مضامین کی فہرست


اکتوبر ۲۰۱۸

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ قرآن کریم کا غیرمعمولی ادبی اعجاز ہے کہ وہ انسانوں کے لیے اپنی ہدایت کی تعلیمات کو انتہائی مختصرالفاظ میں بیان کردیتا ہے۔ ان الفاظ میں نہ کہیں جھول پایا جاتا ہے، نہ ابہام، نہ فلسفیانہ اُلجھن بلکہ سلاست ِبیان کے ساتھ محض چند الفاظ معانی کے سمندر کو سمو لیتے ہیں۔ سورئہ صف میں چند الفاظ میں انبیاے کرام ؑ کو مقرر کرنے کا مقصد، دعوتِ دین کی جامعیت، دعوت و اصلاح کا مقصد اور آخرکار ایک ایسے معاشرے اور نظامِ عدل کے قیام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو شرک و کفر اور زندگی میں ظلم، فساد اور دو رنگی سے نجات دلانے کا ذریعہ ہے۔ فرمایا جاتا ہے:

ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۝۰ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْنَ۝۹ۧ (الصف۶۱:۹) وہی ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اس کو پوری جنسِ دین پر غالب کردے، خواہ یہ کام مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔

منصبِ رسالتؐ

یہاں پہلی بات جو سمجھائی جارہی ہے، وہ یہ ہے کہ انبیاے کرام ؑ اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی طور پر بھیجا جانا اس غرض کے لیے ہے کہ وہ ہدایت اور دین حق کو، جیساکہ وہ ہے، بغیر کسی کمی بیشی کے اس میں سے کسی بات کو نظرانداز کیے بغیر، بلاکم و کاست اللہ کے بندوں تک پہنچانے کا فریضہ اس طرح انجام دیں کہ کسی کے ذہن میں کوئی ابہام اور شبہہ نہ رہے اور حق ظاہر ہوجائے۔ لیکن یہاں ساتھ یہ بات بھی سجھائی جارہی ہے کہ دینِ حق اور ہدایتِ الٰہی کو محض پیش کرنا مقصد نہیں ہے بلکہ حق کو باطل، شرک اور فسق پر غالب کرنے کی جدوجہد کرنا بھی دعوت کا حصہ اور مقصود ہیں۔ دین آیا ہی اس لیے ہے کہ وہ شرک و و الحاد کو، نفس پرستی اور آبا پرستی کو ، اور ہر طرح کے ظلم و استحصال سے انسانی زندگی کو پاک کرے، جھوٹے خدائوں سے انسانیت کو نجات دلائے، اور زندگی کی تمام وسعتوں پر اللہ رب العزت کی سربلندی اور حاکمیت کے قیام کے ذریعے سے اللہ کی زمین پر صرف اس کی مرضی کو رائج اور قائم کردے۔ یہ دعوتِ دین کے کسی خاص جزو یا حصے پر  عمل پیرا ہونے کی نہیں بلکہ مکمل دین کی دعوت ہے۔ توحید فقط اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام معاملات میں صرف اور صرف اس کی بندگی میں آجانے کا نام ہے۔

اسلام دین و دنیا کی ثنویت یا دو رنگی (dualism) کی جگہ دین و دنیا کی وحدت کا داعی ہے اور یہ توحید کا لازمی تقاضا ہے۔ یہ زندگی کو دو خانوں میں تقسیم نہیں کرتا بلکہ زندگی کو ایک ایسی اکائی میں تبدیل کر دیتا ہے کہ جس کے نتیجے میں انسان کا کھانا پینا، اُٹھنا بیٹھنا، لباس پہننا، تجارت کرنا، تفریح کرنا، غرض ہرانسانی عمل اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی خوشی اور مرضی کے تابع ہوجاتا ہے۔      یہ عیسائیت کی طرح ہفتے میں ایک دن چرچ جا کر اپنے رب کی بڑائی بیان کرنے کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حکومت اور دائرۂ کار کو جس طرح مسجد میں قائم کرتا ہے، اسی طرح خاندان، تجارت، سیاست، معاشرت، قانون و ثقافت، ہرشعبۂ زندگی کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور احکام کے تابع کرتا اور اس کی رضا کے حصول کا میدانِ کار بنا دیتا ہے۔نعوذ باللہ یہ ایسے خدا کا قائل نہیں جو مسجد یا خانقاہ تک محدود ہو اور باقی تمام کاروبارِ حیات شیطان کے حوالے کردے۔ اسلام اس تقسیم کو توحید کے منافی قرار دیتا ہے اور یہی منصب نبوت کا تقاضا ہے۔ اَنِ اعْبُدُوا اللہَ وَاجْتَـنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۝۰ۚ (النحل۱۶:۳۶) ’’اللہ کے بندے بن جائو اور طاغوت سے مکمل اجتناب کرلو‘‘۔ یہی وہ دعوت ہے جسے حضرت آدم ؑ سے لے کر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر نبی نے انسانوں تک پہنچایا اور اللہ کی زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔

ہدایت و رہنمائی

اگلی بات یہ فرمائی جارہی ہے کہ انبیاے کرام ؑ ہی ہدایت پہنچانے کا ذریعہ ہیں اور تمام انبیاےکرامؑ نے انسانوں کو ایک ہی پیغام دیا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی اختیار کریں۔ گویا یہ دین ہی ہدایت کا واحد ذریعہ ہے۔ وہ اللہ ہے جو الرحمٰن اور الرحیم ہے، جو اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور انھیں گمراہ نہیں دیکھنا چاہتا، جو ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ہر دور میں اپنے انبیا ؑ بھیجتا رہا اور جس نے آخرکار پوری ا نسانیت کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا آخری نبی اور پیغامبر بنا کر بھیجا۔ دین کو مکمل شکل میں محفوظ کیا اور اسے قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کے لیے صراطِ مستقیم اور نجات کا راستہ قرار دیا۔ نیز یہ کہ نبی کا کام نہ صرف تلاوتِ کتاب اور تعلیمِ کتاب ہے بلکہ تزکیہ اور حکمت کی تعلیم و تربیت دینا بھی ہے۔ ان چاروں وظائف کو عملاً نافذ کرنے کا نام اقامت ِ دین ہے۔ یعنی تلاوتِ کتاب کے ذریعے انسانوں تک ہدایت اور دین حق کو جیساکہ وہ ہے پہنچانا، نبی کی ذمہ داری ہے۔اس کے ساتھ افراد کا تزکیہ کرنا، جسے ہم کردار سازی اور صلاحیت ِ کار میں ترقی کہتے ہیں۔ افراد کی صلاحیتوں کو اُبھارنا اور انھیں دعوتِ دین کی حکمت عملی سے آگاہ کرنا نبی کے مشن کا حصہ ہے۔ نبی کے بعد دعوت کا پہنچانا ہو یا ہدایت کی وضاحت کرنی ہو، قانون کا نفاذ کرنا ہو، یہ سب کام نبی کے بعد اُس اُمت کے سپرد کر دیے گئے جو نبی پر ایمان رکھتی ہو۔ چنانچہ قرآن کریم نے واضح الفاظ میں اعلان کر دیا کہ تم وہ خیراُمت ہو جسے پیدا ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ انسانوں کو اچھائی ، نیکی، بھلائی اور معروف کا حکم دو اور گمراہی، منکر اور فواحش سے روکنے اور بچانے کے لیے اپنی قوت کا استعمال کرو۔(اٰل  عمرٰن ۳:۱۱۰)

یہاں بات فقط وعظ و تلقین کی نہیں کی جارہی بلکہ اس کے امرونہی کا بھی ذکر ہے جو واضح طور پر قوتِ نافذہ کی طرف اشارہ ہے اور جس کے ذریعےمتوجہ کیا جارہا ہے کہ منکر اور بُرائی کو مٹانے کے لیے ہرممکن ذریعۂ اصلاح کا استعمال ضروری ہے۔

یہاں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ہدایت مکمل ہے، یہ زندگی کے کسی خاص پہلو تک محدود نہیں، یہ محض روحانیت کا نام نہیں، نہ یہ محض ’ذاتی‘ اور ’نجی‘زندگی کے لیے ہے بلکہ یہ زندگی کے تمام گوشوں کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ ہدایت نہ صرف جامع اور مکمل ہے بلکہ یہی حق ہے یہی ’دین الحق‘ ہے اور  اس ’دین الحق‘ کی دعوت اور اس کی سربلندی کی جدوجہد کرنا نبی اور ان کے بعد نبی کے ماننے والوں کا کام ہے۔ تحریک اسلامی کا اصل مقصود، دین حق کا قیام اور باطل اور طاغوت سے انسانیت کو نجات دلانا ہے۔

مخالفین کا ردعمل

یہ بات بھی واضح کی جارہی ہے کہ اس دین حق کی دعوت اور جدوجہد کو کفر، ظلم، طاغوت کے علَم بردار برداشت نہیں کریں گے۔وہ اسے سخت ناگوار سمجھتے ہوئے اپنی تمام قوت اس کا راستہ روکنے میں لگائیں گے اور نہ صرف مقامی طور پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی دین حق کو دبانے اور نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کریں گے۔ جو خوش نصیب ہدایت کو قبول کرلیں گے اور اس پر استقامت سے جم جائیں گے، وہ اپنے رب کی نصرت و حمایت سے کم تعداد میں ہونے کے باوجود بالآخر کثرت پر غالب آئیں گے۔ اسلام قلت و کثرتِ افراد کی جگہ افراد کی تاثیر اور قوت کردار و اخلاق کا اصول پیش کرتا ہے کہ اگر وہ صرف ۲۰ صالح اور مجاہد افراد ہیں تو وہ ۲۰۰ پر غالب آئیں گے ۔ گویا کامیابی کا معیار تعداد نہیں تربیت ہے، کردار اور طرزِعمل ہے۔ مخالفت کی ہوائیں جتنی بھی تندوتیز ہوں گی، حق اتنا ہی زیادہ بلندی کی طرف جائے گا۔

تحریکاتِ اصلاح کا اصل تشخص

جو اسلامی تحریکات اپنے قیام کا مقصد اور اپنی سرگرمیوں کا ہدف حاکمیت ِالٰہی کا قیام قرار دیتی ہیں، ان کے لیے قرآن کا دیا ہوا اصول یہی ہے کہ وہ حاکمیتِ الٰہی کے قیام کے لیے ایسے افراد تیار کریں جو چاہے تعداد میں کم ہوں لیکن اپنے ایمان اور کردار میں غیرمتزلزل اور میدانِ کارزار میں چٹان کی طرح جم جانے والے ہوں، جو سر تو دے دیں لیکن ان کا سر صرف اللہ کے سامنے جھکے اور ایمانی اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہ کریں۔ تحریکاتِ اسلامی کا اصل سرمایہ یہی تربیت یافتہ افراد ہوتے ہیں، جو اللہ کے حضور شب گزاری کے ساتھ ساتھ کارزارِ حیات میں، رزم حق و باطل میں فولاد کی طرح ہوں۔

اس آیت مبارکہ میں یہ بات بھی واضح کر دی گئی ہے کہ ہدایت ربانی اور مکمل دین کے اظہار اور حق کو قائم کرنے کے لیے محض عددی قوت یا عوامی احتجاج کی طاقت (street power)کا استعمال کامیابی کی شرط نہیں ہے۔ تحریکی کارکنوں کی وہ کم تعداد بھی جو قوتِ کردار سے آراستہ ہو، باطل اور طاغوت کے بڑے سے بڑے لشکر پر غالب آسکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہےکہ معرکۂ بدر ہو یا غزوئہ احزاب، اہلِ ایمان کی کم تعداد اپنی قوتِ کردار اور اعلیٰ تربیت یافتہ اخلاق کی بناپر منکرینِ حق کی کثرتِ تعداد کے باوجود ان پر غالب آئی۔

خلافتِ جمہور کا مفہوم

پارلیمنٹ یا معاشی منڈی یا تعلیم گاہ جہاں کہیں بھی انسان کا اپنا بنایا ہوا نظام چل رہا ہے، اسلام چاہتا ہے کہ انسان کی حاکمیت، آمریت اور بادشاہت کی جگہ مالکِ حقیقی کی حاکمیت کو  خلافتِ جمہور کے ذریعے رائج کیا جائے۔ یعنی انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی جگہ ہدایتِ الٰہی کی روشنی میں اسلامی شریعت کو قائم کیا جائے لیکن خلافت کے قیام اور خلافت ِ جمہور کے ذریعے نظامِ عدل کا قیام چند بنیادی شرائط کو پورا کیے بغیر نہیں ہوسکتا۔ پہلی شرط یہ ہے کہ اس تبدیلی و اصلاح کا داعی اور اس کے رفقا سب سے پہلے خود دین کی شہادت دیں، چنانچہ فرمایا گیا:

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۝۰ۭ (البقرہ ۲:۲۸۵)رسول اور اہلِ ایمان اس ہدایت پر ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ہے۔ انھوں نے اس ہدایت کو دل سے تسلیم کرلیا ہے۔

زمین پر اللہ تعالیٰ کے دین اور نظام کو رائج کرنے والوں کو پہلے اپنی دعوت پر غیرمتزلزل یقین ہو۔ وہ اس کا اظہار و اقرار نہ صرف زبان سے کر رہے ہوں بلکہ عملاً شہادتِ حق کا فریضہ ادا کرنے میں قیادت کریں۔ چنانچہ جب تک تحریک کا ہر کارکن تجدید ِ ایمان کرتے ہوئے اللہ کی بندگی اور تحریک سے وابستگی اور دین کی سربلندی اور کامیابی پر مکمل ایمان نہ لائے وہ دین کی دعوت، استقامت و اعتماد سے نہیں دے سکتا۔ اس کا لہجہ اور اس کی ہر ہر ادا( body language) اس بات کا اعلان کرے کہ وہ اپنی دعوت کی صداقت پر مکمل اعتماد و ایمان رکھتاہے اور کسی فکری انتشار (confusion)کا شکار نہیں ہے۔وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سیاسی مقابلے میں کامیابی کا کوئی امکان نہیں، اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل کو شہادتِ حق میں لگا دے گا۔ اس کا اصل ہدف دین حق کا قیام ہو جس کے لیے قوتِ نافذہ کا ہونا ایک ضروری وسیلہ تو ہے، اس کی منزل نہیں۔ وہ فتح اور ناکامی سے بلند ہوکر اپنی تمام قوت اقامتِ دین کی جدوجہد میں لگا دے۔

خلافتِ جمہور کا واضح مفہوم یہ ہے کہ زمین پر اللہ تعالیٰ کی خلافت و نیابت کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے بندوں کو حکمت و محبت کے ساتھ اللہ کے دین سے آگاہ کیا جائے جو محض زبان سے نہ ہو بلکہ ہر تحریکی کارکن کی شخصیت، اور اس کی سیرت اور اس کا کردار خود دعوت کی زبان بن جائے۔ زبان سے کوئی لفظ ادا کیے بغیر وہ اپنے وجود سے ایک دیکھنے والے کو یہ بات پہنچا دے کہ وہ سچ پر قائم اور سچ کو غالب کرنے والا ہے۔ وہ بے غرض ہے۔ اسے اپنی لیڈری مطلوب نہیں ہے۔ وہ دراصل دین کا کارکن ہے۔ وہ نہ شہرت چاہتا ہے نہ کوئی معاوضہ یا بدلہ طلب کر رہا ہے بلکہ اپنا سب کچھ اپنے رب کی خوش نودی کے حصول کے لیے لگادینے کو اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہے۔

خلافتِ جمہور اور مغربی جمہوریت کا جوہری فرق ہی یہ ہے کہ خلافت اللہ کی ہدایت کی بالادستی کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے اوراس میں کسی فرد کی آمریت کی کوئی گنجایش نہیں ہوتی اور نہ اس میں اکثریت کے نام پر استبداد کو قبول کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت جمہور کا مطلب یہ ہے کہ تمام معاملات میں فیصلے آنکھیں بند کر کے محض افراد کے ووٹوں کی کثرت پر نہ کیے جائیں بلکہ جس اصول پر فیصلہ ہو وہ یہ ہے کہ انسانیت کا خالق ہم سے کیا چاہتا ہے۔ گویا ووٹ کا استعمال لازماً کیا جائے لیکن ووٹ اپنی قوت قرآن و سنت سے حاصل کرے اور اس کا تابع ہو۔ نیز جن اُمور کے بارے میں اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت موجود ہے، اسے دل کی گہرائیوں سے تسلیم کیا جائے اور جو معاملات انسانوں کی عقل اور تجربے پر چھوڑے گئے ہیں ان میں قرآن و سنت کے بتائے ہوئے اصولوں کی روشنی میں جمہور کی مرضی کے مطابق معاملات طے ہوں۔ شوریٰ کے نظام کی روح جہاں اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت ہے وہیں فیصلہ سازی میں عوام اور ان کے نمایندوں کی ایک ایسے انتظام کے ذریعے مؤثر شرکت ہے جو افراد اور گروہوں کی آمریت سے پاک ہو۔

خلافتِ جمہور کی روح یہ ہے کہ فیصلے کی طاقت محض حزبِ اقتدار یا حزبِ اختلاف کے ہاتھ میں نہ ہو بلکہ تمام باشعور افراد قرآن و سنت کی روشنی میں اُمورِ سلطنت چلانے کا اہتمام کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظام میں مخالفت براے مخالفت اور محض عصبیت اور سیاسی مفاد کی بنیاد پر اطاعت اور ہم نوائی کے مقابلے میں وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۝۰۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۝۰۠  (المائدہ ۵:۲) کو رہنما اصول قرار دیا گیا ہے۔ خلافت ِ جمہور میں کسی پیشہ ورانہ حزبِ اختلاف کا تصور نہیں پایا جاتا کہ اسے لازماً حزبِ اقتدار کی ہر بات کی مخالفت ہی کرنی ہے بلکہ کسی بھی بات کی صداقت براہِ راست قرآن و سنت کی بنیاد پر مان لینے کا نام نیابت و خلافت ہے۔ خلافت ِ جمہور کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت بجاے خود کوئی حتمی حیثیت نہیں رکھتی، البتہ شریعت کے ذریعے اصولوں کی بنیاد پر تبدیلی لانے کی جدوجہد آئینی ذرائع سے کی جائے تو وہ خلافت ِ جمہور کے قیام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

خلافت ِ جمہور کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی معاملات ہوں یا معاشی، دفاعی، ثقافتی اور قانونی مسائل، ہر معاملے میں مشاورت یا شوریٰ کو بنیاد بنایا جائے۔ شوریٰ کی روح اختلاف ِ راے ہے، جتھابندی نہیں ہے، نجویٰ نہیں ہے، غیبت نہیں ہے بلکہ کھل کر معاملات پر گفتگو و تبادلۂ خیالات کے ذریعے اجماع یا اتفاق راے کا پیدا کرنا ہے۔ اور اگر اتفاق راے نہ ہوسکے اور معاملہ حکمت اور مصلحت کا ہو اور جو معصیت سے پاک ہو تو پھر اکثریت کی راے ہی معتبر ہوگی لیکن اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کوئی اطاعت نہیں۔ لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِی مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ(مصنف ابن ابی شیبۃ، حدیث: ۳۳۰۵۴) ’’خالق کی نافرمانی والے کام میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے‘‘۔

یہاں فیصلہ مغربی یا مشرقی قوموں کے بنائے ہوئے ضوابط پر نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت کے دیے ہوئے حریت و آزادی، امانت و دیانت اور تقویٰ و احسان کے ضوابط پر ہے۔ یہاں ہرراے اور عمل کا پیمانہ ہدایت ِ الٰہی اور اسوئہ نبویؐ ہے۔

خلافت جمہور کا مطلب وہ نظام ہے جس میں احتساب پر عمل کیا جارہا ہو۔ قائد سے لے کر ایک عام کارکن تک کا احتساب اجتماعی ضوابط کی روشنی میں کیا جاسکتا ہو اور کیا جا رہا ہو۔ خلافتِ جمہور کا مطلب یہ ہے کہ ملک سے اس لادینی نظام کو ختم کیا جائے جس میں دین و دنیا میں تفریق کرکے خالق کائنات کو مسجد تک محدود کر دیا جاتا ہے اور مسجد سے باہر مادی قوتوں اور عوام کی خوشی اور خواہشوں کو اپنارب بنا لیا جاتا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسانی فکر کے تمام خودساختہ بتوں کوپاش پاش کرنے کے بعد بے لوث اور ایثار و قربانی کے جذبے سے سرشار ، باصلاحیت، خدمت کرنے والوں کو مناصب کے لیے نامزد کیا جائے۔

خلافت ِ جمہور کا مطلب یہ ہے کہ انفرادیت پسندی، قومیت اور صوبائی اور لسانی عصبیت جیسے تمام بتوں سے معاشرے کو پاک کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایات اور شریعت کو زندگی کے تمام معاملات میں نافذ کردیا جائے۔

خلافت جمہور کے لوازمات

خلافت ِ جمہور کا قیام ضروری نہیں کہ چند ہفتوں، چند مہینوں یا چند برسوں میں تکمیل کو پہنچ جائے۔ قوموں اور تحریکوں کی زندگی میں ۷۰سال پلک جھپکتے گزر جاتے ہیں۔ اس لیے تحریکی کارکنان کو اپنی سوچ کو درست رُخ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک حکایت ہے کہ ایک ۹۹سالہ بوڑھا اللہ کے بندوں کی بھلائی کے لیے کھجور کی گٹھلی بو رہا تھا کہ آنے والی نسلیں اس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔ تحریک کی دعوت بھی اسی نوعیت کی ہے۔ اس کی جدوجہد براے خلافت جمہوربھی  فوری نتائج سے بے پروا ہوکر اچھائی کے بیچ سنگلاخ زمین کے کچھ حصے کو نرم کر کے ڈالنا ہے کہ آہستہ آہستہ اس کی جڑیں چٹانوں میں دراڑیں ڈال کر اپنے تنے کو مستحکم کردیں اور اس کی شاخیں تمام انسانیت کے لیے سایہ، سکون اور پھل فراہم کرنے کا ذریعہ بن جائیں۔

دعوتِ دین کا شجر طیبہ بھی ایسا ہی ہے، لیکن اس شجر طیبہ کے لگانے اور اس کی پرورش کی کچھ شرائط اور لوازمات ہیں جن کو پورا کیے بغیر یہ پودا درخت نہیں بن سکتا اور درخت پھل نہیں دے سکتا۔ ان شرائط میں سب سے اوّل دعوت حق دینے والے کا خلوصِ نیت ہے۔

دین میں خلوصِ نیت بنیاد ہے۔ نماز ہو یا روزہ یا حج یا زکوٰۃ کی ادایگی میں خلوصِ نیت نہ ہو تو یہ سب ریا بن جاتے ہیں اور اپنا ثواب یا اجر کھو بیٹھتے ہیں۔ اگر ایک درسِ قرآن اس لیے دیا جارہا ہو کہ مقرر کو عالمِ دین سمجھا جائے۔  اس کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو، اس کا چہرہ سوشل میڈیا پر بطور ایک تحریکی رہنما کے لوگوں کو نظر آئے، اس کے درس کی رپورٹ تصویر سمیت کسی رسالے یا اخبار میں طبع ہو، تو یہ عمل اللہ کی نصرت اور برکت سے محروم رہے گا اور سیکڑوں افراد کے درس کو  سن لینے کے باوجود تبدیلیِ فکر، تطہیرقلب اور تعمیرکردار پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اگر درسِ قرآن دینے والے کی نیت بغیر کسی اجر اور علمیت کے اظہار کے، صرف اور صرف رضاے الٰہی کا حصول ہے، تو یہ عمل چاہے بہت چھوٹے پیمانے پر ایک مسجد یا گھر میں محض پانچ سات افراد کی مجلس میں کیا گیا ہو لیکن نتائج کے اعتبار سے زیادہ تعمیری اورثمرآور ثابت ہوگا۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ سے پہلے تمام انبیا ـؑ نے اپنی دعوت پیش کرنے کے بعد ایک ہی بات تو کہی تھی کہ: ’’میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، میرا اجر تو میرے رب کے پاس ہے‘‘۔

اگر اللہ کے بندوں کی خدمت (وہ طبی امداد ہو، تعلیم ہو، بیوائوں، یتامیٰ کی خبرگیری ہو، ضعیفوں کی نگہداشت ہو اور اس طرح کے دیگر رفاہی کام) اس غرض سے کیے جائیں کہ وہ اللہ کے لیے ہیں اور ہمیں ان سے کوئی ذاتی فائدہ مطلوب نہیں تو صرف اس صورت میں ان کاموں کے اثرات، دعوت کی تو سیع کی شکل میں ظاہر ہوں گے۔ اگر رفاہی کاموں کا مقصد ووٹ کا حصول ہوگا تو آخرت تو ہاتھ سے گئی ہی، دنیا بھی یقینی نہیں کہی جاسکتی۔

گویا خلافت ِ جمہورکا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہرعمل کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضاکا حصول ہونا چاہیے۔ اگروہ ہمارے کام سے خوش ہوکر لوگوں کے دلوں میں دین کی دعوت کے لیے جگہ پیدا کردے ، اور جو کل تک مخالف تھے ان کو ولی بنا دے تو یہ اس کا کرم اور رحمت ہے۔ ہمارا کام تو  اس کام کے بتائے ہوئے طریقے سے، اس کے بھیجے ہوئے نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی اطاعت و بندگی کی شہادت پیش کرنا ہے۔

خلافت جمہور کا ایک لوازمہ یہ ہے کہ رضاے الٰہی کے حصول کے لیے ہردور میں ایسی حکمت عملی بنائی جائے جس کی بنیاد حقیقت پسندی اور افراد کی سیرت سازی پر ہو۔ تحریک اسلامی کا اصل سرمایہ اس کے کارکن ہیں۔ اگر وہ تربیت کے مراحل سے گزر کر معاشرے میں کام کریں گے تو ان کی مالی ایمان داری، امانت اور بے لوثی و بے غرضی ، ان کی سادگی، ان کا حق کی حمایت کرنا اور ظلم کی مخالفت میں سب سے آگے ہونا، ان کی زبان سے ایک لفظ ادا کیے بغیر خود ان کا عمل اور کردار دعوت کا چلتا پھرتا نمونہ بن جائے گا۔ اسلام وہ واحد نظام ہے جس کی دعوت سیرت و کردار دیتے ہیں۔ اس لیے تحریک کا سارا زور تعمیر کردارکے لیے مطالعے کے حلقے ، رفاہِ عام کے کام، مقامی افراد کے مسائل کے حل کی کوششوں کی شکل میں ہو،تو اس کے نتائج سامنے آنے یقینی ہیں۔

تنظیم اور تحریک

دعوتِ دین کا منظم کام کرنے کے لیے اگرچہ تنظیم ضروری ہے تاکہ ہرفرد کو اپنی ذمہ داری اور دائرہ کار کا احساس ہو اور وہ اپنی ذمہ داری کو صحیح طور پر ادا کرسکے لیکن انسانی تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات تحریکات محض تنظیم بن جاتی ہیں جن میں دستوری دفعات پر الفاظ کی حد تک تو عمل ہوتا ہے لیکن دستور کی روح نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ جن میں نظم اور امارت، اپنے اختیارات کا استعمال کرنا تو جانتے ہیں لیکن وہ دلوں میں گھر کرنے اور اپنی اخلاقی قوت سے اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ شاید اس کے قول اور عمل میں تضاد پایا جاتا ہے۔ ایسی ’تنظیم‘ ہمیں منزلِ مقصود تک نہیں پہنچا سکتی۔

رضاے الٰہی کے حصول کے لیے ہمارے بے لوث کارکن جو کام کرتے ہیں، اس کی اطلاع جمہور تک پہنچنی چاہیے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہماری تحریک کو ابلاغ عامہ کا صحیح استعمال نہیں آتا۔ ہمیں لازمی طور پر ابلاغِ عامہ، ٹی وی اور تقریبات کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔ لیکن انھیں شخصیت پرستی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ ہماری نگاہ اور توجہ ہماری دعوت کی توسیع پر، اپنی کردار سازی پر، علمی قیادت پر اور ملک کے سیکولر ذہن کے افراد کو اسلام کے قریب لانے پر ہونی چاہیے۔ملک کے مختلف طبقات تک ان کی ذہنی صلاحیت اور طلب کے پیش نظر اپنی دعوت ان تک پہنچانے پر ہونی چاہیے۔ دعوت کے طویل المیعاد منصوبے کو ترجیح دی جانی چاہیے اور اس منصوبے کو قرآن و سنت کے حدود میں رہتے ہوئے بہتر سے بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

موجودہ نظام کو لادینیت سے، لادینی جمہوریت سے، انفرادیت پسندی سے، عصبیت سے، جہالت، ظلم اور تفریق سے، غرض ان تمام منفی صفات کو جو قومی وحدت کو نقصان پہنچانے والی ہیں، ان سے نجات دلانے کی کوشش کرنی چاہیے اور ان کی جگہ اجتماعیت، دین کی جامعیت اور للہیت کو توجہ کا مرکز بنانا خلافت ِ جمہور کی شرط ہے۔ ہم جتنا اپنی تربیت اور فکری اصلاح پر توجہ دیں گے اور ہر فرد اپنے ذاتی نصاب کے مطالعے کے ذریعے علم میں اضافہ اور مصادر سے براہِ راست استفادے کی کوشش میں لگ جائے گا تو نتائج خود بولیں گے۔ ایک اصولی جماعت ہونے کی بنا پر ہمارا فکری محاذ پر متحرک ہونا کامیابی کی ایک بنیادی شرط ہے۔مظلوم طبقات کی حمایت، معاشی طور پر ضرورت مند لوگوں کی حاجت روائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اللہ کے بندوں کی خدمت کو ہماری ترجیحات میں اوّلیت حاصل ہونی چاہیے۔ اگر ہم آیندہ پانچ سے دس سال کا منصوبہ دعوت، تربیت اور تنظیم کے تمام پہلوئوں کو سامنے رکھ کر اور خود اپنے تجربات کی روشنی میں مرتب کریں اور اس پر سختی سے عمل کا اہتمام کرتے ہوئے اپنی دعوتی اور اصلاحی ترجیحات کی پابندی کرتے ہوئے اپنے کام کی نئی منصوبہ بندی کریں، تو ان شاء اللہ خلافت ِ جمہور کا راستہ بہت آسان اور مختصر ہوسکتا ہے۔

اصل چیز عزمِ مصمم، استقامت، صبر اور توکل علی اللہ کے ساتھ اپنی تمام قوتیں اور صلاحیتوں کو مجتمع کردینا اور دعوت و اصلاح کی جدوجہد میں جھونک دینا ہے۔ جو لوگ اللہ کو اپنا رب مان لیتے ہیں اور اس پر قائم ہوجاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے حکم سے کائنات کی تمام قوتیں ان کے لیے حمایت اور تعاون کے دروازے کھول دیتی ہیں اور آخرت اور دنیا میں کامیابی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ کیا ہم اپنا حق ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؟

اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْہِمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۝۳۰ نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَۃِ۝۰ۚ وَلَكُمْ فِيْہَا مَا تَشْتَہِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْہَا مَا تَدَّعُوْن۝۳۱ۭ

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ۝۳۲ۧ وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللہِ وَعَمِلَ صَالِحًـا وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۝۳۳ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَـنَۃُ وَلَا السَّيِّئَۃُ۝۰ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَہٗ عَدَاوَۃٌ كَاَنَّہٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ۝۳۴ وَمَا يُلَقّٰىہَآ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا۝۰ۚ وَمَا يُلَقّٰىہَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ۝۳۵  وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ۝۰ۭ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝۳۶ (حٰمٓ السجدۃ ۴۱:۳۰-۳۶) جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اِس پر ثابت قدم رہے، یقینا اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اُن سے کہتے ہیں کہ ’’نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہوجائو اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم اِس دُنیا کی زندگی میں بھی تمھارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمھیں ملے گا اور ہرچیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمھاری ہوگی۔ یہ ہے سامانِ ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے۔ اور اُس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ اور اے نبیؐ! نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔ اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

[فیڈرل شریعت کورٹ پاکستان نے اورینٹل کالج پنجاب یونی ورسٹی، لاہور کے پروفیسر ایمریطس ڈاکٹر ظہور احمد ظہور کی اپیل پر ۲۲؍اکتوبر ۲۰۱۲ء کو پاکستان کی تمام صوبائی اور مرکزی حکومتوں کو پابند کیا کہ وہ دستورِ پاکستان کی واضح ہدایت کے مطابق پرائمری سے اعلیٰ ثانوی درجے کی تعلیم کے دوران، عربی زبان کی لازمی تدریس کا انتظام کریں(شریعت کورٹ ایکٹ کے مطابق، اگر شریعت کورٹ کے فیصلے کو چیلنج نہ کیا جائے تو وہ چھ ماہ بعد آئینی طور پر نافذالعمل ہوجاتا ہے)۔ اس فیصلے کو اُس وقت پاکستان کے تین صوبوں (سندھ، خیبر، بلوچستان) اور وفاقی حکومت میں پیپلزپارٹی اور اے این پی نے تسلیم کرکے قرآن و عربی کی تدریس کے لیے عملی اقدامات بھی شروع کردیے، لیکن شہبازشریف حکومت نے سردمہری کا مظاہرہ کیا۔ پھر جب مارچ ۲۰۱۳ء میں نجم سیٹھی پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ مقرر ہوئے، تو ان کی ہدایت پر پنجاب کے چیف سیکرٹری نے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف باقاعدہ اپیل کردی کہ فیصلے کو بدلا جائے اور کہا: ’عربی عربوں کے لیے ہے‘ (اور گویا قرآن بھی عربوں ہی کے لیے ہے)۔ مئی ۲۰۱۳ء میں مسلم لیگ (ن) کے شہباز شریف دوبارہ وزیر اعلیٰ بن گئے (ان کے دونوں اَدوار میں نجم سیٹھی تسلسل کی کڑی تھے)۔ تب، جامعہ اشرفیہ لاہور سے ممتاز عالمِ دین جناب فضل الرحیم اشرفی نے نواز،شہباز برادران کو سمجھایا کہ آپ اس اپیل کو واپس لے لیں، مگر اپنے عمل سے انھوں نے مسلسل پانچ برس تک ٹال مٹول سے کام لیا۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اپریل ۲۰۱۳ء سے لے کر ۱۹؍ستمبر ۲۰۱۸ء تک سپریم کورٹ نے ایک بار بھی اس کیس کی سماعت نہیں کی، نہ ڈاکٹر ظہوراحمد ظہور صاحب یا ان کے وکیل محمد تنویرہاشمی کو کوئی عدالتی نوٹس دیا گیا، بلکہ اچانک ۱۹ستمبر کو دستور، اسلام اور عدالتی اخلاقیات سے ٹکراتا فیصلہ سناکر، دستور اور اسلام کا مذاق اُڑایا گیا ہے۔ اب یہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دستور کا تحفظ کرے۔ادارہ]

  • سپریم کورٹ نے فیڈرل شریعت کورٹ کے ملک بھر کے اسکولوں میں عربی زبان کو لازمی طور پر پڑھانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ خبروں کے مطابق عدالت عظمیٰ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے پنجاب حکومت کی طرف سے شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل پر یہ حکم جاری کیا۔ اس فیصلے کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئیں، لیکن اخباری رپورٹوں کے مطابق پنجاب حکومت نے اپنی اپیل میں اس بات پر زور دیا تھا کہ: ’’عربی کو لازم مضمون کے طور پر پڑھانا ضروری نہیں کیوںکہ قرآن و حدیث اور فقہ اُردو اور انگریزی ترجمے میں بھی موجود ہیں‘‘۔ پنجاب حکومت نے اس اپیل میں یہ بھی کہا کہ: ’’اسلام کا اصل مقصد اسلامی اصولوں کو انسانوں تک پہنچانا تھا نہ کہ عربی پڑھانا‘‘۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے اس اپیل میں یہ بات بھی کہی کہ ’’عربی اسلام کی نہیں بلکہ عربوں کی زبان ہے‘‘۔ ایک طرف پنجاب حکومت کی اپیل  پڑھ کر حیرانی کے ساتھ ساتھ افسوس ہوا، تو دوسری طرف سپریم کورٹ کے فیصلے نے دُکھی کیا۔ انگریزی زبان لازم کر دو تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں، لیکن اعتراض عربی زبان پڑھانے پر ہے جو قرآن و حدیث کی زبان ہے۔ قرآن پاک میں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۝۲ (یوسف ۱۲:۲) ’’ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن بنا کر عربی زبان میں تاکہ تم اس کو اچھی طرح سمجھ سکو‘‘۔

معلوم نہیں سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی اپیل کیسے منظور کرلی، جب کہ آئین پاکستان بھی انگریزی یا کوئی دوسری زبان پڑھانے کی بات نہیں کرتا، بلکہ آرٹیکل۳۱( ۲، الف){ FR 645 } میں ریاست اور ریاستی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دینے کے ساتھ ساتھ عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اس کے لیے سہولت بہم پہنچائی جائے۔

  • اسی طرح سپریم کورٹ کا ۲۰۱۷ء کا شراب پر پابندی کے بارے میں فیصلہ یاد آرہا ہے، جب سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے صوبہ سندھ میں شراب کی فروخت پر پابندی اور شراب خانوں کی بندش کے حکم کو معطل کر دیا گیا تھا۔ مگر سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو رَد کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ’’جب قانون موجود ہے تو ہائی کورٹ ایسا حکم نہیں دے سکتی۔ اور یہ کہ شراب کی فروخت کے قانون کی خلاف ورزی پر پولیس کارروائی کر سکتی ہے، لیکن پولیس اور حکومتیں تو شراب پینے والوں کا تحفظ کرتی ہیں‘‘۔ پھر اس بات کا اندازہ تو موجودہ چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی ہوچکا، جنھوں نے کراچی میں قیدی سیاست دان شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں پکڑیں، جنھیں بعد میں شہد اور زیتون کا تیل بنا کر پیش کیا گیا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا المیہ دیکھیں کہ پاکستان میں شراب کی فروخت پر پابندی کے لیے عدالتی جنگ اقلیتی ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار لڑ رہے تھے، جن کا کہنا ہے کہ: ’’ہندو مذہب میں شراب پر پابندی ہے، جب کہ سندھ بھر میں ایسے شراب خانے موجود ہیں جو مساجد، مندروں اور گرجا گھروں کے قریب ہیں‘‘۔ اُن کا یہ بھی رونا تھا کہ: ’’شراب ہندوئوں اور دوسری اقلیتوں کے نام پر بیچی جاتی ہے،جب کہ پینے والوں میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے‘‘۔ آج دوبارہ جب میری ڈاکٹر رمیش کمار سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ: ’’میں پہلے ہی سپریم کورٹ میں درخواست پیش کرچکا ہوں کہ میرا کیس سنا جائے اور شراب پر پابندی لگائی جائے‘‘۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر رمیش نے بتایا کہ اُن کا ایک آئینی ترمیمی بل بھی ایک دو روز میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس کے ذریعے وہ اقلیتوں اور ہندوئوں کے نام پر شراب کی فروخت پر پابندی چاہتے ہیں۔ ایک اقلیتی ممبر پاکستان میں شراب پر پابندی کی تحریک چلا رہا ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اُس کا ساتھ دینے والے کوئی نہیں۔ اگرچہ شراب پاکستان بھر میں پینے والوں کے لیے وافر مقدار میں دستیاب ہے، لیکن صوبہ سندھ میں یہ کاروبار سب سے زیادہ عام ہے، جس کے لیے اقلیتوں کا نام استعمال کیا جاتا ہے۔

  •  اسی طرح ایک خبر کے مطابق سودی نظام کے خاتمے کے متعلق کیس کی شرعی عدالت سماعت کرے گی۔ لیکن اس کیس کا ۱۹۹۲ء اور پھر ۲۰۰۰ء میں پہلے شریعت کورٹ اور پھر عدالت عظمیٰ میں فیصلے کے باوجود کہ سودی نظام کو ختم کیا جائے، ایک بار پھر شرعی عدالت کے سامنے فیصلہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔ وفاقی شرعی عدالت اس کیس کو گذشتہ ۱۵،۲۰ سال سے فائلوں میں بند کیے بیٹھی ہے، نجانے کب اس پر فیصلہ ہو گا؟
  •   بـے لوث محبت:حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے روز فرمائے گا کہاں ہیں وہ لوگ جو میری عظمت وجلال کی وجہ سے    آپس میں محبت کرتے تھے ؟ آج، جب کہ میرے سایے کے سوا کہیں سایہ نہیں ہے ، میں انھیں اپنے سایۂ رحمت میں جگہ دوں گا‘‘۔

حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے کہ جن کی اللہ کے یہاں قدرومنزلت کو دیکھ کر انبیاؑ اور شہدا بھی رشک کریں گے ، حالانکہ وہ ولوگ نہ نبی ہوں گے نہ شہید ‘‘۔

صحابہ کرامؓ نے سوال کیا: ’’یا رسولؐ اللہ!ہمیں بتایا جائے کہ وہ نیک بخت اور سعادت مند لوگ کون ہوں گے ؟‘‘

رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’وہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی ہدایت کی وجہ سے آپس میں اُلفت ومحبت رکھتے ہیں، حالاںکہ ان میں قرابت داری بھی نہیں ہے اور نہ کوئی مالی مفادات ہی ان کے پیش نظر ہیں۔ اللہ کی قسم! ان کے چہرے قیامت کے دن نورانی ہوں گے بلکہ سراسر نُور ہوں گے۔ جب لوگ قیامت کے روز حساب کتاب سے ڈر رہے ہوں گے اس وقت وہ بے خوف اور مطمئن ہوں گے اور دوسرے لوگوں کی طرح وہ کسی قسم کے رنج وغم سے دوچار نہ ہوں گے۔ پھر آپ ؐ نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی:

اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ O(یونس ۱۰:۶۲) سنو! جو اللہ کے دوست ہیں نہ انھیں کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

  •  عداوت: حضرت ابو ایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آدمی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک کلام کرے۔ ایسا نہ ہو کہ دو مسلمان بھائی آمنے سامنے ہوں تو ایک ادھر کو منہ پھیر لے اور دوسرا دوسری سمت رخ کر لے۔ ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے‘‘۔

حضرت اُمِ کلثومؓ بنت عقبہ بن ابی معیط کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو    یہ فرماتے سنا کہ : ’’وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں میں صلح کرانے اور اصلاح کی غرض سے ایک دوسرے کو اچھی بات پہنچائے (یعنی دروغ مصلحت آمیز سے کام لے )‘‘۔

مسلم کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت اُم کلثومؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی ؐ کو تین مواقع پر ایسی بات کی رخصت عطا فرماتے سنا جسے لوگ جھوٹ میں داخل سمجھتے ہیں۔ ایک میدانِ جنگ میں دشمن کے ساتھ چال، دوسرے لوگوں میں اصلاح کی غرض سے کوئی خلاف واقعہ بات کہنا، اور تیسرے وہ خلافِ واقعہ بات جو شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے (ایک دوسرے کو راضی کرنے کے لیے ) کرے‘‘۔

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے فرمایا :’’اے لوگو! جو زبان سے ایمان لائے ہو لیکن ایمان ابھی تمھارے دلوں میں پوری طرح اُترا نہیں ہے۔ مخلص مسلمانوں کو ستانے ، انھیں عار دلانے ، شرمندہ کرنے اور ان کے چھپے ہوئے عیبوں کے پیچھے پڑنے سے باز رہو۔ کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی کمزوریوں کی ٹوہ لگاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے یہی رویہ اختیار فرماتے ہیں۔ اور جس کسی کی کمزوری پر اللہ کی نظر ہو وہ اسے ظاہر فرما دیتا ہے چاہے وہ کسی محفوظ مقام میں جا بیٹھے ‘‘۔

  •  میانہ روی:حضرت عبداللہ ؓ بن سرجس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ؐ نے فرمایا: ’’اچھی سیرت ، وقار اور اطمینان کے ساتھ کام انجام دینے کی عادت اور میانہ روی ، نبوت کے چوبیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے‘‘۔

حضرت مصعب بن سعد ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر چیز میںمیانہ روی اچھی ہے مگر آخرت کے معاملے میں میانہ روی کے بجاے مسابقت اور تیز روی سے کام لینا چاہیے ‘‘۔

  •  حیا اور اخلاق:حضرت عمر ؓ بن حصین کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’حیا صرف خیر ہی لاتی ہے ‘‘۔ ایک اور روایت کے الفاظ ہیں کہ ’’حیا خیر ہی خیر ہے ‘‘۔

حضرت عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تم میں سے مجھے وہ لوگ زیادہ محبوب ہیںجن کے اخلاق زیادہ اچھے ہیں ‘‘۔

حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:’’ تم جہاں اور جس حال میں ہو، یعنی خلوت میں ہو یا جلوت میں ، اللہ سے ڈرتے رہو، اور تم سے کوئی برائی سرزد ہو جائے تو فوراً کوئی نیکی کرو کہ وہ اس کی تلافی کر دے گی۔ اور اللہ کے بندوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئو‘‘۔

حضرت ابن عمرؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ : ’’حیا اور ایمان ، دونوں ہمیشہ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک اٹھا لیا جائے تو دوسرا خود بخود اُٹھ جاتا ہے‘‘۔ (مطلب یہ ہے کہ حیا ایمان کا لازمی تقاضا ہے )۔

  •  تکبّر اور غصّہ:  حضرت ابو ہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے نصیحت فرمائیے۔

 حضور ؐ نے فرمایا :’’غصہ مت کیا کرو ‘‘۔

اس شخص نے اپنی بات کئی بار دہرائی کہ مجھے نصیحت فرمائیے مگر آپ ؐ نے ہر بار یہی فرمایا کہ ’’غصہ مت کیا کرو‘‘۔

حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ جس آدمی کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا وہ دوزخ کی آگ میں نہ جائے گا، اور وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا‘‘۔

  •  ظلم و ستم: حضرت ابن عمر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ :’’ ظلم قیامت کے روز ظالم کے لیے اندھیرے بن جائیں گے ‘‘۔

حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے (ایک مدت تک وہ لوگوں پر ظلم کرتا رہتا ہے )۔ پھر جب اس کو پکڑتا ہے تو پھر اسے نہیں چھوڑتا ۔ پھر آپ ؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :

وَ کَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰی وَ ھِیَ ظَالِمَۃٌ ط اِنَّ اَخْذَہٗٓ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ O (ھود ۱۱:۱۰۲ ) اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ شدید اور درد ناک ہوتی ہے ۔

 حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’مظلوم کی بددُعا سے بچو ۔ وہ اللہ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی حق دار کا حق نہیں روکتا (یعنی اسے اس کا حق مل جاتا ہے )‘‘۔

  •  امربالمعروف:حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص کسی منکر (بُرے کام ) کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ اسے ہاتھ سے روکے ، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر اس کی قدرت بھی نہ ہو تو دل میں اسے بُرا جانے اور یہ (تیسرا درجہ ) ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے‘‘ ۔

 حضرت ابو بکر ؓ کہتے ہیں : ’’اے لوگو ، تم قرآن کریم کی یہ آیت پڑھتے ہو‘‘:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ ج   لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ ط (المائدہ۵ : ۱۰۵) اے ایمان لانے والو اپنی فکر کرو، کسی دوسرے کی گمراہی سے تمھارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہِ راست پر ہو ۔

ابن ماجہ اور ترمذی کی روایت کے مطابق آپؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ    صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ’’جب لوگ کسی منکر کو دیکھیں اور اسے روکنے کی کوشش نہ کریں تو اللہ کے عذاب کا انتظار کریں ‘‘۔

ابو داؤد کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’جب لوگ ظالم کو دیکھیں اور اس کو ظلم سے روکنے کے لیے اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو اللہ تعالیٰ کے عذابِ عام کا انتظار کریں ‘‘۔

 ابو داؤد کی ایک اور روایت اس طرح ہے: ’’جس قوم میںگناہوں اور معاصی کا ارتکاب عام ہو جائے اور اس قوم کے لوگ اسے روکنے کی قدرت رکھنے کے باوجود نہ روکیں ، تو وہ اللہ کے عذابِ عام کا انتظار کریں ‘‘۔

  •   دُنیا: حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اللہ تعالیٰ کی دونعمتیں ایسی ہیں کہ ان کے بارے میں لوگ فریب کھا جاتے ہیں (یعنی ان کی قدر نہیںکرتے)۔ ایک صحت وتندرستی اور دوسری فرصت ‘‘۔

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’دوزخ ان چیزوں سے ڈھانپ لی گئی ہے جو نفس کو مرغوب ہیں ۔ اور جنت ان چیزوں سے ڈھانپی گئی ہے جو نفس کو ناگوار ہیں ‘‘۔

حضرت ابن عمر وبن عوف ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’خدا کی قسم! میں تمھارے بارے میں فقراور غربت سے نہیں ڈرتا لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر اس طرح کشادہ کر دی جائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی تھی ( یعنی مال ودولت اور سازو سامان کی فراوانی تمھیں حاصل ہو جائے )۔ پھر تم اس میں ایسی رغبت اور دل چسپی لینے لگو جیسی اگلے لوگوں نے لی تھی، اور یہ عمل تمھیں بھی اسی طرح ہلا ک کر دے جس طرح انھیں ہلاک کیا تھا ‘‘۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا : ’’تم میں سے کون ہے جو مجھ سے یہ کلمات سیکھ لے اور ان پر عمل کرے یا آگے ایسے آدمی کو سکھائے جو ان پر عمل پیرا ہو ؟ ‘‘

حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : یا رسولؐ اللہ! میں وہ کلمات سیکھنا چاہتا ہوں۔

پس حضوؐر نے میرا ہاتھ پکڑا اور گن کر پانچ باتیں بتائیں ۔ آپ ؐ نے فرمایا :

  •   اللہ کی حرام کی ہوئی اور منع کی ہوئی چیزوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، تو تم سب سے زیادہ عبادت گزار شمار ہو گے۔
  •  اللہ نے جو کچھ تمھاری قسمت میں لکھا ہے اس پر راضی ہو جائے، تو تم سب بے بڑھ کر غنی ہو گے۔
  •  پڑوسی پر احسان کرو، تو تم سچے مومن بن جائو گے۔
  • دوسروں کے لیے وہی پسند کرو، جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، تو تم اچھے مسلمان بن جائو گے۔
  •  اور زیادہ نہ ہنسا کرو ۔ اس لیے کہ زیادہ ہنسی دل کو مُردہ کر دیتی ہے ۔
  • حصولِ دولت کی غیرمعمولی کوشش: حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے لوگو! ہروہ عمل جو جنت کے قریب کرنے والا ہے اور دوزخ سے دور کرنے والا ہے ، میں تمھیں بتاچکا ہوں اور اس پر عمل کرنے کا حکم دے چکا ہوں۔ اسی طرح ہر وہ کام جو دوزخ کے قریب کرنے والا اور جنت سے دُور کرنے والا ہے اس سے بچنے کا حکم دے چکا ہوں۔ اور مجھے حضرت جبریلؑ امین نے ایک وحیِ خفی کے ذریعے سے بتایا ہے کہ کسی متنفس کو اس وقت تک موت نہیں آئے گی جب تک وہ اپنا رزق پورا نہ کر لے۔ سنو، تو پھر اللہ سے ڈرو اور دنیا کمانے کی سر توڑ کوشش نہ کرو، بلکہ حدودِ حلال وحرام کا لحاظ رکھتے ہوئے مناسب کوشش کرو اور زیادہ توجہ اور کوشش آخرت کے معاملات میں صرف کرو۔ اور خدا کی نافرمانی کر کے تم جو رزق حاصل کرنا چاہو گے اسے حا صل نہ کر سکو گے۔ اس لیے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اسے تو اطاعت اور فرماںبرداری کر کے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے‘‘۔

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس آدمی کی نیت آخرت کی تیاری کی ہو، اللہ تعالیٰ اس کا دل غنی کر دیتا ہے ، اس کی پریشانیاں سمیٹ دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر خود ہی اس کے پاس آ جاتی ہے۔ اور جس شخص کی نیت دنیا کمانے کی ہو ، اللہ تعالیٰ اس کی آنکھوں میں بھوک پیدا کر دیتا ہے (یعنی جتنا بھی اسے مل جائے وہ سیر نہیں ہوتیں )، اس کے کاموں کو اس طرح بکھیر دیتا ہے کہ وہ ان ہی میں اُلجھا رہتا ہے، اور ملتا وہی کچھ ہے جو پہلے سے اس کے مقدر میں لکھا ہوا ہے ‘‘۔

  • ریا شرک ہـے:حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں شرک سے بے نیاز اور بے پرواہوں ۔ اگر کوئی شخص کسی نیک کام میں میرے ساتھ کسی اورکو شریک کرے تو میں اسے ردّ کر دیتا ہوں اور اس میں سے کوئی حصہ نہیں لیتا‘‘۔

اور ایک روایت میں ہے: ’’اور میں اس سے اور اس کے عمل سے بری الذمہ ہوں‘‘۔

حضرت شداد بن اوس ؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ: ’’جس آدمی نے دکھاوے کے لیے نماز پڑھی اس نے شرک کیا ، اور جس نے دکھاوے کے لیے روزہ رکھا اس نے بھی شرک کیا، اور جس نے دکھاوے کے لیے صدقہ کیا اس نے بھی شرک کیا‘‘۔

پاکستان کے عام انتخابات ۲۰۱۸ء کے بعد نئی حکومت برسرِاقتدار آئی تو وزیراعظم نے ایک ماہر معاشیات عاطف میاں کو اپنی ٹیم میں شامل کرلیا۔ فردِ مذکورہ کے بارے میں پہلے یہ کہا گیا کہ وہ پیدایشی قادیانی نہیں مگر اصل حقیقت یہ سامنے آئی کہ اس فرد نے اسلام ترک کرکے قادیانیت قبول کی ہے۔ بالفاظِ دیگر ارتداد کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اس تقرر پر شدید احتجاج ہوا تو وزیراعظم عمران خان نے مثبت قدم اُٹھایا اور مذکورہ شخص کو ذمہ داری سے فارغ کردیا۔ اس فیصلے کے بعد وزیراعظم کی معاشی ٹیم کے دو مزید نام نہاد لبرل احتجاجاً مستعفی ہوگئے۔

یہ فیصلہ سامنے آتے ہی سیکولر اور لبرل طبقات نے ایک طوفان برپا کردیا۔ انھوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ’’کیا پاکستان میں اقلیتوں کو کوئی حقوق حاصل نہیں؟ کیا ان کو بحیرۂ عرب میں غرق کردیا جائے گا؟‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس مسئلے میں خلط مبحث یہ ہے کہ اقلیت کن لوگوں کو شمار کیا جائے گا؟ سکھ، عیسائی، ہندو، پارسی سب اقلیتیں ہیں، کیوںکہ وہ اپنے آپ کو غیرمسلم اور ہم لوگوں کو اپنے سے الگ مذہب کے پیروکار اور مسلمان سمجھتے ہیں، جو مبنی برحق ہے۔ اس کے برعکس قادیانی خود کو   ’مسلم‘ اور ہم سب اہلِ ایمان کو ’غیرمسلم‘ سمجھتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں انھیں کس پیمانے سے اقلیتوں کے وہ حقوق دیے جائیں،جو حقیقی اقلیتوں کو حاصل ہیں اور جن کی اسلام اور ہمارا دستور پوری طرح ضمانت دیتا ہے؟

قادیانی نہ صرف ختم نبوت کے منکر ہیں، بلکہ وہ قرآن وحدیث اور دستور پاکستان کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ کسی ملک میں رہنے والا کوئی شخص اس ملک کے دستور کو تسلیم نہ کرے تو ساری دنیا کے ہر ضابطے کے مطابق وہ اس ملک کا غدار قرار پاتا ہے۔ ایسے شخص کو اس ملک کے مناصب پر فائز کرنے کا پوری دنیا میں کیا کہیں کوئی تصور موجود ہے؟ قادیانی آج اعلان کردیں کہ وہ غیرمسلم ہیں، دستور پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں، مسلمانوں کی اکثریت کے معترف ہیں تو انھیں بالکل اسی طرح سب حقوق مل جائیں گے جو دیگر اقلیتوں کو حاصل ہیں۔ اگر اس کے باوجود ان کے حقوق ادا نہ کیے گئے تو یہ دینِ اسلام اور دستورپاکستان کی خلاف ورزی ہوگی۔

اس دوران ۶ستمبر یوم دفاع کے حوالے سے قادیانیوں نے تاریخ میں پہلی بار ملک کے معروف قومی اخبار نوائے وقت  میں ایک اشتہار شائع کرایا اور کمال عیاری کے ساتھ اوپر نشانِ حیدر پانے والے شہدا کی تصاویر دی گئیں اور نیچے ان قادیانیوں کو بھی شہید کہا گیا جو مختلف جنگوں میں فوجی خدمات سرانجام دیتے ہوئے کام آئے۔ اس پر بھی زبردست احتجاج ہوا تو اگلے دن مذکورہ اخبار نے ایک معذرت شائع کی، جس کا لب لباب یہ تھا کہ دھوکے سے یہ اشتہار دے دیا گیا ہے۔ اس حیلہ سازی پر حیرت کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔ آںحضورؐ کے دور میں بھی بعض جنگوں میں غیرمسلم افراد، صحابہؓ کے ساتھ مل کر کفار سے لڑے تھے اور مارے گئے تھے۔ آپؐ نے فرمایا کہ: وہ شہید نہیں ہیں کیونکہ وہ محض عصبیت یا اپنے مادی مفادات کے لیے جنگ میں شامل ہوئے تھے۔ قادیانیوں نے بھی ایمان کے بغیر جنگوں میں حصہ لیا اور مارے گئے۔ ان کو مراعات اور تمغے تو دیے جاسکتے ہیں، آںحضوؐر کی واضح تعلیمات کی روشنی میں انھیں شہید نہیں کہا جاسکتا۔

ان حالات میں قادیانیت کی حقیقت کو جاننا بہت ضروری ہے۔

عقیدۂ ختم نبوت ایمان کا بنیادی جز ہے۔ جو ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا وہ قرآن وسنت کی روشنی میں اسلام سے خارج ہے۔ اس پر ساڑھے چودہ سو سال سے پوری امت کا متفقہ ایمان ہے، جس میں کبھی کوئی رخنہ پیدا نہیں ہوا اور نہ ان شاء اللہ قیامت تک پیدا ہوگا۔ قرآن پاک میں واضح الفاظ میں ارشاد فرمایاگیا ہے: مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا (احزاب۳۳:۴۰) ’’(لوگو) محمدؐ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیینؐ ہیں، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔

حدیث پاک میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ٹوک انداز میں بیان فرمادیا کہ آپؐ آخری نبی اور رسول ہیں، آپؐ کے بعد نہ کوئی نبی ہے نہ رسول: قَالَ النَّبِیُّ  کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْسُھُمُ الْاَنْبِیَائُ۔ کُلَّمَا ھَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہٗ نَبِیٌّ، وَاِنَّہٗ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَائُ (بخاری،کتاب المناقب باب ماذکرہ عن بنی اسرائیل) ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کی قیادت انبیا کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی وفات پاجاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا، مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا بلکہ خلفا ہوں گے‘‘۔

امام ابوحنیفہؒ (۸۰ھ-۱۵۰ھ) کے زمانے میں ایک آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا: ’’مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی علامات پیش کروں‘‘۔ اس پر امام اعظمؒ نے فرمایا کہ ’’جوشخص اس سے نبوت کی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا کیوںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں کہ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ ‘‘۔ (مناقب الامام الاعظم، ابی حنیفہ لابن حنبل المکی، ج۱،ص۱۶۱)

مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ صحابہ کرامؓ نے اس کے لیے جانوں کے نذرانے بے دریغ پیش کیے، مگر کوئی مداہنت نہیں برتی۔ جھوٹے مدعیان نبوت میں سے طلیحہ بن خویلد اور سجاح بنت حارث نے اسلام قبول کیا ،جب کہ باقی تمام دشمنانِ اسلام بشمول الاسود العنسی، لقیط بن مالک (ذوالتاج)، سبھی کو ٹھکانے لگا دیا گیا اور پوری دنیا سے اس فتنے کا مکمل خاتمہ ہوگیا۔ البتہ تاریخ کے مختلف اَدوار میں یہ شیطانی فتنہ سراٹھاتا رہا۔ سب سے خطرناک فتنہ انگریز کا خودکاشتہ  جھوٹا مدعی نبوت ملعون مرزا غلام احمد قادیانی ثابت ہوا۔ اس میں کوئی راز نہیں کہ وہ انگریزوں کا ایجنٹ تھا اور اپنی تحریروں میں انگریز سرکار کی تعریف میں اس نے بہت کچھ لکھا۔ اس کا پس منظر یوں بیان کیا  گیا ہے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کے ’جذبہ جہاد‘ کے تجزیے کے لیے برطانوی تھنک ٹینکس بیٹھے اور ’ہندستان میں برطانوی سلطنت کا وُرود ‘(The Arrival of British Empire in India) کے عنوان سے ایک رپورٹ تیار کی گئی جو انڈیا آفس لائبریری (لندن) میں آج بھی موجود ہے اس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے:

ملک (ہندستان) کی آبادی کی اکثریت اپنے پیرووں، یعنی روحانی پیشواؤں کی اندھا دھند پیروی کرتی ہے۔ اگر اس مرحلے پر ہم ایک ایسا آدمی تلاش کرنے میں کامیاب ہوجائیں جو اس بات کے لیے تیار ہو کہ اپنے لیے ’ظلی نبی‘(Apostolic Prophet) ہونے کا اعلان کر دے تو لوگوں کی بڑی تعداد اس کے گرد جمع ہوجائے گی لیکن اس مقصد کو سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔ ہم نے پہلے بھی اپنی قوم سے   بے وفائی کرکے ہماری حمایت کرنے والوں ہی کی مدد سے ہندستانی حکومتوں کو محکوم بنایا۔ ہمیں ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن سے ملک میں داخلی بے چینی اور افتراق پیدا ہوسکے۔

اگرچہ اس موضوع پر بہت سے مستند حوالے موجود ہیں، مگر اختصار کے پیش نظر مندرجہ بالا اقتباس پر اکتفا کیا جارہا ہے، جو کافی وشافی ہے۔

۵۰کے عشرے میں جب ملک میں دستور سازی کے لیے جدوجہد جاری تھی کہ حکومتی اقدامات کی بناپر یکایک تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوگیا۔تحریک ختم نبوت نے جید علما کی سربراہی میں قادیانیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جیلوںمیں بھی رہے۔ سب سے زیادہ فیصلہ کن اور تاریخی کردار سیدمودودیؒ نے ادا کیا، جنھوں نے اپنی معرکہ آرا تحریر: قادیانی مسئلہ میں قادیانیوں کو علمی دلائل سے غیرمسلم ثابت کرکے بے دست وپا کردیا۔

اسی کتابچے پر مولانا مودودیؒ کو ۱۹۵۳ء میں مارشل لا عدالت نے سزاے موت سنائی۔ مولانا نے اس موقعے پر فرمایا تھا کہ ناموس رسالت پر جان قربان کرنا ایک سعادت ہے۔ انھوں نے رحم کی اپیل کی پیش کش نہ صرف خود ٹھکرائی بلکہ جماعت اسلامی کی قیادت اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی تنبیہہ کی کہ وہ ان کی طرف سے کوئی اپیل دائر نہ کریں۔ اس واقعے کے اکیس برس بعد ۱۹۷۴ء میں نشتر میڈیکل کالج ، ملتان کے طلبہ کو چناب نگر (ربوہ) کے ریلوے اسٹیشن پر قادیانی فتنہ پردازوں نے بُری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ نہتے طلبہ کے ساتھ ہونے والے اس اندوہ ناک واقعے پر پورے ملک میں قادیانیت کے خلاف زبردست تحریک اٹھی۔ جس نے ۵۰کے عشرے اور اس سے پہلے کی تحریک ختم نبوت کی یاد تازہ کردی۔

۷۳ء کا دستور منظور ہوچکا تھا۔ تحریک سے پیدا شدہ صورتِ حال پر غور اور فیصلہ کرنے کے لیے پوری قومی اسمبلی نے بطور عدالت کارروائی شروع کی۔ اس کارروائی کے دوران قادیانی جماعت کے مرکزی لیڈر مرزا ناصر احمد کو سوال وجواب کے لیے پارلیمان میں بلایا گیا۔ کئی دنوں تک سوال وجواب ہوتے رہے۔ ایک سوال یہ پوچھا گیا کہ کیا تم لوگ ہمیں (تمام ارکان اسمبلی) کو مسلمان سمجھتے ہو یا غیرمسلم؟ مرزا ناصر نے اس کے جواب میں کہا کہ ہم تم سب لوگوں کو غیرمسلم سمجھتے ہیں۔ یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ تھا۔ تب پاکستان کی پارلیمنٹ نے بالاتفاق ۷ستمبر۱۹۷۴ء کو دوسری دستوری ترمیم منظور کی، جس کے مطابق مرزا غلام احمد کو ماننے والے قادیانی اور لاہوری غیرمسلم اقلیت قرار پائے۔

ترمیمِ دستور منظور ہونے کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے پارلیمنٹ میں جو انتہائی مدلل خطاب کیا اس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں: ’’ہم نے اس مسئلے پر ایوان کے تمام ممبروں سے تفصیلی طور پر تبادلۂ خیال کیا ہے، جن میں تمام پارٹیوں کے اور ہر طبقۂ خیال کے نمایندے موجود تھے۔ آج کے روز جو فیصلہ ہوا ہے، یہ ایک قومی فیصلہ ہے، یہ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے، خواہشات اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ فقط حکومت ہی اس فیصلے کی تحسین کی مستحق قرار پائے۔ اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایک فرد اس فیصلے کی تعریف و تحسین کا حق دار بنے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ یہ مشکل فیصلہ، بلکہ میری ناچیز راے میں کئی پہلوؤں سے بہت ہی مشکل فیصلہ، جمہوری اداروں اور جمہوری حکومت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا....اس مسئلے پر جو فیصلہ ہوا ہے، میں اس کے نتائج سے بخوبی واقف ہوں۔ مجھے اس فیصلے کے سیاسی اور معاشی رد عمل اور اس کی پیچیدگیوں کا علم ہے۔یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے، لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا، پاکستان وہ ملک ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کی اس خواہش پر وجود میں آیا کہ وہ اپنے لیے ایک علیحدہ مملکت چاہتے تھے۔ اس ملک کے باشندوں کی اکثریت کا مذہب اسلام ہے۔ میں اس فیصلے کو جمہوری طریقے سے نافذ کرنے میں اپنے کسی بھی اصول کی خلاف ورزی نہیں کر رہا‘‘۔بلاشبہہ بھٹو صاحب کی قیادت میں یہ کارنامہ تاریخی اور یادگار اہمیت کا حامل ہے۔

اس ترمیم کی منظوری کے بعد بھی قادیانی اپنی ریشہ دوانیوں سے باز نہ آئے۔ وہ ہر شعبے میں اہم عہدوں پر فائز تھے۔ بعض معروف ومعلوم انداز میں اور بعض کیموفلاج کرکے۔ ۲۶؍اپریل۱۹۸۴ء کو ، جب کہ جنرل محمد ضیاء الحق کے مارشل لا کی وجہ سے ملک میں اسمبلی موجود نہیں تھی، اس لیے ایک صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے طے کیا گیا کہ مرزائیوں کو مسلمان کہلانے کا کوئی حق نہیں، ان کے عبادت خانوں کو مسجد نہیں کہا جاسکتا۔ یہ اذان اور دیگر شعائراسلامی کو استعمال کرنے کے مجاز نہیں۔ یہ حقیقت میں دستوری ترمیم ہی کی ایک وضاحت تھی، کوئی نیا قانون نہیں تھا۔ مگر افسوس کہ اس آرڈی ننس کے باوجودقرارِ واقعی قانون سازی اور عملی اقدامات نہ کیے گئے۔

  • ضرورت اس امر کی ہے کہ قادیانیت کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔ قادیانی اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے وقتاً فوقتاً اقدام کرتے رہتے ہیں ۔ جنرل پرویز مشرف کے  دور میں پاسپورٹ سے قادیانی ہونے کا ثبوت کا ختم کیا جانا، میاں نواز شریف کا اپنے تیسرے دورِ حکومت (۱۸-۲۰۱۳ء)میں قادیانیت کے حق میں مختلف اقدامات اُٹھانا، بالخصوص ممبرانِ قومی اسمبلی کے حلف میں تبدیلی کرنا جس پر انھیں شدید قومی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، اور موجودہ حکومت کا اپنی کابینہ میں ایک قادیانی کو بطورِ وزیر شریک کرنا ایسے اقدامات ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ قادیانی اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے سرگرمِ عمل ہیں اور ہمارے ملک میں موجود لبرل و سیکولر حلقہ ان کی تائید اور حمایت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ لہٰذا، حکومت کی ذمہ داری ہے اور تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو بھرپور عوامی دبائو کے ساتھ یہ اقدامات اُٹھانے چاہییں: lقادیانیوں کی حیثیت کے تعین کے لیے اسمبلی میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔ اب تک جو قانونی سقم رہ گئے ہیں انھیں دُور کیا جائے۔lملک کے حساس مناصب سے قادیانیوں کو ہٹایا جائے۔ lان کی باقاعدہ مردم شماری کی جائے۔

مولانا مودودیؒ اسلامی نظام زندگی کےنفاذ کے نقیب اور داعی تھے۔ عصرِحاضر کے اسلامی اسکالروں،مفکرین اور علما میں مولانا مودودیؒ وہ منفرد شخصیت تھے، جنھوں نے اسلامی نظام حیات کے بارے میں ایک مربوط فکر پیش کی۔ اس فکری سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اور اسلامی ریاست کے قیام کے لیے انھوں نے اگست ۱۹۴۱ء میں ایک تنظیم جماعت اسلامی کے نام سے تشکیل دی۔ ان کی فکر نے پاکستان اور پاکستان سے باہر عالم اسلام میں نشاتِ ثانیہ کی ایک لہر کو جنم دیا۔ دنیابھر میں مسلمانوں کی غالب اکثریت اپنے اپنے معاشرے میں مختلف پلیٹ فارموں پر اور مختلف صورتوں میں اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا کے مسلمان مولانا مودودی کے اوّلین مخاطب تھے۔اگست ۱۹۴۷ء کے بعد پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد آج تک جاری ہے۔ مولانا مودودی نے اس جدوجہد میں قدم قدم پر پیش آنے والی مشکلات کا نہ صرف مشاہدہ کیا بلکہ اس کش مکش میں وہ خود اور ان کی جماعت بار بار آزمایش کا شکار ہوتی رہی۔ اسی پاکستان کے قیام کے صرف چھ سال کے اندر ہی ۱۹۵۳ء میں ملک میں جزوی مارشل لا نافذ کر دیا گیا، جس کی فوجی عدالت نے ایک پمفلٹ قادیانی مسئلہ لکھنے پر مولانا مودودی کو پھانسی کی سزا سنادی (جو بعد میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید احتجاج کے باعث عمرقید میں تبدیل کی اور پھر سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں ختم ہوئی)۔ مقتدر حلقےآزادی ملنے کے برسوں بعد بھی ملک کو ایک متفقہ آئین نہ دے سکے ۔ نو سال کی کش مکش کے بعد ۱۹۵۶ء میں ایک آئین منظور ہوا، لیکن صرف دو سال کے بعد اس آئین کو منسوخ کرکے پاکستان میں مکمل مارشل لا لگا کر تمام سیاست دانوں، ان کی سیاسی سرگرمیوں، اور جماعت اسلامی سمیت سب سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ 

چارسال بعد مارشل لا حکومت نے ۱۹۶۲ء میں ایک نیا آئین دیا، جس میں اقتدار کی ساری طاقت فردِ واحد کے ہاتھ میں تھی۔مولانا اور ان کی جماعت نے فرد واحد کی آمریت اور اقتدار کے ارتکاز کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی، جس کے باعث وہ حاکم وقت کے نزدیک پاکستان کی ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار پائے(اس کی تصدیق چند سال پہلے شائع ہونے والی جنرل ایوب خان کی ڈائری سے ہوتی ہے)۔چند سال بعد جنرل یحییٰ خان نے ۱۹۶۹ء میں ایوب خاں کو ہٹاکر مارشل لا لگایا اور اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اسی مارشل لا کے دوران دو سال کے اندر ملک کا ایک حصہ الگ ہو کر بنگلہ دیش کے نام سے ایک علیحدہ ریاست بن گیا۔ جولائی ۱۹۷۷ءمیں بھٹو حکومت کا خاتمہ ایک اور مارشل لا کے نفاذ سے ہوا۔ اس کے بعد۲۰۰۸ء تک پاکستان کی۳۱ سال کی سیاسی تاریخ، مختلف سول اور فوجی حکومتوں کے اقتدار میں آنے اور رخصت ہونے سے عبارت ہے۔

  • ملک کی ابتر صورتِ حال کا سبب: مولانا مودودی نے اپنی تحریروں، تقاریر اور سوالات و جوابات کی مجلسوں میں بڑی تفصیل سے ان اسباب کو واضح کیاہےکہ قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں کی اکثریت نے اپنے گروہی ،لسانی، مذہبی اور معاشرتی ا ختلافات بھلاکر جس بے مثال اتحاد کا مظاہرہ کیا تھا ، آخر کیا ہوا کہ وہ پاکستان کے قیام کے بعد قائم نہیں رہ سکا؟ پاکستان جن مقاصد کے حصول کے لیے عمل میں آیا تھا، وہ مقاصد کیوں نہیں حاصل کیے جاسکے؟ قومی وحدت مضبوط ہونے کے بجاے کمزور سے کمزور تر کیوں ہوتی چلی گئی اور ڈھلوان کی سمت کا یہ سفر اب تک کیوں جاری ہے ؟ جمہوریت کے سفر میں آمریت کا دور بار بار کیوں آتا جاتا رہا ہے؟ جمہوریت آتی ہے تو اس کے منسوخ ہونے کا خطرہ سر پر کیوں منڈلاتا رہتا ہے؟ اسلامی نظام حیات کےقیام کا خواب کیوں پورا نہیں ہوسکا؟عوام کی عظیم اکثریت کو نہ سماجی انصاف مل سکا ہے اور نہ ان کی معاشی حالت بہتر ہو سکی ہے۔ اس پر مستزاد گروہی، لسانی، فرقہ وارانہ اور علاقائی قوتیں کیوںمضبوط سے مضبوط ہوتی چلی گئیں؟ جس نے ایک اسلامی جمہوری ریاست کی تعمیر روک رکھی ہے۔

مولانا مودودی نےصورت حال کا تجزیہ کرکےقوم کو یاد دلایا کہ:

ہمیںاپنی مرضی سےزندگی کی تعمیر کرنے کا اختیار حاصل ہوئے [آزادی حاصل ہوئے] ایک طویل مدت گزر چکی ہے، مگر جہاںہم پہلے روز کھڑے تھے وہیں آج بھی کھڑے ہیں۔ بے اختیاری کے زمانے میں جو کچھ اور جیسے کچھ ہمارے حالات تھے، اختیار پاکر بھی ہم ان کو بدلنےاور بہتر بنانے کے لیے کوئی کامیاب اور قابل ذکر کوشش نہ کرسکے۔

مولانا کے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ آزادی کے بعد بھی، سامراجی نظامِ حکومت کا  جوں کا توں قائم رہنا ہے:’’ہمارا انتظامی ڈھانچا اور اس کا مزاج وہی ہے۔ قانونی نظام وہی ہے۔ تعلیمی نظام وہی ہے۔معاشی نظام وہی ہے۔ اخلاق اور معاشرت کا حال وہی ہے۔مذہبی حالت وہی ہے۔ کسی چیز کی اصلاح وترقی کے لیے ہم کوئی قدم نہ اٹھا سکے، بلکہ قدم اٹھانے کے لیے اس کی سمت تک متعین نہ کر سکے‘‘۔

اس کوتاہی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ: ’’فکرونظر کے اختلافات ،اغراض اور خواہشات کے اختلافات، گروہوں ا ور ٹولیوں کے اختلافات ،علاقوں اور صوبوں کے اختلافات نت نئی شان سے اُبھرتے رہے ہیں اور ابھرتےچلے آ رہے ہیں ۔ جو کچھ ایک بنانا چاہتا ہے، دوسرا اس راہ میں مزاحم ہوتا ہے، اور دوسرا جو کچھ بنانا چاہتا ہے کوئی تیسرا اسے بگاڑنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے ،نتیجہ یہ ہے کہ کوئی کچھ بھی نہیں بنا سکتا‘‘۔اس صورتِ حال کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نےتوجہ دلائی ہے: ’’تعمیررُکی ہوئی ہے،اور تخریب آپ سے آپ اپنا کام کر رہی ہے، خواہ ہم میں سے کوئی بھی اس کا دل سے خواہاں نہ ہو‘‘۔

  • استحکام کی راہ: اس حوصلہ شکن صورتِ حال کی طرف توجہ دلانے اور اس کا   بے لاگ تجزیہ کرنے کے بعد مولانا مودودی کی ہمہ گیر شخصیت کا نیا پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک پرامید شخصیت تھے۔ مسائل کے گرداب میں گھرے ہوئے عوام اور قوم کے لیے ان کا پیغام عزم اور اُمید پر مبنی تھا۔ اگرچہ وہ اس حقیقت کا پوری طرح ادراک رکھتے تھے کہ پاکستان کو بہت سے مسائل درپیش ہیں، جن کی طرف توجہ کرنے اوران کو حل کرنے کی وہ سخت ضرورت محسوس کرتے تھے۔ ان کویقین تھا کہ ملک وقوم کو درپیش چیلنجوںپر اسی صورت میں قابو پایا جا سکتا ہے، جب ملک کے تمام مختلف گروہ ، جماعتیں اور افراد ایک مستحکم پاکستان کی تعمیرکے لیے اتحاد اور اتفاق کےچند بنیادی اصولوں پر متفق ہو جائیں۔ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو۔ قرآن و سنت پر مبنی اسلامی نظام حیات جمہور کی اکثریت کی منشا سے نافذ ہواور اس کے لیے کسی مختصر راستے یا مہم جویانہ طریقے کو اختیار کرنے کے بجاے صرف جمہوری طریقہ اپنایا جائے۔ مولانا کو اس بات کا قلق تھا کہ: ’’اختلاف اورمخالفت و مزاحمت نے ایک اندھے جنون کی صورت اختیار کر لی ہے‘‘ ۔وہ چاہتے تھے:’’ہماری قوتیں اپنی تخریب کے بجاے اپنی تعمیر میں لگیں ‘‘۔

پاکستان میں قومی وحدت کی بنیادیں مستحکم کرنے اور قوم میں اتحاد و اتفاق کے فروغ   کے لیے مولانا نے بڑی دردمندی اور دل سوزی سے قوم کے سامنے مختلف تجاویز رکھتے ہوئے اپنی قوم اور اس کے رہنماؤں سے اپیل کی تھی کہ:’’ہر حال میں صداقت و انصاف کا احترام کیا جائے‘‘۔ ’جنگ میں سب کچھ حلال ہے‘ کے فکروفلسفے کو ایک ابلیسی اور شیطانی اصول قرار دیتے ہوئے انھوں نے سختی سے رد کر دیا تھا۔ وہ اس بات کو انتہائی ناپسند کرتے تھے کہ کوئی بھی اپنے مخالف پر ہر طرح کے جھوٹے الزام لگائے، اس کی طرف جان بوجھ کر غلط باتیں منسوب کرے ،اور اس کے نقطۂ نظر کو قصداً غلط صورت میں پیش کرے۔ سیاسی اختلاف ہو تواسے غدار اور دشمن وطن ٹھیرائے، مذہبی اختلاف ہو تو اس کے پورے دین و ایمان کو متہم کر ڈالے ،اور ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے اس طرح پڑجائے کہ گویا اب مقصد زندگی بس اسی کو نیچا دکھانا رہ گیا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا تھا: ’’بھلائی اسی میں ہے کہ ہمیں کسی سے خواہ کیساہی اختلاف ہو، ہم صداقت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اس کے ساتھ ویسا ہی انصاف کریں جیسا ہم خود اپنے لیے چاہتے ہیں‘‘۔

  • ’’قومی وحدت کی بنیاد: مولانا مودودی کی راے میں: قومی وحدت کی بنیاد صرف اور صرف اختلافات میں رواداری، ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش ،اوردوسروں کے حق راے کو تسلیم کرنے کا جذبہ اپنانے سے ہی مضبوط ہو سکتی ہے.... بدگمانی اور خود پسندی کا مرض ہمارے ملک میں ایک وباے عام کی صورت اختیار کر چکا ہے۔حکومت، ارباب اقتدار، سیاسی پارٹیاں اور مذہبی گروہ اس میں مبتلا ہیں‘‘۔ ان کے نزدیک: ’’اس بیماری کا مداوا صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب لوگ جو اپنے اپنے حلقوں میں نفوذ و اثر رکھتے ہیں، اپنی روش تبدیل کریں اور خود اپنے طرزِعمل سے اپنے زیر اثر لوگوں کو تحمل وبرداشت اور وسعت ظرف کا سبق دیں‘‘۔

ملک کے تمام طبقوں کو مخاطب کرکے مولانا مودودی نے اس اصول پر زور دیا تھا کہ: ’’اختلاف براے اختلاف سے اجتناب کرتے ہوئے ہر شخص اپنی قوتیں دوسروں کی تردید میں صرف کرنے کے بجاے اپنی مثبت چیز پیش کرنے پر صرف کرے‘‘۔ انھیں اس بات پر بہت دُکھ تھا کہ: ’’یہاںزیادہ تر زور اس بات پر صرف کیا جا تاہےکہ دوسرے جو کچھ کر رہے ہیں، اس کی مذمت کی جائے اور اس کے متعلق لوگوں کی راے خراب کردی جائے۔ بعض لوگ تو اس منفی کام سے آگے بڑھ کر سرے سے کوئی مثبت کام کرتے ہی نہیں ،اور کچھ دوسرے لوگ اپنے مثبت کام کے فروغ کا انحصار اس پر سمجھتے ہیں کہ میدان میں ہر دوسرا شخص جو موجود ہے اس کی اور اس کے  کام کی پہلے مکمل نفی ہوجائے‘‘۔ اس طرزِ عمل کے مضمرات واضح کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ: ’’یہ روش خصوصیت کے ساتھ ہمارے ملک کے لیے بہت ہی زیادہ نقصان دہ ہے۔ اس وقت ہماری قومی زندگی میں ایک بہت بڑا خلا پایا جاتا ہے، جو ایک قیادت پر سے عوام کا اعتماد اُٹھ جانے اور دوسری کسی قیادت پر نہ جمنے کا نتیجہ ہے‘‘۔ مولانا مودودی کا استدلال تھا کہ: ’’اجتماعی طاقت سے ہی کوئی تعمیری کام ممکن ہوگا ۔ لیکن اگر صورتِ حال یہ رہے کہ ہر ایک اپنا اعتماد قائم کرنے کے بجاے دوسرے کا اعتماد ختم کرنے میں لگا رہے تو نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ کسی کا اعتماد بھی قائم نہ ہوسکے گا‘‘۔

قوم میں اتفاق اور اتحاد پیدا کرنے کے لیے مولانا مودودی نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی: ’’جبرو دھونس کے بجاے دلیل و ترغیب کا طریقہ اپنایا جائے‘‘ ۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ: ’’اپنی مرضی دوسروں پر زبردستی مسلط کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے ۔جو کوئی بھی اپنی بات دوسروں سے منوانا چاہتا ہے وہ جبر سے نہیں دلائل سے منوائے،اور جو کوئی اپنی کسی تجویز کو اجتماعی پیمانے پر نافذ کرنا چاہتا ہو وہ بزور نافذ کرنے کے بجاے ترغیب وتلقین سے لوگوں کو راضی کرکے نافذ کرے‘‘۔ان کا موقف تھا کہ: ’’ایسے طریقوں سے ایک چیز مسلط تو ہو سکتی ہے لیکن کامیاب نہیں ہوسکتی، – کیوںکہ کامیابی کے لیے لوگوں کی قبولیت اور دلی رضامندی ضروری ہے‘‘۔

 مولانا مودودی نے بات کو منوانے کے لیے طاقت کے استعمال کو انتہائی غلط قرار دیتے ہوئے یاد دلایا تھا: ’’دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی زبردستیوں نے بالا آخر قوموں کا مزاج بگاڑ دیا ہے، ملکوں کے نظام تہہ وبالاکر دیے ہیں اوران کو پُرامن ارتقا کے راستے سے ہٹا کر بے تکے تغیرات اور انقلابات کے راستے پر ڈال دیا ہے‘‘۔مولانا نے پاکستان کے بااثر لوگوں کو باور کرایا تھا: ’’اگر آپ واقعی اپنے ملک کے خیرخواہ ہیں تو دھونس کے بجاے دلیل سے اور جبر کے بجاے تر غیب سے کام لینے کی عادت ڈالنی چاہیے‘‘۔

مو لانا مودودی نے پوری قوم سے اپیل کی تھی کہ: ’’ہمیں اپنی چھوٹی چھوٹی عصبیتوں کو ختم کر کے مجموعی طور پر پورے ملک اور ملت کی بھلائی کے نقطۂ نظر سے سوچنے کا خوگر ہونا چاہیے۔ یادرہے کہ ہر تعصب لازماً جواب میں ایک تعصب پیدا کر دیتا ہےاور تعصب کے مقابلے میں تعصب کش مکش پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ بھلا اس قوم کی خیر کیسے ہوسکتی ہے جس کیے اجزاے ترکیبی آپس ہی میں برسرِپیکار ہوں؟‘‘

سیاسی پارٹیوں کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا محترم کا کہنا تھا کہ: ’’سیاسی پارٹیاں فی الواقع نیک نیتی کے ساتھ ملک کی بھلائی ہی کے لیے خواہاں اور کوشاں ہوں۔ ایک دوسرے کے ساتھ ان کی مسابقت یا مصالحت اصولی ہو اور اختلاف معقول اور شریفانہ طریقوں تک محدود رہے‘‘۔ مولانا نے ہر ایسی سیاسی پارٹی کو ’قزاقوں کی ٹولی‘ قرار دیا تھا، جو پارٹی اپنے مفاد اور اپنے چلانے والوں کے مفاد ہی کو سعی وجہد کا مرکز و محور بنا کر بیٹھے اور اس فکر میں ملک کے مفاد کی پروا ہ نہ کرے۔

  • قرآن و سنت کی بالادستی:پھر مولانا اس بات پر پوری طرح یکسو تھے کہ: ’’ایک صحیح مصالحانہ فضا پیدا کیے بغیر ملک کا نظام زندگی تعمیر نہیں کیا جا سکتا‘‘۔پاکستان میں نظامِ حکومت کے بارے میں مولانا مودودی پہلے دن سے ہی بہت واضح ذہن رکھتے تھے۔ انھوں نے ہمیشہ یہی مطالبہ کیا تھا اور قیام پاکستان کے آغاز سےہی وہ اسی کے لیے میدان عمل میں سرگرم تھے کہ: ’’قرآن و سنت کو ملک کے آیندہ نظام کے لیے منبع ہدایت اور اوّلین ماخذ قانون تسلیم کیا جائے‘‘۔ قرآن و سنت کی بالادستی کے حق میں ان کا استدلال تھا کہ: ’’ملک کی آبادی کا بہت بڑا حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ان کا عقیدہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے اور ان کی تہذیب اور قومی روایات اس امر کا تقاضا کرتی ہیں اور ان کی ما ضی قریب کی تاریخ بھی اس کا تقاضا کرتی ہے۔ ان کے لیے یہ گواراکرنا سخت مشکل ہے بلکہ محال ہے کہ جس خدا اور جس رسولؐ پر وہ ایمان رکھتے ہیں، اس کے احکام سے وہ جان بوجھ کر منہ موڑ لیں اور اس کی ہدایات کے خلاف دوسرے طریقے اور قوانین  خود اپنے اختیار سے جاری کریں۔ وہ کبھی ان طریقوں کو جاری کرنے میں سچے دل سے تعاون نہیں کرسکتے اور نہ ان قوانین کی برضا و رغبت پیروی کر سکتے ہیں کہ جن کو وہ عقیدۂ باطل اور غلط سمجھتے ہیں۔ ان کے اندر آزادی کا جذبہ جس چیز نے بھڑکایا اور جس چیز کی خاطر انھوں نے جان و مال اور آبرو کی ناقابلِ تصور قربانیاں دیںوہ صرف یہ تھی کہ انھیں غیر اسلامی نظام زندگی کے تحت جینا گوارا نہ تھا اور وہ اسے اسلامی نظام زند گی سے بدلنا چاہتے تھے۔ اب ان سے یہ توقع کرنا بالکل بے جا ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے بعد وہ بخوشی اس اصل مقصد ہی سے دست بردار ہو جائیں گے کہ جس کے لیے انھوں نے اتنی گراں قیمت پر آزادی خریدی ہے‘‘۔

مولانا مودودی نے واضح کیا تھا کہ: ’’اگر کوئی جابر طاقت زبردستی اس مقصد کے حصول میں مانع ہو جائے، اور ان پر اسلام کے سوا کوئی دوسرا ضابطۂ حیات مسلط کردے تو وہ اسی مجبوری کے ساتھ اسے برداشت کرلیں کہ جس طرح انگریزی تسلط واقع ہونے کے بعد انھوں نے اسے برداشت کیا تھا۔ لیکن جو شخص یہ سمجھتا ہو کہ ایک نارضامند آبادی پر جبر سے ایک نظام مسلط کرکے ا س کو کامیابی سے چلایا بھی جا سکتا ہے، تو وہ یقینا سخت نادان ہے‘‘۔

مولانا مودودی نے پاکستان میں قرآن و سنت پر مبنی اسلامی نظام حیات کےنفاذ کی مخالف بااثر قوتوں کی نشان دہی کرتےہوئے چار طبقوں کی نشان دہی کی تھی:

  •                 ’’ایک وہ مسلمان جو اخلاق، تہذیب اور معاشرت میں اس حد تک مغربی رنگ اختیار کر چکے ہیں کہ اب انھیں اسلامی طرز زندگی کی طرف پلٹنے کے تصور ہی سے وحشت ہونے لگتی ہے۔
  •                 ’’دوسرے وہ مسلمان جو مسلمان ہونے سے تو منکر نہیں مگر مغربی افکار و نظریات سے اس حد تک متاثر ہو چکے ہیں کہ انھیں اب اسلام پر اعتقاد باقی نہیں رہا۔ یہ دونوں طبقے اپنے مخصوص رجحانات کے سبب ایک لادینی (سیکولر) نظام اختیار کرنے پر اصرار کرتے ہیں کیونکہ وہی ان کے مزاج و مذاق سے مناسبت رکھتا ہے ۔
  •                 ’’تیسرا طبقہ ان مسلمانوں پر مشتمل ہے جو اسلامی نظام سےتو انکار نہیں کرتے مگر سنت کو چھوڑ کر صرف قرآن کو لینا چاہتے ہیں۔
  •                 ’’چوتھے طبقے میں پاکستان کی غیر مسلم اقلیتیں شامل ہیں جومسلمانوں کے دینی نظام کی نسبت ایک غیر دینی نظام کو ترجیح دیتی ہیں ۔

’’ان میں سے پہلے تین طبقے مسلمانوں کی آبادی میں مجموعی طور پر ایک فی ہزار کی نسبت بھی نہیں رکھتے۔ اب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ملک کا انتظام اس بنیاد پر تعمیر ہو نہ سکے جسےکروڑوں آدمی چاہتے ہیں اور اس بنیاد پر تعمیر ہو جسے چاہنے والے چند ہزار آدمیوں سے زیادہ نہیں‘‘۔

مولانا نے اسلامی نظام حیات کے مخالفین کو سمجھاتے ہوئے کہا تھا: ’’ملک کی بھلائی ایسی ہی بنیادوں پر اس کا نظامِ زندگی تعمیر کرنے میں ہے، جن پر زیادہ سے زیادہ اتفاق ممکن ہو ۔اور یہ اتفاق بہرحال لا دینی پر یا قرآن بلا سنت پر ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا، آپ اپنے خیالات جو کچھ بھی ہیں رکھیں مگر مزاحمت چھوڑ دیں‘‘۔

مولانا نے غیرمسلموں کو یقین دلایا تھا کہ: ’’مسلمانوں کا مذہب آپ پر مسلط نہیں کیا جائے گا، اور آپ کے مذہب اور تہذیب میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ آپ کا پرسنل لا آپ کے لیے محفوظ رہے گا ،اورآپ کو زندگی کے ہر شعبے میں یہاں عملاً اس سے زیادہ حقوق حاصل ہوں گے، جو دنیا میں کہیں اقلیتوں کو حاصل ہوتے ہیں‘‘۔

  • جمہوریت کا فروغ: اسلامی نظام حکومت کے قیام کے لیے مولانا صرف جمہوری طریقۂ کار کو اپنانے کے حق میں تھے۔ ان کے نزدیک: ’’یہ خود قرآن وسنت کامنشا بھی ہے اور باشندگانِ ملک کی خواہشات کا تقاضا بھی‘‘۔ مولانا کی دلیل یہ تھی کہ: ’’یہ ملک کسی خاص شخص یا طبقے اور گروہ کا نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کا ہے جو اس میں رہتے ہیں۔ لہٰذا، اس کا انتظام ان سب کی، یا  کم از کم ان کی اکثریت کی مرضی کے مطابق چلنا چاہیے اور ان کو اصولاً یہ حق اور عملاً یہ موقع حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے حکمران اپنی آزاد مرضی سے چنیں اور اپنی آزاد مرضی ہی سے ان کو تبدیل کرسکیں‘‘۔ ان کو اس بات کا پوری طرح ادراک تھا کہ جمہوریت کی دنیا میں جو مختلف شکلیں پائی جاتی ہیں اس کے باعث اس نظام کی موزونیت اور افادیت پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ اس امر کو سامنے رکھتے ہوئے ان کا زور اس بات پر تھا کہ: ’’بحث اس [جمہوریت ] کی کسی خاص شکل میں نہیں بلکہ اس امر میں ہے کہ جو شکل بھی یہاں اختیار کی جاتی ہے، اس میں جمہوریت کی یہ حقیقت   فی الواقع موجود ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر یہاں کوئی ایسا نظام قائم کردیا جائے کہ جس میں باشندگان ملک کونہیں بلکہ کسی خاص طبقے کی مرضی کو غلبہ حاصل ہو تو خواہ اس پر کتنے ہی جلی حروف میں’ جمہوریت‘ کا سر عنوان لکھ دیا جائے، اس پر عام لوگوں کا مطمئن ہونا اور مطمئن رہنا بہرحال ممکن نہیں‘‘۔جمہوریت کے نام پر فردِ واحد یا کسی خاص گروہ کی بالادستی مولانا کے نزدیک: ’’ملک کی فلاح و بہبود کی ضامن نہیں ہو سکتی‘‘۔ وہ اس نقصان دہ صورتِ حال میں مبتلا ہونے سے ملک کو بچانا ضروری سمجھتے ہوئے تجویز کرتے ہیں:  ’’وہ تمام لوگ جو ملک کے آئندہ نظام کی تشکیل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، پہلے جمہوریت کے اصول کو صدقِ دل سے قبول کرلیں اور پھر نیک نیتی کے ساتھ ایسا نظام بنائیں، جس میں یہ اصول [اصل جمہوری روح] ٹھیک ٹھیک کارفرما ہو‘‘۔

مولانا کو اس بات کا پوری طرح اِدراک تھا کہ: ’’جمہوریت میں بھی بہت سے نقائص ہوتے ہیں، اور وہ نقائص اس وقت بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں جب کسی ملک کی آبادی میں شعور کی کمی ہو، ذہنی انتشار موجود ہو ،اخلاق کمزور ہو ں اور ایسے عناصر کا زور ہو جو ملک کے مجموعی مفاد کی نسبت اپنے ذاتی، نسلی، صوبائی اورگروہی مفاد کو عزیز رکھتے ہو ں‘‘۔ لیکن جمہوریت کے حق میں  مولانا کی دلیل یہ تھی کہ: ’’ان سب حقائق تسلیم کرنے کے بعد بھی یہ عظیم تر حقیقت اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے کہ ایک قوم کی ان کمزوریوں کو دور کرنے اور بحیثیت مجموعی ایک بالغ قوم بنانے کا راستہ جمہوریت ہی ہے‘‘۔ جمہوریت کے حق میں اپنی راےکی مزید تشریح کرتے ہوئے مولانا نے باور کرایا ہے: ’’جمہوری نظام ہی وہ ایک نظام ہے جو ایک ایک شخص میں یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ ملک اس کا ہے، ملک کی بھلائی اور برائی اس کی اپنی بھلائی اور برائی ہے ۔یہی چیز افراد میں اجتماعی شعور بیدا رکرتی ہے۔ اور اس سے فرداً فرداً لوگوں کے اندر اپنے ملک کے معاملات سے دل چسپی پیدا ہوتی ہے۔ جمہوریت تو نام ہی اس چیز کا ہے کہ عام لوگ خود اپنے قومی اور ملکی معاملات کو چلانے کے ذمہ دار ہوں اور وہ تجربے سے سبق سیکھ سیکھ کر اپنی غلطیوں کی تلافی کرتے چلے جائیں، یعنی ایک یا چند مرتبہ اگر ان کا انتخاب غلط ثابت ہواور اس کے نقصانات ان کے سامنے آجائیں تو کوئی دوسرا مداخلت کرکے اس کی اصلاح کرنے نہ آئے بلکہ وہ خود ہی ایک معروف ومسلّم ضابطے کے مطابق اس کی اصلاح کرتےرہیں‘‘۔ جمہوریت کے مقابلے میں دوسرے نظاموں (بادشاہی، ڈکٹیٹرشپ، اشرافیت) پر تنقید کرتے ہوئے مولانا نے لکھا تھا:’’اس میں عوام الناس، حالات کے محض تماشائی بن کر رہتے ہیں اور جب ان حالات کے ردوبدل یا بناؤ اور بگاڑ میں ان کی راے اور مرضی کا دخل نہیں ہوتا، تو وہ ان میں دل چسپی بھی لینا چھوڑ دیتے ہیں۔ جمہوریت کے جو اور جیسے بھی نقائص ہوں، انھیں اس نقصان عظیم سے بہرحال کوئی نسبت نہیں ہے‘‘۔

مولانا مودودی نے ان لوگوں پر سخت گرفت کی تھی جو یہ کہتے ہیں کہ: ’’یہاں [پاکستان میں] جمہوریت ناکام ہو چکی ہے اوریہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس ملک کے باشندے اس کے اہل نہیں ہیں۔ یہ حضرات وقتاً فوقتاً اس کے لیے مختلف قسم کی متبادل صورتیں پیش کرتے رہتے ہیں‘‘۔ مولانا کا کہنا تھا: ’’وہ متبادل صورتیں جو جمہوری نظام کے مقابلے میں پیش کی جاتی ہیں، ان کے بارے میں یہ بات ہم کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جمہوریت درہم برہم کر کے آمریت کی راہ پر چل پڑنا جتنا آسان ہے، جمہوریت کی طرف پھر پلٹ آنا اتنا آسان نہیں ہے۔ آمریت خواہ پُرامن طریقے سے ہی قائم ہو، بہرحال پُرامن طریقے سے دفع نہیں ہوسکتی‘‘۔ آمریت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مولانا نے اس کے معکوس نتائج کو بڑ ی تفصیل سے واضح کیا تھا: ’’آمریت خواہ کتنی ہی خیراندیش ہو اور کیسی ہی نیک نیتی سے قائم کی جائے ،اس کا مزاج اس کے اندر لازماً چند خصوصیات پیدا کر دیتا ہے، جو اس سے کبھی دُور نہیں ہو سکتیں اور ان خصوصیات کے چند لازمی اثرات ہوتے ہیں جو مرتب ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ وہ تنقید کو برداشت نہیں کرتی ۔وہ خوشامد پسند ہوتی ہے ۔وہ اپنے محاسن کا اشتہار دیتی اور عیوب پر پردہ ڈالتی ہے۔اس میں یہ ممکن نہیں ہوتا کہ خرابیاں بروقت نمایاں ہوجائیں اور ان کا تدارک کیا جاسکے ۔وہ راے عامہ اور افکار اور نظریات سے غیر متاثر ہوتی ہے۔ اس میں ردوبدل کسی کھلے کھلے طریقے سے نہیں بلکہ محلاتی سازشوں اور جوڑ توڑ سے ہوتا ہے، جنھیں عوام الناس صرف تماشائی ہونے کی حیثیت سے دیکھتے رہتےہیں۔ اس میں صرف ایک محدود طبقہ ملک کے سارے دروبست پر متصرف ہوتا ہے، اور باقی سب بے بس محکوم بن کر رہتے ہیں۔اس کا آغاز چاہے کیسی ہی نفع رسانی کے ساتھ ہو، انجام کار وہ ایک جابر طاقت بنے بغیر نہیں رہتی اور عام لوگ بے زار ہوکراس سے خلاصی کی تدبیریں سوچنے لگتے ہیں، مگر خلاصی کے جتنے پُرامن راستے ہوتےہیں یہ ان کو چُن چُن کر بند کر دیتی ہے،اور مجبوراً ملک ایسے انقلابات کی راہ پر چل پڑتاہے،جو مشکل ہی سے اس کو کسی منزل خیر پر پہنچنے دیتے ہیں‘‘۔

مو لانا چاہتے تھے کہ: ’’پاکستان میں جمہوری نظام کے بارے میں ہمیں یکسو ہونا چاہیے‘‘ لیکن وہ یہ ضروری سمجھتے تھے کہ: ’’ہم جمہوریت کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ اختیار کریں اور اس میں آمریت کے لوازم اور خصائص کی آمیزش نہ کریں ،کیوں کہ اس کے بغیر جمہوریت صیحح طریقے سے کام نہیں کر سکتی اور نہ وہ نتائج دکھاسکتی ہے، جو اس سے مطلوب ہیں‘‘۔

پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے قیام اور استحکام کے لیے مولانا نے پانچ اصول پیش کیے:

                ۱-            تقسیم اختیارات کا اصول، یعنی ریاست کے تینوں شعبوں انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ کے  دائرۂ اختیار کا واضح طور پر الگ ہونا۔

                ۲-            شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق کی ضمانت اور عدلیہ کا ان کے تحفظ پر قادر ہونا۔

                ۳-            انتخابات کی آزادی اور اس کی حفاظت کے لیے ایسی قانونی و انتظامی تدابیر، جن سے یہ اطمینان ہو سکے کہ انتخابات کے نتائج فی ا لحقیقت راے عام کے مطابق نکل سکیں گے۔

                ۴-            قانون کی حکمرانی ،یعنی یہ امر کہ راعی اور رعایا کے لیے ایک ہی قانون ہو، اور سب اس کے پابند ہوں، اور عدالتوں کو یہ حق ہو کہ سب پر بے لاگ طریقے سے وہ اس کو نافذ کرسکیں۔

                ۵-            ملازمین حکومت کا خواہ وہ سول سروس سے تعلق رکھتے ہوں یا فوج سے، سیاست میں دخیل نہ ہونا اور اس ہیئت ِحاکمہ کی اطاعت قبول کرنا کہ جسے باشندوں کی اکثریت آئینی طریقے پر ملک کا اقتدار سونپ دے‘‘۔

  • آمریت کی نفی:جمہوریت کی بقا کے لیے مولانا مودودی نے اس بات پر زور دیا تھا: ’’حکمرانوں کو یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ جب چاہیں لوگوں کی آزادیِ ذات، آزادیِ تحریر و تقریر، آزادیِ اجتماع اور آزادیِ نقل و حرکت سلب کر لیں۔ جمہوریت کبھی ایسے ماحول میں زندہ نہیں    رہ سکتی، جہاں حکومت پر تنقید کرنا دشوار ،اور حکمرانوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنا دشوار تر ہوجائے۔ ایسی جگہ تو جو ایک دفعہ برسرِ اقتدار آجائے گا، وہ پھر زبردستی اقتدار پر قابض رہے گا اور اس کا نام بہرحال جمہوریت نہیں ہے‘‘۔

 جمہوریت میں آزادی کے ساتھ انتخاب کی آزادی پر مولانا نے بہت زور دیا ہے۔     ان کے نزدیک: ’’جمہوریت تو نام ہی اس چیز کا ہے کہ لوگ اپنی آزاد مرضی سے جس کو چاہیں حکمرانی کے لیے منتخب کریں اور جب چاہیں اپنی آزاد مرضی سے ان کو تبدیل کر دیں۔ اگر دباؤ اور لالچ اور فریب اور حیلوں سے انتخابات کے نتائج اصلی راے عام کے بالکل برعکس برآمد کیے جاسکتے ہوں تو ایسی حالت میں لوگوں کو راے اور انتخاب کا حق دینا اور نہ دینا دونوں برابر ہیں۔

  • آئین اور قانون کی حکمرانی: جمہوری نظام کی کامیابی کو مولانا نے آئین اور قانون کی سب کے لیے یکساں حکمرانی کو بنیادی شرط قرار دیا تھا: ’’ملک میں آئین وقانون اور ضابطہ سب کے لیے یکساں ہو، سب پر غالب ہو اور کوئی اس کی خلاف ورزی کرنے کا مجازنہ ہو ۔جہاں قانون کی ساری پابندیاں صرف کمزوروں کے لیے ہو ں اور طاقت والے ہر وقت آئین اور قانون کو بالاےطاق رکھ کر اپنی من مانی کر سکتے ہوں اور جہاں عدل و انصاف کی طاقت زورآورں کے مقابلے میں قانون کو نافذ کرنے سے عاجز ہو، وہاں جمہوریت کبھی قائم نہیں ہو سکتی اور قائم ہوجائے تو زندہ نہیں رہ سکتی۔ جمہوریت توسب لوگوں کی برابری کا نام ہے اور برابری کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ضابطہ سب کےلیے ایک ہو اور سب پر یکساں نافذ ہو‘‘۔

سیاست میں مقتدر اور محافظ حلقوں کی مداخلت کومولانا مودودی نےسخت ناپسند کرتے ہوئےاس عمل کو ایک بہت بڑی خیانت اور نتائج کے اعتبار سے پاکستان کے لیے ایک خطرناک چیز قرار دیا تھا۔ انھوں نے حکومت کے کارپرداز اور محافظوں کو سچے دل سے جمہوریت کے اصول کو تسلیم کرنے کی یادہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ: ’’وہ اس بات کو مان لیں کہ ملک باشندوں کا ہے اور باشندوں کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی آزاد مرضی سےجن لوگوں کو چاہیں اپنے ملک کا کارفرما بنائیں‘‘ ۔

مولانا مودودی کا نظریہ تھا کہ: ’’ہمارے ملک کو بہت سے درپیش مسائل کی طرف توجہ کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ لوگوں کی اخلاقی و دینی حالت درست کرنی ہے ۔معاشی بدحالی کا علاج کرنا ہے۔ عام جہالت کو دُور کرنا ہے۔ نظام تعلیم کی اصلاح کرنی ہے اور ایسے ہی بہت سے مسائل ہیں‘‘۔ لیکن ان کے نزدیک سب سے مقدم بات یہ تھی کہ: ’’ہم اپنے نظام زندگی کی بنیادوں پر اتفاق کرلیں اور یہ اتفاق صحیح بنیادوں پر ہو‘‘۔مولانا مودودی کو یقین تھا کہ ہم سب اسی لائحہ عمل کے تحت اپنے مسائل کو حل کر نے کی طرف قدم بڑھاسکیں گے اور ایک مستحکم پاکستان تعمیر کر سکیں گے۔

انسانی تاریخ کے حسین ترین مناظر میں ایک منظر وہ ہے جب بوڑھے ابراہیم علیہ السلام اور نوجوان اسماعیل علیہ السلام مل کر اللہ کے گھر کی تعمیر کررہے تھے۔ اس وقت ان کے لبوں پر بڑی پیاری دعائیں جاری تھیں، جو زمین سے آسمان تک ہر شاہراہ کو معطر کیے ہوئی تھیں۔ ایمان ویقین سے روشن ان دعاؤں میں پہلی اور بہت پیاری دعا یہ تھی:

ہمارے ربّ ہم سے قبول فرمالے، بلاشبہہ تو سننے اور جاننے والا ہے (رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ)

تصور میں دیکھیں اور سوچیں اللہ کے دو عظیم پیغمبر بڑی آزمایشوں اور عظیم قربانیوں سے سرخ رو ہو جانے کے بعد اللہ کے پہلے گھر کی تعمیر میں مصروف ہیں، اور اس وقت بھی سب سے زیادہ یہ فکر دامن گیر ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں ان کا یہ کام قبول ہوجائے۔ یہ کیسی روح پرور کیفیت ہے اور اس میں اچھے کام کرنے والوں کے لیے کیسی گہری نصیحت ہے۔ جب رحمان کے خلیل کو رحمٰن کے گھر کی تعمیر جیسے عظیم کام کے قبول ہونے کی اتنی زیادہ فکر ہے تو عام انسانوں کو دین کے چھوٹے بڑے سب کام کرتے ہوئے قبولیت کی کتنی زیادہ فکر رہنی چاہیے۔

قبولیت کی سچی طلب دل میں بس جاتی ہے تو تمام کام اخلاص کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ قبولیت کی فکر تقاضا کرتی ہے کہ کام کا مقصود صرف اللہ کی رضا ہو اور اس میں کسی کے لیے کوئی حصہ نہیں ہو۔ سوشل میڈیا کے اس زمانے میں، جب کہ ہر شخص کے لیے اپنی کارکردگی کی خبر عام کرنا آسان ہوگیا ہے، اخلاص کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ برائی اس میں نہیں ہے کہ آپ کا کام خبر بن جائے، لیکن برائی اس میں ضرور ہے کہ خبر بنانا ہی کام کا مقصد بن جائے، اور اس طرح پستی کی طرف رخ ہونے کی وجہ سے کام کی خبر آسمان پر جانے کے بجاے زمین کی پستیوں میں ہی بکھر کر رہ جائے۔ ابراہیم ـؑاور اسماعیلؑ نے اخلاص کے ساتھ صرف اللہ کے یہاں قبول ہوجانے کے لیے تعمیر کعبہ کا کام کیا اور اللہ نے اسے قیامت تک کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبر بنادیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے جو کام کیا جائے وہ کائنات کی بہت خاص خبر بن جاتا ہے، شرط یہ ہے کہ وہ کام خبر بننے کے لیے نہیں بلکہ رب خبیر کے یہاں قبول ہونے کے لیے کیا جائے۔

قبولیت کی سچی طلب دل میں بس جاتی ہے، تو اچھے کام کرتے ہوئے دل میں یہ جذبہ جوان رہتا ہے کہ مشکل سے مشکل کام میرے حصے میں آجائے۔ ٹیم میں کچھ لوگ جسمانی طور سے کمزور ہوسکتے ہیں، کچھ کی قوت کار کم ہوسکتی ہے، اور کچھ کی مدت کار تھوڑی ہوسکتی ہے، ایسے میں پوری ٹیم کو قوت ان سے ملتی ہے جو بڑے بڑے بوجھ اٹھانے کے لیے خود کو پیش کرتے ہیں، جنھیں آرام سے بے رغبتی اور کام کا جنون ہوتا ہے، جنھیں مال غنیمت کا شوق نہیں ہوتا ہے بلکہ جامِ شہادت سے عشق ہوتا ہے۔ قبیلہ نخع کے لوگ قادسیہ کے معرکے میں شریک ہوئے اور دوسروں کے مقابلے میں زیادہ کام آگئے۔ حضرت عمرؓ نے خبر لانے والوں سے پوچھا، نخع کے لوگ کیوں زیادہ شہید ہوئے؟ کیا دوسرے انھیں محاذ پر تنہا چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے؟ انھوں نے وضاحت کی: دراصل ہوا یہ کہ نخع والوں نے اہم ترین محاذ آگے بڑھ کر تنہا خود سنبھال لیے تھے (اِنَّ النَّخَعَ وَلَّوْا أَعْظَمَ الْأَمْرَ وَحْدَهُمْ)( الاصابہ فی تمیز الصحابہ، ج۱، ص ۱۹۶)۔جو مشکل کام اپنے ذمے لیتا ہے، اسی کو تکان زیادہ ہوتی ہے، پسینہ بھی اسی کا زیادہ بہتا ہے، چوٹیں بھی اسے ہی زیادہ آتی ہیں، لیکن وہی پوری ٹیم کے لیے جوش اور طاقت کا سرچشمہ ہوتا ہے، اسی کو دیکھ کر دوسروں کو کام کرنے کا حوصلہ اور توانائی ملتی ہے۔

 قبولیت کی سچی طلب ہوتی ہے، تو آدمی شہرت اور نام وَری سے بہت اوپر اُٹھ جاتا ہے۔ اسے اس کی فکر نہیں ہوتی کہ اخبار میں اس کا فوٹو نہیں چھپا، لوگوں کو اس کے کارنامے معلوم نہیں ہوئے، اسے انعام واسناد سے نوازا نہیں گیا، فکر تو اسے بس یہ رہتی ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں وہ مقبول قرار پا جائے۔ اور یہی تو اصل کامیابی ہے۔ اس عظیم کامیابی کے سامنے کسی اعتراف اور کسی انعام کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک معرکے کے بعد قاصد خبر لے کر حضرت عمرؓ کے پاس پہنچا۔ آپ نے پوچھا معرکے میں کون کون کام آگیا؟ اس نے کچھ خاص خاص لوگوں کے نام بتائے، پھرکہا کچھ اور لوگ بھی کام آگئے جنھیں امیر المومنین نہیں جانتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ رونے لگے، اور کہنے لگے: امیر المومنین انھیں نہیں جانتا تو اس میں ان کا کیا نقصان ہے، اللہ تو انھیں جانتا ہے، اس نے تو انھیں شہادت کے اونچے مقام پر فائز کردیا ہے، اور عمر کے جان لینے سے ان کا کیا بھلا ہوگا۔ (وَمَا ضَرَّهُمْ أَ لَا يَعْرِفَهُمْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ! لَكِنَّ اللَّهَ يَعْرِفُهُمْ وَقَدْ أَكْرَمَهُمْ بِالشَّهَادَةِ، وَمَا يَصْنَعُونَ بِمَعْرِفَةِ عُمَرَ)(البدایۃ والنہایۃ، ابن کثیر، ج۷، ص ۱۲۶)۔ جو اللہ کی قدر پہچانتے ہیں، وہ اسی کو کافی سمجھتے ہیں اور اسی کو ضروری بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کے عمل کو قبول کرلے۔

قبولیت کی سچی طلب ہوتی ہے تو کام کا معیار بلند رکھنے کا شوق بھی بڑھ جاتا ہے۔  قبولیت کی طلب کام کے حسن پر ذرا سی بھی آنچ آنا گوارا نہیں کرتی۔ اسے پورا یقین ہوتا ہے کہ جب اللہ کی بارگاہ میں قبولیت کے لیے کام کیا جائے تو کام بھی شایان شان ہونا چاہیے اور اس کے دامن پر ذرا سا بھی داغ نہیں لگنا چاہیے۔ ایک بدو سے جب زکوٰۃ وصول کرنے والے نے اس کے تمام اونٹوں کو شمار کرکے ایک سال کا اونٹنی کا بچہ مانگا، تو اس نے کہا اللہ کے راستے میں اس سے کیا ہوگا، نہ دودھ دے، نہ سواری کے کام آئے، پانچ سال کی تیار اور تنومند اونٹنی لے کر جاؤ۔ شعور اور ذوق کی اس بلندی پر پہنچنے کے لیے بس یہ جذبہ کافی ہوتا ہے کہ میرا مقصود اللہ ہے، اسی کے سامنے اعمال کو پیش ہونا ہے، اس لیے میرا ہر عمل اونچی شان والا ہونا چاہیے۔

قبولیت کی سچی طلب ہر اچھے کام کو تکمیل تک پہنچانے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ یہ طلب اس وقت بے مثال تازگی عطا کرتی ہے، جب تھکن کی شدت سے جسم چور ہوجاتا ہے اور حوصلے جواب دینے لگتے ہیں۔ دل میں شیطان وسوسہ ڈالتا ہے کہ تم اتنے ہی کے مکلف تھے، اب باقی کام کوئی اور کرلے گا یا کسی دوسرے وقت ہوجائے گا۔ لیکن جب قبولیت کی جستجو انگڑائی لیتی ہے تو حوصلوں کو جِلا مل جاتی ہے اور جسم کو نئی توانائی حاصل ہوجاتی ہے۔ جب یہ دھن سوار ہو کہ اللہ کی بارگاہ میں یہ کام قبول ہوجائے تو پھر اس کام کو ادھورا کب کے لیے اور کس کے لیے چھوڑا جائے۔

اللہ کی عظمت پر ایمان رکھنے والے اچھے کاموں کو قابل قبول بنانے کی ہر کوشش کرتے ہیں، اور ان کے قبول ہوجانے کی دُعا کرتے ہیں۔

دورِ جدیدکی برق رفتار ترقی کے پیچھے انسان کی غور وفکر اور سوچ بچار کی صلاحیتوں کا ہاتھ ہے۔ سوچ بچار ایک ایسا انسانی عمل ہے، جس سے انسان آس پاس کی چیزوں کا مشاہدہ کر کے نئی نئی حقیقتوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔ لیکن سوچنا اگر محض براے سوچ ہو تو وہ سوچ کسی کام کی نہیں ۔ سوچنے کے بعد انسان جو خیال یا نقطۂ نظر پیش کرتا ہے اس کا کسی دلیل سے ثابت ہونا از بس ضروری ہے۔ اگر وہ کوئی دلیل پیش کرنے سے قاصر رہے تو اُس نقطۂ نظر کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ دلیل پیش کرنے کے بعد دلیل کا صحت مند اور پیش کردہ نکتے کے ساتھ موافق ہونا بھی لازمی ہے، ورنہ پیش کردہ نقطۂ نظر بذاتِ خود غلط ثابت ہوگا۔

غور وفکر کا قرآنی تصور

سوچنے کی صلاحیت خالصتاََ مخلوقِ انسانی کو بخشی گئی ہے۔ اس طرح سے انسان کا سوچنا اُسے انسانیت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز کردیتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک استثنا ہے، اگر انسان کی سوچ محض سوچ ہی تک محدود ہو اور وہاں سے وہ کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے قاصر رہے ،تو ایسی سوچ کا کوئی ماحصل ہی نہیں ۔ سورئہ آل عمران میں عقل اور اِس سے اخذ کردہ نتائج کے مابین اس طرح سے ربط قائم کیا گیا ہے کہ:’’زمین اورآسمان کی پیدایش میں،رات اور دن کے باری باری سے آنے میں عقل مند لوگوں کے لیے بہت ساری نشانیاں ہیں‘‘(اٰل عمرٰن۳: ۱۹۰)۔ انسان کے پاس عقل ہونے کے باوجود اگر وہ اُسے ا ستعمال میںلا کر صحیح نتائج برآمد نہ کرسکے اور اپنی زندگی کے جملہ معاملات اُن اخذ کردہ نتائج کے مطابق نہ سنوارے، تو ایسے انسان بھی پھر غیر انسانی مخلوقات کی طرح ہوتے ہیں،    فرق بس اتنا ہوتا ہے کہ یہ انسانی شکل میں ہوتے ہیں اور وہ غیر انسانی ا شکال میں۔اِن ہی اشخاص کو قرآن کریم نے یہ کہہ کر پکارا ہے کہ:’’ اِن کے پاس محسوس کرنے کے لیے دل تو ہوتے ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں، ان کے پاس دیکھنے کے لیے آنکھیں تو ہوتی ہیں مگر وہ اُن سے دیکھتے نہیں، اُن کے پاس سننے کے لیے کان تو ہوتے ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی زیادہ گئے گزرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوگئے ہیں‘‘۔(الاعراف۷: ۱۷۹)

ایک دوسری جگہ ایسے انسانوں کو بدترین جانوروں سے تشبیہ دی گئی ہے ، جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ عقلِ سلیم کو استعمال کرنے کی ہدایات اس حد تک قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں کہ ایک تو اس نعمتِ عظمیٰ کا آخرت کے دن حساب دینا ہوگا: ’’جب کہ انسان سے آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پُرس ہونی ہے‘‘ (بنی اسرائیل ۱۷:۳۲)۔ دوسری طرف اسے استعمال نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کی وعید سناتے ہوئے متنبہ کیا گیاہے کہ:’’ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اُن پر ہم گندگی ڈال دیتے ہیں‘‘۔ (یونس۱۰:۱۰۰)

قرآن کا طرزِ تفہیم

قرآن پاک نے جس اندازِ فہمایش کو پسند و پیش کیا ہے ، اُس کا سب سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ انسانی عقل کو آزاد چھوڑدیاجائے۔ اُسے کوئی نکتہ سمجھانے میں کسی زور زبردستی یا دھونس دبائو سے کام نہ لیا جائے۔ جیسا کہ فرمایا گیا:’’ دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں‘‘(البقرہ۲: ۲۵۶)۔ اُس کی عقل کی آزادی کی سطح کو سمجھنے کے بعد اُسے اُسی کی فہمایش کے مطابق بات سمجھائی جائے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مختلف الفکر انسان دین سیکھنے کے لیے آتے تھے اور سوالات پوچھتے،لیکن آپؐ ہر کسی کو دین کے متعلق ایک ہی جواب نہیں دیتے۔ قریبی صحابہ سے اندازِ بیان طویل ، جامع اور موقع و محل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہوتا تھا، وہیں کسی بدوی صحابیؓ کے سوال کے جواب کا طرزِ تفہیم بہت ہی سادہ اور مختصر ہوتا تھا۔ اسی چیز کو قرآن پاک نے اس انداز میں پیش کیاہے کہ:’’ اے نبیؐ، اپنے رب کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو‘‘(النحل ۱۶: ۱۲۵)۔ یہ آیت موجودہ دور کے اُن مناظرہ پسند حضرات اور سوشل میڈیا پر بیٹھے جذباتی نوجوانوں کے لیے بھی ایک اہم ذریعۂ رہنمائی ہے جو اپنے طرزِ بیان میں بہت ہی شدت پسندہیںاور جو اپنی بات کو ’منوانے ‘ میں گالم گلوچ کا استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ غور کرنے کے لائق یہ مقام ہے کہ یہ آیت مشرکین ، یہود ، نصاریٰ وکفّار کے ساتھ بات یا مجادلہ کرنے کے تناظر میں نازل ہوئی ہے کہ اُن سے بھی اخلاقی حدود میں ہی بات کرنی ہے، لیکن کیا ہوا ہے کہ موجودہ دور میںمسلمان اپنے فروعی مسئلوں کے اندر اس حد تک متعصب ہوگئے ہیں اور اپنی بات کو منوانے میں اتنی شدت اختیار کرتے ہیں جہاں اخلاقی حدود و قرآنی احکام کا پاس و لحاظ ہی نہیں رکھا جاتا ہے۔

سوچ بچار کی موجودہ صورت حال

موجودہ دنیا کی جنگیں افکار و نظریات کی بنیادوں پر لڑی جارہی ہیں۔ ان جنگوں میں جو کوئی بھی اپنی بات کو سچ ثابت کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ، وہی بازی اپنے نام کرلیتا ہے، قطع نظر اس کے کہ بات کو سچ ثابت کرنے میں کن’ ناروا اصولوں‘ کو بروے کار لایا گیا ہو۔ اس طرح کی جنگیں آج کل عام طور پر ٹی وی ، اخبارات و دیگر نشرو اشاعتی اداروں، خاص کر سوشل میڈیا کے ایوانوںکے اندر لڑی جارہی ہیں۔ دو مختلف نظریات کے حامل اشخاص ایک دوسرے سے بحث صرف اور صرف اس لیے کر رہے ہوتے ہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط، نہ کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ یہی وہ بنیادی سبب ہے کہ جس سے سماج میں نفرتوں و عداوتوں کا بازارگرم ہوتاہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپس کے بحث و مباحثہ سے یہ پتا لگایا جائے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا، لیکن جس طرح صحیح کہنے والا اپنے نقطۂ نظر کو سچ ثابت کرنے میں بہت شدت برتتا ہے، اُسی طرح غلط کہنے والا اپنی عزتِ نفس کو بچانے کی خاطر نِت نئی دلیلیں پیش کرتا ہے۔ اپنی کج روی میں بد مست ہونا اور اپنے پیش کردہ نظریات سے اس حد تک محبت کرنا کہ انسان اندھا ہو جائے، انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ قرآن پاک کے اسلوب کی طرف نظر ڈال کر یہ بات بآسانی کہی جاسکتی ہے کہ عقل مند وہ لوگ ہیں جو اپنی غلطی کو غلطی مان کر بر وقت رجوع کر یں۔ ایسے انسانوںکے لیے ہی انعامات کی خوشخبری ہے، بلکہ اُن سے یہ کہہ کر خطاب کیا گیا ہے کہ جیسے اُنھوں نے وہ کام کیا ہی نہیں ۔

حق شناسی کا اصول اور آثارِ اکابرین

انسانی عقل محدود ہے۔ اُس کے دماغ میں اِس کائنات کی حقیقت یک بارگی سے نہیں  اُتر سکتی،بلکہ یہ ایک ترتیب وار اور مسلسل عمل ہے۔ اس طرح سے جس وقت بھی انسان کے سامنے عقل کے نئے دریچے کھل جائیں اور وہ جان جائے کہ اس کا وقتِ حاضر سے پہلے پیش کردہ نظریہ غلط ثابت ہورہا ہے،تو اُسے اپنی پچھلی راے سے رجوع کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کے اندر فکری انحطاط کی بنیادی وجہ یہی رہی ہے کہ ہر کوئی اپنی راے کو سچ ثابت کرنے پر تُلا ہوا ہے اورکوئی بھی اپنی غلطی کو غلطی مان کر رجوع نہیں کر رہا ہے، بلکہ اُلٹا ہدایات والی آیات و آثار سے گمراہی مول لی جاتی ہے۔ جیسے کہ حضرت عمر بن عبدا لعزیز ؓ منکرین تقدیر سے فرمایا کرتے تھے کہ اے قدریہ کے گروہ ! جن آیات سے صحابہ کرام ؓ تقدیر کو ثابت کیا کرتے تھے تم انھی آیات کو پیش کرکے تقدیر کا انکار کرتے ہو۔ اِس کے بالمقابل سائنس کی دنیا میں اگر ایک سائنس دان کوئی ایک راے قائم کرلے اور کسی دوسرے محقق نے اُس راے کو منطق کے اعتبار اور صحیح الاسناد دلائل سے غلط ثابت کیا، تو پہلے حضرت نے اپنی راے سے (اگر حضرت زندہ نہ رہے تو اُس کے شاگردوں نے ) رجوع کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کیا۔ اس معاملے میں مسلمانوں کے اکابرین بڑے ہی دریا دِل رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ کا اسمِ گرامی اس حوالے سے بڑے ذوق و شوق سے لیا جاسکتا ہے۔چاہے وہ تجسس کرنے کے معاملے میں آپ ؓ کا اپنے طرزِ عمل سے رجوع کرنا ہو یا نبی اکرمؐ کے رحلت کے وقت حضرت ابوبکرؓ کی بات مان کر خاموشی اختیار کرنی ہو، یا حضرت حسان بن ثابت ؓ کا مسجد نبویؐ کے باہر نعتیہ اشعار پڑھنے پر غصہ ظاہر کرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت دلیل سننے کے بعد اجازت باقی رکھنا ہو۔(بخاری، مسلم ، ترمذی، مکارم الاخلاق)

یاد رہے یہ وہ عمر ؓ ہیں جو اپنے جلال اور شان و شوکت میںاپنی مثال آپ تھے۔اسی طرح سے باقی صحابہؓ و قرونِ اولیٰ کے اکابرین ؒ کی بھی یہی روش رہی ہے کہ حق بات کو پانے کے بعد اپنی مخالف راے سے فی الفور رجوع کرنا، جن کی کئی ایک مثالیں احادیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔  حتیٰ کہ علمی و عملی لحاظ سے گراں قدر خدمات دنیاے انسانیت کے حق میں انجام دینے کے بعد بھی اِن حق گو اللہ کے بندوں نے آخر میں یہ کہا کہ ہماری ذاتی راے کے مقابلے میں اگر آپ کو کوئی بھی بات کتاب و سنت کے خلاف معلوم ہو تو ہماری راے کو دیوار پر دے مارنا۔ خیال رہے کہ یہ کوئی اُن کا چیلنج نہیں تھا کہ ہماری بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی بلکہ یہ اُن کی اپنی آخرت کی فکرتھی۔ اسی لیے پوری نیک نیتی کے ساتھ اپنی غیرمعصومیت کا اعتراف کرتے ہوئے حق تلاش کرنے کی راہوں کے دروازے اہلِ علم کے لیے ہمیشہ کھلے چھوڑ دینا اُن کو مطلوب تھااور یہی اِن عظیم انسانوں کے حق گو ہونے کی واضح دلیل ہے۔

قرآن کا طرزِ استدلال

قرآن پاک کا مرکزی موضوع جیسا کہ انسان ہی ہے، وہ انسان سے براہِ راست یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ تم میری بات مان لو، بلکہ اس سے اسی کی فہمایش کے مطابق اُن باتوں کی طرف توجہ دلاتا ہے جو کہ وہ پہلے ہی سے جانتا ہو۔ توجہ دلانے کے بعد وہ اُن باتوں کے متعلق اُس سے سوالات پوچھتا ہے۔ سوالات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی عقل کو اپیل کرتے ہیں۔ انسان چاہے جواب دے یا نہ دے لیکن اس کی عقل کی سطح کے مطابق انسان خود ہی جوابات اخذ کرلیتا ہے۔  اُن اخذ کردہ باتوں سے وہ اس سے بڑے شفیقانہ انداز میں اپنی اصل بات کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے بعد تیرہ سال مکہ میں قیام کیا۔ اس دوران آپ ؐ نے دین کے بنیادی عقائد کو سمجھانے کے حوالے سے جو طرزِ استدلال اختیار کیا اور جس کو قرآن نے   عمومی طور پرمکی سورتوں میں بیان کیا، وہ یہی تھا کہ انسانی عقل کے دریچوں کو پہلے ہی سے اخذ کردہ علم سے کھول دیا جائے۔

مثال کے طور پر ایک جگہ فرمایا کہ:’’اچھا ، تو کیا انھوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا، اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے۔ اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میںپہاڑ جمائے اور اُس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اُگادیں۔ یہ ساری چیزیںآنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اُس بندے کے لیے جو حق کی طرف رجوع کرنے والا ہو‘‘(قٓ ۵۰: ۸)۔ سورۂ عنکبوت میں اس چیز کو بالکل ہی واضح انداز میں بیان کیا گیاہے۔ وہاں پر حق سے منہ موڑنے اور دہرا معیار اختیار کرنے والوں کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ:’’ اچھا تو ـجب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے ایمان و یقین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے ،اس سے دعا مانگتے ہیں۔ پھر جب وہ انھیں بہ صحت و سلامت خشکی پر پہنچاتا ہے تو یکایک یہ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں‘‘( العنکبوت۲۹: ۱۰۴)۔ کبھی وہ انسان کو تواریخ کی طرف نظر دوڑانے کے لیے کہتا ہے، کہ شاید وہ حق کی طرف رجوع کرے۔ کبھی وہ زمان و مکان کی گواہی پیش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ فرمایا کہ:’ ’اے نبیؐ، اگر یہ لوگ تمھیں جھٹلاتے ہیں، تو ان سے پہلے قومِ نوحؑ اور عادؑ اور ثمودؑ اور قومِ ابراہیم ؑ اور قومِ لوطؑ اور اہلِ مدین بھی جھٹلا چکے ہیں اور موسٰیکی قوم بھی جھٹلا چکی ہے۔ ان سب منکرین کو ہم نے پہلے مہلت دی، پھر پکڑ لیا‘‘ ( الحج ۲۲: ۴۴)۔ ایک اور جگہ فرمایا کہ:’ ’قسم ہے زمانے کی (یعنی زمانہ گواہ ہے )، کہ انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے ، سواے اُن لوگوں کے جو ایمان لے آئے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے‘‘۔(العصر۱۰۳:۱-۳)

حصولِ علم کے اصول وضوابط

 قرآن پاک کے مطالعے کا یہ پہلا ہی اصول ہے کہ انسان اپنے ذہن کی تمام پراگندگی کو دُور کر کے آئے، کھلے ذہن کے ساتھ کسی پیشگی مفروضے (Pre-conceived Assumptions) کے بغیر اس نسخے کو ہاتھ لگائے۔ اس طرح سے انسان کو ایک مثبت سوچ (Positive Thinking) کے ساتھ قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ اصول نہ صرف قرآن کے ساتھ وابستہ ہے بلکہ  علم کے باقی تما م ذخائر کی تہہ تک جانے میں بھی کارگر ثابت ہوا ہے۔ انسان کے علم حاصل کرنے کی پیاس جب تک نہ بجھے ،اُس سے کلام جاری رکھنا چاہیے۔ لیکن اگر انسان اپنی عقل کے دریچے خود ہی بند کردے یا اپنے موقف کو لے کر کٹ حجتی سے کام لے، اس سے پھر مزید بات کرنا آسمان کی طرف منہ کر کے تھوک دینے کے مترادف ہے۔انھی جیسے انسانوںکے متعلق فرمایا گیا کہ:’’یہ لوگ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں، یہ اب پلٹنے والے نہیں ہیں‘‘ (البقرہ۲: ۱۸)۔ اس کے بعد کس انسان کو یہ اختیارہے کہ جبر کرکے ایسے لوگوں کو حق کی طرف مائل کرے، کیوں کہ فرمایا گیا کہ: ’’اچھا تو اے نبیؐ ، نصیحت کیے جائو ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو، کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو‘‘(الغاشیہ ۸۸:۲۲- ۲۱)۔ ایسے انسان فطرت کے قوانین کا عذاب خود ہی چکھتے ہیں اور وقت انھیں جھوٹا ثابت کرنے میں کوئی تشنگی نہیں رکھتا۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قرآن پاک کے کلمات سے بڑھ کر کوئی چیز سچ نہیں۔ اِس کتاب کے طرزِ بیان کی اس دنیا میں اور کوئی نظیر نہیں۔ صدق و سچائی کا یہ منبع ہے۔ لیکن انسان کے ساتھ کلام کرنے میں اِس کتاب کا انداز انسانی ہی ہے، جس کی رُو سے یہ انسانی عقل کو اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کا بھر پورموقع فراہم کرتی ہے اور آخر میں جس چیز کی طرف رُخ کر کے   یہ کتاب اتمامِ حجت کرتی ہے ، وہ یہ ہے کہ اگر انسان کے پاس اس کتاب کے پیش کردہ دلائل کے مقابلے میں کوئی اور دلیل ہو تو اسے پیش کیا جائے۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ:’ ’اپنی دلیل پیش کرو، اگر  تم اپنے دعوے میں سچے ہو‘‘۔ (البقرہ ۲: ۱۱۱، الاحقاف۴۶:۴)

نبوی ؐ  انقلاب کا منہج اور موجودہ  صورت حال

دھونس، دبائو ، زور و زبردستی، کٹ حجتی یا جذبات کی بنیادوں پر لائی گئی تبدیلی کبھی دیر پا نہیں ہوتی۔ایسی تدبیریں سماج میں نفرت و عداوتوں کے ماحول کو پنپنے کے سوا کچھ فراہم نہیں کرتیں۔ طاقت کی بنیاد پر لوگوں کو کچھ دیر کے لیے چپ کروایا جاسکتا ہے، لیکن ایسے سماج میں خروج و بدامنی کے بیج مو جود رہتے ہیں اور جو کبھی بھی موافق ماحول پا کر سر نکال سکتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس عظیم انقلاب کو برپا کیا، اُس میں سیاسی و معاشی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ علمی مواد (Intellectual Appeal) بھی بدرجہ اُتم موجود تھا۔گو کہ اسلام ہی لوگوںکی اصل کامیابی کا واحد ضامن ہے، لیکن باوجوداس کے آپؐ نے اسلامی انقلاب کو لوگوں پر نہیں تھوپا۔ لوگوں کو پہلے اس سطح پر پہنچانا کہ وہ سمجھ سکیں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا، اسلام اُن سے کیا مطالبہ کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے، اصل کامیابی کیا ہے اور دنیا کا لہو و لہب ہونا اپنے اندر کیا معنٰی رکھتا ہے، حسنات اور سیأت کے مابین کیوں کر اتنا بڑا فرق ہے___اُس کے بعد ہی اسلامی انقلاب کی تیاری کرنی ہوگی، بلکہ ایسی تیاری کرنے کے بعد لوگ بذاتِ خود اسلام کی ترویج و تلقین کی دعوت اپنے آپ دینا شروع کریں گے۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ کسی بچے یا کسی بدمست انسان کے ہاتھ پیسوں کی ایک تھیلی تھما دی جائے اور اس سے کہا جائے کہ جا ! خوب ترقی کرو۔ لیکن کیا اس سے وہ بچہ ترقی کرے گا جسے پیسوں کی تھیلی کیا، ایک روپیہ کی اہمیت کا بھی ادراک نہیں ہے۔ لوگوں کو اس طرح سے ترقی کی طرف بلانے کا مقصد سماج میں بدامنی و انتشار پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

انسان کو چاہے مادی اعتبار سے ترقی کرنی ہو یا روحانی اعتبار سے بلندیوں کو چھو نا مقصود ہو، پہلے اُس کے اندر یہ فہم و فراست پیدا کرنی ہوگی کہ ترقی کس چیز کا نام ہے اور اس کے کیا کیا فائدے ہوتے ہیں ۔ جب وہ اُس ترقی اور اُن فائدوں پر غیر متزلزل ایمان لے آئے، اُس کے بعد دنیا کی کوئی طاقت اُسے ترقی سے روک نہیں سکتی۔یہ ہے وہ نبویؐ حکمت عملی جس کا فقدان مسلمانوں کے اندر دیکھا جارہا ہے۔ آپ تو لوگوں کو دنیا و آخرت ، دونوں کی ترقی کی طرف دعوت دے رہے ہیں، لیکن لوگ اس انقلاب سے کیوں بدک رہے ہیں، جو اُن کی کامیانی کا ضامن ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس پر ملّت کا درد رکھنے والے ہرفرد کو سوچنا چاہیے۔ اس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ اسلام کے ماننے اور اس کے انقلاب کی خاطر محنت و کوشش کرنے والے نبویؐ منہج سے دُور چلے جارہے ہیں۔ نبویؐ منہج کا خاصا یہی ہے کہ عوام کی عقل کو اپیل کیا جائے، اُنھیں اس حد تک تیار کیاجائے کہ وہ اصل کامیابی کو سمجھ سکیں، اُن سے علمی اور احسن طریقے سے گفتگو کی جائے، اور اُن سے پیار و محبت سے پیش آیا جائے۔

دنیا کو اسلام کے سانچے کے اندر ڈھالنے والے کے نزدیک باقی تمام لوگ بچوں کی طرح ہونے چاہییں، جنھیں نہ اپنی کوئی فکر ہوتی ہے اور نہ دنیا کی۔ بچوں سے غلطیاں سر زد ہونے سے  کیا کوئی ان سے نفرت کرتا ہے؟ کیا کوئی انھیں اپنے سے دُور کرتا ہے؟ نہیں ، بلکہ ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ بچہ ہے، آہستہ آہستہ اسے زندگی کے جملہ معاملات کا ادراک ہوجائے گا۔ بالکل اسی طریقے سے بہکی ہوئی دنیا کے باسیوں کو آہستہ آہستہ اصل زندگی کا ادراک حاصل کرانا ہے۔ نفسیات میں تحقیق سے یہ واضح ہوا ہے کہ بچے کو اگر اس کی کم عمری میں ہی دھونس اور دبائو سے سمجھایا جائے، یا اس سے زور زبردستی کی جائے، یا سب کے سامنے اس کی تذلیل کی جائے، تو آگے جا کر یہی بچے جرائم کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔اس کے بالمقابل اگر بچے کو عزت و احترام کے ساتھ بات سمجھائی جائے تو عجب نہیں کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرلے اور اپنی اصلاح کرلے۔ پھر وہ دن دُو ر نہیں کہ جب یہی بچہ سماج کا ایک ذمہ دار شہری بن کر اپنی خدمات بہم پہنچاتا ہوا نظر آئے گا، ان شاء اللہ۔

 مقدس شہر یروشلم کے مغربی حصے میں ہولوکاسٹ میوزیم کا دورہ کرنے کے بعد کوئی شقی القلب شخص ہی ہوگا کہ جو اپنے آنسو روک پائے۔ چند برس قبل جب میں نے اس میوزیم کا دورہ کیا، تو استقبالیہ کاؤنٹر سے کانوں میں لگانے والی کمنٹری [یعنی آنکھوں دیکھا حال بتانے والی]مشین فراہم ہوگئی تو بھارتی نژاد اسرائیلی گائیڈنے مزید رہنمائی کرنے سے معذوری ظاہر کی اور مشورہ دیا کہ اس میوزیم کو انفرادی طور پر ، آزاد ذہن کے ساتھ بغیر نگرانی یا رہنمائی کے دیکھنا مناسب ہے۔ مدہم روشنیوں کے درمیان ایک پُراسرار اور سوگوار فضا دوسری عالمی جنگ اور یورپ کی شہری زندگی کی نہ صرف عکاسی کرتی ہے، بلکہ لگتا ہے کہ زمان و مکان اسی دور میں پہنچ گئے ہیں۔ آپ ہال میں جس تصویر یا کسی شے کے سامنے کھڑے ہیں اس کا اور ہال کا نمبر کمنٹری مشین میںدبائیں، تومطلوبہ زبان میں آنکھوں دیکھا حال رواں ہوجاتا ہے اور محسوس ہوتا ہے، جیسے یہ تصویر زندہ ہوگئی ہو۔کریک ڈائون، سرچ آپریشنز، ہاتھ سروں پر رکھے قطار دَر قطار مارچ کرتے ہوئے خواتین و مرد، ریل کی پٹڑیوں کی گڑگڑاہٹ، آہ و بکا کا ایک شور، پلیٹ فار م پر گوشت سے عاری ناکافی پھٹے لباس میں انسانوں پر جرمن اہلکاروں کے برستے کوڑے ، عورتوں اور بچوں کی کس مپرسی اور پھر ان کو ہانک کر گیس چیمبر کی طرف لے جانا وغیرہ وغیرہ، غرض انسان کے وحشی پن اور انسانیت کی تذلیل کے ان واقعات کا مشاہدہ کرتے ہوئے دم بخود ہونا لازمی امر ہے۔ ایک سحر سا طاری ہو جاتا ہے۔

اس طرح کے حالات کا سامنا کرنے والے مغربی ممالک خصوصاً یہودیوں کو انسانی حقوق اور انسانیت کے تئیں زیادہ حساس ہونا چاہیے تھا، مگر افسوس عذابِ الٰہی کے بعد اپنی روایتی بد عہدی اورریشہ دوانیوں کا اعادہ کرتے ہوئے یہودی یا بنی اسرائیل نے جنگ عظیم ختم ہونے کے بعد    نہ صرف فلسطینیوں کے حقوق پر شب خون مار کر ان پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے، بلکہ دیگر ممالک میں اپنے ذرائع و و سائل کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو اشتعال دلا کر گھیرنے اور مارنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے ہیں۔

وہ ظلم تو یورپ کے عیسائیوں نے کیا ، مگر بدلہ آج تک مسلمانوں سے لیا جا رہا ہے۔ اسی کی ایک کڑی کے طور پر حال ہی میں ہالینڈکے رکن پارلیمنٹ گیرٹ وائلڈر نے گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کا اعلان کیا تھا۔وائلڈر نے اپنے تحریری پیغام میں کہا کہ اس نے قتل کی دھمکیوں اور مسلمانوں کے ممکنہ ردعمل کے پیش نظر مقابلہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ دنیا بھر میں اس معاملے پر افرا تفری پھیلے۔ اس سے قبل ہالینڈکی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کی نمایش روکنے کے لیے تحریری حکم نامہ جاری کردیا تھا۔ واضح رہے دنیا بھر کے مسلمانوں میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی تھی اور سخت احتجاج کیا جا رہا تھا۔ یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے، کہ جس کو روکنے کی جیت کا سہرا مختلف تنظیمیں اپنے سر باندھنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ اور یہ نہیں لگتا کہ مسلمانوں کے سڑکوں پر اترنے یا دھمکیوں کی وجہ سے یہ مقابلے منسوخ ہوئے ہیں۔

اس سے قبل بھی ۲۰۰۵ء میں ڈنمارک کے ایک اخبار کی طرف سے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں اور پھر ۲۰۱۵ء میں فرانسیسی رسالے چارلی ہیبڈو نے ان خاکوں کو دوبارہ شائع کیا اور مسلمانوںکی تنظیمیں سڑکوں پر آئیں، تو اس کا اُلٹا اثر سامنے آیا۔ مغرب میں اس کو اظہار راے پر حملے کی صورت دے کر مسلمانوں کے خلاف راے عامہ کو بھڑکایا گیا۔ پاکستانی حکومت کے موجودہ موقف ہی میں اس کا جواب پوشیدہ ہے ۔ تمام مسلم حکومتوں کو اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر مغربی اور دیگر ممالک کے لیے ایک سرخ لکیر کھینچنا ہوگی۔ جس طرح کی لکیر مغرب نے ہولوکاسٹ کی نفی کرنے والوں کے خلاف کھینچی ہے۔

۱۹۸۸ء میں جب سلمان رشدی کی کتاب دی ستانک ورسز  (شیطانی آیات) منظر عام پر آئی تھی ، تو ایران نے اس پر سخت موقف اختیار کیا، مگر دیگر مسلم ممالک نے اس کی تائید نہ کرکے عالمی برادری میں اس کو الگ تھلگ کردیا۔ یاد رہے آیت اللہ خمینی نے مصنف کی موت کا فتویٰ بھی جاری کیا تھا۔ کئی برسوں تک اس پر زور دار بحث چھڑی رہی۔ ابلاغیات کی پڑھائی کے دوران ، ہمارے ڈیپارٹمنٹ اور جواہر لال یونی ورسٹی میں ایران کے اس موقف اور آیت اللہ خمینی کے فتوے پر نکتہ چینی میں چند عرب طالب علم پیش پیش ہوتے تھے، جو اپنے آپ کو ’روشن خیال‘ ثابت کرنے کے زعم میں ایران اور شیعوں کو رجعت پسند تسلیم کرانے پر تلے ہوئے تھے۔ دو عشرے بعد جب افغانستان میں طالبان، عرب میں القاعدہ و داعش مغرب کے نشانے پر آئے، تو شیعوں اور ایران نے اپنے آپ کو ’روشن خیال‘ جتلا کر دہشت گردی کا سارا ملبہ سنیوںپر ڈالنے کا کام کیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب اور نہ کوئی فرقہ یا مسلک ہوتا ہے۔

ابھی حا ل ہی میں سعودی عرب نے کینیڈا کے ساتھ اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات اس وجہ سے ختم کرلیے کہ کینیڈانے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورت حال پر احتجاج درج کروایا تھا۔ کاش! خادم الحرمین ایسا ہی موقف ان ممالک کے خلاف بھی اپناتے جو اظہارِ آزادی کی آڑ میں ان خاکوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ اگر مسلم ممالک کے حکمران آئے دن بے حسی اور بزدلی کا ثبوت فراہم نہ کرتے اور جسد ملت اپنی روح کے ساتھ موجود ہوتا، تو مغربی دنیا میں کسی کی ہمت نہ ہوتی کہ پیغمبرؐ اسلام و انسانیت کو نشانہ بناتا۔ پھر اسی طرح حالیہ عرصے میں بھارت میں بھی کئی افراد ’آزادی اظہار راے‘ کی آڑ میں پیغمبر حضرت محمدـــﷺ اور ان کے اہل خانہ کے خلاف گستاخانہ الفاظ کا استعمال کرکے مسلمانوں کو زبردستی اشتعال دلانے کا کام کرتے ہیں۔

اسی عرصے میں بھارتی حکمران بی جے پی کی انفارمیشن ٹکنالوجی سیل سے مستعفی چند رضاکاروں نے آن ریکارڈبتایا کہ : ’’ہم کو مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کی تربیت دی جاتی تھی‘‘۔ بدقسمتی سے ہندو انتہاپسندوں کی ایما پر قائم ایک اور سیل کے انچارج، پاکستان کے ایک مؤقر چینل کے بھارت میں نمایندے اور پریس کلب آف انڈیا کے سابق سیکرٹری جنرل اور ’سیفما‘ (ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن: SAFMA)کے فعال رکن پشپندر کلوستے ہیں ، جو محمد رضوان کے نام سے آئے دن ویڈیو بنا کر پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔ چوںکہ موصوف علی گڑھ یونی ورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں، نیزپاکستانی چینل کے نمایندے ا ور سافما کے رکن کی حیثیت سے پاکستان آنا جانا رہتا ہے، اس لیے اسلام کے بارے میں واجبی سی، مگر مسلمانوں کے بارے میں سیر حاصل معلومات رکھتے ہیں۔

 جب ان کی اس شرپسندانہ روش کے خلاف کوئی آواز اٹھاتا ہے تو ہمدردی حاصل کے لیے اظہارِ آزادیِ راے کو آڑ بناکر مسلمانوں کے رویے کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ ناموس رسالت ؐکے حق میں مسلمانوں کے ردعمل کو ’جمہوریت کے لیے خطرناک‘ بتاتے ہیں، مگر یہی نام نہا د دانش وَر، ادیب، مصنفین اور ٹی وی اینکر اپنے ملک کے اندر آزادیِ اظہارِ راے کا گلاگھونٹے جانے کے متعدد واقعات پر چپ سادھ لیتے ہیں۔ گویا انھیں سانپ سونگھ گیا ہے۔مثال کے طور پر گذشتہ چند ماہ کے دوران پورے بھارت میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار کر ان کو حراست میں لیا گیا تو اس ظلم کو یہ حق بجانب ٹھیراتے ہوئے کہتے ہیں: ’’یہ ملکی سلامتی کا معاملہ ہے،کیوںکہ یہ افراد دلتوں، قبائلیوں اور مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کر رہے تھے‘‘۔

چار سال نتیشا جین، پرینکا بورپوجاری اور ستین باردولائی کو جب چھتیس گڑھ (دانتے واڑہ) میں گرفتار کیا گیا تو حریت فکر کے ان گرووں میں سے کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ یاد رہے کہ یہ صحافی قبائلیوں پر ہونے والے مظالم اور نکسلایٹ{ FR 644 } اور نکسل مخالف کارروائیوں کا جائزہ لینے گئے تھے۔ اظہارِ راے کی آزادی کے یہ علَم بردار اس وقت بھی خاموش رہے، جب ۲۰۱۰ء میں امریکی دانش ور پروفیسر رچرڈ شاپیرو کو بھارتی حکومت نے کوئی وجہ بتائے بغیر ویزا دینے سے انکار کردیا۔۲۰۱۰ء میں ہی جب مشہور براڈکاسٹر ڈیوڈ براسمیان اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سلسلے میں بھارت پہنچے تو حکومت نے انھیں نئی دہلی کے ہوائی اڈے سے ہی واپس لوٹا دیا۔بھارتی زیرانتظام جموں و کشمیر جانے کے لیے تو اب بھارتی وزارت خارجہ نے غیر ملکی نامہ نگاروں کے داخلے پر ہی پابندی عائد کر دی ہے۔

حقوقِ انسانی کے مشہور بھارتی کارکن گوتم نولکھا، جن کے گھر پر یلغار کرکے ان کو حراست میں لیا گیا ، اس سے قبل وہ ۲۰۱۱ء میں بھی عتاب کا نشانہ بنے تھے۔ جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ چھٹیاں منانے گلمرگ جانا چاہ رہے تھے تو سری نگر ہوائی اڈے پر انھیں رات بھر حراست میں رکھنے کے بعد دہلی لوٹنے کے لیے مجبور کردیا گیا۔ ۲۰۱۵ء میں بھارت میں تامل زبان کے ناول نگار رپرومل موروگن کے ناول پر پابندی لگادی گئی۔ ان کے ناول کے انگریزی ترجمے پر اس وجہ سے پابندی لگادی گئی ہے کہ اس میں موروگن نے ہندو مذہب کی قدیم رسم ’نیوگ‘ پر نکتہ چینی کی ہے۔’نیوگ رسم‘ کے مطابق کوئی بے اولاد عورت، بچے کی طلب کو پورا کرنے کے لیے کسی غیر مرد یا پنڈت سے جنسی تعلقات قائم کرتی تھی اوراس قبیح رسم کو قدیم بھارتی معاشرے میں قبولیت حاصل تھی۔موروگن نے اس ناول میں ذات پات پر مبنی طبقاتی کش مکش اور ظلم اور معاشرے کی برائیوں پر نکتہ چینی کی ہے، جس سے ایک خاندان بکھر جاتا ہے اور ان کی اَزدواجی زندگی تباہ ہوجاتی ہے۔ ناول نگار موروگن پر اتنی نکتہ چینی ہوئی کہ ان سے نہ صرف آیندہ قلم نہ اْٹھانے کی قسم لی، بلکہ ناول کے ناشرین کو اس کی تما م کتابیں جلانے کے لیے کہا گیا۔

یہ تو صرف چند واقعات ہیںجن کا ذکر برسبیل تذکرہ آگیا ہے ورنہ بھارت میں ایسے واقعات کی گنتی مشکل ہے۔

اظہار راے کی آزادی کا سب سے بڑا علَم بردار یورپ بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہے، اور اس کی سب سے واضح مثال ہولوکاسٹ ہے۔ یہودیوں کے خلاف کوئی بات لکھنا یا ان کی مخالفت کرنا یا ہولوکاسٹ کو مفروضہ قرار دیناانتہائی سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ یورپی یونین نے تو اپنے رکن ملکوں کے لیے باضابطہ ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ: ’ہولوکاسٹ کو غلط قرار دینے والے ادیبوں یا مصنّفین کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔ جس میں ایک سے تین سال قید بامشقت کی سزا بھی شامل ہے‘۔ ۲۰۰۳ء میں اس حکم نامے میں ایک اضافی پروٹوکول شامل کیا گیا، جس میں ہولوکاسٹ کے خلاف انٹرنیٹ پربھی کچھ لکھنا قابل گردن زدنی جرم قرار پایا ہے۔ جن ملکوں میں ہولوکاسٹ کے خلاف کچھ بھی لکھنا انتہائی سنگین جرم سمجھا جاتا ہے ان میں آسٹریا، ہنگری، رومانیہ اور جرمنی شامل ہیں۔

حالاںکہ المیہ یہ ہے کہ یہی ممالک یہودیوں کے خلاف کارروائیوں میں آگے آگے رہے تھے۔۱۹۹۸ء سے لے کر ۲۰۱۵ء یعنی ۱۷ برسوں میں تقریباً ۱۸؍ادیبوں اور مصنّفین کو اظہارِ راے کی آزادی کے علَم برداروں ہی کے عتاب کا شکار ہونا پڑا ہے۔ اس کی ایک فہرست یہاں دی جارہی ہے: lجین میری لی پین، فرانس/ جرمنی، جرمانہ، فروری۱۹۹۸ء lراجر گراوڈی، فرانس، ۲لاکھ ۴۰ہزار فرانک جرمانہ، جولائی ۱۹۹۸ء lیورگن گراف، سوئٹزرلینڈ ،۱۵ ماہ قید، جولائی۱۹۹۸ء lگیرہارڈ فوسٹر، سوئٹزرلینڈ، بارہ ماہ قید ،مئی ۱۹۹۹ء lجین پلانٹین، فرانس، چھے ماہ قید، جرمانہ، اپریل ۲۰۰۰ء lگیسٹن ارمانڈ، سوئٹزر لینڈ، ایک سال قید، فروری ۲۰۰۶ء lڈیوڈ ارونگ، آسٹریا، ایک سال قید، مارچ ۲۰۰۶ء lجرمار روڈولف، جرمنی، ڈھائی سال قید، اکتوبر ۲۰۰۶ء lرابرٹ فائریسن، فرانس، ۷۵۰۰ یورو جرمانہ، تین ماہ نظربند، فروری ۲۰۰۷ء lارنسٹ زیونڈل، جرمنی، پانچ سال قید، جنوری ۲۰۰۸ء lوولف گینگ فرولچ، آسٹریا ،چھے سال قید، جنوری ۲۰۰۸ء lسلویا اسٹالس، جرمنی، ساڑھے تین سال قید، مارچ ۲۰۰۹ء lہوسٹ مہلر، جرمنی، پانچ سال قید، اکتوبر ۲۰۰۹ء lڈیرک زمرمین، جرمنی، نو ماہ قید، اکتوبر ۲۰۰۹ء lرچرڈ ولیمسن، جرمنی، ۱۲ ہزار یورو جرمانہ، جنوری ۲۰۱۳ء lجیورگے ناگے، ہنگری، ۱۸ماہ قید، فروری۲۰۱۵ء lوینسنٹ رینورڈ، فرانس، دو سال قید، نومبر ۲۰۱۵ء lارسولا ہینر بیک جرمنی، دس ماہ قید۔

خیال رہے آزادیِ اظہار کے حق کے تعلق سے زیادہ دیر تک تعصب اور منافرت اور دہرے معیار کی عینک نہیں لگائی جاسکتی۔

سب سے اوّل میڈیا کی آزادی کے حدود کا تعین کرنالازمی ا مر ہے۔صحافت کومحض اسلام کی تضحیک سے یامسلم مخالف جنون کو مزید ہوا دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر بقاے باہم ، کشادہ ذہنی اور مذہبی رواداری اور ایک دوسرے کے تئیں احترام کے جذبے کو فروغ دیا جائے۔ تاہم، اس کے ساتھ بڑی ذمہ داری خود مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے، جنھوں نے اسلام کے سماجی، معاشی، نیز افکار و نظریات کے انقلاب کو عام کرنے کے بجاے اس کو مسلکوں کے کوزے میں بند کرکے رکھ دیا ہے۔ مزید یہ کہ ابلاغ واشاعت کے ذرائع کا بہترین استعمال کرنے کے بجاے اپنے آپ کو ایک خول میں بندکیا ہوا ہے۔

ماؤپسند نکسل کمیونسٹ دانش ور کوبڈ گاندھی،دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی کی سزا پا چکے۔ کشمیری نوجوان افضل گورو کے ساتھ کئی ماہ سیل میں قید رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ: ’افضل کے ساتھ گفتگو کے دورا ن پتا چلا کہ کمیونزم کے سماجی انصاف و برابری کا سبق تو اسلام ۱۴۰۰سال قبل سنا چکا ہے‘‘۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کو تفرقوں اور علاقائی تنگ گلیوں سے باہر نکال کر اپنے کردار و اعمال سے ثابت کریں کہ اسلام کے افکار و نظریات ہی واقعی انسانیت کی معراج ہیں۔

بھارتی کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے اپنے دورۂ یورپ میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرے ٹیجک اسٹڈیز، لندن میں بھارتی ہندو انتہاپسند تنظیم ’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ‘ (آرایس ایس) کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’آر ایس ایس ہندستان کا نیچر بدلنا چاہتی ہے۔ _ وہ ملک پر ایک مخصوص نظریہ تھوپنے کی خواہاں ہے۔ _ وہ نظریہ ایسا ہی ہے جیسا عرب دنیا میں اخوان المسلمون کا نظریہ ہے _‘‘۔

کانگریسی صدر کے اس بیان سے اخوان المسلمون کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمی کے ازالے کے لیے درج ذیل نکات قابلِ غور ہیں:

۱-  عصرِحاضر کے ہندستان میں جن لوگوں نے ہندو مذہب اور ہندو تہذیب کے احیا کی کوششیں کی ہیں، ان میں راجا رام موہن رائے ، سوامی دیانند سرسوتی ، ساورکر ، لالہ لاجپت رائے،  سوامی شردھانند اور مدن موہن مالویہ جیسے انتہاپسندانہ اور نسل پرستانہ سوچ کے حاملین خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ _ ان افراد نے مختلف تنظیمیں قائم کیں اور ان کے تحت اپنی سرگرمیاں انجام دیں ۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نامی تنظیم بھی ہندو احیا پرستی کی عَلَم بردار ہے۔ _ اس کی تاسیس ۱۹۲۵ء میں ہیڈگِوار نے کی تھی۔ _ اس کے دوسرے سرچالک گول والکر تھے۔ _ انھوں نے۱۹۴۰ء سے ۱۹۷۳ـء تک اس کی سربراہی کی اور اپنی تحریروں کے ذریعے اس کی فکری بنیادیں استوار کیں۔ ان کی کتب: We or our Nationhood Defined اور Bunch of Thoughts میں وہ افکار تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں، جن پر بعد میں آر ایس ایس کی نظریاتی بنیادیں استوار کی گئیں _۔

۲- آر ایس ایس کا نظریۂ قومیت یہ ہے کہ: ’’کوئی شخص محض ہندستان میں پیدا ہونے سے ہندستانی قومیت کا حصہ نہیں بن سکتا ، بلکہ قومیت کے عناصر ترکیبی میں نسل ، پیدایش ، کلچر ، زبان اور جغرافیے کے ساتھ ساتھ مذہب بھی شامل ہے‘‘۔ اس کے نزدیک: ’’ملک میں ہندوؤں کے مفاد کے لیے کام کرنا فرقہ پرستی نہیں ، بلکہ قومی کام ہے _‘‘۔

۳-آر ایس ایس کے نزدیک: ’’ہندستان کی اکثریت ہندوؤں کی ہے ، اس لیے اسے ہندو راشٹر ہونا چاہیے۔ _ جو لوگ ہندو قومی ریاست کے تصور سے خود کو الگ رکھتے ہیں، وہ ملک دشمن ہیں‘‘۔

۴- آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ: ’’بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کو اپنی تہذیبی شناخت مکمل طور پر ختم کرلینی چاہیے اور خود کو اکثریتی فرقے کے کلچر میں ضم کردینا چاہیے ‘‘۔

۵-آر ایس ایس، ہندو راشٹر [ہندو قوم]کی تعمیر ’منو سمرتی‘ [منو قوانین]کی بنیاد پر کرنا چاہتی ہے، _ جس کے تحت انسانی معاشرے کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ تصوّر آج خود ہندوئوں کے بڑے طبقے کے نزدیک قابلِ قبول نہیں ہے۔ اس لیے اس سے توجہ ہٹانے کے لیے اس انتہا پسند تنظیم نے اپنی آئیڈیالوجی کی بنیاد مسلم دشمنی پر رکھی ہے ۔ اس کے نزدیک: ’’مسلمان بیرونی حملہ آور ہیں ، جنھوں نے ملک کو لوٹا ہے اور لالچ اور جبر کے ذریعے یہاں کی آبادی کے ایک حصے کو مسلمان بنایا ہے۔ اس لیے ان کی 'شدھی اور 'گھر واپسی کرانی چاہیے‘‘۔ _ وہ کہتی ہے کہ: ’’مسلمانوں کے لیے یہاں دو ہی راستے ہیں کہ یا تو خود کو ہندو تہذیب میں ضم کرلیں ، یا پھر اکثریتی ہندو طبقے کے رحم و کرم پر زندہ رہیں‘‘۔

۶-آر ایس ایس، جرمنی میں ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کے قتلِ عام کو تحسین کی نظر سے دیکھتی اور کہتی ہے کہ اس جرمن نسل پرستی میں بھارتی ہندوئوں کے لیے بڑی رہ نمائی ہے _۔

۷- اگر کوئی شخص آر ایس ایس کا موازنہ اخوان المسلمون سے کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اخوان کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور اخوان کے افکار و نظریات ، اس کی سرگرمیوں اور تاریخ سے اسے ادنیٰ سی بھی واقفیت نہیں ہے _۔

۸- اخوان المسلمون کی تاسیس ۱۹۲۸ء میں مصر میں ہوئی۔ _ اس زمانے میں عرب قومیت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا ۔ فرعونی تہذیب کے احیا کی باتیں ہو رہی تھیں ، آزادی نسواں کے نام پر اباحیت و عریانیت کو ہوا دی جا رہی تھی۔ اس فضا میں امام حسن البنا نے اصلاحِ معاشرہ کی جدوجہد کی اور مغربی تہذیب کے بجاے اسلامی تہذیب کی بالادستی کی دعوت دی _۔

۹- اخوان کی تحریک ۱۹۳۹ء تک خاموش اصلاحی جدوجہد تک محدود رہی اور اس کی دعوت کو خوب فروغ ہوا۔ لیکن دوسرے مرحلے میں جب انھوں نے سیاسی میدان میں قدم رکھا اور انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، تب اس کی بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے وہ برطانوی سامراج کی کٹھ پتلی مصری حکومت کی نظر میں کھٹکنے لگی۔ _۱۹۴۸ء میں اخوان نے جنگِ فلسطین میں حصہ لیا اور  خوب دادِ شجاعت دی تو عالمی سطح پر باطل کے ایوانوں میں زلزلہ آگیا۔ _ انگریزوں نے ان کی سرکوبی کے لیے مصری حکومت پر دباؤ ڈالا _۔ تنظیم پر پابندی عائد کردی گئی اور اس کے ارکان کو داخلِ زنداں کردیا گیا ۔ ۱۲فروری ۱۹۴۹ء کو امام حسن البنا کو قاہرہ میں شہید کردیا گیا۔۱۹۵۲ء میں مصر کے فوجی آمر جمال عبدالناصر نے اپنے اُوپر قاتلانہ حملے کا الزام اخوان پر ڈال کر ان کے خلاف داروگیر کی زبردست مہم چھیڑ دی۔ ۱۹۵۴ء میں ان کے چھے رہ نماؤں کو پھانسی دے دی گئی ، جن میں سے ایک جسٹس عبدالقادر عودہ تھے۔ _ پھر ۱۹۶۶ء میں اس کے چار رہ نماؤں کو تختۂ دار پر چڑھایا گیا ، جن میں سے ایک مفسرِقرآن اور عربی کے منفرد ادیب سیّد قطب شہید بھی تھے۔ پھر مختلف مواقع پر اخوان کو خوب مشقِ ستم بنایا گیا۔اب بھی چند سال سے وہ سخت آزمایش میں مبتلا ہیں۔

۱۰- اخوان کو آر ایس ایس جیسی تنگ نظر، خونی فرقہ پرست اور دہشت گرد تنظیم سے تشبیہ دینا بڑی نادانی کی بات ہے۔ _ اخوان نے قومیت کے مروّجہ نظریے کے برعکس عالمی اخوت کا تصور پیش کیا _۔ انھوں نے حکومتوں سے اصلاح کا مطالبہ کیا اور اسلامی نظام قائم کرنے کی بات کی، لیکن ملک کے دیگر مذہبی یا اقلیتی گروہوں کے بارے میں ہرگز منافرت نہیں پھیلائی _۔

۱۱- افسوس کہ اخوان کے بارے میں عالمی سطح پر من گھڑت غلط فہمیاں پھیلائی گئیں، جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور بے جا طور پر اسے ایک دہشت گرد تنظیم کہا گیا۔ یہ سلسلہ اب بھی برابر جاری ہے۔ _ دشمنوں سے کیا گِلہ ، افسوس کہ بعض مسلم حکومتیں، مسلم جماعتیں اور مسلم شخصیات بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہیں۔

۱۲- اخوان نے کبھی طاقت ، جبر اور تشدد کا راستہ نہیں اختیار کیا اور زیرِ زمین سرگرمیاں نہیں انجام دیں ، بلکہ ہمیشہ پُر امن جدوجہد کی اور کھلے عام اپنی سرگرمیاں انجام دیں۔ اس کے باوجود ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ خارجی اور باغی ہیں ۔

کتنی عجیب بات ہے کہ جو تنظیم خود ریاستی اور گروہی دہشت گردی کا شکار ہوئی ہو ، جس کے لاکھوں ارکان و وابستگان کو جیلوں میں ٹھونس کر بدترین مظالم کا نشانہ بنایا گیا ہو، اور وقفوں وقفوں سے جس کی لیڈرشپ کو تختۂ دار پر لٹکادیا گیا ہو ، خود اس پر دہشت گرد ہونے کا لیبل چسپاں کردیا جائے _۔

۱۳- اخوان المسلمون مصر کی تنظیم ہے۔ _ لیکن معلوم نہیں کیوں ، کچھ عرصے سے بعض بھارتی حضرات اخوان کے خلاف مہم چھیڑے ہوئے ہیں۔ _اس کے سربراہوں کو دہشت گرد قرار دیتے اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔

اگر الزام تراشوں کی یہ تمام باتیں درست مان بھی لی جائیں تو یہ سوال پھر بھی باقی ہے کہ :

  •   بھارت میں اخوان المسلمون کو رد کرنے کی کیا ضرورت پیش آگئی؟
  • ایسا تو نہیں ہے کہ عالمی منظر نامے میں 'اخوان المسلمون ' کا رد کمائی کا ذریعہ بن گیا ہے؟
  •  کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ خود عالمِ عرب میں اخوان کے خلاف چند حکومتوں کا معاندانہ رویہ، بھارتی انتہاپسندوں کا راستہ کشادہ کرے گا۔
  •  کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ اخوان کے خلاف جتنی مبالغہ آمیز داستان سرائی اور دھواں دھار تقریریں کی جائیں گی، اس کی بنیاد پر بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضا کو زہرآلود کرنا آسان ہوگا۔

۱۹۸۴ء میں مجھے بنگلہ دیش جانے کا اتفاق ہوا۔ اس وقت ڈھاکا میں اسلامی ممالک کے وزراے خارجہ کا اجلاس ہو رہا تھا،جس کی رپورٹنگ کے لیے جنگ گروپ سے مجھے اور اخبار جہاں کے اس وقت کے مدیر نثار احمد زبیری کو بھیجا گیا تھا۔ سیّد منور حسن کی نظامت اعلیٰ کے دوران میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کا مہتمم نشرواشاعت اور رکن رہ چکا تھا اور بعد میں جماعت اسلامی سے رکنیت کا تعلق تھا، جب کہ زبیری بھائی کا تعلق بھی ایک سرگرم تحریکی خاندان کے ساتھ تھا ۔ اس لحاظ سے نثار زبیری بھائی سے میری نظریاتی ہم آہنگی موجود تھی۔ چنانچہ ہم اس سفر میں پاکستان واپسی تک ساتھ ساتھ ہی رہے۔

کانفرنس ختم ہونے کے بعد ہم دونوں مزید ایک ہفتہ تک وہیں مقیم رہے۔ اس دوران ہم نے ڈھاکا میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں اور دوسرے بڑے شہر چٹا گانگ کا بھی دورہ کیا۔ جن رہنماؤں سے ہماری ملاقاتیں ہوئیں ان میں حسینہ واجد (موجودہ وزیر اعظم )،پروفیسر غلام اعظم،مطیع الرحمٰن نظامی(شہید)،مشتاق احمد خوند کر اور شفیق اعظم کے نام یاد رہ گئے ہیں۔ حسینہ واجد نے تو اپنے والد شیخ مجیب الرحمٰن کے دھان منڈی والے گھر میں مدعو بھی کیا اور اس کی پہلی منزل پر وہ جگہ بھی دکھائی جہاں ان کو اس وقت موجود خاندان کے تمام افراد کے ساتھ قتل کیا گیا تھا۔ اس وقت تک اس گھرکی ہر چیز کو اسی حالت میں برقرار رکھا گیا تھا۔ انھوں نے مجھے اور نثار زبیری کواپنے دست خط کے ساتھ اپنی تحریر کردہ ایک کتاب بھی دی جو انگریزی میں تھی اور جس میں ان کے خاندان کے بارے میں تفصیلات درج تھیں۔ہماری سب سے تفصیلی اور یادگار ملاقات پروفیسر غلام اعظم صاحب کے ساتھ ہوئی۔ یہ ملاقات اس لیے یادگار تھی کہ اس دوران جہاں مجھے پروفیسر غلام اعظم صاحب کی شخصیت کے کئی نئے گو شوں کو جاننے کا موقع ملا وہیں یہ معلومات بھی حاصل ہوئیں کہ بنگلہ دیش کے سیاسی دھارے میں غداری کے الزامات کے باوجود جماعت اسلامی کو کس طرح دوبارہ اہم مقام حاصل ہوا اور کس طرح خود پروفیسر صاحب کو وہاں کے سیاسی رہنماؤں کے یہاں احترام بلکہ سیاسی گُرو کا درجہ حاصل ہوا ۔

پروفیسر صاحب سے ہماری اس ملاقات سے قبل جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا ایک ا جمالی تعارف اور اس کی مالی اور افرادی حا لت زار کا علم ہمیں ہو چکا تھا۔ ہمارے ڈھاکا آنے کا علم کسی طرح اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک سابق سینیر رہنما کو ہو گیا تھا، وہ ہمارے پہنچتے ہی ہوٹل میں    ہم سے ملنے آگئے تھے۔انھوں نے گفتگو میں ہمیں اختصار کے ساتھ بتا یا تھا کہ جماعت شدید مالی بحران کا شکار ہے۔جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈھاکا میں جماعت کے مرکز میں صرف ایک پرانی کار تھی۔پورے شہر میں پروفیسر صاحب کے سوا کسی رہنما،رکن یا کارکن کے پاس اپنا ذاتی ملکیتی گھر یا فلیٹ نہیں تھا۔سوائے چند کارکنوں کے کسی کے پاس موٹر سائیکلیں تک نہیں تھیں۔

جماعت کے مرکزی اور ضلعی تنظیمی ڈھانچے کو حالات کے مطابق تبدیل کردیا گیا تھا۔ اس کے انتخابات سالانہ اور کارکردگی کے ساتھ منسلک قرار دیے گئے تھے جس کی وجہ سے ہر سال متحرک اور باصلاحیت نوجوان قیادت اُبھر کر سامنے آتی جارہی تھی۔ اس نئی قیادت کا بڑا حصہ اسلامی جمعیت طلبہ فراہم کر رہی تھی۔اس ملک میں غدار ی کے داغ کے ساتھ کام کرنے والی جماعت اسلامی کو کام کرتے ہوئے صرف ۱۳ سال کا عرصہ ہوا تھا اور اس نے نہ صرف سیاست میں اپنی حیثیت منوا لی تھی بلکہ وہاں کی ایک بڑی سیاسی جماعت خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے اسے اپنا سیاسی حلیف بھی بنا لیا تھا۔اس کی پارلیمنٹ میں مؤثر نمایندگی بھی موجود تھی۔ جماعت نے وہاں یہ مقام کیسے حاصل کیا تھا اور اسے یہ کامیابی کیسے حاصل ہوئی تھی؟ یہ جاننا ضروری تھا۔اس کا جواب وہی شخصیت دے سکتی تھی جس کی فکر رسا نے جماعت کے پورے تنظیمی ڈھانچے کو نئے حالات کے مطابق تبدیل کر دیا تھا اور جماعت کے کارکنوں میں تبدیلی کی ایک نئی انقلابی روح پھونک دی تھی۔ یہ سحر انگیز شخصیت پروفیسر غلام اعظم صاحب کی تھی۔

پروفیسر غلام اعظم صاحب سے میری ملاقاتیں پاکستان میں بھی کئی بار اخبار نویس اور کارکن کی حیثیت سے ہو چکی تھیں اور ان سے سب سے زیادہ ملنے کا موقع ۱۹۷۱ء میں اس وقت ملا تھا، جب وہ اور اس وقت کے امیر جماعت مشرقی پاکستان مولانا عبد الرحیم جماعت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ اسی دوران۱۶ دسمبر کو سقوط ڈھاکا ہو گیا۔ وہ کچھ عرصہ لاہور میں رہنے کے بعد کراچی آگئے تھے۔ کراچی میں ان کا قیام جناب ابو محمد مرحوم کے نارتھ ناظم آباد اے بلاک میں نو تعمیر بنگلے میں تھا، جو کراچی جماعت کے مالیاتی امور کے ناظم بھی تھے۔ میرا وہاں اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ اس لیے ان دونوں بزرگوں سے ملاقاتیں بھی ہو تیں بلکہ ان کی وجہ سے میں وہاں زیادہ جاتا اور ان سے استفادہ کرتا۔ اس لیے وہ اچھی طرح متعارف تھے۔

جب میں اور زبیری صاحب مغرب کے بعد ان سے ملنے ان کے جھونپڑی نما گھر کے ایک چھو ٹے سے دفتری ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو وہ مجھے پہلی نظر ہی میں پہچان گئے اور انھوں نے بڑی محبت سے میرے نام ہی سے پکارا۔ زبیری بھائی اس بات پر حیران رہ گئے۔   ابھی ذکر کر چکا ہوں کہ ڈھاکا شہر میں صرف پروفیسر صاحب ہی جماعت کے وہ رہنما تھے،جن کا  اپنا ذاتی گھر تھا۔ جس اسٹریٹ میں ان کا گھر واقع تھا، وہ شہر کا خوش حال علاقہ تھا اور وہاں   پروفیسر صاحب کے بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کی درجن بھر بڑی بڑی شان دارکوٹھیاں تھیں۔ لیکن پروفیسرصاحب کے گھر کی حالت کو دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس لیے کہ میرے اندازے کے مطابق ایک ہزار گز کے رقبے کے اس پلاٹ کے آدھے حصے میں مسجد تھی اور بقیہ پر ان کا گھر۔ اس گھر کی شان بھی ملاحظہ کریں کہ اس کی دیواریں تین تین فٹ سیمنٹ کے بلاکس کی اور بقیہ دیواریں اور چھتیں بانس کے مضبوط ڈنڈوں کے سہارے قائم تھیں۔ اسی لیے اس کو جھونپڑی نما گھر لکھا ہے۔ جس ڈرائنگ روم میں انھوں نے ہمیں خوش آمدید کہا تھا، وہ میرے کراچی میں صحافی سوسائٹی کے نئے گھر کے کچن سے بھی چھوٹا تھا۔جس کی قدرے چھوٹی میز کے سامنے رکھی کرسیاں لکڑی کے تختوں سے بنی ویسی ہی تھیں، جیسے ہمارے یہاں آزاد کشمیر یا پنجاب کے دیہاتی علاقوں کی گزرگاہوں پر بنے چھوٹے بڑے ہوٹلوں میں آپ نے دیکھی ہوں گی۔

پروفیسر صاحب نے بیٹھتے ہی یہ معذرت بھی کی کہ آپ کو ان چھوٹی چھوٹی کرسیوں پر بیٹھنا پڑ رہا ہے، حالاںکہ آپ کے یہاں تو ایسا نہیں ہے۔ میری شرمندگی کو بھانپتے ہوئے انھوں نے میری اور زبیری بھائی کی معلومات بلکہ حیرت میں مزید اضافہ کر دیا کہ: ’’اسی جگہ اور ان ہی کرسیوں پر رات گئے اکثر سیاسی مشوروں اور تعاون حاصل کرنے کی خاطر جنرل حسین محمد ارشاد، حسینہ واجد، خالدہ ضیا اور دوسرے سیاسی لیڈر آتے ہیں۔ رات کو اس لیے کہ کسی کو کانوں کان اس کی خبر نہ ہوسکے‘‘۔ اس سے اس زمانے میں پروفیسر صاحب کی قدر و منزلت اور اس وقت کی بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کی سیاسی سوجھ بوجھ،جدوجہد،حیثیت اور اثرورسوخ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 

ہماری زیادہ تر گفتگو اسی گتھی کو سلجھانے اور اپنی اسی حیرت کو دور کرنے کے بارے میں تھی کہ: ’’آخر یہاں کی جماعت اسلامی کو غداری جیسے سنگین الزام کے دھبے دھونے،عوام میں دوبارہ پذیرائی حاصل کرنے، سیاسی دھارے میں دوسری سیاسی جماعتوں سے برابری کی حیثیت حاصل کرنے کے اقدامات اور اس کے تنظیمی ڈھانچے میں کون سی قابل عمل تبدیلیاں کرنا پڑیں جس کے اتنے اچھے نتائج حاصل ہوئے؟‘‘ ہمارے سارے سوالات اسی صورت حال اور ان کے جوابات حاصل کرنے سے متعلق تھے۔ ہماری بات چیت کا دورانیہ کم و بیش دو گھنٹے پر محیط تھا۔ پروفیسر صاحب نے ان سوالات کو سن کر جو کچھ کہا تھا اس میں سے جس قدر اب مجھے یاد ہے وہ اختصار کے ساتھ عرض کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔

پروفیسر غلام اعظم صاحب نے تفصیلات بیان کرنا شروع کیں تو ایسے لگا جیسے ایک مفکر اور مدّبر پے در پے حادثوں اور گہرے صدموں کے بعد دریا کی سی روانی کے ساتھ دکھ بھرے انداز میں اپنی آپ بیتی بیان کررہا ہو۔ وہ گویا ہوئے اور ہم ہمہ تن گوش ہو کر سننے لگے۔

وہ کہہ رہے تھے:’’پاکستان ہمارا وطن تھا جس کو ہم نے بھار ی جانی ومالی نقصان اور معصوم مسلمان عورتوں اور بچیوں کی عصمتوں کی اَن گنت قربانیوں کے بعد پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الا اللہ کے نعروں کی گونج میں حاصل کیاتھا۔ لیکن ہم نے من حیث القوم اپنے اس وعدے کو پورا نہیں کیا اور اپنے نئے ملک میں ’قرارداد مقاصد‘ کے متفقہ اسلامی اصولوں کے مطابق ایک اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے بجاے علاقائی، لسانی، فرقہ ورانہ اور مختلف قومیتوں کی سیاست کو فروغ دیا۔ جس کا فائدہ دشمن نے اٹھایا اور اس پاک وطن کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔ اس ملک خداداد کو متحد رکھنے اور ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچانے کے لیے جتنی قربانیاں آپ نے دیں، اس سے کچھ زیادہ ہم نے بھی دیں۔ جس سے ایک دنیا واقف ہے اور اس کا جتنا دُکھ آپ کو ہے، اس سے زیادہ ہمیں یہاں ہے۔ لیکن ایک بات جو شاید آپ کو بہت بُری لگے، لیکن آپ ہی کے سوالات کے جواب میں مجھے کہنا پڑے گی کہ پاکستان کے دولخت ہونے کا جہاں ہمیں آپ سے زیادہ دُکھ ہے وہیں جماعت اسلامی پاکستان سے ہماری علاحدگی تنظیمی طور پر ایک طرح سے Blessing  in disguise، یعنی خرابی میں کچھ بہتری کا مفہوم لیے ہوئے تھی۔ مطلب یہ ہے کہ حالات کے مطابق نیا تنظیمی، تربیتی اور سیاسی ڈھانچا تشکیل دینے کا چیلنج سامنے آ گیا تھا‘‘۔

انھوں نے بتایا: ’’اب ہمارے سامنے نہ بڑے دفاتر تھے اور نہ مالی وسائل کی فکر اور نہ سہولیات کی فراہمی کی سردردی کہ جن کی وجہ سے بعض اوقات تحریکی ترجیحات ہی بدل جاتی ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ تحریکی مناصب کی طلب کو نا اہلی سمجھنے کا تصور ختم ہوجاتا ہے۔ اور بعض مقامات پر ایسے گروہ وجود میں آجاتے ہیں جو عہدوں کے لیے نہ صرف امیدوار ہوتے ہیں، بلکہ  باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ جس کے بارے میں جماعت اسلامی میں کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا اور نہ دستور ہی کے مطابق ایسا کرنے کا کوئی جواز ہوتا ہے۔ ہم نہایت انہماک اور حیرت کے ساتھ جماعت اسلامی کے رہنما کی زبان سے خود احتسابی کی تلخ داستان سن رہے تھے۔

غلام اعظم صاحب بیان کر رہے تھے کہ: ’’جب ملک دو لخت ہوگیا تو جہاں دنیا نے بنگلہ دیش کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیا، وہیں اب یہ ہمارا وطن بھی تھا اور اسی سے ہمارا مستقبل وابستہ تھا۔ اس لیے کہ ہم اسی سر زمین میں پیدا ہوئے اور یہیں پلے بڑھے تھے۔ ہمارے اس بیانیے کو دوسری قوم پرست جماعتوں کو تسلیم کرنے میں مشکل ضرور تھی، لیکن آخر کار انھوں نے اسے تسلیم کر لیا۔ ہماری مخالفت میں بتدریج کمی آتی گئی اور ہم نے قومی سیاسی دھارے میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کردیا۔ آہستہ آہستہ نفرتیں باہمی تعلقات میں بدلنے لگیں اور دیگر سیاسی جماعتوں سے باہمی ملاقاتیں شروع ہوگئیں جن کے بارے میں پہلے سوچنا ہی ایک بھیانک خواب تھا۔اب یہ سلسلہ اس حد تک بڑھ گیا کہ قومی لیڈر مجھ سے ملاقات اور مشوروں کے لیے رات کے وقت اسی جگہ تشریف لاتے ہیں جہاں اب آپ تشریف فرما ہیں۔

’’آپ نے جماعت اسلامی کے بکھرے اجزا کو کیسے ایک جگہ جمع کیا اور انھیں کیسے متحرک اور سرگرم کیا؟‘‘ یہ میرا اگلا سوال تھا۔ اس پر ان کے چہرے پر اطمینان کی ایک جھلک اچھی طرح دیکھی جا سکتی تھی۔

پروفیسر صاحب نے بتانا شروع کیا: ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں تو سقوطِ ڈھاکا کے وقت پاکستان میں معلق (stuck up) ہوگیا تھا اور کچھ عرصے بعد عمرے کی ادایگی کی اور دوبئی منتقل ہو گیا تھا۔میرا تو بنگلہ دیش میں براہِ راست جماعت کے کسی فرد سے رابطہ تک نہیں تھا۔ رابطے کا واحد ذریعہ ڈھاکا سے دوبئی آنے والے افراد تھے۔ ان کے توسط سے مطیع الرحمٰن نظامی (اب شہید ) کو ہدایات اور پیغامات کا سلسلہ شروع کیا، جو میری وطن واپسی تک جاری رہا۔ سب سے پہلا کام بچے کھچے کارکنوں سے رابطہ تھا جو جلد ہی کرلیا گیا۔ اسی طرح اسلامی چھاترو شبّر کو از سرِ نو منظم کیا گیا۔ یہ دونوں کام ایک ساتھ شروع کیے گئے اور دونوں کی اجتماعی قیادت کو اللہ تعالیٰ نے ایسے دُور رس فیصلے کرنے کی توفیق بخشی کہ ان کے نتائج اب تک بہت ہی اچھے نکل رہے ہیں‘‘۔

  • ’’پہلا فیصلہ یہ کیا گیا کہ جماعت اور جمعیت کے کارکن بیک وقت دو نوں کے لیے کام کریں گے۔ اس کا نام dual workership،یعنی دہری رکنیت رکھا گیا۔ اگر کوئی جمعیت کا کارکن ہے تو اسی وقت وہ جماعت کا کام بھی کرے گا۔ اس کا طریقۂ کار یہ طے کیا گیا کہ جمعیت کا کارکن جمعیت کے دعوتی کام کے ساتھ ساتھ اپنے گھر میں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو بھی جماعت کی دعوت دے گا اور ان کو جماعت میں لانے کے لیے مسلسل کام کرتا رہے گا۔ اسی طرح اگر جماعت کے کارکن کے گھرانے کا کوئی طالب علم ہے تو وہ اس کو جمعیت میں کام کرنے کے لیے بھی آمادہ کرے گا اور اس بارے میں باقاعدہ اپنے نظم کو اطلاع دیتا رہے گا۔ اس نئے نظام کے اچھے نتائج نکلے اور سیکڑوں گھرانے تحریک اسلامی سے نہ صرف متعارف ہوئے بلکہ جماعت کی اصل طاقت بھی بنے۔
  • ’’ایک فیصلہ یہ کیا گیا کہ جماعت اور جمعیت کے کارکنوںاور حامیوں کی دینی تربیت کے لیے ادارے بنائے جائیں اور اس ضمن میں کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے۔ متعدد خصوصی تربیتی ادارے قائم کیے گئے اور مستند علما اور اسکالرز مربی مقرر کیے گئے۔ چھوٹے پیمانے پر اسٹڈی سرکلز کا ایک بڑا مربوط اور مؤثر نظام قائم کیا گیا اور وسیع بنیادوں پر تربیت اور تزکیۂ نفس کا اہتمام کیا گیا۔ تحریکی لٹریچر کو سبق کے طور پر پڑھایا گیا اور ان کی قابلیت کو جانچنے کے لیے باقاعدہ امتحانات کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس طرح تحریکی لٹریچر سے لیس کارکنوں اور ارکان کی ایک بڑی تعداد وجود میں آئی، جو استقامت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئی اور جماعت کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی‘‘  (یہ رہنما اور کارکن اس استقامت کا عملی مظاہرہ اس گفتگو کے ۳۲ سال بعد۲۰۱۲ء سے اب تک مسلسل پھانسیوں، شہادتوں، عقوبت خانوں میں تشدد اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے پیش کر رہے ہیں )۔
  • ایک اور مشترکہ فیصلہ یہ کیا گیا کہ چوں کہ جماعت اسلامی کی فکری اور تجربہ کار قیادت اسلامی جمعیت طلبہ ہی سے فراہم ہورہی ہے، اس لیے دونوں میں دُوری کو ختم کیا جائے اور یہ نہ کہا جائے کہ ہمارا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ واضح کیا جائے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ جمعیت اسکولوں اور کالجوں میں دین کی سر بلندی کے لیے کام کرتی ہے اور جماعت کا کام عوامی سطح پر ہے۔ اس فیصلے کی رُو سے طے کیا گیا کہ دونوں کی مرکزی اور ضلعی مجلس شوریٰ اور ارکان اور کارکنان کے اجلاس اور اجتماعات وقفے وقفے سے ایک ساتھ بھی منعقد ہوں اور دعوت عام اور تربیت کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی بھی کی جائے،تا کہ جمعیت کے کارکنوں کی جماعت میں آنے کے بعد کام کرنے کی تربیت بھی ہوتی رہے اور جب وہ فارغ ہو کر آئیں تو جماعت میں کام کرنا ان کے لیے مشکل نہ ہو۔اسی فیصلے میں یہ بھی طے کیا گیا کہ جماعت اور جمعیت کی شوریٰ اور عہدےداروں کا انتخاب سالانہ بنیادوں پر کیا جائے اور انتخاب میں کامیابی کا پیمانہ کارکردگی رکھی جائے۔ اس کے نتیجے میں نوجوانوں کو آگے بڑھ کر کام کرنے کا موقع ملا اور ان کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی گئی۔ ہمیں اس دوران ہر جگہ نوجوان قیادت ہی کام کرتی ہوئی ملی۔یہاں تک کہ جماعت کے بنگلہ روزنامے کے دفتر میں نائب قاصد سے لے کر ایڈیٹر ، نیوز ایڈیٹر، ایڈیٹر اور پریس ورکر سمیت ہرشعبے میں جماعت کا رکن موجود ہے۔ ان کی یہ بات ہمارے لیے بہت ہی اچنبھے کی بات تھی۔
  • تیسرا بڑا فیصلہ جماعت اور جمعیت کی قیادت نے مشترکہ طور پر یہ کیا اور بعد میں جمعیت کے ارکان نے بھی اس کی توثیق کی کہ جمعیت کے کارکنوں کی تعلیم سے فراغت کے بعد عملی زندگی کے لیے career planningیا عملی زندگی کی منصوبہ کاری مشترکہ قیادت کرے۔اس طرح جمعیت نے اپنے تمام کارکنوں اور ارکان کو اجتماعی قیادت کے حوالے کر دیا اور کہا کہ ہر فرد ان کے فیصلے کی پابندی کرے گا اور اگر غلط فیصلہ کیا گیا تو اللہ کے ہاں غلط فیصلہ کرنے والے ہی جواب دہ ہوں گے۔ اس کا ایک نظام وضع کیا گیا جس پر پوری یک سوئی کے ساتھ ہر سال عمل کیا جاتا ہے۔

اس کا طریق کار یہ رکھا گیا کہ پورے بنگلہ دیش کے کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں جمعیت سے وابستہ کارکنوں کی ان کے آخری سال یا امتحان سے چند (تین یا چھے) ماہ قبل فہرستیں بنائی جائیں اور ان کو مرکز میں رہنماؤں کے مقررہ پینل کے پاس بھیج دیا جائے اور وہ مختلف مواقع پر باری باری انٹرویو کرکے فیصلہ کرے کہ ان طلبہ کو تعلیمی نتیجے، صلاحیت، رجحان اور تقریری اور تحریری صلاحیتوں کے اعتبار سے سرکاری یا نجی شعبوں میں سے کس میدان میں بھیجا جائے۔ مثال کے طور پر اگر کسی میں قائدانہ صلاحیتیں ہیں تو اس کو اس کے آبائی علاقے یا شہر کی جماعت کے حوالے کیا جائے اور اس کی اسی لحاظ سے تعمیروترقی کا عمل شروع کیا جائے۔ اس کا بھی ایک طریقہ طے کیا گیا کہ اس کے علاقے یا شہر کی جماعت کے ذمہ داروں کو اس کی اطلاع کی جائے اور جب وہ منتخب طالب علم فراغت کے بعد واپس جائے تو اس کا استقبال کیا جائے، مسجد جائے تو امامت کے لیے آگے کیا جائے، عید کی نماز کی امامت اسی سے کرائی جائے اور اگر مقامی سطح پر کوئی تنازع یا دو گروہوں میں جھگڑا ہو جائے تو کہا جائے کہ اس نئے تعلیم یافتہ یا گریجوایٹ سے فیصلہ کرایا جائے، الغرض ہر ایسا کام کرایا جائے، جس سے اس کی شخصیت محلے اور علاقے میں ایک دانا لیڈر کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے اور پھر اس کی ممکنہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے تشہیر بھی کی جائے۔ اسی طرح اگر کوئی طالب علم بہت ذہین اور اچھے نمبروں سے کامیاب ہوا ہے تو اس کے رجحان کے مطابق اسے اعلیٰ سروسز یا پیشہ ورانہ شعبے کے مقابلے کے امتحان کے لیے منتخب کیا جائے یا شعبۂ تدریس کے لیے بھی اس کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔

  • ایک اور فیصلے کے مطابق  مختلف شعبوں کے لیے منتخب کیے گئے افراد کی کامیابی اور اس سلسلے کے امتحانات کی تیاری کے لیے باقاعدہ ادارے اور انسٹی ٹیوٹ قائم کیے گئے اور ان کو الگ سے رجسٹر بھی کرایا گیا جن کا عملی سطح پر جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم نے ان اداروں کا معائنہ بھی کیا۔ عجیب بات تھی کہ یہا ں کی جماعت سے وابستہ افراد مالی لحاظ سے خستہ حالی کا شکار تھے اور وسائل کے لیے ترس رہےتھے۔ لیکن وہ نظریاتی طور پر نہایت مطمئن تھے اور ان کے زیرانتظام قائم جماعت کے سارے ادارے کامیابی کے ساتھ چل رہے تھے۔

پروفیسر غلام اعظم صاحب کہہ رہے تھے کہ: ’’ان فیصلوں اور ان پر کامیابی کے ساتھ عمل درآمد کا نتیجہ یہ ہے کہ جمعیت کے ۹۹ فی صد افراد اور کارکن نہ صرف تحریک اسلامی ہی میں شامل رہتے ہیں بلکہ اپنی پسند کے شعبوں میں جا کر اور اچھے عہدوں پر فائز ہو کر بھی اپنے کام کے ساتھ ساتھ تحریک اسلامی کا کام بھی زیادہ بہتر انداز میں انجام دیتے ہیں۔رضاے الٰہی کا حصول ہمیشہ ان کی نگاہ میں رہتا ہے‘‘۔

اس طریق کار پر عمل کے یہ ابتدائی سال تھے اور پروفیسر صاحب نے اس طرح مقابلے کے امتحانات اور دیگر شعبوں میں کامیاب ہونے والوں کے اعداد و شمار بتا کر ہم کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا اور میں ان نتائج اور جماعت کی خستہ مالی حالت کے باوجود سیاست سمیت ہر شعبے میں شان دار کامیابیاں دیکھ کر گہری سوچ میں پڑ گیا تھا کہ یہ وہی جماعت اسلامی ہے جو ابھی ۱۳سال پہلے تک جماعت اسلامی پاکستان کا دوسرا بازوتھی۔

یہ ہے وہ مختصر رُوداد اس ڈیڑھ دو گھنٹے کی ملاقات کی، جو میں نے برادرم ڈاکٹر نثار زبیری کے ساتھ اب سے کوئی ۳۴سال پہلے ڈھاکا میں جماعت اسلامی کے عظیم فکری رہنما پروفیسر غلام اعظم صاحب سے کی تھی۔