بات بہت واضح ہے۔ تاریخ کا لمحہ لمحہ گواہ ہے کہ مسئلہ آزادی، ایمان اور عزت کی حفاظت کا ہو یا ظلم و استبداد کے نظام سے نجات اور اعلیٰ مقاصد حیات کے حصول کا___ یہ بازی صرف ایک ہی طریقے سے سر کی جاسکتی ہے اور وہ عبارت ہے مسلسل اور پیہم جدوجہد، ایثار اور قربانی سے۔ اس حیات آفریں عمل ہی کو شریعت نے جہاد کا نام دیا ہے اور اس کے مقاصد و اہداف، اصول و آداب اور قواعد و ضوابط کار کا بھی پوری وضاحت سے تعین کردیا ہے۔ یہ جدوجہد نیت اور سمت کی درستی کے ساتھ وقت، جان اور مال، غرض ہر چیز کی قربانی کا تقاضا کرتی ہے اور اگر اس جدوجہد میں نوبت جان کو جانِ آفریں کے سپرد کرنے کی آجائے تو اسے کامیابی کی معراج قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح جان دینے والے کی موت کو عرفِ عام کی موت سے یہ کہہ کر ممیز کردیا گیا ہے کہ یہی اصل حیات ہے:
ایک اور پہلو اس مقام کو حاصل کرنے والوں کی زندگی کا یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے روشن مثال قائم کرتے ہیں، انسان کو موت کے خوف سے بے نیاز کرتے ہیں، زندگی کو ان مقاصد کے لیے قربان کرنے کا داعیہ پیدا کرتے ہیں جو محض ایک فرد نہیں بلکہ پوری اُمت اور تمام انسانوں کو زندگی کے اس مفہوم سے آشنا کرتے ہیں جس سے زندگی زندہ رہنے کے لائق بنتی ہے (what makes life worth living)۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا اظہار اس طرح کیا گیا ہے کہ ع
شہید کی جو موت ہے ، وہ قوم کی حیات ہے
آج ایک خاص طبقہ کچھ مخصوص بلکہ مذموم مقاصد کے لیے ’جہاد‘ اور ’شہادت‘ کو ناپسندیدہ الفاظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن چاند پر تھوکنے سے چاند کی روشنی اور پُرکیف ٹھنڈک میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ ہر دور میں شہادت کا ہر واقعہ ایمان کی تازگی اور حق اور صداقت کی جدوجہد کرنے والوں کے لیے مہمیز دینے کا ذریعہ رہا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کے نتیجے میں بالآخر ظلم و استبداد کا ہرنظام سرنگوں ہوتا ہے اور آزادی، عزت، غلبۂ حق اور عدل و انصاف کی صبح طلوع ہوتی ہے۔ تاریخ کے در ودیوار سے یہ گونج مسلسل سنائی دیتی ہے کہ ؎
یہ خون جو ہے مظلوموں کا، ضائع تو نہ جائے گا لیکن
کتنے وہ مبارک قطرے ہیں، جو صرف بہاراں ہوتے ہیں
بھارتی غلبے اور استبداد کے خلاف جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی جدوجہد ہمارے دور کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اس جدوجہد میں جو سعید روحیں جان کا نذرانہ پیش کرتی ہیں، وہ دراصل اُمید کا ایک چراغ روشن کرتی ہیں۔ بھارتی ظلم و استبداد کا نشانہ بننے والی ہر روح تاریکیوں کو چیلنج کرنے والے ایک چراغ کی مانند ہے۔ اس سلسلے کی تازہ ترین مثال ۹فروری ۲۰۱۳ء کو دہلی کی تہاڑ جیل میں ایک بے گناہ مجاہد محمد افضل گورو کو تختۂ دار پر چڑھانے کے ظالمانہ اقدام کی شکل میں دیکھی جاسکتی ہے جس نے بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور اس کے عدالتی نظام کا اصل چہرہ ہی بے نقاب نہیں کیا، بلکہ عالمی قیادت کے اس مدعی ملک کی ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال بھی پوری دنیا کے سامنے پیش کردی ہے۔ یہ اس کے سیاسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت اور اس کی کشمیر پالیسی کی ناکامی کی علامت ہے۔
اس امر میں ذرا بھی شبہہ نہیں کہ یہ اقدام ایک مکروہ سیاسی چال ہے اور تحریکِ آزادیِ کشمیر کو نہ صرف یہ کہ اس سے ان شاء اللہ کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں اس جدوجہد کو نئی جِلا ملے گی اور نئی قوت میسر آئے گی۔ ذرا تصور کیجیے کہ ایک مظلوم انسان جسے ایک سازش کے تحت دہشت گردی کے ایک واقعے میں ملوث کیا گیا، اسے تین بار عمرقید اور دو بار پھانسی کی سزا دی گئی، جس کی (افسوس ہے کہ ) ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے کھلے بندوں، قانون اور عدل کی بنیاد پر نہیں، علانیہ طور پر سیاسی وجوہ سے توثیق بھی فرما دی۔ وہ ۱۳سال سے قید تنہائی میں تھا اور سات سال سے پھانسی کے تختے کا انتظارکررہا تھا۔ اسے اور اس کی اہلیہ کو قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اطلاع دیے بغیر اور آخری وقت میں بیوی اور بچے سے بھی ملنے سے محروم رکھ کر تختۂ دار پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں کرفیو لگا دیا جاتا ہے اور اخبارات، میڈیا، اور سیل فون تک کو خاموش کردیا جاتا ہے، اس کے باوجود مظلوم مجاہد کی جبیں پر کوئی شکن نہیں آتی۔ وہ فجر کی نماز پڑھ کر پورے اعتماد کے ساتھ تختۂ دار کی طرف شانِ استغنا کے ساتھ بڑھ جاتا ہے۔ اپنے خاندان اور تمام مسلمانوں کو پیغام دیتا ہے کہ ’’اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے اس مقام کے لیے چنا۔ باقی میری طرف سے آپ اہلِ ایمان کو مبارک ہو کہ ہم سب سچائی اور حق کے ساتھ رہے اور حق و سچائی کی خاطر آخرت میں ہمارا اختتام ہو۔ اہلِ خانہ کو میری طرف سے گزارش ہے کہ میرے مرنے پر افسوس کے بجاے اس مقام کا احترام کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو، اللہ حافظ!‘‘۔
یہ الفاظ کسی مجرم یا باطل سے دب جانے والے انسان کے نہیں ہوسکتے۔ یہ خطاب صرف اہلِ خانہ سے نہیں، تمام اہلِ ایمان سے ہے جو دلوں میں نیا ولولہ پیدا کریں گے اور اس جدوجہد کو نئی زندگی دیں گے۔ اس کا ایک ہلکا سا نظارہ ان واقعات میں بھی دیکھا جاسکتا ہے جو اس شہادت کے بعد رُونما ہوئے۔ ایک طرف خائف سوپر پاور ہے اور دوسری طرف بے سروسامان عوام___ لیکن وہ ہررکاوٹ کے باوجود احتجاج کر رہے ہیں۔ کرفیو ان کا راستہ نہیں روک سکتا اور گولی اور لاٹھی کی بوچھاڑ انھیں گھروں میں قید نہیں رکھ سکتی۔ بوڑھا سید علی شاہ گیلانی زیرحراست ہے لیکن اس کی آواز پر کشمیر کے مظلوم شہری ظالموں کے خلاف کمربستہ ہیں۔ دہلی تک میں مظاہرے ہوتے ہیں جن کی قیادت دہلی کالج کا وہی پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن گیلانی کر رہا ہے جس پر اس مقدمے میں شریکِ جرم ہونے کا الزام تھا، اسے بھی افضل گورو کے ساتھ سزاے موت ملی تھی جو بعد میں سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دی اور اسے بے گناہ قرار دیا۔ وہ نہ صر ف ا س احتجاج کی قیادت کر رہا ہے بلکہ برملا شہادت دے رہا ہے کہ محمد افضل گورو بے گناہ تھا اور اسے صرف اس لیے پھانسی کے تختے پر چڑھایا گیا ہے کہ وہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کا ایک مجاہد تھا اور اسے اس کے سیاسی خیالات کی وجہ سے موت کے گھاٹ اُتارا گیا ہے۔ مظاہرے میں شریک ہر نوجوان یہ عہد کر رہا ہے کہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کو جاری رکھے گا۔ بلاشبہہ افضل گورو کی شہادت سے اس تحریک کو ان شاء اللہ نیا ولولہ ملے گا۔
جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے، ۹فروری کی شہادت کی خبر سارے کرفیو اور تمام پابندیوں کے باوجود جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔ کرفیو کے علی الرغم عوامی احتجاج ہرسُو رُونما ہوا اور قربانیوں اور شہادتوں کی نئی تاریخ رقم ہونے لگی۔ ہڑتالوں کا سلسلہ ان سطور کے لکھنے تک جاری ہے اور کشمیر ہی نہیں، دنیا بھر میں کشمیری نوجوان، وہ بھی جو پہلے اس جدوجہد میں شریک نہیں تھے، اب نئے جذبے کے ساتھ مزاحمت کی تحریک میں شرکت کے لیے بے تاب ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی نامہ نگار برمنگھم یونی ورسٹی کی ایم فل کی ایک طالبہ عارفہ غنی کے اس عزم کا اظہار کچھ ان الفاظ میں کرتی ہے:
جب مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی تو میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ جب میں نے اس کے بارے میں کچھ پڑھا تو پھر وہ ہمارا ہیرو ہوگیا۔ گورو کی پھانسی کے بعد میں جس طرح محسوس کررہی ہوں اس طرح کبھی بھی محسوس نہیں کیا۔ مگر ہم اپنے بڑوں کی طرح ہتھیار نہیں اُٹھائیں گے۔ ہم زیادہ ذہانت سے ردعمل دیں گے۔
(نیویارک ٹائمز کے نمایندے کی رپورٹ جو دی نیشن کی ۱۸فروری ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں شائع کی گئی ہے)۔
یہ کیسی جمہوریت ہے اور یہ کیسی اُبھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے جو مجاہدین کی لاشوں سے بھی خائف ہے اور جس نے نہ مقبول بٹ شہید کی لاش اس کے لواحقین کو دی اور نہ اب افضل گورو کی لاش دینے کے لیے تیار ہے؟ لندن کے اخبار دی گارڈین کے کالم نگار نے کس طنز سے لکھا ہے کہ:
یہ بات ضرور پوچھی جانی چاہیے کہ بھارتی ریاست کیا کہنے کی کوشش کر رہی تھی؟ یقینا اس کی وضاحت سادگی سے اس طرح نہیں کی جاسکتی تھی جیساکہ بعض تجزیہ نگاروں نے کی ہے کہ یہ محض انتخابی سیاست کی مجبوریوں کا ایک مکروہ اظہار ہے۔ بلاشبہہ یہ وہ عمل ہے جس میں بھارت کی سیاسی پارٹیاں اپنے حریفوں سے آگے بڑھنے کے لیے نئی اخلاقی پستیوں میں ڈوبنے کے لیے بے چین ہیں لیکن یہ اقدام دراصل کشمیری عوام کے لیے ایک پیغام ہے کہ ایک قابض طاقت بے اختیار عوام کو پوری گھن گرج کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ تمھیں لازماً تعظیماً جھکنا پڑے گا۔ اس مقدمے کے اثرات پھانسی کے تختے سے بہت آگے بھی جاسکتے ہیں۔ اس کا تاریک سایہ ان کے بچوں کے لیے دودھ اور بزرگوں کے لیے دوائوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔دو لمحات تاریخ کا حصہ بنتے نظر آرہے ہیں۔ کشمیری، بھارت کی مزاحمت کی یاد میں گہری قبر کھود کر مقبرہ تعمیر کر رہے ہیں، اور بھارت بزدلانہ اعتراف کر رہا ہے کہ ایک کشمیری لاش بھی باغی ہوسکتی ہے، لہٰذا اسے جیل ہی میں ہمیشہ کے لیے مقید رہنا چاہیے۔
بھارتی قیادت کے عزائم اور اہلِ کشمیر کے لیے اس کا پیغام تو بہت واضح ہے۔ شہیدوں کی لاشوں تک سے ان کا خوف بھی الم نشرح ہے لیکن دی گارڈین کے مضمون نگار کا یہ خیال کہ جو قبریں سری نگر کے شہدا کے تاریخی قبرستان میں ان دو شہدا کے لیے بنائی گئی ہیں، وہ اپنے مکینوں کا انتظار کر رہی ہیں اور بس یادوں اور مزاحمتوں کا مقبرہ ہوں گی، شدید غلط فہمی پر مبنی ہیں۔ یہ قبریں تحریکِ مزاحمت کی علامت اور آزادی کی ناتمام جدوجہد کا عنوان ہیں۔ یہ آزادی کے کارواں اور اس راہ میں مزید قربانیوں کے لیے ایک تکبیرمسلسل کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس آرزو اور عزم کا اظہار بھی ہیں کہ ایک دن ان شاء اللہ جموں و کشمیر کے مسلمان بھارت کے قبضے اور استبدادی نظام سے نجات پائیں گے، اپنی آزاد مرضی سے اپنا مستقبل طے کریں گے اور پھر شہدا کی وہ لاشیں، جن سے آج وہ محروم کر دیے گئے ہیں، وہ انھیں حاصل کرسکیں گے اور وہ وقت دُور نہیں جب یہ خالی قبریں اپنے اصل مکینوں کو خوش آمدید کہہ سکیں گی۔
بلاشبہہ محمد افضل گورو کی شہادت کا واقعہ اس جدوجہد میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس پہلو کے ساتھ یہ واقعہ کئی اور حیثیتوں سے بھی بڑے غوروفکر کا مواد فراہم کر رہا ہے۔ ہم ان میں سے چند پہلوئوں پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں تاکہ حالات کو ان کے صحیح تناظر میں دیکھا جاسکے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے صحیح پالیسیاں اور مناسب حکمت عملیاں تیار کی جاسکیں۔
بھارت نے پہلے دن سے کشمیر کو صرف قوت کے ذریعے اور بدترین سامراجی حربوں کے بے محابا استعمال کے بل بوتے پر اپنی گرفت میں رکھا ہوا ہے اور وہ ظلم و استبداد کے مکروہ سے مکروہ تر اقدام کا ارتکاب کررہا ہے۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۱ء کی جنگ بندی تک اپنے قدم جمانے اور جنگِ آزادی کو کچلنے کے لیے بھارتی اور ڈوگرہ افواج نے چار لاکھ افراد کا خون بہایا اور ۱۹۸۹ء سے رُونما ہونے والے تحریکِ آزادی کے دوسرے دور میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو شہید کیا جاچکا ہے۔ لاکھوں زخمی ہوئے ہیں، ہزاروں لاپتا ہیں، ہزاروں جیلوں میں سڑرہے ہیں اور خاص و عام آبادی کے انسانی حقوق کو پوری بے دردی کے ساتھ پامال کیا جا رہا ہے۔ پاک باز خواتین کی آبروریزی بڑے پیمانے پر کی جارہی ہے اور جنسی زیادتی کو ایک جنگی حربے (military strategy) کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر میں ۷لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجی ظلم کی یہ داستان رقم کررہے ہیں اور ان کو ایک مہذب معاشرے کے ہر قانون سے، حتیٰ کہ جنگی قانون تک سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔ Armed Forces Special Powers Act ایک ایسا جنگل کا قانون ہے جس نے بھارتی فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کو دستور، قانون، جنگی قواعد و ضوابط اور سماجی روایات، ہرضابطے اور قاعدے سے آزاد کردیا ہے۔
جموں و کشمیر میں جو خونی کھیل کھیلا جارہا ہے اسے تمام دنیا کے میڈیا اور عالمی مبصرین کے لیے ’نوگو ایریا‘ بنادیا گیا ہے تاکہ دنیا اس سے بے خبر رہے جو کچھ مجبوروں کی اس بستی میں کیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں محمدافضل گورو کی گرفتاری کا مقدمہ، اس کی قیدتنہائی، اس پر تعذیب کی دل خراش داستان، اس کی سزا، اس کی رحم کی درخواستوں پر کیا جانے والا معاملہ، اس کی پھانسی، پھانسی کی اطلاع سے خود اس کو اور اس کے اہلِ خانہ تک کو بے خبر رکھنا، اس کی میت سے بھی اس کے خاندان کو محروم رکھنا، اس کی پھانسی کی خبر تک کا گلا گھونٹنے کی کوشش___ یہ سب کشمیر کی حقیقی صورت حال کا ایک آئینہ ہے جس میں بھارت کے سیاسی اور عدالتی نظام کا اصل چہرہ بھی دیکھا جاسکتا ہے اور جسے اب دنیا سے چھپانے کی کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ بھارت کے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تمام دعووں کی قلعی صرف اس ایک واقعے کے ذریعے کھل جاتی ہے۔ کس طرح ہرسطح پر اور ہرہرقدم پر دستور، قانون، سیاسی آداب اور مسلّمہ اخلاقی اصول و ضوابط کو پامال کیا جاتا ہے اور کس ڈھٹائی سے انصاف کا خون کرکے ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کی گئی ہے۔ اس کیس کے حقائق کو ان کی اصل ترتیب میں دیکھنے سے بھارت کی سیاست اور عدل و انصاف کی زبوں حالی کی مکمل تصویر سامنے آجاتی ہے۔
یہ ستم ظریفی بھی قابلِ غور ہے کہ جس اصل نام نہاد ماسٹر مائنڈ، یعنی پروفیسر عبدالرحمن گیلانی کو محمد افضل تک رسائی کا ذریعہ ظاہر کیا گیا تھا، وہ تو اعلیٰ عدالت کے حکم سے بے گناہ ثابت ہوئے اور جو ان کے لیے بھی ایک بالواسطہ ذریعہ قرار دیا گیا تھا وہ اصل مجرم بن گیا اور سولی پر چڑھا دیا گیا۔
۱- اس کیس میں محمد افضل گورو کے ملوث ہونے کا کوئی واقعاتی یا شہادت پر مبنی ثبوت موجود نہیں۔
۲- کسی دہشت گرد تنظیم سے کسی سطح پر بھی محمد افضل گورو کا کوئی باقاعدہ تعلق ثابت نہیں۔
۳- جو بالواسطہ موادپولیس/تفتیشی عملے نے دیا ہے اس میں شفافیت نہیں بلکہ وہ تہ در تہ تضادات سے بھرا پڑا ہے، مثلاً پروفیسر عبدالرحمن گیلانی کے بارے میں کہا گیا کہ ان کے ذریعے محمدافضل گورو کا نام ملا، مگر محمد افضل گورو کو عبدالرحمن گیلانی کی گرفتاری سے پہلے ہی سری نگر میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ جس لیپ ٹاپ کا ذکر ہے وہ محفوظ (protected) نہیں تھا اور ایسی شہادت جو محفوظ نہ ہو قابلِ قبول نہیں ہوتی۔ نیز جو معلومات اس پر تھیں وہ خود یہ ظاہر کرتی تھیں کہ کمپیوٹر سے بہت سی معلومات نکال دی گئی ہیں اور جو معلومات باقی ہیں، ان میں ہیرپھیر کردیا گیا ہے۔ سیل فون کے بارے میں سم کے حاصل کرنے کی جو تاریخ دی گئی ہے، وہ بے معنی ہے اس لیے کہ وہ سم اس تاریخ سے کم از کم تین ہفتے پہلے سے کسی کے زیراستعمال تھی اور بدیہی طور پر محمد افضل گورو نہیں تھا۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں، ورنہ کیس میں کسی سطح پر بھی کوئی جان نہیں تھی۔
ان تمام حقائق کو تسلیم کرنے کے بعد عدالت عالیہ نے جس بنیاد پر موت کی سزا کی توثیق کی ہے وہ عدل کی تاریخ میں ایک عجوبہ اور بھارت کے عدالتی نظام کے چہرے پر کلنک کا ٹیکا ہے۔ سپریم کورٹ ہی کے الفاظ میں عدل کے قتل اور قانونی دہشت گردی پر مبنی اس فیصلے کو ملاحظہ فرمائیں:
افضل گورو ان دہشت گردوں میں سے نہیں تھا جنھوں نے ۱۳دسمبر۲۰۰۱ء کو پارلیمنٹ ہائوس پر حملہ کیا۔ وہ ان لوگوں میں سے بھی نہ تھا جنھوں نے سیکورٹی اہل کاروں پر گولی چلائی اور چھے میں سے تین کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔جیساکہ بیش تر سازشوں کے ساتھ ہوتا ہے، یہاں بھی کوئی ایسی براہِ راست شہادت نہ ملی ہے اور نہ مل سکتی ہے جسے مجرمانہ سازش قرار دیا جاسکے۔اس واقعے نے جس میں ایک تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے پوری قوم کو ہلا دیا ہے اور معاشرے کا اجتماعی ضمیر اسی صورت میں مطمئن ہوسکتا ہے کہ مجرم کو سزاے موت دی جائے۔
یعنی ایک شخص کو صرف اس لیے سولی پر چڑھا دو تاکہ اس سے جس شے کو سوسائٹی کا ’اجتماعی ضمیر ‘کہا جا رہا ہے اس کی تسکین ہوسکے۔ عدل و انصاف کے قتل کی اس سے زیادہ قبیح اور اندوہناک صورت کیا ہوسکتی ہے؟
پھر یہی نہیں، قانونی اور دستوری نقطۂ نظر سے دستور اور قانون کے مسلّمہ اصولوں اور خود بھارت کی عدالت ِ عالیہ کے ایک درجن سے زیادہ فیصلوں کی بھی اس مقدمے اور سزا میں کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
۹فروری کو افضل گورو کی پھانسی بھارتی حکومت کا ایک غیرانسانی فعل تھا۔ افضل گورو کو ۴؍اگست ۲۰۰۵ء کو سپریم کورٹ کی طرف سے سزاے موت کے فیصلے کے سات سال بعد اور صدرِ بھارت کو ۸نومبر ۲۰۰۶ء کو دی گئی رحم کی اپیل کے چھے سے زیادہ سال بعد پھانسی دی گئی۔ اس عرصے میں اُس نے اور اس کے اہلِ خانہ نے اس کی قسمت کے بارے میں ہردن تکلیف و پریشانی میں گزارا۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس کی تمام مہذب ممالک اور ہماری سپریم کورٹ بھی مذمت کرتی ہے۔ صدرِ بھارت کی طرف سے اس کی رحم کی درخواست کو چھے سال کے بعد ۳فروری ۲۰۱۳ء کو مسترد کیا گیا ہے جسے ارادتاً خفیہ رکھا گیا اور اس کے اہلِ خانہ کو بھی اطلاع نہیں دی گئی کہ کہیں یہ عدالتی درخواست کی بنیاد نہ بن جائے۔ ۹فروری ۲۰۱۳ء کو اس کے اہلِ خانہ کو بتائے بغیر خفیہ طور پر اسے پھانسی دی گئی اور اتنی ہی خفیہ طور پر تہاڑجیل نئی دہلی میں ایک قبر میں اسے دفن کردیا گیا۔
۱۹۸۳ء میں شیرسنگھ بمقابلہ ریاست پنجاب کے مقدمے میں عدالت نے انھی باتوں کو دہرایا جو ایک اور مقدمہ تری وینی بن بمقابلہ ریاست گجرات میں وسیع تر دستوری بنچ نے طے کرنا چاہا، اور سپریم کورٹ نے دوبارہ انھیں دہرایا کہ پھانسی دینے میں تاخیر غیرمنصفانہ اور غیرمعقول ہوگی۔ عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ رحم کی اپیلوں کے فیصلوں میں پوری دنیا میں یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ متعلقہ شخص ایک ذہنی ٹارچر میں مبتلا رہتا ہے بلالحاظ اس کے کہ اس کے ساتھ کوئی جسمانی بدسلوکی نہیں کی جاتی۔ اس لیے رحم کی اپیل کے استرداد کی اطلاع دینا لازمی تھا۔ جگدیش بمقابلہ ریاست مدھیہ پردیش مقدمہ ۲۰۱۲ء سپریم کورٹ نے نہ صرف ملزم کی اس اذیت کو نمایاں کیا جو اسے سزا ملنے میں تاخیر سے ہوتی ہے بلکہ اس تکلیف اور اذیت کو بھی جو اس کے قریبی رشتے داروں کو ہوتی ہے۔ ۱۹۹۴ء میں پرائیوی کونسل نے بھارتی سپریم کورٹ کی راے کو درست قراردیا اور اپنے فیصلے کے ایک پُرتاثیر حصے میں لکھا کہ پھانسی پانے کے احکامات کے خلاف ایک جبلی کراہت ہوتی ہے۔ یہ جبلی کراہت کس وجہ سے ہوتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ ہم اس کو غیرانسانی فعل قرار دیتے ہیں کہ ایک آدمی کو پھانسی کی اذیت میں طویل عرصے تک رکھا جائے۔ کئی برس تک اپنی تحویل میں رکھنے کے بعد ان لوگوں کو پھانسی دینا ایک غیرانسانی سزا ہوگی۔ یورپی یونین کی انسانی حقوق کی عدالت نے ۱۹۸۹ء میں اور کینیڈا کی سپریم کورٹ نے بھی یہی موقف اختیار کیا۔ افضل گورو کو پھانسی دینے میں حکومت نے جان بوجھ کر سپریم کورٹ کے موقف کو نظرانداز کیا اور دوسری عدالتوں کے موقف کو بھی۔
ایک زیرالتوا مقدمہ خود افضل گورو کا تھا۔ عدالت نے مجھے اپنا مشیر مقرر کیا تاکہ غیرمعمولی تاخیر کے بعد سزا دینے کے مسئلے کو صحیح پس منظر میں دیکھا جائے۔ عدالت کے سامنے مَیں نے اپنے دلائل دیتے ہوئے خاص طور پر افضل گورو مقدمے کے حقائق کا حوالہ دیا۔ سماعت ۱۹؍اپریل ۲۰۱۲ء کو ختم ہوگئی۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا (جس کا ابھی تک اعلان نہیں ہوا ہے)۔ حکومت اس بات سے پوری طرح آگاہ تھی کہ مجرموں کی پھانسی کی سزا میں طویل تاخیر کا مسئلہ قانونی طور پر سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے۔ حکومت کے لیے لازم تھا کہ زیرالتوا فیصلوں پر سپریم کورٹ کے مستند فیصلے کا انتظار کرتی۔ لیکن حکومت نے ۹؍فروری کو افضل گورو کو پھانسی کی سزا دے دی۔ افضل گورو کی پھانسی بھارتی حکومت کے سزاے موت کے کیے ہوئے فیصلوں میں سب سے زیادہ بے رحمانہ فیصلہ سمجھا جائے گا۔
اس مضمون میں اُٹھائے گئے سوالات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک طرف عدالت عالیہ کا موت کا فیصلہ ہی کسی قانونی جواز کے بغیر تھا۔ یہ فیصلہ محض سیاسی وجوہ سے سوسائٹی کے اجتماعی ضمیر کا سہارا لے کر دیا گیا تھا لیکن اس کے علاوہ بھی کم از کم مندرجہ ذیل شکلوں میں دستور اور قانون کی دھجیاں بکھیردی گئیں:
۱- چھے سال تک رحم کی اپیل کو لٹکانا انسانی حقوق اور انصاف کے تقاضوں سے متصادم تھا اور ایسی صورت میں موت کی سزا کا ساقط کیا جانا قانون اور انصاف سے اقرب ہے جس پر بھارتی سپریم کورٹ تک کی متعدد آبزرویشن موجود ہیں۔
۲- رحم کی اپیل کے فیصلے میں تاخیر کے خلافِ انصاف ہونے کا مسئلہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیرسماعت تھا۔ مقدمے کی سماعت مکمل ہوگئی تھی اور اس مقدمے میں افضل گورو کا کیس بھی شامل تھا۔ مقدمے کا فیصلہ ابھی آنا تھا جس میں اس کا امکان بھی تھا کہ کیس کے تمام متعلقہ افراد کی موت کی سزا کو ختم کیا جاسکتا تھا۔ فیصلہ آنے سے پہلے افضل گورو کو پھانسی دینا غیرقانونی فعل تھا اور اس طرح کا ایک اقدام قتل بن جاتا ہے۔
۳-اگر رحم کی اپیل رد کردی گئی تھی جب بھی یہ سزا پانے والے کا حق تھا کہ اسے اپیل کے رد کیے جانے کی اطلاع بروقت دی جاتی۔ اس لیے کہ سپریم کورٹ کے باربار کے فیصلے موجود ہیں کہ دستور کی دفعہ ۷۲ کے تحت موت کی سزا کے بارے میں رحم کی اپیل رد کرنے کے صدارتی فیصلے پر عدالتی محاکمہ (Judicial Review) ممکن ہے اور اس طرح رحم کی اپیل رد ہونے کے بعد بھی افضل گورو کی اہلیہ کو یہ حق تھا کہ عدالت سے ایک بار پھر رجوع کرے اور اپیل کے روکے جانے کے مبنی برحق و قانون ہونے کے بارے میں عدالت کی راے حاصل کرے، لیکن اپیل رد کیے جانے کے بعد افضل گورو اور اس کے اہلِ خانہ کو بروقت اطلاع تک نہ دی گئی اور انھیں اپنے اس حق سے محروم کر دیا گیا کہ وہ عدالتی اپیل کرسکیں۔ یہ ملک کے دستور اور قانون کی صریح خلاف ورزی تھی۔
اس طرح افضل گورو کو پھانسی کی شکل ہی میں ایک بار نہیں، چار بار عدل و انصاف کا خون ہوا اور بھارت کے جمہوری نظام ہی نہیں، پورے عدالتی نظام کے کھوکھلے ہونے اور سیاسی مصلحتوں کا اسیر ہونے کا تماشا تمام دنیا نے دیکھ لیا۔ نیز یہ بھی ثابت ہوگیا کہ اس ملک میں انصاف خاص لوگوں کے لیے (selective) اور امتیازی (discriminatory) ہے اور انصاف اور قانون کو سیاست اور مصلحت کے تابع کردیا گیا ہے۔ کیا ایسے نظام کو دستوری اور جمہوری نظام کہا جاسکتا ہے؟ دیکھیے بھارت اور عالمی سطح پر انصاف کے اس اسقاط (miscarriage of justice) کا کیسے اعتراف کیا جارہا ہے۔
بھارت کی مشہور ادیبہ اور سماجی کارکن ارون دھتی راے اپنے دو مضامین میں جو لندن کے اخبار دی گارڈین میں شائع ہوئے ہیں، افضل گورو کی پھانسی کے آئینے میں بھارت کا اصل چہرہ کس طرح پیش کرتی ہے۔ پہلا مضمون ۱۰فروری کو شائع ہوا ہے اور دوسرا ۱۸فروری کو۔ اپنے پہلے مضمون میں وہ لکھتی ہیں:
۲۰۰۱ء کے پارلیمنٹ کے حملے کے ملزم افضل گورو کو صبح خفیہ طور پر پھانسی دی گئی اور اس کے جسم کو تہاڑجیل میں دفن کر دیاگیا۔ کیا اسے مقبول بٹ کے ساتھ ہی دفن کیا گیا؟ (وہ دوسرا کشمیری جس کو تہاڑجیل میں ۱۹۸۴ء میں پھانسی دی گئی)۔ افضل گورو کی اہلیہ اور بیٹے کو اطلاع نہ دی گئی(کیا ستم ظریفی ہے کہ اس الم ناک واقعے نے پوری سیاسی قیادت کو متحد کردیا ہے)۔ اتحاد کے ایک شاذ لمحے میں قوم اور کم از کم اس کی بڑی سیاسی جماعتیں کانگریس، بی جے پی اور سی پی ایم، سواے ان چند کمزور آوازوں کے جو اس پھانسی میں تاخیر کے خلاف اُٹھیں، قانون کی بالادستی کا جشن منانے کے لیے متحد ہوگئیں۔ رہا معاملہ قوم کے ضمیر کا___ وہ تو وہی ہے جو ٹی وی سے براہِ راست ہرپروگرام میں نشر ہوتا ہے اور جس کی اجتماعی ذہانت نے سیاسیات کے جذبوں پر اپنی گرفت قائم کی ہوئی ہے اور حقائق تک کی صورت گری کرتی ہے۔ ان دنوں سیاسیات کے جذبے اور حقائق پر گرفت اور اپنی اجتماعی ذہانت کو چھوڑ دیا۔ حیف کہ ایک آدمی جو مرچکا تھا اور جابھی چکا تھا لیکن پھر بھی اس پر طاری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بزدلوں کی طرح انھیں اپنے حوصلے کو قائم رکھنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت تھی۔ کیا یہ سب اس کا غماز نہیں کہ وہ بخوبی اپنے دل میں اس بات کو جانتے تھے کہ وہ لوگ ایک انتہائی غلط کام میں تعاون کر رہے تھے۔
وہ سینیرصحافی جو بہتر طور پر جانتے ہوں گے کہ ان کے بتائے ہوئے جھوٹے بیانات کے برعکس افضل گورو ان دہشت گردوں میں شامل نہیں تھا جنھوں نے ۱۳دسمبر ۲۰۰۱ء کو پارلیمنٹ پر حملہ کیا تھا اور جنھوں نے سیکورٹی اہل کاروں پر گولی چلائی تھی جس میں چھے ہلاک ہونے والوں میں سے تین کو اس نے گولی ماری (یہ بات بی جے پی کے راجیہ سبھا کے ایم پی چندن مترا نے ۷؍اکتوبر ۲۰۰۶ء کے دی پانیر میں کہی)۔حتیٰ کہ پولیس کی چارج شیٹ بھی اس پر یہ الزام نہیں لگاتی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ شہادتیں صرف قرائن پر ہیں۔ اس طرح کی سازشوں میں عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ مجرمانہ سازش کے لیے کوئی براہِ راست ثبوت فراہم نہیں ہوتا۔ آگے چل کر کہا گیا ہے کہ اس واقعے نے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اموات ہوئیں، پوری قوم کو ہلاکر رکھ دیا اور معاشرے کا اجتماعی ضمیر اسی صورت میں مطمئن ہوگا، جب کہ مجرم کو سزاے موت دی جائے۔ پارلیمنٹ پر حملے کے مقدمے میں کس نے اجتماعی ضمیر کو بنایا؟ کیا یہ صرف اخبارات کی خبریں ہیں؟کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم نے یہ حقائق اخبارات سے اخذ کیے یا ان فلموں سے جو ہم ٹی وی پر دیکھتے تھے؟
پھر اس کا ایک پس منظر ہے۔ دوسرے بہت سے ہتھیار ڈالنے والے جنگ جوئوں کی طرح افضل گورو کے ساتھ کشمیر میں تعذیب، بلیک میل یا استحصال کرنا آسان تھا۔ وسیع تر اسکیم میں وہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ اگر کوئی پارلیمنٹ کے حملے کے راز کو واقعی حل کرانے میں دل چسپی رکھتا تھا تو اس کے لیے شہادتوں کی بڑی تعداد ایک سراغ کی طرح تھی جس کی پیروی کی ضرورت تھی، یہ کسی نے نہ کیا۔ اس طرح یہ یقینی ہوگیا کہ سازش کے اصل کردار شناخت نہ کیے جاسکیں گے اور ان کے خلاف تفتیش بھی نہیں ہوگی۔ اب، جب کہ افضل گورو کو پھانسی دی جاچکی ہے، مجھے اُمید ہے کہ ہمارا ’اجتماعی ضمیر‘ مطمئن ہوچکا ہے یا ہمارے اجتماعی ضمیر کا پیالہ ابھی تک خون سے صرف آدھا ہی بھرا ہے؟
بھارت کے روزنامہ دی ہندو نے افضل گورو کی پھانسی کو ’انصاف نہیں انتقام‘ قرار دیا ہے۔ ادارتی کالم میں ۱۰فروری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں کہا گیا ہے کہ:
آٹھ سال گزرنے کے بعد سپریم کورٹ نے محمد افضل گورو کو ۲۰۰۱ء کے پارلیمنٹ کے حملے کے کردار کی بنیاد پر پارلیمنٹ ہائوس حیرت ناک طور پر یہ کہتے ہوئے کہ: معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو صرف اسی صورت میں مطمئن کیا جاسکتا ہے کہ ملزموں کو سزاے موت دی جائے، پھانسی کی سزا دی۔ گورو کو اس ہولناک رسم کی ادایگی کے لیے ہفتے کی صبح پھانسی کے تختے تک لے جایا گیا جو حکومتیں وقتاً فوقتاً روایتی دیوتائوں کے غیض و غضب کی تسکین کے لیے ادا کرتی ہیں اور آج یہ دیوتا انتقام کے طالب عوام بن گئے ہیں۔ اس وحشت ناک اور خفیہ حرکت کے نتیجے میں بھارت کا قد دُنیا میں بہت زیادہ چھوٹا کردیا گیا ہے۔ اس سزا کی وجوہات صرف وہ نہیں جو بظاہر نظر آتی ہیں بشمول اس کے کہ گورو پارلیمنٹ پر حملے میں ایک بالکل معمولی سا کردار تھا جس کا مقدمہ ضابطے کی خلاف ورزیوں اور جوہری اہمیت کی حامل غلطیوں کی وجہ سے خراب ہوگیا ہو۔ سزاے موت کے لیے دیے جانے والے دلائل کا ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ نے جائزہ لیا اور ان کو معیار سے کم تر پایا۔ لیکن ایک دلیل جس کا کھل کر جائزہ نہیں لیا گیا(اور جو فیصلہ کن دلیل بنی) وہ وہی تھی جس کی بنا پر گورو اور دیگر بھارتی شہریوں کو تختۂ دار پر لے جایا جاتا ہے اور وہ ہے مصلحت۔ گویا پھانسی کی سزا کو ترجیح دیے جانے کے سوال کے جواب کا تعلق بڑی حد تک مصلحت سے ہے، اور انصاف سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
بھارت کا سب سے سنجیدہ رسالہ اکانومک اینڈ پولیٹیکل ویکلیہے، جو اپنے ۲۳فروری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں ادارتی کالم میں افضل گورو کی پھانسی کو انصاف کا خون اور بھارتی حکومت کے دامن پر بدنما دھبا قرار دیتا ہے۔ پھانسی کے فیصلے، پھانسی دیے جانے کے ڈرامے اور پھانسی کے بعد جس طرح حالات کو سیاسی مصلحتوں کا کھیل بنایا گیا، اس پر مؤثر احتساب کرتا ہے:
۹فروری کی صبح افضل گورو کی پھانسی موجودہ حکومت کے خراب ٹریک ریکارڈ پر شاید تاریک ترین دھبا ہے۔ افضل گورو کا قتل غیرقانونی اور ملکی قوانین کی رُو سے رُسوا کن تھا۔ افضل گورو کی ہلاکت غیرقانونی ہے اور اس جمہوری حکومت کے قوانین کے لیے بھی رُسوا کن ہے۔ صدر سے رحم کی اپیل کے مسترد ہونے کو خفیہ رکھا گیا، اس کے خاندان اور وکلا کو آگاہ نہ کیا گیا اور ایک مجرم کی حیثیت سے اسے جو حقوق حاصل تھے انھیں استعمال کرنے کی اجازت نہ دی گئی، رحم کی اپیل مسترد ہونے پر اپیل کا حق نہ دیا گیا، اپنے اہلِ خانہ سے ملنے نہ دیا گیا اور آخری خواہش کے اظہار کا موقع بھی نہ دیا گیا۔ حکومت نے حیران کن مکارانہ اقدام کے تحت اس کی پھانسی کی اطلاع سپیڈ پوسٹ کے ذریعے اس طرح سے دی کہ وہ اس کے خاندان کو پھانسی کے بعد اس وقت ملے جب وہ ٹیلی ویژن پر اس کی خبر سن چکے ہوں۔ یہ محض ہیومن رائٹس کے علَم بردار ہی نہیں بلکہ گوپال سبرامینم، سرکاری وکیل جس نے گورو کے خلاف مقدمہ لڑا، کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے یہ حکومت کی ’بہت بڑی فروگزاشت‘ ہے۔
گورو کی پھانسی کے مسئلے کو اگرایک طرف رکھ بھی دیا جائے تب بھی کیسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے کہ حکومت نے وادیِ کشمیر کی پوری آبادی کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا اور اس کی پھانسی کے نتیجے میں لگنے والے کرفیو کی وجہ سے عوام ضروری اشیا، دوائوں اور خبروں سے بھی محروم ہوگئے جو شہریوں کے ان حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے جن کی ضمانت دستور نے شہریوں کو دی ہے۔ حد یہ ہے کہ خود دارالحکومت (یعنی دہلی) میں بھی پولیس نے غیرقانونی طور پر اس (یعنی افضل گورو) کے بہت سے حمایتیوں اور ان کے بچوں تک کو کسی متعین الزام کے بغیر گرفتار کیا۔ گویا حکومت نے نمایشی طور پر قانون کے پردے (fig leaf) کو نظرانداز کردیا اور عوام سے بالکل اس طرح معاملہ کیا جس طرح کوئی غنڈا کرتا ہے۔
ایسے اقدام کا لازمی نتیجہ ہے کہ لوگ دُور سے دُور ہوتے جائیں اور ان کے اور حکومت کے درمیان مغائرت ہی میں اضافہ ہو، اور یہ دُوری صرف کشمیر کے لوگوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ لوگ بھی اس کا شکار ہوں گے جن کو اس حکومت سے یہ توقع تھی کہ وہ روشن خیالی پر کاربند ہے خواہ یہ روشن خیالی کتنی ہی جزوی اور کچی پکّی ہی کیوں نہ ہو۔
امریکی روزنامہ انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون میں بھارت کے ایک صحافی مانو جوزیف نے پورے مسئلے پر بڑا بھرپور تبصرہ کیا ہے اور افضل گورو کے مقدمے اور حکومت کی کارکردگی اور اس کے تضادات پر جچی تلی تنقید کی ہے لیکن سب سے اہم سوال جو اس نے اُٹھایا ہے وہ بھارت کے نظامِ عدالت کے قابلِ بھروسا ہونے سے متعلق ہے'
افضل گورو کی پھانسی جس نے اس کے خاندان کو صدمے سے دوچار کیا ہے اس نے پوری قوم کو بھی حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ ہاں، اس پر مختلف پارٹیوں کے سیاست دانوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور عام شہریوں نے بھی۔ یہ کیسی دنیا ہے جو ایک طرف افضل کے بارے میں فتویٰ دیتی ہے کہ وہ اس زمین پر زندہ رہنے کے لیے موزوں نہیں، وہیں یہ ایک انسان کی موت پر جشن تک منانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے لوگ بھی بہت بڑی تعداد میں تھے جو اس پر نالاں اور متنفر تھے اور انھوں نے احتجاج بھی کیا۔ اور ان لوگوں کا تعلق محض وادیِ کشمیر سے نہ تھا جو افضل کی جاے پیدایش ہے اور جہاں کرفیو لگا ہوا تھا۔ اس پھانسی نے بڑے بنیادی سوالات اُٹھا دیے ہیں جو ایک بڑی تعداد کے لیے وجہِ تشویش بن گئے ہیں۔ اگر ان تمام سوالات کو ایک جملے میں سمو دیا جائے تو ان کا حاصل یہ تشویش ناک صورت ہے کہ:
کیا بھارت کا نظامِ انصاف معیاری ہے، اور یہ کہ کیا اس کی اخلاقی سند (moral authority) اس امر کے لیے تسلیم کی جاسکتی ہے کہ اس کے حکم پر ایک انسانی جان کو ختم کیا جاسکے؟
محمد افضل گورو کی شہادت نے بھارت کے جمہوریت اور انصاف اور قانون کی بالادستی کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے اور اس پالیسی کو بے نقاب کردیا ہے جسے ریاستی دہشت گردی کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔بظاہر اس پھانسی پر بھارت کے سیاسی حلقوں میں خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں لیکن فی الحقیقت یہ اس کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہے اور ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کا ذریعہ بن سکتا ہے جو بھارت سے خیر کی توقع رکھتے ہیں۔
جس طرح افضل گورو کو پھانسی دی گئی ہے اس پر دنیا میں بھارت کے عالمی شہرت کے ایک ماہرقانون فالی ایس نریمان نے برملا کہا ہے: ہمارا بدترین دشمن بھی اس سے بہتر نہیں کرسکتا تھا جس طرح یہ کیا گیا۔ یہ بعض کے لیے ایک بدقسمتی تھا اور اس کے نتیجے میں بھارتی ریاست نے اپنے کو چھوٹا کرلیا ہے اور اُمیدوں کے کم ترین معیار کو اختیار کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔
جہاں تک کشمیر کی تحریکِ آزادی کا تعلق ہے ہمیں یقین ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے نہ ماضی میں اسے دبا یا جاسکا ہے اور نہ مستقبل میں اسے کوئی نقصان پہنچانا ممکن ہوگا۔ اس لیے کہ ظلم اور استبداد کی چیرہ دستیاں حق پرستوں کا راستہ کبھی نہیں روک سکی ہیں اور آزادی کی تحریکیں خون کے ایسے ہی سمندروں کو عبور کر کے اپنی منزل کا سراغ پاتی رہی ہیں۔ ان شاء اللہ یہ خونیں واقعہ کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے بشرط کہ پاکستان کی حکومت اور اُمت مسلمہ کی قیادتیں اپنے کشمیر ی بھائیوں کی اس مبنی برحق جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت نے اس خاص موقعے پر یہ اقدام کیوں کیا؟ ہماری نگاہ میں اس کی وجہ بھارت کی وہ بوکھلاہٹ ہے اور آنے والے حالات کے باب میں اس کا وہ اِدراک ہے جو پاکستان اور علاقے کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کی بنا پر وہ محسوس کر رہا ہے۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں کشمیر کے سلسلے میں جو قلابازیاں کھائی گئیں اور بھارت کے سلسلے میں جس پسپائی کا رویہ اختیار کیا گیا اور جسے زرداری دور میں زیادہ بھونڈے انداز میں جاری رکھا گیا ہے، صاف نظرآرہا ہے کہ اب اس سلسلے کا جاری رہنا محال ہے۔
چند مہینوں میں نئے انتخابات کے نتیجے میں نئی سیاسی قیادت برسرِکار آئے گی اور وہ امریکا اور بھارت دونوں کے بارے میں موجودہ پالیسیوں پر بنیادی نظرثانی کرے گی۔ افغانستان سے امریکا اور ناٹو کی افواج کی واپسی کی وجہ سے بھی علاقے کے حالات میں بڑی تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ عالمِ اسلام کے حالات بھی بدل رہے ہیں۔ ترکی، مصر، تیونس اور دوسرے ممالک میں ہونے والی تبدیلیوں نے پورے علاقے کے زمینی حکمت عملی (geo-strategic) کے نقشے کو بدل ڈالا ہے۔ مصر میں فروری ۲۰۱۳ء میں منعقد ہونے والی اوآئی سی کانفرنس میں عالمِ اسلام کے مسائل کے ساتھ کشمیر کو نمایاں حیثیت دی گئی ہے۔ خود پاکستان میں اس سال ۵فروری کو جس جوش اور ولولے سے ’کشمیر سے یک جہتی کے دن‘ کے طور پر منایا گیا ہے وہ آنے والے دور کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ افغانستان میں امریکا نے بھارت کو جو رول دیا تھا، وہ بھی اب معرضِ خطر میں ہے اور پاکستان کی موجودہ ناکام کشمیر پالیسی میں بھی تبدیلی ناگزیر ہے۔ نیز بھارت کے اپنے اندرونی سیاسی حالات جن میں اگلے سال ہونے والے انتخابات اور بی جے پی کی نئی سیاست اہم ہیں، کانگریس حکومت کی بوکھلاہٹ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
ان حالات میں بھارت نے ایک بار پھر قوت سے آزادیِ کشمیر کی تحریک کو دبانے کا اشارہ دیا ہے، لیکن اس کی حیثیت ایک ناکام پالیسی کو ایک بار پھر آزمانے کی حماقت سے زیادہ نہیں ہے ۔ تاریخ کا ایک تلخ سبق یہ ہے جن کو طاقت کا گھمنڈ ہوجاتا ہے وہ تاریخ سے کم ہی سبق سیکھتے ہیں اور وہی غلطیاں بار بار کرتے ہیں جو ماضی میں اقوام کی تباہی کا سبب بنی ہیں۔ ہم پاکستان اور مسلم اُمت کی قیادت کو دعوت دیتے ہیں کہ بھارت کے اس اقدام کے پس منظر میں غور کریں اور مقابلے کی حکمت عملی بنانے پر توجہ دیں۔
یہ بہت ہی افسوس ناک ہے کہ افضل گورو کی شہادت پر جو ردعمل پاکستان کی قیادت کی طرف سے آنا چاہیے تھا وہ نہیں آیا۔ بلاشبہہ عوام اور اسلامی قوتوں نے اس کی بھرپور مذمت کی ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ صدر، وزیراعظم اور وزیرخارجہ کو یہ توفیق بھی نصیب نہ ہوئی کہ واضح الفاظ میں اور پوری شدت کے ساتھ اس کی مذمت کرتے اور کشمیر ی عوام سے یک جہتی کا اظہار کرتے۔ وزارتِ خارجہ کا بھی ایک کمزور ردعمل واقعہ سے ۴۸گھنٹے کے بعد آیا ہے جو لمحۂ فکریہ ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کشمیر پالیسی پر فوری نظرثانی کرے جس پر حکومت گذشتہ ۱۲سال سے عمل پیرا ہے۔ ۲۰۰۳ء میں سیزفائر کے نام پر جو قلابازی کھائی گئی تھی اس نے تحریکِ آزادیِ کشمیر کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ بھارت نے اسرائیل کی مدد سے بارڈر کو سیل کردیا ہے اور ایسی الیکٹرانک دیوار بنا دی ہے جس نے کشمیری عوام کی مشکلات میں اضافہ اور پاکستان کی حکمت کاری کے وزن (strategic leverage) کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ پھر جنگ ِ آزادی اور دہشت گردی کے جوہری فرق کو نظرانداز کرکے پاکستان نے اس کشمیر پالیسی کا شیرازہ منتشر کردیا ہے جس پر قائداعظم کے وقت سے لے کر آج تک قومی اتفاق راے تھا۔ جنوری ۲۰۰۴ء کا مشرف واجپائی معاہدہ ہماری قومی کشمیر پالیسی کو صحیح رُخ سے ہٹانے (derail) کا ذریعہ بنا اور پھر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز (by-pass) کرنے اور روایت سے ہٹ کر حل ( out of box solution) کی تلاش میں ہماری سیاسی قیادت نے وہ بھیانک غلطیاں کی ہیں جس نے پاکستان کی سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے اور ہمارے اسٹرے ٹیجک مفادات بُری طرح متاثر ہورہے ہیں ۔
ان حالات میں وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ مشرف اور زرداری دور کی خارجہ پالیسی کو ترک کر کے پاکستان کے مقاصد اور مفادات کی روشنی میں حقیقی طور پر آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے جس میں ملک کے نظریاتی، سیاسی، معاشی، تہذیبی اور سیکورٹی کے حساس پہلوئوں کا ٹھیک ٹھیک احاطہ کیا جاسکے۔ یہ پالیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی ہو، پاکستان کے لیے ایسی خارجہ پالیسی نہ ہو جس کی تشکیل پر واشنگٹن، لندن اور دبئی کا سایہ ہو۔ ہماری پالیسی پاکستان میں اور وہ بھی اسلام آباد میں عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق پارلیمنٹ کے ذریعے بنائی جائے۔ ملک عزیز کو دوسروں پر محتاجی کی دلدل سے نکلا جائے اور خودانحصاری کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اس کا مقصد پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی، جمہوری، فلاحی اور وفاقی ریاست بنانا ہو۔ فطری طور پر اس میں کشمیر کی بھارت کے قبضے سے آزادی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے مستقبل کے حل کو ایک مرکزی مقام حاصل ہوگا۔ نائن الیون کے بعد اختیار کی جانے والی کشمیر پالیسی جنرل پرویز مشرف کی اُلٹی زقند اور ژولیدہ فکری کانتیجہ ہے جس کی وجہ سے ہم اپنی منزل سے کوسوں دُور جاپڑے ہیں۔
کشمیر کے عوام پاکستان سے دلی لگائو رکھنے کے باوجود پاکستان کی حکومت اور اس کی پالیسیوں سے مایوس ہورہے ہیں اور خصوصیت سے نئی نسل پریشان اور سرگرداں ہے۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان کی نئی قیادت کشمیر پالیسی کی تشکیلِ نو کرے اور اس پالیسی کو بروے کار لائے جو پاکستان اور کشمیری عوام کی اُمنگوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ مسئلۂ کشمیر کے تین فریق ہیں، پاکستان، بھارت اور کشمیر کے عوام___ اور اصل فیصلہ کشمیر کے عوام کو کرنا ہے، اور یہ سامنے رکھ کر کرنا ہے کہ ان کے مفادات کا بہتر حصول کس انتظام میں ممکن ہے اور ان کا مستقبل کس صورت میں روشن ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے پاکستان کی کشمیر پالیسی کو جموں اور کشمیر کے عوام کے جذبات، احساسات اور عزائم کی روشنی میں مرتب ہونا چاہیے جو مشترک سوچ پر مبنی اور مشترک جدوجہد سے عبارت ہو۔
کشمیر کو اب کسی طور پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ حالات میں جیسے کہ اُبال آرہا ہے اور پھٹ پڑنے کو تیار ہیں۔ موجودہ چیلنج کا مقابلہ بالغ نظری کے ساتھ باہم مشاورت ہی سے کرنا ہوگا تاکہ ایک بہتر مستقل انتظام کی راہ ہموار ہوسکے۔ محمدافضل گورو کی شہادت نے ایک تاریخی موقع فراہم کیا ہے۔
کیا پاکستان اور کشمیر کے عوام اس موقعے سے فائدہ اُٹھائیں گے، اور کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو ایک ایسا آہنگ دینے کی کوشش کریں گے جو مجاہدین کی قربانیوں کے شایانِ شان ہو؟
(’افضل گورو کی شہادت‘، منشورات سے دستیاب ہے۔ فون: ۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲)
ہمارے محسن اور قائد مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ’اشارات‘ کا ایک مخصوص اسلوب اختیار کیا تھا۔ حتی الوسع ہم نے اس کے اتباع کا اہتمام کیا ہے۔ اس ماہ محترم قاضی حسین احمدکے تذکرے کی خاطر اس منہج میں تبدیلی کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے لیے بھی مولانا مرحوم کے دور میں دو مثالیں موجود ہیں: ایک ۱۹۴۸ء میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کے انتقال پر اور دوسرے، مولانا مسعودعالم ندوی کے وصال پر___ مولانا نے ’اشارات‘ ہی میں اللہ کے ان فیصلوں پر اپنے احساسات کا اظہار کیا تھا۔ مَیں بھی اس ماہ عام روایت سے ہٹ کر ایک شاذ نظیر پر عمل پیرا ہورہا ہوں۔ مدیر
اتوار ۶جنوری ۲۰۱۳ء نمازِ فجر سے فارغ ہوکر حسب ِ عادت سیل فون کو بیدار (on) کیا تو ایک دم ایس ایم ایس کی یلغار رُونما ہوئی۔ ۲۰ سے زیادہ ایس ایم ایس تھے لیکن پیغام ایک ہی دل خراش اطلاع تھی کہ محترم قاضی حسین احمد کا انتقال ہوگیا ہے___ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔ دل کو یقین نہیں آرہا تھا۔ ابھی ۱۰ دن پہلے پروفیسر عبدالغفور احمد کا جنازہ ساتھ پڑھ کر اسی جہاز سے ہم کراچی سے اسلام آباد آئے تھے۔ صرف ایک دن پہلے جمعہ کی نماز ساتھ پڑھ کر گرم جوشی سے ایک دوسرے سے رخصت ہوئے تھے۔ اب یہ کلیجہ پھاڑ دینے والی خبر کہ جو اللہ کا پیارا تھا، وہ اللہ کو پیارا ہوگیا!
اللہ کا حکم ہرچیز پر غالب ہے، اس کے فیصلے کے آگے سرِتسلیم خم ہے، مگر دل پارہ پارہ ہے اور آنکھیں اَشک بار ہیں۔ ۱۲ دن کے اندر اندر اپنے دو محبوب ساتھیوں، بزرگوں اور قائدین سے یوں محروم ہوجانا ؎
مصائب اور تھے پر دل کا جانا
عجب ایک سانحہ سا ہوگیا ہے
بات تو معلوم ہوچکی تھی مگر پھر بھی رفقا سے تصدیق چاہی۔ میت اسلام آباد سے پشاور لے جائی جاچکی تھی۔ نمازِ جنازہ ۳بجے پشاور میں تھی۔تلاوت اور دعاے مغفرت کے بعد پشاور کے لیے رخت ِ سفر باندھا۔ برادرم خالد رحمان اور ڈاکٹر متین رفیق سفر ہوئے۔ پہلے راحت آباد ان کے گھر پہنچے اور پھر موٹروے کے پاس اجتماع گاہ میں محترم قاضی صاحب کے جسدخاکی کے پاس کرسی نشین ہوگیا کہ کھڑے رہنے کی سکت نہ تھی۔ جس چہرے کو ۴۰ برس مسکراتے اور ہم کلام ہوتے دیکھا تھا آج اسے ہمیشہ کی نیند سوتے ہوئے مگر پُرنور حالت میں آخری بار دیکھا اور معاً لوحِ قلب پر ربِ کائنات کے یہ الفاظ اس طرح رُونما ہوئے جیسے آج ہی نازل ہورہے ہوں:
یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ o ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً o فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ o وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ (الفجر ۸۹:۲۷-۳۰)، اے نفسِ مطمئنہ! چل اپنے رب کی طرف، اس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش ہو اور (اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے۔ شامل ہوجا میرے نیک بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں۔
قاضی حسین احمد صاحب ایک سچے انسان، اللہ کے ایک تابع دار بندے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق، اُمت مسلمہ کے بہی خواہ، تحریکِ اسلامی کے مخلص خادم، کلمۂ حق کو بلند کرنے والے ایک اَن تھک مجاہد اور پاکستان کے حقیقی پاسبان تھے۔ اللہ کے دین کے جس پیغام اور مشن کو طالب علمی کی زندگی میں دل کی گہرائیوں میں بسا لیا تھا اسے پورے شعور کے ساتھ قبول کیا، اپنی جوانی اور بڑھاپے کی تمام توانائیاں اس کی خدمت میں صرف کردیں۔ اس دعوت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا، اس کی خاطر ہرمشکل کو بخوشی انگیز کیا، ہر وادی کی آبلہ پائی کی، ہر خطرے کو خوش آمدید کہا، ہرقربانی کو بہ رضا و رغبت پیش کیا اور پورے خلوص، مکمل دیانت، اور ناقابلِ تزلزل استقامت کے ساتھ زندگی کے آخری لمحے تک اس کی خدمت میں لگے رہے۔ بلاشبہہ وہ ان نفوس میں سے ہیں جن کے بارے میں ہم سب ہی نہیں در و دیوار بھی گواہی دے رہے ہیں کہ:
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا o (الاحزاب ۳۳:۲۳)، ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت کا منتظر ہے۔ انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
قاضی حسین احمد ۱۲جنوری ۱۹۳۸ء کو صوابی کی تحصیل نوشہرہ کے ایک مردم خیز گائوں زیارت کاکاخیل میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم قاضی عبدالرب نے، جو ایک معروف عالمِ دین اور جمعیت علماے ہند کے اعلیٰ عہدے دار تھے اور دیوبند مکتبۂ فکر کے گل سرسبد تھے، ایک روایت کے مطابق مولانا حسین احمد مدنی سے اپنی عقیدت کے اظہار کے طور پر اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کا نام انھی کے نام پر رکھا اور یہ ہونہار بچہ قدیم اور جدید تعلیم سے آراستہ ہوکر ۴۹سال کی عمر میں امام عصر ، مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی قائم کردہ جماعت اسلامی کا امیر منتخب ہوا اور پاکستان ہی نہیں، پورے عالمِ اسلام میں دینِ حق کی دعوت کو بلند کرنے اور تاریخ کے دھارے کو موڑنے کی عالم گیر جدوجہد میں گراں قدر خدمات انجام دینے کی سعادت سے شادکام ہوا۔ جماعت اسلامی کے تیسرے امیر کی حیثیت سے ۲۲برس تحریک کی قیادت کی اور ملک کے طول و عرض ہی میں نہیں دنیا کے گوشے گوشے میں اسلام کی دعوت کو پہنچانے کے لیے سرگرم رہا۔ ۲۰۰۹ء میں جماعت کی امارت سے فارغ ہونے کے باجود جوانوں کی طرح سرگرمِ عمل رہا۔ نومبر ۲۰۱۲ء میں ایک عالمی کانفرنس وحدتِ اُمت کے موضوع پر منعقد کی اور جدوجہد کے منجدھار میں جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔
ان کی زندگی کوششِ پیہم، جہدِ مسلسل ، عزم و استقامت اور جہاد فی سبیل اللہ کی زندگی تھی___ ایک ایسا دریا جس کی پہچان اس کی روانی، تلاطم اور بنجر زمینوں کی فراخ دلی کے ساتھ سیرابی سے تھی، جس نے اپنی ذات کو اپنے مقصدحیات کی خدمت کی جدوجہد میں گم کردیا تھا، جس کی لُغت میں آرام اور مایوسی کے الفاظ نہ تھے اور جس نے زمانے کو تبدیل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیا تھا۔ اقبال نے جس زندگی کا خواب دیکھا تھا، قاضی صاحب اس کا نمونہ تھے ؎
زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ
ُجوے شیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی
قاضی حسین احمد کی دینی تعلیم اور تربیت مشفق باپ کے ہاتھوں ہوئی۔ قرآن سے شغف اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ان کی گھٹی میں پڑا تھا۔ طالب علمی کے دور ہی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے نسبت قائم ہوگی اور مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے لٹریچر کا پورے شوق سے مطالعہ کیا اور ان کے پیغام کو حرزِجاں بنالیا۔ جمعیت سے تعلق رفاقت کا رہا جو جماعت اسلامی تک رسائی کے لیے زینہ بنا۔ ان کے اصل جوہر جماعت ہی میں کھلے۔ پشاور یونی ورسٹی سے جغرافیے میں ایم ایس سی کرنے کے بعد ریاست سوات میں جہان زیب کالج سیدوشریف میں بطور لیکچرار تدریسی کیریئر کا آغاز کیا لیکن تین ہی سال میں اس وقت کی ریاست کے ماحول میں وہ ’ناپسندیدہ شخص‘ قرار دے دیے گئے اور ریاست بدری پر نوبت آئی۔ اس کے بعد اپنی خاندانی روایات کا احترام کرتے ہوئے کاروبار (فارمیسی) کو آزاد ذریعۂ معاش بنایا اور ۱۹۷۰ء میں جماعت اسلامی کی رکنیت اختیار کرلی۔ جلد ہی پشاور اور پھر اس وقت کے صوبہ سرحد کے امیر منتخب ہوئے۔ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بھی بھرپور شرکت کی اور اس کے صدر کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔ ۱۹۷۸ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے قیم مقرر ہوئے اور اس حیثیت سے ۱۹۸۷ء تک خدمات انجام دیں۔
یہ بات کم لوگوں کے علم میں ہے کہ جب اگست ۱۹۷۸ء میں پی این اے نے مارشل لا کے نظام کو جمہوریت کی طرف لانے اور انتخابات کا راستہ ہموار کرنے کے لیے حکومت میں شرکت کا فیصلہ کیا، تو جماعت کی طرف سے دیے گئے اولین ناموں میں پروفیسر عبدالغفور احمد، چودھری رحمت الٰہی اور قاضی حسین احمد کا نام تھا،لیکن قاضی صاحب کے غالباً افغانستان میں اس وقت کی تحریکِ مزاحمت سے قریبی تعلقات کی وجہ سے جنرل ضیاء الحق اور ان کے رفقا نے ان کے نام پر اتفاق نہ کیا اور پھر یہ نگہِ انتخاب محمود اعظم فاروقی پر پڑی۔میری شرکت پی این اے کے کوٹے پر نہیں تھی، حتیٰ کہ سیاسی ٹیم کے حصے کے طور پر بھی نہیں تھی۔ مجھے کابینہ کے بن جانے کے ۱۰ دن بعد بحیثیت ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن شریکِ کار کیا گیا اور یہی وہ حیثیت تھی جس کی بنا پر مجھے پلاننگ اور معیشت کا وزیر مقرر کیا گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب امیرجماعت محترم میاں طفیل محمد صاحب نے چودھری رحمت الٰہی صاحب کی جگہ جو اس وقت قیم جماعت تھے محترم قاضی صاحب کو قیم کے لیے تجویز کیا اور مرکزی شوریٰ نے انھیں قیم مقرر کیا اور اس طرح ملکی سطح پر ان کے تاریخی کردار کا آغاز ہوا۔
مولانا مودودیؒ نے ۱۹۴۱ء سے ۱۹۷۲ء تک قید کے زمانوں کو چھوڑ کر جماعت کی امارت کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ میاں طفیل محمدصاحب نے ۱۹۷۳ء سے ۱۹۸۷ء تک ۱۵سال تحریک کی قیادت کا عظیم اور نازک کام انجام دیا، اور ۱۹۸۷ء سے ۲۰۰۹ء تک اس خدمت کا سہرا محترم قاضی حسین احمد کے سر رہا، اور ۲۰۰۹ء سے عزیزمحترم سیّد منور حسن صاحب اس عظیم منصب پر مامور ہیں۔ جماعت اسلامی میں امیرکا انتخاب ارکان نے ہمیشہ اپنی آزاد راے کے ذریعے کیا ہے۔ کسی بھی سطح پر اُمیدواری کا کوئی شائبہ کبھی بھی نہیں پایا گیا۔ ۱۹۷۲ء سے مرکزی شوریٰ ارکان کی رہنمائی کے لیے تین نام ضرور تجویز کرتی ہے مگر ارکان ان ناموں کے پابند نہیں اور جسے بہتر سمجھیں اسے اپنے ووٹ کے ذریعے امیر بنانے کے مجاز ہیں۔ الحمدللہ یہاں نہ وراثت ہے اور نہ وصیت، نہ اُمیدواری ہے اور نہ کنوسنگ۔ اسلام کے حقیقی جمہوری اصولوں کے مطابق قیادت کا انتخاب ہوتا ہے اور بڑے خوش گوار ماحول میں تبدیلیِ قیادت انجام پاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اس روشن راستے پر قائم رکھے۔
میں آج اس امر کا اظہار کر رہا ہوں کہ ۱۹۸۷ء کے امیر جماعت کے انتخاب کے موقع پر شوریٰ نے جو تین نام تجویز کیے تھے ان میں محترم قاضی صاحب کے علاوہ محترم مولانا جان محمد عباسی اور میرا نام تھا۔ میں ایک طے شدہ پروگرام کے تحت جنوبی افریقہ میں قادیانیت کے سلسلے میں ایک مقدمے کی پیروی کے لیے کیپ ٹائون میں تھا، اور قاضی صاحب کے امیرجماعت منتخب ہونے کے لیے برابر دعائیں کر رہا تھا۔ مجھے ان کے انتخاب کی خبر کیپ ٹائون ہی میں ملی اور مَیں سجدۂ شکر بجالایا۔ الحمدللہ قاضی صاحب نے اپنی صلاحیت کے مطابق اللہ کی توفیق سے جماعت کی بڑی خدمت کی اور جس تحریک کا آغاز سید مودودی نے کیا تھا اور جس پودے کو میاں طفیل محمد صاحب نے اپنے خون سے سینچا تھا، اسے ایک تناور درخت بنانے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور ان کے لیے بلندیِ درجات کا ذریعہ بنائے، آمین!
قاضی حسین احمدصاحب سے میری پہلی ملاقات ۱۹۷۳ء میں مرکزی شوریٰ کے موقعے پر ہوئی۔ میں اس زمانے میں انگلستان (لسٹر) میں مقیم تھا اور اسلامک فائونڈیشن کے قیام میں لگا ہوا تھا۔ شوریٰ کے اجتماع کے بعد رات کو دیر تک باہم مشورے ہماری روایت ہیں۔ جس کمرے میں قاضی صاحب ٹھیرے ہوئے تھے، اس میں ڈاکٹر مراد علی شاہ کی دعوت پر ہم تینوں مل کر بیٹھے اور آدھی رات تک افغانستان کے حالات پر بات چیت کرتے رہے۔ قاضی صاحب افغانستان کا دورہ کرکے آئے تھے۔ جو نوجوان وہاں دعوتِ اسلامی کا کام کر رہے تھے، وہ ظاہرشاہ کے زمانے ہی میں ظلم و ستم کا نشانہ بننے لگے تھے اور اشتراکی تحریک اور قوم پرست دونوں اپنا اپنا کھیل کھیل رہے تھے لیکن دائود کے برسرِاقتدار آنے کے بعد حالات اور بھی خراب ہوگئے۔ مجھے اس علاقے کے بارے میں پہلی مفصل بریفنگ قاضی حسین احمد صاحب نے دی جو کئی گھنٹوں پر پھیلی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر مراد علی شاہ بھی اپنے مخصوص انداز میں لقمے دیتے رہے لیکن صورتِ حال کی اصل وضاحت (presentation ) قاضی صاحب کی تھی، اور اس طرح افغانستان اور پورے خطے کے حالات سے ان کی واقفیت اور خصوصیت سے افغانستان کے مسئلے میں گہری وابستگی (involvement) کا مجھے شدید احساس ہوا۔ انھوں نے خالص فارسی لہجے میں اقبال کا یہ قطعہ بھی پڑھا جس کی صداقت پر ان کو یقین تھا:
آسیا یک پیکرِ آب و گل است
ملّتِ افغاں در آں پیکر دل است
از فسادِ او فسادِ آسیا
در کشاد او کشادِ آسیا
(ایشیا آب و گل کا ایک پیکر ہے اور اس پیکر کے اندر ملت ِ افغان دل کی مانند ہے۔ اُس کے فساد سے سارے ایشیا کی خرابی ہے اور اس کی اصلاح میں سارے ایشیا کی اصلاح ہے۔)
افغانستان کے حالات پر جس گہری نظر اور وہاں کے لوگوں سے تعلق کی جو کیفیت میں نے قاضی صاحب میں دیکھی، اس کی مثال نہیں ملتی۔ مجھے جہادِ افغانستان کے پورے دور میں ان کے ساتھ ان معاملات میں شرکت کی سعادت حاصل رہی ہے۔ ۱۹۹۳ء میں، افغان مجاہدین کی تنظیموں میں اختلافات دُور کرنے کے لیے مصالحتی کمیشن میں ان کے ساتھ ایک ماہ مَیں نے بھی افغانستان میں گزارا اور اس وقت جس مجوزہ دستوری نقشے پر اتفاق ہوا تھا اور جسے میثاقِ مکہ کی بنیاد بنایاگیا تھا ،اس کی ترتیب میں کچھ خدمت انجام دینے کی سعادت مجھے بھی حاصل رہی ہے، لیکن تحریکِ اسلامی نے افغانستان کے سلسلے میں جو کردار بھی ان ۴۰برسوں میں ادا کیا ہے اور اس کے جو بھی علاقائی اور عالمی اثرات رُونما ہوئے ہیں، ان کی صورت گری میں کلیدی کردار محترم قاضی حسین احمد ہی کا تھا۔ اپنے انتقال سے پہلے بھی وہ اس سلسلے میں بہت متفکر تھے اور اس مسئلے کے حل کے لیے بڑے سرگرم تھے، اور فاٹا میں ان پر خودکش حملے کے علی الرغم وہ افغانستان کے لیے خود افغانوں کے مجوزہ، (یعنی افغان based) حل کے لیے کوشاں تھے، اور پاکستان اور افغانستان کو یک جان اور دو قالب دیکھنا چاہتے تھے۔ ۲۰۱۲ء میں جماعت اسلامی کے جس وفد نے صدرحامدکرزئی اور ان کی ٹیم سے مذاکرات کیے تھے، وہ بظاہر میری سربراہی میں گیا تھا لیکن اصل میرکارواں قاضی صاحب ہی تھے اور ہم سب ان کے وژن کی روشنی میں اصلاحِ احوال کی کوشش کر رہے تھے۔
قاضی صاحب کی اصل وفاداری اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی اور اس وفاداری کے تقاضے کے طور پر اُمت مسلمہ اور اس کے احیا کو اپنی زندگی کا مشن سمجھتے تھے۔ اس کے لیے انھوں نے سوچ سمجھ کر وہ راستہ اختیار کیا تھا جس کی طرف ہمارے دور میں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی نے رہنمائی دی تھی اور وہ ان خطوطِ کار پر یقین رکھتے تھے جن پر جماعت اسلامی قائم ہوئی ہے۔ اس کے مقصد، طریق کار اور دستور کی وفاداری کا جو حلف انھوں نے اُٹھایا تھا، اسے عمربھر نبھانے کی انھوں نے مخلصانہ اور سرگرم کوششیں کیں۔ وہ لکیرکے فقیر نہ تھے مگر اس فریم ورک کے وفادار تھے جسے انھوں نے سوچ سمجھ کر قبول اور اختیار کیا تھا۔
مجھے الحمدللہ ان تینوں امراے جماعت کے ساتھ کام کرنے کی سعادت حاصل رہی ہے جن پر ماضی میں امارت کی ذمہ داری تھی اور موجودہ امیر کے ساتھ بھی میرا دیرینہ تعلق ہے۔ مولانا مودودیؒ کی فکر اور دعوت سے تو رشتہ ۱۹۵۰ء میں قائم ہوگیا تھا، گو خاندانی تعلقات کی وجہ سے ان کی ذات سے نسبت اس سے بھی بہت پرانی ہے۔ رکنیت کا حلف میں نے ستمبر ۱۹۵۶ء میں لیا اور ۱۹۵۷ء سے مرکزی شوریٰ میں شریک ہوں۔ مولانا محترم کے لٹریچر کے ترجمے، ادارہ معارف اسلامی کراچی اور چراغِ راہ سے وابستگی کی وجہ سے مولانا محترم کے ساتھ ۲۲برس کام کرنے کی سعادت حاصل ہے۔ میاں طفیل محمدصاحب کے ساتھ بھی ان ۲۲برس کے ساتھ ان کی اپنی امارت کے ۱۵سال اور امارت کے بعد ۲۰ سال قریبی تعلق رہا۔ اسی طرح قاضی صاحب کے ساتھ ۱۹۷۳ء کی پہلی ملاقات، ۱۹۷۸ء میں ان کے قیم مقرر ہونے اور پھر ۱۹۸۷ء میں امیرمنتخب ہونے سے لے کر ان کے انتقال تک رفاقت کی سعادت رہی۔ بلاشبہہ ان تینوں امرا کا اپنا اپنا انداز ااور مزاج تھا اور ہر ایک کا اپنا اپنا منفرد کردار بھی تھا لیکن اصل چیز وہ وژن (vision) ہے جس پر جماعت اسلامی قائم ہوئی، وہ مقاصد ہیں جو اس کی جدوجہد کے لیے متعین ہوئے، وہ طریق کار اور حکمت عملی ہے جو اتفاق راے سے طے ہوئی اور جس کا ایک حصہ دستور میں اور باقی جماعت کی قراردادوں میں موجود ہے اور جس کی تشریح ہزاروں صفحات پر پھیلے ہوئے لٹریچر میں ہے۔ اس فریم ورک کے اندر ہر امیر نے تحریک کی قیادت اور رہنمائی کی ہے اور شوریٰ کے مشورے سے نظامِ کار کو چلایا اور ترقی کے مراحل طے کیے ہیں۔ اس طرح جہاں ایک طرف تاریخی تسلسل ہے وہیں اس کے ساتھ فطری تنوع بھی ہے کہ ع
ہر گلے را رنگ و بوے دیگر است
مولانا مودودیؒ اس تحریک کے موسّس اور وژن ہی نہیں، اس کے پورے نظامِ فکروعمل کے صورت گر تھے ۔ انھوں نے تحریک کا ایک تصور دیا جس کا جوہر اُمت کو قرآنِ پاک کے اصل مشن اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج انقلاب سے ازسرِنو رشتہ جوڑنے کی دعوت ہے۔ روایت کا احترام اس کا حصہ ہے مگر روایت کی اسیری سے آزادی اور اصل منبع سے تعلق استوار کرکے اس کی روشنی میں آج کے حالات کے مطابق نبوت کے مقصد اور مشن کے حصول کے لیے نقشۂ کار وضع کرنے اور عملی جدوجہد کرنے کی دعوت اس کا مرکزی تصور ہے۔ اس انقلابی عمل کے لازماً چار پہلو ہیں:
اوّلًا: اصل مقاصد سے جڑنا، قرآن و سنت کے دیے ہوئے تصورِ دین کو سمجھنا اور پھر اس ہمہ گیر تصور کی روشنی میں اقامت ِ دین اور شہادتِ حق کی ذمہ داری کو سمجھنا، اس کو ادا کرنے کے لیے خود کو تیار کرنا اور اس کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کے نقشے کو تبدیل کرنے کی سعی و جہد کو منظم اور مربوط انداز میں انجام دینے کی کوشش کرنا، اس کے لیے ضروری نظامِ کار بنانا اور افرادِ کار کو اس انقلابی جدوجہد میں لگا دینا۔ ایک جملے میں ساری توجہ کو مقصد نبوت کی صحیح تفہیم اور اسے زندگی کا مقصد بنانا ہے۔
ثانیاً: اس کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ خود اپنی تاریخ کا تنقیدی جائزہ لیا جائے، زوال کے اسباب کو متعین کیا جائے، موجود الوقت کمزوریوں کی نشان دہی کی جائے، طاقت کے سرچشموں کو فعال اور متحرک کیا جائے اور نیا راستہ اختیار کیا جائے۔
ثالثاً: اس کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ وقت کے نظام، غالب تہذیب اور اس کی بنیادوں، مقاصد، اہداف اور مظاہر کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ اپنے دور کی کارفرما قوتوں کے مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں کا مطالعہ اور تجزیہ کیا جائے اور متعین کیا جائے کہ کون سی چیزیں ایسی ہیں جو مثبت ہیں اور ان سے استفادہ ممکن ہے، اور کون کون سی چیزیں منفی بلکہ سمِّ قاتل ہیں اور ان سے کس طرح بچاجائے۔ نیز کس طرح تاریخ کے دھارے کو موڑا جائے تاکہ شر کی قوتوں کے غلبے سے نجات پائی جاسکے اور دین حق اور منہج نبویؐ کا غلبہ اور خیر کی قوتوں کے لیے کامیابی حاصل کی جاسکے۔
رابعاً: ان تینوں کی روشنی میں آج کے دور میں تحریک اسلامی کے لیے صحیح راہِ عمل کو مرتب کیا جائے، تاکہ زندگی کے ہرمیدان میں اسلامی تصورِ حیات کے مطابق اور زندگی کے اسلامی اہداف کے حصول کے لیے ہمہ گیر جدوجہد ہوسکے اور اس کے لیے مناسب نظامِ عمل تشکیل دیا جاسکے۔
مولانا مودودیؒ نے جو تاریخ ساز کام کیا، وہ یہی ہے کہ انھوں نے ان چاروں اُمور کے بارے میں دیانت اور علمی مہارت کے ساتھ دو اور دو چار کی طرح واضح ہدایات مرتب کیں، دلیل سے اپنی بات کو پیش کیا۔ جن نفوس نے اس دعوت کو قبول کیا ان کو جماعت کی شکل میں منظم کیا اور انفرادی اور اجتماعی قوت کو اُس تبدیلی کے لیے مسخر کیا جو مطلوب تھی۔ جماعت کے نصب العین کا تعین کیا ، اس کے طریق کار کو واضح کیا اور اس کے حصول کے لیے چار نکاتی لائحہ عمل مرتب کیا جسے پوری جماعت نے دل و دماغ کی یکسوئی کے ساتھ قبول کیا، یعنی:
۱- عقیدے کا احیا ، فکری اصلاح، دورِحاضر کی فکر کا محاسبہ اور اسلامی افکار کی تشکیل نو۔
۲- تمام انسانوں کے سامنے اس دعوت کو پیش کرنا اور ان میں سے جو اسے قبول کریں ان کو منظم کرنا، ان کی تربیت کرنا اور اخلاقی اور مادی ہر اعتبار سے انھیں اس تاریخی اور انقلابی جدوجہد کے لیے تیار کرنا۔
۳- معاشرے کی اصلاح اور زندگی کے ہر شعبے کی اسلامی اقدار اور احکام کی روشنی میں تعمیروتشکیلِ نو، خاندان کا استحکام، مسجد اور مدرسے کی تنظیم نو، اور تعلیم، خدمت ، امربالمعروف اور نہی عن المنکرکا اہتمام اور افراد اور اداروں کی نئی صف بندی۔
۴-ان تینوں کی بنیاد پر نظام کی تبدیلی اور انقلابِ قیادت کی جدوجہد، تاکہ فرد اور معاشرہ ہی نہ بدلے بلکہ پورا نظام تبدیل ہو اور معاشرت، معیشت، سیاست، قانون، عدالت، سب کی اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں تعمیرنو ہوسکے، اور اس طرح دین کی اقامت واقع ہوسکے۔
مولانا مودودیؒ کی امارت میں یہ سارے کام ہوئے، اور اس طرح ان کے دور کو فکروعمل ، فرد اور جماعت، سب کے لیے تشکیل و تعمیرنو کا دور کہا جاسکتا ہے۔ اس دور میں اُمت مسلمہ کی تاریخی روایت کی حفاظت اور احیا کے ساتھ روایت کے ان پہلوئوں سے نجات کی بھی کوشش کی گئی جو اس تصور سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، اور اس طرح ایک نئی روایت کے قیام کی سعی کی گئی، جو اس پیغام اور نظامِ تہذیب کی شناخت بن سکے۔ یہ دور تعمیر کے ساتھ ایجاد، اختراع اور اجتہاد کا دور بھی تھا اور اس میں تسلسل کے ساتھ تبدیلی کا بھی ایک بڑا اہم کردار تھا۔ اہداف کا تعین، نظامِ کار کا دروبست، حکمت عملی، پالیسیاں، غرض ہرجگہ روایت اور جدت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ارتقا کا ایک عمل ہے جو اصل ماخذ سے مکمل وفاداری کے ساتھ نئی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ایک رواں دواں دریا کی مانند موج زن نظر آتا ہے جو ایک فکری دعوت، اخلاقی احیا کی ایک منظم جدوجہد اور ایک انقلابی تحریک کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں نئے اہداف، نئی راہیں اور نئے تجربات بھی کیے جاتے ہیں لیکن اس طرح کہ اصل بنیاد سے رشتہ مضبوط تر ہوتا جائے۔ اصل شناخت پر کوئی بیرونی سایہ نہیں پڑنے دیا جاتا لیکن پیغام اور اہداف میں صبحِ نو کی سی تازگی موجود رہتی ہے، گویا ؎
فصل بہار آئی ہے لے کر رُت بھی نئی، شاخیں بھی نئی
سبزہ و گل کے رُخ پر لیکن رنگِ قدامت آج بھی ہے
لوگ بہت سی چیزوں کو آج نیا کہتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کی آزادی کے فوراً بعد اسلامی جمعیت طلبہ کی شکل میں طلبہ کی جو آزادتنظیم دسمبر ۱۹۴۷ء میں قائم ہوئی، اور جس کی برکتوں سے آج تک ہم سب فیض یاب ہورہے ہیں۔ وہ مولانا ہی کے ایما پر قائم ہوئی تھی۔ اسی طرح حفاظتی نظربندی (Preventive Detention) اور سیفٹی ایکٹ کے خلاف اور انسانی حقوق کی بحالی کے لیے شہری آزادیوں کی انجمن (Civil Liberties Union) لبرل اور لیفٹ کے عناصر کی ہم رکابی میں مولانا مودودیؒ کی قیادت میں قائم ہوئی تھی اور محمود علی قصوری صاحب بھی اس میں برابر کے شریک تھے۔ ادب اور لیبر کے محاذ پر تنظیم سازی ۱۹۵۰ء کی دہائی میں ہوئی تھی۔ اسلامی دستور کی تحریک کا آغاز جماعت اسلامی نے کیا مگر دستور کے لیے مشترک محاذ ۱۹۵۰ء میں لیاقت علی خاں صاحب کی دستوری سفارشات کے اعلان کے بعد ہی قائم ہوگیا تھا اور ۱۹۵۱ء اور ۱۹۵۳ء کی علما کی سفارشات ان کی مساعی کا حاصل تھیں۔ اتحاد کی سیاست کاآغازمولانا محترم کے دور میں ہوا ہے اور COP (Combined Opposition Parties ، متحدہ حزبِ اختلاف) کا قیام عمل میں آیا جس میں اسلام پسند قوتوں کے ساتھ سیکولر قوتیں بھی شریک تھیں اور سہروردی صاحب ، مجیب الرحمن صاحب بھی اس کا حصہ تھے۔ جنرل ایوب خان کی آمریت کے خلاف مشترک جدوجہد اسی زمانے میں ہوئی۔ انتخابات میں شرکت کا سلسلہ بھی اس زمانے میں ہوا۔ ۱۹۵۱ء کے پنجاب میں صوبائی انتخابات میں شرکت اور ۱۹۵۸ء کے کراچی کارپوریشن کے انتخابات میں کامیابی کا تعلق اسی دور سے ہے۔ آج بڑے اجتماعات کا چرچا ہے۔ ختم نبوت کی تحریک کے دوران اجتماعات کو کون بھول سکتا ہے اور اگر ان کو ایک خاص معنی میں سیاسی تبدیلی کے لیے کیے جانے والا مظاہرہ نہ بھی کہا جائے، لیکن ۱۹۷۰ء کا ’شوکت ِ اسلام مارچ‘ پاکستان کی تاریخ کا پہلا عظیم عوامی مظاہرہ تھا جو اپنی مثال آپ تھا۔ پھر ۱۹۷۷ء کے قومی اتحاد کے جلسوں اور جلوسوں کو کیسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے، جن میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تبدیلی کا طبل بجا رہا تھا۔
مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ مولانا مودودی کی امارت کے دور میں تعمیروتشکیل کے ساتھ جدت و اختراع اور ضرورت کے مطابق نئے تجربات اور نئی راہوں کی تلاش ہماری روایت کا حصہ ہے۔ مولانا مودودی صاحب کی بصیرت کا یہ بھی شاہکار ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں جماعت کا نظام اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کی ریت ڈالی اور اپنے اصرار پر ۱۹۷۲ء میں امارت سے فارغ ہو کر قیادت کے تسلسل اور نظام کو خودکار بنانے کا راستہ تحریک کو دکھایا ،اور اس طرح جماعت بانیِ جماعت کی زندگی ہی میں امارت اور مشاورت کے ایک ایسے نظام پر قائم ہوگئی جس کا انحصار فرد پر نہیں اجتماعی نظام پر ہے۔ یہ ایک انقلابی اقدام تھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ تبدیلی (transition ) ایک بڑا مشکل اور نازک عمل تھا اور اس کا سہرا (credit) محترم میاں طفیل محمد صاحب کے سر جاتا ہے کہ انھوں نے جماعت کی زندگی میں خلا نہیں پیدا ہونے دیا۔ بلاشبہہ ان کے دور میں تسلسل (continuity)، استحکام (consolidation) کو مرکزی اہمیت حاصل رہی، اور ندرت اور جدت کی جگہ روایت اور جو کچھ حاصل کیا گیا ہے اس کی حفاظت کا پہلو غالب رہا لیکن اس وقت کی یہی ضرورت تھی۔ان کے دور میں بھی بڑے سخت مقامات آئے۔ فوجی حکومت سے معاملات کرنا اور ملک کو فوجی حکمرانی کے دور سے تصادم کے بغیر نکالنا، سیکولر قوتوں کا نیا کردار اور اس کا مناسب انداز میں مقابلہ، افغانستان میں روس کی مداخلت اور جہاد افغانستان میں پاکستان اور عالمِ اسلام کا کردار، ان سب چیلنجوں کے مقابلے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے لیکن اس دور کا اصل کارنامہ جماعت کو بانیِ جماعت کی عدم موجودگی میں اپنے اصل مقصد، مشن اور مزاج پر قائم رکھنا تھا۔ الحمدللہ بحیثیت مجموعی اللہ تعالیٰ کی رہنمائی اور جماعت اور اس کی شوریٰ کے تعاون سے محترم میاں طفیل محمدصاحب کی قیادت میں تحریک نے اس مرحلے کو کامیابی سے سر کیا۔
۱۹۸۷ء میں امارت کی ذمہ داری قاضی صاحب پر پڑی۔ قاضی صاحب نے اس نظام کے تسلسل کو جاری رکھا جس کی حفاظت میاں صاحب محترم نے کی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ تبدیلی، اجتہاد اور جدت کی اس نہج کو پھر مؤثر اور متحرک کیا جو مولانا مودودیؒ کے دور کا حصہ تھی۔ ۳۱۳ساتھیوں کی معیت میں کاروانِ دعوت و محبت کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں ایک ہلچل پیدا کردی۔ فوجی حکمرانی اور سرمایہ داری، جاگیرداری اور ظلم کے نظام کے خلاف آواز بلند کی اور تحریک کو ایک نیا ولولہ دیا۔ اس زمانے میں سیاسی بساط بدل گئی۔ ملک کے حالات اور عالمی صورت حال کی بھی تیزی سے قلب ِ ماہیت ہوئی۔ اس میں نئے اقدامات کی ضرورت تھی۔ جماعت کی اندرونی تنظیم اور ملک اور دنیا میں اس کا کردار، یہ سب نئے اطراف میں پیش رفت (initiative) کا تقاضاکر رہے تھے۔ قاضی صاحب نے ان تقاضوں کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ ۱۹۹۰ء میں مینارِ پاکستان پر کُل پاکستان اجتماع کیا اور اس کے بعد تسلسل کے ساتھ کُل پاکستان اجتماعات کی روایت کو تازہ کردیا۔ جماعت کی دعوت اور تنظیم کی وسعت ان کی اولین ترجیح رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کی نئی صف بندی ان کی توجہ کا مرکز رہے۔ متفق کے لیے عملاً ’ممبر‘ کی اصطلاح بھی ان کی اولیات میں سے ہے۔ جمعیت طلبہ عربیہ کی سرگرمیوں کی بھی وہ حوصلہ افزائی کرتے رہے۔
نوجوانوں کو منظم اور متحرک کرنے اور ظلم کی قوتوں کے خلاف صف آرا کرنے کے لیے ’پاسبان‘ کا تجربہ انھوں نے کیا۔ اس تجربے میں قاضی صاحب کا کردار مرکزی تھا اور خرم مراد مرحوم اور میری پوری تائید ان کو حاصل تھی اورمحمد علی درانی نے بھی اس کی تنظیم میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر یہ بات ریکارڈ پر آجائے تو کوئی مضائقہ نہیں کہ ’پاسبان‘ کا نام مَیں نے تجویز کیا تھا۔ افسوس کہ یہ تجربہ اس نہج پر نہ ہوسکا جس طرح ہم چاہتے تھے اور جو ہمارا وژن تھا، مگر یہ بھی جماعت کی برکت ہے کہ جب شوریٰ میں اس کے بارے میں بے اطمینانی اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہوئی تو خوش اسلوبی سے ’پاسبان‘ کو ختم کردیا گیا اور ’شبابِ ملّی‘ کا ادارہ قائم کیا گیا جو اب بھی متحرک ہے۔ ’شباب ملّی‘ کا نام ہمارے مرحوم بھائی خلیل حامدی نے تجویز کیا تھا۔ اسی طرح پاکستان اسلامی فرنٹ کا تجربہ بھی ہماری تاریخ کا ایک اہم باب ہے اور خرم مراد مرحوم اور مَیں بھی اس میں قاضی صاحب کے دست و بازو تھے۔ مجھے اس امر کے اعتراف میں کوئی باک نہیں کہ یہ تجربہ بھی ہمارے تصور کے مطابق کامیاب نہ ہوسکا، اور ہمیں اعتراف ہے کہ اس کے لیے جتنا ہوم ورک ہونا چاہیے تھا اور جتنا جماعت کو اس کے لیے تیار کرنا ضروری تھا وہ ہم بوجوہ نہ کرسکے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جدت و اجتہاد کے جو اقدامات (initiatives) ہم نے ۹۰ کے عشرے میں لیے تھے، گذشتہ ۳۰سال میں دنیا کے مختلف ممالک میں انھی خطوط پر کیے گئے تجربات کامیاب ہوئے ہیں اور آج وہی تبدیلی کے لیے ماڈل بن رہے ہیں۔ قاضی صاحب محترم کی وفات پر یہ سارے خیالات دل و دماغ میں ہجوم کیے ہوئے ہیں اور میں تحریکی زندگی میں ان کے ۲۲سالہ دور کو ترقی کے اس سفر کے اہم مراحل کے طور پر دیکھتا ہوں، اور سمجھتا ہوں کہ تسلسل کے ساتھ تبدیلی اور جدت و اجتہاد جو وقت کی ضرورت تھے، اس سمت میں تحریک نے باب کشا کوششیں کیں۔
انسانوں اور جماعتوں کی تاریخ میں ضروری نہیں کہ ہرتجربہ ہراعتبار سے کامیاب ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہرتجربے کے بعد اس کا جائزہ لیا جائے، کامیابی اور ناکامی دونوں کے وجود کو متعین کیا جائے، اور ہرتعصب سے بالا ہوکر اپنے تجربات کی روشنی میں نئے تجربات کیے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اجتہاد کے دواجر ہیں، اگر صحیح ہو، لیکن اگر معاملہ خطا کا ہو، تب بھی سبحان اللہ ایک اجر تو ہے ہی ۔ محترم قاضی صاحب نے جماعت کے سیاسی کردار کو ایک نئی جہت دی۔ متحدہ مجلس عمل( ایم ایم اے) کے تجربے میں ان کا بڑا کردار تھا۔ دینی قوتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور فرقہ وارانہ اور گروہی عصبیتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انھوں نے بڑی مستعدی کے ساتھ کوششیں کیں جو بڑی حد تک کامیاب رہیں۔ملّی یک جہتی کونسل ان کے دور کا ایک نہایت کامیاب تجربہ اور قومی خدمت ہے، جسے جاری رکھنے اور آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
کشمیر کے مسئلے کو بھی انھوں نے بڑی جرأت اور بالغ نظری سے اُجاگر کیا، ملک میں بھی اور عالمی سطح پر بھی۔ مجھے ان کے ساتھ آٹھ مسلم ممالک میں کشمیر کے قومی وفد جس کی قیادت محترم قاضی صاحب کر رہے تھے، میں شرکت کا موقع ملا۔ اس کی تشکیل اور پروگرام کی تمام تنظیم جماعت اسلامی نے کی تھی، مگر اس میں دوسری جماعتوں کے نمایندوں کو بھی شریک کیا گیا تھا۔اس میں پیپلزپارٹی کی طرف سے بیرسٹر مسعود کوثر (جو آج گورنر خیبرپختونخوا ہیں) اور آغا ریاض، مسلم لیگ (ن) کے ایک ایم این اے اور جمعیت علماے اسلام کے محترم قاضی عبداللطیف شریک تھے۔ اس میں میڈیا کے نمایندے بھی شامل تھے۔ ۵فروری کو تحریکِ آزادیِ کشمیر کے ساتھ ’یومِ یک جہتی‘ کے طور پر شروع کرنے، ہر سال منانے اور اسے سیاسی زندگی کا ایک حصہ بنادینے میں بھی قاضی صاحب اور جماعت ہی کا بنیادی کردار ہے۔
عالم اسلام کے تمام ہی مسائل میں قاضی صاحب کی گہری دل چسپی تھی اور وہ حضور اکرمؐ کے اس ارشاد کی عملی مثال تھے کہ یہ اُمت ایک جسمِ واحدکی مانند ہے اور جس کے ایک عضو کو اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم اس کا درد محسوس کرتا ہے۔ مجھے ان کے ساتھ دسیوں ممالک کا دورہ کرنے کا موقع ملا اور میں نے دیکھا کہ جس طرح ہم پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے بے چین ہوتے ہیں، اسی طرح وہ عالمِ اسلام کے ہر مسئلے کے لیے بے چین ہوتے تھے اور جو بن پڑتا، کرنے کے لیے مستعد رہتے تھے۔ خلیج کی جنگ کے موقعے پر میں بھی محترم قاضی صاحب کے ساتھ عالمی اسلامی تحریک کے ایک وفد کا حصہ تھا۔ ہرملک میں جس درد کے ساتھ اور جس جرأت کے ساتھ انھوں نے کویت پر عراق کے حملے کے مسئلے کو پیش کیا اور اس جنگ سے اُمت کو بچانے کے لیے کوشش کی، وہ ان کا بڑا قیمتی کارنامہ تھا۔ صدام حسین سے ملاقات میں جس جرأت سے انھوں نے اسے اس جنگ کو ختم کرنے کی دعوت دی، اس نے سب کو متاثر کیا، اور خود صدام کے اعلیٰ حکام میں سے کچھ نے بعد میں ہم سے کہا کہ یہی بات ہمارے دل میں بھی ہے مگر ہمیں رئیس کے سامنے کہنے کی جرأت نہیں، آپ نے حق ادا کردیا۔
قاضی صاحب بھی ایک انسان تھے اور ہر انسان میں کچھ نہ کچھ کمزوریاں بھی ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی وہ بہت جلد راے قائم کرلیتے تھے اور اپنے ردعمل کا اظہار بھی کردیتے تھے۔ اظہار اور کمیونی کیشن کے باب میں بھی بہت سے مواقع پر انھیں اپنے ساتھیوں کے شکوہ و شکایات سے پالا پڑا، لیکن بحیثیت مجموعی انھوں نے تحریکِ اسلامی کی قیادت کی ذمہ داری بڑی بصیرت اور خوش اسلوبی سے انجام دی۔ ان ۴۰برسوں میں میرے اور ان کے درمیان بڑا ہی قریبی تعلق رہا جس کی بنیاد اخلاص، باہمی اعتماد، مشاورت اور ایک دوسرے کے احترام پر تھی۔ میں شروع ہی سے ایک نظری اور ایک گونہ کتابی انسان ہوں اور قاضی صاحب اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک حرکی وجود رکھتے تھے۔ جرأت اور استقامت کے ساتھ جہدِمسلسل کا شوق، جلدی نتائج حاصل کرنے کی تمنا اور سپاہیانہ جلال ان کی شخصیت کا حصہ تھا۔ علمی اور ادبی ذوق ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ قرآن ان کا اُوڑھنا بچھونا تھا تو اقبال کا کلام ان کی روح کا نغمہ۔ صداقت اور شجاعت کے ساتھ جہاد، شہادت اور کچھ کرڈالنے کا عزم ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔
اگر میں یہ کہوں کہ وہ جلال اور جمال کا مرقع تھے تو شاید غلط نہ ہو۔ ان کی طبیعت میں جلال کے پہلو بھی تھے، مگر صرف جلال نہیں جمال کا پہلو بھی وافر مقدار میں تھا اور بالعموم غالب رہتا تھا جس کی وجہ سے جلال کے لمحات بھی ایک لُطف دے جاتے تھے۔میرا اور ان کا رشتہ بڑا دل چسپ تھا۔ عمر میں مَیں ان سے بڑا تھا اور اس بڑائی کا وہ کچھ ضرورت سے زیادہ ہی احترام کرتے تھے لیکن میں ان سے ہمیشہ یہی کہتا تھا کہ عمر میں خواہ مَیں بڑا ہوں لیکن تحریک میں آپ ہی بڑے ہیں اور ہم دونوں نے دلی طور پر ایک دوسرے کو اپنے سے بڑا سمجھ کر رفاقت کے یہ ۴۰سال بڑے خوش گوار ماحول میں گزارے۔ بلاشبہہ اس عرصے میں دوچار مشکل لمحات بھی آئے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے تعلقات میں کبھی کھچائو یا تلخی پیدا نہیں ہوئی۔ کبھی انھوں نے میری راے کو قبول کرلیا اور کبھی میں نے اپنی راے کو ترک (surrender) کردیا۔ اس طرح محبت اور رفاقت کا یہ سفر بڑی خوش اسلوبی سے طے ہوتا رہا ؎
محبت کیا ہے؟ تاثیرِ محبت کس کو کہتے ہیں؟
ترا مجبور کر دینا، مرا مجبور ہو جانا
مولانا محترم نے جو شفقت اور پیار دیا، وہ ایک لمحے کے لیے بھی بھولا نہیں جاسکتا۔ دوسروں کے سامنے وہ مجھے پروفیسر خورشید کہتے تھے لیکن جب مجھ سے بات کرتے تھے تو ’خورشیدمیاں‘ کہہ کر مخاطب ہوتے تھے جس کی لذت اور حلاوت آج تک محسوس کرتا ہوں۔ میرے والدین اور اساتذہ کے بعد مولانا ہی نے مجھے ’خورشید میاں‘ کہہ کر خطاب کیا (منور بھائی کو بھی یہ سعادت حاصل ہے کہ مولانا نے ان کو ’منورمیاں‘ اور میرے چھوٹے بھائی ڈاکٹر انیس کو ’انیس میاں‘ کہا ہے)۔ محترم میاں صاحب ہمیشہ پروفیسر خورشید ہی کہتے رہے لیکن قاضی صاحب نے ہمیشہ ’خورشید بھائی‘ کہا جس کا دل پر گہرا نقش ہے۔یہ ان کی محبت اور شفقت تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔
آج قاضی صاحب ہم میں نہیں، کل ہم بھی نہیں ہوں گے، ان کی باتیں یاد رہیں گی۔ ان کی خدمات صدقۂ جاریہ ہیں جن سے ہمارے ساتھی اور ہمارے بعد آنے والے سب ہی مستفید ہوتے رہیں گے اور ان شاء اللہ وہ بھی اس کے اجر سے شادکام ہوتے رہیں گے۔ ان کی پاک صاف زندگی، ان کے علمی اور ادبی ذوق، ان کی تحریکی خدمات، اُمت کے لیے ان کی دوڑ دھوپ اور قربانیاں، پاکستان کی تعمیر اور تشکیلِ نو کے لیے ان کی مساعی، اپنوں اور غیروں سب سے محبت، دعوت اور خدمت کی بنیادوں پر رشتہ اور تعلق کی استواری، امارت کی ذمہ داریوں کو خلوص، دیانت، محنت، قربانی و ایثار، مشاورت اور انصاف کے ساتھ ادا کرنے کی کوششیں___ یہ سب روشنی کے ایسے مینار ہیں جو ایک زمانے تک ضوفشاں رہیں گے۔ اس طرح وہ ہم سے رخصت ہونے کے باوجود ہمارے درمیان ہیں اور رہیں گے۔
ان کے انتقال پر ان کے چاہنے والوں اور ان سے اختلاف رکھنے والوں، بلکہ ذہنی بُعد تک رکھنے والوں نے جو کچھ لکھا ہے، اس سے ان کی زندگی کا ایک ایسا پہلو سامنے آتا ہے جو زندگی میں شاید اتنا نمایاں نہ تھا، یعنی ہر ایک سے خلوص اور شفقت سے معاملہ کرنا، اختلاف میں بھی حدود کا لحاظ، سختی کے ساتھ نرمی، خفگی کے ساتھ پیار، مخالفین کے ساتھ بھی ہمدردی اور پاس داری۔ ہم تو شب و روز ان کی شخصیت کے اس پہلو کو دیکھتے اور اس کا تجربہ کرتے تھے مگر جس پیمانے پر اور جس یک زبانی کے ساتھ سب ہی شرکاے غم نے ان پہلوئوں پر اظہارِ خیال کیا ہے، اس سے مولانا محمد علی جوہر کی اس پیش گوئی کی دل نے تائید کی ؎
جیتے جی تو کچھ بھی نہ دکھلایا مگر
مر کے جوہرؔ آپ کے جوہر کھلے
میں اپنے رخصت ہونے والے بھائی کے بارے میں اپنی تاثراتی گزارشات کو اقبال کے اس شعر پر ختم کرتا ہوں جو محترم قاضی حسین احمد کی شخصیت کا آئینہ اور ان کے بعد ذمہ داری کے مقام پر فائز تمام افراد کے لیے ایک پیغام ہے ؎
نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِکارواں کے لیے
۲۶ دسمبر ۲۰۱۲ء کو عزیزی سید طلحہ حسن کے ولیمے میں شرکت کے لیے کراچی گیا اور اس مبارک تقریب سے فارغ ہوکر قصرناز میں قدم ہی اُٹھا تھا کہ یہ دل خراش ایس ایم ایس موصول ہوا کہ برادرم محترم و مکرم پروفیسر عبدالغفور احمد اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں __ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔
کراچی کے سفر کے مقاصد میں پروفیسر عبدالغفور صاحب کی عیادت سرفہرست تھی۔ تقریب میں ان کے صاحب زادے عزیزی طارق سے ۲۷دسمبر کو ان کے گھر آنے کا پروگرام طے کیا تھا لیکن کیا خبر تھی کہ ۲۷ کو عیادت نہیں، تعزیت کے لیے ان کے گھر جانا ہوگا اور اسی شام ان کے جنازے میں شرکت کرکے ، ان کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہنا ہوگا___ لیکن یہ تو صرف محاورہ ہے، ہمیشہ یہاں کون رہا ہے، جلد یا بدیر، ہر ایک کو اس سفر پر روانہ ہونا ہے، بس دعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آنے والی زندگی میں اپنے فضل و کرم سے اپنے ان بندوں کی رفاقت نصیب فرمائے جو اس کے جوارِرحمت میں ہوں۔
پروفیسر عبدالغفور احمد تحریکِ اسلامی کا قیمتی سرمایہ اور ملک و ملّت کا زریں اثاثہ تھے۔ تعلیم و تدریس، دعوت و تبلیغ اور خدمت اور سیاست، ہر میدان میں انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ۱۱جون ۱۹۲۷ء کو یوپی کے مشہور علمی اور دینی گہوارے بریلی میں پیدا ہوئے۔ لکھنؤ یونی ورسٹی سے ۱۹۴۸ء میں ایم کام کی سند حاصل کی اور اسی سال اسلامیہ کالج لکھنؤ میں بطور لیکچرار اپنے تدریسی کردار کا آغاز کیا۔ اگلے ہی سال ہجرت کر کے کراچی آئے اور ایک پرائیویٹ تجارتی ادارے میں اکاؤنٹ کے شعبے میں ذمہ داری سنبھالی۔ پھر اُردو کالج میں تجارت اور حسابیات (Accounting) کے لیکچرار کی اضافی ذمہ داری سنبھال لی اور یہ سلسلہ ۱۹۶۱ء تک جاری رہا۔ اس کے بعد انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل اکائونٹس، انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹس اور جناح انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل اکائونٹس میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ یہ سلسلہ ۱۹۷۲ء تک جاری رہا جس کے بعد قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے ہمہ وقتی بنیاد پر پارلیمنٹ اور جماعت اسلامی کی ذمہ داریوں کو ادا کرتے رہے۔
مولانا مودودی کے افکار اور جماعت اسلامی کی دعوت سے طالب علمی کے دور ہی میں روشناس ہوئے۔ غالباً ۱۹۴۴ء میں ان کے کالج کے ایک قریب ترین دوست جناب انوریار خاں نے مولانا محترم کی کتاب خطبات ان کو دی جس نے ان کی زندگی کی کایا پلٹ دی۔ مولانا کا بیش تر لٹریچر پڑھ ڈالا لیکن جماعت سے ان کا باقاعدہ تعلق کراچی میں ۱۹۵۰ء میں قائم ہوا۔ جلد ہی کراچی کی شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے۔ ۱۹۵۸ء میں جماعت اسلامی نے کراچی کارپوریشن کے انتخابات میں شرکت کی۔ ۱۰۰ میں سے ۲۳نشستوں پر جماعت نے انتخاب لڑا اور الحمدللہ ۲۳ کی ۲۳نشستیں جیت لیں۔ غفورصاحب کارپوریشن میں جماعت کے گروپ لیڈر مقرر ہوئے اور اس طرح ملک کے سب سے اہم شہر کے سیاسی اُفق پر ایک روشن ستارے کے طور پر نمودار ہوئے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مرکزی شوریٰ میں منتخب ہوئے، پھر کراچی کے امیر بنے (۱۹۷۲ء تا۱۹۷۷ء) اور ۱۹۷۹ء سے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اور اس کی سیاسی کمیٹی کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ جنرل ایوب کے دور میں ۱۹۶۴ء میں امیرجماعت اور مرکزی شوریٰ کے تمام ارکان کے ساتھ ساڑھے نومہینے جیل میں رہے۔۱۹۷۰ء میں کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ۱۹۷۷ء کے انتخاب میں بھی ساری دھاندلی کے علی الرغم جماعت کے ۹ منتخب ارکان میں شامل تھے، اور ۱۹۷۲ء سے قومی اسمبلی میں دستور سازی، جمہوریت کے تحفظ، ختم نبوت اور نظامِ مصطفی کی تحریکوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) اور پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) (۱۹۷۷ء تا ۱۹۷۹ء) کے سیکرٹری جنرل رہے۔ ۱۹۷۸ء تا۱۹۷۹ء میں وفاقی وزیرپیداوار کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور ۲۰۰۲ء سے ۲۰۰۵ء تک سینیٹ آف پاکستان کے رکن رہے۔ پروفیسر صاحب نے پاکستان کے سیاسی حالات پر آٹھ کتابیں مرتب کیں جو پاکستان کی تاریخ کا ایک مستند ماخذ ہیں۔
پروفیسر عبدالغفور صاحب سے میرا پہلا تعلق تو شاگرد اور استاد کے رشتے سے ہے۔ گو مَیں نے بلاواسطہ ان سے پڑھا نہیں لیکن جب میں گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکانومکس میں بی کام کی تعلیم حاصل کر رہا تھا تو وہ اُردو کالج اور کچھ دوسرے پروفیشنل اداروں میں پڑھا رہے تھے اور میرے استاد متین انصاری صاحب کے قریبی دوست تھے جس واسطے سے مجھے ان سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ بی کام میں وہ میرے ممتحن بھی رہے اور اس طرح بلاواسطہ استاد بھی ہوگئے۔ نیز جماعت میں میرے سینیر تھے، اور مَیں نے تحریکی زندگی اور ملکی سیاست دونوں کے سلسلے میں ان سے بہت کچھ سیکھا۔ ۱۹۶۴ء میں ساڑھے نو مہینے ہمیں جیل میں ایک ہی کمرے میں باقی ساتھیوں کے ساتھ رہنے کی سعادت حاصل ہوئی جس کا مفصل ذکر تذکرۂ زنداں میں آیا ہے۔ میرے لیے وہ بڑا قیمتی تجربہ اور پروفیسر عبدالغفور صاحب کی شخصیت کو قریب سے دیکھنے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا ایک نادر موقع تھا۔ میں نے ان کو ایک نفیس، باذوق، خداترس، محبت کرنے والا، بے غرض اور راست باز انسان پایا جو اپنے چھوٹوں سے بھی کچھ ایسا معاملہ کرتا ہے کہ یہ فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون بڑا ہے اور کون چھوٹا۔ مَیں نے ان ۶۰برسوں میں ان سے شفقت، محبت اور عزت کا جو حصہ پایا وہ زندگی کا قیمتی ترین سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مقام کو بلند تر کرے کہ ان سے ہم نے یہ سیکھا کہ انسانوں سے کس طرح معاملہ کرنا چاہیے۔ دوست تو دوست ان کا تو عالم یہ تھا کہ ان کے مخالف بھی ان کو اپنا سمجھتے تھے اور انھوں نے بھی اختلاف کو کبھی ذاتی تعلقات اور باہم محبت و احترام کے رشتوں میں در آنے کا موقع نہیں دیا۔ نفرت اور دشمنی کا تو دُور دُور تک کوئی وجود ہی نہ تھا ؎
ساز دل توڑ کے بھی، چھیڑ کے بھی دیکھ لیا
اس میں نغمہ ہی نہیں کوئی محبت کے سوا
غفور صاحب کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ان کی سادگی، نفاست، انکسار، محبت اور شفقت تھا۔ تصنع کا کوئی شائبہ بھی ان کی زندگی کے کسی پہلو میں مَیں نے کبھی نہیں دیکھا۔ مشکل سے مشکل وقت میں بھی وہ سلیقے اور نرمی سے بات کرنے کا سلیقہ رکھتے تھے۔ اختلاف میں شائستگی اور دوسرے کے موقف کا احترام ان کا طریقہ تھا۔ انھوں نے ہمیشہ ذاتی مفاد سے بالا ہوکر اپنے اجتماعی تعلقات کو استوار کیا، اور ہرشخص کے ساتھ عزت اور مروت کا رویہ اختیار کیا جس نے ہردل میں خود ان کے لیے عزت و احترام کا چشمہ رواں کردیا۔
ملک کی سیاسی زندگی میں ان کا کردار بڑا نمایاں ہے۔ جمہوریت کے فروغ اور اسلام کی ترجمانی کا فریضہ انھوں نے بڑی حکمت، بے باکی اور بے غرضی سے انجام دیا۔ پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد جو کچھ بھی تھا اس کو سنبھالنے اور ایک نئی زندگی دینے کے لیے جو جدوجہد ۱۹۷۲ء کے بعد قومی اسمبلی میں اور اس کے باہر ہوئی، اس میں پروفیسر عبدالغفور صاحب کا کردار سنہری حروف میں لکھے جانے کے لائق ہے۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے نتائج کا جو اثر تحریکِ اسلامی اور اس کے بہی خواہوں پر پڑا تھا، اس کا جس سمجھ داری اور جرأت سے انھوں نے مقابلہ کیا وہ ہماری تحریکی اور ملکی زندگی کا ایک تابناک باب ہے۔ ۱۹۷۳ء کے دستور کے بنانے میں ان کا اور اس وقت کی حزبِ اختلاف کے ارکان کا بڑا تاریخی کردار ہے۔ ۱۹۷۲ء ہی میں ایک پہلے سے بنائے ہوئے مسودۂ دستور کو ملک پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی اور اسمبلی میں اکثریت کی بنیاد پر ایک قسم کی سول آمریت کا خطرہ ایک حقیقت بنتا نظر آرہا تھا،لیکن ایک چھوٹی سی اپوزیشن نے جس میں پروفیسر عبدالغفور احمد، مولانا ظفر احمد انصاری ، مولانا مفتی محمود ، خان عبدالولی خان ، جناب شیرباز مزاری، مولانا شاہ احمد نورانی وغیرہم نے بڑی حکمت کے ساتھ اس مجوزہ دستور کو صرف ایک عبوری دستور کے طور پر تسلیم کرکے وقت کے حکمرانوں کو مجبور کیا کہ وہ ایک دستوری کمیٹی بنا ئیں بلکہ نئے دستور کی تدوین کا کام کریں۔ اس میں جناب ذوالفقار علی بھٹو، جناب محمود علی قصوری اور جناب عبدالحفیظ پیرزادہ کا بھی اہم کردار رہا اور یہ معجزہ رُونما ہوا کہ ۱۹۷۳ء میں ایک متفقہ دستور بن سکا جس نے اب تک پاکستان کے سیاسی نظام کو ساری دراندازیوں اور سیاسی اور عسکری طالع آزمائیوں کی زوردستیوں کے باوجود جمہوریت کی پٹڑی پر قائم رکھا ہے۔ پروفیسر عبدالغفور احمد کا اس پورے عمل میں ایک مرکزی کردار تھا۔
اسی طرح سیاسی اختلافات کے باوجود، سیاسی قوتوں کو منظم کرنے اور متعین مقاصد کے لیے اتحاد قائم کرنے اور ان کی بنیاد پر تحریک چلانے کے باب میں پروفیسر عبدالغفور صاحب کاکردار منفرد تھا۔ دستور سازی اور پھر سیاسی تحریکات میں ان کے کردار کو دیکھ کر جناب الطاف گوہر اور جناب خالد اسحق جیسے افراد نے میرے اور دوسرے دسیوں افراد کے سامنے یہ راے ظاہر کی تھی کہ اگر ملک کی سیاسی قیادت پروفیسر عبدالغفور صاحب جیسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو تو یہ ملک دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرسکتا ہے، بلکہ الطاف گوہر نے تو ڈان کے اپنے ایک مضمون میں ان کو پاکستان کے لیے مطلوب وزیراعظم تک کی حیثیت سے پیش کیا۔
پروفیسر عبدالغفور صاحب کی سیاسی سوجھ بوجھ، معاملہ فہمی اور شدید اختلافات کے درمیان مشترکہ باتوں پر اتفاق راے پیدا کرنے کی صلاحیت کے دوست اور دشمن سب قائل تھے اور یہی وجہ ہے کہ ہرحلقے میں ان کی عزت تھی۔ جماعت کے اندرونی معاملات میں بھی پروفیسر عبدالغفور صاحب کا کردار سیاسی اُمور میں زیادہ نمایاں تھا۔ مَیں ۱۹۵۷ء میں مرکزی شوریٰ میں منتخب ہوا۔ اس وقت تک مرکزی شوریٰ کی قراردادیں خود مولانا مودودی ہی مرتب فرماتے تھے۔ اس کے بعد محترم نعیم صدیقی، محترم صدیق الحسن گیلانی، محترم اسعد گیلانی اور مجھے اس عمل میں شریک کیا گیا۔ پھر آہستہ آہستہ پروفیسر عبدالغفور صاحب کا کردار بڑھتا گیا اور گذشتہ ۳۰برسوں میں سیاسی قراردادوں پر ان کی چھاپ واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ سیاسی قرارداد شوریٰ کی سب سے اہم قرارداد ہوتی ہے اور اس کو شوریٰ کی پوری بحث کو سامنے رکھ کر مرتب کیا جاتا ہے۔ ارکانِ شوریٰ کا بھی اس میں حصہ ہوتا ہے لیکن جس کمیٹی نے اس سلسلے میں سب سے زیادہ کام کیا ہے اس نے پروفیسر عبدالغفور احمد کی سربراہی میں کام کیا ہے۔ محترم چودھری رحمت الٰہی اور مجھے اس کمیٹی میں کام کرنے کی سعادت حاصل رہی ہے۔ایک مدت تک اولین مسودہ پروفیسر عبدالغفور صاحب ہی تیار کیا کرتے تھے۔ پھر باقی کمیٹی کے ارکان اپنا حصہ شامل کرتے تھے۔ اس کے بعد امیرجماعت قرارداد کو دیکھتے تھے اور آخیر میں شوریٰ میں ارکان کے مشوروں سے کمی یا اضافہ کیا جاتا تھا۔ گو، یہ ایک اجتماعی عمل تھا لیکن اس میں پروفیسر عبدالغفور احمد صاحب کا کردار بہت ہی اہم تھا اور ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔
پروفیسر عبدالغفور صاحب جماعت اسلامی کے ان چند لوگوں میں سے تھے جن کو مولانا مودودیؒ سے براہِ راست استفادے کا موقع ملا، اور پھر جن کو محترم میاں طفیل محمد اور محترم قاضی حسین احمد کے ساتھ کام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ان کی خدمات ۶۲سال کی طویل مدت پر پھیلی ہوئی ہیں جن کا احاطہ ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔ ان کی قبر کو جنت کا گوشہ بنادے، انھیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے مقام کو بلند تر فرمائے اور جو خلا ان کے رخصت ہوجانے سے ہوا ہے اسے پُر کرنے کا سامان فرمائے، انسان سب فانی ہیں لیکن یہ دین، اسلامی تحریک، اور خیراور فلاح کی جدوجہد وہ سلسلہ ہے جسے قیامت تک جاری رہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دعوت اور اس پیغام کو مضبوط اور مؤثر بنائے تاکہ ظلمتیں چھٹیں اور نورِ حق غالب ہوکر رہے۔ آمین!
سلطنت ِ روما کی داستانِ زوال میں ہرقوم کے لیے عبرت کا وافر سامان موجود ہے۔ ایک طرف عوام ناقابلِ برداشت مصائب و آلام میں گرفتار تھے اور دوسری طرف حکمران غفلت، بے وفائی، مفاد پرستی، ذاتی عیش و عشرت اور نام و نمود میں ایسے منہمک تھے، جیسے ملک و قوم کے اصل مسائل، مصائب اور مشکلات سے ان کو کوئی دل چسپی ہی نہ ہو۔ اس المیے کو ایک ضرب المثل میں اس طرح سمو دیا گیا ہے کہ ’’روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا‘‘۔
قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز اور بے داغ قیادت میں اور ملت اسلامیہ پاک و ہند کی بیش بہا قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہونے والے پاکستان کو صرف ۶۵سال کے عرصے میں خودغرض اور ناکام قیادتوں کے طفیل آج ایسی ہی کرب ناک صورت حال سے سابقہ ہے۔ ۲۰۰۸ء میں جمہوریت کے نام پر وجود میں آنے والی حکومت تو پاکستان پیپلزپارٹی کی ہے۔ لیکن اس کو سہارا دینے اور بیساکھیاں فراہم کرنے والوں میں عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی محاذ اور مسلم لیگ (ق) کا کردار بھی کچھ کم مجرمانہ نہیں۔ ستم ظریفی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) بڑی حزبِ اختلاف ہونے کے باوجود محض ’جمہوریت کے تسلسل‘ کے نام پر حقیقی اور جان دار حزبِ اختلاف کا کردار ادا نہ کرسکی اور عوام کے حقوق کے دفاع، دستور اور قانون کی حکمرانی کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر رہی۔ پھر ایسی دینی قوتیں بھی ذمہ داری سے بری قرار نہیں دی جاسکتیں جو کبھی اندر اور کبھی باہر، اور جب مرکز سے باہر ہوں تب بھی صوبے میں شریکِ کار اور جہاں ممکن ہوسکے وہاں اقتدار کی کرسیوں پر براجمان۔
یہ منظر نامہ بڑا دل خراش اور عوام کو سیاسی قیادت سے مایوس کرنے والا ہے لیکن قوموں کی زندگی میں یہی وہ فیصلہ کن لمحہ ہوتا ہے جب مایوسی اور بے عملی، جو دراصل تباہی اور موت کا راستہ ہے، کے بادلوں کو چھانٹ کر تبدیلی، نئی زندگی اور مقصد کے حصول کے لیے نئی پُرعزم جدوجہد وقت کی ضرورت بن جاتے ہیں۔ مایوسی اور بے عملی تباہی کے گڑھے میں لے جاتے ہیں اور بیداری اور جدوجہد نئی صبح کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم اس وقت ایک ایسے ہی فیصلہ کن دوراہے پر کھڑی ہے۔
موجودہ حکومت کو بڑا تاریخی موقع ملا تھا۔ فوج کی قیادت نے ماضی کے تلخ تجربات اور فوجی مداخلت کے بار بار کے تجربات کی ناکامی کی روشنی میں بڑی حد تک اپنی دل چسپیوں کو اپنے ہی دستور میں طے کردہ اور منصبی دائروں تک محدود رکھا۔ اعلیٰ عدلیہ جو جسٹس محمد منیر کے چیف جسٹس بن جانے کے دور سے ہرآمر اور ظالم حکمران کی پشت پناہی کرتی رہی تھی، پہلی بار بڑی حد تک آزاد ہوئی اور اس نے دستور اور قانون کی بالادستی کے قیام کے بارے میں اپنی ذمہ داری کو ایک حد تک ادا کرنے کی کوشش مستعدی اور تسلسل کے ساتھ انجام دی جس پر اسے عدالتی فعالیت (Judicial activism)، حتیٰ کہ دوسرے اداروں کے معاملات میں مداخلت تک کا نام دیا گیا اور ان حلقوں کی طرف سے دیا گیا جنھیں اپنے لبرل اور جمہوری ہونے کا اِدعا ہے۔ ان میں سے کچھ بائیں بازوسے وابستہ اورترقی پسند ہونے کے بھی مدعی ہیں، حالانکہ اہلِ علم جانتے ہیں کہ بنیادی حقوق اور دستور پر عمل درآمد، دونوں کی آخری ذمہ داری عدلیہ پر ہے۔ دستور میں دفعہ ۱۸۴ شامل ہی اس لیے کی گئی ہے کہ جب دستوری حقوق کو پامال کیا جائے تو عدالت مداخلت کرے، خواہ یہ مداخلت اسے کسی ستم زدہ کی فریاد پر کرنی پڑے یا ازخود توجہ کی بنیاد پر اسے انجام دیا جائے۔یہ وہ نازک مقام ہے جہاں ایک سیاسی مسئلہ دستور کے طے کردہ اصول کے نتیجے میں بنیادی حقوق کا مسئلہ بن جاتا ہے اور عدالت کے دائرۂ کار میں آجاتا ہے۔ اسی طرح پریس کی جزوی آزادی بھی ایک نعمت تھی جس کے نتیجے میں عوام کے مسائل اور مشکلات کے اخفا میں رہنے کے امکانات کم ہوگئے اور وہ سیاسی منظرنامے میں ایک مرکزی حیثیت اختیار کرگئے۔
ان سارے مثبت پہلوئوں کو اس حکومت نے خیر اور اصلاح احوال کے لیے مددگار عناصر سمجھنے کے بجاے اپنا مخالف اور ان دونوں ہی اداروں کو عملاً گردن زدنی سمجھا، اور ایک منفی رویہ اختیار کیا جسے مزید تباہ کاری کا ذریعہ بنانے میں بڑا دخل خود ان کی اپنی ٹیم کی نااہلی (جس کی بڑی وجہ دوست نوازی، اقربا پروری اور جیالا پرستی تھی)، وسیع تر پیمانے پر بدعنوانی (corruption) اور مفاد پرستی کی بلاروک ٹوک پرستش کا رہا جس کے نتیجے میں ملک تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ۵۰ سے زیادہ احکام کی کھلی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے اور توہین عدالت کی باربار کی وارننگ اور چند مواقع پر سزائوں کے باوجود اسی روش کو جاری رکھا گیا ہے۔ انتظامی مشینری کو سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ معیشت کو اگر ایک طرف لوٹ کھسوٹ کے ذریعے تباہ کردیا گیا ہے تو دوسری طرف غلط پالیسیاں، توانائی کا فقدان، پیداوار میں کمی، تجارتی اور ادایگیوں کے خسارے میں بیش بہا اضافہ، مہنگائی کا طوفان، بے روزگاری کا سیلاب اور اس پر مستزاد حکمرانوں کی شاہ خرچیاں اور دل پسند عناصر کو لُوٹ مار کی کھلی چھوٹ نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ خود نیب کے سربراہ کے بقول روزانہ کرپشن ۱۰ سے ۱۲؍ارب روپے کی ہورہی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ملک کے سالانہ بجٹ سے بھی کچھ زیادہ قومی دولت کرپشن کی نذر ہورہی ہے۔ ملک کے عوام اپنی ہی دولت سے محروم کیے جارہے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کے کنارے پر کھڑا ہے۔ سارا کاروبارِ حکومت قرضوں پر چل رہا ہے جن کا حال یہ ہے کہ قیامِ پاکستان سے ۲۰۰۸ء تک ملکی اور بیرونی قرضوں کا جو مجموعی بوجھ ملک و قوم پر تھا وہ ۶ ٹریلین روپے کے لگ بھگ تھا جو ان پونے پانچ سالوں میں بڑھ کر اب ۱۴ٹریلین کی حدیں چھو رہا ہے۔
ملک میں امن و امان کی زبوں حالی ہے اور جان، مال اور آبرو کا تحفظ کسی بھی علاقے میں حاصل نہیں لیکن سب سے زیادہ بُرا حال صوبہ خیبرپختونخوا، فاٹا، بلوچستان اور عروس البلاد کراچی کا ہے، جو پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کراچی کا عالم یہ ہے کہ کوئی دن نہیں جاتا کہ دسیوں افراد لقمۂ اجل نہ بن جاتے ہوں۔ کروڑوں روپے کا روزانہ بھتہ وصول کیا جاتا ہے اور اربوں کا روزانہ نقصان معیشت کو پہنچ رہا ہے۔ Conflict Monitoring Centre کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق صرف ۲۰۱۲ء میں ملک میں تشدد اور دہشت گردی کے ۱۳۴۶ واقعات میں ۲۴۹۳؍افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ نیز صرف اس سال میں امریکی ڈرون حملوں سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ۳۸۸ ہے (دی نیوز، ۲۸دسمبر ۲۰۱۲ء)۔ ایک اور آزاد ادارہ (FAFEEN) حالات کو باقاعدگی سے مانٹیر کر رہا ہے۔ اس کی تازہ ترین رپورٹ بتاتی ہے کہ صرف دسمبر ۲۰۱۲ء کے تیسرے ہفتے میں ملک میں لاقانونیت کے رپورٹ ہونے والے واقعات ۲۴۱ ہیں جن میں ۷۵؍افراد ہلاک ہوئے اور ۱۶۶ زخمی (ایکسپریس ٹربیون، ۲۶دسمبر ۲۰۱۲ء)۔ اناللّٰہ وانا الیہ راجعون۔
ان تمام ناگفتہ بہ حالات کے ساتھ ملک کی سیاسی آزادی کی مخدوش صورت حال، ملک کے اندرونی معاملات میں امریکا کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور پالیسی سازی پر فیصلہ کن اثراندازی نے محکومی اور غلامی کی ایک نئی مصیبت میں ملک کو جھونک دیا ہے۔ جمہوری حکومت کے کرنے کا پہلا کام مشرف دور میں اختیار کی جانے والی امریکی دہشت گردی کی جنگ سے نکلنا تھا، اور پارلیمنٹ نے اکتوبر ۲۰۰۸ء میں حکومت کے قیام کے چھے مہینے کے اندر واضح قرار داد کے ذریعے جنگ سے نکلنے، آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرنے اور سیاسی مسائل کے سیاسی حل کے راستے کو اختیار کرنا کا حکم دیا تھا، لیکن حکومت نے پارلیمنٹ کے فیصلے اور عوام کے مطالبے کو درخور اعتنا نہ سمجھا اور امریکی غلامی کے جال میں اور بھی پھنستی چلی گئی۔ آج یہ کیفیت ہے کہ ۴۵ہزار سے زیادہ جانوں کی قربانی دینے ، ایک لاکھ سے زیادہ کے زخمی ہونے اور ۳۰ لاکھ کے اپنے ملک میں بے گھر ہوجانے اور ۱۰۰؍ارب ڈالر سے زیادہ کے نقصانات اُٹھانے کے باوجود پاکستان امریکا کا ناقابلِ اعتماد دوست اورعلاقے کے دگرگوں حالات کے باب میں اس کا شمار بطور ’مسئلہ‘ (problem) کیا جارہا ہے، ’حل‘ (solution) میں معاون کے طور پر نہیں ۔ جس طرح خارجہ پالیسی ناکام ہے اسی طرح دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے عسکری حکمت عملی بھی بُری طرح ناکام رہی ہے اور عالم یہ ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی!
یہ وہ حالات ہیں جن کا تقاضا ہے کہ کسی تاخیر کے بغیر عوام کو نئی قیادت منتخب کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ دلدل سے نکلنے کی کوئی راہ ہو اور جمہوری عمل آگے بڑھ سکے۔ ان حالات میں پانچ سال کی مدت پوری کرنے کی رَٹ ناقابلِ فہم ہے۔ دستور میں پانچ سال کی مدت محض مدت پوری کرنے کے لیے نہیں ہوتی، اچھی حکمرانی کے لیے ہوتی ہے۔ دنیا کے جمہوری ممالک کی تاریخ گواہ ہے کہ اصل مسئلہ اچھی حکمرانی ہے، مدت پوری کرنا نہیں۔ یہ کوئی ’عدت‘ کا مسئلہ نہیں ہے کہ شرعی اور قانونی اعتبار سے دن پورے کیے جائیں۔ دستور ہی میں لکھا ہے کہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ جب چاہیں نیا انتخاب کراسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر ایوان اس پوزیشن میں نہ ہو کہ اکثریت سے قائد منتخب کرسکے تو اسمبلی تحلیل ہوجاتی ہے۔ برطانیہ میں گذشتہ ۶۵برس میں نو مواقع ایسے ہیں جب پارلیمنٹ کا انتخاب دستوری مدت پوری کرنے سے پہلے کیا گیا ہے۔ اٹلی اور یونان میں اس وقت بھی یہ مسئلہ درپیش ہے۔ خود بھارت میں آزادی کے بعد سے اب تک ۱۱ بار میعاد سے پہلے انتخابات ہوئے ہیں اور ہمارے ملک میں تو اب پونے پانچ سال ہوچکے ہیں۔ ۱۶مارچ ۲۰۱۳ء کو یہ مدت بھی ختم ہونے والی ہے جس کے بعد ۶۰دن میں انتخاب لازمی ہیں۔ مئی کا مہینہ موسم کے اعتبار سے انتخاب کے لیے ناموزوں ہے۔ سیاسی اور معاشی اعتبار سے بھی یہ وقت اس لیے نامناسب ہے کہ ملک کا بجٹ ۳۰ جون سے پہلے منظور ہوجانا چاہیے اور اگر مئی میں انتخابات ہوتے ہیں تو جون کے وسط تک حکومت بنے گی۔ اتنے کم وقت میں بجٹ سازی ممکن نہیں۔ اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ جنوری میں اسمبلیاں تحلیل کرکے ۶۰دن کے اندر انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔ اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
ہم اس بات کا بھی واضح اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش یا اٹلی کے ماڈل کے طرز کی کوئی عبوری حکومت یا احتساب یا اصلاحات کے نام پر کوئی نام نہاد ٹیکنوکریٹ سیٹ اَپ مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ یہ عوام کے لیے ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ یہ صرف مزید تباہی کا راستہ ہے۔ ماضی میں بھی انتخاب سے پہلے احتساب کا نعرہ آمروں نے لگایا ہے اور آج بھی یہی کھیل کھیلنے کی کوشش ہورہی ہے جو بہت خطرناک ہے۔ اس لیے صحیح سیاسی لائحہ عمل وہی ہوسکتا ہے جو مندرجہ ذیل خطوط پر مرتب کیا جائے:
۱- اسمبلی کی مدت میں توسیع یا سال دو سال کے لیے عبوری انتظام کے فتنے کو سر اُٹھانے سے پہلے ہی کچل دینا چاہیے۔اس پر غور بھی اپنے اندر بڑے خطرات رکھتا ہے۔ اس لیے یہ باب بالکل بند ہونا چاہیے۔
۲- جنوری میں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر کے، دستور کے مطابق، صرف انتخابات کے انعقاد کے لیے غیر جانب دار اور سب کے مشورے سے عبوری حکومتیں قائم کی جائیں جو ملک کو نئی سمت دینے کے لیے نہیں ،صرف جلد از جلد آزادانہ طور پر شفاف انتخابات منعقد کرانے کے لیے ہوں۔ جو انتخابی اصلاحات ازبس ضروری ہیں، وہ باہم مشورے سے کسی تاخیر کے بغیر کردی جائیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں الیکشن کمیشن جو الحمدللہ قابلِ بھروسا ہے، اپنی دستوری ذمہ داری ادا کرے اور عدلیہ اور فوج کی ضروری مدد سے انتخابی عمل کو مکمل کرے۔ اس سلسلے میں سیاسی جماعتیں بھی ذمہ داری کا ثبوت دیں اور دستور کی دفعہ ۶۲ اور ۶۳ کا خود بھی احترام کریں اور وہ راستہ اختیار کریں کہ ان کی کھلی کھلی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی اُمیدواری کے مرحلے ہی پر تطہیر ہوسکے۔ انتخابی قواعد پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، انتظامیہ مکمل طور پر غیر جانب دار ہو اور عدلیہ اس بارے میں پوری طرح چوکس رہے۔ الیکشن کمیشن کا کردار اس سلسلے میں سب سے اہم ہے۔
۳- فوج کی یا خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت کسی صورت میں بھی قابلِ قبول نہیں۔ یہ نہ تو ملک کے مفاد میں ہے اور نہ خود فوج کے۔ البتہ دستور کے تحت انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے الیکشن کمیشن جس حد تک فوج یا دوسری سیکورٹی ایجنسیوں سے مدد لینا چاہے، اس کا دیانت داری سے اہتمام کیا جائے، اور پولنگ کے دن امن و امان کے قیام اور پولنگ اسٹیشنوں کو بدعنوانی سے محفوظ رکھنے کے لیے واضح اور کھلاکردار ادا کرے۔
۴- سیاسی جماعتیں قوم کے سامنے اپنا منشور، پروگرام واضح کریں، وہ ٹیم لائیں جو اس پروگرام پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، تاکہ محض برادری اور جنبہ داری کی بنیاد پر سیاسی نقشہ نہ بنے بلکہ اصول، پروگرام، کردار اور صلاحیت اصل معیار بنیں۔ میڈیا کو بھی اس سلسلے میں دیانت اور غیرجانب داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ میڈیا کے لیے جو ضابطہ اخلاق اختیار کیا جائے اس میں اس پہلو کو بھی مرکزی اہمیت دی جائے۔ الیکشن مہم کے سلسلے میں الیکشن کمیشن نے جو ضابطہ کار مرتب کیا ہے، اس پر اگر ٹھیک ٹھیک عمل ہو تو میڈیا کی اور اُمیدواروں کی گھرگھر جاکر ووٹروں سے رابطے کی مہم کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوگی جس میں بڑا خیر ہے۔ اس طرح دولت کی اس نمایش کو ختم کیا جاسکتا ہے جو سیاسی بدعنوانی کا عنوان بن چکی ہے۔
۵- ترقی پذیر ممالک میں اور خاص طور پر پاکستان میں بیرونی ممالک اور ان کی پروردہ این جی اوز کا کردار روزافزوں ہے۔ ان کے عمل دخل کے بارے میں صحیح پالیسی بنانے اور پھر مناسب اقدام کرنا ضروری ہیں۔ بیرونی سرمایہ اور بیرونی کارپرداز اپنے مقامی کارندوں کے ذریعے اپنا اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے ان پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس میدان میں بھی ہرقسم کی مداخلت اور اثراندازی کو آہنی ہاتھوں کے ساتھ روکنے کا انتظام ضروری ہے۔
۶- ہم قوم اور تمام دینی اور سیاسی قوتوں سے آخری بات یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ملک اور اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر، ذاتیات اور مفادات سے بالا ہوکر اپنا فرض اداکریں۔ ووٹ ایک امانت ہے اور ایک ذمہ داری۔ اگر ہم ووٹ دینے کے لیے گھروں سے باہر نہیں نکلتے اور اپنی ذمہ داری کو خود ادا نہیں کرتے تو پھر غلط لوگوں کے مسلط ہوجانے کا گلہ کس کام کا۔ یہ سب خود ہمارا کیا دھرا ہے کہ اچھے لوگ گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں اور طالع آزما اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس لیے عوام کو سمجھنا چاہیے کہ ان کو اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے اور اپنے دین و ایمان، نظریاتی شناخت، آزادی اور خودمختاری کے تحفظ اور سماجی اور معاشی انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی اور انتخابات میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر تبدیلی ممکن نہیں۔ تبدیلی کے لیے پہلا قدم خود اپنے کو تبدیل کرنا اور اپنی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے ادا کرنا ہے۔
اس وقت ملک جن نازک حالات سے دوچار ہے، ان میں ضرورت ہے کہ اہلِ خیر زیادہ سے زیادہ متحد ہوں۔ اچھے، دیانت دار لوگوں، گروہوں اور جماعتوں کے درمیان تعاون ہو اور اچھے لوگ اپنی قوتوں کو بٹ جانے سے روکیں۔ اس کے لیے اتحاد ہی واحد راستہ نہیں۔ تعاون اور اشتراک کے ہزار طریقے ہیں۔ تعاونِ باہمی کا کوئی بھی راستہ اختیار کریں تاکہ قوم کے بہترین عناصر ایک دوسرے کا سہارا بن کر مفاد پرستوں کے منصوبوں کو خاک میں ملا سکیں۔ آنے والے چند مہینے بڑے فیصلہ کن ہیں اور فیصلے کا انحصار ہماری اپنی سعی و کاوش اور جدوجہد پر ہوگا۔ منزل اور اہداف کا ٹھیک ٹھیک تعین کیجیے اور پھر ان کے حصول کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر سرگرم ہوجایئے۔ تبدیلی اور اصلاح کا بس یہی راستہ ہے کہ ’’جو بڑھ کر خود اُٹھا لے ہاتھ میں، مینااسی کا ہے‘‘۔ آپ یہ راستہ اختیار کریں، پھر اللہ کی مدد بھی آپ کے ساتھ ہوگی کہ اس کا وعدہ ہے:
وَ الَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا ط (العنکبوت ۲۹:۶۹)،جو لوگ ہمارے راستے میں جدوجہد کرتے ہیں ہم انھیں اپنے راستوں کی طرف ضرور ہدایت دیں گے۔
قرآن پاک نے انسانی جان کی حُرمت کو ایک ابدی اور عالمی اصول کی حیثیت سے پیش کیا ہے اور اس سلسلے میں انسانوں کے درمیان مکمل مساوات کا بھی حکم دیاہے۔ مذہب، رنگ، نسل، قومیت، قبیلہ، برادری، رشتہ داری غرض کسی بنیاد پر بھی امتیازی سلوک کے لیے کوئی گنجایش نہیں چھوڑی گئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ط وَ مَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ط (المائدہ۵:۳۲) جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین پر فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا، اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔
قانون کی حکمرانی کا نفاذ، قانون کے باب میں مکمل مساوات اور انسانوں کے درمیان عدل و انصاف کا قیام ہی وہ اصل بنیاد ہے جس پر ایک پُرامن، صحت مند اور ترقی پذیر معاشرہ تعمیر ہوسکتا ہے۔ دولت کی فراوانی، سامانِ عیش و عشرت کی ارزانی اور سیاسی، معاشی اور عسکری قوت کی چمک دمک سب اپنی جگہ، لیکن جمہوریت اور ترقی کا اصل پیمانہ انسانیت کا احترام ہے، مال و متاع کی فراوانی نہیں___ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انسان کو قدم قدم پر اِدراک ہوتا ہے، لیکن جس طرح صحت سے محرومی کے بعد ہی صحت کی قدرو منزلت کا احساس ہوتا ہے، اسی طرح معصوم جانوں کے اتلاف اور دلوں کو ہلا دینے والے اندوہ ناک واقعات کے بعد ہی زندگی اور امن کی اہمیت اور قیمت کا احساس ہوتا ہے اور انسان کو سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ ظلم، دہشت گردی اور سفاکیت کے ہاتھوں بہنے والے خون کے ہرقطرے سے جو آواز بلند ہو رہی ہے: بِاَیِّ ذَنْبٍ م قُتِلَتْo(التکویر ۸۱:۹)، یعنی ’’کس قصور میں مجھے ذبح کیا گیا ہے‘‘۔ اس کا جواب بھی سوچ لے۔
۱۴ دسمبر ۲۰۱۲ء کو امریکا کی ریاست کینیکٹی کٹ کے ایک چھوٹے مگر خوش حال شہر نیوٹائون کے سینڈی ہک ایلیمنٹری اسکول میں ایک ۲۰ سالہ نوجوان ایڈم لانز کے ہاتھوں ۲۰ کم سن بچوں اور بچیوں (۱۲لڑکیاں اور ۸لڑکے جن کی عمریں ۵ اور ۷سال کے درمیان تھیں) اور ان کے چھے اساتذہ کا بہیمانہ قتل ایک ایسا واقعہ ہے جس نے امریکا ہی نہیں، پوری دنیا کے انسانوں کو اشک بار کردیا ہے اور سوچنے سمجھنے والے تمام ہی افراد کے دل و دماغ میں ایک طوفان برپا کردیا ہے کہ دنیا کے امیرترین اور خوش حال ترین ملک میں، جو مغربی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی شمار کیا جاتا ہے، ایسا اندوہ ناک واقعہ کیسے رُونما ہوگیا ؟ایسا کیوں ہے کہ یہ اور ایسے ہی دوسرے واقعات طاقت اور ترقی کے نشے میں مست انسانوں کی آنکھیں کھولنے کا ذریعہ نہیں بن پارہے؟ ان واقعات کے آئینے میں آج کا انسان معاشرے اور تہذیب کے اصل بگاڑ، بیماری اور فساد کی حقیقی تصویر کیوں نہیں دیکھ رہا ہے؟ اور کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ انسان خود احتسابی کا راستہ اختیار کرے اور ان بنیادی اسباب کو سمجھنے کی کوشش کرے جو بگاڑ کی اصل جڑ ہیں؟
اقبال نے بہت پہلے اس ضرورت کی طرف مغرب اور مشرق کے سوچنے والوں کو متوجہ اور متنبہ کیا تھا کہ:
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کرنہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کرنہ سکا
سینڈی ہک اسکول کے معصوم بچوں کو وحشیانہ دہشت گردی کا نشانہ بنانے والا نوجوان ایک متمول گھرانے کا فرد تھا جس نے پہلے اپنی ماں کے خودکار ہتھیاروں سے خود اس کو قتل کیا، اور پھر ننھے بچوں کے اس اسکول میں اس طرح گولیوںکی بارش کی کہ ایک ایک بچے کے جسم میں آٹھ سے دس گولیاں پیوست کردیں۔ ۲۶؍افراد کا خون بہاکر اس نے خود اپنے کو بھی مارلیا اور پولیس کے آنے سے پہلے ہی ایک قیامت صغریٰ برپا کر کے اس خونیں کہانی کے باب کو مکمل کردیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق جس بنگلے میں وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا، وہ ڈھائی لاکھ ڈالر کی مالیت کا تھا اور زندگی کی ہرسہولت اس کو حاصل تھی۔ اس کی ماں کو اسلحہ جمع کرنے کا شوق تھا اور اس کے اسلحہ خانے سے اس کا یہ چشم و چراغ ایک خود کار رائفل، دو پستول اور سو سے زیادہ گولیاں لے کر اس خونیں کھیل پر نکلا تھا۔ یہ دہشت گردی بظاہر کسی ذاتی رنجش کا نتیجہ نہ تھی۔ امریکی صدر، پالیسی سازوں، دانش وروں اور میڈیا سے لے کر عام افراد ششدر ہیں اور سوال کر رہے ہیں کہ اس نوجوان نے یہ اقدام کیوں کیا؟ بحث کا محور دو نکات بنے ہوئے ہیں: ۱- امریکی معاشرے میں اسلحے کی ریل پیل، اور ۲- مردو زن کا ذہنی انتشار جو کج روی کی طرف لے جائے۔
امریکی معاشرے میں اسلحے کی فراوانی اس دہشت گردی کا سب سے اہم سبب قرار دیا جارہاہے۔ اسلحہ ساز کمپنیوں اور اسلحہ کے شوقین افراد کی بااثر تنظیم نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کا کردار بھی بڑا مرکزی ہے جو ہرشہری کے اسلحہ رکھنے اور اسے آزادانہ لے کر گھومنے کے حق کو آزادیِ راے (دستوری ترمیم نمبر۱) کی طرح ایک بنیادی حق قرار دیتی ہے۔ یہ یہودی لابی کی طرح کی ایک مضبوط لابی کا کردار ادا کرتی ہے جس کے اثر کو دو ڈھائی سو سال میں بھی کم نہیں کیا جاسکا، حتیٰ کہ سپریم کورٹ نے بھی دو بار ہرشہری کے اسلحہ رکھنے کے اس حق کو تسلیم کیاہے اور اس پر ہرپابندی کا راستہ روکا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ ۳۲کروڑ آبادی والے امریکا میں ۳۰ کروڑ کی تعداد میں مہلک ترین اسلحہ عام لوگوں کے پاس موجود ہے، اور تحقیقی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق آبادی کے ہر۱۰۰؍افراد میں سے ۸۹ کے پاس اسلحہ موجود ہے۔ یوں امریکا دنیا کا سب سے زیادہ مہلک ہتھیاروں سے بھرا پڑا (weaponized) ملک ہے۔ چونکہ ایسے گھرانے بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں کئی کئی ہتھیار ہیں، اس لیے یہ بات کہی جارہی ہے کہ عملاً آبادی کے ۴۰ فی صد گھرانے پوری طرح مسلح ہیں اور امریکا کی ۵۰ میں سے ۴۷ ریاستوں میں اسلحہ لے کر کھلے عام پھرنے کی آزادی بھی ہے۔ رائفل، بندوق اور پستول کے استعمال سے سال میں اوسطاً ایک لاکھ افراد زخمی ہوتے ہیں اور نجی دائرے میں استعمال ہونے والے اسلحے کے ذریعے مرنے والوں کی تعداد اوسطاً سالانہ ۱۲ہزار سے زیادہ ہے۔ گویا نائن الیون میں جتنے افراد ہلاک ہوئے ان سے چار گنا زیادہ ہرسال امریکا میں عام انسانوں کے درمیان اسلحے کے استعمال سے ہلاک ہوتے ہیں۔ اور اگر اس تعداد کا موازنہ افغانستان میں امریکی اور ناٹو افواج کی ہلاکتوں سے کیا جائے تو ۱۲سال میں مارے جانے والے فوجیوں سے بھی یہ سالانہ اوسط چار گنا زیادہ ہے۔ نیز ترقی یافتہ ممالک میں اسلحے سے ہلاک ہونے والوں کا جو اوسط ہے، امریکا میں یہ شرح اس سے ۱۵گنا زیادہ ہے۔ امریکا کے ایک تحقیقی ادارے Brady Campaign To Prevent Gun Violence کے مطابق اسلحے کے آزادانہ استعمال سے صرف اِکّا دکّا افراد ہی کو لقمۂ اجل نہیں بنایا جاتا بلکہ بیک وقت متعدد افراد کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے جسے multiple victim shooting اورmass-killing کہا جاتا ہے اور اس کی بہتات کا بھی یہ عالم ہے کہ ایسے اجتماعی قتل ہر۹ء۵ دن میں ایک بار وقوع پذیر ہورہے ہیں۔
روزنامہ دی گارڈین نے نیوٹائون کے اس سکول میں کھیلی جانے والی خونیں ہولی پر اپنے اداریے میں تبصرہ کرتے ہوئے امریکا کے اسلحے کے بارے میں رویے اور اس کے آزادانہ استعمال کے ذکر کو اس ملک کی پہلی خصوصیت قرار دیا ہے اور اجتماعی قتل و غارت گری کی اس روایت کا اس طرح ذکر کیا ہے:
درحقیقت جن تین باتوں میں امریکا واقعی مختلف ہے ان میں سے ایک گولی مارنے کی بڑھتی ہوئی لہر ہے۔ جمعہ کے دن ریاست کینیکٹی کٹ کے شہر نیوٹائون میں بڑے پیمانے پر گولی چلانے کے واقعے میں ۲۷؍افراد ہلاک ہوگئے جن میں ۲۰ کم عمر بچے تھے۔ اس سے کچھ ہی پہلے کولوریڈو کے سینما میں جو گولی چلائی گئی تھی، ۱۲ زندگیاں اس کی نذر ہوگئی تھیں۔ لیکن یہ سال اس طرح کے واقعات سے بھرا ہوا ہے۔ امریکا کی بہت سی ریاستوں میں اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں۔ ۲۰۱۲ء میں جارجیا، اوہائیو، پٹس برگ، اوک لینڈ، اوکلوہاما، سی ایٹل، وسکنسن، مینا پولس اور ٹیکساس میں بڑے پیمانے پر ایسے واقعات ہوئے ہیں۔ نیوٹائون کے واقعے سے صرف تین دن پہلے ایک نوجوان نے امریکا کے ایک شاپنگ سنٹر میں اندھادھند گولی چلائی جس میں خود کو مارنے سے پہلے دو افراد کو قتل کردیا۔ امریکی تاریخ کے گولی مارنے کے سب سے زیادہ مہلک ۱۲ واقعات میں سے چھے جن میں بڑے پیمانے پر لوگ مارے گئے، گذشتہ پانچ برسوں میں رُونما ہوئے۔(Americans and Gun: The Shots Heard Round the World دی گارڈین، ۱۶ دسمبر ۲۰۱۲ء)
اس پس منظر میں نیوٹائون کے اسکول میں کی جانے والی ہلاکتوں نے ملک کو ہلا دیا ہے اور اسلحے کی فراہمی (جو اس وقت اسلحے کی دکانوں کے علاوہ اسپورٹس کی دکانوں، حتیٰ کہ سپرمارکیٹوں تک میں بہ آسانی مل جاتا ہے) کو کسی ضابطے میں لانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت پر بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔ اسلحے کی لابی کی مزاحمت کے باوجود راے عامہ اور پارلیمنٹ کے مؤثر افراد اب اس سارے کاروبار کو قانون کی گرفت میں لانے کے بارے میں کم از کم سوچ بچار اور بحث و مباحثہ پر آمادگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک بڑی اہم اور دُوررس نتائج کی بحث کا آغاز ہوگیا ہے، یعنی اس امر کو متعین کیا جائے کہ اسلحہ رکھنا ایک بنیادی حق ہے یا محض ایک سہولت، استحقاق اور ضرورت۔ نیز اس سلسلے میں اب یہ بنیادی بحث بھی ہورہی ہے کہ دستور کے دیے ہوئے ایک حق پر قانون اور مفادعامہ کی روشنی میں پابندی لگائی جاسکتی ہے یا نہیں؟ آزادی راے کا حق جو دستور کی پہلی ترمیم کے ذریعے حاصل ہوا تھا، اس کے بارے میں بھی یہی بحث ہوتی رہی ہے اور اس بگ ٹٹ آزادی کا سہارا لے کر توہین رسالتؐ اور دین و مذہب کا تمسخر اُڑانے کی جسارت بھی کھلے عام کی جاتی رہی ہے۔ اس کا مسلسل اندھا دفاع کیا گیا ہے حالانکہ کچھ مقدس گائیں (Holy Cows) ہیں جن پر بات کرنا ممنوع بلکہ ’جرم‘ ہے، جیسے یہودیت، اسرائیل، ہالوکاسٹ اور سامیت مخالف (Anti Semitism)۔لیکن یہی وہ عناصر جو اسلام، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دینی شخصیات کے بارے میں دریدہ دہنی اور تضحیک و تحقیر کو آزادیِ راے کا حصہ قرار دیتے ہیں، اب یہ کہنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ ایک دستوری حق کے استعمال کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ بھی ضروری ہے۔نیز ایک انفرادی حق کو اجتماعی مصالح سے مشروط اور محدود کیا جاسکتا ہے، اور کیا جانا چاہیے۔ نیویارک ٹائمز کا اداریہ اس سلسلے میں بڑا دل چسپ ہے:
گولی چلانے کے سابقہ واقعات کی طرح نیوٹائون میں گذشتہ جمعہ کو ۲۰بچوں اور سات بالغوں کے قتل نے امریکا میں آتشیں اسلحے کے بارے میں قومی دُھن (fixation) کو ایک بار پھر بیدار کردیا ہے۔ اسلحے کی فی کس موجودگی کے لحاظ سے کوئی بھی ملک امریکا سے آگے نہیں ہے۔ ۳۰۰ ملین آتشیں ہتھیار عوام الناس کے پاس موجود ہیں۔ گویا کہ ہربالغ فرد کے لیے ایک ہتھیار دستیاب ہے۔ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے ۲۶ترقی یافتہ ممالک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ بتایا ہے کہ جہاں زیادہ اسلحہ ہوتا ہے وہیں زیادہ قتل ہوتے ہیں۔ امریکا کی صورت اور بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔ امریکا میں قتل کی شرح دوسرے خوش حال ممالک کی شرح کے مقابلے میں، جن کے ہاں اسلحے کی نجی ملکیت کو کنٹرول کرنے کے سخت قوانین موجود ہیں، ۱۵گنا زیادہ ہے۔
اداریے میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے کے خونیں واقعات کے موقع پر بھی صدراوباما نے اسلحے کی ملکیت اور انھیں کھلے بندوں لیے پھرنے پر قانونی گرفت بڑھانے کے اعلانات کیے ہیں لیکن عملاً کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی۔ اس اداریے میں ایک سابق رکن کانگریس جوے اسکاربرو کی کے قلب ماہیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کڑوی گولی نگلنے کا اعلان کیا ہے:
وہ لوگ جو ہماری طرح یقین رکھتے ہیں کہ دوسری ترمیم امریکی شہریوں کو اسلحہ رکھنے کا مطلق اختیار نہیں دیتی، ان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ان کا یہ موقف ہمدردی سے ان کی بات سننے والوں کو ان سے دُور کردے گا اور اس نقطۂ نظر کے کسی وقت رائج ہونے کا جلدی امکان نہیں ۔ ہمیں قانون کے پابند اور تحفظ کی ضرورت محسوس کرنے والے اسلحے کے مالکوں کی جائز تشویش کا احترام کرنا چاہیے، تاکہ لچک نہ رکھنے والے نظریاتی لوگوں کے ساتھ کوئی مشترک دائرہ تلاش کیا جاسکے۔ اسکاربرو نے اسلحے پر پابندی کے مخالفوں کے لیے چیلنج بہت اچھی طرح پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے اسلحے کی بحث میں اپنا نقطۂ نظر تبدیل کرلیا ہے۔ اب وہ اسے حکومتی کنٹرول کے مقابلے میں فرد کے حقوق کے بجاے اسے عوام کے تحفظ کے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک کے بعد ایک راے شماری نے یہ ظاہر کیا ہے کہ رائفل ایسوسی ایشن کے ممبران خود بھی ایسے اقدامات کے مخالف نہیں ہیں جن سے اسلحہ خریدنے اور بیچنے والے ان افراد کی جو مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے ہوں، نگرانی کی جاسکے۔ دستور نے کوئی ایسے مطلق حقوق نہیں دیے ہیں کہ ان کی خاطر عوام کے تحفظ اور بہبود کے متعلق تشویش کو نظرانداز کردیا جائے۔(انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون، ۱۹دسمبر ۲۰۱۲ء)
توقع ہے کہ جس طرح اسلحے کے حصول اور اس کی کسی نمایش (display) کی آزادی کے بارے میں اجتماعی مصالح اور انسانی معاشرے کی فلاح اور امن و آشتی کی ضمانت کے لیے ایک بظاہر مطلق حق (absolute right) کو قانون اور اخلاق کے ضابطہ کار کا پابند کرنے کی بات کی جارہی ہے، اسی طرح آزادیِ راے کے تحفظ کے ساتھ اس آزادی کے غیرذمہ دارانہ استعمال کو بھی کسی ضابطے کا پابند کرنے کا صحت مند راستہ اختیار کرنے پر غورو مباحثے کا آغاز کیا جائے گا۔
دوسرا پہلو جس پر کھل کر بات کی جارہی ہے وہ اسلحے کا استعمال کرنے والوں، خاص طور پر وہ افراد جو قتل عام کے مرتکب ہورہے ہیں، ان کی ذہنی کیفیت اور اس کیفیت کو پیدا کرنے والے عوامل کا ادراک ہے جو ایسے مخبوط الحواس (deranged ) رویے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سلسلے میں عمومی صحت ِ ذہنی (mental health) کے مسائل اور معاشرے میں صحت کی دیکھ بھال (health care) اور خصوصیت سے نفسیاتی مریضوں کی دیکھ بھال کی کمی پر توجہ مرکوز کرائی جارہی ہے۔ مائیک راجر نے (جو ایف بی آئی کا ایک سابق افسر اور اب ایوانِ نمایندگان کا رکن ہے) کہا ہے کہ اس وقت ہماری اصل ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ان لوگوں تک اسلحے کی رسائی کو روکیں جو ذہنی امراض کا شکار ہیں۔ ایک اور مشہور کالم نگار ٹموتھی اسٹینلے نے امریکا میں ( جسے آزادی اور دولت کی جنت کہا جاتا ہے) ذہنی امراض کی کثرت اور اس کے مناسب علاج کے باب میں کوتاہی کو حالات کی خرابی کا سبب قرار دیا ہے۔ اس کے خیال میں:
ذہنی صحت کے اداروں کے لیے کم وسائل کی فراہمی ہی ذہنی امراض کی خطرناک کثرت کا سبب ہے، خواہ وسائل کی فراہمی میں یہ غفلت غیرارادی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی طرف ضرور توجہ کرنا چاہیے ۔(دی گارڈین، ۱۸ دسمبر ۲۰۱۲ء، After the Newtown Shooting It is Time to Talk about Mental Health and Crime)
اس سلسلے میں کانگرس سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ:
براہِ مہربانی صحت کے بہتر قوانین ترتیب دیجیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ٹک ٹک کرتے کسی بھی وقت پھٹ جانے والے بم کو غیرمؤثر کیا جاسکے اس سے قبل کہ بہت تاخیر ہوجائے۔ ایک خاندان کے لیے اس بات کو زیادہ آسان بنادیا جائے کہ ممکنہ خطرے کے حامل افراد کا لازمی علاج کروایا جاسکے۔
واضح رہے کہ امریکا کی آبادی کا تقریباً ۵۰ فی صد صحت کی سہولت سے محروم ہے اور صدراوباما کے سارے وعدوں اور دعوئوں کے باوجود اس سمت میں پیش رفت بے حد سُست ہے، بلکہ امریکا کے ایک بڑے علاقے میں اس کی مزاحمت ہورہی ہے۔
جہاں تک امریکی آبادی اور خصوصیت سے نوجوانوں میں پائے جانے والے نفسیاتی امراض، جذباتی ہیجان اور تشدد کے رجحان کا تعلق ہے وہ ایک حقیقت ہے اور ٹائم بم کی حیثیت رکھتا ہے۔ نیوٹائون اسکول کے واقعے کے بعد اس مسئلے کی طرف توجہ وقت کی ایک ضرورت ہے لیکن مسئلہ صرف افراد کی ایک بڑی تعداد کی نفسیاتی الجھنوں کا نہیں، اس سے کہیں زیادہ بنیادی ہے اور اس کا تعلق مادیت پرستی اور یک رُخی انفرادیت پر مبنی معاشرے سے ہے جو ذہنی امراض اور معاشرتی انتشار کا اصل سبب ہے۔ جس معاشرے اور تہذیب میں اخلاق اور انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تعلق کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت منقطع کردیا گیا ہو، جہاں خاندان کا نظام درہم برہم ہو، جہاں تعلیم کو تربیت اور سیرت سازی سے بے تعلق کردیا گیا ہو، جہاں نفس کی پرستش زندگی کا محور ہو، جہاں خیروشر کے ابدی پیمانے توڑ دیے گئے ہوں اور لذت اور ذاتی مفاد ساری تگ و دو کا محور ہوں وہاں انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں بگاڑ اور معاشرے میں فساد کا رُونما ہونا ایک فطری امر ہے۔ معاملہ محض طبی سہولتوں کی فراہمی اور نفسیاتی علاج کی فکر کرنے کا نہیں (یہ تو ہونا ہی چاہیے)، اصل مسئلہ فرد کے تصورِ حیات اور معاشرے کی اجتماعی اخلاقیات کا ہے جہاں تعلیم، کھیل، میڈیا، فلم، تفریح، ہر میدان میں لذت پرستی اور نفسانفسی عام ہو، اور ہرچیز کو روندتے ہوئے اپنے مفادات کے حصول کے لیے جدوجہد انسان کی معراج قرار پائے، وہاں انسانیت کی پامالی اور معاشرے میں تصادم اور تشدد کی فراوانی سے کیسے بچاجاسکتا ہے۔
اقبال کو اس تہذیبی فساد کا پورا احساس تھا اور اس نے بہت پہلے تمام انسانوں کومتنبہ کردیا تھا کہ مادی تہذیب کا فطری ثمرہ کیا ہوگا:
یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہُنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلمات
ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جُوا ہے
سُود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات
یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
بے کاری و عریانی ومے خواری و اِفلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
نیوٹائون سکول کا واقعہ محض ایک منفرد واقعہ نہیں، امریکی اور مغربی معاشرے اور تہذیب کی اصل کیفیت کی عکاسی کرنے والا ایک آئینہ ہے۔ اہلِ نظر کا ایک گروہ پورے دُکھ اور کرب کے ساتھ نہ صرف اس واقعے پر آنسو بہارہا ہے بلکہ اصل خرابی اور بگاڑ کی جڑ کی طرف بھی متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ابھی یہ آواز بظاہر صدا بہ صحرا ہی معلوم ہوتی ہے لیکن کم از کم یہ آوازیں اُٹھنا تو شروع ہوگئی ہیں۔
یونی ورسٹی کالج کا استاد مائیک کنگ بڑے دردبھرے انداز میں لکھتا ہے کہ:
امریکی کلچر ایک پُرتشدد کلچر ہے۔ یہ ہمیشہ سے ایک پُرتشدد کلچر چلا آرہا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس ’کیوں‘ کے جواب میں جزوی وضاحتوں کا ایک مجموعہ پیش کیا جاسکتا ہے۔ مَیں اسلحے پر کنٹرول اور ذہنی صحت پر آیندہ سطور میں بات کروں گا، لیکن یہ لوگ تشدد کے کلچر میں جس طرح ہمہ تن ڈوبے ہوئے ہیں، اس پر سنجیدہ بحث سے ہمیشہ پہلوتہی کی جاتی ہے۔ ایک بیمار معاشرہ بیمار افراد پیداکرتا ہے۔ جس معاشرے میں تشدد کی بہت سی قسموں کو بہادری کا نمونہ بناکر پیش کیا جاتا ہو، اس میں تشدد کے ایسے بہت سے مظاہرے سامنے آئیں گے، جو تشدد کی تعریف میں نہیں آتے۔ اس سے قاتل کے افعال کی توجیہہ نہیں ہوتی، نہ اس کے ارادے کے لیے عقلی بنیاد تلاش کی جاتی ہے، لیکن ان عناصر کا ایک دیانت دارانہ جائزہ یہ واضح کر دیتا ہے کہ ان کے نتیجے میں ایسے رویے پیدا ہوکر رہتے ہیں اور انھیں قانون سازی یا محض مسلسل ’علاج‘ کے ذریعے دبایا نہیں جاسکتا… اگر ہم یہ کر رہے ہوں، اور اس کے باوجود اس طرح کے سانحات برابر ہوتے رہیں، تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے وہ سب کچھ کیا جو کرسکتے تھے؟ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ایک ایسے مسئلے کو حل کرنا مشکل ہے جس کے اسباب تک بیش تر لوگ نہیں پہنچ پاتے۔ لیکن مزید قانون سازی، نگرانی، علاج معالجہ اور مجرم قرار دینے سے نامناسب ضمنی اثرات پیدا ہوتے ہیں اور مسئلے کی صحیح تشخیص بھی نہیں ہوتی، اور نہ صورتِ حال کو درست کرنے کے لیے ہی جو کچھ ضروری ہے اس کے لیے سنجیدگی سے اندازہ لگایا جاتا ہے۔
جس طرح کسی مرض کے لیے کھائی جانے والی دوائوں کے ضمنی اثرات کو دُور کرنے کے لیے دوسری دوائیں دی جاتی ہیں، اسی طرح اسلحے پر کنٹرول اور علاج کے مطالبے علامات میں چھپی بیماری کی تشخیص میں ناکام ہیں۔ ہمارا ایک صحت مند حقیقی معنوں میں مستحکم اور منصفانہ معاشرے کا تصور کرنا اور اس کے لیے لڑنے کی اہلیت نہ رکھنا، اور ہمارا (knee jerk) جیسے ردعمل کی طرح حکومت سے مسئلہ حل کرنے کی توقع رکھنا، جیسے کہ کوئی سادہ حل موجود ہو، جیسے حکومت بجاے استحصال کرنے کے اس کو حل کرنا چاہے، جیسے کہ وہ اتنی صلاحیت رکھتی ہو کہ اسے حل کرے اور وہ اس کا حل رکھتی بھی ہو، (ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ) اس وقت تک قتل و غارت جاری رہے گی، جب تک کہ ہم اپنے نیک ارادوں کے ذریعے ریاست کی حمایت کردہ قتل و غارت برپا کرتے رہیں گے۔ (Misdiagnosing the Culture of Violence،کاؤنٹرپنچ، ۱۸دسمبر ۲۰۱۲ء)
ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ محض اسلحے کے حصول اور اس کی نمایش کی آزادی کی تحدید اور ذہنی امراض کے علاج معالجے تک محدود نہیں۔ بگاڑ کے اسباب گہرے ہیں جن کا تعلق اصلاً عقیدہ، تصورِحیات، محرکاتِ عمل اور کامیاب اور ناکام زندگی کے تصورات سے متعلق ہے اور اصلاحِ احوال کے لیے جو بھی حکمت عملی وضع کی جائے، وہ اسی وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب اس میں ان تمام پہلوئوں کا خاطرخواہ لحاظ کیا گیا ہو۔ اصلاحِ احوال اسی وقت ممکن ہے جب اصل اسباب کا ادراک ہو اور ان اسباب کو دُور کرنے کے لیے حقیقت پسندانہ انداز میں ایک ہمہ گیر تبدیلی کا راستہ اختیار کیا جائے۔
پھر مسئلہ محض امریکا میں داخلی طور پر جان، مال اور آبرو کی بے توقیری تک محدود نہیں، عالمی سطح پر احترامِ انسانیت اور عدل و انصاف کے باب میں امریکا اور مغربی اقوام، جو آج کی کارفرما قوتیں ہیں، ان کا کردار بھی ہے۔جو مثال وہ خود دنیا کے سامنے قائم کر رہی ہیں اور دنیا کے گوشے گوشے میں خود اُن کی سرزمین پر ان کے حکمران قوتوں کے اپنے ہی سپوت اگر قتل و غارت گری اور دہشت گردی کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں، تو اس عالمی کردار کی موجودگی میں امریکا میں محض جھنڈے پست کرنے اور سوگ منانے سے حالات تبدیل نہیں ہوسکتے۔ اور پھر معاملہ محض امریکا اور مغربی اقوام کا نہیں، دنیا کے بیش تر ممالک میں ان کی اپنی حکومتوں اور برسرِاقتدار قوتوں کے رویے کا بھی ہے۔ اگرچہ خود پاکستان کی سرزمین پر روز و شب خون خرابا ہو رہا ہے اور جس طرح سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر تشدد اور دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے، وہ بھی اس سے غیرمتعلق نہیں، بلکہ اس عالمی منظرنامے کا ایک حصہ ہے۔ ہرمعصوم انسان کا خون پوری انسانیت کا خون ہے اور ہربچے اور بوڑھے اور مردوزن پر جو گزر رہی ہے وہ ہم سب کا مشترک المیہ ہے۔ ہم پاکستان میں نیوٹائون کے معصوم بچوں اور اساتذہ کی ہلاکت پر خون کے آنسو رو رہے ہیں لیکن خود ہمارے ملک کے گوشے گوشے میں خصوصیت سے پشاور، شمالی علاقہ جات، کوئٹہ، بلوچستان اور کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے صرفِ نظر کیسے کرسکتے ہیں اور اس کا جو تعلق امریکا کی عالمی دہشت کے نام پر جنگ سے ہے ، اس کو کیسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔
بدقسمتی سے یہ سب کچھ عالمی دہشت گردی کے ایک منصوبے کا حصہ ہے۔ اس وقت جب ہم نیوٹائون سکول کے ۲۰بچوں کا نوحہ کر رہے ہیں، کیا ہم ان ۳۵بچوں کو بھول سکتے ہیں جو اسی سال نومبر میں صرف چند دن پہلے اسرائیل کی بم باری سے موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے؟ کیا ہم ان ۱۶۸ بچوں کو بھول سکتے ہیں جن کی امریکا کے ڈرون حملوں سے پاکستان میں ہلاکت کا اعتراف امریکی جامعات کررہی ہیں؟ گو ہماری اطلاعات کے مطابق شہید ہونے والے معصوم بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ اور کیا ان ۲۳۱ بچوں کو بھلایا جاسکتا ہے جو خود افغانستان میں اسی سال صرف چھے ماہ میں شہید کیے گئے ہیں؟ اور کیا ان ۹۲۱ بچوں کی ہلاکت کو بھی بھلایا جاسکتا ہے جو سرکاری اعدادوشمار کے مطابق امریکا کے حیوانی حملوں سے عراق میں شہید کیے گئے۔ یہ سب تو صرف اس سال کی خونیں داستان ہے۔ کینوس کو ذرا وسیع کیا جائے تو کیا ان ۶لاکھ بچوں کو بھلایا جاسکتا ہے جو عراق میں امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ۱۹۹۰ء کے بعد سے اب تک جان کی بازی ہارگئے ہیں اور جن کی موت کو امریکا کی ایک سابق سیکرٹری خارجہ میڈلین آل برائٹ نے جنگ کی ناگزیر قیمت (inevitable cost of war) قرار دے کر چٹکیوں میں اڑا دیا تھا۔۱؎
عالمی میڈیا اور دانش وروں کے ایک گروہ نے جس طرح امریکی اسکول کے بچوں کا سوگ منانے کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کی حکمت عملی کو محض عسکری حکمت عملی تک محدود
نہ رکھنے اور ایک ہمہ جہتی حکمت عملی بنانے کی ضرورت کا اظہار کیا ہے، اگر وہ صرف امریکا کے لیے درست ہے، تو کیا باقی تمام دنیا کے بارے میں اس کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے؟ کیا تمام دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے اور خاص طور سے ان ممالک کو دہشت گردی کی آگ سے نکالنے کے لیے بھی ایک ہمہ جہتی اور حقیقت پر مبنی حکمت عملی کی ضرورت نہیں جن کو خود امریکا کی مسلط کردہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘کی وجہ سے ان انسان کش اور تباہ کن حالات میں دھکیل دیا گیا ہے۔ کیا شرفِ انسانیت صرف امریکی بچوں کے لیے خاص ہے اور پاکستانی، کشمیری، فلسطینی، یمنی،
۱- ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد تو اس سے کہیں زیادہ ہے لیکن ہم نے یہاں مثال کے لیے صرف وہ اعداد و شمار دیے ہیں جو مغرب کے معتبر اداروں نے دیے ہیں۔ ملاحظہ ہو: بل کیونگلے(پروفیسر آف لا، لائے لوٹا یونی ورسٹی، نیو آرینز، یو ایس اے)، Remeber All the Childrens, Mr. President ، کاؤنٹر پنچ، ۱۷دسمبر ۲۰۱۲ء)
افغانی بچے اس شرف سے محروم ہیں اور وہ صرف استعماری قوتوں کے لیے خس و خاشاک کی مانند ہیں اور ان کے استعماری کھیل کے لیے صرف توپ کے چارے (canon-fodder) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب ہم نیوٹائون کے معصوم بچوں کا نوحہ کررہے ہیں تو دوسرے بچوں کو کیسے بھول سکتے ہیں؟ اور اگر ہمارے ممالک کی قیادتیں خود اپنے بچوں کی ہلاکت پر بے چین نہیں ہوتیں اور ان پھول سی ہستیوں کو بچانے کے لیے ہاتھ پائوں نہیں مارتیں تو کیا ان کو اس قوم کا وفادار سمجھا جاسکتا ہے؟ یہ بڑا اہم سوال ہے جس پر سب سے پہلے پاکستان کے عوام اور اُمت مسلمہ اور خاص طور سے اس کی قیادتوں کو غور کرنا چاہیے اور اس باب میں عوام کو اپنی اپنی قیادت کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ دیکھیے، خود عالمی برادری کی کچھ حساس روحیں اس تضاد کو کس طرح محسوس کررہی ہیں اور انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کررہی ہیں۔ کاش یہ آواز مغرب سے پہلے خود مشرق سے اُٹھتی اور عالمِ اسلام، عرب دنیا اور پاکستان کی قوم، پارلیمنٹ اور قیادتیں اس آواز کو اُٹھاتیں اور اپنے عوام کے حقوق کے لیے عملی اقدام کرتیں۔ ہم صرف چند اہلِ دل کے کرب کی کچھ جھلکیاں اپنی قوم اور اس کی قیادت کو شرم دلانے کے لیے پیش کرتے ہیں:
برطانیہ کے مشہور دانش ور اور دی گارڈین کے مضمون نگار جارج مون بیوٹ بڑے دردبھرے انداز میں اپنے مضمون میں امریکا اور مغربی اقوام کے دوغلے پن اور تضادات کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ مضمون کا عنوان ہی مغرب کی تہذیبی اور سیاسی قیادت پر ایک چارج شیٹ کی حیثیت رکھتا ہے: In the US, Mass Child Killings are Tragedies, In Pakistan, Mere Bug Splats. (امریکا میں بچوں کے قتل عام ایسے ہیں، پاکستان میں محض مچھر مکھی مارنا)۔
وہ صدر اوباما کے ان الفاظ کو اپنے مضمون کا مرکزی خیال بناتا ہے جو موصوف نے نیوٹائون سکول کے بچوں کے سفاکانہ قتل پر چشم پُرنم کے ساتھ ادا کیے تھے، یعنی:
محض الفاظ تمھارے غم کا کوئی مداوا نہیں، نہ وہ تمھارے دلوں کے زخم بھر سکتے ہیں… ایسے المیے ختم ہونے چاہییں، اور انھیں ختم کرنے کے لیے ہمیں لازماً تبدیل ہونا چاہیے۔
پھر وہ یہ چبھتا ہوا سوال اُٹھاتا ہے کہ:
اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا میں ایک پاگل نوجوان کے بچوں کو قتل کرنے پر جس چیز کا اطلاق ہوتا ہے، اسی طرح اس کا اطلاق پاکستان میں ان بچوں کے قتل پر بھی ہوتا ہے، جو ایک اداس امریکن صدر کر رہا ہے۔ یہ بچے اتنے ہی اہم، اتنے ہی حقیقی، اور دنیا کی توجہ کا اتنا ہی استحقاق رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے لیے نہ صدارتی تقاریر ہیں، نہ صدارتی آنسو، نہ عالمی اخباروں کے صفحۂ اوّل پر ان کی تصاویر، نہ ان کے غم زدہ رشتے داروں کے انٹرویو ، نہ اس کا باریک بینی سے تجزیہ ہے کہ کیا ہوا اور کیوں ہوا؟
اگر اوباما کے ڈرون حملوں سے مرنے والوں کا ریاست کی طرف سے ذکر کیا جاتا ہے تو اس طرح کیا جاتا ہے کہ وہ جیسے انسانوں سے کم درجے کی چیز ہوں۔ وہ لوگ جو ڈرون کے پورے عمل کو چلاتے ہیں، رولنگ سٹون میگزین کی رپورٹ کے مطابق اِن ہلاک شدگان کا تذکرہ یوں کرتے ہیں گویا محض مچھر مکھی مارنا ہو۔ اس لیے کہ ایک سبزدھندلے ویڈیو پر ان کے جسم کا عکس یہ تاثر دیتا ہے کہ کیڑا کچلا گیا ہے، یا ان کی اتنی وقعت ہے کہ جیسے بس ایک خس و خاشاک ہوں۔ ڈرون جنگ کا دفاع کرتے ہوئے اوباما کے دہشت گردی کے مشیر بروس رڈل نے کہا: آپ کو لان کو ہروقت کاٹنا پڑتا ہے۔ جیسے ہی آپ کاٹنا بند کرتے ہیں تو گھاس کا دوبارہ اُگ آنا یقینی ہے۔
عراق میں جارج بش کی حکومت کی طرح اوباما انتظامیہ بھی شمال مغربی پاکستان میں سی آئی اے کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں کو نہ تسلیم کرتی ہے، نہ اس کا ریکارڈ رکھتی ہے، لیکن اسٹین فورڈ اور نیویارک یونی ورسٹیوں کے قانون کے اسکولوں کی رپورٹ کے مطابق : اوباما کے پہلے تین برسوں میں ۲۵۹ حملے ہوئے جس کے لیے وہ ذمہ دار ہیں۔ اس میں ۲۹۷ اور ۵۶۹ کے درمیان شہری ہلاک ہوئے جن میں کم سے کم ۶۴بچے تھے۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو قابلِ اعتماد رپورٹوں سے اخذ کیے گئے ہیں۔ یہ اس سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں جن کا مکمل ثبوت نہیں رکھا گیا ہے۔
علاقے کے بچوں پر اس کے دور رس اثرات تباہ کن ہیں۔ بہت سے بچے اسکولوں سے اُٹھا لیے گئے ہیں،اس خوف سے کہ کسی بھی قسم کے بڑے مجمعوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جب سے بش نے ڈرون حملوں کا آغاز کیا تھا اسکولوں پر متعدد حملے ہوئے ہیں۔ لیکن اوباما نے اس عمل کو بہت جوش و خروش سے پھیلا دیا ہے۔ بش کی ایک فاش غلطی سے ۶۹بچے مارے گئے۔ مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ جب بچے ڈرون کی آواز سنتے ہیں تو وہ دہشت سے چھپنے لگتے ہیں۔ ایک مقامی ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ ان کا خوف اور جو ہولناک مناظر وہ دیکھتے ہیں اس سے ان کے دماغ کو مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے۔ ڈرون حملوں میں زخمی ہونے والے بچوں نے تحقیق کاروں کو بتایا کہ وہ اتنے زیادہ خوف زدہ ہیں کہ سکول نہیں جاسکتے، اور انھوں نے اپنے مستقبل کی ساری اُمیدوں کو ختم کردیا ہے۔ ان کے جسم ہی نہیں ان کے خواب بھی بکھر گئے ہیں۔
کہنے کو اوباما بچوں کو جان بوجھ کر قتل نہیں کرتا لیکن اُس کے حکم پر جس طرح سے ڈرون حملے کیے جاتے ہیں، ان کی ہلاکت اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ان اموات کے اس پر کیا جذباتی اثرات ہوتے ہیں، اس لیے کہ نہ وہ، نہ اس کے افسر اس کو زیربحث لاتے ہیں۔ پاکستان میں سی آئی اے کے ذریعے ماوراے عدالت قتل سے متعلق تقریباً ہرچیز خفیہ رکھی جاتی ہے، لیکن آپ کو تاثر یہ ملتا ہے کہ جیسے انتظامیہ کے کسی فرد کی نیند تک خراب نہیں ہوئی۔
افسوس اور شرم کا مقام ہے کہ ان پاکستانی بچوں کے غم میں اور اس خونِ ناحق کی فراوانی پر امریکی قیادت اور ڈرون برسانے والوں کی نیندیں تو اُچاٹ نہ ہوئیں، لیکن کیا پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت بھی کسی کرب میں مبتلا ہوئی اور کیا ان معصوم بچوں کی اس دردناک پکار بِاَیِّ ذَنْبٍ م قُتِلَتْ کی کوئی کسک اپنے مجرم ضمیر میں محسوس کی؟
جارج مون بیوٹ اپنے مضمون کا اختتام ان الفاظ پر کرتا ہے جو ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ فراہم کرتے ہیں:
عالمی میڈیا کا بیش تر حصہ جس نے نیوٹائون کے بچوں کو بجاطور پر یاد رکھا ہے لیکن اوباما نے جو قتل کیے ہیں ان کو نظرانداز کرتا ہے یا سرکاری بیان کو درست تسلیم کرتا ہے کہ جو مارے گئے وہ سب ’جنگ جُو‘ تھے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شمال مغربی پاکستان کے بچے ہمارے بچوں کی طرح نہیں ہیں۔ ان کا کوئی نام نہیں ہے، نہ ان کی یاد میں شمعیں روشن کی جاتی ہیں، نہ پھول ہیں اور نہ ٹیڈی بیئر کی یادگاریں۔ جیسے کہ وہ کسی غیرانسانی دنیا کے کیڑے مکوڑے اور گھاس پھوس کی طرح ہوں۔ اوباما نے اتوار کو کہا: کیا ہم یہ کہنے کے لیے تیار ہیں کہ ہمارے بچوں کو سال بہ سال جس تشدد کا سامنا ہے وہ کسی نہ کسی طرح ہماری آزادی کی قیمت ہے؟ یہ ایک جائز سوال ہے۔ اسے اس کا اطلاق اس تشدد پر بھی کرنا چاہیے جو پاکستان کے بچوں پر وہ کررہا ہے۔
دی گارڈین کے ایک اور کالم نگار گلین گرین ورلڈ نے اپنے مضمون New Town Kids vs Yemenis and Pakistanis: What Explains the Disparate Reaction? میں اس مسئلے کی طرف متوجہ کیا ہے:
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہی لوگ جو نیوٹائون میں ہلاک ہونے والے بچوں پر صدمے اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں، وہ اسی تشدد سے یمنی اور پاکستانی بچوں کو ہلاک کیے جانے کی کھلی حمایت تو نہیں کرتے لیکن مسلسل نظرانداز کرتے ہیں۔ یہ ستم ظریفی دیکھیے: پیر کے دن تین سال قبل صدر اوباما کے جنوبی یمن کے المجالہ قصبے پر کروز میزائل اور کلسٹر بم حملے سے ۱۴ خواتین اور ۲۱ بچے ہلاک ہوئے، یعنی اس روز نیوٹائون میں دیوانے نے جتنے بچے مارے اس سے ایک زیادہ۔ امریکا میں اس قتلِ عام کو اس توجہ کا ذرا سا حصہ بھی نہیں ملا جو نیوٹائون کے واقعے کو ملا، اور نہ اس پر کوئی اعتراض، احتجاج یا واویلا ہوا (بس چند بڑے مسلم ممالک میں کچھ غصہ اور توجہ اس کے حصے میں آئی)۔
اس سوال کا جواب ملنا چاہیے کہ بچوں اور دوسرے معصوموں کے قتل پرردِعمل میں اس اختلاف کی وجہ کیا ہے؟ امریکا کا میڈیا نیوٹائون میں قتل ہونے والے بچوں کی تفصیلات گہرائی میں جاکر آخری جزئیات سمیت مسلسل فراہم کرتا ہے لیکن جو بچے امریکا کی اپنی حکومت دوسرے علاقوں میں قتل کر رہی ہے اس سے وہ یکسر بے نیاز ہے۔
گلین گرین ورلڈ جرمن رسالے Der Spiegel میں امریکی ڈرون پائلٹ بران ڈون برائینٹ کا ایک مکالمہ نقل کرتا ہے جسے پڑھ کر انسان انگشت بدنداں رہ جاتا ہے لیکن اس سے سامراجی فوج کے خون آشام سورمائوں کا ذہن سامنے آتا ہے۔ بران نے ڈرون سے میزائل داغا اور آگ کا ایک شعلہ بلند ہوا، بلڈنگ زمین بوس ہوئی اور ایک ننھا بچہ جس کی ایک جھلک دکھائی دی تھی، موت کی آغوش میں جاپہنچا۔ اس نے پاس بیٹھے ہوئے اپنے ساتھی سے پوچھا: ’’کیا ہم نے ایک بچے کو ہلاک کردیا ہے؟‘‘ ساتھی نے جواب دیا: ’’ہاں میرا خیال ہے کہ مرنے والا ایک بچہ تھا‘‘۔ ڈرون سے میزائل چلانے والے ابھی اس فکر میں غلطاں و پیچاں تھے کہ امریکا کی ملٹری کمانڈ سنٹر کے ایک افسر نے مداخلت کی اور کہا:No, That was a dog (نہیں، وہ ایک کتا تھا)۔ جس پر ویڈیو پر اس منظر کو دیکھنے والے ایک اور سورما نے گرہ لگائی کہ A dog on two legs (دو ٹانگوں والا کتا)۔
گلین گرین والڈ اس ذہنیت اور اس کے نتیجے میں رُونما ہونے والی تباہی اور امریکا بے زاری کے طوفان کو دو اور دو چار کی طرح مغربی اقوام کی قیادت کے سامنے رکھنے کی جسارت کرتا ہے:
مسلمانوں کے بچوں کو محض کتا سمجھنا امریکا کی جارحیت اور گذشتہ عشرے میں فوجی اقدامات میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں انسانیت کی تذلیل کا اظہار ہے۔ ایک فوجی سلطنت کے شہری اپنے فوجیوں کی ذہنیت کو اختیار کرلیتے ہیں۔ اوباما کا دفاع کرنے والے ترقی پسندوں کو سنیے جب وہ تمغے سجائے،سگار پیتے فوجیوں کی طرح کہتے ہیں کہ جنگ دوزخ ہے اور ضمنی نقصان (collateral damage)کا جواز پیش کرتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کو دشمن اور ان کو انسان نہ سمجھنے کی مہم ہے جو اپنا زہریلا سر نکال رہی ہے۔ ایک دوسرا مسئلہ بھی ردعمل کے مختلف ہونے سے سامنے آیا ہے: کس کے ذریعے ہورہا ہے، اور کون قصوروار ہے؟ نیوٹائون میں گولی مارنے کے واقعے پر غم و غصے کا اظہار آسان ہے اس لیے کہ ہم میں سے بہت کم پر اس کی ذمہ داری آتی ہے۔ گو کہ ہم ایسے اقدامات کرسکتے ہیں کہ اس کے اثرات کم ہوں اور آیندہ ایسے واقعات کا امکان کم ہوجائے۔ لیکن ہم بہت کم ایسا کرسکے کہ نفسیاتی مریضوں کو روک سکیں۔ غم و غصہ آسان ہے، اس لیے کہ ہمیں اپنے آپ کو یہ بتانا آسان ہے کہ گولی مارنے والے کا ہم سے اور ہمارے افعال سے کوئی تعلق نہیں۔ (بقیہ ص ۱۰۵)
(بقیہ مقالہ خصوصی ، ص ۲۹)
اس کے برعکس مسلم دنیا میں بچوں اور بے گناہ لوگوں کو مسلسل قتل کرنے والا تشدد درست ہے۔ ہم میں سے بہت سے اس شخص کے لیے جو اس کا ذمہ دار ہے، طاقت فراہم کرتے ہیں اور نعرے لگاتے ہیں۔ امریکی شہری اس کے اخراجات برداشت کرتے ہیں، اس کو ممکن بناتے ہیں، اور اب اوباما کے تحت اگر ہم اس کی حمایت تو نہیں کرتے لیکن اس پر خاموش رہتے ہیں۔ ہمیشہ یہ زیادہ ہی مشکل ہوتا ہے کہ جن ہلاکتوں کے وقوع پذیر ہونے میں ہمارا حصہ ہے، ہم ان کو تسلیم کریں، بہ نسبت اس پر احتجاج کرنے کے، جب کہ ہمیں یقین ہے کہ ہمارا اس میں کوئی ہاتھ نہیں۔یہ بھی ردعمل میں اختلاف کی وضاحت میں ایک اہم عنصر ہے ۔
یہ اس ذہنیت کا تقاضا ہے کہ مدمقابل کو شرفِ انسانیت سے محروم (dehumanization) کردیا جائے اور پھر اسے نرم نوالہ بناکر نیست و نابود کرنے کی کوشش کی جائے اور اسے انسانیت کی خدمت قرار دیا جائے۔ امریکا میں جو بھی دہشت گردی ہو، اس میں ساری ذمہ داری دہشت گردوں پر ہے، اور امریکا دنیا بھر میں جو بھی دہشت گردی کرے، اس میں ساری ذمہ داری ان پر ہے جو اس دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہ ہے وہ مہذب کھیل جو نیوٹائون کے معصوم بچوں کی ہلاکت کے دل خراش واقعے کے بعد پوری انسانیت کے لیے لمحۂ فکریہ فراہم کر رہا ہے۔
گلین ورلڈ اس جنگی حکمت عملی کو یوں بیان کرتا ہے:
ہرجنگ، خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ تقاضا کرتی ہے کہ تشدد کے اہداف کے انسان نہ ہونے کی مہم مسلسل چلائی جائے۔ بہت کم آبادیاں ایسی مسلسل ہلاکتوں کی روادار ہوں گی، اگر انھیں، جو لوگ ہلاک ہورہے ہیں، ان کے انسان ہونے کے احساس کا سامنا ہو۔ مقتولوں کے انسان ہونے کو چھپانا چاہیے اور اس کی تردید کرنا چاہیے۔ یہی ایک راستہ ہے جس کے ذریعے ان کی حکومت کو زندگی کے چراغ مسلسل بجھانے کا جواز دیا جاسکے یا نظرانداز کیا جاسکے۔ یہ وہ کلیدی نکتہ ہے جس کا اظہار MSNBC کی رپورٹر ایشلے بن فیلڈ نے ۲۰۰۳ء میں عراق سے واپسی پر اپنی تنزلی اور برخاستگی سے پہلے غیرمعمولی جرأت مندانہ تقریر میں کیا کہ امریکا کا میڈیا امریکا کے تشدد کی رپورٹنگ اس طرح کرتا ہے کہ اس کا نشانہ بننے والوں کی شناخت اور ان کے انجام کو چھپاتا ہے۔
تشدد اور حقوق کے کم کرنے کا اطلاق بش اور اوباما دونوں کی انتظامیہ نے خاص طور پر صرف مسلمانوں پر کیا ہے۔ لہٰذا یہ مسلمان ہیں جن کی ایک منصوبے کے تحت انسانیت کے لحاظ سے تذلیل کی گئی۔ امریکا کے عوام عملاً ہرگز نہیں سنتے کہ ان کی حکومت کے تشدد سے مسلمان ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کو کبھی اس طرح بیان نہیں کیا جاتا۔ نیویارک ٹائمز اپنے صفحہ اوّل پر کبھی بھی ان کی عمریں اور نام مؤثر طور پر نمایاں کر کے نہیں دکھاتا۔ ان کے جنازے کبھی نہیں دکھائے جاتے۔ اوباما کبھی آنسوئوں بھری تقاریر نہیں کرتا کہ کس طرح مسلمانوں کے بچوں کی آیندہ پوری زندگی باقی تھی: ان کی تعلیم، روزگار، شادیاں اور ان کے بچے۔ شرفِ انسانیت سے محروم کرنے سے (dehumanistion) ان کا انسان ہونا نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے،اسی لیے ہمیں اس کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔(دی گارڈین، ۱۹ دسمبر ۲۰۱۲ء)
نیوٹائون اسکول کے بچوں کی ہلاکت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن یہ اندوہناک واقعہ دہشت گردوں کے تمام واقعات کی حقیقت کو سمجھنے اور دہشت گردی سے نجات پانے کے لیے مطلوبہ حکمت عملی اختیار کرنے کے باب میں سب کے لیے چشم کشا ثابت ہونا چاہیے، اور جس طرح امریکا میں دہشت گردی کو قابو میں کرکے اور تشدد کے طرزِ زندگی سے نجات پانے کے لیے نئی حکمت عملی کے خطوطِ کار سوچے جارہے ہیں، اسی طرح ساری دنیا کو اس لعنت سے پاک کرنے کے لیے صحیح حکمت عملی کا تعین ضروری ہے۔ جہاں تک مسلم دنیا کا تعلق ہے ہمارا مسئلہ دوگونہ ہے___ ایک طرف امریکا اور مغربی اقوام کی یورش اور ان کے اپنے سیاسی اور معاشی ایجنڈے کے مطابق ہمارے وسائل پر قبضے ہیں ۔ امن، انصاف اور خودمختاری سے محروم رکھنے کی سیاسی، معاشی اور عسکری لشکرکشی ہے تو دوسری طرف اپنوں کی غفلت یا دشمن سے معاونت۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس وقت جب ہماری مظلومی پر کچھ غیر بھی آنسو بہارہے ہیں، ہمارے اپنے ملکوں کی قیادتیں خوابِ خرگوش میں مگن ہیں یا دوسروں کی آلۂ کار بن رہی ہیں۔
ٹوم میک نامرا نے جو فرانس کے ESC Renus School of Business میں پروفیسر ہے اور فرانس کی نیشنل ملٹری اکیڈمی میں بھی پڑھا رہا ہے، کاؤنٹرپنچ میں اپنے ایک مضمون میں اس استعجاب کا اظہار کیا ہے کہ جب دنیا میں یہ کچھ ہورہا ہے اور امریکا اپنے بچوں کی ہلاکت پر چلّا رہا ہے، عالمِ عرب کیوں سو رہا ہے؟ اس کے مضمون کا عنوان ہی بول رہا ہے: کیا عرب بھی اپنے بچوں کے لیے روتے ہیں؟
عراق، فلسطین اور یمن کے حالات پر نگاہ ڈال کر وہ ان الفاظ میں ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور ہماری غیرت کو بیدار کرنے کی جسارت کرتا ہے:
نیوٹائون پر جو تکلیف اور اذیت گزری اسے عرب دنیا کے لیے ہزارگنا بڑھایا جاسکتا ہے۔ امریکی پالیسی اور اقدامات کی وجہ سے لاکھوں نہیں تو ہزاروں معصوم بچے ہلاک ہوئے (یعنی قتل کیے گئے)۔ ان بچوں کی اموات کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف (شدید ترین نوعیت کے) جرائم قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کا ہمیں صدمہ ہونا چاہیے۔ ہمیں اس پر غصہ آنا چاہیے جو ہمیں مجبور کرے کہ امریکی خارجہ پالیسی میں فوری تبدیلی کا مطالبہ کریں، لیکن ایسا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں پہلے یہ یقین ہو، کہ عرب بھی اپنے بچوں کے لیے روتے ہیں۔(Do Arabs Cry for Their Children Too? by Tom Mcnamara, Renus, France، کاؤنٹرپنچ، ۱۸دسمبر۲۰۱۲ء)
سوال صرف عربوں کا نہیں ہمارا اپنا بھی ہے۔ کیا پاکستانی قیادت، پارلیمنٹ اور قوم اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں؟ اور کیا وہ وقت نہیں آگیا کہ دنیا میں جہاں بھی دہشت گردی، ظلم اور ناانصافی ہو، اس پر آواز اُٹھائی جائے۔ لیکن سب سے پہلے ہمارے گھر میں جو آگ لگی ہوئی ہے اور جو اس کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف علَمِ بغاوت بلند کیا جائے۔ اگر ہماری قیادتیں اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہیں تو ایسی قیادتوں سے جلد از جلد نجات حاصل کی جائے، اور اپنی آزادی، عزت، اپنے بچوں، بوڑھوں اور خواتین کی زندگی اور آبرو کی حفاظت کے لیے کمربستہ ہوجایا جائے۔ کیا تاریخ کی اس صدا پر ہم لبیک کہنے کو تیار ہیں کہ ___ اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ ؟
میں اکتوبر کے مہینے میں لسٹر، انگلستان میں زیرعلاج تھا کہ ۳۱؍اکتوبر۲۰۱۲ء کو یہ غم ناک اطلاع ملی کہ ہماری محترم بہن اور دورِحاضر میں اسلام کی بے باک ترجمان محترمہ مریم جمیلہ صاحبہ کا انتقال ہوگیا ہے___ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ ان کی نصف صدی سے زیادہ پر پھیلی ہوئی دینی، علمی اور دعوتی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کواپنے جوارِرحمت میں اعلیٰ مقامات سے نوازے۔
محترمہ مریم جمیلہ سے میرا تعارف وائس آف اسلام کے ایڈیٹر کی حیثیت سے ان کے امریکا کے قیام کے دوران ہی ہوچکا تھا اور ہم ان کے مضامین شائع کر رہے تھے۔ پھر جون ۱۹۶۲ء میں پاکستان آمد کے موقع پر جن تین افراد نے کیماڑی کی بندرگاہ پر ان کا استقبال کیا، ان میں مَیں بھی شامل تھا۔ میرے ساتھ محترم چودھری غلام محمد صاحب اور برادر غلام حسین عباسی ایڈووکیٹ بھی تھے۔ ہم محترم مولانا مودودی کی ہدایت کے مطابق ان کو خوش آمدید کہنے کے لیے مامور تھے اور کراچی میں ان کے قیام اور پروگرام کے ذمہ دار تھے۔ انھوں نے نیویارک سے پاکستان کی ہجرت کا یہ سفر ایک مال بردار جہاز (cargo ship) میں طے کیا تھا اور غالباً کسٹم اور امیگریشن کی وجہ سے پہلے دن انھیں اترنے نہیں دیا گیا جس کے نتیجے میں انھیں ایک رات مزید جہاز پر ہی گزارنا پڑی۔ اگلے دن ہم انھیں گھر لے آئے۔ ان کے قیام کا انتظام برادرم غلام حسین عباسی کے بنگلے پر کیا گیا تھا اور اسی رات کا کھانا میرے گھر پر تھا۔ پھر مرحوم ابراہیم باوانی صاحب اور عباسی صاحب کے گھر پر کئی محفلیں ہوئیں۔ اس طرح ان سے وہ ربط جو علمی تعاون کے ذریعے قائم ہوا تھا، اب ذاتی واقفیت اور بالمشافہ تبادلۂ خیال اور ربط اور ملاقات کے دائرے میں داخل ہوگیا۔
کراچی میں ان کا قیام مختصر رہا اور وہ چند ہی دن میں لاہور منتقل ہوگئیں۔ جب تک وہ مولانا محترم کے گھر میں مقیم رہیں، لاہور کے ہرسفر کے دوران ان سے بات چیت ہوتی رہی۔ پھر عملاً ملاقات کا سلسلہ ٹوٹ گیا مگر علمی تعلق قائم رہا، اور ان کے انتقال سے چند ماہ قبل تک خط و کتابت کا سلسلہ رہا جس کا بڑا تعلق اسلامک فائونڈیشن لسٹر اور اس کے مجلے مسلم ورلڈ بک ریویو (MWBR) کے سلسلے میں ان کے قلمی تعاون سے رہا۔۵۰برس پر محیط ان تعلقات میں ذاتی سطح پر کبھی کوئی کشیدگی رُونما نہیں ہوئی۔ البتہ علمی امور پر ہمارے درمیان وسیع تر اتفاق راے کے ساتھ بڑا مفید اختلاف بھی رہا حتیٰ کہ اسلامک فائونڈیشن کے مجلے Encounter میں میرے ایک مضمون Man and Civilization in Islam پر انھوں نے ایک تنقیدی مقالہ لکھا جس کا مَیں نے اسی شمارے میں جواب بھی تحریر کیا۔ یہ سب بڑے دوستانہ ماحول میں ہوا اور الحمدللہ ہمارے باہمی اعتماد او ر تعاون کا رشتہ مضبوط اور خوش گوار رہا جو ہمارے پُرخلوص اور خالصتاً لِلّٰہ تعلق کی ایک روشن مثال ہے اور اُمت کے درمیان اختلاف کے رحمت ہونے کی نبوی بشارت کا ایک ادنیٰ مظہر ہے۔ ان کی آخری تحریر جو امریکا سے شائع ہونے والی ایک کتاب Children of Dust: A Portrait of a Muslim Youngman، از علی اعتراز (Ali Eteraz) پر ان کا تبصرہ ہے جو MWBR کے جنوری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع ہونے والا ہے اور جس کا آخری جملہ یہ ہے: "The semi - fiction of this story will certainly give the reader a negative picture of Pakistani youth today. (یہ نیم افسانوی کہانی یقینا قاری کو آج کی پاکستانی نوجوان نسل کی منفی تصویر دکھائے گی)۔
اسی طرح ان کے شوہر برادرم محترم محمد یوسف خان صاحب سے بھی میرا تعلق ۱۹۵۱ء سے ہے جب میں جمعیت میں تھا اور وہ جماعت کے سرگرم رکن تھے۔ الحمدللہ یہ رشتہ بھی بڑا مستحکم رہا اور اس طرح شوہر اور بیوی دونوں ہی سے میرا تعلق خاطر رہا۔ محترمہ مریم جمیلہ صاحبہ میرے نام اپنے خطوط میں اپنے شوہر کا ذکر "My Khan Sahab" [میرے خان صاحب] سے کیا کرتی تھیں جو محبت اور مودّت کے جذبات کے ترجمان ہیں۔ ان خطوط میں ترجمان القرآن کے ’اشارات‘ کے بارے میں یوسف خان صاحب کے احساسات سے مجھے مطلع کرتی تھیں۔ یوسف خان صاحب کو ٹیلی فون پر تعزیتی جذبات پہنچانے کی کوشش کی لیکن وہ غم میں ایسے نڈھال تھے کہ بات نہ ہوسکی، البتہ ان کے صاحب زادے تک اپنے غم و اندوہ کے جذبات پہنچا دیے اور آج ان صفحات میں اس عظیم خاتون کے بارے میں اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کررہا ہوں۔
مریم جمیلہ جن کا ماں باپ کا دیا ہوا نام مارگریٹ مارکس تھا، نیویارک کے ایک سیکولر یہودی گھرانے میں ۲۳ مئی ۱۹۳۴ء میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے روچسٹر یونی ورسٹی میں ۱۹۵۱ء میں داخلہ لیا۔ علم و ادب اور میوزک اور تصویرکشی (painting)سے طبعی شغف تھا۔ فلسفہ اور مذہب بڑی کم عمری ہی سے ان کے دل چسپی کے موضوعات تھے، بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ حق کی تلاش اور زندگی کی معنویت کی تفہیم ان کی فکری جستجو کا محور رہے۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ اسلام سے ان کا اولین تعارف یونی ورسٹی کے کورس کے ایک ابتدائی مضمون Judaism in Islam کے ذریعے ہوا، جو ایک یہودی استاد ابراہم اسحق کاٹش پڑھاتا تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ اسلام کو یہودیت کا چربہ ثابت کرے لیکن تعلیم و تدریس کے اس عمل میں موت اور زندگی بعد موت کے مسئلے پر مریم جمیلہ اس کے خیالات سے خصوصی طور پر متاثر ہوئیں۔ اپنے ایک انٹرویو میں اس کا ذکر اس طرح کیا:
نومبر ۱۹۵۴ء کی ایک صبح، پروفیسر کاٹش نے اپنے لیکچر کے دوران ناقابلِ تردید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حضرت موسٰی ؑنے توحید کی جو تعلیمات دی ہیں اور جو الوہی قانون ان پر نازل ہوا ہے ناگزیر ہے۔ اگر اخلاقی قوانین خالصتاً انسان کے بنائے ہوئے ہوں، جیساکہ اخلاقی کلچر اور دیگر الحادی اور دہریت پر مبنی فلسفوں میں بیان کیا جاتا ہے، تو وہ محض ذاتی راے اور ذوق، متلون مزاجی ، سہولت اور ماحول کی بنا پر تبدیل ہوسکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ مکمل انتشار ہوگا جس کے نتیجے میں انفرادی اور اجتماعی زوال برپا ہوسکتا ہے۔ آخرت پر ایمان، جیساکہ ربی تلمود میں بیان کرتے ہیں، پروفیسر کاٹش نے دلائل دیتے ہوئے کہا، کہ محض ایک خوش گمانی نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی تقاضا ہے۔ اس نے کہا کہ صرف وہ لوگ جو پختگی سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کو روزِ قیامت خدا کے حضور پیش ہونا ہے، اور زمین پر اپنی زندگی کے تمام اعمال کی جواب دہی کرنا ہوگی اور اس کے مطابق جزا و سزا کا سامنا کرنا ہوگا، صرف وہی اپنی ذات پر اتنا قابو رکھیں گے کہ اُخروی خوشنودی کے حصول کے لیے عارضی خوشیوں کو قربان اور مصائب کو برداشت کرسکیں۔
یہ بھی ایک دل چسپ حقیقت ہے کہ جس طرح یہودی پروفیسر کے یہ الفاظ نوعمر مارگریٹ مارکس کے دل و دماغ پر مرتسم ہوگئے اور زندگی کا رُخ متعین کرنے میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا، اسی طرح مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے جس پہلے مضمون نے ان کے قلب و نظر کو روشن کیا وہ ’زندگی بعد موت‘ کا میرا کیا ہوا ترجمہ تھا، جو جنوبی افریقہ کے مجلے Muslim Digest میں شائع ہوا تھا۔ مریم جمیلہ کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان چیزوں کو اچھی طرح سمجھا جائے جو ان کی زندگی کا رُخ متعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔ ان کی اپنی بے تاب روح اور تلاشِ حق کی جستجو، اور حقیقت کی وہ تفہیم جو توحید اور آخرت کے تصور پر مبنی ہے، جس میں زندگی کو خانوں میں بانٹنے کی کوئی گنجایش نہیں اور جس کے نتیجے میں انسان ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَـآفَّۃً (تم پورے کے پورے اسلام میں آجائو۔البقرہ ۲:۲۰۸)کا نمونہ اور زمین پر اللہ کے خلیفہ کا کردار ادا کرنے میں زندگی کا لطف اور آخرت کی کامیابی تلاش کرتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو زندگی میں یکسوئی پیدا کرتی ہے۔ تبدیلی کے لیے انسان کو آمادہ ہی نہیں کرتی بلکہ مطلوب کو موجود بنانے ہی کو زندگی کا مشغلہ بنا دیتی ہے اور بڑی سے بڑی آزمایش میں اس کا سہارا بن جاتی ہے۔ مریم جمیلہ نے امریکا کی پُرآسایش زندگی کو چھوڑ کر پاکستان کی طرف ہجرت، اور بڑی سادہ اور مشکلات سے بھرپور لیکن دل کو اطمینان اور روح کو شادمانی دینے والے راستے کو اختیار کیا اور پوری مستعدی، استقامت اور خوش دلی کے ساتھ سفر حیات کو طے کیا۔ یہ سب اسی ایمان، آخرت کی کامیابی کے شوق، اور انسانی زندگی کو اللہ کے حوالے تصور کرنے کے جذبے کا کرشمہ ہے۔
محترمہ مریم جمیلہ ۱۹۶۰ء کی دہائی میں بڑی کم عمری کے عالم میں مسلم دنیا کے علمی اُفق پر رُونما ہوئیں اور بہت جلد انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کرلیا۔ انھوں نے اسلام کے اس تصور کو جو قرآن و سنت کی اصل تعلیمات پر مبنی ہے اور جو زندگی کے ہرپہلو کی الہامی ہدایت کی روشنی میں تعمیروتشکیل کا داعی ہے، بڑے مدلل انداز میں پیش کیا اور وقت کے موضوعات اور اس دور کے فکری چیلنجوں کی روشنی میں کسی مداہنت کے بغیر اسلام کی دعوت کو پیش کیا ۔ اس باب میں ان کو یہ منفرد حیثیت حاصل تھی کہ وہ نہ صرف ایک مسلمان صاحب ِ علم خاتون اور داعیہ تھیں، بلکہ امریکی ہونے کے ناتے مغربی تہذیب سے پوری طرح آشنا تھیں اور ان کی حیثیت Insider یعنی شاہدُ مِنھم کی تھی۔
ان کو موضوع اور زبان دونوں پر قدرت حاصل تھی اور وہ اپنی بات بڑے جچے تلے انداز میں مسکت دلائل کے ساتھ بڑی جرأت سے پیش کرتی تھیں۔ ۳۰ سے زیادہ کتابوں کی مصنفہ تھیں اور ان کے علاوہ بیسیوں مضامین اور تبصرے ان کے قلم سے نکلے۔ سیدولی نصر نے دی اوکسفرڈ انسائی کلوپیڈیا آف اسلامک ورلڈ میں ان پر اپنے مقالے میں بجا طور پر یہ لکھا ہے کہ اپنے پاکستان کے قیام کے دوران انھوں نے دورِجدید میں اسلام کے تحریکی تصور کی بڑی عمدگی کے ساتھ ترجمانی کی۔ خصوصیت سے اسلام اور مغربی تہذیب کے بنیادی فرق اور جداگانہ نقطہ ہاے نظر کو انھوں نے بڑی وضاحت کے ساتھ موضوع بنایا اور جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے افکارونظریات کو متاثر کیا۔ ان کے الفاظ میں :
مریم جمیلہ نے ۱۹۶۲ء میں پاکستان کا سفر کیا اور لاہور میں مولانا مودودی کے گھرانے میں شامل ہوگئیں۔ جلد ہی انھوں نے جماعت اسلامی کے ایک رکن محمد یوسف خان سے بطور ان کی دوسری بیوی کے شادی کرلی۔ پاکستان میں سکونت اختیار کرنے کے بعد انھوں نے اپنی پوری زندگی میں بہت سی مؤثر کتابیں لکھیں جن میں جماعت اسلامی کے نظریے کو ایک منظم انداز سے بیان کیا۔ مریم جمیلہ کو اسلام اور مغرب کے درمیان بحث سے خصوصی دل چسپی تھی جو مولانا مودودی کی فکر کا مرکزی تصور نہ ہوتے ہوئے بھی اس کا ایک اہم پہلو ہے۔ انھوں نے مغرب کے خلاف اسلامی استدلال کو مزید اُجاگر کیا اور عیسائیت، یہودیت، اور سیکولر مغربی فکر پر احیائی تنقید کو منظم انداز سے بیان کیا۔ مریم جمیلہ کی اہمیت ان کے مشاہدات کے زور میں نہیں ہے بلکہ اس اسلوبِ بیان میں ہے جس میں وہ اندرونی طور پر ایک مربوط مثالیے کو مغرب کے احیائی استرداد کے لیے پیش کرتی ہیں۔ اس حوالے سے ان کے اثرات جماعت اسلامی کے دائرے سے بہت آگے تک جاتے ہیں۔پوری مسلم دنیا میں احیائی فکر کے ارتقا میں ان کا کردار بہت اہم رہا ہے۔
محترمہ مریم جمیلہ کی چند تعبیرات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور خود انھوں نے بھی اُن اہلِ علم سے کہیں کہیں اختلاف کیا ہے جن کے افکار و نظریات نے خود ان کے ذہن اور فکر کی تعمیر میں اہم حصہ لیا ہے، لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ بحیثیت مجموعی ان کی ۵۰سالہ علمی کاوش ہماری فکری تاریخ کا ایک روشن باب ہے، اور خصویت سے مغربی تہذیب پر ان کی تنقید ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے قلم میں بڑی جان تھی اور انھوں نے ایمان اور یقین کے ساتھ دین کے پیغام کو پیش کیا اور تمام انسانوں کو کفر، الحاد، بے یقینی، اخلاقی بے راہ روی اور سماجی انتشار اور ظلم و طغیان کی تباہ کاریوں سے بچانے کے گہرے جذبۂ خیرخواہی کے ساتھ اس کام کو انجام دیا جو کارِرسالت کا طرئہ امتیاز ہے۔ قرآن نے رجال کے بارے میں جو شہادت دی ہے وہ نساء کے باب میں بھی اتنی ہی سچی ہے کہ :
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا o (الاحزاب ۳۳:۲۳)، ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
محترمہ مریم جمیلہ کی زندگی کے دو پہلو ہیں جن کو سمجھنا مفید ہوگا۔ ایک ان کی علمی شخصیت ہے جس میں بلاشبہہ انھوں نے اپنی مسلسل محنت اور سلاست فکر کے باعث ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ انھوں نے مغربی فکروتہذیب پر بڑے علمی انداز میں محاکمہ کیا اور اس کے طلسم کو توڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ فلسفہ، مذہبیات اور عمرانیات کے اہم ترین موضوعات کے ساتھ انفرادی زندگی اور اجتماعی معاملات میں اسلام کی رہنمائی کو بڑے صاف الفاظ میں بیان کیا اور فکرِاسلامی کی ترویج و تبلیغ کے باب میں اہم خدمات انجام دیں۔ اس کے ساتھ ان کی کوشش تھی کہ اسلام کے پیغام کو ہرانسان تک پہنچائیں، اور اسے دنیا اور آخرت کی کامیابی کے راستے پر لانے کی کوشش کریں۔ اس طرح علمی اور فکری خدمات کے ساتھ ان کا دامن دعوتی اور تبلیغی مساعی سے بھی بھرا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں ان کا شاہکار وہ خط ہے جو انھوں نے اپنے والدین کو لکھا اور جس کا ایک ایک لفظ صداقت پر مبنی، دعوتِ حق کی تڑپ کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ ان کی شخصیت اور مقصدحیات کو سمجھنے کے لیے یہ خط بہترین کلید ہے۔ اس کا بڑا خوب صورت ترجمہ کرنل (ریٹائرڈ) اشفاق حسین نے مریم جمیلہ کے خطوط پر مبنی ایک طرح کی خودونوشت کے ترجمے امریکا سے ہجرت میں کیا ہے اور اس سے چند اقتباس ایک آئینہ ہے جن میں مریم جمیلہ کے فکروفن اور جذبے اور اخلاص کی حقیقی تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔
مریم جمیلہ لکھتی ہیں:’’آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ معاشرہ جس میں آپ کی پرورش ہوئی ہے اور جس میں آپ نے اپنی پوری زندگی گزار دی ہے، بڑی تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور مکمل تباہی کے قریب ہے۔ درحقیقت ہماری تہذیب کا زوال بھی جنگ ِ عظیم کے وقت ہی ظاہر ہوناشروع ہوگیا تھا لیکن دانش وروں اور ماہرین عمرانیات کے سوا کسی کو احساس نہیں ہوا کہ کیا ہو رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد اور خاص طور پر پچھلے دوعشروں میں یہ اتنی تیزی سے زوال کے اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے کہ کوئی شخص اسے مزید نظرانداز نہیں کرسکتا۔
’’زندگی کے معاملات اور رویوں میں کسی قابلِ احترام اور قابلِ قبول معیار کے نہ ہونے کی وجہ سے اخلاقی بے راہ روی،تفریحی ذرائع ابلاغ پر مبنی کج روی، بوڑھوں سے ناروا سلوک، طلاق کی روزافزوں شرح جو اتنی بڑھ چکی ہے کہ نئی نسل کے لیے پایدار اور خوش گوار ازدواجی زندگی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ معصوم بچوں کے ساتھ غلط کاریاں، فطری ماحول کی تباہی، نایاب اور قیمتی وسائل کا بے محابا ضیاع، امراضِ خبیثہ اور ذہنی بیماریوں کی وبائیں، منشیات کی لت، شراب نوشی، خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان، جرائم، لُوٹ مار، حکومتی اداروں میں بے ایمانی اور قانون کا عدم احترام___ ان تمام خرابیوں کی ایک ہی وجہ ہے۔
’’اور وہ وجہ ہے لامذہبیت اور مادیت پر مبنی نظام کی ناکامی___، نیک ماورائی، اعلیٰ و ارفع مذہبی نظام سے دُوری اور اخلاقی قدروں کا ناپیدا ہونا___ اعمال کا دارومدار عقیدوں پر ہوتا ہے کیونکہ نیت ہی درست نہ ہو توعمل ہمیشہ ناکام ہوتا ہے.....
’’اگر زندگی ایک سفر ہے تو کیا یہ حماقت نہیں ہوگی کہ بندہ راستے میں آنے والی منزلوں پر آرام دہ ایام اور خوش گوار ٹھکانوں کی فکر تو کرے، لیکن سفر کے اختتام کے بارے میں کچھ نہ سوچے؟ آخر ہم کیوں پیدا ہوئے تھے؟ اس زندگی کا کیا مطلب ہے؟ کیا مقصد ہے؟ آخر ہمیں مرنا ہے اور ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ موت کے بعد کیا معاملہ ہونا ہے؟
’’ابو! آپ نے ایک سے زائد بار مجھے بتایا ہے کہ آپ کسی روایتی مذہب کو اس لیے قبول نہیں کرسکتے کیونکہ آپ کو یقین ہے کہ الہامی مذہب جدید سائنس سے متضاد چیز ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سائنس اور ٹکنالوجی نے ہمیں ساری دنیا کے بارے میں بہت معلومات فراہم کی ہیں، ہمیں آرام و آسایشات اور سہولتیں فراہم کی ہیں، اس نے ہماری کارکردگی میں اضافہ کیا ہے اور ان بیماریوں کے علاج دریافت کیے ہیں جو جان لیوا ثابت ہوتی تھیں، لیکن سائنس ہمیں یہ نہیں بتاتی اور نہیں بتا سکتی کہ زندگی اور موت کا کیا مطلب ہے۔ سائنس ہمیں ’کیا اور کیسے‘ کا جواب تو دیتی ہے لیکن ’کیوں‘ کے سوال کاکبھی کوئی جواب نہیں دیتی۔ کیا سائنس کبھی یہ بتا سکتی ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط؟ کیا نیکی ہے، کیا برائی؟ کیا خوب صورت ہے اور کیا بدصورت؟ ہم جو کچھ کرتے ہیں اس کے لیے کس کو جواب دہ ہیں؟ مذہب ان سارے سوالوں کے جواب دیتا ہے۔
’’آج امریکا کئی لحاظ سے قدیم روم کے زوال و شکست کے آخری مرحلوں سے گزر رہا ہے۔ سوچ اور فکر رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ لامذہبیت ہمارے معاشرتی نظام کی مستحکم بنیاد ثابت نہیں ہوسکی۔ وہ مضطرب ہوکر مختلف سمتوں میں اس بحران کا حل تلاش کر رہے ہیں لیکن انھیں ابھی تک نہیں پتا کہ یہ حل انھیں کہاں سے ملے گا۔ یہ تشویش چند ماہرین عمرانیات تک محدود نہیں ہے۔ قومی یک جہتی کی ٹوٹ پھوٹ کی بیماری براہِ راست آپ کو، مجھے اور ہم میں سے ہر ایک کو متاثر کررہی ہے.....
’’آج امریکی باشندے، جوان ہوں یا بوڑھے بڑی تندہی سے رہنمائی کی تلاش میں ہیں۔ تلخ تجربوں کے بعد انھیں پتا چلا ہے کہ زندگی کے کسی مقصد اور صراطِ مستقیم کی طرف قابلِ اعتماد رہنمائی کے بغیر شخصی آزادیاں اور وہ ساری سہولتیں جو امریکیوں کو حاصل ہیں، لایعنی اور اپنی ذات کی تباہی کے مترادف ہیں۔سیکولرازم اور مادیت امریکیوں کو ان کی انفرادی یا اجتماعی زندگی میں کسی طرح کی مثبت اور تعمیری، اخلاقی قدریں فراہم نہیں کرسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائیت اور صہیونیت کے ہاتھوں ناکامی کے بعد امریکا میں زیادہ سے زیادہ لوگ اسلام کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ نومسلم اسلام میں ایک پاکیزہ، صحت مند، صاف ستھری اور دیانت دار زندگی کا سراغ پاتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک موت سے ہرچیز ختم نہیں ہوجاتی بلکہ وہ اس کے بعد آخرت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتوں، پایدار ذہنی سکون اور دائمی خوشیوں کی توقع رکھتے ہیں۔
’’قرآن مقدس اور رسولِ خدا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی مستند احادیث میں پائی جانے والی یہ ہدایت و رہنمائی صدیوں سے مشرق کے دُورافتادہ علاقوں کی نسلوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ آج مغرب کو جو معاشی، معاشرتی، اخلاقی اور سیاسی مسائل درپیش ہیں، ان کا حل بھی ہدایت کے انھی سرچشموں میں موجود ہے۔ علاوہ ازیں اسلام میں سردمہری، خالق سے دُوری یا خالق کی بے نیازی کے احساسات نہیں پائے جاتے۔ مسلمان ایک ایسے خدا پر یقین رکھتے ہیں جس میں اپنائیت ہے۔ جس نے نہ صرف اس کائنات کو پیدا کیا بلکہ وہ اس کے نظم و نسق کا بھی ذمہ دار ہے اور وہی اس کا حکمران ہے۔ وہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور ہم میں سے ہر ایک کا بہت خیال رکھتا ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ ہم سب سے ہر ایک کی شہ رگ سے بھی قریب ہے.....
’’آپ دونوںکافی طویل عمر پاچکے ہیں اور بہت کم مہلت باقی رہ گئی ہے۔ اگر آپ فوراً عمل کریں تو زیادہ تاخیر نہیں ہوگی۔ اگر آپ کا فیصلہ مثبت ہو تو پاکستان میں اپنے پیارے لوگوں سے آپ کا نہ صرف خونی رشتہ ہوگا بلکہ ایمان کا رشتہ بھی قائم ہوجائے گا۔ آپ نہ صرف اس دنیا میں ان سے محبت کرسکیں گے بلکہ ہمیشہ رہنے والی زندگی میں بھی آپ ہمارے ساتھ ہوں گے.....
’’میں ایک بیٹی کی حیثیت سے، جسے آپ سے محبت ہے، آخروقت تک چاہوں گی کہ آپ اس بُرے نصیب سے بچ جائیں لیکن فیصلہ صرف آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کو مکمل اختیار ہے کہ آپ اس دعوت کو قبول کریں یا مسترد کردیں۔ آپ کے مستقبل کا انحصار اس انتخاب پر ہے جو آپ نے اب کرنا ہے۔
اپنی ساری محبتوں اور نیک خواہشات کے ساتھ۔
آپ کی وفادار بیٹی، مریم جمیلہ‘‘۔ (امریکا سے ہجرت، ص ۲۰-۲۵)
محترمہ مریم جمیلہ کی زندگی کا دوسرا پہلو ان کی شخصی زندگی ہے جو خود ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب انھوں نے اسلام کی حقانیت کو پالیا اور اپنے آپ کو اس کے سانچے میں ڈھالنے کا عزم کرلیا تو پھر انھوں نے اپنے کو خود اپنوں کے درمیان اجنبی محسوس کیا۔ امریکا میں وہ اپنے کو انمل بے جوڑ محسوس کرنے لگیں اور مسلمان سوسائٹی اور اسلامی زندگی کی تلاش میں انھوں نے پاکستان ہجرت اسی جذبے سے کی جس جذبے سے مکہ کے مسلمانوں نے مدینہ کے لیے ہجرت کی تھی اور پھر مدینہ ہی کے ہوکر رہ گئے تھے۔ گو ان کی تمام توقعات پوری نہیں ہوئیں لیکن انھوں نے پاکستان کو اپنا گھر بنالیااور مڑ کر امریکا جانے کے بارے میں کبھی ایک بار بھی نہ سوچا، بلکہ برادرم یوسف خان صاحب نے ان کو بار بار مشورہ دیا مگر انھوں نے اس طرف ذرا بھی رغبت ظاہر نہ کی۔ امریکا میں ان کے رہن سہن کا معیار امریکی معیار سے بھی اوسط سے کچھ بہتر ہی تھا لیکن پاکستان میں جس عسرت اور سادگی سے انھوں نے زندگی گزاری اور صبروثبات کا جو مظاہرہ کیا وہ قرونِ اولیٰ کے لوگوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ایک شادی شدہ شخص سے بخوشی رشتۂ ازدواج استوار کیا، اپنی ’سوکن‘ کے ساتھ اس طرح مل جل کر رہیں کہ یک جان اور دو قالب کا نمونہ پیش کیا۔ دونوں کے غالباً چودہ پندرہ بچے بھی ایک دوسرے سے شیروشکر رہے اور سب ہی بچے بڑی ماں (محترمہ شفیقہ صاحبہ) کو اماں اور چھوٹی ماں (محترمہ مریم جمیلہ) کو آپا کہتے تھے اور مریم جمیلہ نے وصیت کی کہ ان کی قبر بھی محترمہ شفیقہ صاحبہ، جن کا انتقال چند برس ہی قبل ہوا تھا، کی قبر کے پاس ہو۔ مادہ پرستی اور نام و نمود کی فراوانی کے اس دور میں درویشی اور اسلامی صلۂ رحمی کی ایسی مثال اسلام ہی کا ایک معجزہ ہے، جس کی نظیر آج کے دور میں بھی دیکھنے کی توفیق اللہ تعالیٰ کی اس نیک بی بی کے طفیل ہم سب کو حاصل ہوئی ع
آسماں اس کی لحد پر شبنم افشانی کرے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ تاریخِ انسانی کا ہر باب ظلم، ناانصافی اور خوں آشامی کی دل خراش داستانوں سے بھرا پڑا ہے، وہیں یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ ظلم کی بالادستی کو کبھی دوام حاصل نہیں ہوسکا۔ جب بھی مظلوم اور ستم زدہ انسانوں نے ظلم اور محکومی کی زنجیریں توڑ کر غاصب آقائوں کے نظام کو چیلنج کیا ہے، اور مزاحمت اور مقابلے کا راستہ اختیار کیا ہے تو بالآخر وہ ظلم کے نظام کو پاش پاش کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، چاہے اس جدوجہد میں کتنا بھی وقت کیوں نہ لگا ہو۔ اس کے برعکس اگر ظلم کے نظام کو چیلنج نہ کیا جائے یا اس سے سمجھوتا کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جائے، تو پھر ظلم کی رات طویل اور تاریک سے تاریک تر ہوتی جاتی ہے، اِلاَّ یہ کہ اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو اور تاریخ ایک نئی کروٹ لے لے۔
زندگی حق و باطل کے درمیان کش مکش ہی سے عبارت ہے۔ ظلم، ناانصافی اور حق تلفی کرنے والی قوتیں بظاہر کتنی ہی قوی کیوں نہ ہوں، بالآخر حق اور انصاف کو غلبہ حاصل ہوتا ہے بشرطیکہ صبر، استقامت اور حکمت کے ساتھ اس کے مقابلے کے لیے جدوجہد کی جائے اور غالب نظام کی کمر توڑنے کے لیے مؤثر تدابیر اختیار کی جائیں۔ پھر چشم تاریخ بار بار یہ منظر دیکھتی ہے کہ جَآئَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا ،’’حق آگیا اور باطل مٹ گیا، اور باطل تو بلاشبہہ مٹنے والا ہے‘‘(بنی اسرائیل ۱۷:۸۱)۔ تاریخ نے یہ منظر بھی بار باردیکھا ہے کہ حق کے غلبے کے لیے مظلوموں کی جدوجہد مادی اور عسکری قوت کی قاہری اور طرح طرح کے منفی ہتھکنڈوں کے باوجود بھی رُونما ہوجاتی ہے جس کی طرف خود اللہ تعالیٰ نے متوجہ کیا ہے کہ کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً بِاِذْنِ اللّٰہِط وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَo (البقرہ ۲:۲۴۹)، ’’بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے ۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے‘‘۔ شرط اللہ پر بھروسا، مقصد کی حقانیت اور صداقت اور جدوجہد میں صبر اور استقامت ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر ظلم کی تاریک رات کبھی ختم نہ ہو، اور جو ظالم اور غاصب ایک بار غالب آجائے پھر اس سے نجات کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔ اس حکمت ِربانی کا یہ جلوہ تاریخ کے ہر دور میں دیکھا جاسکتا ہے کہ:
وَ تِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِج وَ لِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُھَدَآئَ ط وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ o(اٰل عمرٰن۳:۱۴۰) یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے) گواہ ہوں، کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں۔
الحمدللہ، تاریخ کے اس تاب ناک عمل کا نظارہ ہم اپنی مختصر زندگیوں میں باربار کر رہے ہیں۔ عالمی اُفق ہو یا مسلم دنیا کے دروبست، غالب اور غاصب قوتوں کے ایوانوں میں ہلچل ہے اور ایک کے بعد دوسرا بت گر رہا ہے۔ عرب دنیا نئی کش مکش اور مثبت تبدیلیوں کی رزم گاہ بنی ہوئی ہے۔ جنھیں اپنی قوت کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا دعویٰ تھا، ان پر قوت کے محدود ہونے کی حقیقت کا انکشاف ہو رہا ہے۔ جو مدمقابل کو تہس نہس کردینے، صفحۂ ہستی سے مٹادینے اور مدمقابل کو پتھر کے دور میں پھینک دینے کے دعوے کرتے تھے، وہ جنگ بندی اور ایک دوسرے کی سرحدوں کو پامال نہ کرنے کی زبان استعمال کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔
امریکا کی مکمل تائید اور شہ پر اسرائیل نے جس زعم اور رعونت کے ساتھ غزہ پر تازہ یورش کی تھی اور آگ اور خون کی بارش کا آغاز کیا تھا، آٹھ دن تباہی مچانے کے بعد خود اس کی اور اس کے سرپرستوں کی کوششوں کے نتیجے میں ایک ایسا معاہدہ وجود میں آیا ہے، جس کے بڑے دُور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر معاملات کو حکمت اور جرأت سے آگے بڑھایا جائے تو ایک نیا نظام وجود میں آسکتا ہے جس کے نتیجے میں شرقِ اوسط کو ایک نئی جہت دی جاسکتی ہے۔
۱۴نومبر ۲۰۱۲ء کو اسرائیل نے غزہ پر ایک بڑا حملہ کیا۔ چشم زدن میں ۸۰ سے زائد میزائل اور تباہ کن بم داغے گئے اور حماس کے ایک اہم ترین کمانڈر اور سیاسی اعتبار سے دوسری بڑی شخصیت احمدجعبری کو شہید کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ F-16 کے ذریعے غزہ پر تابڑتوڑ حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا جو آٹھ دن تک جاری رہا۔ اس اثنا میں اسرائیل نے ۱۵۰۰ اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے پہلے جو جنگ مسلط کی تھی اور جو ۲۲دن جاری رہی تھی، اس کے مقابلے میں، خود اسرائیلی وزیراعظم کے بقول، جس بارودی قوت کو استعمال کیا گیا وہ اس سے دس گنا زیادہ تھی۔ ایک بین الاقوامی تحقیق کی روشنی میں حماس نے جو جوابی کارروائی راکٹ اور میزائل کے ذریعے کی ہے، اسرائیلی قوت کا استعمال اس سے ایک ہزار گنا زیادہ تھا۔
ان آٹھ دنوں میں غزہ میں ۱۶۳؍افراد شہید ہوئے، جن میں سے دوتہائی بچے اور خواتین تھیں۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز ہے اور ان میں بھی بچوں اور خواتین کا تناسب یہی ہے۔ اسرائیل نے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے ، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ تین چوتھائی سے زیادہ اہداف سول اور غیرسرکاری مقامات تھے، جن میں عام مکانات، باغات، بازار، پُل، سرکاری، نجی اور اقوام متحدہ کے فیصلوں کے تحت چلنے والے اسکول، ہسپتال، سڑکیں، راہداری کی سرنگیں اور خوراک کے ذخیرے سرفہرست ہیں۔ سرکاری عمارتوں میں بھی نشانہ بننے والی عمارتوں میں وزیراعظم کے دفاتر، تعلیم اور ثقافت کی وزارت کی عمارتیں اور پولیس اسٹیشن نمایاں ہیں۔ مغربی میڈیا نے انسانی اور مادی نقصانات کا تذکرہ اگر کیا بھی ہے تو سرسری طور پر، ان کی ساری توجہ اسرائیل کے لوگوں کے حفاظتی بنکرز میں پناہ لینے اور خوف پر مرکوز رہی ہے، جب کہ فلسطین کے گوشت پوست کے انسانوں، معصوم بچوں اور عفت مآب خواتین کا خون، ان کے زخم اور مادی نقصانات اس لائق بھی نہ سمجھے گئے کہ ان کا کھل کر تذکرہ کیا جاتا، حالانکہ اسرائیل اور غزہ کے لوگوں کے جانی نقصان کا تناسب ۱:۳۱ اور مالی نقصان کا تناسب ۱:۱۰۰ تھا۔
اسرائیل اور اس کے پشتی بان امریکا اور مغربی ممالک کی طرف سے ایک بار پھر وہی گھسی پٹی بات دہرائی گئی ہے کہ: ’’اسرائیل نے یہ سب کچھ اپنے دفاع میں کیا‘‘۔ ساتھ ہی یہ کہا گیا ہے کہ حالیہ تنازع کی شروعات بھی فلسطینیوں ہی کی طرف سے ہوئی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کی یہ کارروائی بڑے سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے اور اس کے ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آگئے ہیں۔ کمانڈر احمد جعبری کو نشانہ بنانے کی تیاریاں کئی ماہ سے ہورہی تھیں۔ اسی طرح یہ اسرائیل کی مستقل حکمت عملی ہے کہ وقفے وقفے کے بعد غزہ اور مغربی کنارے کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں کرے اور اس طرح وہ فلسطینی عوام کی مزاحمتی تحریک میں پیدا ہونے والی قوت کو وقفے وقفے سے کچل دے۔ فلسطینیوں کو اتنا زخم خوردہ کردیا جائے کہ وہ آزادی کی جدوجہد تو کیا، اس کا خواب دیکھنا بھی چھوڑ دیں اور مکمل اطاعت اور محکومی کی زندگی پر قانع ہوجائیں۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اپنے اس تجزیے کی تائید میں ہم چند عالمی مبصرین کی راے بھی پیش کردیں، تاکہ یہ بات سامنے آسکے کہ اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکا کا پروپیگنڈا خواہ کتنا ہی زورآور کیوں نہ ہو، وہ سب کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتا:
لندن کے اخبار دی گارڈین کا بیت المقدس کا نمایندہ ہیریٹ شیروڈ اخبار کی ۱۴نومبر ۲۰۱۲ء کی اشاعت میں غزہ سے جانے والے اِکا دکا راکٹوں کا حوالہ دے کر صاف الفاظ میں لکھتا ہے کہ: ’’کئی مہینوں سے آپریشن پِلر آف ڈیفنس (Pillar of Defence) کی توقع کی جارہی تھی‘‘۔
واضح رہے کہ یہ رپورٹ اس دن کئی گھنٹے پہلے نشر کی گئی جس دن بڑے حملے کا آغاز ہوا اور کمانڈر احمد جعبری کو شہید کیا گیا۔ اسرائیلی دانش ور اور سابق رکن پارلیمنٹ یوری ایونری اخبار کاؤنٹر پنچ (۱۶-۱۸ نومبر ۲۰۱۲ء ) میں لکھتا ہے:
غزہ کی پٹی پر تنازعات کا ’آغاز‘ نہیں ہوتا۔ یہ دراصل واقعات کی ایک مسلسل زنجیر ہے۔ ہر ایک کے بارے میں یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ یہ کسی سابق اقدام کا ردعمل ہے یا اس کے ردعمل میں کیا جا رہا ہے۔ عمل کے بعد ردعمل آتا ہے۔ اس کے بعد جوابی حملہ، اور اس کے بعد ایک اور غیرضروری جنگ،Another superfluous war ۔
مغرب کے سیاست دانوں اور میڈیا نے غزہ پر اسرائیل کے حملے پر جس طرح زعم و ادعا پر مبنی انداز اختیار کیا ہے، اس سے آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ اسرائیل کو ایک بیرونی طاقت کے بغیر اُکسائے حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مغرب کے بیش تر میڈیا نے اسرائیل کے اس دعوے کو تسلیم کیا اور آگے بڑھایا ہے کہ اس کا حملہ حماس کے راکٹ حملوں کی محض جوابی کارروائی ہے۔ بی بی سی اس طرح بات کرتا ہے جیسے کہ پرانی نفرتوں کی بنیاد پر آپس کا جھگڑا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ ایک مہینے کے واقعات کے تسلسل کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کو بڑھانے کے لیے خرطوم میں ایک اسلحہ ساز فیکٹری پر حملے سے لے کر جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ حماس کو اسلحہ فراہم کرتی ہے، گذشتہ اکتوبر میں ۱۵ فلسطینی مجاہدین کو قتل کرنے، نومبر کے شروع میں ایک ذہنی طور پر معذور فلسطینی کو قتل کرنے، اسرائیل کے ایک حملے میں ایک ۱۳سالہ بچے کوقتل کرنے، اور حماس کے لیڈر احمد جعبری کو پچھلے بدھ کو عارضی صلح کے لیے مذاکرات کے عین موقع پر قتل کرنے تک ایک کے بعد ایک اقدام کرکے جنگ کو آگے بڑھایا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو کافی تحرک ملا کہ وہ خون ریزی کا ایک نیا دور شروع کردیں۔ اسرائیلی انتخابات کے سامنے ہونے کا تقاضا تھا (فلسطین پر اسرائیلی حملے اسرائیلی انتخابات سے پہلے کی ایک کارروائی ہیں) کہ مصر کے نئے اخوان المسلمون کے صدر محمد مرسی کو جانچا جائے، اور حماس پر دبائو ڈالا جائے کہ وہ دوسرے فلسطینی گوریلا گروپوں کو جھکا دے، اور ایران سے کسی مقابلے سے قبل میزائل کو تباہ کردیا جائے، اور ساتھ ہی یہ بھی پیش نظر تھا کہ Iron Dome کے میزائل شکن نظام کو آزمایا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کو اس طرح پیش کرنا کہ وہ مظلوم ہے اور اسے سرحدوں سے باہر کے حملے کی صورت میں اپنے دفاع کا ہرحق حاصل ہے، حقائق کو بُری طرح مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ اسرائیل مغربی کنارے اور غزہ پر ناجائز قبضہ کیے ہوئے ہے، جہاں کی آبادی کا بیش تر حصہ ان مہاجروں کے خاندانوں پر مشتمل ہے جو ۱۹۴۸ء میں فلسطین سے نکالے گئے تھے۔ اس لیے اہلِ غزہ مقبوضہ لوگ ہیں اور مزاحمت کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں بشمول فوجی مزاحمت کے(لیکن شہریوں کو ہدف نہ بنائیں)، جب کہ اسرائیل ایک قابض قوت ہے جو واپس ہونے کی پابند ہے، نہ کہ جن سرحدات پر اس کا کنٹرول ہے ان کا دفاع کرے اور محض فوجی طاقت کے بل پر سامراجی اقتدار کو مستحکم کرے۔
سیوماس ملن نے جن اسباب کی طرف اشارہ کیا ہے، ان کی مطابقت اس امر کی یاددہانی سے بڑھ جاتی ہے، کہ یہ حملے اسرائیل کی مستقل حکمت عملی کا حصہ ہیں اور امریکی صدارتی انتخابات اور اسرائیل کے اپنے انتخابات کے ہرموقعے پر ایسا ہی خونیں ڈراما رچایا جاتا ہے۔ دسمبر۲۰۰۸ئ- جنوری ۲۰۰۹ء کا اسرائیلی آپریشن امریکی صدارتی انتخابات اور صدارت سنبھالنے کے دوران ہوا، اور حالیہ آپریشن، امریکی صدارتی انتخاب کے چند دن بعد۔ خود اسرائیل کے انتخابات ۲۲ جنوری ۲۰۱۳ء کو طے ہیں اور نیتن یاہو اور اس کے دائیں بازو کے اتحادی اور فلسطینیوں کے سب سے بڑے دشمن لیبرمین کا مشترکہ منصوبہ تھا کہ انتخاب سے پہلے غزہ کی تحریکِ مزاحمت کی کمر توڑ دیں اور انتخابات کے بعد ایران پر حملے کے لیے اپنی پشت کو محفوظ کرنے کا سامان بھی کرلیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی مقصود تھا اور سچ ہے کہ اللہ کی تدبیر ہی ہمیشہ غالب رہتی ہے: وَمَکَرُوْا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ط وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ o اٰل عمرٰن ۳:۵۴)، ’’اور وہ خفیہ تدبیریں کرنے لگے، جواب میں اللہ نے بھی اپنی خفیہ تدبیر کی۔ اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے‘‘۔
اس جنگ سے ان تمام مقاصد کے ساتھ جن کا اُوپر ذکر کیا گیا ہے، اسرائیل کا اصل مقصد فلسطین کی تحریکِ آزادی کی اصل قوت حماس کو عسکری، مادی، سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے تباہ کرنا تھا۔ فلسطینی حریت پسند تحریک ’الفتح‘ کو گذشتہ ۴۰برس میں اسرائیل نے قوت اور ڈپلومیسی، عسکریت اور سیاسی رشوت،خوف اور لالچ کا ہرحربہ استعمال کرکے غیرمؤثر کردیا۔ پہلا وار اپنے حلیفوں کے ذریعے اُردن میں ۱۹۷۰ء میں کیا گیا۔ پھر تحریکِ مزاحمت کے دوسرے بڑے مرکز لبنان میں ۱۹۸۲ء میں تصادم کا خونیں ڈراما رچا کر وہاں سے بے دخل کیا گیا۔ تیونس میں بھی کھلی کھلی جارحیت کے ذریعے ضرب پر ضرب لگائی گئی اور بالآخر ہرطرف سے دائرہ تنگ کرکے اوسلو معاہدے اور کیمپ ڈیوڈ کے ڈرامے (۱۹۷۸ئ) کے ذریعے فلسطینی لیڈر یاسرعرفات اور ’تحریک آزادی فلسطین‘ (PLO) کو امن اور دو ریاستی نظام کے چکر میں ڈال دیا اور تحریکِ آزادیِ فلسطین کو کچھ دیے بغیر اپنے دونوں بنیادی مطالبے منوائے، یعنی اسرائیل کو تسلیم کرانا اور جہاد اور مزاحمت کے راستے کو خیرباد کہہ کر نام نہاد سفارت کاری اور مذاکرات پر مکمل انحصار۔
اسرائیل کی عیارانہ حکمت عملی کا نتیجہ سب نے دیکھ لیا کہ اوسلو معاہدے میں پانچ سال کے اندر مستقل انتظامات کا لالچ دیا گیا تھا، لیکن ۲۰سال کے بعد صورت یہ ہے کہ ارضِ فلسطین کے صرف ۲۲فی صد کاجو وعدہ فلسطینیوں سے کیا گیا تھا، اس پر اسرائیلی تسلط اسی طرح موجود ہے جس طرح ۱۹۶۷ء کے بعد قائم ہوا تھا۔ اس ۲۲ فی صد کے نصف سے زیادہ علاقے پر اسرائیلی آبادکار قابض ہیں اور یہ ۶لاکھ مسلح آبادکار جنوبی افریقہ کے ماڈل کی طرح نسلی امتیاز کی بنیاد پر (apartheid) ریاست قائم کیے ہوئے ہیں۔ تمام سڑکیں ان کے پاس ہیں، سیکورٹی کا نظام ان کے ہاتھ میں ہے، فوج اور کرنسی ان کی ہے۔ محصول وہ وصول کرتے ہیں اور نام نہاد فلسطینی اتھارٹی کو کچھ خیرات دے دیتے ہیں اور ان کی ہرنقل و حرکت پر اسرائیل کا مکمل کنٹرول ہے۔ غزہ کے چند سو مربع کلومیٹر کا جو علاقہ حماس کی جرأت اور حکمت کی وجہ سے فلسطینیوں کے پاس ہے، اس کی حیثیت بھی کرئہ ارض پر سب سے بڑے کھلے قیدخانے کی سی ہے اور یہ بھی ایک کرشمہ ہے کہ اسرائیل کی ساری ناکہ بندیوں کے باوجود ۱۷لاکھ اہلِ ایمان اس محاذ کو سنبھالے ہوئے ہیں، گویا ع
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جارہے ہیں
نومبر ۲۰۱۲ء کی فوج کشی اور فضائی جارحیت کا اصل مقصد حماس کی کمر توڑنا اور غزہ کو تہس نہس کرنا تھا، تاکہ بالآخر مغربی کنارے کو مدغم کرلیا جائے اور اس طرح فلسطین کے مسئلے کا ان کی نگاہ میں آخری حل (final solution) ہوجائے۔ اسرائیلی قیادت نے اپنے ان عزائم کا اظہار کھلے الفاظ میں کردیا تھا، اس کے لیے پوری تیاری تھی۔ امریکا کی پوری پوری اعانت اور شراکت داری تھی اور یہ سب کچھ اسی مجبور اور کمزور بستی کے لیے تھا، جسے پہلے ہی نہ صرف ایک جیل خانہ بنادیا گیا تھا، بلکہ ہرسہولت سے محروم کردیا گیا تھا اور آہستہ آہستہ موت کے شکنجے میں کَس دیا تھا۔ نوم چومسکی نے اسرائیلی حملے سے صرف ایک ماہ پہلے اسی غزہ میں چند دن گزار کر اس بستی کی حالت کی جو منظرکشی کی ہے، وہ نگاہ میں رکھنا ضروری ہے:
غزہ میں یہ معلوم کرنے میں ایک دن بھی نہیں لگتا کہ یہ احساس کیا جاسکے کہ زندہ بچ جانا کیسا ہوگا؟ جہاں۱۵ لاکھ انسان مسلسل وقت بے وقت کی اور اکثر ہولناک دہشت گردی کا شکار ہوں اور من مانی سزائیں زندگی کا ایسا معمول بن جائیں جن کا اس کے سوا کوئی مقصد نہ ہو کہ محکوم انسانوں کی تذلیل اور تحقیر کی جائے۔
غزہ کو نوم چومسکی نے the World's largest open air prison (دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل) قرار دیا۔ (دی نیشن، ۱۵ نومبر ۲۰۱۲ئ)
غزہ پر حملے اور اس کو نیست و نابود کرنے کے اسرائیلی عزائم، امریکا اور دوسری مغربی قیادتوں کے اعلانات، ایک کھلی کتاب کی مانند ہیں۔امریکا میں اسرائیل کا سفیر مائیکل ڈورن، حماس کی یہ تصویر امریکا اور دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے:’’کھلی یہودیت دشمنی اور نسل کشی کے مذہب کی پابندی کی وجہ سے حماس کو کسی امن معاہدے پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا، ہاں اسے جنگ سے روکا جاسکتا ہے‘‘ (ہیرالڈ ٹربیون، ۲۲نومبر۲۰۱۲ئ)۔موصوف نے یہ بھی کہا کہ: ’’ہمیں انھیں ختم کردینا چاہیے تاکہ ہم اعتدال پسندوں کے ساتھ بیٹھ سکیں اور امن کی گفتگو کرسکیں‘‘۔
اسرائیلی قیادت نے حماس کو ایک نہ بھولنے والا سبق سکھانے کے دعوے سے اس سال یلغار کا آغاز کیا اور اسرائیل کے وزیرداخلہ ایلی یشائی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ:غزہ کو ہمیں قرونِ وسطیٰ تک واپس پہنچادینا چاہیے۔ایک دوسرے وزیر نے کہا: کہ ہم غزہ کو پتھرکے زمانے (stone age) میں پھینک دیں گے۔ سابق وزیراعظم ایرل شیرون کے صاحب زادے نے بھی حماس کو صفحۂ ہستی سے مٹادینے کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ تھے وہ اعلانات، جن کے ساتھ اسرائیل نے اس تازہ جنگ کا آغاز اکتوبر ۲۰۱۲ء میں سوڈان میں کارروائی کرکے کیا اور اسے نومبر کے دوسرے اور تیسرے ہفتے میں اپنے انجام تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ امریکی صدر نے یہ کہہ کر اس کے لیے ہری جھنڈی دکھا دی تھی کہ:
ہم اسرائیل کے ا س حق کی مکمل تائید کرتے ہیں کہ اسے لوگوں کے گھروں، اور کام کرنے کی جگہوں پر، اور شہریوں کے امکانی قتل کے لیے گرنے والے میزائلوں سے دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہم اسرائیل کے دفاع کے اس حق کی حمایت جاری رکھیں گے۔
امریکی صدر اوباما کے اس ارشاد میں قتل کی ایک نئی قسم کا اضافہ کردیا گیا ہے، یعنی potentially killing ۔ گویا قتل کیا جانا ضروری نہیں، جس اقدام میں صرف ہلاکت کا امکان بھی ہو تو وہ بھی جارحیت، یعنی فوج کشی اور دوسروں کی سرزمین پر بم باری کے لیے جواز فراہم کرتا ہے۔ اور یہ فرمانا اس صدر کا ہے، جس کی طے کردہ kill-list کے تعاقب میں ڈرون حملوں کے ذریعے ہزاروں معصوم افراد پاکستان، یمن اور صومالیہ میں شب و روز ہلاک کیے جارہے ہیں اور جن کو اپنے دفاع میں کوئی کارروائی کرنے کا یا جارح قوت پر ضرب لگانے کا دُوردُور تک بھی کوئی حق حاصل نہیں۔ یہی وہ فسطائی ذہن ہے جس کے ردعمل میں تشدد اور دہشت گردی جنم لیتی اور پروان چڑھتی ہے۔
صدراوباما جس اسرائیل کو ’خود دفاعی‘ کے نام پر قتل و غارت اور بڑے پیمانے پر نسل کشی اور تباہ کاری کی کھلی چھوٹ دے رہے ہیں، اس کی اصل حقیقت کیا ہے، یہ بھی بین الاقوامی قانون کے غیرجانب دار ماہرین کے الفاظ میں سُن لیں، تو امریکی اور یورپی قیادتوں کی حق پرستی، انسان دوستی اور اصولوں کی پاس داری کی قلعی کھل جاتی ہے:
بلاشبہہ جیسے جیسے غزہ کا حالیہ تصادم لامحالہ کم ہونا شروع ہوجائے گا، یہ بات کھل کر سامنے آتی جائے گی کہ اسرائیل کا غزہ میں اور اسی طرح مغربی کنارے پر بھی بڑے پیمانے پر افواج کو لانا، اور وہاں کے عوام کے خلاف بلاامتیاز اسلحے کا استعمال کرنا، یہ محض جنگی جرائم نہیں ہیں بلکہ یہ انسانیت کے خلاف جرائم ہیں، اور امن کے خلاف بھی۔ آخرکار اسرائیل کتنا ہی چاہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اسے سیاسی، قانونی اور اخلاقی جواز حاصل ہو، اس کے اقدامات امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ ، شام کی حکومت کی اپنے لوگوں کے خلاف جنگ، یا دوسری ریاستوں کا اپنے شہریوں کے خلاف تشدد کا ایک سوچے سمجھے نظام کے تحت استعمال، جیسے ہیں۔ اس کا تعین اس سے ہوگا کہ اس نے عالمی قانون کو عالمی تعبیرات کے مطابق تسلیم کیا ہے یا ان کی خلاف ورزی کی ہے۔ اسرائیل جتنے طویل عرصے تک فلسطینیوں کو بلاامتیاز اور بے خوف ہوکر قتل کرتا ہے، اور مغربی کنارے اور غزہ کے ناجائز اور پُرتشدد قبضے کو جتنا عرصہ برقرار رکھتا ہے، اور ان پالیسیوں کو برقرار رکھتا ہے، اسی قدر اس کو ان پالیسیوں کے غیرقانونی ہونے کی بناپر ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا ہوگا۔
اسرائیلی قیادت کو اپنے نئے حفاظتی حصار پر بھی بہت ناز تھا، جسے امریکی سرمایہ اور مہارت کی مدد سے آہنی گنبد (Iron Dome) کے نام سے گذشتہ چار سال میں تیار کیا گیا تھا اور جس میں ایسا خودکار نظام نصب کیا گیا تھا کہ جو خود بخود، باہر سے اندر آنے والے میزائل کی شناخت کرتا ہے اور پھرانھیں ناکارہ بنادیتا ہے۔
اس تمام سازوسامان اور تیاری کے ساتھ اسرائیل کو توقع تھی کہ وہ چند ہی دن میں حماس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے گا اور پھر اپنی شرائط پر جنگ بندی کا معاہدہ کر کے جس طرح پی ایل او اور الفتح کو اپنے قابو میں کیا تھا، اسی طرح حماس کو بھی زیرنگیں کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ پھر جنوری کے انتخابات جیت کر نیتن یاہو اور اس کے دست ِراست لیبرمین کے اس عظیم تر اسرائیل کے قیام کے منصوبے پر گامزن ہوجائیں گے جو صہیونیت کا اصل خواب ہے۔
حماس نے اللہ پر بھروسا کیا اور اپنی صفوں میں مکمل اتحاد اور دستیاب وسائل کے بہترین استعمال کے ذریعے اسرائیل کے ان تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔ بلاشبہہ مجاہداکبر احمد جعبری نے جامِ شہادت نوش کیا اور ان آٹھ دنوں میں ۱۶۳ مجاہد اور معصوم جوان، بچے اور خواتین شہید ہوئے، ایک ہزار زخمی ہوئے اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، لیکن حماس اور پوری غزہ کی آبادی کے عزم میں ذرا کمی اور ان کے پاے ثبات میں کوئی لغزش نہ آئی۔ بچے بچے کی زبان پر کلمۂ شہادت اور دلوں میں جہاد جاری رکھنے کا عزم اور ولولہ تھا۔۱۰ہزارسے زیادہ افراد بے گھر ہوئے، مگر دوسروں نے ان کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے۔
میزائل کی جنگ معرکے میں ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتی تھی۔ حماس کے مجاہدین نے وسائل اور ٹکنالوجی میں ہزار درجے سے بھی زیادہ کم تر ہونے کے باوجود، اینٹ کا جواب پتھر سے دیا اور لڑائی کو اسرائیل کے طول و عرض میں پھیلا دیا، حتیٰ کہ تل ابیب جو غزہ سے ۷۰کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، اس کو بھی اپنی زد میں لے لیا۔ بلاشبہہ اسرائیلی ہلاکتیں کم ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ حماس کے میزائلوں کا نشانے پر نہ لگنا ہے، یا پھر ارادی طور پر حماس کی حکمت عملی یہ رہی ہے کہ عام آبادی کو خوف و ہراس میں تو مبتلا کیا جائے، مگر سول ہلاکتوں سے اجتناب کیا جائے۔ ایک امریکی تجزیہ نگار جولیٹ کیین نے اپنے مضمون میں بڑے اہم سوال اُٹھائے ہیں، جنھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا:
غزہ کی پٹی کی منتخب فلسطینی حکومت حماس کے لیے Iron Domeکی کامیابی اس سے کم مایوس کن تھی جیساکہ بظاہر نظر آیا۔ حماس نے یہ میزائل اس لیے نہیں چلائے تھے کہ اسرائیلیوں کو ماریں۔ اگر ان کا یہ مقصد ہوتا تو یہ ناکام ہوتے۔ دراصل اس کا مقصد اپنے دشمن اسرائیل کے مقابلے میں حماس کی مضبوطی دکھانا تھا۔ Iron Dome کی وجہ سے شہری ہلاکتوں میں کمی ہوئی ہوگی لیکن اس سے ان راکٹوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی جو حماس نے چھوڑے۔ حماس کے راکٹ لانچر اسرائیلیوں کو محض مارنے کے لیے نہیں تھے، بلکہ یہ ایک منقسم فلسطینی قیادت میں حماس کے مقام کو بڑھانے کے لیے تھے۔
اسرائیل کے لیے Iron Dome کی کامیابی اور جس اندیشے کے پیش نظر اسے استعمال کیا گیاتھا، یہ تھی کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ اسرائیل کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں نے حکومت کو مجبور نہیں کیا کہ وہ غزہ میں ایک بڑی زمینی جنگ شروع کرے۔
امریکا کے لیے Iron Dome کا پیغام یہ نکلا کہ وہ مسائل جو براے تصفیہ ہیں اور جو اسرائیل اور فلسطین کو تقسیم کرتے ہیں، ان کا حل بات چیت کے ذریعے ہو۔
اس پس منظر میں حماس کی حکمت عملی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، اور ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے ہراندازے کے برعکس حماس نے ساری بے سروسامانی کے باوجود اسرائیلی جارحیت کے ہرنہلے پر دہلے کی مار دی ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے لیے کوئی اور چارہ نہیں رہا کہ جو تہس نہس کرنے کے دعوے سے میدان میں آئے تھے، اور جنھوں نے اپنی پونے دولاکھ مستقل فوج کی مدد کے لیے ۷۵ہزارریزرو بھی بلا لیے تھے، جنھوں نے زمینی حملے کی پوری لام بندی کرنے اور اس کے واضح اعلان کے علی الرغم جو وزیردفاع ایہود بارک نے حملے کے دوسرے ہی دن کیا تھا کہ:’’ہم اس وقت تک نہیں رُکیںگے جب تک حماس اپنے گھٹنوں کے بل نہ گر جائے اور جنگ بندی کی بھیک نہ مانگے‘‘، خود جنگ بندی کی بات کرے۔
اسی اسرائیل نے خود اپنے ہی حملے کے پانچویں دن جنگ بندی کی بات شروع کردی اور وہی صدر اوباما جو اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجتماع کے موقع پر مصر کے صدر ڈاکٹر مرسی سے ملاقات کو تیار نہ تھے، انھیں دو دن میں چار بار ٹیلی فون کرتے ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کو مصر اور فلسطین بھیجتے ہیں اور آٹھویں دن ایک معاہدہ طے پاجاتا ہے، جس میں اسرائیل کا کوئی بڑا مطالبہ جگہ نہیں پاسکا۔ حماس کے دونوں مرکزی مطالبات کہ دونوں طرف سے بیک وقت ایک دوسرے کی سرحدات کی خلاف ورزی اور دراندازی بند ہو، محض یک طرفہ جنگ بندی جس کا مطالبہ اسرائیل کررہا تھا، اس کا کوئی سوال نہیں۔ دوسری بڑی اہم شرط یہ تھی کہ غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے اور انسانی اور مال برداری کی نقل و حرکت معمول پر لائی جائے اور اس طرح ۲۰۰۷ء کے اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ ناکہ بندی (blockade) کو ختم کیا جائے۔ یہ دونوں مطالبات اس معاہدے کا حصہ ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس معاہدے کو بجاطور پر حماس کی فتح اور اسرائیل کے لیے باعث ِ ہزیمت قرار دیا جارہا ہے، جس کے بارے میں اس راے کا اظہار اب عالمی میڈیا میں کھلے بندوں اور اسرائیل کی حزبِ اختلاف کی طرف سے برملا کیا جارہا ہے۔ لیکن اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے چند بنیادی باتوں کا اِدراک ضروری ہے:
بلاشبہہ فلسطینیوں کا جانی اور مالی نقصان زیادہ ہوا، لیکن اگر نقصان کے تناسب کا ۲۰۰۸-۲۰۰۹ء کی ۲۲روزہ جنگ سے کیا جائے تو بڑا فرق نظر آتا ہے۔ چارسال پہلے کے اسرائیلی آپریشن میں ۱۰۰ فلسطینیوں کی شہادت کے مقابلے میں صرف ایک اسرائیلی ہلاک ہوا تھا۔ اب یہ تناسب اس کا ایک تہائی ہے یعنی ۳۱ فلسطینیوں پر ایک اسرائیلی کی ہلاکت۔
اصل مقابلہ میزائلوں اور راکٹوں کی جنگ میں ہوا ہے۔ اسرائیل کا منصوبہ یہ تھا کہ جس طرح جون ۱۹۶۷ء کی جنگ میں اس نے پہلے ہی ہلے میں مصر کی پوری فضائیہ اور ہوائی حملے کی صلاحیت کا خاتمہ مصر کے ہوائی اڈوں پر ہی کردیا تھا، اسی طرح موجودہ فوج کشی کے پہلے دنوں میں حماس کی راکٹ اور میزائل چلانے کی صلاحیت کو ختم کردیا جائے گا ۔ اس نے حملے کے لیے دوسرا دن فیصلہ کن اقدام کے لیے رکھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ پہلے دن کے حملے کے ردعمل میں حماس جو کارروائی کرے گی، اس سے اس کے راکٹ اور میزائل کے ٹھکانوں کی نشان دہی ہوجائے گی۔ دوسری خفیہ معلومات کی روشنی میں دوسرے دن حماس کی اقدامی صلاحیت کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ نیز اربوں ڈالر خرچ کرکے اسرائیل نے جو آہنی حصار (Iron Dome) بنالیا ہے، اس کے ذریعے حماس کی جوابی کارروائی کو بے اثر کردیا جائے گا۔ ان کا اندازہ تھا کہ غزہ سے آنے والے میزائلوں اور راکٹوں کے ۸۵ سے ۹۰ فی صد میزائل یہ نظام تباہ کردے گا اور اس طرح دوسرے دن ہی سے فضا پر اسرائیل کی مکمل حکمرانی ہوگی اور غزہ اسرائیل کے سامنے سرنگوں ہوجائے گا۔ لیکن ع اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔
لندن اکانومسٹ نے ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے علاوہ تین تحقیقی اداروں کی جمع کردہ معلومات کی روشنی میں جو تفصیلی نقشے شائع کیے ہیں، ان کے تجزیے سے یہ دل چسپ صورت حال سامنے آتی ہے کہ حماس نے ہر روز مقابلے کی قوت کا مظاہرہ کیا، حتیٰ کہ آخری دن بھی کسی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس جنگ میں کامیابی اور ناکامی کا اصل معیار انسانی جانوں کی ہلاکت نہیں بلکہ اس جنگی ٹکنالوجی کے میدان میں مقابلہ ہے، جس نے اسرائیل کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کردیااور وہ مجبور ہوا کہ نہ تو زمینی یلغار کرے جس میں اس کے لیے ہلاکتوں کا زیادہ خطرہ تھا بلکہ فضائی جنگ کو بھی روکے کہ یہ غیرمؤثر ہورہی تھی۔
اسرائیل اور حماس کے ایک دوسرے کے اہداف پر حملے (یومیہ صورتِ حال)
۱۴ نومبر ۲۰۱۲ء
۱۵ نومبر ۲۰۱۲ء
۱۶ نومبر ۲۰۱۲ء
۱۷ نومبر ۲۰۱۲ء
۱۸ نومبر ۲۰۱۲ء
۱۹نومبر ۲۰۱۲ء
۲۰ نومبر ۲۰۱۲ء
۲۱ نومبر ۲۰۱۲ء
۲۲ نومبر ۲۰۱۲ء
اسرائیل کے حماس پر حملے
۱۰۰
۲۷۰
۳۲۰
۳۰۰
۱۳۰
۸۰
۱۰۰
۲۰۰
x
حماس کے اسرائیل پر حملے
۸۰
۳۱۰
۲۳۰
۲۳۵
۱۶۰
۱۴۰
۲۱۵
۱۲۰
x
حماس کے وہ حملے جنھیں اسرائیل نے ناکارہ بنادیا
۴۰
۱۴۰
۱۲۰
۹۰
۶۰
۶۵
۶۵
۲۰
x
حماس کے وہ حملے جنھیں اسرائیل کے دفاعی حصار نے متاثر نہیں کیا
۴۰
۱۷۰
۱۱۰
۱۴۵
۱۰۰
۷۵
۱۵۰
۱۰۰
x
۱- اسرائیل کو توقع تھی کہ وہ پہلے ہی دو دن میں حماس کو مفلوج کردے گا، لیکن حماس نے کسی اعلیٰ صلاحیت کے جدید ترین حفاظتی حصار کے بغیر اپنی اقدامی اور دفاعی صلاحیت کو محفوظ رکھا ، اور پہلے دن اسرائیل کے ۱۰۰ حملوں کے جواب میں۸۰، دوسرے دن ۲۷۰ کے جواب میں۳۱۰، اور آخری دن ۲۰۰ کے جواب میں ۱۲۰ حملے کرکے اپنی صلاحیت کا لوہا منوا لیا اور اسرائیل اور امریکا کو ششدر کردیا۔
۲- اسرائیل کے نہایت ترقی یافتہ (sophisticated) اور مہنگے حفاظتی حصار کے باوجود حماس کے تقریباً ۵۰ فی صد میزائل اور راکٹ اس نظام کی گرفت سے بچتے ہوئے اپنا کام دکھانے اور ٹھکانے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
۳- یہ بات درست ہے کہ تباہی مچانے والے بارود کی مقدار اور صلاحیت کے میدان میں اسرائیل اور حماس کے میزائلوں میں بڑا فرق ہے۔ یہ دعویٰ اسرائیل کی عسکری اور سیاسی قیادت نے کیا ہے کہ اسرائیل کی تباہ کرنے کی صلاحیت ایک ہزار گنا زیادہ تھی۔ اس اعتبار سے جو اصل تباہی ہوئی ہے وہ اسرائیل کے منصوبے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ لیکن یہ حقیقت کہ وسائل اور صلاحیت کے اس عظیم فرق کے باوجود حماس نے آخری دم تک مقابلہ کیا اور جنگ بندی کے آخری لمحات تک اپنے میزائل برساتا رہا، جو اس کے مقابلے کی صلاحیت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ آیندہ کے لیے اس میں اپنی صلاحیت کو ترقی دینے اور اسرائیل کا بھرپور مقابلہ کرنے کی استعداد موجود ہے۔
۴- اسرائیل کا خیال تھا کہ حماس کے میزائل اور راکٹ ۱۵ سے ۳۰کلومیٹر سے آگے نہیں جاسکتے، لیکن الحمدللہ، حماس نے اسرائیل کی آخری حدود تک اپنی پہنچ کا ثبوت دے کر اسرائیل اور امریکا کو انگشت بدنداں کردیا۔ تل ابیب، بیت المقدس اور تیسرے بڑے شہر بیرشیوا (Beersheva) کے قرب و جوار میں ہی نہیں، بلکہ اسرائیل کے نو ایٹمی تنصیبات کے مرکز ڈایمونا (Dimona) تک حماس کے میزائل پہنچے ہیں، اور یہ وہ حقیقت ہے جس نے اسرائیل کو اپنے پورے نقشۂ جنگ پر نظرثانی پر مجبور کردیا ہے۔
۵- بلاشبہہ میزائل اور راکٹ ٹکنالوجی کے حصول میں حماس نے دوسرے مسلمان ممالک خصوصیت سے ایران سے فائدہ اُٹھایا ہے اور اس کا برملا اعتراف بھی کیا ہے ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حماس نے میزائل اور راکٹ دونوں کو بنانے اور انھیں ہدف پرداغنے کی صلاحیت مقامی طور پر حاصل کرلی ہے۔ اسرائیل اور امریکا کی تمام پابندیوں کے باوجود نہ صرف باہر سے اجزا حاصل کیے ہیں، بلکہ ان اجزا کو اندرونِ غزہ جمع کرنے (assemble) اور مؤثر طور پر کام میں لانے کا (operationalize ) نظام قائم کیا ہے، اور اسے اسرائیل کی خفیہ نگرانی اور تباہ کن جارحانہ صلاحیت سے محفوظ رکھا ہے۔ اگر مغربی نامہ نگاروں کی یہ روایت صحیح ہے کہ اسرائیل کی فوجی قیادت نے اعتراف کیا ہے کہ جو میزائل اورراکٹ اسرائیل پر داغے گئے ہیں، ان میں سے کم از کم ایک بڑی تعداد غزہ ہی میں بنائی گئی ہے، تو اس پر اللہ کے شکر کے ساتھ حماس کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ہدیۂ تبریک پیش کرنا اعترافِ نعمت کا ہی ایک رُخ ہے۔
اگر اسرائیل اور حماس کی اس فضائی جنگ کی حکمت عملی کا ملٹری سائنس اور انٹرنیشنل ہیومینٹیرین لا کی زبان میں موازنہ کیا جائے تو اسرائیل کے میزائل اور F-16 سے آگ اور خون کی بارش ہمہ گیر تباہی کی، جسے Weapons of Mass Destruction کہا جاتا ہے، قبیح ترین شکل ہے۔ اسرائیل نے ان تباہ کن ہتھیاروں کا بے دریغ اور بے محابا استعمال کیا ہے۔ اس کے برعکس حماس نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے اس میں اہتمام کیا گیا ہے کہ دشمن کی صفوں میں بھی جاں کا ضیاع نہ ہونے کے برابر ہو، البتہ اسی کے ذریعے مقابلے کی قوت کو جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی طرف لایا جاسکے۔ یہی وہ چیز ہے جسے اصل سدِّجارحیت (deterrance) کہا جاتا ہے۔
یہ ہے وہ اصل جنگی منظرنامہ جو اسرائیل اور امریکا کو جنگ بندی اور اس معاہدے تک لایا جو ۲۱ نومبر کو طے پایا اور ۲۲ نومبر سے اس پر عمل شروع ہوا۔ اس معاہدے کے تجزیے اور اس کے ان اثرات پر بھی تفصیل سے گفتگو کرنے کی ضرورت ہے، جو اس سے متوقع ہیں۔ فی الحال اس حقیقت کے اعتراف پر بات کو مکمل کرتے ہیں کہ بلاشبہہ حماس اور اہلِ غزہ نے جانوں اور قربانیوں کا نذرانہ کہیں زیادہ ادا کیا، لیکن اسرائیل اور اس کی پشت پر امریکا کی قوت کو چیلنج کرکے اور بے سروسامانی کے باوجود انھیں جنگ بندی کی طرف آنے اور ناکہ بندی کو ختم اور راہداری کھولنے پر مجبور کر دیا ہے جوبڑی کامیابی ہے۔ اس نے نقشۂ جنگ ہی نہیں، سیاسی بساط کو بھی بدل دیا ہے۔ اب اس کا اعتراف دوست اور دشمن سب کر رہے ہیں۔ لندن دی اکانومسٹ نے اسرائیلی وزیردفاع ایہودبارک کے ایک مشیر کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ:’’حماس نے جنگی میدان میں شکست اور سیاسی میدان میں فتح حاصل کی‘‘۔
اسرائیل کی انتخابی مہم کو نہ دیکھا جائے تو غزہ پر فضائی بم باری کے آخری آٹھ دنوں کو کسی حکمت عملی کی کامیابی قرار دینا مشکل ہے۔ اسرائیل کے دفاعی انتظامی نقطۂ نظر سے یہ ایک خوشی کے لمحے سے شروع ہوا ___ فلسطینی کمانڈر احمد جعبری کی کار پر حملے سے___ اور حماس اور دو دوسرے فوجی گروپوں کو ناکام بنانے پر جنھوں نے تل ابیب پر باربار راکٹ پھینکے، جو کہ حزب اللہ نے بھی دوسری لبنانی جنگ کے عروج پر نہیں کیا تھا،اور بسوں پر بم باری کی حکمت عملی کی طرف واپسی سے روکنا۔ اگر بدھ کی رات ہونے والا معاہدہ قائم رہتا ہے تو حماس مکمل واپسی کے بعد بھی جنگ بندی نہیں کررہی۔
نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ اس نے حماس کو ناکارہ کردیا ہے، اور زمینی حملے کے بارے میں تنبیہات کو وزن دینے سے اس نے اپنے لیے مغربی حمایت کو مضبوط بنالیا ہے۔ لیکن اس کی یہ قیمت ادا کی کہ عرب دنیا میں حماس کا مقام بلند ہوگیا۔ اس نے تنظیم کے ساتھ وہ کیا ہے جو اس نے خالدمشعل کے ساتھ کیا تھا۔ جب اس نے زہر سے اس کے قتل کا حکم جاری کیا تھا اور پھر اُردن کو تریاق فراہم کرنے پر مجبور ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں مشعل کے قدکاٹھ میں اضافہ ہوا۔ اسی طرح حماس بھی پی ایل او کی قیادت کے مقابلے میں آگے بڑھنے کی بہتر پوزیشن میں آگئی ہے۔ کیا اسرائیلی وزیراعظم یہی چاہتا تھا یا اسے طاقت کی قوت کے استعمال کا اب احساس ہوا ہے؟ نیتن یاہو کو طاقت سے حماس کو ختم کرنے کے بجاے شاید ان سے گفتگو کرنا چاہیے۔
ایک مغربی سفارت کار نے اسرائیل کی عسکری بالادستی کو tactical کامیابی ضرور قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی آٹھ روزہ جنگ کے حاصل کو حماس کے لیے اسٹرے ٹیجک جیت قرار دیا ہے، اور خود اسرائیل کے اخبارات نے فوج کے عام سپاہیوں کا یہ احساس ریکارڈ کیا ہے کہ: Bibi (Benjamin Natan Yahu) is a loser. (ایکسپریس ٹربیون، ۲۴نومبر ۲۰۱۲ئ)
اسرائیلی راے عامہ کے جائزوں سے بھی یہ حقیقت سامنے آرہی ہے کہ اسرائیل کی ۷۰ فی صد آبادی اس جنگ بندی کے معاہدے پر ناخوش ہے، جب کہ صرف ۲۴فی صد نے اس کی تائید کی ہے۔
بحیثیت مجموعی عالمی سیاست پر نظررکھنے والوں کا احساس ہے کہ فلسطین کے مسئلے کا فوجی حل، جو اسرائیل اور خود امریکا کی حکمت عملی تھا، اس کی کامیابی کے امکانات کم سے کم تر ہورہے ہیں اور اس کی جگہ افہام و تفہیم کے ذریعے کسی سیاسی حل کی ضرور ت کا احساس روزافزوں ہے۔
پہلو اور بھی بہت سے ہیں جن پر غوروفکر اور مباحثے کی ضرورت ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ اس طرف اشارہ کررہی ہے کہ ایک بڑے شر میں سے بھی کسی نہ کسی صورت میں خیر کے رُونما ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ بلاشبہہ ابھی کش مکش اور جدوجہد کے بے شمار مراحل درپیش ہیں۔ راستہ کٹھن اور دشوار گزار ہے۔ ہرلمحہ آنکھیں کھلی رکھنے اور معاملات کا ہرپہلو سے جائزہ لے کر مقصد سے وفاداری اور حقیقت پسندی کے ساتھ حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت جتنی پہلے تھی، اب اس سے کچھ زیادہ ہی ہے۔
صاف نظر آرہاہے کہ ان شاء اللہ اب امریکا کی محکومی اور امریکی سامراجیت کے زیراثر مفادات کی سیاست کا باب ختم ہونے جارہا ہے۔ شہدا کے خون اور مظلوموں کی تمنائوں اور قربانیوں کا یہی تقاضا ہے، تو دوسری طرف یہی ایمان، آزادی اور عزت کا راستہ ہے۔ اب جن نئے امکانات کی راہیں کھل رہی ہیں ان سے پورا پورا فائدہ اُٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ اُمت مسلمہ کے سلگتے ہوئے مسائل کو حل کیا جائے اور اتحاد اور خودانحصاری کی بنیاد پر تعمیرنو کی سعی و جہد ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ اور اس کی قیادت کی رہنمائی فرمائے، اور ہم سب کو درست اور بروقت فیصلے کرنے اور صحیح راستے پر چلنے کی توفیق سے نوازے۔ آمین!
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قرآن پاک نے افراد اور اقوام کی زندگی میں بار بار واقع ہونے والی اس صورت حال کو بڑے مختصر مگر جامع انداز میں بیان فرما دیا ہے کہ انسان اپنے طور پر طرح طرح کی منصوبہ سازیاں اور تدبیریں کرتا ہے مگر بالآخر اللہ ہے جس کی تدبیر غالب ہوکر رہتی ہے۔ وَ مَکَرُوْا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ط وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ o (اٰل عمرٰن ۳:۵۴)۔
پاکستان کی تاریخ میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر کی کارفرمائی کا نظارہ ہم نے بار بار دیکھا ہے اور اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ امریکا کے صدارتی انتخاب کے فیصلہ کن مرحلے میں پاکستان کو شمالی وزیرستان پر فوج کشی کی آگ میں دھکیلنے اور اس سے امریکی ووٹروں کے دل جیتنے کا جو شاطرانہ منصوبہ بنایا گیا تھا وہ کانچ کے گھر کی طرح پاش پاش ہو گیا ہے۔
۱۴؍اگست پاکستانی قوم کے لیے خوشی اور شکر کا ایک اہم موقع ہوتا ہے۔ اس سال عین اس دن، امریکا کے ڈیفنس سیکرٹری لیون پانیٹا نے امریکی عوام کو یہ مژدہ سنایا کہ پاکستان اور امریکا کی اعلیٰ فوجی اور سیاسی قیادت نے اس امر پر اتفاق کرلیا ہے کہ پاکستان شمالی وزیرستان میں جلد فوجی آپریشن شروع کردے گا اور اس طرح امریکی حکام کے الفاظ میں: ’’تاریخ کے سب سے زیادہ عرصے تک مؤخر کیے جانے والے اقدام‘‘ (most delayed operation) کا آغاز ہوجائے گا۔ اس کے لیے پاکستان پر دبائو اور لالچ دونوں حربوں کے استعمال کے ساتھ امریکی کانگریس کی طرف سے امریکی سیکرٹری خارجہ کو ’حقانی نیٹ ورک‘ کو افغانستان پر فوج کشی کے ۱۱سال کے بعد ’دہشت گرد گروہ‘ قرار دینے کا مطالبہ بھی داغ دیا گیا، اور وزارتِ خارجہ نے ۳۰ دن کے اندر اس راز کو، اس گروہ کے بارے میں جس سے سیاسی مذاکرات کے لیے سرتوڑ کوشش کی جارہی تھی فاش کردیا ہے جسے ۱۱سال سے اپنے سینے میں چھپایا ہوا تھا۔
یہ بھی ایک طرفہ تماشا ہے کہ ۱۴؍اگست ۲۰۱۲ء ہی کو کاکول اکیڈمی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل پرویز کیانی نے پاکستان کی آزادی، سلامتی اور اسلامی شناخت کے بارے میں کچھ بڑی دل کش باتوں کے ساتھ بڑے چپکے سے یہ بھی ارشاد فرمادیا کہ انتہاپسندی ایک قسم کا شرک ہے، دہشت گردی اسی ذہنیت کی پیداوار ہے، اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ دراصل امریکا کی نہیں ہماری اپنی جنگ ہے، اور ہے تو بڑا ہی مشکل اور تکلیف دہ کام، لیکن فوج کو خود اپنی قوم کے خلاف بھی لام بندی کرنا پڑجاتی ہے۔ البتہ اتنی گنجایش رکھی کہ اس کام کے لیے قوم کی تائید اور سیاسی قیادت کی سرپرستی ضروری ہے۔ ملک کی لبرل اور امریکا نواز لابی نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر شمالی وزیرستان پر لشکرکشی کے لیے مہم چلا دی اور پی پی پی اور اے این پی کی قیادت نے کبھی ہلکے سُروں میں اور کبھی اُونچی آواز سے اسی لَے میں لَے ملانا شروع کر دی۔ اب یہ بھی ایک معما ہے کہ عین اس ماحول میں سوات کی ایک معصوم بچی پر اور اس کی دو سہیلیوں پر حملہ ہوتا ہے اور حسب ِ سابق پاکستانی طالبان نے اس کی نہ صرف ذمہ داری بھی قبول کرلی بلکہ اس کا جواز بھی بڑھ چڑھ کر پیش کردیا۔
پاکستان کی دینی اور سیاسی قیادت نے بجاطور پر اس ظالمانہ حملے کی بھرپور مذمت کی اور پوری قوم نے یک زبان ہوکر اس خلافِ اسلام اور خلافِ انسانیت کارروائی کا ارتکاب کرنے والوں کو قانون کے مطابق قرارِ واقعی سزا کے دیے جانے کا مطالبہ کیا۔ لیکن اس معصوم بچی کا نام استعمال کرکے شمالی وزیرستان میں فوج کشی کے لیے ایک دوسرا ہی نقشۂ جنگ تیار کر لیا گیا۔ امریکی قیادت، ناٹو کے جرنیل اور سیاست دان، عالمی میڈیا، خود پاکستان کی پی پی اور اس کے اتحادیوں کی قیادت اور لبرل امریکی لابی سب نے یک زبان ہوکر اس مطالبے کی تائید کی اور وزیرداخلہ نے صاف لفظوں میں فوجی آپریشن کا بھاشن دے ڈالا۔ اس بحث میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ یہ محض اتفاق تھا یا کسی سازش کا حصہ، یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ ایک معصوم لڑکی کے ساتھ اس ظلم کو، اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے ایک کاری وار کیاگیا لیکن اللہ کی مشیت کااپنا نظام ہے۔ قوم کے باشعور افراد، خصوصیت سے دینی قیادت، بالغ نظر صحافی اور کئی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے اس کھیل کا بروقت توڑ کیا۔ غلط کو غلط کہا اور پوری قوت سے کہا، مگر اس ظالمانہ اقدام کی آڑ میں، ملک کو ایک نئی جنگ کے جہنم میں دھکیلنے کے جس خطرناک کھیل کا آغاز ہونے والا تھا، اسے ناکام بنا دیا اور وہی وزیرداخلہ جو تلوار نکال کر حملے کے لیے پَر تول رہے تھے یوٹرن لیتے نظر آئے اور زرداری صاحب بھی قومی اتفاق راے کے مفقود ہونے کا نوحہ کرنے لگے۔
پاکستانی اور مغربی میڈیا اور خصوصیت سے سوشل میڈیا پر اب جو کچھ آگیا ہے، اس نے پورے کھیل کے سارے ہی پہلو کھول کر سامنے رکھ دیے ہیں اور اس خونیں ڈرامے کے تمام ہی کرداروں کے چہروں سے پردہ اُٹھا دیا ہے۔ ہم صرف ریکارڈ کی خاطر تین افراد کی شہادت اور تجزیہ پاکستانی قوم اور اس کے سوچنے سمجھنے والے عناصر کے غوروفکر کے لیے بیان کرنا چاہتے ہیں۔
سب سے پہلے ہم اس صحافی، یعنی سید عرفان اشرف کی شہادت اور اس کے احساسِ ندامت کو پیش کرنا چاہتے ہیں جس نے وہ پہلی دستاویزی فلم (documentary) بنائی جس میں ۱۱سال کی معصوم بچی کے جذبات محض تعلیم سے اس کی محبت کے تذکرے کی خاطر ریکارڈ کیے گئے تھے اور پھر اس سے کیا کیا گل کھلائے گئے اس پر خود اس کا کیا احساس ہے۔ سید عرفان اشرف اس وقت امریکا کی سائوتھ اِیلی نوئس (Illinois) یونی ورسٹی (بمقام کاربون ڈیل) سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور ان کا مضمونPredatory Politics and Malala ڈان، کراچی میں شائع ہوا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک معصوم سے تعلیمی منصوبے کے ذریعے سیاست کاری کے کیاکیا گل کھلائے گئے اور میڈیا اور میڈیا کی ڈورہلانے والے سیاسی شاطر کیا کیا کھیل کھیلتے ہیں:
پھر دوبارہ مشق ہم سب کے لیے تہلکہ آمیز تھی۔ پس اس نے مجھے صحافیانہ اخلاقیات سے بھی اندھا کر دیا اور اپنے دوست ضیاء الدین کی حفاظت سے بھی۔ مجھے یہ احساس ایک بار بھی نہ ہوا کہ اس صورت حال میں نوعمر ملالہ کے لیے خطرہ ہے۔ یہ جزوی بات تھی اس لیے کہ دستاویزی فلم تعلیم سے متعلق تھی اور فلم کے مختلف حصوں کی وڈیو بنانا روز کا معمول تھا۔ مجھے مسئلے کی نوعیت کی شدت کا احساس اس وقت ہوا جب نیویارک ٹائمز نے Class Dismissed کے نام سے ایک مختصر دستاویزی فلم جاری کی۔ آدم بی الیک اور میری مشترکہ پیش کش پر مبنی اس فلم نے جو ضیاء الدین کے گھر اور اسکول میں بنائی گئی اور جس میں ملالہ مرکزی کردار تھی، غیرملکی ناظرین کو بہت متاثر کیا۔ اسی وقت سے اس خوف نے مجھے گھیر لیا کہ اس طرح ملالہ ایک دہشت ناک دشمن کے سامنے expose ہوگئی ہے۔ جب میں اسے ٹیلی ویژن پر دیکھتا تھا تو یہ خوف احساسِ جرم میں بدل جاتا تھا۔
اس کے بعد میں نے اپنے آپ کو اس قسم کے منصوبوں سے الگ کرلیا۔ پھر میڈیا نے اگلے تین برس میں ملالہ کی تعلیم کی حمایت کو تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے خلاف ایک بھرپور مہم میں بدلنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ سیاست دان ملالہ کی جواں توانائیوں کواستعمال کرنے میں میڈیا کی مدد کے لیے اس جھگڑے میں کود پڑے۔ TTP مخالف ایک مضبوط ڈھانچا اس کے نازک کاندھوں پر کھڑا کردیا گیا۔
یہ تصویر کا ایک رُخ ہے۔ یہ میڈیا کے کردار کے بارے میں تشویش کا باعث ہے کہ یہ نوجوانوں کو کس طرح ایک گندی جنگ میں گھسیٹ لاتا ہے جو معصوم لوگوں کے لیے ہولناک نتائج کا باعث ہے۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ گذشتہ عشرے میں اگر عوام کی بڑھتی ہوئی وابستگی نے ایک طرف سیاست دانوں کو اپنی بڑی بڑی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے سموک سکرین مہیا کی ہے، تو دوسری طرف ان قربانیوں نے سیکورٹی فورسز کو ایک مشکل دشمن کے ساتھ آنکھ مچولی جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
ایک مسئلے سے دوسرے مسئلے تک میڈیا کے ذریعے مبالغے کے ساتھ مسائل کو بڑھایا جاتا ہے، جب کہ لوگ مذمت کے منتظر ہوتے ہیں۔ اس ظالمانہ سیاست سے حقیقت مجروح ہوجاتی ہے اور خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں عسکریت کو فروغ ملتا ہے۔ سیکورٹی آپریشن واضح طور پر مؤثر ہوتے ہیں اور ورکنگ فارمولا مسلح دستوں کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ اُس علاقے کے ۹۰ فی صد حصے پر کنٹرول حاصل کرلیں اور بقیہ عسکریت پسندوں کے لیے چھوڑ دیں۔ معاملات کی یہ گنجلک کیفیت، برسرِاقتدار اشرافیہ کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ تنازعے کو طول دے سکیں، لیکن وہ عسکریت کو شکست نہیں دے سکتے۔ مرکزی رَو کی سیاسی جماعتیں یہ برداشت نہیں کرسکتیں کہ وہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے منظر پر اُبھر کر سامنے آئیں اور دہشت گردی کے مقابلے کے لیے واضح پالیسی کا اعلان کریں۔ پس اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جنگ میں کون جیتے گا؟ کیا اس تنازعے کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے مزید شہریوں کے خون کی ضرورت ہے؟ (ڈان، کراچی، ۲۱؍اکتوبر ۲۰۱۲ئ)
اس دل خراش داستان کا ایک پہلو یہ ہے۔ ایک دوسرا پہلو بھی غورطلب ہے جسے خاصی تفصیل کے ساتھ ڈیو لنڈوف (Dave Lindorff) نے کاؤنٹر پنچ کی ۱۸؍اکتوبر ۲۰۱۲ء کی اشاعت میں پیش کیا اور جو عالمی طاقتوں اور اربابِ سیاست کے دوغلے پن (duplicity) اور بے ضمیری (hypocracy) کا آئینہ دار ہے:
افغانستان اور پاکستان میں پچھلے ہفتے چھے بچوں پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ تین نوبالغ (teenage) لڑکیاں پاکستان میں جن میں سے ایک ملالہ یوسف زئی شدید زخمی ہوئی۔ دوسرا حملہ افغانستان کے ہلمند صوبہ کی تحصیل ناوا میں جس میں امریکی ہوائی جہاز کے حملے میں تین بچے ہلاک ہوئے: ۱۳سالہ بارجان، ۱۰سالہ سردار ولی اور ۸سالہ خان بی بی۔ تینوں ایک ہی خاندان کے چراغ تھے جو اپنے گھر کے لیے ایندھن کے لیے گوبر جمع کر رہے تھے۔ تین پاکستانی بچوں پر حملہ طالبان نے کیا (گو، وہ بچ گئیں) اور افغانستان میں تین معصوم بچوں پر حملہ امریکا کی فوج نے کیا جسے اپنے ٹھیک ٹھیک نشانے (precision attack) پر ناز ہے اور تینوں جان کی بازی ہار گئے۔
اس دوسری تفصیل سے کئی سوالات فوری طور پر اُبھرتے ہیں: سب سے پہلے، یہ اگر تین بچے اس قدر قریب تھے کہ وہ اس ’تیر بہ ہدف‘ حملے سے مارے جاتے تو پھر یقینی طور پر وہ اتنے قریب بھی تھے کہ طالبان مجاہدین کی کارروائی کی نگرانی کرنے والے جہاز کو بھی نظر آجاتے اور اُس فضائی حملے کی ضرورت ہی نہ پڑتی جس کا بندوبست کیا گیا تھا۔ دوسری بات یہ کہ امریکا الزامی طور پر کوشش کر رہا ہے کہ شہریوں کی جان کے اِتلاف کو کم کرے۔ اب فرض کرلیجیے کہ فضائی حملے متقابل فوجوں کی جھڑپ (rules of engagement) کے قانون کے مطابق کیے جارہے ہیں، تب بھی حملوں کی اجازت اُس وقت ہوتی ہے جب ’امریکا یا اتحادی افواج کے لیے خطرہ منڈلا رہا ہو۔
LED کی تنصیب کس طرح منڈلاتا ہوا خطرہ بن گئی؟ اگر حقیقی مقام معلوم ہو، اُس علاقے کے فوجی دستوں کو خبردار کیا جاسکتاہے۔ LED ہٹایا بھی جاسکتاہے اور اُڑایا بھی جاسکتا ہے۔ شناخت کردہ LED منڈلاتا ہوا خطرہ نہیں ہوسکتا۔ امریکی ذرائع ابلاغ، تین پاکستانی لڑکیوں اور حوصلہ مند لڑکیوں کی تعلیم کے باب میں وکیل ملالہ پر حملے کی کوریج کرتے ہوئے لبریز دکھائی دیتے ہیں۔ تین افغان بچوں کی موت پر یہ سب کچھ نہیں ہوا، تاہم نیویارک ٹائمز نے ایک نام نہاد حملے میں مقبوضہ افغان اتحادیوں کے ہاتھوں ہلاکت پر امریکی فوجیوں کی ’سبز پر نیلی اموات‘٭ نامی مضمون کے اختتام کے نزدیک چند پیراگراف لگادیے۔
پاکستان اور امریکا، دو ایسے ممالک ہیں کہ جہاں بچوں پر ہونے والے دو حملوں کا ردعمل انتہائی واضح طور پر مختلف ہے۔ ملالہ اور اُس کی دو ہم جماعت ساتھیوں پر حملے کے بعد پاکستان میں ہزاروں پاکستانی سڑکوں پر نکل آئے تاکہ طالبان جنونیوں کے اقدام پر احتجاج ریکارڈ کراسکیں اور اُن کی گرفتاری اور اُن کو سزا دینے کا مطالبہ کرسکیں (جرم میں معاونت کرنے والے دو ملزموں کو گرفتار کیا جاچکا ہے)۔ حکومت ِ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ قرار پانے والے قاتلوں کو سزا دی جائے گی۔ نیز ملالہ کی برطانیہ میں ایک بہتر اور محفوظ ہسپتال میں منتقلی کے اخراجات بھی برداشت کیے ہیں۔ دوسری دو لڑکیوں کے تحفظ کے لیے بھی مسلح گارڈ فراہم کردیے گئے ہیں۔
اسی اثنا میں، امریکا میں بہت سے لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ اُن کی اپنی ملٹری نے تین افغان بچوں کو بھون کر رکھ دیا ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ اگر اُنھیں اس کا علم ہوبھی جاتا، تب بھی وہ اس کی کوئی پروا نہیں کرتے۔سڑکوں پر ایسے بھرپور مظاہرے نہ ہوتے جن میں مطالبہ کیا جاتا کہ فضائی حملے بند کیے جائیں اور ڈرون حملے کے ذریعے قتل کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ صرف ۲۸ فی صد امریکی کہتے ہیں کہ اُنھیں ڈرون کے ذریعے حملے جاری رکھنے پر اعتراض ہے۔اگرچہ یہ واضح ہے کہ ڈرون حملے سیکڑوں___ شاید ہزاروں معصوم شہریوں کی ہلاکت کا باعث بن رہے ہیں۔
پاکستان میں اسکول کی لڑکیوں پر حملہ کرنے والوں کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے۔ یقینی طور پر اُن کو مکروہ جرم کی پاداش میں قید کی سزا ملے گی، یہ سلوک اُس پائلٹ اور حملہ کرنے والے افراد کے ساتھ نہ کیا جائے گا جنھوں نے اس ہلاکت خیز حملے میں حصہ لیا جس کے باعث تین افغان بچے زندگی سے محروم ہوگئے۔
واپسی پر اُن کا خیرمقدم ، اُن سے ملنے والے جنگ سے واپس آنے والے ’ہیرو‘ کے طور پر کریںگے۔ لوگ اُن کے قریب سے گزریںگے اور کہیں گے: ’’آپ کی خدمات پر آپ کا شکریہ‘‘۔ چاہے اُس خدمت میں معصوم بچوں کو ہلاک کرنے کی ’خدمت‘ بھی شامل ہو۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ جن تین بچوں کو نشانہ بنا کر امریکی فوجیوں نے ہلاک کرنے کا جو اقدام کیا ہے وہ افغان حکومت کے ساتھ، قوت کے استعمال کے جن اصولوں پر اُنھوں نے اتفاق کر رکھا ہے، اُس کی بھی خلاف ورزی نہیں ہے؟ اگرچہ ٹائمز نے جو شہ سرخی لگائی ہے اُس کا عنوان ہے: ’’اتحادیوں کے حملے میں افغان بچوں کی ہلاکت پرسوالات اُٹھائے گئے‘‘ لیکن اس سوال کا ذکر کہیں نہیں ملتا؟ نہ ٹائمز نے ہی ایمان داری سے یہ رپورٹ کیا کہ یہ امریکی حملہ تھا، جوابی حملہ نہیں تھا۔(کاؤنٹر پنچ،۱۸ ؍اکتوبر۲۰۱۲ئ)
لیکن بات صرف ان چھے بچوں تک محدود نہیں۔ صرف پاکستان میں ڈرون حملوں سے امریکی یونی ورسٹی کی تحقیق کے مطابق ۳ہزار۳سو سے زیادہ افراد ہلاک کیے جاچکے ہیں جن میں سے صرف ۴۱ کے بارے میں معلومات ہیں کہ ان کا کوئی تعلق القاعدہ یا طالبان سے تھا۔ ۹۸ فی صد عام شہری تھے جن میں سیکڑوں بچے شہید ہوئے۔ یہی خونیں داستان افغانستان کی ہے، عراق کی ہے، کشمیر کی ہے، فلسطین کی ہے، برما کی ہے___ اور نہ معلوم کہاں کہاں روے زمین پر معصوم انسانوں کا خون اسی طرح بہایا جارہا ہے اور ظالم کا ہاتھ روکنے والا اور قاتل کو قرارواقعی سزا دینے والا کوئی نہیں۔ کیا یہی ہے تہذیب و تمدن کا عروج اور جمہوریت کا فروغ؟
اس سارے گھنائونے کھیل کو کیا نام دیا جائے؟ پاکستان کے ایک سابق نام ور سفیر اور تجزیہ نگار جناب آصف ایزدی نیوز انٹرنیشنل میں اپنے مضمون Malala and the Terrorist Mindset میں یہ کڑوا سچ بڑے صاف الفاظ میں رقم کرتے ہیں:
سینٹ میں ایک تقریر کے دوران وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ ملالہ پر حملے کے پیچھے ’کارفرما ذہن‘ کے ساتھ جنگ کی جائے۔ اُنھیں یہ ضرور جان لینا چاہیے کہ دہشت گردی کے تخلیقی سبب کی تلاش ایک کے بعد دوسری پاکستانی حکومت کی اُن پالیسیوں میں ملے گی جن کی وجہ سے تنخواہوں میں بہت بڑا فرق ہے، بدعنوانی کا چلن ہے اور عام آدمی کو تعلیم اور سماجی و اقتصادی ترقی کے عمل میں شرکت کا موقع فراہم نہیں کیا جاتا۔ جب تک ان مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جاتا، اس ذہنی رویے کے، جس کی اُنھوں نے نشان دہی کی ہے، پھلنے پھولنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور کسی بھی قسم کا فوجی آپریشن نہ صرف بے نتیجہ بلکہ ضرر رساں ہو گا۔
ملالہ ایک بچہ سپاہی ہے جسے ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ کے پروپیگنڈا محاذ پر غیرمسلح اورتنہا روانہ کردیا گیا۔ اُس کے لیے وہی کردار طے کیا گیا جو طالبان کے ۱۵/ ۱۸ برس کے خودکش بم باروں کا ہوتا ہے، تاہم اُس کے بچ جانے کے امکانات نسبتاً بہتر تھے۔ یہ معجزے سے کم نہیں کہ وہ ابھی تک ہمارے پاس ہے۔
ملالہ اس قدر کم عمر ہے کہ اُس کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ وہ کس کے خلاف کام کر رہی ہے اور اُس کی اپنی ذات کے لیے اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔ ملالہ پر جو کچھ گزری ہے اُس کی ذمہ داری مکمل طور پر اُن کے سر ہے جنھوں نے اُ س نظریہ پرستی کا تنفرانہ استحصال کیا، صرف اس لیے کہ اس طریقے سے وہ اسٹرے ٹیجک اہداف اور سیاسی مقاصد حاصل کرسکیں۔
ایک طرف، جب کہ ہم دعاگو ہیں کہ وہ نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئے، ہمیں اُن کو یہ اجازت نہ دینی چاہیے کہ وہ اپنے گناہ کو مذمت کے خنک دار بیانات سے چھپائیں یا گولی مارنے کے افسوس ناک واقعے کو، ہمارے ملک میں قتل عام اور تنازعات میں گہرا دھکیلنے کے لیے استعمال کریں۔ (نیوز انٹرنیشنل، ۲۲؍اکتوبر ۲۰۱۲ئ)
ملالہ بلاشبہہ ایک مظلوم بچی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بھی دکھا دیا ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہم سب اس کی صحت یابی اور روشن مستقبل کے لیے دعاگو ہیں لیکن وہ صرف اس لیے مظلوم نہیں کہ اس معصوم بچی پر قاتلانہ حملہ ہوا، بلکہ وہ اس لیے بھی مظلوم ہے کہ اس بچی کو کون کون اور کس کس طرح اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گولی کے نشانے پر لگنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس بچی کو دنیا بھر کے لیے معجزانہ طور پر بچالیا اور یہ بھی اس کا کرم ہے کہ پاکستان کو جس آگ میں دھکیلنے اور پاکستان اور افغان قوم کے ایک بڑے حصے کو تصادم، منافرت، بدلے اور نہ ختم ہونے والی جنگ کی آگ میں دھکیلنے اور امریکی انتخابات میں اس خونیں کھیل کو ایک شعبدے کے طور پر استعمال کرنے کا جو شیطانی منصوبہ بنایا گیا تھا وہ خاک میں مل گیا۔وَ مَکَرُوْا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ط وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ o (اٰل عمرٰن ۳:۵۴)
الحمدللہ! وہ سیاہ بادل جو مطلع پر چھا گئے تھے چھٹ گئے ہیں مگر کیا خطرہ فی الحقیقت ٹل گیا؟ جہاں ہمیں اللہ کی رحمت اور اعانت پر پورا بھروسا ہے، وہیں اس امر کا اِدراک بھی ضروری ہے کہ پاکستان شدید اندرونی و بیرونی خطرات میں گھرا ہوا ہے جن کا اِدراک اور مقابلے کے لیے صحیح حکمت عملی اور مؤثر کارفرمائی ازبس ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ہم بہت ہی اختصار کے ساتھ چند گزارشات پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
سب سے پہلی بات جس کا سمجھنا ضروری ہے وہ یہ ہے بلاشبہہ دہشت گردی ایک جرم ہے، خواہ اس کا ارتکاب افراد کریں، یا گروہ یا حکومتیں۔ دہشت گردی انسانی تاریخ کے ہر دور میں موجود رہی ہے اور اس کا مقابلہ بھی کیا گیا ہے اور کامیابی سے افراد اور معاشرے کو اس سے محفوظ کیا گیا ہے۔ ۱۱؍ستمبر ۲۰۰۱ء کا نیویارک کے ٹریڈٹاور اور واشنگٹن کے پینٹاگان پر حملہ دہشت گردی کے اندوہناک واقعات تھے مگر دہشت گردی کا آغاز نہ اس واقعہ سے ہوا اور نہ اس کے نتیجے میں دہشت گردی کی نوعیت میں کوئی جوہری فرق ہی واقع ہوا۔ البتہ امریکا نے اس واقعے کو جنگ کا نام دے کر اور اس کے مقابلے کے لیے قانون، افہام و تفہیم، تعلیم اور اصلاحِ احوال کے لیے سیاسی اور معاشی تدابیر کا مجرب راستہ اختیار کرنے کے بجاے، جنگ اور قوت کے بے محابا استعمال کا حربہ استعمال کیا اور پوری دنیا کو ان ۱۱برسوں میں تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ اس لیے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردی کو دہشت گردی اور جنگ کو جنگ رکھا جائے اور سیاسی مسائل کے عسکری حل کی جو خون آشام حماقت کی گئی ہے، اس سے جلد از جلد نجات پانے کا راستہ نکالا جائے۔
دوسری بنیادی بات یہ ہے کہ جس طرح دہشت گردی اور جنگ کو خلط ملط کیا گیا ہے اسی طرح دہشت گردی اور تشدد، اور تشدد اور انتہاپسندی اور انتہاپسندی اور جدت کو گڈمڈ کرنا ژولیدہ فکری اور کوتاہ اندیشی کا تباہ کن شاہکار ہے۔ ان میں سے ہراصطلاح کا اپنا مفہوم ہے اور ہرایک کا اپنا کردار ہے اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں ردعمل دینے (respond) کا اپنا انداز ہے۔ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی کوشش بہت سی خرابیوں کی جڑ ہے۔ اس خطرناک مغالطے کا نتیجہ ہے کہ بات ذہنی رویے اور سوچ (mindset) کی کرتے ہیں اور اس کے مقابلے کے لیے اقدام فوج کشی تجویز کرتے ہیں، حالانکہ خیالات کا مقابلہ خیالات سے، نظریات کا نظریات سے، دعوے کا دلیل سے کیا جاتا ہے، ڈنڈے اور گولی سے نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں دہشت گردی کا مقابلہ اس سے بڑی دہشت گردی سے کرنے کی جب بھی کوشش کی گئی ہے، وہ ناکام رہی ہے۔ دل اور دماغ کی جنگ دلیل اور نظریات کے ذریعے جیتی جاتی ہے۔ سیاسی، معاشی اور سماجی بنیادوں پر رُونما ہونے والے تشدد کا مداوا بھی ان اسباب کو دُور کر کے ہی کیا جاسکتا ہے، جو لوگوں کے اختلافات اور شکایات کو تصادم اور تشددکی طرف لے جانے کا باعث ہوتے ہیں۔ امریکا کے محکمۂ دفاع کا ایک ہمدرد تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن ہے جس نے اس موضوع پر اپنی تحقیق کے نتائج میں نمایاں طور پر یہ بات کہی ہے کہ دہشت گردی کا حل قوت کا استعمال نہیں، بلکہ افہام و تفہیم اور سیاسی معاملہ بندی کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے۔ مائیکل شینک لندن کے اخبار دی گارڈین (۲۵جولائی۲۰۱۲ئ) میں اپنے مضمون بعنوان The Costly Errors of American Wars میں لکھتا ہے:
ہماری جنگیں اس قدر مہنگی کیوں ہوچکی ہیں؟ امریکی وزارتِ دفاع سے قربت رکھنے والی رینڈ کارپوریشن کی راے ہے کہ ۸۴ فی صد دہشت گردتنظیموں کو ختم کرنے یا بے دست و پا کرنے میں پولیس ، سراغ رسانی اور مذاکرات انتہائی اہم اسٹرے ٹیجک اقدامات کررہے ہیں، جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم خطیر وسائل، بھاری فوجی اور فضائی لائولشکر کی قدر کر رہے ہیں، بشمول ۴۰،۴۰؍ارب ڈالر والی مشترکہ حملہ کرنے والی مہنگی آنٹرمز۔ یہ اسٹرے ٹیجک ہتھیار تیزی سے حرکت کرنے والے اور جگہ جگہ پائے جانے والے گروہوں کے مقابلے میں غیرمؤثر ہیں۔ اس قدر انحصار کیوں؟ چونکہ دفاعی صنعت نے ہرریاست میں اور کم و بیش کانگریس کے ہر ڈسٹرکٹ میں ایسے آپریشن شروع کیے ہیں اور چونکہ اُس کی لابی واشنگٹن میں انتہائی طاقت ور ہے۔ رینڈ نے جو تجویز کیا ہے ہمیں اس پر عمل کرنا چاہیے اور بہت کم اخراجات میں کئی اور ممالک میں صلاحیت پروان چڑھانا چاہیے۔
امریکی افواج کے ادارے رائل یونائیٹڈ اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات اور مستقبل کے بارے میں کوئی افہام و تفہیم (understanding) ایسی مشکل بات نہیں ہے۔ طالبان میں گفت و شنید کے راستے کو اختیار کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ اسی طرح شریعت کی تعبیر، تعلیم اور خصوصیت سے لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں وہ اتنے کٹّر اور انتہاپسند نہیں جتنا کہ ہمیں خطرہ ہے۔ اور پھر اس رپورٹ میں صاف الفاظ میں عسکری راستے کی جگہ سیاسی راستے کے امکانات کا ذکر کیاگیا ہے:
مذاکرات کے ذریعے اُن غلط فہمیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے جن کی وجہ سے تنازعے نے آگ پکڑ لی ہے۔ جیساکہ شورشوں (insurgencies) سے نجات کے کئی اور واقعات میں ہوا۔ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے تشدد کی شدت اور ہونے والے واقعات کی تعداد میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ بصورتِ دیگر تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ چونکہ طالبان اور طاقت رکھنے والے دیگر گروہ ارادہ رکھتے ہیں کہ ناٹو کی ہنگامی روانگی کے بعد خلا کو بھریں، افغان نیشنل سیکورٹی فورسز کی جو خامیاں ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں توقع رکھنا چاہیے کہ طالبان کا دیہی شہری جنوب، جنوب مشرق اور مغرب میں کنٹرول بڑھ جائے گا۔ اس تمام سے واضح ہوجاتا ہے کہ راے عامہ کے سروے اور تحقیق کیوں ظاہر کرتے ہیں کہ افغانوں کی غالب اکثریت چاہے مرد ہوں یا عورتیں، مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ اہمیت اس چیز کو دی جائے کہ کسی بھی شرط کے بغیر کثیرجماعتی ٹھوس بنیاد رکھنے والے کھلے مذاکرات کا اہتمام کیا جائے۔ جس رفتار سے فوجی دستوں اور امداد میں کمی آرہی ہے۔ اسی رفتار سے عالمی برادری کی مختلف جماعتوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت، امن کے عمل کے قیام اور ۲۰۰۱ء کے بعد حاصل ہونے والے فوائد سمیٹنے میں واقع ہورہی ہے۔ متفقہ مصالحت کاروں اور ثالثوں کی موجودگی، مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ اگرچہ ایسے لوگ اب موجود نہیں ہیں۔ پاکستان کے تعاون کے بغیر کوئی بھی ذریعہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کو مذاکرات میں ایک نشست ملے یا نہ ملے، اس کے افسران کو لازمی طور پر مذاکرات میں شریک رہنا چاہیے۔ جوں جوں مذاکرات قوت حاصل کریں گے اُسی قدر شمالی اور وسطی افغان سیاسی گروہ اِن میں شمولیت اختیار کرتے رہیں گے۔ (ملاحظہ ہو Matt Waldman کا مضمون بعنوان Why It's Time for Talks with the Taliban ، دی گارڈین، ۱۰ستمبر ۲۰۱۲ئ)
امریکی قیادت طاقت کا کتنا ہی استعمال کیوں نہ کرڈالے سیاسی حل کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ حالات کی اصلاح کے لیے پاکستان ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے لیکن وہ کردار شمالی وزیرستان میں جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے سے ادا نہیں ہوسکتا۔ وہ جنگ کی آگ کو ٹھنڈاکرنے سے ہی ہوسکتا ہے، لیکن دانا اور طاقت کے نشے میں مست نادان میں فرق یہ ہی ہے کہ نادان پہلے حالات کو بگاڑتا ہے اور پھر وہی کچھ کرنے پر مجبور ہوتا ہے جو دانائی کا تقاضا ہے کہ ؎
ہرچہ دانا کند، کند ناداں
لیک بعد از خرابیِ بسیار
(ترجمہ: جو کچھ دانا کرتا ہے، نادان بھی بالآخر وہی کچھ کرتا ہے، لیکن خرابی بسیار کے بعد )۔
یہی وہ حکمت عملی ہے جو پاکستان کی پارلیمنٹ نے اپنی تین متفقہ قراردادوں میں طے کی ہے اور جس کی تفصیل پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی نے ایک واضح نقشۂ کار کی شکل میں مرتب کی ہے لیکن اکتوبر ۲۰۰۸ئ، اپریل ۲۰۰۹ء ، مئی ۲۰۱۱ء اور اپریل ۲۰۱۲ء کی ان تمام ہدایات کوعملاً ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا اور امریکا کے اشارئہ چشم و آبرو اور ترغیب وترہیب (carrot & stick) دونوں کے بے محابا استعمال کے نتیجے میں ملک کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیاگیا اور اسے مزید تباہی کی طرف دھکیلنے کی مہم امریکا، امریکی لابی، اور امریکا کی باج گزار قیادت پوری قوت سے چلارہی ہے۔
امریکا عراق اور افغانستان میں ناکام رہا ہے۔ عراق کو جلتا ہوا اور تباہ حال چھوڑ کر رخصت ہوگیا ہے اور افغانستان کو تباہ و برباد کر کے اور خود اپنے فوجیوں کی ۲ہزار اور ناٹو کی ۸۰۰ سے زیادہ ہلاکتوں، نیز ان سے ۱۰گنا زیادہ کے شدید مجروح ہونے اور دماغی اور جسمانی امراض اور محرومیوں کا نشانہ بنانے، خود ان دونوں مظلوم ممالک کے ۲لاکھ سے زیادہ افراد کو لقمۂ اجل بنانے، لاکھوں کو بے گھر کرنے اور خود اپنے ۴ہزار ارب ڈالر سے زیادہ پھونک دینے کے باوجود ناکام و نامراد واپس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں دیکھتا ہے۔ لیکن اس پر بضد ہے کہ مسئلے کا عسکری حل ہی تھوپنے کی کوشش جاری رکھے گا اور پاکستان کو اپنے برادر ہمسایہ ملک اور اس کے باسیوں سے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں اُلجھا کر جائے گا۔ ویسے تو ۲۰۱۴ء میں فوجوں کی واپسی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن امریکا کے سیاسی تجزیہ نگار اور تھنک ٹینک یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ انخلا اس سے پہلے کیا جائے۔
نیویارک ٹائمز نے ۱۳؍اکتوبر ۲۰۱۲ء کی اشاعت میں اپنی تاریخ کا طویل ترین اداریہ لکھا ہے جو ۱۸۵۶ الفاظ پر مشتمل ہے اور اس کا ماحصل یہ ہے کہ افغانستان کی جنگ جیتی نہیں جاسکتی، اس لیے جلد واپسی کا راستہ اختیار کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ ۲۰۱۳ء کے آخیر تک امریکی اور ناٹو کی افواج واپس آجائیں۔ ناٹو کے سیکرٹری جنرل فاگ راسموسن(Fog Rasmussen) نے بھی اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ افغانستان سے بیرونی افواج کا انخلا ۲۰۱۴ء سے پہلے ہوجانا چاہیے۔ اسی راے کا اظہار کابل میں برطانیہ کے سفیر نے کیا ہے۔ فرانس نے ۲۰۱۲ء ہی کے اختتام تک اپنی فوجوں کی واپسی کااعلان کردیا ہے۔ ان حالات میں اصل ایشو جنگ کو بڑھانا نہیں، اسے سمیٹنا اور ختم کرنا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے اداریے کے یہ الفاظ امریکا اور ناٹو کے اس وقت کے ذہن کی پوری عکاسی کرتے ہیں:
ریاست ہاے متحدہ امریکا کی افواج کے لیے یہ مناسب وقت ہے کہ وہ افغانستان چھوڑ دیں (کیونکہ) امریکا صدر اوباما کے محدود مقاصد کو حاصل نہ کرسکے گا اور جنگ کو طول دینے کا مقصد صرف یہ ہوگا کہ نقصان بڑھ جائے۔
اس سوچ کو فروغ دینے میں عسکری اہداف میں ناکامی، اور بڑھتی ہوئی معاشی قیمت اور امریکا اور یورپی ممالک کے روزافزوں مالیاتی خساروں کے علاوہ راے عامہ کی تبدیلی اور خود افغان عوام ہی نہیں، ان افغان افواج تک کے ہلاکت خیز حملے ہیں جن کی تربیت امریکی افواج نے کی ہے اور جن کو آیندہ افغانستان کی سیکورٹی کی ذمہ داری کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔
ان حالات میں شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کرنا صرف اپنی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے، اور اس جنگ کو اپنی جنگ کہنا حقائق کا منہ چڑانا اور عوام کے، جن کی ۹۷ فی صد عظیم اکثریت امریکی فوجی کارروائیوں کی مخالف ہے، کے منہ پر طمانچا مارنا ہے۔
اصول اور سیاسی حکمت عملی، دونوں ہی اعتبار سے اس سے بڑا خسارے کا کوئی اور سودا نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کے چیف جسٹس جناب افتخارمحمد چودھری نے اس ہفتے ’قیامِ امن بذریعہ قانون‘ کے موضوع پر ایک نہایت پُرمغز خطبہ دیا ہے جس میں ’دہشت گردی کے نام پر جنگ‘ کی حکمت عملی کے مقابلے میں انصاف، آئین اور قانون کی بالادستی پر مبنی حکمت عملی کا نقشہ پیش کیا ہے۔ پارلیمنٹ نے جو خطوطِ کار طے کیے تھے اور چیف جسٹس نے جن کو اپنے انداز میں بڑی خوبی کے ساتھ بیان کیا ہے وہ اس آگ سے نکلنے اور ملک و قوم کو امن اور خوش حالی کے راستے پر گامزن کرنے کا واحد ذریعہ ہیں۔
اگر پاکستان آج ایسے حالات کا سامنا کر رہا ہے جن میں امن ایک سہانا خواب لگتاہے تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہم ماضی میں کیے گئے گناہوں کی قیمت چکا رہے ہیں۔ یہ ایک ناگوار حقیقت ہے کہ عرصۂ دراز سے ہم نے اپنے آئین کے ساتھ وہ برتائو نہیں کیا جس کا وہ حق دار تھا۔ قانون کی ناتواں حکمرانی نے عسکری نظریات کو جنم دیا۔ جو قومیں آئین کااحترام کرتی اور اسے حقیقی طور پر نافذ کرتی ہیں، وہ چیلنجوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنے اور تنازعات کا تصفیہ کرنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ آئین شکنی اور قانون کی حکمرانی سے انحراف نے ہمیں بھٹکا دیا اور قانون کی حکمرانی کو پاکستان میں نابود کیا۔ یہی وہ اسباب ہیں جنھوں نے تشدد اور لاقانونیت کی فضا قائم کی۔
ان حقائق کی روشنی میں جناب چیف جسٹس نے پارلیمنٹ سے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے حتمی طور پر عسکری تنظیموں کے بارے میں قانون سازی کرے اور حکومت ضروری اقدام کرے۔ ساتھ ہی انھوں نے صاف الفاظ میں متنبہ کیا ہے کہ عالمی سطح پر پائی جانے والی بدامنی کا اصل سبب بھی ظلم اوربے انصافی ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ:
پیچیدہ اور جڑوں تک پہنچے ہوئے جھگڑوں نے دہشت گردی، ماوراے عدالت قتل، انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور دیگر برائیوں کو جنم دیا ہے، جو انتہاپسندی اور بنیادپرستی کی افزایش کرتے ہوئے عالمی امن کو مسخ کرنے کی وجہ بن رہی ہیں۔ ان تمام مسائل سے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ قانون، امن اور تہذیب کی اصولی تعلیمات کو بنیاد بناتے ہوئے افراد اور ریاستوں کے درمیان حائل فاصلوں کو کم کیا جائے اور ان مواقع کو تلاش کیا جائے جو عالمی امن کے قیام میں مددگار ہوں۔ قانون کی حکمرانی کے ذریعے امن کا قیام چاہے مقامی سطح پر ہو یا بین الاقوامی سطح پر،تنازعات اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہمیشہ انتہائی مفید ثابت ہوا ہے۔ میری راے میں تنازعات میں اُلجھے ہوئے لوگوں کے مابین حقیقی امن منصفانہ تصفیے کی بدولت ہی قائم ہوسکتا ہے۔ اور یہ تصفیہ متحارب جماعتوں کے لیے تب ہی قابلِ قبول ہوگا جب انھیں یقین ہو کہ اسے جائز اور قانونی طریقے سے بروے کار لایا جارہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتاہے کہ کوئی بھی تصفیہ جس کی پشت پر قانون کی ضمانت نہ ہو، وہ دیرپا نہیں ہوگا اور ایسے منصفانہ تصفیے کے بغیر قیامِ امن ناممکن ہے۔
زمینی حقائق، عالمی حالات اور تاریخی تجربات سب کا حتمی تقاضا ہے کہ پاکستان کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ جلد از جلد امریکا کی اس جنگ سے نکلے اور خود امریکا کو دوٹوک انداز میں مشورہ دے کہ جتنی جلد افغانستان سے اپنی اور ناٹوافواج کی واپسی کا اہتمام کرے، یہ جتنا پاکستان اور امریکا کے مفاد میں ہے اتنا ہی افغانستان اور اس پورے علاقے کے لیے بہتر ہے۔ اس کے لیے تمام متعلقہ قوتوں سے مذاکرات کا جلد از جلد آغاز ہونا چاہیے۔ افغانستان میں بیرونی مداخلت کے تمام راستوں کو بند کیا جائے اور افغانستان کی تمام دینی اور سیاسی قوتوں کی باہم مشاورت سے ایک ایسا سیاسی انتظام کہا جائے جسے افغان تسلیم کریں، اور جس کی باگ ڈور بھی انھی کے ہاتھ میں ہو۔ پھر اس کو عملاً نافذ کرنے کا اہتمام بھی کیا جائے۔ پاکستان اس میں ایک شفاف انداز میں شریک ہو اور افغان عوام کی نگاہ میں، امریکا کے مفادات کے نگہبان کی حیثیت سے نہیں، بلکہ پاکستان اور افغانستان دو برادر مسلم ممالک کے مشترک مفادات کا نقیب بنے۔ امن کا راستہ انصاف اور حقوق کے احترام ہی سے مسخر کیا جاسکتا ہے۔
آخری بات ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے جس طرح جنرل پرویزمشرف کی پالیسیوں کو جاری رکھا اور امریکی مفادات کو مشرف سے بھی زیادہ بڑھ کر آگے بڑھایا، اس سے اسے نہ ملک میں ساکھ (credibility) حاصل ہے اور نہ افغان عوام اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں جلداز جلد نئے انتخابات نہایت شفاف انداز میں منعقد کیے جائیں تاکہ عوام ایک نئی قابلِ اعتماد اور بالغ نظر قیادت کو برسرِاقتدار لاسکیں جو امریکا سے بھی باعزت دوستی کا راستہ اختیار کرے، ملک کی معیشت کو عوام دوستی اور خدمت خلق کی بنیادوں پر استوار کرے، اور افغانستان کے مسئلے کا بھی افہام و تفہیم کے ذریعے مناسب سیاسی حل نکالنے کی کوشش کرے۔ ایک حقیقی آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرے جسے پوری قوم کی تائید حاصل ہو۔ اس سے زیادہ شرم کی بات اور کیا ہوگی کہ سینیٹ کی کمیٹی براے دفاع کے ایک اجلاس میں ڈیفنس سیکرٹری جناب لیفٹیننٹ جنرل (ر) آصف یٰسین ملک نے پہلی بار کھل کر اعتراف کیا ہے کہ پرویز مشرف کی اجازت سے ۲۰؍اگست ۲۰۰۱ء سے شمسی ایئربیس امریکا کے زیراستعمال تھا اور وہ وہاں سے پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملے کرتا رہا۔ اس ایئربیس سے یہ سلسلہ ۱۱دسمبر ۲۰۱۱ء کو ختم ہوا۔ واضح رہے کہ اس شرمناک دور میں موجودہ حکومت کے پورے چار سال بھی شامل ہیں۔ جنرل صاحب نے صاف الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ:the attacks were carried out with the governments approval. (ڈان، ۲۲اکتوبر ۲۰۱۲ئ)
فوجی اور سیاسی قیادت دونوں اس پورے عرصے میںامریکی ڈرون حملوں میں پاکستانی حکومت کی شراکت اور اجازت کا انکار کرتے رہے اور قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے متعدد اجلاسوں میں، جن میں راقم الحروف شریک تھا، ہرسطح کے ذمہ داروں نے پاکستان کی شراکت داری سے برملا انکار کیا اور دعویٰ کیا کہ حکومت کی اجازت اور تائید ان حملوں میں شامل نہیں۔ لیکن اب اس کا اعتراف کیا جا رہا ہے، جو قوم اور پارلیمنٹ سے دھوکا اور ایک قومی جرم ہے جس کا پارلیمنٹ اور عدالت کو قرارواقعی نوٹس لینا چاہیے۔ لیکن ان سب حالات کا واحد حل یہی ہے کہ ملک میں جلد از جلد نئے منصفانہ انتخابات کا اہتمام کیا جائے تاکہ عوام ان لوگوں سے نجات پاسکیں جنھوں نے قوم کو امریکا کی غلامی میں دے دیا اور امریکا کی جنگ میں نہ صرف شرکت کی بلکہ خود اپنی قوم کے خلاف فوج کشی کی اور امریکا کو خود ہماری اپنی سرزمین سے ہم پر ہی گولہ باری کا موقع دیا اور اس کی سرپرستی کی۔
قوم اور دستور سے غداری اور کس چیز کا نام ہے!
کتابچہ دستیاب ہے، تقسیم عام کے لیے ۸۰۰ روپے سیکڑہ، منشورات، منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲
فردہو یا قوم، دونوں کے وجود کے دو پہلو ہیں: ایک جسمانی اور طبیعی اور دوسرا روحانی، اخلاقی، نظریاتی اور تہذیبی جس سے اس کی شناخت واضح ہوتی ہے۔ جس طرح نفس اور جسم پر ہروہ حملہ یا ضرب جو قانون سے ماوراہو، ایک جرم اور لائق تعزیر ہے، اسی طرح روحانی اور نظریاتی وجود اور شناخت پر حملہ ناقابلِ برداشت ہے اور اس پر جارحیت کے خلاف مزاحمت، ہر فرد اور قوم کا قانونی اور اخلاقی حق ہے۔ معاملہ ملک کے اندر ہو یا اس کا تعلق اقوامِ عالم سے ہو، انسانوں، معاشروں اور تہذیبوں کے درمیان امن و آشتی اور سلامتی و استحکام کا انحصار قانون اور ضابطوں کے احترام اور ان پر عمل اور ان کی نگرانی پر ہے۔ ان حدود کو پامال کرنے کا نتیجہ انتشار، تصادم اور فساد فی الارض کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا۔
۱۱ستمبر ۲۰۱۲ء کو اسلام اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر جو حملہ امریکا کی کچھ شیطانی قوتوں نے یوٹیوب پر جاری ہونے والی ایک فلم کی شکل میں کیا اور جس سوچے سمجھے انداز میں پوری چابک دستی کے ساتھ مسلمانوں کے ایمان، نظریاتی وجود اور عزت و غیرت کو چیلنج کیا، اور پھر جس تحدی اور ڈھٹائی کے ساتھ اسے آزادیِ اظہار کے نام پر سرکاری تحفظ فراہم کیا گیا، اس نے فطری طور پر عالمِ اسلام میں ایک آگ سی لگا دی۔ امریکی حکومت، میڈیا، دانش وروں اور دوسری مغربی اقوام کے کرتادھرتا عناصر نے، خصوصیت سے فرانس کے میڈیا اور حکومت نے جو رویہ اختیار کیا، اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور مصر کے صدر کے استثنا کے ساتھ، تمام ہی مسلمان حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی اور بے عملی نے مسلمان عوام کے سامنے اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے ایمان اور ناموسِ رسالتؐ کے تحفظ کے لیے میدان میں اُتریں۔ یہ ان کا حق ہی نہیں، فرض تھا جسے انھوں نے اور ان کی دینی قیادت نے پورا کیا۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ کچھ مقامات پر اس ردعمل نے تشدد کا رُخ اختیار کرلیا جس کے نتیجے میں ۳۰ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ بدنما صورت بہت ہی محدود اور انگلیوں پر گنے جانے والے مقامات پر رُونما ہوئی ہے اور وہاں بھی مظاہرین کے بے قابو ہوجانے سے بھی کہیں زیادہ نقصان سرکاری اہل کاروں کے قوت کے استعمال اور تصادم کے نتیجے میں واقع ہوا ہے۔ لیبیا کے واقعے کے علاوہ کہیں بھی پہل مظاہرین نے نہیں کی حالانکہ مغربی میڈیا اور ان کے مقامی نام نہاد لبرل حاشیہ نشین اصل مسئلے سے توجہ کو ہٹاکر، تشدد یا بے اعتدالی کے معدودے چند واقعات کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ اُمت مسلمہ کی اپنی قیادت نے تشدد کی مذمت کی ہے اور احتجاج کو پُرامن اور جمہوری اور اخلاقی حدود میں رکھنے کی سختی سے تلقین کی ہے اور پوری دنیا کے مسلمانوں نے بحیثیت مجموعی ان آداب کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے۔ بلاشبہہ ایک جان کا بھی ناحق جانا غلط اور ناقابلِ معافی ہے، لیکن اُمت مسلمہ کے دینی اور قانونی ردعمل کو مسلمانوں کے غصے (rage)اور انتقام (revenge)کا نام دے کر بحث کا رُخ بدلنا ایک شرم ناک کھیل ہے جس کا اسی طرح پردہ چاک کرنے کی ضرورت ہے، جس طرح اصل کروسیڈی اور صہیونی حملے کا مؤثر جواب اور مسئلے کے مستقل حل کے لیے منظم اور مؤثر کوشش ضروری ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ اس مسئلے کے تمام اہم پہلوئوں پر روشنی ڈالی جائے، بگاڑ کے اصل اسباب کی نشان دہی کی جائے، اور حالات کو سدھارنے کے لیے جس حکمت عملی کو اختیار کرنا ضروری ہے اس کو صاف الفاظ میں بیان کیا جائے۔
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے جن قبطی، عیسائی شدت پسند اور اسرائیلی صہیونی شرپسندوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق ایک نہایت گھٹیا، مکروہ اور غلیظ فلم کے ذریعے اسلام اور اس کے پاک نبیؐ کی ذاتِ اقدس کو نشانہ بناکر پوری اُمت مسلمہ کے خلاف جس جارحیت کا ارتکاب کیا ہے، اس کے بنیادی حقائق ہرکس و ناکس کے سامنے آگئے ہیں، اس لیے ان کے اعادے کی ضرورت نہیں۔ نیز یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اسلام اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات کو سب و شتم، جھوٹ اور افترا اور خبث باطن اور زہرناک دشمنی پر مبنی خیالی الزامات اور اتہامات کا نشانہ بنانا مغربی اہلِ قلم، مشنری اداروں اور میڈیا کا شیوہ رہا ہے، اور اس کا اعتراف مشہور عیسائی مؤرخ ڈبلیو منٹگمری واٹ نے ان الفاظ میں کیا ہے:’’دنیا کے تمام عظیم انسانوں میں سے کسی کو بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے زیادہ بدنام نہیں کیا گیا‘‘۔
لیکن آج جس طرح، جس زبان میں اور جس تسلسل سے یہ جارحانہ کارروائیاں ہورہی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ پھر اس پر مستزاد، میڈیا اور سوشل میڈیا کی نئی قوت کہ چشم زدن میں یہ آگ دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج مغربی میڈیا، دانش وروں کی اکثریت اور امریکا اور یورپی اقوام کی سیاسی قوت، سب اپنے اپنے انداز میں اس خطرناک کھیل میں شریک ہیں جس کی وجہ سے مسئلے کی جوہری نوعیت تبدیل ہوگئی ہے۔ آج امریکی دستور کی پہلی ترمیم جس کا تعلق مذہب اور ریاست کی علیحدگی اورآزادیِ راے اور اظہار کی آزادی سے متعلق ہے، اور اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کے بنیادی حقوق کے اعلامیے کا سہارا لے کر اسلام، پیغمبرؐاسلام اور اُمت مسلمہ کو مطعون کرنے اور ان کے خلاف نفرت اور انتقام کی آگ بھڑکانے اور ان کو صفحۂ ہستی سے مٹادینے کے عزائم اور منصوبوں کا پرچار ہی نہیں، ان پر دعوتِ عمل دینے کا جو کام ہورہا ہے اس کا نوٹس نہ لینا اور حالات کو بگڑنے سے بچانے کے لیے بروقت اقدام نہ کرنا ایک مجرنامہ غفلت ہوگی۔
علمی تنقید اور اور دلیل پر مبنی اختلافِ راے نہ کبھی محل نظر تھا اور نہ آج ہے۔ تہذیبوں کے تصادم کا جو غلغلہ مغربی اہلِ قلم نے برپا کیا، وہ بھی کسی نہ کسی طرح براشت کرلیا گیا۔ لیکن جس نظریاتی، تہذیبی اور سیاسی جنگ کو اب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلط کیا جارہا ہے، وہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ نائن الیون کے بعد امریکا اور یورپی اقوام کی عسکری قوت اور سیاسی معرکے کا اصل ہدف مسلم دنیا بن گئی ہے، اور عالمِ اسلام کے سیاسی، معاشی اور تہذیبی نقشے کو اپنے حسب ِ خواہش تبدیل کرنے کا عمل بڑی چابک دستی سے کارفرما ہے۔ امریکی قیادت بڑی معصومیت سے کہہ رہی ہے کہ اس فلم سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، اور ہمیں کوئی شبہہ نہیں کہ بہت سے افراد ایسی مذموم اور قبیح حرکتوں کو ناپسند بھی کرتے ہوں گے، لیکن یہ کہنا کہ امریکی اور یورپی قیادت کا دامن اس پورے کھیل سے پاک ہے جو تسلسل کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے، کسی طرح بھی قابلِ یقین نہیں۔ نائن الیون کے معاً بعد جس جنگ کا آغاز جارج بش نے Crusadeکی تاریخی اصطلاح کو استعمال کر کے کیا تھا، وہ محض زبان کی لغزش (slip of the tongue) نہ تھی اور بعد کے واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ ع
ہیں کواکب کچھ ، نظر آتے ہیں کچھ
گوانتاناموبے میں بار بار قرآنِ پاک کی بے حُرمتی کی گئی ہے، افغانستان کے بگرام کے عسکری اڈے پر ۱۰۰ سے زیادہ قرآنِ پاک نذرِ آتش کیے گئے ہیں، امریکا کے اعلیٰ فوجی ادارے جوائنٹ فورسز اسٹاف کالج میں اسلام کے خلاف لیکچرز نصاب میں شامل کیے گئے، جن میں اسلامی دنیا کو دشمن قرار دیتے ہوئے مکہ اور مدینہ کو ایٹم بم سے اُڑا دینے تک کا پیغام دیا گیا۔ اسی طرح ڈینش رسالے میں ہتک آمیز خاکے چھاپے گئے۔ امریکی پادری ٹیری جونز نے قرآنِ پاک جلانے کی ملک گیر مہم چلائی ، فرانس کے رسالے چارلی ہیس فور میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تضحیک آمیز خاکے شائع ہوئے۔ ہالینڈ میں پارلیمنٹ کے رکن نے اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی، ناروے میں اسلام دشمنی کے نام پر خود اپنے ۷۰ سے زیادہ نوجوانوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا ___ یہ سب غیرمربوط واقعات نہیں ایک پوری اسکیم کا حصہ نظر آتے ہیں اور اُمت مسلمہ کا ضمیر اس خطرے کو بھانپ رہا ہے، اور حکمرانوں کا رنگ ڈھنگ جو بھی ہو ، عوام امریکا اور مغربی اقوام پر بھروسا نہیں کرتے اور اپنے دفاع کے لیے مضطرب ہیں۔ اب یہ منظرنامہ اتنا واضح ہوتا جا رہا ہے کہ خود مغرب کے اہلِ نظر کا ایک طبقہ اس خطرناک کھیل پر اپنی پریشانی کا اظہارکر رہا ہے اور اسے خود مغربی اقوام اور خصوصیت سے عوام کے مفاد کے منافی محسوس کر رہا ہے۔
سام بیسائل کی ’مسلمانوں کی معصومیت‘ (Innocence of Muslims)کے نام پر امریکی اور یہودی سرمایے سے بنائی ہوئی یہ شیطانی فلم امریکی سفیر رچرڈ گلینڈ کے الفاظ میں: ’’ایک شخص کا ذاتی فعل ہے، یہ سارے امریکا کی راے نہیں‘‘ مگر یہ راے تسلیم کرنا عقل اور تاریخ دونوں کے ساتھ مذاق ہوگا۔ فلم کتنی قبیح اور اشتعال انگیز ہے اس کے بارے میں صرف ایک پاکستانی صحافی جناب حامدمیر کے یہ الفاظ پڑھ لینا کافی ہیں کہ:
۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیویارک اور القاعدہ کے حملوں سے ۳ہزار امریکی مارے گئے تھے لیکن ۱۱ستمبر ۲۰۱۲ء کو یوٹیوب پر جاری کی جانے والی اس فلم نے کروڑوں مسلمانوں کی روح کو زخمی کیا۔ میں اس فلم کو چندمنٹ سے زیادہ نہیں دیکھ سکا۔ اس خوف ناک فلم کی تفصیل کو بیان کرنا بھی میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ بس یہ کہوں گا کہ اس فلم کے چند مناظر دیکھ کر سام بیسائل کے مقابلے پر اسامہ بن لادن بہت چھوٹا انتہاپسند محسوس ہوا۔ یہ اعزاز اب امریکا کے پاس ہے کہ اس صدی کا سب سے بڑا دہشت گرد سام بیسائل اپنی انتہائی گندی اور بدبودار ذہنیت کے ساتھ صدراوباما کی پناہ میں ہے۔(روزنامہ جنگ، ۱۷ستمبر ۲۰۱۲ئ)
امریکا ، مغربی حکمران اور میڈیا ’آزادیِ اظہار راے‘ کے نام پر اس صہیونی اور صلیبی جنگ کے کمانڈروں کا پشتی بان ہے اور مسلمانوں کو درس دے رہا ہے کہ’’ معاملہ آزادی کے بارے میں دوتصورات کا ہے‘‘ (ملاحظہ ہو: Behind Clashes, Two Versions of Freedom انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون، ۱۸ستمبر ۲۰۱۲ئ)۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آزادی اور اس کے تصورات سے اس معاملے کا دُور کا بھی واسطہ نہیں۔ بات تہذیبوں کے تصادم سے آگے بڑھ کر امریکا اوریورپی اقوام کے اسلام اور اسلامی دنیا کے بارے میں عزائم کی ہے، اور جو کردار یہ فلم ساز، خاکہ نگار، صحافی، سیاسی اداکار انجام دے رہے ہیں وہ امریکا اور یورپ کی سامراجی قوتوں کے نقشۂ جنگ میں اپنے مقام پر بالکل ٹھیک فِٹ ہوتا ہے اور اب اس کا اعتراف خود ان کے درمیان سے شاہد منھم سے بھی آنے لگا ہے۔
رُشدی کے معاملے اور ڈنمارک سے شائع ہونے والے متنازعہ خاکوں کے تناظر میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی توہین عام طور پر مسلمان اپنے اجتماعی تشخص پر حملہ سمجھتے ہیں جیساکہ نعروں اور اہداف سے واضح ہے۔ جس چیز نے احتجاج کو بھڑکایا وہ یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کو پہنچنے والا زخم گویا کہ ایک غرور سے بھری طاقت نے لگایا ہے جس نے کئی عشروں سے عرب اور مسلم دنیا پر حملہ کیا ہے، انھیں غلام بنایا ہے، اور ان کی تذلیل کی ہے۔
بیش تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی مسلم دشمن ویڈیو امریکا کے لذت پرست کلچر اور اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کا فطری نتیجہ ہے۔ مختصراً یہ کہ بہت سے مسلمانوں کے لیے یوٹیوب کی کلِپ ان کی زندگیوں اور کلچر پر امریکا کے بگاڑ پیدا کرنے والے اثرات کی علامت ہے۔
لیکن خود فلم کے بارے میں کیا کہا جائے؟ غیرپیشہ ورانہ فلم کاری کا اتنا پھٹیچر نمونہ ایسا شعلۂ جوالہ (فلیش پوائنٹ) کیوںبن گیا؟ یہ فلم ایک ایسے وقت میں تیار کی گئی ہے، جب کہ یورپ اور امریکا میں دائیں بازو کے انتہاپسندوں نے ایک ایسا اسلام دشمن نظریہ اپنا لیا ہے جو تقریباً بالکل ٹھیک ٹھیک روایتی یہود مخالف کلیدی طریقوں کو دُہراتا ہے۔
بات صرف اس فضا کی نہیں، اس فضا کو بنانے، اسے تقویت دینے، اسے اپنے سیاسی اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ہے۔ ہدف اُمت مسلمہ کی شناخت اور اس کا سیاسی اور تہذیبی کردار ہے۔ مسئلہ دینی، اخلاقی اور تہذیبی ہے اور بلاشبہہ ایک خاص سیاسی اور geo-strategic تناظر نے اسے اور بھی گمبھیر کردیا ہے۔ بات اب صرف ان افراد تک محدود نہیں جو اس میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں، اصل مسئلہ ان قوتوں کا ہے جو ان کو پناہ دیے ہوئے ہیں اور جن کی پالیسیاں، جن کے تضادات اور دوعملیاں اور جن کے سیاسی اور عسکری مفادات ہی نے ان کو یہ کھیل کھیلنے کا موقع دیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اظہار راے کی آزادی اور امریکا اور یورپی ممالک کے جن دستوری حقوق کے نام پر اسلام اور پیغمبرؐاسلام اور مسلم اُمہ پر جو وَار کیے جارہے ہیں ان کی حقیقت کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔
امریکی صدر، وزیرخارجہ، سفرا، دانش ور اور صحافی ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں وہ ہے امریکی دستور کی پہلی ترمیم۔ نیز اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اورانسانی حقوق کا یورپی کنونشن (European Convention on Human Rights) ہیں۔ دعویٰ ہے کہ ان دستاویزات کی روشنی میں مغربی تہذیب اور امریکا اور یورپ کے سیاسی اور قانونی نظام کی بنیاد فرد کی آزادی ہے اور یہ وہ بنیادی قدر ہے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا، خواہ اس کے نتائج کچھ بھی ہوں اور خواہ اس کی زد دنیا کے دوسرے مذاہب، اقوام اور انسانوں کے ایمان، عزت، تہذیب، اقدار اور ثقافتی اور دینی وجود اور شناخت پر کچھ بھی پڑے اور کتنے ہی انسانوں کی دل آزاری اور ان کی مقتدر شخصیات کی بے حُرمتی اور تضحیک ہو۔
ہم بڑے ادب سے عرض کریں گے کہ آزادی بلاشبہہ ایک بنیادی انسانی قدر ہے اور ہم اس کی اہمیت اور قدردانی میں کسی سے پیچھے نہیں، لیکن آزادی تو ممکن ہی کسی ضابطۂ کار کے اندر ہوتی ہے ورنہ مادرپدر آزادی جلد انارکی بن جاتی ہے۔
جرمن مفکر ایمانویل کانٹ نے بڑے دل نشیں انداز میں اس عقدہ کو یہ کہہ کر حل کردیا تھا کہ ’’مجھے ہاتھ ہلانے کی آزادی ہے لیکن میرے ہاتھ کی جولانیاں وہاں ختم ہوجاتی ہیں جہاں سے کسی دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے‘‘۔ آزادی اسی وقت خیر کا ذریعہ ہوگی جب وہ دوسروں کی آزادی اور حقوق پر دست اندازی کا ذریعہ نہ بنے۔ اظہار راے کی آزادی کے معنٰی نفرت، تضحیک اور تصادم کے پرچار کی آزادی نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کو باقی تمام اقدار سے الگ کرکے نہیں لیا جاسکتا۔ اس کا واضح ترین ثبوت یہ ہے کہ ہرشخص آزاد ہے لیکن اسے یہ آزادی حاصل نہیں کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے کسی دوسرے شخص کا غلام بن جائے۔ حتیٰ کہ دنیا کے بیش تر قوانین میں آج بھی خودکشی ایک جرم ہے، اس لیے کہ آپ خود اپنی جان لینے کے لیے آزاد نہیں ہیں۔ نہ کوئی دوسرا بلاحق کے آپ کی جان لے سکتا ہے اور نہ آپ خود اپنی جان کو تلف کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
مغرب کے اربابِ اقتدار اور اہلِ دانش اور خود ہمارے ممالک میں ان کے نام نہاد لبرل پیروکار امریکی دستور کی پہلی ترمیم کا راگ الاپ رہے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ امریکی دستور کی بنیاد جیفرسن کا یہ مقولہ ہے کہ تمام انسان برابر ہیں اور قانون اور دستور کے تحت سب کا مساوی مقام ہے۔ امریکی دستور کی پہلی ترمیم اپنی جگہ اہم ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ:
کانگرس کوئی ایسا قانون نہیں بنائے گی جو کسی مخصوص مذہب کا احترام کرتا ہو، یا ان کے آزادانہ استعمال کو منع کرتا ہو، یا آزادیِ اظہار میں کمی کرتا ہو، یا راے کی آزادی، پریس کی آزادی، عوام کے جمع ہونے کا حق اور شکایت پیدا ہونے پر حکومت کے پاس درخواست دینے کے حق سے روکتا ہو۔
عوام کا اپنی ذات کی حد تک تحفظ کا حق، مکانات، کاغذات اور سامان کے تحفظ کے حق، اور غیرمعقول تلاشیوں اور ضبطیوں کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔کوئی وارنٹ جاری نہیں کیا جائے گا جسے کسی ممکنہ جواز کی تائید حاصل نہ ہو، اور جس جگہ کی تلاش مقصود ہو اور چیزیں قبضے میں لینا ہوں ان کو وضاحت سے بیان نہ کیا گیا ہو۔
اسی طرح ترمیم ۵ ہے جس کے ذریعے جان، مال اور آزادی کے لیے due process of law کے بغیر محرومی کوممنوع کیا گیا ہے۔ ترمیم نمبر۸ ہے جس میں excessive (بہت زیادہ، ظالمانہ) زرضمانت، جرمانہ اور سزا کو منع کیا گیا ہے اور یہ اصول ترمیم نمبر۹ میں تسلیم کرلیا گیا ہے کہ :
دستور میں کسی خاص حق کے اندراج کے یہ معنی نہیں لیے جانے چاہییں کہ عوام کو حاصل دوسرے حقوق سے انھیں محروم کیا جائے یا ان کی تحقیر کی جائے۔
سوال یہ ہے کہ پہلی ترمیم جہاں اظہارِ راے کی آزادی دیتی ہے یا ریاست کی طرف سے مذہب کو مسلط کرنے کا دروازہ بند کرتی ہے وہیں مذہب کی آزادی بھی دیتی ہے۔ نیز اگر دستور میں دیے ہوئے باقی تمام حقوق کو قانون اور اخلاق کا پابند کیا گیا ہے تو اظہارِ راے کی آزادی کو اس سے آزاد اور مبرا کیسے کیا جاسکتا ہے۔ امریکا کی سپریم کورٹ نے ۱۹۴۲ء کے اپنے ایک اہم فیصلے میں اس امر کو واضح کردیا ہے مگر امریکی حکمران اور دانش ور اس کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتے:
تقریروں کی کچھ ایسی متعین اور محدود قسمیں ہیں جن کو روکنے یا سزا دینے پر کوئی دستوری مسئلہ کبھی نہیں اُٹھایا گیا۔ اس میں فحش اور ناشائستہ، ملحدانہ، جھوٹے الزام لگانے والے یا ایسے توہین آمیز اور اشتعال انگیز الفاظ جو اپنی ادایگی سے ہی امن کا فوری بگاڑ پیدا کریں شامل ہیں۔ اس بات کا بخوبی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ اس طرح کے الفاظ کسی بھی نقطۂ نظر کی وضاحت کا لازمی حصہ نہیں ہوتے اور سچائی تک پہنچنے کے لیے اتنی کم سماجی قدروقیمت رکھتے ہیں کہ نظم اور اخلاقیات میں کوئی بھی سماجی مفاد جو ان سے پہنچ سکتا ہو، واضح طور پر بے وزن ہوجاتا ہے۔
الجزیرہ میں ۱۸ستمبر ۲۰۱۲ء کو ایرک بلیخ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی عوام اور اہم ادارے ایسی قانون سازی کے حق میں ہیں جس کے نتیجے کے طور پر نفرت پھیلانے والے خیالات کے اظہار کا دروازہ بند کیا جاسکے، جیساکہ کتاب قانون کی حد تک یورپ کے کئی ممالک بشمول ڈنمارک میں ایسے قوانین موجود ہیں۔ گو وہ بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے طوفان کو نہیں روک سکے۔
پروفیسر ایرک بلیخ جو مڈل برے کالج میں علمِ سیاسیات کا پروفیسر ہے، کہتا ہے کہ امریکی راے عامہ کے تمام سروے جو ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۸ء تک ہوئے ہیں ظاہر کرتے ہیںکہ امریکی عوام کی اکثریت اس کے حق میں ہے کہ ایسی آرا کے پبلک اظہار پر پابندی ہونی چاہیے جو نفرت پھیلانے اور خصوصیت سے دوسری نسل کے لوگوں کے خلاف زہر اُگلنے والے ہوں۔
امریکا اور یورپی اقوام کے دوغلے پن کا سب سے بڑا ثبوت صہیونیت، اسرائیلی اور خصوصیت سے جرمنی میں ہٹلر کے دور میں یہودیوں پر توڑے جانے والے مظالم جن کو ہولوکاسٹ کہا جاتا ہے ، کے بارے میں قانون سازی اور عملاً anti-Semitism (یہود مخالف)کے نام پر اسرائیل، یہودیت، صہیونیت کے بارے میں کسی بھی مخالف راے کا اظہار یا ہولوکاسٹ کے انکار، حتیٰ کہ ان کے بارے میں صہیونیوں کے پروپیگنڈے کے بارے میں کسی بھی شک و شبہے تک کا اظہار قانوناً جرم بنا دیا گیا ہے۔ دسیوں افراد کو ان قوانین کے تحت سزائیں دی گئی ہیں، اس سے اظہارِراے کی آزادی کے مقدس اصول پر کوئی حرف نہیں آیا۔
رابرٹ فسک نے لندن کے اخبار انڈی پنڈنٹ کے ۱۳ستمبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں نیوزی لینڈ کے ایک ایڈیٹر سے اپنی گفتگو نقل کی ہے، جس نے بڑے فخر سے دعویٰ کیا کہ اس نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانہ بنانے والے ڈینش کارٹون اپنے اخبار میں شائع کیے :
جب میں نے اس سے یہ پوچھا کہ جب اسرائیل لبنان پر دوبارہ حملہ کرے گا تو کیا تم ایک ایسا کارٹون شائع کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہو جس میں ایک ربی (rabbi) کے سر میں بم لگا ہو، تو اس نے مجھ سے فوراً اتفاق کیا کہ یہ یہود مخالف ہوگا۔
امریکی دستور کی پہلی ترمیم کی دہائی دینے والوں اور آزادیِ اظہارِ راے کا دعویٰ کرنے والوں کا یہی وہ تضاد ہے جس نے ان کی اصول پرستی، آزادی نوازی اور جمہوریت پسندی کا پول کھول دیا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ان کے خبث باطن کو واشگاف کردیا ہے۔
یورپ کے ۳۴ ممالک میں anti-Semitism اور ہولوکاسٹ کے خلاف قوانین موجود ہیں جن کے تحت اس بارے میں ہر نوعیت کا منفی اظہارِ راے جرم ہے جس پر قید اور جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ امریکا میں بھی ایک دوسرے انداز میں قانون تک موجود ہے جسے: Global Anti-Semitism Review Act of 2004 کہا جاتا ہے اور عملاً جس کے نتیجے میں یہودی مذہب تک کو تحفظ حاصل ہوگیا ہے۔ اگر صہیونی لابی کے زیراثریہ قانون سازی ہوسکتی ہے تو ۶ئ۱ ارب مسلمانوں اور ان کی ۵۷ آزاد مملکتوں کے جائز دینی اور تہذیبی حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی قانون سازی کیوں نہیں کی جاسکتی؟
اپنے حقوق اور آزادیوں کے استعمال میں ہرشخص ایسی حدود کا پابند ہوگا جن کا تعین قانون محض اس مقصد سے کرے گا کہ دوسروں کے حقوق اور آزادی کا تحفظ اور احترام ہو، اور اخلاقیات اور امن و امان اورجمہوری معاشرے میں عوامی بہبود کے منصفانہ تقاضوں کو پورا کیا جاسکے۔
اسی طرح European Convention on Human Rights کی دفعہ ۱۰ میں اظہارِ راے کی آزادی اور اس کی حدود دونوں کا واضح الفاظ میں اظہار کیا گیا ہے:
۱- ہرشخص کو آزادیِ اظہارکا حق حاصل ہے۔ اس میں راے قائم کرنے کی آزادی، سرکاری مقتدرہ کی مداخلت یا سرحدات سے بے نیاز ہوکر معلومات اور خیالات کو وصول کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی آزادی شامل ہے۔ یہ دفعہ حکومت کو اس بات سے نہیں روکے گی کہ براڈ کاسٹنگ، نشرواشاعت، ٹیلی ویژن اور سینما کے لیے لائسنس جاری کرے۔
۲- ان آزادیوں کے استعمال میں، چونکہ ان کے ساتھ فرائض اور ذمہ داریاں ہیں، ایسی شرائط، پابندیوں یا جرمانوں کی پابندی ہوگی جو قانون نے طے کیے ہوں اور کسی جمہوری معاشرے میں ضروری ہوں۔ ملک کی سلامتی، علاقائی یک جہتی، عوامی تحفظ، امن و امان کے تحفظ، جرائم کی روک تھام اور صحت عامہ اور اخلاق کے تحفظ، دوسروں کی شہرت اور حقوق کا تحفظ، اور ایسی معلومات کے پھیلائو کو روکا جاسکے جو اعتماد اور نیک نیتی سے دی گئی ہوں، اور عدلیہ کی بالادستی اور عدالت کی غیر جانب داری کو برقرار رکھ سکیں۔ (آرٹیکل ۱۰)
امریکا سے آنے والی فلم اور اس پر عالمِ اسلام کے ردعمل کی روشنی میں اس وقت پوری مغربی دنیا کے سوچنے سمجھنے والے لوگوں کی ایک تعداد میں یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ آزادیِ اظہارراے کی حدود کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ آزادی اور اس کا ذمہ دارانہ استعمال ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں، جنھیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ سوال یہ ہے کہ مسلمان ملکوں کی قیادت ان حالات میں کیا کردار ادا کرتی ہے اور جو قربانیاں مسلمان عوام دے رہے ہیں، کیا ان کو کسی مثبت پیش رفت کا ذریعہ بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہے؟
ایک آزاد پریس کا دفاع کرنے کی اس کی خواہش قابلِ تعریف ہوسکتی ہے لیکن اس نتیجے سے بچنا ناممکن ہے کہ اس کا رویہ (یعنی ایسے خاکوں کی اشاعت)غیرذمہ دارانہ ہے۔ اس اقدام سے لازماً دوسرے مشتعل ہوں گے۔ اس سے بھی زیادہ قابلِ تشویش بات یہ ہے کہ یہ لازماً تشدد کو اُبھارے گا اور اموات واقع ہوں گی۔ سنسرشپ کی مذمت کی جانی چاہیے لیکن دوسروں کے گہرے عقائد کا لحاظ نہ کرنا بھی قابلِ مذمت ہے۔ اخبار کے ایڈیٹر کو اپنا رسالہ فروخت کرنے سے پہلے ان خاکوں کو ہٹا لینا چاہیے اس سے قبل کہ دیر ہوجائے۔
لندن کے اخبار دی آبزوَر ۲۳ستمبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں Henry Porter اپنے مضمون میں اس امر کا اعتراف کرتا ہے کہ: ’’ہمارا یہ فریضہ ہے کہ ہم آزادیِ راے کو ذمہ داری سے استعمال کریں۔ یورپ اور امریکا میں مذہبی اور نسلی جذبات اُبھارنے کے خلاف قوانین موجود ہیں جن کو فلم اور کارٹونوں نے توڑا ہوگا‘‘۔
نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والا مضمون Free Speech Issue Bedevils Web Giants(آزادیِ راے کے مسئلے نے ویب کے بڑوں کو چکرا دیا ہے)میں یہ چبھتے ہوئے سوالات اُٹھائے گئے ہیں کہ اگر گوگل کے خیال میں اس بے ہودہ فلم کو یوٹیوب پر ڈالنا اظہارِ راے کی آزادی کا حصہ ہے تو پھر اسی گوگل نے لیبیا اور مصر کے لیے اس کی اشاعت کیوں روک دی ہے۔ اسی طرح انڈیا اور انڈونیشیا کے لیے بھی اسے روکا گیا ہے۔ اگر ان ممالک کے لیے روکا جاسکتا ہے تو باقی دنیا کے لیے کیا چیز مانع ہے؟ کیا اسی کا نام اصول پرستی ہے؟
بات صرف اس حد تک دوغلے پن اور دھاندلی کی نہیں۔ Counter Punch کے ایک مضمون نگار نے ۱۴ستمبر ۲۰۱۲ء کی اشاعت میں گوگل کے بارے میں ناقابلِ انکار شواہد کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ Jewish Press کی یکم اگست ۲۰۱۲ء کی اشاعت کے مطابق گوگل نے ایک نہیں ۱۷۱۰ویڈیو جن میں خاصی بڑی تعداد کا تعلق ہولوکاسٹ سے تھا ۲۴ گھنٹے کے اندر اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیے۔ اسی طرح جولائی ۲۰۱۱ء میں فیس بک نے اسرائیل کے کہنے پر فلسطینی اداروں کے درجنوں اکائونٹ بند کردیے حالانکہ ان کے مندرجات کسی قانون سے متصادم نہ تھے۔ یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ فرانس کی حکومت نے مشہور مصنف اور نام وَر فلسفی روجر گارودی کو اسرائیل کے بارے میں ایک کتاب لکھنے پر قید کی سز دی تھی اور آسٹریا میں ۱۹۸۹ء میں انگریز مؤرخ ڈیوڈ ارونگ کو ہولوکاسٹ کے بارے میں اپنی تحقیق شائع کرنے پر تین سال جیل کی سزا بھگتنا پڑی تھی۔
اس وقت جو احتجاج پوری دنیا میں ہوا ہے اس سے مغربی اخبارات میں پہلی بار یہ آواز اُٹھنا شروع ہوئی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جو امتیازی سلوک کیا جارہا ہے، اور آزادیِ اظہار راے کے نام پر کیا جارہا ہے، اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ یہ ہے وہ وقت کہ جب مسلم اُمہ کی سیاسی قیادت اپنی ذہنی غلامی اور سیاسی محکومی کے شکنجے سے نکلے اور اُمت کے اور اپنے دین کے حقوق کی پاس داری کے لیے مؤثر اور متحدہ اقدام کرے۔
۲۳ستمبر ۲۰۱۲ء کے دی آبزوَر نے ’مسلم غصہ اور برہمی‘ کے عنوان سے اپنے اداریے کا اختتام ان الفاظ پر کیا ہے کہ خود مغرب کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ تصادم کے بجاے تعاون کا کوئی راستہ نکل سکے:
اس لیے کہ اسلامی دنیا کو بالغ نظری سے ہرسطح پر سمجھنے کا متبادل یہ ہے کہ مغرب عالمی آبادی کے ایک بڑے حصے کو صرف دشمن کی نظر سے دیکھے۔ بجاے اس کے ان اختلافات اور سطحات اور دائروں کا احساس کرے جہاں گفتگو اور رضامندی ممکن ہے۔ یہی وہ کانٹے کی بات ہے جو لامحالہ تنازع اور تصادم کی بنیاد ہے۔
مسئلہ کسی خوش فہمی کا نہیں۔ بات اصل میں یہ ہے کہ اُمت مسلمہ اور اس کی قیادت اپنے مفادات کا صحیح اِدراک کرے اور اپنے مقاصد اور اہداف کو حاصل کرنے کے لیے صحیح حکمت عملی اختیار کرے تو نئے راستے استوار ہوسکتے ہیں۔
ہم ایک بار پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ امریکا اور مغربی اقوام اور مقتدر حلقوں کا رویہ معاندانہ ہے اور ان کے کھیل کو سمجھ کر اپنے مقاصد اور اہداف کے حصول کے لیے حکمت عملی بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اسلام اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وار کیے جارہے ہیں ان پر مؤثر اور بروقت احتجاج اور اپنی اصولی پوزیشن کو جرأت کے ساتھ پیش کرنا اولین ضرورت ہے۔ ایسے حالات میں قرآن نہ فرار اور مداہنت کو گوارا کرتا ہے اور نہ عدل اور توازن کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے اور انتقام میں حدود کو پامال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، ان کی اطاعت اور ان سے وفاداری اسلام کی اساس اور مسلمان کی شناخت ہے اور ناموسِ رسولؐ کی حفاظت ہر مسلمان کا تقاضاے ایمان ہے۔ یہ رشتہ ایمان کا، اطاعت کا اور محبت کا رشتہ ہے۔ آپؐ رحمت للعالمین تھے اور ہرمسلمان کے لیے فرداً فرداً اور پوری اُمت کے لیے نمونہ ہیں (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ، الاحزاب ۳۳:۲۱)۔ اتباعِ رسولؐ ہی اللہ سے محبت کا تقاضا ہے (قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo اٰلِ عمرٰن ۳:۳۱)، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے لیے ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ محترم اور مقدم ہیں (اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ، الاحزاب ۳۳:۶)۔قرآن پاک میں صاف ارشاد ہے کہ ’’ہم نے اللہ کے رسولؐ کو شہادت دینے والا، بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بناکر بھیجا ہے تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لائو اور اس کا (یعنی رسولؐ کا) ساتھ دو۔ اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو (اِِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا o لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ ط وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا o الفتح ۴۸:۸-۹)۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے صاف الفاظ میں بتادیا ہے کہ ’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رُسواکن عذاب مہیا کردیا گیا ہے (اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَھُمْ عَذَابًا مُّھِیْنًاo الاحزاب ۳۳:۵۷)۔
ان آیات کی روشنی میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو تعلق امت مسلمہ کا قائم ہوا ہے اس کا تقاضا ہے کہ آپؐ کی اہانت کو کسی صورت میں بھی برداشت نہ کیا جائے اور ہر وہ اقدام کیا جائے جس سے آپؐ کی عزت قائم و دائم ہو۔ ان حالات میں جب اسلام اور مسلمانوں سے زیادتی کی جارہی ہو تو مسلمانوں کا رویہ انصاف اور حق پر مبنی مزاحمت پر مبنی ہوتا ہے۔ ہدایت ربانی ہے کہ:
اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا بدلہ ویسی ہی بُرائی ہے، پھر جو کوئی معاف کردے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی، ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔(الشورٰی ۴۲:۳۹-۴۲)
ہمیں یہ اصولی ہدایت بھی دی گئی ہے کہ: ذٰلِکَ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِہٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْہِ لَیَنْصُرَنَّہُ اللّٰہُ ط اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌo (الحج ۲۲:۶۰)، ’’یہ تو ہے ان کا انجام۔ اور جو کوئی بدلہ لے، ویسا ہی جیسا اس کے ساتھ کیا گیا اور پھر اس پر زیادتی بھی کی گئی ہو، تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا۔ اللہ معاف کرنے ولا اور درگزر کرنے والا ہے‘‘۔ اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی بہت واضح الفاظ میں دے دی ہے کہ اصل اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ برائی کو برائی سے بدلنے کے بجاے اسے نیکی، خیر اور حسن سے بدلنے کی سعی کی جائے، تاکہ اللہ کی زمین برائی سے پاک ہو اور خیر اور حسنات سے معمور ہوسکے۔ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَۃَ ط نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَo (المومنون ۲۳:۹۶)،’’اے نبیؐ، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہے‘‘۔ نیز ارشاد ربانی ہے کہ: وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلاَ السَّیِّئَۃُ ط اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌٌَ o (حم السجدہ ۴۱:۳۴)، ’’اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو، تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے‘‘۔
مختصراً یہ ہے وہ ہدایت ِ ربانی جس کی روشنی میں آج مسلم اُمت کو آج کے حالات میں اپنی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف ہمیں ہر مداہنت سے اپنے دامن کو بچانا ہے اور پوری دیانت سے دین اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور آپؐ کی عزت و شخصیت کا دفاع کرنا ہے تو دوسری طرف اپنے مخالفین کے مقابلے کے لیے وہ طریقے اختیار کرنا ہیں جن سے بالآخر خیر رُونما ہو اور دنیا ان مقاصد کی طرف بڑھ سکے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلوب ہیں۔
بات بہت واضح ہے۔ جو کچھ آج ہورہا ہے وہ نہ صرف غلط اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کھلی کھلی جارحیت ہے بلکہ اس کے پیچھے جو مقاصد ہیں اور جو جو قوتیں پشت پناہی کررہی ہیں ان کا اِدراک اور توڑ دونوں ضروری ہیں۔ امریکی حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کا کوئی ہاتھ اس کے پیچھے نہیں ہے، ناقابلِ یقین ہے۔ امریکی ریاست اور سول سوسائٹی بشمول میڈیا ڈھکے اور چھپے کردار اداکررہے ہیں۔ آزادیِ اظہار کے نام پر ان قوتوں کو تحفظ دینا اس کی کھلی مثال ہے۔معاملہ محض چندسرپھرے انتہاپسندوں اور مذہبی جنونیوں کا نہیں، اس پردہ زنگاری کے پیچھے بہت سے کردار ہیں جن کو سمجھنا ضروری ہے۔ بلاشبہہ ہرواقعہ افسوس ناک، دل خراش اور مناسب ردعمل کا متقاضی ہے اور اس سلسلے میں اُمت مسلمہ اور اس کی قیادت کا فرض ہے کہ بروقت اس کا نوٹس لے اور مناسب اور مؤثر ردعمل کا اظہار کرے لیکن جیساکہ ہم نے عرض کیا اصل مسئلہ ان واقعات کے پیچھے جو ذہن (mind-set) ، جو پالیسیاں، جو خطرناک عزائم اور دیرپا اور اسٹرے ٹیجک منصوبے اصل کارفرما قوت ہیں ان کا مقابلہ اس سے بھی کچھ زیادہ ضروری ہے۔
کتنے افسوس کا مقام ہے کہ اسلام، اللہ کے رسولؐ اور اُمت مسلمہ کے خلاف عالمی سطح پر کیا کچھ ہورہا ہے اور مسلمان حکمران اپنے خول میں بند اور اپنے مفادات کے حصول میں مگن ہیں۔ صرف ایک سربراہ مملکت نے امریکا کے صدر سے صاف الفاظ میں کہا کہ امریکی سفارت کاروں کی ہلاکت پر افسوس ہے لیکن اصل مسئلہ اسلام کے خلاف وہ جارحانہ اقدام ہیں جنھوں نے مسلمانوں کو احتجاج پر مجبور کیا ہے۔ ہمارے اپنے حکمرانوں کا حال یہ ہے کہ اصل واقعہ کے سات دن کے بعد جب ملک بھر میں احتجاج کی گونج برپا ہوگئی تو انھیں ہوش آیا اور پھر بھی ناموسِ رسالتؐ پر حملہ کرنے والوں کے سامنے سینہ سپر ہونے کے بجاے عشق رسولؐ کے نام پر تعطیل میں عافیت تلاش کی۔ احتجاجی تحریک میں اس قیادت کا کوئی وجود نظر نہ آیا اور امن و امان کے قیام اور احتجاج کو صحیح انداز میں مؤثر بنانے میں ان کا کوئی کردار نہ تھا۔ عالمی سطح پر بھی اُمت کے نقطۂ نظر کو پیش کرنے اور مسلم ممالک کو منظم کرنے اور متحرک کرنے کی کسی کو توفیق نہ ہوئی۔ یہ بڑی اندوہناک صورتِ حال ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام اور قیادت کی سوچ اور ترجیحات میں بُعدالمشرقین ہے۔ اغیار کی جارحانہ کارروائیوں پر احتجاج اُمت کا حق بھی ہے اور فرض بھی___ لیکن اصل مسئلہ صرف احتجاج کا نہیں، اپنے گھر کو درست کرنے، صحیح قیادت کو بروے کار لانے اور اپنی قوت کو اس طرح مجتمع کرنے اور ترقی دینے کا ہے کہ اُمت اپنا تاریخی کردار ادا کرسکے۔
اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا ہم اغیار کی اس کثیرجہتی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کو تیار ہیں؟
کتابچہ دستیاب ہے۔منشورات، منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲۔ قیمت: ۱۲ روپے۔
زرداری حکومت نے امریکی اور ناٹو افواج کے لیے افغانستان میں اپنی جارحانہ جنگی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے سپلائی لائن بحال کردی ہے۔ یہ ایک نہایت عاقبت نااندیشانہ، بزدلانہ اور محکومی پر مبنی فیصلہ تھا جس کے نتائج اور تباہ کن اثرات رُونما ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ڈرون حملے حسب سابق جاری ہیں اور اب مشترک فوجی آپریشن اور شمالی وزیرستان میں زمینی اور فضائی حملوں کی منصوبہ بندی آخری مراحل میں ہے۔
واشنگٹن میں پاکستان اور امریکا کے خفیہ اداروں کے سربراہان نے خاموشی سے نیا جنگی منصوبہ تیار کرلیا ہے اور کور کمانڈروں کے اجلاس نے بھی اخباری اطلاعات کے مطابق، امریکی مطالبات پر کچھ پاکستانی شکرچڑھا کر ایک بظاہر تدریجی عمل کے ذریعے فوجی اقدامات کا نقشہ بنا لیا ہے۔ ایک طرف حکومت کے طے شدہ منصوبے کے مطابق قوم کی توجہ کو پارلیمنٹ اور عدالت میں محاذ آرائی کی دھند (smoke-screen) میں اُلجھا دیا ہے تو دوسری طرف الزام تراشیوں کی گرم گفتاری توجہ کا دوسرا مرکز بنی ہوئی ہے، نیز توانائی کا بحران اور معاشی مصائب قوم کی کمر توڑ رہے ہیں اور اسے فکرِمعاش کی دلدل سے نکلنے کی مہلت نہیں دے رہے۔ مبادلہ خارجہ کے بیرونی ذخائر کی کمی اور حکومت کی فوری مالیاتی سیّال اثاثے (liquidity )حاصل کرنے کی ضرورت اور امریکا سے اپنی ہی جیب سے خرچ کیے ہوئے ۳؍ارب ڈالروں میں سے ۱ئ۱؍ارب روپے کی وصولی کا ڈراما بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس سیاسی اور معاشی دُھندکا فائدہ اُٹھاتے ہوئے، پارلیمنٹ کے واضح فیصلوں اور عوام کے جذبات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے امریکا کے فوجی اور سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا پورا انتظام کیا جا رہا ہے۔ جس تباہی اور بربادی سے ملک کو بچانے کے لیے سیاسی اور دینی قوتیں احتجاج کر رہی تھیں اور جس کے لیے پارلیمنٹ اور اس کی قومی سلامتی کی کمیٹی نے اپنے طور پر ایک بظاہر متفقہ لائحہ عمل دیا تھا ،اسے دربا بُرد کر کے پاکستان اور افغانستان دونوں کو ایک نئی جنگ اور تصادم کی آگ میں جھونکا جا رہا ہے۔
امریکا نے ۴جولائی ۲۰۱۲ء کو اپنی آزادی کے دن پاکستان کے نامۂ شکست پر جشن فتح منانے کے لیے ۲۴گھنٹے کے اندر اندر پاکستانی سرزمین پر تین ڈرون حملے کر کے نومبر ۲۰۱۱ء میں شہید ہونے والے ۲۴جوانوں کی فہرست میں ۳۴ نئے شہیدوں کا اضافہ کردیا تھا، لیکن اب معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ قیادت ڈرون حملوں کو تو کیا رکواتی، وہ خود اس جنگ کے سب سے خطرناک مرحلے میں امریکا کی شریکِ کار بننے کے لیے پر تول رہی ہے۔ اس طرح جو اصل امریکی مطالبہ تھا، یعنی پاکستانی فوج کے ذریعے شمالی وزیرستان میں مشترکہ آپریشن، اس کا سلسلہ شروع ہوتا نظر آرہا ہے اور امریکا کا جنگی جنون آخری فیصلہ کن دور میں داخل ہونے والا ہے۔ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اور ہونے والا ہے اس کی پوری ذمہ داری امریکا کی قیادت اور اس کی سامراجی سیاست کے ساتھ خود پاکستان کی حکومت اور اس کی موجودہ سیاسی اور فوجی قیادت پر آتی ہے۔ قوم کو جان لینا چاہیے کہ اگرماضی میں کچھ پردہ تھا بھی تو وہ اب اُٹھ گیا ہے۔ اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ جو جوہری تبدیلی اب سر پر منڈلا رہی ہے، اسے اچھی طرح سمجھا جائے اور قوم کو اس سے پوری طرح باخبر کیا جائے تاکہ اسے احساس ہوسکے کہ اس کی آزادی، عزت و وقار، قومی مفادات اور علاقے میں امن و آشتی کی خواہش، سب کچھ دائو پر لگا ہوا ہے۔ ضرورت ہے کہ قوم اس خطرناک کھیل کو سمجھے اور اس کے اہم کرداروں کو پہچان لے ، اور اپنی آزادی اور عزت کی حفاظت کے لیے نئی حکمت عملی بنائے اور اس پر عمل کے لیے مؤثر جدوجہد کا نقشہ بنا کر ضروری اقدام کرے۔ اس کام کو سلیقے اور حقیقت پسندی سے انجام دینے کے لیے ضروی ہے کہ اس سلسلے کے بنیادی حقائق کو ذہن میں ایک بار پھر تازہ کرلیا جائے تاکہ ان زمینی حقائق کی روشنی میں نیا نقشۂ کار تیار کیا جاسکے۔
پاکستانی عوام امریکا کی اس جنگ کو پاکستان، افغانستان اور پورے علاقے کے مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں اور اس میں پاکستان کی حکومت اور اس کی افواج کی شرکت کو ایک قومی جرم تصور کرتے ہیں۔ راے عامہ کے تمام سروے اس امر پر متفق ہیں کہ پاکستانی قوم کی عظیم اکثریت اس جنگ کو ننگی جارحیت سمجھتی ہے، اور خصوصیت سے ڈرون حملوں کو جو اَب امریکی جارحیت کی مضبوط ترین علامت ہیں، ملک کی آزادی، سالمیت اور حاکمیت پر بلاواسطہ حملہ قرار دیتی ہے۔ انگلستان کے ہفت روزہ نیو اسٹیٹس مین کی ۱۳جون ۲۰۱۲ء کی اشاعت میں شائع ہونے والے مضمون میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ:
ایک حالیہ پیو (Pew) جائزے سے معلوم ہوا کہ ۹۷ فی صد لوگ ان حملوں کو منفی نظر سے دیکھتے ہیں، اور یہ طے ہے کہ یہ انتخابات میں ایک کلیدی مسئلہ ہوگا۔ پاکستان کی خودمختاری پر ایک اور حملہ سمجھتے ہوئے اس نے ملک میں امریکا دشمن شدید جذبات کو مزید طاقت ور بنا دیا ہے۔(http://www. newstatesmen.com )
بات صرف پاکستانی قوم اور پارلیمنٹ کے اس دوٹوک اعلان تک محدود نہیں کہ امریکا کے ڈرون حملے ہوں، یا امریکی افواج یا نیم فوجی عناصر کی ہماری سرزمین پر موجودگی اور خفیہ کارروائیاں، انھیں ختم ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ ان کی حقیقی نوعیت دراصل یہ ہے:
ا : یہ پاکستان (یا جس ملک میں بھی یہ کارروائیاں ہوں، اس ملک) کی حاکمیت اور آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ب: انھیں عملاً اس ملک اور قوم کے خلاف ’اقدامِ جنگ‘ شمار کیا جائے گا جو عالمی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی تعلقات کی روایات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ج: ان کے نتیجے میں غیرمتحارب عام شہریوں کی بڑے پیمانے پر اموات واقع ہوتی ہیں جو نشانہ لے کر قتل کرنے (targettted assasination) کی تعریف میں آتی ہیں اور انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔ نیز عام انسانوں کی بڑی تعداد زخمی اور بے گھر ہوتی ہے جو خود عالمی قانون اور روایات کی رُو سے جرم ہے اور اس کی قرارواقعی تلافی (compensation) کو قانون کا کم سے کم تقاضا شمار کیا جاتا ہے۔
د: تمام شواہد گواہ ہیں کہ یہ پالیسی اپنے اعلان کردہ مقصد، یعنی دہشت گردی کو ختم کرنے اور خون خرابے کو قابو کرنے یا کم کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس کے نتیجے میں دوسرے تمام نقصانات کے ساتھ خود دہشت گردی کو فروغ حاصل ہوتا ہے، اور متعلقہ اقوام اور ممالک کے خلاف نفرت اور شدید ردعمل کے جذبات میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔
یہ وہ حقائق ہیں جن کو اب عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جا رہا ہے جس کے صرف چند شواہد ہم پیش کرتے ہیں: (بلامبالغہ گذشتہ چند برسوں میں میرے علم میں ایک درجن سے زیادہ کتب اور ۱۰۰ سے زیادہ مضامین آئے ہیں جن میں کسی نہ کسی شکل میں اس ردعمل کا اعتراف کیا جارہاہے)۔
جارج بش کے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کو شروع کرنے کے ۱۰سال بعد یہ سمجھا جارہا ہے کہ یہ کم ہورہی ہے۔ امریکا کا عراق پر فوجی قبضہ ختم ہوچکا ہے اور ناٹو افغانستان سے باہر نکلنے کا راستہ دیکھ رہی ہے، گو کہ قتل و غارت جاری ہے۔ لیکن دوسری جانب غیرعلانیہ ڈرون جنگ، جو ہزاروں انسانوں کو ہلاک کرچکی ہے، اب نہایت تیزی سے بغیر کسی روک کے بڑھائی جارہی ہے۔ پاکستان سے صومالیہ تک سی آئی اے کے بغیر پائلٹ کے جہاز مشتبہ دہشت گردوں کی ہمیشہ بڑھتی رہنے والی ہٹ لسٹ پر ہیل فائر میزائلوں کی بارش برساد یتے ہیں۔ ابھی بھی وہ سیکڑوں شاید ہزاروں شہریوں کو اس عمل میں ہلاک کرچکے ہیں۔ اس ماہ یمن میں کم از کم ۱۵ ڈرون حملے ہوئے ہیں اور اتنے ہی گذشتہ پورے عشرے میں ہوئے ہیں اور درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ گذشتہ ہفتے پاکستان میں بھی ڈرون حملوں کا ایک سلسلہ مفروضہ شدت پسند اہداف کو نشانہ بناکر شروع کیا گیا ہے۔ ۳۵؍افراد جل گئے اور ایک مسجد اور بیکری بھی زد میں آئی۔
درحقیقت یہ ہلاکتیں فوری قتل (summary executions) ہیں جنھیں عام طور پر بین الاقوامی قانون دان بشمول اقوام متحدہ کے ماوراے عدالت ہلاکتوں کے اسپیشل رپورٹر فلپ آلسٹون، امکانی جنگی جرائم قرار دیتے ہیں۔ سی آئی اے کے ریٹائرڈ کونسل نے جو ڈرون حملے کی منظوری دیتے تھے خود اپنے بارے میں کہا کہ وہ قتل میںملوث رہے ہیں۔
تمام ناٹو ریاستوں میں افغانستان کی جنگ کی حمایت نچلی ترین سطح پر آچکی ہے۔ امریکا میں ڈرون جنگ مقبول ہے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، اس لیے کہ اس سے امریکی افواج کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ کوئی برابری کا مقابلہ تو ہے نہیں، جب کہ دہشت گرد مارے جارہے ہیں۔لیکن یہ ہائی ٹیک موت کے دستے ایک خطرناک عالمی مثال قائم کرر ہے ہیں جس سے امریکا کی سلامتی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
ایک عشرہ پہلے ناقدوں نے متنبہ کیاتھا کہ یہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ دہشت گردی کو ختم کرنے کے بجاے اس میں اضافہ کرے گی۔ بالکل یہی ہوا۔ اوباما نے ان مہموں کا نام بیرون ملک حسب ضرورت آپریشن رکھ دیا ہے، اور اب اس کا زور زمین پر بوٹوں کے بجاے روبوٹس پر ہے۔
لیکن جیساکہ پاکستان کے غیرمستحکم ہونے اور یمن میں القاعدہ کی طاقت میں اضافہ ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا اثر ایک جیسا ہی ہے۔ ڈرون جنگ مسلم دنیا پر مسلط ایک سفاک جنگ ہے جس سے امریکاسے نفرت کو غذا مل رہی ہے اور دہشت گردی کو ایندھن فراہم ہو رہا ہے، اس سے لڑا نہیں جا رہا۔(دی گارڈین، ۲۹مئی ۲۰۱۲ئ)
ایک احساس یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون ناکام ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ۵۱ کا صرف اُن حملوں پر اطلاق ہوتا ہے جو دوسری ریاستیں کریں نہ کہ دہشت گرد گروپ۔ کسی نے بھی ابھی تک جنگ اور قانون کے اس معاملے پر دہشت گردی کا اطلاق کرنے کا نوٹس نہیں لیا۔ جنیوا کنونشن اور معمول کے حقوق کا دہشت گرد اور قانون نافذ کرنے والے پر یکساں اطلاق ہونا چاہیے۔ اگر اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری اور حماس کے کمانڈروں کو ہلاک کرنا قانوناً جائز ہے، تو ان کے لیے بارک اوباما، بن یامین نیتن یاہو، ان کے جرنیلوں اور حلیفوں کو قتل کرنا بھی جائزہے، حتیٰ کہ ملکہ بھی سربراہِ ریاست ہونے کے ناتے اس فہرست میں آسکتی ہے۔
جو لوگ دہشت گردی پھیلانے کے لیے معصوم شہریوں کی جانیں لیتے ہیں، ان کے ساتھ خطرناک ملزموں کا برتائو کیا جانا چاہیے اور جب ضرورت ہو، انھیں قتل کیا جانا چاہیے، نہ کہ ان کو وہ مقام دیا جائے جو ان جنگ جوئوں کا ہوتا ہے جو ریاستوں سے برسرِجنگ ہوں۔
انسانی حقوق کے قانون کے تحت کیا صورت حال ہوگی؟ اگر دہشت گردوں کے ہمدردوں کو دوسروں کی حوصلہ شکنی کے لیے نشانہ بنایا جائے، جب کہ گرفتاری ممکن ہو، تو یہ انسان کے حقِ زندگی کی کھلی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔ جو دہشت گرد شہریوں کو مارنے کے مشن پر مامور ہوں یا ان سازشوں میں شریک ہوں جو انھیں مارنے کے لیے کی جائیں، انھیں ہلاک کرنا معقول بات ہوگی۔لیکن ڈرون حملوں کا ریکارڈ یہ بتاتاہے کہ افراد کو اس وقت نشانہ بنایا جاتا ہے جب ان کی طرف سے کوئی واضح یا فوری خطرہ نہ ہو۔
یمن اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں میں ان افراد کو ہدف بنایا گیا جو مسلح تھے یا سازشی اجتماعات میں تھے لیکن دوسروں کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ کسی شادی یا جنازے میں شریک ہیں، یا کسی مسجد یا ہسپتال سے باہر آرہے تھے۔ پاکستان میں یہ واقعات بھی ہوئے کہ پاکستان کے حامی لیڈروں ، ان کے اہل و عیال، حتیٰ کہ فوجی جوانوں کو بھی غلطی سے قتل کیا گیا ہے۔ ان حملوں نے امریکا کے ایک ایسی قوم سے تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا ہے جو سیاسی طور پر دبائو کا شکار ہے، ایٹمی اسلحے سے مسلح ہے اور اس کے ساتھ برسرِجنگ نہیں ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے سی آئی اے کو اہداف کے انتخاب کے لیے کھلی چھٹی دے دی ہے اور اسے قانون کے پروفیسر Koh کی منظوری سے مشروط کیا گیا ہے، جو اَب ایک جلاد ہے۔ جو لوگ نیو ادا میں بیٹھ کر ہیل فائر کے بٹن دباتے ہیں، یہ سوچنے کے لیے لمحہ بھر نہیں رُکتے کہ ان کا ہدف واقعی برسرِجنگ ہے۔ فہرست میں شامل کرنے یا قتل کرنے کے معیارات کے بارے میں اندازہ لگانے کا کوئی مقصد نہیں، اس لیے کہ عدالت کے دائرۂ کار اور فریڈیم آف انفارمیشن ایکٹ کی دفعات سے ماورا یہ سی آئی اے کا خفیہ استحقاق ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون ناکام ہوچکا ہے۔ یو این چارٹر، کنونشنز اور عدالتوں کی معمول کی کارروائیوں میں بے جوڑ لڑائیاں لڑنے کے لیے کوئی اطمینان بخش رہنمائی نہیں دی گئی ہے۔ اسی لیے ریاستوں کی خاموشی ہے اور حال ہی میں یو این کے ہیومن رائٹس کمشنر کی ایک درخواست سامنے آئی ہے کہ قانون کی فوری وضاحت کی جائے۔ آگے جانے کا راستہ تلاش کرنے کے لیے ہوسکتا ہے کہ قابلِ لحاظ فوج اور متناسب طاقت کے لیے پیچھے جانے کا راستہ ڈھونڈنا ہو۔ فی الحال بہت سی ڈرون ہلاکتوں کو فوری قتل کہا جاسکتا ہے۔ جیساکہ سرخ ملکہ کی سزا ظاہر کرتی ہے کہ فیصلہ پہلے، مقدمہ بعد میں، جو حقِ زندگی، معصوم فرض کرنے کے حق اور مقدمے کی منصفانہ سماعت کے حق سے انکار کرتا ہے۔ (’’ڈرون حملے کتاب میں درج انسانی حقوق کے ہراصول کے خلاف ہیں‘‘، جیفرے رابرٹسن، نیو اسٹیٹس مین، ۱۳ جون ۲۰۱۲ئ)
ظلم یہ ہے کہ ان حملوں میں جو افراد بھی مارے جاتے ہیں، انھیں دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ایک پاکستانی میجر جنرل محمود غیور صاحب تک نے مارچ ۲۰۱۲ء میں ۲۰۰۷ء سے ۲۰۱۰ تک شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملوں کی توجیہ کرتے ہوئے بلاکسی ثبوت کے یہ تک فرما دیا کہ a majority of those eliminated are terrorists, including foreign terrorist elements. (مارے جانے والوں کی اکثریت دہشت گرد ہوتی ہے اور ان میں غیرملکی دہشت گرد بھی شامل ہوتے ہیں) حالانکہ تمام وہ ادارے جو کسی درجے میں بھی ان اُمور پر تحقیق کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہہ رہے ہیں شہریوں کی اموات غیرمعمولی طور پر زیادہ ہیں۔ امریکا کے مشہور تحقیقی ادارے بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے بارے میں کہا گیا ہے:
درست اعدادو شمار جمع کرنا مشکل ہے مگر مقامی افراد کہتے ہیں کہ وزیرستان میں ۳ہزار ہلاکتوں میں صرف ۱۸۵ القاعدہ کے نشان زد سرگرم افراد تھے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کا تخمینہ ہے کہ ہرجنگ جُو کے ساتھ ۱۰ شہری بھی ہلاک ہوتے ہیں۔ (نیو اسٹیٹس مین، ۱۳جون ۲۰۱۲ئ)
پاکستان میں ڈرون حملوں کی وجہ سے عام شہریوں کی ہلاکت کے سلسلے میں تازہ ترین معلومات سٹیٹ آف پاکستان کی کمیٹی براے دفاع و دفاعی پیداوار کی جولائی ۲۰۱۲ء میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ایک چارٹ کی شکل میں دی گئی ہے جو گھر کی گواہی (شَھِدَ شَاہِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا) کے مصداق ہے۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں:عسکریت پسند :۶۴۶، عام شہری: ۱۵۷۶، خواتین و بچے: ۵۶۵ کُل: ۲۷۸۷۔
یہ اعدادو شمار ۲۰۱۲-۲۰۰۴ء تک کے ڈرون حملوں کے سلسلے میں دیے گئے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ ڈیفنس کمیٹی کے سامنے پیش کردہ معلومات کی بنیاد پر ۲ہزار ۷سو ۸۷ میں سے صرف ۶۴۶؍افراد پر عسکریت پسندی کا شبہہ تھا، باقی ۲ہزار ایک سو۴۱ عام شہری تھے جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد ۵۶۵ تھی۔
خود امریکا کا ایک اور ادارے American Civil Liberties Union اپنی ایک رپورٹ میں اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ پاکستان، یمن اور صومالیہ میں امریکی ڈرون حملوںکے نتیجے میں ۴ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد شہریوں کی تھی۔
اس رپورٹ میں اس حقیقت کو بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ پہلے افراد کو نشانہ بنایا جاتا تھا اور اب ہدف علاقوں اور اجتماعات کو بنایا جارہا ہے جن کے بارے میں محض فضائی نگرنی کی بنیاد پر میزائل داغ دیے جاتے ہیں۔ اس طرح اجتماعی اموات واقع ہورہی ہیں۔ اس کے لیے امریکی سیکورٹی کے اداروں نے ایک نئی اصطلاح وضع کی ہے، یعنی "signature strikes" اور خود اوباما صاحب نے اس کی اجازت بلکہ ہدایت دی ہے۔
انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کے ڈائرکٹر ایان سیڈرمن نے اس لاقانونیت کے بارے میں کہا ہے کہ: بین الاقوامی قانون کے ڈھانچے کو بہت زیادہ نقصان پہنچ رہا تھا۔ (Drone strikes threaten 50 years of International Law by Owen Bowcott، دی گارڈین، ۲۱ جون ۲۰۱۲ئ)
محض شبہے کی بنیاد پر یا لباس اور ڈاڑھی کے ’جرم‘ میں امریکا کی نگاہ میں مشتبہ علاقوں میں کسی بھی ایسے مرد یا مردوں کے اجتماع کو ہدف بنایا جاسکتا ہے جو ۱۵ سے ۶۰ سال کی عمر کا ہو اور ان علاقوں میں پایا جائے۔ دہشت گرد کی یہ وہ نئی تعریف ہے جو امریکا نے وضع کی ہے اور جس کے مطابق وہ اب پاکستانی فوج سے ،اقدام کرانے پر تُلا ہوا ہے۔
اس سے زیادہ ظلم اور انسانی جانوں کے ساتھ خطرناک اور خونیں کھیل کی کیا مثال پیش کی جاسکتی ہے؟ ایک حالیہ بین الاقوامی کانفرنس میں جنوبی افریقہ کے ایک پروفیسر اور ماوراے عدالت ہلاکتوں کے اقوام متحدہ کے خصوصی نمایندے کرسٹاف ہینز نے ان تمام اقدامات کو ’جنگی جرائم‘ (war crimes) قرار دیا۔ اس نے اس امر پر شدید اضطراب کا اظہار کیا کہ نہ صرف ایک خاص شخص یا جگہ کو ہدف بنایا جا رہا ہے بلکہ ان افراد اور اجتماعات کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں لوگ ہلاک ہونے والوں کی تجہیزو تکفین میں مصروف ہوتے ہیں۔ اس سار خونیں کھیل پر اس نے تبصرہ کرتے ہوئے یہ تاریخی جملہ بھی کہا ہے کہ:
اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ۲۰۱۲ء میں ہونے والی کتنی ہلاکتوں کا جواز ۲۰۰۱ء میں ہونے والے واقعے کے ردعمل سے فراہم ہوتا ہے۔
اس میں یہ اضافہ بھی ضروری ہے کہ ۲۰۰۱ء میں نیویارک میں ہونے والے واقعے کے بدلے میں پاکستان اور افغانستان میں یہ کھیل کھیلا جارہا ہے، جب کہ نیویارک میں مبینہ دہشت گردوں میں کسی کا بھی تعلق پاکستان یا افغانستان سے نہیں تھا۔
تقریباً تمام ہی سنجیدہ تحقیق کرنے والے افراد اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ اور خاص طور پر ڈرون حملوں سے دہشت گردی میں نہ صرف یہ کہ کمی نہیں ہوئی ہے بلکہ اس میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے اور ان اسباب کو بھی فروغ حاصل ہوا ہے جو دہشت گردی کو جنم دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کتاب رابرٹ پیپ اور جیمز فولڈمین کی ہے جو ۲۰۱۰ء تک سے دہشت گردی کے تمام واقعات کے بے لاگ علمی جائزے پر مبنی ہے اور جس میں امریکا کی دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کی مکمل ناکامی کو علمی دلائل اور اعداد و شمار کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔(دیکھیے: Cutting the Fuse، عالمی خودکش دہشت گردی کا دھماکا اور کیسے اس کو روکا جائے، رابرٹ اے پیپ، جیمز کے فلڈمین، یونی ورسٹی آف شکاگو پریس، شکاگو ، ۲۰۱۰ئ)
خاص طور پر ڈرون حملوں کے بارے میں امریکا اور جرمنی کے دو پروفیسروں کی تحقیق بھی اس نتیجے کی طرف اشارہ کرتی ہے جسے ہم بھی بہ چشم سر دیکھ رہے ہیں۔ البتہ اگر کسی کو یہ نظر نہیں آتی تو وہ امریکی اور پاکستانی قیادت ہے!
ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں طالبان اور القاعدہ کی دہشت گردی پر ڈرون حملوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا، بلکہ ان کا بدترین پہلو یہ ہے کہ یہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کو مختصر وقت میں بڑھا دیتے ہیں۔ جنوری ۲۰۰۷ء سے ستمبر ۲۰۱۱ء تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا تو ہم نے پایا کہ القاعدہ اور طالبان کے افغانستان میں دہشت گردانہ حملوں پر ڈرون حملے غیر مؤثر ہیں۔ دوسری طرف ڈرون حملوں کے بعد ہفتوں تک پاکستان میں طالبان اور القاعدہ کے حملوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے جب ڈرون حملے اپنے ٹارگٹ کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
اگرچہ بعض ڈرون حملے مختلف نوعیت کے مقاصد پورے کرتے ہیں لیکن ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ وہ القاعدہ اور طالبان کی افغانستان میں دہشت گردی کو روکنے میں ناکام ہیں۔ پاکستان میں ایک مختصر مدت کے لیے دہشت گردی بڑھا دیتے ہیں۔ اگر اوباما کی حکمت عملی کے مقاصد میں ایک محفوظ پاکستان ہے تو ان کو اندازہ ہوگا کہ ڈرون حملے اپنے مقاصد کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ (فارن پالیسی، مئی جون ۲۰۱۲ئ، ص ۱۱۰)
جیساکہ ہم نے عرض کیا کہ ہمارے پاس حوالوں کی بھرمار ہے لیکن جگہ کی قلت کے باعث صرف ان چند حوالوں پر اکتفا کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد توجہ کو اصل ایشوز پر مرکوز کرنا ہے۔
یہ تصویر کا ایک پہلو ہے جس میں امریکا کا کردار، وہ عالم گیر تباہی جو اس جنگ کے نتیجے میں رُونما ہوئی ہے اور پاکستان کی وہ درگت جو اس جنگ میں امریکا کے آلۂ کار بننے کی وجہ سے ہمارا مقدر بن گئی ہے(اس سلسلے میں ترجمان کے جولائی اور اگست ۲۰۱۲ء کے شماروں میں شائع ہونے والے ’اشارات ‘ کو ذہن میں تازہ کرنا مفید ہوگا)،لیکن اس تصویر کا دوسرا رُخ اور بھی ہولناک، شرم ناک اور خون کھولا دینے والا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس پر بھی کھل کر بات ہو اور قوم کو تمام حقائق سے بے کم و کاست روشناس کرایا جائے۔ ہماری تاریخ میں جو کردار عبداللہ ابن ابی اور عبداللہ ابن سبا سے لے کر میرجعفر اور میرصادق تک انجام دیتے رہے ہیں، آج بھی ایسے ہی کرداروں سے ہمارا سابقہ ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ آج انھیں دانش وروں، صحافیوں اور میڈیا کے گوئبلز ٭کی اعانت بھی حاصل ہوگئی ہے۔یہ کردار امریکا سے پاکستان تک ان اداکاروں کی ایک فوج ظفرموج کا ہے جو پوری دیدہ دلیری کے ساتھ انجام دے رہی ہے۔ ضمناً لبرل لابی کے ایک اہم اخبار ایکسپریس ٹربیون ( ۱۲؍اگست ۲۰۱۲ئ) میں لبرل صحافیوں کے سرخیل خالد احمد کے ایک تازہ ترین مضمون میں ایک اعتراف سے ناظرین کو روشناس کرانادل چسپی کا باعث ہوگا کہ ’جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے‘۔ ان کا اشارہ ملک کی سپریم کورٹ کے موقف اور لبرل حلقوں کی سوچ کے درمیان پائے جانے والے بُعد کی طرف ہے لیکن یہ بات صرف سپریم کورٹ کے آزاد اور عوام دوست رویے تک محدود نہیں۔ امریکا کے کردار، ڈرون حملوں کی توجیہ اور اب شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے لیے زمین ہموار کرنے سے متعلق تمام ہی امور پر صادق آتی ہے:
ایک حالیہ ٹی وی مباحثے میں میرے پسندیدہ وکیل سلمان اکرم راجا نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ ان آرا کا ۸۰ فی صد جو پاکستان میں انگلش میڈیم پریس میں چھپتا ہے، ہماری فعال عدلیہ کے حق میں نہیں ہے۔ دوسری طرف اُردو میڈیا میں عدالت عظمیٰ کے فیصلوں میں عمومی اتفاق راے پایا جاتا ہے۔
پاکستانی قوم پرستی کی زبان اُردو ہے۔ اُردو میڈیم تعلیم کی مارکیٹ پر ریاست کو غلبہ حاصل ہے۔ ذریعۂ اظہار کے طور پر اُردو کی شاعری اور جذباتی اظہار میں مضبوط بنیادیں ہیں۔ جدید زبان میں معاشیات اور اس کا بتدریج اثرانداز ہونے والا نظریے کے بجاے موقع پرستی کا پیغام ابھی تک اُردو میں داخل نہیں ہوا۔ انگلش میڈیم تعلیم کی مارکیٹ میں کرسچین مشنری اسکولوں نے جگہ بنائی جن کا امتحان بیرونی ادارے سے ہوتا ہے۔ یہاں کچھ ہچکچاہٹ کے ساتھ بنیاد پرستانہ نظریے کو اختیار کرلیا گیا ہے۔ اُردو کالم نگار نے کچھ حقائق کو یکساں طور پر تسلیم کرلیا ہے۔ جب وہ قومی معیشت کی بات کرتا ہے تو آئی ایم ایف اور مغرب مخالف ہوتا ہے۔ وہ اسلام کے خلاف خصوصاً پاکستان کے خلاف ایک عالمی سازش پہ یقین رکھتا ہے۔ وہ یقین رکھتا ہے کہ پوری دنیا میں امریکا بھارت کے ہندووں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملے کی قیادت کر رہا ہے۔
جب بھارت سے تعلقات پر بات ہو رہی ہو، تو وہ ایک لڑاکا ہے اور اسے یقین ہے کہ پاکستان کی لبرل سوسائٹی غدار ہے، اور یہ کہ پورے ملک میں کام کرنے والی این جی اوز ایجنٹ ہیں اور غداری کی مرتکب ہورہی ہیں۔
پاکستان میں قوم پرستی کا اظہار انگریزی کے مقابلے میں اُردو میں زیادہ ہوتا ہے۔ حالانکہ قوم پرستی قومی معیشت کو تباہ کردیتی ہے۔(دی ایکسپریس ٹربیون، ۱۲؍اگست ۲۰۱۲ئ)
بات زبان کی نہیں ذہن کی ہے۔ تعلیمی پس منظر کی نہیں، فکری اور سیاسی وفاداری کی ہے۔ قومی مفاد اور مفاد پرستی کی ہے۔ البتہ اس تحریر کے آئینے میں پاکستان کی قسمت سے کھیلنے اور پاکستان کو ان مشکل حالات میں دلدل سے نکالنے والے کرداروں کی تصویر بھی دیکھی جاسکتی ہے، جو غالباً صاحب ِ مضمون کا تو اصل مقصد نہ تھا مگر اس تحریر سے وہ ذہن پوری طرح سامنے آجاتا ہے جس کی نگاہ میں نہ قومی حاکمیت، آزادی اور عزت کی کوئی اہمیت ہے اور نہ حقیقی قوم پرستی کوئی مقدس شے ہے ۔ اس اخبار نے چند دن پہلے ادارتی کالم میں یہ تک لکھ دیا ہے کہ اب زمانہ بدل گیا ہے اور جو لوگ حاکمیت (sovereignity) اور قومی مفاد کی بات کرکے امریکا سے تعلقات کے اس نام نہاد نئے باب اور ناٹو سپلائی کی بحالی پر گرفت کر رہے ہیں، وہ زمانے کے تقاضوں سے ناواقف ہیں۔ ہمارے یہ دانش ور بھول جاتے ہیں کہ برطانوی اقتدار کے دور میں بھی ہمیں یہی سبق سکھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ع
چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
لیکن بالآخر تاریخ کا دھارا ان لوگوں نے موڑا جو محض طاقت اور غلبے کی چمک دمک سے مرعوب نہیں ہوتے اور اپنے عقائد، نظریات اور حقیقی قومی مفادات کے لیے زمانے کو بدلنے کی جدوجہد کرتے ہیں، یعنی زمانہ با تو نہ سازد تو بازمانہ ستیز۔
جملۂ معترضہ ذرا طویل ہوگیا لیکن جن حقائق کو ہم اب قوم کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں ان کو سمجھنے میں اس ذہن کو سامنے رکھنے اور معاشرے کے اس نظریاتی اور اخلاقی تقسیم کو سمجھنا ضروری ہے جو ہمارے بہت سے مسائل اور مشکلات کی جڑ ہے۔
ناٹو سپلائی کی بحالی اور امریکا سے تعلقات کو امریکی احکام اور مفادات کے مطابق ڈھالنے کا جو کام موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت انجام دے رہی ہے، وہ ڈھکے چھپے انداز میں تو ایک مدت سے جاری ہے مگر ۲۰۰۱ء کے بعد اس کا رنگ اور بھی زیادہ چوکھا ہوگیا تھا۔ پارلیمنٹ کی ۲۲؍اکتوبر ۲۰۰۸ئ، ۱۴؍مئی ۲۰۱۱ء اور اپریل ۲۰۱۲ء کی قراردادیں ایک بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ یہ قراردادیں عوامی جذبات اور عزائم سے ہم آہنگ تھیں اور ۲۷؍نومبر ۲۰۱۱ء کی کھلی امریکی جارحیت اور اس کے بعد اس کی رعونت نے اس کے لیے پالیسی میں تبدیلی کا ایک تاریخی موقع بھی فراہم کیا تھا لیکن جس نوعیت کی قیادت بدقسمتی سے ملک پر مسلط ہے اس نے اس موقعے کو ضائع کرتے ہوئے اب زیادہ کھلے انداز میں امریکی غلامی اور کاسہ لیسی کے راستے کو اختیار کرلیا ہے۔ یہی وہ تاریخی لمحہ ہے جب قوم کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اب اسے پاکستان کی تقدیر کن لوگوں کے ہاتھوں میں دینی ہے ___ وہی قیادت جو قومی مفادات اور قومی آزادی اور وقار کا سودا کرتی رہی ہے یا ایسی نئی قیادت جو ایمان، آزادی، عزت اور قومی مفادات کی حفاظت کا عزم اور صلاحیت رکھتی ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ پرویز مشرف کے دَور سے اب تک کی قیادت کی جو اصل تصویر امریکا اور مغرب کے پالیسی ساز اور راے عامہ کو بنانے والے ادارے اور افراد کی پسندیدہ تصویر ہے، وہ اب قوم کے سامنے بھی بے حجاب آجائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکے۔
ڈیوڈ سانگر کی کتاب Confront and Conceal اس وقت امریکا اور پاکستان میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ہم نے اگست کے ’اشارات‘ میں اس سے کچھ اہم اقتباسات پیش کیے تھے۔ New York Review of Books نے اپنی تازہ ترین اشاعت (۱۶؍اگست ۲۰۱۲ئ) میں اس پر مفصل تبصرہ کیا ہے اور اسے امریکا کی پالیسی کے لیے ایک آئینے کی حیثیت دی ہے۔ اس میں ہماری قیادت کی کیا تصویر ہمارے سامنے آتی ہے، اس پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے، کہ امریکا کو ایسی ہی قیادت مطلوب ہے۔
پاکستانیوں سے اوباما کے دورِ صدارت کے کارناموں کے بارے میں پوچھیے تو ڈرون حملوں سے شہریوں کی ہلاکت کے موضوع پر شروع ہوجائیں گے۔ (ص xviii)
وہ پاکستانی عوام کے اصل اضطراب کا بھی شعور رکھتے ہیں!
پاکستانیوں نے جو سوال مجھ سے کیا وہ یہ تھا کہ پاکستان میں اور کتنے ریمنڈ ڈیوس گھوم رہے ہیں اور ہم ان کے بارے میں نہیں جانتے۔
لوگر اعتراف کرتا ہے کہ ’’ڈرون حملے اہلِ پاکستان کی نگاہ میں بجا طور پر پاکستان کی حاکمیت کی خلاف ورزی ہیں‘‘ (ص ۱۳۵)۔ نیز یہ حملے ’ایک جنگی عمل‘ (an act of war) شمار کیے جائیں گے (ص ۱۳۷)۔ یہ بھی اعتراف کرتا ہے کہ یہ اقدام ناجائز ہیں جو قتل عمد کے مترادف ہیں (ص ۲۵۳)۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ چشم کشا اوردل خراش انکشاف محض سیاسی قیادت کے بارے میں ہی نہیں، فوجی قیادت کے بارے میں بھی کرتا ہے، یعنی خود آئی ایس آئی نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ پرویز مشرف نے ان کی اجازت دی تھی:
آئی ایس آئی نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ملک میں جو کوئی بھی امریکی خفیہ اہل کار ہے، اس کے بارے میں بتایا جائے اور ڈرون حملے بند کیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ جب مشرف مُلک چلا رہا تھا تو واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان حملوں کی اجازت کا ایک خفیہ معاہدہ تھا لیکن یہ اس سے پہلے کی بات ہے جب ڈرونز کی تعداد بڑھائی گئی اور ڈرون حشرات الارض کی طرح نکل آئے اور اس کے ساتھ ہی پاکستانی عوام کا غم و غصہ بھی۔ اب دُور سے، بہت دُور سے ایک ڈرون حملہ پاکستان پر لانچ کیا جاسکتا ہے۔ امریکی یہ ظاہر کرتے تھے کہ انھوں نے اس مطالبے کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔ اوباما کے لیے ڈرونز ہی وہ واحد چیزتھے جو پاکستان میں نتائج دے رہے تھے۔(Confront and Conceal: Obama's Secret Wars and Surprising Use of American Power, by David E. Sanger, Crown Publisher, New York, 2012, p. 87-88)
یہ بات ۲۵ نومبر کے واقعے کے بعد ہوئی ہے۔ ۴جولائی نے پھر ہمیں وہیں پہنچا دیا ہے جہاں یہ بدقسمت ملک مشرف کے دور میں تھا ع
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
اپریل ۲۰۱۲ء میں پاکستانیوں نے اوباما ڈاکٹرائن کے لیے بہت بڑا چیلنج پیش کیا۔ اس وقت تک امریکا نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ۲۵۰ امریکی ڈرون حملوں کا یہ کہہ کردفاع کیا تھا کہ ان حملوں کو کرنے کے لیے انھیں حکومت کی منظوری حاصل تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس منظوری کو کبھی عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ منظوری جنرل کیانی اور اس کے فوجی ساتھیوں سے حاصل کی گئی تھی نہ کہ منتخب قیادت سے۔ یہ بڑی حد تک لفظی منظوری تھی۔ پھر جب پاکستانی پارلیمنٹ نے امریکا کے ساتھ تعلقات کا ایک مکمل جائزہ لیا تو اس نے بہت بڑی اکثریت کے ساتھ پاکستانی علاقے پر ڈرون حملوں سے منع کیا۔ یہ مطالبہ اوباما کے اس موقف کے لیے ایک چیلنج تھا کہ وہ امریکا کے سلامتی کے مفادات کی حفاظت افواج کے باقاعدہ استعمال کے بغیر کرسکیں گے، جب کہ اس طرح ہم جمہوری حکومت کی خودمختاری کا احترام بھی کریں گے۔(ص ۱۳۶)
داد دیجیے کہ ایک جمہوری ملک کی حاکمیت کا ڈرون حملوں کی بارش کے ساتھ کس عیاری سے ’احترام‘ کیا جا رہا ہے اور ملک کی فوجی قیادت کس طرح وہی کردار ادا کرتی نظر آرہی ہے جو سیاسی قیادت نے انجام دیا تھا۔ لیکن دل تھام کر بیٹھیے۔ اس کتاب کے صفحہ ۲۵۸ پر یہ چشم کشا انکشاف بھی موجود ہے کہ ہماری قیادت نے ان حملوں کی افادیت کا اعتراف بھی کیا ہے اور جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ میجر جنرل محمود غیور٭ کے بیان سے بھی اس کی توثیق ہوتی ہے:
ایک سینیرخفیہ اہل کار کا (جو پروگرام کی نگرانی کا ذمہ دار ہے) اصرار ہے کہ امریکا ان قواعد کی پابندی کرتا ہے۔ اگر ایک ملک میں کوئی باقاعدہ حکومت ہو تو ہم اسے میزبان حکومت کی اجازت سے استعمال کرتے ہیں۔ جب میں نے اس سے چاہا کہ وہ تفصیل بتائے کہ روزمرہ ’حملہ کریں یا نہ کریں‘ کے فیصلے کس طرح کیے جاتے ہیں؟ تو اس نے کہا: اگر وہ نہ چاہیں تو ہم عام طور پر حملے نہیں کرتے، الا یہ کہ ہماری افواج کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہو۔
بلاشبہہ عملاً واشنگٹن اور دنیا کے لیڈروں کے درمیان ڈرون کے استعمال کے بارے میں نازک توازن کبھی اس طرح واضح ہوتا اور نہ اجازتیں اس طرح واضح ہوتی ہیں جیسے اگر کوئی امریکی اہل کاروں کی باتوں کو سنے تو سوچ سکتا ہے۔ وکی لیکس کے ذریعے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے جو پیغامات شائع ہوئے ہیں، ان سے ڈرون کے استعمال کی عجیب و غریب صورت حال زیادہ واضح طور پر سامنے آتی ہے۔ جنوری ۲۰۰۸ء میں پاکستان آرمی کے چیف آف اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے دورے پر آئے ہوئے امریکی ایڈمرل ولیم جے فالن کو القاعدہ کے گڑھ وزیرستان پر مسلسل اور مستقل ڈرون کوریج کے لیے کہا۔
چھے ماہ بعد یہ پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی تھا جو قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں پر ڈرون حملوں کے بارے میں خود اپنے وزیرداخلہ کے اعتراضات کو مسترد کر رہا تھا اور امریکی سفیر اینی پیٹرسن کو یہ کہہ رہا تھا: ’’مجھے اس کی پروا نہیں، یہ اسے اس وقت تک کرتے رہیں جب تک مطلوب آدمی نہیں ملتے‘‘۔ جیسے ہی یہ باتیں عوام میں آئیں، اوریقینا بن لادن آپریشن کے بعدانھی پاکستانی افسروں نے ملک کے اندر ڈرون حملوں کو ملک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے روکنے کا مطالبہ کیا۔ (ص ۲۵۸-۲۵۹)
۴جولائی کے بعد ڈرون حملوں کا جاری رہنا اور شمالی وزیرستان میں مشترک یا امریکی معلومات کی فراہمی پر پاکستانی فوجیوں کی کارروائی کے عندیے نے نہ صرف مشرف، زرداری، گیلانی، کیانی کی سابقہ حکمت عملی کی بحالی کا منظرنامہ پیش کرنا شروع کر دیا ہے، بلکہ اب عملاً کھلی اجازت کا سماں ہے اور کوئی پردہ باقی نہیں نظر آرہا۔ صرف ریکارڈ کے لیے یہ بات بھی اس سلسلے میں بیان کرنا ضروری ہے کہ زرداری صاحب نے بنفس نفیس نومبر ۲۰۰۸ء میں امریکی ڈرون حملوں کے بارے میں مشرف کی پالیسی کو جاری رکھنے کی اشیرباددی تھی جس کا واضح بیان باب ووڈورڈ کی کتاب Obama's Warsمیں ان الفاظ میں پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے:
۱۲ نومبر (بدھ) کو امریکا کے سی آئی اے کے ڈائرکٹر مائیک ہیڈن نیویارک گئے تاکہ ڈرون حملوں پر پاکستان کے صدر سے بات چیت کرسکیں۔ ۶۳سالہ ہیڈن ایئرفورس کا چار ستاروں والا جنرل ہے جو ۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۵ء تک این ایس اے کا ڈائرکٹر رہا۔ پاکستانی صدر اور ہیڈن کی ایک گھنٹے کی ون ٹو ون ملاقات ہوئی۔ زرداری چاہتا تھا کہ ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت سے ہونے والی کشیدہ فضا کو دُور کیا جائے۔
وہ ستمبر میں صدر بنا تھا اور اپنی پسندیدگی کی شرح میں کمی برداشت کرسکتا تھا۔ معصوم لوگوں کی ہلاکت القاعدہ سے معاملات کرنے کی قیمت تھی۔ زرداری نے کہا: سینیرز کو ہلاک کردیں۔ امریکیو! تمھیں ضمنی نقصان پریشان کرتا ہے، یہ مجھے پریشان نہیں کرتا۔ زرداری نے سی آئی اے کو سبز جھنڈی دکھا دی۔ ہیڈن نے حمایت کی تحسین کی لیکن اسے معلوم تھا کہ القاعدہ کو تباہ کرنے کا مقصد اس سے حاصل نہیں ہوسکے گا۔ (ص ۲۵۸-۲۵۹)۔ (Obama's Wars The Inside Story by Bob Woodwork, Simon and Schuster, 2010, pp. 25-26)
رہا معاملہ ہمارے سابق وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی کا، تو کچھ ذکر تو ان کا اُوپر آگیا ہے لیکن پوری بات ذرا زیادہ صاف الفاظ میں اناطول لیون نے اپنی کتاب میں جو حیرت انگیز طور پر پاکستان کے خلاف آنے والی کتابوں کی یلغار میں نسبتاً متوازن اور ہمدردانہ علمی پیش کش ہے اور پاکستان میں طویل قیام کے بعد لکھی گئی ہے، بیان کی ہے اور سنجیدہ غوروفکر کی متقاضی ہے۔ یہ بات لیون نے اپنے گہرے غوروخوض اور تجزیے کے نتیجے میں امریکی اور برطانوی پالیسی سازوں کو مخاطب کرکے کہی ہے۔ کاش! پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت بھی اس کو قابلِ توجہ سمجھے:
اس بات پر باوجود حکومتی تردید کے عام طور پر یقین کیا جا رہا تھا کہ پاکستانی ہائی کمانڈ اور حکومت نے امریکا کو معلومات فراہم کی ہیں تاکہ پاکستانی طالبان لیڈروں پر حملہ کیا جاسکے۔ اس کی تصدیق وکی لیکس نے بھی کی ہے۔ جیساکہ ۲۰۰۸ء میں امریکی حکام کو بتایا کہ مجھے پروا نہیں کتنی مدت تک یہ کام کریں گے۔ ہم قومی اسمبلی میں احتجاج کریں گے اور پھر نظرانداز کردیں گے۔
ڈرون حملے کے مقابلوں میں پاکستان کے جھک جانے سے معاشرے میں فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچا اورعام سپاہی کے اس احساس میں اضافہ ہوا کہ فوج کرایے کے لیے حاضر ہے۔ اس لیے یہ کوئی سوال طلب بات نہیں ہے کہ ان حملوں کو بلوچستان اور خیبرپختونخوا تک وسعت دینا مقامی لوگوں کو مزید غضب ناک کردے گا۔ پاکستانی طالبان کو نئے علاقوں میں پہنچائے گا، اور پاکستان کا امریکا سے تعاون کو کم کردے گا۔
اس کتاب نے استدلال کیا ہے کہ فاٹا میں امریکی زمینی افواج کی کھلی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ اس سے پاکستانی فوج میں کھلی بغاوت کا خدشہ ہے۔ اس سلسلے میں احتیاط کو لازماً ملحوظ رکھا جائے۔ امریکا پر نیا دہشت گردی کا حملہ ہو تو اس مداخلت کو روکنے کے لیے برطانیہ کو واشنگٹن میں جو بھی اثرورسوخ حاصل ہے اسے استعمال کرنا چاہیے۔اس سے دہشت گردی اور برطانیہ میں ثقافتی اور نسلی تعلقات پر ہولناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ افغان طالبان سے پاکستان کے روابط مغرب میں عام طور پر ایک مسئلے کے طور پردیکھے جاتے ہیں لیکن انھیں افغانستان سے نکلنے کے لیے ایک اہم اثاثہ بھی سمجھنا چاہیے۔ (Anatal Lievein Pakistan: A Hard Country, by Anatal Lievein, Allen Lane, London 2011, p. 479)
۲۰۱۲ء میں اہم عالمی تجزیہ کار اس امر پر متفق ہیں کہ ماضی میں ڈرون حملے جن مقامات سے کیے جارہے ہیں ان میں پاکستان میں امریکی ہوائی بیس شامل تھے اور غالباً یہ صرف شمسی ایئربیس ہی نہیں تھا۔ دوسرے مقامات بھی استعمال کیے جارہے ہیں جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ وہ اب بھی امریکی افواج کے تصرف میں ہیں۔ یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکا کے جاسوسی کے وسیع جال کے بغیر یہ نہ پہلے ممکن تھا اور نہ اب ممکن ہے۔ اس امر کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کی خفیہ ایجنسیوں کا اس کارروائی میں بڑی حد تک ایک مشترک کردار بھی رہا ہے جس پر پردہ ڈالے رکھا گیا مگر اب یہ سب راز طشت از بام ہوگیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ قوم کو اور پارلیمنٹ کو سیاسی اور عسکری قیادت نے غلط بیانی اور کتمانِ شہادت کا پوری بے دردی سے نشانہ بنایا ہے۔ کیا اب بھی منہ زور گھوڑوں کو لگام دینے کا وقت نہیں آیا؟
اوباما نے پوچھا: تم پاکستان میں کتنا کچھ کر رہے ہو؟ ہیڈن نے بتایا کہ امریکا کے دنیا بھر میں کیے جانے والے حملوں کا ۸۰ فی صد وہاں ہوتے ہیں۔ ہم آسمان کے مالک ہیں۔ ڈرون پاکستان میں خفیہ ٹھکانوں سے اُڑتے ہیں۔ القاعدہ قبائلی علاقوں میں لوگوں کو تربیت دے ر ہی ہے جن کو اگر تم ڈلس میں ویزہ لینے والوں کی قطار میں دیکھو تو خطرہ نہیں سمجھو گے۔ (Obama's Wars، ص ۵۲)
شمال مغربی سرحدی اضلاع میں ڈرون حملوں کا سب سے زیادہ چونکا دینے والا لیکن کم بتایا جانے والا پہلو یہ ہے کہ یہ پاکستانی فوج اور اس کی طاقت ور خفیہ شاخ آئی ایس آئی کے تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتے۔ یمن میں بھی کچھ سرکاری حمایت ضروری ہوتی ہے لیکن یمنی ریاست کی کمزوری کی وجہ سے پاکستان سے کم۔
مسئلہ یہ ہے کہ ٹھیک نشانے پر حملہ کرنے والے اسلحے کو بھی ہدف کی شناخت کے لیے زمین پر کی جانے والی خفیہ کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں، آئی ایس آئی نجی طور پر یہ بتاتی ہے کہ اس کے ایجنٹ تفصیلات مہیا کرتے ہیں کہ ڈرون کس کا تعاقب کریں۔ دُور بیٹھ کر کمانڈ پوسٹ سے ڈرون کی رہنمائی کرنا، دوسری جنگ ِ عظیم میں نشانہ پر لگنے والی بم باری یا عراق میں ۱۹۹۳ء اور ۲۰۰۳ء میں ٹھیک نشانے پر لگنے والے میزائل حملے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اس بارے میں لمحے لمحے کی خفیہ اطلاع کہ کون کس گھر میں ہے اور جب وہ وہاں ہو، اس کی اطلاع کے لیے مقامی ایجنٹوں کے نیٹ ورک کی ضرورت ہوتی ہے جو ان معلومات کو فوراً پہنچا سکے۔
یہ بہت ناپسندیدہ ہوگا کہ آئی ایس آئی، سی آئی اے کو اس طرح کا نیٹ ورک بنانے کی اجازت دے۔ وہ فیصلہ کن اطلاع جس کی وجہ سے امریکا نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو تلاش کیا، خود آئی ایس آئی نے دی تھی۔ بلاشبہہ جو قتل کا ہدف ہو شاید ہی اتنا بے وقوف ہو کہ وہ اپنی پوزیشن موبائل یا سیٹلائٹ فون یا برقی اطلاع کا ذریعہ استعمال کرکے دے۔ لیکن بعض باغی گروپ آج بھی ایسے ہیں جو اپنی پوزیشن آسانی سے بتادیتے ہیں۔ آئی ایس آئی پر اعتبار کی وجہ یہ ہے کہ یہ پاکستانی فوج کے افسران ہیں نہ کہ صدراوباما یا ان کا سلامتی اور عسکری سٹاف جو درحقیقت فیصلہ کرتے ہیں کہ ڈرون کس قسم کے مشکوک شخص کو ہلاک کرے گا۔ یہ پاکستان کی نائن الیون سے امریکا سے معاملہ کرنے کی کامیاب حکمت عملی ہے۔ یہ ایک ہی وقت میں بہترین ساتھی بھی ہے اور بدترین دشمن بھی۔ (دی انڈی پنڈنٹ، ۱۰ جون ۲۰۱۲ئ)
مضمون نگار نے صدر اوباما کو ڈرون حملوں کے شدید ردعمل سے بچانے کے لیے جن حقائق کا انکشاف کیا ہے وہ بجا، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے اور نیویارک ٹائمز کی مفصل رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد تو اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں کہ ڈرون حملوں کاآخری فیصلہ صدراوباما خود کرتے ہیں اور وہ بلاواسطہ اس قتل و غارت گری کے ذمہ دار ہیں۔ اس سلسلے میں Counter Punch پر بھی Bill Quigby کا بڑا چشم کشا مضمون Five Reasons Drone Assassination is Illegal (ڈرون قتل غیرقانونی ہونے کی پانچ وجوہات) (دی انڈی پنڈنٹ،۱۶ مئی ۲۰۱۲ئ) بڑا مدلل اور ناقابلِ انکار شواہد کا حامل ہے۔
نیو اسٹیٹس مین کی ۱۳جون کی اشاعت میں کرس ووڈز کا مضمون Drones: Barack Obama's Secret War (ڈرونز: باراک اوباما کی خفیہ جنگ)شائع ہوا ہے جس میں عام شہریوں کی ہلاکت پر بڑے لائق اعتماد اور ہولناک شواہد دیے گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈرون حملوں کی ٹھیک ٹھیک نشانہ بازی اور صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے دعوے مضمون نگار کے الفاظ میں جھوٹے (bogus) ہیں، نیز اس کے ساتھ اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ جس سے تمام پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں کہ:
القاعدہ کو اس مہم میں یقینا کافی نقصان پہنچاہے۔ ۴جون کو اس کے ڈپٹی لیڈر یحییٰ اللّیبی کی ہلاکت کے بعد یہ دہشت گرد گروپ نہ ہونے کے برابر ہوگیا ہے، امریکی فضائی حملوں نے اس کو قیادت سے محروم کیا اور اس سے قبل دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ مشترکہ آپریشن کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے برسوں تک اپنی سرزمین پر امریکی حملوں کو خاموشی سے برداشت کیا ہے۔ گذشتہ ۱۸مہینوں میں یہ تعاون آہستہ آہستہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ اب پاکستان ہرحملے کی مذمت کرتا ہے کہ یہ بین الاقوامی قانون کی مکمل خلاف ورزی ہے۔ اس دوران امریکا اپنے حلیف کو سادگی سے نظرانداز کردیتا ہے۔(Chriswoods Drones: Barack Obama's Secret War.، نیو اسٹیٹس مین، ۱۳ جون ۲۰۱۲ئ)
بات اب نظرانداز کرنے سے آگے بڑھ چکی ہے۔ اب تو کھیل شراکت داری کا ہے جو نئی آگ بھڑکانے کا نسخہ ہے جس خطرے کی طرف اناطول لیون نے بھی اُوپر واضح اشارہ کیا ہے۔
اس خطرناک کھیل کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جس کی طرف ۸جون ۲۰۱۲ء کی ایک on line (۲۸ جون ۲۰۱۲ئ) رپورٹ میں کہا گیا ہے (شائع شدہ دی نیشن، ۱۰جون ۲۰۱۲ئ) ۔ یہ خبر جولائی کے ایم او یو سے تین ہفتے پہلے کی ہے اور یہ وہ زمانہ ہے جب امریکا سے پاکستان کے تعلق کو ’کُٹّی‘ کا دور کہا جاسکتا ہے لیکن اس دور کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ شمسی ایئربیس سے امریکیوں کے انخلا کے بعد بھی پاکستان کی سرزمین کے دوسرے مقامات سے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری تھا، اور یہ اس پر مستزاد ہے جس کا دعویٰ اس وقت کے وزیردفاع نے کیا تھا کہ ’’راستہ صرف زمین کا بند ہے، فضائی حدود کی پامالی تو ہماری اجازت سے جاری ہے‘‘۔ اس اطلاع سے مزیدتصدیق ہوئی ہے کہ امریکی بوٹوں کی موجودگی کا معاملہ صرف شمسی ایئربیس تک محدود نہیں تھااور (جون ۲۰۱۲ء کی رپورٹ کی روشنی میں) ۴جولائی کے رسد کی بحالی کے انتظامات سے پہلے کے دور میں بھی سی آئی اے کے دوسرے اڈے موجود تھے اور ان کو یہ خطرہ بھی تھا کہ ان کے دوسرے غیرعلانیہ یا خفیہ (undeclared) اڈوں سے بھی انخلا کی بات ہوسکتی ہے:
نام نہ بتانے کی شرط پر امریکی اہل کاروں نے خفیہ معلومات کے بارے میں بتایا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ پاکستان سی آئی اے کو باقی رہنے والا ہوائی اڈا بھی خالی کرنے کا کہے گا جس سے افغانستان کی سرحد پر پاکستان میں پناہ لیے ہوئے عسکریت پسندوں کو وہ اپنا ہدف بناتے ہیں۔ امریکا ۲۰۰۴ء سے اسلام آباد کی انتظامیہ کی خفیہ منظوری سے ڈرون حملے کر رہا ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور اس کے لیڈر ان حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور انھیں ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ (دی نیشن، ۱۰ جون ۲۰۱۲ئ)
امریکا کے مؤقر جریدے فارن پالیسی میں پیٹربرگن اور کیتھرین ٹائیڈمین کا مقالہ The Effects of the Drone Programme in Pakistan (پاکستان میں ڈرون پروگرام کے اثرات) شائع ہوا ہے جس میں امریکا کے اس دعوے پر سوالیہ نشان لگایا گیا ہے کہ کیا فی الحقیقت ان ڈرون حملوں سے القاعدہ کی قیادت کا صفایا ہوگیا ہے؟ ان کی تحقیق کی روشنی میں اوسطاً سات میں سے صرف ایک میزائل کسی عسکریت پسند لیڈر کو ہلاک کر پاتا ہے اور یہاں بھی حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ مارے جاتے ہیں وہ بالعموم بہت معمولی درجے کے عسکریت پسندہوتے ہیں۔
قابلِ ذکر قیادت کے صرف دو فی صد لوگ حملوں کی زد میں آنے کی مصدقہ اطلاعات ہیں، البتہ عام شہریوں کی ہلاکت بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے ۔ گو، تفصیلی معلومات ہر دو کے بارے میں عنقا ہیں، یعنی عسکریت پسند اور عام شہری۔ زیادہ تر اعتماد اندازوں اور سنی سنائی پر ہے۔ البتہ نصف سے زیادہ مقامی آبادی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے جس کے خلاف عوام میں شدید ردعمل ہے۔ ان حقائق کا اعادہ اور اعتراف کرنے کے بعد جو اہم بات اس مقالے سے بھی کھل کر سامنے آئی ہے وہ پاکستانی قیادت کا دوغلا کردار ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
جس آپریشن میں بن لادن کو قتل کیا گیا، پاکستانی اہل کاروں نے شور مچایا کہ ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ پس پردہ آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی نے کبھی کبھار دیے جانے والے احتجاجی بیانات کے ساتھ ڈرون حملوں کی حمایت کی۔ اسلام آباد کے تعاون کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ یہ پروگرام اب بھی جاری ہے۔ اس لیے کہ اس پروگرام میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کا تعاون چاہیے، جیساکہ ایک امریکی اہل کار نے تبصرہ کیا کہ تمھیں زمین پر لوگ چاہییں جو تم کو بتائیں کہ ہدف کہاں ہے اور یہ اطلاع فاٹا کے آس پاس بھاگ دوڑ کرنے والا کوئی سفیدفام نہیں دے سکتا۔(پاکستان ٹریبون، ۱۴ جولائی ۲۰۱۲ئ)
۱- امریکا کی عسکری حکمت عملی میں ڈرون حملوں کو اب ایک مرکزی اہمیت حاصل ہے اور وہ اسے اپنے اقتدار اوراثرورسوخ کو مستحکم کرنے کا مؤثر ترین حربہ سمجھتا ہے۔ اسے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہے، اور آزاد اور خودمختار مملکتوں کے درمیانی تعلقات کے اصول و ضوابط سے متصادم ہے، نیز جنگ اور دوسرے ممالک میں مداخلت کے متفق علیہ آداب کی بھی ضد ہیں، بلکہ اب تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ خود امریکا کے دستور اور قوانین میں جو اختیارات اور تحدیدات موجود ہیں، ان سے بھی ہولناک حد تک متصادم ہیں۔ اس لیے اب عالمی امن کے علَم بردار اور بین الاقوامی قانون کے ماہرین کی ایک تعداد امریکی صدر کو ’قاتل صدر‘ (Killer President) اور جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے رہی ہے۔
۲- اس نئی جنگ کے نتیجے میں دہشت گردی میں کمی کی کوئی صورت رُونما نہیں ہوئی ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں اب وہ دنیا کے طول و عرض میں پھیل رہی ہے۔ نیز ان حملوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں معصوم شہری بشمول خواتین اور بچے لقمۂ اجل بن رہے ہیں، اس سے امریکا کے خلاف نفرت کے طوفان میں بھی اضافہ ہوا ہے مگر امریکی قیادت اس سب سے بے نیاز ہوکر بدستور اپنے ایجنڈے پر عمل پیراہے۔
۳- اس مکروہ عمل میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت برابر کی شریک رہی ہے جو خود اپنے عوام اور اپنی پارلیمنٹ کو دھوکا دیتی رہی ہے، غلط بیانیوں کا کاروبار کرتی رہی ہے، اور اب اگر ڈھکے چھپے تعاون اور شراکت داری کا اعتراف کرنا پڑ رہا ہے تب بھی کہہ مکرنیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ البتہ عالمی میڈیا اور خود امریکا کے سرکاری اور نیم سرکاری بیانات نے ان کو مکمل طور پر بے نقاب کردیا ہے۔پاکستانی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ان کا بے لاگ احتساب ہو اور اس گندے کھیل کو جتنی جلد ختم کیا جاسکتا ہو اس کا اہتمام کیا جائے۔ واضح رہے کہ پاکستان کا دستور اور قانون سیاسی اورعسکری قیادت کو ملک کے مفادات کی حفاظت، اس کی آزادی اور سلامتی کو اوّلین ترجیح دینے اور دستور اور قانون کی مکمل اطاعت کا حکم دیتا ہے۔ ان سب نے اپنے اپنے مناصب کی مناسبت سے دستور سے وفاداری اور اس کی مکمل پاس داری کا حلف لیا ہوا ہے۔ دستور کی دفعہ۴ ہر شہری کو مکمل قانونی تحفظ کی ضمانت دیتی ہے تو دفعہ۵ کی رُو سے ’دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری کی واجب التعمیل ذمہ داری ہے۔اور دفعہ ۲۴۵ کی رُو سے افواجِ پاکستان کی اولیں ذمہ داری پاکستان کا دفاع ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت یہ حلف لیتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک ’’خلوصِ نیت سے پاکستان کا حامی اور وفادار ہوگا‘‘ اور ’’پاکستان کے دستور کے اور قانون کے مطابق اور ہمیشہ پاکستان کی خودمختاری، سالمیت، استحکام، یک جہتی اور خوش حالی‘‘ کے لیے خدمات انجام دے گا۔
اس عہد اور دستور کے ان واضح مطالبات کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت کا جو کردار امریکا کی اس ناجائز اور ظالمانہ جنگ میں رہا ہے وہ دستور کو مسخ (subvert) کرنے کے ذیل میں آتا ہے اور دفعہ۶ کے تحت احتساب اور کارروائی کا تقاضا کرتا ہے۔ کیا قوم، پارلیمنٹ اور عدلیہ میں دستور کے ان تقاضوں کوپورا کرانے کی ہمت ہے؟ بلاشبہہ اس ظلم و ستم کی اولیں ذمہ داری امریکا اور اس کی خارجہ سیاست پر ہے لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ ان ممالک کے حکمران اور ذمہ دار جہاں امریکا کا یہ خونیں کھیل کھیل رہے ہیں وہاں اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں ،بلکہ شاید ان کی ذمہ داری کچھ زیادہ ہی ہے کہ ان حالات میں ان کا فرض تھا کہ سامراجی قوتوں کے آگے سینہ سپر ہوجاتے، نہ کہ ان کے معاون اور مددگار کا کردار ادا کریں۔
موجودہ قیادت اور پوری انتظامیہ (establishment) قوم کی مجرم ہے اور احتساب کا عمل جتنا جلد شروع ہو وہ وقت کی ضرورت ہے، ورنہ اس نئے ایم او یو (Mou )کے بعد تو نظر آرہا ہے کہ ڈرون حملے بھی جاری رہیں گے اور ان میں اضافے کے دبائو اور معاشی اور فوجی امداد کی ترغیب و ترہیب (carrot and stick) کے ماہرانہ استعمال سے فوج کو شمالی وزیرستان کے جہنم میں بھی دھکیل دیا جائے گا اور امن اور علاقے کی سلامتی کے اصل اہداف کو پسِ پشت ڈال کر اس آگ کو مزید پھیلایا جائے گا۔ کیا کوئی یہ تضاد نہیں دیکھ سکتا کہ ایک طرف طالبان سے مذاکرات اور فوجی انخلا کی بات ہوتی ہے اور دوسری طرف جنگ کو وسعت دینے اور جو حکومت اور جس ملک کی فوجی قیادت مذاکرات کے راستے کسی مثبت تبدیلی کے امکانات روشن کرنے میں کوئی کردار ادا کرسکتی ہے، اسے دشمن بنا کر اس کردار ہی سے محروم نہیں کیا جارہا بلکہ اس کے افغان قوم کے درمیان نہ ختم ہونے والی دشمنی اور تصادم کا نقشہ استوار کیا جارہا ہے۔
۱- امریکا کی اس جنگ میںکسی نوعیت کی بھی شرکت پاکستان اور علاقے کے مفاد کے خلاف ہے اور ہمارے لیے واحد راستہ اس سے نکلنے اور خارجہ پالیسی کی تشکیلِ نو کرنے کا ہے___ اس دلدل میں مزید دھنسنا صرف اور صرف تباہی کا راستہ ہے۔
۲- امریکا اور ناٹو کے لیے بھی صحیح راہِ عمل مسئلے کے سیاسی حل کی تلاش ہے۔ جنگی حل ناکام رہا ہے اور اس کی کامیابی کے دُور دُور بھی امکانات نظر نہیں آرہے۔ اپنے وسائل اور افواج کو دوسرے ممالک اور ان کے فوجی یا سیاسی عناصر کو اس جنگ کو تیز تر کرنے کی پالیسی سب کے لیے خطرناک ہے اور ضرورت اسے بدلنے کی ہے۔ دھونس اور دھاندلی کے ذریعے دوسروں کو آگ میں دھکیلنے سے بڑی حماقت نہیں ہوسکتی۔
۳- بیرونی دبائو کی جو شکل بھی ہو، پاکستان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنے مفادات، علاقے کے مفادات اور سب سے بڑھ کر اپنی حاکمیت، آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اس جنگ سے نکلے اور اپنا الگ راستہ بنائے، افغان عوام سے اپنے تاریخی رشتے کو خلوص کے ساتھ بحال کرے، تعلقات میں جو بگاڑ اس جنگ میں شرکت کی وجہ سے آچکا ہے، اس کی اصلاح کرے اور ملک کی اپنی معیشت جس طرح تباہ ہوئی ہے، اسے ازسرِنو بحال کرنے پر توجہ صرف کرے۔ نیز علاقے کی دوسری تمام قوتوں خصوصیت سے چین، ایران، وسط ایشیائی ممالک اور عرب دنیا سے مل کر علاقے میں امن کی بحالی اور اسے بیرونی مداخلت سے پاک کرنے میں ایک مثبت اور فعال کردار ادا کرے۔
یہ سب ایک بنیادی تبدیلی (paradigm shift) کا مطالبہ کرتا ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب عوام کو تمام حقائق سے پوری طرح باخبر کیا جائے۔ تمام محب وطن قوتیں مل کر حالات کامقابلے کا نقشۂ کار تیار کریں۔ سب سے اہم یہ ہے کہ عوام کو متحرک کیا جائے اور ان کی تائید سے ایک نئے مینڈیٹ کی بنیاد پر نئی قیادت ملک کی باگ ڈور سنبھالے اور موجودہ خلفشار اور تباہ کن صورت حال سے ملک کو نکالے۔ ملک کی محب وطن سیاسی اور دینی قوتوں نے دفاعِ پاکستان کونسل کے پرچم تلے جو اہم خدمات انجام دی ہیں، اب ان کو مربوط کرنے اور ملک کو نئی سمت دینے کے لیے مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں اس حکمت عملی پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مدنی دور کے ابتدائی پُرآشوب زمانے میں اختیار فرمائی اور جس کے نمایاں پہلوئوں کو سورئہ انفال میں اُمت کی ابدی ہدایت کے لیے محفوظ کردیا گیا ہے۔ ہم قوم اور ملک کی قیادت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ غلامانہ ذہن سے نکل کر قرآن اور سیرت نبویؐ کی روشنی میں اپنے حالات کے بے لاگ جائزے اور ان حالات کے لیے قرآن کریم کے راہ نما اصولوں کے مطابق اپنی منزل اور اہداف کا تعین کرے اور ان کو حاصل کرنے کے لیے صحیح اور مؤثر حکمت عملی تیار کرے۔ اس لیے کہ یہ اُمت اپنے بعد کے اَدوار میں بھی اسی راستے کو اختیار کر کے ترقی کرسکتی ہے جو اس نے اولیں دور میں اختیار کیے تھے۔ ہمارے لیے اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔ آج سورئہ انفال میں بیان کردہ ان رہنما اصولوں کے سوا ہمارے لیے نجات کا کوئی دوسرا راستہ نہیں:
اَلَّذِیْنَ عٰھَدْتَّ مِنْھُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَھُمْ فِیْ کُلِّ مَرَّۃٍ وَّ ھُمْ لَا یَتَّقُوْنَo فَاِمَّا تَثْقَفَنَّھُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْبِھِمْ مَّنْ خَلْفَھُمْ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَo وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانْبِذْ م اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوَآئٍ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ o وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَبَقُوْا ط اِنَّھُمْ لَا یُعْجِزُوْنَo وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِھِمْ لَا تَعْلَمُوْنَھُمْ اَللّٰہُ یَعْلَمُھُمْ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ o وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُo وَ اِنْ یُّرِیْدُوْٓا اَنْ یَّخْدَعُوْکَ فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ط ھُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَo (الانفال ۸:۵۶-۶۲) پس اگر یہ لوگ تمھیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبر لوکہ ان کے بعد دوسرے جو لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں اُن کے حواس باختہ ہوجائیں۔ توقع ہے کہ بدعہدوں کے اس انجام سے وہ سبق لیں گے۔ اور اگر کبھی تمھیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو اس کے آگے پھینک دو، یقینا اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔ منکرین حق اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ بازی لے گئے ، یقینا وہ ہم کو ہرا نہیں سکتے۔
اور تم لوگ، جہاں تک تمھارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور اُن دوسرے اعدا کو خوف زدہ کردو جنھیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمھاری طرف پلٹا دیا جائے گا اور تمھارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا۔
اور اے نبیؐ! اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہوجائو اور اللہ پر بھروسا کرو، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمھارے لیے اللہ کافی ہے۔ وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمھاری تائید کی اور مومنوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیے۔
آیئے! اپنے حالات پر ان آیات کی روشنی میں غور کریں، اللہ سے مدد و استعانت اور رہنمائی طلب کریں اور اس ملک کی شکل میں جو امانت ہمارے سپرد کی گئی ہے اس کی حفاظت کے لیے کمربستہ ہوجائیں۔ زندگی اور عزت کا یہی راستہ ہے اور جس قوم نے بھی یہ راستہ خلوص، دیانت اور بھرپور تیاری سے اختیار کیا ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہوئی:
وَ الَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا(العنکبوت ۲۹:۶۹)، جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انھیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔