زعیم الدین احمد
|
جنوری ۲۰۲۵
|
احوالِ عالم، دماغی صحت، ڈیجیٹل صحت، طرزِ زندگی، معاشرتی اثرات، نوجوانوں کی نشوونما
اوکسفرڈ ڈکشنری نے لفظ ’برین روٹ‘ (Brainrot)کو ۲۰۲۴ء میں سال بھر کا لفظ قرار دیا ہے۔ آخر یہ برین روٹ ہے کیا؟ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
انٹرنیٹ ہماری زندگی کا نہایت اہم اور بنیادی جز بن چکا ہے، گویا یہ ہمارے جسم کا ہی ایک اہم حصہ ہو۔ اگر یہ نہ ہو تو زندگی دشوار ہو جائے گی۔ ہر عمر کا فرد اس کا ایک طرح سے غلام بن گیا ہے۔ کیا آپ بھی اسی کیفیت سے دو چار ہیں؟ رات دیر گئے آپ اپنے موبائل میں ریلز، شارٹس، گیمز، چیٹنگ، انٹرٹینمنٹ کے لیے کلپس دیکھ رہے ہیں اور اسی طرح دیکھتے دیکھتے آپ کی آنکھ لگ جاتی ہے۔ پھر جیسے ہی صبح اٹھتے ہیں اپنے موبائل کو ہاتھ میں لینے سے ہی سکون مل رہا ہے۔ اس لیے کہ بے ساختہ آپ کا ہاتھ اپنے موبائل پر چلا جا رہا ہے۔ لہٰذا ہوشیار اور خبردار ہو جائیں، کیوں کہ اسی کیفیت کو ’برین روٹ‘ کہا جاتا ہے۔ درحقیقت ’برین روٹ‘ بظاہر غیر سائنسی لیکن عملاً گہرے اثرات کی حامل ایک قسم کی دماغی بیماری ہے، اسی بیماری کی وجہ سے یہ کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔
انسانی جسم یا انسانی دماغ کی خصوصیت یہ ہے کہ جتنا اس کو استعمال کیا جاتا ہے، اتنی ہی اس کے اندر صلاحیت پیدا ہوتی رہتی ہے، جس قدر مشکل ٹاسک انسانی دماغ کو دیا جائے گا، اتنی ہی اس کے اندر استعداد بڑھتی جاتی ہے۔ دماغ جتنا دانش ورانہ (Intellectual)کام کرے گا، اتنا ہی وہ تیز ہوتا جائے گا۔ ایسا دانش ورانہ کام جس میں سوچنے کی، غورو فکر کرنے، تدبر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، تو اس سے فرد کی ذہنی صلاحیت بڑھے گی، انٹلیچکول سطح بڑھے گی، ذہن تیز ہوگا۔ اس کے برعکس اگر انسان ایک ایسے کام میں مصروف ہوگا جس میں دماغ کے استعمال کی یا غور و فکر کرنے کی، تدبر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، تو اس کی دماغی صلاحیت میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوگا۔ بھلا بے کار مصروفیات سے دماغی صلاحیت کیسے پروان چڑھے گی بلکہ ذہن کند ہونا شروع ہو جائے گا۔ اگر بے کار، فضولیات میں انسان مصروف ہوگا تو اس کے منفی اثرات دماغ پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس طرح یہ بات طے ہوگئی کہ جس کام میں دماغ کا استعمال ہوگا، غور وفکر کرنے کی ضرورت ہوگی، تدبر ہوگا تو اس سے دماغی صلاحیت بڑھے گی، وہیں دوسری طرف ایسا کام جس میں دماغ کا استعمال نہ ہوگا تو اس سے لازماً دماغی صلاحیت گھٹے گی۔
اب اسی پیمانے کو اپنی مصروفیات پر لاگو کر کے دیکھیں۔ اپنے موبائل میں فضولیات یا کامیڈی ریلز دیکھنے سے، آپ کی ’دانشورانہ صحت‘ (Cognitive Health)پر اثر پڑے گا، آپ کی ’قوت ادراک‘ خراب ہو جائے گی۔ اسی دانشورانہ صحت کی خرابی کو ’برین روٹ‘ کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود بے کار مواد یا معمولی مواد یا فضول مواد دیکھنے سے برین روٹ کی بیماری لاحق ہوتی ہے۔ یعنی ضرورت سے زیادہ اشیا اور بصری مواد دیکھنے سے ’برین روٹ‘ ہوگا۔ ایک جملے میں کہا جائے تو ایسا مواد جس میں دماغ کا استعمال نہ ہوتا ہو، جیسے میمس (Memes) یا انٹرٹینمنٹ کی ویڈیوز دیکھنا وغیرہ، اس بے کار اور فضول مواد کو دیکھنے سے برین روٹ لاحق ہونے کا قوی امکان ہے۔
اس معاملے کو ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے ملک شام میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق ویڈیوز دیکھے یا الجولانی کون ہے؟ یا اکنامکس سروے سے متعلق ویڈیوز دیکھیں یا پھر سیاسی اتھل پتھل کے موضوع پر موجود مواد کو دیکھا، یا روپے کی قدر میں کمی یا زیادتی پر ویڈیوز دیکھے، تو آپ کا ذہن اس سے متعلق غور و فکر کرے گا۔ آپ کا ذہن یہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ شام کی خانہ جنگی کب شروع ہوئی؟ یعنی ایسا مواد جس کو دیکھنے سے آپ کے اندر مزید تفصیل جاننے کی خواہش پیدا ہو، اس موضوع سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کی طرف آپ کا دماغ مائل ہو تو آپ کی دانش ورانہ صحت بڑھے گی، انٹلیچکول لیول بڑھے گا۔ لیکن وہیں آپ نے میمس والی ویڈیو دیکھی، یا مسخرہ پن یا مزاحیہ ویڈیو یا انٹرٹینمنٹ میں ایسی ویڈیوز دیکھیں، جس سے نہ کوئی دماغی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ عقل و دانش کی سطح بڑھتی ہے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ کی دانش ورانہ صحت خراب ہو جائے گی اور آپ کو ’برین روٹ‘ کی بیماری لاحق ہونا یقینی ہے۔ اس کو سامنے رکھتے ہوئے آپ اپنی کیفیت کا جائزہ لیں۔
ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ بیماری نوجوانوں میں زیادہ پھیلنے کا خدشہ ہے، وہ اس لیے کہ نوجوان طبقہ انٹرنیٹ کا شیدائی ہے۔ وہی اس کو اب زیادہ استعمال کرتا ہے۔ مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ ’برین روٹ‘ میں صرف نوجوان ہی مبتلا ہوتے ہیں بلکہ یہ مرض کسی بھی عمر والے کو ہوسکتا ہے۔ اس بیماری کے ہونے کی بنیادی وجہ انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال ہے۔ چونکہ نوجوان نسل اس کا بے تحاشا استعمال کرتی ہے، اسی لیے ان کا اس بیماری میں مبتلا ہونے کا قوی امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ پھر اگر کوئی بزرگ یا ادھیڑ عمر شخص بھی اسی طرح استعمال کرتا ہے تو اس کو بھی یہ بیماری لاحق ہوگی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے پہچانا جائے کہ کوئی اس بیماری میں مبتلا ہوگیا ہے؟ اس کی علامات کیا ہیں؟ اگر اس لفظ کو اردو میں ترجمہ کیا جائے تو بہت بڑا مسئلہ ہو جائے گا، کیوں کہ اس کیفیت کو ’نیم پاگل پن‘ کہا جائے گا، فی الحال ہم اس کو ’برین روٹ‘ تک ہی محدود رکھتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں کہ ’برین روٹ‘ کی علامات کیا ہیں؟
اگر یہ علامتیں آپ میں یا کسی میں پائی جاتی ہیں تو سمجھ جائے کہ اسے ’برین روٹ کی بیماری‘ لاحق ہوچکی ہے۔
اگر کوئی اس میں مبتلا ہوگیا ہے تو پھر اس سے کیسے باہر نکلا جائے؟ کیسے اس بیماری کو دُور کیا جائے؟ اس سے نکلنا کوئی ناممکن بات نہیں ہے، اسے بڑی آسانی کے ساتھ دُور کیا جاسکتا ہے۔ اس بیماری کو طرزِ زندگی تبدیل کر کے دُور کیا جاسکتا ہے۔ اکثر ہمارے جسمانی اور دماغی مسائل اسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے طرزِ زندگی کو تبدیل کرتے ہیں تو ہم بہت سارے جسمانی اور دماغی مسائل سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ ’برین روٹ‘ کو دُور بھگانے کے کچھ عملی تقاضے بھی ہیں، وہ یہ کہ: