عبد الغفار عزیز


الاخوان المسلمون کے مرشد عام کی دعوت پر جماعت اسلامی پاکستان کا ایک وفد جس کی قیادت محترم امیرجماعت سیدمنور حسن کر رہے تھے، اور جس میں قیم جماعت لیاقت بلوچ، نائب صدر الخدمت فائونڈیشن ڈاکٹر حفیظ الرحمن اور راقم الحروف شامل تھے، ۲۰جون کی شام قاہرہ پہنچا۔ ائیرپورٹ پر پاکستانی سفارت خانے کے ذمہ داران بھی تھے اور اخوان کے نمایندگان بھی۔ ۲۱جون کی صبح ہماری پہلی باقاعدہ ملاقات مرشد عام پروفیسر ڈاکٹر محمد بدیع سے تھی۔ یہ ملاقات قاہرہ کے سب سے بلندی پر واقع علاقے المُقَطَّم میں اخوان کے سات منزلہ نئے اور شان دار مرکز میں ہوئی۔  مرشدعام ڈاکٹر بدیع کے ہمراہ اخوان کے سیکریٹری جنرل محمود حسین اور مکتب ارشاد (مجلسِ عاملہ) کے کئی ارکان بھی شریک محفل تھے۔

ڈاکٹر محمد بدیع مرشد عام منتخب ہونے سے پہلے نائب مرشد عام کی حیثیت سے تربیتی اُمور کے ذمہ دار تھے۔ ان کی بات بات سے یہی تربیتی پہلو اور قرآن و حدیث سے استدلال سامنے آتا تھا۔ ساری دنیا تسلیم کررہی ہے کہ اخوان کی منظم قوت کی شرکت کے بغیر حسنی اقتدار سے نجات حاصل نہیں کی جاسکتی تھی، لیکن مرشد عام بار بار دہرا رہے تھے: دنیا کی کوئی طاقت کامیابی اس کا دعوی نہیں کرسکتی۔ نہ اخوان اور نہ کوئی دوسری عوامی قوت، یہ سراسر اللہ تعالی کی ایک نشانی اور معجزہ تھا۔ اپنی یہ بات کرتے ہوئے کہنے لگے ہر فرعون اپنی ہی قوم کو تقسیم کردیتا ہے۔ قرآن کریم اس چال کو بے نقاب کرتے ہوئے بتاتا ہے:’’بے شک فرعون نے زمین میں سرکشی کی، اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا… فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا‘‘ (القصص ۲۸:۴)، لیکن بالآخرپھر پوری مصری قوم جسد واحد بن گئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت عطا کردی۔ اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ واضح کرتا ہے: ’’اور ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل بناکر رکھے گئے تھے اور انھیں پیشوا بنادیں اور انھی کو وارث بنائیں اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں‘‘۔

مرشد عام نے اپنی گفتگو میں کئی بار سابقہ اور حالیہ دور کا موازنہ کیا۔ فلسطین اور اس کی صورت حال کا ذکر ہوا تو کہنے لگے: کئی سال سے مختلف فلسطینی دھڑوں کو بھی باہم لڑایا جارہا تھا۔    حسنی مبارک کے بعد صرف چار گھنٹے میں الفتح اور حماس باہم اتفاق راے پر پہنچ گئے۔ ان کی اس صلح پر امریکا اور اسرائیل سمیت فلسطینیوں کے سب دشمن تنقید کررہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد بدیع بتا رہے تھے کہ شاید مسلم تاریخ کا یہ پہلا واقعہ تھا کہ حسنی مبارک کے بعد میدان التحریر میں ادا ہونے والے جمعے میں لاکھوں کی تعداد میں مسیحی بھی شریک تھے۔ خطبۂ جمعہ میں مسلمان ہی شریک ہوتے ہیں۔ اس لیے خطاب بھی برادرانِ اسلام سے ہوتا ہے لیکن علامہ یوسف القرضاوی نے خطبۂ جمعہ ان الفاظ سے شروع کیا: ’’میرے مسلمان اور مسیحی بھائیو‘‘۔

مرشد عام بتا رہے تھے کہ اسلامو فوبیا کی عالمی لہر عوام کو شریعت اسلامی اور اسلامی تحریکوں سے خوف زدہ کرنے پر کمر بستہ ہے۔ مصر میں جاری پوری پراپیگنڈا مہم میں اخوان کو تنقید کا خصوصی ہدف بنایا جارہا ہے۔ اپنے اس خوف کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اخوان ۱۰۰ فی صد نشستیں حاصل کرلے گی۔ پھر انھوں نے اپنی پالیسی واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے آغاز ہی سے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ ہم اس مرحلے میں اقتدار کے لیے کوشاں نہیں ہوں گے۔ ہم پورے غور و خوض کے بعد اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ آیندہ مرحلے میں اپنی تمام تر توجہ، قوم کی خدمت اور اسے اسلام کی حقیقی تعلیمات سے آشنا کرنے پر مرکوز رکھیں گے۔ گذشتہ دورِ جبر کے باعث عوام کی بڑی تعداد تک اسلام کی حقیقی تعلیمات پہنچنے ہی نہیں دی گئیں۔ صرف چند ظاہری رسوم و رواج کو دین کا نام دے دیا گیا ہے۔  ہم آیندہ مرحلے کو ’دور اخوان‘ ثابت کرنے کے بجاے معاشرے کو حقیقت اسلام سے آشنا کرنے کا مرحلہ بنائیں گے۔ اس کا مطلب پورے سیاسی عمل سے خود کو الگ تھلگ کرلینا ہرگز نہیں ہے۔ ہم تو اب بھی ذمہ داریوں اور خدمت میں برابر کے شریک ہیں۔ مثال کے طور پر اس وقت پورے ملک میں امتحانات ہورہے ہیں۔ ملکی سطح پر انٹر میڈیٹ کے ان امتحانات کی خصوصی اہمیت ہے۔ عبوری حکومت اس قابل نہیں تھی کہ امتحانی مراکز کی حفاظت کرسکے، اخوان نے ملک بھر میں عوام کے تعاون سے امن کمیٹیاں تشکیل دیں اور ان امتحانی مراکز کی حفاظت کی۔ قوم کو اس وقت اور بھی کئی بحران درپیش ہیں اور اخوان کسی حکومت کا حصہ ہوئے بغیر بھی، اپنے کارکنان اور عوامی تائید کے ذریعے معاشرے کی خدمت کررہے ہیں، یہ سلسلہ آیندہ بھی جاری رہے گا۔

اخوان نے آیندہ صدارتی انتخاب میں اپنا اُمیدوار نہ لانے اور پارلیمانی انتخابات میں ۵۰فی صد نشستوں پر اُمیدوار نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ دیگر تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر میدان التحریر میں دکھائی دینے اور کامیاب ہونے والی قومی وحدت کا ثبوت دیں۔ مرشدعام بتارہے تھے کہ عبوری فوجی سربراہ نے تمام سیاسی جماعتوں کو اجتماعی ملاقات کے لیے بلایا تھا، میں نے وہاں تمام پارٹی رہنماؤں کو دعوت دی، کہ آئیے سب مل کر دنیا کے سامنے وحدت کی ایک نئی مثال پیش کریں، ہم سب ایک ہی مشترک پینل کی صورت میں انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں۔

اگلے روز ایک اور تفصیلی نشست تھی۔ مرشد عام کے ساتھ اخوان کے چاروں نائب مرشدین عام، جمعہ امین (امام حسن البنا کے ساتھی رہے)، رشاد البیومی، انجینیر خیرت الشاطر اور ڈاکٹر محمود عزت بھی شریک تھے۔ اخوان کے تربیتی نظام، خواتین میں اخوان کے کام، نوجوانوں میں اخوان کی سرگرمیوں اور آیندہ انتخابات میں اخوان کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہء خیال ہوا۔ ڈاکٹر جمعہ امین بتارہے تھے کہ اگرچہ گذشتہ دور ابتلا میں کام کرنا بہت دشوار تھا لیکن الحمد للہ خواتین میں ہمارا کام مردوں سے بھی زیادہ ہے۔ اپنے نظام کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہنے لگے نوجوانوں میں کام ہو، خواتین میں ہو یا معاشرے کے کسی بھی طبقے میں اس کے لیے ہماری الگ الگ برادر تنظیمیں نہیں ہیں بلکہ شعبہ جات ہیں اور تمام شعبہ جات الحمد للہ فعال اور باہم مربوط ہیں۔

مرشد عام نے بتایا کہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے الگ سیاسی جماعت تشکیل دی ہے۔ الحریۃ و العدالۃ (فریڈم اینڈ جسٹس) پارٹی اب ایک باقاعدہ رجسٹرڈ پارٹی بن چکی ہے۔ ڈاکٹر محمد مرسی اس کے سربراہ ہیں، ڈاکٹر سعد الکتاتنی (۲۰۰۸ء میں مینار پاکستان پر ہونے والے اجتماع میں اخوان کی نمایندگی کرچکے ہیں) سیکریٹری جنرل ہیں اور ڈاکٹر عصام العریان نائب صدر۔ ملک میں چھے سے آٹھ فی صد آبادی آرتھوڈکس قبطی مسیحیوں کی ہے۔ ان کی نمایندگی کے لیے ایک مسیحی رہنما ڈاکٹر رفیق حبیب کو بھی نائب صدر مقرر کیا گیا ہے۔ محترم امیر جماعت کے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ مسیحی برادری کو ساتھ شریک کرنا کوئی نئی پالیسی نہیں ہے، بلکہ    امام حسن البنا نے بھی مسیحی برادری کو مکمل طور پر اپنے ساتھ شریک کیا تھا۔ دنیا کو یہ منظر بھی نہیں بھولا ہوگاکہ جب امام حسن البنا کو شہید کردیا گیا تو ان کے جنازے پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی۔  تب صرف ایک مسیحی رہنما مَکْرَم عبید ہی ان کے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے اور انھوں نے خواتین خانہ کے ساتھ مل کر شہید کی میت قبر تک پہنچائی تھی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ملک میں اخوان کی ایک سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ ۱۹۸۶ء میں ہی کرلیا گیا تھا۔

بعد ازاں فریڈم پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر محمد مرسی سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ رجسٹریشن کے بعد تمام اضلاع میں پارٹی کے تنظیمی انتخابات مکمل ہوگئے ہیں اور ہم نے ۲۰سیاسی جماعتوں کو مدعو کرکے ان کے ساتھ ایک انتخابی اتحاد بنانے کا آغاز بھی کردیا ہے۔    قومی اسمبلی کی ۵۰۸ نشستیں ہیں۔ ۲۲۲حلقے ہیں۔ ہر حلقے سے دو ارکان منتخب ہوتے ہیں۔ اس طرح ۴۴۴؍ارکان براہ راست ووٹنگ سے منتخب ہوتے ہیں۔ ۳۲ ضلعی حکومتوں سے ۶۴ خواتین ارکان اسمبلی منتخب ہوتی ہیں۔

پارٹی کو درپیش خطرات اور چیلنجوں کے بارے میں کیے جانے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انتشار پھیلانے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ لاتعداد جماعتیں رجسٹر کرلی گئی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے قانون کے مطابق کسی بھی پارٹی کے پاس کم از کم ۵ہزار تاسیسی ارکان ہونا ضروری ہیں۔ ان میں سے بہت سی جماعتوں کے پاس اتنے لوگ بھی نہیں ہیں لیکن انھیں رجسٹر کرلیا گیا ہے۔ انھیں بھاری مقدار میں بیرونی امداد دی جارہی ہے۔ امریکی سفیر کے بیان کے مطابق ’’امریکا مصر میں جمہوریت کے استحکام کے لیے ۴کروڑ ڈالر خرچ کرچکا ہے‘‘۔ ہیلری کلنٹن کہہ  رہی ہیں کہ مصر میں جمہوریت کے لیے امریکا ۱۶۰ ملین ڈالر، یعنی تقریباً ایک ارب مصری پاؤنڈ (ایک پاؤنڈ تقریباً ۱۴روپے کا ہے) خرچ کرے گا۔ اس کے بقول اب تک ۶۰۰جماعتیں اور تنظیمیں یہ امداد لینے کے لیے درخواست دے چکی ہیں۔ اگلے ہی روز اخبارات میں اسرائیلی روزنامے ہآرٹز میں سابق صہیونی وزیر خارجہ سیبی لیونی کا تجزیہ چھپا ہوا تھا، جس میں اس نے کہا تھا: ’’آیندہ ستمبر اسرائیل کے لیے ایک سونامی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مہینے ہونے والے اقوام متحدہ کے اجلاس میں الگ فلسطینی ریاست بنانے کے لیے قرارداد لائی جارہی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہمارے سر پر ایک تلوار یہ بھی لٹک رہی ہے کہ اس مہینے مصر میں عام انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ ہمارے لیے یہ انتخابات بہت اہم ہیں۔ ہمارے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ میدان التحریر کے انقلاب کے بعد تشکیل پانے والا نیا مصر کیسا ہوگا؟ کیا ان انتخابات کے بعد الاخوان المسلمون کی حکومت تو نہیں بن جائے گی؟ ہمیں انتخابات کے اس ماحول میں فلسطین کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کو آگے بڑھانا ہوگا۔ خالی خولی میڈیا وار اور چھیڑ چھاڑ کے بجاے اعتدال پر مبنی پالیسی پر چلنا ہوگا‘‘۔ گویا مصری انتخابات مصر میں نہیں، اسرائیل اور امریکا میں لڑے جانا ہیں۔

آیندہ مصری منظرنامے میں اخوان کی قوت سے یہ سب جو خطرہ محسوس کررہے ہیں، اس کا بنیادی سبب اخوان کی قرآن سے گہری وابستگی اور مضبوط تنظیم ہے۔ اخوان کے ذمہ داران بتا رہے تھے کہ اخوان کے باقاعدہ ارکان کی تعداد الحمد للہ ساڑھے سات لاکھ سے متجاوز ہے اور اُمیدواران و رفقا کو ملا کر یہ تعداد ۲۰ لاکھ سے زیادہ بنتی ہے۔ ان تمام افراد میں سے ہر رکن قرآن و سنت اور تحریکی لٹریچر کے ٹھوس مطالعے سے گزرتا ہے۔ ہر ساتھی اپنی کل آمدن کا ۹ فی صد اخوان کو اعانت کے طور پر جمع کرواتا ہے اور اپنی جان تک نچھاور کرنے سے گریز نہیں کرتا۔

حسنی مبارک کے خلاف تحریک کے دوران اخوان کے ۵۵؍ ارکان اور سیکڑوں رفقا و کارکنان شہید ہوئے۔ صرف یہ دو ہفتے ہی نہیں اخوان کی پوری تاریخ شہادتوں اور صعوبتوں کی داستان سے معمور ہے۔ گذشتہ اپریل میں د منہور شہر میں ایک جلسہء عام سے خطاب کرتے ہوئے مرشدعام ڈاکٹر محمد بدیع بتا رہے تھے کہ صرف حسنی مبارک کے ۳۰سالہ دور کے دوران میں ہمارے ۴۰ہزار کارکنان گرفتار ہوئے۔ گرفتار شدگان کی کم سے کم سزا چھے ماہ قید تھی۔ یونی ورسٹی کے اساتذہ، ڈاکٹروں اور انجینیروں کی واضح اکثریت پر مشتمل ان قیدیوں کو ملنے والی سزا کی کل مدت جمع کی جائے تو وہ ۲۰ ہزار سال___ جی ہاں ۲۰ ہزار سال بنتی ہے۔ مصر کے ایک سابق وزیراعظم ڈاکٹر عزیز صدقی نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: افسوس کہ مصر میں اخوان کے پاس اتنے باصلاحیت کارکنان ہیں، لیکن ہم نے قوم کوان کی تمام خدمات سے محروم رکھا!،

اخوان کے سابق مرشد عام محمد مہدی عاکف سے ملاقات ہوئی۔ دیگر تحریکی و عالمی مسائل کے علاوہ ان کی ذاتی زندگی کے کئی واقعات پر بھی گفتگو ہوئی۔ بتانے لگے کہ میری شادی ۴۷سال کی عمر میں ہوئی تھی، کیونکہ اس سے پہلے مسلسل ۲۰ سال جیل میں گزرے۔ لیاقت بلوچ صاحب نے دریافت کیا: جیل کے یہ ۲۰ سال کیسے گزرے؟ فوراً بولے: ایک منٹ کی بھی فرصت نہیں ملی۔ درس و تدریس، مطالعہ، ورزش اور خالق سے مناجات کے بعد وقت ہی نہیں بچتا تھا۔ ۸۲سالہ محمدمہدی اپنی حالیہ مصروفیات کے بارے میں بتانے لگے کہ اب بھی روزانہ مرکز آتا ہوں۔ مختلف احباب سے ملاقاتیں رہتی ہیں یا پھر جو بھی خدمت مرشد عام ذمے لگائیں۔ پھر خود ہی کہنے لگے: ’’صرف اور صرف اللہ کی رضا پیش نظر نہ ہو تو یہ ایک مشکل کام ہے۔ آپ پوری تحریک کا مرکز و محور بنے ہوئے ہوں اور آپ اس منصب سے ہٹ کر دیکھیں کہ اب تمام افراد و اُمور کسی اور طرف منتقل ہورہے ہیں، تو شیطان مسلسل حملہ آور رہتا ہے۔ یہ شرف صرف اسلامی تحریک ہی کو حاصل ہے کہ چونکہ مقصد صرف رضاے الٰہی کا حصول ہوتا ہے، اس لیے دنیا و آخرت کے بہت سے فتنوں سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ کارکنان کے دل میں بھی اسی باعث مزید محبت پیدا ہوتی ہے‘‘۔

  •  خطرات: حسنی مبارک کے زوال کے بعد ہر مصری شہری آزادی کی بالکل نئی فضا میں سانس لے رہا ہے۔ لیکن اب بھی لاتعداد اندرونی و بیرونی خطرات اُفق پر موجود ہیں۔ اخوان کی کامیابی کے امکان اور قوت کو ہوّا بنا کر ذرائع ابلاغ میں مسلسل پراپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ اخوان کے اندر اختلافات اور دھڑے بندیوں کے قصے گھڑے جارہے ہیں۔ مشکلات و مسائل تو ہر جگہ ہوتے ہیں، لیکن انھیں افسانوی انداز دیا جارہا ہے۔ سب سے نمایاں اختلاف صدارتی انتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے پر سامنے آیا ہے۔ اخوان کے ایک نمایاں سابق رہنما ڈاکٹر عبد المنعم ابو الفتوح کی راے یہ تھی کہ صدارتی انتخاب میں ضرور حصہ لینا چاہیے۔ وہ خود اس کے مضبوط اُمیدوار کے طور پر بھی سامنے آگئے لیکن اخوان کا فیصلہ دو ٹوک ہے کہ ہم اپنی تمام تر توجہ پارلیمانی انتخاب پر مرکوز رکھیں گے اور آیندہ مرحلے میں ملک کی مکمل باگ ڈور اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے۔ انھوں نے ابو الفتوح کو رجوع کا موقع دیا، لیکن اپنا فیصلہ تبدیل نہ کرنے پر اخوان سے ان کا اخراج کردیا۔ میڈیا کے لوگ ابو الفتوح کی علیحدگی کو بھی اخوان کی دو حصوں میں تقسیم قرار دے رہے ہیں۔ ۲۴ جون کے اخبارات نے تو وکی لیکس کے حوالے سے یہ بھی خبر اڑا دی کہ اخوان پانچ دھڑوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ حالانکہ یہ خبریں اڑانے والے جانتے ہیں کہ جو اپنا پورا مال اور اپنی جان تحریک کے لیے قربان کررہے ہوں، وہ اختلاف کے آداب بھی جانتے ہیں۔

جمعہ ۲۴ جون کو میدان التحریر میں واقع جامع مسجد عمر مَکرَم میں نماز جمعہ کے بعد امیر جماعت کی سربراہی میں ہمارا وفد مسجد سے نکلا تو سامنے میدان کے کنارے نوجوان جمع ہونا شروع ہورہے تھے۔ حسنی مبارک کی پھانسی، کرپٹ وزرا کے احتساب و مقدمات اور انقلاب کی حفاظت کے نعرے لگ رہے تھے۔ ہم سب بھی ان کے ساتھ نعروں میں شریک ہوگئے۔ یہ عام نوجوان تھے، انھیں جب بتایا گیا کہ یہ جماعت اسلامی کا وفد ہے، پاکستانی قوم کی طرف سے مصری قوم کو انقلاب میں کامیابی پر مبارک باد دینے آیا ہے، تو جوش و ولولہ مزید بڑھ گیا۔ نعروں میں بھی حسنی مبارک،   سابق حکمران اور انقلاب کی حفاظت کے علاوہ امت مسلمہ اور عالم اسلامی کے بارے میں نعرے شامل ہوگئے۔ امریکا مردہ باد، صہیونی استعمار مردہ باد کہا جانے لگا اور پوری قوت سے پکارنے لگے:   قادم قادم یا اسلام حاکم حاکم بالقرآن، اسلام اب آگے بڑھو اور قرآن کو حکمران بنادو۔ عل الأقصی رایحین شہداء بالملایین، لاکھوں کی تعداد میں شہید ہونے کے لیے تیار  ہم اقصی (کی آزادی) کے لیے جارہے ہیں۔ ہمیں فوراً ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہونا تھا لیکن شرکا مصر تھے کہ خطاب کریں۔ محترم امیرجماعت نے اپنا مختصر پیغام دیا کہ ان شاء اللہ آزادی کا یہ سفر میدان التحریر سے وادی کشمیر تک جاری رہے گا۔ ہمیں اُمید ہے کہ جس وحدت اور قربانی کے نتیجے میں آپ نے آمر سے نجات پائی ہے، اسی وحدت کے ذریعے آپ آیندہ مراحل میں بھی سرخرو ہوں گے۔

نوٹ: بہت مصروف پانچ روزہ دورے کے بعد پاکستان پہنچے تو پرچہ پریس میں جارہا تھا۔ عجلت میں کچھ اہم امور عرض کردیے ہیں۔ آیندہ شمارے میں ان شاء اللہ چند مشاہدات پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ مصر انسانی تہذیب و تاریخ کا اہم مرکز رہا ہے اور یہاں کا چپہ چپہ اہم واقعات کا امین ہے۔

 

۲ فروری کا دن حسنی مبارک کے خلاف تحریک کا ایک اہم دن تھا۔ قاہرہ کے میدان التحریر میں لاکھوں افراد جمع تھے۔ اکثر لوگوں نے میدان التحریر کو آنے والے مختلف راستوں پر باقاعدہ مورچے لگائے ہوئے تھے۔ اس سے پہلے حکومت کی طرف سے بھیجے گئے مسلح غنڈے مظاہرین پر حملہ آور ہوکر بڑی تعداد میں لوگوں کو شہید کرچکے تھے۔ ایک ’مورچے‘ پر مصر کے معروف عالمِ دین اور دانش ور صفوت حجازی بھی تھے۔ وہ بتا رہے تھے کہ ہم نے ساری رات پہرہ دے کر گزاری۔ لوگ باری باری نیند اور تہجد و عبادت میں مصروف تھے۔ مجھے نہ جانے کیوں بار بار لگ رہا تھا کہ  آج مجھے بھی شہید ہوجانا ہے۔ نمازِ فجر کا وقت ہوا تو غنڈوں کے حملے کے خوف سے ہم نے نماز بھی باری باری ادا کی۔ میرے ساتھ ہی ایک نوجوان عبدالکریم بھی تھا۔ اس سے وہیں تعارف ہوا۔ وہ جامعہ الازہر سے فارغ التحصیل تھا۔ ۲۵ پارے حفظ کیے ہوئے تھے اور زیادہ وقت تلاوت میں مصروف تھا۔ اس کی تلاوت میں ایک عجیب تاثیر تھی۔ میں نے اسے ہی امامت کے لیے کہہ دیا۔ نماز پڑھ کر وہ مجھے مخاطب ہوتے ہوئے بولا: میں اگر اس میدان میں ماراجائوں تو کیا شہادت کا درجہ ملے گا؟ میں نے کہا: ضرور ملے گا۔ کہنے لگا: دلیل کیا ہے؟ میں نے کہا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: سید الشھداء حمزہ ورجل قام اِلی امام جائر فامرہ ونھاہ فقتلہ ’’(حضرت) حمزہ سیدالشہدا ہیں اور ہر وہ شخص بھی کہ جو ظالم حکمران کے سامنے ڈٹ گیا اسے  (نیکی کا) حکم دیا اور (برائی سے) منع کیا اور اس نے جواباً اسے قتل کر دیا‘‘۔

کچھ دیر مزید بات ہوئی جس میں، مَیں نے اپنا یہ احساس بھی بتایا کہ مجھے لگتا ہے کہ مجھے بھی شہادت کی سعادت ملے گی۔ عبدالکریم فوراً بولا: اگر مجھ سے پہلے چلے گئے تو سیدالشہدا حضرت حمزہؓ کو میرا سلام کہیے گا۔ میں نے کہا: اور اگر آپ چلے گئے توآپ میرا سلام پہنچا دیجیے گا۔ عبدالکریم  یہ سنتے ہی اُٹھ کر چل دیا۔ میں نے پوچھا: کدھر چل دیے؟ ہنستے ہوئے کہنے لگا: سیدالشہدا کو آپ کا سلام پہنچانے… ابھی عبدالکریم نے ایک قدم بھی نہیں اُٹھایا تھا کہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ ہم نے دیکھا تو دُور گھات لگائے بیٹھے سرکاری غنڈے کی دُوربین لگی بندوق کی ایک گولی عبدالکریم کے سر میں چھید کرتی ہوئی نکل گئی تھی اور ہر طرف کستوری کی مہک پھیل رہی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ عبدالکریم کا تعلق الاخوان المسلمون سے تھا۔

تقریباً نصف صدی عذاب و اذیت میں تو گزر گئی، لیکن الاخوان المسلمون نے اس عرصے میں لاکھوں افراد پر مشتمل ایک ایسی نسل تیار کر دی ہے کہ جو بلند مقاصد کی خاطر ہرطرح کی قربانی دینے کے لیے ہرلمحے تیار رہتی ہے۔ اللہ ہمارا مقصود ہے،قرآن ہمارا دستور ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رہنما ہیں، کے بعد الجہاد سبیلنا، ’’جہاد ہمارا راستہ ہے‘‘ اور الشہادۃ فی سبیل اللّٰہ اسمی امانینا، ’’اللہ کی راہ میں شہادت ہماری سب سے بلندپایہ آرزو ہے‘‘ کا شعار اس ربانی نسل کا پورا تعارف کروا دیتا ہے۔ تیونس اور مصر کے فرعونوں سے نجات کے لیے اس نوجوان نسل کی قربانیوں نے عالمِ عرب کے ہر نوجوان کو ایک نئی روح سے سرشار کر دیا ہے۔ اس کا ایک مظہر تو یمن، شام اور لیبیا میں دکھائی دے رہا ہے، لیکن اس کا ایک تازہ اور حیران کن مظہر ۱۵مئی کو دکھائی دیا۔ لیکن آیئے پہلے ۱۵ مئی کا تھوڑا سا پس منظر ذہن میں تازہ کرلیجیے۔

آج سے ۶۳ سال پہلے، ۱۵ مئی ۱۹۴۸ء کو سرزمینِ اقصیٰ میں ایک قیامت برپا ہوئی تھی۔ فلسطینی شعبہ شماریات کے مطابق اس وقت فلسطینی عوام کی کُل تعداد ۱۴ لاکھ تھی۔ پورے فلسطین میں ان کے ۱۳۰۰ شہر، قصبے اور بستیاں آباد تھیں۔ یہودیوں نے برطانوی سرپرستی اور مسلمان حکمرانوں کی خیانت کے باعث فلسطینی عوام کا قتلِ عام شروع کر دیا۔ ۷۷۴ شہروں اور بستیوں پر قبضہ کرلیا، ان میں سے ۵۳۱ شہر اور بستیاں مکمل طور پر تباہ کردیے۔ ۱۵ہزار فلسطینی قتل کردیے اور ۸لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کر کے مہاجر کیمپوں اور پڑوسی ملکوں میں دھکیل دیا۔ تب سے ۱۵مئی کو یومِ نکبت کہا جاتا ہے۔ گذشتہ ۶۳برس سے ہرسال اس یومِ نکبت کی یاد منائی جاتی ہے۔

مصر اور تیونس میں عوامی جدوجہد کی کامیابی کے بعد یومِ نکبت قریب آنے لگا تو مصر سمیت فلسطین کے تمام پڑوسی ملکوں کے نوجوانوں نے اس دن کو ایک منفرد انداز میں منانے کا اعلان کیا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ اس برس ہم یہ دن سرزمین انبیا فلسطین کی سرحدوں پر جاکر منائیں گے۔ اس اعلان نے مصر، فلسطین، اُردن، لبنان اور شام سمیت ہر جگہ نوجوانوں کو ایک نئے جذبے سے سرشار کردیا۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے ایک دوسرے کو پیغامات دیے جانے لگے اور ۱۵مئی ۲۰۱۱ء کا دن واقعی ایک تاریخی دن بن گیا۔ اس روز بوڑھے، بچے، مرد و زن سب بڑی تعداد میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلۂ اول اور اپنے آباواجداد کی سرزمین کی طرف دیوانہ وار چل نکلے۔ ۱۵مئی کو اتوار کا دن تھا لیکن مصر اور اُردن میں لوگ جمعے کے روز سے ہی جمع ہونے لگے۔ پھر اتوار کے روز لبنان کے علاقے مارون الراس اور شام کے مقبوضہ علاقے جولان کی سرحدی بستیوں القنیطرۃ اور مجدل الشمس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہونے لگے۔ ہرشخص جذبات سے اس طرح سرشار تھا کہ گویا یہ فلسطین کی آزادی کا دن ہے۔ بہت سے لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں لکڑی کی بنی ہوئی بڑی بڑی چابیاں اُٹھائی ہوئی تھیں۔ چابی کا نشان بے دخل کیے جانے والے فلسطینیوں کے  حقِ واپسی کی علامت بن چکا ہے۔ مظاہرین سرحدوں پر ہی جمع ہوکر مظاہرے کرتے تو صورت حال مختلف ہوتی۔ صبح تقریباً ۱۰ بجے سے جمع ہونے والے مظاہرین کی تعداد جب ہزاروں میں ہوگئی تو انھوں نے سرحد پر بچھی بارودی سرنگوں اور گشت کرتی اسرائیلی فوجی گاڑیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، اپنے اور فلسطین کے مابین حائل خاردار تاروں اور آہنی جنگلوں کو روند ڈالا۔ بڑی تعداد میں لوگ فلسطینی دھرتی کی آغوش میں آنے اور وہاں سجدہ ریز ہونے کے لیے بے تاب تھے۔ آگے بڑھتے ہوئے انھوں نے یہودیوں پر پتھرائو بھی شروع کر دیا۔

آیئے اس صورت حال کی مزید جھلک بڑے اسرائیلی روزنامے یدیعوت کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے: ’’اسرائیلی سرزمین میں گھس جانے والے فلسطینی پتھرائو کرنے لگے۔ کچھ لوگوں نے وہاں زیرتعمیر ایک گھر میںپناہ لے لی، اور وہاں سے پتھرائو شروع کر دیا۔ پتھروں کی بارش یہودیوں یا دُرزی قبیلے کے افراد میں کوئی تمیز نہیں کر رہی تھی، نہ ہی انھوں نے یہودی فوجیوں اور شہریوں میں کوئی تمیز کی۔ مجھے ایک اسرائیلی شہری نے ۱۶مئی کو بتایا کہ ’’میں اپنی پوری زندگی میں اتنا خوف زدہ نہیں ہوا جتنا کل ہوا تھا‘‘۔ ہم نے فلسطینیوں سے کہا کہ پتھرائو بندکر دو، وگرنہ فوج فائر کھول دے گی۔ انھوں نے جواب دیا: ’’پرواہ نہیں، ہم یہاں مرنے کے لیے آئے ہیں‘‘۔ جو کچھ جولان میں ہوا، لبنانی سرحدوں پر بھی وہی ہوا۔ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے ٹی وی چینل ’المنار‘ کی بنائی ہوئی تصاویر میں آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ فلسطینی جوق در جوق مارون الراس کے ٹیلوں سے   اُتر کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان پر اسرائیلی فوج نے بھی فائرنگ کی اور خود لبنانی فوج نے بھی۔  کچھ افراد زخمیوں اور مرنے والوں کی لاشیں اُٹھا کر پیچھے جاتے لیکن ان سے زیادہ اور آگے آجاتے۔ یہ لوگ سرحد پر لگے آہنی جنگلے کی طرف یوں بڑھ رہے تھے، جیسے کسی نشے سے سرشار ہوں۔ ہم نے یہ مناظر گذشتہ مہینوں میں (قاہرہ کے) میدان التحریر، (لیبیا کے شہر)  بن غازی اور (شام کے شہر) درعا اور بانیاس میں تو دیکھے تھے لیکن اسرائیلی سرحدوں پر یہ مناظر اس ہفتے پہلی بار دیکھنے میں آئے۔ یہ لوگ حماس کے خودکش حملہ آور نہیں تھے بلکہ فیس بک کے حملہ آور تھے… یہ لوگ دوبارہ پھر آئیںگے اور یہ اس ہفتے کے واقعات سے سیکھا جاسکنے والا پہلا سبق ہے (مظاہرین کے مطابق) آیندہ ستمبر میں یہ مناظر دوبارہ دہرائے جاسکتے ہیں‘‘۔ (یدیعوت احرونوت، ۲۰ مئی ۲۰۱۱ء)

لبنان اور شام کی سرحدوں پر اسرائیلی فائرنگ سے درجنوں فلسطینی شہید ہوگئے، سیکڑوں زخمی ہوگئے لیکن عرب بالخصوص فلسطینی عوام اس تازہ وجدان و روح سے سرشار ہوگئے ہیں کہ بالآخر ایک روز ہم ان خاردار اسرائیلی جنگلوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے روند ڈالیں گے۔ فیس بک کے ذریعے تحریک چلانے والے نوجوان اعلان کر رہے ہیں کہ ۶۳ سال بعد یہ پہلا موقع تھا کہ تین اطراف سے چار عرب ممالک کے عوام فلسطینی سرزمین کی جانب بڑھے۔ اس سال ان کی تعداد ہزاروں میں تھی، لیکن شہادتوں اور قربانیوں کی پرواہ کیے بغیر اگر کئی ملین کی تعداد میں لوگ نکل آئے، خود فلسطین کے اندر سے بھی اتنی ہی تعداد میں فلسطینی باہر آگئے تو عرب عوام کے سمندر میں گِھرا صہیونی جزیرہ اپنا وجود باقی نہ رکھ سکے گا۔ خود اسرائیلی تجزیہ نگار اور عسکری ماہرین ان واقعات کا مسلسل جائزہ   لے رہے ہیں۔ یہ بحث بھی عروج پر ہے کہ ہم ان واقعات کا اندازہ پہلے سے کیوں نہ لگا سکے؟ کیا یہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے یا فوج صورت حال پر قابو نہیں پاسکی؟

اس بارے میں بھی ایک اہم ترین تبصرہ خود یدیعوت احرونوت کے الفاظ ہی میں ملاحظہ فرمایئے: ’’انٹیلی جنس کی ناکامی کے اسباب کا جائزہ لینا بھی اہم ہے لیکن اتوار کے روز ہونے والے واقعات کچھ اور اسباب کی بنا پر بھی بہت اہم ہیں۔ پہلا یہ کہ اسرائیل فلسطین تنازع اب دوبارہ پورے خطے کا تنازع بن چکا ہے۔ اب اسرائیل کی کوئی بھی سرحد محفوظ نہیں رہ گئی۔ نہ شام، نہ مصر اور نہ لبنان، کسی طرف سے بھی ہماری سرحد محفوظ نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ اسرائیلی فوج غیرمسلح شہریوں کی تحریک نافرمانی کا مقابلہ نہیں کرسکتی، بالخصوص اس وقت کہ جب اس میں خواتین اور بچے بھی شریک ہوں۔ تیسرا یہ کہ اب ہم عرب ممالک کی حکومتوں پر یہ بھروسا نہیں کرسکتے کہ وہ اسرائیلی سرحدوں کی حفاظت کرسکیں گے۔ چوتھا (اہم ترین) سبب یہ ہے کہ خوف کے حصار سے نجات، ایک متعدی مرض ہے، جو عوام بشارالاسد کے ٹینکوں کے خوف سے آزاد ہوگئے ہیں، وہ اسرائیلی فوج کی بارودی سرنگوں سے بھی نہیں ڈریں گے‘‘ (یدیعوت، ۲۰ مئی ۲۰۱۱ء)۔ اسرائیلی تجزیہ نگار کے یہ دونوں نکات پوری بحث کا خلاصہ بتا رہے ہیں کہ عرب حکمران اسرائیل کا مزیددفاع کرنے کے قابل نہیں رہے اور اگر عوام خوف کی دیوار ڈھا دیں تو پھر کوئی قوت ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔

تھا تو یہ ایک روز کا مظاہرہ، لیکن چند ہزار افراد کے سرحدوں پر اُمڈ آنے سے چہار جانب خطرے کی گھنٹیاں بج اُٹھی ہیں۔ اسرائیل کے علاوہ خود امریکا میں اس پر بحث ہورہی ہے۔ کانگریس میں ری پبلکن پارٹی کے اہم یہودی رہنما ایرک کینٹر (Eric Cantor) نے گذشتہ دنوں معروف یہودی ادارے ’ایپاک‘ AIPAC سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’’ہمارے خواب خطرات سے دوچار ہیں‘‘۔ ’’اسرائیل کی بقا کی ضمانت دینے کے لیے اب ہمیں ہرممکن کوشش کرنا ہوگی‘‘، ’’اسرائیل نہ رہا تو ہم میں سے کوئی بھی باقی نہ رہے گا‘‘۔ امریکا میں یہودی لابی کے معروف ادارے جے سٹریٹ میں بھی دہائی دی جارہی ہے کہ ہمیں فلسطینیوں کے ساتھ فوری طور پر صلح کرلینی چاہیے، وگرنہ اسرائیل کا وجود خطرات سے دوچار ہوجائے گا۔ (اسرائیل ٹوڈے، ۲۵ مئی ۲۰۱۱ء)

مصر میں مسلم عیسائی فساد

یہ ساری تشویش صرف شام اور لبنان کے مظاہروں کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ اُردن میں، جس کی نصف آبادی فلسطینیوں پر مشتمل ہے، ابھی بڑے پیمانے پر مظاہرے نہیں ہوسکے، جو مظاہرے ہوئے وہ بھی مخصوص علاقوں تک محدود رہے، جب کہ مصر میں عبوری دور کے باعث حکومت اور سیاسی جماعتوں نے انھیں ایک مختلف رُخ دے دیا۔ اس تحریک کو تیسری تحریک انتفاضہ کا نام دیا جا رہا ہے، اور اس کے اعلان و انتظام میں مصری نوجوانوں نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، لیکن ۱۵مئی آنے سے پہلے مصر میں دو اہم واقعات رُوپذیر ہوگئے۔ ایک تو وہاں اچانک مسلمانوں اور(قبطی) مسیحیوں کے درمیان فسادات شروع ہوگئے۔ ان فسادات کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک مسیحی طالبہ عبیرطلعت نے اپنے وڈیو پیغام میں بتایا کہ اس نے اسلام قبول کرلیا تھا، جس کی پاداش میں مسیحی پیشوائوں نے اسے اِمبابہ شہر کے ایک چرچ میں قید کر دیا اور اس پر دبائو ڈالا کہ وہ دوبارہ مسیحی ہونے کا اعلان کرے۔یہ سن کر بڑی تعداد میں مسلمان نوجوان چرچ کے باہر جمع ہوگئے جس پر عبیر کو رِہا کردیا گیا، لیکن اسی اثنا میں فائرنگ اور خوں ریزی کے واقعات بھڑک اُٹھے۔   کئی جانوں کے ضیاع، توڑ پھوڑ اور آتش زدگی کے نتیجے میں بھاری نقصانات دیکھنے میں آئے۔ بعد میں وزیرداخلہ نے بتایا کہ سب سے پہلے حسنی مبارک کی کالعدم پارٹی کے ایک مسیحی تاجر نے  خود اِمبابہ چرچ کے باہر جمع مسلمان نوجوانوں پر فائرنگ کی اور پھر اپنے متعدد غنڈوں کے ذریعے  ہلہ بول دیا۔ ان سابق حکمرانوں کی کوشش تھی کہ پورے ملک میں مسلم مسیحی فسادات بھڑکا دیے جائیں، لیکن بالآخر سیاسی جماعتوں کی کوششوں سے ان فسادات کی آگ پر قابو پالیا گیا۔

الفتح اور حماس کی صلح

دوسرا اہم واقعہ یہ ہوا کہ دو اہم فلسطینی جماعتوں ’الفتح‘ اور ’حماس‘ کے درمیان ایک صلح نامہ طے پا گیا۔ حسنی مبارک کے اقتدار میں کئی بار دونوں جماعتوں کے مابین مذاکرات ہوئے، کئی بار  صلح نامے کے مسودے تیار ہوئے، لیکن ہربار صلح کی کوششیں ناکام رہیں۔ اس مرتبہ نہ لمبے چوڑے مذاکرات کے دور چلے، نہ ذرائع ابلاغ میں کوئی شور سنائی دیا۔ اچانک معلوم ہوا کہ ’حماس‘ اور ’الفتح‘ نے قاہرہ میں صلح کے جامع معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ مصری عوام نے اس مناسبت سے ۱۵مئی کویومِ نکبت یا یومِ وحدت ہی نہیں، بلکہ یوم الوحدۃ والمناصرۃ (یومِ وحدت و نصرت) کا عنوان دے دیا۔

قاہرہ کے میدان التحریر کے علاوہ دیگر کئی شہروں میں بھی لاکھوں کی تعداد میں عوام سڑکوں پر جمع ہوئے۔ ’مسیحی مسلم بھائی بھائی‘ اور ’حماس الفتح بھائی بھائی‘ کے نعروں سے اپنے جذبات کا  اظہار کیا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ چونکہ مصر ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے، بہت سی اندرونی و بیرونی طاقتیں اب بھی مصری عوام سے ان کی قربانیوں کا ثمر چھیننا چاہتی ہیں، اس لیے ہم کسی کو اس طرح کی سازش کا موقع نہیں دیں گے۔ اعلان کیا گیا کہ ہم ۱۵مئی کو رفح بارڈر پر جانے کے بجاے ۱۳، ۱۴ اور ۱۵مئی تینوں دن اہلِ فلسطین کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے ملیونیۃ الفجر (ملین نمازِ فجر) کا اہتمام کریںگے۔ پھر بالفعل یہی ہوا۔ تینوں دن لاکھوں کی تعداد میں عوام قاہرہ کے میدان التحریر اور دیگر میدانوں اور پارکوں میں فجر کے وقت جمع ہوئے اور یومِ نکبت کی سرگرمیوں میں اپنی شرکت کا ایک نیا ایمان افروز رنگ پیش کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین قاہرہ میں اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے بھی جمع ہوئے۔ انھوں نے وہیں نمازِ فجر ادا کی اور  یومِ وحدت و نصرت منایا۔ اب اس بات کا اندازہ لگانا کسی کے لیے بھی مشکل نہیں ہے کہ اگر کسی روز یہی لاکھوں عوام وادیِ سینا عبور کرتے ہوئے رفح بارڈر پر جمع ہوگئے تو تیسری تحریکِ انتفاضہ کیا رُخ اختیار کرسکتی ہے۔ اسرائیلی دانش ور اور بحث و تحقیق کے ادارے اپنے مستقبل کا جائزہ لینے کے لیے مصروشام کے مستقبل کا بھی گہرا مطالعہ کر رہے ہیں۔

مصر اور تیونس میں انتخابات

خود اخوان نے اس مرحلے پر بہت محتاط پالیسی اختیار کی ہے۔ اپنا صدارتی اُمیدوار اور  ۵۰ فی صد سے زائد نشستوں پر اپنے اُمیدوار نہ لانے کا اعلان اسی پالیسی کا حصہ ہے، لیکن اس   تمام تر احتیاط کے باوجود فلسطین کے بارے میں اپنا موقف پوری قوت و ثبات سے پیش کیا جا رہا ہے۔ مرشدعام ڈاکٹر محمد بدیع نے اس موقع پر اپنے دوتفصیلی بیانات میں یومِ نکبت اور مسئلۂ فلسطین پر روشنی ڈالی ہے۔ ایک بیان میں فلسطین کے بارے میں اخوان کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ۱۹۲۸ء میں الاخوان المسلمون کی تاسیس کے وقت ہی امام حسن البنا نے مسئلۂ فلسطین کو مرکزی حیثیت دی تھی۔ انھوں نے مئی ۱۹۴۸ء کو لبنان کے شہر عالیہ میں جمع عرب حکمرانوں کو   پیش کش کی تھی کہ فلسطین کی آزادی کے لیے اخوان شہادت کے لیے بے تاب اپنے ۱۰ہزار  نوجوان پیش کرنے کے لیے تیار ہیں…اخوان نے صہیونیوں کے خلاف جہاد میں باقاعدہ حصہ لیا۔ ۲۶مئی ۱۹۴۸ء کو ایک بہت مشہور معرکہ ’’رامات رحیل‘‘ کے مضبوط صہیونی قلعے پر ہواتھا۔ اخوان کے مجاہدین نے اس میں ۲۰۰؍اسرائیلی فوجی قتل کیے… لیکن ان تمام قربانیوں کے باوجود جنگ بند ہونے کے بعد، ۱۹۴۸ء ہی میں ایک فوجی حکم کے نتیجے میں اخوان پر پابندی لگادی گئی اور پھر ۱۲فروری ۱۹۴۹ء کو حسن البنا کو شہید کر دیا گیا‘‘۔ اخوان کی یہ تمام قربانیاں کسی سے مخفی نہیں ہیں لیکن اس اہم موقع پر اخوان کے مرشدعام کی طرف سے اس کا ذکر کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ احتیاط و حکمت مومن کی شان ہوتی ہے، لیکن اپنے اصولی موقف پر ثابت قدم رہنا بھی کامیابی کی اصل بنیاد ہوتی ہے۔ اب اسرائیلی تجزیہ نگار اپنے عوام کو تسلی دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ الاخوان المسلمون کو    ۲۰ فی صد سے زیادہ ووٹ نہیں ملیں گے۔ وہ اگر حکومت میں آئے بھی تو یہ ایک مخلوط حکومت ہوگی جس کی ساری پالیسیاں اخوان کے ہاتھ میں نہیں ہوں گی اس لیے خوف زدہ نہ ہوں۔

اس وقت مصر اور تیونس میں اسلامی تحریک کی تمام تر توجہ نئے مرحلے میں اپنا کام منظم و مربوط کرنے پر مرکوز ہے۔ گذشتہ تقریباً نصف صدی سے ان دونوں تحریکوں کو عذاب و ابتلا کا سامنا تھا۔ سارا تنظیمی ڈھانچا اور تمام دعوتی و تربیتی سرگرمیاں زیرزمیں چلی گئی تھیں۔ اب پورا کام دوبارہ برسرِزمین آرہا ہے۔ اخوان نے ۵۰سال کے بعد پہلی بار اپنی شوریٰ کا اجلاس علانیہ طور پر کیا ہے۔ اس تاریخی اجلاس میں دیگر امور کے علاوہ اپنی سیاسی جماعت حزب الحریۃ والعدالۃ   ’آزادی و انصاف پارٹی‘ کے قیام کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

پہلے اخوان کا نام تک غیرقانونی تھا۔ اب انھوں نے قاہرہ کے قلب میںاپنے شان دار مرکز کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ جون میں الحریۃ والعدالۃ پارٹی بھی اپنے مرکز کا باقاعدہ افتتاح کردے گی۔ اخوان کی مجلس شوریٰ میں ہونے والے فیصلوں کے مطابق یہ سیاسی پارٹی اپنی پالیسیوں اور سرگرمیوں میں مکمل طور پر آزاد و خودمختار ہوگی لیکن اپنے اہم فیصلوں میں اخوان سے بھی رہنمائی لے گی۔ پارٹی کے ذمہ داران کا تعین بھی باہم مشاورت سے ہی کیا گیا ہے۔ اخوان کے ایک اہم رہنما محمد مرسی اس کے صدر اور گذشتہ سیشن میں اخوان کے پارلیمانی لیڈر سعد الکتاتنی (۲۰۰۸ء میں مینارِ پاکستان پر منعقدہ جماعت اسلامی کے اجتماعِ عام میں اخوان کی نمایندگی کے لیے آئے تھے) اس کے سیکرٹری جنرل ہوں گے۔ ایک انقلابی اور دُوررس فیصلہ یہ بھی کیا گیا ہے کہ ایک قبطی مسیحی سیاسی لیڈر رفیق حبیب کو بھی الحریۃ والعدالۃ کے نائب صدور میں شامل کیا گیا ہے جس سے عوام میں یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ یہ جماعت سب مصری عوام کے لیے ہے۔

ادھر تیونس میں بھی انتخابات کی تاریخ قریب تر آتی جارہی ہے۔ ۲۴جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں شرکت کے لیے اب تک ۶۳ سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہوچکی ہیں، لیکن ان میں نمایاں جماعتیں انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں۔ تحریک نہضت ان میں سرفہرست ہے۔ بعض جائزہ کار آیندہ اسمبلی میں اس کا حصہ ۵۰ فی صد کے قریب بتارہے ہیں، جب کہ کم از کم بتانے والے بھی یہ تناسب ۲۰ فی صد بتاتے ہیں۔ تیونس میں فرانس اور مصر میں امریکا کی سربراہی میں بیرونی اثرورسوخ بھی نئے سرے سے اپنے پائوں جمانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ صدر اوباما نے اپنے حالیہ تاریخی خطاب میں تبدیل شدہ مصر کو بھی مالی امداد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مختلف امریکی تحقیقی ادارے تسلسل سے لکھ رہے ہیں کہ عالمِ عرب کی اسلامی تحریکیں ایک حقیقت ہیں، ہمیں ان کے ساتھ تعاون کی راہ نکالنا ہوگی۔ لیکن بدقسمتی سے یہ ساری حقیقت پسندی اس وقت کافور ہوجاتی ہے جب معاملہ فلسطین یا اسرائیل کا ہو۔ اسی خطاب میں صدر اوباما نے حماس اور الفتح کی مصالحت پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ جو تحریک اسرائیل کا وجود ہی تسلیم نہیں کرتی، الفتح نے اس کے ساتھ کیوں صلح کی۔ ایک مہم یہ بھی چلائی جارہی ہے کہ حماس نے اپنے پروگرام میں اسرائیل نام کی کوئی چیز تسلیم نہ کرنے کا جو اعلان کیا ہوا ہے وہ اسے حذف کر دے۔ گویا کہ خود گل ہی بوے گل سے براء ت کا اظہار کردے۔

۱۵مئی کے مظاہروں اور مصر و تیونس کے انقلابات نے پوری دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ظلم کی طویل رات جس قدر بھی طویل ہوجائے اسے بالآخر چھٹنا ہے۔ خالق کائنات بھی ظالم کی رسی دراز تو کرتا ہے لیکن جب مقہور و مظلوم نہتے، پُرامن عوام، خوف کا پردہ چاک کرتے ہوئے قربانیوں کے سفر پہ چل نکلیں تو تمام فرعونی نظام ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جانب رہنمائی فرمائی تھی کہ وہن، یعنی ’’دنیا سے محبت اور موت سے نفرت‘‘ تمھارا وتیرا ہوگا۔ تو جھاگ کی طرح کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود ساری دنیا تم پر بھوکوں کی طرح پل پڑے گی۔ آج یہ حدیث نبوی مدرسۂ رسالت کی سچائی پر گواہی دینے کے ساتھ ساتھ مظلوم و مقہور قوم کے لیے راہ نجات بھی واضح کر رہی ہے۔

 

  •  لیبیا: ذرا نام ملاحظہ فرمائیے: قَذّافُ الدَّم، ’’انتہائی خون بہانے والا‘‘۔ نام ہی شخصیت کا پورا تعارف پیش کرتا ہے۔ موصوف کرنل معمر قذافی کے قریبی رشتہ دار، قریبی مشیر اور خصوصی نمایندہ تھے۔ معمر قذافی کے شہرہ آفاق خطاب کہ جس میں اس نے احتجاج کرنے والے عوام کو چوہے ، کاکروچ اور نہ جانے کیا کیا قرار دیتے ہوئے ان پر تیل چھڑک کر بھسم کردینے کا اعلان کیا تھا کے بعد، قذاف الدم جیسے افراد نے بھی لیبیا چھوڑ کر مصر میں پناہ لے لی۔ بیرون ملک مقیم لیبیا کے درجنوں سفارت کاروں، متعدد وزرا اور فوجی جرنیلوں اور افسروں کی اکثریت نے بھی معمرقذافی کے ۴۲سالہ بلاشرکت غیرے اقتدار سے بغاوت و براء ت کا اعلان کرتے ہوئے انقلابی تحریک کی تائید کا اعلان کردیا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر قذافی صاحب آپے سے باہر ہوگئے اور اپنے ہی عوام کے خلاف بھرپور جنگ شروع کردی۔ عوامی انقلابی تحریک کے آغاز ہی سے لیبیا کے اکثر اہم شہروں میں پوری کی پوری آبادیاں قذافی کے خلاف نکل آئی تھیں۔ قذافی کا اقتدار صرف دار الحکومت طرابلس (Tripoly)سمیت تین شہروں کی ایک مختصر سی تکون تک محدود رہ گیا تھا۔ اس نے ان شہروں پر اپنا قبضہ بحال کرنے کے لیے ٹینکوں، جنگی جہازوں اور میزائلوں سمیت ہر ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا۔ یہیں سے لیبیا کی بدقسمتی کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے۔

تقریباً۱۸ لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل لیبیا ۱۸ لاکھ بیرل پٹرول روزانہ برآمد کرتا ہے۔ نائیجیریا، الجزائر اور انگولا کے بعد، تیل برآمد کرنے والے افریقی ملکوں میں لیبیا چوتھے نمبر پر آتا ہے۔ لیبیا سے نکلنے والا تیل دنیا میں شفاف ترین تیل کے زمرے میں آتا ہے، جسے صاف کرنے کے لیے سب سے کم لاگت آتی ہے۔ عالمی اندازوں کے مطابق لیبیا میں ۴۲ ارب بیرل تیل کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ تیل کے ساتھ ہی ساتھ لیبیا سالانہ ۱۰؍ ارب مکعب میٹر قدرتی گیس بھی برآمد کررہا ہے۔ وسیع و عریض ملک اور دولت کے ان انباروں کے مالک لیبیا کی آبادی صرف ۶۵لاکھ کے قریب ہے۔ لیبیا کو اگرچہ یورپی یا خلیجی ممالک کی طرح جدید سہولیات والا ملک تو نہیں بنایا گیا لیکن مجموعی طور پر لیبیا کی آبادی خوش حال سمجھی جاتی ہے۔ کوئی کمی تھی تو یہ کہ وہ خود کو اپنے ہی ملک میں قیدی تصور کرتی تھی۔ صدر قذافی جو اکثر کوئی نہ کوئی نیا فلسفہ یا نعرہ لگانے کے ماہر تھے،  کسی شخص کو حق اختلاف دینے کے حق میں نہ تھے۔ خبطِ عظمت کا شکار خود تو قرآن کریم کی آیات، انبیاے کرام ؑکی ہستیوں اور اسلامی مقدسات کے بارے میں بھی عجیب عجیب تبصرے و انکشافات کرتا رہتا تھا، لیکن عوام میں سے اگر کسی نے آواز بلند کی تو سرعام لٹکا دیا گیا۔ راقم کو جب بھی کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے لیبیا جانے کا اتفاق ہوا تو لیبین عوام کے سپاٹ چہرے دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔ ایک بار اس حیرت کا اظہار ایک اعلیٰ سطحی ذمہ دار سے بھی کیا کہ کسی چہرے پر سجی مسکراہٹ دکھائی نہیں دیتی؟ وہ اِدھر اُدھر دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا اور کوئی تبصرہ نہ کیا۔

تیونس اور مصر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لیبیا کے عوام نے بھی آزادی و حقوق کا نعرہ بلند کیا تو انھیں بخوبی اندازہ تھا کہ انھیں اپنے دونوں پڑوسیوں سے کہیں زیادہ قیمت چکانا پڑسکتی ہے۔ کرنل قذافی کا ماضی اور مزاج عوام کو ممکنہ نقصانات سے خبردار کررہا تھا، لیکن بالآخر سب پکار اُٹھے کہ اب یا کبھی نہیں۔ تحریک کا آغاز دار الحکومت سے دور چھوٹے شہروں اور لیبیا کے دوسرے بڑے شہر   بن غازی سے ہوا تو معمر قذافی کی گرفت تصور سے بھی کمزور نکلی۔ پولیس، انتظامیہ، فوج، سب مظاہرین کے ساتھ شامل ہونے لگے۔ کچھ مقامات پر جھڑپیں ہوئیں لیکن تمام مظاہرین بار بار نعرہ لگا رہے تھے: سِلمِیّہ سِلمِیّہ، ’’پُرامن پُرامن‘‘۔ ساتھ ہی عوام نے کرنل قذافی سے پہلے شاہ ادریس کے زمانے کا سرخ، سبز اور سیاہ قومی پرچم لہرانا شروع کردیا۔

لیبیا کی ایک بدقسمتی یہ بھی تھی کہ ۸۰ کی دہائی میں صدر قذافی کے خلاف فوجی بغاوت کی کوشش کے بعد سے، ملک میں کوئی باقاعدہ فوج مضبوط نہ تھی۔ قومی فوج سے کہیں زیادہ مضبوط و مسلح، صدر قذافی اور اس کے بیٹوں کی ذاتی ملیشیا فورسز تھیں۔ انھیں خطرہ تھا کہ اگر ملک میں مضبوط فوج بنائی تو اس کا سب سے پہلا نشانہ خود انھی کو بننا پڑے گا۔ ملیشیا فورسز کے علاوہ انھوں نے بعض افریقی ممالک کو بڑی بڑی مالی امداد دے کر اپنی مٹھی میں لے رکھا تھا کہ بوقت ضرورت ان سے بھی کرایے کے سپاہی حاصل کیے جاسکیں گے۔ انھی تین عوامل (معمر قذافی کا مزاج، ذاتی وفادار ملیشیا فورسز اور کرایے کے سپاہی) نے انقلابی عوام کے خلاف مسلح کارروائیوں کو زیادہ مہلک بنادیا ہے۔

بے تحاشا جانی نقصان کے باوجود عوامی تحریک ایک کے بعد دوسرے شہر کی طرف بڑھنے لگی، تو قذافی صاحب نے ’’چپے چپے گھر گھر، در در،فرد فرد اور ایک ایک گلی کوچے سے صفایا کردیں گے‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے ان شہروں پر ناقابل بیان بم باری شروع کردی۔ ہاتھ سے نکل جانے والے شہروں میں ہی نہیں خود طرابلس میں بھی قتل و غارت کا بازار گرم کردیا۔ دار الحکومت سے جان بچا کر واپس آنے والے مزدور و ملازمت پیشہ پاکستانی عینی شاہد بتاتے ہیں کہ وہاں بھی لاشوں کے انبار تھے، جنھیں بڑے بڑے ٹرالروں میں بھر بھر کر ٹھکانے لگادیا گیا۔ ہاتھ سے نکل جانے والے تیل کے کنوؤں اور تیل کے ذخائر کو اڑا دیا گیا۔ اس ساری تباہی و بربادی اور خوں ریزی کا ہدف صرف یہ تھا کہ ۴۲ سالہ اقتدار کو مزید طوالت دی جائے۔ اب ایک طرف یہ ساری تباہی اور تباہ کن حملے تھے اور دوسری طرف نہتے عوام اور ان کا ساتھ دینے والے فوجی دستے کہ جن کے پاس زیادہ سے زیادہ ہتھیار چند ٹینک اور طیارہ شکن توپیں تھیں۔ قذافی صاحب نے ایک کے بعد دوسرے قصبے اور شہر کو فتح کرنا شروع کردیا اور بالآخر بن غازی کا محاصرہ شروع کردیا۔ سب تجزیہ نگار اور لیبیا کے شہری جانتے تھے کہ اگر قذافی ملیشیا بن غازی میں داخل ہوگئی تو ۱۰لاکھ کی آبادی والے اس شہر میں ناقابلِ بیان قتل عام ہوگا۔

عالم عرب اور عالم اسلام نے اس ساری پیش رفت کو دم سادھے دیکھا اور چند بیانات پر اکتفا کیا۔ امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک نے موقعے کو غنیمت جانتے ہوئے تیل کے سمندر پر تیرنے والے ایک اہم مسلمان ملک پر اپنا تسلط جمانے کے لیے پہلے ہی دن سے کارروائیوں کا آغاز کردیا۔ پہلے تو مغربی ممالک میں قذافی اور اس کے خاندان کے اربوں ڈالر کے کھاتے منجمد کرتے ہوئے بیرون ملک اس کی ساری دولت پر قبضہ کرنا شروع کردیا۔ صرف امریکا میں ۳۰؍ارب ڈالر منجمد کردیے گئے۔ قذافی صاحب نے اپنی دولت کئی ممالک میں تقسیم کررکھی ہے۔ ان میں سے اکثر ممالک نے ان کے اکاؤنٹ منجمد کردیے گئے اور تو اور تیونس نے بھی اپنے ہاں رکھے گئے اثاثے منجمد کردیے۔ قذافی نے قتل عام شروع کیا تو مغربی ممالک نے اسے جنگی مجرم قرار دینے کی بات کرتے ہوئے ملک سے باہر کہیں جانے کے راستے مسدود کردیے (ویسے قذافی صاحب سے اس کی توقع بھی کم تھی)، اور پھر اقوام متحدہ کے ذریعے لیبیا کو نو فلائی زون قرار دے دیا۔ ساتھ ہی بحر متوسط میں اپنے طیارہ بردار بحری بیڑے لاکھڑے کیے۔ اگر اس موقع پر بھی صدر قذافی ۴۲سالہ شخصی اقتدار پر اکتفا کرتے ہوئے اقتدار اپنے عوام کے سپرد کردیتا، تو لیبیا کے گرد بنایا جانے والا یہ سارا جال، تار تار کیا جاسکتا تھا لیکن  ع اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔

امریکا اور مغربی ممالک کویت پر عراقی صدر صدام حسین کے قبضے کی طرح، معمر قذافی کی خوں ریزی سے بھی ہمہ پہلو فوائد سمیٹنا چاہتے ہیں۔ لیبیا اور اس کے تیل پر قبضہ ان کی اولین ترجیح ہے۔ بدقسمتی سے وہ اپنا یہ ہدف لیبین عوام کے نجات دہندہ بن کر حاصل کررہے ہیں۔ کرنل قذافی اگر اپنی قوم کے لیے عذاب کی صورت اختیار کرگیا تھا تو اس سے نجات دلانے کے لیے اصل ٹارگٹ بھی اس کی ذات ہونا چاہیے تھی، دوسر ے نمبر پر اس کی جنگی مشینری ہوسکتی تھی لیکن صدر اوباما، اس کے جرنیلوں اور یورپی سربراہوں سمیت، سب دہرا چکے ہیں کہ صدر قذافی ہمارا ہدف نہیں ہے، ہم صرف اس کے جنگی جہازوں کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف قذافی ملیشیا تادم تحریر مختلف شہروں کا گھیرائو کرکے اس پر بم باری کررہی ہے۔ گویا قذافی کا رہا سہا اقتدار اور عوام پر اس کے حملوں کا فی الحال جاری رہنا، لیبیا پر مغربی ممالک کے تسلط کو باقی رکھنے کے لیے ناگزیر اور ضروری ہے۔ امریکی اور ناٹو افواج یہ نہیں چاہیں گی کہ دارالحکومت طرابلس سمیت پورے ملک میں امن قائم ہوجائے اور ایک جمہوری نظام کے مطابق وہاں کے شہری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے قابل ہوجائیں کیونکہ ایسا ہونے کا مطلب ہے لیبیا کا ان کے شکنجے سے آزاد ہوجانا۔

۸۰ کی دہائی سے صدام حسین اور اس کے تباہ کن ہتھیاروں کا بھوت دکھا دکھا کر امریکا نے کردستان پر نوفلائی زون قائم کیا تھا اور آج عراق کے اندر رہتے ہوئے بھی کردستان عملاً ایک الگ ریاست ہے۔ اس کا صدر، پرچم اور کرنسی تک الگ ہوچکی ہے اور کوئی دن جاتا ہے کہ اسے عراق کے رسمی نقشے سے بھی باہر کردیا جائے۔ اسی طرح لیبیا میں بھی امریکی اور یورپی ملکوں کی پوری کوشش ہوگی کہ لیبیا کو مشرقی اور مغربی لیبیا کی دو ریاستوں میں تقسیم کردیا جائے۔ فرانس نے قذافی کے اقتدار سے آزاد ہوجانے والے شہر بن غازی اور دیگر مشرقی شہروں میں قائم انقلابی نسل کا اقتدار، باقاعدہ تسلیم کرکے اس تقسیم کی جانب عملی قدم اٹھا دیا ہے۔

قذافی کے تشدد اور بیرونی افواج کی مداخلت کے ذریعے عالم عرب میں عوامی انقلابی تحریکوں کو بھی ایک سخت پیغام دیا گیا ہے۔ لیبیا کی اس صورت حال سے ایک بار تو سب عوامی تحریکوں کے سامنے یہ سوالیہ نشان آن کھڑا ہوا کہ کہیں ان پر بھی تو لیبیا جیسی آزمایش نہیں آجائے گی۔ خود عرب حکمرانوں کو بھی محسوس ہونے لگا کہ ہمیشہ کی طرح شاید اس بار بھی آہنی ہاتھ ہی اقتدار بچانے کا مؤثر ترین ہتھیا ر ہوگا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عرب عوام لیبیا کی صورت حال سے اپنی جدوجہد کے لیے مزید توانائی حاصل کررہے ہیں۔ وہ قربانیوں کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہوکر میدان میں آرہے ہیں۔ مصر میں عوامی احتجاج شروع ہوا تھا تو حسنی مبارک اور حواریوں نے کہا تھا: مصر کوئی تیونس نہیں ہے کہ یہاں بھی تبدیلی آجائے اور پھر حسنی مبارک چلا گیا۔ لیبیا میں تحریک کا آغاز ہوا تو قذافی اور اس کے بیٹوں نے کہا تھا: احنا مش تونس و مصر، ’’ہم تیونس اور مصر نہیں ہیں‘‘۔ آج جب دیگر عرب ملکوں میں عوامی تحریکیں شروع ہورہی ہیں تو اب عوام اپنے حکمرانوں کو کہہ رہے ہیں کہ ’’ہم لیبیا نہیں ہیں کہ ہم پر جنگ مسلط کردو‘‘ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خود لیبیا میں بھی حکمران نے ہزاروں بے گناہوں کا خون بھی اپنی گردن پر لے لیا، ملک بھی تباہ کردیا، ملک کا مستقبل بھی عوام کے بجاے استعماری قوتوں کے ہاتھ گروی رکھ دیا اور بالآخر کلی اقتدار سے یقینا ہاتھ دھونا پڑیں گے۔

لیبیا کی اس اندوہناک صورت حال کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ عالم اسلام میں امریکا کے خلاف شدید جذبات پائے جانے کے باوجود عوام ’’سامنے آگ اور پیچھے کھائی‘‘ کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ امریکی حملوں کی مخالفت کو قذافی اپنے لیے قتل کے اجازت نامے کے طور پر استعمال کررہا ہے ،اور قذافی کے قتل عام کے خلاف احتجاج کو امریکی اپنے لیے ایک کارڈ کی حیثیت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس صورت میں بہتر موقف وہی ہے جو الاخوان المسلمون نے اختیار کیا ہے۔ انھوں نے قذافی کے قتل عام اور امریکی حملوں کی یکساں اور شدید مذمت کی ہے، اور لیبیا کی عوامی تحریک کی بھرپور اور مکمل تائید و حمایت کی ہے۔ اس وقت بھی اخوان کی امدادی تنظیمیں لیبیا کے مختلف شہروں میں زخمی عوام کا علاج اور بھوک کے شکار لوگوں کو غذا فراہم کررہی ہیں۔ مصر سے آنے والے صحافی بتاتے ہیں کہ قذافی انتظامیہ کی اکثریت عوام کے ساتھ مل جانے کے بعد مصر اور لیبیا کی سرحدیں کھل گئی ہیں، شہری بلا روک ٹوک ایک دوسرے سے یوں مل رہے ہیں، جیسے دو بچھڑے بھائی آن ملے ہوں۔ ایک ہی قوم کو حسنی اور قذافی جیسے حکمرانوں نے تقسیم کر رکھا تھا۔

  •  یمن: دیگر ممالک میں چلنے والی تحریکوں میں سے اس وقت یمن کی تحریک مضبوط سے مضبوط تر ہورہی ہیں۔ یمن میں پرامن عوامی طاقت کا اظہار تمام ممالک سے زیادہ ہورہا ہے۔ لاکھوں افراد مختلف شہروں میں مستقل دھرنے دیے ہوئے ہیں۔ تحریک ختم کرنے کے لیے حکومت نے طاقت بھی استعمال کرکے دیکھ لی ہے۔ سیکڑوں شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں لیکن ان تمام کوششوں نے تحریک کو مزید آب و تاب بخشی ہے۔ گذشتہ ۳۳ سال سے اقتدار پر قابض ۷۰سالہ جنرل علی عبد اللہ صالح گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہا ہے۔ کبھی مظاہرین پر فائرنگ کی مذمت کرتا ہے، کبھی مزید سختی سے نمٹنے کی دھمکی دیتا ہے۔ کبھی ۲۰۱۳ء میں اور کبھی اس سال کے اختتام تک اقتدار چھوڑنے کی بات کرتا ہے۔ کبھی یہ کہتے ہوئے کہ ’’ہم خود اقتدار سے تنگ آچکے ہیں‘‘ مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہے، لیکن عملاً ملک کی تقریباً ۹۰فی صد آبادی کا یہ مطالبہ ماننے سے انکاری ہے کہ اِرْحَلْ چلے جاؤ۔

یمن گہری قبائلی تقسیم رکھتا ہے۔ ہر قبیلہ اپنی روایات، اپنا اسلحہ اور اپنے مردان کار رکھتا ہے۔ خوب صورت کمر بند کے ساتھ چوڑے پھل کا خمدار خنجر یمن کے قومی لباس کا لازمی جزو ہے۔ یمنی صدر کو اس کے عوام ’لومڑ کی طرح عیار‘ کا لقب دیتے ہیں۔ وہ سب سے زیادہ جانتا ہے کہ طاقت سے یمنی عوامی تحریک کو کچلنا ممکن نہیں ہے۔ اب وہ اس حقیقت سے بھی یقینا آگاہ ہوچکا ہوگا کہ کئی مہینوں سے ملک کی سڑکوں پر دن رات گزارنے والے لاکھوں عوام، اس کا اقتدار کسی صورت مزید برداشت نہیں کریں گے، لیکن جسے اقتدار کا نشہ لگ جائے اس کے لیے اسے چھوڑنا، جان کنی کا عالم بن جاتا ہے۔ ریشے ریشے سے کھنچ کھنچ کر روح اقتدار رخصت ہورہی ہوتی ہے، لیکن کسی معجزے کا منتظر مریضِ اقتدار، دیدے پھاڑے کبھی اپنی کرسی اور کبھی اپنے انجام کو دیکھتا اور مزید تڑپنا شروع کردیتا ہے۔ اب یمن کے بڑے بڑے قبائل صدر علی عبد اللہ صالح کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ وزرا، سفرا، کئی فوجی جرنیل، قریبی دوست، سب میدان میں جمع مظاہرین میں شامل ہوگئے ہیں۔ اس کا چہیتا داماد بھی عوام سے آن ملا ہے۔ مصری تجربے کی پیروی کرتے ہوئے، یمنی عوام بھی ہر جمعے تمام دنوں کی نسبت زیادہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ جمعہ ۲۵ مارچ کو یوم الرحیل (یومِ رخصت) منایا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس روز ۳۰ سے ۴۰ لاکھ لوگ مختلف شہروں کی سڑکوں پر ہوتے ہیں، لیکن جان کنی کا شکار صدر ابھی سیر نہیں ہوا۔ وہ بھی ملک بھر سے اپنے چندہزار حامیوں کو اکٹھا کرتے ہوئے اسے اپنے حق میں عوامی ریفرنڈم قرار یتا ہے لیکن اب سب کو یقین ہے کہ دل کا جانا ٹھیر گیا ہے۔

یمن میں کسی حد تک جمہوریت پہلے سے موجود ہے۔ چند اپوزیشن جماعتیں بھی موجود ہیں۔ التجمع الیمنی للاصلاح کے نام سے اسلامی تحریک بھی ہمیشہ ۵۰ سے ۶۰ کے درمیان ارکان اسمبلی رکھتی ہے، لیکن حکمران پارٹی کی تقریباً دو تہائی اکثریت متاثر نہیں ہوئی ہے۔ آج یمن کی سڑکوں پر جمع عوام، اس ابدی اکثریت کا پردہ چاک کررہے ہیں۔ صدر علی بھی حسنی مبارک کی طرح صاحب زادے کو اقتدار منتقل کرنا چاہتا تھا، اب انجام بھی یکساں ہونے کو ہے۔

  •  شام: شام میں جبر کا شکنجہ عالم عرب کے بدترین نظاموں میں سے ایک ہے۔ ۸۰ کی  دہائی میں حماۃ اور حلب میں سابق صدر حافظ الاسد نے اخوان المسلمون کے خلاف ناقابل بیان مظالم ڈھاتے ہوئے، تقریباً پوری کی پوری آبادی کو تہ تیغ کردیا تھا۔ تب سے آج کے اس لمحے تک، ہزاروں افراد جیلوں میں لاپتا ہیں۔ ہزاروں خاندان دنیا بھر میں مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور جگر تھام کر سنیے کہ آج بھی شام میں اخوان سے وابستگی کی سزا موت ہے۔ بشار الاسد نے وراثت میں اقتدار حاصل کیا تو عرصے تک سیاسی اصلاحات کی بین بجاتا رہا، لیکن عملاً کوئی تبدیلی نہ آئی۔ شامی حکومت نے عالمِ اسلام اور اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ہمیشہ اسرائیل سے لڑائی کا کارڈ استعمال کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تحریکوں حماس اور جہاد اسلامی سمیت دیگر تنظیموں کو دنیا بھر میں اگر کہیں پناہ حاصل ہے تو وہ شام ہے۔ شام نے اگرچہ اپنے مقبوضہ علاقے، گولان کی پہاڑیوں کو واگزار کروانے کے لیے کبھی کوئی مؤثر اقدام نہیں کیے، لیکن فلسطینی تنظیموں کی مکمل پشتیبانی کی۔ کاش! شامی حکومت اپنے عوام کو بھی آزادیاں دیتے ہوئے انھیں اپنے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونے کا موقع دیتی، تو عظیم اسلامی تاریخ کا وارث یہ ملک کئی حوالوں سے مثالی بن جاتا۔ اب شام کے ایک چھوٹے سے قصبے درعا سے تحریک کا آغاز ہوا ہے۔ حکومت نے حسب سابق طاقت استعمال کرتے ہوئے پہلے ہی روز ۲۰؍افراد شہید کردیے ہیں، بدقسمتی سے یہ مظاہرین ایک مسجد، مسجد عمری میں شہید کیے گئے۔ نہ جانے تمام ڈکٹیٹر ایک جیسی غلطیاں ہی کیوں دہراتے ہیں۔ بشار الاسد کے اس اقدام سے تحریک کو حسب توقع تقویت ملی۔ درعا ہی نہیں، اب ہر روز شام کے تقریباً ہر شہر میں چھوٹے بڑے مظاہرے ہو رہے ہیں اور سب ڈکٹیٹر جان چکے کہ اب یہ سلسلہ روکے سے نہ رُک سکے گا۔

بشار انتظامیہ نے اس کا ادراک کرتے ہوئے، ملک میں فوری طور پر بنیادی اصلاحات کا اعلان کیا۔ ان اصلاحات کے جائزے ہی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت ملک میں کیسا نظام رائج ہے۔ بشار الاسد کی خصوصی مشیر بُثَینَہ شعبان نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ملک میں متعدد سیاسی اور معاشرتی اصلاحات کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں ملک سے ایمرجنسی کے فوری خاتمے، شہریوں کو پرامن زندگی کے یکساں مواقع دینے، ملک میں سیاسی پارٹیوں کی تشکیل کے قانون، ذرائع ابلاغ کو مزید آزادیاں دینے اور تنخواہوں میں اضافے جیسی ’اصلاحات‘ شامل ہیں۔ صحافی نے سوال کیا کہ ان پر عمل درآمد کب سے شروع ہوگا؟ بثینہ نے کہا: آج سے اور فوری طور پر۔ ذرا ان سابق الذکر اصلاحات پر ایک نگاہ دوڑائیے۔ ان میں سے کون سی ایسی انوکھی چیز ہے جسے حکومت کا کوئی بڑا کارنامہ سمجھا جائے؟ تاہم شام کے تناظر میں یہ بھی بہت نمایاں اصلاحات ہیں، اور یہ بھی اس وقت کی جارہی ہیں جب عوامی تلوار حکومت کی گردن سے آن لگی۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ اب بھی اس اعلان پر عمل کتنا ہوتا ہے؟

ایک وقت تھا کہ شام کے بہت سارے دوست حکومت اور اپوزیشن بالخصوص حکومت اور اخوان کے مابین گفت و شنید کے لیے جوتیاں چٹخاتے رہے۔ اس وقت مطالبات صرف یہ تھے کہ طویل عرصے سے گرفتار لوگوں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کردیا جائے۔ ملک میں سیاسی آزادیاں دی جائیں اور حکومت اور عوام باہم اعتماد کی بنیاد پر ملک و قوم کی خدمت کریں۔ شامی حکومت کا جواب ہوتا تھا: ’’یہ وہ سرخ لکیر ہے جسے ہم عبور نہیں کرسکتے‘‘۔ شام کی عوامی تحریک کو ابھی کئی مشکل مراحل کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن تبدیل شدہ عرب دنیا میں اب اس کا کوئی امکان نہیں ہے کہ بشار حکومت اپنی متکبرانہ ڈکٹیٹر شپ اسی طرح جاری رکھ سکے۔ تمام ظالم حکمرانوں کو معلوم ہے کہ آج کی دنیا میں عوام پر ظلم ڈھانا اور انھیں بنیادی حقوق سے محروم رکھنا خود اپنے ہی ہاتھوں اپنی قبر کھودنے کے مترادف ہے۔

  •  بحرین: لیبیا، یمن، شام اور اُردن کی طرح بحرین میں بھی صورت حال سنگین ہے۔ باقی تمام ممالک میں عوامی تحریکوں کا ایک نمایاں اور مثبت ترین پہلو یہ تھا کہ وہ تمام تر جماعتی، مذہبی، علاقائی یا لسانی تقسیمات سے بالاتر تحریکیں ہیں۔ مصر میں مسلم اور مسیحی، اخوانی اور سیکولر یک زبان ہیں۔ یمن میں شمالی اور جنوبی، تحریکی و بائیں بازو والوں سمیت، سب اکٹھے ہیں۔ شام، لیبیا اور تیونس میں بھی یہی کیفیت ہے۔ بدقسمتی سے بحرین میں یہ صورت نہیں ہے۔ یہاں شیعہ اور سُنّی آبادی کے درمیان مسلح جھڑپوں کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ بحرین اور کویت خلیج کی دو منفرد ریاستیں ہیں جہاں بادشاہت کے ساتھ ہی ساتھ کسی نہ کسی حد تک سیاسی آزادیاں بھی دی گئی ہیں۔ دونوں ریاستوں میں باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں۔ گذشتہ انتخابات میں بحرینی شیعہ آبادی نے تمام جماعتوں سے زیادہ (۴۰ میں سے ۱۸) نشستیں حاصل کیں۔ ان کے کئی ارکان کابینہ میں بھی شامل ہوئے اور ملک میں متعدد اہم پوزیشنوں پر بھی فائز ہیں۔ اگر معاملہ صرف ملوکیت کے نظام میں مزید اصلاحات و آزادیوں تک ہی محدود رہتا، تو یہ شاید سارے خطے کے لیے کئی مثبت پہلو لے کر آتا، لیکن یہاں نہ صرف ساری تحریک، شیعہ اکثریت کا غلبہ ثابت کرنے کے لیے وقف ہوگئی، بلکہ اسے بحرینی حکمران خاندان کی مخالفت سے آگے بڑھاتے ہوئے، کئی دیگر ممالک کے خلاف اظہار نفرت میں بھی بدل دیا گیا۔ چند سال پہلے بحرین میں طویل عرصے سے مقیم غیر ملکی باشندوں کو بحرینی قومیت دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ایران اور پاکستان سمیت کئی ملکوں کے باشندوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا اور پہلی بار کسی خلیجی ریاست میں پاکستانی نژاد بحرینی شہری بھی دیکھنے کو ملنے لگے۔ حالیہ تحریک میں احتجاجی مظاہرین نے پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کئی افراد پر ہلہ بول دیا۔ ۱۰؍ افراد جاں بحق اور بڑی تعداد میں زخمی ہوگئے ۔ ان پاکستانیوں کا جرم صرف اتنا تھا کہ حملہ آوروں کے بقول انھیں شہریت ملنے سے شاید ریاست کے مذہبی تناسب میں خلل واقع ہوسکتا ہے۔ ان پاکستانیوں کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ ان میں سے ایک تعداد وہاں کی پولیس یا فوج میں ملازمت کرتی ہے۔

گروہی ، مذہبی، علاقائی یا لسانی تعصبات، دین اسلام کی حقیقی روح اور بنیادی تعلیمات سے متصادم ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو سب سے زیادہ نقصان اسی شیطانی ہتھکنڈے سے پہنچایا گیا ہے۔ آج سے کئی سال پہلے ’مشرق وسطی کے نئے نقشے‘ میں امریکی استعمار نے فارسی شیعہ ملک ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے بحرین، سعودی عرب کے مشرقی علاقوں اور عراق کے ایک علاقے پر مشتمل، ایک عرب شیعہ ریاست تشکیل دینے کا ابلیسی خواب دیکھا تھا۔ حالیہ عرب عوامی تحریکات اس پورے ابلیسی نقشے کو ناکام بنانے کا سب سے سنہری موقع ہیں۔ اگر اس اہم موقعے کو بھی تنگ نظری پر مشتمل تعصبات کی نذر کردیا گیا، تو یہ ایک بڑے خسارے کی بات ہوگی۔ بحرین کے حالیہ واقعات میں تمام پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان، ایران اور سعودی عرب کو تمام تر تعصبات سے بالاتر رہنا ہوگا۔

  •  مشرق وسطٰی کے لیے نقشۂ کار: اس ضمن میں مصری عوام نے اپنے قول ہی سے نہیں اپنے عمل سے بہترین مثال پیش کی ہے۔ انھوں نے دوران تحریک بھی کسی حزبی یا مذہبی تعصب کو قریب نہیں پھٹکنے دیا۔ مسیحی پادریوں کو بھی نماز جمعہ کے اجتماعات سے مخاطب ہونے کا موقع دیااور حسنی مبارک کے بعد کے مراحل میں بھی ملک کی تمام پارٹیوں کو متفق علیہ پالیسیاں اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔ عبوری دستوری ترامیم پر ریفرنڈم ہوا تو اختلاف کرنے والوں کی راے کو یکساں اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنڈم میں ’ہاں‘ اور ’ناں‘ کہنے والے سب افراد کی راے قیمتی ہے۔ اہم ترین ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ہم باہم اختلاف کرنے کا سلیقہ سیکھ لیں۔ ریفرنڈم میں ۲ء۷۷ فی صد نے ترامیم کے حق میں اور ۸ء۲۲ فی صد نے خلاف ووٹ دیا۔ لیکن اصل کامیابی یہ تھی کہ گذشتہ نصف صدی سے زائد عرصے میں یہ پہلے انتخابات تھے، جن میں ووٹروں نے مکمل آزادی سے،  مکمل شفاف ووٹنگ میں حصہ لیا۔

حالیہ دستوری ترامیم میں پورا دستور معطل کرنے کے بجاے چند بنیادی اصلاحات منظور کی گئی ہیں۔ تا عمر عہدۂ صدارت پر براجمان رہنے کی راہ بند کرتے ہوئے، زیادہ سے زیادہ دو صدارتی مدتوں کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ اب آیندہ نومبر میں پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔ منتخب پارلیمنٹ (سینٹ اور اسمبلی) ۱۰۰ رکنی تاسیسی دستوری کمیٹی منتخب کرے گی جو ملک کے لیے جامع دستور تشکیل دے گی۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ دستور کا مسودہ کوئی منتخب کمیٹی تیار کرے گی۔ انتخابات کے بعد چھے ماہ کے اندر اندر نیا دستوری مسودہ تیار ہوگا، پھر ۱۵روز کے اندر اس پر ریفرنڈم کرواتے ہوئے ایک متوازن اور شورائیت پر مبنی نظامِ حکومت تشکیل دیا جائے گا۔

الاخوان المسلمون نے اس ریفرنڈم میں بھرپور حصہ لیا ہے اور اب ایک اور اہم ترین پیش رفت کرتے ہوئے تمام سیاسی پارٹیوں کو بلاکر ایک مشترکہ انتخابی پروگرام پیش کیا ہے جس کے تقریباً تمام نکات متفق علیہ منشور کی حیثیت اختیار کرسکتے ہیں۔ دنیا کے اکثر تجزیہ نگار متفق ہیں کہ اخوان چاہے تو پارلیمنٹ میں بآسانی اکثریت حاصل کرسکتی ہے لیکن اخوان نے دعوت دی ہے کہ اگر سب پارٹیاں اتفاق کریں تو ہم پورے ملک میں مشترک انتخابی پینل تشکیل دے سکتے ہیں۔ باہم لڑنے اور مقابلہ کرنے کے بجاے قومی مفاہمت سے انتخابات میں حصہ لیا جائے۔ اخوان کا نمایاں ترین نعرہ ہے: المشارکۃ لا المغالبۃ، ’’غلبہ نہیں شرکت‘‘۔ مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ ہم تمام نشستوں پر اُمیدوار کھڑے  نہیں کریں گے اور تمام پارٹیوں کے ساتھ مل کر متفق علیہ قومی ایجنڈے کی آبیاری کریں گے۔ اخوان کے اس بڑے پن کا خوش گوار اثر مرتب ہوا ہے اور کئی جماعتوں نے اس پیش کش کا مثبت جواب دیا ہے۔ تقریباً یہی نقشۂ کار تیونس میں تحریک نہضت اسلامی کے سربراہ شیخ راشد الغنوشی نے پیش کیا ہے۔ جس سے مصر اور تیونس میں معاشرے کو دینی جماعتوں کے اقتدار سے خوف زدہ کرنے کا پروپیگنڈا دم توڑ گیا ہے۔

عالمِ عرب میں رُوپذیر یہ سب تبدیلیاں اتنی دُور رس، اچانک اور ہمہ گیر ہیں کہ ان کے بارے میں اکثر لوگوں کو مختلف شکوک و شبہات نے آن گھیرا ہے۔ واقعات کی حدت اس تیزی سے ایک کے بعد دوسرے ملک میں پہنچ رہی ہے کہ مسلسل چرکے سہنے والے اب اس فکرمندی کا شکار ہورہے ہیں کہ کہیں یہ سب کیا دھرا امریکا یا بیرونی طاقتوں ہی کا تو نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسی طرح کی تشویش خود امریکی مغربی اور اسرائیلی مراکز میں بھی اسی شدت سے پائی جاتی ہے۔ سب سوچ بچار کر رہے ہیں کہ ہمارے تھنک ٹینک اور جاسوسی ادارے ان تبدیلیوں کا ادراک پہلے کیوں نہیں کرسکے۔ حماس کے ایک اعلیٰ ترین ذمہ دار کہہ رہے تھے کہ: تبدیلیاں یقینا ساری دنیا کے لیے اچنبھا خیز تھیں، لیکن ہم میں اور ان میں فرق یہ ہے کہ انھوں نے ہر ممکنہ تبدیلی کی روشنی میں متبادل حکمت عملی تیار کر رکھی ہے۔ اسرائیل نے اس مفروضے کو سامنے رکھتے ہوئے کہ اگر ہمارے نہ چاہنے کے باوجود بھی مصر میں اسرائیل دشمن حکومت آگئی تو متبادل پالیسی کیا ہوگی؟ کا جواب تیار کررکھا ہے۔ امریکا، مغربی ممالک اور صہیونی ریاست اب اسی تبدیل شدہ صورت حال سے اپنے مفاد حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وہ ہرلمحے یہ سعی کریں گے کہ جہاں جہاں تبدیلی آرہی ہے وہاں اپنے خدمت گزار افراد اور من پسند نظام لاسکیں لیکن قربانیاں دینے والی عوام کی اکثریت مطمئن ہے کہ جس طرح تبدیلیوں کا آغاز مغرب کے نہ چاہنے کے باوجود اور اچانک ہوا ہے، اسی طرح ان تبدیلیوں کی تکمیل بھی ان کے لیے باعثِ راحت نہیں ہوگی۔ البتہ وہ اس میں سے کسی نہ کسی حد تک اپنا حصہ ضرور حاصل کرلیں گے۔ میدانِ عمل میں موجود کارکنان کو یقین ہے کہ اگر وثوق و رسوخ اور ہمہ گیر جدوجہد کے ساتھ تبدیل شدہ صورت حال میں عرب عوام آگے بڑھتے گئے تو عرب دنیا میں یقینا ایک نیا اسٹیج ترتیب پائے گا۔ امریکا کے غلام، جابر فرعونوں اور بے تحاشا ملکی وسائل کو شیرِ مادر کی طرح ڈکار جانے والے کرپٹ حکمرانوں سے آزاد عرب ممالک اور خوفِ خدا سے سرشار اسلامی تحریکیں، اس نئی دنیا میں خدمت و اصلاح کی نئی تاریخ رقم کریں گی۔ وَلَیْسَ ذٰلِک عَلَی اللّٰہِ بِعْزِیْز، ’’اللہ کے لیے یہ کام یقینا کوئی مشکل نہیں‘‘۔

 

۶۲ سال پہلے، ۱۲ فروری ۱۹۴۹ء کا سورج غروب ہورہا تھا تو کرایے کے غنڈوں نے قاہرہ میں اللہ کے ایک ولی حسن البنّا کو گولیاں مارکر شہید کردیا۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کا خیال تھا کہ الاخوان المسلمون کے بانی اور قائد کو راستے سے ہٹا دیں گے تو پوری تحریک خود بخود ختم ہوجائے گی۔ ٹھیک ۶۲ سال بعد ۱۲ فروری ۲۰۱۱ء کا سورج طلوع ہورہا تھا تو کئی عشروں سے مصری قوم کی گردنوں پر سوار ڈکٹیٹر اپنی آمریت کی لاش اُٹھا رہا تھا، اور دوست دشمن سب کہہ رہے تھے کہ: ’’الاخوان المسلمون آج مصر کی سب سے بڑی قوت ہے۔ مصر کا مستقبل اب اخوان کے ہاتھ میں ہے‘‘۔

برطانوی اشاروں پر حسن البنا کو شہید کرنے والا شاہ فاروق، ۱۹۵۲ء میں چلا گیا۔ اس کے بعد بریگیڈیئر نجیب نے اقتدار سنبھالا۔ ۱۹۵۴ء میں اس کا تختہ اُلٹ کر کرنل جمال ناصر برسرِاقتدار آگیا۔ ۱۹۷۰ء میں اس کی موت کے بعد جنرل انور السادات نے حکومت سنبھالی اور ۱۹۷۹ء میں اس کے قتل کے وقت ساتھ والی کرسی پر براجمان مصری فضائیہ کا افسر اعلیٰ حسنی مبارک آگیا،      اب وہ سب چلے گئے۔ فَمَا بَـکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَآئُ وَالْاَرْضُ وَمَا کَانُوْا مُنْظَرِیْنَo (الدخان ۴۴:۲۹) ’’نہ زمین ان پرروئی اور نہ آسمان اور نہ انھیں باقی چھوڑا گیا‘‘۔ اگر باقی رہے تو کمزور سمجھے جانے والے اس کے مخلص بندے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ایک بار پھر مجسم حقیقت کی صورت میں سامنے آگیا: کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ ط فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْھَبُ جُفَآئً وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِط کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَo(الرعد ۱۳:۱۷) ’’اللہ حق اور باطل کے معاملے کو اسی طرح واضح کرتا ہے۔ جو جھاگ ہے وہ اڑجایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھیر جاتی ہے۔ اس طرح اللہ مثالوں سے اپنی بات سمجھاتا ہے‘‘۔

تین ہفتے پہلے تک کسی کے سان گمان میں بھی نہ تھا کہ ۳۰ سال سے سیاہ و سفید کامالک بنا بیٹھا، فرعونِ مصر، نیل کی عوامی موجوں میں غرقاب ہونے والا ہے۔ اپنے فرار سے تقریباً ۱۹ گھنٹے پہلے، رات گئے قوم سے خطاب کرتے ہوئے وہ خود بھی یہی کہہ رہا تھا ’’مصری قوم جانتی ہے کہ محمدحسنی مبارک کون ہے، مجھے کہیں نہیں جانا، مجھے یہیں (اقتدار ہی میں) جینا مرنا ہے‘‘۔ لیکن پھر شہرشہر اور قصبے قصبے میں سڑکوں پر جمع یہ کروڑوں افراد غصے سے پھٹ پڑے۔ پورا ملک چلّا چلّا کر ایک ہی لفظ دہرانے لگا: اِرحَل ۔۔اِرحَل ۔۔اِرحَل ۔۔ ’’چلے جاؤ --- چلے جاؤ --- چلے جاؤ‘‘۔ پھر صرف ۱۹گھنٹے بعد ہی اس کا نائب صدر اور انٹیلی جنس کا سربراہ عمر سلیمان پردۂ سکرین پر نمودار ہوا اور مختصر ترین خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا: ’’جناب صدر نے منصب صدارت سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔ سب نے سُکھ اور آزادی کا سانس لیا۔ بندوق اور بندوق بردار شکست کھا گئے، مقہور و مظلوم عوام فتح یاب قرار پائے!

تیونس کی تحریک کے نتیجہ خیز ہونے میں تقریباً ایک ماہ لگا تھا اور اس دوران ۷۸ افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ مصر کا جابر حکمران سفاک بھی زیادہ تھا، اقتدار میں بھی زیادہ عرصے سے تھا، مشرق وسطیٰ میں اس کا کردار اہم ترین تھا۔ دنیا کے اکثر شیطان، بالخصوص اسرائیل اسے بچانے کے لیے بے تاب و متحرک بھی تھا۔ اس کے خلاف تحریک کو کامیابی حاصل کرنے میں ۱۸ روز لگے، اس دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۳۶۷؍ افراد شہید، ۵ہزار سے زائد زخمی ہوئے، لیکن عوام کو فتح حاصل ہوئی تو قوم نے یہ سارے دکھ مسکراتے ہوئے جھیل لیے۔ تیونس کے دُور دراز قصبے سیدی بوزید، میں ایک بے نوا ٹھیلہ بردار کا ٹھیلہ کیا الٹایا گیا کہ پورے عالم عرب میں تخت اُلٹنے کا آغاز ہوگیا۔ تاریخ کے اس اہم ترین موڑ اور اہم ترین تبدیلیوں کے اثرات و نتائج بہت دور رس ہوں گے۔ آئیے اس عوامی تحریک کے کچھ حقائق اور اس کے نتائج کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

پس منظر اور محرکات

  •  یہ عوامی تحریکیں ان ممالک میں حکمرانوں کے ظلم و جبر اور استبداد کا منطقی نتیجہ ہیں۔ گذشتہ صدی میں استعمار سے آزادی کے بعد یہ سورما، خطے میں استعماری مفادات کے سب سے بڑے محافظ تھے لیکن اپنے عوام کو بھیڑ بکریوں سے زیادہ اہمیت نہ دیتے تھے۔ اپنے عوام کو اونچی آواز میں سانس تک لینے کی اجازت نہیں تھی۔ فی ظلال القرآن جیسی عظیم تفسیر لکھنے والے سید قطب جیسے قدسی نفوس کو اسی جرم کی پاداش میں پھانسی چڑھا دیا۔ اللہ کی طرف بلانے والوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ہزاروں لوگوں کو بدترین تعذیب و عقوبت کی نذر کردیا۔ مختلف اوقات میں الاخوان المسلمون کے درجنوں افراد کو شہید اور ۳۰ ہزار سے زائد کارکنان کو جیلوں میں بند کردیا گیا۔ لیکن دوسری طرف یہی حکمران مکمل امریکی غلامی اور تابع داری کو دوام اقتدار کی ضمانت سمجھتے تھے۔ لاکھوں فلسطینیوں کی ہڈیوں پر کھڑی کی جانے والی صہیونی ریاست کی خدمت و حفاظت کو فرضِ منصبی اور تمغۂ اعزاز و افتخار گردانتے تھے۔ اب ان حکمرانوں کا روز حساب آیا ہے تو سب سے زیادہ تشویش کا شکار بھی اسرائیل ہی ہے کہ اس کا اصل خطِ دفاع شکست سے دوچار ہورہا ہے۔
  •  استعمار کی غلامی کے بعد ان حکمرانوں کی دوسری سب سے بڑی صفت، ان کی کرپشن، لوٹ مار اور بے حساب قومی سرمایے کو شیرِ مادر سمجھ کر ہڑپ کرنا تھی۔ تیونسی جلاد کی لوٹ مار کے قصے ابھی ختم نہیں ہوئے تھے کہ اب فرعونِ مصر کی دولت و ثروت کے انبار ایک ایک کرکے ظاہر ہونے لگے ہیں۔ عوامی انقلابی تحریک کے دوران خود مغربی ذرائع نے تصدیق کی کہ ۸۲سالہ حسنی مبارک کی دولت ۷۰ ارب ڈالر سے متجاوز ہے۔ دو بیٹوں جمال اور علاء اور بیگم سوزان مبارک کی دولت کتنی ہے، ابھی کسی کو معلوم نہیں۔ ایک سابق وزیر ہاؤسنگ حسب اللہ کفراوی اس کی ایک جھلک دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ایک روز علاء مبارک میرے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے قاہرہ سے ۳۸کلومیٹر دُور، نئے تعمیر کیے جانے والے جدید ترین شہر ’’۶؍اکتوبر‘‘ میں ایک ہزار ایکڑ جگہ چاہیے۔ میں نے حیران ہوکر کہا: بیٹے آپ شاید ہزار میٹر (ایک کنال) کی بات کررہے ہیں؟ کہنے لگا: نہیں ، ایک ہزار ایکڑ۔ میں نے اسے کہا کہ اچھا اپنے بابا (صدر جمہوریہ) سے کہیں کہ مجھ سے اس بارے میں بات کرلیں۔ کچھ ہی عرصے بعد حسنی مبارک سے کچھ اختلاف ہونے پر میں نے وزارت سے استعفا دے دیا اور اس سے اگلے روز ہزار ایکڑ زمین علاء حسنی مبارک کے نام لگ گئی۔

مصری ’مرکز براے اقتصادی و معاشرتی حقوق‘ نے محتسب اعلیٰ عبد المجید محمود کو ایک خط ارسال کیا ہے جس کے ساتھ ٹھوس دستاویزی ثبوت بھی لگائے گئے ہیں۔ ریفرنس نمبر ۱۶۲۲ کے ساتھ اس خط میں بتایا گیا ہے کہ ۱۱ فروری ۱۹۸۲ء کو محمد حسنی مبارک کے ذاتی نام پر ۱۹ ہزار ۴سوکلو  قیمتی پلاٹینیم سوئٹزر لینڈ کے سوئز یونین بنک کے پاس رکھا گیا ہے تب اس کی مالیت ۱۴؍ارب ڈالر لگائی گئی تھی۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان دستاویزات کے مطابق حکومت مصر سوئس بنک سے یہ ثروت واپس لے۔ یہ سب اربوں ڈالر تو ابھی دیگ کے چند چاول ہیں، ابھی قوم کے غم میں گھلنے والے ان حکمرانوں کے مکروہ چہروں سے ایک ایک کرکے کئی نقاب اترنا ہیں۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے پہلے کھلتا ہے یا کفن کے پردے میں پہلے لپیٹ دیا جاتا ہے۔ اقتدار سے جاتے ہی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں کہ حسنی مبارک کومے میں چلا گیا۔

غربت کے مارے مسلم ممالک کے عوام میں اگر صرف حکمران طبقے کی یہی لوٹی ہوئی دولت ہی تقسیم کردی جائے تو وہ خوش حال ہوجائیں۔ لیکن دولت کا سارا ارتکاز چند لٹیرے لیڈروں اور ان کے حواریوں میں ہوکر رہ گیا ہے۔ اکثر مسلم ممالک کی ۸۰ فی صد سے زائد آبادی کو غربت کے کانٹوں میں رگیدا جارہا ہے۔ یہ طبقاتی تفاوت تیسرا بنیادی سبب ہے کہ جس نے بالآخر پوری قوم کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔

  •  اس تحریک کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ یہ پوری قوم کی تحریک تھی۔ اگر یہ کسی ایک گروہ، جماعت یا مخصوص طبقے کی تحریک ہوتی تو شاید ان تمام مظالم کے سامنے ڈٹے رہنا بہت مشکل ہوتا۔ تحریک میں شامل تمام عناصر بھی اس حقیقت سے آشنا تھے۔ اس لیے کسی نے بھی اس تحریک کو اپنے نام لگانے کی کوشش نہیں کی۔ ۱۹ روز کی عوامی تحریک میں کروڑوں افراد سڑکوں پر آئے لیکن سب شرکا صرف قومی پرچم لے کر آئے، سب نے اصل قومی مطالبات پر مشتمل نعرے ہی لگائے۔ سب کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا: الشَّعبُ یُرید اِسقاطَ النِّظام، ’’قوم نظام (Regime) سے نجات چاہتی ہے‘‘۔ یہی نعرہ مختلف اوقات میں مختلف تبدیلیاں بھی دیکھتا رہا۔ جب صدر نے اپنے دوسرے خطاب میں بھی کرسی نہ چھوڑنے پر اصرار کیا تو نعرہ ہوگیا: الشَّعبُ یُرید اعدامَ الرَّئیس،’’ قوم صدر کو پھانسی دینا چاہتی ہے‘‘۔ عوام کامیاب ہوگئے اور ۱۸ فروری کو جمعۃ النصر منایا گیا تو لوگ نعرے لگا رہے تھے: الشَّعبُ یُرید تطہیر البِلَاد، ’’قوم (تمام فاسد عناصر کی) تطہیر چاہتی ہے‘‘۔ عالم عرب کے اہم ثقافتی و علمی مرکز مصر نے اس تحریک کے دوران عوامی نعروں کے سلسلے میں     اتنی زرخیز ذہنی کا ثبوت دیا کہ اب وہاں صرف ان نعروں، دل چسپ و جان دار بینروں اور اشتہارات و تصاویر پر مشتمل ایک پورا یادگاری میوزیم تشکیل دیا جارہا ہے۔ الشَّعبُ یُرید …کا نعرہ تو اب تمام عوامی تحریکوں کا شعار بن گیا ہے۔ بحرین، یمن، لیبیا، مراکش… ہرجگہ گونج رہا ہے۔
  •  تیونس اور مصر میں تحریک کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ان کے حکمرانوں نے ہمیشہ کی طرح اس موقع پر بھی دنیا کو یہ دھمکی دی کہ ہم نہ رہے تو یہاں شدت پسند اسلامی تحریکیں قابض ہوجائیں گی۔ کوئی اخوان سے ڈرا رہا تھا، کوئی القاعدہ سے اور کوئی امارت اسلامی سے۔ مصر میں آنے والی کوئی بھی تبدیلی براہِ راست اسرائیل سلامتی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ حسنی مبارک نے دورانِ تحریک بار بار واویلا مچایا کہ مصر میں یہ ساری احتجاجی تحریک الاخوان المسلمون چلا رہی ہے، مجھے نہ رکھا گیا تو یہاں ان ہی کی حکومت بنے گی، جس کا مطلب ہے کہ یہاں حماس کی حکومت ہوگی۔ اسرائیلی ذمہ داران نے بھی حسنی مبارک کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بار بار یہی دُہائیاں دیں کہ اس کا رہنا ناگزیر ہے، لیکن الحمد للہ مصری عوام نے اتحاد کو اپنی کامیابی کا مضبوط زینہ بنائے رکھا، اور بالآخر پوری دنیا کو ان کا ساتھ دینا پڑا۔

جمعہ ۱۱ فروری کی شام مصر کو حسنی مبارک سے نجات ملی، لیکن ایک شخص کے چلے جانے سے قوم واپس گھروں میں جا کر نہیں بیٹھ گئی۔ مزید دو روز ایام تشکر منانے کے بعد اعلان کیا گیا کہ جمعہ ۱۸ فروری کو میدان آزادی میں دوبارہ ملین مارچ ہوگا۔ اسے جمعۃ النصرکا نام دیا گیا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی نماز جنازہ کی امامت کرنے والے علامہ یوسف القرضاوی کو جمعۃ النصر   کا خطبہ دینے کے لیے خصوصی طور پر قطر سے مصر آنے کی دعوت دی گئی۔ اس روز مصر کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع دیکھنے میں آیا۔ ۳۰ لاکھ مردو خواتین تاحد نگاہ صف آرا تھے۔ علامہ قرضاوی نے قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُ کی تلاوت کرتے ہوئے خطبے کا آغاز کیا اور جامع خطبے میں مصری عوام اور اُمت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی کی۔ سبحان اللہ! ایک وقت تھا کہ یوسف القرضاوی صاحب پر سرزمینِ مصر اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ کردی گئی تھی۔ وہ پہلے مصری جیلوں میں قید رہے اور پھر مصر سے ہجرت کرجانے پر مجبور ہوئے، آج کروڑوں مسلمانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے فوج، حکومت اور پوری قوم سے مخاطب ہورہے تھے۔ فوج نے بھی عوامی اکثریت کا فیصلہ دیکھتے ہوئے جمعۃ النصر کے اجتماع میں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے قومی پرچم تقسیم کیے۔

اس یومِ نصر کی ایک اور اہم بات یہ تھی کہ خطبہء جمعہ سے قبل اسی سٹیج سے مصری مسیحیوں نے بھی اپنی عبادت کی۔ واضح رہے کہ اسکندریہ شہر میں واقع ایک عیسائی چرچ کے باہر ایک دھماکہ کرواتے ہوئے مسیحی مسلم فسادات کروانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اپنے مسیحی ہم وطنوں کو عبادت کا  پورا موقع دے کر ملّی یک جہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ خطبۂ جمعہ کے بعد اعلان کیا گیا کہ ہماری تحریک صرف ایک شخص نہیں، بلکہ پورے نظام کی تبدیلی کے لیے ہے۔ جب تک ہمارے بنیادی مطالبات تسلیم نہیں ہوتے ہم میدان عمل میں رہیں گے اور یہ حالیہ عوامی تحریک کا ایک اور اہم پہلو ہے۔

اگلے ہی روز اعلان ہوا کہ آیندہ مظاہرہ پیر ۲۱ فروری کو مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں ہوگا۔ اس مظاہرے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کا اعلان جامع مسجد القائد ابراہیم کے ۸۶ سالہ امام احمد المحلاوی نے کیا تھا۔ جناب محلاوی کو ۱۵سال قبل حسنی انتظامیہ نے إخوان سے تعلق کی وجہ سے خطبۂ جمعہ دینے سے منع کردیا تھا۔ تحریک کے دوران پورا شہر مل کر انھیں واپس مسجد ابراہیم کی خطابت کے لیے لے آیا۔ ۸۶ سالہ بزرگ عالم دین نے پوری تحریک کے دوران میں لاکھوں لوگوں کی قیادت کی اور ۱۸ فروری کے جمعۃ النصر میں اعلان کیا کہ اسکندریہ شہر میں بھی ۲۱فروری بروز پیر یوم تشکر منایا جائے گا۔ تمام حضرات و خواتین اس میں بھی اسی جوش و خروش سے شریک ہوں اور چوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کو عموماً روزہ رکھا کرتے تھے اس لیے ریلی کے شرکا بھی پیر کا نفلی روزہ رکھ کر آئیں۔ پیر کے مسنون روزے کا اعلان کوئی وقتی یا سطحی اقدام نہیں تھا۔ نفلی روزوں اور مسلسل تلاوت قرآن کا اہتمام، اخوان کے تربیتی نظام کا ایک مستقل حصہ ہے۔ ملک میں تبدیلی کے لیے قومی تحریک کے دوران بھی اس روحانی تربیت کا اہتمام کرنا، اس تحریک کا ایک اور انتہائی روشن اور سب کے لیے قابل تقلید گوشہ ہے۔ میدان التحریر میں اکثر ایسے مناظر دکھائی دیے کہ دو ہفتے سے زائد عرصے سے لوگ میدان میں دھرنا دیے ہوئے تھے۔ آغاز میں پولیس اور کرایے کے غنڈوں کے ساتھ مڈبھیڑ کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد بھی ان میں شامل تھی۔ سخت سردی، زخموں کی تکلیف اور طویل کش مکش کے دوران بھی، جس کو جب موقع ملا، اس نے جیب سے اپنا قرآن نکالا اور اپنے رب سے گفتگو شروع کردی۔

میدان التحریر سے آنے والے ایک معروف نوجوان اسکالر ڈاکٹر وصفی عاشور سے ۹فروری کو ملاقات کا موقع ملا۔ وہ بتارہے تھے کہ دن گزرنے کے ساتھ ساتھ شہدا کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے، لیکن لوگوں میں کوئی مایوسی، اضمحلال یا جھنجھلاہٹ نہیں ہے۔ وہاں مسلم مسیحی، بچے بوڑھے، مرد عورتیں، امیر غریب، سب شریک ہیں اور سب ایک کنبے کی طرح ہیں۔ ضرورت پڑے تو پی ایچ ڈی ڈاکٹر بھی جھاڑو اٹھا کر اپنے حصے کی صفائی میں حصہ لیتا ہے۔ لوگوں نے ڈیوٹیاں اور باریاں بانٹی ہوئی ہیں۔ خواتین گھروں سے کھانا تیار کرکے لاتی اور شرکا میں تقسیم کرتی ہیں۔ ہمیں تو بعض اوقات یقین نہیں آتا کہ یہ وہی مصری قوم اور یہ وہی مصر ہے جہاں ہم ۲۵ جنوری سے پہلے بھی رہتے تھے۔ پوری قوم محبت و اخوت کے گہرے رشتے میں پروئی گئی ہے۔ نوجوانوں کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ پوری تحریک کو بجاطور پر نوجوانوں ہی کی تحریک قرار دیا جارہا ہے۔ مجھے یاد آیا کہ گذشتہ سال انھی مصری نوجوانوں میں اخلاقی انحطاط کا بدترین واقعہ بھی اسی میدان التحریر کے ایک گوشے میں وقوع پذیر ہوا تھا۔ جب حکومتی سرپرستی میں نئے سال کا جشن مناتے ہوئے نوجوانوں کے ایک گروہ نے آدھی رات کی تقریبات کے بعد سرراہ، ایک مسلمان خاتون کی آبروریزی کرڈالی تھی۔ آج وہی نوجوان یہاں اپنی ماؤں بہنوں کی عزت کے رکھوالے کے طور پر موجود تھے۔ حسنی مبارک کے رخصت ہوجانے کے بعد اب یہی نوجوان مختلف شہروں کے گلی محلوں میں جاکر گھروں میں اشتہارات اور اسٹکر تقسیم کررہے ہیں کہ ’’بنیادی اہداف حاصل ہونے تک تحریک جاری رہے گی‘‘۔ گویا تحریک انقلاب پیغام دے رہی ہے کہ امت خیر سے معمور ہے، اسے روشن خیالی کے نام پر تباہ کرنے والی قیادت کی بجاے روزہ و قرآن سے محبت رکھنے والی قیادت مل جائے تو دنیا کی کایا بدل دے۔

خدشات و خطرات

تحریک انقلاب کے ان تمام روشن پہلوؤں اور کامیابیوں کے ساتھ ساتھ بہت سے گمبھیر اور سنگین چیلنج درپیش ہیں۔ ابھی کامیابی کا صرف پہلا ہدف حاصل ہوا ہے۔ فتنے کا سرکچلا جا چکا ہے لیکن باقی پورے کا پورا نظام جوں کا توں موجود ہے۔ عوامی تحریک کے دباؤ کے پیش نظر حکومت نے بعض وزرا کو جیلوں میں بند کردیا ہے۔ وزیر داخلہ کی حیثیت سے ہزاروں بے گناہ افراد کو     موت و ہلاکت سے دوچار کرنے والے وزیر داخلہ سمیت، تین وفاقی وزرا کو مکافات عمل نے  اخوان کے قیدیوں کے لیے معروف ’طرہ‘ جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا ہے، لیکن سابق نظام کے تقریباً تمام کل پرزے جوں کے توں اپنی اپنی جگہ برقرار ہیں۔ فوج نے عارضی طور پر اقتدار سنبھالتے ہوئے دستور اور پارلیمنٹ کو تو معطل کردیا، لیکن گذشتہ ۳۰ برس سے مسلط ایمرجنسی کو اب بھی نہیں ہٹایا گیا۔ سیکڑوں سیاسی قیدی اب بھی جیلوں میں بند ہیں۔ حسنی مبارک کا ذاتی دوست اور اسی کی طرف سے وزیراعظم مقرر کیا جانے والا فضائیہ کا سابق سربراہ احمد شفیق اب بھی حکومت چلا رہا ہے۔ سابق نظام ہی سے ۱۱؍ افراد کو وزیر مقرر کر دیا گیا ہے جسے ظاہر ہے عوام نے مسترد کردیا۔ فوج نے اگرچہ اخوان کے سابق رکن اسمبلی، معروف قانون دان صبحی صالح سمیت، جید ماہرین قانون پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے اور ایک معتدل، اسلام دوست اور معروف قانون دان ڈاکٹر طارق البِشری اس کے سربراہ ہیں۔ فوج کے سربراہ نے اس کمیٹی کی تجویز کردہ ترامیم پر دو ماہ کے اندر اندر ریفرنڈم کروانے اور چھے ماہ کے اندر قومی انتخابات کروانے کا وعدہ کیا ہے، لیکن یہ خدشہ بدستور موجود ہے کہ ۱۹۵۲ء سے اقتدار کے ایوانوں میں براجمان فوج اب بھی اقتدار کی راہ داریوں سے باہر آنے سے انکار کردے۔ ان کے پیش رو کرنل ناصر بھی انقلاب کے بعد بہت خوش نما دعوے اور وعدے کیا کرتے تھے۔ سادات نے آکر اخوان کے مرشدعام عمرتلمسانی اور ان کے بہت سے ساتھیوں کو جیلوں سے رہا کیا۔ دستور میں یہ ترمیم شامل کی کہ ’’قرآن و سنت تمام قوانین کا اصل مآخذ ہوں گے‘‘، اور بھی کئی اقدامات کیے لیکن پھر جو پینترا بدلا تو اپنے سارے پیش روؤں کو پیچھے چھوڑ گیا۔ حسنی مبارک نے بھی آکر اخوان سے مذاکرات کیے۔

مصری قوم کو یہ سارے تلخ حقائق یاد ہیں۔ اگر فوج اور سابق نظام کے فساد زدہ کل پرزوں نے بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر، پوری تحریک انقلاب کے ثمرات اکارت کرنے کی کوشش کی ،تو یہ ایک بڑی بدقسمتی ہوگی جو عوام کو کسی صورت قبول نہ ہوگی۔ انھی خدشات کے پیش نظر عوام نے اپنی تحریک کو مسلسل جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ہرجمعے کو بڑے بڑے اجتماعات، ریلیاں اور ملین مارچ جاری رہیں گے۔ تمام تجزیہ نگار اور سیاسی وقومی رہنما اس پر متفق ہیں کہ انقلاب کو لٹیروں سے محفوظ رکھنا انقلاب کی بڑی آزمایش ہوتی ہے۔ سب بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگرچہ کسی انقلاب کا آغاز کرنا بھی ایک مشکل کام ہوتا ہے لیکن اسے کامیابی کے ساتھ تکمیل تک پہنچانا اس سے بھی کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اگر خدانخواستہ انقلاب کو ادھورا یا بے نتیجہ چھوڑ دیا جائے تو نہ صرف یہ کہ دوبارہ کھڑے  ہونا دشوار تر ہوتا ہے، بلکہ شہدا کے خون سے غداری آخرکار ہر طرف خون کی ندیاں بہا دیتی ہے۔

شیطانی ترکش میں ایک خطرناک اور زہریلا تیر یہ بھی ہے کہ مختلف غلط فہمیاں پھیلاکر اور اپنے گماشتوں کو مختلف نام دے کر اس عدیم النظیر عوامی اتحاد میں رخنہ اندازی کی جائے۔ تحریک کے دوران بھی وہ یہ ہتھکنڈا آزما چکا ہے۔ پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کی ناکامی کے بعد اس نے ان اداروں کے ملازمین کو سادہ کپڑوں میں ملبوس کرکے اور انھیں حسنی مبارک کے حامیوں کا نام دے کر مظاہرین پر حملہ کروادیا (ان میں سے اکثر پکڑے جانے والوں سے ملازمت کے کارڈ برآمد ہوئے)۔ حملہ آوروں کے پاس خنجر، بھالے، سریے اور ڈنڈے تھے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار تھی۔ انھوں نے آتے ہی بھگدڑ مچادی۔ بڑی تعداد میں مظاہرین کو زخمی کردیا۔ ان کا اور انھیں بھیجنے والوں کا خیال تھا کہ یوں سراسیمگی پھیلانے سے مظاہرین چھٹ جائیں گے، اور دنیا میں بھی یہ تاثر دیا جاسکے گا کہ پوری قوم حکومت کی مخالف نہیں، اس کے حامی بھی شدید جذبات رکھتے ہیں۔ یہ گھٹیا ڈراما سراسر ناکام رہا۔ ایک ڈیڑھ روز کی ماردھاڑ کے بعد ہی ان حملہ آوروں کی ایک تعداد فرار ہوگئی اور ایک تعداد مظاہرین سے جاملی۔ اقتدار جاتا دیکھ کر ملک میں خانہ جنگی پھیلانے کی یہ ایک رذیل کوشش تھی، جسے اللہ نے ناکام بنا دیا۔ اقتدار میں بیٹھے لالچی اب بھی قوم میں اختلاف و انتشار پھیلانے کی کوئی اور سعی کرسکتے ہیں، لیکن مقام شکر ہے کہ اب تک تمام افراد نے بہت ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔

کچھ لوگ ان خدشات کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ یہ ساری تحریک امریکا، اس کے حواریوں اور خفیہ طاقتوں کی برپا کردہ تو نہیں؟ کیوں کہ یہ سب کچھ اچانک اور غیرمتوقع طور پر ہوا۔ اس کا کوئی ایک لیڈر نہیں ہے اور عملاً ابھی بہت سے سابق حکمران ہی براجمان ہیں۔ لیکن بہت سے حقائق کی روشنی میں یہ امر ایک واضح حقیقت ہے کہ تمام مغربی طاقتوں کے لیے بھی یہ ساری تحریک بالخصوص تیونس کی تحریک اتنی ہی اچانک اور غیرمتوقع تھی کہ جتنی خود بن علی کے لیے۔ تیونس اور مصر میں امریکا اور مغربی ممالک کی پالیسی تحریک کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہے۔ آغاز میں سب نے یہی کہا کہ عوام پُرامن رہیں، حکمران ان سے گفت و شنید کریں۔ معاملات آگے بڑھے تو کہا کہ عوام اور حکمران تشدد سے گریز کریں اور جب واضح ہوگیا کہ اب ان کا رہنا ممکن نہیں تو مکمل طور پر آنکھیں پھیر لیں اور تبدیلی کی حمایت شروع کر دی۔ اب پھر مغرب آزمایش کی بھٹی پر ہے۔ اس کی خواہش اور کوشش ہوگی کہ نیا نظام بھی انھی کی مرضی کا ہو، تابع فرمان رہے اور اسرائیلی مفادات کا محافظ ہو۔ کسی حد تک وہ اپنے ان مقاصد کو حاصل بھی کرسکتے ہیں، لیکن اب عوام بھی اپنی قوت اور اپنی جدوجہد کی برکات سے آشنا ہوچکے ہیں۔ حکمت و تدبر، احتیاط لیکن سرگرمی اور جہدِمسلسل سے کام لیا گیا تو ان شاء اللہ ایک حقیقی تبدیلی کو کوئی نہیں روک سکتا۔

الاخوان المسلمون

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخلص اُمتیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یکثرون عند الفزع ویقلون عند الطمع، خوف و آزمایش کے لمحات ہوں تو وہ سب کثیر تعداد میں آن موجود ہوتے ہیں، لیکن جب غنائم اور فوائد تقسیم ہورہے ہوں تو بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ حالیہ تحریک نے اخوان کا یہ تعارف بھی بدرجۂ اتم کروادیا۔ پوری تحریک کے دوران صدر اوباما سے لے کر صہیونی ذمہ داران تک اور میدان آزادی میں جمع ایک ایک فرد سے لے کر دنیا کا      ہر تجزیہ نگار کہہ رہا تھا کہ اخوان مصر کی سب سے بڑی اور سب سے منظم طاقت ہیں۔ اخوان ہی اس تحریک کی اصل طاقت اور ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ مصری حکومت جب بار بار مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ضرورت پر زور دے رہی تھی تو ایک روز وزیر دفاع (حالیہ فوجی صدر) خود  میدان آزادی میں جا پہنچا اور وہاں جمع لوگوں سے کہنے لگا: اپنے مرشد عام سے کہو کہ عمر سلیمان سے مذاکرات کرلے۔ خود عمر سلیمان نے بھی ٹی وی پر آکر کہا اخوان مذاکرات کرلے، یہ اس کے لیے سنہری موقع ہے۔ اخوان نے اس سے انکار کردیا۔ لیکن بعدازاں سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کے اصول پر عمل کرتے ہوئے، میدان التحریر میں جمع دیگر افراد کے ساتھ مل کر ۱۰ رکنی وفد میں اپنے بھی دو ذمہ داران کو شامل کیا اور میدانِ عمل کے علاوہ میز پر بیٹھ کر بھی اپنے اسی مضبوط موقف کا اعادہ کیا جو عوام کے جذبات کا صحیح عکاس تھا۔

پوری تحریک کے دوران مرشد عام اور مرکزی ذمہ داران دن رات اخوان کے مرکز میں بیٹھ کر تحریک کی قیادت و رہنمائی کرتے رہے۔ لیکن چونکہ فیصلہ تھا کہ اخوان نے پوری تحریک کو خود سے موسوم نہیں کرنا ہے ان مرکزی ذمہ داران میں سے کوئی میدان التحریر میں نہیں آیا۔ وہاں ان میں سے کوئی ایک ذمہ دار بھی آجاتا تو پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ اس پر ٹوٹ پڑتے، اور عوامی اور قومی تحریک کو ایک بنیاد پرست تحریک ثابت کرکے اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا جاتا۔ تحریک کے بعد مغربی میڈیا نے پھبتی کستے ہوئے کہا: ’’اخوان نے بہت کامیابی سے سیاسی تقیہ کیا‘‘۔

تحریک کے دوران اخوان کی طرف سے بہت نپے تلے الفاظ کے ساتھ گنتی کے چند بیانات جاری ہوئے۔ اس وقت تک کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ مصر میں آتش فشاں پھٹنے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ اس ضمن میں مزید احتیاط کرتے ہوئے تحریک کے دوران اور حسنی مبارک کے فرار ہوجانے کے بعد یہ واضح اعلان کیا گیا کہ اخوان کی طرف سے صرف مرشد عام، نائب مرشدین عام اور اخوان کے تین ترجمانوں کے علاوہ کسی کا بیان، اخوان کا باقاعدہ موقف نہ سمجھا جائے۔ کسی بھی سیاسی کارکن کے لیے بہت دشوار ہوتا ہے کہ وہ محنت بھی کرے اور اس کی پارٹی کا کوئی نام     یا تعارف تک بھی نہ ہو، لیکن نظم کی پابندی اور اپنی ذات کی نفی کا یہ شان دار مظہر تھا۔ مرشد عام نے  فتح و نصرت کے بعد اپنے ایک تفصیلی بیان سے ھذہ مصر ، ’’یہ ہے مصر‘‘ میں مصری عوام بالخصوص نوجوانوں اور اپنے کارکنان کی حوصلہ افزائی اور تحدیث نعمت کرتے ہوئے خاص طور پر ذکر کیا کہ ’’جب ساری سیکورٹی فورسز بھاگ گئیں اور کچھ عناصر نے ملک میں کئی جگہ لوٹ مار شروع کردی تو انھی نوجوانوں نے ملک بھر میں امن کمیٹیاں بناتے ہوئے ملک و قوم کی حفاظت کی‘‘۔

میدان التحریر کے قریب ہی مصر کا قومی عجائب گھر واقع ہے۔ اس کا شمار دنیا کے انتہائی نادر عجائب گھروں میں ہوتا ہے۔ یہاں ہزاروں سال پرانے اصل اور نایاب نوادرات محفوظ ہیں۔ فرعون کی ممی بھی یہیں ہے۔ یہاں لوٹ مار مچتی تو یہ یقینا ایک بڑا قومی خسارہ ہوتا۔ اس نازک موقع پر یہ اخوان ہی تھے کہ جنھوں نے پورے ملک میں قومی اثاثوں، سرکاری دفاتر اور رہایشی علاقوں کی حفاظت کی۔ سڑکوں پر ٹریفک کنٹرول کی، کرفیو لگنے کے باعث گھروں میں مقید ہوکر رہ جانے والوں تک کھانا پانی پہنچایا۔ صحت وصفائی کی کمیٹیوں نے شہریوں کی خدمت کی۔ میدانِ آزادی سے آنے والا ایک دوست بتارہا تھا کہ رات کے وقت دھرنے دینے والوں کی ایک بڑی تعداد، بالخصوص خواتین گھروں کو چلی جاتی ہیں۔ مظاہرین پر حکومتی گماشتوں کے مسلح حملے کے بعد وہاں رات گزارنے والے، رات بھر پہرہ بھی دیتے ہیں۔ میدانِ آزادی بذاتِ خود ایک چھوٹے سے شہر کی حیثیت رکھتا ہے اور اتنے بڑے میدان کا مسلسل پہرہ معمولی بات نہیں ہے۔ وہاں رات گزارنے والوں اور حفاظتی انتظام کرنے والوں کی بڑی اکثریت اخوان ہی کے ساتھیوں کی ہے جن کے دن کا آغاز میدان التحریر میں نمازِتہجد سے ہوتا ہے۔

ان تمام قربانیوں اور جدوجہد کے باوجود اس پوری قربانی کا سہرا اپنے سر نہ سجانا، مستقبل کے سیاسی نقشے میں بھی خود کو مبالغہ آمیز طریقے سے بڑھا چڑھا کر پیش نہ کرنا اخوان جیسی فنافی اللہ تحریک ہی کے لیے ممکن ہوسکتا تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اخوان دنیا جہان سے بے خبر سادہ لوح درویشوں کا کوئی گروہ ہے۔ اخوان نے دورانِ تحریک ہی یہ اعلان کردیا کہ وہ آیندہ صدارتی انتخاب میں اپنا کوئی امیدوار نہیں لائیں گے، اس اعلان کے سیاسی فوائد اور دُوراندیشی کی داد ہر اپنے پرائے نے دی ہے۔ دوسری طرف اخوان کے مرشدعام نے اعلان کیا ہے کہ وہ الحریۃ والعدالۃ (آزادی و انصاف پارٹی - Freedom and Justice Party) کے نام سے ایک سیاسی جماعت تشکیل دے رہے ہیں، جو انتخابات میں مصری عوام کے حقیقی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ملک میں حقیقی انصاف و آزادی کا حصول یقینی بنائے گی۔ اخوان اپنی دعوتی،تربیتی اور تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس سیاسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے تعمیرواصلاحِ معاشرہ کا فریضہ سرانجام دیں گے۔ اس طرح اہم موڑ پر دو اہم سیاسی فیصلے کرتے ہوئے انھوں نے اپنی گہری سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ صدارتی اُمیدوار نہ لانے کے اعلان سے اخوان کے نام سے ڈرنے اور ڈرانے والوں کواطمینان دلایا اور ایک عوامی پارٹی کی تشکیل کا اعلان کرکے ہرشہری کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔ اخوان کی سرگرمیوں کی ایک اور مختصر جھلک دیکھنا چاہیں تو یہی دیکھ لیں کہ اس وقت اخوان کی مرکزی ویب سائٹ کے علاوہ ۳۲ شہروں اور شعبوں کی الگ الگ فعال ویب سائٹس کام کر رہی ہیں جو ہردم اپنے لوگوں کی رہنمائی کررہی ہیں۔ تازہ ترین سروے کے مطابق اخوان کی ویب سائٹ پوری دنیا کی کروڑوں ویب سائٹس میں اُوپر کی چند ہزار سائٹس میں شمار ہونے لگی ہے۔

حسنی مبارک کے رخصت ہوجانے کے بعدعالمی ذرائع ابلاغ میں اخوان کے بارے میں مختلف غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں۔ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ اخوان میں اختلافات پیدا ہوگئے، انقلابی تحریک میں اخوان کا کوئی کردار نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ اخوان کے لوگ کسی بحث میں نہیں  اُلجھ رہے۔ خاموشی اور صبر سے کام میں لگے ہیں اور حسنی مبارک کی رخصتی نے ثابت کر دیا کہ بالآخر صبر ہی ثمربار ہوتا ہے۔ اپنے اور ملک و قوم کے مخالفین کے لیے اخوان کے مرشدعام نے اپنے ایک پیغام میں اسی آیت کو موضوع گفتگو بنایا ہے کہ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَکْرُالسَّیِّیُٔ اِلَّا بِاَھْلِہٖ (فاطر۳۵:۴۳) ’’بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں‘‘۔ وہ اپنے ایک اور پیغام کا اختتام اس آیت سے کرتے ہیں: وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ o بِنَصْرِ اللّٰہِ ط یَنْصُرُ مَنْ  یَّشَآئُ ط وَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ o وَعْدَ اللّٰہِ ط لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ o (الروم۳۰:۴-۶) ’’اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے۔ یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘۔

مصر اور تیونس میں کامیابی کی خوشیاں ابھی تکمیل کی منتظر ہیں کہ بحرین، یمن اور پھر لیبیا میں بھی بڑی عوامی تحریکوں کا آغاز ہوگیا۔ بحرین اور یمن میں برپا تحریکوں کے پس منظر میں کچھ اور عوامل بھی اہم ہیں۔ اس لیے ان کی حیثیت فی الحال وہ نہیں ہوسکی جو دیگر عرب ممالک میں ڈکٹیٹرشپ کے خلاف پوری قوم کو اُٹھ کھڑا ہونے سے بنی اور بن رہی ہے۔ بحرین کی ساری   کش مکش میں مذہبی (شیعہ سُنّی) تقسیم کو بہت اہمیت حاصل ہے، جب کہ یمن میں حکومت مخالف مظاہرے زیادہ تر جنوبی یمن میں ہورہے ہیں جو کبھی الگ ملک ہوتا تھا۔ حالیہ مظاہروں میں بھی  کبھی کبھار شمالی یمن سے علیحدگی کے نعرے شامل ہوجاتے ہیں، جو اس تحریک کے ایک قومی تحریک بننے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر اس علیحدگی پسندی کا خناس نکل گیا اور پوری قوم ڈکٹیٹرشپ کے خاتمے، ملک میں حقیقی جمہوری و شورائی نظام، امریکی غلامی سے نجات اور کرپشن سے نجات جیسے بنیادی اہداف پر متفق ہوگئی تو پھر یقینا وہاں بھی تبدیلی ضرور آئے گی۔ وہاں کی اسلامی تحریک التجمع الیمنی لاصلاح ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے۔

لیبیا کی صورت حال انتہائی سنگین، افسوس ناک اور قیامت خیز ہے۔ وہاں کرنل معمرالقذافی ۱۹۶۹ء، یعنی گذشتہ ۴۲سال سے برسرِاقتدار ہے اور اپنے بعد اپنے بیٹے کو اقتدارکے لیے تیار کررہاتھا۔ لیبیا کے دونوں پڑوسیوں، تیونس اور مصر میں عوام نے ظالم ڈکٹیٹروں سے نجات حاصل کی تو سب سے افسوس ناک موقف قذافی ہی کا سامنے آیا۔ اس نے زین العابدین بن علی کے فرار کے بعد اس فیصلے پر اس کا مذاق اڑایا۔ ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے تیونسی عوام کو بھی لعنت ملامت کی کہ اس نے ایک قانونی صدر کی مخالفت کی۔ حسبِ عادت طویل تقریر میں اس نے تیونسی عوام کو یہ مشورہ بھی دیا کہ معزول صدر کو عزت و تکریم سے واپس بلالو، وہ اب بھی تمھارا صدرہے۔ پھر جب مصر میں حسنی مبارک کا راج سنگھاسن ڈولنے لگا تو قذافی صاحب نے باربار حسنی مبارک کو فون کرکے اور ٹی وی پر تقاریر کرکر کے عوام کے مقابل جمے رہنے پر اس کی حوصلہ افزائی کی۔ ۱۰فروری کو رات گئے اپنے آخری خطاب میں حسنی مبارک نے ڈھٹائی سے ڈٹے رہنے کا اعلان کیا تو پورا مصر مشتعل تھا۔ لیکن قذافی صاحب نے فوراً فون کرکے حسنی مبارک کو شاباش دی۔ اس نے مصری عوام کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حسنی مبارک پر ۷۰ ارب ڈالر کے اثاثوں کا الزام نرا الزام ہے۔ اسے تو اپنے کپڑوں کے لیے بھی ہم پیسے دیتے ہیں۔ قذافی صاحب خود کو شہنشاہِ افریقہ،   مَلِکُ مُلوکِ اِفریقیا کہا کرتے تھے۔ مصری دیوار بھی ڈھے گئی تو قذافی صاحب کواپنی فکر پڑگئی۔ اگلے ہی روز صحافیوں کو بلا کر ڈرایا، دھمکایا اور ساتھ ہی یہ بزرجمہرانہ راے دی کہ اب دنیا کے لیے کوئی بڑا مسئلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے مناسب مسئلہ یہ ہوسکتا ہے کہ دنیا بھر میں بھٹکنے والے فلسطینیوںکو بحری جہازوں میں بھر کر اسرائیلی پانیوں میں پہنچا دیا جائے۔ اسرائیلی انھیں فلسطین نہیں جانے دیں گے اور تشدد بھی کریں گے لیکن وہ اگر ان پر ایٹم بم بھی گرا دیں تب بھی   دنیا میں ایک انسانی بحران پیدا ہوجائے گا۔ گویا عرب عوام کو جذبۂ آزادی سے ہٹانے کے لیے پاگل پن کا کوئی ایسا مظاہرہ کیا جائے کہ لوگ اپنی آزادی و حقوق کی جنگ بھول جائیں۔

اس کی نوبت نہیں آئی اور یہ جاننے کے باوجود کہ لیبیا میں کرنل قذافی کے خلاف  صداے احتجاج بلند کرنے کا مطلب ہے ناقابلِ تصور جانی و مالی نقصانات، لیبیا کے عوام سڑکوںپر نکل آئے۔ ابھی تک تو نتیجہ وہی نکلا ہے کہ جس کا خدشہ تھا۔ پہلے ہی ہفتے میں ۹۹۵؍افراد شہید، ہزاروں زخمی اور ہزاروں لاپتا ہوگئے ہیں، لیکن ہمیشہ کی طرح اس ساری خون ریزی نے حکومت مخالف جذبات و تحریک میں کمی کے بجاے مزید تیزی پیدا کر دی ہے۔ قذافی صاحب اس کے نتیجے میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں، انھوں نے ٹی وی پر لمبی تقریر میں اپنے عوام کو چوہے، لال بیگ، نشئی، القاعدہ، امارت اسلامی تشکیل دینے والے (طالبان) اور نہ جانے کیا کیا قرار دے کر ان کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ جنگی جہازوں، توپوں اور ٹینکوں سے رہایشی آبادیوں کو ملیامیٹ کرنا شروع کر دیا ہے اور یہی ان کے ۴۲سالہ اقتدار کا نقطۂ اختتام ہے۔ مظلوم عوام پر مزید آزمایش تو آسکتی ہے لیکن اب معمر قذافی کی رخصتی یقینی ہے۔ اب تک بیرونِ ملک درجنوں لیبین سفرا، ظلم کی چکّی کے اصل ذمہ دار وزیرداخلہ اور بہت سارے فوجی افسروں سمیت مملکت کے کئی اہم افراد نے قذافی کا ساتھ چھوڑ کر عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ابھی مصر میں شہید ہونے والے ۳۶۷ شہدا کا خون تازہ تھا کہ اب ہزاروں لیبین شہدا کے مقدس خون نے پوری اُمت کے دل خون خون کردیے، لیکن عالمِ اسلام یہ نوشتۂ دیوار پڑھ چکا ہے کہ اب ہماری دنیا کبھی محمدالبوعزیزی کا ٹھیلا اُلٹائے جانے سے پہلے کی دنیا نہیں ہوسکتی۔

پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کے حکمرانوں اور عوام کو بھی اس کا یہ پیغام بخوبی پہنچ چکا ہے کہ جو قوم اپنے لیے آزادی اور عزت و وقار کی زندگی کا انتخاب کرلے تو پھر خدا خود بندے کی رضا کے مطابق فیصلہ کردیتا ہے۔ ظلم و جبر، کرپشن اور امریکی غلامی کی تکون تیونس اور مصر میں بھی رزقِ خاک ہورہی ہے اور باقی مسلم دنیا میں بھی اس کے اثرات یقینا پہنچیں گے۔ اب اپنی قسمت کا فیصلہ عوام کو خود کرنا ہے۔ ظالم و جابر، امریکا کے غلام، کرپٹ اور فساد زدہ حکمران آج نہیں تو کل قصۂ پارینہ بن جائیں گے۔ باقی وہی بچے گا جو رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ نظام کے سایے تلے اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔ عوام سے بھی انصاف کرے گا اور خود اپنی ذات سے بھی انصاف کرے گا۔ اب ایک نیا عالمی اسٹیج تیار ہورہا ہے جس کی حتمی صورت بہت جلد پوری دنیا دیکھ لے گی۔ روحِ اقبال پکار پکار کر کہہ رہی ہے  ع جہانِ نو ہورہا ہے پیدا،وہ عالمِ پیر مر رہا ہے! رب کا فرمان کسی صورت غلط نہیں ہوسکتا: وَکَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا ، ’’اللہ کا کلمہ ہی سربلند ہوکر رہنا ہے‘‘۔

 

۔

’’جیل میں ہم پر اکثر تشدد ہوا، لیکن سب سے زیادہ تشدد اس وقت ہوتا جب ہم میں سے کوئی وہاں نماز پڑھتے ہوئے پکڑا جاتا‘‘___ تیونس کی جیل سے رہائی پانے والا نوجوان راقم کو آپ بیتی سنا رہا تھا۔ میں نے حیرانی سے پوچھا: ’’ایک مسلمان ملک میں نماز ادا کرنا کیوں کر جرم ٹھیرا؟‘‘ کہنے لگا: ’’مجموعی طور پر تو نماز جرم نہیں ہے، لیکن نماز چونکہ دین داری کی علامت بھی ہے اور اگر کسی نوجوان میں دین داری کی کوئی علامات پائی جائیں تو یہ اس کی ’بنیاد پرستی‘ اور ’دہشت گردی‘ کی علامت ہے۔ اس لیے نوجوانوں کا نماز ادا کرنا جرم قرار پایا۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ    نماز کے وقت مساجد میں جماعت کھڑی ہوجاتی تو اچانک مساجد کے دروازوں کے باہر پولیس کی لاریاں کھڑی کردی جاتیںاور نمازیوں میں سے نوجوانوں کو الگ چھانٹ کر لاریوں میں ٹھونس کر   لے جاتیں۔ کبھی یہ بھی ہوتا کہ فجر کے وقت رہایشی آبادیوں کا جائزہ لیا جاتا کہ کس کے گھر میں بتیاں روشن ہیں۔ اس وقت اگر کوئی اُٹھ کر نماز پڑھنے لگ جاتا ہے تو یقینا پکا بنیاد پرست ہے۔

جیل بیتی دوبارہ شروع کرتے ہوئے پوچھا کہ: پھر آپ لوگوں نے تشدد کے خوف سے نماز چھوڑ دی؟ ہنس کر کہنے لگا: ’’یہ کیسے ممکن ہے؟ ہم نے مختلف تدبیروں سے نماز پڑھنا شروع کردی، کبھی اشاروں سے، کبھی کوٹھڑی میں چھپ کر… لیکن جلاد بھی بضد تھا کہ ’دہشت گردی‘ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنا ہیں۔ انھوں نے کوٹھڑی کی چھت میں سوراخ کروا کے اُوپر عارضی تختے رکھ دیے۔ دن رات کے کسی وقت وہ کوٹھڑی کے پچھواڑے سے اُوپر چڑھتے اور اچانک   تختہ ہٹاکر چھاپہ مارتے کہ کہیں کوئی ’دہشت گردی‘ کا ارتکاب تو نہیں کر رہا۔ ہم نے باری باری کمبل میں لیٹ کر نماز پڑھنا شروع کر دی۔ جلاد آتے تو حیرانی سے پوچھتے: یہ اتنی گرمی میں کمبل کیوں اوڑھ رکھا ہے؟ ہم بتاتے طبیعت ٹھیک نہیں ہے‘‘۔

تیونس میں دین کے خلاف مخاصمانہ روش کا آغاز صدر حبیب بورقیبہ کے دور میں ہوا تھا۔ سابق صدر زین العابدین بن علی اس کا وزیرداخلہ تھا۔ ملک میں اسلامی عناصر کے خلاف اس ساری کارروائی کا ذمہ دار وہی تھا۔ صدر حبیب بورقیبہ اپنی یہ تمام تر کارروائیاں ’روشن خیالی‘ کے عنوان سے کر رہا تھا۔ اس نے حجاب (سر پر اسکارف رکھنے) کو جرم قراردیتے ہوئے کسی بھی باحجاب خاتون کو تعلیمی اداروں میں داخلے، سرکاری دفاتر میں ملازمت، یا ہسپتال سے علاج کروانے پر پابندی عائد کردی۔ اس کی ظالم پولیس اہل کار سر پر اسکارف رکھنے والی کسی بھی خاتون کا حجاب سرراہ نوچ ڈالتے۔ حبیب بورقیبہ نے ایک بار خود بھی اس روشن خیال کارروائی میں حصہ لیا۔ اس نے ایک ہال میں اجتماع منعقد کیا، جس میں کچھ خواتین کو سر پر اسکارف رکھ کر شریک کروایا گیا اور پھر صدر بورقیبہ نے دورانِ تقریب ان میں سے ایک خاتون کو اسٹیج پر بلایا اور اس کا اسکارف سر سے نوچ کر پائوں تلے روندتے ہوئے کہا: ’’آیندہ اس رجعت پسندی کا ارتکاب نہ کرنا‘‘۔

’روشن خیال‘ بورقیبہ اور اس کا وزیرداخلہ زین العابدین بن علی یہ تمام کارروائیاں ’اسلام کے حقیقی پیروکار بلکہ دینی پیشوا‘ ہونے کے دعوے کے ساتھ کرتے تھے۔ موسمِ گرما میں رمضان المبارک آیا تو ایک روز اعلان ہوا کہ صدر مملکت ریڈیو، ٹی وی پر قوم سے براہِ راست خطاب فرمائیں گے۔ دوپہر کے وقت صدر صاحب سرکاری ٹی وی کی اسکرین پر نمودار ہوئے اور اعلان فرمایا: ’’میں صدر مملکت ہونے کے ناتے مسلمانوں اور ان کے تمام امور کا ذمہ دار اور ان کے مفادات کا محافظ ہوں، اور گرمی کی شدت کی وجہ سے چونکہ لوگوں کی قوتِ کار متاثر ہورہی ہے، اس لیے میں ’ولی امرالمسلمین‘ ہونے کے ناتے اعلان کرتا ہوں کہ لوگ اس سال رمضان میں روزے نہ رکھیں۔ یہ کہنے کے بعد براہِ راست خطاب کے دوران کچھ نوش کرتے ہوئے روزہ چھوڑ دینے کا عملی مظاہرہ کیا۔

چند مزید مناظر بھی ملاحظہ کیجیے: ’ولی امرالمسلمین‘ ہونے کے دعوے دار صدر مملکت نے اعلان فرمایا کہ قرآن میں وراثت کے اصولوں کے مطابق مرد کا حصہ خواتین سے دگنا بتایا گیا ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں، اس وقت خواتین معاشی زندگی میں عملاً شریک نہیں تھیں، اس لیے یہ حصے رکھے گئے۔ آج ہماری خواتین ترقی کی دوڑ میں مردوں کے شانہ بشانہ حصہ لے رہی ہیں، اس لیے اب وراثت میں مردوں اور خواتین کا حصہ برابر ہوگا۔ اب یہ وہاں کا باقاعدہ قانون ہے۔

’روشن خیال‘ بورقیبہ کے نزدیک عدم مساوات کا ایک یہ پہلو بھی بہت قابلِ اعتراض تھا کہ مرد کو تو چار بیویاں رکھنے کی اجازت دے دی گئی لیکن عورت کے ساتھ زیادتی ہوگئی کہ اسے چار شوہر رکھنے کی اجازت نہ ملی، اس لیے اس نے مردوں پر بھی پابندی عائد کر دی۔ قانون بن گیا کہ مرد بھی صرف ایک ہی شادی کرسکتا ہے، خلاف ورزی کرنے والے کو جیل جانا پڑے گا۔

حبیب بورقیبہ کی اس ’روشن خیالی‘ کے خلاف جس نے بھی آوازِ احتجاج بلند کی اسے   ’لاپتا افراد‘ میں شامل کر دیا گیا۔ پھر ایک روز اچانک اعلان ہوا کہ وزیرداخلہ زین العابدین بن علی نے صدر بورقیبہ کا تختہ اُلٹ دیا ہے۔ کہا گیا: صدر اپنے بڑھاپے اور بیماری کے باعث امورِ مملکت انجام دینے کے قابل نہیں رہا، اور مزید چند برس گمنامی میںگزارکر، اسے بھی قبر میں اُترنا پڑا۔

زین العابدین نے اپنے آقا کا تختہ اُلٹا تو یہ ۷نومبر ۱۹۸۷ء کا دن تھا۔ مکمل اقتدار سنبھالنے کے بعد اس نے اعلان کیا کہ ملک میں جمہوریت کی داغ بیل ڈالیںگے۔ مگر کہاں؟ وہی جبر کا نظام قائم رہا۔ زین العابدین کے ۲۳ سالہ دورِ اقتدار میں پانچ بار انتخابات ہوئے اور ہرمرتبہ ہردل عزیز صدر کو ۹۰ فی صد سے زائد ووٹ حاصل ہوئے۔ حجاب، داڑھی اور نماز روزے سمیت دینی شعائر کی اسی طرح تضحیک و توہین ہوتی رہی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۳سالہ دورِاقتدار میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد کو ان کے خیالات و نظریات کی سزا کے طور پر جیلوں کی ہوا کھانا پڑی۔ اسلامی تحریک ’تحریکِ نہضت‘ کے سربراہ شیخ راشد الغنوشی سمیت ہزاروں کی تعداد میں تیونسی شہری کسی نہ کسی طرح ملک سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور گذشتہ تقریباً دو عشروں سے ملک بدری کی زندگی ہی گزار رہے ہیں۔ ’تحریک نہضت‘ کے جن ہزاروں کارکنان اور قائدین کو گرفتار کیا گیا ان میں تحریکِ نہضت کے سابق صدر محمد عاشور بھی تھے۔ انھیں ۱۰برس کی قید کے بعد ڈیڑھ سال قبل رہا کیا گیا لیکن رہائی پانے کے چند ہی روز بعد ایک صحافی نے انٹرویو کرتے ہوئے سوال کیا: کیا آپ ۱۰برس کی اس قیدبامشقت کے بعد بھی ’تحریک نہضت‘ کا ساتھ دیں گے؟ پیرانہ سالی کا شکار ہوتے ہوئے محمدعاشور نے کہا: اسلامی تحریک میں شمولیت کا فیصلہ دنیا کی کسی جزا یا سزا سے تبدیل نہیں ہوسکتا۔ یہ سودا تو خالق کائنات کے ساتھ کیا ہے۔ اگلے ہی روز محمدعاشور کو ’تحریک نہضت‘ سے وابستگی کے الزام میں اُٹھا کر پھر سے جیل میں بند کر دیا گیا۔ مزید ڈیڑھ سال، یعنی مجموعی طور پر ساڑھے گیارہ برس کی قید کے بعد انھیں گذشتہ نومبرکو رہا کیا گیا تھا۔

ایک محمد عاشور ہی نہیں ضمیر کے ہزاروں قیدی، قلم بردار ہزاروں صحافی اور اپوزیشن قرار دیے جانے والے بے حساب شہری جیلوں میں سڑتے رہے۔ سیکڑوں افراد نے مسلسل بھوک ہڑتال کیے رکھی۔ بڑی تعداد میں قیدیوں کے اہلِ خانہ کو یہی معلوم نہ تھا کہ ان کے پیارے دنیا میں ہیں یا قیدِحیات سے ہی گزر چکے۔ اگرچہ کسی بھی غیر جانب دار صحافی یا تیونسی حکومت کی ’روشن خیالی‘ کے بارے میں منفی راے رکھنے والے کسی معروف شخص کے لیے تیونس کے دروازے بند تھے، لیکن  گذشتہ کئی سال سے وہاں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے۔ حجاب پر تمام تر پابندیوں کے باوجود حجاب کے تناسب میں واضح اضافہ ہو رہا تھا۔ نمازوں میں نوجوانوں کی شرکت کو جرم بنا دیا گیا تھا لیکن رمضان المبارک اور نمازِ جمعہ میں مساجد اتنی بارونق ہونا شروع ہوگئی تھیں کہ نماز کے وقت سے کافی پہلے مساجد نہ پہنچ سکنے والوں کو باہر سڑک پر نماز پڑھنا پڑتی تھی۔

ایسے میں جب تیونس کے شہر میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان نے بھوک اور فاقوں سے تنگ آکر خودسوزی کرنے کی کوشش کی، اور وہ اس کوشش میں شدید زخمی ہوگیا، تو پورے شہر میں اس سے اظہارِ ہمدردی اور حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ڈکٹیٹر کی ملیشیا نے مظاہرین کے خلاف حسب ِ سابق طاقت کا استعمال کرنا چاہا تو عوام مزید بپھر گئے۔ موبائل فون کے کیمروں اور انٹرنیٹ کی مدد سے یہ مناظر مختلف عرب ٹی وی چینلوں بالخصوص الجزیرہ پر آنا شروع ہوگئے، اور پھر تیونس کے مظلوم و مقہور عوام نے ایک دنیا کو حیرت زدہ کر دینے والی تاریخ رقم کردی۔ سفاک حکمران سمجھتاتھا: ’’اس کی کرسی بہت مضبوط ہے‘‘ لیکن نہتے عوام کے دو ہفتے کے مظاہروں کے بعد ہی سٹم گم ہونے لگی۔ پہلے اعلان کیا: بے روزگار نوجوان پریشان نہ ہوں، جلد ہی ان کے لیے ۳ لاکھ نوکریوں کا انتظام ہوجائے گا۔ یہ اعلان کرنے اور گولیاں چلانے کے باوجود مظاہرے جاری رہے تو حکومت کے تین وزرا کو فارغ کر دیا گیا۔ دوبارہ اعلان کیا بدعنوانی برداشت نہیں کروں گا، حالانکہ ملکی نظام میں بے تحاشا بدعنوانی کی کہانیاں بچے بچے کی زبان پر تھیں۔ مظاہرے پھر بھی جاری رہے تو اعلان کیا: عوام پریشان نہ ہوں چھے ماہ بعد عام انتخابات میں انھیںاپنی مرضی کی حکومت بنانے کا موقع دیا جائے گا۔ مظاہروں کا سلسلہ قصرین اور سیدی بوزید سے باہر پھیلتے پھیلتے دارالحکومت تیونس تک پہنچ گیا۔ اب تک ۵۰ شہری شہید ہوچکے تھے، سیکڑوں زخمی تھے۔ سفاک ڈکٹیٹر نے اعلان کیا: آیندہ انتخاب میں چھٹی بار امیدوار بننے کا کوئی ارادہ نہیں، عوام چند ماہ صبر کرلیں۔ ترقی کا نیا دور شروع ہوجائے گا۔ لیکن مظاہروں کا ریلا تھا کہ کہیںتھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

ایک روز اچانک خبر آئی: صدر نے اپنی بیوی لیلیٰ اور باقی سب اہلِ خانہ کو بیرونِ ملک بھیج دیا۔ مظاہرے جاری تھے۔ صدر نے سختی سے نمٹنے اور فوج کو سڑکوں پر بلا کر گولی چلانے کا حکم دیا۔ ۷۷؍افراد پہلے ہی جاں بحق ہوچکے تھے۔ بری فوج کے سربراہ جنرل رشیدعمار نے عوام پر گولی چلانے سے انکار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفا پیش کردیا۔ حالات تیزی سے بدلنے لگے اور اچانک خبر آئی کہ صدر زین العابدین بن علی ملک سے فرار ہوگیا۔ لوگ دیوانہ وار سڑکوں پر نکل آئے۔ فوج اور پولیس کے سپاہی عوام سے گلے ملنے لگے۔ لوگوں کو تو جیسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ جو خود کو فرعون سمجھتا اور عوام کی جان کا مالک گردانتا تھا، اتنی جلد ڈھ گیا۔ صرف تقریباً تین ہفتے کی عوامی تحریک، جس میں عوام نے گولیاں برداشت تو کیں لیکن خود کوئی گولی نہیں چلائی، اور اتنی بڑی کامیابی تیونس ہی نہیں پوری دنیا میں لکھا اور پکارا جانے لگا: تیونسی جلاد چلا گیا، ڈکٹیٹر سے نجات   مل گئی، شاہِ تیونس بھاگ گیا، تیونسی مارکوس، تیونسی چائو شسکو… تیونسی دارالحکومت کی خالی سڑکوں پر ایک شخص دیوانہ وار چلّا رہا تھا:’’تیونس آزاد ہوگیا‘‘۔ آج اسے اپنے دل کی بات کہنے سے روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ آج اسے اور اس کے ضمیر کو قید رکھنے والا خود سر چھپانے کو جگہ تلاش کر رہا تھا۔

سبحان اللّٰہ… تعز من تشاء وتذل من تشاء… وتلک الایام نداولھا بین الناس … ہم اس سلسلۂ ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ وہ جو نماز اور شعائر دین کو دہشت گردی کے مترادف قرار دیتا تھا، اس کے جاتے ہی نماز کا وقت ہونے پر سرکاری ٹی وی پر پہلی بار باقاعدہ اذان کی آواز سنائی دی۔ لوگوں کے لیے یہ اسی طرح کے لمحات تھے جیسے کمال اتاترک کے جانے اور ترک زبان میں اذان کے بجاے پھر دوبارہ سے عربی زبان میں بلالی اذان بلند ہوئی تھی، اور لوگ بے اختیار سڑکوں پر ہی رب کے حضور سجدہ ریز ہوگئے تھے۔ آج تیونسی عوام سرکاری ٹی وی پر اذان سن کر اسے اپنا اعلان فتح قرار دے رہے تھے۔

اس کے بعد وزیراعظم محمدالغنوشی نے خود کو خود ہی عبوری صدر مقرر کرنے کا اعلان کر دیا۔ عوام نے اسے مسترد کر دیا۔ اگلے ہی روز اسپیکر کو عبوری صدر قرار دے دیا۔ عوام نے اسے بھی مسترد کر دیا۔ ملک میں موجود براے نام چھوٹی اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے ایک قومی حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا گیا، جس کے اکثر وزرا پرانی کابینہ سے ہی تھے اور تین وزیر اپوزیشن جماعتوں سے، لیکن عوام نے اسے بھی مسترد کر دیا اور اپنے مظاہرے جاری رکھے۔ اگلے ہی روز اپوزیشن جماعتوں نے اپنے وزرا واپس ہونے کا اعلان کر دیا۔ اپوزیشن جماعتوں، سابق نظام کے باقی ماندہ کل پُرزوں سے زیادہ یہ فیصلہ کن اور حساس مرحلہ خود تیونسی عوام کا امتحان ہے۔ انھیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اپنی قربانیوں اور ادھوری کامیابی کو ہی اصل کامیابی سمجھ کر بیٹھ جاتے ہیں، یا پوری مسلم دنیا میں اُمید کے دیپ روشن کردینے کے بعد خود اپنی جدوجہد کو بھی اس کے منطقی نتیجے تک پہنچاتے ہیں اور عالمِ اسلام کو بھی مایوسی کے آسیب سے نجات دلانے کا سبب اور ذریعہ بنتے ہیں۔

تیونس میں عوامی جدوجہد کے پہلے مرحلے میں کامیابی کے اثرات فوراً ہی دیگر عرب ممالک میں بھی اپنا آپ منوانے لگے۔ پڑوسی ملک الجزائر میں بھی عوامی مظاہروں کا دھیما دھیما آغاز ہونے لگا۔ تیونسی نوجوان محمد البوعزیزی کی خودسوزی کی کوشش اور احتجاج سے تیونس میں عوامی انقلاب کا آغاز ہوا تھا۔ مختلف عرب ممالک میں اب تک کئی عرب ممالک میں نوجوانوں نے اسی کی تقلید شروع کر دی ہے۔ اب تک الجزائر میں چار، موریتانیا، مصر اور یمن میں ایک ایک نوجوان خودسوزی کرچکا ہے۔ ان کوششوں سے ایک بات تو ثابت ہوگئی کہ اصل بات خود سوزی میں نہیں۔ یہ تو محمد البوعزیزی کے غصے اور مایوسی کا ایک ایسا مظہر تھا کہ اسلامی تعلیمات جس سے سختی کے ساتھ روکتی اور خبردار کرتی ہیں۔ تعلیم یافتہ محمد البوعزیزی کے سبزی کے ٹھیلے کو بھی جب شہر کی انتظامیہ نے اُٹھاکر پھینک دیا تو اس نے دوبارہ ٹھیلا بنا لیا مگر اسے بھی اُٹھا لیا گیا اور البوعزیزی کو بھی پولیس اسٹیشن لے گئے۔ وہاں گالم گلوچ کے ساتھ ساتھ خاتون کانسٹیبل نے اس کے منہ پر طمانچے بھی رسید کیے۔ اس توہین اور زیادتی پر احتجاج کرنے وہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچا۔ اس نے بھی بری طرح دھتکار دیا تو اس نے اس کے دفتر کے سامنے ہی خودسوزی کرلی۔ اس کی ماں ایک انٹرویو میں بتارہی تھی کہ محمد تین سال کی عمر میں یتیم ہوگیا تھا۔ لٹتے پٹتے، محنت کرتے اب وہ گھر سنبھالنے کے قابل ہوا تھا کہ اس کی ساری جمع پونجی لوٹ لینے کے ساتھ ہی ساتھ اس کی توہین و بے عزتی بھی کی گئی۔ ظلم و جبر کے اس ماحول میں اس کے آنسو پونچھنے والا کوئی بھی نہ تھا، نہ انصاف فراہم کرنے کا کوئی ادارہ ہی باقی بچا تھا۔ وہ جان سے گزر گیا، لیکن اس کی یہ کوشش پوری قوم کی آزادی کی بنیاد بن گئی۔

عرب ممالک میں خود سوزی کرنے والے بلکہ پوری مسلم دنیا کے نوجوانوں کے سامنے اصل بات یہی رہنی چاہیے کہ پوری قوم کا اُٹھ کھڑے ہونا، بندوق اُٹھانے یا خود کش حملوں کے ذریعے انارکی پھیلانے کے بجاے گولیوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو جانا، لاشوں پہ لاشے گرتے چلے جانے کے باوجود اپنے احتجاج کو جاری رکھنا اور ثابت قدم رہنا ہی بالآخر انقلاب کی بنیاد بنتا ہے۔ تیونس میں انقلاب آنے کے بعد اب تمام عرب ممالک کے حکمرانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ کہیں ان کے عوام بھی ڈکٹیٹرشپ، کرپشن، بے روزگاری، مہنگائی اور حکمرانوں کی لوٹ مار کے خلاف نہ اُٹھ کھڑے ہوں۔ فوراً ہی کئی ممالک نے ’احتیاطی تدابیر‘ کا آغاز کر دیا ہے۔ پڑوسی ملک الجزائر میں اشیاے خوردونوش کی قیمتیں فوراً آدھی کر دی گئی ہیں۔ شام میں فوراً تنخواہیں دگنی کردی گئی ہیں۔ مصر میں تیل کی قیمتوں میں مجوزہ اضافہ واپس لے لیا گیا ہے۔ کویت میں تو سارے کویتی شہریوں کو ایک ایک ہزار دینار (یعنی تقریباً تین لاکھ روپے) فی کس اور ۱۴ ماہ کے لیے غذائی اشیا مفت کردینے کا اعلان کر دیا ہے۔

روزنامہ لی مونڈ کے مطابق صدر زین العابدین بن علی کے فرار سے پہلے اس کی بیوی بیگم لیلی الطرابلسی نے اسٹیٹ بنک سے ڈیڑھ ٹن سونا نکلوایا اور پھر دیگر دولت کے ساتھ وہ سونا بھی ساتھ لے کر دبئی چلی گئی۔ تیونسی ذمہ دار بتا رہے تھے کہ بیگم صاحبہ کا حکم جب بنک کے گورنر کو پہنچا کہ ڈیڑھ ٹن سونا فوراً بھجوادو تو اس نے تصدیق کرنے کے لیے صدرمملکت کو فون کیا کہ خاتونِ اوّل کا یہ حکم موصول ہوا ہے کیا کروں؟ صدر مملکت نے جواب میں فرمایا: اگر تمھیں یہ یقین ہوگیا تھا کہ حکم بیگم صاحبہ ہی کا ہے تو پھر دیر کیوں کی؟ مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت تھی؟ فوراً سونا بھجوا دو۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ بیگم صاحبہ ۱۹۹۲ء میں بن علی سے شادی سے پہلے ایک بیوٹی پارلر چلاتی تھیں، شادی کے بعد ملک چلانے لگ گئیں۔ صدر کی دولت کا ابتدائی اندازہ ۱۲ ارب ڈالر، یعنی ۱۰کھرب روپے سے بھی زائد کا لگایا جا رہا ہے۔ لیکن اب معلوم نہیں اس میں سے کتنی ہاتھ آتی ہے، سوئٹزرلینڈ کے بنکوں نے مظاہروں کا بہانا بناکر اپنے بنکوں میں موجود اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

بن علی تو فرانس ہی میں زیرتعلیم رہا۔ اسکول اور کالج کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سیکورٹی اور انٹیلی جنس میں اعلیٰ تعلیم امریکا سے حاصل کی۔ مغرب کے نزدیک ان دونوں حکمرانوں کی سب سے اہم کارکردگی یہ تھی کہ انھوں نے اسلام پسندی، یعنی رجعت پسندی اور دہشت گردی کے ساتھ سختی سے نمٹا۔ اسلامی تعلیمات مسخ کرنے اور ہزاروں کی تعداد میں بے گناہوں کو جیلوں میں بند کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں خود کو ڈکٹیٹر اور فرعون بنائے رکھا، لیکن جیسے ہی غریب عوام نے عزت و آزادی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا، تمام مغربی آقائوں نے منہ موڑ لیا۔ ملک سے فرار کا بھی کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا، رات کی تاریکی میں لیبیا کے صدر قذافی نے گاڑیوں کے قافلے میں لیبیا آنے کا راستہ دیا، وہاں سے اٹلی پہنچا۔ مگر اٹلی، مالٹا اور فرانس سب نے پناہ دینے سے انکار کر دیا۔ پھر مصری صدر کی وساطت سے سعودیہ میں پناہ ملی۔

تیونس میں عوامی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا تو سب سے پہلے فرانسیسی وزیرخارجہ نے پیش کش کی تھی کہ اگر ملک میں’امن و استحکام‘ کے لیے خصوصی پولیس فورس کی ضرورت ہو تو فرانس بھجوا سکتا ہے۔ پھر جب آتش و آہن سے اپنے عوام کو کچلنے والا اچانک ریت کے گھروندے کی طرح ڈھے گیا تو اس کے لیے اپنے تمام در بند کرتے ہوئے اسی فرانسیسی وزیرخارجہ نے بیان دیا: ’’ہم تیونسی عوام کی راے کا احترام کرتے ہیں اور اسے کامیابی حاصل کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں‘‘۔

عملاً دیکھا جائے تو فرانس نے اب بھی تیونسی عوام کی راے کا کوئی احترام نہیں کیا ہے۔ اس کی اب بھی پوری کوشش ہے کہ سابقہ نظام کے زیادہ سے زیادہ افراد ہی آیندہ بھی حکمران رہیں۔ اس وقت بھی سابق اسپیکر فواد المبزع کو صدر اور سابق وزیراعظم محمدالغنوشی کو پہلے صدر اور پھر وزیراعظم بنایا گیا ہے۔ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے تمام حکومتی ذمہ داران نے سابق حکمران پارٹی ’التجمع الدستوری‘ سے استعفا دے دیا ہے اور وزیراعظم نے بیان دیا ہے کہ ’’ماضی سے مکمل براء ت کا اظہار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اب تک ۱۸۰۰سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جاچکا ہے لیکن بہت سے خاندان اب بھی اپنے گم شدہ افراد خانہ کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تیونس کے حالیہ عوامی انقلاب سے پہلے تیونس میں حالات بظاہر معمول پر تھے۔ ۱۴دسمبر کو لبنان سے شائع ہونے والے معروف پندرہ روزہ سیکولر سیاسی رسالے نے ’بن علی کے تیونس‘ کے عنوان سے ٹائٹل اسٹوری شائع کرتے ہوئے اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے تھے اور ساری عرب دنیا کو اس کی تقلید کی دعوت دی تھی۔ ان معمول کے حالات میں بھی اتنی بڑی تعداد میں سیاسی قیدی جیلوں میں بند تھے۔ اسی لیے عبوری حکومت کے تمام ظاہری اقدامات کے باوجود عوام نے اپنے مظاہرے بند نہیں کیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سابقہ حکومت کے تمام افراد کو ایوانِ اقتدار سے نکال کر قرار واقعی سزا دی جائے۔

تحریکِ اسلامی تیونس بھی عوام کے شانہ بشانہ میدان میں ہے۔ اگرچہ عوامی تحریک کا کوئی قائد نہیں اور پوری قوم ہی یک جا ہوکر سڑک پر ہے، اب ملک بدر سیاسی قیادت واپس آرہی ہے۔ زیرزمین قیادت بھی سامنے آرہی ہے۔ سیکولر رجحانات والے اپوزیشن لیڈر منصف المرزوقی آچکے ہیں اور اسلامی تحریک، تحریکِ نہضت کے سربراہ شیخ راشد الغنوشی بھی جلد واپسی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف تین بار عمرقید کے عدالتی احکامات بھی موجود ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ جلاد کے ساتھ اس کے سارے جائرانہ احکامات کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے، اس لیے وہ بہرصورت ملک جائیں گے۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے واویلا شروع کر دیا ہے کہ راشد الغنوشی خمینی کی طرح واپس آنا چاہتے ہیں۔ شیخ راشد کا کہنا ہے کہ نہیں، ہر شہری کی طرح انھیں بھی ایک آزاد ملک میں سانس لینے کا حق ہے۔ میں خمینی بننے یا کسی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے نہیں جا رہا۔ تحریک کی قیادت بھی تحریک کے سپرد کر دوں گا اور اپنے عوام کے ساتھ مل کر قوم کی کشتی کو منزل تک پہنچانے میں سعی کرکے انقلابی جدوجہد میں دیگر بہت سے عوامی نعروں کے علاوہ نوجوان معروف تیونسی شاعر ابوالقاسم الشابی کی نظم بآواز بلند گا رہے ہیں:

اذا الشعب یوماً أراد الحیاۃ
فلا بد أن یستجیب القدر

ولا بد للیل أن ینجلی
ولا بد لقید أن ینکسر

(جب قوم زندہ رہنے کا فیصلہ کرلے تو پھر تقدیر بھی ضرور اس کا ساتھ دیتی ہے۔ پھر (ظلم کی) تاریک رات چھٹ جاتی ہے اور قید کی زنجیریں ٹوٹ گرتی ہیں۔)

تیونس کے عوام نے ثابت کر دیا کہ پورے عالمِ اسلام کے عوام کی تقدیر خود ان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

 

پہلے افغانستان کے بارے میں امریکی خفیہ دستاویزات سے پردہ اٹھایا گیا، پھر عراق کے بارے میں پنڈورا باکس کھولا گیا، اور طوفان کے تیسرے تھپیڑے نے تو پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی امریکی سفارت خانے ہیں، وہاں ایک بھونچال آگیا۔ نیویارک کی جڑواں عمارتوں پر حملے اور عالمی اقتصادی بحران کے بعد یہ نئی صدی کا تیسرا بڑا واقعہ ہے جس کے ، مستقبل کی سیاست و معیشت اور مجموعی عالمی صورتِ حال پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اگرچہ ان دستاویزات میں بیان کیے گئے لاکھوں انکشافات میں سے اکثر باتیں وہی ہیں جنھیں کھلا راز  کہا جاسکتا ہے، لیکن اسے بجا طور پر سفارتی نائن الیون قرار دیا جارہا ہے۔ اعتماد و اعتبار کسی بھی سفارت کار کا اصل ہتھیار ہوا کرتا ہے، لیکن اب دنیا میں ہر امریکی سفارت کار بے اعتبار ہو کر رہ گیا ہے۔ اب امریکا کے غلام، ایجنٹ اور زر خرید ’دوست‘ بھی اس سے کوئی بات کرتے ہوئے مستقبل کے وکی لیکس کو ضرور ذہن میں رکھا کریں گے۔ ان ’لِیکس‘ نے امریکی سفارت کاری کی زنبیل میں ایسا چھید کردیا ہے کہ طویل عرصے تک اسے رفو نہیں کیا جاسکتا۔ انکشافات نما دستاویزات کے مندرجات پر دنیا بھر میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور مزید بہت کچھ لکھا جاتا رہے گا، ہم یہاں اختصار کے ساتھ بعض اصولی نکات کا جائزہ پیش کر رہے ہیں:

ہر انسان کے لیے سب سے بنیادی سبق یہ ہے کہ اس کا ہرقول، ہرعمل کہیں نہ کہیں ریکارڈ ہورہا ہے۔ بعض انتہائی اہم افراد نے اپنے تئیں یہ سمجھ کر کچھ باتیں یا اقدامات کیے یا انھیں تحریر میں لے آئے کہ جو کچھ وہ خفیہ طور پر کررہے ہیں وہ خفیہ ہی رہے گا۔ پھر شاید وہ خود بھی بھول گئے کہ انھوں نے کبھی ایسی کوئی بات کہی تھی، لیکن کئی سال کے بعد اپنے ہی الفاظ اچانک ان کے سامنے آکر، انھیں آئینہ دکھانے لگے ہیں، اور وہ اس پر شرم سار ہورہے ہیں:  ع آئینہ ان کو دکھایا تو بُرا مان گئے۔

کوئی انکار کررہا ہے اور کوئی اپنی بات کو ’’سیاق و سباق سے کٹی ہوئی ادھوری بات‘‘ قرار دے رہا ہے۔ ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو، بہت ممکن ہے کہ کہے گئے الفاظ کو امریکی ’کاتبین‘ نے اپنی خواہشات کا تڑکا بھی لگا دیا ہو، لیکن کیا ہمیں اس موقع پر اپنے رب کی منادی سنائی دی:

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ o اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ o مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ o وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ط ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ o (قٓ ۵۰:۱۶-۱۹) ہم نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں ابھرنے والے وسوسوں تک کو ہم جانتے ہیں۔ ہم اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ (اور ہمارے اس براہ راست علم کے علاوہ) دو کاتب اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہر چیز ثبت کررہے ہیں۔ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا، جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگران موجود نہ ہو۔ پھر دیکھو وہ موت کی جان کنی حق لے کر آپہنچی۔ یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔

یہ دستاویزات تو انسانوں کا تیار کردہ ریکارڈ ہیں۔ انسانی وسائل ہی اس کا ثبوت ہیں، کہیں کوئی کمپیوٹر ڈسک، کوئی خفیہ کیمرہ، ٹیپ یا کاغذ کا کوئی ٹکڑا، لیکن جو ریکارڈ خالق تیار کررہا ہے اس میں تو دل میں بسے احساسات اور ذہنوں میں چھپے خیالات تک بلا کم و کاست محفوظ ہورہے ہیں۔ راز افشا ہوجانے پر دنیا میں ہونے والی جگ ہنسائی اور بدنامی تو دنیا ہی کی طرح عارضی اور وقتی ہے۔ کوئی تدبیر یا کوئی دھوکا و دجل شاید اس کا مداوا بھی کردے، لیکن اگر روز محشر بھی بدنامی و پردہ کشائی ہی حاصل ہوئی تو ہمیشہ ہمیشہ کی اس روسیاہی کا پھر کہیں کوئی علاج نہ ہوگا۔ ہاں، انسان اگر کاتب تقدیر ہی کو اپنا وکیل بنا لے تو دنیا و آخرت کی ہر عدالت میں ہمیشہ سرخ رو قرار پائے گا۔

مسلم حکمرانوں کا شرم ناک کردار

ان انکشافات میں سب سے قابلِ رحم طبقہ عالم اسلام کے حکمرانوں کا سامنے آیا ہے، یا پھر ان سیاست دانوں کا جو صرف اقتدار کو اپنا اول و آخر اور اصل ایمان سمجھتا ہے۔ اپنے عوام کے لیے خوں خوار بھیڑیوں سے بھی زیادہ سفاک، تمام تر ملکی مفادات کو اپنے اقتدار کی بھینٹ چڑھا دینے کے لیے ہر دم مستعد حکمران اور سیاست دان، اصل ایمان یہ رکھتے ہیں کہ اقتدار کا اصل سرچشمہ امریکی خوشنودی ہے۔ امریکا جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے۔ اپنے عوام اور اپنے کارکنان کے سامنے، فرعون کی طرح اکڑے یہ سب طرم خان، جب امریکی دربار میں حاضری دیتے یا کسی سفیر کبیر کے سامنے آتے ہیںتو آدابِ غلامی بجا لاتے ہوئے اور سب سے بڑھ کر مطیع فرمان و فرماں بردار ہونے کا یقین دلاتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں۔   بے گناہ اور معصوم شہریوں پر امریکی آقا کے ڈرون حملوں سے لے کر، براہ راست فوجی مداخلت اور عسکری آپریشن تک ہر ظلم کو عین انصاف اور حق قرار دیتے ہیں۔ پاکستان، یمن اور مصر کے حکمرانوں کے اس طرح کے بہت سے جملے ان دستاویزات میں ثبت ہیں کہ ’’آپ حملے کرتے رہیے، ہم کہیں گے یہ امریکا کی نہیں، دہشت گردوں کے خلاف ہماری اپنی کارروائی ہے‘‘۔ ’’آپ حملے کرتے رہیں، ہم مخالفانہ مذمتی بیان دے دیں گے، لیکن یقین رکھیں یہ صرف اپنے عوام کو بہلانے کے لیے ہوگا‘‘، ’’ہم اپنی اسمبلی سے آپ کے حملوں کے خلاف قرار داد منظور کروارہے ہیں لیکن آپ فکر نہ کریں، آپ کی کسی کارروائی میں کوئی خلل نہ آنے دیں گے‘‘۔ ہوسکتا ہے کہ یہ الفاظ اور جملے کہنے والے حکمران، اپنے ملک اور شہریوں کے دشمن نہ بھی ہوں لیکن سمجھتے یہی ہیں کہ یہ ان کی مجبوری ہے۔ امریکی خوشنودی کے بغیر کرسی نہیں ملتی اور اپنے لوگ مروائے بغیر امریکا راضی نہیں ہوتا۔

پاکستان کی موجودہ قیادت کی جو تصویر ان انکشافات میں سامنے آئی ہے وہ قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ زرداری صاحب کھلے الفاظ میں کہتے ہیں کہ وہ امریکا کی وجہ سے اقتدار میں آئے اور امریکا کے مشورے سے ساری پالیسیاں بنانے کا اطمینان دلاتے ہیں۔ موساد نے کہا: مشرف کی حکومت قائم رہنی چاہیے۔ زرداری نے جوبائیڈن سے کہا: فوج مجھے اقتدار سے محروم کرسکتی ہے۔ زرداری صاحب امریکی سفیرہ کو دہائی دیتے ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور وہ اپنا جانشین اپنی بہن فریال تالپور کو مقرر فرماتے ہیں۔ جنرل کیانی نواز شریف کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے    باب میں امریکی سفیرہ سے راز و نیاز فرماتے ہیں اور اسفندیار کو صدر بنانے کا عندیہ دیتے ہیں۔  نواز شریف صاحب جنرل کیانی کو آرمی چیف بنوانے پر امریکا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

اس طرح پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت کی جو جو شکلیں سامنے آئی ہیں وہ پاکستان کے ایک آزاد، خودمختار اور باوقار ملک ہونے کی نفی کرتی ہیں اور اس کی سرتاسر   ذمہ داری پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت پر آتی ہے۔ مسئلہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن کا ہو یا بھارت سے تعلقات کا یا دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان اور اس کی فوج کے کردار کا___ پرویز مشرف سے لے کر موجودہ قائدین تک ہرجگہ اس ملک کی قیادت امریکا کے اشارئہ چشم و ابرو پر ناچتے نظر آتے ہیں۔ باربار یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امریکی اسپیشل دستے پاکستان میں موجود ہیں۔ ڈرون حملے پاکستان کی سرزمین سے اور پاکستان کی قیادت کی ملی بھگت سے کیے جارہے ہیں۔ کم از کم ۱۶ امریکی فوجی قبائلی علاقوں میں پاک فوج کے ساتھ کارروائیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ امریکا چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کے خلاف تھا، ڈاکٹر قدیر پر پابندیاں اس کے دبائو میں لگائی گئیں، سوات آپریشن امریکا کے ایما پر کیا گیا اور اس آپریشن میں فوج کی ماوراے قانون کارروائیوں پر پورے علم کے ساتھ امریکا پردہ ڈالتا رہا۔

کیا محکومی اور ذلت کی یہ شرم ناک داستان قوم کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہیں؟

قرآن کریم کے الفاظ و آیات ہی نہیں ان کی ترتیب اور حرکات و سکنات بھی اپنے اندر ایک معنی و پیغام رکھتی ہے۔ ذرا ایک عجیب ترتیب ملاحظہ فرمائیے۔ سورہ آل عمران کی دو آیات میں انتہائی وضاحت و صراحت کے ساتھ اقتدار عطا ہونے اور چھین لیے جانے کے الٰہی اختیار و قدرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا:

قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُ وَ تُعِزُّمَنْ تَشَآئُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ  طبِیَدِکَ الْخَیْرُ ط اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ o تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَ تُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآئُ بَغَیْرِ حِسَابٍ o (اٰل عمران ۳:۲۶-۲۷ ) کہو خدایا! ملک کے مالک تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے جسے چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں۔ بے جان میں سے جان دار کو نکالتا ہے اور جان دار میں سے بے جان کو، اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔

پھر ان آیات کے فوراً بعد ارشاد ہوتا ہے:

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْئٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰۃً طوَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ط وَ اِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ o قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ اَوْ تُبْدُوْہُ یَعْلَمْہُ اللّٰہُ ط وَیَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِط وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ o یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓئٍ  تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَھَا وَ بَیْنَہٗٓ اَمَدًا م بَعِیْدًا ط وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ طوَ اللّٰہُ رَئُ وْفٌم بِالْعِبَادِ o  (اٰل عمرٰن ۳:۲۸-۲۹) مومنین اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور یار و مددگار ہرگز نہ بنائیں۔ جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں، یہ معاف ہے کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرز عمل اختیار کرجاؤ، مگر اللہ تمھیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمھیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ اے نبی لوگوں کو خبردار کردو کہ تمھارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے خواہ تم چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ بہرحال اسے جانتا ہے۔ زمین و آسمان کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور اس کا اقتدار ہر چیز پر حاوی ہے۔

اقتدار کی حرص میں گرفتار لوگوں کے لیے اس سے بہتر کوئی نصیحت اور اس سے سخت وعید کوئی اور ہوسکتی ہے؟ رب ذو الجلال کو علم تھا کہ اقتدار کے لالچ کا شکار ہوکر اہل ایمان بھی کفار سے خفیہ دوستیاں گانٹھیں گے، اس لیے واضح حکم بھی دے دیا اور خبردار بھی کردیا کہ انھیں رفیق و مددگار نہ بناؤ، وگرنہ اللہ سے تمھارا کوئی تعلق واسطہ نہ رہے گا‘‘ اور دیکھو اللہ تمھارے کھلے چھپے ہرحال سے آگاہ ہے، کسی سے چھپ چھپا کر بھی راز و نیاز، وعدہ، وعید اور عہدوپیمان کروگے تو اللہ ان سے باخبر ہوجائے گا۔ صاحب تفہیم القرآن ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’کہیں انسانوں کا خوف تم پر اتنا نہ چھا جائے کہ خدا کا خوف دل سے نکل جائے، انسان حد سے حد تمھاری دنیا بگاڑ سکتے ہیں مگر خدا تمھیں ہمیشگی کا عذاب دے سکتا ہے… خبردار کفر اور کفار کی کوئی ایسی خدمت تمھارے ہاتھوں انجام نہ ہونے پائے، جس سے اسلام کے مقابلے میں کفر کو فروغ حاصل ہونے اور مسلمانوں پر کفار کے غالب آجانے کا امکان ہو۔ خوب سمجھ لو کہ اگر اپنے آپ کو بچانے کے لیے تم نے اللہ کے دین کو، یا اہل ایمان کی جماعت کو، یا کسی ایک فرد مومن کو بھی نقصان پہنچایا، یا خدا کے باغیوں کی کوئی حقیقی خدمت انجام دی، تو اللہ کے محاسبے سے ہرگز نہ بچ سکو گے۔ جاناتم کو بہرحال اسی کے پاس ہے‘‘۔ (تفہیم القرآن، جلد اوّل، آل عمران حاشیہ ۲۶)

اس مضمون کو خالق کائنات نے قرآن کریم میں جا بجا بیان فرمایا ہے۔ کہیں کہا :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لَا یَاْلُوْنَکُمْ خَبَالًا طوَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآئُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُھُمْ اَکْبَرُ ط قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ o (اٰل عمران ۳:۱۱۸) اے لوگو جو ایمان لائے ہو اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔ وہ تمھاری خرابی کے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں نہیں چوکتے۔ تمھیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں، وہ اس سے بھی شدید تر ہے۔ ہم نے تمھیں صاف صاف ہدایات دے دی ہیں۔ اگر تم عقل رکھتے ہو (تو ان سے تعلق رکھنے میں احتیاط برتو گے)۔

سورئہ مائدہ میں فرمایا:

وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمط فَتَرَی الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْھِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَۃٌ o (المائدہ ۵:۵۱-۵۲) ’’اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انھیں میں ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ انھی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں۔ کہتے ہیں ’’ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں‘‘۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’مسلمانوں میں جو لوگ منافق تھے وہ اسلامی جماعت میں رہتے ہوئے، یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی ربط ضبط رکھنا چاہتے تھے۔ تاکہ کش مکش اگر اسلام کی شکست پر ختم ہو تو ان کے لیے کوئی نہ کوئی جاے پناہ محفوظ رہے۔ معاشی اسباب کی بنا پر بھی یہ منافق لوگ ان کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنے کے خواہش مند تھے۔ ان کا گمان تھا کہ اگر اسلام و کفر کی اس کش مکش میں ہمہ تن ہو کر ہم نے ان سب قوموں سے اپنے تعلقات منقطع کرلیے جن کے ساتھ اسلام اس وقت برسرپیکار ہے، تو یہ فعل سیاسی اور معاشی دونوں حیثیتوں سے ہمارے لیے خطرناک ہوگا۔ (تفہیم القرآن، ج۱، ص ۴۸۰)

اسلام اور اہل اسلام سے دشمنی رکھنے والوں کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں میں انھیں اپنی وفاداریوں کا یقین دلانے والے سورۃ الممتحنۃ کا مطالعہ بھی ضرور کرلیں۔ وہاں دیگرارشادات کے علاوہ یہ ارشاد ربانی بھی خصوصی توجہ چاہتا ہے:

تُسِرُّوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَآ اَخْفَیْتُمْ وَمَآ اَعْلَنتُمْ طوَمَنْ یَّفْعَلْہُ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلِ (الممتحنہ ۶۰:۱) تم چھپا کر ان کو دوستانہ پیغام دیتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو، ہر چیز کو میں خوب جانتا ہوں، جو شخص بھی تم میں سے ایسا کرے یقینا راہِ راست سے بھٹک گیا۔

کسی دنیاوی لالچ یا خوف کے باعث دشمن سے گٹھ جوڑ کرنا، اسے اپنی وفاداریوں کا یقین دلانا اور ذاتی مفاد کی خاطر ملک و ملت سے غداری کرنا اتنا سنگین جرم ہے کہ قرآن کریم میں مزید کئی مقامات پر اس سلسلے میں تفصیلی احکام و تنبیہات ملتی ہیں، لیکن یہاں مذکورہ بالا آیات و اقتباسات ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔

مسلم ممالک خصوصی ھدف

ان سفارتی دستاویزات میں جہاں مسلمان حکمرانوں ، سیاست دانوں، فوجی جرنیلوں، حکومتی کار پردازوں، اور دانشوروں کے ’اقوال زریں‘ درج کیے گئے ہیں، وہیں اپنے ان زرخرید دوستوں کے بارے میں امریکی آقاؤں کے ارشادات عالیہ بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی تمام تر وفاداریوں کا صلہ انھیں مکار، گھامڑ، بڈھا کھوسٹ، ازکار رفتہ، کرسی کا بھوکا، خرانٹ اور بعض ایسے ایسے القابات کی صورت میں دیا گیا ہے، کہ ایک مہذب انسان کے لیے انھیں زبان پر بھی لانا ممکن نہ ہو۔ امریکی ذمہ داران نے اپنے یہ سارے ادبی خزانے طشت ازبام ہوجانے پر بھی، کوئی ندامت یا شرمندگی محسوس نہ کی، نہ ہی ان پر کوئی معذرت کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ البتہ امریکی وزیر خارجہ یہ بیان دے کر اپنے تئیں فارغ ہوگئیں کہ سفارتی راز سامنے آنے سے ہمارے دوستوں کو جو شرمندگی ہوئی ہے، ہمیں اس پر افسوس ہے۔ پوری کوشش کریں گے کہ آیندہ ایسا نہ ہو۔ گویا صدمہ اگر ہے بھی تو اس بات پر کہ ’غلام اپنے غلاموں‘ کے سامنے بے نقاب ہوگئے وگرنہ، نہ تو ان کے بارے میں کہے گئے الفاظ و القاب غلط ہیں اور نہ خود ان کے اپنے بیانات میں کسی شک کی گنجایش ہے۔

اگرچہ دنیا کے صرف چند ممالک ہی ان لیکس کی زہرناکی سے محفوظ رہے یا رکھے گئے ہیں، لیکن ان کا غالب ترین حصہ مسلمان ممالک کے بارے میں ہے۔ اہل پاکستان کو لگتا ہے کہ وطن فروشی اور ضمیر کشی کی اس برہنہ دوڑ میں ان کے بڑے سب سے آگے ہیں، لیکن مجموعی طور پر دیکھیں تو  الاماشاء اللہ ہر ملک کا عالم یہی ہے۔ اکثر مسلم ممالک کے بارے میں جاری کی گئی دستاویزات، امریکی خواہشات اور منصوبوں کی حقیقی عکاسی کرتی ہیں۔ مثلاً ایران پر حملہ کرنے کی بات ہی لے لیجیے، کون نہیں جانتا کہ امریکا اور اسرائیل ایک عرصے سے اسی آرزو میں گھلے جارہے ہیں۔ عراق کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں WMD's کے بعد ایرانی ایٹمی پروگرام کو اسی عالمی جوڑے نے ہو .ّا بنا کر پیش کیا ہے، لیکن اپنے سفارتی مراسلوں میں اپنے اس پورے خواب اور منصوبے کا ملبہ عرب حکمرانوں پر ڈال دیا۔ شیعہ سنی اختلاف اور خوں ریزی کی ساری آگ پر تیل تو خود چھڑک رہا ہے، لیکن کندھا عرب حکمرانوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ صرف عرب، عجم یا شیعہ و سنی ہی نہیں تقریباً تمام پڑوسی مسلمان ملکوں کو اسی طرح ایک دوسرے کے مقابل لاکھڑا کیا گیا ہے۔ الجزائری صدر بوتفلیقہ پڑوسی ملک مراکش کے بادشاہ کے بارے میں بیان دیتے ہوئے اسے استعمار کا چہیتا قرار دے رہا ہے اور خلیجی حکمران حزب اللہ اور شام کے حکمرانوں سے شاکی ہیں۔  امریکی سفارت کار اگر ان سارے لڑائی جھگڑوں کو اپنی وزارت خارجہ کے سامنے بغلیں بجاتے ہوئے پیش کررہے ہیں، تو خود امریکی ارادوں کو بھانپنے اور اُن کا مطلب و مفہوم سمجھنے کے لیے کسی کا عبقری ہونا ضروری نہیں۔ ہاں اس پورے شر میں سے اگر خیر کا کوئی پہلو نکلتا ہے تو وہ یہی ہے کہ امریکی آرزوؤں کی بلی تھیلے سے باہر آجانے کے بعد، مسلمان حکمرانوں کے سامنے سنبھل جانے کا ایک اور موقع موجود ہے۔ کم از کم یہ ثابت کرنے کے لیے ہی وہ باہمی اختلافات کے الاؤ میں کودنے سے باز رہ سکتے ہیں کہ یہ دستاویزات ہماری نہیں امریکی خواہشات کا پرتو ہیں اور ہم ان سے اپنی برأت کا اظہار قولاً ہی نہیں عملاً بھی کرتے ہیں۔

مسلمان ممالک بالخصوص پاکستان کے حکمرانوں کو یہاں یہ حقیقت بھی دوبارہ اور اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ وہ امریکی خوشنودی کے لیے اپنا سارا ملک بھی کھنڈرات میں بدل دیں اور اپنی ساری قوم کو بھی موت کے گھاٹ اتار ڈالیں، یہ حرافہ راضی ہونے والی نہیں ہے۔ اس کے مطالبات جہنم کے پیٹ کی طرح ہیں، انسانوں اور پتھروں کا جتنا بھی ایندھن ڈال دیں، اس میں سے یہی صدا آئے گی: ھَلْ مِنْ مَزِیْد۔ امریکی زبان میں اس کا ترجمہ یہی ہے Do More ۔ قرآن کریم نے واضح طور پر خبردار کردیا کہ ان یہود و نصاریٰ کی خوشنودی صرف ایک صورت میں حاصل ہوسکتی ہے کہ اپنے رب کا دین چھوڑ کر ان کے دین میں داخل ہوجاؤ۔’ڈو مور‘ کی تابع داری کرتے حکمران، اقتدار کی کرسی بچاتے بچاتے اسی ھَلْ مِنْ مَزِیْد کے کنویں میں تو جاگریں گے، ’ڈومور‘ کا ڈھول بند نہیں ہوگا۔ جنوبی کے بعد شمالی وزیرستان، کوئٹہ اور پھر جنوبی پنجاب، کراچی اور پھر مریدکے… امریکا کہاں کہاں خون کی ہولی نہیں کھیلنا چاہتا۔

جواباً ہمارے ہاتھ میں کیا آتا ہے؟ لیکس کے مطابق ہالبروک اور دیگر امریکی ذمہ داران کی بھارت کو یہ یقین دہانیاں کہ وہ افغانستان میں مکمل آزادی سے کُھل کھیلے، ہم اس بارے میں کسی پاکستانی احتجاج یا مفاد کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ آج افغانستان سے لگاتار یہ خبریں آرہی ہیں کہ وہاں بچے بچے کے دل میں پاکستان سے نفرت بٹھائی جارہی ہے، بھارت وہاں ہر شعبہ زندگی میں پاؤں جما رہا ہے، خود افغانستان میں افغانیوں کی تربیت کے علاوہ چار ہزار سے زائد افغان فوجیوں کو بھارت لے جا کر انھیں عسکری و فکری تربیت دے چکا ہے اور یہ سلسلہ مزید جاری ہے۔ ساتھ ہی پختون اور بلوچ علیحدگی پسندوں کو بھی مسلسل اکسایا اور مضبوط کیا جارہا ہے، اگر اب بھی ’ڈومور‘ کے مطالبے کو مسترد نہ کیا گیا تو ہم مشرق و مغرب سے ایسے شکنجے میں کَس دیے جائیں گے کہ ان سے نکلنا کسی کے لیے ممکن نہ رہے گا۔

امریکی سفارت کار اپنی دستاویزات میں یہ اعتراف و اظہار کرتے ہیں کہ بھارت مظلوم کشمیریوں پر ناقابل بیان ظلم ڈھارہا ہے۔ کشمیری عوام کو زندگی کے ہر عنوان سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ان دستاویزات میں بھارتی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پاناگ کو بدنامِ زمانہ سرب درندے، میلوسووچ سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ ان تمام حقائق سے باخبر ہونے کے باوجود، امریکی غلامی کے گذشتہ ۱۰برسوں میں کبھی بھی امریکا نے بھارت کو اپنی دہشت گردی سے باز آنے کا نہیں کہا۔ وکی لیکس کے مطابق، امریکی اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ ہندو انتہا پسند طاقتیں بھارتی فوج اور ایجنسیوں سے مضبوط رشتہ رکھتی ہیں۔ اور یہ ہندو تنظیمیں عالمی امن کے لیے ان تمام تنظیموں سے بڑا خطرہ ہیں  جن کا نام پاکستان کے حوالے سے لیا جاتا ہے۔ بھارتی ایٹمی اثاثوں کا ۸۰ فی صد بھی بھارت کے منہ زور باغیوں کے علاقے میں اور ان کی ممکنہ دسترس میں ہے۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود، دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے ۱۰ برسوں میں کسی نے اس بارے میں بات نہیں کی۔  ان ۰ابرسوں میں امریکی صدور سمیت جو امریکی ذمہ دار بھی بھارت گیا، اس نے دلی میں حکمرانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر، پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کی ٹیپ چلانا اپنا فرض منصبی سمجھا۔ بھارتی پارلیمنٹ اور ممبئی حملوں کے بھارتی ڈراموں کا ملبہ پاکستان پر ڈالتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کے اڈے بند کرنے کا مطالبہ دہرایا۔ لیکن کشمیر، بھارتی مظالم، انسانی حقوق، کشمیر کے بارے میں بین الاقوامی قراردادوں جیسے کسی بے کار لفظ کو قابل التفات نہیں سمجھا۔ لیکس نے واضح کیا کہ امریکا اور عالمی برادری کور چشمی کے مریض نہیں۔ کشمیر ی عوام کی خوں ریزی انھیں بھی دکھائی دیتی ہے لیکن مسلمان حکمرانوں کی طرح امریکی بھی مجبور ہیں۔ ان کی مجبوری یہ ہے کہ کشمیری عوام نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ پاکستان سے محبت کا جرم بھی کرتے ہیں۔

یھودیوں سے خفیہ معاھدہ

وکی لیکس نے دنیا کے تقریباً ہر ملک کی خفیہ کہانیاں سرعام بیان کر دی ہیں، لیکن ان انکشافات کا ایک نہایت اہم پہلو، جس کی طرف مبصرین اور تجزیہ نگاروں کی بہت کم توجہ گئی ہے،   یہ ہے کہ فی الوقت دنیا پر اصل قبضہ یہودیوں کا ہے لیکن وکی لیکس میں کہیں بھی صہیونی حکمرانوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جن برسوں کی یہ یادداشتیں ہیں، انھی برسوں میں اسرائیلی درندوں نے سفاکیت کے نئے عالمی ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ لبنان کی تباہ کن جنگ کے علاوہ، غزہ میں قیامت خیز تباہی برپا کی ہے۔ یاسر عرفات سے کام نکل جانے کے بعد انھیں زہر دے کر موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ لیکن ان تمام صہیونی کارناموں کو قابل اعتنا نہیں سمجھا گیا۔ اب ہوسکتا ہے کہ اپنی ساکھ قائم کرنے کے لیے صہیونی ریاست کے راز و نیاز سے بھی کچھ پردہ سرکا دیا جائے لیکن یہ سوال اپنی جگہ رہے گا کہ لاکھوں دستاویزات میں اب تک کیوں اسے کوئی جگہ نہ مل سکی؟ اس طرح کے دیگر کئی اہم سوالیہ نشانات کی روشنی میں بعض تجزیہ نگاروں کی راے میں ان لیکس میں ایک ڈرامے اور سازش کے سارے رنگ موجود ہیں۔ اس بارے میں دو آرا ہوسکتی ہیں لیکن اتنی بات بہرحال اظہر من الشمس ہے کہ تمام دستاویزات میں سے صہیونی ریاست سے متعلق تمام منفی چیزیں حذف کردی گئیں یا انھیں پردۂ اخفا میں رکھا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر۔

اس چابک دستی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان انکشافات کا وہ حصہ باقی رکھا گیا ہے جو ہے تو صہیونی جرائم کے بارے میں، لیکن اس میں کچھ کردار عرب حکمرانوں کا بھی ہے۔ عرب حکمرانوں کا پردہ چاک والی یہ دستاویزات باقی رہنے دی گئی ہیں۔ مثلاً یہ کہ غزہ پر اسرائیلی حملے کے لیے پڑوسی عرب حکمرانوں بالخصوص مصری اور الفتح کے ذمہ داران نے نہ صرف اسرائیل کی حوصلہ افزائی کی تھی، بلکہ انھوں نے اس آرزو اور خواہش کا اظہار بھی کیا تھا، کہ غزہ سے حماس کی منتخب حکومت کا خاتمہ کرکے وہاں محمود عباس کے سیکورٹی مشیر محمد دحلان کا اقتدار قائم کیا جائے۔ یہ دستاویزات بتاتی ہیں کہ مصری حکومت نے نہ صرف اسرائیلی احکام کی پیروی کرتے ہوئے غزہ کا محاصرہ کیا بلکہ غزہ کا ہر راستہ بند ہوجانے کے بعد، اہل غزہ کی طرف سے مصری بارڈر پر کھودی جانے والی سرنگوں کی نشان دہی بھی کی، جنھیں اسرائیلی حملوںکے ذریعے تباہ کردیا گیا۔ ان لیکس میں ان کئی حکمرانوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات ہیں، یہ سب کچھ بتانے کا ایک مقصد یقینا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دیگر مسلمان حکمرانوں کو بھی اس طرح کے روابط کے لیے حجت فراہم کی جائے۔ اس صورت حال کے تناظر میں بعض اسرائیلی صحافتی ذرائع نے اب باقاعدہ دعویٰ کردیا ہے کہ ولی لیکس انتظامیہ نے صہیونی ذمہ داران سے معاہدہ کیا تھا، کہ ان کے بارے میں تمام مراسلات پردئہ اخفا میں رکھے جائیں گے۔

کثرت اور تنوع کے ساتھ ساتھ ان دستاویزات سے یہ امر بھی پوری طرح مترشح ہوتا ہے کہ امریکی سفارت کار دنیا کے ہر ملک میں اور اس کے تمام اُمور میں مداخلت کرتے ہیں۔ وہ کسی بھی ملک کے نچلے سے نچلے طبقے تک براہ راست رسائی رکھتے ہیں۔ سیاست دان، صحافتی، تعلیمی اور عسکری حلقے ان کی سرگرمیوں اور توجہ کا خصوصی مرکز ہیں۔ معاشرتی دائروں میںبھی وہ تمام طبقوں بالخصوص خواتین اور نوجوانوں میں گہری رسائی حاصل کررہے ہیں۔ وہ ہر طبقے کے افراد کو ڈالروں، عیاشیوں، بیرونی دوروں یا دیگر مفادات کے گرداب میں پھانسنے اور پھر انھیں بلیک میل کرتے رہنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ معروف اور طے شدہ سفارتی اصول و ضوابط کے مطابق، غیر ملکوں میں موجود سفارت کار، ان ممالک کے محدود علاقوں اور محدود افراد و اداروں تک ہی رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ دیگر افراد اور علاقوں تک پہنچنے کے لیے اس ملک کی وزارتِ خارجہ کے ذریعے، متعین ضوابط کی پابندی کرنا لازمی ہے لیکن امریکا بہادر خود کو کسی ضابطے کا پابند نہیں سمجھتا۔

اب تو سفارتی حلقوں کے علاوہ غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) بھی بہت بڑی تعداد میں میدان میں اُتار دی گئی ہیں، جو ہر جگہ اپنی پوری کی پوری سلطنتیں قائم کررہی ہیں۔ بالخصوص مسلم دنیا میں این جی اوز اور استعماری کارندوں کے ہراول دستے کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ اس کی نمایاں ترین مثال بنگلہ دیش کی نام نہاد این جی او براک (BRAC) ہے جس کا آغاز ۱۹۷۲ء میں ہوا مگر اس نے ۱۵برس کے اندر اندر بنگلہ دیش کے سیاسی، سماجی اور معاشی میدان میں اپنی گرفت  مضبوط تر کرلی۔ ۱۹۹۲ء میں خالدہ ضیا کی حکومت نے اس کے معاملات اور مداخلت کاری کا جائزہ لینے کے لیے ایک باقاعدہ کمیشن بنایا۔ کمیشن نے یہ بات متعین اور واضح طور پر کہہ دی کہ یہ نام نہاد این جی او عملاً ایک مداخلت کار اور ریاست کے اندر ریاست ہے۔ لیکن پھر جونہی اس پر قدغن لگانے کی بات کی گئی تو اصل راز کھل گیا۔ یورپی یونین نے دھمکی دے دی کہ اگر براک پر بنگلہ دیشی حکومت نے ہاتھ ڈالا تو ہم اس سے سفارتی تعلقات توڑ لیں گے۔ آج اس تنظیم کے ۳۸ ہزار سے زائد غیر رسمی تعلیم کے اسکول اور ایک لاکھ ۲۵ ہزار سے زیادہ تنخواہ دار کارندے، بنگلہ دیش کی تعلیمی ہی نہیں سیاسی، سماجی، معاشی حتیٰ کہ داخلہ پالیسی تک کے معاملات پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ اب اسی تجربے کو دیگر ممالک میں پھیلاتے ہوئے خاص طور پر افغانستان اور پاکستان کو ہدف بنایاجارہا ہے۔ افغانستان میں تو ۲۰۰۲ء سے اس کو تقویت دینے کے لیے ۳۴ میں سے ۲۳ صوبوں میں کسی نہ کسی رنگ میں کام کرنے کے مواقع دیے گئے ہیں، جب کہ پاکستان میں اس نے ۲۰۰۷ء سے کام کا آغاز کیا ہے اور ۸ اضلاع میں اپنے نیٹ ورک کو مضبوط بنالیا ہے۔ کمپنی کی سابقہ مشہوری کے سبب یورپی اور امریکی پشت پناہی کے دروازے چوپٹ کھلے رہیں گے، لیکن اگر معاملہ یہی رہا تو آیندہ دو سال کے بعد خود پاکستان کے وہ حکمران جو اس کے لیے مدد کے دروازے کھول رہے ہیں اپنے کیے پر یقینا پچھتائیں گے۔ مگر تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

اسلامی تحریکوں کا امتیاز

امریکی دستاویزات سامنے آنے کا ایک مفید پہلو یہ ہے کہ اس سے دنیا کے سامنے اسلامی تحریکوں کی شفافیت اور اصول پسندی مزید واضح اور اجاگر ہوگئی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان سمیت دنیا کی کوئی ایک بھی اسلامی تحریک نہیں کہ جس کی قیادت نے امریکا کے ساتھ اپنے ایمان و ضمیر کا سودا کیا ہو۔ سفارتی روابط ان کے بھی ہیں اور کئی ممالک میں کئی دیگر جماعتوں اور پارٹیوں سے زیادہ مستحکم و مربوط بھی، لیکن یہ ان پر اللہ کا خصوصی کرم ہے کہ ان کی قیادت براے فروخت نہیں ہے۔ وہ بند کمروں میں بھی امریکیوں سے وہی کہتے ہیں جو لاکھوں کے مجمعے میں۔ یقینا اللہ کی حفاظت نہ ہوتی، تو یہ کمزور انسان بھی امریکا کی پھیلائی آلایشوں سے محفوظ نہ رہتے۔

مسلمان ممالک کے حکمرانوں کے بارے میں امریکی رپورٹوں اور تبصروں کے جواب میں اب تک صرف دو حکمران ایسے سامنے آئے ہیں جنھوں نے خود پر لگائے گئے الزامات کا پوری شدومد اور مضبوطی سے جواب دیا ہے۔ ایک تو ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوگان جن پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے مالی بدعنوانی کی ہے۔ سوئٹزر لینڈ کے بنکوں میں ان کے آٹھ اکاؤنٹس ہیں اور ان میں بھاری رقوم پڑی ہیں۔ طیب اردوگان نے فوراً پریس کانفرنس بلائی اور چیلنج کیا کہ سوئس بنکوں میں میرا ایک بھی اکاؤنٹ اور ایک بھی پیسہ ثابت کردو تو مَیں حکومت و سیاست سے ابھی استعفا دینے کو تیار ہوں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم ان امریکی سفارت کاروں کے خلاف عالمی اور امریکی عدالت میں مقدمہ درج کروائیں گے جنھوں نے الزامات پر مبنی یہ رپورٹس بھیجی ہیں۔ فوراً امریکی وزیرخارجہ نے رابطہ کیا اور ترک حکومت سے باضابطہ معذرت کی گئی۔ لیکن ترک حکومت پر اصل الزامات وہ ہیں جو دیگر سیکڑوں دستاویزات کے ذریعے پیش کیے گئے ہیں اور جن میں ترک حکومت کو اسرائیل کا کھلا مخالف قرار دیتے ہوئے، ترکی اسرائیل تعلقات میں روز افزوں ابتری اور تناؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

دوسرے حکمران سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر ہیں ان پر بھی مالی بدعنوانی اور ۱۰ ارب ڈالر برطانیہ لے جانے کا الزام لگایا گیا۔ انھوں نے بھی اس کی شدید مذمت و تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ثابت کردو کہ میں نے یہ رقم اڑائی اور برطانیہ میں رکھی ہے، تو مَیں خود یہ ساری رقم الزام ثابت کرنے والے کی نذر کردوں گا۔ لیکن سوڈان چونکہ خود مشکلات میں گھرا ہوا ہے، اس کے  جنوبی حصے کی علیحدگی کا سورج سوا نیزے پر آگیا ہے، اس لیے ایسی مشکل میں گھرے ہوئے پریشان حال سوڈان سے معذرت کا تکلف نہیں کیا گیا۔

دنیا پر حکمرانی کا خبط

امریکی دستاویزات نے پوری دنیا میں پھیلے امریکی سفارت کاروں کو ان ممالک کے اصل حکمران ہونے کے زعم و خبط کا شکار دکھایا ہے۔ خود امریکی اعلیٰ عہدے دار بھی اسی خدائی دعوے کی پھنکاریں مارتے نظر آتے ہیں، لیکن خود امریکا ہی میں لاتعداد امریکی دانش ور اور تجزیہ نگار، دہائیاں دے رہے ہیں کہ خدارا اس پاگل پن سے نجات حاصل کرلو۔ عالمی امپیریل پاور بننے کے جنون میں ہم نے خود کو تباہی کے مہیب دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ اگر ہمارے پاگل پن کا دورہ اسی شدت پر رہا، تو کوئی دن جاتا ہے کہ ہماری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ دیگ کے ایک دانے کے طور پر چند روز قبل انتقال پاجانے والے امریکی دانش ور چیلمرز جانسن Chalmers Jonson کا مفصل مقالہ بعنوان Blowback: The Costs and Consequences of American Empire ملاحظہ کرلیجیے۔ جانسن اپنی کئی تحریروں میں سابقہ استعماری اور عالمی طاقتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ انھوں نے بھی دیگر اقوام و ممالک پر قبضے کو قدرت کا فیصلہ اور انتخاب قراردیا۔ اپنے اپنے زمانے کی یہ سوپر طاقتیں بھی باقی تمام اقوام کو کمزور، وحشی اور جاہل قراردیتے ہوئے، دنیا کو ترقی اور حقیقی امن و آزادی دینے کا دعویٰ کرتے ہوئے، ان پر قابض ہوتی چلی گئیں لیکن اپنے گھر سے باہر پھلتے پھولتے اور پھیلتے، وہ بالآخر اپنے گھر میں بھی تباہ حالی کا شکار ہوگئیں اور باہر بھی شکست و نامرادی سے دوچار ہوگئیں۔

جانسن امریکی وزارت دفاع کے اعداد و شمار کی روشنی میں بتاتا ہے کہ اس وقت دنیا میں امریکا کے ۷۳۷ فوجی اڈے ہیں۔ دنیا کے ۱۳۰ ممالک میں اس کے تقریباً ۵ لاکھ فوجی، جاسوس یا ایجنٹ پھیلے ہوئے ہیں۔ افغانستان اور عراق میں بیٹھے لاکھوں فوجی جاسوس اور ایجنٹ اس کے علاوہ ہیں۔ لیکن اتنی بڑی عسکری قوت کے باوجود اس کی بیرونی فوجی ایمپائر بھی تیزی سے زوال اور ہلاکت کی دلدل میں دھنستی چلی جارہی ہے اور اندرونی جمہوری نظام کی بنیادیں بھی بتدریج بوسیدہ اور کمزور ہوتی جارہی ہیں۔ اپنے ملک کے ساتھ مخلص ایک دانش ور اپنی تحریروں میں بار بار امریکی ایمپائر کو اختتام (End) سے خبردار کرتے اور ’’تمھارے دن گنے جاچکے‘‘ کہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگیا۔ کیا وقت نہیں آیا کہ وکی لیکس کے لاکھوں صفحات میں بکھری داستانوں کو پڑھ کر،  ان سے کچھ سیکھ کر، اور خدا توفیق دے تو کچھ عبرت پکڑ کر مسلمان حکمران (اور عوام بھی) ایک ڈوبتے ہوئے آقا کے در سے اُٹھ کھڑے ہوں اور اپنے رب کے حضور جھک جائیں___؟

وہ یقین کریں کہ رب کے در پر سر جھکانے سے وہ اتنے سربلند ہوں گے کہ انھیں ساری دنیا اپنے سامنے جھکی ہوئی اور پست نظر آئے گی۔

 

الجزائر: اسیروں سے یک جھتی

قومی ترانہ کیا ہے، پورا اعلانِ بغاوت اور اعلانِ جہاد ہے۔ میرا نہیں خیال کہ دنیا کے کسی اور ملک کے قومی ترانے میں استعماری ملک کا نام لے کر اسے چیلنج کیا ہوگا۔ الجزائر کے قومی ترانے میں دو مرتبہ فرانس کا نام لے کر اس سے نجات حاصل کرنے پر اظہارِ فخروانبساط کیا گیا ہے:

یَافَرنَسْا قَدْ مَضٰی وَقْتُ الْعِتَاب
وَطَوَیْنَاہ کَمَا یُطْوٰی الْکِتَاب

یَافَرنَسْا اِنَّ ذَا یَوْمُ الحِسَاب
فَاسْتَعِدِّی وَخُذِی مِنَّا الْجَوَاب

اِنَّ فِی ثَوْرَتِنَا فَصْلَ الخِطَاب
وَعَقَدْنَا الْعَزْمَ اَنْ تَحْیَا الْجَزَائر

(او فرانس! اب وقت عتاب لد چکا، ہم نے اس دور کو کسی کاغذ کی طرح لپیٹ کر رکھ دیا ہے۔ اوفرانس! روزِ حساب آن پہنچا۔ اب تیار ہوجائو اور ہمارا جواب سن لو۔ بے شک ہمارے انقلاب میں دوٹوک پیغام ہے۔ ہم نے پختہ عزم کرلیا ہے کہ الجزائر ہمیشہ تابندہ رہے گا۔)

کسی بھی موقع پر، کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ، حتیٰ کہ فرانسیسی ایوان ہاے اقتدار میں بھی اگر کبھی الجزائر کا قومی ترانہ بجے گا تو وہاں بھی یہی لَے اور اس کی یہی شان ہوگی۔ الجزائر سمیت بہت سے افریقی ممالک فرانسیسی استعمار کے قبضے میں رہے ہیں۔ ہرجگہ فرانسیسی زبان اور فرانسیسی تسلط کے اثرات اب بھی واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں، لیکن الجزائری عوام میں فرانسیسی استعمار کے خلاف جذبات اس قدر گہرے اور ہمہ گیر ہوں گے، الجزائر خود جاکر دیکھنے سے پہلے اس کا یوں اندازہ نہ تھا۔

الجزائر جانے کا پروگرام پہلے بھی دو تین بار بنا، لیکن ہربار کسی نہ کسی ناگزیر مصروفیت کے باعث آخری لمحات میں منسوخ کرنا پڑا۔ بالآخر ۵ اور ۶ دسمبر کو الجزائر کے دارالحکومت الجزائر (ملک اور دارالحکومت کا نام ایک ہی ہے) میں استعماری جیلوں میں گرفتار قیدیوں سے یک جہتی کے لیے منعقدہ کانفرنس میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ کانفرنس حکمران پارٹی ’محاذ آزادی‘ اور فلسطینی تنظیموں کے اشتراک سے منعقد ہوئی تھی۔ دنیا بھر سے ۷۰۰ کے قریب شرکا مدعو تھے۔ میزبانوں کے اعلان کے مطابق نیلسن منڈیلا کی شرکت بھی متوقع تھی، وہ تو اپنی ضعیفی کے سبب نہ آسکے، لیکن کانفرنس میں کئی اور نیلسن منڈیلا شریک تھے۔ ایسے بہت سے افراد تھے جو صہیونی، فرانسیسی، عراقی جیلوں میں طویل قید کاٹ چکے تھے۔ حزب اللہ کے سمیرالقنطار بھی تھے جنھیں اسرائیل نے ۵۴۲ سال کی قید سنائی تھی اور بالآخر ۳۰سال بعد قیدیوں کے تبادلے میں رہا کرنا پڑا۔ ایسی خواتین بھی تھیں جو ۱۰،۱۰سال سے بھی زائد عرصہ صہیونی درندوں کے نرغے میں رہیں۔ ایک ایسی خاتون بھی اپنے شوہر اور اڑھائی سالہ بچے کے ساتھ کانفرنس میں موجود تھیں جو اپنی شادی کے چند ماہ بعد گرفتار ہوگئیں۔ جیل ہی میں بچے کی ولادت ہوئی اور معصوم باغی، دنیا میں آمد کے پہلے ۲۰ماہ اپنی ماں کے ساتھ جیل ہی میں رہا۔ گویا قیدوبند اس کی گُھٹی میں شامل ہے۔ عبداللہ البرغوثی نام کے ایک قیدی کے ۷۰سالہ والد بھی موجود تھے۔ عبداللہ کو اسرائیل نے ۶۷بار عمرقید، یعنی ۱۶۷۵سال کی سزا سنائی ہے۔ ظاہر ہے نہ قیدی نے سیکڑوں سال تک جینا ہے، نہ جلادوں اور جیلروں نے، لیکن اپنی درندگی ثابت کرنے کے لیے ضروری تھا کہ صدیوں کی قید سنائی جائے۔ سفید ریش والد کی آنکھیں غمِ یعقوب کی جھلک دکھا رہی تھیں، لیکن اپنی گفتگو میں انھوں نے بیٹے سمیت آزادی و جہاد کے ہر اسیر کو یہی پیغام دیا کہ لاتحزن ان اللّٰہ معنا، ’’غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔

اسرائیلی جیل میں قید ۳۰ سالہ فلسطینی خاتون احلام التمیمی کے اہلِ خانہ بھی شریکِ کانفرنس تھے۔ احلام کو ۱۶بار عمرقید (۴۰۰ سال) کی سزا سنائی گئی ہے۔ صہیونی ریاست کی تاریخ میں کسی خاتون کو دی جانے والی یہ سب سے لمبی سزا ہے۔ کانفرنس میں ایک فلسطینی قیدی نائل البرغوثی کا خط بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ نائل صہیونی جیلوں کا سب سے پرانا قیدی ہے۔ ذرا جگر تھام کر سنیے کہ وہ گذشتہ ۳۳سال سے جیل میں ہے۔ اس نے اپنے خط میں لکھا تھا: ’’ہمیں زنجیروں کی پروا نہیں ہے، لیکن اگر آپ مسئلۂ فلسطین اور قیدیوں سے اظہار یک جہتی میںکمزوری دکھاتے ہیں تو اس کا دکھ شدید ہوتا ہے‘‘۔ نائل اگر آج بیت المقدس پر قابض صہیونی دشمن کو لکھ کر دے دے کہ اسے جہادِ آزادی میں حصہ لینے پر افسوس ہے، اور وہ آیندہ اس جرم کا ارتکاب نہیں کرے گا، تو وہ کل رہائی پاسکتا ہے۔ لیکن وہ جانتا ہے کہ جہاں ۳۳ سال قید گزر گئی، شاید باقی عمر بھی وہیں گزر جائے گی۔ لیکن اگر آج اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلۂ اوّل سے بے وفائی کرتے ہوئے، اس پر یہودی تسلط قبول کرلیا تو پھر جو قید شروع ہوگی وہ موت کے بعد بھی جاری رہے گی… ہمیشہ ہمیشہ کی قید… جہنم کی وادیوں کی قید!

عراق کے ابوغُرَیب جیل میں امریکی سورمائوں کی قید میں رہنے والی ۵۰سالہ خاتون بھی کانفرنس میں شریک تھیں، بتانے لگیں کہ آزادی، جمہوریت اور حقوقِ انسانی کے علَم بردار امریکی درندوں نے، ہمیں کئی ماہ تک ایک تنگ بیت الخلا میں بند رکھا۔ ابوغریب میں ہونے والے مظالم کی تصویریں باہر آئیں، تذلیلِ انسانیت کی نئی تاریخ دنیا کے سامنے آئی، عالمی احتجاج ہوا، تو امریکا نے دنیا کو دکھانے کے لیے بعض عالمی تنظیموں کو ابوغُرَیب کا دورہ کروایا۔ اسی طرح کے ایک دورے کے موقع پر ہم درجنوں خواتین کو قیدخانے کی اُوپر والی منزل میں بند کر دیا گیا۔ نیچے ان زائرین کا وفد پہنچا، تو امریکی جیلر انھیں صاف ستھرے کمروں میں، نظم و ترتیب سے رکھے گئے قیدیوں کی بیرکیں دکھانے لگے۔ موقع غنیمت جان کر ہم سب خواتین نے شور مچانا شروع کر دیا۔ ٹیم کے کچھ ارکان ہم تک آن پہنچے اور حقیقت ِ حال کھل جانے پر امریکیوں کو ہمیں رہا کرنا پڑا۔ اس ادھیڑعمر خاتون نے کانفرنس ہال کے باہر، دیگر تنظیموں کی طرح عراقی قیدیوں کے بارے میں بھی ایک تصویری نمایش لگا رکھی تھی۔ ناقابلِ بیان مناظر امریکی فوجیوں کے ’مہذب‘ ہونے کی دہائی دے رہے تھے۔

کانفرنس میں معروف برطانوی پارلیمنٹیرین جارج گیلوے بھی شریک تھے۔ وہ اب تک تین قافلے غزہ لے جاچکے ہیں۔ فریڈم فلوٹیلا کے بعد وہ پورے عالمِ عرب میں ہیرو کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ اسٹیج پر آکر انھوں نے انگریزی لہجے میں ’السلامولیکم‘ سے گفتگو کا آغاز کیا تو ہر ایک نے اپنائیت کا ایک انداز محسوس کیا۔ کانفرنس کے اکثر شرکا اسے برادر جورج، جارج بھائی کہہ کر مخاطب ہورہے تھے۔ انھوں نے اپنی گفتگو میں غزہ کی کھلی جیل میں ۱۵لاکھ فلسطینی قیدیوں کا ذکر کیا۔  انھوں نے اس پر اظہارِ افسوس کیا کہ وکی لیکس کے ہزاروں مراسلوں میں کسی عرب حکمران نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی بات نہیں کی۔ اپنی سرگرمیوں کے بارے میں انھوں نے بتاتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دوبرسوں میں ۵۵ امریکی شہروں میں جاکر فلسطین کے حق میں تقاریر کی ہیں۔

کانفرنس میں شریک مغربی دانش وروں میں سے ایک بڑا نام سٹینلی کوہن کا تھا۔ یہ معروف یہودی امریکی وکیل، امریکی اور اسرائیلی عدالتوں میں فلسطین کا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’ہم تمام یہودی، فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے یکساں ذمہ دار ہیں۔ ایک امریکی شہری ہونے کی حیثیت سے ہم شرمندہ ہیں کہ ہمارا ملک صہیونی لابی کے نرغے میں گھرا ہوا ہے‘‘۔ انھوں نے مغربی حکمرانوں سے سوال کیا کہ وہ فلسطین کا دورہ کرتے بھی ہیں تو فلسطینی عوام کی منتخب حکومت سے کیوں نہیں ملتے؟ ہم تو جمہوریت کے چیمپئن ہیں۔ عیسائی جورج اور یہودی سٹینلی نے انصاف کی بات کی، تو پوری کانفرنس نے انھیں دل کھول کر داد دی۔ اس پذیرائی میں یہ اعلان شامل تھا کہ اصل دشمنی پالیسی اور اعمال سے ہے۔ یہودی اور عیسائی رہتے ہوئے بھی اگر کوئی حق کا ساتھ دے تو اس سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں۔ قرآن کریم بھی دعوت دیتا ہے:

اے نبیؐ! کہو، ’’اے اہلِ کتاب، آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنا لے‘‘۔ اِس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیںتو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو، ہم تو مسلم (صرف خدا کی بندگی و اطاعت کرنے والے) ہیں۔(اٰل عمران ۳:۶۴)

کانفرنس صبح ۱۰ بجے شروع ہوئی تھی۔ راقم کو بھی افتتاحی سیشن میں خطاب کی دعوت دی گئی۔ اسٹیج پر پہنچا تو سوا گیارہ ہورہے تھے۔ پاکستان اور الجزائر میں پانچ گھنٹے کا فرق ہے۔ عین اس وقت، یعنی تقریباً سوا چار بجے سہ پہر، اسلام آباد کے ایوانوں کے سامنے جماعت اسلامی کا دھرنا اپنے عروج پر تھا۔ اندازہ لگایا کہ اب شاید محترم امیرجماعت کا خطاب شروع ہونے کو ہوگا۔ اللہ نے توفیق دی اور اسی بات سے گفتگو کا آغاز ہوگیا کہ آج جس لمحے ہم پوری دنیا سے اس کانفرنس ہال میں جمع ہیں، اسلام آباد کی سڑکوں پر آپ کے ہزاروں بھائی اپنے امیر کی قیادت میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ وہ سب میدان میں آکر صرف صہیونی ہی نہیں، تمام استعماری جیلوں سے    بے گناہ قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں… شرکاے کانفرنس نے تالیوں سے اس اعلان کا استقبال کیا اور وہ سب بھی دھرنے میں شریک ہوگئے۔ پھر چند منٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے لے کر امریکی ڈرون حملوں، پاکستان کے خلاف دشمنوں کی سازشوں، کشمیر میںہندستانی استعمار کی چکّی تلے پسنے والے کشمیریوں کا ذکر کرتے ہوئے اجازت لی۔ متعدد بار شرکا بھی اپنی تالیوں سے شریکِ گفتگو رہے۔

مصر کے عام انتخابات

اسی روز (۵ دسمبر) ہی کو مصر میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ ہورہی تھی۔ اس لیے وہاں سے زیادہ شرکا نہیں آئے تھے۔ ویسے بھی مصر اور الجزائر کے درمیان ان دنوں تعلقات کافی کشیدہ ہیں۔ بدقسمتی ملاحظہ فرمایئے کہ دونوں اہم برادر ملکوں کے درمیان جھگڑا ایک فٹ بال میچ کے دوران ہوا۔ لگتا تھا میچ دونوں بھائیوں کے درمیان باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ کئی ماہ قبل ہونے والے اس حادثے کی گرمی ابھی تک فضا میں موجود تھی۔ اب بھی الجزائر کے اخبارات لکھ رہے تھے: ’’مصر سے تعلقات بحال نہیں ہوسکتے، اس نے ہمارے شہدا کی توہین کی ہے، اسے الجزائری قوم سے معافی مانگنا ہوگی‘‘۔ مصری دوستوں سے ان کے انتخابات کے بارے میں دریافت کیا تو غصے اور بے بسی کا مرقع بن گئے۔ کہنے لگے: کچھ نہ کچھ دھاندلی اور فراڈ تو شاید دنیا کے ہرالیکشن میں ہوتا ہے، لیکن ہر غیرجانب دار منصف، مصر میں انتخابی دھاندلی کو پوری دنیا میں پہلا نمبر دے گا۔

الیکشن سے کئی ماہ پہلے مصر کے تقریباً ہر شہری کو معلوم تھا، کہ اس بار الیکشن میں اپوزیشن کو ایک فی صد نمایندگی بھی نہیں لینے دی جائے گی۔ گذشتہ انتخابات پانچ مراحل میں مکمل ہوئے تھے۔ اگرچہ ان میں بھی دھاندلی اور ریاستی تشدد کی انتہا کر دی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود بھی     الاخوان المسلمون کو ۸۸ نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ مرحلہ وار انتخاب میں اخوان کو جیتنے سے روکنے میں ناکامی پر اس بار پورے ملک میں ایک ہی روز ووٹنگ تھی۔ اخوان کا ایک بھی نمایندہ پارلیمنٹ میں نہیں جانے دیا گیا۔ اپوزیشن وفد پارٹی کو تین سیٹیں دی گئی تھیں، حکومت نے پہلے ہی ہلے میں ۹۵فی صد سیٹیں جیت لیں، جب کہ ۲۰۰ سے زائد حلقوں میں حتمی فیصلہ نہ ہونے کے باعث، ایک ہفتے بعد دوبارہ پولنگ کروانے کا اعلان کیا گیا۔ ان میں اخوان کے بھی ۲۷ اُمیدواروں کے نام شامل کیے گئے۔ وفدپارٹی کے بھی چند اُمیدوار دوسرے مرحلے میں آگئے۔ وفدپارٹی نے اتوار کے روز ہونے والی پولنگ میں دھاندلی کے خلاف، منگل کے روز دوسرے مرحلے کے بائی کاٹ کا اعلان کردیا۔ اخوان کے مرشدعام نے پیر کے روز ایک تفصیلی اور پُرہجوم کانفرنس میں اپنے تفصیلی موقف کا اعلان کیا۔ انھوں نے مصری عوام اور اخوان کے اُمیدواروں اور کارکنان کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ تمام تر حکومتی جبروتشدد کے باوجود، انھوں نے میدان نہیں چھوڑا اور آج وہ ایک بھی سیٹ نہ ملنے کے باوجود دنیا میں کامیاب قرار دیے جارہے ہیں اور اللہ کے دربار میں کامیابی کا تو ادنیٰ شک نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: انتخابات میں بے نظیر دھاندلی کی وجہ سے پوری دنیا میں مصر کی بدنامی ہوئی ہے۔ اس عالمی توہین کی پوری ذمہ داری حکومت کے سر ہے۔ واضح رہے کہ مصری انتخابات میں  کھلم کھلا دھاندلی کا اعتراف خود حُسنی مبارک کے سرپرست امریکا و برطانیہ کے تقریباً تمام اخبارات نے بھی کیا۔ سب نے حُسنی ہی کی نہیں خود اس کے مغربی آقائوں کی بھی مذمت کی۔ کئی ایک نے کہا: اگر ہماری جمہوریت کی عملی مثال حُسنی مبارک، حامد کرزئی اور نوری المالکی ہی ہیں، تو اس جمہوریت کی کون تائید و حمایت کرے گا۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنے اداریے کا عنوان رکھا: ’مسٹر حُسنی بمقابلہ مسٹر اوباما‘۔ اس نے لکھا کہ ’’مصری انتخابات نے اوباما انتظامیہ کے ان تمام اعلانات کو   بے بنیاد ثابت کردیا ہے جو وہ خطے میں تبدیلی کے حوالے سے کرتے چلے آرہے تھے‘‘۔

اخوان کے مرشدعام نے انتخابی دھاندلی کی مذمت کے ساتھ ہی ساتھ اس پہلو پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی کہ ’’اس سارے ظلم و تعدی کے باوجود ہم اپنی پُرامن جدوجہد کے راستے کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہمیں کوئی بھی قانون اور دستور سے متصادم راستے کی طرف نہیں دھکیل سکتا۔ ہمارا راستہ طے شدہ، واضح اور قرآن و سنت کی تعلیمات سے آراستہ ہے۔ ہم ان شاء اللہ اسی پُرامن، دستوری راستے پر چلتے ہوئے ہی کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے‘‘۔ اخوان کے ایک تجزیہ نگار نے دل چسپ اور جامع بات کی۔ انھوں نے کہا: اگر ہمارے سامنے الیکشن لڑنے کے ۱۲؍ اہداف و مقاصد تھے،تو ہم نے ان میں سے ۱۱ حاصل کرلیے۔ الیکشن میں نشستیں حاصل کرنے کا بارہواں ہدف حاصل نہیں بھی ہوسکا تو کوئی پروا نہیں، اللہ کی رسی کو تھامے رہے تو ان شاء اللہ یہ ہدف بھی جلد اور ضرور حاصل کرلیں گے۔

ووٹنگ کے دوران جھڑپوں میں ۱۱؍افراد موت کی آغوش میں اُتار دیے گئے، سیکڑوں زخمی ہوئے، ۲ہزار سے زائد افراد گرفتار کیے گئے۔ بیرونی ذرائع ابلاغ کے نمایندوں کو مقید کر دیا گیا۔ کئی ٹی وی رپورٹوں کو درمیان ہی میں روک دیا گیا اور کسی عالمی مبصر کو مصر نہیں آنے دیا گیا۔ دھاندلی کی ایک جھلک ملاحظہ ہو کہ کیا چوری اور سینہ زوری ہے: حلوان نامی شہر کے بوتھ نمبر ۲۳۴ میں پولنگ ریکارڈ کے مطابق، پولنگ بند ہونے کے وقت ۳۷۸ ووٹ ڈالے گئے، کوئی ووٹ کینسل نہیں ہوا۔ جب گنتی مکمل ہوئی تو حکومتی نمایندے سیدمشعل کو ۴۶۰ اور اخوان کے نمایندے کو کوئی بھی ووٹ نہیں ملا، جب کہ دیگر اُمیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کو جمع کریں تو ۳۷۸ کاسٹ ہونے والے بوتھ کے ڈبوں سے ۹۱۰ ووٹ برآمد ہوئے۔ نہ کسی بندے کا ڈر، نہ بندوں کے رب کا خوف۔

اس پورے تناظر میں پہلے وفد پارٹی نے اور پھر اخوان نے انتخابات کے دوسرے مرحلے کا بائی کاٹ کر دیا۔ بائی کاٹ کے اعلان میں کہا گیا کہ انتخابات کے نتائج کا تو پہلے سے بھی اندازہ تھا، لیکن ہم شرکت کے جو اہداف حاصل کرنا چاہتے تھے، کرلیے۔ اب ان انتخابات کو مزید بے نقاب کرنے کے لیے بائی کاٹ کر رہے ہیں۔ اب یہاں ایک مثال اُلٹی دھاندلی کی ملاحظہ ہو: جب سب نے بائی کاٹ کر دیا تو عالمی اور عرب ذرائع ابلاغ کہنے لگے کہ حکمران پارٹی کا مقابلہ حکمران پارٹی ہی سے ہورہا ہے۔ حکومت نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ نہیں، اخوان بھی انتخاب میں شریک ہے۔ بائی کاٹ کرنے والے اُمیدواروں میں سے ایک اُمیدوار کو کامیاب قرار دے دیا، یعنی پہلے ہروانے کے لیے دھاندلی اور اب جتوانے کے لیے دھاندلی۔ مصر میں آیندہ برس صدارتی انتخاب ہونا ہے، اس کا نتیجہ بھی ابھی سے معلوم ہے۔ وکی لیکس کی دستاویزات میں خود امریکی سفارت کار بھی کہہ رہے ہیں۔ ۸۲سالہ حُسنی مبارک مرتے دم تک جان نہیں چھوڑے گا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی جب دنیا سے کوچ کرنا پڑا، تو اپنے بعد اپنے بیٹے جمال مبارک کے سر پر تاج رکھ کر جائے گا۔ امریکی سفارت کاروں نے اس آدھے سچ کے ساتھ باقی یہ سچ نہیں لکھا، کہ اس سارے عمل کو امریکی سرپرستی حاصل رہے گی اور امریکا اس شان دار عوامی تائید کے حامل مصری صدر کو، سالانہ ایک ارب ڈالر کی امداد پیش کرتا رہے گا۔

جنوبی سوڈان میں ریفرنڈم

الجزائر کانفرنس میں سوڈانی سفیر کے مشیر قطبی المہدی بھی شریک تھے۔ ان کے ساتھ ساری گفتگو ۹جنوری کو ہونے والے ریفرنڈم کے بارے میں رہی۔ چھے سال قبل ہونے والے معاہدے کے تحت ہونے والے اس ریفرنڈم میں، جنوبی سوڈان کی آبادی کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ سوڈان ہی میں شامل رہیں گے یا وہ الگ ہونا چاہتے ہیں؟ سوڈانی حکومت نے اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کی ہے کہ وہ کسی نہ کسی صورت جنوب میں امن قائم کرلے۔ پہلے ۱۹۵۵ء سے ۱۹۷۲ء تک کی گیارہ سالہ اور پھر ۱۹۸۳ء سے ۲۰۰۵ء تک کی ۲۲سالہ جنگ میں ۱۹ لاکھ افراد لقمۂ اجل بن چکے تھے۔ ۴۰لاکھ افراد بے گھر ہوچکے تھے، اب سوڈانی صدر مصر تھے کہ جنگ بند کرکے خطے میں امن کا سفر شروع کیا جائے۔ جنوری ۲۰۰۵ء میں صدر عمرالبشیر اور جنوبی باغی لیڈر جون گرنگ کے درمیان معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کی کامیابی کے لیے جنوبی رہنمائوں نے جو مانگا، انھیں دیا گیا۔ انھوں نے معاہدے کے وقت تقاضا کیا کہ ’’اقتدار اور ثروت‘‘ میں برابر حصہ دیا جائے، حکومت نے مان لیا۔ سینیرنائب صدر کا عہدہ بھی دے دیا، وزارتِ خارجہ سمیت اہم وزارتیں بھی ان کے سپرد کر دیں۔ چند سال قبل برآمد ہونے والے تیل کی آمدنی میں سے بھی ایک بڑا حصہ انھیں دے دیا۔ جنوبی آبادی کی اکثریت اس حسنِ سلوک کا اعتراف واظہار بھی کرنے لگی، لیکن براہِ راست امریکی مداخلت، ڈالروں کی بارش اور خود اسرائیلی ذمہ داران کے جنوبی علاقوں میں براجمان ہوجانے سے،   تالیفِ قلب کی یہ تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔

ریفرنڈم ہونے اور باقاعدہ نتائج آنے میں ابھی چند ہفتے باقی ہیں، لیکن تمام تر شواہد اعلان کر رہے ہیں کہ جسدِ ملّی کے دو حصے کیے جارہے ہیں۔ اب کوئی دن جاتا ہے کہ جنوبی سوڈان کا لاکھوں کلومیٹر پر مشتمل رقبہ سوڈان کے جسد سے کاٹ کر، افریقہ میں اسرائیلی اور امریکی مداخلت کا ایک نیا اڈا بنا دیا جائے گا۔ الگ جنوبی ریاست کی تشکیل سے سوڈان ہی نہیں تمام پڑوسی ممالک بھی متاثر ہوں گے۔ بحیرۂ احمر کے مختصر پاٹ کے دوسری جانب سعودی سرحدیں اور جدہ کی بندرگاہ ہے۔ جنوبی ریاست کے اسی علاقے سے دریاے نیل پھوٹتا ہے۔ اسرائیل امریکا اور ان کے غلام جنوبی حکمران، مل کر پورے خطے کا پانی اپنے کنٹرول و اختیار میں کرسکتے ہیں۔ یہاں موجود تیل کے وسیع ذخائر پر بھی پوری مغربی دنیا کی رال ٹپک رہی ہے۔

تاریخ اس موقع پر ایک اور عجیب و تلخ حقیقت یاد دلا رہی ہے۔ صدر عمرالبشیر نے اقتدار سنبھالا تو انھیں سب سے پہلی مزاحمت انھی پڑوسی ممالک کی طرف سے برداشت کرنا پڑی تھی۔ مصر سمیت تمام ممالک نے امریکی پابندیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سوڈان کا محاصرہ کرڈالا تھا۔ سوڈان سخت جاں نکلا، نہ صرف حصار کی سختی برداشت کرگیا، بلکہ چین کے ساتھ مل کر تیل بھی نکال لیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سوڈان کی تقدیر بدلنے لگی۔ بس یہی بات استعمار کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگئی۔ اس نے سوڈان کے حصے بخرے کرنے کے علاوہ ہر راستہ مسدود کردیا۔

سوڈان کے حصار میں دشمنوں سے بھی زیادہ فعال مصر سوچے کہ آج وہ خود سوڈان سے بھی زیادہ خطرات کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ مصر کو دریاے نیل کا عطیہ و ثمر کہا جاتا ہے۔ چند ہفتے بعد ریفرنڈم اور پھر چند ماہ بعد ہونے والے انتقالِ اقتدار سے، دریاے نیل کا منبع بھی مجہول مستقبل کا شکار ہوجائے گا۔ آج مصر سے آوازیں آرہی ہیں: کاش ہم نے آغاز میں اپنے بھائی کا گلا گھوٹنے کی حماقت نہ کی ہوتی۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ دونوں برادر پڑوسی اور مسلمان ملک ہیں۔ دونوں کا نقصان، بالآخر پوری اُمتِ محمدی کا نقصان بھی ہے۔ اب مستقبل کی کوکھ سے خود امریکا و اسرائیل کو اس جرم کی کیا سزا ملتی ہے… یہ ظاہر ہونے میں بھی زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

سوڈانی صدر عمرالبشیر نے اعلان کیا ہے کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہمارے بھائی ہم سے الگ ہوں، لیکن اگر انھوں نے بیرونی سازشوں کا شکار ہوکر علیحدگی ہی اختیار کی، تو ہم بھی اپنے ملک میں وہ تمام اصلاحات کرنے کے لیے آزاد ہوجائیںگے، جو ہم پہلے جنوب میں جنگ اور پھر جنوبی علیحدگی پسندوں کے ساتھ معاہدہ کی وجہ سے نہیں کرسکے۔

صدمے کے لمحات میں بھی سوڈانی صدر امید کے دیے جلا رہے ہیں۔ باغیوں کی خانہ جنگی میں ۱۹ لاکھ جانوں کا نقصان دوسری عالمی جنگ کے بعد شاید سب سے بڑا نقصان ہے۔ وہ اس جنگ کے شعلوں کو ہمیشہ کے لیے بجھا کر سوڈان کی تشکیلِ نو کا عزم رکھتے ہیں۔

 

مسافر تباہ حال بستی سے گزرا تو پکار اٹھا: اب بھلا اس اوندھے منہ پڑی، کھنڈر بستی کو کیسے دوبارہ زندہ کیا جاسکے گا؟ خالق نے کہا: خود ہی مشاہدہ کرلو، فوراً اسے اور اس کی سواری کو موت کی نیند سلادیا گیا۔ پورے ۱۰۰ سال مُردہ حالت میں گزر گئے۔ پھر خالق نے اپنی قدرت سے مُردہ جسم میں دوبارہ روح پھونکی اور پوچھا: کیا خیال ہے کتنا عرصہ گزر گیا؟ ۱۰۰ سال تک مردہ پڑے رہنے والے مسافر نے کہا: ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ خالق نے بتایا: تم نے پورے ۱۰۰ سال گزار دیے۔ اب میری قدرت کا ایک اور مظہر دیکھو۔ تمھارا گدھا بھی ۱۰۰ برسوں میں پیوند خاک ہوگیا ہے ،لیکن تم اپنے ساتھ جو کھانا لے کر جارہے تھے وہ جوں کا توں پڑا ہے، باسی تک نہیں ہونے دیا گیا۔ اور اب دیکھو ہم تمھارے گدھے کو کیسے زندہ کرتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے راکھ بنی ہڈیوں کا ڈھانچا کھڑا ہوگیا، پھر ان پر ماس اور چمڑا مڑھ دیا گیا، تازہ دم سواری پھر سے تیار تھی۔ مسافر پکار اٹھا: پروردگار! میں بخوبی جان گیا کہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔

سورہء بقرہ میں تفصیل سے بیان کیے گئے اس واقعے سے کئی اسباق حاصل ہوتے ہیں، لیکن ایک اہم حقیقت جو اس منظر کی طرح دیگر کئی قرآنی مناظر سے بھی واضح ہوتی ہے یہ ہے، کہ گزرا ہوا وقت جتنا بھی طویل کیوں نہ ہو، مختصر ہی محسوس ہوتا ہے۔ بندہ اس حقیقت کا مشاہدہ و اظہار آخرت میں بھی کرے گا اور قرآن کریم کے الفاظ میں یہی تکرار کرے گا: ’’پروردگار! ہم تو دنیا میں ایک آدھ روز ہی گزار کر آئے ہیں‘‘۔ ’’ہم تو بس اتنی دیر دنیا میں رہے کہ ایک دوسرے سے تعارف حاصل کرسکے‘‘، ’’بس چند ساعتیں ہی گزاری ہیں‘‘، ’’صرف چاشت کی کچھ گھڑیاں گزریں‘‘۔ حالانکہ ان سب لوگوں نے معمول کی زندگی گزاری ہوگی اور ان میں سے ایک بڑی تعداد کی پیٹھ پر گناہوں کا خوف ناک انبار لدا ہوگا۔

گزرا وقت مختصر لگنے اور گزرنے والا وقت تیز رفتار ہونے کا مشاہدہ ،انسان کو دنیا میں بھی ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ جتنی بھی عمر گزر جائے، آنکھیں بند کرکے دیکھیں تو کل کی بات لگتی ہے۔ ابتدائی بچپن کی یادیں، بھولے بسرے مناظر، گاہے اچانک مجسم صورت میں سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر وقت کا حساب کریں تو حیرت ہوتی ہے کہ --- اچھا  --- اتنا عرصہ گزر گیا۔

تازہ مثال دیکھ لیجیے، ابھی کل ہی ساری دنیا میں نئی صدی کے آغاز کا غلغلہ تھا۔ نئے ہزاریے، نئے ملینیم اور اکیسویں صدی کے بارے میں مختلف تجزیے اور تبصرے کیے جارہے تھے۔ طرح طرح کے دعوے، خدشے اور منصوبے سامنے آرہے تھے۔ وقت کی ایک ہی کروٹ میں آج ہم اس صدی کے پہلے ۱۰ سال پورے کرچکے ہیں۔ یکم جنوری ۲۰۱۰ء میں موجود ہر شخص ،آج صدی کا پہلا عشرہ مکمل کرچکا ہے۔ پل جھپکنے میں گزرنے والے اس عرصے کا مطلب ہے، ہم میں سے ہرشخص نے نئے ہزاریے کے ۳ہزار ۶ سو ۵۲ دن گزار لیے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ اطلاع دے دی تھی کہ ’’ایک وقت آئے گا کہ سال مہینے کی طرح گزر جائے گا۔ مہینہ ہفتے کی طرح، ہفتہ ایک دن اور ایک دن ایک ساعت کی طرح گزرتا دکھائی دے گا‘‘۔ (احمد، ترمذی)

تیزی سے گزرتا یہ وقت ہی انسان کی سب سے قیمتی متاع ہے، لیکن انسان اسی قیمتی متاع کے بارے میں ہی سب سے زیادہ غافل ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور ارشاد کے مطابق: ’’اللہ کی عطا کردہ دو نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کے بارے میںاکثر لوگ دھوکے کا شکار ہیں: ’’صحت اور وقت فرصت‘‘۔ صحت کی نعمت بھی اسی وقت قیمتی لگتی ہے، جب بندہ اس سے محروم ہونے لگے۔ ایک عرب محاورے کے مطابق صحت، صحت مندوں کے سر پر ایک ایسا تاج ہے جو صرف بیماروں کو دکھائی دیتا ہے۔ اور وقت کے بارے میں عرب شاعر کہتا ہے    ؎

دقات قلب المرء قائلۃ لہ

إن الحیاۃ  دقائق و ثوان

(دل کی دھڑکنیں بندے کو ہر دم یہی سمجھا رہی ہیں کہ زندگی تو فقط یہی منٹ اور ثانیے ہیں۔ ہر طلوع ہونے والا دن مخلوق میں منادی کرتا ہے۔)

یا ابن آدم أنا خلق جدید، و علي عملک شہید، فتزود مني، فانی اذا مضیت لا أعود الی یوم القیامۃ ’’اے ابن آدم! میں نئی تخلیق ہوں۔ میں تمھارے عمل پر گواہ بنایا گیا ہوں۔ تم مجھ سے جتنا استفادہ کرسکتے ہو کرلو۔ میں چلا جاؤں گا تو پھرقیامت تک واپس نہیں لوٹوں گا‘‘۔ صرف یہی نہیں بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتادیا کہ تیزی سے گزرنے والے ان لمحات کے بارے میںہر انسان جواب دہ ہوگا۔روز محشر کسی شخص کو تب تک قدم نہیں ہٹانے دیے جائیں گے جب تک اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے کہ جو مہلت عمر تمھیں دی گئی تھی، وہ کہاں فنا کی؟ عرب شاعر پھر یاد دلاتا ہے:

یسر المرء ما ذھب اللیالی

و کان ذھابہن لہ ذھابا

(بندہ خوش ہوتا ہے کہ روز و شب گزرگئے حالانکہ ان کا گزرنا خود بندے کا اپنی ہستی سے گزرتے چلے جانا ہے۔)

نئی صدی کے پہلے ۱۰ برس پلک جھپکتے مکمل ہوگئے۔ لیکن اگرسرسری سا جائزہ بھی لیں تو اس دوران عالمی، علاقائی اور ملکی سطح پر بہت بڑی بڑی تبدیلیاں روپذیر ہوچکی ہیں۔ نائن الیون کے بعد ایک نئی دنیا وجود میں آچکی ہے۔ اس نئی دنیا میں الفاظ کے معانی، اصطلاحات کے مفہوم اور روایات و اقدار سے لے کر، مختلف عالمی بلاک، ملکوں کے نقشے اور اپنے عہد میں سیاہ و سفید کے مالک بہت سے اصحاب اقتدار تک تبدیل ہوچکے ہیں۔ خود کو سپریم اور اکلوتی عالمی قوت سمجھنے والا امریکا،   عراق اور افغانستان میں اپنا نشۂ قوت ہرن کروا چکا ہے۔ یہ اور بات کہ خود فریبی اورجھوٹی انا اب بھی اسے اعترافِ جرم و شکست سے روک رہی ہے، لیکن یہ حقیقت نوشتۂ دیوار ہے کہ اگر امریکی انتظامیہ نے خدائی کے جھوٹے زعم سے نجات نہ پائی تو بہت جلد ریاست ہاے متحدہ امریکا بھی سلطنتوں کے قبرستان میں برطانیہ عظمیٰ اور آنجہانی سوویت یونین کی طرح ماضی کی علامت بنا دکھائی دے گا۔ معاملہ صرف امریکا ہی کا نہیں، خود یورپ اور ناٹو سے لے کر عراق اور افغانستان کے پڑوسی ملکوں تک، سب بری طرح خاک و خون میں لتھڑ چکے ہیں۔ عالمی اقتصادی بحران کا کوڑا بھی سب کی کمر پر سڑاک سڑاک برس رہا ہے۔ پیٹرو ڈالر کے بلند مینار بنانے کی دوڑ میں لگی، کئی صحرائی ریاستیںسکتے کا شکار ہو گئی ہیں۔

مختلف معاشی، سیاسی اور معاشرتی بحرانوں کی فہرست طویل ہوسکتی ہے ، لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی بہت اہم ہے۔ اسی عشرے میں مفلوک الحال افغانوں، بے نوا فلسطینیوں اور کس مپرسی کے شکار عراقیوں نے مزاحمت، جدوجہد اور جہاد کے الفاظ کو نئے مطالب عطا کیے ہیں۔ ۶۳ سال سے اپنے حقوق کی جنگ لڑنے والے کشمیریوں نے بھی ثابت کردیاہے کہ جب اپنے بھی منہ موڑ لیں،  تب بھی عزم و ارادے اور جذبۂ آزادی کی حفاظت کیوں کر کی جاتی ہے۔ غزہ میں محصور ۱۵ لاکھ فلسطینیوں نے حقوق انسانی کے جھوٹے دعویداروں کے مکروہ چہرے سے مکر و فریب کا پردہ نوچ ڈالا ہے ۔ بچوں، بوڑھوں اور خواتین نے بھی دنیا کو سکھادیا ہے کہ زندگی کی تمام راہیں مسدود کردی جائیں، تب بھی صرف اور صرف اللہ کے سہارے کیسے جیا اور آگے بڑھا جاتا ہے۔ اسی عشرے میں پاکستان کو تباہ کن زلزلے اور صدی کے بدترین سیلاب سے بھی دوچار ہونا پڑا، لیکن قیامت کی ان گھڑیوں میں اہل پاکستان نے من حیث القوم زندگی اور اسلامی اخوت کا ثبوت دیا۔

تصویر کے یہ دونوں رخ ،اور ان کے بہت سارے مزید پہلو بہت اہم ہیں۔ لیکن ہم اگر مجموعی طور پر دیکھیں تو ہمارا ملک، قوم اور امت سب سنگین بحرانوں کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ ہم ان بحرانوں کے اسباب کا جائزہ لے کر مختلف شخصیات حکومتوں اور سیاسی و دینی پارٹیوں میں سے ان کے ذمہ داران کا تعین بھی کرسکتے ہیں۔ لیکن سوچنے کی بات ہے کہ قوم، ملک اور امت آخر کیسے تشکیل پاتے ہیں___؟ کیا افراد کے بغیربھی کوئی قوم یا امت تشکیل پاسکتی ہے؟ تو پھر کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سب کو ہمیشہ دوسروں کے سر ذمہ داری ڈالنے اور تباہی کا رونا رو کر بیٹھ جانے کے بجائے، فرداََ فرداََ میدان میں آنا ہوگا۔ فرد میں بھی ہوں، آپ بھی ہیں، آپ کے اہل خانہ، دوست احباب، اہل محلہ، اہل علاقہ___ یہی سب افراد بالآخر قوم اور امت کی تشکیل کرتے ہیں۔

اگرہم میں سے ہرفرد سوچے، ہر فرد اس بات کاجائزہ لے کہ جتنی عمر گزر گئی، اس میں ایک فرد کی حیثیت سے اس نے اصلاح و نجات کی خاطر کیا کیا؟ حالیہ دس برس ہی کو دیکھ لیجیے۔ ہم ذرا دیکھیں کہ ان ۳ ہزار ۶ سو ۵۲ دنوں میں ہم میں سے ہر فرد نے کیا کارنامہ انجام دیا؟___ اپنے اور اپنے اردگرد بسنے والے ’افراد‘ کے دل میں کتنا احساس زیاں پیدا کیا___؟ اسی سوال کے جواب میں ہماری بہت سی مصیبتوں کا علاج چُھپا ہوا ہے۔

آئیے ۱۰ سال کے اس عرصے کی اہمیت، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان مبارک کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی معروف حدیث میں فرمایا: کلمتان خفیفتان علی اللسان، ثقیلتان فی المیزان، حبیبتان إلی الرحمن، تملآن ما بین السماء و الأرض، دو کلمے ایسے ہیں کہ ادا کرنے میں انتہائی آسان و مختصر، لیکن قیامت کے روز میزان میں انتہائی وزنی، رحمن کو انتہائی محبوب، اور اپنے اجر و ثواب سے زمین و آسمان کے مابین پوری فضا کو بھر دینے والے ہیں۔ اور وہ دو کلمے ہیں: سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم۔ خود کو اللہ کے سامنے کھڑا محسوس کرکے، سکون و اطمینان کے ساتھ یہ تسبیح ادا کرنے میں زیادہ سے زیادہ چھے سیکنڈ لگتے ہیں۔ کیا ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ ۱۰ سال میں      ہم رب ذو الجلال سے کیا اور کتنا کچھ حاصل کرسکتے تھے۔

آج اتفاق سے ہجری اور عیسوی دونوں برسوں کا اختتام اور نئے برس بلکہ نئے عشرے کا آغاز ہورہا ہے۔ اگر ہم میں سے ہر فرد یہ فیصلہ کرلے کہ اس نے صرف اللہ کا بندہ بن کر رہنا ہے، اسے سب کی بھلائی چاہنا ہے، سب کے لیے سراسر خیر ثابت ہونا ہے، ہر حرام سے بچنا ہے، رب ذوالجلال، اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی کتاب مجید کی محبت کو دیگر تمام محبتوں پر غالب کردینا ہے، اس کو اپنی تمام ذمہ داریاں تن دہی اور جاں فشانی سے انجام دینا ہیں، خود ہی اس راہ پر نہیں چلنا، جہاں تک آواز پہنچتی ہے، خیر کی اس آواز کو پہنچانا اور عام کرنا ہے، اپنی سب سے قیمتی متاع یعنی وقت کا ایک ایک لمحہ رب کی قربت کا مستحق بننے کی سعی کرنا ہے___ اگر ہم میں سے ہرفرد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ہر شہری اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر امتی یہ پختہ فیصلہ کرلے___ پھر اللہ سے استعانت طلب کرتے ہوئے ،اس پر عمل شروع کردے تو یقینا… یقینا… یقینا آیندہ آنے والا وقت ہمارا ہوگا،اور آخرت کی سرخروئی اس سے بھی پہلے یقینی ہوجائے گی۔

آج سے ۶۱ سال پہلے ۲۳ دسمبر ۱۹۴۹ء کی رات اہلِ علاقہ بابری مسجد میں عشاء کی نماز ادا کرکے گھروں کو چلے گئے۔ ہر چیز حسب ِ معمول تھی لیکن اگلی صبح فجر کی نماز کے لیے مسجد آئے تو عجیب منظر تھا۔ مسجد کے اندر ’رام‘، ’لکشمن‘ اور’ سیتا‘ کے بت رکھے تھے ۔ مسلح ہندو ان کا پہرا دیتے ہوئے اعلان کررہے تھے کہ رات یہاں ’رام‘ کا ظہور ہوگیا ہے اور اب یہ جگہ ان کی ملکیت ہے۔ محلے کی مسلم آبادی نے قریب واقع تھانہ فیض آباد میں اس قبضے کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی، بدقسمتی سے کچھ شنوائی نہ ہوئی۔ صدیوں سے قائم تاریخی مسجد پر اچانک ہندو قبضے سے علاقے میں اشتعال پھیلنے لگا، تو صوبائی اور مرکزی حکومت نے مسلمانوں کو وہاں نماز پڑھنے سے عارضی طور پر منع کردیا۔ بعد ازاں یہ پروپیگنڈا پورے ملک میں پھیلایا جانے لگا کہ صدیوں پہلے تعمیر ہونے والی یہ مسجد ’رام‘ کی جاے ولادت ہے۔ ظہیر الدین بابر نے رام مندر ڈھا کر مسجد تعمیر کردی تھی۔ مسجد کا گنبد عین اس جگہ کے اُوپر بنایا گیا ہے جہاں رام نے جنم لیا تھا۔ کئی عشرے تک یہ پروپیگنڈا کرنے کے بعد بالآخر ۱۹۹۲ء میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے سورماؤں نے ملک بھر سے اپنے مسلح کارکنان کو جمع کرکے تاریخی مسجد پر دھاوا بولا اور اسے شہید کرتے ہوئے وہاں ایک چھولداری میں رام کا بت نصب کر دیا۔ پوری دنیا میں مسلمانوں نے اس گہرے گھائو کی ٹیسیں محسوس کیں۔ ہرطرف سے احتجاج سامنے آیا۔ ہندو بنیے نے معاملہ ٹھنڈا کرنے کے لیے اسے عدالت کے سردخانے میں ڈال دیا۔ ۱۸سال انتظار، تحقیقات اور بحث و تمحیص کے بعد جو فیصلہ آیا تو یہ کہ ’’صدیوں پرانی جس مسجد کو جنونی ہندؤوں نے شہید کردیا تھا، اس کا ایک تہائی مسلمانوں کو دیا جائے باقی پر اب ان کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ وہاں اب باقاعدہ رام مندر تعمیر کردیا جائے‘‘۔ گویا ڈاکو آکر گھر پر قابض ہوگئے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دعوے دار ریاست نے یہ فیصلہ صادر کیاکہ گھر کا صرف ایک تہائی اہل خانہ کو دے دیا جائے، باقی پر ڈاکوؤں کا قبضہ قانونی قراردیا جاتا ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد ہندستان سے موصول ہونے والے ایک مضمون میں بابری مسجد اور ہندوئوں کے دعوے کے بارے میں بہت سے دل چسپ حقائق یک جا کیے گئے ہیں۔ آیئے ان میں سے چند چشم کشا نکات کا جائزہ لیتے ہیں:

  • ہندو تاریخ میں زمانے کو چار مختلف ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر دور کو یوگا (Yuga) کہا جاتا ہے۔ کیرودھا  یوگا (Kirudha Yuga) ۱۷ لاکھ ۲۸ ہزار سال پہلے شروع ہوا۔ پھر دِھیریدھا  یوگا (Dhiredha Yuga) ۱۲ لاکھ ۹۶ ہزار سال پہلے شروع ہوا۔ تیسرا دوابا یوگا (Duvaba Yuga) ۸لاکھ ۶۴ہزار سال پہلے، اور آخری دورکالی یوگا (Dorkali Yuga) ۴لاکھ ۳۲ ہزار سال پہلے شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے۔

’راماین‘ کے مطابق رام نامی خدا دوسرے دور کے آخر میں ۸لاکھ ۶۹ہزار ایک سو ۱۰ سال قبل پیدا ہوا۔ یعنی تقریباً پونے نو لاکھ سال پہلے پیدا ہونے والے رام کی جاے پیدایش اس قدر دقیق انداز سے معلوم ہے کہ اس کا بابری مسجد کے گنبد تلے واقع ہونا بھی یقینی ہے۔

  • دلی سے شائع ہونے والے معروف رسالے ریڈینس نے ۱۲نومبر ۱۹۸۹ء کے شمارے میں متعدد ہندو مذہبی پیشوائوں اور تاریخ دانوں کی ایک اور تحقیق شائع کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ۱۱۰۰عیسوی سے پہلے رام نام کا کوئی خدا ظاہر ہی نہیں ہوا تھا۔پورے خطے میں اس سے پہلے کسی ہندو نے رام کی پوجا ہی نہیں کی، یعنی لاکھوں سال پہلے پیدا ہونے والے رام تب تک کسی کو معلوم ہی نہیں ہوا تھا۔
  • راماین نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’رام‘ ایودھیا شہر میں پیدا ہوا۔ یعنی کہ بابری مسجد والا ایودھیا شہر بھی ۸لاکھ ۶۹ ہزار ایک سو ۱۰سال پہلے بھی موجود تھا۔ اب ایک اور حقیقت ملاحظہ ہو: ۱۹۷۶ء میں بھارتی مرکزی آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے ایودھیا شہر کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ پیش کی تھی، رپورٹ کے ص ۵۲-۵۳ پر لکھا ہے کہ ’’ایودھیا نام کی ایک بستی ۷۰۰ قبل مسیح میں بسائی گئی‘‘۔ اب ۲۰۱۰ عیسوی ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ ایودھیا آج سے دوہزار سات سو دس سال پہلے وجود میں آیا۔ متعدد بھارتی تاریخ دانوں نے اس سرکاری رپورٹ کی تصدیق کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہندوئوں کی مقدس ترین کتاب رامائن کے ’فرمان‘ کے مطابق تقریباً پونے نو لاکھ سال پہلے پیدا ہونے والا رام، صرف ۲۷۱۰ سال پہلے وجود میں آنے والے شہر میں کیسے جنم پذیر ہوگیا۔
  • ایودھیا کے بارے میں رامائن کی مزید تفاصیل کچھ یوں ہیں: ’’ایودھیا سے ۵۰ئ۱ یوجن (۲۳کلومیٹر) کے فاصلے پر دریاے سارایو بہتا ہے۔ یہ دریا مشرق سے مغرب کی طرف بہتا ہے اور آگے جاکر دریاے گنگا میں جا ملتا ہے۔ بھارت کے شہر ایودھیا کو دیکھا جائے تو وہاں دریا تو بہتا ہے، لیکن شہر سے ۲۳کلومیٹر دُور نہیں شہر کے بیچوں بیچ۔ اس دریا کا پانی مشرق سے مغرب نہیں مغرب سے مشرق کی جانب بہتا ہے۔ یہ دریا کہیں بھی دریاے گنگا سے نہیں ملتا بلکہ دریاے رآبتھی (Raabthi) سے ملتا ہے۔ ہاں، البتہ ایک اور تحقیق کارسیر سنگھ (Saer Singh) کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملک نیپال میں ایودھیا نامی ایک بستی پائی جاتی ہے، اس سے ۲۰کلومیٹر کے فاصلے پر ایک دریا بھی بہتا ہے جس کا رُخ مشرق سے مغرب کو ہے اور وہ گنگا میں جاکر ملتا ہے۔ یعنی اگر بالفرض کوئی ایسا مقدس ایودھیا ہے بھی جہاں رام صاحب کی ولادت ہوئی تھی، تو خود رامائن کی نشان دہی کے مطابق وہ نیپال میں ہوسکتا ہے، اترپریش بھارت میں نہیں۔
  • بابری مسجد کی بنیادیں سولھویں صدی (۱۵۲۴ئ) میں ابراہیم لودھی کے ہاتھوں رکھی گئی تھیں جو بعد میں ظہیرالدین بابر کے ہاتھوں مکمل ہوکر بابری مسجد کہلائی۔ بابر کے بعد پورے مغلیہ دور اور اس کے بعد طویل برطانوی استعمار کے اختتام تک پورے چار سو پچیس سال کے دوران میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملتا کہ جس نے دعویٰ کیا ہو کہ بابری مسجد کی جگہ پہلے رام مندر تھا، اسی میں رام کی پیدایش عمل میں آئی تھی اور مسلمانوں نے اسے منہدم کر کے وہاں مسجد تعمیر کرڈالی۔ ۲۳دسمبر ۱۹۴۹ء کی شب اچانک کچھ متعصب ہندوئوں کو ایک الہام ہوا اور پھر سادہ لوح ہندو عوام کو مذہبی اشتعال دلا کر پوری دنیا کے مسلمانوں کے دل چھلنی کردیے گئے۔

معاملہ صرف بابری مسجد کی شہادت پر ختم نہیں ہوا، اب یہی متعصب ٹولہ سیکڑوں دیگر مساجد کے بارے میں بھی دعویٰ کر رہا ہے کہ یہ سب رام جنم بھومیاں تھیں، انھیں بھی منہدم کرکے رام مندر تعمیر کریں گے۔ کچھ لوگ اس خدشے کی سنگینی کم کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں کہ بھارتی پارلیمنٹ نے طے کردیا ہے کہ بابری مسجد کے عدالتی فیصلے کو اسی طرح کے کسی دوسرے مقدمے کے لیے بنیاد نہیں بنایا جا سکے گا۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کی اس سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت میں کیا اس سے پہلے کوئی ایسا قانون نہیں تھا کہ جو دوسروں کی ملکیت پر قبضہ کرنے سے روکتا ہو؟ اگر پہلے ان قوانین نے تعصب کی آگ کو نہیں روکا تو آیندہ کوئی قانون اسی طرح کے جنونیوں کو کیسے روکے گا؟

بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کے عدالتی فیصلے کا اگر کوئی ایک مثبت پہلو ہے تو وہ یہ کہ دنیا اب ہندوازم کا اصل چہرہ زیادہ بہتر طور پر دیکھ سکے گی۔ دنیا دیکھ سکے گی کہ ۱۸کروڑ سے زائد ہونے کے باوجود، مسلمان وہاں کس طرح بے سہارا اور ہندو تعصب کے رحم و کرم پر ہیں۔ اس سے پہلے گجرات کے قتلِ عام کی تحقیقاتی رپورٹیں بھی مکار ہندو کو بے نقاب کرچکی ہیں کہ خود سرکاری سرپرستی میں کچھ ہندوئوں کو قتل کیا گیا اور پھر اس کا سارا ملبہ مسلمانوں پر ڈالتے ہوئے ہزاروں مسلمانوں کا قتلِ عام کرکے وحشی پن کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس سے پہلے ایک اور سرکاری رپورٹ ’سچر رپورٹ‘ میں بھی واضح اعتراف کیا جا چکا ہے کہ اتنی بڑی اقلیت ہونے کے باوجود ہندستانی مسلمانوں کو معاشرے میں نکّو بناکر رکھا گیا ہے۔ نہ ملازمتوں میں مناسب حصہ اور نہ تعلیم و ترقی میں برابری کے مواقع۔ بابری مسجد فیصلے کے بعد اب ہندوئوں کا یہ مطالبہ زور و شور سے سامنے آیا ہے کہ اذانوں پر پابندی لگائی جائے، ہمارے آرام میں خلل پڑتا ہے۔ نقاب پر پابندی لگائی جائے اس سے دہشت گردی پھیلتی ہے۔

انصاف اور انسانی حقوق کی اس واضح توہین کے باوجود ہندستان کے لیے امریکی اور عالمی سرپرستی میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ مسلمان ملکوں سے دوستی بڑھانے اور سیکورٹی کونسل کا مستقل رکن بنانے کے وعدے، ایٹمی پروگرام میں مزید تعاون اور دہشت گردی کی جنگ میں اپنے حلیف اوّل پاکستان کو چھوڑ کر امریکی صدر کے طویل ہندستانی دورے، سب انھی مسلمان دشمن پالیسیوں کو مزید آگے بڑھانے کے پیغامات ہیں۔ اُمت مسلمہ صرف اس قرآنی آیت ’’تم اہلِ ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پائو گے، اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پائو گے جنھوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالِم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور اُن میں غرورِ نفس نہیں ہے‘‘ میں ’’اور جنھوں نے شرک کیا‘‘ پر غور کر لے، پوری حقیقت بے نقاب ہوجائے گی۔