دسمبر۲۰۰۶

فہرست مضامین

رسائل و مسائل

| دسمبر۲۰۰۶ | رسائل و مسائل

Responsive image Responsive image

مساجد میں خواتین کی شرکت

سوال: ہمارے علاقے میں ایک پرانی چھوٹی مسجد تھی۔ اب الحمدللہ اس کی دوبارہ تعمیر کی گئی اور اس کو وسعت دی گئی ہے۔ اب نمازیوں کے لیے یہاںکافی گنجایش ہے۔ پہلے جب چھوٹی مسجد تھی اس وقت بھی یہاں پر ہر سال ماہ رمضان کی تراویح میں عورتیں شریک ہوتی تھیں۔ ان کے لیے ایک الگ کمرہ مخصوص تھا۔ وہ الگ راستے سے یہاں نیم روشنی میں آتی تھیں۔ باپردہ تراویح پڑھتیں اور پھر الگ راستے سے رات کے اندھیرے میں رخصت ہوجاتی تھیں۔ اس میں کسی فتنے کی گنجایش ہی نہیں ہوتی۔ اب مسجد عالی شان اور کافی گنجایش والی بن گئی ہے تو مسجد انتظامیہ کے صدر نے ایک فتویٰ کی بنیاد پر کہ مفتی صاحبان عورتوں کو مسجد میں تراویح پڑھنے کی ممانعت کرتے ہیں‘   اس سے فتنوں کا اندیشہ ہے‘ چنانچہ خواتین کو مسجد میں آنے سے روک دیا ہے۔

ہماری خواتین (جو بڑی عمر کی ہیں اور دین کی بنیادی تعلیمات سے ناواقف ہیں) اب مدرسہ نہیں جاسکتیں۔ وہ اپنے علم کی حد تک نماز اور تلاوت وغیرہ گھروں میں ادا کرتی ہیں (اور بلاشبہہ ان عبادات میں بھی بے شمار غلطیاں کرتی ہیں)۔ صرف رمضان کا ایک مہینہ ان کو ملتا ہے کہ وہ تراویح میں باجماعت شریک ہوسکیں (پہلے یہ اسی مسجد میں تراویح میں شریک ہوتی تھیں اور تحریری پرچے بھیج کر اپنے مسائل امام صاحب سے پوچھتی تھیں اور جواب حاصل کرتی تھیں)۔ اس کے علاوہ بعداز تراویح قرآن کریم کا ترجمہ‘ تلخیص وغیرہ کا بیان ان کے دینی علم میں اضافے کا اہم ذریعہ تھا۔ اب بحکمِ صدر اس ’ذریعہ‘ ہی کو ختم کردیا گیا۔ اس حوالے سے قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمایئے۔

جواب: گذشتہ ۱۰‘ ۱۵ سال سے ہمارے معاشرے میں ایک صحت مند تبدیلی یہ آئی ہے کہ نہ صرف مساجد میں بلکہ رمضان کے دوران کشادہ گھروں میں مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ صلوٰۃ تراویح کے ساتھ مضامین قرآن کا خلاصہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ اسلام آباد جیسے جدیدیت کے شکار شہر میں بھی شاید ہی کوئی سیکٹر ایسا ہو جہاں اس طرح کا اہتمام نہ کیا جا رہا ہو۔ لیکن اکثر مساجد میں ابھی تک خواتین کے لیے الگ جگہ کا بندوبست نہیں ہے۔ استثنائی طور پر فیصل مسجد اور مسجدالمومنین میں خواتین کے لیے الگ منزل اور علیحدہ راستے کا بندوبست ہے تاکہ بغیر کسی اختلاط کے وہ نمازِ جمعہ اور صلوٰۃِ تراویح میں شرکت کرسکیں۔

سوال کا تعلق تین بنیادی امور سے ہے۔ اوّلاً: کیا نماز کے لیے عمومی طور پر خواتین کا مساجد میں آنا ممنوع ہے؟ ثانیاً: کیا صلوٰۃ التراویح یا عیدین یا جمعہ کی حیثیت عام فرض نمازوں کی ہے یا ان کا بنیادی مقصد اجتماعی تعلیم و تربیت سے ہے؟ثالثاً :کیا مساجد میں خواتین کے آنے سے فتنے کا امکان بڑھ جاتا ہے؟

فرض عبادات میں نماز‘ زکوٰۃ‘ صوم اور حج میں ایک ترجیحی تعلق پایا جاتا ہے اور اسی بنا پر  یوم الحساب میں بھی صلوٰۃ کی جواب دہی کو اولیت دی گئی ہے۔ یہ مردوں اور عورتوں پر بلاکسی تفریق کے فرض ہے۔ مردوں کے لیے جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کو زیادہ اجر کا مستحق قرار دے کر شارع اعظمؐ نے یہ وضاحت بھی فرما دی کہ بوجوہ خواتین اگر مسجد نہ جاسکیں تو ان کے اجر میں کمی واقع نہیںہوگی۔ چنانچہ احادیث صحیحہ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ ان کی گھر میں ادا کردہ نماز کا اجر مسجد میں ادا کی گئی جماعت کے اجر کے مساوی ہے۔

اس کے باوجود حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ کی اہلیہ محترمہ یہ جاننے کے باوجود کہ حضرت عمرؓ ان کے مسجد جانے کو پسند نہیں کرتے‘ مسلسل مسجد جاتی رہیں اور اس انتظار میں رہیں کہ اگر حضرت عمرؓ پسند نہیں کرتے تو اس کا اظہار اپنی زبان سے کریں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ  حضرت عمرؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث صحیح کی بنا پر کہ جب تم میں سے کسی کی عورت اس سے اجازت مانگے تو پھر اسے مسجد جانے سے نہ روکے (صحیح بخاری) کی بنا پر اپنی فاروقیت کے باوجود اپنی اہلیہ کو مسجد جانے سے نہ روک سکے۔ وجہ ظاہر ہے کہ جس معاملے میں شارع اعظمؐ نے ‘ جن کی سنت قرآن کریم کی طرح ہر دور کے لیے حرفِ آخر ہے‘ ایک فیصلہ فرما دیا ہو اُسے    اُم المومنین سیدہ عائشہؓ کی یہ تمنا بھی کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حیات ہوتے اور مدینہ میں جس طرح خواتین مسجد جاتی تھیں خود ملاحظہ فرماتے تو شاید خواتین کا داخلہ مسجد میں منع فرما دیتے‘   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی اجازت کو تبدیل نہ کرسکی۔ گویا حلّت و حرمت کا انحصار  نصوص پر ہے محض بلوہ اور مصلحت عامہ کی بنا پر کسی چیز کو حرام یا حلال قرار نہیں دیا جا سکتا۔

شارع اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دفع شرکے لیے یہ بات تعلیم فرما دی کہ نماز کے بعد چند لمحات کے لیے مردانتظار کریں تاکہ پہلے خواتین وقار کے ساتھ چلی جائیں۔ اس کے بعد مرد دروازوں کا رخ کریں۔ جن مساجد میں خواتین کے لیے ایک حصہ مخصوص کردیا گیا ہو وہاں آنے جانے کا راستہ بھی الگ ہو‘ وہاں فتنے کا امکان صفرفی صد رہ جاتا ہے۔ ہاں‘ اگر کسی مقام پر مسجد کا وہ حصہ جو خواتین کے لیے مخصوص کیا گیا ہے کسی برائی کا مرکز بن جائے تو اصل فکر‘ برائی کے خاتمے کی کرنی ہوگی نہ کہ مسجد میں خواتین کے داخلے پر ممانعت کی۔ یہ ایسا ہی ہے کہ ایک ایسی مسجد میں جہاں صرف مرد ہی نماز کے لیے آتے ہوں‘ مسجد کے کسی گوشے میں کوئی نمازی کسی برائی کا ارتکاب کربیٹھے اور اس بنا پر مسجد میں مردوں کے داخلے پر پابندی لگا دی جائے۔ دین کے معاملات کا فیصلہ محض قیاس پر نہیں‘ حقائق اور تواتر پر کیا جاتا ہے۔ ایک نادر الوقوع قیاسی شکل پر نہیں کیا جاسکتا۔

دوسرے اہم پہلو کا تعلق اسلامی عبادات کے تعلیمی و تربیتی پہلو سے ہے۔ نماز اور خصوصی طور پر صلوٰۃ الجمعہ یا عیدین کی نمازیں تعلیم اور رشد و ہدایت کے حوالے سے ایک ادارے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حدیث صحیح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے موقع پرخواتین کی نماز میں شرکت کی اہمیت اس حد تک بیان فرمائی کہ اگر کوئی خاتون نماز ادا کرنے کی حالت میں نہ بھی ہو جب بھی اجتماعِ عید میں آئے اور آپؐ نے خود مردوں کو خطبہ دینے کے بعد خواتین کی طرف جاکر انھیں دعوت و تلقین فرمائی۔ گویا خطبۂ عید کے تعلیمی طرز اور تزکیے کے پہلو کے پیش نظر خواتین کے عیدگاہ میں آنے کی تاکید فرمائی۔ خطبۂ جمعہ جو ہمارے ہاں روایات کی نذر ہوگیا ہے اور اکثر طولانی بیانات کی بناپر اثرانگیزی کھو بیٹھا ہے‘ حتیٰ کہ عربی خطبے میں جسے بہت کم افراد ہی سمجھتے ہیں‘ ہم آج تک ’سلطان‘ کو ’ظلِ اللہ‘‘ قرار دے کر اس کی اہانت کو اللہ تعالیٰ کی اہانت قرار دیتے رہے ہیں‘ جب کہ جابرسلطان کے خلاف کلمۂ حق بلند کرنا اسلام کی روح ہے۔ اس خطبے کا اصل مقصد کسی بھی معاملے میں اُمت کی رہنمائی اور تزکیہ تھا۔ کبھی اس کا موضوع خالصتاً عقیدے کے مسائل ہوتے اور کبھی معاشرتی مسائل‘ جیسے فاطمہ بنت قیس کے حوالے سے خطبہ۔ گویا خطبہ ایک مختصر تعلیم اور یاد دہانی کا ذریعہ تھا اوراسی بنا پر اسے عبادت میں شامل کیاگیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان اہم اور حسّاس موضوعات پر صرف مردوں کی تعلیم کافی ہے یا ایسے اہم موقع پر خواتین کو بھی تعلیم و تزکیے کی ضرورت ہے۔ دین کا مدعا یہی نظر آتا ہے کہ اگر خواتین کے لیے مناسب طور پر مسجد میں ایک حصہ متعین ہے جہاں کسی اختلاط کا امکان نہ پایا جاتا ہو تو ان کے مسجد آنے اور اپنے علم میں اضافہ کرنے اور حقوق و فرائض کے حوالے سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے میں کسی شرعی اصول اور مقصد سے ٹکرائو نہیں ہوگا بلکہ ایسا کرنا مقاصد شریعہ کی تکمیل کا ذریعہ ہوگا۔ یہ بات نہ کسی جدیدیت کے خبط کی بنا پر کہی جارہی ہے اور نہ کسی بنیادپرستی کے الزام کے خوف سے۔ دین جیسا ہے اسے بغیرکسی کمی بیشی کے پیش کرنا ہی اعتدال کی راہ ہے۔

آج مسجد کے تدریسی‘ تربیتی اور دعوتی کردار کونمایاں کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ایک مسجد میں ایک فلور یا ایک حصہ‘ خواتین کے لیے مخصوص نہ ہو اور وہاں پر وہ    اپنے لیے باقاعدہ درسِ قرآن‘ لغتِ قرآن کی تعلیم‘ ملکی اور عالمی مسائل پر اور خواتین کے مسائل کے حوالے سے سیمی نار‘ ورکشاپ اور خطابات کا بندوبست نہ کریں۔

خواتین کی اعلیٰ دینی تربیت اور بالخصوص قرآن کریم سے وابستگی کے بغیر اُمت مسلمہ کا احیا ایک سہانا خواب ہے۔ تراویح کے دوران مرد تو ۱۵۰۰ سال سے قرآن کریم کو بغیر کسی انقطاع کے تواتر کے ساتھ سنیں اور قرآن کے حفظ و حفاظت کے عمل میں شامل ہوں لیکن خواتین کو اس عمل نیک سے الگ کردینا ایک صریح زیادتی ہے۔ کیا ان کا قرآن کریم کی مکمل تلاوت کا سننا اور اس پر غور کرنا اور مضامین قرآن کے خلاصوں کو سن کر اپنے معاملات کی اصلاح کرنا دین کا مقصود نہیں ہے۔ گویا تراویح ہو یا جمعہ کے اجتماع دونوں میں‘ اختلاط کے امکان کو ختم کرنے کے بعد‘ خواتین کا شرکت کرنا‘ قرآن و سنت کے منشا و مدعا سے پوری مطابقت رکھتا ہے۔

جہاں تک تیسرے پہلو کا تعلق ہے اللہ کے گھر میں جو بھی آتا ہے۔ عقل یہ بتاتی ہے کہ اس کا رخ اللہ کی بندگی اور اطاعت کی طرف ہوتا ہے۔ اب ہرمسجد کے ذمہ داران کا فرض ہے کہ وہ کس حد تک اس قلبی کیفیت کو مناسب نصیحت‘ ماحول اور سہولیات کے ذریعے دین میں رسوخ اور تقویٰ میں کمال کی طرف لے جاتے ہیں یا مسجد میں کسی تفریح گاہ کا سا ماحول پیدا کرکے اچھے خاصے بھلے انسانوں کو خطوات الشیطان کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ تحریکاتِ اسلامی کا منہج یہ رہا ہے کہ وہ انسانی زندگی کی گاڑی کے دونوں پہیوں کو یکساں طور پر اللہ کی رضا کے حصول اور تقویٰ کے اعلیٰ مقامات تک لے جانے کے لیے ایسا ماحول فراہم کرتی ہیں جس میں تزکیۂ نفس‘ حبِ الٰہی‘ اطاعت رسولؐ  اور طہارت و حیا کا پورا خیال رکھا جائے اور مسجد میں قیام و رکوع و سجود کے ذریعے یہ ہر نمازی کو  رزم گاہِ حیات میں طاغوت‘ کفر و ظلم کے خلاف صف آرا ہونے اور حق و صداقت کے لیے سینہ سپر ہونے کے قابل بنا سکے۔

اگر مسلکی تعصبات سے بلند ہوکر غور کیا جائے تو مسجد نبویؐ کے نظام کو ہرمسجد میں رائج کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بغیر کسی فتنے کے امکان کے خواتین کے لیے ایک حصے کو مخصوص کردیا جائے۔ مساجد کی تعمیر کے وقت اگر اس پہلو پر توجہ دے دی جائے تو ہم اُمت مسلمہ کے تزکیۂ نفس اور تربیت ِ اولاد کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے خواتین اور مردوں کے تعلق میں نمایاںا ضافہ کرسکتے ہیں۔ دینی حلقوں کا فرض ہے کہ وہ روایت پرستی سے نکل کر ان معاملات پر غور کریں۔ اگر خواتین حجاب اور شرم و حیا کے ساتھ زندگی کے بے شمار کام کرسکتی ہیں تو کس دلیل کی بنا پر وہ مسجد میں   اپنے رب کے نام کو بلند نہ کریں۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔ (ڈاکٹر انیس احمد)