جنوری۲۰۰۵

فہرست مضامین

عیادت کے ۲۳ نسخے مریضوں اور مصیبت زدگان کے لیے روحانی مرہم

افادات بدیع الزمان سعید نورسیؒ | جنوری۲۰۰۵ | اسلامی معاشرت

Responsive image Responsive image

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذھب البأس وحمداً للّٰہ علی السلامۃ، ’’تکلیف سے نجات ملی‘ اس سلامتی پر اللہ کالاکھ لاکھ شکر ہے‘‘۔ یہ کتابچہ اس حدیث کی روشنی میں مریضوں کی عیادت‘ ان کے روحانی علاج اور تسلی و تشفی کے پیش نظر لکھا گیا ہے۔یہاں ہم نے اجمالی طور پر ۲۳ نسخے بیان کیے ہیں جو ان شاء اللہ مصیبت زدگان اور مریضوں کے لیے--- جو انسانیت کا دسواں حصہ ہیں--- روحانی مرہم ثابت ہوں گے۔ (مولف)

پھلا نسخہ: بیماری‘ باعث خیر

پیارے مریض بھائی! پریشان نہ ہو‘ صبر کرو۔ آپ کی بیماری آپ کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ یہ دراصل ایک دوا ہے۔ اس لیے کہ زندگی‘ سرمایے کی مانند ہے‘ اگر اس سے نفع حاصل نہ ہو تو پوری زندگی اکارت جانے کے مترادف ہے‘ خصوصاً جب زندگی آرام اور غفلت کے ساتھ گزرے اور اپنے انجام کی طرف تیزی سے بڑھتی رہے۔ بیماری زندگی کی حقیقی قدروقیمت کا احساس دلاتی ہے۔ دورانِ علالت یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تیزی سے گزرنے والے لمحات   رک گئے ہوں‘ وقت تھم گیا ہو‘ بلکہ بیماری اور تکلیف کے باعث وقت کٹتا ہی نہیں۔ تکلیف کے یہ طویل لمحات جو زندگی کی رفتار کو سست کر دیتے ہیں‘ کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ گزری ہوئی زندگی پر ٹھیر کر سوچنے کا موقع دیتے ہیں۔یہ غوروفکر‘ ذاتی احتساب اور جائزہ زندگی کے سرمایے کی حقیقی قدر کو اجاگر کرتا ہے اور انسان آیندہ بہتر زندگی گزارنے پر سنجیدگی سے غور کرتا ہے۔ علالت کے یہ طویل لمحات زندگی کی قدر کا باعث بنتے ہیں اور صحت یاب ہونے کے بعد ٹھیری ہوئی زندگی ایک بار پھر پوری قوت سے صحیح سمت میں دوڑنے لگتی ہے۔ لہٰذا بیماری کو صبروحوصلے سے کاٹنا چاہیے‘ یہ بھی باعث خیر ہے‘ یقینا مومن ہر حال میں خیر ہی سمیٹتا ہے۔

دوسرا نسخہ: صبر پر بیش بھا اجر

اے انتہائی صبر کرنے والے مریض! صبر کا زیور پہنے رہو‘ بلکہ شکر کرکے اپنے آپ کو اس کی زینت سے مزین کرو۔ ممکن ہے کہ آپ کی زندگی کے یہ مختصر لمحے طویل عبادت میں بدل جائیں۔ اس لیے کہ عبادت کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ عبادت ہے جس میں اعضا کے ساتھ    اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کیا جاتا ہے‘ جیسے نماز‘ دعا وغیرہ۔ دوسری وہ عبادت ہے جس کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ اس میں مصیبت زدہ شخص دل ہی دل میں اپنے رب کے سامنے اپنی بندگی و عاجزی کا اقرار کرتا ہے اور اسی سے مدد کا طلب گار ہوتا ہے۔ وہ اپنی بیماری اور مصائب کے دوران احساس و شعور کی گہرائی کے ساتھ اپنی عاجزی و کمزوری کا ادراک کرتا ہے‘ اور اس کے وجہ سے وہ ہر قسم کے ریا سے پاک روحانی عبادت تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔

اس حوالے سے کئی احادیث صحیحہ ہمیں ملتی ہیں جو رہنمائی کرتی ہیں کہ زندگی امراض اور بیماریوں کا مجموعہ ہے جو مومن کے لیے عبادت کی حیثیت رکھتی ہیں بشرطیکہ آدمی اللہ تعالیٰ سے شکوہ نہ کرے اور اس کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ یہ بات متعدد صحیح روایات سے ثابت ہے کہ صابرین اور شاکرین کی بیماری کا ایک لمحہ پورے گھنٹے کی عبادت کے برابر ہے‘ اور جو لوگ تقویٰ اور پرہیزگاری کے اعلیٰ مقام پر ہوتے ہیں اُن کی بیماری کا ایک لمحہ پورے دن کی عبادت کے برابر ثواب رکھتا ہے۔ اس لیے اے برادر عزیز! آپ اس بیماری پر گلہ شکوہ نہ کریں جو آپ کی زندگی کے ایک مشکل ترین لمحے کو بیش قیمت لمحات میں تبدیل کر دیتی ہے اور آپ کی مختصرعمر کو عمردراز میں بدل دیتی ہے۔ آپ کو تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

تیسرا نسخہ: ایک مخلص واعظ و ناصح

اے مریض بھائی! انسان اس دنیا میں محض عیش وعشرت کے لیے نہیں آیا۔ جو بھی آیا ہے بالآخر اسے ایک روز سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جانا ہے۔ ہر گزرنے والا لمحہ موت سے ہم کنار کر رہا ہے‘ جوانی تیزی سے بڑھاپے میں ڈھل رہی ہے۔ مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو پرتعیش زندگی اور اپنی دنیا میں مگن ہیں اور خدا اور خوفِ خدا سے بالکل بے نیاز ہوتے ہیں۔ اگر کبھی گردشِ زمانہ سے تنگ دستی ودرماندگی کا شکار ہو جاتے ہیں تو اپنے ماضی کو یاد کر کے اور اپنی موجودہ مصائب دیکھ کر لرز جاتے ہیں اور زندگی ہی سے مایوس ہوجاتے ہیں۔

یہ بیماری ہی ہے جو غفلت میں مبتلا شخص کو جو پُرتعیش زندگی گزار رہا ہو اور اپنی دنیا میں گم ہو‘ زندگی کی حقیقت سے باخبر کرتی ہے اور آخرت کی فکر سے ہم کنار کرتی ہے اور اس کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔ گویا کہ بیماری اس سے کہہ رہی ہے:تم یہاں ہمیشہ نہیں رہو گے‘ تم آزاد نہیں ہو کہ جو چاہو کرو‘ بلکہ تم ایک ڈیوٹی پر مقرر ہو‘ دھوکے میں نہ آئو‘ اپنے رب کو یاد کرو اور جان لو کہ تم قبر میں جانے والے ہو‘ اس کے لیے تیاری کرو۔ اس طرح بیماری ایک واعظ‘ مرشد اور بیدار کرنے والے کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے بعد شکوہ و شکایت کی کوئی گنجایش نہیں رہتی‘ بلکہ شکر کے سائے میں پناہ لینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یوں زندگی کی حقیقی قدر کا احساس ہوتا ہے۔ اگر تکلیف بہت زیادہ ہو جائے تو صبرجمیل سے کام لو۔

چوتہا نسخہ: خود شناسی اور خدا شناسی

اے شکایت کرنے والے مریض! یہ بات آپ اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ آپ کو شکایت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے‘ الٹا آپ پر شکر اور صبر لازم ہے‘ اس لیے کہ آپ کا جسم‘آپ کے اعضا اور سامان دنیا آپ کی ملکیت نہیں ہے۔ آپ نے ان میں سے کون سی چیز خود بنائی ہے؟ جب اس کا جواب آپ کے پاس نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ یہ کسی اور کی ملکیت ہیں۔ ان چیزوں کا مالک جس طرح چاہے اُن میں تصرف کرسکتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک مالدار اور ماہر ڈیزائنر کسی آدمی کو مقررہ اُجرت پر اس کام پر لگادیتا ہے کہ وہ ایک گھنٹے تک ایک ’ماڈل‘ کا کردار ادا کرے۔ وہ اسے کبھی بٹھاتا ہے‘ کبھی کھڑا کرتا ہے‘ کبھی ایک قسم کا لباس پہناتا اور کبھی دوسری قسم کا‘ کبھی کوئی تبدیلی کرتا ہے اور کبھی کوئی۔ کیا اس پر اس شخص کو اعتراض کا کوئی حق حاصل ہے؟ اس لیے نہیں کہ اسی بات کی تو اس نے اُجرت لی ہے۔

اگر ایک مزدور کو یہ بات کرنے کا حق حاصل نہیں ہے تو جو سب سے بڑا معبود ہے‘ اس کو آپ کیسے اس طرح کی بات کہہ سکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے آپ کے جسم کوبنایا ہے‘ آپ کو حواسِ خمسہ سے نوازا ہے‘ پھر وہ اپنے اسماے حسنیٰ کے نقوش کو ظاہر کرنے کے لیے اس میں مختلف تبدیلیاں کرتا ہے اور آپ کے جسم کو مختلف صورتوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔ جب آپ بھوک پیاس کی تکلیف محسوس کرتے ہیں تو آپ کو اس کی رزاقیت کا تعارف حاصل ہوجاتا ہے اور جب آپ بیمار پڑجاتے ہیں تو آپ کو اس کے شافی ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ آپ اپنے آپ کو جانیں گے اور اپنے رب کو پہچانیں گے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو بیماری کے حجاب کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔

پانچواں نسخہ: حقیقی تندرستی کا پیغام

اے مصیبت زدہ! بعض لوگوں کے لیے بیماری ایک طرح کا احسان اور خدائی تحفہ ہے۔ یہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ جو زیادہ بیماری کے درد و کرب میں مبتلا ہوتا ہے وہ آخرت کے بارے میں زیادہ فکرمند ہوتاہے۔ وہ عام لوگوں کی طرح غفلت میں مدہوش نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ اپنی بیماری اور مصیبتوں کی وجہ سے کسی حد تک اپنے نفس کو حیوانی خواہشات سے بچاتا ہے۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو تندرستی کی نعمت سے مالا مال ہیں مگر اپنی ابدی زندگی کو سنوارنے والے اعمال کا کوئی خیال ہی نہیں رکھتے‘ بلکہ دنیوی زندگی کے چند لمحوں کو خوب صورت بنانے کے لیے خدا کے حکام کو ڈھا دینے سے بھی دریغ نہیںکرتے۔ وہ نماز کو خیرباد کہہ دیتے ہیں اور آخرت کو بھلا کراللہ تعالیٰ سے بے پروا ہوجاتے ہیں‘ جب کہ بیمار اپنے مرض کے سبب اپنی آنکھوں سے اپنی قبر کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوتا ہے جو اس کا یقینی گھر ہے اور وہاں جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس طرح مریض کے اندر تحرک پیدا ہوتا ہے اور اُس کے مطابق وہ اپنا عمل درست کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے یہ بیماری تو آپ کے لیے حقیقی تندرستی کا پیغام ہے۔

چہٹا نسخہ: درد و غم کی حقیقت

اے درد و الم کی شکایت کرنے والے مریض! آپ اپنی گذشتہ زندگی پر غور کریں۔ اس کے خوش گوار ایام کو بھی یاد کریں اور مشکل لمحات کو بھی ذہن میں تازہ کریں۔ آپ کی زبان سے بے اختیار ’آہ‘ یا ’آہا‘ کی آواز نکلے گی۔ گویا آپ یا تو خوش ہو کر اپنی زندگی پر اللہ کی حمدوثنا بیان کریں گے ‘یا پھر غم و اندوہ کی وجہ سے ڈوبتی ہوئی آواز میں اظہارِافسوس کریں گے۔ اب آپ غور کریں کہ گزری ہوئی تکالیف اور مصیبتیں جب آپ کے ذہن میں آتی ہیں تو کس طرح آپ اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرتے ہیں اور آپ کتنی روحانی لذت محسوس کرتے ہیں اور آپ کی زبان سے بے اختیار ’الحمدللہ‘ کے الفاظ نکلتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تکلیف ختم ہوتی ہے تو اس سے ایک قسم کی لذت اور خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ رہے خوشی کے لمحات تو وہ چھن جانے اور احساس محرومی کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے حسرت و یاس کے کرب سے دوچار کر دیتے ہیں‘ جب کہ بیماری تو عارضی ہے۔ اس پر مزید یہ کہ اُس لذت روحانی کے علاوہ‘ جو بیماری ختم ہونے پر فطرتاً آدمی کو محسوس ہوتی ہے‘ اس میں آدمی کے لیے آخرت کے حوالے سے بھی ثواب اور اجر کا سامان ہوتا ہے۔ اس لیے آپ عارضی بیماری‘ جس میں آپ مبتلا ہیں‘ کے نتائج پر نگاہ رکھیے اوراس کے پہلو بہ پہلو اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور ثواب کے بارے میں سوچیے۔ شکر کا دامن تھامے رکھیے اور شکوہ و شکایت سے بالاتر رہیے۔ اور یہ بات ذہن میں رکھیے کہ کوئی حالت بھی ہمیشہ باقی نہیں ہوتی۔

بیماری جب ہمیں اس لطیف اور دقیق نکتے کی طرف متوجہ کرتی ہے تو درحقیقت وہ ہمارے دل کی گہرائیوں میں یہ سرگوشی کرتی ہے کہ: دھوکے سے نکل آئو اور اپنی حقیقت پہچانو۔ اپنی ذمہ داری کا احساس کرو اور یہ بات جاننے کی کوشش کرو کہ دنیا میں تمھارے آنے میں کیا حکمت اور مقصد پوشیدہ ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ دنیا کی لذتیں ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتیں ‘ خصوصاً جب ناجائز ہوں‘ اور صرف یہ نہیں کہ وہ دائمی نہیں ہوتیں بلکہ آدمی کو گناہ اور جرم پر آمادہ کرتی ہیں۔ چنانچہ آپ اس بات پر بالکل نہ روئیں کہ بیمار ہو کر آپ نے دنیوی لذتیں کھو دی ہیں‘ آپ کو تو اس پر الٹا خوش ہونا چاہیے۔ آپ عبادت کے روحانی معنی جو آپ کی بیماری کے ضمن میں موجود ہیں اور اخروی اجر پر‘ جو اس نے آپ کے لیے چھپا رکھا ہے‘ غور کریں اور کوشش کریں کہ یہ خالص اور پاکیزہ ذائقہ چکھیں۔

ساتواں نسخہ: احساسِ نعمت

اے مریض جو تندرستی کی نعمت کھو چکے ہو! آپ کا مرض اللہ تعالیٰ کی اُن نعمتوں کی لذت کو مٹاتا نہیں جو تندرستی میں آپ کو ملتی ہیں‘ بلکہ اس کے برعکس وہ آپ کو یہ لذت چکھا دیتا ہے اور اس میں اضافہ کر کے مزید خوش ذائقہ بنا دیتا ہے۔ اس لیے کہ ایک چیز جب دائمی ہوجاتی ہے اور اس کی حالت ایک جیسی رہتی ہے تو اس کے ذائقے اور اثرات میں کمی آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصحابِ علم اس بات پر متفق ہیں کہ چیزوں کی صحیح پہچان اس کی ضد سے ہوتی ہے۔ اگر اندھیرا نہ ہوتا تو روشنی کا کسی کو احساس ہی نہ ہوتا اور وہ بغیر کسی لذت کے گزر جاتی‘ اگر ٹھنڈک نہ ہوتی تو گرمی کسی کو معلوم ہی نہ ہوتی اور اُس کا کوئی مزا نہ ہوتا‘ اگر بھوک نہ ہوتی تو کھانے سے کسی کو کوئی مزا اور ذائقہ ہاتھ نہ آتا‘ اگر پیاس نہ ہوتی تو پانی پینے سے ہمیں کوئی لذت حاصل نہ ہوتی۔ اسی طرح اگر بیماری نہ ہوتی تو تندرستی بے مزہ ہوکر رہ جاتی۔

خالقِ حکیم جب انسان کو اپنے مختلف احسانات کا احساس دلا کر اور اپنی نعمتوں کا مزا چکھاکر اپنے دائمی شکر کی طرف لانا چاہتا ہے تو اس کو بے شمار طریقوں سے اس امر کے لیے تیار کرتا ہے کہ وہ مختلف قسم کی ہزاروں نعمتوں کا ذائقہ چکھ لے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مقصد کے لیے جس طرح صحت و عافیت سے سرفراز کر کے احسان فرماتا ہے‘ اسی طرح بیماریاں اور تکلیفیں بھی نازل کرے۔

میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بیماری‘ جس میں آپ مبتلا ہیں‘نہ ہوتی تو کیا آپ کے بس میں یہ بات تھی کہ آپ صحت میں چھپی ہوئی نعمت کو محسوس کرتے؟ اور کیا آپ کی قدرت تھی کہ اس نعمت ربانی کا مزا چکھتے جس سے یہ نعمت وجود میں آئی ہے؟ مجھے یقین ہے کہ آپ شکر کے بجاے نسیان کا شکار ہوتے‘ یا اس تندرستی کا مصرف یہ ہوتا کہ آپ غفلت و نادانی میں مبتلا ہوتے اور آپ کو اس کا احساس تک نہ ہوتا۔

آٹہواں نسخہ: معرفتِ رب

اے اپنی آخرت کو یاد کرنے والے مریض! آپ کی بیماری تو صابن کی طرح ہے‘ یہ آپ کے میل کچیل کو دُور کرتی ہے‘ آپ کے گناہوں کو مٹاتی ہے اور خطائوں سے معافی کا ذریعہ ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ بیماریاں گناہوں کا کفارہ ہوتی ہیں۔ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان کسی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے درختوں کے پتے جھڑتے ہیں (بخاری)۔ اس لیے کہ گناہ‘ ابدی زندگی کے لیے دائمی بیماری کی حیثیت رکھتا ہے‘ اور اس دنیا میں بھی یہ دل‘ روح اور وجدان میں غیرمحسوس بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ چنانچہ جب آپ صبر کریں گے اور شکوہ شکایت سے اجتناب کریں گے تو آپ اس موجودہ بیماری کے ذریعے اپنے آپ کو بہت سی دائمی بیماریوں سے بچا لیں گے‘ اور جب آپ اپنے گناہوں سے غافل ہوں گے‘ آخرت کو بھلا دیں گے اور اپنے رب سے بے پروا ہوں گے تو میں آپ کو خبردار کرتا ہوں کہ آپ ایک خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں‘ جو اس وقتی بیماری کے مقابلے میں ہزاروں اور لاکھوں گنا زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہے۔ اس مہلک بیماری سے بچیے۔ اس لیے کہ آپ کا دل و جان اور آپ کی روح سب دنیا کے سازوسامان کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں اور یہ چیزیں یقینا فراق اور زوال کی تلواروں سے کٹنے والی ہیں۔

اس کا لازمی تقاضا ہے روح کی بہتری اور حقیقی شفا کی فکر کی جائے۔ میرا نہیں خیال کہ یہ علاج آپ کو ایمان کے بعد اوراس کے شفا دینے والے مرہم کے علاوہ کہیں اورسے مل سکے گا۔ اور جان لو کہ اس علاج تک پہنچنے کا مختصر ترین راستہ یہ ہے کہ ’عاجزی اور فقیری‘ اختیار کی جائے۔ یہ دونوں صفات انسان کی جبلت میں پیدا کی گئی ہیں۔ یہ بیماری ہی ہے جو آخرت کی فکر پیدا کرتی ہے‘ عاجزی و درماندگی اور فقر کا احساس اجاگر کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ قادر ذوالجلال کی قدرت اور اس کی وسیع رحمت کی معرفت بھی حاصل کرلیں گے۔

نواں نسخہ: موت کے خوف کی حقیقت

اے اپنے خالق پر ایمان لانے والے مریض! بیماری سے فکرمند ہونا ‘ اس سے خوف کھانا اور اس سے پریشانی لاحق ہونا‘ یہ ایسے احساسات ہیں جن کی بنیاد پر یہ خیال ہوتا ہے کہ بیماری کبھی کبھی موت اور ہلاکت کا ذریعہ بنتی ہے‘ اور غافل نگاہوںسے دیکھیں تو موت بظاہر ایک وحشت ناک اور ڈرائونی چیز ہے۔ لہٰذا جو بیماریاں اس ڈرائونی موت کا ذریعہ بنتی ہیں اُن کے آنے سے پریشانی اور اضطراب کا پیدا ہونا فطری ہے۔ لیکن آپ اچھی طرح جان لیں اوراس پر قطعی ایمان لائیں کہ: زندگی کا آخری وقت معین ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

موت‘ جس طرح عام مشاہدہ ہے‘ فی نفسہٖ ڈرانے والی نہیں ہے۔ موت تو مومن کے لیے عافیت ہے‘ اس سے وہ زندگی کی ذمہ داریوں اور اس کی کلفت و مشقت سے آزاد ہوجاتا ہے۔ موت اُس عبودیت سے آزادی کا نام ہے جو دنیا کے آزمایشی میدان میں اس کی تعلیم و تربیت کے لیے مقرر کی گئی تھی۔ مزید یہ کہ موت‘ آدمی کے لیے اپنے حقیقی وطن اور دائمی سعادت کے ابدی مقام و مرتبے تک پہنچنے کا وسیلہ بنتی ہے۔ یہ دنیا کی کوٹھڑیوں سے نکلنے اور جنت کے باغیچوں میں داخل ہونے کی ایک دعوت ہے اور یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آدمی اپنی محنت کی اجرت وصول کرنے کے قابل ہو جاتا ہے‘ وہ اجرت جو خالقِ رحیم کے خزینۂ احسان کا منہ کھول دیتی ہے۔

جب موت کی حقیقت یہ ہے تو پھر یہ مناسب نہیں کہ اس کو ایک ڈرائونی چیز سمجھا جائے بلکہ یہ بات لازم ہے کہ موت کو رحمت و سعادت کی بشارت سمجھا جائے۔ یہاں تک کہ بعض   اہلِ اللہ موت سے اس وجہ سے نہیں ڈرتے تھے کہ یہ ایک ڈرائونی چیز ہے بلکہ وہ موت کی تاخیر اس وجہ  سے چاہتے تھے کہ اگر زندہ رہیں تو مزید نیکیاں کر کے زیادہ ثواب کما سکیں--- پس موت اہلِ ایمان کے لیے رحمت کا دروازہ ہے اور گمراہ لوگوں کے لیے ابدی اندھیروں کا اندھا کنواں۔

دسواں نسخہ: اضطراب و بے چینی کا علاج

اے مضطرب مریض! آپ بیماری کی شدت سے مضطرب ہیں‘ اگر یہ اضطراب اسی طرح برقرار رہا تو اس سے آپ کی بیماری میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا مرض ہلکا ہو جائے تو کوشش کریں کہ آپ اضطراب کا شکار نہ ہوں۔ آپ کو چاہیے کہ بیماری کے خیر کے پہلو‘ اس کے ثواب اور اس بات پر غور کریں کہ یہ بیماری حقیقت میں شفا کا پیش خیمہ ہے۔ اپنے دل سے اضطراب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں تو بیماری خود بخود ختم ہو جائے گی۔

اضطراب اور وہم بیماری کو دوبالا کر دیتا ہے۔ اس لیے کہ اضطراب ظاہری بیماری کی آڑ میں دل کے اندر نفسیاتی بیماری کو پھیلا دیتاہے جس سے جسمانی بیماری بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے برعکس جب آپ اپنے معاملے کو اللہ کے سپرد کر دیں‘ بیماری کی حکمت کو پیشِ نظر رکھیں‘ اور راضی بہ رضا رہنے والے اضطراب و وہم کو اپنے دل سے دور کردیں تو جسمانی بیماری اپنی ایک مضبوط جڑ سے محروم ہوجائے گی اور پھر آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گی۔ اس کے برعکس اگر اوہام اور پریشانیاں آپ کی جسمانی بیماری کا ساتھ دیں تو یہ اوہام آپ کے اضطراب کی وجہ  سے دسیوں گنا بڑھ جاتے ہیں۔

پریشان ہونا بذاتِ خود ایک بیماری ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بیماری کی حکمت پر غور کیا جائے۔ جب آپ اس کی حکمت اور فوائد کو سمجھیں گے تو یہ ایک مرہم ہوگا جو آپ کی بیماری کو ختم کرے گا اور آپ کی جان چھوٹ جائے گی۔ بیماری میں ’ہائے‘ افسوس‘ کی جگہ ’الحمدللہ علیٰ کل حال‘ کہنا چاہیے۔ ایک بندے کو اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے کہ یہی مالک کی مرضی ہے۔ یہ کیفیت اضطراب کو صبرواستقامت میں بدل دیتی ہے اور مصیبت و پریشانی ہلکی محسوس ہونے لگتی ہے۔

گیارہواں نسخہ: شکوہ نھیں صبر

اے مریض بھائی جس کا صبر تمام ہوچکا ہے! یہ بات ٹھیک ہے کہ بیماری سے آپ کو عارضی طور پر تکلیف ہوتی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بیماری دور ہو جاتی ہے تو آپ کو ایک روحانی لذت اور جسمانی مسرت بھی حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ آج کے بعد آنے والے زمانے میں آپ بیماری کی کوئی تکلیف محسوس ہی نہیں کریں گے۔ جب بیماری کے دن گزر گئے تو اس کے ساتھ ہی اُس کا درد بھی جاتا رہا۔ البتہ بیماری کا ثواب اور اس کے ختم ہونے کی لذت باقی رہے گی۔ ایسی صورت حال میںآپ پر لازم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صبر کے ذریعے جو بدلہ دیتا ہے اس کی خوشی کو یاد کر کے اپنا شرح صدر کریں۔

رہی یہ بات کہ اگلے دنوں میں کیا ہوگا‘ تو آپ کو اس کے بارے میں فکرمند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تو ابھی آئے نہیں ہیں۔ یہ تو نادانی ہے کہ آپ ابھی سے اس چیز کے بارے میں فکرمند ہوں جو ابھی موجود نہیں‘ اور اس بیماری سے پریشان ہوں جوابھی آئی نہیں ہے‘ اور اس مصیبت پر متفکر ہوں جو ابھی نازل نہیں ہوئی۔ اس قسم کے وہم کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ ایسی الجھنوں کا شکار ہوجاتے ہیں جن سے آپ کا اجر تمام ہوجاتا ہے۔

پس اے میرے بھائی! آپ کو اللہ تعالیٰ نے صبر کی جو بے پایاں قوت دی ہے اس کو ضائع نہ کریں بلکہ اس کو جمع کر کے رکھیں تاکہ تکلیف کے موقع پر آپ کے کام آئے۔ اور جب آپ کو تکلیف ہو تو ’’یاصبور‘‘ کا ورد کریں اور صبر کرتے ہوئے اس کو ثواب کا ذریعہ سمجھیں۔

بارہواں نسخہ: عبادت کی کمی کا بدل

اے مریض‘ جو اپنی بیماری کی وجہ سے عبادت اور ذکر و اذکار سے محروم ہو‘ اور اس محرومی کی بنا پر افسوس کا اظہار کرتا ہو! آپ کے پیشِ نظر اس حدیث کا مفہوم رہنا چاہیے جس کے مطابق مومن جب کسی عبادت کا عادی ہوجاتا ہے تو اس کا ثواب اس کو بیماری کے دنوں میں بھی‘ جب کہ وہ عبادت نہیں کرپاتا--- مسلسل ملتا رہتا ہے (احمد‘ بخاری)۔ بیماری اس کے ثواب میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اس لیے کہ جو مریض صحت کی حالت میں فرائض اور بقدر استطاعت نوافل ادا کرتا ہے‘ بیماری اس کے لیے ان سب کی قائم مقام ہوجاتی ہے۔ جب مریض صبر‘ توکل اور فرائض کی ادایگی کی زینت سے مزین ہو جاتا ہے تو یہ سخت تکلیف کے موقع پر اس کے لیے اللہ کی طرف لوٹ جانے کا ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔ لہٰذا حالتِ صحت میں جتنی بھی عبادت تسلسل اور دوام کے ساتھ کی جاسکے ضرور کرنی چاہیے۔

اسی طرح جب بیماری انسان کو اس کی کمزوری اور عاجزی کا احساس دلاتی ہے تو مریض نہ صرف زبان سے بلکہ دل کی گہرائیوں سے گڑگڑا کر دعا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو انتہائی عاجزاور کمزور اسی لیے تو بنایا ہے تاکہ یہ ہمیشہ کے لیے بارگاہِ الٰہی کی طرف رجوع کرتا رہے اور امیدورجا کے ساتھ دعا کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَآؤْکُمْ (الفرقان ۲۶:۷۷) ’’اے نبیؐ، لوگوں سے کہو‘ میرے رب کو تمھاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اُس کو نہ پکارو‘‘۔ جب بیماری انسان کی پیدایش کے بنیادی مقصد اور اہم ترین حکمت‘ یعنی پرخلوص دعا کا سبب ہے تو اس کی شکایت کرنا درست نہیں‘ اس پر شکرکرنا لازم ہے۔

تیرہواں نسخہ: ایک بیش قیمت اثاثہ

اے بیماری کی شکایت کرنے والے عاجز بندے! بیماری تو بعض لوگوں کے لیے سرمایۂ حیات بن جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بیش قیمت تحفہ ثابت ہوتی ہے۔ ہر مریض اپنی بیماری کو اسی قسم کی بیماری سمجھ سکتا ہے۔ یہ حکمت الٰہی ہے کہ کسی بھی انسان کو اپنا آخری وقت معلوم نہیں‘ تاکہ انسان ہمیشہ کے لیے ناامید بھی نہ ہو اور دائمی غفلت میں بھی نہ پڑے‘ بلکہ وہ امیدورجا کے مابین رہے۔ اس طرح اس کی آخرت ہی نہیں دنیا بھی نقصان و خسارے کا شکار ہونے سے بچ جاتی ہے۔ گویا کہ انسان کا آخری وقت کسی بھی لمحے آسکتا ہے‘ اگر یہ وقت آجائے اور انسان اخروی زندگی کو دائمی تباہی کے گڑھے میں پھینکنے والی غفلت میں پڑا ہوا ہو تو یہ اس کے لیے بہت بڑا نقصان ہوگا۔ بیماری اس غفلت کو ختم کر دیتی ہے اور آخرت کی یاد کو ازسرنو تازہ کر دیتی ہے۔ اس طرح وہ ایک بڑی دولت سے مالا مال ہو جاتا ہے اور محض چند دنوں میں اُن تمام گناہوں سے چھٹکارا پا لیتا ہے جن کا ارتکاب وہ برسوں سے کر رہا تھا۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا اللہ کے ہاں ایک مقام ہوتا ہے جس کو وہ اپنے اعمال سے حاصل نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسی بیماری میں مبتلا کر دیتا ہے جس کو وہ ناپسند کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنا مقام حاصل کر لیتا ہے۔ (حدیث حسن‘ مسندابویعلٰی ۴؍۱۴۴۷‘ ابن حبان ۶۹۳)

جب بیماریوں میں یہ بڑے بڑے فوائد مستور ہیں تو شکایت کے کیا معنی؟ ہمیں تو چاہیے کہ رحمت الٰہی پر اعتماد کریں اور حمدوشکر کرتے ہوئے ان پر قانع ہو جائیں۔

چودہواں نسخہ: بینائی سے محرومی پر اجرعظیم

اے بیمار‘ جو بینائی سے محروم ہوگیا! جب آپ کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں روشنی بھی ہے‘ اگرچہ میری آنکھوں پرپردے ہیں لیکن اہلِ ایمان کی آنکھوں پر پڑے ہوئے ان پردوں کے پیچھے ایمان کی روشنی موجود ہے تو یقینا آپ بے اختیار پکار اٹھیں گے کہ میرے مہربان پروردگار ہزار بار شکریہ۔

جب ایک مومن کی آنکھوں پر پردہ آیا ہو اور اس صورت میں وہ وفات پاجائے تو وہ اپنے مرتبے کے لحاظ سے عالم نورانی کو دوسرے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ وسیع نظروں سے دیکھ سکے گا‘ جس طرح کہ دنیا میں ہم اپنی آنکھوں سے اکثر چیزیں دیکھ سکتے ہیں اور اندھے لوگ ان چیزوںکو نہیں دیکھ سکتے۔ اس طرح مرنے کے بعد یہ نابینا‘ اگر مومن ہوں تو وہ اپنے مرتبے کے لحاظ سے دوسروں سے زیادہ اچھی طرح دیکھ سکیں گے۔ وہ جنت کے باغات اور اس کی نعمتوں کا مشاہدہ کریں گے‘ گویا کہ اُن کا سرمایۂ آخرت ان کے لیے جمع کیا گیا تھا۔ ہر ایک اپنی حیثیت کے مطابق جنت کے خوب صورت مناظر کو دیکھے گا۔

اس لیے‘ میرے بھائی! جتنا ممکن ہو‘ آپ کوشش کریں کہ آپ اُن نورانی نگاہوں کے مالک بن جائیں جو جنت کے پیچھے دیکھ سکیں درآں حالیکہ آپ تحت الثریٰ میں پڑے ہوئے ہوں گے۔ اور یہ تب ہوگا کہ آپ اس پردے پر صبر کریں جو دنیا میں آپ کی آنکھوں پر آگیا ہے‘ اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ آپ کو جان لیناچاہیے کہ روحانی آنکھوں کا اسپیشلسٹ اور آپ کی معنوی نگاہوں پر پڑے ہوئے پردوں کو ہٹانے والا ڈاکٹر‘ قرآن ہے۔ اس سے جب آپ کے روحانی پردے ہٹ جاتے ہیں تو آپ کو آخرت میں سب چیزیں صاف نظر آئیں گی۔

پندرہواں نسخہ: مھلک بیماری پر مقامِ بلند

اے فریاد کرنے والے مریض! آپ فریاد نہ کریں اور نہ اپنی مہلک بیماری کو دیکھ کررونا دھونا شروع کریں۔ آپ کو چاہیے کہ اس کے مقصد اور چھپی ہوئی حکمت کی طرف دیکھتے ہوئے ’الحمدللہ‘ کہیں۔

اگر بیماری کا مقصد کوئی اچھا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ترین بندوں کو بیماریوں میں مبتلا نہ کرتا۔ حدیث میں آیا ہے کہ ’’سب سے زیادہ آزمایشیں انبیاے کرام پر آتی ہیں‘ اس کے بعد اولیا پر اور پھر درجہ بدرجہ باقی لوگوں پر۔ ان سب نے اس طرح کی بیماریوں کا سامنا کیا‘اس کو ایک خالص عبادت اور ربانی تحفہ سمجھا اور صبر کا دامن پکڑ کر گویا اپنی مصیبتوں پر اللہ کا شکر ادا کیا۔

اس لیے اے درمند اور فریادی مریض! اگر آپ اس عظیم نورانی قافلے کے ساتھ ملنے کی خواہش رکھتے ہیں تو انھی کی طرح صبروشکر ادا کریں۔

کچھ بیماریاں ایسی بھی ہیں کہ اُن میں آدمی کو موت آجائے تو آدمی اولیا اللہ کی صفوںمیں پہنچ جاتا ہے۔ گویا کہ یہ ایک معنوی شہادت ہے۔ ان میں سے ایک خواتین کا درد زِہ ہے اور دوران زچگی موت پر شہادت۔ اسی طرح پیٹ کا خراب ہونا‘ پانی میں ڈوب جانا‘ آگ میں جل جانا اور طاعون ایسی بیماریاں ہیں کہ ان میں مبتلا شخص اگر اپنی بیماری کے دوران مر جائے تو اس کو شہید کے برابر ثواب ملتا ہے۔ اس طرح بہت ساری بابرکت بیماریاں ہیں‘ جن میں مبتلا شخص اگر مرجائے تو ولایت کا درجہ پا لیتا ہے۔ بیماری جس طرح حبِ دنیا کی شدت کو کم کرتی ہے اسی طرح یہ اپنے احباب سے فراق کے اُس دردناک اور کڑوے گھونٹ کی شدت کو بھی کم کرتی ہے جو موت کے وقت آدمی کو نگلنا ہوتا ہے۔

سولہواں نسخہ: جذبۂ اخوت و محبت کا موجزن ہونا

اے پریشان حال مریض! بیماری انسان کو اجتماعی زندگی کی اہم ترین کڑیوں اور خوب صورت ترین رشتوں‘ یعنی احترام اور محبت کی تلقین کرتی ہے کیوں کہ یہ انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ دوسروں سے مستغنی نہیں ہے کہ وہ انفرادیت اختیار کرے اور اس کا دل رحم اور شفقت کے جذبات سے خالی ہو۔ یہ بات قرآن کی آیت سے واضح ہے کہ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓیo اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰیo (العلق۹۶: ۶-۷) ’’انسان جب اپنے آپ کو بے پروا دیکھتا ہے توسرکش ہوجاتا ہے‘‘۔ استغنا کے جال میں پھنسا دینے والا نفسِ امارہ صحت و عافیت سے وجود میں آتا ہے اور وہ تعلقاتِ اخوت کے احترام کا کماحقہٗ احساس نہیں کرتا۔ اس طرح اس کو شفقت اور رحم کے اُن جذبات کا احساس نہیں ہوتا جس کی مریض اور مصیبت زدگان ضرور محسوس کرتے ہیں۔

جب انسان پر خود بیماری غالب آتی ہے اور وہ بیماری کی حالت میں آنے والی عاجزی و احتیاج کا ادراک کرتا ہے تو اس کو مومنوں کے اُس احترام کا شعور حاصل ہو جاتا ہے جو وہ اس کے ساتھ برتتے ہیں اور اس کی عیادت کے لیے آتے ہیں۔ اسی طرح اس کو احساس ہوتا ہے کہ مصائب میں مبتلا لوگوں کے ساتھ شفقت کرنا چاہیے‘ اور اس کے دل میں ان کے لیے رحم و شفقت اور محبت کے جذبات موجزن ہوجاتے ہیں جو اسلام کی اہم ترین خصوصیات میں سے ہے۔ پھر جب اس کو موقع ملتا ہے تو اُن کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھاتا ہے‘ اگر تعاون کی طاقت نہ ہو تو اُن کے لیے دست بُدعا ہوجاتا ہے۔ اُن کے ہاں آنے جانے اور اُن کا حال احوال پوچھنے کا اہتمام کرتا ہے‘ اس طرح وہ ایک مسنون عمل کرتے ہوئے بڑے ثواب کا مستحق ٹھیرتا ہے۔

سترہواں نسخہ: بیمارپرسی‘ عمل صالح کی بنیاد

اے بیمار‘ جو اس بات کی شکایت کرتا ہے کہ وہ اعمال صالحہ سے قاصر ہوگیا ہے! آپ شکر کریں۔ بیماری ہی تو ہے جو خلوصِ نیت سے بھرپور اعمالِ صالحہ کا دروازہ کھولتی ہے‘ اور بیمار کی خدمت کرنا نہ صرف دائمی ثواب کا ذریعہ ہے بلکہ یہ قبولیت دعا کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ثابت ہوتا ہے۔

بیمار کی خدمت اہلِ ایمان کو بڑے ثواب کا مستحق بناتی ہے اور اُن کی عیادت کرنا اُن کی صحت و عافیت معلوم کرنا‘بشرطیکہ اُن پر بوجھ نہ بنا جائے‘ ایک مسنون عمل ہے‘ اور یہ گناہوں کا کفارہ بھی ہے۔ اس مفہوم کی ایک حدیث وارد ہوئی ہے کہ ’’مریض سے دعا کے لیے کہو‘ اس کی دعا قبول ہوتی ہے‘‘۔ خصوصاً جب مریض قریبی رشتہ دار ہو‘ مثلاً والد یا والدہ ہو تو ان کی خدمت ایک گراں قدر عبادت بھی ہے اور ایک بہت بڑا ثواب بھی۔ مریضوں کو مطمئن کرنا اور اُن کی ڈھارس بندھانا‘ ایک بابرکت صدقے کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ وہ اولاد کتنی خوش قسمت ہے جو بیماری میں اپنے والد یا والدہ کی خدمت کرتی ہے اور اُن کے نرم اور پریشان دلوں کو مطمئن کرتی ہے۔ اس طرح وہ اُن کی دعائیں سمیٹ لیتے ہیں۔ اجتماعی زندگی میں اس روایت کا احترام بھی ہونا چاہیے اور اسے مقام بلند ملنا چاہیے بالخصوص والدین کی تیمارداری اور خدمت ایک   بلند درجہ ہے جس سے اولاد کی عظمت اور انسانیت کی رفعت ظاہر ہوتی ہے۔ یہ وہ درجہ ہے جس پر تمام مخلوقات یہاں تک کہ ملائکہ بھی انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ اولاد کی یہ شان دیکھ کر ان کی زبان سے بے اختیار ’ماشاء اللہ‘ اور ’بارک اللہ‘ کی دعائیں نکلتی ہیں۔

مریض کے ساتھ رحمت اور شفقت سے پیش آیا جائے تو اس سے بیمار کی تکلیف معدوم ہوجاتی ہے اور اس کے بدلے میں اُسے ایک خوش گوار لذت محسوس ہوتی ہے۔

مریض کی دعا بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ دعا بذاتِ خود بھی ایک عبادت ہے اس لیے کہ انسان کو جب اپنی عاجزی کا احساس ہوجاتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور رحم کا محتاج ہوجاتا ہے۔ جب دعا اخلاص نیت کے ساتھ کی جائے اور یہ عموماً بیماری‘ ضعف اور عاجزی کے مواقع پر ہوتا ہے‘ ایسی حالت میں دعا جلد قبول ہوتی ہے اور بیماری اس قسم کی دعا کے لیے ایک بنیاد ہوتی ہے۔ چنانچہ مریض اور اس کی بیمار پرسی کرنے والے مسلمانوں کو اس طرح کی دعا سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

اٹہارہواں نسخہ: زندگی کی قدر کا احساس

اگر زندگی ایک ہی انداز میں صحت و عافیت کے ساتھ گزرتی رہے تو زندگی کی قدر نہیں رہتی بلکہ کبھی کبھی اس زندگی کے بالکل بے مقصد ہونے کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان اپنی بے مقصد زندگی کو عیش و عشرت کی نذر کر دیتا ہے اور اخروی پہلو اس کی نظر سے محو ہو جاتا ہے‘ لیکن اگر زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا ہو توزندگی انسان کو اپنی اہمیت سے آگاہ کرتی ہے۔

آپ کسی مال دار اور فارغ البال شخص سے‘ جس کے پاس سب کچھ موجود ہو‘ پوچھیں کہ آپ کا کیا حال ہے؟ تو مجھے یقین ہے کہ آپ اُس کی زبان سے درد اور افسوس کے کلمات سنیں گے۔ وہ کہے گا: ’’ہائے! وقت ہے کہ گزرنے کا نام نہیں لے رہا‘‘ یا آپ اس کی زبان سے ایسی شکایتیں سنیں گے جو لمبی لمبی امیدوں کا نتیجہ ہوتی ہیں کہ میرا فلاںفلاں کام نہیں ہوا‘ کاش! کہ میں یہ یہ کر چکا ہوتا۔ اس کے برعکس جب آپ کسی غریب‘ بے کس اور مسائل و مشکلات کے گرداب میں پھنسے ہوئے آدمی سے پوچھتے ہیں کہ آپ کا کیا حال ہے؟ وہ اپنے مصائب کے باوجود خدا کا شکر ادا کرے گا اور بہتری کے لیے تگ و دو میں مصروف ہوگا۔

اے بیمار بھائی! آپ کو جان لینا چاہیے کہ مشکلات و مصائب اور اسی طرح گناہوں کی اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ معدوم ہونے والے ہیں۔ جب حقیقت یہ ہے تو آپ جس بیماری میں مبتلا ہیں وہ آپ کے پاس بھیجا ہواایک مہمان ہے جو اپنی بہت ساری ذمہ داریوں کو انجام دینے کے لیے آیا ہے۔ وہ آپ کی زندگی کو پاک و صاف کرتا ہے‘ وہ آپ کے جسم میں موجود تمام آلات کو اس بیمارعضو کی طرف متوجہ کرتا ہے اورزندگی کی حقیقی قدر کا احساس دلاتے ہوئے رخصت ہوجاتا ہے۔ اس احساس کی قدر کیجیے۔

انیسواں نسخہ: مرض کی حقیقت

اے علاج کی تلاش میں سرگرداں مریض! جان لو‘ کہ مرض کی دو قسمیں ہیں: ایک حقیقی مرض ہوتا ہے اور دوسرا صرف وہم۔

اگر مرض حقیقی ہو تو اللہ تعالیٰ نے ہر مرض کا علاج پیدا کیا ہے (لکل دائٍ دوائ)، اور اس علاج کو اپنے وسیع مطب‘ یعنی کرئہ ارض میں پھیلا دیا ہے۔ لہٰذا دوا کا استعمال بالکل جائز ہے‘ البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دوا کا اثرانداز ہونا اور شافی ہونا اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ اس لیے وہ جس طرح بیماری لاتا ہے اسی طرح شفا بھی دیتا ہے۔ ایک مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ ایک تجربہ کار ڈاکٹر کے مشوروں پر عمل کرے۔ زیادہ تر بیماریاں چیزوں کے غلط استعمال‘ مشوروں سے بے پروائی‘ حد سے تجاوز‘ غفلت‘ عدم احتیاط اور گناہوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ ایک اچھا ڈاکٹر مرض کے علاج کے ساتھ ساتھ مریض کو تسلی بھی دیتا ہے اوراُسے پُرامید رکھتا ہے۔ مریض کا کام یہ ہے کہ ڈاکٹر کے مشوروں پر یقین رکھے۔ اس طرح بالآخر مریض صحت یاب ہوکر پریشانی سے نجات پائے گا اور خدا کا شکرگزار ہوگا۔

مرض کی دوسری قسم وہم ہے۔ اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ اس کی طرف توجہ نہ دی جائے۔ اس لیے کہ وہم پر آپ جتنی توجہ دیں گے اتنا ہی وہ مضبوط ہوتا ہے اور دل و دماغ پر اس کا اثر گہرا ہوتا ہے۔ اگر اس کی کوئی پروا نہ کریں تو آخرکار یہ ختم ہوجاتا ہے‘ جیسے اگر انسان مکھیوں کے چھتے کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرے تو وہ یکجا ہو کر انسان پر حملہ آور ہوتی ہیں لیکن اگر اُن کو کچھ نہ کہیں تو وہ خود بخود منتشر ہوجاتی ہیں‘ یا کوئی آدمی اندھیرے میں رسی کو دیکھ کر سانپ گمان کرلے تو وہ خیال اس کے ذہن میں جڑپکڑ لیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ اس سے بے پروا ہوجاتا ہے تو اس پر جلد ہی واضح ہوجائے گا کہ یہ رسی ہے‘ سانپ نہیں۔ لہٰذا مرض کی حقیقت کو جان کر اللہ پر توکل کرنا چاہیے اور ذہنی الجھنوں کا شکار نہیں ہوناچاہیے۔ یہی مومنانہ رویّہ ہے۔

بیسواںنسخہ: خلوص و محبت کا حصول

اے مریض بھائی! یہ بات ٹھیک ہے کہ آپ کی بیماری جسمانی دردوالم کا ذریعہ ہے لیکن ایک اہم معنوی لذت بھی آپ کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو جسمانی درد کو بھلا دیتی ہے۔ اس لیے کہ آپ کا جسمانی درد اُس رحم اور شفقت سے زیادہ اہم نہیں ہے جسے آپ نے بچپن کے بعد سے بھلا دیا ہے۔ وہ محبت و شفقت اب آپ کے والدین اور رشتہ داروں کے دلوں میں نئے سرے سے اُبھر رہی ہے۔ محبت و شفقت سے بھرے یہ جذبات اور بچپن کی یاد ایک بار پھر آپ کی روح کو تازگی بخشتی ہے۔ آپ کے احباب اور پیاروں کے دلوں سے وہ مخفی حجاب ایک بار پھر اٹھ رہا ہے اور وہ نئے سرے سے آپ کا خیال رکھنے کے لیے آپ کے گرد جمع ہورہے ہیں۔ وہ آپ کی بیماری کی وجہ سے پیارومحبت کے ساتھ آپ کی طرف متوجہ ہیں۔

آپ غور کریں کہ آپ کی یہ جسمانی تکلیف اُن خدمات و جذبات کے آگے کیا حیثیت رکھتی ہے جو اس تکلیف کے بدلے میں آپ کو محبت و شفقت کی صورت میں مل رہی ہیں۔ آپ کے شفیق دوستوں میں اضافہ ہوا ہے‘ آپ انسان کی فطری شفقت اور رحم دلی کی بنا پر اُن کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ جب آپ بیمار ہو گئے تو گویا آپ نے مشکل ذمہ داریوں کو اٹھانے کا حوصلہ پالیا۔ اب آپ نہ صرف مشکل کاموں کی مشقت سے بآسانی گزر سکیں گے بلکہ اس میں آپ کو ایک لذت محسوس ہوگی۔ ان ساری معنوی لذتوں کے بعد آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنا رخ شکر کی وسعتوں کی طرف موڑ دیں اور شکوہ و شکایت کی کیفیت سے باہر نکل آئیں جو آپ کی عارضی تکلیف کی وجہ سے آپ کے اوپر غم و اندوہ کی صورت میں چھا گئی تھی۔

اکیسواں نسخہ: توکل اور تزکیہ نفس

اے فالج کی بیماری میں مبتلا بھائی! میں آپ کو خوش خبری سناتا ہوں کہ فالج ایک مومن کے لیے بڑی برکت والی بیماری شمار کی جاتی ہے۔ یہ بات میں ایک عرصے سے نیک لوگوں سے سنتا تھا لیکن میں اس راز سے بے خبر تھا۔ اب یہ راز مجھ پر کھلا ہے۔ وہ اس طرح کہ: اولیاے کرام دنیا کے بڑے بڑے معنوی خطرات سے بچنے کے لیے‘ اور اخروی سعادت کو حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنے ارادے سے دو بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں:

۱- پہلا یہ کہ وہ دنیا کے عارضی ہونے اور موت کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔

۲- دوسرا یہ کہ نفسِ امارہ کو مجاہدوں اور روحانی ریاضیتوں کے ذریعے مار دیا جائے تاکہ اس کی ہلاکتوں سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔

اے پیارے بھائی‘ جو اپنی آدھی صحت کھو چکے ہو! میں یہ دو آسان اور مختصر اصول آپ کے سپرد کر رہا ہوں جو آپ کے ابدی سعادت کے راستے کو آسان کر دیں گے اور وہ ہمیشہ آپ کو آخرت کی یاد دلائیں گے۔ اس کے بعد دنیا آپ کی سانسوں کو گھٹن زدہ نہیں کرسکے گی اور غفلت آپ کی آنکھیں اندھی کرنے کی جرأت نہیں کر سکے گی‘ اور نہ نفسانی خواہشات آپ کو راستے سے بھٹکا سکیں گی حالانکہ فالج کی وجہ  سے آپ کا آدھا جسم بے کار ہوگیا ہے۔ جب یہ ساری چیزیں آپ کو گمراہ کرنے میں ناکام ہوں گی تو آپ ان کے شر سے جلد از جلد نجات پالیں گے۔

مومن اگر ایمان‘ تسلیم و رضا اور توکل کی صفات سے متصف ہو تو وہ فالج جیسی بیماری کے ذریعے مختصر ترین وقت میں اتنا زیادہ فائدہ اٹھا لیتا ہے جتنا ایک ولی اللہ سالہا سال کے مجاہدات اور ریاضتوں سے بھی نہیں حاصل کر سکتا۔ اگر مومن ان صفات سے متصف ہو تو یہ بیماری کمزور ہوتی جاتی ہے اور اس کا برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

بائیسواں نسخہ: خصوصی نظرِکرم

اے عاجز مریض‘ جو تنہائی کی وجہ سے اجنبی سا ہوکر رہ گیا ہے! بیماری تو ایک طرف‘ اگر آپ کی اجنبیت اور کسی تیماردار کی عدم موجودگی‘ لوگوں کے دلوں کے آپ کی طرف مائل ہونے اور شفقت سے بھرجانے کا ذریعہ بنتی ہے تو آپ کا کیا خیال ہے کہ اس رحیم ذات کا‘ جو تجلیات کی مالک ہے‘ آپ کی حالت سے بے خبر ہوگی؟ اس نے سورئہ فاتحہ میں اپنی کیفیت‘ اپنی اس عظیم الشان صفت کے ساتھ بیان کی ہے کہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم، وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اس کی شفقت اور رحمت کی ایک جھلک یہ ہے کہ ماں کے دل میں بچے کی پرورش کا جذبہ رکھ دیا ہے اور اس کی تجلی ٔ رحمت سے آخرت کی ابدی زندگی‘ جنت اور اس کی رنگینیوں کی صورت میں مجسم ہوجائے گی۔ آپ کا ایمان کے ذریعے اُس کے ساتھ نسبت پیدا ہو جانا‘ بیماری کی وجہ سے عاجزی پر آمادہ زبان سے اس سے التجا کرنا‘ اس سے امیدیں رکھنا اور اس کے سامنے عاجزی کرنا ایک وسیلہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے ذات باری تعالیٰ کی نظرِرحمت آپ کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے۔ یہ ایسی نظرِکرم ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔

ذاتِ موجود جب آپ کے اوپر نظر رکھے ہوئے ہو تو آپ کے لیے سب کچھ موجود ہے۔ حقیقت میں اجنبی اور تنہا تو وہ آدمی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان اور تسلیم و رضا کا رشتہ نہیں رکھتا اور نہ اس رشتے میں کوئی دل چسپی رکھتا ہے۔

تیئسواں نسخہ: حقیقی شفا

اے بیمار بھائی! اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ ایک نفع بخش ربانی علاج کے محتاج ہیں اور آپ کو ایسی دوائی کی ضرورت ہے جو ہر بیماری میں کام دے کر لذتِ حقیقی سے سرشار کردے تو اپنا ایمان تازہ کریں اور اس کو صیقل بنا دیں‘ یعنی توبہ واستغفار‘ نماز اور عبادت کے ساتھ تاکہ یہ آپ کی بیماری کے لیے علاجِ ربانی ثابت ہو۔

جولوگ دنیا کی محبت اور اس کے ساتھ گہرے تعلق کی وجہ سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور اُن کی حالت یہ ہے کہ گویا وہ دنیا کے بندے ہیں‘ ایسی صورت میں ایمان آگے بڑھتا ہے اور اس زوال و فراق کی ماری ہوئی حالت کے لیے شفا دینے والا مرہم پیش کرتا ہے جو ان زخموں اور ناسوروں سے نجات کا ذریعہ بنتاہے۔ دراصل ایمان ہی آدمی کو حقیقی شفا دیتا ہے۔

میں طوالت سے بچتے ہوئے مختصراً صرف یہ کہوں گا کہ:

ایمان کا علاج اپنا اثر اس طرح دکھاتا ہے کہ آدمی فرائض کی ادایگی اور اپنی حد تک ان کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے پر آمادہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں غفلت‘جہالت اور خواہشاتِ نفسانی اور ناجائز لہوولعب اس علاج کے اثر اور کارکردگی کو ضائع کر دیتے ہیں۔

جب یہ حقیقت ہے کہ بیماری آنکھوں کے پردے ختم کرتی ہے‘ شہوت کی آگ کو بجھاتی ہے اور حرام لذتوںمیں پڑنے سے روکتی ہے‘ تو کیوں نہ آپ اس سے فائدہ اٹھائیں اور توبہ و استغفار کے ساتھ دعا اور قبولیتِ دعا کی امید باندھے‘ ایمان کے حقیقی علاج کو کام میں لائیں تاکہ حق تعالیٰ آپ کو حقیقی شفا سے سرفراز فرمائے اور آپ کی بیماریوں کو گناہوں کے مٹانے کا ذریعہ بنائے۔ آمین ثم آمین!

_____________