریکا ان تین ملکوں کا انتخاب کیا گیا۔اور ہزاروں کی تعدادمیں نوجوان نابالغوں اور اسکول کی عمر کے بچوں بچیوں کو بھیجا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ وہ اس طرح مغرب کے رنگ میں رنگ کرکے آئیں گے کہ پھر زندگی کی انھی رنگینیوں کو ملک میں عام کریں گے۔اور ہم اس طریقے سے ان کو آزادی دینے کے بعد بھی اپناغلام رکھ سکیں گے۔لیکن میں آپ کو بتاتاہوں کہABIM اوراسلامی تحریک وہاں پر انھیں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی وجہ سے رونما ہوئی اور بالکل فضا     بدل گئی۔

اس سے بھی زیا دہ آنکھیں کھولنے والی مثال الجزائر کی ہے۔ہم نے تو بر طانوی استعمار کو دیکھا ہے۔ جس میںفرانسیسیوں کے مقابلے میں پھر بھی کچھ معقولیت تھی۔ کچھ قانون کا احترام تھا۔ کچھ مذہبی روادا ری تھی ۔فرانس کا حال تو یہ تھا کہ انھوں نے اپنے مقبو ضہ علاقوں کو سیا سی اور معاشی اعتبار سے ہی تباہ نہیں کیا‘ بلکہ اخلاق ‘ تعلیم ‘حتیٰ کہ زبان‘ کسی کو نہیں چھوڑا۔ الجزائر میں استعمار کے جارحانہ رویے کے نتیجے میں یہ قوم عربی زبان سے محروم ہوگئی تھی۔جب ۵۵/۱۹۵۴ء میں وہاں کی قومی محاذ آزادی (این ایل ایف) کے سربراہ یہاں پاکستان آئے تو اس وقت میں جمعیت کا   ناظم اعلیٰ تھا۔ہم ان سے ملنے کے لیے میٹروپول ہوٹل میں گئے۔ہم اپنے ساتھ ایک عربی کا مترجم لے کر گئے۔جب ان سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ میں عربی نہیں بول سکتا ۔ کوئی فرانسیسی مترجم لائیے۔یہ کیفیت تھی وہاں کی مسلمان قیادت کی۔

اگر آپ فرانس کی میڈیا پالیسی کو دیکھیں تو سر پکڑ لیں گے کہ فرانسیسی دور اقتدار میں جو فلمیں فرانس میں نہیں دکھائی جا سکتی ہیں‘ وہ فحش پروگرام الجزائر میں پوری بے باکی سے ٹیلی کاسٹ کیے جاتے تھے۔ مقصد تھا پورے معاشرے کو بگاڑنا اور اخلاقی انارکی میں مبتلا کرنا۔ اس کا ردِعمل یہ ہوا کہ اسلامی مزاحمت اور اسلامی تحریک نے دل و دماغ میں طوفان برپا کر دیا۔ عربی زبان کا احیا ہوا‘ اسلامی نظام کی پیاس اتنی بڑھی کہ ۱۹۹۲کے انتخابات میں اسلامی فرنٹ کو تقریباً ۹۰ فی صد ووٹ ملے۔

مزاحمت‘ اصل طاقت

استعمار کی منصوبہ بندی ہمیشہ سے یہی رہی ہے جس کی تلقین آج بش صاحب اور ان کی ٹیم کر رہی ہے کہ تعلیم کو تبدیل کرو‘مدرسوں کو سیکولر رنگ میں رنگو۔ جہاد کا لفظ تو آج نہیں‘ پہلے دن سے دشمنوں کا ہدف رہا ہے ۔آپ کو معلوم ہے کہ اسلام پر غالباََ دو سری صدی ہجری کے اندر پہلی تنقیدی کتاب جو ایک عیسائی عالم کی طرف سے آئی ہے‘ اُس میں اصل ہدف جہاد اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے‘یعنی نبی پاک ؐ کی ذاتِ مبارک اور جہاد کا تصور ہمیشہ سے اصل ہدف رہے ہیں۔ فرانسیسی‘ برطا نوی‘ فرانسیسی‘ اطالوی استعما ری دور کا مطالعہ کر لیجیے‘ سب کے سامنے اصل ہدف جہاد تھا۔ خواہ وہ السنوسی کی تحریک ہو‘خواہ وہ الجیریا کے عبدالقادر کی تحریک ہو‘ خواہ وہ صومالیہ کی تحریک ہو‘ خواہ برعظیم کے شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تحریک ہو۔ہر جگہ آپ دیکھیں گے کہ جہاد ہی نے استعمار کا راستہ روکا اور جہاد ہی کو استعمار نے ہدف بنایا۔یہ نئی نہیں‘ بڑی پرا نی حکمتِ عملی ہے۔ اور بظاہر معلوم ہو تا ہے کہ پتا نہیں یہ کیا کر لیں گے لیکن جہاد کا تصور ہو یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی سنت کی مرکزی حیثیت‘ دشمن کی ساری یلغار کے باوجود ان پر کوئی دھبا نہیں آسکا اور نہیں آسکتا۔ جھوٹی نبوتیں تک برپا کی گئیں لیکن دین حق پر کوئی آنچ نہ آئی۔ اسلام کو دبانے کی جتنی کوششیں ہوئیں‘ وہ اتنا ہی مستحکم ہوا    ؎

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اتنا ہی یہ اُبھرے گا‘ جتنا کہ دبا دیں گے

تاریخ میں ہم پر بڑے سخت دور گز رے ہیں۔شا ید سب سے سخت دور وہ تھا جب چنگیز اورہلاکو کی فوجوں نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی ۔اور مسلمانوں کی مایوسی اور بے بسی کا عالم یہ تھا کہ مؤرخین لکھتے ہیں کہ اگرکوئی تاتار مسلمانوں سے کہتا تھا کہ تم لیٹ جاؤ اور انتظار کرو کہ میں اپنے گھر سے اپنی تلوار لے ا ٓؤں اور اس سے میں تم کو ذبح کروں تو وہ لیٹے رہتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ اپنا خنجر لاتے اور ان کو ذبح کر دیتے۔یہ کیفیت تھی مسلمانوں کی۔لیکن اس کے بعد دیکھیے کہ      دو سوسال کے اندر اندر پھر حالات بدل گئے اور انھی تاتاریوں کے دل و دماغ کو اسلام نے مسخر کرلیا‘ جنھوں نے مسلمانوں کو فتح کیا تھا۔ اسلام نے ان کو فتح کرلیا اور بقول اقبال     ؎

ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے

پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

وہی تاتار جو مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھا رہے تھے اور شہدا کے سروں سے مینار بناتے تھے‘ انھی کے ذریعے سے پھر۴۰۰ سال تک مسلمانوں کی حکمرانی کا نظا رہ چشمِ تا ریخ نے دیکھا۔ لہٰذا تاریخ کے نشیب وفراز سے پریشان نہ ہوں ۔لیکن اس میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ میرا اور آپ کا ردِ عمل کیا ہو تا ہے؟ غلامی یہ نہیں ہے کہ ہمارے ہاتھوں میں زنجیریں پڑجائیں اور ہمارے پاؤں بیڑیوں سے جکڑے ہوئے ہوں‘ بلکہ غلامی یہ ہے کہ ہم ظلم کی بالادستی کو قبول کرلیںاورمزا حمت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔جہاد نام ہی مزا حمت کا ہے ۔جہاد نام ہے ظلم اور کفر کے غلبے کے خلاف جدوجہد کرنے کا۔خواہ وہ قلم سے ہو‘ زبان سے ہو‘ ذہن سے ہو‘مال سے ہو یا جان سے ہو۔یہ سب اس کی مختلف شکلیں ہیں۔اور اس وقت دشمنوں کا یہی ہدف ہے کہ مسلمانوں میں روحِ جہاد باقی نہ رہے ۔ ان کا ہدف ہماری قوتِ مزاحمت ہے‘ شر سے سمجھوتا نہ کرنے کا جذبہ ہے۔ حالات کے آگے سپر نہ ڈالنے کا داعیہ ہے‘ مقابلے کا جذبہ اور اُمنگ ہے۔ اقبال نے ’’ابلیس کی مجلسِ شوریٰ‘‘ میں ابلیس کی اس پریشانی کا اظہار بڑے واضح الفاظ میں کر دیا ہے    ؎

ہے اگر مجھ خطر کوئی تو اِس اُمت سے ہے

جس کے خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو

یہ جو شرارِ آرزو ہے‘یہ جو ظلم کے آگے ہتھیار نہ ڈالنے اور حق کے لیے جدوجہد کرنے کا جذبہ ہے‘ یہ ہماری اصل طاقت ہے۔ اگر یہ جذبہ آپ میں موجود ہے تو کوئی آپ کو غلام نہیں بناسکتا‘ کوئی ہمیں مغلوب نہیں کرسکتا۔اور اگر یہاں ہم نے شکست کھا لی تو ہمارے پاس اگر سونے کے انبار ہو ں ‘بنکوں میں ڈالروں کی ریل پیل ہو‘ حتیٰ کہ اسلحے کی فراوانی ہو‘ تب بھی ہم غلامی سے نجات نہیں پا سکتے۔ اس لیے اگرآپ مجھ سے ایک لفظ میںپو چھنا چا ہتے ہیں کہ تابناک مستقبل کی ضمانت کیا ہے؟ تو وہ ہے آرزو‘ وہ ایمان ہے ‘ وہ یہ جذبہ ہے ‘ وہ یہ مزاحمت ہے‘  وہ یہ احساس ہے کہ ہمیں اللہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کو قبول کرنا     ہے‘ اس کے داعی بننے کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔ اسی سے دنیا اور آخرت دونوں میں ہمارا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔

اتحاد کی ضرورت

میں بات ختم کرنے سے پہلے ایک اور امر کی طرف آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جو فتنے اورمشکلات آج ہمیں در پیش ہیں‘ اُن میں ایک ہمارا آپس کی تفرقہ با زی ‘کفر سازی‘ اور جزوی امور کو اتنی اہمیت دے دینا ہے کہ اصول پامال ہوجائیں اور باہم رواداری پارہ پارہ ہوجائے۔ اصول ‘ بنیاد اور متفق علیہ معاملات کو نظرانداز کر کے فرو عی ‘جزوی‘ غیر متعلق باتوں میں اُلجھ جانے اور ان کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کا مرض ہمارے مخالف بڑی کامیابی سے ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جس سے ہمارے مخالف ہمیں نان ایشوز میں الجھا کراصل ایشوز سے جن کو ہمیںمل جل کر حل کر نا ہے‘ غافل رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کی مثال میں آپ کو یہ دینا چا ہتا ہوں کہ عراق میں امریکی قوتوں کے غلبے کے بعد جو سب سے زیا دہ اہم ایشو اٹھایا گیا وہ یہ ہے کہ عراق میں اتنے شیعہ ہیں اتنے سنی ‘اور یہ کبھی ساتھ نہیں رہ سکتے۔اور بددیانتی کی انتہا ہے کہ کرد جو آبا دی کا پانچواں حصہ ہیں‘ وہ ۱۰۰ فی صد سنی ہیں مگر انھیں کوئی سنی نہیں کہتے ۔لیکن جو ۲۲‘۲۳فی صد عرب سنی ہیں انھیں سنی قرار دیتے ہیں اور باقیوں کو   شیعہ قرار دیتے ہیں۔یہی چیز افغانستان میں آپ نے دیکھی۔پشتون اور فا رسی بولنے والے‘    سنی اورشیعہ‘یعنی یہ سارے تنازعات پیداکیے جا رہے ہیں۔ انھی کا پرتو آپ پاکستان میں بھی   دیکھ سکتے ہیں۔

میں نے آغاز میں کہا تھا کہ ایمان کے ساتھ ساتھ دین کا صحیح وژن ضروری ہے۔ اور اس وژن کے اندر ایک بڑی چیز ہے: الاقدم فالاقدم کہ جو اہم ہے اسی کو اہم ہونا چا ہیے۔جو مرکزی ہے اسی کو مرکزی ہونا چا ہیے۔جو اصول ہے اسی پر ہما ری اصل نظرہو نی چا ہیے۔اور جو اختلاف ہے ‘ جو فرو عی ہے اس کے با رے میں ہمیں توسع ‘ رواداری کواپنانا چا ہیے ۔مکالمہ ضرور کیجیے لیکن اس میں اُلجھ کر اصل کو بھول جانا اور تر جیحات کا بگڑ جانا یہ بہت بڑی تبا ہی ہے۔میں نے    جتنا مطا لعہ کیا ہے‘ میں آپ سے ایمان داری سے کہتا ہوں کہ اہلِ سنت کے درمیان جو مکاتب فکر ہیں ان میں ۹۵ فی صد ایشوز وہ ہیں کہ جن میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں۔ سا رے اختلافات صرف ۵ یا ۶ فی صد معاملات کے اُوپر ہیں۔اور اگر آپ اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے مابین اختلافی امور کا جائزہ لیں تو یہ زیادہ سے زیا دہ بڑھ کر کے ۸ سے ۱۰فی صدامور کے بارے میں ہیں‘ جب کہ  ۹۰ فی صد امور میں ہم سب مشترک ہیں۔

کیا ظلم ہے کہ ۹۰ فی صد اور ۹۵فی صد قدر مشترک کو تو ہم بھول جاتے ہیں‘ اور اس پانچ سات فی صد جس کے با رے میں اختلاف ہے ‘اس میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ ہم اختلاف سے انکار نہیں کرتے لیکن اگر ہم اس اختلاف کو اس کی حدود میں رکھیں‘ اختلافی امور میں روادا ری بر تیں اور جو ہما رے مشترکات ہیں اس پر ڈٹ جائیںتو ہما ری کتنی بڑی قوت ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ میں کہتا ہوں کہ فقہ نظامِ زندگی ہے ‘ قانون ہے ‘ ہمارا راہنما ہے۔لیکن ہما ری تر جیحات میں سب سے پہلی چیز قرآن ہو نی چا ہیے۔پھر سنتِ رسول ؐ ، پھر فقہ‘اور پھر تاریخ ۔اگر یہ تر تیب آپ رکھیں گے تو کبھی بگاڑ نہیں آئے گا۔ اس سے بڑا سانحہ کیا ہوگا کہ ہم قرآن کو بھول جائیں ‘ سنت کی ہم فکر نہ کریں ‘فقے میں بھی مشترکات کو ہم نظرانداز کر دیں اور صرف فروعات میں ہی الجھ جائیں تو پھر حالات خراب نہ ہوں تو کیا ہو؟

عزمِ نو

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی صحیح بات کہی تھی کہ لن یصلح آخر ھذہ الامۃ الا بما یصلح بہ اولھا ، اِس اُمت کے آخری دور کی اصلاح بھی اُسی سے ہوسکتی ہے جس سے اِس کے پہلے دور کی اِصلاح ہوئی تھی۔اور وہ ہے قرآن۔تو آئیے ! اس کتابِ ہدایت کو تھام لیں اور غلبۂ اسلام کی اُس اُمنگ کو جو ساری قوت کا سرچشمہ ہے ‘اِس جذبے کو بیدار اور اُجاگر کریں کہ ہمیں ظلم کے آگے کبھی بھی سپر نہیں ڈالنا بلکہ مزاحمت کرنا ہے۔اور اگر آپ تاریخ پر غور کریں تو آپ یہ دیکھیں گے کہ خیر اور شر کی کش مکش سے ہی قوموں میں ساری تخلیقی قوت (creativity) پیدا ہو تی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح فزکس میں رگڑ (friction) سے انرجی پیدا ہوتی ہے ۔اسی طرح انسانی زندگی میں بھی اسی کش مکش سے تخلیقی قوت پیدا ہوتی ہے اور طاقت کے نئے سر چشمے پھوٹتے ہیں۔

تو آئیے!ہم ایمان اور اُمید کا دامن تھام لیں۔ اللہ کو اپنی قوت کا ذریعہ بنائیں ۔ اور اپنے عوام کو بیدار اور منظم کریں کہ اللہ کی نصرت کے لیے یہ ضروری ہے۔  ھُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ o (الانفال ۸:۶۲ )’’وہی وہ ذات ہے جس نے اپنی مدد اور مومنوں کے ذریعے سے تمھاری تائید فرمائی‘‘۔ اپنے رب سے مدد طلب کریں ۔ تاریکی سے مایوس نہ ہوں۔ بچپن میں‘ میں نے ایک قطعہ سنا تھا جسے حرزِجان بنا لیا‘ اس پر بات ختم کرتاہوں:

یوں  اہلِ  توکل  کی  بسر  ہوتی  ہے

ہر  لمحہ   بلندی  پہ  نظر  ہوتی  ہے

گھبرائیں نہ ظلمت سے گزرنے والے

آغوش میں ہر شپ کے سحر ہوتی ہے


یہ اشارات اس تقریر پر مبنی ہیں جو مدیر ترجمان القرآن نے ۱۱ مارچ ۲۰۰۵ء کو فاران کلب کراچی کے ایک بڑے اجتماع میں کی جس میں کراچی کے اہل دانش اور تاجر برادری کے سرکردہ افراد شریک تھے۔ ضروری نظرثانی اور اضافوں کے ساتھ۔

(کتابچہ دستیاب ہے۔ قیمت: ۵ روپے۔ سیکڑے پر رعایت۔ منشورات‘ منصورہ‘ لاہور۔ فون:۵۴۳۴۹۰۹)

افغانستان میں صدر حامد کرزئی کی حکومت اتحادی افواج کے سہارے اقتدار کی مسند پر  فائز ہے لیکن افغانستان پر حاکمیت نہ صدر حامد کرزئی کو حاصل ہے اور نہ اُن کے مادی سہاروں (اتحادی افواج) ہی کو۔ حاکمیت کے قیام کے لیے ہر دو نے ماضی قریب میں یہ ضرورت شدت سے محسوس کی ہے کہ طالبان کے نام سے کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیں۔ اس غرض سے اتحادی افواج کے کمانڈر کرنل رچرڈ پیٹرسن نے یہ اعلان کیا کہ جو طالبان قومی مصالحت کے پروگرام میں شریک ہوں گے اُن کو عام معافی دی جائے گی‘ اور اُن کے لیے خصوصی شناختی کارڈ جاری کیے جائیں گے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ پیشِ نظر مقصد یہ ہے کہ طالبان تحریک کے ارکان کو بھی آزادانہ طور پر افغانستان میں دوسرے افغانوں کی طرح عام زندگی گزارنے کا موقع فراہم ہوسکے۔ یہ الگ بات ہے کہ کیا طالبان کے علاوہ افغان عوام عام زندگی بسر کرنے پر قادر ہیں یا امریکاکی سربراہی میں اتحادی افواج نے سارے افغانوں کو عام زندگی گزارنے سے محروم کر کے رکھ دیا ہے؟ کیا اتحادی افواج خود افغانستان میں آزادانہ گھوم پھر سکتی ہیں؟ ان کو یہ اختیار کہاں سے حاصل ہوگیا ہے کہ وہ افغانوں کو آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت دیں یا نہ دیں؟

حامد کرزئی کی حکومت اور اتحادی افواج کے ساتھ مذاکرات کرنے والے جن افراد کے نام اب تک منظرعام پر آئے ہیں وہ درج ذیل ہیں: ۱- حبیب اللہ فوزی: جو طالبان کے دور میں ریاض (سعودی عرب) میں سفارت کار تھے‘ ۲- عبدالحکیم مجاہد: اقوام متحدہ میں طالبان کی حکومت کے نمایندے‘ ۳- مولوی ارسلان رحمانی: طالبان کے نائب وزیر براے تحصیلاتِ عالیہ‘ ۴- رحمت اللہ وحید یار: طالبان کے نائب وزیر براے مہاجرین۔ لیکن طالبان کے ترجمان لطف اللہ حکیمی نے یہ اعلان کیا ہے کہ مذاکرات کے عمل میں شریک لوگوں کا طالبان کی تحریک سے اب کوئی تعلق نہیں رہا اور وہ تحریک کے نمایندوں کی حیثیت سے مذاکرات نہیں کر رہے‘ جب کہ مذاکرات میں شریک افراد نے خود بھی یہ اعلان کیا ہے کہ وہ طالبان کے نمایندے نہیں بلکہ وہ اپنی تنظیم خدام الفرقان کی نمایندگی کر رہے ہیں۔

مذاکرات کے دوران یہ تقاضا کیا گیا کہ گوانٹاناموبے‘ باگرام اور قندھار میں طالبان کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام میں قید ۴۰۰ سے ۵۰۰ کی تعداد میں گرفتار افراد کو فی الفور رہا کیا جائے۔ لیکن اتحادی افواج کے ترجمان سٹیووولمین نے کہا کہ ان افراد کی رہائی افغان حکومت کا مسئلہ ہے‘ اتحادی افواج کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس وجہ سے مذاکرات کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا ہے۔ اگرچہ عام افغانوں کی خواہش ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں جس کے نتیجے میں خانہ جنگی ختم ہو‘ افغان عوام مل کر اتحادی افواج سے مشترکہ طور پر مطالبہ کریں کہ وہ افغانستان سے نکل جائیں‘ اور افغان عوام کو اپنے طور پر افغانستان کے اُمورمملکت چلانے کا اختیار دیا جائے۔

طالبان کے وزیرِخارجہ مولوی وکیل احمد متوکل کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مذاکرات کے بعض ادوار میں شریک رہے ہیں۔ ان کے بارے میں پہلے بھی اس طرح کی خبریں پھیلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ وہ موجودہ افغان حکومت سے مل گئے ہیں‘ لیکن بعد میں وہ خبریں جھوٹی ثابت ہوئی ہیں۔

یہ بات اب محتاج ثبوت نہیں کہ بیرونی افواج کے ذریعے افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ امریکا کی یہ دیرینہ پالیسی رہی ہے کہ افغانوں کو مختلف ناموں سے تقسیم کرے اور تقسیم در تقسیم کے ذریعے مختلف گروپوں میں پھوٹ ڈالے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ طالبان میں ’اعتدال پسند طالبان‘ اور ’انتہا پسند طالبان‘ کی تقسیم امریکا کا ایک ناکام حربہ ہے۔ افغانستان کے مسئلے کا واحد حل آزادانہ ‘ منصفانہ اور غیر جانب دارانہ انتخابات کے ذریعے افغان عوام کی مرضی کی منتخب حکومت کو مکمل اختیارات سونپنا اور امریکی افواج اور ان کے اتحادیوں کا افغانستان سے مکمل انخلا ہے۔ اگر امریکا کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ شام سے مطالبہ کرے کہ وہ لبنان سے اپنی فوجیں نکال لے‘ تو افغانوں کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ ان کے مطالبے پر افغانستان سے امریکی فوج نکل جائے۔

فی الوقت افغانستان میں ایک اور اہم واقعہ جنرل عبدالرشید دوستم کا افغان مسلح افواج کا سربراہ مقرر کیا جانا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے مارچ کے شروع میں ان کی تقرری کا اعلان کیا۔ جنرل عبدالرشید دوستم نہ صرف افغانستان کی ایک متنازع شخصیت اورافغان عوام کے خلاف انتہائی گھنائونے جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں‘ بلکہ انھوں نے افغان جہاد کے قائدین بالخصوص انجینئر احمد شاہ مسعود اور انجینئر گلبدین حکمت یار کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا‘ اور اس طرح افغانستان میں عدمِ استحکام اور خانہ جنگی کا باعث رہے ہیں۔ درآں حالیکہ مذکورہ بالا دونوں افغان رہنمائوں کا خیال یہ تھا کہ وہ جنرل عبدالرشید دوستم کو اپنے حق میں اور دوسروں کے خلاف استعمال کرسکیں گے۔ یہ ان دونوں کی اپنی اپنی جگہ پر ایک بڑی فاش غلطی تھی۔ درحقیقت احمد شاہ مسعود یا گلبدین حکمت یار نے جنرل عبدالرشید دوستم کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کیا‘ بلکہ اُلٹا عبدالرشید دوستم نے ان دونوں رہنمائوں کو باری باری ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا۔

صدارتی انتخابات کے بعد افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کی آمد آمد ہے اور شاید  افغان صدر حامد کرزئی نے ان انتخابات پراثرانداز ہونے کے لیے جنرل عبدالرشید دوستم کو   افغان مسلح افواج کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ لیکن حامد کرزئی کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اُن کے اس عمل سے افغان عوام انتہائی ناخوش ہیں‘ اور ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے شاید عبدالرشید دوستم کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کے بجاے خود حامد کرزئی اُن کے ہاتھوں استعمال ہوجائیں۔

حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت تک اپنے رب کی طرف سے ہدایت کے روشن راستے پر رہوگے جب تک تم پر دو چیزوں: جہالت اور دنیوی عیش و عشرت کی محبت کا نشہ غالب نہ ہوجائے۔ اس کے ساتھ تم بھلائی کا حکم کرو اور برائی سے روکو اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد کرو۔ لیکن جب تم پر دنیا کی محبت غالب ہوجائے تو تم بھلائی کا حکم نہیں کرو گے اور برائی سے نہیں روکو گے‘ اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد بھی نہیں کرو گے۔ ایسے دور میں کتاب و سنت پر قائم رہنے والے ان مہاجرین اور انصار کی مانند ہوں گے جو سابقین الاولین میں شامل تھے۔ (مجمع الزوائد‘ بحوالہ مسند بزار)

دین سے جہالت اور عیش و عشرت کی محبت ایک نشہ ہے جو آدمی کو ایمان کے تقاضوں سے اسی طرح غافل کردیتا ہے جس طرح نشے میں مدہوش انسان اپنے نفع و نقصان سے غافل ہوتا ہے۔ آج کے دور میں مسلمانوں کا ایک بڑا اور مؤثر طبقہ جہالت اور عیش و عشرت کے نشے میں مست ہے۔ وہ ہر چیز سے غافل اور ہر برائی میں مبتلا ہے۔ اللہ کا دین ان کے ہاتھوں معطل ہے۔ وہ بھلائی کو بھلائی اور برائی کو برائی سمجھنے کے بجاے بھلائی کو برائی اور برائی کو بھلائی سمجھتے ہیں۔ بھلائی ان کے نزدیک انتہاپسندی ہے اور برائی روشن خیالی اور اعتدال پسندی۔ اسلامی شعائر: پردے‘ داڑھی کی تبلیغ سے انھیں کراہت ہے اور بسنت میلہ‘ میراتھن ریس‘ جشنِ بہاراں‘ جس سے بیسیوں انسانوں کی جانیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں‘ اس سے انھیں لطف اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ بھلائیوں کا حکم کرنا اور برائیوں سے روکنا‘ جہاد فی سبیل اللہ کو جاری رکھنے کا وہ تصور بھی نہیں کرتے اور برائیوں کے فروغ کے لیے دن رات منصوبہ بندیاں کرتے ہیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے ۱۵۰۰ سال قبل اس بھیانک دور کا تذکرہ فرما دیا۔ اس دور میں جہاں جہالت کے نشے میں مدہوش طبقہ لادینیت‘ برائی اور بے حیائی کی اشاعت میں سرگرمِ عمل ہے‘ وہیں صحابہ کرامؓ، السابقون الاولون کے کردار کو زندہ کرنے والے خوش نصیب لوگ بھی ہیں جو پورے جوش و جذبے اور استقامت کے ساتھ لادینیت اور برائی کے خلاف برسرِپیکار ہیں اور کتاب وسنت کے پاکیزہ نظام کو قائم کرنے کے لیے تمام صلاحیتیں اور وسائل کھپا رہے ہیں۔

حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان ایک بھیڑیا ہے۔ جس طرح بکریوں کا ایک بھیڑیا ہوتا ہے‘ وہ دُور اور الگ تھلگ چرنے والی بکری کو پکڑلیتا ہے۔ اس لیے تم گھاٹیوں میں الگ تھلگ گھومنے کے بجاے عام مسلمانوں کی جماعت اور مسجد کے ساتھ وابستہ رہو۔ (مسند احمد)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت پر جن لوگوں نے عمل کیا وہ شیطان کے شر سے پہلے بھی محفوظ رہے اور آج کے دور میں بھی محفوظ ہیں۔ آج شیطان اپنی پوری طاقت کے ساتھ حملہ آور ہے لیکن وہ جماعت اور عام مسلمانوں کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے ایمان و استقامت کے ساتھ صراطِ مستقیم پر گامزن ہیں۔

صحابہ کرامؓ کی جماعت کو مشعل راہ بناکر جو جماعت تشکیل دی جائے‘ اس میں شمولیت اور فرقوں اور گروہوں میں بٹنے کے بجاے مسلم بن کر مسلمانوں کے ساتھ رہنا ایک حفاظتی حصار ہے۔ اسی طرح مسجد بھی ایک قلعہ ہے‘ جس میں مومن شیطان کا اس طرح مقابلہ کرتا ہے جس طرح ایک آدمی قلعہ بند ہوکر دشمن کا مقابلہ کرتا ہے۔

اسلامی جماعت میں شامل ہو کر اجتماعی زندگی گزارنا‘ فرقہ واریت سے بچتے ہوئے اسلام اور مسلم کے تشخص کو اختیار کرنا اور مسجد سے تعلق کی زندگی اختیار کرنا آج بھی ان لوگوں کا امتیاز ہے جو راہِ راست پر ہیں اور شیطان اور اس کی فوج کا پوری جرأت اور ہمت سے مقابلہ کرتے ہیں۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر کی دو رکعتیں دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے‘ اس سے بہتر ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ فجر کی دو رکعتیں مجھے ساری دنیا سے محبوب ہیں۔

فجر کی دو سنتوں کی قدروقیمت کا احساس ہو تو انسان ان کو کسی بھی صورت نہ چھوڑے۔ رات کے آخری حصے کی میٹھی نیند اور کوئی دوسری چیز اس کی بروقت ادایگی میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ دوسری سنتوں کو بھی دنیوی فوائد پر برتری حاصل ہے اور فرائض کا فوت ہو جانا تو ایسا ہے جیسے کسی کا اہل و عیال اور سارا مال تباہ ہوجائے‘ اور جان بوجھ کر چھوڑ دے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس کی ساری نیکیاں ضائع ہوگئیں‘ اس نے اپنی آخرت کا سامان جلا کر رکھ دیا جو دنیاوی نقصان سے بھی بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نیکی جس شکل میں بھی ہو اور جتنی مقدار میں ہو وہ آخرت کی کمائی ہے اور باقی رہنے والی ہے۔ تھوڑی ہو تب بھی‘ زیادہ ہو تب بھی۔ اور دنیاوی سازوسامان کتنا زیادہ ہی کیوں نہ ہو‘ وہ فانی ہے اور زیادہ ہونے کے باوجود قلیل۔ اس لیے نیکی کی راہ میں دنیا کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے بلکہ نیکی کے بارے میں فیصلہ کرلینا چاہیے کہ اسے ہر حال میں عملی جامہ پہنایا جائے گا‘ چاہے اس کے لیے دنیا کی بڑی سے بڑی متاع کو قربان کرنا پڑے۔ فجر کی سنتوں کا خصوصی اجر اسی لیے ہے کہ اس میں انسان کے نفس کو زیادہ مشقت کرنا پڑتی ہے۔

حضرت جابرؓ سے روایت ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف کے پاس تشریف لائے اور ان سے گفتگو فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا:اے انصار کی جماعت! انھوں نے عرض کیا: لبیک یارسولؐ اللہ!۔ آپؐ نے فرمایا: تم لوگ جاہلیت میں جب اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے تھے ‘ تب تم بے سہاروں کا بوجھ اٹھاتے تھے‘ اپنے مالوں کو بھلائی کے کاموں میں خرچ کرتے تھے اور مسافروں کی خدمت کرتے تھے۔ تم یہ کارِخیر کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر اسلام اور نبیؐ کے ذریعے احسان فرمایا۔ اب تم اپنے مالوں کو بچاکر رکھتے ہو؟ خرچ نہیں کرتے؟ (باغ اور فصل میں سے) ابنِ آدم کھاتا ہے تو اس میں اجر ہے‘ درندے اور پرندے کھاتے ہیں تو اس میں بھی اجر ہے۔ لوگ اپنے گھروں کو واپس آئے تو ہر ایک نے اپنے باغ میں ۳۰ دروازے بنا دیے تاکہ لوگ آسانی سے داخل ہوسکیں اور بھوکے اور مسافر اس سے کھاسکیں۔ (مستدرک حاکم)

کفار بھوکوں اور پیاسوں کو کھلائیں پلائیں اور مسلمان دولت ذخیرہ کرتے رہیں‘ ایمان کے منافی ہے۔ مسلمان کو خلقِ خدا کی خیر خواہی‘ ہمدردی اور غم گساری میں آگے ہونا چاہیے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔ مسلمان حکومت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ دولت ذخیرہ کرے درآں حالیکہ ملک کے باشندے بھوکے اور ننگے ہوں۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ کافر ممالک اپنے باشندوں کو خوراک‘ پوشاک‘ رہایش اور علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کریں اور مسلمان ممالک میں اس کا انتظام نہ ہو۔ بہانہ یہ کریں کہ خزانے میں اس کی گنجایش نہیں ہے۔ یہ شرم کی بات ہے۔ اصل بات وسائل اور مال و دولت کی کمی کی نہیں ہے بلکہ غیرمنصفانہ تقسیم کی ہے۔ اس خزانے سے ایک طرف کسی ایک شخص کی محض حفاظت اور آمدورفت پر یومیہ لاکھوں خرچ ہورہے ہیں اور دوسری طرف ایک شخص اپنے اور بال بچوں کے لیے خشک روٹی بھی نہیں پاتا۔ مسلمان ممالک اس میدان میں کافروں سے پیچھے ہوں‘ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عار دلائی ہے۔ جس کو اللہ نے زیادہ نوازا ہے‘ اسے کھلے دل سے بندگانِ خدا کی ضروریات پوری کرنے پر خرچ کرنا چاہیے۔

ابن عمرؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں کہ جب قرآن پاک کی یہ آیت: جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں‘ اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے‘ جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں۔ اِسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے‘ افزونی عطا فرماتا ہے۔ وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی(البقرہ ۲:۲۶۱)‘ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ’’اے اللہ! میری اُمت کو مزید عطا فرما‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اُتاری: اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ o (صبر کرنے والوں کو تو ان کا     اجر بے حساب دیا جائے گا۔ الزمر ۳۹:۱۰)۔ (ابن حبان)

انفاق فی سبیل اللہ ایسی سرمایہ کاری ہے جس کے ۷۰۰ گنا نفع بلکہ زیادہ کا اللہ کا وعدہ ہے۔ مسئلہ وعدے پر یقین کا ہے۔ کمپنیوں کے حصص کی پیش کش آتی ہے یا جہاں بھی محض دو تین گنا منافعے کا یقین ہو‘ مطلوبہ رقم سے کئی گنا اربوں روپے اسی مسلم معاشرے سے جمع ہوجاتے ہیں‘ جہاں اللہ کے دین کی سربلندی کے کئی منصوبے محض وسائل کی کمی سے تشنہ تکمیل رہ جاتے ہیں۔ آیئے‘ ایمان کو تازہ کریں‘ دنیا کو دنیا کی جگہ اور آخرت کو آخرت کی جگہ رکھیں‘ پھر نصرتِ الٰہی کا وعدہ پورا ہونے کی امید کریں۔

اس کتاب [قرآن حکیم] کا لانے والا‘ ذاتی طور پر کس قسم کے اخلاق کا انسان تھا؟ اس سوال کے جواب میں‘ قرآن مجید نے دوسری رائج الوقت کتابوں کی طرح‘ اپنے لانے والے کی تعریف کے پُل نہیں باندھے ہیں‘ نہ آپؐ کی تعریف کو ایک مستقل موضوعِ گفتگو بنایا ہے۔ البتہ آمدِ سخن میں محض اشارتاً‘ آنحضرتؐ کی اخلاقی خصوصیات ظاہر کی ہیں جن سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس وجودِ مسعودؐ میں کمالِ انسانیت کے بہترین خصائص موجود تھے۔

۱- اعلٰی اخلاق:  وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا‘اخلاق کے نہایت بلند مقام پر تھا:

وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم۶۸:۴)

اور اے محمدؐ! یقینا تم اخلاق کے بڑے درجے پر ہو۔

۲-  عزمِ راسخ :وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا‘ ایک ایسا راسخ العزم‘ مستقیم الارادہ اور اللہ پر ہر حال میں بھروسا رکھنے والا انسان تھا کہ جس وقت اس کی ساری قوم‘ اسے مٹا دینے پر آمادہ ہوگئی تھی اور وہ صرف ایک مددگار کے ساتھ‘ ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوا تھا‘ اُس سخت مصیبت کے وقت بھی اُس نے ہمت نہ ہاری اور اپنے عزم پر قائم رہا۔

اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْھُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا - (التوبہ ۹:۴۰)

یاد کرو جب کہ کافروں نے اس کو نکال دیا تھا‘ جب کہ وہ غار میں صرف ایک آدمی کے ساتھ تھا‘ جب کہ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

۳-  فراخ حوصلہ: وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا‘ ایک نہایت فراخ حوصلہ اور فیاض انسان تھا جس نے اپنے بدترین دشمنوں کے لیے بھی بخشش کی دُعا کی اور آخر اللہ تعالیٰ کو اسے اپنا  یہ قطعی فیصلہ سنا دینا پڑا کہ وہ ان لوگوں کو نہیں بخشے گا:

اِسْتَغْفِرْ لَھُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَھُمْ - (التوبہ ۹:۸۰)

چاہے تم ان کے لیے معافی مانگو چاہے نہ مانگو‘ اگر تم ستّربار بھی ان کے لیے معافی مانگو گے‘ تب بھی اللہ ان کو معاف نہ کرے گا۔

۴- نـرم خُـو: وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کا مزاج نہایت نرم تھا۔ وہ کبھی کسی کے ساتھ درشتی سے پیش نہیں آتا تھا اور اسی لیے دنیا اس کی گرویدہ ہوگئی تھی:

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَاَنْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ - (اٰل عمران ۳:۱۵۹)

یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان کے ساتھ نرم ہو‘ ورنہ اگر تم زبان کے تیز اور دل کے سخت ہوتے تو یہ سب تمھارے گردوپیش سے چَھٹ کر الگ ہوجاتے۔

۵- دعوت کی تڑپ: وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا‘ بندگانِ خدا کو راہِ راست پر لانے کی سچی تڑپ‘ دل میں رکھتا تھا اور ان کے گمراہی پر اصرار کرنے سے‘ اُس کی روح کو صدمہ پہنچتا تھا‘ حتیٰ کہ وہ اُن کے غم میں گھلا جاتا تھا:

فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا - (الکھف۱۸:۶)

اے محمدؐ! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم اُن کے پیچھے‘ رنج و غم میں اپنی جان کھو دو گے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔

۶-  بہلائی کا حریص:  وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کو اپنی اُمت سے بے حد محبت تھی‘ وہ ان کی بھلائی کا حریص تھا‘ اُن کے نقصان میں پڑنے سے کُڑھتا تھا‘ اور ان کے حق میں سراپا شفقت و رحمت تھا:

لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَؤُوْفٌ رَّحِیْمٌ (التوبہ ۹:۱۲۸)

تمھارے پاس خود تم ہی میں سے ایک ایسا رسول آیا ہے جسے ہر وہ چیز شاق گزرتی ہے جو تمھیں نقصان پہنچانے والی ہو‘ جو تمھاری فلاح کا حریص ہے اور اہلِ ایمان کے ساتھ نہایت شفیق و رحیم ہے۔

۷-  رحمتِ عالم: وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا‘ صرف اپنی قوم ہی کے لیے نہیں‘ بلکہ تمام عالم کے لیے اللہ کی رحمت تھا:

وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ - (الانبیاء  ۲۱:۱۰۷)

اے محمدؐ! ہم نے تو تم کو تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

۸-  زھد و عبادت: وہ بتاتا ہے کہ اس کالانے والا راتوں کو گھنٹوں ‘اللہ کی عبادت کرتا اور خدا کی یاد میں کھڑا رہتا تھا:

اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ اللَّیْلِ وَنِصْفَہٗ وَثُلُثَہٗ - (المزمل۷۳:۲۰)

اے محمدؐ! تمھارا رب جانتا ہے کہ تم رات کو تقریباً دو تہائی حصے تک‘ اور کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی حصے تک نماز میں کھڑے رہتے ہو۔

۹-  صدق و ثبات: وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک سچا انسان تھا‘ نہ کبھی اپنی زندگی میں راہِ حق سے بھٹکا‘ نہ فاسد خیالات سے متاثر ہوا اور نہ کبھی اُس نے ایک لفظ خواہشِ نفس کی پیروی میں حق کے خلاف زبان سے نکالا:

مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی - (النجم۵۳:۲-۳)

لوگو! تمھارا صاحب نہ کبھی سیدھی راہ سے بھٹکا اور نہ صحیح خیالات سے بہکا اور نہ وہ خواہشِ نفس سے بولتا ہے۔

۱۰-  اسوۂ کامل: وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کی ذات ‘تمام عالم کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ تھی اور اس کی پوری زندگی کمالِ اخلاق کا صحیح معیار تھی:

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ - (الاحزاب۳۳:۲۱)

تمھارے لیے رسولؐ اللہ کی ذات میں ایک اچھا نمونہ ہے۔

قرآن مجید کا تتبّع کرنے سے‘ صاحبِ قرآن کی بعض اور خصوصیات پر بھی روشنی پڑتی ہے لیکن اس مضمون میں تفصیل کی گنجایش نہیں۔ جو کوئی قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ خود دیکھ لے گا کہ بخلاف دوسری موجود الوقت مذہبی کتابوں کے‘ یہ کتاب اپنے لانے والے کو جس رنگ میں پیش کرتی ہے وہ کس قدر صاف‘ واضح اور آلودگی سے پاک ہے۔ اس میں نہ اُلوہیّت کا کوئی شائبہ ہے‘ نہ تعریف و ثنا میں مبالغہ ہے‘ نہ غیر معمولی قوتیںآپ کی طرف منسوب کی گئی ہیں‘ نہ آپ کو خدا کے کاروبار میں شریک و سہیم بنایا گیا ہے‘اور نہ آپ کو ایسی کمزوریوں سے متہم کیا گیا ہے جو ایک ہادی اور داعی الی الحق کی شان سے گری ہوئی ہوں۔ اگر اسلامی لٹریچر کی دوسری تمام کتابیں‘ دنیا سے ناپید ہوجائیں اور صرف قرآن مجید ہی باقی رہ جائے‘ تب بھی رسول ؐاکرم کی شخصیت کے متعلق کسی غلط فہمی‘ کسی شک و شبہہ اور کسی لغزشِ عقیدت کی گنجایش نہیں نکل سکتی۔ ہم اچھی طرح معلوم کرسکتے ہیں کہ اس کتاب کا لانے والا ایک کامل انسان تھا‘ بہترین اخلاق سے متصف تھا‘ انبیاے سابقین کی تصدیق کرتا تھا‘ کسی نئے مذہب کا بانی نہ تھا اور کسی فوق البشر حیثیت کا مدعی نہ تھا۔ اس کی دعوت‘ تمام عالم کے لیے تھی‘ اس کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے چند مقرر خدمات پر مامور کیا گیا تھا اور جب اس نے خدمات کو پوری طرح انجام دے دیا‘ تو نبوت کا سلسلہ اس کی ذات پر ختم ہوگیا۔ (تفہیمات‘ حصہ دوم‘ ص ۳۵-۳۸)

 

 

ربع صدی قبل پاکستان میں مالیاتی نظام کو شریعت کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا اور اس میں تمام غیراسلامی امور کا خاتمہ شامل تھا۔ علما اور ایسے حضرات جو دنیوی علوم پر دسترس رکھتے تھے سرجوڑ کر بیٹھ گئے اور انھوں نے دن رات کام کر کے متعدد تجاویز پیش کیں جو موجودہ نظام کا متبادل بن سکتی تھیں‘ تاہم یہ تجاویز عمل کا جامہ نہ پہن سکیں۔ اس کی بظاہر وجہ تو ہماری ایمانی کمزوری ہی ہے‘ مگر اس کی اور بھی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ بہرحال معاملہ آسانی سے عدلیہ کے کندھوں پر ڈال دیا گیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جن اداروں کی یہ بنیادی ذمہ داری تھی وہ اس میں شریک نہیں ہوئے۔

یہ معاملہ برسوں عدلیہ میں پڑا رہا۔ ۹۰کے عشرے کے آخر میں سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا اور تاریخی فیصلے میں عملی اقدامات کی شکل بھی متعین کر دی‘ تاہم اخبارات میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق اس تجویز پر عمل درآمد ممکن نہ تھا۔

مجھے اس علمی بحث سے دل چسپی نہیں ہے‘ کیونکہ یہ محض بحث براے بحث ہی ثابت ہوئی اور معاملہ وہیں کا وہیں رہا۔ مگر ایک خطرناک اور خوفناک صورت حال اب درپیش ہے کیونکہ اب ہم ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ہم ایک خاص نقطۂ نظر کو دوام دینے کے لیے اور ’جائز‘ کے درجے سے حلال کے درجے پر پہنچانے کے درپے ہوگئے ہیں۔ مقتدرہ چاہتی ہے کہ موجودہ آئینی اور جائز صورت حال کو حرام کے دائرے سے نکال کر حلال قرار دیا جائے۔

مسئلہ یہ ہے کہ: موجودہ سود جو بنک کاری نظام میں جاری و ساری ہے‘ کیا یہ حلال ہے اور کیا یہ ربا نہیں؟ کیا یہ سود اس ربا سے مختلف ہے جو باقی معیشت میں شامل ہے؟

پاکستان کا بنک کاری نظام معیشت سے مربوط ہے اور حجم میں اس کا غالب حصہ ہے۔ لہٰذا اہمیت اسی سود کی ہے۔ ایک تحقیق کار کی حیثیت سے میں علما اور اہلِ دانش کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ موجودہ نظام بنک کاری کی بنیاد کیا ہے۔ اس طرح معاملے کی حقیقت کو سمجھا جاسکے۔ اس کے لیے ہمیں ان علوم پر موجود تمام کتب کو دیکھنا ہوگا‘ مگر دشواری یہ ہے کہ ان کتب کا غالب حصہ مغرب کی تحقیق اور عملی کاوش پر مشتمل ہے۔ پھر بھی اس کو دیکھنے پر پتا چلتا ہے کہ بنک کاری کا منبع دھند میں چھپا ہوا ہے۔ مغرب اسے قرونِ وسطیٰ کے سناروں کی دل لگی قرار دیتا ہے۔ اس علم سے نصف صدی وابستہ رہنے کے باوجود مغرب مجھے اس کے حقیقی ماخذ و منبع تک نہیں پہنچا سکا۔

کیا یہ علم مغرب کی اپنی تخلیق و تحقیق ہے یا کسی اور قوم کا اثاثہ ہے جسے مفیدپاکر اسے اپنے معاشرے کا ایک فطری فعل قرار دیا ہے‘ اور یہ نظام اس کی موجودہ شکل ہے جس پر مغربی مفکرین نے کام کیا اور اسے نفع بخش پاکر اپنا لیا؟

بنک کاری نظام کا آغاز‘ اسلامی دنیا میں

برسوں اس کش مکش میں مبتلا رہنے کے بعد مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب امام ابوحنیفہؒ کی سیاسی زندگی میں ‘ میں نے واضح الفاظ میں پڑھا کہ حضرت ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اصول بنک کاری وضع کیا۔ یہ جملہ متقاضی ہے کہ اس بات کو سمجھا جائے کہ اصول بنک کاری کیا ہے۔ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ یہ اصول انھی کا وضع کردہ ہے تو یہ عقدہ کھل سکتا ہے کہ بنک کاری کیسے وجود میں آئی۔ پھر مغربی محققین کی رائے پر دوبارہ غوروفکر کی ضرورت ہوگی۔ یہ بھی معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ حضرت ابوحنیفہؒ کی سوچ کا ماخذ کیا ہے۔ کیا یہ قرآن ہے‘ انجیل ہے یا زبور یا کوئی اور کتاب ہے! کیا اس زمانے میں اور کتب تھیں؟ فرض کیجیے کہ اس کاماخذ انجیل ہے تو مغربی مفکر بنک کاری کا وجود اس سے منسلک کیوں نہیں کرتے؟ ایک دوسری مغربی قوم کی کتاب زبور ہے اور وہ بھی بنک کاری کو زبور سے منسلک نہیں کرتی۔ لہٰذا یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ حضرت ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی سوچ صرف اور صرف قرآن سے‘ یعنی کتاب اللہ اور اسوئہ حسنہ ہی سے ہر چیز اخذکرتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ قانونِ بنک کاری کی تمام کتب بنک کاری کی تعریف یوں کرتی ہیں: بنک کاری کا مطلب ڈیپازٹ لینا ہے(وصول کرنا ہے)‘ یعنی یہ ایک عمل ہے جو ڈیپازٹ لینا یا وصول کرنا سے شروع ہوتا ہے اور پھر اس کی دیگر حالتوںکو احاطۂ تحریر میں لاتا ہے اور مختلف شکلوں میں تبدیل کرتا ہے۔

اس جملے میں یا اس عمل میں مرکزی حیثیت ڈیپازٹ کی ہے۔ ڈیپازٹ کیا ہے؟

آج کے علم کے مطابق جو تسلسل سے ماضی سے وابستہ چلا آ رہا ہے‘ ڈیپازٹ ایک عمل ہے جس کے کم از کم دو پہلو ہیں: امانت دار اور قرض۔ ان کے مجموعے کا نام ڈیپازٹ ہے۔   ان دونوں کا ماخذ کیا ہے؟ کیا یہ الہامی کتب کا حصہ ہیں؟ جہاں تک دیگر الہامی کتب کا تعلق ہے اب تک کسی مفکر نے ان کو الہامی کتب سے نہیں جوڑا۔مگر یہ دونوں عمل قرآن میں موجود ہیں اور اسوئہ حسنہ ان پر دلیل ہے۔ ان دونوں کو کیسے ملایا گیا اور کس نے ملایا؟

۱-  اُردو دائرہ معارف اسلامیہ میں ربا کے باب میں یہ بات درج ہے : حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے بارے میں صحیح روایات سے ثابت ہے کہ وہ لوگوں کی امانتیں اپنے پاس اس شرط پر رکھتے تھے کہ انھیں قرض قرار دیا جائے تاکہ اس رقم سے مالک کا فائدہ ہو کہ اس کا مال ضائع ہونے سے محفوظ ہوجائے‘ اور اپنا یہ فائدہ ہے کہ اسے تجارت میں لگاکر اس سے نفع حاصل کیا جا سکے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی شہادت کے وقت ۲۲لاکھ کی رقم چھوڑی۔ یہ ساری رقم کاروبار میں لگی ہوئی تھی۔(ص ۱۷۵)

۲- حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبیداللہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ عراق گئے۔ وہاں عراق کے گورنر حضرت ابوموسیٰ الاشعریؓ نے بیت المال سے ایک رقم انھیں بطور قرض دی جو وہ حضرت عمرؓ کے پاس مدینہ بھیجنا چاہتے تھے۔ لیکن اگر وہ بطور امانت انھیں دیتے تو ضروری نہ تھا کہ وہ محفوظ رہتی۔ اس لیے کہ راستہ میں ضائع ہوجانے کی صورت میں عبداللہ اور عبیداللہ رضی اللہ عنہم پر تاوان نہ آتا تھا۔ لہٰذا بطور قرض دی کہ رقم بھی بیت المال پہنچ جائے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادگان کے واقعے میں یہی ہواکہ جب انھوں نے بیت المال کی رقم سے تجارت کر کے نفع کمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ جب دوسرے لوگوں کو بیت المال سے قرض نہیں دیا گیا تو تم میں کیا خصوصیت تھی؟سارا نفع واپس کرو۔ حضرت عبیداللہؓ نے اگرچہ اس کی معقول وجوہ بیان کیں مگر حضرت عمرؓ نے انھیں قبول نہ کیا۔ بالآخر مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ اگر آپ اس قرض کو ’’قراض‘‘ قرار دے دیں تو اچھا ہو (قراض‘ یعنی ایسی شرکت جس میں ایک شخص دوسرے کو سرمایہ دے اور دوسرا شدید محنت و ہنر کے نتائج متعینہ حصوں میں تقسیم کردے)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے منظور کرلیا۔ آدھا نفع حضرت عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس رہنے دیا اور آدھا واپس لے کر بیت المال میں داخل کر دیا۔ اس واقعے سے صاف ظاہر ہے کہ تجارتی قرض کا رواج صرف دو ہی طرح تھا: یا بغیر کسی منافع کے‘ یا مضاربت و قراض کی شکل میں۔

امانت کے معنیٰ اس چیز کی بعینہٖ واپسی ہے اور قرض دوسری رقم کی ادایگی سے بھی ادا ہوجاتا ہے۔ یہی دونوں عمل مل کر موجودہ ڈیپازٹ کے مفہوم کو مکمل طور پر ادا کرتے ہیں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سکّہ سازی حکومت کے ہاتھ میں لے لی۔ عموماً پرانے غیرمسلم سکّہ ساز ہی ملازمت میں برقرار رکھے گئے۔ حکومت بھی سکّے ڈھالتی اور رعایا کو بھی یہ حق حاصل تھا کہ سونا چاندی لاکر اُجرت ادا کر کے دارالضرب میں سکّے ڈھلوا لے۔ اس طرح سکّہ ایک ہی شکل اختیار کرگیا۔ اگر یہ فیصلہ نہ ہوتا تو امانتی قرض (ڈیپازٹ) کی ادایگی نہ ہوپاتی۔ یہ بظاہر سادہ مگر انتہائی اہمیت کا فیصلہ تھا جو بعد میں ڈیپازٹ کی بنیاد بنا ہوگا۔

یہ بھی موجود ہے کہ اس دور میں کاغذ اور چمڑے کے سکّے کا ذکر بھی ہوا مگر پرکھ نہ ہونے کی بنا پر رائج نہ کیے گئے۔ (باب عمرؓ)

اب یہ بات واضح ہے کہ تاریخ کے جس دور میں یہ واقعات ہوئے اور یہ مفہوم لیا گیا وہ خالصتاً کتاب اللہ اور اسوئہ حسنہ پر استوار تھا۔ اس وقت سے لے کر یورپ میں صنعتی انقلاب اور مالی و سیاسی انقلابات تک کے ہزار سال سے زائد کے دور میں یورپ کی تاریخ میں مندرجہ بالا طرز کی کوئی مثال نظر نہیں آتی حالانکہ اس دور میں یورپ اغلباً ایک ہی مذہبی رجحان پر کاربند تھا۔

یہ عمل اسلامی معاشرے میں جاری رہا اور کاروبار کی بنیاد بھی بنا۔ مگر اس میں سے اکثر مثالیں شخصی حیثیت کی تھیں۔ حضرت ابوحنیفہؒ نے اپنے فقہی اور تحقیقی کام کے لیے اس طریق کار کو وسعت دی اور اس طرح حاصل ہونے والے ’’امانتی سرمائے‘‘ کو کپڑے کا کارخانہ لگانے کے لیے استعمال کیا۔ اسی سے انھوں نے ضرورت مندوں کو قرض بھی دیا۔ ظاہر ہے جب یہ کام تجارتی پیمانے پر ہوا تو اس سے کئی نظام وجود میں آئے ہوں گے۔ مثلاً: ۱- بغیر نفع کے امانت کی واپسی کا نظام‘ ۲- اگر نفع کا ذکر تھا تو تجارت کے نفع میں ادایگی کا نظام‘ ۳- حساب کتاب کا نظام‘ ۴- طلب کرنے پر قرض امانت کی تحریری یادداشت کا نظام‘ ۵-نفع و نقصان کا نظام ۶-قومی اور بین الاقوامی قوانینِ تجارت‘ ۷- اُجرت کے قوانین‘ ۸- اس نظام سے منسلکہ دوسرے ضروری قوانین۔

ان حقائق کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کے مجموعے کا نام ہی تجارتی بنک کاری ہے اور موجودہ بنک یہی کام کر رہے ہیں۔ فرق صرف نفع و نقصان میں شراکت کے نظام کا ہے۔

مندرجہ بالا بحث سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ڈیپازٹ کا موجودہ عمل اسی عمل کا تسلسل ہے۔ لہٰذا یہ محتاط اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا ماخذ قرآن و سنت ہی ہے۔ میرے لیے تحقیق کا یہ پہلو بہت اہم تھا۔ اس لیے یہ خیال راسخ ہوتا گیا کہ نظامِ بنک کاری کے تمام پرزوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے ان کے ماخذ کو تلاش کیا جائے۔ اس کے لیے یہ معلوم کرنا ضروری تھا کہ اس نظام کے دوسرے حصے کیا ہیں۔

اگر ہم بغور دیکھیں تو یہ سوال سامنے آئے گا کہ امانت کی دستاویز کیا تھی‘ اور اس امانت کی جو تجارتی قرض کی شکل بھی رکھتی ہو‘ تحریر کیا ہوسکتی ہے؟

اس مقالے میں ہماری بنیادی دلیل یہی رہی ہے کہ مغربی مفکرین ان کے ناقدین اور پیروکاروں نے اپنے افکار کو کبھی بھی کسی الہامی کتاب سے منسلک نہیں کیا بلکہ صرف اور صرف عقل ہی کو دلیل تسلیم کیا ہے۔ اگر آپ تاریخِ عالم پر نگاہ دوڑائیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت تک کسی بھی کونے میں تجارتی قرض کی تحریر کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ مالیاتی نظام کی بنیاد سکّہ تھا۔ دیگر مذاہب کی کتابیں یا تو موجود نہیں یا مالیاتی نظام کا ذکر نہیں کرتیں کیونکہ تاریخ کے سفر میں ان کتب کا اصل مضمون غائب ہوچکا ہے۔ صرف اور صرف قرآن مجید ہی انبیا کے ادوار میں ان کے طرزِحکومت‘ شان و شوکت اور عبادت کا ذکر کرتا ہے۔ یاد رہے کہ مالیاتی نظام بھی عبادات ہی کا ایک حصہ ہے‘ جیسے زکوٰۃ‘ روزہ یا نماز۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم میں سکّے کا وجود محسوس ہوتا ہے‘ اور اس کے کھوٹے ہونے کا تصور ہے۔ اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے میں بھی سکّے کا ذکر ہے اور اس کے کھوٹے یا کھرے ہونے کا تذکرہ ہے۔ سورۂ آل عمران میں دینار اور درہم مذکور ہیں۔ البتہ سورۂ کہف میں ایک ورق کاذکر ہے جو قوتِ خرید رکھتا ہے۔ اس ورق کی ہیئت ترکیبی کا ذکر نہیں ہے۔ اس ضمن میں چند صورتیں یہ ہوسکتی ہیں:

۱- ورق کی شکل کا سکّہ (دھات کا) ۲- کاغذ کا سکّہ (دھات کے علاوہ کسی اور چیز کا) ۳- کاغذ پر ایسی تحریر جو قوتِ خرید رکھتی تھی ۴- کوئی اور شکل جس کا علم اللہ کو ہے۔

اس میں تیسری شکل قرض کی تحریر کی بھی ہوسکتی ہے۔ (واللّٰہ اعلم!)

مگر قرآن مجید واضح طور پر سورۂ بقرہ میں قرض کی تحریر کی ہدایت فرماتا ہے۔ اس کی بھی کئی شکلیں ہوسکتی ہیں: ۱- رسید ۲- وعدہ (ادایگی) ۳- اقرار (وصولی) ۴- اقرار اور ادایگی کا وعدہ ۵- کوئی اور شکل (واللّٰہ اعلم!)

اس میں سے چوتھی شکل ایک عہدنامہ (promissory note)کی ہوسکتی ہے۔ اور یہ شکل مسلم معاشروں میں تجارتی بازاروں کی حد تک تسلسل سے استعمال ہوئی۔ ایک زمانے میں مجھے اس کی مختلف اشکال پر کام کرنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ تھوک کے تجارتی بازاروں میں ان کے نام رقعہ‘ پرچی‘ وعدہ‘ وغیرہ ہیں اور قصور اور لاہور کے چمڑے اور کپڑے وغیرہ کے تجارتی بازاروں میں مستعمل ہیں۔ یہی تحریر اگر مال کے بجاے کرنسی کے امانتی قرض کے لیے استعمال ہوتو اس کی شکل عہدنامے ہی کی ہوگی۔ ظاہر ہے کہ اسلامی معاشرے کی تجارت میں معاون    یہ آلۂ تجارت قرآن کے احکامات کی عملی شکل ہی ہے جن کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔

مغربی معاشروں میں اور معاشیات کی کتابوں میں اسی طرح کے عہدنامے کا ذکر ہے جو تجارتی ادارے‘ ساہوکار اور تجارتی بنک لکھتے اور استعمال کرتے تھے۔ سولھویں/سترھویں صدی میں جب بنک آف انگلینڈ کو کرنسی نوٹ پر اجارہ داری دی گئی (جوکہ اس عہدنامے کی ایک شکل ہے) تو دیگر تجارتی بنکوں کو بازار میں اپنے عہدنامے لانے سے روک دیا گیا۔

اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ عہدنامہ خواہ وہ صرف قرض کے لیے ہو یا ڈیپازٹ کے لیے‘ اس کی ابتدا بھی قرآن مجید سے ہی ہے اور اس کے لکھنے والے بھی مسلمان علما ہی ہیں۔ یورپ نے یہ علم مسلمانوں سے ہی سیکھا۔ خواہ اندلس سے‘ دہلی سے‘ ترکی سے‘ بغداد سے‘ مصر سے یا سسلی سے۔ میری سوچ سسلی کی طرف مائل ہے کیونکہ ادریسی نے دنیا کا نقشہ یہیں بنایا۔ وہاں ریاضی ایک علم کے طور پر سامنے آیا۔ بین الاقوامی تجارت بھی ہوئی۔ اٹلی کے ساتھ اور تجارتی حساب کتاب یورپ میں پہلے پہل اٹلی میں ہی پھیلا اور پروان چڑھا۔ موجودہ ہند سے انگلستان میں مسلمانوں کے ہندسے کہلاتے تھے۔

اب یہ واضح ہوجاتا ہے کہ بنک کاری نظام کے دو بنیادی عناصر‘ یعنی ڈیپازٹ اور قرض کی تحریر قرآن مجید سے ماخوذ ہیں۔ مغرب نے صرف ان اصولوں کو کتابی شکل میں مرتب کیا اور چھاپہ خانے کے ذریعے اس علم کو پھیلایا۔ میں ان کی اس محنت اور عظمت کا اعتراف کرتا ہوں۔ مگر یہ توقع بھی رکھتا ہوں کہ وہ اس بات کا اعتراف کریں کہ یہ علم بھی انھوں نے مسلمانوں سے سیکھا۔ اسی طرح‘ جیسے طب‘ ریاضی‘ جیومیٹری‘ جغرافیہ وغیرہ وغیرہ۔ اگر ان دلائل کو تسلیم کرلیا جائے تو پتا چلے گا کہ بنک کاری کی بنیاد قرآن وسنت ہے‘ اور یہ مسلمان حکومتوں کے دور میں شروع ہوئی اور پروان چڑھی۔ کیونکہ مسلمان ریاست نے اس مالیاتی نظام اور بیت المال کو کم و بیش اسی نہج پر قائم رکھا جو تابعین کے زمانے سے چلا آ رہا تھا اور مسلمان حکومتوں میں قرض لینے کا (حکومتی سطح پر) کوئی سلسلہ تاریخ میں نظر نہیں آتا۔ غالباً ایسی ہی اور دیگر وجوہات کی بنا پر بنک کاری حکومتی ضرورت یا فرائض کا حصہ نہ بن سکی‘ بلکہ انفرادی اور ذاتی‘ یعنی پرائیویٹ سیکٹر کاحصہ بنی۔ جیسا کہ حضرت ابوحنیفہؒ کی مثال ہے۔

مندرجہ بالا بحث کا منطقی نتیجہ تو یہی نکلتا ہے کہ بنک کاری مسلمان تاجروں کے قرآن و سنت پر عمل کرتے ہوئے تجارتی نظام (ملکی اور بین الاقوامی) کا حصہ بنی اور اس کے اولین محقق کا نام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ہے جنھوں نے اصحاب رسولؐ کے عمل کو سامنے رکھ کر اس تجارتی سرمایہ کاری (ایک حد تک صنعتی بھی) کی بنیاد رکھی اور یہ عمل دوسری صدی ہجری میں شروع ہوا۔ اس بنا پر بنک کاری کا عمل اسلامی ہی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ حساب کتاب کا وہی طریقہ اپنایا جائے جو اسلاف نے اپنایا۔ اور یہ کام آج جدید ٹکنالوجی کی مدد سے بآسانی کیا جاسکتا ہے (اور اس کے بغیر بھی)۔

مغربی دنیا میں بنک کاری نظام

آیئے اب اس عمل کو ایک اور زاویے سے دیکھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر اللہ کے حکم سے ربا کو حرام قرار دیا۔ لہٰذا ربا اسلامی سلطنت کے ہر کونے سے ہر شکل میںخارج ہوگیا۔ مگر یہ حکم مسلمانوں کے لیے تھا۔ غیرمسلموں نے کیا کیا؟ تاریخ اس بارے میں کئی اشارے دیتی ہے:

                ۱-            وہ حکومتیں جہاں ۱۰۰ فی صد مسلمان آباد تھے وہاں ربا ہر صورت میں ختم ہوگیا۔

                ۲-            جہاں مسلمان اکثریت میں تھے اور حاکم تھے وہاں بھی یہ ہر صورت میں ختم ہوگیا۔

                ۳-            جہاں مسلمان اقلیت میں تھے مگر حاکم تھے وہاں یہ علانیہ جاری نہ رہ سکا۔ ہوسکتا ہے کہ غیرمسلم عناصر نے کسی نہ کسی شکل میں اس کو جاری رکھا۔ غالباً خفیہ طور پر ریاست کے علم میں لائے بغیر۔

                ۴-            جب اور جہاں مسلمان حکومتیں اخلاقی زوال سے گزریں تو بھی عوامی سطح پر یہ رائج نہ رہا۔ مگر حکومتی سطح پر اس کا وجود محسوس ہوتا ہے۔

                ۵-            کمزور مسلمان حکومتوں نے بین الاقوامی ذرائع کی وجہ سے اس کی حُرمت کو ترک کیا۔ مگر عوامی سطح پر اس کے خلاف آواز ہمیشہ بلند ہوئی۔

                ۶-            عوامی سطح پر حکومت سے ٹکرائو سے اجتناب کیا گیا کیونکہ اس مسئلے پر ٹکرائو تباہی کا سبب بن سکتا تھا۔

                ۷-            دیگر شکلیں جو واضح نہیں ہیں۔

                ۸-            اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر آج تک مسلمان ممالک میں ترکی اور پاکستان دو ایسے ملک ہیں جو مالیاتی نظام کی مندرجہ بالا شکلوں کو مکمل طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ دیگر مسلمان ممالک میں یا تو غیرمسلموں کی موجودگی کی وجہ سے یہ موثر ہے یا مالیاتی نظام ان کو بناکر دیے گئے ‘ جب کہ ترکی اور پاکستان نے اپنی مرضی سے موجودہ نظام اپنائے ہیں اور خود تعمیر کیے ہیں۔

تاریخِ اسلام میں تو یہ کہانی درج ہے۔ سوال یہ ہے کہ دوسرے مذاہب میں اس ضمن میں حکومتی یا عوامی سطح پر کیا ہوا۔ اس وقت سبھی ممالک میں چونکہ وہی نظام رائج ہے جس کی رکھوالی مغرب کر رہا ہے۔ اگر یہ دیکھ لیا جائے کہ مغرب میں کیا ہوا تو اس سوال کا کافی حد تک جواب مل جائے گا۔ مغرب میں دو مذاہب بنک کاری نظام سے وابستہ ہیں۔ ایک عیسائیت دوسری یہودیت۔ عیسائیوں کے قدیم ترین فرقہ کیتھولک کے مطابق نظام بنک کاری کا سود ربا ہے جو عیسائیت میں حرام ہے۔ البتہ انگلستان کے چرچ کا خیال اس ضمن میں بہت روشن اور آزاد ہے۔ وہاں یہ حرام نہیں ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ بہت سادہ۔ چرچ آف روم کی ریاست نہیں ہے اور چرچ آف انگلستان مذہب کو فرد کی ذات میں مقید سمجھتا ہے‘ جب کہ معاملاتِ ریاست آئین سے چلتے ہیں۔ آئین سود کو جائز قرار دیتا ہے (حلال نہیں) ‘کیونکہ حرام اور حلال اور ربا مذہبی اصطلاحات اور عمل ہیں‘ جب کہ سود اور ربا آئینی معاملات ہیں جن کا فیصلہ ریاست کرتی ہے۔ آئین معاملاتِ ریاست کا ذکر کرتا ہے‘ جب کہ مذہب آئین سے بالاتر چیز ہے جو آج کل کے عالمی حالات میں مجازی محافظ کے بغیر بے یارومددگار ہے۔ ریاست کا حکمران انگلستان کے آئین کا محافظ ہے۔ اس کے پاس فنا وبقا کا بے پناہ دنیوی اختیار ہے (بمع نیوکلیائی طاقت)‘ جب کہ مذہب افراد کی ذات تک محدود ہے (جو نیوکلیائی طاقت کو کم از کم پسند نہیں کرتے)۔

انگلستان میں یہ تبدیلی کیسے واقع ہوئی؟ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا سے انگلستان کے نظامِ حکومت کے بارے میں دو اشارے ملتے ہیں:

                ۱-            مالیاتی نظام میں چرچ آف روم دخیل تھا۔ اس وقت تک چرچ آف روم ہی انگلستان کا چرچ تھا۔

                ۲-            سیاسی نظام میں بھی چرچ کا عمل دخل تھا کیونکہ شاہی خاندان کی بقا اور ریاست کا خاندان میں رہنا اس امر کا متقاضی تھا کہ نرینہ اولاد ہو اور زندہ ہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مروجہ عیسائیت میں دوسری شادی کی گنجایش نہیں تھی اور دوسری کسی خاتون سے پیدا ہونے والا بچہ جائز وارث نہ بن سکتا تھا۔ کم از کم آزادی سے اور چرچ کے دخل کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔

ایسا ہی ایک لمحہ ہنری ہشتم کے عہد میں بھی گزرا۔ اس کی نرینہ اولاد پہلی بیوی سے پیدا نہ ہوسکی اورچرچ کے ساتھ معاملات طے نہ ہوسکے۔ لہٰذا اس نے انگلستان کا علیحدہ چرچ بنالیا اور چرچ آف روم سے تعلق منقطع کرلیا۔ گویا نئے مذہب کا بانی بن گیا اور یہ بات آج بھی اسی طرح ہے۔

جب چرچ آف روم سے علیحدگی ہوگئی تو مالیاتی معاملات مکمل طور پر ریاست کے اختیار میں آگئے۔ بنک کاروں کے مشورے پر بادشاہ نے حرام ربا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک حصہ کو اس نے جائز قرار دے دیا اور دوسرے کو حرام رہنے دیا۔ جائز حصہ اس نے نظامِ بنک کاری میں شامل کر دیا۔ چرچ کے پاس اختیار تو تھانہیں جو اس کی مخالفت کرتا اور عوام اس وقت جس ریاستی نظام میں بس رہے تھے‘ اس میں اس بات پر بغاوت نہیں ہوسکتی تھی۔

یہ سانحہ ۱۵۴۵ء میں ہوا۔ عجب بات یہ ہے کہ عیسائی مذہب اور چرچ آف روم اور اس کے زیرِاثر حکمران اس معاملے میں کوئی مؤثر کردار ادا نہ کرسکے۔ میں اس امرواقع کی وہ تفصیل پیش کر رہا ہوں جو ڈکشنری آف بنکنگ اینڈ فنانس‘ بینسن اور ڈیرک لندن ۱۹۸۵ء میں صفحہ ۳۶۴ پر درج ہے۔ (ترجمہ آزاد ہے):

سود رقم کی قیمت ہے۔ یہ وہ پیسہ ہے جو رقم کے استعمال کے عوض دیا جاتا ہے۔ انگلستان میں ازمنۂ وسطیٰ میں رقم کا سود پر ادھار دینا عیسائیت سے بعید تھا اور اہل انگلستان کے لیے حرام تھا جن میں سے چند کو اس جرم کی پاداش میں پھانسی دی گئی۔ سود کا لینا ربا تھا اور یہ حرکت (جرم) موسوی قانون کے نسبتاً سخت معانی پر مبنی تھی: ’’تم اپنے بھائی کو ربا پر قرض نہیں دو گے‘‘ یعنی یہود جو آپس میں دینی اور قبائل برادری میں بندھے ہوئے تھے دوسرے یہود کو ربا پر قرض نہیں دے سکتا۔ تاہم یہود نے اجنبیوں‘ یعنی دیگر مذاہب اور قبیلوں کے لوگوں کے لیے اس کے معانی یہ لیے کہ ان کو ربا پر قرض دیا جاسکتا ہے۔ یہ ان کے قانون کی ایک نسبتاً آسان شکل تھی۔ اس طرح انگلستان میں قرض دینے پر یہودیوں کا مکمل قبضہ تھا تاآنکہ ۱۲۹۰ء میں ایڈورڈ اول نے انھیں انگلستان سے نکال دیا (غالباً اس کی ایک وجہ یہ جرم بھی تھا)۔ اس طرح لومبارڈ انگلستان میں اس کاروبار پر چھا گئے۔ اور وہ ایک جگہ پر یہ کاروبار کرتے تھے جو ایڈورڈ دوم نے انھیں عطا کی تھی۔ یہ جگہ اب لومبارڈ سٹریٹ کے نام سے مشہور ہے۔ باوجودیکہ رقم ادھار دینا نیک کام نہ تھا اور گناہ (جرم) تھا یہ کاروبار ترقی پذیر رہا کیونکہ سلسلۂ شاہانِ انگلستان (اس وقت) تمام کے تمام پہلے یہود کے اور پھر لومبارڈ کے اس کاروبار سے فائدہ (قرض) حاصل کرتے رہتے۔ ربا کا قانون ہنری ہشتم نے ۱۵۴۵ء میں ایک حد تک منسوخ کر دیا اور سود لینا قانونی طور پر جائز (Legal) قرار دیا گیا۔ شرح ۱۰ فی صد مقرر کی گئی (سالانہ) جو ۱۵۰ سال میں کم کر کے ۵ فی صد ہونا تھی۔ حتیٰ کہ ۱۹۰۰ء میں منی لینڈر ایکٹ کے تحت سود لینا دوبارہ قانونی طور پر جائز قرار دیا گیا تاکہ اس کاروبار کو منظم کیا جاسکے۔ تاہم اس قانون کے تحت بنک کاروں کو منی لینڈر کی تعریف سے باہر کر دیا گیا (ایک سوچ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ۱۰ فی صد اور ۵فی صد مسلم معاشرے میں عشر اور نصف عشر کے نظام سے متاثر ہو کر رکھا گیا کیونکہ اس وقت انگلستان کی معیشت زرعی اور بارانی تھی)۔

ڈیپازٹ پر سود کی ادایگی ۱۵۴۹ء کے قریب شروع ہوئی اور یہ کام تھامس گریشم نے شروع کیا۔ اس طرح شاہانِ انگلستان نے اپنی ضروریات کے لیے قرض لینے کے لیے ربا کے ایک حصے کو قانونی طور پر جائز قرار دے دیا اور بنک کاروں کو منی لینڈر کی فہرست سے خارج کر دیا۔ ان تمام اصلاحات کا نتیجہ یہ نکلا کہ انگلستان میں بنک کاری کا نظام اور اس میں موجود سود جائز محسوس ہونے لگا۔ چرچ کی طرف سے چونکہ کوئی مزاحمت نہیں ہوئی (کیونکہ چرچ کو ہنری ہشتم نے تقسیم کر دیا)۔ لہٰذا آج چند صدیوں بعد وہ لوگ جو مغربی تعلیم سے آراستہ ہیں‘ معیشت کے اس پہلو میں شامل ربا کی حرمت کے بارے میں شبہے میں پڑگئے ہیں۔ اگر یہ بات اتنی ہی آسان ہے اور صحیح ہے تو پارلیمنٹ کو اسے بھی ہنری ہشتم کے راستے پر چلتے ہوئے قانونی طور پر درست قرار دینے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ اس طرح یہ مسئلہ آسانی سے حل ہوجائے گا۔

تاریخ کے ساتھ سفر میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ مغلوں کے زوال کے بعد ۱۸۵۷ء میں ہندستان پر انگلستان کی حکومت قائم ہوئی اور وہاں رائج معاشی نظام انگلستان کے بنکوں کی شاخوں کے ذریعے یہاں پروان چڑھا۔ تاآنکہ ریزرو بنک آف انڈیا کے ذریعے یہاں بھی مکمل طور پر نافذ ہوگیا اور آنے والے برسوں میں‘ جب کہ ابھی پاکستان وجود میں نہ آیا تھا (مسلمان اس عظیم جدوجہد میں مصروف تھے) مجلس اقوام متحدہ ‘ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بنک وجود میں آچکے تھے اور یہی نقطۂ آغاز تھا عالمی تجارتی ارتکاز اور عالمی اثاثوں پر اجارہ داری کی جدوجہد کا۔ اگرچہ یہ بات مروجہ کتابوں میں (پاکستان edition) میں شامل نہیں ہے مگر جس طرح حالات تبدیل ہو رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سوچ اسی نکتے کا پھیلائو ہے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ‘ جرمنی اور دوسروں کی کش مکش‘ جرمنی اور ترکی کا اشتراک‘ مسلمانانِ ہند کا سامراج کے خلاف بغاوت کرنا اور پاکستان کے لیے جدوجہد (بنیاد لا الٰہ الا اللہ) اس سوچ کے مقابل ایک دوسری سوچ ہے جسے عالم گیریت کے دائرے میں لانا مسئلے کا مستقل حل ہوسکتا ہے یا کم از کم دیرپا۔ نظامِ بنک کاری کی حد تک مسلم نظام بنک کاری اور مغربی نظام بنک کاری میں صرف اور صرف اس ربا کا فرق ہے جسے شاہانِ انگلستان نے جائز (legal) قرار دیا۔ وگرنہ تجارتی نظام بنک کاری پرائیویٹ سیکٹر میں تو مسلمانوں ہی کی تحقیق‘ ترویج اور عمل کے نام ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مغربی نظام بنک کاری اور ہمارے نظام بنک کاری جس حالت میں ہیں اس میں نظر آنے والے مستقبل میں مسلمانوں کی موجودہ حالت کے پیشِ نظر اور مغرب کے حفاظتی قوانین کی موجودگی میں‘ یعنی منی لانڈرنگ کے قوانین‘ ذاتی اور ریاستی تحفظ کے قوانین‘ نیوکلیائی اور حربی قوت وغیرہ میں ہم ان کے برابر نہیں آسکتے۔ اس طرح عالمی اثاثوں پر مغرب کا نسبتاً دیرپا قبضہ یقینی نظر آتا ہے اور ہمارے ہاں مفلوک الحالی کی اس سطح کا ہونا بھی نسبتاً یقینی نظرآتا ہے جس سطح پر مغرب ہمیں رکھنا چاہتا ہے۔ ان حالات میں نظامِ بنک کاری کی حد تک جو بات قابل تبدیلی نظر آتی ہے وہ یہی ہے کہ سود کو جو کہ تجارتی نتائج کی تقسیم کا ایک نظام بھی مانا جا سکتا ہے پرامن طریقے سے کسی اور شکل میں تبدیل کیا جائے تاکہ ہم اپنی مفلوک الحالی سے نجات کا کوئی راستہ نکال سکیں۔ ان حالات میں بنکوں کو قومیانا یا پیلی ٹیکسی‘ سبز ٹریکٹر وغیرہ کی اسکیمیں صرف اور صرف خواب لگتی ہیں۔ ضرورت نظام کی بنیاد میں اصلاح کی ہے۔ پارلیمنٹ میں ایک جاری مباحثہ اس کی ابتدا ہو سکتا ہے جس کی ابتدا وزیرخزانہ اور گورنر بنک دولت پاکستان کو کرنا چاہیے۔

ھندستان میں بنک کاری نظام

مندرجہ بالا بحث سے یہ نکات واضح ہوتے ہیں: ۱- نظام بنک کاری کا ماخذ قرآن و سنت ہے۔ ۲- سود‘ ربا ہی کا وہ حصہ ہے جسے آئین نے جائز (حلال ) قرار دیا ہے۔ ۳- مناسب تقسیم نفع/نقصان ہی تجارتی نتائج کی تقسیم کا اسلامی راستہ ہے۔ ۴- مغلیہ سلطنت کے انہدام کے بعد سود بہ نوک شمشیر ہندستان میں رائج ہوا اور یہ شمشیر دھات کی نہیں بلکہ قانون کی تلوار تھی۔ ۵-مسئلے کا پرامن حل کیا ہے؟ ۶- اس حل کا طریق کار کیا ہو سکتا ہے؟

آخری دو نکات کو زیربحث لانے سے پہلے ہندستان میں بنک کاری کے نظام کا مختصر جائزہ لینا مناسب ہوگا۔

انگلستان کی حکومت مستحکم ہونے کے بعد ہندستان ایک ایسی تجارتی منڈی ثابت ہوا جس نے انگریز کو مغرب اور مشرق دونوں طرف بڑھنے میں مدد دی۔ اسے تجارتی حجم کے پھیلانے میں بہت آسانی ہوئی۔ انگلستان کے محل وقوع نے اسے ایک بڑی بحری قوت بننے پر مجبور کر دیا۔ ۲۵ سے ۳۰ کروڑ افراد پر مشتمل ہندستان نے زراعت پر مبنی صنعتوں کو فروغ دینے میں مدد کی۔ وہاں کے نظام بنک کاری نے اس تجارت کے مالی پہلو میں آسانی پیدا کی اور مسلم ہندستان سے ہر طریقے سے حاصل ہونے والے سونے کے ذخائر نے ایک وسیع کرنسی کا نظام بنانے میں بھی مدد دی۔ یہاں پر پھیلے ہوئے علم کے وسیع ذخائر نے قرطبہ اور شمالی افریقہ سے حاصل ہونے والے علوم سے مل کر نئے جہانوں کے دروازے کھولے۔ اگرچہ ترک حکمرانوں نے حجاز اور مغربی ایشیا کو طویل عرصے تک محفوظ رکھا‘ مگر عالم اسلام کا مجموعی انحطاط بالآخر اس حکومت کے زوال کا باعث بنا۔ اس انحطاط کا مرکزی نکتہ نااتفاقی تھا جس کے نتیجے میں مسلمان حکومت کا کوئی ایک مرکز نہ رہا تھا۔

ان حالات میں انگلستان کے نظام بنک کاری نے ہندستان میں قدم جمائے۔ بمبئی (موجودہ ممبئی)‘کلکتہ اور دہلی مراکز کے طور پر اُبھرے۔ یہ بنک انگلستان میں قائم شدہ بنکوں کی شاخیں تھیں جن میں موجودہ سٹینڈرڈ چارٹرڈ اور گرنڈلیز بنک نمایاں تھے۔ بعد میں ان بنکوں نے لاہور اور لائل پور (فیصل آباد) میں بھی شاخیں قائم کیں۔ بیشتر شہر جن میں ان شاخوں نے کام شروع کیا‘ تجارتی مراکز تھے اور زرعی پیداوار کی منڈیاں تھیں۔ ان سے بالخصوص کپاس انگلستان روانہ کی جاتی تھی۔ یہ ادارے چونکہ سود کی بنیاد پر کام کرتے تھے‘ اس لیے ان کا رابطہ مسلمان رعایا سے واجبی سا تھا البتہ بڑے مسلمان زمین دار اپنا کاروبار انھی سے کرتے تھے۔ ہندوئوں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا اور انھوں نے مسلمان تاجروں کی جگہ لی۔ یہ بھی ہندوئوں کے تجارت میں آگے بڑھنے کی ایک وجہ بنی۔

یہ صورت حال ۳۰ کے عشرے تک جاری رہی۔ پھر ہندستان کا مرکزی بنک تشکیل دیا گیا۔ سونے اور چاندی کے سکوں کے بجاے کاغذ اور دوسری دھات کی کرنسی پھیلائی گئی اور ہندستان کا سونے کا عظیم غیرمحسوس ذخیرہ بھی انگلستان منتقل ہوگیا۔ اس مرکزی بنک کے ساتھ ہی مقامی بنک وجود میں آئے جن میں اکثریت ہندو حصہ داروںکی تھی۔ اس سے پہلے بیسویں صدی کے شروع میں امداد باہمی کے اداروں نے بھی ہندوئوں کو آگے لانے میں کام کیا۔ یہ ایک ایسے پہلو کی سرسری سی تفصیلات ہیں جس پر کم لکھا گیا ہے۔ اس پہلو پر تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ حقائق کا ادراک ہو سکے۔

اسی دور میں علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا نظریۂ پاکستان سامنے آیا اور پاکستان کی جدوجہد شروع ہوگئی بلکہ اسے ایک نیا ولولہ قدرت کی طرف سے عطا ہوا۔ پاکستان بننے کے وقت اس سرزمین میں موجودہ بنک کاری نظام ہندوئوں کے ترکِ سکونت سے منہدم ہوگیا کیونکہ یہ نظام اس وقت بہت حد تک ہندو ہی چلا رہے تھے۔

پاکستان بننے کے بعد کچھ عرصے تک مرکزی بنک ہند کی دوعملی رہی۔ پھر حکومت ِ پاکستان نے اس کے منفی اثرات کا اندازہ لگاتے ہوئے بنک دولت پاکستان قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ نے انتہائی خرابی صحت کے باوجود اس ادارے کی اہمیت کے پیشِ نظر یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو اس کا افتتاح کیا اور اس ادارے کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اسلامی مالیاتی نظام کا طریق کار وضع کرے اور اسے نافذ بھی کرے۔ مگر افسوس ہے کہ حالات اس سمت میں نہ جاسکے جدھر قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ اسے لے جانا چاہتے تھے۔

۱۹۵۵ء کے آئین میں انگلستان کے سودی نظام کو بنک دولت پاکستان کے کام کا محور تسلیم کر لیا گیا۔ اس طرح یہ سودی نظام ملک میں ایک مضبوط بنیاد پر کھڑا ہوگیا اور اسے تبدیل کرنا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا گیا۔

بعد میں آنے والی حکومت نے ایسی مالیاتی پالیسیاں اختیار کیں جو مغرب کے نمونے کا چربہ تھیں۔ لہٰذا پورا مالیاتی نظام اس سمت چل پڑا جدھر مغرب اسے پہنچانا چاہتا تھا۔ مغرب کے مالیاتی دانش ور روز اول ہی سے جانتے تھے کہ اگر یہ ملک اسلامی مالیاتی نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا تو ان کے نظام کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ اس کی چند وجوہات یہ ہیں:

                ۱-            اسلامی مالیاتی نظام ہر حال میں ایک وسیع و عریض دفاعی صلاحیت کی بنیاد مہیا کرتا ہے‘ جب کہ سود کا نظام دفاعی صلاحیت کو محدود کرتا چلا جاتا ہے۔

                ۲-            اسلامی مالیاتی نظام عوام الناس کی فلاح کا مستقل انتظام کرتا ہے‘ جب کہ مغربی مالیاتی نظام دولت کے جزیرے (اپنی پسند کے مطابق) پیدا کرتا ہے۔

                ۳-            ٹیکس کا نظام بدعنوانی کو جنم دیتا ہے اور اسے پھیلاتا ہے۔ اس طرح معاشرہ کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ بالخصوص ان ممالک میں جہاں عوام دینی مالیاتی نظام کو ہی بنیاد بنانا چاہتے ہیں۔

                ۴-            اسلامی مالیاتی نظام خودانحصاری کو جنم دیتا ہے‘ جب کہ مغربی نظام کا اتباع غلامی کے فروغ کا باعث بنتا ہے‘ انفرادی بھی اور قومی بھی۔

                ۵-            اس نظام میں حکومت کو قرضہ لینے کی ضرورت نہیں ہوگی‘ جب کہ موجودہ نظام کی بنیاد ہی قومی قرض ہے جس سے نجات ممکن نہیں (کم از کم موجودہ صورت میں)۔


(پاکستان میں اسلامی بنک کاری کے تجربات کا جائزہ اور موجودہ صورت حال پر تحریر آیندہ کسی اشاعت میں پیش کی جائے گی۔ ادارہ)

ترجمہ و تلخیص: مسلم سجاد

پورے یورپ میں سڑکوں پر اسکارف پہنی عورتیں اور داڑھی اور ٹوپی والے مرد اب کوئی نامانوس منظر نہیں۔ دکانوں پر عربی اور دوسری مشرقی زبانوں کے سائن بورڈ لگے ہیں جہاں شرق اوسط اور دیگر مسلم علاقوں سے برآمد شدہ اشیا فروخت کی جاتی ہیں۔ صرف چند عشروں میں برمنگھم‘ راٹرڈم اور پیرس جیسے شہروں کے بعض علاقے بالکل تبدیل ہوچکے ہیں۔ جن شاہ راہوں نے یورپی تاریخ کی کئی صدیاں دیکھی ہیں‘ وہ اب غیر مغربی عوام اور غیرمغربی کلچر کی میزبان ہیں۔

یہ نیا یورپ ہے‘ جس میں مسلمانوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ان معاشروں میں جو اب تک ایک رنگ و نسل پر مشتمل تھے‘ اپنا وجود ثابت کر رہی ہے۔ مسلمان مغربی اور وسطی یورپی ممالک میں ابھی اقلیت ہی ہیں‘ یعنی یورپی یونین کی کل آبادی کا پانچ فی صد‘ لیکن آبادی کے رجحانات آنے والے برسوں میں ڈرامائی تبدیلی کے اشارے دے رہے ہیں۔

آج‘ اسلام یورپ میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب ہے۔ ترکِ وطن اور شرح پیدایش کی تیزرفتاری کی وجہ سے گذشتہ ۳۰برسوں میں مسلمانوں کی تعداد تین گنا ہوگئی ہے۔ آبادی کے ماہرین آنے والے عشروں میں اتنی ہی یا اس سے بھی زیادہ اضافے کی پیش گوئی کررہے ہیں۔

اس بڑھتی ہوئی آبادی کے معاشرتی اثرات‘ مقامی یورپیوں میں شرح پیدایش کی کمی سے بڑھ جاتے ہیں۔ اس وقت یورپ میں اوسط شرح پیدایش فی جوڑا‘ ۴۵ئ۱ بچے ہیں جو ۱ئ۲ کی اس شرح نمو سے بہت کم ہے جو آبادی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ جس براعظم نے مالتھس کی اضافۂ آبادی کی پیش گوئیاں دیں‘ آج خود سکڑتی ہوئی آبادی کا شکار ہے۔ اس صورت حال میں کئی معاشرتی چیلنج پوشیدہ ہیں۔

بہت سے یورپی مسلمان اپنی نئی جاے سکونت میں کامیاب زندگی گزار رہے ہیں‘ لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو میزبان ملک کی زبان نہیں بولتے‘ اور اکثر بے روزگار اور غریب ہیں۔ علاوہ ازیں عدمِ اختلاط‘ خواہ انتخاب سے ہو یا مجبوری سے ‘ عام ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد اپنے مخصوص محلوں (ghettos) میں رہتی ہے‘ جہاں جرم اور غربت کی شرح بلند ہے۔

یـورپ کو درپیش چیلنج

مسلمانوں کی آمد یورپیوں کے لیے کئی چیلنج سامنے لائی ہے۔ امریکا تارکینِ وطن کی سرزمین ہے اور وہاں کوئی نسلی گروہ غالب نہیں ہے‘ اس کے برعکس یورپ کی بیش تر قومیں ایک مشترک نسل کی آبادیوں سے تعمیرہوئی ہیں۔ ان ملکوں کی اپنی تاریخی‘ ثقافتی‘ مذہبی اور لسانی روایات ہیں۔ ان ممالک میں لاکھوں اور بعض صورتوں میں کروڑوں ایسے افراد کا داخلہ جو مختلف نظر آتے ہوں‘ مختلف زبان بولتے ہوں اور ان کے طریقے اور رویّے بھی مختلف ہوں‘ ایک مشکل صورت حال کو جنم دیتا ہے۔

مذہب کے مسئلے پر بھی کشیدگی بڑھی ہے۔ یورپی مسلمانوں کی زندگی میں اسلام کی مرکزیت جرمن‘ فرانسیسی اور سیکنڈے نیویا کے سیکولر عوام کے لیے سمجھنا مشکل ہے۔ یورپیوں کو تشویش ہے کہ ان کے مسلمان پڑوسیوں کے لیے اسلام سے ان کا تعلق مغرب کی رواداری‘ جمہوریت اور خواتین کے لیے مساوی حقوق جیسی بنیادی اقدار کو قبول کرنا مشکل بنا دیتا ہے۔۱؎ امریکا میں نائن الیون کے دہشت گرد حملے اور اس کے بعد کے واقعات خاص طور پر ۱۱ مارچ کو میڈرڈ میں ٹرین پربم دھماکے اور حال ہی میں ولندیزی فلم ساز وان گوخھ کے قتل نے معاشرتی دبائو کو بڑھا دیا ہے۔ دہشت گردی اور ’انقلابی اسلام‘ سے اس کے تعلق نے یورپیوں کو خصوصاً انھیں جو مسلمانوں کے درمیان رہتے ہیں‘ تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان وجوہ نے غیرملکیوں سے نفرت پر مبنی مقامی پارٹیوں کو ایندھن فراہم کیا ہے‘ جس کی بنیاد پر ان میں سے کئی سیاست کے مرکزی دھارے میں داخل ہوگئی ہیں۔ اسی دھماکا خیز فضا میں یہ مسئلہ زیربحث ہے کہ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت ہو یا نہیں۔ ۱۷دسمبر کو یورپی یونین کے ۲۵ ممبر ممالک نے متفقہ طور پر اکتوبر ۲۰۰۵ء سے مذاکرات  شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ لیکن اس سے ترکی کا داخلہ یقینی نہیں ہوجاتا۔ متعدد یورپی ممالک میں راے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کی اکثریت ترکی کی شمولیت کے خلاف ہے۔

یورپی یونین میں ترکی کے داخلے کامسئلہ یورپ میں مسلمانوں کے روزگار یا آزادی کی تلاش میں آنے سے وابستہ ہے۔ یورپی حکومتوں نے مختلف سطحوں پر اس مسئلے سے کامیابی کے ساتھ نمٹا ہے۔ فرانس اور برطانیہ میں تارکینِ وطن کے لیے کئی عشروں سے طے شدہ پالیسیاں ہیں خاص طور پر برطانیہ میں مسلمانوں کو وسیع تر معاشرے کے ساتھ جوڑنے میں کچھ کامیابی ہوئی ہے۔ جرمنی‘ اسپین اور اٹلی نے آج تک مسلمان آبادیوں کے وجود کو ایک عارضی عمل سمجھا ہے‘ اور یہ تصور کیے رکھا ہے کہ یہ ایسے مسلمان مزدور ہیں جو بالآخر اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے۔ لیکن مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد‘ دہشت گردی سے متعلق اندیشے اور معاشرتی دبائو میں اضافوں نے موجودہ عہد کی یورپی حکومتوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اس مسلم آبادی کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے پر غور کریں۔ ان کوششوں کا ایک دائرہ ایسے قوانین ہیں جن سے باہم جذب و انجذاب کا عمل تیز ہو‘ جیسے کہ فرانس میں اسکارف پہ حالیہ پابندی‘ اور دوسرا دائرہ ایسی تجاویز کی پیش کاری اور نفاذ کی حکمت عملی ہے کہ جن سے اسلام کا زیادہ مقامی یورپی برانڈ تیار ہو۔ یورپی مسلمانوں کا یورپی معاشرے میں کامیابی سے وابستہ ہوجانا یورپ کے مستقبل کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ بلاشبہہ آبادی اور معاشرتی دبائو کے اثرات کے بارے میں مختلف راے ہو سکتی ہیں‘ لیکن یہ سب سمجھتے ہیں کہ مسلمان ایک اہم اور قابلِ لحاظ اقلیت رہیں گے‘ جو آخرکار اس براعظم کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔

اگر ترکی اور سابق سوویت یونین کی مسلمان ریاستوں کو شمار نہ کیا جائے تو یورپ میں ۲کروڑ ۳۰ لاکھ مسلمان ہیں۔ اس میں سے اکثریت (ایک کروڑ ۸۰ لاکھ تک) اُن ۲۵ ممالک میں ہے جن پر یورپی یونین مشتمل ہے‘ جب کہ باقی بوسنیا‘ کو سووا‘ البانیا‘ مقدونیا اور دیگر چھوٹی ریاستوں میں ہیں۔ یورپی یونین کے اہم رکن فرانس میں ۵۰ لاکھ مسلمان ہیں‘ یعنی سب سے بڑی مسلم آبادی۔ ان مسلمانوں میں سے بیش تر کا تعلق شمالی افریقہ سے ہے اور یہ آبادی کا ۸ فی صد ہیں۔ جرمنی میں ۳۵ لاکھ‘ برطانیہ میں ۱۶ لاکھ اور اسپین اور اٹلی میں ۱۰‘ ۱۰ لاکھ مسلمان ہیں۔

اگرچہ آج یورپی یونین کی ۴۲ کروڑ (۴۲۵ ملین) آبادی میں صرف ۵ فی صد مسلمان ہیں‘ لیکن ماہرین آبادی یہ پیش گوئی کرتے ہیں کہ ۲۰۲۰ء تک یہ ۱۰ فی صد ہوجائیں گے جس کا بنیادی سبب تارکینِ وطن کی تیزرفتار آمد اور پیدایش کی زیادہ شرح ہونا ہے۔ ہر سال ۱۰لاکھ افراد قانونی طور پر یورپ میں آتے ہیں‘ جن میں سے بیش تر کا تعلق شمالی افریقہ ‘ ترکی اور دیگر مسلم ممالک سے ہوتا ہے۔ پھر مجموعی طور پر غیرقانونی آنے والوں میں بھی مسلمان ہی زیادہ ہوتے ہیں‘ جن کی تعداد ہر سال ۵ لاکھ بنتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی جو مسلمان پہلے سے رہ رہے ہیں ان کے ہاں اپنے سفیدفام یورپی پڑوسیوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر جرمنی میں ایک تہائی مسلمان ۱۸ سال سے کم عمر کے ہیں‘ جب کہ کل آبادی میں ۵/۱ ہیں۔ اسی طرح برطانیہ اور جرمنی میں بھی ۵/۱ کے مقابلے میں ایک تہائی مسلمان ۱۵ سال سے کم عمر کے ہیں۔یہ نوجوان اب شادی کی عمر کو پہنچ رہے ہیں‘اس لیے اب آبادی میں زیادہ اضافہ ہوگا۔ اگر باہر سے مسلم تارکینِ وطن کی آمد کم ہو جائے تب بھی کافی اضافہ ہوتا رہے گا۔ دوسری طرف مقامی آبادی کی کم شرح بھی مسلمانوں کی آبادی کا تناسب بڑھا دیتی ہے۔ زیادہ عمر کی آبادی ان ممالک میں صحت اور پنشن کی اسکیموں پر زیادہ دبائو ڈالتی ہے اور ساتھ ہی ریٹائر ہونے والوں کو سہولت پہنچانے کے لیے زیادہ کام کرنے والوں کی باہر سے آمد کی ضرورت ہے۔ اس خلا کو پُرکرنے کے لیے شمالی افریقہ اور شرق اوسط میں رہنے والے ۲۰ سال سے کم عمر کے ۳ کروڑ مسلمان انتظار کر رہے ہیں۔ الجزائر‘ مراکش‘ مصر اور شام کی معیشت اتنی مضبوط نہیں کہ ان کو روزگار فراہم کرسکے۔ یہ دو عوامل ___ یورپ میں نوجوان کارکنوںکی ضرورت‘ اور مسلم دنیا میں لوگوں کی زائد دستیابی___ تارکینِ وطن کی آمد میں اضافہ کریں گے‘ یہاں تک کہ یورپ‘ تارکینِ وطن کی آمد پر پابندی کے لیے سخت قوانین نافذ کرے‘ جو ناممکن تو نہیں‘ تاہم متوقع بھی نہیں۔

اس وقت مسلم اقلیت‘ یورپی منظرنامے کو خصوصاً شہری علاقوں کو تبدیل کر رہی ہے۔ مارسیلز اور راٹرڈم (ہالینڈ) میں یہ آبادی کے ۲۵ فی صد‘ سالمو (سویڈن) میں ۲۰ فی صد‘ برسلز اور برمنگھم میں ۱۵ فی صد‘ لندن‘ پیرس اور کوپن ہیگن میں ۱۰ فی صد یا اس سے بھی زیادہ ہیں۔ آیندہ چند عشروں میں کئی بڑے یورپی شہروں کے مسلم اکثریتی شہر بن جانے کا امکان ہے۔

تاریخی پس منظر

پیغمبرمحمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی رحلت کے ۸۰ سال کے اندر مسلم افواج نے اسپین پر حملہ کر دیا اور تیزی سے تقریباً پورے ملک پر قبضہ کرلیا۔ ۷۳۲ء میں فرانسیسی افواج نے طورس (Tours) میںمسلم افواج کو شکست دے کر فرانس کی متوقع فتح کو روکا۔ ۱۰۹۹ء میں یورپی افواج نے حملہ کیا اور تقریباً ایک صدی کے لیے یروشلم پر قبضہ کرلیا۔ دوسری طرف اسپین میں مسلمانوں کو شکست دی گئی اور ۱۴۹۲ء میں مسلمانوں کا اقتدار ختم ہوگیا‘ لیکن اس دوران یورپ کو وسط ایشیا سے عثمانی ترکوں کی جانب سے ایک نیا چیلنج درپیش تھا۔ چند صدیوں میں عثمانیوں نے ایک طاقت ور مسلم سلطنت قائم کرلی۔ ۱۶ویں صدی میں انھوں نے بلقان کا بیش تر علاقہ فتح کرلیا تھا اور یورپ کے قلب میں داخل ہو رہے تھے۔ ۱۶۸۳ء میں ویانا میں پولینڈ اور آسٹریا کی افواج کے ہاتھوں عثمانی افواج کی شکست سے فتوحات کا یہ سلسلہ رکا۔

اٹھارہویں‘ انیسویں اور بیسویں صدی میں بیش تر مسلم ممالک‘ یورپی اقوام سے شکست کھاگئے۔ آخری معرکہ ۱۹۱۸ء میں ہوا‘ جب پہلی جنگِ عظیم [۱۸-۱۹۱۴ئ] میں شکست کھا نے کے بعد عثمانی سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔

یہ سمندر پار یورپی نوآبادیاں‘ مسلمانوں کو یورپ خاص طور پر فرانس میں لائیں‘ لیکن بڑے پیمانے پر یہ عمل اس وقت ہوا جب یورپ کے تباہ شدہ معاشروں نے معاشی ترقی شروع کی۔ ۵۰ اور ۶۰ کے عشرے مغربی یورپ میں معاشی کرشمے کے عشرے کہے جاتے ہیں۔ ۱۹۴۸ء اور ۱۹۶۷ء کے درمیان مغربی جرمنی میں صنعتی ترقی میں ۱۰۰ فی صد اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں فرانس میں تین گنا‘ اٹلی میں پانچ گنا اور برطانیہ میں دگنا ہوا۔ ان برسوں میں لاکھوں تارکینِ وطن‘ ترقی پذیر دنیا سے یورپ آئے جن میں بیش تر سابقہ یا موجودہ نوآبادیوں سے تھے۔ ایک تعداد ان لوگوں کی بھی تھی‘ جو اپنے ملک کے ناموافق سیاسی حالات یا جبر کے ہاتھوں مجبور ہوکر یورپ کے آزاد ماحول میں آئے۔ ۱۹۶۲ء میں الجزائر کی آزادی کے بعد وہاں سے ایک لاکھ مسلمان نقل مکانی کرکے فرانس آئے۔ ۵۰ اور ۶۰ کے عشرے میں آنے والے بیش تر لوگ واپس نہیں گئے بلکہ بعد کے عشروں میں اپنے بال بچوں کو نئے ملک میں رہنے کے لیے ساتھ لے آئے۔ اب بھی بیش تر مسلمان اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہنے کے لیے ہی یورپ آتے ہیں۔ جو لوگ یورپ میں رہ گئے انھیں مشکل حالات سے سابقہ پیش آیا۔ جو ملازمتیں پہلے تھیں‘ اب نہ رہیں۔ تعلیم کی کمی اور زبان کی دقت نے نئے مواقع کو مسلمان تارکینِ وطن اور ان کے بچوں سے دُور کردیا۔ اس لیے مسلمانوں میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے‘ مثلاً جرمنی میں‘ تُرک آبادی کی یہ شرح ۲۴ فی صد ہے جو قومی اوسط کا ڈھائی گنا ہے۔ اسی طرح فرانس میں ۳۰ فی صد ہے جو قومی اوسط کا تین گنا ہے۔

یورپی مسلمان آبادیاں ۳۰ مختلف ممالک سے آئی ہیں‘ جو خود ایک دوسرے سے ہزاروں کلومیٹر دُور رہیں‘ اور نسلی و ثقافتی لحاظ سے بہت مختلف ہیں۔ ترکی سے ایک روزگار کا متلاشی‘   الجزائر کے سیاسی جبر کے ہاتھوں تنگ آکر بھاگنے والے اسلام پسند سے بالکل مختلف ہوگا۔ لیکن یہ مسلمان اتنے بھی مختلف نہیں ہیں کہ ان میں مشترکات نہ ہوں۔ ان میں سب سے اہم رشتہ اسلام ہے۔ اسلامی شناخت کا یہ احساس حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی مذہب پسندی کے ساتھ مضبوط ہوا ہے۔ فرانسیسی اخبار لی مانڈے کے ایک جائزے کے مطابق ۱۹۹۴ء کے مقابلے میں ۲۰۰۱ء میں زیادہ مسلمان‘ زیادہ پابندی سے مسجدوں میں نماز ادا کر رہے ہیں۔ لندن میں ایک حالیہ سروے سے معلوم ہوا کہ حیرت انگیز طور پر ۸۰ فی صد مسلمانوں کے بقول وہ پابندی سے مسجد جاتے ہیں۔   حتیٰ کہ جرمنی میں مقیم سیکولر ترک بھی زیادہ باعمل ہوتے جا رہے ہیں‘ جس کا اظہار خواتین میں اسکارف پہننے اور مردوں کے ہاں داڑھی رکھنے سے ہوتا ہے۔

مذہب اسلام میں یہ نئی دل چسپی ان مسلمانوں میں زیادہ ہے جو یورپ میں پیدا ہوئے ہیں‘ یعنی ۶۰‘ ۷۰ کے عشروں میں آنے والوں کی دوسری اور تیسری نسل۔ اس نسل کے ہاں  مذہب کے اظہار سے جو کشیدگی پیدا ہوتی ہے‘ وہ اس کے باوجود ساتھ رہنے کے لیے رضامند ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ مذہبی سرگرمی میں اضافہ حقیقی مذہبی احساس کے جذبے کے اُبھار کی علامت نہیں ہے۔ یہاں کے مسلمانوں میں رمضان کے روزے جیسی علامتی چیزوں میں اضافہ ہے۔ لیکن‘ یہ ایک کھلا سوال ہے کہ کیا وہ زیادہ باعمل اور نیک بھی ہو رہے ہیں؟ اس رائے کے مطابق یہ کوئی چیلنج نہیں۔ یہ لوگ اپنی شناخت تلاش کرتے ہیں۔ جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ یورپ کے یہ نوجوان اپنے اصل ملک کے مقابلے میں‘ یہاں اسلام سے زیادہ دل چسپی رکھتے ہیں۔

لیکن یورپیوں کو تشویش ہے کہ یہ بڑھتی ہوئی مذہب پسندی ’انقلابی اسلام‘ کی آواز کو زیادہ بلند کرے گی‘ جس سے تشدد میں اضافہ ہوگا۔ سیکولر یورپ میں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ: ’’کیا اسلام‘ مغرب کی بنیادی اقدار جمہوریت‘ رواداری اور فرد کے حقوق سے واقعی ہم آہنگ ہوسکتا ہے؟‘‘ اس تشویش کے پیچھے بم دھماکے‘ قاتلانہ حملے اور دھمکیاں خاص طور پر سلمان رُشدی کے خلاف فتویٰ‘ اسلامی انتہاپسندوں کی گذشتہ تین عشروں کی سرگرمیاں‘ اور اس کے آخر میں ۲۰۰۱ء میں امریکا میں نائن الیون کے مبینہ حملے ہیں جس کے بعد تین برسوں میں برطانیہ‘ جرمنی اور اسپین سمیت کئی یورپی ملکوں میں القاعدہ کے مراکز دریافت کیے گئے ہیں۔ یہودیوں کے خلاف پُرتشدد حملوں میں بھی مسلمانوں کا ہاتھ نظر آیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف حکومتوں نے سیکڑوں مسلم انتہاپسندوں کو گرفتار کیا ہے‘ یا اپنے ملکوں سے باہر نکالا ہے۔ ان لوگوں میں سے بیش تر غیرملکی مسلمان تھے‘ جنھوں نے اسامہ بن لادن اور دوسرے دہشت گردوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ مختلف جائزوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذہبی رہنما جن لوگوں کو خطاب کر رہے ہیں‘ وہ ان کے ہمدرد ہیں۔ گارجین‘ لندن کے ایک حالیہ جائزے میں برطانوی مسلمانوں کے ۱۳ فی صد نے اس راے کا اظہار کیا کہ امریکا پر القاعدہ کے مزید حملوں کا جواز ہے۔

یورپی اندیشوں کو بڑھانے والا ایک بڑا قابلِ ذکر واقعہ ۲ نومبر ۲۰۰۴ء کو ہوا‘ جب ایک ولندیزی فلم ساز تھیووان گوخھ کو ایک ۲۶ سالہ مراکشی مسلمان اور اس کے چار دوسرے ساتھیوں نے ایمسٹرڈیم میں قتل کر دیا۔ اس کے ساتھ ایسا اس لیے کیا گیا کہ اس نے اسلام میں خواتین کے حقوق کے بارے میں ایک تنقیدی فلم Submission (خودسپردگی) بنائی۔ اس کے ردعمل میں ہالینڈ کے نائب وزیراعظم نے ’انقلابی اسلام‘ کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا: ’’ہم لڑائی کو بڑھائیں گے اور  یقینی بنائیں گے کہ ہالینڈ سے انقلابی اسلامی تحریکیں ختم ہو جائیں‘‘۔ وان گوخھ کے قتل کے بعد دہشت گردی سے تعلق کے شبہے میں درجن سے زائد مسلمانوں کو پکڑا گیا۔ ملک بھر میں عوامی غم و غصے کا اظہار‘ مسلمان مقامات پر ۲۰ حملوں کی صورت میں ہوا‘ جس کے نتیجے میں دومسجدوں اور ایک اسکول کو نذرِ آتش کردیا گیا۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق ۸۰ فی صد آبادی سخت اقدامات کے حق میں ہے۔ جن یورپی ممالک میں اس طرح کا واقعہ نہیں ہوا ‘وہاں بھی جس چیزکو اسلامی خطرہ سمجھا جاتا ہے اس کے خلاف کافی لکھا اور کہا جا رہا ہے۔ قومی سطح کے سیاست دان سوال اٹھا رہے ہیں:’’کیا اسلام مغربی اقدار کے ساتھ چل سکتا ہے؟‘‘ اٹلی کے وزیراعظم نے کھلا اعلان کیا: ’’اسلامی تہذیب‘ مغرب سے کم تر ہے‘‘۔ بلجیم کے وزیرداخلہ نے اُن تہذیبوں کی مذمت کی: ’’جہاں خواتین کو کم تر مقام دیا جاتا ہے‘ جس کے نتیجے میں انھیں اپنے جسموں کو ڈھکنا پڑتا ہے‘‘___ جو ایک اسلامی طریقہ ہے۔

مسلمان اقلیت سے متعلق پالیسیاں

مغربی یورپ کے ملکوں نے مسلمان اقلیتوں سے معاملہ کرنے کے لیے مختلف پالیسیاں اپنائی ہیں۔ اپنے اندر جذب کرنے کے لیے جارحانہ کوششوں سے لے کر عملاً نظرانداز کرنے تک۔ ایسی گریزپائی کے نتیجے میں یہ مسلم آبادیاں مقامی آبادیوں سے الگ تھلگ ہوگئی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال فرانس ہے۔ فرانس نے تعلیمی اور دوسرے اداروں کے ذریعے مسلم آبادی کو جذب کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ ہدف یہ ہے کہ ملک کے شمالی افریقہ کے تارکینِ وطن اور ان کی آنے والی نسلوں سے مستقبل کے فرانسیسی پیدا کیے جائیں۔ اس پالیسی کی بنیاد اٹھارہویں صدی کا فرانسیسی انقلاب ہے‘ جس کے مطابق آزادی۲؎، مساوات اور اخوت جیسی آفاقی اقدار کا اطلاق ہرایک پر ہوسکتا ہے۔ فرانسیسیوں کا یقین ہے: ’’یہ روشن خیال اصول اور ملک کی اعلیٰ ثقافتی روایات نئے آنے والوں کے لیے جذب ہونا ممکن بنا دیتے ہیں‘‘۔

دوسری طرف برطانیہ نے ایک زیادہ کثیر ثقافتی ماحول اپنایا ہے‘ جس کا ہدف آنے والوں کو انگریز بنا نا نہیں ہے‘ بلکہ برطانیہ کے بنیادی اداروں کو قبول کرانا اور انگریزی سکھانا ہے۔ کچھ اہلِ علم کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی نے اچھے نتائج دیے ہیں اور دوسرے ملکوں کے مقابلے میں یہاں سب سے بہتر حالت ہے۔ برطانیہ کے مسلمان سیاست اور تجارت میں‘ دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ آگے بڑھ رہے ہیں۔

اٹلی‘ جرمنی اور اسپین سمیت بیش تر یورپی ملکوں نے کم سے کم حالیہ زمانے تک تیسرا طریقہ اختیار کیا ہے‘ جس کے تحت مسلم اقلیتوں کے وجود کو ایک عارضی عمل سمجھا گیا ہے جو بالآخر ختم ہوجائے گا اور اس لیے آسانی سے نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر جرمنی نے سنہ ۲۰۰۰ء تک اپنی شہریت کے حقوق کی بنیاد علاقے کی نسل پر رکھی۔ اسی وجہ سے تُرک اور دوسرے تارکین جو نسلی طور پر جرمن نہیں تھے وہ اور ان کی آیندہ نسلیں شہریت حاصل نہیں کرسکیں۔ وہ جتنے عرصے بھی رہیں گی‘ ان کی حیثیت مہمان کی ہوگی اور مہمان بہرحال عارضی ہوتا ہے۔ لیکن ۲۰۰۰ء میں جرمنی نے اپنے قوانین کو تبدیل کیا‘ جس کے مطابق جو ان کے ملک میں پیدا ہوا‘ وہ شہری ہو سکتا ہے۔ لیکن ابھی تک جرمنی میں کوئی مستقل غیرجرمن اقلیت نہیں ہے۔

نائن الیون کے بعد تمام یورپی حکومتوں اور ان کے عوام نے اپنے درمیان موجود اسلامی آبادیوں کا زیادہ توجہ سے نوٹس لیا ہے۔ دہشت گردی کے خوف کی وجہ سے ان میں بعض نے انھیں اپنے اندر جذب کرنے کے لیے زیادہ مؤثر ماڈل اختیار کیا ہے۔ ڈنمارک میں حکومت نے طے شدہ شادی پر پابندی لگا دی ہے جو مسلمانوںمیں بہت مقبول ہے۔

نائن الیون کے بعد سیاسی و سماجی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں میں سب سے زیادہ شہرت فرانس کے اسکولوں میں حجاب کی پابندی کو ملی۔ اس پابندی کے خلاف کہیں کہیں مزاحمت بھی ہوئی‘ لیکن عام مزاحمت اور سول نافرمانی کے اندیشے بے بنیاد ثابت ہوئے۔ مبصر اس رویے کو اس چیز کی علامت سمجھتے ہیں کہ مسلمان‘ یورپی اقدار کے ساتھ مفاہمت پیدا کر رہے ہیں۔ لیکن کچھ حلقوں کی رائے میں بڑے پیمانے پر مزاحمت اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ نائن الیون کے بعد مسلمان دیوار سے لگا دیے گئے ہیں اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے سے خوف زدہ ہیں کہ اس طرح وہ خوامخواہ نشانے پر آجائیں گے۔

کچھ ملکوں نے نائن الیون کے بعد مسلم اقلیتوں کے ساتھ رابطے قائم کرنے کی نئی کوششیں کی ہیں۔ مثال کے طور پر اسپین نے ایک فائونڈیشن بنائی ہے‘ جس کا مقصد مسلمانوں کو اپنے وسیع تر معاشرے میں شامل کرنا ہے۔ برطانیہ اور اٹلی میں بھی ایسے ہی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ تنظیمیں پہلے سے موجود نجی طور پر قائم ان ہزاروں تنظیموں میں اضافے کی صورت میں نمایاں ہورہی ہیں جو گذشتہ چند عشروں میں مسلمانوں کو سیاسی قیادت سے لے کر سماجی خدمات تک‘ ہرچیزبہم پہنچانے کے لیے قائم کی گئی ہیں۔ کچھ کا تعلق بیرونی حکومتوں سے ہے‘ جیسے ترکی اور مراکش کی تنظیمیں اور وہ صرف اپنے ہی لوگوں کی خدمت کرتی ہیں۔ بہت سی دوسری تنظیموں کو صاحب ثروت افراد اور اسلامی دنیا کی بہت سی سیاسی و مذہبی تحریکوں سے مدد ملتی ہے‘ مثلاً فرانس میں اسلامی تنظیموں کی فیڈریشن (UOIF) کے اخوان المسلمون سے قریبی تعلقات ہیں۔ اخوان المسلمون ایک وسیع بنیاد پرست تحریک ہے‘ جو تشدد کی تاریخ بھی رکھتی ہے لیکن اب یہ پُرامن نظرآتی ہے۔۳؎  لیکن ان گروپوں کو خواہ یورپی حکومتیں قائم کریں یا غیرملکی‘ اکثر کو اعتماد اور ساکھ کا مسئلہ درپیش ہے۔

مسلم آبادی میں اصل قیادت مقامی مسجد کے امام کو حاصل ہے۔ یہ اب حکومتی دل چسپی کا تازہ ہدف ہیں۔ کئی یورپی ملکوں میں امام تشدد پر اُبھارنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے۔ بہت سے مسلمانوں اور غیرمسلموں کے خیال میں اس کا حل یہ ہے کہ خود یورپ میں ائمہ تیار کرنے کے لیے نظام تشکیل دیا جائے۔ یہ تجویز ہے کہ امامت کے لیے لائسنس جاری کیا جائے۔ اس قسم کا کام آہستہ آہستہ شروع بھی ہوگیا ہے اور برطانیہ‘ اسپین اور ہالینڈ میں ائمہ کے لیے مطلوبہ صفات پر غور کیا جا رہا ہے۔ ہالینڈ نے اس طرح کے پروگرام شروع کر دیے ہیں‘ جن میں ائمہ کو ولندیزی اقدار کی تعلیم دی جاتی ہے۔ بیش تر ملکوں میں امام ہونے کے لیے کوئی معیار نہیں ہے۔

مساجد بھی عموماً عارضی طور پر لی گئی جگہوں پر ہوتی ہیں‘ گوداموں میں‘ پرانی فیکٹریوں میں یا ایسی جگہوں پر جو عبادت کے لیے تعمیر نہیں ہوئی ہیں۔ جیسے جیسے مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے مساجد کی کل تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ۱۹۹۷ء میں برطانیہ میں ۶۱۳ مساجد تھیں‘ اب ایک ہزار ہیں۔ جرمنی میں ۲۴۰۰ ہیں۔ ائمہ کی طرح مساجد کی تعمیر بھی نجی طور پر کی جاتی رہی ہے‘ لیکن اب سیاسی رہنما حکومتی کردار کی بات کر رہے ہیں۔ حال ہی میں فرانس کے سابق وزیرخزانہ اور متوقع صدارتی امیدوار نکولس سارکوزی نے مساجد کی تعمیر میں حکومت کے فنڈ فراہم کرنے کے حق میں بات کی تو ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ اس لیے کہ اس وجہ سے ملک کے ۱۹۰۵ء کے قانون میں تبدیلی کرنا پڑے گی‘ جس نے چرچ اور ریاست کو جدا کیا۔ فرانس کے سیکولر سیاست دان اکثر اپنی سیکولر روایت سے دل لگی کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت بھی ٹیکس دہندگان سے حاصل کردہ وسائل ہزاروں کیتھولک چرچوں کی دیکھ بھال پر خرچ کرتے ہیں‘ کیونکہ انھیں تاریخی یادگار قرار دے کر مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔ کچھ لوگ سارکوزی کی تجویز کی حمایت کر رہے ہیں کہ اس طرح مسلمان ملک کے مرکزی دھارے کے قریب آئیں گے۔

کیا یورپ کے مسلمان کامیابی سے جذب ہو رہے ہیں؟ مارسیلز کے مفتی شعیب بن شیخ کے مطابق فرانسیسی مسلمانوں کی بڑی اکثریت مرکزی دھارے میں شامل ہو رہی ہے۔ برطانیہ میں ملک کے سب سے بڑے ایشیائی اخبار ایسٹرن آئی کے جائزے کے مطابق ملک کے ۸۷ فی صد مسلمانوں نے کہا : ’’ہم برطانیہ کے وفادار ہیں‘‘۔ لیکن دوسری طرف ایک یہودی مصنفہ کا کہنا ہے: ’’مسلمان کبھی بھی جذب نہ ہوں گے اور وہ اسے یوربیہ (Eurabia) بنا دیں گے‘‘۔ ایک اور رائے کے مطابق مسلمانوں کی ایک واضح اکثریت جذب نہیں ہوئی اور وہ بھی ایک مستقل مسئلہ ہے جس کے کئی اسباب ہیں: حکومت کی بے عملی‘ تعصب‘ جائز ثقافتی اختلافات اور خود مسلمانوں میں آپس میں میل ملاپ کی خواہش۔ حکومتیں چاہتی ہیں کہ ان کو مخصوص آبادیوں میں رکھیں اور وہ خود بھی الگ ہو کر ساتھ رہنا چاہتے ہیں جس سے یکجائی (integration) کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

اس وقت مغربی یورپ میں کئی شہروں میں مسلم علاقے موجود ہیں‘ جہاں بے روزگاری‘ جرائم‘ غربت اور مایوسی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے بعض میں سفیدفام لوگوں کا داخلہ ممنوع ہے حتیٰ کہ پولیس بھی جانے سے ڈرتی ہے۔ ان محلوں کی وجہ سے مسلمان اکثریتی آبادی سے الگ ہو جاتے ہیں‘ اور دونوں طرف ایک علیحدگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ عملاً علیحدگی کے ساتھ ساتھ ثقافتی اختلافات ہیں جو اکثریت اور اقلیت کے درمیان باہمی تفہیم میں حقیقی رکاوٹ ہیں۔ بعض اختلافات بہت واضح ہیں‘ مثلاً یورپی خواتین کا لباس جو زیادہ پارسا یا تہذیبی تشخص کے حامل مسلمانوں کو ناگوار ہوتا ہے۔ بیش تر مسلمان شراب نہیں پیتے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے‘ اس لیے کہ یورپ میں شراب نوشی بہت عام ہے۔

لیکن ان چیلنجوں کے باوجود بعض ماہرین یکجائی کے امکانات کے لیے بہت پُرامید ہیں۔ اس کی بنیاد وہ جائزے ہیں جو بتاتے ہیں کہ یورپی مسلمان علیحدگی کا احساس نہیں رکھتے۔ برلن میں ترکوں کے ۲۰۰۱ء کے ایک جائزے میں ۸۰ فی صد لوگوں نے یہ جواب دیا کہ: جرمن معاشرہ منصفانہ ہے اور مساوی مواقع دیتا ہے۔ ۵۰ فی صد وہ مسلمان جو یورپ میں پیدا ہوئے ہیں ان سے بھی اچھی امید ہے۔ فرانس میں تیسری اور چوتھی نسل کے نوجوان موجود ہیں‘ جو اپنے کو فرانس کے مستقبل کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یورپی شہروں میں مسلم علاقے مایوسی کی دلدل نہیں‘ بلکہ    خوش حال‘ پھلتی پھولتی آبادیاں ہیں جن میں چھوٹی تجارت میں برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ممنوعہ علاقے نہیں بلکہ یہاں سفید فام لوگ شرق اوسط کے کلچر کا نظارہ کرنے آتے ہیں۔

اب حکومتیں یہ احساس کر رہی ہیں کہ اگر انھوں نے فائونڈیشنوں ‘ مسجدوں اور دوسرے اداروں کی مدد نہ کی تو اس خلا کو اسلامی انتہاپسند پورا کریں گے۔ فرانس نے ستمبر میں مسلمان عورتوں کی معاشرتی اصلاح اور خرابیاں دُور کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ ان علاقوں میں مختلف لوگ ان کی توجہات اپنی طرف کھینچ رہے ہیں‘ ایک طرف داڑھی رکھنے والے بنیاد پرست مبلغ ‘اور دوسری طرف ایک سرگرم اور دل چسپی لینے والی حکومت۔

حقیقت کچھ بھی ہو‘ یورپی عوام کا عام طور پر یہ خیال ہے کہ مسلمان قومی دھارے میں شامل نہیں ہو رہے ہیں۔ فرانس‘ آسٹریلیا‘ اٹلی‘ ڈنمارک‘ برطانیہ اور ہالینڈ میں اس احساس نے دائیں بازو کی پارٹیوں کو تقویت پہنچائی ہے اور اس حد تک کہ یہ بعض جگہ قومی دھارے میں شامل ہوگئی ہیں۔ ایسے بہت سے امیدواروں اور پارٹیوں نے الیکشن میں اچھے نتائج حاصل کیے‘ جنھوں نے تارکینِ وطن اور بیرونی ممالک سے آمد پر سخت اقدامات کا منشور اپنایا۔

۱۹۹۹ء میں آسٹریلیا میں جارج حیدر کی فریڈم موومنٹ دوسرے نمبر پر آئی اور کچھ عرصے مخلوط حکومت میں شامل بھی رہی۔ اٹلی میں بھی اس رجحان کی علم بردار دو پارٹیاں نادرن لیگ اور نیشنلسٹ الائنس نے ۲۰۰۱ء کے انتخابات میں اچھے نتائج دکھائے اور حکومت میں شامل ہوئیں۔ ۲۰۰۲ء میں فرانس میں تارکینِ وطن کے خلاف تحریک کے علم بردار لی پین نے صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں شیراک کے اصل مخالف جاسپن سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ اگرچہ لی پین کو دوسرے مرحلے میں فیصلہ کن شکست ہوگئی‘ لیکن سب نے یہ محسوس کیا کہ ان رجحانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ہالینڈ کے شہر راٹرڈم میں ۴۰ فی صد آبادی غیر ملکی ہے‘ جس میں بیش تر مسلمان ہیں۔ یہاں پم فارچیون نے یہ کہا کہ ترک وطن پر مکمل پابندی لگا دی جائے‘ اس لیے کہ اسلام پسماندہ ہے اور جدید مغربی اقدار‘ جیسے رواداری کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ اگر مسلمانوں کی آبادی بڑھتی رہی تو ہالینڈ کی بنیادی اقدار تبدیل ہوجائیں گی۔ فارچیون نے مقبولیت حاصل کی اور اس کی پارٹی نے ۲۰۰۲ء میں شہری حکومت کا کنٹرول سنبھال لیا۔ دو ماہ بعد‘ جب کہ یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اس کی پارٹی قومی انتخابات میں پہلے یا دوسرے نمبر پر آئے گی‘ اسے قتل کر دیا گیا۔ بعد میں پارٹی کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے وہ قوی منظر سے اوجھل ہوگیا۔

یہ پارٹیاں کتنے عرصے عروج میں رہیں‘ اس سے قطع نظر‘ محض ان کا عروج یورپ میں ترکِ وطن مباحثے کی کیفیت کا آئینہ دار ہے۔ ابھی یورپ کے اشرافیہ مسلمانوں کے حوالے سے کوئی واضح موقف نہیں اپنا سکے۔ امریکی سیاسی مفکر فوکویاما اور ہن ٹنگٹن کا استدلال ہے کہ: ’’یورپی اشرافیہ کو بڑھتے ہوئے اسلام کے مقابلے میں انسان دوستی اور عیسائیت کی روایات کا دفاع کرنے میں شرمانا نہیں چاہیے‘‘۔ فوکویاما نے کہا ہے کہ: ’’یقینا ایک یورپی کلچر ہے اور یہ رواداری کے وسیع تر کلچر کا حصہ ہے لیکن یورپی کلچر مسلمانوں سے یہ کہے تو غیرمعقول نہ ہوگا کہ تمھیں اسے قبول کرنا ہوگا۔ یورپیوں کو اپنی سیاسی احتیاط پسندی کو ختم کرنا چاہیے اور جو کچھ ہو رہا ہے اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے‘‘۔

اھلِ یـورپ کو تشویش

مشہور مستشرق برنارڈ لیوس نے حال ہی میں بطور امرواقعہ یہ بیان کر کے یورپ میں بیش تر لوگوں کو ششدر کر دیا کہ اگر جلدی نہیں تو ۲۱ویں صدی کے اختتام تک یورپ مسلم اکثریتی علاقہ ہوگا۔ سوئٹزرلینڈ کی مفکر بیت یور اس پیش گوئی سے آگے بڑھ کر کہتی ہے کہ مسلمانوں کی آبادی کا بہائو یورپ کے: ’’ناراض نہ کرنے‘ دوسروں کو جگہ دینے اور اپنی ثقافت سے دست بردار ہونے کے ساتھ شامل ہو کر نئی روایات تشکیل دے گا جو آج کے یورپ سے کوئی مشابہت نہ رکھیں گی‘‘۔ وہ لکھتی ہے کہ یورپ اس نئی حقیقت کی طرف آگے بڑھ رہا ہے: ’’یہودی عیسائی تہذیب سے   ارتقا پاکر روشن خیالی اور سیکولر عناصر کے ساتھ یوربیہ(Eurabia)‘ یعنی ایک سیکولر مسلم تبدیل پذیر معاشرہ جس کی روایتی یہودی عیسائی اقدار تیزی سے مٹ رہی ہوں‘‘۔

مگر بہت سے دانش ور اس طرح کی آبادی کی اور ثقافتی تبدیلی کے تصورات کو غیرحقیقی سمجھتے ہیں۔ ایک اسکالر کا کہنا ہے کہ ’’مجھے یہ پیش گوئی بظاہر ہی ناممکن نظر آتی ہے۔ کیا ہم نے تاریخ میں کبھی ایسی مثال دیکھی ہے؟ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ میں نے ایسا کہیں نہیں دیکھاکہ کوئی آبادی ایک صدی میں ۵ فی صد سے ۵۰ فی صد ہوگئی ہو‘‘۔

اس طرح کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر یورپ میں بہت بڑے پیمانے پر آمد ہوئی تو ضروری نہیں کہ یہ سب یا بیش تر مسلم دنیا سے ہو۔ ایشیا اور افریقہ کے ان علاقوں سے بھی آئیں گے جو مسلم علاقے نہیں ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان ایک چھوٹی اقلیت رہیں گے۔ یقینا وہ ایک بڑی اقلیت بن جائیں گے لیکن رہیں گے اقلیت ہی۔ ایک اور اسکالر کا کہنا ہے کہ یورپ میں ایک بڑا اسلامی گروپ ہوگا جو زیادہ روادار‘ زیادہ دوسروں کے ساتھ چلنے والا اور غیر یورپی اسلام کے مقابلے میں کم روایتی ہوگا۔

مسلمان یورپ کے کلچر کو تباہ نہیں کریں گے‘ بلکہ اس کے ساتھ اپنی جگہ بنائیں گے جیسا کہ امریکی معاشرے میں ہوا۔ ایک نیا یورپی کلچر وجود میں آئے گا۔ اسلام اور مغرب دونوں کے درمیان سمجھوتا ہوگا اور دونوں کے بہترین پہلوئوں کو جذب کیا جائے گا‘ جیسا کہ تاریخ میں ماضی میں ہوا۔ لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں میں علیحدگی پسندی‘ اسلامیت اور ملنے جلنے کی کمی مستقبل میں اشتراک کے لیے کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ مسلمان صرف سطحی طور پر ساتھ چل رہے ہیں۔ وہ خوداپنے کو اور یورپی بھی انھیں غیرسمجھتے ہیں۔ جب تک یہ صورت حال برقرار رہتی ہے‘ جب تک مسلمان اپنے کو جرمن‘ سویڈش یا فرانسیسی نہیں سمجھتے‘وہ غیر ہی رہیں گے۔

کچھ دوسروں کا خیال ہے کہ ساتھ مل کر نہ رہنے سے مسلسل علیحدگی کی بہ نسبت زیادہ خراب نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔ ایک عام احساس ہے کہ اجتماعی تصادم ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ کئی برسوں سے یہ لاوا پک رہا ہے اور اب سطح تک آگیا ہے۔ وہ یورپی آوازیں جو کہتی ہیں کہ سب برابر ہیں مگر ہم مسلمانوں سے زیادہ برابر ہیں‘ زیادہ طاقت ور ہو رہی ہیں۔ لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ تصادم کی پیش گوئیاں ایک غلط بنیاد پر استوار ہیں‘ یعنی یہ کہ مسلمان بنیادی مغربی اقدار کو قبول کرنے کے قابل نہیں ہیں لیکن جمہوریت‘ رواداری اور دوسری اقدار جو یورپ کو عزیز ہیں‘  مسلم دنیا میں غیرمعروف نہیں ہیں۔ قرآن میں احتساب کا تصور موجود ہے۔ سرکاری ادارے عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ یہی جمہوری اصولوں کی بنیاد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عیسائیت بھی تو جمہوریت کے لیے کوئی سند نہیں دیتی لیکن عیسائی جمہوری نظام چلا رہے ہیں‘ اسی طرح مسلمان بھی چلائیں گے۔ یہ سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ اسلام غیرجمہوری ہے۔ یورپ کے مسلمان اسلام کی وہ تعبیر اختیار کریں گے جس میں جمہوریت کی حمایت ہو۔

اچھا مستقبل دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ملنے جلنے کا عمل اس وقت تک جاری رہے گا‘   جب تک یورپی عوام مسلمانوں کی انتہاپسند اقلیت کے خلاف اپنے جذبات کو عمومی مسلم آبادی کو  خوش آمدید کہنے میں رکاوٹ نہیں بنائیں گے۔

جدید امریکی تاریخ میں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ تعامل ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء سے ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے عنوان سے ہو رہا ہے۔ اسی طرح یورپ کی بنیاد پرست اور سیکولر قوتوں کے مراکز کی کوشش ہے کہ وہ ہالینڈ کے فلم ساز وان گوخھ کے ۲ نومبر ۲۰۰۴ء کے واقعۂ قتل کو گمراہ کن رنگ دیں اور اس دن سے مسلمانوں کے خلاف جدید یورپی تاریخ کا آغاز کریں۔

بہت سے یورپی ذرائع ابلاغ نے ہالینڈ کے اس فلم ساز کے سانحۂ قتل پر اپنا ردعمل  اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کے جذبے کے اظہار سے کیا‘ مثلاً رسالہ دیرسپیجل نے اپنی ۱۵نومبر ۲۰۰۴ء کی اشاعت میں سرورق پر یہ جلی سرخی لگائی: ’’اللہ کی بے حقوق بیٹیاں___ جرمنی میں مسلمان خواتین‘‘۔ رسالے نے اسی موضوع پر ۱۵ صفحات کا مفصل مقالہ شائع کیا۔ہفت روزہ ڈی تسایت نے ۱۸ نومبر ۲۰۰۴ء کی اشاعت میں اپنے سات صفحے مسلمانوں کے خلاف سیاہ کیے۔ یورپی ذرائع ابلاغ کے نزدیک سب سے اہم سوال یہ رہا: ’’یورپ اپنی اقدار کو اسلامی خطرے سے کیسے بچا سکتا ہے؟‘‘ اور ’’کثیرتہذیبی معاشرے کا خواب کیسے شرمندئہ تعبیر ہوسکتا ہے؟‘‘۔  ان ذرائع نے ’’یورپی قوانین میں اسلامی شریعت کی مداخلت‘‘ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ اشارہ ان بعض یورپی عدالتوں کی طرف تھا جنھوں نے اسکولوں میں مسلم بچوں کے حقوق کے سلسلے میں احکام جاری کیے۔ یورپی ذرائع ابلاغ نے یہ مطالبہ کیا کہ ’’یورپ کی مساجد میں نفرت پھیلانے والے‘‘ خطیبوں کو نکال دیا جائے۔ ’’مسلم خواتین پر ظلم و تشدد‘‘ بھی یورپی ذرائع ابلاغ کا مرغوب موضوع ہے۔ یورپی ذرائع ابلاغ کے اسلام دشمن اور مسلم مخالف موضوعات کی فہرست خاصی طویل ہے۔ اس میں شک نہیں کہ کچھ معتدل لوگوں نے بھی اظہارِ رائے کیا اور خبردار کیا کہ جلتی پر تیل ڈالنے کا نتیجہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ لہٰذا تحریر و تقریر میں ’’ہسٹیریا‘‘ سے بچا جائے۔ یہ معتدل نقطۂ نظر موجودہ حالات میں غیر مؤثر ہے۔

بہت سے یورپی لوگ اسلام کو اُسی پس منظر میں دیکھتے ہیں جس میں وہ مملکت اور کلیسا کے تصادم کی طویل تاریخ کو دیکھتے ہیں۔ یورپی نژاد باشندوں میں اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت‘ نیز یورپ میں مقیم مسلمانوں کی اسلامی اقدار سے وابستگی نے سیکولر یورپی قوتوں کو مشتعل کردیاہے‘ مثلاً کھیل اور پی ٹی کے پیریڈوںمیں مسلمان طالبات کا نیم عریاں لباس پہن کر شرکت کرنے سے انکار‘ اجتماعی مخلوط سیاحتی دورے میں شامل نہ ہونا وغیرہ۔ اس کے یورپی معاشرے پر مثبت اثرات بھی پڑتے ہیں اور کئی لوگ اسلام کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ مسلمان خاندان کی مضبوطی بھی اہلِ یورپ کے لیے باعث کشش ہے‘ اور وہ اسی وجہ سے اسلام قبول کرلیتے ہیں۔ یورپ میں شخصی آزادی بھی اپنے مغربی مفہوم ہی میں ہوتی ہے‘ مثلاً جنسی آزادی یا ہم جنسی کی آزادی وغیرہ۔ مسلم والدین چونکہ اپنے بچوں کو اس قسم کی مادر پدر آزادی سے روکتے ہیں‘ اس لیے انھیں ’’بنیاد پرست‘‘ قرار دے کر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی جبری تربیت کر کے انہیں بنیاد پرستی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ حالانکہ مطلق آزادی کا تصور دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں۔ انفرادی و اجتماعی سلامتی کی خاطر سوسائٹی کو مطلق آزادی پر قدغنیں لگانا پڑتی ہیں۔ چنانچہ کسی کو مار ڈالنے اور کسی کی توہین کرنے کی آزادی پر پابندی عائد ہے۔ اسی طرح کی پابندیاں مسلم والدین اسلامی اقدار کے تحفظ کی خاطر اپنی اولاد پر لگاتے ہیں۔ مگر یورپی حکام اسلام اور مسلمانوں کی توہین کی آزادی پر پابندی نہیں لگاتے۔ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ اس آزادی سے معاشرے میں افراتفری پھیلتی ہے اور مہذب شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو جسمانی‘ ذہنی اور قلبی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مقتول فلم ساز کی رسواے زمانہ فلم نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے تشخص کو مجروح کیا ہے۔ اسے قتل کرنے کا کام چند جذباتی اور حساس افراد کا ہے۔ ایسے چند افراد کے عمل کی بناپر یورپ کے تمام مسلمانوں کو موردِ الزام ٹھیرانا یقینا ناانصافی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی فلم بنانے کی اجازت ہی کیوں دی گئی‘ نیز فلم بننے کے بعد اس کے اثرات کے تدارک کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟ ہالینڈ کے سیاست کار اور صحافی اپنے معاشرے کے انتشار اور کش مکش و تصادم (جس کی وجہ سے ہالینڈ کے معاشرے کو زبردست خطرے کا سامنا ہے) کا ذمہ دار مسلمانوں کو قرار دے کر‘ اور یوں مسلم اقلیت کو قربانی کا بکرا بنا کر اپنے آپ کو بری الذمہ ٹھیرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہالینڈ کے ان انتہاپسندوں میں سرفہرست گیریٹ چام (نائب وزیراعظم و وزیرخزانہ) ہے۔ اس کا تعلق دائیں بازو کی عوامی پارٹی سے ہے۔ اس شخص نے ۱۵ نومبر ۲۰۰۴ء کو ’’اسلامی بنیاد پرستوں‘‘ کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہوئے کہا کہ انھیں مکمل طور پر کچل دیا جائے گا خواہ اس کے لیے کتنا ہی مالی خسارہ کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔ ہالینڈ کے اسی قماش کے کچھ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مشتبہ مسلمانوں کو کسی عدالتی کارروائی اور دفتری ضوابط کے بغیر فوراً ہی ملک سے باہر نکال دینے کا قانون منظور کیا جائے۔ یاد رہے کہ فلم ساز کے سانحۂ قتل کے بعد ہالینڈ میں مسلمانوں پر منظم عوامی حملے ہوئے‘ ان کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا‘ ان کے اسکولوں کو مسمار اور مسجدوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔ ہالینڈ کی وزارتِ داخلہ نے ملک کی ۲۵ مساجد کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں اور اس مہم کو ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ وزیرداخلہ جوہان ریمکس نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مساجد کے خلاف بالعموم اور مسجد الفرقان اور مسجدالتوحید کے خلاف بالخصوص سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے‘ نیز ہالینڈ کی تمام مسجدوں کے اماموں کی فہرست بنائی گئی ہے۔

۱۹۹۷ء میں اخبارات و جرائد کے ذریعے ہالینڈ کے باشندوں (ہالینڈ نژاد عوام‘ عربوں اور مسلمانوں) سے ایک سوال دریافت کیا گیا تھا کہ کیایہاں نسلی تفریق (discrimination) پائی جاتی ہے؟ اکثریت نے اس پر اپنی یہ رائے ظاہر کی کہ نسلی تفریق تو ہے مگر پوشیدہ ہے‘ ظاہر نہیں ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہالینڈ اور دیگر یورپی ممالک میں مسلمانوں سے نفرت و عداوت اور نسلی تفریق اب ڈھکی چھپی نہیں رہی بلکہ کھل کر سامنے آگئی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف معاندانہ کارروائیوں کے بعد اب امریکا کی طرح یورپ میں بھی مسلمانوں کی نگرانی کی جارہی ہے۔ گویا مسلمانوں کے خلاف اقدام کسی حادثے کا منتظر تھا۔

اب یورپ کی مسلم دشمنی پر مبنی اقدامات کے چند گوشے ملاحظہ فرمائیے:

  • ائمہ مساجد کے خلاف رویہ: بہت سے یورپی ممالک سے ائمہ مساجد اور خطبا کو نکالنے کے لیے قانون سازی ہو رہی ہے۔ نشانہ زیادہ تر عرب علما و خطبا ہیں اوربالخصوص جامعہ ازہر کے فاضلین پر الزام یہ ہے کہ ان ائمہ و خطبا کے انتہاپسند جماعتوں سے تعلقات ہیں‘ نیز یہ اپنے مقتدیوں اور سامعین کو تشدد پر اُبھارتے ہیں۔ متعدد یورپی ممالک نے عرب اور مسلم خطبا کو باہر سے نہ آنے دینے کی منصوبہ بندی کرلی ہے‘ بلکہ مسلمانانِ یورپ کو اس امر کا پابند کر دیا ہے کہ وہ اپنے اماموں اور داعیوں کی پہلے یورپی یونی ورسٹیوں میں تربیت کا اہتمام کریں اور اس کے بعد انھیں اپنی دینی سرپرستی کے لیے متعین کریں۔ ہالینڈ کے مسلمانوں کو تو چار سال کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ اس دوران اپنے اماموں کو یونی ورسٹیوں سے تربیت دلوائیں۔ اس کے بعد کسی عرب امام و خطیب کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ عرب خطیبوں کو دہشت گردی سے مربوط قرار دے کر ملک سے نکالنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ چنانچہ ۱۷ نومبر ۲۰۰۴ء کو ہالینڈ کی وزارتِ تارکین وطن نے الجزائر کے باشندے عبدالحمید یوشیما کو ملک سے نکال دیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ مسلمانوں کو تشدد پر اُکساتے ہیں۔ اس وزارت نے کہا ہے کہ آیندہ سے امام و خطیب کے مذہب کے لیے ویزا حاصل کرنے پر سخت شرائط عائد کر دی گئی ہیں۔
  • مساجد‘ مدارس اور مسلم تنظیموں کی نگرانی: کئی یورپی ممالک نے اپنی سیکورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ مسلم اقلیت پر کڑی نظر رکھیں‘ مسجدوں کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھیں اور مساجد میں دیے جانے والے دروس‘ تقاریر اور خطبات جمعہ کی نگرانی کریں۔ اسلامی مدارس کے نصاب کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے‘ نیز اسلامی خیراتی و رفاہی تنظیموں اور مسلمانوں کے مالی منصوبے بھی حکومت کے احتساب کا شکار ہیں۔
  • جرمنی: جرمنی میں بھی مسلم ائمہ مساجد کے لیے پابندیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جرمن زبان کے سوا باقی زبانوں میں مسجدوں میں تقریر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ جرمن حکومت نے ’’بنیاد پرست مسلمانوں‘‘ کے خلاف وسیع اقدامات کا اعلان کیا ہے۔   حکومت خود ائمہ مساجد تیار کرے گی‘ نیز انتہاپسند ائمہ کو سزا دی جائے گی۔ میری لویز بیک (جرمن امورِ تارکین وطن کی ذمہ دار) نے کہا ہے کہ تارکینِ وطن سے متعلق ایک نئی جامع پالیسی تیار کرلی گئی ہے جو ۲۰ شقوں پر مشتمل ہے۔ اس کے تین اہداف ہیں:

۱- جرمن مسلمانوں میں موجود بنیاد پرستی کی تحریک اور فکر کا سختی سے محاسبہ‘ ۲- ملک کی اسلامی تنظیموں سے مسلسل مکالمہ‘ ۳- قانونِ مذاہب کے تحت جرمنی میں اسلام کو سیاسی طور پر تسلیم کرنا۔

برلن میں ۲۳ نومبر ۲۰۰۴ء کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میری لویز نے مسلمانوں کے خلاف اس پالیسی کی بعض شقوں کو واضح کیا۔ یاد رہے کہ یہ پالیسی ۳۰ لاکھ سے زائد مسلمانوں کے خلاف ہے۔ بتایا گیا کہ جرمن کے متعین مراکز میں ائمہ مساجد کو تربیت دی جائے گی۔ جرمنی آنے والے تمام ائمہ مساجد کو جرمن زبان اور ثقافت سے کافی حد تک روشناس کرایا جائے گا۔ انھیں جرمن ثقافت کے کورس کرنا ہوں گے۔ جرمنی کی تمام مسجدوں میں خطباتِ جمعہ اور دروس کو ریکارڈ کیا جائے گا اور ان مساجد کی رجسٹریشن کی جائے گی تاکہ نگرانی میں آسانی رہے۔ ۲۰۰۵ء سے جرمنی میں آنے والے تمام نئے تارکینِ وطن کے لیے جرمن زبان سیکھنا لازمی ہوگا۔

جرمنی کی دونوں مسیحی پارٹیوں نے تین ہزار شدت پسند مسلمانوں کے اخراج کا مطالبہ کر دیا ہے۔ جرمنی کی سب سے بڑی حزبِ اختلاف نے مطالبہ کیا ہے کہ جرمنی میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ملک سے نکال باہر کیا جائے کیوں کہ ان میں تشدد کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ جرمن حزبِ اختلاف کی ان دو بڑی مسیحی پارٹیوں (ڈیموکریٹک کرسچین پارٹی اور سوشل کرسچین پارٹی) کا یہ مطالبہ ملک کی انٹیلی جنس کی اس رپورٹ کے بعد ہوا ہے کہ جرمنی میں مقیم مسلمانوں کی تشدد کی طرف مائل تعداد ۳ ہزار ہے۔ اس رپورٹ نے جرمن مسلمانوں کو پریشان کر دیا ہے‘ کیوں کہ اس میں ۳ ہزار سے مراد وہ مسلمان ہیں جو مسجدوں میں باجماعت نمازیں ادا کرتے ہیں اور دینی امور میں شرکت کرتے ہیں۔ ان دونوں مسیحی پارٹیوں کے پارلیمانی اتحاد کے نائب صدر وولف جانچ نے جرمن پارلیمنٹ کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے: ’’ہمارا فرض ہے کہ ہم ان لوگوں سے آج ہی جان چھڑا لیں‘‘۔ اُدھر جرمن صدر ہورسٹ کولر نے گوئٹجن یونی ورسٹی کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے: ’’عیسائیت اور مسیحی اقدار یورپی تشخص کے اجزاے ترکیبی ہیں۔ روشن خیالی‘ حقوقِ انسانی اور آزادی نسواں کی تحریکیں بھی ہمارے تشخص کی علامات ہیں۔ ہم اس تشخص کو نقصان پہنچانے کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کریں گے اور اسے سختی سے کچل دیں گے‘‘۔

اُدھر جرمن کابینہ نے وزیرداخلہ کی یہ تجویز منظورکرلی ہے کہ جرمنی میں قیام کے متمنی ہر شخص کو ’’جذب ہونے کے کورسز‘‘ کرنا ہوں گے۔ جرمنی میں نوواردوں کو اب جرمن زبان ۶۰۰گھنٹے میں سیکھنا ہوگی‘ جب کہ ۳۰ مزید گھنٹوں پر مشتمل جرمن تاریخ‘ ثقافت اور قانون کے مبادیات کے کورس پاس کرنا ہوں گے۔

یاد رہے کہ ہالینڈ کے فلم ساز تھیووان گوخھ کے نومبر ۲۰۰۴ء کے اوائل میں سانحۂ قتل اور وہاں پر مساجد اور اسلامی مدارس پر ہونے والے حملوں نے جرمن راے عامہ کو متاثر کیا ہے۔ چنانچہ جرمنی میں مستقل رہنے والے ۳۰ ہزار سے زائد مسلمانوں نے (جن کی اکثریت ترک ہے) مذہب کے نام پر تشدد اور امتیازی رویے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

  • سوئٹزرلینڈ: اقلیتوں کے ساتھ رواداری اور غیر جانب داری کی شہرت رکھنے والے اس ملک کی صورتِ حال بھی انتہائی ڈرامائی ہوچکی ہے۔ یہاں کی یونی ورسٹیوں میں ائمہ مساجد کے لیے تعلیمی شاخیں کھول دی گئی ہیں تاکہ ان ائمہ کو سوئٹزرلینڈ کی مغربی تہذیب اور غیرملکی زبانیں سکھلائی جائیں۔ وہاں یہ خطرہ بھی زیرِبحث ہے کہ اگر مسلم اقلیت کی تعداد میں اضافے کی یہی رفتار جاری رہی تو مسلمان مستقبل میں اکثریت اختیار کرلیں گے۔ سوئٹزرلینڈ کی بڑی مسیحی تنظیمیں کافی عرصے سے اس امر کا مطالبہ کر رہی تھیں کہ ائمہ کی تیاری کا سرکاری ادارہ قائم کیا جائے جس کی نگرانی ملک کے محکمۂ تعلیم کے اعلیٰ افسر کریں تاکہ ائمہ مساجد کو ’’مغربی لبرل زندگی کے ساتھ تعامل‘‘ کے قابل بنایا جاسکے۔ اس مطالبے کا اصل مقصد ’’اسلام کو یورپی قالب میں ڈھالنا‘‘ ہے۔ یہاں کے تارکینِ وطن کے وفاقی محکمے کے ترجمان نے کہا ہے کہ تمام تارکینِ وطن کے لیے یہاں کی ثقافت و زبان کی تعلیم جبری ہوگی بالخصوص ائمہ مساجد کے لیے تو یہ انتہائی ناگزیر ہے۔ اس لیے کہ یہ ائمہ حضرات ہی مسلمانوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان اماموں کو مسجدوں میں صرف قرآن ہی کے بارے میں گفتگو نہیں کرنا چاہیے بلکہ سوئٹزرلینڈ کے معاشرے کی متفقہ قدروں کے بارے میں بھی اپنے سامعین کو بتانا چاہیے‘جیسے مساواتِ مردو زن وغیرہ۔

سوئٹزرلینڈ کے وزیرِاطلاعات و نشریات نے اپنے ملک کے جرمن زبان کے ٹیلی وژن کے ذریعے بتایا ہے کہ ملک میں ائمہ مساجد کی تعلیم و تربیت کے اداروں کے قیام سے تشدد کے پرچار کی روک تھام ہوسکے گی۔ اس کے برعکس دائیں بازو کی متشدد پیپلز پارٹی کے سربراہ اولی ماؤز نے اس خیال کی مخالفت کی ہے۔ اخبار NZZ میں شائع ہونے والے بیان میں انھوں نے کہا: ’’سوئٹزرلینڈ ایک مسیحی ملک ہے۔ اسلام کے بارے میں یہاںکسی تدریسی اکیڈمی کے قیام کی کوئی گنجایش نہیں ہے‘‘۔

  • فرانس: فرانس کی وزارتِ داخلہ نے مارچ ۲۰۰۴ء میں ہی ’’ماہرین کی کمیٹی‘‘ قائم کر دی تھی جس کا کام ’’ادارہ براے تربیت ائمہ مساجد‘‘ کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہے۔ فرانسیسی حکام کے نزدیک اس ادارے کا قیام ضروری ہے کیونکہ فرانس میں تقریباً ۱۵۰۰ ائمہ مساجد ہیں۔ ان کی مسلسل تربیت کے نتیجے میں یہ حضرات اس قابل ہوسکیں گے کہ فرانسیسی ماحول کے قریب تر ’فرانسیسی اسلام‘ اپنے سامعین تک پہنچا سکیں۔ فرانسیسی وزیرِداخلہ نے کہا ہے کہ ماہرین کی کمیٹی کا تعین مملکت کی طرف سے ہوا ہے‘ تاہم وزارتِ داخلہ ان ارکان کی نگرانی کرے گی۔ فرانس کی اسلامی تنظیموں کے اتحاد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عام طور پر فرانسیسی حکومت مذہبی امور میں مداخلت نہیں کرتی مگر اب وہ مذہبی امور میں براہِ راست مداخلت کر رہی ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ حکومت فرانس ان اداروں کے ذریعے اپنی گرفت مضبوط بنائے گی۔ اس اتحاد نے مطالبہ کیا ہے کہ تربیت ائمہ کے اداروں کے قیام کے لیے ایک مستقل غیرجانب دار کمیٹی تشکیل دی جائے جس کے ارکان کا تعین اسلام کی فرانسیسی کونسل سے کیا جائے۔

فرانس میں ائمہ مساجد کے خلاف گھیرا تنگ کیے جانے کی نمایاں مثال امام یاسر علی ہے جو پیرس کے مضافات میں ارجونٹائے کی مسجدالسلام کے امام تھے۔ ان کے خلاف یہ الزام لگا کر کہ وہ اپنی رہایش گاہ پر انتظامی نگرانی کے عدالتی فیصلے کا احترام نہیں کرتے‘ گرفتار کرلیا گیا۔ ان پر یہ الزام بھی تھا کہ ان کے خطبات ’’قدامت پسندانہ انتہا پسندی‘‘ کے حامل ہوتے ہیں۔

  • اسپین‘ اٹلی اور ڈنمارک: یورپ کے ان تینوں ممالک میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے۔ خوسیہ ثاباتیرو کی سربراہی میں اسپین کی سوشلسٹ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اسپین کے مسلمانوں کی نمایندگی کے لیے ایک منتخب اسلامی کونسل تشکیل دی جائے گی جس کا مقصد ’’متشدد ائمہ مساجد‘‘ کے اثر و نفوذ کی روک تھام ہوگا۔

ڈنمارک نے تارکینِ وطن کے خلاف سخت پالیسی اپنائی ہے جس کا خصوصی ہدف ملک میں ائمہ مساجد کی آمد کو روکنا ہے۔ اٹلی کے حکام نے ایک جزائری معلّم کو ملک سے نکال دیا ہے۔ اس پر ’’دہشت گرد‘‘ جماعت سے تعلق کا الزام لگایا گیا‘ جب کہ اصل بات یہ ہے کہ اس نے حماس کے قائد الشیخ احمد یاسین شہیدؒ کی غائبانہ نمازِ جنازہ روم کی ایک مسجد میں پڑھائی تھی۔

یورپ میں مسلم علما‘ خطبا اور اماموں کے ساتھ یہ کچھ مسیحی حکام کر رہے ہیں تو عرب اور مسلم ممالک میں مسلمان حکمرانوں کے اشاروں پر کئی ائمہ مساجد اور خطبا کو بھی ان کے مناصب سے جدا کر دیا گیا ہے۔

  • یھودی لابی کا کردار: مغرب اور مسلمانوں کے حالات پر نظر رکھنے والے اصحابِ بصیرت کا خیال ہے کہ یہودی لابی نے موجودہ حالات کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کے لیے اسلام اور مغرب کے مابین ایک آہنی دیوار تعمیر کر دی ہے۔ مغرب میں بسنے والے مسلمان اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ یہودی لابی کے پروپیگنڈے کا جواب دے سکیں۔ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہونے والی اس یورش میں اپنی صفائی پیش کر سکیں‘ جب کہ صہیونی لابی اور دائیں بازو کی مغربی جماعتیں مسلمانوں کے خلاف مکمل جانب داری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ بہت سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ابھی تو ابتدا ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

مسلمانوں اور مغرب کے مابین یہ کش مکش انتہائی خطرناک صورت اختیار کرنے والی ہے۔ اس صورتِ حال نے بہت سے مسلمانوں کو شکستہ خاطر اور مایوس کر دیا ہے کیوں کہ عرب اور مسلم ممالک کے حکمرانوں کی اکثریت امریکا کی خوشنودی اور یورپی حکمرانوں کے ساتھ تعاون میں تو پیش پیش ہے مگر وہ امریکی اور یورپی حکمرانوں پر مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اثرانداز ہونے سے قاصر ہیں۔ یہ بزدل حکمران اپنے مغربی سرپرستوں اور آقائوں سے یہ کہنے کے بھی روادار نہیں کہ وہ مغرب میں بسنے والے مسلمانوں کے جذبات و احساسات کا خیال رکھیں‘ نہ مسلم حکمران ہی مسلمانوں کے خلاف مغربی پروپیگنڈے مہم کو رکوانے کے لیے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کا سارا زور اپنے ہی عوام کو دبانے پر چلتا ہے۔

اُدھر بعض مغربی قلم کار اسے ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ قرار دے کر مغرب کی ایک غلطی کا ازالہ ایک دوسری غلطی سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ درپردہ مغربی زیادتیوں کو اس کش مکش کا قدرتی مظہر قرار دے کر انھیں حق بجانب ٹھیرا رہے ہیں۔

اس تصادم کے پس پردہ صہیونی لابی سرگرمِ عمل ہے۔ ایک سرکردہ صہیونی لیڈر نے کہا ہے کہ ہم مسلمانوں اور عیسائیوں کو باہم لڑا کر خود ایک طرف ہو جائیں گے اور یوں سرخ رو ہوکر دنیا کی قیادت کے لیے تازہ دم ہو جائیں گے۔ (تلخیص المجتمع‘ شمارہ ۱۶۳۱‘ ۱۸ دسمبر ۲۰۰۴ئ)

پاکستان نہیں بنا تھا تو جنوبی ایشیا (موجودہ پاکستان‘ بنگلہ دیش‘ بھارت( کے ۱۰ کروڑ مسلمانوں کو ایک ملّت اور ایک قوم سمجھا جاتا تھا‘ جسے اپنے لیے ایک وطن کی تلاش تھی۔ ۱۹۴۷ء میں انھیں ایک ’قومی وطن‘ (Nation State) مل گیا۔ مسلمانوں کا یہ وطن اُس وقت کے مسلمانوں کی نصف تعداد ہی کو اپنے اندر سمو سکا۔ بقیہ نصف مسلمان بھارت میں رہ گئے‘ لیکن ان کو بھی مسلمانوں کے نئے ملک سے بڑی امیدیں تھیں۔ وہ پاکستان کو اسلامی مملکت اور عہدِ حاضر میں اسلامی حیاتِ اجتماعی کی ایک زندہ و کامیاب تجربہ گاہ دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ جنوبی ایشیا کی ملتِ اسلامیہ کی عظیم جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اس نئے ملک کو ملّی امنگوں کا آئینہ دار اور تمام مظلو م مسلمانوں کا پشتی بان سمجھتے تھے۔ لیکن ہوا کیا؟

جب یہاں قوم اور ملّت تھی‘ تو اُس کا وطن نہیں تھا۔ لیکن جب اسے وطن مل گیا‘ تو وہ ملّت اور قوم گم ہو گئی۔ پاکستان بننے کے بعد یہاں علاقائی‘ صوبائی‘ نسلی‘ لسانی اور سماجی شناخت تو ابھر آئی‘ بلکہ خوب خوب ابھاری گئی‘ لیکن جس منفرد شناخت (مسلمان ہونے) کے سبب دو بازوئوں پر مشتمل پاکستان حاصل کیا گیا تھا‘ اسی کو نظرانداز کر دیا گیا۔ آج بہت سے لوگ پاکستانی بننے پر زور دیتے ہیں‘ اس کے گانے اور ڈرامے بھی نشر کیے جاتے ہیں تاکہ ہم پاکستانی بنیں۔ لیکن بن نہیں پاتے۔ اس کا سیدھا سادا سبب یہ ہے کہ جو پاکستان ایک سیاسی و جغرافیائی وحدت کے طور پر وجود میں آیا تھا‘ وہ درحقیقت کسی خطۂ زمین‘ کسی قبیلے‘ کسی نسل کا نام نہیں تھا اور نہیں ہے۔ اس کے برعکس یہ ایک تخیل‘ ایک خواب‘ ایک وژن ‘ ایک نظریہ‘ ایک مقصد‘ ایک مشن‘ ایک تحریک تھا اور آج بھی ہے۔ گویا یہ روح ہے‘ روحِ سفر ہے‘ جو اپنے قالب ’ملکِ پاکستان‘ کی صورت میں ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو جلوہ گر ہوئی تھی۔ روح کو نظرانداز کر کے محض قالب میں زندگی دوڑائی نہیں جاسکتی‘ نہ اِس جسم سے محبت کے جذبات ابھارے جاسکتے ہیں۔

ہم پاکستان کو اسلامی نظریۂ حیات اور اسلامی تہذیب کے سفر کا ایک پڑائو بھی کہہ سکتے ہیں جہاں سے دنیا بھر میں یہ پیغام پھیلنا تھا اور جسے پوری انسانیت کے لیے نمونہ بننا تھا۔ لیکن المیہ یہ ہوا کہ پاکستان کی باگیں پچھلے تمام عرصے میں اُن لوگوں کے ہاتھوں میں رہیں جو روحِ پاکستان (اسلام) سے بے پروا‘ بے نیاز اور بعض صورتوں میں اس سے بے زار بھی تھے۔ جو اِسے ایران‘ ترکی‘ مصر‘ بھارت‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ فرانس اور جاپان کی طرح کا ایک ملک‘ ایک قومی وطن‘ سمجھتے تھے۔ وہ یہ بات بھول چکے تھے کہ پاکستان کی کوئی جڑ نہ علاقے میں ہے‘ نہ جغرافیے میں‘ نہ نسل میں‘ نہ قبیلے میں۔ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء سے قبل نہ کوئی ملکِ پاکستان کبھی رہا ہے اور نہ کوئی ’پاکستانی‘ قوم رہی ہے۔ یہاں بنگالی تھے‘ پنجابی اور سندھی تھے‘ پٹھان اور بلوچ تھے‘ کشمیری اور آرائیں تھے‘ جاٹ اور گجر تھے‘ مری اور بگٹی تھے‘ میمن اور سیّد تھے۔ صدیوں سے یہ ان کی شناخت تھی اور اس سے اوپر‘ شعوری   اور اس سے زیادہ بالاے شعور کی سطح پر وہ مسلمان بھی تھے۔ تحریکِ پاکستان نے اِن مختلف النسل‘ مختلف اللسان اور مختلف المزاج آبادیوں کو اسلامی وحدت میں پرو کر یک جان کر دیا تھا۔ یہ تمام دانے اسلامی تسبیح میں گندھ گئے تھے۔ اسی یک جہتی و یک جائی نے‘ اسی وحدتِ فکر و نظر نے‘     اسی ایک ملّی نصب العین اور جدوجہد کی ایک متعین منزل نے جنوبی ایشیا کے ۱۰ کروڑ مسلمانوں کو وہ قوت و شوکت دے دی جس نے فرنگی آقائوں کی استعماریت کو اور دیسی کانگریسی عیاریوں کو شکست سے دوچار کر دیا۔

پاکستان بن جانے کے بعد مسلمان شناخت‘ یا زیادہ بہتر الفاظ میں اسلامی شناخت اور بنیاد تو بے وقعت اور بے وزن کر دی گئی۔ اس سے کم تر درجے پر ’پاکستانی‘ شناخت کو سرکاری سطح پر اور رسمی انداز میں قائم کرنے کی کوشش ہوئی اور وہ بھی اسلامی روح سے بے گانہ کر کے۔ گویا یہاں ’سیکولر پاکستانی‘ شناخت کے کاغذی پھول کھلائے گے۔ نتیجتاً وہی ہوا‘ جو ہو سکتا تھا۔ جو بیج بویا گیا‘ اسی کے پودے اُگے اور وہی فصل لہلہانے لگی۔ ریاست کے آئینی نظام کو قراردادِ مقاصد کے ذریعے کلمۂ اسلام پڑھوا کر مسلمان تو بنا لیا گیالیکن اس کے بعد کیا ہونا چاہیے تھا‘ اس کی ہمارے ملک کی ہیئت مقتدرہ (establishment) اور طبقاتِ عالیہ (elite class) کو کوئی فکر نہ ہوئی۔

پاکستان بننے کے بعد حکومتی ایوانوں اور پالیسی سازی کے مراکز میں چاہے روحِ پاکستان سے بے خبر‘ بے پروا اور بے زار لوگوں کا قبضہ رہا ہو‘ مگر سچی اور مخلصانہ دینی حمیّت‘ دینی فکر اور دینی جذبہ رکھنے والی شخصیات اور گروہوں سے یہ ملک کبھی خالی نہیں تھا‘ بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ایسے افراد اور گروہوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور ان کی مسلسل اور اَن تھک مساعی نے طبقاتِ عالیہ اور ہیئت مقتدرہ کو مجبور کیے رکھا کہ وہ اپنی بے دینی یا بد دینی پر کوئی پردہ ہی ڈالے رکھیں۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان‘ جنرل آغا محمد یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو بھی اس دبائو سے آزاد نہیں تھے۔ ان تینوں نے بھی اس ملک کو ’اسلامی جمہوریہ‘ کہنے اور کہلوانے سے انکار نہیں کیا۔ دکھاوے کو اور مجبوراً ہی سہی‘ چند علامتی اسلامی اقدام اور امور مذکورہ بالا ادوارِ حکومت میں بھی اختیار کیے گئے۔ گویا پاکستان میں حکومتی و ریاستی پالیسی کے طور پر اور ہیئت مقتدرہ اور طبقاتِ عالیہ کی سطح پر نظامِ مملکت کی اسلام سے وابستگی اور ریاست کے ’اسلامی‘ ہونے کا قضیہ طے پاگیا تھا۔ چاہے عملاً یہ سب کچھ   بے روح ہو‘ مگر ۹۶‘ ۹۷ فی صد مسلمانوں کے ملک کو دو چار فی صد اقلیتوں کی نام نہاد خواہش کے ’احترام‘ میں کمالائز (Kamalize) نہیں کیا گیا تھا‘ جیسا کہ اب کیا جارہا ہے۔

ترکی کا مصطفی کمال پاشا (نام نہاد اتاترک) تو دُونمے تھا‘ (ترکی میں دُونمے وہ یہودی کہلاتے ہیں جنھوں نے عثمانی دورِ حکومت میں بظاہر اسلام قبول کر لیا تھا اور مسلمان ہونے کے تمام فوائد سمیٹ رہے تھے‘ لیکن جنھوں نے اندر سے اپنی یہودیت برقرار رکھی تھی)۔ لیکن ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ ایک بزعمِ خود ’سید زادہ‘ اقتدار پر قابض ہو کر دُونمے کمال پاشا کو اپنا آئیڈیل اور ہیرو قرار دے کر وہی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے‘ جو ۷۵ سال پہلے ترکی میں اپنایا گیا تھا۔ یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ آج ریاستی و حکومتی سطح پر‘ پالیسی سازی اور حساس دائروں میں اور ملک کی ہیئت مقتدرہ کے اندر‘ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے اِس ملک کو سیکولر بنانے‘ سیکولر قرار دینے اور دین کو ’چرچ‘ کی طرح حیاتِ اجتماعی سے بے دخل کر دینے کی مربوط‘ منظم‘ موثر اور متواتر کوششیں ہو رہی ہیں۔ پاکستان کو بھارت کی طرح کا ایک وطن بنایا جارہا ہے جہاں رہنے والے اتفاقاً یہ کہ مسلمان بھی ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ پاکستان کی آبادی سے زیادہ مسلمان تو بھارت میں ہیں۔ پاکستان کو سیکولر بنانے کی کوشش دراصل اس فکر کو تقویت دینے کے مترادف ہے جس کے مطابق: بہتر ہے کہ پورا جنوبی ایشیا ایک ہی سیاسی وحدت ہو۔ اگر یہاں کے تمام مسلمانوں کی تعداد ایک دوسرے میں شامل ہو جائے گی تو مجموعی طور پر مسلمانوں کا تناسب بڑھ جائے گا۔ آج پوری دنیا میں عالمگیریت کی لہر دوڑ رہی ہے۔ پھر کیا ضروری ہے کہ جنوبی ایشیا میں الگ الگ ملک ہوں؟ ایک ہی متحدہ ہندستان (وِشال بھارت یا اکھنڈ بھارت) کیوں نہ ہو؟ بہت سا حکومتی پیسہ یہاں الگ الگ ریاستیں ہونے کے سبب خواہ مخواہ خرچ ہو رہا ہے۔ یہ بچ جائے گا اور ملک کے عوام کی خوشحالی پر خرچ ہو گا۔

دونوں طرف سے سرکاری سطح پر آج کل ایسی باتیں کہی جارہی ہیں جو دراصل ایک ہی فکری نہج‘ ایک ہی پالیسی‘ ایک ہی حکمتِ عملی‘ ایک ہی مقصد اور ایک ہی نتیجے کا اپنی اپنی سطح پر بے باکانہ اظہار ہیں۔ ہماری ہیئت مقتدرہ کی سوچ اور پالیسی کے تحت اس وقت جو عمل جاری ہے‘ اس کا حاصل یہی کچھ ہونا ہے۔ مگر کیا یہ ایک بدیہی حقیقت نہیں کہ اس سب کچھ کے باوجود بھی اگر ملکِ پاکستان کو (کسی عالمی اسکیم کے تحت) ایک الگ سیکولر ملک بنا کر رکھنا پیشِ نظر ہے‘ تو یہ محض ایک خیالِ خام ہے یا پھر ایک گہری سازش۔ پاکستان کو اسلام سے جدا کر کے قائم رکھنے اور چلانے کا خیال و عمل ایسا ہی ہے جیسے کسی انسان کے بے روح لاشے کو مَمّی (mummy) بنا کر شیشے کے تابوت میں رکھ دیا جائے۔ فراعنۂ مصر سے لے کر لینن اور مائو تک بیسیوں انسانی ممیاں ہمارے سامنے ہیں۔ لیکن کیا ملکوں اور ریاستوں کی ’ممی‘ بھی ممکن ہے؟ اسلامی روح سے خالی پاکستان کا وجود بھی ایک ممی کی مانند ہو گا‘ جو نہ خود کوئی زندہ ملک ہو گا اور نہ وہاں کوئی زندہ قوم ہی باقی رہے گی۔ ہاں‘ وہ عہدِ جدید کی لبرل تہذیب کا شرمناک نمونہ ضرور بن جائے گا۔ تہذیبِ اسلامی کے دشمن اِسے ایسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کو اس کی روح (اسلام) سے خالی کر کے ممی بنانے کے عمل کے دو انتہائی اہم عناصر تعلیم و تدریس کے پورے نظام کی سیکولرائزیشن اور ذرائع ابلاغ کی مادر پدر آزادی یا بے راہ روی ہیں۔ جس طرح ممی کے کاسۂ سر سے دماغ نکال کر وہاں کچھ مرکبات بھر دیے جاتے ہیں‘ شاید اسی طرح زندہ پاکستان کو مومیا کر (’ممی‘ بنا کر) اس کے کاسۂ سر میں آغا خانی مرکبات بھرنے کو ضروری سمجھا گیا ہے اور اس کے حواسِ خمسہ کو نچیّوں اور گویّوں کا کلچرل شاک لگا کر مختل و معطل کیا جارہا ہے۔ منصوبہ سازوں کا خیال ہے کہ ایک بار تعلیم و تدریس کو اپنی مرضی کے مطابق بنا لیا گیا‘ اور میڈیا کو اپنا ہم رنگ کر لیا گیا‘ تب یہاں سے نکلنے والی نسلیں گویا ان کے مطلوب سانچے میں ڈھلی ڈھلائی نکلنا شروع ہو جائیں گی۔ وہ غالباً انسانوں کو کسی پلاسٹک کمپنی کے نپے تُلے فرموں سے ڈھلی اشیا جیسا سمجھتے ہیں۔

ہمارے ملک کی مقتدر قوتیں اور شخصیات یا تو عیار دشمنوں کی فکری رفیق ہیں اور پوری اسکیم کو خوب سوچ سمجھ کر‘ اس کی روح و باطن سے پوری آگاہی کے ساتھ اور شعوری طور پر یہ منصوبے لے کر چل رہی ہیں (لیکن ہماری دانست میں کچھ ہی لوگ اس ’بلندی فکر و شعور‘ پر ہوں گے)‘ یا پھر درحقیقت اربابِ حل و عقد‘ اختیار و اقتدار پر قابض گروہ اور انسانی و مالی وسائل سے مالا مال افراد اور اداروں کی عظیم اکثریت جدیدیت کی چکاچوند اور مغرب کی استعماری دھمک میں تعلیم و تدریس کے معاملے کو کوئی سادہ سی بات سمجھتی ہے۔ جس طرح کوئی ’موٹر مکینک‘ یا پرزے جوڑ کر کمپیوٹر بنانے والا ’انجینئر‘ یا ڈمپر لوڈنگ ٹرک چلانے والا ڈرائیور تیار کیا جاتا ہے کہ اس عمل میں کسی فلسفے‘ کسی نظریے‘ کسی الٰہیاتی بحث اور کسی سماجی شعور کا عملاً کوئی دخل نہیں ہوتا‘ اس ’روشن خیال اعتدال پسند‘ طبقے کے خیال میں پورا تعلیمی کارخانہ بھی اسی طرح چلایا جانا چاہیے۔ گویا ملک و ملّت کی نظریاتی اساس کیا ہے؟ اجتماعی عقائد اور ایمانیات کیا ہیں؟ ملی شعور کیا کہتا ہے؟ سماجی اَقدار کے تقاضے کیا ہیں؟--- ان امور سے بے نیاز رہ کر نظامِ تعلیم تشکیل دیا جاسکتا ہے‘ نصابِ تعلیم بنایا جاسکتا ہے اور تعلیم و تدریس کے کارندے حاصل کیے اور لگائے جاسکتے ہیں۔ اسی خیال کے تحت ملک کی تاریخ میں آج تک کی سب سے بڑی تعلیمی سرجری شروع کر دی گئی ہے۔ تعلیم و تعلم کا تمام سلسلہ قدم بہ قدم آغا خان فائونڈیشن اور بعض دوسرے مشنری یا سیکولر اداروں کے سپرد کرنے کا فیصلہ اسی بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔

پاکستان کا تعلیمی نظام آغا خانیوں یا کسی اور سیکولر‘ بے دین یا بددین افراد یا اداروں کے حوالے کرنے کی مثال کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ جیسے کسی مکہ فائونڈیشن کے سپرد امریکا کا نظامِ تعلیم کردیا گیا ہو۔ کسی محمود غزنوی سوسائٹی کے حوالے بھارت کا تعلیمی نظام ہو گیا ہو اور کسی صلاح الدین ایوبی ٹرسٹ کو مسیحی یورپ میں تعلیم و تدریس کے امور سونپے جاچکے ہوں۔ اگر ایسا ممکن ہے تو یقینا پاکستان کا نظامِ تعلیم بھی آغا خان فائونڈیشن یا اس جیسی کسی اور نام نہاد غیرحکومتی تنظیم این جی او کے سپرد کیا جاسکتا ہے۔ مگر پاکستان کے باہر ایسا کہاں ممکن ہے؟ نہ بھارت میں‘ نہ امریکا میں‘ نہ یورپ میں‘ نہ اسرائیل میں۔ کہیں بھی ایسا نہیں ہو سکتا۔ بس اِس لاوارث ملک ہی میں ایسا ممکن ہے۔ شاید پاکستان کو ایک بے سمت کارواں سمجھ لیا گیا ہے اور پاکستانی قوم کو اجتماعی نصب العین اور منزل کے شعور سے عاری‘ ملّی مقاصد سے بیگانہ اور قومی اُمنگ سے خالی گروہ۔ دنیا بھر میں تعلیم کا پورا نظام کسی معاشرے اور قوم کے اجتماعی خمیر سے گندھا ہوا‘ ملّی امنگوں کا آئینہ دار اور قومی نصب العین سے    ہم آہنگ سمجھا جاتا اور اسی کے تابع رکھا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان کی ہیئت مقتدرہ اس سے بے نیاز ہے۔

پانی کا کوئی بند باندھنا‘ کوئی اسٹیل مل لگانا‘ کوئی ہیوی مکینکل کمپلکس تعمیر کرنا‘ کوئی موٹروے بچھانا‘ کسی ایئرپورٹ کے رن وے کو وسعت دینا‘ کوئی خیابانِ ساحل ہموار کرنا‘ توانائی پیدا کرنے والا کوئی پلانٹ وغیرہ لگانا‘ جس طرح کے کام ہیں‘ اس سے ۱۸۰ درجہ مختلف معاملہ اسکولوں‘ کالجوں‘ یونی ورسٹیوں اور مدرسوں کا قیام و انصرام ہے۔ آپ کورین کمپنی سے موٹروے  بچھوا سکتے ہیں‘ چینی انجینئروں سے سیندک کا تانبہ نکلوا اور گوادر کی بندرگاہ بنوا سکتے ہیں اور امریکا سے ایف ۱۶ طیارے لے سکتے ہیں‘ مگر کیا فلسفہ‘ تاریخ‘ سیاسیات‘ معاشیات‘ بین الاقوامی تعلقات‘ عمرانیات‘ نفسیات‘ الٰہیات‘ ادب اور بے شمار علوم جوں کے توں ان سے لے سکتے ہیں؟ بھارت سے گیس پائپ لائن کا معاہدہ ہو سکتا ہے‘ مگر پاکستان کو کیسی نسل درکار ہے اور جنوبی ایشیا‘ خصوصاً پاکستان کی تاریخ کیسے لکھی جائے‘ اس سلسلے میں اس پڑوسی سے کتنی مدد لے سکتے ہیں؟ ہر صحیح الدماغ اور غیرمتعصب انسان یہ کہے گا کہ یہ کام غیروں سے نہیں لیے جاسکتے‘ اور دنیا کی کوئی زندہ قوم اپنی اساسیات (basics) سے متصادم یا متضاد کوئی عنصر اپنے نظامِ تعلیم کا جز بنانا گوارا نہیں کرتی اور   نہ اپنا نظامِ تعلیم و تعلم ہی کسی کے حوالے کرتی ہے۔

جب دنیا بھر میں کہیں بھی یہ کام نہیں ہو سکتے‘ تو پاکستان میں تعلیم و تدریس یا اس نظام کا کوئی حصہ آغا خان فائونڈیشن کے سپرد کیوں کر کیا جاسکتا ہے؟ ہاں زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ ملک کی مجموعی تعلیمی اسکیم کے اندر رہتے ہوئے‘ اقلیتوں کے لیے چند تعلیمی ادارے چلانے کی ان کو اجازت دے دی جائے‘ جیسے عیسائی مشنری ادارے یا پارسی حضرات چلاتے ہیں۔ لیکن زندہ قوم ان پر بھی عقابی نظر رکھے گی‘ نہ یہ کہ انھیں کُھل کھیلنے کی مکمل چھوٹ دے دی جائے۔

آغا خانی مذہب اور برادری کے حوالے سے یہ بات ان سب کو جو حادثاتِ زمانہ کے طفیل آج مقتدر بنے بیٹھے ہیں‘ سمجھ لینی اور یاد رکھنی چاہیے کہ پوری ہزار سالہ تاریخ میں ملّتِ اسلامیہ نے (آپس کے تمام تر اختلافات اور تنازعات کے باوجود) اسے اپنا حصہ نہیں سمجھا اور نہ مستقبل میں اس کا کوئی امکان ہے۔ اگر یہ پورا ملک بھی آغا خانیوں کے حوالے کر دیا جائے اور آغا خانیوں کے امام کو پاکستان کا بے تاج بادشاہ بنا دیا جائے‘ تب بھی یہاں کے مسلمان آغا خان اور آغا خانی برادری کو اسلام سے خارج اور ملّتِ اسلامیہ کا دشمن‘ یا کم از کم اس کے لیے مشکوک وجود رکھنے والا گروہ سمجھتے رہیں گے۔ بغداد کی تباہی کو چاہے ہزار سال گزر چکے ہوں‘ مگر منگولوں سے ساز باز کرنے والے نزاری اسماعیلیوں (باطنیوں) کو ملتِ اسلامیہ بھلا کیوں کر فراموش کر سکتی ہے؟ ان آغا خانیوں (نزاری اسماعیلیوں / باطنیوں) کا اپنے ماضی سے تعلق اس قدر گہرا ہے کہ انھوں نے کراچی میں آغا خان ہسپتال کی عمارت کی پوری اسکیم اور نقشہ بھی حسن بن صباح کے قلعہ الموت (جہاں ایک جعلی جنت بنائی گئی تھی) سے مستعار لیا ہے۔ نہ جانے کیوں ہمارے حکمراں ایک طرف توکہتے ہیں کہ اکثریت کو اقلیت کا یرغمال نہیں بننے دیں گے‘ مگر وہ خود ملک کی ۹۶‘ ۹۷ فی صد مسلم آبادی کو اعشاریہ ایک فی صد سے بھی کم تعداد والی اقلیت کے حوالے کرنا ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ (Enlightened Moderation) سمجھتے ہیں؟ دنیا میں کہیں بھی اور کبھی بھی اکثریت پر کسی چھوٹی اقلیت کا غلبہ دیرپا نہیں رہا ہے۔ یہاں بھی نہیں رہے گا۔

یہاں یہ بات بھی واضح کر دینا ضروری اور مفید ہے کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک آغاخانی (نزاری اسماعیلی) فرقہ اس ملک و معاشرے میں مکمل امن و سکون اور آزادی کے ساتھ رہ رہا ہے‘ کاروبار کر رہا ہے‘ اربوں روپے اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر کر رہا ہے۔ اِسے معمولی قیمتوں پر مہنگی زمینیں مل جاتی ہیں اور جو اور جتنی مراعات ریاست و حکومت سے چاہتا ہے‘ بلاروک ٹوک پالیتا ہے۔ ملک کی ۹۶‘ ۹۷ فی صد مسلم اکثریت آغا خانیوں سے کوئی تعرض نہیں کرتی رہی۔ مگر اِدھر چند برسوں سے آغا خانیوں نے ملک کی بھاری مسلمان اکثریت کے دائرے میں مداخلت اور حساس امور سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی ہے۔ شاید یہی آج کے عالمی استعماری ایجنڈے میں ان کے لیے متعین کردہ کردار ہے۔ اس کے بعد اس فرقے کو امید عظیم مسلمان اکثریت سے ماضی قریب جیسے رویے کی نہیں رکھنی چاہیے۔ اگر یہ فرقہ اپنے قد سے بہت بڑھ چڑھ کر معاملات میں دخیل بنے گا تو پھر اکثریت بھی مجبور ہو گی کہ وہ آغا خانیوں کی تاریخ کھنگالے‘ ماضی میں ان کے گھنائونے کردار کو یاد کرے‘ اور مستقبل میں انھیں اس قابل نہ بننے دے کہ (نزاری اسماعیلی) ’فدائین‘ مسلمان رہنمائوں کے سینوں میں خنجر اتار اتار کر مسلم دنیا کو بے حال کر دیں اور کسی منگول طوفان کا یہ پھر پیش خیمہ بنیں۔ قادیانیوں کے خلاف مسلمانوں کی تحریک ختمِ نبوتؐ اور وادی سندھ پر سلطان محمود غزنوی کے تابڑ توڑ حملے اس بات کو سمجھنے کے لیے یاد رکھنے چاہییں۔

اس سلسلے میں ایک آخری بات یہ ہے کہ آغا خان فائونڈیشن کو آگے بڑھانے کا استعماری فیصلہ ایک حوالے سے ’شر میں خیر‘ (blessing in disguise) بھی ہے۔ اگر یہی کام جو استعمار اور اس کے مقامی ایجنٹوں کے پیشِ نظر ہے‘ سید زادوں کو‘ کسی صدیقی‘ فاروقی‘ عثمانی‘ علوی وغیرہ شناخت رکھنے والے ادارے یا گروہ کو دیا گیا ہوتا تو آج پورے ملک میں اس حوالے سے جو یکسوئی اور ہم آہنگی ہے‘ وہ پیدا ہونامشکل تھی۔ یہ تو اﷲ کا کرم ہے کہ سازشیوں نے (حد سے بڑھی   خود اعتمادی کے نتیجے میں) نقاب بھی ایسا اوڑھا ہے جو پکار پکار کے سازش کو اور سازشیوں کو     بے نقاب کر رہا ہے۔ لہٰذا اہلِ اختیار و اقتدار جتنا بھی زور اور زر لگا لیں لیکن ملّتِ اسلامیہ پاکستان کا اجتماعی ضمیر اور ملّی شعور بالآخر اس صورت حال کو مسترد کر دے گا اور اس تعلیمی قبضے سے آزادی کی تحریک پورے جہادی جوش و جذبے سے چلے گی۔ قوموں کی تاریخ میں نامساعد حالات آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ منگول بھی طوفان بن کر آئے تھے اور بغداد پر قابض ہو گئے تھے۔ وہ پوری  مسلم دنیا کو تہہ و بالا کر گئے تھے۔ لیکن اس کے بعد مسلم دنیا تو قائم رہی‘ منگول آج ڈھونڈنے سے ہی ملیں گے۔ آغا خان فائونڈیشن اور مغربی و امریکی سرمایے کی مدد سے ملکی و قومی تعلیمی نظام کو گرفت میں لینے والے دیگر عناصر چاہے عارضی طور پر کچھ کامیابی حاصل کرلیں‘ لیکن دراصل وہ پوری ملت کے اجتماعی شعور میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں۔ ملتِ اسلامیہ ان شاء اﷲ اس زہریلے کانٹے کو نکالنے میں بالآخر کامیاب رہے گی اور ہمارا ملّی و اجتماعی ضمیر اس زہر کو بالآخر اُگل دے گا۔

خواتین اور اسمبلیاں

سوال : آج کل اخبارات و رسائل میں دینی جماعتوں سے وابستہ اور ذمہ دار خواتین کی جو تصاویر شائع ہو رہی ہیں اُن میں پردے کی کیفیت غیرشرعی ہے۔ دونوں آنکھیں کھلی ہیں‘ جب کہ قرآن حکیم کے مطابق عورت کے لیے لازم ہے کہ وہ جب گھر سے باہر نکلے تو چہرے پر نقاب ڈالے تاکہ پہچانی نہ جائے۔ جہاں تک آنکھیں کھولنے کی اجازت ہے وہ صرف ایک آنکھ کھول کر پورے چہرے کو ڈھانپنا ہے۔ یہ بھی‘ بہ امر مجبوری ہے‘ نہ کہ عام حالات میں۔ عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے۔ لیکن وہاں پر اسلامی تشخص کی حامل خواتین مردوں سے بھی خطاب کرتی ہیں۔ کیا یہ اصولوں سے انحراف اور مغرب کی تقلید نہیں ہے؟

جواب: یہ بات کہنا کہ اصول کی خلاف ورزی ہو رہی ہے‘ صحیح نہیں ہے بلکہ اصول کے عین مطابق عمل ہو رہا ہے۔ عام حالات اور مخصوص حالات میں فرق خود اصول کے اندر موجود ہے۔ دین کے لیے آواز اٹھانا اصول کا حصہ ہے۔ اھون البلیتین بھی اصول کا حصہ ہے۔ اصول کے تمام اجزا کو پیش نظر رکھا جائے تو کوئی اشکال پیدا نہیں ہوگا۔

’’آواز‘‘ کا پردہ ایسی نوعیت نہیں رکھتا کہ کلمۂ حق کہنے میں رکاوٹ بن جائے۔ اقامت دین‘ تعلیم و تبلیغ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مردوں کی طرح خواتین پر بھی فرض ہے۔ حسب ضرورت ہر ایک کو اس میدان میں کام کرنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِط (اٰل عمران ۳:۲۱۱۰) اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو‘ بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط وُاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ o (اٰل عمران۳:۱۰۴) تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی ہونے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں‘ بھلائی کا حکم دیں‘اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریںگے وہی فلاح پائیں گے۔

اس حکم میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل ہے۔ اس حکم کی تعمیل کے لیے تقریر و تحریر کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اسی طرح روز مرہ کے معاملات‘ سوالات و جوابات کے سلسلے میں بھی گفتگو کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس ضرورت کو پورا کیا گیا ہے اور کبھی بھی پردہ اور اس کی مختلف شکلوں کو اس راہ میں رکاوٹ نہیں بنایا گیا۔ ازواجِ مطہرات نزولِ حجاب کے بعد بھی پس پردہ غیرمحارم سے بات کرتی تھیں‘ سوالات کے جواب دیتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ، حضرت ام سلمہؓ، اور دیگر ازواج مطہرات سے مروی احادیث کتبِ احادیث میں مذکور ہیں۔ ان کی راوی صرف خواتین نہیں بلکہ مرد بھی ہیں۔ مردوں نے بھی ازواج مطہرات سے علم حدیث حاصل کیا اور اسے آگے بیان کیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اختلافات کے مواقع پر ان کا علمی اور عملی کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ صحیح بخاری کی ایک راویہ کریمہ بنت احمد بھی ہیں۔

مولانا مودودیؒ نے پردے کے احکام اور اس میں نرمی کی صورتوں پر تفصیل سے گفتگو کی ہے اور واضح کیا ہے کہ بوقت ضرورت‘ بقدر ضرورت نرمی کی جا سکتی ہے۔ فرماتے ہیں: ’’حدود و حجاب کی سختی آپ نے دیکھ لی۔ اب دیکھیے کہ ان میں نرمی کہاں اور کس ضرورت سے کی گئی ہے‘‘۔

مسلمان جنگ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ عام مصیبت کا وقت ہے۔ حالات مطالبہ کرتے ہیں کہ قوم کی پوری اجتماعی قوت دفاع میں صرف کر دی جائے۔ ایسی حالت میں اسلام قوم کی خواتین کو عام اجازت دیتا ہے کہ وہ جنگی خدمات میں حصہ لیں۔ مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اس کے پیش نظر ہے کہ جو ماں بننے کے لیے بنائی گئی ہے وہ سر کاٹنے اور خون بہانے کے لیے نہیں بنائی گئی۔ اس کے ہاتھ میں تیروخنجر دینا اس کی فطرت کو مسخ کرنا ہے۔ اس لیے وہ عورتوں کو اپنی جان اور آبرو کی حفاظت کے لیے تو ہتھیار اٹھانے کی اجازت دیتا ہے مگر بالعموم عورتوں سے مصافی [جنگی]خدمات لینا اور انھیں فوجوں میں بھرتی کرنا اس کی پالیسی سے خارج ہے۔ وہ جنگ میں ان سے صرف یہ خدمت لیتا ہے کہ زخمیوں کی مرہم پٹی کریں‘ پیاسوں کو پانی پلائیں‘ سپاہیوں کے لیے کھانا پکائیں اور مجاہدین کے پیچھے کیمپ کی حفاظت کریں۔ ان کاموں کے لیے پردے کی حدود انتہائی کم کر دی گئی ہیں‘ بلکہ ان خدمات کے لیے تھوڑی ترمیم کے ساتھ وہی لباس پہننا شرعاً جائز ہے جو آج کل عیسائی ننیں پہنتی ہیں۔

تمام احادیث سے ثابت ہے کہ جنگ میں ازواج مطہرات اور خواتین اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاتیں اور مجاہدین کو پانی پلانے اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے کی خدمات انجام دیتی تھیں۔ یہ طریقہ احکامِ حجاب نازل ہونے کے بعد بھی جاری رہا ہے۔ (بخاری‘ باب حمل الرجل المراۃ فی الغزو)

ترمذی میں ہے کہ اُم سلیمؓ اور انصار کی چند دوسری خواتین اکثر لڑائیوں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئی ہیں۔ (ترمذی‘ باب ماجاء فی خروج النساء فی الغزو)

بخاری میں ہے کہ ایک عورت نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میرے لیے دعا فرمایئے کہ میں بھی بحری جنگ میں جانے والوں کے ساتھ رہوں۔

آپؐ نے فرمایا: اللھم اجعلھا منھم (بخاری‘ باب غزوۃ المراۃ فی البحر)

جنگِ احد کے موقع پر جب مجاہدین اسلام کے پائوں اکھڑ گئے تھے۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت ام سلیمؓ اپنی پیٹھ پر پانی کے مشکیزے لاد لاد کر لاتی تھیں اور لڑنے والوں کو پانی پلاتی تھیں۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اس حال میں‘ مَیں نے ان کو پائنچے اٹھائے دوڑ دوڑ کر آتے جاتے دیکھا۔ ان کی پنڈلیوں کا نچلا حصہ کھلا ہوا تھا۔ (بخاری‘ باب  غزوۃ النساء وقتالھن مع الرجال۔ مسلم‘ باب غزوۃ النساء مع الرجال‘ ج۲‘ ص ۷۶)

ایک دوسری خاتون اُم سلیط کے متعلق حضرت عمرؓ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: جنگ اُحد میں دائیں اور بائیں جدھر میں دیکھتا‘ اُم سلیط میری حفاظت کے لیے جان لڑاتی ہوئی نظر آتی تھی [ہنگامی حالت میں خواتین نے تلوار بھی ہاتھ میں اٹھائی ہے اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے]۔

اسی جنگ میں ربیع بنت معوذ اور ان کے ساتھ خواتین کی ایک جماعت زخمیوں کی مرہم پٹی میں مشغول تھی اور یہی عورتیں مجروحین کو اٹھا اٹھا کر مدینے لے جا رہی تھیں۔ (بخاری‘ باب مداوات النسائ‘ الجرحی فی الغزو)

جنگِ حنین میں اُم سلیمؓ ایک خنجر ہاتھ میں لیے پھر رہی تھیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کس لیے ہے؟ کہنے لگیں کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔ (مسلم‘ باب غزوۃ النساء مع الرجال)

اُم عطیہ سات لڑائیوں میں شریک ہوئیں۔ کیمپ کی حفاظت‘ سپاہیوں کے لیے کھانا پکانا‘ زخمیوں اور بیماروں کی تیمارداری کرنا ان کے سپرد تھا۔ (ابن ماجہ‘ باب العید والنساء یشہدون مع المسلمین)

حضرت ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ جو خواتین اس قسم کی جنگی خدمات انجام دیتی تھیں ان کو اموالِ غنیمت میں سے انعام دیا جاتا تھا۔ (مسلم‘ باب النساء الغازیات یرضح لھن)

اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی پردہ کی نوعیت کسی جاہلی رسم کی سی نہیں ہے جس میں مصالح اور ضرورت کے لحاظ سے کمی بیشی نہ ہوسکتی ہو۔ جہاں حقیقی ضروریات پیش آجائیں وہاں اس کے حدود کم بھی ہوسکتے ہیں‘ نہ صرف چہرہ اور ہاتھ کھولے جاسکتے ہیں‘ بلکہ جن اعضا کو ستر عورت میں داخل کیا گیا ہے ان کے بھی بعض حصے اگر حسبِ ضرورت کھل جائیں تو مضائقہ نہیں‘ لیکن جب ضرورت رفع ہو جائے تو حجاب کو پھر انھی حدود پر قائم ہوجانا چاہیے جو عام حالات کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ جس طرح یہ پردہ جاہلی پردہ نہیں ہے‘ اسی طرح اس کی تخفیف بھی جاہلی آزادی کے مانند نہیں۔ مسلمان عورت کا حال یورپین عورت کی طرح نہیں ہے کہ جب ضروریات جنگ کے لیے اپنی حدود سے باہر نکلی ‘تو اس نے جنگ ختم ہونے کے بعد اپنی حدود میں واپس جانے سے انکار کر دیا‘‘۔ (پردہ‘ ص ۲۹۱-۲۹۴)

موجودہ حالات میں‘ پارلیمنٹ میں خواتین شوق سے نہیں مجبوراً آئی ہیں اور ایسے حالات میں آئی ہیں کہ آئے بغیرہ چارہ نہ تھا۔ دینی جماعتوں کے حلقوں سے تقویٰ اور دین داری کے زیور سے مزین مسلمان بہنیں بڑی تعداد میں رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ جن حالات میں یہ پارلیمنٹ میں پہنچی ہیں‘ ان میں کوئی بھی عالم دین اس کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ کوئی بھی عالم دین ایسی صورت میں پارلیمنٹ کو سیکولر خواتین کے لیے کھلا چھوڑ دینے کی رائے نہیں دے سکتا۔ دینی حلقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے پارلیمنٹ میں پہنچ کر نفل نہیں بلکہ اپنا فرض ادا کیا ہے اور حکمران گروہ کے سیکولر ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں حتی المقدور رکاوٹ ڈال دی ہے۔

باصلاحیت اور دین دار خواتین کا پارلیمنٹ میں آجانا سیکولر اور مغرب پرست اہل حل وعقد کے عزائم کی راہ میں ایک بڑی بامعنی رکاوٹ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ان خواتین کی رکنیت موجب شکرگزاری ہے جن کی بدولت علما اور مرد ارکان پارلیمنٹ مطمئن ہیں کہ انھیں آزاد خیال اور مغرب زدہ خو اتین کو جواب دینے کے لیے زحمت نہیںاٹھانی پڑتی۔ کیونکہ یہ خواتین علمی اور عملی‘ ہر سطح پر ان عناصر کو جواب دینے کے لیے کافی اور شافی ہیں۔

جہاں تک پردے کا تعلق ہے تو اس میں بے شک احتیاط کرنا چاہیے‘ لیکن دینی ضرورت کے لیے جب باہر نکلنے کی اجازت ہے تو اپنے تحفظ کے لیے مجبوری کی صورت میں ایک آنکھ کی جگہ دو آنکھیں بھی کھولی جاسکتی ہیں۔ ایک آنکھ کھولنے کی اجازت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بوقت ضرورت دوسری آنکھ کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔ جہاں تک زینت کے ظاہر ہونے کا تعلق ہے تو جو زینت مجبوراً ظاہر ہو وہ  الا ما ظھرمنھا میں شامل ہے۔ اس میں برقع اور آنکھیں وغیرہ سب شامل ہیں۔

جب تک موجودہ سسٹم موجود ہے اس میں دینی خواتین کی تعداد اتنی زیادہ ہونی چاہیے‘ کہ سیکولر خواتین کا راستہ بند ہوجائے۔ اسے اھون البلیتین کہا جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا: جب تم دو مصیبتوں سے دوچار ہوجائو تو پھر ان میں سے اس صورت کو اختیار کرو‘ جس میں مصیبت کم ہو۔

اس لیے موجودہ حالات میں اسلامی اور دینی جذبے سے سرشار خواتین شوقیہ نہیں بلکہ اھون البلیتین کے اصول کے تحت اسمبلیوں میں گئی ہیں۔ اگر نہ جاتیں تو پھر ان کی نشستیں    مادر پدر آزاد مغرب زدہ خواتین حاصل کرلیتیں‘ جو ملت اسلامیہ کے لیے بہت بڑا حادثہ ہوتا۔

الحمدللہ اس وقت دینی جماعتوں سے وابستہ خواتین حدود و حجاب کی پوری پابندی کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دعوتی خدمات سرانجام دے رہی ہیں‘ جو قابلِ قدر اور خراجِ تحسین کے لائق ہے۔ دینی ضرورت اور وقت کے تقاضے کے پیشِ نظر وہ پارلیمنٹ میں بھی گئی ہیں‘ مختلف ’’دینی ایشوز‘‘ کی خاطر جلسے‘ جلوس اور احتجاجی ریلیاں نکالتی ہیں‘ خدمت خلق کے کاموں میں حصہ لیتی ہیں لیکن ان تمام حالتوں میں پردے کی پابندی کرتی ہیں‘ جان کی حفاظت اور ٹکرائو سے بچنے کے لیے حسب ضرورت پردے کے احکام میں نرمی سے فائدہ بھی اٹھاتی ہیں لیکن بہت کم‘ صرف اتنا کہ ایک آنکھ کے بجاے دونوں آنکھیں کھلی ہوں۔ ان خواتین نے دنیا کے سامنے یہ نمونہ پیش کر دیا ہے کہ عورت کس طرح شرعی آداب اور پردے کی پابندی کرتے ہوئے اقامتِ دین کی جدوجہد میں حصہ لے سکتی ہے۔ زمانۂ حاضر اور مستقبل کے لیے ایک روشن مثال قائم کردی گئی ہے جس کو پیشِ نظر رکھ کر ان شاء اللہ ’’خاتون‘‘ پہلے کی طرح آج کے دور میں بھی دعوتِ دین اور اقامتِ دین میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکے گی۔(مولانا عبدالمالک)

محاضراتِ قرآنی‘ ڈاکٹر محمود احمد غازی۔ ناشر: الفیصل ناشرانِ کتب‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۴۰۴۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

یوں تو مصنف کی شخصیت علمی اعتبار سے ہمہ جہت ہے‘ مگر ان کا خصوصی تعلق علوم الفقہ اور اسلامی قانون سے ہے۔ ان کی زیرتبصرہ کتاب علوم القرآن کے متنوع مضامین کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ پیش لفظ (ص ۹) کے مطابق مؤلف موصوف کی مزید کتابیں محاضراتِ حدیث‘ محاضراتِ فقہ اور محاضراتِ سیرت بھی بالترتیب منظرعام پر آنے والی ہیں۔ یہ ان کی متنوع علمی دل چسپیوں کا ثبوت ہے۔

زیرنظر خطبات الہدیٰ انٹرنیشنل‘ اسلام آباد کی ایک ورکشاپ میں شریک ان خواتین کے سامنے پیش کیے گئے جو خود مختلف حلقوں میں بطور مدرّسات‘ دروسِ قرآن کا اہتمام کرتی ہیں۔ مجموعہ کل ۱۲ خطبات پر مشتمل ہے۔ سبھی موضوعات‘ نہایت اہم اور پُرکشش ہیں اور قرآن اور علوم القرآن کے ہر متعلم و معلم کے لیے ان کا مطالعہ ضروری بلکہ ناگزیر ہے‘ مثلاً: تدریسِ قرآن مجید‘ ایک منہاجی جائزہ (ص ۱۱)‘ تاریخ نزولِ قرآن مجید (ص ۸۵)‘ تدریسِ قرآن مجید‘ دورِ جدید کی ضروریات اور تقاضے (ص ۳۷۵)‘ وغیرہ۔

خطبات کا انداز تحریری اور تحقیقی کے بجاے تقریری اور داعیانہ ہے۔ مؤلف کے مطابق ’’اندازِ بیان میں خطیبانہ رنگ کہیں کہیں بہت زیادہ نمایاں ہوگیا ہے‘‘ (ص ۹)۔ لیکن اندازِ بیان واقعتا اتنا دل چسپ‘ اور مشمولات اتنے معلومات افزا ہیں کہ قاری کی دل چسپی کم نہیں ہوتی۔

مجموعی طور پر یہ کتاب مؤلف کی وسعتِ علمی‘ ذخیرئہ معلومات اور علومِ قرآنیہ سے گہری دل چسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مضبوط یادداشت اور داعیانہ تڑپ کی بناپر فاضل مؤلف ایک موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کئی ضمنی موضوعات پر بھی روانی سے معلومات فراہم کرتے چلے جاتے ہیں‘ مثلاً: مفسرین قرآن کے تفسیری مناہج کے ضمن میں ڈاکٹر حمیداللہ مرحوم کے ہاتھ پر مسلمان ہونے والے مشہور فرانسیسی موسیقار ژاک ژیلبر کا دل چسپ واقعہ اور قرآن کے بارے میں اُس کے سوالات (ص ۲۲۷-۲۳۰)۔اسی طرح اعجاز القرآن کے ضمن میں کعبۃ اللہ کے پردوں کی کیفیت کا بیان (ص ۲۶۴)‘ وغیرہ۔ گویا علوم القرآن سے متعلق ان محاضرات میں تاریخِ اسلام کی جھلک بھی نمایاں ہے۔ مؤلف کی بعض آرا سے علمی اختلاف کی گنجایش کے  باوجود‘ کتاب کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ (ڈاکٹر محمد حماد لکھوی)


صحابہؓ کی زندگیاں، ڈاکٹر عبدالرحمن رافت پاشا۔ مترجم:اقبال احمد قاسمی۔ ناشر: دارالمسلم‘ لاہور۔ صفحات: ۴۰۶۔ قیمت(مجلد): ۱۶۵ روپے

صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ نفوسِ قُدسی ہیں جن کو خاتم الانبیا والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے جمالِ جہاں آرا سے اپنی آنکھیں روشن کرنے‘ آپؐ پر ایمان لانے اورآپؐ سے براہِ راست استفاضے کا شرف حاصل ہوا۔ اِن پاک نفس ہستیوں نے تہذیب و تمدن کی زُلفوں کو سنوارا‘ سیاست و معیشت کے چہرے کو نکھارا‘ جہالت کے اندھیروں اور کفروشرک کی ظلمتوں میں ہدایت کی شمعیں روشن کیں۔ ان کی عظمت اور رفعتِ کردار پر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں جابجا مُہرِتصدیق ثبت فرمائی اور ان کی عظیم الشان ’کامیابی‘ کا ذکر اس طرح فرمایا: رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ o (المائدہ ۵:۱۱۹) [اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے]۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے بعد صحابۂ کرامؓ (بشمول صحابیاتؓ) کے سوانح حیات کے مطالعے سے تعلق باللہ اور عشقِ رسولؐ محکم و متحرک ہوتا ہے۔ زیرِنظر کتاب ۵۵ صحابۂ کرامؓ اور تین صحابیاتؓ کے ایمان افروز سوانح حیات پر مشتمل ہے۔ یہ مصر کے نامور ادیب ڈاکٹر عبدالرحمن رافت پاشا کی عربی تالیف صُوَرٌ مِنْ حیاۃ الصّحابہؓ کا اُردو ترجمہ ہے۔ ترجمہ نہ صرف رواں‘ شگفتہ‘ شستہ اور عام فہم ہے بلکہ اس میں ادبیت بھی پائی جاتی ہے۔ فاضل مترجم نے پوری کوشش کی ہے کہ عربی نثر کا زورِ بیان اُردو ترجمے میں منتقل ہوجائے۔ اس کوشش میں وہ خاصے کامیاب نظر آتے ہیں سوائے اس کے کہ انھوں نے کتاب کے عربی الفاظ (بالخصوص صحابہؓ و صحابیاتؓ کے اسما) پر اِعراب لگانے کا التزام نہیں کیا۔ آج کل تلفظ کی غلطیاں عام ہوچکی ہیں‘ اس لیے عربی الفاظ پر اِعراب لگانا ضروری ہے۔

کتاب کے صفحات ۷۳ تا ۷۸ اور ۲۶۸ تا ۲۷۰ پر جحش (ج ح ش) کو جابجا حجش   (ح ج ش) کمپوز کیا گیا ہے۔ آیندہ ایڈیشن میں اس غلطی کو درست کر لینا چاہیے۔ صفحہ ۲۷۳ پر ’خوشی سے پھولی نہ سمائیں‘ کی جگہ ’خوشی سے پھولا نہ سمائیں‘ہونا چاہیے کیونکہ محاورے میں تبدیلی درست نہیں۔ بحیثیت مجموعی سیر الصحابہ کے موضوع پر یہ ایک لائقِ مطالعہ کتاب ہے۔ گیٹ اَپ نہایت عمدہ ہے۔ (طالب الہاشمی)


تعمیرمعاشرہ میں مسجد کا کردار‘ مولانا امیرالدین مہر۔ ناشر: النور پبلی کیشنز‘ایف‘۹۰ ‘ سپریم ایونیو‘ فیز۲‘ سیکٹر ۵‘بی ‘ کراچی۔ صفحات: ۲۴۰۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔

کتاب کا عنوان تو محدود ہے‘ لیکن مندرجات میں بڑی وسعت اور جامعیت ہے۔ مسجد سے متعلق ہر ممکن پہلو زیربحث آگیا ہے۔

مصنف نے لکھا ہے کہ یہ موضوع گذشتہ ۲۰ سال سے ان کے پیشِ نظر رہا اور اب وہ اسے ضابطۂ تحریر میں لائے ہیں۔ آدابِ مسجد اور امام‘ موذن اور مقتدی‘ مسلم معاشرے میں مسجد کی اہمیت‘ تاریخی جائزہ‘ اہم مساجد کے بارے میں ضروری معلومات اور دور جدید میں پیش آمدہ مسائل‘ سب ہی کا بخوبی احاطہ کیا گیا ہے۔ ’’دورحاضر میں مسجد کے حقیقی کردار کی بحالی‘‘ کے زیرعنوان مصنف نے جہاں تاریخی ومذہبی پہلو کو اجاگر کیا ہے‘ وہاں عصرحاضر کے تقاضوں پر بھی بحث کی ہے اور عملی تجاویز پیش کی ہیں۔ چند عنوانات: تعلیم قرآنی ناظرہ اور تعلیم بالغاں‘ کوچنگ کلاسیں یا شام کا اسلامی اسکول‘ مسجد اور خواتین کی تعلیم‘ رفاہی و اصلاحی مرکز‘ دارالمطالعہ‘ مہمان خانہ اور مسافرخانہ‘ قانونی مشورہ‘ فون کی سہولت‘ میت گاڑی‘ شفاخانہ‘ پنچایت کمیٹی‘ سماجی اجتماعات و کانفرنسیں‘ ایک اسلامی سنٹر کا نقشہ‘ عمررسیدہ لوگوں کے لیے دن کا مرکز‘ نوجوانوں کی سرگرمیاں‘ تجہیز وتکفین کی سہولیات وغیرہ۔ ۲۲ سے زائد عنوانات ہیں۔ اس موضوع پر جامعیت کے لحاظ سے اپنی نوعیت کی یہ پہلی کتاب ہے۔

تجویز کیا گیا ہے کہ مساجد کونسل قائم کی جائے۔اس کا ایک لائحہ عمل ہو۔تربیت خطبا‘ ائمہ اور مؤذنین نومسلموں اور نوجوانوں کے لیے تربیتی کورس‘ بیرون ملک تربیتی کورس‘ فہم قرآن مراکز‘ افتا و تحقیق کا شعبہ‘ تربیت حجاج پروگرام وغیرہ اس کونسل کے نمایاں فرائض ہوں۔

آخری باب اسلام میں مسجد کی مرکزیت و اہمیت کے پیشِ نظر مسجد کے کردار کے خلاف کی جانے والی کش مکش پر مبنی ہے۔ دورِنبوتؐ سے لے کر تاحال صورت حال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس باب میں مسجد کو اس کے حقیقی مقام سے ہٹانے کے اسباب کا بھی تذکرہ ہے۔

مصنف کے اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال ۱۰ ہزار نئی مساجد تعمیر ہوتی ہیں اور ۲ لاکھ سے زائد موجود ہیں۔ اگر یہ مساجد صحیح معنوں میں اپنا کردار ادا کریں تو معاشرے میں وہ تبدیلی لائی جاسکتی ہے جس کا تقاضا اسلام کرتا ہے۔ مسجد کے کردار اور ائمہ مساجد کی تربیت پر یہ ایک گائیڈبک ہے۔ کتاب کی جامعیت کا تقاضا ہے کہ نام میں تبدیلی کی جائے‘ مثلاً مسجد: جامع تصور‘ تہذیبی کردار اور جدید چیلنج۔

کتاب میں مختلف مساجد کی خوب صورت تصاویر بھی شامل ہیں۔ مناسب تھا کہ ہر تصویر کے نیچے ایک وضاحتی جملہ دے دیا جاتا۔ (مسلم سجاد)


قلزم خاموش‘ ڈاکٹر ریاض احمد ہرل۔ ناشر: کتاب نما پبلشرز‘ ۱۴- دینا ناتھ مینشن‘ مال روڈ‘ لاہور۔ صفحات: ۱۲۸۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

دانش پاروں کے اس مجموعے کا مطالعہ کرتے ہوئے ہر تحریر دل میں اترتی محسوس ہوتی ہے اور بعید نہیں کہ کوئی پارہ ایسا خیال اوراتنا عمل انگیز ثابت ہو کہ وہ قاری کی زندگی کا رخ بدل دے۔ یہ تحریریں مؤلف کے تجربے‘ مشاہدے اور غوروفکر کا ماحصل ہیں۔ یہ ایسی سچائیوں اور حقائق پر مبنی ہیں جو کائنات‘ انسان اور خالق کائنات کی ذات اور ان کے باہمی تعلق پر غور کرنے سے منکشف ہوتے ہیں۔ ذہانت اور گہرے تفکر کے باوجود‘ اللہ تعالیٰ کی خاص عطا کے بغیر‘ یہ انداز نصیب نہیں ہوتا۔ بات کہنے کا سلیقہ اورخاص انداز اور الفاظ کی ایک خاص ترتیب جو دل پر نقش ہو جاتی ہے۔ مشتے نمونہ از خروارے ملاحظہ ہو:

  • بندے کے سر کا سب سے بلند مقام سجدے کا مقام ہے۔
  • خیال کی درستی عمل کی درستی کا سبب بنتی ہے اور عمل کی درستی کامیابی کی ضمانت ہے۔
  • کثرتِ شکوہ و شکایت غربتِ دل کی علامت ہے۔
  •   بے جا نسلی تفاخر--- بے ہنر اور بے کردار انسان کا پسندیدہ ہتھیار ہے۔
  • اپنی پوری صلاحیت بروے کار لائے بغیر‘ حاصل پر شاکر رہنا قناعت نہیں‘ کم ہمتی ہے۔
  • اپنی کمزو ریوں کا گہرا شعور‘ دوسروں کی بظاہر ناقابلِ برداشت کمزوریوں کو بھی گوارا بنا دیتا ہے۔

دانش پاروں کا یہ اسلوب خلیل جبران کا سا ہے۔ مصر کے ابن عطا اللہ (م: ۱۳۰۹ئ) نے اسی انداز میں لکھا ہے اور ہمارے ہاں واصف علی واصف نے اسی اندازِ بیان کو اپنایا ہے۔ اب ریاض احمد ہرل اس صف میں شامل ہوئے ہیں۔ مقدمہ نگار جناب شہزاد احمد کے نزدیک یہ حکمت کی باتیں ہیں جن میں چند لفظوں میں بہت بڑے خیال کو باندھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نامور ادیبہ بانو قدسیہ نے مصنف اور ان کے اسلوب کی تحسین کی ہے۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)


Pleasing Voices [خوش کن آوازیں]‘پروفیسر محمد اکرم طاہر۔ ناشر: علم و عرفان پبلشرز‘ ۳۴- اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۱۸۸۔ قیمت: لائبریری اڈیشن ۲۲۰ روپے‘ طلبا اڈیشن: ۱۵۰ روپے

مصنف انگریزی زبان و ادب کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے مباحثوں اور تقریری مقابلوں میں حصہ لینے والے طلبا کی رہنمائی کے لیے اپنی تحریر کردہ‘ انگریزی تقاریر کو یکجا کرکے شائع کر دیاہے۔

مقدمے میں مؤلف نے خطباتِ رسولؐ کے حوالے سے‘ فنِ تقریر و خطابت کے موضوع پر‘   

تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ اس حصے میں مصنف نے آپؐ کے بعض خطبوں کے (ترجموں کے) اقتباسات بھی دیے ہیں جو بڑے مؤثر ہیں۔ ضمیمے میں آپؐ کے اصل عربی خطبوں کے نمونے بھی دیے گئے ہیں۔ بطور نمونہ حضرت عیسٰی ؑ، جعفر بن ابی طالب‘ قائداعظم‘ ابراہام لنکن‘ گاندھی‘ سقراط وغیرہ کی ایک ایک تقریر‘ اور ہٹلر‘ چرچل اور اسٹالن کی تقاریر کے اقتباس دیے گئے ہیں۔ بعدازاں طلبا کے مابین مباحثوں اور تقریری مقابلوں کے لیے موافقت اور مخالفت میں‘ مختلف موضوعات پر ۳۰تقاریر دی گئی ہیں‘ مثلاً:

  • علم ایک قوت ہے
  • امن چاہتے ہو تو جنگ کے لیے تیار رہو
  • قائداعظم کا تصورِ پاکستان
  • ہمارا دورِ تہذیبوں کی کش مکش کا دور ہے
  • سائنس ایک نعمت ہے
  • سائنس ایک لعنت ہے
  • سیاست کا دوسرا نام بدعنوانی ہے ‘ وغیرہ۔

اس کتاب کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ واقعی کچھ کلمات و خطابات‘ سننے والوں میں زندگی کی نئی روح پھونک دیتے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے علمی دیانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ تمام حوالہ جات پیش کر دیے ہیں جن سے اُنھوںنے خوشہ چینی کی ہے۔ طباعت مناسب ہے۔ یہ کتاب طلبا‘ اساتذہ اور اہلِ علم کے لیے یکساں مفید ہے۔ کتاب کے آخر میں Animal Farm ناول کا تعارف شامل ہے۔ ہمارے خیال میں اس کی ضرورت نہ تھی۔(محمد ایوب منیر)


چار موسم ‘ ایچی سن کالج میں، زاہد منیر عامر۔ دارالتذکیر‘ غزنی سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۴۸+ ۴۰۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔

مصنف تقریباً ایک سال تک ایچی سن کالج میں اُردو کی تدریس پر مامور رہے۔ اس کتاب میں انھوں نے کالج کی تاریخ اور تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ تفصیلات اور مشاہدات پیش کیے ہیں۔

ایچی سن کالج برطانوی ہندستان کے راجوں اور نوابوں کے بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے ۱۸۸۶ء میں ۲۱۱۱۲۱ روپے کی خطیر رقم خرچ کر کے تعمیر کیا گیا تھا۔ کالج کے افتتاحی تقریب کے موقع پر‘ اس کے بانی لیفٹیننٹ گورنر سر چارلس امفرسٹن ایچی سن نے کہا تھا: کالج میں حکومت کے وفادار خاندانوں کو باہمی رابطوں کی استواری کا موقع ملے گا‘ جس سے مجموعی طور پر ہمارے مقصد کو تقویت پہنچے گی اور یوں یہ ادارہ برطانوی حکومت کے استحکام کا ایک ذریعہ ثابت ہوگا۔

ایچی سن کالج کے مقاصدِ قیام کے پیشِ نظر کالج کے مؤسسین‘ مذہب اور مذہبی تعلیم کی حوصلہ شکنی کرتے تھے کیوں کہ مذہب اور مذہبی جذبے کی بقا سے انگریز حکمرانوں کے مفادات پر چوٹ پڑتی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ تمام طالب علموں میں ایک ہی رشتہ ہو‘ برطانوی حکومت سے وفاداری کا رشتہ۔

تاہم‘ اب سے ایک ڈیڑھ عشرہ پیش تر اس کالج کے ایک پرنسپل جناب عبدالرحمن قریشی صاحب نے الوداعی تقریر میں تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا: ’’ایچی سن کے طلبا اپنے تہذیبی ورثے سے بیگانہ ہیں‘‘۔

کتاب میں فارسی اشعار اور ذومعنی جملوں سے بھی مصنف نے اپنی بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ ایچی سن کالج کے پرشکوہ عمارت کی منظرکشی کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’… اس برآمدے میں سفید پتھر کی سلوں پر سامراج کے لیے جان ہار جانے والوں کے سیاہ نام درج ہیں‘‘۔

یہ کتاب ایک تحقیق‘ تخلیق اور خوب صورت پیش کش ہے‘ جسے پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے‘ جیسے کسی باغ کی سیر ہو رہی ہے۔ البتہ اس باغ کی سیر کے لیے ٹکٹ (قیمت کتاب) ۶۰۰ روپے پاکستانی سکّہ رائج الوقت ہے۔ (نوراسلم خاں)


جہیز کی تباہ کاریاں، حافظ مبشرحسین لاہوری۔ ناشر: مبشراکیڈیمی ‘ مکان نمبر ۱۱‘ گلی نمبر۲۱‘ مکھن پورہ‘ نزد نیوشادباغ‘ لاہور۔ صفحات: ۱۳۵ روپے۔ قیمت: ۶۰ روپے۔

زیرنظر کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے جس میں مصنف نے جہیز کے تباہ کن اور جاہلانہ رواج کے سبب بڑھتے ہوئے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ انھوں نے جہیز کی قبیح رسم کے معاشرتی‘ اخلاقی اور طبی نقصانات کو دلائل و شواہد کے ساتھ واضح کیا ہے۔ جہیز کے معاملے میں راہِ راست کیا ہے؟ شریعت کیا کہتی ہے؟ اس سلسلے میں مؤلف نے حضور اکرمؐ اور صحابہ کرامؓ کے فرمودات کو بطور نمونہ اور دلیل پیش کیا ہے۔ آخر میں اس موضوع پر مفتی محمد تقی عثمانی‘ مولانا عبیداللہ رحمانی اور حافظ صلاح الدین یوسف کی تحریریں بھی شامل کی گئی ہیں۔

یہ کتاب جہیز کے مسئلے پر ایک مختصر مگر خوب صورت کاوش ہے۔ تعجب ہے کہ لفظ ’جہیز‘ کا املا اوّل تا آخر ہر جگہ غلط (جھیز) لکھا گیا ہے۔ (اللّٰہ دتّا جمیل)


تعارفِ کتب

  • قیادت و سیادت ‘مرتب: اختر حجازی۔ الفیصل ناشران‘ غزنی سٹریٹ ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات ۲۹۲۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔[نوعیتِ کتاب کی وضاحت کے لیے عنوان کتاب کے ساتھ قوسین میں یہ ضمنی توضیح درج ہے۔ ’’سید مودودی کے اعزاز میں دیے گئے تاریخی استقبالیے‘‘۔ اس سے یہ تاثر ہوتا ہے کہ شاید یہ تاریخی استقبالیوں کی تفصیل اور روداد ہے لیکن یہ دراصل مولانا مرحوم کی وہ تقاریر ہیں جو مختلف مواقع پر‘ مختلف شہروں میں ان کے اعزاز و استقبال میں منعقدہ جلسوں میں پیش کردہ سپاس ناموں کے جواب میں کی گئیں--- ممکنہ حد تک مقام اور تاریخ بھی دی گئی ہے۔ تقریباً ساری ہی تقریریں ایشیا اور آئین سے اخذ کردہ ہیں۔ ان جلسوں میں بعض اکابر (مولانا محمد چراغ‘ مفتی سیاح الدین کاکاخیل‘ اے کے بروہی وغیرہ) نے جو تاثراتی کلمات ادا کیے‘ وہ بھی شامل ہیں۔]
  • اسلام اور دہشت گردی‘ ڈاکٹر خالد علوی۔ دعوۃ اکیڈمی‘ بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی‘ پوسٹ بکس ۱۴۸۵‘ اسلام آباد۔صفحات: ۷۴۔ قیمت: ۴۰ روپے۔[مسلم اُمہ پر انتہاپسندی‘ تشدد پسندی اور دہشت گردی کے الزامات کا علمی و فکری دفاع۔ اسلام کا مزاج امن اور اعتدال کا ہے‘ اپنا دفاع اسلام کا حق ہے ‘یہی جہاد ہے۔ اپنے موضوع پر ایک موثر علمی تحریر۔]
  • ششماہی التُّر اث، مدیر مسئول: شیخ عبدالواجد عبداللہ‘ مدیر التحریر: عبدالرشید صدیقی۔ ناشر: جامعہ دارالعلوم‘ بلتستان‘ غواڑی‘ شمالی علاقہ جات۔ صفحات: ۱۱۰۔ قیمت: ۳۰ روپے۔[پاکستان کے شمالی علاقہ جات‘ مستقبل میں استعماری قوتوں کے اہداف کا مرکز بنتے نظر آتے ہیں۔ گذشتہ دو برس کے دوران وہاں نصابی حوالے سے کش مکش اور پھر آغا خان فائونڈیشن کے مخصوص عزائم ایسے موضوعات ہیں جن پر اہل پاکستان گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ یہ مجلہ اُن علاقوں میں اہلِ حدیث مسلک کی مؤثر ترجمانی کرتا ہے اور لکھنے والوں نے محنت سے مضامین لکھے ہیں۔]
  • تدریسی قدر پیمائی‘ محمد رفیق وڑائچ۔ ناشر: اردو سائنس بورڈ‘ ۲۲۹ اپرمال‘ لاہور۔ صفحات:۱۸۰۔ قیمت:۱۸۰روپے۔ [قدرپیمائی (Evaluation in Education) کے موضوع پر‘ مصنف کے      نتائجِ مطالعہ اور ذاتی تجربات و مشاہدات۔ ایک پیشہ ورانہ جامع مطالعہ ‘جس میں مصنف کا‘ ملّی اور اخلاقی نصب العین کا زاویۂ نظر نمایاں ہے۔ اساتذہ کے لیے ایک عمدہ راہ نما کتاب۔]
  • قرآنی دعائوں کا انسائی کلوپیڈیا‘ محمد شریف بقا۔ ناشر: علم و عرفان پبلشرز‘ ۳۴- اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۱۵۷۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔[دعائوں کا مجموعہ‘ آیاتِ قرآنی کا متن‘ ترجمہ‘ الفاظ و حروف کے معانی‘ دعا کا مفہوم‘ اہم نکات۔ ایک مفید مجموعہ۔]

اے ڈی جمیل ‘ جھنگ

’’کون سا اسلام؟‘‘ (مارچ ۲۰۰۵ئ) موجودہ حکومت کی اصل پالیسیوں کو واضح کرتا ہے۔ اس کے آئینے میں ملک کو بزعمِ خود ’ترقی‘ کی راہ پر گامزن کرنے والے اور ماڈریٹ اسلام کو نافذ کرنے کے ٹھیکیدار‘ صدربش کے حواری پرویز مشرف کا حقیقی چہرہ نظر آتا ہے۔ اسلام تو وہی ہے جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم لائے‘  اللہ کا وعدہ ہے کہ ہم نے جس ذکر کو اتارا ہے ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔


غلام مرتضٰی جوئیہ ‘ میکلوڈ گنج

جنوری‘ فروری کے شماروں میں سوڈان‘ لیبیا‘ یوکرائن کے بارے میں‘ اور وہاں پر موجود مسلمانوں اور احیاے اسلام کے لیے سرگرم تحریکوں کا اندازہ ہوا۔ اسلام کا نام زندہ رکھنے میں روایتی دینی تحریکوں‘ مدارس کا جو کردار ہے‘ اور ان دُور دراز علاقوں میں تصوف کے ذریعے اشاعت اسلام کے لیے جو کردار صوفیاے کرام نے سرانجام دیا ہے‘ اس کو بھی نمایاں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قارئین ماضی میں تصوف کے مثبت اور نمایاں کردار سے آگاہ ہوں اور اہلِ تصوف اور معاصر اسلامی تحریکیں باہم قریب ہوں۔ احیاے اسلام کے لیے تزکیۂ نفس ایک بنیادی شرط ہے۔ اس دُوری کو قربت میں بدلنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے اعتماد اُمت کی راہ ہموار ہوگی۔ احیاے اسلام سیٹ میں دعوتِ دین کی ذمہ داری کے عنوان سے جو کتابچہ ہے ‘اس میں سید مودودیؒ نے اس پہلو سے صوفیاے کرام کی خدمات کا ذکر کیا ہے۔


محمد اسماعیل ساجد ‘ ملتان

’’نئی نسل کے نام‘‘ (مارچ ۲۰۰۵ئ) بہت پسند آیا۔ بلاشبہہ بزرگ نسل نے اسلامی افکار کے احیا کے لیے اپنا فرض بہ احسن ادا کیا اور آج تحریک اسلامی ایک حقیقت ہے۔ اب نئی نسل کو اپنا قرض ادا کرنا ہے۔ یقینا نئی نسل کے لیے اس میں سبق اور عمل کا جذبہ موجزن ہے۔


ڈاکٹر توقیر احمد بٹ‘ ملتان

’’اشارات‘‘ موجودہ دور میں عام لوگوں کے دل کی آواز ہوتے ہیں۔ تجویز ہے کہ درسِ قرآن کی تیاری کو مدنظر رکھ کر بھی مضامین شاملِ اشاعت ہوں تو قاری کو دوہرا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔


طالب ہاشمی‘ لاہور

ترجمان القرآن (مارچ ۲۰۰۵ئ) میں ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر کی تالیف عبدالمُطلب ہاشمی پر میرے تبصرے کی تین چار سطور (صفحہ ۹۹ کی سطور ۱۳‘ ۱۴‘ ۱۵‘ ۱۶)کو شاید کمپوزر نے گڈمڈ کر دیا ہے۔ اصل عبارت یوں تھی: ’’پھر ان کو نہایت قرینے سے مرتب کر کے نتائج اخذ کیے ہیں اور ساتھ ہی پوری چھٹی صدی ہجری کی   تاریخِ عرب (بالخصوص مکہ و قریش) بھی بیان کر دی ہے۔ ان کا اندازِ نگارش بڑا شُستہ اور عام فہم ہے۔ بلاشبہہ یہ کتاب پروفیسر محمد یٰسین کا قابلِ ستایش کارنامہ ہے اور اُردو کتب تاریخ و سیرت میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے‘‘۔


میاں محمد صدیق ‘ اوکاڑہ

ترجمان القرآن (فروری ۲۰۰۵ئ) میں صفحہ ۸۱ پر ایک حدیث دی گئی ہے۔ وہ حدیث قدسی ہے‘ لہٰذا متن میں یہ الفاظ بھی دیے جانے چاہییں کہ: اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔


وحید الدین سلیم ‘ حیدرآباد دکن

۱- اگرچہ مولانا امیرالدین مہر نے ’’برکت کا تصور‘‘ (مارچ ۲۰۰۵ئ) بڑی محنت سے لکھا ہے‘ لیکن کثرتِ حوالہ جات کے سبب بوجھل اور تشریح میں اُلجھائو کے نتیجے میں ایک چیستاں بن گیا ہے۔ پورا مضمون پڑھ جانے کے باوجود یہ واضح نہیں ہوتا کہ برکت کیا چیز ہے؟ برکت کے لغوی معنیٰ جو کچھ بھی ہوں‘ یہ ایک اسلامی لفظ ہے اور بول چال میں بکثرت استعمال ہوتا ہے اورزبان کی فصاحت و بلاغت میں اضافہ بھی کرتا ہے۔

برکت کا مفہوم خیرکثیر اور اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد ہے‘ مثلاً کمائی میں برکت‘ اس کی نوعیت ایسی ہے کہ ہمارے پاس ایک روپیہ ہو اور اس ایک روپے سے ۱۰۰ روپے کے برابر کام نکل جائے ۔ ایک اور مثال‘ ایک شخص کے پاس حلال آمدنی کا بہت تھوڑا روپیہ ہو اگر اللہ کے فضل و کرم سے وہ مصائب سے بچ جاتا ہے اور اس تھوڑے روپے کے ذریعے اُس کی زندگی خوش گوار گزرتی ہے تو یہ بھی برکت ہے۔ اس کے مقابل میں ایک شخص مالا مال ہے لیکن مشکلات کے گھیرے میں آگیاہے کہ زرِکثیر خرچ کر کے بھی نجات نہیں پا سکتا تو ایسا شخص برکت سے محروم ہے۔ اعمال میں برکت کی مثال یہ ہے کہ کسی نے ۶۰برس کی عمر پائی ہو اور کام ایسا انجام دیا ہو کہ کوئی دوسرا شخص   سو‘ سوا سو برس پاکر بھی انجام نہ دے سکے۔ برکت کا لفظ محض رسمی نہیں بلکہ یہ استحضار فضلِ الٰہی سے راست وابستہ ہے‘ اس کے بغیر برکت کا تصورہی نہیں کیا جا سکتا۔ زبان و بیان میں یہ ایسا معجز لفظ ہے‘ جو لفظ بھی ہے اور کلمۂ خیر بھی۔

۲- ڈاکٹر پوجا جوشی کی کتاب Jamat-e-Islami - The Catalyst of Islamization in Pakistan پر ایوب منیر کا تبصرہ (فروری ۲۰۰۵ئ)اختصار و جامعیت کے ساتھ ایک کامیاب تبصرہ ہے۔ فاضل مبصر نے مصنفۂ کتاب کی کم علمی اور حقائق تک اُس کی عدم رسائی کو آشکار کر دیا ہے۔ مولانا مودودیؒ اور جماعتِ اسلامی کے خلاف لکھنا فیشن کے سوا کچھ نہیں۔ کیا ہندو اورکیا مسلمان‘ سبھی تعصب کی راہ پر گامزن نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر تنقید پڑھ کر تنقید لکھنے کے عادی ہوتے ہیں‘ اصل شے جس پر تنقید کی جاتی ہے وہ اُن کی نظر ہی میں نہیں رہتی۔

منظم نیکی

رہی یہ غلط فہمی کہ ہم زاہدوں اور گوشہ نشینوں کا ایک گروہ بنا رہے ہیں تو اگر یہ عمداً واقعہ کی غلط تعبیر نہیں ہے اور واقعی غلط فہمی ہی ہے تو اسے ہم صاف صاف رفع کر دینا چاہتے ہیں۔ ہم دراصل ایک ایسا گروہ تیار کرنا چاہتے ہیں جو ایک طرف زہد و تقویٰ میں اصطلاحی زاہدوں اور متقیوں سے بڑھ کر اور دوسری طرف دنیا کے انتظام کو چلانے کی قابلیت و صلاحیت بھی عام دنیاداروں سے زیادہ اور بہتر رکھتا ہو۔ ہمارے نزدیک دنیا کی تمام خرابیوں کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ نیک لوگ نیکی کے صحیح مفہوم سے ناآشنا ہونے کی بنا پر گوشہ گیر ہوکر بیٹھ جاتے ہیں اور پرہیزگاری اس کو سمجھتے ہیں کہ دنیا کے معاملات ہی سے پرہیز کریں‘ اور دوسری طرف ساری دنیا کے کاروبار بدوں کے ہاتھ میں آجاتے ہیں جن کی زبان پر نیکی کا نام اگر کبھی آتا ہے تو صرف خلقِ خدا کو دھوکا دینے کے لیے۔ اس خرابی کا علاج صرف یہی ہو سکتا ہے کہ صالحین کی ایک جماعت منظم کی جائے‘ جو خدا ترس بھی ہو‘ راست باز اور دیانت دار بھی ہو‘ خدا کے پسندیدہ اخلاق و اوصاف سے آراستہ بھی ہو اور اس کے ساتھ دنیا کے معاملات کو دنیاداروں سے زیادہ اچھی طرح سمجھے اور خود دنیاداری ہی میں اپنی مہارت و قابلیت سے ان کو شکست دے سکے۔ ہمارے نزدیک اس سے بڑا اور کوئی سیاسی کام نہیں ہوسکتا اور نہ اس سے زیادہ کامیاب سیاسی تحریک اور کوئی ہوسکتی ہے کہ ایسے ایک صالح گروہ کو منظم کرلیا جائے۔

بداخلاق اوربے اصول لوگوں کے لیے دنیا کی چراگاہ میں بس اسی وقت تک چرنے چگنے کی مہلت ہے جب تک ایسا گروہ تیار نہیں ہوجاتا‘ اور جب ایسا گروہ تیار ہو جائے گا تو آپ یقین رکھیے کہ نہ صرف آپ کے اس ملک کی بلکہ بتدریج ساری دنیا کی سیاست اور معیشت اور مالیات اور علوم و آداب اور عدل و انصاف کی باگیں اسی گروہ کے ہاتھ میں آجائیں گی اور فساق و فجار کا چراغ ان کے آگے نہ جل سکے گا۔ یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ انقلاب کس طرح رونما ہوگا لیکن جتنا مجھے کل سورج کے طلوع ہونے کا یقین ہے اتنا ہی مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ یہ انقلاب بہرحال رونما ہوکر رہے گا۔ (’’جماعت اسلامی کے پہلے کل ہند اجتماع کی روداد‘‘، ترجمان القرآن‘ جلد ۲۶‘ عدد۳-۶‘ ربیع الاول تا جمادی الثانی ۱۳۶۴ھ‘ مارچ تا جون ۱۹۴۵ئ‘ ص ۱۴۳)