مضامین کی فہرست


ستمبر ۲۰۰۹

عدلیہ اور اس کی آزادی پر جنرل پرویز مشرف نے ایک کاری ضرب ۹مارچ ۲۰۰۷ء کو لگائی تھی جس کا مقصد اپنے آمرانہ اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے عدلیہ کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے آنا تھا۔ یہی چال فوجی آمر کے اقتدار کے زوال کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔

ماضی میں چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کے کچھ اقدامات پر ذہنی تحفظات کے باوجود، ۹مارچ کو جس جرأت، استقامت اور حکمت سے انھوں نے آمروقت کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کیا اور سارے دبائو کے باوجود اپنی، اعلیٰ عدالت کی عزت اور دستور کے احترام کے تحفظ کی جدوجہد کا آغاز کیا، اس نے انھیں قوم کی آنکھوں کا تارا بنا دیا۔ وکلا برادری نے ان کا بھرپور ساتھ دیا، سول سوسائٹی اور سیاسی و دینی جماعتوں نے اس تحریک کی بھرپور معاونت کی اور چار مہینے کی جدوجہد کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق چیف جسٹس افتخار چودھری اپنے دستوری منصب پر بحال ہوگئے۔ لیکن ہٹ دھرم آمروقت کی آنکھوں میں یہ بحالی کانٹے کی طرح کھٹکتی رہی۔ جب اس نے دیکھا کہ عدالتِ عظمیٰ اس کے وردی میں نئے صدارتی انتخاب اور بدنامِ زمانہ مفاہمتی آرڈی ننس (NRO) کے بارے میں دستور کے مطابق اقدام کرنے کا عندیہ رکھتی ہے تو اس پر جنون کی کیفیت طاری ہوگئی۔ تب اس نے دوسرا اور نہایت مجرمانہ وار ۳نومبر ۲۰۰۷ء کو ایمرجنسی پلس (emergency plus) کے نام پر کیا۔ چیف آف آرمی اسٹاف کی حیثیت سے دستورِ پاکستان کو دوسری بار معطل کرکے  ایک نئے پی سی او (PCO) کا نفاذ کیا۔ اطاعت اور تابع داری کے لیے عدلیہ کے لیے نیا حلف اٹھانا لازم کیا۔ جس کے نتیجے کے طور پر نہ صرف چیف جسٹس افتخار چودھری کو فارغ کر دیا گیا بلکہ اعلیٰ عدالتوں کے ۶۵ ججوں کو نیا حلف نہ لینے کی پاداش میں برطرف کر دیا گیا۔ ان کو اور ان کے  اہلِ خانہ کو گھروں میں نظربند کر کے ایک تابع مہمل شخص عبدالحمید ڈوگر کو عدالت کا سربراہ مقرر کیا۔

۳ نومبر ۲۰۰۷ء سے ۱۵ دسمبر ۲۰۰۷ء تک یہ نئی طرز کا مارشل لا نافذ رہا، جسے ڈوگر عدالت نے سندجواز عطاکر دی۔ اس وقت کی کرم خوردہ پارلیمنٹ نے جو اپنی زندگی کے آخری سانس لے رہی تھی، مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کے ایما پر ۳ نومبر کی ایمرجنسی کو قرارداد کے ذریعے سندجواز دینے کی بے ڈھنگی (outlandish) حرکت بھی کرڈالی جو اس پارلیمنٹ کی طرف سے قوم     کے لیے الوداعی ٹھوکر تھی۔ باضمیر ججوں، پوری وکلا برادری، تمام اہم سیاسی اور دینی جماعتوں نے دستور کو پارہ پارہ کرنے کی اس مذموم کوشش کی بھرپور مذمت کی۔ انھوں نے جنرل مشرف سے نجات اور عدلیہ کی آزادی اور اپنی اصل شکل میں بحالی کی ملک گیر مہم چلائی، جس کے ثمرات ۱۸فروری ۲۰۰۸ء کے انتخابی نتائج کی شکل میں رونما ہوئے۔ قوم نے جنرل مشرف اور اس کے حواریوں کورد کر دیا اور چیف جسٹس افتخار چودھری اور دستور اور عدلیہ کی بحالی کا وعدہ کرنے والوں کو تبدیلی کا اختیار عطا کیا۔

یہ ایک دل خراش حقیقت ہے کہ اس پورے دور میں چند ملکی قوتیں اور بیرونی طاقتیں عوام کے مینڈیٹ کو ناکام کرنے میں مصروف رہیں اور اس سلسلے میں پیپلزپارٹی کی قیادت اور خصوصیت سے اس کے شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری کا رویہ بہت ہی مشکوک رہا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے انتخاب کے موقع پر ہی ججوں کی رہائی کا اعلان کیا، جس سے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ البتہ ججوں کی بحالی ، مشرف کے محاسبے اور دستور کو اس کی ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ء سے پہلے کی اصل شکل میں بحال کرنے کے دعووں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ انھیں محض سیاسی تسلی کے لیے کیے گئے وعدے قرار دے کر فرار کا راستہ اختیار کیا۔ زرداری اور گیلانی کی حکومت نے نہ صرف یہ کہ ڈوگر عدالت کو سینے سے لگایا بلکہ بہت بڑی تعداد میں نئے ججوں کا تقرر کردیا۔ یوں عدلیہ کی آزادی اور بحالی کا خواب چکنا چور کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ان حالات میں وکلا برادری، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں نے، خصوصیت سے جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بالآخر ۱۶مارچ ۲۰۰۹ء کے فیصلہ کن معرکے میں ججوں، وکلا برادری اور عوام کی تحریک کامیاب رہی اور حکومت کو عدلیہ کی بحالی کے مطالبے کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔

۳۱ جولائی ۲۰۰۹ء کو عدالتِ عظمیٰ کے ۱۴ رکنی بنچ کا جو اہم فیصلہ آیا ہے، وہ اس مہم کا ثمرہ اور عدلیہ کی آزادی کو دستوری، قانونی اور سیاسی تحفظ فراہم کرنے کا قانونی چارٹر ہے۔ تفصیلی فیصلہ ابھی آنے والا ہے، لیکن مختصر فیصلہ بھی ایک تاریخی دستاویز ہے، جس نے ۳نومبر ۲۰۰۷ء کو نافذ کیے جانے والے ایمرجنسی کے نام پر نافذکردہ مارشل لا اور اس کے تحت کیے جانے والے دستوری، قانونی اور انتظامی فیصلوں اور اقدامات کو غیردستوری، غیرقانونی اور ناجائز قرار دیا ہے۔ اس طرح اس فیصلے نے دستور سے بغاوت اور انحراف کے ایک تاریک باب کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔

یہ فیصلہ ہماری دستوری، قانونی اور سیاسی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے ہراعتبار سے تاریخی، انقلابی اور معیاری کہنے کے بارے میں تو دو آرا ہوسکتی ہیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کی حد تک، اس فیصلے نے ماضی کے کچھ عدالتی فیصلوں اور غلط روایات کو دوٹوک انداز میں رد کر دیا ہے۔ اس بات تک کو خاطر میں نہیں لایا گیا کہ اس سے خود اعلیٰ عدلیہ کے ۱۰۶ جج متاثر ہوں گے، اور جن میں ایک محترم جج وہ بھی ہیں، جو خود اس ۱۴ رکنی بنچ کے ممبر ہیں۔ لیکن اصول کی بالادستی اور دستور کے الفاظ اور حقیقی مفہوم کے تحفظ اور تعبیر کی صحت  کے لیے اس بنچ نے متفقہ طور پر دستور کی صحیح تشریح کردی ہے۔ اس طرح ۳نومبر ۲۰۰۷ء کے ماوراے آئینِ اقدام اور اس کے تحت قائم ہونے والے عدالتی انتظام بشمول اس وقت کے چیف جسٹس کے تقرر کو خلافِ دستور و قانون کالعدم (null and void) قرار دیا ہے۔

فیصلے کے اھم نکات

چیف جسٹس حمود الرحمن کے ۱۹۷۳ء کے عاصمہ جیلانی بنام حکومت پنجاب کے فیصلے کے بعد، یہ پہلا فیصلہ ہے جس نے دستور اور عدلیہ پر فوجی قیادت کے شب خون مارنے کے اقدام کو   غلط قرار دیا ہے، اور ’نظریۂ ضرورت‘ کو کم از کم جزوی حد تک رد کر دیا ہے۔ اس فیصلے میں جو اہم اصول طے کردیے گئے ہیں، وہ بہت اہم اور دُور رس اثرات کے حامل ہیں۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ان اصولوں کو صاف لفظوں میں بیان کر دیں:

۱-  دستورِ پاکستان، مملکت کی بنیاد اور تمام اداروں اور کارفرما قوتوں کے لیے ضابطۂ کار متعین کرتا ہے، جسے کسی صورت میں بھی توڑنے، معطل کرنے اور غیرمؤثر بنانے کا کوئی قانونی جواز نہیں۔ حکومتِ وقت کی کارکردگی کو بہانہ بناکر کسی کو دستور سے انحراف یا اس کے اِبطال کا حق نہیں اور جو ایسا کرے، اس کی حیثیت دستور کے باغی کی ہے۔

۲-  ماضی میں دستور کے ساتھ یہ کھیل کھیلا جاتا رہا ہے۔ عدالتیں اور پارلیمنٹ دستور پر کیے جانے والے ان قاتلانہ حملوں کو جواز دینے کی مذموم حرکت کرتے رہے ہیں۔ ۳نومبر ۲۰۰۷ء کے اقدام کو بھی ایک غیردستوری عدالت نے جواز فراہم کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنے    اولیں لمحے (ab initio) ہی سے غلط اور غیرقانونی تھی اور عدالت عالیہ کے ۱۴ رکنی بنچ نے اسے اس کی مکمل شکل میں باطل (void) قرار دیا ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ دستور میں ترمیم کا حق کسی چیف آف آرمی اسٹاف کو نہیں اور جو کچھ ۳نومبر کو اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف نے کیا، وہ غلط اور قانون کی سند سے عاری تھا۔

۳-  ۳نومبر کے اقدام کے غیرقانونی ہونے کا یہ فطری اور لازمی تقاضا ہے کہ جن ججوں کو اس کے تحت فارغ کیا گیا، وہ غلط تھا اور وہ اس جبری معزولی کے تمام زمانے میں دستور اور قانون کے مطابق جج تھے۔ اسی طرح چیف جسٹس کا عہدہ کبھی خالی نہیں ہوا اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا بہ حیثیت چیف جسٹس تقرر غیرقانونی تھا۔ اس لیے ان کے مشورے سے اعلیٰ عدلیہ کے جتنے جج صدر نے مقرر کیے، خواہ وہ مشرف کے دور میں ہوں یا صدر زرداری کے زمانے میں، وہ تمام تقرر غلط اور غیرقانونی تھے اور اس فیصلے کی رُو سے وہ سب جج فارغ ہوگئے یا اپنی اس پوزیشن پر لوٹ گئے جس پر وہ موجودہ تقرر سے پہلے تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ جو ۳نومبر کے اختیارات کے تحت آرڈی ننس کے ذریعے قائم کی گئی تھی، وہ بھی غیرقانونی تھی اور اسے فی الفور ختم کر دیا گیا ہے۔

۴-  اسی طرح اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ زرداری گیلانی حکومت نے ۲۰۰۸ء کے فنانس بل کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں جو اضافہ کیا، وہ بھی غلط تھا۔ فنانس بل کے ذریعے تنخواہوں کے لیے مالی سہولت تو بہم پہنچائی جاسکتی ہے، مگر ججوں کی تعداد کے قانون میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ اس فیصلے کے بڑے اہم اور دُور رس اثرات ہوں گے، اس لیے کہ گذشتہ ۱۰،۱۵سال سے حکومتِ وقت فنانس بل کے ذریعے درجنوں قوانین میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتی رہی ہے، جس پر سینیٹ میں بار بار اعتراض بھی اٹھایا جاتا رہا ہے اور سیاسی تجزیہ نگار بھی اس پر تنقید کرتے رہے ہیں، مگر ہر حکومت نے اس روش کو جاری رکھا ہے۔ اب اس فیصلے کی رُو سے اس دروازے کو بند کردیا گیا ہے۔

۵-  اس فیصلے کے ذریعے بڑے واضح انداز میں یہ اصول بھی طے کر دیا گیا ہے کہ جج بھی اسی طرح دستور اور قانون کے پابند ہیں جس طرح باقی تمام ادارے اور افراد۔ بلاشبہہ قانون کی تعبیر کے باب میں ان کی بات حرفِ آخر ہے، لیکن ان کا تقرر، طریق ترقی و تنزل، دستور اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ان کو بھی اسی طرح قانون کی گرفت میں آنا چاہیے، جس طرح باقی تمام شہری آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اعلیٰ عدلیہ کے ۱۰۶ ججوں پر اس فیصلے کی ضرب پڑی ہے اور یہ ایک اچھی مثال ہے۔

۶-  گو عدالت کو دستور میں ترمیم کا اختیار نہیں لیکن عدالت دستور میں ترمیم کی ضرورت کی نشان دہی کرسکتی ہے اور ماضی میں بھی کرتی رہی ہے۔ اس فیصلے میں دستور توڑنے والوں کے نظام کے تحت ججوں کے نئے حلف لینے کی روایت پر گرفت کی گئی ہے اور یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ اگر کوئی جج دستور کے شیڈول میں دیے ہوئے حلف سے ہٹ کر کوئی حلف کسی پی سی او کے تحت لیتا ہے تو یہ ایک عدالتی بداخلاقی (judicial misconduct) ہوگی اور ایسے جج کو عدلیہ سے خارج کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے دستور کی دفعہ ۲۰۹ میں ترمیم تجویز کی گئی ہے۔

۷-  سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے دستور میں ان ترامیم کو بھی رد کر دیا ہے جو جنرل پرویز مشرف نے ۳نومبر کے اقدام کے تحت کی تھیں۔ اس کے نتیجے میں وہ تمام اقدام اور آرڈی ننس جنھیں دستور کے آرٹیکل AAA-۲۲۷ کی شکل میں تحفظ دیا گیا تھا، وہ سب غیرمؤثر ہوگئے ہیں۔ البتہ عدالت نے ان کو فوراً کالعدم قرار دینے کے بجاے دستور میں مرکزی اور صوبائی آرڈی ننس کے لیے جو مدت مقرر کی ہے (یعنی مرکزی آرڈی ننس کے لیے ۴ مہینے اور صوبائی کے لیے ۳مہینے)، وہ عدالت کے فیصلے کی تاریخ سے دے دی ہے تاکہ مقننہ اس عرصے میں ردوقبول کے عمل کے ذریعے ان کی قسمت کا فیصلہ کرسکے۔ اس کے لیے عدالت نے جس اصول کا سہارا لیا ہے، وہ دستور میں طے کردہ تقسیمِ اختیارات کا نظام ہے۔ اس طرح بظاہر عدالت نے یہ ذمہ داری اپنے اُوپر سے منتقل کرکے پارلیمنٹ کے کندھوں پر ڈال دی ہے، حالانکہ ۳نومبر کے اقدام کو اس کی زندگی    کے اولیں لمحے سے کالعدم اور غیرقانونی قرار دینے کا منطقی تقاضا یہ تھا کہ ان آرڈی ننسوں کو  جن پر تین،چار مہینے نہیں، ۱۸ مہینے گزر چکے ہیں، کالعدم قرار دیا جاتا۔ لیکن یہاں عدالت نے ’نظریۂ ضرورت‘ کا سہارا لیا ہے اور نظام کو بچانے کی خواہش کی بنیاد پر انھیں اور ایسے بہت سے انتظامی اقدامات کو جن میں صدرزرداری کا حلف بھی شامل ہے سندِجواز دے دی ہے جس پر کچھ حلقوں نے بجاطور پر تنقید کی ہے۔

ہماری نگاہ میں اس فیصلے کے قانونی مضمرات بے حد اہم ہیں اور ملک کو دستور اور قانون کی حکمرانی کی طرف لاتے ہیں۔ اس کا کردار بہت مثبت ہوسکتا ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم چاہتے ہیں کہ اس فیصلے کے چند اقتباسات یہاں دے دیں، تاکہ عدالت کی سوچ اسی کے الفاظ میں سب کے سامنے آسکے۔ عدالت کی یہ تصریحات (observations) ہراعتبار سے بے حد اہم ہیں۔ ہم آگے جو تجزیہ پیش کرنا چاہتے ہیں، اس کی ضرورت اور اہمیت کو بھی ان کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے۔

۸-  فیصلے کے پیراگراف ۹ اور ۱۰ میں دستور پر فوج کی قیادت کی دست درازیوں کا جس انداز میں ذکر کیا گیا ہے، وہ اس لیے اہم ہے کہ ان تبدیلیوں کو اپنے اپنے دور میں عدالتوں نے جواز (validation ) دیا ہے۔ لیکن جو زبان ان حصوں میں استعمال کی گئی ہے، وہ ماضی سے بہت مختلف ہے۔ البتہ جیساکہ ہم بعد میں عرض کریں گے، عدالت نے اس تجزیے کے قانونی تقاضے اپنے فیصلے میں پورے نہیں کیے، جس کی تشنگی ہرصاحبِ نظر محسوس کرے گا:

۹- تقسیم کے بعد آزادی کے ۶۰ برسوں میں عوام کی بدقسمتی سے مقننہ کے بنائے ہوئے دساتیر کو کئی بار منسوخ کیا گیا اور عوام کی حکمرانی کو نشوونما پانے اور ملک کی سیاست میں گہری جڑیں پکڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ۳ نومبر ۲۰۰۷ء سے قبل متعدد بار دستور منسوخ کیا گیا یا معطل کیا گیا اور حکمرانی کے جمہوری نظام کو ختم کر دیا گیا۔ پہلی دفعہ ۱۹۵۶ء کا دستور ۷؍اکتوبر ۱۹۵۸ء کو منسوخ کیا گیا اور اس وقت کے صدر سکندر مرزا  نے مارشل لا نافذ کیا، مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو برخواست کردیا، مرکزی اور  صوبائی حکومتوں کی تحلیل کر دی، تمام سیاسی پارٹیوں کو ختم کر دیا اور اس وقت کے  کمانڈر ان چیف جنرل محمد ایوب خان کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ چند ہی دن بعد سکندر مرزا کی جگہ موخرالذکر نے لے لی۔ ۲۵ مارچ ۱۹۶۹ء کو پھر اس وقت کے    آرمی کے سربراہ جنرل آغا محمد یحییٰ خاں نے ۱۹۶۲ء کا دستور منسوخ کر دیا اور اپنے اعلان (پی ایل ڈی ۱۹۶۹ء مرکزی قوانین ۴۲) کے ذریعے مارشل لا لگا دیا جس کے بعد عارضی دستوری حکم نامہ (پی سی او) نافذ کیا گیا (گزٹ آف پاکستان غیرمعمولی، ۴؍اپریل ۱۹۶۹ء)۔ ۵جولائی ۱۹۷۷ء کو ایک دفعہ پھر اس وقت کے آرمی کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق نے مارشل لا لگا دیا۔ انھوں نے مارشل لا حکم نامہ (پی ایل ڈی ۱۹۶۹ء، مرکزی قوانین ۳۲۶) کے ذریعے قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کر دی اور ۱۹۷۳ء کے دستور کو معطل کردیا۔ جس کے بعد لاز آرڈر ۱۹۷۷ء نافذ  کیا گیا۔ جب یہ دستور بحال ہوا تو بدنامِ زمانہ ۸ویں ترمیم کے ذریعے مسخ شدہ حالت میں بحال ہوا۔

۱۰- بعد میں، جاری جمہوری نظام پر ایک اور حملہ کیا گیا۔ ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کو اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف نے، جو اب ریٹائرڈ ہیں، ایک دفعہ پھر دستور کو معطل کردیا اور پورا ملک مسلح افواج کے کنٹرول میں لے آیا گیا۔ قومی اسمبلی، سینیٹ، اور صوبائی اسمبلیاں معطل کر دی گئیں۔ ساتھ ہی سینیٹ کے چیئرمین اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر بھی معطل کردیے گئے اور یہ اعلان کیا گیا کہ وزیراعظم، وفاقی وزرا، پارلیمانی سیکرٹری، صوبائی گورنر، صوبائی وزراے اعلیٰ اور ان کے مشیر اپنے منصب پر برقرار نہیں رہے۔ اس کے بعد پی سی او اور ججوں کا حلف نامہ ۲۰۰۰ جاری کیا گیا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے آپ کو چیف ایگزیکٹو قرار دے دیا اور نئے نظام کے تحت ملک پر حکومت کرنا شروع کر دی۔ بعد میں انھوں نے صدر کے منصب پر بھی قبضہ کرلیا اور آنے والے برسوں میں دستور کو ۱۷ویں ترمیم کے ساتھ بحال کیا۔

۸ (vii ) حیرت ہے کہ ماضی میں اس وقت کی عدالتوں نے مہم جوؤں کو نوازنے کے لیے انھیں دستور میں ترمیم کا اختیار دیا جو دراصل ان کے کھلے اور چھپے ایجنڈے کو    پورا کرنے کے لیے تھا، لیکن اس دفعہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے پی سی او کے ذریعے  یہ اختیارات خود سنبھال لیے اور اپنے مفاد میں متعدد غیردستوری ترامیم کیں۔

اس کے بعد عدالت نے ۳نومبر کے اقدام کی تفصیلات بیان کی ہیں اور اپنے فیصلے کے اطلاقی پہلوئوں میں توجہ کو صرف ۳نومبر کی ایمرجنسی تک محدود کرلیا ہے۔ حالانکہ اس بات کی ضرورت تھی کہ عدالت اپنے نظرثانی (review) کے اختیارات کا بجا طور پر استعمال کرتے ہوئے ماضی میں عدالتوں کے فراہم کردہ جواز اور آمروں کے دستور میں ترمیم کے حق پر واضح فیصلہ دیتی، تاکہ کم از کم دستور اور اس کی تعبیر کے باب میں دستور پر فوجی قیادتوں کی دست درازیوں کا دروازہ حتمی طور پر بند کیا جاتا۔نہ معلوم کس مصلحت کی بنا پر عدالت نے اپنی باقی توجہ صرف ۳نومبر پر مرکوز رکھی اور ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ء تک کے اقدام اور آٹھویں اور سترھویں ترمیم کو قابلِ مذمت (obnoxious) قرار دینے کے باوجود ’نظریۂ ضرورت‘ کے اس قاتلانہ کردار کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کیا۔ اس بات کی ضرورت تھی کہ عدالت صاف الفاظ میں یہ وضاحت کرتی کہ:

ا- دستور کو معطل کرنے، منسوخ کرنے یا غیرمؤثر کرنے کی ہر کوشش بغاوت ہے اور دستور کی دفعہ ۶ کے تحت آتی ہے۔ ایسا کرنے والے اور ایسا کرنے والے کی معاونت کرنے والے تمام افراد ایک سنگین جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور ان کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔

ب- اگرچہ یہ بات تو فیصلے میں آگئی ہے کہ کسی جج کو پی سی او کے تحت حلف نہیں لینا چاہیے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کسی عدالت کو پی سی او کو سندِجواز دینے کا اختیار نہیں۔ اور جو ایسا کرے گا، وہ بھی دستور کی دفعہ ۶ کی زد میں آئے گا۔

ج- تیسری بات جسے دو ٹوک انداز میں عدالت کے فیصلے میں آنا چاہیے تھا، وہ یہ ہے کہ دستور میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو ہے جو صرف دستور میں دیے ہوئے طریقے کے مطابق کوئی ترمیم کرسکتی ہے۔ کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ خود دستور میں ترمیم کرے یا کسی کو ترمیم کرنے کا اختیار دے یا کسی غاصب کی طے کردہ ترمیم کو دستور کا حصہ تصور کرے۔

یہ تین بنیادی اصول اس فیصلے میں آنا چاہییں تھے، لیکن نگاہیں ان کو تلاش کرتی ہیں، ناکام ہوکر لوٹ آتی ہیں۔

۸- عدالت نے بجاطور پر یہ فیصلہ دیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کا اقدام قطعاً غیرقانونی تھا، ملاحظہ ہو پیراگراف ۱۳ (۱):

(i) ۱۳- جنرل (ر) پرویز مشرف نے ایمرجنسی پلس اور پی سی او کے پردے میں خود حاصل کردہ اختیارات کے تحت دستور میں ترامیم کیں جو سب غیردستوری ہیں، بغیر اختیار کے ہیں، بغیر کسی قانونی بنیاد کے ہیں اور اس لیے کسی قانونی نتائج کے بغیر ہیں۔

لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس نتیجے کے باوجود اور اس اقدام کے تحت عدالتوں کے نظام میں تقرریوں اور ترقیوں کے اقدام کو کالعدم کرنے کے باوجود، غیردستوری عدالتوں کے بہت سے اقدامات پر اور غیردستوری عدالتوں کے ہاتھوں حلف لینے والی سیاسی تقرریوں پر کوئی گرفت نہیں کی گئی، حالانکہ عدالت کے لیے یہ موقع تھا کہ ایسے بیش تر اقدام کو ’نظرثانی‘ (review ) اور ’تجدید‘ (renewal) سے مشروط قرار دیتی، تاکہ ’نظریۂ ضرورت‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کیا جاسکتا۔ ایسے معاملات میں عدالت نے بدنامِ زمانہ ’نظریۂ ضرورت‘ کا سہارا لیا ہے، حالانکہ سیاسی نظام کو تہ و بالا کیے بغیر، ایک متعین مدت کے اندر ایسے تمام قوانین، ترجیحات، احکامات کا دوبارہ جائزہ لیا جاسکتا ہے اور تمام تقرریوں کا نیا حلف ہوسکتا ہے، جو دستور کے مطابق ہو۔ اس سے نظام کے پٹڑی سے اُترنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اس طرح ایک غیرقانونی عمل کو ’قانونی‘ بنانے کی روایت ختم کی جاسکتی تھی۔ لیکن عدالت نے اسی نظریۂ ضرورت کا سہارا لیا ہے، خواہ جزوی طور پر ہی سہی:

۲۲ (ii) یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا منصب ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کو ہرگز خالی نہیں ہوا اور اس کے نتیجے میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ مسٹر جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا بہ حیثیت چیف جسٹس آف پاکستان تقرر غیردستوری تھا، ابتدا ہی سے بے بنیاد تھا اور کسی قانونی اثر کے بغیر تھا۔

آگے جو کچھ کہا جائے اس کے باوجود جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا بہ حیثیت جسٹس آف پاکستان مذکورہ غیردستوری تقرر ان کے کسی انتظامی یا مالی اقدامات کے جواز کو متاثر نہیں کرے گا۔ اور نہ کسی حلف کو جو اس منصب کے معمول کی کارروائی کے دوران ان کے سامنے لیا گیا ہو۔

۲۲ (v) سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے کسی بنچ نے فیصلے کیے ہوں، حکم نامے جاری کیے ہوں یا decrees منظر کیے ہوں، جو مذکورہ ججوں پر مشتمل ہوں یا وہ ان میں شامل ہوں، ان کو ملک اسد علی کیس پی ایل ڈی ۱۹۹۸، ایس سی ۱۶۱ میں طے شدہ دستور کے مطابق تحفظ دیا جا رہا ہے۔

اس اہم فیصلے کے یہ تضادات نگاہوں کو بہت کھٹکتے ہیں۔ اگر ۱۰۶ ججوں کو فارغ کرنے سے پاکستان میں عدل کا نظام تہ و بالا نہیں ہوا تو چند سیاسی تبدیلیوں، عہدوں کے نئے حلف اور قوانین یا اقدامات کو ایک متعین مدت کے اندر اندر دوبارہ روبہ عمل لانے اور تصحیح (rectify) کرنے سے کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا۔ اگر صوبہ بلوچستان کی عدالت کے سارے جج اس فیصلے سے متاثر ہوئے تو کیا غضب ہوگیا۔ ۴۸گھنٹے میں نئی تقرریاں ہوگئیں اور عدالتی عمل کی گاڑی چلنے لگی۔   جب تک اس باب میں سمجھوتے کی روش کو ترک نہیں کیا جائے گا، صحیح مثال قائم نہیں ہوسکے گی۔  اس فیصلے کی نظریاتی اور قانونی بنیادوں اور فیصلے کی زبان اور تجزیے اور تحلیل کے باوجود اسی پرانے ’نظریۂ ضرورت‘ کا سہارا لینا، یقینا اضطراب کا باعث ہے۔ بہت سے اقدامات کا ذکر کر کے جو ۳نومبر والے اختیارات کے تحت ہوئے ہیں، سیاسی نظام کے تحفظ کے نام پر ضرورت کے تحت انھیں جواز دینا تشویش ناک ہے:

(vi) ان اقدامات کو زمانۂ قدیم کے اصول Salius Populi Est Surmalex (جس کا اظہار پی ایل ڈی ۱۹۷۲ء ایس سی ۱۳۹ میں کیا گیا ہے) کے مطابق مکمل تحفظ حاصل ہے۔

کرنے کے کام

عدالتی فیصلے کے ان مثبت اور قابلِ غور پہلوئوں کی نشان دہی کے بعد اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس اہم فیصلے کے بعد کرنے کے بڑے بڑے کام کیا ہیں:

۱- عدالت کا تفصیلی فیصلہ ابھی آنا ہے۔ اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ اس میں جس حد تک بھی ممکن ہو، جن تضادات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یا جن پہلوئوں کی مزید وضاحت کی ضرورت ہے، ان کا اس میں احاطہ کرلیا جائے۔ اس طرح یہ فیصلہ ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اصلاح کا ذریعہ بھی بنے گا اور آیندہ کے لیے طالع آزمائوں اور ان کے اعوان و انصار کا راستہ روکنے کا کردار بھی ادا کرسکے گا۔

۲- عدلیہ میں نئی تقرریوں کو خالص اہلیت کی بنیادوں پر کرنے اور حکومتِ وقت کی  سیاسی دراندازیوں کا دروازہ بند کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جہاں عدلیہ اور انتظامیہ میں ’اختیارات کی مکمل علیحدگی‘ کے اصول اور ضابطوں کی پابندی کی جائے، وہیں ذاتی پسند و ناپسند کا دروازہ بھی بند کردیا جائے۔ اس لیے پارلیمنٹ کو ججوں کی تقرری کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر طے کرنا چاہیے اور اس میں حکومت اور حزبِ اختلا ف کو مل کر ایک متفقہ معروضی اور شفاف طریق کار طے کر دینا چاہیے۔ یہ کام فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

۳-  وہ تمام قوانین اور آرڈی ننس جو جنرل (ر) پرویز مشرف کے پورے دورِ حکومت میں نافذ ہوئے ہیں، ان کا فوری طور پر جائزہ لیا جائے۔ جن کو ختم کرنا ضروری ہو، (جیسے شیڈول ۶ کے تحت تحفظ یافتہ قوانین یا این آر او وغیرہ) ان کو فی الفور ختم کیا جائے۔ جن کو ترمیم کے ذریعے دستور اور جمہوری اصولوں سے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہو، ان کے بارے میں فوری نئی قانون سازی کی جائے۔ اصل مشکل یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے ۱۸ مہینے گزر جانے کے باوجود دستور کے بگاڑ کی اصلاح اور ضروری قانون سازی کے باب میں مجرمانہ غفلت برتی ہے، اور اس کی اولین ذمہ داری پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں پر آتی ہے۔ اگرچہ سترھویں ترمیم کو ختم کرنے کا غلغلہ ہے، مگر ۱۸مہینے میں اس منزل کی جانب ایک چھوٹا سا قدم بھی نہیں اٹھایا گیا، حالانکہ یہ ’میثاق جمہوریت‘ (COD) اور ۷جولائی ۲۰۰۷ء میں لندن کے مشترکہ اعلامیے کا حصہ ہے۔ تمام بڑی جماعتوں نے اپنے اپنے منشور میں اس کا وعدہ بھی کیا ہے اور صدرزرداری، پارلیمنٹ سے اپنے دونوں خطابات میں یہ تحفہ دینے کا اعلان بھی کرچکے ہیں مگر ان کے بارے میں تو یہ کہاجاسکتا ہے ’’وہ وعدہ ہی کیا جسے وہ وفا کردیں!‘‘

۴-  میڈیا اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ اگر حکومت ان بنیادی کاموں کے سلسلے میں غفلت بلکہ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے، تو وہ ان امور کو اپنی توجہ کا محور بنائیں اور راے عامہ کو ہموار بلکہ بیدار کریں۔ پارلیمنٹ میں پرائیویٹ ممبربل کی شکل میں اہم ایشو پر متبادل قوانین کو پیش کریں۔ ہمیں اچھی طرح یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ دستور، آزادی اور حقوق کا تحفظ، جدوجہد اور قربانیوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ۰۹-۲۰۰۷ء کی عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے آئینے میں سیاسی جدوجہد کی اہمیت کا نقشہ دیکھا جاسکتا ہے۔ آیندہ کے لیے دستور اور جمہوری نظام کو فوجی یا دوسرے طالع آزمائوں کی یورش سے بچانا اسی وقت ممکن ہے، جب پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اپنا کردار بڑھ چڑھ کر ادا کرے اور غاصبوں کے مقابلے کے لیے سینہ سپر ہوجائیں۔ جن حالات سے آج پاکستان دوچار ہے، ان کا تقاضا ہے کہ جس طرح عوام نے   قیامِ پاکستان کے لیے جدوجہد کی اسی طرح پاکستان کی آزادی، خودمختاری، اسلامی شناخت اور انصاف پر مبنی فلاحی اور جمہوری نظام کے قیام، دستور کی حفاظت اور قانون کی حکمرانی کے قیام اور آزاد عدلیہ کی حفاظت کے لیے بھرپور جدوجہد کریں۔

جہدِ پیہم اور مسلسل قربانیوں کے بغیر علامہ اقبال اور قائداعظم کے تصور اور وژن کے مطابق معاشرے اور ریاست کی تعمیر ناممکن ہے۔ اقبال نے یہی پیغام ہمیں دیا ہے کہ    ؎

یا مُردہ ہے یا نزع کی حالت میں گرفتار
جو فلسفہ لکھا نہ گیا خونِ جگر سے

۵- ان تمام دستوری، پارلیمانی، عدالتی اور عوامی کاموں کے ساتھ ساتھ جو سب سے اہم اقدام ضروری ہے، وہ احتساب ہے۔ عوام اور عدلیہ دونوں نے دوٹوک انداز میں یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا اقتدار غاصبانہ اور ناجائزتھا۔ جنرل موصوف نے دستور کو توڑ کر دفعہ۶ کے تحت بغاوت (treason) کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کے دورِاقتدار میں پاکستان کی آزادی، نظریاتی تشخص، جمہوری عمل، عوام کے حقوق، صوبوں کے مفادات پامال ہوئے ہیں۔ پھر فوج اور عوام میں دُوری ہی نہیں تصادم کی کیفیت پیدا کردی گئی ہے۔ ملک کو عملاً امریکا کی ایک کالونی بنادیا گیا ہے۔ اس افسوس ناک منظرنامے کا تقاضا ہے کہ دستور اور قانون کے تحت جنرل مشرف کا بھرپور محاسبہ ہو، اسے صفائی کا پورا موقع دیا جائے۔ جن جرائم کا اس نے ارتکاب کیا ہے، اس کے بعد محض این آر او یا مغربی اقوام کے دبائو میں اسے قانون کی گرفت سے باہر رکھنا اس قوم پر ظلم اور مستقبل کے طالع آزمائوں کے لیے غلط پیغام ہوگا۔ ہم انتقام کو گناہ سمجھتے ہیں، لیکن انصاف کا قیام دین اور دنیا دونوں کا تقاضا ہے۔ صدر زرداری صاحب توجنرل پرویز مشرف کو تحفظ دے ہی رہے تھے، لیکن اب وزیراعظم گیلانی نے بھی عدالت کے فیصلے پر اولیں ردعمل میں اُلٹی زقند لگائی ہے۔ اس بات کا اعتراف کرنے کے بعد کہ ’’عدالت نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے، اب دستور کے مطابق پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہے‘‘، اب ایک طرف تو فرما رہے ہیں کہ ’’میں نے معاف کیا‘‘ (جیسے مشرف کے ساتھ ان کی کوئی ذاتی رنجش تھی جسے سبک سر بن کر وہ معاف کر رہے ہیں۔ سمجھنا چاہیے کہ مشرف آپ کا ذاتی نہیں، قومی مجرم اور غدار ہے۔ اس نے حدوداللہ تو پامال کیے ہی، بندوں کی حق تلفیاں بھی کیں۔ آپ حقوق العباد کے ضمن میں کیسے معافی دے سکتے ہیں)، اور دوسری طرف ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ کا راگ الاپا جا رہا ہے جو سیاسی شاعری ہے اور محض ایک فریب کاری اور مجرموں کو تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے۔

ایک اور کھیل بھی کھیلا جا رہا ہے، جس میں یہ نیا فلسفہ گھڑ کے بیان کیا جا رہا ہے کہ: ’’پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد ہی کے ذریعے مشرف کا محاسبہ ہوسکتا ہے‘‘۔ یہ بھی ایک فریب کاری ہے۔ ۱۹۷۳ء اور ۱۹۷۴ء کے بغاوت ایکٹ کی رُو سے دفعہ ۶ کے تحت مقدمہ چلانے کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر ہے، اور صرف اس کے ایما پر اس دفعہ کے تحت مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے۔ یہ قانون اپنی جگہ اس اعتبار سے بہت ناقص ہے۔ غداری اور بغاوت پوری قوم کے خلاف جرم ہے، اور ہر فرد اس کی زد میں آتا ہے۔ پارلیمنٹ میں بار بار یہ آواز اٹھائی گئی ہے کہ کسی بھی شہری کو اس قانون کے تحت مقدمہ دائر کرنے کا اختیار حاصل ہونا چاہیے، لیکن موجودہ قانونی پوزیشن یہی ہے کہ صرف مرکزی حکومت کی مقرر کردہ اہل اتھارٹی ہی اس جرم کے مرتکب فرد کے خلاف مقدمہ دائر کرسکتی ہے۔ اس میں پارلیمنٹ یا کسی اور کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس لیے پوری قوم کو یک زبان ہوکر مشرف پر دفعہ ۶ کے تحت مقدمے کا مطالبہ کرنا چاہیے اور حکومت کو مجبور کرنا چاہیے کہ وہ قوم کو اس غاصب کے مقابلے میں انصاف دلائے۔ صاف نظر آرہا ہے کہ حکومت عوامی دبائو کے بغیر یہ اقدام نہیں اٹھائے گی۔ اگر آیندہ طالع آزماؤں کا دروازہ بند کرنا ہے تو اس مجرم کو جسے مغربی اقوام پناہ دے رہی ہیں، کیفرکردار تک پہنچانا ضروری ہے۔ یہ انصاف کا تقاضا ہے اور یہ آیندہ کے لیے ملک اور دستور کی سلامتی کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔

۶-  ویسے تو جتنے قوانین اور آرڈی ننس مشرف دور میں آئے ہیں، ان سب کے جائزے کی ضرورت ہے لیکن سب سے اہم آرڈی ننس جسے منسوخ کرنا فوری ضرورت ہے، وہ این آراو ہے۔ یہ قانون شرم ناک تو ہے ہی، لیکن اس کے سایے تلے مجرموں اور قوم کی دولت لوٹنے اور معصوم انسانوں کو قتل کرنے اور غائب کرنے کے مرتکب افراد نے قانون کی گرفت سے خلاصی حاصل کر لی ہے اور لوٹ مار کے نئے کاروبار کرنے میں مشغول ہیں۔ یہ ایک قومی جرم ہے۔ احتساب کے بغیر کوئی نظام ٹھیک ٹھیک نہیں چل سکتا۔

بدعنوانی پورے ملک کو گھن کی طرح کھائے جارہی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ۲۰۰۹ء کے جائزے کے مطابق پاکستان کی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا ۱۵ فی صد کرپشن کی وجہ سے چند لٹیروں کے ہاتھوں میں جا رہا ہے اور مشرف کے دورِحکومت میں ملک میں کرپشن میں ۴۰۰فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔ این آر او بدعنوانی کو تحفظ دینے کا کالا قانون ہے۔ امریکا، برطانیہ، مشرف اور پیپلزپارٹی کی قیادت سب اس کالے قانون کی تشکیل اور تحفظ کے جرم میں برابر کی شریک ہیں۔ زرداری صاحب، جنرل مشرف کو تحفظ بھی اسی کالے قانون کی وجہ سے دے رہے ہیں۔ ہماری نگاہ میں محاسبے کا قانون اچھی حکمرانی کے لیے ازبس ضروری ہے۔ بلاشبہہ اسے اعلیٰ جوڈیشل ادارے کے ذریعے انجام دیا جانا چاہیے۔ سارا عمل شفاف ہونا چاہیے۔ ہر شخص کو اپنے دفاع کا پورا موقع دیا جانا چاہیے۔ یہ انتظام سب کے لیے ہونا چاہیے۔ جس میں سیاست دان، سرکاری عہدے دار، جرنیل، جج اور تاجر سب کا احتساب ہو۔ عدالتی عمل کے ذریعے جس کا جرم ثابت ہو، اسے قرارواقعی سزا ملنی چاہیے اور لوٹی ہوئی دولت وطنِ عزیز میں واپس آنی چاہیے۔ اگر سیاسی انتقام کے لیے لوگوں کو نشانہ بنایا جائے تو وہ غلط ہے اور ایسا کرنے والوں کو سزا ملنا چاہیے، لیکن اگر فی الحقیقت کچھ لوگوں نے بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی ہے اور قومی خزانے کو لوٹا ہے تو ان کو معاف کردینا ناقابلِ معافی جرم ہے۔

جن لوگوں پر دسیوں افراد کے قتل کے مقدمے تھے، اس قانون کے تحت انھیں کھلی چھوٹ (carte blanche) مل گئی ہے۔ جن کے اربوں ڈالر بیرونِ ملک میں موجود ہیں اور ان میں سے کچھ کی تفصیل انٹرنیٹ پر موجود ہے (مثلاً ویکی پیڈیا کی ویب سائٹ پر بنکوں کے ناموں کے تعین کے ساتھ معلومات موجود ہیں) تو آخر کس دلیل پر ان کو کھلی چھٹی دی جارہی ہے؟ جو شخص بھی پبلک لائف میں ہے، اس کا فرض ہے کہ اپنی دولت کے ذرائع کا اعلان کرے اور ثابت کرے کہ اس نے اسے جائز ذرائع سے کمایا ہے۔ اگروہ یہ نہیں کرسکتا تو اس کا احتساب ہونا چاہیے۔ محض یہ بات کہ ماضی میں مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوا، کوئی دلیل نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ کس طرح مقدمات میں پیشیاں لے لے کر فیصلے کو تعویق میں ڈالا گیا ہے۔ حتیٰ کہ جھوٹے حلف نامے اور بیماریوں کے سرٹیفکیٹ دیے گئے ہیں۔ ان سب حیلوں بہانوں کے ساتھ پاک دامنی کا دعویٰ چہ معنی دارد۔

احتساب سب کا ہونا چاہیے، کسی کو بھی اس سے استثنا نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے این آر او کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے اور جو افراد اس کالے قانون کی وجہ سے فیض یاب ہوئے ہیں، ان کو اپنی پاک دامنی عدالتی عمل کے ذریعے ثابت کرنا ہوگی۔ اگر مشرف کا محاسبہ اور این آر او میں پناہ لینے والے پردہ نشینوں کا کھلا اور شفاف احتساب نہیں ہوتا، تو نہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے اور نہ ملک کو کرپشن سے پاک کیا جاسکے گا۔ ۳۱ جولائی ۲۰۰۹ء کے فیصلے کا یہ بھی اتنا ہی اہم تقاضا ہے جتنے دوسرے دستوری اور قانونی اقدامات___ اس لیے جنرل (ر) پرویز مشرف پر دفعہ ۶ کے تحت مقدمہ اور این آر او کو ختم کرکے اس کے تحت رخصت لینے والے تمام افراد کا اعلیٰ عدالتی ٹریبونل کے سامنے احتساب اور متعین وقت میں ان کا فیصلہ ملک کو جمہوریت اور ترقی کے راستے پر گامزن کرنے کے لیے ضروری ہے  ع

گر یہ نہیں تو بابا، پھر سب کہانیاں ہیں!

 

پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت نے تقریباً ہر میدان میں پاکستانی عوام کو بُری طرح مایوس کیا ہے۔ عوام نے ۱۸ فروری ۲۰۰۸ء کو بنیادی تبدیلی کا جو مینڈیٹ سیاسی جماعتوں کو دیا تھا اور مشرف کی داخلی و خارجہ پالیسیوں سے نجات کی جو امید پیدا ہوئی تھی، وہ دم توڑ رہی ہے۔

۲۲ اکتوبر ۲۰۰۸ء کو اپنی متفقہ قرارداد کی شکل میں پارلیمنٹ نے خارجہ پالیسی، قومی سلامتی کی حکمت عملی اور امریکا کی ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ کے بارے جن بنیادی تبدیلیوں کی ہدایت دی تھی، ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں ہوا۔ اس کے برعکس امریکا کے اشاروں پر جنرل پرویزمشرف سے بھی زیادہ تابع داری کے ساتھ بگ ٹٹ عمل ہو رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں سوات، مالاکنڈ، فاٹا اور بلوچستان میں حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔ پورا ملک لاقانونیت، مہنگائی اور اشیاے ضرورت کی عدم فراہمی سے دوچار اور زندگی کے ہر شعبے میں بدعنوانی نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔

حکومت کی داخلی پالیسیاں بگاڑ کو بڑھانے کا سبب ہیں لیکن بِس کی اصل گانٹھ امریکا کی ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شرکت اور اس کے نتیجے میں ملک کے خارجی اور داخلی تمام ہی امور پر امریکا کی عمل داری (writ ) ہے، جس کی گرفت اب تعلیم، ثقافت، معیشت اور توانائی ہر دائرے میں بڑھتی جا رہی ہے۔ سیاست کی جزئیات تک کا اہتمام (مائیکرو مینجمنٹ)، واشنگٹن کے نمایندوں اور امریکی سفارت کاروں کا رہینِ منت ہے۔ بظاہر یہ سب افغانستان کی وجہ سے ہو رہا ہے، لیکن فی الحقیقت نظر یہ آ رہا ہے کہ امریکا کی توجہ کا مرکز اب افغانستان سے بھی   کچھ زیادہ پاکستان ہے۔ جس کے بڑے دُوررس اور تباہ کن اثرات ہماری آزادی، نظریاتی شناخت، تہذیب و تمدن اور سیاسی اور معاشی زندگی پر مرتب ہو رہے ہیں اوران کے مزید بڑھنے کے خطرات اُفق پر منڈلا رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم، اس کی سیاسی اور دینی قیادت، امریکا کی افغان پالیسی کا گہری نظر سے جائزہ لے اور پاکستان کو ان کے تباہ کن اثرات سے بچانے کے لیے فی الفور اقدام کرے۔

صدر اوباما نے عراق سے امریکی افواج کی مرحلہ وار اور تدریجی انخلا کی پالیسی کا اعلان کیا ہے، مگر افغانستان میں فوجوں کو بڑھانے اور نائن الیون کے ملزموں کو پکڑنے، امریکی سلامتی کو   ان سے بچانے کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کا عندیہ دیا ہے، اور ساتھ ہی ۱۷ ہزار مزید فوجی بھیجنے کا بھی اہتمام کیا ہے۔ بظاہر یہ سب کام ہو رہے ہیں لیکن صاف نظر آرہا ہے کہ افغانستان میں بھی امریکی پالیسیاں اسی طرح ناکام رہی ہیں، جس طرح عراق میں رہیں۔ اب خود امریکی دانش ور اور عوام آہستہ آہستہ اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ عراق کی طرح افغانستان میں بھی یہ جنگ ناقابلِ فتح ہے۔

سیاسی اعتبار سے تو یہ جنگ ناکام ہوچکی ہے۔ معاشی اعتبار سے اس کا بوجھ اب امریکی معیشت اور عالمی کساد بازاری کے پس منظر میں ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ امریکی اور ناٹو کی اتحادی افواج کوبھی جان و مال دونوں کے اتلاف کی صورت میں اس کی جو قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے، امریکی عوام کو اس کے جواز پر قائل کرنا روز بروز مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

اکتوبر ۲۰۰۱ء میں افغانستان پر فوج کشی کر کے صدر بش نے جس جنگ کا آغاز کیا تھا وہ اب رفتہ رفتہ امریکی عوام کی تائید سے محروم ہوتی جا رہی ہے، جس کا تازہ ترین اظہار اس سروے کے نتائج سے ہوتا ہے جو امریکا میں واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کے ایما پر منعقد کیا گیا ہے، اور جس کا اعلان ۲۲؍ اگست ۲۰۰۹ء کو نیشنل پبلک ریڈیو اور دوسرے نشری اداروں نے کیا ہے۔ اس سروے کی رُو سے پہلی بار امریکی عوام کے ۵۱ فی صد نے یہ کہا ہے: War in Afghanistan is not worth fighting (افغانستان کی جنگ جاری رکھنے کے لائق نہیں)۔

ان میں ۵۲ سے ۴۱ فی صد نے افغانستان کی جنگ میں امریکا کے حصہ لینے کی سختی سے مذمت کی ہے اور نیشنل پبلک ریڈیو نے خود اپنا یہ نتیجۂ فکر پیش کیا ہے:

امریکی عوام کو کوئی ایسی شہادت نظر نہیں آ رہی ہے کہ امریکی قبضے نے افغانستان کو زیادہ مستحکم، محفوظ، آزاد یا پُرامن بنا دیا ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امریکا کے نیشنل پبلک ریڈیو نے افغانستان میں امریکی کردار کو ’قبضے‘ (occupation) کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ احساس اب امریکا کی کانگریس کے ارکان میں بھی پروان چڑھ رہا ہے۔ میساچیوسٹس سے کانگریس کے رکن جم میک گورن نے کانگریس میں ایک بل پیش کرنے کا اعلان کیا ہے جو افغانستان سے انخلا کی حکمت عملی کے مطالبے پر مشتمل ہوگا۔ اس مجوزہ مسودۂ قانون پر اب تک ۹۵ ارکانِ کانگریس نے دستخط کر دیے ہیںاور ان میں خود     ری پبلکن پارٹی کے وہ ارکان بھی شامل ہیں جنھوں نے افغانستان پر فوج کشی کے لیے صدربش کی پُرزور حمایت کی تھی۔ میک گورن نے جو قانون کانگریس کے ایوانِ نمایندگان میں پیش کیا ہے اس میں صاف لفظوں میں کہا گیا ہے: ’’امریکا کو طویل تر قبضہ رکھنے کے باوجود کچھ حاصل نہیں ہونا ہے اور اسے انخلا کی حکمت عملی پر ابھی غور کرنا چاہیے‘‘۔

کانگریس سے باہر بھی ایسے گروپ وجود میں آرہے ہیں، جو ویت نام میں امریکی جنگ کے زمانے میں متحرک تھے۔ ایسا ہی ایک مؤثر گروپ ’پروگریسو ڈیمو کریٹس آف امریکا‘ (PDA) کے نام سے متحرک ہوا ہے جس کا پیغام یہ ہے: ’’قبضوں کی جنگ ختم کرو اور وسائل قوم پر خرچ کرو‘‘۔

میک گورن بل اور ’پروگریسوڈیموکریٹس آف امریکا‘ دونوں کا مطالبہ ہے کہ ملک کے وسائل کو امریکا کے عوام کی بہبود کے لیے استعمال کیا جائے جو صحت کے میدان میں خصوصیت سے سخت مشکلات سے دوچار ہیں اور عالمی کساد بازاری اور بے روزگاری کی وجہ سے آبادی کے نچلے طبقے سخت تنگی سے دوچار ہیں، یہی بات ایک امریکی دانش ور ڈاکٹر اناطول لیون نے پورے زور و شور سے خود اپنے پاکستان اور افغانستان کے دورے کے موقع پر کہی ہے کہ امریکا کے لیے افغانستان کو دیر تک فوجی قبضے میں رکھنا ممکن نہیں اور وقت آگیا ہے کہ انخلا کی حکمت عملی پر کام کیا جائے۔

۲۴؍اگست کو امریکی کمانڈر ایڈمرل مولن نے جو بیان دیا ہے، وہ ہوا کے رُخ کو سمجھنے کے لیے بے حد مددگار ہے۔ مولن کا کہنا ہے کہ میں دو سال سے چیخ رہا ہوں کہ افغانستان میں جنگ ناکام ہو رہی ہے اور طالبان مضبوط تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں امریکا کے انخلا کی حکمت عملی پر غور کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔ اسی طرح لندن کے موقر رسالے دی اکانومسٹ، ۲۲اگست ۲۰۰۹ء میں افغانستان کو امریکا کا مرکزی ایشو بتاتے ہوئے اعتراف کیا گیا ہے کہ  امریکا کی حکمت عملی ناکام رہی ہے۔ اب اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں کہ تمام افغان عناصر سے بات چیت کا آغاز اور امریکی و ناٹو افواج کی واپسی کا راستہ تلاش کیا جائے۔

یہ سب ہوا کے رُخ کا پتا دیتے ہیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ہماری موجودہ قومی قیادت کو اس کا کوئی احساس اور شعور نہیں ہے، اور وہ ہر آن امریکا کی اس جنگ کی دلدل میں مزید دھنستی چلی جارہی ہے۔ اس وقت افغان دانش ور بھی اس منظرنامے کی باتیں کر رہے ہیں، جو امریکی قبضہ ختم ہونے کے بعد کے افغانستان پر مشتمل ہوگا، مگر یہاں پر زرداری ، گیلانی حکومت امریکا سے بھی زیادہ امریکا کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کی ہولناک غلطی کر رہی ہے۔ اس وقت ضرورت ہے کہ ملک کی سیاسی اور دینی قوتیں حکومت پر دبائو ڈالیں کہ وہ اس ہاری ہوئی امریکی جنگ سے جلد گلوخلاصی اختیار کرے اور افغان عوام سے یک جہتی کی پالیسی اختیار کرے تاکہ یہ دونوں برادر ملک ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں اور علاقائی استحکام حاصل ہوسکے۔ اس کے لیے افغانستان سے امریکی فوجوں کی ایک متعین پروگرام کے تحت واپسی، افغانستان کے تمام سیاسی اور دینی عناصر کا باہم افہام و تفہیم سے اپنے ملک کے معاملات کو سنبھالنا، نیز افغانستان میں بھارت اور اسرائیل کے گماشتوں کی سرگرمیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ پاکستان، ایران اور وسط ایشیا کے ہمسایہ ممالک کو اعتماد میں لے کر افغانستان کی آزادی، خودمختاری اور سالمیت کی حفاظت کرتے ہوئے تعمیرنو میں تعاون کا اہتمام حددرجہ ضروری ہے۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ اور وہاں کے نظام کے دروبست کا تعین افغانستان کے لوگ اپنی آزاد مرضی سے کریں اور اس میں کوئی بھی اور کسی نوعیت کی بھی بیرونی مداخلت نہ ہو۔ البتہ مشترک مفادات کے تحفظ کے لیے پوری شفافیت کے ساتھ تعاونِ باہمی کی راہ اختیار کی جائے، تاکہ علاقے میں حقیقی امن رونما ہو، جو سب کی ترقی کا ضامن ہوسکتا ہے۔

امریکا اور یورپ کی اقوام تو افغانستان سے انخلا کی حکمت عملی کی طرف بڑھ رہی ہیں، مگر دوسری طرف پاکستان کی حکومت اس دلدل میں مزید پھنستی چلی جارہی ہے۔ ہم کیا اس سے بھی گئے گزرے ہیں جس کا ذکر شاعر نے ان الفاظ میں کیا ہے  ع

ٹھوکریں کھا کر تو کہتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ

 

روزے سے مقصود ضبط ِ نفس ہے تاکہ وہ ناجائز خواہشات پوری کرنے سے رک جائے، پسندیدہ چیزوں کو ترک کرسکے، اور شہوانی قوتوں میں اعتدال پیدا ہو، انسان ابدی سعادت اور کامل انعامات حاصل کرسکے، اور اسے بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت حاصل ہو۔ یہی طریقہ ہے تزکیۂ نفس کا اور اسی میں ابدی زندگی کی کامیابیاں پوشیدہ ہیں۔ روزے کی حالت میں انسان دوسرے انسانوں کی بھوک و پیاس اور ان کی تکالیف کو بھی اچھی طرح محسوس کرسکتا ہے۔ اکل و شرب کی  کمی سے شیطان کے راستے تنگ ہوجاتے ہیں، نیز دنیا و آخرت کے نقصانات سے بچنے کا سامان ہوجاتا ہے۔

روزہ جسم کے ہر عضو کو تسکین بخشتا ہے، اور ہر قوت کو بے راہ روی سے روکتا ہے۔ گویا روزہ اہلِ تقویٰ کی لگام، اپنے نفس سے جہاد کرنے والوں کی ڈھال، اور ابرار و مقرّبین کی ریاضت ہے۔

تمام اعمال میں روزہ ہی ایک ایسا عمل ہے جو صرف رب العالمین کے لیے ہے، کیونکہ روزے دار صرف اسی کی خاطر اپنا جائز کھانا پینا اور شہوت بھی چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اپنی نفسانی خواہشات و مرغوبات اور دنیا کی لذتیں صرف اللہ کی محبت اور اس کی رضا جوئی کے لیے ترک کرتا ہے۔اس طرح روزہ بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک راز ہے، اور اس راز کی کیفیت کو اس کا رب ہی جانتا ہے۔

روزے کی عبادت کا سب سے زیاد کامل طریقہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے۔ آپؐ کے اسوہ کی پیروی کرنا ہر عام آدمی کے لیے آسان اور ممکن ہے اوریہ اسوہ ہی روزے کے مقصد تک پہنچنے کا راستہ ہے۔

روزہ کب فرض ہوا؟ کیونکہ مرغوبات و خواہشات سے بچنا سب سے زیادہ مشکل کام ہے، اس لیے روزے کا حکم عہدِ اسلام کے وسط تک مؤخر کیا گیا۔ جب عام لوگوں کے دلوں میں اللہ پر ایمان راسخ ہوگیا، وہ نماز کے پابند ہوگئے، اور قرآن کے دیگر احکام سے بھی مانوس ہوگئے، تو ہجرت کے بعد دوسرے سال روزہ فرض کیا گیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپؐ   نو رمضانوں کے روزے رکھ چکے تھے۔

آپؐ رمضان میں کثرت سے عبادت فرماتے، اور کئی قسم کی عبادتوں میں مشغول رہا کرتے تھے۔ رمضان آتا تو آپؐ جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر قرآن مجید کی منزلیں ان سے سنتے، اور ان کو سناتے تھے۔ جبرئیل ؑسے ملاقات ہوتی تو آپؐ تیز آندھی سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ سخاوت کیا کرتے۔ آپؐ عام دنوں میں بھی تمام لوگوں سے بہت زیادہ سخی تھے، لیکن رمضان میں تو آپؐ کے صدقہ و احسان، تلاوتِ قرآن مجید، نماز، ذکر اور اعتکاف کی کوئی حد نہ رہتی۔ بعض اوقات آپؐ صومِ وصال (مسلسل بغیر افطار کے روزہ) بھی رکھتے، تاکہ آپؐ ہر وقت اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہیں۔

لیکن آپؐ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو صومِ وصال سے منع فرماتے تھے۔ وہ عرض کرتے، یارسولؐ اللہ! آپؐتو صومِ وصال رکھتے ہیں؟آپؐ فرماتے کہ میں تمھاری طرح نہیں ہوں۔ میں رات گزارتا ہوں، اور ایک روایت میں ہے کہ میں اپنے پروردگار کے پاس ہوتا ہوں، وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ اس کھلانے پلانے کی تعبیر میں دو قول پائے جاتے ہیں: ایک یہ کہ یہ وہی کھانا پینا ہے جو منہ سے کھایا جاتا ہے۔ ان الفاظ کے ظاہری معنی یہی ہیں، اور کوئی دوسرے معنی تلاش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔

دوسرا قول یہ ہے کہ اللہ کے کھلانے پلانے سے مراد روحانی غذا ہے، یعنی اللہ کے سامنے مناجات کی لذت، اس کا قرب جس میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اس کی محبت جس کا سچا فیض  دل پر نازل ہوتا ہے، اس کے علاوہ اس قسم کے دیگر احوال جو غذاے قلبی، انعاماتِ روحانی، اور سکونِ نفس و روح کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جسے کچھ بھی تجربہ ہے وہ جانتا ہے کہ قلبی اور روحانی غذا کے مقابلے میں جسم مادی غذا سے مستغنی ہوجایا کرتا ہے۔ جب آدمی اپنے مطلوب کو حاصل کرلے، اسی میں مگن ہو، محبوب کے نظارے سے آنکھیں ٹھنڈی کر رہا ہو، اس کا محبوب اس سے راضی ہو، محبوب کے لطف و کرم، ہدایا و احسانات ہر وقت اسے مل رہے ہوں، محبوب اس کے حال سے واقف ہو، اس کا ازحد اعزاز و اکرام کرتا ہو، اس سے محبت کامل رکھتا ہو، تو کیا ایک محبت کرنے والے کے لیے یہ سب کچھ سب سے بڑی غذا نہیں۔ اگر دنیاوی محبت میں یہ کیفیت ہوسکتی ہے، تو سوچیے اس حبیب کی موت میں کیا کیفیت ہوگی، جس سے زیادہ بزرگ کوئی نہیں، جس سے زیادہ عظمت کسی کی نہیں، جس سے زیادہ جمیل اور کامل کوئی نہیں، اور جس سے زیادہ محسن کوئی نہیں۔ جب محبت کرنے والے کا دل اپنے حبیب کی محبت سے لبریز ہوگیا، جسم و جان پر اس کی محبت کا قبضہ ہوگیا، اس کی محبت سب سے زیادہ گہری اور سب سے بڑھ کر اثرانگیز ہوگئی، اور اپنے حبیب کی محبت میں اس کی حالت ہی دوسری ہوگئی، تو یہ کیسے نہ ہوتا کہ یہ محبت ہی اپنے حبیب کے ہاں سے دن رات کا کھانا پینا بن جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے پاس ہوتا ہوں، وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔

اگر یہ خورو نوش مادی ہوتا، تو صومِ وصال تو الگ رہا آپؐ سرے سے روزے دار ہی نہ ہوتے۔ اور اگر یہ کھانا پینا صرف رات کو ہوتا، تو پھر صومِ وصال نہ ہوتا۔ پھرآپؐ  صحابہؓ کے سوال پر کہ آپؐ تو صومِ وصال رکھتے ہیں، یہ جواب دیتے کہ میں وصال نہیں کرتا، اور یہ نہ فرماتے کہ میں تمھاری طرح نہیں ہوں۔ آپؐ نے وصال کا اقرار کیا اور اس بات کی نفی فرما دی کہ آپؐ کی اور صحابہؓ کی حالت یکساں ہے (مسلم)

دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت پر رحمت کے پیشِ نظر صومِ وصال سے منع فرمایا، اور سحری کی تاکید کی۔ بخاری میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ وصال مت کرو۔ جو وصال کرنا چاہے تو ایک سحری سے دوسری سحری تک وصال کرسکتا ہے۔ یہ روزے کے لیے سب سے زیادہ معتدل اور سہل وصال ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ جب رویت ِ ہلال کی تحقیق ہوجاتی یا کوئی عینی گواہ   مل جاتا، توآپؐ روزے شروع فرما دیتے۔ آپؐ نے حضرت ابن عمرؓ کی شہادت قبول کر کے روزہ رکھا، نیز ایک اعرابی کے کہنے پر بھی روزہ شروع کیا۔ آپؐ نے ان دونوں کی خبر پر اعتماد کیا اور انھیں لفظ شہادت کا پابند نہیں کیا۔ اگر رویت یا شہادت دونوں نہ ہوتیں تو آپؐ شعبان کے ۳۰ دن پورے کرتے۔

آپؐ بادل کے دن کا روزہ بھی نہیں رکھتے تھے، نہ آپؐ نے اس کا حکم دیا بلکہ فرمایا کہ جب بادل ہو تو شعبان کے ۳۰ دن پورے کیے جائیں۔ یہی آپؐ کی سنت ہے، آپؐ کا حکم بھی یہی ہے۔ یہ روایت آپؐ کے اس فرمان کے منافی نہیں ہے کہ جب بادل چھائے ہوئے ہوں تو اندازہ کر لو۔ اندازے سے مراد حساب کے مطابق مہینے کا پورا کرنا ہے۔ جیساکہ بخاری میں مروی ہے کہ ’’شعبان کی مدت پوری کرو‘‘۔ فرمایا کہ جب تک چاند دیکھ نہ لو روزہ شروع نہ کرو، اور جب تک چاند دیکھ نہ لو روزہ ختم نہ کرو۔

آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ روزے رکھ کر رمضان کا استقبال نہ کرو۔ ایک روایت میں ہے کہ رمضان شروع ہونے سے ایک یا دو دن قبل روزے مت رکھو۔ ہاں، ایسا آدمی جو پہلے سے روزے رکھتا چلا آ رہا ہے، وہ روزہ رکھ سکتا ہے۔

یہ تمام روایات صحیح ہیں۔ بعض صحابہ کرامؓ اور سلف سے ان روایات کے خلاف عمل بھی روایت کیا گیا ہے۔ مثلاً حضرت عائشہؓ اور حضرت ابن عمرؓ نے اَبر کی وجہ سے چاند نہ دکھائی دینے کی صورت میں روزہ رکھا۔ اس کی بہترین تاویل یہ ہے کہ ان لوگوں نے یہ نہیں سمجھا کہ یہ روزہ رکھنا سرے سے جائز ہی نہیں۔ انھوں نے ۳۰ دن مکمل کرنے کی ہدایت کو وجوب نہیں، بلکہ جواز کہا۔ اس طرح جب انھوں نے ۳۰ویں دن کا روزہ رکھا تو دو جائز کاموں میں سے احتیاطاً ایک جائز کام کیا۔

حضرت ابن عباسؓ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو ایک یا دو دن پہلے سے روزہ رکھ کر رمضان کے مہینے کا استقبال کرتا ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو۔ گویا حضرت ابن عباسؓ ، حضرت ابن عمرؓ کے عمل کا انکار کر رہے ہیں۔ یہ دونوں صحابہ ایسے تھے کہ ایک قدرے تشدد کی طرف مائل تھے، اور دوسرے رخصت کی طرف۔ یہی صورت حال دوسرے مسائل میں بھی سامنے آتی ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اپنے تشدد کے باعث بعض ایسے امور کے بھی پابند تھے جن میں دیگر صحابہؓ ان کے موافق نہ تھے۔ آپ وضو میں آنکھوں کا اندرونی حصہ بھی دھوتے تھے، یہاں تک کہ اس کی وجہ سے نابینا بھی ہوگئے۔ جب آپ سر کا مسح کرتے تو کانوں کے لیے نیا پانی لیتے۔ آپ حمام میں جانے سے منع فرماتے، اور جب داخل ہوتے تو اس کے بعد غسل کرتے۔ دوسری طرف حضرت ابن عباسؓ حمام میں جاتے۔ حضرت ابن عمرؓ دو ضربات سے تیمم کرتے، ایک چہرے کے لیے اور ایک کہنیوں تک ہاتھوں کے لیے۔ حضرت ابن عباسؓ اس کے خلاف کرتے اور کہا کرتے کہ تیمم میں چہرے اور ہتھیلیوں کے لیے ایک ہی ضرب کافی ہے۔ حضرت ابن عمرؓ عورت کا بوسہ لینے پر وضو ضروری سمجھتے اور اس کا فتویٰ بھی دیتے، اور جب آپ اپنے بچوں کا بوسہ لیتے تو کلی کرتے اور پھر نماز پڑھتے۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے کہ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ میں نے بوسہ لیا ہے یا میں نے خوشبو سونگھی ہے۔ ان کے نزدیک اس سے وضو نہ ٹوٹتا تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ِ طیبہ یہ تھی کہ ایک مسلمان کی شہادت پر لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیتے، اور دو مسلمانوں کی گواہی پر روزے ختم کرنے کا حکم فرماتے۔ عید کا وقت گزرنے کے بعد بھی اگر دو گواہ چاند دیکھنے کی گواہی دیتے تو آپؐ افطار کرلیتے اور لوگوں کو بھی افطار کا حکم فرماتے، لیکن عید کی نماز اگلے روز اس کے وقت پر ادا کرتے۔

آپؐ افطار میں خود جلدی کرتے، جلدی کرنے کی ترغیب بھی دیتے، نیز سحری کھاتے، اور سحری کھانے کی بھی ترغیب دیتے۔ آپؐ سحری کھانے میں تاخیر بھی فرماتے، اور اس تاخیر کی بھی ترغیب دیتے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ مغرب پڑھنے سے قبل افطار کیا کرتے تھے۔ اگر تر کھجوریں مل جاتیں تو ان سے افطار فرماتے، اگر نہ ملتیں تو خشک کھجوروں سے افطار کر لیتے، اگر وہ بھی نہ ملتیں تو پانی کے چند گھونٹوں ہی سے افطار کر لیا کرتے۔

آپؐ کھجور سے افطار کرنے کی ترغیب دیتے، اور اگر کھجور نہ ملے تو پانی سے۔ یہ اُمت پر کمال شفقت و خیرخواہی کے باعث تھا، کیونکہ خالی معدے میں طبیعت میٹھی چیز کو زیادہ قبول کرتی ہے اور اس سے فائدہ بھی ہوتا ہے۔ مدینے کی میٹھی کھجور ہی ان کی سب سے اچھی غذا تھی، اور  خشک و تر کھجور ان کے ہاں پھل کی حیثیت بھی رکھتی تھی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم افطار کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ فَتَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمِ

اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا، تیرے ہی رزق سے افطار کیا، پس اس روزے کو ہماری طرف سے قبول فرما، بے شک تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔

آپؐ یہ دعا مختصر بھی پڑھا کرتے:

اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ

یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب افطار کرلیتے تو یہ دعا پڑھتے:

ذَھَبَ الظمائُ وَابْتَلَتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَّتِ الْاَجْرُ اِنْشَائَ اللّٰہ

یعنی پیاس چلی گئی، رگیں تر ہوگئیں، اور اجر ثابت ہوگیا، اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔

حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزے دار کی دعا افطار کے وقت مسترد نہیں ہوتی۔

روزے دار کو آپؐ گندی باتیں کرنے، سختی برتنے، گالی دینے، گالیوں کا جواب دینے سے منع فرماتے تھے۔ آپؐ نے حکم دیا ہے کہ جو گالی دے اس سے کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں، میں گالی نہیں دے سکتا۔ اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ زبان سے کہے، ایک قول یہ ہے کہ دل میں کہے اور اپنے آپ کو یاد دلائے کہ میں روزے سے ہوں۔ اور ایک قول یہ ہے کہ فرض روزے میں زبان سے کہے اور نفلی روزہ ہو تو دل میں کہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سفر کیا، تو حالت ِ سفر میں کبھی روزہ رکھا اور کبھی نہ رکھا۔ صحابہؓ نے بھی ان دونوں طریقوں کو اختیار کیا۔

جب دشمن سے جنگ سر پر ہوتی تو آپؐ روزہ نہ رکھنے کا حکم فرماتے، تاکہ جنگ کرنے میں قوت بحال رہے۔ دشمن سے مقابلہ کرنے کے لیے قوت حاصل کرنے کی خاطر روزہ نہ رکھنا اور افطار کرنا جائز ہے۔ اگرچہ اس بارے میں دو قول ہیں، لیکن زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ سفر کی حالت میں روزہ چھوڑنے کو مباح قرار دینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ حالت ِ جنگ میں بھی روزہ چھوڑنا مباح ہے، بلکہ درحقیقت محض سفر کے لیے روزہ چھوڑنے کے مقابلے میں جہاد کے لیے روزہ چھوڑنا اولیٰ ہے۔ کیونکہ سفر میں روزہ چھوڑنے کا جواز صرف سفر کے لیے قوت کی خاطر ہے۔ لیکن جنگ میں جہاد کے لیے اور تمام مسلمانوں کی قوت کی خاطر ہے۔ جہاد کی مشقت سفر کی تکلیف سے زیادہ سخت ہے اور مسافر کے روزہ چھوڑنے کے مقابلے میں مجاہد کا روزہ چھوڑنا زیادہ مصالح اور فوائد کا حامل ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ دشمنوں کے مقابلے میں جس قدر ممکن ہو قوت مہیا کرو، اور مجاہد کا روزہ نہ رکھنا بھی قوت کا باعث ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ طیبہ یہ تھی کہ اگر آپؐ کو صبح کے وقت غسل کی حاجت ہوتی اور فجر کا وقت آجاتا، تو فجر طلوع ہونے کے بعد غسل فرماتے اور روزہ بھی رکھ لیتے۔ رمضان میں روزے کی حالت میں تقبیل بھی کرلیتے۔

نبیؐ کی عادتِ طیبہ یہ تھی کہ بھول کر کھانے پینے والے سے قضا ساقط کردیتے۔ فرماتے کہ اسے خدا نے کھلایا پلایا ہے۔ گویا کہ یہ کھانا پینا اس کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا روزہ ٹوٹ جائے۔ بلکہ وہ مضطر قرار دیا جائے گا، اور یہ کھانا پینا نیند میں کھانے پینے کی طرح ہوگا۔ جس طرح سونے والے کے افعال پر کوئی مواخذہ نہیں ہوتا، بھول کر کھانے والے پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ روزے دار کا کھانا، پینا، پچھنے لگوانا،  قَے کرنا، روزے کو توڑ دیتا ہے۔ قرآن کی رُو سے جماع کرنا بھی کھانے پینے کی طرح روزے کو فاسد کردیتا ہے۔ سرمہ لگانے کے متعلق آپؐ سے کوئی صحیح حدیث مروی نہیں۔ صحیح روایت کے مطابق آپؐ روزے کی حالت میں مسواک کیا کرتے تھے۔ امام احمدؒ نے نقل کیا ہے کہ آپؐ روزے کی حالت میں اپنے سر پر پانی ڈال لیا کرتے تھے، اور آپؐ کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے، حالانکہ آپؐ کا روزہ ہوتا۔

بعض دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل روزے رکھتے یہاں تک کہ کہا جاتا کہ اب آپؐ روزہ ترک نہ کریں گے، کبھی آپؐ مسلسل روزے نہ رکھتے، یہاں تک کہ کہا جاتا کہ اب آپؐ کبھی روزے نہ رکھیں گے۔

رمضان کے علاوہ آپؐ نے کبھی بھی مکمل مہینے کے روزے نہیں رکھے، اور شعبان کے مہینے سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہیں رکھے۔ رجب میں آپؐ بالکل روزے نہیں رکھتے تھے اور نہ اس کے روزے مستحب سمجھتے تھے، بلکہ ابن ماجہ میں آپؐ سے رجب کے روزوں کی نہی منقول ہے۔

آپؐ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کو پسند فرماتے۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ نبی اقدسؐ سفر اور حضر میں ایامِ بیض (تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں) کے روزے نہ چھوڑتے اور آپؐ ان روزوں کی ترغیب بھی دیا کرتے۔

ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کے روزوں کے بارے میں اختلاف ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آپؐ کو ان دس دنوں میں کبھی روزہ رکھتے نہیں دیکھا (مسلم)۔ اور حضرت حفصہؓ فرماتی ہیں کہ چار چیزوں کو نبیؐ نے کبھی ترک نہ فرمایا: (۱) یومِ عاشورہ (۲) دس دن، حج کے مہینے کے (۳) ہر ماہ کے تین دن (۴) فجر کی دو رکعتیں۔ شوال کے روزوں کے بارے میں صحیح روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ رمضان کے فوراً بعد یہ روزے رکھنا ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے۔ عاشورہ کے روزہ کا تو آپؐ تمام ایام سے زیادہ اہتمام کرتے تھے۔ یہ حدیث مشکوک ہے کہ نبیؐ ہفتے اور اتوار کا روزہ کثرت سے رکھتے تھے اور اس سے یہود و نصاریٰ کے طریقے کے مخالفت مقصود ہوتی تھی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لاتے اور دریافت فرماتے کہ تمھارے پاس کھانے کو کچھ ہے۔ اگر جواب انکار میں ملتا تو فرماتے پھر آج میرا روزہ ہے۔ چنانچہ دن کے وقت نفل روزے کی نیت کرلیتے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپؐ نفل روزے کی نیت کرلیتے، بعد میں حضرت عائشہؓ فرماتیں کہ فلاں چیز پکی ہے تو آپؐ افطار کرلیتے۔

پہلی روایت مسلم میں ہے، دوسری روایت نسائی میں ہے۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ میں اور حفصہؓ روزے سے تھیں۔ ہمارے سامنے کھانا پیش کیا گیا، ہمارا جی چاہا، ہم نے اس میں سے کھا لیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حفصہؓ نے آپؐ کے پاس  مجھ سے پہلے جاکر پوچھا، اے اللہ کے رسولؐ! ہم دونوں روزے سے تھے۔ ہمارے سامنے کھانا پیش کیا گیا، ہمارا جی چاہا، ہم نے کھانا کھا لیا۔آپؐ نے فرمایا کہ اس کے بدلے میں کسی دن قضا کرلینا۔ (زاد المعاد، جلد اول، ترجمہ: رئیس احمد جعفری، ترتیب: خرم مراد)

 

[سورۃ القدر] میں اُس موعودرات کا تذکرہ ہے جس کا پوری کائنات نے فرحت و انبساط اور دعا و ابتہال کے ساتھ استقبال اور ریکارڈ کیا۔ یہ ملائِ اعلیٰ اور زمین کے مابین ربط و اتصال کی رات تھی۔ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر نزولِ قرآن کے آغاز کی رات تھی۔ یہ اُس عظیم واقعے کی رات تھی، جس کی طرح کا کوئی واقعہ عظمت و اہمیت، حقائق کی طرف رہنمائی اور حیاتِ انسانی پر اپنے اثرات کے لحاظ سے زمین نے مشاہدہ نہ کیا تھا۔ ایسا واقعہ جس کی عظمت کو انسانی ادراک پوری طرح پا نہیں سکتا!

اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ o وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ o لَیْلَۃُ الْقَدْرِ لا خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ o (القدر ۹۷:۱-۳) بے شک ہم نے اُسے شب ِ قدر میں نازل کیا ہے! اور تم کیا جانو! شب ِقدر کیا ہے! شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

قرآنی آیات، جو اس واقعے کو بیان کرتی ہیں، گویا نور سے جگمگ جگمگ کر رہی ہیں! وہ اللہ کے نور کو جو پُرسکون، خوش منظر، محبت سے بھرپور اور کائنات میں جاری و ساری ہے اور جو قرآن میں پھیلا ہوا ہے، ہر سُو بکھیر رہی ہیں! اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ’’بے شک ہم نے اُسے ’شب ِ قدر‘ میں نازل کیا ہے!‘‘

اللہ کے نور کے ساتھ فرشتوں اور روح الامین کے نور اور پوری رات زمین اور ملائِ اعلیٰ کے مابین اُن کی آمدورفت سے بھی یہ آیات معمور ہیں:

تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّھِمْ مِنْ کُلِّ اَمْرٍ o (۹۷:۴) فرشتے اور روح الامین اس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم کو لے کر اُترتے ہیں۔

اسی کے ساتھ یہ آیات صبح کے نور کو، جو نورِ وحی اور نورِ ملائکہ سے ہم آہنگ ہے اور سلامتی کی روح کو جو پوری کائنات کی ارواح میں جاری و ساری ہے، پیش کرتی ہیں:

سَلٰمٌ ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ o (۹۷:۵) سرتا سر امن وسلامتی (کی رات!) یہ صبح کے طلوع ہونے تک۔

جس رات کا اِس سورت میں ذکر ہے، یہ وہی رات ہے جس کا ذکر سورئہ دخان میں اِس طرح ہے:

اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ o فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ o اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا ط اِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ o رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ ط اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ o (الدخان ۴۴:۳-۶) بے شک ہم نے اِس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں اُتارا ہے۔ یقینا ہم (قرآن کے ذریعے) لوگوں کو خبردار کرنے والے ہیں۔ اس رات میں تمام حکیمانہ امور ہمارے حکم سے طے ہوتے ہیں۔ بے شک ہم ہی رسول بھیجنے والے ہیں۔ یہ تمھارے رب کی رحمت کے باعث ہے۔ یقینا وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

یہ معروف ہے کہ شب ِ قدر رمضان ہی کی ایک رات ہے، جیساکہ سورئہ بقرہ میں ہے:

شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَ الْفُرْقَانِ (البقرہ ۲:۱۸۵) رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور جس میں ہدایت کے واضح دلائل اور حق و باطل میں فرق کرنے والی واضح تعلیمات ہیں۔

یعنی رمضان المبارک کی اِس رات میں قرآن مجید کے نزول کی ابتدا ہوئی تاکہ آپ اُس کی تعلیمات لوگوں تک پہنچائیں۔ ابنِ اسحاق کی روایت ہے کہ سب سے پہلے سورئہ علق کی ابتدائی آیات کی وحی رمضان المبارک کے مہینے میں ہوئی، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عبادت کے لیے غارِ حرا میں خلوت گزیں تھے۔

یہ رات کون سی ہے! اس سلسلے میں بہت سی روایات ہیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کی ۲۷ویں شب ہے۔ کچھ اور روایات سے ۲۱ویں شب۔ بعض دوسری روایات سے واضح ہوتا ہے کہ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے ایک رات ہے اور کچھ دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کی کوئی ایک رات ہے___ بہرحال زیادہ راجح بات یہ ہے کہ شب ِ قدر رمضان ہی کی ایک رات ہے۔

اس رات کا نام لَیْلَۃُ الْقَدْرِ کیوں ہے؟ ’قدر‘ کا ایک مفہوم ہے: ’منصوبہ بندی اور   تدبیرِ امر‘۔ دوسرا مفہوم ہے ’قدروقیمت اور مقام‘ اور دونوں ہی مفہوم اس عظیم واقعے ___ قرآن، وحی اور رسالت کے سلسلے میں صحیح ہیں۔ کائنات میں اس سے زیادہ عظیم کوئی واقعہ نہیں، نہ اس سے زیادہ کوئی واقعہ بندوں کی تقدیر اور تدبیرِ امر سے متعلق ہے۔

’شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘ قرآن مجید میںاس طرح کے مواقع پر عدد سے کوئی مخصوص تعداد مراد نہیں ہوتی! اس سے صرف کثرت کا اظہار مقصود ہوتا ہے، یعنی یہ رات نوعِ انسانی کی زندگی کی ہزارہا راتوں سے بہتر ہے! ہزاروں مہینے اور ہزارہا سال گزر جاتے ہیںاور حیاتِ انسانی پر اُن کے اثرات اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں پڑتے جتنے اِس مبارک اور سعید رات نے  انسانی زندگی پر ڈالے۔

اِس رات کی عظمت کی حقیقت انسانی فہم و ادراک سے ماورا ہے۔ وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ’’اور تم کیا جانو! شب ِ قدر کیا ہے‘‘۔ اس رات کے سلسلے میں جو افسانوی داستانیں عوام میں پھیلی ہوئی ہیں، اس کی عظمت کا اُن سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اس لیے عظیم ہے کہ اسے قرآن کے___ جس میں عقیدہ، فکر، قانون اور زندگی کے وہ تمام اصول و آداب ہیں جن سے زمین اور انسانی ضمیر کی سلامتی وابستہ ہے___ نزول کے آغاز کے لیے منتخب کیا گیا۔ یہ اس لیے بھی عظیم ہے کہ اس میں ملائکہ بالخصوص جبرئیل علیہ السلام اپنے رب کے اِذن کے ساتھ قرآن لے کر زمین پر نازل ہوئے۔ اور پھر یہ فرشتے کائنات کے اس جشنِ نوروز کے موقع پر زمین و آسمان کے مابین پھیل گئے۔ [یہ] سورت اِن امور کی عجیب و غریب انداز میں تصویر کشی کرتی ہے۔

آج جب ہم ان طویل صدیوں کے پیچھے سے اِس بزرگ اور سعید رات کی طرف دیکھتے ہیں اور اس عجیب جشنِ نوروز کا تصور کرتے ہیں جس کا مشاہدہ اُس رات زمین نے کیا اور اُس رات میں جس امر کی تکمیل ہوئی، اس کی حقیقت پر غور کرتے ہیں اور زمانے کے مختلف مراحل، زمین کے واقعات اور قلوب و اذہان کے تصورات و افکار پر اس کے دور رس اثرات کو دیکھتے ہیں تو ہم واقعتا ایک عظیم امر کا مشاہدہ کرتے ہیں اور قرآن مجید نے وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ’’اور تم کیا جانو! شب ِ قدر کیا ہے!‘‘ کہہ کر اُس رات کی عظمت کی طرف جو اشارہ کیا ہے، اُسے ہم تھوڑا سا سمجھ پاتے ہیں۔

اِس رات میں تمام حکیمانہ امور کا فیصلہ ہوا۔ اس رات میں قدریں، بنیادیں اور پیمانے وضع ہوئے۔ اس میں افراد کی قسمتوں سے بڑھ کر قوموں، نسلوں اور حکومتوں کی قسمتوں کا فیصلہ ہوا بلکہ اس سے بھی زیادہ عظیم امر، حقائق، طور طریق اور قلوب کی قدریں طے ہوئیں۔

نوعِ انسانی اپنی جہالت و بدبختی سے اِس شب کی قدروقیمت، اس واقعہ ’وحی‘ کی حقیقت اور اس معاملے کی عظمت سے غافل ہے، اور اس جہالت و غفلت کے نتیجے میں وہ اللہ کی بہترین نعمتوں سے محروم ہے۔ وہ سعادت اور حقیقی سلامتی، دل کی سلامتی، گھر کی سلامتی اور سماج کی سلامتی کو، جو اسلام نے اسے بخشی تھی، کھو چکی ہے۔ مادی ارتقا اور تہذیب وتمدن کے جو دروازے آج نوعِ انسانی پر کھلے ہیں، اُس سے اِس محرومی کی تلافی نہیں ہوسکتی۔ آج انسانیت شقاوت و بدبختی کا شکار ہے حالانکہ پیداوار کی افراط ہے اور وسائلِ معاش کی بہتات۔

حسین و جمیل نور، جو انسانیت کی روح میں ایک بار چمکا تھا، بجھ چکا ہے۔ ملائِ اعلیٰ سے  ربط و تعلق کی فرحت و انبساط کا خاتمہ ہوچکا ہے اور ارواح و قلوب پر سلامتی کا جو فیضان تھا، وہ مفقود ہوچکا ہے۔ روح کی اِس مسرت، آسمان کے اس نور اور ملائِ اعلیٰ سے ربط و تعلق کی مسرت کا کوئی بدل اسے نہیں مل سکا ہے!

ہم اہلِ ایمان مامور ہیں کہ اِس یادگار واقعے کو فراموش نہ کریں، نہ اُس سے غافل ہوں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری ارواح میں اس یاد کو تازہ رکھنے کا بہت آسان طریقہ مقرر فرما دیا تاکہ ہماری ارواح اُس رات سے اور جو کائناتی واقعہ ’ وحیِ آسمانی‘ اس میں رونما ہوا، اس سے ہمیشہ وابستہ رہیں۔ آپ نے ہمیں اس بات پر اُبھارا کہ شب ِ قدر کو ہم ہر سال رمضان کے آخری عشرے کی راتوں میں ڈھونڈیں اور اس رات میں جاگ کر اللہ کی عبادت کریں۔ بخاری اور مسلم میں ہے: ’’شبِ قدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو‘‘۔ اور صحیحین ہی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس کسی نے شب ِ قدر میں اللہ کی عبادت ایمان اور احتساب کی حالت میں کی، اُس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے‘‘۔

اسلام ظاہری شکلوں اور رسموں کا نام نہیں ہے۔ اسی واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’شب ِقدر‘ کی عبادت کے بارے میں فرمایا کہ وہ ’ایمان‘ اور ’اِحتساب‘ کی حالت میں ہو۔ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ شب ِ قدر جن عظیم مطالب و معانی سے وابستہ ہے (دین، وحی، رسالت اور قرآن) انھیں ہم ذہن میں تازہ کریں، اور ’احتساب‘ کا مطلب یہ ہے کہ عبادت صرف اللہ کی  رضا کے لیے اور اخلاص کے ساتھ ہو۔ اسی صورت میں قلب کے اندر اُس عبادت کی متعینہ حقیقت زندہ و بیدار ہوسکتی ہے اور قرآن جس تعلیم کو لے کر آیا ہے، اس سے ربط و تعلق قائم ہوسکتا ہے۔

تربیت کا اسلامی نظام، عبادت اور قلبی عقائد کے درمیان ربط قائم کرتا ہے اور اُن ایمانی حقائق کو زندہ رکھنے، انھیں واضح کرنے اور انھیں زندہ صورت میں مستحکم بنانے کے لیے عبادات کو بطور ذریعہ کے استعمال کرتا ہے تاکہ یہ ایمانی حقائق غوروفکر کے دائرے سے آگے بڑھ کر انسان کے احساسات اور اس کے قلب و دماغ میں اچھی طرح پیوست ہوجائیں۔

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ تربیت کا یہی نظام اِن حقائق کو زندہ و تازہ رکھنے اور دل کی دنیا اور عمل کی دنیا میں انھیں حرکت بخشنے کے لیے موزوں ترین نظام ہے۔ یہ بات بھی واضح ہوچکی ہے کہ ان حقائق کا صرف نظری علم، عبادت کی معاونت کے بغیر اِن حقائق کو زندہ و برقرار نہیں رکھ سکتا اور نہ کسی اور طریقے سے ہی ممکن ہے اور نہ اِس نظام کے بغیر ان حقائق کو فرد اور معاشرے کی زندگی میں قوتِ محرکہ کی حیثیت حاصل ہوسکتی ہے۔

شب ِ قدر کی یاد اور اس میںایمان و احتساب کے ساتھ اللہ کی عبادت، اِس کامیاب اور بہترین اسلامی نظامِ تربیت کا ایک جزو ہے۔ (فی ظلال القرآن، ترجمہ: سید حامد علی)

 

استعاذۃ کے لغوی معنی پناہ مانگنے اور کسی چیز کے سہارے سمٹ کر تکلیف سے محفوظ ہونے کے ہیں۔ عُذْتُ بِفُلَانٍ اور وَاسْتَعَذْتُ بِفُلَانٍ دونوں الفاظ پناہ حاصل کرنے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔دین میں تعوذ یا استعاذہ کا مطلب ہے کہ ہر شریر کے شر سے بچنے کے لیے  اللہ تعالیٰ کی پناہ لی جائے۔ بندۂ مومن کا عقیدہ یہ ہے کہ ہر طرح کے ظاہری و باطنی خطرات و مصائب، آفات و بلیاّت اور مضرتوں اور نقصان رساں چیزوں سے فقط اس رب العزت کی ذات ہی پناہ دے سکتی ہے، جس کی فرماں روائی سے کائنات کا کوئی ذرّہ تک باہر نہیں ہے، جو مسبّب الاسباب بھی ہے اور فوق الفطرت طریقوں سے اپنے بندوںکو اپنی پناہ میں لینے اور ان کی مدد کرنے پر مکمل قدرت بھی رکھتاہے۔ اس عقیدے کا لازمی جزیہ بھی ہے کہ اس کے سوا اور کوئی نہیں جو عالمِ اسباب سے ماورا پنا ہ دینے اور مدد کرنے پر قادر ہو (یا د رہے کہ عالم اسباب میں بھی فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے)۔

قرآن سورۂ جن میں مشرکین کا یہ شرک بیان کرتا ہے کہ ’’انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے‘‘ (۷۲: ۶)، جب کہ قرآن اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبروں کے حوالے سے بیان کرتا ہے کہ وہ بھی پناہ کے لیے اللہ تعالیٰ ہی کی بارگاہ سے رجوع فرماتے تھے۔ چنانچہ سورۂ ہود میں ہے کہ جب حضرت نوح ؑکو ایک بے جا د عاکرنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہہ فرمائی گئی تو انھوں نے فوراً عرض کیا : رَبِّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَسْئَلَکَ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ ط (۱۱:۴۷) ’’پروردگار!میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں‘‘۔ اسی طرح جب حضرت موسٰی ؑ نے بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا اور انھوں نے اسے آپ ؑکا مذاق قرار دیا، تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَo (البقرہ ۲:۶۷) ’’میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں‘‘۔ اسی طرح جب فرعون نے بھرے دربار میں آپؐ کے قتل کا ارادہ ظاہر کیا تو آپؐ نے فرمایا : اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ مِّنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ o (المؤمن ۴۰:۲۷) ’’میں نے تو ہر اس متکبر کے مقابلے میں جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا، اپنے رب اور تمھارے رب کی پناہ لے لی ہے‘‘ اور ایک دوسرے مقام پر ہے : وَاِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ o (الدخان۴۴:۲۰)’’اور میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں اس سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو‘‘۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد بار نبی کریمؐ کو نہ صرف استعاذے کی تلقین فرمائی بلکہ آپؐ  کو معوذتین جیسی عظیم سورتیں عطا فرمائیں جو کُل کی کُل استعاذے پر مشتمل ہیں اورمستقل طور پر آپؐ  کے وظائف میں شامل رہی ہیں۔ ان قرآنی سورتوں کے علاوہ بھی آپؐ  سے بہت سے تعوذات روایت ہوئے ہیں۔ چونکہ آپؐ  جوامع الکلم تھے ، چنانچہ آپؐ کی یہ خصوصیت آپؐ کی تعلیم کردہ الہامی دعائوں اور تعوذات سے بھی پوری طرح نمایاں ہوتی ہے۔ آپؐ  کے انھی جامع تعوذات کو متن اور سند کے اہتمام سے صحت کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔

ان تعوذات میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس عاجزی و بے کسی کا اظہار بھی ہے جو بندگی کا جوہر ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر وہ اعتماد و توکل بھی جھلکتا ہے جو بندۂ مومن کو دنیا کے ہر خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔ یہ تعوذات معبود اور عبد کے رشتے کو زندہ بھی کرتے ہیں اور اسے ثبات و استحکام بھی دیتے ہیں۔ یہ ایمان وتقویٰ ، اخلاص و للّٰہیت اور سوزوگداز کے حصول اور ان میں مسلسل بڑھوتری کا سرچشمہ بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی قربت ، رضا اور خوشنودی کا ذریعہ بھی۔ اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت پر کاربند ہر بندہ ٔ مومن کے لیے یقین اور شعور کے ساتھ ان پر مداومت نہ صرف دفع مصائب و آلام ، رفع خطرات و مشکلات اور ازالۂ حزن و ملال کے لیے کارگر ہوگی بلکہ سکونِ قلب، تہذیبِ نفس اور تطہیرِ فکرو عمل کے لیے بھی نسخۂ کیمیا ثابت ہوگی۔

  •  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لاَّ یَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لاَّ یَخْشَعُ وَمِنْ نَّفْسٍ لاَّ تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَۃٍ لاَّ یُسْتَجَابُ لَھَا (مسلم: ۶۹۰۶) یااللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے علم سے جوفائدہ نہ دے، اور ایسے دل سے جس میں خشیت نہ ہو، اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو، اور ایسی دعا سے جس کی پذیرائی نہ ہو۔
  •  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ یَوْمِ السُّوْئِ ، وَمِنْ لَیْلَۃِ السُّوْئِ وَمِنْ سَاعَۃِ السُّوْئِ وَمِنْ صَاحِبِ السُّوْئِ وَمِنْ جَارِ السُّوْئِ فِی دَارِ الْمُقَامَۃِ (المعجم الکبیر :۱۴۲۲۷) یا اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں بُرے دن سے، اور بُری رات سے، اور بُرے وقت سے، اور بُرے ساتھی سے، اورمستقل جاے قیام کے برے پڑوس سے۔
  •  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ کُلِّ عَمَلٍ یُّخْزِیْنِیْ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ کُلِّ صَاحِبٍ یُّوئْ ذِیْـنِیْ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ کُلِّ اَمَلٍ یُّلْھِیْنِیْ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ کُلِّ فَقْرٍ یُّنْسِیْنِیْ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ کُلِّ غِنًی یُّطْغِیْنِیْ (ابن السنی: ۱۲۱) یا اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس عمل سے جو مجھے رسوا کرے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں ہر ایسے ساتھی سے جو مجھے تکلیف دے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں ہر ایسی امید سے جو مجھے غافل کردے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں ہر ایسی احتیاج سے جو مجھے نسیا ن میں ڈال دے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں ہر ایسی دولت سے جو مجھے سرکش بنا دے۔
  •  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ مُنْکَرَاتِ الْاَخْلَاقِ وَالْاَعْمَالِ وَالْاَ ھْوَائِ  (ترمذی: ۳۵۹۱) یااللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں برے اخلاق سے اور( بُرے )اعمال سے اور( بُری) خواہشات سے۔
  •  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ سَمْعِیْ وَمِنْ شَرِّ بَصَرِیْ وَمِنْ شَرِّ لِسَانِیْ وَمِنْ شَرِّ قَلْبِیْ وَمِنْ شَرِّمَنِیِّیْ (ابوداؤد : ۱۵۵۱) یااللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنی سماعت کی برائی سے، اور اپنی بصارت کی برائی سے، اورا پنی زبان کی برائی سے، اور اپنے دل کی برائی سے، اور نفسانی خواہشات کے شر سے۔
  •  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ جَھْدِ الْبَلَائِ وَ ادَرْکِ الشَّقَائِ وَسُوْئِ الْقَضَائِ  وشَمَاتَۃِ الْاَعْدَائِ (بخاری: ۶۶۱۶) یااللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں (ہر) مصیبت کی سختی سے، اور بدبختی کے گھیر لینے سے، اور بُری تقدیر سے، اور دشمنوں کے (ہم پر )ہنسنے سے۔

روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چار چیزوں سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کی ترغیب فرمائی۔

  •  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ وَفُجَائَ ۃِ نِقْمَتِکَ  وَجَمِیْعِ سَخَطِکَ (ابوداؤد: ۱۵۴۵) یا اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیری عطاکردہ کسی نعمت کے چھن جانے سے، اور تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے، اور تیری ناگہانی پکڑ سے، اور تیری تمام تر ناراضیوں سے۔

بعض نسخوں میں’ تحویل‘ کے بجاے’تحول‘ ہے، دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔

  •  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ اَعْمَلْ (مسلم : ۶۸۹۵) یااللہ !میں تیری پناہ چاہتا ہوںاپنے کیے ہر عمل کے شر سے اور ہر اس عمل کے شر سے بھی جسے میں نے نہیں کیا۔
  •  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْ ذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَلِمْتُ وَمِنْ شَرِّ مَالَمْ اَعْلَمْ (تحفہ: ۵۹۰) یااللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان چیزوں کی برائی سے جنھیں میں جانتا ہوں اور ان چیزوںکی برائی سے بھی جنھیں میں نہیں جانتا۔
  •  اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ نُشْرِکَ بِکَ شَیْأً نَعْلَمُہٗ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا نَعْلَمْ (احمد: ۴ /۴۰۳،۱۹۶۰۶، ابی شیبۃ: ۳۰۱۶۳) یااللہ ! ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس بات سے کہ جانتے بوجھتے کسی کو تیرے ساتھ شریک کریں، اور ہم تجھ سے (اپنے کیے) ہر اس شرک کی بھی مغفرت طلب کرتے ہیں جس کا ہمیںادراک نہیںہے۔
  •  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَا ئِ السَّفَرِ وَکَا ٓبَۃِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ وَدَعْوَۃِ الْمَظْلُوْمِ وَسُوْئِ الْمَنْظَرِ فِی الْاَہْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ       (نسائی : ۵۴۹۹) یااللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی سختیوں سے، اور( سفر سے ناکام) واپسی کی اذیت سے، اور ترقی کے بعد تنزل سے، اور مظلوم کی (بد)دعا سے اور (سفر سے واپسی پر) خاندان، اور مال و اولادمیں کسی تکلیف دہ منظر کے دیکھنے سے۔

روایت کے مطابق آپؐ جب سفر اختیار فرماتے تو یہ دعا پڑھتے اور ابنِ ماجہ کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جب نبی کریمؐ سفر سے واپس تشریف لاتے تو بھی یہی دعا پڑھتے۔ (ابن ماجہ: ۳۸۸۸)

  •  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ خَلِیْلٍ مَّا کِرٍ عَیْنَاہُ تَرَیَانِیْ وَقَلْبُہٗ یَرْعَانِیْٓ اِنْ رَّاٰی حَسَنَۃً دَفَنَھَا وَاِنْ رَّاٰی سَیِّئَۃً اَذَا عَھَا (کنز : ۳۶۶۳) یااللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے مکار دوست سے جس کی آنکھیں مجھے دیکھتی ہوں اور جس کا دل میری نگرانی کرتا ہو ، اگر وہ (مجھ میں) کوئی اچھائی دیکھے تو اسے چھپا لے اور اگر(مجھ میں) کوئی برائی دیکھے تو اس کی تشہیر کرتا پھرے۔
  •  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِوَجْھِکَ الْکَرِیْمِ وَ اِسْمِکَ الْعَظِیْمِ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ  (کنز : ۳۶۸۲) یا اللہ! میں تیرے کریم چہرے اور عظمت والے نام کی پناہ چاہتا ہوں کفر اور فقروفاقہ سے۔
  •  اَللّٰھُمَّ اَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ  لَا اُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلَی نَفْسِکَ (مسلم: ۱۰۹۰، ابوداؤد:۸۷۹) یااللہ ! میں پناہ چاہتا ہوں تیری رضا کی تیرے غصّے سے اور تیری بخشش کی تیر ے عذاب سے، اورمیں تجھ سے تیری ہی ذات کی ناراضی کی پناہ چاہتا ہوں ، میں تیری تعریف ادا کرنے سے قاصر ہوں بس تو ایسا ہی ہے جیسا تو نے خود اپنی تعریف میں بیان فرمایا۔

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسولؐ اﷲ کو ان کے بستر پر نہ پایا تو میں نے انھیں ٹٹولا تو میرے ہاتھ آپؐ  کے قدموں پر پڑے ، آپؐ  سجدے میں تھے اور آپؐ  کے پائوں کھڑے تھے اورآپؐ  یہ کلمات پڑھ رہے تھے۔(ایضاً)

  •  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِوَجْھِکَ الْکَرِیْمِ وَکَلِمَاتِکَ التَّامَّۃِ مِنْ شَرِّمَا اَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَـتِہِ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ تَکْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَاْثَمَ اَللّٰھُمَّ لَا یُھْزَمُ جُنْدُکَ     وَلَا یُخْلَفُ وَعْدُکَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ (ابوداؤد: ۵۰۵۲) یااللہ! میں تیرے کریم چہرے اور تیرے مکمل تاثیر والے کلِمات کی پناہ چاہتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جس کی پیشانی تیرے دستِ قدرت میں ہے۔ یااللہ! تو ہی (اپنے بندوں کے ) بوجھ اور گناہ دور کرنے والا ہے ۔ یا اللہ! تیرا لشکر کبھی شکست نہیں کھاتا اور تیرا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا اور کسی بھی صاحبِ ثروت کو اس کی دولت تیری پکڑ سے نہیں بچا سکتی ، تو سب عیوب سے پاک ہے اور تیرے ہی لیے ساری حمدو ثنا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ سوتے وقت یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔ (ایضاً)

  •  اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا سَاَلَکَ مِنْہُ  نَبِیُّکَ مُحَمَّدٌ (ﷺ) وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَااسْتَعَاذَ مِنْہُ نَبِیُّکَ مُحَمَّدٌ وَاَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَیْکَ الْبَلَاغُ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ (ترمذی: ۳۵۲۱) یااللہ! ہم تجھ سے اس تمام خیروبھلائی کا سوال کرتے ہیںجو تجھ سے تیرے نبی محمدؐ نے مانگی ہے، اور ہم ان تمام چیزوں سے تیری پناہ چاہتے ہیںجن سے تیرے نبی محمدؐ نے پناہ چاہی ہے، اور توہی وہ ذات ہے جس سے مدد طلب کی جائے، اور تیری ہی عطا پر موقوف ہے مرادوں کا پورا ہونا، اور اللہ کی توفیق کے بغیر نہ کسی برائی سے بچنا ممکن ہے اور نہ کسی نیکی کا حصول۔

آیئے آخر میں اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کرتے ہیں اور نبی کریمؐ پر درود و سلام پیش کرتے ہیں:

سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ o وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo (الصفٰت ۳۷:۱۸۰-۱۸۲) پاک ہے تیرا معزز اور برتر رب ان تمام عیوب سے جنھیں لوگ اس کے ساتھ متصف کرتے ہیں۔ اور سلامتی ہو تمام رسولوں پر۔ اور تمام تر شکر و ثنا سب جہانوں کے پروردگار اللہ ہی کے لیے ہے۔

 

رمضان کے مبارک شب و روز رخصت ہوگئے۔ عید کی صبح نمودار ہوگئی۔ مسلمان عید کی خوشیوں سے سرشار، عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ آج اظہارِ مسرت کا دن ہے، جشن منانے کا دن ہے، ایک دوسرے سے ملنے اور مبارک باد لینے دینے کا دن ہے، خدا کی حمدوثنا اور تکبیرو تہلیل کا دن ہے، خدا کے حضور سجدۂ شکر بجا لانے کا دن ہے۔ عید خدا کا مقرر کیا ہوا تہوار ہے۔ آج کے دن نہانا دھونا، صاف ستھرے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، تکبیر وتہلیل کہتے ہوئے عیدگاہ جانا، عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ میٹھا کھانا، ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے آنا اور سب کے ساتھ مل کر شوکتِ اسلام کا مظاہرہ کرنا خدا کے نزدیک پسندیدہ اور مطلوب اعمال ہیں۔

حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو آپؐ نے دیکھا کہ مدینے کے لوگ دو مخصوص دنوں میں کھیل و تفریح کرتے اور خوشیاں مناتے ہیں۔ آپؐ نے پوچھا:یہ دو دن کیسے ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ ہمارے تہوار ہیں، ہم دورِ جاہلیت سے ان دو دنوں میں اسی طرح خوشی مناتے رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:خدا نے تمھیں ان دو دنوں کے بدلے زیادہ بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں، ایک عیدالفطر اور دوسرا عیدالاضحی۔ (سنن ابوداؤد)

اس مختصر سی روایت سے ایک نہایت اہم حقیقت پر روشنی پڑتی ہے، وہ یہ کہ ایک بامقصد ملّت کے تہوار بھی بامقصد ہوتے ہیں۔ اسلامی تہواروں کا مقصد صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ دوسری قوموں کی طرح مسلمان ملّت بھی سال بھر میں دو دن جشنِ مسرت منا لیا کرے، اور تہوار منانے کے فطری جذبے کو تسکین دے لیا کرے۔ اگر بات صرف اتنی ہی ہوتی، تو ان دو دنوں کے بدلے دوسرے دو دن مقرر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ مسلمان انھی دو دنوں میں جشنِ مسرت مناتے رہتے، جیساکہ مدینے والے ایک زمانے سے مناتے چلے آرہے تھے، لیکن خدا کے رسولؐ نے فرمایا: ’’ان دو دنوں سے بہتر دو دن خدا نے تمھیں اظہارِ مسرت کے لیے عطا فرمائے ہیں، ایک عیدالفطر اور دوسرا عیدالاضحی‘‘۔

عیدالفطر شوال کی پہلی تاریخ کو منائی جاتی ہے اور عیدالاضحی ذوالحجہ کی ۱۰ تاریخ کو۔ یکم شوال کو عیدالفطر منانے کا بھی ایک اہم مقصد ہے اور ۱۰ ذوالحجہ کو اظہارِ مسرت کا بھی ایک خاص پس منظر ہے۔ وقت کی مناسبت سے ان سطروں میں صرف عیدالفطر کے مقصد پر اظہارِ خیال کرنا ہے۔

رمضان کے شب و روز کی عبادتوں سے فارغ ہوتے ہی خوشی منانا اور دوگانہ شکر ادا کرنا دراصل اس حقیقت کا اظہار ہے کہ خدا ہی کے فضل وکرم سے ہمیں رمضان کی یہ مبارک ساعتیں حاصل ہوئیں اور اسی کی توفیق سے ہم قیام و صیام، تلاوت و تسبیح، صدقہ و خیرات اور دوسری عبادتیں بجا لاسکے۔ اگر خدا کی توفیق و اطاعت نہ ہوتی تو ہم کچھ بھی نہ کرسکتے۔

عید منانے کی اس حقیقت کو سامنے رکھیے تو اس بات کو دہرانے کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوتی کہ عید کی خوشی میں اس بدنصیب کا کوئی حصہ نہیں ہے، جو رمضان کی برکتوں سے محروم رہا اور رمضان کے بابرکت شب وروز پانے کے باوجود اس نے اپنی مغفرت کا سامان نہیں کیا۔ لیل و نہار کی گردش جب تک باقی ہے، یکم شوال کی تاریخ آتی رہے گی، مگر محض اس صبح کا طلوع ہونا ہی   پیغامِ مسرت نہیں ہے۔ یہ صبح تو ہر ایک پر طلوع ہوتی ہے، لیکن اس جشن میں حقیقی مسرت صرف اسی کا حصہ ہے جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہوکر یہ کہہ سکے کہ پروردگار تو نے جو مبارک مہینہ مجھے    عطا فرمایا تھا، میں نے اسے ضائع نہیں کیا، میں دن میں بھی تیری خوشی کے کام کرتا رہا اور شب میں بھی تیری عبادت میں لگا رہا۔

عید کا دن عید بھی ہے اور وعید بھی، یہ مبارک باد کا دن بھی ہے اور تعزیت کا دن بھی۔ مبارک باد کا دن ان خوش نصیبوں کے لیے ہے جن کا رمضان شکرگزاری کی حالت میں گزرا اور تعزیت کا دن ان کم نصیبوں کے لیے ہے جن کا رمضان اس طرح گزرا کہ وہ اس کی برکتوں سے محروم ہی رہے۔ بے شک ایسے لوگوں کے لیے عید، وعید کا دن ہے، یہ مبارک باد کے نہیں    تعزیت کے مستحق ہیں:

یہ مبارک باد کا دن بھی ہے اور تعزیت کا دن بھی۔ مبارک باد اس کے لیے جس سے رمضان خوش خوش رخصت ہوا اور تعزیت کا دن ہے، اس کے لیے جس سے رمضان رخصت ہوگیا اور وہ اس سے محروم ہی رہا۔

عیدالفطر یقینا مسلمانوں کے لیے اظہارِ مسرت کا دن ہے، یہ خدا کا دیا ہوا تہوار ہے مگر   یہ ضرور سوچنے کی بات ہے کہ خوشی کس بات کی؟ رمضان اپنی تمام برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ آپ پر سایہ فگن ہوا۔ آپ نے اس کو خدا کا انعام سمجھ کر اگر اپنی عاقبت بنانے، اور مغفرت و نجات کا سامان کرنے کی فکر کی ہے تو بے شک یہ خوشی کی بات ہے، اور آپ عیدالفطر کا تہوار منانے کے مستحق ہیں، مگر جس کم نصیب نے رمضان کی مبارک ساعتوں میں ذرا بھی اپنی مغفرت و نجات کی فکر نہیں کی، رمضان کا سارا مہینہ اس نے یوں ہی غفلت اور محرومی میں گزار دیا، خدا کو خوش کرنے کے بجاے اس نے خدا کا غضب اور بھڑکایا، اس کو بھلا کیا حق ہے کہ وہ عید کا تہوار منائے اور خوشی کا اظہار کرے۔ وہ آخر کس بات کی خوشی منائے اور کس منہ سے خدا کی بڑائی ظاہر کرنے کے لیے تکبیر کہے۔

اس شخص کی ہلاکت اور محرومی میں کس کو شک ہوسکتا ہے، جس کی تباہی اور ہلاکت کے لیے جبرئیل امین ؑبددعا کریں اور بددعا پر رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم آمین کہیں۔

ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے منبر پر چڑھنے لگے۔ پہلے زینے پر جب آپؐ نے قدم رکھا تو فرمایا: آمین۔ دوسرے زینے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا: آمین۔ تیسرے زینے پر قدم رکھا تو فرمایا: آمین۔ خطبہ دے کر جب آپؐ فارغ ہوئے تو صحابہ کرامؓ نے پوچھا: حضوؐر! آج ہم نے یہ ایسی بات دیکھی کہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ فرمایا: جب میں خطبہ دینے کے لیے منبر پر چڑھنے لگا اور منبر کے پہلے زینے پر قدم رکھا تو جبرئیل امین ؑ نمودار ہوئے اور انھوں نے کہا: خدا اس شخص کو ہلاک کردے جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور پھر بھی اپنی مغفرت کا سامان نہیں کیا‘‘۔ اس پر میں نے کہا: آمین!___ جن کم نصیبوں کو خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم محروم اور   تباہ حال کہیں، کون کہہ سکتا ہے کہ ان کو بھی عید کی خوشی منانے اور مبارک باد لینے کا حق ہے۔

جو خوش نصیب عید کی مبارک باد اور خوشی کے واقعی حق دار ہیں، ان کا ایمان افروز حال خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنیے اور اس آرزو کو پورا کرنے میں لگ جایئے کہ آپ کا شمار بھی انھی لوگوں میں ہو۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عید کی صبح نمودار ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو ہرشہر اور ہر بستی کی طرف روانہ کردیتا ہے، فرشتے زمین میں اُتر کر ہرگلی اور ہر راستے کے موڑ پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور پکارتے ہیں۔ ان کی پکار ساری مخلوق سنتی ہے، مگر انسان اور جِن نہیں سن پاتے… وہ پکارتے ہیں:

اے محمدؐ کی اُمت کے لوگو! نکلو اپنے گھروں سے اور چلو اپنے پروردگار کی طرف! تمھارا پروردگار بہت ہی زیادہ دینے والا اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف کرنے والا ہے۔ اور جب مسلمان عیدگاہ کی طرف جانے لگتے ہیں تو خداے عزوجل اپنے فرشتوں سے مخاطب ہوکر پوچھتا ہے: میرے فرشتو! اس مزدور کا صلہ کیا ہے جس نے اپنے رب کا کام پورا کیا؟ فرشتے کہتے ہیں: اے ہمارے معبود! اے ہمارے آقا! اس مزدور کا صلہ یہ ہے کہ اسے بھرپور مزدوری دی جائے۔ اس پر خدا کا ارشاد ہوتا ہے: فرشتو! تم سب گواہ ہوجائو کہ میں نے اپنے بندوں کو جورمضان بھر روزے رکھتے رہے اور تراویح پڑھتے رہے، اس کے صلے میں اپنی خوش نودی سے نواز دیا اور ان کی مغفرت فرما دی۔

پھر خدا اپنے بندوں سے کہتا ہے: میرے پیارے بندو! مانگو مجھ سے جو کچھ مانگتے ہو۔ مجھے میری عزت کی قسم! مجھے میرے جلال کی قسم! آج عید کے اس اجتماع میں تم اپنی آخرت بنانے کے لیے مجھ سے جو مانگو گے، عطا کروں گا اور اپنی دنیا بنانے کے لیے جو چاہو گے، اس میں بھی تمھاری بھلائی کو پیش نظر رکھوں گا… جب تک تم میرا دھیان رکھو گے، میں تمھارے قصوروں پر پردہ ڈالتا رہوں گا۔ مجھے میری عزت کی قسم! مجھے میرے جلال کی قسم! میں تمھیں مجرموں کے سامنے ہرگز ذلیل اور رسوا نہ کروں گا۔ جائو تم اپنے گھروں کو بخشے بخشائے لوٹ جائو، تم مجھے راضی کرنے میں لگے رہے ہو، میں تم سے راضی ہوگیا۔

فرشتے اس بشارت پر خوشی سے جھوم اُٹھتے ہیں اور خدا کی اس بخشش اور نوازش پر خوشیاں مناتے ہیں، جو وہ اپنے بندوں پر فرماتا ہے، جو رمضان بھر کے روزے رکھ کر آج اپنا روزہ کھولتے ہیں (الترغیب، ج۲، ص ۱۰۱)۔ (شعورحیاتِ سے انتخاب)

 

اچھی تقریر، اچھی بات اور اچھے مدرس کو کون پسند نہیں کرتا۔ کئی مقرر، کئی لکھنے والے اور کئی مدرس ہیں جن کی باتیں ہیرے موتیوں جیسی ہیں۔ دوسری طرف دیکھیں تو ہمیں سننے والے نظر آتے ہیں اور اگر اس دوسری جانب سننے سمجھنے کا ذوق، چاہت، اور پیاس نہ ہو تو یہی ہیرے موتی خشک پتوں، بکھرے تنکوں اور آواز کی ناقابلِ فہم سنسناہٹ سے زیادہ اہم نہیں۔ باتیں کتنی ہی اچھی ہوںاگر سننے کی چاہت اور پیاس نہ ہو تو یہی باتیں بے معنی ہوکر ہوا میں تحلیل ہوجاتی ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں سمع و بصر یعنی سننا اور دیکھنا کا ذکر ۱۹ جگہ پر کیا ہے، جن میں سے ۱۷ مواقع پر سمع کا ذکر بصر سے پہلے آیا ہے۔ انسان کو زمین پر گزربسر کرنے کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سی نعمتیں عطا کی ہیں اور انھی نعمتوں میں سننے کی صلاحیت بھی ہے۔ اس نعمت کا اندازہ کان بند کر کے کیجیے کہ کتنی اُلجھن ہوتی ہے، بلاشبہہ سماعت جہاں اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے وہاں اس کی بازپُرس بھی ہے۔ سورئہ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا ہے: ’’یقینا آنکھ، کان اور دل سب ہی کی بازپُرس ہونی ہے‘‘(۱۷: ۳۶)۔ خیال رہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ بازپُرس کا معاملہ وہیں فرماتے ہیں جہاں ہمیں اختیار دیا جاتا ہے۔ سننے کے لیے ہمیں دو کان دیے گئے اور جب کان کے متعلق بازپُرس ہوگی تو یقینا یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم کیا سنیں اور کیا نہ سنیں۔ سورئہ انفال میں فرمایا گیا: ’’اے ایمان لانے والو! اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائو جنھوں نے کہا ہم نے سنا، حالانکہ وہ نہیں سنتے‘‘۔ (۸:۲۰- ۲۱)

یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے صاف صاف ہدایت آگئی اور ہمیں ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مرضی اور منشا کیا ہے۔ یہ احکام ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینے کے لیے نہیں بلکہ عمل کرنے کے لیے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہمہ تن گوش ہوکر احکام سنے جائیں اور سمجھے بھی جائیں تاکہ عمل کرنے میں سہولت ہو۔ یہ احکام ہدایت کے لیے ہیں اور ہدایت تبھی حاصل ہوگی اگر ہم احکامات کو غور سے سنیں، ذہن نشین کریں اور عمل بھی کریں۔      علما فرماتے ہیں کہ اس کا کیا فائدہ کہ بندہ کہے تو سمعنا واطعنا لیکن اطاعت کے آثار اس پر ظاہر نہ ہوں۔ یہی غور سے سننے اور سمجھنے کی بات سورئہ فرقان میں سختی سے کہی گئی ہے، فرمایا گیا: ’’کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے‘‘(۲۵:۴۴)۔ اگرچہ انسان کو ’احسن تقویم‘ اور اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے مگر یہاں جو معاملہ بیان ہوا ہے وہ لاپروائی سے سننے کے بارے میں ہے۔ گویا اگر ہم سنتے اور سمجھتے نہیں تو اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود ہماری حیثیت اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں جانوروں جیسی بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتی ہے۔ اگر یہی کیفیت مسلسل رکھی جائے تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی سلب کرلی جاتی ہے۔ بالفاظ دیگر کانوں پر مہر لگا دی جاتی ہے کہ ہدایت کی کوئی بات نہ ہم سنتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں اور نہ عمل کرنے کی توفیق ہوتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعاگو رہنا چاہیے کہ ہم ایسی حالت تک گرنے سے محفوظ رہیں۔ آمین!

سورئہ جاثیہ میں یہی بات مختلف انداز میں فرمائی گئی ہے: ’’پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر غور کیا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اُسے گمراہی میں پھینک دیا اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟‘‘ (۴۵:۲۳)

یہاں ایک خاص ذہنی کیفیت کی طرف اشارہ اور ہدایت ہے۔ جب ہم بات کرنے والے کی بات پہلے سے طے شدہ ذہن (pre-set mind)  سے سنتے ہیں، یعنی سننے والا سنتا ہے مگر ذہن میں طے رکھتا ہے کہ جو بات یا جو فیصلہ اس کے ذہن میں پہلے سے موجود ہے، وہی صحیح ہے اور دیگر سب لایعنی باتیں ہیں۔ ایسی صورت حال میں علم کے باوجود گمراہی میں پھینکے جانے کی نوید سنائی جارہی ہے کہ بات نہ کانوں سے گزرتی ہے، نہ دل پر اثرکرتی ہے۔ یہی تو کبر کا معاملہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہدایت کی توفیق ہی چھین لیتے ہیں۔

اسی طرح سورئہ یونس میں فرمایا گیا: ’’وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے رات بنائی کہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا۔ اس میں نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو (کھلے کانوں سے پیغمبرؐ کی دعوت کو) سنتے ہیں‘‘۔ (۱۰:۶۷)

ان سننے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جنھیں یہ گھمنڈ ہوتا ہے کہ جو وہ جانتے ہیں صرف وہی  صحیح ہے اور آنے والی ہدایت پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ بار بار   قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والے بھی انھیں قرآنی آیات میں کئی مرتبہ نئی روشنی اور ہدایت پاتے ہیں۔ یہ کیفیت جبھی ہوگی کہ پڑھنے والا ہدایت کے لیے تیار رہے۔ یعنی کان کھلے رکھے اور ذہن کو نئی ہدایت قبول کرنے کے لیے بھی تیار رکھے۔

ہم مسلمان لوگوں کے نزدیک یہ یقینی بات ہے کہ جنت میں ماحول اور صورتِ حال حددرجے کی معیاری ہوگی۔ کئی مقامات پر اس کا ذکر قرآن مجید میں ہوا ہے اور سننے سے متعلق نعمتوں کا ذکر بھی ہے:

  •  جنتی لوگ کوئی بے ہودہ بات نہ سنیں گے اور جو کچھ بھی سنیں گے ٹھیک ہی سنیں گے۔ (مریم ۱۹:۶۲)
  •  جنتی لوگ کوئی بے ہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے۔(الواقعۃ ۵۶:۲۵)
  •  جنتی لوگ کوئی لغو اور جھوٹی بات نہ سنیں گے۔(النبا ۷۸:۳۵)

گویا جنت کا ماحول ایسا ہوگا کہ وہاں لوگ بے ہودگی، یاوہ گوئی، جھوٹ، غیبت، چغلی، بہتان، گالی، لاف و گذ اف، طنزوتمسخر اور طعن و تشنیع جیسی باتیں نہیں سنیں گے۔ وہ سوسائٹی بدزبان اور بدتمیز لوگوں کی سوسائٹی نہ ہوگی جس میں لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالتے ہیں۔ وہ شریف اور مہذب لوگوں کا معاشرہ ہوگا جہاں لغویات ناپید ہوں گی۔ جو لوگ دنیا میں شائستگی اور مذاق سلیم کے حامل ہیں، وہ محسوس کرسکتے ہیں کہ دنیا کی زندگی میں یہ کتنا بڑا عذاب ہے جس سے نجات پانے کی نوید سنائی گئی ہے۔

کیوں نہ ہم آج ہی عہد کریں کہ ہم کسی بھی بے ہودہ بات، افترا، تہمت اور یاوہ گوئی جیسی باتوں پر کان نہیں دھریں گے اور نہ ایسی صورت حال کا حصہ بنیں گے۔ اس طرح ہم کئی ایک سمعی قباحتیں چھوڑ کر کئی مصیبتوں سے بچ سکیں گے۔

احادیث اور سیرتِ النبیؐ کے مطالعے سے بھی پتا چلتا ہے کہ صحابہ کرامؓ مجلسِ نبویؐ میں اس طرح بیٹھتے تھے گویا کہ ان کے سروں پر پرندے ہیں جو ہلنے سے اُڑ جائیں گے۔

امام طبرانی نے صحیح سند سے عمروؓ بن عاص سے روایت فرمایا کہ اللہ کے نبی قوم کے ادنیٰ ترین آدمی کی طرف بھی بھرپور متوجہ رہتے اور اس سے بات کرتے تاکہ اس کی تالیف قلب ہو اور وہ میری طرف اس طرح متوجہ ہوتے، حتیٰ کہ میں نے گمان کیا میں ہی قوم کا بہترین آدمی ہوں۔ ہجرت سے تین سال قبل حج کے موقع پر حسب ِ معمول حضوؐر مکہ میں حاجیوں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ سوید بن صامت آپؐ کی تقریر سن کر بولا: آپ جو باتیں پیش کر رہے ہیں ایسی ہی ایک چیز میرے پاس بھی ہے۔ آپؐ  نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: مجلۂ لقمان۔ پھر آپؐ  کی فرمایش پر اُس نے اس مجلے کا کچھ حصہ آپؐ کو سنایا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ بہت اچھا کلام ہے مگر میرے پاس ایک اور کلام اس سے بھی بہتر ہے۔ اس کے بعد آپ نے اسے قرآن سنایا اور اس نے اعتراف کیا کہ یہ مجلۂ لقمان سے بلاشبہہ بہتر ہے (سیرۃ ابن ہشام۔ تفصیل ملاحظہ ہو، سیرت النبیؐ، ج۴، ص ۱۳)۔ یہاں رسول اکرمؐ کی حکمت اور صبر ملاحظہ ہوکہ اُنھوں نے دوسرے کی بات کی نفی نہیں کی، بلکہ اس کی بات سنی اور پھر اپنی بات سنائی۔ یہاں اس یقین کی کیفیت پر غور بھی کیجیے جو پیغمبروں کا خاصہ ہوتا ہے۔ ایسے میں اپنی بات روک کر زمانۂ جاہلیت کا کلام سننے کی فرمایش کرنا یقینا بڑے ضبط، حلم اور بُردباری کی زندہ مثال ہے۔

بات کو اچھی طرح سننا، اختلاف کی شدت کو کم کر دیتا ہے۔ مشہور قول ہے کہ عالِم کے پاس بیٹھو تو خاموشی اختیار کرو اور جاہل کے پاس بیٹھو تو بھی خاموشی اختیار کرو۔ حکمت یہ ہے کہ عالِم کی بات سن کر علم میں اضافہ ہوگا اور جاہل کے ساتھ خاموش رہنے سے بُردباری اور حلم میں اضافہ ہوگا۔ سننے کے بارے میں علما ہدایت کرتے ہیں کہ بات اس لیے دھیان سے سنو کہ تم سمجھنا چاہتے ہو نہ کہ اس لیے کہ اس میں غلطیاں نکالنی ہیں اور لغزشوں کو گننا ہے۔ دوسرے کی بات کی تشریح اپنے نقطۂ نظر سے نہ کرو بلکہ اُسی کے زاویۂ نگاہ سے بات سمجھو۔ اسی طرح امام ابن حزمؒ فرماتے ہیں کہ جو بہترین طریقے سے خاموشی اختیار کرنا چاہے تو اپنے آپ کو دوسرے فریق کی جگہ تصور کرے۔ اس طرح اُس کی بات اور نقطۂ نظر واضح ہوجائے گا۔ یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ جو کوئی پریشان اور غم زدہ ہو، اس کی بات سننے سے اس کی پریشانی اور غم میں کمی آجاتی ہے، جب کہ جلدبازی اور بات کاٹنے کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے، وقت کا ضیاع ہوتا ہے اور تعلقات کشیدہ ہوجاتے ہیں۔

سننے میں مانع امور

آج کل مینجمنٹ کے مضامین میں ’سننا‘ یعنی ’listening‘ پر کئی مضامین لکھے گئے ہیں اور سننے میں مانع امور پر بحث کی گئی ہے:

۱- موضوع کو ’بور‘ (bore) اور بے روح قرار دینا، یعنی مکمل بات سنے بغیر ہی راے قائم کر لینا۔ ممکن ہے کہ ہم اس موضوع سے پہلے ہی بے زار ہوں اور چڑ رکھتے ہوں اور سننا بھی نہ چاہتے ہوں کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ اچھے سننے والے تحمل سے اس انتظار میں سنتے ہیں کہ کوئی کام کی بات گفتگو سے نکل آئے۔

۲- موضوع ہی نہیں ہم بعض اوقات مقرر سے چڑرکھتے ہیں اور راے رکھتے ہیں کہ یہ مقرر ہمارا وقت ہی برباد کرے گا۔ ہم اپنی راے اپنے آپ پر ٹھونسنا چاہتے ہیں اور اپنا نقصان کربیٹھتے ہیں۔ یہ صورت حال اپنے ہی گھر میں چھوٹی عمر کے افراد کے ساتھ اور بعض اوقات اساتذہ کی شاگردوں کے ساتھ ہوجاتی ہے۔ وہ نہیں مانتے کہ چھوٹی عمر میں بھی کوئی کام کی بات کہہ سکتا ہے، جب کہ یہاں معاملہ تو تجربے اور مطالعے کا ہے۔

۳- بعض اوقات تقریر یا گفتگو کے ایک حصے سے بھرپور اثر لے لیا جاتا ہے اور بقیہ تقریر  یا گفتگو محض وقت کا ضیاع محسوس ہوتی ہے۔ اس رویے سے سننے پر اثر پڑتا ہے۔ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ بعض مقرر خاص طور پر سامعین سے درخواست کرتے ہیں کہ پوری بات سننے کے بعد ہی راے قائم کی جائے۔

۴- سننے والے کئی مرتبہ صرف حالات سننے پر اکتفا کر لیتے ہیں اور تجزیہ نہیں سنتے۔ اچھے سامع دونوں باتیں سن کر تجزیہ اور حالات کا ربط دیکھ کر راے قائم کرتے ہیں۔

۵- کئی مرتبہ تقریر سنتے وقت سامع اُس تقریر کے بارے میں ایک خاکہ بنانے کی کوشش کرتا ہے جو اُس خاکے سے مختلف ہوتا ہے جو مقرر کے ذہن میں ہوتا ہے۔ یقینا ہر شخص کی سوچ کا اپنا زاویہ ہوتا ہے اور مقرر اور سامع مختلف سمتوں میں سوچتے ہیں اور سامع کی سمجھ میں پوری بات نہیں آتی۔

۶- کئی سامع یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ (جھوٹ موٹ) ہمہ تن گوش ہیں مثلاً سر کو برابر جنبش دینا کہ بات سمجھ آرہی ہے یا یہ کہ پوری توجہ لیکچرر کی طرف ہے جب کہ اصل   میں ان کا سننا سطحی ہی ہوتا ہے ۔صحیح سنا جا رہا ہو تو دل کی دھڑکن اور جسم کا درجۂ حرارت بات اور موضوع کے مطابق تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

۷- جو لوگ کمزور سامع ہیں، اُن کا دھیان بہت آسانی سے اِدھر اُدھر ہونے والے واقعات کی طرف بٹ جاتا ہے مثلاً کسی موبائل فون کی گھنٹی بجی تو دھیان اُس طرف ہو گیا یا کسی کی پنسل گرگئی تو دھیان اس لڑھکتی ہوئی پنسل کی طرف ہی ہوگیا یا دھیان بانٹنے کے لیے یہی احساس کافی ہے کہ لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں۔

۸- آسانی کسے پسند نہیں؟ کئی سامع موضوع کے صرف آسان پہلوئوں پر غور کرتے ہیں۔ اس طرح کے سننے والے موضوع کا مکمل احاطہ نہیں کرپاتے اور پوری بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کئی موقعوں پر مقرر اپنی بات میں کوئی ایسا لفظ بولتا ہے یا ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جو سامع کی سوچ کسی پرانے موقع یا تجزیہ کی طرف لے جاتی ہے یعنی اس کا تعلق ماضی میں کسی معاملے سے رہا ہو مثلاً مقرر کو چھینک آئی، اُس نے رومال استعمال کر کے جیب میں رکھنے کے بجاے آستین ہی میں اڑس لیا۔ سامع کو اُس کی دیکھی ہوئی ’جناح‘ فلم یاد آگئی اور پھر سوچ اُسی فلم کی طرف ہورہی۔

۱۰- سننا ایسا عمل ہے جس کے لیے بولنا ایک ضروری حصہ ہے ۔ اگر الفاظ فی منٹ گنے جائیں تو بولنے والا ایک سو الفاظ فی منٹ بولتا ہے، جب کہ سننے کی صلاحیت پانچ سو الفاظ فی منٹ تک ہوسکتی ہے۔ اس طرح بولنے والا اور سننے والے کی ایک ہی معاملے میں مختلف رفتار ہوتی ہے۔ یہ فاصلہ زیادہ ہوجائے تو بات سمجھنے پر اثر پڑتا ہے۔

۱۱- سامع کا ذہن اگر کسی دوسری بات میں الجھا ہو تو سننے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ مثلاً کسی عزیز کی بیماری، بچے کا رزلٹ یا سڑک پر ہونے والا حادثہ۔

۱۲- اردگرد کا شور شرابہ بھی سماعت پر اثر ڈالتا ہے۔ شور کی وجہ سے مقرر کی آواز بھی دب جاتی ہے اور سامع کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔

۱۳- ممکن ہے جس کرسی پر سامع بیٹھا ہے، وہ آرام دہ نہ ہو اور دھیان کرسی کی طرف ہی جائے۔ یہی صورت حال تکلیف دہ لباس اور جوتوں سے بھی ممکن ہے۔

۱۴- ہمارے ہاں آنکھوں کا معائنہ کروانا اور عینک کا استعمال ایک عام بات سمجھی جاتی ہے۔ بعض اوقات عینک فیشن کے ضمن میں بھی آتی ہے۔ لوگ اپنی سماعت کا معائنہ نہیں کرواتے۔ اگرچہ ہماری سماعت کئی ایک وجوہات سے کمزور بھی ہوسکتی ہے۔ آلۂ سماعت لگانے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اگر سماعت کمزور ہو تو یہ ایک ضرورت ہے۔

۱۵- ہم دیکھتے ہیں کہ پریزنٹیشن (presentation) میں مقرر حضرات کم وقت میں بہت سا لوازمہ سامعین کے کانوں میں انڈیلنا چاہتے ہیں۔ مقرر جلد جلد بولتا ہے، جب کہ سلائیڈوں پر بہت سا لوازمہ ٹھونس کر بھر دیا جاتا ہے اور یہ کمزوری کئی اہم مواقع پر بھی درست نہیں کی جاتی۔ کئی دفعہ مقرر بھی مجبور ہوتا ہے، جب کہ تقریر سے پہلے ہی اسے بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ ۴۰منٹ کا وقت تھا مگر آپ اپنی تقریر ۲۵ منٹ ہی میں ختم کریں۔ یہ قصور مقرر کا نہیں بلکہ پروگرام کے منتظمین کا ہے جو وقت کو منصوبے کے مطابق تقسیم نہ کرسکے۔

۱۶- کئی مواقع پر سوالات کا وقفہ آخر کے بجاے تقریر کے دوران میں رکھا جاتا ہے اور کئی سامعین لایعنی سوال یا پھر سوال براے سوال لے کر بات شروع کردیتے ہیں۔ یہ صورت حال سننے والوں پر گراں گزرتی ہے۔

۱۷- کئی مرتبہ سامعین بے صبری اور جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم عرصے میں بہت سا لوازمہ بشمول ذاتی راے ہضم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجتاً اصل بات سمجھنے سے رہ جاتی ہے۔

ہم بات کیوں سنتے ہیں؟ یا اچھا سامع ہونا کیوں ضروری ہے؟ ہر کام کا ایک ہدف ہوتا ہے اور سامع کے سامنے چند مقاصد ہوتے ہیں: 

  • لطف اندوزی کے لیے 
  • سمجھ اور فہم کے لیے 
  • فیصلہ کرنے کے لیے
  • تنازع یا اختلاف کا حل نکالنے کے لیے 
  • معلومات کے لیے۔

بات سنتے وقت اس کا ایک مقصد واضح ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح بات سنانے والے کا بھی وہی مقصد ہونا چاہیے جو بات سننے والے کا ہے، وگرنہ اختلاف پیدا ہونے کا خدشہ ہوگا۔

کرنے کے کام

۱- آپ بات سنتے وقت فوری فیصلہ یا راے قائم کرنے سے باز رہیں کیونکہ آپ کی   یک طرفہ سوچ آپ کے فیصلے اور راے پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

۲- بات سنتے وقت اندازہ لگائیں کہ بات کرنے والے کے احساسات کیا ہیں۔ سنانے والے کی جسمانی حرکات (body language) آواز کا اُتارچڑھائو، باتوں میں پیغام، سب کچھ ہمدردی سے برداشت کریں تاکہ آپ پوری بات کُلّی طور پر سمجھ سکیں۔

۳- بات سنانے والے کے احساسات کی قدر کریں اور اعتراف بھی کہ سنانے والا کن حالات اور ذہنی کیفیت سے گزر رہا ہے۔

۴- بات مکمل سننے کے بعد اپنے لفظوں میں مختصراً بیان کریں کہ آپ نے کیا سمجھا۔ سنانے والے سے مدد کی درخواست بھی کریں کہ اگر آپ نے بات سمجھنے میں غلطی کی ہے تو وہ خود تصحیح کردے، یعنی correct me if I am wrong۔

۵- اگر آپ نے سوال کرنا ہو تو کھلا سوال (open ended) ہو، مثلاً فرمایئے میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں؟ یا آیا یہ اپنی قسم کا پہلا واقعہ ہی ہے یا اس سے پہلے بھی یوں ہی ہوتا رہا ہے؟ اس طرح آپ کو زیادہ معلومات مل سکیں گی۔

بات غور سے سننا ایسا موضوع ہے کہ اس پر خال خال ہی بحث ہوتی ہے، جب کہ سارا زور اچھی تقریر، اچھے الفاظ اور اچھے فقروں پر ہوتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ بات اچھی طرح سننا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ اچھی بات کہنا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گھر پر تربیت کرتے ہوئے اس بات کا دھیان رکھیں۔ خطبۂ جمعہ، تقاریر اور تبادلۂ خیالات اور دعوتِ دین کے سلسلے میں اور دفاتر میں روزمرہ کے کام میں بھی اس امر پر بھرپور توجہ ہو کہ بات سننے والوں نے کیا رویہ رکھا۔ اس طرح  کم از کم دگنا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

 

انسانی معاشرہ کسی جامد چیز کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک زندہ وجود کا نام ہے۔ جس طرح انسان اچھی یا بُری چیز سے تاثر لیے بغیر نہیں رہتا، اسی طرح ایک معاشرہ بھی اچھی یا بُری قدروں سے لازماً متاثر ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھیں تو پاکستانی معاشرہ بھی ہر دو طرح کے رویوں سے اثرپذیری کا زندہ ثبوت پیش کرتا ہے۔ ایک جانب اگر اسلامی تہذیب، معاشرت اور اخلاقیات سے بغاوت اور اباحیت پسندی کا رویہ طوفان اُٹھا رہا ہے، تو دوسری جانب نمازِ جمعہ کی طرف رجوع، عمرے اور حج کا شوق، اعتکاف کے لیے تڑپ، نعت کی شبینہ مجالس کی کثرت، مذہبی اجتماعات اور مذہبی پارٹیوں سے وابستگی کا رجحان بھی روز افزوں ہے۔

دوسری طرف یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ مذہبی شعائر پر عمل کرنے والوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود، دینی اور اسلامی تہذیبی اقدار کے مخالف عناصر، ماضی کی نسبت کہیں زیادہ جارحیت اور  بے باکی کا رویہ اپنائے نظر آتے ہیں، اور ان کے مقابلے میں اسلامی اور تہذیبی اقدار کے علَم بردار طبقے اور افراد عمومی طور پر لاتعلق، بے حِس یا اس یلغار کے سامنے بے عمل نظر آتے ہیں، یعنی اکثریت بے بسی کی تصویر اور اقلیت جارحیت کے جذبے سے سرشار اور درجہ بہ درجہ آگے بڑھنے کی علامت۔ یہ تو نہیں کہ جارحیت کا جواب جارحیت سے دیا جائے، مگر یہ ضروری ہے کہ اسلامی تہذیبی اقدار پر اس جارحانہ یلغار کو جرأت، دلیل، بالغ نظری اور منظم طریقے سے بے نقاب کیا جائے۔مثال کے طور پر:

۱- ہمارے ہاں، نجی شعبے میں موجود سفری سہولتوں (کوچز، بسوں اور ویگنوں) میں اگرچہ پہلے تو ٹیپ ریکارڈر پر گانوں کے شور نے اذیت ناک صورت حال پیدا کر رکھی تھی، لیکن جب ٹرانسپورٹروں اور ڈرائیور حضرات نے دیکھا کہ معاشرے نے خاموشی کے ساتھ اس طوفانِ بدتمیزی کو ہضم کر لیا ہے تو اگلے قدم کے طور پر ان میں وی سی آر پر فلموں کی نمایش کا آغاز ہوا۔ ابتدا میں ذرا جھجک تھی تو کچھ ڈراموں، کارٹون اور دستاویزی فلموں سے ابتدا کی گئی، مگر جلد ہی بھارتی فلموں اور گانوں کی نہ ختم ہونے والی ریکارڈنگ نے جگہ لے لی۔ آج حالت یہ ہے کہ کوئی معقول انسان اس بے حیائی کے ہم قدم سفر کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ان آلایشوں کے ساتھ سفر کرنا تو ناممکنات میں شامل ہوچکا ہے۔ انسان مجبوری کے تحت سفر کرتا ہے، غصہ پی کر  رہ جاتا ہے۔ اُس کی اس مجبوری پر آوارگی اور بے حیائی حملہ آور ہوتی ہے تو وہ بے بسی میں خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔ دورانِ سفر اگر کوئی فرد ہمت کرکے کہہ بیٹھے کہ ’’ڈرائیور صاحب اسے بندکردیجیے‘‘، تو پہلے ڈرائیور صاحب اور پھر متعدد مسافر اس فرد کو یوں دیکھتے ہیں، جیسے یہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہے۔ ایک دو تو آوازہ بھی کس دیتے ہیں، حالانکہ اس کوچ میں اکثریت ان  لوگوں کی ہوتی ہے جو اسے دیکھنا نہیں چاہتے، مگر وہ سب غیرت اور حیا کو تھپک کر سلاتے اور پھر آنسو بہاکر شیطنت کا نظارہ کرنے یا اہلِ خانہ کو نظارہ کرانے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔

ایسا ہی معاملہ بعض اوقات ان گانوں کی شکل میں سامنے آتا ہے، جنھیں ڈرائیور حضرات پوری آواز کے ساتھ مسافروں کے کانوں میں انڈیل رہے ہوتے ہیں، اور اس پر غضب یہ کہ نہایت لچر اور واہیات بول آگ برسا رہے ہوتے ہیں۔ مگر اپنی بے بسی کا ماتم کرتے ہوئے، مجسم غلامی کی تصویر سواریاں خاموشی سے سفر کرتی رہتی ہیں۔ اب مصیبت یہ دَر آئی ہے کہ چھوٹی ویگنوں میں بھی چھوٹی اسکرین پر گانے دکھانے اور دھماچوکڑی کا ظلم ڈھانے کا کلچر ترقی کر رہا ہے۔ یوں رفتہ رفتہ  یہ چیزیں ہماری سماجی زندگی کا حصہ بنتی جارہی ہیں اور شرافت منہ چھپا کر کڑھنے کو اپنا نصیب قرار دے رہی ہے۔ کیا واقعی حیا اور شرافت کا مطلب بے بسی اور بے عملی ہے؟

۲- اسی طرح بڑے اور چھوٹے شہروں میں خواتین کے کپڑے فروخت کرنے والوں کی دکانوں پر عورتوں کی شبیہیں، بت یا ڈمّیاں (dummies) بہ کثرت دکھائی دیتی ہیں۔ ان    دکان داروں نے یہ تصور کرلیا ہے کہ ان بتوں کے سہارے ہی ان کا کاروبار چل سکتا ہے۔     ایسی اُمت کہ جس کے رسولؐ نے فتح مکہ کے موقع پر بتوں کو گرایا، انھی کے نام لیوا دولت کی ہوس کے لیے نہ صرف بتوں بلکہ شرمناک بتوں کا سہارا لیتے اور اسے ’کاروباری مجبوری‘ قرار دیتے ہیں    ؎

بتوں سے تجھ کو اُمیدیں، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟

اب سے ۲۵، ۳۰ سال قبل جن دکانوں پر ایسے ماڈل رکھے ہوتے تھے، لوگ انھیں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے اور توجہ بھی دلاتے تھے، مگر اب یہ ’ڈمی کلچر‘ اس پیمانے پر پھیل چکا ہے کہ بت شکن اُمت کی نئی نسل یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ شاید روزِ اوّل سے کاروبارِ زندگی میں یوں ہی ہوا کرتا تھا، حالانکہ یہ چیز حالیہ عشروں میں ہمارے ہاں زبردستی در آئی ہے۔ ان مظاہر کا سامنا کرتے ہوئے کوئی بھی معقول انسان نظریں نیچی کیے اور شرمندگی کے پسینے میں نہائے بغیر رہ نہیں سکتا۔

۳- خاص طور پر بڑے شہروں کے بس اسٹاپوں پر بعض اوقات یہ مناظر دیکھنے میں آتے ہیں کہ کوئی خاتون یا طالبہ بس، ویگن کے انتظار میں کھڑی ہے۔ اچانک کسی کار یا موٹرسائیکل پر سوار کوئی مرد اسے گُھورتا، گاڑی کو کبھی آگے اور کبھی پیچھے کرکے، ایسی گھٹیا نظروں سے اشارے کرتا نظر آئے گا کہ بے چاری خاتون تو سہم جائے گی اور شرمندگی کے احساس میں کانپ رہی ہوگی، مگر   اسی بس اسٹینڈ پر کھڑے بیسیوں نوجوان، شریف اور باوقار مرد اس جارحانہ ڈرامے سے لاتعلق دکھائی دے رہے ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ نہایت ضروری کام اور مجبوری کے ہاتھوں اگر کوئی شریف زادی سواری کا انتظار کرنے کے لیے اسٹاپ پر کھڑی ہے تو وہ ایسے توہین آمیز رویے کو کیسی بے بسی میں برداشت کرے گی اور شریف اکثریت، ریت میں منہ دھنسائے اپنی راہ لے گی؟ کیا غنڈا کلچر کے سامنے شرافت نے یوں ہی زندگی بسر کرنی ہے؟

۴- کیبل سروس کے ذریعے بیسیوں چینل ایک انگوٹھے کی ضرب سے تمام برے بھلے پروگراموں کے ذریعے ٹیلی ویژن اسکرین پر آموجود ہوتے ہیں۔ یہ امر بھی سامنے رہے کہ اکثر ٹیلی ویژن اور اخبارات نے منظم دبائو کے ساتھ پورے معاشرے کو فکری اور تہذیبی طور پر یرغمال بنالیا ہے۔ پریس کی آزادی کے تمام تر احترام اور ایک صحت مند معاشرے کے لیے اس کی کماحقہٗ ضرورت کا پاس و لحاظ رکھنے کے باوجود، یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا تہذیب اسی کو کہتے ہیں کہ اس سے وابستہ چند سو افراد، ۱۷ کروڑ افراد کو جس انداز سے چاہیں، ہانکتے چلے جائیں مگر یہ عظیم اکثریت ان سے سوال کربیٹھے تو ’آزادیِ صحافت‘ پر حملے کی دہائی دی جاتی ہے۔

کیبل سروس کے حوالے سے دو باتیں قابلِ غور ہیں: اوّل یہ کہ کیبل آپریٹر کون سے چینل فراہم کر رہا ہے اور دوم: یہ کہ خود کیبل کے ذریعے در آنے والے ٹیلی ویژن چینل کیا دکھا رہے ہیں؟ ان چینلوں پر نمایاں طور پر تین چیزیں توجہ طلب ہیں: اشتہارات، ڈرامے اور ٹاک شو___ اشتہارات کے سلسلے میں یہ بات توجہ طلب ہے کہ جب تک اشتہار لچرپن سے آلودہ نہیں ہوگا، وہ اپنا مدعا بیان نہیں کرسکے گا؟ خصوصاً کثیر قومی (multi national) کمپنیوں کے اشتہار، وہ کمپنیاں جو دنیا بھر سے مال ودولت جمع کرکے اپنی تجوریاں بھرنے نکل کھڑی ہوئی ہیں۔ ان کے نزدیک اصل چیز پیسہ ہے، وہ جس طرح اور جس قیمت پر بھی آئے۔ ان کے نزدیک صارف ممالک کی رعایا، ان کے سامنے بے بس اور ’بے وقوف شکار‘ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ ان کے ہاں   اخلاقی یا تہذیبی قدروں کا مسئلہ تو سرے سے خارج از بحث ہے۔

اب اہلِ وطن کو سوچنا ہے کہ ہم اپنا پیسہ دینے اور فنی سہولت حاصل کرنے کے ہمراہ، تہذیبی اور ایمانی سطح پر کیا لے رہے ہیں؟ ماہرین ابلاغیات کے نزدیک اشتہار ایک مختصر، مگر نہایت مؤثر ڈراما ہوتا ہے اور اس ڈرامے کے سب سے بڑے شکار بچے ہوتے ہیں اور پھر دوسرے درجے میں خواتین۔ ان اشتہاروں میں متعدد ایسے ہیں کہ جنھیں کوئی غیرت مند انسان ایک بار بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتا، مگر وہ بار بار دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دوسری جانب بچے ان کی گرفت میں مسحور ہوکر رہ جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا پورا معاشرہ ان عالمی ساہوکاروں کے سامنے محض ایک ایسا گونگا گاہک ہے، جو حمیت، دولت اور تہذیب کو ان کی چوکھٹ پہ قربان کرنے پر مجبور ہے!

ایک اور اہم چیز ٹی وی کے ڈرامے ہیں جن کا ہماری عمومی سماجی زندگی سے تو تعلق نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، مگر گلیمر، فیشن، بے ہودہ لباس، بے باکی اور بدیسی طرزِ زندگی کا ایک   چلتا پھرتا سرکس بن کر یہ ڈرامے انسانوں کو فتح کرنے اور اپنے رنگ میں رنگنے کا پیغام دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ ڈراما بہرحال مقامی ڈراما نویسوں اور مقامی پروڈیوسروں کے دماغ کی اختراع ہوتا ہے۔ اسی طرح دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کی معاشرت میں اس طبقے کا کیا حجم ہے کہ جہاں بیٹی چیخ اور چلّا کر اپنے ابّا اور امّی سے یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ: ’’زندگی میری ہے، جیسے چاہوں اسے بسر کروں‘‘۔ یا یہ جملہ کہے: ’’ٹھیک، شادی نہیں کرتے، مگر اچھے دوستوں کی طرح تو ہمیشہ ساتھ ساتھ رہیں گے‘‘۔ یہ دو جملے جس طرزِ زندگی اور طرزِ فکر کی نشان دہی کرتے ہوئے، نوجوان بچوں اور بچیوں کو اپنی تقلید کی طرف مائل کرتے ہیں، کیا وہ یہاں کے کروڑوں انسانوں کی زندگی کا چلن ہے یا ایک نہایت قلیل اباحیت پسند ٹولے کا ذہنی فتور؟ انھی ڈراموں میں غیرحقیقی امیرانہ شان و شوکت اور بے زاری و بے قراری کے طوفان___ کہاں ہے یہ پاکستانی معاشرے کی تصویر؟ مگر بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ’سفلی محبت‘ کے ان ریفریشر کورسوں کو درست سمت عطا کرنے کے لیے کتنے شرفا نکلتے، لکھتے یا اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہیں؟ شاید کوئی بھی نہیں۔

اسی طرح مباحث یا ’ٹاک شوز‘ میں اکثر توازن نہیں ہوتا۔ بعض اوقات کسی ایک ہی فکر کے لوگوں کی کثرت ہوتی ہے اور اکثر تو خود ’اینکرپرسن‘ کا رویہ نہایت تحکمانہ اور گاہے توہینِ آمیز ہوتا ہے، جب کہ بحث میں حصہ لینے والے حضرات اور گلی میں لڑتے جھگڑتے بچوں کے طرزِعمل میں کوئی بنیادی فرق نہیں نظر آتا۔ ظاہر ہے ٹیلی ویژن، استاد کی طرح بڑے پیمانے پر افکار کی تشکیل کرنے اور شائستگی یا ناشائستگی سکھانے کا کام انجام دے رہا ہے۔ مذکورہ صورت حال کسی صحت مند مستقبل کی طرف نہیں، بلکہ عدمِ برداشت کے کلچر کی طرف لے جانے کا کام کرتی ہے۔ کیا کوئی توانا اور باوقار آواز اس رویے کو درست کرنے کے لیے توجہ دلاتی نظر آتی ہے؟ شاید کوئی نہیں۔

۵- اگرچہ بدکاری ایک معاشرتی ناسور کی شکل میں موجود تھی، تاہم نومبر ۲۰۰۷ء میں  ’روشن خیال‘ جنرل مشرف کی زیرقیادت مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے حدود قوانین کا جو حلیہ بگاڑا ہے، اس نے اس گھنائونے جرم کی رفتار کو بہت تیز کردیا ہے۔ اس کاروبار کی حرکیات اور مظاہر پر تفصیلات بیان کرنے کی یہاں گنجایش نہیں، فقط ایک دوحوالوں سے معروضات پیش ہیں:

پہلی بات تو یہ کہ ’حدود قوانین‘ میں ترمیم ۲۰۰۷ء کے بعد عمومی سطح پر یہی تاثر عوام تک منتقل ہوا کہ: ’’اب بالرضا بدکاری، قابلِ دست اندازیِ پولیس نہیں رہی ہے۔ اور اس تاثر کو گہرا کرنے کے لیے روزنامہ جنگ، جیو ٹیلی ویژن اور خودساختہ ’علماے کرام‘ کی دو سال پر محیط جارحانہ، یک رُخی اور مسلسل مہم نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ اس قانون کی منظوری کے بعد لاری اڈوں، بازاروں، بعض ہوٹلوں اور کئی گیسٹ ہائوسوں تک میں بے باکی اور ’کاروباری فعالیت‘ کے مناظر ترقی پانے لگے۔ اس تاثراتی دبائو کے نتیجے میں خود پولیس دس قدم پیچھے ہٹی ہے، اور انسانیت کی تذلیل کے ایجنٹ بیس قدم آگے بڑھے ہیں۔

دوسری بات: اس ناسور کی جارحیت کا اندازہ اہلِ پاکستان کو اُس وقت ہوا جب جولائی ۲۰۰۹ء میں کراچی میں جنسی کنونشن منعقد ہوا۔ جس کی بہت سی تفصیلات بیان کرنا قرین مصلحت نہیں ہیں، بہرحال بی بی سی لندن نے ۲۲ جولائی ۲۰۰۹ء کو اس کنونشن کے بارے میں جو رپورٹ نشر کی، اس کے چند اقتباسات اُس کے نمایندے ارمان صابر کے حوالے سے پیش ہیں:’’جنسی کارکنوں کے کنونشن کی ایک ۲۸سالہ مندوب نے بتایا: اب معاشرے نے ہمارے وجود کا احساس کرلیا ہے، تاہم بدکاری ابھی تک اس مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں غیرقانونی دھندا ہے۔ اگرچہ اس کا   وجود تو صدیوں سے ہے، مگر کبھی اس کے لیے سپاس و اعتراف کا اظہار نہیں کیا گیا۔ ہرچند کہ  گذشتہ دوعشروں کے دوران میں، پاکستان میں اسلامیت میں اضافہ ہوا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ ہمارا یہ دھندا بھی ترقی پا رہا ہے۔ پہلے ہم چوری چھپے یہ کاروبار کرتے تھے، لیکن اس کنونشن نے ہمیں مل بیٹھنے، تبادلۂ خیال کرنے اور اپنے تجربات بیان کرنے کا موقع اور تقویت دی ہے۔ہمیں کشادہ روی کا احساس دیا ہے۔ اب ہم اپنے حقوق کے لیے بھی آواز اُٹھا سکیں گے‘‘۔

بی بی سی کے نمایندے کے بقول: این جی او، جینڈر اینڈ ری پروڈکٹیو ہیلتھ فورم (GRHF) نے یہ کنونشن اقوامِ متحدہ کے ادارے فنڈ فار پاپولیشن (UNFP) سے مل کر منعقد کیا ہے۔ ایک سو طوائفوں پر مشتمل اس کنونشن کے احوال بیان کرتے ہوئے نمایندے نے رپورٹ دی ہے:

کنونشن میں شریک پیشہ وروں میں سے بہت سی ایسی تھیں، جنھوں نے کیمرے کی تصویر بنانے سے روک دیا اور کہا: ’’ہمیں خوف ہے کہ اپنے اہلِ خاندان کے سامنے بے نقاب ہوجائیں گے‘‘۔ بہت سی کہہ رہی تھیں: ہمارے خاوند اور اہلِ خانہ نہیں جانتے کہ ہم اس کاروبار سے منسلک ہیں، وہ یہی جانتے ہیں کہ ہم نجی کمپنیوں میں ملازم ہیں‘‘۔ ایک مقامی این جی او کے سروے کے مطابق کراچی میں ایسی فاحشہ عورتوں کی تعداد ایک لاکھ ہے، لاہور میں ۷۵ ہزار اور فوجیوں کے شہر راولپنڈی میں ۲۵ ہزار‘‘۔

اسی رپورٹ کو انگریزی روزنامہ دی نیوز نے ۴؍اگست ۲۰۰۹ء کو ہوش ربا تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ یہی گروپ آیندہ لاہور اور دوسرے شہروں میں ’کنونشن‘ منعقد کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ اس کے پہلو بہ پہلو ایک این جی او ’عمل ہیومن ڈویلپمنٹ نیٹ ورک‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ: ’’ہم نے ۲۰۰۶ء میں ایسی ۹۱۸ شرکا کی، ملک بھر میں ’تربیت‘ کی تھی۔ اس    تربیتی پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوتا تھا‘‘۔

جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ یہاں بہت سی تفصیلات عمداً بیان نہیں کی جارہی، فقط چند سطور  نقل کی گئی ہیں۔ اس مناسبت سے چند امور توجہ طلب ہیں:

___ پہلا یہ کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حسی دیکھ کر نہ صرف اس جرم میں اضافہ ہورہا ہے، بلکہ اس جرم کو ایک ’کاروبار‘ اور ’کارکن‘ یا ’مزدوری‘ سے منسوب کرکے، ایک معمول کی چیز کا قرار دیا جا رہا ہے۔

___ دوسرا یہ کہ عالمی اداروں کی امداد پر چلنے والی این جی اوز معاشی اور سماجی استحصال سے پاک معاشرے کے قیام سے زیادہ دل چسپی اس امر میں رکھتی ہیں کہ جو خرابی موجود ہے، اسے جوں کا توں رہنے دیا جائے، تاہم کچھ آرایشی اقدامات کرکے سبک دوش ہوا جائے۔ انھیں اس چیز کی کوئی فکر نہیں کہ کسی ستھرے متبادل کاروبار کا بندوبست کیا جائے، بلکہ دل چسپی اس سے ہے کہ گندگی خوش نما نام سے برقرار رہے۔

___ تیسرا یہ کہ اپنے ہدف کی ایسی مبالغہ آمیز تصویر پیش کی جائے کہ عامۃ الناس    ذہنی شکست سے دوچار ہوجائیں۔ ایسے مبالغہ آمیز اعداد وشمار کی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں، تاہم اُوپر بیان کردہ رپورٹ کے اعداد و شمار کا ذرا تجزیہ کریں، مثلاً کراچی کی آبادی ایک کروڑ ۱۰لاکھ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں ہرعمر کی خواتین کی تعداد تقریباً ۵۵ لاکھ ہوگی۔ تو کیا مذکورہ رپورٹ جس میں کہا گیا ہے کہ ایک لاکھ عورتیں اس ’کاروبار‘ کا حصہ ہیں تو گویا وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ہر۱۰۰میں ۲عورتیں ایسی ہیں۔ کیا عقل اور مشاہدہ ان گھنائونے اعداد و شمار کی تائید کرتا ہے؟ بالکل یہی فی صد لاہور کے بارے میں پیش کیا گیا ہے اور اسی سے ملتی جلتی شرح راولپنڈی سے منسوب کی گئی ہے۔ یہ کون سی این جی اوز ہیں، اور ان کی ایسی مبالغہ آمیز تصویرکشی کے کیا مقاصد ہیں؟     یہ ثابت کرنا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک اخلاق باختہ اور اخلاقی و جنسی اعتبار سے گندا ملک ہے۔ یہ کہ یہاں اس صورت حال کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت بھی کرلیا گیا ہے اور ایسی مبالغہ آمیز صورت  کے سامنے اخلاقی اور دینی پہچان رکھنے والی قوتیں عملاً شکست کھاچکی ہیں۔

___ چوتھا یہ کہ بی بی سی کی رپورٹ نے ’ بے نقاب‘ ہونے سے بچنے کے لیے شرکا کی جس ’مجبوری‘ کی طرف اشارہ کیا ہے، اس نے توگویا محنت، دفتر اور ہُنر سے وابستہ دیگر خواتین کی ساکھ کو دائو پر لگا دینے کی کوشش کی ہے۔ شک، بے اعتمادی اور جرم کے اس منظرنامے کو پیش کرکے این جی او نے کارکن اور محنت کش خواتین کی پوزیشن خراب کی ہے۔

___ پانچواں یہ کہ ان لوگوں کو: ’’ایسے پروگراموں سے تقویت ملی ہے اور وہ معاشرے میں اپنی تمام آلایشوں کے باوجود ’’باقاعدہ حقوق کے امیدواربھی ہیں‘‘۔

ان افسوس ناک اور شرم ناک حالات میں اہلِ ایمان کا ردعمل کیا ہونا چاہیے؟

یہ سوال دنیا میں کامیابی اور آخرت میں جواب دہی دونوں اعتبار سے اہم ہے۔ تاریخ کا ناقابلِ فراموش سبق یہ ہے کہ برائی کو اگر برداشت کیا جائے تو وہ پنپتی اور بڑھتی ہے اور اگر نیکی کی قوتیں اس کا مقابلہ کریں تو بالآخر اسے پسپا ہونا پڑتا ہے۔ خاموشی اور بے غیرتی سے برائی کو گوارا کرنا اگر ایک طرف اخلاقی جرم ہے تو دوسری طرف تہذیبی بگاڑ اور اجتماعی تباہی کا ذریعہ اور    پیش خیمہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہرمسلمان اور بحیثیت مجموعی اُمت مسلمہ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دے کر بگاڑ کے غلبے کا راستہ بند کیا ہے۔ منکر کے مقابلے میں مداہنت محض بے غیرتی ہی کا رویہ نہیں بلکہ ایمان کے تقاضوں کے بھی منافی ہے۔ اللہ اور اللہ کے رسولؐ نے اپنی تعلیمات اور اسوئہ مبارکہ دونوں کے ذریعے اہلِ ایمان کو بدی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے سے روکا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ صرف انفرادی نیکی ان کو اجتماعی تباہی اور آخرت کی جواب دہی سے نہیں بچاسکتی۔

جس معاشرے میں خدا کی نافرمانی اور فحش کا رواج عام ہوجائے اس کے دن گنے جاتے ہیں اور اس معاشرے کے وہ افراد جو صرف اپنے دامن کو بدی سے بچانے پر قناعت کرلیتے ہیں اور بدی سے معاشرے کو پاک کرنے کی مناسب سعی و جہد نہیں کرتے وہ بھی اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ جن اصولوں کو بیان کیا گیا ہے، ان میں دو چیزیں بہت نمایاں ہیں: ایک یہ کہ برائی، بدی، فحش اور بداخلاقی، اخلاقی اور اجتماعی جرم ہیں اور ان سے بچنا   دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ دوسرے یہ کہ صرف خود بچنا کافی نہیں  بلکہ معاشرے کو ان سے پاک کرنا اور ان کے فروغ کے آگے بند باندھنا ایمان کا تقاضا اور   اجتماعی زندگی کو بگاڑ اور تباہی سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

  •  اے نبیؐ! ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام ___ خواہ کھلے ہوں یا چھپے ___  اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی ایسے کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمھیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے۔(الاعراف ۷: ۳۳)
  •  نیز ارشاد ربانی ہے کہ: جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں     فحش پھیلے، وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (النور ۲۴: ۱۹)___ فحش اور منکر شیطان کے حربے ہیں اور ان سے بچنا اور اللہ کے بندوں کو ان سے بچانا ہرمسلمان کی ذمہ داری ہے۔
  •  اے لوگو جو ایمان لائے ہو، شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ تو اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا۔ (النور ۲۴: ۲۱)
  •  پھر یہ صاف صاف انتباہ کہ اگر تم انفرادی نیکی پر قناعت کرو گے اور اجتماعی بگاڑ سے معاشرے کو پاک کرنے کی سعی و جہد نہ کرو گے تو اس تباہی سے نہ بچ سکو گے جو اس بگاڑ کا لازمی نتیجہ ہے۔ ارشاد ربانی ہے: اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسولؐ کی پکار پر لبیک کہو، جب کہ رسولؐ تمھیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمھیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جائو گے۔ اور بچو اُس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انھی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنھوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو۔ اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔(الانفال ۸: ۲۴-۲۵)

اس قاعدہ کلیے کو مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ تفہیم القرآن میں اسی آیت کی تشریح میں یوں بیان کرتے ہیں: ’’اس سے مراد وہ اجتماعی فتنے ہیں جو وباے عام کی طرح ایسی شامت لاتے ہیں جس میں صرف گناہ کرنے والے ہی گرفتار نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں جو  گناہ گار سوسائٹی میں رہنا گوارا کرتے رہے ہوں۔ مثال کے طور پر اس کو یوں سمجھیے کہ جب تک کسی شہر میں گندگیاں کہیں کہیں انفرادی طور پر چند مقامات پر رہتی ہیں، ان کا اثر محدود رہتا ہے اور ان سے وہ مخصوص افراد ہی متاثر ہوتے ہیں جنھوں نے اپنے جسم اور اپنے گھر کو گندگی سے آلودہ کر رکھا ہو۔ لیکن جب وہاں گندگی عام ہوجاتی ہے اور کوئی گروہ بھی سارے شہر میں ایسا نہیں ہوتا جو اس خرابی کو روکنے اور صفائی کا انتظام کرنے کی سعی کرے تو پھر ہوا اور زمین اور پانی ہر چیز میں سَمِیّت [زہریلاپن] پھیل جاتی ہے، اور اس کے نتیجے میں جو وبا آتی ہے اس کی لپیٹ میں گندگی پھیلانے والے اور گندہ رہنے والے اور گندے ماحول میں زندگی بسر کرنے والے سب ہی آجاتے ہیں۔ اسی طرح اخلاقی نجاستوں کا حال بھی ہے کہ اگر وہ انفرادی طور پر بعض افراد میں موجود رہیں اور صالح سوسائٹی کے رعب سے دبی رہیں تو ان کے نقصانات محدود رہتے ہیں۔ لیکن جب سوسائٹی کا  اجتماعی ضمیر کمزور ہوجاتا ہے، جب اخلاقی برائیوں کو دبا کر رکھنے کی طاقت اُس میں نہیں رہتی، جب اس کے درمیان بُرے اور بے حیا اور بداخلاق لوگ اپنے نفس کی گندگیوں کو علانیہ اُچھالنے اور پھیلانے لگتے ہیں، اور جب اچھے لوگ بے عملی (passive attitude) اختیار کر کے اپنی انفرادی اچھائی پر قانع اور اجتماعی برائیوں پر ساکت و صامت ہوجاتے ہیں، تو مجموعی طور پر پوری سوسائٹی کی شامت آجاتی ہے اور وہ فتنۂ عام برپا ہوتا ہے جس میں چنے کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔

پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا منشا یہ ہے کہ رسولؐ جس اصلاح و ہدایت کے کام کے لیے اُٹھا ہے، اور تمھیں جس خدمت میں ہاتھ بٹانے کے لیے بلا رہا ہے، اسی میں درحقیقت شخصی و اجتماعی دونوں حیثیتوں سے تمھارے لیے زندگی ہے۔ اگر اس میں سچے دل سے مخلصانہ حصہ نہ لو گے اور ان برائیوں کو جو سوسائٹی میں پھیلی ہوئی ہیں برداشت کرتے رہو گے، تو وہ فتنۂ عام برپا ہوگا جس کی آفت سب کو لپیٹ میں لے لے گی، خواہ بہت سے افراد تمھارے درمیان ایسے موجود ہوں جو عملاً برائی کرنے اور برائی پھیلانے کے ذمہ دار نہ ہوں، بلکہ اپنی ذاتی زندگی میں بھلائی ہی لیے ہوئے ہوں‘‘۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، ص ۱۳۸-۱۳۹)

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اصولی ہدایت کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ: اللہ عزوجل خاص لوگوں کے جرائم پر عام لوگوں کو سزا نہیں دیتا جب تک عامۃ الناس کی یہ حالت نہ ہوجائے کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے بُرے کام ہوتے دیکھیں اور وہ ان کاموں کے خلاف اظہارِ ناراضی کرنے پر قادر ہوں اور پھر کوئی اظہارِ ناراضی نہ کریں۔ پس جب لوگوں کا یہ حال ہوجاتا ہے تو اللہ خاص و عام سب کو عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ (مسنداحمد، ۴؍۱۹۲، مشکوٰۃ المصابیح)

  •  اندریں حالات اس امر کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گونگی شرافت، اپاہج نیکی اور جمود زدہ حیا کے لشکری اس سیلابِ بلا کو نہیں روک سکتے بلکہ اس مقصد کے لیے شرافت، نیکی اور حیا کی قوتوں کو منظم، فعال اور گروہی سطح سے بلند ہوکر چلنا پڑے گا۔۱؎
  •  یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ بے حیائی کا تعلق اس وطن سے نہیں ہے۔ یہاں کے شہریوں کو بے حیائی کے مقابلے میں اجنبی بن کر رہنے کے بجاے، اس لعنت کے تمام ماڈلوں (مقامی، بھارتی، مغربی) کو دیس سے نکالنا ہوگا۔ اس جدوجہد کے لیے بنیادی ضرورت یہ ہے کہ پہلے ایمان اور شعور کا جذبہ بیدار اور قوی کیا جائے، پھر تنظیم اور دلیل کی قوت سے یہ مسئلہ حل کرنے کی تدبیر کی جائے۔
  •  حدود قوانین اور شعائر دینی کے مخالف چند سو افراد منظم ہوکر اور پورے پاکستانی معاشرے کو یرغمال بناکر من مانے فیصلے کرا سکتے ہیں، تو کیا یہاں کی عظیم اکثریت ایمانی اورجمہوری بنیاد پر اس اقلیت کی ایسی پیش رفت کا مداوا نہیں کر سکتی؟

۱- سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ ریاست پاکستان نے ٹریفک کے کیا اصول وضع کیے ہیں؟ کیا ان قوانین کے تحت سڑک پر دوڑتی گاڑیوں میں ریکارڈنگ اور فلم بینی کی گنجایش موجود ہے؟ اگر قوانین میں سقم ہے تو اسے بدلوانے کے لیے کاوش کرنا ہوگی اور اگر پابندی ہے تو انھی قوانین کی بنیاد پر ٹریفک پولیس، ہائی وے پولیس، موٹروے پولیس وغیرہ کو فون کر کے مسلسل اطلاع دینا ہوگی۔ اس شعور کی بیداری کے لیے قوانین اور ٹیلی فون نمبروں پر مشتمل پمفلٹ اڈوں پر تقسیم کرنے ہوں گے۔ جب بھی گاڑی میں بیٹھیں، گاڑی کا نمبر نوٹ کر کے بیٹھیں اور اگر ایسی بے راہ روی ہو تو فون کر کے پولیس کو اطلاع کریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ انتہائی نرمی سے ڈرائیور یا کنڈکٹر سے کہیں کہ آپ کی مہربانی ہوگی، یہ نہ چلائیں۔ ڈرائیور الجھنا چاہے تو الجھنے سے اجتناب کریں۔ ممکن ہو تو اکیلے بات کرنے کے بجاے کسی اور سواری کو بھی ساتھ لے لیں۔ ممکن ہے آپ کی فوری طور پر یہ کاوشیں کامیاب نہ ہوں، لیکن اس کے باوجود اس کوشش کا اثر ضرور ہوگا۔

۲- دکانوں پر عورتوں کی ڈمیاں رکھنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے: اگر دکان دار رشتہ دار ہیں تو سمجھائیں، اگر محلے دار ہیں تو جاکر توجہ دلائیں، اگر بازار میں ہیں تو کچھ شہریوں پر مشتمل، کسی بھی نام کی انجمن کی شکل میں، اکٹھے جاکر متوجہ کریں۔ اگر گاہک ہیں تو سودا لیتے وقت یا سودا لینے کے بعد مالکِ دکان سے کہیے۔ اگر اس کام کو تسلسل کے ساتھ بار بار لوگ کریں گے تو لازماً اس کا مثبت نتیجہ نکلے گا۔ اگر استاد ہیں تو اپنے طلبہ و طالبات کے ذہن نشین کرائیں کہ اس خرابی کو پروان چڑھتے یوں ہی دیکھتے رہے تو یہ بت فروش اور بت پرست معاشرہ بن کر رہ جائے گا۔

۳-بس اسٹاپوں پر جو لوگ خواتین کو اس طرح تنگ کریں، انھیں سمجھانے کے لیے آگے بڑھیں۔ اگر جذبات پر کنٹرول رکھ کر متوجہ کریں گے تو یقینا جھگڑا نہیں ہوگا۔ اگر آگے بڑھ کر روک نہیں سکتے تو کم از کم ان کی گاڑیوں کے نمبر نوٹ کرکے پولیس کو ۱۵ پر اطلاع کریں۔

۴- کیبل والوں سے جاکر اجتماعی طور پر بات کی جاسکتی ہے کہ کن چینلوں کو آگے نہ بھیجیں۔ اسی طرح ٹیلی ویژن کے مالکان یا ان کے علاقائی دفاتر کولگاتار فون کرکے، وفود کی  صورت میں مل کر اور میمورنڈم بناکر بھی متوجہ کیا جاسکتا ہے کہ کون سے اشتہار قابلِ اعتراض ہیں۔ مخربِ اخلاق پروگرام کون سے ہیں اور کون سے ٹاک شو دینی، تہذیبی اور قومی حوالے سے غلط پیغام پہنچا رہے ہیں۔ پھر مختلف کمپنیوں سے کہا جاسکتا ہے کہ آپ کے یہ اشتہار اور مخرب اخلاق ماڈلوں پر مشتمل بڑے بڑے ہورڈنگ ہماری معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ تاجر لوگ آپ کے ایسے چند سو ٹیلی فونوں کی بنیاد پر اپنی اشتہاری مہم کو تبدیل کردیںگے۔ پھر اشتہار بنانے والی کمپنیوں سے مرد حضرات، خواتین کے وفود اور طالب علموں کی ٹیمیں جاکر ملیں، دلیل سے بات سمجھائیں تو یقینا اس کا اثر ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ٹیلی ویژن چینلوں کے پتے، افراد کے رابطہ نمبر، کثیر قومی کمپنیوں کے دفاتر اور ڈائرکٹروں، ڈراما نویسوں اور پروڈیوسروں کے رابطہ نمبر اور اشتہارساز کمپنیوں کے پتے، پمفلٹوں کی صورت میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔

۵- بے راہ روی کے اڈوں یا کرداروں کے بارے میں بھی یہی حکمت عملی مناسب رہے گی کہ اہلِ محلہ اس بارے میں مشترکہ کاوش کریں، پہلے سمجھائیں ورنہ انتظامیہ کو اطلاع دیں۔ یہی رویہ بازاروں میں اپنانا چاہیے۔

نہایت اہم بات یہ ہے کہ یہ ساری جدوجہد، آئین، قانون اور اخلاقی دائرے کے اندر رہتے ہوئے مگر زوردار اور دبنگ انداز میں ہونی چاہیے۔اگر قانون کو ہاتھ میں لیں گے تو نتائج ضائع ہوسکتے ہیں۔ اس سمت میں پیش رفت کے لیے لازم ہے کہ تشدد کا راستہ ہرگز نہ اپنایا جائے اور بے جا اشتہاربازی سے اجتناب کیا جائے۔ تحقیق و تجزیے اور ضروری معلومات کی فراہمی کے لیے انتظامی دفاتر، اور وکلا سے مدد لی جاسکتی ہے، جب کہ استدلال کے لیے اجتماعی بحث و تمحیص مددگار ہوسکتی ہے۔ ان پانچوں نکات کے بارے میں تمام مکاتبِ فکر کے علما کو اعتماد میں لیا جائے، اساتذہ کو متوجہ کیا جائے، اپنے اپنے محلے، قصبے یا گلی میں درسِ قرآن (مردوں اور عورتوں) کے حلقوں میں شعوری طور پر خیر پھیلانے کی جانب راغب کیا جائے۔ اس کام کو گروہی اور سیاسی مفادات سے بالاتر رہتے ہوئے، تمام شہریوں کی مدد سے آگے بڑھایا جائے۔

بلاشبہہ معاشرے کی اصلاح اور اسے اخلاق سے عاری رویوں اور حرکات سے پاک رکھنا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولیں ذمہ داری ہے، لیکن اجتماعی زندگی کی اصلاح کے تمام کام صرف حکومت اور انتظامیہ پر نہیں چھوڑے جاسکتے۔ جس طرح کہ گھر کو آگ لگ جائے تو فائربریگیڈ کی آمد سے پہلے آگ بجھانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور سیلاب آجائے تو انتظامیہ کی مدد آنے سے پہلے جان و مال کو بچانے کے لیے کاوشیں کی جاتی ہیں، بالکل اسی طرح ایمان، اخلاق، تہذیب اور خاندان کے ادارے کو بچانے کے لیے ہرشہری کو اپنا فرض ادا کرنا ہے۔ معاشرے کے سنجیدہ طبقوں کو بھی قانون اور شائستگی کے دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اپنے جس فرض کو انتظامیہ پورا نہ کر رہی ہو، اس کی تکمیل کے لیے امداد باہمی سے منزل سر کی جاسکتی ہے۔

 

وطنِ عزیزاسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین پاکستان کے تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ یہاں بسنے والی اقلیتیں اکثریتی آبادی کے ساتھ نہ صرف ہم آہنگ ہیں بلکہ جہاں تک سب سے بڑی اقلیت مسیحی برادری کا تعلق ہے، وہ معاشرتی اور اقتصادی لحاظ سے اکثریت کے ساتھ مشترکہ مفادات کی حامل ہے۔ دونوں آبادیوں کے درمیان فرقہ وارانہ منافرت  کی فضا، اللہ کے فضل سے، کہیں نہیں پائی جاتی۔ بعض اوقات کچھ واقعات ایسے رونما ہوجاتے ہیں کہ جس کا بروقت سدّباب اور تدارک نہ کیا جائے تو وہ شعلۂ جوالہ بن جاتے ہیں۔ یہ واقعات اتفاقی بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے اندر کسی سوچی سمجھی سازش کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔

۳۰ جولائی ۲۰۰۹ء کو گوجرہ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک ناخوش گوار واقعہ رونما ہوا،جو مسیحیوں کے خلاف مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کا سبب بنا۔ پھر اسی ہفتے میں ۴؍ اگست کو مریدکے ضلع شیخوپورہ میں ایک اوردرد ناک سانحہ رونما ہوا، جس میں ہنگامہ کرنے والے بھی مسلمان تھے اور اس  ہنگامے کی نذر ہونے والے بھی مسلمان۔ دونوں واقعات کی نوعیت الگ الگ بھی ہے اور ایک لحاظ سے یکساں بھی۔ گوجرہ کے واقعے میں، روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق، چک نمبر ۹۵جے بی میں عیسائیوں کی بستی میں شادی کی کسی تقریب میں طالب مسیح کے بیٹے عدنان مسیح نے کرنسی نوٹوں کے ساتھ قرآنی آیات پر مشتمل اوراق مقدسہ کو بھی ہوا میں اُچھالا۔ یہ مبینہ واقعہ کتابِ مقدس کی بے حرمتی کے مترادف تھا۔ جوں ہی بے حرمتی کی یہ خبر بستی اور اس کے گردونواح کے دیہاتوں میں پہنچی تو لوگ مشتعل ہوگئے۔ اس دوران میں عیسائی آبادی سے لوگ گھر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ مشتعل ہجوم نے کچھ خالی گھروں کو آگ لگائی مگر کوئی جانی نقصان اس میں نہیں ہوا۔ اس موقع پربڑے بزرگوںاور اصحاب الراے کا ایک جرگہ فوراً میدان میں آیا اور انھوں نے بڑی حکمت و دانش سے ایک جانب احتجاجی ہجوم کو کنٹرول کیا اور دوسری جانب متعلقہ عیسائی افرادسے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے پر مسلمانوں سے معذرت بھی کریں اور آیندہ ایسا جرم نہ کرنے کی یقین دہانی کرائیں، مگر مذکورہ افراد طالب مسیح اور اس کے دیگر ساتھیوں مختار مسیح اور عمران مسیح نے اس واقعے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے معذرت کرنے سے صاف انکار کردیا۔ اس پر اشتعال اور پھیل گیا مگر ڈان ہی کی رپورٹ کے مطابق ڈی پی او انکسار خان، مقامی ایم پی اے بلال اصغر وڑائچ اور ایک مقامی عالمِ دین  مولانا نور احمد نے مشتعل ہجوم سے درخواست کی کہ وہ منتشر ہوجائیں۔ لوگوں نے اس موقع پر کہا کہ: ’’اگر ملزمان گرفتار کر لیے جائیں تو وہ منتشر ہوجائیں گے‘‘۔ ان ذمہ داران نے اس کا وعدہ کیا۔

لوگ تو منتشر ہوگئے مگر تعجب ہے کہ حکومت اور انتظامیہ نے اس معاملے میں نااہلی کا ثبوت دیا اور کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے روز جمعہ کی نماز کے بعد مختلف مساجد سے احتجاجی مظاہروں کے شرکا مین روڈ پر آئے، انھوں نے روڈ بلاک کی اور جب عیسائیوں کی بستی کی طرف بڑھنے لگے تو وہاں سے فائرنگ کی گئی۔ فائر کرنے والے کون تھے، یہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا۔ عینی شاہدین اور علاقے کے سنجیدہ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سات آٹھ نقاب پوش تھے، جن کے پاس کوئی ایسا آتش گیر مادہ تھا کہ وہ پہلے یہ مواد پھینکتے، پھر آگ لگاتے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ آگ گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ مقامی لوگوں کے مطابق جس طرح بے نظیربھٹو کے قتل پر جگہ جگہ خاص ٹیکنیک سے فوری آگ لگائی گئی تھی اور پھر جس طرح گذشتہ سال کراچی میں وکلا کو ان کے چیمبر میں جلایا گیا تھا، بالکل ایسا ہی انداز اس واردات میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔ پڑوسی ملک کے بارے میں ہمارے حکمران بار بار یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کے ایجنٹ ہمارے ملک میں دخل اندازی کررہے ہیں۔ ممکن ہے یہ انھی کا کارنامہ ہو۔ عیسائی آبادی کے اکثر و بیش تر گھر تو خالی تھے لیکن جن گھروں میں لوگ موجود تھے وہ نکلنے میں کامیاب نہ ہوسکے کیونکہ آتش گیر مادہ ایسا سریع شعلہ انگیز تھا کہ اس نے فوراً ہی ہر چیز کو بھسم کر کے رکھ دیا۔

اس دوران میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ مرکزی اور صوبائی وزرا دوست محمد کھوسہ،    خلیل طاہر سندھو، کامران مائیکل، شہباز بھٹی اور این جی اوز کے کئی نمایندگان یہاں کے چکر لگاتے رہے مگر جرگے کے فیصلے کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کی طرف کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ اگر ان لوگوں کو حراست میں لے لیا جاتا تو ایک جانب بہت سی قیمتی جانیں بچ جاتیں اور دوسری جانب مشتعل لوگوں کے جذبات بھی ٹھنڈے ہوجاتے اور قانونی و عدالتی کارروائی سے سب کا اطمینان ہوجاتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ مرکزی وزیر اور عیسائیوں کے نمایندے شہباز بھٹی صاحب نے این جی اوز کی معیت میں اس واقعے کو بنیاد بنا کر تحفظ ناموس رسالت ایکٹ (۲۹۵سی) کے خلاف فضا پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور شہباز بھٹی نے اپنے اخباری بیانات میں کہا کہ قرآن پاک کی تو سرے سے کوئی توہین ہی نہیں ہوئی۔ ان غیر ذمہ دارانہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم بھی بعد از خرابیِ بسیار یہاں آئے۔ ان پر عالمی عیسائی تنظیموں اور این جی اوز نے بے انتہا دبائو ڈالا۔ یہاں آکراصحابِ اقتدار نے متاثرین کے لیے معاوضہ جات کا اعلان کیا مگر یہ مسائل کا حل، نہ کل تھا نہ آج ہے۔ اصل میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عمل داری ہی سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

جہاں تک دفعہ ۲۹۵سی ، کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ توہینِ رسالتؐ کا یہ ایکٹ جہاں ایک جانب مقدس ہستیوں اور الہامی کتب و مقدسات کے تقدس کے لیے ضروری ہے، وہیں اس کے نتیجے میں لوگوں کی جان و مال کو بھی تحفظ ملتا ہے۔ اسی تناظر میں ایک مرکزی وزیر (براے حقوق انسانی) میاں ممتاز عالم گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت توہینؐ رسالت قانون میں ترمیم کرنا چاہتی ہے۔      یہ بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز ہے۔ وزیر موصوف کا مبلغ علم یہ ہے کہ انھوں نے  پانچ الہامی کتابوں پر ایمان لانے کا فتویٰ صادر کیا۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے مذہبی ہم آہنگی کے نام پر دفعہ ۲۹۵ سی کو تبدیل کرنے کا اعلان ہے۔ واضح رہے کہ یہ دفعہ تمام انبیاے کرام اور جملہ الہامی کتابوں کو تقدس فراہم کرتی ہے اور ہرگز مذہبی ہم آہنگی میں کسی قسم کی رکاوٹ اور رخنے کا باعث نہیں ہے۔

گوجرہ کا یہ سانحہ تو دو مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان تھا، جس پر این جی اوز اور   سیکولر حلقے اپنی پرانی رٹ لگا رہے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے لیکن مرید کے کا واقعہ تو اکثریت و اقلیت اور مسلم مسیحی آبادی کا معاملہ نہیں۔ لا قانونیت کے اس واقعے میں تو ایک نیک اور پرہیز گار مسلمان شیخ نجیب ظفر اور اس کی فیکٹری میں کام کرنے والا ایک غریب مسلمان مزدور مزمل شاہ بے ہنگم ہجوم کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے۔ اس واقعے کے پیچھے چند شر پسند عناصر کا ہاتھ ہے۔ شیخ نجیب ظفر مریدکے، کے قریب کٹھیالہ ورکاں میں ایسٹ لیدر فیکٹری کے نام سے چمڑے کا کارخانہ چلا رہے تھے، اپنے کاروباری حریفوں، فیکٹری کے ایک شرپسند ملازم کی شرارت اور بعض مذہبی جہلا کی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں اس حادثے کا شکار ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق قاسم مغل نامی ملازم ورکرز یونین کا نمایندہ بن کر ملازمین کے معاوضوں میں اضافے اور خود اپنے مفادات کے لیے مہمات چلاتا رہتا تھا۔ اسے کارخانے کے مالک سے پرانی عداوت بھی تھی۔ اسی نے شیخ نجیب ظفر سے ملاقات کی اور وہاں سے باہر نکلتے ہی شور مچا دیا کہ کارخانہ دار شیخ نجیب ظفر نے کیلنڈر پر لکھی ہوئی آیاتِ قرآنی کی بے حرمتی کی ہے۔ موبائل فون کے علاوہ بستی کی مساجد میں جاکر بھی یہ اعلان کر وایا گیا اور غیر ذمہ دار مؤذنین اور آئمۂ مساجد نے بلاتحقیق یہ اعلانات کر دیے۔ شیخ نجیب ظفر کے جاننے والے تمام لوگ گواہی دیتے ہیں کہ وہ   انتہائی نیک، مخیر اور متقی انسان تھا۔ اس کے خلاف شرپسندوں نے بے ہنگم ہجوم اکٹھا کیا اور فیکٹری پر    ہلہ بول دیا۔ سیکورٹی گارڈ نے جب انھیں روکنا چاہا تو ہجوم نے فائرنگ شروع کردی۔ ایک  سکیورٹی گارڈ مزمل شاہ اور فیکٹری کا مالک نجیب ظفر فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے۔   پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نجیب ظفر کے جسم میں دو گولیاں پیوست ہوئی تھیں۔

پاکستان میں اس طرح کے دل دوز واقعات کئی بار وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ ہمیں اچھی طرح سے یاد ہے کہ ۲۱؍ اپریل ۱۹۹۴ء کو گوجرانوالہ میں جماعت اسلامی کے بزرگ رکن     مستری حبیب اللہ مرحوم کے ۳۶ سالہ حافظ قرآن بیٹے سجاد فاروق کو کھیالی میں شرپسندوں نے ایک ہجوم کی صورت میں حملہ کرکے شہید کر دیا تھا۔ وہ حافظِ قرآن بھی تھے اور جامعہ عربیہ گوجرانوالہ سے  فارغ التحصیل ہونے کے علاوہ ہومیو پیتھک ڈاکٹر بھی تھے۔ نہایت نیک طینت اور ہمدرد، ہر وقت باوضو، پانچ وقت کے نمازی ،فارغ اوقات میں تلاوت قرآن میں ہمہ تن مصروف، کلینک پر آنے والے غربا کو مفت دوا دینا اور اپنے محلے میں غلط کاروں پر نظر رکھنا، ان کی صفات تھیں۔ علاقے کے کچھ شرپسند لوگوں نے ان پر الزام لگایاکہ انھوں نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی ہے۔ اس    صالح نوجوان کی خوبیوں کا تفصیلی تذکرہ اس کی شہادت پر کئی کالم نگاروں نے کیا۔ ہفت روزہ زندگی لاہور کی اشاعت ۳۰؍اپریل ۱۹۹۴ء میں ابو شیراز نے خود گوجرانوالہ میں اہلِ محلہ کی   کثیر تعداد سے انٹرویو کرنے کے بعد جو مضمون لکھا، اس میں مرحوم کی زندگی ایک مثالی مسلمان اور سچے عاشقِ رسولؐ کی خوب صورت تصویر پیش کرتی ہے۔ فسادیوں کے حملے کے وقت حافظ سجاد  سورۃ یٰسٓ کی تلاوت کر رہا تھا۔ ان واقعات کو بنیاد بنا کر دفعہ ۲۹۵ سی کے خلاف فضا بنانا شرپسندی اور اسلام دشمنی کے سوا کچھ نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے پرانے سانحات ہوں یا گوجرہ اور مریدکے میں ہونے والے تازہ واقعات، سبھی لا قانونیت کی بد ترین مثالیں ہیں۔ قانون ہاتھ میں لے کر اور عوامی ہجوم کے بل پر انصاف(Mob Justice) کا کوئی تصور اسلام میں ہے، نہ پاکستان کی دستوری و قانونی دستاویزات کے اندر اس کی کوئی گنجایش ہے۔ مریدکے میں تو شر انگیزوں کے ہاتھوں سب کچھ بلااشتعال ہوا ہے، جب کہ گوجرہ میں آتش زنی اور قتلِ انسانی کا بہت بڑا اور قابلِ مذمت جرم ہونے کے باوجود اس میں اشتعال کا ایک سبب موجود تھا، جس سے نکلنے کا راستہ جرگے نے متعین کیا تھا مگر حکومت اور انتظامیہ اپنے فرائض ادا کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔

بعد از خرابیِ بسیار حکومت پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ سے عدالتی تحقیقات کی درخواست کی تو ہائیکورٹ نے سیشن جج مقبول احمد باجوہ کو سانحۂ گوجرہ کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی۔ گوجرہ کے واقعے کی پوری اور تفصیلی تحقیق ہونی چاہیے۔ جن لوگوں کا جو جو جرم ہے، اس کا تعین اور اس جرم کے مطابق ملزموں کو عدالتی سزا ملنی چاہیے۔ جہاں تک مریدکے، کے سانحے کا تعلق ہے، اس میں ملزمان کی کافی حد تک نشان دہی ہوچکی ہے۔ شیخوپورہ کے ڈی پی او، رائے طاہر حسین نے وقوعہ کے روز ہی اخباری نمایندوں کو بتایا کہ ۲۴افراد موقع پر گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق اصل سرغنہ قاسم مغل کے علاوہ گائوں کی مسجد کا امام مولوی شبیر بھی اشتعال انگیزی کا سبب بنا۔ اسی طرح روزنامہ ڈان نے ۵؍ اگست کی اشاعت میں یہ رپورٹ بھی شائع کی ہے کہ وقوعہ سے دو ہفتے قبل  شیخ نجیب ظفر کے کچھ شراکت کاروں کا بھی اس سے ایک کاروباری تنازعہ ہوا تھا۔ واقعے میں ان کے ملوث ہونے کا شبہہ بھی کیا جارہا ہے۔ عدالتی ذرائع سے اس کی تحقیق بھی ہونی چاہیے اور جو لوگ موقع سے پکڑے گئے ہیں، ان کو بھی مکمل تفتیش کے بعد دہرے قتل کے اس جرم میں قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔

اس طرح کے واقعات ملک کی سا لمیت اور عوام کی جان و مال کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ ان کا سدِباب بہت ضروری ہے۔ اس ضمن میں چند اقدامات ناگزیر ہیں: (۱)مقدس شخصیات اور مذہبی مقدسات کے خلاف ہرقسم کی توہین آمیز حرکات کو قانون کے مطابق کچلنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی غیر ملکی ایجنٹوں کا قلع قمع اور اسلام دشمن این جی اوز کو بھی ان کی حدود میں پابند کرنا ضروری ہے۔ (۲) اشتعال انگیزی اور لاقانونیت کا پرچار اور جرم کا اقدام کرنے والے عناصر سے بھی سختی سے نمٹنا اور قانون کے مطابق ان کو سزائیں دینا، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔ (۳) سب سے اہم بات یہ ہے کہ انتظامیہ اپنی فرض شناسی کا اہتمام کرے اور اداے فرض میں سستی اور کوتاہی کرنے والے افسران کو ہر گز معاف نہ کیا جائے۔(۴) قانون  نافذ کرنے والے ادارے اور امن و امان کی ذمہ دار پولیس فورس کو محض حکمرانوں کی خدمت اور  ان کے مخالفین کی تادیب کے بجاے اپنے فرائض ادا کرنے کا پابند بنایا جائے۔ (۵) وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وفاقی وزیر کے اُس بیان کی سرکاری سطح پر تردید کی جائے جس میں ۲۹۵ سی کو تبدیل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون جہاں توہینِ رسالتؐ جیسے سنگین اقدامات کی روک تھام کا ذریعہ ہے، وہاں مقدس ہستیوں کے تقدس اور احترام کو ممکن بناتا ہے،   نیز لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کا بھی ذریعہ ہے۔ مسئلے کی حساسیت اور نزاکت کے پیش نظر اسے مؤثر بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ مغربی دبائو کے تحت اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔

 

ایف اے کے نتائج کا اعلان ہوا تو اسراء ضیاء فرحات نے پورے ملک میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مبارک باد دینے والوں اور ذرائع ابلاغ کے نمایندوں کا تانتا بندھ گیا۔ صحافی نے مصری لہجے میں پوچھا: باباک فین؟ آپ کے بابا کہاں ہیں؟ جواب کے بجاے دو آنسو اُبھرے اور پلکوں پر ٹک گئے۔ اسراء نے فوراً ہی خود کو سنبھال لیا اور کہا: میرے بابا معروف سرجن، ڈاکٹر ضیاء فرحات گذشتہ اڑھائی سال سے بلاوجہ گرفتار ہیں۔ وہ علاقے کی انتہائی نیک نام اور ہر دلعزیز شخصیت ہیں۔ ان کا گناہ صرف یہ ہے کہ وہ اخوان المسلمون کے رکن ہیں۔ اخوان کا نام سنتے ہی انٹرویو لینے والا بھی گھبرا گیا۔ اِدھر اُدھر کی ایک آدھ بات کے بعد انٹرویو ختم ہوگیا لیکن ساری دنیا کو معلوم ہوگیا کہ پورے مصر میںاول آنے والی اسراء کے والد   بے گناہی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

سب اس بات پر حیران تھے کہ والد گرفتار تھے، پورا گھرانا بحران و اذیت کا شکار تھا، اس ماحول میں اسراء نے اتنی نمایاں کامیابی کیسے حاصل کرلی؟ اسراء نے ان کی حیرت کا جواب دیتے ہوئے کہا: بابا گرفتار ہوئے تو سب اہلِ خانہ کا پریشان، اداس اور مضطرب ہونا فطری امر تھا، لیکن ہم نے خود کو دکھ اور صدمے کی نذر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم سب کے لیے اصل تشفی یہ تھی کہ ہمارے بابا کا صرف اور صرف گناہ ان کی اسلامی تحریک سے وابستگی ہے۔ امتحانات کا مرحلہ آیا تو میں نے سوچا کہ میں اپنے بابا کو کوئی ایسا تحفہ ارسال کروں گی جو شاید آج تک کسی قیدی کو نہ ملا ہو۔ میں نے خاموشی سے ایک فیصلہ کیا اور الحمدللہ آج میں اپنی کامیابی کا تحفہ اپنے قیدی بابا کو پیش کر رہی ہوں۔ اسراء نے مزید بتایا کہ میرے بابا کی یہ چوتھی گرفتاری ہے جو ۱۷ جنوری ۲۰۰۷ء سے شروع ہوئی۔ انھیں اس سے پہلے ۱۹۹۵ء تا۲۰۰۵ء اور ۲۰۰۶ء میں بھی گرفتار کیا جاچکاہے کیونکہ وہ اپنے مریضوں کا جسمانی ہی نہیں فکری، نظریاتی اور روحانی علاج بھی کرتے ہیں۔ وہ زمانۂ طالب علمی ہی سے  اسلامی تحریک سے وابستہ ہیں اور میڈیکل کالج یونین کے صدر بھی منتخب ہوچکے ہیں۔

ایک اسراء ہی کا گھر نہیں، اس وقت مصر کے تقریباً ساڑھے چار سو گھرانے اپنے اپنے پیاروں کی گرفتاری کا دکھ سہہ رہے ہیں۔ اخوان المسلمون کی تشکیل کے بعد سے لے کر اب تک شاید ہی کوئی وقت ایسا ہو کہ اخوان کے سیکڑوں کارکنان و ذمہ داران پسِ دیوار زنداں نہ ہوں۔ ایک وقت میں تو یہ تعداد اڑھائی ہزار تک جا پہنچی تھی۔ شاہ فاروق کا زمانہ تھا تو مرشد عام امام حسن البنا کو شہید کردیا گیا۔ ۱۹۵۲ء میں فوجی انقلاب کے بعد جنرل جمال عبدالناصر کا زمانہ آیا تو مفسرقرآن سیدقطب سمیت سیکڑوں افراد کو شہید اور ہزاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔۲۹ستمبر ۱۹۷۰ء کو دنیا سے اُٹھ جانے سے جمال کا اقتدار ختم ہوا تو ایک اور فوجی ڈکٹیٹر انورالسادات کا عہدِ سیاہ شروع ہوگیا۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدے سمیت کئی قومی خیانتوں اور بے گناہوں کو عذاب و اذیت سے دوچار کرنے کا بوجھ لادے، ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۸۱ء کو سادات قتل ہوا تو قتل کے وقت اس کے پہلو میں بیٹھا تیسرا فوجی ڈکٹیٹر قوم کی گردن پر سوار ہوگیا۔ وہ دن اور آج کا دن، مصر سے حسنی مبارک کی عائدکردہ ایمرجنسی بھی ختم نہیں ہوئی۔ اس ۲۸ سالہ ’عہدنامبارک‘ میں بھی اخوان کے ذمہ داران و کارکنان کو  جبر کے کولہو میں مسلسل کچلا جا رہا ہے۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ مصر کے کسی نہ کسی شہر میں چھاپے مار کر درجنوں افراد کی آزادی سلب نہ کی جاتی ہو۔

اڑھائی سال قبل اسراء کے والد سمیت ۲۵ معزز افراد گرفتار ہوئے۔ تقریباً سب کے سب گرفتارشدگان انجینیرہیں یا ڈاکٹر۔ ان میں سے نمایاں ترین ہستی اخوان کے نائب مرشدعام انجینیر خیرت الشاطر ہیں۔ سب پر ایک نام نہاد عسکری عدالت میں مقدمہ چلا گیا اور سب کو ۱۰ سے ۳سال تک گرفتاری کی سزائیں سنا دی گئیں۔ انجینیر خیرت کو سات سال، جب کہ متعدد ضعیف افراد کو ۱۰سال قید کا پروانہ عطا کیا گیا۔ اسراء کے والد ڈاکٹر ضیاء کو تین سال کی سزا سنائی گئی۔ اس بار عمومی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ مزید ظلم یہ ڈھایا جارہا ہے کہ اخوان سے تعلق رکھنے والے نسبتاً متمول افراد کے کاروباری اثاثہ جات، تجارتی کمپنیاں اور ذاتی مال و متاع بھی ضبط کیا جا رہا ہے۔ ملک کی درجنوں بڑی اور اہم کمپنیاں اس ’جرم‘ میں بند کردی گئی ہیں کہ یہاں سے اخوان کو مالی امداد فراہم کی جارہی تھی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس خطرناک جماعت کے تمام مالی سوتے خشک کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ واضح رہے کہ دینی جماعتوں کے مالیاتی سوتے خشک کرنا، امریکا کی عالمی جنگ کا اہم ترین جزو ہے۔

ابھی ان معزز افراد کی سزائوں اور ان کے اثاثہ جات ضبط کرنے پر ہی احتجاج ہو رہا تھا کہ ۲۸ جون کو پوری عرب دنیا کے ڈاکٹروں کی یونین کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمنعم ابوالفتوح اور ان کے پانچ اہم ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ ڈاکٹر ابوالفتوح عرب یونین کے منتخب سربراہ ہی نہیں، دنیا بھر میں ریلیف اور امدادی سرگرمیوں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ گذشتہ چند برسوں میں ان کی تین بار پاکستان آمد ہوئی۔ پہلے افغانستان پر امریکی حملے کے دوران افغان مہاجرین کے لیے امدادی سامان اور ادویات لے کر آئے۔ پھر پاکستان میں زلزلے کے وقت ڈاکٹروں کی ایک ٹیم لے کر آئے۔ مصری عوام کی طرف سے ان کے توسط سے آنے والی ایمبولینس کا تحفہ اب بھی زلزلہ زدہ علاقے میں ان کی اور مصری بھائیوں کی یادیں مسلسل تازہ کرتا ہے، اور تیسری بار سوات آپریشن کے دوران میں مہاجرین کی مدد کے لیے ان کی طرف سے امداد موصول ہوئی۔

ڈاکٹر ابوالفتوح عرب یونین کے منتخب صدر کی اہم ذمہ داری پر فائز ہونے کے باوجود ہروقت دستیاب اور مستعد رہتے۔ غزہ پر تباہ کن بم باری کی صورت میں صہیونی عذاب نازل ہوا تو غزہ جانے کے تمام راستے بند تھے۔ ڈاکٹر ابوالفتوح اپنے ساتھی ڈاکٹروں کے ہمراہ کئی روز تک مصر، غزہ بارڈر پر رفح کے پھاٹک کے باہر کھڑے رہے۔ جیسے ہی کوئی گنجایش نکلتی، فوراً ادویات اور طبیب غزہ    بھجوا دیتے۔ ان کا وہاں مسلسل رہنا پوری عرب دنیا میں بڑی خبر بنا۔ جسے نہیں معلوم تھا اس نے بھی جان لیا کہ اسرائیلی حصار کے ساتھ ہی ساتھ مصری حکومت بھی اہلِ غزہ کا دانہ پانی بند کیے ہوئے ہے۔

ڈاکٹر ابوالفتوح اور ساتھی ڈاکٹروں پر اصل الزام بھی یہی اہلِ غزہ کی طبی و انسانی امداد کا لگایا گیا ہے۔ مصری حکومت کے ارشادات کے مطابق: ’’ڈاکٹر ابوالفتوح نے کئی ملین ڈالر غیر قانونی طور پر غزہ ارسال کیے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے اس الزام کے جواب میں کہا کہ اگرچہ کئی ملین ڈالر کی بات صرف صہیونی ریاست کو خوش کرنے کے لیے اور زیب داستاں کی خاطر کہہ دی گئی ہے لیکن مجھے یہ الزام لگنے پر فخر ہے، البتہ مصری حکومت کو بھی سوچ لینا چاہیے کہ وہ اپنے رب کی عدالت میں لاکھوں بے گناہ فلسطینیوں کے حصار اور انھیں رمضان میں بھی تمام ضروریاتِ زندگی سے محروم رکھنے کے جرم کا کیا جواب دے گی؟ بجاے اس کے کہ لاکھوں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دینا جرم سمجھا جاتا، کسی نہ کسی طرح ان کی مدد کرنے کی کوشش کو جرم بنایا جارہا ہے۔

اہلِ غزہ کی مدد کے الزام کو اپنے لیے فخر قرار دینے پر ڈاکٹر ابوالفتوح اور ان کے ساتھیوں پر دوسرا الزام یہ لگایا گیا کہ وہ ’کالعدم‘ اخوان المسلمون کی عالمی تنظیم کے اہم ذمہ دار ہیںاور دیگر ممالک میں اخوان کی شاخوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس الزام کی حقیقت بھی پوری دنیا پر واضح ہے کہ ایک توجس پیشہ ورانہ تنظیم کے وہ منتخب سربراہ ہیں، اس کی ذمہ داریوں کا تقاضا ہے کہ پورے عالمِ عرب میں فعال رہیں۔ دوسرے وہ اتنی بڑی اور اہم تنظیم کے رہنماکی حیثیت سے متعارف ہوں گے، تو عالمی روابط یقینا ان کی زندگی کا لازمی حصہ بنیں گے۔ محترم میاں طفیل محمدصاحب اللہ کو پیارے ہوئے تو ہم نے دنیا بھر میں ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاعات دیں۔ مصر سے سب سے پہلا تعزیتی فون ڈاکٹر ابوالفتوح کا آیا۔ ایک عالمی رہنما کی حیثیت سے ان سے یہی توقع تھی۔ اس فون کے تیسرے روز انھیں گرفتار کرلیا گیا۔ شاید یہ فون بھی ان کے خلاف فردِ جرم کا حصہ بنا ہو، لیکن یہاں تیسرا سوال سامنے آتا ہے کہ کیا اپنے بھائیوں کے ساتھ، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں کے ساتھ یہ روابط جرم ہیں؟ یورپ میں مقیم ایک اور مصری عالمِ دین ڈاکٹر ابوالمجد پر بھی اسی طرح کے الزام لگنے کی بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ جو نہیں جانتا وہ بھی جان لے کہ اخوان المسلمون کی تنظیم دنیا کے ۶۰ ملکوں میں قائم ہے، ان میں سے کسی کے ساتھ یا دنیا کے کسی بھی مسلمان ادارے کے ساتھ رابطہ، میرے ایمان کا حصہ ہے۔

ڈاکٹر ابوالفتوح کی گرفتاری پر مصری حکومت دنیا بھر میں مطعون ہو رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ان گرفتاریوں پر اظہار تشویش اور مذمت کی گئی ہے۔ خود مصر کے سابق وزیرخارجہ اور عرب لیگ کے حالیہ سیکرٹری جنرل عمرو موسیٰ نے ان کی گرفتاری پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر ان کی رہائی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ حکومت مصر نے اس ضمن میں ابھی تک کوئی قدم نہیںاٹھایا بلکہ ۲۳؍اگست کو انھیں اور ان کے پانچ ساتھیوں کو مزید ۱۵ روز کے ریمانڈ پر فوجی جیل خانے بھیج دیا ہے۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ ایک طرف تو یہ ظالمانہ گرفتاریاں ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ اخوان نے حکومت کے ساتھ سازباز شروع کر دی ہے، خفیہ مذاکرات کر رہی ہے۔ یہ شوشے اس لیے چھوڑے جا رہے ہیں تاکہ ایک طرف تو اخوان کے کارکنان اور گرفتارشدگان   اپنی قیادت کے بارے میں شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کا شکار ہوں، اور دوسری طرف مصری راے عامہ کو دھوکا دیا جاسکے کہ گرفتاریاں کوئی سنگین بحران نہیں ہیں، ظالم حکومت اور مظلوم اخوان باہم گٹھ جوڑ میںمصروف ہیں۔ اخوان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمود عزت سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے ان شوشوں کی تردید کرتے ہوئے ایک واقعہ سنایا۔ انھوں نے کہا: ۱۹۷۳ء کے اواخر میں ہم گرفتار تھے، ہمارے درمیان ایسے ساتھی بھی تھے جو ۲۰سال سے قید تھے۔ کئی اپنی قیدکے نو سال پورے کرچکے تھے۔ ایک روز ایک اہم سرکاری ذمہ دار فواد علام جیل آیا۔ ہم سب کو جیل کے صحن میں ایک درخت کے نیچے اکٹھا کیا گیا۔ فواد نے کہا کہ صدر سادات آپ سب کو رہا کرنا چاہتا ہے لیکن آپ اس سلسلے میں ان کی مدد کریں۔ ہمارے ساتھ حامد ابوالنصر صاحب بھی گرفتار تھے وہ ابھی اخوان کے مرشد منتخب نہیں ہوئے تھے، بیماری کے باعث وہ قطار کے آخر میں کرسی پر بیٹھے تھے، وہیں سے پکارے: ’’جناب فواد صاحب! کیا اخوان کے کسی قیدی نے آپ سے اپنی تکلیفوں کی شکایت کی ہے؟ اخوان جیل سے نکل کر بھی اخوان ہی رہیں گے۔ جو بھی درست کام کرے گا ہم اسے کہیںگے تم نے ٹھیک کیا اور جو کوئی بھی غلط کام کرے گا ہم اسے کہیں گے تم نے غلط کیا۔ اگر اس اصول کے مطابق اخوان کو رہا کرنا چاہتے ہو، تو خوش آمدید، اور اگر یہ منظور نہیں تو ہم میں سے کسی نے تم سے کوئی شکایت نہیں کی‘‘۔ سیکرٹری جنرل نے یہ واقعہ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اب بھی کسی سازباز یا اپنے موقف سے دست بردار ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اخوان المسلمون کے خلاف گرفتاریوں میں اچانک تیزی آجانے پر سب تجزیہ نگار حیرانگی کا شکار ہیں۔ مختلف اندازے لگائے جارہے ہیں۔ اکثر افراد کا دو نکات پر اتفاق ہے۔ ایک تو وہی مسئلہ فلسطین کہ مصری انتظامیہ اخوان کے خلاف کارروائیوں سے صہیونی انتظامیہ کی خوشنودی چاہتی ہے اور اہلِ غزہ کو مزید مایوس و پریشان کرنا چاہتی ہے۔ دوسرے، خود مصر میں تبدیلی کے امکانات اور آیندہ برس ہونے والے عام انتخابات میں اخوان کو مزید کنٹرول کرنے کی خواہش۔

بڑھاپے کی آخری حدوں کو چھوتا حسنی مبارک (پ: ۱۹۲۸ء) اب اپنا ۲۸ سالہ اقتدار اپنے وارث جمال حسنی مبارک کو سونپنا چاہتا ہے۔ اس خواہش کی راہ میں اخوان ہی سب سے بڑی، بلکہ اکلوتی رکاوٹ ہیں۔ گذشتہ انتخابات میں تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اخوان نے ۸۸نشستیں حاصل کرلی تھیں۔ آیندہ اس منظرنامے کو ہر صورت روکنا، مصری حکومت کا سب سے بڑا خواب بن چکا ہے۔ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمود عزت سے دریافت کیا گیا کہ: ’’سنا ہے کسی حکومتی ذمہ دار نے مرشدعام کو پیش کش کی ہے کہ آیندہ انتخاب سے باہر رہیں تو تمام گرفتار شدگان رہا کیا جاسکتے ہیں…؟ انھوں نے کہا: جو بات ہوئی وہ یہ ہے کہ ایک صاحب مرشدعام سے ملنے کے لیے آئے، انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک اہم حکومتی ذمہ دار سے رابطے میں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اخوان آیندہ انتخاب سے باہر رہیں تو ہم تمام قیدی چھوڑنے کے لیے تیار ہیں، لیکن مرشدعام کا جواب واضح تھا۔ انھوں نے کہا: ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ اس اہم حکومتی ذمہ دار نے اگر کوئی بات کرناہے تو براہِ راست ہم سے کرے، تاکہ ہمیں بھی معلوم ہو کہ ان کی پوری اور اصل بات کیا ہے۔ دوسرے انھیں یہ یقین رہنا چاہیے کہ اگر وہ کوئی بھی ایسی تجویز پیش کریں گے جو مصر کے قومی مفاد میں ہو تو ہم حکومت سے تمام تر اختلاف کے باوجود اسے قبول کرسکتے ہیں، اور تیسری بات یہ کہ ہم ایک منظم جماعت ہیں جس میں فیصلے مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی سنجیدہ اور مبنی بر اخلاص تجویز سامنے آئے گی تو ہماری شوریٰ ہی اس بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کی مجاز ہوگی‘‘۔ مرشدعام کی    یہ بات سن کر وہ شخص چلا گیا اور پھر لوٹ کر نہیں آیا۔

مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو حالیہ گرفتاریوں کی تینوں ممکنہ وجوہات درست ہیں۔ مسئلہ فلسطین، مصر میں تبدیلی کے امکانات اور آیندہ انتخابات۔ اس تناظر میں خدشہ ہے کہ گرفتاریوں کا سلسلہ مزید دراز اور وسیع ہوگا لیکن یہ حقیقت بھی سب ہی جانتے ہیں کہ اخوان کو جتنا بھی کچلا گیا وہ اتنا ہی زیادہ توانا و مضبوط اور کامیاب ہوئے۔ اب بھی گرفتاریوں کا نتیجہ یقینی طور پر یہی نکلے گا کہ آزمایشیں اخوان کو مزید کندن بنائیں گی۔ یہی تاریخ کا سبق ہے، یہی سنتِ الٰہی ہے اور یہی اسلام کی فطرت ہے۔

 

اسلام کا نظامِ سیاست و حکومت، مولانا عبدالباقی حقانی، مترجم، جلد اول: مولانا سید الامین انور حقانی، جلد دوم: مولانا شکیل احمد حقانی۔ ناشر: القاسم اکیڈمی، جامع ابوہریرہ، برانچ پوسٹ آفس خالق آباد نوشہرہ۔ صفحات: جلد اول: ۷۱۵۔ جلد دوم: ۸۳۱۔ قیمت: درج نہیں۔

مولانا عبدالباقی حقانی صاحب افغانستان میں طالبان کے دورِ حکومت میں اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز تھے۔ زیرنظر مفصل کتاب میں انھوں نے مغرب زدہ اور لادینی عناصر کے اس اعتراض کو دلائل کے ذریعے رفع کیاہے کہ یا تو اسلام کا کوئی سیاسی نظام ہے ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو ماضی کے قصوں میں درج ہے۔ اس نقطۂ نظر سے کتاب لادینی عناصر کے لیے اعتراضات کا ایک عمدہ جواب فراہم کرتی ہے۔

کتاب اصلاً پشتو میں لکھی گئی ہے جس کا ترجمہ دو فاضل مترجمین نے اُردو میں کیا ہے۔ پہلی جلد میں جن موضوعات کو اٹھایا گیا ہے وہ یہ ہیں: اسلامی خلافت، معنی، اقسام، استخلاف، مترادف الفاظ، خلافت کے ثمرات، اسلامی آئین و قانون، قانونِ الٰہی کی خصوصیات پر سلف کے اقوال، مکارمِ اخلاق، اسلام کے عادلانہ نظامِ عدل کے مختلف پہلو، مساوات کی تعریف، اجتماعیت کے فوائد، اسلامی قانون کے ماخذ، فقہ اور سیاست، سیاست شرعیہ، سیاست کی اقسام، سلف اور علما کی نگاہ میں شریعت و سیاست کا تلازم، اسلامی دولت و حکومت، اسلامی امیر کے انتخاب کی شرائط اور اس پر علما کی مفصل آرا، امیر کی تقرری کا حکم، خلیفہ اور اس کے انتخاب کے طریقے، اہل حل وعقد کی صفات، امیر اور خلیفہ ایک ہی فرد ہو، اسلامی حکومت کی خصوصیات، حکومت کے عناصر، شوریٰ کا مفہوم، پارلیمان کی حیثیت اور اوصافِ ارکان، اسلامی حکومت کے اہداف، فوج اور سیاست، رعیت اور اس کی اقسام اور بحث کا خلاصہ۔

دوسری جلد میں جن مضامین سے بحث کی گئی ہے اس کی ایک جھلک یہ ہے: ادارے کا مفہوم اور اقسام، اسلامی ادارے کے سربراہ کی صفات اسلاف کے اقوال کی روشنی میں، تقویٰ، حق، عید، عدل، حیا ، علم، نظم، قوت، شجاعت، صبر، عفو ودرگزر، حفظ مراتب و وظائف کی تقسیم، توکل، مشورے کی اہمیت، استغنا، تواضع، ایثاروقربانی، جود وسخاوت، بلندہمتی، جواب دہی، شکر، خوش مزاجی، لباس میں سادگی، مروت۔ اسی طرح سلبی صفات پر تعقلی بحث ہے، مثلاً ظلم، جھوٹ، غصہ، حسد، کینہ، بدگمانی، بخل وغیرہ۔ اداروں کے لیے ذمہ داران کے انتخاب کی شرائط ان کے حقوق اور ذمہ داریاں، اسلامی اداروں میں کام کرنے والوں کے باہمی تعلقات، امیر کی ذمہ داریاں، وزرا کی ذمہ داریاں، معزولی اور اس کے اسباب ، استعفا اور اس کے اسباب وغیرہ۔

موضوعات کا تنوع ظاہر کررہا ہے کہ بات کو ضرورت سے زیادہ پھیلا دینے کے نتیجے میں اصل موضوع سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ اکثر موضوعات پر معروف مسلم مفکرین کے خیالات سے استفادہ کرتے ہوئے انھیں بطورِ سندکے پیش کیا گیا ہے لیکن ڈیڑھ ہزار صفحات پر مبنی کتاب میں کسی ایک مقام پر، چاہے بطور تنقید و اختلاف، سید مودودی کا ذکر نہیں آنے پایا۔ تمام حسنِ ظن کے باوجود معروضی طور پر اسے مؤلف کی ’لاعلمی‘ ہی سمجھنا ہوگا اور اسے کتمانِ حق سے تعبیر نہیں کرنا پڑے گا۔

غیرضروری طوالت کے باوجود کتاب طالبان کے تصورِ حکومت و ریاست پر ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)


داعی کامنصب حقیقی، حسن الہضیبی، مترجم:گل زادہ شیرپائو۔ ناشر:ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور۔ صفحات:۳۶۰۔قیمت:۲۴۰روپے

استاذ حسن الہضیبی اخوان المسلمون مصر کے دوسرے مرشدعام تھے۔امام حسن البنا کی شہادت کے بعد اخوان المسلمون کے مرشدعام مقرر ہوئے۔مرشدعام کے طورپر ان کو اندرونی و بیرونی طور پر کئی چیلنجوں کاسامنا کرنا پڑا۔ ان کٹھن اورمشکل حالات میں انھوں نے نہایت دانش مندی اورحوصلے سے اخوان کی قیادت کی اوربحرانوں کامقابلہ کیا۔ انھوں نے اپنی کتاب دعاۃ الاقضاۃ میں ان حقیقی مسائل کاتذکرہ کیا ہے جو اس زمانے میں ان کو پیش آئے۔ زیرنظر، مذکورہ کتاب کاترجمہ ہے۔ کتاب کا نام داعی کامنصب زیادہ مناسب ہوتا۔

کتاب ایک خاص پس منظر میں لکھی گئی ہے ۔ مصر میں اخوان پر جس طرح ظلم وستم ڈھایا گیا، قریبی زمانے میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔اس کے نتیجے میںاخوانی نوجوانوں میں ردعمل پیدا ہوا اوروہ یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ کلمۂ توحید کااقرار کرنے اورخدا اورآخرت کو ماننے والے دین اسلام کے پیرئووں پر اتنے ظلم وستم کیوں روا رکھے جاتے اوراتنی سخت سزائیں کیوں دی جاتی ہیں۔

کتاب کے ابتدائی مخاطبین اخوان کے وہ رفقا و کارکنان تھے جو ابتلا و آزمایش سے گزرے ۔ اس کتاب میں الہ، رب، عبادت، دین، کفروشرک، ارتداد، منافقت، حاکمیت الٰہی اور تقاضے،جہالت،خطا،اوراکراہ، طاغوت کا مفہوم اورفہم دین کا طریق کار کوموضوع بنایا گیا ہے۔ اسلامی حکومت کا قیام ضرورت، تقاضے، اسلامی جماعت کی شرعی حیثیت، فرائض، حقوق، فرد کی  ذمہ داری اوراطاعتِ امر کے ساتھ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی ضرورت،طریق کار اورقوت کا استعمال اورداعی دین کی ذمہ داریوں پر تفصیلی بحثیں موجود ہیںجن پر نہایت عمدگی کے ساتھ اظہار خیال کیا گیا ہے۔ داعیان دین کے لیے یہ ایک اہم اورقیمتی دستاویز ہے۔ (عمران ظہور غازی)


اُردو کا دینی ادب، پروفیسر ہارون الرشید۔ ناشر: میڈیا گرافکس، ۹۹۷-اے، سیکٹر اے-۱۱، نارتھ کراچی-۷۵۸۵۰۔ فون: ۳۷۳۸۶۰۷-۰۳۳۳۔ صفحات: ۴۸۸۔ قیمت: ۵۰۰ روپے۔

زیرنظر کتاب کے دیباچہ نگار اے خیام کے الفاظ میں: ’’اُردو کے جدید نثری ادب کا احاطہ کوئی آسان کام نہیں‘‘۔ پروفیسر ہارون الرشید نے (جو نیاز فتح پوری کے دینی افکار کے عنوان سے ایک قابلِ قدر کتاب لکھ چکے ہیں) جدید نثری ادب کی تاریخ لکھنے کے مشکل، نازک اور پیچیدہ کام میں ہاتھ ڈالا مگر اس ذمہ داری سے کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ نہیں ہوسکے۔ یہاں ہم پھر اے خیام کے الفاظ مستعار لیتے ہیں کہ اکثر کتابیں یا تو: ’’سرسری طور پر لکھی گئی ہیں یا پھر ایک سی باتیں دہرائی جاتی رہی ہیں۔ کچھ کتابیں ایسی بھی ملیں گی جن کے مرتبین نے تحقیق اور مطالعے کے بجاے محض تلخیص اور تقلید سے کام لیا ہے‘‘۔

مصنف کا زاویۂ نظر (تنقیدی جائزوں میں اخلاقیات اور ادیب کے ذہن کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے) تو قابلِ قدر ہے مگر ان کی فہرست میں اخلاقیات کے ممتاز علَم بردار افسانہ نگاروں (جیلانی بی اے، محمود فاروقی اور ابوالخطیب وغیرہ) کے نام نظر نہیں آتے۔ اسی طرح ’چند ممتاز   ناقد و محقق‘ کے زیرعنوان گیان چند، امتیاز علی خاں عرشی، ابن فرید، نجم الاسلام اور رشیدحسن خاں جیسے جید محقق و ناقد نظرانداز ہوگئے ہیں۔ ’چند ممتاز مصنفین‘ میں فرحت اللہ بیگ، پطرس بخاری، مختارمسعود، شیخ منظورالٰہی، مشتاق احمد یوسفی اور رضا علی عابدی جیسے منفرد صاحبانِ اسلوب کا ذکر نہیں ملتا، البتہ بعض نام فقط نام لینے یا گنتی کی حد تک درج کردیے گئے ہیں۔ کتاب میں کہیں کہیں تکرار ہے اور کہیں معلومات میں کمی اور غلطی بھی۔ (ص ۹۳، ۱۱۹ وغیرہ)

مجموعی تاثر یہ بنتا ہے کہ ایک وسیع اور متنوع جہات والا موضوع، ہمارے محترم مؤرخ ادب کی گرفت میں نہیں آسکا، چنانچہ کتاب کا موجودہ معیار انٹرمیڈیٹ سطح سے اُوپر نہیں آسکا۔ بایں ہمہ یہ کتاب ہر درجے کے (بی اے اور ایم اے وغیرہ) طلبہ کے لیے یقینا اپنے اندر افادیت کا پہلو رکھتی ہے کیوں کہ خود بی اے اور ایم اے کا معیار بہت نیچے آگیا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


تجلیات رمضان، پروفیسر محمدالطاف طاہر اعوان۔ ناشر: اذانِ سحر پبلی کیشنز، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ صفحات: ۲۴۸۔ قیمت: ۱۲۵ روپے۔

رمضان المبارک میں نیکیوں کی طرف رجحان فطری امر ہے۔ رجوع الی اللہ کے اس  موسم بہار میں استقبالِ رمضان کی روایت کو بھرپور انداز میں آگے بڑھانے میں خرم مراد مرحوم نے اہم کردار ادا کیا۔ تجلیاتِ رمضان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

یہ ان تقاریر کا مجموعہ ہے جو سالِ گذشتہ میں ریڈیو پاکستان سرگودھا کی سحری کی نشریات میں پورے ۳۰ روز (ایک گھنٹہ روزانہ) نشر ہوئیں۔ اب انھیں نظرثانی اور اضافوں کے بعد   کتابی صورت میں پیش کیا گیاہے۔ رمضان المبارک کے احکام و مسائل، برکات و فضائل،     ضبطِ نفس، یوم الفرقان، فتحِ مکہ، لیلۃ القدر، اعتکاف اور دیگر بہت سے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے اور قرآنی آیات، احادیث مبارکہ اور تاریخِ اسلام کے مستند حوالوں سے استشہاد کیا گیا ہے۔    اندازِ بیان مؤثر، عام فہم اور دل نشین ہے۔ نیکیوں کے موسمِ بہار میں یہ کتاب جہاں فرد کو عمل کے لیے تحریک دیتی ہے، وہاں رجوع الی اللہ اور ان بابرکت لمحات سے استفادے کے لیے ترغیب کاباعث بھی ہے۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)

تعارف کتب

  •  ۲۰۰ مشہور ضعیف احادیث ، حافظ عمران ایوب لاہوری۔ ناشر: فقہ الحدیث پبلی کیشنز، لاہور۔ فون: ۴۲۰۶۱۹۹-۰۳۰۰۔ صفحات: ۹۵۔ قیمت: درج نہیں۔ [۲۰۰ ایسی روایات جمع کی گئی ہیں جو معاشرے میں مشہور ہوچکی ہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ ان روایات کو چار بڑے عنوانات کے تحت دیا گیا ہے: احادیث قدسیہ، ایمان سے متعلقہ روایات، عقائد سے متعلقہ روایات،اور علم سے متعلقہ روایات۔ حاشیے میں ان روایات کے بارے میں ائمہ محدثین کی تحقیق بھی پیش کی گئی ہے۔]
  •  چودھری علی احمدخاںؒ، مرتب:ڈاکٹر عبدالغنی فاروق۔ ناشر:ادارہ معارف اسلامی، منصورہ لاہور۔ صفحات:۸۰۔ قیمت:۶۰روپے۔[سید مودودیؒ کے قریبی رفیق کار چودھری علی احمدخاںؒ کایہ تذکرہ       ڈاکٹر عبدالغنی فاروق نے سید اسعد گیلانی مرحوم کی ترتیب دی ہوئی کتاب چودھری علی احمد خان سے اخذ کر کے اور ان کے چھوٹے بھائی چودھری غلام احمد سے معلومات حاصل کرکے مرتب کیا ہے۔   چودھری علی احمدخاں کی زندگی کارکنان تحریک کے لیے ایک قابلِ قدر مثال کادرجہ رکھتی ہے جس کامطالعہ   جذبہ و تحرک کاباعث ہے۔]
  •  حقوقِ انسانی (رپورٹ ۲۰۰۸ء) ، نگران: اخلاق احمد۔ ناشر: ہیومن رائٹس نیٹ ورک، سندھ چیپٹر، قباآڈیٹوریم، بلاک ۱۳، فیڈرل بی ایریا، کراچی۔ فون: ۶۸۰۴۹۹۵-۰۲۱۔ صفحات: ۲۹۶۔ قیمت: درج نہیں۔ [ہیومن رائٹس نیٹ ورک سندھ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورت حال کا گذشتہ برس کا جائزہ مختلف عنوانات: پارلیمنٹ و جمہوریت، قانون و عدالت، صحافت، صحت، تعلیم، پولیس مظالم، جیلوں کی حالت زار اور خواتین پر مظالم وغیرہ کے تحت پیش کیا ہے۔ امریکا، بھارت، کشمیر، عراق، افغانستان اور فلسطین کے اعداد و شمار الگ مرتب کیے گئے ہیں۔ یہ رپورٹ ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنے مسائل کا عکس دیکھ سکتے ہیں اور حل کے لیے راہیں بھی تلاش کرسکتے ہیں۔ حوالہ جات کے اہتمام سے رپورٹ کی افادیت مزید بڑھ سکتی ہے۔]
  • ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا جرم کیا ہے؟  اکرم کمبوہ۔ ناشر: راحیل پبلی کیشنز، اُردو بازار، کراچی۔ صفحات: ۲۶۷۔ قیمت: ۲۴۰ روپے۔ [ڈاکٹر عافیہ صدیقی افغانستان کے بدنامِ زمانہ امریکی عقوبت خانے (بگرام جیل) میں پانچ سال محبوس رہنے کے بعد آج امریکی جیل میں مظالم کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ ان کے بارے میں ۵۸مضامین /کالموں کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں جہاں ظالم کے وحشیانہ ہتھکنڈے نمایاں نظر آتے ہیں وہاں اُمت مسلمہ کی بے حسی اور اُمت مسلمہ کے حکمرانوں کی بے حمیتی قابلِ افسوس ہے۔]

 

یاسر احمد ، سیالکوٹ

اگست ۲۰۰۹ء کے شمارے میں تین مضامین بہت پسند آئے جو اپنے لوازمے اور اپروچ کے لحاظ سے جامع تھے۔ یومِ آزادی کی مناسبت سے ’اشارات‘ نے مایوسی اور تاریکی میں اُمید اور حوصلہ دیا۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو جن مسائل اور چیلنجوں کا سامنا ہے، کافی عرصے بعد اس موضوع پر ایک عمدہ تحریر سامنے آئی۔ فی الواقع بنگلہ دیش جماعت بڑی مشکلات سے دوچار ہے۔ چین میں مسلمانوں کو جن مسائل کا سامنا ہے،    ان کے مطالعے سے بہت سے ایسے پہلو سامنے آئے جن کے بارے میں معلومات کم ملتی ہیں۔

احمد علی محمودی ،حاصل پور

’تفہیم القرآن: شعوری ایمان کی دعوت‘ (اگست ۲۰۰۹ء) بہترین فکر کا عکاس ہے۔ مولانا مودودیؒ دین حنیف کے سچے پیروکار تھے اور تفہیم القرآن میں انھوں نے جو طرزِ استدلال اختیار کیا ہے وہ درحقیقت ان کی بہترین ریسرچ اور تحقیقات کا نتیجہ ہے۔ اسلام اور دیگر مذاہب پر ان کی گہری نظر تھی۔ تحقیقی مطالعے کے بعد ہی وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اسلام سے زیادہ معقول اور مدلل مذہب کوئی اور نہیں۔ جب ہم سید مودودیؒ کے تحقیقی مطالعے اور علمی کام پر نگاہ ڈالتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ فہم دین کے لیے انھوں نے کتنی جستجو کی، اور کتنا طویل سفر کتنے مختصر عرصے میں طے کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی تربت پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین!

عنایت علی خان ، کراچی

محترمہ افشاں نوید کا توبہ و استغفار کی تلقین پر مشتمل مضمون ’اپنے رب کی طرف پلٹو…‘ (جولائی ۲۰۰۹ء) فی نفسہٖ بڑا مؤثر ہے۔ یقینا ہمارے جملہ عوارضِ قومی کا سبب انفرادی اور اجتماعی سطح پر احکامِ خداوندی سے سرتابی اور بغاوت ہی ہے اور اس کا علاج رجوع الی اللہ ہی ہے۔ تاہم، اوّلین ضرورت امریکی طاغوت اور اس کے بدبخت غلاموں کی پیدا کردہ زبوں حالی کے پس منظر میں اُس شعور اور ادراک کی ترویج کی ہے جس کا اظہار پروفیسر خورشیداحمد صاحب نے اپنے اداریے ’۱۴؍اگست: یومِ تشکر، یومِ احتساب بھی‘ (اگست ۲۰۰۹ء) میں کیا ہے اور جس کا عملی مظاہرہ ’گو امریکا گو‘ مہم کے سلسلے میں ہو رہا ہے۔ طاغوت کے خلاف جدوجہد یقینا  اللہ کی بندگی اور غلامی ہی کا فطری تقاضا ہے۔

شفیق الرحمٰن انجم ،قصور

’دنیا کی بے ثباتی‘ (اگست ۲۰۰۹ء) حضرت علیؓ کا ایک اثرآفریں ، مختصر اور جامع مگر فکرانگیز خطبہ ہے۔ فی زمانہ مادیت کے لیے ہر فرد ہلکان ہو رہا ہے، اور آخرت کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ ایسے میں     یہ خطبہ ایک عمدہ تذکیر اور آخرت کے لیے زادِ راہ اور توشۂ آخرت ہے۔

نسیم احمد ،اسلام آباد

’جاپان میں: پاکستان اور جنوبی ایشیا پر تازہ کاوشیں‘ (جولائی ۲۰۰۹ء) پڑھ کر ذہن کو جھٹکا لگا کہ  جاپان جس کو ہم صرف ایک صنعتی ملک سمجھتے تھے، وہ علمی دنیا میں کتنا تیز رَو ہے___ متعدد زبانوں پر کاوشیں،  مختلف ممالک پر کاوشیں۔ اُردو زبان کے بارے میں جتنا کچھ جاپان میں ہو رہا ہے، پاکستانی تعلیمی منصوبہ سازوں کے لیے اس میں بڑی رہنمائی ہے۔ تحقیق میں اشتراکِ عمل کی جو مستحسن اور مفید روایت جاپان نے قائم کی ہے،    کاش! ہمارے ملک میں عام ہوسکے۔

محمد وقاص ، واہ کینٹ

’رسائل و مسائل‘ (جولائی ۲۰۰۹ء) میں ایک سائلہ نے بیوٹی پارلر کے بارے میں پوچھا اور جواب میں فاضل مصنف نے جزوی اجازت مرحمت فرمائی ہے، یعنی کوئی خاتون اگر اپنے گھر میں صرف خواتین کا بنائوسنگھار کرے تو اس میں مضائقہ نہیں۔ اس موقف کو اگر شرعی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے اور ان احادیث اور روایات کو پیشِ نظر رکھا جائے جن میں نبی کریمؐ نے مصنوعی بال لگوانے اور بھنوئوں کو باریک کرنے اور کروانے والیوں پر لعنت کی ہے تو گھر کے اندر بیوٹی پارلر کا کام کرنے کی اجازت دینا، یا اِس کے لیے یہ جواز فراہم کرنا کہ بنائوسنگھار عورت کا فطری حق ہے محض لاعلمی ہے، واللّٰہ اعلم بالصواب۔

  •  وضاحت: l ان احادیث میں جو بات کہی گئی ہے یعنی بال نوچنا، بال ترشوانا، بھنویں ترشوانا یا اُکھاڑنا ان میں سے کسی کا بھی تعلق مطبوعہ جواب کے ساتھ نہیں ہے اور نہ جواب میں ان میں کسی ایک بات کو ’حلال‘ یا ’مباح‘ کہا گیا ہے، نہ بال نوچنے اور ترشوانے کے موضوع پر بحث کی گئی ہے۔ l اگر ایک خاتون اپنے گھر میں رہتے ہوئے کسی اسلامی حکم کی خلاف ورزی کے بغیر صرف خواتین کے بنائوسنگھار کے لیے ایک پارلر قائم کرتی ہے تو اس میں شریعت کے کون سے اصول کی خلاف ورزی ہوگی۔ l اگر کوئی بیوٹی پارلر فحاشی اور عریانی کی غرض سے قائم کیا جائے تو وہ چاہے خواتین کے لیے ہو یا مردوں کے لیے ایک ممنوع اور حرام فعل ہی رہے گا۔ ہر بیوٹی پارلر کو محض اس بنا پر کہ اس کا عنوان بیوٹی پارلر ہے فحاشی اور حرام پر قیاس کرنا درست نہیں ہے۔(ڈاکٹر انیس احمد)

 

مطالبہ نظامِ اسلامی

جب پاکستان بننے کے بعد یہاں ایک دستور کی تدوین کے لیے مجلسِ دستور ساز قائم ہوئی اور قوم کے سامنے یہ سوال آگیا کہ وہ اپنی آزاد زندگی کی تعمیر مغربی جمہوریت یا اشتراکیت کے اصولوں پر کرے یا اسلام کے پاکیزہ اصولوں پر، تو اس مرحلے پر جماعت اسلامی اس سوال کا صحیح جواب لے کر اُٹھ کھڑی ہوئی اور اسے شہر شہر، قریہ قریہ ایک ایک مسلمان تک پہنچایا۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں  ’مطالبۂ نظامِ اسلامی‘ نمودار ہوا جس کے لیے جماعت اسلامی نے اتنی منظم تحریک بپا کی کہ دستور ساز اسمبلی نے ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کو اس مطالبے کو دستوری حیثیت سے تسلیم کر کے وہ قراردادِ مقاصد پاس کر دی کہ جس کے ہوتے ہوئے کسی غیراسلامی دستور و نظام کو جاری کرنے کے دستوری راستے بہرحال بند ہیں۔

پھر اس قراردادِ مقاصد کے پاس ہونے کے بعد جب جماعت اسلامی نے یہ محسوس کیا کہ اس قرارداد کے تقاضوں کے مطابق ملّت جن تبدیلیوں کے ظہور کی آرزومند ہے، ان کے واقع ہونے میں بدقسمتی سے اربابِ اقتدار کا وہ گروہ حائل ہے جو اپنے ذہن و سیرت کی مخصوص ساخت کی وجہ سے یہ اہلیت نہیں رکھتا کہ اسلامی نظام کی امامت کا فرض ادا کرسکے تو جماعت نے پورے دلائل کے ساتھ انقلابِ قیادت کی دعوت کو اپنے عوام تک پہنچانے کا آغاز کر دیا۔ اب اس انقلابِ قیادت کو اسلام کے منشا کے مطابق برپا کرنے کے لیے راے عام کو اسلامی اصولوں کی تربیت دینے کا جو مرحلہ سامنے آگیا ہے۔ اس میں جماعت اسلامی قول و عمل سے شہادتِ حق کا فریضہ انجام دینے اُٹھی ہے۔ پس اس کام میں کامیابی کے اصل معنی صرف یہ ہیں کہ جماعت اسلامی نے شہادتِ حق کا حق ادا کر دیا۔ رہا یہ سوال کہ حالات کے دھارے کا رُخ عملاً کس حد تک مڑ سکے گا، یہ اللہ تعالیٰ کے اپنے اختیار میں ہے۔

کامیابی کا یہ تصور پیشِ نظر رکھنے کے معنی یہ نہ سمجھے جائیں کہ ہم لوگ ذرائع و وسائل، احوال و ظروف اور تاریخی عوامل کو ناپ تول کر کام کی اسکیم مرتب کیے بغیر آنکھیں بند کرکے آگے بڑھ رہے ہیں۔ احوال کی سازگاری و ناسازگاری کے جملہ پہلو ہمارے سامنے ہیں اور ان کا پورا پورا اندازہ کرنے کی ہم نے کوشش کی ہے۔ (’اشارات‘، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد۳۲، عدد۴، رمضان ۱۳۶۸ھ، ستمبر ۱۹۴۹ء، ص ۴-۵)