مئی 2026

فہرست مضامین

مصائب، بیماریاں اور اللہ کی یاد!

ڈاکٹر طاہرمسعود | مئی 2026 | tazkeer

Responsive image Responsive image

بیماریاں اور مصیبتیں زندگی کے ساتھ ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ انسان دُنیا میں آئے اور ساری زندگی عیش و آرام میں گزارے، اور اسے کسی بیماری اور کسی مصیبت سے واسطہ اور سابقہ نہ پڑے۔ یہ سمجھنا کہ ہربیماری کسی نہ کسی گناہ کی سزا ہوتی ہے، کسی طرح بھی درست نہیں۔ اس کے برعکس ان ہی لوگوں کو اللہ ربّ العزت کسی نہ کسی بیماری اور مصیبت میں مبتلا کرتے ہیں جو اپنے دل میں اپنے خالق و مالک کی سچی محبت رکھتے ہیں اور جو نمازوں اور اطاعت ِ خداوندی کے پابند ہوتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ اللہ ربّ العزت ان بندوں کا امتحان لیتے ہیں اور انھیں ہی آزمائش میں ڈالتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی محبت و اطاعت کے دعوے دار ہوتے ہیں۔ چنانچہ قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر ایسے لوگوں کو نصیحت کی گئی ہے، کہ اگر تم اللہ کی محبت میں سچے ہو تو جب مصیبت پڑے صبر کرو اور نماز سے مدد لو۔ پریشانیاں آئیں تو حوصلے سے انھیں برداشت کرو۔ یہ مصیبتیں اور پریشانیاں ہمیشہ نہیں رہتیں۔ ایک وقت آتا ہے جب اللہ ربّ العزت اپنے پسندیدہ بندوں کو ایسے امتحانوں اور آزمائشوں سے بَری کر دیتے ہیں، اور نہ بھی کریں تو ان کا مقام اللہ کی نظر میں بہت بلند ہوجاتا ہے اور آخرت میں ان کا اجر وانعام انسانی تصور سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

ہم سب نے سن یا پڑھ رکھا ہے کہ دُنیا ایک امتحان گاہ ہے جہاں انسانوں کو اللہ کریم نے اس لیے بھیجا ہے کہ وہ اپنے بندوں کا امتحان لے اور ان کی آزمائش کے ذریعے یہ دیکھے کہ کتنے بندے ہیں، جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی محبت اور اطاعت میں سچّے ہیں۔ بلاشبہ کم ہی لوگ ایسے ہیں کہ جب ان پر مصیبت پڑے تو وہ صبر اور نماز سے مدد لے کر ایسے امتحان میں خود کو سرخرو کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شعوری طور پر اس امتحان و آزمائش کو نہیں سمجھ پائے۔ وہ اسے اپنی کم بختی اور حرماں نصیبی گردانتے ہیں، اور جب خدا سے دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھاتے ہیں تو شکوے شکایت کا دفتر کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔ مشکل سے ایک فی صد لوگ ہی ایسے ہوں گے، جو دُعا میں یہ کہتے ہوں کہ ’’اے پاک پروردگار! میں جس مصیبت میں گرفتار کیا گیا ہوں، اس امتحان و آزمائش میں تُو مجھے صبر کی نعمت عطا کر اور مجھے اس امتحان میں سرخرو کر۔ بے شک میں کمزور و ناتواں ہوں اور اتنی ہمت نہیں رکھتا کہ اگر تُو مجھے توفیق نہ دے تو میں خود سے اس امتحان میں پامردی کا مظاہرہ کرسکوں۔ تُو میری مجبوری کو جانتا ہے۔ اگر تُو نے مجھے ایک آزمائش میں ڈالا ہے، تو اس آزمائش میں مجھے صبر اور ہمت دے اور مجھے وہ نماز عطا کر جس سے طاقت و توانائی کشید کر کے اس امتحان و آزمائش میں، مَیں خود کو سرخرو کرسکوں‘‘۔ ایسی دُعا وہی بندہ مانگ سکتا ہے، جو دُنیا کی حقیقت کو سمجھتا ہے اور اس دُنیا میں آنے والے مصائب کی حقیقت کو بھی جانتا ہو۔ قرآن پاک میں اور احادیثِ مبارکہ میں اس حقیقت کو کھول کھول کر بیان کردیا گیا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نہ قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنے کے عادی ہیں اور نہ احادیث ِ مبارکہ سے حقیقی معنوں میں مستفید ہونے کی توفیق رکھتے ہیں۔

کسی بھی مصیبت، بیماری یا پریشانی سے نمٹنے کا ایک سادہ سا طریقہ تو یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت ہم پر پڑے تو ہم گردوپیش پہ نظر دوڑا کر یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ کیا یہ مصیبت ایسی ہے جس سے صرف میرا ہی واسطہ پڑا ہے یا میرے علاوہ دوسرے بھی ایسے ہی مصائب میں گرفتار ہیں؟ جب ہم دوسروں کے حالات و واقعات پر نظر دوڑائیں گے، تو پتہ چلے گا کہ مصیبت تنہا مجھ ہی پر نہیں ٹوٹی، ہر دوسرا فرد ایسی ہی کسی نہ کسی پریشانی میں گرفتار ہے۔ اور بعض تو ایسے ہیں جن کی مصیبت کے سامنے میری اپنی مصیبت ہیچ ہے، اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ اس موازنے سے ہماری نفسیاتی تسلّی ہوجائے گی اور یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور نمازو تلاوت ہی وہ طریقے ہیں، جن کے اختیار کرنے سے ہمیں صبروسکون کی نعمت مل سکتی ہے۔

اپنی مصیبتوں اور پریشانیوں کو جھیلتے ہوئے ہمیں ضرور اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ دُنیا کی ہرمصیبت و پریشانی وقتی اور عارضی ہے۔ اور یہ مصیبت و پریشانی اس لیے لاحق ہوئی ہے کہ خداوندتعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ جس بندے کو اس نے امتحان میں ڈالا ہے، اس کا ردّعمل کیسا ہے؟ کیا وہ ہرحال میں خدا کا شکرگزار ہے یا شکرگزاری کے بجائے شکوہ شکایات اور داد و فریاد ہی میں مگن اور گلہ مند ہے۔ قرآن پاک کی سورئہ ملک پڑھتے ہیں تو اس میں بہت وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے کہ خداوند تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ بندہ دُنیا میں کیسے اعمال کر کے واپس اپنے ربّ کے پاس آتا ہے؟ انسان دُنیا میں بہت مختصر وقت کے لیے آیا ہے۔ پچاس ساٹھ برس تو پلک جھپکتے گزر جاتے ہیں۔ انسان زیادہ سے زیادہ ۷۰، ۷۵ یا ۸۰ برس تک زندہ رہتا ہے۔ اتنے مختصر سے وقت کے مقابلے میں آخرت کی زندگی ہمیشگی کے لیے ہے۔ یہ ہمیشگی کی زندگی جس میں ایمان اور نیک اعمال کی جزا جنّت ہے، جہاں انسان کو ہمیشہ کے لیے رہنا ہے اور یہ زندگی عیش و طرب کی زندگی ہوگی، تو اگر اس ہمیشگی کی زندگی کی خاطر دُنیا میں کچھ مصیبتیں انسان صبروشکر کے ساتھ سہ لے، برداشت کرلے تو آخرت میں اس کا اجروانعام وہ ہمیشہ کی جنّت ہے، جس میں پہنچ کر دُنیا میں اُٹھائی گئی ہرمصیبت و پریشانی کی تلافی ہوجائے گی، بلکہ انسان یہ سوچنے میں حق بجانب ہوگا کہ جنّت کے عیش و طرب کے مقابلے میں دُنیا کی مصیبتیں تو کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔

ہم دُنیا کے مصائب کو اپنے لیے کیوں ایک پہاڑ سمجھتے ہیں اور کیوں ہمیں صبر نہیں آتا؟ اس کی وجہ یہ ہے: آخرت کی نعمتوں پر ہمارا یقین و اعتبار محکم نہیں ہے۔ جو تکلیف ہمیں دُنیا میں لاحق ہوتی ہے وہ حقیقی ہوتی ہے اور آخرت کی جنّت محض ایک خوش خبری ہے، ایک اُمیدافزا اطلاع ہے جو ہمارے وجود میں کوئی تحریک پیدا نہیں کرتی۔ موت یقینی حقیقت ہونے کے باوجود انسان موت کی حقیقت کو صدقِ دل کے ساتھ محسوس نہیں کرتا، تاوقتیکہ کوئی مہلک بیماری ہمیں دبوچ نہ لے یا کسی قریبی عزیز یا دوست کی موت ہمیں جھنجھوڑ کر نہ رکھ دے۔ ایسا ہونا فطری ہے۔ خدا نے اگر موت کے خوف کو ہمارے اندر راسخ کر دیا ہوتا، تو دُنیا کی رونقیں ماند پڑجاتیں۔ زندگی کی گہماگہمی پر اوس پڑجاتی اور انسان موت کے خوف میں ہمہ وقت مبتلا ہوکر زندگی کی لذتوں، مسرتوں اور تگ و دو سے کنارہ کش ہوجاتا۔ اس لیے خبردار کرکے، یہ قدرت ہی کا انتظام ہے کہ آنکھوں پر غفلت کا پردہ پڑا رہتا ہے۔ یہ پردہ اچانک اس وقت آنکھوں سے چند لمحوں کے لیے ہٹ جاتا ہے، جب ہمیں ناگہانی طور پر موت کے مشاہدے سے دوچار ہونا پڑجائے۔ یہ کیفیت بھی عارضی اور لمحاتی ہوتی ہے۔ انسان بہت جلد اس کیفیت سے نکل کر ’نارمل‘ ہوجاتا ہے، تاکہ وہ زندگی کی جدوجہد اور بھاگ دوڑ میں شریک ہوسکے۔ احادیث میں یہ جو اہل ایمان کو قبرستان میں جاتے رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ زندگی کی رنگینیوں اور ہمہ ہمی میں گم ہوکر موت کو فراموش نہ کربیٹھیں۔گناہوں کی کثرت کا سبب اس کے سوا اور کیا ہے کہ انسان اپنے آخری انجام یعنی موت کو بھلا بیٹھتا ہے اور اس زندگی کو آخری اور حتمی سمجھ بیٹھتا ہے۔ بزرگوں کی صحبت اور علم سے رجوع کرنے کی اہمیت اسی لیے ہے کہ انسان اپنی حقیقت کو فراموش نہ کردے، دُنیا کی زندگی ہی کو سب کچھ نہ سمجھ بیٹھے۔ جب تک انسان کے باطن میں خوفِ خدا اور جواب دہی کا احساس نہ ہوگا اسے گناہ سے روکنے کا محرک کوئی اور چیز نہیں ہوگی۔ 

معاشرے میں اگر حلال و حرام کی تمیز اُٹھ جانے، بدعنوانیوں کی کثرت، ایک دوسرے کا حق مارنے، حسد، نفرت اور جھوٹ، جیسی بُرائیوں کا خفیف سا احساس بھی زندہ نہیں رہتا۔یہ غفلت اور بے حسی اکثر اوقات مصائب کا سبب بن جاتی ہے اور اگر اس دُنیا میں پکڑ نہ ہو تو آخرت میں ضرور اس کی سزا مل کر رہے گی۔ یہ سمجھ کر گناہوں پر دلیر ہو جانا کہ روزِمحشر شفاعت ہوجائے گی اور ہم محض کلمہ گو ہونے کی وجہ سے داخلِ جنّت کر دیے جائیں گے اور سارے گناہ بخش دیے جائیں گے، ایسی خوش گمانی خداوند تعالیٰ کو اور غضب دلانے والی ہوگی، کیوں کہ شفاعت بھی گنہگاروں کے گناہ کرنے کا کھلا لائسنس ہرگز نہیں ہوگا۔ شفاعت اسی کی ہوگی، جس کی اجازت اللہ ربّ العزت دے گا۔ دُنیا میں ایک آدمی اللہ کے خوف سے بے پروا ہوکر بدمعاملگی کرے اور یہ اُمید رکھے کہ اس کے گناہ آسانی سے بخش دیئے جائیں گے، اس سے بڑی نادانی اور کیا ہوگی؟

اس لیے ایک مسلمان کو دُنیا کی زندگی میں احتیاط برتتے ہوئے پھونک پھونک کر قدم اُٹھانا چاہیے، اور خدا کے عدل و انصاف سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ گناہوں میں بے شک سب سے بڑا گناہ غفلت ہے بلکہ اکثر گناہوں کا منبع ہی غفلت ہے، جس سے ہرحال میں بچنا اور چوکنّا رہنا چاہیے۔ اور استغفار کا ورد کرتے رہنا چاہیے اور نمازوں میں خداوند تعالیٰ سے نیکیوں کی توفیق اور گناہوں سے پرہیز کی دُعا مانگتے رہنا چاہیے۔ دل میں خدا کا اگر سچا خوف ہو، تو خود خدا بندے کی حفاظت کرتا ہے اور اسے ارتکابِ گناہ سے روک دیتا ہے۔ پس، اللہ کی یاد، اس کا خوف اور اس کی محبت ہی وہ نعمتیں ہیں، جو ہرمصیبت میں سہارا بنتی ہیں اور پریشانیوں میں ثابت قدم رکھتی ہیں۔