۲۰۱۷ فروری

فہرست مضامین

انسان بااختیار ہے یا مجبور؟

مصطفےٰ محمود | ۲۰۱۷ فروری | ایمانیات

Responsive image Responsive image

 

ترجمہ:اِرشاد الرحمٰن

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا ہے:

وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْم بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ ج   کُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِہِمْ مِّنْ بَعْدِم مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْحَقُّ ج (البقرہ ۲:۱۰۹) اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیںکہ کسی طرح تمھیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں۔ اگرچہ حق اِن پر ظاہر ہو چکا ہے، مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر تمھارے لیے ان کی یہ خواہش ہے۔

ان اہلِ کتاب کے دلوں میں حسد اللہ نے پیدا نہیں کیا تھا اور بلکہ وہ ذاتی ارادے سے حسد کر رہے تھے۔ یہاں مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ (اُن کی اپنی طرف سے) کے الفاظ ہیں جو ارادہ و نیت میں دخلِ الٰہی کی نفی کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مخاطب کر کے فرمایا:

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ o (الحجر ۱۵:۴۲)بے شک جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا۔ تیرا بس تو صرف اُن بہکے ہوئے لوگوں پر ہی چلے گا جو تیری پیروی کریں گے۔

شیطان انسان کے دل میں داخل نہیں ہو سکتا، مگر جب انسان اپنی مرضی اور اختیار سے اس کے لیے دل کا دروازہ کھول دے تو وہ داخل ہو جاتا ہے اور پھر انسان راہِ راست سے بھٹک جاتا ہے۔ شیطان زورزبردستی سے انسان کے دل میں گھسنے کی طاقت نہیں رکھتا۔

اللہ تعالیٰ نے انسان دل کی حفاظت کا بندوبست کر رکھا ہے۔ خیر یاشرکے کسی لشکر کو اس کے اُوپر زور زبردستی کی اجازت نہیں دی۔ ہاں، جب اس کا مالک خود اپنے اختیار سے کسی کو اپنامہمان بنانا چاہے تو اللہ اُسے یہاں داخل ہونے سے نہیں روکتا۔گویا ہم بالفعل ایک مقدس اور محترم حرم کے سامنے کھڑے ہیں جس کے اردگرد دیواریں قائم ہیں، اس میں کوئی جبر، اِکراہ اور تسلط داخل نہیں ہوتا۔

ہماری اس دنیا میں بھی یہ ممکن نہیں کہ یہ جبرواِکراہ ہمارے ضمیروں، ارادوں اور نیتوں کے اندر داخل ہو جائے۔ یہ ممکن ہے کہ آپ قوت کے بل پر مجھ سے ہاتھ کھڑے کرا لیں، مجھے بے دست وپا بنا کر کھڑا کر لیں، اور میں آپ کے نعرے بھی لگا دوں، مگر یہ کبھی ممکن نہیں کہ آپ مجھے مجبور کر سکیں کہ میں آپ سے محبت کروں۔

ادیانِ عالم اس چیز کی رخصت نہیں دیتے کہ ہم قیامت کے روز وقتِ حساب یہ کہہ سکیں کہ ہمیں تو فلاں شخص نے اُکسایا تھا، یا مجبور کیا تھا۔ اس طرح ہم اپنا گناہ دوسرے پر نہیں ڈال سکتے۔ اللہ نے ضمیر اور سریرہ کی گہرائیوں میں ایک ایسا قابل حرمت دائرہ بنا رکھا ہے، جہاں کوئی جابر اپنی جبریت کے ساتھ داخل نہیں ہو سکتا۔

قرآنِ مجید انسان کو ہمیشہ آزاد اور جواب دہ ٹھیراتا ہے، خواہ ظالمانہ حالات نے ہی اُس کو گھیر رکھا ہو۔ ان حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِیْھَا ط (النساء ۴:۹۷) کیاخدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟

جب آپ کسی چیز کے اختیار کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ بذاتِ خود اس چیز کو اختیار کرتے ہیں:

اِنَّا ہَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًاo (الدھر۷۶:۳)ہم نے اُسے راستہ دکھا دیا، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔

یہاں لفظ اِمَّا میں آزمایش و امتحان کا عنصر واضح اور متعین نظر آ رہا ہے:

وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰہَا o فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا o (الشمس۹۱:۷-۸) اور نفسِ انسان کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا، پھر اُس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری اُس پر الہام کر دی۔

یعنی ’شر‘ اور ’خیر‘ کے راستے اُس کے سامنے کھول دیے اور اُس کو ان دونوں راستوں کے سامنے   رکھ دیا کہ جس پر چلنا چاہے اُس کا انتخاب کر لے۔ یہ دونوں راستے بیک وقت کھلے رکھے گئے ہیںتاکہ نفس کو اختیار حاصل رہے اور وہ صرف ایک ہی راستے پر چلنے کے لیے مجبور نہ ہو۔ فرمایا:

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا o وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَاo (الشمس۹۱: ۹-۱۰) یقینا فلاح پاگیا وہ شخص جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔

مراد یہ ہے کہ کامیابی اور ناکامی نفس کا اپنا اختیار ہے۔ ایک اور آیت میں اس معاملے کو مزید کھول کر بیان کیا گیا ہے: وَہَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِo(البلد۹۰:۱۰) ’’اور کیا (نیکی اور بدی کے) دونوں راستے اُسے نہیں دکھا دیے؟‘‘یعنی دونوں راستوں کے فرق و امتیاز کا شعور انسان کو  عطا کردیا تاکہ جس کو چاہے پسند کر لے۔

ہم میں سے ہر ایک کو فعل کی آزادی حاصل ہے۔ انسانی اعمال و افعال میں جبریت کے قائلین کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ایک آدمی جس ہاتھ کو اپنی مرضی سے حرکت دیتا ہے اور جو چاہے لکھتا ہے، لیکن یہی آدمی اپنے اسی ہاتھ سے اُس وقت نہ کچھ لکھ سکتا ہے اور نہ اُسے اپنی مرضی سے ہلا سکتا ہے جب بخار کی شدت نے اسے لاچار اور بے بس کر رکھا ہو۔ کیا ان دونوں کیفیتوں اور حالتوں میں کوئی فرق نہیں؟ یہاں دونوں حالتیں واضح ہیں، یعنی حالتِ صحت میں حریت و آزادی اور حالت ِ مرض میں جبریت و مجبوری۔ اگر جبریت کی بات درست ہے تو پھر ممکن نہیں کہ ان دونوں حالتوں میں تمیز و تفریق کی جا سکے۔ اور یہ بھی ممکن نہیں کہ ان دونوں حالتوں کی اصلیت ایک ہو۔

فعل کی آزادی بھی حقیقت ہے اور اس کا پابند ہونا بھی حقیقت ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ    ہم ان دونوں یک جا حالتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس معاملے کو ہم آیاتِ قرآنی سے واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَائِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ o (الشعراء۲۶:۴)ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اُس کے آگے جھک جائیں۔

اگر اللہ چاہتا تو ایسا کر لیتا مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا کیونکہ اُس نے نہیں چاہا کہ وہ لوگوں کو ایمان پر مجبور کرے، کیوں کہ اس طرح  وہ حریتِ اختیار سلب ہو جاتی جس کو اُس نے ہمارے وجود کا جوہر بنایا ہے۔ اللہ نے ہمیں آزاد ہی رکھا کہ ہم چاہیں تو ایمان لے آئیں اور چاہیں تو   انکار کر دیں۔

ابلیس کو اللہ نے ابلیس نہیں بنایا، بلکہ ابلیس نے خود اپنے لیے کبر اور بڑائی کو پسند کیا:  

اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ ط خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍo (صٓ۳۸:۷۶) میں اُس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے۔

ابلیس نے آدمؑ کے مقابلے میں اپنے لیے غرور و تکبر کو اختیار کیا، تو اللہ نے بھی اُس کو اختیار دے دیا کہ وہ لوگوں کو بھی دھوکا فریب دے۔

اللہ نے اپنی حتمی اور فیصلہ کن تجلی کے ذریعے ہمیں لگام ڈالنے کا ارادہ نہیں کیا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو ہمیں ایمان لانے پر مجبور کرتا۔ لہٰذا، اُس نے تورات، انجیل اور قرآن کی صورت میں کتب نازل فرما دیں، جن کے اوپر ایمان لانا، یا نہ لانا ہمارے بس میں ہے۔ قرآنِ مجید کے بارے میں فرمایا:

یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا لا  وَّیَہْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا ط وَمَا یُضِلُّ بِہٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَo (البقرہ ۲:۲۶) اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہِ راست دکھا دیتا ہے۔ اور اُس سے گمراہی میں انھی کو مبتلا کرتا ہے جو فاسق ہیں۔

قرآن کی آیات میں براہین (نشانیاں) موجود ہیں مگر کبھی ان براہین کو ایسا لازم نہیں بنایا کہ وہ ہماری  شہ رَگ کو پکڑ لیں اور دماغ کو جکڑ لیں۔ اُس نے تو اپنی مرضی سے ہمیں کھلا چھوڑ رکھا ہے کہ ہم ہمیشہ ایک شے کو دوسری کے اوپر ترجیح دیں اور اُس کو اختیار کرنے کا خود فیصلہ کریں اور کسی بیرونی اثروتاثیر کے بغیر جو چاہیں بولیں اور اپنے دل کی آواز پر لبیک کہیں۔

قرآنِ مجید ایک آیت میں تقدیر الٰہی اور آزادیِ فرد کی تشریح کرتا ہے اور ان کے درمیان تناقض کو رفع کرتا ہے۔ یہ وہ آیت ہے جس میں منافقین مدینہ کا رسولؐ اللہ کی نصرت میں سُستی دکھانے اور آپؐ کے ساتھ غزوہ میں شرکت کے لیے نہ جانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے:

وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہٗ عُدَّۃً وَّلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْبِعَاثَہُمْ فَثَبَّطَہُمْ وَقِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ لَوْ خَرَجُوْا فِیْکُمْ مَّا زَادُوْکُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّلَا o اَوْضَعُوْا خِلٰلَکُمْ یَبْغُوْنَکُمُ الْفِتْنَۃَ ج وَفِیْکُمْ سَمّٰعُوْنَ لَہُمْ ج وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالظّٰلِـمِیْنَo (التوبۃ۹:۴۶-۴۷) اگر واقعی ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے کچھ تیاری کرتے۔ لیکن اللہ کو اُن کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا۔ اس لیے اس نے انھیں سُست کر دیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ۔ اگر وہ تمھارے ساتھ نکلتے تو تمھارے اندر خرابی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے۔ وہ تمھارے درمیان فتنہ پردازی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے، اور تمھارے گروہ کا حال یہ ہے کہ ابھی ان میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں، اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

یہ دل کے منافق تھے، وہ ارادتاً رسولؐ اللہ کی مدد و نصرت نہیں کرنا چاہتے تھے، لہٰذا اللہ نے ان کی نیت اور ارادے کو نافذ ہونے دیا۔ جب خود انھوں نے ایک کام کو اپنے لیے نہیں چاہا تو اللہ نے بھی اُن کے لیے ایسا نہیں چاہا۔ لہٰذا اُن کو گھروں میں بٹھائے رکھا، باہر نکلنا اُن کے لیے ناپسند بنا دیا، بالکل اُسی طرح جس طرح وہ خود چاہتے تھے۔

قدرِ الٰہی، یعنی اللہ کی تقدیر اور انسان کے دلی ارادے کے مابین یہ مناسبت ایک دوسری آیت میں اس سے بھی زیادہ صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْٓ اَیْدِیْکُمْ مِّنَ الْاَسْرٰٓی لا اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰہُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ خَیْرًا یُّؤْتِکُمْ خَیْرًا مِّمَّآ اُخِذَ مِنْکُمْ(الانفال۸:۷۰) اے نبیؐ!تم لوگوں کے قبضہ میں جو قیدی ہیں اِن سے کہو اگر اللہ کو معلوم ہوا کہ تمھارے دلوں میں کچھ خیر ہے تو وہ تمھیں اُس سے بڑھ چڑھ کر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے۔

امر اللہ اور اِختیارِ انسان کیسے متماثل ہوتا ہے اور کیسے ان کے درمیان تناقض کی نفی ہوتی ہے، یہاں یہ سب واضح ہو گیا۔ تناقض ان کے درمیان نہیں بلکہ ہمارے عدم فہم کی بنا پر پیدا ہونے والے ہمارے وہم میں ہے۔ اب بظاہر دومتضاد آیتوں کو سمجھنا ہمارے لیے آسان ہو گیا۔ یعنی:

فَمَنْ شَآئَ فَلْیُوْمِنْ وَّ مَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُرْ  لا(الکہف۱۸:۲۹)اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے۔

وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ط (الدھر۷۶:۳۰)اور تمھارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ نہ چاہے۔

پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے آزاد انسانی ارادے کو بیان کیا ہے، اور دوسری آیت میں ارادۂ الٰہی، یعنی قضا و قدر پر بات کی ہے۔ ان دونوں آیتوں کے درمیان جو ٹکرائو نظر آتا ہے،  وہ صرف ظاہری ہے۔ ہم یہ بات تو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ اللہ انسان کے لیے کوئی ارادہ نہیں کرتا سوائے اُس کے جو انسان خود اپنے لیے ارادہ کرتا ہے۔ فرمایا:

وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَیَتَّبِـعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَط وَسَاء َتْ مَصِیْرًا(النساء ۴: ۱۱۵) جو شخص رسولؐ کی مخالفت پر کمربستہ ہو اور اہل ایمان کی رَوِّش کے سوا کسی اور رَوِّش پر چلے، درآں حالیکہ اس پر راہِ راست واضح ہو چکی ہو، تو اُس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اُسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جاے قرار ہے۔

کوئی شخص بُری راہ اختیار کر لے اور اللہ اُس کی نیت میں اصرار دیکھے تو اللہ اُس شخص کو خیر پر مجبور نہیں کرتا، بلکہ اللہ بھی اُس کے لیے وہ اختیار کرتا ہے جو اُس شخص نے خود اختیار کیا ہے۔ اللہ اُس کی سرکشی اور بغاوت میں اُس کو آگے بڑھنے دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ ارادہ اور نیت باہر آ جاتی ہے جس کو انسان نے چھپارکھاہو۔ اور بالآخر نیت فعل کا لبادہ اُوڑھ لیتی ہے اور انسان عذاب کا مستحق ہو جاتا ہے۔

نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی وَ نُصْلِہٖ جَھَنَّمَ وَ سَآء َت مَصِیْرًا ،اُس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اُسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے۔

یہ جبر عین اختیار ہے کوئی تناقض نہیں کیونکہ ارادۂ انسان ہی ارادۂ رب ہے۔ یہاں ثنویت اور دوئی کی نفی ہو گئی۔ کیونکہ:

اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ ط(الرعد۱۳:۱۱)اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔

اللہ وہ تبدیلی نہیں لاتا جس کا وہ انسان کے ساتھ ارادہ رکھتا ہے، جب تک کہ انسان وہ تبدیلی نہ لائے جو وہ اپنے لیے چاہتا ہے۔ یہاں مطابقت واضح ہے۔

انسان چاہتا اور ارادہ کرتا ہے مگر اختیار و ارادہ کی یہ قدرت اللہ تعالیٰ کی عطااور اس کی مشیّت ہے۔ انسانی آزادی بذاتِ خود الٰہی عطا، عطیہ اور مشیت ہے۔ لہٰذا  وَمَا تَشَآء ُ وْنَ اِلَّآ   اَنْ یَّشَآءَ اللّٰہُ  ’’اور اللہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو، اسے کھول کر رکھ دے گا‘‘۔     ایک حقیقت کا بیان ہے کوئی متضاد و متناقض بات نہیں ہے۔ یہ بیان بتاتا ہے کہ انسان آزاد ہے  مگر اس کی آزادی عطا کردہ کی عطا، بخشش اور عنایت ہے۔

وَ اللّٰہُ مُخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ(البقرہ۲:۷۲)اور اللہ اُسے کھول کر رکھ دے گا جسے تم چھپاتے ہو۔

نیت میں جو کچھ ہے اور دل کی گہرائیوں میں جو کچھ مخفی ہے اللہ اس کو نکال باہر کرتا ہے، تاکہ ہر شخص کی نیت کو بالکل اُسی شکل اور صورت میں جیسا کہ وہ ہے کسی جبر واِکراہ کے بغیر ریکارڈ پرلے آئے۔ اللہ تو صرف اُس کو فاش کرتا اور اُس کی حالت پر اُس کو باہر نکالتا ہے تاکہ ہر انسان کی قسمت کا کارڈ اُس کے اپنے گلے میں لٹکا ہو۔

اب فیصلہ کُن قرآنی آیت ملاحظہ کیجیے:

وَاعْـلَـمُـوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَــحُوْلُ بَـیْنَ الْمَرْئِ وَقَـلْـبِـہٖ وَاَنَّہٗٓ اِلَیْہِ تُحْشَــرُوْنَ (الانفال ۸:۲۴) جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اُس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اُسی کی طرف تم سمیٹے جائو گے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ قلب کو آزاد چھوڑ دیتا ہے تاکہ ہر انسان اپنے دلی ارادے میں آزاد ہو، مگر انسان اور اُس کے دل کے مابین اللہ اپنی حکمرانی چلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ، انسان اور  اُس کے دل کے درمیان یوں حائل ہوتا ہے کہ اُس کو اپنی رحمت اور مہربانی کی بنا پر اچھے اعمال میں مدد اور سہارا دیتا ہے یا اُس کے برے افعال کو ضائع کر دیتا ہے، تاکہ وہ اپنے پسندیدہ بندوں کو برائیوں سے بچاکر رکھے اور ہر شخص کو اُس کی نیت و ضمیر اور قلبی و نفسی میلانات و رجحانات کے مطابق، آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرے، خواہ وہ آسانیاں کسی وسعت کے لیے ہوں یا کسی تنگی و تکلیف کے لیے۔

انسان اور اُس کے دل کے درمیان خفی اور لطیف ارادئہ الٰہی کی ایک اور بلیغ مثال دیکھیے۔ غزوۂ بدر میں ۳۱۳ مسلمان، اسلحے میں ڈوبے دشمن کے ایک ہزار جنگجوئوں کا سامنا کر رہے تھے۔ تعداد و تیاری کے تقابل کی روشنی میں دونوں کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں ہوسکتا تھا ،مگر اللہ چاہتا تھا کہ وہ مسلمانوں کو میدانِ معرکہ میں دھکیل دے، لیکن وہ کسی جبرواِکراہ کے بغیر، اپنی مرضی اور اختیار سے جائیں.....تو اللہ نے اپنے رسولؐ کو ایک خواب دکھایا جس میں دشمن کی تعداد بہت تھوڑی دکھائی دی جس سے کوئی خطرہ نہیں ہو سکتاتھا۔ پھر دورانِ معرکہ بھی کفار کی کثرت مسلمانوں کو بہت قلیل دکھائی دی۔ مقصد یہ تھا کہ دشمن کی ہیبت قائم نہ ہو سکے، بلکہ اُنھیں معمولی سمجھا جائے۔ اسی طرح مسلمانوں کا حال کفار کی نظروں میں معمولی کرکے دکھایا گیا۔ یوں فریقین میں سے ہر ایک کو بتدریج معرکہ میں پہنچا دیا تاکہ اُس معاملے کا فیصلہ کر دیا جائے جو اللہ کے علم میں تو پہلے سے کیا جاچکا تھا:

اِذْ یُرِیْکَہُمُ اللّٰہُ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلًاط وَلَوْ اَرٰیکَہُمْ کَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ سَلَّمَ ط اِنَّہ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ o وَاِذْ یُرِیْکُمُوْہُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْٓ اَعْیُنِکُمْ قَلِیْلًا وَّیُقَلِّلُکُمْ فِیْٓ اَعْیُنِہِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلًا ط وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ(انفال۸:۴۳-۴۴) اور یاد کرو وہ وقت  جب کہ اے نبیؐ، خدا اُن کو تمھارے خواب میں تھوڑا دکھا رہا تھا اگر کہیں وہ تمھیں اُن کی تعداد زیادہ دکھا دیتا تو ضرور تم لوگ ہمت ہار جاتے اور لڑائی کے معاملہ میں جھگڑا شروع کردیتے، لیکن اللہ ہی نے اس سے تمھیں بچایا، یقینا وہ سینوں کا حال تک جانتا ہے۔ اور یاد کرو جب کہ مقابلے کے وقت خدا نے تم لوگوں کی نگاہوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور اُن کی نگاہوں میں تمھیں کم کرکے پیش کیا، تاکہ جو بات ہونی تھی اسے اللہ ظہور میں لے آئے، اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔

یہ وہ تیسیر ہے جس کے ذریعے اللہ اسباب کو حرکت دیتا اور آگے بڑھاتا ہے، لیکن انسان کو ودیعت شدہ ناموسِ حریت میں دخل نہیں دیتا۔ اللہ نے ہم سب کو قلب و ضمیر کے اعتبار سے    آزاد تخلیق کیا اور اسی آزادی کے متعلق ہم سے جواب دہی ہو گی۔(مصنف کی کتاب القرآن: محاولہ لفہم عصری میں شامل ایک مقالہ)