ڈاکٹر سمیہ بانو
|
اپریل ۲۰۰۸
|
اسلامی علمیت، اسلام کو درپیش چیلنجز، جہاد اور اسلامی تحریکیں، دعوت، عصری عالمی امور
دعوتِ دین اُمت مسلمہ کا فرضِ منصبی ہے (اٰل عمرٰن۳: ۱۱۰)۔ اس منصب کے کچھ بنیادی تقاضے ہیں۔ داعیِ حق کو دینی علوم، قرآن، تفسیر و حدیث، فقہ، عربی، ادب، لغت اور تاریخ اسلام پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگر داعی کی نظر موجودہ دنیا کے حالات پر نہ ہو تو وہ ہرگز ایک کامیاب داعی کی حیثیت سے اپنے فرضِ منصبی کو اداکرنے کے قابل نہیں ہوسکتا۔ داعی کو اس بات کا بھی پتا ہونا چاہیے کہ آج کی دنیا پر کن افکار کی حکمرانی ہے، کون سے رجحانات کارفرما ہیں، کن متضاد قوتوں کی باہمی آویزش ہے، کون سی تحریکات ہیں جو دنیاکے اندر کام کررہی ہیں۔
اس کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے انسانوں کے کیا مسائل ہیں، وہ کن مصائب و مشکلات میں مبتلا ہیں۔ خاص طور سے عالمِ اسلام جس کا دائرہ مراکش سے انڈونیشیا تک وسیع ہے، اس کے کیا مسائل ہیں۔ وہ کیا سرچشمے ہیں جو ہمارے لیے قوت کا سامان فراہم کرسکتے ہیں اور وہ کون سے راستے ہیں جہاں سے کمزوریوں کودر آنے کا موقع ملتاہے۔ امید افزا پہلوئوں پر بھی نظر رہے۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ لوگ کن رجحانات اور کس نقطۂ نظر کے حامل ہیں، تاکہ وہ یہ فیصلہ کرسکے کہ کس انداز سے ان کے سامنے اپنی بات رکھنی ہے۔ دعوت میں تدریج کی حکمت بھی پیش نظر رہنی چاہیے۔
اسلام دشمن طاقتیں دراصل بُغض و حسد کی آگ میں جل رہی ہیں۔ عالمِ اسلام اور اس کے وسائل پر ان کی للچائی ہوئی نظریں ہیں۔ اسلام کی قوت سے وہ خوف محسوس کرتی ہیں۔ وہ بے چین ہیں کہ کس طرح عالم اسلام پر اپنے پنجے گاڑیں۔ ہمیں جاننا چاہیے کہ عالم اسلام کے خلاف ان کی اس جنگ میں ان کے کیا وسائل ہیں، یعنی سیاسی، حربی، اقتصادی، اور سب سے بڑھ کر فکری یلغار، نیز عالمِ اسلام پر عیسائیت کی یلغار۔ افریقہ کے اندر اسلام اورعیسائیت کی کش مکش جاری ہے۔ سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا کو عیسائی مملکت میں تبدیل کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح عالمِ عرب کے مختلف خطوں کو عیسائی اکثریت میں تبدیل کرنے کی بھی سازش کی جارہی ہے۔ ان مقاصد کے حصول کی خاطر مشنریوں اور استعماری طاقتوں کا باہمی تعاون جہاں ہوتا ہے وہیں اسلام اور مختلف اسلامی علوم سے متعلق مستشرقین کا جارحانہ تصنیفی کام بھی ہے جن کا شیوہ ہی اسلام اور عالمِ اسلام پر حملے کرنا ہے۔ خفیہ اور زیرزمین کام کرنے والی تنظیمیں، ماسونیت اور اس کی مختلف شاخیں بھی اسلام کے خلاف برابر کام کر رہی ہیں۔
ہمیں ان کے مذاہب کی صورت حال پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ یہودیت، جس کے نمایندے تورات کے اصل نسخے کو داغ دار کررہے ہیں، صہیونی تحریک اور قیامِ اسرائیل اس کی ایک جھلک ہے۔ عیسائیت کے مختلف فرقے ہیں، ہر ایک کے لیے علیحدہ چرچ ہیں، ان کے درمیان کش مکش رہتی ہے، پھر آپس میں قریب ہونے کی کوشش بھی ہوتی ہے۔ یہودیت کے ساتھ ان کا گٹھ جوڑ vetican کا معاہدہ بھی ہے، جس کے تحت یہودیوں کو حضرت مسیحؑ کے خون سے بری قراردیا گیا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں اور عیسائیوں کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کی کوشش ہونی چاہیے جسے ’مسیحی اسلامی اتحاد‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی حقیقت اور قدروقیمت بھی جاننا چاہیے۔
ہندستان اور مشرق بعید کے ملکوں کے بڑے بڑے مذاہب، مثلاً ہندومت، اس کے عقائد، مسلمانوں کے تئیں ان کا رویہ اور برتائو اس کی بھی اہمیت جاننا چاہیے۔ بدھ مت کے ماننے والوں اور اس کے پیروئوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اشتراکیت، سوشلزم، جمہوریت، ڈکٹیٹرشپ کے متعلق بھی معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ مارکسی نظریۂ اشتراکیت کو سمجھنا چاہیے جسے ایشیا میں لینن اور اس کے جانشینوں نے عملی جامہ پہنایا، اور مائوزے تنگ نے چین میں اپنایا۔ ہمیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ ان تمام سیاسی ممالک کے تئیں اسلام کا نقطۂ نظر کیا ہے۔ ان نظریات کے ساتھ اسلام کا جوڑ لگانا بالکل غلط اور اسلام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
حالاتِ حاضرہ پر نظر رکھتے ہوئے ہم اپنے آپ کو پوری طرح تیار کرسکتے ہیں اور داعی کے جو فرائض ہیں، انھیں انجام دے سکتے ہیں۔ سونے کو پگھلا کر کندن کس طرح بنایا جاسکتا ہے، یہ ہنر ہم کو آسکتا ہے۔ دین کی طرف دعوت دینا اور اللہ کے راستے کی طرف اللہ کے بندوں کو بلانا انبیاے کرامؑ کا طریقۂ کار ہے۔ سب سے پہلے انبیاے کرام ہی نے اس کام کا بیڑا اٹھایا جو کہ علم کے ساتھ عمل کے پیکر اور صدق واخلاص کے کامل ترین نمونہ تھے۔ اسی دعوت کی بدولت لوگوں کو حق کی رہنمائی اور سچائی کا روشن راستہ ملتا رہا اور لوگ اندھیروں سے اُجالے میں آتے رہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے دعوتِ دین کو سب سے بھلی بات اور سب سے اُونچا مقام عطا کیا ہے:
وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ o (حم السجدہ ۴۱:۳۳) اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔
یہ بھی یقینی بات ہے کہ جب ہم دعوتِ حق کو لے کر اٹھیں گے تو اسے ٹھنڈے پیٹوں کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا، اس لیے کہ لوگوں کے ذہن و دماغ پر تعصبات کے پردے پڑے ہوئے ہیں، خواہشات نفس کے چنگل میں وہ پھنسے ہوئے ہیں، بے شمار شیطانی قوتیں ہیں جو ان کے ذہن کے دریچوں کو کھلنے نہیں دیتیں۔لہٰذا اس کارِ دعوت کو سنبھالنے کے لیے انتہائی مضبوط ہاتھ چاہییں جو اپنے اندر ہمہ گیر تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور جو درپیش چیلنجوں کا بھرپور جواب دے سکیں، جنھیں خود بھی کارِدعوت کی عظمت و اہمیت کا پورا احساس ہو، اس لیے کہ داعی کی حیثیت اصل قوتِ محرکہ کی ہوتی ہے۔ دراصل یہی وہ انجن ہے جس سے پورا کارواں متحرک ہوتا ہے اور یہی وہ پاور ہائوس ہے جو پوری بستی کو منور رکھتا ہے۔
تعلیم و تربیت کے میدان میں اصل اہمیت معلم و مربی کی ہے جو طالب علم کے اندر بے تابی کی روح پھونکتا ہے اور اس کی رگوں میں زندگی کا خون دوڑا دیتا ہے۔ جب معلم کی یہ اہمیت ہے تو داعی کی حیثیت دعوت و تبلیغ کے میدان میں اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ وہ جتنا خونِ جگر جلائے گا، اسی کے بقدر اس کے اپنے اردگرد روشنی نظر آئے گی۔ باطل کے خلاف اس جنگ میں ایک داعی کے لیے اگر کوئی اسلحہ ہے تو وہ ایمان کا اسلحہ ہے۔ ایمان کوئی ایسی معمولی چیز نہیں جس کا صرف دعویٰ کیا جائے۔ صرف زبانی جمع خرچ سے اس کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ صحیح معنوں میں ایمان صرف اسی وقت قرار پاتا ہے جب وہ انسان کے رگ و پے میں سرایت کرجائے اور اس کی عملی زندگی اس کی شہادت پیش کرنے لگے۔
داعی کے لیے اہم چیز حسنِ اخلاق ہے کہ وہ اخلاقِ عالیہ کا پیکر ہو اور یہ چیز اس کی فطرتِ ثانیہ بن چکی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضوؐر نے حسنِ اخلاق کو ایمان کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دیا ہے: ’’مسلمانوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں‘‘۔
دینی ثقافت کا دوسرا مآخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ یہ دراصل کتاب اللہ کی تشریح ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے رسولؐ اللہ سے خطاب کر کے فرمایا: وَاَنْزَلْنَـآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَo (النحل ۱۶:۴۴) ’’اور اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اُس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جائو جو اُن کے لیے اُتاری گئی ہے، اور تاکہ لوگ (خود بھی) غوروفکر کریں‘‘۔
یہاں ہم جسے سنت کہہ رہے ہیں اس میں رسولؐ اللہ کے قول، فعل، تقریر، نیز آپؐ کے عادات و اوصاف، سیرت و کردار تمام چیزیں شامل ہیں۔ اس طرح یہ سنت آپؐ کی پوری زندگی پر مشتمل ہے۔ دعوتِ دین کی راہ میں آپؐ کی جدوجہد اور قربانیوں کا ایک جامع ریکارڈ سنت ہے۔ جب تک داعی اس چشمۂ صافی سے سیراب نہیں ہوگا، وہ دوسروں کی تشنگی دُور نہیں کرسکتا۔
آخر میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ہم اسلام کی صداقت و حقانیت پر یقین کامل رکھیں، اسلام ہمارے رگ و ریشے میں اس طرح سرایت کرجائے کہ بادِ مخالف کا سخت جھونکا بھی اسے اپنے مقام سے نہ ہلاسکے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم جذبۂ اسلامی سے سرشار ہوں، ہمارا ذہن اسلامی ہو، ہمارے قلب و ضمیر میں ایمان کی چنگاریاں موجود ہوں، ہم اسلام کو اس طرح سینے سے لگائیں کہ دنیا کی ہرچیز کے مقابلے میں اسلام ہمیں عزیز تر ہو، اور ہمارا سینہ اس حقیقت کے لیے بالکل کھلا ہو کہ اسلام ہی سب سے بہتر نظامِ زندگی ہے جسے دنیا میں غالب کرنا ہر داعی کا فرض ہے۔