مارچ ۲۰۱۹

فہرست مضامین

دو قومی نظریے کی فتح اور پاکستان

جاوید اقبال خواجہ | مارچ ۲۰۱۹ | تاریخ و سوانح

ہماری گھریلو زندگی کی بنیادی خصوصیات اسلام کی رُو سے چار ہیں: 

  • ایک تحفظ ِ نسب، جس کی خاطر زنا کو حرام اور جرم قابلِ تعزیر قرار دیا گیا ہے۔ پردے کے حدود قائم کیے گئے ہیںاور مرد و زن کے تعلق کو صرف جائز قانونی صورتوں تک محدود کردیا گیا ہے، جن سے تجاوز کا اسلام کسی حال میں بھی روادار نہیں ہے۔
  • دوسرے تحفظ ِ نظامِ عائلہ، جس کے لیے مرد کو گھر کا قوّام بنایا گیا ہے، بیوی اور اولاد کو اس کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور اولاد پر خدا کے بعد والدین کا حق سب سے زیادہ رکھا گیا ہے۔
  • تیسرے حُسنِ معاشرت، جس کی خاطر زن و مرد کے حقوق معین کر دیے گئے ہیں۔ مرد کو طلاق کے اور عورت کو خلع کے اور عدالتوں کو تفریق کے اختیارات دیے گئے ہیں ۔ اور الگ ہونے والے مرد و زن کے نکاحِ ثانی پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے، تاکہ زوجین یا تو حُسنِ سلوک کے ساتھ رہیں، یا اگر باہم نہ نباہ سکتے ہوں تو بغیر کسی خرابی کے الگ ہوکر دوسرا بہتر خاندان بناسکیں۔
  • چوتھا صلۂ رحمی، جس سے مقصود رشتہ داروں کو ایک دوسرے کا معاون و مددگار بنانا ہے، اور اس غر ض کے لیے ہرانسان پر اجنبیوں کی بہ نسبت اس کے رشتہ داروں کے حقوق مقدم رکھے گئے ہیں۔

          افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس بہترین نظامِ عائلہ کی قدر نہ پہچانی اور اس کی خصوصیات سے بہت کچھ دُور ہٹ گئے ہیں۔ اس نظامِ عائلہ کے اصولوں میں شہری اور دیہاتی کے لیے کوئی فرق نہیں ہے۔ رہے طرزِ زندگی کے مظاہر تووہ ظاہر ہے کہ شہروں میں بھی یکساں نہیں ہوسکتے، کجا کہ شہریوں اور دیہاتیوں کے درمیان کوئی یکسانیت ہوسکے۔ فطری اسباب سے ان میں جو فرق بھی ہو وہ اسلام کے خلاف نہیں ہے بشرطیکہ بنیادی اصولوں میں ردّ و بدل نہ ہو۔ (سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ’رسائل و مسائل‘، ترجمان القرآن ، جلد۵۱، عدد۶، مارچ ۱۹۵۹ء، ص۵۹-۶۰)

سرخ و سپید نورانی چہرہ، گردن کو ڈھانپتی ہوئی سفید براق داڑھی، دائمی مسکراہٹ اور بے تکلف شخصیت کے مالک، یہ تھے جناب ڈاکٹر محمد صیام۔ بچپن ہی سے قرآن و سنت اور نیک لوگوں سے تعلق و محبت نے ان کے لیے رب ذوالجلال کی لازوال نعمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دیے۔ پانچ سال تک قبلۂ اوّل مسجد اقصیٰ کے خطیب رہے۔ ۱۵ فروری ۲۰۱۹ء بروز جمعہ سوڈان میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ دُعا اور یقین ہے کہ اللہ کی رحمت نے آگے بڑھ کر استقبال کیا ہوگا۔
جناب ڈاکٹر محمد محمود صیام ۱۹۳۵ء میں مصر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمود صیام کا تعلق فلسطین کے قصبے ’الجورۃ‘ سے تھا۔ تلاش معاش کے لیے مصر کے صوبہ ’الشرقیہ‘ میں جابسے۔ ایک مصری گھرانے میں شادی ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد والدین نے واپس فلسطین جانے کا فیصلہ کرلیا۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ اسی دوران فلسطین پر قبضہ کرتے ہوئے اسے صہیونی ریاست اسرائیل بنادینے کا اعلان کردیا گیا۔ بچپن کی وہ تلخ یادیں ان کے دل و دماغ پر نقش تھیں۔ ان کے ساتھ سفروحضر میں کئی ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا۔ آئیے ان کی کہانی خود انھی کے بیان کیے گئے واقعات کی روشنی میں سنتے ہیں:
میں چھے سال کا تھا جب ہم اپنے والدین کے ہمراہ آبائی گاؤں ’الجورۃ‘ واپس چلے گئے۔ آئے دن ہمیں سننے کو ملتا تھا کہ یہودی ہمارے گاؤں سمیت پورے ملک پر قبضہ کرکے ہمیں وہاں سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ میں بارہ سال کی عمر کو پہنچا تو ایک روز زندگی کے یہ تلخ ترین لمحات دیکھنا پڑگئے۔ یہودیوں نے ہمارے گاؤں پر قبضہ کرلیا تھا۔ دیگر آبادیوں کی طرح ہمیں بھی فوراً اپنا گھربار چھوڑ کر وہاں سے چلے جانے کا حکم دیا گیا۔ اس دور کی تلخ یادوں میں سے ایک یہ ناقابل فہم اور  تلخ حقیقت بھی مجھے یاد ہے کہ ہمیں جب اپنے گھروں سے نکالا گیا، اس سے چند روز قبل وہاں مصری فوج کے دستے آئے اور انھوں نے تلاشی لیتے ہوئے تمام شہریوں سے ہر طرح کا اسلحہ ضبط کرلیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کا تحفظ ہم کریں گے لیکن امن و امان کی حفاظت کے لیے آپ لوگ اپنا ہر طرح کا اسلحہ ہمیں جمع کروادیں۔ اسلحہ مصری افواج کو جمع کروادیے جانے کے بعد صہیونی لشکر آئے اور انھوں نے خوں ریزی کرتے ہوئے ہمیں وہاں سے نکال باہر کیا۔ ہم پر ہر طرف سے فائرنگ شروع کردی گئی تو سارے گاؤں والے گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے۔ کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد مجھے ایک اونٹ پر سوار کردیا گیا۔ اس لٹے پٹے قافلے کو مزید خوف زدہ کرنے کے لیے برطانوی فوج کے جہاز انتہائی نیچی پرواز کرتے ہوئے مسلسل ہمارے اوپر سے گزر رہے تھے، تاکہ ہم جلد از جلد اس پورے علاقے سے دور نکل جائیں۔ بعض اوقات جہاز اتنا نیچے آجاتے تھے کہ لگتا تھا، ہمیں اچک کر لے جائیں گے۔ ایک بار جہاز نے نیچے غوطہ لگایا تو میں نے خوف زدہ ہوکر اُونٹ سے چھلانگ لگا دی۔ اسی طرح بھاگتے دوڑتے ہم کئی گھنٹے پیدل چلنے کے بعد غزہ شہر جاپہنچے۔ وہاں کئی مہاجر کیمپ قائم ہوچکے تھے۔ ہم بھی ایک مہاجر کیمپ میں چلے گئے۔ ہماری طرح وہاں موجود ہر شخص یہی سوچ اور اُمید رکھتا تھا کہ حملے اور قتل و غارت کے یہ دن جلد ختم ہوجائیں گے۔ ہم سب جلد اپنے اپنے گھر واپس چلے جائیں گے۔ ہم نے اپنے گھروں کی چابیاں سنبھال رکھی تھیں اور ہر کوئی پیچھے رہ جانے والے مویشیوں اور کھڑی فصلوں کے بارے میں فکر مند تھا۔
دن ہفتوں اور ہفتے مہ و سال میں بدلنے لگے، لیکن فلسطین کے مختلف مہاجر کیمپوں میں بسنے والے لاکھوں فلسطینی باشندوں کو اپنے علاقوں اور گھروں کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ہم غزہ کے ایک قصبے ’خان یونس‘ میں سمندر کنارے واقع ایک کیمپ میں رہ رہے تھے۔ ہمارے بڑوں نے وہیں ہمارے لیے عارضی سکول قائم کردیے تھے۔ ہم اپنے ساتھ ابتدائی کتابوں اور کاپیوں کے علاوہ ایک ایک اینٹ یا پتھر بھی لے کر جاتے تھے تاکہ ان پر بیٹھ کر   پڑھ سکیں۔ اس عالم میں بھی ہم صہیونی حملوں سے محفوظ نہیں تھے۔ ان کے جہاز آئے دن آکر ہمارے مہاجر کیمپوں پر بھی فائرنگ کردیتے تھے۔ اسی طرح کے ایک حملے میں ایک دن میرے والدصاحب کو بھی شہید کردیا گیا۔ وہ اس وقت مہاجرین میں کھانا تقسیم کررہے تھے۔
مہاجر کیمپ میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے مختلف ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لینا شروع کردیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان سرگرمیوں کا اہتمام کرنے والوں کا تعلق الاخوان المسلمون سے تھا۔ ہم نے قرآن کریم حفظ کیا۔ ہمیں مختلف کھیلوں اور ورزشوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔جناب احمد یاسین بھی ہمارے ہم جولیوں میں شامل تھے۔ ہم شام کے وقت ساحل سمندر پر دوڑ لگانے اور لمبی چھلانگیں لگانے کا مقابلہ کرتے۔ کبھی یہ بھی ہوتا کہ ایک ساتھی رکوع کے عالم میں کھڑا ہوجاتا، ہم دور سے دوڑ کر آتے اور اسے چھوئے بغیر اس کے اوپر سے کود جاتے۔ کبھی ایک نہیں دو دو اور تین تین نوجوان اکٹھے کھڑے ہوتے اور ہم ان کے اوپر سے چھلانگ لگالیتے۔ ایک روز اسی طرح کی چھلانگ لگاتے ہوئے ہمارا دوست احمد یاسین گردن کے بل جاگرا، سخت چوٹ لگی۔ ہم اسے اٹھاکر ان کے گھر لے گئے۔ پانی گرم کرکے مسلسل ٹکور کرتے رہے، لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا اور بالآخر وہ مفلوج ہوگئے۔ اللہ کی قدرت کہ ایک روز اسی مفلوج شخص نے اللہ کے حکم و توفیق سے پوری فلسطینی قوم کو ایک نئی زندگی دے دی۔
غزہ کے مہاجر کیمپ ہی کی یہ یادیں بھی دل میں تازہ ہیں کہ ہمارے اساتذہ ہمیں تقاریر کی تربیت بھی دیا کرتے۔ کبھی یہ ہوتا کہ کسی چھوٹی کشتی میں سوار ہوکر ہم کھلے سمندر میں چلے جاتے۔ ہمارے اساتذہ ہمیں فی البدیہ تقریر کرنے کے لیے کوئی موضوع دیتے اور کہتے کہ یہ سمندر کی موجیں، موجیں نہیں آپ کے سامعین ہیں۔ آپ نے ان سے خطاب کرنا ہے۔ ہم تقریر کرتے اور ہمارے اساتذہ ساتھ ساتھ اپنا تبصرہ نوٹ کرتے جاتے۔ اس وقت کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ سمندر کی لہروں سے کیے جانے والے یہ خطاب بالآخر قبلۂ اوّل کے منبر پہ خطبات جمعہ کی بنیاد بنیں گے۔
غزہ کے مہاجر کیمپ سے اپنے گھروں کو واپسی تو نہ ہوسکی لیکن ہم کسی طرح وہاں سے نکل کر مصر اور پھر کویت پہنچ گئے۔ وہاں میں نے باقی تعلیم مکمل کی اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگیا۔ ۳۰ سال تدریس کا موقع حاصل رہا۔ پھر مکہ مکرمہ کی اُم القریٰ یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کے لیے اسکالر شپ مل گیا۔ پی ایچ ڈی کرنے کے بعد ہم واپس غزہ لوٹ گئے۔ شیخ احمد یاسین نے وہاں ’اسلامی یونی ورسٹی غزہ‘ کی بنیاد رکھ دی تھی۔ ۱۹۸۳ میں مجھے وہاں تدریس اور پھر یونی ورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر چُن لیا گیا۔
۱۹۸۴ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلۂ اوّل مسجد اقصیٰ میں خطابت کا شرف عطا کردیا۔ مجھے یاد ہے کہ پہلی بار مسجد اقصیٰ کے منبر پر کھڑا ہوا تو دل لرز رہا تھا اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ بار بار یہ خیال آرہا تھا کہ یہ قبلۂ اوّل ہی نہیں مقبوضہ قبلۂ اوّل ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور پھر صلاح الدین ایوبیؒ نے اسے صلیبیوں کے قبضے سے آزاد کروایا تھا، لیکن اس وقت پھر صہیونی قبضے میں ہے۔ ہم نے یہاں صرف اللہ کے حضور سجدہ ریز ہی نہیں ہونا،قبلۂ اوّل کی آزادی کے لیے فریضۂ جہاد کو بھی زندہ کرنا ہے۔ مجھے چار برس تک مسجداقصیٰ میں خطابت کا اعزاز حاصل رہا۔ ۲۸ جولائی ۱۹۸۸ء کو صہیونی افواج نے اس سے محروم کرتے ہوئے مجھے وہاں سے نکال دیا۔ اس دن خود یہودی سرکاری ذرائع کے مطابق مسجد اقصیٰ میں ۲ لاکھ ۴۰ ہزار اہل ایمان نے نماز جمعہ ادا کی تھی۔ مجھے وہاں سے نکالتے ہوئے یہ بچکانہ الزام لگایا گیا کہ: ’’تحریک حماس کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات میں لکھتا ہوں‘‘۔
مختلف مجالس میں سنائی گئی اس آپ بیتی سے شیخ محمد صیام کی زندگی کسی حد تک سامنے آجاتی ہے۔ ان سے ملاقاتوں کے دوران ان کی شخصیت کے کئی دیگر روح پرور پہلو اس تصویر کو مکمل کرتے ہیں۔ اسلامی تحریک کے اکثر ذمہ داران و کارکنان کی طرح شیخ محمد صیام بھی قرآن کریم کا ایک نسخہ ہمیشہ اپنے پاس رکھتے تھے۔ جب بھی اور جہاں بھی موقع ملتا وہ اس کی تلاوت کرتے ہوئے خالق دو جہاں سے محو گفتگو ہوجاتے۔ یہ بھی کئی بار دیکھا کہ وہ تلاوت مکمل کرنے کے بعد   نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اُمتی کے لیے مغفرت، رحمت اور نصرت کی طویل دُعائیں کرتے۔ اُمت کے مظلوموں کا ذکر ہوتا تو فلسطین ، کشمیر، مصر، شام، افغانستان، ہر خطے کا ذکر کرتے۔ اپنے اعزہ و اقارب کا ذکر شروع کرتے تو ماں باپ سے لے کر ان کی نسبت سے ایک ایک رشتے کا ذکر کرتے۔ اس وقت ان کے اساتذہ کی قسمت پر بھی رشک آتا کہ جب وہ ان کا نام لے لے کر انھیں بھی ان پس از تلاوت دُعاؤں میں یاد کرتے۔ آج جب وہ دُعائیں کرنے والی ربانی شخصیت خود دُعاؤں کی محتاج ہوگئی ہے تو یقین ہے کہ اللہ رحیم و کریم نے انھیں بھی دُعائیں کرنے والوں کا ایک عظیم صدقۂ جاریہ عطا کیا ہوگا۔ان کا ایک بیٹا محمود اور ۸ بیٹیاں تھیں، لیکن ان کے لیے صرف ان کی صلبی اولاد ہی نہیں، ان کی فکری و روحانی اولاد بھی یقینا دُعاگو ہوگی۔ ڈاکٹر محمد صیام ایک شان دار شاعر بھی تھے۔ ان کے پانچ دیوان (دعائم الحق، ملحمۃ البراعم (۱۰حصے)۔ میلاد اُمۃ ، سقوط الرفاق ،  دیوان الانتفاضۃ) مقصدیت سے بھرپور شاعری کا قیمتی خزانہ ہیں۔ یہ صرف شعری دیوان نہیں مسئلہ فلسطین کی تاریخ اور سرزمین اقصیٰ کی آزادی کی نوید ہیں۔
اتفاق دیکھیے کہ ۱۵ فروری کو ان کی وفات سے ایک دن پہلے پولینڈ کے دارالحکومت وارسو   (Warsaw ) میں ایک اہم عالمی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کا اہتمام امریکی صدر ٹرمپ نے کیا تھا۔ دنیا کے ۷۰ ممالک کو دعوت دی گئی، جن میں سے ۶۰ شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کا عنوان تھا: Peace and Security in the Middle East ’مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کانفرنس‘۔ اس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر مائک پنس سمیت اکثر مغربی دانش وروں نے اسے ایک اہم اور تاریخی موقع قرار دیا۔ ان کا ارشاد تھا:

It was a truly historic gathering at the dinner last night Arab and Israeli leaders gathered in the same room to talk about deeply common and shared interests

یہ کانفرنس واقعی ایک تاریخی اجتماع ہے۔ گذشتہ رات عشائیے میں عرب اور اسرائیلی رہنما ایک ہی کمرے میں اکٹھے تھے تاکہ سب مل کر اپنے اہم ترین مشترک مفادات پر تبادلۂ خیال کرسکیں۔ 
اس کانفرنس میں اکثر ممالک کی نمایندگی نسبتاً کم درجے کے ذمہ دار کررہے تھے، لیکن اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو خود شریک تھا۔ اس نے کانفرنس کے دوران مختلف عرب ذمہ داران و نمایندگان سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔ روس، فرانس اور جرمنی سمیت کئی دیگر اہم ممالک شریک نہیں ہوئے۔ خود فلسطینی اتھارٹی نے بھی اس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس مسئلۂ فلسطین سے کھلواڑ کرنے کے لیے ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے دو وجوہ کی بنا پر  اسے ایک کامیاب کانفرنس قرار دیا۔ ایک یہ کہ کئی ایسے عرب ممالک جو اس سے پہلے اسرائیلی قیادت کے ساتھ صرف خفیہ روابط رکھے ہوئے تھے، اب ان تعلقات کا کھلم کھلا اعلان کررہے ہیں۔  دوسرا یہ کہ کانفرنس میں ساری دنیا بالخصوص مسلم ممالک کو یہ کہہ دیا گیا کہ خطے کی سلامتی کے لیے اصل خطرہ سرزمین فلسطین پر اسرائیلی قبضہ و مظالم نہیں، ایرانی ’’دہشت گردی‘‘ ہے۔ 
کئی تجزیہ نگار یہ توقع ظاہر کررہے تھے کہ اس کانفرنس میں Deal of the Century  صدی کی سب سے بڑی سودے بازی پر مشتمل امریکی منصوبے کا اعلان کردیا جائے گا، لیکن  بوجوہ اس کا اعلان نہیں کیا گیا۔ البتہ امریکی صدر کے یہودی داماد اور مشرق وسطیٰ کے لیے ان کی خصوصی مشیر جیرڈ کوشنر نے اعلان کیا ہے کہ صدی کی اس سب سے بڑی ڈیل کا اعلان ۱۹؍ اپریل کو ہونے والے اسرائیلی عام انتخابات کے بعد کیاجائے گا۔
تمام تر امریکی دعوؤں کے باوجود وارسو کانفرنس اپنے شرکا اور نتائج کے لحاظ ہی سے ناکام نہیں قرار دی جارہی بلکہ اس میں کئی اندرونی تنازعے بھی اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اپنی انتخابی مہم کو تقویت دینے کے لیے اسرائیلی وزیراعظم نے خود میزبان ملک پولینڈ ہی کو رگید ڈالا۔ اس نے کہا کہ ’’میں یہ بات واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ پولینڈ نے (یہودیوں کے قتل عام میں) نازیوں کا ساتھ دیا تھا۔ہم تاریخ کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔ اسے نہ کسی کو تبدیل کرنے دیں گے اور   نہ مخفی ہی رہنے دیں گے‘‘۔ اس بیان پر پولینڈ کے صدر سمیت مختلف ذمہ داران حکومت نے سخت احتجاج کیا اور دونوں ملکوں کے مابین یہ تنازع مزید تند بیانات کا سبب بن رہا ہے۔
وارسو کانفرنس میں اسرائیلی وزیراعظم اور دس عرب ملکوں کے نمایندگان اکٹھے تھے کہ ڈاکٹر محمد صیام اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اگرچہ دونوں واقعات کا باہم کوئی تعلق نہیں، لیکن ادھر اس کانفرنس کی بازگشت جاری تھی کہ مرحوم کی رحلت پر ان کے وہ بہت سارے اشعار و نظمیں بڑے پیمانے پر مضامین و پیغامات عرب میڈیا کا حصہ بننے لگے کہ جن میں وہ سرزمین اقصیٰ کی یقینی آزادی کا پیغام دیتے ہیں۔ وارسو کانفرنس جیسی عالمی کانفرنسوں کا ذکر ہو یا شیخ احمد یاسین سمیت شہدا فلسطین کی طویل فہرست، خطیب اقصیٰ اس مناسبت سے اپنے جان دار، عوامی شاعری کے ذریعے، اُمت مسلمہ کو قبلۂ اوّل کا پیغام یاد دلاتے ہیں۔ ۹۰ کی دہائی میں بھی اسی طرح کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی تو ڈاکٹر محمد صیام نے اس موقعے پر کئی انقلابی نظمیں کہیں۔ یہ تحریر ان میں سے اکثر کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ 
قدرے نرم الفاظ میں کہا گیا ایک بند یہ تھا:
یَاأیہا العربُ الکِرام
أمَا لہذا اللَّیلِ آخِر
أفیُترکُ الشَّعبُ الفِلَسطِینیُّ
فِی المیدانِ حائِر
أین السُّیوفُ الیَعرُ بِیَّاتُ
الصَّقِیلاتُ بَواتِر
أَتَحَوَّلَت تِلکَ السُّیوفُ
اِلی التَّدَابُرِ وَ التَّنَاحُر
أَم أَنَّ ’واعُربَاہ‘ مَا
عَادَت تُؤَثِّر فِی الضَّمائر

[اے معزز عرب حضرات! کیا اس سیاہ رات کا کوئی اختتام نہیں؟ کیا حیران و پریشان فلسطینی عوام کو میدان میں تنہا چھوڑ دیا جائے گا؟ وہ چمکتی ہوئی تیز دھار عرب تلواریں کہاں رہ گئیں؟ کیا اب وہ تلواریں صرف باہمی قتل و غارت کے لیے وقف ہوگئیں؟ یا پھر اب بھائی چارے کی کوئی پکار، ضمیروں پر اثر نہیں کرتی]۔
پھر فلسطینی قوم کی طرف سے اعلان کرتے ہیں:
لَا لَن نُہَاجِرَ کَالطُّیور
مَہما تَکَدَّسَتِ الشُّرُور
وَ لَسَوفَ نَصمُدُ فَوقَ أَرضِ
بِلادِنَا مِثلَ الصُّخُور
نَبنِی کَمَا بَنَت الجُدُودُ
لَنَاعَلیٰ مَرِّ الدُّھُور
وَ لَسَوفَ نَدفَعُ عَن حِمَانا
کَلَّ عَادٍ أو مُغِیر
بِالنَّابِ ۔ إن عَزَّ السِّلّاخُ
وَبِالمَخَالِبِ کَا الصُّقُور

[شر و مصائب جتنے بھی جمع ہوجائیں، ہم پرندوں کی طرح ہجرت نہیں کرجائیں گے۔ ہم مضبوط چٹانوں کی طرح اپنی سرزمین پر ہی ڈٹے رہیں گے۔ جس طرح ہمارے آبا و اجداد نے تعمیر کی، ہم بھی اپنے ان مضبوط بازوؤں سے جو نہ کبھی تھکتے ہیں اور نہ بزدلی سے آشنا ہیں، تعمیر کرتے رہیں گے۔ ہم ہر جارح اور حملہ آور کے مقابلے میں اپنے گھر کا دفاع کریں گے۔ اگر کوئی ہتھیار نہ بھی ملا تو ہم (شیروں کی طرح) اپنے جبڑوں اور شاہینوں کی طرح اپنے پنجوں سے اپنی سرزمین کا دفاع کریں گے]۔ 
شیخ محمد صیام مرحوم کے یہ اشعار صرف اشعار نہیں،قبلۂ اوّل کی آزادی کے لیے کوشاں مجاہد فلسطینی قوم کا اعلانِ لازوال ہے!

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں مدینہ منورہ میں مثالی اسلامی معاشرہ قائم ہوا تھا اور ایک عظیم الشان اسلامی ریاست بھی۔ اس معاشرے اور ریاست کی پانچ اہم مضبوط اور منظم بنیادیں تھیں: مذہبی، سیاسی، تعلیمی، سماجی اور معاشی۔
دینی اُمور اور معاملات کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبویؐ کی تعمیر فرمائی، نمازباجماعت اور مختلف سرگرمیوں کی وجہ سے یہ تمام مذہبی اُمور کا مرکز بنا۔ سیاسی نقطۂ نظر سے کفارِ مکّہ سے صلح حدیبیہ، یہود سے میثاقِ مدینہ اور نجران کے عیسائیوں سے الگ معاہدہ بڑی اہمیت کے حامل تھے۔ مہاجرین و انصار میں بھائی چارگی کا رشتہ، نیز ان کے درمیان انس و اخوت کی بنیادیں، سماجی ڈھانچے میں زبردست تبدیلیوں کا باعث بنیں۔
تعلیم کے پس منظر میں پہلی منظم درس گاہ مسجد نبویؐ کے اندر صفہ (چبوترہ) تھا، جس میں ۷۰ تا ۸۰ طالب علم تھے۔ اس مدرسے کے طلبہ میں مختلف افراد اسلامی حکومت کی مختلف خدمات پر مامور کر دیے جاتے تھے اور تعلیم و تبلیغ کے لیے تو خصوصیت کے ساتھ ان ہی اصحاب کو بھیجا جاتا تھا۔ حضرت معاذ بن جبلؓ مالی اُمور کے نگران تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ مختلف اکابر صحابہ کرامؓ بھی معلم کی خدمات انجام دیتے تھے۔
معاشی خوش حالی اور مادی ترقی کے لیے ’مدینہ مارکیٹ‘ کا قیام اور اس کا انتظام و انصرام سیرتِ نبویؐ کا ایک تاب ناک باب ہے، جو عام طور پر ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ اس کی تفصیلات ذیل میں پیش کی جارہی ہیں

مدینہ منورہ کی مرکزیت

مدینہ منورہ اس اعتبار سے پورے جزیرئہ عرب میں نمایاں تھا کہ وہاں تجارت اور زراعت کے مراکز تھے۔ طائف میں زیادہ تر زراعت ہوتی تھی، مگر تجارت کم تھی۔ مکہ مکرمہ میں صرف تجارت ہوتی تھی، لیکن زراعت نہیں تھی۔ مدینہ منورہ میں تجارت اور زراعت دونوں ہوتی تھیں۔   مدینہ منورہ میں بہت سے باغات اور کھیت تھے۔ کھجور اور انگور کے علاوہ بھی بہت سی دوسری پیداوار ہوتی تھی۔ تجارت میں اگرچہ مسلمان بھی شریک تھے، لیکن زیادہ تر تجارت اب بھی یہودیوں کے ہاتھ میں تھی۔
جب مکّہ سے ہجرت کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے، تو آپؐ نے  ایک ایک کرکے ان میں سے ہرچیز کا جائزہ لیا۔جو چیز اسلام کے نقطۂ نظر سے قابلِ قبول تھی یا غلط نہیں تھی، اس کو حضوؐر نے جاری رہنے دیا اور اس کی ممانعت نہیں فرمائی۔
مدینہ منورہ کی اہم پیداوار کھجور، جَو، انگور، انجیر تھی اور کچھ پھل، جن میں انار اور کیلا بہت نمایاں ہیں، کثرت سے پیدا ہوتے تھے۔ گندم پیدا ہوتی تھی، لیکن بہت کم۔ عام طور پر دُور سے لانے کی وجہ سے مہنگی بھی تھی اور کم بھی۔ مصنوعات میں زیادہ تر کپڑا، ہتھیار، لکڑی کا سامان شامل تھا۔ انگور کی پیداوار کی وجہ سے شراب کی پیداوار بھی تھی۔ اکثر شراب خانے یہود کے تھے۔ وہ خود بھی شراب کا کاروبار کرتے تھے اور ان سے لے کر دوسرے لوگ بھی قرب و جوار میں شراب کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ جب شراب حرام قرار پائی تو مہاجرین اور انصار دونوں میں شراب کا کاروبار کرنے والوں نے اس سے ہرقسم کاتعلق ختم کر دیا۔ چوں کہ مدینہ میں اس کی کھپت ختم ہوگئی، اس لیے غیرمسلموں نے بھی ایک ایک کرکے شراب کا کاروبار ختم کر دیا۔
صنعت و حرفت میں گھریلو دست کاری بھی تھی اور اجتماعی دست کاری بھی۔ گھریلو دست کاری میں عموماً کپڑے، سوت کاتنے، دھاگہ بنانے کا کام ہوتا تھا، جو بڑے کاروبار تھے اور جس میں ایک سے زائد لوگ کام کرتےتھے، اسے آپ فیکٹری یا کارخانہ کہہ سکتے ہیں۔ جہاں پر زراعت اور لوہے کے آلات بنائے جاتے تھے۔ یہ سرگرمی عموماً بنوقینقاع کے ہاتھ میں تھی۔ قرب و جوار میں زرعی آبادیاں تھیں، اس لیے وہاں آلاتِ زراعت کے کام کی خاصی گنجایش تھی۔ مدینہ منورہ کے تاجر درآمد (import) برآمد(export) کا کام بھی کرتے تھے۔ شام سے کپڑا اور استعمال کی دیگر اشیا منگوایا کرتے تھے۔ گندم کا بیش تر حصہ اُردن سے آیا کرتا تھا۔ کاروبار میں یہودی بھی پیش پیش تھے اور شام کے مختلف علاقوں میں ان کے تجارتی مراکز تھے، جہاں سے درآمد اور برآمد کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ بنونضیر کے یہودی اس کام میں بڑے نمایاں تھے۔ 
 ہجرت کے تقریباً ایک ڈیڑھ سال کے بعد مسلمان بڑی تنگ دستی کے عالم میں تھے۔ یہود کا ایک بڑا تجارتی قافلہ آیا۔ اس میں خوشبوئیں، جواہرات اور سمندری سامان غالباً موتی وغیرہ مدینہ کے بازار میں آکر اُترا۔ مسلمان خواتین اور نوجوانوں نے حسرت کی ایک نظر سے ان سب چیزوں کو دیکھا اور دل میں محسوس کیا کہ تمام مال ود ولت یہود کے پاس ہے، مسلمانوں کے پاس کچھ مالی وسائل نہیں ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کی تسلی کے لیے قرآنِ پاک کی یہ آیت نازل ہوئی:
وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ۝۸۷  لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْہِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۝۸۸ (الحجر۱۵:۸۷-۸۸) ہم نے تم کو سات ایسی آیتیں دے رکھی ہیں جو بار بار دُہرائی جانے کے لائق ہیں، اور تمھیں قرآنِ عظیم عطا کیا ہے۔ تم اُس متاعِ دنیا کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھو جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے، اور نہ   ان کے حال پر اپنا دل کڑھائو۔ انھیں چھوڑ کر ایمان لانے والوں کی طرف جھکو۔
غرض یہ کہ تجارت بیش تر یہود کے قبضے میں تھی۔ انصار، یعنی اوس اور خزرج کے بہت سے لوگ ان کے مقروض تھے۔ اور جیساکہ عرض کیا گیا کہ ان کی زمینیں ایک ایک کرکے یہود کے قبضے میں جارہی تھیں۔ اس صورتِ حال پر مہاجرین کے آنے سے بہت فرق پڑا۔ مہاجرین تجارت کے بڑے ماہر تھے کیوں کہ مکہ مکرمہ میں اصل کام تجارت تھا۔ مہاجرین میں بڑے بڑے نامی گرامی تاجر تھے، جو تجارت کے فن میں طاق تھے۔ جب انھوں نے مدینہ منورہ کے بازاروں میں تجارت شروع کی تو یہودیوں کا زور بازار پر سے کم ہوتا چلا گیا اور ان کی بالادستی متاثر ہوئی۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے بنوقینقاع کے بازار میں ہی کاروبا ر شروع کیا تھا (بخاری، کتاب البیوع)۔ وہاںکے تاجروں نے بازار پر اپنی اجارہ داری بنائی ہوئی تھی۔ ایک شخص ابورافع ’تاجرِ حجاز‘ کہلاتا تھا اور وہ پورے حجاز کا سب سے بڑا تاجر تھا۔ بنوقینقاع کے پورے بازار بلکہ مدینہ منورہ کے بازار پر اس کا کنٹرول تھا۔ جو قیمت وہ متعین کردیتا، وہی بازار کی قیمت ہوتی تھی۔ سب یہودی تاجر متحد ہوکر اس کے فیصلوں کی پابندی کرتے تھے۔ اس طرح یہ لوگ ایکا کرکے  کسی غیریہودی تاجر کو بازار میں قدم جمانے نہیں دیتے تھے۔ انھوں نے دو پیمانے بنا رکھے تھے: ایک پیمانہ دینے کے لیے اور دوسرا لینے کے لیے۔ اسلام نے دو پیمانے رکھنے کی ممانعت کردی۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ پہلے تاجر تھے، جنھوں نے ابورافع کی اس بالادستی کو ختم کردیا۔ انھوں نے ایک ایک کرکے اس کے غلط تجارتی طریقوں کو ختم کیا اور اس کی اجارہ داری کو کمزور کیا۔

نئی مارکیٹ کا قیام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا اہم فیصلہ یہ کیا کہ مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد ایک نئی مارکیٹ قائم کی، جو مسجد نبویؐ کے قریب ہی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے لیے ایک متبادل بازار قائم ہوجائے اور یہود کی شرارتوں اور اجارہ داری سے مسلمانوں کو نجات مل جائے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ تجارت میں بڑا اُونچا مقام رکھتے تھےاور اللہ نے انھیں وسائل بھی دیے تھے۔ ان کو شکست دینا اور ان کے کاروبار کو خراب کرنا یہود کے لیےممکن نہیں تھا۔ لیکن چھوٹے مسلمان تاجروں کو یا ایسے لوگوں کو ، جن کا رسوخ کم تھا، یہودی تاجر تنگ کیا کرتے تھے۔ خاص طور پر اپنے مسلمان خریداروں کو بھی یہودی دکان دار تنگ کیا کرتے تھے۔ ایک مسلمان خاتون کی بے حُرمتی کا مشہور واقعہ بھی اسی پس منظر میں ہوا، جس کی وجہ سے  غزوئہ بنوقینقاع [شوال ۲ ہجری/۶۲۴ء]ہوا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی توہین کرنے سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ 
اس کے علاوہ یہود کا نظریہ تھا کہ ان کے علاوہ دوسرے سب لوگ گم راہ ہیں، اس لیے ان کا استحصال جائز ہی نہیں پسندیدہ فعل تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ سیاسی خودمختاری اور ریاست کے استحکام کے لیے معاشی طور پر مضبوطی اور آزادی کس قدر اہم ہے۔ اس لیے ایک متبادل تجارتی پلیٹ فارم قائم کرنے کے لیے آپؐ نے ایک مارکیٹ قائم کی، جس کے بارے میںآپؐ نے فرمایا کہ: ’’یہ تمھارا اپنا بازار ہے۔ اس میں کوئی بھی تمھارے ساتھ زیادتی یا کمی نہیں کرے گا۔ یہاں تم سے کوئی ظالمانہ ٹیکس نہیں لے گا۔ یہودی اپنے بازار میں بیٹھنے والے مسلمانوں سے غیرضروری ٹیکس بھی لیا کرتے تھے اور ان پر طرح طرح کے مالی تاوان اور بوجھ ڈالا کرتے تھے۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے بازار میں کاروبار کرنے والے مسلمان تاجروں کے لیے ٹیکس کی چھوٹ کا اعلان کیا کہ کوئی اضافی بوجھ تم پر نہیں ڈالا جائے گا۔
محسن عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:
اَلْجَالِبُ اِلٰی سُوْقِنَا کَالْمُجَاہِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ (مصنف ابن شیبہ، ج۴، ص ۳۰۵؛  بلاذری، ص ۸۲؛ سمہودی، ص۵۰۴) جو ہمارے اس بازار میں مال لے کر آئے گا، وہ اسی طرح کے اجر کا مستحق ہوگا جس طرح کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے۔
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا مسلمانوں کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور جو مسلمانوں کے بازار کو کامیاب بناتا ہے، وہ مسلمانوں کی معاشی آزادی کو یقینی بناتا ہے۔مسلمانوں اور اُمت مسلمہ کی آزادی کو یقینی بنانے والا کوئی بھی عمل جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہے۔ 
آپؐ نے فرمایا کہ: ہمارے اس بازار میں کوئی شخص اگر ذخیرہ اندوزی کرے گا،تو اس کو اتنا ہی مجرم سمجھا جائے گا جس طرح کہ کتاب اللہ میں الحاد کرنے والا، کتاب اللہ کے معانی میں غتربود کرنے والا یا کتاب اللہ کے معنی کو غلط بیان کرنے والا۔ (المستدرک ، الحاکم،کتاب البیوع، حدیث:۲۱۰۹)

تاجروں کو سہولت

نئی مارکیٹ مسجد نبویؐ سے قریب اور یہود کی مارکیٹ سے فاصلے پر تھی۔ جگہ کی تبدیلی کے ساتھ آپؐ نے ایسے حالات پیدا کیے، جو تاجروں اور گاہکوں کے لیے بڑے سازگار ہوں اور وہ اپنی پرانی مارکیٹ چھوڑ کر خریدوفروخت کے لیے اس نئی نبویؐ مارکیٹ کی طرف آئیں۔ اس کے لیے آپؐ نے دو دُور رس اصولوں کو اپنا کر اسے عملی جامہ پہنایا، جس کی وجہ سے تاجروں کی توجہ اس   نئی مارکیٹ کی طرف مرکوز ہونے لگی۔ پہلا اہم فیصلہ آپؐ نے یہ کیا کہ مدینہ مارکیٹ کے احاطے میں کسی بھی تاجر کو آنے اور خیمہ لگانے کی اجازت ہوگی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک تجربہ کار تاجر تھے۔ آپؐ کو معلوم تھا کہ ٹیکسوں کے بغیر تجارت کی جائے تو خریدوفروخت میں آسانی ہوتی ہے اور نفع میں ترقی بھی۔ تاجر اور گاہک دونوں کو زیادہ نفع کی وجہ سےاس جگہ میں کشش پیدا ہوگئی۔ بغیر محصول اور ٹیکس کے خریدوفروخت میں قیمتیں کم ہوں گی اور کاروباری نقطۂ نظر سے بھی یہ بات مفید ہوگی۔ جہاں قیمتیں کم ہوں گی، لامحالہ خریداروں کا رُخ اسی مارکیٹ کی طرف ہوگا۔ واضح رہے کہ یہودی تاجر اپنی مارکیٹ میں ٹیکس لگاتے تھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے یہ طریقہ بھی اختیار کیا کہ مارکیٹ میں تاجروں کے لیے مخصوص جگہوں کا تعین نہ ہو، بلکہ جو تاجر جلد آئے گا، اپنی جگہ حاصل کرے گا اور کوئی بھی تاجر مستقل کسی جگہ پر قبضہ نہیں کرے گا۔ اس طریقۂ عمل سے جلد اور سویرے کاروبار کا سلسلہ شروع ہوا، اور تمام ہی تاجر اس مارکیٹ کی طرف منتقل ہونے لگے۔
مؤرخینِ سیرت نے لکھا ہے کہ جب تاجروں نے دیکھا کہ مارکیٹ اچھی ہے اور کاروبار بھی زوروں پر ہے، تو چند ایک نے اپنی متعین جگہوں پر خیمہ لگانے اور مارکیٹ کی احاطہ بندی کی کوشش کی۔ ایسے ہی ایک تاجر نے مارکیٹ میں مستقل خیمہ لگایا تو آپؐ نے حکم دیا کہ: ’اس کے خیمے کو جلا دیا جائے‘ (کتاب وفا الوفاء، باخبار دارالمصطفٰے، ص ۵۴۰)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجرانہ اصولوں پر کس شدت کے ساتھ عمل کروایا۔ اس طرح مدینہ مارکیٹ خریدوفروخت کا اچھا مرکز بن گیا۔ اجارہ داری او ر استحصال سے پاک اور ٹیکس کے نہ ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں کمی اور کاروبار میں آسانی کی وجہ سے یہودیوں کا بازار سرد پڑنے لگا، اور وہ خود مجبور ہوئے کہ مدینہ مارکیٹ کی طرف آئیں اور خریدوفروخت کریں۔

بازار کی نگرانی کا انتظام

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ وہ مدینہ کے اُس بازار کا جائزہ لینے کے لیے خود تشریف لے جاتے تھے ۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ  اَنَّ النَّبِیَّ  مَرَّ عَلٰی صُبْرَۃِ طَعَامٍ  فَأَدْخَلَ اَصَابِعَہٗ فِیْھَا ، فَاِذَا فِیْہِ  بَلَلٌ  فَقَالَ مَا ھٰذَا یَاصَاحِبَ الطَّعَامِ،قَالَ: أَصَابَتْہُ سَمَاءٌ  یَارَسُوْلَ اللہِ، قَالَ: فَھَلَّا  جَعَلْتَہٗ  فَوْقَ  الطَّعَامِ حَتّٰی یَرَاہُ النَّاسُ  ’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپؐ غلہ کے ڈھیر کے پاس سے گزر رہے تھے کہ آپؐ نے غلّے کے اندر ہاتھ ڈالا۔ اندر کا حصہ گیلا تھا۔ آپؐ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: حضور، بارش کی وجہ سے بھیگ گیا تھا۔ آپؐ نے کہا: پھر اسے اُوپر کیوں نہیں رکھا؟‘‘ پھر ارشاد فرمایا: مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا  ’’جو ہم سے دھوکا کرے، وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔ (صحیح ابن حبان، ابواب البیوع ،حدیث: ۴۹۸۳)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خودتاجر تھے اور تجارت کو باوقار اور معزز پیشہ سمجھتے تھے۔ یہ پیشہ عوام کی سماجی اور معاشی خدمت کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے دورِاوّل ہی سے مسلم معاشر ے میں تاجروں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ آپؐ کا ارشاد ہے: التَّاجِرُ الأَمِیْنُ الصَّدُقُ الْمُسْلِمُ مَعَ الشُّھَدَاءِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ’’سچا اور امانت دار مسلمان تاجر روزِ قیامت شہدا کے ساتھ ہوگا‘‘۔(ابن ماجہ، کتاب التجارۃ، باب الحث علی المکاسب، حدیث: ۲۱۳۶)۔یہ فرمانِ نبویؐ تجارت کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کرتا رہا اور قیامت تک کرتا رہے گا۔
آپؐ نے یہ بھی فرمایا: تِسْعَۃُ اَعْشَارِ الرِّزْقِ فِیْ التِّجَارَۃِ (المطالب العالیۃ، ابن حجر،کتاب البیوع، باب الزجر عن الغش، حدیث: ۱۴۸۰) ’’انسانوں کو جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں دس میں سے نواں حصہ تجارت میں ہے‘‘۔
آپؐ نے تاجروں کو نصیحت فرمائی: ’’اے تاجرو! تم آپس میں لین دین کے وقت بہت زیادہ قسمیں کھاتے ہو، اس لیے صدقہ کرو تاکہ تمھاری معافی ہو (سنن نسائی، کتاب البیوع، حدیث:۵۸۵۳)۔ عرب میں تاجروں کے لیے ’سمسار‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا، جس کے معنی دلال ہوتے ہیں۔ آپؐ نے ایک دوسرا اور بہتر لفظ’تاجر‘ کا نام انھیں دیا۔
کیسان نامی ایک تاجر شام سے شراب لاتے اور مدینہ میں فروخت کرتے تھے۔ آپؐ نے ان سے فرمایا:’’’اے کیسان! جب تم غیرحاضر تھے تب شراب حرام قرار پاچکی تھی۔ اس کی تجارت مت کرو‘‘۔(مسنداحمد، اوّل، مسندالکوفیین، حدیث کیسان، حدیث: ۱۸۵۹۱)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مارکیٹ کی نگرانی اور اس کے انتظام و انصرام کے لیے محتسب مقرر فرمائے، جو اشیاے خریدوفروخت کے علاوہ ناپ تول پر بھی نظر رکھتے تھے۔ ان محتسبوں میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔ مردوں میں حضرت سعید بن العاصؓ امیہ تھے ، عبداللہ بن سعی بن اُمیہؓ اور عمربن خطابؓ اور عورتوں میں سمرہ بنت جندت السعدیہؓ اور شفاءؓ بنت عبداللہ کا نام آتا ہے۔
تاجروں میں جہاں مردوں کا نام آتا ہے وہیں خواتین کا بھی ذکر ہے، مثلاً: اسماء بنت محربہؓ، خولہ بنت صویبؓ، ملیکہ اُم سائبؓ اور قیلہ النماریہؓ۔ اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کے بارے میں معروف ہے کہ وہ مکہ کی ایک کامیاب تاجر خاتون تھیں اور چالیس سال کی عمر میں ان کے پاس ۲۵ہزار دینار تھے۔
اہلِ بادیہ میں زاہر نامی ایک صحابی تھے۔ آپؐ ان سے بہت محبت کرتے تھے، حالاں کہ بظاہر کوئی وجاہت نہیں رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ بازار میں اپنا سامان فروخت کر رہے تھے، اسی موقع پر آپؐ کا ادھرسے گزر ہوا۔ آپؐ نے پیچھے سے ان کی کمر پکڑ لی کہ وہ آپؐ کو نہیں دیکھ پائے تھے۔ زاہر نے کہا:’ کون ہے، چھوڑ دو مجھے‘۔ آپؐ کے چھوڑنے پر انھوں نے آپؐ کو پہچان کر اپنی پشت آپؐ کے سینے سے اور قریب کرلی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اس غلام کو کون خریدے گا؟‘ انھوں نے عرض کیا: ’اے اللہ کے رسولؐ! تب تو آپؐ کو میری قیمت بہت ہی کم ملے گی‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’لیکن اللہ کے نزدیک تمھاری حیثیت بہت زیادہ ہے‘ (مسنداحمد، حدیث: ۱۲۴۲۴)۔ آپؐ نے مارکیٹ کو شیطان سے جنگ کا میدان قرار دیا۔ (مسلم، فضائل الصحابہ، حدیث:۱۰۰)

:مدینہ کی مذکورہ مارکیٹ کو مزید اچھی ، پُرکشش اورترقی سے ہم کنار کرنے کے لیے آپؐ نے درج ذیل اُمور پر بھی توجہ فرمائی

  • اس مارکیٹ میں آپؐ نے مختلف حصے بنائے، جہاں اشیاکی فروخت، جانوروں اور کپڑوں کی تجارت کے لیے الگ سے جگہ مقرر کی، تاکہ وہاں پر کوئی گڑبڑ اور ہلڑبازی نہ ہو، بلکہ صفائی اور حفظانِ صحت کا بھی خیال رہے۔
  •    اس مارکیٹ میں داخلے کے لیے تاجروں اور خریداروں کے لیے بھی کچھ اصول و ضوابط بنائے گئے تھے، مثلاً جو اس میں داخل ہو، وہ اپنے اسلحے کو اس طرح رکھے کہ اس سے لوگوں کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ پہنچے، اور یہ بھی ہدایت کر دی کہ راستوں میں کوئی نہ بیٹھے۔
  •  تجارتی قافلوں کی آمدورفت کے لیے سڑکوں کا اس طرح انتظام تھا اور اس کی چوڑائی اتنی تھی کہ سامان سے لدے ہوئے دو اُونٹ ایک طرف سے آئیں اور دوسری طرف سے جائیں۔

ناانصافی کے خاتمے کے لیے اقدامات

وَاَحَلَّ اللہُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا(البقرہ۲:۲۷۵) اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔
اس فرمان کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تجارت و کاروبار کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔  یہ وہ مہلت ہے جو قرض دینے والا مقروض کو سود کے عوض قرض ادا کرنے کے لیے دیتا ہے۔ اسے ربا القرآن اور ربا النسیہ کہا جاتا ہے۔دراصل یہ وہ ربا ہے جو قرضوں پر واجب الادا ہے۔ 
لیکن جہاں اسلام نے سود کو حرام اور تجارت کو جائز قرار دیا ہے، وہاں اس نے تجارت میں ہرچیز کی اجازت نہیں دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام صرف اس ناانصافی اور ظلم کو ختم نہیں کرنا چاہتا جو سودی نظام میں ہوتی ہے ، بلکہ وہ تجارت سے بھی نفع کمانے کے تمام ناجائز اور غیرعادلانہ طریقوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ 
تجارت کے دوران خریدوفروخت میں جو فاضل رقم تاجر یا خریدار دھوکے اور بے ایمانی کے ذریعے اپنے مدمقابل سے حاصل کرتا ہے، اس کے خاتمے کے لیے مدینہ کے بازار میں جو اقدامات آپؐ نے اختیار کیے، اس کی کچھ تفصیلات ملاحظہ فرمائیں:
مدینہ میں اس زمانے کے بہت سے دوسرے علاقوں کی طرح مبادلہ (Barter) کا کاروبار بھی ہوتا تھا، یعنی لوگ ایک چیز دے کر دوسری چیز لے لیا کرتے تھے۔ ابتدائی معیشت میں ہرجگہ بارٹر کا سسٹم مروج تھا اور مدینہ منورہ میں بھی معروف تھا۔ یہود نے اس بارٹر سسٹم کو بھی    اپنی بالادستی اور اپنے معاشی کنٹرول کو مضبوط کرنےکا ایک ذریعہ بنا رکھا تھا۔ چوں کہ زرعی پیداوار پرقبضہ اور کنٹرول عموماً یہود ہی کا تھا۔ صنعت اور تجارت یہود ہی کے ہاتھ میں تھی۔ اس لیے جب فصل کٹنے میں ابھی کافی وقت ہوتا تھا تو لوگوں کو چیز دیتے وقت کہتے تھے کہ: ’’یہ اچھی چیز ہے‘‘ اور جب لوگوں کی پیداوار وصول ہوجاتی تھی اور وہ قرض وصول کرنے آتے تو کہتے کہ تمھاری پیداوار گھٹیا ہے، اس لیے تمھیں زیادہ دینا پڑے گا‘‘۔ وہ اپنی پیداوار کو اعلیٰ اور دوسروں کی پیداوارکو   گھٹیا قرار دیتے تھے، یعنی تقریباً ایک کلو کے بدلے میں تقریباً دو کلو کے قریب لے لیا کرتے تھے۔ یہ بھی استحصال کا ایک طریقہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ’ربا‘ کے احکام کے تحت کاروبار کی بہت سی شکلوں کا ناجائز قرار دیا، تو اسے بھی حرام قرار دیا۔ اس کو ربا الفضل کہا جاتا ہے۔

:ایک مشہور حدیث ہے، جس میں چھے چیزوں کے بارے میں آپؐ نے فرمایا
الذَّھَبُ بِالذَّھَبِ وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ وَالشَّعِیْرُ بِالشَّعِیْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَۃُ بِالْحِنْطَۃِ مِثْلًا بِمِثْلٍ یَدًا بِیَدٍ وَالْفَضْلُ رِبٰو، سونا اور چاندی، جَو ، کھجور، گندم اور نمک کا جب باہمی لین دین کیا جائے تو دست بدست کیا جائے، فوراً دیں اور فوراً لیں اور برابر سرابر کی بنیاد پر لین دین کیا جائے۔ زیادتی ہوگی تو اس کو   ربا سمجھا جائے گا۔
اس حکم نے دو اچھے نتائج پیدا کیے: ایک تو یہ کہ اس کے نتیجے میں بارٹر کے کاروبار میں خودبخود کمی آئی اور زری معیشت، یعنی مانٹیری اکانومی کو فروغ ہوا۔ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ یہود کے استحصال کا ایک بہت بڑا طریقہ ختم ہوگیا۔ وہ جس انداز سے مسلمان تاجروں کو نقصان پہنچا رہے تھے، وہ سلسلہ رُک گیا۔ یہ ’ربا‘ کی وہ قسم ہے جس کو فقہا نے ربا البیع، ربا الفضل، ربا الحدیث کے  نام سے یاد کیا ہے۔ 
بازار کو صحیح خطوط پر چلانے کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ بازار میں اوزان اور پیمانے متعین ہوں۔ اگر ہرشخص الگ الگ اپنے اوزان اور پیمانے رکھے گا تو بازار میں سنٹرلائزیشن اور معیار بندی نہیں ہوسکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانٹیری اکانومی کی حوصلہ افزائی کرکے بازار اور تجارت میں معیار بندی (standardization)کو بہتر اور مقبول قرار دیا۔ معیار بندی کا ایک تقاضا یہ بھی تھا کہ پیمانوں اور اوزان کو متعین کیا جائے۔
اس زمانے میں یہ بھی تھا کہ مختلف علاقوں میں مختلف پیمانے اور اَوزان مقرر تھے۔مکہ مکرمہ کا پیمانہ اور تھا اور مدینہ منورہ کا پیمانہ مختلف تھا۔مکّہ کے لوگ چوں کہ تجارت میں نمایاں تھے۔ دُوردراز کی تجارت میں نقد رقم لے کر جایا کرتے تھے، سونا اور چاندی کی صورت میں ان کے پاس بڑی بڑی رقمیں ہوتی تھیں، اس لیے سونے اور چاندی کی پرکھ کا معیار مکہ میںزیادہ اسٹینڈرائزڈ تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ: اَلْمِکْیَالُ مِکْیَالُ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ ،ناپنے کے پیمانے مدینہ کے معیاری مانے جائیں گے،اور والوزن وزن اھل مکۃ اور سونے چاندی کو تولنے یا گننے کے پیمانے اہلِ مکہ کے معیاری مانے جائیں گے(نسائی، کتاب الزکوٰۃ، حدیث: ۲۲۷۱)۔ یعنی سکّوں اور سونے چاندی کا معیار مکہ کے معیار کے مطابق ہوگا اس لیے کہ وہ تجارت کا مرکز ہے۔ زرعی پیمانے مدینہ کے ہوں گے، کیوں کہ وہاں زرعی کاروبار زیادہ تھا۔
مثال کے طور پر مکہ مکرمہ میں چمڑے کی مصنوعات کا بڑا رواج تھا۔ وہاں سے کوئی تاجر اپنا چمڑا فروخت کرنے کے لیے مدینہ آرہا ہوتا اور یہودی ساہوکاروں کو پتا چلتا کہ چمڑا آرہا ہے تو ان کے نمایندے باہر سے آنے والے تاجر سے راستے ہی میں سارا ذخیرہ خرید لیتے تھے اور بازار تک اس کو آنے نہیں دیتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ یہ تاجر اگر خود بازار آئے تو اُس کو تازہ ترین قیمتوں کا پتا چل جائے گا اور وہ اپنے مال کو بہتر قیمت پر بیچ سکے گا۔ اس سے روکنے کے لیے وہ پہلے ہی جا کر اس کا مال خرید لیتے تھے اور پھر لاکر من مانی قیمتوں پر فروخت کرتے تھے۔ اس طرح  ان کو ذخیرہ اندوزی کا موقع بھی ملتا تھا اور قیمتوں کے تعین میں بھی اپنی مرضی چلاتے تھے اور اس شخص کو جو اصل مال لے کر آیا ہے ایک معقول قیمت سے محروم کر دیا کرتے تھے۔
:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مداخلت کو ناجائز قرار دیا اور اس کی ممانعت فرمائی
نَھٰی رَسُوْلُ اللہِ عَنْ تَلَقِّیْ الْجَلْبِ ، حَتّٰی یَدْخُلَ بِھَا السُّوْقَ (نسائی، کتاب البیوع، حدیث:۵۹۰۸) یعنی باہر سے آنے والے مال کو بازار میں آنے سے پہلے ہی جاکر اُونے پونے داموں خرید لیا جائے، اسے آپؐ نے ممنوع قرار دیا۔
مدینہ مارکیٹ کی یہ تفصیلات تقاضا کرتی ہیں کہ اہلِ علم حضرات، سیرت النبیؐ کے اس گم نام گوشے پر خصوصی توجہ دیں۔تجارت اور صنعت و حرفت، جو عین سنت ِ نبویؐ ہے ، اس کو اپنا شیوہ بنائیں۔ اس طرح دنیا میں عزت و شرف کا مقام حاصل کریں اور آخرت میں قولِ نبیؐ کے مطابق اچھے اور امانت دار تاجر بن کر انبیا ؑ، شہدا اور صالحین کی رفاقت حاصل کریں۔

شرک کے شائبوں سے پاک عقیدۂ توحید جب کسی فرد کی زندگی میں آ جائے ، یا کسی قوم کی اجتماعی زندگی اس عقیدے پر اُستوار ہو جائے، تو زندگی میں اس کے بہترین ثمرات اور نہایت مفید اثرات سامنے آتے ہیں۔ ان ثمرات واثرات میں سے چند درج کیے جاتے ہیں: 

انسانی آزادی 

شرک اپنی تمام صورتوں اور مظاہر میں انسان کی ذلت ورسوائی کے سوا کچھ نہیں۔ اس لیے کہ شرک انسان کو مخلوقات کے سامنے جھکاتا اور ان اشیا اور انسانوں کی بندگی اس سے کراتا ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں ۔ وہ خود اپنے کسی نفع ونقصان کے بھی مالک نہیں ، اور نہ زندگی اور موت ان کے ہاتھ میں ہے، جب کہ توحید دراصل اللہ کی بندگی کے سوا ہرطرح کی بندگی سے انسان کی نجات اور آزادی کا نام ہے۔ توہمات وخرافات سے انسانی دل ودماغ کی آزادی ہے اور انسانی ضمیر کے کسی بھی چیز کے سامنے حقیر وذلیل ہونے سے آزادی ہے۔ وقت کے فرعونوں ،خدائوں اور جھوٹے معبودوں کے تسلط سے انسانی زندگی کی آزادی ہے۔ 
یہی وجہ ہے کہ شرک کے علَم بردار وں اور جاہلیت کے باغیوں نے ہر دور میں انبیاؑ کی دعوت کو روکنے کی پوری کوشش کی خاص طور پر رسول کریم ؐ کی دعوت کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ دراصل ان باغیوں اور سرکشوں کو معلوم تھا کہ لا الٰہ الا اللہ کا مطلب انسان کی آزادی کا اعلان ہے۔ ہر قسم کے جابروں کو ان کی جھوٹی خدائی کے تخت سے گرانے کا اعلان ہے۔ اہل ایمان کے لیے سر اُٹھا کر جینے کا اعلان ہے۔ یہ اعلان کہ ان کی پیشانی اللہ رب العالمین کے سوا کسی شے کے سامنے خم نہیں ہو سکتی۔ 

متوازن شخصیت کی تشکیل

عقیدۂ توحید ایک ایسی متوازن شخصیت تشکیل کرتا ہے جس کا قبلۂ زندگی ممتاز ہوتا ہے۔ اس کا مقصد زندگی ایک ہوتا ہے اور اس کا طرزِ زندگی متعین ہوتا ہے۔ اس کا معبود ایک ہی ہوتا ہے جس کی طرف وہ خلوت وجلوت میں رجوع کرتا ہے۔ وہ تنگی اور تکلیف میں اسی کو پکارتا ہے۔ وہ چھوٹا بڑا عمل وہی انجام دیتا ہے جو اس معبود واحد کی رضا مندی کا باعث ہو۔ 
اس کے مقابلے میں مشرک کا قبلۂ زندگی طرح طرح کے معبودوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ اس کی زندگی قسم قسم کے معبودوں میں بٹی ہوتی ہے۔ کبھی وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو کبھی بتوں کی طرف لپکتا ہے۔ وہ کبھی اس بت کی بندگی بجا لاتا ہے تو کبھی دوسرے بت کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ 
ایسی ہی کیفیت پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ کے پیغمبر سیدنا یوسف ؑ نے فرمایا تھا: ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۝۳۹ۭ (یوسف ۱۲:۳۹) ’’تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے بھی ایسی کیفیت کو مثال دے کر سمجھایا ہے : ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيْہِ شُرَكَاۗءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ۝۰ۭ ہَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا  ۝۰ۭ (الزمر۳۹:۲۹) ’’اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ ایک شخص تو وہ ہے جس کے مالک ہونے میں بہت سے کج خلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں، اور دوسرا شخص پورا کا پوراایک ہی آقا کا غلام ہے۔ کیا اُن دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے؟‘‘
مومن کی مثال اس غلام جیسی ہے جس کا مالک ایک فرد ہو۔ ایسے غلام کو اپنے مالک کی پسند وناپسند اور خوشی و نا خوشی کا علم ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ غلام وہی کام کرتا ہے جو اس کے مالک کو خوش کرے اور اس سے اس کو راحت ملے،جب کہ مشرک کی مثال اس غلام جیسی ہے جس کا مالک ایک فرد نہیں بلکہ کئی افراد اس کے مالک ہوں۔ ایک فرد اس کو مشرق کی طرف روانہ کرتا ہے، جب کہ دوسرا مغرب کی طرف بھیج دیتا ہے۔ ایک اس کو دائیں طرف سے کھنچ رہا ہوتا ہے اور دوسرا اسے بائیں طرف سے کھینچتا ہے۔ یہ مختلف اور متضاد رجحانات اور مقاصد رکھنے والے مالک ہیں اور بے چارہ غلام ان کے درمیان منقسم اور بٹا ہوا ہے۔ وہ ایک جگہ نہ ٹھیرسکتا ہے نہ رُک سکتا ہے۔ 

اطمینان دل کا سرچشمہ 

عقیدۂ توحید اپنے ماننے والے کو دل کا اطمینان اور سکون عطا کرتا ہے۔ عقیدۂ توحید کے حامل فرد کے اوپر وہ خوف اور خدشات حاوی نہیں ہو سکتے جو ایک مشرک کے اوپر قبضہ جمائے رہتے ہیں۔ عقیدۂ توحید ایسے خوف وخدشات کے تمام راستوں کو بند کر دیتا ہے، مثلاً رزق کا خوف، موت کا خوف، بیوی بچوں کا خوف، انسانوں اور جنوں سے نقصان پہنچنے کا خوف ، موت اور مابعد الموت کا خوف۔ یہ تمام خوف عقیدۂ توحید سے خالی دل کی آما جگاہ ہوتے ہیں بلکہ اس طرح کے دل میں یہ تمام خوف بہترین طریقے سے نشوونما پاتے ہیں، جب کہ عقیدۂ توحید سے لبریز دل میں ان خطرات کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ وہاں صرف ایک رب کی ناراضی کا خوف ہے اور کسی کا نہیں۔ 
توحید پرست مومن اللہ کے علاوہ کسی شے سے ڈرتا ہے نہ کسی انسان سے۔ یہی وجہ ہے کہ جب لوگ گھبرا جاتے ہیں تو یہ مطمئن نظر آتا ہے۔ لوگ مضطرب اور بے چین ہوں تو یہ پُرسکون دکھائی دیتا ہے۔ دراصل یہ عقیدۂ توحید کا اثر ہے جس نے اس کے دل سے تمام خطرات وخدشات کا خوف نکال دیا ہے۔ جلیل القدر پیغمبر اور جدالانبیاؑ سیدنا ابراہیم ؑ کے اپنی قوم کے ساتھ مکالمے میں اسی اطمینان قلبی کو قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے، جب ان کی قوم نے ان کو اپنے بتوں سے خوف زدہ کرنے کی کوشش کی۔ سید نا ابراہیم ؑ نے نہایت تعجب خیز انداز میں ان سے پوچھا: وَكَيْفَ اَخَافُ مَآ اَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللہِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِہٖ عَلَيْكُمْ سُلْطٰنًا ۝۰ۭ فَاَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ ۝۰ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۸۱ۘ (الانعام ۶:۸۱) ’’اورآخر مَیں تمھارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں، جب کہ تم اللہ کے ساتھ اُن چیزوں کو اُلوہیت میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اُس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے؟ بتائو اگر تم کچھ علم رکھتے ہو‘‘۔
پھر اللہ تعالیٰ نے خود بھی واضح کیا کہ ان دونوں فریقوں میں سے امن کا حق دار کون سا فریق ہے، لہٰذا فرمایا : اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ۝۸۲ۧ (الانعام ۶:۸۲)’’ حقیقت میں تو امن اُن ہی کے لیے ہے اور راہِ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا‘‘۔
دل کا یہ سکون دل کے اندر ہی سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ کسی شیطانی محافظ کی کسی کوشش سے۔ اور یہ تو دنیاوی امن کی بات ہے ۔ رہا آخرت کے امن کا معاملہ تو یہ دنیاوی امن سے زیادہ بڑا معاملہ ہے ۔ اور یہ اہل ایمان ہی کو حاصل ہو گا کیوںکہ انھوں نے اللہ کی بندگی کو شرک سے آلودہ نہ ہونے دیا بلکہ اس کو خالص رکھا۔ 
امام بخاری نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب آیت اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ (الانعام ۶:۸۲) نازل ہوئی تو ہم نے پوچھا : یارسولؐ اللہ ! ہم میں سے کون ہے جو اپنے اوپر ظلم نہیں کرتا ؟ آپ ؐ نے فرمایا: بات اس طرح نہیں ہے جیسے تم کہہ رہے ہو ۔ کیا تم نے لقمان ؑ کی اپنے بیٹے کو نصیحت نہیں سنی کہ لَا تُشْرِكْ بِاللہِ۝۰ۭؔ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۝۱۳  (لقمان۳۱:۱۳) ’’اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے‘‘۔
لہٰذا واضح ہوا کہ وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر لیا اور اپنے عقیدۂ توحید کو شرک کے شائبوں سے آلودہ نہیں کیا۔ 

قوتِ نفس کا سرچشمہ 

عقیدۂ توحید اپنے ماننے والے کو بہت بڑی نفسیاتی قوت عطا کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کا دل اللہ سے اُمید ، اس پر یقین اور توکل ، اس کے فیصلوں پر رضامندی ، اس کی آزمایشوں پر صبر اور اس کی مخلوقات سے استغنا کی قوت وطاقت سے لبریز رہتا ہے۔ ایسا شخص پہاڑ کی مانند ثابت قدم ہوتا ہے جس کو حادثاتِ زمانہ ہلا سکتے ہیںنہ حالات زمانہ ڈگمگا سکتے ہیں ۔جب بھی کوئی مصیبت یا سختی اس پر آتی ہے تو وہ مخلوق کی طرف نہیں بھاگتا بلکہ وہ اپنے دل کو اپنے خالق کی طرف یکسو کر لیتا ہے ۔ وہ اسی سے مانگتا ہے اور اسی سے مدد لیتا ہے ، اسی کے اُوپر اعتماد و انحصار کرتا ہے۔ وہ مصیبت سے نجات اور خیر کے حصول کے لیے اللہ کے علاوہ کسی سے اُمید نہیں رکھتا۔ وہ اللہ کو چھوڑ کر کسی کے آگے دست ِ دُعا نہیں پھیلاتا۔ وہ اُس کے سامنے روتا اور گڑگڑاتا ہے او ر اسی کی طرف رجوع کرتا اور اسی سے اپنی لو لگاتا ہے۔ اس کا امتیازی نشان بزبان رسالت یہ ہوتا ہے : ’’تو جب بھی مانگے ، اللہ سے مانگ ، اور مدد چاہے تو اللہ سے لے‘‘۔
ایسے شخص کی اعتقادی کیفیت کو قرآن مجید نے یوں متعین کر کے بیا ن کیا ہے: وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَہٗٓ اِلَّا ھُوَ ۝۰ۚ وَاِنْ يُّرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَاۗدَّ لِفَضْلِہٖ۝۰ۭ  يُصِيْبُ بِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ ۝۰ۭ وَھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۝۱۰۷ (یونس ۱۰:۱۰۷) ’اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اُس کے سوا کوئی نہیں جو اُس مصیبت کو ٹال دے، اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اُس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔
ایسا ہی موقع تھا جس کو قرآن مجید نے اہل ایمان کی اعتقادی کیفیت کو تقویت دینے کے لیے بیان کیا ہے جب پیغمبر خدا حضرت ہود ؑ کی قوم نے بتوں کی کارروائی سے ان کو ڈرایا تو ہود ؑ نے فرمایاـ: اُشْہِدُ اللہَ وَاشْہَدُوْٓا اَنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ۝۵۴ۙ مِنْ دُوْنِہٖ فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ۝۵۵ اِنِّىْ تَوَكَّلْتُ عَلَي اللہِ رَبِّيْ وَرَبِّكُمْ۝۰ۭ مَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ اِلَّا ہُوَاٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِہَا۝۰ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۝۵۶ ( ھود ۱۱:۵۴-۵۶) ’’میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوںاور تم گواہ رہو کہ جو اللہ کے سوا دوسروں کو تم نے اُلوہیت میں شریک ٹھیرا رکھا ہے اِس سے مَیں بے زار ہوں۔ تم سب کے سب مل کر میرے خلاف اپنی کرنی میں کسر نہ اُٹھا رکھو اور مجھے ذرا مہلت نہ دو۔ میرا بھروسا اللہ پر ہے جو میرا ربّ بھی ہے اور تمھارا ربّ بھی۔ کوئی جان دار ایسا نہیں جس کی چوٹی اُس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ بے شک میرا ربّ سیدھی راہ پر ہے‘‘۔
یہ ایسی طاقت ور عقلی دلیل ہے جو ایک مضبوط عقیدۂ توحید کے حامل دل اور مضبوط ترین قوتِ استقامت کے حامل نفس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ ایسا ایمان ہے جو کمزور پڑ سکتا ہے نہ دب سکتا ہے اور ایسی روحانی قوت ہے جو کسی کمزوری اور خوف سے نا آشنا ہو۔ اس لیے کہ ایسا دل اور نفس توکّل علی اللہ سے مدد لیتا ہے اور جو اللہ پر توکّل کر ے جان لینا چاہیے کہ اللہ تمام تر طاقت اور حکمت کا مالک ہے: وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ فَاِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۝۴۹ ( الانفال ۸:۴۹) ’’اگر کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو یقینا اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے‘‘۔

 اُخوت ومساوات کی بنیاد 

جب عقیدۂ توحید انسان اور اس کے احساس عزت وتکریم کی آزادی کی اساس شمار ہوتا ہے تو یہ عقیدہ انسانی اخوت اور بشری مساوات کی بنیاد بھی بنے گا۔ کیوںکہ انسانوں کے اپنے ہی جیسے انسانوں کو اپنا ربّ بنا لینے کی صورت میں انسانی اخوت ومساوات قطعاً پیدا نہیں ہوسکتی ۔ انسانوں کے درمیان اخوت ومساوات کی اصل بنیاد یہی عقیدہ ہے کہ وہ سب کے سب ایک اللہ کے بندے ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مکاتیب دنیا کے مختلف باد شاہوں اور سربراہوں کو لکھے غالباً اسی بنا پر ان کا اختتام اس آیت پر ہوتا ہے: تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَۃٍ سَوَاۗءٍؚبَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ وَلَا نُشْرِكَ بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ ۝۰ۭ(اٰل عمرٰن ۳:۶۴) ’’ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سو ا کسی کو اپنا ربّ نہ بنا لے‘‘۔
رسول کریم ؐ کی بعد از نماز دعائوں میں یہ عظیم اور شان دار دعا بھی مروی ہے: 
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْ ءٍ وَمَلِیْکَہُ ، اَنَا شَہِیْدٌ اَنَّکَ اللہُ وَحْدَکَ ، لَا شَرِیْکَ لَکَ
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْ ءٍ وَمَلِیْکَہُ ، اَنَا شَہِیْدٌ   اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْ ءٍ وَمَلِیْکَہُ ، اَنَا شَہِیْدٌ   اَنَّ الْعِبَادَ کُلُّھُمْ اِخْوَۃٌ

اے اللہ ہمارے رب اور ہر چیز کے رب اور مالک ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تو اللہ واحد ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ۔ اے اللہ! ہمارے رب اور ہر چیز کے رب اور مالک ! میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ؐ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ۔ اے اللہ! ہمارے رب اور ہر چیز کے رب اور مالک ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تمام کے تمام بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ 
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکور یہ تینوںشہادتیں ایک دوسری سے مربوط ہیں۔ تیسری شہادت ’عام انسانی اخوت ‘ کا اعلان کہ تمام کے تمام بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں ، پہلی دوشہادتوں پر مبنی ہے: یعنی اللہ تعالیٰ کا اُلوہیت میں یکتا ہونا کہ اس کا کوئی شریک نہیں ، اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا ربّ نہیں، اور عبادت وتسلیم کا حق اس کے سوا کسی کو حاصل نہیں ۔ اور محمد ؐ کے عبد اور رسول ہونے کا اقرار آپ ؐ کے لیے الوہیت کے ہر شائبے اور ہر شبہے کی نفی کرتا ہے کہ آپ ؐ الٰہ (معبود ) نہیں ہیں، نہ ابن الہ ہیں اور نہ اُلوہیت کا تیسراا قنوم ہیں جیسا کہ عیسائیوں کاسیّد نا مسیح ؑ کے بارے میں عقیدہ ہے۔ [کتاب حقیقۃ التوحید سے ترجمہ ]

جموں و کشمیر کی تاریخ خون سے نہائی ہوئی ہے۔دُور دُور تک ،خون کی اس بارش کے رُکنے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ اسی دوران جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے لیتہ پورہ۔ اونتی پورہ علاقے میں ۱۴فروری۲۰۱۹ء کو عسکریت پسندوں کے خودکش حملے سے ۴۰سیکورٹی اہل کاروں کی ہلاکت کی خبر نے جنوبی ایشیا میں کہرام کی صورت پیدا کر دی ہے۔ 
اس واقعے کے ایک دن بعد دارلحکومت دہلی کے ویمن پریس کلب میں مَیں اپنے صحافی دوست کی الوداعی تقریب میں شرکت کرنے کے بعد باہر نکلا، تو دیکھا کہ اسکولوں کے نو خیز بچے ہاتھوں میں پرچم لیے پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگاتے ہوئے انڈیا گیٹ کی طرف رواں تھے۔میڈیا کے ایک حلقے کی جانب سے، جس میں الیکٹرانک میڈیا پیش پیش ہے، کشمیر کی تاریخ، جغرافیہ ،سیاسی تاریخ اور سیاست کے حوالے سے متواتر زہر افشانی کرکے کچے ذہنوں کو آلودہ کرکے کشمیر دشمنی پر کس قدر آمادہ کر دیا گیا ہے، اس کا اندازہ ایسے جلوسوں سے لگایا جاسکتا ہے۔
انڈیا گیٹ کے پاس حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین پارلیمنٹ کی معیت میں ایک جم غفیر پر جنگی جنون سوار تھا۔ وہ اپنی شعلہ بار تقریروں میں لاہور اور مظفر آباد پر بھارتی پرچم لہرانے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے اور کشمیری مسلمانوں کو سبق سکھانے کا مطالبہ کررہے تھے۔چوںکہ ایسے وقت میں بھارتی مسلمانوں کے رہنمائوں کو بھی حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، ان کی نمایندگی کرتے ہوئے ایک باریش مولوی صاحب پاکستانی سفیر کو ملک بدر کرنے اور پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔
آفس پہنچ کر معلوم ہوا کہ پٹنہ، چھتیس گڑھ، دہرا دون اور بھارت کے دیگر علاقوں سے کشمیری تاجروں اور طالب علموں پر حملوں اور ان کو بے عزت کرنے کی خبریں متواتر موصول ہورہی ہیں۔ رات گئے گھر واپس پہنچ کر دیکھا کہ ہماری کالونی کے دیگر حصوں میں رہنے والے چندکشمیری خاندان ہمارے یہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ بتایا گیا کہ شام ہوتے ہی علاقے میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے مکینوں کو باہر نکالا اور ہاتھوں میں موم بتیاں لیے مارچ کرتے ہوئے کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف نعرے بلند کرتے ہوئے خوب ہڑ بونگ مچائی تھی۔اتوار کی رات جس وقت میں یہ تحریر لکھ رہا تھا، کہ باہر سے کالونی میں ہمارے بلاک کا گارڈ دوڑتا ہو ا آیا اور ہمیں گھر کے اندر رہنے ، دروازے اور کھڑکیاں بند کرنے کی ہدایت دے کر چلا گیا۔
 معلوم ہوا کہ بیرونی گیٹ کے پاس ایک ہجوم جمع ہے اور پر جوش نعرے لگا رہا ہے۔ ان کی آوازیں دل دہلا رہی تھیں۔ کچھ دیر کے لیے مَیں سمجھا کہ غالباً میری زندگی کی آخری تحریر ہے۔ کیوں کہ ہجوم جنوبی دہلی میں واقع اس عمارت کے گرد جمع ہوچکا تھا، جہاں میں اپنے کم سن بچوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ ہجوم نے پہلی بار تو ہمارے گھر کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی۔ بلندآواز میں گالیوں کی بوچھاڑ اور دل دہلا دینے والے انتقامی نعروں کی یلغار جاری رکھی۔ ان کی قیادت کرنے والے ہمیں ’بھارت چھوڑ کر واپس کشمیر جائو‘ کا کہہ رہے تھے۔ مجھے یقین ہوچلا تھا کہ اب میرا آخری وقت ہے، لیکن سیکورٹی گارڈاور شریف النفس ہمسایوں نے پولیس کے پہنچنے تک ہجوم کو قدرے فاصلے پر روکے رکھا۔میں نے دہلی پولیس اور وزارت داخلہ میں جہاں جہاں ممکن ہوسکتا تھا، رابطہ کر نے کی کوشش کی۔ ان لمحوں میں میری بیوی، بچّے، خاندان کے دیگر لوگ اور وہ کشمیری جنھوں نے ہمارے گھر پناہ لے رکھی تھی، پوری توجہ سے صرف ایک کام کر رہے تھے: تلاوتِ قرآن! ان لمحوں میں مجھے ۲۰۰۲ء کے گجرات فسادات میں ہلاک ہوئے کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری یاد آرہے تھے، جو کم و بیش اسی طرح کے حالات کا شکار ہوگئے تھے۔ آدھے گھنٹے کے بعد دہلی پولیس کی ایک ٹیم آئی اور انھوں نے ہجوم کو پارک میں جلسہ کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن قریباً ایک گھنٹے کے بعد ہجوم پھر واپس آیا اور گیٹ کے پاس اشتعال انگیز نعرے بلند کرنے شروع کیے۔ آدھی رات کو میں نے اپنی فیملی کو ایک مسلم اکثریتی علاقے میں ایک رشتے دار کے ہاں منتقل کیا اور خود تحریر مکمل کرنے کے بعد دفتر میں جاکر پناہ لی۔ 
دہلی میں اپنے صحافتی کیریئر کے دوران میں نے کئی اتار چڑھائو دیکھے ہیں۔بد نامِ زمانہ تہاڑ جیل میں بھی آٹھ ماہ گزار چکا ہوں۔ جنگ کرگل ،پارلیمنٹ پر حملہ کے بعد آپریشن پراکرم     یا ۲۰۰۸ء میںممبئی حملوں کی رپورٹنگ بھی کی ہے ، مگر یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ اس قدر    جنگی جنون جو پچھلے پانچ سال میں عوام پر طاری کر دیا گیا ہے، اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا تھا، اور نہ حالات اس قدر دگرگوں ہوئے تھے۔ ایک اعلیٰ افسر نے ایس ایم ایس کے ذریعے مجھے بتانے کی کوشش کی آر یا پار کا وقت آچکا ہے ۔
 کانگریس کے ایک سینیرجنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ: یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں چھوڑیں گے۔ انھوں نے اپنے وزیروں اور پارٹی لیڈروں کو پہلے ہی حکم نامہ جاری کر رکھا ہے کہ وہ پلوامہ میں ہلاک شدگان کے دیہات اور محلوں میں جاکر ان کی آخری رسومات میں شرکت کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں ڈیرا ڈالیں۔ مودی کے برسرِاقتدار آنے کے بعد چونکہ معیشت کی بحالی اور دیگر وعدے ہوا میں بکھر چکے ہیں،رام مندر کی تعمیر کے نام پر کوئی تحریک برپا نہیں ہو پا رہی ہے۔ 
پھر دسمبر ۲۰۱۸ء کے حالیہ صوبائی انتخابات میں کسانوں ، دلتوں، دوسرے پس ماندہ طبقوں اور اقلیتوں نے مل کر ان کو شکست دی ہے۔ اس تجربے اور انجام کو سامنے رکھتے ہوئے آیندہ دوماہ میںعام انتخابات کے پیش نظر ہندو قوم پرست آخری ترپ کا پتا، یعنی نیشنلزم کی بحث بھڑکا کر اور ہندوئوںکو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ 
تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی ملک کے لیے یہ ایک سنگین صورت حال ہوتی ہے کہ جب معاشرے کے کچھ طبقوں کو ’محب وطن‘ اور کچھ کو ’ملک دشمن‘ قرار دیا جانے لگے۔ بھارتی برسرِاقتدار پارٹی کے قائدین، مرکزی وزرا اور اعلیٰ سیکورٹی افسران کی جانب سے بار بار کی بیان بازیوں سے اس پروپیگنڈا مہم کو دست و بازو فراہم ہو رہے ہیں۔ چنانچہ بھارت بھر میں اس وقت جو سیاسی صف آرائیاں ہورہی ہیں، اس میں کشمیر اور کشمیریوں کو ایک ایشو بنا کر سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے ہاتھ پائوں مارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کشمیر میں حالات کی مسلسل خرابی کے ساتھ کئی حلقوں کے سیاسی اور اقتصادی مفادات وابستہ ہو رہے ہیں۔حالیہ عرصے میں، حتیٰ کہ جنوبی صوبوں کرناٹک اور آندھرا میں بھی کشمیریوںکو ہراساں کرنے اور بے عزت کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں، جب کہ مہاراشٹر کے شہر پونا میں بھی کشمیری تاجروں، طلبہ اور محنت کشوں کو پولیس سے رابطہ قائم کرکے دہشت کی اس فضا سے حفاظت کے لیے امداد و اعانت طلب کرنا پڑی۔ ایک طرف حکومت اور مختلف سیکورٹی ایجنسیاں آپریشن سدبھاونا وغیرہ کے نام پر کھیل کود، ادب و ثقافت اور تفریح کی غرض سے کشمیری طلبہ و نوجوانوں کو بھارت کی دیگر ریاستوں میں لے جاکر وہاں کے تمدن اور سوچ سے ہم آہنگ کرنے کے پروگراموں پر روپے خرچ کرتی ہیں، وہیں دوسری طرف ان کی بھرپور تذلیل کی جاتی ہے۔ 
جو واقعہ پلوامہ میں پیش آیا، میں ایک عرصے سے اپنی تحریروں میں ایسی صورت حال کے برپا ہونے کے بارے میں خبردار کرتا آیا ہوں۔ہر قیمتی انسانی جان کے تلف ہونے پر انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے۔ جو لوگ روز اپنے عزیزوں اور جوانوں کے جنازے اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں، اِس دکھ اور درد کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔۲۰۱۴ء میں ایک نجی تقریب کے دوران انڈین قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوبال نے کہا تھا کہ ’’یہ پہلا اور آخری موقع ہے کہ پاکستان اور کشمیریوں کو بتایا جائے کہ ان کی منزل ناقابل حصول ہے‘‘۔ اجیت دوبال کو اندازہ نہیں ہے کہ ان کی اس پالیسی کے تحت نہ صرف حُریت کانفرنس بلکہ بھارت نواز کشمیری سیاسی قیادت کو بھی نئی دہلی نے بے وقعت اور بے وزن کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ شاید آخری قیادت ہے ، جو مکالمے اور افہام و تفہیم کے مفہوم سے واقف ہے۔ جموں وکشمیر کے عوام کی اُمنگوں اور خواہشات کو سمجھنے کے بجاے ایک سیاسی اور انسانی مسئلے کو صرف فوجی ذرائع اور طاقت کے بل پر دبانے کی پالیسی نے کشمیر میں ایک نہایت خطرناک صورتِ حال کو جنم دیا ہے ۔ اگر موت اور تباہی کے اس رقص کو روکنا ہے ،تو انسانیت اور انصاف کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔مگر اس حملے کے بعد ٹی وی اور دوسرے ذرائع ابلاغ میں ہونے والے بحث و مباحثے کے گمراہ کن رویے اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بھارتی قیادت مسائل کی طرف صحیح طریقے سے نہیں دیکھ رہی۔
     بھارتی فوج کے ایک سابق افسر کرنل (ریٹائرڈ) آلوک استھانا کے بقول : ’’خودکش حملہ آور پاس ہی کے گائوں کا عادل احمد تھا اور وہ پاکستانی علاقے سے نہیں آیا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ حملہ جنوبی کشمیر میں ہوا، جو شمالی کشمیر کے برعکس لائن آف کنٹرول سے کوسو ں دُور ہے۔  اس علاقے تک پہنچنے کے لیے سری نگر شہر سمیت کئی سخت سیکورٹی والے علاقوں سے گزر نا پڑتا ہے‘‘۔ کرنل استھانا کے مطابق: ’’عادل کے خودکش دھماکے سے ایک اہم سوال جو سامنے آیا ، وہ یہ کہ آخر مقامی کشمیری، جن میں سے کئی پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، اس طرح سے اپنی جان دینے کے لیے کیوں تیار ہیں؟‘‘
اگر اس سوال کا تھوڑا ہی صحیح، جواب دے دیا جاتا ہے، تو باقی ساری چیزوں کا بھی حل نکل آئے گا، مگر اس جنگی جنوں میں کس کو ہوش ہے کہ اس اصل مسئلے پربات کرے۔ علاوہ ازیںگذشتہ تین عشروں کے دوران میں جو نسل کشمیر میں پروان چڑھی ہے، اس کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجاے ان کو مزید کچوکے دیے جا رہے ہیں۔ میں نے چند سال قبل خبردار کیا تھا، ’’اگرچہ کشمیر میں عسکریت میں بظاہر وہ قوت نہیں جو ۹۰ کے اوائل میں ہوتی تھی، مگر یہ خیال کرنا کہ اس تبدیلی سے وہاں امن و امان ہوگیا ہے خود کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں۔ مسئلہ کشمیرکو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا‘‘۔ اس کے لیے رحم دلی اور مفاہمت پر مبنی ایک ماحول تیار کرنا ہوگا۔ علاقے، یعنی رئیل اسٹیٹ کے بجاے  رئیل پبلک کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ کشمیر میں ایک ایک دل زخمی ہے ، اور یہ زخم مندمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ جب تک بنیادی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اقدامات نہیں کریں گے تب تک پلوامہ جیسے واقعات کو روکنا ممکن نہیں ہے ۔ لہٰذا، بہتری اسی میں ہے کہ حقائق سے انکار کے بجاے اس مسئلے کے حل کی سبیل کی جائے۔کوئی ایسا حل جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو، تاکہ برصغیر میں امن و خوش حالی کے دن لوٹ سکیں۔
وہ لوگ جو پاکستان میں رہتے ہیں، اگر وہ بھارت میں کشمیری طالب علموں، تاجروں اور مزدوروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے حالیہ واقعات، اذیت ناک دبائو اور ناقابلِ تصور بے عزتی کو ذہن میں رکھیں تو ان میں ان کے لیے بے شمار سبق موجود ہیں۔ سب سے بڑا سبق یہ کہ آزادی واقعی بہت بڑی نعمت ہے، اس لیے آزادی کی قدر کریں۔ ممکن ہے کہ آپ کا کوئی حکمران کرپٹ ہو، کوئی ظالم ہو اور یا کوئی نااہل۔ لیکن اس سب کے باوجود اپنے وطن میں آپ کی وہ تذلیل اور توہین نہیں ہوگی، اور نہ ہجوم کے ہاتھوں یوں بے گناہ اور بے جواز قتل کیے جائیں گے۔ جموں و کشمیر کے رہنے والوں کے حوالے سے ذرا سوچیے، جو کہتے ہیں کہ آپ کتنے خوش نصیب ہیں اور ہم کتنے قابلِ رحم!

قرآن کریم کی تعلیمات سے واضح اور قطعی ثابت ہے کہ بعثت ِ انبیا ؑ کا مقصد روے زمین پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا قیام ہے۔ جملہ انبیاے کرام نے اس کے لیے ہمہ پہلو جدوجہد کی۔ان کی دعوت کا مرکزی نکتہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی عبادت ،بندگی کی بنیاد پر انسانی زندگی کی تعمیر اور ہر قسم کے طاغوت،بغاوت، سرکشی ، بد اخلاقی اور بد اعمالی سے مکمل اجتناب رہا ہے :
اَنِ اعْبُدُوا اللہَ وَاجْتَـنِبُوا الطَّاغُوْتَ۝۰ۚ (النحل۱۶:۳۶) اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے پرہیز کرو۔
 اللہ کی بندگی ، عبادت اور اپنے آپ کو اللہ کے احکام کے سامنے مکمل طور پر سپرد کر دینا ہی اسلام اور ایمان ہے ۔گویا صالح فرد، خاندان ، معاشرہ اورریاست کے قیام میں جو منطقی ربط پایا جاتا ہے، وہ اسلامی ریاست کے قیام کا منہج اور انسانی معاشرے میں معروف کے قیام اور منکر کے رفع کرنے کا اسوۂ انبیاؑ اور خصوصاًاسوۂ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔قرآن کریم نے اس پورے عمل کو صرف ایک اصطلاح ’اقامتِ دین‘ میں سمو دیا۔ نہ صرف حضرت یوسفؑ کے ہاتھوں قیامِ عدل و اصلاح بلکہ ہر دور میں اور ہر مقام پر دعوت،اصلاح اور معروف کے قیام کے لیے اس ایک اصطلاح میں وہ تمام پہلو شامل ہیں، جن کی تفصیل مقاصد ِشریعہ کی شکل میں ہمارے فقہا اور علما نے بیان کی ہے۔ جس کے تحت پورے دین کا قیام یا بالفاظِ دیگر قیام حاکمیت ِالٰہی ہے:
يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۝۳۹ۭ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً سَمَّيْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللہُ بِہَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۝۰ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ ۝۰ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ ۝۰ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۝۴۰(یوسف ۱۲:۳۹-۴۰) اے زنداں کے ساتھیو، تم خودہی سوچو کہ بہت سے متفرق ربّ بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟ اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمھارے آباو اجداد نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ فرماںروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کاحکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی (الدِّیْنُ القَیِّمُ )ٹھیٹھ سیدھا طریقِ زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ ربّ العزت نے نہ صرف اسلامی ریاست بلکہ انسانی زندگی کے تمام معاملات میں فیصلہ کن اور حرفِ آخر قوت کو صرف اور صرف اپنے لیے مقرر فرما دیا ہے، کہ حاکمیت سیاسی ہو یا معاشی ، دفاعی ہو یا ثقافتی اور علمی___ ہر شعبۂ حیات میں معیارِ حق صرف اور صرف یہ ہو گا کہ کیا اس بات سے رب کریم راضی ہے یا اس کی جگہ کسی اور چیز نے وہ فیصلہ کن مقام حاصل کر لیا ہے، جو صرف مقتدر اعلیٰ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے لیے ہے۔یہ توحید ذات اور توحید صفات کا جامع اظہار اور تعریف ہے۔
تصورِ توحید 
قرآن کریم کی روشنی میں ’توحید‘ ایک کلامی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ انسانی زندگی کے تمام اعمال کو متعین اور منظم کرنے والا اصول ہے۔ اگر ایک فرد اپنے خاندان میں معروف کو قائم کرنا اور منکر کو ختم کرنا چاہتاہے تو اسے سوچنا ہو گا کہ اس کے گھر میں جو رسوم و رواج صدیوں سے چلے آرہے ہیں، یا  ان کا تعلق جاہلیت کے طور طریقوں سے ہے، کیا وہ توحید سے مطابقت رکھتے ہیں؟ وہ شادی بیاہ کی رسمیں ہوں یا شوہر اور بیوی کا تعلق یا رشتہ داروں کے ساتھ بھلائی کا رویہ ہو،ان سب کی بنیاد توحید اور اللہ کو ربّ ماننا ہے۔ کیا اپنے بیٹے یا بیٹی کا نکاح کرتے وقت معیارِ انتخاب تقویٰ ، حُسنِ کردار اور  دین کاعلم اور اس پر عمل ہے یا لڑکے کی مادّی حیثیت، اعلیٰ عہدے پر فائز ہونا ، بڑا تاجر ہونا، سیاسی رہنما ہونا یا کسی خاص برادری اور ذات سے وابستگی ہے؟اگر بنیاد محض ذات برادری سے وابستگی اور مادی بلند مرتبت ہے تو یہ توحید کی نفی ہے ۔ اگر صلۂ رحمی کی بنیاد بدلے میں فائدہ حاصل کرنا، احسان جتانا، یا لوگوں کو دکھانا مقصود ہے تو واضح احادیث کی روشنی میں اس نیت کا انجام خیر نہیں ہے ، فلاح نہیں ہے ، کامیابی نہیں ہے بلکہ ذاتی تفاخر و نمایش ہے جو توحید کی ضد ہے ۔
اگر ایک شخص کے کاروباری مشاغل کا ہدف اپنی جگہ محض قا رون بننا ہے، تو اس کی تمام کوشش و جدو جہد کا کوئی تعلق اللہ کی بندگی یا توحید سے نہیں ہے بلکہ سیم و زر اور دولت ہی اس کے ’ربّ‘ ہیں۔ اسی طرح اگر ایک شخص سیاسی اقتدار اس لیے حاصل کرنے کی جدو جہد کر رہا ہے کہ   وہ تمام انسانوں پر حکم چلائے، اس کی شان میں قصیدے پڑھے جائیں، وہ خاص الخاص سمجھا جائے، تو اس کی جدو جہد ایک انتہائی وقتی ، محدود اور ناپایدار احساس کے لیے ہے ۔ اس کا کوئی عملی تعلق اس کے اس زبانی دعویٰ سے سے نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ کا بندہ ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ فقہا کے تحقیق کردہ اورمتعین کردہ مقاصد شریعہ(امام غزالی اور امام شاطبی کے زیر اثر) جو روایتی طور پر پانچ قرار دیے جاتے ہیں اور جس میں بعد کے فقہا و علما نے مزید اضافے کیے، ان سب کی بنیاد اگر کوئی ہے تو وہ توحید ذات اور توحید صفات ہے۔اور وہ حدیث محور ہے جو دین کے تمام معاملات کو ربِّ کریم کے لیے خالص کر دینے کی اخلاص نیت کو قرار دیتی ہے۔
تحریکاتِ اصلاح و دعوت جس بنا پر فرد، خاندان ، معاشرے اور ریاست کو مشرف بہ ایمان کرنا چاہتی ہیں، وہ یہی تصور توحید ہے کہ اللہ سبحانہٗ کی حاکمیت محض مسجد میں نہ ہو، نہ محض گھر میں ہو، اور نہ محض حرم کعبہ میں ہو بلکہ تمام انسانی معاملات کا محرک اور مقصد توحید کا قیام ہو۔ اسلام حقیقتاً دین و دنیا کی تفریق کو ختم کر کے تمام روے زمین کو اللہ تعالیٰ کی مسجد قرار دیتا ہے۔ تاکہ اخلاقِ حسنہ کی بنیاد پر تجارت ، سیاست ، معاشرت ، ثقافت، تعلیم ، علمی تحقیق اور سائنسی ترقی، غرض ہر انسانی کاوش کا مقصد بندگیِ ربّ بیان کرتے ہوئے بندگانِ رب کی فلاح ، مصالح عامہ اور ان حقوق کا تحفظ ہو جنھیں نفس، مال ،عقیدے اور عقل سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔یہ صرف اسی وقت پوری طرح ممکن ہے جب حاکمیتِ ربّ قائم ہو، اقامتِ دین ہو اور زندگی کے ہر کاروبار سے طاغوت ، ظلم ، بے اعتدالی اور انتہا پسندی کو دور کر کے عدل اجتماعی اور امن و صلح کا قیام عمل میں لایا جائے۔ – یہ بنیادی اور جوہری تبدیلی محض دعاؤں یا تسبیحات یا جلوسوں اور دھرنوں سے نہیں آسکتی۔ یہ منطقی طور پر فرد، خاندان، معاشرے اور ریاست کے ایمان لانے، یعنی عملاًقرآن و سنت کو اختیار کرنے سے ہی آ سکتی ہے۔ یہی انبیا کرامؑ کی دعوت ہے، یہی اسوہ نبویؐ اور یہی منہج قرآن ہے۔

حاکمیتِ الٰہی اور اقامتِ دین 

حاکمیت ِالٰہی اسی وقت قائم ہو سکتی ہے جب اقتدار اعلیٰ خالق کائنات کا ہو، جمہور کا نہ ہو۔ مغربی لادینی جمہوریت کا نقطۂ آغاز حاکمیت ِجمہور ہے اور اس بنا پر وہ کسی بھی اسلامی معاشرے میں نافذنہیں کی جاسکتی۔ جو نظام جمہور یا عوام کو حاکم بناتا ہے، وہ توحید کی نفی کرتا ہے اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس نظام کو احکام الٰہی کا باغی کہا جائے گا۔قرآن نے حاکمیت ِجمہور کی جگہ حاکمیت ِالٰہی  اور خلافتِ جمہور کا تصور دیا ہے، یعنی اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں اور ان کا بنیادی فریضہ اقامت دین کے لیے اللہ کی حاکمیت کو اجتماعی کوشش سے نافذ کرنا ہے اوریہ کام باہم مشاورت سے انجام دینا ہے۔ گویا ہر صاحب ِایمان مردوزن، قرآن کریم کے حکم (البقرہ۲:۳۰) کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نافذ کرنے پر مامور کیا گیا ہے۔ لہٰذا تمام مسلم جمہور اصلاً خلیفہ فی الارض ہیں،اگر وہ ان صفات سے متصف ہیں جو خود کلام الٰہی نے بیان کر دی ہیں، پھر وہ حاکمِ کُل ، جو کائنات کا خالق اور رب ہے وہ انھیں بطورِ امانت اختیارات دیتا ہے، جو اقامت دین کے لیے ضروری ہیں۔
اقامتِ دین کا تصور جو سورۂ یوسف کی آیت میں حاکمیت الٰہی کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے،یہ ہے کہ دین حق وہ ہے جو دین شاہ کے مقابلے میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی کو معاشرے میں نافذ کرے۔ چنانچہ قرآن کریم نے قوتِ نافذہ کے قیام کے حوالے سے  دین کی ہر اس تعلیم کو، جسے ہم نے اپنی محدود فکر کی بنا پر کسی خاص مفہوم میں قید کر دیا ہے ، جگہ جگہ واضح فرما دیا ہے۔ اگر صلوٰۃ ہے تو محض تنہائی میں ربّ کے حضور بندگی کے اظہا ر کے لیے کسی گوشے میں کھڑے ہو کر چند رکعتوں کا ادا کر دینا نہیں ہے، بلکہ اس کا باقاعدہ قیام، اُمت مسلمہ پر فرض ہے۔ اگر زکوٰۃ ہے تو وہ کسی پراحسان کرتے ہوئے مالی امداد نہیں ہے، بلکہ اس نظام کی اقامت کا نام ہے، جس میں رزقِ حلال پیدا ہو، پھر اس رزقِ حلال میں سے وہ حصہ جو اللہ نے اس رزق میں دیگر افراد کے لیے پہلے سے رکھ دیا تھا، وہ ان تک پہنچانے کا نظام قائم کیا جائے۔ اسی طرح روزہ فقط تزکیۂ نفس کے لیے اپنے آپ کو کھانے پینے سے روکنے کا نام نہیں،بلکہ پورے عالم میں جہاں کہیں اہل ایمان پائے جاتے ہوں، وہ اجتماعی طور پر روزوں کے اہتما م کے ساتھ وہ نظام تربیت قائم کریں ، جس میں جھوٹ سے اجتناب ، شہوت پرستی سے دُوری، غصے اور انتقامی جذبات کا خاتمہ ، غرض تمام فواحش سے اجتناب ہو اور تمام حسنات ، بھلائیوں ، نیکیوں ، معاشرے کے معذور افراد کی دیکھ بھال، انھیں کھانا کھلانے ، کپڑا پہنانے ، ان کی مشکلات کو دور کرنے کا اہتمام کیا گیا ہو۔

ہرشعبۂ زندگی میں نفاذ

اقامتِ دین محض محاسنِ اسلام پر ایک علمی مقالہ لکھنے کا نام نہیں، بلکہ دین کو مکمل طور پر تمام شعبہ جات میں نافذ کر دینے کی جدوجہد کا نام ہے، تاکہ:
وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّہٗ لِلہِ ۝۰ۚ (الانفال ۸:۳۹)دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے۔
 اپنی زمین پر اپنا نظام قائم ہوتے ہوئے دیکھنا اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے۔ وہ اس کام کے لیے انسانوں کو اپنا خلیفہ بنا کر انھیں اعلیٰ اجر کا مستحق بنانا چاہتا ہے۔ اور اگر کوئی انسانی گروہ اس سے بندگی کا عہد کرنے کے بعد بھی، اس فریضے کو ادا نہ کرے تو وہ اس گروہ کی جگہ کسی اور قوم کو لاکر یہ مقصد پورا کر سکتا ہے:
اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا۝۰ۥۙ وَّيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوْہُ شَـيْــــًٔـا۝۰ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝۳۹ (التوبہ ۹:۳۹)تم نہ اُٹھو گے تو خدا تمھیں درد ناک سزا دے گا ، اور تمھاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا ، اور تم خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے، اور اللہ ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔
اقامت دین کا واضح مفہوم قرآن و سنت کی جملہ اخلاقی تعلیمات کا نافذ کرنا ہے ، جس میں معاشی، معاشرتی ، تعلیمی ، سیاسی ، دفاعی، ثقافتی، غرض تمام ممکنہ انسانی سرگرمیاں شامل ہیں۔حاکمیتِ الٰہی اور اللہ کی بندگی چند مخصوص اوقات اور چند مخصوص مقامات تک محدود نہیں کی جا سکتی ۔ اسلام میں مکمل طور پر داخل ہونے کا مفہوم کبھی یہ نہیں تھا کہ سیاسی حاکمیت تو عوام کی ہو، اور صرف مسجد کے اندر حاکمیت اللہ کی ہو۔ حاکمیت ِجمہور کے برعکس خلافت ِجمہور کا واضح مفہوم یہ ہے کہ جمہور بطور خلیفۃ اللہ،    اللہ کے احکام کو نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کرے اور اللہ کی حاکمیت کے قیام کے لیے وہ نظام وضع کرے، جس کے ہر شعبۂ حیات میں قرآن وسنت کی پیروی کی جائے ۔
تحریکاتِ دعوت و اصلاح اسی بنا پر حاکمیت الٰہی اور خلافت جمہور کو اپنے منشور کا نقطۂ آغاز قرار دیتی ہیں ۔ اپنے آپ کو اللہ کا خلیفہ ثابت کرنے کے لیے ایک مسلمان کو وہ سب کچھ کرنا ہوگا، جسے قرآن کریم نے اہل ایمان کی صفات کی شکل میں تقریباً ہرصفحے پر بیان کر دیا ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلب ایمان سے روشن ہیں ۔جو کھڑے ، بیٹھے اور لیٹے اپنے ربّ کو یاد کرتے ہیں اور ان کی یہ یاد انھیں حصولِ دولت اور حصولِ اقتدار میں بھی اللہ کے خوف اور محبت سے وابستہ رکھتی ہے ۔ اس لیے جمعے کی نماز مکمل ہونے پر جب وہ زمین پر پھیلتے ہیں تو اپنے ساتھ اللہ کی یاد کو مسجد میں چھوڑ کر دولت و اقتدار کے بندے نہیں بن جاتے۔ اللہ کے فضل کا حصول اور اللہ کے ذکر کا اہتمام ہر جگہ ان کا شعار ہوتا ہے۔ بازار ہو یا پارلیمنٹ وہ جہاں بھی ہوں وہ عوام کی حاکمیت کے علَم بردار نہیں بنتے، خلافتِ جمہور اور حاکمیت الٰہی کے لیے اپنی تمام جدوجہد کو مرکوز کر دیتے ہیں ۔ اسلام جب تمام زمین کو اہل ایمان کے لیے مسجد قرار دیتا ہے تو پھر پارلیمنٹ ہو یا بازار، ہر جگہ اللہ کی حاکمیت کو اس کے خلیفہ کی حیثیت سے نافذ کرنے کا نام خلافتِ جمہور ہے ۔ یہ حاکمیت ِجمہور کی ضد اور تردید ہے۔ –یہ انسان کا مقصد تخلیق ہے ۔ 
دین کا یہ جامع اور اجتماعی تصور ہی تحریکاتِ دعوت و اصلاح کی پہچان ہے ۔ وہ دین کی محدود تعبیر کی جگہ دین کے کُلّی مفہوم کی علم بردار ہیں اور اس بنا پر انھیں محض ’نظریاتی‘ سمجھنا یا کہہ دینا ان کے عملی پہلو کو نظرانداز کر دینے کے مترادف ہے ۔ نظریات عموماً انسانوں سے وابستہ ہوتے ہیں، جب کہ اسلام محض ایک نظریہ نہیں ہے بلکہ مکمل نظامِ فکر وعمل ہے۔ یہ دستور حیات ہے ، یہ وہ ہدایت نامہ ہے جو اَبدیت کا حامل ہے ۔یہ کسی وقتی معاشرے کی پیداوار نہیں ہےکہ کسی انسانی تاریخ کے کسی مخصوس دور میں پیدا ہوا ہو،اور وقت کے ساتھ معدوم ہوجائے۔ – یہ ابدی صداقت اور ابدی عملیت سے آراستہ ہے ۔ کیوں کہ اس کی تعلیمات کسی انسان کے ذہن کی پیداوار نہیں ہیں، بلکہ یہ خالق کائنات کا براہ راست کلام ہے ۔اسی بنا پر اس میں اَبدیت پائی جاتی ہے اور ہر دور کے لیے افادیت ، فلاح، سعادت اور کامیابی کے اصول فراہم کر دیے گئے ہیں۔ 
اسلام انسانوں پر ’عربیت‘نافذ کرنے نہیں آیا ہے بلکہ عربوں کو اسلامیانے اور اسلام کا  علَم بردار بنانے کے لیے آیا تھا ۔تاکہ یہ علَم برداری کسی رنگ ، نسل، خطے میں نہیں بلکہ اپنے اصولوں اور عمل کی بنا پر انسانیت کی میراث بن جائے اور اس کی عالم گیریت اس کو تمام دیگر نظام ہاے حیات سے ممتاز کر دے۔

خلافت جمہور کے لوازم 

قرآن کریم نے سورۂ مومنون میں اجمالی طور پر ان صفات کا ذکر فرمایا ہے جو اہل ایمان کو اقوام عالم کی قیادت کے لیے تیار کرتی ہیں: 
یقیناً فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں، لغویات سے دُور رہتے ہیں، زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سواے اپنی بیویوں کے اور اُن عورتوں کے جو ان کی مِلکِ یمین میں ہوں کہ ان پر محفوظ نہ رکھنے میں وہ قابلِ ملامت نہیں ہیں، البتہ جو اُس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں، اپنی امانتوں اور اپنے عہدوپیمان کا پاس رکھتے ہیں، اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (المومنون ۲۳:۱-۱۱) 
قرآن کریم آخرت کی کامیابی اور فلاح کو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی اور نفاذ سے مشروط کرتا ہے ۔چنانچہ ایمان کے ساتھ ایمان کے پیمانے، یعنی وہ نماز جو خشیت الٰہی والی ہو، وہ زکوٰۃ جو نظام زکوۃ کے ساتھ ادا کی جائے ، وہ جنسی اخلاقیات جس میں جنسی تعلق صرف وہ ہو جو ربّ کریم نے جائز قرار دیا ہے ۔ 
اسی طرح ذمہ داریوں کو امانت اور اہلیت کے ساتھ پورا کرنا اور معاملات میں جو عہد و پیمان اللہ کی مخلوق کے ساتھ کیےہوں، وہ چاہے معاشی عہد ہوں، سیاسی وعدے اور ووٹ ہو ، بین الاقوامی معاہدے ہوں ، ایک شوہر کا بیوی کے ساتھ عقد نکاح ہو، غرض یہ کہ ہر وہ عہد اور معاہدہ جو انسانی معاشرے میں کیا گیا ہو، اگر اسے جیسا اس کا حق ہے پورا کیا گیا ہو، تو رب کریم جنت کا وعدہ فرماتا ہے کہ ایسے اہل ایمان کو میراثِ جنت ملے گی۔ یہ میراث محض جنت کی حد تک نہیں ہے بلکہ زمین میں اقتدار و خلافت کی شکل میں بھی بطور انعام عطا فرمائی جاتی ہے: ’’ اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد کہہ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے(النبأ ۱۰۵:۲۱)۔ اسی بات کو مزید وضاحت سے حضرت موسٰی کے حوالے سے فرمایا گیا:
موسٰی نے اپنی قوم سے کہا ، ’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو ، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی انھی کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں‘‘۔ اس کی قوم کے لوگوں نے کہا’’ تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے ، اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں ‘‘۔ اس نے جواب دیا ’’قریب ہے وہ وقت کہ تمھا را رب تمھارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو‘‘ ۔(الاعراف۷:۱۲۸-۱۲۹) 
 قرآن کریم نے زمین پر وارث بنائے جانے یا خلافت جمہور عطا کیے جانے کو جن شرائط سے وابستہ کر دیا ہے، وہ قرآن کریم نے جگہ جگہ بڑی وضاحت سے بیان فرما دی ہیں ۔یہاں تقویٰ اور صبر کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے ۔ اس سے قبل عہد و امانت ، قیام نظامِ صلوٰۃ اور صنفی اخلاقیات کو اور دیگر مقامات پر صحیح ناپنے تولنے کو ، صلہ رحمی کو ، معروف کے قیام اور منکر کے خلاف جدوجہد کرنے کو ، قوانین الٰہی کے قیام کے ذریعے حاکمیتِ الٰہی کے قیام کو ، غرض کثیر مقامات پر یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ خلافت جمہور اسی وقت بطور انعام عطا کی جاتی ہے ، جب اقامت دین صبر وحکمت اور بغیر کسی مداہنت کے اختیار کی جائے۔
اس خلافت یا وراثت پر جن افراد کو مامور کیا جاتا ہے، ساتھ ہی ان پر یہ بات واضح کردی جاتی ہے کہ یہ خلافت تمھارا امتحان ہے کہ تم کس طرح اللہ کی بندگی ، اقامت دین اور نفاذ احکام الٰہی کرتے ہو ۔ اگر حصول اقتدار کے بعد وہ یہ سمجھ بیٹھیں کہ ہم اپنی ووٹ کی قوت سے یا سڑیٹ پاور سے یا اپنے عوامی نعروں کی بنا پر کامیاب ہوئے ہیں، اس لیے اب جو چاہے کریں تو بہت جلد ان کو زوال آجاتا ہے اور اگر وہ اسے عطیۂ الٰہی سمجھتے ہوئے ، امانت سمجھتے ہوئے ، امانت کا حق ادا کرتے ہیں، تو زمین ان کے لیے اپنے خزانے اُگل دیتی ہے اور آسمان رحمتوں کی بارش کر دیتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ آخرت کی نہ ختم ہونے والی زندگی میں وہ جنت کے وارث قرار پاتے ہیں ۔اقامتِ دین اور نظام اسلامی کے قیام کے لیے، جن خصوصیات اور ذمہ داران کو جن صفات کی ضرورت ہوتی ہے، قرآن کریم نے ان کو بھی آسان اور متعین الفاظ میں طے کر دیا ہے، تاکہ اہل ایمان کسی ابہام یا غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔

حاکمیت الٰہی 

اسلامی سیاسی نظام کی پہلی اور سب سے نمایاں خصوصیت شخصی آمریتوںکی جگہ حاکمیت ِالٰہی کا قیام ہے، یعنی ریاستی پالیسی اور فیصلوں کی بنیاد الہامی ہدایت ، قرآن و سنت کی حاکمیت ہے ۔ حاکم اعلیٰ صرف اور صرف اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ ہے ۔ کوئی صدر اور کوئی پارلیمنٹ حاکمیت الٰہی سے برتر نہیں ہے اور نہ صدر ، نہ وزیر اعظم ، نہ پارلیمنٹ یا اس کا کوئی رکن قانون سے برتر یا مستثنیٰ (immune) ہے۔ کسی صدر یا وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کو قرآن و سنت کی دی ہوئی شریعت کے کسی حکم میں تبدیلی یا معافی کا اختیار حاصل نہیں ہے۔مثال کے طور پر اگر قانونی کارروائی کے بعد ایک قاضی یا جج کسی قاتل یا باغی کو شریعت کے مطابق سزا دیتا ہے، تو وہ سزا نہ صدر، یا وزیر اعظم معاف کرسکتا ہے اور نہ سپہ سالار اعظم۔ 
شورائیت
دوسری اہم خصوصیت اسلامی نظامِ سیاست کا شورائی، یعنی مشاورتی اور consultative ہونا ہے ۔جو دین شارحِ اعظمؐ کو مشاورت سے فیصلے کرنے کا حکم دیتا ہے اور پابند کردیتا ہے ، وہ کسی نام نہاد صدر یا وزیر اعظم کو ویٹو (veto)کا حق نہیں دے سکتا ۔ ایک مثالی اسلامی ریاست میں حکمران شوریٰ کے پابند ہیں۔ کیا وجہ تھی کہ اموالِ فئے کےمعاملے میں صحابہ کرام ؓتین دن رات مصروف شوریٰ رہے اور جب ایک نص قرآنی مل گئی، تو پھر عزم الامور اختیار کیا۔کیا وجہ تھی کہ زکوٰۃ کے منکرین کے خلاف اقدام پر مسلسل شوریٰ ہوئی اور جب خلیفۂ وقت نے قرآنی دلیل کی بنا پر ثابت کیا کہ صلوٰۃ اور زکوٰۃ کے منکر کے خلاف جہاد شریعت کا تقاضا ہے، تو انشراح قلب کے ساتھ سب نے اس پر عمل کیا۔ کیا وجہ تھی کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر و حنین اور کئی دیگر مواقع پر اجتماعی راے پر عمل کرتے ہوئے قرآن کے اصول کو عملاً نافذ فرمایا۔شوریٰ کا مطلب ہی یہ ہے کہ اصحاب شوریٰ مصالح امت کے پیش نظر پوری قوت سے مسئلے کے ہر پہلو پر بحث و گفتگو کریں۔ لیکن جب ایک بات طے ہو جائے، چاہے اس کے لیے ایک تعداد کو اپنی راے کی قربانی دینی پڑے تو پھر اجتماعی فیصلے کی برکت پر اعتماد کرتے ہوئے وہی راے سب کی راے ٹھیرے، اور کسی کو یہ حق نہ دیا جائے کہ وہ مجلس سے باہر اپنی دانش وری کے دعوے کرتا رہے ۔
امانت واہلیت 
تیسرا اہم اصول ذمہ داریوں کا صرف ان افراد کو دیا جانا ہے، جو ان ذمہ داریوں کے   اہل ہوں۔ قرآن کے اس واضح حکم کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایسے فرد کو جو خود تعلیم کا مستحق ہو، وزیر تعلیم بنانا، یا کسی ایسے فرد کو جو طب کی الف با سے بھی واقف نہ ہو وزیر صحت بنانا، یا کسی ایسے فرد کو جو اُمورِمملکت کے بارے میں کچھ بھی نہ جانتا ہو، محض اس کی شکل وصورت اور صحت مندی دیکھ کر اُمورِمملکت اس کے حوالے کر دینا قرآنی اصول اور روح کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ 
پاکستان کے حوالے سے دستور کی دفعہ ۶۲ اور ۶۳ پر اگر خلوصِ نیت سے عمل کیا جائے، تو اس غلطی کے امکان کو بہت کم کیا جاسکتا ہے ۔امانت سے مراد محض مالی امانت نہیں ہے، بلکہ بات اور زبان کی ا مانت ، صلاحیت کی امانت ، جو اختیارات کسی کے سپرد کیے جائیں، ان کی حفاظت، خود اپنے دینی شعور کی حفاظت اور اس کا صحیح استعمال ، غرض یہ امانت واہلیت اسلامی نظام حکومت کی ایک بنیادی خصوصیت ہے ۔

احتساب 

اسلامی ریاست میں اعلیٰ ترین افراد کوبھی جو ذمہ داری دی گئی ہو، اس کے لیے وہ عوام الناس کے سامنے جواب دہ ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی بات سننے سے پہلے عوامی اجتماع میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ آپ یہ بتائیں کہ کُرتا جو آپ نے پہنا ہے، اس کے لیے اضافی کپڑا کہاں سے آیا ؟ اس سوال کے اٹھانے پر نہ خلیفہ کے محافظ سوال اٹھانے والے پر لپکے اور نہ اسے کسی نے گھور کر دیکھا بلکہ خلیفۂ وقت نے اپنے بیٹے سے جواب کے لیے کہا، جس نے عوام کے سامنے یہ بات واضح کر دی کہ چوںکہ وہ کپڑا جوخلیفہ کے حصے میں ایک عام شہری کی طرح آیا تھا چھوٹا تھا، اس لیے اس نے اپنے حصے کا کپڑا بھی باپ کو دے دیا، تاکہ اس سے کم از کم اس کے باپ کا ایک کُرتا بن جائے۔ یہ احتساب اختیارات کا بھی ہے ، ذاتی زندگی کا بھی، مالی معاملات کا بھی اور ریاستی حکمت عملی کا بھی۔ اور یہ محض پارلیمان یا شوریٰ کے افراد کا حق نہیں ہے بلکہ ہر عام شہری یہ حق رکھتا ہے ۔کیا دنیا کی کسی پارلیمنٹ کا ارتقا اس مقام تک پہنچا ، جس سے اسلام اپنی سیاسی حکمت عملی کا آغاز کرتا ہے !

حکمرانوں کی صفات 

  • اسلامی ریاست کا مقصد حاکمیت ِالٰہی اور اقامت ِدین کا نفاذ ہے۔ اس لیے اس کا نفاذ کر نے والوں کا ریاست کی بنیاد اور مقصد اور ہدف پر یقین اور دل و جان سے خلوص نیت کے ساتھ جدو جہد کرنا شرط اوّل ہے۔یہ ایسا کام نہیں ہے کہ اسےٹھیکے پر یا کرایے پر کام کرنے والوں کو دیا جائے،یعنی out source کر دیا جائے اور محض ایسے پیشہ ور ٹیکنو کریٹ افراد جو انتظامی اُمور میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہوں لیکن ریاست کے نظریے پر یقین نہ رکھتے ہوں، انھیں ذمہ داری دے دی جائے۔
  • حاکمیتِ الٰہی کے قیام اور اقامت دین کے لیے وہ افراد ہی موزوں ہو سکتے ہیں، جو قرآن و سنت ، فقہ، اداراتی امور سے پوری واقفیت رکھتے ہوں ۔یہی مفہوم ہے امانت و دیا نت کا ، یہی مفہوم ہے ایفاے عہد کا۔ یعنی صرف وہ جو عہد کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، وہی اس کام کو صحیح طور پر انجام دے سکتے ہیں ۔اس کو یوں سمجھیے کہ اقامت ِصلوٰۃ کے لیے بہتر تو یہ ہے کہ مسجد کے اردگرد رہنے والوں میں جو قرآن سے زیادہ تعلق رکھتا ہو،قرأت کے اصول جانتا ہو، جس کا کردار و عمل محلے والوں کے لیے مثالی ہو، وہی امامت کرے، لیکن عموماً ہر جگہ یہ شکل ممکن نہیں ہوتی۔ چنانچہ ایک امام کا تقرر کر دیا جاتا ہے۔ عموماً امام وہی ہو تا ہے جو خود قرآنی تعلیمات سے آگاہ ہو ، حفظ اور قرأت میں دوسروں سے افضل ہو ، ایمان داری اور تقویٰ میں معروف ہو۔ ہم کسی مسجد میں کسی ایسے فرد کو، جو نہ قرآن کو اپنی کتاب مانتا ہو، نہ رسول کے خاتم النبیینؐ ہونے پر یقین رکھتا ہو، لیکن ہوبہت خوش آواز، اس کی خوش آوازی کی بنا پر امام مقرر نہیں کرتے۔ یہ ’عہدہ‘ کسی گویے کو  نہیں دیا جا سکتا۔ اس ذمے داری کے کچھ مطالبات ہیں جن پر اس کو پورا اُترنا چاہیے ۔ایسے ہی اسلامی ریاست میں سربراہی کی ذمہ داری کے سزاوار صرف وہ ہیں، جن میں مطلوبہ صفات ہوں اور خود اس کے طالب نہ ہوں۔ ان کو اس ذمہ داری پر مقرر کیا جاسکتا ہے،چاہے وہ پارلیمان کے ذریعے منتخب ہوں یا براہِ راست منتخب ہوں۔ گویا پہلی صفت ذمہ داران کا خود اسلام کا علم اور اس پر مستقل عمل کرناہے ۔
  • ایمان ، علم ، تقویٰ اور انتظامی صلاحیت کے ساتھ ساتھ منتخب کرنے والوں کا اعتماد بھی ایک بنیادی شرط ہے۔بہترین حکمران وہ ہیں جو اپنے عوام سے محبت کریں اور عوام ان سے محبت کریں ۔ وہ فرماں روا جو عوام سے خائف ہوں اور جن کے آگے پیچھے محافظوں کی ایک فوج ہر وقت انھیں اپنے عوام سے ’بچانے‘ کے لیے موجود رہے ، اسلامی ریاست کے لیے سخت ناموزوں افراد سمجھے جاتے ہیں۔ 
  • ریاستی امور چلانے کے لیے فرما ںروا میں اجتہادی صلاحیت کا ہونا بھی ایک شرط ہے۔ یہ اجتہاد محض معاشرتی مسائل کا نہیں بلکہ دفاعی معاملات میں ، بین الاقوامی تنازعات میں ، ملک کی معاشی ، تعلیمی حکمت عملی میں، غرض یہ کہ ان تمام معاملات میں اس کا مجتہد ہونا ضروری ہے تاکہ   وہ قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح فیصلہ کر سکے ، ایک بنیادی شرط ہے ۔
  • یہ خیال بے بنیاد ہے کہ اسلامی ریاست عیسائیت کی طرح تھیا کریسی(پاپائیت) کی قائل ہے۔اسلام وہ واحد دین ہے جس میں پادریت یا برہمنیت کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا ۔ کوئی خاص طبقۂ علما یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ حکومت کرے۔ اس بنا پر اسلام میں نہ تھیا کریسی ہے اور نہ فرقہ واریت بلکہ صحیح معنی میں خلافت جمہور ہے ۔ عوام میں سے جو بھی باصلاحیت فرد اپنے تقویٰ،  علم اور تجربے کے لحاظ سے دوسروں سے بہتر ہو، وہ بڑی سے بڑی ذمہ داری اٹھا سکتا ہے ۔ اسی طرح ریاست کسی فرقے یا مسلک کی ریاست نہیں ہے۔ گویا اس کا کوئی فقہی مسلک یا مذہب نہیں ہے۔ یہ صرف شریعت کی بالادستی چاہتی ہے اور معاملات میں عام شہری جس فقہی مسلک کے قائل ہوں، اس کی روشنی میں ان کے معاملات طے کیے جاتے ہیں ۔ریاست مسالک سے بلند ہوکر قرآن و سنت کے نفاذ کی ذمہ دار ہے۔
  • اسلامی ریاست کے خدوخال کے حوالے سے یہ امید رکھنا کہ قرآن کریم یا سنت میں علم سیاست اور اداراتی علوم کی کسی نصابی کتاب کی طرح ہر موضوع پر الگ ابواب قائم کیے گئے ہوں، قرآن سے ناواقفیت کی علامت ہے ۔ قرآن و سنت واضح عالم گیر اصول اور چند صورتوں میں متعین احکام دیتے ہیں، تاکہ انسانی معاشرے میں تبدیلی و ارتقا ہوتا رہے اور یہ اصول اس تبدیلی سے متاثر ہوئے بغیر تبدیل شدہ حالت کے بارے میں رہنمائی فراہم کر سکیں ۔ 

ہم نے مختصر طور پر محض چند بنیادی امور کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اسلامی ریاست کیا ہے۔ مدینہ منورہ میں اس کے قیام اور بعد کے اَدوار پر مفصل اور تحقیقی موادکی کمی نہیں ہے ۔ ایک جامع کتاب محترم مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی اسلامی ریاست ہے ، دوسری محترم مولانا امین احسن اصلاحی کی معرکہ آرا تصنیف اسلامی ریاست ہے۔ پھر ڈاکٹر حمید اللہ کے مضامین پر مبنی Muslim Conduct of State  ایک وقیع علمی کتاب ہے ۔ علامہ محمد اسد کی اسلام کا سیاسی نظام  (انگریزی میں ) ایک اہم تصنیف ہے ۔ 
انگلستان سے اسلامک کونسل آف یورپ نے تین نہایت اہم بیا نیے (declaration  ) شائع کیے:lUniversal Declaration of Islam, lInternational Declaration of Islamic Human Rights, lA Model Islamic Constitution یہ ڈیکلریشن اسلام کے پورے نظام کو جدید حالات کے پس منظر میں پیش کرتے ہیں اور انھیں عالم اسلام کی مقتدر شخصیات نے مرتب کیا ہے۔پھر ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی صدارت میں جاری ہونے والا بیانیہ الوسطیۃ  بھی اس سلسلے کی ایک قیمتی دستاویز ہے۔مختصراً جماعت اسلامی کے ۱۹۵۸ء سے ۲۰۱۸ء تک کے انتخابات کے جاری ہونے والے منشور بھی اس سلسلے میں تبدیلی کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔
اس لیے یہ کہنا کہ مدینہ کی ریاست کیسی تھی اور آج کس طرح اس کی روشنی میں ریاست قائم ہو؟ کوئی قیاسی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ انتہائی واضح اور ٹھوس حقائق کی شکل میں، ان تمام سوالات کے جواب تحریری شکل میں موجود ہیں ۔ ایسے واہمے بعض حضرات اسلامی مصادر سے دُوری کی بنا پر یا اپنی سادہ لوحی کی بنا پر اٹھاتے ہیں ۔اس تحریر میں ہمارا مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ عصر حاضر میں تحریکاتِ دعوت و اصلاح ، اقامت دین اور اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جو کوششیں کر رہی ہیں، اختصار سے ان کے تصور کے خدوخال کیا ہیں، اور یہ بتانا ہے کہ نہ تو وہ کسی مغربی لا دینی ، اشتراکی یا سرمایہ دارانہ تصور سے متاثر ہیں اور نہ ان کی دعوت اور مغربی لادین جمہوریت میں کوئی مشابہت پائی جاتی ہے ۔ اسلام حاکمیت الٰہی اورخلافت جمہور کا علَم بردار ہے،جو مغربی تصور ِریاست سے بالکل مختلف تصور ہے۔ دونوں میں بُعد المشرقین ہے۔ اسے سمجھے اور مدّنظر رکھے بغیر صحیح نتیجے تک پہنچنا ممکن نہیں۔
 

میرا سایہ اچانک پکار اٹھا : میں تمھارے ساتھ چلتے چلتے اُکتا چکا ہوں۔
میں: کیوں؟
سایہ: کیوں کہ تم مجھے وہاں وہاں لیے پھرتے ہو، جہاں جانا میری فطرت کے خلاف ہے۔ تمھارے کاموں پر بظاہر خوب صورتی اور چمک دکھائی دیتی ہے، لیکن اندرون میں ریاکاری کا اندھیرا ہوتا ہے۔ کاش میں تمھارا سایہ نہ ہوتا!
میں: تم مجھے چھوڑنا چاہتے ہو، لوگ تو مجھ سے ملنے کے خواہاں رہتے ہیں۔ حیرت ہے تمھاری راے پر!
سایہ: اخلاق کے جوہر تو ساتھ رہنے پر ہی کھلتے ہیں۔ لوگ میری طرح تمھارے ساتھ نہیںرہتے۔ تم اپنے دل میں دیکھو گے تو سیاہی ہی نظر آئے گی۔
میں: اس سیاہی کا سبب کیا ہے؟
سایہ: جب کاموں سے اخلاص رخصت ہوجائے اور معاملات میں دکھلاوا اور ریاکاری شامل ہوجائے تو دل سیاہ ہوجاتے ہیں۔
میں: کیا یہ چیز واقعی دل پر اس درجہ اثر کرتی ہے؟
سایہ: ہاں! اخلاص ہی تو عمل کی اساس ہے۔ اسی لیے کہا گیا ’جو انسان اخلاص سے خالی ہو، اس سے کہہ دو کہ اپنے آپ کو تھکانے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘۔اللہ تعالیٰ نے بھی اس کا حکم دیا ہے: ’’انھیں تو صرف اس بات کا حکم دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے‘‘۔(البینۃ ۹۸:۵)
امام محاسبیؒ بیان کرتے ہیں: ’’ جب درخت کی جڑیں باہر نظر آنے لگتی ہیں تو وہ سیراب ہونا بند کردیتا ہے۔ پھر اس کے پتّے سوکھنے لگتے ہیں، وہ پھل دینا بند کردیتا ہے اور اس کی قدر وقیمت گھٹ جاتی ہے۔ لیکن اگر اس کی جڑیں زمین کے اندر ہوں تو وہ خوب سیراب ہوتا ہے خوب سرسبز و شاداب رہتا ہے اور اچھے پھل دیتا ہے۔ یوں اس کی قدروقیمت بھی بڑھ جاتی ہے‘‘۔
میرے دوست اسی طرح جب تمھارا عمل اللہ کے لیے خالص ہوگا، اللہ کی شریعت میںاس کی جڑیں ہوں گی، تو انجام بھی خوب ہوگا۔
میں: لیکن یہ کام تو میرے لیے بہت دشوار ہے۔
سایہ: تم صحیح کہہ رہے ہو، اس کی و جہ یہ ہے کہ نیت وہ سب سے بڑا دروازہ ہے، جس سے شیطان کو آنے کا موقع ملتا ہے۔ وہیں سے وہ آدمی کے عمل کو بگاڑتا ہے۔ امام سفیانؒ نے اسی لیے تو کہا تھا: ’’ مجھے سب سے زیادہ دشواری اور مشکل اپنی نیت کی اصلاح میں پیش آتی ہے‘‘۔
میں: لیکن لوگ تو نہیں جانتے کہ میں ریاکار ہوں؟
سایہ: ذرا سوچو، کیا تمھارا معاملہ لوگوں کے ساتھ ہے یا لوگوں کے ربّ کے ساتھ ہے؟  اور پھر اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز چھپنے والی نہیں ہے۔ سیدقطب شہیدؒنے تو لکھا ہے:
اس کے یہاں قیامت کے دن ہر چیز بے نقاب ہوگی۔ جسم بے نقاب، نفس بے نقاب، ضمیر بے نقاب، عمل بے نقاب، انجام بے نقاب، رازوں پر سے تمام پردے گرپڑیں گے، اور جسموں کی طرح روحیں بھی بے لباس ہوجائیں گی۔
اس دن لوگ تمھارے کام نہیں آسکیں گے میرے دوست۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرو۔ چھپ کر عبادت کرو، تاکہ شیطان تمھاری نیکیاں چوری نہ کرلے۔
 میں تمھیں ایک بزرگ کاواقعہ سنائوں: ’’انھوں نے چالیس سال ایسے روزہ رکھنے کا اہتمام کیا کہ کوئی نہیں جان سکا۔ گھر سے روز روٹیاں لے کر بازار کے لیے نکلتے تھے۔ وہاں انھیں صدقہ کرکے خود روزے سے رہتے تھے۔ گھر والے سمجھتے تھے کہ بازار میں جاکر کھالیا اور بازار والے سمجھتے رہے کہ گھر سے کھا کر نکلے ہیں‘‘۔
میں: میرے سایے ،تو نے میرے سوچنے کا زاویہ ہی بدل دیا لیکن یہ تو بتا کہ ریاکار اور ظاہردار کی علامتیں کیا ہیں؟
سایہ: حضرت علیؓ فرماتے ہیں: 
ریاکار کی تین نشانیاں ہیں: جب وہ تنہا ہوتا ہے تو سستی کرتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے تو چاق وچوبند ہوجاتا ہے۔ تعریف ہو تو عمل زیادہ کرتا ہے ، مذمت ہو تو عمل کم کرتا ہے۔
میں: افسوس صد افسوس! میرے تو سارے کام بے کار اور برباد گئے۔
سایہ: نیا عزم کرو، اللہ کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کرو۔ عمل میں اخلاص کے لیے ہمیشہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تمھارے عمل میں بھی وہی برکت دے، جو اس نے عمر بن عبدالعزیزؒ کے عمل میں دی تھی۔
میں: اخلاص نے عمر بن عبدالعزیزؒ کی شخصیت کو کیسے بابرکت بنا دیا تھا؟
سایہ: عمر بن عبدالعزیزؒ کے چچا زاد بھائی ہشام بن عبدالملک ان کے بارے میں کہتے تھے: ’’میں سمجھتا ہوں کہ عمر کے ہر قدم کے ساتھ نیک نیتی کارفرما ہوتی تھی‘‘۔
 اس پر شیخ راشد لکھتے ہیں:’’ اسی لیے عمر بن عبدالعزیزؒ نے دو سال سے بھی کم مدت میں دونسلوں کے ٹیڑھ کو درست کردیا‘‘۔
 آج بھی داعی اسلام کو چاہیے کہ وہ اس بگاڑ کو بہت بڑا نہ سمجھے جو پورے عالم اسلام پر چھایا ہوا ہے، کیوںکہ اگر اس کے بھی ہر قدم کے ساتھ خلوص نیت شاملِ حال رہا تو اللہ کے حکم سے دو سال سے کم عرصے میں وہ دونوں طاقتوں کو شکست دے سکے گا۔
میں: تمھاری بات تو پہاڑوں کو ہلا ڈالنے والی ہے۔ میں بھی ان شاء اللہ اب نیک نیتی کے ساتھ حرکت وعمل کے میدان میں کود پڑوں گا۔
سایہ: میرے دوست اپنے آپ کو اخلاص کے لیے آمادہ کرنا شروع کردو اور حسن نیت کے ساتھ میدان عمل میں آجائو، قبل اس کے کہ تمھارا سایہ تمھیں جلا ڈالے۔
میں: کیا کہا آپ نے؟ سایہ اور جلاڈالے؟
سایہ: ہاں میرے دوست! سایے بھی دو طرح کے ہوتے ہیں:
عذاب کا سایہ، جب قیامت کے دن اللہ پاک کہے گا:
اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِہٖ تُكَذِّبُوْنَ۝۲۹ۚ اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰى ظِلٍّ ذِيْ ثَلٰثِ شُعَبٍ۝۳۰ۙ  لَّا ظَلِيْلٍ وَّلَا يُغْنِيْ مِنَ اللَّہَبِ۝۳۱ۭ [المرسلات۷۷: ۲۹-۳۱] چلو اس سایے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے، نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا۔
دوسرا رحمت کا سایہ جس کے بارے میں رب کریم نے فرمایا: 
وَاَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ۝۰ۥۙ مَآ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ۝۲۷ۭ  فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ۝۲۸ۙ  وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ۝۲۹ۙ  وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ۝۳۰ۙ  وَّمَاۗءٍ مَّسْكُوْبٍ۝۳۱ۙ [الواقعہ ۵۶:۲۷ - ۳۱] اور دائیں بازو والے، دائیں بازو والوں کی خوش نصیبی کاکیا کہنا، وہ بے خار بیریوں اور تہہ بہ تہہ چڑھے ہوئے کیلوں اور دو رتک پھیلی ہوئی چھائوں اور ہردم رواں پانی میں ہو ں گے۔
امام قرطبیؒ کہتے ہیں:’’جنت میں دھوپ نہیں ہوگی، جنت میں تو سایہ ہی سایہ ہوگا‘‘۔
تو میرے ساتھی خود ہی طے کرو تم کون سا سایہ پسند کرو گے؟

اور غفلت

میں دار المطالعے میں داخل ہوا تو کیا دیکھا کہ ایک کتاب زمین پر پڑی ہوئی ہے۔ میں نے تعجب سے سوچا، اسے یہاں کس نے ڈال دیا ہے؟ میں تو کتابیں سلیقے سے رکھنے کا شوقین ہوں، پھر اسے زمین پر کس نے گرادیا؟ کیا یہ خود ہی گرپڑی ہے یا کسی اور نے میری کتاب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے؟ میں نے کتاب اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ کتاب میں سے یکایک ایک لفظ زمین پر گرپڑا۔ میں نے اسے اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو اس نے کہا: ’مجھے مت پکڑو‘۔ میں نے تعجب سے دیکھا تو یہ لفظ تھا: ’غفلت‘۔
میں:کیا الفاظ بھی بولتے ہیں؟
کتاب : ہاں، جب غفلت حد سے بڑھ جاتی ہے تو الفاظ بھی پکاراٹھتے ہیں۔
میں: کیا مطلب؟ کیا میں غافل ہوں؟
غفلت: تمھارا دل ایمانی کیفیات سے غافل ہے۔ اب دیکھو نا، تمھارے اندر مراقبے اور غوروفکر کی کمی ہے ۔ مجاہدے کی کمی ہے۔ نہ احتساب ہے اور نہ توبہ اور انابت ہے۔
میں: ہاں تمھاری بات تو صحیح ہے۔ میں فکری اور تحریکی لحاظ سے تو ٹھیک ہی ہوں، لیکن میری زندگی کا ایمانی پہلو کمزور ہے، روحانی غفلت میری زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ لیکن اے غفلت! یہ تو بتا اس کا سبب کیا ہے؟
غفلت: آہ! غافلوں کے ساتھ رہنا ہی اس کا سبب ہے۔ وہ بدی کو اچھا بنا کر پیش کرتے ہیں اور برائیوں کو خوبصورت لباس میں دکھاتے ہیں۔ اسی لیے تو اللہ نے ان کے ساتھ رہنے اور ان کی بات سننے سے منع فرمایا ہے:
وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَكَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا۝۲۸ (الکہف۱۸:۲۸)اس کی بات مت مانو جس کے دل کو ہم نے غافل کردیا اور اس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کی۔ 
میں: کیسے معلوم ہو کہ دل غفلت کا شکار ہے؟
غفلت: سید قطب شہیدؒ کے الفاظ میں: ’’جب انسان کی پوری توجہ اس کی ذات، اس کے مال، اس کے بچوں، اس کے سازوسامان اور شہوتوں کی طرف ہوجائے اور وہ اپنے دل میں اللہ کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑے‘‘۔
میں: تمھارا خیال ہے کہ غفلت والوں کی صحبت کا بھی اثر پڑتاہے، حالاںکہ جو خود غافل ہیں وہ دوسروں پر کیا اثر ڈالیں گے؟
غفلت: ارے اللہ کے بندے! لمحے بھر کے لیے سوچو کہ، دھواں گھر کو جلاتا نہیں مگر کالا تو کردیتا ہے۔
میں: یہ مثال تو بڑی پیاری ہے، لیکن یہ بتائو کہ ایمان کے تقاضوں سے غفلت کا، زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے؟
غفلت: غافل کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب اسے اللہ کے ساتھ تنہائی حاصل ہوتی ہے تو اس کے دل میں خوشی اور انبساط کا احساس نہیں پیدا ہوتا۔
اللہ کی یاد اور قرآن کی تلاوت اسے مسرور اور سرشار نہیں کرتے۔
اللہ کے دیدار کا شوق اس کے دل کو بے تاب نہیں کرتا۔
اسی لیے تو اللہ رب العزت نے کہا ہے:
وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَــہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ۝۲۰۵  (اعراف۷:۲۰۵) اپنے رب کو صبح وشام یاد کیا کرو ،دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی، ہلکی آواز کے ساتھ۔ تم ان لوگوں میں سے نہ ہوجائو جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
میں: (پُرجوش ہوکر): ارے ہاں، یہی تو میری پریشانی ہے۔
میں لوگوں کی بھیڑ میں مل جل کر رہنا ہی پسند کرتا ہوں، اور مجھے اب اسی کی عادت پڑگئی ہے۔ اب اللہ کے ساتھ خلوت میں اور اس کی یاد میں مشغول رہنا مجھے راس ہی نہیں آتا۔ غفلت کے بارے میں مجھے کچھ اور بتائو۔
غفلت: تھوڑی دیر کے لیے مان لو کہ تم ایک بے آب وگیاہ صحرا میں گم ہوگئے ہو۔ کھانا پانی ختم ہوگیا ہے اور تم موت کے منہ کے قریب پہنچ گئے ہو اور پھر مایوس ہوکر اپنے آپ کو موت کے حوالے بھی کردیا ہے۔ابھی تم موت کا انتظار ہی کررہے ہو کہ دور ایک قافلہ نظر آیا اور تم اُٹھ کر اس کی جانب دوڑ پڑے۔ دوڑتے میںایک کانٹا تمھارے تلوے میں چبھ گیا اور تم رُک کر اسے دیکھنے لگے۔ اسی دوران میں پھر جو نظر اٹھائی تو دیکھا کہ قافلہ تو کسی ٹیلے کی آڑ میں چلاگیا ہے۔نظروں سے گم ہوگیا ہے۔
میں: اس میں بھلا غفلت کی کون سی بات ہے؟
غفلت: یہی کہ دنیا کے کانٹوں میں مصروف ہوجانا۔
میں:دنیا کے کانٹے کیا ہیں؟
غفلت: یہ کانٹے ہیں: دنیا سے وابستہ ہوجانا، دل کو پوری طرح مال ومنصب، زن اور زیب و زینت کی طرف جھکا دینا، اور ان چیزوں کو اللہ کے حقوق سے بھی بڑھ کر سمجھ لینا۔ 
یاد رکھو! جب غفلت چھاجاتی ہے ، خواہ وہ دل کی ہو یا زبان کی ، کان کی ہو یا آنکھ کی، تو اس وقت انسان کی سخت آزمایش ہوتی ہے۔
میں: مجھے ایک بزرگ کی بات یاد آگئی۔ ایک روز انھوں نے کہا تھا: ’’جب تم آزمایش زدہ کو دیکھو تو اللہ سے عافیت کی دعا مانگو‘‘۔ پھر مجھ سے کہنے لگے: ’’جانتے ہو آزمایش زدہ کون ہوتے ہیں؟ وہ جو اللہ سے غافل ہوں‘‘۔
غفلت: ہاں، یہ بہت سچی بات ہے۔ امام ابن جوزیؒ کہتے ہیں: 
خوش خبری اس کے لیے ہے جو نیند سے بیدار ہوجائے، ماضی کے بگاڑ پر آنسو بہائے اور پھر نافرمانی کے دائرے سے نکل کر نیکی کے دائرے میں آجائے۔ ہوسکتا ہے اس کا صحیح اعترافِ گناہِ، اس کے بُرے ارتکابِ گناہ کو مٹا دے۔ لیکن یہ اس دن سے پہلے ہو، جب اس کی بات بے سود اور اس کا عذر بے وزن ہوگا۔
یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
غفلت: کبھی کبھی داعی حق کے راستے کی ایک ٹھوکر اسے چونکا دیتی ہے کہ: ’’راستہ تو ابھی بہت کم طے ہوا ہے‘‘ اور پھر وہ عمل اور تقویٰ میں مزید اضافے کے لیے کوشاں ہوجاتا ہے۔ لیکن میں تمھیں یہ خوشی کی بات بھی بتائوں کہ ہر غفلت قابل مذمت نہیں ہوتی۔ غفلت کی ایک قسم پسندیدہ بھی ہے۔
میں: کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے؟
غفلت: ہاں، اور اسی کے بارے میں امام مطرف بن عبداللہؒ فرماتے ہیں کہ: ’’اگر مجھے یہ معلوم ہوجاتا کہ مجھے موت کب آئے گی، تو خوف سے میرا دماغ خراب ہوجاتا۔ یہ تو اللہ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ وہ موت سے تھوڑا سا غافل بھی ہوجاتے ہیں، اور اگر ایسا نہ ہو تو نہ انھیں زندگی کا کوئی لطف ملے اور نہ زندگی کا کاروبار چل سکے‘‘۔میرے نام کا یہی ایک اچھا مفہوم ہے، لیکن لوگ اس سے بھی غافل ہیں۔
میں: قسم سے، تم نے سچ کہا۔
غفلت: ایک اور مفہوم بھی ہے غفلت کا، جس پر میں نے اب تک بات نہیں کی۔
میں: وہ کیا ہے؟ بتاؤ، آج میں غفلت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہتا ہوں۔
غفلت: لوگوں کا مذاق اڑانے اور ان کے عیبوں کو تلاش کرنے کا اصل سبب خود اپنے آپ سے غفلت ہے۔ امام عونؒ بن عبداللہ کے الفاظ میں:’’جس نے اپنے آپ کولوگوں کی عیب جوئی کے لیے فارغ کررکھا ہے، میں نے دیکھا کہ وہ اپنے آپ سے غافل ہے‘‘۔
سو، ا ے بندۂ خدا ہوشیار رہو، غفلت کو دل کے قریب بھی نہ پھٹکنے دو، تمھارا شمار متقیوں میں ہوگا اور متقیوں کی دعوت میں تمھیں بلایا جائے گا۔
میں: متقیوں کی کیسی دعوت؟
غفلت: قیامت کے دن متقی مومنوں کی تقریبِ دعوت۔ اس دن غافلوں سے کہہ دیا جائے گا : ’’آج ہم انھیں فراموش کردیں گے، کیوںکہ انھوں نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا‘‘۔ (اعراف۷:۵۱)
میں نے کتاب کھولی اور گرے ہوئے لفظ ’غفلت‘ کو اُٹھا کر اس کی جگہ پر چسپاں کیا۔ کتاب اور اس کے الفاظ مطمئن تھے کہ انھوں نے ہوشیار کرنے کی ذمہ داری ادا کر دی اور میری زبان پر یہ دعا تھی: اللہم لا تجعلنی من الغافلین،’’ اے اللہ مجھے غافلوں میں مت بنا۔‘‘

اگست ۱۹۴۷ء میں دنیا کے نقشے پر دو آزاد مملکتوں، پاکستان اور بھارت کا ظہور جدید ایشیائی تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے۔ ہندستان کی انگریزوں کے اقتدار سے آزادی ،ایک طویل تحریک کا نتیجہ تھی، جس میں برصغیر کے بڑے بڑے رہنما شامل تھے۔ لیکن جو شہرت اور اہمیت اس تحریک کے آخری دور میں محمدعلی جناح [م: ۱۹۴۸ء] اور موہن داس کرم چند گاندھی [م: ۱۹۴۸ء]کے حصے میں آئی، وہ کسی دوسرے رہنما کو نصیب نہیں ہوئی۔ ان رہنمائوں کے ہاتھوں آزادی کی تحریک تکمیل کو پہنچی اور ہندستان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہوگیا۔ ان کی خدمات کے پیش نظر قوم نے ایک کو قائداعظم اور دوسرے کو مہاتما کا لقب دے کر برصغیر کی تاریخ میں زندئہ جاوید کردیا۔ اس تحریک کے دونوں رہنمائوں کا تعلق گجرات کاٹھیا واڑ کے علاقے سے تھا۔ دونوں میں چند باتیں حیرت انگیز حد تک مشابہہ تھیں اور چند بالکل متضاد۔
دونوں رہنمائوں نے قانون کی تعلیم پائی اور پیشۂ وکالت سے وابستہ تھے۔ دونوں نے مغربی طرزِ سیاست کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ محمدعلی جناح نے اپنی سیاسی زندگی کی ابتدا ہندستان میں کی، جب وہ ۱۹۰۹ء میں امپریل لیجسلیٹو کونسل کے ممبر منتخب ہوئے۔ گاندھی جی کی سیاست کی ابتدا جنوبی افریقہ میں ہندستانیوں کے لیے حقوق حاصل کرنے کی تحریک شروع کرنے سے ہوئی۔ ہندستان میں دونوں انڈین نیشنل کانگریس کے پلیٹ فارم سے سیاست میں داخل ہوئے۔ 
ان میں ایک مسلمان گھرانے کا فرد تھا اور دوسرا ہندو۔ اور دونوں کو فطرتاً اپنی اپنی قوم کے مفادات کا احساس پہلے ہوا اور آخر دم تک اسی احساس نے سیاسی میدان میں اُن کی راہیں اور منزلیں جدا رکھیں۔ دونوں برصغیر کی آزادی کے خواہش مند تھے اور اس کے حصول کے لیے سرگرمِ عمل، لیکن آزادی کس شکل میں حاصل ہو، اس پر اُن میں بنیادی اختلاف تھا۔ گاندھی جی اور قائداعظم کی شخصیات اور اندازِ سیاست میں اختلاف نے ان رہنمائوں کی سیاسی حکمت عملی کے تعین میں بڑا اہم کردارادا کیا تھا۔ گاندھی جی کی سیاست کا انداز احتجاجی تھا، جب کہ جناح صاحب دستوری جدوجہد کے قائل تھے۔ گاندھی جی نے ہندستان کی سیاست میں ستیہ گرہ، مرن برت اور دن بھر کی خاموشی جیسی اصطلاحوں کو رواج دے کر ایک نئی راہ نکالنے کی کوشش کی تھی، جب کہ جناح صاحب پارلیمانی آدابِ سیاست کے سختی سے پابند تھے۔ گاندھی جی لباس اور عادات و اطوار سے ایک ’تارکِ دُنیا‘ انسان ہونے کا تاثر دیتے تھے اور اُن کے ایک دھوتی پر مشتمل لباس پر چرچل نے ’آدھا ننگا فقیر‘ ہونے کی پھبتی کَسی تھی۔ جناح صاحب کی زندگی ایک بااصول، کھرے، صاف گو، زندگی میں ڈرامائیت سے اجتناب اور انتہائی قابل وکیل کی زندگی تھی اور اُن کی خوش پوشاکی ضرب المثل تھی۔
۱۹۲۰ء تک دونوں کے باہمی تعلقات اچھے رہے اور اس کے بعد تحریک ِ آزادی کے مستقبل اور اُس کی راہ کے بارے میں دونوں لیڈروں میں اختلاف شروع ہوا۔ ۱۹۳۰ء کے اوائل تک جناح صاحب کوشش کرتے رہے کہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان ہندستان کے سیاسی مستقبل پر کوئی سمجھوتا طے پاجائے، لیکن کانگریس نے کسی قسم کے سمجھوتے کا امکان ردّ کر دیا۔ ۱۹۳۵ء سے جناح صاحب نے مسلم لیگ کی تنظیم نو شروع کی اور اُن کی زیرقیادت ۱۹۴۰ء میں مسلمانوں نے پاکستان کے قیام کا مطالبہ پیش کر دیا۔ گاندھی جی ، کانگریس کے ترجمان کی حیثیت سے مسلمانانِ ہند کے اس مطالبے کے سب سے بڑے مخالف تھے۔ اُنھوں نے تحریروں ، تقریروں ، خطوط، جلسوں اور اپنی پرارتھنا کی محفلوں میں جناح صاحب کے ساتھ بحث و مباحثے اور پاکستان کی مخالفت کا آغاز کیا۔ ۱۹۳۷ء سے ۱۹۴۷ء تک دس برس کے عرصے میں ’ہندو انڈیا‘ اور ’مسلم انڈیا‘ کے ترجمانوں کے درمیان ہندستان کے سیاسی مستقبل پر بڑی اہم، دل چسپ اور پُرجوش بحث ہوئی۔اس بحث کے مختلف مراحل سے تحریک ِ پاکستان کے مختلف اَدوار کی تاریخ کا اجمالی نقشہ سامنے آتا ہے۔
اس پوری جدوجہد کے دوران میں مذہب تمام دلائل کا اہم جزو تھا۔قائد کے نزدیک مسلمانانِ ہند کے تحفظ اور بقا کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایک علیحدہ، خودمختار ریاست کے مالک ہوں، جہاں وہ غیرمسلم اکثریت کے اقتدار کے بغیر آزادانہ طور پر اپنے دین کے اصولوں کی روشنی میں زندگی بسر کرسکیں۔ گاندھی جی نے خود کو سرتاپا ہندو بنا لیا تھا اور اپنی پوری جدوجہد کا مقصد اپنے مذہب کا تحفظ قرار دیا تھا۔ اُنھوں نے ۱۹۲۰ء ہی سے عوامی سطح پر مذہبی جذبات کو برانگیختہ کر دیا تھا۔ قائداعظم اور مہاتما کے درمیان برصغیر کے سیاسی مستقبل کے بارے میں جو اختلافات تھے، اُنھیں سمجھنے کے لیے ہم دونوں لیڈروں کے درمیان رابطے اور تعلقات کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

جناح - گاندھی تعلقات کا اوّلین دور

دونوں رہنما ایک دوسرے کو کب سے جانتے تھے، اس کی قطعی تاریخی کا کہیں ذکر نہیں۔ تاہم، گاندھی جی کے کاغذات میں ایک خط ریکارڈ پر ہے جو اُنھوں نے ۲۲فروری ۱۹۰۸ء کو Indian Opinion کو لکھا تھا۔ اس میں اُنھوں نے جنوبی افریقہ میں اپنی ستیہ گری تحریک کا دفاع کرتے ہوئے اس الزام کو غلط بتایا کہ ان کی جدوجہد کے نتیجے میں وہاں ہندوئوں اور مسلمانوں میں پھوٹ پڑگئی ہے۔ اس خط میں گاندھی جی نے لکھا ہے کہ وہ جناح صاحب کو جانتے ہیں اور  اُن کی بہت عزت کرتے ہیں۔
جنوبی افریقہ سے واپسی پر گاندھی جی کے اعزاز میں مختلف تقریبات منعقد ہوئیں۔ ۱۸؍اگست ۱۹۱۴ء کو ’سیسل ہوٹل‘ لندن میں منعقد ہونے والی ایک ایسی تقریب میں جناح صاحب بھی شریک تھے۔ بمبئی میں سر جہانگیر پیٹٹ کے گھر جنوری ۱۹۱۵ء میں ہونے والی اسی طرح کی ایک گارڈن پارٹی میں بھی جناح صاحب مدعو تھے۔ گاندھی جی نے اس پارٹی میں قائد کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’مسٹر جناح گجراتی ہونے کی وجہ سے وہاں موجود تھے، مجھے یاد نہیں کہ اصل مقرر کی حیثیت سے یا صدر کی حیثیت سے ، مگر اُنھوں نے انگریزی میں چھوٹی سی خوب صورت تقریر کی تھی‘‘۔
۳۰دسمبر ۱۹۱۵ء کو بمبئی میں ہونے والے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں دونوں لیڈر شریک ہوئے ۔ اکتوبر ۱۹۱۶ء میں بمبئی میں صوبائی کانفرنس میں جناح صاحب کو اس کا صدر چنا گیا۔ اس موقعے پر تقریر کرتے ہوئے گاندھی جی نے جناح صاحب کے متعلق کہا: ’’ایک قابل مسلمان، ایک ممتاز وکیل اور نہ صرف لیجسلیٹو کونسل کے ممبر بلکہ ہندستان میں مسلمانوں کی سب سے بڑی انجمن (association)کے صدر بھی‘‘ (جناح صاحب آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر تھے، جسے گاندھی جی نے ایسوسی ایشن قرار دیا)۔
تین ماہ بعد دسمبر ۱۹۱۶ء میں دونوں رہنما پھر لکھنؤ میں کُل ہند مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں جمع ہوئے جہاں گاندھی جی نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ’’نہ صرف اُردو کی ترویج و ترقی میں حصہ لیں، بلکہ ہندی بھی سیکھیں‘‘۔
۱۶ جون ۱۹۱۸ء کو جناح صاحب اور گاندھی جی نے بمبئی میں ’ہوم رول لیگ‘ کے ایک جلسے سے خطاب کیا، جس میں ۱۵ہزار کے لگ بھگ افراد شریک تھے۔ جناح صاحب نے اس موقعے پر ہندستانی فوج کے متعلق برطانوی پالیسی پر سخت نکتہ چینی کی۔ اس کے برعکس، اس زمانے میں گاندھی جی نے ہندستان سے برطانوی فوج کے لیے بھرتی کی مہم شروع کر رکھی تھی اور جناح صاحب سے اس مہم میں تعاون کے طالب تھے۔
۱۹۲۰ء میں گاندھی جی نے قومی پیمانے پر ’عدم تعاون‘ اور ’سول نافرمانی‘ کی تحریک شروع کردی جو فی الحقیقت تحریک ِ خلافت کا حصہ تھی۔ جناح صاحب کا خیال تھا کہ عوام کی تربیت کے بغیر سول نافرمانی کی تحریک تشدد کی راہ پر چل پڑے گی اور آزادی کی جدوجہد میں رخنہ انداز ہوگی۔ دوسال بعد اُن کا یہ خیال صحیح ثابت ہوا۔ ستمبر۱۹۲۰ء میں کانگریس کے اجلاسِ کلکتہ میں جناح صاحب نے عدم تعاون کی تحریک سے اپنے اختلافات کی نوعیت بیان کرتے ہوئے سبجیکٹ کمیٹی میں   عدم تعاون کی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ یوں اس قرارداد کے خلاف واحد ووٹ اُنھی کا تھا۔
دونوں رہنمائوں کے درمیان جدائی کی یہ خلیج دسمبر ۱۹۲۰ء تک اور بڑھ گئی۔ ناگ پور میں کانگریس کے سالانہ اجلاس میں جناح صاحب نے ایک دفعہ پھر عدم تعاون کی مخالفت کرتے ہوئے اس سلسلے میں اپنے شکوک کا اظہار کیا۔ بدقسمتی سے اُن کی تقریر پر ایوان میں زبردست ہنگامہ برپا ہوگیا۔ یہ کانگریس کا آخری اجلاس تھا جس میں جناح صاحب نے شرکت کی۔
۱۹۲۴ء - ۱۹۲۵ء کے درمیان آل پارٹیز کانفرنس کے دوران میں ان دونوں رہنمائوں کے مابین متعدد مذاکرات ہوئے، جن کا مقصد ہندو مسلم اتحاد کی راہیں تلاش کرنا تھا۔ ۱۹۲۷ء میں دونوں رہنما، وائسرائے لارڈ ارون سے ملنے گئے، جہاں اُنھیں سائمن کمیشن کے تقرر کی اطلاع ملی۔ گاندھی جی اور جناح صاحب ، دونوں نے کمیشن کے بائیکاٹ پر اتفاق کیا۔ دسمبر ۱۹۲۸ء میں آل پارٹیز کانفرنس کے سامنے جناح صاحب نے: ’’مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کی ایک تہائی نمایندگی اور صوبوں کو اختیارات تفویض کرنے کی تجاویز پر اصرار کیا‘‘۔ کانفرنس میں اُن کی یہ تجاویز رد کر دی گئیں اور اُنھیں مسلمانوں کا نمایندہ تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا۔ جناح صاحب نے اس اجلاس کے بعد اپنے دوست جمشید کو بتایا تھا کہ: ’’یہ راستوں کی جدائی کا نقطۂ آغاز ہے‘‘۔ اس کے باوجود کچھ عرصے تک برصغیر کی آزادی کے لیے اُنھوں نے کانگریس کے ساتھ تعاون جاری رکھا۔
لیکن محمدعلی جناح، ہندستان میں جس دستوری طرزِ سیاست کے حامی تھے، وہ گاندھی جی کے احتجاجی اندازِ سیاست کے باعث ختم ہوچکا تھا۔ چنانچہ جناح صاحب نے ہندستان سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے کہا:
ہندو تنگ نظر ہیں اور میرے خیال میں ناقابلِ اصلاح۔ مسلمانوں کا کیمپ بے حوصلہ افراد سے بھرا ہوا ہے، جو مجھ سے کچھ بھی کہیں مگر کوئی کام کرنے سے پہلے ڈپٹی کمشنر سے ضرور پوچھیں گے کہ انھیں کیا کرنا چاہیے۔ ان دو گروہوں کے درمیان مجھ جیسے آدمی کے لیے جگہ کہاں؟ 

گاندھی - جناح تعلقات کا دوسرا دور

۱۹۳۷ء سے ۱۹۴۷ء تک کا عرصہ برصغیر کی تاریخ کا اہم ترین دور ہے۔ ان دس برسوں میں وہ واقعات پیش آئے، جنھوں نے برصغیر کی تاریخ کے مستقبل کا تعین کر دیا۔ قائد کی غیرموجودگی سے مسلم سیاست انتشار کا شکار ہوگئی تھی۔ ہرسطح پر مسلمان رہنمائوں میں اختلافات پیدا ہوچکے تھے۔ ان حالات میں محمدعلی جناح ۱۴دسمبر ۱۹۳۴ء کو انگلستان سے واپس بمبئی کی بندرگاہ پر پہنچے تھے۔ وطن واپسی کے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا: 
مسلمان شدید خطرے میں تھے۔ میں نے ہندستان واپس آنے کا ارادہ کرلیا، کیوںکہ مَیں لندن سے اُن کی بہتری کے لیے کچھ نہیں کرسکتا تھا۔
انگلستان سے واپسی کے بعد محمدعلی جناح کے سیاسی خیالات میں بہت بڑی تبدیلی رُونما ہوچکی تھی۔ اب وہ اس نظریے کے قائل تھے کہ جب تک مسلمان متحد، منظم اور مضبوط نہیں ہوں گے، ہندوئوں کے ساتھ کسی باعزت سمجھوتے کا امکان نہیں ہوگا۔ مسلمانوں کو مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع کرنے سے جناح صاحب کے نزدیک ہندو مسلم تعاون کا امکان کسی صورت میں ختم نہیں ہوتا تھا۔ ۱۹۳۶ء سے ۱۹۳۷ء تک وہ مسلسل ہندو مسلم تعاون کے لیے بار بار اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مئی ۱۹۳۷ء میں اُنھوں نے گاندھی جی کو لکھا:’’ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان ایک باعزت سمجھوتے کو مجھ سے زیادہ اور کون پسند کرے گا؟‘‘
’ہندومسلم اتحاد‘ کے بجاے ’ہندو مسلم تعاون‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان اب برابری کی سطح پر سیاسی سمجھوتے میں فریق بننا چاہتے تھے۔ مسلم لیگ کو مسلمانوں کی نمایندہ جماعت تسلیم کرنے کے بجاے پنڈت نہرو [م: ۱۹۶۴ء] نے اسے ’اعلیٰ طبقے کے مٹھی بھر نااہلوں کا گروہ‘ قرار دیا جس سے تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ۱۹۳۷ء کے صوبائی انتخابات کے بعد کانگریس نے مسلم لیگ کے ساتھ تعاون کی ہر پیش کش پاے حقارت سے ٹھکرا دی۔ یہ پالیسی قائد کے جذبۂ تعاون کے لیے ایک چیلنج تھی۔ اُنھوں نے کانگریس کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: 
کانگریس کی موجودہ قیادت، خصوصاً پچھلے دس برسوں میں، خالص ہندو طرزِعمل اختیار کر کے ہندستان کے مسلمانوں کو برگشتہ کرنے کی ذمے دار ہے۔ مجھے کہنے کی اجازت دیجیے کہ کانگریس کی موجودہ پالیسی کا نتیجہ طبقاتی کشاکش، فرقہ وارانہ جنگ اور بالآخر برطانوی سامراج کا اقتدار مستحکم کرنے کی صورت میں نکلے گا۔
اس بے لاگ تقریر پر گاندھی جی کا ردعمل جناح صاحب کے نام ایک خط کی صورت میں یوں ظاہر ہوا: ’’آپ کی پوری تقریر اعلانِ جنگ ہے‘‘۔ 
۵نومبر کو جناح صاحب نے جواباً لکھا: ’’مجھے افسوس ہے کہ آپ نے میری لکھنؤ والی تقریر کو اعلانِ جنگ سمجھا۔ اُس کی نوعیت خالص دفاعی ہے۔ ازراہِ کرم اُسے پھر پڑھیے اور سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ معلوم ہوتا ہے آپ نے پچھلے ۱۲ماہ کے دوران میں ہونے والے واقعات پر کوئی توجہ نہیں دی‘‘۔
دونوں رہنمائوں کے درمیان خط کتابت کی رفتار بڑھ گئی۔ گاندھی جی نے جناح صاحب کو بحث میں اُلجھانے کی نئی صورت نکالی۔ فروری ۱۹۳۸ء میں اُنھوں نے لکھا: ’’اپنی تقریروں سے اب آپ مجھے پرانے قوم پرست نظر نہیں آتے۔ جب میں ۱۹۱۵ء میں جنوبی افریقہ سے خود اختیار کردہ جلاوطنی کے بعد ہندستان واپس آیا تو ہرشخص آپ کو پکا قوم پرست سمجھ کر ہندوئوں اور مسلمانوں کی اُمید قرار دیتا تھا۔ کیا آپ اب بھی وہی مسٹرجناح صاحب ہیں؟‘‘ جناح صاحب کی تقریریں گاندھی جی کے نزدیک شاید صرف سودے بازی کے لیے تھیں، تبھی اُنھوں نے اُس خط میں لکھا: ’’اگر آپ کہیں کہ آپ وہی ہیں تو آپ کی تقریروں کے باوجود مَیں آپ کے الفاظ پر یقین کرلوں گا‘‘۔
جناح صاحب خوب سمجھتے تھے کہ ’قوم پرست‘ جیسی فریب کُن ترکیبوں میں اُلجھا کر گاندھی جی اُن کی توجہ اصل مسائل اور زیربحث نکات سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ بارہ دن بعد بڑے اختصار سے جواب میں لکھا: ’’قوم پرستی کسی فردِ واحد کی اجارہ داری نہیں اور آج کل کے زمانے میں اس کی حدود متعین کرنا ناممکن ہے۔ مجھے اس بحث کو مزید طول دینے کی خواہش نہیں‘‘۔
کانگریس اور مسلم لیگ کے رہنمائوں کے درمیان اس کش مکش کا فائدہ براہِ راست انگریزی حکومت کو پہنچ رہا تھا۔ حالات اب اس مقام تک آگئے کہ جناح صاحب کے نزدیک دونوں جماعتوں کے درمیان باہمی سمجھوتا بہت ضروری تھا، تاکہ ہندستان کی آزادی کے لیے اجتماعی طور پر کوشش کی جائے۔ اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ: کانگریس، مسلم لیگ کو مسلمانانِ ہند کی واحد نمایندہ جماعت تسلیم کرلے تاکہ دونوں قوموں کے درمیان تعاون کی راہیں تلاش کرنے میں آسانی ہو۔ جناح صاحب کا مطالبہ جان لینے کے بعد گاندھی جی نے ۸مارچ ۱۹۳۸ء کو لکھا کہ: ’’کچھ نکات قابلِ بحث ہیں، اور اس کے لیے اُنھوں نے ملاقات کی تجویز پیش کی‘‘۔
۲۸؍اپریل ۱۹۳۸ء کو دونوں رہنمائوں کی بمبئی میں ملاقات ہوئی، جس میں کانگریس کے صدر سبھاش چندر بوس [م: ۱۹۴۵ء] بھی شریک تھے۔ جناح صاحب نے اس ملاقات میں اصرار کیا کہ:’ ’کانگریس، مسلم لیگ کو مسلمانوں کی واحد نمایندہ جماعت تسلیم کرلے‘‘۔ لیکن گاندھی جی اور سبھاش چندر بوس نے یہ موقف مسترد کر دیا۔ چنانچہ بات چیت ناکام ہوگئی۔ اس ملاقات کے بعد بھی سبھاش چندر بوس اور گاندھی جی نے جناح صاحب کے ساتھ خط کتابت جاری رکھی، تاہم گاندھی جی، اس حقیقی تقاضے کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔
۱۹۳۸ء میں جناح صاحب کے پیش نظر سب سے اہم مسئلہ مسلم لیگ کی تنظیم نو اور مسلم عوام کی زیادہ سے زیادہ حمایت کا حصول تھا۔ پنڈت نہرو کے نام ایک خط میں انھوں نے لکھا: ’’تنظیم جس قدر اہم ہو، اُسی قدر اُس پر توجہ دی جاتی ہے، لیکن یہ اہمیت اس بات سے پیدا نہیں ہوتی کہ اسے باہر کے لوگ تسلیم کر رہے ہیں، بلکہ یہ اہمیت تنظیم کی اندرونی فطری قوت کی پیداوار ہوتی ہے‘‘۔ گاندھی جی نے محسوس کرلیا کہ جناح صاحب کی شبانہ روز محنت کی بدولت مسلم لیگ ایسی قوت بن چکی ہے جسے نظرانداز کرنا اب ناممکن ہے۔تاہم، مسلم لیگ کی نمایندہ حیثیت تسلیم کر کے براہِ راست معاملہ کرنے کے بجاے اُنھوں نے ایک اور حربہ استعمال کیا۔ وہ یہ کہ ۱۶ جنوری ۱۹۴۰ء کو جناح صاحب کے نام بڑے دوستانہ انداز میں خط میں پہلی بار اُنھوں نے ’قائداعظم‘ کا خطاب استعمال کیا تھا۔
’ڈیئر قائداعظم‘ کے الفاظ سے شروع ہونے والے اس خط کے ساتھ گاندھی جی نے  اخبار ہریجن  میں اشاعت کے لیے بھیجے جانے والے ایک مضمون کی پیشگی کاپی ملفوف کی تھی۔ مضمون میں جناح صاحب کو ایک ’پُرانا رفیق‘ قرار دیتے ہوئے اُنھوں نے لکھا تھا :’ ’اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم آج بعض معاملات پر ایک دوسرے سے آمنے سامنے بیٹھ کر بات نہیں کرتے۔ اس سے ان کے لیے (جناح صاحب کے لیے) میرے دل میں جو خلوص ہے، اُس پر کوئی حرف نہیں آتا‘‘۔ اس مضمون میں گاندھی جی نے تجویز پیش کی تھی کہ: ’’اگر جناح صاحب ہندستان کی تمام اقلیتوں پر مشتمل ایک مشترکہ پارٹی تشکیل دے سکیں، تو یہ ہندستان کی بہت بڑی خدمت ہوگی‘‘۔
قائداعظم واضح طور پر ثابت کرچکے تھے کہ: ’’مسلمان، ہندستان میں اقلیت نہیں، ایک الگ قوم ہیں‘‘۔ اسی لیے وہ کانگریس سے برابری کی سطح پر معاملہ کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ اُنھوں نے ۲۱جنوری ۱۹۴۰ء کو گاندھی جی کے نام اپنے خط میں لکھا: ’’آپ کے مضمون میں بیش تر مواد صرف وہم کا نتیجہ ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، اور دوسری یہ کہ  آپ کے خیالات کی رہنما آپ کی ’اندر کی آواز‘ ہے۔ آ پ کا حقیقتوں سے، جنھیں عام اصطلاح میں عملی سیاست کہا جاتا ہے، بہت کم واسطہ رہ گیا ہے‘‘۔
۱۹۴۰ء کے اوائل میں برصغیر کے سیاسی مستقبل کے متعلق بحث ’قومیت‘ کی تعریف کے گرد گھوم ری تھی۔ گاندھی جی کے نزدیک مذہب کی تبدیلی سے قومیت کی حدود پر کوئی حرف نہیں  آتا تھا۔ ۲۷جنوری کو اُنھوں نے اسی موضوع پر ہریجنمیں ایک مضمون لکھا۔ دوسری طرف جناح صاحب اس بحث کو ہمیشہ کے لیے طے کرچکے تھے کہ ہندستان کے مسلمان دنیا کے ہرقانون کے مطابق ایک علیحدہ قوم ہیں۔ اسی بنیاد پر اب قوم کے لیے الگ وطن کی ضرورت تھی۔ مارچ ۱۹۴۰ء میں کُل ہند مسلم لیگ کے لاہور اجلاس میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے مسلمانانِ ہند کی منزل کی نشان دہی کی اور پوری قوت سے اعلان کیا کہ:’ ’ہندستان کو تقسیم کرکے خودمختار ریاستوں کی تشکیل کی جائے‘‘۔
آنے والے برسوں میں پاکستان کا حصول مسلمانانِ ہند کی منزل بن گیا۔ مسلم لیگ کی پالیسی اور پروگرام اسی مقصد کے لیے وقف ہوگئے۔ مسلمان اب اپنی راہیں منتخب اور منزل متعین کرچکے تھے۔ گاندھی جی کے لیے قرارداد لاہور اور جناح صاحب کی تقریر شاید ایک ناقابلِ یقین واقعے کے طور پر سامنے آئی تھی۔ اُن کا ابتدائی ردعمل غصّے اور گہرے صدمے کے اظہار پر مبنی تھا۔ ۶؍اپریل کے ہریجنمیں مسلمانوں کے عزم پر شک کا اظہار کرتے ہوئے اُنھوں نے لکھا: 
مسلمان کبھی ہندستان کی چیرپھاڑ (vivisection) اور واضح خودکشی پر رضامند نہیں ہوںگے، جو تقسیم کا نتیجہ ہوگی۔
قراردادِ لاہور کی شکل میں مسلم لیگ کی طرف سے تقسیم کا مطالبہ، گاندھی جی کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ اس کے بعد اُن کے لہجے میں بڑی تُندی آگئی اور اُن کے قلم سے یکے بعد دیگرے تقسیم ہند کے خلاف مضامین نکلنے لگے۔ ساتھ ہی ساتھ اُنھوں نے قائداعظم کی ذات کو سخت تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا: ’’تقسیم کا تصور بالکل خلافِ حقیقت ہے۔ میری روح اس نظریے کے خلاف بغاوت کرتی ہے کہ اسلام اور ہندو ازم دو مخالفانہ تمدن اور نظریات پیش کرتے ہیں‘‘۔
گاندھی جی نے مسلمانوں کے مطالبے کے خلاف ایک اور دلیل پیش کی کہ ’’ہندو اور مسلمان دراصل ایک ہی قوم کے دو بازو ہیں اور مسلمان، ہندوئوں سے اس لیے زیادہ مختلف نہیں کہ اُنھوں نے اسلام قبول کرلیا ہے‘‘۔اُنھوں نے مزید لکھا: ’’مجھے اس نظریے کی ہرقیمت پر مخالفت کرنی ہے کہ کروڑوں ہندستانی جو کل تک ہندو تھے، اُنھوں نے اسلام کو مذہب کے طور پر قبول کرتے ہی اپنی قومیت بدل لی‘‘۔
قائداعظم نے گاندھی جی کے اس بیان کی کہ: ’ہندستانی کل تک ہندو تھے‘، تردید کرتے ہوئے کہا: ’’ایک ہزار سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت، ایک علیحدہ معاشرے، اپنے علیحدہ فلسفۂ حیات اور علیحدہ عقیدے کے تحت زندگی بسر کرتی چلی آرہی ہے۔ پھر یہ کیسی لغو اور فضول بات ہے کہ عقیدے کی تبدیلی مطالبۂ پاکستان کی بنیاد نہیں بن سکتی!‘‘
اپنی دلیل کے ثبوت میں اب گاندھی جی نے جناح صاحب کا نام مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا:’’اُن کا نام کسی ہندو کا بھی ہوسکتا تھا۔جب میں اُن سے پہلی بار ملا تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔ مجھے اُن کا مذہب اُس وقت معلوم ہوا جب مجھے اُن کا پورا نام بتایا گیا۔ اُن کی ہندستانی قومیت اُن کے انداز اور اُن کے چہرے پر نقش تھی‘‘۔
۴مئی کو ہریجن کے شمارے میں ایک دفعہ پھر گاندھی جی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے کہا کہ: ’’مسلمانوں کی اکثریت تقسیم کے منصوبے کو رد کردے گی۔ میں اسے تسلیم نہیں کرسکتا کہ مسلمان واقعی ہندستان کے ٹکڑے کرنا چا ہتےہیں‘‘۔
گاندھی جی کے اندازِ بحث کے جواب میں ۱۹۴۰ء میں قائداعظم نے تقسیم کے خلاف کانگریس اور گاندھی جی کی تمام دلیلوں کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’’متحدہ ہندستان کا تصور برطانوی نوآبادیاتی نظام کی پیداوار ہے‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہا:’’حیرت ہے کہ مسٹر گاندھی اور راج گوپال اچاریہ [م: ۱۹۷۲ء] ، قراردادِ لاہور کو ہندستان کو چیرپھاڑ اور بچے کو دو ٹکڑوں میں کاٹنے کی اصطلاحوں سے کیسے تعبیر کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہندستان فطری طور پر پہلے ہی منقسم ہے۔ مسلم انڈیا اور ہندو انڈیا جغرافیے کی صورت میں موجود ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ چیخ پکار کیسی ہے، کہاں ہے وہ ملک جسے تقسیم کیا جارہا ہے؟ کہاں ہے وہ قوم جسے بکھیرا جا رہا ہے؟ انڈیا قومیتوں کا مجموعہ ہے۔ ذاتیں اور گروہ اُس پر مستزاد ہیں‘‘۔
آنے والے مہینوں میں گاندھی جی کی مہم میں تیزی آگئی اور لہجے کی درشتی میں اضافہ ہوگیا۔ ستمبر ۱۹۴۰ء میں تقسیم اور پاکستان کے قیام کے خلاف اُن کی تلخ ترین تحریر سامنے آئی: ’’ہندستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنا طوائف الملوکی سے بھی بدتر ہے‘‘ ۔ اُنھوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا: ’’یہ ایسی چیرپھاڑ ہے جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا‘‘۔
جناح صاحب نے اس پوری مہم کے جواب میں کہا: ’’ہم تقسیم کے نتائج کا سامنا خود کرلیں گے۔ آپ اپنی فکری کریں‘‘۔ 
پاکستان کے قیام کے خلاف گاندھی جی کی جذباتی تحریروں اور تقریروں سے ہندستان بھر میں کشیدگی کی فضا پیدا ہورہی تھی۔ قائداعظم کو معلوم تھا کہ اگر اُنھوں نے اُن کے جواب میں وہی لہجہ اختیار کیا تو اس کا نتیجہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی صورت میں نکلے گا۔ اس لیے اُنھوں نے فضا سے کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلمانانِ ہند کو ہدایت کی کہ: ’’وہ ہمیشہ معقولیت کو پیش نظر رکھیں اور اپنے مخالفین کو سنجیدگی سے قائل کرنے کی کوشش کریں‘‘۔ اُن کے نزدیک سب سے اہم اور قابلِ توجہ بات یہ تھی کہ:’ ’مسلمان پاکستان کے حصول کو اپنا مطمح نظر بنالیں جو اُن کے لیے موت و حیات کا معاملہ ہے‘‘۔
تقسیم کے متعلق دونوں لیڈروں کے درمیان پوری بحث کا سب سے دل چسپ پہلو یہ ہے کہ گاندھی جی نے تقسیم کی مخالفت کے لیے ایسے بھاری اور بوجھل الفاظ کا انتخاب کیا، جن سے تکلیف اور تشدد کا اظہار ہوتا تھا، جیسے کاٹ دینا (cut)،کاٹ کر علیحدہ کرنا ( carve) ، حصے بخرے کرنا (dismember) اور چیرپھاڑ کرنا (vivisect) ۔ 
اس کے مقابلے میں جناح صاحب کی طرف سے پاکستان کے قیام کے لیے الفاظ کے استعمال میں سنجیدگی اور تقسیم کے مطالبے کا مثبت پہلو نمایاں ہوکر سامنے آتا تھا،جیسے: تشکیل جدید  کرنا (re-construction)،اَزسرِنو ترتیب دینا (re-constitute) اور حدبندی کرنا (demarcate) وغیرہ۔
۱۹۴۲ء میں حالات نے ایک نئی کروٹ لی۔ یورپ میں دوسری جنگ ِ عظیم اپنے پورے عروج پر تھی اور جنگ میں برطانوی پوزیشن کمزور پڑرہی تھی۔ ہندستان کو جنگی کوششوں میں شامل کرنے اور اُس کی حمایت حاصل کرنے کے لیے، نیز امریکی دبائو کے پیش نظر، برطانوی حکومت نے کرپس مشن ہندستان بھیجا۔ مشن کی تجاویز کانگریس اور مسلم لیگ،دونوں نے مسترد کر دیں۔ تاہم، مشن سے بات چیت میں یہ امر مستحکم ہوکر سامنے آیا کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی نمایندہ جماعت ہے۔ کانگریس کی قیادت کو احساس ہوا کہ مسلم لیگ کے تعاون کے بغیر آزادی کا حصول ناممکن ہوگا۔ ۱۹؍اپریل کے ہریجن  میں گاندھی جی نے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا:
اگر مسلمانوں کی غالب اکثریت اپنے آپ کو ایک ایسی علیحدہ قوم تصور کرتی ہے، جس کی ہندوئوں اور دوسری قوموں کے ساتھ کوئی چیز مشترک نہیں، تو دنیا کی کوئی طاقت اُنھیں اس کے خلاف سوچنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔
گاندھی جی کی اس تحریر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اُنھوں نے تقسیم کے معاملے میں مسلمانوں کے موقف کو تسلیم کرلیا تھا، لیکن وہ کچھ اور سوچ رہے تھے:’’میں ابھی تک مطالبۂ پاکستان کا قائل نہیں ہوا۔ لیکن مَیں اپنے مخالفین سے کہتا ہوں کہ وہ مجھے ملیں اور مجھے دوستانہ طریقے سے قائل کرنے کی کوشش کریں‘‘۔
گویا یہ موقف کی تبدیلی کے بجاے حکمت عملی کی تبدیلی تھی۔ گاندھی جی ۱۹۴۰ء کے بعد جس انداز سے تقسیم اور پاکستان کے قیام کے مطالبے کے خلاف مہم چلا رہے تھے، اُس کے    پیش نظر اُنھیں تقسیم کا بنیادی اصول مان لینے پر قائل کرنا اس لیے ممکن نہ تھا کہ وہ ابھی تک تقسیم کو، مقدس گائے کو دو ٹکڑوں میں کاٹنے کے مترادف قرار دے رہے تھے۔
جناح صاحب نے گاندھی جی کی تجویز کا جواب دیتے ہوئے کہا:’’ گاندھی جی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان کی تجویز کا کیا مطلب ہے۔ کسی فانی انسان کے بس کی بات نہیں کہ       وہ مسٹرگاندھی جیسے شخص کو مسلمانوں کے مطالبے کی صحت کا قائل کرسکے۔ اُنھیں تو صرف اُن کی ’اندرونی آواز‘ ہی قائل کرسکتی ہے جسے وہ (گاندھی جی) آسمانی قرار دیتے ہیں‘‘۔
۱۹۴۲ء کے آخر تک دونوں رہنمائوں کے درمیان تقسیم کی بحث سے متعلق بیش تر دلائل کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ ۱۹۳۸ء میں قائداعظم نے مطالبہ کیا تھا کہ: ’’وہ مسلم لیگ کو مسلمانانِ ہند کی نمایندہ جماعت تسلیم کرکے بات چیت کرے‘‘۔ ۱۹۴۲ء تک کانگریس اس مطالبے کو واضح طور پر تسلیم کیے بغیر کسی نہ کسی طرح گفت و شنید کر رہی تھی۔ ۱۹۴۲ء میں بحث کا محور یہ تھا کہ پاکستان کے قیام کے مطالبے پر کس انداز سے بات چیت میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔
۱۹۴۳ء کا پور ا سال گاندھی جی نے ’انڈیا چھوڑ دو‘ (Quit India) تحریک شروع کرنے کے جرم میں آغاخان پیلس میں نظربندی میں گزارا۔ ’انڈیا چھوڑ دو‘ کی تحریک کا ظاہری مقصد انگریزوں سے ہندستان کے مستقبل پر کانگریس کا نقطۂ نظر منوانا تھا، تاکہ سارے اختیارات اُس کے ہاتھ میں آجائیں اور اس طرح مسلمانانِ ہند پر اپنی مرضی کا سمجھوتا مسلط کیا جاسکے۔ 
’ہندستان چھوڑ دو‘ کے نعرے کے جواب میں جناح صاحب نے اُس کی تصحیح کرتے ہوئے مطالبہ کیا : ’تقسیم کرو اور چلے جائو‘ (Divide & Quit)۔ اُنھیں معلوم تھا کہ کانگریس، انگریزوں کی نازک پوزیشن کے پیش نظر ملک بھر میں تحریک چلا کر ہندستان کے مستقبل سے متعلق اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔
گاندھی جی نے جناح صاحب کی پوزیشن کو امتحان میں ڈالنے کے لیے ایک نئی چال چلی اور بیان دیا: ’’ہم انگریز سے لڑ رہے ہیں۔ہمیں توقع ہے کہ آپ ہمارا ساتھ دیں گے‘‘۔     جناح صاحب نے فوراً جواب دیا:’’ہمیں معلوم ہے آپ کس سے لڑ رہے ہیں، اگر آپ واقعی انگریز سے برسرِ جنگ ہیں تو لڑ لیجیے۔ مسلمان کنارہ کش رہیں گے، انگریز کا ساتھ نہیں دیں گے‘‘۔
’Quit India‘ تحریک سے مسلمانوں کی علیحدگی کی وجوہ پر قائداعظم نے ایک بیان میں کہا: ’’آزاد ہندستان کے متعلق اُن (کانگریس) کا تصور ہمارے تصور سے مختلف ہے۔ ہم، ہندوئوں، مسلمانوں اور دوسروں کی آزادی چاہتے ہیں۔ مسٹر گاندھی کے نزدیک آزادی کا مطلب صرف کانگریس راج ہے‘‘۔
پُرجوش اور طاقت ور مطالبۂ پاکستان کے خلاف اب گاندھی جی نے بحث میں ایک اور رُخ کا اضافہ کیا۔ ۲۶ جولائی کو ہریجن میں لکھتے ہوئے اُنھوں نے یہ دلیل اختیار کی کہ: ’’کوئی ملک بخوشی اپنے کسی حصے کو ایک علیحدہ مملکت بنانے پر رضامند نہیں ہوگا، اس لیے کہ یہ آزاد، خودمختار ریاست کل اُسی ملک کے خلاف جنگ شروع کر سکتی ہے جس کا یہ پہلے حصہ تھی‘‘۔
گاندھی جی کا کوئی حربہ جناح صاحب کو اُن کے موقف سے نہ ہٹا سکا ۔ علی گڑھ کے طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے ۲نومبر۱۹۴۳ء کو اُنھوں نے واضح کیا: ’’چین اور امریکا کی مشترکہ قوت بھی ہم پر ایسا آئین مسلط نہیں کرسکتی، جس میں مسلمانانِ ہند کے مفادات قربان کر دیے گئے ہوں‘‘۔
مسلم لیگ اور قائداعظم، ہندستان کی برطانوی راج سے آزادی کے اُتنی ہی شدت سے خواہاں تھے، جتنی کانگریس کی قیادت، لیکن مسلم قیادت کا موقف یہ تھا کہ آزادی سے قبل دونوں قوموں کے درمیان سمجھوتا ضروری ہے، جب کہ کانگریس کا مطالبہ تھا کہ انگریزہندستان کو اُس کے حال پر چھوڑ کر چلے جائیں، باقی معاملات ہم خود طے کرلیں گے۔
گاندھی جی اپنی نظربندی کے دوران میں کچھ ایسے اشارات دے رہے تھے، جیسے وہ پاکستان کے مسئلے پر اب واضح بات چیت کرنا چاہتے ہوں۔ جناح صاحب نے ایک بیان میں پوچھا : ’’اگر اُنھوں نے بات چیت کا ارادہ کرلیا ہے، تو مجھے براہِ راست لکھنے میں آخر کیا امر مانع ہے؟‘‘ اس پر گاندھی جی نے ۴مئی کو جواباً لکھا: ’’کیوں نہ ہم دونوں فرقہ وارانہ اتحاد کے عظیم سوال پر ایک مشترکہ حل تلاش کرنے کے لیے باعزم انسانوںکی طرح بات چیت کریں‘‘۔ جناح صاحب کے نزدیک خط کے مفہوم سے گاندھی جی کے رویے میں تبدیلی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ اسی لیے ایک اور سال ختم ہوگیا۔
مئی ۱۹۴۴ء میں گاندھی جی کی نظربندی ختم ہوئی۔ اُس وقت تک ۱۹۴۳ء کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ نے ۴۷نشستیں حاصل کی تھیں اور کانگریسی مسلمانوں کے حصے میں صرف چار عدد سیٹیں آئی تھیں۔ اب کانگریس نے محسوس کرلیا کہ مسلم لیگ ایسی قوت بن چکی ہے، جس سے بہرصورت معاملہ کرنا پڑے گا۔
گاندھی جی کی نظربندی کے دوران میں اُن کے ایماسے راج گوپال اچاریہ، پاکستان کے سوال پر جنابِ جناح سے خط کتابت کر رہے تھے۔ راج گوپال اچاریہ فارمولے میں تقسیم کے اصول اور پاکستان کے قیام کو تسلیم کیا گیا تھا، لیکن کانگریس کا مطالبہ تھا کہ مسلم لیگ پہلے کانگریس کا ساتھ دے اور انگریز کو باہر نکالنے میں مدد کرے، اس کے بعد تقسیم ہوگی، جب کہ جنا ح صاحب آزادی سے قبل تقسیم کے خواہاں تھے۔ دراصل اُنھیں کانگریس کے وعدوں کا کوئی اعتبار نہیں تھا۔ جولائی ۱۹۴۴ء میں اس فارمولے کی بنیاد پر ہونے والی بات چیت کی ناکامی کا اعلان کر دیا گیا۔ 
۱۷جولائی کو گاندھی جی نے قائداعظم کے نام ایک خط میں ملاقات کی تجویز پیش کی۔ ۹اور ۲۷ستمبر ۱۹۴۴ء کے درمیان دونوں رہنمائوں کی باہمی بات چیت کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ مذاکرات کے چودہ دور ہوئے۔ اس دوران میں ہونے والی بات چیت، دونوں رہنمائوں نے ۲۴خطوط میں ریکارڈ کی جو ۱۵ہزار سے زائد الفاظ پر مشتمل تھے۔ ان مذاکرات میں قراردادِ پاکستان کی بنیاد پر غوروفکر کا آغاز ہوا۔ 
جنابِ جناح چاہتے تھے کہ گاندھی جی پاکستان کا مطالبہ اصولی طور پر تسلیم کرلیں، مگر   جسے گاندھی جی نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ: ’آپ کے اور میرے درمیان سمندر حائل ہے‘۔ پھر   راج گوپال اچاریہ کے فارمولے کو بنیاد بنا کر بات چیت کرنا چاہی، جسے جناح صاحب پہلے ہی مسترد کرچکے تھے۔ گاندھی جی نے تجویزپیش کی کہ: ’آپ مجھے پاکستان کے جواز پر قائل کرلیں، اور ساتھ یہ شرط بھی رکھی کہ: ’مجھے تمام فرقوں کا نمایندہ تصور کر کے بات چیت کی جائے، جسے قائداعظم نے پہلے ہی مسترد کرتے ہوئے لکھا: ’’یہ بالکل واضح ہے کہ آپ ہندوئوں کے سوا کسی اور گروہ کی نمایندگی نہیں کرتے اور آپ جب تک اپنی صحیح حیثیت اور حقائق کو تسلیم نہیں کرتے، میرے لیے آپ سے بحث کرنا بہت مشکل ہے اور آپ کو قائل کرنا اور بھی زیادہ دُشوار‘‘۔ گاندھی جی ابھی تک نظریاتی بحث میں اُلجھے ہوئے تھے۔ تقسیم کا اصول وہ کسی صورت بھی ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ چنانچہ بات چیت کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئی۔
ان مذاکرات کا سب سے دل چسپ پہلو یہ تھا کہ گاندھی جی، کانگریس کے کسی عہدے دار کی حیثیت سے نہیں،اپنی ذاتی حیثیت میں بات چیت کر رہے تھے۔ قائداعظم نے گاندھی جی کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلاتے ہوئے لکھا: ’’کسی گفت و شنید اور سمجھوتے پر پہنچنا اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک دونوں پارٹیوںکی پوری نمایندگی نہ ہو۔ یہ معاملہ یک طرفہ ہے، اس لیے کہ کسی تنظیم پر اس کی پابندی عائد نہیں ہوگی، اور اگر سمجھوتا طے پا گیا تو آپ ایک فرد کی حیثیت سے کانگریس اور ملک کے سامنے اس کی سفارش کریں گے، جب کہ مسلم لیگ کا صدر ہونے کی حیثیت سے مجھ پر اس کی پابندی لازم ہوگی‘‘۔
مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان آزادانہ طور پر کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لیے یہ آخری بات چیت تھی۔ کانگریس کی قیادت اور خصوصاً گاندھی جی، مسلمانانِ ہند کی پاکستان کے قیام کی واضح خواہش کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ملک کی تقسیم کے متعلق راج گوپال اچاریہ اور گاندھی جی کا فارمولا، جنابِ جناح نے پاکستان کے مطالبے کو ڈائنامیٹ کرنے کا منصوبہ قرار دے کر مسترد کر دیا۔
 وائسرائے لارڈ ویول [م:۱۹۵۰ء]کی تحریک پر ہندستانی رہنما جولائی ۱۹۴۵ء میں گرمائی دارالحکومت شملہ میں جمع ہوئے جن میں قائداعظم اور گاندھی جی بھی شریک تھے، لیکن دونوں رہنمائوں کے درمیان علیحدہ مذاکرات نہ ہوئے۔ شملہ کانفرنس بھی کسی سمجھوتے پر پہنچنے میں ناکام ہوگئی۔ اس کانفرنس میں گاندھی جی نے یہ تاثر دیا گویا بادل نخواستہ بات چیت میں شریک ہیں اور سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ جنابِ قائد نے بمبئی میں تقریر کرتے ہوئے پوچھا کہ: ’’گاندھی جی اگر کانفرنس میں شرکت نہیں کرنا چاہتے تھے تو وہ شملے گئے کیوں تھے؟‘‘ شملہ کانفرنس کی ناکامی کے بعد قائداعظم نے واضح طور پر اعلان کر دیا کہ: ’’مَیں پاکستان کے لیے زندہ رہوں گا اور پاکستان کے لیے مروں گا‘‘۔
تقسیم کے خلاف ابھی گاندھی جی کے ترکش میں تیر ختم نہیں ہوئے تھے۔ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۴۶ء کے ہریجن میں اُنھوں نے مطالبۂ پاکستان کی اسلامی اساس پر حملہ کرتے ہوئے نیا شوشہ چھوڑا اور وہ تھا پاکستان کے مطالبے کو غیراسلامی قرار دینا۔ اُنھوں نے کہا: ’’مجھے پاکستان کا مطالبہ قبول کرنے میں تذبذب نہیں ہوگا، اگر مجھے اس مطالبے کے صحیح ہونے یا اسلام کے لیے مفید ہونے کا قائل کردیا جائے‘‘۔
اس کے ساتھ ہی اُنھوں نے خود فیصلہ صادر کر دیا: ’’مجھے پوری طرح یقین ہے کہ مطالبۂ پاکستان ، جو مسلم لیگ نے پیش کیا ہے ، غیراسلامی ہے اورمجھے اُسے ایک گناہِ عظیم کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں‘‘۔ گاندھی جی کے نزدیک: ’’وہ لوگ، جو ہندستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں، ہندستان اور اسلام دونوں کے دشمن ہیں‘‘۔
گاندھی جی اس پورے عرصے میں تقسیم کے خلاف جس طرح دلائل دے رہے تھے اور ان کے رویّے میں جس قدر شدت اور تیزی آرہی تھی، مسلمانانِ ہند اُتنی ہی قوت سے اپنی حمایت کُل ہند مسلم لیگ کے پلڑے میں ڈال چکےتھے۔ تقسیم اب ایک ناگزیر عمل تھا اور قیامِ پاکستان ایک نہ مٹنے والی حقیقت۔ کانگریس کی لیڈرشپ اب گاندھی جی کے اثر سے نکل کر نہرو ، کرشنامینن [م: ۱۹۷۴ء] اور پٹیل [م: ۱۹۵۰ء] کے ہاتھوں میں مرتکز ہوچکی تھی اور تمام تر فیصلے انھی تین افراد کی مرضی سے طے پاتے تھے۔ 
۲۴مارچ ۱۹۴۷ء کو مائونٹ بیٹن [م:۱۹۷۹ء]آخری وائسرائے کے طور پر برطانوی مقبوضہ ہندستان پہنچے، تو تقسیم کے متعلق بحث کے تمام نکات کا فیصلہ ہوچکا تھا۔تاہم، مائونٹ بیٹن ، ہندستان کو ایک متحد ملک کے طور پر اختیارات سونپنے کا تصور اورارادہ لے کر آئے تھے۔ گاندھی جی سے بڑھ کر اُن کو اپنے منصوبے کی تکمیل کے لیے اور کون سی ہستی مل سکتی تھی؟ لیکن قائداعظم نے نئے وائسرائے کے ساتھ پہلی ہی ملاقات میں واضح کردیا کہ: ’اگر بات چیت ہوگی تو فقط پاکستان کی بنیاد پر‘۔ اب گاندھی جی نے اپنے ترکش کا آخری تیر استعمال کیا۔ اُنھوں نے مائونٹ بیٹن سے کہا کہ: ’وہ مسٹرجناح کو ہندستان کا وزیراعظم نامزد کردیں‘۔ 
غالباً وہ سوچ رہے تھے کہ شاید اس طرح تقسیم اور قیامِ پاکستان کچھ عرصے کے لیے ٹل جائے۔ ۶مئی کو گاندھی جی اور جناح صاحب کے درمیان وائسرائے کی تحریک پر مذاکرات کا ایک اور دور ہوا۔ گاندھی جی نے تقسیم کا اصول ماننے سے انکار کردیا۔ ۲۲جون کو اُنھوں نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا: ’’ہندستان کی تقسیم ___ جہاں تک انسان دیکھ سکتا ہے، اب حقیقت بن چکی ہے‘‘۔ لیکن گاندھی جی شروع سے جس حقیقت سے انکار کرتے چلے آرہے تھے، اُسے اُنھوں نے اب بھی ماننے سے انکار کر دیا اور کہا:’’میں نے قائداعظم جناح کے دو قومی نظریے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور نہ کبھی کروں گا‘‘۔
تاہم، پاکستان اسی دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آچکا تھا۔ قیامِ پاکستان کی تحریک کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے ۳۰؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو قائداعظم نے لاہور میں کہا تھا:
ہم لوگ ایک گہری اور سوچی سمجھی سازش کا شکار رہے ہیں جو دیانت، جرأت مندی اور وقار کے بنیادی اصولوں کے خلاف پروان چڑھائی گئی تھی۔ ہم مالکِ حقیقی کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اُس نے ہمیں حوصلے اور یقین کی دولت سے نوازا کہ ہم بدی کی قوتوں سے لڑسکیں۔
[اس مضمون کے لیے مختلف اخبارات،رسائل اور درجہ ذیل کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے:

  1. An Autobiography: by M K Ghandi. This Book was also Published with title: The Story of My Experiments with Truth:  (translated from the original  Gujarati by  Mahadev Desi).
  2. Speaches & Writings of Mr Jinnah: Collected & Edited by Jamil-ud-Din Ahmed.
  3. Re: Hindu-Muslin Settlement: Correspondence Between Mr Ghandi  & Mr Jinnah published by: S.Shamsul Hasan, Assistant Secretary, All India Muslim League.
  4. Jinnah & Gandhi –Their Role in India’s Quest for Freedom:  by S K Majumdar Jinnah Gandhi Talks:  Text  of   correspondence  and  other relevant documents etc, Forward by Nawabzada Liaqat Ali Khan.
  5. The Partition of India; Policies and Perspective: 1935-1947, Edited by C H Philips, Director SOAS, University of London. 

حامدا و مصلیاً: اما بعد ! جلسوں کی عام روش کا اقتضا یہ ہے کہ میں سب سے پہلے اس عزتِ صدارت پر، جو ایک نہایت ہی سرفروشانہ ایثار و شجاعانہ جد و جہد کرنے والی جماعت کی طرف سے مجھ کو مرحمت ہوئی ہے، شکرگزاری اور منت پذیری کا اظہار کروں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ شکریہ چند وقیع اور شان دار الفاظ سے ادا نہیں ہوسکتا اور نہ مجھ کو محض رسمی اور مصنوعی ممنونیت کی نمایش اس بھاری ذمہ داری کے بوجھ سے سبک دوش کرسکتی ہے، جو فی الحقیقت آپ نے اس عزت افزائی کے ضمن میں مجھ پر عائد کی ہے۔ دو چار پھڑکتے ہوئے جملے بلاشبہہ عارضی طور پر مجلس کو محظوظ کرسکتے ہیں، مگر میں خیال کرتا ہوں کہ میری قوم اس وقت فصاحت و بلاغت کی بھوکی نہیں ہے اور نہ اس قسم کی عارضی مسرتوں سے اس کے درد کا اصلی درمان ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے ضرورت ہے ایک قائم و دائم جوش کی، نہایت صابرانہ ثبات قدم کی، دلیرانہ مگر عاقلانہ طریق عمل کی، اور اپنے نفس پر پورا قابو پانے کی۔ غرض ایک پختہ کار بلند خیال اور ذی ہوش محمدی بننے کی!
‎میں ہرگز آپ کے لیکچراروں اور فصیح اللسان تقریر کرنے والوں کی تحقیر نہیں کرتا ہوں، کیوںکہ میں خوب جانتا ہوں کہ جو چیز سوئے ہوئے دلوں کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے اور زمانے کی ’ہوا‘ میں اول تموّج پیدا کرتی ہے، وہ یہی دعوتِ حق کا غلغلہ ڈالنے والی زبان ہے۔ ہاں! اس قدر گزارش کرتا ہوں کہ تا وقتیکہ متکلم اور مخاطب کے دل میں سعی جمیلہ کا سچا جذبہ، اس کے اخلاق میں شجاعانہ استقامت و ایثار، اس کے جوارح میں قوت عمل، اس کے ارادوں میں پختگی اور چستی نہ ہو، محض گرم جوش تقریریں کسی ایسے کٹھن اور بلند پایہ مقصد میں آپ کو کامیاب نہیں کرسکتیں:
وَ کَیْفَ الْوُصُوْلُ اِلٰی سُعَادَ وَ دُوْنَھَا
‎قُلَلٌ الْجِبَالِ وَ دُوْنَھُنَّ حُتُوْفُ

محبوب ’حقیقی‘ تک رسائی کیسے ہوگی، جب کہ راستے میں پہاڑی چوٹیاں اور موت کے خطرات حائل ہیں۔
‎اے حضرات! آپ خوب جانتے ہیں کہ جس وادیِ پُرخار کو آپ برہنہ پا ہوکر قطع کرنا چاہتے ہیں، وہ مشکلات اور تکالیف کا جنگل ہے۔ قدم قدم پر وہاں صعوبتوں کا سامنا ہے، طرح طرح کی بدنی، مالی اور جاہی مکروہات آپ کے دامنِ استقلال کو الجھانا چاہتے ہیں۔ لیکن حُفَّتِ الجَنَّۃُ بِالمَکارِہِ  وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّھَوَاتِ   [جنّت تکلیفوں سے گھری ہوئی ہے، جب کہ جہنم نفسانی خواہشات سے۔ مسلم، حدیث ۵۱۵۶]کے قائل کو اگر آپ خدا کا سچا رسولؐ مانتے ہیں (اور ضرور مانتے ہیں) تو یقین رکھیے! کہ جس صحراے پُرخار میں آپ گامزن ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس کے راستے پر جنت کا دروازہ بہت ہی نزدیک ہے۔‎کامیابی کا آفتاب ہمیشہ مصائب و آلام کی گھٹاؤں کو پھاڑ کرنکلا ہے اور اعلیٰ تمناؤں کا چہرہ سخت سے سخت صعوبتوں کے جھرمٹ میں سے دکھائی دیا ہے:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ۝۰ۭ مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰى نَصْرُ اللہِ۝۰ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِيْبٌ۝۲۱۴ (البقرہ۲: ۲۱۴)‎کیا تم کو یہ خیال ہے کہ تم جنت میں چلے جائو گے اور تمھیں اس طرح کے حالات پیش نہ آئیں گے جو کہ تم سے پہلے لوگوں کو پیش آئے؟ ان کو سختیاں اور اذیتیں پہنچیں اور وہ اس قدر جھڑ جھڑائے گئے کہ پیغمبر اور اس کے ساتھ مومنین بول اُٹھے کہ خدا کی مدد کہاں ہے؟ یاد رکھو کہ خدا کی مدد نزدیک ہے۔
‎دوسری جگہ ارشاد ہے:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللہُ الَّذِيْنَ جٰہَدُوْا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ۝۱۴۲ (اٰلِ عمرٰن۳: ۱۴۲) کیا تم نے یہ خیال کیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤگے بدون [بغیر] اس کے کہ اللہ جانچ کرے تم میں سے مجاہدین اور صابرین کی؟
‎ایک اور مقام پر ارشاد ہوا ہے:
الۗمّۗ۝۱ۚ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ۝۲ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَ۝۳ (العنکبوت۲۹: ۱-۳) کیا لوگ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ محض أمنّا کہنے پر وہ چھوڑدیے جائیں گے؟ حالاںکہ ہم نے ان سے پہلے لوگوں کی آزمایش کی ہے، تو ضرور ہے کہ اللہ پرکھے گا سچے اور جھوٹے لوگوں کو۔
‎یہ حق تعالیٰ جل شانہ کی سنت مستمرہ ہے، جس میں کسی قسم کی تبدیلی و تغیر گوارا نہیں، کوئی قوم اللہ جل شانہ کی محبت اور اس کے راستے پر چلنے کی مدعی نہیں ہوئی جس کو امتحان و آزمایش کی کسوٹی پر نہ کسا گیا ہو، خدا کے برگزیدہ اور اولوالعزم پیغمبر جن سے زیادہ خدا کا پیار کسی پر نہیں ہوسکتا، وہ بھی مستثنیٰ نہیں رہے۔ بے شک ان کو مظفر و منصور کیا گیا، مگر کب؟ سخت ابتلا اور زلزالِ شدید کے بعد۔ وہ خود فرماتے ہیں:
حَتّٰٓي اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَاۗءَہُمْ نَصْرُنَا۝۰ۙ فَنُجِّيَ مَنْ نَّشَاۗءُ۝۰ۭ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُـنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ۝۱۱۰ (یوسف۱۲: ۱۱۰)‎[یہاں تک کہ جب نااُمید ہونے لگے رسول، اور خیال کرنے لگے ان سے، جھوٹ کہاگیا تھا، پہنچی ان کو ہماری مدد، پھر بچادیا جن کو ہم نے چاہا، اور پھرتا نہیں عذاب ہمارا قوم گناہ گار سے]۔ 
پس اے فرزندانِ توحید! میں چاہتا ہوں کہ آپ انبیا و مرسلین اور ان کے وارثوں کے راستے پر چلیں اور جو لڑائی اس وقت شیطان کی ذُرّیت اور خداے قدوس کے لشکروں میں ہورہی ہے اس میں ہمت نہ ہاریں اور یاد رکھیں کہ شیطان کے مضبوط سے مضبوط آہنی قلعے خداوند قدیر کی امداد کے سامنے تارِ عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہیں:
اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ۝۰ۚ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِيَاۗءَ الشَّيْطٰنِ۝۰ۚ اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا۝۷۶ۧ (النساء ۴: ۷۶) ایمان دار تو خدا کے راستے میں لڑتے ہیں اور کافر شیطان کے راستے میں، پس، تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو، بلاشبہہ شیطان کی فریب کاری محض لچر پوچ ہے۔
‎میں نے اس پیرانہ سالی اور علالت و نقاہت کی حالت میں، جس کو آپ خود مشاہدہ فرمارہے ہیں، آپ کی دعوت پر اس لیے لبیک کہا کہ میں اپنی ایک گم شدہ متاع کو یہاں پانے کا امیدوار ہوں۔
‎بہت سے نیک بندے ہیں جن کے چہروں پر نماز کا نور اور ذکر اللہ کی روشنی جھلک رہی ہے، لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدارا! اُٹھو اور اس اُمتِ مرحومہ کو کفار کے نرغے سے بچاؤ، [تو] ان کے دلوں پر خوف و ہراس مسلط ہو جاتا ہے، خدا کا نہیں، بلکہ چند ناپاک ہستیوں کا اور ان کے سامانِ حرب و ضرب کا۔ حالاںکہ ان کو تو سب سے زیادہ جاننا چاہیے تھا کہ خوف کھانے کے قابل اگر کوئی چیز ہے تو خدا کا غضب اور اس کا قاہرانہ انتقام ہے اور دنیا کی متاع قلیل خدا کی رحمتوں اور اس کے انعامات کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ چنانچہ اس قسم کے مضمون کی طرف  حق تعالیٰ جل شانہ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا ہے:
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَھُمْ كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ۝۰ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْہِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْـيَۃِ اللہِ اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَۃً۝۰ۚ وَقَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ۝۰ۚ لَوْلَآ اَخَّرْتَنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ۝۰ۭ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ۝۰ۚ وَالْاٰخِرَۃُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى۝۰ۣ وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا۝۷۷ (النساء۴: ۷۷) کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نظر نہیں کی، جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوۃ دیتے رہو، پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو یکا یک ان میں ایک فریق ڈرنے لگا آدمیوں سے، خدا کے برابر یا اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگا: اے ہمارے پرورگار! آپ نے ہم پر جہاد کیوں فرض کیا؟ اور کیوں تھوڑی مدت ہم کو اور مہلت نہ دی؟ کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تھوڑا ہے اور آخرت اس شخص کے لیے بہتر ہے، جس نے تقویٰ اختیار کیا اور تم پر ایک تاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا، جہاں کہیں بھی ہو موت تم کو آدبائے گی، اگر چہ تم نہایت مستحکم قلعوں میں ہو۔
‎اے نونہالانِ وطن! جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غم خوار، کہ جس میں میری ہڈیاں پگھلی جارہی ہیں، مدرسوں اور خانقاہوں میں کم، اور اسکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں، تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا، اور اس طرح ہم نے ہندستان کے دو تاریخی مقاموں: ’دیوبند اور علی گڑھ‘ کا رشتہ جوڑا۔ کچھ بعید نہیں کہ بہت سے نیک نیت بزرگ میرے اس سفر پر نکتہ چینی کریں اور مجھ کو اپنے مرحوم بزرگوں کے مسلک سے منحرف بتائیں، لیکن اہل نظر سمجھتے ہیں کہ جس قدر میں بظاہر علی گڑھ کی طرف آیا ہوں اس سے کہیں زیادہ علی گڑھ میری طرف آیا ہے:
‎دوش دیدم کہ ملائک در مے خانہ زدند
‎گلِ آدم بسرشتند و بہ پیمانہ زدند
‎ساکنانِ حرم سرّ عفاف ملکوت
‎بامن راہ نشیں بادۂ مستانہ زدند
‎شکر ایزد کہ میان من و او صلح فتاد
‎حوریاں رقص کناں ساغر شکرانہ زدند
‎جنگ ہفتاد و دو ملت ہمہ را عذر بنہ
‎چوں نہ دیدند حقیقت رہِ افسانہ زدند
[میں نے کل رات فرشتوں کو مے کدے کا دروازہ کھٹکھٹاتے دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ انھوں نے آدم کی مٹی گوندھ کر سانچے میں ڈھالی۔ اُس رات فرشتوں کی دنیا کی پاک دامنی کے رازدان، جو حرم میں بسنے والے ہیں، انھوں نے مجھ جیسے خاک نشین کے ساتھ جام نوشی کی۔ اللہ کا شکر ہے اُن میں اور مجھ میں صلح ہوگئی۔ رقص کناں حُوروں نے مجھے تشکر کا جام پلایا ۔ اور بہتّر فرقوں کے اختلاف والوں کو معذور سمجھ کر، جب حقیقت کا راستہ معلوم نہ ہوا، تو انھوں نے افسانہ گوئی کا راستہ اپنا لیا]۔
آپ میں سے جو حضرات محقق اور باخبر ہیں، وہ جانتے ہوں گے کہ میرے بزرگوں نے کسی وقت بھی کسی اجنبی زبان کے سیکھنے یا دوسری قوموں کے علوم و فنون حاصل کرنے پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا۔ ہاں! یہ بے شک کہا کہ: ’’اگر انگریزی تعلیم کا آخری اثر یہی ہے، جو عموماً دیکھا گیا ہے کہ لوگ نصرانیت کے رنگ میں رنگے جائیں، یا ملحدانہ گستاخیوں سے اپنے مذہب اور مذہب والوں کا مذاق اُڑائیں، یا حکومت وقت کی پرستش کرنے لگیں، تو ایسی تعلیم پانے سے ایک مسلمان کے لیے جاہل رہنا ہی اچھا ہے‘‘۔ اب از راہِ نوازش آپ ہی انصاف کیجیے کہ یہ تعلیم سے روکنا تھا یا اس کے اثر بد سے اور کیا یہ وہی بات نہیں جس کو آج مسٹر گاندھی{ FR 653 } اس طرح ادا کررہے ہیں کہ: ’’ان کالجوں کی اعلیٰ تعلیم بہت اچھی، صاف اور شفاف دودھ کی طرح ہے، جس میں تھوڑا سا زہر ملادیا گیا ہے‘‘۔
‎باری تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے میری قوم کے نوجوانوں کو توفیق دی ہے کہ وہ اپنے نفع و ضرر کا موازنہ کریں، اور دودھ میں جو زہر ملا ہوا ہے اس کو کسی ’بھپکے‘ کے ذریعے سے علیحدہ کرلیں۔ آج ہم وہی بھپکا نصب کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور آپ نے مجھ سے پہلے سمجھ لیا ہوگا کہ وہ ’بھپکا‘ مسلم نیشنل یونی ورسٹی ہے۔
‎مطلق تعلیم کے فضائل بیان کرنے کی ضرورت اب میری قوم کو نہ رہی، کیوںکہ زمانے نے خوب بتلادیا ہے کہ تعلیم سے ہی بلند خیالی اور تدبر اور ہوش مندی کے پودے نشو و نما پاتے ہیں اور اس کی روشنی میں آدمی نجاح و فلاح کے راستے پر چل سکتا ہے۔ ہاں! ضرورت اس کی ہے کہ وہ تعلیم مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہو اور اغیار کے اثر سے بالکل آزاد ہو___ کیا باعتبارِ عقائد و خیالات کے، اور کیا باعتبارِ اخلاق و اعمال کے، اور کیا باعتبارِ اوضاع و اطوار کے، ان سب میں ہم غیروں کے اثرات سے پاک ہوں۔
‎ہماری عظیم الشان قومیت کا اب یہ فیصلہ نہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے کالجوں سے بہت سستے داموں پر غلام پیدا کرتے رہیں، بلکہ ہمارے کالج نمونہ ہونے چاہییں بغداد اور قرطبہ کی یونی ورسٹیوں اور ان عظیم الشان مدارس کے، جنھوں نے یورپ کو اپنا شاگرد بنایا، اس سے بیش تر کہ ہم اس کو اپنا استاد بناتے۔
‎آپ نے سنا ہوگا کہ بغداد میں جب مدرسۂ نظامیہ کی بنیاد ایک اسلامی حکومت کے ہاتھوں رکھی گئی، تو اس دن علما نے جمع ہوکر علم کا ماتم کیا تھا کہ: ’افسوس، آج سے علم حکومت کے عہدے اور منصب حاصل کرنے کے لیے پڑھا جائے گا‘___ ہماری قوم کے سربرآوردہ لیڈروں نے، سچ تو یہ ہے کہ اُمت اسلامیہ کی ایک بڑی اہم ضرورت کا احساس کیا ہے___ بلاشبہہ مسلمانوں کی درس گاہوں میں جہاں علوم عصریہ کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہو، اگر طلبہ اپنے مذہب کے اصول و فروع سے بے خبر ہوں اور اپنے قومی محسوسات اور اسلامی فرائض فراموش کردیں، اور ان میں اپنی ملت اور اپنے ہم قوموں کی حمیت نہایت ادنیٰ درجے پر رہ جائے، تو یوں سمجھو کہ وہ درس گاہ مسلمانوں کی قوت کو ضعیف بنانے کا ایک آلہ ہے۔ اس لیے اعلان کیا گیا ہے کہ ایک آزاد یونی ورسٹی کا افتتاح کیا جائے گا، جو [برطانوی] گورنمنٹ کی اعانت اور اس کے اثر سے بالکل علیحدہ ہو، اور جس کا تمام تر نظامِ عمل اسلامی اور قومی محسوسات پر مبنی ہو۔
‎مجھے ان لیڈروں سے زیادہ ان نونہالانِ وطن کی ہمت ِبلند پر آفرین اور شاباش کہنا چاہیے، جنھوں نے اس مقصد کی انجام دہی کے لیے اپنی ہزاروں امیدوں پر پانی پھیردیا اور باوجود ہر قسم کے طمع اور خوف کے وہ ’موالاتِ نصاریٰ کے ترک‘ پر مضبوطی اور استقلال کے ساتھ قائم رہے اور اپنی عزیز زندگیوں کو ملت اور قوم کے نام پر وقف کردیا۔
‎شاید ترکِ موالات کے ذکر پر آپ اس مسئلے کی تحقیق کی طرف متوجہ ہوجائیں اور ان عامۃ الورود سوالات اور شبہات کے دلدل میں پھنسنے لگیں، جو اس بہت ہی اہم و اعظم مسئلے کے متعلق آج کل عموماً زبان زد ہیں۔ اس لیے میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں کہ آپ تھوڑا سا وقت مجھ کو اس تحریر کے سنانے کے لیے عنایت فرمائیں، جو میں نے بعض مسائل دریافت کیے جانے پر دیوبند سے تیار کرکے بھیجی تھی۔
‎اب میری یہ التجا ہے کہ آپ سب حضرات بارگاہِ رب العزت میں نہایت صدقِ دل سے دعا کریں کہ وہ ہماری قوم کو رُسوا نہ کرے اور ہم کو کافروں کا تختۂ مشق نہ بنائے اور ہمارے اچھے کاموں میں ہماری مدد فرمائے، آمین!

 ڈاکٹر محسن رفیق ، فیصل آباد

محترم سیّد منور حسن کی مختصر مگر کتابوں پر بھاری تقریر ’تجدید ِ عہد اور فریضۂ اقامت دین‘ کو پڑھ کر ہاتھوں سے پھلستی دعوت تھامنے اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ اس خطبے میں خوداحتسابی بھی ہے اور نشانِ منزل بھی۔


پروفیسر قدیرالدین اسلم ، کراچی

پروفیسر خورشیداحمد صاحب نے چودھری رحمت الٰہی صاحب کی یاد میں تحریک کی تاریخ کے بڑے اہم موڑ قلم بند کرکے یہ احساس زندہ کیا ہے کہ یہ قافلہ کن عظیم ہستیوں کی جوانی، صلاحیت اور ایمان سے مرکز ِ نگاہ بنا۔


کریم اللہ خان ، پشاور

مَیں پشاور یونی ورسٹی کا طالب علم ہوں۔ ایک دوست سے ترجمان ملا تو اس میں جاوید اقبال خواجہ کے تحقیقی مضمون میں فوجی آمریت اور خود آمر مطلق کی بددماغی اور مولانا مودودی سے عناد کا تذکرہ پڑھ کر سخت افسوس ہوا کہ ہمارے حاکم، ملّت ِ اسلامیہ کے محسنوں کی قدر کرنے سے کتنے بے بہرہ اور بے توفیق ہیں۔


نبیلہ خاتون ، سکھر

فروری کے شمارے میں بنگلہ دیش اور کشمیر کے احوال کی مؤثر تصویرکشی، خون کے آنسو رُلاتی ہے۔ عابدہ فرحین نے خواتین کو درپیش مسئلے سے آگاہ کیا اور ڈاکٹر وقارمسعود کے معاشی جائزے اور اُمنڈتے بحران نے تشویش میں مبتلا کیا ہے۔


بدرِ عالم ، لاہور

مرزا محمد الیاس صاحب نے ’معاشرتی چیلنج، تقاضے اور ہم‘ میں خود احتسابی کی بنیادیں دکھا کر آنکھیں کھول دی ہیں، جب کہ مجتبیٰ فاروق نے مولانا مودودی کے کشمیر سے ربط کو تازہ کیا ہے۔


نمیر حسن مدنی ، اسلام آباد

ماہ جنوری ۲۰۱۹ء کے شمارے میں ’قرآن کریم اور روحانیت‘ کے آخری صفحے پر دی گئی روایت میں ایک بات اضافی طور پر دَر آئی ہے۔ لکھا ہے کہ ’گرجا میں نبی کریمؐ کی تصویر تھی‘(ص ۳۱)۔ یہ بات درست نہیں۔ مسلم حدیث نمبر ۱۱۸۱ اور ۱۱۸۳ میں صرف تصویروں کا ذکر ہے۔
 

یہ ۲۷فروری ۲۰۰۲ء کا الم ناک دن تھا، جب گودھرا ٹرین کی آتش زدگی کے فوراً بعد بھارتی ریاست گجرات میں مسلمانوں کے گھروں پر انتہاپسند ہندوئوں نے حملے کر کے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام کیا اور ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مار دیے گئے، گھر جلا دیے گئے اور عورتوں کی اجتماعی بے حُرمتی کی گئی۔ تب نریندرا مودی گجرات کے وزیراعلیٰ اور اس ’آپریشن مسلمان‘ کے عملاً کمانڈر تھے۔ تباہ حال مسلمان گھرانوں کی بحالی کے کاموں میں دیگر مسلمان رضاکاروں کی طرح جمعیۃ العلما ، مہاراشٹر کے رہنما مفتی عبدالقیوم منصوری بھی سرگرم تھے۔ ۲۴ستمبر ۲۰۰۲ء کو اکشردھام مندر میں گرنیڈ حملے میں ۳۲؍افراد ہلاک ہوگئے۔ اس حادثے میں مفتی عبدالقیوم اور دینی رہنمائوں کو پھانسنے کے لیے ۱۷؍اگست ۲۰۰۳ء کوگرفتار کرکے تعذیب خانوں میں ڈالا گیا۔ آخرکار ’دہشت گردی روک قانون‘ (POTA) کی عدالت نے ۲جولائی ۲۰۰۶ء کو مفتی صاحب کو سزاے موت سنائی۔ ہائی کورٹ میں اپیل کی تو اس نے ۲۴؍اپریل ۲۰۰۸ء کو فیصلہ محفوظ کیا اور ۲۶ماہ بعد یکم جون ۲۰۱۰ء کو سزاے موت برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ اس پر  سپریم کورٹ میں اپیل کی تو وہاں سے ۱۶مئی ۲۰۱۴ء کو مفتی صاحب اپنے تمام ساتھیوں سمیت بے گناہ قرار پاکر، گیارہ برس بعد رہا ہوئے۔ بھارت کے مسلمان ایسے صدمات سے گزر رہے ہیں۔ مفتی صاحب نے اپنی رُوداد گیارہ سال سلاخوں کے پیچھے لکھی ہے، اس سے چند صفحات پیش ہیں۔ ادارہ


یہ ۱۷؍اگست ۲۰۰۳ء کی صبح تھی۔ میں ڈابھیل اپنے استاذ مولانا مفتی احمد صاحب خانپوری اور دیگر اساتذہ و طلبہ سے ملاقات کے بعد کفلیتہ پہنچا کہ صبح ۱۰بجے میرے موبائل پر ایک کال آئی جس کا نمبر دیکھ کر مَیں بے چین ہوگیا کیوں کہ یہ نمبر پچھلے ایک ہفتے سے میرے پیچھے لگا ہوا تھا۔ ایسے آثار نظر آرہے تھے کہ کسی بھی وقت مجھے بھی پولیس کرائم برانچ کا بلاوا آسکتا ہے کیوں کہ مجھ سے قبل کئی حضرات کو کرائم برانچ میں بلایا، دھمکایا ، ماراپیٹا اور غلط مقدمات میں پھنسا دیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ حضرت مفتی احمد صاحب خانپوری، مولانا احمد مظاہری پٹنی، مفتی یحییٰ صاحب، مفتی رضوان صاحب اور  مفتی امتیاز صاحب بھی اس مکروہ ترین مرحلے سے گزر چکے تھے، لہٰذا مجھے بھی خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ کب بلاوا آ جاتا ہے؟
آخرکار۱۷؍اگست ۲۰۰۳ء اتوار کے روز صبح ۱۰بجے انھی صاحب کا فون آیا: ’بھائی تو کہاں ہے؟‘ میں نے پوچھا: ’کیا کام ہے؟‘ کہا: ’سانگھل صاحب بلا رہے ہیں‘۔
میں نے کہا: ’میں پالن پور میں ہوں‘۔ جواب ملا:’تو کب آئے گا؟‘ میں نے بتایا: ’شام تک آجائوں گا‘،تو جواب آیا: ’پالنپور صرف دو تین گھنٹے کا راستہ ہے، تجھے اتنی دیر کیوں ہوگی؟‘
میں نے اپنا موبائل فون بند کر دیا اور وہاں سے فوراً ڈابھیل آکر اپنے بزرگوں کو یہ بات بتائی اور دُعا کی درخواست کی۔ کھانے کی دعوت حضرت مولانا محمد سملکی کے گھر تھی، لیکن اس تشویش ناک خبر سے میرا اور میرے رفقاے سفر کا کھانا بھی بدمزا ہوگیا اور واپسی کا سفر شروع ہوا۔ میں اپنی فکر میں ڈوبا ہوا تھا اور گاڑی کی رفتار سے تیزخیالات اور وساوس کی رفتار تھی کہ اب کیا ہوگا؟مجھے کیوں بلایا گیا ہے؟ پورا سفر میں نے اور ساتھیوں نے اضطراب میں گزارا۔
شام کو تقریباً پانچ بجے شہراحمدآباد میں داخل ہوکر سارنگ پور، رنگ بھون کے قریب موبائل چالو کیا ہی تھا کہ ان صاحب کا فون آگیا کہ’تو کہاں تک پہنچا ہے؟‘ میں نے کہا: ’بس احمدآباد میں داخل ہو رہا ہوں‘۔ کہنے لگے: ’لوکھنڈوالا ہسپتال آجا، تجھے لینے کے لیے وہ حضرات  تیرا انتظار کر رہے ہیں‘۔ مَیں مغرب کی نماز سے کچھ قبل لوکھنڈوالا ہسپتال پہنچا تو وہاں وہ جناب اور ایک صاحب موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’کرائم برانچ والے کہتے ہیں کہ یہاں مناسب نہیں ہے، حاجی سخی مسجد پہنچ جائو،وہاں سے لے جائیں گے‘۔ میں حاجی سخی مسجد گیا اور اپنے رفیقِ سفر    مولانا یوسف صاحب کو اپنا موبائل، اسکوٹر کی چابی اور دیگر کچھ چیزیں سپرد کیں اوربیٹے معاویہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ مسجد پہنچتے ہی کرائم برانچ کے تین چار افسران ملک صاحب کی قیادت میں مسجد میں تشریف لائے جو سارے مسلمان تھے۔
انھوں نے آکر مجھ سے مصافحہ کیا۔ پی ایس آئی ملک صاحب مجھ سے اچھی طرح واقف تھے، تاہم سرسری طور پر پوچھا: ’آپ ہی مفتی عبدالقیوم ہیں‘۔ میں نے کہا: ’جی ہاں‘۔ کہا: ’ہم آپ کو لینے کے لیے آئے ہیں، میں نے ان سے پوچھا: ’مجھے کیوں بلایا گیا ہے؟‘ انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’مولانا عبداللہ کو بھی آج ہی صبح کی نماز کے وقت پکڑ لائے ہیں، اس لیے آپ  گھر والوں کو بھی اطلاع دے دو، تاکہ وہ فکرمند نہ ہوں، ان شاء اللہ دوچار روز میں ہم آپ کو   واپس چھوڑ جائیں گے‘۔ میں نے مولانا یوسف صاحب سے کہا کہ ’میرے گھر والوں کو یہ اطلاع دے دیں‘۔ شاید اسی وقت ان حضرات نے میرے گھر یہ اطلاع دے دی تھی، چنانچہ کچھ ہمدرد ساتھی مسجد ہی میں آگئے اور انھوں نے مشورہ دیا کہ ’آپ ہرگز نہ جائیں، ہم کرائم برانچ والوں کو ٹال دیں گے‘۔ میں نے کہا کہ ’میں نے کوئی جرم نہیں کیا، لہٰذا مجھے ضرور جانا چاہیے‘۔
مغرب کا وقت ہو رہا تھا، کرائم برانچ کے افسران نے کہا کہ ہم مغرب بعد چلیں گے، مغرب کی نماز خوف و ہراس اور وسوسوں کی نذر ہوگئی۔ نماز کے بعد مختصر سی دُعا کی اور کرائم برانچ کے افسروں کے ساتھ ہولیا۔اس وقت میرا گھر حاجی سخی کی مسجد سے متصل ہی تھا۔ پولیس والوں کے ساتھ نکلتے ہوئے میں نے صحن سے اپنے گھر والوں کو الوداعی ہاتھ ہلایا۔ مجھے کب پتا تھا کہ یہ جدائی صرف دوچار دن کی نہیں بلکہ گیارہ برسوں کی ہے۔
بہرحال مکروفریب سے مجھے اغوا کر کے کرائم برانچ کے ایک کانسٹیبل نے اپنی موٹرسائیکل پر سوار کرلیا۔ میں حسرت بھری نگاہوں سے اپنی پیاری مسجد اور محلّے کو دیکھ رہا تھا۔ دریاپور چارواٹ سے گزرتے ہوئے خلیل بھائی کی چائے کی دکان پر میں نے اپنے والد (مرحوم) کو چائے پیتے ہوئے دیکھا اور صرف ہاتھوں سے اشارہ کیا، کسے علم تھا کہ میں اب اپنے والد کی معیت و صحبت کبھی بھی نہیں پاسکوں گا۔ اِبنّا بھائی اور مولوی یوسف کرائم برانچ کے آفس تک میرے پیچھے آئے، اور بڑی بے چارگی سے مجھے الوداع کہہ کر واپس آگئے۔
عشاء سے قبل گائیک واڈ کی حویلی، کرائم برانچ پہنچ کر جناب پی ایس آئی محبوب ملک مجھے ایک خستہ حال عمارت کی دوسری منزل پرلے گئے۔ وہاں ایک ہال نما کمرہ تھا جہاں مَیں نے مولوی عبدالصمد حیدرآبادی اور دیگر کچھ مظلوموں کو آنکھوں پر پٹی اور ہاتھوں میں ہتھ کڑی لگی حالت میں بے بس و مجبور دیکھا۔ مولوی عبدالصمد صاحب میری محبوب ترین مادر علمی جامعہ ڈابھیل سے فارغ تھے۔ مَیں ان مظلوموں کو دیکھ کر اپنی فکر بھول گیا۔ مجھے وہاں ایک افسر پی آئی ماوانی کے دفتر میں بٹھا دیا گیا اور محبوب ملک نے مجھے ایک چادر دی اور کھانالاکر دیا اور ساتھ ہی اپنا دستی رومال نکال کر میری آنکھوںپر باندھ دیا۔ عشاء کی نماز بڑی رغبت و استحضار کے ساتھ پڑھی اور کھانا بڑی بے رغبتی سے کھایا۔ اس حالت میں جو اوراد و اَذکار یاد آرہے تھے پڑھ رہا تھا اور دل ہی دل میں اللہ سے خیروعافیت کی دُعا کر رہا تھا۔ 
رات کے تقریباًگیارہ بجے ملک صاحب آئے، میرا ہاتھ پکڑ کر سیڑھی سے اُتار کر نیچے لائے۔ سیڑھی اُترتے ہی اے سی پی گریش کمار سانگھل کے آفس میں لے جاکر میری آنکھوں سے پٹی ہٹا دی۔ وہاں سانگھل صاحب تشریف فرما تھے۔ انھوں نے ملک صاحب و دیگر کو آفس سے باہر نکال دیا اور کچھ دیر تک مجھے گھورتے رہے۔ الحمدللہ، میں نے بھی ان کی آنکھوں میں آنکھیں جمائے رکھیں (وہاں کی ’مہمان نوازی‘ سے مشرف ایک صاحب نے مجھے بتلایا تھا کہ سانگھل صاحب اگر آپ کو گھورنے لگے تو آنکھیں نہیں چرانا چاہییں ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ آپ مجرم ہیں)۔ کچھ دیر بعد انھوں نے اپنی زبان کو تکلیف دی اور اس طرح گفتگو ہوئی:
سانگھل: ’تجھے یہاں کیوں لائے ہیں؟‘ میں نے کہا: ’مجھے پتا نہیں ہے‘۔ سانگھل صاحب غرائے: ’سوچ کر بتا، کچھ تو ہوگا جس کی وجہ سے تجھے یہاں لایاگیا ہے؟‘ میں نے سوچا کہ شاید بواہر ہال ریلیف کیمپ کے حساب کتاب کے معاملے میں بلایا گیا ہو۔ اس لیے مَیں نے جواب دیا کہ ’ریلیف کیمپ کے حساب کتاب کے سلسلے میں بلایا گیا ہے‘۔ سانگھل نے کہا: ’اور سوچ کر بتا تُو نے کیا کیا ہے؟‘ جواب دیا: ’میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا‘۔سانگھل نے کچھ دیر گھورنے کے بعد کہا: ’حیدرآباد سے کون آیا تھا؟‘ میں نے جواب دیا: ’مولوی عبدالصمد آئے تھے‘۔
سانگھل نے کہا: ’اور کون آیا تھا؟‘ میں نے بتایا: ’حیدرآباد کے بہت سے طلبہ ڈابھیل پڑھتے تھے، وہ بھی احمد آباد آتے تھے‘۔ اس پر سانگھل نے اچانک پوچھا: ’لیاقت سے کیا بات ہوئی تھی؟‘ اس پر مَیں یہ سمجھا کہ لیاقت چونے والا جس سے میں اکثر ہنسی مذاق کرتا تھا۔ غالباً اس سے گفتگو کا کوئی شرارت بھرا فون ٹیپ کرلیا گیا ہے، چنانچہ یہ سوال سنتے ہی میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔

ناقابلِ برداشت تشدد کا آغاز

میری اس مسکراہٹ پر سانگھل صاحب بھڑک اُٹھے اور مجھے واہی تباہی گندی گالی دیتے ہوئے اُٹھ کر بے ساختہ مجھے ڈنڈے سے پیٹنا شروع کر دیا۔ کچھ ڈنڈے مارنے کے بعد کہا: ’جا، کل تجھے پتا چل جائے گا کہ تجھے ہم یہاں کیوں لائے ہیں؟‘ پھر ایک ناقابلِ بیان، بے انتہا ظلم و ستم اور وحشت و درندگی سے بھرپور غم ناک داستان کا آغاز ہوا۔ مجھے آنکھوں پر پٹّی باندھ کر دفتر میں بھیج دیا گیا۔ اُس رات دیر سے پھر جناب ملک اور اشرف چوہان تشریف لائے۔ اشرف چوہان صاحب اگرچہ مسلمان تھے، لیکن ان کے کارنامے کسی درندہ صفت یہودی کو بھی شرمادینے کے لیے کافی تھے۔ انھوں نے چھوٹتے ہی کہا: ’تجھے اور مفتی سفیان کو ملک مخالف حرکتیں نہیں کرنی چاہییں تھیں‘۔ میں نے کہا: ’میں نے کوئی غلط حرکت نہیں کی ہے‘۔ یہ بات ہورہی تھی کہ اچانک پی ایس آئی ماوانی آگیا اور وہ دونوں حضرات چلے گئے۔ کرائم برانچ کی یہ پہلی رات بڑی تاریک و خوف ناک معلوم ہورہی تھی۔ چھوٹا سا کیبن نما آفس، اندھیری رات اور پھر آنکھوں پر پٹی۔ گہری رات کی خاموشی میرے خوف و ہراس کو بڑھاتی رہی۔ اللہ اللہ کرکے صبح ہوئی۔ دوپہر تقریباً ۱۲بجے مجھے لینے کے لیے ایک کانسٹیبل آگیا کہ: ’بنجارا صاحب بلا رہے ہیں‘‘۔
گرفتاری سے قبل مسٹر بنجارا کا ’نام‘ اور ’کام‘ سن رکھا تھا، دیدار ۱۸؍اگست ۲۰۰۳ء، پیرکے روز دوپہر کو نصیب ہوا۔ آفس میں لے جاکر میری آنکھوں سے پٹّی ہٹائی گئی تو کائونٹر ٹیبل کے پیچھے لال داڑھی والے چشمہ لگائے ہوئے بنجارا صاحب تشریف فرما تھے۔ ان کی بائیں جانب کرسیوں پرکچھ دوسرے افسران بیٹھے تھے، جن میں سے سانگھل صاحب سے تو گذشتہ رات تعارف ہوچکا تھا۔ دوسرے حضرات میں وکھت ڈیوی ونار، آر آئی پٹیل وغیرہ شامل تھے، جن سے بعد میں واقفیت ہوئی۔ مجھے لے جاکر ان کے جوتوں کے پاس زمین پر بٹھا دیا گیا اور بات شروع کرنے کی ذمہ داری بنجارا نے پنے ہاتھ میں لیتے ہوئے گذشتہ رات والا سوال دہرایا کہ ’حیدرآباد سے کون آیا تھا؟‘ میں نے وہی جواب دیا: ’مولانا عبدالصمد صاحب آئے تھے‘۔ بنجارا نے کہا کہ ’ڈنڈا پارٹی کو بلائو‘۔ یہ ڈنڈا پارٹی پانچ، چھے درندوں او ر وحشیوں پر مشتمل تھی۔ یہ بھوکے بھیڑیےاور وحشی خود مارتے ہوئے جب تک تھک نہ جاتے مارپیٹ اور ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رہتا تھا، یا پھر  مار کھانے والا مر جائے یا بے ہوش ہوجائے تو ہوش آنے تک یہ سلسلہ رُک جاتا۔
چنانچہ ڈنڈا پارٹی آگئی۔ انھوں نے آکر میرے ہاتھ میں بیڑیاں ڈال دیں۔ ایک موٹے تازے بھینسے جیسے ظالم نے تیزی سے لپک کر مجھے کمر سے دبوچ لیا۔ دوسرے نے دونوں پیر پکڑ لیے۔ تیسرے شخص نے باوجود یہ کہ میرے ہاتھوں میں بیڑیاں تھیں میرے دونوں ہاتھ کندھوں سے پکڑ کر مجھے اُلٹا کھڑا کر دیا اور وی ڈی ونار نے میری پشت اور کولہوں پر انتہائی درندگی سے  ڈنڈے برسانے شروع کیے۔ الحمدللہ، ہرڈنڈے کی ضرب پر مَیں’اللہ اکبر‘کی صدا لگا رہا تھا۔ جب مَیں اللہ اکبر کہتا تو بنجارا صاحب نہایت گندی گالیاں بک کر کہتا کہ:’ تمھارا اللہ تمھارا ساتھ چھوڑ گیا ہے۔ دیکھ، آج ہمارے پاس سب کچھ ہے۔ تمھارے پاس کیا ہے؟ اگر اللہ تیرے ساتھ ہے تو یہ بیڑیاں توڑ دے اور رہا ہوکر دکھلا دے‘۔اسی طرح اللہ رب العزت، جنت، حُور وغیرہ کے متعلق نہایت گھٹیا اور ناقابلِ بیان تبصرے کرکے اپنے دل کی خباثت و گندگی کا ثبوت دیتا رہا۔
اسی طرح وکھت دیوی ونار کا تعارف اگر مَیں ان الفاظ میں کرائوں کہ ظلم اور ونار، ایک سکّے کے دو رُخ تھے تو بے جا نہ ہوگا۔ میں نے اپنی زندگی میں اس سے بڑھ کرظالم شخص نہیں دیکھا۔ اس کے تعصب اور اسلام دشمنی کا اس بات سے انداز ہ لگایا جاسکتا ہے کہ دورانِ ریمانڈ یہ جنگلی درندے کی طرح مجھ پر ٹوٹ پڑتا۔ مجھے لہولہان کرتے ہوئے بے ہوش کردیتا۔یہ اسلام اور مسلمانوں پر ناقابلِ بیان گندے تبصرے کرتے ہوئے مجھے اکثر کہتا کہ: ’ہماری پولیس، حکومت اور عدالتیں بے وقوف ہیں کہ مقدمات درج کرکے تم لوگوں پر فضول خرچی کرتے ہیں۔ تم مُسلوں کو تو گولی مار دینی چاہیے‘۔
ونار نے کتنے ڈنڈے برسائے معلوم نہیں، آخر وہ تھک گیا اور اس کی سانس پھولنے لگی تو وہ رُک گیا۔ تب بنجارا نے براہِ راست سوال کیا کہ: ’بتا ، اکشردھام مندر پر حملہ کس نے کروایا تھا؟‘ یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین سرک گئی اور کلیجہ منہ کو آگیا، زبان کانٹے کی طرح خشک ہوگئی اور پہلی مرتبہ مجھے معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا کہ مجھے کس بھیانک جرم میں پھنسانے کی سازش ہورہی ہے۔ میں نے پوری قوت سے چلّا کر کہاکہ:’خدا کی قسم!میں بالکل بے قصور ہوں اور مَیں اس معاملے میں کچھ بھی نہیں جانتا‘۔ بنجارا نے برہم ہوکر ونار سے کہا: ’مارو اسے‘۔ اس ظالم نے دوبارہ میرے کولہوں پر نہایت ہی جنون و پاگل پن سے ڈنڈے برسانے شروع کر دیے، یہاں تک کہ میرے کپڑے خون سے تر ہوگئے۔ تو بنجارا نے حکم دیا:’اس کے ہاتھوں پر مارو‘۔ پھر میری ہتھیلیوں پر اتنے ڈنڈے برسائے کہ ہتھیلیوں کا رنگ بدل گیا اور دونوں ہتھیلیاں زخموں سے چُور ہوگئیں۔ بنجارا کی نظر میرے پیروں پر پڑی تو کہنے لگا: ’دیکھو، کتنا موٹا تازہ ہے، اس کے پیروں پر ڈنڈے برسائو‘۔ چنانچہ ظالموں نے مجھے گرا دیا اور وہ موٹا و مکروہ شخص مجھے اُلٹا منہ کے بل لٹاکر میری پُشت پر بیٹھ گیا، دوسرے دو لوگ میرے پیروں پر بیٹھ گئے۔ دو لوگوں نے میرے ہاتھ اور سر کو پکڑ لیا۔ پھرونارنے اسی حالت میں میرے پیروں کے تلوئوں پر ڈنڈے برسانے شروع کیے اور برساتا ہی رہا۔ جب تھک جاتا تو کچھ دیر کو رُک جاتا۔ اس کے رُکنے پر بنجارا گالی دے کر کہتا: ’اور مارو، کیوں رُک گئے؟‘ وہ کہتا: ’صاحب تھک گیا ہوں، تھوڑا آرام کرلوں‘۔ پیروں سے ہٹ کر پیچھے مارنا شروع کرتا۔ مجھے معلوم نہیں کہ کتنی دیر تک یہ سلسلہ چلا اور مجھے کتنے ڈنڈے مارے گئے۔  میرے اندازے سے کم از کم ڈیڑھ ، دو سو ڈنڈے ضرور مارے تھے۔ آخرکار میں بے ہوش ہوگیا۔جب مَیں ہوش میںآیا تو مَیں نے پانی طلب کیا ۔
پیروں کے تلوے بے شمار ڈنڈے مارے جانے کی وجہ سے بالکل زخمی ہوگئے اور ہاتھوں اور پیروں میں ورم آگیا۔ چلنا تو درکنار مَیں اپنے پیروں پر کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ جیسے ہی مَیں بات چیت کرنے اور مزید مارپیٹ کے کھانے کے قابل ہوگیا تو مجھے پکڑ کر اُٹھایا گیا اور اب کی بار بنجارا نے یہ کہا کہ :’مندر پر حملہ کرنے کے لیے تو نے حیدرآباد سے کسے بلایا تھا؟‘ سوال کا منشا یہ تھا گویا مَیں ہی اکشردھام مندر پر حملے کا ملزم ہوں۔ اس لیے مجھے حملہ آوروں اور سازش میں شریک دوسرے افراد کے نام بتانے تھے۔ میں نے کہا: ’مَیں بے قصور ہوں مجھے کچھ نہیں معلوم‘۔ تو مجھے پوچھا گیا: ’اے بھائی‘ کو جانتے ہو؟‘  میں نے کہا: ’نہیں جانتا‘۔ بنجارا کے حکم پر ’اے بھائی‘ کو طلب کیا گیا ۔ چنانچہ ’اے‘ بھائی کو بھی اسی طرح آنکھوں پر بندھی پٹّی کے ساتھ دفتر میں لایا گیا اور اسی پٹّی بندھی حالت میں مجھ سے کہا گیا کہ: ’تو اسے جانتا ہے؟‘ میں نے کہا: ’نہیں جانتا‘۔ تو کہا گیا: ’مگر یہ تجھے جانتا ہے‘۔ اس کے بعد میری آنکھوں پر پٹّی باندھی گئی اور اے بھائی کی آنکھوں سے پٹّی ہٹائی گئی۔ چنانچہ ان سے پوچھا گیا کہ : ’تو اسے جانتا ہے؟‘انھوں نے کہا : ’جی ہاں،    یہ مفتی عبدالقیوم ہے‘۔ اب میری آنکھوں سے بھی پٹی ہٹاکر کہا: ’دیکھ، یہ تجھے اچھی طرح جانتا ہے  تو اسے کیوں نہیںجانتا؟‘ اور ساتھ اے بھائی سے کہا گیا: ’تو اسے بتا، تو اسے کیسے جانتا ہے؟‘ اے بھائی نے بتانا شروع کیا: ’یہ مفتی عبدالقیوم صاحب جو بواہر ہال میں ریلیف کیمپ چلاتے ہیں۔ ان کے ساتھ عبدالرحمٰن پانار، اور خالد شیخ بھی ہیں۔ یہ لوگ کیمپ کے انچارج ہیں‘۔ اور پھر ایک نہایت ہی گھنائونی اور گھٹیا کہانی بیان کرنا شروع کی۔
میں یہاں پر وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اُوپر کی سطروں میں اے بھائی کے حوالے سے جو باتیں بیان اور ذیل کی سطور میں ان کے حوالے سے جو کہانی درج کی جارہی ہے، اس معاملے میں وہ بالکل بے قصور ہیں۔ کیوں کہ وہ بے چارے میری گرفتاری سے آٹھ روز قبل ۹؍اگست سے کرائم برانچ کی حراست میں تھے۔ میں سمجھ سکتا تھا کہ جیسا ظلم مجھ پر کیا گیا ہے ویسا ہی بلکہ ہوسکتا ہے مجھ سے زیادہ ان پر ظلم کیا گیا ہو۔ چنانچہ میری توقع کے مطابق وہ بھی مظلوم اور بے بس تھے اور ناقابلِ برداشت ذہنی اور جسمانی اذیتیں دے کر انھیں کرائم برانچ کی تیار کی ہوئی ایک جھوٹی کہانی پڑھنے اور قبول کرنے کے لیے مجبور کیا گیا تھا۔ 
صرف اے بھائی ہی نہیں، بلکہ ہم تمام زیرحراست لوگوں کو باہم ایک دوسرے کے خلاف بولنے پر خوب مجبور کیا گیا اور حسب ذیل جھوٹی کہانی تیار کی گئی تھی۔ لیکن جرح کے دوران پوٹا کورٹ کے سامنے کرائم برانچ کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا اور ان کی گواہی بھی ہماری رہائی میں مددگار ثابت ہوئی۔

من گھڑت ، واہیات کہانی

بہرحال اے بھائی نے یہ کہانی بیان کرنی شروع کی: ’مَیں عبدالرحمٰن پانار، مناف اور  ناصر میرے دوست ہیں۔ مَیں، عبدالرحمٰن پانارا وغیرہ کو بواہر ہال پر ملنے کے لیے جایا کرتا تھا۔ وہاں ان مفتی عبدالقیوم صاحب سے ملاقات ہوتی تھی۔ میرا بھائی عبدالرشید اور کالوپور کے سلیم بھائی اور احمدآباد و گجرات کے دیگر بہت سے مسلمان سعودی عرب،ریاض میں ملازمت کرتے ہیں۔ عبدالرشید وغیرہ سے ہم نے گجرات فسادات کی کارگزاری، بواہرہال و دیگر کیمپوں میں لُٹے پٹے، بے بس و مجبور مسلمانوں کی خستہ حالی بیان کی۔ ہم نے مسلمانوں کے قتل عام، مالی نقصان کا انتقام لینے کے لیے عبدالرشید اور سلیم بھائی وغیرہ سے تعاون کی درخواست کی تھی جس پر انھوں نے کہا تھا کہ مقامی ذمہ داروں سے بھی مشورہ اور تعاون کی درخواست کرو۔ چنانچہ مَیں، عبدالرحمٰن، مناف اور ناصر، مفتی عبدالقیوم اور مولانا عبداللہ صاحب سے مشورہ کرنے کے لیے بواہرہال گئے تھے اور  ان حضرات نے نہ صرف مفید مشورے دیے بلکہ ہماری حوصلہ افزائی بھی کی اور کہا تھا: ’بالکل آگےبڑھو، جہاں تعاون کی ضرورت ہو ہم سے بات کرنا‘۔
بس اتنا سننا تھا کہ مولانا عبداللہ صاحب کو طلب کرکے ان حضرات کی موجودگی میں مجھے پھر نہایت بے دردی سے پیٹنا شروع کیا۔ میں مار کھاتے کھاتے زمین پر گر کر نیم بے ہوش ہوگیا۔ اب آدم بھائی کی باری تھی۔ مَیں اپنی نیم بے ہوشی کی حالت میں اس بے چارے کی دردناک چیخ پکار اور جگرخراش اور پتھر کو رُلا دینے والی آہیں اور سسکیاں سن رہا تھا۔ میں چوں کہ اپنے پیروں سے چل بھی نہیں سکتا تھا، اس لیے کچھ لوگ مجھے اُٹھا کر کرائم برانچ میں رمیش ایشور پٹیل کے آفس میں ڈال گئے اور پھر مجھے ۱۲ سے ایک بجے کے درمیان لے گئے۔ 
رات کو مجھے کھانادیا گیا۔ میرے ہاتھ پائوں سوج کر گیند کی طرح گول ہوگئے تھے۔  ان ہاتھوں سے کیوں کر کھایا جاسکتا تھا۔ میں ہاتھ، پیر اور پیچھے کی جانب بے انتہا درد کی وجہ سے سسکیاں اور آہیں بھر رہا تھا۔ اسی حال میں خون آلود کپڑوں کے ساتھ عشاء کی نماز بیٹھ کر ادا کی۔ آنکھوں سے آنسوئوں کا سیلاب جاری تھا،اور اس وقت اللہ رب العزت کی ذات حکیمانہ کا تقرب،  دل کی کیفیت اور ایمان کا جو مزا تھا، واللہ! اس کی بات ہی کچھ اور تھی۔ 
گذشتہ رات کی طرح یہ رات بھی خوف و اضطراب میں گزری۔ کرائم برانچ کے افسران  دیر رات تین چار بجے تک ظلم و ستم کی محفلیں سجاتے، کبھی سانگھل آفس سے کسی مصیبت زدہ کی جگرخراش چیخیں بلند ہوتیں، کبھی بنجارا کے آفس سے زمین و آسمان کو رُلا دینے والی آہیں سنائی دیتیں، تو کبھی ونار اور پٹیل کے دفاتر سے مظلوم و بے بس انسان کی آہ و زاری اور رحم کی بھیک و دہائی سنائی دیتی، لیکن ان آہوں پر خون آشام درندوں کی چنگھاڑ اور وحشیوں کے قہقہے غالب آجاتے تھے۔ رات بھر ظلم و ستم کا بازار گرم رہتا۔ رات میں تقریباً تین چار بجے یہ حضرات اپنے گھروں کو جاتے اور صبح گیارہ بجے واپس آتے تھے۔ بس یہ چند گھنٹوں کا وقفہ کچھ پُرسکون ہوتا تھا۔ صبح گیارہ بجے افسروں کی آمد کے ساتھ ہمارے لیے ایک نیا دن، نئی مصیبتوں کے ساتھ شروع ہوتا تھا۔
پورے ۴۰روز میری آنکھوں پر پٹّی اور دونوں ہاتھوں میں بیڑیاں لگائی جاتی رہیں،  حتیٰ کہ رات کو سونے کے وقت بھی ایک ہاتھ اور ایک پیر میں بیڑی لگا کر ٹیبل یا کسی بھی جالی کے ساتھ بیڑی کا دوسرا حصہ لاک کر دیا جاتا تھا۔ اس حال میں پُرسکون نیند کیسے آسکتی تھی؟ تاہم، نماز، کھانا اور استنجا کے لیے ایک ہاتھ ضرور کھولا جاتاتھا۔
مجھے سب سے زیادہ تکلیف اور درد استنجا کے وقت ہوتا تھا۔ خون و پیپ کی وجہ سے پاجامہ پیچھے سیرین سے چپک جاتا تھا کہ استنجا کے وقت زور لگاکر کھینچنا پڑتا تھا۔ بڑی مشکل سے پاجامہ چمڑی سے الگ ہوتا تو خون و پیپ بہنا شروع ہوجاتی اور اسی حال میں استنجا کرنا پڑتا تھا۔
بنجارا کی گھنٹی کی ڈنگ ڈونگ اور سانگھل کی گھنٹی کی چہچہاہٹ پورے کرائم برانچ میں سنائی دیتی تھی۔ جیسے ہی ان میں سے کوئی گھنٹی بجتی ہمارے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہونا شروع ہوجاتی تھیں۔  گھنٹی کی آواز سنتے ہی ہم آنکھیں جھکالیتے، اور زبان پر قرآن اور ذکر و اَوراد جاری ہوجاتے۔ اور پھر آنے والے قدموں کی آہٹ ہم میں سے کسی کے پاس آکر رُک جاتی اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا جاتا کہ بنجارا صاحب اور سانگھل صاحب بلا رہے ہیں۔ کلیجہ اُچھل کر منہ کو آجاتا اور آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا، قدم بوجھل ہوجاتے تھے۔
۱۹؍اگست ۲۰۰۳ء ، منگل کودوپہر کے وقت بنجارا کے آفس کی گھنٹی بجی۔ اس بار جب آفس میں لے جاکر میری آنکھوں سے پٹی کھولی گئی تو وہاں اے بھائی کے علاوہ مولوی عبداللہ ، عبدالرحمٰن پانار، مناف، ناصر، محبوب الٰہی ٹیلر وغیرہ حضرات کو موجود پایا۔ یہ حضرات میرے محلے ہی کے باشندے اور میرے اچھے دوست ہیں۔ 
من گھڑت جھوٹی کہانی کا پہلا حصہ بیان ہوچکا ہے کہ آدم بھائی و دیگر حضرات مجھ سے اور مولانا عبداللہ صاحب سے مشورے کے لیے آئے تھے اور ہم نے نہایت قیمتی مشورے دےکر  ان حضرات کی نہ صرف رہنمائی کی بلکہ تعاون کی پیش کش بھی کی تھی۔ 
اب یہ کہانی کچھ اس طرح آگے بڑھی کہ مجھے پوچھا گیا: ’اکشردھام مندر پر حملہ کرنے کے لیے حیدرآباد سے تو نے کن لوگوں کو بلایا تھا؟‘ میں نے کہا: ’صاحب! مجھے پتا نہیں‘۔ بس پھر وہ جسمانی و ذہنی اذیتوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ آخرکار مَیں نے ناقابلِ برداشت ظلم و تشدد سے تنگ آکر کہہ دیا کہ: ’صاحب، آپ جو کچھ کہیں گے مَیں ماننے کے لیے تیار ہوں‘۔ اب مارپیٹ بند ہوگئی اور ہمیں آپس میں کردار طے کرنے کے لیے بات چیت اور مشورے کا موقع دیا گیا۔ مزید یہ کہ: مختلف مقدمات میں ’انتخاب‘ کا حق بھی دیاگیا تھا۔چنانچہ ہمارے ساتھی سلیم بھائی کو اکشردھام، گودھرا سانحہ اورہرین پانڈیا تین میں سے کسی ایک مقدمے کے انتخاب کے لیے کہا گیا۔ مجھے بھی ایک مرتبہ سانگھل صاحب نے کالی گیند جیسی ایک چیز بتاکر: ’’یہ ’چرس‘ ہے‘‘ کہتے ہوئے چرس ضبطی کے مقدمے میں پھنسانے کی بھی دھمکی دی تھی۔ 
دورانِ ریمانڈ مجھے بجلی کے کرنٹ بھی دیے گئے ۔ میرے ہاتھوں کی تمام انگلیوں میں کلپ لگاکر اُس کے ساتھ ایک چھوٹے سے الیکٹرک (بجلی کے) مشین کے تار لگائے جاتے اور پھر اُس میں ایک ہینڈل گھمایا جاتا، جس سے میرے پورے جسم میں کرنٹ اور بجلی کی لہر دوڑ جاتی۔ اسی طرح کبھی کبھی بیس بال کے ڈنڈے جیسا ایک بجلی کا ڈنڈا میرے جسم کے مختلف حصوں پر لگایا جاتا اور اس سے مجھے کرنٹ دیا جاتا تھا۔ میری انگلیوں میں ناخن کے نیچے سوئیا ں چبھو دی جاتی تھی۔  ریمانڈ کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ ملزم کوانگریزی کا اُلٹا ’ٹی‘ بنایا جاتا تھا۔

ظلم و تشدد کے کچھ شرم ناک طریقے

    ۱-    ظلم کا ایک نہایت ہی بہیمانہ طریقہ یہ تھا کہ ملزم کے پاجامے یا شلوار کی آستینیں نیچے سے باندھی جاتی اور ازاربند کھول کر اُوپر سے زندہ چوہے اندر چھوڑ دیے جاتے تھے۔
    ۲-    ایک شرم ناک طریقہ یہ تھا کہ ملزم کو برہنہ کر کے اس کی مقعد میں جبراً موٹا ’ڈنڈا‘ داخل کیا جاتا تھا یا پھر پچکاری کے ذریعے اندر پٹرو ل ڈالا جاتا تھا۔ اس وقت کی درد وتکلیف کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔
    ۳-    ایک اور وحشیانہ طریقہ یہ تھا کہ شرم گاہ سے بجلی کا تار لگا کر کرنٹ کے جھٹکے دیے جاتے۔
    ۴-    ایک طریقہ یہ تھا کہ ملزم کے سامنے اس کی ماں، بہن، بیوی، بیٹی کے ساتھ نہایت ہی گھٹیا، ناقابلِ بیان فحش گفتگو کی جاتی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے گندے ،فحش اور بازاری لفظوں میں ان قابلِ احترام خواتین کے ساتھ بدفعلی کی دھمکی دی جاتی، بلکہ بعض اوقات صرف دھمکی ہی نہیں واقعتاً یہ شرمناک حرکت کرکے ملزم کو گناہ کے اقرار پر مجبور کیا جاتا تھا۔ مجھے بھی شرم گاہ پر کرنٹ لگانے اور گھر کی معزز خواتین کے حوالے سے یہی دھمکیاں دی گئیں، لیکن الحمدللہ، اللہ رب العزت نے حفاظت فرمائی۔ 
اِن کے پاس میرے جمعہ کے خطبات کی کیسٹیں بھی تھیں۔ چنانچہ ریمانڈ کے دوران جب مَیں حسب معمول آہستہ سے جواب دیتا تو کہا جاتا: ’بلندآواز سے بات کر‘۔ میں کہتا: ’میری آواز پست ہے‘۔ تو کہا جاتا: ’ہمیں معلوم ہے تیری آواز کیسی ہے‘۔ ہمارے پاس تیرے جمعہ کے بیانات کی کیسٹیں ہیں تو اسپین کے مسلمانوں کی بربادی کی بہت داستان سناتا ہے‘۔
بنجارا کی بہ نسبت سانگھل نے مارپیٹ اور گالی گلوچ قدرے کم کی، کبھی کبھی نرمی سے بھی پیش آیا۔ لیکن شاید یہ بھی کرائم برانچ کے ظلم کا ایک طریقہ ہے کہ ایک مارے اور دوسر ا سہلائے۔ ۲۹؍اگست ۲۰۰۳ء جمعہ کے دن ’اکشردھام مقدمہ ‘ میں ہماری گرفتاری کا اعلان ہوا۔ رات میں مجھے سانگھل نے بلایا اور کہا: ’دیکھ، ہم نے تجھے اکشردھام مقدمے میں گرفتار کیا ہے اور کل عدالت میں تجھے پیش کریں گے، وہاں ہمارے خلاف کوئی شکایت مت کرنا‘۔ میں نے روتے ہوئے کہاکہ: ’صاحب، آپ نے مجھے اتنے بڑے مقدمہ میں پھنسا دیا؟‘ میری حالت دیکھ کر کہنے لگا: ’میں مجبور تھا، مجھ پر ’اُوپر‘ سے دبائو تھا، لیکن تو فکر مت کر، مَیں تیرے گھر کی ضروریات کا خیال رکھوںگا‘۔ میں نے کہا کہ :’اس کی ضرورت نہیں، الحمدللہ میرے دوست اچھے ہیں، وہ خیال رکھیں گے‘۔
اُن دنوں انٹیلی جنس بیورو سے بھی دوافسر آتے اور دو تین رو ز تک مجھے گھنٹوں لے کر بیٹھتے اور کہتے: ’کچھ بتا دے یار‘۔ میں تفصیل شروع کرتا تو کہتے: ’’بکواس بند کر ، یہ سب جھوٹ ہے، کوئی اور کام کی صحیح بات بتا‘‘۔ لیکن مَیں اس کے علاوہ اور کیا بتاسکتا تھا؟
ابتدا میں ایک رات ایک پستہ قد سیاہی مائل رنگت والے صاحب، بنجارا کے آفس میں  اس کی کرسی پر تشریف فرما تھے۔ مجھے اُن کے سامنے پیش کیا گیا۔ بنجارا ا ور دیگر افسران اُن کے سامنے ادب سے بیٹھے تھے۔ اُنھوں نے مجھے متاثر کرنے کے لیے کہا کہ دیکھو: ’میں مسلمان نہیں، لیکن پھر بھی مَیں جب بھی کھانا کھاتا ہوں تو بسم اللہ اور کھانے کے بعد الحمدللہ پڑھتا ہوں۔   میری بیوی مجھ سے جھگڑا بھی کرتی ہے کہ کیا آپ مسلمان ہوگئے ہیں؟ یا پچھلے جنم میں مسلمان تھے؟ میں کہتا ہوں: مَیں یہ سب نہیں جانتا، لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ یہ کھانا جو ہم کھاتے ہیں یہ     اللہ تعالیٰ نے دیا ہے‘‘۔
ان باتوں سے مجھے غلط فہمی ہوئی کہ شاید کوئی انصاف پسند افسر ہیں، اس لیے میں نے ہمت کر کے کہاکہ: ’صاحب، میں آپ سے تنہائی میں بات کرنا چاہتا ہوں‘۔ انھوں نے کہا: ’ٹھیک ہے‘۔ اور بنجاراکے علاوہ تمام افسران کو آفس سے باہر نکال دیا۔ میں نے کہا: ’بنجارا صاحب کو   بھی نکال دیجیے‘۔ اُنھوں نے تعجب سے کہا: ’بنجارا کو بھی نکال دوں؟‘میں نے کہا: ’جی ہاں‘۔   انھوں نے بنجارا سے کہا: ’جایئے صاحب آپ بھی جایئے‘۔ اب صرف ہم دو تھے، انھوں نے کہا : ’کیا کہنا چاہتے ہیں؟‘میں نے کہا: ’صاحب میں بالکل بے قصور ہوں، آپ میری مدد کیجیے اور اس مقدمے کی جانچ سی بی آئی کو دے دیجیے‘۔
اتنا سننا تھا کہ وہ صاحب بھڑک اُٹھے اور کہا: ’مُلّاجی، آپ نے مجھے پہچاننے میں غلطی کی ہے، میں کسی اور ایجنسی کا نہیں بلکہ اسی پولیس کا آدمی ہوں، اب مَیں آپ سے کوئی بات کرنا نہیں چاہتا‘۔ اور اُس رات کے بعد انھیں کبھی نہیں دیکھا۔ بلکہ دوسرے روز میری شامت آگئی۔ دوپہر میں مجھے بلایا گیا۔ تب بنجارا کا غصّہ ساتویں آسمان پر تھا، مجھے دیکھتے ہی چنگھاڑا: ’تو مجھے میرے آفس سے بھگاتا ہے‘ کہہ کر گالیوں کی بوچھاڑ شروع کر دی، اور ونار کو مجھ پر مسلط کر دیا۔ پھر اُس نے حیوانیت و درندگی کا وہ ننگا ناچ پیش کیا جس کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔
بہرحال، اس عذاب کدے کے جعلی منصوبے کے تحت آدم بھائی، عبدالرحمٰن، مناف اور ناصر کے حصے میں یہ کردار آیا کہ ان حضرات نے میٹنگ کی، سعودی عرب فون کر کے وہاں سے ۲۵لاکھ کی امداد طلب کی۔ انھوں نے ۲۵لاکھ کے بجاے مختلف مرحلوں میں صرف ۶۶ہزار میں سے ۲۰ہزار الٰہی درزی کو لوٹا دیے اور صرف ۴۶۰۰ ہی سے کام چل گیا۔ اور پھر آدم بھائی کو  سعودی عرب سے حکم دیا گیا تھا کہ حیدرآباد جاکر ابوطلحہ اور ایوب سے ملاقات کریں جو آپ کو اگلے منصوبے سے آگاہ کریں گے۔ آدم بھائی ہم سے مشورہ کرکے حیدر آباد گئے، وہاں ایوب اور ابوطلحہ سے ملاقات ہوئی۔(گیارہ سال سلاخوں کے پیچھے، از مفتی عبدالقیوم احمد منصوری، جمعیۃ علما، احمد آباد، مہاراشٹر، طبع چہارم، ۲۰۱۶ء، ص ۱-۱۹)

  • سوال :مغربی فلسفے کا اپنا ایک نظام اور تاریخی تسلسل ہے، جب کہ علامہ اقبال ؒ  کے افکار کی تفہیم کے لیے اسلام اور مشرق کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ کیا اس صورت میں فکرِ اقبال کی افادیت صرف مشرق تک محدود نہیں ہو جاتی؟
  • جواب: میں اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتا۔ اگر آپ مغربی فکر اور تاریخی ارتقا کا جائزہ لیں ، تو یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ اسلام سے اکتسابِ فیض کیے بغیر یورپ ترقی کی منازل طے نہ کر سکتاتھا۔ میرے نزدیک اسلام کے بغیر مغربی تہذیب اور علوم کی تاریخ کا تسلسل قائم رکھنا ممکن نہیں ہے۔ میں تو یہ کہوں گا کہ قرونِ وسطیٰ (Middle Ages) میں اقوامِ مغرب  مشّرف بہ اسلام ہو جاتیں ، تو ان کی ترقی کی رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوتا۔ ذرا اس پر تو غور کریں کہ جس زمانے میں یورپ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہا تھا، اُس دور میں اسلامی مفکرین کا ئنات کی گتھیاں سلجھا رہے تھے۔ اسلامی تہذیب نہ ہوتی تو مغرب ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہوتا ۔ میرے خیال میں ہمیں اقبال ؒ کو صرف مشرق تک محدود نہیں کر دینا چاہیے۔ اقبال مشرق اور مغرب دونوں کے لیے سرچشمۂ فیض ہے۔ تاہم، میرے اس نظریے سے یورپ والے بھی اتفاق نہیں کرتے، لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ 

اسی طرح یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ آج مسلم اقوام خواب ِ غفلت میں مبتلا ہیں۔ مسلمان درحقیقت الحاد کے تاریک راستوں میں بھٹک رہے ہیں، لہٰذا آج مشرق اور مغرب دونوں کو اقبال کی ضرورت ہے ، تا کہ توحید کے مرکز پر انسانیت کو جمع کیا جائے۔ ایک طرف مغرب مذہب سے بیگانہ ہو چکا ہے اور وہاں دوسری جانب مشرق رسوم وقیود میں گرفتار ہے۔ افراط اور تفریط کی یہ کیفیت ختم ہونی چاہیے، ورنہ دونوں تباہ ہو جائیں گے۔ 

  • اس تباہی سے بچنے کے لیے عملی صورت کیا ہوسکتی ہے؟
  • یہ ایک مشکل سوال ہے، اس کے لیے توحید کی راہ اختیار کرنا ہوگی ۔ ’اللہ ‘ کی ذاتِ واحد سے رشتہ استوار کیے بغیر مغربی معاشرت بربا د ہو جائے گی۔ جسے مغرب آزادی کہتا ہے وہ دراصل اس کی خودکشی ہے۔ یورپی سیاست دان،دانش ور اور ماہرین سماجیات بہت بلندآہنگ دعویٰ کرتے ہیں: ’’ہم آزاد ہیں…ہم اپنے ضمیر کی آواز سنتے اور اس پر عمل کرتے ہیں‘‘۔ لیکن فی الحقیقت ایسا نہیں، بلکہ وہ خود فریبی میں مبتلا ہیں ‘‘۔

ایک انسان کی زندگی میں تین طرح کی بندگیاں ہو سکتی ہیں: ¤ خدا کی بندگی ¤ کسی آمر کی بندگی ¤ نفسانی خواہشات کی بندگی۔ مغرب یا یورپ تیسری قسم کی بندگی میں مبتلا ہے۔ اگر ہم سب ایک اللہ کی بندگی اختیار کر لیں ، تو غلامی کی سبھی زنجیریں کٹ جائیں گی اور ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہو جائیں گے۔ اسی طرح مشرق کے لوگ جو خدا کو کسی نہ کسی شکل میں ماننے کا دعویٰ تو کرتے ہیں، وہ بھی دراصل خرافات ہی میں کھوئے ہوئے ہیں۔ وہ رسوم اور روایات کی پرستش کررہے ہیں۔ صحیح راہ کی جستجو کے لیے اجتہاد کرنا ہو گا۔ میں یہاں غالب کا شعر پیش کروں گا: 

ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم 
ملتیں جب مٹ گئیں، اجزاے ایماں ہو گئیں 

ہم جن بندھنوں اور غلامیوں میں گرفتار ہیں، ان سے نجات حاصل کر لیں اور سچے موحد بن جائیں ، تو آئیڈیل معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ ’توحید‘ سے میری مراد ’’ اسلامی تصورات کے مطابق اللہ کے وجود پر ایمان ہے،عیسائیت کے ’گاڈ‘ پر ایمان مراد نہیں ہے‘‘۔ کیوںکہ خدا کا مسیحی تصور عقل پر مبنی ہے، جب کہ اللہ اور انسان کا رشتہ روحانی ہے۔ یورپ کو اللہ پر ایمان لانا ہو گا جوارفع خودی (supreme ego) سے متصف ہے اور جو تصورات کی تمام حدوں سے آگے ہے۔ 

  • یورپی قومیں قوم پرستی اور نسلی افتخار کے زعم باطل میں مبتلا ہیں۔ کیا رنگ ونسل کے یہ امتیازات عملاً ختم ہو سکتے ہیں ؟ 
  • میں ذاتی طور پر وطنیت کے نظریے یعنی Nationalism کے خلاف ہوں۔ میں نے بچپن ہی سے کبھی اپنے اطالوی ہونے پر فخر نہیں کیا۔ میرے خیال میں جو لوگ نسلی افتخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں وہ کوئی بڑا تخلیقی کارنامہ سر انجام نہیں دے سکتے۔ دانتے ، گوئٹے اور فارسی کے شعرا نے عظیم تخلیقات ان زمانوں میں کیں ، جب اٹلی ، جرمنی اور ایران کی موجودہ واضح سرحدوں کا تعین نہ ہوا تھا۔ فارسی کے دانش وروں نے غیر ملکی تسلط کے دور میں کارنامے سر انجام دیے، کیوں کہ ایسی صورتِ حال میں ایک آئیڈیل ان کے سامنے ہوتا تھا، اور وہ آئیڈیل تھا ’اسلامی سلطنت ‘ ۔ میری کیفیت یہ ہے کہ میں اپنے لیے پاکستان میں زیادہ مانوس ماحول پاتا ہوں، کیوںکہ پاکستانی عوام میرے  تصورات سے زیادہ قریب ہیں۔ لیکن جب یہی بات میں نے ایران میں کہی تو ایرانیوں کو پسند نہ آئی، کہ وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے مسلمان بعد میں اور ایرانی پہلے کہلانا چاہتے ہیں۔ 
  • یہ آئیڈیل باتیں ہیں۔ عام آدمی تو اپنے روز مرّہ مسائل میں گھرا ہوا ہے ۔ کیا سیاسی ، سماجی اور اقتصادی مسائل کا حل ان آئیڈیلز سے زیادہ ضروری نہیں؟ 
  • یہ بات درست ہے ۔ عام آدمی ہماری طرح نہیں سوچتا ۔ میری بہن اٹلی کے ایک کالج میں فلسفہ پڑھاتی ہیں ۔ وہ بھی مجھے یہی کہتی ہیں کہ: ’’ہمیں زندگی کے عملی مسئلے حل کرنے چاہییں۔ کسی کے لیے سکول کا اور کسی کے لیے صحت وصفائی کا مسئلہ زیادہ اہم ہے‘‘۔ لیکن مجھے اس بات سے اختلاف ہے۔ میرے نزدیک آئیڈیل کی اہمیت چھوٹے موٹے عملی مسائل سے زیادہ ہے۔ میںسمجھتا ہوں کہ اقتصادی مسئلے سے زیادہ انسانیت کی یک جہتی اہم ہے ۔ کسی ایک خطے یا علاقے میں بعض مسائل حل کر لینے سے پوری انسانیت کو فلاح حاصل نہیں ہو سکتی ۔ سویڈن کی مثال لے لیجیے ۔ وہاں معاشرتی رہن سہن اور سہولیات کے اعتبار سے صورتِ حال بڑی آئیڈیل تصور کی جاتی ہے، اور بلاشبہہ ایسا ہی ہے۔ صحت ، صفائی اور روز گار کے مسائل حل ہو چکے ہیں۔ لوگ آسودہ زندگی گزارتے ہیں ۔ایک طرح کی وہ جنتِ ارضی تصور کی جاتی ہے۔ لیکن اس پر بھی غور کیجیے کہ بھارت اور افریقہ کے کئی علاقوں میں لوگ بھوکے مر رہے ہیں ۔ ہم سب کو اکٹھے نجات حاصل کرنی چاہیے یا شرمندگی میں مر جانا چاہیے۔ یوں تنہا چھوٹی سی جنت بسا لینے سے تو انسانیت کا کوئی بھلا نہ ہو گا۔ 
  • کیا یہ نظریہ ،اشتراکیت سے قریب تر نہ ہو گا؟ 
  • اشتراکیت کے حامیوں سے ایک تاریخی غلطی ہوئی جس پر وہ پچھتارہے ہیں۔   سرمایہ دارانہ نظام کی برائیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے انھوں نے مذہب کو بھی دیس نکالا دیا۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بچہ ٹب کے گندے پانی میں پڑا ہو، اور کوئی شخص ٹب سے گندے پانی کے ساتھ بچے کو بھی سڑک یا گندے نالے میں پھینک دے۔ اشتراکی روس میں اقتصادی انقلاب آیا، لوگوں کو روزگار ملا، لیکن معاشی مسئلہ حل کر لینے سے ان کے سبھی مسائل حل نہ ہوئے ۔ اشتراکی معاشرے میں نفرت اور بے چینی کہیں زیادہ اُبھر کر سامنے آئی ۔ اشتراکیت میں روپے پیسے کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے، لیکن اس کی جگہ ایسی بیوروکریسی اپنا تسلط جما لیتی ہے کہ جس کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں ۔ پھر اس کے ساتھ اخلاقی مسئلہ بھی حل طلب ہوتا ہے، جس کےلیے اشتراکی اخلاقیات کوئی حل پیش نہیں کرتی۔ 

روس میں لوگوں نے جس چیز کی کمی سب سے زیادہ محسوس کی ، وہ ہے روحانیت۔ میرے ایک روسی دوست نے مجھے کہا: ’’آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ آپ اس زندگی کے بعد بھی ایک زندگی کا تصور رکھتے ہیں‘‘ ۔ مذہب میںموت کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ آخرت میں جواب دہی کا تصور انقلابی ہے۔ دراصل مذہب جو اخلاقی انقلاب لاتا ہے، وہ زندگی کے روحانی اور مادی، دونوں قسم کے مسائل حل کرتا ہے۔ 

  • ایسا اخلاقی انقلاب کہاں سے اٹھے گا؟ 
  • یہ کوئی نہیں بتا سکتا ۔ جب رومی سلطنت زوال پذیر تھی، تو کسی کو معلوم نہ تھا کہ اس کے بطن سے کوئی نئی تہذیب جنم لینے والی ہے ۔ ہم ایک بحرانی دور میں زندہ ہیں۔ کچھ نہ کچھ تو پردۂ غیب سے ظہور میں آئے گا۔ میں روحانیت پسند ہوں ، اگرچہ میںیہ نہیں جانتا کہ عملاً مستقبل کا نقشہ کیا ہوگا، پھر بھی آنے والے وقت کے بارے میں پُر امید ضرور ہوں۔
  • اپنے ملک کی سیاسی صورتِ حال کے بارے میں بتائیے؟
  • اٹلی میں مکمل سیاسی آزادی ہے اور نظامِ حکومت جمہوری پارلیمانی ہے، لیکن کسی سیاسی جماعت کو قطعی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث حکومت کمزور بنتی ہے۔ اس صورتِ حال میں مخالفین چاہیں تو کسی بھی وقت برسرِ اقتدار جماعت کے پائوں اُکھاڑ دیں، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے ۔ ہمارا ملک شدید اقتصادی مسائل اور بحران کا شکار ہونے کی وجہ سے اس قسم کی سیاسی عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ آپ حیران ہوں گے کہ بعض ارکان، پارلیمنٹ میں اپنے ووٹ کا حق استعمال نہیں کرتے، تا کہ کمزورہی سہی معمولی اکثریت سے حکومت بن جائے۔ 
  • آپ کے ہاں نوجوان نسل کی ذہنی اور اخلاقی حالت کیسی ہے؟
  • اٹلی کی نئی نسل ہم سے زیادہ ذہین اور حقیقت پسند ہے۔  وہ خواب وخیال کی دنیا میں گم نہیں رہتے ، بلکہ کسی نئی کائنات کی جستجو کرتے ہیں ۔البتہ کوئی واضح آئیڈیل ان کے سامنے نہیں ہے۔ لہٰذا، وہ مایوسی سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ ان میں منافقت نہیں ہے اور اس لحاظ سے وہ ہم سے اخلاقی طور پر بہتر ہیں۔ ہمارے ہاں تعلیم کا مسئلہ پیچیدہ تر ہے۔ روم یونی ورسٹی [تاسیس: ۱۳۰۳ء] ۱۰ہزار طلبہ کے لیے بنی تھی، لیکن اب یہ تعدا ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ عمارتوں اور وسائل میں اضافہ نہ ہونے کے سبب طلبہ کی مشکلات بے پناہ ہیں۔ اس کے باوجود نوجوان اپنی ذہانت اور محنت کے بل پر کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ 
  • آپ کے ہاں اسلامی تعلیمات پر گہری نظر رکھنے والے اور بھی اسکالر ہیں؟ 
  • بس گنے چنے لوگ ہیں۔ مغرب میں محقق لوگ چیزوں کا پوسٹ مارٹم کر کے دیکھتے ہیں۔ مشرقی شاعری اور مذاہب کے مطالعے میں بھی وہ اسی طریقے پر عمل کرتے ہیں، ان کی روح تک ان کی رسائی نہیںہوتی ۔ میرے شاگرد وں میں چند ایک اسلامی تعلیمات سے متاثر ہیں، اور مثبت علمی کام کر رہے ہیں۔ 
  • کیا اقبال ؒ کے پیغام کو صورت پذیر کرنے کی ساری ذمہ داری پاکستان پر ہے؟
  • نہیں ! اقبال ؒ کی فکر کو عملاً آگے بڑھانا پوری انسانیت کا فرض ہے۔ لیکن چوں کہ آپ کے ہاں وہ پیدا ہوئے، لہٰذا آپ کی ذمہ داری دوسروں سے زیادہ ہے۔ پھر پیدایشی مسلمان ہونے کی حیثیت سے بھی آپ کو موحد یا توحیدپرست ہونا چاہیے۔ آپ کی جانب سے اپنی ریاست کو ’اسلامی جمہوریہ‘ کا نام دے دینا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اعلان کرکے آپ نے ایک بڑی عظیم ذمہ داری قبول کی ہے، اسے اب عملی سطح پر نبھانا بھی چاہیے۔ 

میرے خیال میں پاکستان کا عام شہری، اخلاقی اعتبار سے دوسرے مسلم ممالک کے شہریوں سے بہت بہتر ہے۔ یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ آپ کے متوسط خاندان اخلاقی لحاظ سے قابلِ تعریف ہیں، اور نوجوانوں میں بزرگوں کے لیے احترام کا جذبہ ابھی باقی ہے۔ آپ ان بنیادوں پر ایک مثالی اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ 

  • یورپ میں لوگ پاکستان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ 
  • یورپ میں لوگ پاکستان کے بارے میں صحیح معلومات نہیں رکھتے ۔ اس میں بنیادی طور پر آپ کے سفارت کاروں اور سفارت خانوں کا قصور ہے۔ بھارت کا ذکر آئے تو لوگوں کے ذہن میں فوراً یہ بات آتی ہے کہ وہ ایک سیکولر ملک ہے ، لیکن پاکستان کی نظریاتی حیثیت سے یورپ آگاہ نہیں، وہ اسے ایک مذہبی ملک سمجھتے ہیں ۔ وہ مذہب اور دین کا فرق نہیں جانتے ۔ 

اسلام مکمل دین ہے، جس کے پاس زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے مسائل سے لے کر، بڑے سے بڑے معاملات سے نبٹنے کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، جب کہ یورپ میں دین کا یہ تصور معروف نہیں ہے۔ وہاں لوگ اسلام کو ’مذہب‘سمجھتے ہیں اور مذہب کو اہلِ یورپ انسان کا محض ذاتی معاملہ کہتے ہیں۔ یورپ میں ہندو مذہب اور فلسفے کے بارے میں بھی ابہام پایا جاتا ہے۔ میرے نزدیک ہندو مذہب ایک فرسودہ چیزہے ، جب کہ مغربی لوگوں میں ہندوئوں کا جو تاثر (image) بنایا گیا ہے، اس کی بدولت یورپ میں بھارت کے ہر آدمی کو گاندھی اور رابندرا ناتھ ٹیگور خیال کیا جاتا ہے۔ 

  • پاکستان میں منعقدہ اقبال کانفرنس سے آپ کس قدر مطمئن ہیں؟ 
  • انتظام اچھا تھا، لیکن زیادہ تر مقالات ستایشی تھے، جن میں علمی ، فکری گہرائی مفقود تھی۔ 

سوال : قرآن پاک میں آیا ہے کہ وَلَنْ تَجِدَ  لِسُنَّۃِ اللہِ  تَبْدِیْلًا   ’’یعنی اللہ کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی‘‘ ۔ اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا قانون کبھی تبدیل نہیں ہوتا اور اس میں کوئی exception [استثنا]  نہیں ہے، مثلاً اگر آگ کی خاصیت جلانا ہے تو وہ ہر ایک کو جلائے گی۔ لیکن بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں بھی ہوتا، جیساکہ حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ ہے، اور ایسے ہی بعض دوسرے معجزات ہیں۔ توکیا معجزات کا صدور اس آیت کے خلاف نہیں پڑتا؟

جواب :لوگ دراصل context[سیاق و سباق] سے بات الگ کر کے اس کا مطلب نکالتے ہیں۔ وہاں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جو قوم اللہ کے نبی ؑ کو آخرکار جھٹلا دیتی ہے، اللہ اسے تباہ کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔ اب اس خاص موقعے سے الگ کر کے اس آیت کا مطلب نکالا جائے گا تو صحیح مفہوم خبط ہوجائےگا۔ دوسرے یہ کہ اللہ کی سنت کیا ہے اور کیا نہیں؟ اس کا تعین اللہ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ آگ ہمیشہ اور ہرمقام پر جلانے ہی کا کام کرے گی؟ اس کی اس چھوٹی سی زمین میں جو ایک بہت بڑی لامحدود کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، یہ بات آپ کو نظر آتی ہے کہ آگ جلاتی ہے۔ اس پر آپ نے اسے اللہ کا قانون قرار دے لیا، کہ آگ جلاتی ہے اور اس میں کوئی استثنا نہیں ہوسکتا۔ آخرکار یہ معلوم کرنے کا آپ کے پاس کیا ذریعہ ہے کہ اللہ کا قانون یہی ہے؟

جہاں تک آگ کا جلانا ایک physical law [طبعی قانون] قرار دیا جاتا ہے تو اس ’فزیکل لا‘ کی حیثیت کائنات کے لامحدود حقائق کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے کہ وسیع سمندر کے مقابلے میں چندقطروں کی ہوتی ہے۔ جو حقائق آج آپ کو معلوم ہیں اور آپ انھیں ’فزیکل لا‘ قرار دیتے ہیں۔ جب تک وہ حقائق آپ کو معلوم نہیں تھے تو آپ کا وہ ’فزیکل لا‘ (طبعی قانون) بھی کوئی چیز نہیں تھا۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو پہلے انسان کو معلوم نہ تھیں توفزیکل لا نہ تھیں۔ سوسال پہلے اگر کوئی کہتا کہ ایک ایسی سواری ہےجو ہوا میں اُڑ سکتی ہے تو لوگ اسے کہتے کہ ’تو جھک مارتا ہے‘ کیوں کہ ان کے نزدیک یہ چیز اس وقت تک کے معلوم حقائق کے مطابق ’فزیکل لا‘ کے خلاف تھی۔ ان کے نزدیک تو ’فزیکل لا‘ یہ تھا کہ جوچیز ہوا سے زیادہ بھاری ہو، وہ ہوا میں نہیں ٹھیرسکتی۔ لیکن اب یہی چیز علم کے ذریعے سامنے آگئی ہے تو یہ طبعی قانون بن گیا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ جو مالک اور حاکم ہے، اگر اس کا قانون اسے باندھ دے اور وہ اپنے قانون میں کسی تبدیلی کا اختیار نہ رکھتا ہو، تو یہ چیز اس کی حاکمیت اور قدرت کے خلاف ہوگی۔

اقامت ِ دین اور تبلیغِ دین 

سوال : اقامت ِ دین اور تبلیغ کے فرق کے بارے میں وضاحت فرمایئے؟ 

جواب :تبلیغ بلاشبہہ مفید چیز ہے مگر اس سے وہ تمام حقوق پورے نہیں ہوجاتے جو فریضۂ اقامت ِ دین کی رُو سے ہم پر عائد ہوتے ہیں۔ محض کہہ دینا ہی کافی نہیں ہوتا۔ اگر آدمی، اللہ اور اس کے رسولؐ کی باتیں کہہ دے، مگر ارادہ ہرگز یہ نہ ہو کہ یہ باتیں عمل میں بھی آئیں تو یہ چیز لِمَ  تَقُوْلُوْنَ  مَا لَا تَفْعَلُوْنَ [تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ الصف ۶۱:۲] کے زمرے میں آئے گی۔ 
مثلاً ایک بستی میں ایک شخص چاہتا ہے کہ لوگ نماز پڑھیں، تو کیا وہاں اس کا فرض محض نماز کے لیے کہہ دینا ہی ہے؟ یا ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے یہ بھی اس کا فرض ہے کہ جو لوگ نماز پڑھنے پر آمادہ نظر آئیں، ان کے لیے مناسب جگہ تلاش کرے، انھیں یک جا کرے اور فریضۂ نماز کی بجاآوری میں ان کی مدد کرے۔ پھر وہاں نماز پڑھنے کے لیے مسجد بنانے کی فکر کرے۔ ساتھ ہی اسے یہ فکر بھی ہو کہ وہاں وقت پر اذان دی جائے اور باقاعدہ باجماعت نماز کا اہتمام ہو۔ یہ تمام چیزیں نماز کی تبلیغ کے لوازم ہیں۔ اب اگرکوئی شخص محض نماز کی تبلیغ کرکے بیٹھ رہے اور جب اس سے یہ کہا جائے کہ ان لوازم کے اہتمام کے لیے بھی آگے بڑھو، تو وہ کہے کہ یہ میرے فرائض میں شامل نہیں ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب وہ لوگوں کو نماز پڑھنے کے لیے کہتا ہے تو وہ تبلیغ نہیں کرتابلکہ محض ایک بات کہتا ہے جو کہنے کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔
اگر کوئی گروہ اقامت ِ صلوٰۃ کے لوازم پورے کرنے کے لیے کنواں کھودتا ہے تاکہ نمازیوں کو وضو کے لیے پانی میسر آسکے، مزدوروں کی طرح اینٹیں ڈھوتا ہے تاکہ مسجد کی تعمیر ہوسکے اور مبلغ یہ سب کچھ دیکھ کر کہے کہ تم یہ کیا کر رہے ہو؟ میں نے کنواں کھودنے یا اینٹیں ڈھونے کے لیے تو نہیں کہا تھا، میں نے تو صرف نماز پڑھنے کو کہا تھا، تو ظاہر بات ہے کہ ایسا کہنے والا تبلیغ کے تقاضوں اور فریضۂ اقامت ِ دین کے حقیقی مفہوم ہی سے ناآشنا ہے۔

بھارت میں مسلمان

سوال : بھارت میں مسلمان جس پُرآشوب دور سے گزر رہے ہیں، اس سے وہاں مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں ذہن میں طرح طرح کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

جواب :بھارت میں اس وقت جو مسلمان موجود ہیں، انھیں ملک نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ وہاں رہ کر کام کرناچاہیے۔ میں نے ہندستان کے آخری اجتماع میں بھی کہا تھا کہ جب تک کوئی سخت مجبوری لاحق نہ ہو ، کسی کو اپنی جگہ نہیں چھوڑنی چاہیے۔ خود ہم نے پٹھان کوٹ میں فیصلہ کیا تھا کہ ڈٹ کر بیٹھیں گے، لیکن جب وہاں کی اور دُوردُور تک کی ساری آبادیاں مسلمانوں سے خالی کرا لی گئیں تو مجبوراً لاہور آنے کا فیصلہ کیا گیا۔
بھارتی مسلمان صبر کے ساتھ رہیں اور اپنے رویے کو درست رکھیں۔ ان شاء اللہ حالات آج نہیں تو کل تبدیل ہوں گے۔ ہندوئوں کے لیڈر مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان کے نظریات کا علاج بھی مسلمانوں کے پاس موجود ہے۔ دراصل پہلے انگریز دشمنی اور مسلمان دشمنی کی بنیاد پر ہندو قوم کا تشخص برقرار تھا۔ اب صرف مسلمان دشمنی باقی رہ گئی ہے۔ مسلمان دشمنی کے سوا ان کے پاس کھڑے رہنے کے لیے کوئی پائوں نہیں ہیں۔یہ پائوں اگر آپ نے کاٹ دیے تو پھر وہ ٹھیر نہیں سکیں گے۔ ہندو کا مقابلہ اگر آپ مسلمان قوم پرستی کے ذریعے کرنا چاہیں گے تو یہ غلطی ہوگی۔ ایسی چیزوں سے ہندو قومیت کو غذا ملے گی۔ ہندوئوں میں آپ کو ’مسلمانوں کے مطالبات‘ کے بجاے ’اسلام کے مطالبات‘ لے کر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ اسلام کو ساتھ لے کر ہندستانی مسلمان موجودہ مراحل سے گزرتے چلے جائیں تو ان شاء اللہ صورتِ حال بدل جائے گی اور آج کے مسلمان آیندہ نسلوں کے لیے بہتر حالات پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ہندوئوں میں جو لوگ مسلمانوں کے خلاف فتنے کھڑے کرکے فساد برپا کر رہے ہیں، ایک وقت آئے گا کہ خود ہندو اس صورتِ حال سے بیزار ہوجائیں گے۔

ہندو کون؟

سوال : ہندوئوں کے قومی تشخص کو، ہندو لیڈر مسلمان دشمنی کو ہوا دے کر برقرار رکھ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوئوں کا مذہب ان کے قومی تشخص کے لیے کافی نہیں ہے؟

جواب :ہندوئوں کی کوئی ایسی کتاب یا ایسا عقیدہ نہیں ہے جس پر سب ہندو متفق ہوں۔ ۱۸۸۱ء میں جب مردم شماری ہوئی تو یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ ہندو کس کو قرار دیا جائے؟ کیوں کہ کسی کا کچھ عقیدہ تھا اور کسی کا کچھ۔ آخر یہ طے پایا کہ جس کا مذہب ہندستان سے متعلق ہو اور جو گائے کو مقدس مانے وہ ہندو ہے۔ ان کی کوئی ایک شخصیت بھی ایسی نہیں جس پر یہ سب متفق ہوں۔ دیوتا بھی ایک نہیں، بلکہ کروڑوں ہیں۔ ان کے لٹریچر میں اپنے گروہ کے لیے کوئی نام بھی نہیں ہے، جس سے انھیں پکارا جائے۔ ہم برصغیر میں آئے اور انھیں ہندو کہنا شروع کیا تو ان کا نام ہندو پڑگیا۔

جہیز کی شرعی حیثیت

سوال : اسلام میںجہیز کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب :جہیز کا دینا ناجائز نہیں، مگر آج کل اس کو جو شکل دے دی گئی ہے، وہ بُری ہے۔ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جہیز کے بارے میں مجبور نہیں کیا۔ اگر کوئی جہیز نہ بھی ہو، تو بھی نکاح ہوجاتا ہے۔ دراصل ایک مسلمان معاشرے میں عدم توازن اس لیے پیداہوتا ہے کہ خدا اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کا حکم نہیں دیا، لوگ وہ کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ’’کرنا پڑتا ہے؟‘‘۔ لیکن جن چیزوں کا حکم دیا گیا ہے، انھیں نظرانداز کردیتے ہیں، مثلاً میراث کے جو حصے اللہ نے مقرر کیے ہیں، انھیں ادا نہیں کرتے۔ ایسا طرزِعمل کبھی مفید ثابت نہیں ہوتا۔

نظامِ عبادات اور جہاد

سوال : کیا یہ درست ہے کہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کا مقصد جہاد کی تیاری ہے؟

جواب :نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کا مقصد اللہ کی عبادت اور اس کی رضاجوئی ہے۔ جہاد بھی اللہ کی عبادت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ نماز، روزہ انسان کو جہاد کے لیے بھی تیار کرتے ہیں۔ حُسنِ نیت اور اخلاص کے ساتھ کی جانے والی ایک نیکی اور عبادت مسلمان کو دوسری نیکی اور عبادت کے لیے تیار کرتی ہے۔

نماز کے فوائد

سوال : کیا نماز روزے سے نفس کی پاکیزگی بھی حاصل ہوتی ہے؟ 

جواب :مسلمان کی نماز تو اسے یہی حکم دیتی ہے کہ وہ بُرائی سے بچے۔ بشرطیکہ نماز پڑھنے والا یہ سمجھ کر نماز پڑھے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔ اگر وہ بلاسوچے یا نماز کے مقصد کو نظرانداز کرکے پڑھے گا تو پھر نماز پڑھ کر رشوت لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھے گا۔ اگر رشوت لینے والا نماز پڑھے گا اور سمجھے گا کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے تو یہ خیال کرکے کہ مَیں تو حرام کھا رہا ہوں، وہ رشوت کے قریب بھی نہیں جائے گا۔

سوال : کیا نماز اقامت ِ دین کا حکم بھی دیتی ہے؟ 

جواب :نماز ہی تو حکم دیتی ہے اقامت ِدین کا۔ جب آپ [نماز میں دعاے قنوت پڑھتے ہوئے]کہتے ہیں: نَخْلَعُ وَنَتْرُکُ  مَنْ یَّفْجُرُکَ  ’’ہم ہر اس شخص کو چھوڑ دیں گے اور اس سے تعلق کاٹ دیں گے جو تیرا نافرمان ہو‘‘۔ تو دشمنانِ دین سے آپ کی لڑائی کا آغاز ہوجاتا ہے۔

ٹپ کی شرعی حیثیت

سوال : ہوٹلوں میں بیروں کو دی جانے والی ٹپ کی شرعی نوعیت کے بارے میں عرض ہے کہ یہ ٹپ کیا رشوت کی تعریف میں آتی ہے؟ 

جواب :ٹپ کا اب عام رواج ہوگیا ہے، لیکن اس کی نوعیت وہ نہیں ہے جو رشوت کی ہے۔ ٹپ اگر آپ نہ بھی دیں تب بھی بیرا چائے لائے گا۔ وہ ٹپ کے لیے آپ پر کوئی جبر نہیں کرسکتا، اور نہ آپ کا کوئی حق سلب کرسکتا ہے، نہ آپ کے کسی حق سے انکار کرسکتا ہے۔ اس لیے یہ رشوت کی تعریف میں نہیں آتی ہے۔ رشوت یہ اس وقت ہوگی جب بیرا آپ کو اس ٹپ کے بدلے میں کوئی زائد شے لا کر دے، مثلاً وہ دو پیالی کے بجاے ٹپ کے لالچ میں آپ کو تین پیالی لادے اور مالک کو رقم دوپیالیوں ہی کی ملے۔ یہ چیز رشوت ہوگی اور اسی لیے حرام ہوگی۔

تقلید اور عدم تقلید

سوال : تقلید اور عدمِ تقلید کی اصل نوعیت کیا ہے؟ 

جواب :جب کوئی محقق یا عالم کسی معاملے میں تحقیق کرنے بیٹھتا ہے تو درحقیقت وہ تقلید نہیں کرتا بلکہ عملاً وہ غیرمقلّد ہوتا ہے۔ اگر آدمی یہ قسم کھا کر تحقیق کرنے بیٹھے کہ مَیں اپنی تحقیق میں اسی نتیجے پر پہنچوں گا جو کسی خاص امام کا ہے، تو ایسی تحقیق بے کار ہے۔ تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ انسان خالی الذہن ہوکر بیٹھے اور پھر ایمان داری کے ساتھ تحقیق کرے کہ اس مسئلے کے بارے میں کسی امام کا مسلک کس حد تک اور کتنا کچھ وزن رکھتا ہے؟

خیر اور شر کا وجود

سوال : مولانا، کیا خیروشر کی قوتیں انسان کے باہر ہی سے اثرانداز ہوتی ہیں، یا یہ انسان کے اندر بھی موجود ہوتی ہیں؟ 

جواب :یہ قوتیں اندر بھی موجود ہوتی ہیں اور باہر بھی۔ اگر یہ انسان کے اندر نہ ہوں تو باہر کی طاقتیں ان سے کیسے ربط قائم کرسکتی ہیں۔ اندر وہ قوتیں موجود ہوتی ہیں، جبھی تو وہ بیرونی قوتوں کو متاثر کرتی ہیں۔
سوال : ہم شیطان کی اثراندازی کا احساس کس طرح کرسکتے ہیں؟ 
جواب :جب انسان اپنے اندر بُرائی کی اُکساہٹ محسوس کر رہا ہو تو سمجھ لے کہ شیطان بُرائی کی ترغیب دے رہا ہے۔ اس پر اسے چوکنا ہوجانا چاہیے۔

عیسائیوں کے ساتھ کھانا

سوال : کیا عیسائیوں کے ساتھ مل کر کھانے پینے کی اجازت ہے؟

جواب :یہ تو قرآن مجید ہی میں آیا ہے کہ ان کے ساتھ مل کر کھایا پیا جاسکتا ہے۔ بس اس بات کی احتیاط کرنی چاہیے کہ اگر ان کے دسترخوان پر کوئی حرام چیز ہو تو اُسے استعمال نہ کیا جائے۔

سائنسی تحقیق کی حد

سوال : اگر کوئی مسلمان ریسرچ کو اپنا فریضہ بنا لے تو یہ کہاں تک درست ہے؟

جواب :دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ ریسرچ کس غرض کے لیے کرنا چاہتا ہے، کیوں کہ ریسرچ براے ریسرچ تو بے معنی ہے۔ ہر ریسرچ کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے۔ چاہے وہ مقصد روپیہ کمانا ہو یا شہرت حاصل کرنا، یا قومی سربلندی کا مظاہرہ کرنا۔ ریسرچ براے ریسرچ کبھی نہیں ہوا کرتی۔ ہر کام کا کوئی مقصد ہوتا ہے ، اگر کوئی مسلمان اس مقصد کو سامنے رکھ کر ریسرچ کرے کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچے تو یہ ایک مفید چیزہے۔

دو مساجد

سوال : مولانا، لاہور کی بادشاہی مسجد اور دہلی کی جامع مسجد میں کیا خصوصیات ہیں؟ 

جواب :لاہور کی جامع مسجد بہت بڑی ہے، جب کہ دہلی کی جامع مسجد حُسن اور خوب صورتی میں بہت بڑھی ہوئی ہے۔ اس میں داخل ہوتے ہوئے جو گنبد سا ہے، اس کے نیچے کھڑے ہوکر اُوپر دیکھیں تو قرآنِ پاک کی آیات یکساں خط میں لکھی نظر آتی ہیں۔ حالاں کہ عبارت شروع ہونے کے مقام سے انتہائی بلندی تک پہنچتے پہنچتے ابتدائی اور آخری خط کی موٹائی میں ایک اور سولہ کی نسبت ہوجاتی ہے۔ لکھنے والے کا کمال یہ ہے کہ اس نے بلندی کی طرف جاتے ہوئے خط کی موٹائی میں اس تناسب کے ساتھ اضافہ کیا ہے کہ نیچے سے پڑھنے والے کو خط بالکل یکساں جلی معلوم ہوتا ہے۔

بنک اور سود

سوال : بنک کے ملازم کی تنخواہ میں سود شامل ہوتا ہے، اسی لیے اُسے ناجائز ٹھیرایا گیا ہے، لیکن ایک عام سرکاری ملازم کو جو تنخواہ ملتی ہے اس میں بھی سود کی رقم شامل رہتی ہے، تو یہ کیوں کر جائز ہے؟ 

جواب :بنک کے ملازم کو ملنے والی تنخواہ تمام تر سود پر مشتمل ہوتی ہے ،جب کہ سرکاری ملازم کی کُل تنخواہ میں محض ایک حصہ سود کا ہوتا ہے۔ لیکن دونوں میں اصل فرق یہ ہے کہ بنک کا ملازم براہِ راست سودی کام کرتا ہے، جب کہ کوئی عام سرکاری ملازم سود سے براہِ راست متعلق کوئی ڈیوٹی انجام نہیں دیتا۔ اسی لیے بنک کی ملازمت اور عام ملازمت ایک درجے میں نہیں ہے۔