مارچ ۲۰۱۱

فہرست مضامین

کتاب نما

| مارچ ۲۰۱۱ | کتاب نما

Responsive image Responsive image

چند عصری مسائل، ڈاکٹر انیس احمد۔ ناشر: منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۴۹۰۹- ۰۴۲۔ صفحات: ۴۱۰۔ قیمت: ۲۹۶ روپے۔

فقہی مسائل اور فتاویٰ کے حوالے سے جب بھی کسی کتاب کا تصور آتا ہے تو مشکل الفاظ، طویل جملے، بھاری بھرکم عبارتیں، جائز ہے، ناجائز ہے کی صورت میں عدالتی انداز کے حکم ذہن میں گھومنے لگتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد جو کہ تعلیم، علومِ اسلامیہ، تقابل ادیان اور دعوت و ابلاغ میں معروف مقام رکھتے ہیں، زیرتبصرہ کتاب میں رویتی اسلوب سے ہٹتے ہوئے عصری مسائل کا جواب دیا ہے اور عصرِحاضر کے ایک اہم تقاضے اور علمی ضرورت کو پورا کیا ہے۔

ڈاکٹر انیس احمد نے جس شجرِعلم کے سایے میں پرورش پائی، اس کی آبیاری سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے کی تھی جن کا داعیانہ انداز ان کے اظہارِ بیان پر غالب تھا۔ اس لیے آپ نے جب بھی کسی مسئلے کے جائز یا ناجائز کا فیصلہ سنایا تو پہلے پورے سلیقے سے معاملے کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیتے ہوئے، مسائل کو احسن انداز میں سمجھانے اور قائل کرنے کی کوشش کی۔ معاملے کے کسی جزو کی وضاحت پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس کے دینی، معاشرتی اور سماجی پہلوئوں کا جائزہ بھی لیا، تاکہ سائل فتوے پر عمل کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ بچار کرلے۔

یہ کہنا بہت آسان ہے کہ طلاق ہوگئی، چھوڑ دو، اختیار کرلو، لیکن سائل کو ایک اچھا مسلمان بنانا، اسے بہتر معاشرتی زندگی کے لیے تیار کرنا اور معاشرے کا مفید اور کارآمد فرد بنانا انتہائی ضروری ہے، تاکہ سائل ذہنی طور پر قائل اور قلبی طور پر مطمئن ہوجائے۔ زیرنظر کتاب میں بیش تر مسائل کا جواب دیتے ہوئے ایسا ہی اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں سید مودودیؒ کے انداز کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

بعض مسائل کے حوالے سے احساس ہوتا ہے کہ اگر فقہی مراجع کا ذکر نسبتاً مفصل انداز میں آجاتا تو شاید فقہی مزاج رکھنے والوں کی تشفی زیادہ ہوجاتی۔ بیش تر مسائل کے حوالے سے قرآنی آیات اور احادیث کا ذکر نسبتاً تفصیل سے کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے معاشرے میں مختلف قسم کے تعصبات میں پلنے والے لوگ اپنی جہالت اور ذاتی اختلافات کی بنا پر اُن فتاویٰ کو خاطر میں نہیں لاتے جن میں بعض معروف فقہا کا حوالہ موجود نہ ہو، حالانکہ قرآن و سنت کا حوالہ اصل ہے اور فقہاے اُمت نے انھی ذرائع سے مسائل کو سمجھا اور سمجھایا ہے۔

کتاب میں جدید و قدیم دونوں طرح کے مسائل کا ذکر موجود ہے جو عصری ضرورت کے حوالے سے کتاب کی معنوی اہمیت افادیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ چند مرکزی موضوعات حسب ذیل ہیں: lبچوں کو فقہ کی تعلیم lشادی سے قبل ملاقاتیں lپریشان کن گھریلو مسائل کا حل lمشترکہ خاندانی نظام: چند عملی مسائل lمساجد میں خواتین کی شرکتlتحدید نسل اور تربیت اولاد lٹیلی فون پر دوستی اور ریڈیو پروگرام میں گفتگو lانشورنس کا متبادل lاسلامی بنکاری: چند ذہنی الجھنیں    lمذہبی جماعتوں کی ناکامی lوقت اور صلاحیتوں کی تقسیم اور کارِ دعوت lآرمی میں رگڑا کی روایت l طبی اخلاقیات اور دواسازکمپنیاں۔ یہ فقہی مسائل ترجمان القرآن میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے ہیں، اور اب انھیں کتابی صورت میں یک جا شائع کیا گیا ہے۔کتاب خاص طور پر جدید مسائل سے دوچار نوجوانوں اور عام مسلمانوں کے لیے بہت مفید ہے۔ (حبیب الرحمٰن عاصم)


The Real Face of India: Myth and Realities ، ریاض احمد چودھری۔ ملنے کا پتا: فوکسی پلازا، فرسٹ فلور، ۴۳کمرشل ایریا، کیولری گرائونڈ، لاہور کینٹ۔ صفحات:۲۲۲۔ قیمت: ۶۰۰ روپے/۳۰ امریکی ڈالر۔

بھارت کو جمہوری ملک سمجھا جاتا ہے۔یہ تصویر کا صرف ایک پہلو ہے۔ تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ اپنی اقلیتوں کے ساتھ اس کا سلوک بے حد ناروا ہے۔ اس نے ہمسایہ ممالک میں سازشوں کے جال پھیلا رکھے ہیں۔کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو دبانے کے لیے ظلم و تشدد کا بازار الگ سے گرم کر رکھا ہے۔ ان میں سے ہر موضوع تفصیلی مطالعے کا حق دار ہے۔

مصنف پاکستان کے معروف صحافی ہیں۔ طویل عرصے تک روزنامہ پاکستان ٹائمز اور روزنامہ فرنٹیرپوسٹ کے ساتھ منسلک رہے۔ اُنھوں نے بھارت کی خارجہ پالیسی اور اس کے عالمی کردار کے حوالے سے موقع بہ موقع جو مضامین تحریر کیے، اُنھیں کتابی صورت میں یک جا کردیا گیا ہے۔ ان میں معلومات، تجزیہ اور بھارت کے اصل چہرے کی نقاب کشائی بھی ہے۔ آغاز میں بتایا گیا ہے کہ ہندومت نے کس طرح بدھ مت کو اُکھاڑ پھینکا۔ پھر اُن حالات کا تجزیہ کیا گیا ہے جن میں پاکستان وجود میں آیا۔ ایک باب میں ۲۰کروڑ اچھوتوں کا تذکرہ ہے۔ علاوہ ازیں ۱۹۸۴ء میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کے قتلِ عام کا ذکر، پھر تحریکِ آزادیِ کشمیر ایک لاکھ کشمیریوں کی شہادت کا تذکرہ ہے۔ دوسری جانب بھارت کے کروڑوں لوگ خطِ غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن میں بڑی تعداد اقلیتوں کی ہے۔ مصنف کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ان حالات کے باوجود بھارت ۷ء۳۲ ارب ڈالر دفاعی بجٹ پر کیوں خرچ کرتا ہے؟

کتاب سے بھارت کی اندرونی تصویر بھی سامنے آتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ۱۹۹۷ء اور ۲۰۰۵ء کے درمیان ڈیڑھ لاکھ بھارتی کسان خودکشی کرچکے ہیں مگر داخلی مسائل حل کرنے کے بجاے بھارتی حکومتوں کی تمام توپوں کا رُخ پاکستان، چین اور بنگلہ دیش کی طرف ہے۔  مختلف بھارتی صوبوں میں علیحدگی کی تحریکیں جاری ہیں: اُڑیسہ، جھاڑکھنڈ اور چھتیس گڑھ کی تحریکیں، مسلح باغیوں کے ہمراہ سرگرمِ عمل ہیں۔ نیکسلائیٹ تحریک ان میں سب سے نمایاں ہے۔ خالصتان کی تحریک کے بارے میں بھی تفصیلی مضمون شامل ہے۔

اس جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ بھارت کی اکثریتی حکومت، اقلیتوں کے خلاف ناروا اقدامات کرتی رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ’شیوسینا‘ جیسی انتہاپسند تنظیموں کی سرپرستی بھی جاری  ہے، جو بھارت میں غیرہندو کے باقی رہنے کے حق ہی میں نہیں ہیں۔ جس کا نتیجہ مساجد اور گرجا گھروں کو آگ لگانے اور مسلمانوں کو زندہ جلائے جانے (احمدآباد) جیسے واقعات کی  صورت میں نکلتا رہتا ہے۔ بھارتی مسلح افواج کے غیراخلاقی کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس پہلو کا تفصیل سے جائزہ لینے کی ضرورت تھی۔ تاہم عام بھارتی فوجی اور سینیر جرنیل تک ایسے ایسے اخلاقی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں جس کی مثال دنیا کی دیگر فوجوں میں مشکل ہی سے ملے گی۔

مصنف کا کہنا ہے کہ بھارت افغانستان کی موجودہ حکومت کے ساتھ مل کر پاکستان کا گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین، نیپال،مالدیپ، بنگلہ دیش، بھوٹان میں بھارتی کارروائیوں کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے اور قارئین کو یہ حقیقت بتائی گئی ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کودبانے کے لیے کس قدر وحشیانہ قوت کا استعمال کیاہے۔ نہ اُسے اقوامِ متحدہ کا اندیشہ ہے نہ امریکا کا ڈر۔ بچوں، بوڑھوں، عورتوں، مردوں کے ساتھ جس درندگی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اُس کی تفصیلات مضامین کی صورت میں بھی موجود ہیں اور درجنوں تصاویر بھی شامل کردی گئی ہیں جن کو دیکھ کر انسان کانپ اُٹھتا ہے۔ اس کتاب کا خاص باب ’پانی کے مسئلے‘ کے بارے میں ہے۔ اس معاملے میں بھارت نے پاکستان کو قحط زدہ ملک بنانے کی مسلسل کوشش کی ہے۔ ادھر پاکستانی حکمران ہیں جو ہرقیمت پر بھارت سے صلح کرنا چاہتے ہیں۔

کتاب میں حقیقت پسندانہ تجزیے سے بھارت کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ تاہم جن موضوعات پر قلم اُٹھایا ہے اُن میں سے ہر موضوع پر ایک نہیں کئی کتابیں تحریر کی جانی چاہییں۔ مصنف، پاکستانی قوم کی طرف سے شکریے کے مستحق ہیں کہ جنھوں نے اپنے قلم کو بھارت جیسے ملک کے حقیقی چہرے کو سامنے لانے میں صرف کیا۔ (محمد ایوب منیر)


اُردو میں حج کے سفرنامے، ڈاکٹر محمد شہاب الدین۔ ناشر: یونی ورسل بُک ہائوس، عبدالقادر مارکیٹ، جیل روڈ، علی گڑھ، بھارت۔ صفحات: ۵۲۸۔ قیمت: ۲۹۵ روپے (بھارتی)

حج بیت اللہ ایک سعادت ہے، جو کروڑوں لوگوں میں چند لاکھ کو نصیب ہوتی ہے۔ اس محرومی کے مادی اسباب میں: کہیں عزم و ارادے کی کمی، کہیں ترجیحات کا نقص اور کہیں مالی تنگ دستی آڑے آتی ہے۔ تاہم ہرمسلمان کا دل اپنے مولد و مسکن وطن کے علاوہ جس خطۂ زمین میں اٹکا رہتا، یا اس خاکِ ارضی کی طرف لپکتا ہے، وہ ہے ارضِ حجاز، حرمین الشریفین۔

ایسے خوش نصیبوں میں اب تک کروڑوں لوگوں نے اس سفرِفوزوفلاح سے اپنے روحانی وجود کو معطر کیا ہے، تاہم چند ہزار ایسے بھی ہیں جنھوںنے اس جادۂ شوقِ محبت کی کیفیات و تاثرات کو قلم بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ زیرنظر کتاب، اُردو میں لکھے اور شائع شدہ ایسے ہی سفرناموں کا ایک فنی اور تاثراتی جائزہ ہے۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ مصنف نے تمام شائع شدہ سفرناموں کو جانچا، پرکھا ہے، البتہ پاکستان اور بھارت وغیرہ میں شائع ہونے والی ایک قابلِ ذکر تعداد کو ضرور پیشِ نظر رکھا ہے۔

ابتدا میں سفرنامہ حج پر بحیثیت صنفِ ادب بحث کی گئی ۔ مصنف لکھتے ہیں: ’’حج نامہ وہ بیانیہ صنفِ ادب ہے، جس میں حج نامہ نگار، دورانِ سفرحج یا سفر سے واپسی پر اپنے مشاہدات، واقعات، تجزیات اور قلبی تاثرات کو تحریر کرتا ہے‘‘ (ص ۳۳)۔ ’’حج کا سفر مادی دنیا سے روحانی دنیا کا سفر ہے… اس سفر میں بندہ اپنے رب کے گھر کی عظمت سے بھی آشنا ہوتا ہے… حج کا سفر، سفرِآخرت کی مشق بھی ہے‘‘ (ص ۳۴)۔ ’’حج نامہ نگار جب سرزمینِ حجاز میں سفر کرتا ہے تووہ محض حال ہی کا اسیر نہیں ہوجاتا، بلکہ اس کے ساتھ وہ ماضی میں بھی سفر کرتا ہے۔ وہاں کی ہر چیز کو نہایت شوق و تجسس کے ساتھ دیکھتا ہے۔ منظر وموضوع کی وحدت کے باوجود حج ناموں میں جذبات نگاری اور منظرکشی میں خاصا تنوع نظر آتا ہے‘‘ (ص ۳۶)۔ اس تجزیاتی باب میں فنی گہرائی اور ادبی کمال کے ساتھ تنقید نگاری کی گئی ہے۔

اُردو حج ناموں کا پس منظر زیربحث لاتے ہوئے متعین کیا ہے کہ اُردو میں پہلا سفرنامہ حج ماہِ مغرب المعروف کعبہ نما از منصب علی خاں ۱۸۷۱ء میں شائع ہوا۔ ۱۹۰۱ء تا ۲۰۰۹ء تک کے سفرناموں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ حج کے اُردوتراجم پر نہ صرف بحث کی گئی ہے، بلکہ  چنیدہ حج ناموں سے اقتباسات پیش کر کے، قاری کو طرزِ بیان کی گوناگوں لذتوں سے خوش کام کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ادبی حوالے سے ایک قیمتی اضافہ تو ہے ہی، مگر ساتھ ساتھ قاری کے دل و دماغ کو اس مرکز ثقل سے جوڑنے کا وسیلہ بھی ہے، جسے ہم دو لفظوں سے متعین کرتے ہیں: حرمین الشریفین۔ (سلیم منصور خالد)


مکاتیب طالب ہاشمی بنام مولانا عبدالقیوم حقانی، ترتیب: حافظ عبیداللہ عابد۔ ناشر:    القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہ، برانچ پوسٹ آفس خالق آباد، ضلع نوشہرہ۔ صفحات: ۲۰۵۔ قیمت: درج نہیں

مشاہیر کے خطوط کو چھاپنے کا رجحان روز افزوں ہے۔ اس کتاب میں طالب ہاشمی مرحوم کے ۱۹۹۲ء سے ۲۰۰۷ء تک کے ۸۱ خطوط کو زمانی ترتیب سے یک جا کیا گیا ہے۔ تین دیباچوں میں مکتوب الیہ، مرتب کتاب اور حافظ محمد قاسم نے مرحوم کی شخصیت اور اُن سے اپنے روابط پر روشنی ڈالی ہے (ان میں تکرار ہے، ایک ہی دیباچہ کافی تھا)۔ ہرخط کے موضوع کے اعتبار سے خط کا  مختصر یا طویل عنوان قائم کیا گیا ہے، مثلاً: ’’اماں جی مرحومہ و مغفورہ۔ ماہنامہ القاسم کے ساتھ والہانہ محبت۔ علامہ شبلی سرسیّد کے ہم کیش اور ہم عقیدہ نہیں تھے۔ سرسیّد کے عقائد و نظریات سے تو مجھے گِھن آتی ہے۔ ذرا ذرا سی بات کا دھیان اور کمالِ احتیاط۔ ٹکٹ لگانے اور بُک پوسٹ کے بارے میں مشورہ۔ قابلِ رشک علمی اور اشاعتی مقام اور اصلاحِ تلفظ و اِملا۔ بعض اُردو الفاظ کی ترکیب اور تذکرۃ المصنفین‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ایک دل چسپ بات یہ ہے کہ بعض مشاہیر جیسے    علامہ اقبال اور رشیداحمد صدیقی کی طرح طالب ہاشمی نے بھی اپنے خطوط نہ چھاپنے کی ہدایت کی مگر اقبال اور رشیداحمد صدیقی کی طرح طالب ہاشمی کے مکتوب الیہ نے بھی اس ہدایت کو نظرانداز کرتے ہوئے زیرنظر مجموعہ شائع کردیا ہے (اس کی افادیت میں کلام نہیں)۔

ان خطوں سے طالب ہاشمی کا طبعی انکسار، درویشانہ افتادِ طبع، علمی کاموں میں اُن کا انہماک، تاریخی واقعات کی صحت کے لیے فکرمندی اور کوشش و کاوش وغیرہ کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ القاسم اکیڈمی کی مطبوعات اور ماہنامہ القاسم کے خاص نمبروں کی تعریف کرتے مگر دوسرا رُخ بھی دکھاتے تھے، یعنی تبصرہ کرتے ہوئے بڑے حکیمانہ طریقے سے حقائق و واقعات اور کتابت اور اِملا کی غلطیوں کی نشان دہی بھی کرتے اور ساتھ ہی لکھ دیتے کہ ’’چھوٹے موٹے تسامحات تو ہرعلمی اور تحقیقی کتاب میں رہ جاتے ہیں۔ ان سے نہ مصنف کی عظمت پر کوئی حرف آتا ہے اور نہ شارح کی عظمت پر (ص۴۴)۔ اپنے بارے میں لکھتے ہیں: ’’جب میری کسی تالیف کی کمزوریوں کی کوئی صاحب نشان دہی کرتے ہیں تو مجھے بے حد مسرت ہوتی ہے اور میں تبصرہ نگار کا شکرگزار ہوتا ہوں‘‘ (ص ۵۳)۔ مکتوب نگار بعض الفاظ کے تلفظ، عربی الفاظ پر اعراب اور بعض کے اِملا کے بارے میں بہت حسّاس تھے لیکن مرتب اور ناشر نے طالب ہاشمی کے خط چھاپتے ہوئے ان کے اِملا کا خیال نہیں رکھا (سہواً یا ازراہِ غفلت)، مثلاً ان کے نزدیک رویئے، دعوئوں، لیجئے، دیئے، سینکڑوں وغیرہ غلط، اور رویّے، دعووں، لیجیے، دیے، سیکڑوں صحیح ہے۔ مگر کتاب میں کئی مقامات پر غلط املا اختیار کیا گیا ہے، مثلاً: ص۲۰، ۱۶۵ وغیرہ ۔

اگرچہ بظاہر ان خطوں کے عنوانات بہت ہی عمومی قسم کے معلوم ہوتے ہیں، لیکن بعض خطوں میں نہایت فکرانگیز اور پتے کی باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں، مثلاً: ’’کسی کے روحانی مقام و مرتبے کا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کوعلم نہیں‘‘ (ص ۱۵۵)،’’قول و فعل کا تضاد اور اخلاصِ عمل کا فقدان، یہ ہیں دو چیزیں جو ہمارے ملک کے ۹۰ فی صد مشائخ کو لے ڈوبی ہیں‘‘ (ص ۵۹)۔  وقت کے حکمرانوں سے ’فیض‘ پانے والے علما اور مشائخ کے بارے میں طالب ہاشمی نے بہت سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔ مدیر القاسم سے گزارش ہے کہ وہ موعودہ ’مکاتیب ِ مشاہیر نمبر‘ میں صحت اِملا کا خاص خیال رکھیں اور پروف خوانی بھی زیادہ توجّہ اور کاوش سے کروائیں۔ اگر ہرخط کو نئے صفحے سے شروع نہ کریں اور ہرخط پر جَلی عنوان نہ لگائیں تو نمبر کی ضخامت کم ہوگی اور قیمت بھی۔ (رفیع الدین ہاشمی)

تعارف کتب

  •  خانگی زندگی اور اسوئہ حسنہ ، ڈاکٹر سید عزیز الرحمن۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، کراچی۔ تقسیم کار: اکیڈمی بُک سنٹر، ڈی ۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی۔ فون: ۳۶۳۴۹۸۴۰-۰۲۱۔ صفحات: ۴۶۔ قیمت: ۴۰ روپے۔ [نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ سے خانگی زندگی کے مختلف پہلوئوں (خاندان، والدین سے رویہ، بحیثیت شوہر، اولاد سے تعلق، اہلِ قرابت سے روابط، ملازمین سے رویہ) کو پیش کیا گیا ہے۔ اہلِ خانہ کے حقوق اور خاندان کے استحکام، نیز پُرمسرت گھریلو زندگی پر سیرتِ طیبہ سے عملی رہنمائی۔]
  •  ہند، ہندی اور ہندستان ، شفق ہاشمی۔ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی۔ تقسیم کار: اکیڈمی بُک سنٹر، ڈی-۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی ۷۵۹۵۰۔ صفحات: ۱۸۔ قیمت: درج نہیں۔[ہندی زبان اور ہندستان کے بارے میں ایک تہذیبی اور لسانیاتی مختصر مگر جامع جائزہ۔ مصنف کے بقول: برصغیر کی یہ اکثریتی قوم جو خود کو ہندو اور اپنے دھرم کو ہندومت کہتی ہے، اب تک یہ بتانے سے قاصر ہے کہ آخر یہ نام اور نسبت انھیں کہاں سے ملی؟ درحقیقت ’ہند‘ عربی الاصل ہے۔ عرب اس خطے کو بلاد الھند والسند کہتے تھے۔ ہندی لفظ ’کالکی اوتار‘ کا مطلب بھی نبی آخرالزماںؐ بنتا ہے۔ حقائق و شواہد بتاتے ہیں کہ یہ قوم بھی ایک روز اپنے اصل کی طرف رجوع کرے گی۔]
  •  خاندان کو لاحق خطرات اور ممکنہ لائحہ عمل ، پروفیسر ڈاکٹر جہاں آرا لطفی۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی۔ تقسیم کار: اکیڈمی بُک سنٹر، ڈی-۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی ۷۵۹۵۰۔ صفحات: ۲۴۔ قیمت: ۲۰ روپے۔[کسی بھی تہذیب و تمدن کی اساس، خاندان کو لاحق ممکنہ اندرونی و بیرونی خطرات، نیز     ان معاشرتی مسائل کا تذکرہ جو خاندان کو کمزور کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔]
  •  آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ، [قانتہ رابعہ۔ ناشر: ادبیات، ملنے کا پتا: ادارہ مطبوعاتِ سلیمانی،    رحمان مارکیٹ، غزنی سٹریٹ ،اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۳۲۷۸۸۔ صفحات: ۲۲۴۔ قیمت: ۱۸۰ روپے۔ [اقدار کی زبوں حالی اور معاشرے کی شکست و ریخت کی نشان دہی اور اصلاح پر مبنی دل چسپ اور معاشرتی  افسانے۔ ایک مثبت سوچ اور قادرِمطلق کی وحدانیت پر کامل یقین دلانے کی کاوش۔]
  •  انبیاء کرام ؑکا بچپن ، تالیف: عبدالوارث ساجد، نظرثانی: احمد درویش۔ ناشر: صبح روشن پبلشرز، چیٹرجی روڈ، اُردوبازار،لاہور۔ فون: ۴۲۷۵۷۶۷-۰۳۲۱۔ صفحات: ۱۹۲۔ قیمت:۱۴۰ روپے۔[نبی رحمتؐ اور دیگر   سات انبیاے کرام ؑ کا تذکرہ۔ اگرچہ واقعات کے چنائو میں احتیاط برتی گئی ہے تاہم بعض مقامات پر اسرائیلی روایات کا اثر بھی ملتا ہے۔ بچوں کے لیے دل چسپ، افسانوی انداز میں معلوماتی اور مفید کتاب۔]
  •  باتیں سمندروں کی ، پروفیسر ڈاکٹر وقار احمد زبیری۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی۔ تقسیم کار:  اکیڈمی بُک سنٹر، ڈی-۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی ۷۵۹۵۰۔ صفحات: ۳۶۔ قیمت: درج نہیں۔[کہانی ہی کہانی میں بچوں کے لیے مختلف سمندروں (بحرالکاہل، بحراوقیانوس، بحرہند، بحراحمر، بحرمردار، بحرکیسپین، بحرروم) کے متعلق دل چسپ معلومات، نیز: سمندر میں مدوجزر کا بننا، پانی کا نمکین ہونا، مختلف خطرات کے تذکرے کے ساتھ ساتھ سمندر کے اندر پائی جانے والی مختلف اقسام کی مچھلیوں اور دیگر آبی حیوانات وغیرہ کے بارے میں رنگین تصاویر کے ساتھ اہم معلومات۔]

جادو، جنات سے بچاؤ کی کتاب، حافظ عمران ایوب لاہوری پر تبصرہ جنوری (۲۰۱۱ء) میں شائع ہوا۔ کتاب ملنے کا درست پتا یہ ہے: نعمانی کتب خانہ، حق سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور فون: ۴۲۰۶۱۹۹-۰۳۰۰