عبد الغفار عزیز


۱۵؍اگست ۱۹۷۵ء کی صبح ریڈیو پاکستان سے خبریں سنیں تو میں بھاگم بھاگ ۵- اے ذیلدار پارک پہنچا اور بغیر اجازت سید مودودی رحمہ اللہ کے کمرے میں جاگھسا۔ مولانا میز پر کہنی ٹکائے لکھنے میں مصروف تھے۔ اچانک میرے آجانے پر قلم روکا، ہاتھ اٹھایا تو آستین سرک کر کہنیوں پر آٹکی۔ مجھے دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ مسلسل لکھتے رہنے اور میز پر ٹکے رہنے سے ان کی کہنی سے کلائی تک گٹے پڑ چکے تھے___ ۱۹۷۱ء کے ہنگاموں سے جان بچا کر مغربی پاکستان آنے والا ایک عزیز ساتھی ۳۵ سال بعد اس واقعے کی تفصیل سنا رہا تھا۔

مولانا نے اطمینان سے پوچھا:کیسے آنا ہوا؟ میری سانس پھولی ہوئی تھی، میں نے شدت جذبات سے کہا: مولانا! شیخ مجیب قتل ہوگیا۔ مولانا نے بغیر کوئی تبصرہ کیے سامنے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’بیٹھیے‘۔ میں بیٹھ گیا تو مولانا نے تسلی سے پوچھا: اب بتائیے کیا ہوا؟ آپ کو کس نے بتایا؟ میں نے کہا: مولانا میں نے خود ابھی ریڈیو سے سنا۔ بنگلہ دیش میں فوج نے تختہ الٹ دیا ہے اور شیخ مجیب قتل ہوگیا ہے۔ مولانا نے کہا: کتنے بجے کی خبروں میں سنا؟ خبریں اُردو تھیں یا انگریزی میں؟ میں نے کہا: ’’مولانا ابھی ۱۰ بجے کی انگریزی خبروں میں سنا ہے۔ مولانا نے میری تصدیق کرتے ہوئے کہا:ہاں ۱۰ بجے انگریزی خبریں نشر ہوتی ہیں۔ مولانا نے خبر کے بارے میںاپنی تسلی کرلی اور کوئی تبصرہ نہ کیا۔ میں نے مولانا کا سکوت دیکھ کر حیرت اور کسی حد تک جذبات سے پوچھا: مولانا! آپ کو یہ سن کر خوشی نہیں ہوئی؟ مولانا مودودی نے جواب نفی میں دیا۔ میں نے مزید حیرت سے پوچھا: اس شخص نے ملک توڑا، ہمارے اتنے ساتھیوں پر ظلم ڈھائے، اتنی بڑی تعداد میں قتل کروائے، پھر بھی اس کے قتل پر آپ خوش نہیں ہوئے۔۔؟ مولانا نے افسوس بھرے لہجے میں کہا: مجھے خدشہ ہے یہ قتل وہاں کا آخری قتل نہیں ہوگا۔ سیاسی قتل و غارت اور انتقام کا سلسلہ کئی نسلوں تک چل سکتا ہے۔ ہم سے الگ کردیے جانے والے ہمارے بھائیوں میں سے کسی بھی بنگالی یا غیر بنگالی کا قتل، خوں ریزی اور تمام تر نقصان، سراسر ہمارا ہی نقصان ہوگا۔

۳۵ برس سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد آج پھر مولانا مودودیؒ کی یہ بات حرف آخر ثابت ہورہی ہے۔ ایک کے بعد دوسرا قتل، ایک کے بعد دوسرا انقلاب اور ایک کے بعد دوسری شورش اس عزیز اور برادر ملک کو مسلسل آبلہ پا کیے ہوئے ہے۔ دسمبر ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں حسینہ شیخ مجیب الرحمن کی ’عوامی لیگ‘ کو اتنی ’بڑی اکثریت‘ ملی کہ خود پارٹی قیادت کے لیے بھی حیرت کا باعث بنی۔ انتخاب سے پہلے تقریباً تین سالہ عبوری دور میں مسلح افواج اور بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر کلیدی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے پاس قیمتی موقع تھا کہ وہ ملک میں تعمیر و ترقی کا ایک نیا باب شروع کرتی۔ مگر ایسا کرنا اس کی ترجیحات میں شامل نہ تھا، انتخابی مہم کے دوران ہی انتقام کا نعرہ بلند کر دیا گیا تھا۔ ۱۹۷۱ء میں ہونے والے کشت و خون کی تمام تر ذمہ داری ۴۰ سال بعد اپنے سیاسی مخالفین پر ڈال دی گئی۔ انھیں جنگی مجرم قراردیتے ہوئے سزاے موت دینے کی گردان شروع کر دی گئی۔

برسر اقتدار آتے ہی ملکی اداروں کو باہم لڑوادیا گیا۔ بنگلہ دیش بارڈر فورس اور بنگلہ دیش فوج کے مابین جھڑپوں کی آڑ میں، بھارتی بارڈر فورس کے ذریعے فوج کے ۷۶ فوجی افسر قتل کروادیے گئے۔ ان افسروں کو فوج میں بھارت مخالف عناصر سمجھا جاتا تھا۔ کچھ ہی عرصے کے بعد شیخ مجیب الرحمن کے قتل کے الزام میں ۱۵ فوجی افسروں کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع کردی گئی۔ ۳۵ سال پرانے اس مقدمے میں جو چھے افسر ہاتھ لگے، چند روز کی براے نام عدالتی کارروائی کے بعد انھیں پھانسی پر لٹکادیا گیا۔ نہ کوئی تحقیق نہ تفتیش اور نہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا کوئی موقع۔ دنیا میں بھی کہیں اس ’انصاف‘ کا چرچا نہیں ہوا۔ انسانی حقوق، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور جمہوریت کی چیمپیئن عالمی قوتیں سب اس پر خاموش رہے۔ یہ واقعی انصاف تھا تو ان سب کو اس پر اظہار اطمینان کرنا چاہیے تھا اور اگر ظلم تھا تو اسے بے نقاب کرنا چاہیے تھا لیکن .....

اس انوکھے انصاف کے لاشے ٹھنڈے نہیں ہوئے تھے کہ پورے ملک میں وسیع تر محاذ آرائی کا بازار گرم کردیا گیا۔ اس بار ہدف دستور کی اسلامی دفعات، ملک کی اسلامی شناخت، اسلامی لٹریچر اور اسلامی جماعتیں تھیں۔ ملک کی اسلامی شناخت کا تعین کرنے والی دستوری شقیں تبدیل کرکے، سیکولر شناخت لازم کرنے والے الفاظ شامل کر دیے گئے۔ سرکاری لائبریریوں، مدارس اور دفاتر میں مولانا مودودی کی کتب پر پابندی لگا دی گئی اور اسلام پسند عناصر بالخصوص جماعت اسلامی کے قائدین کو مختلف حیلوں بہانوں سے گرفتار کرنا شروع کردیا گیا۔ جماعت اسلامی کے امیر مولانا مطیع الرحمن نظامی، سیکریٹری جنرل علی احسن مجاہد، ملک کے مایہ ناز مفسر قرآن مولانا دلاور حسین سعیدی، اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل قمر الزمان اور عبد القادر ملا صاحب سمیت اب تک گرفتار شدگان کی تعداد کئی ہزار ہوچکی ہے۔ مزید کئی ہزار کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ ان حضرات بالخصوص نظامی صاحب کو جاننے والا ہر شخص ان کی شرافت، ایمان داری اور قانون کی  پاس داری کی گواہی دے گا۔ لیکن ان حضرات پر الزام لگایا جارہا ہے کہ یہ ۱۹۷۱ء میں جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے اور انھوں نے لاکھوں انسانوں کو قتل کیا۔ کچھ عرصہ قبل ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بعض بنگلہ دیشی ذمہ داران سے ملاقات ہوئی۔ وفد میں شریک حکمران عوامی لیگ کے ایک اہم وزیر نے کھلم کھلا اعتراف کیا کہ ’’یہ سراسر ایک سیاسی مسئلہ ہے کوئی عدالتی مسئلہ نہیں۔ ۴۰سال بعد کسی پر کوئی سنگین الزام لگانا اور اسے ثابت کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے، لیکن---‘‘ اس لیکن کے بعد وزیر موصوف کچھ نہ کہہ پائے، لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ سارا کھیل کیوں کھیلا جارہا ہے۔

حسینہ شیخ کی عوامی لیگ اپنے روز تاسیس ہی سے بھارت نواز جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے۔ حالیہ دور حکومت میں یہ جادو خوب سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی نظریاتی شناخت مسخ کرنے سے لے کر اسلامی عناصر کی سرکوبی تک اور بنگلہ دیش کے ریاستی اداروں میں جابجا بھارت نواز عناصر ٹھونس دینے سے لے کر، تمام ریاستی پالیسیوں میں بھارتی مفادات کی آب یاری تک، ہرقدم تیزی سے آگے بڑھایا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر اس سال جنوری میں حسینہ شیخ کے     دورۂ بھارت کے دوران ہونے والے علانیہ اور خفیہ معاہدوں ہی کو دیکھ لیجیے۔ ان میں سے ایک زمینی راستوں سے نقل و حمل کا معاہدہ، بھارت کے دیرینہ خواب کی تکمیل کرتا ہے۔ بنگلہ دیش کا جغرافیائی محل وقوع، بھارتی مفادات کے لیے انتہائی اہم ہے۔ بھارت کی تیل و معدنی وسائل سے مالا مال سات ریاستیں ایسی ہیں کہ ان کے اور باقی ہندستان کے درمیان بنگلہ دیش واقع ہے۔ اس وقت ان ساتوں ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ بھارت اپنی ان ریاستوں کے ساتھ صرف تقریباً ۳۳کلومیٹر چوڑی دشوار گزار پٹی کے ذریعے جڑا ہوا ہے، جب کہ بنگلہ دیش کے ساتھ بھارتی سرحدوں کی لمبائی ۳ہزار ۴ سو ۶ کلومیٹر ہے۔ بھارت ہمیشہ خواہاں رہا ہے کہ بنگلہ دیش کے ساتھ خشکی کے راستوں کا ایسا معاہدہ کر لے کہ یہ سارا سرحدی علاقہ، اس کے لیے ایک گزرگاہ کی حیثیت اختیار کرجائے۔ اس سے نہ صرف اپنی ان ریاستوں تک اس کی رسائی آسان ہوجائے گی بلکہ بنگلہ دیش میں بھی ہر جانب پاؤں پھیلائے جاسکیں گے۔ بھارت نے بنگلہ دیش کو اس دام میں پھانسنے کے لیے ایک ارب ڈالر یعنی، ۸۴ارب روپے کا قرض دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اس معاہدے کے علاوہ، حسینہ شیخ نے کھلُنا اور چٹا گانگ کی بندر گاہ ہندستانی استعمال میں لانے کے معاہدے بھی کیے ہیں۔ غیر قانونی سمگلنگ کے ذریعے ہندستانی مصنوعات کی یلغار اس کے علاوہ ہے، جس سے ملکی صنعت ٹھپ ہوتی جارہی ہے۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ نے زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ہندستانی تسلط صرف اقتصادی میدان میں ہی نہیں، ملک کی تمام تر اندرونی و بیرونی پالیسیاں بھارتی شکنجے میں جکڑی جارہی ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے خلاف کارروائیوں کا اصل سبب بھی ان جماعتوں کا ہندستانی تسلط کی سازش کی راہ میں مزاحم ہونا ہے۔

جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنان کی گرفتاری، بزرگ قیادت پر جنگی جرائم کی تہمت، ہولناک ابلاغیاتی جنگ، پورے ملک پر پولیس راج اور سرکاری سرپرستی میں عوامی غنڈا گردی کے ذریعے، خوف و دہشت کی فضا پیدا کرنے کے بعد اب بھارت مخالف سمجھی جانے والی خالدہ ضیاء کی سیاسی جماعت بی این پی سے بھی جھڑپیں شروع کردی گئی ہیں۔ ان کے کارکنان کو بھی گرفتار کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں میں شدت اس وقت آئی جب ۱۱؍اکتوبر کو سعید آباد ضلع سراج گنج میں بی این پی کی طلبہ تنظیم سابق صدر حسین محمد ارشاد کے عہد اقتدار میں قتل ہوجانے والے اپنے کارکن نذیر الدین جہاد کی یاد میں ’یومِ جہاد شہید‘ منارہی تھی۔ اس موقع پر رکھے گئے اجتماع سے سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کو بھی خطاب کرنا تھا، جب کہ حکومت کی خواہش تھی کہ وہ یہاں خطاب نہ کریں۔ جلسے کا اعلان کرنے پر عوام کی اتنی بڑی تعداد اُمڈ آئی۔ لوگ جلسہ گاہ کے قریب سے گزرنے والی ریلوے لائن پر بھی دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ اتفاق سے اس وقت وہاں سے ایک ٹرین گزرنے کا وقت تھا۔ یہ سہ پہر کے تین بجے کا وقت تھا۔ دن کی روشنی میں ریلوے لائن پر بڑا ہجوم دیکھ لینے کے باوجود ٹرین کے ہندو ڈرائیور نے گاڑی نہ روکی اور وہاں جمع بہت سے افراد کو کچلتے ہوئے گزر گیا۔ چھاترودل کے چھے کارکنان ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے اور پھر ہنگامے پھوٹ پڑے۔ یہ واقعہ دونوں بڑی پارٹیوں کے مابین ایک اور نزاع و تصادم کی بنیاد بن گیا۔ اس کے بعد سے مسلسل ہنگامے جاری ہیں اور خالدہ ضیاء کے درجنوں کارکنان گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے تمام تر انتقامی کارروائیوں کے باوجود اپنے روایتی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔ حکومتی میڈیا نے مسلسل طعنہ زنی اور طنز و تشنیع کرتے ہوئے کارکنان کو مشتعل کرنے کی کوشش کی۔ نظامی صاحب ، مجاہد صاحب، سعیدی صاحب جیسے بزرگ رہنماؤں کو بھاری پولیس نفری کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو دونوں طرف کھڑے اوباش ان پر آوازے کستے ہیں: ’’پاکستانی ایجنٹ --- پاکستانی دلال--- پاکستانی جاسوس--- لیکن جماعتی زعما یہ آیت پڑھتے ہوئے گزر جاتے ہیں: وَّاِِذَا خَاطَبَھُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(الفرقان ۲۵:۶۳)۔ گذشتہ دو ماہ میں تین بار ایسا ہوچکا ہے کہ اچانک مرکز جماعت کو ہرطرف سے گھیر کر چھاپے مارے، درجنوں سادہ اور وردی پوش افراد نے آکر ایک ایک کمرہ چھان مارا اور اپنے تئیں خوف و دہشت کی ایک فضا قائم کرنے کے بعد واپس چلے گئے۔ گرفتار شدہ رہنمائوں کو متعدد بار پولیس جیل سے تفتیشی مراکز لے جایا جاتا ہے، ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ جماعت اسلامی کے کارکنان سڑکوں پر آنے کے بجاے گھر گھر رابطے کا کام کررہے ہیں۔ عدالت میں قانونی جنگ لڑ رہے ہیں اور انھیں یقین ہے کہ کائنات کا مالک خبیر و قدیر اللہ تعالیٰ اس آزمایش اور تندی باد مخالف کو بھی ان کے لیے بلندی پرواز اور مزید کامیابیوں کا ذریعہ بنائے گا۔ یہ مقدمہ ہر حوالے سے بے بنیاد، غیرقانونی اور غیراخلاقی ہے۔ بنگلہ دیش کے عوام صرف بھارتی اشارے پر کیے جانے والے کسی ظالمانہ فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔

جنگی جرائم کے کئی مقدمات میں عالمی شہرت یافتہ، اعلیٰ پائے کے برطانوی وکیل اسٹیون کولیس نے بھی ۱۳؍ اکتوبر کو بنگلہ دیش سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک سیمی نار سے خطاب کرتے ہوئے برملا کہا ہے: یہ پورا مقدمہ، اس کے لیے بنایا جانے والا خصوصی ٹربیونل، اور کارروائی کا طریق کار، خود بنگلہ دستور، بین الاقوامی قوانین اور جنگی جرائم کے مقدمات کے لیے مطلوبہ کوائف و دستاویز سے متصادم ہے۔ ججوں کی تقرری اور ان کی واضح جانب داری سب پر عیاں ہے اور اس صورت میں ملزمین کے خلاف آنے والا عدالت کا ہر فیصلہ واضح انتقامی کارروائی سمجھا جائے گا۔

بنگلہ دیش کی عمومی فضا بھارت مخالف ہے۔ بھارت کی متکبرانہ و سازشی ذہنیت کے باعث یہ بات یقینی ہے کہ بنگلہ دیش اس کی باج گزار ریاست کی حیثیت اختیار نہیں کرسکے گا۔ البتہ امریکی اور اسرائیلی سرپرستی میں پورے خطے میں مسائل پیدا کرتا رہے گا۔ امریکا بھارت کو بنگلہ دیش کے علاوہ افغانستان میں بھی مکمل طور پر حاوی اور مؤثر قوت بنانا چاہتا ہے۔ بھارتی فلموں، گانوں اور بے حیائی کلچر کے ذریعے افغانوں کے دل و دماغ مسحور کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ بھارت وہاں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے بڑے بڑے منصوبوں کا اعلان کر رہا ہے۔ ان کی آڑ میں جاسوسی کا گہرا، وسیع اور مضبوط جال بھی بُن رہا ہے۔ مستقبل کی افغان فوج اور پولیس میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے لیکن یہ عجیب امر ہے کہ صرف بنگلہ دیش یا پاکستان ہی کو نہیں  بھارت کے تمام پڑوسی ممالک کو بھارتی تعلّی سے شکایات ہیں۔ چین، نیپال، سری لنکا، میانمار اور بھوٹان سب کے ساتھ بھارت کا کوئی نہ کوئی تنازع چلتا رہتا ہے۔ بھارت اگر انصاف، برابری اور احترامِ باہمی کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے خطے پر قبضے کے خواب دیکھنا نہیں چھوڑے گا تو نہ صرف پڑوسی ممالک کے لیے بحرانوں کا باعث بنتا رہے گا بلکہ خود بھی بہت جلد اور یقینا مکافاتِ عمل کا شکار ہوگا۔

امام حسن البنا شہید کے رفیق کار نے اپنے جھریوں بھرے رعشہ زدہ ہاتھوں سے سیلاب فنڈ میں رقم دیتے ہوئے کہا: ’’اس کی رسید کا انتظار کروں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ اسے اپنے کفن میں ساتھ لے جائوں۔ پاکستان اسلام کی خاطر وجود میں آنے والا ہمارا برادر ملک ہے اور آج وہاں سیلاب کی تباہ کاریوں نے ہم سب کو تڑپا کر رکھ دیا ہے۔ میں نے اپنے بچوں سے یہ رقم جمع کی ہے تاکہ ہم بھی سیلاب زدگان کی معاونت میں جماعت اسلامی کی کوششوں میں حصہ ڈال سکیں‘‘۔ ایک نہیں، ایسے سیکڑوں واقعات ہیں۔ بڑی بڑی رقوم سے لے کر بچوں کے جمع کردہ جیب خرچ تک، جس کو جتنی توفیق نصیب ہوئی اس نے پاکستان میں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے بھجوانے کی سعی کی۔

  • اھل پاکستان کے لیے جذبۂ انفاق: سیلاب کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرنے کے لیے رمضان المبارک میں سعودیہ جانے کا اتفاق ہوا تو ہرجگہ لوگوں میں ایک ہی موضوع زیربحث تھا:  سیلاب زدگان کی مدد کیسے کی جاسکتی ہے؟ حکومت ہی نہیں، عوامی سطح پر بھی ہرشخص پاکستان پر ٹوٹنے والی اس قیامت پر دل گرفتہ تھا۔ دیگر خلیجی ریاستوں سے بھی یہی اطلاعات موصول ہورہی تھیں۔ مثلاً: یہ نوجوانوں کی ایک مجلس تھی۔ ۲۰سے ۳۰، ۳۵ سال تک عمر کے ۱۵ نوجوان۔ نمازِ تراویح کے بعد اپنے ایک ساتھی کے گھر جمع تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے بزرگوں کی روایتی ’پنچایت‘ بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس پنچایت کو ’مجلس‘ ہی کہا جاتا تھا۔ ہم چند ساتھی ہرہفتے اسی مجلس میں جمع ہوتے ہیں۔ کسی نہ کسی موضوعِ پر گفتگو کا اہتمام کرتے ہیں اور پھر اس پر سب کو تبادلۂ خیال کی دعوت دیتے ہیں۔ گذشتہ دو ہفتے سے پاکستانی سیلاب ہی موضوع گفتگو ہے۔ ہم نے گذشتہ مجلس میں مشورہ کیا تھا کہ ہمیں بھی امدادی کاموں میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ ہم میں سے کوئی بھی بہت زیادہ مال دار نہیں ہے، لیکن ہم نے طے کیا کہ جس سے بھی جتنا کچھ ہوسکتا ہے، اپنا اپنا حصہ ڈالے۔ اب آج دوبارہ ملیں گے تو دیکھتے ہیں کہ ہماری کوشش کہاں تک پہنچتی ہے۔ گفتگو کا آغاز ہوا۔ تباہ کاریوں کی تفصیل سے لے کر حکومتی کارکردگی اور عین سیلاب کے دنوں میں پاکستانی صدر آصف زرداری کے نجی یورپی دوروں تک ہرموضوع پر سوالات پوچھے گئے اور پھر سب نے اپنی اپنی کاوش جمع کی۔

ایک اور جگہ اسکول کے مدرس اور مسجد کے امام صاحب نے سیلاب زدگان کے لیے اپیل کی۔ ایک بچے نے بھی مٹھی میں دبا نصف ریال (تقریباً ۱۱ روپے) سیلاب زدگان کے لیے پیش کردیا۔ امام عبداللہ سمیت سب حاضرین کو اس پر بہت پیار آیا۔ امام صاحب نے وہ نصف ریال اُٹھایا اور کہا: یہ بہت قیمتی ہے۔ نہ جانے مالکِ کائنات کو کتنا پسند آیا ہوگا۔  کوئی ہے جو اس کو اپنے لیے پسند کرتے ہوئے خود رکھ لے اور جتنی توفیق ہے وہ پیش کردے…؟ ایک صاحب نے کہا: اس کے ۱۰ ریال دیتا ہوں، بڑھتے بڑھتے وہ ۲۰۰ ریال میں لے لیا گیا اور معصوم بچے سمیت سب کا اجر کئی گنا بڑھ گیا۔ ایک دو نہیں لاتعداد واقعات ہیں جو اُمت میں موجود خیرکثیر کی خبر دیتے ہیں۔

جذبۂ انفاق کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ تشویش اور افسوس بھی تھا کہ محدود امریکی طوفانوں اور کتوں، بلیوں کے لیے اربوں ڈالر کے انبار لگا دینے والی عالمی برادری اس قیامت ِصغریٰ پر لاتعلق بنی بیٹھی ہے۔ ایک صاحب نے اس پریشانی کا اظہار بھی کیا کہ کئی اہلِ خیر مصیبت کے ان لمحات میں امداد دینا چاہتے ہیں لیکن انھیں یہ اعتماد نہیں ہے کہ ان کے صدقات و عطیات واقعی مستحقین تک پہنچ جائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک مجلس میں نوجوان نے پوچھا: میں نے عمرے کے لیے ایک رقم جمع کررکھی ہے لیکن سیلاب آیا ہے تو سوچ رہا ہوں کہ عمرے پر جائوں یا یہ رقم متاثرین سیلاب کے لیے بھجوا دوں؟ مجلس میں بیٹھے بزرگ نے فتویٰ دیا: عمرے پر چلے جائو۔ حاضرین نے اس جواب پر حیرت کا اظہار کیا تو بزرگ نے کہا: ’’سیلاب کے لیے دے بھی دو گے تو مستحقین تک پہنچنے کی اُمید نہیں ہے‘‘۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس بے اعتمادی کے باوجود مجموعی طور پر عالمِ عرب نے سیلاب زدگان کی معاونت میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ اس سلسلے میں  عرب ذرائع ابلاغ نے بھی بہت مؤثر، مثبت اور بھرپور کردار ادا کیا۔ بالخصوص الجزیرہ چینل کی ٹیم نے بیک وقت تین مختلف مقامات سے بہت جاں فشانی سے رپورٹنگ کی، جس کے نتیجے میں اُن حکومتوں اور اداروں کو بھی متحرک ہونا پڑا جو اس قیامت سے لاتعلق بیٹھے تھے۔ غیرجانب داری سے کی جانے والی رپورٹنگ میں حکومت، فوج، دینی جذبے سے کام کرنے والی امدادی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کو اپنی اپنی کارکردگی کے مطابق حصہ ملا۔ کاش! یہ اَنمول خدمت کسی ابلاغیاتی ادارے کے بجاے خود حکومت کی ترجیحات میں شامل ہوتی، لیکن یہاں تو معاملہ اُلٹ تھا۔ ذرائع ابلاغ رپورٹنگ کرنا چاہتے تھے اور حکومت رکاوٹیں ڈال رہی تھی۔ الجزیرہ کے ذمہ داران نے بتایا کہ چینل نے فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان میں موجود اپنے بیورو کے علاوہ ۱۵ مزید افراد کو تمام جدید آلات و سہولیات دے کر سیلاب سے تباہ علاقوں میں بھیجا جائے اور وہاں سے براہِ راست رپورٹنگ کا اہتمام کیا جائے۔ لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود حکومت ِ پاکستان نے ان افراد کو ویزے نہیں دیے۔ یہ امریقینی ہے کہ اگر انھیں ویزے دے دیے جاتے تو سیلاب زدگان کے لیے امدادی سرگرمیوں اور وسائل میں کئی سو گنا اضافہ ہوجاتا۔

اپنے اور اپنے حبیبؐ کے حرم کو اللہ تعالیٰ نے بے حدوحساب برکات عطا کی ہیں۔ ہرلمحے مغفرت اور رحمتوں کی ہمہ پہلو بہاریں جلوہ افروز رہتی ہیں۔ رحمتوں کے اسی پرتو میں اجتماع و اتحاد اُمت کے بے مثال مناظر و مواقع بھی نصیب ہوتے ہیں۔ حالیہ سفر میں ایسے ایسے احباب سے ملاقات ہوئی جن کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہ تھا۔

  • اھلِ غزہ کا عزم اور نصرتِ خداوندی: غزہ سے آنے والا ایک فلسطینی عجیب جذبے سے سرشار تھا۔ بتا رہا تھا آپ لوگ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔ ہم ہر کام میں قرآن کے ذریعے اللہ کی مدد حاصل کرتے ہیں۔ گذشتہ تقریباً چار برس سے ہم مکمل حصار میں مقید کردیے گئے ہیں۔ جینے کی تمام راہیں مسدود کردی گئی ہیں۔ ہم نے قرآن سے رجوع کیا، اس نے بتایا: وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا o وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ ط (الطلاق ۶۵:۲-۳) ’’جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے ہرمشکل سے راہِ نجات عطا کرے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق فراہم کرے گا کہ جو اس کے گمان میں بھی نہ ہوگی‘‘۔ ہم خود کو اور اپنی نسلوں کو قرآن کریم کے زیرسایہ لے آئے۔ دانہ پانی، دوا، سازوسامان، سب ناپید ہونے لگے۔ قرآن کریم سے پوچھا تو اس نے بتایا: لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ط (الزمر ۳۹:۵۳) ’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں‘‘۔ وَ مَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُھَا (ھود ۱۱:۶) ’’زمین و آسمان میں چلنے والی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا رزق خود اللہ کے ذمے نہ ہو‘‘۔ اور یہ کہ وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِِنْسَانِ اِِلَّا مَا سَعٰی (النجم ۵۳:۳۹) ’’انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی وہ سعی و کوشش کرے گا‘‘۔

ہم نے زیرزمین سرنگوں کے ذریعے سانس کی ڈوری برقرار رکھنے کی سعی شروع کردی۔ میلوں لمبی سرنگوں کا پورا جال بچھ گیا۔ تھوڑی سی کوشش میں اللہ کی اتنی نصرت شامل ہوگئی کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود روزمرہ کی کئی اشیا ایسی ہیں کہ جو غزہ میں تقریباً آدھی قیمت میں مل رہی ہیں، جب کہ مصر میں جہاں سے یہ اشیا لائی جارہی ہیں وہی چیزیں دگنی قیمت میں ملتی ہیں مثلاً چھوٹا گوشت یا تو ملتا ہی نہیں، ملے تو غزہ میں ۳۰ مصری پونڈ (۴۳۰ روپے) کلو ملتا ہے، جب کہ مصر میں ۶۰پونڈ میں، غزہ میں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ کیونکہ نایاب ہے تو قیمت بڑھا دو۔ غزہ میں ایک خدا خوف اور ہر دم بیدار قیادت آنے سے ہم فلسطین کی تاریخ میں پہلی بار وہ امن و امان قائم ہوا کہ جس کا ذکر ہم صرف تاریخ میں پڑھتے ہیں۔

میں نے سوال کیا لیکن اس ۹۰ فٹ گہری زیرزمین فولادی دیوار کا کیا بنا جو ان سرنگوں کو بند کرنے کے لیے مصر اور غزہ کی سرحد پر تعمیر کی گئی ہے، اور اس کے لیے امریکا سے ایسی آہنی چادریں بھجوائی گئی تھیں کہ بم بھی جن پر اثر نہ کرسکے؟ کہنے لگا: یہاں ہم نے پھر قرآن کریم سے استفسار کیا۔ قرآن نے جواب دیا: وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ(انفال ۸:۶۰) ’’ان سے مقابلے کے لیے ہر وہ طاقت فراہم کرو جو تمھارے بس میں ہے‘‘۔ ہم نے ان فولادی دیواروں کو کاٹنے کے لیے جو کچھ بھی انسانی ذہن میں تدبیر آسکتی تھی، اختیار کی۔ ساتھ ہی ساتھ اس آیت کا ورد اور اللہ سے مدد بھی طلب کرتے رہے۔ یقین کیجیے کہ بموں سے بھی نہ کٹ سکنے والی ان چادروں میں بھی ہم اتنے بڑے بڑے شگاف ڈالنے میں کامیاب ہوگئے کہ اب وہاں سے گاڑیاں تک گزر سکتی ہیں۔ یہی نہیں قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا: عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ(البقرہ ۲:۲۱۶) ’’ہوسکتا ہے کوئی چیز تمھیں ناپسندیدہ لگ رہی ہو اور وہی تمھارے لیے بہتر اور باعثِ خیر ہو‘‘۔ اس آہنی دیوار سے پہلے ہمارا ایک مسئلہ یہ تھا کہ طویل ہونے کی وجہ سے سرنگیں درمیان سے بیٹھ جایا کرتی تھیں۔ اب ان آہنی اور کنکریٹ کی دیواروں سے انھیں درمیان میں ایک مضبوط سہارا مل گیا ہے۔

۹۰ روز میں مکمل حفظ قرآن کے معجزے کے بارے میں دریافت کیا تو کہنے لگا: زیادہ بڑی تعداد اب ۹۰ نہیں ۶۰روز میں پورا قرآن حفظ کرنے لگی ہے۔ اب بچوں کے علاوہ بچیوں اور خواتین کے لیے بھی حفظ قرآن کیمپ لگائے جارہے ہیں۔

انھی دنوں غزہ کی ایک ۵۹سالہ داعیہ صُبْحِیَّہ علی کا انٹرویو دیکھا تھا۔ وہ کہہ رہی تھیں: ’’ہمارا یقین ہے کہ ہماری نصرت کے تین مطلوبہ ستون ہیں: مسجد، قرآن اور ثابت قدمی‘‘۔ ہماری خواتین صرف رمضان یا جمعہ ہی کو مساجد نہیں جاتیں بلکہ ہفتے میں تین روز عصر سے عشاء تک مسجدیں آباد رکھتی ہیں۔ صرف نمازوں کی ادایگی ہی نہیں کرتیں، ایک مسلسل اور جامع تربیتی پروگرام میں شریک ہوتی ہیں۔ اس دوران دروس بھی ہوتے ہیں۔ مختلف کورسز بھی اور تربیتی ثقافتی اور تفریحی مقابلے بھی۔ ہماری تربیتی سرگرمیوں میں ہر عمر کی بچیاں اور خواتین شریک ہوتی ہیں، لیکن ۱۰ سے ۱۴سال کی بچیاں ہماری خصوصی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔

صُبْحِیَّہ کا کہنا تھا: ’’ہمارا یقین ہے کہ ہم جب تک قرآنی اخلاق سے آراستہ نہیں ہوں گے، آزادی کی نعمت حاصل نہیں کرسکتے۔ دشمن نے بھی اس حقیقت کو بخوبی سمجھ لیا ہے۔ وہ اخلاقی        بے راہ روی پھیلانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے اور ہم قرآن کے سہارے اپنی اخلاقی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ۲۰۰۷ء میں غزہ میں دارالقرآن والسنۃ نے ۶۰روز کے اندر اندر قرآن کریم حفظ کروانے کا آغاز کیا۔ ۴۰۰ بچوں اور بچیوں نے حفظ کیا۔ اگلے سال گرمیوں کی چھٹیوں میں پھر تباشیرالنصر (فتح و نصرت کی علامات) کے عنوان سے کیمپ لگائے گئے۔ اس سال ۳ہزار طلبہ و طالبات نے قرآن حفظ کیا۔ پھر تو غزہ میں جگہ جگہ حفظ قرآن کیمپ لگنے لگے۔حدیث کے مطابق حافظ قرآن کے والدین کو حشر میں وقار و مرتبت کا تاج پہنایا جائے گا۔ سورج کی روشنی اس کے سامنے ماند ہوگی۔ اب مخیمات تاج الوقار (تاج الوقار کیمپ) کے عنوان سے جگہ جگہ سرگرمی ہوتی ہے۔ بینر دکھائی دیتے ہیں: ھذا ھو جیل النصر ’’یہ ہے وہ نسل جسے اللہ کی نصرت ملنا ہے‘‘۔ تاج الوقار، للاقصٰی انتصار ’’تاجِ وقار، اقصیٰ کی نصرت ہے‘‘۔ صُبْحِیَّہ نے کہا تھا: میں نے حفظ قرآن کیمپ کی ایک تقریب تقسیم اسناد میں شرکت کی، ۱۶ہزار حفاظ جمع تھے، سب کے چہرے قرآنی نور سے دمک رہے تھے۔ غزہ سے آنے والا مسافر بتا رہا تھا۔ اس وقت غزہ میں ان نئے حفاظ کی تعداد ۹۰ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ اب ہم قرآن اور بندوق، دونوں سے آراستہ ہورہے ہیں۔ اسی روز عالمی ذرائع ابلاغ نے خبر شائع کی: غزہ میں نئے راکٹ کا کامیاب تجربہ، رینج دگنی ہوگئی۔ تل ابیب زد میں آگیا، امریکا اور اسرائیل کا اظہارِ تشویش!

یہی نہیں غزہ کی حکومت اور حماس کی قیادت نے عالمی روابط اور سفارت کاری میں بھی کئی منزلیں کامیابی سے طے کی ہیں۔ اس ضمن میں آخری اہم پیش رفت ماسکو کے ساتھ مضبوط تعلقات کے قیام کی ہے۔ حماس کے سربراہ خالدمشعل اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ روس کا دورہ کرچکے ہیں اور روسی وزیراعظم نے بھی دمشق آمد پر ان کے ساتھ خصوصی ملاقات کی ہے۔ اللہ کے وجود سے انکاری ملحد روس اور بنیاد پرست حماس…؟ بظاہر نہ سمجھ میں آنے والا فارمولا ہے، لیکن اب یہ ایک اہم زمینی حقیقت ہے۔ یہی نہیں روس میں اور بھی کئی اہم تبدیلیاں روپذیر ہورہی ہیں۔

  • روس میں احیاے اسلام : دورانِ رمضان سرزمین حرمین آنے والے کروڑوں افراد میں روس سے محمد صلاح الدینوف اور ان کے ساتھی بھی تھے۔یہ ’روسی مجلس اسلامی‘ کے سربراہ ہیں اور گذشتہ کئی سال سے عالمِ اسلام کے ساتھ روس کے روابط مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ روسی حکمرانوں سے بھی تعلقات رکھتے ہیں۔ دین کو اقوام کی افیون قرار دینے والا روس، امام بخاری اور امام مسلم کے دیس میں قرآن کریم کو سب سے خطرناک ہتھیار قرار دینے والا روس، مساجد کو اصطبل اور قحبہ گری کے اڈوں میں بدل دینے والا روس، اب خود دینی مدارس، دینی جامعات و مدارس اور دینی کتب کی ترویج و حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ مسلم ممالک ہی نہیں اسلامی تحریکوں سے بھی روابط استوار کررہا ہے۔ فرض کیجیے کہ سب کچھ صرف دکھاوے اور عالمِ اسلامی سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے تب بھی یہ اہم حقیقت ذہن میں رہے کہ دین سے کسی کا ربط استوار و مستحکم ہوجائے تو پھر اسے توڑنا کسی کے لیے آسان نہیں رہتا۔

’روسی مجلس اسلامی‘ کے صدر صلاح الدینوف بتارہے تھے کہ اس وقت روس میں ۹۶دینی ادارے اسلام کی تعلیم دے رہے ہیں۔ موجودہ صدر ڈیمٹری میڈیفڈیف نے مسلح افواج میں بھی دینی تعلیمات دینے اور دینی شعائر پر عمل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ اجازت ۲۱جولائی ۲۰۰۹ء کو دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب سرکاری طبقوں میں اس حقیقت کا اعتراف کیا جارہا ہے کہ روحانی خلا انسان کی قوتِ کار میں کمی اور شخصیت کے عدم توازن کا باعث بنتا ہے۔

صلاح الدینوف کا کہنا تھا روس میں کبھی یہ فلسفہ پیش کیا جاتا تھا کہ ’’دین الگ، ریاست الگ‘‘۔ اب اس میں یہ ذومعنی ترمیم کی گئی ہے کہ ’’دین ریاست سے الگ، لیکن معاشرے سے نہیں‘‘۔ ساتھ ہی یہ بات بھی عام ہورہی ہے کہ ’’لوگوں کو دینی اور روحانی آزادی فراہم کرنے سے ریاست کے مفادات بھی وابستہ ہیں‘‘۔

صلاح الدینوف نے عربی زبان میں شائع کردہ جریدہ الاسلام فی روسیا (روس میں اسلام) کا ایک نسخہ بھی دیا۔ اس میں شائع شدہ ایک سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روسی فوجی چھائونیوں میں دینی مراکز کی تعداد ۵۳۰ ہوچکی ہے۔ خود کو مومن (believer) کہلانے والے فوجی افسران اور سپاہیوں کی تعداد ۷۰ فی صد ہوگئی ہے۔ان میں سے ۸۰ فی صد عیسائی ہیں،    ۱۳فی صد مسلمان، ۳ فی صد بدھ مت کے پیروکار اور ۴ فی صد دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ اس سے قبل ایک کانفرنس میں صلاح الدینوف کے ہمراہ کئی روسی پارلیمنٹیرین اور اس وقت کے صدر فلامر ڈین پوٹن کے قریبی ساتھیوں سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی تھی۔ وہ سب حضرات افغانستان میں امریکی مستقبل کے بارے میں گہری دل چسپی سے سوالات کر رہے تھے۔ روس نے ایران اور شام کے ساتھ مذاکرات و معاہدوں میں بھی کسی حد تک اپنی الگ شناخت قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔

اگرچہ مذکورہ بالا تمام تر اشارات بہت اہم ہیں لیکن فی الحال روس کسی بڑی تبدیلی سے قدرے فاصلے پر ہے۔ آزاد ہوجانے والی ریاستوں پر بھی اس کی گرفت ڈھیلی تو ہوئی ہے لیکن وہاں اس کے نفوذ سے بھی کوئی غافل نہیں رہ سکتا۔ البتہ آج سے ۲۰ برس پہلے اور آج کے روس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مزید تبدیل ہوتے ہوئے روس اور عالمِ اسلام کے مابین، اپنے اپنے قومی و نظریاتی مفادات کو عزیز تر رکھتے ہوئے، دوستی کے بہت سے در وا ہورہے ہیں۔

  • اخوان المسلمون مصر کے خلاف پروپیگنڈا جنگ: ایک طرف ملحد روس اپنی مسلمان آبادیوں اور عالمِ اسلام کے عوامی و سرکاری حلقوں سے روابط استوار کر رہا ہے، حماس تک کو گلے لگا رہا ہے، اور دوسری جانب طویل اسلامی تاریخ رکھنے والے کئی مسلمان ممالک دین پسند حلقوں کو ’دہشت گرد‘ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ہمہ پہلو جنگ لڑ رہے ہیں۔ حماس کے زیرانتظام غزہ ہی کو دیکھ لیجیے، ۱۵لاکھ بے نوا انسانوں پر اتنا ظلم شاید فلسطین پر قابض صہیونی نہیں ڈھا رہے، جتنا مصری حکومت ڈھا رہی ہے۔ مصر کے حالیہ فرعون علی الاعلان کہتے ہیں: غزہ سے حماس اور اسلامی تحریک کا خاتمہ نہ کیا گیا تو فلسطین بالآخر ’حماسستان‘ بن جائے گا۔ فلسطین میں اسلامی تحریک مضبوط ہوئی تو مصر میں الاخوان المسلمون کو حکومت بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ لندن سے آئے ہوئے اخوان کے ایک ذمہ دار بتا رہے تھے کہ مصری صدر کی طرف سے مغربی ممالک کو پیغام دیا گیا ہے کہ ہمیں ہماری مرضی کے مطابق انتخابات کروانے دیں وگرنہ نتائج ۲۰۰۶ء میں غزہ کے انتخاب سے مختلف نہ ہوں گے۔ عمرے کے لیے آئے ہوئے  اخوانی ذمہ داران نے مزید بتایا کہ اخوان کے نئے مرشدعام ڈاکٹر محمدالبدیع سمیت کئی بزرگ عمرے کے لیے آنا چاہتے تھے لیکن مصری حکومت انھیں سفر کی اجازت نہیں دیتی۔ اخوانی ذمہ داران و کارکنان کی گرفتاریاں بھی مسلسل جاری ہیں۔ گذشتہ پانچ سال کے دوران کم از کم ۳۰ہزار کارکنان کو گرفتاری کے عمل سے گزارا گیا ہے۔ بہت سے ذمہ داران چارچارسال سے جیلوں میں ہیں۔

مصری ساتھی بتا رہا تھا کہ اخوان کے خلاف پروپیگنڈا جنگ بھی عروج پر ہے۔ رمضان میں سرکاری ٹی وی پر اخوان کی تاریخ مسخ کرنے اور امام حسن البنا پر الزامات کے طومار باندھنے کے لیے ایک ڈراما سیریز چلائی جارہی ہے۔ روزانہ دکھائی جانے والی الجماعہ نامی اس سیریز میں اخوان کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ امام البنا کے اہلِ خانہ کی طرف سے اس سیریز کے خلاف عدالت کے دروازے بھی کھٹکھٹائے جارہے ہیں لیکن ظاہر ہے سیدقطب کو پھانسی پر لٹکا دینے والی عدالتوں سے کس خیر کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اخوان کے ایک رکن پارلیمنٹ   محسن راضی کا کہنا تھا کہ ’’میں نے مصری وزیر اطلاعات و نشریات سے سوال کیا کہ حکومت نے اخوان کے خلاف ایک گھٹیا ڈراما خریدنے کے لیے اڑھائی کروڑ مصری پائونڈ (۱۳ کروڑ ۷۵لاکھ روپے) کی خطیر رقم کیوں ضائع کی۔ خود مصری ٹی وی کے پروڈکشن ہائوس میں اس سے کہیں کم قیمت پر کوئی بھی ڈراما تیار کروایا جاسکتا تھا۔ وزیرموصوف نے اپنے تئیں میری معلومات درست کرتے ہوئے کہا: نہیں ہم نے یہ ڈراما سیریز اڑھائی کروڑ نہیں دو کروڑ ۲۰ لاکھ پائونڈ (۱۲کروڑ ۱۰لاکھ روپے) میں خریدی ہے۔ بعد میں جب ڈرامے کے پروڈیوسر وحید حامد سے پوچھا گیا کہ تم نے سرکاری خزانے سے اتنی خطیر رقم کیوں ضائع کی تو اس کا کہنا تھا کہ نہیں ہم نے تو صرف دو کروڑ پائونڈ میں ڈراما فروخت کیا ہے۔ محسن راضی کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ ڈراما کافی عرصے سے تیار کروایا ہوا ہے لیکن اسے خاص طور پر اس رمضان میں اس لیے پیش کیا گیا تاکہ رمضان کے بعد ہونے والے  عام انتخابات پر اثرانداز ہوا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح کی ایک اور سیریز تین سال بعد ہونے والے سینیٹ اور بلدیاتی انتخابات کے موقع پر بھی چلائی جائے گی۔ اخوان نے حالیہ انتخابات کے لیے بھی گذشتہ کی طرح ۱۵۰ اُمیدواروں کو انتخاب لڑوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن  انتخابی عمل کو منصفانہ بنانے کے لیے IAEA کے سابق صدر محمد البرادعی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر سات نکاتی سفارشات بھی تیار کی ہیں۔ ان جماعتوں نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اگر یہ مطالبات تسلیم نہیں ہوتے تو وہ ان ڈھکوسلا انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ بھی کرسکتی ہیں۔ اس وقت یہ ساری جماعتیں ان مطالبات کے حق میں عوامی دستخط مہم چلا رہی ہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ دستخطی مہم ہزاروں تک جاپہنچی تھی، لیکن پھر جب اخوان نے بھی اس میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا تو یہ مہم اچانک لاکھوں سے تجاوز کرگئی۔

  • ترکی میں ایک نئے دور کا آغاز: عالمِ عرب بالخصوص مصر سے آنے والے زائرین حرم وہاں کے حالات بتا رہے تھے کہ ترکی سے آنے والے معتمرین مل گئے۔ انھوں نے خوش خبری دی کہ ترکی میں عید کے بعد ہونے والے دستوری ترامیم ریفرنڈم میں عوام کی اکثریت ہاں میں ووٹ دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سروے رپورٹوں سے یہ بات تقریباً حتمی ہوگئی ہے کہ باہم ایک دوسرے کی دشمن سیکولر پارٹیوں کے یک جا ہونے کے باوجود تقریباً ۶۰ فی صد لوگ ان ترامیم کے حق میں ووٹ دیں گے۔

ترکی کے گذشتہ تقریباً سو برس کی تاریخ بھی عجیب ہے۔ ۱۹۲۳ء میں کمال اتاترک کے انقلاب کے بعد تک۔ اسلام اور اسلامی شناخت کو جڑ سے اُکھاڑ دینے کے تمام ہتھکنڈے آزمائے گئے۔ اذان، نماز اور قرآن تک عربی زبان میں پڑھنے کو جرم قرار دے دیا گیا۔ عدنان مندریس نے عربی زبان اور کئی بنیادی دینی سرگرمیاں تو بحال کر دیں لیکن مجموعی طور پر سیکولر جرنیلوں اور  سیکولر ججوں کا قبضہ ہی مستحکم رہا۔ بدیع الزمان سعید نورسی کی اصلاحی تحریک نے روحِ ایمانی کو جلابخشی، تعلیم و تربیت پر توجہ مرکوز کی اور سیکولرزم کے سامنے سد سکندری کی بنیاد مستحکم کی۔ ۱۹۷۰ء میں پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین اربکان نے ’ملّی نظام پارٹی‘ کے نام اسلامی تحریک قائم کی، کچھ ہی عرصے بعد اس پر پابندی لگا دی گئی۔ ۱۹۷۲ء میں انھوں نے ملّی سلامت پارٹی کے نئے نام سے کام کا آغاز کردیا، وہ ایک سیاسی اتحاد کے ذریعے نائب وزیراعظم بھی بن گئے لیکن ۱۹۸۰ء میں فوجی انقلاب کے ذریعے سیاسی جماعت کی بساط لپیٹ دی گئی۔ ۱۹۸۳ء میں انھوں نے رفاہ پارٹی بنانے کا اعلان کردیا اور ۱۹۹۶ء میں وزارتِ عظمیٰ کے عہدے تک جاپہنچے۔ تب عبداللہ گل ان کے دست راست اور پارٹی کے امورخارجہ کے ذمہ دار تھے اور طیب اردوگان استنبول کے لارڈ میئر۔ ۱۹۸۸ء میں رفاہ پارٹی اور اربکان کی وزارتِ عظمیٰ ختم کر دی گئی۔ میئر اردوگان کو بھی جیل بھجوا دیا گیا۔ ۲۰۰۰ء میں اربکان نے خود پر پابندی کے باعث اپنے ایک اور ساتھی رجائی قوطان کی سربراہی میں فضیلت پارٹی قائم کر دی۔ کچھ ہی عرصے بعد اس پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ شکست خوردگی، مایوسی یا کسی جھنجھلاہٹ کا شکار ہوئے بغیر اربکان نے ۲۰۰۳ء میں سعادت پارٹی قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ عبداللہ گل اور طیب اردوگان کو خدشہ تھا کہ بالآخر سعادت پارٹی کو بھی غیرقانونی قرار دے دیا جائے گا۔ انھوں نے ’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ‘ کے نام سے الگ پارٹی بنا لی اور پارٹی کی رکنیت کا دروازہ سب کے سامنے کھول دیا۔

اس پورے عرصے میں اصل طاقت اور اختیار سیکولرزم کے محافظ فوجی جرنیلوں اور دستوری عدالت (constitutional court) کے ہاتھ میں رہا۔ فوجی دبائو اور جرنیلی تلوار نے ہی دستوری عدالت کے ذریعے ہر بار پابندیاں لگوائیں اور سزائیں دلوائیں۔ سابق صدر ڈیمرل، سیکولر جرنیلوں اور سیکولر ججوں کی یہی تثلیث تھی جس نے عبداللہ گل اور طیب اردوگان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ لیکن ہمیشہ کی طرح اللہ کا فیصلہ ہی غالب آیا۔ اس نے اپنے بندوں کی    محنت و ثابت قدمی قبول کی اور ایک کے بعد ایک رکاوٹ ختم ہوتی گئی۔ ایوانِ صدر میں اسلامی شعائر کی بہاریں دیکھی جانے لگیں اور اب ان دستوری ترامیم کے ذریعے ترکی اپنی تاریخ کے ایک   نئے اور روشن تر باب کا آغاز کر رہا ہے۔

ترکی میں اب تک ۱۹۸۲ء کا دستور نافذ ہے۔ جسٹس پارٹی نے مئی ۲۰۱۰ء میں ۲۶ ترامیم کا ایک پیکج اسمبلی میں پیش کیا۔ سیکولرپارٹیوں کی مخالفت کے باوجود یہ ترامیم سادہ اکثریت سے منظور تو کروا لی گئیں لیکن دستور میں ترمیم کے لیے اسمبلی میں دوتہائی اکثریت درکار ہے اور اگر ایسا نہ ہوسکے تو عوامی ریفرنڈم کے ذریعے ۵۰ فی صد سے زیادہ ووٹوں کے ذریعے ترمیم ہوسکتی ہے۔ صدر عبداللہ گل نے سادہ اکثریت کو تسلیم کرتے ہوئے ریفرنڈم کا اعلان کردیا اور اس کے لیے ۱۲ستمبر تاریخ طے پائی۔

ان ترامیم کی اصل روح قانون کی بالادستی یقینی بنانا، کسی بھی ایک ادارے کی دوسروں پر بالادستی ختم کرنا اور فوج و عدالتوں کا قانون و احتساب سے بالاتر ہونا ختم کرنا تھا۔ ان ترامیم کے ذریعے فوجی جرنیلوں کو بھی عدالت کے کٹہرے میں لایا جاسکے گا۔ کسی عام شہری کو فوجی عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکے گا، کسی سیاسی پارٹی کو کالعدم قرار دیے جانے پر ان کے ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت ختم نہیں ہوگی۔ پارلیمنٹ کو بھی یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ دستوری عدالت میں ججوں کی ایک تعداد متعین کرسکے گی۔ کوئی عام شہری بھی دستوری عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکے گا۔ دستور کی شق۱۵ کو   ختم کرتے ہوئے فوجی انقلاب لانے والے جرنیلوں پر مقدمہ چلایا جا سکے گا۔

عید کے اگلے روز ۱۲ستمبر کو ریفرنڈم ہوگیا۔ ترک زائرین حرم کی اطلاع درست ثابت ہوئی۔ رجسٹرڈ ووٹروں کی ۷۸ فی صد نے ریفرنڈم میں حصہ لیا اور ان میں سے ۵۸ فی صد نے دستوری ترامیم کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ تناسب صرف ترامیم ہی کے لیے نہیں جسٹس پارٹی کے لیے بھی تائید میں اضافے کا اعلان ہے۔ گذشتہ عام انتخابات میں اردوگان کو ۳۷ فی صد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ ریفرنڈم میں تمام اسلام پسند طاقتوں نے بھرپور حصہ لیا۔ اربکان کی سرپرستی اور ڈاکٹر نعمان کور تلموش کی صدارت میں سعادت پارٹی نے بھی اور نورسی تحریک کے وارث فتح اللہ گولان نے بھی۔ گولان نے تو اپنے پیغام میں ترک عوام سے کہا: ’’ہرشخص ریفرنڈم کے حق میں ووٹ ڈالے، اس کے لیے اگر قبروں سے مُردوں کو بھی جگاکر لایا جاسکے تو لایا جائے‘‘۔ ۱۳ستمبر ۱۹۸۰ء کو اربکان اور حلیفوں کی حکومت کے خلاف فوجی انقلاب آیا تھا تو ’ترکیا‘ نامی اخبار نے سرخی لگائی  تھی: ’’فوج نے اقتدار سنبھال لیا‘‘۔ ۱۲ستمبر کے حالیہ ریفرنڈم کے بعد ’سٹار‘ اخبار نے سرخی جمائی: ’’عوام نے اقتدار سنبھال لیا‘‘۔

اس عوامی انقلاب سے ترک تاریخ کا ایک نیا مرحلہ شروع ہونے جا رہا ہے۔ یہ ریفرنڈم اور ترامیم بہت بنیادی اصلاحات کا نقطۂ آغاز ثابت ہوں گی۔ اردوگان کے الفاظ میں: ’’یہ ترامیم ایک کنجی ہیں۔ اس سے ترکی اپنے مکمل نئے دستور کا تالا کھولے گا‘‘۔ انھوں نے ریفرنڈم کے نتائج کے بعد تقریر میں کہا: ’’ہم کل سے نئے دستور کا مسودہ تیار کرنے کا کام شروع کر رہے ہیں‘‘۔

ترکی کے حالیہ ریفرنڈم اور سیاسی تبدیلیوں میں پوری دنیا کے لیے بہت سے اسباق پوشیدہ ہیں۔ ہر اسلام دشمن کے لیے پیغام یہ ہے کہ جب تک کرپشن سے پاک اور خدا خوف قیادت ملک کی باگ ڈور نہیں سنبھالتی ترقی و استحکام ممکن نہیں ہے۔ ترکی نے گذشتہ آٹھ سال میں جو اقتصادی ترقی کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ۲۰۰۲ء میں اس کی مجموعی سالانہ آمدن ۳۵۰ ارب ڈالر تھی۔ ۲۰۰۸ء میں ۷۵۰ ارب ہوگئی۔ ۲۰۰۲ء میں فی کس سالانہ آمدن ۳۳۰۰ ڈالر تھی، ۲۰۰۹ء میں فی کس آمدن ۱۰ ہزار ڈالر ہوگئی۔ ۲۰۰۲ء میں ترکی کی برآمدات ۳۳ ارب ڈالر تھیں، ۲۰۰۸ء میں یہ برآمدات ۱۳۰ ارب ڈالر ہوگئیں۔ اس ضمن میں اور بھی بہت سے پیمانے ہیں جن کی تفصیل کا موقع نہیں ہے۔

ترکی ہر اسلام پسند کو بھی یہ پیغام دے رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی خرابی یا انتخابی نتائج سے  مایوس ہوکر اِدھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں مارنا، شکست خوردہ ہوکر بیٹھ جانا یا بندوق اور بارود اُٹھا کر اپنے ہی ملک میں خون ریزی شروع کر دینا کامیابی کا راستہ نہیں، اصل راستہ جدوجہد، محنت اور ہر ہم وطن کا دل جیتنے کی کوشش کرنا ہے۔ حالیہ ریفرنڈم میں ۵۸ فی صد ووٹروں کا اردوگان کے ساتھ کھڑے ہونا سب کو بتارہا ہے کہ آیندہ انتخابات بھی جسٹس پارٹی کے ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں بھی شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے۔ آپؐ تقریباً پورا شعبان ہی روزے رکھتے۔ (بخاری حدیث ۱۸۶۹، مسلم حدیث ۱۱۵۶)

آں حضورصلی اللہ علیہ وسلم رمضان سے کئی ماہ پہلے رمضان کی برکات پانے کی خصوصی دعائیں شروع کردیتے، گویا مہمان مکرم کے انتظارمیں ہیں۔ جیسے جیسے رمضان قریب آتا، ذوق و شوق میں اضافہ ہوتا چلا جاتا۔ ہم بھی ذرا اپنا اپنا جائزہ لیں، دل میں انتظارِ رمضان کی کیا کیفیت ہے؟ پھر یہ بھی کہ کیا ہم بھی حبیبؐ رب العالمین کی طرح رمضان کی تیاری نوافل و روزوں کی کثرت سے کررہے ہیں یا صرف نئے سے نئے پکوانوں کے اہتمام سے۔

o

حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ کو ایک بار احباب نے مزید کھانا کھانے پر اصرار کیا۔آپ نے فرمایا: بس مجھے اتنا کافی ہے۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ’’دنیا میں سب سے زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والے کو، آخرت میں سب سے زیادہ بھوکا رہنا پڑے گا‘‘۔   (ابن ماجہ ،حدیث ۳۳۵۱)

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور فرمان مبارک کے مطابق: ’’انسان اپنے پیٹ سے بدتر کوئی اور برتن نہیں بھرتا۔ ابن آدم کے لیے وہ چند لقمے کافی ہیں جن سے اس کی پشت سیدھی رہے‘‘۔    طبی تحقیقات بھی تقریباً ہر دور میں ثابت کرتی رہی ہیں کہ فاقہ کشی کے مقابلے میں پیٹ بھرا رہنے سے زیادہ بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ رسولِؐ رحمت نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین کی تربیت ہی ایسی کی تھی کہ، جب تک بھوک خوب نہ چمک اٹھے کھایا نہ جائے اور جب کھائیں تو پیٹ نہ بھریں۔

یہ امر بھی رب ذو الجلال کی رحمتوں ہی کا حصہ ہے کہ رمضان المبارک کی روحانی و اخروی برکات کے ساتھ ہی ساتھ، دنیوی اور جسمانی برکات کا بھی اہتمام فرمادیا۔ کارخانۂ قدرت میں اس رحمت کا پرتو اکثر مخلوقات میں ملتا ہے۔ تقریباً تمام نباتات و حیوانات بھی گاہے بگاہے فاقوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ کھانے پینے سے یہی پرہیز ان کے لیے تجدید نشاط کا ذریعہ بنتا ہے۔ فصلوں کا پکنا اور پھلوں کا مٹھاس سے بھرنا تب تک ممکن نہیں ہوتا جب تک مزید پانی روک نہ لیا جائے۔

حدیث میں مذکور رحمت نبویؐ جسمانی عافیت کو اصل فکر مندی سے وابستہ کردیتی ہے کہ دنیا میں پیٹ بھرنے کی دوڑ، آخرت کی بھوک سے دوچار نہ کردے۔ آخرت میں بھوک کے عذاب کا کوئی توڑ نہیں۔

o

حضرت عمر بن الخطابؓ فرماتے کہ غزوۂ بدر کے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی جانب دیکھا وہ ایک ہزار تھے اور آپؐ کے ساتھی ۳۱۹ تھے (کئی روایات میں ۳۱۳ ہے)۔ آپؐ   قبلہ رو ہو کر ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوگئے اور اپنے رب سے سرگوشیاں کرتے ہوئے فرمایا: اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا فرما۔ اے اللہ! تو نے مجھے (جو کامرانی) عطا کرنے کا وعدہ کیا ہے وہ مجھے عطا فرما۔ اے اللہ! اگر تو نے اہل اسلام کے اس گروہ کو ہلاک کردیا، تو پھر روے زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی۔ (مسلم ۴۵۸۸)

خاتم النبیینؐ اپنی تمام جمع پونجی میدان بدر میں لے آئے۔ انسانی بس میں جو بھی تدابیر ہوسکتی تھیں کر ڈالیں، اور پھر رب علیم و قدیر کے آگے ہاتھ پھیلادیے۔ یہ یقین تھا کہ اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا فرمائے گا، لیکن احساس ذمہ داری، قافلہء حق اور دعوت دین کے مستقبل کے بارے میں فکرمندی تھی کہ   بے کل کیے دے رہی تھی۔ امت کو یہ تعلیم دینا بھی مقصود تھا کہ کامیابی کے دونوں ستون یکساں اہم ہیں: ہرممکن انسانی کوشش اور اللہ پر مکمل اعتماد و بھروسا کرتے ہوئے دعا۔

اہل ایمان اس جنگ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے، لیکن مشیت الٰہی نے تمام تر انتظامات اس طرح کردیے کہ عین نصف رمضان (۱۷ رمضان ۲ ہجری) میں فیصلہ کن غزوہ بدر رونما ہوجائے۔ قرآن کریم کے الفاظ میں ’’تاکہ اللہ حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کردکھائے‘‘۔

فتح مکہ کی عظیم الشان کامیابی بھی رمضان المبارک میں عطا ہوئی (۲۰ رمضان ۸ ہجری)۔ دل دہلا دینے والا غزوۂ خندق شوال ۵ ہجری میں وقوع پذیر ہوا، لیکن اس کے لیے تیاری کرتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پورا مہینہ طویل و عریض خندق کھودنے میں لگے رہے۔

دیگر کئی عظیم معرکے اور فتوحات بھی ماہِ رمضان میں ہوئے۔ مثلا رمضان ۹۱ ہجری میں فتح اندلس۔ رمضان ۲۲۳ ہجری میں خلیفہ معتصم باللہ کی قیادت میں فتح عموریہ۔ ۲۵ رمضان ۶۵۸ ہجری میں  سیف الدین قطز کی قیادت میں تاتاریوں کو شکست۔ کتنے ہی معرکے ہیں کہ جن کے ذریعے اللہ بتا رہا ہے کہ رمضان المبارک سستی و کسل مندی اور بے جان پڑے رہنے کا نہیں، ماہِ فتوحات و جہاد ہے۔

o

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔ آپؐ سب سے زیادہ سخاوت رمضان میں کرتے، جب جبریل ؑامین آپؐ سے ملاقات کے لیے تشرف لایا کرتے تھے۔ حضرت جبریل ؑرمضان کی ہر رات آپؐ کے ساتھ مل کر دورۂ قرآن کیا کرتے۔ اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوش گوار بادِ نسیم سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے۔ (بخاری، حدیث ۶، مسلم، حدیث ۲۳۰۸)

قرآن اور رمضان لازم و ملزوم ہیں۔ رمضان میں قرآن لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر اتارا گیا اور یہ رات لیلۃ القدر کہلائی، ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر۔ رمضان میں قرآن قلب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی صورت نازل ہونا شروع ہوا۔ رمضان میں اللہ تعالیٰ جبریل امین ؑ کو خصوصی طور پر آپؐ  کے پاس تلاوت قرآن کے لیے بھیجتے۔ نبیوں کا سردار اور فرشتوں کا سردار مل کر پورا مہینہ تلاوت قرآن کرتے۔ جس سال آپؐ  کا وصال ہونا تھا، اس سال ماہ رمضان میں دوبار قرآن مکمل کیا۔

اس سے بڑھ کر اور کیا ترغیب و تحریص ہوگی کہ ہم سب بھی رمضان المبارک کو اس طرح ماہ قرآن بنالیں کہ روز قیامت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش پا کی پیروی کرنے والے کہلا سکیں۔

انفاق فی سبیل اللہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ثانی نہیں۔ آپؐ کے جاں نثار چچازاد اور عظیم مفسرقرآن گواہی دے رہے ہیں کہ جس طرح خوش گوار تیز ہوائیں بلا تفریق سب کو نفع پہنچاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر و برکت بھی بلا تقسیم و تفریق سب کو عطا ہوتی۔

o

حضرت عبادہ بن الصامتؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ القدر کے بارے بتانے کے لیے باہر نکلے۔ اس وقت مسلمانوں میں سے دو افراد آپس میں ایک دوسرے سے الجھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اس لیے آیا تھا کہ آپ لوگوں کو بتاؤں کہ لیلۃ القدر کب ہوتی ہے، لیکن فلاں اور فلاں جھگڑ رہے تھے اس لیے مجھ سے اس کا علم واپس لے لیا گیا۔ شاید یہ تمھارے حق میں بہتر ہی ثابت ہو، اب تم اسے پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں میں تلاش کیا کرو۔ (بخاری، حدیث ۴۹)

رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شوق عبادت اور محنت وسعی اپنی معراج پر جا پہنچتے۔ آپؐ اعتکاف کا اہتمام فرماتے۔ خود بھی راتوں کو جاگ کر عبادت کرتے۔، اہل خانہ کو بھی جگاتے۔ ہر دنیاوی آرام و مصروفیتق تج دیتے۔ نیکیوں کی بہار عروج پر ہوتی۔

آج بدقسمتی سے انھی مبارک ترین راتوں کو خصوصی طور پر بازاروں اور خریداریوں کی نذر کردیا جاتا ہے۔ وقت سے پہلے عید کی تیاری ، ان اہم ترین لمحات کو آگ سے نجات کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔

لیلۃ القدر کی تلاش یقینا بندوں کے لیے بلندی درجات ہی کا سبب بنے گی۔ لیکن ذرا سوچیے اگر امت کو واضح طور پر لیلۃ القدر کا علم دے دیا جاتا تو یقینا ہزار سال کی عباد ت سے بہتر رات پالینا آسان تر ہوجاتا۔ دو ساتھیوں کا باہم الجھ جانا اس خیر کثیر سے محرومی کا سبب بنا۔ اُمت مسلمہ کا باہم خوں ریزی اور قتل و غارت کا شکار ہونا، تعصبات و تفرقوں میں بٹا رہنا، کس کس خیر سے محرومی کا سبب بن رہا ہوگا۔

o

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹی بات اور اس پر عمل نہ چھوڑا، اللہ کو اس شخص کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں (بخاری، حدیث ۱۸۵۳)

آں حضوؐرنے قول الزُّور کا لفظ استعمال کیا ہے اور الزُور کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس میں جھوٹ کے علاوہ ہر غلط و ناجائز بات شامل ہے۔ آج کی دنیا میں کوئی بھی سکہ، ڈگری یا دستاویز جعلی ہو تو اس کے لیے مُزَوَّر کا لفظ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح الزُّور میں ہر جھوٹ، دھوکا دہی، فحش و بے حیائی،  گالم گلوچ، جھگڑا ور غیبت سب شامل ہیں۔ روزے میں انسان کھانے پینے جیسے حلال و طیب کاموں سے تو رُک جائے لیکن اصلاً حرام باتوں اور کاموں کا ارتکاب کرتا رہے، تو آخر کیسا روزہ اور کیسی نیکی؟

قرآن روزے ہی کا نہیں نماز، حج اور زکوٰۃ سمیت ہر عبادت کا مقصد بندے کے دل میں خوفِ خدا پیدا کرنا ہی بتاتا ہے۔ آپؐ نے نوجوانوں کو شادی کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ’’اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے۔ یہ اس کے لیے ڈھال ثابت ہوں گے‘‘۔ ایک اور ارشاد مبارک میں آپؐ نے روزے کو عموماًڈھال سے تشبیہ دی کہ جس طرح ڈھال دشمن کے وار سے بچاتی ہے، روزہ شیطان کے حملوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

سٹیج سیکرٹری نے جب ترک رفاہی تنظیم IHH کے صدر بلند یلدرم کو خطاب کی دعوت دی تو ہال میں موجود سیکڑوں افراد پُرجوش استقبال کے لیے کھڑے ہوگئے اور دیر تک انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے رہے۔ یہ عالمی اتحاد العلما کی مجلس عمومی کی دوسری کانفرنس کا افتتاحی سیشن تھا۔     اتحادِ اُمت انتہائی خوب صورت لفظ اور کروڑوں مسلمانوں کا خواب ہے۔ لیکن آرزو اور دعوے کے باوجود اس جانب عملی اقدام بہت کم اُٹھائے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے اتحادِ اُمت کے نام پر بھی افتراق اُمت ہی کے کارنامے انجام دیے جاتے ہیں۔

عیسائی پیشوا، پوپ کو اب عربی زبان میں ’بابا‘ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح والد کو بھی ’بابا‘ کہا جاتا ہے، جب کہ ماں کو ’ماما‘ علامہ یوسف قرضاوی صاحب اکثر اپنی تقاریر اور گفتگوؤں میں ازراہ تفنن فرمایا کرتے ہیں کہ عیسائی تو پھر کسی ایک شخص کو ’بابا‘ کہتے اور مانتے ہیں، لیکن مسلمانوں کا نہ ’بابا‘ ہے نہ ’ماما‘۔ قرضاوی صاحب ہمیشہ اس کی تگ و دو کرتے رہے کہ فرقہ بندیوں سے بالاتر ہوکر تمام مسلمانوں کو کسی ایک چھتری تلے متحد کیا جائے۔ بالآخر ۱۹۹۸ء میں بہت کوششوں کے بعد اس جانب ایک مضبوط قدم اٹھایا گیا۔ علامہ یوسف القرضاوی نے تمام مسلمانوں کو ایک کانفرنس میں مدعو کیا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کوئی بھی مسلمان ملک اس طرح کی کانفرنس کی میزبانی پر آمادہ نہ تھا۔ بالآخر برطانوی دار الحکومت لندن میں کانفرنس کا پروگرام بنا۔ وہاں بھی صہیونی لابی نے بڑی مخالفت کی، لیکن اس وقت لندن کے ایک انصاف پسند میئر کین لیونگسٹن کے مضبوط موقف کے باعث یہ کانفرنس منعقد ہوگئی، اور ’’الاتحاد العالمی لعلما المسلمین‘‘ (مسلمان علما کا عالمی اتحاد) کی بنیاد رکھ دی گئی پاکستان سے اس کانفرنس میں محترم قاضی حسین احمد، پروفیسر خورشید احمد، مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن، مولانا عبد المالک، ڈاکٹر محمود احمد غازی اور راقم شریک تھے۔ جماعت اسلامی لبنان کے سربراہ شیخ فیصل المولوی، تحریک نہضت تیونس کے سربراہ شیخ راشد الغنوشی اور عالم اسلام کے تقریباً ۳۰۰ قائدین، علماے کرام اور اسکالرز پر مشتمل تأسیسی اجلاس سے اس کار جلیل کا آغاز   کیا گیا۔ علامہ قرضاوی کو اس اتحاد کا صدر اور مصر کے ایک معروف اسکالر اور اعلیٰ پاے کے وکیل ڈاکٹر محمد سلیم العوّاء کو اس کا سیکریٹری جنرل چنا گیا۔ اتحاد کا ایک مظہر یہ بھی سامنے آیا کہ صدر اتحاد کے ساتھ درج ذیل اصحاب نائب صدر کے طور پر چنے گئے۔ سعودی عرب میں مقیم معروف اور نمایاں سلفی عالم دین شیخ عبد اللہ بن بَیّہ (اصلا موریتانی ہیں) سلطنت آف عمان کے مفتی اعظم    شیخ احمد خلیلی اور معروف ایرانی عالم دین آیت اللہ علی تسخیری۔

۲۰۰۶ء میں استنبول ترکی میں اتحاد کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔ عملاً اتحاد کی فعالیت اور تنظیم سازی کا آغاز اسی اجلاس سے ہوسکا۔ ایک منتخب مجلس اُمَنَا Board of Trustees  یا مجلس شوریٰ وجود میں آئی، ہر چھے ماہ بعد اس کا اجلاس طے ہوا۔ مختلف کمیٹیاں تشکیل پائیں اور اس عالمی اتحاد نے امت کے مختلف مسائل میں رہنمائی کا فریضہ انجام دینا شروع کردیا۔

اس عالمی اتحاد نے تقریباً ہر اہم موقعے پر اپنے ایک واضح موقف کا اعلان کیا۔ پاکستان میں امریکی جارحیت اور خوں ریزی کی لہر کے خلاف بھی اتحاد نے متعدد بار اپنے واضح موقف کا اعلان کیا۔ افغانستان و عراق اور خطے پر امریکی قبضے کے خلاف بھی اتحاد نے بلا کسی رو رعایت مضبوط موقف کا اعادہ کیا۔ لیکن اس کا سب سے مضبوط، دوٹوک اور واضح موقف فلسطین کے بارے میں سامنے آیا۔ دسمبر ۲۰۰۷ء میں غزہ پر جنگ مسلط کی گئی تو اتحاد کے اعلیٰ سطحی وفد نے سعودی عرب، ترکی، اُردن اور ایران سمیت علاقائی ممالک کے سربراہوں سے جاکر ملاقاتیں کیں اور انھیں صہیونی جارحیت کے خلاف کردار ادا کرنے پر ابھارا۔ اس وفد میں پاکستان سے محترم قاضی حسین احمد کو بھی شریک ہونا تھا لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر نہ جاسکے۔

۲۹ جون سے یکم جولائی ۲۰۱۰ء کو استنبول ہی میں عالمی اتحاد العلما کی جنرل کونسل کا دوسرا اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس دستور کے مطابق ہر چار سال بعد ہونا طے پایا ہے۔ پاکستان سے مفتی رفیع عثمانی صاحب اور مفتی منیب الرحمن سمیت دس افراد کو مدعو کیا گیا تھا لیکن مولانا عبد المالک، ڈاکٹر انیس احمد اور راقم کے علاوہ کوئی شریک نہ ہوسکا۔

کانفرنس میں دنیا بھر سے ۴۰۰ کے لگ بھگ علماے کرام اور اسکالرز شریک تھے۔ کانفرنس کے عمومی اور اختتامی سیشن میں قرضاوی صاحب اور متعدد ترک ذمہ داران کی تقاریر کے علاوہ تین مرکزی سرگرمیاں تھیں۔ دستوری ترامیم کا ایک پیکج منظور کرنا، جس میں زیادہ ترامیم اتحاد کے انتخابات اور انتظامی ذمہ داران کے اختیارات کے متعلق تھیں۔ دوسری اتحاد کے مزید مؤثر و فعال بنانے کے لیے منصوبہء عمل پر گفتگو اور تیسری اتحاد کے بورڈ آف ٹرسٹیز (مجلس امنائ) کا انتخاب۔ سب سے زیادہ وقت اور بحث و تمحیص، اسی آخری سرگرمی کے دوران دکھائی دی۔

افتتاحی سیشن میں پہلے وزیر اعظم طیب اردوگان کا مختصر پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ پھر تقریباً تمام تقاریر کا مرکز و محور، اتحاد امت اور غزہ کی صورتحال رہا۔ علامہ یوسف قرضاوی نے اعلان کیا کہ عالمی اتحاد العلما ستمبر میں جانے والے نئے قافلے میں اپنے ایک سفینے کے ساتھ شریک ہوگا۔ کانفرنس کے اختتام پر ایک سفینے کی تصویر بھی دکھائی گئی اور بتایا گیا کہ یہ جہاز چھے لاکھ یورو مالیت کا خرید لیا گیا ہے اور یہ بھی مسلسل غزہ جایا کرے گا۔ اسی طرح ایک بری قافلہ لے جانے کا اعلان بھی کیا گیا کہ یہ براستہ مصر جائے گا۔

افتتاح کے بعد پہلے باقاعدہ سیشن میں راقم کو بھی گفتگو کا موقع دیا گیا، جس میں افغانستان پر علانیہ استعماری قبضے کے ساتھ ساتھ پاکستان پر غیر علانیہ لیکن عملاً امریکی قبضے، بلیک واٹرز کی کاروائیوں، مختلف تعصبات کو ہوادیے جانے کے چیلنجوں پر مختصر روشنی ڈالنے کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ غزہ اور مسجد اقصی کے لیے جدوجہد ہمارا جزو ایمان ہے، لیکن کشمیر کو بھی غزہ بنادیا گیا ہے۔ اس سنگین مسئلے، وہاں جاری مظالم اور کشمیر سے پاکستان آنے والے دریاؤں پر بنائے جانے والے بھارتی ڈیموں سے صرف نظر نہ کریں۔ آپ میں سے کسی کو ہمارے موقف سے اختلاف ہے تو وہ جو چاہے اپنا موقف رکھ سکتا ہے، لیکن ایک اہم مسئلے کی حیثیت سے اسے مسلم امت کے ایجنڈے سے حذف نہیں کیا جاسکتا۔

بھارت سے اس کانفرنس میں پانچ افراد شریک تھے۔ تین رکنی وفد جماعت کا تھا جس میں نائب امیر جماعت صدیق حسن صاحب (ملیالم) گوہر اقبال اور عبدالسلام صاحب شامل تھے۔ ایک نمایاں سلفی عالم دین شریک تھے اور وحید الدین خان صاحب کے صاحبزادے ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب بھی۔ سیشن کے بعد ڈاکٹر ظفر الاسلام نے میری کشمیر کی بات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کو غزہ کیوں کہا؟ چلو میں تمھیں وہاں لے جاتا ہوں۔ میں نے بنیادی گزارشات کے بعد، بحث سے اجتناب کرتے ہوئے کہا کہ خصوصاً آپ جو چاہیں موقف رکھ سکتے ہیں، لیکن کشمیر کے مسئلے کو امت کے اہم مسائل کی فہرست سے حذف نہیں کرسکتے۔

بعد ازاں ۱۱ نکات پر مشتمل ایک منصوبۂ عمل پیش کرتے ہوئے شرکا کو تین گروپوں میں تقسیم کردیا گیا تاکہ اس پر مزید گفت و شنید کرسکیں، افسوس کہ مجموعی طور پر زیادہ افراد نے اس میں زیادہ دل چسپی نہ لی۔ جو لوگ شریک ہوئے وہ ڈیڑھ گھنٹے کی نشست میں زیادہ تر لفظی و اصطلاحی تبدیلیوں پر زور دیتے رہے۔ مولانا عبد المالک صاحب، اسلامک کلچرل سنٹر ناروے کے خطیب مولانا محبوب الرحمن صاحب اور راقم نے ایک گروپ میں شرکت کی، ڈاکٹر انیس احمد صاحب دوسرے میں شریک ہوئے۔ مولانا عبد المالک صاحب نے اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے زور دیا کہ عالمی اتحاد العلما کے پیش نظر سب سے بنیادی ہدف تو اپنے اپنے ممالک میں اقامت دین کا رہنا چاہیے۔

کانفرنس کا تیسرا روز انتخابات کے لیے وقف تھا۔ دستور کے مطابق مجلس امناء کی زیادہ سے زیادہ تعداد ۵۰ ہوسکتی ہے۔ جنرل کونسل اس میں سے ۳۰ افراد کا انتخاب خفیہ راے دہی سے کرتی ہے، باقی ۲۰ ارکان کا تعین صدر اتحاد، مجلس کی منظوری سے کرسکتا ہے۔اس انتخاب میں اُمیدوار ہونے کے لیے دو طریق کار تھے۔ یا تو امیدوار خود اپنا نام پیش کرتا اور اتحاد کے ۱۰ ارکان اس کے فارم پر دستخط کرکے اس کی توثیق کرتے (اب ترمیم کرکے اس تعداد کو پانچ کردیا گیا ہے) یا پھر صدر اتحاد کسی کا نام اُمیدوار کے طور پر پیش کرتا۔ امیدوار بننے کے لیے پہلے ہی ایک تاریخ متعین کردی گئی تھی۔ ہم نے اپنا نام پیش نہیں کیا تھا۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ قرضاوی صاحب نے راقم کا نام شامل کیا ہوا ہے۔ تعارفی سیشن میں مختصر تعارف کرواتے ہوئے دس دس کے گروپ کو سٹیج پر بلاکر، امیدواروں کی ’رونمائی ‘ کروائی گئی۔

بعد مغرب شرکا کی تقاریر کا سلسلہ چلتا رہا۔ رات ۱۱ بجے نتائج کا اعلان ہوا۔ ۳۵۲افراد  نے ووٹ ڈالے تھے۔ سب سے زیادہ (۲۵۲ ووٹ) قطر میں مقیم عراقی الاصل عالم دین ڈاکٹر  علی محی الدین قرہ داغی صاحب نے حاصل کیے۔ قرہ داغی صاحب جماعت اسلامی کے اضاخیل   اجتماع عام میں شریک ہوچکے ہیں۔ اور اجتماع کے ایک روز نماز مغرب کی امامت بھی انھوں نے کروائی تھی۔ ۳۰ منتخب ارکان میں راقم کا نمبر چھٹا تھا ۲۴۰ ووٹ ملے۔ راشد غنوشی صاحب بھی رکن منتخب ہوئے اور کینیڈا کے ڈاکٹر جمال بدوی بھی۔

بعد ازاں (رات ایک بجے) نو منتخب مجلس کا پہلا تعارفی اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں نئے سیکریٹری جنرل کا تعین ہوگیا اور کافی رد و کد کے بعد ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی صاحب کو سیکریٹری جنرل چنا گیا۔ ڈاکٹر علی قرہ داغی صاحب اب علامہ قرضاوی صاحب کے نائب کی حیثیت سے متعارف ہورہے ہیں۔ قطر یونی ورسٹی میں فقہ کے استاد ہیں۔ اسلامی بنکاری بنیادی مضمون ہے، لیکن ان دنوں زیادہ توجہ اتحاد العلما پر ہی دے رہے ہیں۔

اس عالمی اتحاد اور عالمی کانفرنس کی سب سے بڑی خوبی اور حاصل ہی یہ ہے کہ اس میں پوری اُمت کی نمایندگی ہے۔ سُنّی، شیعہ، حنفی، حنبلی، شافعی، مالکی تمام آئمہ کے پیروکار اور ہرعقیدے اور مدرسے کی شناخت سے بالاتر ہوکر اُمت کے نمایاں افراد اس میں شریک ہیں۔ علامہ یوسف قرضاوی عالم سے مراد بھی صرف عالمِ دین نہیں لیتے بلکہ کسی بھی میدان کا علم رکھنے والے نمایاں افراد اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے اس کا انگریزی ترجمہ International Union of Muslim Scholarsکیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف علماے دین اور مفتیانِ عظام ہی نہیں عالمِ اسلام کے نمایاں صحافی، دانش ور اور کئی طبیب بھی اس میں شامل ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے ایک نمایاں کنسلٹنٹ بھی مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

پوری اُمت اس اتحاد سے مستفید ہوسکتی ہے۔ اُمت کے اہم مسائل میں مشترکہ موقف تک پہنچ سکتی ہے۔ کانفرنس کے اختتامی اعلامیے میں اتحاد و وحدت کے علاوہ بڑی تفصیل سے تمام مسائل کے بارے میں واضح موقف کا اعلان کیا گیا۔ پاکستان کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے اور کھلی امریکی جارحیت کو مسترد کرتے ہوئے پوری پاکستانی قوم سے اتحاد کی اپیل کی گئی۔ بھارتی ڈیموں کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے مسئلۂ کشمیر کے مبنی برحق حل کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عالمی پلیٹ فارم سے کماحقہٗ استفادہ کیا جائے۔

’’میں اور یوسف قرضاوی صاحب جامعہ ازہر کے ایک ہی اسکول کی جماعت نہم میں پڑھتے تھے۔ ایک روز ہم چھٹی کے وقت اسکول کے بڑے دروازے سے باہر نکلے تو سامنے ’اخوان اسکائوٹس‘ کے نوجوان نعرے لگا رہے تھے: ’’اللہ ہمارا مقصود ہے، رسول ہمارے رہبر و رہنما ہیں، قرآن ہمارا دستور ہے، جہاد ہمارا راستہ ہے، اور اللہ کی راہ میں موت ہماری سب سے بڑی آرزو ہے۔ پاس ہی ایک گاڑی سے اعلان کیا جا رہا تھا کہ آج رات مرشدعام حسن البنا خطاب فرمائیں گے، شرکت کی اپیل کی جاتی ہے۔ ہم دونوں تیزتیز قدموں سے گاڑی کے پیچھے ہی چلنا شروع ہوگئے۔ گاڑی اخوان المسلمون کے دفتر کے سامنے جاکر رُک گئی۔ ہم نے پروگرام کی تفصیل دریافت کی تو معلوم ہوا کہ امام البنا بھی اسی دفتر میں موجود ہیں۔ وہ اسی وقت پہنچے تھے۔ ہم دونوں نے سلام عرض کیا، انھوں نے نہ صرف شفقت کا اظہار کیا بلکہ تھوڑی دیر کے بعد کھانے میں بھی شریک ہونے کے لیے کہا۔ یہ امام البنا سے ہماری پہلی ملاقات اور الاخوان المسلمون سے ہمارا پہلا تعارف تھا!‘‘

بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کے سابق سربراہ اور مصر کے اعلیٰ پائے کے  عالم و مربی ڈاکٹر احمد العسَّال راقم کو اپنی زمانۂ طالب علمی اور اخوان سے وابستگی کی یادیں سنا رہے تھے۔ آج ہمارے یہ انتہائی محترم و محسن مربی ۸۲ سال کی عمر میں اللہ کو پیارے ہوگئے تو ان سے وابستہ ایک ایک بات یاد آنے لگی۔ ڈاکٹر احمد العسَّال مرحوم سے راقم کا پہلا تعارف دورانِ تعلیم ہوا تھا۔ قطر کے معہد دینی میں تفسیر و حدیث کی اکثر نصابی کتابوں پر مؤلف کا نام احمدالعسَّال لکھا ہوا تھا۔ تب ان کے بارے میں صرف یہی معلوم تھا کہ جامعۃ ازہر کے بڑے عالم دین ہیں، جو دین کا واضح اور جامع تصور رکھتے اور بہت مؤثر و آسان انداز سے طلبہ کو سمجھانے کا ملکہ رکھتے ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان آیا تو کچھ عرصے کے بعد، اسلام آباد میں پروفیسر خورشیداحمد صاحب کے ہاں ڈاکٹرصاحب سے پہلی ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ پھر ملاقاتوں کا ایک تسلسل رہا اور   ان سے کسب ِ فیض کا سلسلہ بھی۔ ان سے آخری ملاقات چند ماہ قبل علامہ یوسف القرضاوی کی زیرسرپرستی قائم ہونے والے عالمی اتحاد العلما کی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ہوئی۔ اخوان اور امام البنا سے اپنی یادوں کا تذکرہ مرحوم نے اسی آخری ملاقات میں کیا تھا۔

احمد العسَّال (مرحوم) ۱۶ مئی ۱۹۲۸ء کو مصر کے ضلع غربی بسیون کے ایک گائوں میں پیدا ہوئے۔ تقریباً ۱۰ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرلیا جس پر انھیں شاہ فاروق میڈل ملا جو ۱۲سال سے کم عمر میں قرآن حفظ کرنے والوں کو دیا جاتا تھا۔ حفظ قرآن کے دوران ہی میں پرائمری کا امتحان بھی پاس کر لیا تھا۔ مختلف تعلیمی مراحل سے گزرتے ہوئے وہ جب جامعہ ازہر کی زیرنگرانی چلنے والے معہد دینی میں پہنچے تو وہاں (علامہ) یوسف القرضاوی ان کے ہم جماعت تھے۔

ڈاکٹر احمد العسَّال فرما رہے تھے: ’’معہد میں اخوان کے مکتب ارشاد (مجلسِ عاملہ) کے ایک رکن جناب بہی الخولی بھی پڑھاتے تھے۔ انھوں نے ہم دونوں (عسال،قرضاوی) سے ہرہفتے اتوار اور منگل کو ملاقات کا وقت طے کر دیا۔ پھر ہم گویا ان کی زیرتربیت اور ان کا ربط تھے۔ میں ۲۰سال کا تھا کہ ۱۹۴۸ء میں اخوان المسلمون کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ ہم طلبہ نے اس پابندی کے خلاف مظاہرہ کیا تو شیخ یوسف القرضاوی اور مجھ سمیت کئی ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ یہ ہماری پہلی گرفتاری تھی۔ جیل پہنچے تو اخوان کے کئی قائدین گرفتار تھے۔ شیخ محمد الغزالی اور امام البنا کے دست راست شیخ عبدالمعز عبدالستار بھی گرفتار شدگان میں شامل تھے۔ ہمیں ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقل کیا جاتا رہا، تقریباً نو ماہ کے بعد رہا کیا گیا تو ہمارے سالانہ امتحانات گزر چکے تھے۔ ڈاکٹر طٰہٰ حسین اس وقت وزیرتعلیم تھے۔ مختلف کوششوں کے بعد گرفتار شدہ طلبہ کے لیے الگ سے امتحان کا انتظام کردیا گیا اور اس طرح الحمدللہ ہمارا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچ گیا۔

جامعہ ازہر کی کلیہ شرعیہ میں داخل ہوئے، لیکن ۱۹۵۳ء میں دوبارہ گرفتار کرلیے گئے۔ ہمیں جنگی جیل میں رکھا گیا۔ ۱۹۵۶ء میں رہائی ہوئی اور اس کے بعد اپنی تعلیم مکمل کی۔ ڈاکٹر احمد العسَّال نے تو دورانِ گرفتاری تعذیب و تشدد کا ذکر نہیں کیا، لیکن اس ضمن میں ان کی وفات کے بعد ڈاکٹر جاسر العودہ کی ایک تحریر پڑھنے کو ملی۔ اخوان المسلمون کے ایک انتہائی جلیل القدر رہنما عبدالقادر عودہ شہید کے بھتیجے ڈاکٹر جاسرعودہ لکھتے ہیں:’’تقریباً دو سال پہلے میرے محسن، میرے مربی اور میرے استاد، مرحوم احمد العسَّال نے مجھے اپنے گھر کھانے پر بلایا۔ میں پہنچا تو انھوں نے خلافِ معمول بہت پُرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ صرف میں اکیلا ہی کھانے پر مدعو تھا اور اتنا ڈھیر سارا انتظام کیا گیا تھا۔ پوچھا تو کہنے لگے: میں نے تمھارے لیے یہ اہتمام اس لیے کیا ہے کیونکہ میں تمھارے چچا عبدالقادر عودہ شہید کے حسن سلوک کا جواب انھیں تو نہیں دے سکا، کم از کم تمھیں ہی دے دوں۔ ہم جنگی جیل میں گرفتار تھے، مجھ پر بے تحاشا تشدد کیا جارہا تھا۔ اسی دوران میں جیلر، عبدالقادر عودہ کو لے کر سامنے سے گزرے۔ انھوں نے مجھے دیکھا تو وہیں رُک گئے اور اپنے ساتھ جانے والے پولیس افسروں کو زوردار آواز میں ڈانٹتے ہوئے کہا: ’’بے گناہ اور نیک سیرت نوجوان کو مار ہی دینا چاہتے ہو‘‘۔ یہ کہتے ہوئے وہ میری طرف بڑھے۔ میرے گال سے ایک لوتھڑا کٹ کر لٹک رہا تھا اور قریب تھا کہ وہ گال کٹ کر گرجاتا۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے لوتھڑے کو دوبارہ اپنی جگہ چپکایا اور کچھ دیر وہاں سے اُٹھنے سے انکار کر دیا۔ عبدالقادر عودہ شہید نے میرے ساتھ یہ احسان اس وقت کیا، جب خود انھیں کچھ روز بعد پھانسی پر لٹکاتے ہوئے شہید کیا جانا طے تھا۔ اسی طرح ان کا مجھ پر یہ بھی احسان ہے کہ ایک بار میں نے مقاصد ِ شریعت پر چھوٹی سی تحریر لکھی۔ انھوں نے اس کی بہت تعریف کرتے ہوئے میری حوصلہ افزائی کی۔ میں شہید کے احسانات کا بدلہ انھیں تو نہیں لوٹا سکا، البتہ انھیں یاد کرتے ہوئے آج تمھیں بلا لیا‘‘۔

ڈاکٹر عسَّال مرحوم نے کبھی اس تشدد کا ذکر نہ کیا تھا۔ جیل کے زمانے کا ذکر آ بھی جاتا تو بتاتے کہ ہم پر بہت سختی کی گئی۔ ہمیں ہر چیز سے محروم کر دیا گیا، حتیٰ کہ قرآن کریم اور دینی کتب سے بھی۔ گویا قرآن سے چند روز کی فرقت ہی سب سے بڑی سزا تھی جو انھیں ہمیشہ یاد رہتی، حالانکہ قرآن تو اکثر اسیروں کے سینوں میں محفوظ تھا اور ہمیشہ ورد زبان رہتا تھا۔

جیل سے رہائی اور تعلیم مکمل کرلینے کے بعد بھی احمد العسَّال کی آزمایشیں ختم نہیں ہوئیں۔ حکومت نے ان پر پابندی لگا دی کہ کہیں ملازمت نہیں مل سکتی۔ کچھ عرصہ پرائیویٹ اسکولوں میں عربی زبان اور دینی علوم کی تعلیم دیتے رہے، پھر انھیں اور شیخ یوسف القرضاوی کو جامعہ ازہر کے سربراہ شیخ شلتوت کے ایما پر ریاست قطر میں ملازمت مل گئی۔ اس دور کے بارے میں عسّال مرحوم فرماتے تھے: ’’ہم جب قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے تو وہاں بھی عرب قومیت کی تحریک جڑ پکڑ چکی تھی، بالخصوص طلبہ کے ذہن میں یہ خناس بھرا جا رہا تھا کہ عہدِاسلام لد چکا، اب عرب ازم کا زمانہ ہے۔ ہم نے آواز اٹھائی کہ نہیں، اسلام کسی صورت ختم نہیں ہوسکتا اور عرب قومیت اسلام کے بغیر نری جاہلیت ہے۔ اسلام، قرآن ہے، اسلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ ہم نے پورا تعلیمی سال اسی موضوع پر تقاریر، کانفرنسوں اور مشاورتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہم نے عرب بعث ازم کا مطالعہ کر کے ان کی ایک ایک بات کا رد کیا‘‘۔ وہ کہتے تھے: ہم عربی زبان اور عرب تاریخ کی بنیاد پر ایک قوم ہیں۔ ہم کہتے: قرآن کریم کے بغیر عربی زبان زندہ ہی نہیں رہ سکتی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ کی تاریخ کے بغیر کوئی تاریخ، تاریخ ہی نہیں کہلا سکتی۔

تعلیمی سال کے اختتام پر چھٹیاں ہوئیں۔ ہم مصر چھٹیاں گزارنے گئے تو وہاں بھی ہماری شکایات پہنچ چکی تھیں۔ مجھے اور شیخ یوسف قرضاوی صاحب کو پھر گرفتار کرکے تحقیقاتی ایجنسیوں کے سپرد کر دیا گیا۔ کسی کو ہمارے بارے میں کچھ علم نہ تھا۔ ہم سے پوچھ گچھ شروع ہوئی، ہم نے جواب دیا: ہم دونوں جامعہ ازہر سے فارغ التحصیل ہیں، دین کی دعوت ہمارا فریضہ ہے، یہ بھی نہیں کریں گے تو اور کیا کریں گے۔ خیر ہماری رہائی ہوئی لیکن جب چھٹیوں کے بعد واپس دوحہ قطر پہنچے تو ہمارے پاسپورٹ کی تجدید کرنے سے انکار کر دیا گیا اور واپس مصر جانے کا کہا گیا، تاکہ دوبارہ گرفتار ہوجائیں۔ اس موقع پر میں نے مصر جانے کے بجاے برطانیہ جانے اور مزید تعلیم حاصل کرنے کا پروگرام بنا لیا، جب کہ قرضاوی صاحب قطر ہی میں رہے۔

۱۹۶۵ء سے ۱۹۷۰ء تک میں برطانیہ رہا۔ اس دوران میں کیمبرج یونی ورسٹی سے اصولِ فقہ میں پی ایچ ڈی کی اور برطانیہ میں دعوتِ اسلامی کی سرگرمیوں کو منظم کرنے کا موقع ملا۔ پھر مجھے لیبیا جاکر دعوت و تربیت کی سرگرمیاں منظم کرنے کے لیے کہا گیا۔ وہاں پہنچا تو کچھ عرصے کے بعد کرنل قذافی کا انقلاب آگیا۔ وہاں سے سوڈان چلے جانے کو کہا گیا۔ کچھ عرصے بعد وہاں جنرل جعفر نمیری کا انقلاب آگیا۔ بعدازاں میں ریاض یونی ورسٹی کے شعبہ تدریس سے وابستہ ہوگیا۔ اس دوران میں مرشدعام عمر تلمسانی مرحوم نے مصر واپسی کا کہا۔ میں ملازمت چھوڑ کر مصر واپس چلا گیا۔ وہاں پھر گرفتاریوں کے لیے چھاپے پڑنا شروع ہوگئے اور مجھے دوبارہ ریاض یونی ورسٹی آنا پڑا۔ اسلام آباد میں اسلامی یونی ورسٹی کی بنیاد رکھی گئی تو مجھے بھی وہاں طلب کرلیا گیا، جہاں کچھ عرصے کے لیے یونی ورسٹی کا سربراہ رہنے کے علاوہ مختلف اوقات میں مختلف ذمہ داریاں ادا کیں اور ۲۰۰۳ء میں مصر واپس آگیا۔ اسلام آباد قیام کے دوران میں افغان مسئلے نے بھی بہت وقت لیا اور آخرکار اللہ تعالیٰ نے افغانستان کو روسی پنجے سے نجات عطا کی۔

طویل سفر کے بعد عالم ربانی، علم، حلم، شائستگی اور محبت کا پیکر، نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو اور ہردم اصلاح و فلاح اُمت کے لیے فکرمند، فیصل مسجداسلام آباد کے خطیب اور پاکستان سے  والہانہ محبت رکھنے والے ڈاکٹر احمد العسَّال ۱۰جولائی ۲۰۱۰ء کو قاہرہ میں ابدی راحت پاگئے۔ بچپن کے ہم جولی، سفروسلاسل کے ساتھی اور کئی دعوتی کتابوں کی تیاری میں شریک مؤلف علامہ یوسف القرضاوی اتفاق سے اس وقت مصر ہی میں تھے۔ انھوں نے جگری دوست کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ اخوان کی پوری قیادت نمازِ جنازہ میں شریک تھی۔ رہے دعا کرنے والے اور ان کے جنتی ہونے پر یقین رکھنے والے، تو وہ لاکھوں کی تعداد میں اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر احمد العسَّال سے آخری ملاقات چند ماہ قبل ترکی کے شہر استنبول میں ہوئی تھی۔ وہاں علامہ یوسف القرضاوی صاحب کے قائم کردہ عالمی اتحاد العلما کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا اجلاس تھا۔ دنیابھر سے آئے ۴۵ منتخب ارکان کی مجلس میں، حُسنِ اتفاق سے میری نشست ڈاکٹر احمد العسَّال کے پہلو میں تھی۔ دورانِ اجلاس جب بھی موقع ملتا یا کوئی وقفہ ہوتا، عسال مرحوم پاکستان کے بارے میں کوئی نہ کوئی استفسار کرتے۔ ایک ایک ساتھی،ایک ایک سیاسی جماعت، دینی ادارے اور افراد و شخصیات کے بارے میں پوچھتے اور پاکستان کی صورت حال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے رہے۔ اجلاس کے اختتام پر پھر الگ سے ایک تفصیلی نشست کی اور اخوان، جماعت کے علاوہ پاکستان، افغانستان اور کشمیر کی صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ بار بار یہ بھی کہا: پاکستان میں گزرنے والا عرصہ میری زندگی کا بہترین عرصہ ہے۔ پاکستان عالمِ اسلام کا اثاثہ ہے، اس اثاثے کی حفاظت  ہم سب کی مشترک ذمہ داری ہے___!

ہر طرف ہا ہا کار مچ گئی ہے___ صہیونی ریاست کے دشمن ہی نہیں، اس کے دوست بھی دہائیاں دینے لگے ہیں کہ صہیونی ریاست کو باقی رکھنا ناممکن ہوگیا ہے۔ سرزمین فلسطین سے اس کے اصل باشندوں کو دنیا بھر کی خا ک چھاننے پر مجبور کردینے، لاکھوں انسانوں کو تنگ و تاریک اور متعفن مہاجر کیمپوں میں محبوس کردینے اور لاکھوں کو غزہ و مغربی کنارے میں محصور کردینے کے بعد، وہاں قائم کی جانے والی نام نہاد ریاست کیا واقعی اپنے خاتمے کے سفر کا آغاز کرچکی ہے؟

یہ تو ابھی کل کی بات ہے کہ اپنے تئیں کچھ ’دُور اندیش‘ مسلمان حکمرانوں میں دوڑ لگی ہوئی تھی۔ ہر کوئی اس ناجائز ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے دلیلیں گھڑ رہا تھا۔ پاکستان میں امریکی جنگ کے پشتی بان جنرل پرویز مشرف بھی اپنے وزیر خارجہ کو اس اُمید سے خلافت عثمانیہ کے آخری مرکز بھیج رہے تھے کہ صہیونی استعمار کا دل جیت سکے۔ کئی پاکستانی جبہ پوش بھی بیت المقدس کی زیارت کے بہانے چوری چھپے جاکر وہاں عملاً اسرائیلی قبضہ تسلیم کرنے کا اعلان کررہے تھے۔ بہت سے  نام نہاد دانش ور اپنے دانش گریز ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے، اسرائیل سے دوستی کو امریکی اعتماد حاصل کرنے اور بھارت کے مقابلے میں زیادہ امریکی امداد حاصل کرنے کا آسان راستہ بتارہے تھے۔ صہیونی قلم کار اور پالیسی ساز دنیا بھر کو ان کی حیثیت کے طعنے دے رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا ’’پاکستان سمیت سب مسلمان ممالک ہم سے اس لیے دوستی چاہتے ہیں کہ امریکا جانے کے لیے ہم ٹکٹ گھر کی حیثیت رکھتے ہیں‘‘۔ مصر اور اُردن جیسے پڑوسی ممالک اپنے عوام کے منہ سے نوالے چھین کر ناجائز صہیونی انتظامیہ کی ناز برداریاں کررہے تھے۔ ان دونوں ملکوں نے اس سے ایسے معاہدے کررکھے ہیں، جن سے خود ان کی اپنی کپڑے کی صنعت تباہ ہورہی ہے۔ مصر اب بھی اسرائیل کو اپنے عوام کی نسبت ۹۰ فی صد کم قیمت پر قدرتی گیس فراہم کررہا ہے۔ غزہ میں تو اور بھی ناقابلِ یقین صورت حال سامنے آتی ہے۔ تین اطراف سے سفاک صہیونی دشمن نے ایک مدت سے ۱۵لاکھ انسانوں کو محصور کر رکھا ہے۔ مسلمان، عرب اور پڑوسی ہونے کے باوجود مصر نے چوتھی طرف سے اس سے بھی کڑا محاصرہ کر رکھا ہے۔ تھوڑا بہت غذائی سامان یا ادویات لے جانے کے لیے کھودی جانے والی سرنگوں کو بند کرنے کے لیے ’غزہ مصر سرحد‘ کے درمیان ۹۰فٹ گہری زیر زمین فولادی دیوار کی تفصیل آپ انھی صفحات پر ملاحظہ کرچکے ہیں۔ غزہ پر مسلط کی جانے والی مہلک ترین صہیونی جنگ کے دوران میں اسے ملنے والی مصری پشت پناہی اور فلسطینی زخمیوں تک کو بھی مصر آنے نہ دینے کی داستانیں بھی دل دہلا دینے والی ہیں۔ لیکن یہ کیسا مسلمان، کیسا عرب اور کیسا ہمسایہ ملک ہے کہ ادھر اسرائیل، غزہ جانے والے قافلہء حریت پر ہلہ بول رہا تھا، اور دوسری طرف مصری انتظامیہ غزہ اور مصر کے مابین بچی کھچی سرنگوں میں زہریلی گیسیں چھوڑ کر امدادی سامان لے جانے والے کارکنان کو شہید کررہی تھی۔

غزہ میں طبی امداد مہیا کرنے کے منتظم ادھم ابو سلمہ کے بقول اب تک ۴۰ فلسطینی شہری مصر کی ان زہریلی گیسوں سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ان کے بقول مجموعی طور پر ان سرنگوں میں اب تک ۲۴۵ افراد شہید ہوچکے ہیں۔ دیگر افراد کو ان سرنگوں پر گولہ باری کرکے یا بلڈوزروں سے سرنگیں ڈھا کر شہید کیا گیا ہے۔ سیکڑوں کی تعداد میں شہید ہوجانے کے باوجود، فلسطینی نوجوان آخر کیوں سرنگیں کھودنے اور ان میں کود جانے پر اصرار کر رہے ہیں؟ دنیا اس سوال کا جواب بخوبی جانتی ہے۔ لیکن اسرائیل کی ناز برداریوں میں مدہوش مصری حکومت کو ان سوالات کی کوئی پروا نہیں ہوگی، لیکن خود اسرائیل کے اندر سے اُٹھنے والی آواز بہت سے افراد اور حکومتوں کا نشہ ہرن کردینے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ آیئے، ایک نظر صرف گذشتہ دو روز کے اسرائیلی اخبارات پر ڈالتے ہیں۔

’نیتن یاہو کے کھیل‘ کے عنوان سے معروف یہودی تجزیہ نگار عکیفادار نے لکھا ہے:  ’’جس بچے نے بھی سائیکل چلانے کا تجربہ کیا ہے وہ جانتا ہے کہ اگر پیڈل چلانا بند کر دیا جائے تو سائیکل سوار بالآخر گر جاتا ہے۔ اگر اسرائیلی حکمران نے فلسطینیوں کے ساتھ دو متوازی ریاستوں کی تشکیل کے لیے مذاکرات بند کردیے تو وہ اپنے پوتوں کا نہیں اپنے بیٹوں کا مستقبل بھی تاریک کر دے گا‘‘۔ (ھآرٹز، ۲۱جون ۲۰۱۰ئ)

’ترکی فلم کے مطابق زندگی‘ کے عنوان سے روزنامہ یدیعوت احرونوت اپنے اداریے میں لکھتا ہے: ’’ہم جنگ کے عروج پر ہیں اور ہم یہ جنگ ہار رہے ہیں، اس لیے نہیں کہ ہم کمزور ہیں، احمق ہیں یا غیرمنصف ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہم عقلی اور تنظیمی اعتبار سے خود کو کھیل کے نئے ضابطوں کے مطابق نہیں ڈھال سکے… جن کتابوں میں اسرائیل کے خاتمے کی بات لکھی جاتی ہے ان میں تین اہم پہلو بیان کیے جاتے ہیں: ۱- اقتصادی جنگ جس میں اسرائیلی سامان کا بائیکاٹ، سیاحت کی ناکامی، اسرائیل کے دفاع اور امن و امان پر بیش بہا اخراجات شامل ہیں۔ ۲-سیاسی اور نفسیاتی جنگ، جس میں اسرائیل سے اس کا حق وجود چھین لیا جائے۔ حالیہ بحری قافلے اسی کا حصہ تھے، اور ۳-عسکری لحاظ سے اسرائیل کو کمزور و دیمک زدہ کرنا۔ ہمارے دشمن پہلے دونوں پہلوئوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا مقابلہ کرنے والے بھی انھی دو میدانوں سے ہونے چاہییں نہ کہ فوج اور اس کے ترجمان… ترکوں نے ہمارے لیے فلم کا منظرنامہ تیار کرکے پیش کیا ہے اور ہم نے ترک پروڈیوسر کی مرضی کے مطابق اس فلم میں اپنا کردار ادا کرڈالا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج پوری دنیا آنسو بہاتے ہوئے ہم سے اظہارِ نفرت کر رہی ہے‘‘۔ (یدیعوت، ۲۰جون ۲۰۱۰ئ)

روزنامہ ھآرٹز میں ’ایہود! صبح بخیر‘ کے عنوان سے بوئیل مارکوس لکھتا ہے: ’’اب ہم اس آخری حد کے انتہائی قریب آپہنچے ہیں، جہاں ہم پر کوئی اور فارمولا ٹھونسا جائے گا۔ لڑھکنیوں کے اس سفر سے نکلنے کا اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ (اپوزیشن) کادیما پارٹی کو بھی ساتھ ملائیں، دو الگ الگ ریاستوں (اسرائیل اور فلسطین) پر مشتمل حل پر عمل کریں اور سارے کوڑھ اور    برص زدہ لوگوں کو اپنی پشت سے اُتار پھینکیں‘‘۔ (۲۰ جون ۲۰۱۰ئ)

’مزید بحری قافلے‘ کے عنوان سے سمڈار بیری لکھتا ہے: ’’گذشتہ مرحلے میں بلاشبہہ حماس کامیاب رہی ہے، ساری دنیا ہمیں مطعون کررہی ہے۔ سفینے کے بارے میں ہماری جاری کردہ وڈیو فلموں کو کسی نے قابلِ توجہ نہیں سمجھا، آخر اب ہماری بات کون سنے گا… آج صورت یہ ہے کہ خود روشن خیال دنیا بھی حماس سے مذاکرات کرنے پر اصرار کررہی ہے۔ مصر ہمارا حلیف ہے،وہ خود غزہ کے گرد مضبوط دیوار تعمیر کر رہا ہے، لیکن اب وہ بھی اسرائیل سے حصار ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے… دنیا میں کوئی طاقت ایسی نہیں ہے، جو تین سمندری بارودی سرنگوں (نئے آنے والے تین نئے بحری قافلوں) کے مقابلے میں کامیاب ہوجائے۔ اگر کسی کو پاگل پن کا دورہ پڑا ہوا ہے، تو اسے اپنے ان بھیانک خوابوں کے ساتھ ساتھ خطے میں ایک وسیع تر جنگ بھڑک اُٹھنے کے امکانات پر بھی غور کرلینا چاہیے‘‘۔(یدیعوت احرونوت، ۲۰ جون ۲۰۱۰ئ)

’اسرائیلی نیشنلسٹ کیا چاہتا ہے‘ کے عنوان سے جدعون لیوی ۲۱ جون کے روزنامہ میں لکھتا ہے: ’’اسرائیل یہ چاہتا ہے کہ دنیا ہم سے غیرمشروط اور غیرمحدود محبت کرے، ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ پوری دنیا کا مذاق اڑائے، عالمی اداروں، اس کے قوانین اور اس کے نظریات کے منہ پر حقارت سے تھوک دے۔ وہ ترکی سے فعال سیاحت کا معاہدہ چاہتا ہے، لیکن ترکی کی کسی بات پر کان بھی نہیں دھرنا چاہتا۔ وہ چاہتا ہے کہ غزہ پر سفید فاسفورس کے بم برسا کر دنیا سے کہے کہ  یہ تو خوش گوار سفید بارش ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ دنیا بھی اس کے ساتھ یہی گنگنانا شروع کردے‘‘۔

’قافلۂ حریت جیت گیا‘ کے عنوان سے الوف بُن نے لکھا ہے: ’’ترک وزیراعظم   رجب طیب اردگان اب اپنی کامیابی کا بڑا سا نشان بلند کرسکتا ہے۔ غزہ جانے والا ترکی کا قافلہ غزہ تو نہیں پہنچ سکا، لیکن اس نے اپنا ہدف حاصل کرلیا ہے۔اس نے حماسستان کے گرد کھڑی کی گئی اسرائیلی حصار کی دیواریں منہدم کردی ہیں… اب اسرائیل میں مزید قافلوں کا انتظار ہے۔ ان کا خیال ہے کہ حصار میں کچھ کمی کرکے، اسرائیل اپنے حق میں سفارتی کوششوں کا جواز حاصل کرے گا، لیکن اگر یہ خوش فہمی برمحل بھی ہو، تب بھی حکومت نے بہت کچھ کھو دیا ہے۔ نیتن یاہو نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ بہت بڑی سیاسی قیمت ادا کیے اور بہت بڑا دبائو آجانے کے بغیر وہ کوئی فیصلہ نہیں کرپاتا‘‘۔ (ھآرٹز، ۲۱جون ۲۰۱۰ئ)

’انھیں تحقیقاتی کمیٹی دے دو‘ کے عنوان سے ٹسیفی بارئیل نے تحریر کیا ہے: ’’جب غزہ پر حصار عائد کیا گیا اس وقت یہ لوگ کہاں تھے۔ اقوام متحدہ کے شان دار حقوق انسانی کے چارٹر پر دستخط کرنے والے یہ سب اُس وقت کہاں تھے، جب یہ حصار لوگوں کا دم گھونٹنے میں کامیاب ہوگیا؟ اسرائیلی بے وقوفیوں کا جائزہ لینے کے لیے بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی کا قیام زائد از ضرورت شغل ہے۔ یہ کام بھی کسی بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی کا نہیں کہ وہ ترک باشندوں کے قتلِ عام کی تحقیق کرے، یہ کام ترکی اور اسرائیل مل کر کرسکتے ہیں۔ بین الاقوامی کمیٹی کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ اسرائیل یہ تباہ کن پالیسی نافذ کرنے کے لیے پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کیسے کامیاب ہوگیا؟ یہ لوگ ۱۵لاکھ انسانوں کا گلا گھونٹنے کے لیے کیسے چل نکلے؟ (ھآرٹز، ۲۰جون ۲۰۱۰ئ)

یہ اور اس طرح کے لاتعداد کالم، مقالے اور اداریے دنیا بھر کی اخبارات میں شائع ہورہے ہیں، لیکن یہاں صرف اسرائیلی اخبارات سے چند اقتباسات دیے گئے ہیں، تاکہ اندازہ ہوسکے کہ خود اسرائیل کے اندر ماحول کیا اور کیسا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ یہ اخبارات بھی سانحہ گزر جانے کے تین ہفتے بعد کے ہیں۔ اس وقت دنیا میں خود یہودیوں کی ایک بڑی تعداد، اسرائیلی ریاست سے نجات حاصل کر کے اپنے یہودی بھائیوں کو بچانے کے لیے میدان میں آچکی ہے۔ ان یہودی علما، یہودی دانش وروں اور سیاسی رہنمائوں کے بقول اسرائیلی ریاست کا وجود بالآخر پوری یہودی آبادی کے خاتمے کا باعث بنے گا۔ ان کے بقول ان کی مذہبی کتب میں بھی واضح طور پر لکھا ہے کہ یہودیوں کی حتمی تباہی سے پہلے دنیا بھر کے یہودیوں کو ایک جگہ جمع کر دیا جائے گا، اسرائیل اس انتباہ کی عملی تصویر ہے۔

دوسرے درجے میں اسرائیل کی مخالفت وہ یہودی کر رہے ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی ریاست کی پالیسیاں صرف اس کے ہی نہیں، دنیا میں تمام یہودیوں کے خلاف نفرت کے جذبات میں اضافہ کرتی ہیں۔ یورپ میں ’جے کال‘ (J Call)نامی نوتشکیل یہودی تنظیم نے ’عقل کی پکار‘ کے عنوان سے اپنا بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں یورپی یونین کے سیاست دانوں، ارکانِ پارلیمنٹ اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل پر اپنے دبائو میں اضافہ کرتے ہوئے اسے اپنی موجودہ پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کریں۔ دو معروف فرانسیسی دانش ور برنارڈ ہزی لیوی اور ایلن فنکل کرائوٹ اس نئی تنظیم کے روحِ رواں ہیں، اور معروف سیاست دان ڈینیل کون بنڈیٹ اور جرمنی میں سابق اسرائیلی سفیر آفی پریمور ان کے شانہ بشانہ ہیں۔

کئی بار اسرائیلی پارلیمنٹ کا اسپیکر رہنے والا اور ایک بڑے یہودی رِبی کا بیٹا ابرہام پورگ اپنی کتاب ہٹلر کے خلاف کامیابی میں لکھتا ہے: ’’صہیونی خواب کا خاتمہ ہمارے دروازوں کی دہلیز سے آن لگا ہے۔ اب خدشہ حقیقت میں ڈھل رہا ہے کہ ہماری نسل آخری صہیونی نسل ہوگی‘‘۔ پورگ کے بقول: ’’اسرائیل کے موجودہ حالات جرمنی میں ہٹلر کی آمد کے وقت کے حالات سے مشابہ ہوچکے ہیں، امپریلزم اور فتنہ و فساد کا اتحاد ریاست پر مسلط ہے‘‘۔

یہاں پر امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی وہ رپورٹ بھی ذہن میں رکھنا ہوگی، جس میں خدشہ و امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ۲۰۲۰ء کے بعد دنیا میں اسرائیل نام کی کوئی ریاست نہ رہے گی۔ یہ بات شہید شیخ احمد یاسین کی روح نہیں، خود سی آئی اے کہہ رہی ہے۔ شیخ شہید تو آج سے کئی برس پہلے فرما چکے کہ اکیسویں صدی کی پہلی چوتھائی میں صہیونی ریاست کی تجہیزو تکفین مکمل ہوجائے گی۔

اس طرح کے درجنوں یا سیکڑوں نہیں ہزاروں تجزیے اور تحریریں دنیا کو ایک نئے دور اور نئے عالمی نقشے کی خبر دے رہی ہیں۔ فی الحال موجودہ دور یقینا امریکی تسلط اور اس کی سرپرستی میں اسرائیلی جبروت کا دور دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیل نے اسی غرور کا شکارہوکر ۴۰ کے قریب ممالک اور ان کے سیکڑوں اہم افراد کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہ دی۔ بین الاقوامی پانیوں میں کھڑے بحری جہاز پر حملہ کرتے ہوئے اس کی متکبر سیاسی و عسکری قیادت کو کوئی تردّد یا خدشہ لاحق نہ ہوا۔ ۱۰ترک باشندوں کو اس طور شہید کیا گیا کہ ان میں سے اکثریت کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے اور ان کے سر کے پچھلے حصے میں، قریب سے گولیاں چلائی گئی تھیں۔ جرم کیا تھا؟ صرف یہ کہ یہ ہماری عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوتے موت کے کنارے کھڑے ۱۵ لاکھ فلسطینیوں تک دوا اور غذا پہنچانا چاہتے ہیں۔ اسرائیل اس زعم کا شکار تھا کہ ساری دنیا خوف زدہ بھیڑوں کی طرح اس کے سامنے ممیانے لگے گی اور آیندہ اس بھیڑیے کی سلطنت میں قدم نہ رکھنے کی قسمیں کھانے لگے گی، لیکن یہاں تو منظر ہی دوسرا ہے۔

ترکی میں ایک احتجاجی مظاہرے کا حال لکھتے ہوئے ایک عرب صحافی نے بیان کیا ہے: مجھے کسی سے اسرائیلی سفارت خانے کا پتا معلوم کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ سارے پُرجوش قافلے ادھر ہی جارہے تھے۔ گائون، اسکارف، ہلکی داڑھیوں اور صوفیوں جیسے ڈھیلے ڈھالے لباسوں میں ملبوس لوگ تو تھے ہی، میرے سامنے جو نوجوان نعرے لگوا رہا تھا، اس نے گھٹنوں سے پھٹی ہوئی جینز پتلون، پیٹ تک کھلے بٹنوں والی شرٹ اور کانوں میں بالیاں پہنی ہوئی تھیں۔ اس نے اپنے بالوں پر سپرے کر کے کسی نوک دار جھاڑی کی طرح انھیں سر پر کھڑا کیا ہوا تھا اور گلے میں بڑے سے لاکٹ پر دوست کا نام لکھا ہوا تھا۔ پورا مجمع اسی کی جانب متوجہ تھا، کیونکہ اس حلیے کے ساتھ وہ پوری قوت سے نعرے لگوا رہا تھا…’’ تکبیر اور پورا مجمع جواب دے رہا تھا: اللہ اکبر۔ اسلام و سیکولرزم، صوفی و مجاہد سب یک آواز تھے: اسرائیل مُردہ باد!‘‘

ترک حکومت نے اس پورے مسئلے کو جس طرح اپنی آیندہ پالیسیوں کا آئینہ دار بنایا ہے، اس نے عالمی سیاست کو ایک نیا رُخ دے دیا ہے۔ ترک وزیرخارجہ کے الفاظ میں یہ واقعہ ترکی کے لیے نائن الیون کی حیثیت رکھتا ہے۔ ترک صدر اور وزیراعظم پورے عالمِ اسلام کے ہیرو اور اُمیدوں کا مرکز بن گئے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر سے کئی نئے قافلے غزہ جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ تین قافلے تو لبنان ہی سے جا رہے ہیں۔ جولیا، کنواری مریم اور ناجی العلی کے ناموں سے موسوم ان قافلوں میں سے ایک صرف خواتین کے لیے مخصوص ہے۔ حضرت مریم سے منسوب سفینہ تمام مذاہب کے نمایندوں پر مشتمل ہے اور معروف فلسطینی کارٹونسٹ ناجی العلی شہید کے نام سے تیسرے سفینے میں دیگر افراد کے ساتھ مختلف فن کار بھی شامل ہیں۔ علامہ یوسف قرضاوی کی طرف سے علما کا ایک قافلہ لے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایک قافلہ ۱۵ سے ۱۸ سال کے بچوں کا تیار ہورہا ہے۔ اسلامی ارکانِ پارلیمنٹ کا عالمی اتحاد ایک قافلہ تیار کر رہا ہے، جس میں پاکستان     سے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کی سربراہی میں بھی وفد شریک ہو رہا ہے۔  تین قافلے یورپی ممالک سے آرہے ہیں۔ ایران اور الجزائر سے قافلے تیاریاں کر رہے ہیں۔ رمضان المبارک کے دوران ’غزہ میں افطار‘ کے عنوان سے کئی نام… غرض ایک طویل فہرست ہے۔ سب کو گذشتہ قافلے میں جان قربان کردینے والوں کا حال معلوم ہے، لیکن جوش و جذبہ مزید توانا و جوان ہوگیا ہے۔

جوان ہی نہیں بوڑھے، مرد ہی نہیں خواتین، مسلمان ہی نہیں مسیحی و یہودی، سب اسرائیل کے مظالم پر سراپا احتجاج ہیں۔ گذشتہ ۵۰ سال سے امریکی وائٹ ہائوس میں صحافتی ذمہ داریاں   ادا کرنے والی ۸۰سالہ باوقار خاتون ہیلن تھامس جس نے جان ایف کینیڈی سمیت ۱۰سابق امریکی صدور کے ساتھ صحافتی فرائض انجام دیے ہیں، اور وائٹ ہائوس ہی کے نہیں دنیا کے صحافیوں کے لیے ایک مثالی کردار رکھتی ہیں، سے رابی لایف نامی یہودی ویب سائٹ کے نمایندے نے آہستگی سے پوچھا: قافلۂ حریت…؟ ہیلن کے جواب نے سب کو ششدر کر دیا: ’’ان سے کہو فلسطین سے نکل جائیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان لوگوں نے فلسطین پر قبضہ جما رکھا ہے۔  فلسطین ان کا گھر نہیں ہے۔ انھیںبولونیا،امریکا، جرمنی اور دوسرے ملکوں میں اپنے گھروں کو لوٹ جانا چاہیے‘‘۔وائٹ ہائوس پر غالب یہودی لابی ہیلن کو اس کی ۵۰سالہ خدمات خاطر میں نہ   لاتے ہوئے وہاں سے نکلوانے میں کامیاب ہوگئی ہے، لیکن اس شائستہ و معمر ۸۰ سالہ خاتون کے وقار و مقام میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اہلِ غزہ کو ایک نہیں کروڑوں توانا آوازیں نصیب ہوگئی ہیں۔

۳۵کلومیٹر لمبی اور سات سے ۱۴ کلومیٹر چوڑی غزہ کی پٹی میںگھرے ۱۵ لاکھ عوام کی آزمایشیں ختم ہونے کا وقت یقینا قریب آن لگا ہے۔ غیور ترک بھائیوں کے خون سے سرخ ان کا قومی پرچم اعلان کر رہا ہے: ’’دنیا والو! لوہا مکمل طور پر گرم ہے اور آخری ضرب کا منتظر۔ یقین رکھو ایک قدم اٹھائو گے ربِ کائنات دس قدم تمھاری طرف آئے گا۔ تم چلنا شروع کرو گے اس کی رحمت و نصرت دوڑ کر تمھیں اپنے سایے میں ڈھانپ لے گی‘‘  ع

منزل کے لیے دوگام چلوں اور سامنے منزل آجائے

حضرت زیاد بن لبیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ اس وقت ہوگا جب علم اٹھ جائے گا۔ میں نے عرض کی: یارسولؐ اللہ! علم کیسے اٹھ جائے گا، جب کہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھاتے ہیں اور ہماری اولاد اپنی اولاد کو پڑھائے گی اور اس طرح یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھاری ماں تمھیں روئے، میں تو تمھیں مدینہ کا سمجھ دار ترین شخص سمجھتا تھا۔ کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات و انجیل نہیں پڑھتے، لیکن اس میں جو (احکامات) ہیں ان پر عمل نہیں کرتے۔ (ابن ماجہ حدیث ۴۰۴۸)

سید ابو الاعلی مودودیؒ کے الفاظ میں قرآن کریم شاہ کلید ہے جو مسائل حیات کا ہر قفل کھول دیتی ہے۔ لیکن اگر اس کتابِ حیات اور شاہ کلید کا مقصد صرف طاقوں پر سجانا اور دھو دھو کر پلانا ہی سمجھ لیا جائے، اس نسخۂ کیمیا کو صرف آواز و انداز کے حُسن اور سانس کی طوالت آزمانے کا ذریعہ سمجھ لیا جائے، تو یقینا کائنات کی عظیم ترین نعمت پاس ہوتے ہوئے بھی، بندہ علمِ حقیقی سے محروم ہوجاتا ہے۔

صحابۂ کرام کو اسی لیے حیرت ہوئی کہ یارسولؐ اللہ! کتابِ الٰہی ہمارے درمیان ہوگی اور پھر بھی علم نہ رہے گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت و تنبیہ سے عربوں کا معروف جملہ دہراتے ہوئے فرمایا: اپنی کتاب پڑھنے کا دعویٰ تو یہودی اور عیسائی بھی کرتے ہیں لیکن پھر بھی مغضوب علیہم اور ضالین ہوگئے۔

o

حضرت ابو موسی الاشعریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم و ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی مثال (بابرکت) بارش کی طرح ہے۔ کچھ زمین ایسی زرخیز ہوتی ہے کہ اس بارش سے خوب سرسبز و شاداب ہوکر لہلہا اٹھتی ہے۔ کچھ زمین ایسی پتھریلی ہوتی ہے کہ اس سے وہاں کوئی فصل و شادابی تو نہیں ہوتی، البتہ وہ پانی کو محفوظ کرلیتی ہے۔ (خود تو محروم رہتی ہے) لیکن لوگ اس سے خود بھی سیراب ہوتے ہیں اور اپنی فصلوں اور مال مویشی کو بھی سیراب کرلیتے ہیں۔ لیکن کچھ زمین ایسی صحرائی ہوتی ہے کہ نہ تو خود لہلہاتی ہے اور نہ پانی ہی محفوظ کرتی ہے۔ یہی مثال انسانوں کی ہے کہ کچھ نے اللہ کے دین کو سمجھ لیا اور اللہ نے میرے ذریعے بھیجی جانے والی ہدایت کو ان کے لیے فائدہ بخش بنادیا۔ کچھ نے اس کو خودبھی اسے سیکھا اور دوسروں کو بھی سکھایا، اور کچھ نے اس کی جانب سر اٹھا کر بھی نہ دیکھا، اللہ نے جو ہدایت میرے ذریعے عطاکی ہے اسے قبول نہ کیا۔ (بخاری، حدیث ۷۹)

خیر و برکت کی موسلادھا ر بارش تو باغات، فصلوں، میدانوں، صحراؤں اور چٹانوں پر، ہر جگہ ہوتی ہے لیکن نصیب اپنے اپنے ہیں۔ معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم مثال دے کر سمجھا رہے ہیں کہ گھر آئی نعمت سے خود بھی جھولیاں بھر لو اور دوسروں کے نصیب بھی جگا دو۔

o

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی بندہ بیمار پڑ جائے یا سفر میں ہو تو بھی    اس کے اُن نیک اعمال کا اجر جاری رہتا ہے جو وہ (صحت مندی اور حضر میں) کیا کرتا تھا ۔ (بخاری، حدیث ۲۹۹۶)

اللہ کے اجر و احسان کے پیمانے ہی مختلف ہیں۔ بندہ اپنے مہربان خالق کی عطائوں کا تصور تک نہیں کرسکتا۔ بندہ نیکیوں اور حسن عمل کا خوگر بن جائے، نیت خالص رکھے، تو خدانخواستہ کسی معذوری کی صورت میں بھی ان نیکیوں کا اجرجاری رہتا ہے۔ گویا صحت، عافیت اور راحت کے لمحات میں بندے کی نیکیاں دگنی اہمیت رکھتی ہیں۔ نہ صرف اس لمحۂ موجود میں کامیاب کرتی ہیں بلکہ انھی کی بنیاد پر ہنگامی حالات میں بھی نیکیوں کے کھاتے جاری رہتے ہیں۔

o

حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزِ محشر ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون اٹھائے جاؤ گے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کی: یارسولؐ اللہ! مرد و عورت  سب اکٹھے…؟ سب ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا: صورت حال اتنی شدید ہوگی کہ اس جانب تو کسی کا دھیان تک نہ جائے گا۔ (بخاری، حدیث ۶۵۲۷)

قرآن و حدیث میں مذکور روز محشر کی تمام ہولناکیاں ذہن میں رکھتے ہوئے پھر اس حدیث کا مطالعہ کریں تو اصل بات سمجھ میں آتی ہے۔

انسان بالکل اس حالت میں اٹھائے جائیں گے کہ جس میں پہلی بار پیدا کیے گئے۔ مال و متاع، رشتے ناتے، القاب و عہدے، سب دنیا ہی میں رہ جائیں گے۔ صرف اور صرف بندے کے اعمال ساتھ دیں گے۔ ایک اور حدیث کے مطابق ساری خلقت اپنے اپنے اعمال کے مطابق، پسینے میں ڈوبی ہوگی۔ کچھ ٹخنوں تک اور کچھ لوگوں کا پسینہ ان کے ناک تک پہنچ کر لگام کی صورت میں ان کے منہ میں جارہا ہوگا۔

حیرانی و پریشانی سے پوچھا گیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال دیکھیں اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جامعیت پر مبنی جواب۔ اس قدر ہولناک صورت حال میں بھلا کس کا دھیان اس جانب جائے گا کہ سب مرد و زن عریاں ہیں۔ سب کو اپنی نجات و آخرت کی فکر لگی ہوگی۔ مطلب یہ ہوا کہ دنیا میں بھی عریانی، فحاشی اور غلاظت و تباہی کا شکار وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو آخرت کی ہولناکیوں سے غافل یا  بے خبر ہوں۔

o

حضرت ابو مسعودؓ راوی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو گذشتہ انبیا ؑ کی جو باتیں عطا ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ: ’’اگر تم حیا نہیں کرتے تو جو چاہے کرتے پھرو‘‘۔(بخاری، حدیث ۶۱۲۰)

حیا انسان کا زیور ہی نہیں شیطان کے مقابلے کے لیے، اہم ترین ہتھیار بھی ہے۔ بندہ حیا کھودے تو اس نے سب کچھ کھودیا۔ گویا پھر وہ اللہ کے ذمے سے نکل گیا، پھر وہ جانوروں سے بدتر ہے جو چاہے کرتا پھرے۔

مختصر حدیث اسلامی تہذیب کا اہم ترین اصول ہے اور اس کا اطلاق کسی محدود اخلاقی دائرے پر نہیں، زندگی کے ہر شعبے پر ہوتا ہے۔ حیا نہ رہی تو ہرمعاملے میں حدود سے تجاوز ہوگا۔

o

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ اسے جسمانی عافیت نصیب ہو، وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ پُرامن ہو اور اس کے پاس اس روز کی خوراک ہو، تو گویا اسے ساری دنیا کی نعمتیں جمع کرکے دے دی گئیں۔ (ترمذی، حدیث ۲۳۴۶)

بندہ یہ تو محسوس ہی نہیں کرتا کہ عافیت سلامتی اور اپنوں کا ساتھ بھی کوئی نعمت ہے۔ کسی کے پاس صرف اس روز کے کھانے کا انتظام و گنجایش ہو تو لوگ اسے فقیروں میں بھی آخری درجہ دیتے ہیں۔ لیکن ارشاد نبویؐ ہے: سمجھو دنیا کی ساری نعمتیں جمع ہوگئیں۔ نعمت کا شکر ادا ہوجائے تو جو خالق آج دے رہا ہے، وہی کل بھی ضرور دے گا۔

اللہ تعالیٰ کسی دنیاوی نعمت کی نفی نہیں کرتا، نہ اس سے منع ہی کرتا ہے لیکن نعمتوں کا احساس و اہمیت،  دل و دماغ میں تازہ رہنا چاہیے تاکہ حقیقی شکر ادا ہوسکے اور دل اصل، یعنی آخرت کی کمائی سے     جڑا رہے۔

o

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کے (دوسری روایت میں ہے گندم کے) ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے۔ آپؐ نے ڈھیر میں ہاتھ ڈالا تو انگلیوں کو نمی محسوس ہوئی۔ آپؐ  نے اس کے مالک سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: یارسولؐ اللہ! اس پر بارش ہوگئی تھی۔آپؐ  نے فرمایا: ’’اس گیلی (گندم) کو اوپر کیوں نہ کردیا کہ لوگ اسے دیکھ سکتے۔جس نے دھوکا دیا وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘۔ (ترمذی، حدیث ۱۳۱۵)

واقعے کے آخر میں فرمائے گئے چند الفاظ انتہائی جامع، بنیادی اور ہلا دینے والے ہیں۔ دھوکا دہی اور جعل سازی جس نوعیت کی ہو، جس میدان میں ہو، امتی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق سے     محروم کردیتی ہے۔ ’’وہ مجھ سے نہیں‘‘ یعنی میرا اس سے کوئی تعلق نہیں‘‘--- العیاذ باللہ۔ تھوڑا سا دنیاوی مفاد اور ہمیشہ کا خسران۔ اے اللہ! ہم سب کو اس نقصان سے محفوظ رکھ!

اُردن، سعودی عرب اور فلسطین کے سنگم پر واقع تاریخی شہر عقبہ میں قدم رکھا تو مقامی وقت کے مطابق رات کے آٹھ اور پاکستان میں گیارہ بج رہے تھے۔ عقبہ اُردن کے دارالحکومت عمان سے تقریباً ۳۵۰ کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ جونہی شہر کی روشنیوں پر نگاہ پڑی تو نسبتاً راحت کا احساس ہوا کہ بالآخر منزلِ مقصود پر پہنچے۔ لیکن عمان سے ہمراہ آنے والے ساتھیوں نے حسرت بھری آواز میں کہا کہ یہ اُردن کا شہر عقبہ نہیں بلکہ مقبوضہ فلسطین، یعنی صہیونی ریاست اسرائیل کا شہر اِیلات ہے تو دل کو سخت صدمہ پہنچا۔ سوال کیا: کیا ہم عقبہ نہیں، اِیلات جا رہے ہیں؟ جواب دینے کے بجاے فلسطینی رفیق سفر نے اسٹیئرنگ گھمایا، دائیں جانب مڑتے ہی ذرا مختلف اور نسبتاً پرانی عمارتوں اور روشنیوں کا ایک اور علاقہ شروع ہوگیا اور کہا: ’’نہیں، یہ عقبہ ہے‘‘۔

رفیق سفر ڈاکٹر محمود برکات نے بتایا، عقبہ اور اِیلات اصل میں ایک ہی شہر تھا۔ تاریخ میں اس کا نام اَیلہ ملتا ہے۔ یہودیوں نے شہر کے آدھے اور بالائی حصے پر قبضہ کرکے اسے اپنا ایک سرحدی سیاحتی شہر بنا لیا ہے۔ پوچھا: اصل فلسطینی آبادی بھی ہوگی؟ ڈاکٹر محمود نے کہا: اب یہاں ایک بھی فلسطینی باقی نہیں رہنے دیا گیا، البتہ سیاح کثرت سے آتے ہیں۔

عقبہ میں تھوڑا سا آگے بڑھے تو بڑے بڑے بینر اور اشتہارات دکھائی دینے لگے: مـہرجان الـفتح الـعمری لـبیت الـمقدس، ’’حضرت عمرؓ کی فتح بیت المقدس کا جشن‘‘۔ پانچ سات منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد ہم عقبہ جاپہنچے۔ میدان کھچاکھچ بھرا تھا۔ منتظمین کے بقول اس شہر کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا اجتماع تھا۔ پورے ملک سے لوگ شریک تھے۔ یہ جشنِ فتح عین اس جگہ منایا جا رہا تھا جہاں خلیفۂ ثانی حضرت عمر بن الخطابؓ نے فتح پانے کے بعد بیت المقدس جاتے ہوئے رات کا پڑائو ڈالا تھا۔ یہ ۲مئی کادن تھا، اسی دن اسی جگہ اور اسی وقت پروگرام کے انعقاد نے شرکا میں خصوصی جوش و جذبہ پیدا کر دیا تھا۔

پروگرام کی دوسری نمایاں انفرادیت یہ تھی کہ فلسطین کے کنارے پر واقع اہم عرب ملک اور اس کے تاریخی شہر میں منعقد ہونے کے باوجود اس کا کوئی مقرر عرب نہیں تھا۔ اخوان المسلمون اُردن کے سربراہ ڈاکٹر ھمام سعید پوری قیادت کے ہمراہ موجود تھے لیکن انھوں نے بھی چند منٹ کے رسمی اور خیرمقدمی کلمات کے علاوہ کچھ نہ کہا۔ اس جشن فتح بیت المقدس کے صرف چار مقرر تھے اور چاروں عجمی۔ ملایشیا، ترکی، جنوبی افریقہ اور پاکستان سے ایک ایک مقرر کو بلایا گیا تھا، البتہ سعودی عرب سے معروف شاعر ڈاکٹر عبدالرحمن العشماوی آئے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر عشماوی کے ۲۵انقلابی شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ہمارا ان سے پہلا باقاعدہ تعارف سانحۂ بابری مسجد کے وقت ہوا تھا۔ انھوں نے اس موقع پر دہشت گرد ہندوئوں کی مذمت کرتے ہوئے شہید    بابری مسجد کا مرثیہ لکھا تھا، جو اَب ان کے دیوان میں شامل ہے۔

عمان ایئرپورٹ سے سیدھا عقبہ چلے آنے کے باوجود ہم چونکہ قدرے تاخیر سے پہنچے تھے، اس لیے پروگرام سے ترکی کے ذمہ دار خطاب کر رہے تھے۔ یہ وہی ترک رفاہی تنظیم ہے جس نے چند ماہ قبل غزہ جانے والے امدادی قافلۂ ’شہ رگِ حیات‘ کا اہتمام کیا تھا۔ چند ہی منٹ بعد  ان کا خطاب ختم ہوا اور راقم کو یہ کہہ کر تقریر کی دعوت دے دی گئی کہ یہ پورے برعظیم پاک و ہند کی نمایندگی کریں گے۔ سفر کی طوالت، ابھی چند لمحے پہلے مقبوضہ فلسطین کے یہودی شہر اِیلات کو دیکھنے کا صدمہ اور ایک پُرجوش جشن فتح… اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد شاملِ حال رہی۔ تقریر ختم کر کے   بیٹھا ہی تھا کہ کچھ دیر بعد اسٹیج سیکرٹری نے اپنا موبائل فون کان سے لگائے ہوئے اعلان کیا کہ ہمارا بالکل کوئی پروگرام نہیں تھا کہ کسی عرب مقرر کا خطاب ہو۔ لیکن جشن فتح کی پوری کارروائی براہِ راست کئی عرب  ٹی وی چینلوں پر دکھائی جارہی ہے۔ غزہ سے وہاں کے محصور فلسطینیوں کے قائد، فلسطین کے منتخب وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے خود فون کر کے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ بھی آپ کے ساتھ شریک ہونا چاہتے ہیں۔ مجمعے میں پھر ایک تلاطم برپا ہوگیا اور اسماعیل ھنیہ نے مختصر لیکن جامع خطاب کیا۔ انھوں نے بھی اس بات کو خاص طور پر سراہا کہ عرب مقررین کے بجاے عالمِ اسلام کے نمایندوں کو بلایا گیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ فلسطین کسی قومیت یا علاقے کا نہیں، پوری اُمت مسلمہ کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ اس پر قابض صہیونی ریاست کو تسلیم کرنا سنگین جرم اور خیانت ہے۔

پروگرام کے اختتام پر مہمانوں کو شہر کے ایک ریسٹورنٹ میں کھانے کے لیے لے جایا گیا۔ تقریباً ڈیڑھ سو افراد شریک تھے۔ کھانے کے بعد شرکا کے مابین مختصر گفتگو ہوئی۔ لوگ پاکستان کے حالات بھی جاننا چاہتے تھے۔ میں نے جب پرویز مشرف کے افلاطونی فلسفے ’سب سے پہلے پاکستان‘ پر بات کی تو سب شرکا خصوصی طور پر متوجہ اور متبسم ہوئے۔ اُردن میں نوجوان بادشاہ عبداللہ بن حسین کی قدآدم تصویریں لگی ہیں اور اکثر کے ساتھ یہ ’قولِ زریں‘ تحریر ہے: الاردن أولا ’سب سے پہلے اُردن‘۔ گویا پورے عالمِ اسلام کو ایک ہی تعویذ گھول گھول کر پلایا جارہا ہے۔

رات تقریباً ایک بجے (پاکستانی وقت کے مطابق صبح کے چار بجے) کمروں میں پہنچایا گیا اور ساتھ یہ حکم نامہ بھی کہ صبح فجر کی نماز کے فوراً بعد، یعنی پانچ بجے ہم نے دوبارہ سفر کا آغاز کرنا ہے اور آج کا دن بہت یادگار دن ہوگا۔ عین فجر کے بعد ہمارے میزبان اور اخوان کی مرکزی قیادت ہماری رہایش گاہ پر موجود تھی اور سفر کا آغاز ہوگیا۔ نکلتے ہوئے عقبہ شہر کی کچھ مزید جھلکیاں دیکھیں۔ جدھر سے گزرے دوسری جانب اسرائیلی آبادی منہ چڑا رہی تھی۔ اِیلات نسبتاً بلندی پر واقع ہے۔ چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں بھی ہیں، اس لیے عقبہ کے تقریباً ہر موڑ سے نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ اس صدمہ خیز منظر میں خیرواُمید کا یہ پہلو بار بار ذہن میں آیا اور اس کا اظہار بھی کیا کہ سرزمین فلسطین یہاں آنے اور رہنے والوں کو بار بار اور ہرلمحے یاد دلاتی ہے کہ میں تمھاری منتظر ہوں!

صہیونی قید میں گرفتار سرزمین اقصیٰ سے سرگوشیاں اور عہدوفا کی تجدید کرتے عقبہ سے روانہ ہوئے تو یہ ایک آرام دہ بس میں اجتماعی روانگی تھی۔ بتایا گیا کہ آج ہمیں تقریباً ۵۰۰ کلومیٹر کی مسافت طے کرنا ہے۔ اس میں ہم اُردن کے جنوب مغربی کونے سے چلیں گے اوردارالحکومت عمان سے گزرتے ہوئے شمال مغربی کنارے پہنچیں گے۔ عقبہ میں حضرت عمر بن خطابؓ کے ہاتھوں فتح بیت المقدس کی یاد تازہ ہوئی تھی۔ یہاں کے باسی بتا رہے تھے کہ اہلِ عقبہ نے ۱۶ہجری میں  حضرت عمر بن خطابؓ کی سفر بیت المقدس میں بھی معاونت کی تھی اور جب ۱۸ ہجری میں مدینہ منورہ میں شدید قحط پڑا تو ریاست اسلامی کے دیگر علاقوں کی طرح اہلِ عقبہ نے بھی امیرالمومنین کی اپیل پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔

ہمارا قافلہ کہیں توقف کیے بغیر چلتا رہا۔ ایک جگہ رُک کر نمازیں پڑھیں۔ ایک صاحب نے مشورہ دیا، سڑک کنارے فروخت ہونے والے تازہ کھیرے خرید لو اور اسی کو آج دوپہر کا کھانا شمار کرلو… موسم انتہائی خوش گوار، رفقاے سفر ایک سے بڑھ کر ایک اور گفتگو بے حد مفید تھی۔ سیکڑوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا کسی پر بھی گراں نہ گزرا۔

حضرت عمر فاروقؓ کا ذکر چلا تو ان کے سفر بیت المقدس کے بارے میں معلومات کا تبادلہ ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانے سے ہی حضرات خالد بن ولید، ابوعبیدہ بن الجراح، عمرو بن العاص، شرحبیل بن حسنہ، یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم جمیعا جیسے جلیل القدر صحابہ کرام رومیوں سے جہاد میں مصروفِ کار تھے۔ ایک سے ایک بڑا معرکہ اہلِ ایمان کی شان دار کامیابی پر منتج ہوا اور بالآخر ایلیا (بیت المقدس) کے دروازوں تک جا پہنچے اور اس کا محاصرہ کرلیا۔ جب اہلِ ایلیا کی ہرکوشش ناکام ہوگئی اور انھیں یقین ہوگیا کہ اب شکست یقینی ہے تو انھوں پیش کش کی کہ اگر تمھارا امیر خود آجائے تو ہم بیت المقدس کی چابیاں ان کے حوالے کرتے ہوئے شکست تسلیم کرلیںگے۔ حضرت عمرؓ کو اطلاع دی گئی تو مشاورت کے بعد وہ فلسطین کو روانہ ہوئے۔ مدینہ منورہ سے نکلتے ہوئے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو اپنا قائم مقام مقرر کرگئے۔ ۴۱راتوں کے سفر کے بعد بیت المقدس پہنچے۔ محصورین نے آکر معاہدہ کیا۔ حضرت عمر بن الخطابؓ نے معاہدے کی تحریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ وہ عہد ہے جس کی رُو سے اللہ کے بندے،امیرالمومنین عمرؓ نے اہلِ ایلیا کو امن کی ضمانت دی۔ اس نے ان کی جان، مال، عبادت گاہوں، کلیسائوں اور صلیبیوں کو امان دی۔ ان کے بیماروں، صحت مندوں اور تمام باشندوں کو امان دی۔ اس نے عہد کیا کہ نہ تو ان کے کلیسائوں میں کوئی دوسرا رہایش پذیر ہوگا، نہ انھیں ڈھایا جائے گا۔ ان میں سے ان کا کوئی سامان یا ان کی صلیبیں نہیں نکالی جائیں گی۔ ان کے اموال سے کچھ نہ لیا جائے گا، نہ انھیں ان کا دین بدلنے پر مجبورکیا جائے گا، نہ ان کے ساتھ بیت المقدس میں یہودیوں میں سے کسی کو آنے کی اجازت دی جائے گی۔ اہلِ ایلیا کو اس کے مقابل اسی طرح جزیہ ادا کرنا ہوگا۔

اسی طرح کی چند مزید عبارتوں سے معاہدے کا متن مکمل ہوا اور اس پر امیرالمومنین کے علاوہ ان کے سپہ سالاروں خالد بن ولید، عمرو بن العاص، عبدالرحمن بن عوف اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم کے دستخط ثبت ہوگئے۔ اس معاہدے کی عبارت کے ایک ایک لفظ میں مسلمانوں اور مسلمانوں سے دشمنی رکھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں اور سبق ہیں۔

عصر سے کچھ پہلے ہم ’ساکب‘ نامی ایک قصبے سے گزرے جس کے بعد کا راستہ نسبتاً تنگ اور چڑھائی کا تھا۔ گاڑیاں اور سواریاں بھی نہ ہونے کے برابر تھیں، البتہ کہیں کہیں بورڈ کے ذریعے رہنمائی کی گئی تھی۔ کچھ مشکل چڑھائیاں چڑھنے کے بعد ہم ایک بلنداور ہموار پہاڑ کے اُوپر تھے، جس کے ہر طرف، ڈھلوانوں کے دامن میں لہلہاتے کھیت تھے۔ پہاڑ کے کنارے پر پہنچے تو عجیب وغریب ناقابلِ بیان اور دل کی دنیا میں ہیجان پیدا کردینے والا منظر تھا۔ عقبہ میں فلسطین، اُردن اور سعودی عرب کی تکون کے بعد، اب ہم ایک اور تکون کے کنارے پر تھے۔ ہم جہاں کھڑے تھے۔ یہ اُردن کی سرحد کا آخری کنارا تھا۔ وادی میں بہنے والے دریاکے دوسرے کنارے پر صہیونیوں کے جابرانہ قبضے میں سسکتی سرزمین فلسطین تھی اور ہمارے دائیں ہاتھ شام کی سرزمین تھی۔ اس وادی اور میدان میں حضرت خالد بن ولید اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہما کی زیرقیادت تاریخ کا انوکھا معرکہ یرموک برپا ہوا تھا۔

ہمارے پروگرام کے نگران ڈاکٹر سعود ابومحفوظ نے پہلے سامنے پھیلی سرزمین فلسطین اور اس پر دُور تک تعمیرشدہ یہودی بستیوں پر نگاہ دوڑائی اور پھر وادیِ یرموک اور یہاں روپذیر ہونے والے واقعات بتانا شروع کیے۔ کہنے لگے: وہ سامنے ٹیلے پر خالد بن ولیدؓ کا خیمہ تھا۔ اس ٹیلے پر کھڑا ہونے سے پوری وادی نظروں میں رہتی ہے۔ مسلمان لشکر نے یہاں پڑائو ڈالا، ان کی تعداد ۳۸ہزار کے لگ بھگ تھی، جب کہ بعض صحیح روایات کے مطابق دشمن کی تعداد ۴ لاکھ تھی۔ لڑائی شروع ہوئی تو اس ٹیلے سے خالدؓ نے قیادت کی۔ مسلسل چھے روز تک وہ اسی ٹیلے پر رہے۔ مسلمان بڑی تعداد میں زخمی ہوگئے تھے۔ کچھ لوگوں نے راے دی کہ لشکر کو بچاکر یہاں سے نکل جانا چاہیے لیکن حضرت ابوسفیانؓ نے راے دی کہ اگر آج اس سرزمین سے نکل گئے تو پھر کبھی اِدھر واپس نہ آسکوگے۔ ساتویں روز پورے لشکر نے اپنی تمام قوت صَرف کر دی، ساتھ ہی ساتھ سب نے مزید دعائوں اور تلاوتِ قرآن کا اہتمام کیا۔ پورے لشکر سے تلاوت کی آواز آرہی تھی۔ اللہ کے حکم سے اہلِ ایمان غالب آئے اور اس شکست کے بعد پھر پورے خطے سے دشمن کا خاتمہ ہوگیا۔ بیت المقدس کی فتح کا اصل آغاز یہاں سے ہوچکا تھا۔

ڈاکٹر ابومحفوظ کہنے لگے کہ بیت المقدس اپنی تاریخ میں ۲۷بار فتح ہوا ہے۔ ان میں ۲۶مرتبہ اسی راستے سے فتح ہوا ہے۔ بتانے لگے وہ اُوپر جو پہاڑ نظر آ رہا ہے صلاح الدین ایوبی نے اس کے اُوپر اپنا قلعہ تعمیر کیا اور پھر اس پورے علاقے میں ایسے ۱۵ قلعے بنائے۔کہنے لگے: ان میں سے کئی قلعے دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں تعمیر کیے گئے۔ معرکۂ یرموک کے ساتھ ساتھ اب صلاح الدین ایوبی کا ذکر شروع ہوگیا تھا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے اس عظیم تاریخ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ پوری وادی یرموک یہاں سے کھلی کتاب کی طرح دکھائی دے رہی تھی۔ یہ بھی نظر آرہا تھا کہ ایک ہی مسلم ریاست کو کس طرح تین ٹکڑیوں میں فلسطین، شام اور اُردن میں تقسیم کر دیا گیا ہے لیکن اس اہم مقام پر جوایک لمبوترا پتھر نصب کیا گیا تھا، اس پر نقشے کے ذریعے جولان، جبل طور، طبریا جھیل اور دریاے یرموک واضح کیے گئے تھے۔

اس وادی کی بہت سی تفصیلات باقی تھیں بالخصوص طبریا جھیل کے اس پار ہرپہاڑ کے پیچھے کوئی نہ کوئی اہم فلسطینی شہر ہے اور سامنے دائیں ہاتھ جو پہاڑ ہے اس کے دامن میں بیت المقدس کی بہاریں پھر کسی صلاح الدین ایوبی اور خالد بن ولید کی منتظر ہیں!

حضرت معاذ بن جبلؓ ان معدودے چند صحابہ کرامؓ میں سے ہیں کہ جن سے رسول اکرمؐ نے خصوصی طور پر اظہارِ محبت کیا۔ آپؓ کی قبر بھی یہیں ہے اور اس پر حدیث کے یہ الفاظ درج ہیں: ’’معاذ مجھے آپؓ سے محبت ہے‘‘۔ محبوبِ نبیؐ معاذ بن جبلؓ کے ساتھ ہی ان کے صاحبزادے عبدالرحمن بن معاذؓ کی قبر ہے۔ یقینا آس پاس اور بھی کئی صحابہ کرامؓ کی قبریں ہوں گی۔ رات گئے واپس پہنچے۔واقعی ایک تاریخی دن کا اختتام ہوا۔ آج کے دن تین تاریخی فتوحات کی سرزمین دیکھنے کی سعادت ملی، فتح عُمری، معرکۂ یرموک اور معرکۂ حطین۔

اگلے روز بھی کئی اہم پروگرام اور ملاقاتیں تھیں۔ اخوان کے ہم خیال ایف ایم ریڈیو پر انٹرویو، دو اسلامی پروڈکشن سنٹرز کا دورہ، جب کہ اخوان المسلمون اُردن کے قائدین پاکستان اور افغانستان کے بارے میں جاننا چاہ رہا تھے۔ اگر وقت بچا توعصر کے بعد دنیا کا سب سے کڑوا اور سب سے انتہائی نشیب میں واقع سمندر بحرمُردار دیکھنا شامل تھا۔ سطح سمندر سے ۴۵۰فٹ گہرا، البحر المیت (Dead Sea) بھی عجیب و غریب روایات کا امین ہے۔ اسی علاقے میں   حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر اللہ کا عذاب ٹوٹا۔ کچھ روایات کے مطابق یہی سمندر وہ جگہ ہے کہ جہاں پہلی قوم بستی تھی۔ بدکاری میں تمام حدیں پھلانگ گئی تو آسمان تک لے جاکر اوندھے منہ زمین پر پٹخ دی گئی اور اُوپر سے پتھروں کی بارش کر دی گئی۔ افسوس کہ اس جاے عبادت کو تفریح و عیاشی کا اڈا بنایا جا رہا ہے۔ بحرمُردار تقریباً ۷۱کلومیٹر لمبا ہے۔ اس کا مشرقی کنارہ اُردن ہے اور سامنے دکھائی دینے والا مغربی کنارہ صہیونیوں کے زیرتسلط فلسطین، حکومت اُردن تقریباً پورے مشرقی کنارے پر بڑے بڑے ہوٹل اور تفریح گاہیں تعمیر کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا: یہاں اُردنی شہری تو زیادہ دکھائی نہیں دے رہے، نہ دارالحکومت سے صرف ۵۰ کلومیٹر کے فاصلے پر ہونے کے باوجود یہاں ٹریفک کا کوئی رش ہے تو یہ اتنے ہوٹل کیوں بنائے جارہے ہیں؟ رفیق سفر نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا: ان میں زیادہ تر غیرملکی لیکن بنیادی طور پر خود اسرائیلی شہری آکر ٹھیرتے ہیں۔ میری حیرت کو بھانپتے ہوئے مزید بتایا کہ یہودیوں کو مقبوضہ فلسطین سے اُردن آنے کے لیے کسی ویزے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ جب چاہیں بغیر پاسپورٹ کے یہاں آتے ہیں۔ ان تفریح گاہوں میں ان کی زیادہ تر مصروفیت جوے بازی اور دیگر محرمات کا ارتکاب ہے۔ انھیں یہ سہولت بھی حاصل ہے کہ اگر وہ اُردن کے دوسرے علاقوں میں جانا چاہیں تو اپنا تحفظ یقینی بنانے کے لیے  سرحد پر پہنچ کر اسرائیلی نمبرپلیٹ اُتاریں، اُردنی نمبرپلیٹ لگائیں اور سکون سے جہاں چاہیں، جائیں۔ ان کی تمام تر حفاظت کی ذمہ داری حکومت اُردن کے سر ہے۔

بحرمُردار اس لیے بھی مُردار کہلاتا ہے کہ اس میں نمکیات کا تناسب انتہائی زیادہ ہے۔ اتنا زیادہ کہ اس میں کوئی سمندری مخلوق بھی زندہ نہیں رہ سکتی۔ چکھنے پر اندازہ ہوا کہ کھاری پن کڑواہٹ کی حد تک پہنچا ہوا ہے۔ بحرمُردار کی سطح مزید اور مسلسل نیچے جارہی ہے جس کا اندازہ اس کے کنارے دیکھنے سے بھی ہوتا ہے۔ جگہ جگہ پانی کی سابقہ سطح کے نشان جمے ہوئے ہیں۔ نمکیات کی سطح اس قدر بڑھی ہونے اور بڑھتی چلے جانے کا ایک سبب یہ بھی ہے۔ یہ سمندر اس لیے بھی مُردار کہلاتا ہے کہ اس میں کوئی آبی دھارا آکر نہیں ملتا۔

یہاں قدرتِ خداوندی کا ایک معجزہ یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ سڑک کے ایک کنارے پر تقریباً تین منزلہ عمارت جتنا گہرا بحرمُردار ہے اور سڑک کے دوسرے کنارے چھوٹے بڑے پہاڑ۔    ان پہاڑوں سے جگہ جگہ چشمے پھوٹتے ہیں۔ رفیقِ سفر نے سڑک کنارے گاڑی کھڑی کی اور ہم  ایک مختصر سی آبشار کے پاس چلے گئے۔ پانی کو ہاتھ لگا کر دیکھا تو سخت گرم… اتنا گرم کہ زیادہ دیر ہاتھ اندر نہ رکھا جاسکے۔ ویسے وہ انتہائی شفاف اور میٹھا پانی ہے اور زمین کے اندر سے راستہ بناتا ہوا بحرمُردار میں جا ملتا ہے۔ خالق نے ہر چیز کو ایک مخصوص مقدار و حساب سے بنایا ہے کہ بحرمُردار کو متعینہ موت تک باقی بھی رکھنا ہے لیکن روز بروز کم بھی کرنا ہے۔

عشاء کے بعد وہاں سے واپس آرہے تھے اور رفیق سفر مختلف موڑوں پر رُکتا ہوا چلاجارہا تھا۔ ایک موڑ پر گاڑی رُکی اور سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر وہ دکھانے لگا: دیکھو! وہ دُور جو روشنیاں نظر آرہی ہیں وہ بیت المقدس کی ہیں۔ حیرت، خوشی اور صدمے کے ملے جلے جذبات نے پھر قلب و ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ رب ذوالجلال نے محبوب کو عرش پر بلایا تو مکہ مکرمہ سے سیدھا آسمان پر نہیں لے گیا بلکہ یہاں سے مسجداقصیٰ لے کر آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ اور آپؐ کی سجدہ گاہ یہودیوں کے نرغے میں ہے اور مسلم ممالک آزادی اقصیٰ کے بجاے اقصیٰ کی اسیری مستحکم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

فلسطین و اُردن کا ایک ایک کونہ اور ایک ایک پتھر اپنے اندر صدیوں کی آپ بیتی لیے ہوئے ہے، اسے مسلسل دہراتے رہنے کی ضرورت ہے۔ عمان ایئرپورٹ سے رخصت کرتے ہوئے میزبان نے بتایا کہ ہم نے مشاورت کے بعد آپ کی اس تجویز سے اتفاق کیا ہے کہ حضرت عمرؓ کے ہاتھوں بیت المقدس کی فتح کا جشن ہر سال منایا جائے اور دنیا بھر میں منایا جائے تاکہ اس کے اسباق و حقائق کے منظر کی تبدیلی کے عمل کو تیز تر کرسکیں۔

بھارت کے سرکاری ادارے ’قومی انسانی حقوق کمیشن‘ نے ایک استفسار کے جواب میں بتایا ہے کہ ملک میں اکتوبر ۱۹۹۳ء سے اب تک ۲ہزار ۵سو ۶۰ پولیس مقابلے ہوئے، ان میں سے    ایک ہزار۲ سو۲۴ مقابلے جعلی تھے۔ اترپردیش کے ریٹائرڈ آئی جی پولیس ایس آر دارپوری نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’اگر تمام معاملات کی جانچ کی جائے تو بمشکل ۵ فی صد مقابلے درست پائے جائیں گے بلکہ میرے خیال میں تو ۹۹ فی صد مقابلے فرضی اور جعلی ہوتے ہیں۔ میں نے ۳۲ سال کی ملازمت کے دوران صرف ایک اصلی پولیس مقابلے (encounter) کا سامنا کیا تھا‘‘ (سہ روزہ دعوت، دہلی، یکم اپریل ۲۰۱۰ئ)۔ اقتصادی ابحاث کے ایک بھارتی ادارے NCAER اور امریکی میری لینڈ یونی ورسٹی کے ایک مشترکہ سروے کے مطابق بھارت کی ایک چوتھائی سے زائد آبادی (۷ئ۲۵ فی صد) خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے۔ خطِ غربت کا معیار بھی ملاحظہ ہو۔ دیہی آبادی میں ماہانہ آمدنی ۳۵۵روپے سے کم اور شہری علاقے میں ۵۳۸ روپے ماہانہ سے کم۔ ۴۱ہزار خاندانوں میں کیے جانے والے اس سروے کے مطابق بھارت کی مسلم آبادی میں یہ تناسب اور بھی زیادہ ہے، یعنی ۳۱فی صد۔ ان اعداد و شمار کے مطابق بھارت کے بعض علاقوں میں غربت کا تناسب ناقابلِ یقین حد تک زیادہ ہے، مثلاًچھتیس گڑھ میں ۳ئ۶۳ فی صد، جھاڑکھنڈ میں ۴۹ فی صد، مدھیہ پردیش میں ۵ئ۴۵ فی صد اور اڑیسہ میں ۳ئ۴۱ فی صد۔

ایک جانب تو یہ تلخ حقائق ہیں اور دوسری طرف دنیا میں یہ تصویر اور تصور گہرا کیا جا رہا ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، مستقبل کی سوپرپاور ہے۔ ۲۰۵۰ء میں چار عالمی قوتیں چین، جاپان، بھارت اور برطانیہ عالمی پیداوار کا ۶۰ فی صد پیدا کر رہی ہوں گی۔ امریکا میں ہونے والی حالیہ توانائی کانفرنس میں وزیراعظم من موہن سنگھ نے بھی یہی لَے بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ عنقریب ہماری سالانہ ترقی کی شرح ۹ سے ۱۰ فی صد، بچت کی شرح ۳۵ فی صد اور سرمایہ کاری کا تناسب ۳۷ فی صد ہونے کو ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں اقتصادی ترقی کی شرح ۱۹۸۰ء سے ۲۰۰۰ء کے درمیان تقریباً ۶ فی صد، ۲۰۰۰ء کے بعد تقریباً ۶ئ۸ فی صد، ۲۰۰۷ء میں ۴ئ۹ فی صد، ۲۰۰۸ء میں ۸ئ۷ فی صد اور ۲۰۰۹ء میں ۷ئ۶ فی صد رہی ہے۔

تعمیر و ترقی اور امن و استحکام ہرقوم اور ملک کی بنیادی ضرورت ہی نہیں اس کا حق بھی ہے۔ ایک اہم اور بڑا پڑوسی ملک ہونے کی حیثیت سے ہم بھارت کے اس حق کو تسلیم کرتے ہیں۔     یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ امن و ترقی کے ثمرات کسی ایک خطے میں محدود نہیں رہ سکتے۔ کسی بھی انسان کا امن و استحکام (اگر وہ واقعی انسان ہو تو) یقینی طور پر اس کے پڑوسیوں کے لیے بھی مثبت اثرات رکھتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت بھی پوری دنیا کے سامنے رہنا چاہیے کہ دروغ گوئی پر قائم کیا جانے والا کوئی تاثر اور تصویر کا صرف ایک پہلو سامنے رکھ کر کیے جانے والے فیصلے اور پالیسیاں، کبھی کسی کو حقیقی کامیابی تک نہیں پہنچا سکتیں۔

بھارت یقینا وسیع و عریض رقبے اور (۲۰۰۹ء کے اندازوں کے مطابق) ۱۶ئ۱ ارب کی آبادی پر مشتمل ملک ہے۔ بھارت میں دستور کے مطابق انتخابی عمل بھی تسلسل سے جاری ہے اور وہ مارشل لا کے سایے سے محفوظ رہا ہے۔ اقتصادی ترقی کا سفر بھی بالخصوص ۱۹۹۱ء کے بعد تیز تر ہوا ہے۔ سردجنگ کے دوران روس اور سردجنگ کے بعد امریکا کے علاوہ باقی عالمی قوتیں بھی بھارت کی بھرپور سرپرستی اور مدد کر رہی ہیں۔ اسرائیلی تعاون تو روزِ اوّل سے جاری اور مسلسل روز افزوں ہے۔ روسی سرپرستی بھی ہنوز جاری ہے۔ گذشتہ مارچ میں دلی آنے والے روسی وزیراعظم پوٹین نے عسکری معاہدوں سمیت مجموعی طور پر ۱۰؍ ارب ڈالر کے مزید معاہدے کیے ہیں۔ کم اُجرت اور  پیشہ ورانہ صلاحیت رکھنے والی بھارتی افرادی قوت نے ایک دنیا کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔    (آئی ٹی) معلوماتی ٹکنالوجی کی ۵۰۰ بڑی عالمی کمپنیوں میں سے ۱۲۵ کمپنیوں نے اسی وجہ سے بھارت کو اپنی سرگرمیوں اور تحقیقات کا مستقل مرکز بنالیا ہے۔ ۷ ہزار ۵سو ۱۷ کلومیٹر طویل ساحل اور تیل سپلائی کے عالمی روٹ پر واقع ہونے اور امریکی و اسرائیلی منصوبہ بندی کے مطابق وسیع تر علاقائی دفاعی نظام میں بھی بھارت کو نمایاں طور پر شریک کیا جا رہا ہے۔ بھارتی ترقی اور خزانے میں ۳۰۰ ارب ڈالر سے زائد کے ذخائر کی حکایت بھی طویل ہوسکتی ہے، لیکن سادہ سا سوال یہ ہے کہ اگر بھارت میں ایسی ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں تو وہاں ساڑھے تین یا چار سو روپے ماہانہ آمدن رکھنے والے ۲۶کروڑ سے زائد افراد کو اس سے جینے کا سہارا کیوں نہیں مل رہا؟ درجن بھر سے زائد علیحدگی کی تحریکیں کیوں وجود رکھتی ہیں؟ جرائم کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۱۹۹۵ء اور ۲۰۰۷ء کے درمیان ایک لاکھ ۸۴ہزار بھارتی کسانوں نے بھوک اور غربت کے باعث خودکشی کرلی۔ ان میں ایک بڑی تعداد ان کسانوں کی تھی جنھوں نے زرعی آلات، ادویات اور ضروریات خریدنے کے لیے بنکوں سے قرض لیے ہوئے تھے جو سوددرسود جمع ہوجانے کے باعث خودہلاکتی ہی کے ذریعے ادا کیا جاسکتے تھے۔ ترقی و خوش حالی کا پیغام ان غریب کسانوں اور اب ان کے وارثوں تک کیوں نہ پہنچ سکا؟

ترقی کے لیے جس داخلی استحکام کی ضرورت ہے، اس میں بنیادی رکاوٹ اور دعواے ترقی سے متصادم ایک حقیقت خود ہندو طبقاتی عقیدہ و تقسیم بھی ہے۔ ۸۲ فی صد ہندو اکثریت میں سے، رام کے سر سے پیدا ہونے والے اعلیٰ براہمن طبقے کا تناسب صرف ۳فی صد ہے۔ ۴۳فی صد   بے چارے اچھوت تو اعلیٰ طبقات کے لیے مخصوص مندروں تک کو بھی آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھ سکتے۔ ہیں تو یہ بھی انسان ہی، لیکن دیہاتی علاقوں میں یہ اُونچی ذات والوں کے سامنے بیٹھنے کی جسارت بھی نہیں کرسکتے۔ ان کے لیے مخصوص کھانے پانی سے پیٹ کی آگ نہیں بجھاسکتے۔ روشن، چمکتے بھارت (Shining India) میں یقینا اس وقت ۱۰۰ سے زائد ایسی کمپنیاں ہیں جن کا سرمایہ  ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے، لیکن یہ ساری دولت و ثروت چندمخصوص طبقات اور علاقوںتک محدود ہے۔ ۲۰۰۷ء میں جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں دنیا کے ۱۷۸ ممالک کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس جائزے میں ملکی آبادی کو میسر ہونے والی مختلف بنیادی ضروریات، جیسے پینے کا پانی،  تعلیمِ بالغاں، تعلیمی ادارے، مجموعی قومی ترقی میں عام افراد کا حصہ وغیرہ جیسے سوالات شامل تھے۔ نتائج آئے توبھارت ۱۲۸ویں نمبر پر کھڑا منہ بسور رہا تھا۔

کسی بھی انسان کے لیے دیگر اقوام کی ترقی اور کامیابی تکلیف کا باعث نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح کسی کی غربت و تکالیف پر خوشی محسوس کرنا بھی انسانیت کی نفی اور توہین ہے، لیکن بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی دکان چمکانے کی کوشش بھی بعینہٖ اتنی ہی معیوب اور باعثِ ملامت و نفرت ہے۔ اس وقت دنیا بالخصوص عرب ممالک میں اسی طرح کا یک طرفہ بھارتی اور بھارت نواز پروپیگنڈا عروج پر ہے۔ کشمیر میں ۷ لاکھ مسلح افواج کے ذریعے لاکھوں افراد کو موت، تشدد یا قید کی نامعلوم وادیوں میں اُتار دینے والا بھارت ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کی خودساختہ کلغی سجائے، خود کو مستقبل کی اہم عالمی طاقت منوانے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔ کئی مسلم ملک اور مسلم شخصیات بھی اس فریب کا شکار ہوچکی ہیں۔ عرب بالخصوص خلیجی تجزیہ نگار اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کھلم کھلا اقرار و اظہار کر رہے ہیں کہ اب ہماری خارجہ پالیسی صرف اور صرف دوطرفہ مفادات کی بنیاد پر طے پارہی ہے۔ اب ہم بھارت کے ساتھ اپنے باہمی تعلقات کو پاکستان کے تناظر میں نہیں دیکھتے، اور نہ اب مجرد قومی خواہشات، کسی نظریاتی اعتبار یا دینی و نسلی شناخت کو اس راہ میں آڑے آنے دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں کشمیر کا ’ذکرِخیر‘ خصوصی طور پر کیا جاتا ہے کہ بالآخر عرب ممالک نے مسئلۂ کشمیر کو نظرانداز کردیا ہے۔ اس تبدیل شدہ عرب پالیسی کی دیگر وجوہات میں سے ایک اہم وجہ خود پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی بتائی جاتی ہے۔ پرویز مشرف کے اکتوبر ۲۰۰۴ء میں دیے گئے اس بیان کو خصوصی طور پر نمایاں کیا جاتا ہے کہ ’’مسئلۂ کشمیر کے حل کے لیے ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے پابند نہیں ہیں‘‘۔ نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور مجموعی طور پر جہادی تحریکوں کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈے کو تبدیلی کا ایک اور سبب بتایا جاتا ہے۔

بھارت کے ساتھ عالمِ عرب بالخصوص خلیجی ریاستوں کے تعلقات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بھارت کے ساتھ عرب ممالک کی تاریخ بیان کرتے ہوئے پوری تاریخِ اسلامی کے حوالے جمع کردیے جاتے ہیں۔ ۷۱۲ عیسوی میں محمد بن قاسم کی براستہ سندھ برعظیم پاک وہند میں آمد کے ساتھ ہی ساتھ، بھارتی ساحلی علاقے کیرالا میں مسلمان تاجروں کی آمد کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بعض عرب تاریخ نویس تو لکھتے ہیں کہ ’کیرالا‘ بنیادی طور پر عرب تاجروںکا دیا ہوا نام ’خیراللہ‘ تھا، جو بعد میں کیرالا بن گیا، لیکن عجیب امر یہ ہے کہ برعظیم کے ساتھ عالمِ عرب کے ان تمام تاریخی بندھنوں کو بالآخر آج کے بھارت سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ مفت مشورہ بھی دیا جاتا ہے کہ بھارت سے تعلقات کو پاکستان حتیٰ کہ بنگلہ دیش کے تناظر میں نہ دیکھا جائے۔ گویا کہ باہمی تعلقات میں مسلمان اور اسلام نام کی کوئی بنیاد باقی نہ رہنے دی جائے۔ اس حوالے سے سب سے مسموم پروپیگنڈا یہ کیا جاتا ہے کہ ’’مسلمانوں نے اپنی قوت کو تین حصوں میں تقسیم کرکے خود ہی کو کمزور کرلیا۔ مسلمان برطانوی سازش کا شکار ہوگئے‘‘۔ اکھنڈ بھارت کے اس نظریے کو بعض اسلام پسند طبقات کے مابین بھی اس شکر میں لپیٹ کر پھیلایا جاتا ہے کہ ’’مسلمانوں کے لیے راہِ نجات ہی یہ ہے کہ پھر سے یک جا ہو جائیں‘‘۔ ظاہر ہے کہ اس منطق میں پھر آزادیِ کشمیر کی کیا گنجایش رہ جاتی ہے۔

ہندو ذہنیت کی براہِ راست یا بالواسطہ ترجمانی کرتے ہوئے عالمِ عرب میں ایک اور منطق اسرائیل کے بارے میں بھی پیش کی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے یہ منطق بھی بعض مسلمان رہنمائوں کے ذریعے ہی پیش کی جارہی ہے۔ کبھی خود بھارتی ذمہ داران کو یہ خدشہ درپیش رہتا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات منظرعام پر نہ آپائیں وگرنہ عرب ممالک کی ناراضی مول لینا پڑے گی۔ اب اس خدشے کا دور لَدچکا۔ اب تو خود عرب ممالک اور اسرائیل مخالف عناصر کاایک گروہ بھی بھارت اسرائیل تعلقات کی ایک ایک تفصیل کامل جزئیات کے ساتھ بیان کرتا ہے اور پھر اس درست اور تلخ حقیقت سے یہ غلط اور مزید تلخ نتیجہ نکالتا ہے کہ ’’ہم عربوں نے بھارت کو اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اسرائیل کے شر سے بچنے کا اصل راستہ یہ ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط کریں۔ اب تو ویسے بھی وہ مستقبل کی بڑی طاقت ہے۔ اسے سیکورٹی کونسل میں مستقل ممبر بنوانا چاہیے۔ اسے مسلمان ممالک کی تنظیم اوآئی سی میں بھی مبصر کی حیثیت سے شامل کرلینا چاہیے‘‘۔

اس وقت صرف خلیجی ممالک میں بھارتی باشندوں کی تعداد ۵۰ لاکھ سے متجاوز ہے۔ ہرسال بیرونِ ملک مقیم ہندستانیوں کی طرف سے بھیجے جانے والے ۵ئ۴۳ ارب ڈالر میں سے ۱۸ارب ڈالر صرف یہی خلیج میں مقیم افراد بھیجتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کئی خلیجی ریاستوں میں ہندستانی افرادی قوت کی اکثریت مسلمان ہے۔ یہ پُرامن ہندستانی مسلمان بھارت کے ساتھ خلیجی ریاستوں کے تعلقات کی مضبوطی کی اہم بنیاد ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان کا مسلمان ہونا ان کے بارے میں منفی پروپیگنڈے کا سبب بنادیا جاتا ہے۔ ویسے تو بات صرف خلیج میں مقیم مسلمانوں کی نہیں ہے، اکثر بھارتی مسلمانوں کو الزامات کے اسی ترشول کی زد میں رکھا جاتا ہے۔ ’دہشت گرد‘، ’جاسوس‘، ’شدت پسند‘ اور نہ جانے کیا کیا القابات ان کے لیے مخصوص کردیے گئے ہیں، لیکن خلیج کے مخصوص حالات اور حساس نظامِ حکومت میں یہ الزامات بالکل ہی ناقابل فہم ہیں۔

بظاہر یہ ایک متضاد حقیقت ہے کہ ایک طرف مسلم ممالک سے تعلقات کی مضبوطی کا اہم ذریعہ، بھاری زرمبادلہ اور دوسری جانب الزامات کا تانتا؟ بدقسمتی سے بھارتی حکمرانوں، نمایاں مذہبی پیشوائوں اور دانش وروں کا ایک مؤثر طبقہ مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ تعصباتی تیشے کی یہی ضربیں لگانے کے لیے بے تاب رہتا ہے۔ انھوں نے بعض خلیجی تجزیہ نگاروں کے منہ میں بھی     یہ الفاظ دے دیے ہیں۔ ایک مثال ملاحظہ ہو: ’’اگرچہ بھارت کو جس دہشت گردی کا سامنا ہے، اسے عمومی طور پر پاکستان کے اندر سے امداد ملتی ہے لیکن بھارتی تحقیقاتی ایجنسیوں نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ ان شدت پسند دہشت گردوں کو خلیج میں مقیم بھارتی کمیونٹی سے تعاون ملتا ہے۔ انھیں وہاں اس نیٹ ورک میں شامل کیا جاتا ہے، ٹریننگ دی جاتی ہے اور پھر بھارت میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے‘‘۔ بھارت کی طرف سے مختلف خلیجی رفاہی اداروں کے بارے میں بھی اسی طرح کے شکوک پھیلائے جاتے ہیں اور خلیجی جامعات میں زیرتعلیم بھارتی طلبہ کے بارے میں بھی انھی شبہات کو ہوا دی جاتی ہے۔

شر میں سے خیر کی سبیل نکالنا الٰہی سنت ہے۔ اپنے ہی شہریوں کے بارے میں اس تشکیکی ذہنیت نے خلیج میں عمومی طور پر بھارتی مسلمانوں کے بارے میں اظہارِ ہمدردی پیدا کیا ہے۔ بھارت کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر تعلقات کی وکالت کرنے والے عرب دانش ور بھی    بھارتی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مسلم ممالک سے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے بھارت اپنے ہاں ہندو تعصب کا سدباب کرے۔ گجرات میں ۲ہزار مسلمانوں کی شہادت اور اس سے پہلے  بابری مسجد کی شہادت جیسے واقعات اور مسلمانوں کی عمومی پس ماندگی جیسے حقائق آج کے دور میں کسی سے مخفی نہیں رہ سکتے۔ اگرچہ فی الحال یہ کہنا دشوار ہے کہ بھارت عالمِ اسلام کی اس تشویش کے ازالے کے لیے کوئی عملی اقدام اُٹھا رہا ہے۔

بھارتی حکومت دانش وروں اور پالیسی سازوں کا ایک بہت بڑا طبقہ اپنی تمام تر مشکلات و مصائب کی ذمہ داری اپنے پڑوسی ممالک کے گلے ڈال دیتا ہے۔ ممبئی واقعات کے بعد سے مسلسل کیا جانے والا واویلا اس کا سب سے واضح ثبوت ہے۔ دلی کے ایک معروف تھنک ٹینک سے متعلق دانش ور براھما چیلانی ’’تبدیل شدہ دنیا میں بھارتی خارجہ پالیسی‘‘ کے عنوان سے الجزیرہ کے لیے لکھی گئی اپنی تحریر میں رقم طراز ہیں: اس سب کچھ (یعنی ترقی) کے باوجود بھارت کے جغرافیائی محل وقوع کا ایک انتہائی اہم عنصر، اس کے گرد تنی شورش زدہ کمان ہے۔ جیوپولیٹییکل تناظر میں یہ بھارت کا سب سے کمزور پہلو ہے۔ بھارت کا پڑوس مستقل طور پر اور انتہائی درجے کا فسادزدہ علاقہ ہے۔ بھارت کو ناکام اور استبدادی ممالک نے گھیرا ہوا ہے جو ایک یا پھر دوسرے راستے سے بھارت کے سیکولرزم، اس کی کثیرالقومی اور کثیرثقافتی شناخت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت کے گرد تنی یہ شورش زدہ کمان، لبنان سے پاکستان تک پھیلی ہوئی ہے اور علاقائی و عالمی امن پر گہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہے‘‘۔

یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ بھارت اپنے تمام پڑوسی ممالک سے شاکی ہے۔ ۱۲مبسوط صفحات پر پھیلے اسی سابق الذکر مقالے سے اپنے پڑوسیوں کے بارے میں چنیدہ حصے ملاحظہ کیجیے:’’بین الاقوامی سیاست اس نئی صورت حال کو ماننے پر آمادہ نہیں ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی سرحدیں معدوم ہوچکی ہیں۔ ڈیورنڈ لائن ویسے بھی برطانوی استعمار کی سازش اور ایک مصنوعی لائن تھی جس نے دونوں طرف کے پشتونوں کو تقسیم کر کے رکھ دیا تھا۔    آج اس سرحد کا وجود صرف نقشوں میں باقی ہے… افغانستان اور پاکستان کے درمیان واقع     یہ سرحدی علاقہ جہادیوں کاگڑھ بن چکا ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین اس سرحد کا سیاسی، اقتصادی   یا نسلی حوالے سے کوئی وجود و کردار نہیں بچا۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا…؟ ’پشتونستان‘ کاقیام۔ وہ   سیاسی وجود جس کے لیے پشتونوں نے طویل قربانیاں دیں اس کا سورج طلوع ہوکر رہنا ہے خواہ   وہ اس علاقے میں موجود مسلح اسلامی تحریکوں کے خاتمے کے بعد ان کے ملبے تلے سے طلوع ہو‘‘۔

مقالہ نگار امریکا کی جانب سے پاکستان کے لیے اعلان کردہ مالی امداد پر اظہارِ تشویش کے بعد گویا ہیں: ’’مزید بدقسمتی یہ ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ دہشت گردی کو کچلنے کے بجاے اسے رام کرنا چاہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا کے خطرات سے یوں آنکھیں موند لینے نے بھارتی سلامتی کو تباہی کے کنارے لاکھڑا کیا ہے۔ بھارت کے لیے اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنے مغرب سے آنے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیاری کرے‘‘۔

بھارت کے مشرق میں برما اور بنگلہ دیش واقع ہیں۔ ان میں سے پہلی ریاست میں   فوجی نظام کے جبروسفاکیت، امریکی پابندیوں میں توسیع اور انسانی تباہی عروج پر ہے، جب کہ دوسری میں اسلامی بنیاد پرستی کے مضبوط تر ہوتے چلے جانے کے باعث اس کے دوسرا پاکستان بننے کے خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش آبادی کے اعتبار سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے اور اس کی خوں ریز ولادت سے لے کر آج تک وہاں سیاسی اتھل پتھل جاری ہے… پاکستان کی طرح بنگالی فوج کے خفیہ اداروں نے بھی جہادی جماعتوں کی سرپرستی اور آبیاری کی اور انھیں اندرون و بیرون ملک، اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کے علاوہ احمدی جماعت پر مظالم ڈھالنے کے لیے بھی استعمال کیا۔ بنگالی خفیہ اداروں کے خفیہ پاکستانی اداروں کے ساتھ گہرے خفیہ تعلقات ہیں اور اس نے بنگالی سرزمین کو بھارت کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے دیا، ساتھ ہی ساتھ شمال مشرقی بھارت میں علیحدگی پسندوں کی مدد کی‘‘۔

اس مقالے میں برما پر شدید الفاظ میں تنقید کے ساتھ ہی ساتھ اس کے چین کی گود میں چلے جانے، اس کے ذریعے بھارتی علاقوں میں چینی مداخلت کے خدشات کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ پھر اس سے ملتے جلتے خدشات نیپال اور سری لنکا کے بارے میں بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ سری لنکا میں باغیوں کو کچلنے کے لیے حکومتی کارروائیوں پر تو اظہارِ اطمینان ہے لیکن اس امر پر افسوس کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی چین سے ملنے والے اسلحے اور ہتھیاروں کے ذریعے کی گئی ہے۔ اب چین اس کے مقابل سری لنکا میں ایک ارب ڈالر کی مالیت سے بننے والی ھامبن ٹوٹا (hambantota) نامی بندرگاہ بنانے کا منصوبہ حاصل کرچکا ہے۔

یہ طویل اور مسموم مقالہ صرف ایک تجزیہ ہی نہیں، بھارتی ذہنیت اور پالیسیوں کا صحیح عکاس ہے۔ اپنے تمام پڑوسی ممالک کے بارے میں دشمنی کی حد تک سوء ظنی کے جذبات، امریکا سمیت پوری عالمی برادری کو طعنے اور کوسنے دے دے کر اسے ان ممالک کے خلاف اُکسانا، اور ان ممالک میں بھارتی عزائم کی تکمیل کو احسانِ عظیم قرار دینا خواہ وہ ’پشتونستان‘ کے خواب کی تکمیل ہو یا افغانستان کے لیے ۲ئ۱ ارب ڈالر کی بھارتی امداد کے جواب میں وہاں بھارتی نفوذ میں اضافے کا خواب، اس مقالے کی نہیں، بھارتی پالیسیوں کی اصل روح بھی ہے۔

ان تلخ حقائق کے باوجود، عالمِ عرب کے مخلص دوستوں کی طرح ہماری بھی دلی دعا ہے کہ، بھارت واقعی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بن جائے۔ بھارت واقعی ترقی یافتہ اور مستقبل کی ایک اہم عالمی طاقت بن جائے۔ بھارت میں امن و استحکام کا خواب منہ بولتی حقیقت بن جائے۔ لیکن بھارتی حکومت، پوری سیاسی قیادت اور اس کے ہر شہری کو یہ نوشتۂ دیوار ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس کے لیے نفرت اور دشمنیوں کو نہیں اخلاص و محبت کو پروان چڑھانا ہوگا۔۶۳سال کے مشکل سفر کے بعد اب تو یہ بات خود کو سمجھانا ہوگی کہ مسئلۂ کشمیر کسی ضد اور ہٹ دھرمی کی بات نہیں لاکھوں کشمیری عوام کے جذبۂ آزادی کا نام ہے۔ فوج کشی اور زور زبردستی نہ پہلے کام آسکی نہ آیندہ کبھی کام آسکے گی۔ جنگ، فوج کشی اور ترقی و کمال دو متصادم و متضاد فلسفے ہیں___ تمام بھارتی شہری خواہ وہ مسلمان ہوں یا سکھ عیسائی اور کم ذات ہندو جب تک سب کو یکساں حقوق و مواقع نہیں دیے جائیں گے جمہوریت کا ہر دعویٰ باطل قرار پائے گا۔ اپنی ہی سچّرکمیٹی کی رپورٹ ملاحظہ فرمالیجیے یا گجرات و بابری مسجد کی تحقیقاتی رپورٹوں کو دیکھ لیجیے۔ بھارتی مسلمانوں کے ساتھ سوتیلوں کا سا سلوک خود واضح ہوجائے گا___ بھارت کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ بظاہر صورت حال کچھ بھی ہو، ۲۰کروڑ بھارتی مسلمانوں سمیت پوری مسلم اُمت کے حالات و واقعات دنیا کے ہرمسلمان کو اپنی جانب ضرور متوجہ کرتے ہیں۔ بالآخر سب مسلمان ایک ہی سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں___ بھارت کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اس کے تمام پڑوسی کسی نہ کسی حوالے سے اس سے کیوں نالاں اور شکوہ کناں ہیں۔ رقبے اور آبادی میں کسی کا بڑا ہونا اقوام و ممالک کے درمیان برابری کے مسلّمہ اصول کی نفی نہیں کرتا۔ جمہوریت کا دعویٰ اس اصول کی آبیاری کا سب سے زیادہ متقاضی ہے۔ یہ بات بھارت سے زیادہ کون سمجھتا ہوگا کہ صرف آشائوں سے امن حاصل نہیں ہوتا، نفرت کی بھاشا اور مبنی بر منافقت پالیسی ترک کرنا امن کا پہلا زینہ ہوتا ہے۔

حضرت مسروق نے حضرت عبد اللہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب بھی کوئی بے گناہ قتل ہوتا ہے، تو اس کے قتل کے گناہ میں سے ایک حصہ، آدم علیہ السلام کے اس بیٹے کو ملتا ہے (جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا) کیونکہ اس نے سب سے پہلا خون بہایا۔ (بخاری، ۷۳۲۱)

نیکی ہو یا بدی، اپنا ابدی اثر رکھتی ہے۔ بندے کا عمل نیک ہو اور دوسروں کے لیے بھی نیکیوں یا استفادے و منفعت کا سبب بنے، تو اجر و ثواب کا سلسلہ قیامت تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔ ایک بار کیا جانے والا عمل، صدقۂ جاریہ میں بدل جاتا ہے۔

یہی عالم برائی کا ہے جو برائی جس نے ایجاد یا متعارف کروائی، اپنے قول یا عمل کے ذریعے، دانستہ یا نادانستگی میں دوسروں تک پہنچائی، تو وہی ایک بار کیا جانے والا گناہ، سیئات جاریہ میں بدل جاتا ہے۔ جب تک وہ برائی ہوتی رہے گی، وہ فحش بات دہرائی جاتی رہے گی، اس برائی کا آغاز و تعارف کروانے والے کو برابر کی سزا ملے گی۔ بے لباسی، بے حیائی، بسنت، بھتہ، تعصبات کی آب یاری، قتل و غارت، ضمیرفروشی، ملک و قوم سے غداری، منشیات کی لت، ذرائع ابلاغ کی بے راہ روی، غرض کوئی بھی گناہ ہو، بعد میں آنے والے کو جتنی سزا ملے گی، اتنی ہی پہلے والے کو بھی ملے گی۔والعیاذ باللّٰہ!

o

حضرت ابوبکرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی مسلمان کے قتل میں تمام اہل ارض و سما بھی شریک ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو منہ کے بل جہنم میں پھینک دے گا (طبرانی، ۵۶۵)

خالق کو اپنی ہر مخلوق عزیز ہے اور اس کی زندگی یا موت کا فیصلہ اس نے صرف اور صرف اپنے ہاتھ میں رکھا ہے ۔مخلوق میں سے کوئی اگر خود کو دوسروں کی زندگی کا مالک سمجھنے پر تل جائے،  تو خالق پھر اسے وہ سزا دیتا ہے جو کسی دوسرے کو نہیں دیتا۔

مومن کی زندگی کا معاملہ تواور بھی نازک ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ مبارکہ میں ایک مومن کا قتل اللہ کے نزدیک ،زمین و آسمان کے زوال سے بھی زیادہ سنگین ہے۔قتل تو ایک یا چند افراد ہی کریں گے لیکن زیر نظرارشاد نبویؐ کے مطابق، اس میں جتنے بھی افراد شریک ہوں ،اللہ تعالی سب کو جہنم رسید کرے گا، خواہ دنیا جہاں کی تمام مخلوق ہی اس کی زد میں کیوں نہ آجائے۔ قرآن عظیم کے الفاظ میں: وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ خٰلِدًا فِیْھَا وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ وَ اَعَدَّلَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا o (النسائ۴: ۹۳) ’’رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر  قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے‘‘۔

ذرا آیت کو دوبارہ پڑھتے ہوئے گنیں، ایک نہیں دو نہیں ،اکھٹی چار سزائیں اور سب ایک دوسرے سے زیادہ کڑی اور سنگین۔ یہ آیات و احادیث صرف قاتلوں ہی کے لیے نہیں معاشرے کے لیے بھی  سوالیہ نشان ہیں کہ اس نے قاتلوں کا ہاتھ روکنے کے لیے کیا کیا؟ ان کا ہاتھ روکنے کی کوشش کی یا کسی خوف و لالچ کی خاطر ان ہی کے ساتھی بنے رہے۔

o

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیشہ درست اعمال کیاکرو۔ خود کو حق سے قریب تر رکھنے کی کوشش کیا کرو، اور (رحمتِ الٰہی کی) خوش خبری دیتے رہا کرو، (اور یاد رکھو) کسی کو بھی اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کی : یارسولؐ اللہ! آپؐ کو بھی نہیں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں، مجھے بھی نہیں ،الا یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔ (بخاری، کتاب الرقاق، ۶۴۶۷)

سبحان اللہ، شافع محشر بھی اپنے عمل پر نہیں ، صرف اور صرف رحمت خداوندی پر بھروسا رکھتے ہیں۔   مجرد تواضع اورانکساری کی خاطر نہیں، بلکہ عبودیت کے کمال درجے پر پہنچتے ہوئے فرماتے ہیں: ہاں، رحمت ربی شامل حال نہ ہو تو مجھے بھی میرا کوئی عمل جنت میں نہ لے جائے گا۔

حدیث میں انتہائی شدید وعید بھی ہے اور اتنی ہی عظیم خوش خبری بھی۔ وعید یہ کہ خبردار تمھاری ٹوٹی پھوٹی نیکیاں،یا تمھارے دینی مناصب تمھیں کسی غلط فہمی یا غرور کا شکار نہ کردیں۔ انسان ساری عمر بھی حمد و تسبیح اور اعمالِ صالحہ میں گزار دے، تب بھی جب تک رحمتِ حق کی آغوش میسر نہ ہو ،کچھ نتیجہ نہ نکلے گا۔  خوش خبری یہ ہے کہ حق اور بھلائی کے پیمانے پر خود کو ناپتے رہا کرو۔اپنے تئیں اعمال کو درست اور سیدھا رکھنے کی کوشش کرتے رہا کرو اور پھر مایوسی نہیں خوش خبری پھیلاؤ کہ اللہ کی رحمت عطا ہو کر رہے گی۔

o

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک اعمال کرنے میں جلدی کیا کرو۔ فتنے رات کی تہہ در تہہ تاریکی کی طرح امڈتے چلے آئیں گے۔کئی مومن بھی صبح کے وقت ایمان کی حالت میں ہوں گے اور شام کفر کے عالم میں کریں گے۔ دنیا کی حقیر متاع کے لیے دین کا سودا کرلیں گے۔ (مسلم، کتاب الایمان، ۳۱۳)

دل میں نیکی کا ارادہ بھی اللہ کی عطا ہے۔ اللہ کی اس دین کو سُستی اور آیندہ پر ٹالتے چلے جانا،    زوالِ نعمت کا سبب بنتا ہے۔ شیطان ہر نیکی اور نیک ارادے کو اکارت کرنے پر تلا رہتا ہے۔ بے عملی کو بدعملی میں بدلنے میںدیر نہیں لگاتا۔ یہاں تک کہ ایک بندہء مومن اپنے قیمتی ترین سرمایے ،یعنی  ایمان کو، مچھر کے پَر سے بھی حقیر دنیا کے عوض بیچ دیتا ہے۔ یہ کام اتنی تیز رفتاری سے طے پاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے سب سے تیز رفتار عمل ،یعنی گردش روز و شب اور بالخصوص رات کے وقت امڈی چلے آنے والی تاریکی کی مثال دی۔ ایک کے بعد دوسری آزمایش، ایک کے بعد دوسرا فتنہ، ہر دم چوکنا اور خبردار رہنے کی اہمیت کو واضح کر رہا ہے۔

o

حضرت عدی بن حاتمؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس سے اس کا رب براہ راست ہم کلام نہ ہو۔ دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا۔ بندہ اپنے دائیں طرف دیکھے گا اسے کچھ دکھائی نہ دے گا، سواے اس کے کہ جو کچھ اس نے آگے بھیجا ہے۔ وہ اپنے بائیں طرف دیکھے گا تو، وہ اپنی آگے بھیجی ہوئی کمائی کے علاوہ  کچھ نہیں دیکھے گا۔ وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو اسے جہنم کی آگ کے علاوہ کچھ دکھائی نہ دے گا۔ تو (اے لوگو) آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کا صدقہ دے کر۔ اور اگر اللہ کی راہ میں دینے کے لیے تمھارے پاس کچھ بھی نہ ہوتو اچھی بات کہہ کر ہی آگ سے بچو۔ (بخاری، ۷۵۱۲)

ہر بندے کو اصل فکر مندی اسی لمحے کی ہونی چاہیے جب خود رب ذو الجلال اس سے ہم کلام ہوگا۔ بندے کے ساتھ کچھ باقی رہے گا تو صرف اس کا عمل اور رب رحیم کی رحمت۔ رحمتوں کی طلب اور آگ سے بچاؤ کے لیے رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے آسان راہ بتادی___ اللہ کی راہ میں، صرف اور صرف اس کی رضا کے لیے، زیادہ سے زیادہ خرچ۔ اور کچھ نہیں تو کھجور کا ٹکڑا ہی سہی، وہ بھی نہیں تو خیرخواہی کے دو بول ہی سہی۔ اگر اس سارے عمل کا خلاصہ کہنا ہو تو یہ کہ دوسروں سے بھلائی۔

o

حضرت ابو سعید خدریؓ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جنت کو اس طرح بنایا کہ ایک اینٹ سونے کی، ایک اینٹ چاندی کی اور گارا (یعنی سیمنٹ) کستوری کا۔ پھر اسے کہا: بولو۔ جنت بولی: قَدْ اَفْلَح الْمُؤْمِنُوْنَ، مومنین یقینا فلاح پاگئے۔ یہ سن کر فرشتوں نے کہا: کیا خوب ہے تو اے بادشاہوں کی رہایش گاہ۔

رہایش گاہ ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ دنیاوی گھر کے لیے ہر شخص کیا کیا خواب دیکھتا اور کیا کیا جتن نہیں کرتا۔ اس کی خاطر حرام کو بھی اپنے لیے حلال کرلیتا ہے۔ بڑے بڑے لینڈ مافیا وجود میں آچکے ہیں، حالانکہ کسی کو نہیں معلوم کہ چاؤ سے بنائے جانے والے ان گھروں میں رہنا کب تک ہے۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ جن کی تمام تر جدوجہد کا مقصد، آخرت کا ہمیشہ رہنے والا گھر بن جاتا ہے۔ دنیا میں بڑے سے بڑے قارون نے بھی ایسے گھر کا خواب تک نہ دیکھا ہوگا۔ کستوری کا گارا، سونے اور چاندی کی اینٹیں۔ اور ملے گا کس کس کو؟ اللہ کے حکم سے جنت خود جواب دیتی ہے: ’مومنین‘ کو کہ وہاں صرف ایمان و اخلاص اور تقویٰ و اطاعت کا سکہ چلے گا۔

دنیا میں حقیر ، ناکام اور مٹھی بھر سمجھے جانے والے افراد کو خوش خبری ہو کہ فرشتے انھیں ’بادشاہوں‘     کے لقب سے یاد کر رہے ہیں، ان کے نصیب پر رشک کر رہے ہیں۔ شرط صرف اخلاصِ عمل اور اپنی   ذمہ داری بھرپور انداز سے ادا کردینے کی ہے۔

o

حضرت جندبؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صرف لوگوں کو سنانے کے لیے نیک کام کیا اللہ اس کی اصل حقیقت لوگوں کو سنا دے گا۔ اور جس نے صرف دوسروں کو دکھانے کے لیے نیکی کی، اللہ اس کی حقیقت لوگوں کو دکھا دے گا۔ (بخاری، ۶۴۹۹)

محرومی کی انتہا ملاحظہ ہو کہ بندہ نیکی کر کے بھی نہ صرف اجروثواب سے محروم رہا بلکہ خالق و مخلوق دونوں کی نظر سے گر گیا۔ رب ذوالجلال صرف اخلاص اور سچائی کو قبول کرتا ہے۔

 

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں جانے والا اور جہنم سے نکالا جانے والا سب سے آخری شخص گھسٹتے ہوئے جہنم سے نکلے گا تو اس کا رب اس سے کہے گا اب جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ وہ عرض کرے گا پروردگار جنت تو ساری بھر چکی ہے۔ اس کا رب اسے تین بار یہی کہے گا: جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ اور وہ ہربار یہی جواب دہرائے گا: پروردگار جنت تو ساری بھر چکی۔ اس کا پروردگار فرمائے گا تمھیں جنت میں پوری دنیا کا ۱۰ گنا دیا جاتا ہے۔ (بخاری ، ۷۵۱۱)

بندہ گنہگار تھا، دوزخ کا حق دار تھا۔ جہنم میں نہ جانے کیا کیا عذاب جھیلنا پڑے بالآخر رحمن و رحیم کی رحمت غالب آئی اور اتنا مل گیا کہ دنیا میں کسی انسان نے اس کا خواب تک نہ دیکھا ہوگا۔ رب ذوالجلال ہمیں دنیا و آخرت کی حسنات عطا فرما۔ ہمیشہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے کی توفیق دے۔