بسم اللہ الرحمن الرحیم
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے ملت اسلامیہ کو درپیش جن حالات میں غلبۂ دین کی تحریک کا نقشۂ کار پیش کیا اور عملاً اس تحریک کو برپا کیا، اس دور کی دو خصوصیات خصوصی اہمیت کی حامل ہیں___ اول یہ کہ یہ نظاموں کی کش مکش کا دور تھا۔ ایک طرف مغرب کی لبرل تہذیب اور اس کا سرمایہ دارانہ نظام تھا جو اژدھے کی طرح پوری دنیا کو نگل رہا تھا اور اس نظام کی چکا چوند نے پورے عالم کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا تھا۔ دوسری طرف مشرق سے ابھرنے والا کمیونزم اور سوشلزم کا نظام تھا جو غربت کو ختم کرنے ، انسانی مساوات قائم کرنے اور سرمایہ داری کے چنگل سے لوگوں کو نجات دلانے کے خوش کن اور پرکشش نعروں اور فلسفے پر مبنی تھا لیکن یہ دراصل انسانوں کے لیے آمریت کا ایک شکنجہ تھا۔
ان دونوں نظاموں کے درمیان فکری اور نظریاتی سطح پر، اور فلسفے اور سلوگن کی سطح پر ایک آویزش تھی ،لیکن عملاً خود مغربی دنیا کی بعض اکائیاں بھی سوشلزم کی کسی نہ کسی شکل کی دلدادہ بن گئی تھیں۔ مزدور اور کسان، طالب علم اور جوان ،دانش وراور اہل قلم اور صحافی، نیز مظلوم و محروم طبقات کے دبے اور پسے ہوئے افراد ذہناً اشتراکیت کے اسیر ہو چکے تھے اور مغرب کے سرمایہ دارانہ معاشروں میں رہنے کے باوجود سوشلزم کا راگ الاپتے اور اسی کی مالا جپتے تھے۔
اس پس منظر میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے اسلام کو ایک مکمل اور مبنی برحق اور منصفانہ نظام کی حیثیت سے از سرنو پیش کیا، جو ایک طرف فرد کی سطح پر اس کو آسودگی ، سکون اور سکینت فراہم کرتا ہے، اسے انشراح صدر کی دولت سے مالا مال کرتا ہے اور ذہنی اور فکری کجی کو ہروسوسے اور شک سے پاک کرتا ہے۔ دوسری طرف افراد پر مشتمل معاشرے کو اپنے اداراتی نظام سے امن و سکون اور عدل و انصاف کی دولت سے بھی مالا مال کرتا ہے ، ضروریات زندگی بھی فراہم کرتا ہے اور بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر بندوں کے رب سے جوڑ کر انسانی مساوات، آزادی، اخوت اور انصاف پر مبنی نظام قائم کرتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے کیپٹلزم ، نیشنل ازم ، کمیونزم اور سوشلزم کی خرابیوں اور کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا۔ ان کے نعروں اور دعوئوں کو کھوکھلا اور بے وقعت ثابت کیا اور انسانی ضروریات کو انسانوں کے رب ، وحیِ الٰہی اور نبوت کی کرشمہ سازیوں سے بھی متعارف کرایا۔ اس لیے یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ نظری طور پر تمام نظاموں کے مقابلے میں اسلام بحیثیت نظام زندگی کے قابل قبول ، قابل عمل اور ایک ایمانی اور اخلاقی پیکج کی حیثیت سے اپنے آپ کو منوانے میں کامیاب ہو گیا۔
اس دور کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ وہ عقلیت (rationalism)کا دور تھا جو چیزوں کو عقل کی کسوٹی پر پرکھ کر قبول کرتا، یا رد کرتا ہے۔ اس دور کا یہ دعوٰی تھاکہ عقل ہی معراج انسانیت ہے اور اسی کو زندگی کے تمام دائروں میں فیصلہ کن حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ مولانا مودودی ؒ نے اسلامی تعلیمات ، اسلامی معاشرے اور اسلامی ریاست کے حوالے سے جس بحث کو چھیڑا اس نے عقل کو بھی دنگ کر دیا اور اسلام بحیثیت نظام کے عقل اور استدلال ، فلسفہ اور نظریہ اور انسانی ذہن میں اٹھنے والے سارے سوالات و اعتراضات کا مسکت جواب فراہم کرتا چلا گیا۔ ا س طرح سیدابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے اس دور کے انسان کو عقلی طور پر بھی اپیل کیا اور قرآن و سنت کی تعلیم میں جو فطری کشش اور جذب و انجذاب کی خوبیاں ہیں، ان سے بھی متاثر کیا۔ مولانا مودودیؒ کی اس تحریک نے بالآخر جماعت اسلامی کا روپ دھارا اور اب اسے قائم ہوئے ۷۰ سال ہونے کو آئے ہیں۔ وقت بدلا ہے ، حالات بدلے ہیں ، کمیونزم اپنی جولانیاں دکھا کر اور چار دانگ عالم میں اپنا چرچا کرکے اور بظاہر ایک عالم کو اپنے حق میںاستوار اور متحیر کر کے ہوائوں میں تحلیل اور فضائوں میں گم ہوچکاہے، اس کی ریاست منتشر ہو چکی ہے ، اس کا فلسفہ بکھر چکاہے اور اس کا نظریاتی تار و پود ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا، اور وہ جو بیچتے تھے ۷۰ سال سے دواے دل وہ دکان اپنی بڑھا چکے ہیں۔
اس عرصے میں دنیا نے نیشنلزم کے حوالے سے بھی ان گنت تجربات کیے مگرمنہ کی کھائی ، خود اپنے پیر پر کلہاڑی ماری، اور پوری کی پوری انسانیت کو آگ اور خون کے دریا سے گزارا، اور اب نیشنلزم میں وہ اپیل ہے نہ جاذبیت اور کشش ، اور ایک نظام زندگی کی حیثیت سے ہرچند کہیں کہ ہے پر نہیں ہے والی صورت سے دوچار ہے۔ مغرب کا تہذیبی اور سرمایہ دارانہ نظام ، بلندیوں اور عروج کی ان گنت منازل سے گزرنے کے بعد اب کسی حقیقی پیغام اور مستقبل کی رفعتوں اور اُمنگوں سے عاری ہونے کا اعتراف کر رہاہے۔ اس نظام اور تہذیب کا امام امریکا اپنی اور اپنے اتحادیوں کی اور ناٹو کی فوجوں سے انسانیت پر حملہ آور ہے۔ ڈیزی کٹر اور کلسٹر بموں کی بارش ہے۔ انسانوں کی تباہی کا ہر عنوان دور تک سجا ہواہے لیکن اس نظام کے پاس انسانیت کے لیے ظلم اور بربادی کے علاوہ کوئی پیغام نہیں۔
گذشتہ کم و بیش آٹھ عشروں میں دنیا بھر میں متعدد اسلامی تحریکیں اٹھی ہیں۔ رجوع الی اللہ کے عنوان سے اٹھی ہیں ، بندوں کو بندوں کے رب کی طرف لے جانے کے پیغام کے ساتھ اٹھی ہیں، ففروا الی اللّٰہ کا مصداق بننے والوں کی تحریکیں اٹھی ہیں، اوردنیا بھر میں امریکی استعمار اور سرمایہ دارانہ تہذیب کے مظالم کے مقابلے میں دعوت، جدوجہد اور قربانی کے کلچر نے فروغ پایا ہے۔ تاریخ کے لمحۂ موجود میں ؎
سالارِ کارواں ہے میرِحجازؐ اپنا
اس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارا
جماعت اسلامی کو اپنی ہم عصر تحریکوں میں یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے پہلے دن سے تنظیم جماعت کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ دی۔ مولانا مودودی ؒ نے ابتدا ہی میں یہ بات بار بار دہرائی تھی کہ بدی ہر دائرے کے اندر منظم ہے، جب کہ نیکی منتشر ، اکیلی اور تنہا ہے لہٰذا نیکی اور بدی کے مقابلے میں ناگزیر ہے کہ نیکی اور خیر کی تمام قوتوں کو بھی منظم کیا جائے۔ انھیں پلیٹ فارم فراہم کیا جائے اور ایک سوچی سمجھی حکمت عملی سے آراستہ و پیراستہ کر کے ایک لمبی اور صبر آزما جنگ کے لیے انھیں تیار کیا جائے۔ اہداف اور مقاصد کو کھول کر بیان کیا جائے۔ منزل کا شعور اور نشاناتِ منزل سے آگاہ کیا جائے اور قرآن و سنت کی تعلیم کو لے کر اٹھنے اور دنیا پر چھا جانے کا نقشہ اور فلسفہ دو اور دو چار کی طرح ذہنوں میں اتارا جائے۔
جماعت اسلامی نے روز اول ہی سے جہاں کرنے کے کام متعین کیے تھے، وہیں انھیں ایک منصوبے ، پروگرام اور نظام الاوقات کا آہنگ بھی دیا۔ ۲۰۰۸ء کو مرکزی مجلس شوریٰ نے دعوت کا سال قرار دیا ہے۔ شوریٰ کا اصل ہدف یہ ہے کہ کارکن کو رابطہ عوام کی طرف خصوصیت سے متوجہ کیا جائے۔ دعوت الی اللہ کی طرف لوگوں کو بلانا، فرداً فرداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی، ان کی ضروریات اور مسائل سے ہم آہنگ ہو کر بھی اور اس سے ماورا آخرت کی جواب دہی، اللہ کی رضا اور حصول جنت کے لیے بھی۔
جماعت اسلامی ایمان کی تازگی، ذہنوں کی آبیاری ، قلب و نظر کی تبدیلی ، سوچ وفکر اور زاویۂ نگاہ کی پاکیزگی کو انقلاب اور اسلامی نظام کے برپا ہونے کا پہلا قدم سمجھتی ہے۔ جس معاشرے میں تعلق باللہ کی وافر مقدار موجود نہ ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق خاطر اور عشق میں ڈوبا ہوا اتباع اور پیروی کا جذبہ مفقود ہو، اس معاشرے میں اٹھنے والی انقلاب کی لہریں کسی پاکیزہ ، بابرکت اور پایدار اسلامی انقلاب کی دستک ثابت نہیں ہوتیں۔ اس اعتبار سے جماعت کی پوری تنظیم کے لیے ناگزیر ہے کہ دعوتی مہمات کو شیڈول کے مطابق مرتب کیا جائے ، ضلعوں کی سطح پر یہ مہمات چلیں ، عوامی رابطے اور ممبر سازی کاکام کریں ، صوبائی نظم ا ن کی نگرانی کریں ، صوبے کی سطح پر بننے والی دعوتی کمیٹیاں ، دعوتی مہمات کے لٹریچر اور سرگرمیوں کو قریب سے دیکھیں اور پوری جماعت اس مہم کو اوڑھنا بچھونا بنائے ، دعوت کو اپنے لیے اول و آخر قرار دے اور اس کے نتیجے میں لاکھوں بندگانِ خدا تک پہنچے ، انھیں اپنا ہم نوا بنائے اور اسلامی نظام کو برپا کرکے معاشرے کے اندر ظلم کی جتنی شکلیں ، مہنگائی ، بے روزگاری ، لاقانونیت ، بد امنی ، فحاشی اور عریانی کی صورت میں موجود ہیں، ان سب سے نجات دلائے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ بنیادی طور پر خدا کا خوف رکھنے والا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ڈوبا ہوا اور آخرت کی جواب دہی کے احساس سے معمور معاشرہ ہے۔ حالات کے جبر اور ظلم و استحصال کی ان گنت شکلوں نے ان ایمانی اور اخلاقی احساسات کو جا بجا مضمحل کیا ہے، انھیں ضعف پہنچایا ہے اور معاشرے پر غفلت کی ایک چادر تان دی ہے۔ دعوت الی اللہ، یعنی لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا ، بندگی کی جوت جگانا ، دامن مصطفی ؐ میں پناہ لینا اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنانا، ان کی شریعت مطہرہ کو لے کر اٹھنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو جدوجہد اور کش مکش ہمارے درمیان چھوڑ گئے ہیں، انھیں اس کا خوگر بنانا، اس دعوتی مہم کا مقصود ہے۔
جماعت اسلامی کے کارکن کو اپنے ہم نوائوں اور ساتھیوں سے مل کر معاشرے میں بسنے والے تمام انسانوں تک خیر خواہی اور اپنائیت کا یہ پیغام پہنچانا چاہیے کہ پاکستان کی بھلائی بھی اس دعوت اور نظریے کے ساتھ مربوط ہے اور خود پاکستان کا وجود بھی اسلام اور نظریۂ پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے۔ کارکن ، ناظم اور ہر سطح کے ذمہ دارانِ جماعت دعوت الی اللہ کو اگر موضوعِ گفتگو بنائیں گے اور اس کے لیے مولانا مودودی ؒ کی تحریروں اور آج کے اسلامی اور تحریکی لٹریچر سے استفادہ کریں گے تو معاشرے کی فضا بدل سکتی ہے ، اس کا رخ تبدیل کیا جاسکتاہے اور سوچ اور فکر کے تمام دھاروں کو اسلامی انقلاب اور تبدیلی کے عنوانات سے سجایا جاسکتاہے۔
ہم جس تبدیلی کے خواہاں ہیں اس کی جڑ اور بنیاد دعوت الی اللہ ہے۔ ذہن و فکر کی تبدیلی کے بغیر جسم و جاں کا قبلہ و کعبہ درست نہیں کیا جاسکتا۔ پایدار اور دیرپا انقلاب اس بات کا متقاضی ہے کہ دلوں پر دستک دی جائے، ذہنوں کو جھنجھوڑا جائے، کچھ کرنے اور کر گزرنے کے لیے آمادگی پیدا کی جائے، ایثار و قربانی کی شمع فروزاں کی جائے اور ایک بدلے ہوئے انسان کو دریافت کیا جائے۔ یہ کام قرآن و سنت کی دعوت ہی سے ممکن ہے۔ انسانی فطرت کو اپیل کرنے والا پیغام ہی دلوں کی دنیا کو بدل سکتاہے، ان میں انقلاب برپا کر سکتاہے۔
۲۰۰۸ء کا منصوبہ، تحریک سے وابستہ ہر فرد کو متحرک کرنے کا منصوبہ ہے اور یہ منصوبہ دعوت کی ہمہ گیریت ، تربیت اور تزکیے کے بھی تمام اہداف اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ منصوبے نے اس بات کو واضح کیاہے کہ فکری اور نظری اعتبار سے دعوتی جدوجہد کو تقویت پہنچانے کے لیے جماعت کے تمام تحقیقی و اشاعتی اداروں کو بھی ٹاسک دیا جائے۔ یہ ادارے مختصر کتابچوں کی تیاری ، دو ورقوں اور ہینڈ بلوں کی اشاعت اور ان کی مسلسل فراہمی کی منصوبہ بندی کریں اور اس لٹریچر کو مناسب قیمت پر فراہم کرنے کا اہتمام کریں۔
یوم نظریۂ پاکستان ۱۴ ؍اگست ، یوم تاسیس جماعت ۲۶ ؍اگست، یوم اقبال ۹ نومبر ، یوم یک جہتی کشمیر ۵ فروری اور ان سب کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر افطار پارٹیاں ، شب بیداریاں اور عیدملن کے اجتماعات منعقد کیے جائیں ، ان سب پروگراموں کی اصل اکائی ضلعی جماعتیں ہیں۔ ضلعی نظم ہی ان پروگراموں کی تفصیلات طے کر ے اور ہر یونٹ کو مؤثر بنانے کی تدابیر سوچے اور اختیار کرے۔ اسی دعوت بالقرآن کا موضوع رفتہ رفتہ کارکنوں سے اتر کر عوام میں سرایت کرجائے۔ پورے ملک میں سیکڑوں مقامات پر لاکھوں افراد نے فہم دین اور دعوت بالقرآن کے اجتماعات کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور مرد و خواتین کی بہت بڑی تعداد کو ان پروگرامات میں دل چسپی لیتے اور ؎
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلمان
اللہ کرے تجھ کو عطا جدّتِ کردار
کا مصداق اور عملی نمونہ بنتے دیکھاہے۔ ایسے تمام اجتماعات میں حدیث نبوی ؐ اور اسوۂ صحابہؓ پر تعلیمی نوعیت کے نصاب ترتیب دے کر پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ فہم دین اور اسلام کا حقیقی انقلابی تصور اجاگر ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں موثر افراد، کلیدی شخصیات ، سربرآوردہ لوگ اور راے عامہ پر اثرانداز ہونے والوں سے خصوصی رابطے ، انھیں لٹریچر کی فراہمی ، ان کے ساتھ الگ نشستوں کا اہتمام دعوت کے فروغ میں فیصلہ کن کردار اداکر سکتے ہیں۔ برادر تنظیمات ہمارے دست و بازو ہیں۔ جہاں جہاںنظم جماعت ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ، ان کی سرپرستی کرتا اور ان کی ضروریات فراہم کرتا ہے، وہاں یہ برادر تنظیمات اپنی کارکردگی کے جوہر بکھیرتی ہیں، اپنی صلاحیت کا لوہا منواتی ہیں اور دعوت کے فروغ میں جماعت کے ہم رکاب نظر آتی ہیں۔
گذشتہ کئی برسوں سے منصوبۂ عمل میں لائبریری کے قیام اور فروغ پر زور دیا گیاہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ لائبریری کے کردار کو توسیع دی جائے۔ ان کو اور زیادہ مؤثر بنایا جائے۔کتب اور رسائل کے ساتھ ساتھ دینی ، علمی اور دعوتی سی ڈیز بھی فراہم کی جائیں۔ہرضلعی صدر مقام پر اور جس مقام پر بھی ممکن ہو ایک ماڈل لائبریری قائم کی جائے جہاں بیٹھ کر پڑھنے کی جگہ بھی اور رسائل و جرائد بھی باقاعدگی سے آتے ہوں، اور حسن انتظام لوگوں کو متوجہ کرے تو امید ہے کہ علاقے کے ممتاز افراد اور علم دوست شخصیات، نیز طلبہ اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ان لائبریریوں سے استفادہ کرسکے گی۔
بچوں اور نوجوانوں کا تناسب پاکستان کی آبادی میں نصف سے زائد ہے۔ مستقبل کا کوئی پروگرام اور کوئی منصوبہ بندی اس حقیقت کو نظر انداز کر کے ترتیب نہیں دی جاسکتی۔ صوبائی سطح پر نوجوانوں میں کام کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ انھیں دین سے وابستہ کرنے کی شعوری کوشش درکار ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تربیتی ورکشاپوں کا اہتمام ضروری ہے، اور ان کی مجموعی قوت کو تنظیم کی مضبوطی کے لیے استعمال کرنے کا نقشۂ کار بنانا ضروری ہے۔
نوجوانوں میں تحرک اور سرگرمی پیدا کرنے اور انھیں بے مقصدیت کے اندھیروں سے نکال کر بامقصد زندگی کی طرف لانے کے لیے نظم جماعت کو زیادہ سنجیدہ کوششیں کرنی چاہییں۔ ایک طرف نوجوانوں کی سوچ و فکر ،ان کے مسائل اور ضروریات اور معاشرے کی بے راہروی کا احاطہ کرنا ہوگا، تو دوسری طرف مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کاایسا جال بچھانا ہو گا جو معاشرے پر اثرانداز ہو سکے اور نوجوانوں کی سیماب صفت شخصیت کو کردار کے سانچے میں ڈھال سکے۔ ہمیں اس سوال کا بھی سامنا کرنا چاہیے کہ نوجوانوں میں کام کے نتیجے میں بالآخر جماعت اسلامی کی عددی قوت میں بھی اضافہ ہو اور وقت گزرنے کے ساتھ نظریاتی کارکن اور پتّا ماری سے کام کرنے والے، نیز مکمل سپردگی اور کامل حوالگی کا نمونہ بننے والے جماعت کی صفوں میں ذمہ داریوں کے مناصب پر اور نظام اسلامی کی جدوجہد میں پیش پیش نظر آئیں۔
رابطہ عوام کی دعوتی مہم کا لازمی تقاضا ممبر سازی ہے۔ اب سے کچھ پہلے کم و بیش ۵۰ لاکھ پاکستانیوں نے ممبر سازی کے گوشوارے پُر کیے تھے اور جماعت اسلامی کے مقصد اور کام سے اتفاق کا اظہار کیا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر سطح کا نظمِ جماعت ممبرسازی کے بعد کے تقاضوں کو تنظیمی سانچے میں ڈھالے۔ ممبر حضرات سے رابطے، جماعت کی پالیسیوں سے انھیں باخبر رکھنے ، مختلف سرگرمیوں میں انھیں شریک کرنے اور ان کی قوت کو جماعت کے حق میں استوار کرنے کی منصوبہ بندی، دو اور دو چار کی طرح کی جانی چاہیے۔ صوبائی جماعتیں اور ان کی صوبائی نگران کمیٹیاں ضلعی سطحوں پر اس کام کی نگرانی کریں تو فی الحقیقت معاشرے میں دعوت الی اللہ کا چلن عام ہو سکے گا اور ان گنت برائیوں کے سدّباب کے لیے اور منکرات کے استیصال کے لیے ممبر حضرات سے بڑا کام لیا جاسکے گا۔
میں یہ یاد دلاتا چلوں کہ اب سے ۳۰، ۳۵ سال پہلے تک مرکزی مجلس شوریٰ اپنے سالانہ اجلاس میں جو منصوبۂ عمل ترتیب دیتی تھی، اس میں جماعتوں کے ذمے کیے جانے والے کاموں کے اہداف اور اعداد و شمار بھی طے کیے جاتے تھے لیکن تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر شوریٰ میں اس راے کو تقویت حاصل ہوئی کہ مرکزی منصوبہ محض عمومی اور اصولی طور پر کام اور اس کی جہتوں کا تعین کرے، جب کہ نظم کی نچلی سطح پر اعداد و شمار اور سال بھر میں کی جانے والی سرگرمیاں ، ان کے اہداف وہی لوگ طے کریں جنھیں یہ منصوبہ لے کر چلناہے۔ اس لیے یہ ضروری قرار پایا کہ ہر سطح پر منصوبۂ عمل کا جائزہ لیا جاتا رہے، اور کم از کم ہر سہ ماہی یہ کام ضرورکیاجائے تاکہ جائزے کے نتیجے میں مقامی سطح پر منصوبے کے اہداف میں کمی بیش کی جاسکے۔
بطور یاد دہانی یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ جماعت اسلامی عملاً ایک تحریک ہے اور ایک تنظیم بھی۔ ماحول اور معاشرے میں ہونے والے مدو جزر اور اچانک درپیش آنے والے مسائل سے نہ ہم لاتعلق رہ سکتے ہیں، اور نہ کسی ’منصوبے‘ کے ہی اسیر ہو کر نئے اٹھنے والے طوفان کو نظر انداز کرسکتے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی رونما ہونے والی تبدیلیاں ، اسلامی تحریکوں کو پیش آنے والے واقعات اور خود اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر پروپیگنڈے کی دنیا میں اُچھالا جانے والا کیچڑ اور اس بارے میں امت کا جو حقیقی موقف ہوسکتا ہے، اس کا احاطہ کرنا ، اس پر احتجاجی لہر اٹھانا، اپنے حکمرانوں اور دنیا بھر کی دریدہ دہن قوتوں کو للکارنا، یہ سب ہمارے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ ہمارے ایمان کا تقاضا اور ہماری تحریکیت کا امتحان ہے۔ لہٰذا سال کے مختلف حصوں میں منصوبۂ عمل کے ساتھ ساتھ ہنگامی نوعیت کی منکرات کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی کوششیں بھی جاری رہیں گی۔
جن حالات سے اس وقت ملک گزر رہاہے ، اس میں باہم مل جل کر چلنے کی ایک عمومی فضا پیدا کرنے اور اتفاقِ راے کی حکومت قائم کر کے ایجنڈے کے کم سے کم نکات پر عمل درآمد کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ قومی مفاہمت کے نام پر جہاں یہ ضروری ہے کہ کم سے کم قومی ایجنڈے کا تعین کر کے عوام کو اعتماد میں لیا جائے اور انھیں سنہرے مستقبل کی تعمیر کی دعوت میں شریک کیا جائے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ پارٹیوں کا ٹریک ریکارڈ، ان کا ماضی اور ان کے عمومی کردار کو ہرگز نظرانداز نہ کیا جائے ، بصورت دیگر قومی مفاہمت کے نام پر اسے سبوتاژ کرنے اور آپ ہی اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کا اسلوب بھی آپ سے آپ اس میں شامل ہو جائے گا۔ کسی بھی سطح پر جماعتوں کا اتحاد یا مل جل کر چلنے کا اعلان عملاً اپنے اپنے ضعف کا اعلان بھی ہوتا ہے جو کام اکیلے اور تنہا پارٹیاں اور پلیٹ فارم انجام نہ دے سکیں، ان کے لیے مل جل کر کوشش کی جاتی ہے۔ اس لیے اتحادوں اور مفاہمت کا ایجنڈا مختصراور کم سے کم ہوتا ہے، جب کہ مفصل اور زیادہ سے زیادہ ایجنڈا ہرپارٹی کا اپنا منشور ہوتاہے۔
آنے والے دنوں میں چیف جسٹس اور ان کے ۶۰سے زائد ساتھیوں کی بحالی آزاد عدلیہ کی طرف پہلا قدم قرار پائے گا۔ اس بارے میں جتنی افواہیں اور سازشیں جنم لے رہی ہیں وہ عوام کے عزم کو شکست نہ دے سکیں گی۔ کم و بیش ۶۰ ہفتوں پر مشتمل وکلا کی تحریک، بنچ اور بار کا اتحاد، سول سوسائٹی ، میڈیا اور سیاسی کارکنوں کی جدوجہد کو بے معنی اور بے مقصد بنانے اور انھیں غیراہم قرار دے کر، ان کو پٹڑی سے اتارنے کی جو کوششیں بھی اِدھر اُدھر سے کی جارہی ہیں بالآخر لوگوں کے عزمِ صمیم کے سامنے وہ دم توڑ دیں گی۔ وزیراعظم نے ابتدائی ۱۰۰ دن کے لیے جس پروگرام اور ترجیحات کا اعلان کیا ہے یقینی طور پر وہ نہایت خوش کن ہے، زخموں پہ پھایا اورد کھوں کے مداوے کے مترادف ہے لیکن ابھی تک ان اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کی کوئی مؤثر کوشش دیکھنے کو نہیں ملی۔ صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری ہونی چاہییں۔ طلبہ یونینز کے بارے میں بھی، ٹریڈ یونین سرگرمیوں کے حوالے سے بھی اور ایف سی آر کو ختم کرنے کے بارے میں بھی مرکزی حکومت کو ایک اچھے ہوم ورک کا ثبوت فراہم کرنا چاہیے۔
یہ بات بھی خوش آیند ہے کہ عوام نے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی تک اپنے حقیقی معاشی مسائل کے حل کو ملتوی کر رکھا ہے۔ عوام اس بات کو رفتہ رفتہ پا گئے ہیں کہ جس معاشرے میں قانون کی فرماں روائی نہ ہو اور محمود و ایاز ایک صف میں کھڑے نظر نہ آئیں ، وہاں مہنگائی ، بے روزگاری ، لاقانونیت اور محرومیوں کا مداوا نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ مرکز میں بننے والی اتفاقِ راے کی حکومت عوام کے معاشی مسائل حل کرنے کے لیے ایک ریلیف پیکج کا بھی فوری اعلان کرے اور یہ کام اچھی تیاری اور لائحہ عمل کی مشکلات کو عبور کر کے کیا جائے۔اس سلسلے میں یہ بھی ناگزیر ہے کہ معاشیات کو جاننے والے غریب اور پسے ہوئے عوام کا درد رکھنے والے اور بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی مایوسی اور ناامیدی کو شکست دینے کا عزم رکھنے والے مل بیٹھیں اور کم سے کم وقت میں ایک ریلیف پیکج کا اعلان کریں جس پر عمل ہوتا ہوا نظر آئے اور جو کسی نہ کسی درجے میں لوگوں کے لیے واقعی سُکھ کا باعث بن سکے۔
قبائلی علاقوں اور بلوچستان سے فوج کو واپس بلانا اب دیوار پر لکھی تحریر کے مانند ہے۔ فوج کی واپسی کے ساتھ ہی مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسائل حل کرنا ناگزیر ہے۔ جرگوں کا انعقاد ہونا چاہیے اور ہر جرگے کے فیصلے کو عمل کا روپ دینا چاہیے۔ امریکی ڈکٹیشن سے آزاد ہو کر اپنے مسائل اپنے ہی دائرے میں رہ کر اور اپنے ہی لوگوں کو اعتماد میں لے کر حل کیے جانے چاہییں۔ جتنے بڑے پیمانے پر بلوچستان اور صوبہ سرحد میں جانی اور مالی نقصان ہو چکا ہے، اس نے باہمی اعتماد کا بھی شدید بحران پیدا کیا ہے۔ مل بیٹھنے اور حسن نیت اور ارادے کی مضبوطی کے اظہار سے اور پھر فیصلے پر عمل درآمد سے اعتماد کے بحران کو شکست دی جاسکتی ہے اور اعتماد سازی اس کی جگہ لے سکتی ہے۔
صوبہ سندھ بقیہ صوبوں کے مقابلے میں جتنے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کا سامنا کرتا رہاہے، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ اس لیے اس بات کو دہرانا ضروری ہے کہ ۱۲ ربیع الاول ، نشترپارک کراچی میں ہونے والے علما کے قتل کی از سر نو تحقیقات کرائی جائیں۔ ۱۲ مئی ۲۰۰۷ء کو شہر کراچی میں جس طرح ۵۰ سے زائد لوگ ہلاک کیے گئے، اس پو رے واقعے کی بھی تحقیقات کی جائیں۔ نیز ۱۲مئی ۲۰۰۴ء کو کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں جس بڑے پیمانے پر دہشت گردی ہوئی اور سیاسی کارکنوں کو شہید کیا گیا، اس کا بھی نوٹس لیا جائے اور اب تازہ ترین واقعہ جو ۹ اپریل ۲۰۰۸ء کو ہوا ہے اور شہر کراچی کو آگ اور خون کے دریا میں دھکیل دیا گیاہے، اس کی بھی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ بلیک میلنگ کی سیاست کو ختم کیا جائے اور بھتہ خوری اور بوری بند لاش کلچر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے۔ ناگزیر ہے کہ اس کام کو کرنے کے لیے سندھ کی صوبائی حکومت پر عزم ہو، مرکزی حکومت کی مکمل آشیر باد اسے حاصل ہو اور دبائو میں آکر، بلیک میل ہو کر، خواہ یہ دبائو عالمی اور بین الاقوامی ہویا مقامی اور خفیہ اداروں کی طرف سے ہو،ایسے دہشت گردوں کو ہر گز ہر گز اقتدار میں شریک نہ کیا جائے جو ہزاروں جانوں کے اتلاف اور اربوں روپے کی املاک کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔
سیاسی جماعتوں سے اتفاق بھی کیا جاسکتاہے اور اختلاف بھی۔ ان کے ساتھ مل کر بھی کوئی حکمت عملی بنائی جاسکتی ہے اور کبھی ان سے ہٹ کر بھی، لیکن ایک فسطائی گروہ کو سیاسی جماعت سمجھنے کا جو خمیازہ اہل کراچی اور سندھ نے پچھلے بیس برسوں میں بھگتا ہے، اس کی اب تلافی ہونی چاہیے۔ بہت ہو چکا۔ پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا اور پانی سر سے بھی اونچا ہو چکا۔ عوام کی بڑی تعداد قومی اور صوبائی سطح پر بننے والی حکومتوں سے خوش گمان ہے اور حکومتی رویوں کو اعتماد بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ جو اپنے ایجنڈے اور اس کی ترجیحات کا بار بار اعلان کر رہی ہیں۔ لہٰذا سید یوسف رضاگیلانی کی حکومت کو ایک بڑا امتحان درپیش ہے۔ ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں، لیکن وعدوں اور اعلانات کے پورا نہ ہونے اور امیدوں کے بر نہ آنے کے جو خوفناک نتائج ہو سکتے ہیں اور جتنے بڑے پیمانے پر بپھرے ہوئے لوگوں کا غیظ و غضب اپنے آپ کو منوانے کے لیے جو کچھ کرسکتاہے، اس سے بھی بے خبر نہ رہنا چاہیے۔
موجودہ حکومت نے کشمیر کے بارے میں ابتدائی چند بیانات کچھ عجلت میں دے دیے تھے، ہمیں اپنے اصولی موقف پر قائم رہنا چاہیے۔ اہل کشمیر کی جدوجہد کو تسلیم کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی برادری نے ان سے جو وعدے کیے ہیں، ان کے مطابق انھیں حقِراے دہی ملنا چاہیے اور پاکستان کو اپنی اخلاقی ،سفارتی اور سیاسی تائید بڑھ چڑھ کر جاری رکھنی چاہیے۔ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور دشمن کے ہاتھ میں اپنی شہ رگ دے دینے والے بالآخر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس خود کشی سے قومی سطح پر بچنے کا واحد نسخہ یہی ہے کہ کشمیریوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔ بھارت کے عزائم کو ٹھیک ٹھیک سمجھا جائے اور اس خطے میں امریکی عمل دخل کو شکست سے دوچار کیا جائے۔
اس پورے پس منظر میں جماعت اسلامی کا کارکن بھی ایک بڑی آزمایش سے دوچار ہے۔ ۲۰۰۸ء کے منصوبۂ عمل پر اس کی روح کے ساتھ عمل بھی کرنا ہے اور چاروںطرف کے حالات سے باخبر رہ کر تحریکوں ، مہمات اور عوام کی آواز بن کر بھی اٹھنا ہے۔ ہم نے ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر بڑی بڑی تحریکیں اٹھائی ہیں۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کو اپنے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا ہے۔ آیندہ بھی ہمارا ہتھیار اللہ پر ایک جیتا جاگتا ایمان ، اس کی قدرت کاملہ پر بھروسا اور اسی کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہنے کا عزم ہے اور یہ سب کام اس کی رضا اور آخرت کی فلاح کے لیے کیا جانا ہے، اور کس سے یہ بات مخفی ہے کہ اللہ تک جانے کے تمام راستے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوکر گزرتے ہیں اور سنت ثابتہ کو اپنانے سے ہموار ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہرکارکن کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ کمر ہمت کس.َ لے ، تعلق باللہ کی استواری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے۔ سنت نبویؐ کو اپنائے ، شریعت مطہرہ کو لے کر اٹھے اور جو جدوجہد اور کش مکش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان چھوڑ گئے ہیں، اس کا خوگر بنے اور اس بارے میں کسی لیت و لعل سے کام نہ لے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ ہمارے حالات کو سدھار ے گا ، ہمیں اپنی تائید سے نوازے گا ، ہماری ٹوٹی پھوٹی جدوجہد کو قبول کرے گا اور جن آرزوئوں اور تمنائوں کے ساتھ قربانیاں دے کر اسے باقی رکھا گیاہے، اس کو نتیجہ خیز بنائے گا اور ہم اپنے سر کی آنکھوں سے پاک سرزمین پر قرآن و سنت کا پاکیزہ نظام روبہ عمل دیکھ سکیں گے۔ ان شاء اللہ!
جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے ۲۰۰۸ء کو دعوت کا سال قرار دیا ہے اور اس کے لیے ایک جامع منصوبہ اور لائحہ عمل بھی مرتب کیا ہے۔ پوری جماعت اس منصوبے کے مطابق اپنی سرگرمیاں ترتیب دے رہی ہے، اسی مناسبت سے اس ماہ کے اشارات میں محترم قیم جماعت نے منصوبے کے اصل مقاصد و اہداف اور ان احوال ومسائل پر کلام کیا ہے جو آج ملک اور تحریک کو درپیش ہیں۔ (مدیر)
صدر جارج بش کی حکومت خود اپنے ملک میں اور بین الاقوامی میدان میں سخت مشکلات کا شکار ہے اور کسی ایسے اقدام کے لیے بے چین ہے جس سے پے در پے شکستوں اور ہزیمتوں کے بعد کسی نوعیت کی سرخ روئی کا دعویٰ کیا جاسکے۔ عراق کی جنگ کے پانچ سال کے جتنے بھی جائزے آئے ہیں، وہ بش کی پالیسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جنگ غلط دعوئوں اور جھوٹ پر مبنی رپورٹوں کے سہارے سے شروع کی گئی۔ یہ جانتے ہوئے کہ عراق کے پاس عمومی تباہی کے مہلک ہتھیار نہیں ہیں، ان معدوم ہتھیاروں اور ان کے مغربی دنیا کو خیالی خطرات کے نام پر فوج کشی کی گئی۔ صدام کے دور میں نہ صرف عراق میں القاعدہ کا کوئی وجود نہیں تھا ،بلکہ عراق اور القاعدہ کا کسی سطح پر بھی کوئی رابطہ نہیں تھا، مگر القاعدہ کو بھی نشانہ بنانے کے لیے عراق پر حملہ کیا گیا اور عراق ہی نہیں پوری عرب دنیا میں القاعدہ کے ظہور اور سرگرمیوں کے لیے جواز فراہم کیا گیا۔ عراق کی جنگ میں ۳ہزار سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں، اس سے ۱۰ گنا زیادہ زخمی ہوئے ہیں اور ڈیڑھ لاکھ کے قریب فوجی عراق کی جنگ میں کچھ کردار ادا کرنے کے باعث ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں جس سے پوری امریکی فوج کا ذہنی اور اخلاقی توازن درہم برہم ہے۔ مالی اعتبار سے ۶۵۰ ارب ڈالر کے بلاواسطہ مصارف کے علاوہ جو بوجھ امریکی معیشت پر پڑا ہے، اس کا اندازہ چوٹی کے امریکی معاشی ماہرین کے خیال میں ۲ٹریلین (۲ ہزار ارب) ڈالر سے زیادہ ہے اور باقی دنیا کی معیشت پر اس کے علاوہ کم از کم ایک ٹریلین (ایک ہزار ارب) ڈالر کا بوجھ پڑا ہے۔
اس وقت جب دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ (۵ئ۱ ارب افراد) غربت کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، امریکا نے صرف اپنے شوقِ جہاںبانی اور اسرائیل کو محفوظ کرنے کے لیے ہزاروں بلین ڈالر جنگ کی آگ میں جھونک دیے ہیں، اور اب عراق کی ناکامی پر پردہ ڈالنے اور توجہ کو دوسری طرف مبذول کرانے کے لیے افغانستان، ایران اور خصوصیت سے پاکستان اور اس کے شمالی علاقوں کو اپنی ترک تازیوں کے لیے منتخب کیا ہے۔ اس سلسلے میں نئی جارحانہ محاذ آرائی روزافزوں ہے۔ اس کا آغاز گذشتہ سال ہی ہوگیاتھا اور پرویز مشرف کی کمزوریوں کا فائدہ اُٹھا کر امریکا نے شمالی علاقہ جات میں بے دردی سے بلاواسطہ کارروائیوں کا سلسلہ تیز کیا۔ ایک اندازے کے مطابق گذشتہ دو سال میں ۳۶ بار امریکی فوجی کارروائیوں کے ذریعے ہماری سرزمین کو ہماری آزادی اور حاکمیت کا مذاق اڑاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا ہے جن میں سیکڑوں افراد بشمول معصوم بچے، بوڑھے اور خواتین شہید ہوئے ہیں۔ ان میں سے ۱۰ حملے ۳ نومبر ۲۰۰۷ء اور ۱۸فروری ۲۰۰۸ء کے درمیان ہوئے ہیں جس سے پرویز مشرف اور امریکی قیادت کے گٹھ جوڑ اور آیندہ کے لیے پرویزمشرف کے کسی نہ کسی شکل میں اقتدار پر باقی رکھنے کی خواہش کے محرکات کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔
پاکستانی عوام کی عظیم اکثریت پرویز مشرف اور ان کی پالیسیوں سے برأت کا مسلسل اظہار کر رہی ہے۔ راے عامہ کے تمام ہی جائزے بتا رہے تھے کہ ۸۰ فی صد عوام ان سے نجات کے خواہاں ہیں اور یہی چیز ۱۸ فروری کے انتخابات میں ثابت ہوگئی۔ پرویز مشرف کی طرح امریکی قیادت بھی اپنی شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ۲۰۰۷ء کی بدلتی ہوئی فضا کے پیش نظر اس نے ملک کی دوسری سیاسی قوتوں سے جوڑ توڑ کا آغاز کردیا تھا، مگر یہ نقشہ آسمانی فیصلوں کے ذریعے درہم برہم ہوگیا۔ ۱۸ فروری کے بعد سے امریکا پر ایک گونہ گھبراہٹ کی کیفیت طاری ہے، اور اس کی پوری مشینری، صدربش سے لے کر اس کے مقامی سفارت کاروں تک بشمول دانش وروں اور صحافیوں کی فوج ظفرموج، نئی حکمت عملی کے لیے فضا ہموار کر کے اور نومنتخب قیادت کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے سرگرم ہیں۔ پرویز مشرف اور ان کے سیاسی حلیف ابھی تک امریکی حکمت عملی میں کلیدی مقام رکھتے ہیں لیکن اس وقت ساری کوشش پیپلزپارٹی کی قیادت کو اپنا ہم نوا بنانے میں صرف ہورہی ہے۔ اس کے شریک چیرپرسن جناب آصف علی زرداری نئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور نئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی خصوصی نشانہ ہیں۔ فوج کے سربراہ اور اعلیٰ قیادت بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اوّلاً، پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف اپنی نام نہاد جنگ میں حسب سابق آلۂ کار بنائے رکھنے کے لیے سفارتی دبائو اور معاشی لالچ کے تمام حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔ مخلوط حکومت نے چونکہ محض عسکری قوت سے سیاسی مسائل کے حل کے بارے میں اپنے کچھ تحفظات کا اظہار کیا اس لیے واشنگٹن میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ انتخابات کے فوراً بعد سفارت کاروں کی ایک فوج حملہ آور ہے اور پاکستان میں امریکی سفارت کاربھی سیاسی کارکنوں کی طرح متحرک ہیں۔ ایک طرف پرویز مشرف کو کسی نہ کسی حیثیت سے برسرِاقتدار رکھنے اور ایم کیو ایم کو اقتدار میں شریک بنانے کی ہمہ جہتی کوشش ہے تو دوسری طرف نئی حکومت کو امریکی تائید کی لالی پوپ دینے کے لیے کونڈولیزارائس نے کمال شفقت سے فوج کو سیاسی قیادت کے تحت کارفرما دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے (The need for Pakistan's military to be placed under civilian control)اور امریکی سینیٹرز اور سفارت کاروں نے معاشی اور فنی امداد میں تین گنا اضافے کی بات کی ہے۔ کانگرس نے اگلے پانچ سال کے لیے ۷ ارب ڈالر کی امداد کے پیکج کا دلاسہ دیا ہے۔ لیکن گاجرمولی والی اس سیاست کے ساتھ ڈنڈے اور لاٹھی والی بات کا بھی بھرپور اظہار کیا جا رہا ہے جو اس حکمت عملی کا دوسرا اور زیادہ خوف ناک ستون ہے۔
تمام شواہد اس امر کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ پرویز مشرف نے تمام قومی مفادات اور عزت و آبرو کو پس پشت ڈال کر محض اپنی کرسی کو بچانے کے لیے امریکا کو یہ عندیہ دے دیا تھا کہ امریکا اور ناٹو کی افواج جب چاہیں پاکستان کی سرزمین پر اقدام کرسکتے ہیں۔ الیکشن کے بعد اس کھلی چھٹی کا راز فاش ہوگیا اور قوم کا مزاج بالکل سب کے سامنے ہے کہ یہ ناقابلِ برداشت ہے۔ نیز امریکا اور مشرف کی عسکری قوت سے سیاسی مسئلے کو حل کرنے کی حکمت عملی کو بھی عوام نے صاف طور پر رد کر دیا ہے اور نومنتخب حکومت کے سب ہی عناصر سیاسی عمل اور مذاکرات کے ذریعے معاملات کو نمٹانے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ سب امریکا کے لیے ایک بڑی شکست اور بش کی خارجہ پالیسی کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی دبائو اور معاشی لالچ کے ساتھ امریکا کی پوری قیادت پاکستان کو آنکھیں دکھانے اور اپنی مرضی سے پاکستان کی سرزمین پر فوج کشی کرنے کی دھمکیاں دینے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ نئی حکومت کو اس سفارتی دہشت گردی (diplomatic terrorism) کے ذریعے اسی طرح گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکیں جس طرح نائن الیون کے بعد اس وقت کے مطلق العنان حکمران جنرل پرویز مشرف کو کیا تھا۔
اس یلغار کا ایک اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ ایڈمرل مائک مولین (Mike Mullen) نے جو امریکا کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے عہدے پر فائز ہیں، فرمایا ہے کہ عراق میں مصروف ہونے کے باوجود ہمیں دوسرے خطرات سے صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں خصوصی نظر پاکستان کے شمالی علاقہ جات پر رکھنا ضروری ہے جہاں سے خطرات کے پیغام پھوٹ رہے ہیں:
اگر مجھے کسی ایسی جگہ کا انتخاب کرنا پڑے جہاں سے اگلا حملہ ہونے والاہے تو یہ وہ جگہ ہے جسے میں یقینا منتخب کروں گا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں القاعدہ ہے، جہاں ان کی قیادت ہے اور ہمیں اس چیلنج کو ختم کرنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔
القاعدہ قبائلی علاقے میں دوبارہ مجتمع ہوگئی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ امریکا پر کسی دوسرے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
ایک اور جاسوسی ایجنسی ایف بی آئی کے ڈائرکٹر روبرٹ موئیلر (Robert Meuller) کا ارشاد گرامی ہے کہ القاعدہ کے کارندے قبائلی علاقوں میں روپوش ہیں اور ’’وہ راتوں رات خاموشی سے غائب نہیں ہوجائیں گے‘‘۔
اس کورس میں جس بات کا سب سے زیادہ تذکرہ ہے، وہ یہ ہے کہ نائن الیون کے حملے کی منصوبہ بندی عراق میں نہیں ہوئی تھی، بلکہ افغانستان میں ہوئی تھی۔ پانچ سال تک عراق کو تاراج کرنے کے بعد اب یہ راگ الاپا جا رہا ہے کہ اصل خطرہ تو افغانستان اور پاکستان سے ہے اور ہم ناحق عراق میں پھنسے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن سے ایک اہم رپورٹ کے مطابق :
گذشتہ ۱۰ دنوں میں خطرے کے نئے احساس، یعنی فاٹا میں القاعدہ قائدین کا دوسرے نائن الیون کا منصوبہ بنانے پر واشنگٹن میں درجنوں اجتماعات میں گفتگو ہوچکی ہے۔ (ڈان، ۲۱ اپریل ۲۰۰۸)
اس بحث و مباحثے کی انتہا خود صدر جارج بش کا وہ بیان ہے جو انھوں نے اے بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دیا ہے:
افغانستان اور عراق نہیں، بلکہ پاکستان وہ جگہ ہے جہاں سے امریکا پر نائن الیون جیسا دوسرا حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا جاسکتا ہے۔
پاک افغان سرحد کے ساتھ قبائلی علاقے آج کل دنیا کے خطرناک ترین علاقوں میں سے ایک ہے جہاں القاعدہ نے اپنے لیے محفوظ پناہ گاہیں قائم کرلی ہیں، اور امریکا پر حملہ کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔
جب اے بی سی کے نمایندے نے یہ سوال کیا کہ: If there was another 9/11 plot being hatched, it was probably hatched in Afghanistan and Pakistan and not in Iraq۔ بش کا جواب تھا:I would say not in Afghanistan, I would say in........جس پر سوال کرنے والے نے لقمہ دیا: Pakistan? اور صدر بش نے مہرتصدیق لگاتے ہوئے فرمایا: Yes, probably true ___اور ساتھ ہی فرمایا کہ اسی وجہ سے ضروری ہے امریکا میں FISA Law جیسے قوانین موجود رہیں جس کے ذریعے ٹیلی فون ٹیپ کرنے اور ان کو ریکارڈ کرنے کا حق حکومت کی ایجنسیوں کو دیا گیا ہے۔(ڈان، ۱۳ اپریل ۲۰۰۸ئ)
یہ ساری دھمکیاں اس لیے دی جارہی ہیں کہ پاکستان کی نئی حکومت کو دھمکا کر اسی طرح مطیع فرمان بنا لیا جائے، جیسے نائن الیون کے بعد پرویز مشرف کو کیا گیا تھا اور جو عملاً امریکا کے یرغمال کی حیثیت اختیار کرگئے تھے۔
آج پاکستان کی موجودہ قیادت کو ستمبر ۲۰۰۱ء ہی جیسے چیلنج سے سابقہ ہے، گو الفاظ اور اندازِ کار میں تھوڑا سا فرق ہے لیکن اصل فرق یہ ہے کہ پاکستانی عوام پرویز مشرف کی سات سالہ ناکام پالیسی کا پورا شعور رکھتے ہیں اور ۱۸ فروری کے انتخابات میں اپنے اس عزم کا بھرپور اظہار کرچکے ہیں اور اب امریکا کے تابع مہمل بن کر امریکا کی اس لڑائی میں کرایے کے سپاہی کا کردار ہرگز برداشت نہیں کریںگے۔ اس ناکام پالیسی کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں اور عوام نئی قیادت کو جس طرح عدلیہ کی بحالی کے معاملے میں پیچھے نہیں ہٹنے دیں گے، اسی طرح امریکا کی اس جنگ میں پاکستان اور اس کی افواج کے کردار کے بارے میں بھی ماضی کی پالیسی کو کسی نئی شکل میں جاری رکھنے، اور نئی زندگی دینے کی اجازت بھی ہرگز نہیں دیں گے۔
امریکا افغانستان، عراق اور پوری دنیا میں یہ جنگ ہارچکا ہے اور محض قوت اور دولت کے سہارے اسے جاری رکھنا ممکن نہیں۔ خود امریکا کے عوام کے ۸۰ فی صد اب صدربش کی پالیسیوں سے اختلاف کا اظہار کر رہے ہیں، اور نصف سے زیادہ صاف کہہ رہے ہیں کہ عراق اور افغانستان میں امریکا کی پالیسیاں ناکام رہی ہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، اس کے عوام اور دانش ور اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکا کی اس جنگ میں شرکت کے نتیجے میں جو کچھ حاصل ہوا ہے، وہ یہ ہے:
۱- پاکستان اپنی آزادی، حاکمیت اور اپنی سرحدوں کو پار نہ کیے جانے کے باب میں سخت زخم خوردہ ہے۔ قومی عزت اور حمیت پر ضرب کاری لگی ہے اور عوام اپنی آزادی اور حاکمیت کی مکمل بحالی چاہتے ہیں۔
۲- ملک کی مغربی سرحد جو ہمیشہ سے محفوظ ترین سرحد تھی، اپنی وہ حیثیت کھو چکی ہے اور اب فوج کا ایک معتدبہ حصہ اس سرحد پر تعینات ہے جس کے نتیجے میں کشمیر اور بھارت دونوںکے محاذ پر کمزوری آئی ہے۔
۳- ملک میں عدم تحفظ میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ ملک کی فوج پاکستان کے شہریوں کے خلاف استعمال ہورہی ہے اور فوج اور عوام دونوں اس کی بھاری قیمت اداکر رہے ہیں۔ ۹۰ہزار فوجی قبائلی علاقوں میں برسرِپیکار ہیں اور گذشتہ تین سال میں ۱۲۰۰ سے زائد فوجی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ اسی طرح جنھیں دہشت گرد کہا جا رہا ہے ان کا جانی نقصان بھی اس سے کسی طرح کم نہیں۔ نیز ۳ہزار سے زیادہ عام شہری جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین بھی خاصی تعداد میں شامل ہیں، لقمۂ اجل بن گئے ہیں۔ پورے علاقے میں انتشار، افراتفری اور خون خرابہ ہے۔ آبادی کے نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے اور بے یقینی اور عدم تحفظ کا دور دورہ ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان جو اعتماد، محبت اور تعاون کا رشتہ تھا، وہ ٹوٹ گیا ہے اور فوج اورحکومت کے اداروں پر حملے روز افزوں ہیں۔ پورے ملک میں بدامنی اور تشدد کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے جو سول سوسائٹی اور مستحکم جمہوری نظام کے لیے بڑا خطرہ ہے، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو ملک مزید عدم استحکام کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا۔
۴- پاکستان کو نائن الیون کے بعد امریکا کے حواری بننے کی بڑی بھاری معاشی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ امریکا تو یہی طعنہ دیتا ہے کہ ہم نے ۱۱ ارب ڈالر کی امداد دی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس میں سے ۶ ارب ڈالر فوجی خدمات کے معاوضے میں دی گئی ہیں اور اصل معاشی امداد جس کا ایک حصہ قرض کی شکل میں ہے صرف ۵ ارب ہے، جب کہ پاکستان کو ملک اور بیرونی محاذ پر جو معاشی نقصان اس جنگ میں شرکت کی وجہ سے ہوا ہے، اس کا صحیح تخمینہ لگانا مشکل ہے۔ ۲۰۰۶ء میں صرف پانچ سال کی بنیاد پر خود امریکا کی نارتھ کمانڈ کی ویب سائٹ پر یہ نقصان ۱۰ سے ۱۲ ارب ڈالر قرار دیا گیا تھا۔ آزاد ذرائع کے مطابق گذشتہ سات سال میں یہ نقصان ۱۲ سے ۱۵ ارب ڈالر کا ہے جس کی کوئی تلافی نہیں کی گئی اور نہ اس کا کوئی مطالبہ مشرف حکومت نے کیا، بلکہ اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔
۵- نیم غلامی کے اس دور کا ایک اہم نتیجہ جمہوریت کی پامالی، آمرانہ نظام کا استحکام، عدلیہ کی بربادی، بنیادی حقوق کی پامالی اور ملک کو نظریاتی انتشار اور قدیم و جدید اور انتہاپسند اور روشن خیالی کی کش مکش میں جھونک دینا ہے۔
ان سارے نتائج کو بھگتنے کے بعد قوم بیدار ہوچکی ہے اور عوام، وکلا، طلبہ اور سول سوسائٹی نے ماضی کی پالیسیوں کو ترک کر کے ایک حقیقی جمہوری انداز میں دستور اور قانون کی مکمل پاس داری کرتے ہوئے اور ملک کی آزادی، عزت اور تہذیبی شناخت کے مطابق نئی پالیسیوں کی تشکیل اور ان کی روشنی میں اجتماعی زندگی کی تعمیرنو کا عزم کیا ہے۔ ان حالات میں امریکا کی سفارتی یلغار اور فوجی اقدام کی دھمکیوں کے اصل مقصد اور اہداف کو سمجھنا، اور ان کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ امریکا دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ ہار چکا ہے اور اس وقت دنیا کے کسی بھی حصے میںاس کی پالیسی کی تائید موجود نہیں۔ امریکا نے معاشی اعتبار سے بھی ایک بھاری قیمت ادا کی ہے، اور گذشتہ ایک سال میں بقول اکانومسٹ چار بحرانوں نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا ہے، یعنی:
تعمیر مکانات میں مندی، قرضوں کا کمرتوڑ بوجھ، غذائی اشیا اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ایک کمزور ہوتی ہوئی لیبرمارکیٹ۔ مارچ میں بے روزگاری کی شرح ۱ئ۵ فی صد تک بڑھ گئی، جب کہ نجی شعبے میں مسلسل چار مہینوں تک ملازمتوں میں کمی واقعی ہوئی۔ (دی اکانومسٹ، لندن،۱۲ اپریل ۲۰۰۸ئ)
ان حالات میں امریکا کی دھونس میں آکر کسی ایسی پالیسی سے بچنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس کے نتیجے میں مندرجہ بالا پانچوں نقصانات ہمارا تعاقب کرتے رہیں گے۔ خارجہ پالیسی پر بنیادی نظرثانی اور نام نہاد دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ سے باعزت بے تعلقی ہمارے ملک میں استحکام، قومی مفاہمت، جمہوری استحکام اور دستور اور قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہے۔ اس کے لیے پرویز مشرف اور ان کے حواریوں کی ریشہ دوانیوں سے بھی نمٹنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ امریکا ایک طرف نئی حکومت کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف حکومت پر دبائو ڈالنے کے لیے پرویز مشرف اور ان کے حواریوں کے کردار کو جاری رکھنے کے لیے بھی ہرممکن کوشش کر رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کو سمجھ لینا چاہیے کہ دو کشتیوں میںسواری ایک فعلِ عبث ہے۔ اسے یکسو ہوکر جمہوریت اور عوام کے مینڈیٹ کے مطابق پالیسی سازی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اسی میں ملک و ملّت کی فلاح ہے اور یہی خود پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے بہترین مفاد میں ہے۔ امریکا کی حالیہ دھمکیوں، سفارتی ترک تازیوں اور معاشی امداد کی گنڈیریوں کے بارے میں ہم صرف اتنا ہی کہنا چاہتے ہیں کہ:
مشتری ہوشیار باش!
پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں پاکستانی قوم اور ملّتِ اسلامیہ پر جو ظلم توڑے گئے ہیں اور جو زخم لگائے گئے ہیں، ان میں فلسطین اور القدس سے غداری، اسرائیل سے دوستی، اُمت مسلمہ کے دشمنوں سے پینگیں بڑھانا اور بھارت کے ساتھ دوستی کے نام پر جموںو کشمیر کے مسلمانوں سے بے وفائی اور پاکستان کی اصولی اور تاریخی کشمیر پالیسی کو یک طرفہ طور پر تبدیل کردینا سرفہرست ہیں۔ آج جب قوم نے تبدیلی کے راستے کو منتخب کیاہے، اس بات کی ضرورت ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر بھی مشرف کی پسپائی اور منافقت کی پالیسی کو یک سر ترک کر کے اس پالیسی کا اعادہ کیا جائے جس کی بنیاد قائداعظم نے رکھی تھی، اور جس پر یہ قوم ہر خطرے کو انگیز کرتے ہوئے پہلے دن سے یکسو تھی۔ واضح رہے کہ کشمیر کا مسئلہ نیا نہیں، تقسیمِ ہند کے نامکمل ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے اور جب تک یہ مسئلہ حق و انصاف اور بین الاقوامی عہدوپیمان کے مطابق حل نہیں ہوتا، پاکستان اور ہندستان میں تعلقات کے معمول پر آنے کا (normalization ) کا کوئی امکان نہیں۔ پھر یہ مسئلہ کسی خطۂ زمین پر تنازع نہیں، یہ ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے حقِخود ارادیت کا مسئلہ ہے۔ انسانی حقوق بھی اس مسئلے کا حصہ ہیں لیکن اصل ایشو جموں و کشمیر کے مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنی آزاد مرضی سے کریں۔ پرویز مشرف نے اس مرکزی مسئلے (core issue) کا سارا فوکس تبدیل کردیا اور اسے محض پاک بھارت تعلقات کا ایک پہلو بنا کر تحریکِ پاکستان کے مقاصد سے غداری اور جموں و کشمیر کے مسلمانوں سے بے وفائی کا ارتکاب کیا ہے جسے پاکستانی قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔
بھارت نے اپنی روایتی مکاری کے مطابق پرویز مشرف کی تمام پسپائیوں اور یک طرفہ رعایتوں (concessions) کے باوجود کسی ایک پہلو سے بھی مسئلے کے حل کی طرف کوئی قدم نہیں بڑھایا، بلکہ سیاچن اور سرکریک جیسے مسائل کے بارے میں بھی جو باتیں ۲۰ سال پہلے طے کر لی تھیں ان پر بھی عمل نہیں کیا اور ساری توجہ کشمیر کی تحریک آزادی کو کچلنے، عوام پر ظلم و ستم کی حکمرانی کو بڑھانے اور پاکستان کے لیے کشمیر سے آنے والی پانی کی راہیں روکنے کے لیے ڈیم سازی پر مرکوز کی۔ ظلم ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارت ۳۰ سے زیادہ ڈیموں پر کام شروع کرچکا ہے اور کچھ پر مکمل کرچکا ہے اور پرویز مشرف اور ان کے حواری پاکستان کو بنجر بنانے کے لیے اس بھارتی منصوبے تک کا توڑ کرنے سے مجرمانہ غفلت برتے رہے ہیں۔
پرویز مشرف کی پالیسیوں کا سب سے بڑا نقصان پاکستان کو یہ ہوا ہے کہ ملک اور عالمی سطح پر ہماری اصولی پوزیشن بری طرح مجروح ہوئی ہے اور ہماری آواز میں کوئی وزن نہیں رہا ہے۔ نیز کشمیر میں جو عظیم تحریکِ مزاحمت جاری ہے اور جس میں اب تک ۶ لاکھ افراد اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جن میں سے ایک لاکھ تحریک کے حالیہ مرحلے میں شہید ہوئے ہیں، اس تحریک کو پرویز مشرف کی قلابازیوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان پر جو اعتماد جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو تھا، اس کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کی تحریک پر ضرب لگی ہے اور جموں و کشمیر کے عوام بھارت کے ساتھ رہنے کو تو نہ پہلے تیار تھے اور نہ اب تیار ہیں، لیکن پاکستان سے جو ان کی اُمیدیں تھیں اور جس طرح وہ پاکستان کو اپنی منزل مراد سمجھتے تھے، اس کیفیت اور اس اعتماد پر ضرب کاری لگی ہے۔ اب بھی وہ پاکستان کی قوم سے اچھی توقعات رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں جو کچھ ہوا وہ پرویز مشرف کی غلط پالیسی کا نتیجہ ہے جس کی اب پاکستانی قوم اصلاح کرے گی۔ گو زخم لگ چکا ہے اور شیشے پر بال آگیا ہے لیکن ابھی اصلاح کا امکان ہے۔ نئی حکومت کو پاکستان کی تمام بڑی پارٹیوں کے منشور کے مطابق قوم کی متفقہ کشمیر پالیسی کا پوری قوت سے اعادہ کرنا چاہیے کہ اصل مسئلہ حق خود ارادیت کا ہے۔ کشمیر ایک متنازع ایشو ہے اور بھارت اور پاکستان کے درمیان یہی اصل مرکزی مسئلہ ہے۔ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی تحریک ہراعتبار سے تحریکِ آزادی ہے جو ان کا حق ہے اور جس کی تائید ہمارا فرض ہے۔ اس سلسلے میں کسی لاگ لپیٹ کے بغیر پاکستان کی پارلیمنٹ اور حکومت کو واضح اعلان کرنا چاہیے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار جلد از جلد دیا جائے اور ان سے بھارت کے غاصبانہ قبضے کی تاریک رات کو جلد از جلد ختم کیا جائے، نیز تحریک حریت کی بھرپور تائید کی جائے اور عالمی سطح پر ان کے مسئلے کو اٹھایا جائے۔ اگر مشرقی تیمور اور کوسووا کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے اور اگر آئرلینڈ کے مستقبل کی صورت گری کو وہاں کے لوگوں کی مرضی کے مطابق کرنے کا اصول تسلیم کیا جاتا ہے تو جموں و کشمیر کے مسلمان اس حق سے کیوں محروم ہیں؟
بھارت کے ظالمانہ دورِاقتدار کو ختم ہونا ہے۔ تاریخ کا فیصلہ ہے کہ کوئی قوم کسی دوسری قوم کو اس کی مرضی کے بغیر ہمیشہ کے لیے زیردست نہیں رکھ سکتی۔ کشمیر کے مسلمانوں نے اپنی تاریخی اور جرأت مندانہ جدوجہد سے ثابت کردیا ہے کہ وہ بھارت کی غلامی میں رہنے کو تیار نہیں اور بھارت کے ظلم و ستم کی کوئی انتہا نہیں۔ حال ہی میں جو اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں، ان میں ہزاروں ان جوانوں کو قتل کر کے دفن کیا گیا جو بلاجواز اٹھا لیے گئے تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان قبروں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے ایک بین الاقوامی ایشو کے طور پر اٹھایا ہے، مگر پاکستان کی حکومت اس سلسلے میں اپنا فرض ادا کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ بلاشبہہ اس وقت حکومت بڑے مشکل حالات میں گھری ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود کشمیر کے مسئلے پر ہر محاذ پر ضروری اقدام وقت کی ضرورت ہے۔ اعتماد سازی کے اقدامات (CBMS) کے دھوکوں کا وقت گزر چکا ہے۔ اب ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے اور وہ اپنے مستقبل کے بارے میں جو فیصلہ کریں، اسے خوش دلی سے قبول کرلیا جائے۔ پرویز مشرف کی کشمیر پالیسی میں جو حماقتیں اور بے وفائیاں کی گئی ہیں اور اس سے جو دکھ اور نقصان تحریک آزادیِ کشمیر کو ہوا ہے، اس کا اعتراف کر کے تلافی کا سامان کیا جائے۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر آج بھی پاکستان کی حکومت اور پارلیمنٹ عوام کے دلی جذبات کے مطابق اپنے اصولی اور تاریخی پالیسی کا بھرپور اعادہ کرے اور اس پر عمل درآمد کے لیے ہمہ جہتی پروگرام بناکر مؤثر کام کرے تو کشمیری عوام سابقہ قیادت کی غلطیوں سے درگزر کریں گے، اور اس جوش اور جذبے سے پاکستان سے یگانگت اور یک جہتی کا اظہار کریں گے جو ان کی ۶۰ سالہ تحریکِ آزادی کا طرۂ امتیاز ہے۔
قائدِحریت سید علی شاہ گیلانی اور کے ایل ایف کے قائد یٰسین ملک کا ایک پلیٹ فارم سے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھنے کا عزم اور بھارت کے تحت انتخابات کا بائیکاٹ یہ امید دلاتا ہے کہ تحریک حریت سے وابستہ تمام قوتیں مل کر اپنے مشترک مقصد کے لیے ایک بار پھر میدان میں اُتر رہی ہیں۔ سیاسی اور جہادی سب قوتوں کو مل کر کشمیر کی بھارت سے آزادی کی جدوجہد کو اپنے آخری نتیجے تک پہنچانا ہے اور پاکستان کی قوم اور قیادت اس جدوجہد میں اپنا قرار واقعی کردار ادا کرے گی۔ پارلیمنٹ کو اس سلسلے میں پوری یکسوئی اور جرأت کے ساتھ ملت اسلامیہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کا اعلان کرنا چاہیے اور اس پر عمل کے لیے مؤثر پروگرام وضع کرنا چاہیے۔ یہ وقت جموں و کشمیر کے عوام اور ان کی تحریک آزادی کے ساتھ مکمل یک جہتی کے اظہار اور ان کی تقویت کے لیے ہرممکن ذرائع کے استعمال کا ہے۔
برسوں کے مطالعے اور سیکڑوں کتابوں کا حاصل
اُردو میں اپنے موضوعات پر بے مثال تحقیقی اور معلوماتی کتب
جتنا کام لوگ پوری زندگی میں نہیں کرپاتے، ایک استاد نے ریٹائرمنٹ کے بعد کردیا
میاں محمد اشرف
ہندو معاشرہ / امریکا/ اشتراکیت/ افریقہ/ یورپ اور اسلام میں غلامی پر علیحدہ علیحدہ
اس کے علاوہ ۱۲ دوسرے موضوعات مثلاً :آبادی، نسل پرستی، مہاجرین وغیرہ پر اسی پایے کی کتابیں
رعایت۲۰ فی صد ، ڈاک خرچ بذمہ ادارہ
آج ہی آرڈر دیجیے
فروغِ علم اکیڈمی: -1179 ماڈل ٹائون ہمک، اسلام آباد۔ فون: 051-4490380 موبائل:0334-5503848
website: www.farogheilm.com, email: ashraf@farogheilm.com
’طاغوت‘ لغت کے اعتبار سے ہر اُس شخص کو کہا جائے گا، جو اپنی جائز حد سے تجاوز کرگیا ہو۔ قرآن کی اِصطلاح میں طاغوت سے مراد وہ بندہ ہے، جو بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خود آقائی و خداوندی کا دم بھرے اور خدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائے۔ خدا کے مقابلے میں ایک بندے کی سرکشی کے تین مرتبے ہیں۔ پہلا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ اُصولاً اس کی فرماں برداری ہی کو حق مانے، مگر عملاً اس کے احکام کی خلاف ورزی کرے۔ اِس کا نام فِسق ہے۔ دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ اس کی فرماں برداری سے اُصولاً منحرف ہوکر یا تو خودمختار بن جائے یا اس کے سوا کسی اَور کی بندگی کرنے لگے۔ یہ کفر ہے۔ تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ مالک سے باغی ہوکر اس کے ملک اور اس کی رعیت میں خود اپنا حکم چلانے لگے۔ اس آخری مرتبے پر جو بندہ پہنچ جائے، اسی کا نام طاغوت ہے اور کوئی شخص صحیح معنوں میں اللہ کا مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ وہ اس طاغوت کا منکر نہ ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، ص۱۹۶-۱۹۷)
طاغوت طغیان سے ہے جس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ کسی کو طاغی (سرکش) کہنے کے بجاے اگر طاغوت (سرکشی) کہا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ انتہا درجے کا سرکش ہے۔ مثال کے طور پر کسی کو حسین کے بجاے اگر یہ کہا جائے کہ وہ حُسن ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ خوب صورتی میں درجۂ کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ معبودانِ غیراللہ کو طاغوت اس لیے کہا گیا ہے کہ اللہ کے سوا دوسرے کی بندگی کرنا تو صرف سرکشی ہے مگر جو دوسروں سے اپنی بندگی کرائے، وہ کمال درجے کا سرکش ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، ص ۳۶۶)
’طاغوت‘ سے مراد وہ حاکم ہے جو قانونِ الٰہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو، اور وہ نظامِ عدالت ہے جو نہ تو اللہ کے اقتدارِ اعلیٰ کا مطیع ہو اور نہ اللہ کی کتاب کو آخری سند مانتا ہو۔ لہٰذا... جو عدالت ’طاغوت‘ کی حیثیت رکھتی ہو، اس کے پاس اپنے معاملات فیصلے کے لیے لے جانا ایمان کے منافی ہے اور خدا اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کا لازمی اقتضا یہ ہے کہ آدمی ایسی عدالت کو جائز عدالت تسلیم کرنے سے انکار کردے۔ قرآن کی رُو سے اللہ پر ایمان اور طاغوت سے کفر، دونوں لازم و ملزوم ہیں، اور خدا اور طاغوت دونوں کے آگے بیک وقت جھکنا عین منافقت ہے۔ (ایضاً، ص ۳۶۶-۳۶۷)
کسی کے طاغوت ہونے کے لیے اس کا خود طاغی (سرکش) ہونا تو شرطِ اوّل ہے۔ رہی دوسری شرط تووہ محض پوجا جانا نہیں ہے، بلکہ اس پوجے جانے میں اس کی اپنی خواہش اور کوشش کا دخل بھی ہونا چاہیے۔ بالفاظِ دیگر طاغوت وہ ہے جس نے نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی کی ہو، بلکہ اِس سرکشی میں یہاں تک بڑھ گیا ہو کہ خدا کے بجاے اس نے اپنے آپ کو لوگوں کا رب اور اِلٰہ بنانے کی کوشش کی ہو۔ اس معنی کے لحاظ سے بتوں پر یا ان بزرگوں پر جن کو مرنے کے بعد بت بنایا گیا، طاغوت کا اطلاق نہ ہوگا۔ (مکاتیب سید ابوالاعلٰی مودودی، حصہ اوّل، ص ۱۲۲)
خدا سے منہ موڑ کر انسان ایک ہی طاغوت کے چنگل میں نہیں پھنستا، بلکہ بہت سے طواغیت اس پر مسلط ہوجاتے ہیں۔ ایک طاغوت شیطان ہے، جو اس کے سامنے نت نئی جھوٹی ترغیبات کا سدابہار سبزباغ پیش کرتا ہے۔ دوسرا طاغوت آدمی کا اپنا نفس ہے، جو اسے جذبات و خواہشات کا غلام بنا کر زندگی کے ٹیڑھے سیدھے راستوں میں کھینچے کھینچے لیے پھرتا ہے اور بے شمار طاغوت باہر کی دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بیوی اور بچے، اعزہ اور اقربا، برادری اور خاندان، دوست اور آشنا، سوسائٹی اور قوم، پیشوا اور راہنما، حکومت اور حکام، یہ سب اس کے لیے طاغوت ہی طاغوت ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک اُس سے اپنی اغراض کی بندگی کراتا ہے اور بے شمار آقائوں کا یہ غلام ساری عمر اسی چکّر میں پھنسا رہتا ہے کہ کس آقا کو خوش کرے اور کس کی ناراضی سے بچے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، ص ۱۹۷)
طاغوت کا مصدر ’طغیان‘ ہے جس کے معنی حد سے گزر جانے کے ہیں۔ دریا جب اپنی حد سے گزر جاتا ہے توآپ کہتے ہیں: طغیانی آگئی ہے۔ اسی طرح جب آدمی اپنی جائز حد سے گزر کر اس غرض کے لیے اپنی طاقت استعمال کرتا ہے کہ انسانوں کا خدا بن جائے یااپنے مناسب حصے سے زائد فوائد حاصل کرے تو یہ طاغوت کی راہ میں لڑنا ہے اور اس کے مقابلے میں راہِ خدا کی جنگ وہ ہے جس کا مقصد صرف یہ ہو کہ خدا کا قانونِ عدل دنیا میں قائم ہو۔ لڑنے والا خود بھی اس کی پابندی کرے اور دوسروں سے بھی اس کی پابندی کرائے، چنانچہ قرآن کہتا ہے:
تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ط وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ o (القصص ۲۸:۸۳) آخرت میں عزت کا مقام تو ہم نے صرف ان لوگوں کے لیے رکھا ہے جو زمین میں اپنی بڑائی قائم کرنا اور فساد کرنا نہیں چاہتے۔ عاقبت کی کامیابی صرف خدا ترس لوگوں کے لیے ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ ’’راہِ خدا کی جنگ سے کیا مراد ہے؟ ایک شخص مال کے لیے جنگ کرتا ہے، دوسرا شخص بہادری کی شہرت حاصل کرنے کے لیے جنگ کرتا ہے، تیسرے شخص کو کسی سے عداوت ہوتی ہے یا قومی حمیّت کا جوش ہوتا ہے، اس لیے جنگ کرتا ہے۔ ان میں سے کس کی جنگ فی سبیل اللہ ہے؟‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ’’کسی کی بھی نہیں، فی سبیل اللہ تو صرف اس شخص کی جنگ ہے جو خدا کا بول بالا کرنے کے سوا کوئی مقصد نہیں رکھتا‘‘۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ’’اگر کسی شخص نے جنگ کی اور اس کے دل میں اُونٹ باندھنے کی ایک رسی حاصل کرنے کی بھی نیت ہوئی تو اس کا اجر ضائع ہوگیا‘‘۔
اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو محض اس کی خوشنودی کے لیے ہو اور کوئی شخصی یا جماعتی غرض پیشِ نظر نہ ہو۔ پس جہاد کے لیے فی سبیل اللہ کی قید اسلامی نقطۂ نظر سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مجرد جہاد تو دنیا میں سب ہی جان دار کرتے ہیں۔ ہر ایک اپنے مقصد کی تحصیل کے لیے پورا زور صرف کر رہا ہے، لیکن ’مسلمان‘ جس انقلابی جماعت کا نام ہے، اس کے انقلابی نظریات میں سے ایک اہم ترین نظریہ بلکہ بنیادی نظریہ یہ ہے کہ اپنی جان و مال کھپائو، دنیا کی ساری سرکش طاقتوں سے لڑو، اپنے جسم و روح کی ساری طاقتیں خرچ کرو، نہ اس لیے کہ دوسرے سرکشوں کو ہٹا کر تم ان کی جگہ لے لو، بلکہ صرف اس لیے کہ دنیا سے سرکشی و طغیان مٹ جائے اور خدا کا قانون دنیا میں نافذہو۔ (اسلامی نظامِ زندگی اور اس کے بنیادی تصورات، ص ۲۴۵-۲۴۶)
وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا o (المزمل ۷۳:۴)
اور قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو۔
[جب حضوؐر کو یہ حکم دیا گیا کہ] آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر، اور قرآن شریف کو آہستہ آہستہ ٹھیر ٹھیر کر، پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے، اس حکم کے بھی حضوؐر عامل تھے۔ حضرت صدیقہؓ کا بیان ہے کہ آپ قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی۔ گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی، صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں: خوب مد کرکے حضوؐر پڑھا کرتے تھے۔ پھر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر سنائی جس میں لفظ اللہ پر، لفظ رحمن پر، لفظ رحیم پر مد کیا۔ ابن جریج میں ہے کہ ہر ہر آیت پر آپ پورا وقف فرمایا کرتے تھے جیسے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِپڑھ کر وقف کرتے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ پڑھ کر وقف کرتے، اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر وقف کرتے، مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِپڑھ کر ٹھیرتے۔ یہ حدیث مسند احمد، ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ مسنداحمد کی ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ، جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا۔ تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو۔ یہ حدیث ابودائود و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔
[بہت سی] احادیث ہیں جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو، اور ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے، اور حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی نسبت حضوؐر کا یہ فرمانا کہ اسے آلِ دائود کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے اور حضرت ابوموسٰی ؓ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپؐ سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا، اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلائو اور شعروں کی طرح قرآن کو بے تہذیبی سے نہ پڑھو، اس کے عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جائو اور اس کے پیچھے نہ پڑجائو کہ جلد سورت ختم ہو۔ (بغوی)۔ ایک شخص آکر حضرت ابن مسعود ؓ سے کہتا ہے: میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہوگا، مجھے وہ برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنھیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے۔ پھر مفصل کی سورتوں میں سے ۲۰ سورتوں کے نام لیے کہ ان میں سے دو دو سورتیں حضوؐر ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔(تفسیر ابن کثیر، عمادالدین ابوالفدا ابن کثیر، ص ۳۸۴-۳۸۵)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن کا صرف پڑھنا مطلوب نہیں، بلکہ ترتیل مطلوب ہے جس میں ہر ہر کلمہ صاف صاف اور صحیح ادا ہو۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ترتیل فرماتے تھے۔ حضرت اُم سلمہؓ سے بعض لوگوں نے رات کی نماز میں آپ کی تلاوتِ قرآن کی کیفیت دریافت کی تو انھوں نے نقل کر کے بتلایا جس میں ایک ایک حرف واضح تھا۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی، از مظہری)
ترتیل میں تحسینِ صوت، یعنی بقدر اختیار خوش آوازی سے پڑھنا بھی شامل ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی کی قراء ت و تلاوت کو ایسا نہیں سنتا جیسا اُس نبی کی تلاوت کو سنتا ہے جو خوش آوازی کے ساتھ جہراً تلاوت کرے۔ (مظہری)
.....اور اصل ترتیل وہی ہے کہ حروف و الفاظ کی ادایگی بھی صحیح اور صاف ہو ، اور پڑھنے والا اس کے معانی پر غور کر کے اُس سے متاثر بھی ہو رہا ہو، جیساکہ حسن بصریؒ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزرایک شخص پر ہوا، جو قرآن کی ایک آیت پڑھ رہا تھا اور رو رہا تھا۔ آپؐ نے لوگوں سے فرمایا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ حکم سنا ہے: وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًابس یہی ترتیل ہے (جو یہ شخص کر رہا ہے) (القرطبی)۔ (معارف القرآن، مفتی محمد شفیع، ج ۸، ص ۵۹۰-۵۹۱)
حضرت امام صادق سے ’ترتیل‘ کی تفسیر میں یہ آیا ہے: جس وقت تم کسی ایسی آیت سے گزرو جس میں جنت کا ذکر ہو تو رُک کر خدا سے جنت کا سوال کرو (اور اس کے لیے اپنی اصلاح کرو)، اور جب تم کسی ایسی آیت سے گزرو جس میں جہنم کا ذکر ہو، تو خدا سے اس سے پناہ مانگو (اور خود کو اس سے دُور رکھو)۔
.....ایک اور حدیث میں انھی حضرت سے اس طرح نقل ہوا ہے: قرآن کو جلدی جلدی، سرعت اور تیزی کے ساتھ نہیں پڑھنا چاہیے۔ جس وقت تم کسی ایسی آیت سے گزرو جس میں جہنم کا ذکر ہو، تو وہاں رک جائو اور خدا سے جہنم کی آگ سے پناہ مانگو.....
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ زمانے میں بہت سے مسلمان اس واقعیت سے بہت دُور ہوگئے ہیں، اور انھوں نے قرآن کے صرف الفاظ پر اکتفا کرلیا ہے، اور ان کا مقصد صرف سورت اور قرآن کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ بغیر اس کے کہ وہ یہ جانیں کہ یہ آیات کس مقصد کے لیے نازل ہوئی ہیں؟ اور کس پیام کی تبلیغ کر رہی ہیں؟ یہ ٹھیک ہے کہ یہ قرآن کے الفاظ بھی محترم ہیں، اور ان کو پڑھنا بھی فضیلت رکھتا ہے لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ الفاظ اور تلاوت ان کے مطالب و مضامین کو بیان کرنے کا مقدمہ اور تمہید ہے۔ (تفسیرنمونہ، ج ۲۵، ص ۱۵۱-۱۵۲)
حضرت حذیفہ بن یمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رات کی نماز میں حضوؐر کے ساتھ کھڑا ہوگیا تو آپ کی قراء ت کا یہ انداز دیکھا کہ جہاں تسبیح کا موقع آتا، وہاں تسبیح فرماتے، جہاں دُعا کا موقع آتا، وہاں دعا مانگتے، جہاں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا موقع آتا، وہاں پناہ مانگتے (مسلم، نسائی)۔ حضرت ابوذرؓ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رات کی نماز میں جب حضوؐر اِس مقام پر پہنچے اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ (اگر تو انھیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو معاف فرما دے تو تو غالب اور دانا ہے) تو اسی کو دُہراتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی (مسنداحمد، بخاری)۔ (تفہیم القرآن، سیدابوالاعلیٰ مودودی، ج ۶، ص ۱۲۶-۱۲۷)
تلاوتِ قرآن کا یہی طریقہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق بھی ہے اور یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ماثور و منقول بھی ہے۔ قرآن کے مقصدِ نزول کے پہلو سے بھی یہی طریقہ نافع ہوسکتا ہے لیکن مسلمانوں میں یہ طریقہ صرف اس وقت تک باقی رہا جب تک وہ قرآن کو فکروتدبر کی چیز اور زندگی کی رہنما کتاب سمجھتے رہے۔ بعد میں جب قرآن صرف حصولِ ثواب اور ایصالِ ثواب کی چیز بن کے رہ گیا تو یہ اس طرح پڑھا جانے لگا جس کا مظاہرہ ہمارے حفاظ کرام تراویح اور شبینوں میں کرتے ہیں۔ (تدبر قرآن، امین احسن اصلاحی، ج ۸، ص ۲۳-۲۴)
یہ [دراصل] ایک عظیم مہم کے لیے من جانب اللہ تربیت تھی اور اس تربیت میں ایسے ذرائع استعمال کیے گئے جن کی کامیابی کی ضمانت من جانب اللہ دی گئی تھی۔ قیام اللیل، جس کی زیادہ سے زیادہ حد نصف رات یا دو تہائی سے کم یا ایک تہائی ہے، اس میں صرف ترتیل قرآن اور نماز ہوتی ہے۔ ترتیل قرآن کا مطلب ہے قرآن کو تجوید کے ساتھ قرآن کے اصولوں کے مطابق پڑھنا، جلدی جلدی بھی نہ ہو اور محض گانے بجانے کا انداز بھی نہ ہو۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح روایات وارد ہیں کہ آپؐ نے قیام اللیل کے دوران گیارہ رکعات سے زیادہ نہ پڑھا تھا لیکن ان گیارہ رکعات میں رات کے دو تہائی حصے سے قدرے کم وقت گزارتے تھے اور آپؐ قرآن مجید کو خوب رُک رُک کر تجوید کے ساتھ پڑھتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تربیت اس لیے کی جارہی تھی کہ ایک بھاری ذمہ داری آپؐ کے سپرد کی جانے والی تھی..... راتوں کو جاگنا، جب کہ لوگ سورہے ہیں، اور روز مرہ کی زندگی کی کدورتوں سے دُور ہونا، اور دنیاوی جھمیلوں سے ہاتھ جھاڑ کر اللہ کا ہو جانا، اور اللہ کی روشنی اور اللہ کے فیوض وصول کرنا، اور وحدت مطلقہ سے مانوس ہونا، اور اس کے لیے خالص ہوجانا، اور رات کے سکون اور ٹھیرائو کے ماحول میں ترتیل قرآن، ایسی ترتیل کہ گویا یہ قرآن ابھی نازل ہو رہا ہے اور یہ پوری کائنات اس قرآن کے ساتھ رواں دواں ہے۔ انسانی الفاظ اور عبارات کے سوا ہی یہ پوری کائنات قرآن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ قیام اللیل میں انسان قرآن کے نورکی شعاعیں، اس کے اشارات، نہایت پُرسکون ماحول میں حاصل کرتا ہے اور یہ سب اس دشوارگزار راستے کا سازوسامان ہے۔ کیونکہ اس کٹھن راستے کی مشکلات رسولؐ اللہ کے انتظار میں تھیں اور یہ ہر اس شخص کا انتظار کرتی ہیں، جو بھی اس دعوت کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔ جو شخص بھی جس دور میں دعوتِ اسلامی کا کام کرتاہے، شیطانی وساوس اور اس راہ کے تاریک ترین لمحات میں یہی زادِ راہ کسی داعی کے کام آتا ہے اور اس سے اس کی راہ روشن ہوتی ہے (فی ظلال القرآن، سید قطب شہیدؒ، ترجمہ: معروف شاہ شیرازی، ج۶، ص ۶۷۶-۶۷۷)۔ (انتخاب و ترتیب: امجد عباسی)
غلبۂ اسلام کے لیے کوشاں اسلامی تحریکیں ہمیشہ موضوع بحث رہی ہیں۔ دہشت گردی کے نام پر مسلط کی جانے والی عالمی جنگ میں اس حوالے سے بحث جاری ہے۔ مغرب میں کی جانے والی ان تحقیقات کا غالب حصہ منفی اہداف رکھتا ہے۔ زیرنظر تحریر ڈاکٹر شفیق ملک کے پی ایچ ڈی مقالے کا آخری باب ہے جس میں اسلامی تحریکوں کو درپیش مسائل، خدشات اور مستقبل کے امکانات کا مثبت جائزہ لیا گیا ہے، اور لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے۔ (ادارہ)
اسلامی تحریکیں امت کو جمود ،پستی ،غلامی اور خود فراموشی سے نکالنے کے لیے اٹھی ہیں۔ اس کے لیے جہاں اَن تھک جدوجہد ضروری ہے، وہیں ان خطرات کی سنگینیوں کااحساس اور تدارک بھی ضروری ہے جن سے یہ تحریکیں دوچارہوسکتی ہیں۔
ان خطرات میں سب سے پہلے وہ نوجوان ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم معاشرے میں دین پر عمل کی رفتار سست ہے۔وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ شریعت اوردین واخلاق کے منافی مظاہروں کو ہرصورت میں فوراً ختم ہوناچاہیے۔وہ اسلام کی خوبیوں کے ادراک کے لیے وقت دینے کو تیار نہیں ہیں۔ نتائج کے سلسلے میں عجلت پسندی انسانی طبیعت کا خاصہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن اور حضوؐرنے صحابہ کرامؓ کو باربار صبرکی تلقین کی۔اس لیے یہ معلوم ہوناضروری ہے کہ اجتماعی اصلاح وتربیت کے عمل کی کامیابی کے لیے ،عجلت پسندی کے بغیر ،ایک بھر پور اورطویل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔
بعض افراد میں انتہاپسندی کے رحجانات نظر آتے ہیں۔انتہاپسندی کی وجہ سے دعوت اور پُرامن ذرائع ِانقلاب پراعتماد کمزور ہوتاہے اورتشدد اورمسلح انقلاب کی راہ اختیار کی جاتی ہے۔ اسلام نے انتہاپسندی کی مذمت کی ہے اورغلطیوں کی اصلاح کے لیے حکمت کارویہ اپنانے پر زوردیاہے۔ اسلامی بیداری کو انتہا پسندی سے اجتناب کرناچاہیے تاکہ نوجوان تشدد کی راہ نہ اختیار کریں۔ (ماہنامہ ترجمان القرآن، لاہور، جنوری ۱۹۹۶ئ، ص ۴۳-۴۴)
خرم مراد اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ساری جدوجہد کااصل مطلوب صرف ایک ہے ،اپنے لیے اور دوسرے افرادکے لیے ،جنت کاحصول ممکن بنانا___ اسی لیے پہلے مرحلے میں اصل اہمیت افراد کی ہے، نہ کہ اجتماعی نظام کی چنانچہ اجتماعی اصلاح کی خاطر کوئی ایسے طریقے اختیار کرنا ہر گزصحیح نہیں ہوسکتا جن سے افراد کی اصلاح کادروازہ بند ہوتاہو، یاوہ جنت سے دُور اورآگ سے قریب ہوتے ہوں۔تشدد سے دلوں کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ لوگوں کو مارنے سے ان کی ہدایت کاامکان ختم ہوجاتاہے۔لوگوںکوہلاک کرنا اسی وقت صحیح ہوسکتا ہے جب ان پراتمامِ حجت ہوگئی ہو، اوران کی اصلاح سے مایوسی۔ اس کاتعین وحی الٰہی کے بند ہوجانے کے بعد ممکن نہیں۔اس لیے اِلا.ّ یہ کہ اللہ کے احکام کے مطابق جہاد کرتے ہوئے مخالفین مارے جائیں، صرف دین کی مخالفت یاگناہوں کی سزامیں لوگوں کوہلاک کرنا کس طرح صحیح ہوسکتاہے۔ بے گناہوں کو ،خصوصاً عورتوں ، بچوں اوربوڑھوں کومارناتوجہاد میں بھی منع ہے۔اسی طرح اگر مسلح انقلاب کی کوشش میں لوگ کثرت سے مارے جائیں ، آبادیاں ملبے کاڈھیر بن جائیں توپاکیزہ نظام کن لوگوں پرقائم ہوگا اوراس کی برکات سے کون مستفید ہوگا۔کیاصرف چند پاکیزہ نفوس ؟
گن پوائنٹ پر ایک دل بھی سیدھانہیں ہوسکتا ،کجایہ کہ سیاست،ثقافت،صحافت،ادب اورقوم سب کو سیدھاکر دیاجائے۔ خود پاکستان میں مارشل لا کے ناکام تجربات ہمارے سامنے ہیں۔ جنرل یحییٰ خان ڈھاکہ آئے تھے تومیں نے ان سے یہ کہاتھا کہ ’’آپ مسیحاکارول نہ سنبھالیں۔اگر ڈنڈے سے قوم کی اصلاح ہواکرتی تواللہ تعالی انبیا کے بجاے فیلڈ مارشل ہی مبعوث کیاکرتا ‘‘۔چنانچہ دعوت دین کی جدوجہدکرنے والوں کاپہلافرض یہ ہے کہ جوجانتے نہیں، ان کے سامنے حق پہنچانا ہے۔ مطلوب حدتک یہ فرض اداکیے بغیر طاقت کے استعمال کاجواز نہیں۔ جن بے خبر اورغفلت و جہالت کے شکار لوگوں کے سامنے ابدی زندگی کاپیغام پہنچانے کی ذمہ داری ہم ابھی تک ادا نہیں کرسکے ،ان کو سینما ہال میں بیٹھے بیٹھے موت کاپیغام پہنچادینا،کس طرح اللہ کو پسند ہوسکتاہے ؟ حواکی جن بیٹیوں کے کانوں میں اب تک ہم وہ تریاق نہیں ڈال سکے ،جو ان کے دلوں کوسلیم بناسکتاہے ،ان کے اوپر تیزاب ڈال کرا ن کے چہرے مسخ کردینے سے آخر کوئی فرد جنت کامستحق کیسے بن سکتاہے ؟
طاقت کااستعمال اگرجائز بھی ہو تواس کے لیے ایک سرجن کی سی ہمدردی ،سو ز اورمہارت ضروری ہے۔ جہاں اس کے استعمال کے پیچھے مایوسی ،غصے اورنفرت کے نفسانی جذبات کارفرما ہوں تو نہ وہ راستہ اختیار کرنے والوں کے لیے فلاح کاباعث ہوسکتا ہے اورنہ مقصد اصلاح کے لیے سودمندہوسکتاہے۔(خرم مراد، تحریک اسلامی، اہداف، مسائل، حل، ص ۸۹-۹۰)
اس لیے جب تک پرامن ذرائع سے دعوت پہنچانے ،منوانے اوراجتماعی تبدیلی لانے کے راستے کھلے ہوئے ہوں اورجس وقت تک راے عامہ اسلامی انقلاب کی پشت پناہی کے لیے تیار نہ ہوجائے، اس وقت تک اسلحہ اٹھاکر جہادکرنا صحیح نہیںہوگا اورحکمرانوں کے چند اقوال وافعال کی بنیاد پر ان کی تکفیر کرکے ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کاتو کوئی حکم ہمیں نہیں ملتا۔
اسی لیے سید مودودی نے واضح طورپرفرمایاتھا: آپ جس ملک میں کام کررہے ہیں، وہاں ایک آئینی اورجمہوری نظام قائم ہے۔ اس نظام میں قیادت کی تبدیلی کاایک آئینی راستہ ہے، انتخابات۔ ایک آئینی و جمہوری نظام میں رہتے ہوئے تبدیلیِقیادت کے لیے کوئی غیر آئینی راستہ اختیارکرنا، شرعاً آپ کے لیے جائز نہیں۔اسی بنا پر آپ کی جماعت کے دستور نے آپ کو اس امر کا پابند کیاہے کہ آپ اپنے پیش نظر اصلاح و انقلاب کے لیے آئینی وجمہوری طریقوں ہی سے کام کریں۔ (سید مودودی، تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل، ص ۲۰۵)
برائی کوہاتھ سے روکنا یقینااسلام کاحکم ہے لیکن حکم اس چیز کے لیے ہے جو ہمارے دائرہ اختیارمیں ہو ،جہاں یقینی ہو کہ ہاتھ کے علاوہ دوسرے ذرائع سے اصلاح کاامکا ن نہیں ،جہاں ایک منکر کے ازالے سے دوسرا اس سے بڑامنکر وجود میں نہ آئے ، خصوصاً فسادفی الارض جیسامنکر نمودار ہو، وہاں یہ طریقہ کیسے جائز ہوسکتاہے۔
پُرامن اعلاے کلمۃالحق میں یقینا ابھی کامیابی نہیں ہورہی اوردیر لگ رہی ہے لیکن کیامسلح جدوجہد کے ذریعے سے کامیابی ہورہی ہے یاجلد منزل ہاتھ آتی نظر آرہی ہے ؟ اگر ایک طرف الجیریا، ترکی اورپاکستان میں ناکامی کی مثالیں ہیں تو دوسری طرف مسلح جدوجہد کے باوجودشام، مصر، افغانستان اورخود الجیریامیں بھی ناکامی کی مثالیں موجودہیں۔یقیناجہاں پرامن ذرائع سے کام ہورہاہے ،وہاں غلط حکومتیںقائم ہیں اوربگاڑ بڑھ رہاہے لیکن جہاں طاقت استعمال ہورہی ہے کیاوہاں پر غلط حکومتیں گر رہی ہیں اوربگاڑ کم ہورہاہے ؟ (خرم مراد: تحریک اسلامی، اہداف، مسائل، حل، ص ۹۳)
سید مودودی ۱۹۶۲ء میں مکہ مکرمہ میں ان عرب نوجوانوں سے خطاب کر رہے تھے جو ۱۰سال سے بدترین جبر واستبداد اورتعذیب وتشددکاشکار تھے۔ان عرب طلبہ سے سید مودودی نے فرمایا: میری آخری نصیحت یہ ہے کہ آپ کو خفیہ تحریکیں چلانے اوراسلحے کے ذریعے انقلاب برپاکرنے کی کوشش نہ کرناچاہیے۔یہ بھی دراصل بے صبری اورجلد بازی ہی کی ایک صورت ہے اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی بہ نسبت زیادہ خراب ہے۔ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک ہی کے ذریعے سے برپاہوتاہے۔کھلے بندوں عام دعوت پھیلائیے۔لوگوں کے خیالات بدلیے ،اخلاق کے ہتھیاروں سے دلوں کو مسخر کیجیے۔اس طرح بتدریج جو انقلاب برپاہوگا وہ ایسا پایدار اورمستحکم ہوگا جسے مخالف طاقتوں کے ہوائی طوفان محونہ کر سکیں گے۔جلد بازی سے کام لے کر مصنوعی طریقوں سے اگر کوئی انقلاب رونما ہوجائے تو یادرکھیں جس راستے سے آئے گا، اسی راستے سے وہ ہٹایاجا سکے گا۔ (تفہیمات، ج ۳، ص ۸)
ایک اور جگہ پر سیدمودودی کہتے ہیں کہ اسلامی تحریکوں کے کارکنوں کو ہر طرح کے خطرات و نقصانات برداشت کر کے بھی علانیہ ، پُرامن اعلاے کلمۃ الحق کاراستہ ہی اختیار کرنا چاہیے، خواہ اس کے نتیجے میں ان کو قید وبند سے دوچار ہونا پڑے ، یاپھانسی کے تختے پر چڑھ جانے کی نوبت آئے۔ (تصریحات، ص ۱۵۷)
اسلامی تحریکوں کو ان مسلمانوں سے خطرات لاحق ہیں جن کی فکر ان کی فکر سے میل نہیں کھاتی۔ ان خطرات کے دواہم مصدرہیں۔ بعض مسلمان حکومتیں جو اس بیداری کی مخالف ہیں اور اس بیدار ی کو مکمل طور پر ختم کر دینا یاعام زندگی میں بے اثر بنا دینا چاہتی ہیں۔ ان ممالک کے دستور میں صراحت سے لکھاہے کہ وہ سیکولر ہیں یاان کے حکمران اپنی سوچ میں بالکل سیکولر ہیں۔ان حکمرانوں کی سیاسی تربیت اورتہذیبی اٹھان مغربی تہذیب کے اداروں میں ہوتی ہے جو اب بھی بہت سے معاملات میں بالواسطہ یابلاواسطہ ان سے اپنی من مانی کراتے ہیں۔بسااوقات ان کے یہ تربیت یافتہ شاگرد ان کے رٹائے ہوئے سبق کو کچھ زیادہ ہی اچھی طرح یاد کر لیتے ہیں اوراس کو نافذ کر نے میں اتنا زیادہ آگے نکل جاتے ہیں کہ ان کے مربی حضرات خود اپنے شاگردوں کو سختی اور تشدد کم کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔
دوسری وہ حکومتیں ہیں جو اسلام کی کھلم کھلا مخالف نہیں ہیں، بلکہ کچھ نہ کچھ اسلام کے حق میں بھی کام کرتی ہیں اوراسلام کو اختیار کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن جس اسلام کو یہ حکومتیں اختیار کرتی ہیں وہ حکومتی اسلا م ہے ،تاکہ وہ اقتدار سے فائدہ اٹھانے والوں کے مفادات کے لیے خطرہ نہ بنے۔ اس لیے ہر وہ شخص جو اسلام کو اس کے پورے حسن وجمال کے ساتھ اورمکمل طورپر نافذ کرنے کی بات کرتاہے، وہ ان حکومتوں کی نظروں میں بنیاد پرست ،انتہاپسند اور ملک اور باشندگانِ ملک کے لیے خطرہ بن جاتاہے۔ و ہ اس شخص پر بغاوت اورحکومت کاتختہ الٹنے کی سازش کا الزام ثابت نہیں کرپاتیں لیکن دہشت ،تعذیب اورسزاے موت تک کے تما م حربے استعمال کرتی ہیں۔وہ انسانی حقوق کے معمولی سے حق سے بھی اسے محروم رکھتی ہیں۔یہ سب کچھ اقوام متحدہ اورانسانی حقوق سے متعلق عالمی تنظیموں کی نگاہوں کے سامنے انجام پاتا ہے مگر کوئی بھی مداخلت یا احتجاج کرنے کاروادار نہیں ہوتا۔ بعض حکومتیں اسلا م کی طرف اپنامیلان اس لیے ظاہر کرتی ہیں کہ ناپسندیدہ اسلامی تحریک کی قوت کااندازہ کر کے اسے کچل دیں جیساکہ گذشتہ برسوں میں کئی مسلم ممالک میں ہواہے۔
اسلامی تحریک کوان دونوں طرح کی حکومتوں کے درمیان فرق ملحوظ رکھناچاہیے لیکن اسے خطرہ دونوں سے ہے۔پہلی قسم کی حکومتوںسے خطرہ عقیدے کی دشمنی پر مبنی ہے جس سے بچنا ناممکن ہے۔دوسری قسم کی حکومتوں سے خطرہ اس تصورِ اسلام کو کمزور کرنے کا ہے جس کی نمایندگی اسلامی بیدار ی کرتی ہے۔بسااوقات حکمراں یہ سمجھتے ہیں اوران کے بیرونی آقااوراندرونی مشیر انھیں یہی سمجھاتے ہیں کہ اسلامی تحریکوں کااسلام انتہا پسندہے جس کے ساتھ گزارہ ممکن نہیں ہے۔یہ بنیاد پرست عصر حاضر کی ترقی کے مخالف ہیں۔یہ تمھاری حکومت اورامن وامان کے لیے اورعالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ امت قرونِ اولیٰ کی طرف لوٹ جائے۔ ان حکومتوں سے جو خطرات ہوتے ہیں، ان میں ظلم وجبر کے ذریعہ تحریک کاخاتمہ کرنا۔اس کے افراد پر عرصہ حیات تنگ کرنا ،اس کے دعوتی اداروں کو کام کرنے سے روکنا، لوگوں کو اس تحریک سے متنفر کرنا ،میڈیا کے مختلف وسائل و ذرائع کو اس کے خلا ف استعمال کرنا اور پارٹیاں قائم کرنے کی اجازت کے باوجود، عملاً قائم کرنے کی اجازت نہ دینا شامل ہیں۔
دوسراخطرہ دیگر غیر اسلامی گروہوں سے ہے جو اسلام کی مخالفت اپنے اصول کی بنیادپر کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام ان کے لیے خطرہ ہے۔بعض گروہ چاہتے ہیں کہ مسلم معاشرہ ہرمعاملے میں لبرل ہواورمغربی تہذیب کی نقالی کرے۔ا ن کے خیال میں دنیا میں عزت اورترقی کی یہی راہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلم سوسائٹی میں سینما ،ڈرامے اورفن کاری کے ذریعے اورسودی اداروں کے واسطے سے برائی کاچلن عام ہو۔ان خطرات کامقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی تحریکوں سے وابستہ افراد احتیاط اورفہم وبصیرت سے کام لیں۔ مسلم حکومتوں سے معاملہ کرنے کے لیے قابل قبول وسیلہ تلاش کریں۔حکمت عملی ،موعظہ حسنہ کے ساتھ دعوت دین کاکام کریں ، مسلح آویزش ،افراتفری اوربدامنی پیدا کرنے سے بچیں کہ یہ مزید مشکلات کاسبب بنتے ہیں۔ حقیقی صورت حال کا ادراک کر کے تعمیری افہام و تفہیم کاماحول پیدا کریں تاکہ اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار مواقع پیدا ہوں۔
ورلڈاسمبلی آف مسلم یوتھ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مانع حماد الجہنی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ’’ اسلامی تحریکیں ہر مسلم معاشرے کااندرونی معاملہ ہیں لیکن اس کے باوجود عالمی طاقتیں اس پر کڑی نظر رکھ رہی ہیں۔ مغرب کے بیش تر ملکوں میں خارجہ امورکی وزارتیں ،مراکز براے تحقیق اور اسٹرے ٹیجک مطالعات ،ان ملکوں کی جامعات ، استشراق کے مراکز تحقیق اورحکومت کی خفیہ ایجنسیوں کے لیے یہ موضوع اہم ترین بن گیا ہے۔ اسلامی بیدار ی،بنیاد پرستی اور سیاسی اسلام پر مغرب میں جتنا کچھ لکھاگیا ہے، وہ تما م مسلم ممالک میں ان موضوعات پر لکھے گئے مواد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اسلامی بیداری کی تحقیق اوراس کامقابلہ کرنے کے لیے مناسب اقدامات اختیارکرنے کی غر ض سے متعدد کانفرنسوں اوراجتماعات کاانعقاد بھی کیاگیاہے۔مثال کے طورپرامریکی خفیہ ادارے (سی آئی اے ) نے ۱۹۸۳ء میں اسلامی بیداری پر ۱۲۱کانفرنسوں کے انعقاد کے مصارف کا بار اٹھانے کی ذمہ داری لی تھی ‘‘۔(ماہنامہ ترجمان القرآن، لاہور، جنوری ۱۹۹۶ئ، ص ۴۶)
عالمی طاقتوں کی دل چسپی کاایک سبب ان کایہ احساس ہے کہ اگر مسلم معاشرہ اسلام کی طرف واپس آگیا تو مسلم ممالک میں ان کے مفادات پر ضرب پڑے گی۔وہ مستقبل میں اسلام کے تہذیبی غلبے کے خطرے کااحساس کر رہے ہیں جس نے یورپ کو ہلا کر رکھ دیاتھا۔یہی وجہ ہے کہ مشرق ومغرب کی استعماری طاقتیں مسلسل یہ کوشش کر رہی ہیں کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں اسلام کا کوئی اثر قائم نہ ہوسکے اوراپنے اہداف کے حصول کے لیے مغربی ادارے براہ راست اوربالواسطہ اسلام کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ انقلابات ،ہنگامے ،اقتصادی بائیکاٹ ،انتہاپسندی اوردہشت گردی کے الزامات اوراسلامی بیداری سے وابستہ افرادکی کردارکشی اور مسلمان ملکوںپرحملے ان کے واضح حربے ہیں۔عالمی میڈیااورخود عالم اسلام کامیڈیا تک اس میں ملوث ہے۔
یہ طاقتیں مسلسل اس بات کی کوشش کررہی ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح مسلم ملکوں کی حکومتوں پر دباؤ ڈال کر اسلامی فکر کو ختم کردیں۔ کبھی سفارتی دباؤ کے ذریعے ،کبھی ان ملکوں میں بسنے والی اقلیتوں کے مفاد میں گہری دل چسپی کے ذریعے۔ وہ حکومتیں جو ان کے دباؤ کے آگے نہیں جھکتیں اور ملک کی داخلی سیاست میں مداخلت گوارا نہیں کرتیں ،انھیں بہت سی مشکلات کاسامناکرناپڑتا ہے۔ اس عداوت کامطالبہ ان مغربی ملکوں سے بھی کیاجاتاہے، جہاں مسلم اقلیتیں بستی ہیں۔
مغربی صحافت کامشاہدہ کرنے والاشخص اس طرح کی کوششیں واضح طور پر دیکھ سکتاہے۔ مثال کے طورپر The Flame نامی برطانوی میگزین میں ایک مقالہ ’برطانیہ کی خاطرجنگ ‘ کے عنوان سے شائع ہوا اوراس میں یہ بات کہی گئی کہ اگر مغربی ممالک اورخاص کر برطانیہ بیدار نہیں ہوتا تووہ دن آنے والاہے جب مسلمان ان ملکوں کو حجاب اختیار کرنے ،حلال گوشت کھانے ،سودی بنکوں کو ختم کرنے اوراسلامی زندگی کے مظاہر اختیارکرنے پر مجبور کردیں گے۔
اسی طرح ایک امریکی رسالے The Chicago Tribune میں ایک مضمون شائع ہوا، جس کاعنوان تھا: ’اسلام اورتبدیلی کی ہوائیں‘۔ اس مضمون میں مطالبہ کیاگیا تھا کہ عالم اسلام بنیادپرستی کی بنیادپر تبدیلی کی جس نئی لہر کامحتاج ہے۔مغرب اس کااز سر نوجائزہ لے‘‘۔ (ماہنامہ ترجمان القرآن، جنوری ۱۹۹۶ئ، ص ۴۶-۴۷)
اسلامی تحریکوں کے قائدین کو ان تما م داخلی اورخارجی خطرات اوراندیشوں کوسامنے رکھ کر اپنی حکمت عملی طے کرنا چاہیے تاکہ منزل کی طرف سفر کامیابی کے مراحل سے گزرے۔اسلامی تحریکوں کو اس بات کا مکمل اورواضح شعورہوناچاہیے کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہیں۔ اس لیے کہ مکمل آگہی اور شعور ہی مقاصد کوحاصل کر نے کے وسائل اورذرائع کاتعین کرتے ہیں۔اسلامی تحریکوں کے مقاصد اوراہداف اس وقت تک حاصل نہ ہوسکیں گے جب تک کہ دعوتی قوت اورحکومتی اقتدار دونوں ان کے ہاتھوں میں نہ ہوں۔ مقاصد و اہداف کے تعین کے بعد ضروری ہے کہ ترجیحات کو متعین کرلیاجائے اورانھیں زندگی کے تمام گوشوں میں نافذ کر نے میں تدریج کاخیال رکھا جائے اور افراط وتفریط سے بچاجائے۔
اسلامی تحریکوں کواپنے اساسی مرجع کاتعین کرتے ہوئے اپنے احکامات وتعلیمات کو اسی سے اخذ کر نے اور اپنی تہذیب وتمدن کواسی بنیاد پر استوار کرنے کااہتمام بھی کرناہوگا۔نیزاختلاف کی صور ت میں وہی مرجع ہوناچاہیے۔بلاشبہہ بحیثیت امت ہمارا مرجع ’دین اسلام ‘ ہے جس سے مراد کسی خاص زمانے،کسی خاص ملک یاکسی خاص مسلک کااسلام نہیںاورنہ کسی خاص مکتب ِفکر کا ہی اسلام ہے، بلکہ دوراولین کاوہ اسلام ہے جوہر قسم کی بدعات اورملاوٹ سے پاک تھا۔ یعنی فرقوں میں بٹ جانے سے پہلے کاوہ صحیح اسلام ،جو تاویلات وتشریحات کی بھول بھلیوں میں کھوجانے سے پہلے کے دور نبویؐ اورخیرالقرون کااسلام ہے۔حقیقی اسلام کو متعارف کروانے اور دنیا میں نافذ کرنے کے لیے مشترکہ طورپر ایسا نظام مرتب کرنے اور جاری وساری کرنے کے لیے ایسی عالمی مشینری کووجودمیں لانا ہوگا جو افراط وتفریط سے پاک ہو کر متوازن اور معتدل تعلیمات پر عمل کرے۔
یہ تحریک عالمی تبلیغ میں اصو ل یسر(آسانی) کو پیش نظر رکھنے والی ،انسانی مسائل کاحل پیش کرنے میں سہولت کے پہلوکومقدم کرنے والی اورعام فہم ہونی چاہیے۔اسی طرح دوسرے فریقوں سے ربط وضبط رکھنے ،ان کی سننے اوراپنی کہنے کی قائل ہو۔ مخالفت کرنے والوں کے ساتھ وسعت قلبی کے ساتھ معاملہ کرسکتی ہو۔
سنگین خطرات اورفی الوقت محدود امکانات کے پیش نظر محض اسلامی تحریکوں کے مختلف گروہوں کے درمیان تعاون ہی کافی نہیں ہے بلکہ ہر اس شخص یاگروہ سے تعاون ضروری ہے جو اسلام اورمسلمانوں کی خدمت کے سلسلے میں کچھ بھی کام انجام دے رہاہو۔
ضروری ہے کہ اسلامی تحریکیں تمام انسانوں کو اپنے حق میں ہموارکریں۔غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیں اور ان کے سامنے اسلام کا کمال وجمال اس طور پر پیش کریں کہ وہ اسلام کوپسندکریں اورقبول کرلیں۔مسلمانوں کی دینی تعلیمات کے ذریعے تذکیر کریں ،ان کے اندر ایمان وخیر کے خفتہ جذبات کو اس طرح اُبھارا جائے کہ وہ دین کو پہچان لیں اوراس کی پیروی کرنے لگ جائیں۔اس کامطلب یہ ہے کہ تمام انسان، تحریک اسلامی کا ہدف ہیں۔اسے اس بات کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ لوگ اس دین کے دوست بن جائیں اوربلاشبہہ دوست بنانا دشمن بنانے سے زیادہ مشکل کام ہے۔مسلم سماج میں ان وسائل کو تلاش کرنا چاہیے جو اسلامی دعوت کے لیے دوست بنانے کاذریعہ بنیں۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس میں ناکامی تباہ کن ہے اوردین کے مصالح کے لیے مضرت رساںہے۔دوست بنانے کے لیے اسلامی تحریکوں سے وابستہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ تما م مسلمانوں سے حسن ظن رکھیں۔معاملہ کرتے وقت غلط فہمی یاحقارت کارویہ نہیں ہونا چاہیے۔یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہے کہ تمام مسلمانوں میں خیرکاپہلو غالب ہے اورہر شخص کے پاس کچھ نہ کچھ ہے ،جسے وہ دین کے لیے پیش کر سکتاہے اورایک شخص کے بارے میں ہماری منفی سوچیں غلط ہوسکتی ہیں۔ مسلمانوں کے بارے میں حسن ظن رکھنا اسلامی اخوت کا تقاضاہے۔لوگوں کے دلوں تک پہنچنے کا بہترین طریقہ اصحا ب فضل کااعتراف اور ان کی اچھی باتوں کی تعریف کرنا ہے۔اگر ہم ایک شخص کے اچھے پہلوؤں کی ہمت افزائی کریںگے تو گویااس کا دل جیت لیں گے ،یاکم از کم اس کے تنقیدی رویے میں کمی آجائے گی۔
تحریکات اسلامی کی موجودہ صورت حال کاجائزہ لیاجائے تو ایسے بہت سے امور ومسائل بھی ہیں جن میں فوری یکسوئی ضروری ہوگئی ہے مثلاً اسلامی تحریکات سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ معاشرے میںاچھائیوںکے فروغ اوربرائیوں کی روک تھام کے کسی موقع کو ضائع نہیں کریں گی اور ظلم واستبدادکے خلاف آواز اٹھانے میں کوتاہی نہیں کریں گی۔اسلامی تحریکوں کی عملی کوششیں انسانوں کے عملی رویے کو اسلامی قدروں کے مطابق ڈھالنے اوران مقاصدکا خادم بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔یہی طریق کار تحریک اسلامی کوعصر جدید کی ان سیکولرتحریکوں سے ممتاز کرتاہے جو ابتدا ہی سے اپنامرکز توجہ سماج کے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کوبناتی ہیں اور انسان کوبدلنے کی کوئی کوشش نہیں کرتیں۔ یہی طریق اختیار کر کے ان ملکوں میں بھی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے جن کے باشندوں کی غالب اکثریت مسلمان نہیں ہے۔ اس غیرمسلم غالب اکثریت کے دل ودماغ کو نفرت اور بے زاری کے زہر سے پاک کرکے ان کے اندر اسلام اورمسلمانوں کی طرف سے حسنِ ظن پیدا کیا جاسکتا ہے، تاکہ وہ دعوت اسلامی پر کھلے دل و دماغ سے غور کرسکیں لیکن یہ طریقِ کار اختیار کرنے کے لیے پیغمبرانہ وسیع النظری اورعالی حوصلگی کی ضرورت ہے۔
امت کے جسد پر ایک اور گہرازخم ’’ افتراق واختلاف امت ‘‘ ہے۔اس کا علاج وحدت امت اسلامیہ کے نسخۂ کیمیا سے ہی ممکن ہے کیونکہ کٹی پھٹی اوربکھری ہوئی امت کاکوئی مستقبل نہیں۔ اُمت واحدہ اب مختلف اقوام کامجموعہ بن چکی ہے،الگ الگ گروہوں کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ یہ گروہ محض متفرق مجموعے ہی نہیں، بلکہ عملاًایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں، خود ہی ایک دوسرے کے غیظ وغضب کاشکار ہوتے رہتے ہیں جب کہ موجودہ دورمیں مختلف الخیال اقوام پرانے اختلافات ،نسلی امتیازات ،مذہبی لڑائیاں اورعلاقائی جھگڑے کم سے کم کرنے پر کمر بستہ ہیں۔ مشترکہ مصلحتوں کی خاطر کش مکش کے ایا م مسترد کر کے مختلف اتحاد اور مشترکہ منڈیاں وجود میں لائی جارہی ہیں یہاں تک کہ ان کے باہم شیر وشکر ہونے کاگمان گزرتا ہے۔ اسلامی تحریکیں اس وقت تک مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی عالمی سازشوں کاکامیابی سے مقابلہ نہیں کرسکتیں جب تک مسلمانوں کو متحد ومتفق کرنے میں کامیاب نہ ہوجائیں۔یہ ممکن نہیں کہ مسلمان خود کو چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوںمیں منقسم رکھیں اورآج کی دنیا کے بڑوں سے ٹکر بھی لے سکیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پوری کی پوری امت مسلمہ مشترکہ ہدف پر متحد ومتفق ہو۔
اسلامی تحریکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایساعالمی منصوبہ تشکیل دیں جس پر عمل پیرا ہوکر پس ماندگی کی حالت کو بدلا جاسکے، ترقی اور سبقت لے جانے کی فضا پیداہوسکے۔مسلمان بلاشرکت غیرے ایک ہزارسال تک دنیا کی قیادت کرتے رہے ہیں۔ اسلامی تہذیب وتمد ن ساری دنیا میں رائج تھی۔مسلمانوں نے ساری دنیاکے لوگوں کو آدابِ حیات سکھائے تھے۔اسلامی تحریکیں یہ حقیقت واضح کرنے میں بنیادی کردار ادا کرسکتی ہیں کہ جہالت و پس ماندگی ہمار ی سرشت کاحصہ نہیں اور نہ ہی مسلمانوں کی موجودہ حالت اسلام کے مزاج سے میل کھاتی ہے۔
مسلمان عوام کی ناخواندگی ،جہالت اورمسلم ممالک کی معاشی پس ماندگی دورکرنے کاسوال اس لیے اہمیت اختیارکرگیاہے کہ ایک طرف توموجودہ صورت حال خود ان تحریکوں کے پیغام کو سمجھنے اور قبول کرنے میں رکاوٹ ہے اوردوسری طرف یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر عوام ان تحریکوں کی دعوت قبول کرلیں، تب بھی اصل صورت حال کوبدلے بغیر مسلمان ملکوں میں اسلامی نظام قائم کرنادشوارہے۔ عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کے غلبے اوراسلامی دنیا کے بارے میں ان کے جارحانہ عزائم اور ان عزائم کی تکمیل میں پستی کی ہرحد سے گزر جانے والے ایجنٹوں کا وجود ایک ایساچیلنج ہے جس کے مقابلے کے لیے بھرپور طاقت ناگزیر ہے۔اس طاقت کی فراہمی کے لیے تعلیم، بالخصوص سائنس اور ٹکنالوجی میں زبردست پیش رفت اوربڑے پیمانے پر صنعتی عمل ضرور ی ہے۔ تحریک اسلامی کواس سوال کاعملی جواب دینا اور ان پہلوئوں کو اپنی دعوت اورنظام اصلاح و تربیت میں خصوصی مقام دینا ہوگا۔ نیز اسی سے یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ اسلامی ممالک میں حکمرانوں اور اسلامی تحریکوں کاباہمی ٹکراؤ کس حدتک ناگزیر ہے۔ اس امر پر بھی غوروفکر ضروری ہے کہ جس حد تک یہ ٹکراؤ عالمی سطح پر اسلام دشمن استعماری قوتوں کی ریشہ دوانیوں اورذہنی غلبے کانتیجہ ہے ،اس حد تک ا س سے عہدہ برآہونے کے لیے صحیح حکمت عملی کیا ہے ؟کیایہ زیادہ مفید نہ ہوگا کہ یہ لڑائی اپنے اصل محاذ پرلڑی جائے اوردشمن کی اس سازش کو ناکام بنادیاجائے کہ ہمارے اپنے گھروںکے اندر باہم تصادم اور سر پھٹول کا شکار ہو جائیں۔
اسلامی انقلاب کی حکمت عملی کے اس پہلو پر بھی بحث کی بہت گنجایش ہے کہ حقوق آزادی کی خاطر اور مسلم یاغیرمسلم استبداد کے مقابلے کے لیے ہتھیار اٹھانے کی افادیت اور جواز کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان اس امر پر متفق ہوجائیںکہ طاقت کا استعما ل صرف اسی وقت درست ہے جب اسلام کی سرزمین پر غیر ملکی حملہ آور ہوجائیں۔برعظیم پاک وہند میں سید مودودی کی اسلامی فکر کایہ فائدہ ہوا ہے کہ باقاعدہ اعلان شدہ جہاد کے علاوہ اسلحے کے استعمال کے ناقابل قبول ہونے کامسئلہ طے ہوگیا ہے۔اس سے علاقہ باہمی جنگ وجدل سے محفوظ ہوگیاہے جب کہ عالم عرب میں یہ بات طے نہ ہونے کی وجہ سے کئی تباہ کن واقعات رونماہوئے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حکومتوں سے بہت سی قانونی تبدیلیوں کے مطالبے کواولیت حاصل ہونی چاہیے یاکچھ اورکاموں کو ، کیونکہ عصرحاضرمیں اصل مسئلہ متعین اورمعلوم اسلامی قوانین کانفاذنہیں ہے۔یہ کام خود ایک بڑے کام کاجزو ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عصرحاضرکی پیچیدہ زندگی میں عدل وانصاف،آزادی ومساوات ،عفت وپاک بازی ،سکون خاطر اورطمانیت قلب کے وہ مقاصد کس طرح حاصل کیے جائیں جن کے لیے یہ قوانین وضع کیے گئے ہیں۔ان کے حصول کے جہاں قانونی اصلاحات ضروری ہیں، وہیں انسانوں کے خیالات وافکار ،مزاج و رجحان اور حوصلوںمیں تبدیلیاں بھی ناگزیر ہیں۔
امت مسلمہ کے لیے ممکن نہیں کہ تہذیب وتمدن کی بلندیوں کوچھولے جب تک کہ وہ اپنے وجود کے خلاف ہونے والی عالمی صہیونی سازش کامقابلہ کرتے ہوئے، اسے شکست فاش نہ دے دے۔ اسی طرح نصرانیت اورہندومت کی سازشوں کو سمجھنا اوران کامقابلہ کرکے انھیں شکست دینا بھی ضروری ہے۔یہ ہدف زبانی دعوؤں اورامن وسلامتی کے نام پر کیے جانے والے ان معاہدوںسے حاصل نہیں کیا جاسکتا جن کاواضح مقصد ان قوتوں کے سامنے سرتسلیم خم کردیناہے بلکہ اس کے لیے بصیرت افروز پختہ سوچ اورگہرے ایمانی جذبات ضروری ہیں۔ امت مسلمہ کے احیاکے لیے یہ ضروری ہے کہ عوامی سطح پر اورحکومتی و عسکری سطح پر نئے عزم و حوصلے سے پختہ بنیادوں پر کام کاآغاز کیاجائے۔وہ طرز فکرو عمل اپنایاجائے جس سے ہر مسلمان نفسیاتی ، فکری اور تہذیبی و تمدنی حوالوں سے اپناسر بلند کرکے چل سکے۔
صہیونی ریاست کا نعرہ ہے کہ:’’اے اسرائیل تیری سرحدیں دریاے فرات سے لے کر نیل تک ہیں‘‘ اوریہ بھی کہاجاتاہے کہ ’’چاول کے کھیتوںسے کھجور کے جھنڈوںتک‘‘۔یہود نے اس خیالی نعرے کو پے درپے کوششوں سے اپنے حامیوں کے دلوں میں راسخ کر دیا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارے دینی لٹریچر میں یہ سچی بشارتیں موجود ہیں کہ اسلام عالم گیر کامیابی حاصل کرے گا، ساری دنیامیں اس کاڈنکابجے گا۔ہماری تاریخ بھی شان دار اور سچے عالم گیر حقائق پرمبنی ہے۔ اس لیے بجاطور پر مستقبل میں مزید کامیابیوں اورسرفرازیوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔ یہ حقائق مسلمان نسلوںکے دل و دماغ میں راسخ کرنے کی ضرورت ہے۔
اسلامی تحریکوں کو جس ہدف کو خاص اہمیت دینی چاہیے اور جس کے حصول کے لیے ہر دم کمربستہ رہنا چاہیے، وہ اسلامی معاشرے کی ہمہ جہت مجموعی ترقی کا حصول ہے۔اس کے لیے بھر پور اوردور رس منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ انسانی وسائل کو انسانی ترقی کے لیے سرگرم کیے بغیر یہ ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ انسان ہی اس ہدف کااصل محورہے اور انسان ہی اس کے حصول کا ذریعہ بھی۔ موجودہ وسائل کو بہترین انداز سے استعمال کرتے ہوئے ترقی کی منازل کوطے کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہمہ جہت ترقی مسلمانوں کی اقتصادی ترقی ،پیداواری ترقی اورپیداوار کے متوازن استعمال اورمعاشرے میں اس کی منصفانہ تقسیم ،لوٹ کھسوٹ اورملاوٹ وبدعنوانی کوترک کرنے ہی سے ممکن ہے۔اگر ایساہوسکے تو امت مسلمہ اقتصادی دباؤ سے نکل آئے گی۔
امت مسلمہ کے پاس ثروتوںکے لامحدود خزانے موجودہیں۔یہ خزانے امت کے میدانوں اور پہاڑوں میں ،اس کی وادیوںاورصحراؤںمیں ، اس کے سمندروںاوردریاؤں میں بکھرے پڑے ہیں۔ہماری جغرافیائی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے اور انسانی وسائل بھی وافر ہیں۔ ضرورت ہے تو اس بات کی کہ ہم ان بیش بہا قیمتی خزانوں کا صحیح استعمال جان جائیں اور انھیں درست انداز سے زیر تصرف لاکر مجاہدانہ انداز سے جینے کاڈھنگ سیکھ لیں۔پھر اس طرح زندگی بسر کریں جس طرح ہم چاہتے ہوں نہ کہ اس طرح جییں جس طرح ہمارے دشمن چاہتے ہیں۔
اس کی اہمیت کاانداز ہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ مذکورہ بالااہداف اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے جب تک اسلامی تحریکیں منصفانہ سیاسی نظام رائج کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کرلیتیں۔وہ نظام جس سے تمام شہریوں کو ان کے صحیح حقوق مل جائیں ،جوانسان کے مقام ومرتبے اور آزادیِ راے کااحترام کرنے کاضامن اور انسانی جان ومال و عزت کارکھوالاہو۔یہ ایسانظام ہو جس سے روحِ شورائیت بیدار ہو اورخیرخواہی اورذمہ داری کاجذبہ پروان چڑھے۔یہ نظام اسلام کے شرعی طرزسیاست پر مبنی ہوناچاہیے جس کا بنیادی مقصدامت اسلامیہ کی نشاَتِ ثانیہ ہو۔یہ نظام جبرو استبداد کے نمایندہ حکمرانوں اورسازشی ٹولوں کادفاع کرنے والا نہیں ہوناچاہیے۔بلکہ عوام کے مفادات کو پیش نظر رکھنے والاہو ،جس کے تحت اللہ کے قانون کوکسی تفریق کے بغیر سب پر یکساں نافذ کیا جائے، جس میں اعلیٰ وادنیٰ کافرق روانہ رکھاجائے اورنہ ہی کسی سے امتیازی سلوک برتا جائے۔
ہر زمانے کی اپنی خصوصیات اورتقاضے ہوتے ہیں جن کی بنا پر وہ دوسرے زمانے سے ممتاز ہوتا ہے۔موجودہ اسلامی تحریکیں ایسے زمانے میں ابھری ہیں جس میں انسانی علوم نے بہت ترقی کی ہے۔ملکوں کے فاصلے گھٹ گئے ہیں۔وسائل اورذرائع کے تنوع اور کثرت کی وجہ سے تہذیبوں کا اختلاط ہو گیا ہے۔ساری دنیا سکڑ کر ایک گاؤں کی طرح ہوگئی ہے۔اسی طرح آج کے دورمیں جو نئے افکار و نظریات اورانسانی سلوک اوررویوںمیں جدتیں پیداہوئی ہیں، ان سے پہلے کے لوگ آگاہ نہیں تھے۔ا س کے ساتھ ساتھ اسلام دنیا کے تمام گوشوںمیں پھیل چکا ہے اوراس کے ماننے والے اپنے تربیتی پس منظر ،فکری ورثہ اورزندگی کے حالات کے لحاظ سے الگ الگ ہیں۔
ان ساری باتوںنے اسلامی تحریکوں کے کاندھوں پر ذمہ داریوں کے نئے بوجھ ڈال دیے ہیں۔ وقت کاتقاضاہے کہ اسلامی تحریکیں ،اسلامی فکر اورتہذیب کی تشکیل میں ،دعوتی کام کے طریقوں میں اورلوگوں سے معاملہ اورتعلق قائم کرنے کے سلسلے میں نیاانداز اختیار کریں۔نئی اور مفید چیزوں سے جو کہ خلاف شرع نہ ہوں بھرپور استفادہ کریں۔ اسلامی بیداری کو کسی تنگ گھاٹی میں محصور نہیں کیا جاسکتا۔ ذرائع ابلاغ (کتب ،رسائل ،اخبارات، کمپیوٹر سی ڈیز، ریڈیو ،ٹیلی ویژن) کابائیکاٹ محض اس دلیل پر کہ میڈیا میں ایسے مواد ہوتے ہیں جو اخلاق کے لیے تباہ کن ہیں ،نہیں کرنا چاہیے۔ صحیح انداز فکر یہ ہے کہ ہم ان وسائل کو مسلم سماج کے خیر اور نفع کے لیے استعما ل کریں۔
اسلامی تحریکوں میں عورت کی شمولیت اورعملی دل چسپی بھی ضروری ہے۔ عورتیں معاشرے کا نصف حصہ ہیں اوروہی نئی نسلوں کی تربیت کافریضہ انجا م دیتی ہیں۔مسلم ممالک کے خلاف فکری یلغارکاایک خصوصی ہدف مسلمان عورت بھی ہے۔مغربیت کے داعی مسلم معاشرے میں عورت اور آزادیِ نسواں کے مسئلے کو اسلام کے خلاف اپنی جنگ کااہم حصہ سمجھتے ہیں۔چنانچہ واضح طورپر دیکھا جاسکتا ہے کہ فکری یلغار کے سارے تیروں کا رخ مسلم عورت کی طرف ہے۔یہ تیر فیشن، زیب و زینت اورتبرج الجاہلیہ کے ہیں جو بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ عورت کی آزادی اور حقوق کے نام پر پھینکے جارہے ہیں۔بعض غیر اسلامی نظریات کے علَم برداروں کاطریقۂ واردات یہ بھی ہے کہ انھوں نے عورتوںکے مسائل کو اس انداز میں چھیڑاہے کہ بس وہی عورتوں کے حقوق کے حقیقی محافظ اور چیمپئن ہیں۔ان کوششوں سے بہت سی عورتوں نے دھوکاکھایاہے۔بے شک بہت سی خرابیاں اور ناانصافیاں مسلم معاشرے میں جڑ پکڑ چکی ہیں جن کی وجہ سے عورتوں میں احساس محرومی پایا جاتا ہے۔ ان کا ازالہ ضروری ہے۔اسلامی تحریکوں سے وابستہ افرادکوچاہیے کہ عورتوں پر خصوصی توجہ دیں، انھیں شریعت کے عطاکردہ تمام حقوق کی ادایگی کااہتما م کریں ،شرعی حدود کے اندر انھیں تعلیم، طب اور علوم کے میدان میں صلاحیتیں استعما ل کرنے کاموقع دیں۔
ان اہداف کے حصول کے لیے سب سے پہلے اسلامی تحریکوں کو دنیابھرمیں پھیلے ہوئے مسلمانوں کی سوچ اور فکر کو بلند کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ بلند اہدا ف کاتعین اورامید کی فضا تیارکرنا بھی ضروری ہے۔اس کے لیے دورحاضر کے مسلمان کی تہذیبی ، اخلاقی اور نفسیاتی تربیت اور انسان مطلوب کے اعلیٰ معیار پرایسے افراد تیار کرنا ہوں گے جو ہواے نفس کی غلامی سے آزاد ہوں،جو علاقائیت سے سحر زدہ نہ ہوں ،جنھیں شرکی چکاچونددھوکانہ دے سکے۔وہ پیش آمدہ مشکلات سے پریشان نہ ہوں، بلکہ ان پر قابو پانے اورحق و سچ پرپامردی سے ڈٹ جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اس اعلیٰ مقصدکے حصول کے لیے ان تمام اداروں کو باہم مل کر فضاتیار کرنی ہوگی جو تربیت ا نسان میں موثر کردار رکھتے ہوں، تاکہ اللہ وحدہٗ لاشریک پر ایمان ،اسلام کے سچے پیغام اور آخرت کے دائمی گھر ،سب کی آبیاری ہوسکے۔ اسلامی تحریکوں کو ایسے ایمان کے لیے کوششیں کرنی ہوں گی جس سے بہترین ومثبت عملی ثمرات ظاہر ہوں۔ اعلیٰ اخلاقیات جنم لیںاوربندگیِرب، تعمیردنیا اوربنی نوع انسان کے فائدے کی صورت سامنے آسکے۔
تحریکاتِ اسلامی نے اپناجو دور پورا کرلیاہے، اس نے عصر حاضر میں اسلام اور مسلمانوں کو بہت کچھ دیاہے۔دین کی جامعیت کاشعوراور اجتماعی زندگی میں دین کی تعلیمات سے روگردانی کا ابطال ،اسلام کے موزونیت اورصالحیت پر اعتماد ،اس کی طرف رجوع اوراسلام کی عظمت رفتہ کی بازیافت کاعزم آج کسی مخصوص جماعت یا حلقے تک محدود نہیں ،بلکہ پورے مسلمان معاشرے میں عام ہوچکاہے۔سیاسی نظم واتحاد اوراقتصادی صلاحیت کے اعتبار سے بھی آج اسلامی دنیا وہاں نہیں جہاں اس صدی کے آغاز میں تھی۔ان روشن پہلوؤں کے ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی سامنے رہنی چاہیے کہ یہ خیال غلط ثابت ہوچکا ہے کہ اسلام کی تفہیم وترجمانی کاکام اس حد تک انجام پاچکاہے کہ اب بجز ضد او رہٹ دھرمی،تعصب اورمفاد پرستی اورجبر وتشدد کے ،اسلام کے قبول عام اوراسلامی نظام کے قیام کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہ گئی ہے۔یایہ کہ ہمارے عوام اسلام چاہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی عمل کے ذریعے اسلامی حکومت کاقیا م عمل میں لایاجائے۔ ابھی فکری اورعملی سطح پر بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
اسلامی تحریکات کامستقبل کیاہے ؟ اس سوال کاجواب اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ادھورے کاموں کومکمل کرنے اورعصر حاضر میں اسلامی تعمیرنو کے تقاضوں کوپہچان کر انھیں پورا کرنے میںکس حد تک کامیاب ہوتی ہیں۔اس طرح یہ بات بھی فیصلہ کن ہوگی کہ گذشتہ نصف صدی کی تاریخ نے تحریک کے فرداورلائحہ عمل میں جن نقائص اورکمزوریوں کی نشان دہی کی ہے، ان کو پہچاننے اور دُور کرنے میں تحریک کی نئی قیادت کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔یہ نئی قیادت بانیانِ تحریک کی مقلد محض ثابت ہوتی ہے، یا انھی کی طرح اجتہادی فکر سے کام لیتی ہے۔مستقبل کی تعمیر میں اس کی نگاہیں اپنے ماضی ہی کی طرف رہتی ہیں اوروہ اس سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتی ہیں یامعاصر حالات کے تجزیے اورمستقبل کے بارے میں مبنی بر بصیرت اندازوں کی روشنی میں لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں۔ تحریکات کے لیے ایک راہ ،راہِ جمود ہے، دوسری اقدام و اجتہاد کی۔ یہی دوسرا راستہ کامیابی کا ضامن ہوسکتاہے۔
زمین جس پر ہم مقیم ہیں اور وسیع کائنات جس میں یہ زمین واقع ہے، ان دونوں کے درمیان بے پناہ ہم آہنگی موجود ہے، حتیٰ کہ صرف کھڑکی سے باہر دیکھنے پر ہی ہم اس ہم آہنگی کی بہت سی مثالیں دیکھ سکتے ہیں۔ بادلوں، آسمان، درختوں، پھولوں، جانوروں اور اسی طرح کی ملتی جلتی مثالوں میں کامل تنظیم اور تناسب ظاہر ہوتے ہیں۔
جب ہم فطرت کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہر جانور اور ہر پودے کے اپنے مخصوص رنگ اور نقوش ہیں جو ان کی قسم سے خاص طور پر منسوب ہیں۔ مزیدبرآں ان میں سے ہر رنگ اور ہر شکل جان دار اشیا کے لیے مختلف معنی رکھتی ہے۔ ساتھی کے لیے دعوت، غصے کا اظہار، خطرے کے خلاف تنبیہہ اور اسی طرح کے بہت سے اشارات، ان جانوروں کی شکلوں کو سمجھنے سے حاصل ہوتے ہیں۔
نظریۂ ارتقا جس کا دعویٰ ہے کہ ہر شے اتفاقی حادثے کے نتیجے میں وجود میں آگئی ہے، فطرت میں موجود فن کاری، نیرنگی اور تناسب کی وجہ سے، ایک بندگلی میں پہنچ گیا ہے۔ چارلس ڈارون جو اس نظریے کا بانی ہے اور جس نے اسے موجودہ حالت تک پہنچایا ہے، جان دار اشیا کی ساخت کی بدولت اسے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا۔
ڈارون نے کہا کہ وہ یہ نہیں سمجھ سکا کہ جان دار مخلوقات کے رنگ مخصوص معنی کے حامل کیوں ہیں؟ میری مشکل یہ ہے کہ کبھی کبھار مکوڑے ایسے خوب صورت اور فن کارانہ رنگوں کے کیوں ہوتے ہیں؟ یہ دیکھ کر ان میں سے بہت سوں کے رنگ خطرے سے بچائو کے لیے ہوتے ہیں، میں ان شوخ رنگوں کو دوسری صورتوں میں محض طبعی حالات کی طرف منسوب نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ نر تتلیاں اور مکوڑے اس قدر خوب صورت کیوں ہوتے ہیں تو آپ کیا جواب دیں گے؟ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں مگر مجھے اپنی راے پر قائم رہنا چاہیے۔
ایک بار پھر چارلس ڈارون اپنے ہی نظریے میں موجود تضاد کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: ’’میں روشن رنگ نر مچھلیوں اور مادہ تتلیوں کی قدر کرتا ہوں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک جنس کی خوب صورتی کی قیمت دوسری کو نہیں دینا پڑتی۔ اس معاملے میں مجھے نہیں لگتا کہ فطری انتخاب کے عمل سے یہ فرض نہیں کیا جاسکتا کہ ایک جنس کی خوب صورتی دوسری کی وجہ سے متاثر ہوئی‘‘۔
یقینا فطرت میں موجود رنگوں، تنظیم اور تناسب کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ فطری انتخاب کے ذریعے وجود میں آجائیں۔ اس موقع پر یہ مفید ہوگا کہ فطری انتخاب کے تصور کا ایک نزدیکی جائزہ لے لیا جائے جسے ڈارون کے نظریۂ ارتقا نے جنم دیا ہے۔ جیساکہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں، فطری انتخاب نظریۂ ارتقا کا ایک تصوراتی نظامِ عمل ہے۔ اس کے مطابق وقت کے ساتھ اپنے ماحول میں موزوں ترین جان دار باقی رہ جاتے ہیں، جب کہ کمزور اور اپنے ماحول کی شرائط کے لیے ناموزوں جان دار ختم ہوجاتے ہیں۔ ارتقا پسندوں کے دعووں کے مطابق ایک نسل کے ارکان میں ایک مفید تبدیلی اس کے جینز میں ہونے والے بے ترتیب تغیر کے ذریعے آتی ہے۔ یہ مخلوق باقی تمام نسلوں میں سے موزوں ترین ہونے کے باعث بقا کے لیے منتخب کرلی جاتی ہے اور اس طرح جو کچھ کہ محض ایک بے ترتیب تغیر کا نتیجہ تھا، وہ سب بڑی مقدار میں اگلی نسلوں میں منتقل ہوجاتاہے۔
جان داروں کے رنگوں اور اشکال میں موجود تناسب کے لیے یقینا ممکن نہیں ہے کہ اس نظامِ عمل کے ذریعے وہ تخلیق پاجائیں۔ یہ بے حد واضح حقیقت ہے۔ اگرچہ وہ اس نظریے کا بانی ہے، پھر بھی ڈارون کو خود بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ فطری انتخاب کا تصوراتی نظامِ عمل ایسی تنظیم کا باعث نہیں بن سکتا۔ جے ہاکز (J. Hawkes) بھی نیویارک ٹائمز میگزین اپنے آرٹیکل Nine Tantalizing Mysteries of Nature میں فطری انتخاب کی بے معنویت پر شک کا اظہار یہ کہتے ہوئے کرتا ہے کہ اسے یہ یقین کرنے میں مشکل پیش آتی ہے کہ پرندوں، مچھلیوں، پھولوں وغیرہ کی خیرہ کن خوب صورتی فطری انتخاب کے ذریعے وجود میں آئی ہے۔ اس سے ہٹ کر وہ یہ سوال پوچھتا ہے کہ کیا انسانی شعور اس طرح کے نظامِ عمل کی پیداوار ہوسکتا ہے؟ اپنے مقالے میں آخرکار وہ یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ انسانی دماغ جس نے تہذیب جیسی نعمت پیدا کی ہے اور جو ایک تخلیقی ذہن رکھتا ہے جس کی وجہ سے سقراط، لیونارڈو، شیکسپیئر، نیوٹن اور آئن سٹائن جیسے لوگ غیرفانی حیثیت اختیار کرگئے ہیں، ہمارے لیے جنگل کے اس قانون کا تحفہ نہیں ہوسکتا جسے جہدللبقا (struggle for survival) کہا جاتا ہے۔
جیساکہ ہم نے ارتقا پسندوں کے ان اعترافات سے یہ سمجھا ہے کہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا نظریہ تضادات کا شکار ہے۔ اس تصور کا دفاع کرنا نامعقول بات ہے کہ ایک خلیہ جو فرض کیا اچانک بجلی اور بارش کے نتیجے میں زمین پر وجود میں آجاتاہے، وقت کے ساتھ ساتھ رنگین جان دار مخلوق میں تبدیل ہوجائے گا۔ فرض کرو ایک سائنس دان ایک خلیہ مثال کے طور پر بیکٹیریم (becterium) لیتا ہے۔ اسے تجربہ گاہ میں مناسب ترین ماحول مہیا کرتا ہے، تمام آلات جو درکار ہوں استعمال کرتا ہے، لاکھوں سالوں تک اس خلیے کے ارتقا پاجانے پر محنت کرتا ہے (گو کہ یہ فرض کرنا بھی ممکن نہیں) آخرکار کیا حاصل ہوگا؟ کیا وہ اس بیکٹیریم کو کبھی خیرہ کن رنگوں والے مور میں تبدیل کرسکے گا، یا ایک کامل نقوش والی جلد کے حامل تیندوے میں یا پھر اپنی مخملیں پتیوں سمیت ایک گلاب میں؟ یقینا ذہین لوگ اس طرح کی چیزوں کے متعلق تصورات نہیں پا لتے اور نہ ایسے دعوے ہی کرتے پھرتے ہیں اگرچہ یہ نظریۂ ارتقا کے دعوے کے عین مطابق ہے۔
آئو اس بات کی تصدیق ایک مثال کے ذریعے کرتے ہیں کہ جان داروں کے رنگوں کی تخلیق اور تبدیلی کا امکان بذریعۂ فطری انتخاب ناممکن ہے۔ مثال کے طور پر گرگٹ کو لیتے ہیں۔ گرگٹ ایسے جانور ہیں جو ماحول میں موجود رنگوں کو قبول کرتے ہوئے اپنے رنگوں کو گردوپیش کے رنگوں کے مطابق تبدیل کرلیتے ہیں۔ سبز پتوں پر آرام کرتے ہوئے وہ سبز رنگت اختیار کرلیتے ہیں، بھوری شاخ پرچلتے ہوئے تھوڑی سی دیر میں ان کی رنگت بھوری ہوجاتی ہے۔ آئو مل کر سوچیں رنگ کی تبدیلی کا یہ عمل کس طرح وقوع پذیر ہوتا ہے۔
ایک جان دار مخلوق اپنے جسم میں ہونے والے بے حد پیچیدہ عمل کے نتیجے میں اپنا رنگ تبدیل کرتی ہے۔ انسان کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ اپنا یا کسی دوسری جان دار مخلوق کا رنگ تبدیل کرے کیونکہ انسانی جسم اس طرح کے عمل کے لیے مطلوبہ نظام سے لیس نہیں ہے۔ نہ انسان کے لیے یہ ممکن ہی ہے کہ وہ اپنے آپ ایک ایسا نظام اختیار کرلے کیونکہ یہ کوئی ہتھیار نہیں ہے جسے گھڑکر جسم پر سجا لیا جائے۔ مختصراً ایک زندہ مخلوق کے لیے اپنا رنگ تبدیل کرنے کے قابل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس مخلوق میں اس رنگ کی تبدیلی کے لیے نظامِ عمل موجود ہو۔
آئیے زمین پر پہلی گرگٹ کے بارے میں غور کریں۔ کیا ہوتا اگر اس مخلوق کے پاس رنگ بدلنے کی صلاحیت نہ ہوتی؟ سب سے پہلے تویہ کہ اس کے لیے چھپنا ممکن نہ رہتا اور اس کے سبب یہ آسانی سے شکار ہوجاتی۔ دوسری طرف آسانی سے پہچانے جانے کے باعث اس کے لیے شکار کرنا بے حد مشکل ہوجاتا اور آخرکار ان وجوہات کی بنا پر کسی قسم کے دفاعی نظام سے عاری گرگٹ بھوک اورموت کا شکار ہوجاتی اور کچھ عرصے میں معدوم ہوجاتی۔ اس کے باوجود آج دنیا میں گرگٹ کا وجود اس ثبوت کی شہادت ہے کہ اس کے ساتھ اس طرز کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ لہٰذا یہ زمین پر نمودار ہونے والے پہلے لمحے سے اسی کامل نظام کی مالک ہے۔
ارتقا پسندوں کا دعویٰ ہے کہ گرگٹ نے اس نظام کو وقت کے ساتھ ساتھ اپنایا ہے۔ اس سے ہمارے دماغوں میں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ گرگٹ نے بجاے کسی آسان نظامِ عمل کے رنگ بدلنے جیسے پیچیدہ نظام ہی کو کیوں اپنایا؟ اس نے رنگ کی تبدیلی کا انتخاب کیوں کیا، جب کہ بہت سے دفاعی نظام موجود تھے؟ کس طرح سے گرگٹ میں رنگ کی تبدیلی کے لیے تمام تر ضروری کیمیائی عمل مہیا کرنے والا نظامِ عمل تشکیل پایا؟ کیا ایک ریپٹائل کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ایسے کسی نظامِ عمل کے بارے میںسوچے اور پھر اپنے جسم میں ضروری نظامات پیدا کرے؟ مزید یہ کہ کیا ایک ریپٹائل کے لیے یہ ممکن ہے کہ رنگ کی تبدیلی کے لیے ضروری معلومات کو خلیوں میں موجود ڈی این اے میں ایک کوڈ کی صورت ڈال دے؟
بے شک یہ ناممکن ہے۔ ایسے سوالوں کے جواب میں نکالے جانے والا نتیجہ ہمیشہ ایک ہی نکلتا ہے کہ جان دار مخلوق کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ ایسا پیچیدہ نظام پیدا کرلے جس کے ذریعے خود اپنا رنگ تبدیل کرسکے۔
جان داروں میں نہ صرف تبدیلیِ رنگ کا نظام بلکہ رنگوں اور نقوش کا تنوع بھی قابلِ غور ہے۔ طوطوں کے شوخ اور مچھلیوں کے متنوع رنگ، تتلیوں کے پروں کے تناسب، پھولوں کے سحرانگیز نقوش اور دیگر جان داروں کے رنگوں کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ خود ہی تشکیل پا جائیں۔ ایسے کامل نقوش، رنگ اور اجسام جو جان داروں کی زندگی میں نہایت اہم مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں، تخلیق کی پختہ شہادت ہیں۔ یہ واضح ہے کہ ہمارے گرد رنگوں کی تشکیل میں ایک ارفع ارادہ موجود ہے۔
اس کی وضاحت ایک مثال سے کرتے ہیں: فرض کریں ہم چوکور خانوں پرمشتمل کوئی چیز بنارہے ہیں۔ ان میں سے حتیٰ کہ ایک کو بھی بنانے کے لیے ہمیں تھوڑا حساب کتاب سے کام لینا پڑتا ہے کہ چاروں کونے پتلے اور برابر ہوں اور چوکور اپنے کناروں پر ۹۰ درجے کا زاویہ رکھتا ہو۔ ہم اس چوکور کو کچھ حساب کتاب اور طریقے ہی سے بنا سکتے ہیں۔ جیساکہ ہم نے دیکھا کہ ایک چوکور کو بنانے میں بھی کچھ علم اور مہارت درکار ہے۔
آئیے اسی منطق کو جان دار مخلوقات پر لاگو کریں اور ان پر غور کریں۔ جان داروں میں ایک کامل تناسب، تنظیم اور منصوبہ بندی موجود ہے۔ ایک انسان جو ایک سادہ چوکور کو بنانے میں درکار علم اور مہارت کی ضرورت کو سمجھتا ہے، وہ یہ فوراً سمجھ لے گا کہ کائنات کی تنظیم، تناسب، رنگ اور نقوش بھی ایک لامحدود علم اور مہارت کی پیداوار ہیں۔ اس لیے اس دعوے کے لیے کوئی سائنسی یا معقول بنیاد موجود نہیں ہے کہ کائنات جیسا نظام اتفاقاً وجود میں آگیا ہے۔ اللہ قادرِمطلق نے تمام کائنات کو تخلیق کیا ہے، اللہ واحد ہے جو اپنی تخلیق کی ہوئی ہر شے کو خوب صورت ترین انداز میں مزین کرتا ہے۔
کائنات میں موجود ہم آہنگی کی نمایاں ترین مثال تناسب ہے۔ جان دار اشیا اپنی ساخت میں ایک تناسب رکھتی ہیں۔ فطرت میں نظر آنے والی کسی بھی چیز جیسے ایک بیج، پھل یا پتے کا بغور جائزہ لینے پر ہمیں اس میںایک تناسب نظر آتا ہے۔ پتے پودے کے جسم کے ساتھ کمانی دار انداز میں جڑے ہوتے ہیں۔ یہ مخصوص طرز کا تناسب ہے۔ اسی طرح ایک قابلِ مشاہدہ تنظیم بیج کے اندر موجود دانوں اور پتے کی رگوں کے نقوش میں نظر آتی ہے۔
فطرت میں موجود تتلی کے پر تناسب کی ایک اور مثال ہیں۔ تتلی کے دونوں پروں پر ایک سے رنگوں کے شیڈز اورنقوش ہوتے ہیں۔ ایک پَر پر موجود نقوش عین اسی طرح اسی مقام پر دوسرے پَر پہ بھی موجود ہوتے ہیں۔
ہم اپنے اردگرد اور بہت سی مثالیں دیکھ سکتے ہیں جن میں سے کچھ کا خلاصہ ہم نے اُوپر پیش کیا ہے۔ بہرحال اہم بات یہ ہے کہ ان تمام مثالوں سے ایک مشترکہ نتیجہ نکلتا ہے۔ ایک بے مثال تنظیم یا زیادہ درست انداز میں کہا جاسکتا ہے کہ ایک عظیم الشان فن کاری جان دار اشیا میں نظر آتی ہے۔ اس حقیقت کی سب سے بڑی شہادت یہ ہے کہ ایسے نفیس نظام اور فن کاری سمیت یہ کائنات کسی بھی طور اتفاق سے وجود میں نہیں آسکتی۔ پروفیسر کیمل یلدرم (Cemal Yildirim) اگرچہ وہ خود ایک ارتقا پسند ہے، اپنی کتاب Theory of Evolution and Bigotry میں اس حقیقت کو بیان کرتا ہے: ’’اس بات پر قائل ہو جانا بے حد بعید از امکان ہے کہ جان دار اشیا کی اس تنظیم کو جو کسی خاص مقصد کی حامل نظر آتی ہے، کسی اتفاق یا حادثے سے منسوب کردیا جائے‘‘۔
تمھارا خدا ایک ہی خدا ہے، اُس رحمن اور رحیم کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے۔ (اس حقیقت کو پہچاننے کے لیے اگر کوئی نشانی اور علامت درکار ہے تو) جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں، اُن کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں، اُن کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریائوں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں، بارش کے اُس پانی میں جسے اللہ اُوپر سے برساتا ہے، پھر اس کے ذریعے سے مُردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے اور (اپنے اسی انتظام کی بدولت) زمین میں ہر قسم کی جان دار مخلوق کو پھیلاتا ہے، ہوائوں کی گردش میں، اور اُن بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں، بے شمار نشانیاں ہیں (البقرہ۲: ۱۶۳-۱۶۴)۔ (انتخاب: یہ رنگ بھری دنیا، ناشر: ادارہ اسلامیات، انارکلی، لاہور)
ترکی کے سیاسی نظام پر نگاہ دوڑائیں تو دو حقیقتیں واضح طور پر سامنے آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اتاترک نے وہاں ایک ایسا ظالمانہ نظام ورثے میں چھوڑا ہے جس میں اسلام پسند قوتوں کے سامنے ہردروازہ بندکردیا گیا ہے، اور دوسری اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ ترکی کی تاریخ میں جب بھی اس نظام کے بل بوتے پر اسلامی قوتوں کا راستہ روکا گیا وہ پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ اُبھر کر سامنے آئیں۔ ترکی کے حالیہ واقعات نے ایک بار پھر اسی عمل اور ردعمل کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے۔
آج سے ۱۰۰ برس قبل ۱۹۰۸ء میں عثمانی خلافت کی آخری مضبوط نشانی سلطان عبدالحمید کا اقتدار ختم کیا گیا اور آج سے ۸۵ سال پہلے اپریل ۱۹۲۳ء میں کمال اتاترک اور اس کی جمہوری پیپلزپارٹی کا اقتدار شروع ہوگیا۔ ۱۹۳۸ء میں اتاترک تو آں جہانی ہوگیا لیکن اس کی پارٹی ۱۹۴۶ء تک اکلوتی حکمران رہی۔ اتاترک کی موت سے ایک سال قبل ۱۹۳۷ء تک ترکی کا دستور یہی کہتا تھا کہ ’’ترکی کا سرکاری مذہب اسلام ہے‘‘ لیکن پھر جامع ترامیم کرتے ہوئے دستور کی شق ۲ میں لکھ دیاگیا کہ ’’ترکی ایک سیکولر ریاست ہے‘‘، اور یہ شق ناقابلِ تبدیل ہے۔ اتاترک نے اذان و نماز سے لے کر تلاوتِ قرآن تک اور انفرادی لباس و انداز سے لے کر ریاستی نظام و احکام تک ہرچیز سے اسلام کی روح و شناخت کو بے دخل کردیا۔ اتاترک کے ہوتے ہوئے نہ کسی کو اس کی مخالفت کی اجازت تھی اور نہ اس کی پارٹی کے مقابلے میں کوئی اور جماعت ہی تشکیل دینے کی۔ ایک بار اس کے ذاتی دوست فتحی اوقیار نے آزاد جمہوری پارٹی کے نام سے الگ جماعت تشکیل دی تو اتاترک مخالف عناصر اس میں جمع ہونے لگے۔ جلد ہی یہ جماعت کالعدم قرار دے دی گئی۔
اتاترک کے بعد عصمت اینونو حکمران بنا، تھا تو وہ بھی سیکولر لیکن وہ جان چکا تھا کہ ترکی میں یک جماعتی نظام اب مزید نہیں چل سکتا، اس نے بعض اپوزیشن رہنمائوں کو پارٹی بنانے کی اجازت دے دی۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے نئی جماعت بنی اور اس نے کچھ ہی عرصے کے بعد ہونے والے انتخابات میں ۴۶ نشستیں حاصل کر لیں۔ ۱۹۵۰ء میں اگلے انتخاب ہوئے تو اس نو تشکیل شدہ جماعت نے میدان مارلیا۔ اتاترک کی پیپلزپارٹی کو نہ صرف اپوزیشن میں بیٹھنا پڑا بلکہ ایک ایک کر کے ان اسلامی مظاہر کو بھی بحال ہوتے دیکھنے کا عذاب سہنا پڑا جنھیں اتاترک نے بڑے جبروغرور سے ختم کیا تھا۔ سالہا سال کی پابندی کے بعد مساجد کے میناروںسے عربی میں اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی تو ترک دیوانہ وار سڑکوں پر ہی سجدہ ریز ہوگئے۔ پھر قرآن کریم کی تلاوت دوبارہ سے ہونے لگی۔ دینی تعلیم کے ادارے کھل گئے اور فوج میں بھی دینی تعلیم کا احیا ہوگیا۔
ترکی کے جدید سیاسی نظام میں اس بات کا سختی سے اہتمام کیا گیا تھا کہ فوج کی سرپرستی اور سیاسی جماعتوں کے قانون کا لٹھ استعمال کرتے ہوئے ہر اسلام پسند طاقت کا راستہ روک دیا جائے۔ اسلامی عناصر کسی صورت مجتمع ہوبھی جائیں تو وہ ایک چھوٹی جماعت سے زیادہ حیثیت اختیار نہ کرسکیں۔ پہلے تو یہ اسلامی عناصر مختلف سیاسی جماعتوں کے حصے کے طور پر کام کرتے رہے لیکن ۱۹۶۹ء کے آخر میں پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین اربکان نے ملّی نظام پارٹی کے نام سے ایک مستقل بالذات پارٹی بنانے کا اعلان کردیا۔ دستوری پابندی کے باعث انھوں نے اپنے اسلامی ہونے کا اعلان تو نہیں کیا لیکن سب جانتے تھے کہ ان کی اصل شناخت کیا ہے۔ اس سے پہلے کہ لوگ اس پارٹی کی طرف متوجہ ہوتے ۱۹۷۰ء کے فوجی انقلاب کے بعد اسے کالعدم قرار دے دیا گیا۔ نجم الدین اربکان نے ملّی سلامت پارٹی کے نام سے نئی جماعت تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔ ملّی سلامت پارٹی نے کئی دیگر جماعتوں سے اتحاد کرتے ہوئے قدم آگے بڑھانا شروع کیے ہی تھے کہ ۱۹۸۰ء میں ایک اور فوجی انقلاب کے ذریعے اس پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ ۱۹۸۳ء میں، اربکان نے رفاہ پارٹی تشکیل دے دی اور احتیاط و کامیابی سے سیاسی سفر طے کرتے ہوئے ۹۰ کی دہائی میں بلدیاتی اداروں میں شان دار کامیابی حاصل کی۔ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کی بنیاد پر ۱۹۹۵ء میں رفاہ پارٹی نے پارلیمانی انتخابات میں بھی شان دار کامیابی حاصل کرلی اور ۱۹۹۶ء میں اربکان مخلوط حکومت کے سربراہ منتخب ہوگئے۔ حکومت کا ایک برس بھی پورا نہیں کیا تھا کہ سیکولرزم کی محافظ ہونے کی دعوے دار فوج نے دستوری عدالت کے ذریعے ان کی حکومت ختم اور پارٹی غیرقانونی قرار دے دی۔
کسی جھنجھلاہٹ کا شکار ہوئے بغیر اربکان نے فضیلت پارٹی تشکیل دے دی۔ رفاہ پر پابندی سے تین ماہ قبل ڈاکٹر اربکان سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی تب فضا میں پابندی کا ارتعاش محسوس کیا جاسکتا تھا، انھوں نے کہا کہ رفاہ کے ہردفتر پر ہمارے نام کا مخفف آر پی لکھا ہوا ہے۔ ہمیں معمولی سی تبدیلی کرنا پڑے گی اور یہی دفاتر ایف پی، یعنی فضیلت پارٹی کے مراکز بن جائیں گے۔ ایسا ہی ہوا لیکن جلد ہی فضیلت کو بھی رفاہ کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا گیا۔ اربکان اور ان کے ساتھیوں نے سعادت پارٹی بنانے کا اعلان کردیا۔ اس موقع پر عبداللہ گل، طیب اردوگان اور ان کے ساتھیوں نے اپنی علیحدہ اور وسیع تر عوامی نمایندگی کی حامل ’انصاف و ترقی پارٹی‘ (جس کے ترکی نام کا مخفف اے کے پی ہے) بنانے کا اعلان کردیا۔ ہراسلام پسند کو اس تقسیم پر تشویش ہوئی لیکن ترک عوام کی اکثریت یہی سمجھی کہ یہ تقسیم حکمت عملی ہی کا حصہ ہے، بار بار پابندیوں کی تلوار سے بچنے کے لیے ’استاد‘ نے خود ہی اپنے ’شاگردوں‘ کو علیحدہ ہونے کا اشارہ کیا ہے۔
نومبر ۲۰۰۲ء میں انتخابات ہوئے تو اے کے پی نے تمام سیاسی پارٹیوں کو تاریخی شکست دے دی۔ طیب اردوگان اور عبداللہ گل کی بنیادی شناخت محنتی، امین اور باصلاحیت قیادت کی ہے۔ گذشتہ پارلیمانی سیشن کے دوران انھوں نے اپنے نام کے دونوں حصوں انصاف و ترقی کی لاج رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ انھوں نے کرپشن کے دروازے بند کرتے ہوئے پورے معاشی نظام کا ڈھانچا تبدیل کردیا۔ افراطِ زر کا تناسب ۶۵ اور ۷۰ فی صد سے کم کر کے ۹ فی صد تک پہنچا دیا۔ سود کا تناسب ۱۰۵ فی صد سے کم کر کے ۱۹ فی صد تک لے آئے، بیرونی قرضے ۲۳ ارب ڈالر سے کم کرکے ۹ ارب ڈالر تک لے آئے۔ ترکی کی برآمدات ۳۶ ارب ڈالر سے بڑھ کر ۹۵ارب ڈالر تک جاپہنچیں، فی کس آمدنی ۲۵۰۰ ڈالر سے بڑھ کر ۵۵۰۰ ڈالر فی کس ہوگئی، غریب خاندانوں کے لیے ۲لاکھ ۸۰ ہزار گھر بنوا کر انتہائی آسان قسطوں پر دے دیے، سردی کے موسم میں غریب خاندانوں میں ہر سال ۱۵ لاکھ ٹن کوئلہ مفت تقسیم کیا۔ اتاترک کے مسلط ہونے کے بعد سے لے کر اب تک ترکی میں ۴۵۰۰ کلومیٹر لمبی سڑکیں بنی تھیں۔ اے کے پی نے صرف اپنے پہلے دورِاقتدار میں ۶۵۰۰ کلومیٹر لمبی سڑکیں تعمیر کروا دیں۔ ان اقتصادی و تعمیراتی فتوحات کی فہرست طویل ہے اور جو منصوبے ابھی زیرتکمیل ہیں ان کی فہرست اور بھی طویل۔ اس کارکردگی کی بنیاد پر گذشتہ سال ہونے والے عام انتخابات میں انصاف و ترقی کو ۴۷ فی صد، یعنی ایک کروڑ ۶۵ لاکھ (۵ئ۱۶ ملین) ووٹ حاصل ہوئے۔ بعدازاں صدارتی انتخابات میں بھی تمام تر کوششوں کے باوجود عبداللہ گل کا راستہ نہ روکا جاسکا اور اس طرح ملکی نظام کے پانچ ارکان میں سے تین (پارلیمنٹ، وزارتِ عظمیٰ اور صدارت) انصاف و ترقی کے ہاتھ میں آگئے۔ سیکولرزم کے محافظ دو خطرناک کیمپ (فوج اور دستوری عدالت) اب بھی اس کے سر پر لٹکتی ہوئی ایک خوں خوار تلوار ہیں۔
مارچ میں ترک پارلیمنٹ نے کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں طالبات کے حجاب پر عائد پابندی ختم کردی، اور وہ بھی ان محفوظ الفاظ میں کہ آیندہ ان اعلیٰ تعلیمی اداروں کی طالبات پر کوئی ایسی پابندی عائد نہیں کی جائے گی جس کا ذکر دستور میں نہیں ملتا۔ یہ ترمیم اتنا بڑا جرم ٹھیری کہ سابق ’حقیرکارکردگی‘ اس کے سامنے ہیچ ٹھیری۔ ترک سیکولرزم کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے اور اٹارنی جنرل نے ملک کی اعلیٰ دستوری عدالت میں منتخب حکومت اور صدر و وزیراعظم سمیت اس کے ۷۱ذمہ داران کو اپنے اپنے عہدوں کے لیے نااہل قرار دینے کا مطالبہ کردیا، ۴۷ فی صد عوام کی حمایت یافتہ ’انصاف و ترقی پارٹی‘ کو غیرقانونی قرار دینے کی اپیل کردی۔ حالانکہ دستور کے مطابق صدر کا مواخذہ صرف اسی صورت میں کیا جاسکتاہے کہ جب وہ دستور سے کھلی بغاوت کا مرتکب ہو اور یہ مواخذہ بھی پارلیمنٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
۳۱ مارچ کو دستوری عدالت نے اس اپیل کو سماعت کے لیے قبول کرلیا اور صدر عبداللہ گل کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے پارٹی کو دو ماہ کے اندر اندر اپنا جواب جمع کرنے کا حکم دیا۔ پارٹی پر پابندی لگانے کی اپیل کو سماعت کے لیے قبول کرلینا ہی اتنا بڑا سیاسی زلزلہ ہے کہ ہرشخص حیرت زدہ رہ گیا۔ اسٹاک مارکیٹ اور کرنسی کا نرخ متاثر ہونا تو فطری بات تھی، پورا سیاسی نقشہ ہی تلپٹ ہونے کا خدشہ لاحق ہوگیا۔
وزیراعظم رجب طیب اردوگان نے عوام کو بہرصورت صبروتحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ حکمران پارٹی کے سامنے کئی راستے کھلے ہیں۔ ایک تو تصادم اور ایسا عوامی دبائو کہ جو دستوری عدالت اور فوج کو پسپائی پر مجبور کر دے، تجزیہ نگاروں کی اکثریت اس امکان کو مسترد کر رہی ہے۔ دوسرا راستہ دستوری ہے اور وہ یہ کہ دستور میں ترمیم کرتے ہوئے دستوری عدالت سے سیاسی جماعتوں پر پابندی کااختیار ہی چھین لیا جائے۔ عدالت کو اٹارنی جنرل کی اپیل کے خلاف یا حق میں فیصلہ دینے کے لیے ۱۱ میں سے ۷ ججوں کا اتفاق راے چاہیے۔ ان ۱۱ میں سے کئی جج سال کے آخر میں ریٹائر ہوجائیں گے اور ان کی جگہ نئے ججوں کا تعین خود صدر مملکت عبداللہ گل کریں گے، یعنی اگر دورانِ سال عدالت کسی وجہ سے اس سماعت کو مکمل نہ کرسکی تو عدالت کا اپنا ڈھانچا تبدیل ہوجائے گا۔ عدالت کے سامنے ایک بڑی رکاوٹ ترکی کا یورپی یونین میں شمولیت کا خواب بھی ہے۔
ان تمام رکاوٹوں اور دستوری ترامیم کے امکانات کے باوجود ترک تجزیہ نگار خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ اٹارنی جنرل کی اپیل اور عدالت کا اسے سماعت کے لیے قبول کرلینا ہی واضح اشارہ ہے کہ فوج ان کوششوں کی پشت پر ہے اور اب حکمران پارٹی کو پابندی کا شکار ہونے سے کوئی نہیں بچاسکتا۔ یہی تجزیہ نگار اس امر پر بھی متفق ہیں کہ اگر ایسا ہوگیا تو ’انصاف و ترقی‘ کی جگہ لینے کے لیے ایک نئی پارٹی کی تشکیل چند ہفتوں یا چند دنوں کی بات ہوگی اوردنیا ایک بار پھر اس تاریخی حقیقت کا اعادہ دیکھے گی کہ جب بھی پابندی لگی نئی پارٹی پہلے سے بھی زیادہ قوت کے ساتھ میدان میں آئی۔ اے کے پی نہ رہی تو نئی پارٹی دو تہائی اکثریت کے حصول اور مزید وسیع تر سیاسی صف بندی کا عملی مظاہرہ کرے گی، تب تک دستوری عدالت اور فوجی جرنیلوں کے پُلوں کے نیچے سے بھی بہت سا پانی بہہ چکا ہوگا۔ گویا کہ نام نہاد سیکولرزم کے نام نہاد محافظ اپنے ہی کھودے گڑھے کا شکار ہوچکے ہوں گے۔
وَّ مَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍo (ابراہیم ۱۴:۲۰) اللہ کے لیے ایسا کرنا بالکل بھی دشوار نہیں۔
اسلام اور مغرب، مسلمان اور مغربی دنیا، یہ موضوع آج کل عالمِ اسلام میں بھی اسی طرح گرما گرم بحث کا موضوع ہیں، جس طرح مغربی دنیا میں۔ اخبارات، رسائل و جرائد، کتابوں اور برقیاتی ذرائعِابلاغ میں مختلف زاویوں سے ہونے والی گفتگو دل چسپ بھی ہوتی ہے، اور بعض اوقات اُکتا دینے والی بھی۔ پیش نظر کتاب، جو دو معروف اہلِ علم کی مُرتبہ ہے، مشرق اور مغرب کے ۱۲ دانش وروں کے مضامین پر مشتمل ہے۔ اپنے کلیدی (اور تفصیلی) مقالے میں اسماعیل ابراہیم نواب نے مسلمانوں کے مغرب کے ساتھ تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ عیسائیت سے اسلام کی مڈبھیڑ (encounter) ساتویں صدی عیسوی میں عیسائی شام پر مسلمانوں کے غلبے ہی سے شروع ہوگئی تھی، اور اسے عیسائیوں کی اکثریت نے خوش دلی سے قبول بھی کیا تھا، کیوں کہ مسلمانوں نے مذہبی رواداری اور حُریت فکر کا مظاہرہ کیا تھا، تاہم اُس زمانے میں یہ بھی نظر آتا ہے کہ یوحنا دمشقی نے اسلامی عقائد اور مسلمانوں پر وہ فکری یلغار شروع کی جوآج بھی جاری ہے، اور ہمارے عہد کے غالباً ممتاز ترین مؤرخ آرنلڈ ٹائن بی اس میں شامل ہیں‘‘ (ص ۹)۔ مقالہ نگار نے بڑی محنت سے ماضی اور حال میں اسلام اور عیسائیت کے درمیان خوش گوار (اور ناخوش گوار) تعلقات کا جائزہ لینے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ مشرق اور مغرب، شمال اور جنوب آپس میں پُرامن بقاے باہمی کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ (ص ۵۰)
عبدالرحیم قدوائی نے انگریزی ادب میں اسلام اور مسلمانوں کی صورت گری کا جائزہ لیا ہے۔ حسین مطالب کے بقول مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کے درمیان تعصبات اور غلط فہمیاں ہیں۔ مغرب میں اسلام کے منفی ادراک کو جنم دینے میں صلیبی جنگوں کے طویل سلسلوں، مغرب کے استعمار اور مسلم علاقوں پر اس کے سیاسی غلبے، مغربی ذرائع ابلاغ کا غیرمتوازن رویّہ (مسلمانوں کو عموماً انتہاپسند دہشت گردوں کے رُوپ میں پیش کرنا)، مسلمانوں اور غیرمسلموں کی ایک دوسرے کے عقائد سے لاعلمی اور عالمی تناظر سے بے خبری، اور خود مسلمانوں اور اُن کے قائدین کی اپنے مذہب پر عمل کرنے میں خامی اور کوتاہیاں اس کی ذمہ دار ہیں۔
اہلِ مغرب اور مسلمان، خود اپنا اپنا ادراک کس طرح کرتے ہیں؟ اس پر ترکی کے احمد دائود اوغلو کا مقالہ بڑا معلوماتی ہے۔ ۲۰ویں صدی کے اوائل میں ترکی کی مقتدرہ نے خود کو مشرف بہ مغرب کرنے کی پوری جدوجہد کی، مگر یورپ نے اِسے دل سے قبول نہ کیا۔ بات یہ ہے کہ ’انسانِ اسلامی‘ (Homo Islamicus) اپنے بنیادی ادراکات و مزعومات (کائنات، زمان و مکاں، تعلقاتِ انسانی و خداوندی کے بارے میں اپنے تصورات) میں ’انسانِ مغربی‘ (Homo Occidentalis) سے بالکل مختلف ہے، تاہم وہ یہ مشورہ دینے میں کوئی حرج بھی نہیں سمجھتے کہ مغرب اپنے اس ادراک پر نظرثانی کرے، اور اسلامی تہذیب کے علَم بردار بھی خود کو ’رجعت پسندی‘ کی خودبینی سے آزاد کریں۔ یہ دونوں کی صحت کے لیے مفید ہوگا۔
خالد مسعود نے اُن ناموں کا جائزہ لیا ہے جن سے مسلمانوں اور اہلِ یورپ نے ایک دوسرے کو یاد کیا ہے۔ ’Hagarea‘ ___ہاجرہ ؑکی اولاد (جنھیں ہمارے عیسائی بھائی حضرت ابراہیم ؑکی ’لونڈی‘ قرار دیتے ہیں)، ’Saracens‘ کی اصل بھی شاید کچھ اسی طرح کی تھی، مگر یورپ میں اس کے معنی کافر، مشرک، بدعقیدہ لیے گئے۔ ’Moor‘کی اصل غالباً ایک یونانی لفظ ہے، جس کے مفہوم میں سیاہ فام، نابینا اور تاریک شامل ہیں۔’Mussulman‘ اور اس سے ملتے جلتے الفاظ ’Mussul-Woman‘مرد اور عورت کے لیے استعمال کیے گئے۔ ’Mohammadan‘ (مختلف حروف اور ہجوں کے ساتھ، نیز اس طرح کے دوسرے الفاظ)، اُمت محمدیہ سے تعلق رکھنے والوں کے لیے استعمال کیے گئے۔ مسلمانوں کی زبانوں میں اہلِ مغرب کے لیے افرنجی، فرنگ، ولایتی جیسے الفاظ استعمال کیے گئے جو کم از کم تحقیر سے تو مبرا ہیں۔
جین اسمتھ نے اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں عیسائی مشنریوں کے مزعومات اور خیالات کا جائزہ لیا ہے، جو ابتداء ً جتنے جارحانہ تھے، اتنے ہی جاہلانہ بھی۔ شروع میں خیال تھا کہ عیسائی یلغار کے نتیجے میں رفتہ رفتہ اسلامی تعلیمات مدھم پڑتی جائیں گی، مگر ایسا نہ ہوا۔ اگرچہ آج بھی کہیں کہیں [عیسائی مبلغوں کے] وہ پرانے حوالے نظر آتے ہیں، جن میں رسول [اللہ صلی اللہ علیہ] کو [نعوذ باللہ] شیطان کے ساتھی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، لیکن آج کے عیسائی مبلغ اسلام کو ایک مبنی برحق اور دُرست مذہب کے طور پر دیکھنے کے لیے کھلا ذہن رکھتے ہیں‘‘۔ اور اِن دو مذاہب کے درمیان اشتراک اور تعاون کی بات بھی کرتے ہیں۔
مغرب میں ’ناپسندیدہ‘ مسلمانوں کے لیے ’بنیاد پرست‘ (fundamentalist) کی اصطلاح عام ہوچکی ہے۔ یونی ایزبک حدّاد کے نزدیک یہ تصور داہنے بازو کے دانش وروں (سیکولر اور مذہبی)، مصنفین، صحافیوں، صہیونیوں نیز اُن تمام عرب اور ’اسلامی‘ حکومتوں کے لیے بھی عام ہوچکا ہے، جو امریکی امداد کی طرف نظریں جمائے رکھتی ہیں۔ اسرائیل کے وزیراعظم اسحاق رابین (Itzhak Rabin)کہتے ہیں: ’’ہمارا واحد دشمن اسلام ہے‘‘۔ اور ڈیوڈ بن گوریان (سابق وزیراعظم اسرائیل) اور اسرائیلی ریڈیو کے مطابق: ’’اسلامی اسپرٹ کی بازیافت، اس علاقے میں اسرائیل کے مستقبل اور مغربی تہذیب کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔ یہودی جانتے ہیں کہ اسلام اُن کے وجود کے لیے خطرہ ہے، مسلمان کب یہ بات سمجھیں گے؟‘‘ (ص ۲۹۰-۲۹۱)
مگر مسلمان نہ اپنے اِس ’دشمن‘ کی بات سمجھتے ہیں، نہ اپنے دوست یوسف القرضاوی (جامعہ قطر میں ڈائرکٹر ریسرچ اور معروف عالم) کی، جن کے نزدیک: ’’اسلام اپنی تمام ہمہ گیریت، کُلیت اور توازن کے باوصف، اِس تمام علاقے سے غائب ہے، وہ اپنے وطن میں اجنبی بن چکا ہے۔ ریاستی معاملات، چاہے وہ سیاسی ہوں، معاشی یا دوسرے داخلی اور خارجی علائق، ان سب میں عوامی زندگی سے اُسے بے دخل کیا جاچکا ہے۔ [مغرب نے] یہ فیصلہ کردیا ہے کہ اسلام، عیسائیت کے عہدِ زوال کا ایک چربہ بن جائے___ یعنی قانون سازی کی قوت سے تہی دست، محض ایک مجموعۂ عقائد، عبادات کی ایک ظاہری صورت جو عملاً معاملات سے خالی ہو۔ ایک ایسا مذہب، جس کی کوئی ریاست حاکمہ نہ ہو، ایک قرآن، بلاسُلطان (بے اختیار)‘‘۔ (ص ۲۹۵)
سوال یہ ہے کہ اس سلسلے میں ’اسلام پسند‘ مسلمانوں کی کیا راے ہے؟ سید ولی رضا نصر ’ریاستیں اور اسلامیانے کا عمل‘ کے عنوان سے کہتے ہیں کہ گذشتہ دو دہائیوں سے اسلامی تحریکیں، سیاسی میدان میں بڑی اہمیت اختیار کرچکی ہیں، اور اس کے نتیجے میں مسلم معاشرے میں اسلام کی طرف رجوع کا واضح اشارہ ملتا ہے۔ ولی رضا، ریاست کے اسلامیانے کے عمل کی تین مثالوں، پاکستان، ملایشیا اور ایران میں تجربات کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس طرح عوام کی زندگی اور معاشرے میں ریاست کا عمل دخل (جبر!) اور زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ضیاء الحق، مہاتیرمحمد اور ’اسلامی ایران‘ کے کارپردازوں نے لادینیت اور مغرب کے استرداد کے نام پر ایک طرح کی آمریت کو فروغ دیا۔ بہت سی ’اسلام پسند‘ نیز سیکولر حکومتوں نے بھی دینی مدارس اور اسلامی مراکز پر حکومتی کنٹرول کی کوشش کی ہے، لیکن دینی حلقوں کی طرف سے اس طرح کی کوششوں کی مزاحمت ہورہی ہے۔ پاکستان، ملایشیا، ترکی، مصر اور بہت سے اسلامی ممالک میں یہ کش مکش جاری ہے۔ مگر اس کش مکش میں غالب آنے والی قوت بظاہر تو مغرب ہی کی ہے، بقول مراد ہوف مین (Murad Hofmann): ’’یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب وقت آیا ہی چاہتا ہے کہ مغربی ثقافت ایک لازمی عالمی ثقافت بن جائے، اور وہی دوسری تمام ثقافتوں کی صورت گری کرے۔ سیول سے سوہو تک، مستقبل کا انسان جینز پہنے گا،برگر کھائے گا، کوکاکولا پیے گا، مارلبورو سگریٹ کے کش لگائے گا، انگریزی بولے گا، سی این این دیکھے گا اور ایک جمہوری ریاست میں باہاس [جرمن فنِ تعمیر] طرز کے مکان میں رہایش پذیر ہوگا، اور غالباً رسمی طور پر کسی عیسائی چرچ کا رُکن بھی ہوگا‘‘۔ (ص ۲۶۲)
مگر کیا واقعی ایسا ہوگا؟ یا صورت حال کچھ تبدیل ہورہی ہے؟
فنیاتی ترقیوں کی آزاد رسائی سے دونوں فریق ایک دوسرے کے مقابل آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔ ماضی کے مقابلے میں اب صورتِ حال اتنی سادہ نہیں رہ گئی ہے۔ مغربی ملکوں میں مسلمانوں کی آبادی بڑھتی جارہی ہے۔ (نقلِ مکانی، تبدیلیِ مذہب، اور شاید بہتر شرحِ پیدایش)۔ بعض مقتدر مغربی حلقوں میں’اسلام آرہا ہے! اسلام آ رہا ہے‘ ، ’اسلام کا عروج، مغرب پر چھا جائے گا‘ اور ’ایک مقدس جنگ اب ہمارے سامنے ہے‘ اور اس طرح کے نعرے گونج رہے ہیں۔ اسٹیون ایمرسن (Steven Emerson) کے خیال میں تو امریکا میں سارے ہی اسلامی بنیاد پرست، ممکنہ دہشت گرد ہیں۔ وہ مغرب کی ہیئت حاکمہ کو مشورہ دیتے ہیں کہ ایف بی آئی کو چاہیے کہ مسلمانوں کی مساجد، اسلامی اداروں، اُن کی مجالس اور محفلوں میں نفوذ کرے۔ (ص ۲۶۴)
یہ بات واضح ہے کہ لامذہب مغرب اپنی ’ترقی‘ بہتر کارکردگی، بڑھوتری (growth)، پیمانۂ کبیر پر پیداوار اور صَرف کے لیے مجنونانہ جذبے کی دوڑ میں اتنا مشغول ہے کہ اُس کے پاس اسلام کے تصورِ آخرت پر زور، سماجی انصاف کے فلسفے، عبادات کے شعور اور رُوحانی اور دنیاوی مطلوبات کے درمیان ایک متوازن معاشرے کی تشکیل کی فکر پر دھیان دینے کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہم اگر کسی ’مغربی انسان‘ کے ہاتھ میں قرآن مجید کا کوئی نسخہ، ترجمہ یا تفسیر تھما دیں تو شاید وہ اپنی اچھی سی کوشش کے باوجود اُسے سمجھ نہ پائے گا۔ مظفراقبال تجویز کرتے ہیں کہ ہمیں مغرب میں___اور اسلامی دنیا میں بھی___ ایسے ادارے تشکیل دینے چاہییں، جن میں علماے دین، طبعی اور سماجی علوم کے ماہرین، انسانی علوم میں گہری بصیرت رکھنے والے، کمپیوٹر کے سائنس دان، معمار، فن کار اور اطلاعاتی فنیات کے ماہر جمع ہوں، اور یہ ادارے ایسے ماہرین اور علما منصہ شہود پر لائیں، جو مغرب اور اسلامی دنیا میں متنازعہ اُمور کو سلیقے سے سلجھانے کی کوشش کریں۔ اسی طرح آیندہ کے امکانی تصادم کا سدّباب ہوسکے گا___ کیسی اچھی خواہش ہے یہ!
(Muslims and The West: Encounter and Dialogue [مسلمان اور مغرب: مقابلہ اور مکالمہ]، مرتبہ: ظفراسحاق انصاری و جان ایل ایسپوزیٹو، شائع کردہ: اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی، اسلام آباد، صفحات: ۳۵۲، قیمت: ۳۰۰ روپے)
مصر عالمِ عرب کا بہت اہم ملک ہے۔ عالمِ اسلام کی مضبوط تحریک اسلامی، اخوان المسلمون اس ملک میں ۱۹۲۸ء میں وجود پذیر ہوئی۔ اپنے قیام کے کچھ ہی عرصے بعد اس تحریک کو گوناگوں مشکلات اور مصری حکومت کے تشدد کے علاوہ عالمی قوتوں کی چیرہ دستیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ تحریک کی بنیادیں قرآن وسنت کے مضبوط اور محکم اصولوں پر اٹھائی گئی تھیں، اس لیے تحریک کی قیادت اور کارکنان نے وقت کے طوفانوں کا ایسی پامردی سے مقابلہ کیا کہ دوست اس پر جھوم اٹھتے ہیں تو دشمن بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ حسن البنا شہید ہوں یا ان کے قافلے کے دیگر شہدا، عبدالقادر عودہؒ، محمد فرغلی ؒاور سید قطبؒ سبھی آج دنیا میں روشن ستاروں کی مانند جگمگا رہے ہیں۔ تحریک کی قیادت میں حسن الہضیبیؒ سے لے کر عمرتلمسانی.ؒ تک اور مصطفی مشہورؒ سے لے کر محمدمہدی عاکف حفظہ اللہ تک سبھی صاحبِ عزیمت تھے۔ قیدوبند کی صعوبتیں اور ظلم وستم کے کوڑے ان کے پاے استقامت میں تزلزل پیدا نہ کرسکے۔
اخوان قانون اور دستور کے مطابق تبدیلی کے علَم بردار اور خفیہ سرگرمیوں کے مخالف ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ عدالتوں میں اپنے کیس لڑے مگر بدقسمتی سے مصری حکمرانوں نے کبھی عدالتوں کو آزادانہ فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دی۔ جب جرأت مند قاضیوں نے جان جوکھوں میں ڈال کر انصاف پر مبنی فیصلے صادر کیے تو پاکستانی حکمران جنرل پرویز مشرف کی طرح مصری حکمرانوں کا کوڑا عدلیہ پر بھی برستا رہا۔ عدالتوں کے ججوں کا ضمیر اس کے باوجود زندہ ہے، اسی وجہ سے بیش تر مقدمات عسکری عدالتوں ہی میں چلائے جاتے ہیں۔ اخوان اپنے آغاز ہی سے سیاسی اور جمہوری دھارے میں شامل رہے ہیں لیکن مصری نظام نے انھیں کبھی قبول نہیں کیا۔ مصر کے گذشتہ عام انتخابات منعقدہ ۲۰۰۵ء میں اخوان سے متعلق امیدواروں نے اپنی آزادانہ حیثیت میں ساری دھاندلیوں کے باوجود ۸۸ نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے پوری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ ملک کے عام انتخابات کے بعد شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات کاانعقاد اپریل ۲۰۰۶ء میں ہونا تھا مگر مصری حکومت نے مختلف حیلوں بہانوں سے وہ انتخابات دو سال کے لیے ملتوی کردیے۔ اس التوا پر ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا، اور مصر کی سول سوسائٹی نے کئی دنوں تک اس مسئلے کو حکومت کی بوکھلاہٹ اور بزدلی قرار دے کر بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کی تحریک جاری رکھی۔
اس موقع پر تمام تجزیہ نگار کہہ رہے تھے کہ مصری حکومت اخوان کی مقبولیت سے خوف زدہ ہوکر بلدیاتی انتخابات سے راہِ فرار اختیار کرگئی ہے۔ اس دوران حسنی مبارک نے دستور میں کئی ترمیمات کیں، جنھیں حکمران پارٹی کے انگوٹھا چھاپ قانون سازوں نے منظور کرلیا مگر سول سوسائٹی نے ان پر ہمیشہ تحفظات کا اظہار بلکہ شدید مخالفت اور احتجاج کیا۔ ان دو سالوں میں مصر میں پھر سے پکڑدھکڑ کا ایسا سلسلہ شروع ہوا، جس نے جمال عبدالناصر کے فرعونی دور کی یادیں تازہ کردیں۔ ہزاروں کی تعداد میں اخوان جیلوں میں ڈالے گئے، حتیٰ کہ ان کے ارکان پارلیمنٹ کو بھی نہ بخشا گیا۔ ظلم کی حد یہ ہے کہ اگر اخوانی اسیروں کے اہلِ خانہ کی دیکھ بھال اور معاشی مدد کے لیے کوئی صاحبِ خیر خدمت سرانجام دیتا تو اس جرم کی پاداش میں اسے بھی جیل میں ڈال دیا جاتا۔ایسے تمام کیس خصوصی ملٹری عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں۔ اخوان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمود عزت کے بقول: ایک ایسے مخیر مصری کو جس نے اسیروں کے بال بچوں سے تعاون کیا، ۵۵ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ (بحوالہ رسالہ الاخوان، شمارہ ۵۴۷، ۲۸ مارچ ۲۰۰۸ئ)
۲۰۰۸ء کے آغاز میں انھی پُرآشوب حالات میں حسنی مبارک حکومت نے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کردیا۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ ان انتخابات سے قبل اخوان کے اہم رہنمائوں کو پابندِ سلاسل کر دیا گیا اور انتخابات کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر سے اخوان کے متوقع بلدیاتی امیدواروں کی پکڑ دھکڑ بھی شروع ہوگئی۔ ۸ اپریل انتخابات کی تاریخ تھی، جب کہ اس سے قبل اخوان کے ڈیڑھ سے دو ہزار کے درمیان مقامی رہنما ملک بھر کی جیلوں میں محبوس کر دیے گئے۔ تجزیہ نگاروں کے بقول حال ہی میں کی جانے والی دستوری ترمیم جس کے مطابق صدارتی امیدوار کے لیے ۹۰ ارکانِ پارلیمان اور ۱۴۰ بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کی تائید ضروری ہے، اس پکڑدھکڑ کی اصل محرک ہے۔ حسنی مبارک خوف زدہ ہے کہ کہیں اپوزیشن کا کوئی نمایاں لیڈر آیندہ انتخابات میں صدارتی امیدوار کے لیے اہلیت حاصل نہ کرلے۔
اخوان نے ان انتخابات کے لیے ۵ ہزار ۷ سو ۵۴ امیدواروں کا انتخاب کیا تھا، مگر پکڑدھکڑ اور خوف و ہراس کی وجہ سے صرف ۴۹۸ امیدوار کاغذات جمع کرا سکے۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ مصری تجزیہ نگار نبیل شرف الدین کے بقول: ان ۴۹۸ میں سے صرف ۲۰ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوسکے، باقی سب کے کاغذات ہی مسترد کردیے گئے۔ اخوان کے نائب مرشدعام ڈاکٹر محمد حبیب نے اعدادوشمار کی روشنی میں اس صورت حال پر پریس کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اب ایسے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے علاوہ ہمارے پاس اور کیا چارۂ کار ہے۔ اخوان کے علاوہ ایک اور تنظیم تحریکِ مصر براے تبدیلی (کفایۃ) نے بھی ان فراڈ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ ان دونوں تنظیموں نے تمام سیاسی گروپوں اور آزاد امیدواران سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کردیں۔ اسی طرح ٹریڈ یونینز نے بھی ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔تجزیہ نگاروں کے بقول عملاً پولنگ اسٹیشنوں پر اُلّو بول رہے تھے اور حکومتی کارندے آزادانہ ٹھپے لگا رہے تھے۔
حقوقِ انسانی کی تنظیم براے عرب دنیا نے ۱۸ اپریل کو اس تشویش ناک صورت حال پر اپنے ردّعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر میں بدترین قسم کا سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔ تمام بنیادی حقوق معطل ہیں، حتیٰ کہ عسکری عدالتوں کا جو ڈھونگ رچایا گیا ہے، اس میں ملزمان کے رشتے داروں اور وکلا تک کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ کسی فوٹوگرافر اور صحافی کو بھی ان کے قریب پھٹکنے نہیں دیا گیا۔ اگر کوئی صحافی اور کیمرہ مین وہاں پہنچ بھی پایا، تو اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ٹیپ ریکارڈر اور کیمرے تک چھین لیے گئے۔ انسانی حقوق کی اس تنظیم نے کہا ہے کہ انصاف کے عالمی ضوابط و قوانین کے علاوہ مصری دستور کی دفعہ ۱۶۹ کے تحت یہ ظلم کسی صورت گوارا نہیں کیا جاسکتا۔
ان حالات میں بظاہر حسنی مبارک نے بلدیات سے حزبِ اختلاف کا نام و نشان مٹا دیا ہے مگر مصر اور پوری دنیا کے مہذب شہری اس انتخاب کو ایک ڈرامے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں دیتے۔ اخوان کے نائب مرشدعام ڈاکٹر محمد حبیب نے اخباری نمایندوں سے بات چیت کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ ہتھکنڈے نہ تو مصری حکومت کو استحکام دے سکتے ہیں، نہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے حریت پسندوں کو سرنگوں کرسکتے ہیں۔ عالمی جریدے الشرق الاوسط کے تجزیہ نگاروں کے مطابق حسنی مبارک اپنے بیٹے جمال کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کرچکا ہے۔ لیکن ان اوچھے حربوں سے حکومت اور ایوانِ صدارت کی ساکھ بُری طرح سے متاثر ہوچکی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب حسنی مبارک دور کا خاتمہ قریب ہے کیونکہ مصر میں جس قدر نفرت موجودہ حکومت سے پائی جاتی ہے، اس کی کوئی مثال ماضی میں دیکھنے میں نہیں آئی۔
بلدیاتی انتخابات کے بعد مصر میں وسیع پیمانے پر احتجاج ہو رہا ہے۔ حسنی مبارک نے اس صورت حال کو آہنی ہاتھ سے قابو کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ملک بھر میں ۲۸ گورنروں (ڈی سی) کا نئے سرے سے تقرر عمل میں لایا گیا ہے۔ ان میں سے ۱۲ نئے چہرے سامنے آئے ہیں، جب کہ تین کے اضلاع تبدیل کیے گئے اور ۱۳ سابقہ اضلاع ہی میں بحال رکھے گئے ہیں۔ ان سے حسنی مبارک نے گذشتہ ہفتے حلف لیا ہے اور انھیں تلقین کی گئی ہے کہ امنِ عامہ میں گڑبڑ کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے۔ ان گورنروں نے حلف کے بعد اعلان کیا کہ ان کی ترجیحات میں ان عناصر کی بیخ کنی سرفہرست ہے جو امن و امان کا مسئلہ پیدا کریں، نیز وہ صدر کے سیاسی پروگرام کے محافظ بن کر کام کریں گے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومتی عزائم کیا ہیں۔