عبد الغفار عزیز


مقبوضہ فلسطین میں قائم صہیونی ریاست کا پرچم امن معاہدوں اور روڈمیپ کا پردہ چاک کرنے کے لیے کافی ہے۔ سفیدپرچم کے وسط میں چھ کونوں والا دائودی تارہ ایک مذہبی صہیونی ریاست کو ظاہر کرتا ہے اور اس کے اُوپر نیچے پرچم کے دونوں کناروں پر عمودی نیلی لکیریں اس صہیونی ریاست کی سرحدوں کا تعین کرتی ہیں۔ صہیونی کرنسی شیکل اور صہیونی پارلیمنٹ کنیسٹ کی پیشانی پر کندہ الفاظ ان سرحدوں کا زیادہ واضح اظہار کرتے ہیں: ’’تیری سرحدیں اے اسرائیل از فرات تا نیل‘‘۔ گویا پرچم کی دو لکیروں میں سے ایک دریاے نیل ہے اور دوسری دریاے فرات۔

نام نہاد عظیم تر اسرائیل کی سرحدیں اب کوئی راز نہیں۔ سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ۱۹۶۹ء میں سانحہ اقصیٰ پر خطاب کرتے ہوئے اس نقشے اور منصوبے کا ذکر ان الفاظ میں کیا تھا:

اس منصوبے کی جو تفصیل صہیونی تحریک کے شائع کردہ نقشے میں دی گئی ہے اس کی رو سے اسرائیل جن علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ان میں دریاے نیل تک مصر‘ پورا اُردن‘ پورا شام‘ پورا لبنان‘ عراق کا بڑا حصہ‘ ترکی کا جنوبی علاقہ اور جگر تھام کر سنیے کہ مدینہ منورہ تک حجاز کا پورا بالائی علاقہ شامل ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ہونے والے تمام اہم واقعات اسی صہیونی منصوبے کی تکمیل کا ایک حصہ ہیں۔ لایعنی امن مذاکرات اور سراب معاہدے اسی سفرکو مزید محفوظ بنانے کی عملی تدابیر ہیں۔ پہلی تحریک انتفاضہ کو کچلنے میں ناکامی ہوئی تو عراق کویت جنگ کے بعد یاسر عرفات سے اوسلو معاہدہ کیاگیا۔ اسے فلسطینی ریاست کا صدر بنانے کا خواب دکھاتے ہوئے اس کے وزیرداخلہ محمد دحلان کے ذریعے ہزاروں فلسطینیوں کو گرفتار‘ زخمی اور شہیدکروایا گیا۔ پھر جب اس معاہدے کے اصل اہداف میں سے ایک اور ہدف حاصل کرنے کی کوشش میں آرییل شارون مسجداقصیٰ میں جا گھسا تو تحریک انتفاضہ کا دوسرا دور شروع ہوگیا۔ نتن یاہو‘ ایہودباراک اور سو دن کے اندر اندر انتفاضہ کو کچل دینے کا اعلا ن کرنے والے شارون سمیت کسی سے شہادتوں کا سفر روکا نہ جاسکا۔

اب تیسری خلیجی جنگ کے بعد فلسطینیوں ہی کے ہاتھوں آزادی کی اس جدوجہد کو کچلنے کی نئی کوشش کی جارہی ہے۔ اعلان یہ کیا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو علیحدہ آزاد ریاست دے دی جائے گی‘ اور تین مرحلوں میں ۲۰۰۵ء تک پورے روڈمیپ پر عمل کرلیا جائے گا۔ ہر مرحلے میں تاریخوں کے تعین کے ساتھ مخصوص ہدف حاصل کیے جائیں گے‘ لیکن سب سے اہم اور بنیادی ہدف‘ معاہدے کے نام ہی میں واضح کر دیا گیا ہے۔ معاہدے کا نام ہے: A performance based road map to a permanent two state solution to the Israeli-Palestinian conflict ’’اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حل کے لیے دو مستقل مملکتوں کے قیام کے لیے‘ کارکردگی پر مبنی‘ روڈمیپ‘‘۔ اس کے دو پہلو نمایاں ہیں: تنازعے کا حل اور اس کا کارکردگی پر مبنی ہونا۔ تنازعے کا صہیونی حل تو پوری دنیا کو معلوم ہے کہ فلسطینیوں کا زن بچہ کولہو میں پیس دیا جائے گا۔ اب اس حل میں اضافہ یہ ہوگیا ہے کہ یہ کارکردگی فلسطینیوں ہی کو دکھانا ہوگی۔ اس بات کا اعادہ ہر مرحلے میں نمایاں طور پر کیا گیا ہے۔ مقدمے میں لکھا گیا کہ یہ ’’حل تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے کے ذریعے صرف اس صورت میں حاصل ہوگا جب فلسطینی عوام کو ایسی قیادت ملے جو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے اور رواداری پر مبنی جمہوریت کے قیام کی خواہش اور اہلیت رکھتی ہو‘‘۔ یاسرعرفات امن کا نوبل انعام پانے کے باوجود یہ اہلیت ثابت نہیں کر سکے تو راستے کا آغاز ہی اسے ہٹانے اور بہائی مذہب کے ایک سپوت مرزا محمود عباس (ابومازن) کو قائد بنانے سے کیا گیا۔

پہلے مرحلے میں ۲۱ نکات پر مشتمل نقشۂ کار ہے۔ دیگ کے ایک دانے سے ہی اس کی حقیقت کھل جاتی ہے: ’’فلسطینی قیادت غیرمبہم اور بالکل واضح بیان جاری کرے گی جس میں اسرائیل کے امن و سلامتی سے زندہ رہنے کے حق کا اعادہ کیا جائے گا۔ (بھول جائیے کہ اسرائیل کبھی فلسطین تھا) اور اسرائیلیوں کے خلاف ہرجگہ فوری اور غیرمشروط جنگ بندی اور مسلح سرگرمیوں اور تشدد کے تمام اقدامات کے خاتمے کا اعلان کیا جائے گا۔ فلسطین کے تمام سرکاری ادارے اسرائیل کے خلاف ترغیب اور اُکسانے کا سلسلہ ختم کر دیںگے۔ فلسطینی اسرائیلیوں کے خلاف کہیں بھی تشدد اور حملوں یا ان کی منصوبہ بندی کرنے والے افراد اور گروپوں کو گرفتار کرنے اور ان کی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے واضح اور موثر کوشش کریں گے‘ دہشت گردی میں ملوث تمام لوگوں اور گروپوں کے خلاف مسلسل متعین اور موثراقدامات کا آغاز کریں گے اور دہشت گرد تنظیموں کا قلع قمع کریں گے‘‘۔

۲۱ نکات پر مشتمل اس نقشۂ کار میں ’’اسرائیل‘‘ کے ذمے کاموں کا ذکر کرتے ہوئے سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ ’’جب سیکورٹی کے شعبے میں جامع کارکردگی میں پیش رفت ہوگی (فلسطینیوں کے ذمے اصل کام کا ایک بار پھر اعادہ) تو اسرائیلی دفاعی فورسز بتدریج وہ علاقے خالی کر دیں گی جن پر انھوں نے ۲۸ ستمبر ۲۰۰۰ء کو یا اس کے بعد قبضہ کر لیا تھا‘‘۔ گویا کہ نصف صدی سے قبلۂ اول اور پوری سرزمین اقصیٰ پر قبضہ توعین حق ہے۔ ستمبر۲۰۰۰ء میں شارون کے مسجداقصیٰ میں جاگھسنے اور دوسری تحریک انتفاضہ شروع ہونے پر جن فلسطینی مہاجرکیمپوں اور جنین جیسی پناہ گزیں بستیوں پر صہیونی فوجوں نے چڑھائی کی تھی وہاں سے انھیں نکال لیا جائے گا۔

دوسرا مرحلہ جو تاریخوں کے اعتبار سے اب عملاً شروع ہو جانا چاہیے‘ نام نہاد خودمختاری کی حامل فلسطینی ریاست کے اعلان کرنے کا مرحلہ ہے۔ اسے دسمبر ۲۰۰۳ء تک پورا ہو جانا ہے۔ اس میں فلسطینی ریاست کا اعلان تو کر دیا جائے گا لیکن اس کی سرحدیں ’’وقتی اور عارضی‘‘ ہوں گی۔ اس موہوم اعلان ریاست میں بھی اصل ہدف وہی رہے گا کہ ’’سلامتی کے شعبے میں مسلسل عمدہ کارکردگی اور موثر سیکورٹی تعاون‘‘ اور یہ کہ’’ یہ مقصد اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب فلسطینی عوام کی قیادت ایسے افرادکے ہاتھ میں ہو جو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں گے‘‘۔

۰۵-۲۰۰۴ء میں تیسرے مرحلے میں بھی فلسطینی انتظامیہ کے کردار پر زور دیا گیا ہے۔ لکھا ہے: ’’تیسرے مرحلے کے مقاصد میں فلسطینی اداروں میں اصلاح‘ ان کے استحکام اور فلسطین سیکورٹی اداروں کی مسلسل موثر کارکردگی کے علاوہ یہ بات شامل ہوگی کہ اسرائیلی اورفلسطینی ۲۰۰۵ء میں مستقل حیثیت کے سمجھوتے کے متعلق مذاکرات کریں گے‘‘۔

فلسطینیوںکے ذریعے فلسطینیوں کو کچلنے کی مسلسل و موثر کارکردگی کے نتیجے میں صہیونی ریاست ان علاقوں سے اپنا قبضہ ختم کر دے گی جن پر ۱۹۶۷ء میں قابض ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ ۱۹۴۸ء اور پھر ۱۹۶۷ء میں فلسطین کے ۸۰ فی صد علاقے پر صہیونی قبضہ ہوگیا تھا۔ اب مغربی کنارے اور غزہ کے جن علاقوںمیں فلسطینی ریاست کے قیام کا خواب دکھایاجا رہا ہے‘ اسے بھی یوں چیرپھاڑدیا گیا کہ وسیع ترصہیونی ریاست کے اندر ان علاقوں کی حیثیت محصور چھائونیوں سے زیادہ نہ ہو۔ کئی سال سے ایک صہیونی منصوبہ پوری یکسوئی سے جاری ہے کہ فلسطینی جانبازوں کے حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے ان کے اور اپنے درمیان بلند‘ آہنی اور جدید آلات حرب و جاسوسی سے لیس دیوار کھینچ دی جائے۔ یہ آہنی دیوار فلسطینی آبادیوں کے گرد اس طور گھومتی ہے کہ ۳۵۰ کلومیٹر کی اصل مسافت بڑھ کر ایک ہزار کلومیٹر ہوگئی ہے۔ اس ایک ہزار کلومیٹر لمبی دیوار کی تعمیر پر ۲ ارب ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں‘ یعنی ہر ایک کلومیٹر پر ۲۰ لاکھ ڈالر۔

ابومازن کے ذریعے کیے جانے والے اقدامات کی رفتار اوسلو معاہدے کی نسبت تیز ترہے۔ تب پورے عمل کو ۱۰ سال پر پھیلا دیا گیا تھا‘ اب اڑھائی سال میں پورا کرنے پر زور ہے۔ تب مسجداقصیٰ میں جا گھسنے کی بات معاہدے کے سات سال بعد کی گئی تھی‘ اب سات ہفتے بھی نہیں گزرے کہ صہیونی سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کر دیا ہے کہ حرم اقصیٰ کسی مخصوص مذہب کی اجارہ داری نہیں۔ یہودیوں کو بھی وہاں جانے کی مکمل آزادی ہے۔

اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج حماس کے رہنمائوں کو ہدف بناکر قتل کرنے کی پالیسی پر ببانگ دہل عمل پیرا ہے جس میں اسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ دوسری طرف مجاہدین کی شہادت طلب کارروائیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جن کے جنازوں میں ہزاروں فلسطینی ایمان افروز نعروں کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔

حماس الجہاد اور خود الفتح کے کئی شہادت طلب حملوں نے روڈمیپ کے سرپرستوں کو حقیقت کی ایک جھلک دکھا دی ہے۔ صہیونی ٹی وی چینل ’’۱‘‘ کے مراسلہ نگار ایٹان ریبورٹ نے شہادت طلب کارروائی کے بعد یہودی بستیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’’اس علاقے میں حماس نے کرفیو لگا رکھا ہے۔ لوگ اپنے گھروں سے نکلتے ڈرتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ یہاں ہر طرف خوف کا راج ہے‘‘۔ یہودی بستی کی ایک رہایشی فلونیٹ نے اپنے ٹی وی کو بتایا: ’’میں نے اور میرے شوہر نے ایک بار پھر پبلک ٹرانسپورٹ استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا دفتر یہاں سے آٹھ کلومیٹر کی مسافت پر ہے‘ ہم دونوں یہ فاصلہ پیدل طے کرتے ہیں۔ یہ بہت مشکل کام ہے لیکن اس سے بھی مشکل بات یہ ہے کہ بندہ اپنے دفتر جانے کی کوشش میں موت کی وادی میں جااُترے‘‘۔ صہیونی ملٹری انٹیلی جنس کے شعبۂ ریسرچ کے سابق سربراہ جنرل دانی روچیلڈ نے عبرانی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری تمام تر فوجی کارروائیوں اور حملوں کے باوجود حماس کا شہادت طلب کارروائیوں میں کامیاب ہو جانا‘ مایوسی اور تشویش میں اضافے کا باعث ہے۔ اس صورت حال پر مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے اداروں کے تمام دعوے مبالغہ آمیز بلکہ مجرد خیال ہیں‘‘۔

خود وزیر امن تساحی ہنجبی نے کہا کہ ’’میں ہر لمحے فلسطینی فدائی کارروائیوں کی خبر سننے کے لیے خود کو تیار رکھتا ہوں‘‘۔ وزیرموصوف نے کہا کہ ہمارے ایک اجلاس میں ایک اعلیٰ افسر نے ہمیں بتایا کہ ’’یہ توقع کہ کل فدائی کارروائی ہوگی اتنی ہی یقینی ہے جتنی یہ کہ کل سورج طلوع ہوگا‘‘۔ وزیر موصوف نے دعویٰ کیا کہ اب بھی ہم ۹۵ فی صد کارروائیوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ روزنامہ معاریف لکھتا ہے: ’’وہ جب بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کو کچلنے کی بات کرتے ہیں‘ ثابت یہ ہوتا ہے کہ ان دعووں کی زمینی حقیقت کچھ بھی نہیں ہوتی۔ ہم نے اب تک ہر طریقہ آزمالیا۔ ہم نے مغربی کنارے اور غزہ سمیت تمام علاقے اپنے کنٹرول میں لے لیے لیکن بے فائدہ۔

ستمبر ۲۰۰۰ء سے شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ کے دوران ۱۱۹ شہادت طلب کارروائیاں ہوئیں۔ ۷۸ کارروائیاں ناکام رہیں جن میں سے ۳۰ کارروائیاں فلسطینی خواتین کرنا چاہتی تھیں‘ جب کہ پانچ خواتین اپنے مشن میں کامیاب رہیں۔ (صہیونی اخبار یدیعوت احرونوت‘ ۲۳ مئی ۲۰۰۳ئ)

گھنی فلسطینی آبادی کے علاقے خالی کرنا ان کی دفاعی ضرورت ہے۔ خود شارون کے سابق وزیردفاع جنرل بنیامین بن ایعازر نے حماس کی کارروائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’’ہمیں ان بہت سے مسلمہ حقائق سے دست بردار ہونا پڑے گا جن سے ہم ماضی میں سختی سے چپکے ہوئے تھے۔ ہم سڑکوں‘ کلبوں اور چائے خانوں میں اپنے شہریوں کا قتلِ عام صرف اس صورت روک سکتے ہیں کہ ہم فلسطینیوں کے علاقے سے نکل آئیں اور ان کی ایسی حکومت منظور کرلیں جو مغربی کنارے اور غزہ میں اقتدار سنبھال لے۔ فلسطینیوں کا سامنا کرنے کے لیے فوجی حل کی بات اب بھی کی جا سکتی ہے لیکن ہمارے تمام انتظامات کے باوجود حماس کی کارروائیاں اس امر کی دلیل ہیں کہ فلسطینی عوام کے جذبۂ مزاحمت کا فوجی علاج حقیقت پسندانہ نہیں ہے‘ اور جو اب بھی اس پر  مصرہے وہ خود کو دھوکا دیتا ہے‘‘۔ (الامان‘ لبنان۶/۶)

ایک طرف تو یہ حقائق ہیں‘ فلسطینی عوام کے جذبۂ شہادت سے صہیونی درندے شکست خوردہ ہیں لیکن دوسری طرف مسلم حکمران روڈمیپ کے تیسرے مرحلے کے ان نکات پر عمل کرنے کے لیے بے تاب ہیں جن کا حکم انھیں دیا گیا ہے۔ وہاں لکھا ہے: ’’عرب ریاستیں اسرائیل کے ساتھ معمول کے مکمل تعلقات کا قیام تسلیم کریں گی‘‘۔ مصرکے شہر شرم الشیخ اور اُردن کے شہر عقبہ میں صدربش کی زیرسرپرستی ہونے والے سربراہی اجلاسوں میں محمود عباس کی تقریب رونمائی کی گئی اور کھلے لفظوں میں فلسطینی جانبازوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔

روڈمیپ بظاہر چند فی صد فلسطینی علاقے خالی کرنے کا اعلان ہے لیکن حقیقت میں فلسطینی مزاحمت کو کچلتے ہوئے مزید توسیعی منصوبوں کا نقطۂ آغاز ہے۔ روڈمیپ کے چند روز بعد ہی صہیونی وزیر سیاحت بنی ایلون نے اعلان کیا کہ دریاے اُردن کے مشرقی کنارے (یعنی کہ اُردن میں) فلسطینیوں کے لیے متبادل وطن تشکیل دیا جائے۔ اگر بنی ایلون کا اعلان کردہ یہ سات نکاتی منصوبہ تکمیل کی جانب بڑھتا ہے تو یہ عظیم تر اسرائیلی ریاست کی جانب اگلا جارحانہ اقدام ہوگا۔

’’دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘ لیکن عراق میں امریکہ کی فتح سے ہمارے لیے ایک نئی روشن صبح طلوع ہوئی ہے جس کے بعد دنیا کبھی دوبارہ اس طرح کی نہیں ہوسکتی جس طرح اس جنگ سے پہلے تھی۔ اسرائیل اس نئی اور بہتر دنیا کا ایک فعال ملک ہوگا‘‘--- یہ الفاظ ہیں صہیونی دانش ور موشیہ ایرنز کے جو بڑے صہیونی روزنامہ ہآرٹس میں ۱۵اپریل ۲۰۰۳ء کو شائع ہوئے۔

وہ مزید لکھتا ہے: ’’اسرائیل کے لیے امریکہ کی جیت ایک بڑی خوش خبری ہے کیونکہ عالم عرب میں اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن ‘ جس نے اسے کیمیائی اسلحے کی دھمکی دی اور ۱۹۹۱ء کی جنگ میں اس پر میزائل چلائے‘ شکست کھا گیا۔ اس کی شکست کے بعد عراق اسرائیل کے ساتھ صلح کے لیے واضح اور نمایاں قدم اٹھائے گا‘‘۔ یہ صرف موشیہ ایرنز ہی نہیں خود امریکی و صہیونی ذمہ داران آئے روز طرح طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ شارون کہتا ہے: ’’اب ایک سنہری موقع ہاتھ لگا ہے اور میں اسے کسی صورت ضائع نہیں ہونے دوں گا‘‘۔

امریکی وزیرخارجہ کولن پاول نے اپنے صہیونی ہم منصب سلفان شالوم سے ملاقات کے دوران کہا: ’’ہماری کامیابی پورے خطے میں دہشت گرد اور شدت پسند طاقتوں کے خاتمے کا آغاز ہے‘ اور آپ بہت جلد‘ مختلف ممالک اور تنظیموں کی پالیسیوں سے اس کے آثار واضح طور پر دیکھ لیں گے‘‘۔ شارون نے اس موقع پر امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’’شام کی حکومت پرشدید ترین دبائو ڈالے تاکہ وہ شام میں موجود فلسطینی تنظیموں کا خاتمہ کر دے اور ایران سے اپنے تعلقات منقطع کر لے (صہیونی روزنامہ یدیعوت احرونوت‘ ۱۵ اپریل ۲۰۰۳ئ)۔ سابق روسی وزیراعظم پریماکوف نے اپنے ایک انٹرویو میں صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا: ’’شارون اور اس کا احاطہ کیے ہوئے لوگ امریکہ کو بہرصورت شام کے مقابل لانا چاہتے ہیں کیونکہ شام پر حملہ درحقیقت انھی لوگوں کی جنگ ہے جو عسکری ذرائع سے مسئلے کا حل چاہتے ہیں‘‘۔ (الشرق الاوسط‘ ۱۶ اپریل ۲۰۰۳ئ)

اس ضمن میں اب تک شام پر مختلف الزامات لگائے جا چکے ہیں۔ اس کے پاس تباہ کن ہتھیاروں کے بارے میں امریکی ذمہ داران اپنے عراق والے بیانات متعدد بار دہرا چکے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ: ’’ہمارے پاس اس بارے میں ثبوت ہیں‘‘۔ ’’شام نے یورپی ممالک سے اپنے نام پر عراق کے لیے ہتھیار خریدے‘‘۔ ان ہتھیاروں میں رات کے وقت دیکھ سکنے والی خطرناک دوربینیں بھی شامل ہیں۔ پھر کہا گیا کہ ’’دورانِ جنگ شام سے مجاہدین اور شامی فوجی عراق بھیجے‘‘۔ اب کہا جا رہا ہے: ’’عراق سے سائنس دان اور دیگر عراقی ذمہ داران شام میں پناہ لیے ہوئے ہیں‘‘۔ وائٹ ہائو س کے ترجمان ایری فلیشر نے تو ہر گردن میں پورا آجانے والا پھندا پھینک دیا ہے کہ ’’شام دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا ہے‘‘۔ یہی بات صہیونی تجزیہ نگار زائیف شیف لکھتا ہے: ’’شام حزب اللہ کے ساتھ مل کر عراق کو امریکی فوجیوں کے لیے لبنان بنانا چاہتا ہے‘‘۔ امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ آرمٹیچ کا کہنا ہے: ’’حزب اللہ القاعدہ سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہے‘‘۔

۱۸ اپریل ۲۰۰۳ء کا صہیونی روزنامہ ہآرٹس لکھتا ہے: ’’لگتا ہے کہ اس بار امریکی کانگریس زیادہ موثر کردار ادا کرے گی۔ وہ اپنی وزارت خارجہ کے اس فیصلے کے انتظار میں نہیں رہے گی کہ وہ شام کو باقاعدہ برائی کا محور قرار دے۔ عراق میں جو کچھ ہوچکا ہے اور شام و عراق کے مابین جو تعاون سامنے آچکا ہے‘ اس کے بعد بشارالاسد کے ساتھ کسی اور زبان میں ہی بات کرنا ہوگی۔ اب یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا کہ دمشق میں بیٹھے فلسطینی جہادی لیڈر اسرائیلی شہروں میں بسیں اُڑانے کے احکام جاری کرتے رہیں اور دمشق و حلب محفوظ رہیں‘‘۔ مزید لکھتا ہے: ’’اس وقت دنیا میں کسی اور ملک کے پاس اتنا قابلِ استعمال کیمیائی اسلحہ نہیں ہے جتنا شامیوں کے پاس ہے‘‘۔ البتہ صہیونی تجزیہ نگار نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کیا یہ کیمیائی اسلحہ (اگر ہے تو) اسرائیل کے پاس موجود ۱۹قسم کے مہلک کیمیائی و حیاتیاتی اسلحے سے بھی زیادہ ہے‘ خود امریکہ کے اسلحے سے بھی زیادہ ہے کہ جس کا دفاعی بجٹ اب ۴۲۲ ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو دنیا بھر کے تمام ممالک کے مجموعی دفاعی بجٹ سے متجاوز ہے۔ واضح رہے کہ روس کا دفاعی بجٹ ۶۵ارب ڈالر‘ چین کا ۴۷ ارب ڈالر‘ جاپان کا ۳.۴۰ ارب ڈالر‘ برطانیہ کا ۴.۳۵ ارب ڈالر‘فرانس کا ۶.۳۳ ارب ڈالر اور جرمنی کا ۵.۲۷ ارب ڈالر سالانہ ہے۔

ایک طرف تو شام کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے دوسری طرف خود فلسطینی محاذ پر ایک خاموش انقلاب برپا کر دیا گیا ہے۔ ۲۰۰۲ء کے اختتام پر بش (خورد) نے اعلان کیا تھا کہ فلسطینیوں کو نئی قیادت منتخب کرنا ہوگی‘ حالیہ قیادت سے مزید کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی۔ یاسرعرفات نے ایک آدھ بار یہ کہا کہ جیسے ہی انتخابات کے لیے مناسب حالات پیدا ہوئے انتخابات کروا کے نئی فلسطینی قیادت چن لی جائے گی‘ لیکن آخرکار ۸ مارچ کو دستور میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک نیا عہدہ تراش لیا گیا۔ محمود عباس (ابومازن) کو فلسطینی اتھارٹی کا وزیراعظم چن لیا گیا۔ محمود عباس صہیونی و امریکی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں دونوں کے اعتماد پر پورے اُترے تھے۔ اوسلو معاہدے کے پیچھے اصل کردار ابومازن ہی کا تھا۔ اسے وزیراعظم بنوانے کا اصل مقصد یاسرعرفات کو نمایشی صدر بنا کر اس کے تمام اختیارات سلب کرلینا ہے۔ صہیونی تجزیہ نگار ایلیکس فش مین یدیعوت احرونوت میں لکھتا ہے: ’’فلسطینیوں کے حملے اور شدت پسندی روکنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یاسرعرفات اور اس کے قریبی ساتھی ہیں۔ یہ لوگ مسلح جدوجہد جاری رکھنا چاہتے ہیں‘‘۔ (۱۸ اپریل ۲۰۰۳ئ)

ساری دنیا کو یاد ہے کہ ۱۹۸۷ء میں پہلی تحریک انتفاضہ شروع ہوئی تو اسے کچلنے کے لیے یاسرعرفات کے ذریعے فلسطینی اتھارٹی تشکیل دی گئی اور ۱۹۹۳ء میں اوسلو معاہدے کے ذریعے فلسطین کے اڑھائی فی صد رقبے میں فلسطینی ریاست اور باقی ساڑھے ستانوے فی صد سرزمین پر اسرائیلی ریاست بنانے کا اعلان کیا گیا۔ یاسرعرفات کو عالمِ اسلام کے تمام حکمرانوں کے سامنے مثالی لیڈر کے طور پر پیش کیا گیا۔ یاسرعرفات نے امریکی اور صہیونی امداد سے متعدد سیکورٹی فورسز تشکیل دیں اور ہر آزادی پسند لیڈر اور مجاہد کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ غزہ میں مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا جواخانہ اور علاقے کی بڑی زیرزمین جیل تعمیر کی گئی۔ قومی سلامتی کی ذمہ داری محمد دحلان نامی ایک شخص کو سونپی گئی جس نے اپنے فلسطینی بھائی بندوں کو ٹھکانے لگانا شروع کر دیا۔ لیکن پھر حالات نے پلٹا کھایا‘ ۱۹۹۹ء کے اختتام پر تحریکِ انتفاضہ کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ شہادتوں کی نئی تاریخ رقم کی جانے لگی۔ شارون نے بھی بہیمیت کی انتہا کر دی۔ جنین اور دیگر فلسطینی علاقوں کو ٹینکوں سے روندا جانے لگا‘ میزائل برسنے لگے لیکن شہادتی کارروائیوں کو نہ روکا جا سکا۔ یاسرعرفات کو بھی اس کے ہیڈکوارٹر میں محصور ہونا پڑا۔ گولہ باری کا نشانہ بننا پڑا‘ اور اب اسے امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

محمود عباس کی سب سے بڑی خوبی یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ فلسطینی تحریک پر سے عسکری چھاپ ختم کرنا چاہتا ہے۔ وہ فلسطینیوں کی عسکری اور شہادتی کارروائیاں ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یدیعوت احرونوت لکھتا ہے: ’’ابومازن کی کابینہ یاسرعرفات کی کابینہ سے یکسر مختلف اور فلسطینی تاریخ کا ایک حقیقی اہم موڑ ہے۔ اس میں پیشہ ور‘ صاحب اختصاص‘ صاف ستھری شخصیتیں شامل ہیں۔ اس میں شامل سب سے نمایاں شخصیت وزیرداخلہ محمد دحلان کی ہے جس نے حماس کی قیادت کو ابھی سے یہ باور کروا دیا ہے کہ اگراس نے نئی قیادت کے احکام نہ مانے تو وہ ان سے اسی طرح نمٹے گا جیسے ۱۹۹۶ء میں نمٹا تھا۔ دحلان ایسے پیغامات دے کر ان تنظیموں سے عملاً تصادم چاہتا ہے تاکہ انھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سبق سکھا دے۔ اس ہفتے ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جو اسرائیل کے لیے بڑی نیک فالی ہے۔ فلسطینی انتظامیہ نے سامرہ کے علاقے میں ایک اہم جہادی لیڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگرچہ ابھی پٹرول دریافت نہیں ہوا لیکن اس کی موجودگی کے بڑے قوی امکانات و آثار ہیں‘‘۔ (۱۸ اپریل۲۰۰۳ئ)

واضح رہے کہ ابومازن نے اپنی کابینہ کے لیے جو نام پیش کیے ہیں ان میں سات افراد ایسے تھے جو یاسر عرفات سے کھلم کھلا بغاوت کرچکے ہیں۔ محمددحلان بھی ان میں سے ایک ہے جسے یاسرعرفات نے بڑی رشوت کھانے اور قومی مفادات سے غداری کے الزام میں نکال دیا تھا۔ اب اسی کا نام وزیرداخلہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ پہلے اسی کو وزیراعظم کے لیے لائے جانے کی افواہیں بھی تھیں۔ یاسرعرفات نے وزارتِ داخلہ کے لیے دحلان کا نام یکسر مسترد کر دیا ہے‘ لیکن صہیونی مشیرابومازن کو مشورہ دے رہے ہیں کہ تم وزارت داخلہ کا عہدہ اپنے پاس ہی رکھنے کا اعلان کر دو اور دحلان کو وزیرمملکت بنا کر وزارتِ داخلہ عملاً اس کے سپرد کر دو۔

صہیونی منصوبہ یہ ہے کہ عراق پر امریکی تسلط‘ شام و ایران کے خلاف بلند بانگ دھمکیوں اور دنیا بھر پر امریکی جنگی مشنری کی دھاک کو مستحکم کرنے کی کوششوں کے دوران ہی فلسطینی مسئلے سے چھٹکارا پا لیا جائے۔ اسی موقع پر بڑی تعداد میں فلسطینیوںکو عراق واُردن میں بسانے کے منصوبے بھی سامنے لائے جا رہے ہیں ۔ بش عنقریب ایک روڈمیپ کا اعلان کرنے والے ہیں۔ اس کا مسودہ کہیں سامنے نہیں آیا لیکن شارون نے اعلان کر دیا ہے کہ ہمیں اس پر ۱۴اعتراضات ہیں ۔ سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس میں ملک بدر لاکھوں فلسطینیوں کے حق واپسی پر بھی بات کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس کے بقول یہ ایک ایسا سرخ خط ہے جسے پار کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔

صہیونی وزیرخارجہ شالوم کے الفاظ ہیں: ’’ہم یہ اطمینان چاہتے ہیں کہ فلسطینیوں کی واپسی کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے۔ روڈمیپ میں اس بات کا اشارہ بھی نہیں ہونا چاہیے‘‘۔ تل ابیب میں امریکی سفیر ڈینیل کیرٹزر نے فوراً ہی صہیونی حکمرانوں کے در پہ حاضری دیتے ہوئے انھیں تسلی دلائی اور کہا کہ ’’روڈ میپ اصل حل نہیں ہے یہ تو صرف مذاکرات شروع کرنے کا ایک بہانہ ہے‘‘۔ اسی دوران امریکی کانگریس کے ۲۳۵ اور امریکی سینیٹ کے ۷۰ ارکان نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’’حکومت امریکہ کو شارون حکومت کے ساتھ کوئی تصادم مول نہیں لینا چاہیے‘‘۔ اسی مضمون کے کئی خطوط بش کی مشیرہ براے قومی سلامتی کونڈالیزا رائس کو متعدد صہیونی تنظیموں کی طرف سے موصول ہوئے۔ (صہیونی روزنامہ معاریف)

سابق امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے کہا تھا: ’’القدس جانے کا راستہ بغداد سے گزرتا ہے‘‘۔ کیا اس کی بات اس معروف صہیونی ماٹو کی طرف اشارہ تھا کہ ’’اے اسرائیل تیری سرحدیں فرات سے نیل تک ہیں‘‘ (حدودک یا اسرائیل من الفرات الی النیل)‘ یا اس نے پہلے صہیونی وزیراعظم بن گوریون کے اس جملے کو عراق پر منطبق کرنے کی کوشش کی تھی جس میں اس نے کہا تھا کہ ’’اسرائیل کی سلامتی صرف اس بات میں مضمر نہیں ہے کہ اس کے پاس ایٹمی اسلحہ ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر اس ایٹمی طاقت کو تباہ کر دیا جائے جو اس میدان میں اسرائیل کے مقابل ہو اور اس کے وجود اور علاقائی مفادات کو خطرے میں ڈالتی ہو‘‘۔ کسنجرکا یہ معروف جملہ آج کے حالات پر بھی پوری طرح درست بیٹھتا ہے۔

سقوطِ بغداد کے بعد اب القدس کی تحریک آزادی کو ختم کرنے کی سعی کی جا رہی ہے۔ عالمِ اسلام اس صہیونی امریکی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ تو کیا اس میں شرکت کے لیے بے تاب دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ خود صہیونی نقشہ نویس اپنے اس نقشۂ کار کے متعلق شکوک کا شکار ہیں۔ ایلیکس فش مین لکھتا ہے: ’’اس پورے معاملے میں اصل خطرہ یہ ہے کہ ابومازن یاسرعرفات کی جگہ تو لے لے لیکن وہ سیاسی اور امن و امان سے متعلقہ مقاصد حاصل نہ ہوں جو اسرائیل چاہتا ہے‘ دہشت گردی جاری رہے۔ اس صورت میں کیا ہوگا‘ کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہماری پوری کی پوری پالیسی ہی غلط تھی‘‘ (یدیعوت احرونوت‘ ۱۸ اپریل ۲۰۰۳ئ)۔ لیکن پاکستانی وزیرخارجہ کا بیان ملاحظہ فرمایئے: ’’عراق کے بعد فلسطین اور پھر کشمیر کامسئلہ حل ہوگا‘‘، یعنی ہم نہ صرف سقوطِ بغداد اور فلسطین کا کانٹا نکل جانے کے لیے بھی ذہناً تیار بیٹھے ہیں بلکہ اس کے بعد مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی امریکہ ہی کی طرف نظریں اٹھاتے ہیں۔

یہ بات پتھر پہ لکیر ہے کہ فلسطین کے سربراہ موعود ابومازن کا انجام عبرت ناک ہوگا۔ اپنے مجاہدین اور اپنی قوم کے بجائے دشمن کے کام آنے والا ہر بدقسمت عبرت کا نشان ضرور بنتا ہے‘ لیکن کیا پاکستان‘ اہل پاکستان‘ اور کارپردازانِ پاکستان کے لیے بھی اس میں کوئی پیغام‘ کوئی سبق ہے!

کربلا پھر خون خون ہے۔ ہلاکو پھر کشتوں کے پشتے لگانے کے درپے ہے۔امریکہ نے قانون‘ اخلاق‘ انسانیت ہر چیز کو وحشی درندے کی طرح روند ڈالا ہے۔ برائی کا محور‘ القاعدہ سے تعلق ‘ عام تباہی پھیلانے کے ہتھیار‘ اسلحہ انسپکٹروں کے کام میں رکاوٹ جیسے تمام الزامات عالمی برادری کی حمایت دلانے میں ناکام رہے تو امریکی بھیڑیے کا پانی اُوپر کی طرف بہ نکلا۔

متعدد امریکی دانش وروں نے سعودی عرب میں سابق امریکی سفیرجیمز آکنز کی یہ بات نقل کی ہے کہ جارج واکربش کی یہ جارحیت ۱۹۷۵ء میں بننے والے کسنجرمنصوبے کا ایک حصہ ہے۔ آکنز کہتا ہے: ’’میں سمجھتا تھا کہ یہ منصوبہ مرچکا ہے لیکن یہ منصوبہ پھر زندہ ہو گیا ہے جس کا ہدف دنیا میں تیل کے اہم ترین ذخائر پر قبضہ کیا جانا تھا‘‘۔ معروف تحقیقاتی رپورٹر رابرٹ ڈریفس کے بقول اس منصوبے پر سخت گیر‘ اسرائیل دوست امریکی ذمہ دارانِ حکومت نے پہلے بھی پیش رفت کی اور اس وقت بھی وہی ٹولہ وائٹ ہائوس‘ پینٹاگون اور وزارتِ خارجہ کے درجنوں اہم مناصب پر فائز ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ’’اگر ہم عراق پر قبضہ کر لیں تو قطروبحرین پر قبضہ آسان ترین ہدف ہوگا جس کے بعد صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بات ہے‘‘۔ رابرٹ ڈریفس نے Resource Warsکے مصنف مائیکل کلیر کی تحریروں کا خلاصہ بھی ان الفاظ میں نکالا ہے: ’’خلیج فارس پر قبضہ یورپ‘ جاپان اور چین کو اپنی مٹھی میں لے لینے کے مترادف ہے‘‘۔

تیل درآمد کرنے میں امریکہ پہلے‘جاپان دوسرے اور چین تیسرے نمبرپر ہے۔ چینی کسٹم حکام کے مطابق چین نے ۲۰۰۲ء میں ۴۱.۶۹ ملین ٹن خام تیل درآمد کیا تھا جو ۲۰۰۱ء سے ۱۵ فی صد زیادہ ہے۔ امریکی ڈیپارٹمنٹ آف انرجی (DOE) کے مطابق ۲۰۰۱ء خود امریکہ کو اپنی ضرورت کا ۵۵ فی صد تیل درآمد کرنا پڑا جو ان کے اندازے کے مطابق ۲۰۲۵ء تک ۶۸ فی صد ہو جائے گا۔ یہ بات تو پہلے بھی آچکی ہے کہ عراق میں سعودی عرب کے بعد دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں جن کی مقدار ۵.۱۱۲ ارب بیرل تو معلوم ہے لیکن یہ مقدار ۱۲۰۰ ارب بیرل بھی ہوسکتی ہے۔ عراقی پٹرول نکالنے پر دنیا میں سب سے کم اخراجات اُٹھتے ہیں‘ یعنی صرف ڈیڑھ ڈالر۔

افغانستان پرحملے سے امریکہ نے بنیادی طور پر وسطی ایشیا کے قدرتی وسائل کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔ اب دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر پر قبضے کے لیے لاکھوں جانوں کا خون کیا جا رہا ہے (واضح رہے کہ صرف بغداد کی آبادی ۵۰ لاکھ ہے اور جس طرح کی خون آشام بمباری کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس سے بڑی آبادی کا لقمۂ اجل بن جانا کسی طور بعید نہیں)۔ ساتھ ہی ساتھ بحراحمرکے کنارے دریافت ہونے والے تیل کے ذخائر پر تسلط کا انتظام بھی شروع ہے۔ سوڈان میں دریافت ہونے والے تیل پر دسترس کے لیے پہلے متعدد حملے کروائے گئے اور اب جنوبی علیحدگی پسندوں کو کسی طور وہاں لانے کا بندوبست ہو رہا ہے۔

افغانستان اور عراق میں بنیادی کردار بش اور ڈک چینی کے تیل شریکوں کو دیا جا رہا ہے۔ بش کا خصوصی نمایندہ زلمای خلیل زادہ بھی اسی صنعت سے وابستہ رہا ہے۔ افغانستان کے بعد اب عراق میں ایک شمالی اتحاد کی ایجاد اور کرداروں کی تقسیم اسی کے ذمے ہیں۔ سنی‘ کرد‘ شیعہ کی تقسیم کو مزید گہرا کرتے ہوئے کٹھ پتلی انتظامیہ کی تشکیل کے لیے‘ موصوف کئی پڑوسی ممالک میں مصروف ہیں۔ لیکن قبضے کے بعد اصل اقتدار کے لیے امریکی افواج کے سربراہ ٹومی فرینکس کے علاوہ جنرل (ر) جے گارنر کا نام تجویز کیا گیا ہے۔ جے گارنر کا نام امریکی جنگ پسندوں کی فہرست میں نمایاںہے۔ ان کی اصل خوبی ان کے اسرائیلی لیکوڈ پارٹی میں گہرے اثرات ہیں۔ جے گارنر کا نام سیکرٹری وزارت دفاع براے سیاسی امور ڈوگ فتھ نے ۱۱ فروری ۲۰۰۳ء کو امریکی سینیٹ کی وزارتِ خارجہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا ہے۔

ڈوگ فتھ نے عراق پر قبضہ کرنے سے حاصل ہونے والے اہداف کا بھی ذکر کیا جن میں اس بات کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا کہ ’’عراق میں جمہوری اداروں کے قیام سے فلسطینیوں کو اس پر آمادہ کرنے میں مدد ملے گی کہ وہ اسرائیل سے سنجیدہ مذاکرات کریں‘‘۔ وزیرخارجہ کولن پاول بھی کہہ چکے ہیں کہ ’’عراق میں جمہوریت سے پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات سے ہم آہنگ حکومتوں کے قیام میں مدد ملے گی‘‘۔

ایک امریکی دانش ور مائیکل کولنز نے ۱۱ مارچ کو دبئی میں ایک لیکچر کے دوران کہا: ’’عراق پرحملے کے دوران اسرائیل بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کو ملک بدر کرسکتا ہے۔ یہ سارا منصوبہ عظیم تر اسرائیل کی تشکیل ہی کا ایک حصہ ہے‘‘۔

عراق پر امریکی جارحیت کے بنیادی طور پر یہی دو بڑے اہداف ہیں۔ تیل پر قبضہ‘ اس کے ذریعے پوری دنیا پر عملاً حکمرانی‘ اور اسرائیلی ریاست میں توسیع و استحکام۔ اس کے علاوہ کسی دلیل کو دنیا بھی مسترد کرتی ہے اور حقائق بھی۔ مثال کے طور پر اگر بات واقعی اجتماعی تباہی کے ہتھیاروں کی ہوتی تو خود امریکی رپورٹوں کے مطابق اسرائیل کے پاس نہ صرف ۴۰۰ سے زائد ایٹم بم ہیں بلکہ وہ ۱۹۹۵ء میں نیوٹران اور ہائیڈروجن بم بھی بنا چکا ہے۔ ہائیڈروجن بم اپنے حجم کے اعتبار سے ایٹم بم کی نسبت ۱۰۰ سے ۱۰۰۰ گنا زیادہ تباہ کن ہے۔ ایٹم بم استعمال کرنے کے لیے اس کے پاس میزائلوں کی بڑی کھیپ اور ایف سیریز کے طیاروں کے علاوہ جرمنی کی بنی ہوئی ڈالفن آبدوز بھی ہے۔ ایٹمی اسلحے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے خود امریکہ نے حال ہی میں اسرائیل کو سپرکمپیوٹر Gray2 کے ۱۰ جدید ترین پروگرام فراہم کیے ہیں‘ جن کے استعمال سے ایٹمی اسلحہ بنانے کے اخراجات براے نام رہ جاتے ہیں اور بین البراعظمی میزائلوں کی تیزی سے تیاری ممکن ہو جاتی ہے۔ عراق میں تباہ کن ہتھیار تباہ کرنے کے نام پر تباہی بانٹنے والے امریکہ کو نہ اپنی یہ صہیونیت نواز دلداریاں یاد ہیں‘ نہ اسے اسرائیل کے پاس ۱۸ اقسام کے مختلف کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار ہی دکھائی دیتے ہیں‘ جن میں بعض ایسے کیمیائی ہتھیار بھی شامل ہیں کہ جن سے پھیلنے والی آگ کا درجۂ حرارت ۲۸۰۰ سنٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے۔ رہا بدنام زمانہ انتھراکس  تو وہ بہت عرصہ پہلے اسے فراہم کیا جا چکا ہے۔

امریکہ کی اسی اسرائیل نوازی اور غنڈا گردی کے باعث پوری دنیا میں امریکہ مخالف جذبات اپنے عروج پر ہیں۔ احتجاج کا سلسلہ عراق کے بارے میں امریکی عزائم واضح ہو جانے  کے بعد شروع ہو گیا تھا اور دنیا کے گوشے گوشے میں ۳‘ ۴ کروڑ سے زیادہ افراد مظاہروں میں شریک رہے ہیں۔

۲۰ مارچ کو عراق پر حملہ شروع ہونے کے بعد مظاہروں کا سلسلہ فزوں ہو گیا ہے۔ اوائل مارچ میں ایک امریکی سروے کے مطابق عرب ممالک میں امریکہ سے نفرت عروج پر تھی۔ جیمززغبی انٹرنیشنل کے اس سروے کے مطابق سعودی عرب کے ۹۷ فی صد عوام امریکہ کے خلاف ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں یہ تناسب ۸۵ فی صد ہے اور اُردن جیسی امریکہ نواز حکومت کے ۸۱ فی صد عوام امریکہ سے نفرت کرتے ہیں۔

نفرت کا یہ لاوا زیادہ دیر تک زیرزمین نہیں رکھا جا سکے گا۔ فلسطین ‘ افغانستان ‘ عراق اور دیگر مسلم ممالک میں روز افزوں امریکی دراندازیاں اس لاوے کے لیے مختلف راستے پیدا کررہی ہیں۔ مصر اور یمن میں کسی سیاسی پارٹی کی طرف سے اعلان کے بغیر ہی سڑکوں پر آکر عوام نے اپنی جانیں تک قربان کر دی ہیں۔ سعودی عرب سے آنے والی اطلاعات کے مطابق لوگوں نے خصوصی صلوٰۃ تہجد اور نفلی روزوں کی خاموش تحریک شروع کر دی ہے جس میں لوگوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ ’’آج اپنی تمام تر دعائیں اپنے عراقی اور فلسطینی بھائیوں کے لیے مخصوص کردیں‘‘۔ امریکہ اور اسرائیل سے اظہارِ نفرت کے ساتھ ہی ساتھ تعلق باللہ کا یہ انوکھا انداز دلوں کی دنیا تبدیل کر رہا ہے۔

خود امریکہ بھی اس زیرزمین لاوے کی تپش محسوس کر رہا ہے اور ارنے بھینسے کی طرح جلد از جلد پوری خلیج پر عملاً قبضے کا منصوبہ مکمل کرنا چاہتا ہے۔ بادی النظر میں اس راستے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں بچی۔ فرانس‘ جرمنی اور دیگر ممالک نے سیکورٹی کونسل کی حد تک مخالفت کی ہے لیکن عملاً وہ بھی عراق ہی کو تحمل سے کام لینے کی تلقین کر رہے ہیں۔ گمان غالب یہی ہے کہ عراق میں جنگ کے مخصوص مرحلے تک پہنچ جانے کے بعد فرانس و جرمنی سمیت یہ ممالک بھی تعمیرنو کے نام پر امریکہ کے ساتھ کھڑے دکھائی دیں گے۔ اسے اپنے مفادات کے تحفظ کا نام دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس قیامت کا انحصار آیندہ دنوں میں جنگ کے پانسے پر بھی ہے۔ عراق کی تمام تر کوشش یہ دکھائی دیتی ہے کہ باقی شہروں میں ممکنہ حد تک لیکن بغداد میں آخری سانس تک مزاحمت کی جائے۔ عراقی حکومت نے بغداد کی تقریباً پوری آبادی (۵۰ لاکھ) کو شہر کے اندر ہی رہنے کا حکم دیا ہے۔ تقریباً ہر شہری کو ہتھیار اور خوراک پہنچانے کا انتظام کر دیا گیا ہے۔ عراق سے آنے والے ایک سیاسی رہنما کے بقول: ’’اگر بغداد کو کئی ماہ بھی محصوررہنا پڑا تو وہ اس کے لیے تیار ہوں گے‘‘۔ ان کے بقول ’’آسمان سے آگ برسا کر وہ نہ ۱۹۹۱ء میں عراقی حکومت ختم کرسکے تھے نہ اب کر سکیں گے‘‘۔ پٹرول اور تسلط کے جنون کی اندھی آگ میں کودتے ہوئے امریکہ اس حقیقت کو فراموش کر گیا کہ کائنات کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والا ہر فرعون و نمرود مالکِ کائنات کے کوڑوں کی زد میں ضرور آیا ہے۔ جلد یا بدیر یہ سنت الٰہی ضرور پوری ہونا ہے۔

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ o فَاَکْثَرُوْا فِیْھَا الْفَسَادَ o  فَصَبَّ عَلَیْھِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ o اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ o  (الفجر ۸۹:۱۱-۱۴)

یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور اُن میں بہت فساد پھیلایا تھا۔ آخرکار تمھارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمھارا رب گھات لگائے ہوئے ہے۔

کراچی ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی ایک بڑے سائن بورڈ پر جلی حروف میں لکھا ہے: ’’پاکستان: سرمایہ کاروں کی جنت‘‘۔ اس میں بڑی حد تک حقیقت بھی ہے لیکن اس سے بھی تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس جنت کو جہنم بنا دیا گیا ہے۔ ۱۱ستمبر۲۰۰۱ء کے بعد امریکہ سے اربوں ڈالر نکالے گئے۔ وہاں مسلم سرمایہ کاروں کا ناطقہ بند کیا گیا تو اکثرافراد متبادل مواقع کی تلاش میں امریکہ چھوڑگئے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو سرمایہ کاروں کے لیے حقیقی جنت بنایا جا سکتا تھا۔ عرب سرمایہ کاروں کو خصوصی ترغیب دلائی جاتی‘ انھیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں پاکستان لا کر سہولتیں فراہم کی جاتیں تو پاکستان کی تعمیروترقی میں ان کا کردار یقینی تھا‘ لیکن عملاً کیا ہوا؟

افغانستان پر حملے کے دوران غیرملکی پاکستان آتے ویسے ہی گھبراتے تھے کہ جنگ زدہ علاقے میں پائوں بھی رکھا تو شاید موت کی وادی سے واسطہ پیش آئے گا۔ لیکن پھر ایف بی آئی کے دھڑا دھڑ چھاپوں اور خود حکومت ِ پاکستان کی طرف سے امریکی انتظامیہ کا دل جیتنے کی خام خیالی نے پاکستان کے تمام عرب دوستوں کو اس سے دُور کر دیا۔اب عالم یہ ہے کہ کسی عرب شہری کے سامنے نام لیں کہ آپ پاکستان آئیں تو وہ فوراً جواب دیتا ہے ’’کیا میں نے القاعدہ کی فہرست میں نام لکھوانا ہے؟‘‘ کئی عرب باشندے ایسے بھی ملے ہیں کہ کبھی تعلیم یا تجارت کے لیے آئے توپاسپورٹ پر پاکستانی ویزا لگ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ویزے یا پاکستان میں داخلے کی مہر کی وجہ سے ہمیں اپنے ملک میں اور مغربی ممالک میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں ہم اگر صرف ایئرپورٹ پر بورڈ لگا کر پاکستان کو سرمایہ کاری کی جنت ثابت کرنا چاہیں یا لاہور ٹرمینل کا افتتاح کرتے ہوئے صدرمملکت سرمایہ کاری کی دعوت دیں تو نتائج کا صفر ہونا یقینی ہے۔اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی عوام اور دنیا بھر میں اپنے دوستوں کا اعتماد بحال کیا جائے‘ انھیں تحفظ دیا جائے اور سرمایہ کاری کے لیے مواقع کو نمایاں کرکے پیش کیا جائے۔

عالم یہ ہے کہ نہ صرف عرب باشندوں پر آئے دن دھاوا بولا جاتا ہے بلکہ خود پاکستانی عوام کو ان سے نتھی کیا جا رہا ہے۔ اور اب افراد ہی نہیں اس ضمن میں جماعتوں کا نام بھی لیا جارہا ہے۔ گذشتہ ماہ خالد الشیخ کی گرفتاری کے بعد اہم حکومتی کارپردازان انھیں جماعت اسلامی پاکستان سے نتھی کرتے رہے حالانکہ حکومت ہی نہیں امریکہ بھی جانتا ہے کہ جماعت کا طریق کار اور راستہ کیا ہے۔ کسی حکومتی نمایندے نے اس موقع پر یہ نہیں سوچا کہ اس تہمت کے نتائج کیا کیا ہو سکتے ہیں۔ جماعت تو الحمدللہ ہمیشہ اس طرح کے تہمتی طوفانوں سے سرخرو ہو کر نکلی ہے لیکن کیا یہ الزام لگاکر حکومت نے ان بھارتی اور صہیونی ایجنسیوں کی اس مہم کو تقویت نہیں دی جو عالمی ذرائع ابلاغ میں مسلسل یہ پروپیگنڈا کر رہی ہیں کہ ’’پاکستان کے تمام اسلام پسند عناصر دہشت گردی کو ترویج دیتے ہیں‘‘۔کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اگر ہم ہندو صہیونی لابی کی اس مہم کو مضبوط کرنے میں ارادی یا غیر ارادی طور پر شریک ہوگئے تو ان کے پروپیگنڈے کے اس عنصر کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ’’پاکستان کی روگ آرمی دہشت گردی کی پشت پناہی کرتی ہے‘‘۔ یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ یہ پروپیگنڈا صرف کارگل کے معرکے کے حوالے سے ہی نہیں اب بھی کیا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے جماعت اسلامی یا اسلام پسندوں کے خلاف کی جانے والی یہ مہم صرف پاکستان ہی تک محدود نہیں ہے۔ مسلم دنیا کے دیگر حصوں میں بھی اسی نہج پر دینی قوتوں کو موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ یمن کے معروف عالم دین اور قرآن و سائنس کے عنوان سے خصوصی شغف رکھنے والے تحریکی رہنما کے متعلق گذشتہ دنوں لاس اینجلس ٹائمز میں الزام لگایا گیا کہ یمنی ساحلوں پر تباہ ہونے والے امریکی بحری جہاز ’’کول‘‘ پر حملہ ان کی شہ پر کیا گیا۔ کئی خلیجی ریاستوں میں اس طرح کی فضا بنائی گئی کہ یہاں القاعدہ سے متعلق افراد کا بڑی تعداد میں سراغ ملا ہے اور مارچ کے دوسرے نصف میں ان کے خلاف بڑی کارروائی کی جائے گی۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ یہ فضا عراق پر امریکی جارحیت پر ممکنہ ردعمل کو روکنے کے لیے پیدا کی گئی۔

عالمی پروپیگنڈے اور ہندو صہیونی الزامات کو تو پہلے بھی کسی نے پرکاہ کی حیثیت نہیں دی‘ لیکن اگر باڑھ بھی کھیت کو کھانے لگے‘ ’’پاکستان: سرمایہ کاروں کی جنت‘‘ کے امین خود اسے جہنم ثابت کرنے پر کمر کس لیں‘ تو خاکم بدہن ‘پھر دشمن سکھ کی نیند سو جائیں ہم خود ہی اپنی دشمنی کے لیے کافی ہیں۔

ہزاروں سال پہلے بھی فرعون نے یہی کہا تھا جو آج کہہ رہا ہے مَآ اُرِیْکُمْ اِلاَّ مَآ اَرٰی وَمَآ اَھْدِیْکُمْ اِلاَّسَبِیْلَ الرَّشَادِ o (المومن ۴۰:۲۹) ’’میں تمھیں بھی اسی نظر سے دکھائوں گا جس سے خود دیکھتا ہوں‘ میں تمھیں درست سمت ہی لے کر جائوں گا‘‘۔ میں نے اعلانِ جنگ کر دیا ہے تو اب سب کو میرا ساتھ دینا ہوگا ورنہ سب دہشت گرد قرار دے دیے جائیں گے۔ میرے اعلانِ جنگ کے بعد دنیا بھر میں کروڑوں افراد کا "No War" (جنگ نہیں) کا نعرہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ انسانیت کی معلوم تاریخ میں اتنے بڑے عالمی مظاہروں کی مثال نہیں ملتی لیکن جمہوری اقدار کا نام نہاد محافظ امریکہ ۱۱ستمبر۲۰۰۱ء سے بھی اہم اس واقعے کو معمولی حیثیت دینے پر بھی آمادہ نہیں۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ عراق پر حملہ اور پورے خطے پر قبضہ جمہوریت کی ترویج کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ ۱۲ دسمبر ۲۰۰۲ء کو واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک میں امریکی وزیرخارجہ کولن پاول نے ایک ’’تاریخی‘‘ دستاویز پیش کی جس کا عنوان تھا: ’’امریکی شرق اوسطی شراکت براے جمہوریت و ترقی‘‘۔ اس منصوبے کو اگرچہ شراکت کا نام دیا گیا ہے اور ہدف جمہوریت و ترقی قرار دیا گیا ہے لیکن عملاً یہ پورے خطے کو امریکی استعمار کے تحت لانے کا منصوبہ ہے۔

کولن پاول کے بقول عالم عرب پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلانے کا مرکز بن چکا ہے۔ ان کے الفاظ ہیں: ’’عرب ممالک کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ۸۰ کے عشرے سے دنیا بھر میں دہشت گردی کا اصل سرچشمہ بن گئے ہیں۔ ۸۲ فی صد دہشت گردوں کا تعلق عرب ممالک سے ہے (شاید باقی ۱۸ فی صد دہشت گرد وہ ہوں گے جن کے ہاتھوں کشمیر‘ فلسطین‘ چیچنیا‘ بوسنیا‘کوسووا‘ فلپائن‘ برما‘ جنوبی سوڈان اور اریٹریا کے لاکھوں افراد کا خون ہو رہا ہے)۔ ان ۸۲ فی صد دہشت گردوں کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے‘‘۔ کچھ متوسط تعلیم کے حامل ہیں اور معمولی تعداد میں اَن پڑھ بھی ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ ان ممالک کے تعلیمی نصاب‘ تعلیمی اداروں کی بدانتظامی اور درست تعلیمی پالیسیوں کے فقدان نے ان دہشت گردوں سے درپیش خطرات کو دوچند کر دیا ہے‘‘۔

وہ اس خطرناک صورت حال کی بنیادی وجوہات بیان کرتے ہیں:

ا- اقتصادی عمل میں جمود‘ جمہوری اقدار کا فقدان‘ کرپشن‘ رشوت۔

۲- آبادی میں غیرمنظم اضافہ جو مزید اقتصادی بدحالی کا سبب بنا۔

۳- بے روزگاری۔

۴- فاسد نظام تعلیم۔

اپنے تئیں مرض اور اسباب بیان کرنے کے بعد علاج یہ تجویز ہوتا ہے کہ مختلف عرب ممالک میں امریکی تعلیمی ادارے کھولے جائیں جن میں تعلیم کے ساتھ ساتھ مغربی اقدار بھی سکھائی جائیں۔ تعلیمی ماہرین اور اساتذہ کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو تربیت دی جائے۔ امریکی نصاب تعلیم عام کیا جائے اور اس پورے عمل میں طلبہ و اساتذہ کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک کرنے کے لیے فیسیں کم رکھی جائیں۔ ان مدارس اور امریکی اداروں میں تعلیم پانے والوں کو بڑی بڑی تنخواہوں پر ملازمتیں مہیا کی جائیں۔ انھیں معاشرے میں بڑھاچڑھا کر پیش کیا جائے اور اہم سیاسی و حکومتی مناصب تک پہنچنے میں ان کی مدد کی جائے۔ یہ لوگ امریکہ کے ساتھ جذباتی لگائو کے حامل اور مستقبل میں امریکی پالیسیوں کی حمایت کرنے والے اصل    کل پرزے ہوں گے۔

علاج کا دوسرا اہم عنصر ان ممالک کے زیادہ سے زیادہ افراد کو سیاسی‘ اقتصادی‘ معاشرتی اور تعلیمی تربیتی کورس کروانا ہے جس کے لیے ہمارے پاس طے شدہ پروگرام موجود ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ امریکی کتب کا ترجمہ کر کے ان ممالک کے اہم اداروں‘ سرکاری محکموں‘ پارلیمنٹ‘ تعلیمی اداروں‘ اہم لائبریریوں اور افراد تک پہنچائی جائیں۔ ان میں سے اہم کتب کو ان ممالک کے نصابِ تعلیم کا لازمی جزو بنا دیا جائے۔ یہ ضروری ہے کہ تراجم کا یہ کام امریکی وزارتِ خارجہ کی زیرنگرانی ہو۔

تیسری جانب ان ممالک میں جمہوری اقدار کو فروغ دیتے ہوئے پارلیمنٹ کی تشکیل یقینی بنائی جائے۔ اس ضمن میں امریکی کانگریس سے خصوصی رہنمائی حاصل کی جائے۔

علاج کا چوتھا اہم عنصر عرب خواتین کی اپنے ملک کی سیاسی اور اقتصادی زندگی میں بھرپور شرکت ہے۔ پارلیمنٹ میں خواتین کی نمایاں نمایندگی ہو اور خواتین کی بہبود کے لیے موثر کمیشن اور کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔

اس پورے پروگرام کے لیے ابتدائی طور پر ۲۹ ارب ڈالر کا بجٹ رکھا گیا ہے لیکن یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ ضمنی اور تفصیلی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے مزید مالی امداد کی ضرورت ہوگی۔ وزیرخارجہ نے یہ وضاحت بھی کی کہ امریکہ جن ممالک کو بھی مالی امداد دیتا ہے آیندہ ان کی امداد اس پروگرام پر عمل درآمد کے تناسب سے مربوط کر دی جائے گی۔

اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے نظام الاوقات طے کیا جائے گا اور اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ اس پر عمل درآمد ۲۰۰۳ء میں شروع ہو کر ۲۰۰۶ء میں مکمل ہو جائے۔ امریکی وزیرخارجہ نے اس پروگرام کو نافذ کرنے کے لیے خطے کے ممالک کو چار گروپوں میں تقسیم کیا ہے۔

۱-  وہ ممالک جنھیں یہ اصلاحات خود نافذ کرناہیں ان میں سعودی عرب اور مصر جیسے اہم ممالک شامل ہیں۔ انھیں یہ یقین دہانی کروائی جائے گی کہ امریکہ ان کی حکومتیں تبدیل نہیں کرنا چاہتا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ان اصلاحات کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے۔ امریکہ اس ضمن میں ان کی کڑی نگرانی کرے گی۔ اگر ان ممالک کو پروگرام کی کسی جزئیات پر کوئی اعتراض ہو تو انھیں خود اس کا ایسا متبادل پیش کرنا ہوگا جو امریکی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔

۲- وہ ممالک جہاں یہ اصلاحات عسکری قوت کے ذریعے نافذ کرنا ہیں‘ ان میں عراق‘ شام‘ لیبیا‘ ایران جیسے ممالک شامل ہیں۔ عراق پر حملہ خواہ القاعدہ سے تعلق کے الزام کی بنیاد پر ہو یا وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحے کے الزام میں‘ سب ایک کھلا جھوٹ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عراق کو نئے امریکی استعمار کا نقطۂ آغاز بنانا مقصود ہے۔ یہ منصوبہ بھی کوئی راز نہیںرہا کہ تین سے پانچ سال تک کے لیے عراق پر قبضہ کرنا مقصود ہے تاکہ ایک تیر سے کئی شکار کیے جاسکیں۔

امریکی وزیرخارجہ کے مطابق عراق کے بعد لیبیا کی باری ہے‘ کیونکہ اس کے ساتھ مفاہمت کی کوئی ادنیٰ اُمید باقی نہیں رہی۔ ’’خطے کے ممالک کو ابھی سے اس ضمن میں ہمارا ساتھ دینا چاہیے اور اس ضمن میں کوئی مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ لیبیا کے خلاف یہ کارروائی ۲۰۰۳ء کے اواخر یا ۲۰۰۴ء کے اوائل میں ہو سکتی ہے‘ لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ متبادل قیادت کی تیاری عمل میں آجائے‘‘۔

کولن پاول منصوبے کے مطابق اگرچہ شام بھی اسی گروپ میں شامل ہے لیکن اس کے خلاف عسکری قوت کا استعمال کچھ مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ پہلے اسے مختلف سیاسی ‘اقتصادی‘ علاقائی اور اندرونی دبائو کے ذریعے اصلاحات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ البتہ ایران کے متعلق مزید تفصیل منصوبے میں شامل نہیں ہے۔

۳-  وہ ممالک کہ جنھوں نے عملاً اصلاحات کا عمل شروع کر دیا ہے۔ انھیں ہمارا پورا تعاون حاصل رہے گا۔ ان میں بحرین‘ کویت‘مراکش اور تیونس وغیرہ جیسے ممالک شامل ہیں۔ ان ممالک کو دیگر ممالک کے لیے بہتر مثال بنانا ہوگا اور ان کے مؤثر افراد کو تربیتی کورس کرواتے ہوئے مختلف سیاسی‘ غیر سیاسی اور این جی اوز کے نیٹ ورک میں فعال بنانا ہوگا۔ ان ممالک میں مقامی و بلدیاتی حکومتوں کے نظام کو مستحکم کرتے ہوئے حکومتی مرکزیت کو کم سے کم کرنا ہوگا۔

۴-  وہ ممالک کہ جو امریکہ کے حلیف ہیں اور اس کے ساتھ عملی شراکت کا آغاز کرچکے ہیں ان میں قطر‘ اُردن اور یمن جیسے ممالک شامل ہیں۔ ان کے متعلق کہا گیا ہے کہ ’’مناسب اوقات میں جو بھی امریکی پروگرام دیے جائیں انھیں نافذ کرنا ہوگا۔ ان اصلاحات کے نفاذ کی ذمہ داری براہِ راست امریکی ذمہ داران پر ہوگی۔ ان حکومتوں کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ وہ اندرونی معاملات یا قومی خودمختاری جیسی اصطلاحوں کی آڑ میں امریکی مطالبات سے راہِ فرار اختیار کریں کیونکہ ان حکومتوں سے امریکی تعاون کا اصل مقصد وہاں مثالی حکومتی نظام تشکیل دینا ہے تاکہ تمام رکاوٹوں اور مشکلات سے بآسانی نمٹا جاسکے‘‘۔ اس منصوبے کے مکمل متن کا عربی ترجمہ اس ویب سائٹ پر ملاحظہ فرمائیں:  www.elosboa.com

اس امریکی نقشۂ کار میں پاکستان کا مقام کیا ہو سکتا ہے‘ قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔


۱۱ ستمبر۲۰۰۱ء کے پانچ روز بعد موجودہ عالمی صورت حال کے حوالے سے کچھ مزید بیانات قابل توجہ ہیں:

  • ۱۵ ستمبر۲۰۰۱ء کو وزیرخارجہ کولن پاول نے ان واقعات کی کڑیاں عراق سے ملانے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے فرمایا: ’’صدام حسین کی طرف سے نیویارک اور واشنگٹن پر دہشت گردی کی واضح مذمت سامنے نہ آنا اپنے اندر بہت سے معانی رکھتا ہے‘‘۔
  • ۱۸ ستمبر کو سی آئی اے کے سابق سربراہ نے کہا کہ ۱۱ ستمبر کے واقعات‘ اسامہ بن لادن کی بجائے صدام حسین کا منظم اور بہت محنت سے تیار کیا‘ منصوبہ لگتے ہیں۔
  • ۲۱ ستمبرکو نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ بعض اہم امریکی ذمہ داران جن میں نائب وزیردفاع پال وولوویٹس اور نائب صدر ڈیک چینی کے سٹاف آفیسرلوئس لیبی بھی شامل ہیں کوشش کر رہے ہیں کہ عراق کو بھی حملے کی زد میں آنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا جائے۔ اخبار نے لکھا کہ متعدد ذمہ دار اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ صدام حسین کا کوئی تعلق ۱۱ستمبر سے نہ بھی ثابت ہو پھر بھی اس سے چھٹکارا پا لیا جائے۔
  • ۲۵ ستمبر کو کولن پاول نے کہا: ’’ہم صدام حسین کے متعلق کسی وہم کا شکار نہیں۔ وہ ہمارے اور خطے کے بارے میں اچھے ارادے نہیں رکھتا۔ وہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا اسلحہ تیار کر رہا ہے‘‘۔ مزید کہا: ’’ہم نے ۱۰ سال اسے اپنے کنٹرول میں رکھا ہے اور مزید رکھیں گے اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ جب بھی ضرورت ہوئی ہم اس پر حملہ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں‘‘۔
  • ۳۱ اکتوبر ۲۰۰۱ء اسرائیلی وزیرخارجہ پیریز نے نیوزویک کو انٹرویودیتے ہوئے کہا: ’’میرا خیال ہے عراق ان ممالک کی فہرست میں پوری طرح شامل ہے جن پر حملہ کیا جانا ہے لیکن یہ معاملہ محض عسکری تدبیر سے تعلق رکھتا ہے کہ ایک ہی وقت میں دو محاذ کھولنا ہیں یا باری باری‘‘۔

بیانات‘ رپورٹوں اور تجزیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس میں امریکی ارادوں اور صہیونی خواہشات چھلکتی دکھائی دیتی ہیں۔ ۱۹۹۱ء کی امریکی عراقی جنگ کے بعد بڑے بش نے کہا تھا کہ ’’اب عراق کی راکھ پر ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھی جائے گی‘‘۔ تب اعلان کیا گیا کہ اسرائیلی فلسطینی تنازعہ حل ہونے کے بعد دنیا ایک نیا مشرق وسطیٰ دیکھے گی۔ ۱۹۹۳ء میں دو سال کے خفیہ مذاکرات کے بعد اوسلو معاہدہ سامنے آیا۔ ۲۰۰۰ء تک ہر ممکنہ طریقے سے اس معاہدے اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والے کئی معاہدوںکو نافذ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی تاآنکہ فلسطین میں تحریک انتفاضہ کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو گیا جو تمام صہیونی امریکی ہتھکنڈوں کو ناکام بناتے ہوئے ابھی تک جاری ہے۔ صہیونی ریاست تمام تر امریکی و مغربی امداد کے باوجود اقتصادی لحاظ سے ۵۰سال پیچھے چلی گئی ہے۔ اعداد و شمار گواہی دے رہے ہیں کہ صہیونی ریاست میں ایسا اقتصادی بحران ۱۹۵۳ء کے بعد پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اب ایک نئے زاویے سے ’’نئے مشرق وسطیٰ‘‘کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ دہشت گردی‘ ۱۱ستمبرسے تعلق‘ تباہ کن اسلحہ‘ اسلحہ انسپکٹروں سے عدم تعاون‘ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا نافذ نہ کرنا‘ جمہوری اقدار کی نفی… سب تجارتی اشتہارات ہیں۔ اصل مقصد افغانستان کے بعد ایک نیا نشانِ عبرت وجود میں لانا ہے‘ جس کی لاٹھی لہرا کر پوری دنیا کو باور کروانا ہے کہ ’’أنا ربکم الاعلٰی‘‘۔

عراق میں سعودی عرب کے بعد دنیا کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ ہے۔ صدربش کے سابق اقتصادی مشیر لارنس لینڈسائی نے واضح طور پر کہا تھا کہ ’’عراق کے خلاف فوجی کارروائی کا اصل ہدف تیل ہے‘‘۔عراق اس وقت پابندی کے باوجود بھی ’’تیل بمقابل غذا‘‘ فارمولے کے مطابق ۲۴ لاکھ بیرل تیل یومیہ نکالتا ہے جو تیل کی عالمی پیداوار کا ۳.۳ فی صد ہے‘ جب کہ زیرزمین ذخیرے کی مقدار ۵.۱۱۲ ارب بیرل ہے‘ جو دنیا کے مجموعی ذخیروں کی ۱۵فی صد ہے اور الاسکا سمیت امریکہ کے تمام ذخائر سے چار گنا زیادہ ہے۔ عراقی تیل نکالنے پر فی بیرل ایک سے ڈیڑھ ڈالر خرچ ہوتے ہیں‘ جب کہ شمالی امریکہ میں یہ لاگت ۲۱ ڈالر اور جنوبی امریکہ میں ۸۱ڈالر فی بیرل آتی ہے۔ عراقی تیل اپنے معیار کے اعتبار سے بھی اعلیٰ تر ہے۔

اب اگر خاکم بدہن عراق پر امریکی قبضہ ہو جاتا ہے اور ڈیڑھ لاکھ امریکی و برطانوی فوجی وہاں تین سے پانچ سال تک کے عرصے کے لیے براجمان ہوجاتے ہیں (جیسا کہ اعلان کیا جا رہا ہے) تو اسے ’’پولوسٹپ‘‘ قراردیاجا رہاہے‘ یعنی ایسی بنیادی اور کاری ضرب کہ جس سے مضبوط مرکز زیر ہو جائے اور پھر تمام کمزور مراکز خود بخود شکست سے دوچار ہوتے چلے جائیں۔

اس جنگ میں کتنے وسائل جھونکے جائیں گے؟ مختلف اقتصادی ماہرین مختلف اندازے بتا رہے ہیں۔ ۵ دسمبر ۲۰۰۲ء کے نیویارک ریویو آف باکس میں کہا گیا کہ ’’اگر جنگ مختصر ہوئی تو اس پر ۵۰ ارب ڈالر خرچ ہوں گے جس کے بعد ۷۰ ارب ڈالر مزید درکار ہوں گے تاکہ جنگ کے نتائج پوری طرح حاصل کیے جاسکیں اور اگر جنگ طویل ہوئی تو اخراجات ۱۴۰ ارب ڈالر تک بڑھ سکتے ہیں جس کے بعد ڈیڑھ کھرب ڈالر مزید درکار ہوں گے۔ لیکن اگر امریکہ عراق اور خلیج کے تیل پر قبضہ مستحکم کر لیتا ہے تو ان اخراجات کی حیثیت‘ ان سے حاصل ہونے والے فوائد کے مقابل کچھ بھی نہیں۔

تیل کی قیمت میں صرف ایک ڈالر کی کمی آ جائے تو ایک سال میں امریکہ کے اخراجات چار ارب ڈالر کم ہو جاتے ہیں۔ ۱۹۹۸ء میں ایک بیرل کی قیمت ۳.۱۲ ڈالر تھی جو ۱۹۹۹ء میں ۸.۱۷ ڈالر اور ۲۰۰۰ء میں ۶.۲۷ ڈالر فی بیرل ہوگیا تو تمام امریکی حسابات تلپٹ ہوکر رہ گئے۔ ۱۹۷۴ء سے ۱۹۸۳ء کے دوران امریکہ کو صرف پٹرول کی تجارت میں تقریباً ۲۷ ارب ڈالر سالانہ بچت ہوتی تھی جو اب ۴۶ ارب ڈالر سالانہ خسارے میں بدل چکی ہے۔

یہ اعداد و شمار تو صرف جنگ کے امریکی اخراجات‘ عالمی تجارت اور خطے کے ممالک پر اس کے کیا بد اثرات مترتب ہوں گے اس کی کسی کو کوئی پروا نہیں۔ رہی لاکھوں انسانی جانیں‘تو ان کی کیا حیثیت‘ وہ کوئی نیلے خون والے امریکی تو نہیں کہ ان کی بھی فکر کی جائے۔

امریکہ تو اپنے ان اقتصادی‘ سیاسی‘عسکری‘ ثقافتی اور صہیونی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار‘ بلکہ باولا ہوا جا رہا ہے لیکن مسلم ممالک جو اس جارحیت کا اصل شکار ہیں انھیں دشمن ہی سے نہیں اپنے آپ سے بھی غافل کیا جا رہا ہے۔ جنوری اور فروری جنگی تیاریوں کے حوالے سے حساس ترین تھے اور پاکستان ہی میں بسنت کا جنون نہیں مراکش‘ لبنان‘اُردن‘ قطر‘ امارات اور مسقط عمان سمیت متعدد ممالک میں میلے‘ جشن اور ہاؤہو کا طوفان عروج پر تھا اور اب بھی کسی نہ کسی حوالے سے جاری ہے۔ بسنت میں جب یہاں امریکی مشروب ساز اداروں کی طرف سے اشتہاری اور ہلاکتی مہم عروج پر تھی‘ عین انھی دنوں امریکہ میں یہ مہم چل رہی تھی کہ فورویل گاڑیاں بند کی جائیں کیونکہ ان میں پٹرول کی کھپت زیادہ ہوتی ہے۔ ہم پٹرول زیادہ کھپائیں تو دہشت گرد ممالک کو پیسہ زیادہ ملتا ہے ‘ جس سے وہ ہمارے خلاف دہشت گردی کرتے ہیں‘‘۔ سعودی عرب کو اس مہم کا زیادہ نشانہ بنایا گیا۔

ایک طرف دشمن کی تیاری اور منصوبہ بندی کا یہ عالم ہے‘ دوسری طرف اُمت مسلمہ نے صف بندی بھی نہیں کی ہے۔ ہمیں اس ربانی فیصلے میں تو ادنیٰ شک و شبہ نہیں ہے کہ: وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ o(الصف ۶۱:۸)’’کافر کتنا ہی ناپسند کریں‘ اللہ اپنا نور مکمل کرکے رہے گا‘‘۔ لیکن اے قوم! اے سربراہانِ قوم!! غلبہ اور جیت تو ایمان و علم و عمل سے حاصل ہوتا ہے‘ کائنات کے رب پر ایمان اور کائنات میں ہر طرف بکھرے علوم تک رسائی اور پھر اجتماعی جدوجہد۔

حالیہ انتخابات پاکستان کی تاریخ میں اہم ترین انتخابات تھے۔ اس کے مفصل تجزیوں‘ حکومت سازی کے مراحل اور آیندہ انتخابات پر ان کی تاثیر سے ان کی اہمیت مزید واضح ہو گی۔ لیکن لگتا ہے انتخابات پاکستان ہی میں نہیں دنیا کے ہر خطے میں ہو رہے ہیں۔ ۱۰ اکتوبر ۲۰۰۲ء ہی کو الجزائر میں بلدیاتی انتخابات ہوئے‘ ۵-۶ اکتوبر ۲۰۰۲ء کو بوسنیا کے عام انتخابات ہوئے‘  ۶ اکتوبر ۲۰۰۲ء ہی کو برازیل کے انتخابات ہوئے۔ جرمنی‘ لٹویا‘ اکواڈور‘ آئرلینڈ میں راے دہی ہوئی‘ بحرین میں عام انتخابات ہوئے اور ۲۷ ستمبر ۲۰۰۲ء کو مراکش میں وہاں کی تاریخ کے اہم انتخابات ہوئے۔

پاکستان کی طرح بوسنیا‘ بحرین اور مراکش کے انتخابات میں وہاں کی اسلامی تحریکوں نے حیران کن کامیابی حاصل کی۔ بوسنیا کے سابقہ انتخابات میں سابق صدر علی عزت بیگووچ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا‘ ان کے اہم شریک‘ وزیر خارجہ اور پھر وزیراعظم حارث سلاجک کی علیحدگی سے لبرل اور سیکولر عناصر کو کامیابی ملی تھی‘ اور خدشہ یہ تھا کہ اس بار بھی وہی جیتیں گے لیکن تقسیم ہونے کے باوجود علی عزت بیگووچ جنھوں نے آزادی اور پھر جنگ کے ہر مرحلے میں اپنی قوم کی قیادت کی تھی‘ کی پارٹی پہلے نمبر پر رہی۔ لیکن دنیا کو اصل اچنبھا مراکش اور پاکستان کے نتائج پر ہوا۔

مراکش جو کبھی طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر کے نام سے پردئہ ذہن پر اُبھرتا تھا‘ سترھویں صدی کے وسط سے دستِ ملوکیت میں ہے۔ مولای الرشید اس مملکت کے پہلے بادشاہ بنے جن کا انتقال ۱۶۷۲ء میں ہوا (مراکش میں مولانا کے بجائے مولای بولااور لکھا جاتا ہے لیکن اس کا استعمال عام طور پر حکمرانوں کے لیے ہوتا ہے۔ شاید اس لیے بھی کہ مراکش کے تمام شہنشاہوں نے اپنے اقتدار کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور خانوادئہ رسولؐ سے منسوب کر رکھا ہے)۔ اس علوی مملکت پر مختلف ادوار آئے۔ جب ریاست ہاے متحدہ امریکہ کی تشکیل ہوئی تو مراکش پہلا ملک تھا جس نے اسے تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ پھر فرانسیسی استعمار کے بادل گہرے ہوتے چلے گئے اور علوی مملکت پر فرانسیسی زبان‘ ثقافت اور تہذیب کے نقوش نمایاں ہو گئے۔ ۵ نومبر ۱۹۵۵ء کو طویل جدوجہد کے بعد مراکش کو آزادی ملی تو محمد الخامس حکمران تھے۔ ۱۹۶۱ء میں ان کا انتقال ہوا تو حسن الثانی بادشاہ بنے جن کا ۱۹۹۹ء میں انتقال ہوا۔ اب ان کا بیٹا محمد السادس شہنشاہ ہے جو اپنے خانوادے کا تیئسواں بادشاہ ہے۔

حسن الثانی نے اپنے ۳۸ سالہ اقتدار میں مراکش کو ایک جدید ریاست بنانے کے لیے مختلف تجربات کیے۔ شہنشاہی کی حفاظت و تقدیس ہر تجربے کا مرکز و محور رہی۔ ۹۰ کے عشرے میں انھوں نے ملک بدر اپوزیشن رہنمائوں کو ملک میں واپس آکر حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی۔ فرانس میں مقیم اکثر لیڈر لوٹ آئے اور عبدالرحمن الیوسفی وزیراعظم بنا دیے گئے۔ الیکشن بھی کروائے گئے‘ یوسفی کی اشتراکی اتحاد پارٹی پہلے نمبر پر رہی اور مخلوط حکومت وجود میں آئی۔ اعلان کر دیا گیا کہ اب جمہوری روایات کی آبیاری کی جائے گی اور عوام کو اپنی حکومتوں کے انتخاب کی مکمل آزادی ہوگی۔ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ہر پانچ سال بعد ۲۷ ستمبر کو انتخابات ہوا کریں گے اور کسی کو اس تاریخ میں تبدیلی کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ ووٹر کی عمر ۲۳ سال مقرر کر دی گئی اور پارٹی رجسٹریشن کا طریق کار طے کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ سنہ ۲۰۰۰ء کی مردم شماری کے مطابق مراکش کی آبادی ۳کروڑ سے متجاوز ہے۔

مراکش کے حالیہ انتخابات ۳۹ سالہ شاہ محمد السادس کے عہد کے پہلے انتخابات تھے اور ملکی تاریخ کے بھی پہلے انتخابات تھے جو متناسب نمایندگی کی بنیاد پر کروائے گئے۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنی اپنی مہم اپنے پروگرام اور انتخابی نشان ہی کے لیے چلائی۔ کہیں پر بھی شخصیتوں کو سامنے نہیں لایا گیا۔ تمام شخصیات کے نام پارٹی کی فہرستوں میں شامل تھے جو الیکشن سے پہلے کمیشن کو جمع کروائی گئیں۔

اس بار ۲۶ پارٹیوں نے انتخابات میں حصہ لیا جو اب تک انتخابات میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ وزیراعظم عبدالرحمن یوسفی کی اشتراکی اتحاد پارٹی کے علاوہ دائیں بازو کی استقلال پارٹی اور اسلامی تحریک حزب العدالۃ والتنمیۃ ’’انصاف و ترقی پارٹی‘‘اہم پارٹیاں تھیں اور تینوں ہی بالترتیب پہلے‘ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔ ۳۲۵ کے ایوان میں یوسفی کو ۵۰‘ استقلال کو ۴۷ اور انصاف و ترقی کو ۴۲ نشستیں ملیں۔ ۳۰ نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کر دی گئیں جو اب تک سب سے زیادہ ہیں۔

اسلامی تحریک کو گذشتہ انتخابات میں نو نشستیں ملی تھیں جو بعد میں پانچ ضمنی نشستیں جیت کر ۱۴ ہوگئیں اور حالیہ الیکشن میں تین گنا ہو گئیں جس سے پوری غربی و عربی ذرائع ابلاغ میں کھد بھد مچ گئی۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ مراکش الجزائر کا پڑوسی ملک ہے اور اسی کی طرح فرانسیسی اثر و نفوذ میں ہے۔ پوری انتخابی مہم میں اسلامی تحریک کے مخالفین اس کے خلاف یہ پروپیگنڈا کرتے رہے کہ اس کا انتخاب مراکش کو الجزائر کی طرح خون خرابے میں مبتلا کر دے گا۔ کہا گیا ’’عالمی اور علاقائی قوتیں مراکش میں اسلامی تحریک کو کبھی برداشت نہیں کریں گی‘‘۔ ’’اسلامی قوتوں کی جیت بہائو کے مخالف سمت تیرنے کی ناکام کوشش ہوگی‘‘۔ لیکن مراکش کے عوام نے کہا کہ ’’یہی چراغ جلے گا تو روشنی ہوگی‘‘ (انصاف و ترقی پارٹی کا نشان چراغ تھا)۔

انصاف و ترقی پارٹی مراکش میں اسلامی تحریکوں کے مختلف مراحل میں سے ایک مرحلہ ہے۔ آزادی کے بعد جب وہاں کارِ دعوت کی بنیاد رکھی گئی تو مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی دعوت و جماعت سے متاثر ہو کر اس کا نام جماعت اسلامی مراکش رکھا گیا۔ پھر شہنشاہیت کے ماحول میں نام تبدیل کرنا پڑا۔ متعدد بار نام تبدیل کرنے اور مختلف افراد کے اشتراک و اجتماع کے بعد اس کا نام تحریک اصلاح و تجدید رکھا گیا‘ ادریس الریسونی اس کے سربراہ تھے۔ پھر ’’حزب التجدید الوطنی‘‘ کے نام سے اسے ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت بنانے کی کوشش کی گئی لیکن اس کی اجازت نہ ملی۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ پہلے سے موجود ’’انصاف و ترقی پارٹی‘‘ جو اسلامی تشخص رکھتی ہے اور شیخ عبدالکریم الخطیب (۱۹۲۱ء) اس کے سربراہ ہیں‘ میں شمولیت اختیار کرلی جائے۔ شیخ الخطیب نے خوش آمدید کہا۔ لیکن شرط یہ رکھی کہ شمولیت پارٹی کی حیثیت سے نہیں انفرادی حیثیت سے کی جائے۔ یہ شرط پوری کر دی گئی‘ انضمام عمل میں آیا اور نئی روح سے جدوجہد کا آغازہوگیا۔

سابقہ حکومت میں ’’انصاف و ترقی‘‘ نے اپوزیشن کی حیثیت سے شان دار کارکردگی دکھائی۔ ان کا موقف تھا کہ ہم ’’ناصحانہ اپوزیشن‘‘ المعارضۃ الناصحۃ کریں گے۔ سودی نظام‘ خواتین کے حقوق اور صہیونی ریاست سے تعلقات کے ساتھ ساتھ عوام کی مشکلات و مسائل پارلیمانی جدوجہد کے خاص مراحل ٹھہرے اور عوامی پذیرائی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

’’انصاف و ترقی‘‘ نے اپنے اور ملکی حالات کی روشنی میں یہ فیصلہ بھی کیا کہ فی الحال خود کو ملک کی سب سے بڑی پارٹی بنانے اور منوانے کی کوشش نہ کی جائے۔ الجزائر کی ہمسایگی‘ فرانسیسی عمل دخل اور شہنشاہی نظام میں انھوں نے فیصلہ کیا کہ ملک کے کل ۹۱ حلقوں میں سے ۵۵ حلقوں میں حصہ لیا جائے۔ اسی پالیسی کو انھوں نے ’’المشارکۃ لا المغالبۃ‘‘ کا نام دیا،’’یعنی غلبہ نہیں شرکت‘‘۔ پارٹی کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم فی الحال ملک کی بڑی پارٹیوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ نتائج آنے کے بعدبھی پارٹی نے یہی فیصلہ کیا کہ حکومت میں شرکت کی پیش کش قبول نہ کی جائے‘ اور اپوزیشن میں رہتے ہوئے خود کو مضبوط تر اور عوام کی خدمت کرنے کی کوشش کی جائے۔

’’انصاف و ترقی پارٹی‘‘ مراکش کی اکلوتی اسلامی تحریک نہیں ہے۔ ایک اور اہم بلکہ اہم تر اسلامی پارٹی، ’’جماعت عدل و احسان‘‘ ہے۔ اس کے سربراہ شیخ عبدالسلام یاسین بڑے حق گو رہنما ہیں۔ شیخ حسن البنا کی طرح شیخ عبدالسلام یاسین نے بھی عملی زندگی کا آغاز ایک استاد کی حیثیت سے کیا اور پھر وزارت تعلیم میں انسپکٹر کی ذمہ داری سے گزرتے ہوئے خود کو دعوت و اصلاح کے لیے وقف کر دیا۔ اس راہ میں انھیں لاتعداد مصائب جھیلنا پڑے۔ ۱۹۷۴ء میں گرفتار ہوئے تو چار سال بعد رہا ہوئے۔ پھر تقاریر پر پابندی لگا دی گئی۔ ۱۹۸۳ء میں پھر گرفتار ہوئے۔ ۱۹۸۵ء میں رہا ہوئے اور پھر پورے ۱۰ سال کے لیے گھر میں نظربند کر دیے گئے۔ اس دوران ان کی صاحبزدی ان کے اور مراکشی عوام کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنیں۔

۱۰ سال کے بعد رہائی ملتے ہی شاہ حسن الثانی کو ایک مفصل اور دو ٹوک خط لکھا کہ عوام کی دولت و ثروت پر ناجائز قبضہ تمھیں جہنم کی آگ سے دوچار کر سکتا ہے۔ اپنے آپ اور اپنے آبا و اجداد کی نجات کے لیے محلات اور لوٹی ہوئی دولت عوامی خزانے میں جمع کروا دو۔ لوگوں کو آزادیاں دینے کی بات کی‘ بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ شاہ حسن الثانی نے اس نصیحت کو سنا لیکن قبول نہیں کیا۔ شیخ عبدالسلام کے لاکھوں عشاق کے باعث وہ انھیں اس جسارت کی سزا بھی نہ دے سکا اور گور میں جا پہنچا۔ شیخ عبدالسلام نے ان انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ صرف ایک فریب اور سراب ہے۔ اصل اور کلی اختیار ’’شاہ‘‘ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے ہم اس ڈرامے میں شریک نہیں ہوں گے۔ گویا شاہ محمد السادس کو پارلیمنٹ کے اندر بھی اسلامی تحریکوں کی توانا آواز کا سامنا کرنا پڑے گا اور باہر بھی۔ بائیکاٹ کرنے والوں میں ایک گروہ ان قبائل کا بھی تھا جو یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ ’’امازیغی‘‘ زبان کو بھی ملک کی سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے۔

انتخابات کے بعد شاہ محمد السادس نے یوسفی کے وزیرداخلہ ادریس جطو کو وزیراعظم مقرر کرتے ہوئے حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔ اس فیصلے پرسب سے زیادہ صدمہ یوسفی کو ہوا ہے کیونکہ سب نقاد اس پر یہی تنقید کرتے تھے کہ وہ شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہے۔ اس نے اپنے کئی مطالبات صرف شاہ کی رضامندی کی خاطر تج دیے۔ بہت سے کام اپنی رضا و رغبت سے ہٹ کر انجام دیے اور پھر پارٹی کو بھی سب سے بڑی پارٹی ثابت کیا‘ لیکن اس کے بجائے اس کے ایک وزیر کو حکومت سونپ دی گئی۔ دوسرا بڑا صدمہ ایک سابق سیکورٹی انچارج محمود عرشان کو ہوا جس نے اپنے بڑوں کی خاطر اپوزیشن اور حکومت مخالف عناصر پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ ان کے حلقے میں صرف ایک ہی بے ضرر نعرے نے انھیں شکست کا منہ دکھا دیا۔ ’’الجلاد لایبنی الدیمقراطیہ‘‘ جلاد جمہوریت نہیں دے سکتا۔ ایک اور صاحب سعید سعدی‘ وزیر امور خواتین تھے۔ انھوں نے عالمی دبائو کے پیش نظر خواتین کو ہر میدان اور پارلیمنٹ میں بھی غیر معمولی طور پر شریک کیا۔ ۳۰ خواتین ان کے فیصلوں کے باعث اسمبلی میں پہنچ گئیں لیکن سعدی خود نہ آ سکے۔

مراکش کے ان انتخابی نتائج کے بعد پوری دنیا میں مختلف تبصرے اور تجزیے سامنے آئے ہیں۔ کچھ نے کہا: ’’نئے بادشاہ نے تسلیم کروا لیا کہ وہ اپنے والد سے مختلف اور زیادہ جمہوری ہے۔ لوگوں کو آزادی راے اور نسبتاً شفاف انتخاب کروا کے اس نے اپنے والد کا کفارہ ادا کرنا چاہا ہے‘‘۔ ایک بڑے گروہ نے ان نتائج کو تاریکی میں اُمید کی کرن قرار دیا۔ معروف تجزیہ نگار فہمی ھویدی نے الشرق الاوسط میں لکھا کہ ایسی عرب دنیا میں کہ جب حکمران ۹.۹۹ فی صد ووٹ لے کر جیت رہے ہوں آزادانہ انتخاب کروا دینا اور پھر ان میں اسلام سے محبت رکھنے والوں کا کامیاب ہو جانا اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دل میں اُمید روشن رکھنا چاہتا ہے کہ وہ پُرامن جدوجہد کے ذریعے اپنے اصلاحی مقاصدمیں ضرور کامیاب ہوں گے۔ پاکستان کے انتخابات کے بعد اس سوچ کے حامل تبصروں میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

 

مردِ بیمار کی پھبتیاں سہنے والا ترکی‘ اس صدی کے آغاز پر بھی یورپ کے لیے مردِ بیمار ہی ہے۔ تمام تر چاپلوسی کے باوجود ترکی یورپی یونین کے لیے ناقابل قبول ہے۔ اتاترک اور اس کے پیروکار ۸۰ برس کی مسلسل کوششوں کے باوجود بھی مغرب کے دل میںجگہ نہیں بنا سکے‘اور نہ ترک قوم کے دل سے اسلام اور مشرقیت کی محبت نکال سکے ہیں۔

۳ اگست ۲۰۰۲ء کو پارلیمنٹ کے ذریعے کی جانے والی ترامیم کے مطابق ترکی میں سزاے موت ختم کر دی گئی ہے خواہ مجرم کا قاتل ہونا ثابت ہو جائے۔ قرآن کے اس واضح حکم کو قانوناً منسوخ کرنے سے عملاً جو فساد برپا ہوگا وہ تو اپنی جگہ پر ہے لیکن جس یورپی یونین کا ممبر بننے کے لیے یہ اقدام کیا گیا وہ اس کے باوجود بھی ممبر بنانے کے لیے تیار نہیں۔ اب کردوں کے علاوہ قبرص کا معاملہ بھی اٹھایا جا رہا ہے۔

۲۰۱۰ء تک یورپی یونین میں مزید ۱۳ ممالک شامل کیے جانا ہیں لیکن ترکی کا معاملہ مختلف ہے۔ جرمن رہنما ہیلمٹ کوہل کے مطابق:’’ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت ایک کثیر پہلو تہذیبی اقدام ہوگا‘‘۔ ۱۵ برس کے اندراندر ترک آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہوگی‘ جرمنی سے کہیں زیادہ۔ اس کا مطلب ہے ترکی یورپی یونین کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا اور چونکہ یورپی کمیٹی میں ووٹنگ کا نظام ممبرملکوں کی آبادی کے تناسب سے ہے‘ ترکی کے ووٹ سارا کھیل خراب کر سکتے ہیں۔ دوہرے معیاروں کا عالم یہ ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت سے ترکی کو جو فوائد و حقوق حاصل ہو سکتے ہیں‘ ان پر تو شرائط لگائی جا رہی ہیں‘ لیکن یورپی ٹیکس سسٹم میں شمولیت سے یورپ کو فائدہ اور ترکی کو نقصان ہوتا تھا‘ اس میں اسے ابھی سے شامل کرلیا گیا ہے۔ اب ترکی اور یورپی ممالک کے درمیان درآمدات و برآمدات پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوسکتا۔اس اقدام کی وجہ سے ترکی کو ہر سال ۴ ارب ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یورپی مال کی فراوانی کی وجہ سے ترکی کے کئی صنعتی یونٹ بند اور ملازمین بے روزگار ہو چکے ہیں۔ نجم الدین اربکان نے کوشش کی تھی کہ یورپ سے برآمد شدہ مال پر ۶ فی صد ٹیکس لگایا جائے لیکن ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔

ترکی میں جب حالیہ اقتصادی بحران پیدا ہوا تو اربکان کے سب سے بڑے مخالف اور سیکولرازم کے عاشق ایک صحافی امین گوچالان نے لکھا تھا: ’’ اس بحران کا مطلب ہے اربکان حق پر تھا‘‘۔ نجم الدین اربکان کے حق پر ہونے کا اعتراف کرنے کے باوجود ۱۹۹۸ء میں ان پر پانچ سال کے لیے پابندی لگادی گئی۔ وہ سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔ ان کی قائم کردہ ہر پارٹی ختم کر دی گئی۔ ۱۹۷۰ء میں ملّی سلامت پارٹی بنی اور ۱۹۷۴ء سے ۱۹۷۷ء کے درمیان دو بار حکومت میں شرکت کے باوجود ۱۹۸۰ء میں اسے بھی بند کر دیا گیا۔ اربکان اور ساتھی پھر گرفتار بلا ہو گئے۔۱۹۸۳ء میں رفاہ پارٹی کی بنیاد رکھی گئی جس نے ۱۹۸۳ء سے ۱۹۹۳ء تک اپوزیشن کی قیادت کی اور ۱۹۹۵ء میں استنبول و انقرہ سمیت بلدیاتی اداروں میں کامیابی حاصل کی۔

اصل قیامت اس وقت برپا ہوئی جب جون ۱۹۹۴ء میں اربکان کو وزیراعظم منتخب کر لیا گیا۔ اتاترک کے وفاداروں کی نیندیں حرام ہو گئیں اور سیکولرازم کی حفاظت کا حلف اٹھانے والی فوج نے کرپشن مافیا اور صہیونی میڈیا کی مدد سے صرف ایک سال بعد اربکان کو استعفا دینے پر مجبور کر دیا۔ ۱۶ جنوری ۱۹۹۸ء کو رفاہ پارٹی غیر قانونی قرار دے دی گئی۔ الزام یہی تھا کہ ’’رفاہ ملک کے سیکولر نظام کے مخالفین کا گڑھ بن گئی ہے‘‘۔ دسمبر ۱۹۹۸ء میں فضیلت پارٹی تشکیل دی گئی۔ پورے ملک میں پھیلے رفاہ کے مراکز پر R.P کے بجائے F.P لکھ دیا گیا۔ فضیلت پارٹی پوری قوت سے پارلیمنٹ میں داخل ہوئی۔ ۵۵۰نشستوں کے ایوان میں اسے ۱۱۰ نشستیں حاصل ہوئیں لیکن پوری سیکولر مشینری کو حرکت میں لاتے ہوئے اسے حکومت بنانے یا حکومت میں شرکت سے محروم رکھا گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ پارلیمنٹ میں جانے اور لاکھوں ووٹ حاصل کرنے کے ایک ماہ بعد مئی ۱۹۹۹ء میں فضیلت پارٹی کے خلاف دستوری جنگ شروع کر دی گئی اور سیکولر دستور کی حفاظت کے نام پر ۲۲ جون ۲۰۰۰ء کو ’’فضیلت‘‘ پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

۲۰ جولائی ۲۰۰۱ء کو فضیلت پارٹی کی جگہ سعادت پارٹی نے لے لی لیکن بیرونی دشمن کے ہاتھوں تمام چرکے سہہ لینے والوں کے لیے اس بار اندرونی چیلنج بھی مہیب تھے۔ فضیلت پارٹی میں کام کرنے کے دوران ہی اربکان کے حقیقی سیاسی وارث رجائی قوطان کو گمبھیرحالات کا سامنا کرنا پڑا۔ استنبول کے سابق میئر اور قائدانہ سحر رکھنے والے رجب طیب ایردوغان اور ان کے ساتھیوں نے ایک اور نوجوان سیاسی قائد عبداللہ گل کو پارٹی لیڈر بنانے پر اصرار کیا۔ پارٹی انتخابات میں انھیں بھاری ووٹ بھی ملے لیکن منتخب رجائی قوطان ہی ہوئے۔ اس وقت تو عبداللہ گل نے جو اربکان کے اہم وزیر بھی رہ چکے ہیں اور تحریک کا سرمایہ ہیں رجائی قوطان کو اپنا لیڈر تسلیم کیا‘ اسٹیج پر جا کر پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور پارٹی ارکان کی پُرجوش داد وصول کی لیکن بدقسمتی سے تقسیم کا عمل پورا ہو کر رہا۔ فضیلت پر پابندی لگی تو رجب طیب نے ’’انصاف و ترقی پارٹی‘‘ کے نام سے الگ پارٹی بنا لی۔ فضیلت کے تقریباً ۴۵ ارکان اسمبلی نے ’’سعادت‘‘ کے بجائے ’’انصاف و ترقی‘‘ میں شمولیت اختیار کی۔ دیگر کئی پارٹیوں سے بھی ارکان آئے اور طیب ایردوغان سیاسی لیڈروں میں اہم ترین ہوتے چلے گئے۔

جولائی ۲۰۰۱ء میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق طیب ایردوغان سیاسی قائدین میں سرفہرست ہیں۔ انھیں ۲۳ فی صد افراد کی تائید حاصل تھی‘ جب کہ خود صدر مملکت احمد نجدت سیزر کو ۱۳ فی صد اور وزیراعظم بلنت ایجوت کو صرف ۲ فی صد عوامی تائید حاصل تھی۔ ایجوت کو بیماری کے علاوہ پارٹی کے اندر بھی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

سیاسی پارٹیوں کے بارے میں کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق‘ انتخابات کی اہل ۲۳ پارٹیوں میں سے صرف چار پارٹیاں پارلیمنٹ میں پہنچ سکیں گی کیونکہ ترک قانون کے مطابق ۱۰ فی صد سے کم ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی پارلیمنٹ میں شامل نہیں ہو سکتی اور اس کی جیتی ہوئی نشستیں اور ووٹ بھی جیتی ہوئی دیگر جماعتوں کو دے دیے جاتے ہیں۔

اس سروے کے مطابق طیب ایردوغان کی انصاف و ترقی پارٹی کو ۲۰ فی صد‘ ڈینز بائیکال کی کمیونسٹ ری پبلک پیپلز پارٹی کو ۱۱ فی صد‘ سعادت پارٹی کو ۱۰ فی صد اور تانسو چیلر کی صراط مستقیم پارٹی کو بھی ۱۰ فی صد ووٹ ملنے کی توقع ہے جب کہ نیشنلسٹ پارٹی کو ۸ فی صد‘ وزیرخارجہ اسماعیل جحم کی نئی قائم کردہ گریٹ یونٹی پارٹی کو ۵ فی صد‘ مسعود یلماز کی مدرلینڈ پارٹی کو ۳ فی صد اور حالیہ وزیراعظم بلنت ایجوت (بلند نہیں بلنت جس کا ترکی میں مطلب ہے جوان) کو صرف ایک فی صد ووٹ ملنے کی توقع ہے۔

مختلف چھوٹی پارٹیوں کے درمیان اتحاد بنانے کی کوششیں اپنی جگہ جاری ہیں لیکن اسی اثنا میں ۱۴ستمبر کو مسعود یلماز نے ایک نئی مہم کا آغاز کر دیا ہے اور وہ ہے الیکشن ملتوی کرنے اور اپنے اصل شیڈول کے مطابق کروانے کی مہم۔ اس کے لیے انھوں نے پارلیمنٹ کے فوری اجلاس کی تحریک شروع کی ہے۔ فوری اجلاس بلانے کی درخواست دینے کے لیے انھیں ۵۵۰ کے ایوان میں سے ۱۸۰ ارکان پارلیمنٹ کے دستخطوں کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے انھیں ۱۸۰ ارکان کے دستخط مل جائیں لیکن کیا پارلیمنٹ الیکشن ملتوی بھی کر دے گی؟ حالات جہاں تک پہنچ گئے ہیں‘ اس کی روشنی میں اس کا امکان کم ہے۔

اسی اثنا میں ایک اہم عدالتی فیصلہ یہ سامنے آیا ہے کہ آیندہ انتخابات میں نجم الدین اربکان کو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب وہ کسی پارٹی کی طرف سے تو نہیں‘ آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لے سکتے ہیں۔

اس صورت حال میں تمام تجزیہ نگار اس پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ اگر بڑی دھاندلی نہ ہوئی تو ۳نومبر ۲۰۰۲ء کو ہونے والے آیندہ الیکشن طیب ایردوغان کے ہیں۔ سعادت پارٹی کے بجائے انصاف و ترقی پارٹی میں شامل ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد اربکان کی خدمات و صلاحیتوں کی بھی معترف ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ سیکولر فوج نے ہر بار ان کا راستہ روکا ہے‘ اس لیے اس بار ان کے بجائے طیب کو منتخب کرنا ہے۔ اگرچہ استنبول کے اس سابقہ میئر کو بھی صرف اس بنا پر قید رکھا گیا اور سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگائی گئی کہ انھوں نے ایک تقریر میں کچھ اشعار پڑھے تھے جن کا مفہوم یہ تھا کہ اگر مجھے دہشت گرد کہتے ہو تو‘ ہاں میں دہشت گرد ہوں۔ مسجدوں کے مینار میری تلوار ہیں‘ ان کے گنبد میری ڈھالیں ہیں اور یہ مساجد ہماری بیرکیں ہیں۔

۱۰ رکنی نیشنل سیکورٹی کونسل کے نام پر ترکی کی اصل حکمراں‘ سیکولرازم کی محافظ فوج ہے۔ ۱۹۶۰ء‘ ۱۹۷۱ء اور ۱۹۸۰ء میں براہِ راست مداخلت اور فوجی انقلاب کے علاوہ سیکورٹی کونسل کے ذریعے دائمی مداخلت فوج اپنا حق سمجھتی اور بلاتکلف و حیا استعمال کرتی ہے۔ اب تک ترکی میں صرف دو جمہوری حکومتیں اپنی چار سالہ مدت پوری کر سکی ہیں۔ اتاترک کے بعد اب تک ۳۵ حکومتیں اسی سیکولر فوج کا شکار ہو چکی ہیں۔ لیکن سعادت اور اربکان کو ترک قانون کے مطابق کم از کم ۱۰ فی صد ووٹ حاصل کر کے پارلیمنٹ میں پہنچنے سے روکنے کے لیے شاید فی الحال طیب کا راستہ نہ روکا جائے اور جس طرح کے تجزیے اور سروے سامنے آ رہے ہیں ان کی روشنی میں شاید طیب کا راستہ روکنا ممکن بھی نہ ہو۔

۵ اگست ۲۰۰۲ء کو رفاہ کے قائم کردہ ٹی وی چینل میں دو صحافیوں فہمی قور اور نورشریک کا کہنا تھا: ’’طیب ایردوغان اور ان کے ساتھیوں کی حیثیت ۱۹۴۶ء میں عدنان مندریس اور ۱۹۸۳ء میں ترگت اوزال جیسی ہے۔ وہ دونوں بھی سنگین سیاسی بحرانوں کے بعد آئے اور اس وقت بھی ایک بڑا خلا پیدا ہو چکا ہے۔ طیب ایردوغان کا پارلیمنٹ اور اقتدار میں پہنچنا یقینی اور سہل ہو چکا ہے‘‘۔

صہیونی وزیراعظم آریل شارون نے ۱۹۵۶ء میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا ’’میں نے اس خطے میں پیدا ہونے والے ہرفلسطینی بچے کو جلا کر راکھ کر دینے کا عہد کیا ہے۔ یہ بچے اور عورتیں ہمارے لیے زیادہ خطرہ  ہیں کیونکہ ان کے باقی رہنے کا مطلب آیندہ فلسطینی نسلوں کا تسلسل ہے۔ فلسطین کرانیکل نامی رسالے نے اپنے تازہ شمارے میں ۴۵ سال پرانے جس انٹرویو کا اعادہ کیا ہے اس سے شارونی ذہنیت اور ارادوں کی تصویر واضح دکھائی دیتی ہے۔ اس نے مزید کہا تھا ’’خواہ مجھے ہر منصب کھونا پڑے اور میں ایک عام اسرائیلی شہری شمار کیا جانے لگوں‘ میرا یہ عہد ہے کہ اپنے سامنے آنے والے ہر فلسطینی کو کچل ڈالوں گا‘ اور اسے موت کی وادی میں جھونکنے سے پہلے اسے بدترین عذاب سہنے پر مجبور کروں گا۔ مجھے کسی عالمی قانون یا ضابطے کی پروا نہیں ہے۔ میں نے رفح میں ایک ہی حملے کے دوران ۷۵۰ فلسطینی قتل کیے تھے… میں چاہتا ہوں کہ اپنے فوجیوں کو فلسطینی خواتین کی عزت لوٹنے پر اُبھاروں کیونکہ وہ سب اسرائیل کے غلام ہیں۔ وہ ہم پر اپنی رائے اور اپنا ارادہ مسلط نہیں کر سکتے۔ حکم جاری کرنے کا حق صرف ہمیں حاصل ہے‘ باقی سب کو ہماری اطاعت کرنا ہے‘‘۔ ۴۵ سال کے بعد ایک بار پھر شارون قول و عمل سے اپنی اسی پالیسی کا اعلان کر رہا ہے۔ اس نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے ’’اے اسرائیلی قوم! اسرائیل حالت جنگ میں ہے… دہشت گردی کے خلاف جنگ… ہمیں ان دہشت گردوں کے خلاف بے رحم جنگ لڑنا ہے تاکہ ان وحشی فلسطینیوںکا مکمل خاتمہ ہو جائے‘ ان کا بنیادی ڈھانچہ ختم ہو جائے… ان دہشت گردوں کے ساتھ کوئی درمیانی راستہ نہیں نکل سکتا‘‘۔

شارون نے فلسطینی شہروں‘ بستیوں اور مہاجر کیمپوں میں اپنی اس درندہ ذہنیت کا جس طرح عملی مظاہرہ کیا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ شہروں کے شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں‘ لاشوں کے انبار کسی دفن کرنے والے کے انتظار میں گھلنا اور پگھلنا شروع ہو گئے ہیں‘ لاتعداد عمارتوں کے مکینوں کے لیے ان کی تباہ شدہ عمارتیں ہی قبریں بن گئی ہیں‘ کوئی انھیں ملبے کے نیچے سے نکالنے والاباقی نہیں بچا۔ تباہی اس انتہا کو پہنچی ہوئی ہے کہ دسیوں ورلڈ ٹریڈ سنٹر اس کے سامنے ہیچ ہیں‘ لیکن ۱۱ ستمبر کے بعد پوری دنیا کو اپنے ساتھ کھڑا دیکھنے یا اسے دہشت گرد قرار دینے والے صدر جارج بش اپنے باغیچے میں اپنے کتے کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے ہوئے بیان دیتے ہیں کہ ’’مجھے اسرائیل کی اپنے دفاع کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کی اہمیت و ضرورت کا بخوبی ادراک ہے‘‘۔ پھر مزید کہا: ’’پوری دنیا کے رہنمائوں کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ہمارا ساتھ دینا ہوگا۔ یہ بات یاسرعرفات پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب سے تین ہفتے پہلے یاسر عرفات کے لیے بہت کچھ کرنا ممکن تھا اور اب بھی بہت کچھ ممکن ہے۔ لیکن اس نے میری اُمیدوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ وہ دہشت گردی کو کچلنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں‘‘۔

اقوام متحدہ کی تازہ ترین قرارداد ۱۴۰۲ میں صہیونی افواج سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ رملّہ سمیت تمام فلسطینی علاقوں سے نکل جائیں اور تشدد کی تمام کارروائیاں ختم کر دیں۔ چونکہ یہ قرارداد کویت و عراق سے متعلق نہیں تھی اس لیے امریکہ نے اسے بھی سابقہ قراردادوں کی طرح ردی کا ایک ٹکڑا سمجھا اوربیان دیا : ’’اسرائیل اپنے طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق فلسطینی علاقوں سے نکلے گا اور اس نے اس ضمن میں ہمیں پوری طرح اعتماد میں لیا ہے‘‘۔ صہیونی وزیراعظم نے امریکہ کا شکریہ ادا کیے بغیر کہا: ’’امریکہ کو ہماری دفاعی ضروریات کا پورا ادراک ہے۔ البتہ ہم نے اسے یقین دلایا ہے کہ ہم یاسر عرفات کی جان کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے‘‘۔

یاسر عرفات جو گذشتہ تقریباً تین ہفتوں سے اپنے ہیڈ کوارٹرز میں محصور ہیں بالآخر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ’’یہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں یا گرفتار کرنا چاہتے ہیں یا یہاں سے بھگا دینا چاہتے ہیں لیکن میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں شہید ہوں گا‘ شہید ہوںگا‘ شہید ہوں گا‘‘۔ پھر مزید کہا کہ ’’اسرائیل کبھی امن نہیں چاہے گا۔ شارون امن کو نہیں جانتا… ہم پر یہ بات پوری طرح واضح ہو جانی چاہیے‘‘۔ جناب یاسر عرفات کو اس تلخ حقیقت کا اعتراف کرنے میں تقریباً ۱۵ سال لگ گئے۔ گذشتہ ۱۵ برس سے وہ صہیونی انتظامیہ کے ساتھ امن معاہدوں کے سراب کے پیچھے دوڑ رہے تھے۔ اوسلو معاہدے کے بعد بھی مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے۔ وائی ریور اور کیمپ ڈیوڈ ثانی سمیت کئی بار اسی بات کا اعادہ کیا گیا کہ ’’زمین کے بدلے امن‘‘ فارمولا موثر ثابت ہو رہا ہے۔ چیئرمین یاسر عرفات کو صدر یاسر عرفات کہا جانے لگا‘ انھیں امن کے نوبل انعام کا حق دار ٹھہرایا گیا‘ دہشت گردی کو کچلنے کے لیے انھیں چکی کا دوسرا پاٹ کہا گیا‘ دنیا بھر میں امریکی صدر کو تعریف کے قابل کوئی شخصیت ملتی تو وہ یاسر عرفات تھے۔ لیکن انھیں کیسا یاسرعرفات مطلوب تھا؟ یاسر عرفات کے ایک مشیر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے تھے یا تو ہم اپنی فلسطینی قوم کو جلاد بن کر خود قتل کرنا شروع کر دیں‘یا جیلر بن کر انھیں جیل میں ڈال دیں۔ لیکن ہم نے یہ کردار قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اگرچہ یاسر عرفات کے گرد بھڑکتی آگ کو وہی پتے ہوا دینے لگے ہیں جن پہ انھوں نے تکیہ کیا تھا۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یاسر عرفات انتظامیہ نے امن کے سراب اور تعریفوں کے انبار کا شکار ہو کر اپنے ہی بھائی بند کو جیل اور گولی کا نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کیا۔ ان موجودہ حالات میں بھی عرفات انتظامیہ کے سیکورٹی انچارج جبریل الرجوب نے حماس کے چھ مجاہدین کو اپنی جیل میں بند رکھ کر انھیں صہیونی افواج کی گولیوں کا نشانہ بننے دیا۔ یہ چھ فرشتہ صفت مجاہد آخری لمحے تک رجوب سے یہ اپیل کرتے رہے کہ یا تو وہ انھیں رہا کر دے تاکہ وہ یاسر عرفات سمیت پوری فلسطینی قوم کو تہ تیغ کرنے پر آمادہ صہیونی افواج کا مقابلہ کرسکیں اور اگر نہیں تو قید ہی میں ان کے لیے کوئی ایسا انتظام کر دے کہ اگر وہاں اسرائیلی افواج حملہ آور ہوں تو وہ اپنا دفاع کر سکیں۔ رجوب نے دونوں مطالبات نہیں مانے اور مزید چھ شہدا کا خون اپنے سر لے لیا۔

یاسر عرفات اور ان کے ساتھیوں کو گویا اب بھی کوئی یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ صہیونی انتظامیہ اور اس کی سرپرست امریکی حکومت کے دل جیتنے کی کوشش ہی سے دوام و بقا حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت تو وہی ہے جسے یہ سب بھی جانتے ہیں اور جسے قرآن کریم میں بھی تاکید کے ساتھ کہہ دیا گیا: ’’یہ یہود و نصاریٰ ہرگز تم سے راضی نہ ہوں گے یہاں تک کہ تم ان کے دین کی پیروی کرنے لگو‘‘۔

حالیہ تباہی اور صہیونی درندگی نے اُمت مسلمہ کی عمومی صورت حال پر گہرا اثر مرتب کیا ہے۔ عوام تو عوام‘ خواص تک بھی اس قیامت پرتلملا اُٹھے ہیں۔ عوام میں بیداری تو اس حد تک جا پہنچی ہے کہ متعدد عرب حکومتوں کو اپنا اقتدار بچانے کے لیے مختلف ڈرامے رچانے پڑ رہے ہیں۔ فلسطین میں برپا یہ قیامت گزشتہ قیامتوں سے اس لحاظ سے بھی مختلف ہے کہ گذشتہ ادوار میں آزاد عرب ابلاغیاتی ذرائع ناپید تھے لیکن اب الجزیرہ سمیت کئی عرب سیٹلائٹ چینل موجود ہیں جو فلسطین میں وقوع پذیر ہر واقعے اور حادثے کی ۲۴گھنٹے فوری رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ عرب سربراہی کانفرنس یا اس کی سفارشات و قراردادیں ہوں یا اس کے اگلے ہی دن اسرائیلی تازہ جارحیت کا آغاز ہو‘ لاشوں کے ڈھیر ہوں یا یاسر عرفات اور مسیحی کلیسوں تک سے پانی‘ بجلی‘ غذا کا منقطع ہو جانا اور وہاں ٹینکوں ‘ توپوں‘ راکٹوں اور دیگر امریکی ہتھیاروں کے انبار ہوں‘ ہر چیز اسی لمحے دنیا بھر کے سامنے ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ صہیونی درندگی‘ امریکی سرپرستی اور عرب حکمرانوں کی بے حسی پر اس ابلاغیاتی کارکردگی کا کوئی اثر نہیں ہوا‘ لیکن عرب عوام تڑپ اٹھے ہیں۔ وہ لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اگر آج بھی فلسطینیوں کی مدد نہیں کرنا تو اربوں ڈالر کے اخراجات سے بنائی گئی عرب افواج کس مرض کی دوا ہیں؟ لندن کے ایک مظاہرے میں شریک ایک نوجوان‘ ٹی وی نمایندے کو کہنے لگا ’’ہم اپنے حکمرانوں سے کسی چیز کا تقاضا نہیں کرتے سوائے اس کے کہ خدارا ہماری جان چھوڑ دو… دولت چاہتے ہو تو جتنی چاہتے ہو اپنے ساتھ لے جائو‘ لیکن اپنے دشمن سے نمٹنے کے لیے ہمیں آگے آنے دو‘‘۔ ایک اور شریک مظاہرہ کہنے لگا: ’’ہمیںہتھیار دے دو اور ہمارے سامنے سرحدیں کھول دو‘‘۔ اور تو اور لیبیا کا صدر قذافی کہنے لگا: ’’ہمارا اسلحہ زنگ آلود ہورہا ہے‘ اسے استعمال کرنے کی نوبت کب آئے گی‘‘۔ واضح رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق صرف خلیجی ریاستوں کی امریکی اسلحے کی سالانہ خرید ۵۰ ارب ڈالر سے متجاوز ہے۔

اس عوامی ردعمل میں یہ مطالبہ بھی پوری شدت سے سامنے آیا کہ اسرائیلی جارحیت رکوانے کے لیے اس کے سرپرست امریکہ پر دبائو بڑھایا جائے۔ پٹرول کا ہتھیار آخر کب کام آئے گا۔ عراق نے تو اپنی مجبوری کے عالم میں ۳۰ روز کے لیے پٹرول کی ترسیل منقطع کر دی لیکن اس کی اصل افادیت اس صورت میں سامنے آتی کہ اہم عرب اور اسلامی ممالک اس ہتھیار کواستعمال کرتے‘ لیکن بدقسمتی سے انھوں نے کہا کہ ’’پٹرول کی ترسیل روکنے کا زیادہ نقصان خود ہمیں ہوگا‘کیونکہ پیسہ ملنا بند ہو جائے گا‘‘۔

اس مفروضے کو پٹرولیم کے معروف ماہر‘ شاہ فیصل اور دیگر سعودی فرماں روائوں کے ساتھ ربع صدی تک وزیر پٹرول کی حیثیت سے ذمہ داری انجام دینے والے احمد ذکی یمانی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں غلط ثابت کیا۔ انھوں نے کہا ’’پٹرول کے ہتھیار کو استعمال کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔ ہم اگر آج بھی یہ نہ کر سکے تو یہ ہتھیار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کند ہو کر رہ جائے گا۔ اس وقت بھی دنیا کے پٹرولیم ذخائر کا تین چوتھائی حصہ خلیج میں ہے۔ امریکہ مجبور ہوگا کہ اس قوت کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے ہم سے بات کرے‘‘۔ انھوں نے ۱۹۷۳ء کے اختتام اور ۷۴ء کے اوائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب شاہ فیصل نے یہ ہتھیار استعمال کیا تو امریکہ اس وقت بھی مجبور تھا کہ تیل کی صنعت کے لیے ضروری آلات کی ترسیل جاری رکھے اور اس نے ایسا ہی کیا‘‘۔

صہیونی مظالم کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے احمد ذکی یمانی نے کہا ’’مجھے آج اپنے عرب ہونے پر شرم اور ذلت محسوس ہوتی ہے‘ میری راتوں کی نیند اُڑ گئی ہے‘ میں اپنی زندگی کے بدترین ایام گزار رہا ہوں‘ میں فلسطینی عوام پر توڑے جانے والے مظالم کے مناظر دیکھتا ہوں تو میرا رواں رواں تڑپ اٹھتا ہے: کیا ہم واقعی ان کے بھائی ہیں؟‘‘ عرب عوام میں بیداری اور اپنے حکمرانوں سے بیزاری کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’’میں عرب عوام کو غیظ و غضب سے کھولتا ہوا دیکھتا ہوں لیکن ساتھ ہی یہ دیکھتا ہوں کہ وہ ایک وادی میں ہیں اور ہمارے حکمران دوسری وادی میں ہیں۔ حالانکہ انھیں بخوبی معلوم ہے کہ امریکی کانگریس اسرائیلی پارلیمنٹ سے زیادہ اسرائیل کی وفادار اور امریکہ میں شارون امریکی صدر بش سے زیادہ طاقت ور ہے‘‘۔

آج حکومتوں کی بے حسی‘ امریکہ کی سرپرستی اور صہیونی درندگی کی بدترین تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ لیکن اس پورے تناظر میں فلسطینی نوجوانوں اور بچوں ہی نہیں‘ فلسطینی خواتین کا ایک کردار ایسا ہے کہ حالات جتنے بھی سنگین ہوتے چلے جائیں کامیاب اسی کردار کے رکھنے والوں کو ہونا ہے کہ ان سے ان کے رب کا یہ وعدہ ہے کہ اگر تم اللہ کی نصرت کرو گے تووہ تمھاری نصرت کرے گا۔ ان فلسطینی جانبازوں کا ذکر بہت طویل نہیں ہوسکتا ہے لیکن ایک شہید محمد عودہ کی وصیت کے یہ الفاظ ہمارے اس پورے مضمون کا عنوان ہیں: ’’جب تم میری شہادت کی خبر سنو تو فخر سے اپنے سربلند کر لینا… اتنے بلند کہ آسمان کی وسعتوں کو چھونے لگوکیونکہ تمھارے بیٹے نے اللہ سے ملاقات چاہی تھی اور اللہ نے اسے اس ملاقات کا شرف عطا کردیا‘‘۔ واضح رہے کہ محمد عودہ ۲۵ سالہ صہیونی افواج کی فہرست مطلوبین میں سرفہرست تھا اور اس کی اس استشہادی کارروائی کے نتیجے میں ۲۰ سے زائد یہودی فوجی جہنم رسید ہوئے۔

۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والی عالمی صورت حال کے سب سے زیادہ فوائد شاید صہیونی ریاست نے سمیٹے ہیں۔ ایک طرف تو اس نے اور اس کے زیراثر عالمی ابلاغیاتی اداروں نے اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گردی کے مترادف قرار دے دیا‘ اور دوسری طرف دنیا کی ساری توجہ افغانستان پر مرکوز دیکھ کر نہتے فلسطینی عوام کے خلاف ایک مکمل جنگ مسلط کر دی جس میں ایف ۱۶ طیاروں اور امریکی ہیلی کاپٹروں ’’اباچی‘‘ سے لے کر اپنے سفاک توپ خانے‘ ٹینکوں اور میزائلوں تک ہر نوع کا اسلحہ استعمال کیا۔ دُنیا میں کہیں اس ظلم و دہشت گردی کے خلاف آواز نہیں اٹھی۔ جنگی جرائم سے بھرپور تاریخ رکھنے والے صہیونی وزیراعظم آرییل شارون نے برسرِاقتدار آتے ہی اعلان کر دیا تھا کہ ’’ایک ماہ کے اندر اندر تحریک انتفاضہ کو اس کے انجام تک پہنچا دوں گا‘‘، اس نے اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ ۱۱ ستمبر کے بعد وہ خون کے مزید دریا بہا رہا ہے لیکن جہاد…؟ جہاد مزید توانا ہے!

حالیہ تحریک انتفاضہ کا آغاز ۳ ستمبر ۲۰۰۰ء کو اس وقت ہوا تھا جب آرییل شارون اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے مسجد اقصیٰ میں جا گھسا تھا اوراعلان کیا تھا کہ یہ سب اسرائیل کا حصہ ہے اور مجھے یہاں آنے کے لیے کسی کی اجازت درکار ہے نہ کوئی مجھے روک سکتا ہے۔ گذشتہ ۵۳ برس سے قربانیوں کی تاریخ رقم کرنے والے فلسطینی عوام نے اس کی اس دریدہ دہنی کاایسا عدیم المثال جواب دیا کہ خود یہودی بھی شارون کے اس اقدام کو حماقت قرار دینے لگے۔

تقریباً ڈیڑھ برس سے جاری حالیہ تحریک نے ہزاروں شہدا پیش کیے ہیں۔ ۱۱ ستمبرسے لے کر اب تک تقریباً چار ماہ کے عرصے میں ۸۰۰ سے زائد شہدا اور ۳۵ ہزار سے زائد زخمی‘ صہیونی سفاکیت و درندگی کا شکار ہو چکے ہیں لیکن دہشت گردی اور مجرم پھر بھی فلسطینی اور مسلمان ہی قرار پاتے ہیں۔ذرا ملاحظہ فرمایئے جیسے ہی محکوم عوام یا کوئی فدائی کارروائی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں‘ امریکہ سے کیا بیانات آتے ہیں:

صدر بش: ’’یاسر عرفات دہشت گردی ختم کرنے کے لیے صرف بیانات نہ دیں‘ عملی اقدام کریں۔ حماس اور جہاد اسلامی کے خلاف موثر کارروائیاں کرنا ہوں گی‘‘۔ وزیر خارجہ کولن پاول یاسر عرفات سے فون پر بات کرتے ہوئے: ’’فلسطینی کارروائیوں کے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کریں‘‘۔ پھر بیان دیتے ہوئے کہا: ’’یاسر عرفات اگر ان کارروائیوں کے ذمہ داران کے خلاف فوری اور بھرپور اقدامات نہیں کرتے تو ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے گا‘‘۔ ایک اور بیان میں انھوں نے کہا: ’’اسرائیل اپنا دفاع کرنے کے لیے ہر مناسب اقدام کرنے کا حق رکھتا ہے‘‘۔ امریکی نائب صدر: ’’فلسطینی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں اسرائیل کا حق ہے‘‘۔ امریکی خصوصی نمایندہ انتھونی زینی: ’’یاسر عرفات بلاتاخیر اور بلارد و کد حرکت میں آئیں‘‘

اس ہلاشیری اور عالمی سرپرستی سے تقویت پا کر صہیونی افواج مزید ظلم ڈھاتی ہیں اور یاسر عرفات بھی اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے مزید مجاہدین کو گرفتار کر لیتے ہیں۔ شیخ احمد یاسین کو نظربند کر دیا گیا ہے اور کئی فلسطینی مجاہد لیڈروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مغربی کنارے میں عرفات کی طرف سے سیکورٹی کے انچارج جبریل رجوب فرماتے ہیں: ’’فلسطینی اتھارٹی ان سیاسی عناصر کو کچلنے میں کوئی نرمی نہیں برتے گی جو ہمارے قومی مفادات کو نقصان پہنچاتے ہوئے ازخود کارروائیاں کریں گے۔ یہاں صرف ہماری اتھارٹی ہے‘ ہماری پولیس ہے اور ہماری ہی بندوق ہے۔ کسی دوسرے کے لیے اجتہاد یا تاویل کرنے کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے فدائی کارروائیاں نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور ہم اس وعدے کو پورا کریں گے‘‘۔ ادھر غزہ کے سیکورٹی انچارج محمد دحلان نے اعلان کیا: ’’ہم جنگ بندی کو یقینی بنائیں گے اور اسرائیل کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا خاتمہ کر کے رہیں گے۔ یہاں فلسطینی اتھارٹی ہی اصل اتھارٹی ہے‘‘۔

صہیونی افواج نے امریکی دبائو کے ذریعے ایک طرف تو خود عرفات انتظامیہ کو فلسطینی عوام کے مقابل لاکھڑا کیا‘ مجاہدین اور ان کی قیادت کو گرفتار کروا دیا‘ لیکن دوسری طرف یہ کہہ کر یہ اقدامات ناکافی ہیں‘عرفات انتظامیہ سمیت پوری فلسطینی قوم کے خلاف ظلم کی انتہا کر دی۔ خود فلسطینی اتھارٹی کے کئی مراکز تباہ کر دیے اور ایک روز پوری دُنیا کے سامنے غزہ کا ایئرپورٹ کھود کر رکھ دیا گیا۔

اس ساری صورت حال کے مقابل تحریک جہاد کا موقف ہے کہ ہم ’’امن مذاکرات‘‘ کے نام پر بھی لاتعداد سرابوں کے پیچھے دوڑ چکے ہیں‘ عرب ممالک کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بات چیت اور کسی درمیانی راہ کی تلاش میں بھی بہت بھٹک چکے ہیں‘ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی باندیوں کے ذریعے بھی کئی کوششیں کر چکے ہیں اور آخرکار ایک ہی نتیجے تک پہنچے ہیں کہ قابض صہیونی افواج کے مقابلے میں صرف اور صرف جہاد کا راستہ ہی کھلا رہے‘ باقی تمام راستے ہماری نہیں صہیونی انتظامیہ کی منزل تک پہنچتے ہیں۔

حماس کے رہنما خالد المشعل کا کہنا ہے کہ ’’حماس نے مزید ۲۰ سال کے لیے منصوبہ بندی کر لی ہے۔ہم شہدا کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے اور آخرکار اللہ کی نصرت کے حق دار ٹھہریں گے۔ دشمن اتنا نقصان برداشت نہیں کر سکتا جتنا ہم کر سکتے ہیں کیونکہ دشمن اللہ سے وہ کچھ نہیں چاہتا جو ہم چاہتے ہیں‘‘۔ انھوں نے مزید کہا: ’’بعض لوگ امن کے نام پر بھول بھلیوں میں پھنستے رہیں گے‘ تحریک مزاحمت کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہیں گی لیکن ہم ان شاء اللہ ان تمام مراحل سے سرخرو ہو کر نکلیں گے‘‘۔

۸ اور ۹ جنوری ۲۰۰۲ء کو بیروت میں علما کی ایک کانفرنس ہوئی۔ پاکستان سے مولانا عبدالمالک اور ضیا الرحمن فاروقی صاحب اس میں شریک ہوئے۔ دُنیا بھر سے ۱۳۰ علما تشریف لائے۔ اس کے اختتامی اعلامیے میں بھی یہ بات پوری وضاحت سے کہی گئی کہ صہیونیوں کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کے لیے جہاد تب تک جاری رہے گا جب تک قبلہ اول کی سرزمین آزاد نہیں ہو جاتی۔ اس اعلامیے کا ایک نکتہ یہ ہے: ’’فلسطینی عوام کی مددو سرپرستی اور ان کا دفاع تمام مسلم اُمت پر فرض ہے‘ حکومتی سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی‘‘۔

واضح رہے کہ حکومت لبنان پر بھی صہیونی انتظامیہ اور امریکہ کا مسلسل دبائو ہے کہ وہ دو جہادی تنظیموں حماس اور حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے اور ان کی کارروائیاں ختم کروائے‘ لیکن لبنان نے اپنی تمام تر سیکولر شناخت کے باوجود یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

حماس نے اپنی اس پالیسی کا بھی بارہا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنا دشمن صرف صہیونی انتظامیہ کو قرار دیتے ہیں۔ یاسر عرفات کے تمام تر مخالفانہ اقدامات کے باوجود ہم اپنی توجہ صرف اپنے اصل دشمن پر ہی مرکوز رکھیں گے۔ حماس اور دیگر جہادی تنظیموں کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کا اثر خود دشمن نے بھی تسلیم کیا ہے۔ خود شارون نے اپنی ایک بریفنگ میں بتایا ہے کہ: ’’ہم گھمبیراقتصادی بحران سے دوچار ہورہے ہیں‘ خزانہ خالی ہو رہا ہے (تمام تر امریکی سرپرستی اور امداد کے باوجود)‘ بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور آبادکاری کا عمل سست پڑ رہا ہے۔ خاصی تعداد میں یہودی ملک سے نکل بھی رہے ہیں‘‘۔

ایک پہلو خصوصی توجہ چاہتا ہے۔ اگرچہ اسرائیل بھارت تعلقات پہلے بھی ڈھکے چھپے نہیں تھے‘ لیکن گذشتہ چند ماہ میں ان کا باہمی تعاون بہت بڑھ گیا ہے۔ اس وقت خود صہیونی فوجی ذرائع کے مطابق بھارت کو اسلحہ دینے والوں میں اسرائیل‘ روس کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اور عنقریب پہلے نمبر پر آسکتا ہے‘ جب کہ بھارت اس وقت اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے۔ دونوں کی باہمی تجارت جو ۱۹۹۲ء میں چند ملین ڈالر تھی ۲۰۰۰ء میں ۶۰۰ ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ سیاسی لحاظ سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں امریکہ اور ترکی کے بعد بھارت تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں میں پانچ اسرائیلی وفود بھارت آچکے ہیں۔ پہلے تین وفود علانیہ طور پر چوتھا وفد سیکورٹی معاملات پر خفیہ مذاکرات کے لیے اور پانچواں وفد صہیونی وزیر خارجہ شمعون پیریز کی سربراہی میں۔ چار جاسوسی فیلکن جہاز خریدنے کے لیے ایک ارب ڈالر کے حالیہ معاہدے سے پہلے بھی متعدد عسکری معاہدے ہو چکے ہیں۔ صہیونی ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ’’دونوں ممالک کو ایک جیسے خطرات درپیش ہیں‘ دونوں ملکوں میں بڑی مسلمان کمیونٹی رہتی ہے اور دونوں ممالک کے خلاف بیرونی دہشت گردی ہو رہی ہے‘‘۔

اس بھارتی صہیونی گٹھ جوڑ کے مقابلے کی صرف اور صرف ایک صورت ہے کہ مسلم ممالک بھی خطرے کو بھانپتے ہوئے متحد ہوں۔ مسلم حکومتیں ااپنے ہی عوام کے خلاف (دشمن کو خوش کرنے کے زعم میں) کارروائیاں نہ کریں بلکہ عوام کو اپنے ساتھ ملاتے ہوئے سیسہ پلائی دیوار بنیں وگرنہ خاکم بدہن عوام تو آزمایش میں آئیں گے ہی‘ حکمران بھی ’’ٹشوپیپر‘‘ سے زیادہ مقام نہ پائیں گے کہ استعمال ہوا اور پھینک دیا گیا۔ رہے دشمن کے مطالبات تو وہ تو کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ ذرا ملاحظہ ہو القدس پر قابض یہودیوں کا نیا مطالبہ۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ سمیت تمام مساجد سے لائوڈ اسپیکر پر اذان بند کی جائے کہ اس سے ہمارے آرام میں خلل پڑتا ہے‘ خاص طور پرفجر کے وقت۔

دنیا بھر میں ان کے مطالبات میں اشتراک و مماثلت بھی حیرت انگیز ہے‘ جہادی تنظیموں پر پابندی لگائو‘ سرحد پار دہشت گردی بند کرو‘ لائوڈ اسپیکر پر پابندی لگائو‘ جہاد اور بنی اسرائیل سے متعلقہ قرآنی آیات کی تعلیم ختم کرو‘ یہ سارے کام خود مسلمان حکمران انجام دیں… فاعتبروا یااولی الابصار!

ربّ ذوالجلال نے سچ فرمایا: یہ یہود اور مشرکین تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک کہ تم ان کے دین کی پیروی نہیں کرنے لگ جاتے۔

 

۲۹‘ ۳۰ جنوری ۲۰۰۱ء کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں پہلی عالمی القدس کانفرنس منعقد ہوئی۔ قبلۂ اوّل کے لیے مسلمانان عالم کا یکساں و متحدہ موقف اُجاگر کرنے کے لیے اس کانفرنس کی اہمیت غیر معمولی تھی۔اسلامی تحریکیں ہی نہیں‘ دیگر عناصر بھی بڑی تعداد میں اس میں شریک تھے۔ متعدد عیسائی رہنما بھی القدس کی آزادی کا مطالبہ کرنے کے لیے اس میں شریک رہے۔ ’’القدس کانفرنس‘‘ کے نام سے ایک مستقل ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا‘ تو اس میں بھی قوس قزح کے سارے رنگ موجود تھے۔ شیعہ ‘سنی‘ نیشنلسٹ‘ مسیحی سب بیک آواز القدس کی آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس عالمی کانفرنس کا سب سے اہم فائدہ یہ ہوا ہے کہ دنیا بھر سے شریک قائدین و نمایندگان کو ایک پلیٹ فارم پر مل بیٹھنے اور ایک دوسرے کے احوال سے باخبر ہونے کا موقع ملا۔

ایسی ہی ایک غیر رسمی مجلس میں سوڈان سے آئے ہوئے تین اہم رہنما یکجا تھے:۱- شیخ یاسین عمر الامام‘ ڈاکٹر حسن ترابی کے دست راست ہیں اور ساری عمر اسلامی تحریک کے لیے جدوجہد میں گزار دی ‘۲- ڈاکٹر احمد محمد عبدالرحمن‘ سوڈانی صدر عمر حسن البشیر کے سیاسی امور کے ذمہ دار ہیں‘ اور ۳-مہدی ابراہیم حکمران پارٹی کے خارجہ امور کے نگران ہیں۔تینوں کو باہم شیروشکر دیکھ کر راقم الحروف نے کہا کہ جتنی خوشی پوری کانفرنس کی کارروائی دیکھ کر ہوئی‘ اتنی ہی خوشی صرف اس ایک منظر کو دیکھ کر ہو رہی ہے کہ آپ تینوں اکٹھے ہیں۔ سب نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ ’’ہمارے اختلافات بھی ہمیں جدا نہیں کرتے!‘‘ اور پھر اس رواداری کے کئی واقعات سنائے۔

بدقسمتی سے سوڈان کی تازہ صورت حال نے ایک بار پھر تشویش بلکہ کرب کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ ۲۷ دسمبر ۱۹۹۹ء کو قاضی حسین احمد کی زیر قیادت جماعت اسلامی کا تین رکنی وفد خرطوم ہی میں تھا۔ اس موقع پر  ۱۰ روز کے مسلسل مذاکرات کے بعد پارٹی کی شوریٰ نے ایک جامع صلح نامہ اتفاق رائے سے منظور کیا تھا۔ اس میں صدر عمر البشیر اور ڈاکٹر حسن ترابی کے درمیان تمام اختلافات کا احاطہ کیا گیا تھا‘ ان کی وجوہات کا ذکر تھا‘ ان کا فوری حل بھی تجویز کیا گیا تھا اور ان کا دوررس علاج بھی تحریر کیا گیا تھا۔

سوڈانی رہنمائوں نے ایک دوسرے کو بھی مبارک باد دی‘جماعت کے وفد سے بھی اظہار سپاس و تہنیت کیا اور سب نے کھلتے چہروں سے امید ظاہر کی کہ اب دھیرے دھیرے تمام حالات معمول پر آجائیں گے۔ اس صلح نامے کے بعد ڈاکٹر حسن ترابی اور صدر عمرالبشیر کے درمیان رو در رو ملاقاتیں بھی ہوئیں‘ شکوے بھی ہوئے‘ اور یہی امید قوی تر ہوئی کہ جن اختلافات کی بنیاد پر تحریک دو دھڑوں میں منقسم ہو گئی ہے ان کا حل تلاش کر لیا جائے گا۔

ان اختلافات میں سب سے بنیادی امر تحریک‘ پارلیمنٹ اور حکومت کے اختیارات کا تعین تھا۔ تفصیل میں جائے بغیر‘ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر حسن ترابی کے خیال میں فیصلہ سازی اور پالیسی سازی میں حتمی اختیارات پارلیمنٹ کو حاصل ہونے چاہییں‘ جب کہ صدر عمرالبشیر اور ان کے ساتھیوں کی رائے میں سوڈان کے حالات اور درپیش خطرات کی روشنی میں صدارتی نظام کو مستحکم ہونا چاہیے۔ صدر مملکت پارلیمنٹ اور پارٹی سے بھی رہنمائی لے‘ لیکن عوام چونکہ صدر کی بیعت کرتے ہیں‘ اس لیے اس قبائلی ماحول میں صدر ہی کو

قول فیصل کا اختیار ملنا چاہیے۔ ان دونوں آرا میں توافق ممکن تھا‘ لیکن اختلافات کو ہوا دے کر اسے خلیج میں بدل دینے والوں کی کوششیں بدقسمتی سے کامیاب ہو گئیں۔ صلح نامہ معدوم ہو گیا‘ ڈاکٹر حسن ترابی اور ان کے ساتھیوں کو علیحدہ کر دیا گیا۔ انھوں نے اپنی الگ پارٹی پاپولر نیشنل کانفرنس بنا لی۔ حکمران پارٹی کا نام ’’نیشنل کانفرنس‘‘ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مصر‘ لیبیا اور کئی دوسرے ممالک میں موجود اپوزیشن لیڈروں نے واپسی کے راستے تلاش کرنا شروع کر دیے۔ تمام قابل ذکر اپوزیشن رہنما جن میں سابق صدر نمیری‘ میرغنی‘ اور سابق وزیراعظم صادق المہدی بھی شامل ہیں‘ اب تک خرطوم واپس آچکے ہیں۔ حکومت سے صلح بلکہ حکومت میں شرکت کے مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔

سب سے بدنما صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب وسط فروری ۲۰۰۱ء میں ڈاکٹر حسن ترابی اور ان کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس موقع پر مظاہرے بھی ہوئے اور متعدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ترابی صاحب پر الزام یہ لگایا گیا کہ انھوں نے جنوبی علیحدگی پسندوں کے ساتھ صلح و مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور وہ حکومت کا تختہ اُلٹنا چاہتے ہیں‘ جب کہ ترابی صاحب اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اگر صدر اُن سابق اپوزیشن لیڈروں سے صلح کی بات کر سکتے ہیں جنھوں نے انھی علیحدگی پسندوں اور مختلف بیرونی عناصر کے ساتھ مل کر سوڈان پر متعدد فوجی حملے کروائے‘ تو ہم بھی جنوبی عناصر سے گفت و شنید کر سکتے ہیں۔ خود حکومت نے بھی ان عناصر کے ساتھ متعدد بار مذاکرات کیے ہیں۔

وجوہات کا تجزیہ جس طور بھی کیا جائے‘ عملی نتائج بدقسمتی سے یہی سامنے ہیں کہ کل تک ہم پیالہ و ہم نوالہ‘ وہ قائدین کہ جن سے پوری اُمت کی امیدیں وابستہ تھیں‘ ان کے درمیان اس وقت تلخی اوراختلافات عروج پر ہیں‘ تنائو شدید ہے اور واپسی کی راہیں مسدود ہوتی جا رہی ہیں۔ اس صورت حال سے سب سے زیادہ خطرہ سوڈان کی انقلابی حکومت کو ہے‘ اور سب سے زیادہ خوشی سوڈان کے بدخواہوں کو۔ مختلف مواقع پر صدر عمر البشیر کی حکومت گرانے کے لیے عالمی قوتوں نے‘ پڑوسی عرب ممالک کے ذریعے سرتوڑ کوششیں کیں اور براہِ راست بھی ہلے بولے گئے۔ ’’الشفا‘‘ نامی دواساز فیکٹری پر میزائلوں سے حملہ کیا گیا‘ اکائونٹ منجمد کر دیے گئے‘ سوڈان ایئرلائن پر پابندی لگا دی گئی۔ خود صدر عمربشیر بتا رہے تھے کہ امریکہ نے سوڈانی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے ۴۰۰ ملین ڈالر کا بجٹ رکھا ہے۔

ان تمام کارروائیوں کے باوجود بھی یہ امریکی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ چار چار ممالک کی طرف سے مشترکہ فوجی حملے پسپا ہوئے۔ پڑوسی عرب ممالک خود مجبور ہوئے کہ سوڈان سے تعلقات بحال کریں۔ ’’الشفا‘‘ تباہ کر دیے جانے پر کئی ’’الشفا‘‘ بنانے کی پیش کش ہوئیں۔ سوڈان خوراک و ادویات سازی میں خود کفیل ہوگیا۔ پٹرول کا ایسا ذخیرہ دریافت ہوا کہ آیندہ برس سے سوڈان تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہو رہا ہے۔ ۱۹۹۳ء میں ہم جب وہاں گئے تو پٹرول لینے کے لیے پرمٹ جاری ہوا تھا اور رات رات بھر طویل قطاروں میں لگنا پڑتا تھا۔ زمین صرف غذائی سونا ہی نہیں اصل سونا اُگلنے لگی۔ سونے کی سالانہ پیداوار ڈیڑھ ٹن سے بڑھ گئی۔ جنوبی سوڈان کی لڑائی میں تمام وسائل جھونکے جانے کے باوجود سوڈان مستحکم سے مستحکم ہوتا گیا اور آخرکار پڑوسی و امریکی تجزیہ نگار اس نتیجے پر پہنچے کہ جب تک سوڈانی حکومت کو اندر سے کمزور نہیں کیا جاتا‘ اس کا خاتمہ ناممکن ہے۔

اس خدشے اور اس تجزیے سے دونوں متنازعہ بھائی بھی اتفاق کرتے ہیں۔ لیکن دُوری ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اب تمام تر امیدیں خود سوڈانی حکومت اور ڈاکٹر حسن ترابی صاحب کی پارٹی میں موجود ان عناصر پر موقوف ہیں جو اب بھی باہم یک جا و یک جان ہیں۔سب تجزیہ نگار اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ عوام تقسیم نہیں ہوئے اور وہ اب بھی یہی چاہتے ہیں کہ دونوں رہنما حسب سابق مل جائیں۔ اس طرح کا عوامی دبائو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

سب سے زیادہ تسلی کی بات یہ ہے کہ خود صدر عمرالبشیر‘ ان کے وزرا اور ان کی پارٹی کی قیادت‘ سب کے سب اسلام سے گہری محبت رکھنے والے اور اسلامی اصلاحات کا سفرمکمل کرنے کے شدید حامی ہیں۔ان میں متعدد افراد براہِ راست ترابی صاحب کے تربیت یافتہ ہیں۔ تحریک اسلامی ان کی پہلی و آخری محبت ہے اور ان کے ہوتے ہوئے سوڈان کی اسلامی شناخت ہر قسم کے خطرات سے محفوظ ہے۔ خطرہ صرف اور صرف یہ ہے کہ جن شیاطین نے ترابی و بشیر کو باہم جدا کر کے سوڈان کو ایک بحران کا شکار کیا ہے‘ اور اس بحران میں مزید تندی پیدا کر رہے ہیں‘ وہ لکڑیوں کا گٹھا کھول کر ایک ایک کو توڑنے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ آیئے ہم سب اپنے سوڈانی بھائیوں کے اتحاد و یک جہتی کے لیے دست دعا بلند کریں۔

سوڈان سے آنے والا تازہ ہوا کا جھونکا یہ ہے کہ اخوان المسلمون کی بنیادی تنظیم جو اس سے پہلے حکومت سے باہر تھی‘ اب باقاعدہ حکومت میں شامل ہو گئی ہے‘ اور اس کے ایک نوجوان رہنما ڈاکٹر عصام البشیر کابینہ میں لے لیے گئے ہیں۔ یہ تمام عناصر سوڈان کی اسلامی شناخت کے ضامن اور وحدت کی امید کو مضبوط تر کرنے والے ہیں۔

انڈونیشیا  --- عیسائیت کی زد میں!

محمد ایوب منیر

عظیم اسلامی ملک انڈونیشیا ایک بار پھر بحران کے اندر گھر گیا ہے۔ جنرل سہارتوکے بعد برھان الدین یوسف حبیبی کو صدرِمملکت بنایا گیا لیکن اسلام پرستوں سے ان کی راہ و رسم اور طیارہ سازی کی صنعت میں غیر معمولی خود کفالت ان کے لیے موردِالزام بن گئی۔ ۱۶ ماہ قبل  نہضۃ العلما کے عبدالرحمن واحد نے اقتدار سنبھالا تو گولکرپارٹی‘ جمہوری پارٹی اور متحدہ ترقیاتی پارٹی (پی پی پی) نے واحد کو نجات دہندہ قرار دیا تھا لیکن فسادات عروج پر پہنچے ہیں تو صدر سے استعفا کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اس صورت میں جمہوری پارٹی کی سربراہ اور موجودہ نائب صدر سُکارنو کی بیٹی میگاوتی کے صدر بننے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ میگاوتی کے ’’راسخ العقیدہ اور روشن خیال‘‘ ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اُس کی جماعت (پی ڈی پی آئی) کے ۷۰ فی صد عہدے دار چینی النسل ہیں یا مسیحی ہیں‘ اور اس کے مندروں میں جا کر پھول چڑھانے کے کئی واقعات عالمی پریس میں شائع ہو چکے ہیں۔

وسائل سے مالا مال انڈونیشیا سے مشرقی تیمور کوعلیحدہ کروانے میں استعماری قوتوں کی کامیابی نے اس خوف ناک حقیقت کو واشگاف کر دیا ہے کہ ۹۰ فی صد مسلم اکثریت کے ملک کو ۹‘ ۱۰ فی صد مسیحی اقلیت کے زیرنگیں کیا جا سکتا ہے۔ ۵ فی صد چینی النسل ملیشیائی آبادی‘ تمام تر معیشت پر قبضہ جمائے بیٹھی ہے۔اکبر تاجنگ‘ میگاوتی‘ امین رئیس اور جنرل اندرپارتو نوسُتارتو تن تنہا ملک کو خلفشار سے نکالنے‘ اقتصادی بحران ختم کرنے‘ اور ملک کو متحد رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ عبدالرحمن واحد کو معزول ‘ برخواست یا مستعفی کرایا گیا تو جو فرد برسرِاقتدار آئے گا وہ عیسائی موثر گروہوں کا نمایندہ ہوگا ‘یا اُن کے رحم و کرم پر ہوگا۔ پاکستان کے اندر کوئی غیر مسلم دستوری طور پر صدر‘ وزیراعظم‘ چیئرمین سینٹ‘ مسلح افواج کا سربراہ اور چیف جسٹس نہیں بن سکتا لیکن انڈونیشیا کا دستور ایسی کوئی شق نہیں رکھتا۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ماضی قریب کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔

آچے‘ ایرپان جایا‘ ریائو اور مدورا صوبوں میں علیحدگی کی تحریکیں عروج پر ہیں۔ جزائر ملاکا میں مسلمان اور عیسائی‘ ایک دوسرے کے خلاف مسلح ہو کر صف آرا ہیں۔ سہارتو کے دورِ حکومت میں بھی اور اُس کے بعد گذشتہ تین برسوں میں ۱۰ فی صد مسیحی اقلیت نے کلیدی مناصب تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ چار اہم ترین وزارتیں ان کے پاس ہیں۔

وزارت صنعت و تجارت لوھوت بنسار پنجایتن کے پاس ہے۔ مذہباً پروٹسٹنٹ اور ملٹری اکیڈمی کے فارغ التحصیل ہیں۔ سنگاپور میں انڈونیشیا کے سفیر رہے ہیں۔ لوھوت کا وعدہ تھا کہ ۸۰ ارب امریکی ڈالر کا سرمایہ جو صنعت کار انڈونیشیا سے نکال لے گئے ہیں‘ میں یہ واپس لائوں گا۔ لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی‘ تاہم روپے کی قیمت اور بھی گر گئی۔ لوھوت کے سابق حکمران خاندان سے بھی خوش گوار مراسم رہے ہیں‘ نیز اقتصادی شہ رگ کی مالک چینی آبادی کے سربرآوردہ لوگوں سے بھی گہرے تعلقات ہیں۔

بنگاران سراگی‘ وزیر زراعت اور مذہباً پروٹسٹنٹ عیسائی ہیں۔ وہ بوگور انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی میں زرعی اقتصادیات کے استاد رہے اور ان کی کئی تخلیقات منظرعام پر آچکی ہیں۔ انڈونیشیا کے ۱۲ کروڑ مسلمان کسانوں کی حالت زار میں کوئی بہتری نہ آسکی‘ تاہم وزارتِ زراعت میں تعلیم یافتہ عیسائی اہم عہدوں پر ضرور متعین ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر توانائی و معدنیات پرنومویس گیانترو کیتھولک عیسائی ہیں۔ ان کا تعلق جاوا سے ہے اور جاوا کے رہنے والے مسلک کی مجموعی سیاست پر اثرانداز رہتے ہیں۔ وہ جکارتا کی اتماجایا کیتھولک یونی ورسٹی سے طویل عرصہ متعلق رہے اور بعدازاں عالمی بنک کے مشیر بن گئے۔ وہ تیل تلاش اور برآمد کرنے والی کمپنیوں کے بھی انچارج رہے جن کے اثاثے اربوں ڈالر ہیں۔ ان کی امریکی سفیر رابرٹ ایس گیلبا رڈ سے قریبی دوستی ہے۔ مذہب بھی ایک ہے اور امن عالم قائم کرنے کا طریقہ بھی ایک! علاوہ ازیں انڈونیشیا بنک تعمیر نو ایجنسی (IBRA) کے سربراہ ایڈون گروگان بھی عیسائی ہیں۔

اس موقع پر تھیو کا ذکر بھی ضروری ہے۔ میجر جنرل ریٹائرڈ تھیوسیافی مسلکًا پروٹسٹنٹ ہیں۔ وہ مکاسار کے رہنے والے ہیں۔ مسلم مسیحی فسادات بھڑکانے میں انھیں ’’یدطولیٰ‘‘ حاصل ہے‘ اور اُن کا یہ جملہ تو مشہور ہے: ’’مجھے یہ پسند ہے کہ انڈونیشیا کی تقسیم ہو جائے بجائے یہ کہ یہاں کوئی مسلمان حکومت کرے‘‘۔ تھیو‘ میگاوتی کے معتمد خاص اور اُن کی جمہوری پارٹی کے نائب سربراہ ہیں۔ میگا اُن پر اس قدر اعتماد کرتی ہیں کہ وہ انھیں کئی بار پارٹی کا سربراہ بنانے کا اعلان کر چکی ہیں۔ اقتدار ملنے کی صورت میں اصل فیصلے اور وزارتوں کی تقسیم تھیو ہی نے کرنا ہے۔ تھیو‘ فی الوقت میگاوتی کے اقتدار کی راہ ہموار کرنے میں مصروف ہیں۔ صدر واحد نے میگاوتی کو جن شورش زدہ علاقوں کا انچارج بنایا‘ تھیو کے مشورے پر میگا نے وہاں خاموشی اختیار کیے رکھی اور نتیجہ یہ نکلا کہ ہنگامے اور فسادات بڑھتے ہی چلے گئے۔یہ بات سب کو معلوم ہے کہ میگا اپنے مسیحی عہدے داروں اور مشیروں پر خاص اعتماد کرتی ہیں۔ یہاں ذکر کرنا بے جا نہ ہوگا کہ انڈونیشیا کی سراغ رساں ایجنسی (BAKIN)کے نائب سربراہ جنرل یوس منکو اور سربراہ لیفٹیننٹ جنرل آری جیفرے کمات ہیں‘ نیزفوج کے اسٹرے ٹیجک سراغ رسانی شعبے کے سربراہ میجر جنرل شیوم بنگ ہیں۔ اتنے اہم عہدوں پر عیسائیوں کا تعینات ہونا‘ حسن اتفاق بہرحال نہیں ہے! اب ‘جب کہ عبدالرحمن واحد پر ۳۶ کروڑ ڈالر‘ قومی ادارے (بلوگ) کے ذریعے غصب کرنے کا الزام ہے اور ۱۶ ماہ قبل کے قریبی حلیف امین رئیس (اب قومی مجلس MPR کے سربراہ)‘ اسپیکر اسمبلی اکبر تاجنگ اور نائب صدر میگاوتی‘ صدر واحد سے کھلم کھلا علیحدگی کا اعلان کر رہے ہیں‘ عیسائی گروہوں نے اپنی کوششیں ایک مرتبہ پھر تیز کر دی ہیں۔

برطانیہ سے شائع ہونے والے جریدے امپیکٹ انٹرنیشنل (مارچ ۲۰۰۱ء) کی رپورٹ کے مطابق عیسائیوں کی تکنیک یہ رہی ہے کہ اسلامی قوتوں کو تقسیم در تقسیم کیا جائے۔ نہضۃ العلما اور محمدیہ دو بڑی اسلامی جماعتیں ہیں۔ ان کے درمیان تفریق پیداکرنے اور خلیج وسیع کرنے میں اِسی گروہ کا اہم کردار ہے۔ نہضۃ کے سربراہ عبدالرحمن واحد ہیں اور چار کروڑ پیروکاروں کے دعوے دار ہیں‘ جب کہ امین رئیس‘ محمدیہ کے سربراہ رہے ہیں۔ جن علاقوں میں فسادات برپا ہوئے یا آج کل جاری ہیں‘وہاں مسلم علما‘ اساتذہ اور قائدین کو اوّلین طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے‘ چاہے مشرقی جاوا ہو یا آچے یا مدورا۔ مشرقی تیمور کی طرز پر عیسائیوں نے مختلف صوبوں میں تربیت یافتہ کمانڈوز اور نیم فوجی افراد کے دستے منظم کر لیے ہیں۔ ملاکا میں ریڈ آرمی آف بینی ڈورو ہے‘ سلاویسی میں بلیک بیٹ آرمی ہے ‘ اور مورچے بند ہو کر مسلمانوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔

انڈونیشیا میں مقیم عیسائیوں کا متحرک ترین محاذ میڈیا ہے اور انڈونیشیا کے حوالے سے تازہ ترین اور

گرم گرم خبریں بیرونِ ملک روانہ کی جاتی ہیں۔ انڈونیشیا کو بدنام کیا جاتا ہے اور غیر ملکی اداروں مثلاً عالمی بنک اور اقوامِ متحدہ کے اداروں کا اثر و رسوخ بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔

ان حالات کا تقاضا ہے کہ اُمت کا درد رکھنے والے فہیم عناصر انڈونیشیا کو کسی مزید بحران کی زد میں آنے سے روکیں۔ سرکاری‘ غیر سرکاری اور انفرادی طور پر ایسے سیمی نار منعقد کیے جائیں جن میں حالات کا صحیح تجزیہ ہو اور انڈونیشیا کو عیسائیت کی گود میں جانے سے بچایا جا سکے۔ اسرائیل کے قیام‘ مشرقی پاکستان کی علیحدگی‘ اور مشرقی یورپ میں مسلم کشی کے بعد انڈونیشیا کے بحرانوں پر خاموشی اُمت مسلمہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گی!