پروفیسر عبدالقدیرسلیم
|
جون ۲۰۰۱
|
فقہ اسلامی، اسلامی اخلاقیات، بائیو ایتھکس
ڈاکٹر عطاء الرحمن کا مقالہ: مرنے کا قانونی حق (مئی ۲۰۰۱ء) اُردو میں اس نوعیت کی پہلی مفصّل تحریر ہے‘ جس میں قرآن‘ احادیث اور مسلم فقہ کی روشنی میں استدلال کر کے ’’قتلِ خیرخواہی‘‘ کو (حسب ِتوقع) ’’قتلِ عمد‘‘ یا ’’خودکشی‘‘ کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خودکشی کی ممانعت پر اب تک اجماع ہے‘ اور کسی انسان کی زندگی کو اس کی یا اس کے عزیزوں کی رضا سے ختم کر دینا‘ یا اس میں مدد دینا بھی عموماً ’’قتلِ نفس‘‘ ہی کے دائرے میں شامل کیا جاتا ہے‘ لیکن چند تامّلات پر غور کر لینا نامناسب نہ ہوگا۔
توجہّ کے لائق یہ بات ہے کہ شدید اذیت اور تکلیف پر ایک طرزِعمل حضرت ایوب ؑکا ہے‘ ایک رویہّ خود حضرت عمارؓ کے والد حضرت یاسرؓ کا ہے (جو مصائب کو برداشت کرتے ہیں‘ حق پر قائم رہتے ہیں‘ اس کا اعلان کرتے ہیں‘ اور اس پر جان‘ جانِ آفریں کے سپرد کر دیتے ہیں) اور دوسرا ان کے صاحب زادے اور نہایت لائقِ احترام صحابی--- حضرت عمارؓ --- کا‘ اور نبی ؐ ان کے اس فعل کو بھی غلط نہیں--- بلکہ درست قرار دیتے ہیں‘ اور فرماتے ہیں کہ یہ صورت حال ہو‘ تو پھر یہی کرنا۔ اگر اس واقعے اور حکم کو انسانی جان بچانے کے لیے ایک حکم تصور کیا جائے‘ تو پھر حضرت یاسرؓ کا جان بچانے کی کوشش نہ کرنا کیا شمار ہوگا؟ کیا نبیؐ کے حکم کو دفعِ اذیت کا حکم تصور نہیں کیا جا سکتا؟ ایسا حکم جو عام حالات میں ممنوع فعل کی بھی اجازت دے دیتا ہے۔
یہ اور اس طرح کے بہت سے سوال غوروفکر کے متقاضی ہیں‘ جن پر میری کوئی حتمی رائے نہیں۔ مصائب اور اذیتوں پر جزع و فزع اور موت کی آرزو‘ بے شک ہمّت اور حوصلے کی کمی کے مظہر ہیں اور خودکشی کو (غالباً رومیوں کے علاوہ) کسی نے بھی بہ نظرِ استحسان نہیں دیکھا ہے‘ لیکن کیا پیش آمدہ مسئلے پر اور زیادہ گہرائی سے نظر ڈالنے اور بحث کی گنجایش نہیں ہے؟ کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ کوئی تحقیقی ادارہ‘ روایتی اور غیر روایتی علما‘ ماہرین‘ اور اصحابِ فکر کو جمع کرے اور کھلے دل سے بحث و تمحیص کے بعد کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے؟ ]نہ ہوئے کوئی ابوحنیفہؒ![۔ میرے خیال میں قطعیات کے علاوہ (جن کی نص میں وضاحت ہے‘ اور ایسے احکام بہت کم ہیں)ہر قانون سازی‘ زمان و مکان کی اسیر اور حالات و ظروف سے داغ دار ہے:
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں