پروفیسر خورشید احمد


موت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ سب کے ساتھ یکساں معاملہ کرتی ہے اور بڑے اور چھوٹے، امیروغریب، عالم اور عامی، حکمران اور محکوم، سب کو برابر کردیتی ہے۔ اس حقیقت کو انگریزی محاورے death, the great leveler کے مختصر جملے میں بیان کیا گیا ہے،لیکن اس کلیے میں ایک دوسری حقیقت کو نظرانداز کردیا گیا ہے کہ موت وہ حقیقت بھی ہے جو جہاں سب کو زمین کی آغوش میں ہمیشہ کی نیند سلادیتی ہے، وہیں کچھ نفوس ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو موت ہی زندۂ جاوید بنادیتی ہے___ جن کی یاد حرزِ جاں بن جاتی ہے اور جن کے جلائے ہوئے چراغ روشنی کے مینار بن کر تاریکیوں کو مسلسل چھانٹنے اور فضا کو منور کرنے کا کام انجام دیتے ہیں، جو ہمارے درمیان سے اُٹھ کر بھی ہم سے دُور نہیں ہوتے    ؎

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آتے ہیں مرنے کے لیے

۲۷ فروری ۲۰۱۱ء کو عالمِ اسلام کی ایک ایسی ہی تاریخ ساز شخصیت اور ترکی میں اسلامی احیا کی جدید انقلابی تحریک کا میر کارواں پروفیسر نجم الدین اربکان بظاہر ہم سے رخصت ہوگیا، لیکن ترکی ہی نہیں، عالمِ اسلام میں روشنی کے ایسے چراغ جلا گیا جو تاریخ کی تاریک راہوں کو مدتوں منور رکھیں گے! ___ ان شاء اللہ تعالیٰ!

  •  نظریاتی کش مکش: ۲۰ویں صدی میں ترکی کی تاریخ پر اپنے اَنمٹ نقوش چھوڑنے والوں میں چار شخصیات نمایاں ہیں: سلطان عبدالحمید ثانی جو دولتِ عثمانیہ کا آخری چراغ تھا اور اپنی ۳۳سالہ جدوجہد (۱۸۷۶ء-۱۹۰۹ء) کے باوجود چھے صدیوں پر پھیلی ہوئی اس عالمی اسلامی قوت کو اندرونی انتشار اور بیرونی یلغار سے نہ بچا سکا۔ پھر ترکی کے اُفق پر مصطفی کمال پاشا نمودار ہوا جس نے اپنی جدوجہد کا آغاز تو اسلام کے اس آخری حصار کو بچانے اور یورپ کی استعماری قوتوں کی فوج کشی کا مقابلہ کرنے سے کیا اور عالمِ اسلام نے اسے ایک نجات دہندہ سمجھ کر غازی اور اتاترک کا خطاب دیا، لیکن فوجی محاذ پر یورپی اقوام کے دانت کھٹے کرنے اور ترک قوم  اور اناطولیہ کی سرزمین کو استعمار کی گرفت سے بچالینے کے بعد مغربی تہذیب و تمدن اور مغرب کے اندازِ سیاست کا ایسا اسیر بنا کہ دین اور سیاست کے رشتے کو پارہ پارہ کردیا۔ ترک قومیت کو اسلامی شناخت پر غالب کرنے کی کوشش کی۔ ۱۹۲۳ء میں ترک ری پبلک کے قیام کا اعلان کیا اور ۱۹۲۴ء میں خلافت کی قبا کو بھی تارتار کردیا، اور پھر ۱۹۲۷ء میں ترکی کو ایک لادینی ریاست بنانے اور مذہب کو اجتماعی زندگی کے ہر شعبے سے خارج کرنے، حتیٰ کہ قرآن پاک اور اذان کو بھی ترکی زبان کے سانچے میں ڈھالنے کی جسارت کی۔ عربی رسم الخط کو خلافِ قانون قرار دیا اور مغربی قوانین، علوم و افکار اور معیشت، سیاست، تعلیم، ادب اور معاشرت کے ہرمیدان میں مغرب کی نقالی کا راستہ اختیار کیا۔ جمہوریت کا لبادہ ضرور اوڑھا مگر فی الحقیقت ایک پارٹی اور ایک شخص کی آمریت قائم کی اور یہ سلسلہ ۱۹۳۸ء تک جاری رہا۔

مصطفی کمال کے انتقال کے بعد بھی نظامِ زندگی انھی خطوط پر چلتا رہا، البتہ دوسری    جنگ ِعظیم کے بعد عوام کو کچھ جمہوری آزادیاں ملیں۔ سیاست میں اتاترک کی ری پبلکن پارٹی ہی کے بطن سے ڈیموکریٹک پارٹی نے جنم لیا اور عدنان میندریس کی قیادت میں دو پارٹی نظام اور دستوری حکومت کا ایک گونہ آغاز ہوا جس کے نتیجے میں عوام کو اپنے دینی اور تہذیبی جذبات کے اظہار کا کچھ موقع ملا۔ دینی شعائر پر جو پابندیاں تھیں وہ کم ہوئیں، اذان عربی زبان میں بحال ہوئی، قرآن اور دینی کتب سے رجوع بڑھا، دینی مدارس کا احیا امام خطیب اسکول کی شکل میں ہوا، اور اس طرح ترکی نے اپنی اصل شناخت کی طرف مراجعت کے سفرِ نوکا آغاز کیا۔ سیکولرنظام میں دراڑیں پڑنے لگیں اور اسے ’خطرے کی گھنٹی‘ سمجھتے ہوئے ملک کی سیکولر قوتوں نے، جن کے چار ستون فوج، بیوروکریسی، عدالت اور میڈیا تھے، مغربی اقوام کی مدد سے ترکی کی خود اپنی دینی اور تہذیبی شناخت کے خلاف ایک نئی کش مکش اور تصادم کو فروغ دیا جس نے قوم کی صلاحیتوں کو بڑا نقصان پہنچایا۔ عدنان میندریس کو پھانسی دی گئی اور ۱۹۶۰ء سے فوجی انقلابات کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا جس کا آخری مظہر فروری ۱۹۹۷ء کی فوجی مداخلت تھی۔

۲۴-۱۹۲۳ء سے ۱۹۹۷ء تک کے نظریاتی کش مکش کے اس دور میں عدنان میندریس کے چندسالہ شعلے کے علاوہ جن دو شخصیات نے تاریخ کے رُخ کو موڑنے کا کام کیا ان میں سب سے نمایاں بدیع الزماں سعید نورسی (۱۸۷۶ء-۱۹۶۰ء) اور نجم الدین اربکان (۱۹۲۶ء- ۲۰۱۱ء) ہیں۔ سعید نورسی نے شروع میں اتاترک کا ساتھ دیا لیکن جب اس نے سیکولرزم اور مغرب کی تقلید کا راستہ اختیار کیا، قومیت کے سیکولر تصور کو قوت کے ذریعے مسلط کرنے کی کوشش کی، اور اسلام کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کرنے کا ایجنڈا شروع کیا، تو سعید نورسی نے اسے چیلنج کیا اور قیدوبند کی صعوبتیں جھیلیں لیکن اسلام کی بنیادی دعوت اور پیغام کو زندہ رکھا اور تصوف کے سلسلۂ نقشبندی کے فروغ، دینی مدارس کے قیام اور اپنے خطوط اور تحریروں کے ذریعے اسلام کی شمع کو روشن اور     عام آبادی کو دین سے وابستہ رکھنے کی خدمت انجام دی۔

  •  اربکان کا مشن:نجم الدین اربکان نے ان دعوتی اور روحانی کوششوں کو اپنے انداز میں مضبوط اور مستحکم کرنے کے ساتھ دین کے اجتماعی زندگی میں کردار کے احیا کو اپنا مشن بنایا، اور نہایت مشکل حالات میں بڑی حکمت و دانش مندی اور صبرواستقامت کے ساتھ ترکی کو اس کی دینی اور تہذیبی شناخت کے احیا اور اُمت مسلمہ سے ایک بار پھر جڑ کر طاقت کی نئی قوت کے حصول کے راستے پر ڈالا۔ اس کے ساتھ انھوں نے ترکی کو مغرب کی سیاسی، معاشی اور تہذیبی غلامی سے نکال کر خودانحصاری اور ملّت اسلامیہ سے دوبارہ جڑنے اور مربوط ہونے کے نئے تاریخی سفر کا آغاز کیا۔

علامہ اقبال نے مصطفی کمال پاشا کے لادینی نظام کے تجربے کے بارے میں جو گِلہ کیا تھا، نجم الدین اربکان نے اپنی ۴۰سالہ جدوجہد سے تاریخ کے رُخ کو موڑنے کا انقلابی کارنامہ انجام دیا۔ اقبال نے ترکی کے انقلابِ معکوس کے بارے میں کہا تھا    ؎

نہ مصطفی نہ رضا شاہ میں نمود اس کی
کہ روحِ شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی

اور یہ کہ    ؎

لادینی و لاطینی ، کس پیچ میں اُلجھا تو
دارو ہے ضعیفوں کا ، لا غَالِبَ اِلاَّ ھُوَ

اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو روحِ شرق کو ایک بار پھر جسدِ ترکی میں بیدار کرنے کی سعادت بخشی، وہ پروفیسر نجم الدین اربکان ہیں۔

نجم الدین اربکان ۲۹ ؍اکتوبر ۱۹۲۶ء کو بحراسود کے ساحل پر واقع ایک پُرفضا شہر سینوپ (Sinop) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محمد صابری دولت عثمانیہ میں جج کے عہدے پر فائز تھے۔ ابتدائی تعلیم طرابزون(Trabzon) میں اور ہائی اسکول کی تعلیم استنبول کے جدید طرز کے مدرسے Istanbul Lisrei میں ہوئی۔ پھر استنبول ٹیکنیکل یونی ورسٹی میں میکنیکل انجینیرنگ میں امتیاز کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کی جس کی تکمیل جرمنی کی RWTH Aachen University میں ہوئی جہاں سے انھوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ نیز عملی تجربہ حاصل کرنے کے لیے جرمنی کی  ایک بڑی موٹر کمپنی Humbolt Dentzمیں کئی سال کام کیا اور اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔ ڈیزل انجن ڈیزائن کے میدان میں نئی دریافت سامنے لائے، اور اُس ٹیم کے چیف انجینیر کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دیں جس نے جرمنی کے مشہور Leopard IA Tankکو ڈیزائن کیا۔ اس  اعلیٰ تعلیمی اور تجرباتی ریکارڈ کے ساتھ ترکی واپس آکر استنبول ٹیکنیکل یونی ورسٹی میں ۱۹۵۳ء سے ۱۹۶۵ء تک تدریس کے فرائض انجام دیے اور پروفیسر کے درجے پر مامور رہے۔ اس زمانے میں ترکی میں موٹر انڈسٹری کے فروغ کے لیے بھی سرگرم رہے، اہم صنعتی اداروں میں بحیثیت مشیر کام کیا اور بالآخر ترکی کی صنعت و تجارت کے اعلیٰ ترین ادارے یونین آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے جنرل سیکرٹری اور ڈائرکٹر جنرل کی ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ اس زمانے میں انھیں ملک کے بااثر معاشی اداروں سے قریبی تعلقات استوار کرنے کا موقع ملا اور ان کے بڑھتے ہوئے اثرونفوذ سے خائف ہوکر ان کے ایک سابق کلاس فیلو اور برسرِاقتدار حکمران سلیمان ڈیمرل نے چیمبر سے ان کو فارغ کر دیا۔ یہی وہ موڑ تھا جب نجم الدین اربکان نے عملی سیاست میں شرکت کا فیصلہ کیا۔

  •  ملّی گورش کا قیام: ۱۹۶۹ء میں انھوں نے دو بڑے اہم فیصلے کیے۔  اسلام کو سمجھنے اور اس کی روشنی میں فرد اور معاشرے کی تشکیلِ نو کے لیے نوجوانوں کی ایک منظم تحریک کا قیام جسے ’ملّی گورش‘ کا نام دیا گیا۔ اس موقع پر اسی نام سے اربکان نے اپنی پہلی تحریر قوم کے سامنے پیش کی جو ان کا منشور بن گئی۔ ترکی کی اسلامی تحریک کا منبع اور محور نوجوانوں کی یہی تنظیم ہے۔ چونکہ ترکی قانون کی رُو سے اسلام کا نام استعمال نہیں ہوسکتا، اس لیے اربکان نے ملّت کی اصلاح کو اپنے سارے اجتماعی اور دعوتی کام اور نظامِ حق کو اپنے فکری کام کا ذریعہ بنایا ہے۔ ملّی گورش اس وقت ترکی کے جوانوں کی اہم ترین تنظیم ہے جس کا سارا زور فکری بنیادوں کو مستحکم کرنے اور اخلاقی، روحانی اور اجتماعی تربیت کے اہتمام اور نوجوانوں میں دعوت اور روحِ جہاد کو منظم انداز میں ترقی دینے پر ہے۔ اس سلسلے میں ملّی گورش نہ صرف ترکی کے طول و عرض میں بلکہ جرمنی اور دیگر ایسے  تمام ممالک میں بھی (جہاں جہاں ترک موجود ہیں) نوجوانوں کی سرگرمیوں کو منظم کرتی ہے۔ مزیدبرآں استنبول کے اسلامی قلمرو میں آنے کی مناسبت سے ہر سال ۲۹مئی کو ’یومِ فاتح‘ کے عنوان سے ایک سالانہ تقریب کا اہتمام کرتی ہے جس میں ترکی سے لاکھوں افراد شریک ہوتے ہیں اور عالمِ اسلام سے بھی اہم اسلامی شخصیات اس میں شرکت کرتی ہیں۔ محترم قاضی حسین احمد اور مجھے اس میں کئی بار شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ ان تاریخی اجتماعات میں پورا اسٹیڈیم لوگوں سے بھرا ہوا ہوتا تھا، اربکان اپنے خاص مہمانوں کے ساتھ پورے اسٹیڈیم کا چکر لگاتے اور ان کا استقبال ’مجاہد اربکان‘ کے فلک شگاف نعروں سے ہوتا تھا۔ اربکان نے اس کے ساتھ خدمتِ خلق کے دو اہم ادارے قائم کیے: جان سویو اور آئی ایچ ایچ، جن کے ذریعے ترکی اور پوری دنیا میں خدمت خلق کا ایک عالمی نیٹ ورک قائم کیا۔
  •  نظریاتی سیاست اور جدوجھد: اربکان نے ترکی پارلیمنٹ کے ۱۲؍اکتوبر ۱۹۶۹ء کے انتخابات میں بطور آزاد رکن حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ یہاں سے اسلام کی بنیاد پر نظریاتی سیاست اور اجتماعی تبدیلی کی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ ایک سال پارلیمنٹ میں اپنا لوہا منوانے کے بعد ’ملّی نظام پارٹی‘ کے نام سے پہلی نظریاتی پارٹی قائم کی، جس کے وہ سربراہ تھے۔ اس کے قیام کے ساتھ ہی سیکولر نظام اقتدار اور مغربی اقوام میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ فوج حرکت میں آگئی۔ ملّی نظام پارٹی کو خلافِ قانون قرار دے دیا گیا لیکن نجم الدین اربکان نے سیکولرزم کے ہروار کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ چار بار ان کی جماعت کو خلافِ قانون قرار دیا گیا اور ہر بار وہ     نئے روپ میں اور زیادہ طاقت ور حیثیت سے نمودار ہوئے۔ ایک موقع پر جمہوریت کے مسلّمہ اصولِ جماعت سازی کے حق کی بنیاد پر ترکی کے عدالتی نظام کا پول کھولنے کے بعد جمہوریت کی  علَم بردار یورپین عدالت میں بھی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مقدمہ لڑا ۔ اس طرح ساری دنیا کے سامنے اس کا دوغلاپن الم نشرح کر دیا کہ جمہوری یورپ کو اسلام کے نام کے بغیر بھی اسلامی شناخت کو اُجاگر کرنے والی سیاسی جماعت پر پابندی میں کوئی چیز جمہوریت اور انسانی اور سیاسی حقوق کے خلاف نظر نہیں آتی، اور اس نے بھی پوری ڈھٹائی سے ترکی کی عدالت کے فیصلے کی توثیق کردی۔ اربکان نے ملّی نظام پارٹی کے بعد نام بدل بدل کر یکے بعد دیگرے ملّی سلامت پارٹی، رفاہ پارٹی، سعادت پارٹی اور فضیلت پارٹی کے نام سے سیکولر قوتوں اور فوجی قیادت کے ہر وار کے بعد نئی جماعت قائم کی، اور اس طرح مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے ترکی کی سیاسی فضا کو بدل کر رکھ دیا۔ ان کا حال یہ رہا کہ    ؎

جہاں میں اہلِ ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے

اللہ اپنے جس بندے سے جو کام لینا چاہتا ہے ، لے لیتا ہے۔ نجم الدین اربکان ترکی کی تاریخ کا رُخ ایک بار پھر اسلام اور اُمت مسلمہ کی طرف موڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔     وہ ۱۹۷۰ء سے ۱۹۹۷ء تک (ماسوا اُن ادوار کے، جب وہ قید میں تھے یا ان پر سیاست میں   شرکت کرنے پر پابندی تھی) پارلیمنٹ کے رکن اور ایک اہم سیاسی پارٹی کے قائد رہے۔ دو بار نائب وزیراعظم اور ایک بار وزیراعظم رہے۔ آخری ۱۰، ۱۲ سال ان پر بہت سخت گزرے لیکن وہ ہمت ہارنے والوں میں سے نہ تھے۔ مخالفین کے وار تو وہ ہمیشہ سہتے ہی رہے لیکن اس دور میں ان کو اپنوں سے بھی دُکھ پہنچے۔ اس کے باوجود ان کے پاے استقامت میں لغزش نہیں آئی۔ اکیسویں صدی میں ترکی کے کردار پر جس شخص کا سب سے نمایاں اثر ہے، اور رہے گا وہ نجم الدین اربکان ہیں۔ ان کی بعض آرا یا اقدام کے بارے میں دو رائیں ہوسکتی ہیں لیکن ان کے تاریخ ساز کارناموں کا اعتراف دوست اور دشمن سبھی کر رہے ہیں اور مستقبل کا مؤرخ یہ لکھنے پر مجبور ہوگا کہ اربکان کی ۴۰سالہ نظریاتی، اخلاقی اور سیاسی جدوجہد نے ترکی کے سیاسی اور تہذیبی سفر کے رُخ کو تبدیل کر دیا ہے۔

نجم الدین اربکان سے میرے تعلقات کی داستان بھی نصف صدی پر پھیلی ہوئی ہے۔ ہماری پہلی ملاقات کراچی میں اس وقت ہوئی جب ۱۹۶۷ء میں وہ ترکی کے چیمبر آف کامرس   اینڈ انڈسٹری کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے ہوئے تھے۔  وہ بڑے اشتیاق سے اسلامک ریسرچ اکیڈمی کے دفتر، واقع ناظم آباد میں تشریف لائے۔ پھر ہماری ملاقاتیں اسلامک کونسل آف یورپ کے اجتماعات میں بڑی باقاعدگی اور تسلسل سے ہوتی رہیں۔ میں نے ۱۹۶۶ء سے ۲۰۰۷ء تک ۱۰، ۱۵ مرتبہ ترکی کا دورہ کیا اور ہربار ان سے ملنے کا موقع ملا، حتیٰ کہ جب وہ نظربند تھے اس وقت بھی مجھے ان سے ملنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ۱۹۹۰ء کی جنگِ خلیج کے موقع پر ،عالمی تحریکات کے وفد میں وہ ہمارے ساتھ تھے۔ اس وفد میں شامل محترم قاضی حسین احمد، ڈاکٹر حسن ترابی، راشد الغنوشی اور دنیا کی اسلامی تحریکات کے ۱۵قائدین نے اُردن، عراق، سعودی عرب اور ایران کا دورہ کیا تھا، تاکہ عرب دنیا کو اس تباہ کن جنگ سے بچایا جاسکے جس کے بادل منڈلا رہے تھے اور جو استعماری ایجنڈے کا اہم حصہ تھی۔ اربکان صاحب نے جماعت اسلامی کی دعوت پر پاکستان کا دورہ بھی کیا۔ میری آخری ملاقات ان سے ۲۰۰۷ء میں ہوئی جب انھی کی دعوت پر ان کی رہنمائی میں کام کرنے والے تحقیقی ادارے Essam کی سالانہ کانفرنس میں مَیں نے کلیدی خطاب کی خدمت انجام دی تھی۔

پروفیسر نجم الدین اربکان کے بارے میں اپنے ذاتی تجربے، اور حالات کے بہ چشم سر مطالعہ کرنے کے بعد جو چند باتیں میں اس موقع پر کہنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہیں:

  •  مغرب کی تھذیبی غلامی سے نجات: سب سے اہم چیز پروفیسر نجم الدین اربکان کا وژن ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ وہ ایک نابغۂ روزگار شخصیت تھے۔ انھیں اچھے خاندان، اچھی تعلیم و تربیت اور اچھے ابتدائی تجربات کی نعمت حاصل تھی لیکن سب سے اہم چیز ان کا یہ احساس تھا کہ وقت کی سب سے اہم ضرورت ترکی اور عالمِ اسلام کو مغرب کی تہذیبی غلامی سے نکال کر ایک بار پھر اسلام کی شاہراہ پر گامزن کرنا ہے، اور یہ کام اجتہادی بصیرت کے ساتھ ان حالات کے پورے ادراک کے ساتھ انجام دینا ہے جن میں اس وقت ترکی اور پورا عالمِ اسلام گھِرا ہوا ہے۔

ان کی زندگی کا پہلا دور اپنی اور اپنے ساتھیوں کی تیاری کا تھا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ وہ دین کا علم بھی رکھتے تھے۔ روحانی اور اخلاقی اعتبار سے انھوں نے اپنے کو اس طرح تیار کرلیا تھا کہ مستقبل کے چیلنج کا مقابلہ کرسکتے تھے، جیساکہ اقبال نے کہا تھا    ؎

ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے

نقشبندی سلسلے سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ عبادات میں شغف اور تواضع اور خدمت ان کی شخصیت کے دل رُبا پہلو تھے۔ بلاشبہہ انھیں اپنی راے پر بہت بھروسا ہوتا تھا لیکن خوش اخلاقی اور دوسروں کے ساتھ شفقت ان کے کردار کے نمایاں پہلو تھے۔ ان کے فکری کام کا ترکی سے باہر کے علمی حلقوں کو اندازہ نہیں لیکن اس میدان میں بھی ان کی اپنی خدمات کسی سے کم نہیں۔ خود ایک درجن کتابوں کے مصنف تھے اور درجنوں افراد کو تحقیق اور علمی کاموں پر لگانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ میکنیکل انجینیرنگ کے فطری اور عملی دونوں پہلوئوں پر ان کو مکمل عبور تھا، اور بات گہری سوچ اور  عملی تجربات کی روشنی میں کرتے تھے۔

  •  سیکولر نظام میں تبدیلی کی حکمت عملی: ان کا ایک اور بڑا کارنامہ ایک استبدادی سیکولر نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے تبدیلی کی راہیں استوار کرنا ہے۔ انھوں نے تبدیلی کے لیے فکری، دعوتی، اخلاقی اور جمہوری راستہ اختیار کیا۔ چونکہ اسلام کے نام پر کام مشکل تھا، اس لیے انھوں نے ایک طرف تو ممکنہ حد تک اسلامی علوم اور افکار کی اشاعت کا اہتمام کیا، اور دوسری طرف دعوتِ اسلامی کو دو نئی اصطلاحات اور عنوانات ’ملّت‘ اور ’حق‘ کے تحت اسلام ہی کی خالص دعوت کو پیش کیا۔ اس طرح ان زنجیروں کو کاٹ دیا جو سیکولر قوانین نے ترک قوم کو پہنا دی تھی۔

انھوں نے سیاسی اور نظریاتی تنظیم کا بھی ایک نیا اسلوب اختیار کیا۔ ملّی گورش کو ایک فکری، نظریاتی اور تہذیبی تحریک کے طور پر منظم اور متحرک کیا۔ خدمت کے میدان میں الگ ادارے بنائے، اور خود سیاسی جماعت کے تصور کو بدل کر رکھ دیا جس میں نظریاتی سیاست اور عوامی خدمت اور فلاح کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ طاقت ور اور مفاد پرست طبقوں کے طلسم کو عوامی رابطے،   خدمتِ خلق اور معاشرے اور معیشت کی نئی اُبھرتی ہوئی قوتوں کو منظم کرنے اور اپنی جدوجہد میں  اپنا دست و بازو بناکر توڑا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں تنظیم کی بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا، اور انھوں نے ان کا بھرپور استعمال کیا۔ روایت پرستی کی جگہ جدت اور سیاست کو ایک نیا آہنگ دیا جس میں عوامی مسائل کو مرکزیت دی گئی۔ مقامی حکومتوں (لوکل باڈیز) کو انھوں نے اپنی سیاسی قوت کی بنیاد بنایا۔ انقرہ اور اِزمیر کے روایتی مراکزِ قوت (power-centres) کے مقابلے میں استنبول جیسے بڑے شہر اور پھر ملک بھر کے شہروں اور قصبات میں اپنی تنظیم کے تنظیمی ڈھانچے قائم کیے۔ بورسا کا تاریخی علاقہ ان کی قوت کا بڑا مرکز بن گیا۔ ۱۹۶۹ء میں صرف ایک نشست پارلیمنٹ میں لینے والے مجاہد نے ۱۹۷۳ء میں ملک کے کُل ووٹوں کا ۱۲ فی صد حاصل کر کے اسمبلی میں ۴۸ نشستیں حاصل کیں۔ ۱۹۸۵ء میں ووٹوں کی تائید گر کر ۷ فی صد رہ گئی لیکن پھر ۱۹۹۵ء میں ۲۱ فی صد ووٹوں کی بنیاد پر اتنی نمایندگی پارلیمنٹ میں حاصل کرلی کہ ایک دوسری جماعت سے اشتراک کی بنیاد پر وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوسکے۔ آج کی جسٹس اینڈ ڈائیلاگ پارٹی خواہ ان سے جدا ہوچکی ہے مگر جو کچھ اس نے حاصل کیا ہے، وہ اُسی درخت کا پھل ہے جو پروفیسر نجم الدین اربکان نے لگایا تھا۔

بلاتمثیل یورپ کی تاریخ کا ایک دور ذہن کے اُفق پر اُبھر رہا ہے جس میں کارل مارکس نے اشتراکیت کا فلسفہ بڑی قوت کے ساتھ پیش کیا اور سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا۔  عالمی کمیونسٹ تحریک کا بانی بنا اور عالمی انقلاب کی پیش گوئیاں کیں لیکن ۳۰سال کی جدوجہد کے بعد اس کی تحریک ایک فکری لنگر کی طرح تو موجود رہی مگر یورپ کی سیاست میں ارتعاش پیدا نہ کرسکا۔ البتہ اس کی خواہش کے علی الرغم خود اس کی ہی فکر کے بطن سے جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی وجود میں آئی، اور مغربی یورپ میں سوشل ڈیموکریسی کی سیاسی لہر اُبھرتی چلی گئی جس نے مارکس کے افکار سے اپنا رشتہ تو باقی رکھا مگر تبدیلی کے لیے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ مارکس نے اس سے براء.ت کا اظہار کیا اور اپنی آخری تحریر Critique of the Gotha Programme (1883)  میں اس پر کڑی تنقید کی، البتہ سوشل ڈیموکریٹس کا ردعمل کچھ یوں تھا    ؎

اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
کیا اسیری تھی، کیا رہائی ہے

ترکی کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں میں بھی وہی تمام خصوصیات تھیں جو خصوصیت سے ترقی پذیر ممالک کی سیاست کی پہچان بن گئی ہیں، یعنی بااثر طبقات کا تسلط، میڈیا، فوج اور بیورکریسی کا کلیدی کردار، مغربی اقوام کی کاسہ لیسی اور ان ملکی اشرافیہ اور مغربی حکمرانوں کا گٹھ جوڑ، نیز عوام کا استعمال اور استحصال۔ نجم الدین اربکان نے متوسط طبقات کو زبان اور سیاسی کردار دیا۔  یہ انھی کی سوچ اور مساعی کا حاصل ہے کہ متوسط اور چھوٹے تاجر اور زراعت سے متعلق افراد متحرک ہوئے اور سیاسی مرکزی دھارے میں آگئے۔ ان کی تاریخی خدمات میں دینی شناخت کو ترکی قوم کی شناخت کی حیثیت سے اُبھارنا اور مغرب سے اچھے تعلقات کو نظرانداز نہ کرتے ہوئے بھی شعوری طور پر علاقائی ممالک اور عرب اور اسلامی دنیا سے تعلقات کو استوار کرنا اور اجتماعی مفادات کے نئے رشتوں کو استوار کرنا، سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید اور مغرب کی معاشی اور سیاسی بالادستی کے چنگل سے نکلنے کی راہیں تلاش کرنا نمایاں ہیں۔ قومی مفاد پر کسی سمجھوتے کو راہ نہ پانے دینا، عوام سے رابطہ اور ان کی حکومت کو سیاسی جدوجہد کا حصہ بنانا، اور اس کے ساتھ اسلام کو زندگی کی صورت گری کرنے والی ایک قوت کی حیثیت سے پیش کرنا، اور یہ بتانا کہ جس طرح نماز اور روزہ اسلامی زندگی کا لازمی حصہ ہیں اسی طرح اجتماعی عدل، سماجی تعلقات اور کرپشن سے پاک سیاست بھی اسلام کا تقاضا ہے۔ سود ایک لعنت ہے، اس سے نجات اخلاقی ہی نہیں ایک معاشی ضرورت بھی ہے۔ مغربی سامراج اور صہیونی ایجنڈے کا مقابلہ کرنا بھی سیاسی جدوجہد کا اہم حصہ ہے___ یہ سب باتیں وہ ہیں جو ترکی کی سیاسی قیادت بھول چکی تھی اور قوم کا ایجنڈا مغربی تصورات اور مفادات کی روشنی میں بنایا جا رہا تھا۔ یہ اربکان ہی کی کوششوں کا ثمرہ ہے کہ سیاست کا انداز اور قوم کا ایجنڈا تبدیل ہوگیا ہے۔ گو، اب بھی مخالف قوتیں بڑی مضبوط اور شکست ماننے کو تیار نہیں، لیکن رنگِ محفل بدل گیا ہے۔

نجم الدین اربکان کا یہ بھی ایک کارنامہ ہے جس کا باہر کی دنیا میں لوگوں کو پوری طرح شعور نہیں ہے کہ تین میدانوں میں انھوں نے اپنی قوم کی ایسی خدمت انجام دی ہے جسے کبھی بھلایا نہیں جاسکتا:

  •  سیاست کا نیا آھنگ: سیاست کو مفادات کی سیاست سے کاٹ کر قوم کے عزائم کے مطابق ڈھالنے اور اسے اصولی اور معاشی و معاشرتی موضوعات کے گرد سرگرم کرنا، ان کا نمایاں کارنامہ ہے۔ فوج سے ٹکر لیے بغیر، اور فوج کی تمام دراندازیوں اور زیادتیوں کے باوجود، اور اس کی حقیقی دفاعی قوت کو کم کیے بغیر، سیاست میں اس کی مداخلت کے دروازے بند کرنے کی بڑی حکمت سے کوشش کی۔ جب حالات زیادہ خراب ہوتے دیکھے تو تصادم اور غیر جمہوری حربوں کے استعمال کو سختی سے روکا اور جمہوی اور سیاسی ذرائع ہی کے ذریعے نئی نئی راہیں تلاش کیں، اور وہ کردکھایا جس کی طرف مولانا مودودیؒ نے ۱۹۶۳ء کے جماعت اسلامی کے اجتماع عام کے موقع پر توجہ دلائی تھی: ’’جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت اور صبر دونوں سے نوازا ہو، وہ جوے رواں کی طرح ہوتا ہے جس کی منزل کوئی چیز بھی کھوٹی نہیں کرسکتی۔ چٹانیں منہ دیکھتی رہ جاتی ہیں اور دریا کسی اور طرف سے اپنی منزل کی طرف بہہ نکلتا ہے‘‘۔ (رودادِ جماعت اسلامی، ہشتم، ص ۵۵)

سیاست کے آہنگ کو بدلنا کوئی معمولی کارنامہ نہ تھا۔ ان کے مخالف بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ ترکی اب وہ نہیں رہا جو اربکان کے سیاست میں آنے سے پہلے تھا۔ امریکا کے بااثر علمی مجلے  فارن پالیسی نے اربکان کے انتقال پر جو نوٹ لکھا ہے اس میں اپنی تمام اگرمگر کے باوجود وہ   یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوا ہے کہ:

ترکی اربکان کے سیاسی ورثے کی وجہ سے اور اس کے باوجود ڈرامائی طور پر     تبدیل ہوچکا ہے۔ بلاشبہہ ترکی کی موجودہ سیاسی کیفیت، اربکان نے ترکی کے سیاسی نظام میں جو کچھ کیا، اس کا بلاواسطہ یا بہت سی صورتوں میں غیرارادی نتیجہ ہے۔  (فارن پالیسی آن لائن، یکم مارچ ۲۰۱۱ء)

اسی مضمون میں آگے چل کر اعتراف کیا گیا ہے:

آج ترکی جو کچھ ہے اس (اربکان) کے بغیر ہونا ممکن نہ تھا۔ ترکی اس کے چھوڑے ہوئے ورثوں کی وجہ سے زیادہ جمہوری اور زیادہ منقسم ہے۔ انھوں نے عوامی ضروریات کو اپیل کرنے اور سماجی تعاون کے حصول کے لیے جو کچھ سکھایا، ترکی کے قائدین اس کے لیے ان کے احسان مند ہیں۔ سیاسی شراکت اور مخالفوں کے ساتھ اشتراکِ عمل کے ان کے طے شدہ طرز نے بھی ان اُمیدوں کو قائم کیا کہ ترکی کے سیاسی نظام میں اسلام کو تعمیری کردار ادا کرنا ہے۔ (ایضاً)

اور اکانومسٹ، لندن یہ لکھنے پر مجبور ہوا ہے کہ:

ان کے سیکولر دشمن ان کو ایک خطرناک مذہبی انقلابی قرار دیتے ہیں، جب کہ انھیں  ترکی کے اسلام پسندوں کے لیے ایک معتدل قوت کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے۔   عرب دنیا ترکی کو ایک ممکنہ ماڈل کے طور پر دیکھتی ہے۔ اربکان کے ورثے کو اب اہمیت حاصل ہے۔ (دی اکانومسٹ، ۳ مارچ ۲۰۱۱ء)

ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ وہی فوج جس نے ہر بار اربکان کا راستہ روکا اور انھیں قید اور نااہلی کی صعوبتوں سے دوچار کیا، اس کا سربراہ جنرل ایسک کوسانور (Isik Kosaner) ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے الفاظ میں: ’’انھوں نے ہمارے ملک کے لیے سائنس اور سیاست کے میدان میں ایک قیمتی انسان کی طرح عظیم خدمات انجام دیں‘‘۔ (یکم مارچ ۲۰۱۱ء)

کسی نے سچ کہا___ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے!

  •  قبرص میں فوجی مداخلت پر مزاحمت: اربکان کے ایک اور کارنامے کا اعتراف کھلے طور پر نہیں کیا جا رہا۔ ۱۹۷۴ء میں وہ نائب وزیراعظم اور بلند ایجوت وزیراعظم تھے۔ یونان کی فوجی مداخلت کے ذریعے قبرص میں فوجی انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اربکان  ترکی کی طرف سے فوجی کارروائی کے حق میں تھے مگر ایجوت فوج بھیجنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔ جب اربکان نے کابینہ میں اور کابینہ سے باہر بھی، قبرص پر فوج کشی نہ کرنے کی صورت میں حکومت چھوڑنے کی دھمکی دی، تب ترک فوج کو قبرص کے ترک مسلمانوں کی حفاظت کے لیے بھیجنے کا اقدام ہوا۔ اس طرح اربکان کے تدبر و جرأت اور بروقت اقدام کے نتیجے میں قبرص یونانی کالونی بننے سے بچ گیا، اور ترک قبرص وجود میں آیا۔
  •  معاشی خودانحصاری: اربکان کا تیسرا بڑا کارنامہ ترکی کو یورپ کی معیشت کی گرفت سے نکال کر خودانحصاری کے راستے پر ڈالنا ہے۔ ۱۹۷۰ء کے عشرے میں جب پانچ چھے سال وہ نائب وزیراعظم رہے، اس زمانے کا ایک عظیم کارنامہ ترکی میں ہیوی انڈسٹری کا قیام اور استحکام ہے۔ نیز ترکی میں انقرہ اور اِزمیر کے سرمایہ داروں کا جو تسلط تھا، اس کو توڑنے اور ترکی کے دوسرے علاقوں کے اُبھرتے ہوئے تجارتی اور نئے گروپوں کو معیشت کے مرکزی دھارے میں لانا ہے۔ یہ اسی معاشی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ آج ترکی معاشی اعتبار سے اپنے پائوں پر کھڑا ہورہا ہے۔

ترکی میں اسلامی نظامِ بنکاری کو رائج کرنے میں بھی اربکان کا بڑا کردار ہے۔ یہ انھی کا دیا ہوا ماڈل تھا جس کے نتیجے میں سیکولر ملک ہوتے ہوئے بھی بلاسود بنکاری کو قانونی تحفظ اور مواقع حاصل ہوئے۔ ترکی کا افراطِ زر جو ایک زمانے میں ۷۰۰ اور ۸۰۰ فی صد سالانہ تھا، اب ۵ اور ۶ فی صد کے دائرے میں آگیا ہے۔ قرضوں کا بار اب بھی کافی ہے مگر اب معاشی پالیسی بیرونی احکام اور مطالبات کی روشنی میں نہیں، بڑی حد تک ملک کے اپنے حالات اور ترجیحات کے مطابق ترتیب پاتی ہے۔ معاشی زندگی اور جدوجہد کا رُخ بدل گیا ہے اور ان تمام تبدیلیوں میں ترکی قوم کی مساعی کے ساتھ ان کو صحیح رُخ کی طرف رہنمائی کرنے والے اربکان کے افکار اور سیاسی اور معاشی پالیسی کے میدان میں کردار کا بڑا دخل ہے۔ ترکی ان ۵۰سال میں تبدیلی کے راستے پر گامزن ہوگیا ہے۔ اربکان نے D-8 ، یعنی ترقی پذیر آٹھ ملکوں کے اتحاد کا جو خواب دیکھا تھا اور جس کے لیے     عملی اقدام کا آغاز کر دیا تھا۔ خدا کرے ترکی اس سلسلے میں خود آگے بڑھے اور عالمِ اسلام اور خود ترکی کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کمربستہ ہوجائے، جن کی اربکان نے نشان دہی کی تھی۔ ۲۰۰۷ء میں، آخری ملاقات کے موقع پر D-8 کے منصوبے پر مشتمل کتاب مجھے اپنے دستخطوں سے دیتے وقت جو بات انھوں نے کہی تھی، میں اسے نہیں بھول سکتا۔ کتاب کی ایک مرکزی تصویر پر انگلی رکھ کر انھوں نے کہا: D-8 کے پہلے اجلاس میں جن آٹھ مسلمان حکمرانوں نے شرکت کی تھی، ذرا غور سے دیکھو ان میں سے کوئی بھی آج منصب ِ اقتدار پر نہیں۔ کیا اب بھی ہم اپنے دوستوں اور دشمنوں میں تمیز نہیں کریں گے؟

_____________

انجینیر، استاد، مربی، قائد اور مجاہد نجم الدین اربکان کا سفرِ آخرت بھی ایک انفرادی شان رکھتا ہے۔ مبصرین کا اندازہ ہے کہ دولت عثمانیہ اور خلافت کے خاتمے کے بعد کسی سیاسی قائد کے جنازے میں عوام کی ایسی شرکت نہیں دیکھی گئی جیسی پروفیسر اربکان کے جنازے میں تھی۔ استنبول کی ۳ہزار مساجد نے جنازہ میں شرکت کا اعلان کیا اور سلطان فاتح مسجد میں اس مجاہد کی نمازِ جنازہ میں ۳۰لاکھ افراد نے شرکت کی۔ صدر مملکت، وزیراعظم، گرانڈ اسمبلی کا اسپیکر، تمام سیاسی اور دینی جماعتوں کے قائد، دنیا بھر کی اسلامی تحریکات کے نمایندے، شمالی قبرص کی حکومت کے صدر اور وزیراعظم، حتیٰ کہ ترک افواج کی قیادت، سب نے شرکت کی اور اربکان کی اس خواہش کے  احترام میں یہ اہتمام کیا گیا تھا کہ ان کا جنازہ معروف اسلامی روایات کے ساتھ اُٹھایا جائے اور سابق وزیراعظم اور سربراہِ حکومت کے جنازوں کے لیے جو سرکاری تام جھام ہوتا ہے اس سے اجتناب کیا جائے۔ پروفیسر اربکان کا جنازہ عوام کے اعتماد اور محبت کا مظہر تھا اور استنبول کی جدید تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ترکوں نے اس جنازے میں شرکت سے اربکان کو اپنا آخری سلام ہی پیش نہیں کیا بلکہ یہ جنازہ ایک ریفرنڈم بن گیا۔ ملک میں جو تبدیلی اربکان اور اس کے ساتھیوں کی مساعی کے نتیجے میں رونما ہوئی ہے، ترک عوام کی بڑی تعداد نے اس سے اپنی ہم آہنگی اور اس لہر کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ الحمدللہ اربکان کی موت بھی اس کی زندگی کی طرح اسلامی احیا کی تحریک کی علامت بن گئی    ؎

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جان کی کوئی بات نہیں

اللہ تعالیٰ پروفیسر نجم الدین اربکان کی تمام مساعیِ جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے، ان کی خدمات کے عوض انھیں جنت کے اعلیٰ ترین مقام پر جگہ دے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کی بشری کمزوریوں اور کوتاہیوں کو معاف فرمائے ___اور ترکی کو جس راستے پر گامزن کرنے میں انھوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے وہ اس پر تیزرفتاری کے ساتھ گامزن رہے، اور ترکی اور عالمِ اسلام ایک بار پھر مل کر اسلام کی نشاتِ ثانیہ کا سامان پیدا کریں، اور اقبال نے جو خواب دیکھا تھا وہ حقیقت کا روپ دھار لے    ؎

عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نُطقِ اعرابی

۲۷ جنوری ۲۰۱۱ء پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کوئی نام نہاد سفارت کار نہیں ہے، بلکہ درحقیقت سی آئی اے کا خون خوار کمانڈو ہے جس کے ہاتھوں پر چار معصوم پاکستانیوں کا خون ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ ایک ایسا آئینہ بن گیا ہے جس میں امریکا کے سامراجی کردار اور ایک دوست ملک کو بلیک میل کرنے، عدم استحکام کا شکار کرنے اور اپنے مذموم مقاصد کے لیے آلۂ کار بنائے جانے کے ناپاک کھیل کی پوری تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ جس نے پاکستانی قوم اور اس کی مقتدر قوتوں کو نہ صرف جھنجھوڑ دیا ہے، بلکہ ملک اور قوم کے لیے امریکا سے تعلقات کے پورے مسئلے پر بنیادی نظرثانی کو ناگزیر بنادیا ہے۔

۲۷ جنوری کا واقعہ ایک خونیں سانحہ تو ہے ہی، لیکن اس سے زیادہ پوری قوم کے لیے ایک انتباہ کی حیثیت بھی اختیار کرچکا ہے۔ تیونس میں ایک نوجوان کی خودکشی نے تیونس ہی نہیں پورے عالمِ عرب میں بیداری کی اس انقلابِ آفریں لہر کو جنم دیا، جو تاریخ کا رُخ موڑنے کا کارنامہ انجام دے رہی ہے۔ بالکل اسی طرح پاکستان میں امریکی درندگی کا نشانہ بننے والے ان تین نوجوانوں کا خون پاکستان اور عالمِ اسلام کے لیے امریکا کی غلامی سے نجات کی تحریک کی آبیاری اور ملّی غیرت و حمیت میں تقویت کا ایک فیصلہ کن ذریعہ بنتا نظر آرہا ہے۔

پوری ملت اسلامیہ، پاکستان اور اہلِ پاکستان ۲۷ جنوری کے اس اندوہناک اور دل خراش واقعے میں ظلم کا نشانہ بننے والے خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ  ہم سب ان کی حُب الوطنی پر نازاں اور پاکستانی مفادات کے باب میں ان کے لیے استقامت   کے لیے دعاگو ہیں۔ اس واقعے کی روشنی میں انصاف اور قومی اور ملّی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے ان پہلوئوں پر چند معروضات پوری قوم اور خصوصیت سے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

اصل واقعے کی بیش تر تفصیلات قوم کے سامنے آگئی ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے، اس سلسلے میں سارے دبائو اور ملکی اور بیرونی عناصر کی ریشہ دوانیوں کے علی الرغم، اصل حقائق کو تلاش کرنے اور جرأت سے انھیں بیان کرنے کے لیے جو کردار ادا کیا ہے، اس پر انھیں ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں۔ یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ عدالت نے بروقت احکام جاری کیے۔ اسی طرح ملک کی دینی و سیاسی قوتوں اور عوام نے امریکا کے حاشیہ برداروں کے سارے کھیل کو ناکام بنانے کے لیے جو مساعی کی ہیں، وہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ مگر ہم دکھ کے ساتھ اس حقیقت کو بھی ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ مرکزی حکومت کا بحیثیت مجموعی اور اس کے کچھ بڑے نمایاں قائدین کا کردار سخت مشکوک اور تشویش ناک رہا ہے۔ نئی وزیر اطلاعات اور پیپلزپارٹی کی سابقہ سیکرٹری اطلاعات نے تو کھل کر امریکی مفادات کی ترجمانی کی ہے۔ پھر ایوانِ صدر کے کردار پر بھی بڑے بڑے سوالیہ نشان ثبت ہیں۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی خاطرخواہ طریقے     سے اپنا کردارادا نہ کیا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے تو وزارت کا قلم دان چھین لیا گیا، لیکن       ایک بدیہی حقیقت سے لاہور ہائی کورٹ کو مطلع کرنے کے لیے واقعے کے دو ہفتے کے بعد بھی وزارتِ خارجہ نے مزید تین ہفتے کی مہلت مانگی ہے۔ اس چیز نے وزارتِ خارجہ کے کردار کو خاصا مشکوک بنا دیا ہے۔ لیکن چونکہ عوام، دینی اور کچھ سیاسی قوتیں اور میڈیا بیدار ہیں، اس لیے ہمیں توقع ہے کہ وزارتِ خارجہ اور اعیانِ حکومت حقائق پر پردہ ڈالنے، عوام اور عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی حماقت سے پرہیز کریں گے، اور اصل حقائق بے کم و کاست عدالت اور قوم کے سامنے پیش کر دیں گے۔

  •  ریمنڈ کا اصل جرم: سب سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کا اصل جرم کیا ہے؟ پنجاب پولیس نے دو ایشوز پر فردِ جرم عائد کی ہے، اوّل: دو پاکستانی نوجوانوں کا جان بوجھ کر اور بلاجواز قتل (naked and deliberate murder)، دوم: ناجائز اسلحے کے قانون کی خلاف ورزی، یعنی ناجائز اسلحہ رکھنا اور اس کا مجرمانہ استعمال ۔ اسی طرح (خواہ بڑی تاخیر کے بعد اور عدالت کے حکم پر) امریکی قونصل خانے کی اس گاڑی کے چلانے والوں پر غیرحاضری میں فردِ جرم، جو غلط سمت سے گاڑی لاکر ایک معصوم نوجوان عبیدالرحمن کی ہلاکت کا باعث بنے۔ پھر اس گھنائونے جرم کا ارتکاب کرکے لاہور میں امریکی قونصل خانے میں پناہ گزین ہوئے اور امریکی حکام کے مجرمانہ تعاون سے غالباً ملک سے باہر روانہ بھی کردیے گئے ہیں۔ اس تیسرے قتل کے مجرموں کے باب میں پنجاب پولیس اور حکومت کا رویہ واضح طور پر نہایت غیرتسلی بخش ہے۔ اور اب بھی اس امر کی ضرورت ہے کہ امریکی قونصل خانے کے ذمہ داروں کو اس جرم کے سلسلے میں اور اس گاڑی، اس کے چلانے والوں اوراس میں بیٹھے ہوئے اعانت مجرمانہ کے شریک کاروں کو قانون کے مطابق آہنی گرفت میں لایا جائے، اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام ذرائع استعمال کیے جائیں۔

ریمنڈ ڈیوس کم از کم چھے جرائم کا مرتکب ہوا ہے اور اس پر ان تمام امور کے بارے میں مقدمے قائم ہونے چاہییں اور قانون کے مطابق بھرپور کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے جرائم یہ ہیں:

۱- دو نوجوانوں فیضان اور فہیم کا دن دہاڑے بلاجوازقتلِ عمد۔

۲- تیسرے نوجوان عبیدالرحمن کی ہلاکت کی ذمہ داری میں شراکت (اسی کے بلانے پر اندھادھند وہ گاڑی آئی، اور اسی کی سازباز سے وہ بھاگنے میں کامیاب ہوسکے)۔

۳- ناجائز اسلحے کا وجود اور استعمال، اور وہ بھی ممنوعہ ۹؍ایم ایم بور کا نیم خودکار پستول مع ۷۵گولیاں، جس کا کوئی لائسنس بھی اس کے پاس نہیں تھا اور جسے اس نے بے دریغ استعمال کیا۔ (اسلحے کا پبلک مقام پر لے کر جانا بذاتِ خود ایک سنگین جرم ہے چہ جائیکہ اس کا خونیں استعمال کیا جائے۔)

۴- اپنی اصل شناخت کو چھپانا(impersonification) ،فرضی نام سے پاسپورٹ بنوانا، اور اس پاسپورٹ اور اس نام پر دوسرے ملک میں نقل و حرکت کرنا اور مراعات حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ امریکا کے سرکاری ترجمان نے ایک بار نہیں دو بار اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ جو شخص اس جرم میں ملوث ہے، اس کا اصل نام ریمنڈ ڈیوس نہیں ہے۔ اس طرح غلط نام پر پاسپورٹ، سفر اور پاکستان میں کارروائیاں کرنا، خود ایک مستقل بالذات جرم ہے اور اس حوالے سے بھی موصوف پر مقدمہ قائم ہونا چاہیے۔

۵- جو آلات اس کی کار سے نکلے ہیں، جو معلومات اس کے دو موبائل ٹیلی فونوں سے حاصل ہوئی ہیں، جو تصاویر اس کے کیمرے میں محفوظ ہیں، یہ سب اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ وہ کسی سفارت کاری میں نہیں بلکہ جاسوسی کے قبیح فعل میں مصروف تھا اور مسلسل دوسال سے یہی کام کرر ہا تھا۔ اس لیے اس پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور جاسوسی کے قوانین کے تحت بھی مقدمہ قائم ہونا چاہیے۔

۶- ایک اوراہم جرم جو اس کے ان تمام آلات اور ریکارڈ سے سامنے آیا ہے، خاص طور پر موبائل ٹیلی فون اور برقی پیغامات ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں تخریب کاری میں ملوث کم از کم ۳۲ افراد، ٹھکانوں اور تنظیموں سے اس کا رابطہ تھا، اور اس واقعے سے صرف سات دن پہلے اس نے وزیرستان کی ’تحریک طالبان پاکستان‘ اور کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے لوگوں سے رابطہ   قائم کیا تھا۔ گویا وہ دہشت گردی میں خود ملوث تھا اور یا ان لوگوں کے ساتھ منسلک تھا، جن پر امریکا اور پاکستانی حکام دہشت گردی کا الزام عائد کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں دہشت گردی، یا دہشت گردی کی سرپرستی یا کم از کم اس میں اعانت مجرمانہ کے تحت بھی اس پر الزام آتا ہے اور  ایک مقدمہ اس کے خلاف اس قانون کے تحت بھی درج ہونا چاہیے۔

یہ چھے وہ کھلے کھلے جرائم ہیں، جن میں اس کے ملوث ہونے کا ثبوت اب تک کی حاصل کردہ معلومات سے سامنے آتا ہے۔ بلاشبہہ اسے اپنے دفاع کا پورا پورا موقع ملنا چاہیے، اور سزا بھی عدالتی عمل کے ذریعے ملنی چاہیے، لیکن صرف قتل اور ناجائز اسلحہ اپنے قبضے میں رکھنے کے الزام ہی نہیں، باقی چاروں جرم بھی تقاضا کرتے ہیں کہ اس پر باضابطہ فردِ جرم قائم کی جائے۔ اس کے علاوہ عبیدالرحمن کے قتل کے جرم میں بھی شراکت کا الزام اس پر آتا ہے۔ یہ تمام امور ایک دوسرے سے منسلک ہیں، اس لیے انھیں ایک ساتھ لینا ضروری ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ملک میں تخریب کاری کے گھنائونے اور خون آشام کاروبار میں شریک تمام قوتوں تک پہنچنا اور ان کا     بے نقاب ہونا ضروری ہے۔ نیز خون بہا اور دیت کی جو باتیں ایوانِ صدر، وزیراعظم اور امریکی اور امریکا نواز عناصر کررہے ہیں اور اسلام کا سہارا لیتے ہوئے کر رہے ہیں، ان کے پس منظر میں بھی یہ بات سامنے آنی چاہیے کہ ریمنڈ ڈیوس کے جرائم ان دو نوجوانوں کے قتل سے زیادہ ہیں۔ اس لیے جب تک تمام جرائم کے بارے میں عدالتی کارروائی مکمل نہیں ہوجاتی، کسی ایک چیز کے بہانے اس سے گلوخلاصی کرانے کی سازش کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیا جاسکتا۔

  •  سفارتی استثنا: چند حقائق: ریمنڈ ڈیوس کے لیے سفارتی استثنا کی بات پر بھی بہت شوروغوغا ہے۔ امریکی قونصل اور سفیر سے لے کر ارکانِ کانگریس، سرکاری ترجمان، امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ، فوجی کمانڈوز اور خود صدر بارک اوباما پورے غیض و غضب کے ساتھ شعلہ افشانی کر رہے ہیں۔ پاکستان پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور اسے بین الاقوامی عدالت انصاف میں کھینچنے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ اس بارے میں اصل فیصلہ تو پاکستان کی عدالتیں ہی کریں گی، لیکن چند حقائق پر نظرڈالنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

اوّلاً: ۲۷ جنوری کے واقعے کے فوراً بعد لاہور کے امریکی قونصل خانے کا سرکاری بیان، اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کا اعلان، امریکی سرکار کے ترجمان کا بیان اور خود ریمنڈ ڈیوس کا اس کی اپنی زبان سے پولیس کے سامنے آکر اعتراف، یہ سب ایک ہی بات پر گواہ ہیں کہ ریمنڈ ڈیوس لاہور کے قونصل خانے میں ’انتظامی اور فنی معاونت‘ پر مامور تھا۔ ۲۵ جنوری ۲۰۱۱ء کو امریکی سفارت خانے نے سفارتی استثنا کے حامل جن افراد کی فہرست پاکستانی وزارتِ خارجہ کو دی، اس میں ریمنڈ ڈیوس کا نام نہیں تھا۔ اس واقعے کے دو دن بعد ہی پہلی بار اسلام آباد کے سفارت خانے کے کارکن کی حیثیت سے اس کا ذکر کیا گیا۔ جس کی واضح وجہ یہ ہے کہ ویانا کنونشن کی رُو سے قونصل خانے کے اسٹاف کو مکمل استثنا حاصل نہیں ہوتا، اور اگر ان کا عملہ کسی بڑے جرم میں ملوث ہو تو اسے استثنا حاصل نہیں۔ ۲۹جنوری سے جو قلابازی امریکی حکام نے کھائی ہے، وہ ایک مجرم کو دھوکے کے ذریعے سے سفارتی استثنا دلوانے کی ناپاک کوشش ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ امریکا کے صدر، امریکی وزیرخارجہ کے منصب پر فائز خاتون اور سینیٹر جان کیری جیسے لوگ بھی صریح دھوکے اور غلط بیانی کا پوری ڈھٹائی سے ارتکاب کر رہے ہیں۔ جس طرح عراق پر ایک جانے بوجھے جھوٹ اور دھوکے، یعنی ’بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحے‘کی موجودگی کو جواز بنایا گیا تھا، بالکل اسی طرح ریمنڈڈیوس کی حیثیت کو جانتے بوجھتے تبدیل کرنے اور دنیا اور قانون و انصاف کی آنکھوں میں دھول جھونکنے  کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ خود ایک جرم ہے جو امریکا کی قیادت کے اخلاقی دیوالیہ پن کا   ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ اب تو امریکی سفارت خانے کے اس خط کی نقل میڈیا میں آگئی ہے جو ۲۰جنوری ۲۰۱۰ء کو امریکی سفارت خانے نے وزارتِ خارجہ کو لکھا تھا کہ:’’ منظورشدہ پرفارما چھے کی تعداد میں منسلک ہیں۔ ان کے ساتھ اس کے پاسپورٹ کی ایک کاپی ہے اور اس کے غیرسفارتی شناختی کارڈ میں استعمال کے لیے چھے تصاویر ہیں‘‘۔ اس کے بعد بھی یہ دعویٰ کہ ریمنڈ ڈیوس ’پاکستان میں ہمارا سفارت کار‘ ہے۔ یہ سب سخن سازی ایک جھوٹ اور افترا کے سوا کچھ نہیں۔

ثانیاً: اب یہ حقیقت کہ ریمنڈ ڈیوس سفارت کار نہیں بلکہ دراصل سی آئی اے کا فعال کارندہ ہے۔ اس کا تعلق پہلے امریکی فوج سے تھا اور گذشتہ ۱۰ سال سے وہ اس پرائیویٹ سیکورٹی کے نظام سے وابستہ ہے، جو امریکا کی افواج اور اس کے اثاثوں اور مفادات کی حفاظت کے لیے سی آئی اے نے تشکیل دیے ہیں، تاکہ وہ انتظامی فریم ورک اور جواب دہی کے نظام سے بچ کر جاسوسی اور تخریب کاری کے کام کو انجام دلوا سکیں۔ یہ بات پہلے دن سے امریکی انتظامیہ اور حکمرانوں کو معلوم تھی اور جیساکہ اب کھلا اعتراف کیا جا رہا ہے کہ امریکی پریس کے پاس یہ تمام معلومات تھیں، مگر امریکی میڈیا نے آزادیِ صحافت کے تمام دعووں کے علی الرغم حکومت کے حکم پر اسے شائع نہیں کیا۔ جب یورپ کے اخبارات میں سارے حقائق آگئے ہیں تو مجبوراً امریکا میں بھی ان کو شائع کیا گیا، اور کھل کر اس امر کا اعتراف کیا گیا کہ ان حقائق کو امریکا کی حکومت کے ایما پر دبایا گیا تھا۔ نیویارک ٹائمز کو مجبوراً یہ اعتراف کرنا پڑا کہ: ’’ڈیوس سی آئی اے کی رہنمائی میں پاکستان کے جنگ جُو گروپوں کی نگرانی کرنے والے خفیہ اہل کاروں کا حصہ تھا‘‘۔ اور یہ بھی کہ موصوف نے ایک ٹھیکے دار کی حیثیت سے کئی برس سی آئی اے میں بھی کام کیا، اور کچھ وقت بلیک واٹر میں بھی گزارا۔

امریکی قیادت اور میڈیا ان حقائق سے واقف تھے، مگر ہفتوں جان بوجھ کر دنیا کو غلط معلومات دیتے رہے اور پاکستان کو دھمکیوں سے نوازتے رہے۔ نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے اعتراف کیا ہے کہ ان اخبارات نے حقائق کو امریکی حکومت کے ایما پر چھپایا اور غلط بیانی کی: ’’اوباما انتظامیہ کی درخواست پر لوگوں نے یہ منظور کیا کہ ایجنسی سے ڈیوس کے تعلقات کے بارے میں معلومات کو عارضی طور پر شائع نہ کریں‘‘۔

امریکا کا ایک نام ور وکیل گلین گرینالڈ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے:

ایک اخبار کے لیے یہ ایک اہم بات ہے کہ وہ کوئی معلومات اس لیے شائع نہ کرے کہ اس سے انسانی جانوں کو خطرہ ہوگا مگر یہاں امریکی حکومت نے کئی ہفتے ایسے بیانات دینے میں گزارے جوانتہائی حد تک گمراہ کن تھے۔

امریکی صدر نے جانتے بوجھتے اس سی آئی اے کے جاسوس اور تخریب کار کو ’پاکستان میں ہمارا ڈپلومیٹ‘ قرار دیا۔ گرینالڈ کے الفاظ میں: ’’یہ معلومات چھپانے سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ یہ تو صدر کو جھوٹ بولنے پر آمادہ کرنا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے جان بوجھ کر حقائق چھپائے… اسی کو سرکاری پروپیگنڈے کا پرچار کرنا کہا جاتا ہے‘‘۔

امریکی قیادت کی دیانت اور امریکی پریس کی آزادی کی اس سے قبیح مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک قاتل اور مجرم کو بچانے کے لیے انھوں نے ایسے ایسے ہتھکنڈے برتنے میں کوئی    باک محسوس نہیں کی۔ بعد کی معلومات جس سمت میں اشارہ کر رہی ہیں وہ صرف یہی نہیں ہے کہ ریمنڈ ڈیوس اور اس کے نیٹ ورک سے متعلق تمام افراد جن کی تعداد سیکڑوں میں ہے، پاکستان میں تخریب کاری کرنے والے عناصر سے ربط میں ہیں۔ کچھ پتا نہیں کہ فوج، آئی ایس آئی، سرکاری عمارتوں، مساجد، امام بارگاہوں اور بے گناہ انسانوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنانے میں اس کا بلاواسطہ یا بالواسطہ کتنا کردار ہے؟ نیز سی آئی اے کے ساتھ ’موساد‘ اور ’را‘ کے کارندوں کا کتنا اشتراک ہے؟

بھارت کے ایک آزاد صحافی ایم کے بھنڈرا کمار نے اخبار ایشین ٹائمز میں وہ سوالات صاف لفظوں میں اٹھائے ہیں جو پاکستان کے سوچنے سمجھنے والے عناصر کو پریشان کیے ہوئے تھے:

اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کافی مدت سے حیران تھا کہ نام نہاد پاکستانی طالبان کو پاکستانی فوج پر اتنے گہرے زخم لگانے پر کوئی اُبھار رہا تھا اور پاکستان کو کمزور کرکے غیرمستحکم کر رہا تھا۔ (دی نیشن، ۱۸ فروری ۲۰۱۱ء)

بلّی تھیلے سے باہر آگئی ہے اور ریمنڈ ڈیوس اور اس کے گروہ کی سرگرمیوں سے پردہ اُٹھتا نظر آرہا ہے بشرطیکہ اس سے مکمل تفتیش ہو اور ہر بات شفاف انداز میں عدالت اور قوم کے سامنے آئے۔یہ مسئلہ ایک فرد کا نہیں، امریکا اور اس کے گماشتوں کے پورے کردار کا ہے کہ جسے غیرناٹو سانجھی (non Nato Ally) کہا جا رہا تھا، جس کو اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ کی افیون کی گولیاں کھلائی جارہی تھیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایسے یارِ وفاردار کے ساتھ اصل معاملہ کیا کیا جا رہا تھا؟ بقول حفیظ جالندھری   ؎

دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

lباھمی تعلقات: کشیدگی میں شدت: ۲۷جنوری کے واقعے نے جن حقائق سے پردہ اُٹھایا ہے، ان کے بارے میں اندازے اور شکوک و شبہات تو اوّل روز سے تھے، لیکن اب تو حقائق اس طرح سامنے آگئے ہیں کہ زبانِ خنجر کے ساتھ آستین کا لہو پکار اُٹھا ہے۔یوں آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے درمیان ایک ایسی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے، جس کا اعتراف دونوں طرف کی قیادت کر رہی ہے۔ اگرچہ امریکا کے بارے میں پاکستان کے عوام کو تو کبھی غلط فہمی نہیں تھی، مگر مقتدر طبقے کی آنکھیں جوں کی توں بند تھیں۔

یہ طبقے ۱۹۶۵ء میں بھارتی جارحیت کے موقع پر امریکا کی طوطاچشمی، ۱۹۷۱ء میں اسی کردار کی تکرار اور پھر ۱۹۹۰ء اور ۱۹۹۸ء کی پابندیوں کے تجربے کی روشنی میں امریکا کی دوستی پر بھروسا کرنے کو تیار نہ تھے۔ ۲۰۰۱ء میں جنرل مشرف امریکی دھمکی کے نتیجے میں امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہوگئے۔ راے عامہ کے تمام سروے امریکا سے بے زاری کی شہادت دیتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ ’زرداری گیلانی حکومت‘ نے تمام تنبیہات کے باوجود نہ صرف جنرل مشرف کی پالیسی کو جاری رکھا، بلکہ امریکا کی غلامی میں اس سے بھی دوچار ہاتھ آگے نکل گئے۔ آج   عالم یہ ہے کہ امریکی گماشتے ملک کے چپے چپے پر اپنا گھنائونا کھیل کھیل رہے ہیں۔ پاکستان کی  مسلح افواج ان کی لگائی ہوئی آگ میں جھلس رہی ہیں۔ گذشتہ ۱۰ برس میں ۳ہزار سے زائد فوجی ہلاک ہوچکے ہیں، ۲۵۰ سے زیادہ آئی ایس آئی کے اہلکار دہشت گردی کی نذر ہوچکے ہیں۔ فوج سے متعلق افراد میں زخمیوں کی تعداد ۱۰ہزار سے متجاوز ہے۔ عام شہریوں کا جانی نقصان، فوج کے نقصان سے کم از کم ۱۰ گنا زیادہ ہے۔ معیشت کا حال دگرگوں ہے۔ وزارتِ خزانہ کے اندازے کے مطابق صرف ۲۰۰۱ء سے ۲۰۰۸ء تک ۴۳/ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے، جو اَب ۵۵اور ۶۰؍ارب ڈالر سے زیادہ ہوگیا ہے۔ اگر جانی نقصان اور ان نقصانات کو اس میں شامل کرلیا جائے، جسے معاشیات کی اصطلاح میں جو مواقع حاصل ہوسکتے ہیں ان سے محرومی کی بنا پر مزید کیا نقصان ہوا ہے، تو یہ نقصانات ۱۰۰؍ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ اس کے مقابلے میں وہ امریکی امداد اور قرضے جن کا احسان جتایا جاتاہے ۷ تا ۹؍ارب ڈالر سے زیادہ نہیں ہے۔ گویا اس غریب ملک نے امریکا کی ایک جارحانہ اور سامراجی جنگ کو اپنے خون اور پسینے ہی سے نہیں، اپنے غریب عوام کے منہ سے نوالا چھین کر امریکی جنگ کے جہنم میں جھونک دیا ہے۔ اس کے بدلے امریکا نے ہمارے اپنے ملک میں تخریب کاری کا ایک وسیع جال بچھا دیا ہے، جس سے ملک کا استحکام، سلامتی، آزادی، عزت اور معیشت، ہرچیز معرضِ خطر میں ہے۔

ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں جس طرح امریکا کی سیاسی اورفوجی قیادت نے پاکستان کو بلیک میل کیا ہے، اور ایک قاتل اور تخریب کار کو سفارتی استثنا کے نام پر قانون کی گرفت سے نکالنے کی کوشش کی ہے، اس نے امریکا کے اصل چہرے کو بالکل بے نقاب کر دیا ہے، اور امریکا سے   بے زاری کے رجحان کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔ ۱۹۵۸ء میں ایک امریکی ناول نگار ولیم لیڈرر نے اپنے ناول Ugly American میں امریکی افواج اور سیاسی قیادت کی، خصوصیت سے مشرقی ایشیا میں کارفرمائیوں کا جو نقشہ کھینچا ہے، اس میں غرور اور تحکم کے علاوہ دوسروں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور ان کی آزادی، عزتِ نفس، مفادات، احساسات اور تمدن و روایات سے بے اعتنائی بلکہ تحقیر نمایاں ہے۔ آج نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد حقیقت یہ ہے کہ امریکا کی قیادت کے رویے میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی، بلکہ مزید خرابی ہی آئی ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کے واقعے نے ایک بار پھر امریکا کے اس چہرے کو پاکستان کے سامنے بالخصوص اور پوری دنیا کے سامنے بالعموم بے نقاب کر دیا ہے اور اس وقت پاکستانی قوم کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ امریکا سے اپنے تعلقات کی نوعیت پر نظرثانی کرے، اس علاقے میں امریکا کے مقاصد اور مفادات کو اچھی طرح سمجھے، اور پاکستان کے مقاصد اور مفادات کی روشنی میں ان تعلقات کی نوعیت اور اس کے جملہ پہلوئوں کی ازسرنو صورت گری کرے۔

  •  حکومت کا شرم ناک کردار: یہاں یہ بات بھی اچھی طرح سمجھنے کی ہے، کہ ان حالات کی ساری ذمہ داری صرف امریکا اور اس کی قیادت پر نہیں، بلکہ اس میں خود پاکستان کی سیاسی قیادت اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ بھی برابر کی شریک ہے۔ امریکا پر کلّی انحصار ہماری حماقت کا مظہر ہی نہیں بلکہ ہماری کمزوری اور بگاڑ کا اصل سبب ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ حقیقت کھول کر رکھ دی ہے کہ امریکا کا ہم سے تعلق کسی اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ کی بنیاد پر نہیں ہے، یہ ہمیشہ کی طرح صرف اور صرف وقتی بنیادوں پر ہی استوار رہا ہے۔ امریکا کو ہماری آزادی، خودمختاری، سلامتی، عزت اور مفادات کا رتی بھر بھی احساس نہیں۔ وہ ہمیں صرف اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ چند ارب ڈالر کے ذریعے اس ملک سے جس طرح چاہے کام لے اور جس طرح چاہے ہمارے معاملات میں دخل اندازی کرے۔

ایک چھوٹی سی مگر چشم کشا مثال یہ ہے کہ سابق وزیرخارجہ شاہ محمود آج دہائی دے رہے ہیں کہ جان کیری تک نے ان کو اُمید دلائی کہ اگر ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں ان کی ہم نوائی کرے تو وہ دوبارہ وزیرخارجہ بن سکتے ہیں۔ وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن اور صدر اوباما نے صدر زرداری سے کیا کہا؟ اس کی تفصیل میں جانے کی ضروت نہیں۔ نتیجہ سامنے ہے کہ زرداری صاحب نے شاہ محمود قریشی صاحب کو وزارتِ خارجہ سے نکال باہر کیا ہے۔ وزیرداخلہ رحمان ملک نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو رات کو جگاکر ریمنڈ ڈیوس کے لیے سفارتی استثنا کا حکم دیا، اور ایوانِ صدر کے    ہم نوائوں نے اس قاتل کے سفارتی استثنا کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا۔ امریکی نواز لابی نے میڈیا اور سیاسی ایوانوں میں ’غیرت‘ اور ’حکمت‘ کے سبق پڑھانے شروع کردیے اور بڑے بقراطی انداز میں فرمایا کہ اس مسئلے پر ’جذباتی ردعمل‘ اختیار نہ کیا جائے ورنہ معیشت تباہ ہوجائے گی، فوج کی  رسد ختم ہوجائے گی اور ملک غربت اور انتشار کا شکار ہوجائے گا۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پہلے جنرل مشرف نے ملک کے درودیوار کو امریکا کی دخل اندازی کے لیے کھولا، اور اس کے بعد ’زرداری گیلانی حکومت‘ نے امریکا کو دخل اندازی کے اور زیادہ مواقع فراہم کیے، اور تمام سفارتی آداب اور ملک کی سلامتی اور تحفظ کے لیے کیے جانے والی پیش بندیوں کو بالاے طاق رکھ کر امریکا کو یہاں کھل کھیلنے کی پوری چھٹی دیے رکھی۔ ایوانِ صدر اور وزیراعظم کے احکامات کے تحت امریکیوں کے لیے ویزا کی لوٹ سیل کا اہتمام کیا گیا اور کسی تحقیق اور تحفظ کے بغیر تھوک کے بھائو سے ویزے واشنگٹن اور دوبئی سے جاری کیے گئے ہیں۔ غلط نام اور جعلی پتوں پر امریکیوں کو ویزے دیے گئے ہیں، اور سی آئی اے اور غالباً موساد تک کے کارکنوں کے لیے سرزمینِ پاکستان کے دروازے کھول دیے گئے ہیں___ کچھ پتا نہیں کہ کتنے ریمنڈ ڈیوس ہیں جو آج ہماری سرزمین پر دندناتے پھر رہے ہیں۔ باب وڈورڈ کی کتاب Obama's Wars امریکا کے عزائم اور پاکستان کی قیادت میں موجود میرجعفروں اور میرصادقوں کے کردار کا ایک    شرم ناک ریکارڈ ہے۔

ڈرون حملے ہوں یا پاکستان کی سرزمین پر امریکی کارندوں کی کارفرمائیاں، جن کے لیے  ’مشترکہ آپریشن‘ کے نام پر زمین ہموار کی گئی ہے اور جس میں آئی ایس آئی اور سی آئی اے کو مشترکہ زمینی کارروائیاں کرنی تھیں، مگر باب وڈورڈ کے مطابق: پاکستانی مشترکہ آپریشن میں شامل نہ ہوئے۔ اس لیے پاکستان میں داخلے کے لیے سی آئی اے کے لوگوں کو زیادہ ویزے جاری کیے گئے۔ (Obama's Wars ،ص ۲۰۶-۲۰۷)

ریمنڈ ڈیوس اور اس کے نیٹ ورک کے تمام کمانڈوز اس انتظام کا حصہ ہیں۔ موجودہ عوامی اور سابقہ فوجی، دونوں حکومتیں اس صورت حال کی ذمہ دار ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خود آئی ایس آئی کا عمل دخل کم کر دیاگیا ہے اور ایوانِ صدر، وزارتِ داخلہ اور واشنگٹن میں ہمارا سفارت خانہ باقی اداروں کو نظرانداز کرکے سارا کھیل کھیل رہا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے نے آئی ایس آئی کی غفلت، نااہلی یا اسے تصویر سے باہر یا بے خبر رکھنے کے منظرنامے پر سے بھی پردہ اُٹھا دیا ہے۔    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا بھر کے معروف سفارتی اصول و آداب کو امریکا کے معاملے میں غیرمؤثر کر دیا گیا ہے۔ امریکا کے سفارت خانے میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ مستقل سفارتی استثنا رکھنے والے افراد ہیں اور اس کے علاوہ ہزاروں افراد ویزے پر ہر سال آرہے ہیں۔ امریکی سفارت خانہ، پاکستانی وزارتِ داخلہ سے براہِ راست معاملات طے کرتا ہے اور یہ اصول کہ تمام سفارت خانے صرف وزارتِ خارجہ کے توسط ہی سے ملک کے تمام اداروں سے ربط قائم کریں، یکسر نظرانداز کردیا گیا ہے۔ امریکا کے سول اور فوجی نمایندوں کو فوج کے اعلیٰ ترین مقامات تک براہِ راست رسائی حاصل ہے۔ سفارت کاری کے تمام آداب کو نظرانداز کرکے امریکا سے جو بھی آتا ہے، اسے صدر، وزیراعظم اور دوسرے اہم مقامات تک براہِ راست رسائی دے دی جاتی ہے۔ امریکی کانگریس کے وفود آتے ہیں مگر پاکستان کی پارلیمنٹ یا اس کے ارکان سے ان کی کوئی     دل چسپی دیکھنے میں نہیں آتی، وہ سیدھے وزیراعظم، صدر مملکت اور چیف آف آرمی اسٹاف سے ملتے ہیں۔ ان سرگرمیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان امریکا کی کالونی بن گیا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کے سلسلے میں جو رویہ امریکی سفیر سے لے کر امریکی صدر اور دوسرے اعلیٰ عہدے داران نے اختیار کیا، یہ وہی رویہ تھا، جو ایک سامراجی قوت اپنے محکوم ممالک کے ساتھ اختیار کرتی ہے۔

بلاشبہہ یہ لولی لنگڑی جمہوریت ہی کا نتیجہ ہے کہ حکمرانوں کے ایک طبقے کی دلی خواہش اور عیارانہ کوششوں کے باوجود، دینی اور جمہوری قوتوں کے میدان میں موجود ہونے اور میڈیا کی آزادی نے امریکا کے رنگ میں بھنگ ڈال دی اور ساری اُچھل کود کے باوجود، وہ اپنا مقصد پوری طرح حاصل نہیں کرسکے۔ تاہم ان کے عزائم اور حکمرانوں کی کمزوری بالکل الم نشرح ہوگئی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں آیندہ کے لیے خارجہ پالیسی اور خصوصیت سے امریکا سے تعلقات کی نوعیت اوراس کی تفصیلات طے کرتے وقت پاکستان کے قومی مقاصد، مفادات اور ضروریات کو سامنے رکھ کر سوچ بچار اور قومی اتفاق راے سے معاملات کو طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قوم کے تمام متعلقہ حلقے سرجوڑ کر بیٹھیں اور پالیسی کی تشکیلِ نو کریں۔ پارلیمنٹ نے ۲۳؍اکتوبر ۲۰۰۸ء کو جو متفقہ قرارداد منظور کی تھی اور پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کی کمیٹی نے اس پر عمل درآمد کے لیے اپریل ۲۰۰۹ء میں جو تفصیلی نقشۂ کار (road map) مرتب کیا تھا، اس پر حکومت نے ۵ فی صد بھی عمل نہیں کیا، حالانکہ وہ آج بھی بے حد متعلق ہے اور ہماری پالیسی پر نظرثانی کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔

  •  پاک امریکا تعلقات: تشکیلِ نو کے خطوط: اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ امریکا کو صاف الفاظ میں بتا دیا جائے کہ جو کچھ وہ اب تک کرتا رہا ہے، وہ پاکستانی قوم کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ امریکا کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستانی قوم کے عزائم، احساسات اور ملک کی سلامتی، آزادی اور عزت کے سلسلے میں اس کے تصورات کا احترام بھی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے جو برابری کی سطح پر پاکستان کے اقتدارِ اعلیٰ کی پاس داری کے احترام کے بغیر ممکن نہیں۔ پاکستانی قوم امریکا سے تعلقات ختم کرنے کی بات نہیں کررہی، لیکن وہ اس کے لیے ہرگز تیار نہیں ہے کہ امریکا کی غلامی اور امریکا پر انحصار (dependence) کے موجودہ نظام کو کسی بھی صورت میں جاری رکھ سکے۔

ریمنڈ ڈیوس کا کیس ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ اس پر ان تمام جرائم کے سلسلے میں عدالت میں مقدمہ چلے گا، جس کا اس نے ارتکاب کیا ہے اور اس کے بارے میں کسی سفارتی استثنا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ خون بہا کے سلسلے میں بھی یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اس خاص معاملے میں اصل معیار قصاص ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کا جرم محض دو افراد کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کی سوسائٹی اور ریاست کے خلاف تھا۔ خون بہا کا تعلق صرف مسئلے کے ایک حصے سے تو ہوسکتا ہے، اس لیے اس کے تمام جرائم کا خون بہا لینا دینا ممکن نہیں۔ نیز پشاور ہائی کورٹ کا ایک تاریخی فیصلہ اس سلسلے میں بہت اہم ہے، جس میں ایسا قتل جو فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہو، اس میں خون بہا نہیں تعزیراصل چیز ہے۔ اس لیے سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ امریکا اس مقدمے میں مداخلت سے یکسر باز رہے اور عدالت کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا پورا موقع ملے۔ پاکستان کی عدالت پر مکمل اعتماد ضروری ہے اور یہ مقدمہ صرف پاکستان میں چلے گا۔

دوسری بات یہ ضروری ہے کہ امریکا اور خصوصیت سے سی آئی اے اور امریکی سفارت خانہ ان تمام افراد کے پورے کوائف حکومت کے علم میں لائے جو ’سلامتی کے کاموں‘ کے عنوان کے تحت پاکستان میں ہیں۔ نیز امریکا سے معلومات کے حصول کا انتظار کیے بغیر پاکستان کی ایجنسیوں کو فوری طور پر ایسے تمام افراد کا کھوج لگانا چاہیے، اور پاکستان میں جتنے بھی غیرملکی ہیں خصوصیت سے امریکی اور ان کے مقامی یا دوسرے کارندے ان پر نگرانی کا مقرر نظام قائم کیا جائے۔

تیسرا، ویزے کے سلسلے میں ’فراخ دلانہ‘ پالیسی کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور ہر ویزا پوری چھان بین کے بعد اور تمام ایجنسیوں سے کلیئرنس کے بعد ہی جاری کیا جائے۔

چوتھی چیز فوری طور پر وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ اور متعلقہ ایجنسیوں کے تعاون سے امریکی اور یورپی ممالک کے سفارتی عملے کی تعداد پر نظرثانی کی جائے، ان کے نقل و حمل اور سرگرمیوں پر نگاہ رکھی جائے۔ نیز حکومت کے تمام اداروں اور تمام سفارت کاروں کو پابند کیا جائے کہ سارے معاملات دفترخارجہ کے ذریعے انجام دیے جائیں۔ ایوانِ صدر اور ایوانِ وزیراعظم بھی اس سلسلے میں واضح ضابطوں اور آداب کا لحاظ رکھیں۔

پانچویں چیز دہشت گردی کے خلاف امریکا کی اس جنگ کے بارے میں پاکستان کے کردار کو نئے سرے سے واضح اور متعین کیا جائے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو دونوں ملکوں کے مفادات اور تاریخی رشتوں اور تعلقات کی روشنی میں مرتب کیا جائے۔ امریکا افغانستان میں جنگ ہارچکا ہے اور اس کے لیے واپسی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ اسے واپسی کا قابلِ قبول راستہ ضرور دیا جائے، لیکن اس طرح نہیں کہ وہ افغانستان کے معاملات کی ڈوریاں اپنے ہاتھ میں رکھے اور افغانستان میں بھارت اس کے قائم مقام کے طور پر یا خود اپنے مفادات کے فروغ کے لیے کوئی مستقل کردار ادا کرنے کی مسند سنبھال لے۔

چھٹی چیز یہ ہے کہ اس امر کی بھی فوری ضرورت ہے کہ امریکا کے ان دعووں کی شفاف انداز میں تحقیق ہو کہ مشرف اور زرداری دور میں کچھ تحریری طور پر اور کچھ زبانی مراعات حکومتِ پاکستان نے امریکا کی حکومت ، اس کی فوج، سی آئی اے اور دوسرے اداروں کو دی ہیں۔ یہ مراعات کیا ہیں؟ یہ تمام معلومات فوری طور پر پارلیمنٹ کے سامنے آنی چاہییں ۔ امریکی اخبارات نے بے نام سرکاری ذرائع کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ۲۰۰۸ء کے آخر میںایک ۱۱ نکاتی معاہدہ ہوا تھا جس میں سفارتی استثنا، اور بلالائسنس اسلحہ رکھنے کے بارے میں امریکیوں کو ناقابلِ یقین مراعات دی گئی ہیں ۔ اسی طرح ڈرون حملوں اور مشترک کارروائیوںکے نام پر بھی طرح طرح کی اور بے محابا سہولتوں کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اس بارے میں تمام حقائق پارلیمنٹ کے سامنے فوری طور پر آنے چاہییں تاکہ معلوم ہو کہ کون سی سہولت کس نے دی۔ نیز پچھلے ۱۰ برسوں میں جو کچھ بھی کیا گیا ہے اس پر پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کی کمیٹی میں بھرپور غور کیا جائے اور ان تمام سہولتوں اور مراعات کو فی الفور ختم کیا جائے جو ملکی حاکمیت اور خود مختاری کو مجروح کرتی ہیں۔

ساتویں چیز پاکستانی معیشت کی تعمیرنو کی بنیاد خودانحصاری ہو۔ جس طرح آج ملک امریکا اور عالمی اداروں کی گرفت میں آگیاہے، اس سے جلداز جلد نکلنے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ہماری نگاہ میں امریکی امداد ملک کے لیے قوت کا نہیں کمزوری کا باعث ہے۔ ہمیں ایسی معاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو معاشی ترقی، سماجی انصاف اور عوام کی خوش حالی پرمرکوز ہو۔ امریکا کی جنگ میں شرکت سے ہمیں شدید معاشی نقصان ہوا ہے اور قرضوں کا پہاڑ اس پر مستزاد ہے۔ معاشی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم دوسروں پر انحصار کے دھوکے سے نکلیں۔ یہ وقت ایک بڑے فیصلے کا ہے اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وہ وسائل دیے ہیں، جن کے صحیح استعمال سے ہم معاشی ترقی اور سیاسی آزادی دونوں اہداف حاصل کرسکتے ہیں۔ آزاد خارجہ پالیسی اور معاشی ترقی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اگر پاکستانی قیادت ایمان دار، باصلاحیت اور جرأت مند افراد کے ہاتھوں میں ہو، تو آج پاکستان کو وہ مقام حاصل ہے کہ ہم اپنی شرائط پر دوسروں سے معاملات طے کرسکتے ہیں۔

دنیا کے حالات کروٹ لے رہے ہیں۔ آمریت کے بت گررہے ہیں اور عوام ہراس نظام سے بے زار ہیں، جس میں ان کی آزادی، عزت اور وسائل پر ان کا کنٹرول، ہرچیز تباہ ہوئی ہے۔ اُمت مسلمہ کے وسائل دوسروں کی چاکری کی نذر ہورہے ہیں۔ صرف مشرق وسطیٰ کی برآمدات کے ذریعے سالانہ آمدنی ۵۰۰؍ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اگر یہ وسائل اُمت مسلمہ کی ترقی اور استحکام کے لیے صرف ہوں تو پانچ سال میں دنیا کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ ضرورت صرف چہروں کے بدلنے کی نہیں، نظام کی تبدیلی کی ہے۔ اس کے لیے نئے وژن کی، صحیح منزل کے تعین کی، دیانت دار اور باصلاحیت قیادت کی، اور زمینی حقائق پر مبنی دوررس نتائج حاصل کرنے والی پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر خلوص اور محنت سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور تمام ہی مسلم ممالک کے عوام جس تبدیلی کے خواہاں ہیں، اسے اپنے اپنے ملک کو سامراجی تسلط اور اس کے مقامی کارپردازوں سے نجات کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ امریکا کی غلامی کے چنگل سے نکلے بغیر پاکستان اس منزل کی طرف پیش رفت نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے امریکا سے تصادم نہیں بلکہ امریکا سے تعلقات اس نہج پر استوار کرنے کی ضرورت ہے، جس میں اوّلیت پاکستان کے مفادات اور مقاصد و اہداف کو حاصل ہو۔ ریمنڈ ڈیوس کے واقعے نے اصل ایشو کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اصل چیلنج اس وسیع تر مسئلے کا مناسب حل ہے، محض جزوی امور کے گورکھ دھندے میں اُلجھنا نہیں ہے۔

 

انیسویں دستوری ترمیم کے حوالے سے میں چاہوں گا کہ سب سے پہلے اس بات کو   واضح کردوں کہ ملک عزیز میں اداروں کے درمیان تصادم کی ایک فضا بن رہی تھی۔ اس فضا میں   سپریم کورٹ آف پاکستان کا ۲۱؍اکتوبر ۲۰۱۰ء کا فیصلہ ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں اس تصادم کو راہ پانے کا کوئی موقع نہیں دیا گیا، بلکہ ملک میں دستور، دستوری اداروں اور طاقت کے تکون (trichotomy of power) کو جو سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے، بڑے مؤثرانداز میں تقویت دی گئی۔ اس کے لیے میں سپریم کورٹ کو اس کی دانش مندی، دُوراندیشی اور حقیقت پسندی پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ یہاں پر یہ بات بھی ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ اس فیصلے کی رو سے     یہ بات طے ہوگئی ہے کہ پاکستان کا دستور سپریم ہے اور دستور میں قانون سازی، پالیسی سازی اور دستوری ترامیم کا حق صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔

بھارت کی سپریم کورٹ کے فیصلوں کی وجہ سے وہاں دستوری فلسفۂ قانون (jurisprudence) میں دو اصول تسلیم کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ دستور کا ایک بنیادی ڈھانچا (basic structure of the constitution) ہوتا ہے جسے عام دستوری ترمیم کے طریقے سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا،    اور دوسرا یہ کہ سپریم کورٹ کو یہ اختیار ہے کہ وہ دستور کی کسی ترمیم کو بھی ڈھانچے کی بنیاد پر کالعدم (null and void) قرار دے سکتی ہے۔ پاکستان کے دستوری فلسفۂ قانون میں اس کا تصور نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے جہاں دستور کے بنیادی ڈھانچے  کی بات کی ہے، وہیں یہ اصول بھی واضح کر دیا ہے کہ اس اسٹرکچر (ڈھانچے) کا اہتمام اور تحفظ بھی پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے اس بنیاد پر کوئی مداخلت نہیں کی۔ اس سلسلے میں یہ امر بھی پیش نظر رکھنا   مفید ہوگا کہ اپنے فیصلے میں عدالت عظمیٰ کے جس فیصلے کا حوالہ دیا ہے، یعنی ۱۹۹۲ میں حاکم خان کیس، اس کا ایک پیراگراف سامنے رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ یہ بحث مباحثہ اور تنازع (controversy) ختم ہوجائے۔ اس میں کہا گیا ہے:

اس کے مطابق، اس کیس میں، اگر عدالت عالیہ یہ سمجھے کہ دفعہ ۴۵ کی شقیں بعض لحاظ سے اسلامی احکامات کے خلاف ہیں، تو اسے یہ عدم مطابقت پارلیمنٹ کے علم میں   لانا چاہیے، اس لیے کہ صرف یہی دستور میں ترمیم کرنے کا اختیار رکھتی ہے، اور ایسی قانون سازی کا آغاز کرسکتی ہے جو زیربحث شق کو اسلامی احکام کے مطابق کردے۔

دستور میں ترمیم کے اختیار کے سلسلے میں اس اصول کو تسلیم کیا جانا ایک بڑی قابلِ ذکر کامیابی ہے۔ دوسری بات جس کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے جو اسلام اور جمہوریت دونوں کا تقاضا ہے اور جسے ۱۹ویں ترمیم میں ایک مرکزی تصور کے طور پرتسلیم کیا گیا ہے، وہ عدلیہ کی آزادی کا تصور ہے۔ دورِ خلافت راشدہ میں نظامِ قضا کو جس اصول پر قائم کیا گیا، اس میں بلاشبہہ قاضی کا تقرر خلیفہ کرتا تھا، لیکن تقرر کے بعد قاضی مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ہوتا تھا اور  قضا کا پورا نظم اس کی نگرانی میں کام کرتا تھا۔ ہماری پوری تاریخ میں عدلیہ کی آزادی اسلامی قضا کی روایات کا ایک مرکزی تصور رہی ہے۔ آزادی کا سب سے زیادہ انحصار جج کی صلاحیت اور اس کے کردار پر ہے۔ بلاشبہہ ججوں کے تقرر کے طریقۂ کار کا بھی اس میں ایک حصہ ہے، لیکن اصل عامل جج کا کردار اور دستور اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا تصور ہے۔ یہاں میں بھارتی سپریم کورٹ کا ایک حوالہ آپ کی خدمت میں پیش کروں گا جس میں وہاں کے ایک چیف جسٹس نے صاف الفاظ میں تحریر کیا ہے:

یہ جج کا کردار ہے جو عدلیہ کی آزادی کو یقینی بناتا ہے نہ کہ تقرر کا طریقہ۔ بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدلیہ کی آزادی براہِ راست اس شخص کے کردار سے مربوط ہے جس کو جج کی حیثیت سے مقرر کیا گیا ہے۔ حلف اُٹھانے کے بعد امید کی جاتی ہے کہ جج آزادی سے کام کرے گا۔

یہ بات ہمیں اپنے سامنے رکھنی چاہیے کہ عدلیہ کی آزادی کا آغاز ججوں کے صحیح تقرر سے ہوتا ہے، لیکن بالآخر اس کا انحصار جج کے کردار اور شخصیت پر ہے۔ اب ججوں کے تقرر کے طریق کار کے بارے چند اصولی باتیں سمجھنا ضروری ہیں: اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو نظر آتا ہے کہ جو قانون اور روایات ہمارے ملک میں کارفرما رہی ہیں، وہ کوئی اچھی مثال پیش نہیں کرتیں۔

برطانیہ کے نوآبادیاتی دور سے چیف ایگزیکٹو، چیف جسٹس کے مشورے سے ججوں کا تقرر کیا کرتاتھا۔ یہ سلسلہ ۵۰ کے عشرے تک جاری رہا اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ بالعموم ججوں کا تقرر اہلیت کی بنیاد پر ہوا، اور یہی وجہ ہے کہ اس دور میں عدلیہ آزاد تھی۔ اس میں دیانت تھی اور کردار تھا۔ انھوں نے بالعموم اپنی ذمہ داریوں کا حق ادا کیا، لیکن بدقسمتی سے جسٹس محمد منیر کے دور سے حالات بدلنے لگے۔ فیلڈمارشل ایوب خان کی صدارت کے زمانے میں ججوں کے تقرر کے لیے جو طریقہ اختیار کیا گیا تھا، اس میں ذاتی پسند، قرابت داری اور سیاسی وفاداریوں کا عمل دخل شروع ہوگیا۔ اس معاملے میں ہماری تاریخ میں پچھلے ۴۰سال خاصے تاریک رہے ہیں۔ آپ جناب حامدخان کی کتاب Constitutional and Political History of Pakistan (پاکستان کی دستوری اور سیاسی تاریخ) کو دیکھیں، جس میں نام لے لے کر ایک ایک واقعہ دیا گیا ہے کہ کس طریقے سے ججوں نے جو تجاویز دیں، ان میں ایک بڑی تعداد کی سفارش جس بنیادپر ہوئی، وہ ذاتی پسند وناپسند، قرابت داری اور دوستیوں اور مفادات کے اشتراک کی بنیاد پر تھیں، جن میں اہلیت و صلاحیت اور کردار کو نظرانداز کردیا گیا۔ پھر سیاست دانوں نے بھی اپنے اپنے دور میں بدقسمتی سے یہی کام کیا۔ میں نام نہیں لینا چاہتا لیکن جن حضرات کی نگاہ سے سابق سینیٹر جسٹس (ر) عبدالرزاق تھہیم کی کتابjudiciary and Judges(عدلیہ اور جج) گزری ہے، وہ گواہی دیں گے کہ یہ داستان بڑی تلخ اور شرم سار کرنے والی ہے کہ ماضی میں ججوں کے تقرر کے سلسلے میں کیا کچھ کیا جاتا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ صاحب کی خودنوشت پڑھیے۔ آپ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ کس طریقے سے اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے اپنے شوہر جناب آصف علی زرداری کو ان سے یہ بات کرنے کے لیے بھیجا کہ حکومت انھیں دو ججوں کو نظرانداز (supersede)  کرکے چیف جسٹس بنانا چاہتی ہے، لیکن مطالبہ یہ تھا کہ پہلے وہ وزیراعظم صاحبہ کو اپنا استعفا لکھ کر دے دیں، جس پر کوئی تاریخ درج نہ ہو، تاکہ جب چاہیں وہ ان کو نکال سکیں۔ خواہ معاملہ سیاست دانوں کا ہو یا ججوں کی سفارش کا، دونوں کی مثالیں اچھی نہیں ہیں۔ یہ وہ     پس منظر ہے جس میں ۱۸ویں اور ۱۹ویں ترمیم کے ذریعے کچھ تبدیلیاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ ججوں کے تقرر کے سلسلے میں کسی کو صواب دیدی اختیار (discretion)  حاصل نہیں ہے، نہ چیف جسٹس کو، نہ چیف ایگزیکٹو کو۔ دوسری یہ کہ تقرر کے طریقۂ کار کو اداروں سے مشاورت کی شکل دی گئی ہے، تاکہ کسی ایک فرد یا ادارے کو بالادستی حاصل نہ ہو۔ ہرمعاملے کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لے کر جو بھی سفارش مرتب کی جائے، وہ دو چھلنیوں سے گزرے گی:     ایک جوڈیشل کمیشن اور دوسری پارلیمانی کمیٹی۔ اس طرح ہرپہلو سے بحث کی بنیاد پر فیصلے ہوں گے جو میرٹ پر ہوں گے اور توقع ہے کہ شفاف ہوں گے۔

تیسری چیز یہ کہ اس میں عدلیہ اور پارلیمنٹ دونوں کا حصہ ہوگا، محض کسی ایک کا نہیں۔ اس پر بہت سے اعتراضات کیے گئے ہیںاور مجھے دکھ سے یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ بہت سے وکلا نے جو لائق بھی ہیں اور محترم و معتبر بھی، ان میں سے بعض نے اپنے بیانات اور خصوصیت سے میڈیا ٹاک شوز میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ: ’’دنیا میں کہیں بھی پارلیمنٹ کا کردار نہیں پایا جاتا اور یہ کہ ان نامزدگیوں کو خالص عدلیہ کی تجویز پر منحصر ہونا چاہیے‘‘۔ یہ بات امرواقعہ کے خلاف ہے۔ Parliaments of The Worldکی جلددوم کا آخری باب اسی موضوع سے متعلق ہے۔ اس کی رو سے دنیا کے ان ۷۰ممالک میں جن کے جمہوری نظام کی تفصیلات اس میں دی گئی ہیں، ۳۲ ایسے ہیں جہاں پر پارلیمنٹ کا کوئی نہ کوئی واضح کردار ہے، مثلاً جرمنی، اٹلی، فرانس اور ہالینڈ میں پارلیمنٹ باقاعدہ عدلیہ کو منتخب کرتی ہے۔ دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں امریکا اور برطانیہ کی پوزیشن یہ ہے کہ امریکا میں سینیٹر حضرات صدر کو نجی طور پر نام تجویز کرتے ہیںاور پھر باضابطہ طور پر صدر نام تجویز کرتا ہے جسے سینیٹ منظور کرتا ہے۔ اسی طرح ججوں کی معزولی کا بھی سینیٹ ہی کو اختیار ہے۔

برطانیہ کی مثال لیجیے: برطانیہ میں صدیوں سے لارڈ چانسلر جو ایک سیاسی منصب ہے، جو دارالامرا  کا اسپیکر ہوتا ہے وہ ساری سفارشات دیا کرتا تھا۔ برطانیہ میں ۲۰۰۵ء میں نیا دستوری ایکٹ  منظور کیا گیا ہے، جس کے تحت اب یہ اختیار ایک جوڈیشل کمیشن کو سونپا گیا ہے۔ اس جوڈیشل کمیشن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ۹ لیگل ممبر، ۳سینیر جج، ایک سرکٹ جج، ایک        عام مجسٹریٹ، ایک ڈسٹرکٹ جج، ایک عام مجسٹریٹ (non-judicial)، ایک رکن ٹریبونل کے حلقے سے، ایک بیرسٹر، ایک مشیر (وہ وکیل جو عدالت میں پیش نہیں ہو مگر قانونی رہنمائی و معاونت کا کام انجام دیتا ہے) اور چھے عام شہریوں پر مشتمل ہوگا جس کی سربراہی ایک جج نہیں کرے گا، بلکہ ایک عمومی ممبر کرے گا۔ عملاً اس کمیشن کی پہلی سربراہ جو خاتون بنی ہے اس کا نام بیروینس اوشا پراشا ہے۔ یہ دارالامرا کی ایک ممبر ہے، کوئی جج نہیں ہے۔ گویا کہ اس میں پارلیمنٹ کی بھرپور نمایندگی موجود ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ یہ کمیشن ججوں کے ناموں کی تجویز لارڈ چانسلر کو  کرے گا اور لارڈ چانسلر کمیشن کی کسی تجویز کو مستردکرسکتا ہے، یا دوبارہ غور کرنے کے لیے بھیج سکتا ہے۔ دوبارہ غور کرنے کے بعد اولین طور پر تجویز کردہ نام دوبارہ آسکتا ہے، لیکن اگر لارڈ چانسلر  کسی نام کو مسترد کرتا ہے تو کمیشن دوبارہ وہی نام نہیں بھیج سکتا۔ اس کو دوسرا نام بھیجنا پڑے گا۔   البتہ یہ ضرور ہے کہ لارڈ چانسلر دو سے زیادہ نام مسترد نہیں کرسکتا۔ ایک بار پھر واضح کر دیا جائے کہ لارڈ چانسلر کوئی جج نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک سیاسی عہدہ ہے اور ہائوس آف لارڈز کا سربراہ بھی لارڈ چانسلر ہی ہوتا ہے۔ تیسرا نام اسے قبول کرنا پڑے گا۔

ان تمام معلومات کی روشنی میں، مَیں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اصل اصول یہ ہے کہ عدلیہ کے تمام تقرر اہلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔ یہ صواب دیدی نہ ہوں اور تمام تقرریوں میں عدلیہ اور پارلیمنٹ دونوں کا کردار ہو۔ ۱۹ویں ترمیم میں ان اصولوں کا اہتمام کیا گیا ہے کہ ۱۸ویں ترمیم کے مجوزہ نظام میں جو خامیاں رہ گئی تھیں عدالت عظمیٰ کی تجاویز کی روشنی میں  ان کی اصلاح بھی کردی گئی ہے۔میری نگاہ میں یہ ایک تاریخی پیش رفت ہے۔

 

اللہ سے غافل اہلِ دولت و ثروت اور حکومت اپنی قوت، حکمت اور عیارانہ سیاست کے زعم میں، اور اپنے سرپرستوں کی دنیوی طاقت اور تائید کے بھروسے پر، اپنے اقتدار کو ناقابلِ شکست سمجھ لیتے ہیں، اور ساری منصوبہ بندیاں اس طرح کرتے ہیں کہ جیسے ان کی حکمرانی اور بالادستی کو دوام میسر رہے گا۔ وہ تاریخ کے نشیب و فراز سے بے پروا ہوکر اصل بالاتر قوت کی تدبیر کے امکانات کو ایک لمحے کے لیے بھی لائقِ توجہ نہیں گردانتے، اور قوت کے نشے میں مست ہوکر اپنی  من مانی کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور ایسے ایسے کھیل کھیلتے ہیں کہ انسان تو کیا فرشتے بھی ششدر رہ جاتے ہیں۔ لیکن پھر قدرت کا ایک جھٹکا ان کے سارے شیش محل کو چکنا چور کردیتا ہے، اور ان کی ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ زمین و آسمان کے خالق و مالک نے سچ کہا ہے کہ وَ مَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَo(اٰل عمرٰن ۳:۵۴) ’’وہ اپنی چالیں چلتے ہیں اور اللہ اپنی تدبیر کرتا ہے اور اللہ ہی کی تدبیر غالب رہتی ہے‘‘۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے اربابِ قوت و اقتدار کا حال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ 

سامان سو برس کا ہے پَل کی خبر نہیں

اس کی تازہ ترین مثال تیونس میں رونما ہونے والے ان واقعات کے آئینے میں دیکھی جاسکتی ہے، جو ۱۷دسمبر ۲۰۱۰ء کو ایک چھوٹے سے قصبے سیدی بوزید میں ایک ۲۶سالہ گریجویٹ نوجوان محمد البوعزیزی کی خودسوزی کی کوشش سے شروع ہوئے اور احتجاج کی لہروں نے دیکھتے ہی دیکھتے چار ہفتوں میں پورے تیونس میں ایسی ہلچل مچا دی کہ تاحیات صدارت کا مدعی اور بعدِحیات جانشین کے تقرر کا خواب دیکھنے والا کُلی اختیارات کا مالک، صدر زین العابدین بن علی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔ اقتدار، دولت، پولیس، فوج اور ذاتی ملیشیا، کچھ بھی اس کے کام نہ آسکا۔ تیونس کے طول و عرض میں تبدیلی کے نقارے بجنے لگے، بن علی کی شخصی اور حزبی آمریت کا قلعہ زمین بوس ہوگیا اور ملک میں ایک نئے دور کے آغاز کی راہیں کھل گئیں جسے ’انقلابِ یاسمین‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ یہ تبدیلی عرب اور اسلامی دنیا میں دُور رس تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ بلاشبہہ انقلاب کا یہ عمل ابھی جاری ہے اور اپنی تکمیل کی منزل کی طرف رواں دواں ہے، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انقلاب دشمن قوتیں اپنی چالوں میں مصروف ہیں اور اسے پٹڑی سے اُتارنے کا کھیل کھیل رہی ہیں، لیکن تمام قرائن اشارہ کر رہے ہیں کہ ان شاء اللہ تیونس اور اس کے بعد عرب اور مسلم دنیا کے متعدد ممالک کی زندگیوں میں ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ تبدیلی کی جو مضبوط لہر اُٹھی ہے اس کی کامیابی اور صحیح سمت میں پیش رفت کی دعائوں کے ساتھ اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس انقلابی رُو کے بارے میں غوروفکر کے چند گوشوں پر روشنی ڈالی جائے۔

تیونس ایک مسلمان ملک ہے جس کی تاریخ تیرہ سو سال پر محیط ہے۔ اسلام کی روشنی افریقہ کے اس علاقے میں پہلی ہجری صدی (۶۹۸ء) میں پہنچی اور ۱۸۸۳ء میں فرانس کے غلبے تک یہ حسین و جمیل ملک اسلامی قلمرو میں ایک نگینے کے مانند دمکتا رہا۔ درمیان میں یورپ کی عیسائی یلغار (Crusade) کے زمانے میں اسے نصف صدی (۱۵۲۴ء-۱۵۷۴ء) کے لیے ہسپانیہ کے تسلط کا تلخ تجربہ بھی ہوا۔ اوّلین بارہ سو سال میں تیونس نے مسلمان حکمران خاندانوں (عرب، بربر، فاطمی، موحدون اور عثمانیہ سب ہی) کے اقتدار کا مزا بھی چکھا۔ عوامی سطح پر تصوف کے تمام ہی بڑے سلسلوں کے اثرات اس سرزمین پر رہے۔ خاص طور پر قادریہ، الرحمانیہ، عیساویہ، تیجانیہ اور عروسیہ۔ اسلام کی آمد کے ساتھ ہی جامع الزیتونیہ دینی، اصلاحی اور علمی سرگرمیوں کا مرکز رہی اور ابن خلدون جیسا نابغۂ روزگار مفکر اور سیاسی مدبر بھی اسی سرزمین کا گلِ سرسبد تھا۔ ابتدا ہی سے اہلِ تیونس    مالکی مذہب کے پیرو تھے۔ گو عثمانی دور میں آبادی کے ایک حصے نے حنفی مسلک اختیار کیا اور اس طرح مالکی اور حنفی فقہ دریا کے دو دھاروں کی طرح اس علاقے کو سیراب کرتے رہے اور بڑی    ہم آہنگی کے ساتھ یہ کام انجام دیتے رہے۔ واضح رہے کہ جامع الزیتونیہ نے ۱۲۰۷ء میں باقاعدہ جامعہ الزیتونیہ (زیتونیہ یونی ورسٹی) کا درجہ حاصل کرلیا تھا جہاں تمام دینی علوم کے ساتھ لغت، سائنس اور طب کے ہرشعبے کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ نیز زیتونیہ کے مدارس کا سلسلہ ملک کے  طول وعرض میں قائم تھا اور مرکزی جامعہ میں ہزاروں طلبہ علم کے چشمے سے فیض یاب ہوتے تھے۔

تیونس کی تاریخ کا تاریک دور فرانس کا نوآبادیاتی زمانہ تھا، جو ۱۸۸۳ء میں معاہدہ لومارسک (Treaty of Lu marsc)کی چھتری تلے شروع ہوا اور ۱۹۵۵ء تک جاری رہا۔ مارچ ۱۹۶۵ء میں تیونس آزاد ہوا، مگر آزادی کے ساتھ ہی اہلِ تیونس کی آزمایش کا دوسرا دور شروع ہوگیا۔ جس میں اقتدار بیرونی حکمرانوں سے منتقل ہوکر اپنی ہی سرزمین کے دو آمروں کے ہاتھوں میں مرکوز ہوگیا، یعنی حبیب بورقیبہ (۱۹۵۶ء-۱۹۸۷ء) اور زین العابدین بن علی (۱۹۸۷ء-۲۰۱۱ء)۔ فرانس نے اپنے زمانۂ تسلط میں تیونس کے شریعت کے قانون کو ذاتی زندگی کے امور تک محدود کردیا۔ اس کے ساتھ تیونس پبلک لا کو بھی فرانس کے نظام قانون کے مطابق ڈھال دیا گیا۔ یوں زبان، تعلیم، تہذیب و تمدن اور معیشت اور سیاست، ہر شعبۂ زندگی کو فرانس کی تہذیب کے رنگ میں رنگنے کے سامراجی ایجنڈے کو بڑی بے دردی اور قوت سے آگے بڑھایا گیا۔ اس دور میں دین کی روشنی اگر کہیں سے میسر تھی تو وہ خانقاہیں اور مساجد اور مدرسے تھے۔

فرانسیسی سامراج کے خلاف جو عوامی تحریک رونما ہوئی وہ دینی اور خود دنیوی تعلیمی اداروں ہی کی مرہونِ منت تھی۔ حبیب بورقیبہ اگر جدید تعلیمی اداروں کی پیداوار تھا، تو عبدالحمید ابن بادیس، توفیق مدنی اور خود حوری بومدیان زیتونیہ ہی کے تعلیم یافتہ رہنما تھے۔ یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ استعمار سے آزادی کی تحریک کے دوران میں، آزادی کی تحریک کا ہدف صرف فرانسیسی سامراج  سے نجات ہی نہ تھا بلکہ تیونس کے اسلامی تشخص کی حفاظت اور دینی اقدار کی سربلندی بھی تھا۔ حبیب بورقیبہ کی ۱۹۲۹ء اور اس کے بعد کی تقاریر اس پر شاہد ہیں کہ خود اس نے اسلام کو تیونس کی شناخت کے طور پر پیش کیا اور بار بار مسلمان عورت کے حجاب کو اس شناخت کا مظہر قرار دیا۔ لیکن یہ ایک عظیم بدقسمتی تھی کہ آزادی کے حصول کے فوراً بعد اس (حبیب بورقیبہ) کی دستور پارٹی اور   اس کی قیادت نے رنگ بدلا اور اپنے اقتدار کے پہلے ہی سال میں ملکی سیاست، قانون اور  تہذیب و ثقافت کا رشتہ اسلام سے کاٹنے کا ’کارنامہ‘ انجام دیا۔ کبھی ’اسلامی اصلاحات‘ کا تقاضا قرار دیا اور کبھی بڑی ڈھٹائی سے ترقی اور جدیدیت کا سہارا لے کر ملک کے قانون، تعلیم اور اجتماعی زندگی کے تمام ہی شعبوں پر سیکولر تہذیب اور قانون کو مسلط کیا۔ اس طرح جدیدیت کے نام پر لادینیت اور مغربیت کا کھیل شروع ہوگیا۔ تعددِ ازدواج پر پابندی اور عائلی قانون بشمول قانونِ وراثت کی تبدیلی سے اس ’سیکولر یلغار‘ کا آغاز ہوا۔ مسجدو محراب اور مدرسہ اور خانقاہ کو سرکاری نظام کے تسلط میں لایا گیا۔ شخصی اور سیاسی آزادیاں مفقود اور بنیادی حقوق پامال کیے جانے لگے۔ قوت کا ارتکاز ایک مطلق العنان حکمران کے ہاتھ میں ہوگیا جس نے روزے جیسی فرض عبادت تک پر شب خون مارتے ہوئے اسے معاشی ترقی سے متصادم قرار دے کر منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ گو، بالآخر اس آخری اقدام کی حد تک بورقیبہ کو منہ کی کھانی پڑی لیکن بحیثیت مجموعی اجتماعی زندگی کے پورے نظام، بشمول حجاب پر پابندی اور شراب اور جوے کی ترویج اور سیاحت کے فروغ کے نام پر مغربی اقوام کے تمام گندے اور مذموم کاروبار کی کالک اپنے منہ پر مل گیا۔

قوم کے اجتماعی ضمیر اور حکمرانوں کے مقاصد اور اہداف میں تناقض اور تصادم نے اس ملک کو، جو قدرتی وسائل سے مالا مال تھا، حکومت اور عوام کی مسلسل کش مکش کی آگ میں جھونک دیا۔ یک جماعتی آمریت نے ملک کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کردیا اور اسلامی قوتوں اور اشتراکی تصورات کے تحت کام کرنے والی جماعتوں اور گروہوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ روحانی اور صوفی سلسلوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ ان سلسلوں سے وابستہ ہزاروں نوجوانوں، اور اسی طرح اسلامی تحریک کے کارکنوں کو پابندسلاسل کیا گیا۔ اس صورت حال کے نتیجے میں اسلام کے نام لیوا ہزارہا لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اس ریاستی استبداد سے تبلیغی جماعت جیسی غیرسیاسی مذہبی تحریک بھی محفوظ نہ رہی۔

ان نامساعد حالات میں دینی غیرت رکھنے والے نوجوانوں نے جامعہ تیونس کے   پروفیسر شیخ راشد الغنوشی اور ان کے معاون عبدالفتاح مورو کی قیادت میں پہلے الانتجاہ الاسلامی اور پھر حزب النہضہ کے پرچم تلے جمہوریت کے قیام، بنیادی حقوق کے تحفظ، معاشی انصاف کے حصول، قانون کی بالادستی، کثیرجماعتی سیاست کے فروغ اور اسلامی اقدار اور شعائر کی ترویج    کے لیے منظم جدوجہد کا آغاز کیا۔ اسلامی تحریک نے فکری، دعوتی اور سیاسی تبدیلی کے محاذوںپر بیک وقت کام کیا۔ ان کے جاری کردہ رسالوں المعارفہ، مستقبل اورالفجر کے مضامین نے فکری انقلاب برپا کیا۔ اس دعوت اور پیغام کو اقتدار نے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔بورقیبہ اور اس کی خفیہ ایجنسی (مخابرات) کے سربراہ زین العابدین بن علی نے جو ۱۹۸۷ء میں بورقیبہ کو ہٹاکر خود صدرِ مملکت بن گیا، ساری قوت اسلامی تحریک کو کچلنے اور اس کی آواز کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کی۔ مغربی اقوام خصوصیت سے فرانس اور امریکا نے تیونس کے اس استبدادی ٹولے کی پوری پوری پشت پناہی کی۔ شیخ راشدالغنوشی نے بھی برسوں جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، انھیں عمرقید تک کی سزا دی گئی جس کی گرفت سے نکل کر انھیں جلاوطنی کی زندگی اختیار کرنا پڑی۔ وہ ابھی تک برطانیہ میں مقیم اور وطن واپسی کے منتظر ہیں!

تیونس کا اصل مسئلہ ، متعدد دوسرے عرب اور مسلمان ممالک کی طرح یہی ہے کہ مغربی سامراج سے آزادی کے بعد بھی وہ مغرب کی گرفت سے آزاد نہیں ہوسکے اور سامراجی استبداد کا ایک نیا دور شروع ہوگیا، جس میں اصل کارفرما قوت مغربی اقوام ہی ہیں۔ البتہ اب وہ بلاواسطہ حکمرانی کے بجاے بالواسطہ حکمرانی کا کام انجام دے رہے ہیں، اور ان ممالک کی مفاد پرست اشرافیہ ان کے آلۂ کار کا کردار ادا کرر ہی ہے۔ ان کا مقدر ان چار مصیبتوں سے عبارت ہے:   ذہنی غلامی، سیاسی محکومی، معاشی گرفت اور تہذیبی جال۔ یہ چوہری غلامی کی وہ لعنت ہے جس کے خلاف عرب اور بیش تر اسلامی دنیا کے عوام آج نبردآزما ہیں۔ تیونس ہویا مصر، لیبیا ہویا مراکش، اُردن ہویا شام، بنگلہ دیش ہو یا پاکستان، ہمارا اصل مسئلہ ہی عالمی سامراجی قوتوں اور مقامی اشرافیہ کے آمرانہ نظام کا گٹھ جوڑ ہے، اور تیونس میں رونما ہونے والی انقلابی تحریک نے ایک بار پھر اس بنیادی حقیقت کو مرکز توجہ بنادیا ہے۔ لندن کے اخبار دی گارڈین کی ایک تازہ اشاعت میں تیونس کے ایک دانش ور ہشام مطار نے پورے عالمِ عرب کے دل کی کیفیت کو اس طرح بیان کیا ہے:

میری پیدایش سے بھی پہلے ہم عرب، دو طاقتوں کی گرفت میں ہیں جو بظاہر ناقابلِ شکست ہیں۔ ایک ہمارے بے رحم آمر جو ہم پر جبر کرتے ہیں اور ہماری تحقیر کرتے ہیں، اور دوسرے مغربی طاقتیں، جو یہ پسند کرتی ہیں کہ ہم پر ان کے وفادار مجرم حکومت کریں، بجاے اس کے وہ منتخب راہنما جو ہمارے سامنے جواب دہ ہوں۔ ہم اس تاریک انجام کی طرف بڑھتے رہے کہ ہم ہمیشہ ان درندوں کی گرفت میں رہیں گے۔ تیونس کے عوام نے ہمیں تباہی کے گڑھے کے کنارے سے پیچھے کھینچ لیا ہے۔

تیونس، عالمِ عرب اور مسلم دنیا کے کرب ناک حالات میں تیونس کے ’انقلابِ یاسمین‘ کا یہی وہ پیغام ہے جس کا ادراک ضروری ہے اور جس کی وجہ سے امریکا اور یورپ کے ساتھ خود عرب اور اسلامی دنیا کے حکمرانوں کے ایوانوں میں ایک زلزلہ سا آگیا ہے اور ہر طرف کہرام مچا ہوا ہے۔ ہم نہایت اختصار سے تبدیلی کے اس منظرنامے کے چند پہلوئوں کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں:

۱- سب سے پہلی بات مسئلے کی اصل نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ آج ہم جس مصیبت میں مبتلا ہیں اس کی جڑ وہ بگاڑ ہے جس نے آزادی کے بعد تیونس ہی نہیں، بیش تر مسلم ممالک پر    تسلط حاصل کرلیا ہے اور وہ ہے دہری غلامی جس کی ایک مثال تیونس ہے، یعنی:

(ا) مغربی استعماری اقوام کی ہمارے سیاسی، معاشی، قانونی اور تہذیبی نظام پر گرفت  اور جدیدیت، سیکولرزم، معاشی ترقی، روشن خیالی ، آزاد روی (لبرلزم)، مارکیٹ اکانومی اور نام نہاد عالم گیریت کے حسین عنوانوں کے ذریعے ہمارے فکرونظر، ہمارے میڈیا، ہماری تعلیم، ہمارا    نظامِ حکومت اور ہماری معیشت کو اپنی گرفت میں لانا اوراپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا۔

(ب) اس نوسامراجی انتظام میں خود ہمارے اپنے ملک کے بااثر عناصر اور اشرافیہ کو  آلۂ کار بنانا خواہ ان کا تعلق سول قیادت سے ہو یا فوج اور بیوروکریسی کے افراد ہوں یا ادارے، خصوصیت سے این جی اوز۔ جمہوریت، معاشی امداد اور عالم گیریت وہ خوش نما عنوان ہیں، جن کے تحت مغرب کے ایجنڈے پر مقامی کارندے یہ کھیل کھیلتے ہیں، اپنی قوم اور اس کے وسائل کو بری طرح لوٹتے ہیں تاکہ جب بھی ان کا پردہ چاک ہو تو اپنی محفوظ پناہ گاہوں کا رُخ کرلیں۔ فسطائی نظام اور بدعنوانی پر مبنی اس انتظام کا لازمی حصہ ہیں۔ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ اس لیے بھی کہ مسلمان اُمت کی روح میں اس کا دین و ایمان رچے بسے ہیں، صرف جبرواستبداد ہی وہ طریقہ ہے جس سے ان پر ان کے دین، ان کی اخلاقی اقدار اور ان کی تہذیبی روایات سے متصادم کوئی نظام مسلط کیا جاسکتا ہے۔ حقیقی جمہوریت کا نفاذ و ترویج (democratization) اور اسلامائزیشن ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں اور مغرب کے ایجنڈے کا فروغ ممکن ہی ہے صرف ایک آمرانہ نظام اور فسطائی قیادت کے ذریعے۔ جگرمرادآبادی نے   اس طرف اشارہ کیا تھا جب انھوں نے کہا    ؎

جمہوریت کا نام ہے، جمہوریت کہاں
فسطائیت حقیقت عریاں ہے آج کل

مسلم ممالک میں آمرانہ حکمرانی (autocratic rule) اور من مانی اور استبدادی قوت (arbitrary power)کا نظام اور قیادتوں کا اپنے شخصی مفادات کے حصول کے لیے مغربی اقوام، ان کے مقاصد، تہذیب اور مفادات کا خادم ہونا ایک دوسرے سے مربوط اور لازم و ملزوم ہیں اور جس تبدیلی اور انقلاب کے لیے مسلمان عوام بے چین اور مضطرب ہیں، وہ ان دونوں مصیبتوں سے نجات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس انقلاب کا ہدف چہرے بدلنا نہیں ہے، اس پورے انتظام اور دروبست کو تبدیل کرنا ہے، اور انقلاب اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک اس اصل مسئلے کا حل نہ تلاش کرلیا جائے۔

تیونس میں انقلاب کی ابھی ابتدا ہوئی ہے اور مغربی اقوام اور مقامی مفاد پرست عناصر کی پوری کوشش یہ ہوگی کہ چند نمایشی تبدیلیاں کرکے پرانے نظام کے لیے نئی زندگی حاصل کرنے کی کوشش کریں، اور جب تک اس خطرے کا سدباب نہ کرلیا جائے انقلاب نامکمل ہوگا اور تبدیلی کا عمل پٹڑی سے اُتر سکتا ہے جس کی پیش بندی ضروری ہے۔

۲- دوسری بنیادی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ مغربی اقوام کا مقصد اپنے مفادات اور اہداف کا حصول ہے، جن کی خاطر وہ بڑی سے بڑی قلابازی کھا سکتے ہیں۔ تیونس میں حبیب بورقیبہ جب تک ان کے مقاصد کی خدمت کرتا رہا، وہ ان کا پسندیدہ شخص تھا، لیکن انھوں نے دیکھا کہ اس کی گرفت کمزور ہونے لگی ہے تو اپنا دوسرا مہرہ زین العابدین بن علی کی شکل میں آگے بڑھا دیا۔ وہ بورقیبہ کا قریبی ساتھی اور خفیہ سروس کا سربراہ تھا۔ اس طرح ایک غیرخونیں انقلاب کے ذریعے اس نئے مہرے کو ملک کی کمانڈ کے مقام پر لے آئے اور بورقیبہ کو ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا۔ پھر بن علی نے ۲۳سال تک ان کے مقاصد کے حصول میں اپنا کردار ادا کیا اوراس دور میں اس کی تمام بدعنوانیاں، عوام دشمنیاں اور حقوق کی پامالیاں ان کو نظر نہ آئیں، حتیٰ کہ جب دسمبر۲۰۱۰ء میں احتجاجی لہریں بڑھیں تو فرانس کے وزیرداخلہ نے فرانس سے فسادات کو روکنے اور ہنگاموں کو فرو کرنے کے لیے خصوصی تربیت یافتہ پولیس (Riot Police) تک بھیجنے کی بات کی، لیکن جب  بن علی کے پائوں تلے سے زمین نکل گئی تو فرانس کے صدر سرکوزی نے پناہ تک دینے سے   معذرت کرلی، بالکل اسی طرح جس طرح اس سے پہلے شاہِ ایران کو امریکا نے پناہ دینے سے  انکار کیا تھا۔ جس دوستی کی بنیاد مفاد پر ہوتی ہے اس کا انجام اس سے مختلف ہو نہیں سکتا، لیکن   اقتدار کے نشے میں مست کتنے ہی حکمران ہیں جو اپنے سامنے کی ایسی بات کا بھی ادراک نہیں رکھتے، فاعتبروا یااولی الابصار۔

۳- مغربی اقوام اور مقامی حکمران دونوں ہی ایک اور بھی کھیل کھیل رہے ہیں جس کا مظہر یہ حکمت عملی ہے کہ ایک قوم کے ایمان، اس کے نظریاتی عزائم اور تہذیبی تمنائوں کو محض مادی ترقی، مال و متاع کی خیرات اور ترغیب و ترہیب کے ہتھکنڈوں سے ہمیشہ کے لیے اپنے قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ توقع انسانی فطرت کے خلاف ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے کہ ایسی حکمت عملی بالآخر ناکام ہوتی ہے۔ لیکن ہردور کے ظالم اور جابر حکمران اس تاریخی حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں۔ تیونس کے حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ حکمت عملی تارِ عنکبوت کے مانند ہے، لیکن کم لوگ ہیں جو ایسے واقعات سے سبق لیتے ہیں۔ زین العابدین بن علی کو اپنی فوج اور سوا کروڑ کے اس ملک میں ایک لاکھ ۳۰ہزار امریکا کی تربیت یافتہ مسلح پولیس فورس اور میڈیا اور معلومات کے تمام ذرائع پر سرکاری کنٹرول کے زعم میں کسی عوامی ردعمل کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ لیکن بظاہر بے بس انسانوں کی اس بستی میں اندر ہی اندر جو لاوا پک رہا تھا اس کا کسی کو ادراک نہ تھا۔ مگر راکھ کے ڈھیر سے پھر ایک ایسی چنگاری نکل آئی جس نے پورے ملک میں مزاحمت اور بغاوت کی آگ بھڑکا د ی۔

ایک مشہور عرب صحافی اور دانش ور رامی جی خوری (Rami G. Khouri) نے اس طرف متوجہ کیا ہے جب وہ کہتا ہے: ’’کس طرح بن علی کی پولیس اسٹیٹ کو جب دیرپا عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو تیزی سے بکھر کر رہ گئی‘‘۔ (ہیرالڈ ٹریبون، ۲۲ جنوری ۲۰۱۱ء)

صرف پولیس اسٹیٹ ہی کے پاے چوبیں نہیں، مغربی اقوام کی پوری حکمت عملی ہی   کسی حقیقی اور مضبوط بنیاد سے عاری ہے، چنانچہ حقیقی عوامی ردعمل کے آگے اس کی ناکامی ایک تاریخی حقیقت ہے۔

۴- تیونس کے حالیہ واقعات نے مسلمان ممالک میں سیکولرزم، سرمایہ داری اور مغربیت کی ہر طرح سے ترویج اور اسلامی لہر کو ’دہشت گردی‘ کے نام پر قوت کے ذریعے روکنے کی حکمت عملی کی ناکامی کے بارے میں غوروفکر کے لیے نئے زاویے فراہم کیے ہیں۔ تیونس میں یہ تجربہ فرانسیسی سامراجی اقتدار کے ۸۰سال اور بورقیبہ، بن علی ٹولے کے تسلط کے ۵۵سال سے جاری ہے لیکن تیونس کے عوام کے حصے میں اپنے دین اور تہذیب سے دُوری کے ساتھ غربت، بے روزگاری، مہنگائی، قرضوں کی لعنت اور آزادی اور عزتِ نفس سے محرومی ہی کی سوغات آئی ہے۔ ۱۵ سے ۲۵ سال کے نوجوان جو آبادی کا ۲۵فی صد ہیں، ان میں بے روزگاری کا تناسب ۳۰ فی صد سے متجاوز ہے۔ مارکیٹ اکانومی جسے معاشی ترقی اور خوش حالی کا مجرب نسخہ قرار دیا جاتا ہے، وہ مریض کو اور بھی محرومیوں کا شکار کرنے کا باعث ہوا ہے۔ سیکولر قیادت نے استبدادی نظام کے ساتھ معاشی استحصال، دولت کی ظالمانہ حد تک غیرمنصفانہ تقسیم اور اس کے نتیجے میں اقتصادی ناہمواریوں اور ملک و ملّت کی بیرونی دنیا پر محتاجی کے تحائف عطا کیے ہیں۔ یہی وہ حالات ہیں جو انقلاب کو جنم دیتے ہیں۔ جب قوم کروٹ لیتی ہے تو پھر بڑے سے بڑے آمر کے پائوں اُکھڑ جاتے ہیں۔ تیونس کی انقلابی رَو کا یہ پیغام دنیا کے تمام مظلوم انسانوں کے لیے ہے۔ یہ دوسرے ممالک کے مصیبت زدہ عوام کے لیے نئی زندگی کا پیغام اورغاصب حکمرانوں اور ان کے مغربی آقائوں کے لیے بھی ایک ’صداے ہوش‘ (wake up call) کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح قدرت کا قانون ہے کہ رات کے بعد صبح کی روشنی نمودار ہوتی ہے، اسی طرح ظلم کی رات بھی جو چھوٹی یا لمبی تو ہوسکتی ہے مگر ہمیشہ کے لیے سورج کی روشنی کا راستہ نہیں روک سکتی:

یوں اہلِ توکّل کی بسر ہوتی ہے
ہر لمحہ بلندی پہ نظر ہوتی ہے

گھبرائیں نہ ظلمت سے گزرنے والے
آغوش میں ہر شب کے سحر ہوتی ہے

ایک قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ جس طرح پہاڑوں کی سنگلاخ زمین پر پانی اپنا راستہ بنا لیتا ہے اسی طرح انسانی تخیل، اُپج اور سوچ بچار کی صلاحیت ہزاروں دروازوں کو کھولنے کی صلاحیت پیدا کرلیتی ہے۔ تیونس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر حکومت کا عملی تسلط تھا۔ مسجد ومنبر پر حکومتی فکر کی حکمرانی تھی، لیکن موبائل فون، انٹرنیٹ اور فیس بک کی اعانات، جنھیں آبادی کا ۱۸ فی صد استعمال کررہا ہے، مزاحمت کی تحریک کو منظم اور مربوط اور مؤثر ہونے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

بلاشبہہ آج کے پاکستان کے حالات تیونس کے حالات سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ یہاں بھی امریکا کی گرفت ہماری قیادت، ہماری پالیسیوں اور ہمارے سیاسی اور معاشی نظام پر اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب ملک کی آزادی ایک نمایشی شے بنتی جارہی ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں جس طرح امریکا کے مطالبات کے آگے سپر ڈالی گئی اور زرداری گیلانی حکومت نے اس غلامانہ پالیسی کو اور بھی وفاداری کے ساتھ آگے بڑھایا ہے، اس کے نتیجے میں قومی عزت اور غیرت کا تو خون ہوا ہی ہے، اور ملک کی آزادی بُری طرح مجروح ہوئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ملک کا امن و امان تہ و بالا ہوگیا ہے۔ لاقانونیت کا دور دورہ ہے، فوج اور عوام میں تصادم اور ٹکرائو بڑھ رہا ہے، ’دہشت گردی‘ کا دائرہ وسیع تر ہورہا ہے، امریکی ڈرون حملے اور ان کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر معصوم انسان شہید اور وسیع وعریض علاقے تباہ و برباد ہورہے ہیں۔ معیشت کا یہ حال ہے کہ صرف اس جنگ میں شرکت کی وجہ سے ۵۰ سے ۱۰۰ ارب ڈالر تک کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے اور اشیاے ضرورت کی قلّت نے زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اس کے ساتھ حکمرانوں کی عیاشیاں، بدعنوانیاں روز افزوں ہیں اور ہر طرف بدعنوانی کا دور دورہ ہے۔ قیادت کے ایک اہم حصے کے مفادات اور اثاثے ملک سے باہر ہیں اور ان کو اپنے اقتدار کے لیے ہی نہیں اب تو ذاتی حفاظت کے لیے بھی بیرونی قوتوں کا سہارا درکار ہے۔ ملک میں حکمرانی کا عمل مفقود ہورہا ہے اور مفادات کی پرستش کا بازار گرم ہے۔ حکمرانی اور معیشت کی حالت یہ ہے کہ    ؎

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں

کیا ہماری قیادت تیونس کے ’انقلابِ یاسمین‘ سے کوئی سبق لینے کے لیے تیار ہے یا اس لمحے کا انتظار کر رہی ہے، جب:

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارا

اچھی حکومت کسی بھی معاشرے کے لیے نعمت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ امن و امان اور عدل و انصاف کے قیام کے ساتھ عوام کے مسائل کو حل کرنے اور ان کو مشکلات سے نکلنے میں مدد اور رہنمائی فراہم کرتی ہے اور اسے ہر دوسری سرگرمی پر اوّلیت دیتی ہے۔ لیکن آج جمہوریت کے نام پر جو زرداری- گیلانی حکومت ملک کے سیاہ و سپید کی ذمہ دار بنی ہوئی ہے، اس کا امتیازی وصف حکمرانی کا فقدان، عوامی مسائل سے غفلت، بیرونی عناصر کی کاسہ لیسی، کرپشن کا فروغ، حکومت کے ہر شعبے میں نااہلی اور نااہلوں کی سرپرستی، اور ملکی مفادات کو نظرانداز کرکے اپنے ذاتی اور گروہی اہداف کے حصول میں سرگرمی ہے۔ حکومت چلانے کے یہ انداز اور اطوار جمہوریت کے ماتھے پر بدنما داغ کی حیثیت رکھتے ہیں، اور اس کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔ حالات تبدیلی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور وقت اس امر کا تقاضا کر رہا ہے کہ تمام محب ِ وطن عناصر جو ملک میں بیرونی مداخلت کا باب بند کرنا، فوج کو اس کے دفاعی کردار تک محدود رکھنا اور عوام کو جمہوریت کے ثمرات سے فیض یاب کرنا چاہتے ہیں، شخصی اور جماعتی سطح سے بلند ہوکر ملک اور جمہوریت کی بقا کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔

اس عمل کا نقطۂ آغاز ان تین نئے ٹیکسوں کے باب میں مشترک لائحہ عمل کی شکل میں ہوسکتا ہے، جن کے ذریعے اس ماہ حکومت نے اپنے ہی عوام کو معاشی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ سینیٹ کے ارکان کی اکثریت نے جس طرح ان ٹیکسوں کو رد کیا ہے، وہ معاشی اور سیاسی دونوں محاذوں پر  ایک نئی تحریک اور قومی حکمت عملی کی تشکیل اور اس کے حصول کے لیے صف بندی کے لیے فتح باب کا کردار ادا کرسکتا ہے۔

نئے ٹیکس: حکومتی موقف

حکومت نے ۱۲ نومبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جنرل سیلزٹیکس (GST)کا ایک نیا قانون جو دراصل VAT کے اصول پر مبنی ہے اور ایک مالیاتی بل پیش کیا ہے جس کے ذریعے سیلاب زدگان کے لیے سرچارج کے عنوان سے تمام انکم اور کورپوریٹ ٹیکس ادا کرنے والوں پر چھے ماہ کے لیے ۱۰ فی صد ٹیکس کا اضافہ کیا ہے اور ایکسائز ڈیوٹی میں ۱۰۰فی صد اضافہ کیا ہے، یعنی ایک فی صد سے بڑھا کر اسے۲ فی صد کر دیا گیا ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ نئے ٹیکس چار وجوہ سے ضروری ہیں:

۱- حکومت کا جو معاہدہ آئی ایم ایف سے ہے، اس کے تحت مزید قرضے صرف اس صورت میں مل سکتے ہیں جب یہ ٹیکس عائد کیے جائیں۔ اس لیے معیشت کی گاڑی کو آگے چلانے، سرکاری اخراجات اور تنخواہوں تک کی ادایگی کو جاری رکھنے اور مزید قرض لینے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

۲- ملک میں مجموعی قومی پیداوار (GDP) اور ٹیکس کا تناسب خطرناک حد تک کم ہے، یعنی ۳ئ۹ فی صد، جب کہ دنیا کے ترقی پذیر ملکوں میں یہ شرح ۱۷ سے ۲۰ فی صد اور ترقی یافتہ ممالک میں ۳۰، حتیٰ کہ ۴۰ فی صد تک ہے۔ حکومت کو چلانے اور ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ٹیکسوں کی آمدنی میں اضافہ ناگزیر ہے اور یہ ٹیکس اس سمت ایک مثبت قدم ہے۔ پھر حالیہ سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے صرف اس کے متاثرین کی کم سے کم ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے___ اصل ضرورت تو ۸۰۰ ارب روپے کی ہے___ فوری طور پر اس سال ۲۰۰ سے ۲۵۰ ارب روپے درکار ہیں۔   وہ کہاں سے لائیں؟ باہر کے مدد کرنے والے بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ اپنے وسائل کو بروے کار لائو۔ اس لیے ٹیکس کی آمدنی میں فوری اضافے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

۳- ملک میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد محدود ہے۔ ۱۸ کروڑ کے اس ملک میں ٹیکس دینے والوں کے دائرے میں صرف ۳۰ لاکھ افراد آتے ہیں مگر عملاً انکم اور کورپوریٹ ٹیکس دینے والوں کی تعداد ۱۸لاکھ سے بھی کم ہے جن میں ۱۲ لاکھ سے زائد تنخواہ دار طبقہ ہے۔ اس سے ان کی تنخواہ کے ساتھ ہی ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے۔ اس لیے ٹیکس کے دائرے کو بڑھانا ضروری ہے۔

۴- ملکی معیشت کی دستاویز بندی (documentation) وقت کی ضرورت ہے۔ ماضی کی ساری کوششیں اس سلسلے میں ثمرآور نہیں ہوسکیں۔ اس کی وجہ سے ٹیکس کی چوری بھی بڑے پیمانے پر ہوتی ہے اور کالا کاروبار بھی عام ہے۔ معیشت کو دستاویزی نظام میں لانے کے دوررس اثرات ہوں گے اور نیا جنرل سیلزٹیکس اس کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔

یہ وہ چار دلائل ہیں جو حکومت اور اس کے حامیوں کی طرف سے آئے ہیں۔ اس ناقابلِ فہم دعوے کے ساتھ کہ نئے ٹیکسوں سے عوام پر بوجھ اور ملک میں مہنگائی اور افراطِ زر پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا، بلکہ ٹیکس کی شرح موجودہ ۱۷ سے ۲۳ فی صد کی شرح سے کم کرکے ۱۵ فی صد کی  جارہی ہے۔ جس کے نتیجے میں قیمتوں میں کمی ہوسکتی ہے یا اگر اضافہ ہوا بھی تو بہت ہی معمولی اور ناقابلِ التفات ہوگا۔

ہماری نگاہ میں مہنگائی کے بارے میں حکومت کا دعویٰ اور ان ٹیکسوں کے جواز میں دیے جانے والے دلائل یا غلط فہمیوں پر مبنی ہیں یا عوام کو صریح دھوکا دینے کی جسارت ہے۔ ہم ان    تمام پہلوئوں کا نہایت ٹھنڈے انداز میں اور صرف حقائق اور معاشی دلائل کی بنیاد پر جائزہ لینا  چاہتے ہیں۔

ہمیں جن باتوں سے اتفاق ہے وہ یہ ہیں کہ مجموعی قومی آمدنی کے تناسب کے اعتبار سے ٹیکس کا حجم فی الحقیقت شرم ناک حد تک کم ہے۔ حکومت کو وسائل کی ضرورت ہے اور قوم کو وہ وسائل کھلے دل سے فراہم کرنے چاہییں بشرطیکہ حکومت انھیں صحیح طور پر قومی مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ نیز معیشت کی دستاویزبندی بھی ایک مفید کام ہے اور معاشی ترقی اور معاشی انصاف کے قیام کے لیے ضروری اقدام ہے۔ ان بنیادی باتوں کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں۔ اختلاف جس پر ہے وہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو بطور دلیل یا جواز پیش کیا جا رہا ہے کیا فی الحقیقت ان کا حصول ان نئے ٹیکسوں کے ذریعے ممکن ہے یا یہ باتیں محض اشک شوئی  کے طور پر کی جارہی ہیں تاکہ اصل حقائق پر پردہ پڑا رہے، اور معیشت کے اساسی مسائل سے اغماض اور عوام کی مشکلات کے حل اور ان کی مصیبتوں سے خلاصی کے باب میں حکومت کی مجرمانہ غفلت اور ناکامی سے توجہ ہٹائی جاسکے۔

آئی ایم ایف کی گرفت

سب سے پہلے آئی ایم ایف کو لیجیے۔ آئی ایم ایف عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا ایک حصہ ہے اور تجارتی خسارہ اور ادایگیوں کے خسارے کی صورت میں وقتی قرض فراہم کرنا اس کا وظیفہ ہے۔ ہرملک کے لیے اس کی عالمی تجارت کی روشنی میں کوٹا مقرر ہے جو SDR کی شکل میں ہوتا ہے اور اس کوٹے کی حد تک کسی نئی شرط کے بغیر اس سے قرضہ لیا جاسکتا ہے جسے ۲۳مہینے میں ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس کوٹے سے زیادہ قرض کی درخواست کی جائے تو پھر ان کی شرائط کا معاملہ آتا ہے جو قرض کی مقدار کی مناسبت سے بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ نیز ان کی شرائط کا ایک معروف و معلوم نظام ہے جسے Macro Stabilization Conditionalities کہا جاتا ہے۔ پھر ان کا اصل ہدف ایک معیشت کو گلوبل معیشت میں ضم کرنا، نج کاری اور آزاد تجارت اور سرمایے کی آزادانہ درآمد کو فروغ دینا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف ہمیشہ دوغلی پالیسیوں پر کاربند رہا ہے کہ اس کا اصل ہدف مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کا فروغ ہے۔ نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات جوزف اسٹگلٹز نے اپنی کتاب Globalization and Its Discontentsمیں ۴۰ سے سے زیادہ ان ممالک کے معاشی تجربات کو پیش کیا ہے جو ترقی پذیر دنیا میں آئی ایم ایف کے زیراثر پالیسی بنانے پر مجبور ہوئے ہیں، اور دو ایک کو چھوڑ کر یہ پالیسیاں کہیں بھی کامیاب نہیں ہوئی ہیں بلکہ معاشی تباہی کا سبب بنیں۔ خود آئی ایم ایف کے تحت شائع ہونے والے تحقیقی مقالات میں اس کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ لندن کے اخبار گارڈین میں مارک ویزبورڈ نے اپنے مضمون The IMF's New Visionمیں لکھا ہے:

گذشتہ چند برسوں میں آئی ایم ایف نے دہرے معیارات اپنانے کی پالیسی جاری رکھی ہے۔ یہ زیادہ آمدنی والے ممالک کے لیے کساد بازاری کے موقع پر وسعت پذیر مالی اور زری پالیسیوں کی حمایت کرتا ہے، جب کہ متوسط اور کم آمدنی والے ممالک کے لیے ایسا نہیں ہوتا۔ ۲۰۰۹ء میں آئی ایم ایف کے جن ۴۱ ممالک سے جاری معاہدے تھے ان میں سے ۳۱ معاہدے مالی یا زری پالیسیوں یا دونوں کو سخت کرنے والے تھے۔ یہ اس سے بالکل مختلف ہے جو آئی ایم ایف امریکا جیسے امیر ممالک کے لیے تجویز کرتا ہے، جہاں بہت زیادہ بجٹ خسارہ ہے، سود کی شرح صفر کے قریب رکھنے کی پالیسی ہے، اور کسادبازاری کا مقابلہ کرنے کے لیے ہزاروں ارب ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔(دی گارڈین، یکم اپریل ۲۰۱۰ئ)

آئی ایم ایف کے بارے میں سب جانتے ہیں اور خود ہمارا ۴۰ سالہ تجربہ ہے کہ وہ صرف عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے مفادات کا محافظ ہے۔ اس میں فیصلہ سازی کا کُل اختیار سرمایہ دارانہ ممالک کو حاصل ہے اور سب اس کا اعتراف کرتے ہیں: ’’وال اسٹریٹ اور یورپی بنکوں کو اب تک فنڈ کی سمت پر مکمل اختیار حاصل ہے‘‘۔ (دی گارڈین، یکم اپریل ۲۰۱۰ئ)

اس لیے آئی ایم ایف سے قرضوں کے لیے ایس ڈی آر کوٹے جس کے ذریعے کسی  وقت بھی چند سو ملین ڈالر حاصل کیے جاسکتے ہیں، کے راستے کو نظرانداز کرکے ۵ئ۷ ارب اور پھر ۱۱ارب ڈالر کے قرضوں کے لیے جانا ایک ہمالیہ کے برابر غلطی تھی۔ پھر یہ اقدام کسی قومی مشاورت کے بغیر ہوا۔ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر ملک کے بجٹ اور اس کی معاشی پالیسیوں کو آئی ایم ایف کی گرفت میں دے دیا گیا۔ نومبر ۲۰۰۸ء میں یہ سارے معاملات طے کرلیے گئے اور یکم جولائی ۲۰۱۰ء سے عملاً نافذ کردینے کا عہدوپیمان بھی کرلیا گیا، مگر نہ پارلیمنٹ سے اجازت لی گئی اور نہ  ملک کو، حتیٰ کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور معاشی زندگی کی صورت گری کرنے والے تمام اہم اداروں تک کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ اس تبدیلی کے لیے تیار کیا گیا۔ اور اب جب پانی   سر سے اُونچا ہوگیا ہے تو پارلیمنٹ کی کنپٹی پر آئی ایم ایف کا پستول تان کر قانون سازی کی جارہی ہے۔ یہ ہے ہمارا اصل اعتراض۔ اس تباہ کن پالیسی کی ساری ذمہ داری اس حکومت پر ہے  جس کے پاس نہ کوئی معاشی اور مالی پالیسیوں میں کوئی ارتباط اور ہم آہنگی نہیں ہے۔ جس نے پونے تین سال کے عرصے میں چار وزراے خزانہ تبدیل کیے ہیں، چار وفاقی فنانس سیکرٹری تبدیل کیے ہیں، تین بار اسٹیٹ بنک کے گورنروں کو تبدیل کیا ہے اور رہا معاملہ پالیسیوں کا تو ان کا حال تو یہ ہے کہ  ع

نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں!

ٹیکس میں اضافے کی غلط حکمت عملی

اب دوسرے مسئلے کو لیجیے۔

  • بلاشبہہ ٹیکس اور مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا تناسب بہت کم ہے، یعنی ۳ئ۹ فی صد۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ۸۱-۱۹۸۰ء میں یہ تناسب ۱۴ فی صد تھا۔ ۹۵-۱۹۹۴ء میں کم ہوکر ۷ئ۱۳فی صد رہ گیا۔ ۰۸-۲۰۰۴ء میں ۱۰ فی صد تھا اور اب ۳ئ۹ فی صد ہے۔ معلوم ہوا کہ موجودہ ٹیکس کے نظام میں اگر اسے ٹھیک ٹھیک بروے کار لایا جائے تو ۱۳ اور ۱۴ فی صد تک پہنچنے کی صلاحیت ہے مگر دو بڑی وجوہ سے یہ تناسب کم ہوتا گیا ہے جس میں سب سے اہم ٹیکس کی چوری، ایف بی آر کی کرپشن، اور سیاسی اور معاشی اشرافیہ کی ملی بھگت ہے جس کے نتیجے میں ملک کے خزانے کو ٹیکس کے جائز حصے سے محروم کیا جارہا ہے۔ خود کئی سابقہ وزراے خزانہ اور ایف بی آر کے ذمہ دار حضرات اعتراف کرچکے ہیں کہ ٹیکس چوری کے نتیجے میں خزانے کو ۶۰۰ ارب سالانہ سے ۷۵۰ ارب سالانہ تک کا نقصان ہورہا ہے۔ اگر آج بھی صرف ان ٹیکسوں کی پوری وصولی کا اہتمام ہوجائے جو ملک میں نافذ ہیں تو ٹیکس کی آمدنی میں ۶۰۰ ارب روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اگر اس کا نصف بھی وصول کرلیا جائے تو ۳۰۰/۳۵۰ ارب روپے وصول ہوسکتے ہیں۔ مسئلہ نئے ٹیکس لگانے کا نہیں، موجود الوقت ٹیکسوں کو دیانت داری سے وصول کرنے کا ہے۔
  • دوسری بڑی وجہ وہ استثنا ہیں جو وقتاً فوقتاً مفاد پرست عناصر کی اثراندازی کی وجہ سے پارلیمنٹ کو یکسر نظرانداز کر کے محکمہ کے ایس آر او (Statutury Regulatory Orders) کے ذریعے دیے جارہے ہیں۔ ان کا دروازہ اگر سختی سے بند کردیا جائے تو ٹیکس کا موجودہ نظام ملک کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن یہ راستہ اختیار نہیں کیا جا رہا۔
  • تیسرا مسئلہ ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں وسعت کا ہے۔ یہ ضرور ہونا چاہیے لیکن یہ مقصد سیلزٹیکس کے مجوزہ قانون سے حاصل ہونا محال ہے۔ یہ ٹیکس ایک بالواسطہ ٹیکس ہے جو امیر اور غریب سب پر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے لاگو ہوتا ہے اور ۷۵ فی صد غریب عوام پر پڑتا ہے۔ ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں وسعت براہِ راست ٹیکس (direct taxes) کی وصولی سے ہوتی ہے جس کی کوئی فکر نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اس وقت ۱۸کروڑ انسانوں میں سے صرف ۱۸لاکھ، یعنی ایک فی صد انکم اور کورپوریٹ ٹیکس دے رہے ہیں۔ بلاشبہہ براہِ راست ٹیکس ادا کرنے والے لوگوں کی تعداد موجودہ معاشی حالات میں ۷۰ اور ۸۰ لاکھ سے کم نہیں ہونا چاہیے۔ ان کو ٹیکس دینے والوں کے دائرے میں لایئے۔

اس سلسلے میں سب سے اہم طبقات بڑے زمین دار اور جاگیردار ہیں جو انکم ٹیکس سے عملاً مستثنیٰ ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ملک کی آبادی کا نصف سے زیادہ زراعت پر منحصر ہے۔ قومی آمدنی میں زراعت کے سیکٹر کا حصہ ۲۲فی صد کے قریب ہے مگر ٹیکس میں ان کا حصہ صرف ۲ئ۱ فی صد ہے۔ اور ستم یہ ہے کہ اصل فائدہ اٹھانے والے دیہی آبادی کے ۹۵ فی صد عوام نہیں بلکہ وہ ۵ فی صد زمین دار ہیں جن کے ہاتھوں میں زیرکاشت رقبے کا ۵۰ فی صد ہے اور جن کے رہن سہن کا انداز بادشاہوں جیسا ہے جو دیہات میں نہیں شہروں میں بھی محلات کے مالک ہیں۔ گیلانی صاحب کی حکومت نے یک قلم گندم کی قیمت خرید میں ۴۵۰ روپے فی من سے بڑھا کر ۹۵۰ روپے فی من کا جو اضافہ کیا تھا اس سے زرعی سیکٹر کی آمدنی میں ۳۸۰ ارب روپے کا اضافہ ہوا جس کا کم از کم ۷۵ فی صد ان ۶ ہزار زمین دار خاندانوں کے حصے میں آیا، جو بڑے بڑے رقبوں (farms) کے مالک ہیں مگر اس سے ایک روپیہ بھی قومی خزانے میں نہیں آیا، اس لیے کہ زرعی آمدنی، خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔ اسی طرح  زمین اور عمارات کی خریدفروخت اور capital gains وہ میدان ہیں جہاں دولت کی ریل پیل ہے اور ٹیکسوں کا فقدان۔ بڑے بڑے پیشہ ور ماہرین  بھی اپنے حصے کا ٹیکس  ادا نہیں کر رہے۔ متوسط طبقے میں تاجروں، آڑھتیوں کا اور ٹرانسپورٹروں کا بڑا طبقہ ہے جو ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے۔ مجوزہ ٹیکسوں میں ان کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کی کوئی تدبیر نہیں بلکہ ان ۱۸ لاکھ افراد ہی پر ۱۰ فی صد کی مزید چٹی لگا دی گئی ہے جو طوعاً وکرہاً ٹیکس ادا کررہے ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے سیلزٹیکس کے نئے قانون کے ذریعے یہ ٹیکس جن اداروں اور تجارتی کمپنیوں پر لاگو ہوگا ان کی استثنا کی حد کو ۵۰لاکھ سے بڑھا کر ۷۵ لاکھ روپے کی سالانہ کاروباری حجم پر کر دیا گیا ہے۔ گویا ماضی میں بہت سے ایسے ادارے جو ٹیکس کے نیٹ میں تھے ان کے نکلنے کا راستہ کھل گیا ہے۔ اس سے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا یا کمی، یہ بھی دیکھنے کی بات ہے۔

ٹیکس کے دائرے میں نادہندہ افراد اور اداروں کو لانے کا ایک معروف طریقہ یہ ہے کہ قانونی اور انتظامی تدابیر کے ساتھ اس کے لیے محرکات (incentives) فراہم کیے جاتے ہیں۔ نیز ٹیکس دائرے میں لانے کے لیے ایسے آسان طریقے اختیار کیے جاتے ہیں جن سے کاروباری اداروں کو وحشت نہ ہو۔ خود تشخیصی کا طریقہ اس سلسلے کا اہم اقدام ہے۔ سب سے بڑھ کر اس کے لیے جو راستہ اختیار کیا جاتا ہے وہ ٹیکس کی شرح کو بہت معمولی رکھنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں آجائیں اور زیادہ تکلیف بھی نہ محسوس کریں۔ ٹیکس کی شرح کو اُونچا رکھنے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس سے ٹیکس سے فرار کو ترغیب ملتی ہے۔ انگلستان میں جب ۳۰سال پہلے VAT لگایا گیا   تو اوّل اوّل اس کی شرح صرف ۳ فی صد تھی جسے کاروباری دنیا نے بخوشی قبول کرلیا۔ ۳۰سال   کے عرصے میں آہستہ آہستہ اس کو بڑھا کر ساڑھے ۱۷ فی صد تک لے جایا گیا مگر ساتھ ہی   اشیاے خوراک، بچوں کی تمام ضروریات، تعلیم اور ادویات کو ٹیکس سے باہر رکھا گیا۔ ہمارے یہاں آغاز ہی ۱۵ فی صد سے ہوتا ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ ٹیکس نیٹ میں لوگ بہ آسانی آجائیں گے۔ اسے کیا کہا جائے؟

  • چوتھی چیز کا تعلق دستاویز بندی سے ہے۔ یہاں بھی ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم اس کے حق میں ہیں لیکن جو راستہ موجودہ حکومت نے اختیار کیا ہے وہ اس طرف لے جاتا ہوا نظر نہیں آتا۔ یہ کام افہام و تفہیم اور ٹیکس کے ایک سہولت اور تعاون پر مبنی نظام سے ہوسکتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف اور شوکت عزیز صاحب نے بھی دو ماہ دستاویز بندی کے نام پر ملک کی پوری معاشی زندگی کو درہم برہم کر دیا تھا اور ہمیں شبہہ ہے کہ موجودہ حکومت کا تجربہ بھی زیادہ مختلف نتائج دکھاتا نظر نہیں آرہا۔

قومی وسائل کا بے دردی سے استعمال

انکم ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کی مخالفت ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ یہ بوجھ  عوام کی برداشت سے باہر ہے اور اس کا سارا بوجھ ان لوگوں پر پڑے گا جو ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ وزیرخزانہ نے سینیٹ میں اپنی تقریر میں بڑے استہزائی انداز میں فرمایا کہ جن کی آمدنی ۳لاکھ روپے سالانہ ہے ان پر چھے مہینے میں محض ۱۵۰ روپے کا بوجھ پڑے گا۔ اس پر اتنی آہ و بکا چہ معنی؟

ہم عرض کریں گے کہ صرف ۱۵۰ نہیں، لوگ اس سے ۱۰ گنا دینے کو تیار ہیں اور عملاً سرکاری مشینری سے باہر اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کے لیے دے رہے ہیں لیکن وہ اس حکومت کو مزید ٹیکس ادا کرنے کے لیے اس لیے تیار نہیں ہیں کہ اس کا صدر، اس کا وزیراعظم، اس کا وزیرخزانہ، اس کی خزانہ کی وزیرمملکت اور کابینہ کے دو درجن سے زیادہ وزرا لاکھوں نہیں کروڑوں اور کچھ تو اربوں کے اثاثے رکھنے کے باوجود انکم ٹیکس کی مد میں کچھ بھی نہیں دے رہے ہیں یا مضحکہ خیز حد تک نمایشی ٹیکس دے رہے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اس بات کا اطلاق پارلیمنٹ کے دوسرے بہت سے ارکان اور ملک کے اربابِ ثروت پر بھی ہوتا ہے۔ اس لیے یہ بات سمجھنے کی ہے کہ سیلاب کے نام پر اضافے پر اعتراض کی اصل وجہ اعتماد کا فقدان ہے جو حکمرانوں اور عوام کے درمیان ہے۔ نیز اربابِ اقتدار اور اربابِ دولت کا وہ رویہ ہے جس کی رُو سے وہ فوائد سارے اُٹھا رہے ہیں اور ملک اور خزانے کا حق ادا نہیں کر رہے۔ ۱۰۰ وزیروں کی کابینہ کا کیا جواز ہے؟ سندھ اور بلوچستان کے دسیوں وزیر ہیں جن کا کوئی عہدہ نہیں لیکن وہ مراعات لے رہے ہیں۔ بلوچستان میں اسمبلی کے ۶۲ارکان میں سے ۶۰ وزیر یا مشیر ہیں۔ ایوانِ صدر اور ایوانِ وزیراعظم کاسرکاری خزانے سے یومیہ خرچہ ۱۳ لاکھ روپے ہے، جب کہ آبادی کے ۴۰ فی صد کی یومیہ آمدنی ۸۵ روپے اور ۷۵ فی صد کی ۱۵۰ روپے سے کم ہے۔

سیلاب زدگان اور دوسرے مصیبت زدہ افراد کی مدد کے لیے ہیلی کوپٹر مفقود ہیں یا امریکا سے قرض پر حاصل کیے جاتے ہیں، جب کہ وی وی آئی پیز کے لیے دو درجن سے زیادہ جہاز اور ہیلی کوپٹر موجود ہیں جن کو ذاتی اغراض کے لیے بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اعزہ اور دوستوں کو دعوتوں میں لانے کے لیے یہ جہاز گردش کرتے ہیں۔ پھر جو رقم یہ قوم اپنا پیٹ کاٹ کر حکومت کے خزانے میں دیتی ہے اس کا ناجائز اور ناروا استعمال ہے۔ زندگی کے ہرشعبے میں کرپشن ہے جس کا محتاط ترین اندازہ ۱۰۰۰ ارب روپے سالانہ سے زیادہ کا ہے۔ سرکاری کارپوریشنوں کا ۴۰۰ ارب روپے سالانہ کا خسارہ اس ظلم کا منہ بولتا ثبوت ہے جو اس ملک کے عوام پر کیا جا رہا ہے۔ اس پر مستزاد مہنگائی ہے جس کے عمومی انڈکس میں پچھلے پونے تین سال میں ۵۰ فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اشیاے ضرورت میں تو یہ اضافہ ۱۰۰ فی صد سے زیادہ ہے۔ بجلی کے نرخ میں    ۱۲۰ فی صدکا اضافہ ہے، اور لوڈشیڈنگ اس پر مستزاد۔

حکومت قرض آنکھیں بند کرکے لے رہی ہے۔ ان پونے تین سالوں میں ملک کے اندرونی قرضوں میں ۴ ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، جب کہ گذشتہ ۶۰ سال میں ملا کر یہ  مجموعی رقم ۴۸۰۰ارب روپے ہے۔ اس طرح بیرونی قرضوں میں صرف اس حکومت کے دور میں ۵ئ۱۵ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور آج صرف سود کی مد میں اس قوم کو ۷۱۷ ارب روپے سالانہ     ادا کرنے پڑرہے ہیں۔ اسی طرح ان پونے تین سالوں میں ۱۵۴۵ صنعتیں بند ہوئی ہیں اور    بے روزگاری میں اضافے کی رفتار ساڑھے سات فی صد سے بڑھ کر ۱۳ اور ۱۴ فی صد تک ہوگئی ہے۔ غربت میں اضافہ ہوا ہے اور لوگ خودکشی اور اولاد فروشی پر مجبور ہورہے ہیں___ یہ ہیں ملک کے اصل مسائل اور وزیرخزانہ فرماتے ہیں کہ ۱۵۰ روپے کیا ہوتے ہیں۔ انقلابِ فرانس سے پہلے بھی ایسے ہی حالات تھے جب ملکۂ فرانس نے کہا تھا کہ ’’یہ عوام روٹی کے لیے کیوں چیخ و پکار کر رہے ہیں، روٹی نہیں ملتی تو کیک کھا لیں!‘‘

سیلزٹیکس کے قانون پر اعتراضات

سیلزٹیکس کا جو قانون لایا گیا ہے اس پر ہمارا اصل اعتراض یہ ہے کہ یہ ایک بالواسطہ ٹیکس ہے جو پیچھے کی طرف لے جانے والا (regressive) ہے۔ اس کا زیادہ بوجھ غریب عوام پر پڑے گا جس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھے گی، پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوگا اور بین الاقوامی منڈیوں میں ہماری صلاحیت کار بری طرح متاثر ہوگی۔ اس وقت بھی ٹیکس کی کُل آمدنی میں بالواسطہ ٹیکس کا تناسب ۶۲ فی صد ہے جو نئے ٹیکس کے بعد خدشہ ہے کہ بڑھ کر ۶۵سے ۷۰ فی صد ہوجائے گا جو عوام کی کمر توڑ دے گا، اور دولت کی غیرمساویانہ تقسیم کو اور بھی غیر مساوی اور غیرمنصفانہ کردے گا۔ معاشیات کا یہ ایک مسلّمہ اصول ہے کہ بالواسطہ ٹیکس غریبوں کے لیے بوجھ اور دولت مندوں کے لیے مراعات فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں۔

ہمارا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ سیلزٹیکس کے اس نظام میں معاشرے کے مختلف طبقات اور مختلف آمدنیوں والوں کے استعمال کی اشیا میں جو فرق کرنا ضروری تھا وہ مفقود ہے۔

دنیا کے جن ممالک میں سیلزٹیکس یا VAT رائج ہے ان میں سے ایک بڑی تعداد، یعنی تقریباً ۷۰ میں اشیاے ضرورت اور عام اشیا، بچوں کے استعمال کی چیزیں، تعلیم اور صحت سے متعلقہ اشیا میں فرق کیا جاتا ہے۔ نہایت ضروری اشیا کو غریب ہی نہیں ترقی پسند ممالک میں بھی ٹیکس سے مکمل استثنا دیا جاتا ہے۔ دوسری ضروری اشیا پر ٹیکس کی شرح کم ہوتی ہے، جب کہ باقی تمام اشیا اور خدمات پر ٹیکس زیادہ اُونچی شرح سے لگایا جاتا ہے۔ مگر ہماری حکومت نے چند اشیا کے استثنا کے بعد تمام اشیا اور خدمات پر ۱۵ فی صد کی نہایت اُونچی شرح سے ٹیکس عائد کیا ہے۔ اس وقت جو ۷۰۰ اشیا ٹیکس سے مستثنیٰ تھیں ان میں ۵۵۰ کو ٹیکس کے نظام میں لے آیا گیا ہے، نیز معیشت کے پانچ بڑے سیکٹر بشمول ٹیکسٹائل انڈسٹری، لیدر انڈسٹری، کارپٹ انڈسٹری، سپورٹس اور سرجیکل انسٹرومنٹ کی صنعتوں کو اس کے دائرے میں بیک جنبش قلم لے آیا گیا ہے۔ اور یہ کام بھی کسی تدریج سے نہیں کیا گیا بلکہ بیک وقت  ۱۵ فی صد ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ ا س سے معاشی بھونچال اگر نہ آئے توکیا ہو، اور مہنگائی کے طوفان میں مزید سیلابی کیفیت پیدا نہ ہو تو کیا ہو۔

ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی سیلزٹیکس کا ایسا ہی نظام رائج ہے لیکن اسے نافذ کرنے کے لیے کئی سال افہام و تفہیم کا سلسلہ جاری رہا اور قومی اور صوبائی اتفاق راے پیدا کرکے نافذ کیا گیا، نیز اس کی تین شرح ہیں۔ قیمتی جواہرو زیورات کے لیے ایک فی صد، اشیاے ضرورت کے لیے ۴فی صد اور عام اشیا پر ساڑھے ۱۲ فی صد۔ ترقی پذیر ممالک میں بالعموم اس کی شرح کم ہے، مثلاً مصر میں ۱۰ فی صد، ایران میں ۳ فی صد، انڈونیشیا میں اشیاے ضرورت پر ۵ فی صد اور باقی اشیا پر ۱۰ فی صد، ملائشیا میں ۱۰ فی صد، جنوبی کوریا میں ۱۰ فی صد، سنگاپور میں ۷ فی صد، سری لنکا میں اشیاے ضرورت پر ۴ئ۲ فی صد، ہوٹل سیکٹر پر ۶ئ۳ فی صد اور عام اشیا پر ۱۲ فی صد۔ تھائی لینڈ میں ۷فی صد، تائیوان میں ۵ فی صد، ویت نام میں اشیاے ضرورت پر ۵ فی صد اور عام اشیا پر ۱۰فی صد۔

ترقی یافتہ ممالک میں کچھ ممالک میں یہ ۲۰ بلکہ ۳۰ فی صد تک ہے لیکن وہاں بھی اشیاے ضرورت اور عام اشیا میں بالعموم فرق کیا گیا ہے اور ایسی مثالیں بھی ہیں کہ شرح ٹیکس کو بہت کم اور معقول رکھا گیا ہے، مثلاً جاپان میں ۵ فی صد، سوئٹزرلینڈ میں ۸ئ۳ اور ۸ فی صد۔ فرانس میں ۱ئ۲ فی صد، ۵ئ۵ فی اور ۶ئ۱۳ فی صد، آئرلینڈ میں ۸ئ۴ اور ۵ئ۱۳ فی صد۔ لکسمبرگ میں ۳، ۶، ۹، ۱۲ فی صد اور ۱۵ فی صد، یعنی پانچ کیٹگریاں بنائی گئی ہیں۔ آسٹریلیا میں ۱۰ فی صد اور کینیڈا میں ۵ فی صد ہے۔

افسوس ہے کہ ہماری معاشی ٹیم کی نگاہ دنیا کے ان کامیاب تجربات پر نہیں اور وہ آئی ایم ایف کے احکام کے دبائو میں ملکی معیشت کے حالات کو نظرانداز کرتے ہوئے واحد شرح اور وہ بھی اتنی زیادہ، یعنی ۱۵ فی صد کا راستہ اختیار کر رہی ہے حالانکہ ماہرین معاشیات کی عظیم اکثریت یہ کہتی ہے: ’’جن ممالک میں آمدنیوں میں بہت زیادہ فرق ہیں، وہاں یکساں شرح مناسب نہیں‘‘۔

ٹیکس نظام بدلنے کی ضرورت

ہماری نگاہ میں ٹیکس کے سلسلے میں دو فیصلہ کن اور اہم ترین ایشو یہ ہیں کہ ٹیکس کے نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ ڈائرکٹ ٹیکس بڑھیں جن میں انکم ٹیکس کے دائرے کو مؤثر کرنا،    ویلتھ ٹیکس کے ایسے نظام کی تشکیل جو دولت مند اشرافیہ کو ٹیکس کی گرفت میں لاسکے۔ عام کاشتکار نہیں، زرعی آمدنی سے فیض یاب ہونے والے بڑے زمین داروں، وڈیروں اور جاگیرداروں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کے اقدامات، بازار حصص میں سرمایہ کاری کے منافع پر ٹیکس، ایک حد سے زیادہ پر جایداد ٹیکس، نیز جایداد کے کاروبار پر ٹیکس، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور ٹیلی کمیونی کیشن کے دائرے کو ٹیکس کے منصفانہ نظام میں لانا وقت کی ضرورت ہے۔

دوسری چیز یہ ہے کہ بالواسطہ ٹیکسوں میں بھی اشیاے ضرورت اور عام اشیا، زرعی آلات اور انرجی پر اخراجات کو معقول حدود میں رکھنے کے لیے اشیا اور خدمات پر ٹیکس کا وہ نظام رائج کرنا جو متعدد شرحوں کے اصول پر مبنی ہو نہ کہ واحد شرح کا نظام جو ہمارے حالات سے مطابقت    نہیں رکھتا۔

آخر میں ہم ایک بات یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ اس ٹیکس کو نافذ کرنے کے لیے حکومت اور ایف بی آر کے لیے جس تیاری اور capacity buildingکی ضرورت تھی، اسے مجرمانہ حد تک نظرانداز کیا گیا ہے۔ اسی طرح تجارتی اور صنعتی کمیونٹی اور معیشت کے دوسرے اسٹیک ہولڈرز کو افہام و تفہیم کے کسی نظام میں لائے بغیر اور پارلیمنٹ، عوام اور معیشت کے کرتا دھرتا افراد میں اتفاق راے پیدا کیے بغیر اسے ملک پر مسلط کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ پارلیمانی آداب اور قواعد تک کو نظرانداز کرکے سینیٹ میں اسے بل ڈوز کیا گیا، اور اب قومی اسمبلی کے لیے سودے بازی، لین دین یعنی wheeling dealingکا ایک مکروہ کاروبار ہے جو جاری ہے۔ یہ طریقہ پالیسی سازی اور حکمرانی کا نہیں۔ نیز اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کی خودمختاری کے سلسلے میں جو دستوری ترامیم کی گئی ہیں اور دستور کی دفعہ ۱۴۴ کے جو تقاضے تھے وہ بھی پورے نہیں کیے گئے ہیں۔ دھونس اور  بلیک میلنگ کے ذریعے جو قانون سازی کی جائے گی اس کا انجام بڑا تباہ کن ہوگا۔ ہم پوری دردمندی سے حکمرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہوش کے ناخن لیں، مشاورت کے ذریعے اتفاق راے      پیدا کرنے کی کوشش کریں، مرکز اور صوبوں میں مکمل ہم آہنگی پیدا کریں، بیرونی دبائو کے تحت پالیسی سازی نہ کریں، بلکہ ملک کے معروضی حالات کو سامنے رکھ کر وہ راستہ اختیار کریں جس سے ملک موجودہ معاشی بحران سے نکل سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس قانون کے نفاذ کے لیے آج کے حالات قطعاً ناموزوں ہیں۔ جب معیشت بحران کا شکار اور کساد بازاری کے دہانے پر ہو، اس وقت ایسے قوانین کو نافذ نہیں کیا جاتا۔ ہاں، جب معیشت ترقی کے راستے پر گامزن ہو تو نئے ٹیکسوں کے لگائے جانے کے لیے فضا سازگار ہوسکتی ہے۔ وسائل کے حصول کے لیے متبادل راستے موجود ہیں۔ اخراجات کی کمی، نئے وسائل کی تلاش، کرپشن اور ٹیکس سے فرار کے دروازے کو بند کرکے وہ وسائل حاصل کیے جاسکتے ہیں جو سیلاب کی تباہ کاریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے درکار ہیں اور جو ملک کو قرضوں کے نظام سے نجات اور خودانحصاری کی طرف گامزن کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے سب سے پہلے صحیح وژن کی ضرورت ہے۔ باصلاحیت اور ایمان دار ٹیم ہی یہ کام کرسکتی ہے۔ قیادت کو اپنے رنگ ڈھنگ کو بدلنا ہوگا۔ جو لوگ ملکی وسائل کو لوٹ رہے ہیں یا جن کی دولت ملک سے باہر ہے اور ان کی دل چسپیاں محض اپنی جیب بھرنے اور اپنوں کو نوازنے میں ہیں، ان سے نجات ضروری ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بددیانت اور نااہل قیادت ہے جس نے ایک وسائل سے مالا مال ملک کو کنگال کر دیا ہے اور آج بھی صحیح منزل اور صحیح ترجیحات کو اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں۔ قوم کے سامنے آج اصل سوال یہی ہے کہ کیا یہ قیادت اپنے کو بدلنے کو تیار ہے؟ اور اگر نہیں تو پھر اس کو بدلے بغیر بحران سے نکلنے کا کوئی اور راستہ نہیں     ؎

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں، لا الٰہ الا اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

۲۰ تا ۲۲؍اکتوبر ۲۰۱۰ء واشنگٹن میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ’اسٹرے ٹیجک مذاکرات‘ کے نام سے جاری بات چیت کا تیسرا دور منعقد ہوا، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے انجام دی ہے۔ ۱۳ وزارتوں کے نمایندوں (بشمول پانچ وزرا) نے ان مذاکرات میں شرکت کی ہے لیکن پاکستان کی جانب سے کلیدی کردار بری افواج کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی ہی نے ادا کیا ہے۔

جنرل صاحب حسب معمول خاموش ہیں، لیکن پاکستانی وزیرخارجہ اور وزیر اطلاعات پھولے نہیں سما رہے اوریہ دعویٰ تک کر رہے ہیں کہ: ’’ہمیشہ امریکا ہمیں سناتا اور مطالبات کرتا تھا، لیکن اب وہ ہماری بھی سن رہا ہے اور ہم نے ’برابری کی بنیاد‘ پر بات چیت کی ہے‘‘۔ ایک وزیرصاحب نے ارشاد فرمایا:  ’’امریکا ہمیں کمزور نہیں دیکھنا چاہتا‘‘۔ ایک اور شریکِ سفر وزیر کا فرمانا ہے: ’’امریکا ملک کے شمال مغربی علاقے میں دو چھوٹے ڈیم بنانے کے مصارف برداشت کرے گا‘‘، اور سب ہی آواز میں آواز ملا کر کہہ رہے ہیں: ’’ان مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو نئی زندگی اور تقویت میسر آئی ہے‘‘۔

ملک کے کم و بیش تمام اخبارات نے اپنے ادارتی تبصروں میں، حزبِ اختلاف کے   تمام قائدین نے بیانات کے ذریعے، اور ٹی وی کے معروف ٹیلی میزبانوں میں سے بیش تر نے اپنے تجزیاتی پروگراموں میں ان دعووں کو بڑی حد تک ہوائی باتیں اور حقیقت سے عاری اور خوش فہمی پر مبنی خام خیالیاں قرار دیا ہے۔ امریکا سے پاکستان کے خارجہ تعلقات کی تقریباً ۶۰برسوں پر پھیلی ہوئی تاریخ کی روشنی میں اس دعوے کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے کہ پاک امریکی تعلقات محض وقتی اور مالیاتی لین دین کے مرحلے (transanctional framework) سے نکل کر اب زیادہ اصولی، دیرپا اور بنیادی نوعیت کے تعاون میں داخل ہوگئے ہیں، جسے بین الاقوامی تعلقات کی اصطلاح میں برابری کے اسٹرے ٹیجک تعلقات کہا جاتا ہے۔ زبانی کلامی ایسے دعووں کا آغاز بش کے آخری دور میں ہوگیا تھا، مگر اس کو ایک متعین شکل اب صدر اوباما کے دور میں دی جارہی ہے اور عملاً اس کا آغاز فروری ۲۰۱۰ء سے ہوا ہے۔ حالیہ مذاکرات اس سلسلے کی تیسری کڑی ہیں اور چوتھا رائونڈ ۲۰۱۱ء کے آغاز میں متوقع ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ گہرائی میں جاکر پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی اصل حقیقت کو متعین کریں، تاکہ قوم، پارلیمنٹ، میڈیا اور اگر  اللہ توفیق دے تو موجودہ قیادت حالات کا صحیح صحیح ادراک کرسکے اور اس کی روشنی میں سیاسی، عسکری، معاشی اور تہذیبی حکمت عملی کی صورت گری کرے۔

خارجہ پالیسی کا مسلّمہ اصول

ویسے تو خارجہ تعلقات کا ایک مسلّمہ اصول یہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں نہ دوست مستقل ہوتے ہیں اور نہ دشمن، مستقل اور دائمی اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف مفادات ہیں۔ اس لیے ایک ملک کی خارجہ پالیسی انھی مفادات کے گرد گردش کرتی ہے۔ البتہ ان مفادات کے تعین میں متعلقہ ملک کے عالمی اور علاقائی مقاصد اور اہداف، اس کے سیاسی اور معاشی عزائم اور اس کی معاشی، عسکری اور سیاسی قوت پر مشتمل عناصر کارفرما ہوتے ہیں۔ ہمہ وقت بنتے اور بدلتے تعلقات پر جہاں وقتی عناصر اور تقاضے اثرانداز ہوتے ہیں، وہیں کچھ دیرپا تعلقات اور روابط بھی ہیں جو لنگر کی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں، اور ان کا انحصار بھی مقاصد کی ہم آہنگی، اقدار میں اشتراک اور مفادات کی یکسانی پر ہوا ہے اور انھی کی بنیاد پر ایک تعمیری یا افادی انداز میں تزویراتی (strategic) شراکت وجود میں آتی ہے۔

نظری طور پر ایسی حکمت عملی کے تصور کا شجرہ نسب یونان کے مفکرین سے جا ملتا ہے۔ یونانی زبان میں اس کا اصل مفہوم generalship ہے، جس کے معنی جنگ میں اعلیٰ ترین سطح پر مقاصد اور حکمت عملی مرتب کرنے کا نظام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹرے ٹیجی [حکمت کاری]کا تصور فلسفۂ جنگ کا ایک کلیدی تصور رہا ہے اور وہیں سے یہ علمِ سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں داخل ہوا اور پھر تزویراتی ہیکل یا strategic structure خود ایک مستقل مضمون بن گیا۔ دورِ حاضر میں جنگ اور اس کی صورت گری کرنے والے داخلی اور خارجی عوامل، اور خود جنگ کی حکمت عملی اور اس حکمت عملی کو عمل کا روپ دینے اور معاملات کا گہرائی کے ساتھ جس شخص نے مطالعے کا آغاز کیا ہے، وہ  ایک جرمن فوجی کمانڈر اور استاد کارل وون کلازے ویٹز (۱۸۳۳ئ-۱۷۸۰ئ) ہے، جس کی کتاب On Warایک کلاسیک کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں اس نے اسٹرے ٹیجی اور چال (tactic) کے فرق کو نمایاں کیا ہے۔ تزویری حکمت عملی کا تعلق مقصد اور اصل جنگی اہداف سے ہے، جب کہ ٹیکٹک ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے ذرائع، اعمال اور تنفیذی اقدام سے متعلق ہیں۔ گذشتہ دو صدیوں میں ملٹری سائنس، علمِ سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات میں اپنے اپنے انداز میں ان تصورات کو مزید نکھارا گیا اور اسٹرے ٹیجی میں بھی ’عظیم تر اسٹرے ٹیجی‘ اور ’عملی اسٹرے ٹیجی‘ کی درجہ بندی کی گئی۔ پھر جنگ، سرد جنگ، توازن، قوت وغیرہ کے پس منظر میں ان تصورات کو مزید ترقی دی گئی۔۱؎

خارجہ سیاست کے ان مباحث کی روشنی میں اگر دیکھا جائے، تو ایک عالمی طاقت کی حیثیت سے امریکا کے اسٹرے ٹیجک تعلقات صرف تین ممالک سے ہیں، یعنی برطانیہ، جو اب ایک صدی پر محیط ہیں، اور اسرائیل اور ناٹو ممالک جو تقریباً ۶۰ سال کے نشیب و فراز دیکھ چکے ہیں۔ دنیا کے باقی ممالک سے اس کے تعلقات محض کاروباری معاملہ فہمی  کی حد تک رہے ہیں اور مفادات کی دھوپ چھائوں کے مطابق اس میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں، جس کی زیادہ تر حیثیت آنکھ مچولی کی رہی ہے۔ کلنٹن کی صدارت کے دور میں بھارت سے امریکا کے تعلقات کو کاروباری سطح سے بلند کرکے اسے اسٹرے ٹیجک تعلقات کی طرف لے جانے کا آغاز ہوا۔ گذشتہ ۱۰، ۱۵ برسوں میں آہستہ آہستہ معاشی، عسکری اور سیاسی میدانوں میں اس سمت میں پیش رفت ہوئی، جسے بالآخر صدبش کے دور میں ۲۰۰۶ء میں نیوکلیر تعاون کے معاہدے کے ذریعے اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ کی شکل دے دی گئی۔ امریکا میں بھارتی کمیونٹی نے بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔   اب صورت حال یہ ہے کہ صدراوباما کی حکومت کے ایک درجن سے زیادہ کلیدی مناصب پر بھارتی نژاد امریکی رونق افروز ہیں۔ بھارت اور امریکا کی تجارت کا حجم اس وقت ۶۱ ارب ڈالر سالانہ ہے۔ پھر بھارت اور امریکا کی براہِ راست سرمایہ کاری ۱۶ ارب ڈالر سالانہ سے متجاوز ہے۔ امریکا سے کمپیوٹر ٹکنالوجی کی ہر پانچ کمپنیوں میں سے دو بھارت میں اپنا کام پھیلا چکی ہیں اور دفاعی میدان میں اسلحے کی خریداری، بھارتی مسلح افواج کی جنگی تربیت اور مشترکہ شعبوں میں تعاون کے لیے حیرت انگیز حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت نے اگلے  پانچ سال کے لیے جس ۱۰۰ ملین ڈالر کی جنگی خریداریوں کا منصوبہ بنایا ہے، اس کا بڑا حصہ امریکا اور اسرائیل سے حاصل کیا جانا ہے۔ بھارت اور امریکا کا نیوکلیر تعاون کوئی حادثاتی یا وقتی تعاون کا معاہدہ نہیں ہے، بلکہ ہموار تعلقات کا ایک حصہ ہے، جس میں بھارت کو چین کے مقابلے ایک علاقائی سوپر پاور سے بڑھ کر ایک عالمی  جنگی کھلاڑی کے کردار پر مامور کرنے کی مشترک حکمت عملی کا حصہ ہے۔ افغانستان میں بھی بھارت کے کردار کا معاملہ اسی ’عظیم تر حکمت عملی‘ کا ایک پہلو ہے۔

اس پس منظر میں پاکستانی قوم اور قیادت دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ حقیقت پسندی کے ساتھ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے حال اور مستقبل کے امکانات کا صحیح صحیح ادراک کرے، اور محض خوش فہمیوں، سر ٹکرانے کی مشقوں اور خوش نما مگر بے معنی الفاظ کے طلسم کا شکار ہوکر،  اسٹرے ٹیجک مغالطوں اور دھوکوں کی دلدل سے ملک و قوم کو محفوظ رکھے۔ حال اور مستقبل کا کوئی مبنی برحقیقت نقشہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں عالمی اور علاقائی حالات کو سمجھے بغیر بنانا ممکن  نہیں ہے۔

پاک امریکا تعلقات: تاریخی پس منظر

پاکستان نے اپنے قیام کے فوراً بعد امریکا کے جمہوری دعووں اور سامراج کی گرفت سے آزاد ہونے والے ممالک کی تحریکاتِ آزادی کے بارے میں امریکی قیادت اور دانش وروں کے اعلانات کی روشنی میں معاشی تعاون اور سیاسی دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ خود قائداعظم نے میرلائق علی کے ذریعے امریکی صدر کو خصوصی پیغام بھیجا، لیکن اس کا کوئی بامعنی ردعمل رونما نہ ہوا۔ پھر جب  خان لیاقت علی خاں کو اشتراکی روس کے دورے کی دعوت ملی تو امریکا نے نہ صرف ان کو دورے کی دعوت دے دی، بلکہ اس کے لیے سیاسی چال بازی سے بھی کام لیاجس کے نتیجے میں روس کا دورہ منسوخ اور امریکا کا دورہ کرنا منظور ہوا۔ اس دورے کے نتیجے میں عملاً کچھ حاصل کیے بغیر ہم اپنے اڑوس پڑوس میں روس سے دُور اور ہزاروں کلومیٹر دُور امریکا کے کیمپ کی طرف سرکنے بلکہ لڑھکنے لگے۔ اس موقع پر امریکا نے ایک نئی چال چلی، جس کے بڑے دور رس اثرات پاکستان کی پوری تاریخ، اس کے بین الاقوامی تعلقات کے رُخ اور سب سے بڑھ کر ملک کی اندرونی سیاست اور قومی سلامتی کی نئی صورت گری اور پاکستانی مسلح افواج کے سیاسی کردار کی شکل میں مرتب ہوئے۔ بلاشبہہ اس میں پاکستانی افواج کی اس وقت کی قیادت کے اپنے عزائم کا بھی ایک اہم کردار ہے، لیکن یہ معاملہ یک طرفہ نہیں تھا۔ تالی کے دونوں ہی ہاتھ سرگرم تھے۔ گویا ’’دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی‘‘۔

پاکستان کے پہلے فیلڈمارشل محمد ایوب خان کا سرکاری سوانح نگار، ایک حاضرسروس لیفٹیننٹ کرنل، ان کی داستانِ حیات My Chiefمیں، جو ان کے دورِاقتدار ہی میں شائع ہوئی، لکھتا ہے:

پاکستان کے لیے امریکی فوجی امداد جنرل ایوب کی اقدامی کوشش سے ممکن ہوئی۔ یہ خیال ان کے دماغ میں آیا اور امریکا کے سیاسی اور فوجی قائدین سے ان کے مذاکرات کے نتیجے میں امریکی حکومت نے پاکستان کو باہمی دفاعی معاہدہ کرنے کی دعوت دی۔ (دیکھیے: My Chief، لیفٹیننٹ کرنل محمداحمد، ۱۹۶۰ئ، ص ۷۳-۷۴)

جنرل ایوب خان کی کوششوں سے پاکستان سیٹو (SEATO)  اور سنٹو (CENTO) کے جال میں پھنسا۔ دوسرے فوجی ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ کے دورِ حکومت میں امریکا چین تعلق کا باب کھلا۔ تیسرے فوجی ڈکٹیٹر جنرل محمد ضیاء الحق کے زمانے میں فوجی اور معاشی تعاون نئی بلندیوں پر پہنچا۔ چوتھے فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے امریکا کی’ دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں پاکستان کو جھونک دیا، جس آگ میں افغانستان اور عراق کے ساتھ پاکستان بھی جل رہا ہے اور خصوصیت سے اس کے شمالی علاقے اور ان علاقوں میں بھی خصوصیت سے سوات، باجوڑ،شمالی اور جنوبی وزیرستان برستی آگ اور بہتے خون کی لپیٹ میں ہیں۔ اب ’اسٹرے ٹیجک تعلقات‘ کے عنوان سے اس آگ کو شمالی وزیرستان میں بھی بھڑکانے کے لیے ترغیب و ترہیب کا ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے اور ۲ارب ڈالر کے وعدۂ فردا پر مبنی فوجی امداد کا چکمہ بھی دیا گیا ہے۔

یہ تصویر کا ایک رُخ ہے، دوسرا اور اصل چہرہ یہ ہے کہ ہر دور میں پاکستان کو تو اپنے مقاصد کے لیے بے دریغ استعمال کیا گیا، لیکن جب بھی پاکستان پر کوئی کڑا وقت پڑا تو بے رُخی سے منہ دوسری طرف موڑ لیا گیا۔ جب ۱۹۶۵ء میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اسی لمحے امریکا نے پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد کو بند کر دیا حتیٰ کہ ان فاضل پرزوں سے بھی فوج کو محروم کر دیا گیا، جو ملک کی سیکورٹی کے لیے ضروری تھے۔ یہی ڈراما دسمبر ۱۹۷۱ء میں ہوا۔ پھر اپنی بدترین شکل میں افغانستان سے روسی فوجیوں کے انخلا کے معاً بعد نہ صرف افغانستان کو غیریقینی پن اور بدترین انتشار میں دھکیل دیا گیا اور پاکستان کو اس کے نتائج بھگتنے اور ۳۰لاکھ سے زائد مہاجرین کے بوجھ کو تن تنہا سنبھالنے کی آزمایش میں ڈال دیاگیا۔ یہی نہیں بلکہ چشم زدن میں امریکی صدر کو نیوکلیر پھیلائو میں پاکستان کا کردار بھی نظر آنے لگا اور اسے پوری بے دردی سے معاشی پابندیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام امریکا کی دوستی کو محض مطلب براری کا ایک ڈھکوسلا سمجھتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم (۴۵-۱۹۳۹ئ) کے بعد سے دنیا کے تقریباً ہر اس ملک سے، جسے امریکا نے اپنی دوستی کے جال میں پھنسایا ہے، اپنا کام نکالنے کے بعد ٹشوپیپر کی طرح پھینک دیا ہے۔ اس کا مقصد محض اپنے ایجنڈے کی تکمیل رہا ہے، کسی نوعیت کی حقیقی دوستی اور شراکت نہیں۔ امریکا کا کردار مفاد پرستی کے ساتھ ساتھ دوغلے پن، رعونت اور دوسروں کی تحقیر و تذلیل کا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے پاکستان کے عوام نے ۱۹۶۵ء کے بعد کبھی بھی امریکا کو اپنا دوست تصور نہیں کیا، حتیٰ کہ اس زمانے میں بھی جب افغان جہاد کے سلسلے میں امریکا، پاکستان اور عالمِ اسلام میں خاصی قربت تھی۔ عراق ایران جنگ کے دوران میں تو امریکا مخالف لاوا بری طرح پھٹ پڑا۔ تمام اسلامی ایشوز کے سلسلے میں امریکا کی پالیسیوں اور اس کی اسرائیل نوازیوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔

امریکا کے خلاف نفرت

۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے قابلِ مذمت واقعے کو جس طرح امریکا نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور افغانستان، عراق، اور خود پاکستان کے علاقوں کو جنگ کا میدان بنا دیا، اس نے امریکا مخالف کے جذبات کو تقویت دی، اور ان مسلمان حکمرانوں کو بھی نفرت کا ہدف بنادیا، جو امریکا کا ساتھ اپنے عوام کے جذبات اور احساسات کے برعکس دے رہے تھے۔ ۲۰۰۲ء سے آج تک جتنے بھی سروے پاکستان، عالمِ اسلام اور تیسری دنیا میں ہوئے ہیں، ان میں آبادی کی عظیم اکثریت نے مسلمان ممالک بشمول پاکستان ۷۰ سے ۸۰ فی صد آبادی نے امریکا کی پالیسیوں، اس کے جارحانہ اقدامات، اور اس کے دوغلے پن پر شدید نفرت اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ گیلپ کے سروے ہوں، یا پیوگلوبل کے، یا خود امریکی اداروں کے۱؎، ان سب کا حاصل امریکا کے خلاف شدید     بے زاری، اس کے سامراجی ایجنڈے کی مخالفت رہا ہے۔ مسلمان ممالک میں اس کی فوجی کارروائیوں کی شدید مذمت، امریکا اور اس کی ان پالیسیوں اور اقدام کو اپنی آزادی، سلامتی اور نظریاتی اور تہذیبی شناخت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھنا ہے۔ امریکا نے جو بھی کوشش مسلمانوں کے دل و دماغ میں کوئی خوش گوار تصور قائم کرنے کے لیے کی، وہ بُری طرح ناکام رہی ہے۔ مسلمان عوام کا عزم اور ارادہ بالکل واضح ہے، یعنی امریکا کی گرفت سے آزادی۔ جہاں بھی وہ فوج کشی کر رہا ہے، اس کے خاتمے اور اپنے معاملات کو خود اپنے نظریات، تصورات اور خود اپنے مفادات کی روشنی میں منظم اور مرتب کرنے کے عزم اور امریکا کی گرفت سے نجات کی کوشش ایک عملی جذبے کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔

عوام کی سوچ ، اور حکمرانوں کی سوچ اور پالیسیوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس کا اندازہ اس سروے سے کیا جاسکتا ہے، جو خالص امریکی ادارے ’نیوامریکن فاونڈیشن‘ نے سوات، باجوڑ اور فاٹا کے دوسرے علاقوں میں ابھی ۲۰۱۰ء کے وسط میں کیا ہے اور جس سے خود ان کے دانش ور انگشت بدنداں ہیں۔ یہ سروے صرف اس علاقے کے لوگوں کی آرا پر مبنی ہے، جہاں اس وقت دہشت گردی اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا محاذ گرم ہے۔ جہاں پاکستانی فوج اور امریکی ڈرون حملے بظاہر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں، اور اس طرح مقامی آبادی کو دہشت گردوں سے بچانے کی خدمت انجام دے رہے ہیں، لیکن آگ اور خون کی اس ہولی کے ستم زدہ عوام کا ۷۵ فی صد امریکا کے ڈرون حملوں کا مخالف ہے۔ سروے میں جواب دینے والوں میں سے ۴۸ فی صد کی راے میں ان حملوں سے صرف معصوم انسان لقمۂ اجل بن رہے ہیں۔  ۳۳فی صد کا دعویٰ ہے کہ سویلین اور دہشت گرد دونوں ان کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس سروے کا سب سے زیادہ چشم کشا حصہ وہ ہے، جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ وہ لوگ جو دہشت گردوں کے خلاف ہیں، ان میں سے بھی ۱۰ میں سے ۶، یعنی ۶۰ فی صد یہ کہتے ہیں کہ: ’’امریکی افواج کے خلاف خودکش حملے اپنا جواز رکھتے ہیں‘‘۔ اور ستم بالاے ستم یہ کہ ۱۰ فی صد کی نگاہ میں پاکستانی فوج  جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہے، اسے بھی نشانہ بنایا جانا درست ہے۔     (ڈیلی ٹائمز، اسلام آباد، ۸؍اکتوبر ۲۰۱۰ئ، دی نیشن، لاہور، ۱۰؍اکتوبر ۲۰۱۰ئ)

سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس ملک کی آبادی کا ۸۰ فی صد دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ اور اس میں پاکستان کی حکومت اور فوج کی شرکت کے خلاف ہو اور فاٹا کا وہ علاقہ جسے دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے امریکی فوج ڈرون حملے کر رہی ہو، وہاں کی آبادی بھی ۷۵فی صد، ڈرون حملوں کے خلاف ہو، وہاں کے ۶۰ فی صد لوگ امریکی فوج کے خلاف خودکش حملوں تک کو صحیح سمجھتے ہوں اور جس ملک کی پارلیمنٹ نے اپنے مشترک اجلاس میں مکمل یکسوئی کے ساتھ متفقہ طور پر خارجہ پالیسی کو آزاد بنانے، ملک کی حاکمیت پر حملوں کا جواب دینے، اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کی پالیسی پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہو، اس کی حکومت اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ کے نام پر امریکی پالیسیوں کو جاری رکھنے اور امریکا کے لیے اپنے لوگوں کو مارنے اور اپنے ہی علاقوں میں بم باری کرنے کی خدمات کا صلہ وصول کرنے کا راستہ اختیار کرتی ہے، تو کیا اسے قوم کے عزائم اور خواہشات کے مطابق کہا جائے گا یا ان کی مکمل نفی سمجھا جائے گا؟

حکومت کی پالیسیوں اور عوام کی خواہشات میں جتنی وسیع خلیج حائل ہے، اور خود ملک میں پائے جانے والے ایک نہیں کئی کئی حوالوں سے اعتماد کا بحران ہے۔ ایک پالیسی کے واضح تفاوت (policy deficit) کی غمازی کرتا ہے۔ یہ عمل اپنی اصل کے اعتبار سے بالآخر خود جمہوریت کے فقدان (democracy deficit) کی شکل اختیار کرتا ہے۔ جمہوریت نام ہے عوام کی مرضی کے مطابق حکمرانی کا۔ جمہوریت، حکمرانوں اور ان کے بیرونی آقائوں کی خواہشات مسلط کرنے کا نام نہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکی پالیسیوں کو خواہ کچھ بھی نام دیا جائے اور ان کو قابلِ قبول بنانے کے لیے کتنی ہی شکرآمیز(sugar coated) امداد کا اضافہ کردیا جائے، قوم انھیں قبول تو کیا، برداشت بھی نہیں کرے گی۔ نتیجہ یہ کہ حکومت، فوج اور عوام میں دُوری اور مغائرت بڑھتی جائے گی جس  کے نتیجے میں امریکا کے خلاف نفرت اور غصے میں اور بھی اضافہ ہوگا۔ کش مکش اور تصادم کی کیفیت روز افزوں ہوگی اور معاشرہ امن و چین سے محروم رہے گا۔

اس تصویر کا ایک اور رُخ بھی ہے جو پریشان کن ہے اور وہ خود امریکا کے حکمرانوں، پالیسی سازوں، میڈیا اور بالآخر عوام میں پاکستان کے امیج اور تصور سے متعلق ہے۔ اسٹرے ٹیجک تعلقات تو تاریخی بات ہیں، عام تعلقات کا انحصار بھی اعتمادِ باہمی، اور ایک دوسرے کے بارے میں منافقت پر مبنی نہیں۔ خلوص اور شفاف انداز میں اچھے جذبات اور قابلِ بھروسا توقعات پر ہونا چاہیے۔ اگر دل کی گہرائیوں سے ایک دوسرے پر بھروسا نہ ہو، صداقت کے بجاے کذب، دھوکا اور گندم نما جو فروشی کا خدشہ بلکہ یقین ہو اور ہر قدم پر دوغلی پالیسی پر عمل دکھائی دے رہا ہو تو اس فضا میں دوستی اور تعاون مغالطے اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستان کے عوام اور اغلباً اس کی فوج اور وہ حکمران جو عملاً امریکا سے معاملات کرتے رہے ہیں اور باربار کے ڈسے ہوئے ہیں، امریکا کے ناقابلِ اعتماد ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ عوام سے کیے گئے تمام ہی اہم راے عامہ کے جائزوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستانی عوام امریکا کی دوستی کو اثاثہ نہیں ایک بوجھ، مصیبت اور خطرہ سمجھتے ہیں۔ ایک غیرملکی ادارے ورلڈ پبلک اوپنین آرگنائزیشن (WPOO) کے جنوری ۲۰۰۸ء کے ایک سروے کے مطابق: ’’صرف ۶ فی صد عوام یہ سمجھتے ہیں کہ پاک امریکا دوستی سے پاکستان کو فائدہ پہنچا ہے۔ اس کے مقابلے میں ۴۴ فی صد کا کہنا ہے کہ یہ تمام پالیسیاں صرف امریکا کے مفاد میں تھیں اور ۲۹ فی صد نے کھل کر کہا ہے: ’’امریکا نے پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے‘‘۔

بحیثیت مجموعی ۷۲ فی صد پاکستانی عوام اس راے کے حامل ہیں کہ ایشیا میں امریکی افواج کی موجودگی پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، جب کہ مزید: ’’۱۲ فی صد کا خیال ہے بڑا تو نہیں، لیکن خطرہ ضرور ہے۔ گویا ۸۴ فی صد اس علاقے میں امریکا اور روس کی افواج کی موجودگی کو کسی نہ کسی شکل میں خطرہ سمجھتی ہے۔ کیا اس احساس کے باوجود پاکستان اور امریکا میں کسی حقیقی اسٹرے ٹیجک تعاون کا امکان ہے؟

یہ تو پاکستانی عوام کے جذبات اور خدشات ہیں، لیکن خود امریکا کے کارفرمائوں کا پاکستان، اس کی قیادت، اس کی افواج کے ذمہ داران اور ان کی پالیسیوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس کا اندازہ ہر وہ شخص کرسکتا ہے، جو امریکی سول اور فوجی قیادت کے بیانات اور میڈیا کی گل افشانیوں پر کچھ بھی نظر رکھتا ہے۔ اس چیز کے عملی تجربے سے ہر وہ شخص گزرتا ہے، جو پاکستانی پاسپورٹ پر امریکا کے سفر کی اذیت سے گزرتا ہے۔ واشنگٹن کے حالیہ مذاکرات کی روداد نگاری کے لیے جو صحافی پاکستانی وفد کے ساتھ گئے تھے، وہ اس کے چشم دید گواہ ہیں۔ جسے کچھ شک ہو وہ جاوید چودھری کا کالم ۲۱؍اکتوبر کے ایکسپریس ٹربیون میں پڑھ لے۔ راقم الحروف نے تو اپریل ۲۰۰۴ء میں ایرپورٹ کے عملے کے ہتک آمیز رویے کے وقت ہی کہہ دیا تھا کہ اس کے بعد امریکا سفر نہیں کرے گا۔ یہ ذاتی تجربات بھی قوموں کے تعلقات کی صورت گری کو متاثر کرتے ہیں، لیکن ہم یہاں پاکستانی قوم اور اس کی قیادت کی توجہ باب ووڈ ورڈ (Bob Woodward) کی حالیہ کتاب Obma's Wars: The Inside Storyکی طرف مبذول کرائیں گے، جو اوباما اور ان کی پالیسی ساز ٹیم کے ذہن کی عکاس ہے، اور جسے بھی امریکا سے معاملہ کرنا ہو، اس کے لیے  اس کتاب کا مطالعہ ازبس ضروری ہے۔

امریکی حکمت عملی ___ ایک فکرانگیز تجزیہ

باب ووڈورڈ، امریکا کا ایک چوٹی کا صحافی اور نہایت وسیع تعلقات رکھنے والا سیاسی  تجزیہ نگاراور مصنف ہے۔ اس کی کتاب Bush's Warsصدر بش کے دورِ حکومت میں شائع ہوئی، اور بش کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ اس کے حقیقی مقاصد، پالیسی ساز افراد کی سوچ، اور اس کی روشنی میں بننے والی آخری حکمت عملی پر ایک مستند دستاویز سمجھی جاتی ہے۔ اب امریکی صدر اوباما کی حکمرانی کے دو سال پورے ہونے سے قبل Obama's Wars کی شکل میں اوباما کے دور میں خارجہ پالیسی اور خصوصیت سے جنگی حکمت عملی میں جوتبدیلیاں آئی ہیں، ان کا احوال اس کتاب میں مذکور ہے۔ ان دونوں کتابوں کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دونوں امریکی صدور اور  ان کے چوٹی کے مشیروں اور پالیسی ساز افراد کی سوچ اور پالیسی سازی کے پیچھے جو مشورہ، فکر، بحث و مباحثہ ہوا ہے، اس کا ایک معتبر مرقع ہے۔ یہ امریکی جمہوریت کا ایک مثبت پہلو ہے کہ اس میں پالیسی سازی کے بارے میں ایسی معلومات قوم کے سامنے لائی جا سکتی ہیں، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے علم کی حد تک ان دونوں کتابوں میں جو باتیں کہی گئی ہیں اور امریکی صدر، پالیسی ساز افراد اور دنیا کے دوسرے لیڈروں سے جو باتیں منسوب کی گئی ہیں، ان کی تردید نہیں آئی۔ اس لیے اس کتاب کے مندرجات کو معتبر ماننے میں کوئی چیز مانع نہیں۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ امریکا کا صدر اور پالیسی ساز اپنے ملک کے مفادات کے مطابق پالیسی سازی کے لیے کتنے بحث ونظر کے بعد پالیسیاں بناتے ہیں، جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ جس کا جی چاہتا ہے چلتے پھرتے نہایت بنیادی پالیسی بیان داغ دیتا ہے، اور تمام بنیادی مشاورتی اداروں کو نظرانداز کرکے پالیسیوں کا اعلان کر دیتا ہے۔ جنرل مشرف تو ڈکٹیٹر تھا، جو خواہ معاملہ نائن الیون کے بعد کی پالیسی کا ہو اور خواہ کشمیر کے حل کی تلاش میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں تک کو نظرانداز کرنے کا، وہ اپنی من مرضی کی بنیاد پر قوم کی قسمت سے کھیلتا تھا۔ اب یہی حال زرداری صاحب، گیلانی صاحب اور حتیٰ کہ وزیرخارجہ صاحب کا بھی ہے کہ جو منہ میں آتا ہے، بے دریغ بیان فرما دیتے ہیں اور کوئی احتساب نہیں ہوتا۔ اس کی تازہ ترین مثال وزیرخارجہ کا وہ ناقابلِ فہم بیان ہے، جو انھوں نے ہاورڈ یونی ورسٹی میں ایران کے ایٹمی پروگرام اور اس کے سکیورٹی معاملات کے بارے میں ارشاد فرمایا۔ امریکا میں جو وقت اور صلاحیت، پالیسی سازی کے لیے صرف کی جاتی ہے، پھر تحقیق، بحث و مباحثہ اور افہام و تفہیم سے قومی امور کو طے کرنے کے لیے دماغ سوزی کی جاتی ہے، ہمارے یہاں وہ بدقسمتی سے سازشوں اور ذاتی مفادات کے حصول کی نذر ہوجاتی ہے۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے جو پالیسیاں بنتی ہیںعارضی نوعیت کی ہوتی ہیں اور قومی مفادات اور تاریخی تقاضوں سے کوئی مطابقت نہیں رکھتیں۔

اوباما صاحب کے ایک مشیر بروس ریڈل (Bruce Ridel) جس کا افغانستان اور پاکستان کے بارے میں پالیسی بنانے میں کلیدی کردار ہے اور جو AFPAK (افغانستان، پاکستان) جیسی مکروہ اصطلاح کا خالق ہے، اس کا کہنا ہے کہ ’’امریکا کی سلامتی کے لیے پاکستان ایک خطرہ ہے‘‘۔ ملاحظہ ہو:

آج کی دنیا کا خطرناک ترین ملک [پاکستان ہے] جہاں اکیسویں صدی کے تمام  خوف ناک امور___ دہشت گردی، حکومت کا عدمِ استحکام، کرپشن اور ایٹمی ہتھیار جمع ہیں۔ (باب ووڈ ورڈ، Obma's Wars: The Inside Story، ص ۸۹)

موصوف ہی نہیں صدر اوباما کی ابلیس کی مجلسِ شوریٰ کے تمام ہی ارکان کا فتویٰ ہے کہ: ’’پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے‘‘۔ اور اصل خطرہ گویا نہ عراق میں ہے اور نہ افغانستان میں___ بلکہ خود پاکستان ہے:

لیکن امریکا کوفوری خطرہ ان وار زونز سے نہیں ہے بلکہ پاکستان سے ہے جو ۱۷کروڑ آبادی کا ایک غیرمستحکم ملک ہے اور جس کی جنوبی افغانستان کے ساتھ ۱۵۰۰ میل کی سرحد ہے اور جس کے پاس تقریباً ۱۰۰ ایٹمی ہتھیار ہیں۔ (ایضاً، ص ۳)

ایک اور مشیر وائس ایڈمرل مائیکل میک کونیل کا ارشاد گرامی ہے: ’’پاکستان افغان جنگ میں امریکا کا بددیانت پارٹنر ہے۔ وہ [پاکستانی] جھوٹ بولتے ہیں‘‘(ایضاً، ص ۳)۔ ایک اور مشیر ڈینس بلیر نے لکھا ہے: ’’مختلف اسلامی گروپوں کو جڑ سے اُکھاڑنے میں حکومتِ پاکستان زیادہ مددگار نہیں رہی ہے‘‘۔(ایضاً، ص ۱۶۲)

ان بیانات کی روشنی میں ہمیں کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ خیالات صرف مشیروں کے نہیں، خود صدرباراک اوباما ساری بحث سن کر جو واضح بات کہتے ہیں، وہ امریکی قیادت کے اصل ذہن اور ہدف کے بارے میں کوئی شبہہ باقی نہیں رہنے دیتی: ’’ہمیں لوگوں کو واضح طور پر یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ سرطان پاکستان میں ہے‘‘۔(ایضاً، ص ۳۰۲)

یہی وجہ ہے کہ نئی حکمت عملی کا عنوان AFPAK )(ایفپاک) رکھا گیا، بلکہ ایک موقع پر تو اسے PAKAF رکھا جانے کا مشورہ دیا گیا، مگر بطور مصلحت یا دھوکا دینے کے لیے افغانستان کو پہلے اور پاکستان کو بعد میں رکھا، البتہ مقصد بالکل واضح تھا___ افغانستان اور پاکستان دونوں اب ایک مشترکہ ہدف کے طور پر نشانے پر ہیں۔ بروس ریڈل کے الفاظ میں: ’’بڑی تبدیلی یہ ہے کہ امریکا، افغانستان اور پاکستان کے دو ممالک کا نہیں بلکہ ایک چیلنج: AFPAK کا سامنا کرے گا‘‘۔ (ایضاً، ص ۹۹)

امریکی حکمت عملی کا اصل ھدف

امریکا کی ’عظیم تر حکمت عملی‘ کے اس منظرنامے میں، وہ کیا اقدام کر رہا ہے یا کرنا چاہتا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ذہن میں یہ بات تازہ کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکا، پاکستان، اس کی سیاسی قیادت، عسکری قیادت، اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے بارے میں کئی مفروضوں پر اپنی سوچ اور اپنے اثرات مرتب کررہا ہے۔

امریکا کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں فیصلہ سازی کے عمل میں سول حکومت کے مقابلے میں فوجی قیادت کا کردار زیادہ اہم ہے، اس لیے اس کی توجہ کا اصل مرکز فوجی قیادت ہے: ’’بہت سے حوالوں سے پاکستانی فوج کو ملک کی قسمت اور سمت پر تاریخی طور پر کمزور سول قیادت کی      بہ نسبت بہت زیادہ اختیار حاصل ہے‘‘۔ (جنرل کیانی، جو پاکستان کی فوج کے سربراہ ہیں، ان کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے، ص ۱۸۸)

جنرل جونز اور رابرٹ گیٹس نے بروس رڈل سے صاف صاف پوچھا: ’’کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستانیوں پر اعتماد کیا جائے؟‘‘ جواب ملاحظہ فرمایئے:

۱۹۸۰ء کے وسط کے بعد سے میں آئی ایس آئی کے ہر سربراہ کو جانتا ہوں۔ کیانی کو یا تو اپنی تنظیم پر کنٹرول نہیں ہے یا وہ سچ نہیں بول رہا۔ امریکا کو یہ واضح بات دیکھنا چاہیے۔ اس نے کہا کہ پاکستانی جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس نے مولن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: تم کیانی سے درجنوں بار ملے ہو، تم یہاں موجود لوگوں میں سب سے زیادہ اسے جانتے ہو۔ میرا تاثر ہے کہ وہ دوسرے زمرے میں آتا ہے، یعنی جھوٹا۔ مولن نے اختلاف نہیں کیا۔(ایضاً، ص ۱۰۱)

افغانستان کے کٹھ پتلی صدر حامد کرزئی نے بھی پاکستان اور اس کی افواج پر گنداُچھالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی:

کرزئی نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی نے طالبان کو بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ کلنٹن نے پوچھا کہ کیا تم واقعی سمجھتے ہو کہ اگر آئی ایس آئی چاہے تو ملاعمر کو پکڑ سکتی ہے؟ کرزئی نے اپنے سامنے پلیٹ سے ایک چاکلیٹ بسکٹ اُٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ملاعمر کو اس طرح پکڑ سکتے ہیں جس طرح میں نے یہ بسکٹ اُٹھایا ہے۔(ایضاً، ص ۳۵۵)

ایک طرف پاکستان کی بے وفائیوں اور کذب بیانیوں کی یہ افسانہ سازی ہے، تو دوسری طرف یہ بھی دیکھیں کہ عملاً جنرل پرویز مشرف اور صدر آصف زرداری کا ہاتھ مروڑ کر امریکا نے پاکستان میں اپنی عسکری اور سیاسی سیادت کس حد تک قائم کی ہوئی ہے اور پھر بھی ’ہل من مزید‘ یا ’کچھ اور کرو‘  کا مطالبہ ہے اور ساتھ ہی ساتھ دوغلے پن کا طعنہ اور بلیک میل بھی کیا جا رہا ہے۔

صدر اوباما سی آئی اے کے ڈائرکٹر جنرل مائیکل ہیڈن سے پوچھتے ہیں:

اوباما نے پوچھا: آپ پاکستان میں کتنا کر رہے ہیں؟ بائیڈن نے کہا: پوری دنیا میں ہونے والے امریکی حملوں کا ۸۰ فی صد یہاں ہوتے ہیں۔ آسمان کے ہم مالک ہیں، ڈرون پاکستان میں خفیہ بیس سے اُڑتے ہیں اور واپس آتے ہیں۔ القاعدہ قبائلی علاقے میں ایسے لوگوں کو تربیت دے رہی ہے جن کو اگر آپ ڈلس کی ویزا لینے والوں کی قطار میں دیکھیں گے تو ان کو خطرے کے طور پر نہیں پہچان پائیں گے۔(ایضاً، ص ۵۲)

صدر آصف زرداری کس طرح امریکی نائب صدر جوبائیڈن کے سامنے اپنی اسنادِ خدمت پیش کرتے ہیں، اس کی ایک جھلک بھی دیکھ لیں کہ پاکستان اور امریکا کے نام نہاد اسٹرے ٹیجک تعلقات کا ایک منظر یہ بھی ہے:

آپ کو میری مدد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ میں اپنے ملک میں کافی اثرورسوخ حاصل کروں۔ آپ کو معلوم ہے کہ ملک امریکا دشمنی سے بھرا ہوا ہے اور وہ ایک امریکی   آلہ کار کی حیثیت سے مجھ سے نفرت کریں گے۔ آپ کو مجھے اقتصادی وسائل دینا ہوں گے تاکہ میں لوگوں کی حمایت حاصل کرسکوں کہ ان کے لیے بھی اس میں کچھ ہے۔ زرداری نے کہا: میں آئی ایس آئی کو ٹھیک کرنے میں مدد دینا چاہتا ہوں۔ ہمیں اس کھیل سے باہر نکلنا چاہیے۔(ایضاً، ص ۶۳-۶۴)

ڈرون حملے، جن کے بارے میں ڈھائی سال کے انکار کے بعد اب پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے فضائی نگرانی کے لیے اجازت دی تھی، لیکن اب بھی یہ اعتراف نہیں کیا کہ میزائل گرانے کی اجازت کس نے دی ہوئی ہے۔ دوسری طرف امریکی قیادت اس سلسلے میں کوئی پردہ نہیں رکھتی اور برملا کہتی ہے ہم سب کچھ پاکستان کی سرزمین سے کر رہے ہیں اور پاکستانی حکومت اور فوج کے تعاون سے کررہے ہیں۔ جنرل مائیکل ہیڈن کا بیان اُوپر آگیا ہے۔ اب خود صدر پاکستان کی شہادت بھی دیکھ لیں۔ باب ووڈورڈ صدر زرداری سے جنرل مائیکل ہیڈن کی ۱۲نومبر ۲۰۰۹ء نیویارک میں ملاقات کی کچھ جھلکیاں یوں دکھاتا ہے:

ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت پر پاکستانی میڈیا امریکا کو بُرا بھلا کہتا رہا ہے لیکن پاکستانی شہریوں کی اتفاقیہ ہلاکتیں کہانی کا صرف نصف حصہ ہیں۔

بہت سے مغرب کے افراد جن میں امریکی پاسپورٹ رکھنے والے بھی کچھ شامل ہیں، پانچ دن قبل شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں ’کیم شام ٹریننگ کیمپ‘میں ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستانیوں کو سی آئی اے کا ایک نہایت خفیہ نقشہ دیا گیا تھا جس میں حملے کی تفصیل بتائی گئی تھی لیکن اس میں ہلاکتوں کے چونکا دینے والے اس واقعے کا ذکر نہ تھا۔ سی آئی اے تفصیلات بتانے کو تیار نہیں تھا۔

پاکستانی سفیر نے ہیڈن سے پوچھا کہ آپ ہدف کا انتخاب کیسے کرتے ہیں؟ ہیڈن نے جواب دیا: سی آئی اے بہت زیادہ احتیاط کرتی ہے۔ القاعدہ کے سات چوٹی کے لیڈر اس سال بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک گھنٹے کی گفت و شنید کے بعد صدر پاکستان کی ہیڈن سے ون آن ون ملاقات ہوئی۔ زرداری ڈرون حملوں سے شہری ہلاکتوں کے بارے میں تنازعے کی بوجھل فضا کو صاف کرنا چاہ رہے تھے۔ زرداری نے کہا: سینیرز کو ہلاک کرو۔ ضمنی نقصانات امریکیوں کو پریشان کرتے ہیں، مجھے نہیں۔

اس کے بعد باب ووڈورڈ لکھتا ہے: ’’زرداری نے سی آئی اے کو اہم گرین سگنل دے دیا۔ ہیڈن نے حمایت کی تحسین کی، مگر اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس سے القاعدہ کو تباہ کرنے کا مقصد حاصل نہیں ہوگا‘‘۔(ایضاً، ص ۲۶)

صدر جارج بش کے دورِصدارت کے بارے میں باب ووڈورڈ لکھتا ہے: ’’بش نے ہدایت کی تھی کہ پاکستان کو ڈرون حملے کی اطلاع ساتھ ہی ملنا چاہیے، یعنی جب حملہ ہو رہا ہو تو انھیں اس کا علم ہو، یا یقینی بات کرنے کے لیے چند منٹ کے بعد‘‘۔(ایضاً، ص ۵)

باب ووڈورڈ، صدر بش کے دور میں امریکی ڈرون حملوں کے علاوہ باقاعدہ امریکی فوجی آپریشن کا بھی ذکر کرتا ہے، اور بش کا یہ فیصلہ بھی ریکارڈ کرتا ہے کہ: ’’امریکی ڈرون اب پاکستانی آسمانوں کے مالک ہیں۔ اب پاکستان کی حدود کے اندر مزید کوئی زمینی حملہ نہیں کیا جائے گا‘‘۔(ایضاً، ص ۸)

البتہ ایسے آپریشن کی تیاری اور اگر ضرورت محسوس ہو تو اسے کر گزرنے کی تیاریاں پوری طرح ہیں:

ایک اہم خفیہ راز جو میڈیا یا کہیں بھی رپورٹ نہیں ہوا ہے، افغانستان میں سی آئی اے کی ۳ہزار افراد پر مشتمل خفیہ فوج کی موجودگی ہے۔ دہشت گردی کا پیچھا کرنے والی یہ ٹیمیں (سی ٹی پی ٹی) بیش تر افغانوں پر مشتمل ہیں جو سی آئی اے کی راے میں فوج کا بہترین عنصر ہیں۔ ان ٹیموں کو سی آئی اے تنخواہ دیتی ہے، تربیت دیتی ہے، اور یہ    سی آئی اے کے آلۂ کار ہیں اس کی اجازت بش نے دی تھی۔ یہ ٹیمیں طالبان باغیوں کو قتل کرنے یا پکڑنے کے لیے آپریشن کرتی تھیں اور قبائلی علاقوں میں بھی امن قائم کرنے یا حمایت حاصل کرنے کے لیے ان علاقوں کے اندر چلی جاتی تھیں۔(ایضاً، ص ۸)

اس کے ساتھ امریکا ایک طرف ڈرون حملوں کے دائرے کو وسیع کرنے کے مطالبات کررہا ہے اور دوسری طرف مختلف طریقوں سے پاکستان کی سرزمین پر فوجی آپریشن کے لیے مطالبات میں اپنی راہ کشادہ کر رہا ہے۔ یہ دھمکی اور تیاری بھی ساتھ ساتھ ہے کہ: ’’اگر امریکا میں کوئی بھی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو پاکستان کی خیر نہیں اور اجازت تو کیا اطلاع کے بغیر امریکا اقدام کرگزرے گا، اور اس کے لیے ۱۵۰ مقامات کی نشان دہی کی جاچکی ہے‘‘۔

سیاسی اور عسکری قیادت کا مایوس کن کردار

اس کتاب میں دو جگہ صاف صاف اس عندیے کا اظہار کیا گیا ہے اور فیصل شہزاد کے واقعے کے بعد خصوصی ایلچی کے ذریعے صدر زرداری صاحب کو صاف پیغام دے دیا گیا ہے اور اس کی تازہ ترین قسط وہ ہے، جو حالیہ واشنگٹن مذاکرات کے موقعے پر صدر اوباما سے ’اتفاقیہ‘ ملاقات میں پوری شانِ تحکم کے ساتھ ادا کی گئی___ یعنی: اگر کوئی واقعہ ہوتا ہے تو امریکی فوجوں کی براہِ راست مداخلت کا مزا چکھنے کے لیے تیار رہو:

اصل مسئلہ یہ تھا کہ کیا امریکی فوجی پاکستان کی سرزمین پر آپریشن کرسکتے ہیں؟ روایتی طور پر یہ ایک سرخ لکیر ہوتی تھی لیکن یہی مسئلے کی جڑ تھی جسے حل ہونا تھا۔ سلامتی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے انھیں مرکزثقل کی طرف جانا ہوگا اور یہ انھیں کرنا ہوگا۔(ایضاً، ص ۲۰۸)

اور کتاب کے آخر میں ایک بار پھر واضح پیغام اور عزائم کا یہ اظہار :

پاکستان نے ڈورن پروازوں کی اجازت مخصوص علاقوں کے لیے دی تھی جن کو ’باکس‘ کہا جاتا ہے کیونکہ جنوب میں پاکستان کی زمینی فوج بہت بڑی تعداد میں موجود ہے، لہٰذا وہ اس علاقے میں ’باکس‘ کی اجازت نہیں دیں گے۔ پینیٹر نے کہا: اس ’باکس‘ کو حاصل کرنا ہماری ضرورت ہے۔ ہمیں اپنا آپریشن کرنے کے لیے اس کی ضرورت ہے۔

باب ووڈورڈ کے بقول یہ بحث جنرل اشفاق کیانی کی موجودگی میں ہورہی تھی، اور اس کا دعویٰ ہے کہ: ’’جنرل کیانی وضاحت پیش نہ کرسکے‘‘۔ بالآخر امریکا نے اپنے اصل مقصد کو یوں بیان کردیا:

پینیٹرنے کہا: امریکا کو کچھ نہ کچھ زمینی افواج کی ضرورت ہے۔ ہم یہ کام زمین پر اپنے فوجیوں کے بغیر نہیں کرسکتے۔ یہ پاکستانی ہوسکتے ہیں یا ہمارے۔ بہرحال ہمیں زمین پر کچھ فوجی ضرور چاہییں۔ امریکا کی تیزی سے حملہ آور جے سی او سی یونٹس بہت زیادہ نظروں میں آتی ہیں۔ اس کا اصل متبادل خفیہ جنگ کی بہت بڑی توسیع ہے۔ اب اس کی ۳ہزار افواج پر مشتمل سی ٹی پی ٹی کے دستے سرحد پار کرکے پاکستان کے اندر آپریشن کر رہے ہیں۔(ایضاً، ص ۳۶۰-۳۶۱)

کیا اس سے بھی زیادہ کھلے لفظوں میں امریکا کے اصل اسٹرے ٹیجک اہداف کی کسی نشان دہی کی ضرورت ہے؟ کتاب کے آخری ابواب میں باب ووڈورڈ امریکا کے مخمصے کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادتیں اپنے اپنے انداز میں مایوس کن ہیں:

ان لوگوں کے ذریعے امریکا کچھ حاصل نہیں کر رہا۔ زرداری سے بات کرکے جس کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، یا کیانی سے جس کے پاس کچھ کرنے کے اختیارات ہیں لیکن اس نے کچھ زیادہ کرنے سے انکار کر دیا۔ کوئی اس کو کچھ نہیں کہہ سکتا۔ آخری حد مایوس کن تھی۔(ایضاً، ص ۳۶۷)

یہ ہے وہ پس منظر جس میں پاکستان کے بارے میں امریکا کے اصل اسٹرے ٹیجک مقاصد اور اہداف کو سمجھا جاسکتا ہے۔ مسئلہ صرف امریکا کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے پاکستان کو دھونس، دبائو، دھمکی کی لاٹھی اور معاشی اور عسکری امداد کے لالچ کے ذریعے آمادہ کرنا ہے۔ اس کتاب میں اس اسٹرے ٹیجک مقصد اور پاکستان کی سیاسی قیادت کی آمادگی دونوں کو کتاب کے اوراق اور لفظوں کی روح میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اِلا یہ کہ کوئی آنکھیں رکھتے ہوئے بھی دیکھنے کی کوشش نہ کرے، ملاحظہ ہو: پالیسی کے جائزے کی ساری بحث کے بعد صدر اوباما نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ:

ہمیں وہاں سے شروع کرنا چاہیے جہاں ہمارے مفادات ہیں۔ اور یہ پاکستان ہے، افغانستان نہیں۔

امریکا کے اہداف یہ ہیں:

ا- امریکی سرزمین ، اس کے حلیفوں اور بیرونِ ملک امریکی مفادات کا تحفظ۔

ب- پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں اور استحکام کے بارے میں تشویش

ج- بھارت پاکستان تعلقات (ایضاً، ص ۱۸۷)

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں مسئلہ کشمیر، پانی کا مسئلہ یا پاکستان کے دوسرے مسائل و معاملات کا کوئی مقام نہیں، ضمنی طور پر بھی نہیں۔ اصل مسئلہ پاکستان کو یہ باور کرانا ہے کہ بھارت اس کے لیے کوئی خطرہ نہیں اور اسے اپنی خارجہ پالیسی میں سے ’بھارتی خطرے‘ کے لفظ کو کھرچنا ہوگا۔ پاکستان کی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ اوباما کے الفاظ میں: ’’ہمارے بنیادی مقاصد کے حصول کی کلید پاکستان کی سوچ کو بدلنا ہے‘‘۔ (ایضاً، ص ۱۸۷)

بروس رِڈل نے اس مقصد کو اور اس کے لیے امریکی پالیسی کو جو ہدف سامنے رکھنا چاہیے، اسے اور بھی زیادہ صاف اور واضح ترین الفاظ میں ادا کیا ہے: ’’خلاصے کے طور پر رڈل نے کہا کہ انھیں پاکستان کی اسٹرے ٹیجک سمت کو بدلنا ہوگا‘‘۔(ایضاً، ص ۱۰۸)

جس مقصد کے لیے امریکا نے اسٹرے ٹیجک مذاکرات کا جال پھیلایا ہے، وہ فی الحقیقت پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو کاروباری سطح سے بلند کرکے اسٹرے ٹیجک سطح پر لانا نہیں ہے، بلکہ امریکا کے مقاصد کے لیے پاکستان کے موقف میں اسٹرے ٹیجک تبدیلی لانا ہے، جس کا اظہار صدراوباما نے کچھ اس طرح کیا:

بعد میں صدر نے تصدیق کی کہ کسی بھی نئی اسٹرے ٹیجی کا مرکزی نکتہ پاکستان ہوگا۔ ہمیں پاکستان کی سول، فوجی اور اہلِ دانش قیادت سے سنجیدگی سے قریبی تعلقات رکھنے ہوں گے۔ (ایضاً، ص ۱۰۹)

صدر زرداری کا کردار

فوجی قیادت کے تحفظات کا ذکر تو اُوپر آچکا ہے، لیکن صدر زرداری نے جس گرم جوشی سے امریکی ایجنڈے کو قبول کیا ہے، اس کا کچھ ذکر تو اُوپر آیا ہے، لیکن قوم کے لیے ضروری ہے کہ اسے معلوم ہو کہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرپرسن صدرمملکت اور اس ذوالفقار علی بھٹو کے داماد جس نے پاکستان کے حقوق کے لیے ہزار سال تک بھارت سے جنگ کا عندیہ دیا تھا، امریکا کی قیادت کے سامنے اپنے کس عزم کا اظہار کیا:

آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ میرے ملک میں اچھا خاصا آگے بڑھنے کے لیے میری مدد کریں۔ آپ کو مجھے اقتصادی وسائل دینے ہوں گے تاکہ میں عوام کو جیت سکوں۔ میں آئی ایس آئی کو ٹھیک کرنے میں مدد کروں گا۔(ایضاً، ص ۶۳-۶۴)

زرداری صاحب جب وہ اپنے صاحب زادے بلاول کے ساتھ صدر اوباما سے اوول آفس میں ملے تو اوباما نے کہا:

ہم بھارت کے بارے میں آپ کی تشویش پر آپ کو الزام نہیں دیتے۔ مجھے معلوم ہے کہ بہت سے پاکستانیوں کو تشویش ہے لیکن ہم بھارت کے خلاف آپ کو مسلح کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہتے۔ اس بارے میں میرا موقف بالکل واضح ہے۔

زرداری نے کہا: ہم اپنا ورلڈ ویو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہ راتوں رات نہیں ہوسکتا۔(ایضاً، ص ۱۱۵)

پاکستان میں امریکا کی سفیر اینی پیٹرسن نے آصف زرداری کے بارے میں گواہی دی ہے کہ:

زرداری، حکومت کرنے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ وہ مسٹر بے نظیر بھٹو ہونے سے کبھی باہر نہیں نکلے گا لیکن وہ بنیادی طور پر ہمارا طرف دار ہے۔(ایضاً، ص ۱۳۶)

اس نے اپنے لبرل اقدام پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا: بھارتی فلموں کی پہلی دفعہ اجازت میں نے دی ہے۔(ایضاً، ص ۱۳۷)

یہ مکالمات امریکی سفیرصاحبہ اور جنرل جونز کے درمیان ہیں، جو موصوف سے اسلام آباد کے دورے کے دوران میں ہوئے۔ واشنگٹن میں پینٹاگون کے ہال اے میں پاکستانی سفیر حسین حقانی صاحب، رابرٹ گیٹس کو مطلع کرتے ہیں کہ:

اگلے چند ہفتوں میں پاکستانی فوج وزیرستان میں داخل ہوجائے گی۔ اس اقدام کے لیے زرداری نے کوشش کی۔ کیونکہ امریکا کا حامی ہونے کی وجہ سے اس کی حمایت ختم ہورہی تھی۔ زرداری نے خیال کیا کہ وہ طالبان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرکے حمایت حاصل کرسکتا ہے۔

یہ ہے اصل حقیقت، اس فوجی آپریشن کی جس کے بارے میں قوم سے کہا جاتا ہے کہ: ’’فیصلہ ہم کرتے ہیں‘‘۔

جن مذاکرات اور تعلقات کو اسٹرے ٹیجک کا نام دیا جا رہا ہے، وہ بالکل اسی نوعیت کے تعلقات ہیں جن کا تجربہ گذشتہ ۶۰برس سے پاکستان کر رہا ہے۔ یہ بات کہ مذاکرات اسٹرے ٹیجک ہیں اور عملاً تیسرا گروپ بنا کر ہر نوعیت کے امور پر بات چیت ہورہی ہے جس کا حاصل صرف یہ ہے کہ ڈیڑھ سو صحافیوں اور وزارتِ اطلاعات کے ۸۰ افراد کو ذہنی غسل (brain washing) کے لیے ان کو ایک ایک ماہ کے لیے امریکا کے مطالعاتی دورے پر بھیجا جائے گا اور شمالی علاقہ جات میں دو چھوٹے ڈیم میں امریکا سرمایہ کاری کرے گا۔ کیا اسٹرے ٹیجک مذاکرات کے یہ موضوع ہوتے ہیں؟

امریکی اھداف اور قومی ترجیحات

امریکا کے اسٹرے ٹیجک مقاصد اور اہداف بالکل واضح ہیں۔ اس کا اصل مقصد اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔ امریکا، پاکستان اور بھارت کے تعلقات کا جو ٹرائی اینگل اسلوب ۱۹۵۰ء کی دہائی سے قائم تھا، اسے بش کے دور میں درہم برہم کردیا گیا اور اسے پاکستان اور بھارت کے امریکا تعلقات کے ربط ختم کرنے (de-hyphenization) کا عنوان دیا گیا حالانکہ اصل مقصد بھارت سے اسٹرے ٹیجک شراکت کا قیام تھا جسے ۲۰۰۶ء میں ایک واضح شکل دے دی گئی ہے اور پاکستان کے تمام خدشات و تحفظات کو یکسر نظرانداز کردیا گیا ہے۔ اوباماصاحب کو نومبر ۲۰۱۰ء میں ہونے والا چار ممالک کا دورہ جس میں بھارت سرفہرست ہے امریکی حکمت عملی کا علامتی اظہار ہے، اس راستے میں پاکستان کہیں بھی نہیں ہے البتہ اشک شوئی کے لیے کہا جارہا ہے کہ ۲۰۱۱ء میں پاکستان کا دورہ کیا جائے گا مگر امریکا نے اپنی ترجیحات واضح کر دی ہیں:

  • اشتراکِ مقاصد و اقدار
  • مشترک مفادات
  • درج بالا مقاصد اور مفادات کے حصول کے لیے ذرائع اور طریق کار پر رضامندی
  • طویل المدت، مستقل اور دیرپا پالیسیاں اور پروگرام
  • باہمی اعتماد

اگر پاکستان اور امریکا کے تعلقات کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو ان دونوں ممالک کے باب میں یہ پانچوں چیزیں مفقود ہیں۔

امریکا کا مقصد اپنے عالمی غلبے کو باقی رکھنا اور کم از کم اکیسویں صدی کے اوّلین نصف میں اپنی عالمی بالادستی کا تحفظ اور ہر متبادل قوت کو اپنے گھیرے میں لینا ہے۔ اس وجہ سے وہ دنیا کے ۱۴۸ممالک میں اپنی فوجیں رکھے ہوئے ہے اور سیاسی اور معاشی معاہدات کے ذریعے اپنی گرفت کو مستحکم رکھنا چاہتا ہے۔ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر یہ سارا منظرنامہ اس کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے سے جو خلا پیدا ہوگیا تھا، اسے اس نئی جنگ اور اس کی بنیاد پر کون کس کے ساتھ ہے؟ کے فلسفے کی روشنی میں عالمی سیاست کا دروبست قائم کیا گیا ہے۔ اس میں ناٹو کے لیے ایک نیا کردار تراشا جارہا ہے۔ اسرائیل، شرق اوسط کا اہم ترین کھلاڑی ہے۔ ایشیا کو اپنی گرفت میں رکھنے اور چین کے گرد گھیرا مضبوط کرنے کے لیے امریکا اور بھارت کی اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ وجود میں آئی ہے۔

ان امریکی مقاصد میں سے کوئی بھی ہدف پاکستان کے مقاصد سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ ایسی عالمی بساط پر ہم کوئی کھلاڑی نہیں۔ چین سے ہمارا تعلق حقیقی اسٹرے ٹیجک نوعیت کا ہے،  جب کہ ہمارے سارے تنازعات کا تعلق بھارت سے ہے۔ افغانستان اور ایران سے متعلق ہماری سرحدات تاریخی اعتبار سے محفوظ ترین تھیں اورسارے خطرات صرف بھارت کی طرف سے تھے۔ امریکا کی حکمت عملی ہمیں شمال اور شمال مغرب میں اُلجھانا ہے اور بھارت کے لیے برعظیم ہی میں نہیں جنوبی، شرقی اور وسطی ایشیا میں بھی کردار کو فروغ دینا ہے۔ اس فریم ورک میں امریکا اور پاکستان کے عالمی مقاصد میں کوئی مطابقت نہیں۔

جہاں تک مفادات کا تعلق ہے امریکا کا مسئلہ تیل اور دوسرے معاشی وسائل پر تسلط اور اپنی مصنوعات اور سرمایے کے لیے منڈیوں کا حصول ہے۔ اس کی نگاہ میں کسی بھی ملک اور خاص طور پر پاکستان، ایران، کوریا، عراق یا کسی بھی عرب ملک یا اسلامی ملک کی نیوکلیر صلاحیت ایک خطرہ ہے۔ہر ایسی معاشی صف بندی جو دنیا کے ان ممالک میں خودانحصاری کی کیفیت پیدا کرسکے، امریکا اور عالمی سرمایہ دارانہ سامراج کے مفادات کے خلاف ہے، جب کہ عالمی تجارت کی راہوں کے کھلے ہونے کے ساتھ پاکستان، عالمِ اسلام اور تیسری دنیا کے ممالک کا مفاد اس میں ہے کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہوسکیں۔ بنیادی ضروریات اور ٹکنالوجی کے میدان میں امریکا اور مغرب پر ان کا انحصار کم ہو۔ وہ خود اپنے وسائل کو اپنی ترجیحات اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرسکیں۔

یہاںبھی امریکا، مغرب کے سامراجی ممالک اور پاکستان، دوسرے مسلمان اور تیسری دنیا کے ممالک کے مفادات سے متصادم ہیں۔ پھر پاکستان کے فوری مسائل اور مفادات ہیں، جن کا تعلق مسئلہ کشمیر، مسئلہ فلسطین، پانی کا مسئلہ، خوراک میں خودانحصاری، معاشی ترقی اور استحکام اور نظریاتی اور تہذیبی شناخت کی حفاظت اور پرورش ہیں۔ یہاں بھی پاکستان اور امریکا کے مفادات میں فاصلے زیادہ اور قربت کم اور واجبی ہے۔

یہی معاملہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا ہے، جس کی سب سے بھاری قیمت پاکستان، افغانستان اور عراق نے ادا کی ہے۔ امریکا کے جتنے فوجی اور شہری افغانستان اور عراق میں ہلاک ہوئے ہیں، ان سے کہیں زیادہ پاکستانی فوجی اور عام شہری محض امریکا کی جنگ میں شرکت کی سزا میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ معاشی اور فوجی امداد کا بڑا چرچا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر جانی نقصان کو نظرانداز کردیا جائے (گو ایسا کرنا ایک سنگین جرم ہوگا) اور صرف معاشی پہلو کو لیا جائے تو امریکا نے جو ۱۹بلین ڈالر گذشتہ نوسال میں دیے ہیں ان میں ۱۱بلین ڈالر ان اخراجات اور خدمات کی مد میں ہیں، جو پاکستان نے امریکی افواج اور ضروریات کے لیے انجام دی ہیں، اور جسے ’کولیشن سپورٹ فنڈ‘ کہتے ہیں، جب کہ اس جنگ میں شرکت کا جو معاشی نقصان پاکستان کو ہوا ہے، وہ وزارتِ خزانہ کے ہر اعتبار سے کم سے کم ترین پر تخمینوںکے مطابق بھی ۴۳ارب ڈالر سے زیادہ ہیں، اور خود ’کولیشن سپورٹ فنڈ‘ کے اس وقت ڈھائی ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔ یہ وہ خرچہ ہے جو حکومتِ پاکستان، اسٹیٹ بنک سے قرض لے کر کرچکی ہے، اور جس کی وجہ سے وہ اس وقت اسٹیٹ بنک کی ۱۸۵ ارب کی مقروض ہے، اور جس پر ۲ ارب روپے ماہانہ سود بھی حکومتِ پاکستان کو ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ نفع کا سودا ہے یا صریح نقصان کا۔ یہ صورت حال مفادات کے اشتراک کی تصویر پیش کرتی ہے یا ان میں تصادم اور تناقض کی۔

تیسرے نکتے کا حال بھی ذرا مختلف نہیں۔ معاشی تعاون اور سرمایہ کاری میں اشتراک کے چند منصوبوں کو چھوڑ کر، زیادہ معاملات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان اشتراکِ عمل کے جو پروگرام ہیں، وہ نمایشی زیادہ اور حقیقی کم ہیں۔ پھر ان تعلقات میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ وقتی اور ہوا کے جھونکوں کے ساتھ بدل جانے والے ہیں۔ برابری کی بنیاد پر توازنِ قوت کے تفاوت کی وجہ سے معاملات مرتب کرنے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ لیکن کم از کم مقدار میں بھی ایک دوسرے کی آزادی، عزتِ نفس، قومی مفادات، نظریاتی اور تہذیبی اختلافات بلکہ احترام کا بھی فقدان ہے، اور تعلقات اور منصوبوں میں کوئی تسلسل اور دوام نہیں۔ آج دوستی میں گاڑھی چھن رہی ہے اور کل پابندیاں مسلط کردی جاتی ہیں، تمام منصوبوں کو بیچ میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ دفاعی سسٹم کے باب میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ دفاعی تنصیبات سے متعلق فاضل پُرزوں اور مرمت تک کی سہولت کو منقطع کردیا جاتا ہے، جس سے ملک کی سلامتی کو شدید خطرات درپیش ہوتے ہیں۔ مختلف عذرات کی بنیاد پر پاکستانی مصنوعات کو عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہوپاتی۔ جہاں تجارتی تعلقات ہیں وہاں بھی ایسی ہی امتیازی پالیسیاں اختیار کی جاتی ہیں جو ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے خلاف ہیں۔ اپنے پسندیدہ ممالک کو اور جہاں ضرورت محسوس ہو تحفظ دیا جاتا ہے، لیکن دوسروں کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنے قومی مفاد کی روشنی میں انھی حربوں کو استعمال کریں۔ اس طرح تیسرے اور چوتھے دونوں نکات کے سلسلے میں بھی اتفاق کے نکات کم اور محدود اور اختلاف کے وسیع ہیں۔

رہا معاملہ باہمی اعتماد کا تو اس کا دُور دُور تک وجود نہیں اور یہی وجہ ہے کہ لالچ اور خوف ہی کارفرما قوتیں ہیں۔ اعتماد، ایثار اور شراکت کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔ ان حالات میں ہمارے ارباب حل و عقد کی جانب سے اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ کے دعووں کو خودفریبی کے سوا کس نام سے پکارا جاسکتا ہے۔ ہم پاکستان اور امریکا کے درمیان دوستانہ تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں، لیکن یہ تاریخی تجربات اور زمینی حقائق کی بنیاد ہی پر ہوسکتے ہیں۔ امریکا ایک سوپر پاور ہے اور اس سے تصادم بلاشبہہ مفاد میں نہیں۔ بہت سے معاملات میں تعاون کے ہزاروں راستے نکالے جاسکتے ہیں، جس میں دونوں کے لیے بھلائی اور نفع ہو۔عالمی تجارت کے اسی اصول پر فروغ پاتی ہے۔ چھوٹے ممالک کی بھی اسٹرے ٹیجک اہمیت ہوسکتی ہے اور پاکستان کو یہ حیثیت حاصل ہے۔ مختلف ممالک باہمی رضامندی اور باہمی لین دین کے معروف اصولوں کی روشنی میں سب استفادہ کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حقائق کو کھلے دل سے قبول کیا جائے۔ ایک دوسرے کے جائز مفادات کو سامنے رکھ کر آزاد مرضی سے معاملات طے کیے جائیں۔ پستول تان کر یا رشوت اور دھونس جماکر ایک پارٹی دوسرے پر اپنی راے مسلط نہ کرے اور کمزور ممالک میں اپنے طفیلی عناصر کو حکمران بنا کر ان کے ذریعے قوم کی تمنائوں، عزائم اور مفادات کے برعکس پالیسیاں مسلط نہ کی جائیں۔

ہرملک اور قوم کی اپنی ترجیحات اور ضرورتیں ہیں اور آزادی، عزتِ نفس، نظریاتی اور تہذیبی تشخص اور سیاسی اور معاشی مفادات ہر ایک کے لیے اہم ہیں۔ اس لیے انصاف اور تعاون باہمی کی بنیاد پر تو سب سے تعلقات خوش گوار رہ سکتے ہیں اور یہی مطلوب ہے۔ امریکا سے تعلقات بھی اسی زمرے میں آتے ہیں اس سے ہٹ کر جو راستہ بھی اختیار کیا جائے گا وہ جبر اور مجبوری کی حد تک تو کچھ عرصے کے لیے چل سکتا ہے لیکن نہ وہ دیرپا ہوسکتا ہے اور نہ اس کے نتائج سے خیروفلاح کی توقع کی جاسکتی ہے۔ امریکا کی قیادت کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ایک سوپرپاور ہوتے ہوئے اور دنیا کے مختلف علاقوں اور ممالک میں بعض اچھے اور مفید کام کرنے کے باوجود بھی دنیا کے ممالک کی ایک عظیم اکثریت کے عوام میں اس کے خلاف بے زاری، نفرت اور مخالفت کے جذبات کیوں موجزن ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ   ع

ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

بلاشبہہ امریکی نظامِ حکومت، معاشرے اور تمدن میں بہت سی چیزیں مثبت بھی ہیں، جن میں تمام کمزوریوں اور مفاد پرست عناصر کے سارے کھیل کے باوجود بڑی حد تک دستور اور قانون کی حکمرانی کا ایک نسبتاً قابلِ بھروسا نظام موجود ہے۔ اس کے پہلو بہ پہلو ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور دوسرے مسلمان، عرب، میکسی کن اور خود ایفرو امریکی حضرات کے باب میں کی جانے والی کھلی کھلی ناانصافیوں اور تعصب کے مظاہر بھی موجود ہیں۔ اسی طرح شخصی، سیاسی اور معاشی آزادی کی روایات، تعلیم، تحقیق، ایجاد و اختراع، معاشی اور سیاسی میدانوں میں بڑی حد تک ترقی کے مواقع کی موجودگی اور فراہمی، خوش حال معاشرے کا قیام اور احتساب کا نظام مثبت پہلو ہیں، جن کا اعتراف نہ کرنا حق و انصاف کے منافی ہوگی۔ پھر اپنی قوم سے قیادت کی وفاداری اور بحیثیت مجموعی قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر فوقیت دینا قابلِ قدر پہلو ہے۔ اسی طرح جیساکہ ہم نے عرض کیا باہمی مفاد کی بنیاد پر سیاسی، سماجی، معاشی، تعلیمی اور حتیٰ کہ عسکری تعاون کی گنجایش بھی موجود ہے۔

امریکا پر ہماری تنقید کی بنیادی وجہ امریکا کی وہ پالیسیاں ہیں جو ہمارے مسلم اُمہ کے اور دنیا کے مظلوم عوام کے مفاد کے خلاف، اور اس کے اپنے جہانگیری اور سامراجی مقاصد اور عزائم کے حصول کے لیے اس نے اختیار کی ہیں۔ بین الاقوامی میدان میں اپنی مرضی کو دوسروں پر مسلط کرنے اور ان کے مفادات کو بے دردی سے کچلنے کا ذریعہ ہیں۔ یا پھر وہ منافقت اور دو رنگی ہے، جو قول و عمل کے تضاد یا انسانوں، گروہوں اور اقوام کے درمیان امتیازی سلوک اور سفاکانہ رویوں کا مظہر ہیں۔ اگر امریکا کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے مقاصد اور اپنے مفادات کے لیے کام کرے تو یہی حق ہم کو اور دنیا کی دوسری اقوام اور اہلِ مذہب کو بھی حاصل ہے۔ بین الاقوامی امن اور انصاف کسی ایک کو دوسرے پر اپنی راے قوت، جبر اور دھوکے سے مسلط کرنے کا حق نہیں دیتے۔ دوطرفہ تعلقات صرف افہام و تفہیم اور ایک دوسرے کے حقوق اور مفادات کے احترام سے حاصل ہوسکتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں مفقود ہے۔


 

(کتابچہ دستیاب ہے، قیمت:۱۲ روپے۔ منشورات، منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۴۹۰۹)

ریاست جموں و کشمیر کے مسلمان ایک طویل عرصے سے برطانوی، ڈوگرہ اور بھارتی سامراجیوں کے مختلف النوع ظلم اور استبداد کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ان کے جسم کی پور پور زخموں سے چُور ہے اور ان کا بدن خون سے لہولہان ہے۔ لیکن اپنے ایمان اور اپنی آزادی کی حفاظت کے عزم اور جدوجہد میں الحمدللہ انھوں نے کوئی کمی نہیں آنے دی۔ ہر دور میں اور ہرحال میں استعماری قوتوں کی مزاحمت اور آزادی کی جدوجہد میں قربانیوں اور استقامت کی ایک ایسی تاریخ رقم کی ہے جو ظلمت کے شکار ساری دنیا کے انسانوں کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوگی۔ اس وقت کشمیر میں جو تحریک اپنے شباب پر ہے، اس میں جہاں ایک طرف بھارتی سامراج کے ظلم و استبداد کے تمام ہتھکنڈوں کی ناکامی الم نشرح ہے، وہیں کشمیر کے بوڑھوں اور جوانوں ہی نے نہیں، بچوں اور خواتین کے ایک سیلاب نے سب کو ششدر کر دیا ہے۔ احتجاج اور قربانیوں کا یہ حال ہے کہ شہدا کے سروں کی فصل کاٹی جارہی ہے مگر سرفروشوں کی فراوانی میں کوئی کمی نہیں۔ ہر گھر ماتم کدہ بن گیا ہے مگر خون اور آنسو اس تحریک کے لیے مہمیز کا کام کر رہے ہیںاور جموں و کشمیر کا بچہ بچہ آزادی کا علَم لے کر اُٹھ کھڑا ہوا ہے، اور بوڑھے مگر جوان ہمت قائد سید علی شاہ گیلانی کی آواز پر ان سطور کے لکھے جانے کے وقت تک ۸۱ویں روز بھی ہڑتال جاری ہے اور قائد کے الفاظ میں:

کشمیری عوام نے واپسی کی کشتیاں جلا دی ہیں۔ بھارت ان کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر انھیں خاموش نہیں کرسکتا۔ کشمیر کا پتّا پتّا بوٹا بوٹا بھارتی قبضے کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔

ویسے تو کشمیر کی بدقسمت تاریخ کے دور کا آغاز دو صدیوں پہلے برطانوی سامراج کے اس ظالمانہ اور غاصبانہ اقدام سے ہوا جس میں ایک پوری ریاست اور ایک پوری قوم کو چند ٹکوں     کے عوض ڈوگروں کے ہاتھوں فروخت کر کے ایک استبدادی نظام اور بیرونی سیاسی غلامی کے تحت ایک اور بھی قبیح تر غلامی کا دروبست قائم کیا گیا۔ برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی تحریک جب نئی کروٹیں لے رہی تھی تو کشمیر کے مسلمانوں نے بھی ڈوگرہ سامراج اور برطانوی اقتدار کے خلاف اس جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا، اور اپنے مخصوص حالات کی روشنی میں ۱۹۳۰ء ہی کے عشرے میں تحریکِ پاکستان سے بھی ۱۰سال قبل اپنی آزادی کی تحریک کا آغاز کیا اور اس طرح برعظیم کی آزادی کی تاریخِ جدید میں جدوجہد، مزاحمت اور قربانیوں کا ایک نیا روشن باب رقم کیا۔

تقسیم ملک کے فیصلے کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کی اسمبلی کے مسلمان ارکان نے الحاقِ پاکستان کا اعلان کیا، اور ریاست گیر تحریک برپا کی جسے قوت کے ذریعے کچلنے میں ڈوگرہ راج نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اہلِ اقتدار نے بھارتی قیادت کا ساتھ دیا اور مائونٹ بیٹن اور ریڈکلف نے ہراصول اور وعدے کو پامال کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کا راستہ صاف کیا۔ پاکستان کی افواج کے برطانوی کمانڈر نے قائداعظم کا حکم ماننے سے انکار کرکے پاکستان کے متبادل اقدام کو ناکام کیا جس کے ردعمل میں عوامی تحریک نے ایک نیا رُخ اختیار کیا۔ قبائل کے مجاہدین نے   اس میں شرکت کی اور اس جدوجہد سے ریاست کا ایک حصہ بھارتی تسلط سے بچایا جاسکا لیکن   اس مزاحمت میں محتاط اندازے کے مطابق ۵ لاکھ شہید ہوئے اور لاکھوں کے گھربار لٹ گئے اور انھیں ہجرت کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ یہ وہ وقت تھا جب عوامی تحریک اور پاکستان نے جو پہل کی اسے غیرمؤثر کرنے کے لیے عالمی سیاست کا کھیل شروع ہوا۔ بھارتی وزیراعظم شکست سے بچنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی طرف دوڑے اور امریکا اور برطانیہ کے کلیدی کردار اور پاکستانی حکومت کی خودفریبی، ناتجربہ کاری اور سادہ لوحی کے نتیجے میں جیتی جانے والی بازی سیزفائر اور استصواب کے وعدوں کی نذر ہوگئی۔ بھارت کی فوجوں نے جموں و کشمیر کی ریاست کے بڑے حصے پر قبضہ ضرور کرلیا اور اپنی من پسند حکومتوں کو بھی وہاں مسلّط کردیا لیکن جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے دلوں کو وہ مسخر نہ کرسکے اور ان کی تحریک مزاحمت زیرِزمین اور برسرِزمین جاری رہی۔

بھارت کے وعدوں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے غیرمؤثر ہونے، پاکستان اور بھارت کی سیاسی، عسکری اور معاشی قوت کے تفاوت اور پاکستان کی حکومتوں کی غلطیوں، کمزوریوں، پسپائیوں اور قول و عمل میں بعد، نیز ۱۹۷۱ء کے سقوطِ مشرقی پاکستان کے سانحے کے اثرات کی روشنی میں کشمیر کی تحریکِ مزاحمت کا دوسرا دور اندر سے تبدیلی کی ایک کوشش تھا۔ ۱۹۷۲ء میں پہلی دفعہ اسلامی تحریک کے قائدین نے کشمیر کی آزادی کے لیے اپنے اہداف پر کوئی سمجھوتا کیے بغیر نئی حکمت عملی مرتب کی اور برطانوی سامراج کے خلاف تحریکِ آزادی کی دستوری جدوجہد کی کتابِ تاریخ سے استفادہ کرتے ہوئے انتخابات میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ سید علی شاہ گیلانی ۱۹۷۲ئ، ۱۹۷۷ء اور ۱۹۸۷ء میں ریاست جموں و کشمیر کے رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور اسمبلی کے اندر اور باہر استصواب اور الحاقِ پاکستان کی مہم کی قیادت کی۔ مگر بھارتی حکومت نے جب جمہوری عمل کے ذریعے بھی تبدیلی کا راستہ بند کیا تو تحریکِ مزاحمت کے سامنے اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ رہا کہ عوامی تحریک کو جاری رکھنے کے لیے قوت کی عدم مساوات کے باوجود عسکریت کا راستہ اختیار کرے، جس طرح دنیا بھر میں آزادی کی تحریکوں نے ریاستی قوت اور دہشت گردی کے مقابلے میں ممکنہ وسائل اور ذرائع سے ریاست کی قوت پر ضرب لگانے اور مزاحمت کی عسکری حکمت عملی اختیار کی۔

تحریکِ مزاحمت کا موجودہ مرحلہ

تحریکِ مزاحمت کا یہ تیسرا دور ۱۹۸۹ء سے شروع ہوا ہے اور مختلف نشیب و فراز کے باوجود جاری ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھنے کی ہے کہ کشمیری عوام نے یہ راستہ بھارتی حکومت کی جمہوریت کُش پالیسی اور تشدد کے ذریعے عوام کے سیاسی حقوق اور سیاسی عزائم کو قوت کے ذریعے دبانے اور عالمی معاہدات اور وعدوں سے فرار کے نتیجے میں اختیار کیا اور اس کا اعتراف آزاد محققین نے تو بار بار  کیا ہی ہے۔ لیکن اب تو اس کا اعتراف بھارتی پالیسی کے معذرت خواہ (apologists) اہلِ قلم بھی کرر ہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال اصغر علی انجینیر کا وہ مضمون ہے جس میں اب بھی وہ بھارت کے دستور میں رہتے ہوئے کسی حل کی بات کرتے ہیں مگر ساتھ ساتھ اعتراف کرتے ہیں کہ:

حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں مسلح مزاحمت ۱۹۸۹ء میں اس وقت شروع ہوئی جب انتخابات میں دھاندلی کی گئی اور ایک اسکول کے استاد صلاح الدین کو، جو اَب حزب المجاہدین کے سربراہ ہیں، ناکام قرار دیا گیا، جب کہ بیش تر کشمیری سمجھتے تھے کہ وہ انتخاب جیتے ہیں۔ (ڈان، ۲۵ جولائی ۲۰۱۰ئ)

بات صرف ایک صلاح الدین کی نہیں، تحریکِ مزاحمت اور متحدہ محاذ کی پوری قیادت کی ہے اور حکمت عملی کی اس تبدیلی کی پوری ذمہ داری بھارت اور اس کی پالیسیوں پر ہے۔ نیز یہ بات بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ یہ صورت حال صرف جموں و کشمیر میں رونما نہیں ہوئی، سامراج کی پوری تاریخ اس پر شاہد ہے کہ بیرونی قبضے کے خلاف کسی نہ کسی مرحلے پر تحریکِ مزاحمت کو قوت کے نشے میں مست حکمرانوں کے بالمقابل آکر مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اقوام متحدہ کے ۱۹۲ رکنممالک میں سے تقریباً ۱۶۰ ایسے ہیں جوسیاسی اور عسکری مزاحمت کے نتیجے میں آزادی حاصل کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نے امریکا، روس، بھارت اور اسرائیل کی ساری کوششوں کے باوجود تحریکِ آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے کی جانے والی عسکری مزاحمت کو  دہشت گردی قرار نہیں دیا اور یہ مقولہ ایک عالمی صداقت کی حیثیت اختیار کرچکا ہے کہ ’’کچھ کی نگاہ میں جو دہشت گرد ہے وہ دوسروں کی نگاہ میں آزادی کا سپاہی ہے‘‘۔ اس کی تاریخی مثال خود  امریکی ریاست کا بانی جیرفرسن ہے جسے امریکا ’آزادی کا سپاہی‘ اور اس وقت کا برطانیہ ’دہشت گرد‘ قرار دیتے تھے۔ نیز مشہور امریکی دانش ور پروفیسر ہن ٹنگٹن بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ دہشت گردی طاقت ور اور منہ زور قوتوں کے خلاف کمزوروں کا ہتھیار ہے۔ (terrorism is the weapon of the weak against the strong)

جموں و کشمیر میں ۱۹۸۹ء میں برپا ہونے والی اس تحریک نے اپنے اثرات قدم قدم پر مرتسم کیے ہیں اور سارے نشیب و فراز کے باوجود اور قوت کے محیرالعقول تفاوت کے علی الرغم بھارت کے اقتدار کی چولیں ہلا دی ہیں۔ بلاشبہہ ۹۰ہزار سے زیادہ شہدا کے لہو نے اس تحریک کو سیراب کیا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک نہیں بھارت کے کم از کم تین چیف آف اسٹاف اس امر کا اعتراف کرچکے ہیں کہ عسکری قوت سے تحریکِ مزاحمت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ تازہ ترین اعتراف بھارت کے موجودہ آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کا ہے جو انھوں نے ۱۱جولائی ۲۰۱۰ء کو اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا ہے کہ بھارتی فوج جو کچھ کرسکتی تھی، اس نے کر دیا ہے۔ اس سے زیادہ اس کے بس کی بات نہیں۔ مسئلے کا حل عسکری نہیں سیاسی ہے:

بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ حاصل کیا اس پر تعمیر نہیں کرسکے۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ سیکورٹی فورسز کی حیثیت سے بہت کام کیا جاچکا ہے۔ حالات کو ایک ایسی سطح تک لایا گیا جہاں حالات بہتر کرنے کے لیے دوسرے اقدامات کیے جانے چاہیے تھے۔ (دی نیوز انٹرنیشنل، ۱۲ جولائی ۲۰۱۰ئ)

بھارتی فلبرائٹ اسکالر لوو پوری نے جو نیویارک یونی ورسٹی میں پڑھا رہا ہے، بھارتی رسالے اکانومک اینڈ پولیٹیکل ویکلی کی ۷؍اگست ۲۰۱۰ء کی اشاعت میں اپنے مضمون میں بھارت کے آرمی چیف کے اس بیان کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے کہ: ’’فوج کے سربراہ وی کے سنگھ نے سیاسی اقدام کے لیے درست طور پر نشان دہی کی ہے‘‘۔ اسی مضمون میں مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا یہ اعتراف بھی دیا ہے کہ مسئلہ قانون اور امن و امان کا نہیں بلکہ نظریات کے تصادم کا ہے، اور مقبوضہ کشمیر کے وزیر پارلیمانی امور علی محمداصغر کا یہ اعتراف بھی دیا ہے کہ: We cannot fight our people.  (ہم اپنے ہی لوگوں سے نہیں لڑ سکتے)۔

اس کے ساتھ اگر بھارتی صحافی اور سفارت کار کلدیپ نائر کا یہ اعتراف بھی نظر میں رہے تو بھارت کی عسکری پالیسی اور قوت سے کشمیر کو قابو میں رکھنے کی پالیسی کی ناکامی اور کشمیری عوام کی تحریکِ مزاحمت اور اس کے ہر دور کی کارفرمائی کو سمجھنے میں کوئی مشکل باقی نہیں رہتی ہے: ’’یقین کیجیے کہ میں عوام کی قربانیوں کی اہمیت کم نہیں کر رہا۔ دنیا میں بہت کم تحریکیں اتنی پُرعزم اور اتنی دیرپا رہی ہیں‘‘۔ (ڈان، ۱۱ جون ۲۰۱۰ئ)

تحریکِ مزاحمت کے اس تیسرے دور کے اثرات اپنی جگہ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ۱۱؍ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد حالات نے ایسی کروٹ لی اور انھیں اس رُخ پر ڈالنے میں امریکا، برطانیہ، اسرائیل اور بھارت نے اہم کردار ادا کیا کہ تحریکاتِ آزادی اور بیرونی قبضے کے خلاف مزاحمت کی مندرجہ بالا حکمت عملی کی راہ میں مشکلات بڑھ گئیں اور بیرونی دبائو اور سیاسی اور سفارتی تعاون کرنے والے ممالک اور قوتوں کی قلابازیوں کے باعث عسکری مزاحمت کو ثانوی پوزیشن اختیار کرنا پڑی۔ یہ بھی تاریخ کی ایک ستم ظریفی ہے کہ ان تمام تبدیلیوں کے باوجود چند سو یا چند ہزار مزاحمت کار  بڑی بڑی افواج اور مہلک ترین ہتھیاروں سے مسلح عالمی اور علاقائی قوتوں کے ریاستی دہشت گردوں کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں اور عملاً غیرمؤثر کیے ہوئے ہیں۔ عراق، افغانستان، غزہ، لبنان اور کشمیر ہرجگہ یہ منظر دیکھا جاسکتا ہے۔ کشمیر کے پس منظر میں اس مضحکہ خیز صورت حال کو کشمیر ٹائمز کا انتظامی مدیر انورادھا بحثن جیموال بھارتی رسالے اکانومک اینڈ پولیٹیکل ویکلی میں اپنے ایک مضمون میں اس طرح بیان کرتا ہے کہ:

تمام سرکاری اندازوں کے مطابق اس وقت پوری ریاست میں ۶۰۰ سے زیادہ جنگ جُو کارروائیاں نہیں کر رہے ۔ ان کے مقابلے کے لیے وہاں اب بھی ۶/۷ لاکھ فوجی موجود ہیں، جنھیں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے خصوصی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ (اکانومک اینڈ پولیٹیکل ویکلی، ۱۰ جولائی ۲۰۱۰ئ، جلد XLV، ص ۲۸)

مزاحمت کی عسکری تحریک نے اس دبائو کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے۔ البتہ اپنی حکمت عملی میں حالات اور وسائل کی روشنی میں ضروری تبدیلیاں کیں اور ایک بار پھر اوّلیت کا مقام سیاسی مزاحمت اور غیرعسکری جدوجہد نے لے لیا، اور اس طرح یہ تحریک اپنے چوتھے دور میں داخل ہوئی جس میں بندوق کے مقابلے بندوق اور گولی کے جواب میں گولی کی جگہ نعرہ، جھنڈے، ہڑتال اور پتھر نے لے لی۔ یہ کہنا درست نہیں کہ اس دور کا آغاز ۱۱جون ۲۰۱۰ء کو ۱۷سالہ طفیل احمد منٹو کی شہادت سے ہوا۔ بلاشبہہ ۱۱ جون کے واقعے نے اس تحریک پر گہرا اثر ڈالا اور اسے ایک نئے فراز کی بلندیوں کی طرف متحرک کیا مگر حقائق کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ صورت حال کا صحیح جائزہ لیا جائے۔

تحریک کے اس دور کا آغاز ۲۰۰۸ء کے موسمِ گرما میں ہوا۔ جب حکومت نے کشمیر کی ۱۰۰ایکڑ اراضی امرناتھ ٹرسٹ کو منتقل کی اور اس کے خلاف سول تحریک کا آغاز سید علی شاہ گیلانی کی پکار پر ہوا۔ پُرامن احتجاج، ہڑتال اور گولی کے جواب میں پتھر کے ہتھیار کا استعمال اس موقع پر ہوا اور اس طرح تحریکِ کشمیر نے فلسطین کی تحریکِ مزاحمت سے سبق سیکھتے ہوئے غیرمسلح سیاسی جدوجہد کے عنوان کے طور پر پتھر کے استعمال کا آغاز کیا اور حکومت کو اپنے اس اقدام سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ اس تبدیلی کو مؤقر بھارتی جریدے اکانومک اینڈ پولیٹیکل ویکلی نے اپنے ایک اداریے میں اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا ہے اور اس اداریے کا عنوان Kashmiris Civil Disobedience رکھا ہے اور ذیلی عنوان میں اصل حقیقت کو یوں بیان کیا ہے کہ:’’یہ صرف بھارتی حکومت ہے جس پر موجودہ بحران کا الزام عائد ہوتا ہے‘‘۔

اس بھارتی جریدے کے تجزیے سے مکمل اتفاق نہ کرتے ہوئے بھی ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ دور کو سمجھنے کے لیے اس نکتے کو سامنے رکھنا مفید ہے:

حقیقت یہ ہے کہ احتجاج اور بغاوت کے موجودہ مرحلے کا براہِ راست تعلق اس سال  ماچل میں تین شہریوں کے سفاکانہ قتل سے ہے جو فوجی افسروں نے کیا اور ان پر دہشت گردی کا جھوٹا الزام رکھا۔ اس پر وہ انعامات اور ترقیاں چاہتے تھے۔ یہ ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ ایسے واقعات کی طویل فہرست ہے جس میں بے گناہ عوام کو اُٹھایا جاتا ہے اور سیکورٹی فورسز جنھیں کسی بھی سزا سے تحفظ حاصل ہے، انھیں قتل کر دیتی ہیں۔ کشمیر کے عوام کے لیے عرصے سے انڈیا کا مطلب بندوق کی نالی ہے، گو کہ انھوں نے جمہوری حل کے لیے فیصلہ کن ووٹ دیا ہے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ کشمیر کے عوام گاندھی کی اس ہدایت کی پیروی کر رہے ہیں کہ جب ریاست کرپٹ ہو اور اس میں قانون پر عمل داری نہ ہو تو سول نافرمانی ایک مقدس فریضہ بن جاتی ہے۔ لیکن کانگریس پارٹی کی حکومت جو مہاتما گاندھی کا نام جپتی رہتی ہے صرف فوجی عملہ بڑھانے اور بدعنوان اور غیرمتعلق لوگوں سے معاملات چلانے کا سوچ سکتی ہے۔ اگر بھارت کی حکومت اپنا جمہوری دستور ایک طرف ڈال دے اور سامراجی ریاست کے راستے پر چلے تو اس کا انجام معلوم ہے۔ اس کا حل سری نگر کی سڑکوں پر نہیں بلکہ نئی دہلی کی پالیسی اور رویوں میں تبدیلی سے ظاہر ہونا ہے۔ (۷؍اگست ۲۰۱۰ئ)

اور اسی جریدے کے ۳۱ جولائی کے شمارے میں ایک مکتوب نگار فیاض احمد بھٹ نے کشمیر کے تمام نوجوانوں کے جذبات کا اس طرح اظہار کیا ہے:

یہ لشکرِ طیبہ یا علیحدگی پسند نہیں ہیں جو کشمیر میں نوجوانوں کو پتھر مارنے پر اُبھارتے ہیں۔ ریاست کی حکومت اور دہلی کی حکومت دونوں اس کی ذمہ دار ہیں۔ مرکز اور ریاست وادیِ کشمیر کے عوام میں بے معنی بیانات، اور کمیشنوں اور تحقیقات کے ڈراموں سے علیحدگی کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ میں ایک نام نہاد تعلیم یافتہ فرد ہوں لیکن حکومت کے طریقۂ کار سے مجھے غصہ آتا ہے اور میں خود پتھر پھینکنا چاہتا ہوں۔

کشمیر کی تحریکِ مزاحمت کے اس موجودہ مرحلے کو جو جون ۲۰۰۸ء سے شروع ہوکر    جون ۲۰۱۰ء اور اس کے بعد کے واقعات کی بنا پر ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے، اس کے مزاج اور انداز کار پر بھی نگاہ ضروری ہے اور اہداف کے بارے میں جو محسوس اور غیرمحسوس تبدیلی واقع ہو رہی ہے اس کے ادراک کی بھی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی موجودہ قیادت کو بدلتے ہوئے حالات کا کوئی ادراک نہیں، یا اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اس کی ترجیحات پاکستانی قوم کی ترجیحات، پاکستان اور اُمت مسلمہ کے مفادات اور کشمیری عوام کے عزائم، جذبات اور احساسات سے کوئی نسبت اور تعلق نہیں رکھتیں جو پاکستان، پاکستانی قوم اور جموں و کشمیر کے مسلمانوں سے بے وفائی اور غداری کے مترادف ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ قوم کے سامنے سارے حقائق رکھے جائیں اور دینی اور سیاسی قوتوں کو دعوت دی جائے کہ وہ دوسرے سارے مسائل اور مشکلات کے علی الرغم پاکستان کی زیست اور بقا کے اس پہلو پر بھی بھرپور توجہ دیں۔

زمینی حقائق

ہماری نگاہ میں تحریک کا یہ چوتھا مرحلہ بہت اہم اور غالباً فیصلہ کن ہے لیکن یہ اپنے پیش رو مراحل کا تسلسل ہے، ان سے انحراف نہیں، حالانکہ بھارتی اور کچھ مغربی تجزیہ کار اسے یہ رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے حالات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ چند بنیادی امور کو سامنے رکھا جائے تاکہ صحیح پالیسی سازی اور عملی اقدام ممکن ہوسکیں:

m            ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے جو منفی اثرات مقبوضہ ممالک میں تحریکِ مزاحمت اور آزادی کی جدوجہد پر پڑے ہیں اور جس میں امریکا،اسرائیل، روس اور بھارت نے ایک خاص کردار ادا کیا ہے، نیز پاکستان کی مشرف حکومت اور موجودہ زرداری گیلانی حکومت دونوں اس کی گرفت میں آگئی ہیں۔ اس گرفت سے ذہنی اور عملی دونوں سطحوں پر نکلنا اوّلین ضرورت ہے۔ امریکا نے نائن الیون کے سہارے عالمی دہشت گردی کا جو بازار گرم کیا ہے، وہ اب دم توڑ رہا ہے۔ عراق سے فوجوں کا انخلا شروع ہوچکا ہے اور افغانستان سے نکلنے کے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ یہ سارا عمل بھی نہ شفاف ہے اور نہ حقیقی، لیکن حالات میں جو جوہری فرق واقع ہو رہا ہے اسے کوئی روک نہیں   سکتا۔ آزادی کی تحریکات کو دہشت گردی کا عنوان دے کر کچلنا ناممکن ہے۔ امریکا نے عالمی  عسکری دہشت گردی کے ساتھ جس ذہنی اور نظریاتی دہشت گردی کا ہدف پوری دنیا کو بنایا ہے اور بین الاقوامی قانون اور سیاست اور سفارت کاری کے اصول و آداب کو جس طرح مسخ کیا ہے، اس کے خلاف ردّعمل شروع ہوچکا ہے اور یہ بھی اپنے نتائج دکھائے گا۔ دہشت گردی کے نام پر مسلط کی جانے والی امریکا کی جنگ کے جو نقصانات پاکستان کو ہوئے ہیں، ان کا بھی اب ادراک ہورہا ہے۔ خود حکومت کے تازہ ترین جائزوں میں یہ بات آرہی ہے کہ پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں ہی اس کی وجہ سے تہہ و بالا نہیں ہوئیں بلکہ پاکستان کی فوج اور حکومت عوام سے نبردآزما ہوگئے ہیں اور ملک خانہ جنگی کے خطرناک راستے پر پڑ گیا ہے، نیز معاشی طور پر اس نے ملک کو بالکل تباہ کر دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے تازہ ترین مطالعات کی روشنی میں پاکستان کے غریب عوام اس جنگ کی جو قیمت ادا کر رہے ہیں وہ ۰۵-۲۰۰۴ء میں اگر ۱ئ۲۸۹ ارب روپے تھی تو وہ بڑھ کر ۰۹-۲۰۰۸ء میں ۷۹ئ۶۷۷ ارب روپے ہوگئی ہے، اور اس طرح صرف پانچ برسوں میں کُل معاشی چوٹ (economic cost) اس غریب، قرض میں جکڑی ہوئی قوم پر پڑی ہے وہ ۱۲ئ۲۰۸۳ ارب روپے ہے جو ۱۵۰ ارب ڈالر سے متجاوز ہے اور غالباً ۱۰-۲۰۰۹ء اور ۱۱-۲۰۱۰ء میں یہ سالانہ ضرب ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کرجائے گی۔

اس جنگ کی دلدل سے نکلے بغیر ہمارے لیے زندگی اور ترقی کا کوئی راستہ نہیں۔ اس سے عملاً بھی نکلنا ضروری ہے اور علمی اور سیاسی سطح پر دہشت گردی اور جنگ ِ آزادی کے فرق کو جس طرح ختم کیا گیا ہے اس کے خلاف بھی بغاوت ضروری ہے۔ کشمیر کی تحریکِ مزاحمت اور اس کا موجودہ فراز اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ اس سیاسی مخمصے  سے نجات حاصل کی جائے بلکہ اسے چیلنج کیا جائے جو اس صورت حال کا ذمہ دار ہے۔

  • دوسری بنیادی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ کشمیر کی تحریکِ مزاحمت کا راستہ ان شاء اللہ کوئی نہیں روک سکتا۔ بھارت کی افواج ہی نہیں، اب وہاں کے دانش ور اور تجزیہ کار بھی بادل ناخواستہ اس امر کا اعتراف کر رہے ہیں کہ کشمیر میں بھارت کی پالیسیاں ناکام رہی ہیں۔ قوت سے اہلِ کشمیر کو ہمیشہ کے لیے محکوم نہیں رکھا جاسکتا۔ نوجوانوں اور خواتین کے میدان میں آنے اور پوری قوم کے ان کے ساتھ کھڑے ہونے نے اب یہ ثابت کر دیا ہے ۱۹۳۰ء میں جو تحریک شروع ہوئی تھی      وہ چاہے جن مراحل سے بھی گزری ہو اور اس کے اسلوب کار میں جو بھی تبدیلیاں واقع ہوئی ہوں اس کا اوّلین ہدف صرف دو ہیں:

اوّلاً: بھارت کے قبضے سے نجات اور آزادی کا حصول، دوم: اپنے اسلامی اور کشمیری تشخص کی حفاظت اور دینی، تہذیبی اور تاریخی رشتوں کی روشنی میں مستقبل کی تعمیر کا عزم۔

ہم بڑے دُکھ سے اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان کی حکومتوں کی ہولناک غلطیوں، کمزوریوں اور قلابازیوں کی وجہ سے پاکستان سے محبت، عقیدت اور یگانگت کے احساسات کے ساتھ اس کی قیادت سے مایوسی اور اس پر بے اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے جو پچھلے دور کی   مشرف حکومت اور موجودہ زرداری گیلانی حکومت کی بے عملی اور بدعملی کی وجہ سے خطرناک حدود کو چھو رہا ہے۔ بھارت کے خلاف ان کے جذبات میں نہ صرف کوئی کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوا ہے۔   اب خود بھارت کے اخبار ہندستان ٹائمز کے سروے کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کے ۸۷فی صد نے بھارت سے آزادی کی تائید کی ہے۔ جموں و کشمیر میں غیرمسلم آبادی کے باوجود ۸۷ فی صد کے بھارت کے چنگل سے نکلنے کے عزم کا اظہار غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ بھارت کے ساتھ کشمیر کے منسلک رہنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، البتہ پاکستانی قوم اور قیادت کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ کشمیری عوام نے اب تک پاکستان کی قیادت اور پالیسیوں سے تو مایوسی بلکہ برائ.ت کا اعلان کیا ہے لیکن پاکستانی قوم سے ابھی تک انھیں اُمید ہے۔ گو ان کی مایوسی روز بروز بڑھ رہی ہے، اگر اب بھی ہم صحیح پالیسی اختیار کریں اور اس کی روشنی میں صحیح اقدام بھی کریں تو پاکستان سے رشتہ جوڑنا جو ان کے دل کی آواز اور تاریخی آرزو ہے ایک بار پھر ان کی اوّلین ترجیح بن سکتا ہے۔ البتہ بھارت سے آزادی ان کا وہ ہدف اور تاریخ کا وہ اشارہ ہے جو نوشتۂ دیوار کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ اس کا احساس اب بھارت کے سوچنے سمجھنے والے طبقوں میں بڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی تجزیہ نگار بھی اس کا احساس و اعتراف کر رہے ہیں، مثلاً روزنامہ دی گارڈین لندن کے مقالہ نگار سائمن ٹس ڈال کے مطابق:

۱۹۴۷ء میں تقسیم کے بعد سے، دہلی کی کشمیر پالیسی، یعنی استصواب راے عامہ کے  اقوامِ متحدہ کے مطالبے کو نظرانداز کرنا، انتخابات میں دھاندلی کرنا، منتخب حکومتوں کو استعمال کرنا یا ان کا تختہ اُلٹ دینا اور معاشی ترقی کو نظرانداز کرنا___ مسئلے کی اصل جڑ ہے۔ (باربرا کراسٹ کے مطابق بحوالہ دی نیشن)

تشدد اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بہت سے کشمیری ابھی تک اپنے آپ کو بھارت کا حصہ نہیں سمجھتے اور اعلان کرتے ہیں کہ آیندہ بھی ہرگز نہیں سمجھیں گے۔ بھارت نے کئی لاکھ فوجیوں اور نیم فوجیوں پر مشتمل فوج کشمیر میں رکھی ہے جس نے گرمائی صدرمقام سری نگر کو ایک مسلح کیمپ میں تبدیل کردیا ہے جہاں اکثر کرفیو ہوتا ہے اور ہمیشہ سر پر بندوق ہوتی ہے۔ میڈیا سخت پابندیوں کے تحت کام کر رہا ہے۔ بنیادی حقوق کی  خلاف ورزی اور ٹارچر کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں جس کا فلسطینیوں سے اسرائیل کے سلوک سے تقابل نامناسب نہیں۔ (دی گارڈین، لندن، ۱۱؍اگست ۲۰۱۰ئ)

دی گارڈین ہی کی ایک اور مضمون نگار کیتھرین لیوک پاکستان کے سیلاب پر مغربی اقوام کے ردعمل کے موضوع پر حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے بھارت اور اس کی کشمیر پالیسی کا بھی تنقیدی جائزہ لیتی ہے اور اسی نتیجے پر پہنچتی ہے جس کی طرف اُوپر اشارہ کیا گیا ہے:

بھارت کے اپنے گھر میں بھی خود ملکی حالات کی پیدا کردہ بغاوت موجود ہے۔ شمال مشرق میں نیکسلائٹ اور مائو دہشت گرد بھارت کے استحکام کے لیے خطرناک چیلنج ہیں۔ یہ انتہاپسندی جس کی وجہ غربت ہے عالمی مذمت کا نشانہ نہیں بنتی۔ جولائی کے اقوامِ متحدہ کے اشاریے سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کی آٹھ ریاستوں میں افریقہ کے صحرائی خطے کے ۲۶ممالک سے زیادہ افراد غربت کا شکار ہیں۔ بالآخر پریس میں یہ کہا جانے لگا ہے کہ گذشتہ ۶۰ برس سے کشمیر کا تنازع حل نہ ہونے کی ذمہ داری زیادہ قطعیت سے بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ (دی گارڈین، لندن، ۱۳/اگست ۲۰۱۰ئ)

خود بھارتی روزنامہ دی ہندو اپنے ایک حالیہ اداریے میں کشمیر کی موجودہ صورت حال کی پوری ذمہ داری بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی حکومت اور اس کے استبدادی ہتھکنڈوں اور قوت سے سیاسی مسائل کو ختم کرنے کی پالیسی پر ڈالتا ہے۔ (دی ہندو، ۱۷؍اگست ۲۰۱۰ئ)

فیصلہ کن مرحلہ

کشمیر کے حالات ایک تاریخی موڑ پر آگئے ہیں۔ تبدیلی دستک دے رہی ہے اور وہ کسی کا انتظار نہیں کرے گی کہ کشمیری قوم نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور وہ اپنا حق حاصل کرنے کے لیے جان کی بازی لگاچکی ہے۔ اب فیصلہ پاکستان کی حکومت اور پاکستانی قوم کو کرنا ہے کہ تاریخ کے اس فیصلہ کن موڑ پر ان کا کردار کیا ہوگا؟ صاف نظر آرہا ہے کہ بھارتی جنتا پارٹی کے دبائو۱؎ اور مقامی زبانوں کے میڈیا کے شوروغوغا اور تشدد کو تیزتر کرنے کے واویلے کے باوجود بھارت کے سوچنے سمجھنے والے عناصر اور خود پالیسی ساز ان حالات کو بہ امر مجبوری تسلیم کر رہے ہیں۔ لیکن ابھی ہرسطح پر نہ صرف مزاحمت ہے بلکہ بھارتی دانش ور چانکیہ کی ہدایات کی روشنی میں اپنے تسلط کو کسی نہ کسی شکل میں باقی رکھنے، تحریکِ مزاحمت کو تقسیم کرنے، اس کی مخلص اور پرکھی ہوئی قیادت کے خلاف نت نئی چالیں چلنے، پاکستان کی حکومت کو نئے کھیلوں اور پھندوں میں اُلجھانے اور امریکا اور اسرائیل کے تعاون سے اپنی سازشوں کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔

جہاں تاریکی چھٹنے اور نئی صبح طلوع ہونے کے امکانات ہیں، وہیں ابھی سازشوں اور سامراجی ہتھکنڈوں کے جاری رہنے کا بھی پورا امکان ہے۔ اہلِ کشمیر اور پاکستان کو ہوا کے رُخ کو تو ضرور سمجھنا چاہیے مگر یہ جان کر کہ ابھی ظلم و ستم کی حکمرانی، قوت کے استعمال کے نئے تجربات، سیاسی سمجھوتوں اور دھوکوں کے نئے کھیل ’تقسیم کرو اور مسلط رہو‘ کی سامراجی پالیسی کے نئے ماڈلز کے تجربوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس لیے کہ  ع  ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں!

۱-            بھارتی روزنامہ انڈین ایکسپریس کے ۸جولائی ۲۰۱۰ء کے شمارے میں ایک مضمون Calming Kashmir میں بھارتی جنتا پارٹی اور اس کے جنگ جُو حلیفوں کی طرف سے کشمیر کے مسئلے کے حل کا جو نسخہ پیش کیا گیا ہے وہ بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے: ’’پاکستان افضل خاں کی شیطانی پالیسی پر چل رہا ہے۔ اس کا جواب وہی ہے جو شیواجی نے دیا تھا‘‘۔ یہ اس تاریخی واقعے کی طرف اشارہ ہے جب مرہٹہ سردار شیواجی نے مسلمان سپہ سالار  افضل خاں کو ’امن مذاکرات‘ کے لیے بلا کر قتل کر دیا تھا۔

بھارت، امریکا اور اسرائیل کی اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ بھی اس مسئلے کے معتدل، مبنی برحق اور فوری حل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اسرائیل کی حکومت اور فوج دونوں بھارتی حکومت اور فوج کی کارروائیوں میں شریک ہیں۔ نیز امریکا اور بھارت کے اسٹرے ٹیجک تعاون کے نتیجے میں امریکا کی عالمی حکمت عملی اور پاکستان پالیسی ہی متاثر نہیں ہوئی بلکہ کشمیر کی تحریکِ مزاحمت اور اس مسئلے کے منصفانہ حل کے سلسلے میں بھی امریکا کا رویہ یکسر بدل گیا ہے۔

کیا یہی وجہ ہے کہ امریکا اپنے مفادات کی خاطر نہ صرف بھارت پر دبائو دالنے سے گریز کر رہا ہے بلکہ بھارت کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور پاکستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے بھارتی الزامات کا سہارا لے کر پاکستان پر دبائو بڑھا رہا ہے اور صاف ظاہر کر رہا ہے کہ وہ کس کا دوست ہے اور کس کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی اور پاکستان کی پالیسی کی ناکامی کا ثبوت اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دو بیانات ہیں جو ایک ہفتہ کے وقفہ سے جاری ہوئے۔ پہلے بیان میں کشمیر کے حالات پر تشویش اور بھارت اور پاکستان کو مسئلے کے حل کی ترغیب اور دوسرے میں پہلے بیان سے برائ.ت کا اعلان۔

عالمی ادارے، امریکا اور یورپی اقوام اور مغربی میڈیا سب کچھ جانتے ہوئے بھی مفادات کی دوڑ میں بھارت کا ساتھ دے رہے ہیں اور اس کے مظالم اور سامراجی ہتھکنڈوں تک کا ذکر   الا ماشا اللہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ یہ قابلِ ذکر ہے کہ اب اس صحافتی بددیانتی، طاقت اور مفادات کی جنگ میں کھلی کھلی جانب داری کے خلاف بھی آوازیں اُٹھنے لگی ہیں لیکن یہ آوازیں ابھی بہت ہلکی ہیں اور اس بات کی ضرورت ہے کہ جارحانہ سفارت کاری کے ذریعے دنیا کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ دنیا بھر میں پاکستانیوں، کشمیریوں اور انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے اور سامراجی قوتوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں، اداروں اور میڈیا کو متحرک کیا جائے لیکن یہ کون کرے، جب کہ پاکستان کی قیادت، اس کے سفارت خانے اور اس کے وسائل پاکستان اور کشمیر کے مفاد میں استعمال نہیں ہو رہے۔

کشمیر کے اس اہم سیاسی اور انسانی مسئلے کے بارے میں تغافل اور جانب داری کے سلسلے میں سیاسی قوتوں اور میڈیا کی ناکامی کے بارے میں جو آوازیں اب اُٹھنے لگی ہیں ان کو پروجیکٹ کرنے اور مزید تائیدی قوتوں کو متحرک کرنے کے جتنے امکانات آج ہیں پہلے کبھی نہیں تھے لیکن کون ہے جو ان سے فائدہ اٹھائے؟

دل خون کے آنسو روتا ہے کہ پاکستانی میڈیا اور پاکستانی قیادت اور سفارت کار خاموش ہیں، جب کہ مغرب کے ایوانوں میں خواہ کتنے ہی مدہم سُروں میں ہو، یہ آوازیں اُٹھنے لگی ہیں کہ بھارت ظلم اور دھوکے کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے، حقائق بھارت کی تصویرکشی سے بہت مختلف ہیں اور کشمیر کے مجبور انسانوں کی آواز کو اب نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بھارت میں اردتارائے اور دوسرے دانش ور بھارت کی کشمیرپالیسی کے خلاف آواز اُٹھا رہے ہیں۔ امریکا اور برطانیہ میں بھی یہ احساس تقویت پارہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی نمایندہ Lyndia Polgreenسری نگر سے اپنی رپورٹ میں تازہ صورت حال کی پوری تصویرکشی کرتی ہے:

اسکول طالب علم ۱۹سالہ فدا نبی جس کے دماغ میں گولی پیوست تھی، چھے دن زندگی اور موت کی کش مکش میں مبتلا رہ کر جان کی بازی ہار گیا۔ کشمیر کے موجودہ خونیں موسمِ گرما میں یہ ہلاک ہونے والا ۵۰واں فرد تھا۔

کئی عشروں سے بھارت نے کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں فوج پاکستان کی برپا کردہ بغاوت کو فرو کرنے کے لیے لگا رکھی ہے۔ پاکستان اس سرحدی علاقے پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔ بغاوت بڑی حد تک ختم ہوچکی ہے لیکن بھارتی افواج اب تک یہاں ہیں اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو درپیش خطرے کا سامنا کر رہی ہیں: ایک انتفاضہ کی طرح کی عوامی بغاوت جس میں نہ صرف پتھر پھینکنے والے نوجوان شامل ہیں بلکہ ان کی بہنیں، مائیں، چچا اور دادا بھی شامل ہیں۔ یہ احتجاج مسلسل تیسرے موسمِ گرما میں پھوٹ پڑے ہیں۔ انھوں نے بھارت کو اپنی حالیہ تاریخ کے سنگین ترین داخلی بحران سے دوچار کر دیا ہے، احتجاج کی شدت اور استقلال کی وجہ سے نہیں بلکہ کشمیریوں کی تائید حاصل کرنے کے لیے پیسہ، انتخابات اور بہت بڑے پیمانے پر طاقت کے عشروں تک کے استعمال کی ناکامی کا اعلان ہونے کی وجہ سے۔

جواہر لال نہرو یونی ورسٹی دہلی کے پروفیسر ایک کشمیری ہندو امیتاب متو کا کہنا ہے کہ ہمیں کشمیر میں اپنی پالیسیوں پر مکمل طور پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ یہ پیسے کا مسئلہ نہیں ہے، آپ نے بڑے پیمانے پر پیسہ خرچ کیا ہے۔ یہ منصفانہ انتخابات کی بات بھی نہیں ہے۔ یہ کشمیریوں کی ایک ایسی نسل تک پہنچنے کا مسئلہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ بھارت ایک بہت بڑا بھوت ہے جس کی نمایندہ اس کی افواج اور ان کے مورچے ہیں۔

بلاشبہہ حق خود ارادی کے لیے کشمیریوں کا مطالبہ علاقے کی تاریخ میں اتنا شدید پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ یہ ایسے وقت میں ہورہا ہے اور یہ اس وجہ سے بھی ہے کہ تنازعے کے حل کی سفارتی کوششیں جمود کا شکار ہیں۔

لینڈاا پنی حیرت کا اظہار کرتی ہے کہ:

اس موسمِ گرما میں احتجاج کرنے والوں اور فوجیوں کے درمیان ۹۰۰ کے قریب جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں ۵۰ شہری ہلاک ہوئے ہیں، جو زیادہ تر بندوق کی گولی کے زخم سے ہلاک ہوئے ہیں۔پتھر پھینکنے والے مجمعوں نے ۱۲۰۰ فوجیوں کو زخمی کیا ہے اور کوئی بھی اس احتجاج میں ہلاک نہیں ہوا۔ جس سے یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ بھارت کی سیکورٹی فورسز غیرمسلح شہریوں کے خلاف اتنی زیادہ طاقت کیوں استعمال کررہی ہیں اور کیوں اس پر بین الاقوامی احتجاج اتنا کم ہے؟ ۳۱سالہ اسکول کے استاد الطاف احمد کا کہنا ہے کہ جب کشمیری سڑکوں پر مرتے ہیں تو دنیا خاموش رہتی ہے۔

بھارت کی غلط بیانیوں کا ذکر لینڈا اپنے اس اہم صحافتی مراسلے میں اس طرح کرتی ہے:

بھارتی حکام پتھر پھینکنے والے نوجوانوں کو سرحدپار کی پاکستان کی جہادی طاقتوں کے ناخواندہ ساتھی کی شکل میں پیش کرتے ہیں، اور تجویز دیتے ہیں کہ معاشی ترقی اور ملازمتیں نوجوانوں کو سڑکوں سے ہٹانے کی کلید ہے۔ مگر پتھر پھینکنے والے بہت سوں کو ناخواندہ نہیں کہا جاسکتا۔ وہ فیس بک میں ’میں کشمیری پتھر پھینکنے والا ہوں‘کے نام سے گروپ بناتے ہیں۔ ایک نوجوان جو احتجاج میں باقاعدگی سے شریک ہوتا ہے اور خالدخان کے نام سے جانا جاتا ہے، ایم بی اے ہے اور اچھی آمدنی والی ملازمت پر ہے۔ (’بھارتی افواج کو کشمیر میں وسیع بغاوت کا سامنا‘ نیویارک ٹائمز، ۱۲؍اگست ۲۰۱۰ئ)

ہفت روزہ نیوزویک ۱۷جولائی کی اشاعت میں مصنف اور تجزیہ کار Jereny Kahn کا مضمون شائع کرتا ہے جو وزیراعظم من موہن سنگھ کو مشورہ دیتا ہے کہ مسئلے کی اصل جڑ کی طرف  توجہ دو:

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے لیے تشدد کی لہر ایک مشکل چیلنج ہے۔ انھیں اپنی حکومت کے عقابوں کو بھی روکنا ہے، جیسے ان کے وزیرداخلہ چدم برم جو طاقت کے بہت زیادہ استعمال کا جواز پیش کرتے ہیں اور موجودہ احتجاج کو پرانی طویل بغاوت سے جوڑ کر اور کسی ثبوت کے بغیر الزام لگاتے ہیں کہ پاکستان اور لشکرِطیبہ ان ہنگاموں کی ڈور ہلا رہے ہیں۔ من موہن سنگھ کو اس احتجاجی تحریک کو وہی سمجھنا چاہیے جو یہ ہے۔ یہ ان نوجوان کشمیریوں کے غصے اور محرومی کا احساس ہے جو اپنے آپ کو بقیہ بھارت سے الگ محسوس کرتے ہیں۔ وہ ریاست میں مواقع کے فقدان سے مایوسی کا شکار ہیں اور مقبوضہ لوگوں کی طرح رہنے سے تنگ آچکے ہیں۔ بھارت کے لاکھوں فوجی اور پولیس کے سپاہی کشمیر میں موجود ہیں اور وادی میں ہر جگہ ان کی موجودگی نظر آتی ہے۔ ان سیکورٹی فورسز کو قانونی تحفظ حاصل ہے جس کی وجہ سے یہ صورت حال طاقت کے غلط استعمال کو دعوت دیتی ہے۔

طارق علی لندن کے جریدہ لندن ریویو آف بکس کی ۲۲جولائی ۲۰۱۰ء کی اشاعت میں ایک مضمون Not Crushed, Merely Ignored میں بڑے دُکھ کے ساتھ پوری مغربی صحافت بشمول بائیں بازو کے دانش ور اور قلم کار سے شکایت کرتاہے کہ کشمیر میں مظالم کے کیسے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں اور انسانیت خاموش تماشائی ہے، حتیٰ کہ پاکستان کی قیادت اور میڈیا بھی اس بے حسی کا شکار ہیں:

کشمیر میں اموات کی خبریں تو غائب ہوجاتی ہیں، لیکن تہران کو جانے دیجیے، تبت کے معمولی سے واقعے کو بھی خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف دشمنی پر فخر بھارت کے تشدد کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ نائن الیون کے بعد مسلمانوں کو مارنے کی کھلی چھٹی مل گئی جب کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو آسانی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جوڑ دیا گیا اور اسرائیل کے فوجی افسروں کو اکنور کی فوجی چھائونی میں بلایا گیا تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے بارے میں مشورہ دیں۔ ویب سائٹ انڈیا ڈیفنس میں ستمبر ۲۰۰۸ء میں بتایا گیا کہ گذشتہ ہفتے میجر جنرل    اے وی مزراہی نے کشمیر کے متنازعے علاقے کا دورہ کیا تاکہ بھارتی فوج کو مسلمان باغیوں سے لڑائی میں جو چیلنج درپیش ہیں ان کو قریب سے دیکھ سکیں۔ تین دن وہ بھارت میں رہے اور فوج کی اعلیٰ قیادت سے اس منصوبے پر گفتگو کی کہ اسرائیلی کمانڈو بھارت کی افواج کو دہشت گردی کے خلاف لڑائی کی تربیت دیں۔ ان کا واضح مشورہ یہ تھا کہ وہی کرو جو ہم فلسطین میں کرتے ہیں اور ہمارا اسلحہ خریدو۔ ۲۰۰۲ء کے بعد چھے سالوں میں بھارت نے اسرائیل سے ۵ارب ڈالر کااسلحہ خریدا۔

طارق علی بھارت کے مظالم کی کچھ جھلکیاں اس طرح دکھاتا ہے:

بھارتی وزیراعظم کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ۲۰۰۸ء میں خط لکھا تھا جس میں کشمیر میں  انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفصیل بیان کی تھی اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ بہت سے ایسے مقامات ہیں جہاں ۱۹۸۹ء سے جاری مسلح جدوجہد میں جو لوگ غیرقانونی طور پر قتل کیے گئے، ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا، لاپتا افراد اور دوسری زیادتیوں کا شکار ہوئے ان کی باقیات دفن ہیں۔

صرف اُری ضلع کے ۱۸ دیہاتوں میں ۹۴۰ افراد کی قبریں پائی گئیں۔ ایک مقامی    این جی او، آئی پی ٹی کے کا کہنا ہے کہ ماوراے عدالت قتل اور ٹارچر دادی میں عام طور پر ہوتے ہیں اور مغربی ادارے نئی دہلی سے تعلقات خراب ہونے کے خدشے سے    اس بارے میں کچھ کرنے کی کوشش تک نہیں کرتے۔

آئی پی ٹی کے،کے فراہم کردہ اعداد و شمار حیرت ناک ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ۱۹۸۹ء سے ۲۰۰۹ء تک کشمیر میں فوجی قبضے کے دوران ۷۰ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ یہ رپورٹ ان دعووں کو تسلیم نہیں کرتی کہ یہ قتل انفرادی فعل ہیں۔ اس کے برخلاف یہ قبضہ کرنے کے باقاعدہ عمل کا حصہ ہیں۔ ان کو دورانِ ملازمت کارکردگی سمجھا جاتا ہے اور اس پر ترقی اور مالی انعامات دیے جاتے ہیں اور دعووں کی تصدیق کر کے ادایگیاں کی جاتی ہیں۔ اس گھنائونے اور مسلسل جاری تنازعے میں ۵ لاکھ سے زیادہ فوجی اور  نیم فوجی عملہ (عراق اور افغانستان میں موجود امریکی افواج سے زیادہ) کسی سزا کے خدشے کے بغیر کشمیر بھر میں امن عامہ برقرار رکھتا ہے اور لوگوں کی آمدورفت کو کنٹرول کرتا ہے۔ (لندن ریویو بُک، جلد۳۲، عدد ۱۴، ۲۲ جولائی ۲۰۱۰ئـ)

میں مغربی اخبارات اور رسائل کا مطالعہ گذشتہ ۴۰ سال سے کر رہا ہوں۔ کشمیر میں بھارت کے مظالم اور اس کی کشمیر پالیسی کے سلسلے میں جو معلومات اب آنا شروع ہوئی ہیں اس کی پہلے  نظیر نہیں ملتی۔ لیکن افسوس ہے کہ پاکستان کی حکومت، اس کے سفارت کار اور خود اس کا میڈیا (نواے وقت، نیشن اور جسارت جیسے چند اخبارات کو چھوڑ کر) اس سلسلے میں جس بے حسی اور بے بصیرتی کا مظاہرہ کر رہا ہے وہ مجرمانہ غفلت سے بھی کچھ بڑھ کر ہے!

اھلِ کشمیر سے یک جھتی کا تقاضا

بھارت اس وقت پریشان ضرور ہے مگر اپنی شاطرانہ چال بازیوں سے باز نہیں آیا۔ وہ اس وقت بھی جب کشمیر کا چپہ چپہ اس کے خلاف بغاوت کی علامت بن گیا ہے، نت نئی چالوں میں  مصروف ہے۔ پاکستان سے مذاکرات اور مذاکرات میں اصل مسائل سے فرار، نیز پاکستان کو بلیک میل کرکے دبائو میں رکھنے کی کوشش اس کا حصہ ہے۔ اب تک ۱۵۰ سے زیادہ مذاکراتی نشستیں ہوچکی ہیں لیکن نہ ماضی میں کچھ حاصل ہوا اور نہ مستقبل قریب میں کوئی امکان نظر آرہا ہے مگر پاکستان کو اُلجھا کر رکھنا اور بلیک میل کرنا دونوں کام جاری رہیں گے۔ کشمیر کی تحریکِ مزاحمت کے سلسلے میں اس کی ترجیح اس کو تقسیم کرنے، مذاکرات کا دھوکا دے کر تحریک کو تحلیل کرنے اور سب سے بڑھ کر اصل ایشو، یعنی حق خود ارادیت سے توجہ کو ہٹاکر معاشی پیکج اور علاقائی خودمختاری کا جھانسا دینا ہے جس کا تجربہ اہلِ کشمیر باربار کرچکے ہیں، اور شیخ عبداللہ ۱۱سال کی قید کے بعد اور خود اپنے تھوکے کو چاٹ لینے کے بعد دوبارہ برسرِاقتدار آئے لیکن ان کی موعودہ خودمختاری کا کیا حشر ہوا؟ خود  کلدیپ نائر کے الفاظ میں سن لیں اور کشمیر کی قیادت اس سے سبق لے:

شیخ عبداللہ اقتدار میں واپس آئے اور اس وقت کی وزیراعظم اندراگاندھی سے یہ معاہدہ کیا جس سے وہ خودمختاری بحال ہوگئی جو نئی دہلی میں ان کی غیرحاضری میں ختم کردی گئی تھی۔ لیکن شیخ عبداللہ کو آزادی سے کام کرنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ بیورو کریسی اور خفیہ ایجنسیاں جو مضبوط ہوچکی تھیں اس کو کام کرنے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھیں۔ شیخ نے مجھ سے کہا کہ وہ اکثر مجھ سے چپڑاسی کا سلوک کرتے تھے۔ (ڈان، ۶؍اگست ۲۰۱۰ئ)

آج بھی خودمختاری کی باتیں ہو رہی ہیں اور تو اور خود کلدیپ نائر بھی یہی راگ الاپ رہے ہیں کہ الحاق اور آزادی دونوں ممکن نہیں۔ الحاق کا حشر دیکھ لیا اور آزادی ان کے بقول بھارت اور پاکستان دونوں کو قبول نہیں، اس لیے معاملہ خودمختاری پر طے ہوجانا چاہیے۔ حالانکہ اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ اہلِ جموں و کشمیر کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے اور وہ تقسیمِ ملک کے فارمولے، بھارت کے عہدوپیمان، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوتوں کے پختہ وعدوں کی روشنی میں اپنا مستقبل طے کریں۔ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان لائن آف کنٹرول نہ بین الاقوامی سرحد تھی اور نہ آج ہے۔ کشمیر کے لوگوں کی اس سرحد کے پارآمدورفت ایک ملک سے دوسرے ملک میں داخلہ یا اخراج کی حیثیت نہ رکھتے تھے اور نہ آج رکھتے ہیں۔ یہ ساری بحث کہ کس سرحد سے کون کہاں جا رہا ہے کشمیر کی حد تک غیرمتعلق ہے۔ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اور کشمیریوں کا حقِ خودارادیت محض وقت گزر جانے سے معدوم نہیں ہوجاتا اور اس حق کی حفاظت کشمیری عوام نے اپنے خون سے کی ہے۔ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کے کم از کم تین فریق ہیں: یعنی بھارت، پاکستان اور کشمیری عوام۔ بین الاقوامی قانون اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی رُو سے چوتھا فریق عالمی برادری بھی ہے۔ مسئلے کا محض دوطرفہ حل ناممکن ہے۔ حال ہی میں بی بی سی کی اُردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے خود عمرعبداللہ    یہ کہنے پر مجبور ہوا:

کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اسے بھارت اور پاکستان کو مل کر حل کرنا ہوگا۔ ایسا حل نکالنا ہوگا جو جموں و کشمیر کے عوام کے لیے قابلِ قبول ہو۔ سب سے بڑا مسئلہ سیاسی ہے۔ بات چیت کا سلسلہ بحال کرنا ہوگا۔ (بی بی سی اُردو سروس، سیربین، ۸جولائی ۲۰۱۰ئ)

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ بنیادی مسئلہ ہے ہی حق خودارادیت کا اور اس میں پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام تینوں کی شرکت اور اتفاق ضروری ہے، اور ہمیں یہ کہنے میں کوئی تردد نہیں کہ آخری حق اور اختیار جموں و کشمیر کے عوام کا ہے۔ جو بھی وہ طے کریں اسے قبول کیا جانا چاہیے اور مستقبل کا نظام ان کی مرضی سے قائم ہونا اور چلنا چاہیے۔ اس کے سواکوئی راستہ علاقے میں سلامتی اور استحکام کے حصول کا نہیں۔ اس کے لیے پاکستانی قوم اور حکومت اور عالمی برادری کو مثبت کردار اداکرنا ہوگا۔ سمجھوتوں کی سیاست ناکام رہی ہے۔ اصول اور حق و انصاف پر مبنی حل ہی مسئلے کا حل ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کی حکومت جس مجرمانہ روش پر گامزن ہے وہ کشمیر، پاکستان، اُمت مسلمہ اور تاریخ سے غدّاری کی روش ہے اور پاکستانی قوم کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس غلط کار حکومت کو یا اس راستے سے مضبوط ارادے کے ساتھ روک دے یا اقتدار ان لوگوں کے سپرد کردے جو ملک، علاقے اور مسلمانانِ پاکستان و کشمیر کے مفادات کی حفاظت کرسکیں۔ کشمیر کا مسئلہ فقط زمین کا تنازع نہیں___ جموںو کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ عوام کی آزادی اور حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے، نیز ان کے ایمان، تصورِ حیات اور تہذیب و تمدن کی حفاظت کا مسئلہ ہے۔ اصولی بنیاد سے  ہٹ کر اس کا کوئی حل نہیںنکالا جاسکتا۔ یہ اہلِ کشمیر کا حق ہے، یہی پاکستان کا مفاد ہے اور یہی اسلام کا تقاضا ہے۔ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں نے ہر طرح سے قربانی دے کر اپنی منزل اور اپنے اہداف کا اظہار و اعلان کردیا ہے اور وہ کسی بھی سامراجی قوت کے آگے سپر ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔

بھارت کے مظالم ہر انتہا کو پار کرگئے ہیں اور دنیا کی بے حسی افسوس ناک اور شرم ناک ہے لیکن پاکستان کے غیور مسلمانوں اور پوری اُمت مسلمہ کے لیے خاموش تماشائی کا کردار دنیا اور آخرت دونوں میں خسارے کا سودا ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کے لیے صحیح موقف کو کسی رُو رعایت کے بغیر واضح کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَـآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُھَاوَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا o (النساء ۴:۷۵) آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو  اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کردے۔

بلاشبہہ آج پاکستان ایک عظیم آزمایش سے دوچار ہے۔ سیلاب کے طوفان نے ایک چوتھائی ملک کو تاراج کر دیا ہے اور ہر علاقہ اور ہر خاندان متاثر ہے لیکن موجودہ حالات میں بھی اُمت مسلمہ کو جس کردار کی تلقین کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جہاں اپنے ملک کے بھائیوں اور بچوں کے دُکھوں میں شریک اور ان کو اس آزمایش سے نکالنے کے لیے ہرممکن اقدام کریں اور کسی قربانی سے دریغ نہ کریں، وہیں ان حالات اور مشکلات کے علی الرغم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی مدد کی بھی بھرپور انداز میں فکر کریں اور ان کی جدوجہد کی تقویت اور ان کی تحریک کی کامیابی کے لیے بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں،اور سب سے اہم اپنے اور ان کے اصولی موقف پر سختی سے جم جائیں۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کی راہ میں خرچ کرنے سے کمی نہیں آتی۔ صحیح نیت سے بندہ جتنا خرچ کرتا ہے اللہ اسے اور دیتا ہے:

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَ یَقْدِرُلَہٗ وَ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَھُوَ یُخْلِفُہٗ وَ ھُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَo (سبا ۳۴:۳۹) اے نبیؐ! ان سے کہو، ’’میرا رب اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تُلا دیتا ہے۔ جو کچھ تم خرچ کردیتے ہو اس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے،وہ سب رازقوں میں سے بہتر رازق ہے‘‘۔

اہلِ ایمان کو یہ سبق بھی دیا گیا ہے کہ فراخی اور غنٰی کے عالم میں دینا تو معمول کی کارروائی ہے، اصل امتحان اس میں ہے کہ تنگی اور سختی کے عالم میں اپنے دوسرے بھائیوں اور بہنوں کی مدد کرو۔ قرآن نے جہاں فَے کی تقسیم کا اصول بیان کیا ہے وہاں اہلِ ایمان کو یہ ابدی ہدایت بھی دی ہے کہ:

وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَالْاِِیْمَانَ مِنْ قَبْلِھِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ ھَاجَرَ اِِلَیْھِمْ وَلاَ یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِھِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ o (الحشر ۵۹:۹) اور وہ (یعنی اموال فَے) ان لوگوں کے لیے بھی ہیں جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے۔ یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیںاور جو بھی ان کو دے دیا جائے  اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں۔

یہ اسلام کے ابدی اصول ہیں اور فرد، معاشرہ اور ریاست ہر ایک کو ان کی روشنی میں اپنی پالیسی بنانے کی ہدایت ہے۔ ان احکام کا تعلق محض انفرادی سطح پر اِنفاق تک محدود نہیں بلکہ یہ زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آج جن حالات میں پاکستانی قوم ہے اس میں ان سے روشنی لیتے ہوئے ہمیں اپنی کشمیر پالیسی قومی یک جہتی کے ساتھ وضع کرنی چاہیے۔ امریکا کی مسلط کردہ ’دہشت گردی کی جنگ‘ سے نجات، بھارت کے سلسلے میں اصول اور حق و انصاف پر مبنی رویے اور جموں و کشمیر کی تحریکِ آزادی سے اپنے تعلق اور اس میں اپنے بھرپور کردار کی ادایگی کی فکر اسی احساسِ ذمہ داری کے ساتھ کرنی چاہیے جس سے ملک کے اندرونی مسائل حل، ضرورت مندوں کی مدد، غلط کاروں کا احتساب اور بحیثیت مجموعی اصلاحِ احوال کی جدوجہد کرنا ہم پر فرض ہے۔ مسلمان کا شیوہ زمانے کے رُخ پرچلنا، اور مصائب اور مشکلات کے آگے سپر ڈالنا نہیں بلکہ مخالف لہروں سے لڑنا اور حالات کے رُخ کو موڑنا ہے ع

زمانہ با تو نسازد ، تو با زمانہ ستیز

اور:

تندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا اُڑانے کے لیے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پاکستان کی آزادی، سلامتی اور خودمختاری کو آج سب سے بڑا خطرہ اس ’اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ‘ سے ہے جو گذشتہ ۱۰ برسوں میں امریکا اور بھارت کے درمیان پروان چڑھی ہے اور جسے مستحکم کرنے میں افغانستان میں امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے خونیں اور انسانیت کش واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے لیکن جس طرح اُس وقت کی امریکی قیادت نے اسے اپنے استعماری مقاصد کے لیے استعمال کیا اور جس طرح آج کی امریکی قیادت اسے استعمال کر رہی ہے، وہ انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک باب ہے۔ جن ۱۹ افراد پر اس جرم کے ارتکاب کا الزام ہے، ان میں سے کسی ایک کا بھی تعلق نہ افغانستان سے تھا، نہ عراق سے اور نہ پاکستان سے___ لیکن اس واقعے کے نام پر جس طرح افغانستان اور عراق پر فوج کشی کی گئی اور اس پورے علاقے میں دورِحاضر کی سب سے طویل اور خون آشام جنگ برپا کر دی گئی، اور جس طرح پاکستان کو اس جنگ میں دھکیلا گیا اور اب نت نئے انداز میں اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ ایک گھنائونا استعماری کھیل ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔

افسوس ہے کہ پاکستان کی مفاد پرست اور عاقبت نااندیش قیادت بار بار چوٹیں کھاکر بھی ہوش کے ناخن نہیں لے رہی، دوست اور دشمن میں تمیز سے محروم ہے اور دوسروں کی جنگ کو اپنے گھر میں لاکر اپنے ملک کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ بلاشبہہ ملک میں اندرونی مسائل کا بھی ایک انبار ہے لیکن جس چیز نے ملک کی آزادی، سلامتی اور خودمختاری کو معرضِ خطر میں ڈال دیا ہے، وہ امریکا کی آہنی گرفت ہے جس کے نتیجے میں ان ۱۰ برسوں میں عملاً ملک امریکا کی غلامی اور محکومی میں آگیا ہے، اور آج زندگی کے ہرشعبے اور میدان میں اس کا حکم چل رہا ہے اور وہ حکمرانوں کو کٹھ پتلیوں کی طرح اپنے مفاد کے حصول کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ’دوستی‘ اور ’شراکت‘ ایسے الفاظ ہیں جو اپنے معنی کھوچکے ہیں اور مفادات کا کھیل ہے جس نے ہر میدان میں تباہی مچا دی ہے۔

امریکی خارجہ پالیسی کی اصل بنیاد کو امریکا کے سابق سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈاکٹر ہنری کسنجر نے مختصراً یوں بیان کیا تھا:

America has no friends or enemies, only interests.

یعنی امریکا کا نہ کوئی دوست ہے اور نہ دشمن___ سارا معاملہ صرف اور صرف مفادات کا ہے۔

پاک امریکا تعلقات کا اگر مطالعہ کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ گذشتہ ۶۳ برسوں میں سارے نشیب و فراز، دوستی اور دشمنی، امداد اور پابندیاں صرف امریکی مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔ نام کچھ بھی دے لیں، اصل حقیقت یہی ہے کہ ہمیشہ ہمارے تعلقات صرف وقتی اور عارضی رہے ہیں اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ ’دوستی‘ کے عنوان سے امریکا کی محکومی کی ہم نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔

ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ امریکا سے دشمنی یا تصادم نہ ہمارے مفاد میں ہے اور نہ ہم اس کی صلاحیت اور استعداد رکھتے ہیں، البتہ ہمیں پوری دقّتِ نظر سے یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکا کے مفادات کیا ہیں اورہمارے مفادات کیا ہیں۔ جہاں ان میں مطابقت ہو، وہاں تعاون ہوسکتا ہے اور جہاں ان میں عدم مطابقت ہو، وہاں ہمیں اپنے مفادات کا ہرقیمت پر تحفظ کرنا چاہیے اور امریکا کو      وہ حیثیت ہرگز نہیں دینی چاہیے جس سے وہ ہم پر اپنے مفادات کو مسلط کرسکے اور ہمیں محض اپنے آلۂ کار کے طور پر استعمال کرے۔

ماضی میں بھی ہمارا ریکارڈ کچھ بہتر نہیںرہا۔ ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد سے بدقسمتی سے جو کچھ ہورہا ہے، وہ یہ ہے کہ ہم امریکی مفادات کے تابع مہمل بن کر رہ گئے ہیں اور ملک اپنی آزادی اور خودمختاری تک سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ قومی غیرت و حمیت کا کوئی پاس باقی نہیں رہا ہے اور حالت یہ ہے کہ اب ملک کی سلامتی بھی دائو پر لگ گئی ہے، نیز بش کے بقول اس ’کروسیڈ‘ (صلیبی جنگ) میں امریکا تنہا نہیں بلکہ بھارت بھی پوری چابک دستی سے اس میں شریک ہوگیا ہے اور امریکا اور بھارت اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے بڑی ہم آہنگی کے ساتھ پاکستان کے گرد دائرہ   تنگ کر رہے ہیں۔ اگر پاکستانی قوم یک آواز ہوکر امریکا اور بھارت کے اس خطرناک کھیل کا بروقت مقابلہ نہیں کرتی ہے تو ہمیں ڈر ہے کہ ہم خدانخواستہ اپنی آزادی ہی نہیں اپنے وجود سے بھی ہاتھ دھو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ امریکا کی دوغلی پالیسی کے تمام خدوخال کو اچھی طرح سمجھا جائے، نیز اس کھیل میں بھارت کے کردار کا بھی پورا ادراک کیا جائے، اور پھر مقابلے کے لیے صحیح اور مؤثر حکمت عملی بنائی جائے جس پر قومی اتفاق راے پیدا کر کے بھرپور انداز میں عمل کیا جائے۔

بین الاقوامی تعلقات کا تاریخی تناظر

آگے بڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ تاریخِ انسانی کی روشنی میں اور خصوصیت سے ۲۰ویں صدی کے دوران بین الاقوامی تعلقات کے باب میں جو تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں، ان کا ادراک کرتے ہوئے چند حقائق پر نگاہ ڈالی جائے تاکہ آیندہ کی حکمت عملی زیادہ حقیقت پسندی کے ساتھ مرتب کی جاسکے۔

پوری تاریخِ انسانی میں جنگ خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ رہی ہے اور بالعموم طاقت ور اقوام نے اپنے سے کمزور اقوام کو جارحیت کا نشانہ بناکر اپنے دروبست کا حصہ بنایا ہے یا کم از کم اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا ہے۔ اسی طرح کمزور ممالک نے اپنے تحفظ کے لیے طرح طرح کے راستے اختیار کیے ہیں جن میں اپنے دفاع کے لیے طاقت کے حصول کے ساتھ دوسرے ممالک سے امداد باہمی کے معاہدے اور سیاسی الحاق اور اشتراک قابلِ ذکر ہیں۔ امن کے قیام کے لیے قوت اور مقابلے کی قوت کی موجودگی ہی اصل ضمانت رہے ہیں۔ قرون وسطیٰ میں اور خصوصیت سے عالمی سیاست میں خلافت اسلامی کے زیراثر بین الاقوامی قانون کی ترقی وجود میں آئی جس کے تحت طاقت کے استعمال سے ہٹ کر سفارت کاری اور معاہدات اور روایات (conventions) کے ذریعے عالمی سیاسی تعلقات کو مرتب اور منظم کرنے کا دروازہ کھلا جسے یورپ کی تاریخ میں ۱۷ویں صدی میں وسٹفائل کے معاہدے (Treaty of Westfile)کی شکل میں اور پھر  ۱۹ویں اور ۲۰ویں صدی میں جنیوا کنونشنز اور لیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ کے اداروں کی شکل میں ایک عالمی نظام براے قیامِ امن کی صورت دی گئی۔

اقوام متحدہ کا چارٹر اور حقوقِ انسانی کا عالمی اعلان اندھی طاقت کے مقابلے میں قانون، اصولِ انصاف اور اشتراکِ باہمی کی بنیاد پر اختلافی امور کو طے کرنے اور مفادات کے درمیان توازن اور توافق کے حصول کا نظام قائم کرنے کی ایک کوشش ہے جس کے نتیجے میں اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود اور طاقت ور اقوام کو ایک گونہ بالادستی دیے جانے کے علی الرغم، عالمی امن اور تنازعات کے حل کا ایک نظام وجود میں آیا ہے۔ اسی زمانے میں جنگ کی ٹکنالوجی اور ایٹمی سدّجارحیت کی وجہ سے جنگ اور خصوصیت سے عالمی جنگ سے انسانیت کو بچانے کا ایک راستہ رونما ہوا، البتہ اقوام متحدہ کا نظام ہو یا ایٹمی عدم پھیلائو کا انتظام، سب ہی میں پانچ بڑے ممالک کو ہمیشہ بالادستی حاصل رہی اور اس بالادستی کو ان طاقت ور ممالک نے اپنے اپنے مفاد میں استعمال بھی کیا۔ تاہم عسکری، سیاسی اور معاشی قوت میں عدم توازن کے باوصف اقوام کی قانونی اور اخلاقی برابری کے اصول کو کم از کم نظری طور پر تسلیم کرلیا گیا۔ جنگ کو سیاسی اختلافات کے حل یا مفادات کے حصول کا ذریعہ تسلیم کرنے کی نفی کی گئی اورسب کو ایک عالمی قانون کا پابند کرنے کی کوشش کی گئی۔

ان مثبت پہلوئوں کا حاصل یہ ہوا کہ امیر اور غریب، طاقت ور اور کمزور سب کو اپنی اپنی حدود میں رہنے اور جینے کے حق کو تسلیم کیا گیا۔ نیز عالمی اداروں کو اس سلسلے میں ایک واضح کردار ادا کرنے کا اختیار دیا گیا۔ عالمی راے عامہ بھی ایک قوت کی حیثیت سے اُبھری اور اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود اور طاقت ور اقوام کے اپنے مفاد میں قانون، اصول اور روایات کو نظرانداز کرنے کے علی الرغم ایک ایسی صورت پیدا ہوگئی جس کے نتیجے میں طاقت ور اقوام کے لامتناہی   حقِ غلبہ پر ضرب پڑی اور طاقت ور کی طاقت کی حدود (limits of power of the powerful) کی حقیقت واشگاف ہوئی۔ روس کو اس کا تلخ تجربہ افغانستان میں ہوا اور امریکا نے ویت نام میں اس کا مزہ چکھا اور اب عراق اور افغانستان میں ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہے۔

امریکا کی ناکام افغان پالیسی

افغانستان میں راے عامہ کے جو سروے امریکا اور ناٹو کے زیرنگرانی ہوئے ہیں، ان کی رُو سے آبادی کے ۸۰ فی صد نے امریکی اور ناٹو افواج کی واپسی اور جنگ بندکرنے اور صلح اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کی بات کی ہے۔ پاکستان میں ایک نہیں گیلپ کے تین جائزوں کی رُو سے ۹۰ فی صد امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے مخالف ہیں۔ برطانیہ کی آبادی کا ۷۲ فی صد برطانوی افواج کے افغانستان سے ایک سال کے اندر اندر انخلا کا مطالبہ کر رہا ہے اور خود امریکا میں صدر اوباما کی افغان پالیسی کے خلاف راے دینے والوں کی تعداد اب ۵۰ فی صدسے بڑھ گئی ہے۔    لندن کے اخبار گارڈین کی ۲۱جولائی ۲۰۱۰ء کی اشاعت میں اس کے مضمون نگار سیوماس مائلن (Seumas Milne) نے لکھا ہے:

افغانستان میں کوئی فریق بھی دوسرے کو پچھاڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، البتہ اس سال طالبان کے حملے پچھلے سال کے مقابلے میں ۵۰ فی صد زیادہ ہوگئے اور شہری اموات ۲۳ فی صد بڑھ چکی ہیں۔ یہ جنگ اپنے بدلتے ہوئے مقاصد میں سے ہر ایک میں ناکام ہوچکی ہے___ دہشت گردی کو پھیلنے سے روکنے، افیون کی پیداوار ختم کرنے، جمہوریت کی ترویج اور خواتین کی حیثیت بہتر بنانے کے لیے صورتِ حال حقیقت میں مزید خراب ہوگئی ہے، بلکہ اب تو امریکا اور ناٹو کی ساکھ تک دائو پر لگی ہوئی ہے۔  عرصے سے افغانستان کی پیچیدہ صورت حال سے نکلنے کا ایک واضح راستہ تھا، یعنی تمام نمایاں افغان طاقتوں بشمول طالبان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے غیرملکی افواج کی واپسی جس کی ضمانت خطے کی دیگر طاقتوں نے دی ہو۔ مسئلے کا یہ حل عرصے سے جنگ کے مخالفین پیش کر رہے ہیں، اب جنگ کے حامی بھی اس کے قائل ہو رہے ہیں جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ برسرِزمین حالات کتنے خراب ہوچکے ہیں۔

افغانستان میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ عراق میں جو کچھ ہوچکا ہے اس کو تقویت دینے کا باعث ہے، یعنی امریکا کی اپنی مرضی بذریعہ طاقت نافذ کرنے کی حدود۔    اگر امریکی فوج کو جس کی طاقت کا کوئی مقابلہ نہیں، ایک خستہ حال فوج دنیا کے ایک غریب ترین ملک میں شکست سے دوچار کرسکتی ہے تو یقینا اس کے مضمرات ایک نئے عالمی نظام کے لیے سنگین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور اس کے قریب ترین حلیف شکست کے اظہار سے بچنے کے لیے ہرممکن حربہ آزمائیں گے اور یہی وجہ ہے کہ   کئی ہزار مزید افغان اور ناٹو افواج ایک ایسی جنگ کی قیمت چکائیں گے جس کے لیڈر یہ جانتے ہیں کہ وہ اس جنگ کو جیت نہیں سکتے۔

امریکا کے خلاف نفرت میں اضافہ

تاریخ کے ان تجربات کی روشنی میں جہاں یہ بات صحیح ہے کہ عسکری، سیاسی اور معاشی قوت کا تفاوت ایک حقیقت ہے، وہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طاقت ور اپنی طاقت کے زعم میں جب سب حدود کو پامال کردیتے ہیں تو قدرت کا یہ قانون ہے کہ طاقت کا ایک نیا توازن رونما ہوتا ہے جس کے نتیجے میں جو کمزور ہیں وہ بالآخر غالب ہوتے ہیں اور جو طاقت ور ہیں وہ بے بس ہوجاتے ہیں۔ امریکا آج دنیا کی طاقت ور ترین مملکت ضرور ہے لیکن اس کا اقتدار اب زوال پذیر ہے۔ اس کی معیشت قرضوں تلے دبی ہوئی ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور اس کی عسکری جولانیوں کے سبب دنیا کے عوام کی عظیم اکثریت اس کو عالمی امن اور اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ اس کی ٹکنالوجی دہشت گردوں سے کہیں زیادہ عام انسانوں کے قتلِ عام کا آلہ بن گئی ہے۔ ایک امریکی تحقیقی ادارے کے مطابق امریکی افواج کے حملوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں صرف ۳ فی صد دہشت گرد نشانہ بنے ہیں، جب کہ ۹۷ فی صد سویلین شہری ہیں جن میں بوڑھے، عورتیں اور بچے لقمۂ اجل بن رہے ہیں اور عوام میں امریکا کے خلاف نفرت   کے سونامی کو جنم دے رہے ہیں۔ امریکا کے ایک اور تھنک ٹینک Natonal Bureau of Economic Research، (واقع کیمبرج، مساچوٹس) نے اسی ماہ اپنی ۷۰صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں افغانستان میں صرف ۱۵ مہینے میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں مرنے والے ۴ہزار سویلین اموات کا ریکارڈ پیش کیا گیا ہے اور یہ مبنی برحقیقت تنبیہہ بھی کی گئی ہے کہ افغانستان میں انتقامی کارروائیاں کرنے والوں اور خودکش بم باروں کی اکثریت ان کی ہے جو امریکی اور ناٹو افواج کی کارروائیوں میں شہید ہونے والے عام افراد کا انتقام لینا چاہتے ہیں۔ (دی نیوز انٹرنیشنل، ۲۴ جولائی ۲۰۱۰ئ)

یہی صورتِ حال پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کی تباہ کاری کے نتیجے میں رونما ہورہی ہے۔  برطانیہ کی ایک چوٹی کی Communication Agency (GCHQ) نے اپنی جولائی ۲۰۱۰ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں القاعدہ کی قیادت تو منتشر ہوئی ہے لیکن سیکڑوں شہری بھی ہلاک ہوگئے اور انسانی حقوق کے ایک نمایاں وکیل پروفیسر فلپ آرسٹان نے (جو اقوام متحدہ کی طرف سے ان حملوں کی تحقیقات کر رہے تھے) ڈرون حملوں کے قانونی جواز کو چیلنج کیا ہے۔ (دی نیشن، ۲۵ جولائی ۲۰۱۰ئ)

افغانستان میں عوامی تحریکِ مزاحمت کی حقیقت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اس تحریک کو ’دہشت گردی‘ کہنا اور پھر اس عنوان سے پورے ملک کو تخت و تاراج کرنا ایک سامراجی جارحیت ہے۔ اس تحریک کا اصل ہدف بیرونی قبضے سے نجات ہے۔ ایک مغربی صحافی Jere Van Dyler نے، جو افغانستان اور اس علاقے کے بارے میں ۱۹۷۰ء سے لکھ رہا ہے جس کو طالبان نے ۴۵ دن (۲۰۰۸ئ) اپنی تحویل میں رکھا، اپنے ایامِ اسیری کی داستان My Time as a Prisoner of the Taliban نامی کتاب میں بیان کی ہے۔ اس نے نیویارک میں اے ایف پی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بڑے پتے کی بات کہی ہے جو افغانستان اور خود پاکستان کو اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے صحیح حکمت عملی کی تشکیل میں مددگار ہوسکتی ہے۔ اس نے کہا کہ: ’’القاعدہ کے برعکس، طالبان امریکا کے خلاف اپنی مرضی سے برسرِجنگ نہیں ہیں۔ وہ امریکی سرزمین پر ہمارے دشمن نہیں ہیں۔ وہ ہمارے اس لیے دشمن ہیں کیونکہ ہم وہاں ہیں‘‘۔ (دی نیشن، ۲۴ جولائی ۲۰۱۰ئ)

ہماری ان گزارشات کا حاصل یہ ہے کہ:

۱- طاقت کا عدم توازن اپنی جگہ، لیکن ضروری نہیں طاقت ور ہی ہمیشہ غالب رہیں۔ تاریخ کا فیصلہ ہے کہ بالآخر مظلوم ظلم کا جوا اُتار پھینکنے میں کامیاب ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ حق پر ہوں اور اپنے حق کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہدکریں۔

۲- امریکا اپنی طاقت کے زعم میں اور اپنے سامراجی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے افغانستان اور عراق پر حملہ آور ہوا لیکن وہ ایک دلدل میں پھنس گیا ہے اور افغانستان پر قبضہ ختم کرنے کے سوا اس کے لیے کوئی چارۂ کار نہیں۔ امریکا اور مغربی اقوام کے لیے جنگ کی قیمت روز بروز بڑھ رہی ہے اور ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی ہے۔ اس لیے نجات کا راستہ انخلا کی حکمت عملی ہے اور اس کے لیے جتنی جلد منصوبہ بندی اور عمل درآمد کا اہتمام کیا جائے اتنا بہتر ہے۔

نیا تناظر اور زمینی حقائق

شروع میں امریکا کے جو بھی مقاصد اور اہداف ہوں اور نظریاتی طور پر امریکا کے نوقدامت پسندوں اور بش انتظامیہ کی جو بھی سوچ ہو، نوسال کے تجربات کے بعد امریکی قیادت بھی اپنے بنیادی مقاصد اور حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہورہی ہے۔ اس میں افغانستان کے زمینی حقائق کے ساتھ امریکا کی معاشی اور مالی حالت، داخلی مسائل اور ضروریات، عالمی اور ملکی راے عامہ اور افغانستان سے آنے والے فوجیوں کے تابوت، سب ہی پالیسی کی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ امریکا کا ایک نام وَر دانش ور اور سابق صدارتی مشیر رچرڈ این ہاس (Richard N. Haass) اس وقت Council of Foreign Relations کا سربراہ ہے، اس کا ایک اہم مضمون نیوزویک کی ایک حالیہ اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ امریکا کے پالیسی ساز حلقوں میں اسے بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔ اس کے چند نکات کو سامنے رکھنا امریکی قیادت کے ذہن کو سمجھنے میں مددگار ہوگا۔ اس کا کہنا ہے: افغانستان میں امریکا آج جو جنگ لڑ رہا ہے وہ بش انتظامیہ کی پالیسی سے مختلف اور بارک اوباما کی اپنی پسند کی جنگ بن چکی ہے اور جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کا انتخاب اس کی واضح علامت ہے۔ رچڑد ہاس کی سوچی سمجھی راے یہ ہے کہ: ’’افغانستان میں امریکی خون اور خزانے سے کی گئی سرمایہ کاری لاحاصل ہے، اور اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے وہاں کے منصوبوں کو کم کریں اور ان کی سمت بھی بدلیں‘‘۔

رچرڈ ہاس یہ تجزیہ کرتا ہے کہ جنگ کے اوّلیں مقاصد میں افغانستان اور عراق ہی نہیں پورے شرق اوسط میں ایسی حکومتوں کا قیام تھا جو امریکا کے زیراثر اور دنیا کے ان علاقوں میں اس کے ایجنڈے کے مطابق کام کرسکیں اور اس طرح مقامی حکومتوں کے ذریعے امریکا کے مقاصد حاصل ہوسکیں۔ یہ ماڈل وجود میں نہیں آسکا اور نہ اس کی کامیابی کا کوئی امکان ہے۔ اس لیے اب ہدف یہ ہونا چاہیے کہ افغانستان میں کمزور لیکن ضروری فرائض انجام دینے والی حکومت وجود میں آجائے جسے کوئی امریکا کے مفادات کے خلاف استعمال نہ کرسکے۔ پھر اس نے افغانستان کی تقسیم، یعنی مقامی قیادتوں کو اُبھارنا، اور علاقائی لشکروں کی تشکیل اور طالبان کے بارے میں زیادہ لچک دار رویے کی حمایت کی ہے جس پر ڈیوڈ پیٹریاس نے عمل شروع کر دیا ہے اور جسے اب صدر کرزئی نے بھی عملاً قبول کرلیا ہے۔ اس نئی حکمت عملی کے کیا نتائج نکلتے ہیں، یہ تو مستقبل ہی بتائے گا مگر امریکا کی افغان پالیسی کیا ہونے جارہی ہے اور اس کے پس منظر میں پاکستان کے کردار اور خود پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مستقبل کے خدوخال پر ازسرِنو غور کی ضرورت ہے۔

رچرڈ ہاس نے جو نتیجۂ فکر امریکی قیادت کے سامنے پیش کیا ہے وہ بڑی اہمیت کا حامل ہے:

امریکا اس وقت افغانستان میں جو جنگ لڑ رہا ہے اس کے اس طرح لڑے جانے کی نہ کوئی قدروقیمت ہے اور نہ وہ کامیابی سے ہم کنار ہورہی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ امریکی مقاصد کا دوبارہ تعین کیا جائے اور برسرِزمین مداخلت کو بھی واضح طور پر کم کیا جائے۔ افغانستان بہت زیادہ امریکی جانیں لے رہا ہے، بہت زیادہ توجہ لے رہا ہے اور بہت زیادہ وسائل جذب کر رہا ہے۔ جتنی جلد ہم یہ تسلیم کرلیں کہ افغانستان کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے حل کیا جانا ہے بلکہ ایسی صورتِ حال ہے جس کو ٹھیک کرنا ہے،    اتنا ہی بہتر ہے۔

پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت اور پالیسی ساز اداروں کے لیے اس آخری جملے، یعنی less a problem to the fixed, than a situation to be managed (ایک مسئلہ نہیں جسے حل کرنا ہے بلکہ صورت حال ہے جسے ٹھیک کرنا ہے) میں غوروفکر کا ایک خزانہ پوشیدہ ہے۔ پوری بحث کا خلاصہ مسئلے کے فوجی حل کے مقابلے میں سیاسی حل کی طرف مراجعت ہے۔

حالات کے اس جائزے کی روشنی میں اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکا افغانستان میں خود کس طرف جارہا ہے اور پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کو کس طرف دھکیل رہا ہے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکا کے مقاصد، اہداف اور مفادات اور پاکستان کے مقاصد، اہداف اور مفادات میں کتنا جوہری فرق ہے، اور امریکا کی اپنی افغان پالیسی اور جو پالیسی وہ پاکستان پر مسلط کر رہا ہے اس میں کتنے بنیادی تضادات ہیں، اور کیا وہ وقت نہیں آگیا کہ پاکستان اپنے اہداف کا اور اپنی حکمت عملی کا تعین اپنے مقاصد اور مفادات کی روشنی میں کرے اور امریکا اور اس کی مسلط کردہ پالیسیوں سے دامن چھڑا کر خود اپنی وضع کردہ حکمت عملی پر عمل پیرا ہو۔

امریکی مداخلت اور ملکی خودمختاری

’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں پاکستان کی شرکت نہ پسند کی جنگ تھی اور نہ ہمارے مفادات کی روشنی میں ضروری جنگ۔ اس جنگ کا تعلق ہماری اپنی کسی ضرورت سے نہ تھا بلکہ یہ ہم پر جبر کے ہتھیاروں سے مسلط کی گئی، اور مشرف حکومت نے محض خوف اور ذاتی مفادات خصوصاً اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے ملک کو اس آگ میں جھونکا۔ اگر ان نوبرسوں کا ایک میزانیہ پوری دیانت داری اور معروضی انداز میں مرتب کیا جائے تو اس کے سوا کوئی دوسرا نتیجہ ممکن ہی نہیں کہ یہ ہراعتبار سے خسارے کا سودا تھا۔ موجودہ حکومت نے آزاد خارجہ پالیسی اور امریکا کی گرفت سے نکلنے کے قومی مطالبے کو یکسر نظرانداز کرکے پرویز مشرف کی پالیسی کو اور بھی قبیح انداز میں آگے بڑھایا اور نقصانات کو دوچند کر دیا۔ امریکا اور برطانیہ نے این آر او کی بیساکھیوں کے سہارے جس سیاسی قیادت کو ملک کی باگ ڈور سونپی اور جس طرح خود فوج کی قیادت کو اس انتظام کا حصہ بنایا، وہ بڑی دل خراش داستان ہے لیکن اب وہ کوئی راز نہیں۔ ملک کی معیشت کو جس طرح بیرونی امداد کا اسیر بنایا گیا وہ بھی ایک کھلی کتاب ہے اور اس وقت جو صورتِ حال ہے، وہ یہ ہے کہ امریکی قیادت لالچ اور خوف جس میں لالچ کا کردار کم اور خوف کا زیادہ ہے، کے ذریعے ہماری قیادت کی نکیل پکڑ کر اسے اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کر رہی ہے اور اس خطرناک کھیل میں بھارت کا کردار روز بروز بڑھ رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قوم کے سامنے اصل حقائق کو بے کم و کاست پیش کیا جائے اور پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کی بازیافت کے لیے بھرپور جدوجہد کی جائے۔

ہالبروک صاحب جو افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکا کے سفیر مقرر کیے گئے ہیں، دوسال میں ۱۴ بار پاکستان تشریف لائے ہیں اور ہربار پاکستان آنے سے پہلے یا اس کے فوراً بعد بھارت بھی تشریف لے گئے ہیں جہاں سے اہم پالیسی اعلانات بھی کرتے رہے ہیں۔ ایڈمرل مولن کی الطاف و عنایات اس سے بھی زیادہ ہیں۔ وہ ماشاء اللہ ۱۹ بار تشریف لائے ہیں اور سیاسی اور عسکری دونوں قیادتوں سے اعلیٰ ترین سطح پر شیروشکر ہوئے ہیں۔ ڈیوڈ پیٹریاس اور دوسرے فوجی اور سیاسی کرم فرمائوں کے ٹڈی دل اس پر مستزاد ہیں۔ پھر سب سے بڑھ کر خود محترمہ ہیلری کلنٹن صاحبہ کی ایک سال میں دو بار آمد اور صدراوباما کے دربار میں ہمارے حکمرانوں کی پیشیاں اور ان کے فرامین کی بارش___ اس آئینے میں پاکستان کی بے چارگی کی اصل تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ اصل آقائوں کے چند ارشادات بھی سامنے رکھنا ریکارڈ کی درستی کے لیے مفید ہوگا:

محترمہ ہیلری کلنٹن صاحبہ فرماتی ہیں اور بار بار اس کی تکرار کر رہی ہیں کہ: l مجھے یقین ہے کہ بن لادن یہاں پاکستان میں ہے l اسامہ کہاں ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ پاکستانی انتظامیہ کے بعض عناصر کو معلوم ہے کہ وہ کہاں ہے؟ l ابھی کچھ ایسے اضافی اقدامات ہیں جن کے لیے ہم پاکستان سے کہہ رہے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ وہ یہ اقدامات اُٹھائے گا lکسی کے ذہن میں یہ شبہہ نہیں رہنا چاہیے کہ اگر امریکا کے خلاف کسی حملے کا سرا پاکستان تک پہنچا تو اس کا ہمارے تعلقات پر بہت تباہ کن اثر ہوگا۔

ہیلری کلنٹن اور ناٹو کے سیکرٹری جنرل دونوں نے پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ بڑے جارحانہ انداز میں کیا ہے اور ان کی تشریف آوری کے بعد ایڈمرل مولن نے صاف الفاظ میں     نہ صرف یہ کہا ہے کہ اسامہ اور القاعدہ کی قیادت پاکستان میں ہے بلکہ پاکستانی اخبار دی نیشن، بھارتی اخبار دی ہندو اور برطانوی اخبار گارڈین کے الفاظ میں: ’’اپنی قیادت کو کھلے الفاظ میں بتا دیں کہ امریکا پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت سے توقع کرتا ہے کہ وہ امریکا کے سلامتی کے مفادات کا لحاظ رکھے‘‘۔

ہالبروک صاحب نے پاکستان، بھارت اور افغانستان سے واپسی پر لندن میں فرمایا ہے کہ: ’’برطانیہ اور امریکا کے لیے یہ ناگزیر ہے اور ان کے ایجنڈے میں یہ بات سرفہرست ہے کہ مل کر پاکستان کے ساتھ اس طرح کام کیا جائے کہ پاکستان خطے کے مسائل کے حل کا حصہ ہو‘‘ (دہلی ٹائمز، ۲۶ جولائی ۲۰۱۰ئ)۔ اس سے قبل رچرڈ ہالبروک صاحب نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ ’’واشنگٹن سمجھتا ہے کہ اس کوشش میں اسلام آباد کا کردار مبہم ہے اور نظر نہیں آتا‘‘۔ (ڈان، ۱۶جولائی ۲۰۱۰ئ)

امریکا کے سیکرٹری دفاع رابرٹ گیٹس نے نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستان کی قیادت کو صاف صاف بتا دیا ہے کہ انھیں ان تمام عناصر کے خلاف جنگ کرنا ہوگی جو افغانستان میں امریکیوں کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ نیویارک ٹائمز اپنے ۲۳ جنوری ۲۰۱۰ء کے اداریے میں پاکستان کو تحکمانہ شان سے متنبہ کرتا ہے:

پاکستان افغان طالبان کو آگے بڑھنے کا موقع دینے کا متحمل نہیں ہوسکتا، اور واشنگٹن کو یقینی بنانا چاہیے کہ اسلام آباد اس حقیقت کا سامنا کرے۔ مسٹر گیٹس نے جب کھلے عام یہ کہا کہ: ’’اسلام آباد اس سرطان کے ایک حصے کو نظرانداز کرے اور یہ ظاہر کرے کہ اس کا کوئی اثر اس کے ملک کے قریب نہیں ہوگا‘‘ تو دراصل انھوں نے پاکستان کو سمجھانے کی کوشش کی۔ ’’ہمیں امید ہے کہ وہ نجی ملاقات کے دوران زیادہ سخت رہے ہوں گے‘‘۔

امریکا کے نیشنل سیکورٹی کے ایڈوائزر جنرل جیمز جونز کے احکامات بھی سامنے رہیں تو تصویر مکمل ہوجاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ: ’’پاکستان کو اپنے ملک میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف کسی امتیاز کے بغیر سخت کارروائی کرنا ہوگی۔ ہمیں پاکستان کی حدود کے اندر ایسی   دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر شدید تشویش ہے جن کا مقصد ہمارے طرزِ زندگی اور آپ کے طرزِزندگی پر حملہ کرنے اور غیرمستحکم کرنے اور افغانستان میں ہمارے اسٹرے ٹیجک مقاصد کے حصول میں کامیابی کو روکنا ہے‘‘۔

اور خود صدر اوباما نے اپنی دسمبر ۲۰۰۹ء کی تقریر میں پاکستان کو صاف لفظوں میں متنبہ کردیا کہ ’’ہم دہشت گردوں کے لیے ایسی محفوظ جنت برداشت نہیں کرسکتے جس کا مقام معلوم ہے اور جن کے ارادے واضح ہیں‘‘۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق: ’’نجی طور پر سرکاری حکام نے پاکستان کے قائدین کو تنبیہہ کی ہے کہ اگر وہ اقدام نہیں کرتے تو امریکا کرے گا‘‘۔ (اداریہ، ۸جولائی ۲۰۱۰ئ)

ان تمام احکامات، دھمکیوں اور ڈرون حملوں کی روشنی میں پاکستان کے جوائنٹ چیف  آف اسٹاف کے ہیڈکوارٹر کا یہ اعلان سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے:’’پاکستان کے اسٹرے ٹیجک مفادات کا امریکا کے ساتھ باہمی تعلقات کے فریم ورک میں تحفظ کیا جائے گا‘‘۔ (بحوالہ دی نیشن، ۲۴ جولائی ۲۰۱۰ئ)

کیا اس پر سر پیٹ لینے اور انا للہ وانا الیہ راجعون کہنے کے علاوہ کسی ردعمل اور اقدام کی ضرورت نہیں؟

؎ جس کشتی کی پتواروں کو، خود ملاحوں نے توڑا ہو

 اس کشتی کے غم خواروں کو، پھر شکوۂ طوفاں کیا ہوگا

بہارت کا بڑہتا ہوا اثر و رسوخ

امریکا کے اس خطرناک کھیل میں بھارت ہرسطح پر شریک ہے۔ صدر بش کی حکومت نے جس وقت جنرل پرویز مشرف سے کہا تھا: ’تم یا ہمارے ساتھ ہو یا دہشت گردوں کے‘‘ اور پاکستان کو پتھر کے زمانے کی طرف لوٹا دینے کی دھمکی دی تھی، اس وقت بھی بھارت امریکا کے دوش بدوش کھڑا تھا اور افغانستان پر امریکی حملے کے لیے اپنا کندھا دینے کی بات نہیں کر رہا تھا بلکہ پاکستان پر بھی حملے کے اشارے دے رہا تھا۔ پھر افغانستان میں امریکی جنگ کے دوران بھارت شریک رہا ہے اور افغانستان میں اپنے قدم جمانے کے ساتھ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں مصروف ہے۔

لندن کی جنوری ۲۰۱۰ء کی کانفرنس میں بھارت کے کردار کو کم کرنے کی پاکستان کی کوشش کے جواب میں جولائی ۲۰۱۰ء میں کابل میں جو کانفرنس ہوئی ہے اس میں بھارت کے کردار کو  بحال کیا گیا ہے۔ ہیلری کلنٹن اور ہالبروک نے بھارت کے کردار کو ایک حقیقت کے طورپر پیش کیا ہے اور کھل کر یہاں تک کہہ دیا گیا ہے کہ پاکستان، بھارت کے کردار کا حدود اربعہ متعین نہیں کرسکتا۔ہالبروک نے دہلی میں کہا ہے کہ افغانستان میں بھارت کا ایک ’اہم کردار‘ ہے اور واشنگٹن پہنچ کر پاکستان کے منہ پر یہ کہہ کر ایک طمانچہ رسید کیا کہ: ’’لیکن اس وقت کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ پاکستان کو یہ طے کرنے کا اختیار ہے کہ پڑوسی ملک میں کیا ہو‘‘۔(دی نیشن، ۱۶ جولائی ۲۰۱۰ئ)

دی ہندو کی ۲۳ جولائی ۲۰۱۰ء کی اشاعت کے مطابق رچرڈ ہالبروک نے بھارت کو یقین دلایا ہے کہ ’’اسے ایک انتشار کے شکار ملک افغانستان کے حل میں بڑا کردار ادا کرنا ہے‘‘۔ انھوں نے کہا: ’’پاکستان افغانستان پر قبضہ کرنے والا نہیں ہے اور نہ طالبان ہی، بلکہ خطے کے ہرملک کو اس کا حصہ ہونا ہے۔ یہ بھارت کو طے کرنا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنا کیا کردار چاہتا ہے۔ بھارت کے لیے ہماری حمایت کم ہونے والی نہیں ہے۔ ہم سب سمجھتے ہیں کہ خطے میں اس کا مرکزی کردار ہے‘‘۔

یہ امر بہت اہم ہے کہ لندن کانفرنس میں افغانستان کے مسائل کے حل میں پڑوسی ممالک کا ذکر تھا لیکن کابل کانفرنس میں اعلان کیا گیا ہے کہ: ’’افغانستان کے پڑوسی اور قریبی پڑوسیوں کو سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش ہے اور یقینا اس میں بھارت بھی شامل ہے‘‘۔

علاقے کی مستقبل کی سیاست میں امریکا اور بھارت کے گٹھ جوڑ کے بارے میں اب کسی شک و شبہے کی گنجایش نہیں۔ امریکا اس علاقے میں بھارت کی مکمل پشت پناہی کررہا ہے، اس کی معیشت اور فوجی قوت دونوں کو تقویت دینے میں سرگرم ہے اور اسے چین، جو پاکستان کا سب سے قابلِ اعتماد دوست ہے، کے مقابلے کے لیے تیار کررہا ہے۔ امریکا اور بھارت کی اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ صرف چین ہی کے لیے خطرہ نہیں، پاکستان بھی اس کی زد میں ہے۔

پاک امریکا تعلقات کا مستقبل

  • صدر بارک اوباما نے اپنی قاہرہ کی تقریر میں عالمِ اسلام سے دوستی اور تعاون کے لیے تین بنیادوں کو بڑی اہمیت دی تھی:

مشترک اقدار

  • اعتماد باہمی
  • مشترک مفادات۔ امریکا سے پاکستان کے تعلقات اور ان کے مستقبل کا انحصار بھی انھی تینوں باتوں پر ہے، اس لیے ان تینوں کے بارے میں ذرا کھل کر اصل حقائق پر گفتگو کرنا ضروری ہے۔

پاکستان کا قیام ایک نظریے کی بنیاد پر ہوا ہے جس کا واضح الفاظ میں اعلان قرارداد مقاصد اور پاکستان کے دستور میں کردیا گیا ہے۔ بلاشبہہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں جو اصول بیان کیے گئے ہیں، وہ بحیثیت مجموعی اسلامی اصولوں اور اقدار سے ہم آہنگ ہیں اور ان کی بنیاد پر دنیا کے تمام ممالک بشمول امریکا سے ہمارے تعلقات استوار ہونے چاہییں لیکن یہاں بھی یہ مشکل آڑے آتی ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں ہمیشہ امریکا ہی نے کی ہیں اور آج بھی خود امریکا ہی کررہا ہے اور امریکا کی پشت پناہی میں اسرائیل اس سے بھی چار قدم آگے ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر تمام اقوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتا ہے لیکن امریکا زبانی جمع خرچ کے علی الرغم فلسطین، کشمیر اور دوسرے علاقوں میں مسلمانوں کے حق خود ارادیت کی حمایت سے گریز کررہا ہے یا عملاً حق خودارادیت کی مخالفت کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر آزاد ممالک میں باہر سے قیادت کی تبدیلی کی کوششوں کا مخالف ہے اور امریکا اکھاڑپچھاڑ کے اس کھیل میں پوری طرح ملوث ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر دوسرے ممالک پر فوج کشی کو ناجائز قرار دیتا ہے، مدافعت کے سوا جنگ کا دروازہ بند کرتا ہے لیکن امریکا دنیا کے ۴۰ سے زیادہ ممالک میں ۸۶۵ فوجی اڈے رکھتا ہے جن میں ہمیشہ اس کے لاکھوں فوجی موجود رہتے ہیں (ان کی تفصیل امریکا کے مشہور Cats Institute کے   فیلو ڈوگ بانڈو (Doug Bandow) نے اپنی کتاب Foreign Follies: America's New Global Empireمیں دی ہے)۔

امریکا کی، اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کی داستان بڑی طویل ہے لیکن پاکستان کے ساتھ مشترک اقدار کا معاملہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر تک محدود نہیں ہے۔ پاکستان کی شناخت اسلام ہے اور امریکا کے بااثر عناصر، مغرب کی دوسری اقوام کی طرح، جس طرح اسلام اور مسلمانوں پر فکری اور تہذیبی یلغار کیے ہوئے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کو دہشت پسندی اور وحشت اور درندگی کی علامت بناکر پیش کر رہے ہیں، قرآن اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تضحیک اور تذلیل میں مصروف ہیں اور مسجد کے مینار اور مسلمان خاتون کے حجاب تک کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں، اس پس منظر میں ’مشترک اقدار‘ کی بات کرنا حقائق سے صرفِ نظر کرلینے کے مترادف ہے۔ اسی طرح جمہوریت کو ایک قدرِ مشترک کہا جاتا ہے لیکن امریکا نے دنیا بھر میں جمہوریت کے قتل اور سول اور فوجی آمروں کی پشت پناہی کا جو ریکارڈ قائم کیا ہے، وہ الم ناک ہی نہیں ہوش ربا بھی ہے۔

ہم دل و جان سے چاہتے ہیں کہ دنیا کے تمام ممالک میں ہرشخص اور ہر قوم کے عقیدے،   دین اور تہذیب و تمدن کا احترام ہو اور اختلاف کو حدود میں رکھ کر مشترکات میں تعاون اور اختلافی امور و معاملات میں رواداری کا طریقہ اختیار کیا جائے لیکن مغربی اقوام نے جو جنگ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف برپا کی ہوئی ہے، اس کی موجودگی میں ’مشترک اقدار‘ کی بنیاد متزلزل ہوچکی ہے۔

رہامعاملہ اعتمادِ باہمی کا، تو اس کا جو حشر امریکا نے کیا، وہ سب کے سامنے ہے۔ صدر اوباما اور ہیلری کلنٹن سے لے کر مغربی میڈیا تک سب پاکستان سے اعتماد کی کمی (trust deficit) کا رونا رو رہے ہیں۔ کوئی بیان ایسا نہیں ہے جس میں پاکستان، اس کی سیاسی اور عسکری قیادت، اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کے خلاف زہرافشانی نہ کی جارہی ہے۔ ’ڈو مور‘ کا جو راگ صبح وشام الاپا جارہا ہے وہ ’اعتمادِ باہمی‘ کی مثال ہے یا بے اعتمادی کا ثبوت!

مشہور مقولہ ہے: ’’اعتماد سے اعتماد پیدا ہوتا ہے‘‘۔ اس کے برعکس یہاں امریکا نے     ’’بے اعتمادی سے بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے‘‘ کی فضا پیدا کر دی۔ امریکا کی قیادت کو اپنا دوغلاپن نظر نہیں آتا اور پاکستان سے شکوہ و شکایت بلکہ اس پر بے جا الزامات کا ہرلمحے چرچا کر رہا ہے۔ ابھی وکی لیکس (wikileaks) نے جو ساڑھے نو ہزار سرکاری دستاویزات شائع کی ہیں، وہ پاکستان پر الزام تراشیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ کیا اس اعتماد کی کمی کی موجودگی میں ’اعتمادِ باہمی‘ کی بات ممکن ہے؟

اشتراکِ مفادات کی حقیقت

اسی طرح اگر اشتراکِ مفادات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک محدود دائرے کو چھوڑ کر، پاکستان اور امریکا کے مفادات میں کوئی مطابقت نہیں۔ امریکا کا اصل ہدف پوری دنیا میں اپنی بالادستی کو قائم کرنا اور قائم رکھنا ہے اور اس کے چوٹی کے دانش وَر اور حکمت عملی کے ماہر صاف کہہ رہے ہیں کہ کم از کم اگلے ۵۰سال میں کوئی طاقت ایسی اُبھرنے نہیں دینی چاہیے جو امریکا کی بالادستی کو چیلنج کرسکے۔ اسی وجہ سے چین اور عالمِ اسلام کا اُبھرتا ہوا اتحاد امریکا کا ایک بڑا ہدف ہیں۔ اسرائیل کے ذریعے شرقِ اوسط کا امن تباہ کیا گیا ہے اور اسے ایک ایٹمی طاقت بنایا گیا ہے لیکن پاکستان کی ایٹمی صلاحیت امریکا کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے اور اس سے پاکستان کو محروم کرنا بھی امریکا کے لیے ایک ’اسٹرے ٹیجک‘ ہدف کی حیثیت رکھتا ہے۔

ایٹمی پھیلائو کا سارا شور اسی و جہ سے ہے اور ایٹمی اثاثوں تک دہشت گردوں کی رسائی کا واویلا اسی سلسلے میں کسی جارحانہ اقدام کے لیے زمین ہموار کرنے کے لیے ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کے ساتھ ایران کو بھی نشانہ بنانے کے امریکی عزائم ۲۷جولائی ۲۰۱۰ء کی ایک خبر سے واضح ہوتے ہیں:

امریکا کے اندازے کے مطابق خلیج فارس، افغانستان، پاکستان اور آبناے کوریا دنیا کے خطرناک ترین علاقے ہیں اور اس نے ان علاقوں میں جاسوسی کے لیے ایک نیا خلائی سیارہ OTV خلا میں چھوڑا ہے، اس کا اصل نام X37B ہے۔ یہ لیزر ہتھیاروں سے مسلح ہے۔ امریکی اسے جارحانہ ہتھیار قرار نہیں دیتے مگر امریکی مینوٹار IV میزائل سے مل کر یہ ایک ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ اس میزائل کی رفتار ۵ہزار ۷سو ۹۲کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، اس لیے دشمن کو دفاع کا موقع نہیں دیتا۔ یہ اتنا طاقت ور ہے کہ اپنے ہدف کو خواہ اسے کتنا ہی محفوظ بنایا گیا ہو، زد پر لے سکتا ہے۔ اس میزائل کو مستقبل کا ہتھیار کہا جا رہا ہے۔ یہ جوہری ہتھیاروں سے مسلح نہیں ہے لیکن اس کے لیزر ہتھیار ٹام ہاک میزائل سے سات گنا زیادہ تیزرفتار ہیں۔ مینوٹارIV میزائل کو سمندر، زمین یا فضا سے چلایا جاسکتا ہے۔

پاکستان اور ایران کو بھی یہ سوچنا ہے کہ امریکا اس ہتھیار کو ان کی جاسوسی کے لیے استعمال کرے گا اور بہت محفوظ مقامات پر رکھے گئے اسلحے کو بھی نشانہ بناسکتا ہے۔ یہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کے لیے بہت خطرناک ہے اور اسی طرح ایران کے جوہری پروگرام کے لیے بھی۔ امریکی کسی تکلف کے بغیر ایران پر حملے کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی کھلی دھمکی دی ہے کہ اگر ٹائم اسکوائر جیسا واقعہ دوبارہ ہوا تو اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ (دی نیوز انٹرنیشنل، ۲۷ جولائی ۲۰۱۰ئ)

پاکستان کے مفاد کا تقاضا چین سے دوستی اور تعاون میں ہے اور چین امریکا کا اوّلین ہدف ہے اور بھارت جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے وہ امریکا کا حلیف اور معاون کار ___ ہمارے اور امریکا کے مفادات میں کہاں ’اشتراک‘ ہے؟

پاکستان توانائی کے بحران کا شکار ہے اور امریکا پاکستان کے ایران سے گیس اور بجلی کے تعاون اور چین سے انرجی کی افزایش کے لیے چشمہ کنال بیراج کے تسلسل میں دو نئے ری ایکٹر حاصل کرنے کا مخالف ہے۔ ہیلری کلنٹن نے اپنے حالیہ دورے کے موقع پر دونوں کا راستہ روکنے کی بات کی ہے۔ یہ مفادات کے ’اشتراک‘ کی مثال ہے یا ان کے تصادم اور تضاد کی!

پاکستان کی اوّلیں ضرورت ملک میں امن و امان کا قیام اور عوام کے جان، مال اور آبرو کی حفاظت ہے لیکن ’دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ‘ اور اس میں پاکستان کی شرکت نے ملک کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا ہے اور امن و امان کے قیام کا کوئی امکان اس وقت تک نظر نہیں آتا جب تک پاکستان اس جنگ سے دست کش نہ ہو اور مسائل کا سیاسی حل نہ نکالے۔ امریکا افغانستان میں تو سیاسی حل کی بات کر رہا ہے مگر پاکستان پر اس کا سارا دبائو اس سمت میں ہے کہ قوت کا استعمال تیز تر کرو، نئے محاذ فی الفور کھولو اور اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش نہ کرو۔

پاکستان کا مفاد یہ ہے کہ وہ اپنے معاملات کا فیصلہ خود کرے اور اس کی سرزمین کو دوسرے اپنے مفاد کے حصول کے لیے استعمال نہ کریں لیکن امریکا نے پاکستان کو اس طرح اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے کہ عسکری پالیسی ہو یا معاشی پالیسی، تعلیم ہو یا صحت کی منصوبہ بندی، فوج اسکائوٹس   حتیٰ کہ پولیس تک کی تربیت، سب کچھ امریکا کی خواہش کے مطابق، بلکہ سب پالیسیاں اس کے احکامات کی روشنی میں ترتیب دی جارہی ہیں۔ کیری لوگر بل کے تحت امریکی امداد کی تقسیم اور نگرانی اب بلاواسطہ امریکا اور اس کی طے کردہ ایجنسیاں اور این جی اوز کریں گی۔ اس کے لیے انتظامی اور مالیاتی کنٹرول کا نیا نظام وضع کیا گیا ہے اور امریکی عملہ ہرشعبے کی نگرانی کے لیے ملک میں آئے گا اور اس کے لیے اس نے بڑی تعداد میں ملٹی انٹری ویزا تک پر اختیار حاصل کرلیا ہے۔ تعلیم کے میدان میں نصاب، اساتذہ اور طلبہ کی تربیت بھی امریکی نگرانی میں ہوگی۔ خیالات پر اپنا اجارہ قائم کرنے کے لیے امریکی امداد کے اس پیکج میں ۵۰ ملین ڈالر میڈیا کی تربیت اور ترقی یا بالفاظ صحیح تر فکروخیال پر قبضے (thought control) کے لیے رکھے گئے ہیں۔

امریکی ڈرون حملوں میں اوباما کے صدر بننے کے بعد تین گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کے ذریعے صبح و شام ہماری حاکمیت کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں اور اس خونی کھیل میں پاکستان کی حکومت عملاً شریک ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کے باوجود زرداری گیلانی حکومت نے ان کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ وزیردفاع احمدمختار نے اس کی ’افادیت‘ کا اعتراف کیا ہے اور امریکا میں پاکستانی سفیر نے ۲جولائی ۲۰۱۰ء کو اپنے ایک بیان میں یہ تک ارشاد فرما دیا ہے کہ ’’پاکستان نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم ڈرون حملوں کے ذریعے دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں چاہتے‘‘۔ (Pakistan's Drone Dilemma، طیب صدیقی، ڈان، ۱۸ جولائی ۲۰۱۰ئ)

واضح رہے کہ جولائی ۲۰۱۰ء تک ۱۴۴ ڈرون حملوں میں امریکا نے پاکستان کے ۱۳۶۶ عام شہریوں کو ہلاک کیا ہے (ملاحظہ ہو: رپورٹ US National Counter Terrorism Centre  ڈان، ۱۸جولائی ۲۰۱۰ئ)، جب کہ القاعدہ کے کتنے لوگ ان میں نشانہ بنے ہیں، ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ مئی ۲۰۰۹ء میں امریکی حکومت کے مشیر جنرل ڈیوڈ کلیمولین نے امریکی کانگریس کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ:’’۲۰۰۶ء کے بعد سے ہم القاعدہ کے ۱۴ سینیررہنمائوں کو قتل کرسکے ہیں اور اسی دوران ہم نے ۷۰۰ سے زیادہ پاکستانی شہریوں کو قتل کیا ہے‘‘۔ (ڈان، ۱۸جولائی ۲۰۱۰ئ)

کیا امریکا کی کارروائیاں اور پاکستان کے مفادات میں کوئی نسبت ہے؟

اُوپر وکی لیکس دستاویزات کا ذکر آیا تھا، ان میں بھی بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کی شہادت موجود ہے جن کا اعتراف نہیں کیا گیا بلکہ جن کو سرکاری طور پر دبا دیا گیا۔ اس سے بھی زیادہ ہوش ربا حقائق اس بل میں سامنے آئے ہیں جو امریکا کے دو ارکان کانگریس نے ایوان میں اسی مہینے پیش کیا ہے اور جس میں پاکستان کی سرزمین پر ایسے امریکی فوجی کارندوں کا اعتراف کیا گیا ہے جن کے لیے امریکی قانون کے مطابق کانگریس سے اجازت نہیں لی گئی ہے اور پاکستانی اخبارات اور سیاسی کارکنوں کے واویلا کے باوجود پاکستان کی سرزمین پر ان کے موجود ہونے کا انکار کیا جاتا رہا ہے۔

دی نیشن نے اپنی ۲۴ جولائی ۲۰۱۰ء کی اشاعت میں واشنگٹن سے یہ خبر دی ہے جس کا حرف حرف بغور پڑھنے کی ضرورت ہے:

ایک ڈیموکریٹ اور ایک ری پبلکن، دو امریکی سینیٹروں نے اس ہفتے ایک بل پیش کیا ہے، جس میں افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے جو وہاں جنگجوئوں کے خلاف خفیہ کارروائیاں کر رہی ہیں: ’’ہمیں معلوم ہے کہ امریکی افواج کانگرس کی اجازت کے بغیر پاکستانی حدود کے اندر خفیہ کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں‘‘۔ سینیٹر کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اس قرارداد کی خلاف ورزی ہیں جو ویت نام جنگ کے بعد منظور ہوئی جس کے مطابق امریکی صدر کو صرف اس صورت میں فوج باہر بھیجنے کی اجازت ہے جب کانگریس نے فیصلے کی تائید کی ہو یا امریکا کو کوئی سنگین خطرہ درپیش ہو۔

دوسرے سینیٹر ران پال نے کہا کہ امریکی فوج نے پاکستان میں اپنی کارروائیاں نمایاں طور پر بڑھا دی ہیں اور کوئی اعداد وشمار نہیں دیے جاتے۔ ڈیڑھ سال قبل اوباما کے صدر بننے کے بعد پاکستان میں بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں پر بھی انھوں نے توجہ دلائی۔ پاکستان میں امریکی فوج کی بڑھتی ہوئی سرگرمی کا امریکا کی حفاظت سے بہت کم تعلق ہے۔ درحقیقت یہ جتنے دشمنوں کو شکست دے رہی ہے، اس سے زیادہ دشمن پیدا کررہی ہے۔ انتظامیہ اپنے پیش رو کی طرح نائن الیون کے بعد کی اصل قرارداد کے الفاظ کو غلط استعمال کر رہی ہے تاکہ وسیع تر علاقائی جنگ جاری رہ سکے اور کانگرس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

گارڈین کے مقالہ نگار مائیکل ولیمز نے ۴ فروری ۲۰۱۰ء کی اشاعت میں The Secret War in Pakistanمیں اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں ہم ایک خفیہ لڑائی میں مصروف ہیں:

زمین پر امریکی افواج کی موجودگی بجاطور پر زیادہ متنازع ہے لیکن امریکی افواج اور برطانوی ایس اے ایس افواج برسوں سے پاکستان میں مختلف مقامات پر کام کر رہی ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ حکومت ِ پاکستان کی اجازت کے بغیر ہوا، اور اکثر امریکی اور پاکستانی افواج کے درمیان بداعتمادی کی وجہ سے، مگر حالیہ حملے کے بعد واشنگٹن اور اسلام آباد کو چاروناچار ماننا پڑا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کو یہ تسلیم کرنے میں تامّل رہا کہ امریکی افواج بغاوت کے خلاف کارروائی  کے لیے پاکستانی فوج کو تربیت دے رہی ہیں، اس بات کو جانے دیں کہ بعض اوقات امریکی افواج پاکستان کی حدود کے اندر بھی کارروائیاں کرتی ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ ۸۰ فی صد پاکستانی، طالبان سے لڑنے میں امریکی امداد کو مسترد کرتے ہیں، خاموشی زیادہ دانش مندانہ تھی۔ مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ یہ خفیہ جنگ جوامریکا اسلام آباد کی منظوری سے لڑ رہا ہے بہت سوں کو قبول نہیں ہوگی۔ بہرحال امریکی صدر کو اس لیے منتخب کیا جاتا ہے کہ وہ امریکی عوام کا تحفظ کرے اور یہ توقع کرنا کہ کوئی انتظامیہ اس لیے اقدام نہ کرے کہ حالات خود ٹھیک ہوجائیں گے، ایک خام خیالی ہے۔

معاشی مفادات پر کاری ضرب

معیشت کے میدان میں پاکستان کا مفاد اس میں ہے کہ معاشی ترقی تیزرفتاری سے ہو  اور ملک سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو، ملکی وسائل ملک کی معیشت کی ترقی اور عوام کی حالت بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوں۔ قرضوں کا بار کم ہو اور ملک میں ظاہری شان و شوکت پر فضول خرچی کے بجاے بچت کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کی طرف اسے استعمال کرنے کا اہتمام ہو۔ لیکن عملاً یہ ہو رہا ہے امریکا کی اس تباہ کن جنگ کی اصل قیمت پاکستان کے غریب عوام      ادا کررہے ہیں۔ جنگ کے ان نو برسوں میں جو نقصان پاکستان کی معیشت کو پہنچا ہے اس کو   سائنسی انداز میں آج تک متعین نہیں کیا گیا۔ سب سے پہلے ۲۰۰۴ء میں امریکا کی مرکزی کمانڈ کی ویب سائٹ پر یہ آیا کہ پاکستان کو ۱۰ ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ جب سینیٹ میں یہ مسئلہ راقم اور اسحاق ڈار صاحب نے اٹھایا تو ویب سے یہ اعداد و شمار ہٹا دیے گئے۔ پھر وزارتِ خزانہ نے  ۲۰۰۹ء میں ۳۵ ارب ڈالر کے نقصان کا ذکر کیا اور ۲۰۰۹ئ-۲۰۱۰ء کے سالانہ معاشی جائزے میں یہ رقم ۴۳ارب ڈالر لکھی گئی۔ حال ہی میں (۱۱ جون ۲۰۱۰ئ) آئی ایم ایف نے اپنا Poverty Reduction Strategic Paper (PRSP-II) شائع کیا ہے جسے حکومت ِ پاکستان کی وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے مطابق: ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں شرکت کے باعث پاکستان کو جو نقصان ہوا ہے، اس کی تفصیل اس طرح ہے:

’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کی قیمت جو پاکستان نے ادا کی: (ارب روپوں میں)

۰۵-۲۰۰۴ء

۰۶-۲۰۰۵ء

۰۷-۲۰۰۶ء

۰۸-۲۰۰۷ء

۰۹-۲۰۰۸ء

براہِ راست

۱۰۳.۶۷

۰۶۰.۷۸

۴۹۹.۸۲

۵۲۷.۱۰۸

۰۳۳.۱۱۴

بالواسطہ

۰۰۰.۱۹۲

۷۲۰.۲۲۲

۴۰۰.۲۷۸

۸۴۰.۳۷۵

۷۶۰.۵۶۳

کُل قیمت

۱۰۳.۲۵۹

۷۸۰.۳۰۰

۸۹۹.۳۶۰

۳۶۷.۴۸۴

۷۹۳.۶۷۷

اس تخمینے کی رُو سے پاکستان نے اوسطاً سالانہ ۴۰۱ ارب روپے کا نقصان اٹھایا ہے، جب کہ اس پورے عرصے میں امریکا نے صرف ایک ارب ڈالر کے قرضے معاف کیے ہیں اور کُل ۱۵ ارب ڈالر  دیے ہیں جن میں سے ۹ ارب ڈالر ان سالانہ اخراجات کی ادایگی تھی جو فوج نے ادا کردیے تھے، کوئی مدد نہیں تھی۔نام نہاد مدد صرف ۶ ارب ڈالر تھی اور آیندہ کے لیے ۵ئ۱ ارب ڈالر سالانہ کے حساب سے کیری لوگر بل کے ذریعے پانچ سال میں ۵ئ۷ ارب ڈالر دینے کا وعدہ ہے جسے امریکا خود اپنے طے کردہ پروگرام پر اپنے معتمدعلیہ اداروں کے ذریعے خرچ کرنے کی بات کررہا ہے۔ غضب ہے کہ راہ داری کی جو سہولت پاکستان نے امریکا اور ناٹو اقوام کو دی ہے اور جس کے تحت ایک اندازے کے مطابق ۴ہزار ٹرک ماہانہ افغانستان جارہے ہیں، ان کی راہ داری کے مصارف پورے طور پر وصول نہیں کیے جارہے اور جو نقصان سڑکوں کو اس سے ہو رہا ہے اس کی تلافی کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ مشرف اور موجودہ حکمرانوں نے کس طرح پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے اس کا اندازہ صرف اس سے کیا جاسکتا ہے امریکا کی جنگ کا پیٹ بھرنے کے لیے ہزاروں شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکت اور معذوری پر مستزاد اوسطاً ۴۰۰ ارب روپے سالانہ پاکستان کے غریب عوام نے دیے ہیں، جب کہ اس زمانے میں کُل سالانہ ترقیاتی بجٹ دو ڈھائی سو ارب سے بھی کم رہا ہے۔ غربت میں اضافہ ہوا ہے، فاقہ کشی سے اموات بشمول خودکشیاں بڑھی ہیں، بے روزگاری اور مہنگائی بڑھی ہے اور عام انسانوں کے لیے جان و مال کا عدم تحفظ اتنا بڑھ گیا ہے کہ گیلپ کے تازہ ترین جائزے کے مطابق آبادی کا ۹۰ فی صد عدم تحفظ کا شکار ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اگر ہم امریکا سے مدد نہ لیں تو معیشت کابھٹہ بیٹھ جائے گا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ معیشت کا بھٹہ اس جنگ نے بٹھایا ہے اور اگر صرف وہ وسائل جو اس جنگ کی آگ میں ہم نے جھونکے ہیں صرف وہ ملک کی معاشی ترقی پر صرف ہوئے ہوتے تو ترقی کی رفتار دگنی ہوسکتی تھی۔

پاکستان کے سیاسی اور معاشی مفادات پر تو کاری ضرب لگی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی قابلِ غور ہے کہ بھارت سے جو خطرہ پاکستان کو ہے اور جو مسائل ہمارے درمیان نزاع کا باعث ہیں وہ اور بھی اُلجھ گئے ہیں۔ شمال مغربی محاذ پر فوجوں کے منتقل ہونے سے ہمارا جنوبی محاذ کمزور ہوا ہے اور بھارت نے پاکستان پر ’اچانک حملے‘ کا ایک نیا جارحانہ منصوبہ تیار کرلیا جس کی امریکا نے جھوٹے منہ بھی مذمت نہیں کی۔ ممبئی کے واقعے کے سلسلے میں بھارت کے ساتھ امریکا بھی پاکستان کو بلیک میل کرنے میں شریک ہوگیا۔ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے اصولی موقف کی تائید تو کجا، امریکا نے اپنے اوّلیں موقف کو ترک کر کے اسے صرف بھارت اور پاکستان کا دوطرفہ مسئلہ قرار دے دیا۔ پاک بھارت مذاکرات کے سلسلے میں بھی امریکا نے کوئی مؤثر اقدام کرنے سے گریز کیا اور سب سے بڑھ کر پاکستان پر دبائو ڈال کر افغانستان اور بھارت کے درمیان واہگہ کے راستے راہداری معاہدہ کے لیے پیش خیمہ کے طور پر ایک MOU پر دستخط کرائے جس کی ہیلری کلنٹن صاحبہ نے بنفس نفیس شہادت دی۔ یہ معاہدہ پاکستان کی ۴۶سالہ پالیسی کے خلاف ہے اور اس پر تجارتی اور ٹرانسپورٹ برادری سخت نکتہ چین ہے۔

امریکا نے ایک طرف بھارت سے نیوکلیر ٹکنالوجی اور نیوکلیر ایندھن کی فراہمی کا معاہدہ کیا اور نیوکلیر سپلائی گروپ کو بھی اپنے اثرورسوخ کے ذریعے بھارت سے تعاون پر آمادہ کیا اور دوسری طرف نہ صرف یہ کہ پاکستان کو وہی سہولت فراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے بلکہ پاک چین معاہدے کی بھی مخالفت کر رہا ہے اور نیوکلیر سپلائی گروپ میں چین کا راستہ روکنے کا عندیہ دیا ہے۔

یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ بار بار کے مطالبات کے باوجود نہ امریکا اور یورپ نے پاکستان کی مصنوعات کو اپنی منڈیوں میں داخلے کی وہ سہولتیں دی ہیں جو علاقے کے دوسرے ممالک کو حاصل ہیں اور نہ فاٹا میں برآمدی زون کے سلسلے میں ہی کوئی پیش رفت کی ہے جس کا وعدہ پانچ سال قبل کیا گیا تھا۔

صاف ظاہر ہے کہ ان میں سے ہر میدان میں پاکستان اور امریکا کے مفادات میں اشتراک نہیں اور پاکستان سے امریکا کے تعلقات میں کوئی جوہری فرق واقع نہیں ہوا بلکہ جس طرح ماضی میں امریکی مفاد کی حد تک وقتی اور عارضی تعلقات تھے، اسی طرح آج بھی ہیں اور ہرلمحہ امریکی قیادت آنکھیں دکھانے اور ہاتھ مروڑنے میں مصروف ہے۔ ان حالات میں امریکا سے تعلقات اور خارجہ پالیسی کے بنیادی خدوخال پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔

نئی حکمت عملی کی ضرورت

امریکا سے تعلقات پاکستان کے مفادات کی بنیاد پر استوار ہونے چاہییں نہ کہ امریکا کے مفادات کے تابع۔ ہمارے لیے اپنی آزادی اور خودمختاری کی بازیافت اور ملکی سلامتی اور معیشت کے استحکام کے لیے اوّلیں ضرورت امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے اپنے کو علیحدہ کرنا ہے۔ اس کے لیے خارجہ پالیسی اور علاقائی حکمت عملی دونوں کو ازسرنو مرتب کرنا ضروری ہے۔ امریکا سے باہمی بنیادوں پر معاملہ ضرور کیا جائے لیکن فوری طور پر اس جنگ سے نکلنے کی طرف اقدام ضروری ہے۔ نیز ڈرون حملوں کے بارے میں دوٹوک وارننگ کہ اب انھیں ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایئرچیف کے اس اعلان کی روشنی میں کہ سیاسی قیادت اگر فیصلہ کرے ہماری ایئرفورس ان ڈرون حملوں کو ناکام بناسکتی ہے، پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے۔ امریکا اور ناٹو کو سپلائی ڈرون حملوں کے خاتمے اور راہداری کے معقول معاوضے کے ساتھ مشروط کیا جائے۔ ملک دہشت گردی کی جس لہر کی لپیٹ میں آگیا ہے خارجہ پالیسی اور دہشت گردی کی جنگ سے لاتعلقی کا اس پر گہرا اثر پڑے گا۔ لیکن اس کے ساتھ مذاکرات اور مسئلے کے سیاسی حل کی طرف پیش قدمی کی جائے۔ قوم کی دینی اور سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے اور سب کے تعاون سے ان مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ امریکا کی معاشی مدد اور آئی ایم ایف کی زنجیروں سے نجات حاصل کی جائے اور اپنے ملکی وسائل، بیرون ملک پاکستانیوں کے تعاون اور دوست ممالک خصوصیت سے چین اور مسلم ممالک کے مشوروں سے معاشی ترقی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے مناسب حکمت عملی وضع کی جائے۔

اس سلسلے میں ہم اس بات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ نے اپنے مشترک اجلاس میں ۲۲؍اکتوبر کو جو متفقہ قرارداد منظور کی ہے اور جس کی روشنی میں پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کی کمیٹی نے اپریل ۲۰۰۹ء کو جو تفصیلی سفارشات ایک واضح نقشۂ کار کی شکل میں دی ہیں، ان میں نئی پالیسی اور اس پر عمل درآمد کے لیے مؤثر حکمت عملی کے واضح خدوخال موجود ہیں۔ ان کی بنیاد پر قومی اتفاق راے کی قوت سے آزاد خارجہ پالیسی اور خودانحصاری پر مبنی معاشی ترقی اور اجتماعی خوش حالی کا منصوبہ بناکر اس پر جنگی بنیادوں پر عمل ہی میں ہماری نجات ہے۔ اس طرح ہم فوج اور قوم دونوں کو اس آزمایش سے نکال سکیں گے جس میں امریکا کے مفادات کی خدمت میں پرویز مشرف کے دور میں ملک کو جھونک دیا گیا اور زرداری گیلانی دور میں پارلیمنٹ کی قرارداد کے برعکس حالات کو اور بھی دگرگوں کر دیا گیا۔ اس دلدل سے نکلنے کا راستہ آج بھی واضح ہے لیکن اس کے لیے مفادات کی قربانی،  اللہ پر بھروسا اورقوم کو ساتھ لے کر اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے۔


(اس تحریر کا کتابچہ منشورات، منصورہ، لاہور سے دستیاب ہے۔ قیمت: ۱۱ روپے)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بجٹ صرف حکومت کی آمدن و خرچ کا ایک میزانیہ ہی نہیں ہوتا بلکہ حکومتِ وقت کی تمام معاشی اور مالیاتی پالیسیوں اور ان کے مالی تقاضوں کا آئینہ بھی ہوتا ہے، اور اس میں ملک کی معاشی اور مالی صورت حال اور سیاسی حکمت عملی کی پوری تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ بلاشبہہ بجٹ کا کام وسائل کے حصول کے ذرائع کی نشان دہی کرنا اور یہ بتانا ہوتا ہے کہ انھیں کن پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے کس انداز میں استعمال کیا جائے گا۔ اس لیے بجٹ، حکومت ِ وقت کی ایک بنیادی دستاویز ہوتی ہے، جس میں اس کی تمام پالیسیوں کا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔

موجودہ حکومت کی طرفہ کارگزاریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسے اپنے کنبے سے کوئی لائق وزیرخزانہ میسر نہیں آیا۔ پہلے چند مہینے مسلم لیگ (ن) کے جناب اسحاق ڈار اس ذمہ داری پر فائز ہوئے۔ پھر چند ہفتے کے لیے جناب نوید قمر نے جلوہ دکھایا۔ اس کے بعد جناب شوکت ترین مستعار لیے گئے اور اب ڈاکٹر محمد حفیظ شیخ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے، جو اپنی ذاتی قابلیت کے باوصف جنرل پرویز مشرف کی ٹیم کا حصہ رہے ہیں اور صوبہ سندھ کے وزیرخزانہ اور مرکزی حکومت کے وزیر نج کاری کی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اسی طرح حنا ربانی کھر صاحبہ بھی پچھلی اور موجودہ حکومت کا حصہ رہی ہیں۔ گویا ڈھائی سال کے عرصے میں چار وزراے خزانہ کی آمدورفت جاری رہی۔ ہر ایک اپنے ساتھ اپنی من پسند ٹیم لایا اور اپنی پالیسی اور ترجیحات بھی۔ رہا معاملہ حکومت کی معاشی پالیسی کا تو ہر وزیر اور ہر وزارت اپنی اپنی ڈفلی بجانے اور اپنا اپنا راگ الاپنے کا منظر پیش کرتی رہی اور پاکستان کی معیشت کا جو حشر ہوا اس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ  ع

شد پریشاں خواب من از کثرتِ تعبیر ہا

بے سمت معاشی پالیسی

بجٹ تقریر کے حوالے سے عوام الناس میں اب یہ تاثر عام ہے کہ یہ ناقابلِ اعتماد اعدادوشمار اور بے سروپادعووںکا پلندا ہواکرتی ہے۔ اس حوالے سے موجودہ وزیرخزانہ کی تقریر نسبتاً بہتر ہے کہ اس تقریر میں اگرچہ مکمل صداقت نہ تھی لیکن صداقت کی کم از کم کچھ جھلکیاں موجود تھیں۔ تقریر میںوزیرخزانہ نے حالات کا کچھ تجزیہ بھی کیا، اور چھے ایسے نکات بھی دیے جو ان کی نگاہ میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔تاہم، بجٹ تقریر میں ایک بڑی خامی یہ رہی کہ اس میں کسی عام فرد کی طرح مسائل کی نشان دہی تو کی گئی، لیکن مسائل کاکوئی واضح اور قابل عمل حل پیش نہیں کیا گیا، حالانکہ یہ حل پیش کرنا ہی اصل کام اور حکومت کی اصل ذمہ داری ہے۔ اس بجٹ کی سب سے بڑی خامی  یہ ہے کہ اس میں مستقبل کے حوالے سے کسی واضح منزل اور سمت کا تعین قطعی طور پر مفقود ہے ع

منزل ہے کہاں تیری اے لالۂ صحرائی

بجٹ کے حوالے سے قوم اور قوم کے نمایندہ ایوانوں سے ایک سنگین مذاق یہ بھی ہے کہ وزیرِ خزانہ کی تقریر اور حکومت کی طرف سے فراہم کردہ بجٹ دستاویزات میں بڑا فرق ہے ۔وزیرِ خزانہ تو یہ کہہ کر داد وصول کر گئے کہ کفایت شعاری کی غرض سے تنخواہوں کے علاوہ غیرترقیاتی اخراجات کو منجمد کیا جا رہا ہے، لیکن جو تفصیل تحریری طور پر فراہم کی گئی ہے اس میں اس کا کوئی عکس نظر نہیں آتا، بلکہ بجٹ تقریباً ہر مد میں اضافے کی خبر دے رہا ہے۔ اسی طرح سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں ۵۰ فی صد اضافے کا جو اعلان کیا گیا، بجٹ دستاویز میں اس کا اشارہ تک نہیں ہے۔ اس لیے کہ کم از کم اس کی بنا پر یہ ۶۰،۷۰ ارب روپے مرکزی بجٹ میں اور پھراس سے بھی کچھ بڑی رقوم کی فراہمی صوبوں میں دکھائی دینی چاہیے تھی، لیکن بجٹ دستاویز میں یہ کہیں نظر نہیں آتا۔

اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ اور اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل کرنے کے فیصلے کے بعد، یہ پہلا بجٹ ہے جو سامنے آیا ہے۔ اصولی طور پر اگرچہ یہ درست ہے کہ صوبوں کو اختیارات اوروسائل کی منتقلی کے لیے ایک سال کی مدت رکھی گئی ہے، لیکن خود بجٹ کو بھی اس بات کا عکاس ہونا چاہیے تھا ۔ مثال کے طور پر کم از کم ۲۱ ایسے ڈویژنز ہیں جو اَب صوبوں کو منتقل ہوگئے ہیں لیکن ان وزارتوں کے بارے میں اسی طرح کا بجٹ ہے جیسے پہلے تھا۔ پھر ۵۵۰ میں سے ۱۲۵ سرکاری اداروں کو صوبوں کی طرف منتقل ہونا ہے۔وسائل اور اختیارات کی اس منتقلی کا  لائحۂ عمل بجاطور پر اس بجٹ میں نظر آنا چاہیے تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ تقریباً اڑھائی لاکھ سرکاری ملازمین جو مرکزی حکومت کے تحت ہیں، ان کی خدمات صوبہ جات کی طرف منتقل ہونے کے حوالے سے کوئی ابتدائی اقدامات تو نظر آنے ہی چاہییں تھے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ بجٹ سازی کوئی اور کررہا ہے،جس کے علم میں یہ بات آئی ہی نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کیا قانون سازی کررہی ہے۔ حد یہ ہے کہ CTV اور سروسز پرسیلز ٹیکس جواب صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں، بجٹ کی ان دستاویز میں انھیں مرکز کے مشمولہ فنڈ (consolidated fund ) میں ایک آمدنی کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے، حالانکہ اب ان کو صوبوں کے بجٹ میں جانا چاہیے۔ اس لیے یکم جولائی ۲۰۱۰ء کے بعد ان کا مرکزی بجٹ میں اندراج دستور سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ماضی کی حکومت اور ماضی کے مسائل کو بیان کرنا اور کیڑے نکالنا ہر موجودہ حکومت کا مستقل طرزِ عمل رہا ہے۔موجودہ وفاقی حکومت، اقتدار کے تقریباً اڑھائی سال مکمل کر چکی ہے اور اب اس کے پاس نصف عرصہ باقی رہ گیا ہے۔ اس وقت معیشت کی جو بھی صورتِ حال ہے، اس کی ذمہ داری کلی طور پر سابقہ حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ ان اڑھائی برسوں کا حساب موجودہ حکومت کو ہی دینا ہوگا۔ اگرچہ پاکستان میں اندازِ حکمرانی کبھی بھی مثالی نہیں رہا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماضی کے کسی بھی دور میں ہماری معاشی پالیسی اتنی بے ربط اور بے ہنگم نہیں رہی جتنی موجودہ حکومت کے دور میں ہے۔ حکومت کی کوئی واضح سمت نہیں ہے اور ہر وزیر اور ہر شعبہ ایک الگ ہی سمت میں جارہا ہے۔اگرچہ قومی زندگی کاہر شعبہ ہی ’دیکھو اور وقت گزارو‘ (ایڈہاک ازم یا ’ڈنگ ٹپائو) کی پالیسی پر چل رہا ہے، لیکن جو عدم استحکام خاص طور پر وزارتِ خزانہ میں نظر آیا ہے، اس نے یقینا ملک، قوم اور خود حکومت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ کسی مرکزی نظام کی غیر موجودگی میں وزارت کی سطح پر پالیسیوں کے تسلسل پر بہت فرق پڑا ہے۔سوا دو سال میں وزارتِ خزانہ کی قیادت چار بار تبدیل ہوئی ہے اور ملک کے معاشی مسائل اور بھی گھمبیر ہوگئے ہیں۔ حکومت کا حال یہ ہے کہ    ؎

رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھیے تھمے

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

تشویش ناک معاشی صورت حال

وزیر خزانہ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ملک معاشی طور پر بہتری اوراستحکام کی جانب گامزن ہے لیکن حکومت پاکستان کے سالانہ اقتصادی جائزے (اکنامک سروے) میں ملکی معیشت کی سخت پریشان کن صورت سامنے آتی ہے۔ اکنامک سروے میں کم از کم ۲۵ مقامات پر یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ حالیہ معاشی صورتِ حال غیر مستحکم اور ناپایدار ہے۔ وزارتِ خزانہ اور عالمی بنک کے معاشی جائزے کے مطابق غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ محتاط ترین اندازے کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی کا ۴۰ فی صد خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ اگر دو ڈالر (=۱۷۰ روپے) آمدنی روزانہ کو بنیاد بنائیں تو یہ رقم کروڑوں پاکستانیوں کی دسترس سے باہر ہے، اس لیے ۷۶فی صد آبادی غربت کا شکار ہے۔ ان کے برعکس تقریباً ۲۰ فی صد کے پاس ساری دولت ہے اور وہ عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں، جس سے معاشرے کے اندر تصادم، نفرت، تناؤ اورانتہا پسندی کے رجحانات پیداہو رہے ہیں، جب کہ ۸۰ فی صد آبادی کا حال یہ ہے کہ  ع

زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا!

حال ہی میں پاکستان کے حوالے سے ہونے والے سماجی و معاشی جائزے کے مطابق ملک میں ۶ئ۴۸ فی صد آبادی غذا کی کمی کا شکار ہے اورملک کے ۶۱ فی صد اضلاع میں غذائی قلت ہے۔ جس ملک میں یہ صورت حال ہو، حقیقت یہ ہے کہ ان کے حکمرانوں اور ارکینِ پارلیمنٹ کی نیندیں اُڑجانی چاہییں، لیکن مقامِِ حیرت ہے کہ ان کے معاملاتِ زندگی اور سوچ کے انداز میں کوئی فرق ہی نہیں، بلکہ دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ ان کی زندگی کا نقشہ تو کچھ ایسا ہے کہ  ع

ہر روز، روزِ عید ہے اور ہر شب شبِ برات!

پاکستان کی ۶۳ سالہ تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا ہے کہ۲۰۰۹ء اور۲۰۱۰ء کے درمیان صرف ایک سال کی مدت میں ملک میں گندم اورآٹے کے استعمال اور کھپت میں ۱۰ فی صد کمی ہوئی ہے، یعنی لوگوں کو روٹی میسر نہیںہے۔ اس جائزے کے مطابق ایک بڑی تعداد وہ ہے کہ جنھیں ایک وقت کی روٹی بھی بمشکل میسر ہے۔ اس صورت حال کو نظر انداز کرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔

مہنگائی کی صورت حال یہ ہے کہ۲۰۰۹ء میں مہنگائی کی شرح۹ئ۸ فی صد رہی،جو   موجودہ برس میں تشویش ناک حد تک بڑھ کر ۵ئ۱۳ فی صد ہو گئی ہے اور اشیاے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ ۵ئ۱۴ فی صد ہوا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی عوام کی اوسط قوتِ خرید ۲۳ فی صد کم ہوئی ہے۔ستم بالاے ستم یہ ہے کہ موجودہ بجٹ میں سب سے زیادہ کٹوتی ترقیاتی بجٹ میں ہوئی ہے، یعنی ۴۰ فی صد کم کر دیا گیا ہے۔

بجلی اور توانائی کے بحران کے سبب قوم جس پریشانی اور مصیبت میں مبتلا ہے وہ تو اپنی جگہ جوں کی توں موجود ہے ،لیکن اس کا تشویش ناک نتیجہ یہ ہے کہ ملکی پیداوار میں تیزی سے کمی ہوئی ہے۔ گذشتہ دوسال کے عرصے میں ۱۳۳۲ صنعتی کارخانے بند ہوگئے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں ۴۹ ملین افرادلیبر فورس کا حصہ ہیں اور حکومتی اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ دو برس کے دوران حددرجہ بے روزگاروں میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت کے مطابق اس وقت ۳۰ لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔ لیکن اعدادوشمار کے ساتھ تکلیف دہ مذاق یہ کیا گیا ہے کہ جو۵۰ ملین لوگ برسر روزگار دکھائے گئے ہیں، ان میں سے ۴۵ئ۱۴ ملین بغیر تنخواہ کے ملازم ہیں ۔اگر لفظوں کی اس جادوگری کے سحر سے نکل کر دیکھا جائے تو دراصل ایک کروڑ ۷۰ لاکھ ۳۷ ہزار افراد بے روزگار ہیں۔ اس میں ۳۸ فی صد وہ ہیں جو ۱۰ سے ۲۵ سال عمر کے درمیان ہیں۔ یہ بے کاری اور معاشی ظلم ان اسباب و محرکات میں سے ایک ہے، جن کی وجہ سے نوجوانوں میں انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کے رجحانات میںاضافہ ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ بجٹ نے ان حالات کو یکسر نظر انداز کیا ہے۔

پبلک سیکٹر میں۲۶۰ ارب روپے کا خسارہ صرف چھے بڑے اداروں میںہوا ہے۔ جس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ان منافع بخش اداروں کو من پسند اور نااہل افراد کو نوازنے کا ذریعہ بنالیا گیا، جنھوں نے بدنظمی، بداحتیاطی اور اقربا نوازی سے دو سال کے اندر اندر ان اداروں کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، اور اب ان اداروں کو بیچ کھانے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔اس وقت دنیا کو جو معاشی بحران درپیش ہے، اس کی بڑی وجہ نجی اداروں کی آزادانہ اور بلا روک ٹوک پالیسیاں ہیں جس کے نتیجے میں عالمی معیشت میں صرف دو سال میں ۹ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ اس لیے معیشت کو آنکھیں بند کرکے محض منڈی (market) کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑا جاسکتا اور نہ ہرمسئلہ کا حل نج کاری (Privatization) ہی ہے۔ معیشت کے میدان میں حکومت کا ایک مثبت کردار بہت ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اپنے کردار کے ذریعے سے نہ صرف معاشی بڑھوتری کو یقینی بنائے بلکہ قومی مقاصد اور اسٹرے ٹیجک ضروریات کے حصول کو یقینی بنانے کا بھی خیال رکھے۔ اس لیے ہمارا ماڈل نج کاری کے بجاے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ہونا چاہیے۔

قرضوں کا بڑہتا ھوا سنگین بوجھ

قومی معیشت کی ایک نہایت خطرناک شکل اندرونی و بیرونی قرضو ں کی شکل میں نظر آتی ہے۔ ہمارے بیرونی قرضے ۴ہزار ارب روپے ہیں، لیکن ہمارے لیے اس سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ہمارے اندرونی قرضے بھی اب ۴ہزار ارب روپے سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ اس طرح ملک پرقرضوں کا مجموعی بار ساڑھے آٹھ ہزار ارب روپے ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی قوم کو تقریباً ساڑھے چھے سے سات ارب ڈالر مبادلہ کی شکل میں سالانہ بیرونی اقوام اور اداروں کو ادا کرنا پڑ رہا ہے اور اس وقت بجٹ میں اخراجات کی سب سے بڑی مد قرضوںپرسود کی ادایگی پر خرچ ہورہی ہے، جو ۷۵۰ ارب روپے سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔ اگر ہماری قرض خوری اور فاقہ مستی کی کیفیت یہی رہی تو آیندہ اس غریب قوم کے دیے ہوئے ٹیکسوں کی آمدنی کا نصف سے بھی زیادہ صرف قرضوں کی ادایگی کی نذر ہوجائے گا اور بیرونی قرضوں کوادا کرنے کے لیے مزید نئے قرضے لینے ہوں گے۔

اس خطرناک ترین صورتِ حال میں بھی حکومت کے پاس بظاہر یہی ایک حل ہے کہ مزید قرض حاصل کر کے پہلے سے واجب الادا قرض ادا کر دیا جائے۔ یہ معاشی خودکشی کا راستہ ہے۔ اس بجٹ میں کوئی ایسا اشارہ نہیں ملتا کہ خود انحصاری بھی ہماری ترجیحات میں کہیں شامل ہے۔معلوم ہوتا ہے اپنی معاشی خودمختاری کھو دینے کے بعد اب ہم اپنی سیاسی خود مختاری کا سودا بھی کرنے پر تُلے بیٹھے ہیں۔

’دہشت گردی کے نام پر امریکی جنگ‘ میں امریکا نے ہمیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے، جس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگانا بھی مشکل ہے۔ شماریاتی جائزے کے مطابق ملک کا صرف معاشی نقصان ہی۴۳ ارب ڈالر ہے، یعنی ۳ہزار ۷ سو ارب روپے جو ہمارے اس سال کے پورے بجٹ سے بھی ۲۵ فی صد زیادہ ہے۔ بیرونی ممالک سے پاکستان کو صرف ۱۵ارب ۵۰ کروڑ ڈالر ملے ہیں، جن میں سے ۱۰ ارب ڈالر سروس چارجز کی مد میں ہیں۔ اس طرح درحقیقت پاکستان کو اس عظیم، سیاسی، سماجی اور معاشی نقصان کے بدلے صرف ساڑھے پانچ ارب ڈالر ملے ہیں۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ سرکاری اعداد و شمار کی روشنی میں اس ملک کے غریب عوام نے امریکا کی ہوس کے لیے ۳۷ ارب ڈالر کا بوجھ اٹھایا ہے، جس کے نتیجے میں مسلمانوں ہی کا خون بھی بہایا گیاہے۔ہم نے اپنے ۱۳۰۰ فوجی اور۳۵۰۰ سویلین امریکا کی راہ میں قربان کیے ہیں۔ ہمارے ۳ہزار فوجیوں اور ۱۲ہزار عام شہریوں نے جسمانی زخم اٹھائے ہیں، جب کہ روح تو ہر فرد کی زخمی ہے۔اس کے باوجود امریکا کے دبائو میں وزیرستان، پنجاب، کراچی اور کوئٹہ میں بھی فوجی کارروائی شروع کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ جب تک ہم آنکھیں کھول کر پاکستان کے مفاد میں آزاد معاشی و سیاسی حکمتِ عملی وضع نہیں کریں گے، حالات میں مثبت تبدیلی نہیں آئے گی۔ پارلیمنٹ نے یہی بات اپنی ۲۲؍اکتوبر۲۰۰۸ء کی قرارداد میں واضح الفاظ میں اور متفقہ طور پر کہی تھی لیکن اس پر کوئی عمل نہیں ہورہا۔

شاہ خرچیاں اور طفل تسلیاں

ٰٰٓٓایک طرف تو یہ روح فرسا حقائق ہیں اور دوسری طرف شاہ خرچیوں کا یہ عالم ہے کہ ۲۰۰۹-۲۰۱۰ء کے مالی سال میں ۳۵۰ ارب روپے طے شدہ بجٹ سے زیادہ خرچ کیے گئے ہیں۔ لاکھوں نہیں، اربوں روپے اشتہار بازی کی نذر کیے گئے ہیں۔اربوں روپے وی آئی پی کلچر کر فروغ دینے اور اپنے مکانات کی تعمیر اور تزئین و آرایش پر خرچ کیے گئے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ حکومت کے صواب دیدی اختیارات ختم کیے جائیں۔اپنے منظورکردہ بجٹ پر عمل درآمد کروانا بھی پارلیمنٹ کا ہی کام ہونا چاہیے۔ کسی بھی شعبے یا وزارت کو بجٹ سے زیادہ وسائل درکار ہوں تو پارلیمنٹ اس کی منظوری دے۔اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انتظامیہ کے اس اختیار کو فی الفور ختم کیا جائے کہ وہ جب چاہے، اور جس مد میں چاہے، پارلیمنٹ کے منظورشدہ بجٹ سے زیادہ رقوم خرچ کرسکے۔ کوئی خرچ پارلیمنٹ کی پیشگی منظوری کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم نے سال کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ ان کے دفتر کا خرچ ۴۰فی صد کم کیا جائے گا لیکن بجٹ کی جو دستاویزات پیش کی گئی ہیں ،ان میں یہ خرچ۴۰ فی صد کم ہونے کے بجاے ۲۰ فی صد بڑھ گیا ہے اور اگلے سال اس میں مزید ۱۴فی صد اضافہ کیا جا رہا ہے۔اس وقت بہت ضروری ہے کہ صدر، وزیرِ اعظم اور اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں کمی کی جائے ۔ جب تک اہلِ ثروت کو اللّوں تللّوں کی کھلی چھوٹ دی جاتی رہے گی ہم عام آدمی کی مشکلات کو نہیں سمجھ سکیں گے۔ صدر و وزیرِ اعظم کے بیرونی دوروںاور دعوتوں سمیت اسراف اور فضول کرچی کی تمام عادات کو ترک کیا جائے۔یہ قاعدہ بنا دیا جائے کہ عام حالات میں پانچ افراد اور غیر معمولی حالات میں زیادہ سے زیادہ ۱۰ افراد کسی بھی بیرونی دورے پر جائیں گے۔ بنکوں اور انشورنس کے اداروں نے بے تحاشا منافع کمایا ہے، ان پر زیادہ ٹیکس لاگو کیے جائیں۔ سینیٹ بار بار اس کی طرف متوجہ کرتا رہا ہے کہ مالیاتی اداروں پر کم از کم ۴۰ فی صد کارپوریٹ ٹیکس لگنا چاہیے۔ اسی طریقے سے ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر کو حکومتی وسائل پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے ۔ جب تک حکومتی دعوے یا خواب جو وزیرخزانہ نے دکھائے ہیں،انھیں پورا کرنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے جائیں گے ، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ہدایات کی روشنی میں ہم macro معاشی اشاریوں میں استحکام لانے کے لیے کوشاں ہیں، لیکن جب تک ہماری شرحِ پیداوار میں اضافہ نہ ہو اس وقت تک حقیقی استحکام اور ترقی ممکن نہیں۔ اس لیے جب تک شرحِ پیداوار میں اضافے، غربت میں کمی اور روزگار میں اضافہ کی حکمتِ عملی اختیار نہیں کی جائے گی، ہم اپنی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار نہیں کرسکیں گے۔

حکومت نے ہمیںسال رواں کے باب میں ۱ئ۴ فی صد شرحِ نموکی خوش خبری سنائی ہے، جو محض کاغذی کاری گری اور سراسر دھوکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ۱ئ۴فی صد شرحِ ترقی ظاہر کرنے کے لیے سب سے پہلے ۰۸-۲۰۰۷ء کی شرحِ ترقی کو کم کیا گیا ہے۔ اسے پہلے ۱ئ۴ سے ۷ئ۳ اور پھر ۲ئ۳ کیا گیا۔ اسی طرح ۰۹-۲۰۰۸ء کے اعداد وشمار کو بھی تبدیل کیا گیا۔ ان کو ۲ کے بجاے ۲ئ۱فی صد پر لے جایا گیا۔ اس تمام کاغذی ’کارناموں‘ کے بعد حالیہ سال کی شرحِ نمو کو۳ فی صد بڑھا کر۱ئ۴ فی صد قرار دیا گیا، جب کہ حقیقت میں یہ۳ فی صد بھی نہیں ہے۔ لطف کی بات ہے کہ اس دعوے کے ساتھ جو ۵ جون کی تقریر میں کیا گیا ہے، دوسری حکومتی دستاویزات بالکل دوسری تصویر پیش کر رہی ہیں۔

خود پاکستان نے ۳ مئی۲۰۱۰ء کو آئی ایم ایف کوجو سرکاری یادداشت پیش کی ہے اس میں یہ توقع ظاہر کی گئی تھی کہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی حقیقی شرحِ نمو ۳ فی صد تک ہوجانے کا امکان ہے اور جون ۲۰۱۰ء میں، یعنی بجٹ کے اعلان سے صرف چند دن پہلے خود آئی ایم ایف کی پاکستان پر رپورٹ میںبھی متوقع شرح نمو کو ۳فی صد دکھایاگیاہے۔ تمام عالمی رپورٹوں میں یہی بات دہرائی گئی ہے۔ آخر یہ دودن میں کیا ماجرا ہوگیا ہے کہ۳ فی صد کی متوقع شرح سے بڑھ کر یہ ۱ئ۴ فی صد ہو گئی ہے، حالانکہ توانائی کے بحران کے نتیجے میں جی ڈی پی میں ۲ فی صد کمی ہوئی ہے۔ نجی سرمایہ کاری میں ۵ئ۳ فی صد اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں ۴۶فی صد کمی ہوئی ہے۔ ہماری حکومتیں جب تک خودفریبی اور قوم کو طفل تسلیاں دینے کی روش سے باز آکر حقائق کا سامنا نہیں کریں گی، ہم اس دلدل سے نہیں نکل سکیں گے۔

استحصالی مالیاتی نظام

قومی زندگی کے چار بنیادی شعبہ جات تعلیم ، صحت ،تحقیق و ترقی اور انسانی وسائل کی ترقی، معاشی ترقی اور منصفانہ معاشرے کے قیام کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ ان چاروں کے حوالے سے حالیہ بجٹ اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کسی مثبت پیش رفت میں قطعی ناکام نظر آتا ہے۔ جب تک ان کے لیے وسائل فراہم نہیں کیے جائیں گے، اس وقت تک معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ہمیں ہر سال ۷ سے۸ ارب ڈالر اس ذریعے سے وصول ہو رہے ہیں۔مقامی مارکیٹ میں اس رقم کے آنے سے طلب کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے ہماری پیداوار ناکافی ہے۔ اس کی وجہ سے افراطِ زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔عام پیداواری صلاحیت میں کمی کے ساتھ ساتھ زراعت کے شعبے میں بھی ملک خسارے کا شکار ہے۔ توانائی کے بحران نے زرعی ضروریات (inputs) کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا ہے اور اس وقت ہم چھوٹی اور بڑی،  تمام فصلوں کی پیداوار میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ زرعی شعبے کے حوالے سے جو چند مثبت اعداد و شمار  پیش کیے جاتے ہیں وہ صرف اس وجہ سے ہیں کہ مویشیوں کی افزایش (لائیو سٹاک) کو بھی اسی ضمن میں گِنا جاتا ہے، جس میں کارکردگی نسبتاً بہتر رہی ہے۔ تاہم لائیو سٹاک کے شعبے پر بھی مزید توجہ کی ضرورت ہے۔

پاکستانی معیشت کے تمام تر تجزیوں کا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہمیں اپنی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا جو کہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک سرمایہ کاری اور بچت کے رجحان میں اضافہ نہ ہو، لیکن موجودہ استحصالی پالیسیوں کے ساتھ ایسا ممکن نہیں ہے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان نے جس شرحِ سود کو بنیادی شرح (base-line) مقرر کیا ہے، وہ ساڑھے بارہ فی صد ہے۔مارکیٹ میں یہی شرحِ سود ۱۵ سے ۱۸ فی صد ہو جاتی ہے۔ہم ہر طرح کے سود کے شدید مخالف ہیں، لیکن ہمارا مالیاتی نظام بنیادی طور پر اس استحصالی نظام کو مزید استحصال کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان کے مرکزی بنک کے ساڑھے بارہ فی صد شرحِ سود کے مقابلے میں امریکا میں شرحِ سود ۲۵ئ۰ فی صد، برطانیہ میں ۵۰ئ۰ فی صد،بقیہ یورپ میں ایک فی صد، جاپان میں ۱ئ۰ فی صد، کینیڈا میں ۲۳ئ۰ فی صد، آسٹریلیا میں ۵ئ۴ فی صداور چین میں۳ئ۵فی صد ہے۔ خود ہمارے خطے میں بھارت میں شرحِ سود ۲۵ئ۵فی صد، ملائشیا میں ۲ فی صد، انڈونیشیا میں ۲ئ۲ فی صد، فلپائن میں ۵ئ۶ فی صد، تھائی لینڈ میں ۴ فی صد، نیوزی لینڈ میں ۲ئ۱ فی صد ہے۔ جب سرمایہ کاری مہنگی اور مشکل ہو، مراعات موجود نہ ہوں، ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کے لیے وسائل فراہم نہ کیے جائیں اور سبسڈیز واپس لے لی جائیں تو پیداوار میں اضافہ کیسے ہو سکتا ہے۔

محصول اضافہ قدر (VAT)نافذ کرنے کا فیصلہ حکومت نے آئی ایم ایف سے اپنے ایک معاہدے میں مارچ ۲۰۰۹ء میں کر لیاتھا (ویلیو ایڈڈ ٹیکس، ایک عمومی ٹیکس ہے جو ہر طرح کی اشیا اور خدمات پر، بنیادی پیداوار سے لے کر آخری صارف تک لگایا جاتا ہے۔ یہ ایک بالواسطہ ٹیکس ہے، جس کی زد ہرسطح پر پڑتی ہے) لیکن اس حوالے سے کوئی بنیادی اورضروری اقدامات نہیں کیے گئے جس سے قوم کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ پھر اپنے ٹیکس جمع کرنے کے نظام کو بھی اس قابل نہیں بنایا گیا کہ اسی ذریعے سے کسی حقیقی فائدے کی توقع رکھی جاتی۔ اس وقت پاکستان کے عوام پر لاگو بالواسطہ ٹیکس ۶۲ فی صد ہیں، جب کہ بلاواسطہ ٹیکس صرف ۳۸ فی صد ہیں۔

ویٹ ایک رجعی ٹیکس (regressive) ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس سکیم میں دولت مند طبقے کے بجاے عام افراد کو ٹیکس کا ہدف رکھا گیا ہے جو سراسر استحصال ہے۔ جب تک اس طرزِ عمل کو بدلا نہیں جائے گا، یہ نظام ٹھیک نہیں ہوگا۔ اسی طرح حکومت نے اس بجٹ میں سیلز ٹیکس میں ایک فی صد اضافہ کر دیا ہے، گویا موجودہ حکومت کے آنے کے بعد جنرل سیلز ٹیکس میں ۲ فی صد اضافہ ہواہے۔ اس ٹیکس کا سارا بوجھ تو ملک کے ۸۰ فی صد عوام پر ہے اور اس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے ۔ اس ٹیکس سے جو آمدنی ہوگی، اس سے کہیں زیادہ آمدنی صرف درآمدات پر ٹیکس میں دانستہ نظراندازی اور ہیرپھیر کا رویہ (evasion) اختیار کیا جا رہا ہے، اسے روک کر ہی کی جاسکتی ہے۔ حالیہ معاشی سروے کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف درآمدی مال میں ۱۰۰سے ۳۰۰ارب روپے سالانہ کا ٹیکس چوری کیا جا رہا ہے۔ ان امرا سے ٹیکس وصول کرنے کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔

بڑہتی ھوئی کرپشن

کرپشن اور بدعنوانی کا حال یہ ہے کہ ٹیکس جمع کرنے والے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ہونے والی کرپشن کا اندازہ ۲۰۰ سے ۲۵۰ارب روپے سالانہ کا ہے، جب بعض آزاد تجزیہ نگاروں کے اندازے کے مطابق ہر سال ۶۰۰سے۷۰۰ ارب روپے ٹیکس چوری کیا جا رہا ہے۔ اگردستیاب وسائل کو درست انداز میں حاصل کرلیں اور کرپشن پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کی جائے، تو ملک کو قرض کی لعنت سے آزاد کرایا جا سکتا ہے۔عالمی بنک کے مطابق پاکستان میں گذشتہ ۱۰برسوں میں کرپشن ۴۰۰فی صد بڑھی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق صرف پچھلے ایک سال میں کرپشن میں ۱۰۰ فی صد اضافہ ہوا ہے۔ اس سب کے باوجود حکومت اب تک کرپشن کے خلاف کسی قسم کی قانون سازی میں ناکام رہی ہے بلکہ جو قانون زیرِغور ہے وہ دراصل کرپشن کی سرپرستی اور بدعنوان عناصر کی حوصلہ افزائی کرنے کا فارمولا ہے۔ بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف عوام اور میڈیا چیخ رہے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مَس نہیں ہو رہی۔ دُور دُور تک گُڈ گورننس کا نام و نشان تک نظر نہیں آتا۔ مالیاتی نظم و ضبط کا کہیں وجود نہیں ہے۔ملکی سلامتی و خود مختاری تک داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ان حالات میں وفاقی بجٹ مایوس کن ہے۔

حکومت کی طرف سے کم از کم تنخواہ ۶ ہزار سے بڑھا کر ۷ہزارروپے کرنے کا اعلان بظاہر خوش کُن، لیکن درحقیقت امتیازانہ ہے۔ اگر گریڈ ایک سے گریڈ ۲۲ کے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ۵۰ فی صد اضافہ کیا جا رہا ہے تو کم از کم تنخواہ میں بھی اسی تناسب سے اضافہ کیوں نہیں کیا جا رہا۔پھر تمام ملازمین کے لیے ۵۰ فی صد کا اضافہ بلا جواز ہے۔ پہلے گریڈ سے ۱۶ویں گریڈ تک کے سرکاری ملازمین کو ۶۰فی صد اور گریڈ ۱۷ اور اس سے بالائی گریڈ زکو ۴۰ فی صد اضافہ ملنا چاہیے تاکہ معاشی ناہمواری میں کمی ہو۔ اگر گریڈ ۱۷ سے گریڈ۲۲ تک کے ملازمین کو۵۰فی صد دینا ضروری ہو، جب بھی ضروری ہے کہ پہلے گریڈ ایک سے ۱۶ویں گریڈ تک کے ملازمین کو     ۶۰ سے۶۵ فی صد تک کا اضافہ دیا جائے۔ اسی طرح گیس پر۵ فی صد اضافی سرچارج بھی قطعاً بلا جواز ہے۔ اسے ختم ہونا چاہیے اور سیلزٹیکس بھی ایک فی صدی کا مزید اضافہ ایک ظالمانہ اقدام ہے اور اسے بھی ختم کیا جانا چاہیے۔

آئی ایم ایف سے نجات کی ضرورت

اصولی طور پر یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ جو ملک بھی آئی ایم ایف کی گرفت میں آیا ہے،  وہ کبھی ترقی نہیں کرسکا۔ آئی ایم ایف کا اصل کام ملک کی ادایگیوں کے توازن میں مدد کرنا تھا جسے اب قرض لینے والے ملک کی پوری معاشی پالیسی اور خصوصیت سے بڑے پیمانے پر استحکامی پالیسی (macro stabilization) کے نام پر ایسی پابندیوں کے شکنجے میں کسنا ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں ضروریاتِ زندگی پیدا کرنے والے شعبوں کی مدد (subsidy) کو ختم کرنے اور تمام خدمات کی قیمتوں کو بڑھانے اور منڈی کی حکمرانی قائم کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔

نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات جوزف سٹک لٹز(Joseph Sticlets) نے دنیا کے ۴۰سے زیادہ ممالک کی معیشت پر آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے اثرات کا جائزہ لیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کسی ایک ملک میں بھی اس کی مسلط کردہ پالیسیوں کے نتیجے میں معاشی ترقی اور عوام کی خوش حالی حاصل نہیں ہوسکی۔

افسوس کا مقام ہے کہ ہم انھی ناکام پالیسیوں کو اپنے ملک پر ایک بار پھر مسلط کرنے کی حماقت کر رہے ہیں۔ ملک کی معاشی ترقی اور سیاسی آزادی کے لیے ضروری ہے کہ آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات حاصل کی جائے لیکن اس حکومت نے جناب شوکت ترین کے دور میں صدر  آصف علی زرداری کے احکام کے مطابق جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ معاشی تباہی اور مسلسل قرضوں کے بار میں اضافے کا راستے ہے اور یہ قرض بھی اس لیے مل رہے ہیں کہ ہم امریکا کے حکم پر اپنی خارجہ پالیسی اور نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک قبیح کردار ادا کر رہے ہیں۔

اگر ہم آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی جسارت کریں گے تو آئی ایم ایف اسی دن لال جھنڈی دکھا دے گا اور ہم ایک عظیم تر بحران کی گرفت میں ہوںگے۔ کاش! ہمارے حکمران ہوش کے ناخن لیں اوراس تباہ کن پالیسی کوتبدیل کریں۔

اس ملک میں وسائل کی کمی نہیں۔ اصل کمی پالیسی کے صحیح وژن، اپنی قوم اور اپنے وسائل پر بھروسا، بُری حکمرانی (bad governance) اور کرپشن کا خاتمہ اور معاشی ترقی کا وہ آہنگ اختیار کرنا ہے جو ترقی کی رفتار کے ساتھ عوام کی خوش حالی، دولت کی منصفانہ تقسیم اور ملک کی پوری آبادی کو صحت مند معاشی جدوجہد میں شریک کرنے کا ذریعہ بنے۔ جب تک معاشی ترقی کا مثالیہ (paradigm) تبدیل نہیں ہوگا ہم ایک بحران کے بعد دوسرے بحران کا شکار ہوتے رہیں گے اور عوام کی زندگی اجیرن رہے گی۔ موجودہ حکومت معیشت کی صحیح سمت میں رہنمائی کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہے جس کے نتیجے میں عوام کی تکالیف اور معاشی مسائل بڑھتے جارہے ہیں اور اندر ہی اندر وہ لاوا پک رہا ہے جو پورے نظام کو خدانخواستہ ایک دھماکے سے اُڑانے کا باعث ہوسکتا ہے۔ ہم پوری دردمندی سے ملک کی پوری قیادت سے اپیل کریں گے کہ معاشی خودکشی اور سیاسی محکومی کے اس راستے کو ترک کریں، صحیح اہداف کا تعین کریں، اپنی ترجیحات کو ازسرنو ترتیب دیں، عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں، ترقی کا رُخ اور وسائل کے استعمال کی سمت کو تبدیل کریں، اور پاکستان میں اسلام کے دیے ہوئے معاشی اصولوں اور اقدار کی روشنی میں پالیسی سازی اور زندگی کے ہر شعبے کی صورت گری کریں۔ پاکستان کی بقا، نجات اور ترقی کا یہ واحد راستہ ہے۔ ابھی موقع ہے کہ ہم اپنی پالیسی، اپنے رویوں اور اپنے وسائل کے استعمال کے طریقوں کو تبدیل کریں۔ اس صورت میں ہم چند سال میں ملک کی قسمت کو بدل سکتے ہیں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کسی ملک میں جمہوری نظام کے قیام اور استحکام کے لیے اوّلین شرط یہ ہے کہ وہاں انتخابات آزاد اور شفاف طریقے سے، اور مقررہ وقت پر ہوں۔ لیکن اس سے بڑی مبالغہ آمیزی بلکہ خودفریبی ممکن نہیں کہ محض انتخابات کو جمہوریت کے لیے کافی سمجھ لیا جائے۔ پھر ’عوامی عدالت‘ کے گمراہ کن نعرے کا سہارا لے کر یہ دعویٰ کیا جائے کہ: ’’انتخاب جیتنے کے بعد حکمرانوں کو اپنی من مانی کا کُلی اختیار حاصل ہوگیا ہے، اور ہرقیمت پر انھیں ایک متعین مدت کے لیے حکمرانی کے غیرمحدود اختیارات حاصل ہوگئے ہیں‘‘۔ ایسی سوچ نہ تو جمہوری ہے اور نہ دیانت و شائستگی کی عکاس۔

جمہوریت کی اصل بنیاد: قانون کی حکمرانی، مسلسل مشاورت کا نظام اور ہرقدم پر دستور، قانون، پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے جواب دہی کے اصولوں پر قائم ہے۔ خصوصیت سے جن ممالک میں تحریری دستور ہے، ان کے بارے میں تو اس معاملے میں دو آرا ممکن نہیں کہ دستور ہی مملکت کا اساسی قانون ہے اور ریاست کا ہر ادارہ دستور کی تخلیق (creation) اور دستور کے مقرر کردہ حدود کا پابند اور اختیارات کا امین ہے۔

یہ عوام کا حق ہے اور ان کی ذمہ داری بھی، کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے پارلیمنٹ کا انتخاب کریں اور ارکانِ پارلیمنٹ اس دستور کی حدود میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ ریاست کے تمام ادارے بشمول پارلیمنٹ، انتظامیہ، عدلیہ، فوج اور ذرائع ابلاغ اپنے اپنے دائرے میں پوری آزادی، ذمہ داری اور جواب دہی کے ساتھ اپنا منصبی کردار ادا کریں۔ پارلیمنٹ کا کام یہ ہے کہ وہ قانون سازی، ملک کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کی صورت گری، انتظامیہ کا انتخاب اوراس کی کارکردگی کی نگرانی کرے۔ اسی طرح انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی پاس داری اور پالیسی سازی کے ساتھ، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے فیصلوں کی مکمل تنفیذ کا اہتمام کرے۔ عدلیہ انصاف کی فراہمی، قانون پر عمل درآمد، اور دستور اور قانون کی تعبیر وتشریح کا فریضہ انجام دے، نیز عوام اور تمام اداروں کے بنیادی حقوق کی حفاظت اور نگہبانی کی ذمہ دار ہو۔ میڈیا کی آزادی اور بنیادی حقوق کی ضمانت ہی وہ ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں جمہوریت پھل پھول سکتی ہے۔

ایک مہذب معاشرے میں کسی ایک ادارے کی دوسرے پر بالادستی کوئی مسئلہ نہیں ہوتی، بلکہ دستور کی بالادستی کی حدود میں ہر ادارے کو اپنا اپنا وظیفہ، آزادی اور ذمہ داری سے اداکرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔ اس تناظر میں موجودہ وفاقی حکومت نے جو طریق کار اپنایا ہے، وہ جمہوریت کے مستقبل کے لیے گوناگوں مشکلات اور خطرات کو جنم دے رہا ہے۔ اس لیے یہ بے حد ضروری ہے کہ ملک کی تمام جمہوری قوتیں ہوش مندی کا مظاہرہ کریں اور دستور کی پاس داری اور جمہوریت کے حقیقی فروغ کے لیے سینہ سپر ہوجائیں کہ اس نازک وقت میں معمولی سی لغزش بھی بڑے بھیانک اور خطرناک نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ گویا  ع

یک لحظہ غافل گشتم و صدسالہ راہم دور شد

سیاسی منظرنامہ

جنرل پرویز مشرف کا نوسالہ دورِ اقتدار (۱۹۹۹ئ-۲۰۰۸ئ) پاکستان کی تاریخ کا تاریک ترین دور ہے۔ اس زمانے میں جمہوریت کے ہراصول کو بڑی بے دردی سے پامال کیا گیا۔ دستور کی شکل بگاڑ دی گئی اور تمام دستوری و آئینی اداروں کو اپنی اپنی قانونی حدود میں کام کرنے کے مواقع سے محروم کر دیا گیا۔ فوج کی قوت کے ناجائز استعمال کے ذریعے شخصی آمریت کا نظام قائم کیا گیا۔ پارلیمنٹ، عدلیہ اور معاشرے کے اجتماعی اداروں کو غیرمؤثر کردیا گیا۔ فیڈریشن کے مسلّمہ اصولوں کے برعکس ایک طرز کا وحدانی نظام ملک پر مسلط کردیا گیا۔ دو صوبوں میں فوجی آپریشن کے ذریعے دستوری انتظام اور وسیع علاقوں کے امن و سکون کو درہم برہم کر دیا گیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ  ایک طرف پاکستان کے نظریاتی، تہذیبی اور اخلاقی تشخص کو تباہ و برباد کیا گیا، تو دوسری طرف امریکا کی محکومی کا وہ راستہ اختیار کیا گیا جس کے نتیجے میں سیاست، معیشت، ثقافت، تعلیم، غرض زندگی کا ہر شعبہ امریکا اور اس کے کارپردازوں کی گرفت میں آگیا۔ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر امریکی شعلہ باری نے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ امریکی حکام اور سفارت کار ہرمعاملے میں دخیل اور ہرپالیسی پر اثرانداز ہوگئے اور قوم عملاً اپنی آزادی سے محروم ہوگئی، نیز  سالہا سال سے فوج اور قوم کے درمیان اعتماد اور محبت کا جو رشتہ تھا، اسے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ معاشی اعتبار سے بھی ملک ایسی صورت حال سے دوچار ہوگیا جس میں ترقی کا عمل منجمدہوکر رہ گیا۔ مالی نقصانات ۴۵سے ۵۰ بلین ڈالر کی حدوں کو چھونے لگے اور ملک بیرونی اور ملکی قرض کے پہاڑ تلے دبتا ہی چلاگیا۔ ان حالات میں طاقت کے نشے میں مست جنرل پرویز مشرف نے ۹مارچ ۲۰۰۷ء اور پھر ۳نومبر ۲۰۰۷ء کو ملک کی اعلیٰ عدلیہ پر بھرپور وار کیے، اور اس زعم پر کیے کہ وہ بلاشرکت غیرے حاکمِ مطلق ہے اور ہر ادارے کو اپنی مٹھی میں لے کر اپنے لامتناہی اقتدار کو مستحکم کرسکتا ہے، مگر اللہ کا منصوبہ کچھ اور تھا اور چیف جسٹس، اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان، ملک کی وکلابرادری، سیاسی کارکن، سول سوسائٹی اور میڈیا کے پُرعزم کارکنوں کی عوامی تحریک نے حالات کا رُخ تبدیل کر دیا۔

جنرل پرویز مشرف نے ایک آخری وار، سیاسی قوتوں کو تقسیم کرنے، بدعنوانیوں اور کرپشن کی دھلائی (laundering) کے لیے این آر او کی شکل میں کیا۔ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کو اپنے ساتھ ملا کر شراکت ِاقتدار کا ایک نیا بندوبست کرنے کی کوشش کی۔ مئی ۲۰۰۶ء میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ایک اہم معاہدہ ’میثاقِ جمہوریت‘ کی شکل میں کیا تھا، جسے جمہوری جدوجہد کی تاریخ میں ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا تھا۔ اس کے ذریعے ان دو بڑی جماعتوں نے نہ صرف یہ کہ ماضی میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا بلکہ آیندہ کے لیے ایک جمہوری لائحہ عمل (روڈمیپ) قوم کو دینے کی کوشش کی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اور جمہوریت کی طرف سفر کے باب میں یہ دستاویز چند جزوی کمزوریوں کے باوجود، ایک بڑا مثبت قدم تھی۔ اس میثاق میں ان دونوں جماعتوں نے خود آپس میں اور پوری قوم سے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ آیندہ ان میں سے کوئی بھی فوجی طالع آزمائوں سے کسی طرح کا معاملہ نہیں کرے گا، اختلافِ راے کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کریں گے اور ملک میں حقیقی جمہوریت، یعنی قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق کی پاس داری، دستور کی ۱۹۹۹ء کی شکل میں بحالی، آزاد اور شفاف انتخابات اور عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کریں گے۔

حالات کی ستم ظریفی ہے کہ ادھر یہ معاہدہ ہو رہا تھا اور دوسری طرف جنرل پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان خفیہ ملاقاتوں میں شراکتِ اقتدار کے نئے شاطرانہ انتظام کے تانے بانے ’این آر او‘ کی شکل میں مرتب کیے جا رہے تھے۔ اس انتظام میں امریکا اور برطانیہ دونوں کی حکمران قیادتیں شریک اور ضامن تھیں۔ اس سیاسی بندوبست کو آخری مراحل تک خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی، لیکن بالآخر بلی تھیلے سے باہر آگئی۔ اب تو بے نظیر بھٹو صاحبہ کے قتل کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے کمیشن کی رپورٹ میں ہرچیز بہت ہی صاف لفظوں میں ساری دنیا کے سامنے رکھ دی گئی ہے۔ اس داستان سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے ’میثاقِ جمہوریت‘ کی کھلی خلاف ورزی کی اور جنرل مشرف کے ساتھ اشتراکِ اقتدار کا بندوبست کیا، جسے تاریخ نے درہم برہم کردیا۔ انجامِ کار پیپلزپارٹی پر سیاسی بے اعتمادی اور اصول فروشی کا ایسا دھبّا لگ گیا،جسے مٹایا نہیں جاسکے گا۔

اس پس منظر میں ۱۸ فروری ۲۰۰۸ء کے انتخابات ہوئے، جن میں عوام نے ایک طرف جنرل پرویز مشرف اور اس کے سیاسی حلیفوں کو یکسر مسترد کر دیا۔ دوسری طرف بنیادی تبدیلی کی  توقع پر سیاسی جماعتوں کو اس طرح ووٹ دیا کہ کوئی ایک جماعت واضح اکثریت میں نہ آسکی۔  یوں سیاسی جماعتوں کے پاس مخلوط حکومت کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ رہا۔ شروع میں ایک بار پھر میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنے والی جماعتوں نے مل کر حکومت قائم کرنے کی کوشش کی مگر نت نئی وعدہ خلافیوں اور سیاسی چال بازیوں سے ساجھے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ گئی۔ یہاں سے مفادپرستی کی سیاست کا نیا دور شروع ہوگیا۔ تمام ہی سیاسی جماعتوں نے، بشمول ان جماعتوں کے جنھوں نے اپنے اصولی موقف کی وجہ سے انتخابات میں شرکت نہیں کی تھی، مگر سب یہ چاہتے تھے کہ آمریت سے نجات، فوج کی سیاست میں عدم مداخلت اور نئے جمہوری سفر کی پیش رفت کی جائے۔ جس کی منزل دستور اور قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، پارلیمنٹ کی بالادستی، بنیادی حقوق کی پاس داری، سماجی انصاف اور معاشی خوش حالی کا حصول ہو۔ اس کے لیے اختلافات کی آگ کو ٹھنڈا کیا جائے اور قومی یک جہتی کی فضا پیدا کی جائے۔ جو بھی حکومت اس جمہوری دور کے آغاز میں قائم ہوگئی، اسے کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ مشترکہ نکات میں تعاون کی راہیں تلاش کی جائیں اور انھیں کشادہ بھی کیا جائے، تاکہ ملک میں حقیقی جمہوریت کی طرف پیش رفت کا باب کھل سکے۔

یہی وجہ تھی کہ وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر سب جماعتوں نے اتفاق راے سے جناب سید یوسف رضا گیلانی کی تائید کی اور ۲۲؍اکتوبر ۲۰۰۸ء کو پارلیمنٹ نے آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل، قومی سلامتی کے نئے مثالیہ (paradigm) کی تشکیل اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی کے متفقہ خطوط مرتب کیے۔ پھر اسی اسپرٹ میں تمام جماعتوں نے مکمل اتفاق راے سے دستور کو ۱۹۹۹ء کی صورت سے قریب ترین شکل میں بحال کرنے کے لیے اٹھارھویں دستوری ترمیم تیار کی اور اسے متفقہ طور پر منظور کیا۔

جمھوریت کا مستقبل اور خدشات

گذشتہ ۲۷ مہینوں میں یہ مثبت پیش رفت ہوئی، لیکن ہمیں بہت دکھ سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ مرکز میں جو حکومت اس زمانے میں برسرِاقتدار رہی ہے، اس نے یکسوئی اور اصول پرستی کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ خصوصیت سے پیپلزپارٹی اور اس میں بھی جناب آصف علی زرداری اور ان کے منظورِنظر گروہ نے ایک متوازی حکمت عملی پر عمل کیا۔ اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کے لیے عوام کے مینڈیٹ اور پارلیمنٹ کے متفقہ موقف کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے جو راستہ اختیار کیا، اس نے جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی پر چلنے کے مواقع سے محروم کر دیا۔ نتیجہ یہ سامنے آیا کہ ملک کو اداروں اور سیاسی اور دینی قوتوں کے درمیان کش مکش، ٹکرائو اور تصادم کی راہ پر ڈال دیا گیا۔ اس سلسلے میں جو رجحانات بہت کھل کر سامنے آگئے ہیں، ان میں سے اہم ترین یہ ہیں:

مفاھمت کا نام اور مفادات کا تحفظ

مفاہمت کے نام پر صرف مفادات کے تحفظ کا کھیل کھیلا گیا اور جو وعدے عوام سے کیے گئے تھے، ان سے سوچے سمجھے انداز میں انحراف کا راستہ اختیار کیا گیا۔ چونکہ حکومت کمزور تھی،    اس لیے جب حالات نے مجبور کیا تو پسپائی اختیار کی، لیکن کج روی کی مسلسل روش کوترک نہیں کیا۔ اس کی سب سے اہم مثال عدلیہ کے ساتھ اس حکومت کا رویہ ہے۔ وزیراعظم نے حلف اٹھاتے ہی ججوں کی حراست کو ختم کر دیا جس سے بڑی توقعات پیدا ہوئیں، لیکن پھر طرح طرح کے شوشے چھوڑ کر عدلیہ کی بحالی کو معرضِ التوا میں ڈال دیا گیا۔ کبھی دستور میں ترمیم کی بات کی، کبھی پارلیمنٹ کی قرارداد کا فسانہ گھڑا، کبھی وکلا کو تقسیم کرنے کا کھیل کھیلا اور ان چال بازیوں میں ایک سال ضائع کر دیا۔ بالآخر عوامی تحریک کے نتیجے میں جب ۱۵ مارچ ۲۰۰۹ء کو حالات حکومت کی گرفت سے نکلتے نظر آئے، اور مقتدر قوتوں نے بھی تعاون سے دست کش ہونے کا عندیہ دیا تو ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے عدلیہ کو بحال کر دیا گیا، اس طرح ایک طوفان ٹل گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماضی کی سیاسی قوتوں کی طرح اس حکومت نے بھی یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ آزاد عدلیہ سے خائف ہے اور ہرممکن طریقے سے عدلیہ کو اپنے دبائو میں رکھنے کی بار بار کوشش کرتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اللہ کی مشیت کے تحت اس کی ہرچال ناکام ہوئی، اور اسے ہر بار پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ عدلیہ میں تقرریوں کے معاملے پر جو تنازع کھڑا کیا گیا اس کے دوران دھمکی آمیز انداز میں یہاں تک کہہ دیاگیا کہ عدلیہ کو محض ایک نوٹیفیکیشن سے بحال کیا گیا ہے، پارلیمنٹ نے تو ابھی قرارداد منظور نہیں کی۔

اس طرح یہ تاثر دیا گیا کہ ہم کسی وقت بھی پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ لیکن حکمران یہ بھول گئے کہ عدلیہ کی بحالی محض ان کے نوٹیفیکیشن سے نہیں، عوامی تحریک کے دبائو کے نتیجے میں واقع ہوئی تھی، یعنی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عدلیہ اپنی استقامت اور عوام کی تائید اور اعتماد سے بحال ہوئی ہے اور اب وہ ایک محکوم عدلیہ نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں آزاد عدلیہ ہے، جس نے ۳۱جولائی ۲۰۰۹ء اور ۱۶دسمبر ۲۰۰۹ء کے فیصلوں کی شکل میں اپنی خودمختار اور آزادانہ حیثیت کو منوا لیا ہے۔ نیز عدلیہ نے انتظامیہ کی مداخلت کی بھی مزاحمت کی ہے اور عوام کے حقوق اور شکایات کے ازالے کے لیے احتیاط کے ساتھ مگر مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ مارچ ۲۰۰۹ء سے اس وقت تک کی عدلیہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو بحیثیت مجموعی اس کا کردار بہت مثبت، باوقار اور دستور اورقانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنے والا نظر آتا ہے۔ عدالتی فعالیت (judicial activism) اور عدالتی احتیاط کے درمیان ایک مناسب توازن نظر آتا ہے، جو ملک کے حالات اور عالمی تجربات دونوں کی روشنی میں لائق تحسین ہے۔ اس کے برعکس حکومت کا رویہ نہایت غیرتسلی بخش بلکہ اشتعال انگیز محسوس ہوتا ہے، اور انگریزی محاورے میں ’ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے‘ کی نظیر پیش کرتا ہے۔

اس دوغلے رویے کو سمجھنے کے لیے چند مثالیں سامنے رکھنا ضروری ہیں:

l ۳نومبر ۲۰۰۷ء کی عدلیہ کو بحال کرنے میں جس لیت و لعل کا مظاہرہ کیا گیا اور جس طرح بار بار موقف تبدیل کیا گیا اور پھر مجبور ہوکر اسے بحال کیا گیا، اس سے پہلی غلط مثال قائم ہوئی، اور اس کے نتیجے میں حکومت کے خلوص اور اصول پرستی کے باب میں شدید بے اعتمادی کی  فضا قائم ہوئی۔

  • عدالت کے ۳۱ جولائی ۲۰۰۹ء کے تاریخی فیصلے نے دستور کی حکمرانی، مارشل لا کے  نظام کی غیرقانونی حیثیت اور اس بارے میں خود عدالتوں کے ماضی کے رویوں کی تنقیص اور احتساب نے عدلیہ پر قوم کے اعتماد کو مزید مستحکم کیا، یوں ۱۶مارچ کے بعد کی عدلیہ کو ماضی کی عدلیہ سے ممیز کر دیا، لیکن حکومت نے اس تبدیلی کو دل سے قبول نہیں کیا اور خصوصیت سے عدلیہ میں چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کی تجویز کردہ تقرریوں کے برعکس اپنی من مانی کرکے عدلیہ سے ٹکر کی ایک کھلی کوشش کی، جو الحمدللہ ناکام ہوئی۔ جس طرح عدلیہ کی بحالی پر حکومت کو مجبور ہوکر صحیح اقدام کرنا پڑا، بالکل اسی طرح مذکورہ دوسرے اہم موقع پر بھی اس نے منہ کی کھائی اور بالآخر عدلیہ کے فیصلے کو بالادستی حاصل ہوئی۔

دستور کی بحالی میں ٹال مٹول

دستور کی بحالی کے مسئلے کو بھی حکومت نے مسلسل ٹال مٹول کا شکار کیے رکھا۔ مارچ ۲۰۰۸ء سے لے کر مئی ۲۰۰۹ء تک ۱۴ مہینے ضائع کیے اور صرف ضائع ہی نہیں کیے، اس زمانے میں اپنا  ایک مسودّۂ ترمیم دستور تیار کیا، جو دستور کی بحالی سے زیادہ اس کا حلیہ مزید بگاڑنے کی ایک کوشش تھی۔ پارلیمنٹ، عوام اور میڈیا کے پُرزور ردِّعمل کی وجہ سے اس مسودّے کا پیدایش سے پہلے ہی اسقاط ہوگیا اور حکومت مجبور ہوئی کہ کُل جماعتی پارلیمانی کمیٹی قائم کرے، جسے مئی ۲۰۰۹ء میں قائم کیا گیا اور جس نے دو ماہ کے بعد اپنے کام کا آغاز کر کے مارچ ۲۰۱۰ء میں اٹھارھویں ترمیم کا مسودہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کر دیا۔

عدلیہ سے محاذ آرائی

این آر او کے قانون کے بارے میں حکومت نے بہت ہی متضاد رویے اختیار کیے۔ اس سیاہ اور شرمناک قانون سے سب سے زیادہ فائدہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی قیادت، کارکنوں اور ان سرکاری افسروں نے اٹھایا، جن پر کرپشن اور قتل و غارت گری یا ان میں معاونت کے سنگین الزامات تھے۔ عدالت نے اپنے ۳۱جولائی ۲۰۰۹ء کے فیصلے میں جنرل پرویزمشرف کے تمام آرڈی ننسوں کو خلافِ قانون قرار دیا، مگر عملی مشکلات سے ملک کو بچانے کے لیے ان آرڈی ننسوں کو بشمول    این آراو پارلیمنٹ کی طرف لوٹا دیا، کہ اگر ان کو جاری رکھنا چاہتی ہے تو چار مہینے کے اندر قانون سازی کے ذریعے انھیں حیاتِ نو دے دے۔

حکومت نے این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش کیا، مگر اسے منظور نہ کراسکی۔ نتیجہ یہ کہ عدالت کو اس کے بارے میں فیصلہ کرنا پڑا۔ اس لیے کہ عدالت میں اکتوبر ۲۰۰۷ء سے اس کے خلاف رٹ  کا مقدمہ موجود تھا۔ حکومت نے عدالت میں این آر او کا دفاع نہیں کیا اور حکومت کے وکیل   جناب کمال اظفر نے اپنے تحریری بیان میں صاف لفظوں میں کہا : ’’این آر او کے تحت تمام مقدمات کو اس کے نفاذ سے پہلے کی صورت میں بحال کیے جانے پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا‘‘۔ جب عدالت نے اس بدنامِ زمانہ قانون کو اس کی تاریخِ پیدایش سے کالعدم قرار دیا، اور اس کے نتیجے میں احتساب، کرپشن پر گرفت، قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کے بارے میں گیارہ احکام جاری کیے تو حکومت کے ہوش اُڑ گئے۔ اس لیے کہ اس کے نتیجے میں جناب آصف زرداری کے خلاف سارے مقدمات بھی کُھل رہے تھے اور خصوصیت سے سوئس عدالت میں مقدمات کی بحالی اس کا لازمی تقاضا تھا۔ یہ وہ موقع ہے کہ حکومت نے عدالت کے خلاف نئی محاذآرائی کا آغاز کیا اور حکومت کے وزرا، سرکاری ترجمان اور پارٹی کے زیراثر وکلا نے بھانت بھانت کی بولیاں بولنا شروع کردیں۔ یہ سلسلہ اس وقت زور شور سے جاری ہے، اور وزیرقانون اس یورش کی قیادت بھی کررہے ہیں۔ گو ۲۵مئی کو عدالت ِ عظمیٰ میں جو معرکہ وہ سر کرنا چاہتے تھے، اور ان کے حواری    جس طرح انصاف کی مشینری کو اپنی ایک ہی ضرب سے پاش پاش کرنے کی فضا بنا رہے تھے، وہ تو ٹائیں ٹائیں فش ہوگئی، اور بقول غالب   ؎

تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پُرزے

دیکھنے ہم بھی گئے تھے، پہ تماشا نہ ہوا

حکومت نے عدلیہ کے فیصلے کے مطابق تمام مقدمات کی بحالی، نیب کی تشکیلِ نو یا احتساب کے نئے نظام کے قیام کے سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا۔ دو سال سے قومی اسمبلی میں احتساب کے نام پر جو کمزور اور خامیوں سے پُر مسودّۂ قانون زیرغور ہے، اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد، اس کی روشنی میں، مقدمات کے احیا اور ان کی مؤثر پیروی حکومت ِ وقت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن حکومت جس دلدل میں پھنس گئی، وہ یہ تھی کہ بیش تر مقدمات جن پارٹیوں کے قائدین اور کارکنان کے خلاف تھے، ان کا تعلق دو حکمران جماعتوں سے تھا، یعنی پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم اور ان کو بچانے کے لیے حکومت نے ان مقدمات میں کوئی دل چسپی نہ لی، اور جو مقدمات بحال ہوگئے، ان کے بارے میں بھی ملزموں پر گرفت کے بجاے ان کی معاونت اور گلوخلاصی کا راستہ اختیار کیا۔ نیب کے ادارے کو عضومعطل بنا دیا گیا۔ جو سرکاری وکیل اس کے تابع مہمل نہ تھے، ان کو فارغ کر دیا گیا اور اپنے من پسند افراد کو اس میں لانے کی کوشش کی گئی۔ وزیرقانون، جو خود مختلف بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کے الزام میں مطلوب تھے ان کو نیب کا ذمہ دار بنا دیا گیا۔ دو اٹارنی جنرل مستعفی ہوئے، وزارتِ قانون کے دو سیکرٹری مستعفی ہوئے، جوائنٹ سیکرٹری مستعفی ہوئے، اور عدالت کے احکامات کے مطابق سوئس عدالت میں مقدمات کی بحالی کے لیے خط پانچ مہینے گزرجانے کے باوجود نہیں بھیجا گیا، بلکہ وزیرقانون نے یہ تک فرما دیا کہ ’’ایسا کوئی خط نہیں بھیجا جائے گا اور اگر کسی نے بھیجا تو وہ میری لاش سے گزر کر جائے گا‘‘ (on my dead body) ۔  یہ عدالت کے خلاف اعلانِ جنگ نہیں تو اور کیا ہے؟ عدالت نے پھر بھی پورے تحمل اور بُردباری سے اپنے احکام پر عمل درآمد کا مطالبہ جاری رکھا۔ دیکھیے اس کا انجام کیا ہوتا ہے، البتہ حکومت نے حکم عدولی کے باب میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

صدر زرداری اور سوئس مقدمات

عدالت کے سامنے تو ان سطور کے لکھنے تک دستور کی دفعہ ۲۴۸ کے تحت صدر کے استثنا کی درخواست نہیں دی گئی تھی مگر اس پر میڈیا میں لفظی جنگ پورے زورشور سے جاری ہے، حالانکہ اگر زرداری صاحب کا دامن پاک ہے تو انھیں بڑھ کر عدالت سے صفائی کا پروانہ حاصل کرنا چاہیے۔ دفعہ ۲۴۸ کا سہارا لینے کے معنی تو یہ ہیں کہ دال میں کچھ کالا کالا موجود ہے، اور ان کا دامن پاک نہیں ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مقدمے کا تعلق ان کے صدر بننے سے برسوں پہلے کے زمانے سے ہے اور مسئلہ مالی معاملات کا ہے، جب کہ دفعہ ۲۴۸ میں استثنا صرف فوجداری معاملات میں ہے اور وہ بھی ان امور کے بارے میں جو زمانۂ صدارت سے متعلق ہوں۔

یہ معاملہ ایسا ہے جس پر ساری دنیا کے اخبارات میں اور امریکا کی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کی کارروائیوں میں سیکڑوں صفحات پر مشتمل مواد موجود ہے، اور سوئس عدالت میں بھی ابتدائی طور پر جرم ثابت ہوچکا ہے۔ اگر سوئس بنک میں ۶۰ملین ڈالر ان کے حساب میں موجود ہیں تو کیا یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ یہ رقم کہاں سے آئی؟ اگر یہ ان کی جائز کمائی ہے تو اس کی تفصیل سامنے آنی چاہیے کہ کہاں سے یہ رقم کمائی گئی؟ کیا اس پر ٹیکس ادا ہوا؟ اور یہ سوئٹزرلینڈ کے بنک میں کیسے پہنچی؟ اس وقت تو معاملہ اس ایک رقم کا ہے مگر امریکا اور یورپ کے اخبارات میں، اور سب سے بڑھ کر امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کی کارروائیوں میں خود سٹی بنک کے ذمہ دار افراد کی جو شہادتیں موجود ہیں اور بنک کے حسابات میں جو تفصیلات آئی ہیں، وہ عالمی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ امریکا، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، فرانس اور اسپین کے بنکوں کے حسابات کی جو تفصیل ان تمام مقامات پر موجود ہے اور جس میں سے کچھ خود پاکستان کے میڈیا خصوصیت سے جیو، آج اور   اے آروائی کے چینلوں پر دکھائی جاچکی ہے۔ ان میں۵ئ۱ ارب ڈالر کی خطیر رقم موصوف کے ذاتی یا ان کمپنیوں کے حسابات میں ہے جو ان کی ملکیت ہیں یا جن میں ان کا حصہ ہے۔ تو کیا اس قوم کا یہ حق نہیں کہ اسے معلوم ہو کہ اتنی بڑی رقم اقتدار کی اتنی قلیل مدت میں (یعنی ۱۹۸۸ء سے ۱۹۹۶ء تک) ان کے قبضے میں کیسے آئی؟ اگر وہ اپنی اس جائز کمائی کو عدالت میں ثابت کردیں تو اس سے ان کو بھی سرخ روئی حاصل ہوگی اور یہ قوم بھی مطمئن ہوجائے گی لیکن اگر وہ ثابت نہیں کرسکتے تو پھر دستور کی دفعہ ۲۴۸ کا سہارا ان کے دامن کو پاک ثابت نہیں کرسکتا، بلکہ وہ اس احساس کو تقویت پہنچاتا ہے کہ یہ رقم یا اس کا بڑا حصہ قوم سے لوٹا ہوا ہے اور اسے اس غریب قوم کی طرف لوٹایا جانا چاہیے جس کی ۷۶ فی صد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ اصول اور قوم کی دولت اور امانت کی حفاظت کا ہے، اور پھر اس کا تعلق کرپشن کی اس لعنت سے ہے جو پاکستانی قوم اور ملک کو گُھن کی طرح کھا رہی ہے۔ ورلڈبنک کی رپورٹ یہ کہتی ہے کہ پاکستان میں گذشتہ ۱۰ برسوں میں کرپشن میں چار گنا (۴۰۰ فی صد) اضافہ ہوا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ۲۰۰۹ء کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک سال میں کرپشن میں ۱۰۰ فی صد اضافہ ہوا ہے۔ یہ قوم جس پر قرضوں کا بوجھ اس وقت ۸ ارب۹۲کروڑ روپے سے متجاوز ہے، جو صرف قرضوں پر سود کی مد میں ۷۵۰ ارب روپے سالانہ ادا کررہی ہے، اور جس کو اس کے اربابِ اقتدار اور اصحابِ ثروت کرپشن کے ذریعے ہرسال ۱۸۰۰ ارب روپے سے محروم کررہے ہیں، اس کی قسمت کو بدلنے کے لیے کرپشن کے خاتمے کے سوا اور کون سا راستہ ہے؟ اگر عدالت ِ عالیہ یہ چاہتی ہے کہ کرپشن کے ذریعے جس نے بھی جتنی دولت ہڑپ کی ہے اور قوم کو دووقت کی روٹی سے محروم کیا ہے تو کیا وہ وقت نہیں آگیا کہ اب سب کا حساب ہو اور حق کو حق دار کی طرف لوٹایا جائے۔ اب یہ مسئلہ ایک فرد کا نہیں پوری قوم کا ہے اور احتساب اُوپر سے ہو جب ہی وہ مؤثر ہوسکتا ہے۔ اس لیے این آر او کے مقدمات کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ معاشی انصاف اور قانون کی حکمرانی کے قیام اور نظام کی اصلاح کے لیے ہیں۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ چند روپے چرانے والے کو تو جیل کی ہوا کھانی پڑے اور اربوں روپے لوٹنے والے دستور کی دفعہ ۲۴۸ کے پیچھے پناہ لے لیں، یہ انصاف نہیں کرپشن کی پشت پناہی ہے اور اس سلسلے کو اب ختم ہونا چاہیے۔

این آر او ہی کے سلسلے میں وزیرداخلہ رحمن ملک پر بھی مقدمات ہیں، اور ان کے ایف آئی اے کے دوسرے رفقاے کار بھی اس کی گرفت میں آتے ہیں۔ معاملہ چاہے ریاض شیخ کا ہو یا رحمن ملک کا، یا ان کے دوسرے معاونین کا، جن جن حضرات نے این آر او کے تحت گلوخلاصی حاصل کی ہے ان کو کھلے انداز میں عدالتوں میں اپنے خلاف الزامات کا دفاع کرنا چاہیے، اور حکومت کا فرض ہے کہ ان سب حضرات کو ان کے سرکاری عہدوں سے اس وقت تک کے لیے فارغ کر دے، جب تک ان کی بے گناہی عدالت کے ذریعے ثابت نہیں ہوتی۔ حکومت کا رویہ یہ ہے کہ وہ نہ تو ان مقدمات میں کوئی دل چسپی لے رہی ہے اور نہ آزادانہ عدالتی کارروائی کا موقع دے رہی ہے، حالانکہ یہ  اس کی دستوری ذمہ داری ہے کہ جن لوگوں پر الزام ہے کہ وہ ملک اور قوم کے وسائل میں خردبرد کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان کے خلاف جو بھی شواہد اور دستاویزات موجود ہیں ان کو دیانت داری سے عدالت کے سامنے پیش کرے اور ملزموں کی صفائی کے لیے پھرتی نہ دکھائے بلکہ ملک وقوم کے وسائل کی حفاظت کے لیے اس کا حق اداکرے۔

بار بار یہ کہا گیا ہے کہ یہ مقدمات سیاسی وجوہ سے بنائے گئے ہیں اور یہ کہ ان لوگوں نے جیل کی صعوبتیں برداشت کی ہیں مگر ان پر جرم ثابت نہیں ہوا۔ ہم صاف کہتے ہیں کہ جن حضرات پر سیاسی وجوہ سے مقدمہ بنایا گیا ہو اور حقائق سے یہ ثابت ہوجائے تو نہ صرف ان کو باعزت بری کیا جائے اور قومی ذمہ داریاں ان کو سونپی جائیں بلکہ جن لوگوں نے ان کے خلاف غلط مقدمات بنائے، ان کو سزا دی جائے تاکہ وہ عبرت کا نشان بنیں۔ لیکن جن کے بارے میں سارے قرائن یہ پتا دیتے ہیں کہ ان کی دولت ان کی جائز آمدنی سے کوئی مناسبت نہیں رکھتی اور جو اپنی دولت کے ذرائع کا تسلی بخش جواز پیش نہیں کرسکتے، ان کو قرارِ واقعی سزا ملنی چاہیے اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں واپس آنی چاہیے۔

سزا کی معافی یا تخفیف کا صدارتی اختیار

زرداری صاحب نے اس سلسلے میں جو نیا ریکارڈ قائم کیا ہے وہ دستور کی دفعہ ۴۵ کا استعمال ہے جس کا تعلق سزا کی معافی یا تخفیف سے ہے۔ اصلاً تو یہ صدارتی اختیار دورِ بادشاہت یا سامراجی حکمرانی کے دور کی باقیات میں سے ہے اور اصولِ انصاف کے منافی ہے۔ لیکن اگر یہ تسلیم کربھی لیا جائے کہ عدل کے مقابلے میں احسان اور ترحم (mercy) کی بنیاد پر کچھ حدود کے اندر  یہ اختیار صدرِمملکت استعمال کرسکتا ہے تب بھی اصولِ قانون (jurisprudence) کے مطابق چند شرائط اور ضوابط ہیں جن کی پاس داری ضروری ہے۔ یہ اختیار غیرمشروط نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تخفیف یا معافی کے لیے ضروری شواہد اور دلائل ہونے چاہییں۔

کینیڈا کے دستور میں یہ گنجایش موجود ہے لیکن وہاں ایک نیشنل پے رول بورڈ ہوتا ہے   جو ہرکیس کے حالات کو سامنے رکھ کر سفارش کرتا ہے جس پر سربراہِ مملکت سزا میں تخفیف کرسکتا ہے۔ امریکا، برطانیہ اور بھارت میں معافی یا تخفیف کا یہ استعمال عدالتی محاکمے کے لیے کھلا ہے اور صدر یا ملکہ کے اعلان کو عدالتیں زیرغور لاسکتی ہیں، اورجہاں مناسب وجوہ موجود نہ ہوں اس تخفیف یا معافی کو ختم کرسکتی ہیں۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے متعدد فیصلوں میں اس اختیار کے استعمال کے آداب و قواعد کی وضاحت کی ہے اور یہ اصول طے کیا ہے: ’’ہرامتیازی حق کو قانون کی حکمرانی کے تابع ہونا چاہیے‘‘۔( جسٹس ارجیت پسیات اور جسٹس کپادری)

بھارت کی سپریم کورٹ کے ان دو ججوں نے بڑی پتے کی بات کہی ہے:

معافی دینے کے لیے ذات، مذہب یا سیاسی وفاداری کا نامناسب لحاظ رکھنا ممنوع ہے۔ سیاسی مصلحت کی بنیاد پر قانون کی حکمرانی کو متاثر نہیں کیا جاسکتا۔ ان امور کا لحاظ رکھ کر چلنے سے قانون کی حکمرانی کا بنیادی اصول مسخ ہوگا اور یہ ایک خطرناک مثال قائم کرنے کے مترادف ہوگا۔

بھارت ہی کی سپریم کورٹ کے ایک اور بنچ نے جس میں چیف جسٹس بالاکرشنان،  جسٹس پنچال اور جسٹس چوہان شامل تھے، لکھا ہے کہ اگر کوئی مجرم ایک منظورِ نظر فرد کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے تخفیف یا معافی کو ایک سہولت کے طور پر دیا جاتا ہے تو یہ ’جرائم کے فروغ کے لیے ایک محرک‘ ہوگا اور وہ اسے ایک عظیم دھوکا قرار دیتے ہیں۔

ان اصولوں کی روشنی میں اگر آپ غور کریں تو زرداری صاحب نے جناب رحمن ملک اور   ریاض شیخ صاحب کے سلسلے میں جو کچھ کیا ہے وہ عظیم دھوکا اور انصاف کے قتل سے کم نہیں۔    رحمن ملک صاحب کو عدالت نے مجرم قرار دیا اور قانون میں عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کے حق کی گنجایش موجود تھی، لیکن انصاف کے اس عمل کو ناکام کرتے ہوئے اور عدالت کے فیصلے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر غالباً کسی باقاعدہ درخواست کے بغیر سزا کو معاف کر دینا اور وہ بھی اپنے ایک سیاسی وفادار ہی نہیں، اپنی ناک کے بال کو معافی دینا کسی جرم سے کم نہیں۔ اس پر وزیراعظم کا یہ ارشاد کہ ’’وزیرداخلہ کو جیل نہیں جانا چاہیے‘‘ اور بھی شرم ناک ہے، حالانکہ ان کا موقف یہ ہونا چاہیے تھا کہ ’’کسی مجرم کو وزیرداخلہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے‘‘ لیکن اس حکومت کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ کرپشن اس کے گلہاے سرسبد کے لیے تمغاے افتخار ہے، کلنک کا ٹیکا نہیں۔ جعلی ڈگریوں پر   انتخاب لڑنے والے اور قوم کو دھوکا دینے والے نئے ٹکٹ کے مستحق ٹھیرتے ہیں اور وزیراعظم صاحب خود بنفس نفیس ان کی انتخابی مہم کے لیے تشریف لے جاتے ہیں اور کھلے کھلے الیکشن قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف انتخابی مہم میں سرکاری حیثیت سے حصہ لیتے ہیں بلکہ علاقے کے لیے پیکج کا اعلان (سیاسی رشوت) بھی فرماتے ہیں۔ رحمن ملک صاحب کو جس جرم کے حوالے سے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس میں چند تولے سونا اور چندلاکھ روپے سے متاثرہ فریق کو محروم کرنے کا ذکر بھی تھا، اور اس پر حکومت کے ایک ترجمان کا یہ ارشاد بھی اس پارٹی کے سیاسی کلچر کاآئینہ ہے کہ صرف چند تولے سونے اور چند لاکھ روپے کے لیے، اتنے بڑے آدمی کو سزا دینا ناقابلِ فہم ہے۔

جب قیادت کی اخلاقی حالت یہ ہوجائے تو پھر قوم کو تباہی اور ملک کو عذابِ الٰہی سے بچانے والی اور کیا چیز ہوسکتی ہے۔ ہم نے اس سلسلے میں یہ چند پہلو بڑے دکھ اور کرب کے ساتھ سپردِقلم کیے ہیں اور پوری دردمندی سے حکمرانوں سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہوش کے ناخن لیں،  اللہ کے عذاب اور عوام کے غیظ و غضب اور جذبۂ انتقام سے بچنے کی کوشش کریں۔

قانون کی حکمرانی ، وقت کا تقاضا

عدالت عوام کے حقوق اور قوم کی دولت کی حفاظت کے لیے قانون کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ انتقام نہیں انصاف کی طرف ایک قدم ہے۔ اسے اداروں کا تصادم کہنا بھی صحیح نہیں۔ عدالت کا تو فرضِ منصبی ہی یہ ہے کہ مظلوم کو ظلم سے بچائے اور ظالم کا ہاتھ روکے اور اسے قرارواقعی سزا دے تاکہ دوسروں کے لیے باعثِ عبرت ہو اور معاشرہ جرائم اور ظلم سے پاک ہوسکے۔ اب تک عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ نے جو کچھ کیا ہے، اسے عدالتی تحرک کہنا صحیح نہیں۔ عدالت دستور کے مطابق بنیادی حقوق اور حقوق میں مساوات کے اصول کی روشنی میں کمزوروں کی مدد اور منہ زور طاقت ور اور قانون توڑنے والوں کو قانون کی گرفت میں لانے کی کوشش کر رہی ہے، جب کہ حکومت عدالت کے فیصلوں کی خلاف ورزی، ان کے نتائج کو ناکام کرنے اور مسخ کرنے کی ناپاک سعی میں مصروف نظر آتی ہے، یا عدالت کے فیصلوں پر عمل کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے اور عدالت پر جانب داری اور سیاسی محرکات کے ناقابلِ التفات الزامات لگاکر اسے بلیک میل کرنے اور دفاعی پوزیشن میں ڈالنے کا کھیل کھیل رہی ہے۔     اسے عدلیہ اور انتظامیہ کا تصادم کہنا حقیقت سے دُور کی بھی مناسبت نہیں رکھتا۔ یہ انتظامیہ کی طرف سے عدالت کی حکم عدولی کرنے (defy) اور اسے دبائو میں لانے کی یک طرفہ یورش ہے۔ یہ نہ  صرف عدالت کی توہین ہے بلکہ قانون کو مسخ کرنے کی بھی کوشش ہے جو اس ملک اور جمہوریت کے مستقبل کے لیے فالِ بد ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہٗ کا ارشاد ہے کہ معاشرہ کفر کے ساتھ تو زندہ رہ سکتا ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔ نظامِ عدل معاشرے کی صحت، زندگی، ترقی اور استحکام کی ضمانت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندے اپنے نبی اور رسول بنا کر جن مقاصد کے لیے بھیجے تھے، ان میں سرفہرست مقصد انسانوں کے درمیان انصاف کا قیام تھا (لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ، الحدید)۔ ہر مہذب اور جمہوری معاشرے کے لیے قانون کی حکمرانی اور انصاف کا قیام اولین ضرورت ہے۔ اور آج ہمارا حال اگر دگرگوں ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ قانون کی حکمرانی کا فقدان، انسانوں کے درمیان عدل و انصاف کے قیام سے غفلت، دولت مند اور طاقت ور انسانوں کا قانون سے بالا ہونا اور کمزوروں اور مجبوروں پر ظلم اور ان کے حقوق اور اثاثوں پر دست درازی بگاڑ کی وجہ اور تباہی کا راستہ ہیں۔ حکومت کو اپنی روش فوری طور پر بدلنی چاہیے اور اس وقت سے ڈرنا چاہیے جب عوام کا غیظ و غضب وہ صورت اختیار کرلے جو اس ظالمانہ نظام کو تہ و بالا کرڈالے یا خدانخواستہ اللہ کا عذاب سب کو اپنی گرفت میں لے لے۔ عدالت کو انصاف اور دادرسی کا منبع ہونا چاہیے کہ اس سے معاشرے میں استحکام آتا ہے اور جمہوریت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

ہم اپنی معروضات کو انگلستان کے ایک نام وَر ماہر قانون لارڈ جیمز برایس کے ان  زریں الفاظ پر ختم کرتے ہیں اور اربابِ اقتدار کو مشورہ دیتے ہیں کہ ان الفاظ پر سنجیدگی سے    غور کریں اور اس قوم اور ملک کے لیے خیر اور فلاح کا ذریعہ بنیں، ظلم، فساد اور بگاڑ کا نہیں:

کسی حکومت کی حُسنِ کارکردگی جانچنے کا پیمانہ اس کے عدالتی نظام کی مستعدی سے بہتر  کوئی نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ عام شہری کی سلامتی او رفلاح و بہبود کو کوئی چیز اس احساس سے زیادہ متاثر نہیں کرتی کہ وہ انصاف کے فوری اور یقینی حصول پر اعتماد کرسکتا ہے۔

زرداری گیلانی حکومت، امریکا کے ساتھ اسٹرے ٹیجک شراکت داری کے راگ الاپ رہی تھی۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، واشنگٹن کے بعد اسلام آباد میں اسٹرے ٹیجک مذاکرات کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اسی اثنا میں یکم مئی ۲۰۱۰ء کو نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں ایک وین سے دھواں نکلتا دیکھ کر ایک صومالی مسلمان خوانچا فروش کی اطلاع پر شہر میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ چند گھنٹے کے بعد ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے ڈرائونے خواب (nightmare) نے ایک بار پھر امریکا کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ ۳تاریخ کو امارات ایئرلانز کی پرواز سے ایک پاکستانی نژاد امریکی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان فیصل شہزاد کو گرفتار کرلیا گیا۔ شروع میں اسے ’تنہا بھیڑیا‘ قرار دیا گیا، لیکن پھر جلد ہی امریکا اور خود پاکستان میں اس کے مبینہ ساتھیوں کی پکڑدھکڑ شروع ہوگئی۔

پاکستان اور امریکا کے دارالحکومتوں میں جس امریکی قیادت سے سر جوڑنے کی باتیں ہو رہی ہیں، اس نے سرتوڑنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) جیمز جونز، سی آئی اے کے سربراہ لیون پانے ٹا اور افغانستان میں امریکی فوجوں کے کمانڈر جنرل میک کرسٹل اپنے مشیروں کے لائولشکر کے ساتھ اسلام آباد پر ڈرون حملوں کی طرح نازل ہوئے۔ امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے طرزِتکلم میں ۸۰ درجے کی تبدیلی لاکر پاکستان کو بش انتظامیہ کے مذموم لہجے میں  ’خطرناک نتائج‘ اور ’کچھ مزید کرنے‘ کی دھمکیوں پر مشتمل احکامات جاری کرنے شروع کردیے، یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں، جو اسامہ اور مُلاعمر کے ٹھکانے سے واقف ہیں۔ امریکی میڈیا نے پاکستان کے خلاف بھرپور  ابلاغی جنگ کا آغاز کر دیا۔ یوں آن واحد میں دوستی اور نئے تعلقات کے سارے خیالی قلعے زمین بوس ہوگئے۔

فیصل شہزاد نے جو کچھ کیا وہ ’ایک معما ہے سمجھنے کا، نہ سمجھانے کا‘۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، متمول اور ماڈرن گھرانے کا چشم و چراغ، جس کی اعلیٰ تعلیم امریکا میں ہوئی، جہاں وہ ۱۱ سال سے مقیم اور اب امریکی شہریت کا حامل ہے،اعلیٰ سوسائٹی میں اٹھنا بیٹھنا جس کا معمول ہو، اور امریکا کی ’معاشی دنیا‘ (Finance World) میں وہ ایک تربیت یافتہ کھلاڑی کی طرح دولت کمانے کا شغل کر رہا ہو، یکایک ایک دہشت گرد بن جاتا ہے۔ شمالی وزیرستان سے اس کے رشتے تلاش کرلیے جاتے ہیں اور اسے امریکا کی سیکورٹی کے لیے ایک چیلنج اور پاکستان کو دنیا بھر میں ’دہشت گردی‘ کے مرکز کے طور پر پیش کیا جانے لگتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ ’ماہر اور تربیت یافتہ دہشت گرد‘ جس وین کو دہشت گردی کے مبینہ مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے، اس میں کھاد (fertilizer) اور دھماکا خیز مواد استعمال ہی نہیں کیا جاتا اور پھر ایک الیکٹرک آلہ جو خودکار صلاحیت سے محروم ہے اور یوں وہ ایک ایسی جگہ جہاں پارکنگ کی اجازت نہیں ہے، چھوڑ کر اس اہتمام سے غائب ہوتا ہے کہ وین میں اس کی چابی لگی ہوئی ہے اور چابی میں موصوف کے گھر کا پتا بھی موجود ہے۔ اپنی شناخت کے لیے یہ تمام سہولتیں فراہم کرنے کے بعد وہ ۴۸گھنٹے گزرنے کے باوجود گرفت میں نہیں آتا، اور جب جہاز میں اس کو پکڑا جاتا ہے تو پہلے الفاظ وہ یہ ادا کرتا ہے: ’’میں آپ ہی کی توقع کر رہا تھا اور ہاں، آپ کون سی ایجنسی سے متعلق ہیں، ایف آئی اے یاکوئی اور‘‘۔

کیا وہ مبینہ دہشت گرد اتنا ہی اناڑی تھا، کہ جسے شمالی وزیرستان سے جوڑا جا رہا تھا۔  ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد امریکا کی خفیہ ایجنسیوں اور دہشت گردی کے خلاف ایک نہیں دسیوں نئی فورسز کے قیام، اور اربوں ڈالر سالانہ اخراجات کی بنیاد پر اعلیٰ ترین ٹکنالوجی کے ذریعے دہشت گردی کی ہرشکل کو قبل از وقت ناکام اور غیرمؤثر بنادینے کے تمام اہتمام دھرے کے دھرے رہ گئے۔ وہ سب فیصل شہزاد کو بھی نہ روک سکے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس میں فیصل شہزاد کی بچگانہ حرکات کی داد دی جائے یا امریکی ایجنسیوں کی نااہلی اور ناکامی کا نوحہ پڑھا جائے۔

اس واقعے کے چار ہفتے بعد بھی تفتیش کا بازار گرم ہے۔ دو ہفتے کے بعد فیصل شہزاد کو عدالت میں خفیہ طور پر پیش کرکے ریمانڈ لے لیا گیا ہے، اور پاکستان میں اب تک جو تفتیش ہوئی ہے اس میں موصوف کے اہلِ خانہ کو تو بے گناہ قرار دے کر چھوڑ دیا گیا ہے، البتہ چند دوسرے نوجوان اُٹھا لیے گئے ہیں، جن کو تختۂ مشق بنایا جا رہا ہے۔ اب تک جو معلومات سامنے آئی ہیں ان کی بنیاد پر اگر فی الحقیقت فیصل شہزاد نے خود یہ ڈراما رچایا ہے تو اس کی عقل کا ماتم ہی کیا جاسکتا ہے، اور اگر اسے کسی ادارے یا ایجنسی نے پاکستان پر دبائو بڑھانے اور شمالی وزیرستان میں پاکستان کو فوجی آپریشن پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کیا ہے تو ان ایجنسیوں کی شاطرانہ کارکردگی کی داد ہی دینی چاہیے کہ آن کی آن میں منظر تبدیل کردیا۔ اگرچہ ہم اسے سازش قرار دینے کی پوزیشن میں نہیں، لیکن اس کے باوجود سارا معاملہ بظاہر ایک ڈراما ہی نظر آتا ہے۔ اسی طرح امریکی قیادت کے بیانات اور پاکستان آکر یہاں کی سیاسی اور عسکری قیادت پر دبائو ایسے سوالات کو اٹھاتا ہے جن کے جواب ابھی سامنے نہیں آئے۔

اس پورے واقعے نے سوچ بچار کے لیے کئی موضوعات نمایاں کردیے ہیں جن کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر فیصل شہزاد نے یہ سب کچھ خود کیاہے تو پھر امریکی دانش وروں اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی وضع کرنے والوں کو اپنے بنیادی مفروضوں پر ازسرنو غور کرنا ہوگا۔ ان کی نگاہ میں اس وقت امریکا میں کی جانے والی دہشت گردی کا اصل محرک مذہبی عناصر ہیں، اور القاعدہ اس کی پشت پر ہے۔ دینی مدرسوں کے طلبہ اس فکر کی وجہ سے انسانی میزائل بن گئے ہیں۔ بالعموم غریب اور محروم طبقات کے نوجوانوں کو اس کام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ’مسلمان دہشت گرد‘ کی جو تصویر امریکا، یورپ اور خود ہمارے اور دوسرے مسلمان ملکوں میں پیش کی گئی ہے، فیصل شہزاد اس میں کہیں جچتا دکھائی نہیں دیتا۔ اسی لیے حقائق کی تہ تک پہنچنے میں سرگرداں تجزیہ نگار بڑے بنیادی سوال اُٹھا رہے ہیں۔ اگر ان سوالات کا حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو امریکا کی ۱۰سالہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اختیار کردہ حکمت عملی کے غیرحقیقت پسند ہونے کے وجوہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں نیویارک ریویو آف بکس کے تازہ شمارے میں جو مضمون شائع ہوا ہے، اس کے چند اقتباسات اس لائق ہیں کہ ان پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ خصوصیت سے امریکا اور پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو دہشت گردی کے پورے مسئلے کے بارے میں حکمت عملی پر ازسرِنو غور کرنا چاہیے، تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر دنیا کو جس دہشت گردی کے جہنم میں دھکیل دیا گیا ہے، اس سے نکلنے کی کوئی صورت بن سکے:

گذشتہ چند مہینوں میں، یہ اور جو دوسرے ممکنہ دہشت گرد گرفتار کیے گئے ہیں، ان میں اس کے علاوہ بہت کم کوئی بات مشترک ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ امریکا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ ٹیکسی ڈرائیوروں اور خوانچا فروشوں سے لے کر مالیاتی تجزیہ نگاروں تک، مختلف معاشرتی اور معاشی طبقات سے وابستہ ہیں۔ اسلامی انقلابیت اور بیرونی انتہاپسند گروپوں سے ان کے اپنے رابطے کی نوعیت میں فرق ہے۔ ہم یہ فرض کرسکتے ہیں کہ جو چیز ان کو متحد کرتی ہے، وہ امریکا اور اس کی خارجہ پالیسی سے ایک بامقصد نفرت ہے، جس نے بتدریج انقلابیت کی جڑ پکڑی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایک بڑی امریکا مخالف تحریک میں شامل ہونے کی خواہش کو بھی تیز کیا ہے۔

۱۱ستمبر کے بعد کے برسوں میں بہت سے اہلِ دانش اور صحافیوں نے کہا ہے کہ یورپ میں مسلم آبادیوں کے برعکس جہاں انتہاپسندی سے متعلق مسائل کو بہت شہرت ملی ہے، امریکا کی اپنی مسلمان آبادی اس انقلابیت سے محفوظ رہی ہے۔ لیکن ۱۰ برس بعد واضح تبدیلی نظر آرہی ہے۔ اس عمل کو سمجھنے اور اس کی گہرائی میں جانے کی کوشش کرنے کے بجاے امریکی صحافی اور امریکی حکومت بھی صرف اس فکر میں غلطاں دکھائی دیتے ہیں کہ معلوم کریں کون سا پاکستانی گروپ شہزاد کی تربیت کا ذمہ دار ہے، اور کیا اس کے القاعدہ سے روابط تھے؟ اس دوران میں امریکی سرزمین پر دہشت گردی کی ہر ناکام کوشش، درجنوں نوجوان امریکی مسلمانوں کو نت نئی کوشش کرنے اور کامیابی حاصل کرنے پر اُبھار سکتی ہے۔ جب تک اس طرح کی انقلابیت کی جانب لے جانے والے مسائل کے بہتر فہم اور ان کے حل کی کوشش نہ ہو تو ہم مستقبل میں ایسے حملوں کو روکنے کی منزل کے قریب بھی نہ آسکیں گے۔ (نیویارک ریویو بکس بحوالہ ڈیلی ٹائمز، ۱۶ مئی ۲۰۱۰ئ)

دہشت گردی کے مسئلے کے مختلف پہلوئوں پر ازسرِنو غور کرنے کے ساتھ پاکستان کے حکمرانوں اور فوجی قائدین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے معاملات کو امریکا کی آنکھ سے دیکھنے کا رویہ ترک کریں اور امریکی مطالبات پر نئے محاذ کھولنے کی خطرناک حماقت سے باز رہیں۔ بدقسمتی سے سیاسی قیادت اور فوج نے امریکا کی جنگ میں شرکت اور پھر کمال تابع داری سے امریکا کی جنگ کو اپنی جنگ قرار دے کر جو نقصانات اٹھائے ہیں، ان کے پیش نظر اس دلدل میں اور بھی دھنستے چلے جانے کے راستے کو ترک کیا جائے۔ پارلیمنٹ نے ۲۲؍اکتوبر ۲۰۰۸ء کی مشترکہ قرارداد میں دہشت گردی کے مسئلے کا مقابلہ کرنے کے لیے واضح الفاظ میں جس حکمت عملی کی نشان دہی کی ہے، اس کو دیانت داری سے قبول کر کے اس نہ ختم ہونے والی اور کبھی نہ جیتی جانے والی جنگ سے اپنے آپ کو نکالنے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ پاکستان نے اس جنگ میں امریکا کے چوکیدار کا کردار ادا کرکے سیاسی، معاشی، اخلاقی اور تہذیبی اعتبار سے جو نقصانات برداشت کیے ہیں، وہ   تباہ کن رہے ہیں۔ جتنی جلد اس خسارے کے سودے سے جان چھڑا لی جائے، اتنا ہمارے لیے  بہتر ہے۔

معاشی ’ترقی‘ کا ایک آسان نسخہ

دودھ میں ملاوٹ، کھانے پینے کی چیزوں اور مسالوں میں ملاوٹ، حتیٰ کہ دوائیوں میں ملاوٹ تو سنی تھی، لیکن موجودہ حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے اعداد وشمار میں ملاوٹ کے ذریعے معاشی ترقی کا ایک نادر کارنامہ انجام دیا ہے۔

معاشیات کے سارے ماہرین عام آدمی کے تجربات کی گواہی کی روشنی میں، یہ کہہ رہے تھے کہ ۲۰۱۰ئ-۲۰۰۹ء پاکستان کی معاشی تاریخ میں بہت ہی مشکل سال رہا ہے۔ معیشت، جن مشکلات سے دوچار رہی، ان میں بجلی اور گیس کا بحران، صنعتی پیداوار اور برآمدات میں کمی،   سرمایہ کاری کی سست روی، مہنگائی کا طوفان، بے روزگاری میں اضافہ، روپے کی عالمی قیمت میں کمی قابلِ ذکر ہیں، اور ان سب عوامل کی وجہ سے خود اسٹیٹ بنک کی مارچ ۲۰۱۰ء تک کی تمام ہی رپورٹوں میں معیشت میں شرحِ نمو (growth rate) کے بارے میں اندازہ تھا کہ وہ ۵ئ۲ اور ۳فی صد کے درمیان ہوگی اور بہت زور لگایا تو شاید ۵ئ۳ فی صد ہوجائے۔ لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ بجٹ سے ایک ماہ پہلے مئی ۲۰۱۰ء میں حکومت یہ انکشاف کرے گی کہ  سالِ رواں میں جی ڈی پی میں اضافہ ۱ئ۴ فی صد ہوگا۔ نیشنل اکائونٹس کمیٹی نے یہ اعلان کر کے سب کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا لیکن جب اس محیرالعقول تبدیلی کا سبب دریافت کیا گیا تو یہ حیران کن بات سامنے آئی کہ اس سال شرحِ نمو میں اضافہ دکھانے کے لیے گذشتہ دو سالوں کی شرحِ نمو پر نظرثانی کی گئی ہے تاکہ اس کی بنیاد (base) کو نیچے لے جاکر سالِ رواں میں ترقی کی رفتار کو زیادہ دکھایا جاسکے۔

پہلے دعویٰ کیا گیا ۰۸-۲۰۰۷ء میں ۱ئ۴ فی صد ترقی کا جو دعویٰ کیا گیا تھا وہ صحیح نہیں تھا، بلکہ اصل اضافہ ۷ئ۳ فی صد تھا۔ پھر نیا دعویٰ کیا گیا کہ یہ ۷ئ۳ فی صد نہیں ۳ئ۳ فی صد تھا اور اسی طرح ۰۹-۲۰۰۸ء میں اضافہ ۲ فی صد نہیں تھا، بلکہ صرف ۲ئ۱ فی صد تھا۔ اعداد وشمار میں اس رد وبدل کے نتیجے میں ۱۰-۲۰۰۹ء کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ متوقع اضافہ ۳ فی صد نہیں، بلکہ ۱ئ۴ فی صد ہے۔ گویا ۰۹-۲۰۰۸ء کے مقابلے میں ساڑھے تین گنا اضافہ ہوا ہے جسے ایک ’عظیم کرشما‘ ہی کہا جاسکتا ہے۔

جب پوچھا گیا کہ معیشت کے تمام بڑے بڑے مراکز تو کوئی اچھی صورت حال ظاہر  نہیں کررہے اور خصوصیت سے توانائی کے بحران کی وجہ سے پیداوار میں یہ اضافہ قابلِ فہم نہیں ہے۔ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ اصل اضافہ تعمیرات کے شعبے (construction industry)کی وجہ سے ہوا ہے، جس نے سالِ رواں میں ۱۵ فی صد کے حساب سے ترقی کی ہے، حالانکہ اسٹیل اور سیمنٹ دونوں، جو اس صنعت کے اہم ترین بنیادی اجزا ہیں، وہ تو مشکلات کا شکار رہے ہیں، پھر اس کے باوجود اس صنعت میں ۱۵ فی صد اضافہ کیسے ہوگیا؟ اس سوال کا کوئی معقول جواب پیش نہ کیا جاسکا۔ اسی طرح لائیوسٹاک میں بھی دگنا اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یوں اعدادوشمار کے ہیرپھیر سے معاشی ترقی کی رفتار میں اضافے کا شعبدہ دکھا دیاگیا۔ پاکستان کے کئی معروف ماہرین معاشیات، مثلاً ڈاکٹر ایس اکبر زیدی (ڈان، ۲۴ مئی ۲۰۱۰ئ) اور ڈاکٹر اشفاق حسین (دی نیوز، ۱۸ مئی ۲۰۱۰ئ) اور ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی (جنگ، ۲۵ مئی ۲۰۱۰ئ)نے اس ’کارنامے‘ پر اپنی حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر زیدی نے بڑی دردمندی سے ملکی معیشت کے ذمہ داروں کو  بڑا مفید مشورہ دیا ہے، جسے ہم ہدیۂ ناظرین کرتے ہوئے ہم بھی حکومت کی ٹیم کو ان کے اس طبع زاد کارنامے پر داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے:

ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے جنھوں نے گذشتہ دو برسوں میں پاکستان کی معیشت کو متاثر کیا ہے۔ میں نے ان میں سے صرف چند کو بیان کیا ہے۔ کوئی ایسا راستہ نظر نہیں آتا کہ پاکستانی معیشت میں اتنی معجزانہ بہتری رونما ہوسکے۔ اگر ایسا ہوا ہے، جیساکہ پاکستانی معیشت کے ذمہ داروں کا دعویٰ ہے کہ ہوا ہے، تو ہمیں ان کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ انھوں نے معاشی انتظامیات کی بنیادی منطق ہی کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ ضروری ہے کہ وہ اپنے کارناموں کے لیے ثبوت مہیا کریں، تاکہ دوسرے بھی سیکھ سکیں۔ (روزنامہ ڈان، ۲۴ مئی ۲۰۱۰ئ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اٹھارھویں دستوری ترمیم پاکستان میں دستور سازی کی تاریخ کا اہم سنگِ میل ہے۔ اپنی چند خامیوں کے باوجود، مجموعی طور پر پاکستان میں جمہوریت کے قیام، دستوری نظام کی اپنی اصل شکل میں بحالی، پارلیمنٹ کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی، صوبائی حقوق کی حفاظت، بنیادی حقوق کی عمل داری اور ایک اسلامی، وفاقی اور فلاحی ریاست کے قیام کے تاریخی سفر کا ناقابلِ فراموش باب ہے۔

دستور کسی ریاست اور معاشرے میں بنیادی قانون کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ضابطہ، قوم کی دیرینہ روایات و اقدار، اس کے سیاسی اور اجتماعی عزائم اور منزلِ مراد کا آئینہ ہوتا ہے۔ یہ اس تصورِحیات، اجتماعی نظام اور تاریخی وژن کا امین ہوتا ہے جو ایک قوم اپنے مستقبل کے بارے میں رکھتی ہے، اور اس کی جڑیں معاشرے اور ریاست کے زمینی حقائق میں پیوست ہوتی ہیں۔ اس طرح ایک نظامِ کار اور نقشۂ راہ وجود میں آتا ہے، جو زندگی کے تمام پہلوئوں کی صورت گری میں اساسی کردارادا کرتا ہے۔ دستور اگر ایک طرف اس لنگر کے مانند ہے جو جہاز کو اس کے قیام میں استحکام فراہم کرتا ہے تو دوسری طرف یہ مملکت کی کشتی کے لیے اس چپو کا کردار بھی ادا کرتا ہے، جو کشتی کو اس کی منزل کی طرف کشاں کشاں لے جانے کی خدمت انجام دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دستور، ملک کے پورے نظام کے خطوط کار متعین کرتا ہے۔ ریاست اور قوم کے تشخص کا محافظ و نگہبان اور اس کے تمام کلیدی اداروں کے لیے واضح خطوط کار متعین کرتا ہے۔ اس میں یہ صلاحیت بھی ہونی چاہیے کہ بدلتے ہوئے حالات کا ساتھ دے سکے۔ نئے حقائق اور بدلتی اور نئی اُبھرتی ہوئی ضرورتوں کی روشنی میں مطلوبہ ہدایت اور رہنمائی فراہم کرنے کی خدمت انجام دے سکے۔ یہ ہے وہ ضرورت، جو دستوری ترمیم کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ دنیا کے تمام ہی دساتیر اس امر پر شاہد ہیں کہ وہ ریاست کے مقاصد اور نظامِ حکومت کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کا ضامن ہوتے ہیں۔ چونکہ اس کے ساتھ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگی کی ضرورت باربار رونما ہوتی ہے، اس لیے ریاستی دساتیر ایک زندہ دستاویز کے طور پر ان ضرورتوں کی تشفی کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔

امریکا کے دستور میں گذشتہ دو صدیوں میں درجنوں ترمیمات کی گئی ہیں، جو بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کے ساتھ وقت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذریعہ بنی ہیں۔ یہی صورت دنیا کے دوسرے ممالک کے دساتیر کی بھی ہے، لیکن پاکستان میں بار بار کی فوجی مداخلت اور دستور کی چیرپھاڑ کے باعث ہمارا مسئلہ بالکل مختلف نوعیت اختیار کر گیا۔ ہمیں دو چیلنج درپیش تھے: ایک یہ کہ دستور کے بنیادی اہداف کی روشنی میں نئے حالات اور مسائل کے تقاضوں کو دستور کے فطری ارتقا کے عمل کا حصہ بنایا جائے۔ نیز یہ کہ گذشتہ ۳۷ برسوں میں دستور میں جو ناہمواریاں اور انمل بے جوڑ تبدیلیاں اربابِ اقتدار اور خصوصیت سے فوجی حکمرانوں نے محض قوت کے نشے میں اور بڑی حد تک ذاتی اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے کی ہیں، ان سے دستورِ پاکستان کو کس طرح پاک کیا جائے۔ یہ بڑا مشکل اور نازک کام تھا، جسے الحمدللہ پارلیمنٹ کی دستوری اصلاحات کی کمیٹی نے بڑی محنت اور حکمت سے انجام دیا۔ اس عمل کے نتیجے میں دستور کی ۹۵ دفعات میں ضروری ترامیم کی گئیں۔

ان سفارشات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جس طرح ۱۹۷۳ء کے دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو قومی اتفاق راے سے تمام سیاسی جماعتوں کے بھرپور تعاون اور مؤثر حصہ داری سے، افہام و تفہیم کے ذریعے تیار اور منظور کیا گیا تھا، تقریباً اسی طرح ساڑھے نو مہینے کی مسلسل مشاورت اور کوشش کے ذریعے اٹھارھویں ترمیم کو مرتب کیا گیا ہے۔ کمیٹی میں اتفاق راے پیدا کیا  گیا اور پھر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے مکمل اتفاق راے سے انھیں منظور کیا۔ اس طرح یہ ترامیم اب دستور کا جزولاینفک بن گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں دستورِ پاکستان ایک طرف ان حشو و زوائد اور متعدد ناہمواریوں اور تضادات سے پاک ہوگیا ہے، جو دو مارشل لا حکومتوں میں آٹھویں (۱۹۸۵ئ) اور سترھویں (۲۰۰۳ئ) ترامیم کے ذریعے اس میں داخل کر دی گئی تھیں۔ دوسری طرف ان ۳۷برسوں میں جو نئے مسائل اور نئی ضرورتیں سامنے آئیں، ان کی روشنی میں دستور کو اس کی اصل شکل اور روح کے مطابق نہ صرف بحال کیا گیا ہے بلکہ اس کے بنیادی ڈھانچے اور مقاصد کے مطابق مزید ارتقائی منزلوں سے ہم کنار کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ بلاشبہہ کوئی بھی انسانی کوشش ہراعتبار سے مکمل اور خطا سے پاک نہیں ہوسکتی لیکن اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ بحیثیت مجموعی اٹھارھویں دستوری ترمیم ایک مثبت پیش رفت ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرناچاہیے۔ البتہ، اس میں اب بھی جو خامیاں رہ گئی ہیں، یا جو امور مزید اصلاح طلب ہیں، یا جو دستوری مسائل حل طلب ہیں، ان کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں تاکہ ہمارے قدم آگے ہی بڑھتے رہیں۔

دستوری کمیٹی کے لیے چیلنج

اس وقت دستور کے بارے میں دستوری کمیٹی، پارلیمنٹ اور پوری قوم کے سامنے بنیادی طور پر دو چیلنج تھے: پہلا یہ کہ دستور میں جو انمل بے جوڑ چیزیں داخل کر دی گئی ہیں، ان سے اس کو پاک کیا جائے۔ لیکن اس پورے عمل میں اگر کچھ چیزیں صحیح اور دستور کے فریم ورک اور مقاصد سے ہم آہنگ ہیں تو ان کو محض اس وجہ سے رد نہ کردیا جائے کہ انھیں دستور کا حصہ بنانے کا عمل خام یا ان کا وجود محلِ نظر تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ ایک طرف جو عمل غلط ہوا ہے، اس کے غلط ہونے کا ادراک ہی نہیں اعلان بھی ہو۔ دوسری طرف تعصب یا ہٹ دھرمی کے راستے سے دامن بچاتے ہوئے خذ ما صفاء ودع ما کدر (جو صحیح ہے اسے قبول کرلو اور جو نادرست ہے، اسے ترک کر دو) کے زریں اصول پر عمل کرتے ہوئے جو تبدیلیاں صحیح مقاصد کے حصول اور دستور کے مزاج اور فریم ورک سے مطابقت رکھتی ہیں، ان کو قبول کرلیا جائے___ اس پس منظر میں اگر آپ اٹھارھویں دستوری ترمیم کی شق ۲ اور شق ۹۵ (ترمیم شدہ دستوری دفعہ ۳۷۰ اے اے) کا مطالعہ کریں، تو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے نافذ کردہ ایل ایف او کو، جو ایک غلط اور ناجائز اقدام تھا، بجاطور پر غلط اور ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح سترھویں دستوری ترمیم کو جو خاص حالات میں منظور کی گئی تھی، اسے بھی دستور کی زبان میں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ان میں جو چیزیں دستور کے فریم ورک سے ہم آہنگ یا وقت کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہیں، ان کو جاری رکھا گیا ہے___کچھ کو تحفظ دے کر اور کچھ کو دوبارہ اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے دستور کا حصہ بناکر۔

اس خاص طریقِ کار کے ذریعے دو مقاصد حاصل کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اصل اقدام کے ناجائز ہونے کا اعلان دستور میں آجائے، تاکہ آیندہ کے لیے دستور میں اس طرح کی دراندازیوں کا دروازہ بند ہو۔ پھر اعلیٰ عدالتوں پر بھی واضح ہوجائے کہ ان کے جواز (validation) کو پارلیمنٹ نے رد کر دیا ہے۔ دوسری طرف قوانین کے تسلسل اور مناسب تبدیلیوں کو محض ضد اور عناد کی بنا پر رد نہیں کیا گیا، بلکہ ان کو حیاتِ نو دے دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ان کو مکمل قانونی جواز حاصل ہوگیا ہے۔

اس عملِ تطہیر اور تصحیح کے ساتھ دستوری کمیٹی نے تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو نئی تجاویز دینے، دستور کو تازہ دم کرنے اور نئے مسائل کی روشنی میں ترامیم کی نشان دہی کرنے کی دعوت دی۔ ۸۰۰ سے زیادہ تجاویز آئیں، جن کا جائزہ لیتے ہوئے، جو کچھ اس وقت ضروری اور قابلِ عمل سمجھا گیا، اسے اس جامع دستوری ترمیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

دستوری کمیٹی نے اپنے کام کے آغاز ہی میں چند اصولی باتیں طے کیں، جن کو سمجھنا ضروری ہے:

۱- ہم پورے دستور پر نظرثانی نہیں کر رہے اور نہ دستور کے بنیادی ڈھانچے اور فریم ورک ہی میں کوئی تبدیلی ہمارے پیش نظر ہے۔ ہم صرف ان دو ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے جو اُوپر بیان کی گئی ہیں۔

۲- اس کے لیے ضروری ہے کہ دستور کے فریم ورک کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ پاکستان کا دستور تحریکِ پاکستان کے مقاصد کے پس منظر میں مرتب اور منظور کیا گیا ہے۔ ’قراردادِ مقاصد‘ (مارچ ۱۹۴۹ئ) اس فریم ورک کی بنیاد اور ماخذ ہے۔ پھر ۱۹۷۳ء کے دستور کو منظور کرنے والی دستورساز اسمبلی نے دستور کی بنیادوں کو واضح کر دیا ہے، جنھیں جو اس وقت کے صدرِ مملکت اور دستور ساز اسمبلی کے چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو نے دستور کے مسودے کے منظور ہونے کے موقع پر اپنے اختتامی خطاب میں اس طرح بیان کیا تھا:

بہت سے تنازعات کے بعد ۲۵ سال بعد ہم ایسے مقام پر آگئے ہیں جہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک دستور رکھتے ہیں اور کوئی اس بات سے انکارنہیں کرسکتا۔ یہ دستور پاکستان کے عوام کی مرضی کی نمایندگی کرتا ہے۔ کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جمہوریت کی کسی بھی تعریف کے مطابق یہ ایک جمہوری دستور ہے۔ کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ ایک وفاقی دستور ہے۔ کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ اسلامی دستور ہے۔ اس میں پاکستان کے کسی بھی سابقہ دستور یا دنیا کے دوسرے اسلامی ممالک کے دستور جہاں شاہی نظام ہے، زیادہ اسلامی دفعات ہیں۔

موصوف نے ایک بار پھر دستور کی بنیادی خصوصیات اور اس کے اساسی فریم ورک کا اس طرح اظہار کیا:

میرے دوستو! یہ دستور جو جمہوری ہے، جو وفاقی ہے اور اسلامی نظام کا جوہر اپنے اندر رکھتا ہے، اسلامی سیاسی نظام کا تحفظ کرتا ہے۔ یہ دستور عدلیہ کو آزادی فراہم کرتا ہے۔ یہ دستور شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ [نیشنل اسمبلی آف پاکستان (بحیثیت دستورساز اسمبلی) ۱۰؍اپریل ۱۹۷۳ئ، ص ۶۹-۲۴۶۸ سرکاری رپورٹ اور بحث، اپریل ۱۹۷۳ئ۔]

صدر دستور ساز اسمبلی کے ان واضح ارشادات سے دستور کے بنیادی اور اساسی ستون  واضح طور پر سامنے آجاتے ہیں اور وہ یہ ہیں:

ا-  دستور کی بنیاد اسلام اور اسلام کا دیا ہوا سیاسی نظام ہے، جس کی حفاظت اور جس پر عمل پہلا ہدف ہے۔

ب- دستور جمہوری ہے، جو پارلیمانی نظامِ حکومت کے اصول پر قائم ہے۔

ج- دستور ایک وفاقی نظام کا تصور پیش کرتا ہے۔

د- بنیادی حقوق کی حفاظت اس دستور کا ایک ناقابلِ تنسیخ پہلو ہے۔

ہ- عدلیہ کی آزادی دستور کا پانچواں ستون ہے۔

ان پانچوں بنیادوں کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے بار بار دستور کا بنیادی فریم ورک قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس حمودالرحمن نے قرارداد مقاصد کو اپنے اس تاریخی فیصلے میں grund-norm [معروف و مقبول ضابطہ] قرار دیا تھا، جس میں جنرل محمد یحییٰ خان کے اقتدار کو غاصبانہ اور ناجائز قبضہ قرار دیا گیا تھا۔ پھر عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے میں، جس میں جنرل پرویز مشرف کے اقدام کو جواز بخشا گیا تھا، اور اسے دستوری ترمیم کا حق بھی بن مانگے عطا کردیا گیا تھا، تاہم یہ بھی واضح کر دیا گیا تھا کہ یہ پانچوں اصول دستور کا بنیادی ڈھانچا ہیں اور ان میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح سپریم کورٹ نے اپنے ۳۱ جولائی ۲۰۰۹ء کے فیصلے میں دستور کے بنیادی ڈھانچے کو ان اصولوں سے عبارت قراردیا ہے اور عدالت عظمیٰ کا یہی احساس ۱۶دسمبر ۲۰۰۹ء کے فیصلے میں بھی پوری شان سے نظر آتا ہے۔

کمیٹی نے ایک اولیں اصول یہ طے کیا: اگرچہ اس کے سامنے ’میثاقِ جمہوریت‘ اور تمام سیاسی جماعتوں کی تجاویز رہیں گی، لیکن اس کا سارا کام دستور کے اس فریم ورک کے اندر ہوگا۔ ترامیم کا رد و قبول اس کسوٹی پر ہوگا۔ کمیٹی نے اپنے دائرۂ کار کا اس طرح تعین کیا:

کمیٹی سترھویں ترمیم، میثاقِ جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کو پیش نظر رکھ کر ترامیم تیار کرے گی تاکہ پاکستان کے عوام کی جمہوری اور اسلامی تمنائیں پوری ہوسکیں۔

دستوری کمیٹی نے دوسرا اصول یہ متعین کیا کہ حتی الوسع کوشش ہوگی کہ تمام ترامیم اور تجاویز اتفاق راے سے مرتب کی جائیں، اور اگر یہ ممکن نہ ہو، تو پھر کمیٹی کی کل تعداد کے دو تہائی سے فیصلہ ہوگا جسے اختلاف کرنے والے ارکان اکثریت کے فیصلے کے طور پر قبول کرلیں گے، البتہ انھیں اختیار ہوگا کہ اپنی اصولی اور ’پارٹی پوزیشن کو اعادۂ موقف کے نوٹ‘ (note of reiteration) کے ذریعے ظاہر کر دیں اور مستقبل میں اپنے موقف کے حصول کے لیے کوشش کا حق محفوظ رکھیں۔ بظاہر یہ صرف لفظی کھیل نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں اتفاق اور تعاون کے ایک نئے ماڈل کو ترویج دینے کے لیے اختلافی نوٹ (note of dissent) کے بجاے سب نے اعادۂ موقف کی اصطلاح کو اختیار کیا۔

دستوری کمیٹی نے اپنی تمام کارروائیوں کو بند کمرے کی کارروائی اس لیے رکھا کہ تمام جماعتیں پوری آزادی کے ساتھ افہام و تفہیم کے عمل کو آگے بڑھا سکیں، اور وقت سے پہلے بحث و مباحثے کا بازار گرم نہ ہو۔ اس ذیل میں صرف اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے مسئلے کو استثنا حاصل رہا۔ یہ اسی طریق کار کا نتیجہ تھا کہ اختلافات کے باوجود بڑے بنیادی امور کے بارے میں کمیٹی متفقہ تجاویز مرتب کرسکی اور پارلیمنٹ کی متفقہ منظوری کے ۱۹۷۳ء کے دستور کی ۲۸۰ میں سے ۹۵ دفعات میں مکمل اتفاق راے کے ساتھ تبدیلی کا عمل ممکن ہوسکا۔

دستوری استحکام کی طرف اھم پیش رفت

اٹھارھویں دستوری ترمیم کا سب سے بڑا نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے مکمل اتفاق راے سے ۱۹۷۳ء کے دستور کو اس کے بنیادی ڈھانچے کی مکمل حفاظت اور مزید مضبوطی اور وسعت دینے کے ساتھ ۲۰۱۰ء کی ضرورتوں اور تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تقسیم اختیارات اور توازن کے سہ کونی انتظام (triconomy of power) کے بنیادی اصول کی پاسداری کی گئی ہے۔ تمام اداروں کو دستور کے فریم ورک میں اور دستور سے اختیارات حاصل کرنے والے اداروں کی حیثیت سے، اپنے اپنے وظیفے اور ذمہ داری کو ادا کرنے کے لائق بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک مشکل اور حساس مسئلے، یعنی مرکز اور صوبوں میں اختیارات اور ذمہ داریوں کی تقسیم کو نئے حالات کی روشنی میں ایک متفق علیہ فارمولے کی شکل دے کر منظوری دی گئی ہے، جس کا مرکزی تصور ملکیت، انتظام، نگرانی اور احتساب میں شراکت ہے۔

اس نئے مثالیے (paradigm) کے نتیجے میں ملک کو ایک ’مرکزیت کے حامل وفاق‘ (centralized federation) کے تصور سے ہٹ کر ایک ’باہم شراکت کے حامل وفاق‘ (participatory federation) کے تصور کی طرف لایا گیا ہے، جو اٹھارھویں ترمیم کا فی الحقیقت ایک اہم کارنامہ ہے۔ اگر اس تصور پر صحیح صحیح عمل ہو تو مرکز اور صوبوں میں جو کھچائو، بے اعتمادی بلکہ تصادم کی فضا بن رہی تھی، وہ ان شاء اللہ تعاون اور اعتماد میں تبدیل ہوجائے گی، اور اس طرح مرکز اور صوبوں کے درمیان زیادہ یک جہتی پیدا ہوسکے گی۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی متوقع ہے کہ مرکز گریز یا علیحدگی پسندی کی تحریکات اور غیرجمہوری راستے اختیار کرنے کے جو رجحانات سر اُٹھا رہے تھے، وہ ختم ہوسکیں گے۔ یوں معاشرے کے تمام عناصر کو جمہوری عمل کا حصہ بناکر اختیارات کی شراکت کے ذریعے ایک ایسے نظام کو فروغ دیا جاسکے گا، جس میں سب ایک ٹیم بن کر اپنا اپنا کردار ادا کرسکیں گے۔ اس طرح صوبوں کی مضبوطی اور خوش حالی کے ذریعے پورے ملک کی مضبوطی، استحکام اور  خوش حالی کا حصول ایک حقیقت بن سکے گا۔ مگر یہ سب کام خلوصِ نیت، احساسِ ذمہ داری، ایثارکیشی اور پاکستانیت کے حقیقی شعور کے ساتھ ہی ممکن العمل ہے۔ اور اصل چیزیں اصولوں اور ضابطوں پر عمل ہے، محض انھیں کتاب دستور کا حصہ بنانا کافی نہیں۔

اٹھارھویں ترمیم کے پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظور ہونے کا ایک اور تاریخی اثر یہ ہے کہ اب دستور میں جو بھی ہے، اسے پوری پارلیمنٹ اور قوم کی تائید حاصل ہے۔ جنرل محمدضیا الحق کے نام اور ریفرنڈم کے ذریعے صدر بننے کے ذکر کو دستور سے خارج کرنے اور جنرل پرویز مشرف کے ریفرنڈم اور اقتدار کے جواز سے دستور کے اوراق کو پاک کرنے کا جو مثبت قانونی نتیجہ رونما ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ آٹھویں اور سترھویں ترامیم کے جن اجزا کو دستور میں رکھا گیا ہے، وہ پاکستان کی پارلیمنٹ اور قوم کی مکمل تائید سے دستور کا مستقل حصہ بن گئی ہیں اور اب اس کی حفاظت کی ذمہ داری مکمل طور پر پارلیمنٹ اور پاکستانی قوم پر آتی ہے۔ ایسی تمام دفعات اب کسی آمرمطلق کے  نشاناتِ جبر اور کسی عدالت کے جواز کا حاصل نہیں رہے، بلکہ ۱۹۷۳ء کے دستور کا جائز اور مبنی برحق حصہ بن گئے ہیں اور ان پر انگشت نمائی کا کوئی جواز باقی نہیں رہا، جو ایک خاص طبقے کا معمول بن گیا تھا۔

اس سلسلے میں دستور کی دفعہ ۲ (الف) جس کے ذریعے ’قرارداد مقاصد‘ کو دستور کا    قابلِ تنفیذ حصہ بنایا گیا تھا، دفعات ۶۲ اور ۶۳ میں جو تبدیلیاں کی گئی تھیں اور دستور کا باب ۳-الف    بہ سلسلہ وفاقی شرعی عدالت اور اس کی متعلقہ دفعات ۲۰۳-اے سے لے کر ۲۰۳-جے تک فوجی آمر کے سایے سے آزاد ہوکر دستور کی باقی دفعات کی طرح پارلیمنٹ کا فیصلہ قرار پائیں ہیں۔ یہاں پریہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ایل ایف او اور سترھویں دستوری ترمیم کو تو منسوخ کیا گیا ہے، مگر اس کے برعکس آٹھویں ترمیم سے بالکل مختلف معاملہ کیا گیا ہے۔ اسے صرف ۱۹۸۵ء کی پارلیمنٹ کی توثیق ہی کی بنا پر نہیں، بلکہ ۱۹۸۸ء سے لے کر ۱۹۹۹ء تک کی پارلیمنٹوں کی تائید اور توثیق کی بنیاد پر، ۲۰۱۰ء کی ترمیمات کے ذریعے مکمل سندِجواز اور دستور کی باقی دفعات کے ہم رنگ قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ خود ’میثاقِ جمہوریت‘ میں ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کی شکل میں دستور کی بحالی کے مطالبے میں بھی اس امرواقعی کو امرقانونی کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔

اٹھارھویں ترمیم کے بعد دستور اب ایک مکمل یک جان، یک روح وجود کی حیثیت اختیار کرگیا ہے، اور یہ تجدیدِ عہد دراصل سیکولر لابی کی بڑی شکست ہے، وہ لابی کہ جس نے اس پورے عرصے میں ان دفعات کو نشانہ بنایا ہوا تھا اور خود کمیٹی کے کام کے دوران میں بھی اس طبقے نے انھیں سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ ان کی کوشش تھی کہ: اسلامی دفعات میں جو اضافے ہوئے ہیں، ان کو کسی طرح ختم یا کم از کم تحلیل (dilute) کریں، لیکن الحمدللہ وہ اپنی اس کوشش میں ناکام ہوئے۔

ہم نے ان صفحات میں اٹھارھویں ترمیم کے تین نمایاں قانونی، اخلاقی اور سیاسی پہلوئوں کا ذکر کیا ہے یعنی (۱) ان کا مکمل اتفاق راے سے منظور کیا جانا (۲) اسلامی دفعات کو دستور کے وجود کا جزولاینفک (Integral) بنانا، اور (۳) صوبائی خودمختاری کے ایک نئے ماڈل کو دستوری شکل دینا۔ یہ دستوری کمیٹی، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے ایک عظیم خدمت ہے۔ ایسی خدمت جو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی اور اس کے نتیجے میں ۱۹۷۳ء کے دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ۲۰۱۰ء میں ایک زیادہ محکم، واضح اور نکھری شکل اختیار کرلی ہے۔ توقع ہے کہ مستقبل کی منزلوں کو طے کرنے میں یہ دستور اپنی اس  ارتقا یافتہ شکل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکے گا۔

پاکستان کی دستوری تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ایک افسوس ناک صورت حال سامنے  آتی ہے۔ وہ دستور ساز اسمبلی جسے ۱۹۴۶ء کے انتخابات میں منتخب کیا گیا تھا، اس کے سپرد حصولِ آزادی کے بعد دستور بنانا تھا، مگر افسوس کہ اسے قرارداد مقاصد کو منظور کرنے کے بعد دستور بنانے سے محروم رکھا گیا۔ پھر جب بڑی سخت جدوجہد کے بعد۱۹۵۴ء میں دستور کا مسودہ دستورساز اسمبلی میں لانے کا موقع آیا تو اس اسمبلی ہی کو غیرقانونی طور پر تحلیل کردیا گیا۔ پھر اس کی جگہ ایک نئی اسمبلی نے ۱۹۵۶ء میں پہلا دستور بنایا تو اس دستور کے تحت انتخابات کے انعقاد سے چند ماہ قبل اس دوسری دستورساز اسمبلی کو بھی تحلیل اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے متفقہ دستور کو منسوخ کردیا گیا اور بے رحم فوجی راج کا تاریک دور شروع ہو گیا۔

۱۹۶۲ء میں، وقت کے فوجی آمر نے ایک دستور مسلط کیا، جس سے قرارداد مقاصد حذف کردی گئی تھی اور جمہوریہ کے نام سے بھی ’اسلامی‘ کا لفظ نکال دیا گیا تھا، مگر عوامی دبائو کے تحت دوسال ہی کے اندر ان دونوں اسلامی دفعات کو بحال کرنا پڑا۔ البتہ ملک کا دستوری نظام، پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام میں تبدیل کر دیا گیا۔ فیڈریشن کا نام تو باقی رہا مگر عملاً وحدانی (unitary) نظام ملک پر مسلط کر دیا گیا۔ جنرل آغا یحییٰ خان نے جنرل ایوب خان کے دستور ۱۹۶۲ء کو   منسوخ کردیا اور ایک نئی دستورساز اسمبلی وجود میں لانے کے لیے عام انتخابات کا انعقاد کرایا۔ یہ دستور ساز اسمبلی بدقسمتی سے پورے پاکستان کی جگہ صرف مغربی پاکستان کے لیے دستور بناسکی، کیونکہ ۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء کو بھارتی جارحیت اور بنگلہ قوم پرستی کے مشترکہ عمل سے مشرقی پاکستان الگ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا تھا۔

ان مایوس کن حالات میں ۱۹۷۳ء کا دستور بنانا ایک بہت بڑی کامیابی تھی، مگر اس پر دیانت داری کے ساتھ عمل کرنے سے حکمرانوں نے پہلوتہی اختیار کیے رکھی۔ بلکہ پہلی سات میں سے چھے ترامیم ایسی تھیں، جن کے ذریعے دستور کے بنیادی ڈھانچے کو مجروح کیا گیا۔ صرف دوسری ترمیم کو استثنا حاصل ہے جس کے ذریعے ’مسلم ‘کی تعریف کی گئی اور وہ پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ باقی تمام ترامیم کی پوری اپوزیشن نے مخالفت کی اور انھیں محض عددی قوت کے بل بوتے پر زبردستی دستور کا حصہ بنایا گیا۔ آٹھویں ترمیم اور پھر سترھویں ترمیم کے ذریعے پارلیمانی نظام کو عملاً نیم صدارتی نظام میں تبدیل کر دیا گیا۔ صدر مملکت کو نہ صرف پارلیمنٹ کاحصہ بنایا گیا، بلکہ اسے اسمبلی توڑنے اور اہم ترین تقرریوں کا اختیار بھی دے دیا گیا جس سے عملاً صدر کو چیف ایگزیکٹو کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ اٹھارھویں ترمیم کا اوّلیں ہدف دستور کو پارلیمانی نظام کی شکل میں لانا تھا۔ نیز ملک کو ایک ایسے وفاقی نظام کی صورت دینا تھا، جس میں مرکز اور صوبے اختیارات اور ذمہ داریوں میں حقیقی شراکت کرسکیں، مزید یہ کہ ۳۷سال کے تجربات کی روشنی میں دستور کو نئے حالات سے نمٹنے کے لائق بنانا تھا، تاکہ مملکت کے قیام کے مقاصد کو بہتر انداز میں حاصل کیا جاسکے۔

آیئے دیکھیں کہ اس ترمیم کے ذریعے دستور میں کون کون سی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں:

صدر، وزیراعظم اختیارات میں توازن

پارلیمانی نظام کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں فیصلوں، قانون سازی اور جواب دہی کا مکمل اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہوتا ہے۔ انتظامیہ، پارلیمنٹ میں سے وجود میں آتی ہے اور پارلیمنٹ کے سامنے پوری طرح جواب دہ ہوتی ہے۔ وزیراعظم کاانتخاب قومی اسمبلی کرتی ہے، جو بالغ حق راے دہی کی بنیاد پر براہِ راست منتخب ہوتی ہے اور وہی اسمبلی وزیراعظم پر عدمِ اعتماد کا اظہار کرسکتی ہے۔ مملکت کا انتظام، کابینہ کے ذریعے ہوتا ہے جسے پارلیمنٹ ہی میں سے مقرر کیا جاتا ہے اور وہ ’اجتماعی جواب دہی‘ کے اصول پر کام کرتی ہے۔ اہم تقرریاں وزیراعظم کے مشورے کے مطابق کی جاتی ہیں اور صدرمملکت کی حیثیت بڑی حد تک علامتی ہوتی ہے، جس کے لیے اس کا غیرجانب دار ہونا بھی ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ کاروبارِ حکومت بالعموم صدر کے نام پر ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ ریاست کی علامت اور وفاق کی شناخت تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن عملاً حکومت کی ذمہ داری کابینہ انجام دیتی ہے، جو وزیراعظم، وزرا اور وزراے مملکت پر مشتمل ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ پارلیمانی نظام میں اس بات کا خطرہ رہتا ہے کہ وہ کہیں وزیراعظمی نظام نہ بن جائے۔ اس کے لیے وزیراعظم کو بھی اداراتی مشاورت کے نظام کا پابند کیا جاتا ہے اور ’صواب دیدی اختیارات‘ کو جس حد تک ممکن ہو محدود کیا جاتا ہے۔ فیصلہ سازی اور تقرریوں کے عمل کو زیادہ سے زیادہ شفاف اور اہلیت کے مطابق بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ اختیارات کا ارتکاز نہ ہو اور افراد اور اداروں کے درمیان توازن قائم رہ سکے۔

ان مقاصد کے حصول کے لیے ضروری تھا کہ صدر نے جو اختیارات آٹھویں اور سترھویں ترامیم کے ذریعے حاصل کرلیے ہیں، ان کو بطریق احسن وزیراعظم، کابینہ اور پارلیمنٹ کی طرف منتقل کیا جائے، اور ان سے وابستہ تصورات کوغیرمبہم بنانے کے لیے الفاظ بھی وہ استعمال کیے جائیں، جو توازن اختیارات کو حقیقی بناسکیں۔

اس مقصد کے حصول کے لیے اٹھارھویں ترمیم میں حسب ذیل تبدیلیاں ہوئی ہیں:

۱- نمایاں ترین چیز دستور کی دفعہ ۵۸ (۲) ب کی تنسیخ ہے، جس کے ذریعے صدر کو مرکز میں اور صوبوں میں اس کے نمایندہ گورنر کو اسمبلیاں توڑنے کا اختیار دیا گیا تھا (۱۱۲ (۲) ب)۔ بلاشبہہ آٹھویں ترمیم میں صدر کے اس اقدام کو عدالت میں قابلِ مواخذہ بنایا گیا تھا، اور سترھویں ترمیم میں ایسے اقدام کو آپ سے آپ سپریم کورٹ کے ’جائزے‘ (ریویو) کا پابند کر دیا گیا تھا، مگر اصل چیز صدر کا وہ صواب دیدی اختیار تھا، جو اسمبلیوں پر تلوار کی طرح لٹک رہا تھا۔ اب اس اختیار کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

۲- صدر کو اپنے صواب دیدی اختیار سے مسلح افواجِ پاکستان کے تینوں سربراہوں اور جوائنٹ چیف کے تقرر کا اختیار تھا، وہ اَب وزیراعظم کو منتقل ہوگیا ہے۔ اسی طرح چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ارکان، اور عبوری حکومت کے سربراہ کا تقرر کا اختیار بھی صدر کو حاصل ہوگیا تھا، لیکن اب اٹھارھویں ترمیم کے تحت یہ تقرریاں وزیراعظم کے ہاتھوں ایک پارلیمانی انتظام کی مشاورت سے واقع ہوں گی۔ گورنروں کے تقرر میں بھی اب وزیراعظم کا مشورہ فیصلہ کن ہوگا۔ اسی طرح ججوں کے تقرر کا بھی نیا نظام تجویز کیا گیا ہے۔ پبلک سروس کمیشن کا سربراہ بھی اب وزیراعظم کے مشورے پر مقرر کیا جائے گا۔

۳- آٹھویں ترمیم کے ذریعے وزیراعظم کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ صدرِ مملکت کو کابینہ کے تمام فیصلوں اور جملہ انتظامی امور اور قانون سازی کی تجاویز کے بارے میں مطلع رکھے، اور صدر کو بھی یہ اختیار تھا کہ وہ کابینہ سے اس کے کسی بھی فیصلے یا کسی بھی دوسرے امر کے بارے میں ازسرِنو غور کا مطالبہ کرسکتا تھا۔ ان تمام حصوں کو اب حذف کردیا گیا ہے، اور اس کے لیے ایک جامع دفعہ رکھی گئی ہے، جس کے تحت وزیراعظم تمام ملکی اور بیرونی امور پر صدر کو عمومی طور پر مطلع رکھے گا۔ مگر محض صدر کے ایما پر کوئی مسئلہ زیرغور نہیں آئے گا۔

۴- ایک اہم تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ دفعہ ۹۹ میں انتظامِ حکومت، صدر کے بجاے    مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ ایسی ہی تبدیلی گورنر اور صوبائی حکومت کے ذیل میں بھی کی گئی ہے۔ نیز حکومت کی جانب سے ’حکومتی قواعد کار‘ (rules of business) مرتب کرنے اور   ان میں تبدیلی لانے کی ذمہ داری بھی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو حاصل ہوگئی ہے، جن کے سربراہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ ہوں گے۔ صدر یا گورنر کا دخل اس باب میں بھی ختم کردیاگیا ہے۔

۵- دستور کی دفعہ ۴۸ میں صدر کو وزیراعظم کے مشورے پر ۱۵اور ۱۰ دن کے اندر اندر عمل کرنے کا پابند کردیا گیا ہے۔ ایسی ہی پابندی گورنر پر بھی عائد کی گئی ہے۔

۶- صدر کو ریفرنڈم کا جو صواب دیدی اختیار حاصل تھا، اب وہ بھی ختم کردیا گیا ہے، بلکہ  کسی ایسے فیصلے کے لیے وزیراعظم کو بھی پارلیمنٹ کے مشترک اجلاس کی تائید کا پابند کیا گیا ہے۔

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس طرح صدر کے اختیارات کو محدود اور اس کے مقابلے میں وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے اختیارات کو مضبوط کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے، جب کہ صدر کی پارلیمنٹ کے سامنے کوئی جواب دہی نہیں ہے۔ وہ صرف ہر سال سیشن کے آغاز پر پارلیمنٹ سے خطاب کرتا ہے اور پارلیمنٹ اگر چاہے تو اس کا مواخذہ کرسکتی ہے، لیکن صدر کی عمومی جواب دہی کا کوئی نظام نہیں ہوتا۔

صدر آصف علی زرداری صاحب بار بار یہ احسان جتا رہے ہیں کہ: ’’میں نے پارلیمنٹ کو اور وزیراعظم کو اپنے اختیارات منتقل کر دیے ہیں‘‘۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ فوجی صدور نے یہ اختیارات جبراً حاصل کیے تھے اور ان غصب شدہ اختیارات کی واپسی ’میثاقِ جمہوریت‘ اور تمام سیاسی جماعتوں بشمول پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے منشور کا بنیادی حصہ تھا۔ اٹھارھویں ترمیم، صدر زرداری صاحب کا عطیہ نہیں ہے بلکہ عوامی مینڈیٹ کو پورا کرنا ہے۔ صدرموصوف نے دو سال تک ان اختیارات کی منتقلی میں مسلسل لیت و لعل کی، جس کی جواب دہی ان کو کرنا چاہیے، نہ کہ وہ اب دو سال بعد اس تبدیلی کو اپنا ذاتی احسان قرار دیں۔

واضح رہے کہ تیرھویں ترمیم کے موقع پر بھی یہ اختیارات اس وقت کے صدر جناب فاروق احمد خاں لغاری سے وزیراعظم کو منتقل ہوئے تھے اور صدر مملکت نے بخوشی اس ترمیم پر دستخط کردیے تھے، تب انھوں نے کوئی احسان نہیں جتایا تھا۔

پارلیمان کی بالادستی کے لیے نیا نظام

پارلیمنٹ کی بالادستی کے قیام اور اہم تقرریوں کو خود وزیراعظم کے صوابدیدی اختیار کے دائرے سے نکال کر اداراتی مشاورت کے ذریعے انجام دینے والے نظام کا اختیار کیا جانا، اٹھارھویں ترمیم کے حوالے سے یہ ایک اہم تبدیلی ہے۔ اس کے لیے جو نیا نظامِ کار اختیار کیا گیا ہے، وہ پارلیمنٹ کو زیادہ کارفرما قوت بنانے اور وزیراعظم کے اختیارات کو محدود کرنے کا باعث ہوگا:

۱- سب سے اہم تبدیلی الیکشن کمیشن کے تصور اور اس کے تقرر کے طریق کار میں ہے، جس کے نتیجے میں الیکشن کا نظام زیادہ غیر جانب دار اور شفاف ہوسکے گا، جو جمہوریت کی روح ہے۔ اس سلسلے میں پہلی تبدیلی یہ ہے: اب الیکشن کمیشن ایک مستقل ادارہ ہوگا اور اس میں مرکزی کردار صرف الیکشن کمشنر کا نہیں بلکہ پورے کمیشن کا ہوگا، جو چیف الیکشن کمشنر اور چار ججوں پر مشتمل ہوگا، اور وہ چاروں صوبوں سے لیے جائیں گے۔ ان کا تقرر وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف باہمی مشورے سے کریں گے اور وہ تین نام ایک پارلیمانی کمیٹی کو دیں گے، جو ۱۲ افراد پر مشتمل ہوگی، جس میں ایک تہائی ارکانِ سینیٹ ہوں گے اور یہ کمیٹی تجویز کردہ ناموں میں سے ایک کا انتخاب کرے گی۔ اسی طرح کمیشن کا تقرر پانچ سال کے لیے ہوگا اور اس میں توسیع نہیں ہوسکے گی۔

۲- پبلک سروس کمیشن کے سربراہ کا تقرر بھی وزیراعظم، قائد حزب اختلاف کے مشورے سے کرے گا۔ یوں، الیکشن کے نظام کو شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے اور سروسز کے انتخاب کے عمل کو حکومتِ وقت کی گرفت سے نکالنے اور معیار و قابلیت کے نظام کو ترویج دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

۳- اسی طرح ججوں کے تقرر کے نظام کو ہرسطح کے ’صواب دیدی اختیار‘ سے پاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سب سے سینیر جج کے چیف جسٹس بننے کے اصول کے تسلیم کیے جانے اور اس اہم ترین تقرری میں انتظامیہ کی مداخلت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ نئے ججوں کے تقرر کر لیے برتری عدالت کو حاصل ہے، جس میں عدالتی کمیشن کا سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان ہوگا۔ اس میں سپریم کورٹ کے دو سب سے سینیر جج اور سپریم کورٹ کا ایک ریٹائرڈ چیف جسٹس یا جج ہوگا، جسے چیف جسٹس آف پاکستان باقی دو ججوں کے مشورے سے مقرر کریں گے۔ باقی تین افراد وزیرقانون، اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ کا ایک سینیرایڈووکیٹ جسے پاکستان بار کونسل نامزد کرے گی۔ اس طرح سات میں سے چار جج ہوں گے۔ یہ عدالتی کمیشن، نئے ججوں کے لیے جو نام تجویز کریں گے، وزیراعظم اپنے صواب دیدی اختیار سے تقرر کے لیے صدر کو نہیں بھیجیں گے، بلکہ ایک پارلیمانی کمیٹی کو بھیجیں گے، جس میں چار ارکان حکومتی پارٹی سے اور چار حزبِ اختلاف سے ہوں گے۔ نیز اُن میں سے چار قومی اسمبلی اور چار سینیٹ کے ارکان ہوں گے، جنھیں ۱۴ دن کے اندر اندر تجویز کردہ نام کی توثیق کرنا ہوگی اور صرف تین چوتھائی اکثریت سے انھیں نام رد کرنے کا اختیار ہوگا۔ گویا کہ اس طرح ہرسطح پر صواب دیدی اختیار کو ختم کرکے اداراتی مشاورت کا نظام قائم کیا جا رہا ہے اور نئے ججوں کے ناموں کا اوّلیں انتخاب عدلیہ کے توسط سے ہوگا۔

ججوں کے تقرر پر اعتراض کی حقیقت

اٹھارھویں ترمیم کی اس تجویز پر کچھ حلقوں کی طرف سے سخت اعتراضات کیے جارہے ہیں اور اسے عدلیہ کی آزادی کے تصور سے بھی متصادم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان اعتراضات کا مختصر جائزہ لے لیا جائے:

پہلی اصولی بات یہ ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور عدالت کے لیے ججوں کا تقرر دو الگ الگ امور ہیں۔ عدلیہ کی آزادی کا عمل ججوں کا عدلیہ کا حصہ بننے کے بعد شروع ہوتا ہے، اس کا تعلق ججوں کے تقرر سے نہیں۔ ججوں کے تقرر میں دو ہی چیزیں دیکھی جاتی ہیں: ایک قابلیت، دوسرے کردار، دیانت داری اور راست بازی___ عدلیہ کی آزادی کی ایک قابلِ ذکر مثال امریکا سے سامنے آتی ہے۔ یاد رہے امریکا میں ججوں کا تعین صدرِ مملکت کی تجویز پر سینیٹ کے ذریعے ہوتا ہے، لیکن تقرر کے اس طریقے کو آج تک کسی نے عدلیہ کی آزادی سے متصادم قرار نہیں دیا اور عدلیہ نے بھی اپنی آزادی کو برقرار رکھا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ دنیا کے دوسرے جمہوری ممالک میں ججوں کے تقرر کے طریق کار میں پارلیمنٹ کا کردار ایک واضح حقیقت ہے۔ جرمنی میں تومرکزی اور صوبائی اسمبلیاں باقاعدہ ووٹ سے ان کو منتخب کرتی ہیں۔ فرانس، اٹلی، ہالینڈ، جنوبی افریقہ، سنگاپور، تقریباً ۲۰ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں وزیرقانون، پارلیمنٹ کے نمایندوں اور قانون سے وابستہ اداروں کے نمایندوں کا اس میں دخل ہے لیکن اسے کہیں بھی عدلیہ کی آزادی سے متصادم قرار نہیں دیا گیا اور نہ ججوں کے کسی بھی عمل کے ذریعے منتخب یا مقرر ہوجانے کے بعد انھوں نے اپنی آزاد حقیقت کو مجروح ہونے دیا ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ ججوں کے تقرر کے سلسلے میں پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو بدقسمتی سے صرف چیف جسٹس کی سفارش پر تقرر، یا وزیراعظم اور وزیرقانون کی تجویز پر تقرر، دونوں ہی کا ریکارڈ کوئی بہت قابلِ فخر مثال پیش نہیں کرتا۔ سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ صاحب نے اپنی خودنوشت میں خود اپنے تقرر کا جو احوال بیان کیا ہے، اور اس میں خود زرداری صاحب کا کردار ناقابلِ رشک رہا ہے۔ اسی طرح خود ’ججوں کے کیس‘ (۱۹۹۶ئ) نے جو ایک کلاسیک حیثیت حاصل کرچکا ہے، جو معیار مقرر کیا تھا، اس پر اس فیصلے دینے والے جج بھی پورے نہیں اُتر رہے تھے۔

ان حالات میں ایک نئے تجربے کی تجویز کو ابتدا ہی میں اس طرح مطعون کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اس پر تجربے کی ضرورت ہے اور اگر تجربے کی روشنی میں کسی رد و بدل کی ضرورت ہو تو اس کا دروازہ بھی کھلا ہے۔ خود پاکستان بار کونسل نے کمیٹی کو جو تجویز بھیجی تھی، اس میں ۱۹افراد پر مشتمل کمیشن کی تجویز دی گئی تھی، جن میں سے سات جج اور چھے وکیل اور چھے ارکانِ پارلیمنٹ رکھے گئے تھے۔ گویا اس کمیشن میں جج اقلیت میں ہوتے اور وکیل اور پارلیمنٹ کے ارکان سات ججوں کے مقابلے میں ۱۲ بن جاتے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ کے چھے ارکان کو اس کمیشن میں رکھا جاسکتا ہے تو ایک پارلیمانی کمیٹی کے بننے سے کون سی انہونی ہو جائے گی۔

اس مسئلے پر جذباتی، گروہی یا طبقاتی انداز میں غور نہیں ہونا چاہیے اور اٹھارھویں ترمیم کی تجویز پر کھلے دل سے عمل کرنا چاہیے۔ بلاشبہہ پارلیمنٹ کی کمیٹی کی بھی ذمہ داری بہت بڑی ہے اور پارلیمنٹ کے ارکان کو میرٹ اور اصول پرستی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، لیکن چشم زدن میں اس نظام کو دستور کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم قرار دینا مبالغہ آمیز حد تک زیادتی ہے۔

اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کو زیادہ مؤثر بنانے کی تجاویز دی گئی ہیں، اور اس سلسلے میں دستور کی دفعہ ۲۰۰ اور ۲۰۳ میں جو ترامیم کی گئی ہیں، ان سے ان شاء اللہ عدلیہ مستحکم اور آزاد ہوگی اور ججوں کے تبادلوں کے سلسلے میں اگر وہ دو سال سے کم مدت کے لیے ہو تو ان کی مرضی کے خلاف تبادلہ اور تبادلہ قبول نہ کرنے پر ریٹائرمنٹ، عدلیہ کی آزادی کے اصول کے خلاف تھا  اور اسے اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے ختم کیا گیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کو جس طرح  بے توقیر کیا گیا تھا، ان کا تقرر، تبادلہ، برخاستگی جیسی ذلت آمیزی اور ان کو اپنی گرفت میں رکھنے  کے لیے، بطور سزا ان کی مرضی کے بغیر ان کو اس عدالت میں بھیجنے کے تمام امکانات کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے جج اب عدالت عالیہ کے باقی تمام ججوں کے مساوی ہوں گے اور ان کو وہی تحفظ حاصل ہوگا جو دوسروں کو حاصل ہے۔ جس کے بغیر عدلیہ کی آزادی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ یہ تمام پہلو مثبت ہیں اور ان کو نظرانداز کرنا قرینِ انصاف نہیں۔

بنیادی حقوق کا تحفظ

اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے عوام کے بنیادی حقوق کو مضبوط اور مستحکم کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم تبدیلی دستور کی دفعہ ۲۵-اے کا اضافہ ہے، جس کی رُو سے اب ملک کے ہر بچے کے لیے بنیادی تعلیم (۵ سے ۱۶ سال تک) مفت اور لازمی قرار دی گئی ہے اور یہ حق حاصل کیا جاسکے گا۔ یہ محض پالیسی کی سفارش نہیں ہے۔ اسی طرح حصولِ اطلاعات کا حق بھی کرپشن کو روکنے کے نظام کو شفاف بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔اسی طرح right to fair trial and dur process of law پہلی مرتبہ ایک دستوری حق کے طور پر کتابِ دستور میں لکھا گیا ہے۔ دستور توڑنے یا معطل کرنے یا اس میں معاونت کرنے والوں اور اس عمل کو سندِجواز دینے والوں کو دستور کی دفعہ ۶ کی گرفت میں لایا گیا ہے۔ بلاشبہہ صرف دستور میں ’غداری کا ارتکاب‘ جیسے الفاظ کے اندراج سے فوجی طالع آزمائوں اور ان کے سیاسی اور خود عدالتی پشتی بانوں کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس جرم کے ان تمام پہلوئوں کے دستور میں آنے کا ایک ’سدِجارحانہ‘ (deterrent) کردار ضروری ہے۔ البتہ آمریت کا راستہ روکنے کا اصل ذریعہ تو راے عامہ کی قوت، اداروں کا استحکام، سیاسی جماعتوں کا اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا، اور سب سے بڑھ کر اچھی حکمرانی کا وجود ہے۔ آزاد ذرائع ابلاغ بھی اس سلسلے میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں دفعہ ۶ کو وسعت دینا اور اس جرم کے تمام پہلوئوں پر اس کو محیط کردینا ایک مفید خدمت ہے۔

صوبائی خودمختاری

اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے ایک انقلابی اقدام ’مشترک لسٹ‘ کا خاتمہ اور مرکز اور صوبوں کے درمیان تعلقاتِ کار کی نئی بساط بچھانا، ایک مستحسن قدم ہے جس کے نتیجے میں اختیارات اور وسائل، صوبوں کی طرف منتقل ہوں گے۔ قانون سازی کی مرکزی فہرست کے حصہ دوم کو وسعت دی گئی ہے اور مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI) کو ایک مؤثر اور کارفرما ادارہ بناکر حکمرانی اور فیصلہ سازی میں مرکز اور صوبوں کے اشتراک کا ایک نیا نظام تجویز کیا گیا ہے۔ قومی اقتصادی کونسل (NEC)کو بھی مؤثر اور متحرک بنایا گیا ہے۔ ’قومی مالیاتی اوارڈ‘ کو صوبوں کو وسائل کی فراہمی کے لیے ایک نیاآہنگ دیا گیا ہے۔ ملک کے وسائل پر مرکز اور صوبوں میں ملکیت اور انتظام و انصرام کے اشتراک کا بندوبست تجویز کیا گیا ہے۔ پن بجلی کے منصوبوں کے سلسلے میں متعلقہ صوبے سے مشاورت لازم کی گئی ہے اور مرکز اور صوبوں میں تعلقاتِ کار کے نظام کو بالکل ایک نئی جہت دی گئی ہے۔

اگر ان تجاویز پر ایمان داری سے عمل ہوتا ہے اور مرکز اور صوبے اپنے اپنے کام ذمہ داری سے انجام دیتے ہیں، تو اگلے چند برسوں میں ملک کی قسمت بالکل بدل سکتی ہے۔ وسائل کا بہائو مرکز سے صوبوں کی طرف مڑسکتا ہے۔ بالکل نچلی سطح پر معاشی اور سیاسی گرمیوں میں غیرمعمولی اضافہ واقع ہوسکتا ہے، جو محرومیوں کو دُور کرنے کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح صوبوں کی نمایندگی، مرکز ہی نہیں تمام مرکزی اداروں میں یقینی بنانے اور ماضی کی زیادتیوں کا ازالہ کرنے کا انتظام بھی دستوری ترامیم میں تجویز کیا گیا ہے۔

صوبائی خودمختاری کا نیا مثالیہ جو ان دستوری سفارشات میں دیا گیا ہے، اپنی اصل کے اعتبار سے ۱۹۷۳ء کے بعد ایک انقلابی آئینی اقدام ہے۔ خدا کرے کہ اس پر صحیح خطوط پر عمل ہوسکے۔ نتائج کا اصل انحصار عمل پر ہے اور ان ترامیم کے بعد اب مرکز اور صوبوں، سب کا       بڑا امتحان ہے۔

اسلامی دفعات

دستور کی اسلامی دفعات کے سلسلے میں اٹھارھویں ترمیم کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ۱۹۷۳ء اور ۱۹۸۵ء کی دفعات کو باہم یک جان کردیا ہے، اور اس طرح دستور کی اسلامی دفعات زیادہ مؤثر ہوگئی ہیں۔ سیکولر قوتوں کو اس سلسلے میں جو پسپائی ہوئی ہے، وہ اسلامیانِ پاکستان کی ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے صرف ان دفعات کو مستحکم ہی نہیں کیا گیا ہے، بلکہ کئی چیزیں ایسی ہیں جو شدید مزاحمت کے باوجود حاصل کی گئی ہیں، مثلاً:

۱- وزیراعظم کے لیے مسلمان ہونا دستور کے متن میں شامل کردیا گیا ہے۔ اس سے پہلے صرف وزیراعظم کے حلف میں اس کا ذکر تھا، جو ایک بالواسطہ کیفیت تھی۔

۲- سب سے اہم چیز وفاقی شرعی عدالت کی حیثیت، اس کے ججوں کی آزادی اور ان کو توہین آمیز حد تک جس بے وقعتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، اسے ختم کرنا ہے۔ حکومت جس جج کو چاہے اس عدالت میں اُس کی مرضی کے خلاف بھیج سکتی تھی۔ اس عدالت میں اگر حکومت کسی جج سے ناخوش ہے، تو جس وقت چاہے اس کوتبدیل کرسکتی تھی، فارغ کرسکتی تھی، کوئی دوسرا کام اس کو  سونپ سکتی تھی۔ ان کو ملازمت کا کوئی تحفظ حاصل نہ تھا اور عملاً بھی یہ سب کچھ ماضی میں کیا گیا۔ جس جج حتیٰ کہ چیف جسٹس نے بھی اگر حکومت کے اشاروں کو نظرانداز کیا، تو اسے یک بینی و دوگوش فارغ کر دیا گیا۔ اب شرعی عدالت کے جج بھی عدالت عالیہ کے ججوں کے مساوی ہوں گے۔ ان کا حلف بھی وہی ہوگا۔ ان کے تقرر، تبادلے اور برطرفی کے لیے وہی قانون لاگو ہوگا۔ پہلی مرتبہ وفاقی شرعی عدالت ایک حقیقی، آزاد اور بااختیار عدالت بن سکے گی۔

۳- اس کے ساتھ وفاقی شرعی عدالت میں علماے کرام سے بطور جج تقرر کے لیے جو مطلوبہ دینی اور علمی صلاحیت درکار تھی، اسے بھی بہتر بنایا گیا ہے۔ پہلے کسی بھی شخص کو جسے اسلامی علوم کا ماہر قرار دیا جائے جج مقرر کیا جاسکتا تھا۔ اب اس کے لیے وہی استعداد اور صلاحیت مقرر کردی گئی ہے جو دستور میں ’اسلامی نظریاتی کونسل‘ (IIC) کے علما ارکان کے لیے ہے، یعنی ۱۵سال کا تجربہ، اسلامی قانون کی تعلیم، تحقیق یا افتا کا تجربہ۔

۴- اسلامی نظریاتی کونسل کے سلسلے میں بھی ایک ترمیم یہ کی گئی ہے کہ کونسل میں علما ارکان کی تعداد کل تعداد کا کم از کم ایک تہائی (۳/۱) ضروری ہے۔ پہلے ان کی زیادہ سے زیادہ تعداد چار تھی، جو اس وقت تو مناسب تھی جب کونسل کے کُل ارکان آٹھ ہوتے تھے، مگر اب جب کہ وہ ۲۰ہیں، ان میں چار کی تعداد بہت کم تھی۔ اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے علما کی کم سے کم تعداد ایک تہائی مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح علما اور مختلف مکاتبِ فکر کی بہتر نمایندگی کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

۵- دستور کی دفعہ ۶۲ اور ۶۳ سیکولر لابی کا خاص ہدف تھے، لیکن نہ صرف یہ کہ ان میں اسلامی نقطۂ نظر سے کوئی تبدیلی یا تخفیف نہیں کی جاسکی، بلکہ دفعہ ۶۳ -ایف میں، جس کو بہت   نشانہ بنایا گیا، ایسی ترمیم کی گئی ہے جس سے اس کے غلط استعمال کا دروازہ بند ہوگیا ہے۔ ایک شخص کی امانت، دیانت اور اچھی شہرت کے سلسلے میں نااہلی کو عدالتی فیصلے سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔

آرڈی ننس سے قانون سازی کی حوصلہ شکنی

پارلیمنٹ کا اصل کام قانون سازی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں قانون سازی کے لیے بے محابا آرڈی ننس جاری کرنے کا آسان راستہ اختیار کرلیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ ایک قسم کی ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئی ہے۔ دنیا کے بیش تر جمہوری ممالک میں انتظامیہ کو آرڈی ننس کے ذریعے قانون سازی کا اختیار حاصل نہیں۔ امریکا اور یورپ میں تو اس کی ایک بھی مثال نہیں ملتی۔ برعظیم پاک و ہند میں برطانیہ نے اپنے دورِاقتدار میں آرڈی ننس کے ذریعے حکمرانی کا راستہ اختیار کیا۔ نتیجتاً جب اُن کے جانشین یہاں پر حکمران بنے تو انھوں نے بھی پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں قانون سازی کی یہ قبیح صورت جاری رکھی۔ تاہم اس میں ایک فرق ضرور ہے اور وہ یہ کہ بھارت میں ۱۰۰ میں سے بمشکل ۱۰ قوانین، آرڈیننس کے ذریعے اور ۹۰ معمول کی قانون سازی کے ذریعے کتابِ قانون کا حصہ بنتے ہیں، جب کہ پاکستان میں یہ تناسب بالکل اُلٹ ہے، یعنی ۸۰فی صد سے زیادہ قوانین آرڈی ننس کے ذریعے مسلط کیے جاتے ہیں اور ایک ہی آرڈی ننس کو بلاترمیم یا کچھ نمایشی تبدیلی کے بعد بار بار نافذ کیا جاتا رہتا ہے۔ بڑے مفصل قوانین کو نافذ کرنے کے لیے اسمبلی کے اجلاس کی برخاستگی کا انتظار کیا جاتا ہے۔ پھر اسمبلی کے اجلاس کے ختم ہونے کے ۲۴گھنٹے کے اندر ہی آرڈی ننسوں کی بارش شروع ہوجاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں جب حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی ہیں تو قانون سازی بذریعہ آرڈی ننس کی مخالفت کرتی ہیں اور جب اقتدار میں آتی ہیں تو بڑی ڈھٹائی اور سخت بے رحمی کے ساتھ اس مکروہ طریقے کو روا رکھتی ہیں۔ میں نے پوری  دل سوزی کے ساتھ دستوری کمیٹی میں آرڈی ننس کے اس طرح مسلط کرنے کا دروازہ بند کرنے کی تجویز پیش کی، لیکن بڑی مشکل سے جو کچھ حاصل کیا جاسکا، وہ یہ ہے:

۱- پہلے جب سینیٹ برسرِکار (in session) ہو، اس وقت بھی آرڈی ننس نافذ کیا جاسکتا تھا۔ صرف اسمبلی کے سیشن کے دوران یہ پابندی تھی کہ آرڈی ننس نہیں لاگو کیا جاسکتا (دفعہ ۸۹)۔ اب فرق یہ پڑا ہے کہ اگر سینیٹ بھی سیشن میں ہو تو آرڈی ننس نہیں آسکے گا۔

۲- ایک ہی آرڈی ننس کو بار بار نافذ کرنا پارلیمنٹ کے ساتھ مذاق ہی نہیں، اس کی توہین بھی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے بھی اس کے بارے میں اپنے تحفظات کا کئی بار اظہار کیا ہے، مگر لاحاصل۔ اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے کم از کم یہ پابندی لگ گئی ہے کہ حکومت ایک ہی آرڈی ننس کو دوبارہ اپنی مرضی سے جاری نہیں کرسکتی۔ اگر اس کی مدت میں توسیع ناگزیرہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ  کے کم از کم ایک ایوان کی قرارداد لازم قرار دی گئی ہے، اور پارلیمنٹ کو بھی پابند کردیا گیا ہے کہ وہ ایک سے زیادہ مرتبہ توسیع نہیں دے سکتی۔

توقع ہے کہ اس کے بعد پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کے عمل میں اضافہ ہوگا اور آرڈی ننس کے ذریعے قانون سازی میں کمی واقع ہوگی۔

سینیٹ کے اختیارات میں اضافہ

پارلیمنٹ کا ایوانِ بالا (سینیٹ) فیڈریشن کا مظہر اور صوبوں سے برابری کی بنیاد پر نمایندگی کی وجہ سے ان کے حقوق کے محافظت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے سینیٹ کو قومی اسمبلی کے مساوی حیثیت تو نہیںدی جاسکی، لیکن نصف درجن سے زیادہ ترامیم کے ذریعے اس کے اختیارات اور کردار میں خاطرخواہ اضافہ ضرور کیا گیا ہے۔ اب سینیٹ سال میں ۹۰دن کے بجاے ۱۱۰ دن لازمی سیشن میں رہے گا۔ متعدد سرکاری اور پارلیمانی رپورٹوں کے بارے میں بھی یہ لازم کیا گیا ہے کہ ان کو قومی اسمبلی کے ساتھ سینیٹ میں بھی پیش کیا جائے، تاکہ  سینیٹ ان پر اپنی راے دے سکے۔

جیساکہ اُوپر عرض کیا گیا ہے، سینیٹ جب سیشن میں ہوتو اس وقت بھی آرڈی ننس کے اجرا پر پابندی لگادی گئی ہے۔ اہم حکومتی پارلیمانی کمیٹیوں میں سینیٹ کو نمایندگی دی گئی ہے، یعنی ججوں کے تقرر کی کمیٹی اور الیکشن کمیٹی کے ارکان کی نامزدگی کی ذمہ دار کمیٹی وغیرہ میں۔ اسی طرح بجٹ، فنانس بل اور منی بل کے لیے بھی اب سینیٹ میں غوروبحث اور اپنی تجاویز دینے کے لیے سات کے مقابلے میں ۱۴ دن مقرر کیے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے لیے لازم کیا گیا ہے کہ وہ سینیٹ کی سفارشات پر غور کرے گی، گو اس پر پابندی لازم نہیں ہے۔

اپنے جوہر کے اعتبار سے ایک بڑی اہم ترمیم یہ کی گئی ہے کہ اب مرکزی کابینہ اور وزیراعظم، قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ کے سامنے بھی جواب دہ ہوں گے۔ گو وزیراعظم کے انتخاب کا فریضہ صرف قومی اسمبلی ہی ادا کرے گی، لیکن حکومت کی جواب دہی کو اب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوںتک وسعت دے دی گئی ہے___ اس سلسلے کی تمام ترامیم کے نتیجے میں توقع ہے کہ سینیٹ کا کردار بڑھے گا، قانون سازی کا عمل بہتر ہوسکے گا اور صوبوں کی آواز کو زیادہ وقعت اور اہمیت حاصل ہوسکے گی۔ صوبائی خودمختاری کے نئے ماڈل پر عمل درآمد کے لیے سینیٹ کا کردار بہت کلیدی اہمیت کا حامل ہے اور ان سب ترامیم کا حاصل فیڈریشن کے باہم اور متوازن تعلقاتِ کار کے تصور کو ایک قابلِ عمل صورت دینا ہے۔

ترمیم پر اعتراضات

اٹھارھویں دستوری ترمیم پر پانچ اہم اعتراضات سیاسی، صحافی، اور قانونی حلقوں کی طرف سے ہو رہے ہیں۔ اس لیے ان کے بارے میں چند گزارشات پیش ہیں۔

  • ججوں کے تقرر کا نیا نظام: سب سے بڑا اعتراض ججوں کے تقرر کے نئے نظام پر کیا جا رہا ہے۔ گو اس سلسلے میں سیاسی اور قانونی حلقوں کی راے منقسم ہے لیکن ایک قابلِ ذکر حلقے نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ خود دستوری کمیٹی نے ان اعتراضات پر سنجیدگی سے غور کیا اور جوڈیشل کمیشن کو ترکیب میں ایسی تبدیلیاں کیں، جن کی وجہ سے چیف جسٹس اور ججوں کی راے کو بالاتر حیثیت حاصل ہوسکی، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ہماری نگاہ میں یہ ایک اچھا تجربہ ہے، تاہم اس بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے ان کو یکسر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

بدقسمتی سے ماضی میں ججوں کے تقرر کے سلسلے میں دو انتہائی صورتیں رہی ہیں، یعنی: وزیراعظم کی سفارش پر تقرر یا چیف جسٹس کی سفارش پر تقرر۔ ان کے ذریعے اچھے جج بھی آئے ہیں اور ایسے جج بھی مقرر کیے گئے ہیں جو اعلیٰ عدلیہ کے لیے نیک نامی کا باعث نہیں بنے۔ اس لیے اس نئے تجربے کو جس کے خدوخال اور اس کے دلائل کا ذکر ہم اُوپر کرچکے ہیں، پوری احتیاط سے آگے بڑھانا ہوگا اور دونوں اداروں (جوڈیشل کمیشن اور پارلیمنٹ کی جوڈیشل تقرر کی کمیٹی) کو اپنی ذمہ داری پوری دیانت اور امانت سے ایک شفاف عمل کے ذریعے انجام دینا ہوگی۔ عدلیہ کی آزادی کا باب ججوں کے تقرر کے بعد شروع ہوتا ہے، اور کمیٹی کی کوشش رہی ہے کہ ہرسطح پر ’صواب دید‘ کی جگہ اداراتی مشاورت کے نظام کو رائج کیا جائے۔ اس نظامِ کار کو تجویز کرتے وقت جمہوری ممالک کے تجربات کو سامنے رکھا گیا ہے۔ البتہ اب کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی دونوں کی آزمایش اور امتحان ہے۔ گو ہماری نگاہ میں جو نظام تجویز کیا ہے، ان خطرات اور منفی پہلوئوں کے علی الرغم جن کی نشان دہی کی جارہی ہے، ماضی کے برعکس اس نظامِ کار میں خوبی کے امکانات زیادہ ہیں۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جن خطرات کے بارے میں متنبہ کیا جا رہا ہے، متعلقہ ادارے اور ذمہ داران ان کا پورا ادراک کریں اور ان سے بچنے کی ہرممکن کوشش کریں۔ نیتوں پر حملہ صحیح رویہ نہیں۔

  • صوبہ سرحد کا نیا نام: دوسرا مسئلہ صوبہ سرحد کے نئے نام کا ہے۔ بلاشبہہ یہ ایک مشکل مسئلہ تھا۔ نام کی تبدیلی پر کسی کو بھی اعتراض نہیں تھا۔ البتہ کیا نام ہو، اس پر اتفاق راے موجود نہیں تھا، اور بالآخر جو نام مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کی مشترک تجویز پر اختیار کیا گیا، اس کو صوبے کے ایک بڑے حصے نے خوشی سے قبول کیا، اور دوسرے حصے نے اس پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس ردعمل میں اتنی شدت سامنے آئی جس کا پہلے سے کسی کو بھی ادراک نہیں تھا۔    ہم لسانی اور علاقائی قومیت کی بنیاد پر صوبوں کی تشکیل کو صحیح نہیں سمجھتے، لیکن نام کے معاملے میں علاقے کے لوگوں کی پسند کو اہمیت دیتے ہیں۔

قرآن پاک میں بھی یہ اشارہ موجود ہے کہ باہمی تعارف اور پہچان کے لیے گروہوں اور قوموں کے نام ہوسکتے ہیں، لیکن معاشرے کی بنیاد اور معیار اور کمال کا تعلق شناخت کے لیے مقرر کردہ ناموں سے نہیں تقویٰ اور اخلاقی بالیدگی پر ہے (وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا ط اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ طالحجرات ۴۹:۱۳) چونکہ صرف ’پختون خواہ‘ سے ایک خاص زبان اور قوم کا گہرا تعلق تھا، اس لیے مسلم لیگ (ن) کی تجویز پر جب کمیٹی کے ارکان کی اکثریت نے خیبرپختون خواہ پر اتفاق کرلیا تو اختلافی نقطۂ نظر رکھنے کے باوجود ہم نے بھی اسے قبول کرلیا۔

اس معاملے میں اے این پی نے دستوری ترمیم کی مکمل منظوری سے بھی پہلے جس طرح فتح کے شادیانے بجائے، ان کے اس عاجلانہ اور فاتحانہ انداز سے صوبے کے دوسرے لوگوں کو دُکھ پہنچا اور اشتعال انگیز فضا بن گئی۔ ساتھ ہی ہزارہ کے لوگوں کا سخت ردعمل سامنے آیا، جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر ستم بالاے ستم کہ صوبائی انتظامیہ نے ہزاروںلوگوں کی طرف سے اظہار راے کے جمہوری حق کو کچلنے کے لیے جس طرح قوت کا وحشیانہ استعمال کیا، اس نے حالات کو تیزی سے بگاڑ دیا۔ اس لیے ہم مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ مسئلے کا سیاسی حل افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں اور، فاتح اور مفتوح کی ذہنیت سے بالاتر ہوں۔ کوئی مسئلہ لاینحل نہیں، جذبات کا اظہار بجا، لیکن ان کو حدود میں رکھنا بھی ضروری ہے۔ نام کے مسئلے پر بھی مزید مذاکرات ہوسکتے ہیں اور ہزارہ کے لوگوں کے دوسرے تحفظات اور مطالبات کی روشنی میں تبدیلیاں بھی ممکن ہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہیں۔

  • پارٹی کے اندر انتخاب کی پابندی:تیسرا مسئلہ دستور کی دفعہ ۱۷ (۴) کا ہے، جو سترھویں ترمیم کے ذریعے دستور کا حصہ بنی تھی اور جس کے ذریعے سیاسی جماعتوں کے اندر انتخاب کی پابندی کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ یہ ایک اچھی تجویز تھی اور سیاسی جماعتوں کے قانون میں بھی یہ شرط موجود ہے۔ کمیٹی نے قانون میں اس شرط کے موجود ہونے کو کافی سمجھا اور سترھویں ترمیم سے نجات کے شوق میں اس دفعہ کو خارج کر دیا۔ میں اپنے آپ کو اس تساہل کی ذمہ داری سے مبرا نہیں کہہ سکتا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس شق پر کمیٹی نے اس زمانے میں فیصلہ کیا، جب میں علاج کے لیے انگلستان گیا ہوا تھا۔ میری نگاہ میں اس شرط کو دوبارہ دستور میں لانا مفید ہوگا اور قانون میں جو شرط موجود ہے، وہ اس طرح اور بھی مستحکم ہوجائے گی۔ اس سہو کا دفاع یا جواز پیش کرنا غیرضروری ہے اور آیندہ دستوری ترمیم کے ذریعے اس کی بہرصورت اصلاح کرنی چاہیے۔
  • اسمبلی سے رکنیت کے خاتمے کا اختیار: چوتھا مسئلہ سیاسی جماعت کے سربراہ کے اس اختیار سے متعلق ہے کہ وہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی شکل میں ایک رکن اسمبلی کو سیٹ سے محروم کرنے کی سفارش سینیٹ کے چیئرمین یا اسمبلی کے اسپیکر کو کرسکتا ہے، اور ایسی صورت میں ایک متعین مدت کے اندر چیئرمین سینیٹ یا اسپیکراسمبلی کو اسے الیکشن کمیشن کو بھیجنا ہوگا۔

ہمارے خیال میں اس شق پر تنقید پوری ذمہ داری سے نہیں کی جارہی۔ جس طرح سیاسی جماعتوں میں قیادت کا انتخاب اور جمہوری روایات کا احترام ضروری ہے، اسی طرح پارٹی میں ڈسپلن بھی ایک ضروری شے ہے۔ دستور میں دفعہ ۶۳ (اے) کا اضافہ، پارٹی سے ’بغاوت‘ یا    ’بے وفائی‘ کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس میں جو ترامیم اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے کی گئی ہیں، وہ صرف دو ہیں: ایک یہ پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کی جگہ پارٹی کے سربراہ کو  یہ اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں دو آرا ہوسکتی ہیں، لیکن پارٹی ڈسپلن کے نقطۂ نظر سے پارٹی کے سربراہ کو اس کا اختیار دینا کسی اعتبار سے بھی جمہوری اصولوں سے متصادم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ واضح رہے کہ اس دفعہ میں یہ بات بھی وضاحت سے لکھی گئی ہے کہ:

بشرطیکہ اعلان کرنے سے پہلے پارٹی کا سربراہ ایسے ممبر کو موقع فراہم کرے گا کہ وہ وجہ بتائے کہ اس کے خلاف ایسا اعلان کیوں نہ کیا جائے۔

اس طرح یہ اعلان دفاع کا حق دیے جانے سے مشروط ہے۔ لیکن دوسری شرط اور بھی اہم ہے کہ یہ اقدام محض اختلاف راے یا عام معاملات، حتیٰ کہ قانون سازی کے معاملات میں اختلاف کی بنیاد پر نہیں ہوسکتا۔ اس اقدام کا جواز صرف اس وقت ہے، جب ایک رکن پارٹی کے فیصلے کے خلاف صرف چار امور پر ووٹ دیتا ہے یا پارٹی کی ہدایت کے باوجود ووٹ دینے سے احتراز کرتا ہے، اور وہ یہ ہیں: lوزیراعظم یا وزیراعلیٰ کا انتخاب l حکومت پر اعتماد یا عدمِ اعتماد کاووٹl منی بل کے بارے میں ووٹl دستوری ترمیم پر ووٹ۔

واضح رہے کہ ۶۳-اے کا اضافہ ۱۹۹۷ء میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں ہوا تھا، اور اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے صرف دستوری ترمیم پر ووٹ کو اس فہرست میں شامل  کیا گیا ہے، نیز پارٹی سربراہ کو یہ اختیار دیا گیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجانی چاہیے کہ اس ’بے وفائی‘ (defection ) کا تعلق صرف ان چار امور سے ہے___محض اختلاف راے یا ضمیر کے مطابق اظہارِ خیال سے نہیں ہے، جیساکہ میڈیا میں بہ تکرار کہا جا رہا ہے۔

نیز یہ بات بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ پارٹی کا سربراہ صرف ایک اعلان (declaration) کرے گا جسے چیئرمین سینیٹ یا اسپیکراسمبلی الیکشن کمیشن کو بھیج دے گا۔ فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا جو ایک عدالتی ادارہ ہے اور معاملے کے سارے پہلوئوں کا احاطہ کرکے اور متعلقہ فرد کو صفائی کا موقع دے کر کوئی فیصلہ کرے گا اور قانون کے مطابق اس فیصلے کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ آخری فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی۔

جماعت اسلامی کا نقطۂ نظر

جہاں تک جماعت اسلامی کا تعلق ہے اس کے نمایندہ نے اٹھارھویں دستوری ترمیم سے عمومی اتفاق کے ساتھ اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے مفصل نوٹ دیا ہے، جو رپورٹ کا حصہ ہے۔ اس میں جن اہم امور کا ذکر کیا گیا ہے، وہ مختصراً یہ ہیں:

۱- تعلیم کے حق کے بارے میں ہماری کوشش تھی کہ اس پر مکمل عمل درآمد کے لیے زمانی حد زیادہ سے زیادہ ۱۰ سال مقرر کی جائے، جس پر اتفاق نہ ہوسکا۔ اسی طرح ہم نے تعلیم کے ساتھ غربت کے خاتمے اور ہرشہری کو بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کو بھی ایک دستوری حق کے طور پر شامل کرانے کی کوشش کی، جسے موجودہ دستوری ترمیم میں شامل کرنے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

۲- دستور کی دفعہ ۴۵ میں صدر کو سزا میں تخفیف کا غیرمحدود اختیار حاصل ہے، جس کا حال ہی میں صدرزرداری نے اپنے منظورِنظر افراد کو قانون کی گرفت سے نکالنے کے لیے اس وقت استعمال کیا، جب کہ ابھی اٹھارھویں ترمیم کو نہ سینیٹ نے منظور کیا تھا اور نہ خود صدر ہی نے اس پر دستخط ثبت کیے تھے۔ ہماری تجویز تھی کہ یہ امتیازی، صواب دیدی اور اخلاق سے ماورا اختیار ختم کیا جائے اور عدالت کسی مجرم کے لیے جو بھی سزا طے کرے، اسے پورا ہونا چاہیے۔ لیکن اگر یہ تجویز قبول نہ ہو تو کم از کم حددو کے باب میں تخفیف کا اختیار تو لازماً ختم کیا جائے کہ شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ ہماری یہ تجویز بھی منظور نہ کی گئی۔

۳- ہم نے سینیٹ میں غیرمسلموں کی نشستوں کے اضافے پر بھی اصولی اعتراض کیا تھا۔ ہماری نگاہ میں ’جداگانہ انتخاب‘ کا طریقہ حق و انصاف پر مبنی اور ملک کی نظریاتی اساس سے      ہم آہنگ ہے۔ اس کے تحت غیرمسلموں کو اپنی آبادی کے تناسب سے نمایندگی مل جاتی ہے۔ لیکن جب اقلیتوں اور سیکولر لابی کے اصرار پر ’مخلوط طرزِ انتخاب‘ کا اصول تسلیم کیا گیا ہے تو پھر غیرمسلموں کے لیے علیحدہ نشستوں کا وجود ان کو دوہری نمایندگی دینے کے مترادف ہے اور یہ حق کسی سیکولر، جمہوری یا مغربی ملک میں بھی نہیں دیا جاتا۔ پاکستان میں غیرمسلم کسی ثانوی درجے کے محروم طبقے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ یہ سیاسی پارٹیوں کا کام ہے کہ ان کو ٹکٹ دیں اور اس طرح وہ منتخب اداروں میں آئیں۔ چور دروازے سے داخل ہونا صحیح نہیں۔ ہم نے یہ بھی کہا کہ اس وقت بھی سینیٹ میں دو غیرمسلم سینیٹر موجود ہیں، اس لیے الگ نشستوں کا کوئی جواز نہیں۔

۴- ہماری نگاہ میں ججوں کے تقرر کے لیے جو، جوڈیشل کمیشن بنایا گیا ہے، اس میں حکومت کی نمایندگی کے لیے صرف وزیرقانون کا ہونا کافی تھا۔ ہم نے اٹارنی جنرل کی رکنیت کی مخالفت کی تھی۔

۵- ہم نے سول سروس کو سیاسی اثرورسوخ سے آزاد کرنے کے لیے ان کے لیے ان دستوری ضمانتوں کے اختیار کی تجویز بھی دی تھی، جو انھیں ۱۹۵۶ء کے دستورِ پاکستان میں حاصل تھیں۔

۶- ہم نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ ملک کے اہم اداروں کے سربراہوں کی ملازمت کے سلسلے میں توسیع کا طریقہ ختم کیا جائے، چاہے ان کی مدت ملازمت میں کچھ اضافہ کردیا جائے۔ فوج اور دستوری سول اداروں کے سربراہوں کی مدت ملازمت میں توسیع کے بڑے تلخ نتائج سامنے آئے ہیں جو آج تک ملک بھگت رہا ہے۔ تمام سروسز چیف، پبلک سروس کمیشن اور الیکشن کمیشن وغیرہ کے سربراہوں کی مدت مقرر اور ناقابلِ توسیع ہونی چاہیے۔ صرف چیف الیکشن کمیشن کے سلسلے میں ہماری تجویز منظور ہوئی۔ فوج کے سربراہوں اور دوسرے دستوری اداروں کے بارے میں اسے قبول نہیں کیا گیا، حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت میں آزادی کے حصول سے آج تک کسی ایک بھی سروس چیف کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی گئی۔ اس طرح ہرشخص کو علم ہوتا ہے کہ اسے ایک متعین مدت میں اپنے کام کو مکمل کرنا اور پھر دوسروں کے لیے جگہ خالی کردینا ہے۔ ہمارے ملک میں ملازمت میں توسیع کا جو سخت مکروہ سلسلہ جنرل ایوب خان کے دور میں شروع ہوا، وہ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف تک جاری رہا، اور اب بھی ہر ایک کی نگاہ توسیع ہی پر ہوتی ہے۔

۷- جہاں ہم نے قانون سازی کی ’مشترک فہرست‘ کے خاتمے کی تجویز پیش کی، وہیں ہم نے یہ بھی کہا کہ ایک نظریاتی ملک کی حیثیت سے ضروری ہے کہ ملک میں یکساں نظامِ تعلیم ہو، کہ  قومی یک جہتی کے لیے یہ نہایت ضروری ہے۔ اس لیے تعلیمی پالیسی اور نصاب کی یکسانی ضروری ہے۔ بلاشبہہ تعلیمی پالیسی کی تشکیل اور نصاب کی صورت گری میں ہرصوبے کے لوگوں کی شرکت ضروری ہے اور جہاں جہاں علاقائی ضرورتوں کے لیے مقامی ادب اور تاریخی روایات کو نصاب کا حصہ بننا ضروری ہو، وہ لازماً ہونا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ قومی اور ملکی ضروریات کے لیے یکسانی اور وحدت بھی ضروری ہے۔ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے معاملات کو تو ’وفاقی فہرست‘ (حصہ دوم) میں شامل کیا جاسکا، لیکن یکساں نظامِ تعلیم اور یکساں نصاب کے لیے ہم کمیٹی کی تائید حاصل نہ کرسکے۔

۸-قومی زبان کے ساتھ جو مجرمانہ سلوک کیا جا رہا ہے اس کے خاتمے کی تجویز بھی ہم نے پیش کی اور مطالبہ کیا پانچ سال کے اندر اُردو کو سرکاری زبان کے طور پر لازماً نافذ کیا جائے، اور دستور کی دفعہ ۲۵۱ کی جو مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے، اسے ختم کیا جائے، لیکن ہماری یہ تجویز بھی مقتدر سیاسی پارٹیوں سے شرفِ قبولیت حاصل نہ کرسکی۔

۹- ہم نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ سینیٹ کا انتخاب متناسب نمایندگی کے اصول پر ہرصوبے سے بلاواسطہ (direct) طور پر کیا جائے، اور سینیٹ کو وزیراعظم کے انتخاب اور بجٹ اور منی بل  کے باب میں قومی اسمبلی کے مساوی حیثیت دی جاسکے۔ اس پر ہمیں خاصی تائید حاصل ہوئی، مگر مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔

۱۰- ہم نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ تمام اہم کارپوریشنوں، فیڈرل اتھارٹیز اور مقتدر اداروں کے سربراہوں اور ’غیرپیشہ ورانہ سفارتی عہدے داروں‘ کے تقرر کی توثیق کم از کم سینیٹ کی کمیٹی سے حاصل کی جائے، کم و بیش اسی اصول پر جس پر ججوں کے تقرر میں پارلیمنٹ کے کردار کو شامل کیا گیا ہے۔ دنیا کے بیش تر جمہوری ممالک میں اور خصوصیت سے جہاں وفاقی نظام قائم ہے وہاں پارلیمنٹ یا ایوانِ بالا کا ایک کردار ہوتا ہے، لیکن یہ تجویز بھی شرفِ قبولیت نہ پاسکی۔

۱۱- ہم نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ تمام بین الاقوامی معاہدات اور کنونشنز کو پارلیمنٹ میں آنا چاہیے اور ان کے لیے پارلیمان کی توثیق ضروری قرار دی جائے۔ اس وقت یہ سارا اختیار محض کابینہ کو حاصل ہے، پارلیمنٹ کو ان کی ہوا بھی نہیں لگتی۔ یہ تجویز بھی قبول نہ کی گئی۔

۱۲- ہماری یہ بھی تجویز تھی کہ بنیادی حقوق میں اس حق کو بھی شامل کیا جائے کہ کسی شخص کو خواہ وہ پاکستان کا شہری ہو، یا پاکستان میں مقیم ہو، ہائی کورٹ کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے ملک کے سپرد نہیں کیا جائے گا، لیکن یہ بھی متفقہ دستاویز کا حصہ نہ بن سکی۔

۱۳- ہم نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ جس طرح تمام وزرا، ارکانِ پارلیمنٹ حلف لیتے ہیں اسی طرح دستور کے تحت مقرر کیے جانے والے تمام مشیروں (advisors) سے بھی حلف لیا جائے بشمول حلف رازداری۔ اس وقت یہ تمام مشیر کسی حلف کے بغیر کابینہ اور پارلیمنٹ میں شرکت کرتے ہیں، جو بڑی بے قاعدگی ہے، جلداز جلد اس بے قاعدگی کا خاتمہ ہونا چاہیے، مگر اسے بھی متفقہ سفارشات کا حصہ نہ بنایا گیا۔

۱۴- ہم نے فاٹا کے علاقے میں سیاسی حقوق کی حفاظت، سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیوں کی آزادی، اور اس علاقے کے لوگوں کو فراہمیِ انصاف اور قانون کے باب میں پاکستان کے باقی تمام علاقوں کے مساوی قرار دینے اور ان کے اپنے منتخب نمایندوں کو علاقے کے مستقل انتظام کو طے کرنے کا موقع دینے کی تجویز بھی پیش کی۔ اس تجویز کے ایک حصے کو پالیسی کے لیے اپنی سفارشات میں تو شامل کرلیا گیا، مگر دستوری ترمیم کا یہ تجویز حصہ نہ بن سکی۔

ان تمام امور کو دستور کا حصہ بنانے کے سلسلے میں ہماری جدوجہد ان شاء اللہ جاری رہے گی۔

ہماری نگاہ میں اٹھارھویں ترمیم مجموعی طور پر ایک مثبت پیش رفت ہے اور اگر اس پر خلوص اور دیانت سے عمل کیا گیا تو حالات کی اصلاح اور حقیقی جمہوری اقدار کے فروغ، سماجی انصاف کے قیام اور علاقائی توازن کے پیدا کرنے میں اس کا کردار کلیدی ہوگا۔ ملک اور قوم، قیامِ پاکستان کے اصل مقاصد کی طرف مؤثر پیش قدمی کرسکیں گے، لیکن اس کا انحصار نیت، ادراک، اخلاص اور عمل پر ہے۔ دستور کے الفاظ ہمارے مسائل کا حل نہیں۔

اب مرکز، صوبے، سیاسی جماعتیں، تمام دستوری اداروں اور پوری قوم ایک عظیم امتحان میں ہے۔ وقت کی اصل ضرورت مسائل کا حل اور ان اہداف کا حصول ہے، جو دستور میں ان ترامیم کے بعد قوم کی آرزو اور تمنا کے طور پر واضح شکل میں سامنے آگئے ہیں۔ بلاشبہہ جو خامیاں رہ گئی ہیں، آیندہ دستوری ترامیم کے ذریعے ان کو دُور کرنا بھی ایک اہم ضرورت ہے، لیکن فوری ضرورت ان دستوری ترامیم پر مؤثر عمل درآمد ہے۔ اس سلسلے میں ذرا سی کوتاہی بھی تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ دستوری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اور خود اٹھارھویں دستوری ترمیم کی شق ۹۵ میں نئی دستوری دفعہ ۲۷۰ اے اے کے ذریعے ایک نقشۂ کار دیا ہے اور ایسے ادارات کے قیام اور کارفرمائی کی سفارش کی ہے جو ان تبدیلیوں کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔ اب اصل امتحان میدانِ عمل میں   قومی قیادت کی کارگزاری اور مرکز اور صوبوں کے نظام میں بنیادی تبدیلیوں کو حقیقت کے روپ میں ڈھالنے کا ہے۔ ہم اس کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں   ع

پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے