اکتوبر ۲۰۲۳

فہرست مضامین

مسئلہ کشمیر، ہندستان اور عالمی ردعمل

ڈاکٹر غلام نبی فائی | اکتوبر ۲۰۲۳ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

 

’جی۲۰سربراہی اجلاس‘ جو۹-۱۰ ستمبر ۲۰۲۳ء کو نئی دہلی میں ’’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘‘ کے خوش نما نعرے کے تحت منعقد ہوا۔ دنیا کی بڑی معیشتوں کے رہنمائوں نے دیگر مسائل کے علاوہ 'بین الاقوامی امن کی حفاظت، اور 'پائیدار ترقی اور نمو، پر تبادلۂ خیال کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بین الاقوامی امن، ترقی اور نمو اور مسئلہ کشمیر کے حل کے درمیان بھی کوئی تعلق ہے؟

یاد رہے اس گروپ کے چند ارکان ممالک پہلے ہی مختلف اوقات میں اس موضوع پر واضح موقف اختیار کرچکے ہیں:

  • جنوبی افریقا کے صدر نیلسن منڈیلا نے ۲ستمبر۱۹۹۸ء کو کہا تھا:’’ہم سب فکرمند ہیں کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ پُرامن مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے اور اس مسئلے کے حل کے لیے ہمیں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنے کے لیے مستعدی کا مظاہرہ کرنا چاہیے‘‘۔
  • جاپانی نائب وزیر اعظم سوتومو ہاتا نے ۴جولائی ۱۹۹۵ء کو کہا تھا: ’’کشمیر ایک نازک مسئلہ ہے اور جب تک بھارت اس بنیادی مسئلے کو حل کرنے کے لیے پہل نہیں کرتا، جنوبی ایشیا میں امن کو خطرہ لاحق رہے گا‘‘۔
  • روسی صدر ولادیمیر پوتن نے۳ دسمبر۲۰۰۴ء کو موقف بیان کیا تھا:’’ہندستان اور پاکستان کو جنوبی ایشیا اور باقی دنیا میں امن کے مفاد میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہیے‘‘۔
  • جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیرباک نے ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۲ء کو کہا:’’جرمنی کا کشمیر کی صورتِ حال کے پیش نظر ایک کردار اور ذمہ داری ہے۔ اس لیے ہم خطے میں پُرامن حل تلاش کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی فعال شمولیت کی بھرپور حمایت کرتے ہیں‘‘۔
  • ترکی کے صدر طیب اردغان نے ۱۸؍اگست ۲۰۱۹ء کوکہا: ’’ہم مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے حق میں ہیں۔ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم کشمیر کے منصفانہ حل کے حق میں ہیں‘‘۔
  • چینی وزیر خارجہ کن گینگ نے یکم مئی ۲۰۲۳ء کو کہا تھا:’’کشمیر کے تنازع کو اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کے مطابق مناسب اور پُرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے‘‘۔
  • انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان ٹیوکو فیضسیہ نے ۷؍اگست ۲۰۱۹ء کو کہا: ’’باہمی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کیا جائے اور تصادم سے بچا جائے‘‘۔
  • عالمی بنک کے (سابق) صدر، جیمز ڈبلیو ولفنشن نے فروری ۲۰۰۵ءمیں کہا تھا:’’تنازعۂ کشمیر کے پُرامن حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام واپس نہیں آسکتا‘‘۔
  • محقق اورسٹینلے ولپورٹ، یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا کے پروفیسر ایل اے روٹ کے مطابق:’’خطے میں اس وقت تک دیرپا استحکام نہیں آسکتا جب تک کہ کشمیر کا تنازع پُرامن اور منصفانہ طریقے سے جلد از جلد حل نہیں ہو جاتا‘‘۔

ہم نے یہاں یاددہانی کے لیے یہ موقف پیش کیے ہیں، تاکہ جی ۲۰ ممالک کی قیادت اس حقیقت کو سمجھ سکے کہ کشمیر میں امن کے لیے ابھی موقع موجود ہے۔ ہندستان، کشمیر میں استصواب رائے کے انعقاد کا وعدہ پورا کرکے دنیا پر ثابت کرسکتا ہے کہ وہ واقعی ایک جمہوری ملک کہلانے کا حق دار ہے، نہ کہ مسلسل جارح اور عسکری جابر جیساکہ وہ بن گیا ہے۔ پی چدمبرم، جو کہ ہندستان کے تجربہ کار سفارت کار ہیں، انھوں نے ۳۱ جولائی ۲۰۱۶ء کو کہا تھا:’’اگر ہندستان چاہتا ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ ہندستان سے پیار کریں، تو اس کا واحد راستہ استصواب رائے عامہ ہے‘‘۔

دُنیا کے امن اور انصاف پسند چاہتے ہیں کہ جی۲۰ ممالک اس بات کو سمجھیں کہ تجارت اور تجارتی معاہدے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن یہ تجارت اعلیٰ اخلاقی اور عالمی اصولوں کی قیمت پر نہیں، جن کا عالمی طاقتوں نے ہمیشہ دعویٰ کیا ہے۔ اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق ہی مہذب کہلانے کی روح ہیں۔ کشمیر میں جمہوریت اور انسانی حقوق سے انکار، خاص طور پر حقِ خود ارادیت سے محرومی نے جوہری ہتھیاروں اور میزائل کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کو جنم دیا ہے۔ کشمیر ۷۶ برس سے زیادہ عرصے سے پاک بھارت تعلقات میں رستا ہوا زخم ہے۔ اسی لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے چاردیگر بین الاقوامی این جی اوز کے ساتھ مل کر ۲۴؍اگست ۲۰۲۳ء کو جی ۲۰ ممالک کو خط لکھا تھا کہ وہ بھارت کو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے اور جیلوں میں بند انسانی حقوق کے محافظوں اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے پر مجبور کریں۔ ہندستانی وزیر اعظم مودی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پیسے کے زور پر جموں و کشمیر کے مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے جبر، سڑکوں پر تشدد، عصمت دری، قتل اور گمشدگیوں کے مسلسل صدمے کے مستقل اور غیر مستحکم ماحول کو دُور نہیں کیا جاسکتا، جو کشمیر میں ہندستان کی تاریخ کی پہچان چلا آرہا ہے۔

محض نعروں، دعوئوں، اقتصادی پیکج اور جی ۲۰ ٹورازم ڈپلومیسی سے مسئلہ کشمیر کبھی حل نہیں ہوگا۔ کشمیر ایک بین الاقوامی اور انسانی مسئلہ ہے، جس کا سیاسی حل ضروری ہے۔ مسئلہ کشمیر کے   حل کے لیے درج ذیل فوری اقدامات ضروری ہیں: lکشمیر میں بھارتی مسلح افواج کے وحشیانہ تشدد کو جلداز جلد ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی مداخلت l جنگ بندی لائن کے دونوں طرف ریاست جموں و کشمیر کو غیرفوجی علاقہ قرار دیا جائے lمحمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم ، آسیہ اندرابی ، خرم پرویز اور دیگرتمام سیاسی قیدیوں کی رہائیl ہندستان، پاکستان اور جموں و کشمیر کے لوگوں کی قیادت سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان سیاسی مذاکرات کا آغاز ہو، تاکہ جمہوری اور پُرامن حل کے لیے فضا ہموار کی جاسکے۔

یاد رہے، ۱۹۳۸ء میں، برطانوی وزیر اعظم، نیویل چیمبرلین نے چیکوسلواکیہ کے لیے نازی خطرے کا مذاق اُڑایا تھا: ’’یہ ایک دُور دراز ملک کے بارے تنازع ہے‘‘، مگر اس کی غیرذمہ دارانہ غفلت نے دوسری جنگ عظیم کو جنم دیا۔ جی ۲۰ کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے اور اسی طرح کی تباہی سے بچنے کے لیے کشمیر کو نظر انداز کرنا بند کرنا چاہیے۔