اکتوبر ۲۰۱۲

فہرست مضامین

حکومت کی کارکردگی اور آنے والے انتخابات

سیّد منور حسن | اکتوبر ۲۰۱۲ | اشارات

Responsive image Responsive image

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کسی بھی معاشرے میں جب قومی سطح کے انتخابات ہوتے ہیںتو اس کے نتیجے میں ایک نیاسیاسی اور انتخابی کلچر وجود میں آتا ہے۔معاشرے کے مختلف ادارے باہمی تعاون کی نئی سبیلیں تلاش کرتے ہیںاور مل جل کر معاشرے کی خدمت کے نئے منصوبے بناتے ہیں۔منتخب لوگ بھی جن وعدوں اور دعوؤں کے ساتھ برسراقتدار آتے ہیںاور جس منشور کی پاسبانی کو اپنی ذمہ داری قرار دیتے ہیں، ان وعدوں کو پورا کرنے اور دعوؤں میں رنگ بھرنے کی کوششیں شروع کردیتے ہیں۔

پاکستان میں ایک طویل آمریت کے بعد فروری ۲۰۰۸ء میں انتخابات ہوئے تو لوگوں نے بجا طور پر یہ توقعات قائم کیں کہ حالات سدھریں گے، مواقع بڑھیں گے اور معاشرے میں سلگتے ہوئے مسائل کے جنگل سے نجات ملے گی۔ لیکن ’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘۔پانچ سال ہونے کو آئے ہیں،کوئی وعدہ ایسا نہیں جو وفاہوتا نظر آئے ، کوئی دعویٰ ایسا نہیں جس کی قلعی کھل نہ گئی ہو،   اور کوئی امید ایسی نہیں جو یاس میں تبدیل نہ ہو گئی ہو۔ انتخابات جیتنے اور حکومت بنانے والوں    نے اقتدار سنبھالتے ہی دو نکاتی یقین دہانی کرائی اور ببانگ دہل اس کا اعلان کیا کہ عوام نے پرویزمشرف اور اس کی پالیسیوں کو مسترد کردیا ہے اور یہ کہ ہم تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر مفاہمت کی پالیسی پر عمل کریں گے، ایک دوسرے کے خلاف کردار کشی کی مہم اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے گریز کریں گے اور عوام کے دکھوں کا مداوا سب کا ایجنڈا قرار پائے گا۔ عوام نے ان دونوں باتوں کا خیرمقدم کیا، انھیں اپنے دل کی آواز سمجھا اور’ میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے‘  کے مصداق یہ گمان کیا کہ ان کی تمنائوں اور آرزوئوں کی تکمیل کا خواب اپنی تعبیر کو پہنچا چاہتا ہے۔  مگر پچھلے پانچ سالوں میں جو کچھ ہوا، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ وہی چال بے ڈھنگی، وہی ایڈہاک ازم، لوٹ مار کے نت نئے طریقے اور عوام کی خدمت سے عاری رویے اور منصوبے۔جن اعلانات اور کانوں میں رس گھولنے والی باتوں کے ساتھ آج کی حکومت برسر اقتدار آئی تھی، وہ اعلانات محض اعلانات ہی ثابت ہوئے۔ پرویز مشرف اور اس کی پالیسیاں زور و شور سے جاری ہیں اور مفاہمت کی پالیسی کے نام پر حکمران اتحاد اوراپوزیشن جماعتیں جس طرح ایک دوسرے کے بخیے ادھیڑ رہی ہیں، وہ سب پر عیاں ہے۔

 زندگی کے تمام دائروں میں جس درجے لاقانونیت نظر آتی اوردکھائی دیتی ہے، خود کش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے روز افزوں واقعات جس طرح خوف اور دہشت کی فضا پیداکرتے ہیں، آفرین ہے کہ عوام نے تو اس صورت حال کا جرأت و بہادری اور مصمم ارادے سے مقابلہ کیا ہے، ملک کی تعمیر نو میں بھی دل چسپی کا اظہار کیا ہے، قومی یک جہتی کو بھی پارہ پارہ ہونے سے بچایا ہے اور حکمرانوں کو بھی مسلسل آئینہ دکھایا ہے، لیکن خود حکمران جس طرح امریکی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہیں، اسی سے ڈکٹیشن لیتے ہیں، اس کے کہے پرعمل کرتے ہیں، اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور اسی سے اپنی پالیسی اور ترجیحات کا تعین کراتے ہیں، اس نے پاکستان کو غلامی کی بدترین صورت حال سے دوچار کردیا ہے۔

محاذ آرائی اور تصادم کی سیاست

پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں جمہوری تقاضوں کے بالکل برعکس اداروں سے متصادم ہونے کی راہ اختیار کی،اور یہ پیپلزپارٹی کی ریت اور روایت رہی ہے ۔ اس کا پورا ٹریک ریکارڈ تصادم اور محاذ آرائی کی پالیسی سے عبارت ہے۔ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹونے      ’ادھر تم ادھر ہم‘ کا نعرہ لگایا تھا اور’جو اسمبلی کے اجلاس میں ڈھاکہ جائے وہ ایک طرف کا ٹکٹ لے کر جائے‘اس دھمکی آمیز رویے کو اپنایا تھا،اور ’جو ڈھاکہ جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی‘ اس لب و لہجے میں بات کی تھی۔ منجملہ دیگر امور کے یہی وہ رویہ ہے جس کے نتیجے میں ہمارا   مشرقی بازو ہم سے جدا ہو گیا۔وہ دن ہے اور آج کا دن، پیپلزپارٹی محاذ آرائی اور تصادم کی سیاست پر یقین رکھتی اور عمل کرتی آرہی ہے۔ جو لوگ اس پارٹی کی حکمرانی اور اس کی تاریخ سے واقف ہیںان کے لیے یہ بات حیرانی کا موجب نہیں ہے۔ آج بھی سپریم کورٹ کو للکارا جا رہا ہے، اسے بائی پاس کیا جا رہا ہے، اس کے فیصلوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، اور اس کے فیصلوں کی خلاف ورزی کر کے لاقانونیت اور دستور سے بغاوت کے کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے۔پیپلزپارٹی کا اگر یہ خیال ہے کہ وہ کیکر کا درخت اُگائیں گے اور اس پرسے آم اتاریں گے تو یوسف رضا گیلانی کے معاملے میں وہ دیکھ چکے ہیںکہ جو کچھ انھوں نے بویا تھا وہی کاٹا،اور اب راجا پرویز اشرف کے معاملے میں بھی اس سے مختلف رویے کی انھیں توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں اور مظلوم اور ہمدرد بن کر عوام کے سامنے ٹسوے بھی بہاتے ہیں۔ عدالت کو اس معاملے میں مضبوطی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اپنے فیصلوں پر کماحقہ عملدر آمد ہوتا نہ دیکھے تو آئین کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد ہی میں ملک و قوم کی بقا ہے،اور محمود و ایاز کو ایک صف میں کھڑاکرنے سے ہی آئین و قانون کی بالادستی ممکن ہے۔ سپریم کورٹ نے اب تک اولوالعزمی اور آئین کو بالادست رکھنے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ توقع یہی ہے کہ وہ اسی ریت کو جاری رکھے گی، اور یہ بھی احتمال ہے کہ پیپلزپارٹی بھی محاذآرائی کی روش سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

پیپلزپارٹی اور اتحادیوں کی حکومت کا اصل سلوگن جمہوری حکومت رہا ہے مگر جو حکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں کو نہ مانتی ہو اور پارلیمنٹ کے فیصلوں اور قراردادوں کو رتی برابر اہمیت    نہ دیتی ہو، وہ کس منہ سے اپنے آپ کو جمہوری حکومت کہہ سکتی ہے؟غیر جمہوری رویوں اور طورطریقوں کو اپنا کر جمہوریت کا لیبل لگانا    ؎

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا حُسن کرشمہ ساز کرے

کے مترادف ہے۔ حکومتی سطح پر اداروں کو باہم متصادم کرنے کی روش معاشرے کی چولیں ڈھیلی کر دیتی ہے، معاشرے کی پہچان گم ہو جاتی ہے، اس کا تشخص گہنا جاتا ہے اور معاشرہ اپنی اقدار سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت زندگی کے تمام دائروں میں دیکھا جاسکتا اور اس کو محسوس  کیا جا سکتا ہے۔پرویز مشرف کی طرح عوامی نمایندہ ہونے کی دعوے دار یہ اتحادی حکومت بھی عوام کے دکھوں میں اضافے کا سبب بنی ہے اور زخموں کو پھاہا بھی میسر نہیں ہے۔ اتحادی جماعتوں نے مرکز اور صوبوںمیں عوام کو مایوس کیا ہے۔ان سب کی عدم کارکردگی اور برے طرزِ حکمرانی کی وجہ سے لوگوں کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ ان سب کا ویژن اور اپروچ الگ الگ ہے مگر اپنے اپنے مفادات اور وقتی اور عارضی طور پر اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے جمع ہو گئے ہیں۔

بلوچستان کی تشویش ناک صورتِ حال

بلوچستان اور کراچی کے حالات میں ایک درجہ مماثلت بھی پائی جاتی ہے اور عمومی طور پر اپنے اپنے حالات اور اپنے اپنے دکھوں کی دنیا بھی آباد ہے۔بلوچستان کو جس احساس محرومی نے آگھیرا ہے، اس کا مداوا احساس شرکت سے ہی کیا جا سکتاہے، محض زبانی جمع خرچ سے نہیں۔  یہ سوال اہم ہے کہ یہ احساس بلوچوں میں کیسے پیدا کیا جائے؟ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ بلوچوں کے ساتھ مذاق بند کیا جائے، ان کا تمسخر نہ اڑایا جائے، اور وزیراعلیٰ تک کا مہینے میں ۲۵ دن اسلام آباد میں  مقیم رہ کر محض کوئٹہ میں کابینہ کا اجلاس کر کے یہ دعویٰ نہ کیا جائے کہ بلوچستان کے حالات تبدیل کرنے کا کام کیا گیا ہے۔ بلوچوں کو لالی پاپ کی ضرورت نہیں ہے، لوری دے کر انھیں خوش نہیں کیا جا سکتا۔ محض پیکیج کے نام پر انھیں دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا اور وسائل سے مالامال صوبہ ہے۔ اپنے وسائل میں سے اگر وہ اپنا حق طلب کرتے ہیں تو امانت و دیانت اور حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ اس مطالبے کو تسلیم کیا جائے اور وہاں کے وسائل کو وہاں کے مفلوک الحال عوام پر خرچ کیا جائے۔ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے بھی کوئی کام نہ کیا اور کسی کو علم نہیں کہ ایک سو سے زیادہ ارب روپے جو بلوچستان کے عوام کے لیے دیے گئے ہیں وہ کہاں گئے؟ عوام کی حالت بدتر اور جان، مال اور عزت کی پامالی ماضی کی طرح جاری ہے۔ مرکزی حکومت کی طرح صوبائی حکومت بھی ایک ناقابل معافی جرم کی مرتکب ہوئی ہے۔

 صوبائی کابینہ میں تمام پارٹیاں شریک ہیں، تمام ایم پی اے وزیر بنے ہوئے ہیںاور اپنے لیے دونوں ہاتھوں سے وسائل اور مراعات اکٹھی کر رہے ہیں لیکن بلوچوں کو انھوں نے محرومیوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ اب اگر وفاقی وزیر داخلہ اورآئی جی ایف سی بلوچستان یہ بیان دیتے ہیں کہ بھارت افغانستان میں بیٹھ کر بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کر رہا ہے، تو دشمن سے تودشمنی کی ہی توقع کی جا سکتی ہے۔اور دشمن کے ساتھ اگر مذاکرات کی میز پر بیٹھا جائے تو اس کا گلہ بھی کیا جانا چاہیے اور کبھی بلوچستان کے ایشو پر مذاکرات کا بائیکاٹ  بھی کیا جانا چاہیے تاکہ اس کی مداخلت بند ہو۔ لیکن حالات کو درست کرنے اوراپنے گھر کو    پُرامن بنانے کی ذمہ داری تو مرکزی اور صوبائی حکومت کی ہے،اور بظاہر یہ دونوں حکومتیں اس جانب بڑھتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔ابھی موقع ہے کہ بلوچستان کے حالات کو درست کیا جا سکے، وہاں ہونے والے ظلم کی چادرکو ہٹایا جا سکے، ناانصافی کی طویل رات کو سحر کیا جا سکے لیکن جمہوریت کے نام پر  قائم ہونے والی حکومت جمہوری رویوں سے بالکل ناآشنا نظر آتی ہے۔عوام کے دلوں میں     اس کے لیے نفرت،مذمت، احتجاج، دوریوں اور گالیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

کراچی میں بڑہتی ھوئی لاقانونیت

کراچی کی ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا براے تاوان کے حوالے سے حکومت سندھ میں شریک تینوں پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام لگاتی ہیںاورایک دوسرے کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھیراتی ہیں،اور جب وہ ایسا کہہ رہی ہوتی ہیں تو سچ بول رہی ہوتی ہیں۔سندھ کی صوبائی حکومت چوری اور بھتہ خوری کے مشترکہ نکتے پر قائم ہے اور یہ بات زبان زد عام ہے کہ صوبے کی حکومت پس پردہ ہاتھوں میں ہے۔ وزیر اعلی کی حیثیت محض نمایشی ہے۔ پیپلزپارٹی کو سندھ میں اکثریت حاصل ہے، وہ اکیلے اور تنہا حکومت بنا سکتی ہے لیکن دہشت گردوں کواپنی گود میں بٹھا کر اس نے عوام کی پیٹھ پر بھی ظلم کا کوڑا برسایا ہے اور دہشت گردی کے فروغ کا ذریعہ بھی بنی ہے۔ ایم کیو ایم  یا اے این پی کے مینڈیٹ میں سرے سے یہ بات تلاش نہیں کی جا سکتی کہ انھیں حکومت میں ہونا چاہیے لیکن جرائم کی فہرست جب طویل ہو جاتی ہے اور بوری بند لاشیں، بھتہ خوری اور لوگوں کا جینا حرام کرنے کے ذرائع استعمال کر لیے جاتے ہیں، تو حکومت کی پناہ میں گزربسر کرنا ایسی پارٹیوں کا منشور بن جاتا ہے۔ صوبہ سندھ میں یہ ٹرائیکا جس کی حکومت وہاں پر قائم ہے، ان تمام مسائل، مصائب اور حالات کی خرابی کا ذمہ دار ہے۔جب تک دہشت گرد حکومت میں شامل رہیں گے کراچی اور سندھ کے شہریوں کے حالات کو درست کرنا ممکن نہیں ہوگا ، جان و مال کا عدم تحفظ روزمرہ کا معمول رہے گا اور نجات کی کوئی صورت بن نہ پائے گی۔

لوڈ شیڈنگ اور عوامی مسائل

خیبر پختونخوا کی صورت حال بھی ابتری سے دوچار ہے۔صوبائی حکومت نے عوامی خزانے کی لوٹ مار کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔ آبادی کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جسے تین تین مرتبہ ہجرت پر مجبور کیا گیاہے، گھر سے بے گھر اور لاوارث بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے۔ لاتعداد سکول اور ہسپتال ہیںجو دہشت گردی کی نذر ہوگئے ہیں،اور بین السطور یہ بات کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ سوات جیسے ضلع میں تمام سکولوں کو اگر بھک سے اڑا دیا گیا تو یہ سارے واقعات کرفیو کے دوران پیش آئے۔ لوگوں نے اپنے سر کی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھا اور ان گواہوں کی ایک بڑی تعداد ان تمام علاقوں میں موجود ہے جہاں لوگوں کو ان کی ضروریات سے محروم کرکے عنوان یہ دیا گیا کہ دہشت گردی پر قابوپانے کے لیے فوجی آپریشن ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخوااس بات کا مستحق ہے کہ وہاں جن بچوں سے مستقبل چھین لیا گیا ہے اور جن عوام کو صحت کی بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا گیا ہے،  مرکزی و صوبائی حکومت ان کے لیے تعلیم اور صحت کے مراکز تعمیر کرنے پر توجہ دے۔

اس پورے عرصے میں پنجاب حکومت کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ اس نے جمہوری رویوں کو برقرار رکھا ہے، عوام کے دکھوں کا لحاظ اور پاس کیا ہے، اور مرکز کی طرف سے مداخلت اور حالات کو بگاڑنے کی کوششوں کے باوجود تحمل اور بُردباری کا مظاہرہ کیا ہے ۔ حالانکہ اس کے پاس اتنے وسائل تھے اور اتنی دانش و بینش اسے میسر تھی کہ اگر وہ لوڈ شیڈنگ کے بارے میں مرکزی حکومت سے کامل بے اعتنائی برتتے ہوئے اسے کم کرنے یا کنٹرول کرنے کے اقدمات کرتی اور اس کی گنجایش موجود تھی، تویقینی طور پر یہ ایک بڑا کارنامہ ہوتا لیکن اس نے بھی سواے مرکز کو چارج شیٹ کرنے کے کچھ نہ کیا اوراپنے فرائض کی ادایگی سے پہلوتہی کرتے ہوئے عوام کے دکھوں میں کوئی کمی نہیں کی۔ اسی لیے پنجاب بالخصوص لاہور لوڈشیڈنگ کے سب سے بڑے مراکز کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ یہ بھی محسوس ہوا کہ مصنوعی اور نمایشی اقدامات، دکھاوے کے اور عوام کو بے وقوف بنانے کے عنوانات تو بہت سجائے گئے، چاہے وہ سستی روٹی سکیم ہو یا لیپ ٹاپ کی تقسیم کا معاملہ ہو لیکن حقیقی طور پر مہنگائی کو ختم کرنے اور بے روزگاری کوکم کرنے کے جو منصوبے اور اقدامات   ہوسکتے تھے، وہ سامنے نہیں آسکے۔ اور یہی معاملہ کم و بیش لا اینڈ آرڈر کی صورت حال کا نظر آیا۔ دہشت گردی کے واقعات بھی اس کی گواہی دیتے ہیں،اور عمومی طور پر جو لاقانونیت ہے اور جو ظلم کی نئی نئی داستانیں رقم ہوتی اور آشکار بھی ہوتی ہیں، ان سے بھی اس کا اندازہ ہوتاہے۔ پنجاب میں جس طرح پرائمری ہی سے انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا جا رہا ہے، تعلیم مخلوط کی جارہی ہے، اور جس طرح لیپ ٹاپ تقسیم کرکے حکومتوں کے اصل فرائض اور ذمہ داریوں سے پہلوتہی کی جا رہی ہے، نیز طلبہ کو جن دائروں میں ہمت افزائی کی ضرورت ہے اور سہولتیں فراہم کرنے اور ضرورتیں پوری کرنے کی طرف توجہ دی جانی چاہیے، ان سے جس طرح پہلو تہی کی جارہی ہے،  اس سے ایک ایسے سماج کا نقشہ سامنے آ رہا ہے جو بے پیندے کے لوٹے سے بھی گیا گزرا ہو۔

’دھشت گردی کی جنگ‘ اور ناکام خارجہ پالیسی

بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کاجو امیج استعماری طاقتوں کی پاکستان و اسلام دشمنی،اور حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی اورغلط پالیسیوں کی وجہ سے بن رہا ہے، وہ پاکستان کے وقار کی بھی نفی کرتا ہے اور جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات کا رونا بھی روتا ہے۔ اگر امریکا اپنی پالیسی کے تحت پاکستان کو ایٹمی پروگرام سے محروم کرنا چاہتا ہے اور اسے بین الاقوامی کنٹرول میں دینے اور اس کو  محفوظ ہاتھوں میں دینے کا راگ الاپنا چاہتا ہے، تو اس کی پالیسی کے تمام عناصر ترکیبی اس طرف نشان دہی کر رہے ہیں کہ وہ ملک میں انارکی کو فروغ دینا چاہتا ہے، بدنظمی اور لاقانونیت کی فضا کو بڑھوتری دینا چاہتا ہے اور اس کے لیے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی اور شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے لیے مسلسل دبائو بڑھاتا چلا جا رہا ہے۔ ملک کے اندر فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والے قتل ومقاتلہ میں اس پہلو سے اور امریکی سازش کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کوشش اور سازش تو یہی ہے کہ سنی اور شیعہ باہم دست و گریبان ہو جائیںجیسا کہ عراق میں کیا گیا لیکن ابھی تک یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔اگر معاشرے میں شیعہ سنی کو فرقہ وارانہ کشیدگی کے نتیجے میں باہم متصادم کردیا جائے تو کوئی خوشی غمی کی تقریب، کوئی ادارہ، کوئی محلہ اور بستی اس سے نہیں بچ سکیں گے۔دونوں طرف کے عوام اور سربرآوردہ لوگوں نے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی چاہتے ہیں اور دشمن کی سازش کو ناکام بنانے میں پیش پیش ہیں۔ ان کی طرف سے اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ کوئی بھی ذی ہوش انسان معصوم لوگوں کے قتل کی تائید اور کوئی صاحب ِ ایمان اس پر خوشی کا اظہار نہیں کرسکتا،تاہم حکومتی اداروں کوامن عامہ برقرار رکھنے اورفرقہ وارانہ بنیادوں پر تشدد پھیلانے والوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ ادانہیں کرسکے۔ حکمران خوابِ غفلت میں مدہوش ہیں اور مستقبل کی فکر مندی کے بجاے اس سے لاپروا دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان جس خطے میں واقع ہے اس میں اس کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ جسے سینٹرل ایشیا کے وسائل تک پہنچنا ہے، وہ پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔جو چاہتا ہے کہ چین کی دہلیز تک اس کی رسائی ہو جائے، وہ پاکستان کے بغیر ایسا کرنے سے قاصر نظر آئے گا۔ جو ایران کو سبق سکھانا چاہتا ہے اسے پاکستان کی ضرورت کا احساس ستائے گا۔ جو افغانستان کے پہاڑوں اور چٹانوں سے شریعت کو ابھرتا دیکھے گا اور اس پر قدغن لگانے اور اس کا راستہ روکنے کا خواہاں ہوگا، وہ پاکستان کے بغیر یہ کام نہیں کرسکتا۔ جو یہ چاہتا ہے کہ مصنوعی طورپربھارت کو اس خطے کا تھانیدار بنا دے ،اس کے قدکاٹھ میں اضافہ کرکے اسے بلاشرکت غیرے اس خطے کا والی اور وارث بنادے، اسے پاکستان کا تعاو ن درکار ہوگا۔ امریکا اپنے نئے عالمی نظام کی تنفیذکے لیے ان تمام نکات کو اپنا ایجنڈا سمجھتا ہے، اور اس کی جزئیات تک کو نافذ کرنے کے لیے بے تاب اور بے قرار نظر آتا ہے لیکن اس کباب کے اندر ہڈی پاکستان کو سمجھتا ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کو جو مقام دیا ہے ، اس کو دیکھتے ہوئے بلاخوف تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگراسے کوئی محب وطن قیادت میسر آجائے اور اخلاص و للہیت کے ساتھ خدمت کے جذبے سے سرشار اپنے آپ کو پائے تو پاکستان اس پورے خطے کو نیا آہنگ دے سکتا ہے۔اگر ہم اپنی خارجہ پالیسی اپنی اس اہمیت کو پیش نظر رکھ کر بنا رہے ہوتے تو یہاں دودھ اور شہد کی نہریں نہ بھی بہہ رہی ہوتیں لیکن اتنا ضرور ہوتا کہ دہشت گردی کو دندنانے کا موقع نہ ملتا، جان و مال کا تحفظ یقینی دکھائی دیتا اور حکومتیں جن مقاصد کے لیے قائم کی جاتی ہیںان کی تکمیل کرتی ہوئی نظر آتیں۔ افسوس کہ حکمران، سول و ملٹری بیوروکریسی اور پالیسی ساز ادارے خود ہی اپنی اہمیت سے ناواقف ہوتے ہوئے’ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے‘ کا مصداق بنے ہوئے ہیں اور غیروں کے دست نگر بن کر  اپنے تشخص کو پامال کرنے اور بحیثیت قوم کے خود اپنے پیر پر کلہاڑی مارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

’ دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کبھی بھی ہماری جنگ نہ تھی۔ یہ اس خطے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے، اس کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے امریکی جنگ تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ پلوں کے نیچے سے جس قدر پانی بہا ہے اور سروں کے اوپر سے جس قدرپانی گزرا ہے، اس نے دو اور دو چار کی طرح یہ بات واضح کر دی ہے۔ اس جنگ سے دہشت گردی کو فروغ ملا ہے۔ اس نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی ہے، اور مسجدوں اور امام بارگاہوں اور پبلک مقامات اور محفوظ دائروں سے گزر کر ایبٹ آباد ، کامرہ اور نیول بیس کراچی میں اپنے آپ کو منوایا ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے کرنے کی حکمت عملی تجربے سے غلط ثابت ہو چکی ہے۔ طاقت کے استعمال سے دہشت گردی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے پھیلائو اور وسعت کو کسی پیمانے سے ناپا نہیں جا سکتا ۔ امریکی فرمایش اور ’ڈومور‘ کی گردان پر ہم نے جس طرح اپنے لوگوں کے خلاف ملٹری آپریشنز کیے ہیں ، اور اس کے نتیجے میں پورے ملک میں جو تباہی ہوئی ہے، وہ اس کی گواہی دے رہی ہے۔دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے تین نتائج بالکل واضح ہیں۔ جگہ جگہ اور جا بجا فوجی آپریشن اور ڈرون حملے اس جنگ کا منطقی نتیجہ ہیں۔ گم شدہ افراد کا المیہ اور ان کی تعداد میں روزافزوں اضافہ اسی کا شاخسانہ ہے۔حکومت نے ڈرون حملوں پر جس طرح خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، اس نے اس حقیقت کو اظہرمن الشمس کردیا ہے کہ حکومت اور فوج کے ایما پر ہی یہ سلسلہ جاری ہے۔ جو کام پرویز مشرف نے ایک ٹیلی فون کال پر ڈھیر ہو کر شروع کیا تھا وہ کام منتخب حکومت پوری آب و تاب کے ساتھ اور امریکا وناٹو سے وفاداری نبھاتے ہوئے جاری رکھے ہوئے ہے اور قوم اور پارلیمنٹ دونوں کی واضح ہدایات کا مذاق اُڑا رہی ہے۔

خارجہ امور کے حوالے سے یہ بات کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ ایک ڈکٹیٹر نے افغانستان میں ایک بابرکت شرعی حکومت کو تہس نہس کرنے میں امریکا کا ساتھ دیااور افغانوں کی اپنی حکومت کو ڈھلان پر چھوڑ دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ امریکا اور اس کے حواری افغانستان میں بدترین شکست سے دوچار ہو چکے ہیں۔ ایک ہزیمت ہے جو سایے کی طرح ان کا پیچھا کر رہی ہے۔ اور لاکھوں ٹن بارود کی برسات بھی افغانوں کے عزم صمیم اور ان کے جذبۂ جہاد کے سامنے ٹھیر نہیں سکی۔ امریکا اور اس کے ۴۰ شریک ممالک کی کیل کانٹے سے لیس افواج پچھلے ۱۱سال سے افغانستان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ افغانوں اور پاکستان کو اس کے نتیجے میں جو مالی و جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، اس کے اعداد و شمار بھی دور تک پھیلے ہوئے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اب سے کم و بیش ربع صدی پہلے اگر سوشلزم کا قبرستان افغانستان ثابت ہوا تھا تو آج امریکا، اس کے تھنک ٹینکس اور اس کے حلیفوں کی بصیرت و بصارت اور دُور اندیشی و دُوربینی کا قبرستان بھی افغان کوہساروں اور ریگزاروںمیں پھیلا ہوا ہے۔ جس ویژن کے ساتھ جارج بش نے اپنی فوجیں افغانستان میں داخل کی تھیں وہ ویژن ضعف کے حوالے ہو چکا ہے، ناکامی و نامرادی اس کا مقدر بن چکی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت پاکستان اس منظرنامے کو دیکھتے ہوئے ماضی قریب کی تمام پالیسیوں پر نظرثانی کرتی اور ایک نئی آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دیتی۔ پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر تین قراردادیں منظور کیں جو خارجہ پالیسی کا جائزہ لینے اور اس کے اہداف اور پاکستان کی ضروریات کا ازسر نو تعین کرنے کی دعوت دیتی رہیں لیکن پارلیمنٹ کو سپریم اور بالادست کہنے اور اس کی مالا جپنے والے ایک قدم بھی اس سمت میں آگے نہ بڑھ سکے اور پارلیمنٹ کی یہ متفقہ قراردادیں صدا بصحرا ثابت ہوئیں۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی صدارت میں کل جماعتی کانفرنس منعقد کی اور ساری جماعتوں نے بڑے جوش و خروش اور احساس ذمہ داری کے ساتھ اس میں شرکت کی۔ اس کی قرارداد بھی انھی نکات پر مشتمل تھی کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے نجات پائی جائے، آزاد خارجہ پالیسی کی طرف قدم بڑھائے جائیں اور خطے میں پاکستان کے مفادات کی نگہبانی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ یہ کُل جماعتی کانفرنس اور اس کی قرارداد بھی نشستند و گفتند و برخاستند کی نذرہوگئی۔

ناٹو سپلائی کی بحالی کا ملک دشمن فیصلہ

سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے کے نتیجے میں جو جانی نقصان ہوا وہ اپنی جگہ لیکن وقار کا، تمکنت کا اور توقیر کا جو جنازہ سلالہ سے اٹھااس نے پوری قوم کو مضطرب اور بے چین کر دیاتھا، اور اس کے نتیجے میں اگر ناٹو سپلائیز بند کردی گئی تھیں تو قوم نے اس کا خیر مقدم بھی کیا تھا اور بڑے پیمانے پر مظاہرے کر کے یہ بات بھی باور کرائی تھی کہ ہم ایک آزاد قوم کی حیثیت سے جینا چاہتے ہیں اور جو لوگ ہماری خودمختاری کو چیلنج کر رہے ہیں اور ہمارے جوانوں کو شہید کر رہے ہیں، ان کے ساتھ دوستی ہو سکتی ہے نہ ان کی جنگ میں شریک رہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک نادر موقع فراہم ہو اتھا کہ پارلیمنٹ کی ہدایات کی روشنی میں خارجہ پالیسی تبدیل کی جائے اور امریکی جنگ کو خیرباد کہا جائے لیکن سیاسی اور فوجی قیادت امریکی دبائو کے سامنے ڈھیر ہوگئی۔ اوراس کے ضعف ، کمزوری اور  حب الوطنی میں کمی کے نتیجے میں عوامی مخالفت کے علی الرغم ناٹو سپلائی کا بحال ہونا پوری قوم کے لیے شرمندگی اور ندامت کا باعث بنا۔ جماعت اسلامی نے نہ صرف ناٹو سپلائی بلکہ امریکا کے پورے ایجنڈے (ڈرون حملے ، ملٹری آپریشنزاور ریمنڈ ڈیوس جیسے ہزاروں امریکیوں اور ان کے ایجنٹوں کی موجودگی) کے خلاف آواز اٹھائی ہے ، تسلسل کے ساتھ ’گو امریکا گو‘ تحریک چلائی ہے، اور اس کے ذریعے قیام پاکستان کے مقاصد کو بھی آشکار اورذہنوں میں تازہ کیا ہے، اور امریکا کی سازشوں اور امت مسلمہ اور اسلام کے بارے میں اس کی سوچ و فکر اور پالیسیوں سے بھی لوگوں کو آگاہ کیا ہے جس کے نتیجے میں امریکا کے خلاف ایک عمومی بیداری کی لہر موجود ہے۔ بجاے اس کے کہ عوامی راے کا احترام کیا جاتااور حب الوطنی کے تقاضے پورے کیے جاتے،دشمن کو کمک پہنچانے، اس کے ضعف کو قوت میں بدلنے اور ناٹو سپلائیز کے بند ہونے سے جو کمزوری اس میں واقع ہو گئی تھی، اس کو دورکرنے کی شعوری کوشش کی گئی ۔ تاریخ میں ایسے عقل و دانش سے محروم اور عاقبت نااندیش لوگوں کی شاید مثال نہ ملتی ہو، جو اس طرح کے اقدام سے اپنے ہی پیر پر کلھاڑی مارتے ہوںاور دشمن کی صفوں کو مضبوط کرنے کا ذریعہ اور سبب بنتے ہوں۔

معیشت کی بدحالی اور اخلاقی بگاڑ

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان استعماری قوتوں کا دست نگر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن ملکوں نے بیرونی امداد پر اپنی معیشت استوار کرنے کی کوشش کی ہے، وہ کبھی اقتصادی طور پر اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوسکے۔ بیرونی امداد اور قرضوں کی معیشت نوآبادیاتی نظام کے بظاہر ختم ہوجانے کے بعد معاشی طور پر قوموں کو بیڑیاں پہنانے ، ہتھکڑیاں لگانے اور زبان پر پہرے بٹھانے کے وہ طور طریقے ہیں جو اب خاصے پرانے ہو گئے ہیں۔ساری دنیا استعمار اور سامراج کے ہتھکنڈوں سے کچھ نہیں تو اپنے تجربوں سے گزر کر واقف ہوگئی ہے۔ پاکستان کی بجٹ اور معاشی پالیسی سازی میں جس طرح آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک اور امداد دینے والے اداروں کا عمل دخل  بڑھ گیا ہے، اس سے کون واقف نہیں ہے۔ان اداروں کے عمل دخل سے حالات مسلسل خراب ہوئے ہیں، مہنگائی کے عفریت نے لوگوں کا جینا دوبھر کیا ہے، غریب کی غربت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور غریبوں کی تعداد میں بھی۔چاروں طرف احساس محرومی کے بادل منڈلاتے نظر آتے ہیں اور مجبور و بے کس عوام اپنی ناداری اور بے کسی و بے بسی پر سراپا احتجاج دکھائی دیتے ہیں۔ چادر سر کی طرف لے جائیں تو پیر کھل جاتے ہیںاور پیروں کی طرف لے جائیں تو سر کھل جاتا ہے لیکن   کوئی ان کا پُرسان حال نہیں ہے۔ بے روزگاری’ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے‘ کا مقام پا چکی ہے۔ معاشی دائرے کے اندرمحرومیوں کی یہ داستان معاشرے کو جونقصان پہنچاتی ہے اور جس کش مکش میں مبتلا کرتی ہے وہ سب کچھ یہاں دکھائی دے رہا ہے۔

اخلاقی گراوٹ کا اگر ذکر کیا جائے تو اس میںیہ تمام عوامل کارفرما ہیں۔ پورے معاشرے کو جس طرح فحاشی و عریانی، بے حیائی اور جنسی ہیجان کے اندر مبتلا کردیا گیا ہے، اور میڈیا کے ذریعے نظریہ پاکستان کی جس طرح نفی کی جا رہی ہے، اس کی بنیادوں کو جس طرح کھوکھلا کیا جا رہا ہے اور نئی نسل کے مستقبل کو جس طرح تاراج کیا جا رہا ہے، بے مقصدیت اور بے ہدف زندگی کو جس طرح عام کیا جا رہا ہے، یہ سب ایک سوچی سمجھی اسکیم کا حصہ ہے۔ دشمن چاہتا ہے کہ پاکستان سے اس کے نظریاتی تشخص کو چھین لیا جائے اور جس تحریک پاکستان کے نتیجے میں اور جس جدوجہد اور قربانیوں کے بعد اس ملک کو حاصل کیا گیا ، اُس کو ذہنوں سے اوجھل کر دیا جائے۔نصاب تعلیم اور نظام تعلیم میں جس طرح تحریفات کی جا رہی ہیںاور جن کے لیے اربوں روپے مغربی استعمار سرکاری اور غیر سرکاری راستوں سے خرچ کر رہا ہے، اس کا حاصل یہ ہوگا کہ نئی نسلیں ملک و ملت کی تاریخ سے بے خبر، اپنی اقدار سے بے نیاز اور ملک کے مقصد وجود سے لاتعلق ہوں گی اور حرص و ہوس ہی ان کا مقصد حیات بنا دیا جائے گا۔

نئے انتخابات: خدشات و امکانات

اس پورے پس منظر میں جو پہلے پرویز مشرف اور اس کی حکمرانی کے دور میں اور پھر  آصف زرداری اور اتحادی حکومت کی خراب کارکردگی کی وجہ سے اس انتہا کو پہنچا ہے،ملک میں انتخابات کا غلغلہ بلند ہو رہا ہے۔ حکمران جماعت اپنی مدت پوری کرنے کے قریب تر ہو رہی ہے اور انتخابات اُمید کی کرن کی حیثیت سے لوگوں کے دلوں میں گھر کرتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ خدشات موجود ہیں کہ حکمران انتخابات کے عمل کو ایک سال آگے دھکیلنا چاہتے ہیںاورعین ممکن ہے کہ یہ منظرنامہ بیرونی طاقتوں کے ایما پر ہی ترتیب دیا جا رہا ہوکہ آصف زرداری اور ان کے حکمران ٹولے سے بہتر امریکا کا خدمت گزار کوئی نہیں ہو سکتا۔قومی انتخابات سے قبل بلدیاتی انتخابات کا شوشہ اسی لیے چھوڑا گیا ہے۔ جماعت اسلامی ہمیشہ بلدیاتی انتخابات کے حق میں رہی ہے لیکن پیپلزپارٹی اب بلدیاتی الیکشن کے لیے بے قراری کا مظاہرہ کر رہی ہے تو بجا طور پر یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ ساڑھے چار سال میں یہ کام کیوں نہیں کیاگیا اور کیوں اس کے فوائد سے بے زاری اور بے اعتنائی کا ارتکاب کیا گیا۔ اور اب عجلت کا یہ عالم ہے کہ ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل قانون صوبائی اسمبلی کو اپنے قانون سازی کے حق اور عوام اور میڈیا کو احتساب اور نظرثانی کے استحقاق سے محروم کرنے کے لیے گورنر ہائوس میں کلیا میں گڑ پھوڑنے کی مشق کے بعد آرڈی ننس کے ذریعے مسلط کرنے کا شرم ناک کھیل کھیلا گیا ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ جمہوری اور سیاسی حکومتیں قائم ہوتی ہیں تو وہ بلدیاتی انتخاب سے گریز کی راہ اختیار کرتی ہیں اور فوجی حکومتیں برسراقتدار آتی ہیں تو وہ اپنی سیاسی اور قانونی حیثیت کو  تسلیم کرانے کے لیے بلدیاتی انتخابات کا رخ کرتی ہیں۔ پیپلزپارٹی کی حکومت چارمرتبہ عوام نے دیکھی ہے لیکن ان کے دور حکومت میں بلدیاتی انتخابات ہوتے ہوئے نہیں دیکھے گئے۔پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی حکمت عملی یہ نظر آتی ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں حکومتی اختیارات استعمال کرکے کامیابی حاصل کی جائے اور پھر بلدیاتی کامیابی کے نتیجے میں قومی الیکشن کو متاثر کرنے اور اپنے  من پسند نتائج حاصل کرنے کی آسان اور کامیاب کوشش کی جائے۔

 اس صورت حال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ حقیقی اپوزیشن گرینڈ الائنس کی صورت میں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائے اور اس یک نکاتی ایجنڈے پر آگے بڑھے کہ حکومت قومی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے، ایک قابل قبول مکمل طور پر غیر جانب دار عبوری حکومت سامنے لائی جائے، اور شفاف انتخابی فہرستوں کے ذریعے انتخاب کا اہتمام کیا جائے۔ اپوزیشن کی جماعتیں بظاہر اس تجویز سے متفق تو نظر آتی ہیں لیکن پیش رفت اور پیش قدمی کے لیے آمادگی کم کم دکھائی دیتی ہے۔یہ بات کہ گرینڈ الائنس نہ ہونے کی صورت میں جماعت اسلامی ایم ایم اے کی بحالی کی طرف جائے گی یا تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے ساتھ کسی الائنس یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں قربتیں پیدا کرے گی، اس حوالے سے کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ تمام جماعتوں، سیاسی گروہوں اور رہنمائوں سے ہمارے رابطے ہیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے اور تعاون کی راہیں تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اپنے طور پر بھی مسائل کو سمجھنے اور ترجیحات کے تعین کی کوشش کی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنا منشور بھی شائع کر دیا ہے لیکن صحیح معنوں میں انتخابی حکمت عملی اسی وقت بنے گی جب انتخابی تاریخوں کا اعلان ہوگا۔جو ہوم ورک اس دوران کیا جا رہا ہے، اس کے نتیجہ خیز ہونے یاصحیح طور پر اختیار کرنے کا وقت بھی وہی ہو گا۔

جماعت اسلامی کے جلو میں آجایئے!

رابطہ عوام مہم کے دوران ہم یہ بات تسلسل سے کہہ رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ     اس بات کو فروغ ملے اور بڑے پیمانے پر اس کو دہرایا جائے کہ پچھلے چھے سات الیکشن میں عوام نے جن پارٹیوں کو ووٹ دیے اور انھیں ایوان اقتدار تک پہنچایا، انھوں نے سواے مہنگائی وبے روزگاری، لاقانونیت و ٹارگٹ کلنگ اور امریکی غلامی کے ، عوام کی جھولی میں کچھ نہیں ڈالا۔ حکمران خود    عیش و عشرت میں ہیں لیکن عوام کے حصے کڑوے کسیلے پھل آئے ہیں۔اگر لوگ انھی پارٹیوں کو جھولیاں بھرکے ووٹ دیں گے تو پھر بعد میں جھولیاں بھر کے بد دعائیں دینے سے تقدیر نہیں بدلے گی۔ ملک وملت کی قسمت بدلنی ہے تو ووٹ دینے کا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ اس لیے ناگزیر ہے کہ عوام اس پوری صورت حال سے واقفیت کے نتیجے میںاس جدوجہد میں شامل ہوں جو جماعت اسلامی بڑے پیمانے پر لے کر چلی ہے۔ یہ جدوجہد ’گوامریکا گو‘ کے قومی مطالبے کے واضح اظہار سے شروع ہوتی ہے۔ اس لیے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی غلامی سے نجات ایک فلسفہ بھی ہے، نظریہ بھی ہے ،مقبول نعرہ بھی ہے، غلامی سے نجات کا راستہ اور آزادی کا پروانہ بھی ہے۔ امریکی غلامی سے نجات کے بغیر قومی وملّی اتحاد و اتفاق، عزت و وقار اور ترقی و کمال کی منزل پر نہیں پہنچا جا سکتا۔

رابطہ عوام کے نتیجے میں ہمیں لوگوں تک پہنچنا چاہیے، ان کے دروں اور دلوں پر دستک دینی چاہیے اور انھیں صورت حال سے آگاہ کرکے اس پر آمادہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے ووٹ دینے کے رویے پر نظرثانی کرتے ہوئے ان جماعتوں کو مسترد کریں جو ان کے لیے مشکلات اور مصائب کا سبب بنی ہیں اور ملک کی آزادی کو امریکا کی نئی غلامی میں دے دینے کا ذریعہ بنی ہیں۔ یہ بھی ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ کرپٹ حکومت کے ذریعے کرپٹ معاشرہ ہی قائم ہوتا ہے اور کرپٹ حکمران عوام کی فلاح و بہبود کے لیے نہ کوئی کام کرسکتے ہیں اور نہ ان کے ذریعے پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست بنانے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے۔ یہ صرف پورے ملک کے اندر سرگرمی اور جدوجہد کے نتیجے میں ممکن ہے کہ عام آدمی جماعت اسلامی کی طرف رُخ کرے اور اپنا اور اپنے   اہل خانہ کا ووٹ جماعت ا سلامی کے حق میں استعمال کرکے حالات کا رُخ بدلے اور ملک و قوم کو  اس تاریک رات سے نجات دلائے جس کی جاں گسل گرفت سے نکلنے کے لیے وہ تڑپ رہی ہے۔

 لوگ اس بحث میں بھی جا بجا کنفیوژن سے دوچار نظر آتے ہیں کہ انتخابات کے ذریعے کسی تبدیلی یاانقلاب کی گھن گرج نہیں سنی جا سکتی۔ یہ بات تسلیم ہے کہ انتخاب مکمل انقلاب کا راستہ نہیں ہے لیکن جزوی انقلاب اور جزوی تبدیلیاں بہتری کی طرف مائل کرنے اور منزل کو قریب کرنے کا ایک ذریعہ ضرور ہیں۔ اگر انقلابی ووٹرز کی تعداد بڑھتی چلی جائے اوروہ جماعت اسلامی کی پشتی بانی کریں تو یقینی طور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انتخاب کا راستہ بھی انقلاب کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اگر عوام اور ووٹرز حکمرانوں کو، ظالموں اور جاگیرداروں کو، سیکولر لابی اور امریکی ایجنٹوں کو ووٹ    نہ دیںاور انھیں بڑے پیمانے پر غیر مقبول بنا دیں تو اس کے نتیجے میں بھی اس تبدیلی کے دروازے  کھل جائیں گے جو مطلوب ہے اور جس کے نتیجے میں ان شاء اللہ ’سٹیٹس کو‘ کے بت گرجائیں گے۔ اس لیے جماعت اسلامی نہ صرف اپنے بہی خواہوں اور خیرخواہوںسے، اپنے سے ہمدردی رکھنے والوں اور حمایت کرنے والوں سے یہ اپیل کرتی ہے کہ بلکہ ملک کے اہل دانش و بینش سے، سوچ اور فکر رکھنے والوں سے، ظالمانہ معاشی نظام کے دو پاٹوں میں پسنے والے انسانوں سے، دکھی لوگوں سے، غریبوں سے، محروموں، بے کس و مجبوروں سے بھی یہ اپیل کرتی ہے کہ وہ جماعت اسلامی کے جلو میں آجائیں۔ عدل و انصاف کا نظام قرآن و سنت کی فرماں روائی کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا کش مکش مول لے کر اسلامی نظام کی طرف بڑی تعداد میں لوگوں کو راغب کریںاور اسلام کے بابرکت نظام کو قائم کرنے کی نیت اور ارادے کے ساتھ انتخاب کے ذریعے تبدیلی کو یقینی بنائیں۔

 

کتابچہ دستیاب ہے۔منشورات، منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲۔ قیمت: ۱۳ روپے۔