عبد الغفار عزیز


حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ جب ماہِ رجب کا آغاز ہوتا تو رسول اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے: پروردگار! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما۔ ہمارے لیے ماہِ رمضان میں برکت عطا فرما۔ (مسند احمد)

ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ رمضان کے شوق و انتظار میں رہتے۔ رجب شروع ہوتا تو رمضان سے پہلے کے دو ماہ کے لیے برکت کی دعا اور پھر رمضان کے لیے الگ سے خصوصی دعا فرماتے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپؐ فرماتے: ’’اور ہمیں رمضان نصیب فرما‘‘۔ اس انتظار میں رمضان سے پہلے کے مہینوں میں نفلی روزوں کا خصوصی اہتمام فرماتے۔ ایک اور حدیث میں آپؐ کا ارشاد ہے: ’’مسلمانوں پر رمضان سے بہتر اور کوئی مہینہ طلوع نہیں ہوتا اور منافقوں کے لیے اس سے بُرا کوئی اور مہینہ نہیں آتا‘‘۔


حضرت ابومسعود غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر بندوں کو معلوم ہوجائے کہ رمضان کی کیا کیا برکات ہیں تو وہ تمنا کرتے کہ اے کاش! پورا سال رمضان ہی رہتا۔ رمضان کی خاطر پورا سال جنت کی تزئین و آرایش کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جب رمضان کا پہلا دن ہوتاہے تو رحمن کے عرش سے ایک خصوصی بادِ نسیم چلتی ہے جس سے جنت کے سب پودوں اور درختوں کے پتے جھوم اُٹھتے ہیں‘‘۔ (طبرانی)

یہ ایک طویل حدیث کا اقتباس ہے۔ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم خوش خبری بھی دے رہے ہیں   اور اپنے اُمتیوں کو متوجہ بھی فرما رہے ہیں۔ جنت سمیت پوری کائنات استقبالِ رمضان میں لگی ہو   اور بندہ غفلت میں پڑا رہے…؟ پروردگار! رمضان المبارک کی حقیقی روح سے دلوں کو منور فرما۔


حضرت طلحہؓ بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنو خزاعہ سے دو افراد حاضر ہوئے اور دونوں نے اکٹھے اسلام قبول کیا۔ دونوں میں سے ایک زیادہ محنتی تھے، انھوں نے جہاد میں بھی حصہ لیا اور شہادت کا مرتبہ پایا۔ ان کے دوسرے ساتھی، ان کے بعد ایک سال مزید زندہ رہے اور پھر وفات پاگئے۔ ایک روز میں (حضرت طلحہؓ) نے خواب دیکھا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوں، وہیں مجھے وہ دونوں صحابیؓ بھی دکھائی دیے۔ جنت میں سے کوئی باہر آیا اور بعد میں وفات پانے والے کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی۔ پھر دوبارہ باہر آیا اور شہید ہونے والے کو بھی جنت میں جانے کی اجازت دی۔ پھر وہ آنے والا میرے پاس آیا اور کہا کہ ابھی آپ واپس جائیے ابھی آپ کی باری نہیں آئی۔

حضرت طلحہؓ نے صبح یہ خواب لوگوں کو سنایا۔ سب نے اس پر تعجب کا اظہار کیا۔ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپؐ نے دریافت کیا: تم لوگ تعجب کس بات پر کررہے ہو؟ صحابہؓ نے عرض کی ان میں سے ایک زیادہ محنت کرتا تھا، وہ شہید بھی ہوا، لیکن ان کے بعد وفات پانے والے کو جنت میں پہلے لے جایا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ اپنے ساتھی کے بعد بھی ایک سال تک زندہ نہیں رہا؟ کیا اس ایک سال میں اسے رمضان عطا نہیں ہوا کہ جس کے روزے بھی اس نے رکھے؟ اور پورا سال نمازوں میں، اللہ کے حضور سجدہ ریز نہیں ہوتا رہا؟ صحابہؓ نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسولؐ اللہ ایسا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے درجات میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین میں ہے۔ (ابن ماجہ ، حدیث ۳۹۲۵)

زندگی کی مہلت ملے، رمضان المبارک کے مبارک لمحات عطا ہوں، روزوں کی سعادت حاصل ہو، فرائض کی ادایگی کا موقع ملے تو بلندیِ درجات کی منزل یقینی ہوسکتی ہے۔ اسی لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خاک آلود ہو، اس شخص کا چہرہ کہ جسے رمضان المبارک ملا ،لیکن پھر بھی اس نے مغفرت کا سامان نہ کیا۔ رمضان کی نعمت حاصل ہو، اور اس کی قدر نہ کی گئی، مثلا بلاوجہ روزہ نہ رکھا، توآپؐ کے ارشاد کے مطابق پھر ’’ساری عمر کے روزے بھی اس ایک روزے کی قضا نہیں ہوسکتے‘‘۔ گھر آئی نعمت کی بے قدری، ہمیشہ کی نامرادی بن جاتی ہے۔


حضرت ابو قتادۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’راحت پاگیا یا اس سے راحت مل گئی‘‘۔ صحابہ ؓ نے عرض کی:   یارسولؐ اللہ! اس ارشاد کا کیا مطلب ہے؟ آپؐ نے فرمایا: بندۂ مومن دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو دنیا کی مشقت اور تکالیف سے نجات پاکر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں راحت پالیتا ہے، جب کہ گنہگار بندے کے جانے سے اللہ کے بندے، یہ زمین، یہ درخت اور حیوانات ہر شے راحت پاجاتی ہے۔ (بخاری، حدیث ۶۵۱۲)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسری حدیث میں دنیا کو مومن کے لیے قید خانہ قرار دیا ہے۔  وہ اس قید خانے کی مشقت برداشت کرتا ہے، دن رات محنت کرتا ہے اور اس کے بعد ابدی رحمت کا مستحق قرار پاتا ہے، جب کہ آخرت سے بے پروا انسان دنیا ہی کو اپنی جنت بنانا چاہتا ہے۔ وہ اس دوڑ میں حرام و حلال کی ہر حد پھلانگ جاتا ہے۔

گناہوں کا نتیجہ خوفناک ہی نہیں، حیرت انگیز بھی ہے۔ گناہ نہ صرف ارتکاب کرنے والے کے لیے عذاب کا موجب بنتے ہیں، بلکہ کائنات کی ہر شے حتیٰ کہ دیار و اشجار اور حیوانات بھی ان کے بد اثرات سے محفوظ نہیں رہتے،اذیت کا شکار رہتے ہیں۔ ایسے بدقسمت لوگ دنیا سے جائیں، تو پورا ماحول سُکھ کا سانس لیتا ہے، کہ اللہ کے نافرمان سے نجات ملی۔ عام انسانوں کے گناہوں کا نتیجہ اگر یہ ہے تو رہنماؤں ، قوم کے بڑوں اور حکمرانوں کی نافرمانیوں اور غلطیوں کے اثرات و نتائج پوری قوم پر کیا ہوں گے۔


حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ مکہ میں منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔ آپؓ نے فرمایا: لوگو! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اگر ابنِ آدم کو (دو پہاڑوں کے درمیان واقع) ایک پوری وادی بھی سونے سے بھر کر دے دی جائے، تو وہ خواہش کرے گا کہ ایسی ہی سونا بھری ایک وادی اور مل جائے، اور اگر دوسری بھی دے دی جائے، تو وہ چاہے گا کہ ایسی ایک تیسری سونا بھری وادی بھی مل جائے۔ ابنِ آدم کا پیٹ مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ جو توبہ کرلے اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ (بخاری، حدیث ۶۴۳۸)

حرص و لالچ ابن آدم کی سرشت ہے، لیکن نیک و بد یہاں بھی مختلف رویے اختیار کرتے ہیں۔     آں حضوؐر کے ارشاد گرامی کے مطابق ’’دنیا سے جانے والا ہر انسان حسرت کررہا ہوتا ہے۔ نیک لوگ کہہ رہے ہوتے ہیں، کاش! مزید نیکیاں سمیٹ لیتا۔گنہگار اپنا انجام دیکھ کر کہتا ہے: کاش! پہلے باز آجاتا‘‘۔ حرص جس شے کی بھی ہو، کبھی ختم نہیں ہوتی۔ علم ہو، نیکیاں ہوں، مال ہو، جاہ و منصب و اقتدار ہو، اولاد و متاع ہو، اچھی یا بری خواہشات ہوں___  انسان جس شے کی بھوک میں مبتلا ہوجائے اس سے کبھی سیر نہیں ہوتا۔ اب بھلا اس سے زیادہ مال و دولت کیا ہوگا کہ وادیوں کی وادیاں سونے سے بھر کردے دی جائیں، لیکن ہوس ہے کہ ختم نہیں ہوتی___  جتنا مل گیا اتنا ہی اور چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر جملے میں خزانے سمودیے___  انسان کا پیٹ قبر کی مٹی کے علاوہ کوئی شے نہیں بھر سکتی! ہاں، جو رب کا ہوجائے، رب اس کا ہوجاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اُسے دنیاوی مال و جاہ کے حوالے سے قناعت عطا کرتا ہے اور دین و عمل صالح کی حرص بڑھا دیتا ہے۔


حضرت ابوہریرہ ؓ نے آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپؐ نے فرمایا: بندہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ کوئی ایک بات ایسی کہہ دیتا ہے کہ اسے اس کی اہمیت کا اندازہ بھی نہیں ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کے درجات بہت بلند کردیتا ہے۔ بعض اوقات بندہ اللہ کو ناراض کرنے والی کوئی ایک بات ایسی کہہ دیتا ہے کہ جس کی سنگینی کا احساس تک نہیں ہوتا، لیکن وہ اس کی وجہ سے جہنم کے گڑھوں میں جاگرتا ہے۔ (بخاری، حدیث ۶۴۷۸)

انسان اپنی بات کی اہمیت کو جانتا ہی نہیں۔ نیکی کی بات ہو تو سمجھتا ہے اس سے بھلا کیا فرق پڑے گا، اور بری باتوں کو تو بعض اوقات اپنا استحقاق سمجھتا ہے۔ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی کی کمزوریاں معلوم ہوجائیں اور انھیں بیان کرنے کی لذت لیتے ہوئے، غیبت نہ کی جائے۔ بات بے بات جھوٹ،  ایک دوسرے کی چغلی، تہمت و الزامات، گالم گلوچ، بد زبانی، فحش گوئی، اظہارِ غرور و تکبر، گناہ ایک سے بڑھ کر ایک اور ذریعہ ایک چھوٹی سی زبان۔

دوسری طرف اللہ کو پسند آنے والی بظاہر ایک معمولی سی بات، لیکن درجات بلند سے بلند تر کردے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی مختصر سی تسبیح سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ ہی کو دیکھ لیجیے۔ آپ ؐ کے ارشاد کے مطابق زمین و آسمان کے درمیان سارے خلا کو بھردے___  اورذریعہ وہی چھوٹی سی زبان۔

 

حضرت عثمانؓ بن عفان نے حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کی قیادت میں پہلا قافلہ چین بھیجا۔ انھوں نے چینی باشندوں کے علاوہ شاہِ چین کو بھی خلیفۂ سوم کا پیغام پہنچایا۔ ان کی وہاں موجودگی کے دوران میں پہلی بار چین کی فضائوں نے تکبیراتِ اذان سنیں۔ پھر ۹۵ ہجری میں مسلمان قائد قتیبہ بن مسلم الباھلی نے سرزمینِ چین کو نورِاسلام سے متعارف کروایا اور ۲۳۲ ہجری میں تو سلطان ستوق بوگرہ خان خود مسلمان ہوگیا۔ بارھویں صدی کا تاریخ دان جمال قارشی اپنی کتاب تاریخِ کاشغر میں لکھتا ہے کہ بخارا کے ایک متمول تاجر نصر کی سلطان کاشغر سے دوستی ہوگئی۔ سلطان نے اسے کاشغر کے مضافاتی قصبے ارتش میں مسجد تعمیر کرنے کی اجازت دی۔ سلطان کا بھتیجا ستوق اکثر اس مسجد اور وہاں وسطی ایشیا سے آنے والے تجارتی قافلوں کو دیکھنے آیا کرتا۔ مسجد میں نماز پڑھتے اور منظم صورت میں رکوع و سجود کرتے مسلمانوں کو دیکھ کر اس کے دل میں اسلام کے بارے میں مزید جاننے کا اشتیاق پیدا ہوا اور جلد ہی اسلام قبول کرلیا۔ اپنے چچا کے بعد وہی سلطان بنا اور پورے خطے میں اسلام عام کرنے کا ذریعہ بھی۔ ۹۵۵ عیسوی میں ستوق بوگرہ خان کا انتقال ہوا تو ارتش ہی میں مدفون ہوا اور آج تک لوگ سلطان کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے جاتے ہیں۔

ریاستِ مدینہ سے آنے والے وفود، مسلمانوں کے تجارتی قافلوں کی پے درپے آمد، ان کے حُسنِ سلوک اور حُسنِ عبادت اور سلطان ستوق جیسے مخلص حقیقت شناسوں کے ذریعے اسلام کا تعارف چین کے دُور دراز علاقوں تک جا پہنچا۔ آج آپ چین کے کسی شہر میں چلے جائیں، صدیوں پرانی مساجد ان سجدہ ریز پیشانیوں کا تعارف کرواتی دکھائی دیتی ہیں۔ ۷ ہزار کلومیٹر لمبی دیوارِ چین سے باہر واقع کاشغر، ارمچی، ختن اور ارتش جیسے شہروں ہی میں نہیں خود بیجنگ، شنگھائی اور شانسی جیسے تاریخی شہروں میں بھی، مسلمان اپنے خالق اور ختم الرسلؐ کی محبت دل میں سجائے، قرآن و کعبہ کی زیارت اپنی سب سے بڑی سعادت گردانتے ہیں۔ چین میں لنگ شانامی ایک علاقہ ایسا بھی ہے جسے چھوٹا مکہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کہ وہاں مسلمانوں کی تعداد و تناسب غیرمعمولی ہے۔

جمہوریہ چین ہمارا پڑوسی ہی نہیں، انتہائی قابلِ اعتماد اور ہرآزمایش پر پورا اُترنے والا دوست ہے۔ چین نے پاکستان کی مدد کرنے اور علاقائی و عالمی مجالس میں ہمارے قومی مفادات کی نگہبانی کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا، کسی دشمن کے سامنے ہمیں تنہا نہیں چھوڑا۔ پاکستان کی تعمیروترقی میں اسی طرح ہاتھ بٹایا ہے جیسے اپنے ہی کسی علاقے کی تعمیرو فلاح کا کام ہو۔ مسلم دنیا کے ساتھ بھی چین کے روز افزوں تعلقات اور دوستی عالمی تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ او آئی سی کے ۵۷ رکن ممالک میں سے ۵۵ کے ساتھ اس کے سفارتی و تجارتی تعلقات ہیں۔ عالمِ اسلام سے مضبوط تر ہوتے ہوئے یہ تعلقات اس امر کے متقاضی ہیں کہ چین اور مسلم دنیا کے مابین کوئی اختلاف پیدا نہ ہونے دیا جائے۔ وجہِ نزاع بن سکنے والے ان تمام اسباب کا ازالہ کر دیا جائے کہ دشمن بالخصوص امریکا اور بھارت جس جلتی پر تیل ڈالتے ہوئے اضطراب و اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرے۔

چین میں بسنے والے کروڑوں مسلمان اس دوستی میں خیر کے لاتعداد پہلو لاسکتے ہیں، مزید تعاون کے لیے مضبوط بنیادیں فراہم کرسکتے ہیں، لیکن یہی مضبوط بنیادیں خدانخواستہ بہت سی   غلط فہمیوں بلکہ مشکلات کا سبب بھی بنائی جاسکتی ہیں۔ جولائی کے آغاز میں وقوع پذیر ہونے والے افسوس ناک واقعات اس حقیقت کی اہمیت کو مزید اجاگر کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے قتل ہوئے؟ ۱۹۷ یا ۴۰۰۰؟ دونوں اعداد و شمار میں زمین آسمان کا فرق ہے اور مبالغے کا پورا امکان موجود ہے۔ لیکن اگر چینی حکومت کی بتائی ہوئی تعداد ہی درست تسلیم کرلیں، تب بھی ۱۹۷ افراد کا قتل معاملے کی سنگینی واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہاں یہ بحث بھی ضروری نہیں کہ قتل ہونے والے کس نسل یا مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ چینی حکومت کا موقف ہے کہ ان میں سے ۱۴۰افراد    ہان نسل سے تعلق رکھنے والے غیرمسلم تھے، تب بھی انسانی جانوں کا یہ قتل کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پھر یہ تعداد تو صرف جان سے گزر جانے والوں کی ہے، زخمیوں اور گرفتار شدگان کی تعداد یقینا ہزاروں میں ہے۔ یہ امر بھی معلوم حقیقت ہے کہ یہ ہنگامے اور خوں ریزی پہلی بار نہیں ہوئی۔ گذشتہ عشرے ہی میں متعدد مواقع ایسے آئے کہ جب علاقے میں غیرمعمولی ہنگامے اور جھڑپیں بھڑک اُٹھیں اور بڑی تعداد میں انسانی جانیں ان کی نذر ہوئیں۔

مکمل غیر جانب داری سے، صرف معاملے کو سمجھنے کے لیے جائزہ لیں تودرج ذیل اہم پہلو سامنے آتے ہیں:  چینی حکومت اور ترکی النسل اوئیگور آبادی کے درمیان اختلافات سرسری یا وقتی نہیں، ان کی ایک طویل تاریخ ہے۔ طرفین اپنے اپنے طور پر تاریخی حقائق پیش کرتے ہیں اور انھی کی روشنی میں اپنے موقف کی حقانیت ثابت کرتے ہیں۔ اختلافات اتنے عمیق و کثیر ہیں کہ علاقے کے نام سے شروع ہوکر زبان، ثقافت، مذہب، آبادی کے تناسب، نسلی انتساب اور مستقبل کی صورت گری،  ہر بات پر شدید حساسیت ہے۔ چین اس پورے علاقے کو اپنا اہم صوبہ قرار دیتا ہے جسے سنکیانگ، شنجیانگ یاشنجان کہا جاتا ہے، جب کہ طرفِ ثانی اسے مشرقی ترکستان کہنے پر مصر ہے۔ وہ ۲۰۴ قبل مسیح سے خطے میں اوئیگور ریاست کی بنیادیں پیش کرتا ہے اور تاریخ کے سفر میں متعدد بار ریاست مشرقی ترکستان کے وجود کے دلائل پیش کرتا ہے۔ ان کے بقول وسطی ایشیا کی ترکی النسل ریاستیں بھی اسی ترکستان کا حصہ تھیں اور مغربی ترکستان کہلاتی تھیں۔ ۱۸۶۸ء میں ان پر روس نے قبضہ کر لیا، جب کہ مشرقی ترکستان جو ۱۷۵۸ء سے چینی بادشاہوں کی قلم رو میں چلا گیا تھا، ۱۸۶۳ء سے یعقوب بیگ کی حکمرانی میں اپنی علیحدہ ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے  عثمانی خلیفہ سلطان عبدالعزیز خان کو اپنا سرپرست تسلیم کرلیا۔ ۱۸۷۶ء میں چینی افواج نے پھر ترکستان پر اپنا اقتدار قائم کر لیا اور اس وقت اس کا نام سنکیانگ یا شنجانگ رکھ دیا گیا جس کا مطلب تھا: ’’نیاصوبہ یا نئی سرحد‘‘(چینی تفسیر کے مطابق اس کا مطلب ہے وہ پرانا خطہ جو پھر سے مادر أرضی سے آن ملا)۔ ۱۹۳۳ء میں یہاں پھر آزاد ریاست کا اعلان کردیا گیا لیکن تین ہی ماہ میں چین اور روس نے مل کر اس کا خاتمہ کر دیا (چینی موقف کے مطابق مقامی قبائل نے اس کا خاتمہ کردیا)۔ ۱۹۴۴ء میں پھر اسلامی جمہوریہ مشرقی ترکستان کے قیام کا اعلان کر دیا گیا جو اکتوبر ۱۹۴۹ء میں اس وقت تک باقی رہی جب پیپلز لبریشن آرمی نے مائوزے تنگ کی قیادت میں نئے چین کی بنیاد رکھی۔ مشرقی ترکستان کی یہ تاریخ بیان کرنے والے اس امر کا بھی خصوصی ذکر کرتے ہیں کہ مائو کی قیادت میں چین کی سوشلسٹ حکومت نے ہمارے علاقے کی خصوصی حیثیت برقرار رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ اکتوبر ۱۹۵۵ء میں اس علاقے کا سرکاری نام Xinjian Uygur Autonomous Region (اوئیگور سنکیانگ کا خودمختار علاقہ)رکھا گیا اور بعد میں ۴دسمبر ۱۹۸۲ء کو جاری ہونے والے چین کے موجودہ دستور میں بھی ہماری یہ علاقائی خودمختار حیثیت برقرار رکھی گئی۔ چین کے دستور میں علاقائی خودمختاری ہی نہیں، علاقے کے لوگوں کے مذہب و ثقافت کی حفاظت اور آزادیوں کی بھی ضمانت دی گئی ہے اور یہی امر مسائل کے حل کے لیے اُمید کی اصل بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔

چینی حکومت بھی اسی دستوری بنیاد پر مبنی موقف رکھتی ہے۔ اس کے بقول: ہم نے گذشتہ ۶۰برس میں پوری آبادی کی بلااستثنا خدمت کی ہے۔ تعمیروترقی کا سفر تیز تر کیا ہے اور کوشش کی ہے کہ اوئیگور یا کسی بھی نسلی گروہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہ برتا جائے۔ رہی مذہبی تقسیم تو ہم اس تقسیم کی بنیاد پر معاملہ ہی نہیں کرتے، ہمارے لیے سب شہری یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سنکیانگ میں صرف اوئیگور ہی نہیں ۴۷ دیگر قومیتیں بستی ہیں جن میں اوئیگور، ہان، قازق، منگولین، ہوئی یا خوئی، قرغیز، تاجک، تاتاری، روسی اور دیگر کئی نسلی اکائیوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ اگرچہ اوئیگور اکثریت رکھتے ہیں لیکن تمام نسلیں مل جل کر رہتی چلی آرہی ہیں۔ اسی طرح اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب جیسے بدھ ازم اور تائوازم وغیرہ کے پیروکار بھی یہاں کے باسی ہیں اور سب باہم مل جل کر رہتے ہیں۔ چین کے سرکاری موقف میں اس بات کا بھی نمایاں ذکر کیا جاتا ہے کہ ۱۶ویں صدی کے چغتائی دور میں بالآخر اسلام نے اکثریتی مذہب ہونے کے ناتے بدھ ازم کی جگہ لے لی لیکن ان کے بقول یہ مذہبی اکثریت گاہے بہ گاہے تبدیل ہوتی رہی۔

چین کی سرکاری دستاویزات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ چین نے سنکیانگ کو زبردستی نہیں بلکہ ۲۵ستمبر ۱۹۴۹ء کو پُرامن طور پر آزاد کروایا۔ سنکیانگ کے عوام نے جنرل وانگ ژان کی قیادت میں آنے والی چینی افواج کا خود آگے بڑھ کر خیرمقدم کیا۔

انھی چینی دستاویزات کے مطابق مشرقی ترکستان کی اصطلاح کا استعمال ۱۹ویں صدی کے اوائل میں صرف جغرافیائی نشان دہی کے طور پر تب کیا گیا تھا جب روس کے زیراقتدار سمرقند کے علاقے کو مغربی ترکستان اور سنکیانگ کے علاقے کو مشرقی ترکستان کہا گیا، لیکن ۲۰ویں صدی کے آغاز میں علیحدگی پسندوں کے ایک مختصر گروہ نے مشرقی ترکستان کی آزادی کا نعرہ بلند کیا۔ تب سے لے کر اب تک مختلف اوقات میں بیرونی قوتوں کے ایما پر مشرقی ترکستان اور اس کی علیحدگی کی بات کی جاتی ہے۔ حالیہ جولائی کے خوں ریز واقعات کے بارے میں بھی چین کے ذمہ داران یہی کہتے ہیں کہ ایک فیکٹری کے مزدوروں کے جھگڑے کو بیرونی طاقتوں نے نسلی اور مذہبی لڑائی کا رنگ دے دیا ہے۔ امریکا میں موجود مختلف تنظیمیں بالخصوص اوئیگور انٹرنیشنل کانگریس اس کے لیے کوشاں ہے۔

عربی کا ایک محاورہ ہے: صَدِیْقُکَ مَنْ صَدَقَکَ لَا مَنْ صَدَّقَکَ ’’تمھارا اصل دوست وہ ہے جو تم سے سچ بولے نہ کہ وہ جو بس تمھاری ہاں میں ہاں ملائے‘‘۔ اس محاورے کے تناظر میں اور پاکستان کے حقیقی دوست چین کے ساتھ کامل ہمدردی اور اخلاص رکھتے ہوئے اس اہم موقع پر   چند گزارشات ضروری ہیں۔ چین کو کھلے دل اور کامل انصاف و غیر جانب داری سے اس علاقے کے عوام کے حالات کا مطالعہ کرنا چاہیے اور اس بات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنا چاہیے کہ گذشتہ عرصے میں اس اضطراب میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔ ۵ جولائی کے افسوس ناک واقعات کے بعد اس صورت حال کا سرسری جائزہ لینے سے جو شکایات سامنے آرہی ہیں، اہلِ علاقہ کے الفاظ میں ان میں سے چند ایک بلاکم و کاست یہ ہیں:

  •  چین علاقے میں مسلم اکثریت کو کم کرنے کے لیے دیگر علاقوں سے ہان نسل کی آبادی کو یہاں لاکر بسا رہا ہے اور اوئیگور کے علاوہ دیگر ترکی النسل آبادی کو یہاں سے منتقل کر رہا ہے۔ ان زبردستی لے جائے جانے والوں میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے اور ان میں سے بھی زیادہ تناسب بچیوں کا ہے۔
  •  چینی دستور میں علاقائی زبانوں کو تحفظ دیا گیا ہے لیکن اوئیگور زبان جو آج بھی عربی  رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ خود ترکی میں اتاترک کی طرف سے ۱۹۲۸ء میں عربی حروف ممنوع  قرار دیے جانے کے باوجود یہاں اس کا رسم الخط وہی رہا۔ لیکن چینی حکومت مختلف طریقوں سے ہماری زبان ختم کر رہی ہے۔ ہمارے بچوں کو بھی یہ زبان نہیں پڑھائی جاسکتی۔
  •  چینی دستور کی شق ۳۶ میں تمام شہریوں کے لیے مذہبی آزادیوں کی ضمانت دی گئی ہے لیکن ہمیں عملاً بہت پابندیوں کا سامنا ہے۔ ۱۹۵۸ء کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنکیانگ میں ۲۹ ہزار ۵ سو ۴۵ مساجد تھیں۔ ان کے اخراجات مساجد کے اوقاف، زکوٰۃ اور عطیات وغیرہ سے پورے کیے جاتے تھے۔ زرعی اصلاحات کے نام پر وہ اوقاف ضبط کرلیے گئے اور ہزاروں کی تعداد میں مساجد بند کر دی گئیں۔ ۲۰ سال سے کم عمر کے بچوں کے مسجد داخلے پر اور ۱۸ سال سے کم عمر کے بچوں کو دینی تعلیمات دینے پر پابندی لگا دی گئی۔ بچیوں کے حجاب پر پابندی لگا دی گئی۔ سفرِحج میں رکاوٹیں ڈالی گئیں اور خاص طور پر سنکیانگ سے حجاج کی تعداد نہ ہونے کے برابر کر دی گئی۔ پوری آبادی کے پاسپورٹ یا تو ضبط کرلیے گئے یا ان کے مقابل خطیر رقم زر ضمانت کے طور پر رکھی جاتی ہے تاکہ کوئی اپنے طور پہ حج کے لیے نہ چلا جائے۔یہ اور اس طرح کی سنگین شکایات کی فہرست مزید طویل ہوسکتی ہے لیکن معاملے کو سمجھنے کے لیے اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔

فرض کریں اور اللہ کرے کہ مذکورہ بالا تمام تر شکایات بے بنیاد اور جھوٹی ہوں۔ اس صورت میں چینی حکومت کا فرض ہے اور یہ کام بہت آسان ہوجاتا ہے کہ دنیا کو اصل صورت سے آگاہ کرے۔ چین دنیا بھر سے حقوقِ انسانی کے اداروں،بالخصوص عالمِ اسلام کے غیرسرکاری علما اور اعتدال پسند جماعتوں کے وفود کے دورے کروائے تاکہ وہ نہ صرف اپنی آنکھوں سے حقیقی صورت حال دیکھ لیں بلکہ اس طرح کے الزامات لگانے اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کو بھی دنیا کے سامنے بے نقاب کرسکیں۔ اُوپر مذکورہ شکایات اور ان کے علاوہ بھی کئی سنگین اطلاعات پورے عالمِ اسلام میں وسیع پیمانے پر عام ہو رہی ہیں۔ مسلم دنیا کے لیے سنکیانگ کی چین سے علیحدگی کی تحریک میں کوئی اپیل نہیں پائی جاتی لیکن چین اور بالخصوص سنکیانگ میں بسنے والے مسلمانوں کی صورت حال کے بارے میں اس وقت گہری تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ اِکا دکا مضامین، خبریں اور بیانات تو پہلے بھی آتے رہتے تھے لیکن جولائی کے خونیں واقعات پر دنیا کے ہر کونے میں گفتگو ہورہی ہے۔ ترکی میں تو باقاعدہ مظاہرے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے یہ عالمی وفود مقامی آبادی کو مطمئن کرنے کا ذریعہ اور سبب بھی ہوں گے اور عالمِ اسلام کے سامنے بھی     حقیقتِ حال واضح کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔

خدانخواستہ اگر یہ شکایات الزام نہیں، حقیقت ہیں تو ان کا فوری مداوا نہ صرف اہم ہے بلکہ ناگزیر و ضروری بھی۔ یہاں یہ حقیقت بھی سامنے رہنا چاہیے کہ کسی ملک کے اندرونی مسائل میں مداخلت کا حق نہ کسی کو دیا جاسکتا ہے اور نہ طلب کیا جاسکتا ہے لیکن دین و مذہب کی آزادی ایک ایسا بنیادی اور جذباتی مسئلہ ہے کہ وہ ازخود متعلقہ مذہب کے ہر فرد کو براہِ راست مخاطب و متاثر کرتا ہے۔ انسانی تاریخ میں کتنے ہی ایسے موڑ آئے ہیں کہ مذہبی جذبات کے انگیخت کرنے سے پاسا پلٹ گیا۔ گائے اور سور کی چربی لگے کارتوسوں کی حکایت ہی دیکھ لیجیے کہ جنھیں استعمال کرنے سے پہلے دانتوں سے چھیلنا پڑتا تھا حالانکہ لشکری یا مسلمان تھے یا پھر ہندو۔

سنکیانگ، شنجانگ، شنجان یا مشرقی ترکستان، معدنی، زرعی اور جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہم علاقہ ہے۔ یہاں تیل کے ذخائر کا اندازہ ۸ ارب ٹن لگایا گیا ہے۔ اب بھی روزانہ پیداوار ۵۰لاکھ ٹن ہے۔ ۶۰۰ ملین ٹن کوئلہ نکالا جاتا ہے۔ ۳۰ مقامات سے قدرتی گیس نکالی جاتی ہے۔ یہاں دنیا کی اعلیٰ ترین نسل کا یورینیم پایا جاتاہے جس کی چھے کانوں سے پیداوار جاری ہے۔ اس کے    علاوہ سونے اور قیمتی پتھروں کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ صرف اسی ایک صوبے کا رقبہ چین جیسے وسیع و عریض ملک کا چھٹا حصہ ہے اور ساڑھے ۱۶ لاکھ مربع کلومیٹر سے متجاوز ہے، یعنی فرانس جیسے ملک سے تین گنا بڑا۔ کُل رقبے میں سے ساڑھے چھے لاکھ مربع کلومیٹر صحرائی علاقہ ہے اور ۹۱ ہزار مربع کلومیٹر جنگلات ہیں، جب کہ زرعی زمین بھی انتہائی زرخیز ہے۔ ۴۰ بڑے دریائوں اور ۱۲ جھیلوں کی صورت میں وافر پانی دستیاب ہے۔ اس کی ۵۶۰۰ کلومیٹر طویل سرحدیں ۸ ممالک سے ملتی ہیں۔ ہمہ پہلو اہمیت کے اس علاقے کا امن و استحکام صرف چین ہی نہیں پورے خطے کے امن و استحکام اور تعمیروترقی کے لیے ناگزیر ہے اور چینی حکومت سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ حقیقی امن و استحکام، عوام کو مطمئن کرنے سے ہی لایا جاسکتا ہے۔ زور زبردستی، لاوے کی آتش فشانی میں مزید اضافہ ہی کرتی ہے۔

خطے کے مسلمانوں کو بھی اس بارے میں واضح اور حقیقت پسندانہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ کیا ان کا اصل مقصد اپنے دین و ثقافت کی حفاظت، مذہبی آزادیاں اور بنیادی حقوق کا حصول ہے یا مجرد علیحدگی کا نعرہ بلند کرنا۔ اگر ان کے پیش نظر پورے چین میں مسلمانوں کے مفادات اور ان کا روشن مستقبل رہے تو یقینا منزل بھی آسان ہوگی اور خطے کے بارے میں ان تمام عالمی سازشوں کو بھی ناکام بنایا جاسکے گا جو مسلمانوں سے دوستی نہیں چین سے دشمنی کی بنیاد پر آگے بڑھائی جاسکتی ہیں۔

 

اسباب اور نتائج پر تو مختلف آرا ہوسکتی ہیں، لیکن اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ ایران اپنے ۳۰ سالہ دورِ انقلاب کے انتہائی اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایران عراق جنگ کے آٹھ برس انتہائی تباہ کن تھے لیکن پوری قوم مجموعی طور پر یک جان تھی۔ امام خمینی کی رحلت صدمہ خیز تھی لیکن ملک و قوم کامل وقار کے ساتھ ایک مربوط و مضبوط نظام کے شانہ بشانہ چلتے رہے۔ دہشت گردی کی لہریں آئیں، سیاسی و دینی اختلافات راے سامنے آتے رہے، اصلاح پسندی اور بنیاد پرستی کی لَے اُٹھائی گئی لیکن رہبر اور ملکی اداروں کو متنازع نہ بنایا گیا۔ اب کیا ہوا کہ مجرد انتخابی دھاندلی کے الزامات نے دوستوں اور دشمنوں سب کو حیران کر دیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اس صورت حال کا خواب تک نہ دیکھا تھا۔

۱۲ جون ۲۰۰۹ء کے انتخابات کا بگل بجا تو پے درپے کئی امور حیران کن تھے۔ صدارتی امیدواروں نے اپنے ٹی وی مناظروں اور بیانات میں ایک دوسرے کے خلاف وہ زبان استعمال کی اور صریح کرپشن کے وہ الزامات لگائے جو اس سے پہلے کبھی علی الاعلان نہیں کہے گئے تھے۔ صدر احمدی نژاد کی طرف سے سابق صدر اور مجلس خبرگان کے سربراہ ہاشمی رفسنجانی اور ان کے افراد خانہ پر لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات نے صرف انھی کی شخصیت کو مجروح نہیں کیا بلکہ پورے نظام کی ساکھ کو متاثر کیا۔ پھر ووٹنگ کا آغاز ہوا تو تناسب ۸۵ فی صد تک جاپہنچا۔ ووٹوں کا یہ تناسب بھی ایران کی تاریخ میں سب سے زیادہ تھا۔ رات گئے تک ووٹنگ جاری رہی، میں نے شب ساڑھے بارہ بجے کے لگ بھگ تہران میں بعض اہم ذمہ داران سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ افراد کے فقید المثال رجحان کے باعث ووٹنگ کا وقت دو گھنٹے بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کا اندازہ  یہ تھا کہ شاید پہلے مرحلے میں کوئی ایک امیدوار ۵۰ فی صد سے زائد ووٹ حاصل نہ کرسکے اور  فیصلہ دوسرے مرحلے میں ہو۔ اگلے روز معلوم ہوا کہ غیررسمی نتائج کے مطابق صدر احمدی نژاد ۶۳ء۶۲ فی صد (یعنی ۲ کروڑ ۴۵ لاکھ ۲۷ ہزار ۵ سو ۱۶) ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے ہیں۔ مزید حیرت کی بات یہ تھی کہ ہارنے والے امیدواروں نے نتائج پر اعتراض ہی نہیں کیا بلکہ انھیں قبول کرنے سے انکار بھی کردیا۔ اگلے ہی روز ’انتخابات میں دھاندلی‘ کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا اور معاملہ ۱۷ بے گناہ افراد کی موت، سیکڑوں کے زخمی ہونے اور سیکڑوں کی گرفتاری تک جا پہنچا۔ دوسرے نمبر پر آنے والے میرحسین موسوی جنھیں ۳۳ فی صد (یعنی ایک کروڑ ۳۲ لاکھ ۱۶ ہزار ۴ سو ۱۱) ووٹ ملے تھے اور چوتھے نمبر پر آنے والے مہدی کرّوبی جنھیں ۸ء۰ فی صد (یعنی دو لاکھ ۹۰ ہزار) ووٹ ملے تھے یکجا ہوگئے۔ ہاشمی رفسنجانی ان کے پشتیبان بن گئے اور سابق صدر خاتمی جیسے مختلف اصلاح پسند عناصر ہی نہیں متعدد دینی شخصیات نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ ان میں قم کے اہم مرجع آیت اللہ صانعی اور امام خمینی کے نائب کی حیثیت سے کام کرنے والے آیت اللہ منتظری نمایاں ترین ہیں۔ ان دونوں شخصیات نے انتہائی سخت الفاظ میں حکومت کی مخالف اور اپوزیشن کی حمایت میں بیانات جاری کیے۔

احتجاجی مظاہروں کے ٹھیک ایک ہفتے بعد ایران کے دینی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے خطبۂ جمعہ دیا۔ پوری دنیا کی نگاہ خطبے اور اس کے نتائج پر تھی۔ رہبر نے دوٹوک الفاظ میں انتخابات اور ان کے نتائج کی حمایت کی اور کہا کہ صرف دھاندلی کے ذریعے ایک کروڑ ۱۰ لاکھ سے زائد ووٹوں کا فرق نہیں لایا جاسکتا۔ انھوں نے احتجاج کرنے والوں سے پُرامن رہنے کا بھی کہا اور ان کی قیادت کو بھی تنبیہہ کی کہ اگر ان کی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک خوں ریزی کا شکار ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ان کے سر ہوگی۔ رہبر نے بیرونی طاقتوں خصوصاً امریکا و برطانیہ کو بھی خبردار کیا کہ وہ جلتی پر تیل نہ ڈالیں اور کہا کہ افغانستان و عراق میں خون بہانے والے کیا جانیں کہ حقوقِ انسانی کیا ہوتے ہیں۔ ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ وہ ہمیں حقوقِ انسانی کی نصیحتیں کریں۔ آیت اللہ  خامنہ ای نے رفسنجانی سمیت تمام اپوزیشن لیڈروں کو بھی پُرامن رکھنے کی کوشش کی اور کہا کہ سابق صدر رفسنجانی سے میری ۵۰ سالہ رفاقت ہے۔ کرپشن نہیں وہ تو خود شاہ کے زمانے سے اپنا پیسہ انقلاب کی خاطر خرچ کرنے والی ہستی ہیں… اسی طرح کے کلمات انھوں نے دیگر صدارتی امیدواروں کے بارے میں کہے لیکن صدر احمدی نژاد کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا۔ حالیہ بحران کا سب سے حیران کن اور اہم ترین پہلو یہی ہے کہ رہبر جو ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی شخصیت ہی نہیں، عقیدۂ ولایت فقیہ کی روشنی میں نمایاں ترین دینی مقام و مرتبہ رکھتا ہے۔ ایرانی دستور کی شق ۵۷ کے تحت ملک کے تینوں ستونوں (مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ) پر ان کی کامل بالادستی ہے، ان کی طرف سے واضح ہدایت اور تنبیہہ کے بعد بھی عوام اور اپوزیشن رہنمائوں کا احتجاج جاری ہے۔ صورت حال کے مزید جائزے سے پہلے آیئے ایک نظر میں ریاست کے حالیہ نظام کا جائزہ لے لیں:

۱- اسلامی جمہوریہ ایران کے دستور کے مطابق سب سے اعلیٰ رتبہ رہبر کا ہے جو تاحیات مقرر کیا جاتا ہے۔ کسی بھی معاملے میں ان کا قول قولِ فیصل قرار پاتا ہے۔ ان کی ذمہ داریوں میں انتخابی نتائج کی توثیق بھی شامل ہے۔ افواج براہِ راست انھی کے زیرنگیں ہیں جن میں باقاعدہ افواج کے علاوہ پاس دارانِ انقلاب اور پاسیج ملیشیا بھی شامل ہے۔ رہبر عدلیہ کی نگہداری کرتا ہے، چیف جسٹس کے عزل و نصب کا اختیار بھی وہی رکھتا ہے۔

۲- شوراے نگہبان، ۱۲ ارکان پر مشتمل یہ ادارہ دستور کی دفعہ ۹۹ کے مطابق ملک میں ہونے والے تمام انتخابات یا ریفرنڈم میں اس ادارے کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ وہی امیدواروں کی اہلیت یا نااہلیت کا فیصلہ کرتا ہے اور انتخابات میں کسی بے ضابطگی کی شکایت اور عذرداری کا فیصلہ بھی وہی کرتا ہے۔ دستور کی دفعہ ۹۱ کے مطابق پارلیمنٹ سے صادر ہونے والے قوانین کے شرعی یا مخالف شرع ہونے کا جائزہ بھی یہی ادارہ لیتا ہے۔ شوراے نگہبان کے ۱۲ ارکان میں سے چھے فقہا کا درجہ رکھنے والے علماے کرام ہوتے ہیں، جن کا تعین براہِ راست رہبر کرتا ہے۔ باقی چھے ارکان ماہرین قانون میں سے ہوتے ہیں جن کا انتخاب پارلیمنٹ کرتی ہے۔ اس انتخاب کے لیے امیدواران کی فہرست اعلیٰ عدالت کی طرف سے پیش کی جاتی ہے۔ شوراے نگہبان کے سربراہ آیت اللہ جنتی ہیں جو رہبر کے انتہائی معتمدعلیہ ساتھی ہیں۔

۳- مجلسِ تشخیصِ مصلحتِ نظام، ۱۹۸۹ء میں قائم ہونے والے اس ادارے کے ۳۴ ارکان ہوتے ہیں جن کا تعین براہِ راست رہبر کرتا ہے۔ اس میں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے تینوں سربراہوں کے علاوہ ملک کے تقریباً ہر اہم مکتب ِ خیال کی نمایندگی ہوتی ہے۔ دستور کی دفعہ ۱۱۰ کے مطابق رہبر کی طرف سے بھیجے گئے کسی بھی مسئلے یا کسی وقت پارلیمنٹ اور شوراے نگہبان کے درمیان اختلاف پیدا ہو جانے کی صورت میں یہی ادارہ فیصلہ کرتا ہے۔ ۱۹۹۷ء سے علی اکبر ہاشمی رفسنجانی ہی اس مجلس کے سربراہ بھی تھے۔ ۱۲ جون کے انتخابات کے بعد ان کے اس منصب سے استعفا کی خبریں آرہی ہیں۔ ان تین غیرمنتخب اہم اداروں کے علاوہ تین اہم ادارے براہِ راست عوام کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں:

ا - صدر مملکت ملک کا اعلیٰ ترین انتظامی منصب، جو چار برس کے لیے منتخب ہوتا ہے اس کا انتخاب دو دفعہ کیا جاسکتا ہے۔ صدر مملکت اپنے ساتھ ۲۱ رکنی کابینہ رکھتا ہے۔ ہر وزارت اپنی جگہ اہم ہوتی ہے لیکن وزارتِ داخلہ کی خصوصی اہمیت یہ ہے کہ ملک کا سارا انتخابی نظام اس کے اختیار میں ہوتاہے۔ شوراے نگہبان، وزارتِ داخلہ اور رہبر کی مؤثر تکون، انتخابات کو یقینی، شفاف اور حتمی بنانے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔

ب- مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) ۲۹۰ ارکان پر مشتمل یہ مجلس بھی چار سال کے لیے منتخب ہوتی ہے۔ آخری انتخاب مارچ ۲۰۰۸ء میں ہوئے تھے اور اس میں صدر احمدی نژاد کے حامی دو تہائی سے زائد تعداد میں منتخب ہوچکے ہیں۔ مئی ۲۰۰۸ء میں نئی مجلس نے علی لاریجانی کو اپنا اسپیکر منتخب کرلیا جوکہ ایرانی ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ تھے۔ لاریجانی کا شمار رہبر خامنہ ای کے قریبی معتمدین میں ہوتا ہے۔

ج- مجلس خبرگاں ۸۶ رکنی اس اہم مجلس کا انتخاب بھی براہِ راست عوامی ووٹنگ سے ہوتا ہے۔ ارکان مجلس آٹھ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ اس مجلس کی اہم ترین ذمہ داری رہبر اعلیٰ کا منصب خالی ہوجانے کی صورت میں نئے رہبر کا انتخاب ہوتاہے۔ یہ مجلس منتخب رہبر اعلیٰ کے بارے میں بھی راے دی سکتی ہے اور اگر مجلس محسوس کرے کہ رہبر اب اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہیں رہا، یا ریاست کے مقاصد و قوانین سے منحرف ہوگیا ہے تووہ اسے معزول بھی کرسکتی ہے۔ اس مجلس کے حالیہ سربراہ ہاشمی رفسنجانی ہیں۔ ان تمام منتخب اور غیرمنتخب اداروں کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اس وقت پورا ریاستی نظام نہ صرف یہ کہ رہبر اعلیٰ اور ان کے ساتھیوں کے مکمل کنٹرول میں ہے بلکہ اسے ایک دینی تقدس بھی حاصل ہے جو نظریۂ ولایت ِ فقیہ کی بدولت ایمان و عقیدہ کا حصہ بن چکا ہے۔ شیعہ عقائد کے مطابق ولایت فقیہ بنیادی طور پر امام زمان کی نیابت کا دوسرا نام ہے۔ یہ مسئلہ ہر دور میں بحث و نقاش کا محور بنا ہے۔ آرا اس کے حق میں تھیں اور خلاف بھی۔ اس پر بھی اختلاف رہا کہ ولیِ فقیہ کی اطاعت مطلق ہوگی یا مشروط۔

ولایت فقیہ اور آج کا ایران

امام خمینی کی راے ولایت فقیہ کے حق میں دوٹوک تھی۔ انھوں نے اس نظریے کو ایک مکمل نظام کی صورت میں نافذ کر دیا۔ اپنی کتاب حکومتِ اسلامی اپنے متعدد کتابچوں اور خاص طور پر سید علی خامنہ ای کے نام اپنے ایک خط میں انھوں نے ولایت فقیہ کو حکومت اسلامی کے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ صدر خامنہ ای کے نام اپنے خط میں ان کے الفاظ تھے: ’’یہ وضاحت ضروری ہے کہ حکومت (ولایت ِ فقیہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولایت مطلقۃ ہی کا ایک اہم شعبہ اور اسلام کے اولیں احکام میں سے ایک حکم ہے‘‘۔

امام خمینی کی اس راے بلکہ فیصلے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب میں امام کے ہمہ پہلو اثرات و کردار کے تناظر میں، آج رہبر کے فیصلے کے باوجود عوامی مظاہروں کا ختم نہ ہونا معاملے کی دینی و سیاسی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ شیعہ مکتب فکر کی نصابی کتب میں موجودہ ولایت ِ فقیہ کی تشریح یوں کی گئی ہے: ’’ولایت ِ فقیہ حضرت امام مہدی (اللہ ان کا ظہور جلد فرمائے) کی نیابت میں قیادت سے عبارت ہے۔ فقیہ عادل جو اس منصب کی تمام شرائط پر پورا اُترتا ہو مسلمانوں کا سرپرست اور امام ہوتا ہے۔ ان پر اس کی اطاعت واجب ہے۔ دیگر علما اور فقہا کو بھی اس کی اطاعت کرنا ہوگی۔ اگر کوئی فقیہ، فقہ کے اعتبار سے خود کو رہبر سے بھی بڑا عالم سمجھتا ہو، تو اس کے لیے یہ تو ممکن ہے کہ  وہ عبادات میں، شرعی احکام سے مستنبط امور کی روشنی میں خود اپنی پیروی کرلے، لیکن سیاست اور قیادت سے متعلق امور میں اسے بھی ولی امرالمسلمین (رہبر) کی اطاعت کرنا ہوگی۔ یہ ولایت آج کے دور میں رہبر و امام سید علی خامنہ ای کو حاصل ہے‘‘۔

ایک جانب یہ تمام ضوابط و عقائد اور دوسری جانب صرف انتخابات میں دھاندلی کی بات کرتے ہوئے وہ احتجاج کہ جس کا سلسلہ رہبر کے دو خطبات کے باوجود ہنوز جاری ہے…؟ حکومتی کوشش کے باوجود میرحسین موسوی اور مہدی کروبی نے رہبر سید علی خامنہ ای کے خطبۂ جمعہ میں شرکت نہیں کی۔ خطاب کے اگلے ہی روز موسوی نے بیان دیا کہ جھوٹ اور دھاندلی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انٹرنیٹ پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ اگر میں اس راستے میں شہید کردیا جائوں تو ایرانی عوام ہڑتالیں کریں اور حقوق کے حصول تک احتجاج جاری رکھیں۔ تقریباً اسی طرح کا ردعمل کروبی، رفسنجانی اور دیگر شخصیات کی طرف سے بھی سامنے آیا۔ ہاشمی رفسنجانی نے قم کا دورہ کیا اور مختلف آیات اللہ سے ملاقاتیں کرتے ہوئے انھیں اپنا کردار ادا کرنے کو کہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مظاہرے نت نئے انداز اختیار کررہے ہیں۔ میرحسین موسوی نے اپنی پوری تحریک میں سبز رنگ کو اپنے علامتی رنگ کے طور پر متعارف کروایا۔ مظاہرین مختلف انداز سے اس رنگ کی پٹیاں، چادریں، بینر، پرچم اور اسٹکر پھیلا رہے ہیں۔

امریکا، برطانیہ اور اسرائیل اس صورت حال سے بھرپور استفادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ موجودہ صہیونی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے منتخب ہونے کے بعد بیان دیا تھا کہ میری پہلی ترجیح ایران، دوسری ایران اور تیسری ایران ہوگی۔ ان سبھی کی کوشش ہے کہ ایرانی قیادت کے مابین خلیج وسیع تر ہو۔ اسرائیلی تجزیہ نگار لکھ رہے ہیں کہ ’’ایران کی جاسوسی پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بجاے ایرانی عوام پر ’سرمایہ کاری‘ کرو… اس دوران یہ تاثر ہرگز نہ اُبھرے کہ ایرانی مظاہروں کی ڈوریاں باہر سے ہلائی جارہی ہیں۔ اہلِ فارس بیرونی مداخلت سے نفرت کرتے ہیں‘‘ (بن کاسبیت، روزنامہ معاریف، ۱۹ جون)۔ امریکی حکومت نے پہلے دبے لفظوں میں اور پھر کھلے اور جارحانہ انداز سے ایرانی حکومت کی مذمت اور مظاہرین کی تائید شروع کر دی ہے۔ امریکی کانگریس میں ایک ووٹ کے مقابلے میں ۴۰۵ ووٹوں کی اکثریت سے قرارداد منظور کی گئی کہ انتخابات کے بعد ایرانی عوام کی مدد کی جائے۔ امریکا میں موجود شاہِ ایران کے بیٹے کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کنٹرول کر لیے جانے کے بعد متبادل ذرائع بالخصوص انٹرنیٹ کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ یوٹیوب، فیس بک اور ٹویٹر نام کی ایسی ویب سائٹس خاص طور پر فعال و بہتر بنا دی گئی ہیں جن کے ذریعے ایرانی عوام بیرونی دنیا سے اور بیرونی دنیا ان سے براہِ راست رابطہ کرسکے۔

اس ضمن میں امریکی دل چسپی اور مداخلت اتنی بڑھ گئی ہے کہ رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق ’ٹویٹر‘ کو اپنی معمول کی اصلاحات و دیکھ بھال کے لیے ایک گھنٹے کے لیے اپنی سروس بند کرنے کی ضرورت تھی۔ خود امریکی وزارتِ خارجہ نے اس انٹرنیٹ کمپنی سے خصوصی درخواست کی کہ وہ یہ وقفہ مقرر کردہ وقت پر نہ کرے بلکہ ایران کے وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے کے بعد کرے تاکہ اس وقت زیادہ لوگ یہ سروس استعمال نہ کررہے ہوں۔

کوششیں جتنی ، جیسی اور جس جس کی بھی ہوں ایک بات یقینی دکھائی دیتی ہے کہ ایرانی حکومت حالیہ بحران پر قابو پا لے گی۔ اطلاعات کے مطابق صدر احمدی نژاد وسط اگست سے پہلے پہلے نیا صدارتی حلف اُٹھا لیں گے، نئی کابینہ تشکیل پا جائے گی، پھر مظاہروں میں بھی دم خم نہیں  رہے گا، لیکن کیا ایرانی قیادت میں پیدا ہوجانے والی خلیج کو بھی پاٹا جاسکے گا؟ معاشرے اور حکومت پر اس خلیج کے منفی اثرات کو روکا جاسکے گا؟ بدقسمتی سے اس کا جواب فی الحال نفی میں ہے۔ گذشتہ سالوں میں جتنی بار بھی ایران جانے کا اتفاق ہوا، پورے نظام میں دو واضح بلاک دکھائی دیے۔ ایرانی انقلاب کے بعد تشکیل پانے والی پہلی حکومت میں، صدر مہدی بارزگان کے ساتھ وزیرخارجہ کی حیثیت سے کام کرنے والے ۷۸ سالہ ابراہیم یزدی کے بقول: ’’حالیہ بحران کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اعلیٰ قیادت میں پائے جانے والے اختلافات نہ صرف گہرے ہوگئے ہیں بلکہ سڑکوں پر آن نکلے ہیں‘‘۔

احمدی نژاد کا دوبارہ منتخب ہوجانا کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔ ان سے پہلے سید علی   خامنہ ای ۱۹۸۱ء سے ۱۹۸۹ء تک، ہاشمی رفسنجانی ۸۹ء سے ۹۷ء تک، اور محمد خاتمی ۹۷ء سے ۲۰۰۵ء تک دو، دو بار ہی صدر منتخب ہوچکے ہیں۔ گویا یہ دوبارہ انتخاب بھی اسی روایت کا تسلسل تھا، لیکن خون آمیز بحران نے سب کو متنبہ کر دیا کہ اصل مرض زیادہ سنگین ہے۔ بحران کی حقیقی وجہ ذمہ داران کا دو کیمپوں میں تقسیم ہو جانا ہے۔ سابق شاہ کے تمام ہمنوا اورسرپرست اس تقسیم سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ گڑے مُردے اکھاڑے جا رہے ہیں کہ میرحسین موسوی (پ: ۲۹ستمبر ۱۹۴۲ء) جب ۱۹۸۱ء سے ۱۹۸۸ء تک ایران کے وزیراعظم رہے تو صدر علی خامنہ ای کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے نہیں تھے۔ صدر خامنہ ای، علی اکبر ولایتی کو وزیراعظم بنوانا چاہتے تھے، دو بار ان کا نام پارلیمنٹ میں پیش ہوا لیکن پارلیمنٹ جس کے اسپیکر رفسنجانی تھے، نے ان کے بجاے میرحسین موسوی کو وزیراعظم منتخب کرلیا۔ موسوی ایران کے آخری وزیراعظم تھے۔ صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختلافات کے باعث، بالآخر ۱۹۸۸ء میں دستوری ترمیم کے ذریعے وزیراعظم کا عہدہ ہی ختم کر دیا گیا، تمام اختیارات صدر کی طرف منتقل ہوگئے۔

آج کی صورت حال میں ایرانی قیادت کے لیے اس سے بہتر نصیحت کوئی نہیں ہوسکتی جو خود آیت اللہ خمینی نے صدر خامنہ ای، وزیراعظم موسوی اور اسپیکر رفسنجانی کو ان کے انتخاب کے موقع پر مخاطب کرتے ہوئے کہی تھی: ’’اس نظام کی حفاظت کی اصل ذمہ داری اب آپ کے کندھوں پر ہے۔ ایران میں جو کامیابی حاصل ہوچکی اس کی حفاظت اور اس کا دوام انتہائی مشکل کام ہے لیکن تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود آپ لوگوں کو اس نظام کی حفاظت کرنا ہے‘‘۔ ایران کے تمام پڑوسی ممالک کے لیے بھی یہ حقیقت واضح رہنا چاہیے کہ ایران میں عدمِ استحکام، صرف ایران کے لیے ہی نہیں خود ان تمام ممالک کے لیے بھی مصائب و انتشار کا سبب بنے گا۔ ایرانی انتشار امریکا و اسرائیل کے علاوہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔

 

حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کی نماز ادا کی، وہ اللہ کی پناہ میں آگیا۔ اللہ کے اس وعدے کی خلاف ورزی نہ کرو۔ اگر کسی نے اسے قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ ’قاتل‘ کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ اسے منہ کے بل آگ میں لاپھینکے گا۔ (ابن ماجہ)

ہر جان یقینا قیمتی ہے، لیکن خالق کی نظر میں ایک مومن کی جان خصوصی حُرمت و اہمیت رکھتی ہے۔ اپنی مخصوص تعبیر دین و شریعت، کسی سیاسی مفاد، لسانی اور علاقائی عصبیت یا پھر شدت پسندی کے مبہم و مشکوک الزام کی آڑ میں خون ریزی کا بازار گرم کرنے سے پہلے ہر فرد، گروہ اور حکومت کو سوچ لینا چاہیے کہ اس حدیث میں مذکور وعید سے کیسے بچیں گے۔ نماز اور بالخصوص نمازِ فجر اللہ کی حفاظت و رحمت کا ذریعہ بنتی ہے۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا معاملہ عجیب ہے، وہ ہر حال میں فائدے میں رہتا ہے، اور یہ معاملہ صرف مومن ہی کے لیے ہے۔ اسے کوئی خوشی ملتی ہے اور وہ اس پر شکر کرتا ہے، تو یہ اس کے لیے مزید بھلائی کا سبب بنتا ہے، اور اگر اسے تنگی اور تکلیف پہنچتی ہے تو اس پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بھلائی کا موجب ہے۔ (مسلم)

زندگی انھی دو صورتوں سے عبارت ہے، مصیبت یا راحت۔ مومن کا رویہ ہر حالت میں ایک ہی رہتا ہے اور رہنا چاہیے، یعنی اپنے رب کی رضا پر راضی رہنا۔ نعمت و راحت پر شکر، رنج و مصیبت اور آزمایش میں صبر۔ راحت پر شکر نعمتوں کے دوام کا ذریعہ بنتا ہے۔ تکلیف و آزمایش پر صبر اور رب سے التجا نہ صرف مصیبتوں کو دور کردیتی ہے بلکہ درجات کی بلندی اور خطاؤں کی معافی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ آپؐ نے ایک اور حدیث میں فرمایا: مومن مرد یا عورت پر اس کی جان، مال اور اولاد کے حوالے سے آزمایشیں آتی رہتی ہیں اور ان سے اس کے گناہ معاف ہوتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنے اللہ سے ملتا ہے تو ان آزمایشوں کی بدولت اس کا کوئی بھی گناہ باقی نہیں بچتا۔


حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز صحابہ کرامؓ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: مجھے اپنے میں سے کسی کے بارے میں (منفی) بات نہ پہنچایا کرو کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں جب بھی تم سے ملوں تو میرا دل تم سب کے بارے میں صاف ہو۔ (ابوداؤد)

باہم محبت و اخوت، اسلامی معاشرے کی بنیاد، اساس اور پہچان ہوتی ہے۔ اس بنیاد کو کمزور کرنے والی ہر بات سے خالق نے منع فرمادیا۔ خاص طور پہ بغض و حسد، چغلی و غیبت، غرور و تکبر، چہ مہ گوئیاں، گروہ بندیاں، دوسروں کے بارے میں منفی احساسات رکھنا اور پیدا کرنا، شکوک و شبہات پھیلانا،  غرض ہر کمزوری کو برائی قرار دیتے ہوئے ان سے اور ان کے انجام سے خبردار کردیا گیا۔

قیادت خواہ جس سطح کی بھی ہو کارکنان اس کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ تمام کارکنان کے بارے میں یکساں خلوص و صاف دلی کے لیے ناگزیر ہے کہ ان عوامل کا سدّباب کیا جائے، ان باتوں کی حوصلہ شکنی کی جائے کہ جن سے دلوں میں میل آجاتا ہے۔ آپؐ نے مختصر الفاظ میں بے انتہا بیماریوں کا شافی علاج کردیا: ’’میں چاہتا ہوں کہ جب بھی میں تم سے ملوں تو میرا دل تم سب کے بارے میں صاف ہو‘‘۔


حضرت ابو برزہ الاسلمیؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے وہ لوگو    جو زبانی ایمان تو لے آئے ہو لیکن ایمان ابھی تک تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو۔ ان کی کمزوریوں کی ٹوہ میں نہ لگا کرو۔ جو (اپنے بھائیوں) کی کمزوریوں کے پیچھے پڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی کمزوریوں کا پردہ کھول دے گا اور جس کی کمزوریوں کا پردہ اللہ تعالیٰ کھول دے گا، اسے خود اس کے اپنے اہل خانہ کے سامنے بھی بدنام کردے گا۔ (ابوداؤد)

گویا اپنے بھائیوں کی کمزوریوں کی ٹوہ میں لگے رہنے اور غیبتیں کرتے رہنے کے بعد ایمان صرف زبانی دعویٰ رہ جاتا ہے۔ یہ وعید بھی اسی لیے شدید ہے کہ غیبت، خوردہ گیری اور دوسروں کی کمزوریوں کی ٹوہ میں پڑے رہنے سے اجتماعیت اور باہمی اعتماد و اخوت کی عمارت ڈھے جاتی ہے۔ انسان اپنے ہی کچھ ساتھیوں کو بدنام کرنے اور انھیں نیچا دکھانے میں لگ جاتا ہے۔ تعمیرِ حیات اور اقامت ِدین کا عظیم الشان فریضہ صرف ایک دعویٰ اور خام خیالی ہوکر رہ جاتا ہے۔ حدیث کا آخری جملہ دل دہلا دینے والا ہے کہ پھر وہ انسان اپنے سب سے قریبی افراد، اپنے اہلِ خانہ کی نظروں سے بھی گر جاتا ہے، خود اپنے ضمیر کا مجرم قرار پاتا ہے۔


حضرت ابو سعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا لباس زیب تن فرماتے تو اس کا نام لے کر، مثلاً قمیص / عمامہ وغیرہ فرماتے: پروردگار! تمام تر شکر تیرے ہی لیے ہے کہ تو نے مجھے یہ لباس پہنایا۔ پروردگار! میں تجھ سے اس کی خیراور بھلائی مانگتا ہوں اور اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں کہ جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے۔ پروردگار میں اس کے شر سے اور اس شر سے کہ جو اس کے ذریعے آسکتا ہے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (ابوداؤد)

انسان اپنے رب کی بے انتہا نعمتوں سے دن رات مستفید ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات نعمتیں دینے والے رب ہی سے غافل ہوجاتا ہے۔ رسولِ اکرم ؐ نے ہر نعمت کا شکر ادا کرنے کی تعلیم دی خواہ وہ لباس یا لباس کا ایک حصہ ہی کیوں نہ ہو۔ نعمت اگر خیر اور بھلائی کا ذریعہ بنے تو نعمت رہتی ہے۔ اللہ کی رحمت و عافیت اٹھ جائے تو وہی نعمت، عذاب اور آزمایش بن جاتی ہے۔ خوراک ہی صحت و قوت کاموجب ہوتی ہے اور اگر اللہ ایسا نہ چاہے تو وہی خوراک مرض و ابتلا کا سبب بن جاتی ہے۔ کتنی بار ایسا ہوا ہے کہ انسان کے لیے زیب و زینت والا رومال ہی گلے کا پھندا بن گیا۔ راحت و سکون دینے والی چھت، مسافتیں طے کرنے والی سواری، محبت سے پالی پوسی جانے والی اولاد، دکھ سکھ کے ساتھی، عزت کا تاج پہنانے والے عہدے اور حفاظت کا ذریعہ بننے والے ہتھیار ہی موت و عذاب کی صورتیں اختیار کرلیتے ہیں۔ رب کا حقیقی شکر اور اس سے عافیت کی دُعا، نعمتوں کے دوام اور اس میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔


حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی عورتیں جو لباس پہن کر بھی ننگی رہتی ہیں، خود بھی (برائی کی طرف) مائل رہتی ہیں اور دوسروں کو بھی مائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، ایسی عورتیں نہ صرف یہ کہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی بلکہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پاسکیں گی۔ حالانکہ جنت کی خوشبو ۵۰۰ سال کی مسافت سے سونگھی جاسکتی ہے۔(موطا امام مالک)

شفاف، تنگ اور مختصر لباس، بظاہر تو لباس ہی ہوتا ہے، لیکن پردے کے بجاے بے حجابی اور شرم و حیا کے بجاے بے حیائی اور بداخلاقی کا ذریعہ بنتا ہے۔ لباس و حیا یقینا ایک نعمت ہے لیکن کچھ بدقسمت اسی کو اپنے اور دوسروں کے لیے گناہ اور عذاب کا ذریعہ بنادیتے ہیں۔ صرف رسم و رواج اور فیشن و ڈیزائن کی خاطر، جنت ہی نہیں جنت کی خوشبو سے بھی محرومی___ کیا اس سے بڑا کوئی اور خسارہ ہوسکتا ہے!


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک تنومند نوجوان کو مستعدی سے کام کرتے دیکھا تو کہا: کاش! یہ نوجوان اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: ایسا نہ کہو۔ اگر یہ نوجوان اپنے چھوٹے بچوں کے لیے رزق کی تلاش میں نکلا ہے، تو یہ فی سبیل اللہ یعنی اللہ کی راہ میں ہی ہے۔ اگر یہ اپنے بوڑھے والدین کے لیے لقمہء حیات فراہم کرنے کے لیے نکلا ہے تو اللہ کی راہ میں ہی نکلا ہے، اور اگر خود کو دوسروں کا محتاج ہونے سے بچانے کے لیے محنت کرنے نکلا ہے تو بھی اللہ کی راہ میں ہی نکلا ہے۔ ہاں! اگر یہ نوجوان فخر و غرور اور نمود و نمایش کے وسائل فراہم کرنے کے لیے نکلا ہے تو پھر یہ شیطان کی راہ میں نکلا ہے۔ (طبرانی)

رزق حلال کے حصول اور محتاجی و سوال سے بچنے کی جدوجہد کو آپؐ نے جہاد فی سبیل اللہ کے مترادف قرار دیا۔ یہ جدوجہد تعمیر و نمو کا موجب بھی بنتی ہے اور رضاے خداوندی کا ذریعہ بھی۔ ہر فرد جدوجہد اور اپنی اپنی ذمہ داریوں کی ادایگی میں لگ جائے تو انفرادی کوششیں بالآخر اجتماعی محنت و عمل میں  بدل جاتی ہیں۔ اسی طرح رزق حلال کی پابندی انسان کو زندگی بھر کے لیے حلال کی پابندی اور حرام سے اجتناب کا خوگر کردیتی ہے۔ حلال ذرائع سے حاصل ہونے والے رزق میں جتنا بھی اضافہ ہوجائے، مذموم نہیں، بشرطیکہ اس میں سے انفرادی و اجتماعی حقوق ادا کیے جاتے رہیں۔ ہاں، اگر جدوجہد کے اہداف و مقاصد اور محنت کی جہت تبدیل ہوجائے، اصل ہدف فخر و تکبر، حرص و نمایش اور عیش و عشرت بن جائے تو وہی فی سبیل اللہ عمل، فی سبیل الشیطان قرار پاتا ہے۔

 

۴ سالہ  فر.اس کا ایک ہاتھ اس کی والدہ کے ہاتھ میں تھا۔ وہ گاہے اسے سہلاتی اور گاہے اپنے بیٹے کی بند آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کرتی۔ جو انجکشن نرس کے پاس تھا وہی بار بار لگاکر اس کی تکلیف کم کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی، حالانکہ اسے علم تھا کہ یہ انجکشن اس کا علاج نہیں ہے۔ اس کے والد کو معلوم تھا کہ نسخے میں درج ادویات نہیں مل سکیں گی، لیکن بے تاب ہوکر وہ مزید تلاش کے لیے ہسپتال کے باہر بھاگ دوڑ کر رہا تھا۔ اسی دوران میں اچانک  فر.اس  کی سانس اکھڑی اور پھر چند لمحوں میں، والدہ کے ہاتھ میں تھامی ہوئی اس کی کلائی کسی مرجھائی ہوئی شاخ کی طرح جھولنے لگی۔ ماں باپ آنسوئوں کی جھڑی میں بیٹے کی لاش سنبھالنے لگ گئے۔ یہ منظر غزہ کے ایک ہسپتال کا تھا جہاں ایک فر.اس نہیں، روزانہ کئی فر.اس صرف اس وجہ سے علاج نہیں کروا پاتے کہ  ان کے لیے مطلوب ادویات غزہ میں نہیں پہنچائی جاسکتیں۔ اس لیے کہ غزہ کو تین اطراف سے یہودی ملک اسرائیل نے گھیر رکھا ہے اور چوتھی جانب سے مسلم ملک مصر نے دروازے بند کر رکھے ہیں۔

فر.اس کی رخصتی کا یہ پورا منظر، براہِ راست الجزیرہ ٹی وی پر اس لیے آگیا کہ وہ فلسطین پر صہیونی قبضے کے ۶۱ برس پورے ہونے، اور پوپ مقرر کیے جانے کے بعد پہلی بار کسی مسلمان علاقے کے دورے پر آئے ہوئے عیسائی پیشوا کی مصروفیات پر غزہ سے ایک رپورٹ دے رہا تھا۔ اُردن اور پھر مقبوضہ فلسطین کے اپنے ۸ روزہ دورے میں پوپ بینی ڈِکٹ شانزدہم نے کئی خطبے  اور بہت سے اہم پیغامات دیے۔ پوپ بینی ڈِکٹ کا یہ دورہ ابتدا ہی سے متنازع تھا۔ سب سے پہلا اعتراض اُردن کی سیاسی اور دینی جماعتوں کی طرف سے کیا گیا کہ: پوپ یا مسیحیوں سے ہماری  کوئی دشمنی نہیں ہے، لیکن پوپ نے اپنا یہ مذہبی منصب سنبھالنے کے فوراً بعد ہی اپنے ایک لیکچر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرکے پوری اُمت محمدیؐ کے دل زخمی کیے تھے۔ اسلام کو بزور تلوار پھیلنے والا مذہب قرار دیا تھا، اور ۱۴ویں صدی عیسوی کے ایک بازنطینی حکمران کے وہ قبیح الفاظ دہرائے تھے، جو اس نے ایک مسلمان فلسفی سے مناظرہ کرتے ہوئے آں حضوؐر کے بارے میں کہے تھے۔ اب اگر پوپ واقعی عالمِ اسلام کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں تو رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک کے بارے میں کہے ہوئے الفاظ واپس لے لیں۔ مگر افسوس کہ پوپ نے کوئی معذرت نہیں کی اور صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا تھا کہ: ’’مجھے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے پر افسوس ہے‘‘۔

اپنے تین روزہ دورۂ اُردن اور پانچ روزہ دورۂ مقبوضہ فلسطین کے دوران میں پوپ نے اپنی تمام گفتگوئوں میں یہودیوں کو خوش کرنے کی بار بار کوشش کی۔ اُردن میں واقع جبل نیبو  جو کہ عیسائیوں اور یہودیوں دونوں کے نزدیک مقدس مقام تھا، کے دورے سے ہی انھوں نے محبت ناموں کا آغاز کردیا تھا۔ مثال کے طور پر سب سے پہلے تو اپنے دورئہ مشرق وسطیٰ کو ’سفرِحج‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’’سرزمین مقدس کا حج ہماری قدیم روایت ہے اور یہ سفر ہمیں مسیحی کنیسے اور یہودی قوم کے درمیان وحدت اور ناقابلِ انقطاع تعلقات کی یاد دہانی کرواتا ہے‘‘۔

انھوں نے مسیحی پیشوا ہونے کے ناتے اپنا مغفرت و معافی کا اختیار استعمال کرتے ہوئے یہودی قوم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی (نام نہاد) پھانسی کی سزا سے بھی بری الذمہ قرار دے دیا۔ انھوں نے یہودیوں پر نازیوں کے (مبالغہ آمیز) جرائم پر اپنے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی اور دیوارِ گریہ کا دورہ کرتے ہوئے یہودی عبادات کی پیروی کی اور یہودی روایات کے مطابق دیوار کے شگافوں میں سے ایک شگاف میں اپنی دعائوں اور آرزوئوں پر مشتمل پرچی ٹھونس دی۔ پھر توازن پیدا کرنے کے لیے بعض مسلم مقامات مقدسہ کا دورہ بھی کیا۔ اُردن میں شاہی مسجد، مسجدحسین بن طلال اور بیت المقدس میں گنبد صخرہ بھی گئے لیکن نہ جانے اسے غفلت کہا جائے یا عمداً کی گئی غلطی کہ انھوں نے مسجدحسین کے اندر جاتے ہوئے جوتے اتارنے تک کا تکلف نہیں کیا اور جب یہ عمل احتجاج کا سبب بنا تو ان کے دفتر نے یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ ’’کسی نے انھیں جوتے اتارنے کا کہا ہی نہیں‘‘۔

سوال یہ ہے کہ پوپ نے اپنے اس ’حج‘ کے لیے فلسطین پر یہودی قبضے اور اسرائیلی ناجائز ریاست کے قیام کی ’برسی‘ کا انتخاب ہی کیوں کیا؟ خود فلسطینی عیسائی باشندوں کے مطابق یہ دورہ سال کے کسی بھی دوسرے موقع پر ہوسکتا تھا۔ پوپ اور ان کا دفتر شاید اپنے تئیں اس کی کوئی تاویل رکھتا ہو لیکن ’’شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے‘‘ کے مصداق، وقت کے اس انتخاب نے ان کے سیاسی مقاصد کو پوری طرح بے نقاب کر دیا۔ اپنے اس دینی دورے میں انھوں نے اسرائیلی ذمہ داران اور یہودی مذہبی پیشوائوں سے ملاقاتیں کیں اور ساتھ ہی ساتھ تقریباً چار سال قبل    اغوا ہونے والے یہودی فوجی گلتاد شالیط کے گھر جاکر ان کے اہلِ خانہ سے بھی اظہار ہمدردی و  یک جہتی کیا۔ معلوم تو انھیں بھی تھا کہ اس وقت صہیونی جیلوں میں ۱۱ ہزار فلسطینی باشندے قید ہیں، جن میں ۳۰۰ بچے اور ۲۹ خواتین بھی ہیں۔ ۴۳ منتخب ارکان اسمبلی اور حماس کے وزرا بھی ہیں اور ان  ہزاروں قیدیوں میں نائل البرغوثی (ابوالنور) نامی ایک قیدی ایسا بھی ہے، جو گذشتہ ۳۵ سال سے مسلسل قید میں ہے۔ ۵۰سالہ نائل ۱۵برس کی عمر میں قید ہوا اور اب وہ دنیا کا سب سے طویل    قید بھگتنے والا قیدی بن چکا ہے۔ اس کے ماں باپ اپنے قیدی بیٹے سے ملاقات کا خواب آنکھوں میں سجائے دنیا کی قید سے آزاد ہوگئے لیکن ابوالنور آزادی کا نور نہیں دیکھ سکا۔ پوپ ان ہزاروں مسلم قیدیوں کی رہائی نہ سہی، صرف عیسائی قیدیوں کی رہائی کے لیے ہلکا سا اشارہ کر دیتے، مگر یہودیوں کے مقابلے میں وہ اپنے ہم مذہبوں کے لیے بھی یہ ہمت نہ دکھا سکے۔

اس عدمِ توازن کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ نازی جرائم کی مذمت، اور ان پر پوری یہودی قوم سے معذرت تو کر لی گئی، حالانکہ یہ کہانی اپنی انتہائی مبالغہ آمیزی کے باعث متنازع ہے۔ اس کے برعکس جن جرائم کے وقوع پذیر ہونے پر کوئی اختلاف نہیں ہے، جن جرائم کو پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ غزہ پر گذشتہ دسمبر اور جنوری میں توڑی جانے والی قیامت تو آج بھی غزہ کے حصار کی صورت میں جاری ہے، جہاں نہ جانے کتنے بچے صرف دوا نہ ملنے کے باعث مائوں کی آغوش میں دم توڑ رہے ہیں، اس اکیسویں صدی کے ’نازی ازم‘ کے بارے میں پوپ کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں ادا ہوسکا۔ بس اتنا فرمایا کہ: فلسطینی اور یہودی شدت پسندی چھوڑ کر بقاے باہمی کی راہ اختیار کریں۔ گویا صہیونی ریاست کی طرف سے فاسفورس بموں کی بارش، گذشتہ ۶۱ برسوں سے جاری بے محابا مظالم، فلسطین کے لاکھوں باشندوں کو اجنبی قرار دے کر انھیں بے گھر کردینا، غزہ کے ۱۵ لاکھ باشندوں کا مسلسل محاصرہ، اور یہودی غاصبوں کے مقابلے میں بچوں کا پتھرائو، غلیلیں لے کر آجانا، اپنی جان پر کھیل کر احتجاج کرنا کیا شدت پسندی ہے…؟ چلیے ۶۱سال کے جرائم کو بھی چھوڑ دیتے صرف غزہ میں وقوع پذیر حالیہ درندگی کی مذمت اور اس پر افسوس ہی ظاہر کردیتے کہ جس میں ۱۳۱۲ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں ۴۱۰ بچے بھی تھے۔ ۵۳۴۰ زخمیوں کی بیمارپرسی کرلیتے، جن میں سے ۳۵فی صد بچے تھے، ۲۰ ہزار تباہ شدہ گھر نہ دیکھتے ان میں سے ۲۳ مساجد اور ۶۰ اسکولوں کی تباہی پر ہی احتجاج کرلیتے۔

جناب پوپ نے اہلِ فلسطین کی حمایت میں جو کلماتِ دل پذیر ادا کیے اور جن پر عالمِ اسلام کے کئی مقتدر لوگوں نے تعریف و ستایش کے ڈونگرے برسائے ہیں، بلکہ یہاں پاکستانی اخبارات میں بھی اداریے لکھے گئے، حالاں کہ ان کلماتِ دلنشیں میں، ’جناب پوپ‘ کا ایک بیان یہ بھی تھا کہ: ’’فلسطینی اور یہودی دو ریاستوں کی بنیاد پر اپنے تنازعات حل کرلیں‘‘۔ یہ دو ریاستی فلسفہ سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ فلسطینی اور مسلمانانِ عالم یہودی ریاست اسرائیل کو تسلیم کرلیں اور اسرائیلی، فلسطین نام کی ایک ریاست بناکر اسے تسلیم کرلیں۔ یہ فلسفہ جناب پوپ ہی نہیں ایہود باراک، ایہود اولمرٹ اور سیبی لیفنی سمیت متعدد حالیہ اور سابقہ ذمہ داران کئی بار دہرا چکے ہیں۔ ۱۹۹۳ء میں اوسلو معاہدے کی بنیاد بھی اسی فلسفے پر رکھی گئی تھی، لیکن اس فلسفے کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اوسلو معاہدہ اور متعدد روڈمیپ آجانے کے ۱۶ برس بعد بھی یہ نہیں بتایا جا رہا کہ فلسطینی ریاست کی حدود کیا ہوں گی اور صہیونی ریاست کی سرحدیں کہاں جاکر رکیں گی۔ اگر غزہ اور مغربی کنارے کے کٹے پھٹے علاقے پر فلسطینی ریاست کی تہمت لگا کر کوئی سمجھتا ہے، کہ وہ کوئی مبنی برانصاف یا قابلِ قبول حل پیش کر رہا ہے تو بصد افسوس عرض ہے کہ وہ اپنے تمام تر مذہبی رتبے اور دعوی ہاے پارسائی کی توہین کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر رہا۔

باعث ِ تشویش امر یہ ہے کہ ایک طرف تو مسلم دنیا کو دو ریاستی فارمولے کے کھلونے سے بہلایا جا رہا ہے اور دوسری طرف انھی دنوں بیت المقدس میں ظلم و تعدّی کا نیا بازار گرم کیا جا رہا ہے۔ بیت المقدس کو مکمل یہودی شہر بنانے کے منصوبے پر ایک بار پھر پورے زوروشور سے کام شروع کردیا گیا ہے۔ اس وقت بھی بیت المقدس میں ۶۰ ہزار فلسطینی بستے ہیں۔ وہ خود کو مسجداقصیٰ کے محافظ و خادم سمجھتے ہیں۔ صہیونی ریاست نے بیت المقدس کو ہمیشہ اپنا ابدی دارالحکومت قرار دیا ہے۔ قیامت ِ غزہ کے بعد اب تہویدِ قدس کے نام سے ان ۶۰ ہزار فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ایک ایک کرکے ان کے گھر چھینے جارہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مسجداقصیٰ کو شہید کرکے وہاں نام نہاد ہیکل سلیمانی لاکھڑا کرنے کی نئی تاریخیں دی جارہی ہیں۔ مگر جناب پوپ کو  یہ چیخیں، ظلم کی داستانیں اور حق و انصاف کی پامالیوں پر مبنی اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔

یہ پوپ ہوں یا صہیونی قیادت اور اس کے ناپاک ارادے ہوں، ان سے تو شکوہ نہیں کیا جاسکتا۔ اصل شکوہ تو مسلم دنیا کے حکمرانوں سے ہے۔ ۱۰ مئی کو نئے صہیونی وزیراعظم نتن یاہو نے خود بیماری کی اصل جڑ کی نشان دہی کردی۔ اس نے مصری صدر حسنی مبارک اور اُردنی شاہ عبداللہ سے ملاقات کے بعد بیان دیا کہ ’’صہیونیت کی تاریخ میں پہلی بار عربوں کے ساتھ ہمارا ایسا     وسیع تر اتفاق ہوا ہے کہ جس میں مشترکہ خطرات کی نشان دہی کی گئی ہے۔ یہ خطرہ ہم سب کے لیے باعث ِ تشویش ہے‘‘۔ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر تبصرہ کر رہا تھا۔ اس سے پہلے اس کا وزیرخارجہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو عالمی امن کے لیے اصل خطرہ قرار دے چکا ہے۔

ہر آنے والا دن جعفر و صادق کے پردے میں چھپے غداروں کو بے نقاب کر رہا ہے۔ ۴سالہ فر.اس کی ماں صدمے کے باوجود، تدفین کے بعد کہہ رہی تھی: ’’فِراس زندہ ہے، وہ مجھے  اور مجھ جیسی کروڑوں مائوں کو جدوجہد کا پیغام دے رہا ہے، جدوجہد اور مسلسل جدوجہد ہی اصل علاج ہے‘‘۔

 

۲۹ مارچ کو ہونے والے ترکی کے بلدیاتی انتخابات کی بازگشت ابھی جاری تھی کہ ۹ اپریل کو انڈونیشیا کے عام انتخابات نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔ پھر اپریل کو الجزائر میں بھی صدارتی انتخابات کا رسمی اہتمام و غوغا دکھائی اور سنائی دیا، جس کے نتائج اکثر عرب ممالک کے معمول کے مطابق موجودہ صدر بوتفلیقہ کے حق میں نکلے۔ ۹۰فی صد ووٹ اپنے نام سے منسوب کرکے وہ اپنے تئیں آیندہ مزید پانچ برس کے لیے صدر منتخب ہوگئے۔

انھی دنوں کویت کے امیر نے ایک بار پھر پارلیمنٹ کی معطلی کے بعد ۱۶مئی کو نئے     عام انتخابات کا اعلان کردیا۔ یہ گذشتہ ۳ سالوں کے دوران چوتھے انتخابات ہیں۔ ہر بار اپوزیشن میں موجود مختلف اسلامی گروپوں کے افراد نے متعدد وزرا اور ذمہ دارانِ حکومت کے خلاف  تحریکاتِ مواخذہ پیش کیں اور انھیں مزید زیربحث آنے سے بچانے کے لیے پارلیمانی بحران کا آسان حل پارلیمنٹ کی تحلیل اور نئے انتخابات سمجھا گیا۔ انتخابات تو شاید پوری دنیا میں ہی پیسے کا کھیل بن گئے ہیں، لیکن کویت کے متمول معاشرے میں انتخابی اسراف میں مسابقت نے خود   اہلِ کویت کو بھی حیرت زدہ کر دیا ہے۔ یہ کثیر اخراجات اس کے باوجود ہیں کہ وہاں انتخاب میں اصل فیصلہ کن عنصر، پارٹیوں اور قبیلوں سے نسبت قرار پاتا ہے۔ اب تک کے تجربات کے مطابق آدھی سے زیادہ پارلیمانی نشستیں مختلف اسلامی دھڑوں کے حصے میں آتی ہیں جن میں سرفہرست ’دستوری تحریک‘ کے نام سے اسلامی تحریک اور سلفی و شیعہ دھڑوں کے افراد ہوتے ہیں۔ آیندہ انتخابات میں بھی کم و بیش یہی نتائج رہنے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے البتہ چہرے شاید تبدیل ہوجائیں۔

انھی دنوں لبنانی انتخابات کا غلغلہ بھی عروج پر ہے۔ شیعہ، سنی اور عیسائی آبادیوں میں عمومی تقسیم کے باعث یہ انتخابات بھی علاقائی و عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس کا اہم ترین سبب حزب اللہ ہے۔ حزب اللہ کی اہمیت کی وجہ اپنی منظم قوت کے علاوہ اس کے شام اور ایران سے مضبوط تعلقات، ماضی قریب میں رفیق حریری کی جماعت سے اور حال ہی میں مصر سے ہونے والے اختلافات و تنازعات بھی ہیں۔ مصر نے صحراے سینا سے کچھ لبنانی باشندوں کو گرفتار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ حزب اللہ کے دہشت گرد ہیں جو غزہ کو ہتھیار سمگل کرنے کے علاوہ    مصر میں بھی دہشت گردی پھیلانا چاہتے تھے۔

۱۶ اپریل سے شروع ہونے والے اور ۱۳مئی تک جاری رہنے والے بھارتی انتخابات بھی ذرائع ابلاغ میں خوب جگہ پا رہے ہیں۔ اگرچہ بی جے پی یا کانگریس اور ان کی حلیف جماعتوں میں سے کسی کی بھی کامیابی سے بھارت کی عمومی پالیسیوں میں عملاً کوئی خاص فرق رونما نہیں ہوتا لیکن ہار اور جیت کے بعض نفسیاتی اثرات ملک کے اندر اور باہر اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان انتخابات میں اندرا گاندھی کے پوتے رُوَن گاندھی کی مسلمان دشمنی پر مبنی ہرزہ سرائی نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے داروں کے حقیقی چہرے سے کچھ پردہ سرکایا ہے۔ مسلمانوں کو قابلِ گردن زدنی قرار دینے کے باوجود حرام ہے کہ اس ’گاندھی زادے‘ کو لگام دینے اور کروڑوں بھارتی مسلمانوں کو احساس تحفظ دینے کے لیے سب سے بڑی جمہوریت نے کوئی بھی مؤثر کارروائی کی ہو۔ البتہ ان انتخابات کی ایک اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں ووٹ دینے کی اہمیت کا احساس بڑھا ہے، اگر مؤثر و معقول قیادت اور باہمی یک جہتی بھی نصیب ہوجائے تو کسی کو دھمکیاں دینے کی ہمت نہ ہو۔

انتخابی موسم میں ۶ جون کو ہونے والے موریتانیا کے صدارتی انتخابات کا ذکر اس حوالے سے دل چسپ ہے کہ چند ماہ قبل ایک منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ کر برسرِاقتدار آنے والے جنرل  محمد بن عبدالعزیز نے فوجی وردی اُتارنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس وقت ملک پر ایک فوجی کونسل کا اقتدار مسلط ہے۔ جنرل صاحب خود اس کے سربراہ تھے۔ اب اگرچہ استعفا دے کر سینیٹ کے سربراہ کو دو ماہ کی عبوری حکومت سونپنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن فوجی کونسل کا وجود باقی رہے گا۔ اب اس کی ذمہ داری ملک میں امن و امان برقرار رکھنا قرار دی گئی ہے۔ اسی کے زیرسایہ ۶جون کے انتخابات ہوں گے تاآنکہ ریٹائرڈ جنرل صاحب عوام کے پُرزور اصرار اور شاید اِسی ۹۰ فی صد والے تناسب سے کامیاب ہوکر منتخب ’سویلین‘ صدر ہوجائیں۔

۱۲ جون کو منعقد ہونے والے ایرانی صدارتی انتخابات کی تیاریاں بھی جاری ہیں، لیکن ابھی اس کا ناک نقشہ پوری طرح واضح نہیں ہوا۔ امیدواروں کے ناموں کے حوالے سے متضاد اطلاعات آرہی ہیں البتہ ایک بات طے شدہ لگتی ہے کہ ایران میں اصل حکمران طاقت یعنی   علماے کرام، رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سربراہی میں اپنا سفر اسی نفوذ و ثبات کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ امریکی صدر اوباما کی طرف سے ایران کے ساتھ بات چیت اور اچھے تعلقات کی خواہش پر مبنی بیانات نے ایرانی قیادت کو مزید توانائی فراہم کی ہے۔ حماس و حزب اللہ کی تائید اور اسرائیل کی مخالفت سے بھی پذیرائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان تمام انتخابات میں ترکی کے بلدیاتی اور انڈونیشیا کے پارلیمانی انتخابات اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں کہ دونوں ممالک میں اسلامی طاقتوں نے اپنے قدم مزید آگے بڑھائے ہیں۔ ترکی کی حکمران، ’انصاف و ترقی (جسٹس و ڈویلپمنٹ) پارٹی‘ کو ووٹوں کا ۳۹ فی صد حصہ    ملا ہے اور تمام بڑے شہروں سمیت بلدیاتی اداروں کا ۴۶ فی صد۔ ان کے یہ ووٹ عام انتخابات میں انھیں ملنے والے (۴۷ فی صد) ووٹوں سے کم ہیں لیکن وہ اپنے تئیں مطمئن نہ ہونے کے باوجود سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں عام طور پر ووٹ زیادہ تقسیم ہوجاتے ہیں اور قومی سے زیادہ مقامی سیاست اور تعلقات اثرانداز ہوتے ہیں۔

دوسری طرف پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین اربکان کی ’سعادت پارٹی‘ نے پارٹی کے نئے صدر ڈاکٹر نعمان کور تلموش کی سربراہی میں لڑے جانے والے انتخابات میں عام انتخابات میں حاصل ہونے والے ۳ فی صد ووٹوں میں ۱۰۰ فی صد اضافہ کرتے ہوئے ۶ فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ ان کے بقول یہ ووٹ ہماری توقعات سے کم ہیں لیکن پھر بھی دگنے تو ہوگئے، آیندہ عام انتخابات میں ہم بہرصورت اسمبلی میں اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ واضح رہے کہ پارلیمانی انتخابات میں ۱۰ فی صد سے کم ووٹ لینے والی پارٹی کے ووٹ بھی بڑی پارٹیوں میں تقسیم کرتے ہوئے اسے اسمبلی میں جانے سے روک دیا جاتا ہے۔

عین انتخابات کے دنوں میں ناٹو کے نئے سربراہ کا انتخاب بھی ہوگیا جس کے لیے ڈنمارک کے وزیراعظم اینڈرس فوگ راسموسن کا نام پیش کیا گیا تھا۔ ترکی نے اس کے نام پر اعتراض کیا لیکن امریکی و یورپی اصرار پر اسی کو سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا، البتہ ترکی کو اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل کا عہدہ دے دیا گیا جو یقینا راسموسن کے شر کو کم کرنے اور ترکی کے کردار میں اضافے کا ذریعہ بنے گا۔ واضح رہے کہ سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے لیے ناٹو کے تمام ۲۸ ارکان کا اجماع ضروری ہے۔ منتخب ہونے کے بعد راسموسن نے بیان دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کا احترام کرتا ہے اور ان سے مذاکرات کرے گا۔ بلدیاتی انتخابات کے فوراً بعد امریکی صدر اوباما نے ترکی کا اہم دورہ کیا۔ اس دورے کی بازگشت کئی ہفتوں سے سنی جارہی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ امریکی صدر عالمِ اسلام بلکہ اُمت مسلمہ کو اہم پیغام دے گا۔ صدر منتخب ہونے کے بعد ان کا کسی بھی مسلم ملک کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اوباما نے ترکی میں وزیراعظم اردگان کے ہمراہ تاریخی مساجد اور عثمانی آثار کا دورہ یا ’سیر‘ کرتے ہوئے عالمِ اسلام سے دوستی کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں واضح طور پر اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ امریکا عالمِ اسلام کے ساتھ حالت ِ جنگ میں نہیں ہے… ہم باہمی احترام اور مشترک مفادات کی بنیاد پر وسیع تر تعاون کی راہ نکالیں گے۔ ہم دھیان سے بات سنیں گے،  غلط فہمیوں کا ازالہ کریں گے اور مشترکات کی تلاش جاری رکھیں گے‘‘۔ خدشہ ہے کہ خلافت عثمانی کے دارالحکومت سے دیے گئے یہ بیانات نقش برآب ثابت ہوں گے کیونکہ اصل فیصلہ اقوال نہیں اعمال کی بنا پر ہوتا ہے۔

انڈونیشیا کے حالیہ انتخابات جولائی ۱۹۹۸ء میں صدر سوہارتو کے ۳۲ سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد تیسرے عام انتخابات تھے۔ ۳۸ چھوٹی بڑی پارٹیوں اور گروہوں نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے ۱۸ لاکھ امیدوار میدان میں اُتارے تھے۔ ۱۷ کروڑ ووٹروں کو ووٹ کا حق حاصل تھا۔ تجزیہ نگاروں نے پانچ سیاسی پارٹیوں کو فیصلہ کن قوتیں قرار دیا تھا، نتائج کے بعد اکانومسٹ کے مطابق جیتنے والا صرف ایک تھا اور ہارنے والے کئی۔ موجودہ صدر (ریٹائرڈ جنرل) سوسینو بامبانگ یودھویونو کی ’ڈیموکریٹک پارٹی‘ ۲۰ فی صد ووٹ لے کر سب سے بڑی قوت بن گئی۔ ۲۰۰۴ء میں ہونے والے انتخابات کی نسبت اس پارٹی کے ووٹ ۳ گنا زیادہ ہوگئے۔ میگاوتی سوئیکارنو پتری کی پارٹی نے ۱۵ فی صد، جب کہ سابق صدر سوہارتو کی ’گولکر پارٹی‘ کے موجودہ سربراہ اور ملک کے حالیہ نائب صدر یوسف کالا نے ۱۴ فی صد ووٹ حاصل کیے۔ نائب صدر آیندہ صدارتی انتخابات میں صدر سوسینو کے مدمقابل صدارتی امیدوار بننے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ چوتھے نمبر پر وہاں کی اسلامی تحریک ’جسٹس پارٹی‘ آئی ہے، اسے ۴ء۸ فی صد ووٹ حاصل ہوئے۔

انتخابات کے باقاعدہ نتائج کا اعلان ۹مئی کو ہوگا۔ ابھی تک صرف یہی تناسب بتانے پر اکتفا کیا گیا ہے، سیٹوں کی تعداد بعد میں ہی بتائی جائے گی۔ جسٹس پارٹی نے سوہارتو کی ۳۲ سالہ طویل ڈکٹیٹرشپ کے بعد ۱۹۹۹ء کے انتخابات میں پہلی بار شرکت کی اور ۴ء۱ فی صد ووٹ حاصل کیے۔ پھر ۲۰۰۴ء کے انتخابات میں ۳ء۷ فی صد ووٹ لیے اور اب ۴ء۸ فی صد۔ پارٹی کے سربراہ ہدایت نور وحید کے مطابق جو گذشتہ پارلیمنٹ کے اسپیکر اور انتہائی قابلِ احترام شخصیت ہیں، ووٹوں کی نسبت سیٹوں کی تعداد میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ملک کی چالیس سے زائد پارٹیوں میں جسٹس پارٹی ہی واحد جماعت ہے جس کے ارکان اور ذمہ داران پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔ اسلامی پارٹیاں کہلانے والی جماعتوں کے کل ووٹ گذشتہ انتخابات کی نسبت کافی کم ہوئے ہیں۔ گذشتہ بار انھیں ۳۹ فی صد ووٹ ملے تھے جب کہ اب تقریباً ۳۰ فی صد۔ مجموعی کمی کے باوجود ’عدالت پارٹی‘ کو نہ صرف یہ کہ کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ اس کی سیٹوں اور ووٹوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اب آیندہ مرحلے میں صدارتی انتخاب ہونا ہیں، نئے نئے اتحاد وجود میں آرہے ہیں۔ قوانین کے مطابق ہر صدارتی امیدوار کے لیے کسی نہ کسی ایسی پارلیمانی جماعت یا اتحاد کے ساتھ اتحادبنانا ضروری ہے جو ۵۶۰ ارکان کے ایوان میں کم از کم ۱۲ نشستیں رکھتا ہو۔ عام انتخابات کے بعد ہونے والی ملاقاتوں اور کئی بیانات سے یہ امکان قوی تر ہو رہا ہے کہ صدر سوسینو کی ڈیموکریٹک پارٹی اور اسلامی تحریک جسٹس پارٹی کے درمیان انتخابی اتحاد وجود میں آجائے۔ خود صدر کی طرف سے بار بار اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے، لیکن جسٹس پارٹی کے سربراہ ہدایت نور وحید نے ایک پالیسی بیان میں کہا ہے کہ سیاسی اتحاد صرف سرکاری مناصب کی تقسیم کے لیے نہیں، بلکہ اس بنیاد پر بننا چاہیے کہ جیتنے والا اپنے اعلان کردہ پروگرام اور منشور پر عمل درآمد کرسکے، ووٹروں کے اعتماد پر پورا اُتر سکے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم چند ووٹوں کے فرق سے جیتنے والے صدر کے بجاے مضبوط بنیادوں پر قائم اور مضبوط ارادوں کا مالک صدر چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ماضی کے ایسے تجربات دوبارہ نہ دہرائے جاسکیں کہ کسی بھی چھوٹے سے سیاسی مسئلے کو بنیاد بناکر صدر اور نائب صدر کو اپنے پروگرام پر عمل درآمد نہ کرنے دیا جائے۔ حالیہ انتخابی نتائج بعض لوگوں کے لیے انتہائی غیرمتوقع ثابت ہوئے۔ ایک سیاسی لیڈر نے تو حرام موت ہی کا انتخاب کرلیا اور خودکشی کی نذر ہوگیا جب کہ دو کے لیے دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔

انڈونیشیا کو بھی اگست ۱۹۴۷ء ہی میں ہالینڈ کے استعمار سے آزادی حاصل ہوئی تھی۔ تقریباً ۲۴ کروڑ نفوس پر مشتمل ہونے کے باعث آبادی کے لحاظ سے دنیا میںچوتھے اور عالمِ اسلام میں پہلے نمبر پر آنے والا انڈونیشیا، ڈکٹیٹرشپ اور مالی بدعنوانیوں کے باعث دنیا میں اپنا اصل مقام حاصل نہیں کر سکا۔ ۹۰ فی صد آبادی مسلمان ہے، ۷ فی صد عیسائی، ۲ فی صد ہندو اور ایک فی صد دیگر مذاہب سے ہیں۔ سوہارتو سے نجات کے بعد لگاتار تیسرے انتخاب منعقد ہوجانا اور بدعنوانیوں سے نجات کے مطالبے کا مرکزی حیثیت حاصل کر جانا اِس اُمید کو روشن تر کر رہا ہے کہ انڈونیشیا اپنے وسیع رقبے (ایک لاکھ ۹۱ ہزار ۹ سو ۴۰ مربع کلومیٹر)، بڑی آبادی اور کرپشن سے نجات کی دعوے دار اصلاحی تحریکوں کی کامیابی سے دنیا میں اپنا حقیقی کردار ادا کرسکے گا۔

حالیہ انتخابات سے پہلے ’کرپٹ لیڈروں کے خلاف قومی تحریک‘ کے عنوان سے ایک نمایاں سرگرمی سامنے آئی۔ جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر وجود میں آنے والے اس پلیٹ فارم نے ان لیڈروں کی فہرست تیار کی جن کی کرپشن کے باقاعدہ ثبوت ان کے پاس تھے۔ اس فہرست کو بڑے پیمانے پر عوام میں پھیلایا گیا۔ اس تحریک کے ایک ذمہ دار عدنان توبان نے رائٹر سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہمارا مقصد ایسے افراد کو دوبارہ پارلیمنٹ جانے سے روکنا ہے جو ماضی میں اپنے دامن کو بدعنوانی سے نہیں بچاسکے‘‘۔ ایک سابق وزیر کے بقول: ’’اب حکومت اور عوام کے ساتھ ساتھ خود سیاسی پارٹیوں کی اصلاح کا وقت بھی آگیا ہے‘‘۔

عالمی انتخابی موسم میں عوام کا یہ روز افزوں احساسِ زیاں اطمینان کا باعث ہے۔ ترکی کے بعد انڈونیشیا کے انتخاب نے بھی اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ اگر پُرامن، شفاف، آزادانہ اور مسلسل انتخابات کا عمل جاری رکھا جائے تو نہ صرف تعمیر و ترقی اور اصلاح کو یقینی بنایا جاسکتا ہے بلکہ بہت سے ناقابلِ فہم، جلدباز اور لٹھ مار رجحانات کا راستہ بھی روکا جاسکتاہے جو نہ صرف اسلامی تعلیمات کا چہرہ مسخ کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ اُمت کی وحدت و سالمیت کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

سچ فرمایا رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے: ’’جلدبازی کے لٹھ سے سواری کو ہلاک کرڈالنے والے نے نہ تو منزل حاصل کی اور نہ اپنی سواری ہی باقی رہنے دی‘‘۔ ان المنبت لا أرضاً قطع ولا ظھراً أبقی۔

 

فلسطین کے حوالے سے ایک عالمی کانفرنس میں تقریباً تمام اسلامی تحریکوں کے ذمہ داران اور قائدین بھی شریک تھے۔مختلف امور پر تفصیل سے گفتگو کے لیے محترم قاضی حسین احمد کے کمرے میں الگ سے نشست رکھی گئی۔ دیر تک تبادلۂ خیال رہا۔ اچانک اخوان المسلمون کے مرکزی نائب مرشد عام ڈاکٹر حسن ہویدی حماس کے سربراہ خالد مشعل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے: ’’میں کافی دیر سے دیکھ رہا ہوں کہ ہماری ساری گفتگو کے دوران جب بھی موقع ملتا ہے، ابوالولید (خالدمشعل کی کنیت) کوئی تسبیح یا ذکر کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم سب کو کوشش کرنا چاہیے کہ ہم بھی اپنی زبانوں کو زیادہ سے زیادہ ذکر وتسبیح سے معطر رکھیں‘‘۔ للہیت، اُمت کے درد اور اقامت دین کے جذبے سے سرشار ___ یہ تھے اخوان المسلمون کے مرکزی نائب مرشدعام ڈاکٹر حسن ہویدی جن کا قضاے الٰہی سے ۱۲مارچ ۲۰۰۹ء کو انتقال ہوگیا۔ اناللّٰہ وانا الیہ رٰجعون!

حسن ہویدی ۱۹۲۵ء کو شام میں پیدا ہوئے، دمشق ہی سے ایم بی بی ایس کیا۔  زمانۂ طالب علمی ہی میں اخوان سے وابستگی ہوگئی۔ اخوان کے قائدین خاص طور پر مصطفی سباعی سے اکتساب فیض کیا اور پھر طب کے پیشے کو خیرباد کہہ کر تحریک ہی کے لیے وقف ہوگئے۔ ۱۹۶۷ء اور ۱۹۷۳ء میں گرفتار ہوئے اور تعذیب و مشقت سے دوچار کیے گئے۔ آخرکار ملک بدری پر   مجبور ہوئے، آخری سانس تک وطن واپس نہ لوٹ سکے اور ۱۲ مارچ بروز جمعرات شام کے پڑوس میں واقع مملکت اُردن میں رب کے پاس پہنچ گئے۔ رب ذوالجلال ان کی قبر نور سے بھر دے ۔ ان کی حسنات کو صدقۂ جاریہ بناتے ہوئے اور اصلاح و انقلاب کے لیے ان کی مساعی کو کامیابی کی منزل تک پہنچاتے ہوئے ان کی روح کو آسودہ فرمائے۔ آمین!

ڈاکٹر حسن ہویدی للہیت کا پرتو تھے۔ مرحوم کی وصیت میں بھی اس کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ اس کا کچھ حصہ پیشِ خدمت ہے۔ واضح رہے کہ یہ وصیت انھوں نے اپنی وفات سے ۴ برس قبل  تیار کر چھوڑی تھی، گویا تب ہی سے اپنے رب سے ملاقات کا انتظار تھا… تیاری مکمل تھی:

میری وصیت ہے کہ میری وفات کے وقت (ممکنہ حد تک) صرف وہی افراد میرے پاس ہوں جو آپ کے نزدیک نیک لوگوں میں شمار ہوتے ہوں۔ وہ مجھے اپنے رب کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کی تلقین کریں، مجھے اس کی رحمت و مغفرت سے اچھی اُمیدیں رکھنے کی تلقین کریں، مجھے کلمہ طیبہ ادا کرنے کا کہیں تاکہ دنیا سے جاتے ہوئے میرے آخری الفاظ یہی ہوں کہ: لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ!

جب روح پرواز کر جائے تو وہ میری آنکھیں بند کرتے ہوئے میرے لیے کلمۂ خیر کہیں، کیونکہ میت کے پاس جو کچھ بھی کہا جائے فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔

میں اپنے تمام احباب سے عفو و درگزر کی درخواست کرتا ہوں۔ میرے علم کی حد تک مجھ پر کسی کا کوئی قرض نہیں ہے۔ ہاں البتہ دفتر کے بعض امور میں تقدیم و تاخیر کے حوالے سے کوئی چیز ہو تو انھیں ریکارڈ اور کھاتوں کے مطابق دیکھ لیا جائے تاکہ میں کسی کا کوئی بوجھ لے کر نہ جائوں۔

میری یہ بھی وصیت ہے کہ میرا کفن میرے ہی پیسوں سے خریدا جائے اور مجھے غسل دینے والے نیکوکار لوگ ہوں۔ جس ملک میں میرا انتقال ہو، مجھے وہیں دفن کردیا جائے۔ میری آرزو تو یہی ہے کہ پروردگار! میری وفات کا وقت حبیب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوار میں لائے۔ میری قبر پر کوئی عمارت نہ بنائی جائے اور نہ اسے پختہ ہی کیا جائے۔

میری اپنے تمام بیٹوں اور بیٹیوں کو وصیت ہے کہ وہ اپنی والدہ سے نیک برتائو رکھیں، سب مل کر ہمیشہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کریں، باہم جھگڑوں اور اختلافات سے  دُور رہیں، ہمیشہ صلۂ رحمی کریں اور اپنے سسرالیوں سے خیروبھلائی کا برتائو کریں اور مجھے بھی    اپنی دعائوں اور تلاوت سے محروم نہ رکھیں۔

                اللہ کی رحمتوں کا محتاج

                شعبان ۱۴۲۶ھ                               حسن ہویدی

 

سوڈان کے بارے میں مغرب کے عزائم کوئی خفیہ راز نہیں۔ وہی مغرب جسے غزہ میں انسانی حقوق کی پامالی، جارحیت، قتل و غارت، سفاکی و بے رحمی کچھ نظر نہیں آتا، دارفور میں ایسا کچھ نہ ہونے پر بھی، تمام عالمی اداروں کو حکومتِ سوڈان کے خلاف صف آرا کردیتا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے ۲۰۰۴ء سے لے کر اب تک پوری ۱۱قراردادیں منظورکرڈالیں کہ حقوقِ انسانی کی صورت حال خراب ہے۔ سیکورٹی کونسل نے ۲۰۰۵ء میں اپنی قرارداد نمبر ۱۵۹۳ کے ذریعے یہ معاملہ عالمی  عدالتِ جرائم میں بھیج دیا۔ ۱۴ جولائی ۲۰۰۸ء کو اٹارنی جنرل اوکامبو نے یہ الزام لگاتے ہوئے کہ ’’سوڈانی باشندے وزیر انسانی امور احمد محمد ہارون اور جنجا وید ملیشیا کے سربراہ علی قشیب دارفور میں قتلِ عام کے اصل ذمہ دار ہیں اور سوڈانی صدر انھیں ہمارے حوالے نہیں کر رہے، مطالبہ کیا کہ خود صدر کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔ ۴ مارچ ۲۰۰۹ء کو عدالت نے خود صدرعمرالبشیر ہی کو اس قتلِ عام کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے باقاعدہ وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ اب اوکامبو کا کہنا ہے کہ جیسے ہی سوڈانی صدر ملک سے باہر نکلے گا انھیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ امریکا اور فرانس نے بھی اس بارے میں بڑھ چڑھ کر دھمکیاں دی ہیں۔

دارفور کا بحران آخر ہے کیا؟عرب اور افریقی قبائل کے درمیان چراگاہوں کے مسئلے پر جھگڑا ہوا جسے فتنہ جو طاقتوں نے ہوا دے کر حکومت کے خلاف بغاوت کی شکل دی۔ تحریکِ آزادیِ سوڈان قائم کی جسے ہر طرح کی پشت پناہی اور مدد فراہم کی گئی۔ اس کے اسرائیل سے باقاعدہ روابط قائم ہیں۔ عالمی سطح پر بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے عمرالبشیر کو مجرم قرار دلوانے کی کوشش کی گئی۔

سوڈان کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں کہ یہ کوئی عدالتی نہیں، سراسر سیاسی مسئلہ ہے اور اصل ہدف سوڈانی صدر نہیں، سوڈان کی ریاست ہے۔ جس عدالت سے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں اس کی تشکیل کے وقت دو باتیں طے کی گئیں: ایک تو یہ کہ یہ عدالت اپنی تاریخِ تشکیل (یکم جولائی ۲۰۰۲ء) سے پہلے کے واقعات کے بارے میں خاموش رہے گی۔ دوسرے یہ کہ جو ممالک اس عدالت کی تشکیل کی دستاویز پر دستخط اور ان دستخطوں کی توثیق نہیں کریں گے، عدالت ان ممالک کے بارے میں بھی کوئی مقدمہ نہیں سن سکے گی۔ یہی وجہ تھی کہ حال ہی میں ۴۰ سے زائد عراقی درخواست گزاروں نے عراق میں ہونے والے قتلِ عام اور ابوغُرَیب کے واقعات کے بارے میں مقدمہ درج کروانے کی کوشش کی تو اٹارنی جنرل اوکامبو نے یہ کہہ کر درخواستیں مسترد کردیں کہ عراق نے عدالت کو تسلیم ہی نہیں کیا اس لیے وہاں کا کوئی مقدمہ نہیں سن سکتے۔ یہی جواب غزہ کے بارے میں دی جانے والی درخواستوں کا بھی دیا گیا کہ اسرائیل نے عدالت کو تسلیم نہیں کیا۔ لیکن جب پوچھا گیا کہ سوڈان نے بھی تو اس عدالت کو تسلیم نہیں کیا…؟ (No comments) ،اس پر کوئی تبصرہ نہیں۔

یہ ہے عالمی عدالت کے انصاف اور انسان دوستی کی حقیقت! اس کے اٹارنی جنرل لوئیس مورینو اوکامبو نے یہ سارا بحران کھڑا کرنے اور ایک مسلمان حکمران کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے لیے اتنی زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ خود دارفور جاکر حقائق و شواہد کا جائزہ لیتا۔ اس نے صرف بعض غیرسرکاری تنظیموں این جی اوز اور کچھ برسرِپیکار عناصر کی گواہیوں پر ہی مقدمے کی پوری عمارت کھڑی کر دی۔ ان ’عناصر‘ کی قلعی بھی خود صہیونی اخبارات کھول رہے ہیں۔

اس وارنٹ گرفتاری اور عالمی عدالت جرائم کے دائرۂ کار اور طریق کار کے بارے میں مزید کئی قانونی و اخلاقی پہلو بہت اہم ہیں، لیکن بنیادی طور پر چونکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اس لیے حکومت سوڈان بھی اسے سیاسی انداز ہی سے حل کر رہی ہے۔ ابھی تک سوڈان کی طرف سے    اس عدالت میں نہ کوئی پیش ہوا، نہ کسی طرح مقدمے کی پیروی ہی کی گئی ہے۔ ہاں دارفور کی  صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے اصلاح احوال کی متعدد اہم کوششیں کی گئی ہیں۔ دارفور میں تعمیروترقی کے کئی منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، مزید کئی پر کام جاری ہے۔ دارفور کے مختلف دھڑوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں۔ مختلف قبائل کے درمیان بھی مصالحت کروائی گئی ہے اور بعض اہم قبائل اور حکومت کے مابین بھی۔ اس ضمن میں اہم ترین کامیابی قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حکومت سوڈان اور دارفور کے بعض نمایاں متحارب دھڑوں کے درمیان بین الاقوامی گارنٹی کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ ہے۔ ۴ مارچ کو وارنٹ گرفتاری آنے کے چار روز بعد ہی سوڈانی صدر شمالی دارفور کے دارالحکومت فاشر پہنچ گئے۔ لاکھوں کی تعداد میں اہلِ دارفور نے ان کا استقبال کیا۔ اگلے ہفتے وہ جنوبی دارفور کے شہر سبدو پہنچ گئے یہاں بھی ایسا ہی منظر تھا۔ عمرالبشیر نے ان اجتماعات میں اس عدالت اور اس کی پسِ پشت قوتوں کو مخاطب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’’آپ کے وارنٹ کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں اور ان شاء اللہ اپنے عوام کے تعاون سے تعمیروترقی کا سفر جاری رکھوں گا‘‘۔ سوڈانی صدر نے ان اجتماعات ہی میں اعلان کرتے ہوئے ایسی کئی عالمی تنظیموں کو سوڈان سے نکل جانے کا حکم دیا جو ان کے بقول امدادی سرگرمیوں کے لیے نہیں، جاسوسی کے لیے آئی ہوئی تھیں۔ ان کے اس اعلان پر سب سے زیادہ ہنگامہ ہیلری کلنٹن نے برپا کیا‘‘۔

اسرائیلی داخلی سلامتی کے وزیر ’آفی ڈیخٹر‘ بغیر کسی لاگ لپٹ کے واضح طور پر کہہ چکے ہیں: ’’ہمارا ہدف سوڈان کے حصے بخرے کرنا اور وہاں خانہ جنگی کی آگ بھڑکائے رکھنا ہے، کیونکہ سوڈان اپنی وسیع و عریض سرزمین، بے تحاشا معدنی و زرعی وسائل اور بڑی آبادی کے ذریعے ایک طاقت ور علاقائی قوت بن سکتا ہے۔ سوڈان کے ہم سے دُور دراز ہونے کے باوجود عالمِ عرب کی قوت میں اضافے کا سبب نہیں بننے دینا چاہیے۔ اگر سوڈان میں استحکام رہا تو وہ اپنے وسائل کے ذریعے ایسی قوت بن جائے گا جس کا مقابلہ ممکن نہیں رہے گا۔ سوڈان سے اس کی یہ صلاحیت سلب کرلینا اسرائیلی قومی سلامتی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے‘‘۔(۱۰ اکتوبر ۲۰۰۸ء کے اسرائیلی اخبارات)

اسرائیلی وزیر نے تاریخ سے ایک حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’۱۹۶۸ء سے ۱۹۷۰ء کے دوران جب مصر اور اسرائیل حالت ِ جنگ میں تھے تو سوڈان نے مصری فضائیہ کی اصل قوت اور بری افواج کے تربیتی مراکز کے لیے اپنی سرزمین فراہم کی تھی۔ اس صورت حال کے اعادے سے بچنے کے لیے اسرائیلی ذمہ داران کا فرض تھا کہ وہ سوڈان کے لیے ایسی مشکلات کھڑی کریں جن سے نکلنا اس کے لیے ممکن نہ رہے‘‘۔ وزیرداخلی سلامتی کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے سوڈان کے پڑوسی ممالک ایتھوپیا، یوگنڈا، کینیا اور زائیر میں سوڈان مخالف مراکز قائم کیے، اور اسرائیل کی تمام حکومتوں نے ان مراکز کو فعال رکھا ہے تاکہ سوڈان عالمِ عرب اور عالمِ افریقہ میں کوئی مرکزی حیثیت نہ حاصل کرسکے۔

اسی ترنگ میں دارفور کا ذکر کرتے ہوئے آفی ڈیخٹر کہتا ہے: ’’دارفور میں ہماری موجودگی ناگزیر تھی۔ یہ سابق اسرائیلی وزیراعظم شیرون کی دوربینی اور افریقی معاملات پر دسترس تھی کہ اس نے دارفور میں بحران کھڑا کرنے کی تجویز دی۔ ان کی تجویز پر عمل کیا گیا، عالمی برادری خاص طور پر امریکا و یورپ نے ساتھ دیا اور بالکل انھی وسائل، ذرائع اور اہداف کے مطابق دارفور میں ’کام شروع ہوگیا‘ جو ہم نے تجویز کیے تھے۔ آج یہ امر ہمارے لیے باعث ِ تشفی ہے کہ دارفور کے بارے میں ہمارے طے شدہ اہداف و مقاصد اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں‘‘۔

دھمکیوں اور سازشوں کے سامنے ہتھیار ڈال دینا تباہی کا سفر تیز کردیتا ہے۔ اپنے حق پر ڈٹ جانا اور اپنی آزادی و وحدت کا ہر ممکن قوت سے دفاع کرنا ہی راہِ نجات ہے۔ سوڈانی صدر اور عوام نے یہی راستہ اختیار کیا ہے۔ وارنٹ جاری ہونے کے بعد اوکامبو نے دھمکی دی تھی کہ سوڈانی صدر بیرون ملک گئے تو گرفتار کرلیے جائیں گے۔ ۲۸مارچ کو دوحہ میں عرب لیگ کا سربراہی اجلاس ہو رہا ہے۔ سوڈانی صدر نے سب سے پہلے اعلان کیا ہے کہ میںوہاں ضرور جائوں گا۔ اس اعلان پر خود سوڈان میں بھی ایک راے یہ پائی جاتی ہے کہ وہاں نہ جایا جائے۔ علماکی ایک تنظیم نے فتویٰ جاری کر دیا ہے کہ اس وقت سفر خلافِ مصلحت ہے لیکن سوڈانی صدر ۲۸ مارچ کا انتظار کیے بغیر ۲۳مارچ ہی کو اریٹریا کی دعوت قبول کرتے ہوئے وہاں کے دارالحکومت اسمرہ پہنچ گئے تاکہ دنیا کو بھی ایک پیغام دیں اور اپنے عوام کو بھی نفسیاتی مخمصے سے نجات دلائیں۔

ابھی اس بحران کی بوتل سے صہیونی اشاروں پر بہت کچھ برآمد ہونے کی توقع ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ مسلمان ممالک اور اُمت ِ مسلمہ اس عالمی توہین کا کیا بدلہ لیتی ہے۔ اگر مسلمان ممالک نے افغانستان و عراق کی تذلیل کی طرح یہ اہانت بھی برداشت کر لی تو پھر یقینا ایک ایک کرکے سب کی باری آئے گی۔

 

۹۶ لاکھ مربع کلومیٹر مساحت اور ایک ارب ۴۰ کروڑ کی آبادی پر مشتمل چین، تیز تر تبدیلی کے مراحل طے کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ تبدیلی مثبت ہے، اسی لیے ایک دنیا آنے والے دور میں چین کے نمایاں اقتصادی اور سیاسی کردار کا اعتراف کر رہی ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ جب یہ نعرہ چینی عوام کے لیے ضابطۂ حیات بنایا گیا: جو بھی فیصلہ چیئرمین مائوزے تُنگ کرے اسے تسلیم کرو، اور جو بھی ہدایات چیئرمین مائوزے تُنگ دے اس کی پیروی کرو۔ ۱۹۷۶ء میں مائوزے تُنگ کا انتقال ہوگیا۔ ان کے جانشین ڈِنگ ژیاؤپنگ نے مئی ۱۹۷۷ء میں اعتراف کیا کہ اس ’نظریۂ جو بھی‘ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خامیوں کا مداوا ضروری ہے۔ مئی ۱۹۷۸ء میں پارٹی کی طرف سے ایک نیا اصول متعارف کروایا گیا:’’تجربہ اور عمل (practice) ہی سچائی جاننے کا واحد پیمانہ (sole criterion) ہے‘‘۔

دھیرے دھیرے تبدیلی کا عمل شروع ہوگیا۔ چین ایک محدود اور قومیائے ہوئے اقتصادی نظام سے کھلی منڈی کے نظام میں ڈھلتا چلا گیا۔ ۱۹۸۵ء میں چین نے ہتھیاروں میں نمایاں کمی کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کردیا کہ وہ کسی صورت ایٹمی اسلحے کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا اور نہ کبھی اپنی یہ صلاحیت ہی کسی غیر ایٹمی ملک کے خلاف استعمال کرے گا۔ یہ بات چین کی آیندہ پالیسی کی ایک واضح علامت تھی۔ یہ ایک اعلان تھا کہ اصل توجہ اختلافات اور لڑائیوں پر نہیں اقتصادی ترقی پر دینا ہے۔ سرکاری الفاظ میں اسے چینی طرز کا کمیونزم کہا گیا، یہ چینی نظام، سرمایہ دارانہ طرزِحیات اور مارکیٹ اکانومی کی راہ میں رکاوٹ نہیں، معاون تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ۲۰۰۱ء میں چین کو ۵سال کے عبوری عرصے کے لیے عالمی تنظیم تجارت WTO کا رکن بن لیا گیا اور یہ عرصہ مکمل ہونے پر ۲۰۰۷ء میں باقاعدہ اور حتمی رکنیت دے دی گئی۔ ۲۰۰۷ء ہی میں چینی دستور میں باقاعدہ ترمیم کرتے ہوئے انفرادی ملکیت کا قانون بنا دیا گیا۔ ہوجِن تائو پارٹی کے سربراہ اور پھر ملک کے صدر منتخب ہوئے تو تبدیلیوں کا سفر تیز تر ہوگیا۔

چینی حکمران پارٹی ’کمیونسٹ پارٹی آف چائنا‘ (CPC) کی دعوت پر امیرجماعت اسلامی قاضی حسین احمد کی سربراہی میں جماعت کا ۸ رکنی وفد چین کے ایک ہفتے کے دورے پر گیا تو ہمارے میزبان سیکرٹری خارجہ لیوھونگ شائی (Lu Hongcai)نے شاید انھی دوررس تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’گذشتہ ۱۵ برسوں میں ہمارے دونوں ملکوں میں بڑی اہم تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں لیکن ایک چیز ناقابلِ تبدیل ہے اور وہ ہے پاک چین دوستی۔ دونوں ملکوں کے لیے یہ دوستی ناگزیر اور ابدی ہے‘‘۔ اس سے قبل محترم قاضی صاحب بھی کہہ چکے تھے کہ ہم دوپڑوسی، دو بھائی اور دو دوست ہیں۔ ہمارا یہ مضبوط رشتہ ہمارے تمام تر اندرونی اختلافات سے بالاتر ہے۔ چین سے مضبوط دوستی ہمارے لیے ایک قومی موقف کی صورت اختیار کرچکی ہے۔

اس سے پہلے مارچ ۲۰۰۰ء میں ہماری طرف سے پیش رفت کے نتیجے میں محترم قاضی صاحب تین روز کے لیے چین آچکے تھے۔ مجھے یاد آیا کہ تب ایک چینی ذمہ دار نے کہا تھا کہ اب یہ جملہ روایتی لگتا ہے کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے زیادہ بلند، دیوارِ چین سے زیادہ مضبوط اور سمندر سے زیادہ گہری ہے، بلکہ اب ہماری دوستی ہر مادی تمثیل سے بالاتر ہے۔گذشتہ دورے میں ہم صرف دارالحکومت بیجنگ گئے تھے، اس بار تین اہم شہروں کا دورہ رکھا گیا۔ ہمارے میزبان کہہ رہے تھے کہ اگر چین کی ۲ہزار سالہ تاریخ کا مطالعہ کرنا ہو تو بیجنگ، ۵ہزار سالہ تاریخ کے جائزے کے لیے شیان (صوبہ شانسی) اور گذشتہ ۱۰۰ سالہ تجارتی واقتصادی ترقی کا جائزہ لینا ہو تو شنگھائی کا دورہ مفید ہوتا ہے۔ ہم نے اسی لیے آپ کے لیے ان تینوں شہروں کا انتخاب کیا ہے۔

ہزاروں سال پر مشتمل چین کی تاریخ انتہائی دل چسپ حقائق لیے ہوئے ہے۔ اس دورے میں بھی اس کے کئی اہم پہلو سامنے آئے، آیئے ان میں سے ایک منظر دیکھتے ہیں۔ یہ ۲ہزار سال پہلے کا منظر ہے۔ تب چینیوں کی اکثریت زندگی بعد موت پر ایمان رکھتی تھی لیکن آخرت کا تصور خرافات میں کھو چکا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ دوسری زندگی میں بھی وہ پہلے جیسی زندگی ہی گزاریں گے جس میں اسی طرح پورے اسبابِ زندگی کی ضرورت ہوگی جیسے اَب ہے۔ تب ان کے شہنشاہ نے ابدی زندگی اور دوامِ اقتدار کو یقینی بنانے کے لیے اپنی افواج کو اپنے مجسمے تراشنے کا حکم دیا۔ ۷ہزار مجسمے یوں تراشے گئے کہ نہ صرف اصل سے مشابہت رکھتے ہوں بلکہ ساتھ ہی ان کے عسکری مناصب کا بھی اہتمام کیا گیا ہو اور ان کے لباس کا بھی۔ سپاہیوں کے علاوہ ان کے گھوڑوں کے مجسمے بھی اسی کاریگری سے تراشے گئے اور سب کو لمبی لمبی سرنگیں اور مورچے کھود کر قطار اندر قطار ایستادہ کردیا گیا۔ ۱۱ لمبی کھائیوں میں صف در صف کھڑے مجسموں کی یہ فوج اپنا اسلحہ بھی ساتھ لیے کھڑی تھی۔ سب کا رخ اسی ایک جانب کیا گیا جدھر سے دشمن افواج آنے کا خدشہ ہوسکتا تھا۔ ’ٹیراکوٹا جنگ جوؤں‘ (Tera Cotta warriors) کا یہ عجائب گھر شیان کے مضافات میں واقع ہے۔ ایک بوڑھے دہقان کی نشان دہی پر کہ جس نے اپنے بچپن میں اس کا ذکر اپنے آبا و اجداد سے سنا تھا، یہ اہم دریافت ۱۹۷۴ء میں سامنے آئی۔ ۱۹۷۵ء میں اس پر عجائب گھر تعمیر ہونا شروع ہوا اور ۱۹۷۹ء میں عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا۔ مزید تلاش اور مزید تعمیرات کا کام اب بھی جاری ہے اور اس محیرالعقول دریافت کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ کہا جا رہا ہے۔ مصر کے اہرامات بھی اسی ذہنیت و اعتقاد کا کرشمہ تھے کہ ابدی زندگی کا حصول اور حیاتِ نو میں بھی سلطانی کا تاج سر پہ سجا ہو۔ یہ خواب ایک عجوبے میں بدل کر رہ گیا، اور دوسروں کے لیے عبرت کا سامان بن گیا۔ مٹی یا سونے سے اپنے مجسمے بنانے والے خاک ہوگئے اور رہتی دنیا تک زندگی کی بے ثباتی کا اعلان کرگئے۔

تاریخ قدیم کے آثار میں شیان کی ساڑھے بارہ سو برس قدیم جامع مسجد بھی انتہائی پُرشکوہ ہے۔ اگرچہ مزید دیکھ بھال کی متقاضی ہے لیکن اہلِ ایمان کے سجدوں سے منور ہے۔ اپنی مسجد کی طرح اس میں سربسجود انسان بھی مزید دیکھ بھال کے محتاج ہیں۔ قرآن کریم کی تلاوت انتہائی مشکل و مشقت سے کرتے ہیں، گاہے قرآن کے الفاظ تک سمجھنا دشوار ہوجاتا ہے۔ بعض عجیب رسوم و رواج میں بھی بندھے ہیں، لیکن اپنے رب اور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سرشار ہیں۔ امام مسجد نے خطبۂ جمعہ سے قبل پورے وفد کا فرداً فرداً تعارف کروایا۔ پھر قاضی صاحب کو خطاب کی دعوت دی جو کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ… کے عنوان سے تھی۔ نماز سے قبل اپنے دفتر میں سادہ مگر محبت کی شیرینی سے معمور تواضع کی۔ مسجد کے دروازے سے نکل رہے تھے تو اُوپر لکھا ہوا تھا: المَساجِدُ أَسْوَاقُ الآخِرَۃ، ’’مساجد آخرت کے بازار ہیں‘‘۔

بعد از نماز قریبی آبادی میں ایک مسلم گھرانے سے ملاقات کے لیے گئے تو ضعیف العمر لیکن چاق و چوبند سربراہ خاندان جناب خالد نے چینی زبان میں خوب صورت انداز سے خود لکھا ہوا طغریٰ پیش کیا۔ شعر مکمل دعوت تھا:

قرآن چاند ہے جومجھے ہی نہیں سب کو منور کرتا ہے۔ اسلام روشن شاہ راہ ہے جو مجھے ہی نہیں سب کو منزل تک پہنچاتی ہے۔

ہزاروں اور سیکڑوں برس پرانے اور پھر موجودہ چین کے محیرالعقول مناظر دیکھتے ہوئے اگر موجودہ چین کے نظریے، فلسفے اور دورِ جدید کا حال دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو وہ ہیں: اقتصادی ترقی اور محکم نظام۔ خود حکمران پارٹی کے دستور میں اس کا ذکر یوں کیا گیا ہے: ’’تعمیرچین تاکہ وہ عصرِحاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ، ایک اشتراکی، خوش حال، جمہوری، جدید اور مربوط ریاست بن سکے‘‘۔ ریاست اور حکمران پارٹی اصل میں دونوں ایک ہوچکے ہیں۔ پارٹی کا سربراہ ہی ریاست اور مسلح افواج کا سربراہ بھی ہے۔ ریاستی امور ریاستی ادارے ہی چلاتے ہیں، لیکن ان کی تمام تر پالیسی سی پی سی کی سنٹرل کمیٹی اور پارلیمنٹ کی مختلف کمیٹیاں ہی طے کرتی ہیں۔ ریاست کے دیگر نمایندے اس پالیسی پر عمل درآمد کرتے ہیں۔ اس محکم نظام کی تمام تر توجہ اقتصادی ترقی پر ہے۔ جن کتب کے حوالے سے آغاز میں مائوزے تُنگ اور ڈِنگ ژیائوپنگ کے خیالات کا ذکر کیا ان کے مطابق چین اپنی سالانہ قومی پیداوار کے لحاظ سے ۲۰۰۷ء میں چھٹے سے چوتھے اور اب تیسرے نمبر پر آگیا ہے۔ ۲۰۰۷ء میں چین کی کُل قومی پیداوار ۲۴کھرب ۹۵۳ ارب یوآن تھی۔ روپوں میں جاننے کے لیے اس رقم کو ۱۱ سے ضرب دے لیجیے۔

عالمی اقتصادی بحران کا منفی اثر چین پر بھی پڑ رہا ہے، لیکن ان کے بقول یہ نہ صرف   قابلِ برداشت ہے بلکہ وہ اس کے سدباب کے لیے اقدامات بھی کررہے ہیں۔ دنیابھر بالخصوص ترقی پذیر دنیا سے دوستی کے نئے رشتے استوار کیے جارہے ہیں۔ عین ان دنوں میں کہ جب ہم چین میں تھے، صدر ہوجن تائو چار افریقی ممالک سینیگال، تنزانیہ، مالی اور ماریشس کے علاوہ سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ ہر جگہ اقتصادی تعاون کے نئے معاہدے ہوئے۔ سعودی عرب میں عرفات، مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان ریل چلانے کے منصوبے پر دستخط ہوئے۔ ۶۵ء۶ ارب سعودی ریال کی لاگت سے بننے والا یہ منصوبہ ۲ سال کے اندر مکمل ہوجائے گا۔ China Dailyکے مطابق مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل کے منصوبے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے جس کے بعد یہ مسافت صرف ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوجایا کرے گی۔ ماریشس میں ۲۷۰ ملین، تنزانیہ میں ۱۱۴ ملین اور سینیگال میں ۹۰ملین ڈالر کے منصوبوں کے علاوہ ۱۰ ہزار ٹن خوردنی تیل کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے۔ اسی دوران چین نے روس کی دو بڑی کمپنیوں کو ۲۵ ارب ڈالر کا قرض دیتے ہوئے ان سے بھی معاہدے کیے ہیں۔ عرب چین بزنس فورم وجود میں آیا اور اس کی دوسری کانفرنس منعقد ہوچکی ہے۔ سوڈان چین مضبوط تعلقات کا حال تو بین الاقوامی تعلقات کا ہر طالب علم جانتا ہے۔

ان تمام اقتصادی معاہدوں اور تجارت کے فروغ کے علاوہ ایک اور بات جس پر چین توجہ دے رہا ہے وہ کفایت شعاری ہے۔ ہم ۹ فروری کو علی الصبح بیجنگ پہنچے تو پورا بیجنگ شہر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ صرف اہم شاہ راہوں پر سٹریٹ لائٹ جل رہی تھیں۔ لیاقت بلوچ صاحب نے جہاز کے عملے سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ رات کے پچھلے پہر لوڈشیڈنگ کر کے توانائی کی بچت کی جاتی ہے۔ ۲۰۰۸ء میں اولمپکس کے شان دار انتظامات نے دنیابھر کو ششدر کردیا تھا۔ اس کی تیاریوں کے ضمن میں تیراکی کے لیے ایک انوکھا تالاب بنایا گیا۔ اگرچہ ہم یہ تالاب دیکھنے نہیں گئے لیکن ہمیں بتایا گیا کہ پوری وسیع و عریض عمارت کی دیواریں پانی کے شفاف بلبلوں کی صورت میں بنائی گئی ہیں۔ ہر ایک بلبلے کا حجم اتنا ہے کہ اس کی صفائی کے لیے آدمی اس کے اندر بآسانی کھڑا ہوسکتا ہے۔ اس بلبلے کا ایک فائدہ یہ بھی بتایا گیا کہ دن کے وقت سورج کی روشنی ہی کافی رہتی ہے، بجلی کی بچت ہوگی۔ ان دنوں چین کے بعض صوبوں میںگذشتہ ۳۰ سال کے دوران بدترین قحط کی اطلاعات ہیں۔ تشویش ہرکسی کو ہے لیکن حکومت مطمئن ہے کہ غذائی ضروریات کا انتظام کیا جاچکا ہے۔ قحط کی پیش بندی کے لیے پانی کے استعمال میں بچت کی خصوصی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور ہدف یہ رکھا گیا ہے کہ ۲۰۲۰ء میں پانی کی کھپت میں ۶۰ فی صد تک کمی لے آئی جائے گی صرف پانی کو ضیاع سے بچانا ہوگا۔ ان تمام تدابیر کے باوجود عالمی اقتصادی بحران نقصانات کا سبب بن رہا ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ ۳ماہ میں چین کی برآمدات میں ۵ء۱۷ فی صد کمی آئی ہے۔

جماعت کے وفدکا دورۂ چین اندرون و بیرون ملک یکساں توجہ کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ کہیں تعریف و ستایش میں مبالغہ ہے اور کہیں تنقید و تنقیص میں۔ درحقیقت یہ دورہ جماعتی پالیسی کا تسلسل، ایک اہم قومی ضرورت، عالمِ اسلام کے لیے دُوررس خدمت اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوستی کے مزید مضبوط اور گہرے تعلقات قائم کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ اس دوستی کے لیے سی پی سی کے چار رہنما اصول: برابری، باہم احترام، آزادی اور ایک دوسرے کے اندرونی مسائل میں عدمِ مداخلت بہت جامع اور مطلوب اصول ہیں۔ امریکا اپنے عالمی تعلقات میں سب سے پہلے انھی چار اصولوں کی دھجیاں اڑاتا ہے۔ اس لیے ناکامی در ناکامی کا سامنا کر رہا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان مفاہمت کی جس دستاویز پر سیدمنور حسن صاحب اور نائب وزیرخارجہ نے دستخط کیے ہیں اس میں مسئلۂ کشمیر کا واضح اور اصولی ذکر اہم ترین پیش رفت ہے۔ اس وقت چین اور بھارت کے درمیان تقریباً ۵۰ ارب ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے، اس سب کچھ کے باوجود اس واضح اور دوٹوک موقف کے اعادے کے لیے ہماری درخواست مان لینا یقینا ایک قابلِ اعتماد دوست کے لیے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ ہم نے بھی تائی وان، تبت اور سنکیانگ سمیت چین کے کسی علاقے میں علیحدگی کی تحریک کی حمایت نہ کرنے کے قومی موقف کا اعادہ کیا ہے۔ علیحدگی پسندی کی بات، خود سنکیانگ کے اکثر مسلمانوں کے لیے اجنبی ہے لیکن بعض طاقتیں اسے بڑھانا اور پھیلانا چاہتی ہیں۔ اس سے واضح براء ت یقینا چینی مسلمانوں کے لیے بھی راحت کا ذریعہ بنے گی۔ شیان کی ساڑھے بارہ سو برس قدیم مسجد کے علاوہ بیجنگ میں ایک ہزار سال پرانی مسجد ہے۔ چین کے کئی علاقوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ چین کے جس شہر میں چلے جائیں تلاش کیے بغیر بڑی تعداد میں حلال کھانوں کے ریسٹورنٹ مل جاتے ہیں۔ ایک اہم سفارت کار بتارہے تھے کہ ایک قبر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی قبر ہے، اوروہ خود اس کی زیارت کرچکے ہیں۔ چینی مسلمانوں کی یہ قدیم اور مضبوط بنیادیں وہاں ان کے ابدی اثرات اور روشن مستقبل کا اعلان ہیں، علیحدگی پسندی کی تحریک نہیں۔

 

حسبی اللّٰہ ونعم الوکیل …حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل… لاکھوں بے سہارا فلسطینیوں کا صرف یہی ایک سہارا رہ گیا تھا۔ کٹے پھٹے اعضا لیے، ملبے سے نکلتے، خون میں نہائے ہوتے، ایک ہی وقت میں دو دو، تین تین معصوموں کی لاشیں بازوؤں میں سمیٹی ہوتیں، یا ملبے اور لاشوں کے ڈھیر سے اپنے گم شدہ پیاروں کو تلاش کر رہے ہوتے۔ بولتے تو یہی کہتے: حسبی اللّٰہ ونعم الوکیل۔ ذرائع ابلاغ سے بات ہوتی تو گاہے بہ گاہے یہی دعا بددعا کی صورت بھی اختیار کرجاتی: حسبی اللّٰہ علی الحکام العرب… حسبی اللّٰہ علی الیھود ، ’’پروردگار عرب حکمرانوں کے مقابل تو کافی ہوجا… یہودیوں کے مقابلے میں تو ہمارے لیے کافی ہوجا۔  ان حکمرانوں اور یہودیوں سے تو خود نمٹ پروردگار‘‘۔

یہ بات ہر شک سے بالاتر ہے کہ اللہ کی اسی ایک سہارے کے باعث ۳۶۷ مربع کلومیٹر پر مشتمل غز.ّہ میں محصور ۱۵ لاکھ انسان مسلسل ۲۲ دن تک دنیا کے مہلک ترین ہتھیاروں کا سامنا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اگر ان مہلک ترین بموں کا عشرعشیر بھی کسی ایسی بڑی سے بڑی اور جدید سے جدید فوج یا ملک پر برسایاجاتا جس کے پاس یہ الٰہی آسرا سہارا نہ ہوتا تو وہ ۲۲ دن نہیں ۲ دن میں ہتھیار ڈال دیتا۔ ۱۹۶۷ء میں یہی اسرائیلی فوج آج سے کہیں کم ہتھیاروں کے ساتھ شام، مصر اور لبنان کی باقاعدہ افواج پر حملہ آور ہوئی، ۶دن کی جنگ میں مصر نے صحراے سینا، شام نے گولان کی پہاڑیاں اور لبنان نے سارا جنوبی حصہ اسرائیلی افواج کے سپرد کر کے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔ یہ  تینوں ملک مسلمان تھے لیکن ان کی قیادت حسبنا اللّٰہ کے بجاے بڑھکیں لگارہی تھیں۔ مَدَافِعُنَا تَـتَحَدَّی الْقَدَر ، ہماری توپیں تقدیر کو للکارتی ہیں۔

اہلِ غز.ّہ کا ایمان اور اللہ پر مکمل بھروسا رکھنے والی ان کی قیادت وہ اصل خطرہ تھا، جس سے نجات اس پوری خوں ریزی کا اصل ہدف اور اصل سبب تھا۔ جنوری ۲۰۰۶ء کے عام انتخابات میں حماس (حَمَّاس نہیں حَمَاس) کا حصہ لینا ہی قابض یہودی افواج، ان کے پالتو بعض سیاسی لیڈروں اور عالمی استعمار کے لیے سوہانِ روح بن گیا تھا۔ بش اور کونڈولیزا نے واضح طور پر دھمکی دی کہ اگر حماس منتخب ہوئی تو نتائج تسلیم نہیں کریں گے۔ خدا ہونے کے دعوے داروں کی دھمکیوں کے باوجود عوام نے حماس کو دو تہائی سے زیادہ اکثریت سے منتخب کیا اور امریکا و اسرائیل نے فیصلہ دے دیا: ’’ان دہشت گردوں کو جینے کا کوئی حق نہیں‘‘۔

غز.ّہ کی پٹی تین اطراف سے اسرائیلی افواج کے گھیرے میں ہے۔ ایک جانب مصری صحراے سینا سے ملتی ہے۔ غز.ّہ آنے جانے کے لیے ۷ پھاٹک بنے ہوئے ہیں جن میں سے ۶اسرائیلی تسلط میں ہیں۔ رَفَح کا ایک پھاٹک (گیٹ وے) مصر میں کھلتا ہے۔ گویا پوری مسلم دنیا سے رابطے کا یہی ایک اکلوتا راستہ ہے۔ حماس کی جیت کے بعد رَفَح سمیت یہ ساتوں راستے بند کردیے گئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ سامانِ خوردونوش اور پٹرول و پانی سمیت اہلِ غز.ّہ پر ہرشے حرام ہوگئی۔ غز.ّہ کو بجلی کی فراہمی یا تو مقبوضہ فلسطین سے ہوتی تھی یا خود غز.ّہ میں موجود جنریٹروں کے ذریعے، دشمن نے تو بجلی پانی بند کرنا ہی تھا، مصر کے راستے بھی پٹرول لے جانا جرم قرار پایا۔ جنریٹر بھی بند ہوگئے، غز.ّہ اندھیرے میں ڈوب گیا اور تو اور ہسپتالوں میں مشینوں کے سہارے زندہ مریض بھی بجلی نہ ہونے کے باعث دم توڑنے لگے۔

جلاد کا مطالبہ تھا حماس کا ساتھ چھوڑ دو۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ جہاد (اقصیٰ کی آزادی کے لیے جہاد) سے دست بردار ہوجائو۔ ہاں، اگر قبلۂ اول کی آزادی کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی طرح خالی خولی نعرے لگانا چاہو تو لگاتے رہو۔ تمھیں نہ صرف یہ کہ کچھ نہیں کہا جائے گا بلکہ تمھارے لیے انعام کا اعلان (صرف اعلان) کیا جائے گا۔ اہلِ غز.ّہ نے جواب دیا: گذشتہ ۶۰برسوں سے یہی نعرے تو لگا رہے تھے، یاسرعرفات بھی تمھارے دھوکے میں آیا۔ تم نے پہلے اسے امن و بہادری کا نوبل انعام دیا اور پھر فرانس لے جاکر زہر دے دیا۔ دوسری طرف    شیخ احمد یٰسین نے تحریکِ انتفاضہ کے ذریعے ہمیں جہاد کا سبق یاد دلایا۔ وہ خود تو شہید ہوگئے لیکن بالآخر ان کی برپاکردہ تحریک کے نتیجے میں تم غز.ّہ کی پٹی سے انخلا پر مجبور ہوگئے۔ خود تمھارے صہیونی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ تحریکِ انتفاضہ نہ ہوتی تو کبھی غز.ّہ سے نہ نکلتے۔

دسمبر ۱۹۸۸ء میں تحریکِ انتفاضہ کی آغوش میں پرورش پانے والی فلسطینی قوم اب مجاہدین کی پوری نسل رکھتی ہے۔ وہی مجاہد نسل جس کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفرمعراج میں مشاہدہ کروایا گیا تھا کہ اس کی فصل جتنی کٹتی ہے، اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ مجاہدین کی فصل نے حماس کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کردیا۔ بھوک، بے روزگاری، حصار اور غز.ّہ کو عملاً شعب ابی طالب بنا دیے جانے کے باوجود بھی جب حماس ہی آنکھوں کا تارا ٹھیری تو انبیا کی قاتل قوم نے پھر مقتل سجانے کی ٹھانی۔ مکمل تیاری کے بعد ’مناسب‘ وقت کا انتخاب کردیا گیا۔ دسمبر اور جنوری فلسطین میں سخت سردی کا موسم ہوتا ہے۔ فلسطین پر صہیونی قبضے کی تاریخ میں حیرت ناک طور پر اکثر جنگیں، اکثر قتل گاہیں اسی موسم میں سجائی گئیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ اذیت پہنچائی جاسکے، لیکن اس بار وقت کے انتخاب کی کچھ اور وجوہات بھی تھیں۔

۱۰فروری کو اسرائیلی انتخابات ہونا ہیں۔ اس میں جیت کے بعد ایہود اولمرٹ کی جگہ وزیرخارجہ سیپی لفنی وزیراعظم بن سکے گی لیکن وزیردفاع باراک اور اپوزیشن لیڈر بنیامین نتن یاہو بھی مضبوط امیدوار ہیں۔ غز.ّہ پر حملے کے پہلے روز سے اسرائیلی راے عامہ کے جائزے شروع ہوگئے کہ وہ کسے حکمران منتخب کریں گے۔ سروے کے نتائج میں مسلسل تبدیلی کی بنیاد یہی رہی کہ فلسطینیوں کے قتلِ عام میں زیادہ سے زیادہ پیش پیش کون رہتا ہے۔

  • … امریکی انتخابات کے حوالے سے بھی یہ وقت مناسب ترین قرار دیا گیا کہ اوباما کے آنے کے فوراً بعد اس کے لیے کسی جنگ کی حمایت ممکن نہیں رہے گی۔ ایک ایسے وقت میں فلسطینی مزاحمت کی کمر توڑی جائے کہ جب عملاً کوئی شخص امریکا میں حکمران نہ ہو۔ بش الوداعی جوتے کھانے میں مصروف ہو اور اوباما یہ کہہ کر جان چھڑا لے کہ ’’ایک وقت میں امریکا کا ایک ہی صدر ہوتا ہے، میں صدر بنوں گا تو مشرق وسطیٰ کے بارے میں پالیسی واضح کروں گا‘‘۔
  • …وقت کے اس انتخاب کے پیچھے ایک حیرت انگیز سبب خود فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمودعباس (ابومازن) کا انتخاب بھی تھا۔ محمودعباس کی صدارتی مدت ۹جنوری ۲۰۰۹ء کو ختم ہورہی تھی۔ حماس نے اعلان کردیا تھا کہ وہ اس کے بعد ابومازن کو قانونی صدر تسلیم نہیں کرے گی اور یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ دوبارہ کسی منصفانہ الیکشن میں ابومازن دوبارہ صدر منتخب نہیں ہوسکے گا۔ اب جنگ عروج پر تھی تو یہ تاریخ آئی اور گزر گئی۔ ترجیحات کی فہرست میں حماس نے ایک رسمی سا بیان ریکارڈ کی درستی کے لیے دے دیا، لیکن ظاہر ہے اس وقت اصل مسئلہ غز.ّہ کی تباہی ہے۔
  • … ایک اہم وجہ پڑوسی عرب ممالک بالخصوص مصر اور اُردن کی جانب سے حماس کی بڑھتی ہوئی تائید کو اپنے ملکوں میں اخوان المسلمون کی روزافزوں تائید قرار دیا جانا بھی ہے۔ اسرائیل نے غز.ّہ میں پولیس کے تربیتی مرکز پر ۲۷دسمبر ۲۰۰۸ء (۲۸ ذو الحجہ ۱۴۲۹ھ) کو پہلا حملہ کیا اور ۴۰ کڑیل جوان خون میں نہلا دیے۔ ۲۵دسمبر کو صہیونی وزیرخارجہ سیپی لفنی مصر کے دورے پر تھی۔ اس نے صدر حسنی مبارک اور مصری خفیہ ادارے کے سربراہ سے ملاقات کے بعد مصری وزیرخارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا: ’’حماس سے نجات اسرائیل ہی نہیں تمام علاقائی طاقتوں کا مشترک مفاد ہے‘‘۔ مصری حکمرانوں نے ہاں میں ہاں ملائی ’’حماس نے ہماری بات نہ مانی تو نتائج کی ذمہ دار خود ہوگی‘‘۔

غز.ّہ پر توڑی جانے والی قیامت اپنی تمام تر ہلاکت خیزی اور توہینِ انسانیت سمیت تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ دنیا یوں ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ صرف غز.ّہ کے ایک لاکھ کے قریب یتیموں، بیوائوں اور زخمیوں کے علاوہ کسی کو ہولناک تباہی یاد نہیں رہی۔ صرف چند لاکھ بے گھر فلسطینی، چیتھڑوں سے سرد ہوائوں اور ان ہوائوں سے پیٹ کی آگ کا سامنا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ باقی دنیا تو حسبِ سابق اپنے معمولات میں غرق ہے یا زیادہ سے زیادہ صہیونی اور ہندو مشیروں میں گھِرے نئے امریکی صدر کے بچپن اور نام کے مختلف حصوں سے امیدیں باندھ رہی ہے۔ ایسے میں جنگ کے مناظر بیان کرنے، زخموں کی بپتا سنانے یا صف در صف پڑے معصوم فلسطینی پھولوں کی لاشوں کا نوحہ کہنا دنیا کے لیے اہم نہیں رہا۔ البتہ یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ  اس ساری تباہی سے کسے کیا حاصل ہوا اور مستقبل پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟

خود اسرائیلی تجزیہ نگاروں کا جائزہ لیں تو ان کی ایک تعداد اس پر خوشیاں منا رہی ہے کہ خوب تباہی کی… شاباش… مزید تباہی کرنا چاہیے تھی۔ لیکن اسرائیلی عسکری ماہرین اوردفاعی تجزیہ نگاروں کی اکثریت اعتراف کررہی ہے کہ ہم نے عالمی عوامی نفرت، مزید خطرات اور دشمن کو مضبوط کرنے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کیا۔ موساد کے سابق سربراہ افرایم ھلیفی دونوں پہلوئوں کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتا ہے: ’’اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کی شان دار کارکردگی نے حماس کو المناک شکست سے دوچار کیا ہے۔ ایک طرف اس کی عسکری صلاحیت بہت حد تک تباہ کردی ہے، اس کی قیادت کو بے سمت کردیا ہے اور دوسری طرف اسے سنی ممالک مصر، سعودی عرب اور اُردن سے دُور کردیا ہے۔ علوی ریاست شام اور شیعہ طاقتوں ایران و حزب اللہ کو بھی حقیقتاً اس سے الگ کردیا ہے، لیکن ہم مصیبت کے دوسرے پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتے۔ حماس کو تباہ کرنے کے لیے ہمارا حملہ جتنا شدید تھا، جس طرح اسرائیلی فوج نے اس پر بری، فضائی اوربحری حملوں کے ذریعے آگ کی بارش برسائی، اس سب میں سے حماس بچ نکلی اور اس طرح بچ نکلنے کی کوئی نظیر اس سے پہلے نہیں ملتی۔ وہ آج پھر کسی دیوہیکل صحرائی پرندے کی طرح ریت جھاڑتے ہوئے ملبے کے ڈھیر میں سے اُٹھ کھڑی ہوئی ہے اور مصر کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے بھی اپنے موقف پر سختی سے جمی ہوئی ہے۔ وہ کسی صورت ہار ماننے کے لیے تیار نہیں‘‘۔ (روزنامہ یدیعوت، ۱۹ جنوری ۲۰۰۹ء)

اسی اخبار میں ’ناحوم برنیاع‘ غز.ّہ سے اسرائیلی انخلا کے متنازع فیصلے پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے شارون اور دیگر صہیونی ذمہ داران کے موقف کا تجزیہ کرتا ہے اور آخر میں تان اس جملے پر توڑتا ہے: ’’ہم غز.ّہ سے مکمل قطع تعلقی نہیں کرسکتے، نہ غز.ّہ پر آیندہ کسی صورت دوبارہ قبضہ ہی کیا جاسکتا ہے۔ غز.ّہ اسرائیل کے حلق میں کانٹے کی صورت اٹکا رہے گا، نہ تو اسے نگلا جاسکے گا اور نہ اُگلا جاسکے گا۔ نہ اسے مارا جاسکے گا، نہ اسے جینے دیا جائے گا۔ گاہے بہ گاہے جنگ کی آگ بھڑکتی رہے گی تاکہ ہمیں بھی یاد رہے اور انھیں بھی کہ ان کا اور ہمارا تعلق کس قدر المناک ہوسکتا ہے‘‘۔

اسرائیل کے دو چوٹی کے دانش وروں ا. ب. یہوشع اور جدعون لیفنی کے درمیان روزنامہ ھآرٹز کے صفحات پر باقاعدہ بحث ہوئی اور کھلے خطوط کا تبادلہ ہوا ہے۔ بائیں بازو کے صحافی جِدعون نے ہلاکت آمیز اور بے فائدہ جنگ کی مخالفت و مذمت کی ہے، جب کہ یہوشع نے اسرائیلی موقف کی ترجمانی کی ہے۔ جِدعون اپنے کھلے خط کے آخر میں لکھتا ہے: ’’آپ کی نگاہ میں     اس طرح کی جنگ ہی ان پر اثرانداز ہونے کا اکلوتا ذریعہ رہ گئی ہے۔ تعلّی پر مبنی اس جملے پر کوئی    تبصرہ کیے بغیر میں آپ جیسے چوٹی کے لکھاری سے اس سے بہتر کی توقع رکھتا تھا۔ میں آپ جیسی محترم شخصیت سے توقع رکھتا تھا کہ وہ آزادی کی جنگوں کی تاریخ جانتا ہوگا۔ اسے معلوم ہوگا کہ  جنگ ِآزادی کو کبھی طاقت سے نہیں کچلا جاسکتا۔ ہم نے اس جنگ میں جو تباہ کن اسلحہ استعمال کیا ہے، میرا نہیں خیال کہ ہمارے مخالفین اس سے مرعوب ہوئے ہیں۔القسام میزائل اب بھی فائر ہورہے ہیں، لیکن اب حماس اور پوری دنیا ایک بات پر ایمان رکھتی ہے اور وہ یہ کہ اسرائیل ایک خطرناک، متشدد اور بے لگام ریاست ہے۔ کیا آپ اس شہرت کی حامل ریاست میں رہنا پسند کرتے ہیں؟ ایسی ریاست میں کہ جو اپنے بارے میں یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتی ہو کہ ’’گھر کا سربراہ پاگل ہوگیا ہے‘‘۔ میں تو ایسی ریاست میں نہیں رہنا چاہتا‘‘ (روزنامہ ھآرٹز، ۱۹ جنوری)

جِدعون نے ۲۲ جنوری کے شمارے میں بھی ایک مفصل مضمون لکھا ہے: Gaza War Ended in Utter Failure for Israel (غزہ کی جنگ: اسرائیل کی سراسر ناکامی پر ختم ہوئی) اس نے اسرائیل کی چار بڑی ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا ہے: ’’آخرکار ہم نے حاصل کیا کیا؟‘‘ اسرائیل کے اعلان کردہ اہداف کا جائزہ لیا جائے تو اس کا سب سے بڑا ہدف غز.ّہ اور فلسطین کے باقی علاقوں سے حماس کا خاتمہ تھا۔ یک طرفہ طور پر جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیلی ویزراعظم اولمرٹ نے بیان دیا کہ ’’غز.ّہ میں حماس کی گرفت کمزور کردی گئی ہے اور اب محمودعباس جیسی معتدل قیادت کو وہاں لایا جاسکے گا‘‘۔ جنگ کے عروج پر برطانیہ میں اسرائیلی سفیر نے بی بی سی کے پروگرام ’ہارڈ ٹاک‘ میں تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ ’’جنگ کا مقصد شدت پسند حماس کو ہٹاکر فلسطینی اتھارٹی محمودعباس کو بحال کرنا ہے‘‘۔ جنگ کے بعد اصل صورت حال بالکل برعکس ہے۔ مغربی کنارے میں امریکا،اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے اشتراک سے ایک یونی ورسٹی چل رہی ہے، جہاں طلبہ کو ’روشن خیالی‘کے نام نہاد نعرے کے عملی ماحول میں تربیت دی جاتی ہے۔ ان طلبہ کے درمیان سروے کروایا گیا تو وہاں بھی حماس کی تائید غیرمعمولی طور پر زیادہ تھی۔ ۱۹فروری کو کویت میں عرب لیگ کی اقتصادی سربراہی کانفرنس تھی اس سے پہلے   کویتی پارلیمنٹ کے ۲۲ ارکان نے ایک میمورنڈم پیش کیا کہ محمود عباس کی مدت صدارت بھی ختم ہوگئی ہے اور دورانِ جنگ اس کا کردار بھی گھنائونا رہا ہے، اس لیے اسے کانفرنس میں مدعو نہ کیا جائے بلکہ فلسطین کی نمایندگی کے لیے خالدمشعل کو بلایا جائے۔ ایک رکن پارلیمنٹ نے اس حوالے سے خطاب کرتے ہوئے ایوانِ اسمبلی میں خالدمشعل کا نام لیتے ہوئے سر پہ پڑا عربی رومال اُتار کر عقیدت کا اظہار کیا اور محمود عباس کا نام لیتے ہوئے جوتا لہراتے ہوئے نفرت کا۔

محمود عباس کے علاوہ اسرائیل کا دوسرا بڑا مہرہ حسنی مبارک ہے۔ جنگ سے پہلے، دوران اور بعد میں اسی کے ساتھ سب سے زیادہ مشاورت کی گئی۔ اس نے عین تباہی کے عالم میں بھی ’رفح‘ کا پھاٹک بند کیے رکھا۔ عالمی قوانین بصراحت کہتے ہیں کہ دورانِ جنگ اگر کوئی آبادی کسی جگہ گھِر جائے تووہاں سے نکلنے کے راستے کھولنا فرض ہے۔ کوئی معاہدہ یا پابندی اسے کھولنے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ دورانِ جنگ فرانسیسی صدر سرکوزی علاقے کے دورے پر آیا۔ اس نے اولمرٹ سے کہا: ’’مجھے حسنی مبارک نے بھی کہا ہے کہ وہ حماس کو جیتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے‘‘۔

دنیا میں صرف مصر ایک ایسا ملک تھا جہاں اہلِ غز.ّہ کے ساتھ اظہار یک جہتی کے مظاہرے روکنے کی کوشش کی گئی۔ الاخوان المسلمون کے سیکڑوں کارکنان گرفتار کیے گئے لیکن مظاہرے پھر بھی ہوئے اور بڑے بڑے ہوئے۔ مصری شہر دمیاط میں مظاہرین نعرے لگا رہے تھے:یاباراک یاعباس کُلَّنا مع حماس ’’اے باراک (صہیونی وزیردفاع) اے عباس! ہم سب حماس کے ساتھ ہیں‘‘۔ کَبِّر یامسلم کَبِّررأسُ الصِّھْیُونی تَکَسَّر ’’مسلمانو! تکبیر بلند کرو کہ صہیونیوں کا سر پھوڑ دیا گیا ہے‘‘۔ اِھْتِف سَمِّع کُلَّ النَّاس… نَحْن رِجَالُکَ یَاحَمَاس ’’نعرہ لگائو…سب کو سنا دو کہ ہم حماس کے سپاہی ہیں‘‘۔ عوامی جذبات تو یہ ہیں لیکن امریکااسرائیل اور ان کے پالتو اب بھی کوشش یہی کریں گے کہ اپنے مہروں کو آگے بڑھایا جائے۔ نومنتخب صدر باراک اوباما نے حلفِ صدارت کے بعد سب سے پہلا فون محمودعباس کو کیا ہے۔

اسرائیل کا دوسرا اعلان کردہ ہدف یہ تھا کہ حماس کے میزائل حملے بند کرنا ہیں۔ اسرائیل نے ہی نہیں خود عرب اور فلسطینی مخالفین نے بھی حماس کے خودساختہ میزائلوں کو جنگ اور تباہی    کا اصل سبب قرار دیا۔ اس الزام اور پروپیگنڈے کا جائزہ ہم ابھی لیں گے لیکن ایک حقیقت جو بذاتِ خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے کہ اسرائیل کی طرف سے فاسفورس اور دیگر کیمیکل بم استعمال کرنے اور ۲۲ روز کی دن رات تباہ کاری کے باوجود حماس کے ان جوابی میزائلوں کا راستہ نہیں روکا جاسکا۔ یہ میزائل جو پہلے ۲۰کلومیٹر تک مار کرسکتے تھے، حماس نے نپے تلے انداز سے اور مرحلہ وار ان کی پہنچ ۶۵کلومیٹر تک بڑھا دی۔ اس طرح تقریباً ۱۰ لاکھ کی یہودی آبادی ان کی زد میں رہی۔ انھیں بھی حالت ِ جنگ کی کیفیات سے گزرنا پڑا اور آخرکار ان کی طرف سے بھی احتجاج اور اپنی حکومت سے مطالبہ شروع ہوگیا کہ ’’بے فائدہ جنگ بند کرو‘‘۔

رہی یہ بات کہ حماس کے میزائل جنگ کا سبب بنے تو اس کا سب سے اچھا جواب ترک وزیراعظم رجب طیب اردوگان نے دیا کہ ’’اہلِ غز.ّہ تین سال سے حصار میں تھے، ان کا گلا گھونٹا جارہا تھا تو ان کی چیخ میزائلوں کی صورت میں برآمد ہوئی۔ اب ان چیخوں کو تباہی کا سبب قرار دینا عقل کے بھی منافی ہے اور حقیقت کے بھی‘‘۔ اس الزام کا دوسرا جواب اس سوال میں ہے کہ گذشتہ ۶۰برسوں میں اسرائیلی ناجائز ریاست نے فلسطینیوں کے جتنے بھی قتلِ عام کیے، کیا اس وقت بھی میزائل یا حماس ہی اس کا سبب تھے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ غز.ّہ  پر حملہ کوئی حادثاتی یا ہنگامی کارروائی نہیں تھی۔ ڈیڑھ برس پہلے سے اس کی تیاریاں جاری تھیں اور باقاعدہ دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ اس وقت پتھر اور غلیل سے ہونے والی مزاحمت کو دہشت گردی قرار دے کر حماس کی منتخب حکومت کو مسترد کردیا گیا۔ ان کے اسپیکر سمیت وزرا اور ارکانِ اسمبلی کو گرفتار کرلیا گیا اور بالآخر غز.ّہ کا ناطقہ بند کردیا گیا۔ جواباً میزائل فائر ہوئے تو اپنی ساری دہشت گردی ساری سفاکانہ جنگ کا ملبہ انھی پر ڈال دیا گیا۔ حماس کو مطعون کرنے والے یہ بھی نہ بھولیں کہ صہیونی دشمن ایک ایک کر کے ہرفلسطینی اور اپنے ہرمخالف کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا اپنے عقیدے کا حصہ سمجھتا ہے۔ ان کے ایک ایک بچے کے ذہن میں ’عرب‘ یعنی مسلمان کا تصور درندوں کی حیثیت سے بٹھاتے ہوئے انھیں قتل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ آج اگر خدانخواستہ حماس نہ رہتی تو اب خود محمودعباس، حسنی مبارک اور پھر ایک ایک کرکے اپنے ہرہدف کو اسی طرح مطعون و معتوب کیا جاتا۔ حماس نے اس الزام کا بہت اصولی جواب دیاہے کہ ہمارے میزائل اسرائیلی قبضے کا جواب ہے، آج ہماری سرزمین سے قبضہ ختم ہوجائے، ہمارا جواب بند ہوجائے گا۔

غز.ّہ میں ہونے والی تباہی کی مثال موجودہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ افغانستان و عراق میں امریکی بم باری بھی اس کے سامنے ہیچ ہے۔ کیونکہ نہ تو وہ غز.ّہ کی طرح مقید تھے اور نہ غز.ّہ کی طرح گنجان آباد، لیکن یہ ساری تباہی غز.ّہ کے عزم و ارادے کو شکست دینے میں ناکام رہی۔ اہلِ غز.ّہ  اعلان کر رہے ہیں کہ حالیہ فتح کے بعد اب ہمیں اقصیٰ کی آزادی ایک مجسم حقیقت کی صورت دکھائی دے رہی ہے۔ رہی تباہی تو صرف گذشتہ صدی میں ہی دیکھ لیں۔ دنیا کے کتنے دارالحکومت اور بڑے بڑے شہر ایسے ہیں کہ ملیامیٹ کردیے گئے لیکن دوبارہ زندہ بھی ہوگئے اور فتح یاب بھی۔

اہلِ غز.ّہ کے اس عزم سے شیخ احمد یاسین کی پیشین گوئی تازہ ہوگئی۔ آیئے انھی سے سنیں: میں اسرائیلی قید میں مطالعہ قرآن کر رہاتھا۔ اس واقعے پر پہنچا کہ بنی اسرائیل کے انکار کے بعد  اللہ تعالیٰ نے انھیں ۴۰برس کے لیے سینا کی صحرا نوردی کی سزا دی تو میں غور کرنے لگا کہ پروردگار اتنی لمبی سزا؟ ۴۰ برسوں میں تو نسلیں بدل جاتی ہیں۔ سوچتے سوچتے جواب ملا کہ جرم بہت کڑا تھا۔ پوری قوم نے براہِ راست اللہ اور اس کے نبی کو ٹکا سا جواب دیتے ہوئے کہا: ’’(موسٰی ؑ) جائو تم اور تمھارا رب جا کے لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں‘‘۔ اللہ کی طرف سے فیصلہ آیا کہ وہ نسل کہ جس نے انکار کیا ہے اور وہ نسل جو اس سارے انکار کی چشم دید گواہ اور ان منکروں کے زیرتربیت تھی وہ سب ختم ہوجائیں تو پھر ان کے بارے میں اللہ کا فیصلہ بھی تبدیل ہوجائے گا۔ میں نے اس سنت ِ الٰہی کو فلسطین پر منطبق کیا تو مجھے خوش گوار حیرت ہوئی۔ ۱۹۴۸ء میں فلسطین میں پائی جانے والی نسل جہاد سے کنارہ کش ہونے کے باعث یہودیوں سے شکست خوردہ ہوئی۔ اسلامی تحریک نے بھولا ہوا سبق یاد دلانا شروع کیا اور ٹھیک ۴۰ برس بعد ۱۹۸۸ء میں تحریکِ انتفاضہ شروع ہوئی۔ پیمانے بدلنے لگے،فرات سے نیل تک اسرائیل کا ہدف رکھنے والے باتوں اور وعدوں کی حد تک ہی سہی، فلسطینی ریاست بنانے کا اعلان کرنے لگے۔ اب ۱۹۸۸ء سے ایک نئی نسل، جہاد و مزاحمت کی نسل آگے آرہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ جہاد و قربانی کے ۴۰ برس مکمل ہونے، یعنی ۲۰۱۸ء تک اللہ تعالیٰ فلسطین میں فتح یاب نسل عطاکرے گا جس کے ہاتھوں قبلۂ اول آزاد ہوکر رہے گا اور اسرائیل نام کی ریاست صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گی۔ اہلِ غز.ّہ  اور اہلِ فلسطین یہ سبق اچھی طرح یاد کرچکے ہیں کہ یہ پورا عرصہ جہاد و مزاحمت کا عرصہ ہے اور اللہ کا سہارا اصل سہارا ہے: حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل!